Ibrahim ابراھیم

پارہ:
سورہ: 14
آیات: 52
الۤرٰ​ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ لِـتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ  ۙ بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ‏ ﴿1﴾

ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف٤) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف٦) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے

اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ​ؕ وَوَيۡلٌ لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِيۡدِ ۙ‏ ﴿2﴾

اللہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۷) اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے

اۨلَّذِيۡنَ يَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا​ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ‏  ﴿3﴾

جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸) اور اس میں کجی چاہتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں ہیں (ف۹)

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡ​ؕ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ​ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿4﴾

اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انھیں صاف بتائے (ف۱۱) پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ ۙ وَذَكِّرۡهُمۡ بِاَيّٰٮمِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ‏ ﴿5﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِـقَوۡمِهِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ اَنۡجٰٮكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡۤءَ الۡعَذَابِ وَ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ​ ؕ وَفِىۡ ذٰ لِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ‏ ﴿6﴾

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱٦) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَٮِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ​ وَلَٮِٕنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏ ﴿7﴾

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،

وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنۡ تَكۡفُرُوۡۤا اَنۡـتُمۡ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَـغَنِىٌّ حَمِيۡدٌ‏ ﴿8﴾

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کافر ہوجاؤ (ف۱۸) تو بیشک اللہ بےپر وہ سب خوبیوں والا ہے،

اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ​  ۛؕ وَالَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ ​ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ​ؕ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِىۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ وَقَالُوۡۤا اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَـنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ‏ ﴿9﴾

کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انھیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،

قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ يَدۡعُوۡكُمۡ لِيَـغۡفِرَ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى​ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَاؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿10﴾

ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲٤) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲٦) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بےعذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)

قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ​ؕ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ​ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‏  ﴿11﴾

ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)

وَمَا لَـنَاۤ اَلَّا نَـتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰٮنَا سُبُلَنَا​ؕ وَلَــنَصۡبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيۡتُمُوۡنَا​ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏  ﴿12﴾

اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھا دیں (ف۳٤) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا​ ؕ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿13﴾

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انھیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے

وَلَـنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ​ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِىۡ وَخَافَ وَعِيۡدِ‏ ﴿14﴾

اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳٦) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،

وَاسۡتَفۡتَحُوۡا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍۙ‏ ﴿15﴾

اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مراد ہوا (ف۳۹)

مِّنۡ وَّرَآٮِٕهٖ جَهَـنَّمُ وَيُسۡقٰى مِنۡ مَّآءٍ صَدِيۡدٍۙ‏ ﴿16﴾

جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،

يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيۡـغُهٗ وَيَاۡتِيۡهِ الۡمَوۡتُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍؕ​ وَمِنۡ وَّرَآٮِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيۡظٌ‏ ﴿17﴾

بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف٤۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف٤۱)

مَثَلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ​ اَعۡمَالُهُمۡ كَرَمَادِ ۨاشۡتَدَّتۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ يَوۡمٍ عَاصِفٍ​ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا عَلٰى شَىۡءٍ​ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ‏ ﴿18﴾

اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ٤۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف٤۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ​ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍۙ‏ ﴿19﴾

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف٤٤) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف٤۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف٤٦)

وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ‏ ﴿20﴾

اور یہ (ف٤۷) اللہ پر کچھ دشوار نہیں،

وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمۡ تَبَعًا فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّغۡـنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ​ؕ قَالُوۡا لَوۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ لَهَدَيۡنٰكُمۡ​ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَــنَا مِنۡ مَّحِيۡصٍ‏ ﴿21﴾

اور سب اللہ کے حضور (ف٤۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف٤۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف٤۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بےقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،

وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَـمَّا قُضِىَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَـقِّ وَوَعَدْتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ​ؕ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِىۡ​ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِىۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ​ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِىَّ​ ؕ اِنِّىۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَكۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ​ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ‏ ﴿22﴾

اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵٤) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵٦) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف٦۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،

وَاُدۡخِلَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ​ؕ تَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ‏ ﴿23﴾

اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف٦۱)

اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُهَا فِى السَّمَآءِۙ‏ ﴿24﴾

کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی (ف٦۲) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں،

تُؤۡتِىۡۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيۡنٍۢ بِاِذۡنِ رَبِّهَا​ؕ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿25﴾

ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف٦٤)

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةٍ ۨاجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ‏ ﴿26﴾

اور گندی بات (ف٦۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف٦٦) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف٦۷)

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِى الۡاٰخِرَةِ​ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ​ ۙ وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ‏ ﴿27﴾

اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (٦۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف٦۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا وَّاَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِۙ‏ ﴿28﴾

کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،

جَهَـنَّمَ​ۚ يَصۡلَوۡنَهَا​ؕ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ‏ ﴿29﴾

وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے، اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،

وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ​ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِيۡرَكُمۡ اِلَى النَّارِ‏ ﴿30﴾

اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہراے (ف۷۳) کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ (ف۷٤) کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے (ف۷۵)

قُلْ لِّـعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ‏ ﴿31﴾

میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷٦) نہ یارانہ (ف۷۷)

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ​ ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡـفُلۡكَ لِتَجۡرِىَ فِى الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ​ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡاَنۡهٰرَ​ۚ‏ ﴿32﴾

اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)

وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآٮِٕبَيۡنِ​ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ​ۚ‏ ﴿33﴾

اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)

وَاٰتٰٮكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡـتُمُوۡهُ​ ؕ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ‏ ﴿34﴾

اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجۡنُبۡنِىۡ وَبَنِىَّ اَنۡ نَّـعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَؕ‏ ﴿35﴾

اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸٤) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ​ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ​ۚ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿36﴾

اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸٦) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)

رَبَّنَاۤ اِنِّىۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِىۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ فَاجۡعَلۡ اَ فۡـٮِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انھیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِىۡ وَمَا نُعۡلِنُ​ ؕ وَمَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ‏ ﴿38﴾

اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ وَهَبَ لِىۡ عَلَى الۡـكِبَرِ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَسَمِيۡعُ الدُّعَآءِ‏ ﴿39﴾

سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے،

رَبِّ اجۡعَلۡنِىۡ مُقِيۡمَ الصَّلٰوةِ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ​​ ۖ  رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ‏ ﴿40﴾

اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (ف۹٤) اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِىۡ وَلـِوَالِدَىَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ يَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡحِسَابُ‏  ﴿41﴾

اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۹۵) اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا،

وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ​ ؕ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ۙ‏ ﴿42﴾

اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹٦) انھیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)

مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِعِىۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ​ ۚ وَاَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ؕ‏ ﴿43﴾

آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بےتحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)

وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ فَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ وَنَـتَّبِعِ الرُّسُلَ​ؕ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤااَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَالَـكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍۙ‏  ﴿44﴾

اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰٤) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰٦) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)

وَّسَكَنۡتُمۡ فِىۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَـكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ وَضَرَبۡنَا لَـكُمُ الۡاَمۡثَالَ‏ ﴿45﴾

اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)

وَقَدۡ مَكَرُوۡا مَكۡرَهُمۡ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡؕ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ‏ ﴿46﴾

اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ذُوۡ انْتِقَامٍؕ‏ ﴿47﴾

تو ہرگز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا (ف۱۱٤) بیشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،

يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ​ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ‏ ﴿48﴾

جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱٦) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایکاللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے

وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ يَوۡمَٮِٕذٍ مُّقَرَّنِيۡنَ فِى الۡاَصۡفَادِ​ۚ‏ ﴿49﴾

اور اس دن تم مجرموں (ف۱۱۸) کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے (ف۱۱۹)

سَرَابِيۡلُهُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ النَّارُۙ‏ ﴿50﴾

ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی

لِيَجۡزِىَ اللّٰهُ كُلَّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏  ﴿51﴾

اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،

هٰذَا بَلٰغٌ لِّـلنَّاسِ وَلِيُنۡذَرُوۡا بِهٖ وَلِيَـعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الۡا َلۡبَابِ‏ ﴿52﴾

یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،

Scroll to Top