فقہ کسے کہتے ہیں؟ امام احمد رضا کے قلم سے فقہ کی تعریف

فقاہت کے کیا معنی ہیں؟ فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے۔ یوں تو ہراعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا ، کہ ان کی مادری زبان عربی ہے،بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم و تنقیح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہرہ ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسبرمراتب ناقلین وعرف عام وخاص و عادات بلاد واشخاص وحال زمان ومکان واحوال رعایا و سلطان وحفظ مصالح دین ودفع مفاسدِ مفسدین وعلم وجوہ تجریح واسباب ترجیح ومناہج توفیق ومدارک تطبیق ومسالک تخصیص ومناسک تقیید ومشارع قیود وشوارع مقصود وجمع کلام ونقد مرام، فہم مراد کانام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام ونظر دقیق وفکر عمیق وطول خدمت علم و ممارست فن وتیقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق مؤید بتوفیق کاکام ہے، اور حقیقۃً وہ نہیں مگر ایک نور کہ رب عزوجل بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے:﴿وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)﴾اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو،اور اسے نہیں پاتامگر بڑے نصیب والا۔“فتاوی رضویہ،ج ۱۶ ،ص ۳۷۶ ، ۳۷۷ ،رضافاؤنڈیشن،لاہور )

امامِ اہلِ سنت اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کے قلم سے لکھا ہوا یہ ایک پیراگراف اتنا عظیم اور شاندار ہے کہ اسے سمجھنے کے لئے پوری ایک کتاب کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے اس پیراگراف کی تشریح پر مکمل کتاب لکھی گئی ہے جس کا لنک درج ذیل ہے، اسے پڑھیں اور دیکھیں کس طرح امام احمد رضا نے دریا کوزے میں بند کر دیا

مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)