یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،
اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا ﴿3﴾
جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا (ف۲)
(ف2)کیونکہ اخفاء ریا سے دور اور اخلاص سے معمور ہوتا ہے نیز یہ بھی فائدہ تھا کہ پیرانہ سالی کی عمر میں جب کہ سن شریف پچھتّر یا اسّی برس کا تھا اولاد کا طلب کرنا احتمال رکھتا تھا کہ عوام اس پر ملامت کریں اس لئے بھی اس دعا کا اخفاء مناسب تھا ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ضعفِ پیری کے باعث حضرت کی آواز بھی ضعیف ہو گئی تھی ۔ (مدارک ، خازن)
عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی (ف۳) اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا(سفیدی ظاہر ہوئی)(ف۴) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا(ف۵)
(ف3)یعنی پیرانہ سالی کا ضعف غایت کو پہنچ گیا کہ ہڈی جو نہایت مضبوط عضو ہے اس میں کمزوری آ گئی تو باقی اعضا و قوٰی کا حال محتاجِ بیان ہی نہیں ۔(ف4)کہ تمام سر سفید ہو گیا ۔(ف5)ہمیشہ تو نے میری دعا قبول کی اور مجھے مستجابُ الدعوات کیا ۔
اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے (ف٦) اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے (ف۷)
(ف6)چچازاد وغیرہ کا کہ وہ شریر لوگ ہیں کہیں میرے بعد دین میں رخنہ اندازی نہ کریں جیسا کہ بنی اسرائیل سے مشاہدہ میں آ چکا ہے ۔(ف7)اور میرے علم کا حامل ہو ۔
عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا (ف۹)
(ف9)یہ سوال استبعاد نہیں بلکہ مقصود یہ دریافت کرنا ہے کہ عطائے فرزند کس طریقہ پر ہو گا کیا دوبارہ جوانی مرحمت ہوگی یا اسی حال میں فرزند عطا کیا جائے گا ۔
عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے (ف۱۲) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہو کر (ف۱۳)
(ف12)جس سے مجھے اپنی بی بی کے حاملہ ہونے کی معرفت ہو ۔(ف13)صحیح سالم ہو کر بغیر کسی بیماری کے اور بغیر گونگا ہونے کے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان ایام میں آپ لوگوں سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوئے ، جب اللہ کا ذکر کرنا چاہتے زبان کُھل جاتی ۔
تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا (ف۱٤) تو انھیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،
(ف14)جو اس کی نماز کی جگہ تھی اور لوگ پسِ محراب انتظار میں تھے کہ آپ ان کے لئے دروازہ کھولیں تو وہ داخل ہوں اور نماز پڑھیں ، جب حضرت زکریا علیہ السلام باہر آئے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا ، گفتگو نہیں فرما سکتے تھے یہ حال دیکھ کر لوگوں نے دریافت کیا ، کیا حال ہے ۔(ف15)اور حسبِ عادت فجر و عصر کی نمازیں ادا کرتے رہو ، اب حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے کلام نہ کر سکنے سے جان لیا کہ آپ کی بیوی صاحبہ حاملہ ہو گئیں اور حضرت یحیٰی علیہ السلام کی ولادت سے دو سال بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔
اے یحییٰ کتاب (ف۱٦) مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی (ف۱۷)
(ف16)یعنی توریت کو ۔(ف17)جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی اس وقت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے آپ کو عقلِ کا مل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں فہم و فراست اور کمالِ عقل و دانش خوارقِ عادات میں سے ہے اور جب بکرمہٖ تعالٰی یہ حاصل ہو تو اس حال میں نبوّت ملنا کچھ بھی بعید نہیں لہٰذا اس آیت میں حکم سے نبوّت مراد ہے یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسِّرین نے اس سے حکمت یعنی فہمِ توریت اور فقہ فی الدین بھی مراد لی ہے ۔ (خازن و مدارک ، کبیر) منقول ہے کہ اس کم سنی کے زمانہ میں بچوں نے آپ کو کھیل کے لئے بلایا تو آپ نے فرمایا مَا لِلُعْبٍ خُلِقْنَا ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ۔
اور اپنی طرف سے مہربانی (ف۱۸) اور ستھرائی (ف۱۹) اور کمال ڈر والا تھا (ف۲۰)
(ف18)عطا کی اور ان کے دل میں رقت و رحمت رکھی کہ لوگوں پر مہربانی کریں ۔(ف19)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زکٰوۃ سے یہاں طاعت و اخلاص مراد ہے ۔(ف20)اور آپ خوفِ الٰہی سے بہت گریہ و زاری کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارکہ پر آنسوؤں سے نشان بن گئے تھے ۔
اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن مردہ اٹھایا جائے گا (ف۲۲)
(ف22)کہ یہ تینوں دن بہت اندیشہ ناک ہیں کیونکہ ان میں آدمی وہ دیکھتا ہے جو اس سے پہلے اس نے نہیں دیکھا اس لئے ان تینوں موقعوں پرنہایت وحشت ہوتی ہے ، اللہ تعالٰی نے حضرت ےحیٰی علیہ السلام کا اکرام فرمایا انہیں ان تینوں موقعوں پر امن و سلامتی عطا کی ۔
اور کتاب میں مریم کو یاد کرو (ف۲۳) جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی (ف۲٤)
(ف23)یعنی اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآنِ کریم میں حضرت مریم کا واقعہ پڑھ کر ان لوگوں کو سنائیے تاکہ انہیں ان کا حال معلوم ہو ۔(ف24)اوراپنے مکان میں یا بیتُ المقدس کی شرقی جانب میں لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھیں ۔
کہا یونہی ہے (ف۲۷) تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ (ف۲۸) مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی (ف۲۹) کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت (ف۳۰) اور یہ کام ٹھہرچکا ہے (ف۳۱)
(ف27)یہی منظورِ الٰہی ہے کہ تمہیں بغیر مرد کے چھوئے ہی لڑکا عنایت فرمائے ۔(ف28)یعنی بغیر باپ کے بیٹا دینا ۔(ف29)اور اپنی قدرت کی برہان ۔(ف30)ان کے لئے جو اس کے دین کا اِتّباع کریں اس پر ایمان لائیں ۔(ف31)علمِ الٰہی میں ، اب نہ رد ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے ۔ جب حضرت مریم کو اطمینان ہوگیا اور ان کی پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبریل نے ان کے گریبان میں یا آستین میں یا دامن میں یا منہ میں دم کیا اور بقدرتِ الٰہی فی الحال حاملہ ہو گئیں اس وقت حضرت مریم کی عمر تیرہ سال یا دس سال کی تھی ۔
اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی (ف۳۲)
(ف32)اپنے گھر والوں سے اور وہ جگہ بیت اللحم تھی ۔ وہب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریم کے حمل کا علم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یوسف نجار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادم تھا اور بہت بڑا عابد شخص تھا اس کو جب معلوم ہوا کہ مریم حاملہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی ، جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عبادت و تقوٰی ، ہر وقت کا حاضر رہنا ،کسی وقت غائب نہ ہونا یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بُری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا تھا بالآخر اس نے حضرت مریم سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تاکہ میرے دل کی پریشانی رفع ہو ، حضرت مریم نے کہا کہ اچھی بات کہو تو اس نے کہا کہ اے مریم مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر تخم اور درخت بغیر بارش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہو سکتا ہے ؟ حضرت مریم نے فرمایا کہ ہاں تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی بغیر تخم ہی کے پیدا کی اور درخت اپنی قدرت سے بغیر بارش کے اگائے کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ یوسف نے کہا میں یہ تو نہیں کہتا بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے جسے کن فرمائے وہ ہو جاتی ہے ، حضرت مریم نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم اور ان کی بی بی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ، حضرت مریم کے اس کلام سے یوسف کا شبہ رفع ہو گیا اور حضرت مریم حمل کے سبب سے ضعیف ہو گئیں تھیں اس لئے وہ خدمتِ مسجد میں ان کی نیابت انجام دینے لگا ، اللہ تعالٰی نے حضرت مریم کو الہام کیا کہ وہ اپنی قوم سے علٰیحدہ چلی جائیں اس لئے وہ بیت اللحم میں چلی گئیں ۔
تو اسے (ف۳٤) اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا (ف۳۵) بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے (ف۳٦)
(ف34)جبریل نے وادی کے نشیب سے ۔(ف35)اپنی تنہائی کا اور کھانے پینے کی کوئی چیز موجود نہ ہونے کا اور لوگوں کی بدگوئی کرنے کا ۔(ف36)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے یا حضرت جبریل نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو آبِ شیریں کا ایک چشمہ جاری ہو گیا اور کھجور کا درخت سرسبز ہو گیا ، پھل لایا وہ پھل پختہ اور رسیدہ ہو گئے اور حضرت مریم سے کہا گیا ۔
تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ (ف۳۸) پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (ف۳۹) تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کروں گی (ف٤۰)
(ف38)اپنے فرزند عیسٰی سے ۔(ف39)کہ تجھ سے بچے کو دریافت کرتا ہے ۔(ف40)پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے ، ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ۔ حضرت مریم کو سکوت کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسٰی فرمائیں اور ان کا کلام حجّتِ قویہ ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ۔ مسئلہ : سفیہ کے جواب میں سکوت و اعراض چاہیئے ؎ جواب جاہلاں باشد خموشی ۔مسئلہ : کلام کو افضل شخص کی طرف تفویض کرنا اولٰی ہے ، حضرت مریم نے یہ بھی اشارہ سے کہا کہ میں کسی آدمی سے بات نہ کروں گی ۔
اے ہارون کی بہن (ف٤۲) تیرا باپ (ف٤۳) برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں (ف٤٤) بدکار،
(ف42)اور ہارون یا توحضرت مریم کے بھائی کا نام تھا یا بنی اسرائیل میں اور نہایت بزرگ اور صالح شخص کا نام تھا جن کے تقوٰی اور پرہیزگاری سے تشبیہ دینے کے لئے ان لوگوں نے حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا یا حضرت ہارون برادرِ حضرت موسٰی علیہ السلام ہی کی طرف نسبت کی باوجود یکہ ان کا زمانہ بہت بعید تھا اور ہزار برس کا عرصہ ہو چکا تھا مگر چونکہ یہ ان کی نسل سے تھیں اس لئے ہارون کی بہن کہہ دیا جیسا کہ عربوں کا محاورہ ہے کہ وہ تمیمی کو یا اخا تمیم کہتے ہیں ۔(ف43)یعنی عمران ۔(ف44)حنّہ ۔
اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (ف٤۵) وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے (ف٤٦)
(ف45)کہ جو کچھ کہنا ہے خود ان سے کہو اس پر قوم کے لوگوں کو غصّہ آیا اور ۔(ف46)یہ گفتگو سن کر حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اپنے بائیں ہاتھ پرٹیک لگاکر قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور داہنے دستِ مبارک سے اشارہ کر کے کلام شروع کیا ۔
بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ (ف٤۷) اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا (ف٤۸)
(ف47)پہلے اپنے بندہ ہونے کا اقرار فرمایا تاکہ کوئی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے کیونکہ آپ کی نسبت یہ تہمت لگائی جانے والی تھی اور یہ تہمت اللہ تبارک و تعالٰی پر لگتی تھی اس لئے منصبِ رسالت کا اقتضا یہی تھا کہ والدہ کی براءت بیان کرنے سے پہلے اس تہمت کو رفع فرما دیں جو اللہ تعالٰی کے جنابِ پاک میں لگائی جائے گی اور اسی سے وہ تہمت بھی رفع ہو گئی جو والدہ پر لگائی جاتی کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے بالیقین اس کی ولادت اور اس کی سرشت نہایت پاک و طاہر ہے ۔(ف48)کتاب سے انجیل مراد ہے ۔ حسن کا قول ہے کہ آپ بطنِ والدہ ہی میں تھے کہ آپ کو توریت کا الہام فرما دیا گیا تھا اور پالنے میں تھے جب آپ کو نبوّت عطا کر دی گئی اور اس حالت میں آپ کا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے ۔ بعض مفسِّرین نے آیت کے معنٰی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوّت اور کتاب ملنے کی خبر تھی جو عنقریب آپ کو ملنے والی تھی ۔
اور وہی سلامتی مجھ پر (ف۵۱) جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں (ف۵۲)
(ف51)جو حضرت یحیٰی پر ہوئی ۔(ف52)جب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ کلام فرمایا تو لوگوں کو حضرت مریم کی براءت و طہارت کا یقین ہو گیا اور حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اتنا فرما کر خاموش ہو گئے اور اس کے بعد کلام نہ کیا جب تک کہ اس عمر کو پہنچے جس میں بچے بولنے لگتے ہیں ۔ (خازن)
یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں (ف۵۳)
(ف53)کہ یہود تو انہیں ساحر کذّاب کہتے ہیں (معاذ اللہ) اور نصارٰی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا اور تین میں کا تیسرا کہتے ہیں تَعَا لٰی اللہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوّاً کَبِیْراً ۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالٰی اپنی تنزیہ بیان فرماتا ہے ۔
پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں (ف۵٦) تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے (ف۵۷)
(ف56)اور حضرت عیسٰی کے باب میں نصارٰی کے کئی فرقے ہوگئے ، ایک یعقوبیہ ، ایک نسطور یہ ، ایک ملکانیہ ۔ یعقوبیہ کہتا تھا کہ وہ اللہ ہے ، زمین پر اتر آیا تھا ، پھر آسمان پر چڑھ گیا ۔ نسطوریہ کا قول ہے کہ وہ خدا کا بیٹا ہے ، جب تک چاہا اسے زمین پر رکھا پھر اٹھا لیا اور تیسرا فرقہ یہ کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، نبی ہیں ، یہ مؤمن تھا ۔ (مدارک)(ف57)بڑے دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔
کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے (ف۵۸) مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں (ف۵۹)
(ف58)اور اس دن کا دیکھنا او رسننا کچھ نفع نہ دے گا جب انہوں نے دنیا میں دلائلِ حق کو نہیں دیکھا اور اللہ تعالٰی کے مواعید کو نہیں سنا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ یہ کلام بطریقِ تہدید ہے کہ اس روز ایسی ہولناک باتیں سنیں اور دیکھیں گے جن سے دل پھٹ جائیں ۔(ف59)نہ حق دیکھیں نہ حق سنیں ، بہرے اندھے بنے ہوئے ہیں ، حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اِ لٰہ اور معبود ٹھہراتے ہیں باوجود یکہ انہوں نے بصراحت اپنے بندہ ہونے کا اعلان فرمایا ۔
اور انھیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا (ف٦۰) جب کام ہوچکے گا (ف٦۱) اور وہ غفلت میں ہیں (ف٦۲) اور نہیں مانتے،
(ف60)حدیث شریف میں ہے کہ جب کافِر منازلِ جنّت دیکھیں گے جن سے وہ محروم کئے گئے تو انہیں ندامت و حسرت ہوگی کہ کاش وہ دنیا میں ایمان لے آئے ہوتے ۔(ف61)اور جنّت والے جنّت میں اور دوزخ والے دوزخ میں پہنچیں گے ایسا سخت دن درپیش ہے ۔(ف62)اور اس دن کے لئے کچھ فکر نہیں کرتے ۔
اور کتاب میں (ف٦۵) ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق (ف٦٦) تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
(ف65)یعنی قرآن میں ۔(ف66)یعنی کثیرُ الصدق ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیرُ التصدیق جو اللہ تعالٰی اور اس کی وحدانیّت اور اس کے انبیاء اور اس کے رسولوں کی اور مرنے کے بعد اٹھنے کی تصدیق کرے اور احکامِ الٰہیہ بجا لائے ۔
جب اپنے باپ سے بولا (ف٦۷) اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے (ف٦۸)
(ف67)یعنی آزر بُت پرست سے ۔(ف68)یعنی عبادت معبود کی غایت تعظیم ہے اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو صاحبِ اوصافِ کمال اور ولیِ نِعَم ہو ، نہ کہ بُت جیسی ناکارہ مخلوق ۔ مدعا یہ ہے کہ اللہ واحد لاشریک لہ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ۔
بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو (ف۷٤) باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بےعلاقہ ہوجا (ف۷۵)
(ف74)بُتوں کی مخالفت اور ان کو برا کہنے اور ان کے عیوب بیان کرنے سے ۔(ف75)تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امن میں رہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔
اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا (ف۷۸) تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا (ف۷۹) قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں (ف۸۰)
(ف78)شہرِ بابل سے شام کی طرف ہجرت کر کے ۔(ف79)جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھ پر احسان فرمائے ۔(ف80)اس میں تعریض ہے کہ جیسے تم بُتوں کی پوجا کر کے بدنصیب ہوئے خدا کے پرستار کے لئے یہ بات نہیں اس کی بندگی کرنے والا شقی و محروم نہیں ہوتا ۔
پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا (ف۸۱) ہم نے اسے اسحاق (ف۸۲) اور یعقوب (ف۸۳) عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،
(ف81)ارضِ مقدّسہ کی طرف ہجرت کر کے ۔(ف82)فرزند ۔(ف83)فرزند کے فرزند یعنی پوتے ۔ فائدہ : اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی عمر شریف اتنی دراز ہوئی کہ آپ نے اپنے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا ۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کے لئے ہجرت کرنے اور اپنے گھر بار کو چھوڑنے کی یہ جزا ملی کہ اللہ تعالٰی نے بیٹے اور پوتے عطا فرمائے ۔
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت عطا کی (ف۸٤) اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی (ف۸۵)
(ف84)کہ اموال و اولاد بکثرت عنایت کئے ۔(ف85)کہ ہر دین والے مسلمان ہوں خواہ یہودی خواہ نصرانی سب ان کی ثنا کرتے ہیں اور نمازوں میں ان پر اور ان کی آل پر درود پڑھاجاتا ہے ۔
اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی (ف۸٦) اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (ف۸۷)
(ف86)طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مِصر و مدیَن کے درمیان ہے ، حضرت موسٰی علیہ السلام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے داہنی طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی یٰمُوْسٰی اِنِّیْ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ اے موسٰی میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پالنے والا ۔(ف87)مرتبۂ قرب عطا فرمایا ، حجاب مرتفع کئے یہاں تک کہ آپ نے صریرِ اقلام سنی اور آپ کی قدر و منزلت بلند کی گئی اور آپ سے اللہ تعالٰی نے کلام فرمایا ۔
اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (ف۸۸)
(ف88)جب کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا کی کہ یاربّ میرے گھر والوں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون علیہ السلام کو آپ کی دعا سے نبی کیا اور حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسٰی علیہ السلام سے بڑے تھے ۔
اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو (ف۸۹) بیشک وہ وعدے کا سچا تھا (ف۹۰) اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،
(ف89)جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جد ہیں ۔(ف90)انبیاء سب ہی سچے ہوتے ہیں لیکن آپ اس وصف میں خاص شہرت رکھتے ہیں ۔ ایک مرتبہ کسی مقام پر آپ سے کوئی شخص کہہ گیا تھا کہ آپ یہیں ٹھہرے رہیئے جب تک میں واپس آؤں آپ اس جگہ اس کے انتظار میں تین روز ٹھہرے رہے آپ نے صبر کا وعدہ کیا تھا ذبح کے موقع پر اس شان سے اس کو وفا فرمایا کہ سُبحان اللہ ۔
اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو (ف۹۳) بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،
(ف93)آپ کا نام اخنوخ ہے ، آپ حضرت نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں ، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں ، آپ کے والد حضرت شیث بن آدم علیہ السلام ہیں ، سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں ، کپڑوں کے سینے اور سلے کپڑے پہننے کی ابتداء بھی آپ ہی سے ہوئی ، آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے ، سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علمِ نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں ، یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے ، اللہ تعالی نے آپ پر تیس صحیفے نازِل کئے اور کتبِ الٰہیہ کی کثرتِ درس کے باعث آپ کا نام ادریس ہوا ۔
وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ﴿57﴾
اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (ف۹٤)
(ف94)دنیا میں انہیں علوِ مرتبت عطا کیا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان پر اٹھا لیا اور یہی صحیح تر ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمانِ چہارم پر دیکھا ۔ حضرت کعب احبار وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ الصلٰوۃ و السلام نے مَلک الموت سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں کیساہوتا ہے ؟ تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی آپ زندہ ہو گئے فرمایا کہ اب مجھے جہنّم دکھاؤ تاکہ خوفِ الٰہی زیادہ ہو چنانچہ یہ بھی کیا گیا جہنّم دیکھ کر آپ نے مالکِ داروغۂ جہنّم سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس پر گزرنا چاہتا ہوں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گزرے پھر آپ نے مَلک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنّت دکھاؤ وہ آپ کو جنّت میں لے گئے آپ دروازے کھلوا کر جنّت میں داخل ہوئے تھوڑی دیر انتظار کر کے مَلک الموت نے کہا کہ آپ اب اپنے مقام پر تشریف لے چلئے فرمایا اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وہ میں چکھ ہی چکا ہوں اور یہ فرمایا ہے وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ہر شخص کو جہنّم پر گزرنا ہے تو میں گزر چکا اب میں جنّت میں پہنچ گیا اور جنّت میں پہنچنے والوں کے لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے وَمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْن کہ وہ جنّت سے نکالے نہ جائیں گے اب مجھے جنّت سے چلنے کے لئے کیوں کہتے ہو ؟ اللہ تعالٰی نے مَلک الموت کو وحی فرمائی کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے جو کچھ کیا میرے اذن سے کیا اور وہ میرے اذن سے جنّت میں داخل ہوئے انہیں چھوڑ دو وہ جنّت ہی میں رہیں گے چنانچہ آپ وہاں زندہ ہیں ۔
یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے (ف۹۵) اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا (ف۹٦) اور ابراہیم (ف۹۷) اور یعقوب کی اولاد سے (ف۹۸) اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا (ف۹۹) جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (ف۱۰۰) (السجدة) ۵
(ف95)یعنی حضرت ادریس و حضرت نوح ۔(ف96)یعنی ابراہیم علیہ السلام جو حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے اور آپ کے فرزند سام کے فرزند ہیں ۔(ف97)کی اولاد سے حضرت اسمٰعیل و حضرت اسحٰق اور حضرت یعقوب ۔(ف98)حضرت موسٰی اورحضرت ہارون اور حضرت زکریا اور حضرت یحیٰ اور حضرت عیسٰی صلوٰۃ اللہ علیہم و سلامہ ۔(ف99)شرحِ شریعت و کشفِ حقیقت کے لئے ۔(ف100)اللہ تعالٰی نے ان آیات میں خبر دی کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام اللہ تعالٰی کی آیتوں کو سن کر خضوع و خشوع اور خو ف سے روتے اور سجدے کرتے تھے ۔مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک بخشوعِ قلب سننا اور رونا مستحب ہے ۔
تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے (ف۱۰۱) جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۱۰۲) تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے (ف۱۰۳)
(ف101)مثل یہود و نصارٰی وغیرہ کے ۔(ف102)اور بجائے طاعتِ الٰہی کے مَعاصی کو اختیار کیا ۔(ف103)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا غی جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنّم کے وادی بھی پناہ مانگتے ہیں یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زنا کے عادی اور اس پر مُصِر ہوں اور جو شراب کے عادی ہوں اورجو سود خوار ، سود کے خوگر ہوں اور جو والدین کی نافرمانی کرنے والے ہوں اور جو جھوٹی گواہی دینے والے ہوں ۔
بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے (ف۱۰۵) بندوں سے غیب میں کیا (ف۱۰٦) بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،
(ف105)ایماندار صالح و تائب ۔(ف106)یعنی اس حال میں جنّت ان سے غائب ہے ان کی نظر کے سامنے نہیں یا اس حال میں کہ وہ جنّت سے غائب ہیں اس کا مشاہدہ نہیں کرتے ۔
وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام (ف۱۰۷) اور انھیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام (ف۱۰۸)
(ف107)ملائکہ کا یا آپس میں ایک دوسرے کا ۔(ف108)یعنی علَی الدوام کیونکہ جنّت میں رات اور دن نہیں ہیں اہلِ جنّت ہمیشہ نور ہی میں رہیں گے یا مراد یہ ہے کہ دنیا کے دن کی مقدار میں دو مرتبہ بہشتی نعمتیں ان کے سامنے پیش کی جائیں گی ۔
یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
(ف109)شانِ نُزول : بخاری شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبریل سے فرمایا ا ے جبریل تم جتنا ہمارے پاس آیا کرتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
۔ (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) (ف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے (ف۱۱۰) اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں (ف۱۱۱)
(ف110)یعنی تمام اماکن کا وہی مالک ہے ، ہم ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل و حرکت کرنے میں اس کے حکم و مشیت کے تابع ہیں ، وہ ہر حرکت و سکون کا جاننے والا اور غفلت و نسیان سے پاک ہے ۔(ف111)جب چاہے ہمیں آپ کی خدمت میں بھیجے ۔
اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا (ف۱۱۳)
(ف113)انسان سے یہاں مراد وہ کُفّار ہیں جو موت کے بعد زندہ کئے جانے کے منکِر تھے جیسے کہ اُبی بن خلف اور ولید بن مغیرہ انہیں لوگوں کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی اور یہی اس کی شانِ نُزول ہے ۔
پھر ہم (ف۱۱۷) ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بےباک ہوگا (ف۱۱۸)
(ف117)کُفّار کے ۔(ف118)یعنی دخولِ نار میں جو سب سے زیادہ سرکش اور کُفر میں اشد ہوگا وہ مقدّم کیا جائے گا ۔ بعض روایات میں ہے کہ کُفّار سب کے سب جہنّم کے گرد زنجیروں میں جکڑے طوق ڈالے ہوئے حاضر کئے جائیں گے پھر جو کُفر و سرکشی میں اشد ہوں گے وہ پہلے جہنّم میں داخل کئے جائیں گے ۔
اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو (ف۱۱۹) تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے (ف۱۲۰)
(ف119)نیک ہو یا بد مگر نیک سلامت رہیں گے اور جب ان کا گزر دوزخ پر ہو گا تو دوزخ سے صدا اٹھے گی کہ اے مومن گزر جا کہ تیرے نور نے میری لپٹ سرد کر دی ۔ حسن و قتادہ سے مروی ہے کہ دوزخ پر گزرنے سے پل صراط پر گزرنا مراد ہے جو دوزخ پر ہے ۔(ف120)یعنی ورودِ جہنّم قضائے لازم ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر لازم کیا ہے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں (ف۱۲۲) کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اور مجلس بہتر ہے (ف۱۲۳)
(ف122)مثل نضر بن حارث وغیرہ کُفّارِ قریش ۔ بناؤ سنگار کر کے ، بالوں میں تیل ڈال کر ، کنگھیاں کر کے ، عمدہ لباس پہن کر ، فخر و تکبُّر کے ساتھ ، غریب فقیر ۔(ف123)مدعا یہ ہے کہ جب آیات نازِل کی جاتی ہیں اور دلائل و براہین پیش کئے جاتے ہیں تو کُفّار ان میں تو فکر نہیں کرتے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور بجائے اس کے دولت و مال اور لباس و مکان پر فخر و تکبُّر کرتے ہیں ۔
تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے (ف۱۲۵) یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انھیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب (ف۱۲٦) یا قیامت (ف۱۲۷) تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور (ف۱۲۸)
(ف125)دنیا میں اس کی عمر دراز کر کے اور اس کو اس کی گمراہی و طغیان میں چھوڑ کر ۔(ف126)دنیا کا قتل و گرفتاری ۔(ف127)جو طرح طرح کی رسوائی اور عذاب پر مشتمل ہے ۔(ف128)کُفّار کی شیطانی فوج یا مسلمانوں کا مُلکی لشکر ۔ اس میں مشرکین کے اس قول کا رد ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ کون سے گروہ کا مکان اچھا اور مجلس بہتر ہے ۔
اور جنہوں نے ہدایت پائی (ف۱۲۹) اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا (ف۱۳۰) اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا (ف۱۳۱) تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام (ف۱۳۲)
(ف129)اور ایمان سے مشرف ہوئے ۔(ف130)اس پر استقامت عطا فرما کر اور مزید بصیرت و توفیق دے کر ۔(ف131)طاعتیں اور آخرت کے تمام اعمال اور پنجگانہ نمازیں اور اللہ تعالٰی کی تسبیح و تحمید اور اس کا ذکر اور تمام اعمالِ صالحہ یہ سب باقیاتِ صالحات ہیں کہ مومن کے لئے باقی رہتے ہیں اور کام آتے ہیں ۔(ف132)بخلاف اعمالِ کُفّار کے کہ وہ سب نکمے اور باطل ہیں ۔
تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے (ف۱۳۳)
(ف133)شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت خبّاب بن ارت کا زمانۂ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض نہ ادا کروں گا جب تک کہ تم سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پھر نہ جاؤ اور کُفر اختیار نہ کرو حضرت خبّاب نے فرمایا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے وہ کہنے لگا کیا میں مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا ؟ حضرت خبّاب نے کہا ہاں عاص نے کہا تو پھر مجھے چھوڑ یئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں اور مجھے مال و اولاد ملے جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا ۔ اس پر یہ آیاتِ کریمہ نازِل ہوئیں ۔
اور جو چیزیں کہہ رہا ہے (ف۱۳٦) ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (ف۱۳۷)
(ف136)یعنی مال و اولاد ان سب سے اس کی مِلک اور اس کا تصرُّف اس کے ہلاک ہونے سے اٹھ جائے گا اور ۔(ف137)کہ نہ اس کے پاس مال ہوگا نہ اولاد اور اس کا یہ دعوٰی کرنا جھوٹا ہو جائے گا ۔
ہرگز نہیں (ف۱٤۰) کوئی دم جاتا ہے کہ وہ (ف۱٤۱) ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے (ف۱٤۲)
(ف140)ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔(ف141)بُت جنہیں یہ پوجتے تھے ۔(ف142)انہیں جھٹلائیں گے اور ان پر لعنت کریں گے اللہ تعالٰی انہیں زبان دے گا اور وہ کہیں گے یاربّ انہیں عذاب کر ۔
جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر (ف۱٤٦)
(ف146)حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ مومنینِ متّقین حشر میں اپنی قبروں سے سوار کر کے اٹھائیں جائیں گے اور ان کی سواریوں پر طلائی مرصّع زینیں اور پالان ہوں گے ۔
لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے (ف۱٤۸)
(ف148)یعنی جنہیں شفاعت کا اذن مل چکا ہے وہی شفاعت کریں گے یا یہ معنٰی ہیں کہ شفاعت صرف مومنین کی ہو گی اور وہی اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ حدیث شریف میں ہے جو ایمان لایا ، جس نے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا اس کے لئے اللہ کے نزدیک عہد ہے ۔
وَقَالُوۡا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ؕ ﴿88﴾
اور کافر بولے (ف۱٤۹) رحمن نے اولاد اختیار کی،
(ف149)یعنی یہودی و نصرانی و مشرکین جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے کہ ۔
لَـقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡــًٔـا اِدًّا ۙ ﴿89﴾
بیشک تم حد کی بھاری بات لائے (ف۱۵۰)
(ف150)اور انتہا درجہ کا باطل و نہایت سخت و شنیع کلمہ تم نے منہ سے نکالا ۔
قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہو کر) (ف۱۵۱)
(ف151)یعنی یہ کلمہ ایسی بے ادبی و گستاخی کا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی غضب فرمائے تو اس پر تمام جہان کا نظام درہم برہم کر دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کُفّار نے جب یہ گستاخی کی اور ایسا بے باکانہ کلمہ منہ سے نکالا تو جن و انس کے سوا آسمان ، زمین ، پہاڑ وغیرہ تمام خَلق پریشانی سے بے چین ہو گئی اور قریب ہلاکت کے پہنچ گئی ملائکہ کو غضب ہوا اور جہنّم کو جوش آیا پھر اللہ تعالٰی نے اپنی تنزیہ بیان فرمائی ۔
آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے، (ف۱۵۳)
(ف153)بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہوئے اور بندہ ہونا اور اولاد ہونا جمع ہو ہی نہیں سکتا اور اولاد مملوک نہیں ہوتی تو جو مملوک ہے ہر گز اولاد نہیں ۔
لَـقَدۡ اَحۡصٰٮهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا ﴿94﴾
بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے (ف۱۵٤)
(ف154)سب اس کے علم میں محصور و محاط ہیں اور ہر ایک کے انفاس ، ایام ، آثار اور تمام احوال اور جملہ امور اس کے شمار میں ہیں اس پر کچھ مخفی نہیں سب اس کی تدبیر و قدرت کے تحت میں ہیں ۔
بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا (ف۱۵٦)
(ف156)یعنی اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی مَحبت ڈال دے گا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے جبریل اس سے مَحبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبریل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں کو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کر دی جاتی ہے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت سلطان نظام الدین دہلوی اور حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالٰی عنہم اور دیگر حضرات اولیائے کاملین کی عام مقبولیتیں ان کی محبوبیت کی دلیل ہیں ۔
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) (ف۱۵۷) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو (ف۱۵۸)
(ف157)تکذیبِ انبیاء کی وجہ سے کتنی بہت سی اُمّتیں ہلاک کیں ۔(ف158)وہ سب نیست و نابود کر دیئے گئے اسی طرح یہ لوگ اگر وہی طریقہ اختیار کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہو گا ۔