اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
(ف3)یعنی قرآن شریف جس میں ہدایت و نور کا بیان ہے ۔ زُجاج نے کہا کہ اِتّباع کرو قرآن کا اور اس چیز کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے کیونکہ یہ سب اللہ کا نازِل کیا ہوا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ۔ مَآاٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ الآیہ یعنی جو کچھ رسول تمہارے پاس لائیں اسے اخذ کرو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں (ف٤) تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے (ف۵)
(ف4)اب حکمِ الٰہی کا اِتّباع ترک کرنے اور اس سے اِعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے حالات میں دکھائے جاتے ہیں ۔(ف5)معنٰی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروفِ راحت تھے نہ عذاب کے نُزول کی کوئی نشانی تھی نہ قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے اچانک آ گیا اس سے کُفَّار کو مُتنبِّہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسبابِ امن و راحت پر مغرور نہ ہوں ، عذابِ الٰہی جب آتا ہے تو دَفۡعَۃً آجاتا ہے ۔
تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے (ف۷) اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے (ف۸)
(ف7)کہ انہوں نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی ۔(ف8)کہ انہوں نے اپنی اُمّتوں کو ہمارے پیام پہنچائے اور ان اُمّتوں نے انہیں کیا جواب دیا ۔
اور اس دن تول ضرور ہونی ہے (ف۱۰) تو جن کے پلے بھاری ہوئے (ف۱۱) وہی مراد کو پہنچے،
(ف10)اس طرح کہ اللہ عزّوجلّ ایک میزان قائم فرمائے گا جس کا ہر ایک پلّہ اتنی وُسعت رکھے گا جیسی مشرق و مغرب کے درمیان وُسعت ہے ۔ ابنِ جوزی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت داؤد علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بارگاہِ الٰہی میں میزان دیکھنے کی درخواست کی جب میزان دکھائی گئی اور آپ نے اس کے پلّوں کی وُسعت دیکھی تو عرض کیا یا ربّ کس کا مقدور ہے کہ ان کو نیکیوں سے بھر سکے ارشاد ہوا کہ اے داؤد میں جب اپنے بندوں سے راضی ہوتا ہوں تو ایک کھجور سے اس کو بھر دیتا ہوں یعنی تھوڑی نیکی بھی مقبول ہوجائے تو فضلِ الٰہی سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ میزان کو بھر دے ۔(ف11)نیکیاں زیادہ ہوئیں ۔
اور جن کے پلے ہلکے ہوئے (ف۱۲) تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے (ف۱۳)
(ف12)اور ان میں کوئی نیکی نہ ہوئی یہ کُفّار کا حال ہوگا جو ایمان سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کا کوئی عمل مقبول نہیں ۔(ف13)کہ ان کو چھوڑتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، ان کی اِطاعت سے منہ موڑتے تھے ۔
اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے (ف۱٤) بہت ہی کم شکر کرتے ہو (ف۱۵)
(ف14)اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں دیں باوجود اس کے تم ۔(ف15)شکر کی حقیقت نعمت کا تصور اور اس کا اظہار ہے اور ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چُھپانا ۔
اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،
فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا (ف۱٦) بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا (ف۱۷)
(ف16)مسئلہ : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امر وُجوب کے لئے ہوتا ہے اور سجدہ نہ کرنے کا سبب دریافت فرمانا تَوبیخ کے لئے ہے اور اس لئے کہ شیطان کی مُعانَدت اور اس کاکُفر و کِبر اور اپنی اصل پر مُفتخِر ہونا اور حضرت آدم علیہ السلام کے اصل کی تحقیر کرنا ظاہر ہو جائے ۔(ف17)اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آ گ مِٹی سے افضل و اعلٰی ہے تو جس کی اصل آ گ ہوگی وہ اس سے افضل ہوگا , جس کی اصل مِٹی ہو اور اس خبیث کا یہ خیال غلط وباطل ہے کیونکہ افضل وہ ہے جسے مالک و مولٰی فضیلت دے ، فضیلت کا مدار اصل و جوہر پر نہیں بلکہ مالک کی اِطاعت و فرمانبرداری پر ہے اور آ گ کا مِٹی سے افضل ہونا یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ آ گ میں طیش و تیزی اور تَرَفُّع ہے ۔ یہ سبب اِستِکبار کا ہوتا ہے اور مٹی سے وقار ، حِلۡم و حیا و صبر حاصل ہوتے ہیں ، مِٹی سے مُلک آباد ہوتے ہیں آ گ سے ہلاک ، مِٹی امانت دار ہے جو چیز اس میں رکھی جائے اس کو محفوظ رکھے اور بڑھائے ۔ آ گ فنا کر دیتی ہے باوجود اس کے لطف یہ ہے کہ مِٹی آگ کو بجھا دیتی ہے اور آ گ مِٹی کو فنا نہیں کر سکتی علاوہ بَریں حماقَت و شَقاوَت اِبلیس کی یہ کہ اس نے نَص کے موجود ہوتے ہوئے اس کے مُقابِل قیاس کیا اور جو قیاس کہ نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود ۔
فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل (ف۱۸) تو ہے ذلت والوں میں (ف۱۹)
(ف18)جنّت سے کہ یہ جگہ اطاعت و تواضُع والوں کی ہے منکِر و سرکش کی نہیں ۔(ف19)کہ انسان تیری مَذمَّت کرے گا اور ہر زبان تجھ پر لعنت کرے گی اور یہی تکبّر والے کا انجام ہے ۔
(ف20)اور مُدَّت اس مہلت کی سورۂ حِجر میں بیان فرمائی گئی ۔ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ اور یہ وقت نَفخَۂ اُولٰی کا ہے جب سب لوگ مر جائیں گے , شیطان نے مُردوں کے زندہ ہونے کے وقت تک کی مہلت چاہی تھی اور اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ موت کی سختی سے بچ جائے یہ قبول نہ ہوا اور نَفخَۂ اولٰی تک کی مُہلت دی گئی ۔
پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے (ف۲۲) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا (ف۲۳)
(ف22)یعنی چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہِ راست سے روکوں گا ۔(ف23)چونکہ شیطان بنی آدم کو گمراہ کرنے اور مبتلائے شہوات و قَبائِح کرنے میں اپنی انتہائی سَعی خرچ کرنے کا عَزم کر چکا تھا اس لئے اسے گمان تھا کہ وہ بنی آدم کو بِہکا لے گا ۔ انہیں فریب دے کر خداوندِ عالَم کی نعمتوں کے شکر اور اس کی طاعت و فرمانبرداری سے روک دے گا ۔
فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا (ف۲٤)
(ف24)تجھ کو بھی اور تیری ذُرِّیّت کو بھی اور تیری اطاعت کرنے والے آدمیوں کو بھی ، سب کو جہنّم میں داخل کیا جائے گا ، شیطان کو جنّت سے نکال دینے کے بعد حضرت آدم کو خِطاب فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں (ف۲٦) جو ان سے چھپی تھیں (ف۲۷) اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے (ف ۲۸)
(ف26)یعنی ایسا وسوسہ ڈالا کہ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے بَرہنہ ہو جائیں ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ وہ جسم جس کو عورت کہتے ہیں اس کو چھپانا ضروری اور کھولنا منع ہے اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس کا کھولنا ہمیشہ سے عقل کے نزدیک مذموم اور طبیعتوں کو ناگوار رہا ہے ۔(ف27)اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں صاحبوں نے اب تک ایک دوسرے کا سِتر نہ دیکھا تھا ۔(ف28)کہ جنّت میں رہو اور کبھی نہ مرو ۔
تو اتار لایا انہیں فریب سے (ف۲۹) پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر ان کی شرم کی چیزیں کھل گئیں (ف۳۰) اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے ، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،
(ف29)معنٰی یہ ہیں کہ اِبلیس ملعون نے جھوٹی قسم کھا کر حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دھوکا دیا اور پہلا جھوٹی قسم کھانے والا اِبلیس ہی ہے حضر ت آدم علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ کوئی اللہ کی قسم کھا کر جھوٹ بول سکتا ہے اس لئے آپ نے اس کی بات کا اعتبار کیا ۔(ف30)اور جنّتی لباس جسم سے جدا ہو گئے ۔ اور ان میں ایک دوسرے سے اپنا بدن چُھپا نہ سکا اس وقت تک ا ن صاحبوں میں سے کسی نے خود بھی اپنا سِتر نہ دیکھا تھا اور نہ اس وقت تک انہیں اس کی حاجت پیش آئی تھی ۔
اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو (ف۳۳) اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا (ف۳٤) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
(ف33)یعنی ایک لباس تو وہ ہے جس سے بدن چُھپایا جائے اور سِتر کیا جائے اور ایک لباس وہ ہے جس سے زینت ہو اور یہ بھی غرض صحیح ہے ۔(ف34) پرہیز گاری کا لباس ایمان حیا ، نیک خصلتیں ، نیک عمل ہیں ۔ یہ بے شک لباسِ زینت سے افضل و بہتر ہیں ۔
اے آدم کی اولاد! (ف۳۵) خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے (ف۳٦) بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،
(ف35)شیطان کی کَیّا دی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اس کی عداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتنبِّہ اور ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے اور اِغواء اور اس کی مکّاریوں سے بچتے رہیں جو حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسی فریب کاری کر چکا ہے وہ ان کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا ہے ۔(ف36)اللہ تعالٰی نے جنّوں کو ایسا اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا اِدراک نہیں ملا کہ وہ جنّوں کو دیکھ سکیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے جِسم میں خون کی راہوں میں پیر جاتا ہے ۔ حضرت ذوالنون رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو تم ایسے سے مدد چاہو جو اس کو دیکھتا ہو اور وہ اسے نہ دیکھ سکے یعنی اللہ کریم ستار ، رحیم غفار سے مدد چاہو ۔
اور جب کوئی بےحیائی کریں (ف۳۷) تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا (ف۳۸) تو فرماؤ بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،
(ف37)اور کوئی قبیح فعل یا گناہ ان سے صادر ہو جیسا کہ زمانۂ جاہِلیَّت کے لوگ مرد و عورت ننگے ہو کر کعبۂ مُعظَّمہ کا طواف کرتے تھے ۔ عطاء کا قول ہے کہ بے حیائی شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام مَعاصی و کَبائر اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہو ، جب کُفّار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر ان کی مَذّمت کی گئی تو اس پر انہوں نے جو کہا وہ آگے آتا ہے ۔(ف38)کُفّار نے اپنے افعالِ قبیحہ کے دو عذر بیان کئے ، ایک تویہ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہٰذا ان کی اِتّباع میں یہ بھی کرتے ہیں یہ تو جاہِل بدکار کی تقلید ہوئی اور یہ کسی صاحبِ عقل کے نزدیک جائز نہیں ، تقلیدکی جاتی ہے اہلِ علم و تقوٰی کی نہ کہ جاہِل گمراہ کی ۔ دوسرا عذر ان کا یہ تھا کہ اللہ نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے ، یہ مَحض اِفتراء و بُہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی رد فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہو کر، جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے (ف۳۹)
(ف39)یعنی جیسے اس نے تمہیں نیست سے ہَست کیا ایسے ہی بعدِ موت زندہ فرمائے گا ۔ یہ اُخروی زندگی کا انکار کرنے والوں پر حُجّت ہے اور اس سے یہ بھی مُستفاد ہوتا ہے کہ جب اسی کی طرف پلٹنا ہے اور وہ اعمال کی جزا دے گا تو طاعات و عبادات کو اس کے لئے خالص کرنا ضروری ہے ۔
ایک فرقے کو راہ دکھائی (ف٤۰) اور ایک فرقے کو گمراہی ثابت ہوئی (ف٤۱) انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا (ف٤۲) اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
(ف40)ایمان و معرِفت کی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی ۔(ف41)وہ کُفّار ہیں ۔(ف42)ان کی اِطاعت کی ، ان کے کہے پر چلے ، ان کے حکم سے کُفرو مَعاصی کو اختیار کیا ۔
اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ (ف٤۳) اور کھاؤ اور پیو (ف٤٤) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
(ف43)یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے ۔ مسئلہ : اور سنّت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہَیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں ربّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا عِطر لگانا مُستحَب جیسا کہ سِتر، طہارت واجب ہے ۔شا نِ نُزول : مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمانۂ جاہِلیّت میں دن میں مرد اور عورتیں رات میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ، اس آیت میں سِتر چُھپانے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا اور اس میں دلیل ہے کہ سترِ عورت نماز و طواف اور ہر حال میں واجب ہے ۔(ف44)شانِ نُزول : کَلبی کا قول ہے کہ بنی عامر زمانۂ حج میں اپنی خوراک بہت ہی کم کر دیتے تھے اور گوشت اور چکنائی تو بالکل کھاتے ہی نہ تھے اور اس کو حج کی تعظیم جانتے تھے ، مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہمیں ایسا کرنے کا زیادہ حق ہے ، اس پر یہ نازِل ہوا کہ کھاؤ اور پیو گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اِسراف نہ کرو اور وہ یہ ہے کہ سیر ہو چکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اِسراف ہے کہ جو چیز اللہ تعالٰی نے حرام نہیں کی اس کو حرام کر لو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کھا جو چاہے اور پہن جو چاہے اِسراف اور تکبّر سے بچتا رہ ۔ مسئلہ : آیت میں دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حَلال ہیں سوائے ان کے جن پر شریعت میں دلیلِ حُرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقرَّرہ مسلَّمہ ہے کہ اصل تمام اشیاء میں اِباحت ہے مگر جس پر شارع نے مُمانَعت فرمائی ہو اور اس کی حُرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو ۔
تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی (ف٤۵) اور پاک رزق (ف٤٦) تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہی کی ہے، ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں (ف٤۷) علم والوں کے لیے (ف٤۸)
(ف45)خواہ لباس ہو یا اور سامانِ زینت ۔(ف46)اور کھانے پینے کی لذیذ چیزیں ۔مسئلہ : آیت اپنے عُموم پر ہے ہر کھانے کی چیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حُرمت پر نَص وارد نہ ہوئی ہو (خازن) تو جو لوگ توشۂ گیارہویں ، میلاد شریف ، بزرگوں کی فاتِحۂ عُرس ، مجالسِ شہادت وغیرہ کی شیرینی ، سبیل کے شربت کو ممنوع کہتے ہیں وہ اس آیت کے خلاف کرکے گناہ گار ہوتے ہیں اور اس کو ممنوع کہنا اپنی رائے کو دین میں داخل کرنا ہے اور یہی بِدعت و ضَلالت ہے ۔(ف47)جن سے حلال و حرام کے احکام معلوم ہوں ۔(ف48)جو یہ جانتے ہیں کہ اللہ واحِد لاشریک لہ ہے وہ جو حرام کرے وہی حرام ہے ۔
تم فرماؤ میرے رب نے تو بےحیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف٤۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ (ف۵۰) کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ (ف۵۱) کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،
(ف49)یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ تعالٰی کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے ، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا ، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اللہ تعالٰی بیا ن فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی ، قولی ہوں یا فعلی ۔(ف50)حرام کیا ۔(ف51)حرام کیا ۔
اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں (ف۵۳) میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے (ف۵٤) اور سنورے (ف۵۵) تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم،
(ف53)مفسِّرین کے اس میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ رُسُل سے تمام مُرسَلین مراد ہیں ، دوسرا یہ کہ خاص سیدِ عالَم خاتَم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جو تمام خَلق کی طرف رسول بنائے گئے ہیں اور صیغۂ جَمع تعظیم کے لئے ہے ۔(ف54)ممنوعات سے بچے ۔(ف55)طاعات و عبادات بجا لائے ۔
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں، انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا (ف۵٦) یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (ف۵۷) ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے، کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے (ف۵۸) اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے،
(ف56)یعنی جتنی عمر اور روزی اللہ نے ان کے لئے لکھ دی ہے ان کو پہنچے گی ۔(ف57)مَلکُ المَوت اور ان کے اَعوان ان لوگوں کی عمر یں اور روزیاں پوری ہونے کے بعد ۔(ف58)ان کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ۔
اللہ ان سے (ف۵۹) فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں، انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ (ف٦۰) داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے (ف٦۱) یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے (ف٦۲) اے رب ہمارے! انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے، فرمائے گا سب کو دُونا ہے (ف٦۳) مگر تمہیں خبر نہیں (ف٦٤)
(ف59)ان کافِروں سے روزِ قیامت ۔(ف60)دوزخ میں ۔(ف61)جو اس کے دین پر تھا تو مشرک مشرکوں پر لعنت کریں گے اور یہود یہودیوں پر اور نصارٰی نصارٰی پر ۔(ف62)یعنی پہلوں کی نسبت اللہ تعالٰی سے کہیں گے ۔(ف63)کیونکہ پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور پچھلے بھی ایسے ہی ہیں کہ خود گمراہ ہوئے اور گمراہوں کا ہی اِتّباع کرتے رہے ۔(ف64)کہ تم میں سے ہر فریق کے لئے کیسا عذاب ہے ۔
وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے (ف٦۷) اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ داخل نہ ہو (ف٦۸) اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں (ف٦۹)
(ف67)نہ ان کے اعمال کے لئے نہ ان کی ارواح کے لئے کیونکہ ان کے اعمال و ارواح دونوں خبیث ہیں ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور مؤمنین کی ارواح کے لئے کھولے جاتے ہیں ۔ ابنِ جُرَیْج نے کہا کہ آسمان کے دروازے نہ کافِروں کے اعمال کے لئے کھولے جائیں نہ ارواح کے لئے یعنی نہ زندگی میں ان کا عمل ہی آسمان پر جا سکتا ہے نہ بعدِ موت روح ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کے یہ معنٰی ہیں کہ وہ خیر و برکت اور رحمت کے نُزول سے محروم رہتے ہیں ۔(ف68)اور یہ مَحال ، تو کُفّارکا جنّت میں داخل ہونا مَحال کیونکہ مَحال پر جو موقوف ہو وہ مَحال ہوتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کُفّار کا جنّت سے مَحروم رہنا قطعی ہے ۔(ف69)مُجرِمین سے یہاں کُفّار مراد ہیں کیونکہ اوپر ان کی صفت میں آیاتِ الٰہیّہ کی تکذیب اور ان سے تکبُّر کرنے کا بیان ہو چکا ہے ۔
اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے (ف۷۱) ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے (ف۷۲) سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی (ف۷۳) اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے (ف۷٤) اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی (ف۷۵) صلہ تمہارے اعمال کا،
(ف71)جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتیں صاف کر دی گئیں اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مَحبت و مَودَّت ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوا اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ او زبیر ان میں سے ہوں جن کے حق میں اللہ تعالٰی نے وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ فرمایا ۔ حضرت علی مرتضٰی کے اس ارشاد نے رَفض کی بَیخ و بنیاد کا قَلع قَمع کر دیا ۔(ف72)مؤمنین جنّت میں داخل ہوتے وقت ۔ (ف73)اور ہمیں ایسے عمل کی توفیق دی جس کا یہ اجر و ثواب ہے اور ہم پر فضل و رحمت فرمائی اور اپنے کرم سے عذابِ جہنَّم سے محفوظ کیا ۔(ف74)اور جو انہوں نے ہمیں دنیا میں ثواب کی خبریں دیں وہ سب ہم نے عِیاں دیکھ لیں ، ان کی ہدایت ہمارے لئے کمال لطف و کرم تھا ۔(ف75)مسلم شریف کی حدیث میں ہے جب جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ، ایک نِدا کرنے والا پکارے گا تمہارے لئے زندگانی ہے ، کبھی نہ مرو گے تمہارے لئے تندرستی ہے ، کبھی بیمار نہ ہوگے تمہارے لئے عیش ہے ، کبھی تنگ حال نہ ہوگے ۔ جنّت کو میراث فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ وہ مَحض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ۔
اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا (ف۷٦) تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے (ف۷۷) سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر
(ف76)اور رسولوں نے فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجر و ثواب پاؤ گے ۔(ف77)کُفر و نافرمانی پر عذاب کا ۔
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (ف۷۸) اور اسے کجی چاہتے ہیں (ف۷۹) اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں،
(ف78)اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں ۔(ف79)یعنی یہ چاہتے ہیں کہ دینِ الٰہی کو بدل دیں اور جو طریقہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اس میں تغیّر ڈال دیں ۔ (خازن)
اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے (ف۸۰) اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے (ف۸۱) کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے (ف۸۲) اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ (ف۸۳) جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،
(ف80)جس کو اَعراف کہتے ہیں ۔(ف81)یہ کس طبقہ کے ہوں گے اس میں بہت مختلف اقوال ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں وہ اَعراف پر ٹھہرے رہیں گے جب اہلِ جنّت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور دوزخیوں کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے یاربّ ہمیں ظالِم قوم کے ساتھ نہ کر ، آخر کار جنّت میں داخل کئے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ جِہاد میں شہید ہوئے مگر ان کے والدین ان سے ناراض تھے وہ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ ایسے ہیں کہ ان کے والدین میں سے ایک ان سے راضی ہو ایک ناراض وہ اعراف میں رکھے جائیں گے ۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اَعراف کا مرتبہ اہلِ جنّت سے کم ہے ۔ مجاہد کا قول یہ ہے اَعراف میں صُلَحاء ، فُقَراء ، عُلَماء ہوں گے اور ان کا وہاں قیام اس لئے ہوگا کہ دوسرے ان کے فضل و شرف کو دیکھیں اور ایک قول یہ ہے کہ اَعراف میں اَنبیاء ہوں گے اور وہ اس مکانِ عالی میں تمام اہلِ قیامت پر مُمتاز کئے جائیں گے اور انکی فضیلت اور رتبۂ عالیہ کا اظہار کیا جائے گا تاکہ جنّتی اور دوزخی ان کو دیکھیں اور وہ ان سب کے احوال اور ثواب و عذاب کے مقدار و احوال کا معائنہ کریں ۔ ان قولوں پر اصحابِ اَعراف جنّتیوں میں سے افضل لوگ ہوں گے کیونکہ وہ باقیوں سے مرتبہ میں اعلٰی ہیں ۔ ان تمام اقوال میں کچھ تناقُض نہیں ہے ا س لئے کہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں اور ہر ایک کے ٹھہرانے کی حکمت جُداگانہ ہو ۔(ف82)دونوں فریق سے جنّتی اور دوزخی مراد ہیں ، جنّتیوں کے چہرے سفید اور تر و تازہ ہوں گے اور دوزخیوں کے چہرے سِیاہ اور آنکھیں نیلی ، یہی ان کی علامتیں ہیں ۔(ف83)اَعراف والے ابھی تک ۔
کیا یہ ہیں وہ لوگ (ف۸۷) جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا (ف۸۸) ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم،
(ف87)جن کو تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور ۔(ف88)اب دیکھ لو کہ جنّت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزّت و احترام کے ساتھ ہیں ۔
اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا (ف۸۹) کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے
(ف89)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اَعراف والے جنّت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی طمع دامن گیر ہوگی اور وہ عرض کریں گے یاربّ جنّت میں ہمارے رشتہ دار ہیں ، اجازت فرما کہ ہم انہیں دیکھیں ان سے بات کریں ، اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو جنّت کی نعمتوں میں دیکھیں گے اور پہچانیں گے لیکن اہلِ جنّت ان دوزخی رشتہ داروں کو نہ پہچانیں گے کیونکہ دوزخیوں کے منہ کالے ہوں گے صورتیں بگڑ گئی ہوں گی تو و ہ جنّتیوں کو نام لے لے کر پکاریں گے ۔ کوئی اپنے باپ کو پکارے گا کوئی بھائی کو اورکہے گا میں جل گیا مجھ پر پانی ڈالو اور تمہیں اللہ نے دیا ہے کھانے کو دو ، اس پر اہلِ جنّت ۔
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا (ف۹۰) اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا (ف۹۱) تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،
(ف90)کہ حلال و حرام میں اپنی ہَوائے نفس کے تابع ہوئے جب ایمان کی طرف انہیں دعوت دی گئی مَسخَرگی کرنے لگے ۔(ف91)اس کی لذّتوں میں آخرت کو بھول گئے ۔
کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا (ف۹۳) بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے (ف۹٤) کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں (ف۹۵) بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے (ف۹٦)
(ف93)اور وہ روزِ قیامت ہے ۔(ف94)نہ اس پر ایمان لاتے تھے نہ اس کے مطابق عمل کرتے تھے ۔(ف95)یعنی بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت اور نافرمانی کے طاعت اور فرمانبرداری اختیار کریں مگر نہ انہیں شَفاعت مُیسّر آئے گی نہ دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے ۔(ف96)اور جھوٹ بکتے تھے کہ بُت خدا کے شریک ہیں اور اپنے پُجاریوں کی شَفاعت کریں گے ، اب آخرت میں انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کے یہ دعوے جھوٹے تھے ۔
بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین (ف۹۷) چھ دن میں بنائے (ف۹۸) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (ف۹۹) رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے، سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
(ف97)مع ان تمام چیزوں کے جو ان کے درمیان ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا ۔ وَلَقَدْخَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ۔ (ف98)چھ دن سے دنیا کے چھ دنوں کی مقدار مراد ہے کیونکہ یہ دن تو اس وقت تھے نہیں ، آفتاب ہی نہ تھا جس سے دن ہوتا اور اللہ تعالٰی قادر تھا کہ ایک لمحہ میں یا اس سے کم میں پیدا فرماتا لیکن اتنے عرصہ میں ان کی پیدائش فرمانا بہ تقاضائے حکمت ہے اور اس سے بندوں کو اپنے کاموں میں تدریج اختیار کرنے کا سبق ملتا ہے ۔(ف99)یہ اِستِواء مُتَشابِہات میں سے ہے ۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ کی اس سے جو مراد ہے حق ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اِستِواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب ۔ حضرت مُتَرۡجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا ، یا اس کے معنٰی یہ ہیں کہ آفرِینَش کا خاتِمہ عرش پر جا ٹھہرا ۔ واللہ اعلم باسرار کتابہ
اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں، (ف۱۰۰)
(ف100)دعا اللہ تعالٰی سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ داخلِ عبادت ہے کیونکہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجِز و مُحتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت رَوا اعتِقاد کرتا ہے ۔ اسی لئے حدیث شریف میں وارِد ہوا اَلدُّعَآ ءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ تَضَرُّع سے اظہارِ عِجز و خُشوع مراد ہے اور ادب دعا میں یہ ہے کہ آہستہ ہو ۔ حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ آہستہ دعا کرنا علانیہ دعا کرنے سے ستّر درجہ زیادہ افضل ہے ۔ مسئلہ : اس میں عُلَماء کا اختلاف ہے کہ عبادات میں اظہار افضل ہے یا اِخفاء ، بعض کہتے ہیں کہ اِخفاء افضل ہے کیونکہ وہ رِیا سے بہت دور ہے ، بعض کہتے ہیں کہ اظہار افضل ہے اس لئے کہ اس سے دوسروں کو رغبتِ عبادت پیدا ہوتی ہے ۔ ترمذی نے کہا کہ اگر آدمی اپنے نفس پر رِیا کا اندیشہ رکھتا ہو تو اس کے لئے اِخفاء افضل ہے اور اگر قلب صاف ہو اندیشۂ رِیا نہ ہو تو اظہار افضل ہے ۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ فرض عبادتوں میں اظہار افضل ہے ، نمازِ فرض مسجد ہی میں بہتر ہے اور زکوٰۃ کا اظہار کرکے دینا ہی افضل ہے اور نفل عبادات میں خواہ وہ نماز ہو یا صدَقہ وغیرہ ان میں اِخفاء افضل ہے ۔ دعا میں حد سے بڑھنا کئی طرح ہوتا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت بلند آواز سے چیخے ۔
اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (ف۱۰۳) یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا (ف۱۰٤) پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے (ف۱۰۵) کہیں تم نصیحت مانو،
(ف103)بارش کا اور رحمت سے یہاں مِینہ مراد ہے ۔(ف104)جہاں بارش نہ ہوئی تھی سبزہ نہ جما تھا ۔(ف105)یعنی جس طرح مردہ زمین کو ویرانی کے بعد زندگی عطا فرماتا اور اس کو سرسبز و شاداب فرماتا ہے اور اس میں کھیتی ، درخت ، پھل پھول پیدا کرتا ہے ۔ ایسے ہی مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے گا کیونکہ جو خشک لکڑی سے تر و تازہ پھل پیدا کرنے پر قادر ہے اسے مُردوں کا زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔ قدرت کی یہ نشانی دیکھ لینے کے بعد عاقِل ، سلیمُ الحواس کو مُردوں کے زندہ کئے جانے میں کچھ تردُّد باقی نہیں رہتا ۔
اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے (ف۱۰٦) اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل (ف۱۰۷) ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں (ف۱۰۸) ان کے لیے جو احسان مانیں،
(ف106)یہ مؤمن کی مثال ہے جس طرح عمدہ زمین پانی سے نفع پاتی ہے اور اس میں پھول پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب مؤمن کے دل پر قرآنی انوار کی بارش ہوتی ہے تو وہ اس سے نفع پاتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، طاعات و عبادات سے پھلتا پھولتا ہے ۔(ف107)یہ کافِر کی مثال ہے کہ جیسے خراب زمین بارش سے نفع نہیں پاتی ایسے ہی کافِر قرآن پاک سے مُنتفِع نہیں ہوتا ۔(ف108)جو توحید و ایمان پر حُجّت و بُرہان ہیں ۔
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۱۰۹) تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۱) بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۱۲)
(ف109)حضرت نوح علیہ السلام کے والد کا نام لمک ہے ، وہ متوشلخ کے ، وہ اخنوخ علیہ السلام کے فرزند ہیں ، اخنوخ حضرت اِدریس علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام ہے ۔ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوّت سے سرفراز فرمائے گئے ۔ آیاتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اپنے دلائلِ قُدرت و غَرائبِ صَنعت بیان فرمائے جن سے اس کی توحید و رَبوبیّت ثابت ہوتی ہے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر دلائلِ قاطعہ قائم کئے ، اس کے بعد انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السّلام کا ذکر فرماتا ہے اور ان کے ان معاملات کا جو انہیں اُمّتوں کے ساتھ پیش آئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تسلّی ہے کہ فقط آپ ہی کی قوم نے قبولِ حق سے اِعراض نہیں کیا بلکہ پہلی اُمّتیں بھی اِعراض کرتی رہیں اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا انجام دنیا میں ہلاک اور آخرت میں عذابِ عظیم ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء کی تکذیب کرنے والے غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوتے ہیں ۔ جو شخص سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تکذیب کرے گا اس کا بھی یہی انجام ہوگا ۔ انبیاء کے ان تذکروں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی نبوّت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور اُمّی تھے پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاً بیان فرمانا بالخصوص ایسے مُلک میں جہاں اہلِ کتاب کے عُلَماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالِف بھی تھے ، ذرا سی بات پاتے تو بہت شور مچاتے ، وہاں حضور کا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکِت و حیران رہ جانا صریح دلیل ہے کہ آپ نبیٔ برحق ہیں اور پرودگارِ عالَم نے آپ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔(ف110)وہی مستحقِ عبادت ہے ۔(ف111)تو اس کے سوا کسی کو نہ پوجو ۔(ف112)روزِ قیامت کا یا روزِ طوفان کا اگر تم میری نصیحت قبول نہ کرو اور راہِ راست پر نہ آؤ ۔
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت (ف۱۱۳) کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،
(ف113)جس کو تم خوب جانتے اور اس کے نسب کو پہچانتے ہو ۔
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو (ف۱۱۵) اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا، بیشک وہ اندھا گروہ تھا (ف۱۱٦)
(ف114)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔ (ف115)ان پر ایمان لائے اور ۔(ف116)جسے حق نظر نہ آتا تھا . حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان کے دل اندھے تھے ، نورِ معرِفت سے ان کو بَہرہ نہ تھا ۔
اور عاد کی طرف (ف۱۱۷) ان کی برادری سے ہود کو بھیجا (ف۱۱۸) کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۱۱۹)
(ف117)یہاں عادِ اُولٰی مراد ہے ، یہ حضرت ہُود علیہ السلام کی قوم ہے اور عادِ ثانیہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے اسی کو ثَمُود کہتے ہیں ، ان دونوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے ۔ (جمل) (ف118)ہُود علیہ السلام نے ۔(ف119)اللہ کے عذاب کا ۔
تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں (ف۱۲۱)
(ف121)کُفّار کا حضرت ہُود علیہ السلام کی جناب میں یہ گستاخانہ کلام کہ تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں ، جھوٹا گمان کرتے ہیں ، انتہا درجہ کی بے ادبی اور کمینگی تھی اور وہ مستحق اس بات کے تھے کہ انہیں سخت ترین جواب دیا جاتا مگر آپ نے اپنے اَخلاق و ادب اور شانِ حِلۡم سے جو جواب دیا اس میں شانِ مقابَلہ ہی نہ پیدا ہونے دی اور ان کی جَہالت سے چشم پوشی فرمائی ۔ اس سے دنیا کو سبق ملتا ہے کہ سُفَہاء اور بدخِصَال لوگوں سے اس طرح مُخاطَبہ کرنا چاہئے مع ہٰذا آپ نے اپنی رِسالت اور خیر خواہی و امانت کا ذکر فرمایا ۔ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اہلِ عِلم و کمال کو ضرورت کے موقع پر اپنے منصب و کمال کا اِظہار جائز ہے ۔
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا (ف۱۲۲) اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا (ف۱۲۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۲٤) کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،
(ف122)یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے ۔(ف123)اور بہت زیادہ قوّت وطُولِ قامت عنایت کیا ۔(ف124)اور ایسے مُنۡعِم پر ایمان لاؤ اور طاعات و عبادات بجا لا کر اس کے احسان کی شکر گزاری کرو ۔
بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو (ف۱۲۵) کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو (ف۱۲٦) ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ (ف۱۲۷) جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو،
(ف125)یعنی اپنے عبادت خانہ سے حضرت ہُود علیہ السلام اپنی قوم کی بستی سے علیحدہ ایک تنہائی کے مقام میں عبادت کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس وحی آتی تو قوم کے پاس آ کر سنا دیتے ۔(ف126)بُت ۔(ف127)وہ عذاب ۔
کہا (ف۱۲۸) ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا (ف۱۲۹) کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے (ف۱۳۰) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، تو راستہ دیکھو (ف۱۳۱) میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں،
(ف128)حضرت ہود علیہ السلام نے ۔(ف129)اور تمہاری سرکشی سے تم پر عذاب آنا واجب و لازم ہوگیا ۔(ف130)اور انہیں پوجنے لگے اور معبود ماننے لگے باوجود یکہ ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہے اور اُ لُوہیّت کے معنٰی سے قَطعاً خالی و عاری ہیں ۔(ف131)عذابِ الٰہی کا ۔
تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو (ف۱۳۲) اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی (ف۱۳۳) اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے (ف۱۳٤) تھے ان کی جڑ کاٹ دی (ف۱۳۵) اور وہ ایمان والے نہ تھے ،
(ف132)جو ان کے مُتّبِع تھے اور ان پر ایمان لائے تھے ۔(ف133)اس عذاب سے جو قومِ ہُود پر اترا ۔(ف134)اور حضرت ہُود علیہ السلام کی تکذیب کرتے ۔(ف135)اور اس طرح ہلاک کر دیا کہ ان میں ایک بھی نہ بچا ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ قومِ عاد اَحقاف میں رہتی تھی جو عُمَّان و حَضۡر مُوت کے درمیان عَلاقۂ یمن میں ایک ریگستان ہے ۔ انہوں نے زمین کو فِسق سے بھر دیا تھا اور دنیا کی قوموں کو اپنی جَفا کاریوں سے اپنے زورِ قوّت کے زُعم میں پامال کر ڈالا تھا ۔ یہ لوگ بُت پرست تھے ان کے ایک بُت کا نام صَداء ، ایک کاصَمُود ، ایک کا ہَباء تھا ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں حضرت ہُود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ، آپ نے انہیں توحید کا حکم دیا ، شرک وبُت پرستی اور ظلم و جَفا کاری کی ممانَعت کی ، اس پر وہ لوگ منکِر ہوئے آپ کی تکذیب کرنے لگے اور کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ چند آدمی ان میں سے حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے وہ تھوڑے تھے اور اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے ۔ ان مؤمنین میں سے ایک شخص کا نام مَرثَد ابنِ سعد بن عضیر تھا وہ اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے جب قوم نے سرکشی کی اور اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور زمین میں فساد کیا اور ستم گاریوں میں زیادتی کی اور بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں ۔ معلوم ہوتا تھا کہ انہیں گمان ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ ہی رہیں گے جب ان کی نوبت یہاں تک پہنچی تو اللہ تعالٰی نے بارش روک دی تین سال بارش نہ ہوئی اب وہ بہت مصیبت میں مبتلا ہوئے اور اس زمانہ میں دستور یہ تھا کہ جب کوئی بلا یا مصیبت نازِل ہوتی تھی تو لوگ بیت اللہ الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالٰی سے اس کے دفۡع کی دعا کرتے تھے اسی لئے ان لوگوں نے ایک وفد بیت اللہ کو روانہ کیا، اس وفد میں قیل بن عنزا اور نعیم بن ہزال اور مرثد بن سعد تھے ، یہ وہی صاحب ہیں جو حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے ۔ اس زمانہ میں مکّۂ مکرَّمہ میں عمالیق کی سُکونت تھی اور ان لوگوں کا سردار معاویہ بن بکر تھا اس شخص کا نانِہال قومِ عاد میں تھا اسی علاقہ سے یہ وفد مکۂ مکرَّمہ کے حوالی میں معاویہ بن بکر کے یہاں مقیم ہوا اس نے ان لوگوں کا بہت اِکرام کیا ، نہایت خاطر و مَدارَات کی ، یہ لوگ وہاں شراب پیتے اور باندیوں کا ناچ دیکھتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے عیش و نشاط میں ایک مہینہ بسر کیا ، معاویہ کو خیال آیا کہ یہ لوگ تو راحت میں پڑ گئے اور قوم کی مصیبت کو بھول گئے جو وہاں گرفتارِ بَلا ہے مگر معاویہ بن بکر کو یہ خیال بھی تھا کہ اگر وہ ان لوگوں سے کچھ کہے تو شاید وہ یہ خیال کریں کہ اب اس کو میزبانی گِراں گزرنے لگی ہے اس لئے اس نے گانے والی باندی کو ایسے اشعار دیئے جن میں قومِ عاد کی حاجت کا تذکِرہ تھا جب باندی نے وہ نظم گائی تو ان لوگوں کویاد آیا کہ ہم اس قوم کی مصیبت کی فریاد کرنے کے لئے مکّۂ مکرّمہ بھیجے گئے ہیں ، اب انہیں خیال ہوا کہ حرم شریف میں داخل ہو کر قوم کے لئے پانی برسنے کی دعا کریں اس وقت مرثد بن سعد نے کہا کہ اللہ کی قسم تمہاری دعا سے پانی نہ برسے گا لیکن اگر تم اپنے نبی کی اطاعت کرو اور اللہ تعالٰی سے توبہ کرو تو بارش ہو گی اور اس وقت مرثد نے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا ، ان لوگوں نے مرثدکو چھوڑ دیا اور خود مکّۂ مکرَّمہ جا کر دعا کی ، اللہ تعالٰی نے تین اَبر بھیجے ایک سفید ، ایک سُرخ ، ایک سیاہ اور آسمان سے نِدا ہوئی کہ اے قیل! اپنے اور اپنی قوم کے لئے ان میں سے ایک ابۡر اختیار کر اس نے ابرِ سیاہ کو اختیار کیا بَایں خیال کہ اس سے بہت پانی برسے گا چنانچہ وہ ابر قومِ عاد کی طرف چلا اور وہ لوگ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے مگر اس میں سے ایک ہوا چلی وہ اس شدّت کی تھی کہ اونٹوں اور آدمیوں کو اُ ڑا اُ ڑا کر کہیں سے کہیں لے جاتی تھی ، یہ دیکھ کر وہ لوگ گھروں میں داخل ہوئے اور اپنے دروازے بند کر لئے مگر ہوا کی تیزی سے بچ نہ سکے اس نے دروازے بھی اُکھیڑ دیئے اور ان لوگوں کو ہلاک بھی کر دیا اور قدرتِ الٰہی سے سیاہ پرندے نمودار ہوئے جنہوں نے ان کی لاشوں کو اُٹھا کر سمُندر میں پھینک دیا ۔ حضرت ہُود مؤمنین کو لے کر قوم سے جُدا ہوگئے تھے اس لئے وہ سلامت رہے ۔ قوم کے ہلاک ہونے کے بعد ایمانداروں کو ساتھ لے کر مکّۂ مکرّمہ تشریف لائے اور آخر عُمر شریف تک وہیں اللہ تعالٰی کی عبادت کرتے رہے ۔
اور ثمود کی طرف (ف۱۳٦) ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۳۷) روشن دلیل آئی (ف۱۳۸) یہ اللہ کا ناقہ ہے (ف۱۳۹) تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ (ف۱٤۰) کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا،
(ف136)جو حِجاز و شام کی درمیان سر زمینِ حَجۡر میں رہتے تھے ۔(ف137)میرے صدقِ نبوّت پر ۔(ف138)جس کا بیان یہ ہے کہ ۔(ف139)جو نہ کسی پیٹھ میں رہا ، نہ کسی پیٹ میں ، نہ کسی نر سے پیدا ہوا ، نہ مادہ سے ، نہ حمل میں رہا ، نہ اس کی خِلقَت تدریجاً کمال کو پہنچی بلکہ طریقۂ عادیہ کے خلاف وہ پہاڑ کے ایک پتھر سے دَفۡعتاً پیدا ہوا ۔ اس کی یہ پیدائش معجِزہ ہے پھر وہ ایک دن پانی پیتا ہے اور تمام قبیلۂ ثمود ایک دن ۔ یہ بھی معجِزہ ہے کہ ایک ناقہ ایک قبیلہ کے برابر پی جائے اس کے علاوہ اس کے پینے کے روز اس کا دودھ دوہا جاتا تھا اور وہ اتنا ہوتا تھا کہ تمام قبیلہ کو کافی ہو اور پانی کے قائم مقام ہو جائے یہ بھی معجِزہ اور تمام وُحُوش و حیوانات اس کی باری کے روز پانی پینے سے باز رہتے تھے یہ بھی معجزہ ۔ اتنے معجزات حضرت صالح علیہ السلام کے صدقِ نبوّت کی زبردست حُجّتیں ہیں ۔(ف140)نہ مارو ، نہ ہکاؤ ، اگر ایسا کیا تو یہی نتیجہ ہوگا ۔
اور یاد کرو (ف۱٤۱) جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو (ف۱٤۲) اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو (ف۱٤۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱٤٤) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،
(ف141)اے قومِ ثمود ۔(ف142)موسمِ گرما میں آرام کرنے کے لئے ۔(ف143)موسم سرما کے لئے ۔(ف144)اور اس کا شُکر بجا لاؤ ۔
اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں، بولے وہ جو کچھ لے کے بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں (ف۱٤۵)
(ف145)ان کے دین کو قبول کرتے ہیں ، ان کی رسالت کو مانتے ہیں ۔
تو صالح نے ان سے منہ پھیرا (ف۱٤۸) اور کہا اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں،
(ف148)جب کہ انہوں نے سرکشی کی ۔ منقول ہے کہ ان لوگوں نے چَہار شَنبہ کو ناقہ کی کونچیں کاٹی تھیں تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اس کے بعد تین روز زندہ رہو گے ، پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زَرۡ د ہو جائیں گے ، دوسرے روز سُرخ ، تیسرے روز سیاہ ، چوتھے روز عذاب آئے گا چنانچہ ا یسا ہی ہوا، یک شنبہ کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہَولناک آواز آئی جس سے ان لوگو ں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہو گئے ۔
اور لوط کو بھیجا (ف۱٤۹) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بےحیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی،
(ف149)جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بھتیجے ہیں آپ اہلِ سَد وم کی طرف بھیجے گئے اور جب آپ کے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سر زمینِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لوط علیہ ا لسلام اُرۡدن میں اترے ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اہلِ سَدوم کی طرف مبعوث کیا آپ ان لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دیتے تھے اور فعلِ بد سے روکتے تھے جیسا کہ آیت شریف میں ذکر آتا ہے ۔
تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (ف۱۵۰) عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے (ف۱۵۱)
(ف150)یعنی ان کے ساتھ بَد فعلی کرتے ہو ۔(ف151)کہ حلال کو چھوڑ کر حرام میں مبتلا ہوئے اور ایسے خبیث فعل کا ارتکاب کیا ۔ انسان کو شہوت بقائے نسل اور دنیا کی آبادی کے لئے دی گئی ہے اور عورتیں مَحلِّ شہوت و موضوعِ نسل بنائی گئی ہیں کہ ان سے بطریقۂ معروف حسبِ اجازتِ شرع اولاد حاصل کی جائے ، جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مَردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوّت کے مقصدِ صحیح کو فوت کر دیا کیونکہ مَرد کو نہ حمل رہتا ہے نہ وہ بچّہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے ! عُلَمائے سِیَر و اَخبار کا بیان ہے کہ قومِ لُوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غَلّے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے زمین کا دوسرا خِطّہ اس کا مِثل نہ تھا اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ، ایسے وقت میں اِبلیسِ لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نَجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بَد فعلی کرو ، اس طرح یہ فعلِ بَد انہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا ۔
اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان (ف۱۵۲) کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں (ف۱۵۳)
(ف152)یعنی حضرت لوط اور انکے مُتّبِعین ۔(ف153)اور پاکیزگی ہی اچھی ہوتی ہے وہی قابلِ مدح ہے لیکن اس قوم کا ذوق اتنا خراب ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس صفتِ مدح کو عیب قرار دیا ۔
اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا (ف۱۵٦) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا (ف۱۵۷)
(ف156)عجیب طرح کا جس میں ایسے پتھر برسے کہ گندھک اور آ گ سے مرکَّب تھے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بستی میں رہنے والے جو وہاں مقیم تھے وہ تو زمین میں دھنسا دیئے گئے اور جو سفر میں تھے وہ ا س بارش سے ہلاک کیے گئے ۔(ف157)مجاہد نے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نازِل ہوئے اور انہوں نے اپنا بازو قومِ لوط کی بستیوں کے نیچے ڈال کر اس خطہ کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب پہنچ کر اس کو اوندھا کر کے گرا دیا اور اسکے بعد پتھروں کی بارش کی گئی ۔
اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا (ف۱۵۸) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی (ف۱۵۹) تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو (ف۱٦۰) اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،
(ف158)حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔(ف159)جس سے میری نبوّت و رِسالت یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے ، اس دلیل سے معجِزہ مراد ہے ۔(ف160)ان کے حق دیانت داری کے ساتھ پورے پورے ادا کرو ۔
اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو (ف۱٦۱) جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھا دیا (ف۱٦۲) اور دیکھو (ف۱٦۳) فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،
(ف161)اور دین کا اِتّباع کرنے میں لوگوں کے لئے سدِّ راہ نہ بنو ۔(ف162)تمہاری تعداد زیادہ کردی تو اس کی نعمت کا شکر کرو اور ایمان لاؤ ۔(ف163)بہ نگاہِ عبرت پچھلی اُمّتوں کے احوال اور گزرے ہوئے زمانوں میں سرکشی کرنے والوں کے انجام و مآ ل دیکھو اور سوچو ۔
اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا (ف۱٦٤) تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے (ف۱٦۵) اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر (ف۱٦٦)
(ف164)یعنی اگر تم میری رسالت میں اختلاف کرکے دو فرقے ہوگئے ایک فرقے نے مانا اور ایک منکِر ہوا ۔(ف165)کہ تصدیق کرنے والے ایمانداروں کو عزّت دے اور انکی مدد فرمائے اور جھٹلانے والے منکرین کو ہلاک کرے اور انہیں عذاب دے ۔(ف166)کیونکہ وہ حاکمِ حقیقی ہے ۔
اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱٦۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں (ف۱٦۸)
(ف167)حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔(ف168)حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا دین نہ قبول کریں گے اور اگر تم نے ہم پر جبر کیا جب بھی نہ مانیں گے کیونکہ ۔
ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱٦۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،
(ف169)اور تمہارے دینِ باطل کے قُبح و فساد کا علم دیا ہے ۔(ف170)اور اس کو ہلاک کرنا منظور ہو اور ایسا ہی مقدّر ہو ۔(ف171)اپنے تمام اُمور میں ، وہی ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا وہی زیادتِ اِیقان کی توفیق دے گا ۔(ف172)زُ جاج نے کہا کہ اس کے یہ معنٰی ہو سکتے ہیں کہ اے ربّ ہمارے امر کو ظاہر فرما دے ۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازِل فرما جس سے ان کا باطل پر ہونا اور حضرت شُعیب علیہ السلام اور ان کے مُتّبِعین کا حق پر ہونا ظاہر ہو ۔
تو انہیں زلز لہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)
(ف173)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس قوم پر جہنّم کا دروازہ کھولا اور ان پر دوزخ کی شدید گرمی بھیجی جس سے سانس بند ہوگئے ، اب نہ انہیں سایہ کام دیتا تھا نہ پانی اس حالت میں وہ تِہ خانہ میں داخل ہوئے تاکہ وہاں انہیں کچھ امن ملے لیکن وہاں باہر سے زیادہ گرمی تھی وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگے ، اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جس میں نہایت سرد اور خوش گوار ہوا تھی ، اس کے سایہ میں آئے اور ایک نے دوسرے کو پُکار پُکار کر جمع کر لیا ، مرد ، عورتیں ، بچّے سب مجتمع ہوگئے تو وہ بحکمِ الٰہی آ گ بن کر بھڑک اُٹھا اور وہ اس میں اس طرح جل گئے جیسے بھاڑ میں کوئی چیز بُھن جاتی ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت شُعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مَدۡ یَن کی طرف بھی ۔ اصحابِ ایکہ تو اَ بر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مَدۡ یَن زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے ۔
اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷٦) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)
(ف176)جس کو اس کی قوم نے نہ جھٹلایا ہو ۔(ف177)فَقر و تنگدستی اور مَرض و بیماری میں گرفتار کیا ۔(ف178)تکبُّر چھوڑیں ، توبہ کریں ، حکمِ الٰہی کے مطیع بنیں ۔
پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)
(ف179)کہ سختی و تکلیف کے بعد راحت و آسائش پہنچنا اور بدنی و مالی نعمتیں ملنا اِطاعت و شکر گزاری کا مُسدَدۡعِی ہے ۔(ف180)انکی تعداد بھی زیادہ ہوئی اور مال بھی بڑھے ۔(ف181)یعنی زمانہ کا دستور ہی یہ ہے کبھی تکلیف ہوتی ہے کبھی راحت ۔ ہمارے باپ دادا پر بھی ایسے احوال گذر چکے ہیں ۔ اس سے ان کا مُدّعا یہ تھا کہ پچھلا زمانہ جو سختیوں میں گذرا ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے کچھ عُقوبت و سزا نہ تھا تو اپنا دین ترک کرنا نہ چاہئے نہ ان لوگوں نے شدّت و تکلیف سے کچھ نصیحت حاصل کی نہ راحت و آرام سے ان میں کوئی جذبۂ شکر و طاعت پیدا ہوا وہ غَفۡلت میں سرشار رہے ۔(ف182)جب کہ انہیں عذاب کا خیال بھی نہ تھا ۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور بندوں کو گناہ و سرکشی ترک کرکے اپنے مالِک کا رضا جُو ہونا چاہئے ۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸٤) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا (ف۱۸٦)
(ف183)اور خدا اور رسول کی اِطاعت اختیار کرتے اور جس چیز کو اللہ اور رسول نے منع فرمایا اس سے باز رہتے ۔(ف184)ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ، وقت پر نافِع اور مفید بارشیں ہوتیں ، زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے ، رزق کی فراخی ہوتی ، امن و سلامتی رہتی ، آفتوں سے محفوظ رہتے ۔(ف185)اللہ کے رسولوں کو ۔(ف186)اور اَنواعِ عذاب میں مُبتلا کیا ۔
کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بےخبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)
(ف189)اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمت دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں ۔(ف190)اور اس کے مُخلِص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں ۔ رَبیع بن خَثیم کی صاحبزادی نے ان سے کہا کیا سبب ہے میں دیکھتی ہوں سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے ہیں ؟ فرمایا ! اے نورِ نظر ، تیرا باپ شَب کو سونے سے ڈرتا ہے یعنی یہ کہ غافل ہو کر سوجانا کہیں سببِ عذاب نہ ہو ۔
اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے (ف۱۹۲)
(ف191)جیسا کہ ہم نے ان کے مَورِثوں کو ان کی نافرمانی کے سبب ہلاک کیا ۔(ف192)اور کوئی پَند و نصیحت نہیں مانتے ۔
یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹٤) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹٦) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)
(ف193)قوم حضرت نوح اور عاد و ثمود اور قوم حضرت لُوط وقوم حضرت شعیب کی ۔(ف194)تاکہ معلوم ہو کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اپنے دشمنوں یعنی کافِروں کے مُقابلہ میں مدد کیا کرتے ہیں ۔(ف195)یعنی مُعجزاتِ باہِرات ۔(ف196)تا دَمِ مَرۡ گ ۔(ف197)اپنے کُفر و تکذیب پر جمے ہی رہے ۔(ف198)جن کی نسبت اس کے علم میں ہے کہ کُفر پر قائم رہیں گے اور کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔
اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بےحکم ہی پایا، پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو
(ف199)انہوں نے اللہ کے عہد پورے نہ کئے ان پر جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یاربّ تو اگر اس سے ہمیں نَجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نَجات پاتے عہد سے پِھر جاتے ۔ (مَدارِک)
مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰٤) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)
(ف203)کیونکہ رسول کی یہی شان ہے وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے اور تبلیغِ رِسالت میں ان کا کِذب مُمکِن نہیں ۔(ف204)جس سے میری رسالت ثابت ہے اور وہ نشانی مُعجزات ہیں ۔(ف205)اور اپنی قید سے آزاد کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ اَرضِ مُقدّسہ میں چلے جائیں جو ان کا وطن ہے ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰٦)
(ف206)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسّلام نے عصا ڈالا تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا زَرۡ د رنگ ، مُنہ کھولے ہوئے ، زمین سے ایک مِیل اونچا ، اپنی دُم پر کھڑا ہوگیا اور ایک جبڑا اس نے زمین پر رکھا اور ایک قصرِ شاہی کی دیوار پر پھر اس نے فرعون کی طرف رُخ کیا تو فرعون اپنے تخت سے کُود کر بھاگا اور ڈر سے اس کی رِیح نِکل گئی اور لوگوں کی طرف رُخ کیا تو ایسی بھاگ پڑی کہ ہزاروں آدمی آپس میں کُچَل کر مَر گئے ۔ فرعون گھر میں جا کر چیخنے لگا اے موسٰی ! تمہیں اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑ لو میں تم پر ایمان لاتا ہوں اور تمہارے ساتھ بَنی اِسرائیل کو بھیجے دیتا ہوں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کو اُٹھا لیا تو وہ مثلِ سابِق عصا تھا ۔
بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں (ف۲۱۳)
(ف212)پہلے اپنا عصا ۔(ف213)جادُوگروں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ ادب کیا کہ آپ کو مُقَدّم کیا اور بغیر آپ کی اجازت کے اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے ، اس ادب کا عِوض انہیں یہ ملا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایمان و ہدایت کے ساتھ مُشَرّف کیا ۔
کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱٤) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،
(ف214)یہ فرمانا حضرت موسٰی علیہ السلام کا اس لئے تھا کہ آپ ان کی کچھ پروا ہ نہیں کرتے تھے اور اعتمادِ کامل رکھتے تھے کہ ان کے معجزے کے سامنے سِحر ناکام و مَغلوب ہوگا ۔(ف215)اپنا سامان جس میں بڑے بڑے رَسّے اور شَہتیر تھے تو وہ اَژدھے نظر آنے لگے اور میدان ان سے بھرا معلوم ہونے لگا ۔
اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱٦)
(ف216)جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ایک عظیمُ الشّان اَژدہا بن گیا ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ یہ اجتماع اِسکندریہ میں ہوا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السّلام کے اَژدھے کی دُم سَمُندر کے پار پہنچ گئی تھی ، وہ جادو گَروں کی سِحر کاریوں کو ایک ایک کر کے نِگل گیا اور تمام رَسّے و لَٹّھے جو انہوں نے جمع کئے تھے جو تین سو اُونٹ کا بار تھے سب کا خاتِمہ کر دیا ، جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارَک میں لیا تو پہلے کی طرح عصا ہوگیا اور اس کا حُجم اور وَزن اپنے حال پر رہا ، یہ دیکھ کر جادو گَروں نے پہچان لیا کہ عصائے موسٰی سِحر نہیں اور قدرتِ بَشَری ایسا کرشمہ نہیں دِکھا سکتی ، ضرور یہ اَمۡرِ سَماوی ہے ۔ یہ بات سمجھ کر وہ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سجدے میں گر گئے ۔
فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)
(ف218)یعنی تم نے اور حضرت موسٰی علیہ السّلام نے سب نے مُتّفِق ہو کر ۔(ف219)اور خود اس پر مسلّط ہو جاؤ ۔(ف220)کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں ۔
قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)
(ف221)نِیل کے کنارے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دنیامیں پہلا سُولی دینے والا ، پہلا ہاتھ پاؤں کاٹنے والا فرعون ہے ۔ فرعون کی اس گفتگو پر جادو گَروں نے یہ جواب دیا جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
(ف222)تو ہمیں موت کا کیا غم کیونکہ مَر کر ہمیں اپنے ربّ کی لِقاء اوراس کی رَحمت نصیب ہوگی اور جب سب کو اسی کی طرف رُجوع کرنا ہے تو وہ خود ہمارے تیرے درمیان فیصلہ فرما دے گا ۔
اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲٤)
(ف223)یعنی ہم کو صَبرِ کامِل تام عطا فرما اور اس کثرت سے عطا فرما جیسے پانی کسی پر اُنڈیل دیا جاتا ہے ۔(ف224)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ لوگ دن کے اوّل وقت میں جادو گَر تھے اور اسی روز آخر وقت میں شہید ۔
اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲٦) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)
(ف225)یعنی مِصر میں تیری مُخالفت کریں اور وہاں کے باشندوں کا دین بدلیں اور یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ ساحِروں کے ساتھ چھ لاکھ آدمی ایمان لے آئے تھے ۔ (مَدارِک) (ف226)کہ نہ تیری عبادت کریں نہ تیرے مقرّر کئے ہوئے معبودوں کی ۔ سدی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے اور ان کی عبادت کرنے کا حکم دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تمہارا بھی ربّ ہوں اور ان بُتوں کا بھی ۔ بعض مُفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون دَہۡرِی تھا یعنی صانِعِ عالَم کے وجود کا مُنکِر ، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سَفلی کے مُدبِّر کَواکِب ہیں اسی لئے اس نے ستاروں کی صورتوں پر بُت بنوائے تھے ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کو مطاع و مَخدُوم زمین کا کہتا تھا اسی لئے اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا ۔(ف227)قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون سے یہ جو کہا تھا کہ کیا تو موسٰی اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں ، اس سے ان کا مطلب فرعون کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اور آپ کی قوم کے قتل پر اُبھارنا تھا جب انہوں نے ایسا کیا تو موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو نُزولِ عذاب کا خوف دلایا اور فرعون اپنی قوم کی خواہش پر قدرت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزے کی قوّت سے مَرعُوب ہو چکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح قومِ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تعداد گھٹا کر ان کی قوّت کم کریں گے اور عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بے شک ان پر غالب ہیں لیکن فرعون کے اس قول سے کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس کی شکایت کی ، اس کے جواب میں حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا ۔ ( جو اس کے بعد آتاہے )
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)
(ف228)وہ کافی ہے ۔(ف229)مصیبتوں اور بلاؤں پر اور گھبراؤ نہیں ۔(ف230)اور زمینِ مِصر بھی اس میں داخل ہے ۔(ف231)یہ فرما کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو توقُع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل ان کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے ۔(ف232)انہیں کے لئے فَتح و ظَفر ہے اور انہیں کے لئے عاقبتِ محمودہ ۔
بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳٤) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)
(ف233)کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مُبتلا کر رکھّا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا ۔(ف234)کہ اب وہ پھر ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دفع کی جائیں گی ۔(ف235)اور کس طرح شکرِ نعمت بجا لاتے ہو ۔
اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳٦) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)
(ف236)اور فَقر و فاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا ۔(ف237)اور کُفر و معصیّت سے باز آئیں ۔ فرعون نے اپنی چار سو برس کی عمر میں سے تین سو بیس سال تو اس آرام کے ساتھ گزارے تھے کہ اس مدّت میں کبھی درد یا بخار یا بھوک میں مُبتلا ہی نہیں ہوا ، اب قَحۡط سالی کی سختی ان پر اس لئے ڈالی گئی کہ وہ اس سختی ہی سے خدا کو یاد کریں او راس کی طرف متوجّہ ہوں لیکن وہ کُفر میں اس قدر راسِخ ہو چکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی ہی بڑھتی رہی ۔
تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲٤۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲٤۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،
(ف238)اور اَرۡزانی و فَراخی و امن و عافیت ہوتی ۔(ف239)یعنی ہم اس کے مستحق ہی ہیں اور اس کو اللہ کا فضل نہ جانتے او رشکرِ الٰہی نہ بجا لاتے ۔(ف240)اور کہتے کہ یہ بَلائیں ان کی وجہ سے پہنچیں اگر یہ نہ ہوتے تویہ مصیبتیں نہ آتیں ۔(ف241) جو اس نے مُقدّرکیا ہے وہی پہنچتا ہے اور یہ ان کے کُفر کے سبب ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ بڑی شامت تو وہ ہے جو ان کے لئے اللہ کے یہاں ہے یعنی عذابِ دوزخ ۔
تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲٤۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲٤٤) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲٤۵) اور وہ مجرم قوم تھی
(ف243)جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کُفر و سرکشی پر جمے رہے تو ان پر آیاتِ الٰہیہ پِیاپے وارِدہونے لگیں کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ یاربّ ! فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ، انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت تو اللہ تعالٰی نے طوفان بھیجا ، اَبر آیا ، اندھیرا ہوا ، کثرت سے بارش ہونے لگی ، قُبطِیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں کی ہَنسلِیوں تک آ گیا ، ان میں سے جو بیٹھا ڈوب گیا ، نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے ، سنیچرسے سنیچر تک سات روز تک اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل کے گھر ان کے گھروں سے متصل تھے ان کے گھروں میں پانی نہ آیا ۔ جب یہ لوگ عاجِز ہوئے تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کیا ہمارے لئے دعا فرمائیےکہ یہ مصیبت رفع ہو تو ہم آپ پر ایمان لائیں اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا فرمائی طوفان کی مصیبت رفع ہوئی ، زمین میں وہ سرسبزی و شادابی آئی جو پہلے نہ دیکھی تھی ، کھیتیاں خوب ہوئیں ، درخت خوب پھلے تو فرعونی کہنے لگے یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے ۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے ٹِڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل ، درختوں کے پتے ، مکان کے دروازے ، چھتیں ، تختے ، سامان حتّٰی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قُبطِیوں کے گھروں میں بھر گئیں اور بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں ۔ اب قُبطِیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسٰی علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی ، ایمان لانے کا وعدہ کیا اس پر عہد و پیمان کیا ۔ سات روز یعنی شنبہ سے شنبہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے پھر حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے نجات پائی ۔کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے عہدِ وفا نہ کیا اور اپنے اعمالِ خبیثہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک مہینہ عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے قُمَّل بھیجے ۔ اس میں مفسِّرین کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ قُمَّل گُھن ہے ، بعض کہتے ہیں جوں ، بعض کہتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے ، اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھا لئے ، کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جِلد کو کاٹتا تھا ، کھانے میں بھر جاتا تھا اگر کوئی دس بوری گیہوں چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔ یہ کیڑے فرعونیوں کے بال ، بَھنویں ، پَلکیں چاٹ گئے ، جسم پر چَیچک کی طرح بَھرجاتے ، سونا دشوار کر دیا تھا ۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ہم توبہ کرتے ہیں آپ اس بَلا کے دفع ہونے کی دعا فرمائیے چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت کی دعا سے رفع ہوئی لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کئے ، ایک مہینہ امن میں گذرنے کے بعد پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بددعا کی تو اللہ تعالٰی نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ آدمی بیٹھتا تھا تو اسکی مجلس میں مینڈک بھر جاتے تھے ، بات کرنے کے لئے منہ کھولتا تو مینڈک کود کر مُنہ میں پہنچتا ۔ ہانڈیوں میں مینڈک ،کھانوں میں مینڈک ، چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تھے ، آگ بجھ جاتی تھی ، لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے ۔ اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دفع ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا لیکن پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کُفر کی طرف لوٹے پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بد دعا فرمائی تو تمام کنووں کا پانی ، نہروں اور چشموں کا پانی ، دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا ، انہوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی تو کہنے لگا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے جادو سے تمہاری نظر بندی کر دی ۔ انہوں نے کہا کیسی نظر بندی ہمارے برتنوں میں خون کے سوا پانی کا نام و نشان ہی نہیں تو فرعون نے حکم دیا کہ قُبطِی بنی اسرائیل کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی لیں تو جب بنی اسرائیل نکالتے توپانی نکلتا قُبطی نکالتے تو اسی برتن سے خون نکلتا یہاں تک کہ فرعونی عورتیں پیاس سے عاجز ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پانی مانگا تو وہ پانی ان کے برتن میں آتے ہی خون ہوگیا تو فرعونی عورت کہنے لگی کہ تو پانی اپنے منہ میں لے کر میرے منہ میں کُلی کر دے جب تک وہ پانی اسرائیلی عورت کے منہ میں رہا پانی تھا جب فرعونی عورت کے منہ میں پہنچا خون ہوگیا ۔ فرعون خود پیاس سے مُضطر ہوا تو اس نے تر درختوں کی رَطوبت چُوسی وہ رَطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی ۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی مُیسّر نہ آئی تو پھر حضرت موسٰی علٰی نبِیّنا و علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی رفع ہوئی مگر ایمان پھر بھی نہ لائے ۔(ف244)ایک کے بعد دوسری اور ہر عذاب ایک ہفتہ قائم رہتا اور دوسرے عذاب سے ایک مہینہ کا فاصلہ ہوتا ۔(ف245)اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔
اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲٤٦) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲٤۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بےخبر تھے (ف۲٤۸)
(ف247)یعنی دریائے نیل میں جب بار بار انہیں عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کُفر نہ چھوڑا تو وہ میعاد پوری ہونے کے بعد جو ان کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی انہیں اللہ تعالٰی نے غرق کرکے ہلاک کر دیا ۔(ف248)اصلاً تدبُّر و التفات نہ کرتے تھے ۔
اور ہم نے اس قوم کو (ف۲٤۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،
(ف249)یعنی بنی اسرائیل کو ۔(ف250)یعنی مصر و شام ۔(ف251)نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے ۔(ف252)ان تمام عمارتوں اور ایوانوں اور باغوں کو ۔
اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵٤) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)
(ف253)فرعون اور اس کی قوم کو دسویں محرّم کو غرق کرنے کے بعد ۔(ف254)اور ان کی عبادت کرتے تھے ۔ ابنِ جُرَیْح نے کہا کہ یہ بُت گائے کی شکل کے تھے ان کو دیکھ کر بنی اسرائیل ۔(ف255)کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور کسی کی عبادت جائز نہیں ۔
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)
(ف258)یعنی جب اس نے تم پر ایسی عظیم نعمتیں فرمائیں تو تمہیں کب شایان ہے کہ تم اس کے سوا اور کی عبادت کرو ۔
اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲٦۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲٦۱) اور موسیٰ نے (ف۲٦۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
(ف259) تورَیت عطا فرمانے کے لئے ماہِ ذُوالقَعدہ کی ۔(ف260)ذی الحِجّہ کی ۔(ف261)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا کہ جب اللہ تعالٰی ان کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے تو وہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا ۔ جب اللہ تعالٰی نے فرعون کو ہلاک کیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے ربّ سے اس کتاب کے نازِل فرمانے کی درخواست کی ، حکم ہوا کہ تیس روزے رکھیں جب وہ روزے پورے کر چکے تو آپ کو اپنے دہنِ مبارک میں ایک طرح کی بُو معلوم ہوئی ، آپ نے مسواک کی ، ملائکہ نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے دہنِ مبارک سے بڑی محبوب خوشبو آیا کرتی تھی آپ نے مسواک کر کے اس کو ختم کر دیا ۔ اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ ماہِ ذی الحِجّہ میں دس روزے اور رکھیں اور فرمایا کہ اے موسٰی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ روزے دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک خوشبوئے مُشک سے زیادہ اَطیَب ہے ۔(ف262)پہاڑ پر مُناجات کے لئے جاتے وقت ۔
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲٦۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا (ف۲٦٤) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲٦۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲٦٦)
(ف263)آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم اس کلام کی حقیقت سے بَحث کر سکیں ۔ اَخبار میں وارد ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سِینا میں حاضر ہوئے ، اللہ تعالٰی نے ایک ابر نازِل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے بقدر چار فرسنگ کے ڈھک لیا ۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیٰحدہ کر دیئے گئے اور آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو مُلاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ تعالٰی نے آپ سے کلام فرمایا ۔ آپ نے اس کی بارگاہ میں اپنے معروضات پیش کئے اس نے اپنا کلامِ کریم سُنا کر نوازا ۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ تھے لیکن جو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے فرمایا وہ انہوں نے کچھ نہ سُنا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کلامِ ربّانی کی لذّت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا ۔ ( خازن وغیرہ)(ف264)ان آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدارِ الٰہی بغیر سوال کے مَحض اس کی عطا و فضل سے حاصل ہوگا ، وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے یعنی کوئی بشر مجھے دنیا میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے ربّ عزّوجلّ کے دیدار سے فیضیاب کئے جائیں گے علاوہ بریں یہ کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے ۔(ف265)اور پہاڑ کا ثابت رہنا امرِ ممکن ہے کیونکہ اس کی نسبت فرمایا جَعَلَہٗ دَکاًّ اس کو پاش پاش کر دیا تو جو چیز اللہ تعالٰی کی مجعول ہو اور جس کو وہ موجود فرمائے ممکن ہے کہ وہ نہ موجود ہو اگر اس کو نہ موجود کرے کیونکہ وہ اپنے فعل میں مختار ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ کا استِقرار امرِ ممکن ہے مَحال نہیں اور جو چیز امرِ ممکن پر معلّق کی جائے وہ بھی ممکن ہی ہوتی ہے مَحال نہیں ہوتی لہٰذا دیدارِ الٰہی جس کو پہاڑ کے ثابت رہنے پر معلّق فرمایا گیا وہ ممکن ہوا تو ان کا قول باطِل ہے جو اللہ تعالٰی کا دیدار مَحال بتاتے ہیں ۔(ف266)بنی اسرائیل میں سے ۔
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲٦۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲٦۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بےحکموں کا گھر (ف۲٦۹)
(ف267)توریت کی جو سات یا دس تھیں زَبَرجَد کی یا زُمُرّد کی ۔(ف268)اس کے اَحکام پر عامل ہوں ۔(ف269)جو آخرت میں ان کا ٹھکانا ہے ۔ حَسن و عطا نے کہا کہ بے حُکموں کے گھر سے جہنّم مراد ہے ۔ قَتادہ کا قول ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمّتوں کے منازِل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ کی مخالَفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دار الفاسقین سے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جو مِصر میں ہیں ۔ سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کُفّار مراد ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ عاد و ثمود اور ہلاک شدہ اُمّتوں کے منازِل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے ۔
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بےخبر بنے،
(ف270)ذوالنون قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حکمتِ قرآن سے اہلِ باطل کے قُلوب کا اکرام نہیں فرماتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر تَجبُّر کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتوں کے قبول اور تصدیق سے پھیر دوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں یہ ان کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا ۔(ف271)یہی تَکبُّر کا ثمرہ ، مُتَکبِّر کا انجام ہے ۔
اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ (ف۲۷٤) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷٦)
(ف272)طور کی طرف اپنے ربّ کی مُناجات کے لئے جانے کے ۔(ف273)جو انہوں نے قومِ فرعون سے اپنی عید کے لئے عارِیَت لئے تھے ۔(ف274)اور اس کے مُنہ میں حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی خاک ڈالی جس کے اثر سے وہ ۔ (ف275)ناقِص ہے ، عاجِز ہے ، جَماد ہے یا حیوان ، دونوں تقدیروں پر صلاحیّت نہیں رکھتا کہ پُوجا جائے ۔(ف276)کہ انہوں نے اللہ تعالٰی کی عبادت سے اِعراض کیا اور ایسے عاجِز و ناقِص بَچھڑے کو پُوجا ۔
اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸٤) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)
(ف277)اپنے ربّ کی مُناجات سے مشرّف ہو کر طور سے ۔(ف278)اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو خبر دے دی تھی کہ سامری نے ان کی قوم کو گمراہ کر دیا ۔(ف279)کہ لوگوں کو بَچھڑا پُوجنے سے نہ روکا ۔(ف280)اور میرے توریت لے کر آنے کا انتظار نہ کیا ۔(ف281)توریت کی حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔(ف282)کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنی قوم کا ایسی بدترین معصیّت میں مبتلا ہونا نہایت شاق اور گِراں ہوا ، تب حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ۔(ف283)میں نے قوم کو روکنے اور انکو وَعظ و نصیحت کرنے میں کمی نہیں کی لیکن ۔(ف284)اور میرے ساتھ ایسا سُلوک نہ کرو جس سے وہ خوش ہوں ۔(ف285)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے بھائی کا عُذر قبول کرکے بارگاہِ الٰہی میں ۔
بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،
اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)
(ف287)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارَ کَ و تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے ۔
اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بےعقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
(ف288)کہ وہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو کر قوم کی گوسالہ پرستی کی عُذر خواہی کریں چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انہیں لے کر حاضر ہوئے ۔(ف289)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ زلزلہ میں مبتلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ قوم نے جب بچھڑا قائم کیا تھا یہ ان سے جدا نہ ہوئے تھے ۔ (خازن)(ف290)یعنی مِیقات میں حاضر ہونے سے پہلے تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا ۔(ف291)یعنی ہمیں ہلاک نہ کر اور اپنا لطف و کرم فرما ۔
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹٤) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹٦) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،
(ف292)اور ہمیں توفیقِ طاعت مَرحمت فرما ۔(ف293)اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف294)مجھے اختیار ہے سب میرے مَملوک اور بندے ہیں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔(ف295)دنیا میں نیک اور بد سب کو پہنچتی ہے ۔(ف296)آخرت کی ۔
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بےپڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتارے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،
(ف297)یہاں رسول سے بہ اجماع مفسِّرین سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں ۔ آپ کا ذکر وصفِ رسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں ۔ فرائضِ رسالت ادا فرماتے ہیں ، اللہ تعالٰی کے اوامِر و نہی و شرائِع و اَحکام اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں ، اس کے بعد آپ کی توصیف میں نبی فرمایا گیا اس کا ترجمہ حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (غیب کی خبریں دینے والے) کیا ہے اور یہ نہایت ہی صحیح ترجمہ ہے کیونکہ نَبَاْ خبر کو کہتے ہیں جو مفیدِ علم ہو اور شائبۂ کِذب سے خالی ہو ۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ اس معنٰی میں بکثرت مستعمل ہوا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوا قُلْ ھُوَ نَبَؤُ عَظِیمٌ ایک جگہ فرمایا تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ ایک جگہ فرمایا فَلَمَّا اَنْبَأَھُمْ بِاَسْمَآءِ ھِمْ اور بکثرت آیات میں یہ لفظ اس معنٰی میں وارد ہوا ہے پھر یہ لفظ یا فاعِل کے معنٰی میں ہوگا یا مفعول کے معنٰی میں ، پہلی صورت میں اس کے معنٰی غیب کی خبریں دینے والے اور دوسری صورت میں اس کے معنٰی ہوں گے غیب کی خبریں دیئے ہوئے اور دونوں معنٰی کو قرآنِ کریم سے تائید پہنچتی ہے ۔ پہلے معنٰی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے نَبِّیءْ عِبَادِیْ دوسری آیت میں فرمایا قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ اور اسی قبیل سے ہے حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارِد ہوا اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّ خِرُوْنَ اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ اور حقیقت میں انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں ۔ تفسیرِ خازن میں ہے کہ آپ کے وصف میں نبی فرمایا کیونکہ نبی ہونا اعلٰی اور اشرف مراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ اللہ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں اُمِّی کا ترجمہ حضرت متَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (بے پڑھے) فرمایا یہ ترجمہ بالکل حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمِّی ہونا آپ کے معجزات میں سے ایک معجِزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں ۔ (خازن) خاکی وبَر اُوج عرش منزل ، اُمِّی و کتاب خانہ در دِل دیگر : اُمِّی و دقیقہ دان عالَم ، بے سایہ و سائبان عالَم صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہ وسَلَامُہ ۔(ف298)یعنی توریت و انجیل میں آپ کی نعت و صفت و نبوّت لکھی پائیں گے ۔ حدیث : حضرت عطاء ابنِ یسار نے حضرت عبداللہ بن عَمۡرو رضی اللہ عنہ سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف دریافت کئے جو توریت میں مذکور ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں کے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں ، اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا اے نبی ہم نے تمہیں بھیجا شاہِد و مبشِّر اور نذیر اور اُمّیّوں کا نگہبان بنا کر ۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو میں نے تمہارا نام مُتوَکِّل رکھا ، نہ بد خُلق ہو نہ سخت مزاج ، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ، نہ بُرائی سے بُرائی کو دفع کرو لیکن خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو ، اللہ تعالٰی تمہیں نہ اُٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مُستقیم مِلّت کو اس طرح راست نہ فرماوے کہ لوگ صِدق و یقین کے ساتھ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شُنوا اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہو جائیں اور حضرت کعب اَحبار سے حضور کی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی صفت میں فرمایا کہ میں انہیں ہر خوبی کے قابِل کروں گا ،اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا اور اطمینانِ قلب و وقار کو ان کا لباس بناؤں گا اور طاعات و اِ حسان کو ان کا شعار کروں گا اور تقوٰی کو ان کا ضمیر اور حکمت کو ان کا راز اور صدق و وفا کو ان کی طبیعت اور عفو و کرم کو ان کی عادت اور عدل کو ان کی سیرت اور اظہارِ حق کو ان کی شریعت اور ہدایت کو ان کا اِمام اور اسلام کو ان کی مِلّت بناؤں گا ۔ اَحمد انکا نام ہے ، خَلق کو ان کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرِفت اور گمنامی کے بعد رِفعت و منزِلت عطا کروں گا اور انہیں کی برکت سے قِلّت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تفرُّقے کے بعد مَحبت عنایت کروں گا ، انہیں کی بدولت مختلف قبائل غیر مُجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور ان کی اُمّت کو تمام اُمّتوں سے بہتر کروں گا ۔ ایک اور حدیث میں توریت شریف سے حضور کے یہ اوصاف منقول ہیں میرے بندے احمدِ مختار ، انکا جائے ولادت مکّۂ مکرّمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیّبہ ہے ، ان کی اُمّت ہر حال میں اللہ کی کثیر حمد کرنے والی ہے ۔ یہ چند نقول احادیث سے پیش کئے گئے ، کُتُبِ اِلٰہیہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صِفَت سے بھری ہوئی تھیں ۔ اہلِ کتاب ہر قَرن میں اپنی کتابوں میں تراش خراش کرتے رہے اور ان کی بڑی کوشِش اس پر مسلّط رہی کہ حضور کا ذکر اپنی کتابوں میں نام کو نہ چھوڑیں ۔ توریت انجیل وغیرہ ان کے ہاتھ میں تھیں اس لئے انہیں اس میں کچھ دشواری نہ تھی لیکن ہزاروں تبدیلیں کرنے کے بعد بھی موجودہ زمانہ کی بائیبل میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بِشارت کا کچھ نہ کچھ نشان باقی رہ ہی گیا ۔ چنانچہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور ۱۹۳۱ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنّا کی انجیل کے باب چودہ کی سولھویں آیت میں ہے ۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے لفظِ مددگار پر حاشیہ ہے اس میں اس کے معنٰی وکیل یا شفیع لکھے تو اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد ایسا آنے والا جو شفیع ہو اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجُز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون ہے پھر اُنتیسویں تیسویں آیت میں ہے ۔ اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہو جائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں کیسی صاف بِشارت ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی اُمّت کو حضور کی ولادت کا کیسا منتظِر بنایا اور شوق دلایا ہے اور دنیا کا سردار خاص سیدِ عالَم کا ترجمہ ہے اور یہ فرمانا کہ مجھ میں اس کا کچھ نہیں حضور کی عظمت کا اظہار اور اس کے حضور اپنا کمالِ ادب و انکسار ہے پھر اسی کتاب کے باب سولہ کی ساتویں آیت ہے ۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اس میں حضور کی بشارت کے ساتھ اس کا بھی صاف اظہار ہے کہ حضور خاتَم الانبیاء ہیں ، آپ کا ظہور جب ہی ہوگا جب حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی تشریف لے جائیں ۔ اس کی تیرھویں آیت ہے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دینِ الٰہی کی تکمیل ہو جائے گی اور آپ سچائی کی راہ یعنی دینِ حق کو مکمّل کر دیں گے ۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ کلمہ کہ اپنی طرف سے نہ کہے گا جو کچھ سنے گا وہی کہے گا خاص مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی کا ترجمہ ہے اور یہ جملہ کہ تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا اس میں صاف بیان ہے کہ وہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیبی علوم تعلیم فرمائیں گے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا۔ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اور مَاھُوَعَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ۔(ف299)یعنی سخت تکلیفیں جیسے کہ توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا اور جن اعضاء سے گناہ صادِر ہوں ان کو کاٹ ڈالنا ۔(ف300)یعنی احکامِ شاقّہ جیسے کہ بدن اور کپڑے کے جس مقام کو نَجاست لگے اس کو قینچی سے کاٹ ڈالنا اور غنیمتوں کو جلانا اور گناہوں کا مکانوں کے دروازوں پر ظاہر ہونا وغیرہ ۔(ف301)یعنی محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف302)اس نُور سے قرآن شریف مراد ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور علم و یقین کی ضیاء پھیلتی ہے ۔
تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بےپڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
(ف303)یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے عُمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خَلق کے رسول ہیں اور کُل جہاں آپ کی اُمّت ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضور فرماتے ہیں پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں ۔ (۱) ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ (۲) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں ۔ (۳) میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تَیَمُّم) اور مسجد کی گئی جس کسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے ۔ (۴) دشمن پر ایک ماہ کی مَسافت تک میرا رُعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی ۔ (۵) اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں تمام خَلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے ۔
اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰٦) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،
(ف305)تِیہ میں ۔(ف306)ہر گروہ کے لئے ایک چشمہ ۔(ف307)تاکہ دھوپ سے امن میں رہیں ۔(ف308)ناشکری کر کے ۔
اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،
تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)
(ف311)یعنی حکم تو تھا کہ حِطَّۃُ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں ، حطۃ توبہ اور استغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہِ تمسخُر حنطۃ فی شعیرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے ۔(ف312)یعنی عذاب بھیجنے کا سبب ان کا ظلم اور حکمِ الٰہی کی مخالفت کرنا ہے ۔
اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱٤) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بےحکمی کے سبب،
(ف313)حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خِطاب ہے کہ آپ اپنے قریب رہنے والے یہود سے تَو بِیخاً اس بستی والوں کا حال دریافت فرمائیں ۔ مقصود اس سوال سے یہ تھا کہ کُفّار پر ظاہر کر دیا جائے کہ کُفر و معصیت ان کا قدیمی دستور ہے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اورحضور کے معجزات کا انکار کرنا یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ان کے پہلے بھی کُفر پر مُصِر رہے ہیں ، اس کے بعد ان کے اَسلاف کا حال بیان فرمایا کہ وہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کے سبب بندروں اور سُوروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے ۔ اس بستی میں اختلاف ہے کہ وہ کون تھی ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ ایک قَریہ مِصر و مدینہ کے درمیان ہے ، ایک قول ہے کہ مدین و طور کے درمیان ، زُہری نے کہا کہ وہ قَریہ طبریہ شام ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ وہ مَدْیَنْ ہے ، بعض نے کہا اِیلہ ہے واللہ تعالٰی اعلم ۔(ف314)کہ باوجود ممانعت کے ہفتے کے روز شکار کرتے ۔ اس بستی کے لوگ تین گروہ میں منقسم ہوگئے تھے ، ایک تہائی ایسے لوگ تھے جو شکار سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے اور ایک تہائی خاموش تھے دوسروں کو منع نہ کرتے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور ایک گروہ وہ خطا کار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور شکار کیا اور کھایا اور بیچا اور جب وہ اس معصیّت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ بُود و باش نہ رکھیں گے اور گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی ، منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے خطا کاروں پر لعنت کی ، ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی نہیں نکلا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے انہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے اب یہ لوگ دروازہ کھول کر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہو جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے ، ان لوگوں نے ان سے کہا کیا ہم لوگوں نے تم سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے سَر کے اشارے سے کہا ہاں اور وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو (ف۳۱٦)
(ف315)تاکہ ہم پر نہی عنِ المنکَر ترک کرنے کا اِلزام نہ رہے ۔(ف316)اور وہ نصیحت سے نفع اُٹھا سکیں ۔
اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)
(ف318)یہود ۔ (ف319)چنانچہ ان پر اللہ تعالٰی نے بختِ نصر اور سنجاریب اور شاہانِ روم کو بھیجا جنہوں نے انہیں سخت ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور قیامت تک کے لئے ان پر جِزیہ اور ذِلّت لازم ہوئی ۔(ف320)انکے لئے جو کُفر پر قائم رہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ان پر عذاب مُستَمِر رہے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔(ف321)ان کو جو اللہ کی اطاعت کریں اورا یمان لائیں ۔
اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲٤)
(ف322)جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ا یمان لائے اور دین پر ثابت رہے ۔(ف323)جنہوں نے نافرمانی کی اور جنہوں نے کُفر کیا اور دین کو بدلا اور مُتغیَّر کیا ۔(ف324)بھلائیوں سے نعمت و راحت اور بُرائیوں سے شدّت و تکلیف مراد ہے ۔
پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲٦) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،
(ف325)جن کی دو قسمیں بیان فرمائی گئیں ۔(ف326)یعنی توریت کے جو انہوں نے اپنے اَسلاف سے پائی اور اس کے اوامِر و نواہی اور تحلیل و تحریم وغیرہ مضامین پر مطّلع ہوئے ۔ مدارک میں ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ان کی حالت یہ ہے کہ ۔(ف327)بطورِ رشوت کے احکام کی تبدیل اور کلام کی تغیِیر پر اور و ہ جانتے بھی ہیں کہ یہ حرام ہے لیکن پھر بھی اس گناہِ عظیم پر مُصِر ہیں ۔(ف328)اور ان گناہوں پر ہم سے کچھ مؤاخَذہ نہ ہوگا ۔(ف329)اور آئیندہ بھی گناہ کرتے چلے جائیں ۔ سدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں کوئی قاضی ایسا نہ ہوتا تھا جو رشوت نہ لے جب اس سے کہا جاتا تھا کہ تم رشوت لیتے ہو تو کہتا تھا کہ یہ گناہ بخش دیا جائے گا ، اس کے زمانہ میں دوسرے اس پر طعن کرتے تھے لیکن جب وہ مر جاتا یا معزول کر دیا جاتا اور وہی طعن کرنے والے اس کی جگہ حاکِم و قاضی ہوتے تو وہ بھی اسی طرح رشوت لیتے ۔(ف330)لیکن باوجود اس کے انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔ توریت میں گناہ پر اصرار کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ نہ تھا تو ان کا گناہ کئے جانا ، توبہ نہ کرنا اور اس پر یہ کہنا کہ ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا یہ اللہ پر افترا ہے ۔(ف331)جو اللہ کے عذاب سے ڈریں اور رشوت و حرام سے بچیں اور اس کی فرمانبرداری کریں ۔
اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،
(ف332)اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے تمام احکام کو مانتے ہیں اور اس میں تغیِیر و تبدیل روا نہیں رکھتے ۔شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ایسے اصحاب کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے پہلی کتاب کا اِتّباع کیا اور اس کی تحریف نہ کی ، اس کے مضامین کو نہ چھپایا اور اس کتاب کے اِتّباع کی بدولت انہیں قرآنِ پاک پر ا یمان نصیب ہوا ۔ (خازن و مدارک)
اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳٤) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،
(ف333)جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے احکامِ توریت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر ایک فرسنگ طویل ، ایک فرسنگ عریض تھی اُٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سرداروں کے قریب کر دیا اور ان سے کہا گیا کہ احکامِ توریت قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا ۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں کر گر گئے مگر اس طرح کے بایاں رخسارہ و ابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور داہنی آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر نہ پڑے چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔(ف334)عزم و کوشش سے ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳٦) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)
(ف335)حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذُرِّیَّت نکالی ا ور ان سے عہد لیا ۔ آیات و حدیث دونوں پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذُرِّیَّت نکالنا اس سلسلہ کے ساتھ تھا جس طرح کہ دنیا میں ایک دوسرے سے پیدا ہوں گے اور انکے لئے ربوبیت اور وحدانیت کے دلائل قائم فرما کر اور عقل دے کر ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت طلب فرمائی ۔(ف336)اپنے اوپر اور ہم نے تیری ربوبیت اور وحدانیت کا اقرار کیا ، یہ شاہِد کرنا اس لئے ہے ۔(ف337)ہمیں کوئی تنبیہ نہیں کی گئی تھی ۔
یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)
(ف338)جیسا انہیں دیکھا ان کے اِتّباع و اقتداء میں ویسا ہی کرتے رہے ۔(ف339)یہ عذر کرنے کا موقع نہ رہا جب کہ ان سے عہد لے لیا گیا اور ان کے پاس رسول آئے اور انہوں نے اس عہد کو یاد دلایا اور توحید پر دلائل قائم ہوئے ۔
اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳٤۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں (ف۳٤۱)
(ف340)تاکہ بندے تدبُّر و تفکُّر کرکے حق و ا یمان قبول کریں ۔(ف341)شرک و کُفر سے توحید و ا یمان کی طرف اور نبی صاحبِ معجزات کے بتانے سے اپنے عہدِ میثاق کو یاد کریں اور اس کے مطابق عمل کریں ۔
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳٤۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳٤۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،
(ف342)یعنی بلعم باعور جس کا واقعہ مفسِّرین نے اس طرح بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے جبّارین سے جنگ کا قصد کیا اور سر زمینِ شام میں نُزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے وہ یہاں آئے ہیں ہمیں ہمارے بلاد سے نکالیں گے اور قتل کریں گے اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سر زمین میں آباد کریں گے ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تیری دعا قبول ہوتی ہے تو نکل اور اللہ تعالٰی سے دعا کر اللہ تعالٰی انہیں یہاں سے ہٹا دے ۔ بلعم باعور نے کہا تمہارا بُرا ہو حضرت مُوسٰی علیہ السلام نبی ہیں اور ان کے ساتھ فرشتے ہیں اور ا یمان دار لوگ ہیں ، میں کیسے ان پر دعا کروں ؟ میں جانتا ہوں جو اللہ تعالٰی کے نزدیک ان کا مرتبہ ہے اگر میں ایسا کروں تو میری دنیا و آخرت برباد ہو جائے گی مگر قوم اس سے اصرار کرتی رہی اور بہت اِلحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے اپنا یہ سوال جاری رکھا تو بلعم باعور نے کہا کہ میں اپنے ربّ کی مرضی معلوم کر لوں اور اس کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا پہلے مرضی الٰہی معلوم کر لیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا چنانچہ اس مرتبہ بھی اس کو یہی جواب ملا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کے خلاف دعا نہ کرنا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ میں نے اپنے ربّ سے اجازت چاہی تھی مگر میرے ربّ نے ان پر دعا کرنے کی مُمانعت فرما دی تب قوم نے اس کو ہدیئے اور نذرانے دیئے جو اس نے قبول کئے اور قوم نے اپنا سوال جاری رکھا تو پھر دوسری مرتبہ بلعم باعور نے ربّ تبارَک وتعالٰی سے اجازت چاہی اس کا کچھ جواب نہ ملا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہ ملا قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی منع فرماتا اور قوم کا اِلحاح و اصرار اور بھی زیادہ ہوا حتٰی کہ انہوں نے اس کو فتنہ میں ڈال دیا اور آخر کار وہ بددعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھا تو جو بددعا کرتا اللہ تعالٰی اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اس کی زبان پر آتا تھا ۔ قوم نے کہا اے بلعم یہ کیا کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرتا ہے ہمارے لئے بددعا ، کہا یہ میرے اختیار کی بات نہیں ، میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے اور اس کی زبان باہر نکل پڑی تو اس نے اپنی قوم سے کہا میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے ۔(ف343)اور ان کا اِتّباع نہ کیا ۔
اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳٤٤) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳٤۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲٤٦) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،
(ف344)اور بلند درجہ عطا فرما کر اَبرار کی منازِل میں پہنچاتے ۔(ف345)اور دنیا کامَفتوں ہوگیا ۔(ف346)یہ ایک ذلیل جانور کے ساتھ تشبیہ ہے کہ دنیا کی حِرص رکھنے والا اگر اس کو نصیحت کرو تو مفید نہیں , مبتلائے حرص رہتا ہے ، چھوڑ دو تو اسی حرص کا گرفتار ۔ جس طرح زبان نکالنا کُتّے کی لازمی طبیعت ہے ایسی ہی حرص ان کے لئے لازم ہوگئی ہے ۔
اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳٤۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳٤۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳٤۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،
(ف347)یعنی کُفّارجو آیاتِ الٰہیہ میں تدبّر سے اِعراض کرتے ہیں ، ان کا کافِر ہونا اللہ کے علمِ ازلی میں ہے ۔(ف348)یعنی حق سے اعراض کرکے آیاتِ الٰہیہ بھی تدبّر کرنے سے محروم ہوگئے اور یہی دل کا خاص کام تھا ۔(ف349)راہِ حق و ہدایت اور آیاتِ الٰہیہ اور دلائلِ توحید ۔(ف350)موعِظت و نصیحت کو بگوش قبول اور باوجود قلب و حواس رکھنے کے وہ امورِ دین میں ان سے نفع نہیں اٹھاتے لہٰذا ۔(ف351)کہ اپنے قلب و حواس سے مَدارکِ علمیّہ و معارِفِ ربّانیّہ کا اِدراک نہیں کرتے ہیں ۔کھانے پینے کے دُنیوی کاموں میں تمام حیوانات بھی اپنے حواس سے کام لیتے ہیں ، انسان بھی اتنا ہی کرتا رہا تو اس کو بہائِم پر کیا فضیلت ۔(ف352)کیونکہ چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضَرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے اور کافِر جہنّم کی راہ پر چل کر اپنا ضَرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا ۔ آدمی روحانی ، شہوانی ، سماوی ، ارضی ہے جب اس کی روح شہوات پر غالب ہو جاتی ہے تو ملائکہ سے فائِق ہو جاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے ۔
اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵٤) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،
(ف353)حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی کے ننانوے نام جس کسی نے یاد کر لئے جنّتی ہوا ۔ عُلَماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے اِلٰہیہ ننانوے میں منحصَر نہیں ہیں ۔ حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنّتی ہو جاتا ہے ۔ شانِ نُزول : ابو جہل نے کہا تھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دعوٰی تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن دو کو کیوں پکارتے ہیں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اس جاہِل بے خِرَد کو بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں ۔(ف354)اس کے ناموں میں حق و استِقامت سے نکلنا کئی طرح پر ہے ۔ مسائل : ایک تو یہ کہ اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اِطلاق کرنا جیسے کہ مشرکین نے اِلٰہ کا لات اور عزیز کا عُزّٰی اور منان کا منات کر کے اپنے بُتوں کے نام رکھے تھے ، یہ ناموں میں حق سے تجاوز اور ناجائز ہے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے ایسا نام مقرّر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ سخی یا رفیق کہنا کیونکہ اللہ تعالٰی کے اسماء توقیفیہ ہیں ۔ تیسرے حسنِ ادب کی رعائیت کرنا تو فقط یا ضار ، یا مانِع ، یا خالِق القِردۃ کہنا جائز نہیں بلکہ دوسرے اسماء کے ساتھ ملا کر کہا جائے گا یا ضار ، یا نافِع اور یا مُعطی ، یا خالِقَ الخَلق ۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے کوئی ایسا نام مقرّر کیا جائے جس کے معنٰی فاسِد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے جیسے کہ لفظ رام اور پرماتما وغیرہ ۔ پنجم ایسے اسماء کا اطلاق جن کے معنٰی معلوم نہیں ہیں اور یہ نہیں جانا جاسکتا کہ وہ جلالِ الٰہی کے لائق ہیں یا نہیں ۔
اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں (ف۳۵۵)
(ف355)یہ گروہ حق پژوہ عُلَماء اور ہادیانِ دین کا ہے ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ کے اہلِ حق کا اِجماع حُجّت ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی زمانہ حق پرستوں اور دین کے ہادیوں سے خالی نہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک گروہ میری اُمّت کا تا قیامت دینِ حق پر قائم رہے گا اس کو کسی کی عداوت و مخالفت ضَرر نہ پہنچا سکے گی ۔
کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں (ف۳۵۹)
(ف359)شانِ نُزول : جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر چڑھ کرشب کے وقت قبیلہ قبیلہ کو پکارا اور فرمایا کہ میں تمہیں عذابِ الٰہی سے ڈرانے والا ہوں اورآپ نے انہیں اللہ کا خوف دلایا اور پیش آنے والے حوادِث کا ذکر کیا تو ان میں سے کسی نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کیا انہوں نے فِکر و تامُّل سے کام نہ لیا اور عاقِبت اندیشی و دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور یہ دیکھ کر کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اقوال و افعال میں ان کے مخالِف ہیں اور دنیا اور اس کی لذّتوں سے آپ نے مُنہ پھیر لیا ہے ، آخرت کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور اس کا خوف دلانے میں شب و روز مشغول ہیں ۔ ان لوگوں نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کر دی یہ ان کی غلطی ہے ۔
کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳٦۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳٦۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے (ف۳٦۲)
(ف360)ان سب میں اس کی وحدانیت اور کمالِ حکمت و قدرت کی روشن دلیلیں ہیں ۔(ف361)اور وہ کُفر پر مر جائیں اور ہمیشہ کے لئے جہنّمی ہو جائیں ۔ ایسے حال میں عاقِل پر ضروری ہے کہ وہ سوچے سمجھے دلائل پر نظر کرے ۔(ف362)یعنی قرآنِ پاک کے بعد اور کوئی کتاب اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی رسُول آنے والا نہیں جس کا انتظار ہو کیونکہ آپ خاتَم الانبیاء ہیں ۔
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳٦۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳٦٤) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳٦۵)
(ف363)شانِ نُزول : حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف364)قیامت کے وقت کا بتانا رسالت کے لوازم سے نہیں ہے جیسا کہ تم نے قرار دیا اور اے یہود تم نے جو اس کا وقت جاننے کا دعوٰی کیا یہ بھی غلط ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کو مخفی کیا ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے ۔(ف365)اس کے اِخفاء کی حکمت تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ بعض مشائخ اس طرف گئے ہیں کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باِعلا مِ الٰہی وقتِ قیامت کا علم ہے اور یہ حَصر آیت کے مُنافی نہیں ۔
تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳٦٦) مگر جو اللہ چاہے (ف۳٦۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳٦۸) میں تو یہی ڈر (ف۳٦۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
(ف366)شانِ نُزول : غزوۂ بنی مُصطلَق سے واپسی کے وقت راہ میں تیز ہو ا چلی چوپائے بھاگے تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مدینہ طیبہ میں رفاعہ کا انتقال ہوگیا اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو میرا ناقہ کہاں ہے ؟ عبداللہ بن اُبَیٔ منافِق اپنی قوم سے کہنے لگا ان کا کیسا عجیب حال ہے کہ مدینہ میں مرنے والے کی تو خبر دے رہے ہیں اور اپنا ناقہ معلوم ہی نہیں کہ کہاں ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا یہ قول بھی مخفی نہ رہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافِق لوگ ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا ناقہ اس گھاٹی میں ہے اس کی نکیل ایک درخت میں اُلجھ گئی ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا اسی شان سے وہ ناقہ پایا گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ (تفسیر کبیر)(ف367)وہ مالکِ حقیقی ہے جو کچھ ہے اس کی عطا سے ہے ۔(ف368)یہ کلام براہِ ادب و تواضُع ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات سے غیب نہیں جانتا ، جو جانتا ہوں وہ اللہ تعالٰی کی اطلاع اور اس کی عطا سے ۔ (خازن ) حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا بھلائی جمع کرنا اور بُرائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہو سکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہو کیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی ، تو معنٰی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کر لیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔ بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مُطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافِروں کا مؤمن کر لینا ہو اور بُرائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا ، تو حاصلِ کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضَرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافِرین تمہیں سب کو مومِن کر ڈالتا اور تمہاری کُفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی ۔(ف369)سنانے والا ہوں کافِروں کو ۔
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،
(ف370)عِکرمہ کا قول ہے کہ اس آیت میں خِطاب عام ہے ہر ایک شخص کو اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے یعنی اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس کی جِنس سے اس کی بی بی کو بنایا پھر جب وہ دونوں جمع ہوئے اور حمل ظاہر ہوا اور ان دونوں نے تندرست بچہ کی دعا کی اور ایسا بچہ ملنے پر ادائے شکر کا عہد کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا ۔ ان کی حالت یہ ہوئی کہ کبھی تو وہ اس بچہ کو طبائع کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسے دہریوں کا حال ہے ، کبھی ستاروں کی طرف جیسا کواکب پرستوں کا طریقہ ہے ، کبھی بُتوں کی طرف جیسا بُت پرستوں کا دستور ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ ان کے اس شرک سے برتر ہے ۔ (کبیر)(ف371)یعنی اس کے باپ کی جِنس سے اس کی بی بی بنائی ۔(ف372)مرد کا چھانا کنایہ ہے جِماع کرنے سے اور ہلکا سا پیٹ رہنا ابتدائے حمل کی حالت کا بیان ہے ۔
پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)
(ف373)بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں قریش کو خِطاب ہے جو قُصَیْ کی اولاد ہیں ۔ ان سے فرمایا گیا کہ تمہیں ایک شخص قُصَیۡ سے پیدا کیا اور اس کی بی بی اسی کی جِنس سے عرَبی قرَشی کی تاکہ اس سے چین و آرام پائے پھر جب ان کی درخواست کے مطابق انہیں تندرست بچہ عنایت کیا تو انہوں نے اللہ کی اس عطا میں دوسروں کو شریک بنایا اور اپنے چاروں بیٹوں کا نام عبد مُناف ، عبدالعُزّٰی ، عبد قُصَیۡ اور عبدالدار رکھا ۔
اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)
(ف375)اس میں بُتوں کی بے قدری اور بُطلانِ شرک کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اِظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو عابِدکو نفع پہنچانے اور ا س کا ضَرر دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو ۔ مشرکین جن بُتوں کو پُوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجہ کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں ، آپ مخلوق ہیں ، بنانے والے کے محتاج ہیں ، اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتے اور کسی کی کیا مدد کریں خود انہیں ضَرر پہنچے تو دفع نہیں کر سکتے ، کوئی انہیں توڑ دے ، گرا دے جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، ایسے مجبور بے اختیار کو پُوجنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)
(ف380)یہ کچھ بھی نہیں تو پھر اپنے سے کمتر کو پُوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو ۔(ف381)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بُت پرستی کی مَذمّت کی اور بُتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بُتوں کو بُرا کہنے والے تباہ ہو جاتے ہیں ، برباد ہوجاتے ہیں ، یہ بُت انہیں ہلاک کر دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی کہ اگر بُتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پُکارو اور میری نقصان رسانی میں ان سے مدد لو اور تم بھی جو مکر و فریب کر سکتے ہو وہ میرے مقابلہ میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ، مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔
بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۳۸۳)
(ف382)اور میری طرف وحی بھیجی اور میری عزّت کی ۔(ف383)اور ان کا حافِظ وناصِر ہے اس پر بھروسہ رکھنے والوں کو مشرکین وغیرہ کا کیا اندیشہ ، تم اور تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔
اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)
(ف389)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارِجِ نماز ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے ۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں خطبہ سننے کے لئے گوش برآواز ہونے اور خاموش رہنے کا حکم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سُننا اور خاموش رہنا واجب ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قرأت کرتے ہیں تو نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنٰی سمجھو ۔ غرض اس آیت سے قرأت خَلْفَ الْاِمام کی ممانَعت ثابت ہوتی ہے اور کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کو اس کے مقابل حُجّت قرار دیا جا سکے ۔ قرأت خَلۡفَ الاِمام کی تائید میں سب سے زیادہ اعتماد جس حدیث پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ مگر اس حدیث سے قرأت خَلۡفَ الاِمَامِ کا وجوب تو ثابت نہیں ہوتا صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بغیر فاتحہ کے نماز کامِل نہیں ہوتی تو جب کہ حدیث قرأۃُ الامامِؒ لَہ قِرَاء َۃٌ سے ثابت ہے کہ امام کا قرأت کرنا ہی مقتدی کا قرأت کرنا ہے تو جب امام نے قرأت کی اور مقتدی ساکِت رہا تو اس کی قرأت حُکمیہ ہوئی اس کی نماز بے قرأت کہاں رہی ، یہ قرأت حُکمیہ ہے تو امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے سے قرآن و حدیث دونو ں پر عمل ہو جاتا ہے اور قرأت کرنے سے آیت کا اِتّباع ترک ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ وغیرہ کچھ نہ پڑھے ۔
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،
(ف390)اوپر کی آیت کے بعد اس آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف سننے والے کو خاموش رہنا اور بے آواز نکالے دل میں ذکر کرنا یعنی عظمت و جلالِ الٰہی کا استِحضار لازم ہے کذا فی تفسیر ابنِ جریر ۔ اس سے امام کے پیچھے بلند یا پست آواز سے قرأت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور دل میں عظمت و جلالِ حق کا استحضار اور ذکرِ قلبی ہے ۔ مسئلہ : ذکر بالجَہر اور ذکر بالاِخفاء دونوں میں نُصوص وارِد ہیں ، جس شخص کو جس قسم کے ذکر میں ذوق و شوقِ تام و اخلاصِ کامل مَیسّر ہو اس کے لئے وہی افضل ہے کذافی ردّالمحتار وغیرہ ۔(ف391)شام عصر و مغرب کے درمیان کا وقت ہے ان دونوں وقتوں میں ذکر افضل ہے کیونکہ نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور اسی طرح نمازِ عصر کے بعد غروب تک نماز ممنوع ہے اس لئے ان وقتوں میں ذکر مُستحَب ہوا تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں ۔
بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵
(ف392)یعنی ملائکہ مقرّبین ۔(ف393)یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سے ہے ان کے پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ لازم ہو جاتا ہے ۔مُسلم شریف کی حدیث میں ہے جب آدمی آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے اور کہتا ہے افسوس بنی آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا وہ سجدہ کرکے جنّتی ہوا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں انکار کر کے جہنّمی ہو گیا ۔