پاکی ہے اسے (ف۲) جو اپنے بندے (ف۳) کو، راتوں رات لے گیا (ف٤) مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک (ف۵) جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی (ف٦) کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،
(ف2)منزّہ ہے اس کی ذات ہر عیب و نقص سے ۔(ف3)محبوب محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف4)شبِ معراج ۔(ف5)جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے ۔ شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شبِ معراج درجاتِ عالیہ و مراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تو رب عزّوجلَّ نے خِطاب فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) یہ فضیلت و شرف میں نے تمہیں کیوں عطا فرمایا ؟ حضور نے عرض کیا اس لئے کہ تو نے مجھے عبدیّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا ۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازِل ہوئی ۔ (خازن)(ف6)دینی بھی دنیوی بھی کہ وہ سرزمینِ پاک وحی کی جائے نزول اور انبیاء کی عبادت گاہ اور ان کا جائے قیام و قبلۂ عبادت ہے اور کثرتِ انہار و اشجار سے وہ زمین سرسبز و شاداب اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔ معراج شریف نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک جلیل معجِزہ اور اللہ تعالٰی کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضور کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو میسّر نہیں ۔ نبوّت کے بارہویں سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج سے نوازے گئے مہینہ میں اختلاف ہے مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی مکّہ مکرّمہ سے حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی سے ثابت ہے اس کا منکِر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازلِ قرب میں پہنچنا احادیثِ صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِّ تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں اس کا منکِر گمراہ ہے ، معراج شریف بحالتِ بیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کثیر جماعتیں اور حضور کے اجلّہ اصحاب اسی کے معتقد ہیں ۔ نصوصِ آیات و احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ، تِیرہ دماغان فلسفہ کے اوہامِ فاسدہ مَحض باطل ہیں قدرتِ الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات مَحض بے حقیقت ہیں ۔ حضرت جبریل کا براق لے کر حاضر ہونا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غایت اکرام و احترام کے ساتھ سوار کر کے لے جانا ، بیت المقدس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انبیاء کی امامت فرمانا پھر وہاں سے سیرِ سمٰوٰت کی طرف متوجہ ہونا ، جبریلِ امین کا ہر ہر آسمان کے دروازہ کو کھلوانا ، ہر ہر آسمان پر وہاں کے صاحبِ مقام انبیاء علیہم السّلام کا شرفِ زیارت سے مشرف ہونا اور حضور کی تکریم کرنا ، احترام بجا لانا ، تشریف آوری کی مبارک بادیں دینا ، حضور کا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرمانا ، وہاں کے عجائب دیکھنا اور تمام مقرّبین کی نہایتِ منازل سِدرۃ المنتہٰی کو پہنچنا ، جہاں سے آگے بڑھنے کی کسی مَلَکِ مقرّب کو بھی مجال نہیں ہے ، جبریلِ امین کا وہاں معذرت کر کے رہ جانا ، پھر مقامِ قربِ خاص میں حضور کا ترقیاں فرمانا اور اس قربِ اعلٰی میں پہنچنا کہ جس کے تصوّر تک خَلق کے اوہام و افکار بھی پرواز سے عاجز ہیں ، وہاں موردِ رحمت و کرم ہونا اور انعاماتِ الٰہیہ اور خصائصِ نِعَم سے سرفراز فرمایا جانا اور ملکوتِ سمٰوٰت و ارض اور ان سے افضل و برتر علوم پانا اور امّت کے لئے نمازیں فرض ہونا ، حضور کا شفاعت فرمانا ، جنّت و دوزخ کی سیریں اور پھر اپنی جگہ واپس تشریف لانا اور اس واقعہ کی خبریں دینا ، کُفّار کا اس پر شورشیں مچانا اور بیت المقدس کی عمارت کا حال اور مُلکِ شام جانے والے قافلوں کی کیفیّتیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دریافت کرنا ، حضور کا سب کچھ بتانا ، اور قافلوں کے جو احوال حضور نے بتائے قافلوں کے آنے پر ان کی تصدیق ہونا ، یہ تمام صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور بکثرت احادیث ان تمام امور کے بیان اور ان کی تفاصیل سے مملو ہیں ۔
اے ان کی اولاد! جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (ف۸) سوار کیا بیشک وہ بڑا شکرا گزار بندہ تھا (ف۹)
(ف8)کشتی میں ۔(ف9)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کثیر الشکر تھے جب کچھ کھاتے ، پیتے ، پہنتے تو اللہ تعالٰی کی حمد کرتے اور اس کا شکر بجا لاتے اور ان کی ذُرِّیَّت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جدِّ محترم کے طریقہ پر قائم رہے ۔
پھر جب ان میں پہلی بار (ف۱۳) کا وعدہ آیا (ف۱٤) ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے سخت لڑائی والے (ف۱۵) تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے (ف۱٦) اور یہ ایک وعدہ تھا (ف۱۷) جسے پورا ہونا تھا،
(ف13)کے فساد کے عذاب ۔(ف14)اور انہوں نے احکامِ توریت کی مخالفت کی اور محارم و مَعاصی کا ارتکاب کیا اور حضرت شعیا پیغمبر علیہ السلام (وبقولے) حضرت ارمیا کو قتل کیا ۔ ( بیضاوی وغیرہ)(ف15)بہت زور و قوّت والے ان کو تم پر مسلّط کیا اور وہ سنجاریب اور اس کے افواج ہیں یا بُخْتِ نَصَر یا جالوت جنہوں نے بنی اسرائیل کے عُلَماء کو قتل کیا ، توریت کو جَلایا ، مسجد کو خراب کیا اور ستّر ہزار کو ان میں سے گرفتار کیا ۔(ف16)کہ تمہیں لوٹیں اور قتل و قید کریں ۔(ف17)عذاب کا کہ لازم تھا ۔
اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے (ف۱۹) اور اگر برا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا (ف۲۰) کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں (ف۲۱) اور مسجد میں داخل ہوں (ف۲۲) جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے (ف۲۳) اور جس چیز پر قابو پائیں (ف۲٤) تباہ کرکے برباد کردیں،
(ف19)تمہیں اس بھلائی کی جزا ملے گی ۔(ف20)اور تم نے پھر فساد برپا کیا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے اللہ تعالٰی نے انہیں بچایا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تم نے حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی علیہم السلام کو قتل کیا تو اللہ تعالٰی نے تم پر اہلِ فارَس اور روم کو مسلّط کیا کہ تمہارے وہ دشمن تمہیں قتل کریں ، قید کریں اور تمہیں اتنا پریشان کریں ۔(ف21)کہ رنج وپریشانی کے آثار تمہارے چہروں سے ظاہر ہوں ۔(ف22)یعنی بیت المقدس میں اور اس کو ویران کریں ۔(ف23)اور اس کو ویران کیا تھا تمہارے پہلے فساد کے وقت ۔(ف24)بلادِ بنی اسرائیل سے اس کو ۔
قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے (ف۲۵) اور اگر تم پھر شرارت کرو (ف۲٦) تو ہم پھر عذاب کریں گے (ف۲۷) اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے،
(ف25)دوسری مرتبہ کے بعد بھی اگر تم دوبارہ توبہ کرو اور مَعاصی سے باز آؤ ۔(ف26)تیسری مرتبہ ۔ (ف27)چنانچہ ایسا ہوا اور انہوں نے پھر اپنی شرارت کی طرف عود کیا اور زمانۂ پاکِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم میں حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی تکذیب کی تو قیامت تک کے لئے ان پر ذلّت لازم کر دی گئی اور مسلمان ان پر مسلّط فرما دیئے گئے جیسا کہ قرآنِ کریم میں یہود کی نسبت وارد ہوا ضُرِبَتْ عَلِیْھِمُ الذِّلَّۃُ الآیۃ ۔
اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے (ف۲۹) جیسے بھلائی مانگتا ہے (ف۳۰) اور آدمی بڑا جلد باز ہے (ف۳۱)
(ف29)اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے مال کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے اور غصّہ میں آ کر ان سب کو کوستا رہے اور ان کے لئے بددعائیں کرتا ہے ۔(ف30)اگر اللہ تعالٰی اس کی یہ بددعا قبول کر لے تو وہ شخص یا اس کے اہل و مال ہلاک ہو جائیں لیکن اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا ۔(ف31)بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس آیت میں انسان سے کافِر مراد ہے اور برائی کی دعا سے اس کا عذاب کی جلدی کرنا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نضر بن حارث کافِر نے کہا یاربّ اگر یہ دینِ اسلام تیرے نزدیک حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتّھر برسا یا درد ناک عذاب بھیج ، اللہ تعالٰی نے اس کی یہ دعا قبول کر لی اور اس کی گردن ماری گئی ۔
اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا (ف۳۲) تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی (ف۳۳) اور دن کی نشانیاں دکھانے والی (ف۳٤) کہ اپنے کا فضل تلاش کرو (ف۳۵) اور (ف۳٦) برسوں کی گنتی اور حساب جانو (ف۳۷) اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی (ف۳۸)
(ف32)اپنی وحدانیّت و قدرت پر دلالت کرنے والی ۔(ف33)یعنی شب کو تاریک کیا تاکہ اس میں آرام کیا جائے ۔(ف34)روشن کہ اس میں سب چیزیں نظر آئیں ۔(ف35)اور کسب و معاش کے کام بآسانی انجام دے سکو ۔(ف36)رات دن کے دورے سے ۔(ف37)دینی و دنیوی کاموں کے اوقات کا ۔(ف38)خواہ اس کی حاجت دین میں ہو یا دنیا میں ۔ مدعا یہ ہے کہ ہر ایک چیز کی تفصیل فرما دی جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا مَا فَرَّ طْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ہم نے کتاب میں کچھ چھوڑ نہ دیا اور ایک اور آیت میں ارشاد کیا وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْءٍ غرض ان آیات سے ثابت ہے کہ قرآنِ کریم میں جمیع اشیاء کا بیان ہے ۔ سبحان اللہ کیا کتاب ہے کیسی اس کی جامعیّت ۔ (جمل ، خازن ، مدارک وغیرہ)
اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگادی (ف۳۹) اور اس کے لیے قیامت کے دن ایک نوشتہ نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا (ف٤۰)
(ف39)یعنی جو کچھ اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے خیر یا شر ، سعادت یا شقاوت وہ اس کو اس طرح لازم ہے جیسے گلے کا ہار جہاں جائے ساتھ رہے کبھی جدا نہ ہو ۔ مجاہد نے کہا کہ ہر انسان کے گلے میں اس کی سعادت یا شقاوت کا نوِشتہ ڈال دیا جاتا ہے ۔(ف40)وہ اس کا اعمال نامہ ہوگا ۔
جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا (ف٤۱) اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف٤۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف٤۳) اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں (ف٤٤)
(ف41)اس کا ثواب وہی پائے گا ۔(ف42)اس کے بہکنے کا گناہ اور وبال اس پر ۔(ف43)ہر ایک کے گناہوں کا بار اسی پر ہوگا ۔(ف44)جو اُمّت کو اس کے فرائض سے آگا ہ فرمائے اور راہِ حق ان پر واضح کرے اور حُجّت قائم فرمائے ۔
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں (ف٤۵) پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بےحکمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں
جو یہ جلدی والی چاہے (ف٤۹) ہم اسے اس میں جلد دے دیں جو چاہیں جسے چاہیں (ف۵۰) پھر اس کے لیے جہنم کردیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا دھکے کھاتا،
(ف49)یعنی دنیا کا طلب گار ہو ۔(ف50)یہ ضروری نہیں کہ طالبِ دنیا کی ہر خواہش پوری کی جائے اور اسے دیا ہی جائے ا ور جو وہ مانگے وہی دیا جائے ایسا نہیں ہے بلکہ ان میں سے جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں دیتے ہیں ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محروم کر دیتے ہیں ، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ بہت چاہتا ہے اور تھوڑا دیتے ہیں ، کبھی ایساکہ عیش چاہتا ہے تکلیف دیتے ہیں ، ان حالتوں میں کافِر دنیا و آخرت دونوں کے ٹوٹے میں رہا اور اگر دنیا میں اس کو اس کی پوری مراد دے دی گئی تو آخرت کی بدنصیبی و شقاوت جب بھی ہے بخلاف مومن کے جو آخرت کا طلب گار ہے اگر وہ دنیا میں فقر سے بھی بسر کر گیا تو آخرت کی دائمی نعمت اس کے لئے ہے اور اگر دنیا میں بھی فضلِ الٰہی سے اس کو عیش ملا تو دونوں جہان میں کامیاب ، غرض مومن ہر حال میں کامیاب ہے اور کافِر اگر دنیا میں آرام پا بھی لے تو بھی کیا ؟کیونکہ ۔
اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے (ف۵۱) اور ہو ایمان والا تو انھیں کی کوشش ٹھکانے لگی، (ف۵۲)
(ف51)اور عملِ صالح بجا لائے ۔(ف52)اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیّت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں ایک تو طالبِ آخرت ہونا یعنی نیّت نیک ، دوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا ، تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے ۔
ہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی (ف۵۳) اور ان کو بھی ، تمہارے رب کی عطا سے (ف۵۵) اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں، (ف۵٦)
(ف53)جو دنیا چاہتے ہیں ۔(ف54)جو طالبِ آخرت ہیں ۔(ف55)دنیا میں سب کو روزی دیتے ہیں اور انجام ہر ایک کا اس کے حسبِ حال ۔(ف56)دنیا میں سب اس سے فیض اٹھاتے ہیں نیک ہوں یا بد ۔
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں (ف۵۹) تو ان سے ہُوں ، نہ کہنا (ف٦۰) اور انھیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا (ف٦۱)
(ف59)ضعف کا غلبہ ہو ، اعضا میں قوّت نہ رہے اور جیسا تو بچپن میں ان کے پاس بے طاقت تھا ایسے ہی وہ آخرِ عمر میں تیرے پاس ناتواں رہ جائیں ۔(ف60)یعنی ایسا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالنا جس سے یہ سمجھا جائے کہ ان کی طرف سے طبیعت پرکچھ گرانی ہے ۔(ف61)اور حسنِ ادب کے ساتھ ان سے خِطاب کرنا ۔ مسئلہ : ماں باپ کو ان کا نام لے کر نہ پکارے یہ خلافِ ادب ہے اور اس میں ان کی دل آزاری ہے لیکن وہ سامنے نہ ہوں تو ان کا ذکر نام لے کر کرنا جائز ہے ۔ مسئلہ : ماں باپ سے اس طرح کلام کرے جیسے غلام و خادم آقا سے کرتا ہے ۔
اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا (ف٦۲) نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا (ف٦۳)
(ف62)یعنی بہ نرمی و تواضع پیش آ اور ان کے ساتھ تھکے وقت میں شفقت و مَحبت کا برتاؤ کر کہ انہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے مَحبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز انہیں درکار ہو وہ ان پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کر ۔(ف63)مدعا یہ ہے کہ دنیا میں بہتر سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا ، اسلئے بندے کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی میں ان پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یاربّ میری خدمتیں ان کے احسان کی جزا نہیں ہو سکتیں تو ان پر کرم کرکہ ان کے احسان کا بدلہ ہو ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا جائز اور اسے فائدہ پہنچانے والی ہے ، مُردوں کے ایصالِ ثواب میں بھی ان کے لئےدعا ئے رحمت ہوتی ہے لہٰذا اس کے لئے یہ آیت اصل ہے ۔ مسئلہ : والدین کافِر ہوں تو ان کے لئے ہدایت و ایمان کی دعا کرے کہ یہی ان کے حق میں رحمت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ والدین کی رضا میں اللہ تعالٰی کی رضا اور ان کی ناراضی میں اللہ تعالٰی کی ناراضی ہے ، دوسری حدیث میں ہے والدین کا فرمانبردار جہنّمی نہ ہوگا اور ان کا نافرمان کچھ بھی عمل کرے گرفتارِ عذاب ہوگا ، ایک اور حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا والدین کی نافرمانی سے بچو اس لئے کہ جنّت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ خوشبو نہ پائے گا ، نہ قاطعِ رحم ، نہ بوڑھا زنا کار ، نہ تکبُّر سے اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا ۔
اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے (ف٦٦) اور مسکین اور مسافر کو (ف٦۷) اور فضول نہ اڑا (ف٦۸)
(ف66)ان کے ساتھ صلہ رحمی کر اور محبت اور میل جول اور خبر گیری اور موقع پر مدد اور حسنِ معاشرت ۔مسئلہ : اور اگر وہ محارم میں سے ہوں اور محتاج ہو جائیں تو ان کا خرچ اٹھانا یہ بھی ان کا حق ہے اور صاحبِ استطاعت رشتہ دار پر لازم ہے ۔ بعض مفسِّرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا ہے کہ رشتہ داروں سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ قرابت رکھنے والے مراد ہیں اور ان کا حق خُمس دینا اور ان کی تعظیم و توقیر بجا لانا ہے ۔(ف67)ان کا حق دو یعنی زکوٰۃ ۔(ف68)یعنی ناجائز کام میں خرچ نہ کر ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تبذیر مال کا ناحق میں خرچ کرنا ہے ۔
اور اگر تو ان سے (ف۷۱) منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ (ف۷۲)
(ف71)یعنی رشتہ داروں اور مسکینوں اور مسافروں سے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت مہجع و بلال و صہیب و سالم و خبّاب اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں نازِل ہوئی جو وقتاً فوقتاً سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اپنے حوائج و ضروریات کے لئے سوال کرتے رہتے تھے ، اگر کسی وقت حضور کے پاس کچھ نہ ہوتا تو آپ حیاءً ان سے اعراض کرتے اور خاموش ہو جاتے بایں انتظار کہ اللہ تعالٰی کچھ بھیجے تو انہیں عطا فرمائیں ۔(ف72)یعنی ان کی خوش دلی کے لئے ان سے وعدہ کیجئے یا ان کے حق میں دعا فرمائیے ۔
اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا (ف۷۳)
(ف73)یہ تمثیل ہے جس سے انفاق یعنی خرچ کرنے میں اعتدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اوریہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے ، دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے ۔ شانِ نُزول : ایک مسلمان بی بی کے سامنے ایک یہود یہ نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مبالغہ کیا کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ترجیح دے دی اور کہا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی سخاوت اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنے ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے ، یہ بات مسلمان بی بی کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام سب صاحبِ فضل و کمال ہیں ، حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کے جود و نوال میں کچھ شبہہ نہیں لیکن سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مرتبہ سب سے اعلٰی ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہودیہ کو حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جودو کرم کی آزمائش کرا دی جائے چنانچہ انہوں نے اپنی چھوٹی بچّی کو حضور علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی خدمت میں بھیجا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قمیص مانگ لائے ، اس وقت حضورکے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیبِ تن تھی وہی اتار کر عطا فرما دی اور اپنے آپ دولت سرائے اقدس میں تشریف رکھی شرم سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اذان کا وقت آیا ، اذان ہوئی ، صحابہ نے انتطار کیا ، حضور تشریف نہ لائے تو سب کو فکر ہوئی ، حال معلوم کرنے کے لئے دولت سرائے اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ جسمِ مبارک پر قمیص نہیں ہے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے (ف۷٦) ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے
(ف76)زمانۂ جاہلیّت میں لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیا کرتے تھے اور اس کے کئی سبب تھے ، ناداری و مفلسی کا خوف ، لوٹ کا خوف ، اللہ تعالٰی نے اس کی ممانعت فرمائی ۔
اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو، اور جو ناحق نہ مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا (ف۷۷) تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے (ف۷۸) ضرور اس کی مدد ہونی ہے (ف۷۹)
(ف77)قصاص لینے کا ۔مسئلہ : آیت سے ثابت ہوا کہ قصاص لینے کا حق ولی کو ہے اور وہ بہ ترتیبِ عصبات ہیں ۔مسئلہ : اور جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے ۔(ف78)اور زمانۂ جاہلیّت کی طرح ایک مقتول کے عوض میں کئی کئی کو یا بجائے قاتل کے اس کی قوم و جماعت کے اور کسی شخص کو قتل نہ کرے ۔(ف79)یعنی ولی کی یا مقتول مظلوم کی یا اس شخص کی جس کو ولی ناحق قتل کرے ۔
اور یتیم کے مال کے پاس تو جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے (ف۸۰) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۸۱) اور عہد پورا کرو (ف۸۲) بیشک عہد سے سوال ہونا ہے
(ف80)وہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرو اور اس کو بڑھاؤ ۔(ف81)اور وہ اٹھارہ (۱) سال کی عمر ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک یہی مختار ہے اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے علامات ظاہر نہ ہونے کی حالت میں انتہائے مدّتِ بلوغ اسی سے تمسُّک کر کے اٹھارہ سال قرار دی ۔ (احمدی)(۱) لیکن فتوی اس پر ہے کہ انتہائے مدّتِ بلوغ لڑکا لڑکی دونوں کے لئے پندرہ سال ہے جبکہ علامتِ بلوغ نہ ظاہر ہوں اور اقلِّ مدّت لڑکی کے لئے نو سال ، لڑکے کے لئے بارہ سال ہے ۔۱۲ نعمانی ۔(ف82)اللہ کا بھی بندوں کا بھی ۔
اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں (ف۷۳) بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے (ف۸٤)
(ف83)یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ہو اسے یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ، جس کو سنا نہ ہو اس کی نسبت نہ کہو کہ میں نے سنا ۔ ابنِ حنیفہ سے منقول ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو ۔ ا بنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کسی پرو ہ الزام نہ لگاؤ جو تم نہ جانتے ہو ۔(ف84)کہ تم نے ان سے کیا کام لیا ۔
یہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں (ف۸۷) اور اے سننے والے اللہ ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو جہنم میں پھینکا جائے گا طعنہ پاتا دھکے کھاتا،
(ف87)جن کی صحت پر عقل گواہی دے اور ان سے نفس کی اصلاح ہو ان کی رعایت لازم ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ ان آیات کا حاصلِ توحید اور نیکیوں اورطاعتوں کا حکم دینا اور دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف رغبت دلانا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا یہ اٹھارہ آیتیں لَاتَجْعَلْ مَعَ اللہِ اِلٰھاً اٰخَرَ سے مَدْحُوْراً تک حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے الواح میں تھیں ، ان کی ابتداء توحید کے حکم سے ہوئی اور انتہا شرک کی ممانعت پر ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر حکمت کی اصل توحید و ایمان ہے اور کوئی قول و عمل بغیر اس کے قابلِ پذیرائی نہیں ۔
کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹے چن دیے اور اپنے لیے فرشتوں سے بیٹیاں بنائیں (ف۸۸) بیشک تم بڑا بول بولتے ہو (ف۸۹)
(ف88)یہ خلافِ حکمت بات کس طرح کہتے ہو ۔(ف89)کہ اللہ تعالٰی کے لئے اولاد ثابت کرتے ہو جو خواصِ اجسام سے ہے اور اللہ تعالٰی اس سے پاک پھر اس میں بھی اپنی بڑائی رکھتے ہو کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اس کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو ،کتنی بے ادبی اور گستاخی ہے ۔
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا (ف۹۰) کہ وہ سمجھیں (ف۹۱) اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت (ف۹۲)
(ف90)دلیلوں سے بھی ، مثالوں سے بھی ، حکمتوں سے بھی ، عبرتوں سے بھی اور جا بجا اس مضمون کو قِسم قِسم کے پیرایوں میں بیان فرمایا ۔(ف91)اور پند پذیر ہوں ۔(ف92)اور حق سے دوری ۔
اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں (ف۹٤) اور کوئی چیز نہیں (ف۹۵) جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے (ف۹٦) ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے (ف۹۷) بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے (ف۹۸)
(ف94)زبانِ حال سے اس طرح کہ ان کے وجود صانع کے قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں یا زبانِ قال سے اور یہی صحیح ہے ، احادیثِ کثیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور سلف سے یہی منقول ہے ۔(ف95)جماد و نبات و حیوان سے زندہ ۔(ف96)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ہر زندہ چیز اللہ تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے اور ہر چیز کی زندگی اس کے حسبِ حیثیت ہے ۔ مفسِّرین نے کہا کہ دروازہ کھولنے کی آواز اور چھت کا چٹخنا یہ بھی تسبیح کرنا ہے اور ان سب کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی انگُشتِ مبارک سے پانی کے چشمے جاری ہوتے ہم نے دیکھے اور یہ بھی ہم نے دیکھا کہ کھاتے وقت میں کھانا تسبیح کرتا تھا ۔ (بخاری شریف) حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پتّھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت کے زمانہ میں مجھے سلام کیا کرتا تھا ۔ (مسلم شریف) ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی سے مروی ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لکڑی کے ایک ستون سے تکیہ فرما کر خطبہ فرمایا کرتے تھے جب منبر بنایا گیا اور حضور منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو وہ ستون رویا حضور علیہ الصلوٰ ۃ و التسلیمات نے اس پر دستِ کرم پھیرا اور شفقت فرمائی اور تسکین دی ۔ (بخاری شریف) ان تمام احادیث سے جماد کا کلام اور تسبیح کرنا ثابت ہوا ۔(ف97)اختلافِ لغات کے باعث یا دشواریٔ ادارک کے سبب ۔(ف98)کہ بندوں کی غفلت پر عذاب میں جلدی نہیں فرماتا ۔
اور اے محبوب! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان ہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا (ف۹۹)
(ف99)کہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکیں ۔شانِ نُزول : جب آیت تَبَّتْ یَدَا نازِل ہوئی تو ابولہب کی عورت پتھر لے کر آئی ، حضور مع حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے تشریف رکھتے تھے ، اس نے حضور کو نہ دیکھا اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہنے لگی ، تمہارے آقا کہاں ہیں مجھے معلوم ہوا ہے انہوں نے میری ہجو کی ہے ؟ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا وہ شعر گوئی نہیں کرتے ہیں تو وہ یہ کہتی ہوئی واپس ہوئی کہ میں ان کا سر کچلنے کے لئے یہ پتّھر لائی تھی ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ اس نے حضور کو دیکھا نہیں ؟ فرمایا میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ حائل رہا ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) (ف۱۰۰) اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے،
ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں (ف۱۰۱) جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا (ف۱۰۲)
(ف101)یعنی سنتے بھی ہیں تو تمسخُر اور تکذیب کے لئے ۔(ف102)تو بعض ان میں سے آپ کو مجنوں کہتے ہیں ، بعض ساحر ، بعض کاہن ، بعض شاعر ۔
اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے (ف۱۰۳)
(ف103)یہ بات انہوں نے بہت تعجب سے کہی اور مرنے اور خاک میں مل جانے کے بعد زندہ کئے جانے کو انہوں نے بہت بعید سمجھا ، اللہ تعالٰی نے ان کا رد کیا اور اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ارشاد فرمایا ۔
یا اور کوئی مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو (۱۰٤) تو اب کہیں گے ہمیں کون پھر پیدا کرتے گا، تم فرماؤ وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا، تو اب تمہاری طرف مسخرگی سے سر ہِلا کر کہیں گے یہ کب ہے (ف۱۰۵) تم فرماؤ شاید نزدیک ہی ہو،
(ف104)اور حیات سے دورہو ، جان اس سے کبھی متعلق نہ ہوئی ہو تو بھی اللہ تبارک و تعالٰی تمہیں زندہ کرے گا اور پہلی حالت کی طرف واپس فرمائے گا چہ جائیکہ ہڈیاں اور اس جسم کے ذرّے انہیں زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ، ان سے تو جان پہلے متعلق رہ چکی ہے ۔(ف105)یعنی قیامت کب قائم ہوگی اور مردے کب اٹھائے جائیں گے ۔
جس دن وہ تمہیں بلائے گا (ف۱۰٦) تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے اور (ف۱۰۷) سمجھو گے کہ نہ رہے (۱۰۸) تھے مگر تھوڑا،
(ف106)قبروں سے موقفِ قیامت کی طرف ۔(ف107)اپنے سروں سے خاک جھاڑتے اور سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ کہتے اور یہ اقرا رکرتے کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا اور مرنے کے بعد اٹھانے والا ہے ۔(ف108)دنیا میں یا قبروں میں ۔
اور میرے (ف۱۰۹) بندوں سے فرماؤ (ف۱۱۰) وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو (ف۱۱۱) بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے، بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے،
(ف109)ایماندار ۔(ف110)کہ وہ کافِروں سے ۔(ف111)نرم ہو یا پاکیزہ ہو ، ادب اور تہذیب کی ہو ، ارشاد و ہدایت کی ہو کُفّار اگر بے ہودگی کریں تو ان کا جواب انہیں کے انداز میں نہ دیا جائے ۔شانِ نُزول : مشرکین مسلمانوں کے ساتھ بدکلامیاں کرتے اور انہیں ایذائیں دیتے تھے انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ وہ کُفّار کی جاہلانہ باتوں کا ویسا ہی جواب نہ دیں ، صبر کریں اور یَہْدِیْکُمْ اَللہُ کہہ دیں ۔ یہ حکم قتال و جہاد کے حکم سے پہلے تھا بعد کو منسوخ ہوگیا اور ارشاد فرمایا گیا : یٰۤاَ یُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازِل ہوئی ایک کافِر نے ان کی شان میں بیہودہ کلمہ زبان سے نکالا تھا ، اللہ تعالٰی نے انہیں صبر کرنے اور معاف فرمانے کا حکم دیا ۔
اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۱٤) اور بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی (ف۱۱۵) اور داؤد کو زبور عطا فرمائی (ف۱۱٦)
(ف114)سب کے احوال کو اور اس کو کہ کون کس لائق ہے ۔(ف115)مخصوص فضائل کے ساتھ جیسے کہ حضرت ابراہیم کو خلیل کیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلیم اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حبیب ۔(ف116)زبور کتابِ الٰہی ہے جو حضرت داؤد علیہ الصلٰوۃ و السلام پر نازِل ہوئی ، اس میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں سب میں دعا اور اللہ تعالٰی کی ثنا اور اسکی تحمید و تمجید ہے ، نہ اس میں حلال و حرام کا بیان ، نہ فرائض ، نہ حدود و احکام ، اس آیت میں خصوصیّت کے ساتھ حضرت داؤد علیہ والسلام کا نام لے کر ذکر فرمایا گیا ۔ مفسِّرین نے اس کے چند وجوہ بیان کئے ہیں ایک یہ کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ انبیاء میں اللہ تعالٰی نے بعض کو بعض پر فضیلت دی پھر ارشاد کیا کہ حضرت داؤد کو زبور عطا کی باوجود یکہ حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوّت کے ساتھ مُلک بھی عطا کیا تھا لیکن اس کا ذکر نہ فرمایا اس میں تنبیہ ہے کہ آیت میں جس فضیلت کا ذکر ہے وہ فضیلتِ علم ہے نہ کہ فضیلتِ ملک و مال ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے زبور میں فرمایا ہے کہ محمّد خاتَمُ الانبیاء ہیں اور ان کی اُمّت خیرُ الاُمَم اسی سبب سے آیت میں حضرت داؤد اور زبور کا ذکر خصوصیّت سے فرمایا گیا ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہود کا گمان تھا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں اور توریت کے بعد کوئی کتاب نہیں اس آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور عطا فرمانے کا ذکر کر کے یہود کی تکذیب کر دی گئی اور ان کے دعوے کا بطلان ظاہر فرما دیا گیا غرض کہ یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فضیلتِ کبرٰی پر دلالت کرتی ہے ۔ قطعہ ای و صفِ تو در کتابِ موسٰیوے نعت تو در زبور داؤدمقصود توئی ز آفرینش باقی بہ طفیلِ تست موجود ۔
تم فرماؤ پکارو انھیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو کرنے اور نہ پھیر دینے کا (ف۱۱۷)
(ف117)شانِ نُزول : کُفّار جب قحطِ شدید میں مبتلا ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتّے اور مردار کھا گئے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں فریاد لائے اور آپ سے دعا کی التجا کی ، اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جب بتوں کو خدا مانتے ہو تو اس وقت انہیں پکارو اور وہ تمہاری مدد کریں اور جب تم جانتے ہو کہ وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے تو کیوں انہیں معبود بناتے ہو ۔
وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں (ف۱۱۸) وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے (ف۱۱۹) اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۱۲۰) بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے،
(ف118)جیسے کہ حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر اور ملائکہ ۔شانِ نُزول : ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا یہ آیت ایک جماعتِ عرب کے حق میں نازِل ہوئی جو جنّات کے ایک گروہ کو پوجتے تھے ، وہ جنات اسلام لے آئے اور ان کے پوجنے والوں کو خبر نہ ہوئی ، اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور انہیں عار دلائی ۔(ف119)تاکہ جو سب سے زیادہ مقرّب ہو اس کو وسیلہ بنائیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مقرّب بندوں کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا جائز اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔(ف120)کافِر انہیں کس طرح معبود سمجھتے ہیں ۔
اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روز قیامت سے پہلے نیست کردیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے (ف۱۲۱) یہ کتاب میں (ف۱۲۲) لکھا ہوا ہے،
(ف121)قتل وغیرہ کے ساتھ جب وہ کُفر کریں اور مَعاصی میں مبتلا ہوں ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب کسی بستی میں زنا اور سود کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی اس کے ہلاک کا حکم دیتا ہے ۔(ف122)لوحِ محفوظ میں ۔
اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انھیں اگلوں نے جھٹلایا (ف۱۲۳) اور ہم نے ثمود کو (ف۱۲٤) ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو (ف۱۲۵) تو انہوں نے اس پر ظلم کیا (ف۱۲٦) اور ہم ایسی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کو (ف۱۲۷)
(ف123)ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ اہلِ مکّہ نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ صفا پہاڑ کو سونا کر دیں ا ور پہاڑوں کو سر زمینِ مکّہ سے ہٹا دیں اس پر اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو وحی فرمائی کہ آپ فرمائیں تو آپ کی اُمّت کو مہلت دی جائے اور اگر آپ فرمائیں تو جو انہوں نے طلب کیا ہے وہ پورا کیا جائے لیکن اگر پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اس لئے کہ ہماری سنّت یہی ہے کہ جب کوئی قوم نشانی طلب کرکے ایمان نہیں لاتی تو ہم اسے ہلاک کر دیتے ہیں اور مہلت نہیں دیتے ، ایسا ہی ہم نے پہلوں کے ساتھ کیا ہے ۔ اسی بیان میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف124)ان کے حسبِ طلب ۔(ف125)یعنی حجّتِ واضحہ ۔(ف126)اور کُفر کیا کہ اس کے مِنَ اللہ ہونے سے منکِر ہو گئے ۔(ف127)جلد آنے والے عذاب سے ۔
اور جب ہم نے تم سے فرمایا کہ سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں (ف۱۲۸) اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا (ف۱۲۹) جو تمہیں دکھایا تھا (ف۱۳۰) مگر لوگوں کی آزمائش کو (ف۱۳۱) اور وہ پیڑ جس پر قرآن میں لعنت ہے (ف۱۳۲) اور ہم انھیں ڈراتے ہیں (ف۱۳۳) تو انھیں نہیں بڑھتی مگر بڑی سرکشی،
(ف128)اس کے قبضۂ قدرت میں ۔ تو آپ تبلیغ فرمائیے اور کسی کا خوف نہ کیجئے اللہ آپ کا نگہبان ہے ۔(ف129)یعنی معائنہ عجائبِ آیاتِ الٰہیہ کا ۔(ف130)شبِ معراج بحالتِ بیداری ۔(ف131)یعنی اہلِ مکّہ کی چنانچہ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں واقعۂ معراج کی خبر دی تو انہوں نے اس کی تکذیب کی اور بعض مرتد ہو گئے اور تمسخُر سے عمارتِ بیت المقدس کا نقشہ دریافت کرنے لگے حضور نے سارا نقشہ بتا دیا تو اس پر کُفّار آپ کو ساحر کہنے لگے ۔(ف132)یعنی درختِ زقوم جو جہنم میں پیدا ہوتا ہے اس کو سببِ آزمائش بنا دیا یہاں تک کہ ابو جہل نے کہا کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تم کو جہنّم کی آ گ سے ڈراتے ہیں کہ وہ پتّھروں کو جلا دے گی ، پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس میں درخت اگیں گے ، آ گ میں درخت کہاں رہ سکتا ہے یہ اعتراض انہوں نے کیا اور قدرتِ الٰہی سے غافل رہے نہ سمجھے کہ اس قادرِ مختار کی قدرت سے آ گ میں درخت پیدا کرنا کچھ بعید نہیں ، سمندل ایک کیڑا ہوتا ہے جو آ گ میں پیدا ہوتا ہے آ گ ہی میں رہتا ہے ، بلادِ ترک میں اس کے اون کی تولیاں بنائی جاتی تھیں جو میلی ہو جانے پر آ گ میں ڈال کر صاف کر لی جاتیں اور جلتی نہ تھیں ، شتر مرغ انگارے کھا جاتا ہے ، اللہ کی قدرت سے آ گ میں درخت پیدا کرنا کیا بعید ہے ۔(ف133)دینی اور دنیوی خوفناک امور سے ۔
بولا (ف۱۳۵) دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا (ف۱۳٦) اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا (ف۱۳۷) مگر تھوڑا (ف۱۳۸)
(ف135)شیطان ۔(ف136)اور اس کو مجھ پر فضیلت دی اور اس کو سجدہ کرایا تو میں قَسم کھاتا ہوں کہ ۔(ف137)گمراہ کر کے ۔(ف138)جنہیں اللہ بچائے اور محفوظ رکھے وہ اس کے مخلص بندے ہیں ، شیطان کے اس کلام پر اللہ تبارک و تعالٰی نے اس سے ۔
اور ڈگا دے (بہکادے) ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے (ف۱٤۰) اور ان پر لام باندھ (فوج چڑھا) لا اپنے سواروں اور اپنے پیادوں کا (ف۱٤۱) اور ان کا ساجھی ہو مالوں اور بچوں میں (ف۱٤۲) اور انھیں وعدہ دے (ف۱٤۳) اور شیطان انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے،
(ف140)وسوسے ڈال کر اور معصیت کی طرف بلا کر ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ مراد اس سے گانے باجے لہو و لعب کی آوازیں ہیں ۔ ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہے کہ جو آواز اللہ تعالٰی کی مرضی کے خلاف منہ سے نکلے وہ شیطانی آواز ہے ۔(ف141)یعنی اپنے سب مَکر تمام کر لے اور اپنے تمام لشکروں سے مدد لے ۔(ف142)زُجاج نے کہا کہ جو گناہ مال میں ہو یا اولاد میں ہو ابلیس اس میں شریک ہے جیسے کہ سود اور مال حاصل کرنے کے دوسرے حرام طریقے اور فسق و ممنوعات میں خرچ کرنا اور زکوٰۃ نہ دینا یہ مالی امور ہیں جن میں شیطان کی شرکت ہے اور زنا و ناجائز طریقے سے اولاد حاصل کرنا یہ اولاد میں شیطان کی شرکت ہے ۔(ف143)اپنی طاعت پر ۔
اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے (ف۱٤۷) تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں (ف۱٤۸) پھر جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱٤۹) اور انسان بڑا ناشکرا ہے،
(ف147)اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔(ف148)اور ان جھوٹے معبودوں میں سے کسی کا نام زبان پر نہیں آتا ، اس وقت اللہ تعالیٰ سے حاجت روائی چاہتے ہیں ۔(ف149)اس کی توحید سے اور پھر انہیں ناکارہ بُتوں کی پرستِش شروع کر دیتے ہو ۔
کیا تم (ف۱۵۰) اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے (ف۱۵۱) یا تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۱۵۲) پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ (ف۱۵۳)
(ف150)دریا سے نَجات پا کر ۔(ف151)جیسا کہ قارون کو دھنسا دیا تھا ۔ مقصد یہ ہے کہ خشکی و تری سب اس کے تحتِ قدرت ہیں جیسا وہ سمندر میں غرق کرنے اور بچانے دونوں پر قادر ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین کے اندر دھنسا دینے اور محفوظ رکھنے دونوں پر قادر ہے ، خشکی ہو یا تری ہر کہیں بندہ اس کی رحمت کا محتاج ہے وہ زمین دھنسانے پر بھی قادر ہے اور یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ ۔(ف152)جیسا قومِ لوط پر بھیجا تھا ۔(ف153)جو تمہیں بچا سکے ۔
یا اس سے نڈر ہوئے کہ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیجے تو تم کو تمہارے کفر کے سبب ڈبو دے پھر اپنے لیے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے (ف۱۵٤)
(ف154)اور ہم سے دریافت کر سکے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا کیونکہ ہم قادرِ مختار ہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ہمارے کام میں کوئی دخل دینے والا اور دم مارنے والا نہیں ۔
اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی (ف۱۵۵) اور ان کی خشکی اور تری میں (ف۱۵٦) سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں (ف۱۵۷) اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا (ف۱۵۸)
(ف155)عقل و علم و گویائی ، پاکیزہ صورت ، معتدل قامت اور معاش و معاد کی تدابیر اور تمام چیزوں پر استیلا و تسخیر عطا فرما کر اور اس کے علاوہ اور بہت سی فضیلتیں دے کر ۔(ف156)جانوروں اور دوسری سواریوں اور کشتیوں اور جہازوں وغیرہ میں ۔(ف157)لطیف خوش ذائقہ حیوانی اور نباتی ہر طرح کی غذائیں خوب اچھی طرح پکی ہوئی کیونکہ انسان کے سوا حیوانات میں پکی ہوئی غذا اور کسی کی خوراک نہیں ۔(ف158)حسن کا قول ہے کہ اکثر سے کل مراد ہے اور اکثر کا لفظ کل کے معنٰی میں بولا جاتا ہے قرآنِ کریم میں بھی ارشاد ہوا وَاَکْثَرُھُمْ کٰذِبُوْنَ اور مَایَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا میں اکثر بہ معنٰی کل ہے لہذا ملائکہ بھی اس میں داخل ہیں اور خواص بشر یعنی انبیاء علیہم السلام خواص ملائکہ سے افضل ہیں اور صلحائے بشر عوام ملائکہ سے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ مومن اللہ کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ کرامت رکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ فرشتے طاعت پر مجبول ہیں یہی ان کی سرشت ہے ، ان میں عقل ہے شہوت نہیں اور بہائم میں شہوت ہے عقل نہیں اور آدمی شہوت و عقل دونوں کا جامع ہے تو جس نے عقل کو شہوت پر غالب کیا وہ ملائکہ سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ بہائم سے بدتر ہے ۔
جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (ف۱۵۹) تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے (ف۱٦۰) اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا (ف۱٦۱)
(ف159)جس کا وہ دنیا میں اِتّباع کرتا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا اس سے وہ امامِ زماں مراد ہے جس کی دعوت پر دنیا میں لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت کی ہو یا باطل کی ۔ حاصل یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہو گی جس کے حکم پر دنیا میں چلتی رہی اور انہیں اسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں کے متبعین ۔(ف160)نیک لوگ جو دنیا میں صاحبِ بصیرت تھے اور راہِ راست پر رہے ان کو ان کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اس میں نیکیاں اور طاعتیں دیکھیں گے تو اس کو ذوق و شوق سے پڑھیں گے اور جو بدبخت ہیں کُفّار ہیں ان کے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ انہیں دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور دہشت سے پوری طرح پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے ۔(ف161)یعنی ثوابِ اعمال میں ان سے ادنٰی بھی کمی نہ کی جائے گی ۔
اور جو اس زندگی میں (ف۱٦۲) اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے (ف۱٦۳) اور اور بھی زیادہ گمراہ،
(ف162)دنیا کی حق کے دیکھنے سے ۔(ف163)نجات کی راہ سے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ جو دنیا میں کافِر گمراہ ہے وہ آخر ت میں اندھا ہوگا کیونکہ دنیا میں توبہ مقبول ہے اور آخرت میں توبہ مقبول نہیں ۔
اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو، اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دوست بنالیتے (ف۱٦٤)
(ف164)شانِ نُزول : ثقیف کا ایک وفد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ اگر آپ تین باتیں منظور کر لیں تو ہم آپ کی بیعت کر لیں ایک تو یہ کہ نماز میں جھکیں گے نہیں یعنی رکوع سجدہ نہ کریں گے ، دوسری یہ کہ ہم اپنے بت اپنے ہاتھوں سے نہ توڑیں گے ، تیسرے یہ کہ لات کوپوجیں گے تو نہیں مگر ایک سال اس سے نفع اٹھا لیں کہ اس کے پوجنے والے جو نذریں چڑھاوے لائیں اس کو وصول کر لیں ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اس دین میں کچھ بھلائی نہیں جس میں رکوع سجدہ نہ ہو اور بُتوں کو توڑنے کی بابت تمہاری مرضی اور لات و عزّٰی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت میں ہر گز نہ دوں گا ، وہ کہنے لگے یارسولَ اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہم چاہتے یہ ہیں کہ آپ کی طرف سے ہمیں ایسا اعزاز ملے جو دوسروں کو نہ ملا ہو تاکہ ہم فخر کر سکیں اس میں اگر آپ کو اندیشہ ہو کہ عرب شکایت کریں گے تو آپ ان سے کہہ دیجئے گا کہ اللہ کا حکم ہی ایسا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اور بیشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس زمین سے (ف۱٦۷) ڈگا دیں (کھسکادیں) کہ تمہیں اس سے باہر کردیں اور ایسا ہوتا تو وہ تمہارے پیچھے نہ ٹھہرتے مگر تھوڑا (ف۱٦۸)
(ف167)یعنی عرب سے ۔شانِ نُزول : مشرکین نے اتفاق کر کے چاہا کہ سب مل کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سر زمینِ عرب سے باہر کر دیں لیکن اللہ تعالٰی نے ان کا یہ ارادہ پورا نہ ہونے دیا اور ان کی یہ مراد بر نہ آئی ، اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازِل ہوئی ۔ (خازن) (ف168)اور جلد ہلاک کر دیئے جاتے ۔
نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک (ف۱۷۰) اور صبح کا قرآن (ف۱۷۱) بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں (ف۱۷۲)
(ف170)اس میں ظہر سے عشا تک کی چار نمازیں آ گئیں ۔(ف171)اس سے نمازِ فجر مراد ہے اور اس کو قرآن اس لئے فرمایا گیا کہ قرأت ایک رُکن ہے اور جُز سے کل تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ قرِآن کریم میں نماز کو رکوع و سجود سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ قرأت نماز کا رُکن ہے ۔(ف172) یعنی نمازِ فجر میں رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں اور دن کے فرشتے بھی آجاتے ہیں ۔
اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے (ف۱۷۳) قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں (ف۱۷٤)
(ف173)تہجّد نماز کے لئے نیند کو چھوڑنے یا بعدِ عشا سونے کے بعد جو نماز پڑھی جائے اس کو کہتے ہیں ، نمازِ تہجّد کی حدیث شریف میں بہت فضیلتیں آئی ہیں ، نمازِ تہجّد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر فرض تھی جمہور کا یہی قول ہے ، حضورکی امّت کے لئے یہ نماز سنّت ہے ۔ مسئلہ : تہجّد کی کم سے کم دو ۲ رکعتیں اور متوسط چار اور زیادہ آٹھ ہیں اور سنّت یہ ہے کہ دو دو رکعت کی نیّت سے پڑھی جائیں ۔مسئلہ : اگر آدمی شب کی ایک تہائی عبادت کرنا چاہے اور دو تہائی سونا تو شب کے تین حصّے کر لے درمیانی تہائی میں تہجّد پڑھنا افضل ہے اور اگر چاہے کہ آدھی رات سوئے آدھی رات عبادت کرے تو نصف اخیر افضل ہے ۔ مسئلہ : جو شخص نمازِ تہجّد کا عادی ہو اس کے لئے تہجّد ترک کرنا مکروہ ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے ۔ (ردالمحتار) (ف174)اور مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے کہ اس میں اوّلین و آخرین حضور کی حمد کریں گے اسی پر جمہور ہیں ۔
اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا (ف۱۷۵) اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے (ف۱۷٦)
(ف175)جہاں بھی میں داخل ہوں اور جہاں سے بھی میں باہر آؤں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا منصب ہو یا کام ۔ بعض مفسِّرین نے کہا مراد یہ ہے کہ مجھے قبر میں اپنی رضا اور طہارت کے ساتھ داخل کر اور وقتِ بعثت عزّت و کرامت کے ساتھ باہر لا ۔ بعض نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ مجھے اپنی طاعت میں صدق کے ساتھ داخل کر اور اپنے مناہی سے صدق کے ساتھ خارج فرما اور اس کے معنٰی میں ایک قول یہ بھی ہے کہ منصبِ نبوّت میں مجھے صدق کے ساتھ داخل کر اور صدق کے ساتھ دنیا سے رخصت کے وقت نبوّت کے حقوقِ واجبہ سے عہدہ برآ فرما ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مجھے مدینہ طیّبہ میں پسندیدہ داخلہ عنایت کر اور مکّۂ مکرّمہ سے میراخروج صدق کے ساتھ کرکہ اس سے میرا دل غمگین نہ ہو مگر یہ توجیہہ اس صورت میں صحیح ہو سکتی ہے جب کہ یہ آیت مدنی نہ ہو جیسا کہ علّامہ سیوطی نے قیل فرما کر اس آیت کے مدنی ہونے کا قول ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ۔(ف176)وہ قوّت عطا فرما جس میں سے میں تیرے دشمنوں پر غالب ہوں اور وہ حجّت جس سے میں ہر مخالف پر فتح پاؤں اور وہ غلبۂ ظاہرہ جس سے میں تیرے دین کو تقویّت دوں یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب سے ان کے دین کو غالب کرنے اور انہیں دشمنوں سے محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔
اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا (ف۱۷۷) بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (ف۱۷۸)
(ف177)یعنی اسلام آیا اورکُفر مٹ گیا یا قرآن آیا اور شیطان ہلاک ہوا ۔(ف178)کیونکہ اگرچہ باطل کو کسی وقت میں دولت و صولت حاصل ہو مگر اس کو پائیداری نہیں اس کا انجام بربادی و خواری ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ فتح مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو کعبۂ مقدّسہ کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب کئے ہوئے تھے جن کو لوہے اور رانگ سے جوڑ کر مضبوط کیا گیا تھا، سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک لکڑی تھی حضور یہ آیت پڑھ کر اس لکڑی سے جس بُت کی طرف اشارہ فرماتے جاتے تھے وہ گرتا جاتا تھا ۔
اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز (۱۷۹) جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے (ف۱۸۰) اور اس سے ظالموں کو (ف۱۸۱) نقصان ہی بڑھتا ہے،
(ف179)صورتیں اور آیتیں ۔(ف180)کہ اس سے امراضِ ظاہرہ اور باطنہ ضلالت و جہالت وغیرہ دور ہوتے ہیں اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے ، اعتقاداتِ باطلہ و اخلاقِ رذیلہ دفع ہوتے ہیں اور عقائدِ حقّہ و معارفِ الٰہیہ و صفاتِ حمیدہ و اخلاقِ فاضلہ حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہ کتابِ مجید ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہمانی و شیطانی ظلمتوں کو اپنے انوار سے نیست و نابود کر دیتے ہیں اور اس کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ ہے جس سے جسمانی امراض اور آسیب دور ہوتے ہیں ۔(ف181)یعنی کافِروں کو جو اس کی تکذیب کرتے ہیں ۔
اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں (ف۱۸۲) منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے
(ف182)یعنی کافِر پر کہ اس کو صحت اور وسعت عطا فرماتے ہیں تو وہ ہمارے ذکر و دعا اور طاعت و ادائے شکر سے ۔(ف183)یعنی تکبُّر کرتا ہے ۔(ف184)کوئی شدّت و ضرر اور کوئی فقر و حادثہ تو تضرّع و زاری سے دعائیں کرتا ہے اور ان دعاؤں کے قبول کا اثر ظاہر نہیں ہوتا ۔(ف185)مومن کو ایسا نہ چاہئے اگر اجابتِ دعا میں تاخیر ہو تو وہ مایوس نہ ہو اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہے ۔
تم فرماؤ سب اپنے کینڈے (انداز) پر کام کرتے ہیں (ف۱۸٦) تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے،
(ف186)ہم اپنے طریقہ پر تم اپنے طریقہ پر جس کا جوہرِ ذات شریف و طاہر ہے اس سے افعالِ جمیلہ و اخلاقِ پاکیزہ صادر ہوتے ہیں اور جس کا نفس خبیث ہے اس سے افعالِ خبیثہ ردیہ سرزد ہوتے ہیں ۔
اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں ہیں، تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا (ف۱۸۷)
(ف187)قریش مشورہ کے لئے جمع ہوئے اور ان میں باہم گفتگو یہ ہوئی کہ محمّدِ مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں رہے اور کبھی ہم نے ان کو صدق و امانت میں کمزور نہ پایا کبھی ان پر تہمت لگانے کا موقع ہاتھ نہ آیا ، اب انہوں نے نبوّت کا دعوٰی کر دیا تو ان کی سیرت اور ان کے چال چلن پر کوئی عیب لگانا تو ممکن نہیں ہے ، یہود سے پوچھنا چاہیئے کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ، اس مطلب کے لئے ایک جماعت یہود کے پاس بھیجی گئی ، یہود نے کہا کہ ان سے تین سوال کرو اگر تینوں کے جواب نہ دیں تو وہ نبی نہیں اور اگر تینوں کا جواب دے دیں جب بھی نبی نہیں اور اگر دو کا جواب دے دیں ایک کا جواب نہ دیں تو وہ سچّے نبی ہیں ، وہ تین سوال یہ ہیں اصحابِ کہف کا واقعہ ، ذوالقرنین کا واقعہ اور روح کا حال چنانچہ قریش نے حضورسے یہ سوال کئے آپ نے اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے واقعات تو مفصّل بیان فرما دیئے اور روح کا معاملہ ابہام میں رکھا جیسا کہ توریت میں مبہم رکھا گیا تھا قریش یہ سوال کر کے نادم ہوئے ۔ اس میں اختلاف ہے کہ سوال حقیقتِ روح سے تھا یا اس کی مخلوقیت سے ، جواب دونوں کا ہو گیا اور آیت میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ مخلوق کا علم علمِ الٰہی کے سامنے قلیل ہے اگرچہ مَااُوْتِیْتُمْ کا خِطاب یہود کے ساتھ خاص ہو ۔
مگر تمہارے رب کی رحمت (ف۱۸۹) بیشک تم پر اس کا بڑا فضل ہے (ف۱۹۰)
(ف189)کہ قیامت تک اس کو باقی رکھا اور ہر تغیّر و تبدّل سے محفوظ فرمایا ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ قرآنِ پاک خوب پڑھو اس سے پہلے کہ قرآنِ پاک اٹھا لیا جائے کیونکہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ قرآنِ پاک نہ اٹھایا جائے ۔(ف190)کہ اس نے آپ پر قرآنِ کریم نازِل فرمایا اور اس کو باقی و محفوظ رکھا اور آپ کو تمام بنی آدم کا سردار اور خاتَم النّبّیین کیا اور مقامِ محمود عطا فرمایا ۔
تم فرماؤ اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ (ف۱۹۱) اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو (ف۱۹۲)
(ف191)بلاغت اور حسنِ نظم و ترتیب اور علومِ غیبیہ و معارفِ الٰہیہ میں سے کسی کمال میں ۔(ف192)شانِ نُزول : مشرکین نے کہا تھا کہ ہم چاہیں تو اس قرآن کی مثل بنا لیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کی تکذیب کی کہ خالِق کے کلام کے مثل مخلوق کا کلام ہو ہی نہیں سکتا اگر وہ سب باہم مل کر کوشش کریں جب بھی ممکن نہیں کہ اس کلام کے مثل لاسکیں چنانچہ ایسا ہی ہوا تمام کُفّار عاجز ہوئے اور انہیں رسوائی اٹھانا پڑی اور وہ ایک سطر بھی قرآنِ کریم کے مقابل بنا کر پیش نہ کر سکے ۔
اور بولے کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو (ف۱۹٤)
(ف194)شانِ نُزول : جب قرآنِ کریم کا اعجاز خوب ظاہر ہو چکا اور معجزاتِ واضحات نے حجّت قائم کر دی اور کُفّار کے لئے کوئی جائے عذر باقی نہ رہی تو وہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرنے لگے اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہم ہر گز آپ پر ایمان نہ لائیں گے ۔ مروی ہے کُفّارِ قریش کے سردار کعبۂ معظّمہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بلوایا حضور تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آج گفتگو کرکے آپ سے معاملہ طے کر لیں تاکہ ہم پھر آپ کے حق میں معذور سمجھے جائیں ، عرب میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم پر وہ شدائد کئے ہوں جو آپ نے کئے ہیں ، آپ نے ہمارے باپ دادا کو بُرا کہا ، ہمارے دین کو عیب لگائے ، ہمارے دانش مندوں کو کم عقل ٹھہرایا ، معبودوں کی توہین کی ، جماعت متفرق کر دی ، کوئی برائی اٹھا نہ رکھی ، اس سے تمہاری غرض کیا ہے ؟ اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کر دیں کہ ہماری قوم میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ ، اگر اعزاز چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیں ، اگر مُلک و سلطنت چاہتے ہو تو ہم تمہیں بادشاہ تسلیم کر لیں یہ سب باتیں کرنے کے لئے ہم تیار ہیں اور اگر تمہیں کوئی دماغی بیماری ہوگئی ہے یا کوئی خلش ہو گیا ہے تو ہم تمہارا علاج کریں اور اس میں جس قدر خرچ ہو اٹھائیں ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ان میں سے کوئی بات نہیں اور میں مال و سلطنت و سرداری کسی چیز کا طلب گار نہیں ، واقعہ صرف اتنا ہے کہ اللہ تعالٰی نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازِل فرمائی اور حکم دیا کہ میں تمہیں اسکے ماننے پر اللہ کی رضا اور نعمتِ آخرت کی بشارت دوں اور انکار کرنے پر عذابِ الٰہی کا خوف دلاؤں ، میں نے تمہیں اپنے ربّ کا پیام پہنچایا اگر تم اسے قبول کرو تو یہ تمہارے لئے دنیا و آخرت کی خوش نصیبی ہے اور نہ مانو تو میں صبر کروں گا اور اللہ کے فیصلہ کا انتظار کروں گا ، اس پر ان لوگوں نے کہا اے محمّد ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اگر آپ ہمارے معروضات کو قبول نہیں کرتے ہیں تو ان پہاڑوں کو ہٹا دیجئے اور میدان صاف نکال دیجئے اور نہریں جاری کر دیجئے اور ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے ہم ان سے پوچھ دیکھیں کہ آپ جو فرماتے ہیں کیا یہ سچ ہے اگر وہ کہہ دیں گے تو ہم مان لیں گے ، حضور نے فرمایا میں ان باتوں کے لئے نہیں بھیجا گیا جو پہنچانے کے لئے میں بھیجاگیا تھا وہ میں نے پہنچا دیا اگر تم مانو تمہارا نصیب نہ مانو تو میں خدائی فیصلہ کا انتظار کروں گا ، کُفّارنے کہا پھر آپ اپنے ربّ سے عرض کر کے ایک فرشتہ بلوا لیجئے جو آپ کی تصدیق کرے اور اپنے لئے باغ اور محل اور سونے چاندی کے خزانے طلب کیجئے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں بھیجا گیا ، میں بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں ، اس پر کہنے لگے تو ہم پر آسمان گروا دیجئے اور بعضے ان میں سے یہ بولے کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے پاس نہ لائیے ، اس پر سیدِ عالِم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس مجلس سے اٹھ آئے اور عبد اللہ بن اُمیّہ آپ کے ساتھ اٹھا اور آپ سے کہنے لگا خدا کی قَسم میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاؤں گا جب تک آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر نہ چڑھو اور میری نظروں کے سامنے وہاں سے ایک کتا ب اور فرشتوں کی ایک جماعت لے کر نہ آؤ اور خدا کی قَسم اگریہ بھی کرو تو میں سمجھتا ہوں کہ میں پھر بھی نہ مانوں گا۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اس قدر ضد او ر عنا د میں ہیں اور ان کی حق دشمنی حد سے گذر گئی ہے تو آپ کو ان کی حالت پر رنج ہوا ۔ اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
یا تمہارے لیے طلائی گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جو ہم پڑھیں، تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹٦)
(ف196)میرا کام اللہ کا پیام پہنچا دینا ہے وہ میں نے پہنچا دیا اب جس قدر معجزات و آیات یقین و اطمینان کے لئے درکار ہیں ان سے بہت زیادہ میرا پروردگارظاہر فرما چکا ، حجّت ختم ہوگئی اب یہ سمجھ لو کہ رسول کے انکار کرنے اور آیاتِ الٰہیہ سے مکرنے کا کیا انجام ہوتا ہے ۔
اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹٦) اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا (ف۱۹۷)
(ف197)رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور ان کے منصبِ نبوّت اور اللہ تعالٰی کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے مقر اور معترف نہ ہوئے ، یہی ان کے کُفر کی اصل تھی اور اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا ، اس پر اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے کہ اے حبیب ان سے ۔
اور جسے اللہ راہ دے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے (ف۲۰۱) تو ان کے لیے اس کے سوا کوئی حمایت والے نہ پاؤ گے (ف۲۰۲) اور ہم انھیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل (ف۲۰۳) اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے (ف۲۰٤) ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے،
(ف201)اور توفیق نہ دے ۔(ف202)جو انہیں ہدایت کریں ۔(ف203)گھسٹتا ۔(ف204)جیسے وہ دنیا میں حق کے دیکھنے ، بولنے اور سننے سے اندھے ، گونگے ، بہرے بنے رہے ایسے ہی اٹھائے جائیں گے ۔
یہ ان کی سزا ہے اس پر کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے بن کر اٹھائے جائیں گے،
اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲۰۵) ان لوگوں کی مثل بناسکتا ہے (ف۲۰٦) اور اس نے ان کے لیے (ف۲۰۷) ایک میعاد ٹھہرا رکھی ہے جس میں کچھ شبہ نہیں تو ظالم نہیں مانتے بےناشکری کیے (ف۲۰۸)
(ف205) ایسے عظیم و وسیع وہ ۔(ف206) یہ اس کی قدرت سے کچھ عجیب نہیں ۔(ف207)عذاب کی یا موت و بعث کی ۔(ف208) باوجود دلیلِ واضح اور حجّت قائم ہونے کے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں (ف۲۱۰) تو بنی اسرائیل سے پوچھو جب وہ (ف۲۱۱) ان کے پاس آیا تو اس سے فرعون نے کہا، اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تم پر جادو ہوا (ف۲۱۲)
(ف210)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ نو ۹ نشانیاں یہ ہیں (۱) عصا (۲) یدِ بیضا (۳) وہ عُقدہ جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی زبانِ مبارک میں تھا پھر اللہ تعالٰی نے اس کو حل فرمایا (۴) دریاکا پھٹنا اور اس میں رستے بننا (۵) طوفان (۶) ٹیڑی (۷)گھن (۸) مینڈک (۹) خون ، ان میں سے چھ ۶ آخر کا مفصّل بیان نویں پارے کے چھٹے رکوع میں گذر چکا ۔(ف211)حضرت موسٰی علیہ السلام ۔(ف212)یعنی معاذ اللہ جادو کے اثر سے تمہاری عقل بجا نہ رہی یا مسحور ساحر کے معنٰی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ عجائب جو آپ دکھلا تے ہیں یہ جادو کے کرشمہ ہیں اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
کہا یقیناً تو خوب جانتا ہے (ف۲۱۳) کہ انھیں نہ اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے مالک نے دل کی آنکھیں کھولنے والیاں (ف۲۱٤) اور میرے گمان میں تو اے فرعون! تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے (ف۲۱۵)
(ف213)اے فرعونِ معانِد ۔(ف214)کہ ان آیات سے میرا صدق اور میرا غیر مسحور ہونا اور ان آیات کا خدا کی طرف سے ہونا ظاہر ہے ۔(ف215)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف سے فرعون کے اس قول کا جواب ہے کہ اس نے آپ کو مسحور کہا تھا مگر اس کا قول کذب و باطل تھا جسے وہ خود بھی جانتا تھا مگر اس کے عناد نے اس سے کہلایا اور آپ کا ارشاد حق و صحیح چنانچہ ویسا ہی واقع ہوا ۔
اور ہم نے قرآن کو حق ہی کے ساتھ اتارا اور حق وہی کے لیے اترا (ف۲۲۱) اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،
(ف221)شیاطین کے خلط سے محفوظ رہا اورکسی تغیُّر نے اس میں راہ نہ پائی ۔ تبیان میں ہے کہ حق سے مراد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارک ہے ۔فائدہ : آیتِ شریفہ کا یہ جملہ ہر ایک بیماری کے لئے عمل مجرب ہے ، موضعِ مرض پر ہاتھ رکھ کر پڑھ کر دم کر دیا جائے تو باذنِ اللہ بیماری دور ہو جاتی ہے ۔ محمد بن سماک بیمار ہوئے تو ان کے متوسّلِین قارورہ لے کر ایک نصرانی طبیب کے پاس بغرضِ علاج گئے ، راہ میں ایک صاحب ملے نہایت خوش رو و خوش لباس ان کے جسمِ مبارک سے نہایت پاکیزہ خوشبو آ رہی تھی انہوں نے فرمایا کہاں جاتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا ابنِ سماک کا قارورہ دکھانے کے لئے فلاں طبیب کے پاس جاتے ہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ اللہ کے ولی کے لئے خدا کے دشمن سے مدد چاہتے ہو قارورہ پھینکو واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ مقامِ درد پر ہاتھ رکھ کر پڑھو بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ یہ فرما کر وہ بزرگ غائب ہو گئے ان صاحبوں نے واپس ہو کر ابنِ سماک سے واقعہ بیان کیا انہوں نے مقامِ درد پر ہاتھ رکھ کر یہ کلمے پڑھے فوراً آرام ہو گیا اور ابنِ سماک نے فرمایا کہ وہ حضرت خضر تھے علی نبینا وعلیہ السلام ۔
تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (ف۲۲۵) بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا (ف۲۲٦) اب ان پر پڑھا جاتا ہے، ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں،
(ف225)اور اپنے لئے نعمتِ آخرت اختیار کرو یا عذابِ جہنّم ۔(ف226)یعنی مومنینِ اہلِ کتاب جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے انتظار و جستجو میں تھے حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی بعثت کے بعد شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل اور سلمان فارسی اور ابو ذر وغیر ہم رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔
اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں (ف۲۲۸) روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے، (ف۲۲۹) (السجدة) ٤
(ف228)اپنے ربّ کے حضور عجز و نیاز سے نرم دلی سے ۔(ف229)مسئلہ : قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت رونا مستحب ہے ۔ ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ وہ شخص جہنّم میں نہ جائے گا جو خوفِ الٰہی سے روئے ۔
تم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں (ف۲۳۰) اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دنوں کے بیچ میں راستہ چاہو (ف۲۳۱)
(ف230)شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایک شب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یا رحمٰن فرماتے رہے ابو جہل نے سنا تو کہنے لگا کہ (حضرت) محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور اپنے آپ دو کو پکارتے ہیں اللہ کو اور رحمٰن کو (معاذ اللہ) اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمٰن دو نام ایک ہی معبودِ برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو ۔(ف231)یعنی متوسط آواز سے پڑھو جس سے مقتدی بہ آسانی سن لیں ۔شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّۂ مکرّمہ میں جب اپنے اصحاب کی امامت فرماتے تو قراء ت بلند آواز سے فرماتے ، مشرکین سنتے تو قرآنِ پاک کو اور اس کے نازِل فرمانے والے کو اور جن پر نازِل ہو ان سب کو گالیاں دیتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
اور یوں کہو سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا (ف۲۳۲) اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (ف۲۳۳) اور کمزوری سے کوئی اس کا حمایتی نہیں (ف۲۳٤) اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو (ف۲۳۵)
(ف232)جیسا کہ یہود و نصارٰی کا گمان ہے ۔(ف233)جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں ۔(ف234)یعنی وہ کمزور نہیں کہ اس کوکسی حمایتی اور مددگار کی حاجت ہو ۔(ف235)حدیث شریف میں ہے روزِ قیامت جنّت کی طرف سب سے پہلے وہی لوگ بلائے جائیں گے جو ہر حال میں اللہ کی حمد کرتے ہیں ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ بہترین دعا اَلْحَمْدُ لِلہِ ہے اور بہترین ذکر لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ ۔ (ترمذی) مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک چار کلمے بہت پیارے ہیں ۔ لَآاِلٰہَ اِلاَّاللہُ ، اَللہُ اَکْبَرُ ، سُبْحَانَ اللہِ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔فائدہ : اس آیت کا نام آیت العز ہے ، بنی عبدالمطلب کے بچّے جب بولنا شروع کرتے تھے تو ان کو سب سے پہلے یہی آیت قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ سکھائی جاتی تھی ۔