مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

Download
Download is available until [expire_date]
  • Version
  • Download 0
  • File Size 28 MB
  • File Count 1
  • Create Date January 6, 2026
  • Last Updated January 8, 2026

مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقہ (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

Mafhoom-e- Faqahat Aur Alahazrat Ki Shane Tafaqqu (Fatawa Razaviah ki Roshni Main

مصنف: مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

 امام اہل سنت اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ میں ایک پیراگراف میں فقہ کی تعریف درج فرمائی تھی۔اس ایک پیراگراف کی تشریح پر یہ پوری کتاب تحریر کی گئی ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کو ربِ کریم نے کتنا کمال عطا کیا تھا کہ ان کے لکھے ایک پیراگراف سے پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔بظاہر وہ چند سطریں معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ علم و معرفت کا وہ نچوڑ ہیں جس کی گہرائیوں کو سمجھنے کے لیے یہ پوری کتاب تالیف کرنی پڑی۔

فقاہت کسے کہتے ہیں ؟اس کے لیے کتنے امورپرمہارت ہوناضروری ہے ؟ اس حوالے سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے جوکچھ ارشادفرمایا ، وہ درج ذیل ہے ۔چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے :’’:

فقاہت کے کیا معنی ہیں؟ فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے۔ یوں تو ہراعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا ، کہ ان کی مادری زبان عربی ہے،بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم و تنقیح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہرہ ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسبرمراتب ناقلین وعرف عام وخاص و عادات بلاد واشخاص وحال زمان ومکان واحوال رعایا و سلطان وحفظ مصالح دین ودفع مفاسدِ مفسدین وعلم وجوہ تجریح واسباب ترجیح ومناہج توفیق ومدارک تطبیق ومسالک تخصیص ومناسک تقیید ومشارع قیود وشوارع مقصود وجمع کلام ونقد مرام، فہم مراد کانام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام ونظر دقیق وفکر عمیق وطول خدمت علم و ممارست فن وتیقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق مؤید بتوفیق کاکام ہے، اور حقیقۃً وہ نہیں مگر ایک نور کہ رب عزوجل بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے:﴿وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)﴾اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو،اور اسے نہیں پاتامگر بڑے نصیب والا۔“( فتاوی رضویہ،ج ۱۶ ،ص ۳۷۶ ، ۳۷۷ ،رضافاؤنڈیشن،لاہور )

زیرِ نظر کتاب "مفہومِ فقاہت اور اعلیٰ حضرت کی شانِ تفقُّہ" اسی ایک پیراگراف کی تفصیل و تشریح پر مبنی ہے ۔دراصل اس بحرِ بے کنار کی ایک لہر ہے جسے دنیا امامِ اہل سنت، مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔
یہ امرِ ربی اور اعلیٰ حضرت کو عطا کردہ کمالِ علمی ہی ہے کہ ان کے قلمِ حق رقم سے نکلا ہوا ایک پیراگراف اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہے کہ اس کی تشریح و توضیح کے لیے ایک مکمل ضخیم کتاب کی ضرورت پیش آ گئی۔ یہ کتاب اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ آپ "سمندر کو کوزے میں بند کرنے" کے فن سے بخوبی واقف تھے۔
مختصر یہ کہ یہ تحریر محض ایک کتاب نہیں، بلکہ اعلیٰ حضرت کی اس فقہی جلالت کا اعتراف ہے جہاں ایک ایک جملہ علم کے نئے ابواب کھولتا ہے اور قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ جس عظیم شخصیت کے ایک پیراگراف کی تشریح ایک کتاب پر محیط ہو، ان کے تفقہ اور علمی مرتبے کا عالم کیا ہوگا