ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف٤) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف٦) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے
(ف2)یہ قرآن شریف ۔(ف3)کُفر و ضلالت و جہل و غوایت کی ۔(ف4)ایمان کے ۔(ف5)ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں ایماء ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کُفر و ضلالت کے طریقے کثیر ۔(ف6)یعنی دینِ اسلام ۔
اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انھیں صاف بتائے (ف۱۱) پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(ف10)جس میں وہ رسول مبعوث ہوا ، خواہ اس کی دعوت عام ہو اور دوسری قوموں اور دوسرے مُلکوں پر بھی اس کا اِتِّباع لازم ہو جیسا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت تمام آدمیوں اور جنّوں بلکہ ساری خَلق کی طرف ہے اور آپ سب کے نبی ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً ۔(ف11)اور جب اس کی قوم اچھی طرح سمجھ لے تو دوسری قوموں کو ترجموں کے ذریعے سے وہ احکام پہنچا دیئے جائیں اور ان کے معنٰی سمجھا دیئے جائیں ۔ بعض مفسِّرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ قومِہٖ کی ضمیر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف راجع ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان یعنی عربی میں وحی فرمائی اور یہ معنٰی ایک روایت میں بھی آئے ہیں کہ وحی ہمیشہ عربی زبان ہی میں نازِل ہوئی پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کے لئے ان کی زبانوں میں ترجمہ فرما دیا ۔ ( اتقان ، حسینی ) مسئلہ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی تمام زبانوں میں سب سے افضل ہے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،
(ف12)مثل عصا و یدِ بیضا وغیرہ معجزاتِ باہرہ کے ۔(ف13)کُفر کی نکال کر ایمان کے ۔(ف14)قاموس میں ہے کہ ایّامُ اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس و اُبی بن کعب و مجاہد و قتادہ نے بھی ایّامُ اللہ کی تفسیر (اللہ کی نعمتیں) فرمائیں ۔ مقاتل کا قول ہے کہ ایّامُ اللہ سے وہ بڑے بڑے وقائع مراد ہیں جو اللہ کے امر سے واقع ہوئے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ ایّامُ اللہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سلوٰی اتارنے کا دن ، حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن ( خازن و مدارک و مفرداتِ راغب) ان ایّامُ اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں پر جو اللہ تعالٰی کی نعمتیں ہوئیں یا جن ایّام میں واقعاتِ عظمیہ پیش آئے جیسا کہ دسویں محرم کو کربلا کا واقعہ ہائلہ ، ان کی یادگار میں قائم کرنا بھی تذکیر بِایّامِ اللہ میں داخل ہے ۔ بعض لوگ میلاد شریف معراج شریف اور ذکرِ شہادت کے ایّام کی تخصیص میں کلام کرتے ہیں انہیں اس آیت سے نصیحت پذیر ہونا چاہیئے ۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱٦) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،
(ف15)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا اپنی قوم کو یہ ارشاد فرمانا تذکیر ایّامُ اللہ کی تعمیل ہے ۔(ف16)یعنی نجات دینے میں ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،
(ف17)اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہارکرے اور حقیقتِ شکر یہ ہے کہ مُنعِم کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالٰی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالٰی کی مَحبت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہ مقام بہت برتر ہے اور اس سے اعلٰی مقام یہ ہے کہ مُنعِم کی مَحبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف التفات باقی نہ رہے ، یہ مقام صدیقوں کا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔
کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انھیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،
(ف19)کتنے تھے ۔(ف20)اور انہوں نے معجزات دکھائے ۔(ف21)شدّتِ غیظ سے ۔(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ غصّہ میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے کتاب اللہ سن کر تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ، غرض یہ کوئی نہ کوئی انکار کی ادا تھی ۔(ف23)یعنی توحید و ایمان ۔
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲٤) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲٦) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بےعذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)
(ف24)کیا اس کی توحید میں تردُّد ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، اس کی دلیلیں تو نہایت ظاہر ہیں ۔(ف25)اپنی طاعت و ایمان کی طرف ۔(ف26)جب تم ایمان لے آؤ اس لئے کہ اسلام لانے کے بعد پہلے کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں سوائے حقوقِ عباد کے اور اسی لئے کچھ گناہ فرمایا ۔(ف27)ظاہر میں ہمیں اپنی مثل معلوم ہوتے ہو پھر کیسے مانا جائے کہ ہم تو نبی نہ ہوئے اور تمہیں یہ فضیلت مل گئی ۔(ف28)یعنی بُت پرستی سے ۔(ف29)جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو ۔ یہ کلام ان کا عناد و سرکشی سے تھا اور باوجود یکہ انبیاء آیات لا چکے تھے ، معجزات دکھا چکے تھے پھر بھی انہوں نے نئی سند مانگی اور پیش کئے ہوئے معجزات کو کالعدم قرار دیا ۔
ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)
(ف30)اچھا یہی مانو کہ ۔(ف31)اور نُبوّت و رسالت کے ساتھ برگزیدہ کرتا ہے اور اس منصبِ عظیم کے ساتھ مشرف فرماتا ہے ۔(ف32)وہی اعداء کی شر دفع کرتا اور اس سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھا دیں (ف۳٤) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
(ف33)ہم سے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ قضائے الٰہی میں ہے وہی ہوگا ، ہمیں اس پر پورا بھروسہ اور کامل اعتماد ہے ۔ ابو تراب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ توکُّل بدن کو عبودیت میں ڈالنا ، قلب کو ربوبیت کے ساتھ متعلق رکھنا ، عطا پر شکر ، بلا پر صبر کا نام ہے ۔(ف34)اور رُشد و نَجات کے طریقے ہم پر واضح فرما دیئے اور ہم جانتے ہیں کہ تمام امور اس کے قدرت و اختیار میں ہیں ۔
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انھیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے
اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳٦) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،
(ف36)حدیث شریف میں ہے جو اپنے ہمسائے کو ایذا دیتا ہے اللہ اس کے گھر کا اسی ہمسائے کو مالک بناتا ہے ۔(ف37)قیامت کے دن ۔
اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مراد ہوا (ف۳۹)
(ف38)یعنی انبیاء نے اللہ تعالٰی سے مدد طلب کی یا اُمّتوں نے اپنے اور رسولوں کے درمیان اللہ تعالٰی سے ۔(ف39)معنٰی یہ ہیں کہ انبیاء کی نصرت فرمائی گئی اور انہیں فتح دی گئی اور حق کے معانِد ، سرکش کافِر نامراد ہوئے اور ان کے خلاص کی کوئی سبیل نہ رہی ۔
بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف٤۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف٤۱)
(ف40)حدیث شریف میں ہے کہ جہنّمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا جب وہ منہ کے پاس آئے گا تو اس کو بہت ناگوار معلوم ہوگا اور جب اور قریب ہو گا تو اس سے چہرہ بُھن جائے گا اور سر تک کی کھال جل کر گر پڑ ے گی جب پئے گا تو آنتیں کٹ کر نکل جائیں گی ۔ ( اللہ کی پناہ)(ف41)یعنی ہر عذاب کے بعد اس سے زیادہ شدید و غلیظ عذاب ہوگا ۔ ( نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ ) ۔
اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ٤۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف٤۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،
(ف42)جن کو وہ نیک عمل سمجھتے تھے جیسے کہ محتاجوں کی امداد ، مسافروں کی اعانت اور بیماروں کی خبر گیری وغیرہ چونکہ ایمان پر مبنی نہیں اس لئے وہ سب بے کار ہیں اور ان کی ایسی مثال ہے ۔(ف43)اور وہ سب اڑ گئی اور اس کے اجزاء منتشر ہو گئے اور اس میں سے کچھ باقی نہ رہا یہی حال ہے کُفّار کے اعمال کا کہ ان کے شرک و کُفر کی وجہ سے سب برباد اور باطل ہو گئے ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف٤٤) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف٤۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف٤٦)
(ف44)ان میں بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی پیدائش عبث نہیں ہے ۔(ف45)معدوم کر دے ۔(ف46)بجائے تمہارے جو فرمانبردار ہو اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے جو آسمان و زمین پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اور سب اللہ کے حضور (ف٤۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف٤۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف٤۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بےقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،
(ف48)روزِ قیامت ۔(ف49)اور دولت مندوں اور با اثر لوگوں کی اِتّباع میں انہوں نے کُفر اختیار کیا تھا ۔(ف50)کہ دین و اعتقاد میں ۔(ف51)یہ کلام ان کا توبیخ و عنادکے طور پر ہوگا کہ دنیا میں تم نے گمراہ کیا تھا اور راہِ حق سے روکا تھا اوربڑھ بڑھ کر باتیں کیا کرتے تھے ، اب وہ دعوے کیا ہوئے اب اس عذاب میں سے ذرا سا تو ٹالو ، کافِروں کے سردار اس کے جواب میں ۔(ف52)جب خود ہی گمراہ ہو رہے تھے تو تمہیں کیا راہ دکھاتے ، اب خلاصی کی کوئی راہ نہیں ، نہ کافِروں کے لئے شفاعت ، آؤ روئیں اور فریاد کریں ، پانچ سوبرس فریاد و زاری کریں گے اور کچھ نہ کام آئے گی تو کہیں گے اب صبر کر کے دیکھو شاید اس سے کچھ کام نکلے ، پانچ سو برس صبر کریں گے وہ بھی کام نہ آئے گا تو کہیں گے کہ ۔
اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵٤) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵٦) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف٦۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،
(ف53)اور حساب سے فراغت ہو جائے گی ، جنّتی جنّت کا اور دوزخی دوزخ کا حکم پا کر جنّت و دوزخ میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخی شیطان پر ملامت کریں گے اور اس کو برا کہیں گے کہ بدنصیب تو نے ہمیں گمراہ کر کے اس مصیبت میں گرفتار کیا تو وہ جواب دے گا کہ ۔(ف54)کہ مرنے کے بعد پھر اٹھنا ہے اور آخرت میں نیکیوں اور بدیوں کا بدلہ ملے گا ، اللہ کا وعدہ سچا تھا سچا ہوا ۔(ف55)کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ جزا ، نہ جنّت ، نہ دوزخ ۔(ف56)نہ میں نے تمیں اپنے اِتّباع پر مجبور کیا تھا یا یہ کہ میں نے اپنے وعدہ پر تمہارے سامنے کوئی حُجّت و برہان پیش نہیں کی تھی ۔(ف57)وسوسے ڈال کر گمراہی کی طرف ۔(ف58)اور بغیر حُجّت و برہان کے تم میرے بہکائے میں آ گئے باوجود یکہ اللہ تعالٰی نے تم سے فرما دیا تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے رسول اس کی طرف سے دلائل لے کر تمہارے پاس آئے اور انہوں نے حجّتیں پیش کیں اور برہانیں قائم کیں تو تم پر خود لازم تھا کہ تم ان کا اِتّباع کرتے اور ان کے روشن دلائل اورظاہر معجزات سے منہ نہ پھیرتے اور میری بات نہ مانتے اور میری طرف التفات نہ کرتے مگر تم نے ایسا نہ کیا ۔(ف59)کیونکہ میں دشمن ہوں اور میری دشمنی ظاہر ہے اور دشمن سے خیر خواہی کی امید رکھنا ہی حماقت ہے تو ۔(ف60)اللہ کا اس کی عبادت میں ۔ (خازن)
اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف٦۱)
(ف61)اللہ تعالٰی کی طرف سے اور فرشتوں کی طرف سے اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف سے ۔
ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف٦٤)
(ف63)ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ قلبِ مومن کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثمرات برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں ۔ حدیث شریف میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا وہ درخت بتاؤ جو مومن کے مثل ہے اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہے ( یعنی جس طرح مومن کے عمل اکارت نہیں ہوتے اور اس کی برکتیں ہر وقت حاصل رہتی ہیں ) صحابہ نے فکریں کیں کہ ایسا کون درخت ہے جس کے پتے نہ گرتے ہوں اور اس کا پھل ہر وقت موجود رہتا ہے چنانچہ جنگل کے درختوں کے نام لئے جب ایسا کوئی درخت خیال میں نہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ، فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا کہ جب حضور نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن بڑے بڑے صحابہ تشریف فرما تھے میں چھوٹا تھا اس لئے میں ادباً خاموش رہا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ۔(ف64)اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح خاطر گُزین ہو جاتے ہیں ۔
اور گندی بات (ف٦۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف٦٦) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف٦۷)
(ف65)یعنی کُفری کلام ۔(ف66)مثل اندرائن کے جس کا مزہ کڑوا ، بو ناگوار یا مثل لہسن کے بدبودار ۔(ف67)کیونکہ جڑ اس کی زمین میں ثابت و مستحکم نہیں ، شاخیں اس کی بلند نہیں ہوتیں ۔ یہی حال ہے کُفری کلام کا کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور کوئی حجّت و برہان نہیں رکھتا جس سے استحکام ہو ، نہ اس میں کوئی خیر وبرکت کہ وہ بلندیٔ قبول پر پہنچ سکے ۔
اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (٦۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف٦۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،
(ف68)یعنی کلمۂ ایمان ۔(ف69)کہ وہ ابتلاء اور مصیبت کے وقتوں میں بھی صابر و قائم رہتے ہیں اور راہِ حق و دینِ قویم سے نہیں ہٹتے حتی کہ ان کی حیات کاخاتمہ ایمان پر ہوتا ہے ۔ (ف70)یعنی قبر میں کہ اول منازلِ آخرت ہے جب منکر نکیر آ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا ربّ کون ہے ، تمہارا دین کیا ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے دریافت کرتے ہیں کہ ان کی نسبت تو کیا کہتا ہے ؟ تو مومن اس منزل میں بفضلِ الٰہی ثابت رہتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے ، میرا دین اسلام اور یہ میرے نبی ہیں محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول پھر اس کی قبر وسیع کر دی جاتی ہے اور اس میں جنّت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور وہ منوّر کر دی جاتی ہے اور آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ۔(ف71)وہ قبر میں منکَر و نکیر کو جواب صحیح نہیں دے سکتے اور ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، آسمان سے ندا ہوتی ہے میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لئے آ گ کا فرش بچھاؤ ، دوزخ کا لباس پہناؤ ، دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو ۔ اس کو دوزخ کی گرمی اور دوزخ کی لپٹ پہنچتی ہے اور قبر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں ، عذاب کرنے والے فرشتے اس پر مقرر کئے جاتے ہیں جو اسے لوہے کے گرزوں سے مارتے ہیں ۔( اَعَاذْنَا اللّٰہ ُ تَعَالیٰ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَ ثَبِّتْنَاعَلَی الْاِیْمَانِ ) ۔
کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،
(ف72)بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں سے مراد کُفّارِ مکّہ ہیں اور وہ نعمت جس کی شکر گزاری انہوں نے نہ کی وہ اللہ کے حبیب ہیں سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اللہ تعالٰی نے ان کے وجود سے اس امّت کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا ۔ لازم تھا کہ اس نعمتِ جلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کا اِتّباع کر کے مزید کرم کے مورد ہوتے بجائے اس کے انہوں نے ناشکری کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے دارالہلاک میں پہنچایا ۔
میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷٦) نہ یارانہ (ف۷۷)
(ف76)کہ خرید و فروخت یعنی مالی معاوضے اور فد یے سے ہی کچھ نفع اٹھایا جا سکے ۔(ف77)کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ۔ اس آیت میں نفسانی و طبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جو مَحبتِ الٰہی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زخرف میں فرمایا اَلْاَ خِلَّاءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)
(ف78)اور اس سے تم فائدے اٹھاؤ ۔(ف79)کہ ان سے کام لو ۔
اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)
(ف82)کہ کُفر و معصیت کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور اپنے ربّ کی نعمت اور اس کے احسان کا حق نہیں مانتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انسان سے یہاں ابو جہل مراد ہے ۔ زُجاج کا قول ہے کہ انسان اسمِ جنس ہے اور یہاں اس سے کافِر مراد ہے ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸٤) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)
(ف83)مکّۂ مکرّمہ ۔(ف84)کہ قربِ قیامت دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے مکّۂ مکرّمہ کو ویران ہونے سے امن دی اور کوئی بھی اس کے ویران کرنے پر قادر نہ ہو سکا اور اس کو اللہ تعالٰی نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ، نہ کسی پر ظلم کیا جائے ، نہ وہاں شکار مارا جائے ، نہ سبزہ کاٹا جائے ۔(ف85)انبیاء علیہم السلام بُت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں تواضُع و اظہارِ احتیاج کے لئے ہے کہ باوجودیکہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔
اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸٦) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)
(ف86)یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوئے کہ وہ انہیں پوجنے لگے ۔(ف87)اور میرے عقیدے و دین پر رہا ۔(ف88)چاہے تو اسے ہدایت کرے اور توفیقِ توبہ عطا فرمائے ۔
اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انھیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،
(ف89)یعنی اس وادی میں جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے اور ذُرّیَّت سے مراد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں ، آپ سر زمینِ شام میں حضرت ہاجرہ کے بطنِ پاک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اس وجہ سے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کر دیجئے ۔ حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چنانچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل کو اس سر زمین میں لے جائیں (جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے ) آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوارکر کے شام سے سر زمینِ حرم میں لائے اور کعبۂ مقدسہ کے نزدیک اتارا ، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی ، نہ کوئی چشمہ نہ پانی ، ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن میں پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا ، حضرت ہاجرہ والدۂ اسمٰعیل نے عرض کیا کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں بے انیس و رفیق چھوڑے جاتے ہیں لیکن آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اورا س کی طرف التفات نہ فرمایا ، حضرت ہاجرہ نے چند مرتبہ یہی عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اس وقت انہیں اطمینان ہوا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو آیت میں مذکور ہے ۔ حضرت ہاجرہ اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دودھ پلانے لگیں جب وہ پانی ختم ہو گیا اور پیاس کی شدّت ہوئی اور صاحب زادے کا حَلق شریف بھی پیاس سے خشک ہو گیا تو آپ پانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں ، ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا ۔ آیت میں حرمت والے گھر سے بیت اللہ مراد ہے جو طوفانِ نوح سے پہلے کعبۂ مقدسہ کی جگہ تھا اور طوفان کے وقت آسمان پر اٹھا لیا گیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ آپ کے آ گ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا ، آ گ کے واقعہ میں آپ نے دعا نہ فرمائی تھی اور اس واقعہ میں دعا کی اور تضرُّع کیا ۔ اللہ تعالٰی کی کارسازی پر اعتماد کر کے دعا نہ کرنا بھی توکُّل اور بہتر ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اس آخر واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دمبدم ترقی پر ہیں ۔(ف90)یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد اسں وادیٔ بے زراعت میں تیرے ذکر و عبادت میں مشغول ہوں اور تیرے بیت حرام کے پاس ۔(ف91)اطراف و بلاد سے یہاں آئیں اور ان کے قلوب اس مکانِ طاہر کی شوقِ زیارت میں کھینچیں ۔ اس میں ایمانداروں کے لئے یہ دعا ہے کہ انہیں بیت اللہ کا حج میسّر آئے اور اپنی یہاں رہنے والی ذُرِّیَّت کے لئے یہ کہ وہ زیارت کے لئے آنے والوں سے منتفِع ہوتے رہیں ، غرض یہ دعا دینی دنیوی برکات پر مشتمل ہے ۔ حضرت کی دعا قبول ہوئی اور قبیلۂ جرہم نے اس طرف سے گزرتے ہوئے ایک پرند دیکھا تو انہیں تعجب ہوا کہ بیابان میں پرندہ کیسا ، شاید کہیں چشمہ نمودار ہوا ، جستجو کی تو دیکھا کہ زمزم شریف میں پانی ہے یہ دیکھ کر ان لوگوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں بسنے کی اجازت چاہی ، انہوں نے اس شرط سے اجازت دی کہ پانی میں تمہارا حق نہ ہوگا وہ لوگ وہاں بسے اور حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام جوان ہوئے تو ان لوگوں نے آپ کے صلاح و تقوٰی کو دیکھ کر اپنے خاندان میں آپ کی شادی کر دی اور حضرت ہاجرہ کا وصال ہو گیا اس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا پوری ہوئی اور آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا ۔(ف92)اسی کا ثمرہ ہے کہ فصولِ مختلفہ ربیع و خریف و صیف و شتاء کے میوے وہاں بیک وقت موجود ملتے ہیں ۔
اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)
(ف93)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی تو آپ نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بےتحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)
(ف98)حضرت اسرافیل علیہ السلام کی طرف جو انہیں عرصۂ محشر کی طرف بلائیں گے ،(ف99)کہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں ۔(ف100)شدّتِ حیرت و دہشت سے ۔ قتادہ نے کہا کہ دل سینوں سے نکل کر گلوں میں آ پھنسیں گے ، نہ باہر نکل سکیں نہ اپنی جگہ واپس جا سکیں گے ، معنی یہ ہیں کہ اس دن کی شدّتِ ہول و دہشت کا یہ عالَم ہوگا کہ سر اوپر اٹھے ہوں گے ، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ، دل اپنی جگہ پر قرار نہ پا سکیں گے ۔
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰٤) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰٦) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)
(ف101)یعنی کُفّار کو قیامت کے دن کا خوف دلاؤ ۔(ف102)یعنی کافِر ۔(ف103)دنیا میں واپس بھیج دے اور ۔(ف104)اور تیری توحید پر ایمان لائیں ۔(ف105)اور ہم سے جو قصور ہو چکے اس کی تلافی کریں اس پر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا ۔(ف106)دنیا میں ۔(ف107)اور کیا تم نے بَعث و آخرت کا انکار نہ کیا تھا ۔
اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)
(ف108)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے جیسے کہ قومِ نوح وعاد و ثمود وغیرہ ۔(ف109)اور تم نے اپنی آنکھوں سے ان کے منازل میں عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں ان کی ہلاکت و بربادی کی خبریں ملیں ، یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت نہ حاصل کی اور تم کُفر سے باز نہ آئے ۔(ف110)تاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو اور عذاب و ہلاک سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔
اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)
(ف111)اسلام کے مٹانے اور کُفر کی تائید کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ۔(ف112)کہ انہوں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے یا قید کرنے یا نکال دینے کا ارادہ کیا ۔(ف113)یعنی آیاتِ الٰہی اور احکامِ شرعِ مصطفائی جو اپنے قوت و ثبات میں بمنزلہ مضبوط پہاڑوں کے ہیں ، محال ہے کہ کافِروں کے مکر اور ان کی حیلہ انگیزیوں سے اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔
جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱٦) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایکاللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے
(ف115)اس دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔(ف116)زمین و آسمان کی تبدیلی میں مفسِّرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی نہ اس پر پہاڑ باقی رہیں گے ، نہ بلند ٹیلے ، نہ گہرے غار ، نہ درخت ، نہ عمارت ، نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور آفتاب ماہتاب کی روشنیاں معدوم ہوں گی ، یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی ، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہو گی ، سفید و صاف جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمان سونے کا ہوگا ۔ یہ دو قول اگرچہ بظاہر باہم مخالف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک صحیح ہے اور وجہ جمع یہ ہے کہ اوّل تبدیلِ صفات ہوگی اور دوسری مرتبہ بعدِ حساب تبدیلِ ثانی ہوگی ، اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی ۔(ف117)اپنی قبروں سے ۔
ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی
(ف120)سیاہ رنگ بدبو دار ، جن سے آ گ کے شعلے اور زیادہ تیز ہو جائیں ۔ (مدارک و خازن) تفسیرِ بیضاوی میں ہے کہ ان کے بدنوں پر رال لیپ دی جائے گی وہ مثل کُرتے کے ہو جائیگی ، اس کی سوزش اور اس کے رنگ کی وحشت و بدبو سے تکلیف پائیں گے ۔
یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،
(ف121)قرآن شریف ۔(ف122)یعنی ان آیات سے اللہ تعالٰی کی توحید کی دلیلیں پائیں ۔