(ف2) یہ آرزوئیں یا وقتِ نزع عذاب دیکھ کر ہوں گی جب کافِر کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ گمراہی میں تھا یا آخرت میں روزِ قیامت کے شدائد اور اہوال اور اپنا انجام و مآل دیکھ کر ۔ زُجاج کا قول ہے کہ کافِر جب کبھی اپنے احوالِ عذاب اور مسلمانوں پر اللہ کی رحمت دیکھیں گے ہر مرتبہ آرزوئیں کریں گے کہ ۔
انھیں چھوڑو (ف۳) کہ کھائیں اور برتیں (ف٤) اور امید (ف۵) انھیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں (ف٦)
(ف3)اے مصطفٰے ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔(ف4) دنیا کی لذتیں ۔(ف5)تنعُّم و تلذُّذ و طولِ حیات کی جس کے سبب وہ ایمان سے محروم ہیں ۔(ف6) اپنا انجامِ کار ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ لمبی امیدوں میں گرفتار ہونا اور لذاتِ دنیا کی طلب میں غرق ہو جانا ایماندار کی شان نہیں ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا لمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کا اِتِّباع حق سے روکتا ہے ۔
اور بولے (ف۸) کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو (ف۹)
(ف8)کُفّارِ مکّہ حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔(ف9)ان کا یہ قول تمسخُر اور استہزاء کے طور پر تھاجیسا کہ فرعون نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت کہا تھا اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ۔
بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں (ف۱۳)
(ف13)کہ تحریف و تبدیل و زیادتی و کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔ تمام جن و انس اورساری خَلق کے مقدور میں نہیں ہے کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی کرے یا تغییر و تبدیل کرسکے اور چونکہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسّر نہیں ۔ یہ حفاظت کئی طرح پر ہے ایک یہ کہ قرآنِ کریم کو معجِزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ، ایک یہ کہ اس کو معارضے اور مقابلہ سے محفوظ کیا کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو ، ایک یہ کہ ساری خَلق کو اس کے نیست و نابود اور معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کُفّار باوجود کمال عداوت کے اس کتابِ مقدس کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں (ف۱٤)
(ف14) اس آیت میں بتایا گیا کہ جس طرح کُفّارِ مکّہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلانہ باتیں کیں اور بے ادبی سے آپ کو مجنون کہا ۔ قدیم زمانہ سے کُفّار کی انبیاء کے ساتھ یہی عادت رہی ہے اور وہ رسولوں کے ساتھ تمسخُر کرتے رہے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے ۔
وہ اس پر (ف۱٦) ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے (ف۱۷)
(ف16)یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا قرآن پر ۔(ف17)کہ وہ انبیاء کی تکذیب کر کے عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں ۔ یہی حال ان کا ہے تو انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرتے رہنا چاہیئے ۔
جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے (ف۱۸)
(ف18) یعنی ان کُفّار کا عناد اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان کے لئے آسمان میں دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں اس میں چڑھنا میسّر ہو اور دن میں اس سے گزریں اور آنکھوں سے دیکھیں جب بھی نہ مانیں اور یہ کہہ دیں کہ ہماری نظر بندی کی گئی اور ہم پر جادو ہوا تو جب خود اپنے معائنہ سے انہیں یقین حاصل نہ ہوا تو ملائکہ کے آنے اور گواہی دینے سے جس کو یہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟
(ف21) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا شیاطین آسمانوں میں داخل ہوتے تھے اور وہاں کی خبریں کاہنوں کے پاس لاتے تھے جب حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے تو شیاطین تین آسمانوں سے روک دیئے گئے ۔ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو تمام آسمانوں سے منع کر دیئے گئے ۔
اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو با رور کرنے والیاں (ف۲۷) تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پینے کو دیا اور تم کچھ اس کے خزانچی نہیں (ف۲۸)
(ف27)جو آبادیوں کو پانی سے بھرتی اور سیراب کرتی ہیں ۔(ف28)کہ پانی تمہارے اختیار میں ہو باوجود یکہ تمہیں اس کی حاجت ہے ۔ اس میں اللہ تعالٰی کی قدرت اور بندوں کے عجز پر دلالتِ عظیمہ ہے ۔
اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے، (ف۳۰)
(ف30)یعنی پہلی اُمّتیں اور امّتِ محمّدیہ جو سب اُمّتوں میں پچھلی ہے یا وہ جو طاعت و خیر میں سبقت کرنے والے ہیں اور جو سُستی سے پیچھے رہ جانے والے ہیں یا وہ جو فضیلت حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو عذر سے پیچھے رہ جانے والے ہیں ۔شانِ نُزُول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعتِ نماز کی صفِ اول کے فضائل بیان فرمائے تو صحابہ صفِ اول حاصل کرنے میں نہایت کوشاں ہوئے اور ان کا ازدحام ہونے لگا اور جن حضرات کے مکان مسجد شریف سے دور تھے وہ اپنے مکان بیچ کر قریب مکان خریدنے پر آمادہ ہوگئے تاکہ صفِ اوّل میں جگہ ملنے سے کبھی محروم نہ ہوں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں تسلّی دی گئی کہ ثواب نیتوں پر ہے اور اللہ تعالٰی اگلوں کو بھی جانتا ہے اور جو عذر سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کوبھی جانتا ہے اور ان کی نیتوں سے بھی خبردار ہے اور اس پر کچھ مخفی نہیں ۔
اور بیشک ہم نے آدمی کو (ف۳۲) بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی ، (ف۳۳)
(ف32)یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو سوکھی ۔(ف33)اللہ تعالٰی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو زمین سے ایک مشتِ خاک لی ، اس کو پانی میں خمیر کیا جب وہ گارا سیاہ ہوگیا اور اس میں بو پیدا ہوئی تو اس میں صورتِ انسانی بنائی پھر وہ سوکھ کر خشک ہوگیا تو جب ہوا اس میں جاتی تو وہ بجتا اور اس میں آواز پیدا ہوتی ، جب آفتاب کی تمازت سے وہ پختہ ہوگیا تو اس میں روح پھونکی اور وہ انسان ہوگیا ۔
(ف38)کہ آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تو اس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا ، جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی یہ سُن کر شیطان ۔
بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں (ف۳۹)
(ف39)یعنی قیامت کے دن تک ۔ اس سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللہ تعالٰی نے اس طرح قبول کیا کہ ۔
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ ﴿37﴾
فرمایا تو ان میں سے ہے جن کو اس معلوم،
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿38﴾
وقت کے دن تک مہلت ہے، (ف٤۰)
(ف40)جس میں تمام خَلق مر جائے گی اور وہ نفخۂ اُولٰی ہے تو شیطان کے مردہ رہنے کی مدّت نفخۂ اُولیٰ ہے ، نفخۂ ثانیہ تک چالیس برس ہے اور اس کو اس قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں بلکہ اس کی بلا و شقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے ، یہ سن کر شیطان ۔
اس کے سات دروازے ہیں، (ف٤۷) ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے، (ف٤۸)
(ف47)یعنی سات طبقے ۔ ابنِ جریج کا قول ہے کہ دوزخ کے سات درکات ہیں ۔اول جہنّم ، لظٰی ، حطمہ ، سعیر ، سقر ، جحیم ، ہاویہ ۔(ف48)یعنی شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے لئے جہنّم کا ایک درکہ معیّن ہے ۔
اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ (ف۵۱) کینے تھے سب کھینچ لیے (ف۵۲) آپس میں بھائی ہیں (ف۵۳) تختوں پر روبرو بیٹھے،
(ف51)دنیا میں ۔(ف52)اور ان کے نفوس کو حقد و حسد و عناد و عداوت وغیرہ مذموم خصلتوں سے پاک کر دیا وہ ۔(ف53)ایک دوسرے کے ساتھ مَحبت کرنے والے ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر انہیں میں سے ہیں یعنی ہمارے سینوں سے عناد و عداوت اور بغض و حسد نکال دیا گیا ہے ، ہم آپس میں خالص مَحبت رکھنے والے ہیں ۔ اس میں روافض کا رد ہے ۔
(ف55)جنہیں اللہ تعالٰی نے اس لئے بھیجا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند کی بشارت دیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کریں ۔ یہ مہمان حضرت جبریل علیہ السلام تھے مع کئی فرشتوں کے ۔
جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام (ف۵٦) کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے، (ف۵۷)
(ف56)یعنی فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا اور آپ کی تحیّت و تکریم بجا لائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے ۔(ف57)اس لئے کہ بے اذن اور بے وقت آئے اور کھانا نہیں کھایا ۔
کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو، (ف۵۹)
(ف59)یعنی ایسی پیرانہ سالی میں اولاد ہونا عجیب وغریب ہے کس طرح اولاد ہوگی ، کیا ہمیں پھر جوان کیا جائے گا یا اسی حالت میں بیٹا عطا فرمایا جائے گا ؟ فرشتوں نے ۔
کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے ، (ف٦۱)
(ف61)یعنی میں اس کی رحمت سے نا امید نہیں کیونکہ رحمت سے نا امید کافِر ہوتے ہیں ، ہاں اس کی سنّت جو عالَم میں جاری ہے اس سے یہ بات عجیب معلوم ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں سے ۔
تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جایے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے (ف۷۰) اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے، (ف۷۱)
(ف70)کہ قوم پر کیا بلا نازِل ہوئی اور وہ کس عذاب میں مبتلا کئے گئے ؟ ۔(ف71)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حکم مُلکِ شام کو جانے کا تھا ۔
(ف73)یعنی شہرِ سدوم کے رہنے والے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے لوگ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ والسلام کے یہاں خوب صورت نوجوانوں کے آنے کی خبرسن کر بہ ارادۂ فاسد و بہ نیّت ناپاک ۔
اے محبوب تمہاری جان کی قسم (ف۷۸) بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،
(ف78)اور مخلوقِ الٰہی میں سے کوئی جان بارگاہِ الٰہی میں آپ کی جانِ پاک کی طرح عزّت و حرمت نہیں رکھتی اور اللہ تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کے سوا کسی کی عمر و حیات کی قسم نہیں فرمائی ۔ یہ مرتبہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا ہے اب اس قسم کے بعد ارشاد فرماتا ہے ۔
(ف82)یعنی کافِر تھے ۔ اَیْکَۃ جھاڑی کو کہتے ہیں ، ان لوگوں کا شہر سرسبز جنگلوں اور مَرغزاروں کے درمیان تھا ، اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان پر ر سول بنا کر بھیجا ان لوگوں نے نافرمانی کی اور حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا ۔
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۸۳) اور بیشک دونوں بستیاں (ف۸٤) کھلے راستہ پر پڑتی ہیں، (ف۸۵)
(ف83)یعنی عذاب بھیج کر ہلاک کیا ۔(ف84)یعنی قومِ لوط کے شہر اور اصحابِ اَیْکَۃ کے ۔(ف85)جہاں آدمی گزرتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو اے اہلِ مکّہ تم ان کو دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
(ف86)حِجر ایک وادی ہے مدینہ اور شام کے درمیان جس میں قومِ ثمود رہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کی اور ایک نبی کی تکذیب تمام انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ ہر رسول تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے ۔
اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں (ف۸۷) تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے، (ف۸۸)
(ف87)کہ پتھر سے ناقہ پیدا کیا جو بہت سے عجائب پر مشمل تھا مثلاً اس کا عظیم الجُثہ ہونا اور پیدا ہوتے ہی بچہ جننا اور کثرت سے دودھ دینا کہ تمام قومِ ثمود کو کافی ہو وغیرہ یہ سب حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات اور قومِ ثمود کے لئے ہماری نشانیاں تھیں ۔(ف88)اور ایمان نہ لائے ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے (ف۹۲) تو تم اچھی طرح درگزر کرو ، (ف۹۳)
(ف92)اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا ملے گی ۔(ف93)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنی قوم کی ایذاؤں پر تحمل کرو ۔ یہ حکم آیتِ قتال سے مَنْسُوخ ہوگیا ۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَـلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴿86﴾
بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے (ف۹٤)
(ف94)اسی نے سب کو پیدا کیا اور وہ اپنی مخلوق کے تمام حال جانتا ہے ۔
اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی (ف۹٦) اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ (ف۹۷) اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو، (ف۹۸)
(ف96)معنٰی یہ ہیں کہ اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کے سامنے دنیوی نعمتیں حقیر ہیں تو آپ متاعِ دنیا سے مستغنی رہیں جو یہود و نصارٰی وغیرہ مختلف قسم کے کافِروں کو دی گئیں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کی بدولت ہر چیز سے مستغنی نہ ہوگیا یعنی قرآن ایسی نعمت ہے جس کے سامنے دنیوی نعمتیں ہیچ ہیں ۔(ف97)کہ وہ ایمان نہ لائے ۔(ف98)اور انہیں اپنے کرم سے نوازو ۔
اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)،
كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَۙ ﴿90﴾
جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،
الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡـقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴿91﴾
جنہوں نے کلام الٰہی کو تکے بوٹی کرلیا ، (ف۹۹)
(ف99)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود و نصارٰی مراد ہیں چونکہ وہ قرآنِ کریم کے کچھ حصّہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا اور کچھ کے منکِر ہوگئے ۔ قتادہ و ابنِ سائب کا قول ہے کہ بانٹنے والوں سے کُفّارِ قریش مراد ہیں جن میں بعض قرآن کو سحر ، بعض کہانت ، بعض افسانہ کہتے تھے اس طرح انہوں نے قرآنِ کریم کے حق میں اپنے اقوال تقسیم کر رکھے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ بانٹنے والوں سے وہ بارہ اشخاص مراد ہیں جنہیں کُفّار نے مکّۂ مکرّمہ کے راستوں پر مقرر کیا تھا ، حج کے زمانہ میں ہر ہر راستہ پر ان میں کا ایک ایک شخص بیٹھ جاتا تھا اور وہ آنے والوں کو بہکانے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منحرف کرنے کے لئے ایک ایک بات مقرر کر لیتا تھا کہ کوئی آنے والوں سے یہ کہتا تھا کہ ان کی باتوں میں نہ آنا کہ وہ جادو گر ہیں ، کوئی کہتا وہ کذّاب ہیں ، کوئی کہتا وہ مجنون ہیں ، کوئی کہتا وہ کاہن ہیں ، کوئی کہتا وہ شاعر ہیں یہ سن کر لوگ جب خانۂ کعبہ کے دروازہ پر آتے وہاں ولید بن مغیرہ بیٹھا رہتا اس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال دریافت کرتے اور کہتے کہ ہم نے مکّہ مکرّمہ آتے ہوئے شہر کے کنارے ان کی نسبت ایسا سنا وہ کہہ دیتا کہ ٹھیک سنا ۔ اس طرح خَلق کو بہکاتے اور گمراہ کرتے ان لوگوں کو اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا۔
تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے (ف۱۰۲) اور مشرکوں سے منہ پھیر لو ، (ف۱۰۳)
(ف102)اس آیت میں سیدِ عالَم کو رسالت کی تبلیغ اور اسلام کی دعوت کے اظہار کا حکم دیا گیا ۔ عبداللہ بن عبیدہ کا قول ہے کہ اس آیت کے نُزول کے وقت تک دعوتِ اسلام اعلان کے ساتھ نہیں کی جاتی تھی ۔(ف103)یعنی اپنا دین ظاہر کرنے پر مشرکوں کی ملامت کرنے کی پرواہ نہ کرو اور ان کی طرف ملتفِت نہ ہو اور ان کے تمسخُر و استہزاء کا غم نہ کرو ۔
اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَۙ ﴿95﴾
بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں (ف۱۰٤)
(ف104)کُفّارِ قریش کے پانچ سردار ( ۱) عاص بن وائل سہمی اور (۲) اسودبن مطلب اور(۳) اسود بن عبدیغوث اور(۴)حارث بن قیس اور ان سب کا افسر(۵) ولیدا بن مغیرہ مخزومی ۔ یہ لوگ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت ایذا دیتے اور آپ کے ساتھ تمسخُر و استہزاء کرتے تھے ۔ اسود بن مطلب کے لئے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی تھی کہ یاربّ اس کو اندھا کر دے ۔ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدِ حرام میں تشریف فرما تھے ، یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن و تمسخُر کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہوگئے ۔ اسی حال میں حضرت جبریلِ امین حضرت کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے کفِ پا کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شردفع کروں گا چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہوگئے ۔ ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا اس کے تہہ بند میں ایک پیکان چبھا مگر اس نے تکبّر سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مرگیا ۔ عاص ابنِ وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیااس سے پاؤں ورم کرگیا اور یہ شخص بھی مرگیا ۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مرگیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھ کو محمّد نے قتل کیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسود بن عبد یغوث کو استسقاء ہوا اور کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لُو لگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والوں نے نہ پہچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مرگیا کہ مجھ کو محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ربّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، اسی میں ہلاک ہوگیا ۔ انہیں کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔ (خازن)
تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو، (ف۱۰۷)
(ف107)کہ خدا پرستوں کے لئے تسبیح و عبادت میں مشغول ہونا غم کا بہترین علاج ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی اہم واقعہ پیش آتا تو نماز میں مشغول ہو جاتے ۔