(ف2)جس کا اعجاز ظاہر اور مِن عندِ اللہ ہونا واضح اور معانی اہلِ علم کے نزدیک غیر مُشتَبَہ ہیں اور اسمیں حلال و حرام ، حدود و احکام صاف بیان فرمائے گئے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں متقدِّمین کے احوال روشن طور پر مذکور ہیں اور حق و باطل کو ممتاز کر دیا گیا ہے ۔
ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،
(ف3)جو بہت سے عجائب و غرائب اور حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس میں دین و دنیا کے بہت فوائد اور سلاطین و رعایا اور عُلَماء کے احوال اور عورتو ں کے خصائص اور دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر اور ان پر قابو پانے کے بعد ان سے تجاوز کرنے کا نفیس بیان ہے جس سے سننے والے میں نیک سیرتی اور پاکیزہ خصائل پیدا ہوتے ہیں ۔ صاحبِ بحرالحقائق نے کہا کہ اس بیان کا احسن ہونا اس سبب سے ہے کہ یہ قصّہ انسان کے احوال کے ساتھ کمال مشابہت رکھتا ہے ، اگر یوسف سے دل کو اور یعقوب سے روح اور راحیل سے نفس کو ، برادرانِ یوسف سے قوی حواس کو تعبیر کیا جائے اور تمام قصّہ کو انسانوں کے حالات سے مطابقت دی جائے چنانچہ انہوں نے وہ مطابقت بیان بھی کی ہے جو یہاں بنظرِ اختصار درج نہیں کی جا سکتی ۔
یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ (ف٤) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انھیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)
(ف4)حضرت یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہم السلام ۔(ف5)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ان سب نے آپ کو سجدہ کیا ، یہ خواب شبِ جمعہ کو دیکھا یہ رات شبِ قدر تھی ۔ ستاروں کی تعبیرآپ کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ یا خالہ ، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہو چکا تھا اس لئے قمر سے آپ کی خالہ مراد ہیں اور سجدہ کرنے سے تواضع کرنا اور مطیع ہونا مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقۃً سجدہ ہی مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدہ تحیّت تھا ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عمر شریف اس وقت بارہ سال کی تھی اور سات اور سترہ کے قول بھی آئے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بہت زیادہ مَحبت تھی اس لئے ان کے ساتھ ان کے بھائی حسد کرتے تھے اور حضرت یعقوب علیہ السلام اس پر مطّلع تھے اس لئے جب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ خواب دیکھا تو حضرت یعقوب علیہ ا لسلام نے ۔
کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف٦) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)
(ف6)کیونکہ وہ اس کی تعبیر کو سمجھ لیں گے ۔ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام جانتے تھے کہ اللہ تعالٰی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نبوّت کے لئے برگزیدہ فرمائے گا اور دارین کی نعمتیں اور شرف عنایت کرے گا ، اس لئے آپ کو بھائیوں کے حسد کا اندیشہ ہوا اور آپ نے فرمایا ۔(ف7)اور تمہاری ہلاکت کی کوئی تدبیر سوچیں گے ۔(ف8)ان کو کید و حسد پر ابھارے گا ۔ اس میں ایما ہے کہ برادرانِ یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام اگر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے ایذا و ضَرر پر اِقدام کریں گے تو اس کا سبب وسوسۂ شیطان ہوگا ۔ (خازن) بخاری و مسلم حدیث میں ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے چاہیئے کہ اس کو محِب سے بیان کیا جاوے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے جب کوئی دیکھنے والا وہ خواب دیکھے تو چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھتکارے اور یہ پڑھے اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ وَ مِنْ شَرِّھٰذِہِ الرُّوْیَا ۔
اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،
(ف9)اجتباء یعنی اللہ تعالٰی کا کسی بندے کو برگزیدہ کر لینا یعنی چن لینا اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بندے کو فیضِ ربّانی کے ساتھ مخصوص کرے جس سے اس کو طرح طرح کے کرامات و کمالات بے سعی و محنت حاصل ہوں ۔ یہ مرتبہ انبیاء کے ساتھ خاص ہے اور ان کی بدولت ان کے مقرّبین صدیقین و شہداء و صالحین بھی اس نعمت سے سرفراز کئے جاتے ہیں ۔(ف10)علم و حکمت عطا کرے گا اور کتبِ سابقہ اور احادیثِ انبیاء کے غَوامِض کشف فرمائے گا اور مفسِّرین نے اس سے تعبیرِ خواب بھی مراد لی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام تعبیرِ خواب کے بڑے ماہر تھے ۔(ف11)نبوّت عطا فرما کر جو اعلٰی مناصب میں سے ہے اور خَلق کے تمام منصب اس سے فر و تر ہیں اور سلطنتیں دے کر دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز کر کے ۔(ف12)کہ انہیں نُبوّت عطا فرمائی ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا اس نعمت سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نارِ نمرود سے خلاصی دی اور اپنا خلیل بنایا اور حضرت اسحٰق علیہ الصلٰوۃ و السلام کو حضرت یعقوب اوراسباط عنایت کئے ۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱٤)
(ف13)حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام کی پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں ان سے آپ کے چھ فرزند ہوئے ( ۱ ) روبیل (۲ ) شمعون (۳ ) لادی (۴) یہودا (۵ ) ز بولون (۶) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے (۷) دان (۸ ) نفتالی ( ۹) جاو (۱۰) آشر ، انکی مائیں زلفہ اور بلہہ ۔ لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی بہن راحیل سے نکاح فرمایا ان سے دو فرزند ہوئے (۱۱) یوسف (۱۲) بنیامین ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ صاحب زادے ہیں انہیں کو اسباط کہتے ہیں ۔(ف14)پوچھنے والوں سے یہود مراد ہیں جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کا حال اور اولادِ حضرت یعقوب علیہ السلام کے خطّۂ کنعان سے سر زمینِ مِصر کی طرف منتقل ہونے کا سبب دریافت کیا تھا ۔ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حالات بیان فرمائے اور یہود نے ان کو توریت کے مطابق پایا تو انہیں حیرت ہوئی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتابیں پڑھنے اور عُلَماء و احبار کی مجلس میں بیٹھنے اور کسی سے کچھ سیکھنے کے بغیر اس قدر صحیح واقعات کیسے بیان فرمائے ۔ یہ دلیل ہے کہ آپ ضرور نبی ہیں اور قرآنِ پاک ضرور وحیٔ الٰہی ہے اور اللہ تعالٰی نے آپ کو علمِ قُدس سے مشرف فرمایا علاوہ بریں اس واقعہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں اور حکمتیں ہیں ۔
جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱٦) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)
(ف15)برادرانِ حضرت یوسف ۔(ف16)حقیقی بنیامین ۔(ف17)قوی ہیں زیادہ کام آ سکتے ہیں ، زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام چھوٹے ہیں کیا کام کر سکتے ہیں ۔(ف18)اور یہ بات ان کے خیال میں نہ آئی کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی والدہ کا ان کی صِغر سِنی میں انتقال ہوگیا اس لئے وہ مزید شفقت و مَحبت کے مَورَد ہوئے اور ان میں رُشد و نَجابت کی وہ نشانیاں پائی جاتی ہیں جو دوسرے بھائیوں میں نہیں ہیں یہ سبب ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ زیادہ مَحبت ہے ۔ یہ سب باتیں خیال میں نہ لا کر انہیں اپنے والدِ ماجد کا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے زیادہ مَحبت فرمانا شاق گزرا اور انہوں نے باہم مل کر یہ مشورہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر سوچنی چاہئے جس سے ہمارے والد صاحب کو ہماری طرف زیادہ التفات ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ شیطان بھی اس مجلسِ مشورہ میں شریک ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قتل کی رائے دی اور گفتگوئے مشورہ اس طرح ہوئی ۔
ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲٤) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)
(ف22)یعنی یہودا یا روبیل ۔(ف23)کیونکہ قتل گناہِ عظیم ہے ۔(ف24)یعنی کوئی مسافر وہاں گزرے اور کسی مُلک کو انہیں لے جائے ، اس سے بھی غرض حاصل ہے کہ نہ وہ یہاں رہیں گے نہ والد صاحب کی نظرِ عنایت اس طرح ان پر ہو گی ۔(ف25)اس میں اشارہ ہے کہ چاہئے تو یہ کہ کچھ بھی نہ کرو لیکن اگر تم نے ارادہ ہی کر لیا ہے تو بس اتنے ہی پر اکتفا کرو چنانچہ سب اس پر متفق ہو گئے اور اپنے والد سے ۔
بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)
(ف31)لہذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ۔ تقدیرِ الٰہی یونہی تھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اجازت دی اور وقتِ روانگی حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قمیص جو حریرِ جنّت کی تھی اور جس وقت کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کو کپڑے اتار کر آ گ میں ڈالا گیا تھا ، حضرت جبریل علیہ السلام نے وہ قمیص آپ کو پہنائی تھی ۔ وہ قمیص مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت اسحٰق علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اور ان سے ان کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام کو پہنچی تھی ، وہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعویذ بنا کر حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں ڈال دی ۔
پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳٤) کہ ضرور تو انھیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳٦)
(ف32)اس طرح کہ جب تک حضرت یعقوب علیہ السلام انہیں دیکھتے رہے وہاں تک تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے جب دور نکل گئے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے غائب ہوگئے تو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین پر دے ٹپکا اور دلوں میں جو عداوت تھی وہ ظاہر ہوئی جس کی طرف جاتے تھے وہ مارتا تھا اور طعنے دیتا تھا اور خواب جو کسی طرح انہوں نے سن پایا تھا اس پر تشنیع کرتے تھے اور کہتے تھے اپنے خواب کوبلا وہ اب تجھے ہمارے ہاتھوں سے چھٹائے جب سختیاں حد کو پہنچیں تو حضرت یوسف علیہ السلام نے یہودا سے کہا خدا سے ڈر اور ان لوگوں کو ان زیادتیوں سے روک ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے کیا عہد کیا تھا یاد کرو قتل کی نہیں ٹھہری تھی تب وہ ان حرکتوں سے باز آئے ۔(ف33)چنانچہ انہوں نے ایسا کیا ۔ یہ کنواں کنعان سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر حوالیٔ بیت المقدس یا سر زمینِ اردن میں واقع تھا اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے فراخ ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ، قمیص اتار کر کنوئیں میں چھوڑا جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ آپ پانی میں گر کر ہلاک ہو جائیں ۔ حضرت جبریلِ امین بحکمِ الٰہی پہنچے اور انہوں نے آپ کو ایک پتھر پر بٹھا دیا جو کنوئیں میں تھا اورآپ کے ہاتھ کھول دیئے اور روانگی کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قمیص جو تعویذ بنا کر آپ کے گلے میں ڈال دیا تھا وہ کھول کر آپ کو پہنا دیا اس سے اندھیرے میں روشنی ہو گئی ۔ سبحان اللہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مبارک اجسادِ شریفہ میں کیا برکت ہے کہ ایک قمیص جو اس بابرکت بدن سے مس ہوا اس نے اندھیرے کنوئیں کو روشن کر دیا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ملبوسات اور آثارِ مقبولانِ حق سے برکت حاصل کرنا شرع میں ثابت اور انبیاء کی سنّت ہے ۔(ف34)بواسطۂ حضرتِ جبریل علیہ السلام کے یا بطریقِ الہام کہ آپ غمگین نہ ہوں ، ہم آپ کو عمیق چاہ سے بلند جاہ پر پہنچائیں گے اور تمہارے بھائیوں کو حاجت مند بنا کر تمہارے پاس لائیں گے اور انہیں تمہارے زیرِ فرمان کریں گے اور ایسا ہوگا ۔(ف35)جو انہوں نے اس وقت تمہارے ساتھ کیا ۔(ف36)کہ تم یوسف ہو کیونکہ اس وقت آپ کی شان ایسی رفیع ہو گی ، آپ اس مسندِ سلطنت و حکومت پر ہوں گے کہ وہ آپ کو نہ پہنچانیں گے ۔ الحاصل برادرانِ یوسف علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال کر واپس ہوئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قمیص جو اتار لیا تھا اس کو ایک بکری کے بچہ کے خون میں رنگ کر ساتھ لے لیا ۔
وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ ﴿16﴾
اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)
(ف37)جب مکان کے قریب پہنچے ان کے چیخنے کی آواز حضرت یعقوب علیہ السلام نے سنی تو گھبرا کر باہر تشریف لائے اور فرمایا اے میرے فرزند کیا تمہیں بکریوں میں کچھ نقصان ہوا ؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا پھر کیا مصیبت پہنچی اور یوسف کہاں ہیں ؟
بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)
(ف38) یعنی ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوڑ کرتے تھے کہ کون آگے نکلے اس دوڑ میں ہم دور نکل گئے ۔(ف39)کیونکہ ہمارے ساتھ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ایسی دلیل و علامت ہے جس سے ہماری راست گوئی ثابت ہو اور قمیص کو پھاڑنا بھول گئے ۔
اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف٤۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف٤۱) تو صبر اچھا ، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (ف٤۲)
(ف40) حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام وہ قمیص اپنے چہرۂ مبارک پر رکھ کر بہت روئے اور فرمایا عجب طرح کا ہوشیار بھیڑیا تھا جو میرے بیٹے کو کھا تو گیا اور قمیص کو پھاڑا تک نہیں ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک بھیڑیا پکڑ لائے اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہنے لگے کہ یہ بھیڑیا ہے جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کھایا ہے آپ نے بھیڑیئے سے دریافت فرمایا وہ بحکمِ الٰہی گویا ہو کر کہنے لگا حضور نہ میں نے آپ کے فرزند کو کھایا اور نہ انبیاء کے ساتھ کوئی بھیڑیا ایسا کر سکتا ہے ، حضرت نے اس بھیڑیئے کو چھوڑ دیا اور بیٹوں سے ۔(ف41)اور واقعہ اس کے خلاف ہے ۔(ف42)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام تین روز کنوئیں میں رہے اس کے بعد اللہ نے انہیں اس سے نَجات عطا فرمائی ۔
اور ایک قافلہ آیا (ف٤۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف٤٤) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف٤۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف٤٦) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،
(ف43)جو مدیَن سے مِصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بہک کر اس جنگل میں آپڑا جہاں آبادی سے بہت دور یہ کنواں تھا اور اس کا پانی کھاری تھا مگر حضرت یوسف علیہ السلام کی برکت سے میٹھا ہوگیا جب وہ قافلہ والے اس کنوئیں کے قریب اترے تو ۔(ف44)جس کا نام مالک بن ذعر خزاعی تھا یہ شخص مدیَن کا رہنے والا تھا جب وہ کنوئیں پر پہنچا ۔(ف45)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے وہ ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے ۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے ، اس نے آپ کا حسنِ عالَم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آ کر اپنے یاروں کو مژدہ دیا ۔(ف46)حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے وہ دیکھ بھال رکھتے تھے آج جو انہوں نے یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو انہیں تلاش ہوئی اور قافلہ میں پہنچے وہاں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے ، ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے ، کسی کام کا نہیں ، نافرمان ہے اگر خریدو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور آپ نے کچھ نہ فرمایا ۔
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف٤۷) اور انھیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف٤۸)
(ف47)جن کی تعداد بقول قتادہ بیس درہم تھی ۔(ف48)پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی حضرت یوسف علیہ السلام کو مِصر میں لائے ۔ اس زمانہ میں مِصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن نزدان عملیقی تھا اور اس نے اپنی عنانِ سلطنت قطفیر مِصری کے ہاتھ میں دے رکھی تھی ، تمام خزائن اسی کے تحتِ تصرّف تھے اس کو عزیزِ مِصر کہتے تھے اور وہ بادشاہ کا وزیرِ اعظم تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام مِصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لائے گئے تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی تا آنکہ آپ کے وزن کے برابر سونا ، اتنی ہی چاندی ، اتنا ہی مشک ، اتنا ہی حریر قیمت مقرر ہوئی اور آپ کا وزن چار سو رِطل تھا اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی ۔ عریزِ مِصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا دوسرے خریدار اس کے مقابلہ میں خاموش ہو گئے ۔
اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف٤۹) انھیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،
(ف49)جس کا نام زلیخا تھا ۔(ف50)قیام گاہ نفیس ہو لباس و خوراک اعلی قسم کی ہو ۔(ف51)اور ہمارے کاموں میں اپنے تدبُّر و دانائی سے ہمارے لئے نافع اور بہتر مددگار ہوں اور امورِ سلطنت و مُلک داری کے سر انجام میں ہمارے کام آئیں کیونکہ رُشد کے آثار ان کے چہرے نمودار ہیں ۔(ف52)یہ قطفیر نے اس لئے کہا کہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی ۔(ف53)یعنی خوابوں کی تعبیر ۔
اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵٤) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(ف54)شباب اپنی نہایت پر آیا اور عمرشریف بقول ضحاک بیس سال کی اور بقول سدی تیس کی اور بقول کلبی اٹھارہ اور تیس کے درمیان ہوئی ۔(ف55)یعنی علم باعمل اور فقاہت فی الدین عنایت کی ۔ بعض عُلَماء نے کہا کہ حکم سے قولِ صواب اور علم سے تعبیرِ خواب مراد ہے ۔ بعض نے فرمایا علم حقائقِ اشیاء کا جاننا اور حکمت علم کے مطابق عمل کرنا ہے ۔
اور وہ جس عورت (ف۵٦) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف٦۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف٦۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،
(ف56)یعنی زلیخا ۔(ف57)اور اس کے ساتھ مشغول ہو کر اس کی ناجائز خواہش کو پورا کریں ۔ زلیخا کے مکان میں یکے بعد دیگرے سات دروازے تھے اس نے حضرت یوسف علیہ السلام پر تو یہ خواہیش پیش کی ۔(ف58)مقفل کر ڈالے ۔(ف59)حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔(ف60)وہ مجھے اس قباحت سے بچائے جس کی تو طلب گار ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ یہ فعل حرام ہے میں اس کے پاس جانے والا نہیں ۔(ف61)اس کا بدلہ یہ نہیں کہ میں اس کے اہل میں خیانت کروں جو ایسا کرے وہ ظالم ہے ۔
اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف٦۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بےحیائی کو پھیر دیں (ف٦۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف٦٤)
(ف62)مگر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے ربّ کی برہان دیکھی اور اس ارادۂ فاسدہ سے محفوظ رہے اور برہان عصمتِ نبوّت ہے ۔ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام کے نفوسِ طاہرہ کو اخلاقِ ذمیمہ و افعالِ رذیلہ سے پاک پیدا کیا ہے اور اخلاقِ شریفہ طاہرہ مقدسہ پر ان کی خِلقت فرمائی ہے اس لئے وہ ہر ناکردنی فعل سے باز رہتے ہیں ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس وقت زلیخا آپ کے در پے ہوئی اس وقت آپ نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ انگُشتِ مبارک دندانِ اقدس کے نیچے دبا کر اجتِناب کا اشارہ فرماتے ہیں ۔(ف63)اور خیانت و زنا سے محفوظ رکھیں ۔(ف64)جنہیں ہم نے برگزیدہ کیا ہے اور جو ہماری طاعت میں اخلاص رکھتے ہیں ۔ الحاصل جب زلیخا آپ کے درپے ہوئی تو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے بھاگی ۔ حضرت جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا قُفل کھل کر گرتا چلا جاتا تھا ۔
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف٦۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف٦٦) دروازے کے پاس ملا (ف٦۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف٦۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف٦۹)
(ف65)آخر کار زلیخا حضرت تک پہنچی اور اس نے آپ کا کُرتا پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا کہ آپ نکلنے نہ پائیں مگر آپ غالب آئے ۔(ف66)یعنی عزیزِ مِصر ۔(ف67)فوراً ہی زلیخا نے اپنی براءت ظاہر کرنے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو اپنے مکر سے خائف کرنے کے لئے حیلہ تراشا اور شوہر سے ۔(ف68)اتنا کہہ کر اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں عزیز طیش میں آ کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے قتل کے درپے نہ ہو جائے اور یہ زلیخا کی شدّتِ مَحبت کب گوارا کر سکتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا ۔(ف69)یعنی اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے دیکھا کہ زلیخا الٹا آپ پر الزام لگاتی ہے اور آپ کے لئے قید و سزا کی صورت پید ا کرتی ہے تو آپ نے اپنی براءت کا اظہار اور حقیقتِ حال کابیان ضروری سمجھا اور ۔
کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)
(ف70)یعنی یہ مجھ سے فعلِ قبیح کی طلب گار ہوئی میں نے اس سے انکار کیا اور میں بھاگا ۔ عزیز نے کہا یہ بات کس طرح باور کی جائے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ گھر میں ایک چار مہینے کا بچہ پالنے میں تھا جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے اس سے دریافت کرنا چاہیئے ، عزیز نے کہا کہ چار مہینے کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بے گناہی کی شہادت ادا کرا دینے پر قادِر ہے ، عزیز نے اس بچہ سے دریافت کیا قدرتِ الٰہی سے وہ بچہ گویا ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلا م کی تصدیق کی اور زلیخا کے قول کو باطل بتایا چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف71)یعنی اس بچے نے ۔(ف72)کیونکہ یہ صورت بتانی ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام آگے بڑھے اور زلیخا نے ان کو دفع کیا تو کُرتا آگے سے پھٹا ۔
پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷٤) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)
(ف74)اور جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے ۔(ف75)پھر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی طرف متوجہ ہو کر عزیز نے اس طرح معذرت کی ۔
اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷٦) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)
(ف76)اور اس پر مغموم نہ ہو بے شک تم پاک ہو اور اس کلام سے یہ بھی مطلب تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرو تاکہ چرچا نہ ہو اور شہرہ عام نہ ہو جائے ۔فائدہ : اس کے علاوہ بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی براءت کی بہت سی علامتیں موجود تھیں ، ایک تو یہ کہ کوئی شریف طبیعت انسان اپنے محسِن کے ساتھ اس طرح کی خیانت روا نہیں رکھتا ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بایں کرامتِ اخلاق کس طرح ایسا کر سکتے تھے ، دوئم یہ کہ دیکھنے والوں نے آپ کو بھاگتے آتے دیکھا اور طالب کی یہ شان نہیں ہوتی وہ درپے ہوتا ہے بھاگتا نہیں ، بھاگتا وہی ہے جو کسی بات پر مجبور کیا جائے اور وہ اسے گوارا نہ کرے ، سوم یہ کہ عورت نے انتہا درجہ کا سنگار کیا تھا اور وہ غیر معمولی زیب و زینت کی حالت میں تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رغبت و اہتمام مَحض اس کی طرف سے تھا ، چہارم حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا تقوٰی و طہارت جو ایک دراز مدّت تک دیکھا جا چکا تھا اس سے آپ کی طرف ایسے امرِ قبیح کی نسبت کسی طرح قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتی تھی پھر عزیزِ مِصر زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ۔(ف77)کہ تو نے بے گناہ تہمت لگائی ۔(ف78)عزیزِ مِصر نے اگرچہ اس قصّہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چُھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا ۔
اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)
(ف79)یعنی شرفاءِ مِصر کی عورتیں ۔(ف80)کہ اس آشُفتگی میں اس کو اپنے ننگ و ناموس اور پردے و عِفت کا لحاظ بھی نہ رہا ۔
تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸٤) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸٦) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،
(ف81)یعنی جب اس نے سنا کہ اشرافِ مِصر کی عورتیں اس کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی مَحبت پر ملامت کرتی ہیں تو اس نے چاہا کہ وہ اپنا عذر انہیں ظاہر کر دے اس لئے اس نے ان کی دعوت کی ا ور اشرافِ مِصر کی چالیس عورتوں کو مدعو کر دیا ، ان میں وہ سب بھی تھیں جنہوں نے اس پر ملامت کی تھی ، زلیخا نے ان عورتوں کو بہت عزت و احترام کے ساتھ مہمان بنایا ۔(ف82)نہایت پُرتکلّف جن پر وہ بہت عزت و آرام سے تکیے لگا کر بیٹھیں اور دستر خوان بچھائے گئے اور قسم قسم کے کھانے اور میوے چنے گئے ۔(ف83)تاکہ کھانے کے لئے اس سے گوشت کاٹیں اور میوے تراشیں ۔(ف84)کو عمدہ لباس پہنا کر ان ۔(ف85)پہلے تو آپ نے اس سے انکار کیا لیکن جب اصرار و تاکید زیادہ ہوئی تو اس کی مخالفت کے اندیشہ سے آپ کو آنا ہی پڑا ۔(ف86)کیونکہ انہوں نے اس جمالِ عالَم افروز کے ساتھ نبوّت و رسالت کے انوار اور تواضع و انکسار کے آثار اور شاہانہ ہیبت وا قتدار اور لذائذِ اَطعِمہ اور صُوَرِ جمیلہ کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی ، تعجب میں آ گئیں اور آپ کی عظمت و ہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی ۔(ف87)بجائے لیموں کے اور دل حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسے مشغول ہوئے کہ ہاتھ کاٹنے کی تکلیف کا اصلاً احساس نہ ہوا ۔(ف88)کہ ایسا حسن و جمال بشر میں دیکھا ہی نہیں گیا اور اس کے ساتھ نفس کی یہ طہارت کہ مِصر کی عالی خاندان جمیلہ مخدرات طرح طرح کے نفیس لباسوں اور زیوروں سے آراستہ و پیراستہ سامنے موجود ہیں اور آپ کسی کی طرف نظر نہیں فرماتے اور قطعاً التفات نہیں کرتے ۔
زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)
(ف89)اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میری شیفتگی کچھ قابلِ تعجب اور جاۓ ملامت نہیں ۔(ف90)اورکسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے ۔ اس پر مِصری عورتوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے زلیخا بولی ۔(ف91)اور چوروں اور قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے میرا دل لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسّر نہ ہوگا جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں ، میرے ساتھ حریر میں شاہانہ سر یر پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دکھانا گوارا کریں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مِصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانہ سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنّاؤں اور مرادوں کا اظہار کیا ، آپ کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہِ الٰہی میں ۔ (خازن و مدارک و حسینی)
یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،
تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)
(ف93)جب حضرت یوسف علیہ السلام سے امید پوری ہونے کی کوئی شکل نہ دیکھی تو مِصری عورتوں نے زلیخا سے کہا کہ اب مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب دو تین روز حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں رکھا جائے تاکہ وہاں کی محنت و مشقت دیکھ کر انہیں نعمت و راحت کی قدر ہو اور وہ تیری درخواست قبول کریں ، زلیخا نے اس رائے کو مانا اور عزیزِ مصر سے کہا کہ میں اس عبری غلام کی وجہ سے بدنام ہوگئی ہوں اور میری طبیعت اس سے نفرت کرنے لگی ہے ، مناسب یہ ہے کہ ان کو قید کیا جائے تاکہ لو گ سمجھ لیں کہ وہ خطا وار ہیں اور میں ملامت سے بری ہوں ، یہ بات عزیز کے خیال میں آ گئی ۔
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹٦) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)
(ف95)ان میں سے ایک تو مِصر کے شاہِ اعظم ولید بن نروان عملیقی کا مہتمم مطنج تھا اور دوسرا اس کا ساقی ، ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا اس جرم میں دونوں قید کئے گئے ، حضرت یوسف علیہ السلام جب قید خانے میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے علم کا اظہار شروع کر دیا اور فرمایا کہ میں خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتا ہوں ۔(ف96)جو بادشاہ کا ساقی تھا ۔(ف97)میں ایک باغ میں ہوں وہاں ایک انگور کے درخت میں تین خوشے رسیدہ لگے ہوئے ہیں ، بادشاہ کا کاسہ میرے ہاتھ میں ہے میں ان خوشوں سے ۔(ف98)یعنی مہتمم مطنج ۔(ف99)کہ آپ دن میں روزہ دار رہتے ہیں ، رات تمام نماز میں گزارتے ہیں جب کوئی جیل میں بیمار ہوتا ہے اس کی عیادت کرتے ہیں ، اس کی خبر گیری رکھتے ہیں ، جب کسی پر تنگی ہوتی ہے اس کے لئے کشائش کی راہ نکالتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان کے تعبیر دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کر دی اور یہ ظاہر فرما دیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ علمِ تعبیر ظن پر مبنی ہے اس لئے آپ نے چاہا کہ انہیں ظاہر فرما دیں کہ آپ غیب کی یقینی خبریں دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور اس سے مخلوق عاجز ہے ۔ جس کو اللہ نے غیبی علوم عطا فرمائے ہوں اس کے نزدیک خواب کی تعبیر کیا بڑی بات ہے ! اس وقت معجزے کا اظہار آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں ایک عنقریب سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کُفر سے نکال کر اسلام میں داخل کریں اور جہنّم سے بچاویں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر عالِم اپنی علمی منزِلت کا اس لئے اظہار کرے کہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں تو یہ جائز ہے ۔ (مدارک و خازن)
یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،
(ف100)اس کی مقدار اور اس کا رنگ اور اس کے آنے کا وقت اور یہ کہ تم نے کیا کھایا یا کتنا کھایا یا کب کھایا ۔
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)
(ف101)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے معجِزہ کا اظہار فرمانے کے بعد یہ بھی ظاہر فرما دیا کہ آپ خاندانِ نبوّت سے ہیں اور آپ کے آباؤ اجداد انبیاء ہیں جن کا مرتبۂ عُلیا دنیا میں مشہور ہے ۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ سننے والے آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی ہدایت کو مانیں ۔(ف102)توحید اختیار کرنا اور شرک سے بچنا ۔(ف103)اس کی عبادت بجا نہیں لاتے اور مخلوق پرستی کرتے ہیں ۔
اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (۱۰٤) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)
(ف104)جیسے کہ بُت پرستوں نے بنا رکھے ہیں کوئی سونے کا ، کوئی چاندی کا ، کوئی تانبے کا ، کوئی لوہے کا ، کوئی لکڑی کا ، کوئی پتھر کا ، کوئی اور کسی چیز کا ، کوئی چھوٹا کوئی بڑا مگر سب کے سب نکمے بے کار نہ نفع دے سکیں نہ ضَرر پہنچا سکیں ، ایسے جھوٹے معبود ۔(ف105)کہ نہ کوئی اس کا مقابل ہو سکتا ہے نہ اس کے حکم میں دخل دے سکتا ہے ، نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ نظیر ، سب پر اس کا حکم جاری اور سب اس کے مملوک ۔
تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰٦) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)
(ف106)اور ان کا نام معبود رکھ لیا ہے باوجود یکہ وہ بے حقیقت پتھر ہیں ۔(ف107)کیونکہ صر ف وہی مستحقِ عبادت ہے ۔(ف108)جس پر دلائل و براہین قائم ہیں ۔(ف109)توحید و عبادتِ الٰہی کی دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیرِ خواب کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد کیا ۔
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)
(ف110)یعنی بادشاہ کا ساقی تو اپنے عہدہ پر بحال کیا جائے گا اور پہلے کی طرح بادشاہ کو شراب پلائے گا اور تین خوشے جو خواب میں بیان کئے گئے ہیں یہ تین دن ہیں ، اتنے ہی ایام قید خانے میں رہے گا پھر بادشاہ اس کو بلا لے گا ۔(ف111)یعنی مہتمم مطنج و طعام ۔(ف112)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ۔(ف113)جو میں نے کہہ دیا یہ ضرور واقع ہوگا ، تم نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو اب یہ حکم ٹل نہیں سکتا ۔
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱٤) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱٦)
(ف114)یعنی ساقی کو ۔(ف115)اور میرا حال بیان کرنا کہ قید خانے میں ایک مظلوم بے گناہ قید ہے اور اس کی قید کو ایک زمانہ گزر چکا ہے ۔(ف116)اکثر مفسِّرین اس طرف ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سات برس اور قید میں رہے اور پانچ برس پہلے رہ چکے تھے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد جب اللہ تعالٰی کو حضرت یوسف کا قید سے نکالنا منظور ہوا تو مِصر کے شاہِ اعظم ریان بن ولید نے ایک عجیب خواب دیکھا جس سے اس کو بہت پریشانی ہوئی اور اس نے مُلک کے ساحِروں اور کاہِنوں اور تعبیر دینے والوں کو جمع کر کے ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔
اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انھیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،
(ف117)جو ہری پر لپٹیں اور انہوں نے ہری کو سکھا دیا ۔
اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)
(ف118)یعنی ساقی ۔(ف119)کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے فرمایا تھا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا ، ساقی نے کہا کہ ۔(ف120)قید خانے میں وہاں تعبیرِ خواب کے ایک عالِم ہیں ، بس بادشاہ نے اس کو بھیج دیا وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرنے لگا ۔
اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)
(ف121)یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور مُلک کے تمام عُلَماء و حُکماء اس کی تعبیر سے عاجز رہے ہیں ، حضرت اس کی تعبیر ارشاد فرمائیں ۔(ف122)خواب کی تعبیر سے اور آپ کے علم و فضل اور مرتبت و منزِلت کو جانیں اور آپ کو اس محنت سے رہا کر کے اپنے پاس بلائیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تعبیر دی اور ۔
کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲٤) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)
(ف123)اس زمانہ میں خوب پیداوار ہوگی ، سات موٹی گائیوں اور سات سبز بالوں سے اسی کی طرف اشارہ ہے ۔(ف124)تاکہ خراب نہ ہو اور آفات سے محفوظ رہے ۔(ف125)اس پر سے بھوسی اتار لو اور اسے صاف کر لو ، باقی کو ذخیرہ بنا کر محفوظ کر لو ۔
پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)
(ف129)انگورکا اور تِل زیتون کے تیل نکالیں گے ، یہ سال کثیر الخیر ہوگا ، زمین سرسبز و شاداب ہوگی ، درخت خوب پھلیں گے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ تعبیر سن کر واپس ہوا اور بادشاہ کی خدمت میں جا کر تعبیر بیان کی ، بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے یقین ہوا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ہے ضرور ویسا ہی ہوگا ۔ بادشاہ کو شوق پیدا ہوا کہ اس خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی زبانِ مبارک سے سنے ۔
اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)
(ف130)اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی خدمت میں بادشاہ کا پیام عرض کیا تو آپ نے ۔(ف131)یعنی اس سے درخواست کرکہ وہ پوچھے ، تفتیش کرے ۔(ف132)یہ آپ نے اس لئے فرمایا تاکہ بادشاہ کے سامنے آپ کی براءت اور بے گناہی معلوم ہو جائے اور یہ اس کو معلوم ہو کہ یہ قید طویل بے وجہ ہوئی تاکہ آئندہ حاسدوں کو نیش زنی کا موقع نہ ملے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دفعِ تہمت میں کوشش کرنا ضروری ہے ۔ اب قاصد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس سے یہ پیام لے کر بادشاہ کی خدمت میں پہنچا ، بادشاہ نے سن کر عورتوں کو جمع کیا اور ان کے ساتھ عزیز کی عورت کو بھی ۔
بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳٤)
(ف133)زلیخا ۔(ف134)بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی ا ور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا اس پر حضرت ۔
اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳٦) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)
(ف135)زلیخا کے اقرار و اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غَیبت میں اس کی خیانت نہیں کی ہے اور اس کے اہل کی حرمت خراب کرنے سے مُجتنِب رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں ان سے پاک ہوں ، اس کے بعد آپ کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ اس میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے ایسا نہ ہو کہ اس میں شانِ خود بینی اور خود پسندی کا شائبہ بھی آئے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی کی جناب میں تواضُع و انکسار سے عرض کیا کہ میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا ، مجھے اپنی بے گناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا ، نفس کی جنس کا یہ حال ہے کہ ۔(ف136)یعنی اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے کرم سے معصوم کرے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ کے فضل و رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اسی کا کرم ہے ۔(ف137)جب بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے علم اور آپ کی امانت کا حال معلوم ہوا اور وہ آپ کے حُسنِ صبر ، حُسنِ ادب ، قید خانے والوں کے ساتھ احسان ، محنتوں اور تکلیفوں پر ثبات و استقلا ل رکھنے پر مطّلع ہوا تو اس کے دل میں آپ کا بہت ہی عظیم اعتقاد پیدا ہوا ۔
اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)
(ف138)اور اپنا مخصوص بنا لوں چنانچہ اس نے معزّزین کی ایک جماعت ، بہترین سواریاں اور شاہانہ ساز و سامان اور نفیس لباس لے کر قید خانہ بھیجی تاکہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ ایوانِ شاہی میں لائیں ۔ ان لوگوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر بادشاہ کا پیام عرض کیا آپ نے قبول فرمایا اور قید خانہ سے نکلتے وقت قیدیوں کے لئے دعا فرمائی ، جب قید خانہ سے باہر تشریف لائے تو اس کے دروازہ پر لکھا یہ بلا کا گھر ، زندوں کی قبر اور دشمنوں کی بدگوئی اور سچوں کے امتحان کی جگہ ہے پھر غسل فرمایا اور پوشاک پہن کر ایوانِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے جب قلعہ کے دروازہ پر پہنچے تو فرمایا میرا ربّ مجھے کافی ہے ، اس کی پناہ بڑی اور اس کی ثناء برتر اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر قلعہ میں داخل ہوئے ، بادشاہ کے سامنے پہنچے تو یہ دعا کی کہ یاربّ میرے ، تیرے فضل سے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور اس کی اور دوسروں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جب بادشاہ سے نظر ملی تو آپ نے عربی میں سلام فرمایا، بادشاہ نے دریافت کیا یہ کیا زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے عَم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان ہے پھر آپ نے اس کو عبرانی زبان میں دعا کی ، اس نے دریافت کیا یہ کون زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے ابّا کی زبان ہے ، بادشاہ یہ دونوں زبانیں نہ سمجھ سکا باوجود یکہ وہ ستّر زبانیں جانتا تھا پھر اس نے حضرت سے جس زبان میں گفتگو کی آپ نے اسی زبان میں اس کو جواب دیا ، اس وقت آپ کی عمر شریف تیس سال کی تھی اس عمر میں یہ وسعتِ علوم دیکھ کر بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی اور اس نے آپ کو اپنے برابر جگہ دی ۔(ف139)بادشاہ نے درخواست کی کہ حضرت اس کے خواب کی تعبیر اپنے زبانِ مبارک سے سناویں ، حضرت نے اس خواب کی پوری تفصیل بھی سنا دی ۔ جس جس شان سے کہ اس نے دیکھا تھا باوجود یکہ آپ سے یہ خواب پہلے مجملاً بیان کیا گیا تھا اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا ، کہنے لگا کہ آپ نے میرا خواب ہو بہو بیان فرما دیا خواب تو عجیب تھا ہی مگر آپ کا اس طرح بیان فرما دینا اس سے بھی زیادہ عجیب تر ہے ، اب تعبیر ارشاد ہو جائے ، آپ نے تعبیر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّے مع بالوں کے محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے ، اس سے جو جمع ہوگا وہ مِصر و حوالیٔ مِصر کے باشندوں کے لئے کافی ہوگا اور پھر خَلقِ خدا ہر ہر طرف سے تیرے پاس غلّہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزائن و اموال جمع ہوں گے جو تجھ سے پہلوں کے لئے جمع نہ ہوئے ۔ بادشاہ نے کہا یہ انتظام کون کرے گا ۔
یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱٤۰)
(ف140)یعنی اپنی قلمرو کے تمام خزانے میرے سپرد کر دے ، بادشاہ نے کہا آپ سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے اور اس نے اس کو منظور کیا ۔ مسائل : احادیث میں طلبِ اَمارت کی ممانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب مُلک میں اہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اَمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہل ہو تو اس کو احکامِ الٰہیہ کی اقامت کے لئے اَمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اسی حال میں تھے آپ رسول تھے ، امّت کے مصالح کے عالِم تھے ، یہ جانتے تھے کہ قحطِ شدید ہونے والا ہے جس میں خَلق کو راحت و آسائش پہنچانے کی یہی سبیل ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ نے اَمارت طلب فرمائی ۔مسئلہ : ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے قبول کرنا بہ نیتِ اقامتِ عدل جائز ہے ۔مسئلہ : اگر احکامِ دین کا اجراء کافِر یا فاسق بادشاہ کی تمکین کے بغیر نہ ہو سکے تو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے ۔ مسئلہ : اپنی خوبیوں کا بیان تفاخُر و تکبّر کے لئے ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا خَلق کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اگر اظہار کی ضرورت پیش آئے تو ممنوع نہیں اسی لئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بادشاہ سے فرمایا کہ میں حفاظت و علم والا ہوں ۔
اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱٤۱) ہم اپنی رحمت (ف۱٤۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ( اَجر) ضائع نہیں کرتے،
(ف141)سب ان کے تحتِ تصرّف ہے ۔ اَمارت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بلا کر آپ کی تاج پوشی کی اور تلوار اور مُہر آپ کے سامنے پیش کی اور آپ کو طلائی تخت پر تخت نشین کیا جو جواہرات سے مُرصّع تھا اور اپنا مُلک آپ کو تفویض کیا اور قطفیر (عزیزِ مصر ) کو معزول کر کے آپ کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزائن آپ کو تفویض کئے اور سلطنت کے تمام امور آپ کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود مثل تابع کے ہوگیا کہ آپ کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ کے ہر حکم کو مانتا ، اسی زمانہ میں عزیزِ مصر کا انتقال ہو گیا ۔ بادشاہ نے اس کے انتقال کے بعد زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر دیا ، جب یوسف علیہ ا لصلٰوۃ و السلام زلیخا کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے جو تو چاہتی تھی ؟ زلیخا نے عرض کیا اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجئے میں خوبرو تھی ، نوجوا ن تھی ، عیش میں تھی اور عزیزِ مِصر عورتوں سے سروکار ہی نہ رکھتا تھا اور آپ کو اللہ تعالٰی نے یہ حسن و جمال عطا کیا ہے ، میرا دل اختیار سے باہر ہو گیا اور اللہ تعالٰی نے آپ کو معصوم کیا ہے ، آپ محفوظ رہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے زلیخا کو باکرہ پایا اور اس سے آپ کے دو فرزند ہوئے افراثیم اور میثا اور مِصر میں آپ کی حکومت مضبوط ہوئی ، آپ نے عدل کی بنیادیں قائم کیں ، ہر زن و مرد کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہوئی اور آپ نے قحط سالی کے ایّام کے لئے غلّوں کے ذخیرے جمع کرنے کی تدبیر فرمائی ۔ اس کے لئے بہت وسیع اور عالی شان انبار خانے تعمیر فرمائے اور بہت کثیر ذخائر جمع کئے ، جب فراخی کے سال گزر گئے اور قحط کا زمانہ آیا تو آپ نے بادشاہ اور اس کے خدم کے لئے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا مقرر فرما دیا ، ایک روز دوپہر کے وقت بادشاہ نے حضرت سے بھوک کی شکایت کی ، آپ نے فرمایا یہ قحط کی ابتداء کا وقت ہے پہلے سال میں لوگوں کے پاس جو ذخیرے تھے سب ختم ہوگئے ، بازار خالی رہ گئے ۔ اہلِ مِصر حضرت یوسف علیہ السلام سے جنس خریدنے لگے اور ان کے تمام درہم دینار آپ کے پاس آ گئے ۔ دوسرے سال زیور اور جواہرات سے غلّہ خریدے اور وہ تمام آپ کے پاس آگئے ، لوگوں کے پاس زیور و جواہر کی قسم سے کوئی چیز نہ رہی ۔ تیسرے سال چوپائے اور جانور دے کر غلّے خریدے اور مُلک میں کوئی کسی جانور کا مالک نہ رہا ۔ چوتھے سال میں غلّے کے لئے تمام غلام اور باندیاں بیچ ڈالیں ۔ پانچویں سال تمام اراضی و عملہ و جاگیریں فروخت کر کے حضرت سے غلّہ خریدا اور یہ تمام چیزیں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں ۔ چھٹے سال جب کچھ نہ رہا تو انہوں نے اپنی اولادیں بیچیں ، اس طرح غلّے خرید کر وقت گذارا ۔ ساتویں سال وہ لوگ خود بک گئے اور غلام بن گئے اور مِصر میں کوئی آزاد مرد و عورت باقی نہ رہا ، جو مرد تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا غلام تھا ، جو عورت تھی وہ آپ کی کنیز تھی اور لوگوں کی زبان پر تھا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی سی عظمت و جلالت کبھی کسی بادشاہ کو میسّر نہ آئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے کہا کہ تو نے دیکھا اللہ کا مجھ پر کیسا کرم ہے ، اس نے مجھ پر ایسا احسانِ عظیم فرمایا اب ان کے حق میں تیری کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا جو حضرت کی رائے اور ہم آپ کے تابع ہیں ۔ آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے تمام اہلِ مِصرکو آزاد کیا اور ان کے تمام املاک اور کل جاگیریں واپس کیں ۔ اس زمانہ میں حضرت نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں ملاحظہ فرمایا ، آپ سے عرض کیا گیا کہ اتنے عظیم خزانوں کے مالک ہو کر آپ بھوکے رہتے ہیں ؟ فرمایا اس اندیشہ سے کہ سیر ہو جاؤں تو کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں ، سبحان اللہ کیا پاکیزہ اخلاق ہیں ۔ مفسِّرین فرماتے ہیں کہ مِصر کے تمام زن و مرد کو حضرت یوسف علیہ السلام کے خریدے ہوئے غلام اور کنیزیں بنانے میں اللہ تعالٰی کی یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام غلام کی شان میں آئے تھے اور مِصر کے ایک شخص کے خریدے ہوئے ہیں بلکہ سب مِصری ان کے خریدے اور آزاد کئے ہوئے غلام ہوں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے جو اس حالت میں صبر کیا اس کی یہ جزا دی گئی ۔(ف142)یعنی مُلک و دولت یا نبوّت ۔
اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱٤۳)
(ف143)اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے آخرت کا اجر و ثواب اس سے بہت زیادہ افضل و اعلٰی ہے جو اللہ تعالٰی نے انہیں دنیا میں عطا فرمایا ۔ ابنِ عینیہ نے کہا کہ مومن اپنی نیکیوں کا ثمرہ دنیا و آخرت دونوں میں پاتا ہے اور کافِر جو کچھ پاتا ہے دنیا ہی میں پاتا ہے ، آخرت میں اس کو کوئی حصّہ نہیں ۔ مفسِّرین نے بیان کیا ہے کہ جب قحط کی شدّت ہوئی اور بلائے عظیم عام ہوگئی ، تمام بِلاد و اَمصار قحط کی سخت تر مصیبت میں مبتلا ہوئے اور ہر جانب سے لوگ غلّہ خریدنے کے لئے مِصر پہنچنے لگے ، حضرت یوسف علیہ السلام کسی کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلّہ نہیں دیتے تاکہ مساوات رہے اور سب کی مصیبت رفع ہو ، قحط کی جیسی مصیبت مِصر اور تمام بلاد میں آئی ایسی ہی کنعان میں بھی آئی ، اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کے سوا اپنے دسوں بیٹوں کو غلّہ خریدنے مِصر بھیجا ۔
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انھیں (ف۱٤٤) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱٤۵)
(ف144)دیکھتے ہی ۔(ف145)کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالنے سے اب تک چالیس سال کا طویل زمانہ گزر چکا تھا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہو چکا ہوگا اور یہاں آپ تختِ سلطنت پر شاہانہ لباس میں شوکت و شان کے ساتھ جلوہ فرما تھے ، اس لئے انہوں نے آپ کو نہ پہچانا اور آپ سے عبرانی زبان میں گفتگو کی ، آپ نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ۔ آ پ نے فرمایا تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم شام کے رہنے والے ہیں ، جس مصیبت میں دنیا مبتلا ہے اسی میں ہم بھی ہیں ، آپ سے غلّہ خریدنے آئے ہیں ، آپ نے فرمایا کہیں تم جاسوس تو نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں ہم جاسوس نہیں ہیں ، ہم سب بھائی ہیں ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، ہمارے والد بہت بزرگ معمّرصدیق ہیں اور ان کا نامِ نامی حضرت یعقوب ہے ، وہ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم کتنے بھائی ہو ؟ کہنے لگے تھے تو ہم بارہ مگر ایک بھائی ہمارا ہمارے ساتھ جنگل گیا تھا ، ہلاک ہوگیا اور وہ والد صاحب کو ہم سب سے زیادہ پیارا تھا ، فرمایا اب تم کتنے ہو ؟ عرض کیا دس ، فرمایا گیارہواں کہاں ہے ؟ کہا وہ والد صاحب کے پاس ہے کیونکہ جو ہلاک ہو گیا وہ اسی کا حقیقی بھائی تھا اب والد صاحب کی اسی سے کچھ تسلّی ہوتی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان بھائیوں کی بہت عزّت کی اور بہت خاطر و مدارات سے ان کی میزبانی فرمائی ۔
اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٤٦) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱٤۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱٤۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،
(ف146)ہر ایک کا اونٹ بھر دیا اور زادِ سفر دے دیا ۔(ف147)یعنی بنیامین ۔(ف148)اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلّہ اس کے حصّہ کا اور زیادہ دوں گا ۔
اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱٤۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،
(ف149)جو انہوں نے قیمت میں دی تھی تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی پونجی انہیں مل جائے اور قحط کے زمانہ میں کام آئے اور مخفی طور پر ان کے پاس پہنچے تاکہ انہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے ان کی رغبت کا باعث بھی ہو ۔(ف150)اور اس کا واپس کرنا ضروری سمجھیں ۔
پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،
(ف151)اور بادشاہ کے حسنِ سلوک اور اس کے احسان کا ذکر کیا ، کہا کہ اس نے ہماری وہ عزّت و تکریم کی کہ اگر آپ کی اولاد میں سے کوئی ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کر سکتا ، فرمایا اب اگر تم بادشاہِ مِصر کے پاس جاؤ تو میری طرف سے سلام پہنچانا اور کہنا کہ ہمارے والد تیرے حق میں تیرے اس سلوک کی وجہ سے دعا کرتے ہیں ۔(ف152)اگر آپ ہمارے بھائی بنیامین کو نہ بھیجیں گے تو غلّہ نہ ملے گا ۔
کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ،
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵٤)
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵٦) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،
(ف155)یعنی اللہ کی قسم نہ کھاؤ ۔(ف156)اور اس کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہو جائے ۔(ف157)حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۔
اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱٦۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،
(ف158)مِصر میں ۔(ف159)تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا اس لئے کہ اس وقت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے دفع کی تدبیر اور مناسب احتیاطیں انبیاء کا طریقہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے امر اللہ کو تفویض کر دیا کہ باوجود احتیاطوں کے توکّل و اعتماد اللہ پر ہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں ۔(ف160)یعنی جو مقدر ہے وہ تدبیر سے ٹالا نہیں جا سکتا ۔
اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱٦۱) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱٦۲)
(ف161)یعنی شہر کے مختلف دروازوں سے تو ان کا متفرق ہو کر داخل ہونا ۔(ف162)جو اللہ تعالٰی اپنے اصفیاء کو علم دیتا ہے ۔
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱٦۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱٦٤) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱٦۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱٦٦)
(ف163)اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنے بھائی بنیامین کو لے آئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا پھر انہیں عزّت کے ساتھ مہمان بنایا اور جا بجا دستر خوان لگائے گئے اور ہر دستر خوان پر دو دو صاحبوں کو بٹھایا گیا ، بنیامین اکیلے رہ گئے تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ آج اگر میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایاکہ تمہارا ایک بھائی اکیلا رہ گیا اور آپ نے بنیامین کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا ۔(ف164)اور فرمایا کہ تمہارے ہلاک شدہ بھائی کی جگہ میں تمہارا بھائی ہو جاؤں تو کیا تم پسند کرو گے ؟ بنیامین نے کہا کہ آپ جیسا بھائی کس کو میسّر آئے لیکن یعقوب (علیہ السلام) کا فرزند اور راحیل ( مادرِ حضرت یوسف علیہ السلام ) کا نورِ نظر ہونا تمہیں کیسے حاصل ہو سکتا ہے ؟ حضرت یوسف علیہ السلام رو پڑے اور بنیامین کو گلے سے لگایا اور ۔(ف165)یوسف ( علیہ السلام) ۔(ف166)بے شک اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں خیر کے ساتھ جمع فرمایا اور ابھی اس راز کی بھائیوں کو اطلاع نہ دینا ، یہ سن کر بنیامین فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگے اب میں آپ سے جدا نہ ہوں گا ، آپ نے فرمایا والد صاحب کو میری جدائی کا بہت غم پہنچ چکا ہے اگر میں نے تمہیں بھی روک لیا تو انہیں اور زیادہ غم ہوگا علاوہ بریں روکنے کی بجز اس کے اور کوئی سبیل بھی نہیں ہے کہ تمہاری طرف کوئی غیر پسندیدہ بات منسوب ہو ۔ بنیامین نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٦۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱٦۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،
(ف167)اور ہر ایک کو ایک بارِ شترغلّہ دے دیا اور ایک بارِ شتر بنیامین کے نام کا خاص کر دیا ۔(ف168)جو بادشاہ کے پانی پینے کا سونے کا جواہرات سے مرصّع کیا ہوا تھا اور اس وقت اس سے غلّہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ، یہ پیالہ بنیامین کے کجاوے میں رکھ دیا گیا اور قافلہ کنعان کے قصد سے روانہ ہوگیا جب شہر کے باہر جا چکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے ان کے خیال میں یہی آیا کہ یہ قافلے والے لے گئے انہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے ۔
بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)
(ف170)اور شریعتِ حضرت یعقوب علیہ السلام میں چوری کی یہی سزا مقرر تھی چنانچہ انہوں نے کہا کہ ۔(ف171)پھر یہ قافلہ مِصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر کیا گیا ۔
تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷٤) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷٦) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)
(ف172)یعنی بنیامین ۔(ف173)یعنی بنیامین کی خرجی سے پیالہ برآمد کیا ۔(ف174)اپنے بھائی کے لینے کی اس معاملہ میں بھائیوں سے استفسار کریں تاکہ وہ شریعتِ حضرتِ یعقوب علیہ السلام کا حکم بتائیں جس سے بھائی مل سکے ۔(ف175)کیونکہ بادشاہِ مِصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دُونا مال لے لینا مقرر تھی ۔(ف176)یعنی یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنی سنّت کے مطابق جواب دیں ۔(ف177)علم میں جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے درجے بلند فرمائے ۔(ف178)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہر عالِم کے اوپر اس سے زیادہ علم رکھنے والا عالِم ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالٰی تک پہنچتا ہے اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بھائی عُلَماء تھے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام ان سے اَعلم تھے ، جب پیالہ بنیامین کے سامان سے نکلا تو بھائی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے سر جھکائے اور ۔
بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،
(ف179)یعنی سامان میں پیالہ نکلنے سے سامان والے کا چوری کرنا تو یقینی نہیں لیکن اگر یہ فعل اس کا ہو ۔(ف180)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اور جس کو انہوں نے چوری قرار دے کر حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف نسبت کیا ، وہ واقعہ یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے نانا کا ایک بُت تھا جس کو وہ پوجتے تھے ، حضرت یوسف علیہ السلام نے چپکے سے وہ بُت لیا اور توڑ کر راستہ میں نجاست کے اندر ڈال دیا ، یہ حقیقت میں چوری نہ تھی بُت پرستی کا مٹانا تھا ۔ بھائیوں کا اس ذکر سے یہ مدعا تھا کہ ہم لو گ بنیامین کے سوتیلے بھائی ہیں ، یہ فعل ہو تو شاید بنیامین کا ہو ، نہ ہماری اس میں شرکت ، نہ ہمیں اس کی اطلاع ۔(ف181)اس سے جس کی طرف چوری کی نسبت کرتے ہو کیونکہ چوری کی نسبت حضرت یوسف کی طرف تو غلط ہے ، فعل تو شرک کا ابطال اور عبادت تھا اور تم نے جو یوسف کے ساتھ کیا وہ بڑی زیادتیاں ہیں ۔
کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸٤) جب تو ہم ظالم ہوں گے،
(ف183)حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔(ف184)کیونکہ تمہارے فیصلہ سے ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا اگر ہم بجائے اس کے دوسرے کو لیں ۔
پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸٦) اور اس کا حکم سب سے بہتر،
(ف185)میرے واپس آنے کی ۔(ف186)میرے بھائی کو خلاصی دے کر یا اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلنے کا ۔
اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)
(ف187)یعنی ان کی طرف چوری کی نسبت کی گئی ۔(ف188)کہ پیالہ ان کے کجاوہ میں نکلا ۔(ف189)اور ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی ، حقیقتِ حال اللہ ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا ۔
کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
(ف191)حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف غلط ہے اور چوری کی سزا غلام بنانا ، یہ بھی کوئی کیا جانے اگر تم فتوٰی نہ دیتے اور تمہیں نہ بتاتے تو ۔(ف192)یعنی حضرت یوسف کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو ۔
اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹٤) وہ غصہ کھاتا رہا،
(ف193)حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کی خبر سن کر اور آپ کا غم و اندوہ انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف194)روتے روتے آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی ضعیف ہو گئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اسّی۸۰ برس روتے رہے اور احباء کے غم میں رونا جو تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی شکایت و بے صبری نہ پائی جائے رحمت ہے ۔ ان غم کے ایام میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانِ مبارک پر کبھی کوئی کلمہ بے صبری کا نہ آیا ۔(ف195)برادرانِ یوسف اپنے والد سے ۔
کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹٦) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)
(ف196)تم سے یا اور کسی سے نہیں ۔(ف197)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا خواب حق ہے ، ضرور واقع ہوگا ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت مَلَک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔
پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بےقدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)
(ف199)یعنی تنگی اور بھوک کی سختی اور جسموں کا دبلا ہو جانا ۔(ف200)ردی کھوٹی جسے کوئی سوداگر مال کی قیمت میں قبول نہ کرے وہ چند کھوٹے درہم تھے اور اثاث البیت کی چند پرانی بوسیدہ چیزیں ۔(ف201)جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے ۔(ف202)یہ ناقص پونجی قبول کر کے ۔(ف203)ان کا یہ حال سن کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام پر گریہ طاری ہوا اور چشمِ گوہر فشاں سے اشک رواں ہو گئے اور ۔
بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰٤)
(ف204)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو مارنا ، کنوئیں میں گرانا ، بیچنا ، والد سے جدا کرنا اور ان کے بعد ان کے بھائی کو تنگ رکھنا ، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو تبسم آ گیا اور انہوں نے آپ کے گوہرِ دندان کا حسن دیکھ کر پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے ۔
بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰٦)
(ف205)ہمیں جدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دنیا اور دین کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ۔(ف206)برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام بہ طریقِ عذر خواہی ۔
کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)
(ف208)اگرچہ ملامت کرنے کا دن ہے مگر میری جانب سے ۔(ف209)اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے اپنے والد ماجد کا حال دریافت کیا ، انہوں نے کہا آپ کی جدائی کے غم میں روتے روتے ان کی بینائی بحال نہیں رہی ، آپ نے فرمایا ۔
پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱٤) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)
(ف214)لشکر کے آگے آگے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہودا تھے ، انہوں نے کہا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس خون آلودہ قمیص بھی میں ہی لے کر گیا تھا ، میں نے ہی کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام ) کو بھیڑیا کھا گیا ، میں نے ہی انہیں غمگین کیا تھا ، آج کُرتا بھی میں ہی لے کر جاؤں گا اور حضرت یوسف (علیہ السلام )کی زندگانی کی فرحت انگیز خبر بھی میں ہی سناؤں گا ، تو یہودا بَرَہۡنہ سر ، بَرَہۡنہ پا ، کُرتا لے کر اسّی۸۰ فرسنگ دوڑتے آئے ، راستہ میں کھانے کے لئے سات روٹیاں ساتھ لائے تھے ، فرطِ شوق کا یہ عالَم تھا کہ ان کو بھی راستہ میں کھا کر تمام نہ کر سکے ۔(ف215)حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت فرمایا یوسف کیسے ہیں ؟ یہودا نے عرض کیا حضور وہ مِصر کے بادشاہ ہیں ۔ فرمایا میں بادشاہی کو کیا کروں ، یہ بتاؤ کس دین پر ہیں ؟ عرض کیا دینِ اسلام پر ، فرمایا الحمد للہِ اللہ کی نعمت پوری ہوئی ۔ برادرانِ حضرتِ یوسف علیہ السلام ۔
کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱٦)
(ف216)حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے وقتِ سحر بعدِ نماز ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالٰی کے دربار میں اپنے صاحبزادوں کے لئے دعا کی ، وہ قبول ہوئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو وحی فرمائی گئی کہ صاحبزادوں کی خطا بخش دی گئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ماجد کو مع ان کے اہل و اولاد کے بلانے کے لئے اپنے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں اور کثیر سامان بھیجا تھا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر کا ارادہ فرمایا اور اپنے اہل کو جمع کیا ، کل مرد و زن بہتّر یا تہتّر تن تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں یہ برکت فرمائی کہ ان کی نسل اتنی بڑھی کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ بنی اسرائیل مِصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے باوجود یکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا زمانہ اس سے صرف چار سو سال بعد ہے ۔ الحاصل جب حضرت یعقوب علیہ السلام مِصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے مِصر کے بادشاہِ اعظم کو اپنے والد ماجد کی تشریف آوری کی اطلاع دی اور چار ہزار لشکر ی اور بہت سے مِصری سواروں کو ہمراہ لے کر آپ اپنے والد صاحب کے استقبال کے لئے صدہا ریشمی پھریرے اڑاتے ، قطاریں باندھے روانہ ہوئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند یہودا کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے جب آپ کی نظر لشکر پر پڑ ی اور آپ نے دیکھا کہ صحرا زرق برق سواروں سے پر ہو رہا ہے ، فرمایا اے یہودا کیا یہ فرعونِ مِصر ہے جس کا لشکر اس شوکت و شکوہ سے آ رہا ہے ؟ عرض کیا نہیں یہ حضور کے فرزند یوسف ہیں علیہم السلام ۔ حضرت جبریل نے آپ کو متعجب دیکھ کر عرض کیا ، ہوا کی طرف نظر فرمایئے ، آپ کے سرور میں شرکت کے لئے ملائکہ حاضر ہوئے ہیں جو مدّتوں آپ کے غم کے سبب روتے رہے ہیں ، ملائکہ کی تسبیح نے اور گھوڑوں کے ہنہنانے نے اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب کیفیت پیدا کر دی تھی ۔ یہ محرّم کی دسویں تاریخ تھی جب دونوں حضرات والد و ولد ، پدر و پسر قریب ہوئے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے سلام عرض کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ توقُّف کیجئے اور والد صاحب کو ابتداء بسلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُذْھِبَ الْاَحْزَانِ ( یعنی اے غم و اندو ہ کے دور کرنے والے سلام ) اور دونوں صاحبوں نے اُتر کر معانقہ کیا اور مل کر خوب روئے پھر اس مزین فرود گاہ میں داخل ہوئے جو پہلے سے آپ کے استقبال کے لئے نفیس خیمے وغیرہ نصب کر کے آراستہ کی گئی تھی ، یہ دخول حدودِ مِصر میں تھا اس کے بعد دوسرا دخول خاص شہر میں ہے جس کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ (ف۲۱۹)
(ف217)ماں سے یا خاص والدہ مراد ہیں اگر اس وقت تک زندہ ہوں یا خالہ ۔ مفسِّرین کے اس باب میں کئی اقوال ہیں ۔(ف218)یعنی خاص شہر میں ۔(ف219)جب مِصر میں داخل ہوئے اور حضرت یوسف اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوئے آپ نے اپنے والدین کا اکرام فرمایا ۔
اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲٤)
(ف220)یعنی والدین اور سب بھائی ۔(ف221)یہ سجدہ تحیّت و تواضُع کا تھا جو ان کی شریعت میں جائز تھا جیسے کہ ہماری شریعت میں کسی معظّم کی تعظیم کے لئے قیام اور مصافحہ اور دست بوسی جائز ہے ۔ سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے سوا اورکسی کے لئے کبھی جائز نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تحیّت و تعظیم بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں ۔(ف222)جو میں نے صِغر سنی یعنی بچپن کی حالت میں دیکھا تھا ۔(ف223)اس موقع پر آپ نے کنوئیں کا ذکر نہ کیا تاکہ بھائیوں کو شرمندگی نہ ہو ۔(ف224)اصحابِ تواریخ کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مِصر میں چوبیس سال بہترین عیش و آرام میں خوش حالی کے ساتھ رہے ، قریبِ وفات آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وصیّت کی کہ آپ کا جنازہ مُلکِ شام میں لے جا کر ارضِ مقدسہ میں آپ کے والد حضرت اسحٰق علیہ السلام کی قبر شریف کے پاس دفن کیا جائے ، اس وصیت کی تعمیل کی گئی اور بعدِ وفات سال کی لکڑی کے تابوت میں آپ کا جسدِ اطہر شام میں لایا گیا ، اسی وقت آپ کے بھائی عیص کی وفات ہوئی اور آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ساتھ ہوئی تھی اور دفن بھی ایک ہی قبر میں کئے گئے اور دونوں صاحبوں کی عمر ایک سو پینتالیس ۱۴۵ سال تھی جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد اور چچا کو دفن کر کے مِصر کی طرف واپس روانہ ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)
(ف225)یعنی حضرت ابراہیم و اسحٰق و حضرت یعقوب علیہم السلام ، انبیاء سب معصوم ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ دعا تعلیمِ امّت کے لئے ہے کہ وہ حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد ماجد کے بعدتیٔس سال رہے اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی ۔ آپ کے مقامِ دفن میں اہلِ مِصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا ، ہر محلہ والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر مُصِر تھے ، آخر یہ رائےقرار پائی کہ آپ کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ پانی آپ کی قبر سے چھوتا ہوا گزرے اور اس کی برکت سے تمام اہلِ مِصر فیضیاب ہوں چنانچہ آپ کو سنگِ رخام یا سنگِ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ وہیں رہے یہانتک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے آپ کا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام کے پاس مُلکِ شام میں دفن کیا ۔
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲٦) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)
(ف226)یعنی برادرانِ یوسف علیہ السلام کے ۔(ف227)باوجود اس کے اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجِزہ ہے ۔
اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بےخبر رہتے ہیں،
(ف229)خالِق اور اس کی توحید و صفات پر دلالت کرنے والی ، ان نشانیوں سے ہلاک شدہ اُمّتوں کے آثار مراد ہیں ۔(مدارک)(ف230)اور ان کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن تفکّر نہیں کرتے ، عبرت نہیں حاصل کرتے ۔
اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)
(ف231)جمہور مفسِّرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازِل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بُت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔
تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳٤) اور میں شریک کرنے والا نہیں،
(ف232)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان مشرکین سے کہ توحیدِ الٰہی اور دینِ اسلام کی دعوت دینا ۔(ف233)ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب احسن طریق اور افضل ہدایت پر ہیں ، یہ علم کے معدن ، ایمان کے خزانے ، رحمٰن کے لشکر ہیں ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا طریقہ اختیار کرنے والوں کو چاہئے کہ گزرے ہوؤں کا طریقہ اختیار کریں ۔ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں جن کے دل امّت میں سب سے زیادہ پاک ، علم میں سب سے عمیق ، تکلّف میں سب سے کم ، ایسے حضرات ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنی نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی صحبت اور ان کے دین کی اشاعت کے لئے برگزیدہ کیا ۔(ف234)تمام عیوب و نقائص اور شرکا و اضداد و انداد سے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳٦) تو یہ لوگ زمین پر چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،
(ف235)نہ فرشتے ، نہ کسی عورت کو نبی بنایا گیا ۔ یہ اہلِ مکّہ کا جواب ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے فرشتوں کو کیوں نہ نبی بنا کر بھیجا ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ کیا تعجب کی بات ہے ، پہلے ہی سے کبھی فرشتے نبی ہو کر نہ آئے ۔(ف236)حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اہلِ بادیہ اور جنّات اور عورتوں میں سے کبھی کوئی نبی نہیں کیا گیا ۔(ف237)انبیاء کے جھٹلائے سے کس طرح ہلاک کئے گئے ۔
یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲٤۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،
(ف238)یعنی لوگوں کو چاہئے کہ عذابِ الٰہی میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ پہلی اُمّتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جا چکی ہیں یہاں تک کہ جب ان کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور بہ اسبابِ ظاہر رسولوں کو قوم پر دنیا میں ظاہر عذاب آنے کی امید نہ رہی ۔ (ابوالسعود) (ف239)یعنی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں ۔ (مدارک وغیرہ)(ف240)اپنے بندوں میں سے یعنی اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچا لیا ۔
بیشک ان کی خبروں سے (ف۲٤۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲٤۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲٤۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲٤٤) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،
(ف241)یعنی انبیاء کی اور ان کی قوموں کی ۔(ف242)جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے اور بندے کو سختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہیئے ۔ رحمتِ الٰہی دست گیری کرے تو کسی کی بدخواہی کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔(ف243)جس کو کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو کیونکہ اس کا اعجاز اس کے مِنَ اللہ ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے ۔(ف244)توریت انجیل وغیرہ کُتبِ الٰہیہ کی ۔