یہ کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲) اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) حق ہے (ف٤) مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے (ف۵)
(ف2)یعنی قرآن شریف کی ۔(ف3)یعنی قرآن شریف ۔(ف4)کہ اس میں کچھ شبہ نہیں ۔(ف5)یعنی مشرکینِ مکّہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کلام محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے انہوں نے خود بنایا ، اس آیت میں ان کا رد فرمایا اور اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت کے دلائل اور اپنے عجائبِ قدرت بیان فرمائے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔
اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بےستونوں کے کہ تم دیکھو (ف٦) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا (ف۷) ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے (ف۸) اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے (ف۹) کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو (ف۱۰)
(ف6)اس کے دو معنٰی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو یعنی حقیقت میں کوئی ستون ہی نہیں ہے اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ تمھارے دیکھنے میں آنے والے ستونوں کے بغیر بلند کیا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ ستون تو ہیں مگر تمہارے دیکھنے میں نہیں آتے اور قولِ اول صحیح تر ہے اسی پر جمہور ہیں ۔ (خازن و جمل)(ف7)اپنے بندوں کے منافع اور اپنے بلاد کے مصالح کے لئے وہ حسبِ حکم گردش میں ہیں ۔(ف8)یعنی فنائے دنیا کے وقت تک ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ اجلِ مسمّٰی سے ان کے درجات و منازل مراد ہیں یعنی وہ اپنے منازل و درجات میں ایک غایت تک گردش کرتے ہیں جس سے تجاوز نہیں کرسکتے ، شمس و قمر میں سے ہر ایک کے لئے سیرِ خاص جہتِ خاص کی طرف سُرعت و بطؤ و حرکت کی مقدارِ خاص سے مقرر فرمائی ہے ۔(ف9)اپنے وحدانیت و کمالِ قدرت کی ۔(ف10)اور جانو کہ جو انسان کو نیستی کے بعد ہست کرنے پر قادر ہے وہ اس کو موت کے بعد بھی زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر (ف۱۱) اور نہریں بنائیں ، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے (ف۱۲) رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو (ف۱۳)
(ف11)یعنی مضبوط پہاڑ ۔(ف12)سیاہ و سفید ، تُرش و شیریں ، صغیر و کبیر ، بَری و بُستانی ، گرم و سرد ، تر و خشک وغیرہ ۔(ف13)جو سمجھیں گے کہ یہ تمام آثار صانع حکیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔
اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس (ف۱٤) اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (ف۱۵)
(ف14)ایک دوسرے سے ملے ہوئے ، ان میں سے کوئی قابلِ زراعت ہے کوئی ناقابل زراعت ۔ کوئی پتھریلا کوئی ریتلا ۔(ف15)حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس میں بنی آدم کے قلوب کی ایک تمثیل ہے کہ جس طرح زمین ایک تھی اس کے مختلف قطعات ہوئے ، ان پر آسمان سے ایک ہی پانی برسا ، اس سے مختلف قسم کے پھل پُھول بیل بُوٹے اچھے بُرے پیدا ہوئے ۔ اسی طرح آدمی حضرت آدم سے پیدا کئے گئے ان پر آسمان سے ہدایت اتری ، اس سے بعض دل نرم ہوئے ان میں خشوع خضوع پیدا ہوا ، بعض سخت ہوگئے اور لہو و لغو میں مبتلا ہوئے تو جس طرح زمین کے قطعات اپنے پھول پھل میں مختلف ہیں اس طرح انسانی قلوب اپنے آثار و انوار و اسرار میں مختلف ہیں ۔
اور اگر تم تعجب کرو (ف۱٦) تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے (ف۱۷) وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے (ف۱۸) اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
(ف16)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کُفّار کی تکذیب کرنے سے باوجود یکہ آپ ان میں صادق و امین معروف تھے ۔(ف17)اور انہوں نے کچھ نہ سمجھا کہ جس نے ابتداءً بغیر مثال کے پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ۔(ف18)روزِ قیامت ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے (ف۱۹) اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں (ف۲۰) اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انھیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے (ف۲۱) اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے (ف۲۲)
(ف19)مشرکینِ مکّہ اور یہ جلدی کرنا بطریقِ تمسخُر تھا اور رحمت سے سلامت و عافیت مراد ہے ۔(ف20)وہ بھی رسولوں کی تکذیب اور عذاب کا تمسخُر کیا کرتے تھے ، ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کرنا چاہیئے ۔(ف21)کہ ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتا اور انہیں مہلت دیتا ہے ۔(ف22)جب عذاب فرمائے ۔
اور کافر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۲۳) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی (ف۲٤)
(ف23)کافِروں کا یہ قول نہایت بے ایمانی کا قول تھا جتنی آیات نازِل ہو چکی تھیں اور معجزات دکھائے جاچکے تھے سب کو انہوں نے کالعدم قرار دے دیا یہ انتہا درجہ کی نا انصافی اور حق دشمنی ہے جب حجّت قائم ہو چکے اور ناقابلِ انکار براہین پیش کر دیئے جائیں اور ایسے دلائل سے مدعا ثابت کردیا جائے جس کے جواب سے مخالفین کے تمام اہلِ علم و ہنر عاجز و متحیر رہیں اور انہیں لب ہلانا اور زبان کھولنا محال ہوجائے ۔ ایسے آیاتِ بیّنہ اور براہینِ واضحہ و معجزاتِ ظاہرہ دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی ! روزِ روشن میں دن کا انکار کردینے سے بھی زیادہ بدتر اور باطل تر ہے اورحقیقت میں یہ حق کو پہچان کر اس سے عناد و فرار ہے ۔ کسی مدعا پر جب برہان قوی قائم ہو جائے پھر اس پر دوبارہ دلیل قائم کرنی ضروری نہیں رہتی اور ایسی حالت میں طلبِ دلیل عناد و مکابَرہ ہوتا ہے جب تک کہ دلیل کو مجروح نہ کردیا جائے کوئی شخص دوسری دلیل کے طلب کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اگر یہ سلسلہ قائم کردیا جائے کہ ہر شخص کے لئے نئی برہان قائم کی جائے جس کو وہ طلب کرے اور وہی نشانی لائی جائے جو وہ مانگے تو نشانیوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ اس لئے حکمتِ الٰہیہ یہ ہے کہ انبیاء کو ایسے معجزات دیئے جاتے ہیں جن سے ہر شخص ان کے صدق و نبوّت کا یقین کرسکے اور بیشتر وہ اس قبیل سے ہوتے ہیں جس میں ان کی امّت اور ان کے عہد کے لوگ زیادہ مشق و مہارت رکھتے ہیں جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں علمِ سحر اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا اور اس زمانہ کے لوگ سحر کے بڑے ماہرِ کامل تھے تو حضر ت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وہ معجِزہ عطا ہوا جس نے سحر کو باطل کردیا اور ساحروں کو یقین دلا دیا کہ جو کمال حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دکھایا وہ ربّانی نشان ہے ، سحر سے اس کا مقابلہ ممکن نہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہائی عروج پر تھی ، حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو شفائے امراض و احیائے اموات کا وہ معجِزہ عطا فرمایا گیا جس سے طب کے ماہر عاجز ہوگئے اور وہ اس یقین پر مجبور تھے کہ یہ کام طب سے ناممکن ہے ضرور یہ قدرت الٰہی کا ز بردست نشان ہے اسی طرح سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں عرب کی فصاحت و بلاغت اوجِ کمال پر پہنچی ہوئی تھی اور وہ لوگ خوش بیانی میں عالَم پر فائق تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ معجِزہ عطا فرمایا جس نے انہیں عاجز و حیران کردیا اور ان کے بڑے سے بڑے لوگ اور ان کے اہلِ کمال کی جماعتیں قرآنِ کریم کے مقابل ایک چھوٹی سی عبارت پیش کرنے سے بھی عاجز و قاصر رہیں اور قرآن کے اس کمال نے یہ ثابت کردیا کہ بیشک یہ ربّانی عظیم نشان ہے اور اس کا مثل بنا لانا بشری قوت کے امکان میں نہیں ۔ اس کے علاوہ اور صدہا معجزات سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش فرمائے جنہوں نے ہر طبقہ کے انسانوں کو آپ کے صدقِ رسالت کا یقین دلادیا ۔ ان معجزات کے ہوتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کس قدر عناد اور حق سے مُکرنا ہے ۔(ف24)اپنی نبوّت کے دلائل پیش کرنے اور اطمینان بخش معجزات دکھا کر اپنی رسالت ثابت کر دینے کے بعد احکامِ الٰہیہ پہنچانے او رخدا کا خو ف دلانے کے سوا آپ پر کچھ لازم نہیں اور ہر ہر شخص کے لئے اس کی طلبیدہ جدا جدا نشانیاں پیش کرنا آپ پر ضروری نہیں جیسا کہ آپ سے پہلے ہادیوں ( انبیاء علیہم السلام کا ) طریقہ رہا ہے ۔
اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲٦) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۵)
(ف25)نر مادہ ایک یا زیادہ و غیر ذالک ۔(ف26)یعنی مدّ ت میں کس کا حمل جلد وضع ہوگاکس کا دیر میں ۔ حمل کی کم سے کم مدّت جس میں بچہ پیدا ہو کر زندہ رہ سکے چھ ماہ ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سال ۔ یہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا اور اسی کے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قائل ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچہ کا قوی ، تام الخِلقت اور ناقص الخِلقت ہونا مراد ہے ۔(ف27)کہ اس سے گھٹ بڑھ نہیں سکتی ۔
برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے (ف۲۹)
(ف29)یعنی دل کی چھپی باتیں او رزبان سے بَاعلان کہی ہوئی اور رات کو چھپ کر کئے ہوئے عمل اور دن کو ظاہر طور پر کئے ہوئے کام سب اللہ تعالٰی جانتا ہے کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ۔
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے (ف۳۰) کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود (ف۳۲) اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳٤)
(ف30)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ تم میں فرشتے نوبت بہ نوبت آتے ہیں ، رات اور دن میں اور نمازِ فجر اور نمازِ عصرمیں جمع ہوتے ہیں ، نئے فرشتے رہ جاتے ہیں اور جو فرشتے رہ چکے ہیں وہ چلے جاتے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ نماز پڑھتے پایا اور نماز پڑھتے چھوڑا ۔(ف31)مجاہد نے کہا ہر بندے کے ساتھ ایک فرشتہ حفاظت پر مامور ہے جو سوتے جاگتے جن و انس اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ستانے والی چیز کو اس سے روک دیتا ہے بجز اس کے جس کا پہنچنا مشیت میں ہو ۔(ف32)مَعاصی میں مبتلا ہو کر ۔(ف33)اس کے عذاب و ہلاک کا ارادہ فرمائے ۔(ف34)جو اس کے عذاب کو روک سکے ۔
وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
(ف35)کہ اس سے گر کر نقصان پہنچانے کا خوف ہوتا ہے اور بارش سے نفع اٹھانے کی امید یا بعضوں کو خوف ہوتا ہے جیسے مسافروں کو جو سفر میں ہوں اور بعضوں کو فائدہ کی امید جیسے کہ کاشتکار وغیرہ ۔
اور گرج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳٦) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں (ف۳۹) اور اس کی پکڑ سخت ہے،
(ف36)گرج یعنی بادل سے جو آواز ہوتی ہے اس کے تسبیح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس آواز کا پیدا ہونا خالِق ، قادر ، ہر نقص سے منزّہ کے وجود کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ تسبیحِ رعد سے وہ مراد ہے کہ اس آواز کو سن کر اللہ کے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قو ل ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادل پر مامور ہے اس کو چلاتا ہے ۔(ف37)یعنی اس کی ہیبت و جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔(ف38)صاعقہ وہ شدید آواز ہے جو جَوّ ( آسمان و زمین کے درمیان ) سے اترتی ہے پھر اس میں آ گ پیدا ہو جاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ اپنی ذات میں ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ (خازن) (ف39)شانِ نُزول : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافِر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی ، انہوں نے اس کو دعوت دی کہنے لگا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ربّ کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو ، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا یا لوہے کا یا تانبے کا ؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے واپس ہو کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ایسا اکفر ، سیاہ دل ، سرکش دیکھنے میں نہیں آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس پھر جاؤ ، اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا اور کہا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قبول کرکے ایسے ربّ کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا ۔ یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس کا خُبث تو اور ترقی پر ہے ، فرمایا پھر جاؤ ، بہ تعمیل ارشاد پھر گئے جس وقت اس سے گفتگو کر رہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں بک رہا تھا ، ایک ابر آیا اس سے بجلی چمکی اور کڑک ہوئی اور بجلی گری اور اس کافِر کو جلادیا ۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو راہ میں انہیں اصحابِ کرام کی ایک اور جماعت ملی وہ کہنے لگے کہیے وہ شخص جل گیا ، ان حضرات نے کہا آپ صاحبوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ انہوں نے فرمایا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آئی ہے۔ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَآ مَنْ یَّشَآءُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہ ِ (خازن) بعض مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ عامر بن طفیل نے اربد بن ربیعہ سے کہا محمّدِ مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس چلو میں انہیں باتوں میں لگاؤں گا تو پیچھے سے تلوار سے حملہ کرنا ، یہ مشورہ کرکے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عامر نے حضور سے گفتگو شروع کی بہت طویل گفتگو کے بعد کہنے لگا کہ اب ہم جاتے ہیں اور ایک بڑا جرّار لشکر آپ پر لائیں گے یہ کہہ کر چلا آیا ، باہر آکر اربد سے کہنے لگا کہ تو نے تلوار کیوں نہیں ماری ؟ اس نے کہا جب میں تلوار مارنے کا ارادہ کرتا تھا تو تُو درمیان میں آجاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے نکلتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ اَللّٰھُمَّ اکْفِہِمَا بِمَا شِئْتَ جب یہ دونوں مدینہ شریف سے باہر آئے تو ان پر بجلی گری اربد جل گیا اورعامر بھی اسی راہ میں بہت بدتر حالت میں مرا ۔ (حسینی)
اسی کا پکارنا سچا ہے (ف٤۰) اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف٤۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف٤۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
(ف40)یعنی اس کی توحید کی شہادت دینا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہنا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ دعا قبول کرتا ہے اور اسی سے دعا کرنا سزا وار ہے ۔(ف41)معبود جان کر یعنی کُفّار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں ۔(ف42)تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں نہ آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور جو اس کی حاجت اور پیاس کو جانے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچانے ، نہ اس میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے مقتضائے طبیعت کے خلاف اوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ۔ یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بُت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ ان کی حاجت کا شعور نہ وہ ان کے نفع پر کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف٤۳) خواہ مجبوری سے (ف٤٤) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف٤۵) السجدة ۔۲
(ف43)جیسے کہ مومن ۔(ف44)جیسے کہ منافق و کافِر ۔(ف45)ان کی تبعیت میں اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ۔ زُجاج نے کہا کہ کافِر غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ اللہ کو ۔ ابنِ انباری نے کہا کہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی پرچھائیوں میں ایسی فہم پیدا کرے کہ وہ اس کو سجدہ کریں ۔ بعض کا قول ہے سجدے سے سایہ کا ایک طرف سے دوسر ی طرف مائل ہونا اور آفتاب کے ارتفاع و نُزول کے ساتھ دراز و کوتاہ ہونا مراد ہے ۔ (خازن)
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف٤٦) تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف٤۷) تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) (ف٤۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف٤۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انھیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)
(ف46)کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین باوجود غیر اللہ کی عبادت کرنے کے اس کے مقِر ہیں کہ آسمان و زمین کا خالِق اللہ ہے ۔ جب یہ امر مسلّم ہے تو ۔(ف47)یعنی بُت جب ان کی یہ بے قدرتی و بیچارگی ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و ضَرر پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسوں کو معبود بنانا اور خالِق رازق قوی و قادر کو چھوڑنا انتہا درجے کی گمراہی ہے ۔(ف48)یعنی کافِر و مومن ۔(ف49)یعنی کُفر و ایمان ۔ (ف50)اور اس وجہ سے کہ حق ان پر مشتبہ ہوگیا اور وہ بُت پرستی کرنے لگے ، ایسا تو نہیں ہے بلکہ جن بتوں کو وہ پوجتے ہیں اللہ کی مخلوق کی طرح کچھ بنانا تو کجا وہ بندوں کے مصنوعات کے مثل بھی نہیں بناسکتے ، عاجزِ مَحض ہیں ایسے پتھروں کا پوجنا عقل و دانش کے بالکل خلاف ہے ۔(ف51)جو مخلوق ہونے کی صلاحیت رکھے اس سب کا خالِق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو دوسرے کو شریکِ عبادت کرنا عاقل کس طرح گوارا کرسکتا ہے ۔(ف52)سب اس کے تحتِ قدرت و اختیار ہیں ۔
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا یا اور اسباب (ف۵٤) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
(ف53)جیسے کہ سونا چاندی تانبہ وغیرہ ۔(ف54)برتن وغیرہ ۔(ف55)ایسے ہی باطل اگرچہ کتنا ہی ابھر جائے اور بعض اوقات و احوال میں جھاگ کی طرح حد سے اونچا ہو جائے مگرانجامِ کار مٹ جاتا ہے اور حق اصل شے اور جوہرِ صاف کی طرح باقی و ثابت رہتا ہے ۔
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انھیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵٦) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
(ف56)یعنی جنّت ۔(ف57)اور کُفر کیا ۔(ف58)کہ ہر امر پر مواخذہ کیا جائے گا اور اس میں سے کچھ نہ بخشا جائے گا ۔ (جلالین و خازن)
تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف٦۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
(ف59)اور اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے ۔(ف60)حق کو نہیں جانتا ، قرآن پر ایمان نہیں لاتا ، اس کے مطابق عمل نہیں کرتا ۔ یہ آیت حضرت حمزہ ابنِ عبدالمطلب اور ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ۔
اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا (ف٦۲) اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف٦۳)
(ف62)یعنی اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے کل رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کو مان کر بعض سے منکِر ہو کر ان میں تفریق نہیں کرتے یا یہ معنی ہیں کہ حقوقِ قرابت کی رعایت رکھتے ہیں اور رشتہ قطع نہیں کرتے ۔ اسی میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابتیں اور ایمانی قرابتیں بھی داخل ہیں ، سادات کرام کا احترام اور مسلمانوں کے ساتھ مودّت و احسان اور ان کی مدد اور ان کی طرف سے مدافعت اور ان کے ساتھ شفقت اور سلام و ُعا اورمسلمان مریضوں کی عیادت اور اپنے دوستوں ، خادموں ، ہمسایوں ، سفر کے ساتھیوں کے حقوق کی رعایت بھی اس میں داخل ہے اور شریعت میں اس کا لحاظ رکھنے کی بہت تاکیدیں آئی ہیں ، بہ کثرت احادیثِ صحیحہ اس باب میں وارد ہیں ۔(ف63)اور وقتِ حساب سے پہلے خود اپنے نفسوں سے محاسبہ کرتے ہیں ۔
اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف٦٤) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف٦۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف٦٦) انھیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
(ف64)طاعتوں اور مصیبتوں پر اور معصیت سے باز رہے ۔(ف65)نوافل کا چھپانا اور فرائض کا ظاہر کرنا افضل ہے ۔(ف66)بدکلامی کا جواب شیریں سخنی سے دیتے ہیں اور جو انہیں محروم کرتا ہے اس پر عطا کرتے ہیں ، جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے معاف کرتے ہیں ، جب ان سے پیوند قطع کیا جاتا ہے ملاتے ہیں اور جب گناہ کرتے ہیں توبہ کرتے ہیں ، جب ناجائز کام دیکھتے ہیں اسے بدلتے ہیں ، جہل کے بدلے حلم اور ایذا کے بدلے صبر کرتے ہیں ۔
بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف٦۷) ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف٦۸) اور فرشتے (ف٦۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے،
(ف67)یعنی مؤمن ہوں ۔(ف68)اگرچہ لوگوں نے ان کے سے عمل نہ کئے ہوں جب بھی اللہ تعالٰی ان کے اکرام کے لئے ان کو ان کے درجہ میں داخل فرمائے گا ۔(ف69)ہر ایک روز و شب میں ہدایا اور رضا کی بشارتیں لے کر جنّت کے ۔(ف70)بہ طریقِ تحیّت و تکریم ۔
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر (ف۷۳)
(ف71)اور اس کو قبول کر لینے ۔(ف72)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے ۔(ف73)یعنی جہنّم ۔
اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷٤) تنگ کرتا ہے، اور کافر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) (ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
(ف74)جس کے لئے چاہے ۔(ف75)اور شکر گزار نہ ہوئے ۔ مسئلہ : دولتِ دنیا پر اترانا اور مغرور ہونا حرام ہے ۔
اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷٦) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
(ف76)کہ وہ آیات و معجزات نازِل ہونے کے بعد بھی یہ کہتا رہتا ہے کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ، کوئی معجزہ کیوں نہیں آیا ! معجزاتِ کثیرہ کے باوجود گمراہ رہتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)
(ف77)اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے اگرچہ اس کے عدل و عتاب کی یاد دلوں کو خائف کردیتی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ ُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ مسلمان جب اللہ تعالٰی کا نام لے کر قسم کھا تا ہے دوسرے مسلمان اس کا اعتبار کر لیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)
(ف78)طوبٰی بشارت ہے راحت ونعمت اور خرمی و خوش حالی کی ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ طوبٰی زبانِ حبشی میں جنّت کا نام ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ اور دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ طوبٰی جنّت کے ایک درخت کا نام ہے جس کا سایہ ہر جنّت میں پہنچے گا ، یہ درخت جنّتِ عدن میں ہے اور اس کی اصل (بیخ) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایوانِ معلٰی میں اور اس کی شاخیں جنّت کے ہر غرفہ اور قصر میں ، اس میں سوا سیاہی کے ہر قسم کے رنگ اور خوش نمائیاں ہیں ہر طرح کے پھل اور میوہ اس میں پھلے ہیں ، اس کی بیخ سے کافور سلسبیل کی نہریں رواں ہیں ۔
اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں (ف۷۹) کہ تم انھیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہو رہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
(ف79)تو تمہاری امّت سب سے پچھلی امّت ہے اور تم خاتَم الانبیاء ہو ، تمہیں بڑے شان و شکوہ سے رسالت عطا کی ۔(ف80)وہ کتابِ عظیم ۔(ف81)شانِ نُزول : قتادہ و مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ میں نازِل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ سہیل بن عمرو جب صلح کے لئے آیا اور صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کُفّار نے اس میں جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ ہمارے دستور کے مطابق بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ لکھوائیے ۔ اس کے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رحمٰن کے منکِر ہو رہے ہیں ۔
اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں (ف۸٤) تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸٦) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی (ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی (ف۸۸) یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹) بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)
(ف82)اپنی جگہ سے ۔(ف83)شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپ کی نبوّت مانیں اور آپ کا اِتِّباع کریں تو آپ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکّۂ مکّرمہ کے پہاڑ ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتیاں کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اور قصی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے حوالے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں ۔(ف84)تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللہ چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشان دکھا دیئے جائیں جو وہ طلب کریں ۔(ف85)یعنی کُفّار کے ایمان لانے سے خواہ انہیں کتنی ہی نشانیاں دکھلا دی جائیں اور کیا مسلمانوں کو اس کا یقینی علم نہیں ۔(ف86)بغیر کسی نشانی کے لیکن وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہی حکمت ہے ۔ یہ جواب ہے ان مسلمانوں کا جنہوں نے کُفّار کے نئی نئی نشانیاں طلب کرنے پر یہ چاہا تھا کہ جو کافِر بھی کوئی نشانی طلب کرے وہی اس کو دکھا دی جائے ، اس میں انہیں بتادیا گیا کہ جب زبردست نشان آچکے اور شُکوک و اوہام کی تمام راہیں بند کردی گئیں ، دین کی حقانیت روزِ روشن سے زیادہ واضح ہو چکی ، ان جلی برہانوں کے باوجود جو لوگ مُکر گئے ، حق کے معترف نہ ہوئے ، ظاہر ہوگیا کہ وہ معانِد ہیں اور معانِد کسی دلیل سے بھی مانا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اب ان سے قبولِ حق کی کیا امید ، کیا اب تک ان کا عناد دیکھ کر اور آیات و بیّناتِ واضحہ سے اعراضِ مشاہدہ کرکے بھی ان سے قبولِ حق کی امید رکھی جا سکتی ہے البتہ اب ان کے ایمان لانے اور مان جانے کی یہی صورت ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں مجبور کرے اور ان کا اختیار سلب فرما لے اس طرح کی ہدایت چاہتا تو تمام آدمیوں کو ہدایت فرما دیتا اور کوئی کافِر نہ رہتا مگر دارالابتلا و الامتحان کی حکمت اس کی متقضی نہیں ۔(ف87)یعنی وہ اس تکذیب و عناد کی وجہ سے طرح طرح کے حوادث و مصائب اور آفتوں اور بلاؤں میں مبتلا رہیں گے ، کبھی قحط میں ، کبھی لٹنے میں ، کبھی مارے جانے میں ، کبھی قید میں ۔(ف88)اور ان کے اضطراب و پریشانی کا باعث ہوگی اور ان تک ان مصائب کے ضَرر پہنچیں گے ۔(ف89)اللہ کیطرف سے فتح و نصرت آئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا دین غالب ہو اور مکّۂ مکّرمہ فتح کیا جائے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ اس وعدہ سے روزِ قیامت مراد ہے جس میں اعمال کی جزا دی جائے گی ۔(ف90)اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اس قسم کے بیہودہ سوال اور ایسے تمسخُر و استہزاء سے آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہادیوں کو ایسے واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں (ف۹٤) یا یوں ہی اوپری بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے (ف۹٦) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
(ف92)نیک کی بھی بد کی بھی یعنی اللہ تعالٰی کیا وہ ان بتوں کی مثل ہوسکتا ہے جو ایسے نہیں نہ انہیں علم ہے نہ قدرت ، عاجز بے شعور ہیں ۔(ف93)وہ ہیں کون ؟(ف94)اور جو اس کے علم میں نہ ہو وہ باطلِ مَحض ہے ، ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے لہذا اسکے لئے شریک ہونا باطل وغلط ۔(ف95)کے درپے ہوتے ہو جس کی کچھ اصل و حقیقت نہیں ۔(ف96)یعنی رُشد و ہدایت اور دین کی راہ سے ۔
احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸) ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آگ ،
(ف98)یعنی اس کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہے ، ان میں سے کوئی منقطع اور زائل ہونے والا نہیں ۔ جنّت کا حال عجیب ہے اس میں نہ سورج ہے نہ چاند نہ تاریکی باوجود اس کے غیر منقطع دائمی سایہ ہے ۔(ف99)یعنی تقوٰی والوں کے لئے جنّت ہے ۔
اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)
(ف100)یعنی وہ یہود و نصارٰی جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ عبداللہ بن سلام وغیرہ اور حبشہ و نجران کے نصرانی ۔(ف101)یہود ونصارٰی و مشرکین کے جو آپ کی عداوت میں سرشار ہیں اورآپ پر انہوں نے چڑھائیاں کیں ہیں ۔(ف102)اس میں کیا بات قابلِ انکار ہے کیوں نہیں مانتے ! ۔
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰٤) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،
(ف103)یعنی جس طرح پہلے انبیاء کو ان کی زبانوں میں احکام دیئے تھے اسی طرح ہم نے یہ قرآن اے سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کی زبان عربی میں نازِل فرمایا ۔ قرآنِ کریم کو حکم اس لئے فرمایا کہ اس میں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت اور تمام تکالیف و احکام اور حلال و حرام کا بیان ہے ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا چونکہ اللہ تعالٰی نے تمام خَلق پر قرآن شریف کے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اس کا نام حکم رکھا ۔(ف104)یعنی کافِروں کو جو اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے (ف۱۰٦)
(ف105)شانِ نُزول : کافِروں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ عیب لگایا تھا کہ وہ نکاح کرتے ہیں اگر نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے ، بی بی بچّے سے کچھ واسطہ نہ رکھتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ بی بی بچّے ہونا نبوّت کے مُنافی نہیں لہذا یہ اعتراض مَحض بے جا ہے اور پہلے جو رسول آچکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے ، ان کے بھی بیبیاں اور بچے تھے ۔(ف106)اس سے مقدّم و موخّر نہیں ہوسکتا خواہ وہ وعدہ عذاب کا ہو یا کوئی اور ۔
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (ف۱۰۸)
(ف107)سعید بن جبیر اور قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اللہ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ۔ انہیں ابن جبیر کا ایک قول یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں میں سے اللہ جو چاہتا ہے مغفرت فرما کر مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی توبہ سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے اور اس کی تفسیر میں اور بھی بہت اقوال ہیں ۔(ف108)جس کو ا س نے ازَل میں لکھا یہ علمِ الٰہی ہے یا اُم الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے جس میں تمام کائنات اور عالَم میں ہونے والے جملہ حوادث و واقعات اور تمام اشیاء مکتوب ہیں اور اس میں تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا ۔
اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انھیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا (ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)
(ف109)عذاب کا ۔(ف110)ہم تمہیں ۔(ف111)اور اعمال کی جزا دینا ۔(ف112)تو آپ کافِروں کے اعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور عذاب کی جلدی نہ کریں ۔
کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱٤) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،
(ف113)اور زمینِ شرک کی وسعت دمبدم کم کر رہے ہیں اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کُفّار کے گرد و پیش کی اراضی یکے بعد دیگرے فتح ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے حبیب کی مدد فرماتا ہے اور ان کے لشکر کو فتح مند کرتا ہے اور انکے دین کو غلبہ دیتا ہے ۔(ف114)اس کا حکم نافذ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس میں چوں چرا یا تغییر و تبدیل کرسکے جب وہ اسلا م کو غلبہ دینا چاہے اور کُفر کو پست کرنا تو کس کی تاب و مجال کہ اس کے حکم میں دخل دے سکے ۔
اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے (ف۱۱٦) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)
(ف115)یعنی گزری ہوئی اُمّتوں کے کُفّار اپنے انبیاء کے ساتھ ۔(ف116)پھر بغیر اس کی مشیت کے کسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ ۔(ف117)ہر ایک کا کسب اللہ تعالٰی کو معلوم ہے اور اس کے نزدیک ان کی جزا مقرر ہے ۔(ف118)یعنی کافِر عنقریب جان لیں گے کہ راحتِ آخرت مومنین کے لئے ہے اور وہاں کی ذلّت و خواری کُفّار کے لئے ہے ۔
اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)
(ف119)جس نے میرے ہاتھوں میں معجزاتِ باہرہ و آیاتِ قاہرہ ظاہر فرما کر میرے نبیٔ مُرسَل ہونے کی شہادت دی ۔(ف120)خواہ وہ عُلَمائے یہود میں سے توریت کا جاننے والا ہو یا نصارٰی میں سے انجیل کا عالم ، وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر جانتا ہے ان عُلَماء میں سے اکثر آپ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں ۔