اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف٤) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
(ف2)یہ خطاب عام ہے تمام بنی آدم کو ۔(ف3)ابوالبشر حضرتِ آدم سے جن کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا تھا انسان کی ابتدائے پیدائش کا بیان کرکے قدرتِ الٰہیہ کی عظمت کا بیان فرمایا گیااگرچہ دنیا کے بے دین بدعقلی و نافہمی سے اس کا مضحکہ اُڑاتے ہیں لیکن اصحابِ فہم و خِرد جانتے ہیں کہ یہ مضمون ایسی زبردست برہان سے ثابت ہے جس کا انکار محال ہے مردم شماری کا حساب پتہ دیتا ہے کہ آج سے سو برس قبل دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح جانب ماضی میں چلتے چلتے اس کمی کی حد ایک ذات قرار پائے گی یا یوں کہئے کہ قبائل کی کثیر تعداد یں ایک شخص کی طرف منتہی ہوجاتی ہیں مثلاً سید دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر جانب ماضی میں اُن کی نہایت سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک ذات پر ہوگی اور بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا مرجع حضرت یعقوب علیہ السلام کی ایک ذات ہوگی اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام شُعوب و قبائل کی انتہا ایک ذات پر ہوگی اس کا نام کتبِ الٰہیہ میں آدم علیہ السلام ہے اور ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص تَوالُد وتَناسُل کے معمولی طریقہ سے پیدا ہوسکے اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہواور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین اُنہیں عناصر سے پیدا ہوگا جو اُس کے وجود میں پائے جاتے ہیں پھر عناصر میں سے جو عنصر اس کا مسکن ہو اور جس کے سوا دوسرے میں وہ نہ رہ سکے لازم ہے کہ وہی اس کے وجود میں غالب ہو اس لئے پیدائش کی نسبت اُسی عنصر کی طرف کی جائے گی یہ بھی ظاہر ہے کہ توالد و تناسل کا معمولی طریقہ ایک شخص سے جاری نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کے ساتھ ایک اور بھی ہو کہ جوڑا ہوجائے اور وہ دوسرا شخص انسانی جو اس کے بعد پیداہو مُقتضائے حکمت یہی ہے کہ اُسی کے جسم سے پیدا کیا جائے کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی مگر یہ بھی لازم ہے کہ اس کی خلقت پہلے انسان سے توالد معمولی کے سوا کسی اور طریقہ سے ہو کیونکہ توالدِ معمولی بغیر دو کے ممکن ہی نہیں اور یہاں ایک ہی ہے لہذا حکمت الٰہیہ نے حضرت آدم کی ایک بائیں پسلی ان کے خواب کے وقت نکالی اور اُن سے اُن کی بی بی حضرت حوّا کو پیدا کیا چونکہ حضرت حوّا بطریق توالد معمولی پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ اولاد نہیں ہوسکتیں جس طرح کہ اس طریقہ کے خلاف جسم انسانی سے بہت سے کیڑے پیدا ہوا کرتے ہیں وہ اس کی اولاد نہیں ہوسکتے ہیں خواب سے بیدار ہو کر حضرت آدم نے اپنے پاس حضرت حوّا کو دیکھا تو محبتِ جنسیّت دِل میں موجزَن ہوئی اُن سے فرمایا تم کون ہوا نہوں نے عرض کیا عورت فرمایا کس لئے پیدا کی گئی ہو۔ عرض کیا آپ کی تسکینِ خاطر کے لئے تو آپ اُن سے مانوس ہوئے۔(ف4)اِنہیں قطع نہ کرو حدیث شریف میں ہے جو رزق کی کشائش چاہے اس کو چاہئے کہ صلۂ رحمی کرے اور رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت رکھے۔
اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف٦) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے
(ف5)شان نزول: ایک شخص کی نگرانی میں اُس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا جب وہ یتیم بالغ ہو ا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کردیا اِس پر یہ آیت نازل ہوئی اِس کو سن کر اُس شخص نے یتیم کا مال اُس کے حوالہ کیا اور کہا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔(ف6)یعنی اپنے حلال مال ۔(ف7)یتیم کا مال جو تمہارے لئے حرام ہے اس کو اچھا سمجھ کر اپنے ردّی مال سے نہ بدلو کیونکہ وہ ردّی تمہارے لئے حلال و طیّب ہے اور یہ حرام و خبیث ۔
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰)
(ف8)اور ان کے حقوق کی رعایت نہ رکھ سکو گے(ف9)آیت کے معنی میں چند قول ہیں حسن کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ ولایت یتیم لڑکی سے اُس کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے باوجود یکہ اُس کی طرف رغبت نہ ہوتی پھر اُس کے ساتھ صحبت و معاشرت میں اچھا سلوک نہ کرتے اور اُس کے مال کے وارث بننے کے لئے اُس کی موت کے منتظر رہتے اِس آیت میں اُنہیں اِس سے روکا گیا ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت سے توبے انصافی ہوجانے کے اندیشہ سے گھبراتے تھے اور زنا کی پرواہ نہ کرتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ اگر تم ناانصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی ولایت سے گریز کرتے ہو تو زنا سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت و سرپرستی میں تو ناانصافی کا اندیشہ کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ باک نہیں رکھتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں ناانصافی سے بھی ڈرو ۔ اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو عِکْرَمَہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کا بار نہ اٹھ سکتا تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے اس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی استطاعت دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے مسئلہ: اِس آیت سے معلُوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے خواہ وہ حُرَّہ ہوں یا اَمَہ یعنی باندی مسئلہ: تمام امّت کا اجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص اسلام لائے اُن کی آٹھ بی بیاں تھیں حضور نے فرمایا اِن میں سے چار رکھنا ، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ غیلان بن سلمہ ثَقَفِی اسلام لائے اُن کے دس بی بیاں تھیں وہ ساتھ مسلمان ہوئیں حضورنے حکم دیا اِن میں سے چار رکھو ۔(ف10)مسئلہ : اِس سے معلوم ہوا کہ بی بیوں کے درمیان عدل فرض ہے نئی پرانی باکرہ ثَیِّبَہ سب اِس اِستحقاق میں برابر ہیں یہ عدل لباس میں کھانے پینے میں سُکنٰی یعنی رہنے کی جگہ میں اور رات کو رہنے میں لازم ہے ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو ۔
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲)
(ف11)اس سے معلوم ہوا کہ مَہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء اگر اولیاء نے مَہر وصول کرلیا ہو تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچادیں ۔(ف12)مسئلہ : عورتوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو مَہر کا کوئی جزو ہبہ کریں یا کل مہر مگر مہر بخشوانے کے لئے انہیں مجبور کرنا اُن کے ساتھ بدخَلقِی کرنا نہ چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی نے طِبْنَ لَکُمْ فرمایا جس کے معنٰی ہیں دل کی خوشی سے معاف کرنا
اور بےعقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱٤)
(ف13)جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مَصرَف پہچانیں اُس کو بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگر اُن پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کردیں گے(ف14)جس سے اُن کے دل کو تسلّی ہو اور وہ پریشان نہ ہوں مثلاً یہ کہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہیں سپرد کیا جائے گا
اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱٦) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،
(ف15)کہ اِن میں ہوشیاری اور معاملہ فہمی پیدا ہوئی یا نہیں(ف16)یتیم کا مال کھانے سے۔
مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷)
(ف17)زمانۂِ جاہلیّت میں عورتوں اور بچوں کو وِرثہ نہ دیتے تھے اِس آیت میں اُس رسم کو باطل کیا گیا
پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰)
(ف18)اجنبی جن میں سے کوئی میِّت کا وارث نہ ہو(ف19)قبل تقسیم اور یہ دینا مستحب ہے(ف20)اس میں عذرِ جمیل وعدہ حسنہ اور دعائے خیر سب داخل ہیں اِس آیت میں میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطورِ صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا زمانۂِ صحابہ میں اِس پر عمل تھا محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ اُن کے والد نے تقسیمِ میراث کے وقت ایک بکری ذبح کراکے کھانا پکایا اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کو کھلایا اور یہ آیت پڑھی ابن سِیرین نے اسی مضمون کی عبیدہ سلمانی سے بھی روایت کی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ کہا کہ اگر یہ آیت نہ آئی ہوتی تو یہ صدقہ میں اپنے مال سے کرتا۔ تیجہ جس کو سویٔم کہتے ہیں اور مسلمانوں میں معمول ہے وہ بھی اسی آیت کا اتباع ہے کہ اس میں رشتہ داروں اور یتیموں و مسکینوں پر تصدق ہوتا ہے اور کلمہ کا ختم اور قرآن پاک کی تلاوت اور دعا قول معروف ہے اس میں بعض لوگوں کو بے جا اصرار ہوگیا ہے جو بزرگوں کے اِس عمل کا ماخذ تو تلاش نہ کرسکے باوجود یہ کہ اتنا صاف قرآن پاک میں موجود تھا لیکن انہوں نے اپنی رائے کو دین میں دخل دیا اور عمل خیر کو روکنے پر مُصِر ہوگئے ۔ اللہ ہدایت کرے ۔
اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳)
(ف21)وصی اور یتیموں کے ولی اور وہ لوگ جو قریبِ موت مرنے والے کے پاس موجود ہوں ۔(ف22)اور مرنے والے کی ذُرِّیَّت کے ساتھ خلاف شفقت کوئی کارروائی نہ کریں جس سے اُس کی اولاد پریشان ہو ۔(ف23)مریض کے پاس اُس کی موت کے قریب موجود ہونے والوں کی سیدھی بات تو یہ ہے کہ اُسے صدقہ و وصیت میں یہ رائے دیں کہ وہ اتنے مال سے کرے جس سے اس کی اولاد تنگ دست نادار نہ رہ جائے اور وصی و ولی کی سیدھی بات یہ ہے کہ وہ مرنے والے کی ذرّیّت سے حُسن خُلق کے ساتھ کلام کریں جیسا اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں
وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں (ف۲٤) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،
(ف24)یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ وہ سبب ہے عذاب کا۔ حدیث شریف میں ہے روزِ قیامت یتیموں کا مال کھانے والے اِس طرح اُٹھائے جائیں گے کہ اُن کی قبروں سے اور اُن کے منہ سے اور اُنکے کانوں سے دھواں نکلتا ہوگا تو لوگ پہچانیں گے کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے ۔
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲٦) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳٤) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
(ف25)وَرَثہ کے متعلق ۔(ف26)اگر میت نے بیٹے بیٹیاں دونوں چھوڑی ہوں تو ۔(ف27)یعنی دختر کا حصہ پِسر سے آدھا ہے اور اگر مرنے والے نے صرف لڑکے چھوڑے ہوں تو کل مال اُنکا ۔(ف28)یادو(۲ )(ف29)اِس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلا لڑکا وارث رہا ہو تو کُل مال اُس کا ہوگا کیونکہ اوپربیٹے کا حصّہ بیٹیوں سے دُونا بتایا گیا ہے تو جب اکیلی لڑکی کا نصف ہوا تو اکیلے لڑکے کا اُس سے دُونا ہوا اور وہ کُل ہے(ف30)خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کہ ان میں سے ہر ایک کو اولاد کہاجاتا ہے(ف31)یعنی صرف ماں باپ چھوڑے اور اگر ماں با پ کے ساتھ زوج یا زوجہ میں سے کسی کو چھوڑا تو ماں کا حصہ زوج کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے اس کا تہائی ہوگا نہ کہ کُل کا تہائی(ف32)سگے خواہ سوتیلے ۔(ف33)اور ایک ہی بھائی ہو تو وہ ماں کا حصّہ نہیں گھٹا سکتا ۔(ف34)کیونکہ وصیت اور دَین یعنی قرض ورثہ کی تقسیم سے مقدم ہے اور دَین وصیت پر بھی مقدم ہے۔ حدیث شریف میں ہے اِنَّ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ (ف35)اِس لئے حصوں کی تعیین تمہاری رائے پر نہیں چھوڑی ۔
اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳٦) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،
(ف36)خواہ ایک بی بی ہو یا کئی ایک ہوگی تو وہ اکیلی چوتھائی پائے گی کئی ہونگی تو سب اس چوتھائی میں برابر شریک ہوں گی خواہ بی بی ایک ہو یا کئی ہوں حصہ یہی رہے گا ۔(ف37)خواہ بی بی ایک ہو یا زیادہ(ف38)کیونکہ وہ ماں کے رشتہ کی بدولت مستحق ہوئے اور ماں تہائی سے زیادہ نہیں پاتی اور اِسی لئے اُن میں مرد کا حصہ عورت سے زیادہ نہیں ہے۔(ف39)اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یا کسی وارث کے حق میں وصیت کرکے مسائل۔ فرائضِ وارث کئی قِسم ہیں اصحابِ فَرائض یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے حصے مقرر ہیں مثلاً بیٹی ایک ہو تو آدھے مال کی مالک زیادہ ہوں تو سب کے لئے دو تہائی ۔ پوتی اور پرپوتی اور اس سے نیچے کی ہر پوتی اگر میت کے اولاد نہ ہو تو بیٹی کے حکم میں ہے اور اگر میت نے ایک بیٹی چھوڑی ہو تو یہ اُس کے ساتھ چھٹا پائے گی اور اگر میت نے بیٹا چھوڑا تو ساقط ہوجائے گی کچھ نہ پائے گی اور اگر میت نے دو بیٹیاں چھوڑیں تو بھی پوتی ساقط ہوگی لیکن اگر اُس کے ساتھ یا اُس کے نیچے درجہ میں کوئی لڑکا ہوگا تو وہ اُس کو عَصبہ بنادے گا۔ سگی بہن میّت کے بیٹا یا پوتا نہ چھوڑنے کی صورت میں بیٹیوں کے حکم میں ہے۔ علاتی بہنیں جو باپ میں شریک ہوں اور اُن کی مائیں علٰیحدہ علٰیحدہ ہوں وہ حقیقی بہنوں کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی مثل ہیں اوردونوں قسم کی بہنیں یعنی علاتی و حقیقی میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں اور بیٹے اور پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ کے ساتھ ساقط اور امام صاحب کے نزدیک دادا کے ساتھ بھی محروم ہیں ۔ سوتیلے بھائی بہن جو فقط ماں میں شریک ہوں اِن میں سے ایک ہو تو چھٹا اور زیادہ ہوں تو تہائی اور ان میں مرد عورت برابر حصہ پائیں گے اور بیٹے پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ دادا کے ہوتے ساقِط ہوجائیں گے باپ چھٹا حصہ پائے گا اگر میت نے بیٹا یا پوتا یا اُس سے نیچے کے پوتے چھوڑے ہوں اور اگر میت نے بیٹی یا پوتی یا اور نیچے کی کوئی پوتی چھوڑی ہو توباپ چھٹا اور وہ باقی بھی پائے گا جو اصحاب فرض کو دے کر بچے دادا یعنی باپ کا باپ۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں مثل باپ کے ہے سوائے اس کے کہ ماں کو ثُلثِ مَابَقِیَ کی طرف رد نہ کرسکے گا۔ ماں کا چھٹا حصہ ہے اگر میت نے اپنی اولاد یا اپنے بیٹے یا پوتے یا پرپوتےکی اولاد یا بہن بھائی میں سے دو چھوڑے ہوں خواہ وہ بھائی سگے ہوں یا سوتیلے اور اگر اُن میں سے کوئی نہ چھوڑا ہو تو ماں کل مال کا تہائی پائے گی اور اگر میت نے زوج یا زوجہ اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو ماں کو زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو باقی رہے اُس کا تہائی ملے گا اور جَدّہ کا چھٹا حصہ ہے خواہ وہ ماں کی طرف سے ہو یعنی نانی یا باپ کی طرف سے ہو یعنی دادی ایک ہو یا زیادہ ہوں اور قریب والی دور والی کے لئے حاجب ہوجاتی ہے اور ماں ہر ایک جدہ کو محجوب کرتی ہے اور باپ کی طرف کی جدات باپ کے ہونے سے محجوب ہوتی ہیں اِس صورت میں کچھ نہ ملے گا زوج چہارم پائے گا اگر میت نے اپنی یا اپنے بیٹے پوتے پر پوتے وغیرہ کی اولاد چھوڑی ہو اور اگر اس قسم کی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر نصف پائے گا زوجہ میت کی اور اس کے بیٹے پوتے وغیرہ کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ پائے گی اور نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی عصبات وہ وارث ہیں جن کے لئے کوئی حصہ معیّن نہیں اصحابِ فرض سے جو باقی بچتا ہے وہ پاتے ہیں اِن میں سب سے اولٰی بیٹا ہے پھر اُس کا بیٹا پھر اور نیچے کے پوتے پھر باپ پھر دادا پھر آبائی سلسلہ میں جہاں تک کوئی پایا جائے پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کا بیٹا پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا پھر دادا کے چچا پھر آزاد کرنے والا پھر اُس کے عصبات ترتیب وار اور جن عورتوں کا حصّہ نصف یا دو تہائی ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور جو ایسی نہ ہو ں وہ نہیں ذوی الارحام اصحابِ فرض اور عصبات کے سوا جو اقارب ہیں وہ ذوی الارحام میں داخل ہیں اور ان کی ترتیب عصبات کی مثل ہے۔
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی،
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف٤۰)
(ف40)کیونکہ کُل حَدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے اس لئے کہ مؤمن کیسا بھی گنہگار ہو ایمان کی حد سے تو نہ گزرے گا ۔
اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف٤۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف٤۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف٤۳)
(ف41)یعنی مسلمانوں میں کے ۔(ف42)کہ وہ بدکاری نہ کرنے پائیں ۔(ف43)یعنی حد مقرر فرمائے یا توبہ اور نکاح کی توفیق دے جو مفسرین اس آیت میں اَلْفَاحِشَۃَ (بدکاری) سے زنا مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حبس کا حکم حدود نازل ہونے سے قبل تھا حدود کے ساتھ منسوخ کیا گیا (خازن و جلالین و احمدی)
اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف٤٤) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف٤۵)
(ف44)جِھڑ کو گُھڑ کو برا کہو شرم دلاؤ جوتیاں مارو(جلالین و مدارک و خازن وغیرہ)(ف45)حسن کا قول ہے کہ زنا کی سز ا پہلے ایذا مقرر کی گئی پھر حَبۡس پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ابن بحر کا قول ہے کہ پہلی آیت وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ ان عورتوں کے باب میں ہے جو عورتوں کے ساتھ(بطریقِ مُساحقت) بدکاری کرتی ہیں اور دوسری آیت وَالَّذَانِ لواطت کرنے والوں کے حق میں ہے اور زانی اور زانیہ کا حکم سورہ نور میں بیان فرمایا گیا اس تقدیر پر یہ آیتیں غیر منسوخ ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دلیل ظاہر ہے اس پر جو وہ فرماتے ہیں کہ لواطت میں تعزیر ہے حد نہیں ۔
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف٤٦) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف46)ضَحّاک کا قول ہے کہ جو توبہ موت سے پہلے ہو وہ قریب ہے۔
اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف٤۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی (ف٤۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف٤۹)
(ف47)اور توبہ میں تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔(ف48)قبول توبہ کا وعدہ جو اوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی (احمدی)(ف49)اس سے معلوم ہوا کہ وقتِ موت کافر کی توبہ اور اس کا ایمان مقبول نہیں ۔
اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بےحیائی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵٤) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (ف۵۵)
(ف50)شان نزول: زمانہ جاہلیت کے لوگ مال کی طرح اپنے اقارب کی بی بیوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو بے مہر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کردیتے اور خود مہر لے لیتے یا انہیں قید کر رکھتے کہ جو ورثہ انہوں نے پایا ہے وہ دے کر رہائی حاصل کریں یا مر جائیں تو یہ اُن کے وارث ہوجائیں غرض وہ عورتیں بالکل ان کے ہاتھ میں مجبور ہوتی تھیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کرسکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی ۔(ف51)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اس کے متعلق ہے جو اپنی بی بی سے نفرت رکھتا ہو اور اِس لئے بدسلوکی کرتا ہو کہ عورت پریشان ہو کر مہر واپس کردے یا چھوڑ دے اس کی اللہ تعالٰی نے مُمانعت فرمائی۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجعت کرتے پھر طلاق دیتے اس طرح اس کو مُعَلَّق رکھتے تھے کہ نہ وہ ان کے پاس آرام پاسکتی نہ دوسری جگہ ٹھکانہ کرسکتی، اس کو منع فرمایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ مَیّت کے اولیاء کو خطاب ہے کہ وہ اپنے مورث کی بی بی کو نہ روکیں۔(ف52)شوہر کی نافرمانی یا اس کی یا اس کے گھر والوں کی ایذاؤ بدزبانی یا حرام کاری ایسی کوئی حالت ہو تو خُلع چاہنے میں مُضائِقہ نہیں ۔(ف53)کھلانے پہنانے میں بات چیت میں اور زوجیت کے امور میں ۔(ف54)بدخُلقی یا صورت ناپسند ہونے کی وجہ سے تو صبر کرو اور جدائی مت چاہو ۔(ف55)ولد صالح وغیرہ ۔
اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵٦) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
(ف56)یعنی ایک کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا۔(ف57)اس آیت سے گراں مہر مقرر کرنے کے جواز پر دلیل لائی گئی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایاکہ عورت کے مہر گراں نہ کرو ایک عورت نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اے ابن خطاب اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اس پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمر تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے جو چاہو مقرر کرو سبحان اللہ خلیفۂ رسول کے شانِ انصاف اور نفس شریف کی پاکی رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی اِتَّبَاعَہٗ آمین(ف58)کیونکہ جدائی تمہاری طرف سے ہے(ف59)یہ اہلِ جاہلیّت کے اس فعل کا رد ہے کہ جب اُنہیں کوئی دوسری عورت پسند آتی تو وہ اپنی بی بی پر تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس دے دے اس طریقہ کو اس آیت میں منع فرمایا اور جھوٹ اور گناہ بتایا ۔
اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
(ف60)وہ عہد اللہ تعالی کا یہ ارشا دہے فَاِمْسَاک ٌ م بِمَعرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْح ٌ مْ بِاِحْسَانٍ مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکَّد ہوجاتا ہے
اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف٦۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بےحیائی (ف٦۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ (ف٦۳)
(ف61)جیسا کہ زما نۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنی ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا۔(ف62)کیونکہ باپ کی بی بی بمنزلہ ماں کے ہے کہا گیا ہے نکاح سے وطی مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موطوء ہ یعنی جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا یا وہ باندی ہو اس کا وہ مالک ہو کر ان میں سے ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔(ف63)ا ب اس کے بعد جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بیان فرمایا جاتا ہے ان میں سات تو نسب سے حرام ہیں ۔
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف٦٤) اور بیٹیاں (ف٦۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف٦٦) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف٦۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف٦۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف٦۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف64)اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔(ف65)پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔(ف66)یہ سب سگی ہوں یا سوتیلی ان کے بعد ان عورتوں کا بیان کیا جاتا ہے جو سبب سے حرام ہیں ۔(ف67)دودھ کے رشتے شِیر خواری کی مدت میں قلیل دودھ پیا جائے یا کثیر اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے شِیر خواری کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک تیس ماہ اور صاحبین کے نزدیک دو سال ہیں شِیر خواری کی مدّت کے بعد دودھ پیا جائے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی اللہ نے رضاعت (شیر خواری ) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ اور اُس شوہرسے اُس کے جو بچے پیدا ہو ں وہ شیر خوار کے رضاعی بھائی بہن اور اُس شوہر کے علاوہ دوسرے شوہر سے جو ہوں وہ اس کی سوتیلے بھائی بہن اس میں اصل یہ حدیث ہے کہ رضاع سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں اس لئے شیر خوار پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے نسبی و رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں ۔(ف68)یہاں سے محرمات بالصَّہریۃ کا بیان ہے وہ تین ذکر فرمائی گئیں۔(۱) بیبیوں کی مائیں، بیبیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیبیاں بیبیوں کی مائیں صرف عقد نکاح سے حرام ہوجاتی ہیں خواہ وہ بیبیاں مدخولہ ہوں یا غیر مدخولہ (یعنی ان سے صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو) (ف69)گود میں ہونا غالب حال کا بیان ہے حرمت کے لئے شرط نہیں ۔(ف70) ان کی ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صُحبت جُدائی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔(ف71)اس سے مُتبنّٰی نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رَضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بیٹوں میں داخل ہیں ۔(ف72)یہ بھی حرام ہے خواہ دونوں بہنوں کو نکا ح میں جمع کیا جائے یاملک یمین کے ذریعے سے وطی میں اور حدیث شریف میں پھوپھی ،بھتیجی اور خالہ بھانجی کا نکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا اور ضابطہ یہ کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتو ں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہو جیسے کہ پھو پھی بھتیجی اگر پھوپھی کو مرد فرض کیا جائے تو چچا ہوا بھتیجی اس پر حرام ہے اور اگر بھتیجی کو مرد فرض کیا جائے تو بھتیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے حرمت دونوں طرف ہے اگر ایک طرف سے ہو تو جمع حرام نہ ہوگی جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی ان دونوں کو جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی لڑکی کو مرد فرض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی بیوی تو حرام رہتی ہے ۔ مگر دوسری طرف سے یہ با ت نہیں ھے یعنی شوہر کی بی بی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو یہ اجنبی ھوگااور کوئی رشتہ ہی نہ رہے گا۔
اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷٤) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷٦) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف73)گرفتار ہو کر بغیر اپنے شوہروں کے وہ تمہارے لئے بعد استبراء حلال ہیں اگرچہ دارالحرب میں اُن کے شوہر موجود ہوں کیونکہ تباین دارین کی وجہ سے اُن کی شوہروں سے فُرقت ہوچکی ۔ شانِ نزول: حضرت ابوسعید خُدْرِی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے ایک روز بہت سی قیدی عورتیں پائیں جن کے شوہر دارالحرب میں موجود تھے تو ہم نے اُن سے قربت میں تامّل کیا،اور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف74)محرمات مذکورہ (ف75)نکاح سے یا مِلک یمین سے اِس آیت سے کئی مسئلے ثابت ہوئے مسئلہ نکاح میں مہر ضروری ہے مسئلہ: اگر مہر معین نہ کیا ہو جب بھی واجب ہوتا ہے مسئلہ: مہر مال ہی ہوتا ہے نہ کہ خدمت و تعلیم وغیرہ جو چیزیں مال نہیں ہیں مسئلہ اتنا قلیل جس کو مال نہ کہا جائے مہر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا حضرت جابر اور حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مہر کی ادنٰی مقدار دس درم ہیں اس سے کم نہیں ہوسکتا۔(ف76)اس سے حرام کاری مراد ہے اور اِس تعبیر میں تنبیہ ہے کہ زانی محض شہوت رانی کرتا اور مستی نکالتا ہے اور اس کا فعل غرضِ صحیح اور مقصدِ حَسن سے خالی ہوتا ہے نہ اولاد حاصل کرنا نہ نسل و نسب محفوظ رکھنا نہ اپنے نفس کو حرام سے بچانا اِن میں سے کوئی بات اس کو مدّنظر نہیں ہوتی وہ اپنے نطفۂ و مال کو ضائع کرکے دین و دنیا کے خسارہ میں گرفتار ہوتا ہے۔(ف77)خواہ عورت مہر مقرّر شدہ سے کم کردے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدارِ مہر کی اور زیادہ کردے ۔
اور تم میں بےمقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸٤) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸٦) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف78)یعنی مسلمانوں کی ایماندار کنیز یں کیونکہ نکاح اپنی کنیز سے نہیں ہوتا وہ بغیر نکاح ہی مولٰی کے لئے حلال ہے معنٰی یہ ہیں کہ جو شخص حُرَّہْ مؤمنہ سے نکاح کی مَقدِرت ووُسعت نہ رکھتا ہو وہ ایماندار کنیز سے نکاح کرے یہ بات عار کی نہیں ہے۔ مسئلہ : جو شخص حُرّہْ سے نکاح کی وسعت رکھتا ہو اُس کو بھی مسلمان باندی سے نکاح کرنا جائز ہے یہ مسئلہ اس آیت میں تو نہیں ہے مگر اُوپر کی آیت وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ سے ثابت ہے مسئلہ: ایسے ہی کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز ہے اور مؤمنہ کے ساتھ افضل و مستحَب ہے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوا۔(ف79)یہ کوئی عار کی بات نہیں فضیلت ایمان سے ہے اِسی کو کافی سمجھو ۔(ف80)مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ باندی کو اپنے مولٰی کی اجازت بغیر نکاح کا حق نہیں اسی طرح غلام کو ۔(ف81)اگرچہ مالک اُن کے مہر کے مولٰی ہیں لیکن باندیوں کو دینا مولٰی ہی کو دینا ہے کیونکہ خود وہ اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہو سب مولٰی کی مِلک ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اُن کے مالکوں کی اجازت سے مہرانہیں دو۔(ف82)یعنی علانیہ و خفیہ کِسی طرح بدکاری نہیں کرتیں۔(ف83)اور شوہر دار ہوجائیں ۔(ف84)جو شوہر دار نہ ہوں یعنی پچاس تازیانے کیونکہ حُرہ کے لئے سو تازیانے ہیں اور باندیوں کو رَجم نہیں کیا جاتا کیونکہ رجم قابلِ تَنصِیف نہیں ہے۔(ف85)باندی سے نکاح کرنا۔(ف86)باندی کے ساتھ نکاح کرنے سے کیونکہ اِس سے اولاد مملوک پیدا ہوگی۔
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰)
(ف89)اور اپنے فضل سے احکام سَہل کرے ۔(ف90)اس کو عورتوں سے اور شَہوات سے صبر دُشوار ہے حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورتوں میں بھلائی نہیں اور اُن کی طرف سے صبر بھی نہیں ہوسکتا نیکوں پر وہ غالب آتی ہیں بداُن پر غالب آجاتے ہیں۔
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے
(ف91)چوری خیانت غصب۔ جوا، سُود جتنے حرام طریقے ہیں سب ناحق ہیں سب کی مُمانعت ہے۔(ف92)وہ تمہارے لئے حلال ہے۔(ف93)ایسے اَفعال اختیار کرکے جو دنیا یا آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اس میں مسلمانوں کو قتل کرنا بھی آگیا اور مؤمن کا قتل خود اپنا ہی قتل ہے کیونکہ تمام مومن نفس واحد کی طرح ہیں مسئلہ : اِس آیت سے خودکُشی کی حُرمت بھی ثابت ہوئی اور نفس کا اِتبّاع کرکے حرام میں مبتلا ہونا بھی اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے۔
اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹٤) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے،
(ف94)اور جن پر وعید آئی یعنی وعدۂ عذاب دیا گیا مثلِ قتل زنا چوری وغیرہ کے۔(ف95)صغائر مسئلہ کفر و شرک تونہ بخشا جائے گا اگر آدمی اِسی پر مرا(اللہ کی پناہ) باقی تمام گناہ صغیرہ ہوں یا کَبیرہ اللہ کی مشیت میں ہیں چاہے اُن پر عذاب کرے چاہے معاف فرمائے۔
اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹٦) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف96)خواہ دُنیا کی جہت سے یا دین کی کہ آپس میں حسد و بغض نہ پَیدا ہو حسد نہایت بری صفت ہے حسد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لئے اس کی خواہش کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہوجائے۔ یہ ممنوع ہے بندے کو چاہئے کہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہے اُس نے جس بندے کو جو فضیلت دی خواہ دولت و غنا کی یا دینی مَناصب و مدارج کی یہ اُس کی حکمت ہے شانِ نزول: جب آیتِ میراث میں لِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط نازل ہوا اور میت کے تَرکہ میں مرد کا حصّہ عورت سے دُو نامقرر کیا گیا تو مَردُوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دونا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اِس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالٰی نے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اُس کی قضا پر راضی رہے ۔(ف97)ہر ایک کو اُس کے اعمال کی جزا ء ۔ شان نزول : اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مَردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثواب عظیم پاتے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اِنہیں تسکین دی گئی کہ مَرد جہاد سے ثواب حاصل کرسکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اورپاکدامنی سے ثواب حاصِل کرسکتی ہیں۔
اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
(ف98)اس سے عقدِ موالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی مجہولُ النّسب شخص دُوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولٰی ہے میں مرجاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جِنَایَتۡ ن کروں تو تجھے دِیَت دینی ہوگی دُوسرا کہے میں نے قبول کیا اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیّت بھی اُس پر آجاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَسب ہو اور ایسا ہی کہے اور یہ بھی قبول کرلے تو اُن میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث اور اُس کی دِیّت کا ذِمہ دار ہوگا یہ عقد ثابت ہے صحابہ رضی اللہ عنہم اِس کے قائل ہیں۔
مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی (ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے (ف۱۰۵)
(ف99)تو عورتوں کو اُن کی اطاعت لازم ہے اور مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رِعایا کی طرح حکمرانی کریں اور اُن کے مصالح اور تدابیر اور تادیب وحفاظت کا سرانجام کریں شان ِنزول: حضرت سعد بن ربیع نے اپنی بی بی حبیبہ کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مار ااُن کے والِد انہیں سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور انکے شوہر کی شکایت کی اِس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف100)یعنی مردوں کو عورتوں پر عقل و دانائی اور جہاد اور نبوّت و خلافت وامامت و اذان و خطبہ و جماعت و جمعہ و تکبیر و تشریق اور حدو قصاص کی شہادت کے اور ورثہ میں دونے حصّے اور تعصیب اور نکاح و طلاق کے مالک ہونے اور نسبوں کے ان کی طرف نسبت کئے جانے اور نماز و روزہ کے کامل طور پر قابل ہونے کے ساتھ کہ اُن کے لئے کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے کہ نماز و روزہ کے قابل نہ ہوں اور داڑھیوں اور عِماموں کے ساتھ فضیلت دی ۔(ف101)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے نفقے مردوں پر واجب ہیں۔(ف102)اپنی عفت اور شوہروں کے گھر مال اور اُن کے راز کی ۔(ف103)انہیں شوہرکی نافرمانی اور اُس کے اطاعت نہ کرنے اور اُس کے حقوق کا لحاظ نہ رکھنے کے نتائج سمجھاؤ جو دُنیا و آخرت میں پیش آتے ہیں اور اللہ کے عذاب کا خوف دِلاؤ اور بتاؤ کہ ہمارا تم پر شرعاً حق ہے اور ہماری اطاعت تم پر فرض ہے اگر اِس پر بھی نہ مانیں ۔(ف104)ضرب غیر شدید ۔(ف105) اور تم گناہ کرتے ہو پھر بھی وہ تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیردست عورتیں اگر قصور کرنے کے بعد معافی چاہیں تو تمہیں بطریق اولٰی معاف کرنا چاہئے اور اللہ کی قدرت و برتری کا لحاظ رکھ کر ظلم سے مجتنب رہنا چاہئے۔
اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰٦) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸)
(ف106)اور تم دیکھو کہ سمجھانا ،علٰیحدہ سونا، مارنا کچھ بھی کار آمد نہ ہوا اور دونوں کی نااتفاقی رفع نہ ہوئی ۔(ف107)کیونکہ اقارب اپنے رشتہ داروں کے خانگی حالات سے واقف ہوتے ہیں اور زوجین کے درمیان موافقت کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور فریقین کو ان پر اطمینان بھی ہوتا ہے اور اُن سے اپنے دل کی بات کہنے میں تَامل بھی نہیں ہوتا ہے۔(ف108)جانتا ہے کہ زوجین میں ظالم کون ہے ۔مسئلہ: پنچوں کو زوجین میں تفریق کردینے کا اختیار نہیں۔
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱٤) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱٦) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷)
(ف109)نہ جاندار کو نہ بے جان کو نہ اُس کی ربوبیت میں نہ اُس کی عبادت میں ۔(ف110)ادب و تعظیم کے ساتھ اور اُنکی خدمت میں مستعِد رہنا اور اُن پر خرچ کرنے میں کمی نہ کرو۔ مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اُس کی ناک خاک آلود ہو حضرت ابوہریرہ نے عرض کیا کِس کی یارسول اللہ فرمایا جس نے بوڑھے ماں باپ پائے یا اُن میں سے ایک کو پایا اور جنّتی نہ ہوگیا(ف111)حدیث شریف میں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے۔(بخاری و مسلم)(ف112)حدیث : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا ایسے قریب ہوں گے جیسے اَنگشت شہادت اور بیچ کی انگلی (بخاری شریف)حدیث: سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی امداد و خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے مثل ہے۔(ف113)سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے اِس حد تک کہ گمان ہوتا تھا کہ ُان کو وارث قرار دیں ( بخاری و مسلم)(ف114)یعنی بی بی یا جو صحبت میں رہے یا رفیق ِسفر ہو یا ساتھ پڑھے یا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے۔(ف115)اور مسافر و مہمان حدیث: جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھے اُسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے۔(بخاری ومسلم)(ف116)کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دواور سخت کلامی نہ کرو اور کھانا کپڑا بقدر ضرورت دو ۔حدیث: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں بدخُلق داخل نہ ہوگا۔(ترمذی)(ف117)مُتکبِّر خودبیں جو رشتہ داروں اور ہمسایوں کو ذلیل سمجھے ۔
جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
(ف118)بخل یہ ہے کہ خود کھائے دُوسرے کو نہ دے شُحْ یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے سخایہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دُوسروں کو بھی کھلائے ، جو د یہ ہے کہ آ پ نہ کھائے دوسرے کو کھلائے ۔ شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے مسئلہ : اس سے معلُوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے ۔(ف119)حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کو پسند ہے کہ بندے پر اُس کی نعمت ظاہر ہو ۔ مسئلہ: اللہ کی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔
اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے،
(ف120)بخل کے بعد صرفِ بیجا کی برائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رضائے الہٰی اِنہیں مقصُود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی اِنہیں کے حکم میں ہیں جن کا حکم اُوپر گزر گیا۔(ف121)دنیاو آخرت میں دنیا میں تو اس طرح کہ وہ شیطانی کام کرکے اُس کو خوش کرتا رہا اور آخرت میں اس طرح کہ ہر کافر ایک شیطان کے ساتھ آتشی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوگا۔(خازن)
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲٤)
(ف123)اُس نبی کو اور وہ اپنی امت کے ایمان و کفر و نفاق اور تمام افعال پر گواہی دیں کیونکہ انبیاء اپنی اُمتوں کے اَفعال سے باخبر ہوتے ہیں۔(ف124)کہ تم نبیُ الانبیاء اور سارا عالَم تمہاری اُمّت ۔
اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵)
(ف125)کیونکہ جب وہ اپنی خطاء سے مُکْریں گے اور قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مُشرِک نہ تھے اور ہم نے خَطا نہ کی تھی تو اُنکے مونہوں پر مُہر لگادی جائے گی اور اُن کے اعضاء وجَوارح کو گویائی دی جائے گی وہ اُن کے خلاف شہادت دیں گے۔
اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲٦) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بےنہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتوں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
(ف126)شانِ نزول: حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ایک جماعتِ صحابہ کی دعوت کی اِس میں کھانے کے بعد شراب پیش کی گئی بعضوں نے پی کیونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی پھر مغرب کی نماز پڑھی امام نشہ میں قَلْ یَٰایُّھَاالْکَافِرُوْنَ اَعْبُدُ مَاتَعْبُدوْنَ وَانْتُمْ عَابِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ پڑھ گئے اور دونوں جگہ لَا ترک کردیا اور نشہ میں خبر نہ ہوئی اور معنی فاسد ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمادیا گیا تو مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی اس کے بعد شراب بالکل حرام کردی گئی مسئلہ: اس سے ثابت ہوا کہ آدمی نشہ کی حالت میں کلمہء کفر زبان پر لانے سے کافر نہیں ہوتا اس لئے کہ قُلْ یٰاَۤ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ میں دونوں جگہ لاَ کا ترک کُفر ہے لیکن اس حالت میں حضور نے اس پر کفر کا حکم نہ فرمایا بلکہ قرآن پاک میں اُن کو یٰاَۤیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْسے خطاب فرمایا گیا۔(ف127)جبکہ پانی نہ پاؤ تیمم کرلو ۔ (ف128)اور پانی کا استعمال ضرر کرتا ہو ۔(ف129)یہ کنایہ ہے بے وضو ہونے سے(ف130)یعنی جماع کیا۔(ف131)اس کے استعمال پر قادر نہ ہونے خواہ پانی موجود نہ ہونے کے باعث یا دور ہونے کے سبب یا اس کے حاصل کرنے کا آلہ نہ ہو نے کے سبب یا سانپ،درندہ،دُشمن وغیرہ کوئی ہونے کے باعث۔(ف132)یہ حکم مریضوں، مسافروں ، جنابت اور حَدث والوں کو شامل ہے جو پانی نہ پائیں یا اس کے استعمال سے عاجز ہوں( مدارک) مسئلہ : حیض و نفاس سے طہارت کے لئے بھی پانی سے عاجز ہونے کی صورت میں تیمّم جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔(ف133)طریقہء تیمّم تیمّم کرنے والا دل سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے تیمم میں نیت بالا جماع شرط ہے کیونکہ وہ نصّ سے ثابت ہے جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے گَرد رِیتا پتّھر ان سب پر تیمم جائز ہے خواہ پتّھر پر غبار بھی نہ ہو لیکن پاک ہونا ان چیزوں کا شرط ہے تیمم میں دو ضربیں ہیں ،ایک مرتبہ ہاتھ مار کر چہرہ پر پھیرلیں دوسری مرتبہ ہاتھوں پر۔ مسئلہ: پانی کے ساتھ طہارت اصل ہے اور تیمم پانی سے عاجز ہونے کی حالت میں اُس کا پُورا پُورا قائم مقام ہے جس طرح حدث پانی سے زائل ہوتا ہے اسی طرح تیمم سے حتّٰی کہ ایک تیمم سے بہت سے فرائض و نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔ مسئلہ: تیمم کرنے والے کے پیچھے غُسل اور وضو کرنے والے کی اقتدا صحیح ہے۔شانِ نزول : غزوۂ بنی المُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام شب کو ایک بیاباں میں اُترا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا وہاں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا اس کی تلاش کے لئے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اقامت فرمائی صبح ہوئی تو پانی نہ تھا ۔ اللہ تعالٰی نے آیتِ تیمم نازل فرمائی۔ اُسَیْدْ بن حُضَیْر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہاکہ اے آلِ ابوبکر یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے پھر اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار ملا۔ ہار گم ہونے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہ بتانے میں بہت حکمتیں ہیں ۔ حضرت صدیقہ کے ہار کی وجہ سے قیام اُنکی فضیلت و منزلت کا مُشْعِر ہے۔ صحابہ کا جُستجُو فرمانا اس میں ہدایت ہے کہ حضور کے ازواج کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے اور پھر حکمِ تیمم ہونا معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی خدمت کا ایسا صلہ ہے جس سے قیامت تک مسلمان منتفع ہوتے رہیں گے سبحان اللہ ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳٤) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳٦) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ،
(ف134)وہ یہ کہ توریت سے اُنہوں نے صرف حضرت موسٰی علیہ السلام کی نبوت کو پہچانا اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اس میں بیان تھا اس حصّہ سے وہ محروم رہے اور آپ کی نبوت کے مُنکِر ہوگئے ۔ شانِ نزول یہ آیت رِفاعہ بن زید اور مالک بن دَخشم یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی یہ دونوں جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرتے تو زبان ٹیڑھی کرکے بولتے۔(ف135)حضور کی نبوت کا انکار کرکے (ف136)اے مسلمانو ۔
کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱٤۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱٤۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱٤۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱٤۳) زبانیں پھیر کر (ف۱٤٤) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱٤۵) اور اگر وہ (ف۱٤٦) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱٤۷)
(ف139)جوتوریت شریف میں اللہ تعالٰی نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت میں فرمائے۔(ف140)جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کچھ حکم فرماتے ہیں تو۔(ف141)کہتے ہیں۔(ف142)یہ کلمہ ذو جہتین ہے مدح و ذم کے دونوں پہلو رکھتا ہے مَدۡح کا پہلو تو یہ ہے کہ کوئی ناگوار بات آپ کے سننے میں نہ آئے اور ذَم کا پہلو یہ کہ آپ کو سننا نصیب نہ ہو ۔(ف143)باوجود یہ کہ اس کلمہ کے ساتھ خطاب کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ یہ ان کی زبان میں خراب معنٰی رکھتا ہے۔(ف144)حق سے باطل کی طرف ۔(ف145)کہ وہ اپنے رفیقوں سے کہتے تھے کہ ہم حضور کی بدگوئی کرتے ہیں اگر آپ نبی ہوتے تو آپ اِس کو جان لیتے اللہ تعالٰی نے اُن کے خبث ضمائر کو ظاہر فرما دیا(ف146)بجائے اُن کلمات کے اہلِ اَدب کے طریقہ پر(ف147)اتنا کہ اللہ نے اُنہیں پیدا کیا اور روزی دی اور اس قدر کافی نہیں جب تک کہ تمام ایمانیات کو نہ مانیں اور سب کی تصدیق نہ کریں
اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱٤۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱٤۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہو کر رہے،
(ف148)توریت ۔(ف149)آنکھ، ناک ، ابرو وغیرہ نقشہ مٹا کر ۔(ف150)ان دونوں باتوں میں سے ایک ضرور لازم ہے اور لعنت تو اُن پر ایسی پڑی کہ دنیا انہیں ملعون کہتی ہے یہاں مفسّرین کے چند اقوال ہیں بعض اس وعید کا وقوع دنیا میں بتاتے ہیں بعض آخرت میں بعض کہتے ہیں کہ لعنت ہوچکی اور وعید واقع ہوگئی بعض کہتے ہیں ابھی انتظار ہے بعض کا قول ہے کہ یہ وعید اس صورت میں تھی جب کہ یہود میں سے کوئی ایمان نہ لاتا اور چونکہ بہت سے یہود ایمان لے آئے اِس لئے شرط نہیں پائی گئی اور وعید اُٹھ گئی ۔ حضرت عبداللہ بن سلام جو اعظم علمائے یہود سے ہیں انہوں نے ملک شام سے واپس آتے ہوئے راہ میں یہ آیت سُنی اور اپنے گھر پہنچنے سے پہلے اسلام لا کرسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ میں نہیں خیال کرتا تھا کہ میں اپنا منہ پیٹھ کی طرف پھر جانے سے پہلے اور چہرہ کا نقشہ مٹ جانے سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکوں گا یعنی اس خوف سے اُنہوں نے ایمان لانے میں جلدی کی کیونکہ توریت شریف سے اُنہیں آپ کے رسولِ بَرحق ہونے کا یقینی عِلم تھا اسی خوف سے حضرت کعب احبار جو علماءِ یہود میں بڑی منزلت رکھتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر مسلمان ہوگئے۔
بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،
(ف151)معنی یہ ہیں کہ جو کفر پر مَرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگار مرتکبِ کبائر ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تو اُس کے لئے خلود نہیں اِس کی مغفرت اللہ کی مشیّت میں ہے چاہے معاف فرمائے یا اُس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے اس آیت میں یہود کو ایمان کی ترغیب ہے ،اور اس پر بھی دلالت ہے کہ یہود پر عُرفِ شرع میں مُشرِک کا اطلاق درست ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳)
(ف152)یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے آپ کو اللہ کا بیٹا اور اُس کا پیارا بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہود و نصارٰی کے سوا کوئی جنّت میں نہ داخل ہوگا اس آیت میں بتایا گیا کہ انسان کا دِین داری اور صلاح و تقوٰی اور قرب و مقبولیت کا مدعِی ہونا اور اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا کام نہیں آتا۔(ف153)یعنی بالکل ظلم نہ ہوگا وہی سزا دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں ۔
یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہرگز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵)
(ف155)شانِ نزول: یہ آیت کعب بن اشرف وغیرہ علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو ستّر سواروں کی جمعیّت لے کر قریش سےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے پر حَلف لینے پہنچے،قریش نے اُن سے کہا چونکہ تم کتابی ہو اس لئے تم سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہو ہم کیسے اطمینان کریں کہ تم ہم سے فریب کے ساتھ نہیں مل رہے ہو اگر اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو تو انہوں نے شیطان کی اطاعت کرکے بتوں کوسجدہ کیا پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہم ٹھیک راہ پر ہیں یا محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعب بن اشرف نے کہاتمہیں ٹھیک راہ پر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالٰی نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پُوجا
کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵٦) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں،
(ف156)یہود کہتے تھے کہ ہم مُلک و نُبوّت کے زیادہ حق دار ہیں تو ہم کیسے عربوں کا اتباع کریں اللہ تعالٰی نے اُن کے اِس دعوے کو جھٹلادیا کہ اُن کا مُلک میں حِصّہ ہی کیا ہے اور اگر بالفرض کچھ ہوتا تو اُن کا بخل اس درجہ کا ہے کہ۔
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹)
(ف157)نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ ایمان سے۔(ف158)نبوّت و نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتیں ۔(ف159)جیسا کہ حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کو تو پھرا گر اپنے حبیب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کرم کیا تو اس سے کیوں جلتے اور حسد کرتے ہو ۔
تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱٦۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱٦۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱٦۲)
(ف160)جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے ساتھ والےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف161)اور ایمان سے محروم رہا۔(ف162)اس کے لئے جوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لائے۔
جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱٦۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱٦٤)
(ف163)جو ہر نجاست و گندگی اور قابل نفرت چیزسے پاک ہیں۔(ف164)یعنی سا یۂ جنّت جس کی راحت و آسائیش رسائی فہم و احاطۂ بیان سے بالا تر ہے ۔
بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱٦۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱٦٦) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
(ف165)اصحاب امانات اور حُکام کو امانتیں دیانت داری کے ساتھ حق دار کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا بعض مفسّرین کا قول ہے کہ فرائض بھی اللہ تعالٰی کی امانتیں ہیں اُن کی ادا بھی اس حکم میں داخل ہے۔(ف166)فریقین میں سے اصلاً کِسی کی رعایت نہ ہو علماء نے فرمایا کہ حاکم کو چاہئے کہ پانچ باتوں میں فریقَیۡن کے ساتھ برابر سلوک کرے۔(۱) اپنے پاس آنے میں جیسے ایک کو موقع دے دوسرے کو بھی دے(۲) نشست دونوں کو ایک سی دے(۳) دونوں کی طرف برابر متوجہ رہے(۴) کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے(۵) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پُورا پُورا دِلائے،حدیث شریف میں ہے انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری منبر عطا ہوں گے شانِ نزول: بعض مفسّرین نے اِس کی شانِ نزول میں اِس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ فتح مکّہ کے وقت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظّمہ کی کلید لے لی۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کلید انہیں واپس دی اور فرمایا کہ اب یہ کلید ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی اس پر عثمان بن طلحہ حجبی اسلام لائے اگرچہ یہ واقعہ تھوڑے تھوڑے تغیرات کے ساتھ بہت سے محدّثین نے ذکر کیاہے مگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ قابلِ وُثوق نہیں معلُوم ہوتا کیونکہ ابن عبداللہ اور ابن مندہ اور ابن اثیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بن طلحہ ۸ ھ میں مدینہ طیبہ حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوچکے تھے اور اُنہوں نے فتحِ مکّہ کے روز کنجی خود اپنی خوشی سے پیش کی تھی بخاری اور مُسلِم کی حدیثوں سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔
اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱٦۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱٦۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱٦۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا،
(ف167)کہ رسول کی اِطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے بخاری و مسلم کی حدیث ہےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔(ف168)اسی حدیث میں حضورفرماتے ہیں جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مُسلِم اُمراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں۔(ف169)اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ایک وہ جو ظاہر حدیث سے ایک وہ جو قرآن و حدیث کی طرف بطریق قیاس رجوع کرنے سے اولی الامر میں اما م امیر بادشاہ حاکم قاضی سب داخل ہیں خلافتِ کا ملہ تو زمانۂ رسالت کے بعد تیس سال رہی مگر خلافتِ ناقصہ خلفاءِ عباسیہ میں بھی تھی اور اب تو امامت بھی نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ امام کے لئے قریش میں سے ہونا شرط ہے اور یہ بات اکثر مقامات میں معدوم ہے لیکن سلطنت و امارت باقی ہے اور چونکہ سلطان و امیر بھی اولوالامر میں داخل ہیں اِس لئے ہم پر اُن کی اطاعت بھی لازم ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰)
(ف170)شانِ نزول: بِشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی نے کہا چلوسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طے کرالیں منافق نے خیال کیا کہ حضورتو بے رعایت محض حق فیصلہ دیں گے اس کا مطلب حاصل نہ ہوگا اس لئے اُس نے باوجود مدعیء ایمان ہونے کے یہ کہا کہ کعب بن اشرف یہودی کو پنچ بناؤ(قرآن کریم میں طاغوت سے اس کعب بن اشرف کے پاس فیصلہ لے جانا مراد ہے) یہودی جانتا تھا کہ کعب رشوت خوار ہے اِس لئے اُس نے باوجو د ہم مذہب ہونے کے اُس کو پنچ تسلیم نہ کیا ناچار منافق کو فیصلہ کے لئےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور آنا پڑا۔ حضورنے جو فیصلہ دیا وہ یہودی کے موافق ہوا یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد پھر منافق یہودی کے درپے ہوا اور اسے مجبور کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا یہودی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا اس کا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طے فرماچکے لیکن یہ حضورکے فیصلہ سے راضی نہیں آپ سے فیصلہ چاہتا ہے فرمایا کہ ہاں میں ابھی آکر اس کا فیصلہ کرتا ہوں یہ فرما کر مکان میں تشریف لے گئے اور تلوار لا کر اُس کو قتل کردیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اُس کا میرے پاس یہ فیصلہ ہے ۔
کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا (ف۱۷۳)
(ف171)جس سے بھاگنے بچنے کی کوئی راہ نہ ہو جیسی کہ بِشر منافق پر پڑی کہ اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا۔(ف172)کفر و نفاق اور معاصی جیسا کہ بِشر منافق نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ سے اعراض کرکے کیا۔(ف173)اور وہ عذر و ندامت کچھ کام نہ دے جیسا کہ بِشر منافق کے مارے جانے کے بعد اُس کے اولیاء اُس کے خُون کا بدلہ طلب کرنے آئے اور بے جا معذرتیں کرنے اورباتیں بنانے لگے اللہ تعالٰی نے اس کے خون کا کوئی بدلہ نہیں دلایا کیونکہ وہ کشتنی ہی تھا۔
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷٦) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (ف۱۷۷)
(ف175)جب کہ رسُول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مُطَاع بنائے جائیں اور اُن کی اطاعت فرض ہو تو جواُن کے حکم سے راضی نہ ہو اُس نے رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ کافر واجب القتل ہے۔(ف176)معصیت و نافرمانی کرکے۔(ف177)اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الہٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضہء اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا یارسول اللہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی اس سے چند مسائل معلوم ہوئے مسئلہ: اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہےمسئلہ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی جَآءُ وْکَ میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے مسئلہ: بعد وفات مقبُولان ِحق کو( یا )کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔
تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸
(ف178)معنٰی یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے سبحان اللہ اس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان معلُوم ہوتی ہے شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آبِ رسانی کرتے ہیں اس میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیر کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو انصافاً قریب والاہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی
اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا
(ف179)جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا شانِ نزول: ثابت بن قیس بن شَمَّاس سے ایک یہودی نے کہا کہ اللہ نے ہم پر اپنا قتل اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا ہم اس کو بجالائے ثابت نے فرمایا کہ اگر اللہ ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجالاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف180)یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی فرماں برداری کی ۔
اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸٤) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ،
(ف181)تو انبیاء کے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت ودیدار سے محروم نہ ہوں گے۔(ف182)صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں مگر اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افاضل اصحاب مُراد ہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔(ف183)جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں ۔ (ف184)وہ دیندار جو حق العباد اور حق اللہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں شانِ نزول: حضرت ثوبان سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیاتھا تو حضور نے فرمایا آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے عرض کیا نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللہ تعالی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔
اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہو کر نکلو یا اکٹھے چلو
(ف185)دُشمن کے گھات سے بچو اور اُسے اپنے اُوپر موقع نہ دو ایک قول یہ بھی ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھو مسئلہ: اِس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی حفاظت کی تدبیر یں جائز ہیں ۔
تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے،
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے،
(ف189)یعنی جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ۔
ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲)
(ف190)اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجہء ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکّہ مکرّمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پربے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالی سے اپنی خلاصی اور مددِ الہٰی کی دعا ئیں کرتے تھے ۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکّہء مکرّمہ فتح کرکے اُن کی زبردست مدد فرمائی ۔(ف191)اعلاء ِدین اور رضائے الٰہی کے لئے۔(ف192)یعنی کافروں کا اور وہ اللہ کی مدد کے مقابلہ میں کیا چیز ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹٤) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹٦) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸)
(ف193)قتال سے، شانِ نزول: مشرکینِ مکّہ مکرّمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ہجرت سے قبل اصحابِ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جماعت نے حضورکی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں ۔ حضورنے فرمایا کہ اُن کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکوٰۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ فائدہ ۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز وزکوٰۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔(ف194)مدینہ طیبہ میں اور بدر کی حاضر ی کا حکم دیا گیا۔(ف195)یہ خوف طبعی تھا کہ انسان کی جِبِلَّت ہے کہ موت و ہلاکت سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔(ف196)اس کی حکمت کیا ہے یہ سوال وجہِ حکمت دریافت کرنے کے لئے تھانہ بطریق ِاعتراض اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ وز جرنہ فرمایا گیا بلکہ جواب تسکین بخش عطا فرمادیا گیا ۔(ف197)زائل وفانی ہے ۔(ف198)اور تمہارے اجر کم نہ کئے جائیں گے تو جہاد میں اندیشہ و تامل نہ کرو۔
تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور انہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے،
(ف199)اور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت ناگزیر ہے تو بسترپر مرجانے سے راہ خدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادتِ آخرت کا سبب ہے۔(ف200)ارزانی وکثرت پیدوار وغیرہ کی۔(ف201)گرانی قحط سالی وغیرہ (ف202)یہ حال منافقین کا ہے کہ جب انہیں کوئی سختی پیش آتی تو اس کوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کرتے اور کہتے جب سے یہ آئے ہیں ایسی ہی سختیاں پیش آیا کرتی ہیں ۔(ف203)گرانی ہو یا ارزانی قحط ہو یا فراخ حالی رنج ہو یا راحت آرام ہو یا تکلیف فتح ہو یا شکست حقیقت میں سب اللہ کی طرف سے ہے۔
اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰٤) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰٦) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷)
(ف204)اُس کا فضل و رحمت ہے(ف205)کہ تو نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا مسئلہ: یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامت ِنفس کے سبب سے سمجھے۔(ف206)عرب ہوں یا عجم آپ تمام خلق کے لئے رسُول بنائے گئے اور کل جہان آپ کا اُمّتی کیا گیا یہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالتِ منصب اور رفعتِ منزلت کا بیان ہے۔(ف207)آپ کی رسالتِ عامہ پر تو سب پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع فرض ہے ۔
جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا
(ف208)شانِ نزول: رسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ سے محبّت کی اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسا نصارٰی نے عیسٰی بن مریم کو رب مانا اس پر اللہ تعالی نے اِن کے رَدّ میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی تصدیق فرمادی کہ کہ بے شک رسُول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے،(ف209)اور آپ کی اطاعت سے اعراض کیا۔
اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو،
(ف210)شانِ نزول: یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ایمان و اطاعت شعاری کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حضور پر ایمان لائے ہیں ہم نے حضورکی تصدیق کی ہے حضور جو ہمیں حکم فرمائیں اُس کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔(ف211)ان کے اعمال ناموں میں اور اُس کا اِنہیں بدلہ دے گا
تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳)
(ف212)اوراس کے عُلوم و حِکَم کو نہیں دیکھتے کہ اُس نے اپنی فصاحت سے تمام خَلق کو عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکرو کید کا اِفشاءِ راز کردیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔(ف213)اور زمانہء آئندہ کے متعلق غیبی خبریں مطابق نہ ہوتیں اور جب ایسا نہ ہوا اور قرآن پاک کی غیبی خبروں سے آئندہ پیش آنے والے واقعات مطابقت کرتے چلے گئے تو ثابت ہوا کہ یقیناً وہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلیغ ہوتا ہے تو کچھ رکیک ہوتا ہے جیسا کہ شعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بہت ملیح اور کوئی نہایت پھیکا۔ یہ اللہ تعالی ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کی اعلی مرتبت پر ہے۔
اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱٤) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱٦) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳)
(ف214)یعنی فتحِ اسلام۔(ف215)یعنی مسلمانوں کی ہَزِیمت کی خبر(ف216)جو مفسدے کا موجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کی شہرت سے تو کفا رمیں جوش پیدا ہوتا ہے اور شکست کی خبر سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔(ف217)اکابر صحابہ جو صاحب رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں ۔(ف218)اور خود کچھ دخل نہ دیتے۔(ف219)مسئلہ: مفسرین نے فرمایا اس آیت میں دلیل ہے جو از قیاس پر اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو بہ نصِ قرآن و حدیث حاصل ہواور ایک علم وہ ہے جوقرآن و حدیث سے استنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے مسئلہ:یہ بھی معلوم ہواکہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اہل ہواس کو تفویض کرنا چاہئے۔(ف220)رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ۔(ف221)نزول قرآن ۔(ف222)اور کفرو ضلال میں گرفتار رہتے۔
تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲٤) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲٦) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست)
(ف223)وہ لوگ جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور قرآن پاک کے نزول سے پہلے آ پ پر ایمان لائے جیسے زید بن عَمرو بن نُفِیل اور ورقہ بن نَوفَل اور قیس بن ساعِدہ ۔(ف224)خواہ کوئی تمہارا ساتھ دے یا نہ دے اور تم اکیلے رہ جاؤ۔(ف225)شانِ نزول: بدرصغرٰی کی جنگ جو ابوسفیان سے ٹھہر چکی تھی جب اس کا وقت آپہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں جانے کے لئے لوگوں کو دعوت دی بعضوں پر یہ گراں ہوا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ جہاد نہ چھوڑیں اگرچہ تنہاہوں اللہ آپ کا ناصر ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے یہ حکم پا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرصغرٰی کی جنگ کے لئے روانہ ہوئے صرف ستّر سوار ہمراہ تھے۔(ف226)انہیں جہاد کی ترغیب دو اور بس ۔(ف227)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر کامیاب آیا اور کفار ایسے مرعوب ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے مقابل میدان میں نہ آسکے فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شجاعت میں سب سے اعلی ہیں کہ آپ کو تنہا کفار کے مقابل تشریف لے جانے کا حکم ہوا اور آپ آمادہ ہوگئے۔
اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱)
(ف231)مسائل: ِسلا م ،سلام کرنا سنّت ہے اور جواب دینا فرض اور جواب میں افضل ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پر کچھ بڑھائے مثلاً پہلا شخص السلام علیکم کہے تو دوسرا شخص وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اگر پہلے نے ورحمۃ اللہ بھی کہا تھا تو یہ وبرکاتہ اور بڑھائے پس اس سے زیادہ سلام و جواب میں اور کوئی اضافہ نہیں ہے کافر ،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔ جو شخص خطبہ یا تلاوت قرآن یا حدیث یا مذاکرہ علم یا اذان یا تکبیر میں مشغول ہو اس حال میں ان کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو اُن پر جواب دینا لازم نہیں اورجو شخص شَطرنج ،چوسر ،تاش،گنجفہ وغیرہ کوئی ناجائز کھیل کھیل رہا ہویا گانے بجانے میں مشغول ہو یا پاخانہ یا غسل خانہ میں ہو یابے عذر برہنہ ہو اس کو سلام نہ کیا جائے مسئلہ : آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو بی بی کو سلام کرے ہندوستان میں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن و شو کے اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام سے محروم کرتے ہیں باوجود یہ کہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔ مسئلہ: بہتر سواری والا کمتر سواری والے کو اور کمتر سواری والا پیدل چلنے والے کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹے بڑے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں ۔
تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳٤) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا،
(ف233)شانِ نزول: منافقین کی ایک جماعت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جانے سے رک گئی تھی ان کے باب میں اصحاب کرام کے دو فرقے ہوگئے ایک فرقہ قتل پر مُصر تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف234)کہ وہ حضور کے ساتھ جہاد میں جانے سے محروم رہے۔(ف235)ان کے کفر وارتداد اور مشرکین کے ساتھ ملنے کے باعث تو چاہئے کہ مسلمان بھی ان کے کفر میں اختلاف نہ کریں۔
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ (ف۲۳٦) جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں (ف۲۳۷) پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۲۳۸) تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار (ف۲۳۹)
(ف236)اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات ممنوع کی گئی خواہ وہ ایمان کا اظہار ہی کرتے ہوں ۔(ف237)اور اس سے ان کے ایمان کی تحقیق نہ ہولے۔(ف238)ایمان و ہجرت سے اور اپنی حالت پر قائم رہیں۔(ف239)اور اگر تمہاری دوستی کا دعوٰی کریں اور مدد کے لئے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو۔
مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے (ف۲٤۰) یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں (ف۲٤۱) یا اپنی قوم سے لڑیں (ف۲٤۲) اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بیشک تم سے لڑتے (ف۲٤۳) پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی (ف۲٤٤)
(ف240)یہ استثناء قتل کی طرف راجع ہے کیونکہ کفار و منافقین کے ساتھ موالات کسی حال میں جائز نہیں اور عہد سے یہ عہد مراد ہے کہ اس قوم کو اور جو اس قوم سے جا ملے اس کو امن ہے جیسا کہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ تشریف لے جاتے وقت ہلال بن عویمر اسلمی سے معاملہ کیا تھا ۔(ف241)اپنی قوم کے ساتھ ہو کر ۔(ف242)تمہارے ساتھ ہو کر۔(ف243)لیکن اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔(ف244)کہ تم ان سے جنگ کرو بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم آیت اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ سے منسوخ ہوگیا ۔
اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں (ف۲٤۵) جب کبھی انکی قوم انہیں فساد (ف۲٤٦) کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے ہیں پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور (ف۲٤۷) صلح کی گردن نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ سے نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار دیا (ف۲٤۸)
(ف245)شانِ نزول: مدینہ طیبہ میں قبیلہء اسد و غَطفان کے لوگ ریاءً کلمہء اسلام پڑھتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب ان میں سے کوئی اپنی قوم سے ملتا اور وہ لوگ ان سے کہتے کہ تم کس چیز پر ایمان لائے تو وہ لوگ کہتے کہ بندروں بچھوؤں وغیرہ پر اس انداز سے ان کا مطلب یہ تھا کہ دونوں طرف سے رسم و راہ رکھیں اور کسی جانب سے انہیں نقصان نہ پہنچے یہ لوگ منافقین تھے انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف246)شرک یا مسلمان سے جنگ۔(ف247)جنگ سے باز آکر (ف248)ان کے کفر، غدر اور مسلمانوں کی ضرر رسانی کے سبب ۔
اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر (ف۲٤۹) اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا کر مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے (ف۲۵۰) مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ (ف۲۵۱) اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے (ف۲۵۲) اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا (ف۲۵۳) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا (ف۲۵٤) تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے (۲۵۵) وہ لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۲۵٦) یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ،
(ف249)یعنی مومن کافر کی مثل مباح الدم نہیں ہے جس کا حکم اوپر کی آیت میں مذکور ہوچکا تو مسلمان کا قتل کرنا بغیر حق کے روا نہیں اور مسلمان کی شان نہیں کہ اس سے کسی مسلمان کا قتل سرزد ہو بجز اس کے کہ خطاءً ہو اس طرح کہ مارتا تھا شکار کو یا کافر حربی کو اور ہاتھ بہک کر زد پڑی مسلمان پر یا یہ کہ کسی شخص کو کافر حربی جان کر مارا اور تھا وہ مسلمان ۔(ف250)یعنی اس کے وارثوں کو دی جائے وہ اسے مثل میراث کے تقسیم کرلیں دِیّت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے اس سے مقتول کا دَین بھی ادا کیا جائے گا وصیت بھی جاری کی جائے گی۔(ف251)جو خطاءً قتل کیا گیا۔(ف252)یعنی کافر (ف253)لازم ہے اور دیت نہیں (ف254)یعنی اگر مقتول ذمی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو مسلمان کا۔(ف255)یعنی وہ کسی غلام کا مالک نہ ہو۔(ف256)لگاتار روزہ رکھنا یہ ہے کہ ان روزوں کے درمیان رمضان اور ایام تشریق نہ ہوں اور درمیان میں روزوں کا سلسلہ بعذر یا بلاعذر کسی طرح توڑا نہ جائے۔ شان نزول : یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ قبل ہجرت مکہ مکرمہ میں اسلام لائے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوئے ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں نہ کھانا چکھوں نہ پانی پیوں جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ وہ دونوں حارث بن زید بن ابی اُنیسہ کو ساتھ لے کر تلاش کے لئے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پالیا اور ان کوماں کے جزع فزع بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللہ کو درمیان دے کر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے باب میں تجھ سے کچھ نہ کہیں گے اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آکر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کردیا تو حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تو اسی دین پر تھا اگر یہ حق تھا تو تونے حق کو چھوڑ دیااور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے کہا میں تجھ کو اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ضرور قتل کردوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لائے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لائے اور ہجرت کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی قباء کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ پایا اور قتل کردیا تو لوگوں نے کہا اے عیاش تم نے بہت برا کیا حارث اسلام لاچکے تھے اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے تا وقت قتل ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے (ف۲۵۷) اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب،
(ف257)مسلمان کو عمداً قتل کرنا سخت گناہ اور اشد کبیرہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہونا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے پھر یہ قتل اگر ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل اس قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر بھی ہے فائدہ: خلود مدتِ دراز کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور قاتل اگر صرف دنیوی عداوت سے مسلمان کو قتل کرے اور اس کے قتل کو مباح نہ جانے جب بھی اس کی جزا مدت دراز کے لئے جہنم ہے فائدہ : خلود کالفظ مدت طویلہ کے معنی میں ہوتاہے تو قرآن کریم میں اس کے ساتھ لفظ ابد مذکور نہیں ہوتا اور کفار کے حق میں خلود بمعنی دوام آیا ہے تو اس کے ساتھ ابد بھی ذکر فرمایا گیا ہے شان نزول: یہ آیت مُقیّس بن خبابہ کے حق میں نازل ہوئی اس کے بھائی قبیلہ بنی نجار میں مقتول پائے گئے تھے اور قاتل معلوم نہ تھا بنی نجار نے بحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیت ادا کردی اس کے بعد مقیس نے باغوائے شیطان ایک مسلمان کو بے خبری میں قتل کردیا اور دیت کے اونٹ لے کر مکہ کو چلتا ہوگیا اور مرتد ہوگیا یہ اسلام میں پہلا شخص ہے جو مرتد ہوا۔
اے ایمان والو! جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (ف۲۵۷) تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہتری غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے (ف۲۵۹) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (ف۲٦۰) تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے (ف۲٦۱) بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(ف258)یا جس میں اسلام کی علامت و نشانی پاؤ اس سے ہاتھ روکو اور جب تک اس کا کفر ثابت نہ ہو جائے اس پر ہاتھ نہ ڈالو ابوداؤد وتر مذی کی حدیث میں ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے حکم دیتے کہ اگرتم مسجد دیکھو یا اذان سنو تو قتل نہ کرنا مسئلہ: اکثر فقہاء نے فرمایا کہ اگر یہودی یا نصرانی یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو اس کو مومن نہ مانا جائے گا کیونکہ وہ اپنے عقیدہ ہی کو ایمان کہتا ہے اور اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے جب بھی اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے دین سے بیزاری کا اظہار اور اس کے باطل ہونے کا اعتراف نہ کرے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کفر میں مبتلا ہو اس کے لئے اس کفر سے بیزاری اور اس کو کفر جاننا ضرور ہے۔(ف259)یعنی جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تو تمہاری زبان سے کلمہ شہادت سن کر تمہارے جان و مال محفوظ کر دیئے گئے تھے اور تمہارا اظہار بے اعتبار نہ قرار دیا گیا تھا ایسا ہی اسلام میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تمہیں بھی سلوک کرنا چاہئے شان نزول: یہ آیت مَرْدَ اس بن َنہِیْک کے حق میں نازل ہوئی جو اہل فدک میں سے تھے اور اُن کے سوااُن کی قوم کاکوئی شخص اسلام نہ لایا تھا اس قوم کو خبر ملی کہ لشکر اسلام ان کی طرف آرہا ہے تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مَرْدَ اس ٹھہرے رہے جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تو بایں خیال کہ مبادا کوئی غیر مسلم جماعت ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے جب لشکر آیا اور انہوں نے اللہ اکبر کے نعروں کی آوازیں سنیں تو خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ السلام علیکم مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہل فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص مغالطہ دینے کے لئے اظہارِ ایمان کرتا ہے بایں خیال اُسامہ بن زید نے ان کو قتل کردیا اور بکریاں لے آئے جب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئے تو تمام ماجرا عرض کیا حضور کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کے سامان کے سبب اس کو قتل کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہل کو واپس کریں۔(ف260)کہ تم کو اسلام پر استقامت بخشی اور تمہارا مؤمن ہونا مشہور کیا۔(ف261)تاکہ تمہارے ہاتھ سے کوئی ایمان دار قتل نہ ہو۔
برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (ف۲٦۲) اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا (ف۲٦۳) اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا (ف۲٦٤) اور اللہ نے جہاد والوں کو (۲٦۵) بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے،
(ف262)اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے کہ بیٹھ رہنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں مجاہدین کے لئے بڑے درجات و ثواب ہیں اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ بیماری یا پیری و ناطاقتی یا نابینائی یا ہاتھ پاؤں کے ناکارہ ہونے اور عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوں وہ فضیلت سے محروم نہ کئے جائیں گے اگر نیت صالح رکھتے ہوں حدیث بخاری میں ہےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں رہ گئے ہیں ہم کسی گھاٹی یا آبادی میں نہیں چلتے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عذر نے روک لیا ہے۔(ف263)جو عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوسکے اگر چہ وہ نیت کا ثواب پائیں گے لیکن جہاد کرنے والوں کو عمل کی فضیلت اس سے زیادہ حاصل ہے۔(ف264)جہاد کرنے والے ہوں یا عذر سے رہ جانے والے۔ (ف265)بغیر عذر کے۔
وہ لوگ جنکی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے انسے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے (ف۲٦۷) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اسمیں ہجرت کرتے، تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور بہت بری جگہ پلٹنے کی (ف۲٦۸)
(ف267)شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہِ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جا ن پر ظلم کرنا ہے۔(ف268)مسئلہ : یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائضِ دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہےحدیث میں ہے جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اورسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میسر ہوگی
اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے نکلا (ف۲۷۱) اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا (ف۲۷۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
(ف271)شان نزول : اس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی تو جُندع بن ضَمرۃُ اللَّیْثِیْ نے اس کو سنا یہ بہت بوڑھے شخص تھے کہنے لگے کہ میں مستثنٰی لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کرکے پہنچ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھروں گا مجھے لے چلو چنانچہ ان کو چار پائی پر لے کے چلے مقام تنعیم میں آکر ان کا انتقال ہوگیا۔ آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یارب یہ تیرا اور یہ تیرے رسول کا میں اس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت کی یہ خبر پا کر صحابہ کرام نے فرمایا کاش وہ مدینہ پہنچتے توان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف272)اس کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے کیونکہ بطریق استحقاق کوئی چیز اس پر واجب نہیں اس کی شان اس سے عالی ہے مسئلہ: جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہوجائے وہ اس طاعت کا ثواب پائے گا مسئلہ: طلبِ علم ، جہاد ، حج ، زیارت،طاعت ، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لئے ترک وطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے اس راہ میں مرجانے والا اجر پائے گا۔
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو (ف۲۷۳) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے (ف۲۷٤) بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،
(ف273)یعنی چار رکعت والی دو رکعت (ف274)مسئلہ : خوفِ کفار قصر کے لئے شرط نہیں حدیث: یعلی بن امیہ نے حصرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں فرمایا اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ جو چیزیں قابل تملیک نہیں ہیں ان کا صدقہ اسقاطِ محض ہے رَد کا احتمال نہیں رکھتا۔ آیت کے نزول کے وقت سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لئے آیت میں اس کا ذکر بیانِ حال ہے شرطِ قصر نہیں حضرت عبداللہ بن عُمَر کی قراء ت بھی دلیل ہے جس میں اَنْ یَّفْتِنَکُمْ بغیر اِنْ خِفْتُمْ کے ہے صحابہ کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے اور پوری چار پڑھنے میں اللہ تعالی کے صدقہ کا رَد کرنا لازم آتا ہے لہذاقصر ضروری ہے۔ مدت سفر مسئلہ :جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی ادنٰی مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں جو مسافت متوسط رفتار سے چلنے والے تین روز میں طے کرتے ہوں اور اس کے سفر میں قصر ہوگا مسئلہ: مسافر کی جلدی اور دیر کا اعتبار نہیں خواہ وہ تین روز کی مسافت تین گھنٹہ میں طے کرے جب بھی قصر ہوگا اور اگر ایک روز کی مسافت تین روز سے زیادہ میں طے کرے تو قصر نہ ہوگا غرض اعتبار مسافت کا ہے۔
اور اے محبوب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۲۷۵) پھر نماز میں ان کی امامت کرو (ف۲۷٦) تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو (ف۲۷۷) اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۷۸) پھر جب وہ سجدہ کرلیں (ف۲۷۹) تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں (ف۲۸۰) اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی (ف۲۸۱) اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۸۲) کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں (ف۲۸۳) اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو (ف۲۸٤) بیشک اللہ نے کافروں کے لئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
(ف275)یعنی اپنے اصحاب میں ۔(ف276)اس میں جماعتِ نمازِ خوف کا بیان ہے شان نزول: جہاد میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر بجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھابعضوں نے ان میں سے کہا اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو اس وقت حضرت جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ یہ نماز خوف ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے وَاِذَاکُنْتَ فِیْھِمْ اَلْاٰیَہْ (ف277)یعنی حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کردیا جائے ایک ان میں سے آپ کے ساتھ رہے آپ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں قائم رہے۔(ف278)یعنی جو لوگ دشمن کے مقابل ہوں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر جماعت کے نمازی مراد ہوں تو وہ لوگ ایسے ہتھیار لگائے رہیں جن سے نماز میں کوئی خلل نہ ہو جیسے تلوار خنجر وغیرہ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھنے کا حکم دونوں فریقوں کے لئے ہے اور یہ احتیاط کے قریب ہے۔(ف279)یعنی دونوں سجدے کرکے رکعت پوری کرلیں۔(ف280)تاکہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوسکیں۔(ف281)اور اب تک دشمن کے مقابل تھی۔(ف282)پناہ سے زِرہ وغیرہ ایسی چیزیں مراد ہیں جن سے دشمن کے حملے سے بچا جاسکے ان کا ساتھ رکھنا بہرحال واجب ہے جیسا کہ قریب ہی ارشاد ہوگا وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ اور ہتھیار ساتھ رکھنا مستحب ہے نمازِ خوف کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ پہلی جماعت امام کے ساتھ ایک رکعت پوری کرکے دشمن کے مقابل جائے اور دوسری جماعت جو دشمن کے مقابل کھڑی تھی وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت پڑھے پھر فقط امام سلام پھیرے اور پہلی جماعت آکر دوسری رکعت بغیر قراء ت کے پڑھے اور سلام پھیر دے اور دشمن کے مقابل چلی جائے پھر دوسری جماعت اپنی جگہ آکر ایک رکعت جوباقی رہی تھی اس کو قراء ت کےساتھ پورا کرکے سلام پھیر ے کیونکہ یہ لوگ مسبوق ہیں اور پہلی لاحق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی طرح نماز خوف ادا فرمانا مروی ہے ۔ حضور کے بعد بھی نماز خوف صحابہ پڑھتے رہے ہیں حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کس قدر ضروری ہے مسائل: حالت سفر میں اگرصورتِ خوف پیش آئے تو اس کا یہ بیان ہوا لیکن اگر مقیم کو ایسی حالت پیش آئے تو وہ چار رکعت والی نمازوں میں ہر ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائے اور تین رکعت والی نماز میں پہلی جماعت کو دو رکعت اور دوسری کو ایک ۔(ف283)شان نزول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرِقاع سے جب فارغ ہوئے اور دشمن کے بہت آدمیوں کو گرفتار کیا اور اموال غنیمت ہاتھ آئے اور کوئی دشمن مقابل باقی نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں تنہا تشریف لے گئے تو دشمن کی جماعت میں سے حُوَیرَثۡ بن حارث مُحاربی یہ خبر پا کر تلوار لئے ہوئے چُھپا چُھپا پہاڑ سے اترا اور اچانک حضرت کے پاس پہنچا اور تلوار کھینچ کر کہنے لگا یامحمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا حضور نے فرمایا اللہ تعالی اور دعا فرمائی جب ہی اس نے حضور پر تلوار چلانے کا ارادہ کیا اوندھے منھ گر پڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی حضور نے وہ تلوار لے کر فرمایا کہ تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا کہنے لگا میرا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ فرمایا اَشْھَدُاَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اَللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ تو تیری تلوار تجھے دے دوں گا اس نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میں کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور زندگی بھر آپ کے کسی دشمن کی مدد نہ کروں گا آپ نے اس کی تلوار اس کو دے دی کہنے لگا یا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھ سے بہت بہتر ہیں فرمایا ہاں ہمارے لئے یہی سزاوار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہتھیار اور بچاؤ ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(احمدی)(ف284)کہ اس کا ساتھ رکھنا ہمیشہ ضروری ہے شان نزول: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے اور اس وقت ہتھیار رکھنا ان کے لئے بہت تکلیف اور بار تھا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حالت عذر میں ہتھیار کھول رکھنے کی اجازت دی گئی۔
پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے (ف۲۸۵) پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے (ف۲۸٦)
(ف285)یعنی ذکر الہٰی کی ہر حال میں مداومت کرو اور کسی حال میں اللہ کے ذکر سے غافل نہ رہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالی نے ہر فرض کی ایک حد مُعَیّن فرمائی سوائے ذِکر کے اس کی کوئی حد نہ رکھی فرمایا ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے رات میں ہو یا دن میں خشکی میں ہو یا تری میں سفر میں اور حضر میں غناء میں اور فقر میں تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر مسئلہ: اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے مسئلہ: ذکر میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، ثناء، دعا سب داخل ہیں ۔(ف286)تو لازم ہے کہ اس کے اوقات کی رعایت کی جائے۔
اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف۲۸۷)
(ف287)شان نزول احد کی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صحابۂ اُحد میں حاضر ہوئے تھے اُنہیں مشرکین کے تعاقب میں جانے کا حکم دیا اصحاب زخمی تھے انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
اے محبوب! بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو (ف۲۸۸) جس طرح تمہیں اللہ دکھائے (ف۲۸۹) اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو
(ف288)شان نزول: انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعۡمَہ بن اُبِیۡرِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زِرہ چُرا کر آٹے کی بوری میں زید بن سمین یہودی کے یہاں چھپائی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طمعہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کرگیا اور قسم کھا گیا بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہود کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عزم کرلیا کہ یہودی کو چور بتائیں گے اور اس پر قسم کھالیں گے تاکہ قوم رسوانہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طعمہ کو بری کردیں اور یہودی کو سزا دیں اسی لئے انہوں نے حضور کے سامنے طعمہ کے موافق اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی اور اس گواہی پر کوئی جَرح وقدح نہ ہوئی( اس واقعہ کے متعلق یہ نازل ہوئی اس واقعہ کے متعلق متعدد روایات آئی ہیں اور ان میں باہم اختلافات بھی ہیں)(ف289)اور علم عطا فرمائے علمِ یقینی کو قوتِ ظہور کی وجہ سے رویت سے تعبیر فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گز کوئی نہ کہے کہ جو اللہ نے مجھے دکھایا اس پر میں نے فیصلہ کیا کیونکہ اللہ تعالی نے یہ منصب خاص اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا آپ کی رائے ہمیشہ صَواب ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے حقائق و حوادث آپ کے پیش نظر کردیئے ہیں اور دوسرے لوگوں کی رائے ظن کا مرتبہ رکھتی ہے
آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ نہیں چھپتے (ف۲۹۱) اور اللہ ان کے پاس ہے (ف۲۹۲) جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے (ف۲۹۳) اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے،
(ف291)حیا نہیں کرتے۔(ف292)ان کا حال جانتا ہے اس پر ان کا کوئی راز چھپ نہیں سکتا۔(ف293) جیسے طُعْمَہ کی طرف داری میں جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت۔
اور اے محبوب! اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا (ف۲۹۷) تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں (ف۲۹۸) اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۲۹۹) اور اللہ نے تم پر کتاب (ف۳۰۰) اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے (ف۳۰۱) اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (ف۳۰۲)
(ف297)تمہیں نبی و معصوم کرکے اور رازوں پر مُطلع فرما کے۔(ف298)کیوں کہ اس کا وبال انہیں پر ہے۔(ف299)کیونکہ اللہ نے آپ کو ہمیشہ کے لئے معصوم کیا ہے۔(ف300)یعنی قرآن کریم ۔(ف301)امورِ دین و احکامِ شرع و علومِ غیب مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا یہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔(ف302)کہ تمہیں ان نعمتوں کے ساتھ ممتاز کیا۔
ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں (ف۳۰۳) مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی (ف۳۰٤)
(ف304)یہ آیت دلیل ہے اس کی کہ اِجماع حُجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں جیسے کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں ( مدارک) اور اس سے ثابت ہوا کہ طریقِ مسلمین ہی صراطِ مستقیم ہے حدیث شریف میں وارد ہوا کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کا اتباع کرو جو جماعتِ مسلمین سے جدا ہوا وہ دوزخی ہے اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہل سنت و جماعت ہے ۔
اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے (ف۳۰۵) اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا،
(ف305)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک کہن سال اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبیَ اللہ میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا اور اس کے سوا کسی اور کو ولی نہ بنایا اور جرأ ت کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پَل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں شرمند ہوں ، تائب ہوں، مغفرت چاہتا ہوں اللہ کے یہاں میرا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ آیت نصِ صَریح ہے اس پر کہ شرک بخشا نہ جائے گا اگر مشرک اپنے شرک پر مرے کیونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مشرک جو اپنے شرک سے توبہ کرے اور ایمان لائے تو اس کی توبہ و ایمان مقبول ہے۔
یہ شرک والے اللہ سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو (ف۳۰٦) اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو (ف۳۰۷)
(ف306)یعنی مؤنث بتوں کو جیسے لات، عُزّٰی، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث اور عرب کے ہر قبیلے کا بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثٰی (عورت) کہتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی قراءت اِلَّا اَوْثَاناً اور حضرت ابن عباس کی قراء ت میں اِلَّآ اُثناً آیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِناث سے مراد بُت ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔(ف307)کیونکہ اسی کے اِغواء سے بت پرستی کرتے ہیں۔
قسم ہے میں ضرور بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا (ف۳۱۰) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے (ف۳۱۱) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں پڑا
(ف310)طرح طرح کی کبھی عمرِ طویل کی کبھی لذّاتِ دنیا کی کبھی خواہشاتِ باطلہ کی کبھی اور کبھی اور ۔(ف311)چنانچہ انہوں نے ایسا کیا کہ اونٹنی جب پانچ مرتبہ بیاہ لیتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے اور اس کا دودھ بتوں کے لئے کرلیتے اور اس کو بَحِیۡرہ کہتے تھے شیطان نے اُن کے دِل میں یہ ڈال دیا تھا کہ ایسا کرنا عبادت ہے۔(ف312)مَردوں کا عورتوں کی شکل میں زنانہ لباس پہننا عورتوں کی طرح بات چیت اور حَرَ کات کرنا جسم کو گُود کر سرمہ یا سَیندور وغیرہ جلد میں پیوست کرکے نقش و نگار بنانا بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔
شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے (ف۳۱۳) اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے (ف۳۱٤)
(ف313)اور دل میں طرح طرح کی اُمیدیں اور وسوسے ڈالتا ہے تاکہ انسان گمراہی میں پڑے۔(ف314)کہ جس چیز کے نفع اور فائدہ کی توقع دلاتا ہے درحقیقت اس میں سخت ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کچھ دیر جاتی ہے کہ ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا وعدہ اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی،
کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے (ف۳۱۵) اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر (ف۳۱٦) جو برائی کرے گا (ف۳۱۷) اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار (ف۳۱۸)
(ف315)جو تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے۔(ف316)جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصارٰی کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے۔(ف317)خواہ مشرکین میں سے ہو یا یہود نصاری میں سے ۔(ف318)یہ وعید کفار کے لئے ہے ۔
اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لئے جھکا دیا (ف۳۲۰) اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر (ف۳۲۱) جو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا (ف۳۲۲)
(ف320)یعنی اطاعت و اخلاص اختیار کیا۔(ف321)جو ملت اسلام کے موافق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت و ملت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملت میں داخل ہے اور خصوصیات دین محمدی کے اس کے علاوہ ہیں دین محمدی کا اتباع کرنے سے شرع و ملت ابراہیم علیہ السلام کا اتباع حاصل ہوتا ہے چونکہ عرب اور یہود و نصارٰی سب حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ السلام سے اِنتساب پر فخر کرتے تھے اور آپ کی شریعت ان سب کو مقبول تھی اور شرع محمدی اس پر حاوی ہے تو ان سب کو دین محمدی میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا لازم ہے۔(ف322)خُلَّت صفائے مَوَدّت اور غیر سے اِنقطاع کو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃوالتسلیمات یہ اوصاف رکھتے تھے اس لئے آپ کو خلیل کہا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ خلیل اس مُحِبّ کو کہتے ہیں جس کی محبت کاملہ ہو اور اس میں کسی قسم کا خَلل اور نقصان نہ ہو یہ معنٰی بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیمات میں پائے جاتے ہیں تمام انبیاء کے جو کمالات ہیں سب سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں حضور اللہ کے خلیل بھی ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور حبیب بھی جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور یہ فخراً نہیں کہتا ۔
اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں (ف۳۲٤) تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے (ف۳۲۵) اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور (ف۳۲٦) بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو (ف۳۲۷) اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے،
(ف324)شان نزول: زمانہء جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث نہیں قرار دیتے تھے۔ جب آیت میراث نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے ، آپ نے ان کو اس آیت سے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستور یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب مال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کرلیتے اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اگرحسنِ صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو اس سے نکاح نہ کرتے اور اس اندیشہ سے دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دیتے کہ وہ مال میں حصہ دار ہوجائے گا اللہ تعالی نے یہ آیتیں نازل فرما کر انہیں ان عادتوں سے منع فرمایا ۔(ف325)میراث سے۔(ف326)یتیم ۔(ف327)ان کے پورے حقوق ان کو دو ۔
اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ کرے (ف۳۲۸) تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں (ف۳۲۹) اور صلح خوب ہے (ف۳۳۰) اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں (ف۳۳۱) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو (ف۳۳۲) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳۳۳)
(ف328)زیادتی تو اس طرح کہ اس سے علیٰحدہ رہے کھانے پہننے کو نہ دے یا کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اعراض یہ کہ محبت نہ رکھے بول چال ترک کردے یا کم کردے ۔(ف329)اور اس صلح کے لئے اپنے حقوق کا بار کم کرنے پر راضی ہوجائیں ۔(ف330)اور زیادتی اور جدائی دونوں سے بہتر ہے ۔(ف331)ہر ایک کو اپنی راحت و آسائش چاہتا اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کرکے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔(ف332)اور باوجود نامرغوب ہونے کے اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور برعایت حق صحبت ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور صحبت و مُعاشرت میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں ۔(ف333)وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا ۔
اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو (ف۳۳٤) تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو (ف۳۳۵) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف334)یعنی اگر کئی بیبیاں ہوں تویہ تمہاری مقدرت میں نہیں کہ ہر امر میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی امر میں کسی کو کسی پر ترجیح نہ ہونے دو نہ میل و محبت میں نہ خواہش ور غبت میں نہ عشرت واختلاط میں نہ نظر وتوجہ میں تم کوشش کرکے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہارے مقدور میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان تمام پابندیوں کا بار تم پر نہیں رکھا گیا اور محبت قلبی اور میل طبعی جو تمہارا اختیار ی نہیں ہے اس میں برابری کرنے کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا ۔(ف335)بلکہ یہ ضرور ہے کہ جہاں تک تمہیں قدرت و اختیار ہے وہاں تک یکساں برتاؤ کرو محبت اختیار ی شے نہیں تو بات چیت حسن و اخلاق کھانے پہننے پاس رکھنے اور ایسے امور میں برابری کرنا اختیار ی ہے ان امور میں دونوں کے ساتھ یکسا ں سلوک کرنا لازم و ضروری ہے ۔
اور اگر وہ دونوں (ف۳۳٦) جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز کردے گا (ف۳۳۷) اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے،
(ف336)زن و شو با ہم صلح نہ کریں اور وہ جدائی ہی بہتر سمجھیں اور خلع کے ساتھ تفریق ہوجائے یا مرد عورت کو طلاق دے کر اس کا مہر اورعدت کا نفقہ ادا کردے اور اس طرح وہ (ف337)اور ہر ایک کو بہتر بدل عطا فرمائے گا ۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور بیشک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو (ف۳۳۸) اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۳۳۹) اور اللہ بےنیاز ہے (ف۳٤۰) سب خوبیوں سراہا،
(ف338)اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حُکم کے خلاف نہ کرو تو حید و شریعت پر قائم رہو اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقوٰی اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے ۔(ف339)تمام جہان اس کے فرماں برداروں سے بھرا ہے تمہارے کفر سے اس کا کیا ضرر ۔(ف340)تمام خَلق سے اور ان کی عبادت سے۔
جو دنیا کا انعام چاہے تو اللہ ہی کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے (ف۳٤۲) اور اللہ ہی سنتا دیکھتا ہے،
(ف342)معنٰی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مرا د اتنی ہی جو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب آخرت سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کیا تو اللہ دنیا و آخرت دونوں میں ثواب دینے والا ہے تو جو شخص اللہ سے فقط دنیا کا طالب ہو وہ نادان ،خسیس اور کم ہمت ہے ۔
اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو (ف۳٤۳) بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو اگر تم ہیر پھیر کرو (ف۳٤٤) یا منہ پھیرو (ف۳٤۵) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳٤٦)
(ف343)کسی کی رعایت و طرفداری میں انصاف سے نہ ہٹو اور کوئی قَرابت و رشتہ حق کہنے میں مخل نہ ہونے پائے۔(ف344)حق بیان میں اور جیسا چاہئے نہ کہو ۔(ف345)ادائے شہادت سے ۔(ف346)جیسے عمل ہوں گے ویسا بدلہ دےگا ۔
اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر (ف۳٤۷) اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاردی (ف۳٤۸) اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو (ف۳٤۹) تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا،
(ف347)یعنی ایمان پر ثابت رہو یہ معنٰی اس صورت میں ہیں کہ :۔ یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا خطاب مسلمانوں سے ہو اور اگر خطاب یہود و نصارٰی سے ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ اے بعض کتابوں بعض رسولوں پر ایمان لانے والو تمہیں یہ حکم ہے اور اگر خطاب منافقین سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ اے ایمان کا ظاہری دعوٰی کرنے والو اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ یہاں رسول سے سیِّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کتاب سے قرآن پاک مراد ہے شان نزول : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت عبداللہ بن سلام اور اسد واُسید و ثَعلبہ بن قَیۡس اور سلام و سلمہ و یامین کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسٰی پر اور توریت پر اور عُزَیۡر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب پر ایمان لاؤ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف348)یعنی قرآن پاک پر اور ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں ۔(ف349)یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کہ ایک رسول اور ایک کتاب کا انکار بھی سب کا انکار ہے ۔
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۳۵۰) اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے (ف۳۵۱) نہ انہیں راہ دکھائے،
(ف350)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے پھر بَچھڑا پوج کر کافر ہوئے پھر اس کے بعد ایمان لائے پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور اِنجیل کا انکار کرکے کافر ہوگئے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کا انکار کرکے اور کفر میں بڑھے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے ایمان کے بعد پھر ایمان لائے یعنی انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار کیاتاکہ ان پر مؤمنین کے احکام جاری ہوں ۔ پھر کفر میں بڑھے یعنی کفر پر ان کی موت ہوئی ۔(ف351)جب تک کفر پر رہیں اور کفر پر مریں کیونکہ کُفر بخشا نہیں جاتا مگر جب کہ کافر توبہ کرے اور ایمان لائے جیسا کہ فرمایا۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْسَلَفَ ۔
وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں (ف۳۵۲) کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے (ف۳۵۳)
(ف352)یہ منافقین کا حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا اور اس لئے وہ کفار کو صاحبِ قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجود یہ کہ کفار کے ساتھ دوستی مَمنوع اور ان کے ملنے سے طلبِ عزت باطل ۔(ف353)اور اس کے لئے جس کو وہ عزت دے جیسے کہ انبیاء و مؤمنین ۔
اور بیشک اللہ تم پر کتاب (ف۳۵٤) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں (ف۳۵۵) ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو (ف۳۵٦) بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا
(ف354)یعنی قرآن ۔(ف355)کفار کی ہم نشینی اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا ایسے ہی اور بے دینوں اور گمراہوں کی مجلسوں کی شرکت اور ان کے ساتھ یارانہ و مُصاحبت ممنوع فرمائی گئی ۔(ف356)اس سے ثابت ہوا کہ کفر کے ساتھ راضی ہونے والا بھی کافر ہے۔
وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۳۵۷) اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا (ف۳۵۸) اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا (ف۳۵۹) تو اللہ تم سب میں (ف۳٦۰) قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۳٦۱) اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے گا (ف۳٦۲)
(ف357)اس سے ان کی مراد غَنیمت میں شرکت کرنا اور حصہ چاہنا ہے۔(ف358)کہ ہم تمہیں قتل کرتے گرفتار کرتے مگر ہم نے یہ کچھ نہیں کیا۔(ف359)اور انہیں طرح طرح کے حیلوں سے روکا اور ان کے رازوں پر تمہیں مُطلع کیا تو اب ہمارے اس سلوک کی قدر کرو اور حصہ دو ( یہ منافقوں کا حال ہے)(ف360)اے ایماندارو اور منافقو ۔(ف361)کہ مؤمنین کو جنت عطا کرے گا اور منافقوں کو داخل جہنم کرے گا ۔(ف362)یعنی کافر نہ مسلمانوں کو مٹا سکیں گے نہ حجت میں غالب آسکیں گے علماء نے اس آیت سے چند مسائل مستنبط کئے ہیں(۱) کافر مسلمان کا وارث نہیں(۲) کافر مسلمان کے مال پر اِسۡتِیلاء پا کر مالک نہیں ہوسکتا ۔(۳) کافر کو مسلمان غلام کے خریدنے کا مجاز نہیں(۴) ذمی کے عوض مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔(جمل)
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں (ف۳٦۳) اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں (ف۳٦٤) تو ہارے جی سے (ف۳٦۵) لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا (ف۳٦٦)
(ف363)کیونکہ حقیقت میں تو اللہ کو فریب دینا ممکن نہیں ۔(ف364)مؤمنین کے ساتھ۔(ف365)کیونکہ ایمان تو ہے نہیں جس سے ذوقِ طاعت اور لطفِ عبادت حاصل ہو محض ریا کاری ہے اس لئے منافق کو نماز بار معلوم ہوتی ہے۔ (ف366)اس طرح کہ مسلمانوں کے پاس ہوئے تو نماز پڑھ لی اور علیٰحدہ ہوئے تو ندارد
بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں (ف۳۷۱) اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا
(ف371)منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
مگر وہ جنہوں نے توبہ کی (ف۳۷۲) اور سنورے اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے لئے کرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں (ف۳۷۳) اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا،
اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کا اعلان کرنا (ف۳۷٤) مگر مظلوم سے (ف۳۷۵) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف374)یعنی کسی کے پوشیدہ حال کا ظاہر کرنا ۔ اس میں غیبت بھی آگئی ، چغل خوری بھی ۔عاقل وہ ہے جو اپنے عیبوں کو دیکھے ایک قول یہ بھی ہے کہ برُی بات سے گالی مرا دہے۔(ف375)کہ اس کو جائز ہے کہ ظالم کے ظلم کا بیان کرے وہ چور یا غاصب کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چرایا غصب کیا شانِ نزول: ایک شخص ایک قوم کا مہمان ہوا تھا انہوں نے اچھی طرح اس کی میزبانی نہ کی جب وہ وہاں سے نکلا تو اُن کی شکایت کرتا نکلا اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے باب میں نازل ہوئی ایک شخص سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ کی شان میں زباں درازی کرتا رہا آپ نے کئی بار سُکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شخص مجھ کو بُرا کہتا رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا میں نے ایک مرتبہ جواب دیا تو حضور اٹھ گئے، فرمایا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔
وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں (ف۳۷۷) اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے (ف۳۷۸) اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں
(ف377)اس طرح کہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں پر نہ لائیں ۔(ف378)شان نزول : یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور حضرت عیسٰی اور سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انہوں نے کفر کیا ۔ اور نصارٰی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لائے اور انہوں نے سیدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کیا۔
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا (ف۳۸۰) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۸۱)
(ف380)مرتکبِ کبیرہ بھی اس میں داخل ہے کیونکہ وہ اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتا ہے معتزلہ صاحبِ کبیرہ کے خُلود عذاب کا عقیدہ رکھتے ہیں اس آیت سے ان کے اس عقیدہ کا بطلان ثابت ہوا۔(ف381)مسئلہ: یہ آیت صفاتِ فعلیہ (جیسے کہ مغفرت و رحمت ) کے قدیم ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حدوث کے قائل کو کہنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالٰی ( معاذ اللہ ) ازل میں غفورو رحیم نہیں تھا پھر ہوگیا اس کے اس قول کو یہ آیت باطل کرتی ہے۔
اے محبوب! اہل کتاب (ف۳۸۲) تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتاردو (ف۳۸۳) تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے (ف۳۸٤) کہ بولے ہمیں اللہ کو اعلانیہ دکھا دو تو انہیں کڑک نے آ لیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے (ف۳۸۵) بعد اس کے لئے روشن آیتیں (۳۸٦) ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرمادیا (ف۳۸۷) اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا (ف۳۸۸)
(ف382)براہِ سرکشی۔(ف383)یکبارگی شان نزول : یہود میں سے کَعب بن اشرف وفَخَّاص بن عازوراء نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمارے پاس آسمان سے یکبارگی کتاب لائیے جیسا حضرت موسٰی علیہ السلام توریت لائے تھے یہ سوال ان کا طلبِ ہدایت و اتباع کے لئے نہ تھا بلکہ سرکشی و بغاوت سے تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف384) یعنی یہ سوال ان کا کمالِ جہل سے ہے اور اس قسم کی جہالتوں میں ان کے باپ دادا بھی گرفتار تھے اگر سوال طلبِ رُشد کے لئے ہوتا تو پورا کردیا جاتا مگر وہ تو کسی حال میں ایمان لانے والے نہ تھے۔(ف385)اس کو پوجنے لگے ۔(ف386)توریت اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مُعجزات جو اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃوالسلام کے صدق پر واضحُ الدلالۃ تھے اور باوجود یکہ توریت ہم نے یکبارگی نازل کی تھی لیکن خوئے بدرابہانہء بسیار بجائے اطاعت کرنے کے ُانہوں نے خدا کے دیکھنے کا سوال کیا۔(ف387) جب انہوں نے توبہ کی اس میں حضور کے زمانہ کے یہودیوں کے لئے توقع ہے کہ وہ بھی توبہ کریں تو اللہ انہیں بھی اپنے فضل سے معاف فرمائے۔(ف388)ایسا تسلط عطا فرمایا کہ جب آپ نے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے خود ان کے اپنے قتل کا حکم دیا اور انکار نہ کرسکے اور انہوں نے اطاعت کی ۔
پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو (ف۳۸۹) اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا (ف۳۹۰)
(ف389)یعنی مچھلی کا شکار وغیرہ جو عمل اس روز تمہارے لئے حلال نہیں نہ کرو سورۂ بقر میں ان تمام احکام کی تفصیلیں گزر چکیں ۔(ف390)کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں پھر انہوں نے اس عہد کو توڑا۔
تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیات الٰہی کے منکر ہوئے (ف۳۹۱) اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۳۹۲) اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (ف۳۹۳) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے،
(ف391)جو انبیاء کے صدق پر دلالت کرتے تھے جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات ۔(ف392)انبیاء کا قتل کرنا تو ناحق ہے ہی کسی طرح حق ہوہی نہیں سکتا لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ ان کے زعم میں بھی انہیں اس کا کوئی استحقاق نہ تھا۔(ف393)لہذا کوئی پندو وعظ کارگر نہیں ہوسکتا۔
اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا (ف۳۹۵) اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل (۱۵۷) کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا (ف۳۹٦) اور وہ جو اس کے بارہ میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں (ف۳۹۷) انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں (ف۳۹۸) مگر یہی گمان کی پیروی (ف۳۹۹) اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا (ف٤۰۰)
(ف395)یہود نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کردیا اور نصارٰی نے اس کی تصدیق کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرمادی(ف396)جس کو انہوں نے قتل کیا اور خیال کرتے رہے کہ یہ حضرت عیسٰی ہیں باوجود یکہ ان کا یہ خیال غلط تھا۔(ف397)اور یقینی نہیں کہہ سکتے کہ وہ مقتول کون ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ مقتول عیسٰی ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ چہرہ تو عیسٰی کا ہے اور جسم عیسٰی کا نہیں لہذا یہ وہ نہیں اسی تردّد میں ہیں ۔(ف398)جو حقیقت حال ہے۔(ف399)اور اٹکلیں دَوڑانا۔(ف400)ان کا دعوٰئے قتل جُھوٹا ہے ۔
کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے (ف٤۰۲) اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا (ف٤۰۳)
(ف402)اس آیت کی تفسیر میں چند قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہود ونصارٰی کو اپنی موت کے وقت جب عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آتے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے کفر کیا تھا اور اس وقت کا ایمان مقبول و معتبرنہیں دوسرا قول یہ ہے کہ قریب قیامت جب حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اس وقت کے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے اس وقت حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃو التسلیمات شریعتِ محمدیہ کے مطابق حکم کریں گے اور اُسی دین کے آئمہ میں سے ایک امام کی حیثیت میں ہوں گے اور نصارٰی نے ان کی نسبت جو گمان باندھ رکھے ہیں ان کا اِبطال فرمائیں گے دینِ محمدی کی اشاعت کریں گے اس وقت یہود و نصارٰی کو یا تو اسلام قبول کرنا ہو گا یا قتل کر ڈالے جائیں گے جزیہ قبول کرنے کا حکم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کرنے کے وقت تک ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے گا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی پر ایمان لے آئے گا لیکن وقتِ موت کا ایمان مقبول نہیں نافع نہ ہوگا۔(ف403)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام یہود پر تو یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے حق میں زبانِ طعن دراز کی اور نصارٰی پر یہ کہ اُنہوں نے آپ کو رب ٹھرایا۔ اور خدا کا شریک گَردانا اور اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں ان کے ایمان کی بھی آپ شہادت دیں گے۔
تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے (ف٤۰٤) سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں (ف٤۰۵) ان پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا،
(ف404)نقضِ عہد و غیرہ جن کا اُوپر آیات میں ذکر ہوچکا۔ (ف405)جن کا سورۂ اَنعام کی یہ آیہ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا میں بیان ہے۔
اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے (ف٤۰٦) اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
ہاں جو ان میں علم کے پکے (ف٤۰۷) اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا (ف٤۰۸) اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰة دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
(ف407)مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے اصحاب کہ جو علمِ راسخ اور عقلِ صافی اور بصیرتِ کاملہ رکھتے تھے انہوں نے اپنے علم سے دینِ اسلام کی حقیقت کو جانا اور سید انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف408)پہلے انبیاء پر ۔
بیشک اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے دحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی (ف٤۰۹) اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی
(ف409)شانِ نزول: یہود و نصارٰی نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو یہ سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ کی نبوّت پر ایمان لائیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا بکثرت انبیاء ہیں جن میں سے گیارہ کے اسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں اہلِ کتاب اُن سب کی نبوّت کو مانتے ہیں ان سب حضرات میں سے کسی پر یکبارگی کتاب نازل نہ ہوئی توجب اس وجہ سے ان کی نبوّت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے اور مقصود رسولوں کے بھیجنے سے خَلق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالٰی کی توحید و معرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور طریقِ عبادت کی تعلیم ہے کتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بروجہِ اَتم حاصل ہوتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال حماقت ہے ۔
اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے (ف٤۱۰) فرماچکے اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا (ف٤۱۱) اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا (ف٤۱۲)
(ف410)قرآن شریف میں نام بنام فرماچکے ہیں ۔(ف411)اور اب تک ان کے اسماء کی تفصیل قرآن پاک میں ذکر نہیں فرمائی گئی ۔(ف412)تو جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام سے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء علیہم السلام کی نبوت میں قادح نہیں جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا ایسے ہی حضرت موسٰی علیہ السلام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا دوسرے انبیاء کی نبوت میں کچھ بھی قادح نہیں ہوسکتا۔
رسول خوشخبری دیتے (ف٤۱۳) اور ڈر سناتے (ف٤۱٤) کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے (ف٤۱۵) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
(ف413)ثواب کی ایمان لانے والوں کو۔ (ف414)عذاب کا کفر کرنے والوں کو۔(ف415)اور یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اور اللہ کے مطیع و فرماں بردار ہوتے اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی رسولوں کی بعثت سے قبل خَلق پر عذاب نہیں فرماتا جیسا دوسری جگہ ارشاد فرمایا وَمَاکُنَّامُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معرفت الٰہی بیانِ شرع و زبانِ اَنبیاء ہی سے حاصل ہوتی ہے عقلِ محض سے اس منزل تک پہنچنا میسّر نہیں ہوتا۔
وہ جنہوں نے کفر کیا (ف٤۱٦) اور اللہ کی راہ سے روکا (ف٤۱۷) بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے،
(ف416)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے۔(ف417)حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت وصفت چُھپاکر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر ( یہ حال یہود کا ہے)
اے لوگو! تمہارے پاس یہ رسول (ف٤۲۱) حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو اور اگر تم کفر کرو (ف٤۲۲) تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف421)سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف422)اور سید انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار کرو تو اس میں ان کا کچھ ضرر نہیں اور اللہ تمہارے ایمان سے بے نیاز ہے۔
اے کتاب والو! اپنے دین میں زیادتی نہ کرو (ف٤۲۳) اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ (ف٤۲٤) مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا (ف٤۲۵) اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ (ف٤۲٦) کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ (ف٤۲۷) اور تین نہ کہو (ف٤۲۸) باز رہو اپنے بھلے کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے (ف٤۲۹) پاکی اسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف٤۳۰) اور اللہ کافی کارساز،
(ف423)شانِ نزول: یہ آیت نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جن کے کئی فرقے ہوگئے تھی اور ہر ایک حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت جُداگانہ کُفری عقیدہ رکھتا تھا۔ نسطوری آپ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے مرقوسی کہتے کہ وہ تین میں کے تیسرے ہیں اور اس کلمہ کی توجیہات میں بھی اختلاف تھا، بعض تین اقنوم مانتے تھے اور کہتے تھے کہ باپ بیٹا روح القدس باپ سے ذات بیٹے سے عیسٰی روح القدس سے ان میں حُلول کرنے والی حیات مراد لیتے تھے تواُن کے نزدیک الٰہ تین تھے اور اس تین کو ایک بتاتے تھے توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید کے چکر میں گرفتار تھے بعض کہتے تھے کہ عیسٰی ناسوتیت اور الوہیت کے جامع ہیں ماں کی طرف سے اُن میں ناسوتیت آئی اور باپ کی طرف سے الوہیت آئی تَعَالٰی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا یہ فرقہ بندی نصارٰی میں ایک یہودی نے پیدا کی جس کا نام بولص تھا اور اُس نے اُنہیں گمراہ کرنے کے لئے اس قسم کے عقیدوں کی تعلیم کی اس آیت میں اہلِ کتاب کو ہدایت کی گئی کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے باب میں افراط و تفریط سے باز رہیں خدا اور خدا کا بیٹا بھی نہ کہیں اور ان کی تنقیص بھی نہ کریں ۔(ف424)اللہ کا شریک اور بیٹا بھی کسی کو نہ بناؤ اور حلول و اتحاد کے عیب بھی مت لگاؤ اور اس اعتقادِ حق پر رہو کہ۔(ف425)ہے اور اس محترم کے لئے اس کے سوا کوئی نسب نہیں۔(ف426)کہ کُن فرمایا اور وہ بغیر باپ اور بغیر نطفہ کے محض امرِ الہٰی سے پیدا ہوگئے(ف427)اور تصدیق کرو کہ اللہ واحدہے بیٹے اور اولاد سے پاک ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو اور اس کی کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام اللہ کے رسولوں میں سے ہیں۔(ف428)جیسا کہ نصارٰی کا عقیدہ ہے کہ وہ کفرِ محض ہے۔(ف429)کوئی اس کا شریک نہیں۔(ف430)اور وہ سب کا مالک ہے اور جو مالک ہو وہ باپ نہیں ہوسکتا۔
مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا (ف٤۳۱) اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا (ف٤۳۲)
(ف431)شانِ نزول: نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے حضور سے کہا کہ آپ حضرت عیسٰی کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے یہ عار کی بات نہیں ، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔(ف432)یعنی آخرت میں اس تکبر کی سزا دے گا۔
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے (ف٤۳۳) نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار،
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی (ف٤۳٤) اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا (ف٤۳۵)
(ف434)دلیل واضح سے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے جن کے صدق پر اُن کے معجزے شاہد ہیں اور منکرین کی عقلوں کو حیران کر دیتے ہیں۔(ف435)یعنی قرآن پاک ۔
تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا (ف٤۳٦) اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا،
اے محبوب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ (ف٤۳۷) میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے (ف٤۳۸) اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے (ف٤۳۹) اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (ف٤٤۰) پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر، اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ، اور اللہ ہر چیز جانتا ہے،
(ف437)کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے نہ اولاد (ف438)شانِ نزول: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بیمار تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مع حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عیاد ت کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت جابر بے ہوش تھے حضرت نے وضو فرما کر آبِ و ضواُن پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور تشریف فرما ہیں عرض کیا یارسول اللہ میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی، ( بخاری ومسلم) ابوداؤد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے جابر میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔ مسئلہ : بزرگوں کا آبِ وضو تَبُرک ہے اور اس کو حصولِ شِفا کے لئے استعمال کرنا سنت ہے۔ مسئلہ : مریضوں کی عیادت سنت ہے ۔مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے علوم غیب عطا فرمائے ہیں، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ حضرت جابر کی موت اس مرض میں نہیں ہے۔(ف439)اگر وہ بہن سگی یا باپ شریک ہو ۔(ف440)یعنی اگر بہن بے اولاد مری اور بھائی رہا تو وہ بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔