حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نیۃ المومن خیر من عملہ (مسلمان کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے)
رواہ البیھقی عن انس والطبرانی فی الکبیر عن سھل بن سعد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔ اسے بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
( المعجم الکبیر مرویات سہل الساعدی ،حدیث ۵۹۴۲ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۶/۱۸۵)
اور بیشک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے مثلاً جب نماز کے لئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھوں گا تو بیشک اُس کا یہ چلنا محمود، ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے اور دُوسرے پر گناہ محو کریں گے مگر عالم نیت اس ایک ہی فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے۔
(۱) اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں۔
(۲) خانہ خدا کی زیارت کروں گا۔
(۳) شعارِ اسلام ظاہر کرتا ہوں
(۴) داعی اللہ کی اجابت کرتا ہوں۔
(۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں۔
(۶) مسجد سے خس وخاشاک وغیرہ دُور کروں گا۔
(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پر اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں اور ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخل ہو باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرلے انتظار نماز وادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔
(۸) امرِ الٰہی خذوا زینتکم عند کل مسجد ۱؎ (اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ ت) امتثال کو جاتا ہوں۔
(۱؎ القرآن ۷/۳۱)
(۹) جو وہاں علم والا ملے گا اُس سے مسائل پُوچھوں گا دین کی باتیں سیکھوں گا۔
(۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتاؤں گا دین سکھاؤں گا۔
(۱۱) جو علم میں میرے برابر ہوگا اُس سے علم کی تکرار کروں گا۔
(۱۲) علماء کی زیارت۔
(۱۳) نیک مسلمانوں کا دیدار۔
(۱۴) دوستوں سے ملاقات۔
(۱۵) مسلمانوں سے میل۔
(۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے اُن سے بکشادہ پیشانی مل کر صلہ رحم۔
(۱۷) اہلِ اسلام کو سلام۔
(۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا۔
(۱۹) اُن کے سلام کا جواب دُوں گا۔
(۲۰) نماز جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔
(۲۱ و ۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کروں گا بسم اللّٰہ الحمدللّٰہ والسلام علٰی رسول اللّٰہ۔
(۲۳ و ۲۴) دخول وخروج میں حضور وآلِ حضور وازواجِ حضور پر درود بھیجوں گا
اللّھم صلّ علٰی سیدنا محمّد وعلٰی اٰل سیدنا محمّد وعلٰی ازواج سیدنا محمّد۔
(۲۵) بیمار کی مزاج پُرسی کروں گا۔
(۲۶) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔
(۲۷) جس مسلمانوں کو چھینک آئی اور اس نے الحمدللّٰہ کہا اُسے یرحمک اللّٰہ کہوں گا۔
(۲۸ و ۲۹) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کروں گا۔
(۳۰) نمازیوں کے و ضو کو پانی دُوں گا۔
(۳۱ و ۳۲) خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان واقامت کہوں گا اب اگر یہ کہنے نہ پایا دُوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت پر اذان واقامت کا ثواب پاچکا
فقدوقع اجرہ علی اللّٰہ (اللہ تعالٰی اسے اجر عطا فرمائے گا۔ ت)( القرآن ۴/۱۰۰)
(۳۳) جو راہ بھُولا ہوگا راستہ بتاؤں گا۔
(۳۴) اندھے کی دستگیری کروں گا۔
(۳۵) جنازہ مِلا تو نماز پڑھوں گا۔
(۳۶) موقع پایا تو ساتھ دفن تک جاؤں گا۔
(۳۷) دو مسلمانوں میں نزاع ہوئی تو حتّی الوسع صلح کراؤں گا۔
(۳۸ و ۳۹) مسجد میں جاتے وقت دہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباعِ سنّت کروں گا۔
(۴۰ عــہ) راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اُٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا الی غیرذلک من نیات کثیرۃ تو دیکھئے کہ جوانِ ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنہ نماز کے لئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس۴۰ حسنات کے لئے جاتا ہے تو گویا اُس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم پہلے اگر ہر قدم ایک نیکی تھا اب چالیس۴۰ نیکیاں ہوگا۔
الی غیرذلک ممایستخرجہ العارف النبیل واللّٰہ الھادی الٰی سواء السبیل (ان کے علاوہ دوسری نیتیں جن کو عارف اور عمدہ رائے استخراج کرسکتی ہے اللہ تعالٰی ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔ ت)
عــہ یہ چالیس نیتیں ہیں جن میں چھبیس۲۶ علماء نے ارشاد فرمائیں اور چودہ۱۴ فقیر نے بڑھائیں جن کے ہندسوں پر خطوط کھینچے ہیں ۱۲ منہ
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی (اعمال کا ثواب نیتوں سے ہی ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
( مشکوۃ المصابیح خطبۃ الکتاب مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۱۱)


