اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو (ف۲) تمہارے لئے حلال ہوئے بےزبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو (ف۳) لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو (ف٤) بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے،
(ف2)عقود کے معنٰی میں مفسِّرین کے چند قول ہیں ابنِ جریر نے کہا کہ اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے معنٰی یہ ہیں کہ اے مؤمنینِ اہلِ کتاب میں نے کُتبِ متقدمہ میں سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ خِطاب مؤمنین کو ہے انہیں عقود کے وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان عقود سے مراد اَیمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس میں مؤمنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں ۔(ف3)یعنی جن کی حرمت شریعت میں وارد ہوئی ان کے سوا تمام چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ۔(ف4)مسئلہ : کہ خشکی کا شکار حالتِ احرام میں حرام ہے اور دریائی شکار جائز ہے جیسا کہ اس سورۃ کے آخر میں آئے گا ۔
اے ایمان والو! حلال نہ ٹھہرالو اللہ کے نشان (ف۵) اور نہ ادب والے مہینے (ف٦) اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ (ف۷) جن کے گلے میں علامتیں آویزاں (ف۸) اور نہ ان کا مال و آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں (ف۹) اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو (ف۱۰) اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے (ف۱۱) اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو (ف۱۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
(ف5)اس کے دین کے معالم ، معنٰی یہ ہیں کہ جو چیزیں اللہ نے فرض کیں اور جو منع فرمائیں سب کی حُرمت کا لحاظ رکھو ۔(ف6)ماہ ہائے حج جن میں قتال زمانۂ جاہلیت میں بھی ممنوع تھا اور اسلام میں بھی یہ حکم باقی رہا ۔(ف7)وہ قربانیاں ۔(ف8)عرب کے لوگ قربانیوں کے گلے میں حرم شریف کے اشجار کی چھالوں وغیرہ سے گلوبند بُن کر ڈالتے تھے تاکہ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ حَرَم کو بھیجی ہوئی قربانیاں ہیں اور ان سے تعرُّض نہ کریں ۔(ف9)حج و عمرہ کرنے کے لئے ۔ شانِ نُزول : شُریح بن ہند ایک مشہور شقی تھا وہ مدینہ طیّبہ میں آیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ آپ خَلقِ خدا کو کیا دعوت دیتے ہیں ؟ فرمایا اپنے ربّ کے ساتھ ایمان لانے اور اپنی رسالت کی تصدیق کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی ، کہنے لگا بہت اچھی دعوت ہے میں اپنے سرداروں سے رائے لے لوں تو میں بھی اسلام لاؤں گا اور انہیں بھی لاؤں گا ، یہ کہہ کر چلا گیا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آنے سے پہلے ہی اپنے اصحاب کو خبر دے دی تھی کہ قبیلۂ ربیعہ کا ایک شخص آنے والا ہے جو شیطانی زبان بولے گا اس کے چلے جانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کافِر کا چہرہ لے کر آیا اور غادِر و بدعہد کی طرح پیٹھ پھیر کر گیا یہ اسلام لانے والا نہیں چنانچہ اس نے غدر کیا اور مدینہ شریف سے نکلتے ہوئے وہاں کے مویشی اور اموال لے گیا ، اگلے سال یمامہ کے حاجیوں کے ساتھ تجارت کا کثیر سامان اور حج کی قلادہ پوش قربانیاں لے کر باِرادۂ حج نکلا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے ، راہ میں صحابہ نے شُریح کو دیکھا اور چاہا کہ مویشی اس سے واپس لے لیں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ جس کی ایسی شان ہو اس سے تعرُّض نہ چاہئے ۔(ف10)یہ بیانِ اباحت ہے کہ احرام کے بعد شکار مباح ہو جاتا ہے ۔(ف11)یعنی اہلِ مکّہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو روزِ حُدیبیہ عمرہ سے روکا ، ان کے اس معاندانہ فعل کا تم انتقام نہ لو ۔(ف12)بعض مفسِّرین نے فرمایا جس کا حکم دیا گیا اس کا بجا لانا بِر اور جس سے منع فرمایا گیا اس کو ترک کرنا تقوٰی اور جس کا حکم دیا گیا اس کو نہ کرنا اِثم (گناہ) اور جس سے منع کیا گیا اس کا کرنا عدوان (زیادتی) کہلاتا ہے ۔
تم پر حرام ہے (ف۱۳) مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بےدھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی (ف۱٤) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی (ف۱٦) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف13)آیت اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ میں جو استثناء ذکر فرمایا گیا تھا یہاں اس کا بیان ہے اور گیارہ چیزوں کی حرمت کا ذکر کیا گیا ہے ، ایک مُردار یعنی جس جانور کے لئے شریعت میں ذَبح کا حکم ہو اور وہ بے ذبح مر جائے ، ۲دوسرے بہنے والا خون ،۳ تیسرے سور کا گوشت اور اس کے تمام اجزاء ، چوتھے وہ جانور جس کے ذَبح کے وقت غیرِ خدا کا نام لیا گیا ہو جیسا کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بُتوں کے نا م پر ذَبح کرتے تھے اور جس جانور کو ذَبح تو صرف اللہ کے نام پر کیا گیا ہو مگر دوسرے اوقات میں وہ غیرِ خدا کی طرف منسوب رہا ہو وہ حرام نہیں جیسے کہ عبداللہ کی گائے ، عقیقے کا بکرا ، ولیمہ کا جانور یا وہ جانور جن سے اولیاء کی ارواح کو ثواب پہنچانا منظور ہو ، ان کو غیرِ وقتِ ذَبح میں اولیاء کے ناموں کے ساتھ نامزد کیا جائے مگر ذَبح ان کا فقط اللہ کے نام پر ہو اس وقت کسی دوسرے کا نام نہ لیا جائے ، وہ حلال و طیِّب ہیں ۔ اس آیت میں صرف اسی کو حرام فرمایا گیا ہے جس کو ذَبح کرتے وقت غیرِ خدا کا نام لیا گیا ہو ، وہابی جو ذَبح کی قید نہیں لگاتے وہ آیت کے معنٰی میں غلطی کرتے ہیں اور ان کا قول تمام تفاسیرِ معتبرہ کے خلاف ہے اور خود آیت ان کے معنی کو بننے نہیں دیتی کیونکہ مَآ اُھِلَّ بِہٖ کو اگر وقتِ ذبح کے ساتھ مقیّد نہ کریں تو اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ کا استثناء اس کو لاحق ہو گا اور وہ جانور جو غیرِ وقتِ ذبح میں غیرِ خدا کے نام سے موسوم رہا ہو وہ اِلَّامَا ذَکَّیْتُمْ سے حلال ہو گا ، غرض وہابی کو آیت سے سند لانے کی کوئی سبیل نہیں ، پانچواں گلا گھونٹ کر مارا ہوا جانور ، چھٹےوہ جانور جو لاٹھی ، پتھر ، ڈھیلے ، گولی ، چھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو ، ۷ ساتویں جو گر کر مَرا ہو خواہ پہاڑ سے یا کنوئیں وغیرہ میں ، ۸ آٹھویں وہ جانور جسے دوسرے جانور نے سینگ مارا ہو اور وہ اس کے صدمے سے مر گیا ہو ، ۹ نویں وہ جسے کسی درندے نے تھوڑا سا کھایا ہو اور وہ اس کے زخم کی تکلیف سے مر گیا ہو لیکن اگر یہ جانور مر نہ گئے ہوں اور بعد ایسے واقعات کے زندہ بچ رہے ہوں پھر تم انہیں باقاعدہ ذَبح کر لو تو وہ حلال ہیں ، ۱۰ دسویں وہ جو کسی تھان پر عبادۃً ذبح کیا گیا ہو جیسے کہ اہلِ جاہلیت نے کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ ۳۶۰ پتھر نصب کئے تھے جن کی وہ عبادت کرتے اور ان کے لئے ذَبح کرتے تھے اور اس ذَبح سے ان کی تعظیم و تقرُّب کی نیت کرتے تھے ، ۱۱ گیارھویں حصّہ اور حکم معلوم کرنے کے لئے پانسہ ڈالنا ، زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کو جب سفر یا جنگ یا تجارت یا نکاح وغیرہ کام درپیش ہوتے تو وہ تین تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو نکلتا اس کے مطابق عمل کرتے اور اس کو حکمِ الٰہی جانتے ، ان سب کی ممانعت فرمائی گئی ۔(ف14) یہ آیت حجّۃ الوداع میں عَرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا بعدِ عصر نازل ہوئی ، معنی یہ ہیں کہ کُفّار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہو گئے ۔(ف15)اور امورِ تکلیفیہ میں حرام و حلال کے جو احکام ہیں وہ اور قیاس کے قانون سب مکمل کر دیئے ، اسی لئے اس آیت کے نُزول کے بعد بیانِ حلال و حرام کی کوئی آیت نازل نہ ہوئی اگرچہ وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ نازل ہوئی مگر وہ آیت موعظت و نصیحت ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ دین کامل کرنے کے معنی اسلام کو غالب کرنا ہے جس کا یہ اثر ہے کہ حجّۃ الوداع میں جب یہ آیت نازل ہوئی کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ حج میں شریک نہ ہو سکا ۔ ایک قول یہ ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ میں نے تمہیں دشمن سے امن دی ۔ ایک قول یہ ہے کہ دین کا اِکمال یہ ہے کہ وہ پچھلی شریعتوں کی طرح منسوخ نہ ہو گا اور قیامت تک باقی رہے گا ۔ شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم روزِ نُزول کو عید مناتے فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے یہی آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ، آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔ ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمرو ابنِ عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔(ف16)مکہ مکرّمہ فتح فرما کر ۔(ف17)کہ اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ۔(ف18)معنٰی یہ ہیں کہ اوپر حرام چیزوں کا بیان کر دیا گیا ہے لیکن جب کھانے پینے کو کوئی حلال چیز میسّر ہی نہ آئے اور بھوک پیاس کی شدت سے جان پر بن جائے اس وقت جان بچانے کے لئے قدرِ ضرورت کھانے پینے کی اجازت ہے اس طرح کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو یعنی ضرورت سے زیادہ نہ کھائے اور ضرورت اسی قدر کھانے سے رفع ہو جاتی ہے جس سے خطر ۂ جان جاتا رہے ۔
اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں (ف۱۹) اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے (ف۲۰) انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں (ف۲۱) اور اس پر اللہ کا نام لو (ف۲۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی،
(ف19)جن کی حرمت قرآن و حدیث اِجماع اور قیاس سے ثابت نہیں ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ طیّبات وہ چیزیں ہیں جن کو عرب اور سلیم الطبع لوگ پسند کرتے ہیں اور خبیث وہ چیزیں ہیں جن سے سلیم طبیعتیں نفرت کرتی ہیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی حرمت پر دلیل نہ ہونا بھی اس کی حلّت کے لئے کافی ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت عدی ابنِ حاتم اور زید بن مہلہل کے حق میں نازل ہوئی جن کا نام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیر رکھا تھا ، ان دونوں صاحبوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ کتّے اور باز کے ذریعہ سے شکار کرتے ہیں توکیا ہمارے لئے حلال ہے تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف20)خواہ وہ درندوں میں سے ہوں مثل کتّے اور چیتے کے یا شکاری پرندوں میں سے مثل شِکرے ، باز ، شاہین وغیرہ کے ، جب انہیں اس طرح سُدھا لیا جائے کہ جو شکار کریں اس میں سے نہ کھائیں اور جب شکاری ان کو چھوڑے تب شکار پر جائیں ، جب بلاۓ واپس آ جائیں ، ایسے شکاری جانوروں کو معلَّم کہتے ہیں ۔(ف21)اور خود اس میں سے نہ کھائیں ۔(ف22)آیت سے جو مستفاد ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے کتّا یا شِکرہ وغیرہ کوئی شکاری جانور شکار پر چھوڑا تو اس کا شکار چند شرطوں سے حلال ہے (۱) شکاری جانور مسلمان کا ہو اور سکھایا ہوا (۲) اس نے شکار کو زخم لگا کر مارا ہو (۳) شکاری جانور بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر کہہ کر چھوڑا گیا ہو (۴) اگر شکاری کے پاس شکار زندہ پہنچا ہو تو اس کو بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر کہہ کر ذَبح کرے ، اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو حلال نہ ہو گا مثلاً اگر شکاری جانور معلَّم (سکھایا ہوا) نہ ہو یا اس نے زخم نہ کیا ہو یا شکار پر چھوڑتے وقت بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر نہ پڑھا ہو یا شکار زندہ پہنچا ہو اور اس کو ذبح نہ کیا ہو یا معلَّم کے ساتھ غیر معلَّم شکار میں شریک ہو گیا ہو یا ایسا شکاری جانور شریک ہو گیا ہو جس کو چھوڑتے وقت بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر نہ پڑھا گیا ہو یا وہ شکاری جانور مجوسی کافِر کا ہو ، ان سب صورتوں میں وہ شکار حرام ہے ۔ مسئلہ : تیر سے شکار کرنے کا بھی یہی حکم ہے اگر بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر کہہ کر تیر مارا اور اس سے شکار مجروح ہو کر مر گیا تو حلال ہے اور اگر نہ مرا تو دوبارہ اس کو بِسۡمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکۡبَر پڑھ کر ذَبح کرے ، اگر اس پر بِسۡمِ اللہ نہ پڑھی یا تیر کا زخم اس کو نہ لگا یا زندہ پانے کے بعد اس کو ذَبح نہ کیا ، ان سب صورتوں میں حرام ہے ۔
آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا (ف۲۳) تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان (ف۲٤) اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے (ف۲۵) نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے (ف۲٦) اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے (ف۲۷)
(ف23)یعنی ان کے ذبیحے ۔مسئلہ : مسلِم و کتابی کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت یا بچّہ ۔(ف24)نکاح کرنے میں عورت کی پارسائی کا لحاظ مستحب ہے لیکن صحتِ نکاح کے لئے شرط نہیں ۔(ف25)نکاح کر کے ۔(ف26)ناجائز طریقہ پر مستی نکالنے سے بے دھڑک زنا کرنا اور آشنا بنانے سے پوشیدہ زنا مراد ہے ۔(ف27)کیونکہ اِرتداد سے تمام عمل اَ کارت ہو جاتے ہیں ۔
اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو (ف۲۸) تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ (ف۲۹) اور سروں کا مسح کرو (ف۳۰) اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ (ف۳۱) اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو (ف۳۲) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،
(ف28)اور تم بے وضو ہو تو تم پر وضو فرض ہے اور فرائض وضو کے یہ چار ہیں جو آگے بیان کئے جاتے ہیں ۔ فائدہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر نماز کے لئے تازہ وضو کے عادی تھے اگرچہ ایک وضو سے بھی بہت سی نمازیں فرائض و نوافل درست ہیں مگر ہر نماز کے لئے جُداگانہ وضو کرنا زیادہ برکت و ثواب کا موجِب ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے جُداگانہ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ کیا گیا اور جب تک حَدَث واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض و نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہوا ۔(ف29)کہنیاں بھی دھونے کے حکم میں داخل ہیں جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ، جمہور اسی پر ہیں ۔(ف30)چوتھائی سر کا مسح فرض ہے یہ مقدار حدیثِ مغیرہ سے ثابت ہے اور یہ حدیث آیت کا بیان ہے ۔(ف31)یہ وضو کا چوتھا فرض ہے ، حدیث صحیح میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو پاؤں پر مسح کرتے دیکھا تو منع فرمایا اور عطا سے مروی ہے وہ بہ قسم فرماتے ہیں کہ میرے علم میں اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے بھی وضو میں پاؤں پر مسح نہ کیا ۔(ف32)مسئلہ : جنابت سے طہارتِ کاملہ لازم ہوتی ہے ، جنابت کبھی بیداری میں دفق و شہوت کے ساتھ اِنزال سے ہوتی ہے اور کبھی نیند میں احتلام سے جس کے بعد اثر پایا جائے حتی کہ اگر خواب یاد آیا مگر تری نہ پائی تو غسل واجب نہ ہو گا اور کبھی سبیلین میں سے کسی میں ادخالِ حشفہ سے فاعل و مفعول دونوں کے حق میں خواہ اِنزال ہو یا نہ ہو ، یہ تمام صورتیں جنابت میں داخل ہیان سے غسل واجب ہو جاتا ہے ۔مسئلہ : حیض و نفاس سے بھی غسل لازم ہوتا ہے ، حیض کا مسئلہ سورۂ بقرہ میں گزر گیا اور نفاس کا موجِبِ غسل ہونا اِجماع سے ثابت ہے ۔ تیمّم کا بیان سورۂ نساء میں گزر چکا ۔
اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر (ف۳۳) اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا (ف۳٤) جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
(ف33)کہ تمہیں مسلمان کیا ۔(ف34)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے وقت شبِ عقبہ اور بیعتِ رضوان میں ۔(ف35)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم ہر حال میں ۔
اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے (ف۳٦) اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(ف36)اس طرح کی قرابت و عداوت کا کوئی اثر تمہیں عدل سے نہ ہٹا سکے ۔
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے (ف۳۸) اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
(ف38)شانِ نُزول : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل میں قیام فرمایا ، اصحاب جُدا جُدا درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکا دی ، ایک اعرابی موقع پا کر آیا اور چُھپ کر اس نے تلوار لی اور تلوار کھینچ کر حضور سے کہنے لگا اے محمّد تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ حضور نے فرمایا اللہ ، یہ فرمانا تھا حضرت جبریل نے اس کے ہاتھ سے تلوار گرا دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے کر فرمایا کہ تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ کہنے لگا کہ کوئی نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ (تفسیر ابوالسعود)
اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد کیا (ف۳۹) اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے (ف٤۰) اور اللہ نے فرمایا بیشک میں (ف٤۱) تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور میرے سوالوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو (ف٤۲) بیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا (ف٤۳)
(ف39)کہ اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، توریت کے احکام کا اِتّباع کریں گے ۔(ف40)ہر سبط (گروہ) پر ایک سردار جو اپنی قوم کا ذمّہ دار ہو کہ وہ عہد وفا کریں گے اور حکم پر چلیں گے ۔(ف41)مدد و نصرت سے ۔(ف42)یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو ۔(ف43)واقعہ یہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارضِ مقدَّسہ کا وارث بنائے گا جس میں کنعانی جبّار رہتے تھے تو فرعون کے ہلاک کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکمِ الٰہی ہوا کہ بنی اسرائیل کو ارضِ مقدَّسہ کی طرف لے جائیں ، میں نے اس کو تمہارے لئے دار و قرار بنایا ہے تو وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو ، میں تمہاری مدد فرماؤں گا اور اے موسٰی تم اپنی قوم کے ہر ہر سَبط میں سے ایک ایک سردار بناؤ اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ہر ایک ان میں سے اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمّہ دار ہو ، حضرت موسٰی علیہ السلام سردار منتخب کر کے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے ، جب اَرِیحاء کے قریب پہنچے تو ان نقیبوں کو تجسُّسِ احوال کے لئے بھیجا ، وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ بہت عظیم الجُثَّہ اور نہایت قوی و توانا صاحبِ ہیبت و شوکت ہیں ، یہ ان سے ہیبت زدہ ہو کر واپس ہوئے اور آ کر انہوں نے اپنی قوم سے سب حال بیان کیا باوجودیکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا لیکن سب نے عہد شکنی کی سوائے کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون کے کہ یہ عہد پر قائم رہے ۔
تو ان کی کیسی بد عہدیوں (ف٤٤) پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو (ف٤۵) ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف٤٦) اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے (ف٤۷) سوا تھوڑوں کے (ف٤۸) تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو (ف٤۹) بیشک احسان والے اللہ کو محبوب ہیں،
(ف44)کہ انہوں نے عہدِ الٰہی کو توڑا اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد آنے والے انبیاء کی تکذیب کی اور انبیاء کو قتل کیا ، کتاب کے احکام کی مخالفت کی ۔(ف45)جن میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت ہے اور جو توریت میں بیان کی گئیں ہیں ۔(ف46)توریت میں کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا اِتّباع کریں اور ان پر ایمان لائیں ۔(ف47)کیونکہ دغا و خیانت و نقضِ عہد اور رسولوں کے ساتھ بدعہدی ان کی اور ان کے آباء کی قدیم عادت ہے ۔(ف48)جو ایمان لائے ۔(ف49)اور جو کچھ ان سے پہلے سرزد ہوا اس پر گرفت نہ کرو ۔ شانِ نُزول : بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس قوم کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا پھر توڑا پھر اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرمایا اور یہ آیت نازل کی ، اس صورت میں معنٰی یہ ہیں کہ ان کی اس عہد شکنی سے درگزر کیجئے جب تک کہ وہ جنگ سے باز رہیں اور جزیہ ادا کرنے سے منع نہ کریں ۔
اور وہ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے عہد لیا (ف۵۰) تو وہ بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۵۱) تو ہم نے ان کے آپس میں قیامت کے دن تک بَیر اور بغض ڈال دیا (ف۵۲) اور عنقریب اللہ انہیں بتادے گا جو کچھ کرتے تھے (ف۵۳)
(ف50)اللہ تعالٰی اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا ۔(ف51)انجیل میں اور انہوں نے عہد شکنی کی ۔(ف52)قتادہ نے کہا کہ جب نصارٰی نے کتابِ الٰہی (انجیل) پر عمل کرنا ترک کیا اور رسولوں کی نافرمانی کی ، فرائض ادا نہ کئے ، حدود کی پروا نہ کی تو اللہ تعالٰی نے ان کے درمیان عداوت ڈال دی ۔(ف53)یعنی روزِ قیامت وہ اپنے کردار کا بدلہ پائیں گے ۔
اے کتاب والو (ف۵٤) بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۵۵) تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں (ف۵٦) اور بہت سی معاف فرماتے ہیں (ف۵۷) بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا (ف۵۸) اور روشن کتاب (ف۵۹)
(ف54)یہودیو و نصرانیو ۔(ف55)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔(ف56)جیسے کہ آیتِ رجم اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور حضور کا اس کو بیان فرمانا معجِزہ ہے ۔(ف57)اور ان کا ذکر بھی نہیں کرتے نہ ان پر مؤاخذہ فرماتے ہیں کیونکہ آپ اسی چیز کا ذکر فرماتے ہیں جس میں مصلحت ہو ۔(ف58)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ سے تاریکیٔ کُفر دور ہوئی اور راہِ حق واضح ہوئی ۔(ف59)یعنی قرآن شریف ۔
اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے ساتھ اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے،
بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے (ف٦۰) تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو (ف٦۱) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف60)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نجران کے نصارٰی سے یہ مقولہ سرزد ہوا اور نصرانیوں کے فرقۂ یعقوبیہ و ملکانیہ کا یہ مذہب ہے کہ وہ حضرت مسیح کو اللہ بتاتے ہیں کیونکہ وہ حلول کے قائل ہیں اور ان کا اعتقادِ باطل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بدنِ عیسٰی میں حلول کیا معاذ اللہ و تعا لَی اللّٰہُ عَمَّایَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا اللہ تعالٰی نے اس آیت میں حکمِ کُفر دیا اور اس کے بعد ان کے مذہب کا فساد بیان فرمایا ۔(ف61)اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا تو پھر حضرت مسیح کو اللہ بتانا کتنا صریح باطل ہے ۔
اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف٦۲) تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے (ف٦۳) بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
(ف62)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہلِ کتاب آئے اور انہوں نے دین کے معاملہ میں آپ سے گفتگو شروع کی ، آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے اس کے عذاب کا خوف دلایا تو وہ کہنے لگے کہ اے محمّد آپ ہمیں کیا ڈراتے ہیں ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے اس دعوے کا بُطلان ظاہر فرمایا گیا ۔(ف63)یعنی اس بات کا تو تمہیں بھی اقرار ہے کہ گنتی کے دن تم جہنّم میں رہو گے تو سوچو کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا کوئی شخص اپنے پیارے کو آ گ میں جلاتا ہے ، جب ایسا نہیں تو تمہارے دعوٰے کا کِذب و بُطلان تمہارے اقرار سے ثابت ہے ۔
اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف٦٤) تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا (ف٦۵) کہ کبھی کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں، اور اللہ کو سب قدرت ہے،
(ف64)محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ۔(ف65)حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پانچ سو انہتّر برس کی مدّت نبی سے خالی رہی ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی منّت کا اظہار فرمایا جاتا ہے کہ نہایت حاجت کے وقت تم پر اللہ تعالٰی کی عظیم نعمت بھیجی گئی اور اس میں الزامِ حُجّت و قطعِ عذر بھی ہے کہ اب یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ ہمارے پاس تنبیہ کرنے والے تشریف نہ لائے ۔
اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا (ف٦۷) اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا (ف٦۸)
(ف66)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی تشریف آوری نعمت ہے اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس کے ذکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ برکات و ثمرات کا سبب ہے ۔ اس سے محافلِ میلادِ مبارک کے موجِبِ برکات و ثمرات اور محمود و مستحسَن ہونے کی سند ملتی ہے ۔(ف67)یعنی آزاد و صاحبِ حشم و خَدَم اور فرعونیوں کے ہاتھوں میں مقیّد ہونے کے بعد ان کی غلامی سے نجات حاصل کر کے عیش و آرام کی زندگی پانا بڑی نعمت ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی خادم اور عورت اور سواری رکھتا وہ مَلِک کہلایا جاتا ہے ۔(ف68)جیسے کہ دریا میں راہ بنانا ، دشمن کو غرق کرنا، مَن اور سلوٰی اُتارنا ، پتّھر سے چشمے جاری کرنا ، اَبر کو سائبان بنانا وغیرہ ۔
اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو (ف٦۹) کہ نقصان پر پلٹو گے،
(ف69)حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعد ان کو اپنے دشمنوں پر جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اے قوم ارضِ مقدَّسہ میں داخل ہو جاؤ ۔ اس زمین کو مقدّس اس لئے کہا گیا کہ وہ انبیاء کی مسکَن تھی ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی سکونت سے زمینوں کو بھی شرف حاصل ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے باعثِ برکت ہوتا ہے ۔ کلبی سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کوہِ لبنان پر چڑھے تو آپ سے کہا گیا دیکھیئے جہاں تک آپ کی نظر پہنچے وہ جگہ مقدّس ہے اور آپ کی ذُرِّیَّت کی میراث ہے ، یہ سرزمین طُور اور اس کے گرد و پیش کی تھی اور ایک قول یہ ہے کہ تمام مُلکِ شام ۔
دو مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے (ف۷۰) اللہ نے انہیں نوازا (ف۷۱) بولے کہ زبردستی دروازے میں (ف۷۲) ان پر داخل ہو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو تمہارا ہی غلبہ ہے (ف۷۳) اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے،
(ف70)کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون جو ان نقبا میں سے تھے جنہیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے جبابرہ کا حال دریافت کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔(ف71)ہدایت اور وفاءِ عہد کے ساتھ ، انہوں نے جبابرہ کا حال صرف حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا اور اس کا افشاء نہ کیا بخلاف دوسرے نُقَبا کے کہ انہوں نے افشاء کیا تھا ۔(ف72)شہر کے ۔(ف73)کیونکہ اللہ تعالٰی نے مدد کا وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہونا ، تم جبارین کے بڑے بڑے جسموں سے اندیشہ نہ کرو ہم نےانہیں دیکھا ہے ان کے جسم بڑے ہیں اور دل کمزور ہیں ، ان دونوں نے جب یہ کہا تو بنی اسرائیل بہت برہم ہوئے اور انہوں نے چاہا کہ ان پر سنگ باری کریں ۔
فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے (ف۷۷) چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں (ف۷۸) تو تم ان بےحکموں کا افسوس نہ کھاؤ،
(ف77)اس میں نہ داخل ہو سکیں گے ۔(ف78)وہ زمین جس میں یہ لوگ بھٹکتے پھرے نوفرسنگ تھی اور قوم چھ لاکھ ، جنگی جو اپنے سامان لئے تمام دن چلتے تھے جب شام ہوتی تو اپنے کو وہیں پاتے جہاں سے چلے تھے یہ ان پر عقوبت تھی سوائے حضرت موسٰی و ہارون و یوشع و کالب کے کہ ان پر اللہ تعالٰی نے آسانی فرمائی اور ان کی اعانت کی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے آ گ کو سرد اور سلامتی بنایا اور اتنی بڑی جماعتِ عظیمہ کا اتنے چھوٹے حصّہ زمین میں چالیس برس آوارہ و حیران پھرنا اور کسی کا وہاں سے نکل نہ سکنا خوارقِ عادات میں سے ہے ، جب بنی اسرائیل نے اس جنگل میں حضرت موسٰی علیہ السلام سے کھانے پینے وغیرہ ضروریات اور تکالیف کی شکایت کی تو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے ان کو آسمانی غذا مَن و سلوٰی عطا فرمایا اور لباس خود ان کے بدن پر پیدا کیا جو جسم کے ساتھ بڑھتا تھا اور ایک سفید پتّھر کوہِ طُور کا عنایت کیا کہ جب رختِ سفر اُتارتے اور کسی وقت ٹھہرتے تو حضرت اس پتّھرپر عصا مارتے اس سے بنی اسرائیل کے بارہ اسباط کے لئے بارہ چشمے جاری ہو جاتے اور سایہ کرنے کےلئے ایک اَبر بھیجا اور تیہ میں جتنے لوگ داخل ہوئے تھے ان میں سے جو بیس سال سے زیادہ عمر کے تھے سب وہیں مر گئے سوائے یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کے اور جن لوگوں نے ارضِ مقدّسہ میں داخل ہونے سے انکار کیا ان میں سے کوئی بھی داخل نہ ہو سکا اور کہا گیا ہے کہ تیہ میں ہی حضرت ہارون اور حضرت موسٰی علیہما السلام کی وفات ہوئی ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی وفات سے چالیس برس بعد حضرت یوشع کو نبوّت عطا کی گئی اور جبّارین پر جہاد کا حکم دیا گیا ۔ آپ باقی ماندہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر گئے اور جبّار بن پر جہاد کیا ۔
اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر (ف۷۹) جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا (ف۸۰) کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، جسے ڈر ہے (ف۸۱)
(ف79)جن کا نام ہابیل اور قابیل تھا ۔ اس خبر کو سنانے سے مقصد یہ ہے کہ حسد کی برائی معلوم ہو اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرنے والوں کو اس سے سبق حاصل کرنے کا موقع ملے ۔ عُلَماءِ سِیَر و اَخبار کا بیان ہے کہ حضرت حوّا کے حمل میں ایک لڑکا ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کیا جاتا تھا اور جب کہ آدمی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں منحصر تھے تو مناکحت کی اور کوئی سبیل ہی نہ تھی اسی دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح لیودا سے جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی اور ہابیل کا اقلیما سے جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا ، قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور چونکہ اقلیما زیادہ خوبصورت تھی اس لئے اس کا طلب گار ہوا ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ تیرے ساتھ پیدا ہوئی لہٰذا تیری بہن ہے اس کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں ، کہنے لگا یہ تو آپ کی رائے ہے اللہ تعالٰی نے یہ حکم نہیں دیا ، آپ نے فرمایا تو تم دونوں قربانیاں لاؤ جس کی قربانی مقبول ہو جائے وہی اقلیما کا حقدار ہے ، اس زمانہ میں جو قربانی مقبول ہوتی تھی آسمان سے ایک آ گ اُتر کر اس کو کھا لیا کرتی تھی ، قابیل نے ایک انبار گندم اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی ، آسمانی آ گ نے ہابیل کی قربانی کو لے لیا اور قابیل کے گیہوں چھوڑ گئی ، اس پر قابیل کے دل میں بہت بغض و حسد پیدا ہوا ۔(ف80)جب حضرت آدم علیہ السلام حج کے لئے مکّہ مکرّمہ تشریف لے گئے تو قابیل نے ہابیل سے کہا کہ میں تجھ کو قتل کروں گا ، ہابیل نے کہا کیوں ؟ کہنے لگا اس لئے کہ تیری قربانی مقبول ہوئی ، میری نہ ہوئی اور تو اقلیما کا مستحق ٹھہرا اس میں میری ذلّت ہے ۔(ف81)ہابیل کے اس مقولہ کا یہ مطلب ہے کہ قربانی کا قبول کرنا اللہ کا کام ہے وہ متّقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے تو متّقی ہوتا تو تیری قربانی قبول ہوتی ، یہ خود تیرے افعال کا نتیجہ ہے ، اس میں میرا کیا دخل ہے ۔
بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں (ف۸۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک ہے سارے جہاں کا،
(ف82)اور میر ی طرف سے ابتدا ہو باوجود یکہ میں تجھ سے قوی و توانا ہوں یہ صرف اس لئے کہ ۔
تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے (ف۸٦) بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا (ف۸۷)
(ف86)مروی ہے کہ دو کوّے آپس میں لڑے ان میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا پھر زندہ کوّے نے اپنی مِنقار (چونچ) اور پنجوں سے زمین کُرید کر گڈھا کیا ، اس میں مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا ، یہ دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مُردے کی لاش کو دفن کرنا چاہئے چنانچہ اس نے زمین کھود کر دفن کر دیا ۔(جلالین ، مدارک وغیرہ)(ف87)اپنی نادانی و پریشانی پر اور یہ ندامت گناہ پر نہ تھی کہ توبہ میں شمار ہو سکتی یا ندامت کا توبہ ہونا سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اُمّت کے ساتھ خاص ہو ۔ (مدارک)
اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے (ف۸۸) تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا (ف۸۹) اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا (ف۹۰) اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے (ف۹۱) پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے (ف۹۲) پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں (ف۹۳)
(ف88)یعنی خونِ ناحق کیا کہ نہ تو مقتول کو کسی خون کے بدلے قِصاص کے طور پر مارا ، نہ شرک و کُفر یا قطعِ طریق وغیرہ کسی موجِبِ قتل فساد کی وجہ سے مارا ۔(ف89)کیونکہ اس نے حقُّ اللہ کی رعایت اور حدودِ شریعت کا پاس نہ کیا ۔(ف90)اس طرح کہ قتل ہونے یا ڈوبنے یا جلنے وغیرہ اسبابِ ہلاکت سے بچایا ۔(ف91)یعنی بنی اسرائیل کے ۔(ف92)معجزاتِ باہرات بھی لائے اور احکام و شرائع بھی ۔(ف93)کہ کُفر و قتل وغیرہ کا ارتکاب کر کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں ۔
وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے (ف۹٤) اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب،
(ف94)اللہ تعالٰی سے لڑنا یہی ہے کہ اس کے اولیاء سے عداوت کرے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ، اس آیت میں قطاعِ طریق یعنی رہزنوں کی سزا کا بیان ہے ۔شانِ نُزول : ۶ھ میں عُرَیْنہ کے چند لوگ مدینہ طیّبہ میں آ کر اسلام لائے اور بیمار ہو گئے ، ان کے رنگ زرد ہو گئے ، پیٹ بڑھ گئے ، حضور نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب ملا کر پیا کریں ، ایسا کرنے سے وہ تندرست ہو گئے مگر تندرست ہو کر مرتَد ہو گئے اور پندرہ اونٹ لے کر وہ اپنے وطن کو چلتے ہو گئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طلب میں حضرت یسار کو بھیجا ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ایذائیں دیتے دیتے شہید کر ڈالا پھر جب یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرفتار کر کے حاضر کئے گئے تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (تفسیرِ احمدی)
مگر وہ جنہوں نے توبہ کر لی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ (ف۹۵) تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف95)یعنی گرفتاری سے قبل توبہ کر لینے سے وہ عذابِ آخرت اور قطعِ طریق (رہزنی ) کی حد سے تو بچ جائیں گے مگر مال کی واپسی اور قصاص حقُ العباد ہے یہ باقی رہے گا ۔ (احمدی)
بیشک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی برابر اور اگر ان کی ملک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے (ف۹۷)
(ف97)یعنی کُفّار کے لئے عذاب لازم ہے اور اس سے رہائی پانے کی کوئی سبیل نہیں ۔
اور جو مرد یا عورت چور ہو (ف۹۸) تو ان کا ہاتھ کاٹو (ف۹۹) ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
(ف98)اور اس کی چوری دو مرتبہ کے اقرار یا دو مَردوں کی شہادت سے حاکم کے سامنے ثابت ہو اور جو مال چُرایا ہے وہ دس درہم سے کم کا نہ ہو ۔ (کما فی حدیثِ ابنِ مسعود)(ف99)یعنی داہنا اس لئے کہ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں اَیْمَا نَھُمَا آیا ہے ۔ مسئلہ : پہلی مرتبہ کی چوری میں داہنا ہاتھ کاٹا جائے گا پھر دوبارہ اگر کرے تو بایاں پاؤں ، اس کے بعد بھی اگر چوری کرے تو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے ۔مسئلہ : چور کا ہاتھ کاٹنا تو واجب ہے اور مالِ مسروق موجود ہو تو اس کا واپس کرنا بھی واجب اور اگر وہ ضائع ہو گیا ہو تو ضمان واجب نہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (ف۱۰۱)
(ف101)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عذاب کرنا اور رحمت فرمانا اللہ تعالٰی کی مشیّت پر ہے وہ مالک ہے جو چاہے کرے کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ، اس سے قدریہ و معتزلہ کا اِبطال ہو گیا جو مطیع پر رحمت اور عاصی پر عذاب کرنا اللہ تعالٰی پر واجب کہتے ہیں ۔
اے رسول! تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پڑ دوڑتے ہیں (ف۱۰۲) جو کچھ وہ اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں (ف۱۰۳) اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں (ف۱۰٤) اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں (ف۱۰۵) جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو (ف۱۰٦) اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا، وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا، انہیں دنیا میں رسوائی ہے، اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب،
(ف102)اللہ تعالٰی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو یٰاَ یُّھَا الرَّسُوْلُ کے خطابِ عزّت کے ساتھ مخاطب فرما کر تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اے حبیب میں آپ کا ناصر و مُعِین ہوں ، منافقین کے کُفر میں جلدی کرنے یعنی ان کے اظہارِ کُفراور کُفّار کے ساتھ دوستی و موالات کر لینے سے آپ رنجیدہ نہ ہوں ۔(ف103)یہ ان کے نفاق کا بیان ہے ۔(ف104)اپنے سرداروں سے اور ان کے افتراؤں کو قبول کرتے ہیں ۔(ف105)ماشاء اللہ حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے بہت صحیح ترجمہ فرمایا ، اس مقام پر بعض مُترجِمین و مفسِّرین سے لغزش واقع ہوئی کہ انہوں نے لِقَوْ مٍ کے لام کو علّت قرار دے کر آیت کے معنی یہ بیان کئے کہ منافقین و یہود اپنے سرداروں کی جھوٹی باتیں سنتے ہیں ، آپ کی باتیں دوسری قوم کی خاطر سے کان دَھر کر سنتے ہیں جس کے وہ جاسوس ہیں مگر یہ معنٰی صحیح نہیں اور نظمِ قرآنی اس سے بالکل موافقت نہیں فرماتی بلکہ یہاں لام مِنْ کے معنٰی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے سرداروں کی جھوٹی باتیں خوب سنتے ہیں اور لوگ یعنی یہودِ خیبر کی باتوں کو خوب مانتے ہیں جن کے احوال کا آیت شریف میں بیان آرہا ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود و جمل)(ف106)شانِ نُزول : یہودِ خیبر کے شرفاء میں سے ایک بیاہے مرد اور بیاہی عورت نے زنا کیا ، اس کی سزا توریت میں سنگسارکرنا تھی یہ انہیں گوارا نہ تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ اس مقدمے کا فیصلہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائیں چنانچہ ان دونوں (مجرموں) کو ایک جماعت کے ساتھ مدینہ طیّبہ بھیجا اور کہہ دیاکہ اگر حضور حد کا حکم دیں تو مان لینا اور سنگسار کرنے کا حکم دیں تو مت ماننا ، وہ لوگ یہودِ بنی قُرَیظہ وبنی نُضَیرکے پاس آئے اور خیال کیا کہ یہ حضور کے ہم وطن ہیں اور ان کے ساتھ آپ کی صلح بھی ہے ، ان کی سفارش سے کام بن جائے گا چنانچہ سردارانِ یہود میں سے کعب بن اشرف و کعب بن اسد و سعید بن عمرو و مالک بن صیف و کنانہ بن ابی الحقیق وغیرہ انہیں لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ دریافت کیا ، حضور نے فرمایا کیا میرا فیصلہ مانو گے ؟ انہوں نے اقرار کیا ، آیتِ رجم نازل ہوئی اور سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا ، یہود نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا ، حضور نے فرمایا کہ تم میں ایک نوجوانِ گور ایک چشمِ فَدَ ک کا باشندہ ابنِ صوریا نامی ہے ، تم اس کو جانتے ہو ؟ کہنے لگے ہاں ، فرمایا وہ کیسا آدمی ہے ؟ کہنے لگے کہ آج روئے زمین پریہود میں اس کے پایہ کا عالِم نہیں ، توریت کا یکتا ماہر ہے ، فرمایا اس کو بلاؤ چنانچہ بلایا گیا ، جب وہ حاضر ہوا تو حضور نے فرمایا تو ابنِ صوریا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں فرمایا یہود میں سب سے بڑا عالِم تو ہی ہے ؟ عر ض کیا لوگ تو ایسا ہی کہتے ہیں ، حضور نے یہود سے فرمایا اس معاملہ میں اس کی بات مانو گے ؟ سب نے اقرار کیا تب حضور نے ابنِ صوریا سے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے حضرت موسٰی پر توریت نازل فرمائی اور تم لوگوں کو مِصر سے نکالا ، تمہارے لئے دریا میں راہیں بنائیں ، تمہیں نجات دی ، فرعونیوں کو غرق کیا ، تمہارے لئے اَبر کو سایہ بان بنایا مَنُّ و سلوٰی نازل فرمایا ، اپنی کتاب نازل فرمائی جس میں حلال و حرام کا بیان ہے کیا تمہاری کتاب میں بیاہے مرد و عورت کے لئے سنگسار کرنے کا حکم ہے ؟ ابنِ صوریا نے عرض کیا بے شک ہے اسی کی قَسم جس کا آپ نے مجھ سے ذکر کیا عذاب نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اقرار نہ کرتا اور جھوٹ بول دیتا مگر یہ فرمائیے کہ آپ کی کتاب میں اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا جب چار عادل و معتبر شاہدوں کی گواہی سے زنا بصراحت ثابت ہو جائے تو سنگسار کرنا واجب ہو جاتا ہے ، ابنِ صوریا نے عرض کیا بخدا بعینہٖ ایسا ہی توریت میں ہے پھر حضور نے ابنِ صوریا سے دریافت فرمایا کہ حکمِ الٰہی میں تبدیلی کس طرح واقع ہوئی ، اس نے عرض کیا کہ ہمارا دستور یہ تھا کہ ہم کسی شریف کو پکڑتے تو چھوڑ دیتے اور غریب آدمی پر حد قائم کرتے ، اس طرزِ عمل سے شرفاء میں زنا کی بہت کثرت ہو گئی یہاں تک کہ ایک مرتبہ بادشاہ کے چچا زاد بھائی نے زنا کیا تو ہم نے اس کو سنگسار نہ کیا پھر ایک دوسرے شخص نے اپنی قوم کی عورت سے زنا کیا تو بادشاہ نے اس کو سنگسار کرنا چاہا ، اس کی قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے کہا جب تک بادشاہ کے بھائی کو سنگسار نہ کیا جائے اس وقت تک اس کو ہرگز سنگسار نہ کیا جائے گا ، تب ہم نے جمع ہو کر غریب شریف سب کے لئے بجائے سنگسار کرنے کے یہ سزا نکالی کہ چالیس کوڑے مارے جائیں اور منھ کالا کر کے گدھے پر الٹا بٹھا کر گشت کرائی جائے ، یہ سن کر یہود بہت بگڑے اور ابنِ صوریا سے کہنے لگے تو نے حضرت کو بڑی جلدی خبر دے دی اور ہم نے جتنی تیری تعریف کی تھی تو اس کا مستحق نہیں ، ابنِ صوریا نے کہا کہ حضور نے مجھے توریت کی قسم دلائی اگر مجھے عذاب کے نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں آپ کو خبر نہ دیتا ، اس کے بعد حضور کے حکم سے ان دونوں زنا کاروں کو سنگسار کیا گیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ (خازن)
بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور (ف۱۰۷) تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں (ف۱۰۸) تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو (ف۱۰۹) اور اگر تم ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۱۱۰) اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو، بیشک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں،
(ف107)یہ یہود کے حُکّام کی شان میں ہے جو رشوتیں لے کر حرام کو حلال کرتے اور احکامِ شرع کو بدل دیتے تھے ۔مسئلہ : رشوت کا لینا دینا دونوں حرام ہیں ۔حدیث شریف میں رشوت لینے دینے والے دونوں پر لعنت آئی ہے ۔(ف108)یعنی اہلِ کتاب ۔(ف109)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخیّر فرمایا گیا کہ اہلِ کتاب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لائیں تو آپ کو اختیار ہے فیصلہ فرمائیں یا نہ فرمائیں ۔ بعض مفسّرین کا قول ہے کہ یہ تخییر آیۃ وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ سے منسوخ ہوگئی امام احمد نے فرمایا کہ ان آیتوں میں کچھ منافات نہیں کیونکہ یہ آیت مفیدِ تخییر ہے اور آیت وَاَنِ احْکُمْ الخ میں کیفیّتِ حکم کا بیان ہے ۔ (خازن و مدارک وغیرہ)(ف110)کیونکہ اللہ تعالٰی آپ کا نگہبان ۔
اور وہ تم سے کیونکر فیصلہ چاہیں گے، حالانکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے (ف۱۱۱) بایں ہمہ اسی سے منہ پھیرتے ہیں (ف۱۱۲) اور وہ ایمان لانے والے نہیں،
(ف111)کہ بیاہے مرد اور شوہر دار عورت کے زنا کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے ۔(ف112)باوجود یکہ توریت پر ایمان لانے کے مدعی بھی ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ توریت میں رجم کا حکم ہے اس کو نہ ماننا اور آپ کی نبوّت کے منکِر ہوتے ہوئے آپ سے فیصلہ چاہنا نہایت تعجّب کی بات ہے ۔
بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہہ کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی (ف۱۱۳) اور وہ اس پر گواہ تھے تو (ف۱۱٤) لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو (ف۱۱۵) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے (ف۱۱٦) وہی لوگ کافر ہیں،
(ف113)کہ اس کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھیں اور اس کے درس میں مشغول رہیں تاکہ وہ کتاب فراموش نہ ہو اور اس کے احکام ضائع نہ ہوں ۔ (خازن) مسئلہ : توریت کے مطابق انبیاء کا حکم دینا جو اس آیت میں مذکور ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم سے پہلی شریعتوں کے جو احکام اللہ اور رسول نے بیان فرمائے ہوں اور ان کے ہمیں ترک کا حکم نہ دیا ہو منسوخ نہ کئے گئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوتے ہیں۔( جمل وابوالسعود)(ف114)اے یہودیو تم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت اور رجم کا حکم جو توریت میں مذکور ہے اس کے اظہار میں ۔(ف115)یعنی احکامِ الٰہیہ کی تبدیل بہر صورت ممنوع ہے خواہ لوگوں کے خوف اور ان کی ناراضی کے اندیشہ سے ہو یا مال و جاہ ورشوت کی طمع سے ۔(ف116)اس کا منکِر ہو کر کَمَا قَالَہُ اِبنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہما ۔
اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا (ف۱۱۷) کہ جان کے بدلے جان (ف۱۱۸) اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے (ف۱۱۹) پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا (ف۱۲۰) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
(ف117)اس آیت میں اگرچہ یہ بیان ہے کہ توریت میں یہود پر قصاص کے یہ احکام تھے لیکن چونکہ ہمیں ان کے ترک کا حکم نہیں دیا گیا اس لئے ہم پر یہ احکام لازم رہیں گے کیونکہ شرائعِ سابقہ کے جو احکام خدا و رسول کے بیان سے ہم تک پہنچے اور منسوخ نہ ہوئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوا کرتے ہیں جیسا کہ اوپر کی آیت سے ثابت ہوا ۔(ف118)یعنی اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں ماخوذ ہوگی خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام مسلِم ہو یا ذمّی ۔ شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مردکو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( مدارک)(ف119)یعنی مماثلت و مساوات کی رعایت ضروری ہے ۔(ف120)یعنی جو قاتل یا جنایت کرنے والا اپنے جُرم پر نادم ہو کر وبالِ معصیّت سے بچنے کے لئے بخوشی اپنے اوپر حکمِ شرعی جاری کرائے تو قصاص اس کے جُرم کا کفّارہ ہوجائے گا اور آخرت میں اس پر عذاب نہ ہوگا ۔(جلالین و جمل) ، بعض مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کومعاف کردے تو یہ معافی اس کے لئے کفّارہ ہے ۔ (مدارک) ، تفسیرِاحمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگروہ معاف کردے تو قصاص ساقط ۔
اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشان قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی (ف۱۲۱) اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت (ف۱۲۲) اور نصیحت پرہیزگاروں کو،
(ف121)احکامِ توریت کے بیان کے بعد احکامِ انجیل کا ذکر شروع ہوا اور بتایا گیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام توریت کے مصدِّق تھے کہ وہ منزَّل من اللہ ہے اور نسخ سے پہلے اس پر عمل واجب تھا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شریعت میں اس کے بعض احکام منسوخ ہوئے ۔(ف122)اس آیت میں انجیل کے لئے لفظ ھُدًی دو جگہ ارشاد ہوا پہلی جگہ ضلالت و جہالت سے بچانے کے لئے رہنمائی مراد ہے دوسر جگہ ھُدًی سے سیدِ انبیاء حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت مراد ہے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوّت کی طرف لوگوں کی راہ یابی کا سبب ہے ۔
اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی (ف۱۲٤) اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے (ف۱۲۵) اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا (ف۱۲٦) اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے (ف۱۲۷) تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے
(ف124)جو اس سے قبل حضراتِ انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں ۔(ف125)یعنی جب اہلِ کتاب اپنے مقدمات آپ کی طرف رجوع کریں تو آپ قرآنِ پاک سے فیصلہ فرمائیں ۔(ف126)یعنی فروع و اعمال ہر ایک کے خاص ہیں اور اصل دین سب کا ایک ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایمان حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے یہی ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِ لَّااللّٰہُ کی شہادت اور جو اللہ کی طرف سے آیا اس کا اقرار کرنا اور شریعت و طریق ہر اُمّت کا خاص ہے ۔(ف127)اور امتحان میں ڈالے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ ہر زمانہ کے مناسب جو اَحکام دیئے کیا تم ان پر اس یقین و اعتقاد کے ساتھ عمل کرتے ہو کہ ان کا اختلاف مشیّتِ الٰہیہ کے اقتضاء سے حکمتِ بالغہ اور دنیوی و اُخروی مصالحِ نافعہ پر مبنی ہے یا حق کو چھوڑ کر ہوائے نفس کا اِتّباع کرتے ہو ۔ (تفسیر ابوالسعود)
اور یہ کہ اے مسلمان! اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۲۸) تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی (ف۱۲۹) سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے (ف۱۳۰) اور بیشک بہت آدمی بےحکم ہیں،
(ف128)اللہ کے نازل فرمائے ہوئے حکم سے ۔(ف129)جن میں یہ اعراض بھی ہے ۔(ف130)میں قتل و گرفتاری و جِلا وطنی کے ساتھ اور تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دے گا ۔
تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے،
(ف131)جو سراسر گمراہی اور ظلم اور مخالفِ احکامِ الٰہی ہوتا تھا ۔ شانِ نُزول : بنی نُضَیر اور بنی قُرَیظہ یہود کے دو قبیلے تھے ان میں باہم ایک دوسرے کا قتل ہوتا رہتا تھا جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدّمہ حضور کی خدمت میں لائےاور بنی قُرَیظہ نےکہا کہ بنی نُضَیر ہمارے بھائی ہیں ، ہم وہ ایک جد کی اولاد ہیں ، ایک دین رکھتے ہیں ، ایک کتاب (توریت) مانتے ہیں لیکن اگربنی نُضَیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو اس کے خون بہا میں ہم ستّر وَسۡق کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی ان کے کسی آدمی کو قتل کرے تو ہم سے اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وَسۡق لیتے ہیں ، آپ اس کا فیصلہ فرما دیں حضور نے فرمایا میں حکم دیتا ہوں کہ قُرَیظِی اور نُضَیرِی کا خون برابر ہے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں ، اس پر بنی نُضَیر بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے فیصلہ سے راضی نہیں ، آپ ہمارے دشمن ہیں ، ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ کیا جاہلیّت کی گمراہی و ظلم کا حکم چاہتے ہیں ۔
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ (ف۱۳۲) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۱۳۳) اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے (ف۱۳٤) بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۳۵)
(ف132)مسئلہ : اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی ان کی مدد کرنا ، ان سے مدد چاہنا ، ان کے ساتھ مَحبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نُزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو ۔ شانِ نُزول : یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت صحابی اور عبداللہ بن اُ بَی بن سلول کے حق میں نازل ہوئی جو منافقین کا سردار تھا ۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود میں میرے بہت کثیر التعداد دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت والے ہیں ، اب میں ان کی دوستی سے بیزار ہوں اور اللہ و رسول کے سوا میرے دل میں اور کسی کی مَحبت کی گنجائش نہیں ، اس پر عبداللہ بن اُ بَی نے کہا کہ میں تو یہود کی دوستی سے بیزاری نہیں کر سکتا ، مجھے پیش آنے والے حوادث کا اندیشہ ہے اور مجھے ان کے ساتھ رسم و رواہ رکھنی ضرور ہے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ یہود کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے ، عبادہ کا یہ کام نہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ (خازن)(ف133)اس سے معلوم ہوا کہ کافِر کوئی بھی ہوں ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں ، مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں اَلْکُفْرُ مِلَّۃ وَّاحِدَۃ ۔ (مدارک)(ف134)اس میں بہت شدّت و تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود ونصارٰی اور ہر مخالفِ دینِ اسلام سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے ۔ (مدارک و خازن)(ف135)جو کافِروں سے دوستی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ، حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا ، حضرت امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نصرانی سے کیا واسطہ ؟ تم نے یہ آیت نہیں سنی یٰآَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ ، الایۃ انہوں نے عرض کیا اس کا دین اس کے ساتھ مجھے تو اس کی کتابت سے غرض ہے ، امیر المومنین نے فرمایا کہ اللہ نے انہیں ذلیل کیا تم انہیں عزّت نہ دو ، اللہ نے انہیں دور کیا تم انہیں قریب نہ کرو حضرت ابو موسٰی نے عرض کیا کہ بغیر اس کے حکومتِ بصرہ کا کام چلانا دشوار ہے یعنی اس ضرورت سے مجبوری اس کو رکھا ہے کہ اس قابلیّت کا دوسرا آدمی مسلمانوں میں نہیں ملتا ، اس پر حضرت امیر المومنین نے فرمایا نصرانی مر گیا والسلام یعنی فرض کرو کہ وہ مر گیا اس وقت جو انتظام کرو گے وہی اب کرو اور اس سے ہرگز کام نہ لو یہ آخری بات ہے ۔ (خازن)
اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۱۳٦) کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے (ف۱۳۷) تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے (ف۱۳۸) یا اپنی طرف سے کوئی حکم (ف۱۳۹) پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا (ف۱٤۰) پچھتائے رہ جائیں
(ف136)یعنی نفاق ۔(ف137)جیسا کہ عبداللہ بن اُ بَی منافق نے کہا ۔(ف138)اور اپنے رسول محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو مظفّر و منصور کرے اور ان کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے اور مسلمانوں کو ان کے دشمن یہود و نصارٰی وغیرہ کُفّار پر غلبہ دے چنانچہ یہ خبر صادق ہوئی اور بکرمہٖ تعالٰی مکّہ مکرّمہ اور یہود کے بِلاد فتح ہوئے ۔ (خازن وغیرہ)(ف139)جیسے کہ سرزمینِ حِجاز کو یہود سے پاک کرنا اور وہاں ان کا نام و نشان باقی نہ رکھنا یا منافقین کے راز افشاء کر کے انہیں رسوا کرنا ۔ (خازن و جلالین)(ف140)یعنی نفاق یا منافقین کا یہ خیال کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کُفّار کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوں گے ۔(ف141)منافقین کا پردہ کُھلنے پر ۔
اور (ف۱٤۱) ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں (ف۱٤۲)
(ف142)کہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئے اور آخرت میں عذابِ دائمی کے سزاوار ۔
اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا (ف۱٤۳) تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے (ف۱٤٤) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
(ف143)کُفّار کے ساتھ دوستی و موالات بے دینی و اِرتداد کی مستدعی ہے ، اس کی ممانعت کے بعد مرتدین کا ذکر فرمایا اور مرتد ہونے سے قبل لوگوں کے مرتد ہونے کی خبر دی چنانچہ یہ خبر صادق ہوئی اور بہت لوگ مرتد ہوئے ۔(ف144)یہ صفت جن کی ہے وہ کون ہیں اس میں کئی قول ہیں ۔ حضرت علی مرتضٰی و حسن و قتادہ نے کہا کہ یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے اصحاب ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہونے اور زکوٰۃ سے منکِر ہونے والوں پر جہاد کیا ۔ عیاض بن غنم اشعری سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسٰی اشعری کی نسبت فرمایا کہ یہ ان کی قوم ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگ اہلِ یمن ہیں جن کی تعریف بخاری و مسلم کی حدیثوں میں آئی ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ یہ لوگ انصار ہیں جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور ان اقوال میں کچھ منافات نہیں کیونکہ ان سب حضرات کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا صحیح ہے ۔
تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے (ف۱٤۵) کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں (ف۱٤٦)
(ف145)جن کے ساتھ موالات حرام ہے ان کا ذکر فرمانے کے بعد ان کا بیان فرمایا جن کے ساتھ موالات واجب ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہماری قوم قُرَیظہ اور نُضَیر نے ہمیں چھوڑ دیا اور قَسمیں کھا لیں کہ وہ ہمارے ساتھ مجالست (ہم نشینی) نہ کریں گے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو عبداللہ بن سلام نے کہا ہم راضی ہیں اللہ تعالٰی کے ربّ ہونے پر ، اس کے رسول کے نبی ہونے پر ، مؤمنین کے دوست ہونے پر اور حکم آیت کا تمام مؤمنین کے لئے عام ہے سب ایک دوسرے کے دوست اورمُحِب ہیں ۔
اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے،
(ف146)جملہ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ دو وجہ رکھتا ہے ایک یہ کہ پہلے جملوں پر معطوف ہو دوسری یہ کہ حال واقع ہو ، پہلی وجہ اظہر و اقوٰی ہے اور حضرت مُتَرجِم قُدِّس سِرّہٗ کا ترجمہ بھی اسی کے مساعد ہے ۔ (جمل عن السمین) دوسر ی وجہ پر دو احتمال ہیں ایک یہ کہ یُقِیْمُوْنَ وَیُؤْ تُوْنَ دونوں فعلوں کے فاعل سے حال واقع ہو اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ وہ بخشوع و تواضُع نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ (تفسیر ابوالسعود) دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف یُؤْتُوْنَ کے فاعل سے حال واقع ہو ، اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور متواضع ہو کر زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ (جمل) بعض کا قول ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے کہ آپ نے نماز میں سائل کو انگُشتری صدقہ دی تھی وہ انگُشتری انگُشتِ مبارک میں ڈھیلی تھی بے عملِ کثیر کے نکل گئی لیکن امام فخر الدین رازی نے تفسیرِ کبیر میں اس کا بہت شدّ و مد سے ردّ کیا ہے اور اس کے بُطلان پر بہت وجوہ قائم کئے ہیں ۔
اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے (ف۱٤۷) وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر (ف۱٤۸) ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو (ف۱٤۹)
(ف147)شانِ نُزول : رفاعہ بن زید اور سوید بن حار ث دونوں اظہارِ اسلام کے بعد منافق ہو گئے ۔ بعض مسلمان ان سے مَحبت رکھتے تھے اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنا اور دل میں کُفر چُھپائے رکھنا دین کو ہنسی اور کھیل بنانا ہے ۔(ف148)یعنی بُت پرست مشرک جو اہلِ کتاب سے بھی بدتر ہیں ۔ (خازن)(ف149)کیونکہ خدا کے دشمنوں سے دوستی کرنا ایمان دار کا کام نہیں ۔
اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں (ف۱۵۰) یہ اس لئے کہ وہ نرے بےعقل لوگ ہیں (ف۱۵۱)
(ف150)شانِ نُزول : کلبی کا قول ہے کہ جب رسول اللہ، صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذِّن نماز کے لئے اذان کہتا اور مسلمان اٹھتے تو یہود ہنستے اور تمسخُر کرتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ سدی کا قول ہے کہ مدینہ طیّبہ میں جب مؤذِّن اذان میں اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ کہتا تو ایک نصرانی یہ کہا کرتا کہ جل جائے جھوٹا ، ایک شب اس کا خادم آ گ لایا وہ اور اس کے گھر کے لوگ سو رہے تھے آ گ سے ایک شرارہ اُڑا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر کے لوگ اور تمام گھر جل گیا ۔(ف151)جو ایسے سفیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اذان نصِ قرآنی سے بھی ثابت ہے ۔
تم فرماؤ اے کتابیوں تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا (ف۱۵۲) اور یہ کہ تم میں اکثر بےحکم ہیں،
(ف152)شانِ نُزول : یہود کی ایک جماعت نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ انبیاء میں سے کس کس کو مانتے ہیں ، اس سوال سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ مانیں تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں لیکن حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو اس نے ہم پر نازل فرمایا اور جو حضرت ابراہیم و اسمٰعیل و اسحٰق و یعقوب و اسباط پر نازل فرمایا اور جو حضرت عیسٰی و موسٰی کو دیا گیا یعنی توریت و انجیل اور جو اور نبیوں کو ان کے ربّ کی طرف سے دیا گیا سب کو مانتا ہوں ، ہم انبیاء میں فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوّت کو بھی مانتے ہیں تو وہ آپ کی نبوّت کے منکِر ہو گئے اور کہنے لگے جو عیسٰی کو مانے ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں (ف۱۵۳) وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سور (ف۱۵٤) اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے (ف۱۵۵) اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے،
(ف153)کہ اس برحق دین والوں کو تو تم مَحض اپنے عناد و عداوت ہی سے بُرا کہتے ہو اور تم پر اللہ تعالٰی نے لعنت کی اور غضب فرمایا اور آیت میں جو مذکور ہے وہ تمہارا حال ہوا تو بدتر درجہ میں تو تم خود ہو ، کچھ دل میں سوچو ۔(ف154)صورتیں مسخ کر کے ۔(ف155)اور وہ جہنّم ہے ۔
اور جب تمہارے پاس آئیں (ف۱۵٦) ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر، اور اللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں
(ف156)شانِ نُزول : یہ آیت یہود کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ایمان و اخلاص کا اظہار کیا اور کُفر و ضلال چُھپائے رکھا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حال کی خبر دی ۔
اور ان (ف۱۵۷) میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں (ف۱۵۸) بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
(ف157)یعنی یہود ۔(ف158)گناہ ہر معصیت و نافرمانی کو شامل ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ گناہ سے توریت کے مضامین کو چُھپانا اور اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو محاسن و اوصاف ہیں ان کا مخفی رکھنا اور عُدوان یعنی زیادتی سے توریت کے اندر اپنی طرف سے کچھ بڑھا دینا اور حرام خوری سے رشوتیں وغیرہ مراد ہیں ۔(خازن)
انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کر رہے ہیں (ف۱۵۹)
(ف159)کہ لوگوں کو گناہوں اور بُرے کاموں سے نہیں روکتے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عُلَماء پر نصیحت اور بدی سے روکنا واجب ہے اور جو شخص بُری بات سے منع کرنے کو ترک کرے اور نہی منکَر سے باز رہے وہ بمنزلہ مرتکب گناہ کے ہے ۔
اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (ف۱٦۰) ان کے ہاتھ باندھے جائیں (ف۱٦۱) اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں (ف۱٦۲) عطا فرماتا ہے جیسے چاہے (ف۱٦۳) اور اے محبوب! یہ (ف۱٦٤) جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی (ف۱٦۵) اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا (ف۱٦٦) جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے (ف۱٦۷) اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا،
(ف160)یعنی معاذ اللہ وہ بخیل ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہود بہت خوش حال اور نہایت دولت مند تھے جب انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب و مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہو گئی ، اس وقت فخاص یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہے یعنی معاذ اللہ وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بُخل کرتا ہے ، اس کے اس قول پرکسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی ۔(ف161)تنگی اور داد و دہش سے ۔ اس ارشاد کا یہ اثر ہوا کہ یہود دنیا میں سب سے زیادہ بخیل ہو گئے یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کے ہاتھ جہنّم میں باندھے جائیں اور اس طرح انہیں آتشِ دوزخ میں ڈالا جائے ، ان کی اس بے ہودہ گوئی اور گستاخی کی سزا میں ۔(ف162)وہ جوّاد کریم ہے ۔(ف163)اپنی حکمت کے موافق اس میں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔(ف164)قرآن شریف ۔(ف165) یعنی جتنا قرآنِ پاک اُترتا جائے گا اتنا حسد و عناد بڑھتا جائے گا اور وہ اس کے ساتھ کُفر و سرکشی میں بڑھتے رہیں گے ۔(ف166)وہ ہمیشہ باہم مختلف رہیں گے اور ان کے دل کبھی نہ ملیں گے ۔(ف167)اور ان کی مدد نہیں فرماتا وہ ذلیل ہوتے ہیں ۔
اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل (ف۱٦۸) اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا (ف۱٦۹) تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (ف۱۷۰) ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے (ف۱۷۱) اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کر رہے ہیں (ف۱۷۲)
(ف168)اس طرح کہ سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے اور آپ کا اِتّباع کرتے کہ توریت و انجیل میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔(ف169)یعنی تمام کتابیں جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں سب میں سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور آپ پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔(ف170)یعنی رزق کی کثرت ہوتی اور ہر طرف سے پہنچتا ۔ فائدہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کی پابندی اور اللہ تعالٰی کی اطاعت و فرمانبرداری سے رزق میں وُسعت ہوتی ہے ۔(ف171)حد سے تجاوز نہیں کرتا ۔ یہ یہودیوں میں سے وہ لوگ ہیں جو سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ۔(ف172)جو کُفرپر جمے ہوئے ہیں ۔
اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۷۳) اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے (ف۱۷٤) بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
(ف173)اور کچھ اندیشہ نہ کرو ۔(ف174)یعنی کُفّار سے جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ سفروں میں شب کو حضور اقدس سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی پہرہ ہٹا دیا گیا اور حضورنے پہرہ داروں سے فرمایا کہ تم لوگ چلے جاؤ ، اللہ تعالٰی نے میری حفاظت فرمائی ۔
تم فرمادو، اے کتابیو! تم کچھ بھی نہیں ہو (ف۱۷۵) جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۷٦) اور بیشک اے محبوب! وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی (ف۱۷۷) تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ،
(ف175)کسی دین و ملّت میں نہیں ۔(ف176)یعنی قرآنِ پاک ان تمام کتابوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت اور آ پ پر ایمان لانے کا حکم ہے جب تک حضور پر ایمان نہ لائیں توریت و انجیل کی اقامت کا دعوٰی صحیح نہیں ہو سکتا ۔(ف177)کیونکہ جتنا قرآنِ پاک نازل ہوتا جائے گا یہ مکابرہ و عناد سے اس کے انکار میں اور شدّت کرتے جائیں گے ۔
بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں (ف۱۷۸) اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے کام کرے تو ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا (ف۱۷۹) اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی (ف۱۸۰) ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں (ف۱۸۱)
(ف179)توریت میں کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور حکمِ الٰہی کے مطابق عمل کریں ۔(ف180)اور انہوں نے انبیاء علیہم السلام کے احکام کو اپنی خواہشوں کے خلاف پایا تو ان میں سے ۔(ف181)انبیاء علیہم السلام کی تکذیب میں تو یہود و نصارٰی سب شریک ہیں مگر قتل کرنا یہ خاص یہود کا کام ہے ، انہوں نے بہت سے انبیاء کو شہید کیا جن میں سے حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی علیہما السلام بھی ہیں ۔
اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی (ف۱۸۲) تو اندھے اور بہرے ہوگئے (ف۱۸۳) پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی (۱۸٤) پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
(ف182)اور ایسے شدید جُرموں پر بھی عذاب نہ کیا جائے گا ۔(ف183)حق کے دیکھنے اور سننے سے یہ ان کے غایتِ جہل اور نہایتِ کُفر اور قبولِ حق سے بدرجہ غایت اعراض کرنے کا بیان ہے ۔(ف184)جب انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد توبہ کی اس کے بعد دوبارہ ۔
بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے (ف۱۸۵) اور مسیح نے تو یہ کہا تھا، اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب (ف۱۸٦) اور تمہارا رب، بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
(ف185)نصارٰی کے بہت فرقے ہیں ، ان میں سے یعقوبیہ اور ملکانیہ کا یہ قول تھا وہ کہتے تھے کہ مریم نے اِلٰہ جنا اور یہ بھی کہتے تھے کہ اِلٰہ نے ذاتِ عیسٰی میں حُلول کیا اور وہ ان کے ساتھ مُتحِّد ہو گیا تو عیسٰی اِلٰہ ہو گئے تَعَالٰی اللّٰہُ عَنْ ذٰالِکَ عُلُوًّ ا کَبِیْرًا (خازن)(ف186)اور میں اس کا بندہ ہوں اِلٰہ نہیں ۔
بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے (ف۱۸۷) اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا (ف۱۸۸) اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے (ف۱۸۹) تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
(ف187)یہ قول نصارٰی کے فرقہ مرقوسیہ و نسطوریہ کا ہے ۔ اکثر مفسِّرین کا قول ہے کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ اور مریم اور عیسٰی تینوں اِلٰہ ہیں اور اِلٰہ ہونا ان سب میں مشترک ہے ۔ متکلِّمین فرماتے ہیں کہ نصارٰی کہتے ہیں کہ باپ ، بیٹا ، روح القدس یہ تینوں ایک اِلٰہ ہیں ۔(ف188)نہ اس کا کوئی ثانی نہ ثالث ، وہ وحدانیت کے ساتھ موصوف ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں باپ ، بیٹے ، بیوی سب سے پاک ۔(ف189)اور تثلیث کے معتقِد ر ہے توحید اختیار نہ کی ۔
مسیح بن مریم نہیں مگر ایک رسول (ف۱۹۰) اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے (ف۱۹۱) اور اس کی ماں صدیقہ ہے (ف۱۹۲) دونوں کھانا کھاتے تھے (ف۱۹۳) دیکھو تو ہم کیسی صاف نشانیاں ان کے لئے بیان کرتے ہیں پھر دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں،
(ف190)ان کو اِلٰہ ماننا غلط باطل اور کُفر ہے ۔(ف191)وہ بھی معجزات رکھتے تھے یہ معجزات ان کے صدقِ نبوّت کی دلیل تھے ، اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی رسول ہیں ، ان کے معجزات بھی دلیلِ نبوّت ہیں ، انہیں رسول ہی ماننا چاہئے جیسے اور انبیاء علیہم السلام کو معجزات کی بنا پر خدا نہیں مانتے ان کو بھی خدا نہ مانو ۔(ف192)جو اپنے ربّ کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہیں ۔(ف193)اس میں نصارٰی کا رد ہے کہ اِلٰہ غذا کا محتاج نہیں ہو سکتا تو جو غذا کھائے ، جسم رکھے ، اس جسم میں تحلیل واقع ہو ، غذا اس کا بدل بنے ، وہ کیسے اِلٰہ ہو سکتا ہے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا (ف۱۹٤) اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے،
(ف194)یہ اِبطالِ شرک کی ایک اور دلیل ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اِلٰہ (مستحقِ عبادت) وہی ہو سکتا ہے جو نفع و ضرر وغیرہ ہر چیز پر ذاتی قدرت و اختیار رکھتا ہو ، جو ایسا نہ ہو وہ اِلٰہ مستحقِ عبادت نہیں ہو سکتا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نفع و ضرر کے بالذات مالک نہ تھے ، اللہ تعالٰی کے مالک کرنے سے مالک ہوئے تو ان کی نسبت اُلُوہیت کا اعتقاد باطل ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود)
تم فرماؤ اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو (ف۱۹۵) اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو (ف۱۹٦) جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے بہک گئے
(ف195)یہود کی زیادتی تو یہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوّت ہی نہیں مانتے اور نصارٰی کی زیادتی یہ کہ انہیں معبود ٹھہراتے ہیں ۔(ف196)یعنی اپنے بددین باپ دادا وغیرہ کی ۔
لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر (ف۱۹۷) یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا،
(ف197)باشندگانِ اِیلہ نے جب حد سے تجاوز کیا اور سنیچر کے روز شکار ترک کرنے کا جو حکم تھا اس کی مخالفت کی تو حضرت داؤد علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کے حق میں بددعا فرمائی تو وہ بندروں اورخنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے اور اصحابِ مائدہ نے جب نازل شدہ خوان کی نعمتیں کھانے کے بعد کُفرکیا تو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ان کے حق میں بددعا کی تو وہ خنزیر اور بندر ہو گئے اور ان کی تعداد پانچ ہزار تھی ۔ (جمل وغیرہ) بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہود اپنے آباء پر فخر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے ہم انبیاء کی اولاد ہیں ۔ اس آیت میں انہیں بتایا گیا کہ ان انبیاء علیہم السلام نے ان پر لعنت کی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسٰی علیہما السلام نے ان پر لعنت کی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسٰی علیہما السلام نے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ افروزی کی بشارت دی اور حضور پر ایمان نہ لانے اور کُفر کرنے والوں پر لعنت کی ۔(ف198)لعنت ۔
جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے (ف۱۹۹)
(ف199)مسئلہ : آیت سے ثابت ہوا کہ نہی منکَر یعنی بُرائی سے لوگوں کو روکنا واجب ہے اور بدی کو منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے عُلَماء نے اوّل تو انہیں منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو پھر وہ عُلَماء بھی ان سے مل گئے اور کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے ، ان کے اس عِصیَان و تَعَدّی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و حضرت عیسٰی علیہما السلام کی زبان سے ان پر لعنت اُتاری ۔
ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے (ف۲۰۰)
(ف200)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کُفّار سے دوستی و موالات حرام اور اللہ تعالٰی کے غضب کا سبب ہے ۔
ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں (ف۲۰۳) یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے ۔ (ف۲۰٤)
(ف203)اس آیت میں ان کی مدح ہے جو زمانۂ اقدس تک حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین پر رہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت معلوم ہونے پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لے آئے ۔شانِ نُزول : ابتدائے اسلام میں جب کُفّارِ قریش نے مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیں تو اصحابِ کرام میں سے گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حضور کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی ، ان مہاجرین کے اسماء یہ(۱) حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ طاہرہ (۲) حضرت رقیہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور (۳) حضرت زبیر (۴) حضرت عبداللہ بن مسعود (۵) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (۶) حضرت ابوحذیفہ اور ان کی زوجہ (۷) حضرت سہلہ بنتِ سہیل اور (۸) حضرت مصعب بن عمیر (۹) حضرت ابو سلمہ اور ان کی بی بی(۱۰) حضرت اُمِّ سلمہ بنتِ اُمیّہ (۱۱) حضرت عثما ن بن مظعون (۱۲) حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بی بی (۱۳) حضرت لیلٰی بنتِ ابی خثیمہ (۱۴) حضرت حاطب بن عمرو (۱۵) حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم یہ حضرات نبوّت کے پانچویں سال ماہِ رجب میں بحری سفر کر کے حبشہ پہنچے ، اس ہجرت کو ہجرتِ اُولٰی کہتے ہیں ، ان کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب گئے پھر اور مسلمان روانہ ہوتے رہے یہاں تک کہ بچّوں اور عورتوں کے علاوہ مہاجرین کی تعداد بیاسی مَردوں تک پہنچ گئی ، جب قریش کو اس ہجرت کا علم ہوا تو انہوں نے ایک جماعت تحفہ تحائف لے کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیجی ، ان لوگوں نے دربارِ شاہی میں باریابی حاصل کر کے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے مُلک میں ایک شخص نے نبوّت کا دعوٰی کیا ہے اور لوگوں کو نادان بنا ڈالا ہے ان کی جماعت جو آپ کے مُلک میں آئی ہے وہ یہاں فساد انگیزی کرے گی اور آپ کی رعایا کو باغی بنائے گی ، ہم آپ کو خبر دینے کے لئے آئے ہیں اور ہماری قوم درخواست کرتی ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالہ کیجئے ، نجاشی بادشاہ نے کہا ہم ان لوگوں سے گفتگو کر لیں ، یہ کہہ کر مسلمانوں کو طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ کے حق میں کیا اعتقاد رکھتے ہو ؟ حضرت جعفر بن ابی طالب نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور کلمۃُ اللہ و روحُ اللہ ہیں اور حضرت مریم کنواری پاک ہیں ، یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی کا ٹکڑا اُّٹھا کر کہا خدا کی قَسم تمہارے آقا نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کلام میں اتنا بھی نہیں بڑھایا جتنی یہ لکڑی یعنی حضور کا ارشادِ کلام عیسٰی علیہ السلام کے بالکل مطابق ہے ۔ یہ دیکھ کر مشرکینِ مکّہ کے چہرے اُتر گئے پھر نجاشی نے قرآن شریف سننے کی خواہش کی ، حضرت جعفر نے سورۂ مریم تلاوت کی اس وقت دربار میں نصرانی عالِم اور درویش موجود تھے قرآنِ کریم سُن کر بے اختیار رونے لگے اور نجاشی نے مسلمانوں سے کہا تمہارے لئے میری قلمرو میں کوئی خطرہ نہیں ۔ مشرکینِ مکّہ ناکام پھرے اور مسلمان نجاشی کے پاس بہت عزّت و آسائش کے ساتھ رہے اور فضلِ الٰہی سے نجاشی کو دولتِ ایمان کا شرف حاصل ہوا ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف204)مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ علم اور ترکِ تکبُّر بہت کام آنے والی چیزیں ہیں اور اُن کی بدولت ہدایت نصیب ہوتی ہے ۔
اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا (ف۲۰۵) تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں (ف۲۰٦) اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے ، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے (ف۲۰۷) تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے (ف۲۰۸)
(ف205)یعنی قرآن شریف ۔(ف206)یہ ان کی رقّتِ قلب کا بیان ہے کہ قرآنِ کریم کے دل میں اثر کرنے والے مضامین سن کر رو پڑتے ہیں چنانچہ نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر نے اس کے دربار میں سورۂ مریم اور سورۂ طٰہٰ کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے عُلَماء موجود تھے سب زار و قطار رونے لگے ، اسی طرح نجاشی کی قوم کے ستّر آدمی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے حضورسے سورۂ یٰسٓۤ سُن کر بہت روئے ۔(ف207)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ہم نے ان کے برحق ہونے کی شہادت دی ۔(ف208)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں داخل کر جو روزِ قیامت تمام اُمّتوں کے گواہ ہوں گے ۔ (یہ انہیں انجیل سے معلوم ہو چکا تھا)
اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے (ف۲۰۹)
(ف209)جب حبشہ کا وفد اسلام سے مشرف ہو کر واپس ہوا تو یہود نے انہیں اس پر ملامت کی ، اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ جب حق واضح ہو گیا تو ہم کیوں ایمان نہ لاتے یعنی ایسی حالت میں ایمان نہ لانا قابلِ ملامت ہے ، نہ کہ ایمان لانا کیونکہ یہ سبب ہے فلاحِ دارَین کا ۔
اے ایمان والو! (ف۲۱۱) حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں (ف۲۱۲) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں،
(ف211)شانِ نُزول : صحابہ کرام کی ایک جماعت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون کے یہاں جمع ہوئی اور انہوں نے باہم ترکِ دنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے ، ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے ، شب عبادتِ الٰہی میں بیدار رہ کر گزارا کریں گے ، بستر پر نہ لیٹیں گے ،گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے ، عورتوں سے جُدا رہیں گے ، خوشبو نہ لگائیں گے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا ۔(ف212)یعنی جس طرح حرام کو ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک نہ کرو اور نہ مبالغۃً کسی حلال چیز کو یہ کہو کہ ہم نے اس کو اپنےاوپر حرام کر لیا ۔
اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (ف۲۱۳) ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتے ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا (ف۲۱٤) تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا (ف۲۱۵) اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے (ف۲۱٦) یا انہیں کپڑے دینا (ف۲۱۷) یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے (ف۲۱۸) یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا، جب قسم کھاؤ (ف۲۱۹) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (ف۲۲۰) اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو،
(ف213)غلط فہمی کی قَسم یعنی یمینِ لَغویہ ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قَسم کھا لے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قَسم پر کَفّارہ نہیں ۔(ف214)یعنی یمینِ منعقدہ پر جو کسی آئندہ امر پر قصد کر کے کھائی جائے ایسی قَسم توڑنا گناہ بھی ہے اور اس پر کَفّارہ بھی لازم ہے ۔(ف215)دونوں وقت کا خواہ انہیں کِھلاوے یا پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جَو صدقۂ فطر کی طرح دے دے ۔(۱) مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ ایک مسکین کو دس روز دے دے یا کِھلا دیا کرے ۔(۱) اسّی روپے بھر کے سیر کے حساب سے فی مسکین کھانے کا وزن پونے دو سیر چار بھر ، یہ اصل وزن ہے مگر احتیاطی حکم یہ ہے کہ اتنے وزن کا جَو جس پیمانے میں سمائے اس پیمانے سے گندم دیا جائے جس کا وزن دو سیر تین چھٹانک اٹھنی بھر ہوتا ہے اور نئے حساب سے دو کلو پینتالیس گرام یہ نصف صاع کا احتیاطی وزن ہے ، تفصیل فتاوٰی رضویہ و بہارِ شریعت میں دیکھیں ، ۱۲ محمد عبد المبین نعمانی قادری ۔(ف216)یعنی نہ بہت اعلٰی درجہ کا نہ بالکل ادنٰی بلکہ متوسط ۔(ف217)اوسط درجہ کے جن سے اکثر بدن ڈھک سکے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی ا للہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک تہبند اور کُرتا یا ایک تہبند اور ایک چادر ہو ۔مسئلہ : کَفّارہ میں ان تینوں باتوں کا اختیار ہے خواہ کھانا دے ، خواہ کپڑے ، خواہ غلام آزاد کرے ہر ایک سے کَفّارہ ادا ہو جائے گا ۔(ف218)مسئلہ : روزہ سے کَفّارہ جب ہی ادا ہو سکتا ہے جب کہ کھانا ، کپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو ۔ مسئلہ : یہ بھی ضروری ہے کہ یہ روزے متواتر رکھے جائیں ۔(ف219)اور قَسم کھا کر توڑ دو یعنی اس کو پورا نہ کرو ۔ مسئلہ : قسم توڑنے سے پہلے کَفّارہ دینا درست نہیں ۔(ف220)یعنی انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی ہرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قَسم کھانے کی عادت ترک کی جائے ۔
شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے (ف۲۲۱) تو کیا تم باز آئے،
(ف221)اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ (ف۲۲۲) تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے (ف۲۲۳)
(ف222)اطاعتِ خدا اور رسول سے ۔(ف223)یہ وعید و تہدید ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمِ الٰہی صاف صاف پہنچا دیا تو ان کا جو فرض تھا اداہو چکا اب جو اعراض کرے وہ مستحقِ عذاب ہے ۔
جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں (ف۲۲٤) جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۲۲۵)
(ف224)شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے قبل وفات پا چکے تھے ۔ حرمتِ شراب کا حکم نازل ہونے کے بعد صحابۂ کرام کو ان کی فکر ہوئی کہ ان سے اس کا مؤاخذہ ہو گا یا نہ ہو گا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں ۔(ف225)آیت میں لفظِ اِتَّقُوْا جس کے معنٰی ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں تین مرتبہ آیا ہے پہلے سے شرک سے ڈرنا اور پرہیز کرنا ، دوسرے سے شراب اور جوئے سے بچنا ، تیسرے سے تمام محرَّمات سے پرہیز کرنا مراد ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ پہلے سے ترکِ شرک ، دوسرے سے ترکِ معاصی و محرَّمات ، تیسرے سے ترکِ شبہات مراد ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ پہلے سے تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اس پر قائم رہنا اور تیسرے سے زمانۂ نُزولِ وحی میں یا اس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں ان کو چھوڑ دینا مراد ہے ۔ (مدارک و خازن و جمل وغیرہ)
اے ایمان والوں ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارا ہاتھ اور نیزے پہنچیں (ف۲۲٦) کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے (ف۲۲۷) اس کے لئے دردناک عذاب ہے،
(ف226)۶ ہجری جس میں حُدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ، اس سال مسلمان مُحْرِم (احرام پوش) تھے اس حالت میں وہ اس آزمائش میں ڈالے گئے کہ وُحوش و طیور بکثرت آئے اور ان کی سواریوں پر چھا گئے ، ہاتھ سے پکڑنا ، ہتھیار سے شکار کر لینا بالکل اختیا رمیں تھا ، اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آزمائش میں وہ بفضلِ الٰہی فرمانبردار ثابت ہوئے اور حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ثابت قدم رہے ۔ (خازن وغیرہ)(ف227)اور بعد ابتلاء کے نافرمانی کرے ۔
اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو (ف۲۲۸) اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے (ف۲۲۹) تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے (ف۲۳۰) تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں (ف۲۳۱) یہ قربانی ہو کہ کعبہ کو پہنچتی (ف۲۳۲) یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا (ف۲۳۳) یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا (ف۲۳٤) اور جو اب کرے گا اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
(ف228)مسئلہ : مُحۡرِم پر شکار یعنی خشکی کے کسی وحشی جانور کو مارنا حرام ہے ۔مسئلہ : جانور کی طرف شکار کرنے کے لئے اشارہ کرنا یا کسی طرح بتانا بھی شکار میں داخل اور ممنوع ہے ۔ مسئلہ : حالتِ احرام میں ہر وحشی جانور کا شکار ممنوع ہے خواہ وہ حلال ہو یا نہ ہو ۔مسئلہ : کاٹنے والا کتّا اور کوّا اور بچھو اور چیل اور چوہا اور بھیڑیا اور سانپ ان جانوروں کو احادیث میں فواسق فرمایا گیا اور ان کے قتل کے اجازت دی گئی ۔ مسئلہ : مچّھر ، پسّو ، چیونٹی ، مکھی اور حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا معاف ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)(ف229)مسئلہ : حالتِ احرام میں جن جانوروں کا مارنا ممنوع ہے وہ ہر حال میں ممنوع ہے عمداً ہو یا خطاءً ، عمداً کا حکم تو اس آیت سے معلوم ہوا اور خطاءً کا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ (مدارک) (ف230)ویسا ہی جانور دینے سے مراد یہ ہے کہ قیمت میں مارے ہوئے جانور کے برابر ہو حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کا یہی قول ہے اور امام محمّد و شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک خلقت و صورت میں مارے ہوئے جانور کی مثل ہونا مراد ہے ۔ (مدارک و احمدی)(ف231)یعنی قیمت کا اندازہ کریں اور قیمت وہاں کی معتبر ہو گی جہاں شکار مارا گیا ہو یا اس کے قریب کے مقام کی ۔(ف232)یعنی کَفّارہ کے جانور کا حرمِ مکّہ شریف کے باہر ذبح کرنا درست نہیں مکّہ مکرّمہ میں ہونا چاہئے اور عین کعبہ میں بھی ذبح جائز نہیں ، اسی لئے کعبہ کو پہنچتی فرمایا ، کعبہ کے اندر نہ فرمایا اور کَفّارہ کھانے یا روزہ سے ادا کیا جائے تو اس کے لئے مکّہ مکرّمہ میں ہونے کی قید نہیں باہر بھی جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)(ف233)مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ شکار کی قیمت کا غلّہ خرید کر مساکین کو اس طرح دے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کے برابر پہنچے اور یہ بھی جائز ہے کہ ا س قیمت میں جتنے مسکینوں کے ایسے حصّے ہوتے تھے اتنے روزے رکھے ۔(ف234)یعنی اس حکم سے قبل جو شکار مارے ۔
حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکار (ف۲۳۵) جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے،
(ف235)اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ مُحۡرِم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ، دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریا میں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو ۔
اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا (ف۲۳٦) اور حرمت والے مہینہ (ف۲۳۷) اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو (ف۲۳۸) یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف236)کہ وہاں دینی و دنیوی امور کا قیام ہوتا ہے ، خائف وہاں پناہ لیتا ہے ، ضعیفوں کو وہاں امن ملتی ہے ، تاجر وہاں نفع پاتے ہیں ، حج و عمرہ کرنے والے وہاں حاضر ہو کر مناسک ادا کرتے ہیں ۔(ف237)یعنی ذی الحجّہ کو جس میں حج کیا جاتا ہے ۔(ف238)کہ ان میں ثواب زیادہ ہے ، ان سب کو تمہارے مصالِح کے قیام کا سبب بنایا ۔
جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۳۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان،
(ف239)تو حرم و احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو ۔ اللہ تعالٰی نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت شدیدُ العقاب ذکر فرمائی تاکہ خوف و رجاء سے تکمیلِ ایمان ہو ، اس کے بعد صفتِ غفور و رحیم بیان فرما کر اپنی وسعت و رحمت کا اظہار فرمایا ۔
رسول پر نہیں مگر حکم پہنچانا (ف۲٤۰) اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو (ف۲٤۱)
(ف240)تو جب رسول حکم پہنچا کر فارغ ہو گئے تو تم پر طاعت لازم اور حجّت قائم ہو گئی اور جائے عذر باقی نہ رہی ۔(ف241)اس کو تمہارے ظاہر و باطن نفاق و اخلاص سب کا علم ہے ۔
اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں (ف۲٤۳) اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی، اللہ انہیں معاف کرچکا ہے (ف۲٤٤) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
(ف243)شانِ نُزول : بعض لوگ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے بے فائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ خاطرِ مبارک پر گراں ہوتا تھا ، ایک روز فرمایا کہ جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کا جواب دوں گا ، ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا انجام کیا ہے ؟ فرمایا جہنّم ، دوسرے نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتا دیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے باوجود یکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ شخص بیٹا کہلاتا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں ۔ (تفسیرِ احمدی) بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ، عبداللہ بن حُذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ پھر فرمایا اور پوچھو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے اٹھ کر اقرارِ ایمان و رسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ۔ ابنِ شہاب کی روایت ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیّت کی عورتوں کا کیا حال تھا ، خدا نخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ، اس پر عبداللہ بن حُذافہ نے کہا کہ اگر حضور کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ لوگ بطریقِ اِستِہزاء اس قِسم کے سوا ل کیا کرتے تھے ، کوئی کہتا میرا باپ کون ہے ، کوئی پوچھتا میری اونٹنی گم ہو گئی ہے وہ کہاں ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا ، اس پر ایک شخص نے کہا کیا ہر سال فرض ہے ؟ حضرت نے سکوت فرمایا ، سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا اور تم نہ کر سکتے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ احکام حضور کو مُفوَّض ہیں ، جو فرض فرما دیں وہ فرض ہو جائے نہ فرمائیں نہ ہو ۔(ف244)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس امر کی شرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا ، حرام وہ ہے جس کو اس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف تو کُلفت میں نہ پڑو ۔ (خازن)
اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی (ف۲٤٦) ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں (ف۲٤۷) اور ان میں اکثر نرے بےعقل ہیں (ف۲٤۸)
(ف246)زمانۂ جاہلیت میں کُفّار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچّے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نَر ہوتا اس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس کو ذبح کرتے ، نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے اور جب سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہو جاؤں تو میری اونٹنی سائبہ (بجار) ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچّے جن چُکتی تو اگر ساتواں بچّہ نَر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادّہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نَر مادّہ دونوں ہوتے اور کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے مل گئی اس کو وصیلہ کہتے اور جب نَر اُونٹ سے دس گیابھ حاصل ہو جاتے تو اس کو چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس سے کام لیتے ، نہ اس کو چارے پانی پر سے روکتے اس کو حامِی کہتے ۔ (مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ بحیرہ وہ ہے جس کا دودھ بُتوں کے لئے روکتے تھے کوئی اس جانور کا دودھ نہ دوہتا اور سائبہ وہ جس کو اپنے بُتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے کوئی ان سے کام نہ لیتا ، یہ رسمیں زمانۂ جاہلیّت سے ابتدائے عہدِ اسلام تک چلی آ رہی تھیں ۔ اس آیت میں ان کو باطل کیا گیا ۔(ف247)کیونکہ اللہ تعالٰے نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا ، اس کی طرف اس کی نسبت غلط ہے ۔(ف248)جو اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں ، اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کر سکتا ۔
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف (ف۲٤۹) کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں (ف۲۵۰)
(ف249)یعنی حکمِ خدا اور رسول کا اِتّباع کرو اور سمجھ لو کہ یہ چیزیں حرام نہیں ۔(ف250)یعنی باپ دادا کا اِتّباع جب درست ہو تا کہ وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے ۔
اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو (ف۲۵۱) تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے،
(ف251)مسلمان کُفّار کی محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کُفّار عناد میں مبتلا ہو کر دولتِ اسلام سے محروم رہے ، اللہ تعالٰے نے ان کی تسلّی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، امر بالمعروف نہی عن المنکَر کا فرض ادا کر کے تم بری الذِّمہ ہو چکے ، تم اپنی نیکی کی جزا پاؤ گے ۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنٰی یہ ہیں ایک دوسرے کی خبر گیری کرے ، نیکیوں کی رغبت دلائے ، بدیوں سے روکے ۔ (خازن)
اے ایمان والوں (ف۲۵۲) تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے (ف۲۵۳) وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، ان دونوں کو نماز کے بعد روکو (ف۲۵٤) وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے (ف۲۵۵) ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے (ف۲۵٦) اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں،
(ف252)شانِ نُزول : مُہاجرین میں سے بدیل جو حضرت عمرو بن العاص کے مَوالی میں سے تھے بقصدِ تجارت مُلکِ شام کی طرف دو نصرانیوں کے ساتھ روانہ ہوئے ، ان میں سے ایک کا نام تمیم بن اوس داری تھا اور دوسرے کا عدی بن بداء ، شام پہنچتے ہی بدیل بیمار ہو گئے اور انہوں نے اپنے تمام سامان کی ایک فہرست لکھ کر سامان میں ڈال دی اور ہمراہیوں کو اس کی اطلاع نہ دی ، جب مرض کی شدّت ہوئی تو بدیل نے تمیم و عدی دونوں کو وصیّت کی کہ ان کا تمام سرمایہ مدینہ شریف پہنچ کر ان کے اہل کو دے دیں اور بدیل کی وفات ہو گئی ، ان دونوں نے ان کی موت کے بعد ان کا سامان دیکھا ، اس میں ایک چاندی کا جام تھا جس پر سونے کا کام بنا تھا اس میں تین سو مثقال چاندی تھی ، بدیل یہ جام بادشاہ کو نذر کرنے کے قصد سے لائے تھے ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں ساتھیوں نے اس جام کو غائب کر دیا اور اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ لوگ مدینہ طیّبہ پہنچے تو انہوں نے بدیل کا سامان ان کے گھر والوں کے سپرد کر دیا ، سامان کھولنے پر فہرست ان کے ہاتھ آ گئی جس میں تمام متاع کی تفصیل تھی ، سامان کو اس کے مطابق کیا تو جام نہ پایا اب وہ تمیم اور عدی کے پاس پہنچے اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا بدیل نے کچھ سامان بیچا بھی تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، کہا کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں پھر دریافت کیا بدیل بہت عرصہ بیمار رہے اور انہوں نے اپنے علاج میں کچھ خرچ کیا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، وہ تو شہر پہنچتے ہی بیمار ہو گئے اور جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا ، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ان کے سامان میں ایک فہرست ملی ہے اس میں چاندی کا ایک جام سونے سے مُنقَّش کیا ہوا جس میں تین سو مثقال چاندی ہے ، یہ بھی لکھا ہے تمیم و عدی نے کہا ہمیں نہیں معلوم ، ہمیں تو جو وصیّت کی تھی اس کے مطابق سامان ہم نے تمہیں دے دیا ، جام کی ہمیں خبر بھی نہیں ، یہ مقدمہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پیش ہوا ، تمیم و عدی وہاں بھی انکار پر جمے رہے اور قَسم کھا لی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ پھر وہ جام مکّہ مکرّمہ میں پکڑا گیا ، جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا کہ میں نے یہ جام تمیم و عدی سے خریدا ہے ، مالکِ جام کے اولیاء میں سے دو شخصوں نے کھڑے ہو کر قَسم کھائی کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ احق ہے ، یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے ۔ اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (ترمذی)(ف253)یعنی موت کا وقت قریب آئے ، زندگی کی امید نہ رہے ، موت کے آثار و علامات ظاہر ہوں ۔(ف254)اس نماز سے نمازِ عصر مراد ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اجتماع کا وقت ہوتا ہے ۔ حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نمازِ ظہر یا عصر کیونکہ اہلِ حجاز مقدمات اسی وقت کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھ کر عدی و تمیم کو بلایا ، ان دونوں کو منبر شریف کے پاس قَسمیں دیں ، ان دونوں نے قَسمیں کھائیں ، اس کے بعد مکۂ مکرّمہ میں وہ جام پکڑا گیا تو جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا میں نے تمیم و عدی سے خریدا ہے ۔ (مدارک)(ف255)ان کی امانت و دیانت میں اور وہ یہ کہیں کہ ۔(ف256)یعنی جھوٹی قَسم نہ کھائیں گے اور کسی کی خاطر ایسا نہ کریں گے ۔
پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے (ف۲۵۷) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا (ف۲۵۸) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے (ف۲۵۹) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں،
(ف257)خیانت کے یا جھوٹ وغیرہ کے ۔(ف258)اور وہ میّت کے اہل و اَقارب ہیں ۔(ف259)چنانچہ بدیل کے واقعہ میں جب ان کے دونوں ہمراہیوں کی خیانت ظاہر ہوئی تو بدیل کے ورثاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قَسم کھائی کہ یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے اور ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ ٹھیک ہے ۔
یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد (ف۲٦۰) اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بےحکموں کو راہ نہیں دیتا،
(ف260)حاصل معنٰی یہ ہے کہ اس معاملہ میں جو حکم دیا گیا کہ عدی و تمیم کی قَسموں کے مال برآمد ہونے پر اولیاءِ میّت کی قَسمیں لی گئیں ، یہ اس لئے کہ لوگ اس واقعہ سے سبق لیں اور شہادتوں میں راہِ حق و صواب نہ چھوڑیں اور اس سے خائِف رہیں کہ جھوٹی گواہی کا انجام شرمندگی و رسوائی ہے ۔ فائدہ : مدّعی پر قَسم نہیں لیکن یہاں جب مال پایا گیا تو مدعا علیہا نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے میّت سے خرید لیا تھا ، اب ان کی حیثیت مُدّعی کی ہو گئی اور ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ تھا لہذا ان کے خلاف اولیاۓ میّت کی قَسم لی گئی ۔
جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو (ف۲٦۱) پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا (ف۲٦۲) عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا جاننے والا (ف۲٦۳)
(ف261)یعنی روزِ قیامت ۔(ف262)یعنی جب تم نے اپنی اُمّتوں کو ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ، اس سوال میں منکِرین کی توبیخ ہے ۔(ف263)انبیاء کا یہ جواب ان کے کمالِ ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے حضور اپنے علم کو اصلًا نظرمیں نہ لائیں گے اور قابلِ ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالٰی کے علم و عدل پر تفویض فرما دیں گے ۔
جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر (ف۲٦٤) جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی (ف۲٦۵) تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں (ف۲٦٦) اور پکی عمر ہو کر (ف۲٦۷) اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت (ف۲٦۸) اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی (ف۲٦۹) اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا (ف۲۷۰) اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا (ف۲۷۱) جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ (ف۲۷۲) تو نہیں مگر کھلا جادو،
(ف264)کہ میں نے ان کو پاک کیا اور جہاں کی عورتوں پر ان کو فضیلت دی ۔(ف265)یعنی حضرت جبریل سے کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ ا لسلام کے ساتھ رہتے اور حوادث میں ان کی مدد کرتے ۔(ف266)صِغر سِنی میں اور یہ معجِزہ ہے ۔(ف267)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قیامت سے پہلے نُزول فرمائیں گے کیونکہ کہولت (پختہ عمر) کا وقت آنے سے پہلے آپ اُٹھا لئے گئے ، نُزول کے وقت آپ تینتیس ۳۳ سال کے جوان کی صورت میں جلوہ افروز ہوں گے اور بمِصداق اس آیت کے کلام کریں گے اور جو پالنے میں فرمایا تھا اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ وہی فرمائیں گے ۔ (جمل)(ف268)یعنی اسرارِ علوم ۔(ف269)یہ بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا معجِزہ تھا ۔(ف270)اندھے اور سفید داغ والے کو بینا اور تندرست کرنا اور مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے نکالنا ، یہ سب باذنِ اللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزاتِ جلیلہ ہیں ۔(ف271)یہ ایک اور نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو یہود کے شر سے محفوظ رکھا جنہوں نے حضرت کے معجزاتِ باہرات دیکھ کر آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، اللہ تعالٰی نے آپ کو آسمان پر اُٹھا لیا اور یہود نامراد رہ گئے ۔(ف272)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزات ۔
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے (ف۲۷٦) کہا اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو (ف۲۷۷)
(ف276)معنٰی یہ ہیں کہ کیا اللہ تعالٰی اس باب میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا ۔(ف277)اور تقوٰی اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ تمام اُمّتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ سے ڈرو یا یہ معنٰی ہیں کہ اس کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں تردُّد نہ کرو ، حواری مؤمنِ عارف اور قدرت اِلٰہیہ کے معترف تھے انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ۔
بولے ہم چاہتے ہیں (ف۲۷۸) کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں (ف۲۷۹) اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا (ف۲۸۰) اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں (ف۲۸۱)
(ف278)حصولِ برکت کے لئے ۔(ف279)اور یقینِ قوی ہو اور جیسا کہ ہم نے قدرتِ الہٰی کو دلیل سے جانا ہے مشاہدہ سے بھی اس کو پختہ کر لیں ۔(ف280)بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔(ف281)اپنے بعد والوں کے لئے ۔ حواریوں کے یہ عرض کرنے پر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہو جاؤ گے تو اللہ تعالٰی سے جو دعا کرو گے قبول ہو گی ، انہوں نے روزے رکھ کر خوان اُترنے کی دعا کی ، اس وقت حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے غسل فرمایا اور موٹا لباس پہنا اور دو رکعت نماز ادا کی اور سر مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے ۔
عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو (ف۲۸۲) ہمارے اگلے پچھلوں کی (ف۲۸۳) اور تیری طرف سے نشانی (ف۲۸٤) اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے،
(ف282)یعنی ہم اس کے نُزول کے دن کو عید بنائیں ، اس کی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لائیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکرِ الٰہی بجا لانا طریقۂ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ، اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجا لانا اور اظہارِ فرح اور سرور کرنا مستحَسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔(ف283)جو دیندار ہمارے زمانہ میں ہیں ان کی اور جو ہمارے بعد آئیں ان کی ۔(ف284)تیری قدرت کی اور میری نبوّت کی ۔
اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اتارتا ہوں، پھر اب جو تم میں کفر کرے گا (ف۲۸۵) تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا (ف۲۸٦)
(ف285)یعنی خوان نازل ہونے کے بعد ۔(ف286)چنانچہ آسمان سے خوان نازل ہوا ، اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کُفر کیا وہ صورتیں مسخ کر کے خنزیر بنا دیئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہو گئے ۔
اور جب اللہ فرمائے گا (ف۲۸۷) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا (ف۲۸۸) عرض کرے گا، پاکی ہے تجھے (ف۲۸۹) مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی (ف۲۹۰) اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا (ف۲۹۱)
(ف287)روزِ قیامت عیسائیوں کی توبیخ کے لئے ۔(ف288)اس خِطاب کو سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام کانپ جائیں گے اور ۔(ف289)جملہ نقائص و عیوب سے اور اس سے کہ کوئی تیرا شریک ہو سکے ۔(ف290)یعنی جب کوئی تیرا شریک نہیں ہو سکتا تو میں یہ لوگوں سے کیسے کہہ سکتا تھا ۔(ف291)علم کو اللہ تعالٰی کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کو تفویض کر دینا اور عظمتِ الٰہی کے سامنے اپنی مسکینی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شانِ ادب ہے ۔
میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھارا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا (ف۲۹۲) تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا، اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے (ف۲۹۳)
(ف292) تَوَفَّیۡتَنِیۡ کے لفظ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی موت پر دلیل لانا صحیح نہیں کیونکہ اول تو لفظ تَوَفّٰی موت کے لیے خاص نہیں ، کسی شے کے پورے طور پر لینے کو کہتے ہیں خواہ وہ بغیر موت کے ہو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا اَللہُ یَتَوَفَّی الۡاَ نۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡ تِھَا وَالَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِھَا (رکوع ۲) دوم جب یہ سوال و جواب روزِ قیامت کا ہے تو اگر لفظ (تَوَفّی ) موت کے معنی میں بھی فرض کر لیا جائے جب بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی موت قبلِ نُزول اس سے ثابت نہ ہو سکے گی ۔(ف293)اور میرا ان کا کسی کا حال تجھ سے پوشیدہ نہیں ۔
اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا (ف۲۹٤)
(ف294)حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معلوم ہے کہ قوم میں بعض لوگ کُفر پر مُصِر رہے ۔ بعض شرفِ ایمان سے مشّرف ہوئے ، اس لئے آپ کی بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض ہے کہ ان میں سے جو کُفرپر قائم رہے ان پر تو عذاب فرمائے تو بالکل حق و بجا اور عدل و انصاف ہے کیونکہ انہوں نے حُجّت تمام ہونے کے بعد کُفر اختیار کیا اور جو ایمان لائے انہیں تو بخشے تو تیرا فضل وکرم ہے اور تیرا ہر کام حکمت ہے ۔
اللہ نے فرمایا کہ یہ (ف۲۹۵) ہے وہ دن جس میں سچوں کو (ف۲۹٦) ان کا سچ کام آئے گا، ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ ہے بڑی کامیابی،
(ف295)روزِ قیامت ۔(ف296)جو دنیا میں سچائی پر رہے جیسے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔
اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (ف۲۹۷)
(ف297)صادق کو ثواب دینے پر بھی اور کاذب کو عذاب فرمانے پربھی ۔مسئلہ : قدرت ممکنات سے متعلق ہوتی ہے نہ کہ واجبات و محالات سے تو معنٰی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی ہر امرِ ممکن الوجود پر قادر ہے ۔ (جمل) مسئلہ : کذب وغیرہ عیوب و قبائح اللہ سُبحانہ تبارک و تعالٰی کے لئے محال ہیں ، ان کو تحتِ قدرت بتانا اور اس آیت سے سند لانا غلط و باطل ہے ۔