یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں (ف۲) پھر تفصیل کی گئیں (ف۳) حکمت والے خبردار کی طرف سے ،
(ف2) جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اُحکِمَتْ کے معنی یہ ہیں کہ ان کی نظم مُحکَم و اُستُوار کی گئی اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اس میں نَقص و خلل راہ نہیں پا سکتا وہ بِنائے مُحکَم ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کوئی کتاب ان کی ناسخ نہیں جیسا کہ یہ دوسری کتابوں اور شریعتوں کی ناسخ ہیں ۔(ف3)اور سورت سورت اور آیت آیت جدا جدا ذکر کی گئیں یا علیٰحدہ علیٰحدہ نازِل ہوئیں یا عقائد و احکام و مواعظ و قَصَص اور غیبی خبریں ان میں بہ تفصیل بیان فرمائی گئیں ۔
اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا (فائدہ اٹھانا) دے گا (ف٤) ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے (ف۵) کو اس کا فضل پہنچائے گا (ف٦) اور اگر منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن (ف۷) کے عذاب کا خوف کرتا ہوں،
(ف4)عمرِ دراز اور عیشِ وسیع و رزقِ کثیر ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ توبہ و استِغفار کرنا درازیٔ عمر و کشائشِ رزق کے لئے بہتر عمل ہے ۔(ف5)جس نے دنیا میں اعمالِ فاضلہ کئے ہوں اور اس کے طاعات و حسنات زیادہ ہوں ۔(ف6)اس کو جنّت میں بقدرِ اعمال درجات عطا فرمائے گا ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا آیت کے معنی یہ ہیں کہ جس نے اللہ کے لئے عمل کیا اللہ تعالٰی آئندہ کے لئے اسے عملِ نیک و طاعت کی توفیق دیتا ہے ۔(ف7)یعنی روزِ قیامت ۔
تمہیں اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸) اور وہ ہر شے پر قادر (ف۹)
(ف8)آخرت میں وہاں نیکیوں اور بدیوں کی جزا و سزا ملے گی ۔(ف9)دنیا میں روزی دینے پر بھی ، موت دینے پر بھی ، موت کے بعد زندہ کرنے اور ثواب و عذاب پر بھی ۔
سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے (منہ چھپاتے) ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں (ف۱۰) سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے،
(ف10)شانِ نُزول : ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازِل ہوئی ۔ یہ بہت شیریں گفتار شخص تھا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آتا تو بہت خوشامد کی باتیں کرتا اور دل میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے سینوں میں عداوت چھپائے رکھتے ہیں جیسے کپڑے کی تہ میں کوئی چیز چھپائی جاتی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بعضے منافقین کی عادت تھی کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا ہوتا تو سینہ اور پیٹھ جھکاتے اور سر نیچا کرتے چہرہ چھپا لیتے تاکہ انہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ نہ پائیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ بخاری نے افراد میں ایک حدیث روایت کی کہ مسلمان بول وبراز و مجامَعت کے وقت اپنے بدن کھولنے سے شرماتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی کہ اللہ سے بندے کا کوئی حال چھپا ہی نہیں ہے لہٰذا چاہیئے کہ وہ شریعت کی اجازتوں پر عامل رہے ۔
اور زمین پر چلنے والا کوئی (ف۱۱) ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو (ف۱۲) اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا (ف۱۳) اور کہاں سپرد ہوگا (ف۱٤) سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب (ف۱۵) میں ہے،
(ف11)جاندار ہو ۔(ف12)یعنی وہ اپنے فضل سے ہر جاندار کے رزق کا کفیل ہے ۔(ف13)یعنی اس کے جائے سکونت کو جانتا ہے ۔(ف14)سپرد ہونے کی جگہ سے یا مدفن مراد ہے یا مکان یا موت یا قبر ۔(ف15)یعنی لوحِ محفوظ ۔
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ف۱٦) کہ تمہیں آزمائے (ف۱۷) تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (ف۱۸) تو نہیں مگر کھلا جادو (ف۱۹)
(ف16)یعنی عرش کے نیچے پانی کے سوا اور کوئی مخلوق نہ تھی ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش اور پانی آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے قبل پیدا فرمائے گئے ۔(ف17)یعنی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی کائنات کو پیدا کیا جس میں تمہارے مَنافع و مَصالِح ہیں تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور ظاہر ہو کہ کون شکر گزار ، متقی ، فرمانبردار ہے اور ۔(ف18)یعنی قرآن شریف جس میں مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا بیان ہے یہ ۔(ف19)یعنی باطل اور دھوکا ۔
اور اگر ہم ان سے عذاب (ف۲۰) کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے روکا ہے (ف۲۱) سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا، اور انھیں گھیرے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے
(ف20)جس کا وعدہ کیا ہے ۔(ف21)وہ عذا ب کیوں نازِل نہیں ہوتا کیا دیر ہے ؟ کُفّار کا یہ جلدی کرنا براہِ تکذیب و استہز اء ہے ۔
اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں (ف۲۲) پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے (ف۲۳)
(ف22)صحت و امن کا یا وسعتِ رزق دولت کا ۔(ف23)کہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہو جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے اپنی امید قطع کر لیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے ۔
تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے (ف۲٦) اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو (ف۲۷) اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے،
(ف26)ترمذی نے کہا کہ استِفہام نہی کے معنی میں ہے یعنی آپ کی طرف جو وحی ہوتی ہے وہ سب آپ انہیں پہنچائیں اور دل تنگ نہ ہوں ، یہ تبلیغِ رسالت کی تاکید ہے باوجود یکہ اللہ تعالٰی جانتا ہے کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادائے رسالت میں کمی کرنے والے نہیں اور اس نے ان کو اس سے معصوم فرمایا ہے ۔ اس تاکید میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر بھی ہے اور کُفّار کی مایوسی بھی کہ ان کا استہزاء تبلیغ کے کام میں مُخِل نہیں ہو سکتا ۔ شان نُزول : عبداللہ بن اُمیہ مخزومی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچّے رسول ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادِر ہے تو اس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اتارا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف27)تمہیں کیا پروا اگر کُفّار نہ مانیں یا تَمسخُرکریں ۔
کیا (ف۲۸) یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ (ف۲۹) اور اللہ کے سوا جو مل سکیں (ف۳۰) سب کو بلالو اگر تم سچے ہو (ف۳۱)
(ف28)کُفّارِمکّہ قرآنِ کریم کی نسبت ۔(ف29)کیونکہ انسان اگر ایسا کلام بنا سکتا ہے تو اس کے مثل بنانا تمہارے مقدور سے باہر نہ ہوگا تم بھی عرب ہو ، فصیح و بلیغ ہو کوشش کرو ۔ (ف30)اپنی مدد کے لئے ۔(ف31)اس میں کہ یہ کلام انسان کا بنایا ہوا ہے ۔
تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے (ف۳۲)
(ف32)اور یقین رکھو گے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے یعنی اعجازِ قرآن دیکھ لینے کے بعد ایمان و اسلام پر ثابت رہو ۔
جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو (ف۳۳) ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے (ف۳٤) اور اس میں کمی نہ دیں گے،
(ف33)اور اپنی دُون ہمّتی سے آخرت پر نظر نہ رکھتا ہو ۔(ف34)اور جو اعمال انہوں نے طلبِ دنیا کے لئے کئے ہیں اس کا اجر ، صحت و دولت ، وسعتِ رزق ، کثرتِ اولاد وغیرہ سے دنیا ہی میں پورا کر دیں گے ۔
یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے (ف۳۵)
(ف35)شانِ نُزول : ضحاک نے کہا کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں ہے کہ وہ اگر صِلۂ رحمی کریں یا محتاجوں کو دیں یا کسی پریشان حال کی مددکریں یا اسطرح کہ کوئی اور نیکی کریں تو اللہ تعالٰی وسعتِ رزق وغیرہ سے انکے عمل کی جزاء دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازِل ہوئی جو ثوابِ آخرت کے تو معتقد نہ تھے اور جہادوں میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے شامل ہوتے تھے ۔
تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳٦) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے (ف۳۷) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۸) پیشوا اور رحمت وہ اس پر (ف۳۹) ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں (ف٤۰) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،
(ف36)وہ اس کی مثل ہوسکتا ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہو ایسا نہیں ، ان دونوں میں عظیم فرق ہے ۔ روشن دلیل سے وہ دلیلِ عقلی مراد ہے جو اسلام کی حقانیت پر دلالت کرے اور اس شخص سے جو اپنے ربّ کی طرف سے روشن دلیل پر ہو وہ یہود مراد ہیں جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ۔(ف37)اور اس کی صحت کی گواہی دے یہ گواہ قرآنِ مجید ہے ۔(ف38)یعنی توریت ۔(ف39)یعنی قرآن پر ۔(ف40)خواہ کوئی بھی ہو ں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے اس اُمّت میں جو کوئی بھی ہے یہودی ہو یا نصرانی جس کو بھی میری خبر پہنچے اور وہ میرے دین پر ایمان لائے بغیر مر جائے وہ ضرور جہنّمی ہے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف٤۱) اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (ف٤۲) اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت (ف٤۳)
(ف41)اور اس کے لئے شریک و اولاد بتائے ۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولنا بدترین ظلم ہے ۔(ف42)روزِ قیامت اور ان سے ان کے اعمال دریافت کئے جائیں گے اور انبیاء و ملائکہ ان پر گواہی دیں گے ۔(ف43)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ روزِ قیامت کُفّار اور منافقین کو تمام خَلق کے سامنے کہا جائے گا کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ بولا ، ظالموں پر خدا کی لعنت اس طرح وہ تمام خَلق کے سامنے رسوا کئے جائیں گے ۔
وہ تھکانے والے نہیں زمین میں (ف٤٤) اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی (ف٤۵) انھیں عذاب پر عذاب ہوگا (ف٤٦) وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے (ف٤۷)
(ف44)اللہ کو ، اگر وہ ان پر عذاب کرنا چاہے کیونکہ وہ اس کے قبضہ اور اس کی مِلک میں ہیں نہ اس سے بھاگ سکتے ہیں نہ بچ سکتے ہیں ۔(ف45)کہ ان کی مدد کریں اور انہیں اس کے عذاب سے بچائیں ۔ (ف46)کیونکہ انہوں نے لوگوں کو راہِ خدا سے روکا اور مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار کیا ۔(ف47)قتادہ نے کہا کہ وہ حق سننے سے بہرے ہو گئے تو کوئی خیر کی بات سن کر نفع نہیں اٹھاتے اور نہ وہ آیاتِ قدرت کو دیکھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
دونوں فریق (ف٤۹) کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا (ف۵۰) کيا ان دونوں حال کا ايک سا ہے (ف۱۵) تو کياتم دہيان نہيں کرتے
(ف49)یعنی کافِر اور مومن ۔(ف50)کافِر اس کی مثل ہے جو نہ دیکھے نہ سنے یہ ناقِص ہے اور مومن اس کی مثل ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے وہ کامل ہے حق و باطل میں امتیاز رکھتا ہے ۔(ف51)ہرگز نہیں ۔
کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف۵۳)
(ف53)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام چالیس سال کے بعد مبعوث ہوئے اور نو سو پچاس سال اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی ، اس کے علاوہ عمر شریف کے متعلق اور بھی قول ہیں ۔ (خازن)
تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (ف۵٤) اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے (ف۵۵) سرسری نظر سے (ف۵٦) اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے (ف۵۷) بلکہ ہم تمہیں (ف۵۸) جھوٹا خیال کرتے ہیں،
(ف54)اس گمراہی میں بہت سی اُمّتیں مبتلا ہو کر اسلام سے محروم رہیں ، قرآنِ پاک میں جا بجا ان کے تذکرے ہیں ۔ اس اُمّت میں بھی بہت سے بد نصیب سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بشر کہتے اور ہمسری کا خیالِ فاسد رکھتے ہیں اللہ تعالٰی انہیں گمراہی سے بچائے ۔(ف55)کمینوں سے مراد ان کی وہ لوگ تھے جو ان کی نظر میں خسیس پیشے رکھتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ قول جہلِ خالص تھا کیونکہ انسان کا مرتبہ دین کے اِتّباع اور رسول کی فرمانبرداری سے ہے ، مال و منصب و پیشے کو اس میں دخل نہیں ۔ دیندار ، نیک سیرت پیشہ ور کو نظرِ حقارت سے دیکھنا اور حقیر جاننا جاہلانہ فعل ہے ۔(ف56)یعنی بغیر غور و فکر کے ۔(ف57)مال اور ریاست میں ۔ ان کا یہ قول بھی جہل تھا کیونکہ اللہ کے نزدیک بندے کے لئے ایمان و طاعت سببِ فضیلت ہے نہ کہ مال و ریاست ۔(ف58)نبوّت کے دعوٰی میں اور تمہارے مُتّبِعین کو اس کی تصدیق میں ۔
بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں (ف۵۹) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف٦۰) تو تم اس سے اندھے رہے، کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ (چپکا) دیں اور تم بیزار ہو (ف٦۱)
(ف59)جو میرے دعوٰی کے صدق پر گواہ ہو ۔(ف60)یعنی نبوّت عطا کی ۔(ف61)اور اس حُجّت کو ناپسند رکھتے ہو ۔
اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر (ف٦۲) مال نہیں مانگتا (ف٦۳) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف٦٤) بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (ف٦۵) لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پاتا ہوں (ف٦٦)
(ف62)یعنی تبلیغِ رسالت پر ۔(ف63)کہ تم پر اس کا ادا کرنا گِراں ہو ۔(ف64)یہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کی اس بات کے جواب میں فرمایا تھا جو وہ لوگ کہتے تھے کہ اے نوح رذیل لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہمیں آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے شرم نہ آئے ۔(ف65)اور اس کے قرب سے فائز ہوں گے تو میں انہیں کیسے نکال دوں ۔(ف66)ایمانداروں کو رذیل کہتے ہو اور ان کی قدر نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں ۔
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف٦۷) اور میں انھیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انھیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے (ف٦۸) ایسا کروں (ف٦۹) تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں (ف۷۰)
(ف67)حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی قوم نے آپ کی نبوّت میں تین شبہے کئے تھے ۔ ایک شبہہ تو یہ ہے کہ مَانَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ کہ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے یعنی تم مال و دولت میں ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات نے فرمایا لَآ اقُوْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللہ یعنی میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں تو تمہارا یہ اعتراض بالکل بے محل ہے ، میں نے کبھی مال کی فضیلت نہیں جتائی اور دنیوی دولت کا تم کو متوقِّع نہیں کیا اور اپنی دعوت کو مال کے ساتھ وابستہ نہیں کیا پھر تم یہ کہنے کے کیسے مستحق ہو کہ ہم تم میں کوئی مالی فضیلت نہیں پاتے اور تمہارا یہ اعتراض مَحض بے ہودہ ہے ۔ دوسرا شبہہ قومِ نوح نے یہ کیا تھا۔ مَانَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ یعنی ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری کسی نے پیروی کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے ۔ سرسری نظر سے مطلب یہ تھا کہ وہ بھی صرف ظاہر میں مومن ہیں باطن میں نہیں ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ میں غیب جانتا ہوں تو میرے احکام غیب پر مبنی ہیں تاکہ تمہیں یہ اعتراض کرنے کا موقع ہوتا جب میں نے یہ کہا ہی نہیں تو اعتراض بے محل ہے اور شرع میں ظاہر ہی کا اعتبار ہے لہٰذا تمہارا اعتراض بالکل بے جا ہے نیز لَااَعْلَمُ الْغَیْبَ فرمانے میں قوم پر ایک لطیف تعریض بھی ہے کہ کسی کے باطن پر حکم کرنا اس کا کام ہے جو غیب کا علم رکھتا ہو میں نے تو اس کا دعوٰی نہیں کیا باوجودیکہ نبی ہوں تم کس طرح کہتے ہو کہ وہ دل سے ایمان نہیں لائے ۔ تیسرا شبہہ اس قوم کا یہ تھا کہ مَانَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا یعنی ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں یعنی میں نے اپنی دعوت کو اپنے فرشتہ ہونے پر موقوف نہیں کیا تھا کہ تمہیں یہ اعتراض کا موقع ملتا کہ جتاتے تو تھے وہ اپنے آپ کو فرشتہ اور تھے بشر لہٰذا تمہارا یہ اعتراض بھی باطل ہے ۔(ف68)نیکی یا بدی اخلاص یا نفاق ۔(ف69)یعنی اگر میں ان کے ایمانِ ظاہر کو جھٹلا کر ان کے باطن پر الزام لگاؤں اور انہیں نکال دوں ۔(ف70)اور بحمدِ اللہ میں ظالموں میں سے ہر گز نہیں ہوں تو ایسا کبھی نہ کروں گا ۔
کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا (ف۷٤) تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے (ف۷۵) اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،
(ف74)اور اس طرح خدا کے کلام اور اس کے احکام ماننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے رسول پر بہتان اٹھاتے ہیں اور ان کی طرف افتراء کی نسبت کرتے ہیں جن کا صدق براہینِ بیِّنہ اور حُجّتِ قویّہ سے ثابت ہو چکا ہے لہٰذا اب ان سے ۔(ف75)ضرور اس کا وبال آئے گا لیکن بحمدِ اللہ میں صادق ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہاری تکذیب کا وبال تم پر پڑے گا ۔
اور کشتی بناؤ ہمارے سامنے (ف۷۷) اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۷۸) وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے (ف۷۹)
(ف77)ہماری حفاظت میں ہماری تعلیم سے ۔(ف78)یعنی ان کی شفاعت اور دفعِ عذاب کی دعا نہ کرنا کیونکہ ان کا غرق مقدر ہو چکا ہے ۔(ف79)حدیث شریف میں ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بحکمِ الٰہی سال کے درخت بوئے ، بیس سال میں یہ درخت تیار ہوئے ، اس عرصہ میں مطلقاً کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ، اس سے پہلے جو بچّے پیدا ہو چکے تھے وہ بالغ ہوگئے اور انہوں نے بھی حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کشتی بنانے میں مشغول ہوئے ۔
اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے (ف۸۰) بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے (ف۸۱) جیسا تم ہنستے ہو (ف۸۲)
(ف80)اور کہتے اے نوح کیا کرتے ہو ، آپ فرماتے ایسا مکان بناتا ہوں جو پانی پر چلے یہ سن کر ہنستے کیونکہ آپ کشتی جنگل میں بناتے تھے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا اور وہ لوگ تَمسخُر سے یہ بھی کہتے تھے کہ پہلے تو آپ نبی تھے اب بڑھئی ہوگئے ۔(ف81)تمہیں ہلاک ہوتا دیکھ کر ۔(ف82)کشتی دیکھ کر ۔ مروی ہے کہ یہ کشتی دو سال میں تیار ہوئی ، اس کی لمبائی تین سو گز ، چوڑائی پچاس گز ، اُونچائی تیس گز تھی (اس میں اور بھی اقوال ہیں) اس کشتی میں تین درجہ بنائے گئے تھے ۔ طبقۂ زیریں میں وحوش اور درندے اور ہَوَامّ اور درمیانی طبقے میں چوپائے وغیرہ اور طبقۂ اعلٰی میں خود حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھی اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسدِ مبارک جو عورتوں اور مردوں کے درمیان حائل تھا اور کھانے وغیرہ کا سامان تھا ، پرندے بھی اوپر ہی کے طبقہ میں تھے ۔ (خازن ومدارک وغیرہ)
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا (ف۸۵) اور تنور اُبلا (ف۸٦) ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے (ف۸۷) ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے (ف۸۸)
(ف85)عذاب و ہلاک کا ۔(ف86)اور پانی نے اس میں سے جوش مارا ۔ تنور سے یا روئے زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے ۔ اس میں بھی چند قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ تنور پتّھر کا تھا حضرت حوّا کا جو آپ کو ترکہ میں پہنچا تھا اور وہ یا شام میں تھا یا ہند میں اور تنور کا جوش مارنا عذاب آنے کی علامت تھی ۔(ف87)یعنی ان کے ہلاک کا حکم ہو چکا ہے اور ان سے مراد آپ کی بی بی واعلہ جو ایمان نہ لائی تھی اور آپ کا بیٹا کنعان ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان سب کو سوار کیا ، جانور آپ کے پاس آتے تھے اور آپ کا داہنا ہاتھ نر پر اور بایاں مادہ پر پڑتا تھا اور آپ سوار کرتے جاتے تھے ۔(ف88)مقاتل نے کہا کہ کل مرد و عورت بہتر ۷۲ تھے اور اس میں اور اقوال بھی ہیں ۔ صحیح تعداد اللہ جانتا ہے ، ان کی تعداد کسی صحیح حدیث میں وارِد نہیں ہے ۔
اور بولا اس میں سوار ہو (ف۸۹) اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (ف۹۰) بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے ،
(ف89)یہ کہتے ہوئے کہ ۔(ف90)اس میں تعلیم ہے کہ بندے کو چاہیئے جب کوئی کام کرنا چاہے تو اس کو بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے تاکہ اس کام میں برکت ہو اور وہ سببِ فلاح ہو ۔ ضحاک نے کہا کہ جب حضرت نوح علیہ السلام چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ فرماتے تھے ، کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ ٹھہر جائے بسم اللہ فرماتے تھے ٹھہر جاتی تھی ۔
اور وہی انھیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ (ف۹۱) اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا (ف۹۲) اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو (ف۹۳)
(ف91)چالیس شب و روز آسمان سے مِینہ برستا رہا اور زمین سے پانی ابلتا رہا یہاں تک کہ تمام پہاڑ غرق ہو گئے ۔(ف92)یعنی حضرت نوح علیہ السلام سے جدا تھا آپ کے ساتھ سوار نہ ہوا تھا ۔(ف93)کہ ہلاک ہو جائے گا ۔ یہ لڑکا منافق تھا ، اپنے والد پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا اور باطن میں کافِروں کے ساتھ متفق تھا ۔ (حسینی)
بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا، کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا (ف۹٤)
(ف94)جب طوفان اپنی نہایت پر پہنچا اور کُفّار غرق ہو چکے تو حکمِ الٰہی آیا ۔
اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی (ف۹۵) کوہ ِ جودی پر ٹھہری (ف۹٦) اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ،
(ف95)چھ مہینے تمام زمین کا طواف کر کے ۔(ف96)جو موصل یا شام کے حدود میں واقع ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں دسویں رَجَب کو بیٹھے اور دسویں مُحرّم کو کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری تو آپ نے اس کے شکر کا روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی روزے کا حکم فرمایا ۔
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے (ف۹۷) اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حکم والا (ف۹۸)
(ف97)اور تو نے مجھ سے میرے اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے ۔(ف98)تو اس میں کیا حکمت ہے ۔ شیخ ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بیٹا کنعان منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مؤمن ظاہر کرتا تھا اگر وہ اپنا کُفر ظاہر کر دیتا تو آپ اللہ تعالٰی سے اس کے نجات کی دعا نہ کرتے ۔ (مدارک)
فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (ف۹۹) بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں (ف۱۰۰) میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،
(ف99)اس سے ثابت ہوا کہ نسبی قرابت سے دینی قرابت زیادہ قوی ہے ۔(ف100)کہ وہ مانگنے کے قابل ہے یا نہیں ۔
فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ (ف۱۰۱) جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر (ف۱۰۲) اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے (ف۱۰۳) پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (ف۱۰٤)
(ف101)ان برکتوں سے آپ کی ذُرِّیّت اور آپ کے مُتّبِعین کی کثرت مراد ہے کہ بکثرت انبیاء اور ائمۂ دین آپ کی نسلِ پاک سے ہوئے ان کی نسبت فرمایا کہ یہ برکات ۔(ف102)محمد بن کعب قُرظی نے کہا کہ ان گروہوں میں قیامت تک ہونے والا ہر ایک مومن داخل ہے ۔(ف103)اس سے حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بعد پیدا ہونے والے کافِر گروہ مراد ہیں جنہیں اللہ تعالٰی ان کی میعادوں تک فراخیٔ عیش اور وسعتِ رزق عطا فرمائے گا ۔(ف104)آخرت میں ۔
یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (ف۱۰۵) انھیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس (ف۱۰٦) سے پہلے، تو صبر کرو (ف۱۰۷) بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا (ف۱۰۸)
(ف105)یہ خِطاب سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا ۔(ف106)خبر دینے ۔(ف107)اپنی قوم کی ایذاؤں پر جیسا کہ نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا ۔(ف108)کہ دنیا میں مظفر و منصور اور آخرت میں مُثاب و ماجور ۔
اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (ف۱۰۹) کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (ف۱۱۱)
(ف109)نبی بنا کر بھیجا ۔ حضرت ہو د علیہ السلام کو اخ باعتبارِ نسب فرمایا گیا اسی لئے حضرت مُترجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے اس لفظ کا ترجمہ ہم قوم کیا ۔ اَعْلَی اللہ مُقَامَہ ۔(ف110)اس کی توحید کے معتقِد رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔(ف111)جوبُتوں کو خدا کا شریک بناتے ہو ۔
اے قوم! میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا (ف۱۱۲) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۱۳)
(ف112)جتنے رسول تشریف لائے سب نے اپنی قوموں سے یہی فرمایا اور نصیحتِ خالصہ وہی ہے جو کسی طمع سے نہ ہو ۔(ف113)اتنا سمجھ سکو کہ جو مَحض بے غرض نصیحت کرتا ہے وہ یقیناً خیر خواہ اور سچا ہے ۔ باطل کار جو کسی کو گمراہ کرتا ہے ضرور کسی نہ کسی غرض اور کسی نہ کسی مقصد سے کرتا ہے ۔ اس سے حق و باطل میں بہ آسانی تمیز کی جا سکتی ہے ۔
اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو (ف۱۱٤) پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا (ف۱۱۵) اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (ف۱۱٦)
(ف114)ایمان لا کر جب قومِ عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت قبول نہ کی تو اللہ تعالٰی نے ان کے کُفر کے سبب تین سال تک بارش موقوف کر دی اور نہایت شدید قحط نمودار ہوا اور ان کی عورتوں کوبانجھ کر دیا جب یہ لوگ بہت پریشان ہوئے تو حضرت ہود علیہ الصلٰوۃ و السلام نے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسول کی تصدیق کریں اور اس کے حضور توبہ و استِغفار کریں تو اللہ تعالٰی بارش بھیجے گا اور ان کی زمینوں کو سرسبز و شاداب کرکے تازہ زندگی عطا فرمائے گا اور قوّت و اولاد دے گا ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ امیرِ معاویہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ سے امیرِ معاویہ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے کوئی اولاد نہیں مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ مجھے اولاد دے ۔ آپ نے فرمایا استِغفار پڑھا کرو ، اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ استِغفار پڑھنے لگا اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے ۔ یہ خبر حضرت معاویہ کو ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت امام سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل حضور نے کہاں سے فرمایا ۔ دوسری مرتبہ جب اس شخص کو امام سے نیاز حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا ، امام نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود کا قول نہیں سنا جو انہوں نے فرمایا یَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلیٰ قُوَّتِکُمْ اور حضرت نوح علیہ السلام کا یہ ارشاد یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ فائدہ : کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے استِغفار کا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے ۔(ف115)مال و اولاد کے ساتھ ۔(ف116)میری د عوت سے ۔
بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے (ف۱۱۷) اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں،
(ف117)جو تمہارے دعوے کے صحت پر دلالت کرتی اور یہ بات انہوں نے بالکل غلط اور جھوٹ کہی تھی ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں جو معجزات دکھائے تھے ان سب سے مکر گئے ۔
ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی (ف۱۱۸) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،
(ف118)یعنی تم جو بُتوں کو برا کہتے ہو اس لئے انہوں نے تمہیں دیوانہ کر دیا ۔ مراد یہ ہے کہ اب جو کچھ کہتے ہو یہ دیوانگی کی باتیں ہیں ۔ ( معاذ اللہ )
تم سب مل کر میرا برا چاہو (ف۱۱۹) پھر مجھے مہلت نہ دو (ف۱۲۰)
(ف119)یعنی تم اور وہ جنہیں تم مبعود سمجھتے ہو سب مل کر مجھے ضرَر پہنچانے کی کوشش کرو ۔(ف120)مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی اور تمہاری مکاریوں کی کچھ پروا نہیں اور مجھے تمہاری شوکت و قوّت سے کچھ اندیشہ نہیں ، جن کو تم معبود کہتے ہو وہ جماد و بے جان ہیں نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرَر ، ان کی کیا حقیقت کہ وہ مجھے دیوانہ کر سکتے ۔ یہ حضرت ہود علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ آپ نے ایک زبردست جبّار ، صاحبِ قوت و شوکت قوم سے جو آ پ کے خون کی پیاسی اور جان کی دشمن تھی اس طرح کے کلمات فرمائے اور اصلًا خوف نہ کیا اور وہ قوم باوجود انتہائی عداوت اور دشمنی کے آپ کو ضرَر پہنچانے سے عاجز رہی ۔
میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں (ف۱۲۱) جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو (ف۱۲۲) بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے،
(ف121)اسی میں بنی آدم اور حیوان سب آ گئے ۔(ف122)یعنی وہ سب کا مالک ہے اور سب پر غالب اور قادِر و متصرِّف ہے ۔
پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا (ف۱۲۳) اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا (ف۱۲٤) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے (ف۱۲۵) بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے (ف۱۲٦)
(ف123)اور حُجّت ثابت ہو چکی ۔(ف124)یعنی اگر تم نے ایمان سے اعراض کیا اور جو احکام میں تمہاری طرف لایا ہوں انہیں قبول نہ کیا تو اللہ تمہیں ہلاک کرے گا اور بجائے تمہارے ایک دوسری قوم کو تمہارے دِیار و اَموال کا والی بنائے گا جو اس کی توحید کے معتقِد ہوں اور اس کی عبادت کریں ۔(ف125)کیونکہ وہ اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی ضرَر پہنچ سکے لہٰذا تمہارے اِعراض کا جو ضرَر ہے وہ تمہیں کو پہنچے گا ۔(ف126)اور کسی کا قول فعل اس سے مخفی نہیں ۔ جب قومِ ہود نصیحت پذیر نہ ہوئی تو بارگاہِ قدیرِ برحق سے ان کے عذاب کا حکم نافذ ہوا ۔
اور یہ عاد ہیں (ف۱۳۰) کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے ،
(ف130)یہ خِطاب ہے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کو اور تِلْکَ اشارہ ہے قومِ عاد کی قُبور و آثار کی طرف ۔ مقصد یہ ہے کہ زمین میں چلو ، انہیں دیکھو اور عبرت حاصل کرو ۔
اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو (ف۱۳۱) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۳۲) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۳۳) اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا (ف۱۳٤) اور اس میں تمہیں بسایا (ف۱۳۵) تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا،
(ف131)بھیجا تو حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان سے ۔(ف132)اور اس کی وحدانیت مانو ۔(ف133)صرف وہی مستحقِ عبادت ہے کیونکہ ۔(ف134)تمہارے جد حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس سے پیدا کر کے اور تمہاری نسل کی اصل نُطفوں کے مادوں کو اس سے بنا کر ۔(ف135)اور زمین کو تم سے آباد کیا ۔ ضحاک نے اِسْتَعْمَرَکُمْ کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ تمہیں طویل عمریں دیں حتی کہ ان کی عمریں تین سو برس سے لے کر ہزار برس تک ہوئیں ۔
بولے اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے (ف۱۳٦) کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
(ف136)اور ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے سردار بنو گے کیونکہ آپ کمزوروں کی مدد کرتے تھے ، فقیروں پر سخاوت فرماتے تھے جب آپ نے توحید کی دعوت دی اور بُتوں کی برائیاں بیان کیں تو قوم کی امیدیں آپ سے منقطع ہوگئیں اور کہنے لگے ۔
بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۱۳۷) تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں (ف۱۳۸) تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے (ف۱۳۹)
(ف137)حکمت و نبوّت عطا کی ۔ (ف138)رسالت کی تبلیغ اور بُت پرستی سے روکنے میں ۔(ف139)یعنی مجھے تمہارے خسارے کا تجرِبہ اور زیادہ ہوگا ۔
اور اے میری قوم! یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا (ف۱٤۰)
(ف140)قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے معجِزہ طلب کیا تھا ( جس کا بیان سورۂ اعراف میں ہوچکا ہے) آپ نے اللہ تعالٰی سے دعا کی تو پتھر سے بحکمِ الٰہی ناقہ (اونٹنی) پیدا ہوا ۔ یہ ناقہ ان کے لئے آیت و معجِزہ تھا ۔ اس آیت میں اس ناقہ کے متعلق احکام ارشاد فرمائے گئے کہ اسے زمین میں چرنے دو اور کوئی آزار نہ پہنچاؤ ورنہ دنیا ہی میں گرفتارِ عذاب ہو گے اور مہلت نہ پاؤ گے ۔
تو انہوں نے (ف۱٤۱) اس کی کونچیں کاٹیں تو صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور برت لو (فائدہ اٹھالو) (ف۱٤۲) یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا (ف۱٤۳)
(ف141)حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور چہار شنبہ کو ۔(ف142)یعنی جمعہ تک جو کچھ دنیا کا عیش کرنا ہے کر لو ، شنبہ کو تم پر عذاب آئے گا ۔ پہلے روز تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز یعنی جمعہ کو سیاہ اور شنبہ کو عذاب نازِل ہوگا ۔ (ف143)چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔
اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (ف۱٤٦) مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا (ف۱٤۷) کہا سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے (ف۱٤۸)
(ف146)سادہ رو نوجوانوں کی حسین شکلوں میں حضرت اسحق ، حضرت یعقوب علیہما السلام کی پیدائش کا ۔(ف147)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔(ف148)مفسِّرین نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات بہت ہی مہمان نواز تھے بغیر مہمان کے کھانا تناول نہ فرماتے ۔ اس وقت ایسا اتفاق ہوا کہ پندرہ روز سے کوئی مہمان نہ آیا تھا آپ اس غم میں تھے ، ان مہمانوں کو دیکھتے ہی آ پ نے ان کے لئے کھانا لانے میں جلدی فرمائی چونکہ آ پ کے یہاں گائے بکثرت تھیں اس لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت سامنے لایا گیا ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کے دستر خوان پر زیادہ آتا تھا اور آپ اس کو پسند فرماتے تھے ، گائے کا گوشت کھانے والے اگر سنّتِ ابراہیم ادا کرنے کی نیت کریں تو مزید ثواب پائیں ۔
پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا، بولے ڈریے نہیں ہم قوم لوط کی طرف (ف۱٤۹) بھیجے گئے ہیں،
اور اس کی بی بی (ف۱۵۰) کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے (ف۱۵۱) اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے (ف۱۵۲) یعقوب کی (ف۱۵۳)
(ف150)حضرت سارہ پسِ پردہ ۔(ف151)اس کے فرزند ۔(ف152)حضرت اسحٰق کے فرزند ۔(ف153)حضرت سارہ کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مردوں سے زیادہ ہوتی ہے اور نیز یہ بھی سبب تھا کہ حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام موجود تھے ۔ اس بشارت کے ضمن میں ایک بشارت یہ بھی تھی کہ حضرت سارہ کی عمر اتنی دراز ہو گی کہ وہ پوتے کو بھی دیکھیں گی ۔
فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو! بیشک (ف۱۵٦) وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا،
(ف156)فرشتوں کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے لئے کیا جائے تعجب ہے ، تم اس گھر میں ہو جو معجزات اور خوارقِ عادات اور اللہ تعالٰی کی رحمتوں اور برکتوں کا مورَد بنا ہوا ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ بیبیاں اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔
پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا، (ف۱۵۷)
(ف157)یعنی کلام و سوال کرنے لگا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا مجادَلہ یہ تھا کہ آپ نے فرشتوں سے فرمایا کہ قومِ لوط کی بستیوں میں اگر پچاس ایماندار ہوں تو بھی انہیں ہلاک کرو گے ، فرشتوں نے کہا نہیں فرمایا اگر چالیس ہوں انہوں نے کہا جب بھی نہیں ، آپ نے فرمایا اگر تیس ہوں انہوں نے کہا جب بھی نہیں ، آپ اس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب ہلاک کر دو گے انہوں نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اس میں لوط علیہ السلام ہیں اس پر فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں ، ہم لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو بچائیں گے سوائے ان کی عورت کے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کُفر و معاصی سے باز آنے کے لئے ایک فرصت اور مل جائے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی صفت میں ارشاد ہوتا ہے ۔
اور جب لوط کے یہاں ہمارے فرشتے آئے (ف۱۵۹) اسے ان کا غم ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے (ف۱٦۰)
(ف159)حسین صورتوں میں اور حضرت لوط علیہ السلام نے ان کی ہیئت اور جمال کو دیکھا تو قوم کی خباثت و بد عملی کا خیال کر کے ۔(ف160)مروی ہے کہ ملائکہ کو حکمِ الٰہی یہ تھا کہ وہ قومِ لوط کو اس وقت تک ہلاک نہ کریں جب تک کہ حضرت لوط علیہ السلام خود اس قوم کی بدعملی پر چار مرتبہ گواہی نہ دیں چنانچہ جب یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام سے ملے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بستی والوں کا حال معلوم نہ تھا ، فرشتوں نے کہا ان کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ عمل کے اعتبار سے روئے زمین پر یہ بدترین بستی ہے اور یہ بات آپ نے چار مرتبہ فرمائی ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی عورت جو کافِرہ تھی نکلی اور اس نے اپنی قوم کو جا کر خبر دی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے یہاں ایسے خوبرو اور حسین مہمان آئے ہیں جن کی مثل اب تک کوئی شخص نظر نہیں آیا ۔
اور اس کے پاس کی قوم دوڑتی آئی، اور انھیں آگے ہی سے برے کاموں کی عادت پڑی تھی (ف۱٦۱) کہا اے قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۱٦۲) اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں،
(ف161)اور کچھ شرم و حیا باقی نہ رہی تھی ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ۔(ف162)اور اپنی بیبیوں سے تمتُّع کرو کہ یہ تمہارے لئے حلال ہے ۔ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان کی عورتوں کو جو قوم کی بیٹیاں تھیں بزرگانہ شفقت سے اپنی بیٹیاں فرمایا تاکہ اس حسنِ اخلاق سے وہ فائدہ اٹھائیں اور حمیّت سیکھیں ۔
بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا (ف۱٦٤)
(ف164)یعنی مجھے اگر تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا ایسا قبیلہ رکھتا جو میری مدد کرتا تو تم سے مقابلہ و مقاتلہ کرتا ۔ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے مکان کا دروازہ بند کر لیا تھا اور اندر سے یہ گفتگو فرمارہے تھے ، قوم نے چاہا کہ دیوار توڑے فرشتوں نے آپ کا رنج و اضطراب دیکھا تو ۔
فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں (ف۱٦۵) وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے (ف۱٦٦) تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے (ف۱٦۷) سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انھیں پہنچے گا (ف۱٦۸) بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے (ف۱٦۹) کیا صبح قریب نہیں،
(ف165)تمہارا پایہ مضبوط ہے ، ہم ان لوگوں کو عذاب کرنے کے لئے آئے ہیں تم دروازہ کھول دو اور ہمیں اور انہیں چھوڑ دو ۔(ف166)اور تمہیں کچھ ضرَر نہیں پہنچا سکتے ۔ حضرت نے دروازہ کھول دیا ، قوم کے لوگ مکان میں گھس آئے ۔ حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی اپنا بازو ان کے مُنھ پر مارا ، سب اندھے ہو گئے اور حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام کے مکان سے نکل کر بھاگے ، انہیں راستہ نظر نہیں آتا تھا اور یہ کہتے جاتے تھے ہائے ہائے لوط کے گھر میں بڑے جادوگر ہیں ، انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ۔ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا ۔(ف167)اس طرح آپ کے گھر کے تمام لوگ چلے جائیں ۔(ف168)حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام نے کہا یہ عذاب کب ہوگا ، حضرت جبریل نے کہا ۔(ف169)حضرت لوط علیہ الصلٰو ۃ و السلام نے کہا کہ میں تو اس سے جلدی چاہتا ہوں ، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا ۔
پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا (ف۱۷۰) اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے،
(ف170)یعنی اُلٹ دیا اس طرح کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے قومِ لوط کے شہر جس طبقہ زمین میں تھے اس کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور ان پانچوں شہروں کو جن میں سب سے بڑا سد وم تھا اور ان میں چار لاکھ آدمی بستے تھے اتنا اونچا اٹھایا کہ وہاں کے کتّوں اور مرغوں کی آوازیں آسمان پر پہنچنے لگیں اور اس آہستگی سے اٹھایا کہ کسی برتن کا پانی نہ گرا اور کوئی سونے والا بیدار نہ ہوا پھر اس بلندی سے اس کو اوندھا کر کے پلٹا ۔
جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں (ف۱۷۱) اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں (ف۱۷۲)
(ف171)ان پتھروں پر ایسا نشان تھا جس سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے ۔ قتادہ نے کہا کہ ان پر سُرخ خطوط تھے ۔ حسن و سدی کا قول ہے کہ ان پر مُہریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ جس پتھر سے جس شخص کی ہلاکت منظور تھی اس کا نام اس پتھر پر لکھا تھا ۔(ف172)یعنی اہلِ مکّہ سے ۔
اور (ف۱۷۳) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو (ف۱۷٤) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۷۵) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں (ف۱۷٦) اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے (ف۱۷۷)
(ف173)ہم نے بھیجاباشندگانِ شہر ۔(ف174)آپ نے اپنی قوم سے ۔(ف175)پہلے تو آپ نے توحید و عبادت کی ہدایت فرمائی کہ وہ تمام اُمور میں سب سے اہم ہے اس کے بعد جن عاداتِ قبیحہ میں وہ مبتلا تھے اس سے منع فرمایا اور ارشاد کیا ۔(ف176)ایسے حال میں آدمی کو چاہیئے کہ نعمت کی شکر گزاری کرے اور دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائے نہ کہ ان کے حقوق میں کمی کرے ۔ ایسی حالت میں اس خیانت کی عادت سے اندیشہ ہے کہ کہیں اس عادت سے محروم نہ کر دیئے جاؤ ۔(ف177)کہ جس سے کسی کو رہائی مُیسَّر نہ ہو اور سب کے سب ہلاک ہو جائیں ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن کے عذاب سے عذابِ آخرت مراد ہو ۔
اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو (ف۱۷۸) اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں (ف۱۷۹)
(ف178)یعنی مالِ حرام ترک کرنے کے بعد حلال جس قدر بھی بچے وہی تمہارے لئے بہتر ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پورا تولنے اور ناپنے کے بعد جو بچے وہ بہتر ہے ۔(ف179)کہ تمہارے افعال پر دارو گیر کروں ۔ عُلَماء نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاء کو حرب کی اجازت تھی جیسے حضرت موسٰی ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان علیہم السلام و غیرہم ۔ بعض وہ تھے جنہیں حرب کا حکم نہ تھا حضرت شعیب علیہ السلام انہیں میں سے ہیں ، تمام دن وعظ فرماتے اور شب تمام نماز میں گزارتے ، قوم آپ سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ ؟ آپ فرماتے نماز خوبیوں کا حکم دیتی ہے برائیوں سے منع کرتی ہے تو اس پر وہ تَمسخُر سے یہ کہتے جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
بولے اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں (ف۱۸۰) یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں (ف۱۸۱) ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو،
(ف180)بُت پرستی نہ کریں ۔(ف181)مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے مال کے مختار ہیں چاہے کم ناپیں چاہے کم تولیں ۔
کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں (ف۱۸۲) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی (ف۱۸۳) اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں (ف۱۸٤) میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں،
(ف182)بصیر ت و ہدایت پر ۔(ف183)یعنی نبوّت و رسالت یا مالِ حلال اور ہدایت و معرفت ۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں بُت پرستی اور گناہوں سے منع نہ کروں کیونکہ انبیاء اسی لئے بھیجے جاتے ہیں ۔(ف184)امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے حلیم و رشید ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا یہ کلام استہزاء نہ تھا بلکہ مُدّعا یہ تھا آپ باوجودِ حلم و کمالِ عقل کے ہم کو اپنے مال میں اپنے حسبِ مرضی تصرُّف کرنے سے کیوں منع فرماتے ہیں ؟ اس کا جواب جو حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم میرے کمالِ عقل کے معترِف ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے اپنے لئے جو بات پسند کی ہے وہ وہی ہو گی جو س0ب سے بہتر ہو اور وہ خدا کی توحید اور ناپ تول میں ترکِ خیانت ہے ، میں اس کا پابندی سے عامل ہوں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ یہی طریقہ بہتر ہے ۔
اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر، اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں (ف۱۸۵)
(ف185)انہیں کچھ زیادہ زمانہ نہیں گزرا ہے نہ وہ کچھ دور کے رہنے والے تھے تو ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ۔
بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں (ف۱۸٦) اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا (ف۱۸۷) تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،
(ف186)کہ اگر ہم آپ کے ساتھ کچھ زیادتی کریں تو آپ میں مدافعت کی طاقت نہیں ۔(ف187)جو دین میں ہمارا موافق ہے اور جس کو ہم عزیز رکھتے ہیں ۔
کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے (ف۱۸۸) اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا (ف۱۸۹) بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے،
(ف188)کہ اللہ کے لئے تو تم میرے قتل سے باز نہ رہے اور میرے کُنبہ کی وجہ سے باز رہے اور تم نے اللہ کے نبی کا تو احترام نہ کیا اور کُنبے کا احترام کیا ۔(ف189)اور اس کے حکم کی کچھ پروا نہ کی ۔
اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں، اب جاننا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے ، (ف۱۹۰) اور انتظار کرو (ف۱۹۱) میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،
(ف190)اپنے دعاوٰی میں یعنی تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ میں حق پر ہوں یا تم اور عذابِ الَہی سے شقی کی شقاوت ظاہر ہو جائے گی ۔(ف191)عاقبتِ امر اور انجامِ کار کا ۔
اور جب (ف۱۹۲) ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۹۳) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،
(ف192)ان کے عذاب اور ہلاک کے لئے ۔(ف193)حضرت جبریل علیہ السلام نے ہیبت ناک آواز سے کہا مُوْتُوْا جَمِیْعاً سب مر جاؤ ، اس آواز سے دہشت سے ان کے دم نکل گئے اور سب مرگئے ۔
گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود (ف۱۹٤)
(ف194)اللہ کی رحمت سے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کبھی دو اُمّتیں ایک ہی عذاب میں مبتلا نہیں کی گئیں بجُز حضرت شعیب و صالح علیہما السلام کی اُمّتوں کے لیکن قومِ صالح کو ان کے نیچے سے ہولناک آواز نے ہلاک کیا اور قومِ شعیب کو اوپر سے ۔
فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ فرعون کے کہنے پر چلے (ف۱۹٦) اور فرعون کا کام راستی کا نہ تھا (ف۱۹۷)
(ف196)اور کُفر میں مبتلا ہوئے اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔(ف197)وہ کھلی گمراہی میں تھا کیونکہ باوجود بشر ہونے کے خدائی کا دعوٰی کرتا تھا اور علانیہ ایسے ظلم اور ایسی ستم گاریاں کرتا تھا جس کا شیطانی کام ہونا ظاہر اور یقینی ہے ۔ وہ کہاں اور خدائی کہاں اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ رشد و حقانیت تھی ، آپ کی سچائی کی دلیلیں آیاتِ ظاہرہ و معجزاتِ باہرہ وہ لوگ معائنہ کر چکے تھے پھر بھی انہوں نے آپ کی اِتّباع سے مُنہ پھیرا اور ایسے گمراہ کی اطاعت کی تو جب وہ دنیا میں کُفر و ضلال میں اپنی قوم کا پیشوا تھا ایسے ہی جہنّم میں ان کا امام ہو گا اور ۔
یہ بستیوں (ف۲۰۰) کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۲۰۱) ان میں کوئی کھڑی ہے (ف۲۰۲) اور کوئی کٹ گئی (ف۲۰۳)
(ف200)یعنی گزری ہوئی اُمّتوں ۔(ف201)کہ تم اپنی اُمّت کو ان کی خبریں دو تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں ، ان بستیوں کی حالت کھیتیوں کی طرح ہے کہ ۔(ف202)اس کے مکانوں کی دیواریں موجود ہیں ، کھنڈر پائے جاتے ہیں ، نشان باقی ہیں جیسے کہ عاد و ثمود کے دیار ۔(ف203)یعنی کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بالکل بے نام و نشان ہوگئی اور اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا جیسے کہ قومِ نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دیار ۔
اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے (ف۲۰٤) اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں (ف۲۰۵) اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے (ف۲۰٦) جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان (ف۲۰۷) سے انھیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،
(ف204)کُفر و معاصی کا ارتکاب کر کے ۔(ف205)جہل و گمراہی سے ۔(ف206)اور ایک شمّہ عذاب دفع نہ کر سکے ۔(ف207)بُتوں اور جھوٹے معبودوں ۔
جب وہ دن آئے گا کوئی بےحکم خدا بات نہ کرے گا (ف۲۱٤) تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب (ف۲۱۵)
(ف214)تمام خَلق ساکت ہو گی ۔ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اس میں احوال مختلف ہوں گے بعض احوال میں تو شدتِ ہیبت سے کسی کو بے اذنِ الٰہی بات زبان پر لانے کی قدرت نہ ہوگی اور بعض احوال میں اذن دیا جائے گا کہ لوگ اذن سے کلام کریں گے اور بعض احوال میں ہول و دہشت کم ہو گی ، اس و قت لوگ اپنے معاملات میں جھگڑیں گے اور اپنے مقدمات پیش کریں گے ۔(ف215)شقیق بلخی قُدِّسَ سِرّہ نے فرمایا سعادت کی پانچ علامتیں ہیں (۱) دل کی نرمی (۲) کثرتِ گریہ (۳) دنیا سے نفرت (۴) امیدوں کا کوتاہ ہونا (۵) حیا ۔ اور بدبختی کی علامت بھی پانچ چیزیں ہیں ۔ (۱) دل کی سختی (۲) آنکھ کی خشکی یعنی عدمِ گریہ (۳) دنیا کی رغبت (۴) دراز امیدیں (۵) بے حیائی ۔
تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں (ف۲۱۸) یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۱۹) اور بیشک ہم ان کا حصہ انھیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،
(ف218)بے شک یہ اس بُت پرستی پر عذاب دیئے جائیں گے جیسے کہ پہلی اُمّتیں مبتلائے عذاب ہوئیں ۔ (ف219)اور تمہیں معلوم ہو چکا کہ ان کا کیا انجام ہوگا ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (ف۲۲۰) تو اس میں پھوٹ پڑگئی (ف۲۲۱) اگر تمہارے رب کی ایک بات (ف۲۲۲) پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۲۲۳) اور بیشک وہ اس کی طرف سے (ف۲۲٤) دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۲۲۵)
(ف220)یعنی توریت ۔(ف221)بعضے اس پر ایمان لائے اور بعض نے کُفر کیا ۔(ف222)کہ ان کے حساب میں جلدی نہ فرمائے گا ، مخلوق کے حساب و جزا کا دن روزِ قیامت ہے ۔(ف223)اور دنیا ہی میں گرفتارِ عذاب کئے جاتے ۔(ف224)یعنی آپ کی اُمّت کے کُفّار قرآنِ کریم کی طرف سے ۔(ف225)جس نے ان کی عقلوں کو حیران کر دیا ہے ۔
اور بیشک جتنے ہیں (ف۲۲٦) ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کاموں کی خبر ہے (ف۲۲۷)،
(ف226)تمام خَلق تصدیق کرنے والے ہوں یا تکذیب کرنے والے روزِ قیامت ۔(ف227)اس پر کچھ مخفی نہیں ، اس میں نیکیوں اور تصدیق کرنے والوں کے لئے تو بشارت ہے کہ وہ نیکی کی جزا پائیں گے اور کافِروں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے وعید ہے کہ وہ اپنے عمل کی سزا میں گرفتار ہوں گے ۔
تو قائم رہو (ف۲۲۸) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے (ف۲۲۰) اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(ف228)اپنے ربّ کے حکم اور اس کے دین کی دعو ت پر ۔(ف229)اور اس نے تمہارا دین قبول کیا ہے ، وہ دین و طاعت پر قائم رہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سفیان بن عبداللہ ثقفی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے دین میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی حاجت نہ رہے فرمایا اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کہہ اور قائم رہ ۔
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی (ف۲۳۰) اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں (ف۲۳۱) پھر مدد نہ پاؤ گے،
(ف230)کسی کی طرف جھکنا اس کے ساتھ میل مَحبت رکھنے کو کہتے ہیں ۔ ابوالعالیہ نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ ظالموں کے اعمال سے راضی نہ ہو ۔ سدی نے کہا اس کے ساتھ مُداہنَت نہ کرو ۔ قتادہ نے کہا مشرکین سے نہ ملو ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے ۔(ف231)کہ تمہیں اس کے عذاب سے بچا سکے ۔ یہ حال تو ان کا ہے جو ظالموں سے رسم و راہ ، میل و مَحبت رکھیں اور اسی سے ان کا حال قیاس کرنا چاہیئے جو خود ظالم ہیں ۔
اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (ف۲۳۲) اور کچھ رات کے حصوں میں (ف۲۳۳) بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، (ف۲۳۳) یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،
(ف232)دن کے دو کناروں سے صبح و شام مراد ہیں ۔ زوال سے قبل کا وقت صبح میں اور بعد کا شام میں داخل ہے صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر و عصر ہیں ۔(ف233)اور رات کے حصوں کی نمازیں مغرب و عشاء ہیں ۔(ف234)نیکیوں سے مراد یا یہی پنج گانہ نمازیں ہیں جو آیت میں ذکر ہوئیں یا مطلق طاعتیں یا سُبحْانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللہُ اَکْبَرْ پڑھنا ۔ مسئلہ : آیت سے معلوم ہوا کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کَفّارہ ہوتی ہیں خواہ وہ نیکیاں نماز ہوں یا صدقہ یا ذکر و استِغفار یا اور کچھ ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان دوسرے رمضان تک یہ سب کَفّارہ ہیں ان گناہوں کے لئے جو ان کے درمیان واقع ہوں جب کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے ۔ شانِ نُزول : ایک شخص نے کسی عورت کو دیکھا اور اس سے کوئی خفیف سی حرکت بے حجابی کی سرزد ہوئی اس پر وہ نادم ہوا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کیا اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔ اس شخص نے عرض کیا کہ صغیرہ گناہوں کے لئے نیکیوں کا کَفّارہ ہونا کیا خاص میرے لئے ہے فرمایا نہیں سب کے لئے ۔
تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں (ف۲۳۵) ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے (ف۲۳٦) ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی (ف۲۳۷) اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انھیں دیا گیا (ف۲۳۸) اور وہ گنہگار تھے،
(ف235)یعنی پہلی امّتوں میں جو ہلاک کی گئیں ۔(ف236)معنی یہ ہیں کہ ان امّتوں میں ایسے اہل خیر نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے اور گناہوں سے منع کرتے اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ۔(ف237)وہ انبیاء پر ایمان لائے ، ان کے احکام پر فرمانبردار ہے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے ۔(ف238)اور تنَعُّم وتلَذُّذ اور خواہشات و شہوات کے عادی ہوگئے اور کُفر و مَعاصی میں ڈوبے رہے ۔
مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا (ف۲٤۱) اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں (ف۲٤۲) اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر (ف۲٤۳)
(ف241)وہ دینِ حق پر متفق رہیں گے اور اس میں اختلاف نہ کریں گے ۔(ف242)یعنی اختلاف والے اختلاف کے لئے اور رحمت والے اتفاق کے لئے ۔(ف243)کیونکہ اس کو علم ہے کہ باطل کے اختیار کرنے والے بہت ہوں گے ۔
اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھیرائیں (ف۲٤٤) اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا (ف۲٤۵) اور مسلمانوں کو پند و نصیحت (ف۲٤٦)
(ف244)اور انبیاء کے حال اور ان کی اُمّتوں کے سلوک دیکھ کر آپ کو اپنی قوم کی ایذا کا برداشت کرنا اور اس پر صبر فرمانا آسان ہو ۔(ف245)اور انبیاء اور ان کی اُمّتوں کے تذکرے واقع کے مطابق بیان ہوئے جو دوسری کتابوں اور دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں یعنی جو واقعات بیان فرمائے گئے وہ حق بھی ہیں ۔(ف246)بھی کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حالات اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔
اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب (ف۲۵۰) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو، اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں،