قرآن کریم: کنزالایمان (اردو ترجمہ) بمعہ خزائن العرفان (حاشیہ)

کنز الایمان فی ترجمۃ القران

Download Kanzul Iman Urdu Translation in PDF

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کا شہرۂ آفاق ترجمہء قرآن کنز الایمان اردو زبان میں قرآنِ مجید کا وہ مستند اور معتبر ترجمہ ہے جس نے علمی، اعتقادی اور ادبی ہر سطح پر بے مثال مقام حاصل کیا۔ یہ ترجمہ محض الفاظ کی اردو میں منتقلی نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے دقیق معانی، شانِ الوہیت اور مقامِ رسالت ﷺ کی کامل حفاظت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ کنز الایمان فی ترجمۃ القران  اہلِ سنت کے عقائد اور قرآن فہمی کی صحیح بنیاد فراہم کرتا ہے۔

کنز الایمان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی اعلیٰ درجہ کی درستگی اور احتیاط ہے، جس کی مثال اردو زبان میں کم ہی ملتی ہے۔ اعلیٰ حضرتؒ نے ترجمہ کرتے وقت نہ صرف عربی زبان کے باریک نکات کو پیشِ نظر رکھا بلکہ ایسی تعبیرات اختیار کیں جو اللہ تعالیٰ اور رسولِ مکرم نبیءمعظم ﷺ کی شان کے عین مطابق ہوں اور کسی قسم کے شبہ یا غلط مفہوم کا سبب نہ بنیں۔ اسی وجہ سے کنز الایمان کو اردو زبان کا سب سے درست اورمعتبر  ترجمہ قرار دیا جاتا ہے، جس پر اہلِ علم کا اعتماد ہمیشہ سے قائم ہے۔

آج کے دور میں جب قرآنِ مجید کے تراجم آن لائن تلاش کیے جاتے ہیں، کنز الایمان اپنی علمی وقعت، سادہ مگر باوقار اسلوب اور اعتقادی مضبوطی کے باعث سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ترجمہ طلبہ، علما، مبلغین اور عام قارئین سب کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ اگر آپ قرآنِ کریم کا ایسا اردو ترجمہ چاہتے ہیں جو معنی، ادب اور عقیدہ تینوں کی مکمل حفاظت کرے تو اعلیٰ حضرت کا کنز الایمان بلاشبہ سب سے بہترین اور قابلِ اعتماد انتخاب ہے۔

خزائن العرفان فی تفسیر القرآن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان پرحاشیہ  ہے جسے مولانا نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت علمی بصیرت اور اعتدال کے ساتھ تحریر فرمایا۔ یہ حاشیہ دراصل قرآنِ کریم کے مشکل مقامات، آیات کے شانِ نزول اور بنیادی تفسیری نکات کو نہایت سادہ اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے، تاکہ عام قاری بھی قرآن کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ خزائن العرفان کا اسلوب نہ حد سے زیادہ اختصار پر مبنی ہے اور نہ غیر ضروری طوالت پر، بلکہ یہ ایک متوازن اور قابلِ فہم تفسیری حاشیہ ہے۔ آج بھی آن لائن اور مطبوعہ شکل میں خزائن العرفان کنز الایمان کے ساتھ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مختصر تفاسیر میں شمار ہوتی ہے