اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)
(ف2)اور تمام شب کے قیام کی تکالیف اٹھاؤ ۔شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عبادت میں بہت جہد فرماتے تھے اور تمام شب قیام میں گزارتے یہاں تک کہ قدم مبارک ورم کر آتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور جبریل علیہ السلام نے حاضر ہو کر بحکمِ الٰہی عرض کیا کہ اپنے نفسِ پاک کو کچھ راحت دیجئے اس کا بھی حق ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں کے کُفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ متأسّف و متحسّر رہتے تھے اور خاطرِ مبارک پر اس سبب سے رنج و ملال رہا کرتا تھا اس آیت میں فرمایا گیا کہ آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لئے نازِل نہیں کیا گیا ہے ۔
اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)
(ف5)سِر یعنی بھید وہ ہے جس کو آدمی رکھتا اور چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ پوشیدہ وہ ہے جس کو انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں نہ اس سے اس کا ارادہ متعلق ہوا ، نہ اس تک خیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید سے مراد وہ ہے جس کو انسانوں سے چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ چُھپی ہوئی چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید بندہ کا وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور اللہ تعالٰی جانتا ہے اس سے زیادہ پوشیدہ ربّانی اسرار ہیں جن کو اللہ جانتا ہے بندہ نہیں جانتا ۔ آیت میں تنبیہ ہے کہ آدمی کو قبائحِ افعال سے پرہیز کرنا چاہیئے وہ ظاہرہ ہوں یا باطنہ کیونکہ اللہ تعالٰی سے کچھ چُھپا نہیں اوراس میں نیک اعمال پر ترغیب بھی ہے کہ طاعت ظاہر ہو یا باطن اللہ سے چھپی نہیں وہ جزا عطا فرمائے گا ۔ تفسیرِ بیضاوی میں قول سے ذکرِ الٰہی اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس پر تنبیہہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں جہر اللہ تعالٰی کو سنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ ذکر کو نفس میں راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغولی سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے ۔
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف٦)
(ف6)وہ واحد بالذات ہے اور اسماء و صفات عبارات ہیں اور ظاہر ہے کہ تعدّدِ عبارات تعدّدِ معنٰی کو مقتضی نہیں ۔
وَهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ ﴿9﴾
اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)
(ف7)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے احوال کا بیان فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ انبیاء علیہم السلام جو درجۂ عُلیا پاتے ہیں وہ ادائے فرائضِ نبوّت و رسالت میں کس قدر مشقّتیں برداشت کرتے اور کیسے کیسے شدائد پر صبر فرماتے ہیں ۔ یہاں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جاتا ہے جس میں آپ مدیَن سے مِصر کی طرف حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اجازت لے کر اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے ، آپ کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے بادشاہانِ شام کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں قطعِ مسافت اختیار فرمائی ، بی بی صاحبہ حاملہ تھیں ، چلتے چلتے طور کے غربی جانب پہنچے یہاں رات کے وقت بی بی صاحبہ کو دردِ زہ شروع ہوا ، یہ رات اندھیری تھی ، برف پڑ رہا تھا ، سردی شدت کی تھی ، آپ کو دور سے آ گ معلوم ہوئی ۔
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آگ پر راستہ پاؤں،
فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ يٰمُوۡسٰىؕ ﴿11﴾
پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
(ف8)وہاں ایک درخت سرسبز و شاداب دیکھا جو اوپر سے نیچی تک نہایت روشن تھا جتنا اس کے قریب جاتے ہیں دور ہوتا ہے جب ٹھہر جاتے ہیں قریب ہوتا ہے اس وقت آپ کو ۔
بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)
(ف9)کہ اس میں تواضع اور بقعۂ معظّمہ کا احترام اور وادیٔ مقدّس کی خاک سے حصولِ برکت کا موقع ہے ۔(ف10)طوٰی وادی کا مقدّس کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔
اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
(ف11)تیری قوم میں سے نبوّت و رسالت و شرفِ کلام کے ساتھ مشرّف فرمایا ۔ یہ ندا حضرت موسٰی علیہ الصلیوۃ والسلام نے اپنے ہر جزوِ بدن سے سنی اور قوّتِ سامعہ ایسی عام ہوئی کہ تمام جسمِ اقدس کان بن گیا سبحان اللہ ۔
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)
(ف12)تاکہ تو اس میں مجھے یاد کرے اور میری یاد میں اخلاص ا ور میری رضا مقصود ہو کوئی دوسری غرض نہ ہو اسی طرح ریا کا دخل نہ ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ تو میری نماز قائم رکھ تاکہ میں تجھے اپنی رحمت سے یاد فرماؤں ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد اعظم فرائض نماز ہے ۔
بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱٤)
(ف13)اور بندوں کو اس کے آنے کے خبر نہ دوں اور اس کے آنے کی خبر نہ دی جاتی اگر اس خبر دینے میں یہ حکمت نہ ہوتی ۔(ف14)اور اس کے خوف سے مَعاصی ترک کرے نیکیاں زیادہ کرے اور ہر وقت توبہ کرتا رہے ۔
تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے م پیچھے چلا (ف۱٦) پھر تو ہلاک ہوجائے،
(ف15)اے اُمّتِ موسٰی ۔ خِطاب بظاہر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ہے اور مراد اس سے آپ کی اُمّت ہے ۔ (مدارک)(ف16)اگر تو اس کا کہنا مانے اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو ۔
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿17﴾
اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)
(ف17)اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہو جائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کی خاطرِ مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مانوس کیا جائے تاکہ ہیبتِ مکالمت کا اثر کم ہو ۔ (مدارک وغیرہ )
عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)
(ف18)اس عصا میں اوپر کی جانب دو شاخیں تھیں اور اس کا نام نبعہ تھا ۔(ف19)مثل توشہ اور پانی اٹھانے اور موذی جانوروں کو دفع کرنے اور اعداء سے محاربہ میں کام لینے وغیرہ کے ، ان فوائد کا ذکر کرنا بطریقِ شکرِ نِعَمِ الٰہیہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔
قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰى ﴿19﴾
فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
فَاَلۡقٰٮهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴿20﴾
تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)
(ف20)اور قدرتِ الٰہی دکھائی گئی کہ جو عصا ہاتھ میں رہتا تھا اور اتنے کاموں میں آتا تھا اب اچانک وہ ایسا ہیبت ناک اژدہا بن گیا یہ حال دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کو خوف ہوا تو اللہ تعالٰی نے ان سے ۔
فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)
(ف21)یہ فرماتے ہی خوف جاتا رہا حتی کہ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس کے منہ میں ڈال دیا اور وہ آپ کے ہاتھ لگاتے ہی مثلِ سابق عصا بن گیا اب اس کے بعد ایک اور معجِزہ عطا فرمایا جس کی نسبت ارشاد فرمایا ۔
اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بےکسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲٤)
(ف22)یعنی کفِ دستِ راست بائیں بازو سے بغل کے نیچے ملا کر نکالئے تو آفتاب کی طرح چمکتا نگاہوں کو خیرہ کرتا اور ۔(ف23)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دستِ مبارک سے رات و دن میں آفتاب کی طرح نور ظاہر ہوتا تھا اور یہ معجِزہ آپ کے اعظم معجزات میں سے ہے جب آپ دوبارہ اپنا دست مبارک بغل کے نیچے رکھ کر بازو سے ملاتے تو وہ دستِ اقدس حالتِ سابقہ پر آ جاتا ۔(ف24)آپ کے صدقِ نبوّت کی عصا کے بعد اس نشانی کو بھی لیجئے ۔
لِنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡـكُبۡـرٰىۚ ﴿23﴾
کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴿24﴾
فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲٦)
(ف25)رسول ہو کر ۔(ف26)اور کُفر میں حد سے گزر گیا اور الوہیّت کا دعوٰی کرنے لگا ۔
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىْ ۙ ﴿25﴾
عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)
(ف27)اور اسے تحمّلِ رسالت کے لئے وسیع فرما دے ۔
وَيَسِّرۡ لِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿26﴾
اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِیْ ۙ ﴿27﴾
اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)
(ف28)جو خورد سالی میں آ گ کا انگارہ منہ میں رکھ لینے سے پڑ گئی ہے اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ بچپن میں آپ ایک روز فرعون کی گود میں تھے آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اس پر اسے غصہ آیا اور اس نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا آسیہ نے کہا کہ اے بادشاہ یہ نادان بچہ ہےکیا سمجھے ؟ تو چاہے تو تجربہ کر لے اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آ گ اور ایک طشت میں یاقوت سرخ آپ کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتہ نے آپ کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ کے منہ میں دے دیا اس سے زبانِ مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی اس کے لئے آپ نے یہ دعا کی ۔
يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِیْ ﴿28﴾
کہ وہ میری بات سمجھیں،
وَاجۡعَلْ لِّىۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِىْ ۙ ﴿29﴾
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)
(ف29)جو میرا معاون اور معتمد ہو ۔
هٰرُوۡنَ اَخِى ۙ ﴿30﴾
وہ کون میرا بھائی ہارون ،
اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۙ ﴿31﴾
اس سے میری کمر مضبوط کر،
وَاَشۡرِكۡهُ فِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿32﴾
اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)
(ف30)یعنی امرِ نبوّت و تبلیغِ رسالت میں ۔
كَىۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًا ۙ ﴿33﴾
کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ؕ ﴿34﴾
اور بکثرت تیری یاد کریں (ف۳۱)
(ف31)نمازوں میں بھی اور خارجِ نماز بھی ۔
اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴿35﴾
بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے (ف۳۲)
(ف32)ہمارے احوال کا عالِم ہے ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی اس درخواست پر اللہ تعالٰی نے ۔
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں (ف۳۵) ڈال دے ، تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن (ف۳٦) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی (ف۳۷) اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو (ف۳۸)
(ف35)یعنی نیل میں ۔(ف36)یعنی فرعون چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں روئی بچھائی اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس میں رکھ کر صندوق بند کر دیا اور اس کی درزیں روغنِ قیر سے بند کر دیں آپ اس صندوق کے اندر پانی میں پہنچے پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں بہا دیا اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گرتی تھی فرعون مع اپنی بی بی آسیہ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا نہر میں صندوق آتا دیکھ کر اس نے غلاموں اور کنیزوں کو اس کے نکالنے کا حکم دیا وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا کھولا تو اس میں ایک نورانی شکل فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا دیکھتے ہی فرعون کے دل میں ایسی مَحبت پیدا ہوئی کہ وہ وارفتہ ہو گیا اور عقل و حواس بجا نہ رہے اپنے اختیار سے باہر ہو گیا اس کی نسبت اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف37)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں محبوب بنایا اور خَلق کا محبوب کر دیا اور جس کو اللہ تبارک و تعالٰی اپنی محبوبیت سے نوازاتا ہے قلوب میں اس کی مَحبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا یہی حال حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کا تھا جو آپ کو دیکھتا تھا اسی کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہو جاتی تھی ۔ قتادہ نے کہا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی آنکھوں میں ایسی ملاحت تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کے دل میں مَحبت جوش مارنے لگتی تھی ۔(ف38)یعنی میری حفاظت و نگہبانی میں پرورش پائے ۔
تیری بہن چلی (ف۳۹) پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں (ف٤۰) تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ (ف٤۱) ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے (ف٤۲) اور تو نے ایک جان کو قتل کیا (ف٤۳) تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا (ف٤٤) تو تو کئی برس مدین والوں میں رہا (ف٤۵) پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ! (ف٤٦)
(ف39)جس کا نام مریم تھا تاکہ وہ آپ کے حال کا تجسّس کرے اور معلوم کرے کہ صندوق کہاں پہنچا آپ کس کے ہاتھ آئے جب اس نے دیکھا کہ صندوق فرعون کے پاس پہنچا اور وہاں دودھ پلانے کے لئے دائیاں حاضر کی گئیں اور آپ نے کسی کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تو آپ کی بہن نے ۔(ف40)ان لوگوں نے اس کو منظور کیا وہ اپنی والدہ کو لے گئیں آپ نے ان کا دودھ قبول فرمایا ۔(ف41)آپ کے دیدار سے ۔(ف42)یعنی غمِ فراق دور ہو اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایک اور واقعہ کاذکر فرمایا جاتا ہے ۔(ف43)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون کی قوم کے ایک کافِر کو مارا تھا وہ مرگیا ، کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر شریف بارہ سال کی تھی اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا ۔(ف44)محنتوں میں ڈال کر اور ان سے خلاصی عطا فرما کر ۔(ف45)مدیَن ایک شہر ہے مِصر سے آٹھ منزل فاصلہ پر یہاں حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام رہتے تھے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مِصر سے مدیَن آئے اور کئی برس تک حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس اقامت فرمائی اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا ۔(ف46)یعنی اپنی عمر کے چالیسویں سال اور یہ وہ سن ہے کہ انبیاء کی طرف اس سن میں وحی کی جاتی ہے ۔
وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِىۚ ﴿41﴾
اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا (ف٤۷)
(ف47)اپنی وحی اور رسالت کے لئے تاکہ تو میرے ارادہ اور میری مَحبت پر تصرُّف کرے اور میری حُجّت پر قائم رہے اور میرے اور میری خَلق کے درمیان خِطاب پہنچانے والا ہو ۔
تو اس سے نرم بات کہنا (ف٤۹) اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے (ف۵۰)
(ف49)یعنی اس کو بہ نرمی نصیحت فرمانا اور نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں آپ کی خدمت کی تھی اور بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا اور مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی اور کھانے پینے اور نکاح کی لذّتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور بعدِ موت دخولِ جنتّ میسّر آئے گا جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اس کو یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر بغیر مشورۂ ہامان کے قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا ، ہامان موجود نہ تھا جب وہ آیا تو فرعون نے اس کو یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں ، ہامان کہنے لگا میں تو تجھ کو عاقل و دانا سمجھتا تھا تو رب ہے بندہ بنا چاہتا ہے ، تو معبود ہے عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا تو نے ٹھیک کہا اور حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم کیا کہ وہ حضرت ہارون کے پاس آئیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی کی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملیں چنانچہ وہ ایک منزل چل کر آپ سے ملے اور جو وحی انہیں ہوئی تھی اس کی حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطلاع دی ۔(ف50)یعنی آپ کی تعلیم و نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیئے تاکہ آپ کے لئے اجر اور اس پر الزامِ حُجّت اور قطع عذر ہو جائے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو تقدیرِ الٰہی ہے ۔
تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے (ف۵۳) اور انھیں تکلیف نہ دے (ف۵٤) بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں (ف۵۵) اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے (ف۵٦)
(ف53)اور انہیں بندگی و اسیری سے رہا کر دے ۔(ف54)محنت و مشقت کے سخت کام لے کر ۔(ف55)یعنی معجزے جو ہمارے صدقِ نبوّت کی دلیل ہیں فرعون نے کہا وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے معجِزۂ یدِ بیضا دکھایا ۔(ف56)یعنی دونوں جہان میں اس کے لئے سلامتی ہے وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی (ف۵۹) پھر راہ دکھائی (ف٦۰)
(ف59)ہاتھ کو اس کے لائق ایسی کہ کسی چیز کو پکڑ سکے ، پاؤں کو اس کے قابل کہ چل سکے ، زبان کو اس کے مناسب کہ بول سکے ، آنکھ کو اس کے موافق کہ دیکھ سکے ، کان کو ایسی کہ سن سکے ۔(ف60)اور اس کی معرفت دی کہ دنیا کی زندگانی اور آخرت کی سعادت کے لئے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو کس طرح کام میں لایا جائے ۔
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴿51﴾
بولا (ف٦۱) اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے (ف٦۲)
(ف61)فرعون ۔(ف62)یعنی جو اُمّتیں گزر چکی ہیں مثل قومِ نوح و عاد و ثمود کے جو بُتوں کو پُوجتے تھے اور بَعث بعدالموت یعنی مرنے کے بعد زندہ کرکے اُٹھائے جانے کے منکِر تھے اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا (ف٦٤) تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے (ف٦۵)
(ف64)حضرت موسٰی علیہ السلام کا کلام تو یہاں تمام ہو گیا اب اللہ تعالٰی اہلِ مکہ کو خِطاب کر کے اس کو تتمیم فرماتا ہے ۔(ف65)یعنی قِسم قِسم کے سبزے مختلف رنگتوں خوشبویوں شکلوں کے ، بعض آدمیوں کے لئے بعض جانوروں کے لئے ۔
موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے (ف۷۵) اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں (ف۷٦)
(ف75)اس میلہ سے فرعونیوں کا میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ زینتیں کر کر کے جمع ہوتے تھے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرّم کا تھا اور اس سال یہ تاریخ سنیچر کو واقع ہوئی تھی ، اس روز کو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس لئے معیّن فرمایا کہ یہ روز ان کی غایتِ شوکت کا دن تھا اس کو مقرر کرنا اپنے کمالِ قوّت کا اظہار ہے نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اطراف و جوانب کے تمام لوگ مجتمع ہوں ۔(ف76)تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے باطمینان دیکھ سکیں اور ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔
تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے (ف۸۱) اور چھپ کر مشاورت کی،
(ف81)یعنی جادوگر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ کلام سُن کر آپس میں مختلف ہو گئے ، بعض کہنے لگے کہ یہ بھی ہماری مثل جادوگر ہیں ، بعض نے کہا کہ یہ باتیں ہی جادوگروں کی نہیں وہ اللہ پرجھوٹ باندھنے کو منع کرتے ہیں ۔
بولے (ف۸۳) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو (ف۸٤) یا ہم پہلے ڈالیں (ف۸۵)
(ف83)جادوگر ۔(ف84)پہلے اپنا عصا ۔(ف85)اپنے سامان ۔ ابتداء کرنا جادو گروں نے ادباً حضرت موسٰی علیہ السلام کی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالٰی نے انہیں دولتِ ایمان سے مشرف فرمایا ۔
موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو (ف۸٦) جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں (ف۸۷)
(ف86)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس لئے فرمایا کہ جو کچھ جادو کے مَکر ہیں پہلے وہ سب ظاہر کر چکیں اس کے بعد آپ معجِزہ دکھائیں اور حق باطل کو مٹائے اور معجِزہ سحر کو باطل کرے تو دیکھنے والوں کو بصیرت و عبرت حاصل ہو چنانچہ جادوگروں نے رسیاں لاٹھیاں وغیرہ جو سامان لائے تھے سب ڈال دیا اور لوگوں کی نظر بندی کر دی ۔(ف87)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دیکھا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی اور مِیلوں کے میدان میں سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے اس باطل نظر بندی سے مسحور ہو گئے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض معجِزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کے گرویدہ ہو جائیں اور معجِزہ نہ دیکھیں ۔
اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے (ف۸۸) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے (ف۸۹)
(ف88)یعنی اپنا عصا ۔(ف89)پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات نے اپنا عصا ڈالا وہ جادوگروں کے تمام اژدہوں اور سانپوں کو نگل گیا اور آدمی اس کے خوف سے گھبرا گئے ، حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا یہ دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوا کہ یہ معجِزہ ہے جس سے سحر مقابلہ نہیں کر سکتا اور جادو کی فریب کاری اس کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی ۔
(ف90)
سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
(ف90)سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا (ف۹۱) تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا (ف۹۲) اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے (ف۹۳)
(ف91)یعنی جادو میں وہ استادِ کامل اور تم سب سے فائق ہیں ۔ (معاذا للہ)(ف92)یعنی داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں ۔(ف93)اس سے فرعون ملعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب سخت تر ہے یا ربُّ العالمین کا ، فرعون کا یہ متکبرانہ کلمہ سُن کر وہ جادوگر ۔
بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں (ف۹٤) ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تو کر چک جو تجھے کرنا ہے (ف۹۵) تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا (ف۹٦)
(ف94)یدِ بیضا اور عصائے موسٰی ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجِزہ کو بھی سحر کہتا ہے تو بتا وہ رسّے اور لاٹھیاں کہاں گئیں ۔ بعض مفسِّرین کہتے ہیں کہ بیِّنات سے مراد جنّت اور اس میں اپنے منازل کا دیکھنا ہے ۔(ف95)ہمیں اس کی کچھ پروا نہیں ۔(ف96)آگے تو تیری کچھ مجال نہیں اور دنیا زائل اور یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے تو مہربان بھی ہو تو بقائے دوام نہیں دے سکتا پھر زندگانی دینا اور اس کی راحتوں کے زوال کا کیا غم بالخصوص اس کو جو جانتا ہے کہ آخرت میں اعمالِ دنیا کی جزا ملے گی ۔
بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر (ف۹۷) اور اللہ بہتر ہے (ف۹۸) اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا (ف۹۹)
(ف97)حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلے میں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا تو جادو گروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع بہم پہنچا دیا گیا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت خواب میں ہیں اور عصائے شریف پہرہ دے رہا ہے یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ موسٰی جادوگر نہیں کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ اللہ تعالٰی سے طالب اور امیدوار ہیں ۔(ف98)فرمانبرداروں کو ثواب دینے میں ۔(ف99)بلِحاظ عذاب کرنے کے نافرمانوں پر ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی (ف۱۰۵) کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل (ف۱۰٦) اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے (ف۱۰۷) تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ (ف۱۰۸)
(ف105)جب کہ فرعون معجزات دیکھ کر راہ پر نہ آیا اور پندپذیر نہ ہوا اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم اور زیادہ کرنے لگا ۔(ف106)مِصر سے اور جب دریا کے کنارے پہنچیں اور فرعونی لشکر پیچھے سے آئے تو اندیشہ نہ کر ۔(ف107)اپنا عصا مار کر ۔(ف108)دریا میں غرق ہونے کا ۔ موسٰی علیہ السلام حکمِ الٰہی پا کر شب کے اوّل وقت ستّر ہزار بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر مِصر سے روانہ ہو گئے ۔
اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی (ف۱۱۷) اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا (ف۱۱۸)
(ف117)شرک سے ۔(ف118)تادمِ آخر ۔
وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿83﴾
اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ (ف۱۱۹)
(ف119)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام جب اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو منتخب کر کے توریت لینے طُور پر تشریف لے گئے پھر کلامِ پروردگار کے شوق میں ان سے آگے بڑھ گئے انہیں پیچھے چھوڑ دیا اور فرما دیا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ، اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔ وَمَآ اَعْجَلَکَ تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم (ف۱۲۱) بلا میں ڈالا اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا، (ف۱۲۲)
(ف121)جنہیں آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ چھوڑا ہے ۔(ف122)گوسالہ پرستی کی دعوت دے کر ۔مسئلہ : اس آیت میں اِضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت سامری کی طرف فرمائی گئی کیونکہ وہ اس کا سبب و باعث ہوا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو سبب کی طرف نسبت کرنا جائز ہے اسی طرح کہہ سکتے ہیں کہ ماں باپ نے پرورش کی ، دینی پیشواؤں نے ہدایت کی ، اولیاء نے حاجت روائی فرمائی ، بزرگوں نے بلا دفع کی ۔ مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ امور ظاہر میں منشاء و سبب کی طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ حقیقت میں ان کا موجِد اللہ تعالٰی ہے اور قرآنِ کریم میں ایسی نسبتیں بکثرت وارد ہیں ۔ (خازن)
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا (ف۱۲۳) غصہ میں بھرا افسوس کرتا (ف۱۲٤) کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا (ف۱۲۵) کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا (ف۱۲٦)
(ف123)چالیس دن پورے کر کے توریت لے کر ۔(ف124)ان کے حال پر ۔(ف125)کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے ، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں ، ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ۔(ف126)اور ایسا ناقص کام کیا کہ گوسالہ کو پُوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے ۔
بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے (ف۱۲۷) تو ہم نے انھیں (ف۱۲۸) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا (۱۲۹)
(ف127)یعنی قومِ فرعون کے زیوروں کے جو بنی اسرائیل نے ان لوگوں سے عاریت کے طور پر مانگ لئے تھے ۔(ف128)سامری کے حکم سے آ گ میں ۔(ف129)ان زیوروں کو جو اس کے پاس تھے اور اس خاک کو جو حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اس نے حاصل کی تھی ۔
تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بےجان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا (ف۱۳۰) یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے (ف۱۳۲)
(ف130)یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسۡپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا ۔(ف131)سامری اور اس کے متّبِعین ۔(ف132)یعنی موسٰی علیہ السلام معبود کو بھول گئے اور اس کو یہاں چھوڑ کر اس کی جستجو میں طور پر چلے گئے (معاذ اللہ) ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ نَسِیَ کا فاعِل سامری ہے اور معنی یہ ہیں کہ سامری نے جو بچھڑے کو معبود بنایا وہ اپنے ربّ کو بھول گیا یا وہ حُدوثِ اجسام سے استدلال کرنا بھول گیا ۔
اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے (ف۱۳۵) اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،
بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے (ف۱۳٦) جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں (ف۱۳۷)
(ف136)گوسالہ پرستی پر قائم رہیں گے اور تمہاری بات نہ مانیں گے ۔(ف137)اس پر حضرت ہارون علیہ السلام ان سے علیٰحدہ ہو گئے اور ان کے ساتھ بارہ ہزار وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہ کی تھی ، جب حضرت موسٰی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو آپ نے ان کے شور مچانے اور باجے بجانے کی آوازیں سنیں جو بچھڑے کے گرد ناچتے تھے تب آپ نے اپنے ستّر ہمراہیوں سے فرمایا یہ فتنہ کی آواز ہے جب قریب پہنچے اور حضرت ہارون کو دیکھا تو غیرتِ دینی سے جو آپ کی سَرِشۡت تھی جوش میں آ کر ان کے سر کے بال داہنے ہاتھ اورداڑھی بائیں میں پکڑی اور ۔
موسیٰ نے کہا ، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انھیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے (ف۱۳۸)
اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِىْ ﴿93﴾
تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،
(ف138)اور مجھے خبر دے دیتے یعنی جب انہوں نے تمہاری بات نہ مانی تھی تو تم مجھ سے کیوں نہیں آ ملے کہ تمہارا ان سے جُدا ہونا بھی ان کے حق میں ایک زَجر ہوتا ۔
کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا (ف۱۳۹)
(ف139)یہ سن کر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے چنانچہ ۔
بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا (ف۱٤۱) تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا (ف۱٤۲) اور میرے جی کو یہی بھلا لگا (ف۱٤۳)
(ف141)یعنی میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور ان کو پہنچان لیا وہ اسپِ حیات پر سوار تھے ، میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں ۔(ف142)اس بچھڑے میں جس کو بنایا تھا ۔(ف143)اور یہ فعل میں نے اپنے ہی ہوائے نفس سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و محرِّک نہ تھا اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
کہا تو چلتا بن (ف۱٤٤) کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ (ف۱٤۵) تو کہے چھو نہ جا (ف۱٤٦) اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱٤۷) جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا (ف۱٤۸) قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے (ف۱٤۹)
(ف144)دور ہو جا ۔(ف145)جب تجھ سے کوئی ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو تو اس سے ۔(ف146)یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کے لئے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔(ف147)یعنی عذاب کے وعدے کا آخرت میں بعد اس عذابِ دنیا کے تیرے شرک و فساد انگیزی پر ۔(ف148)اور اس کی عبادت پر قائم رہا ۔(ف149)چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایسا کیا اور جب آپ سامری کے اس فساد کو مٹا چکے تو بنی اسرائیل سے مخاطبہ فرما کر دینِ حق کا بیان فرمایا اور ارشاد کیا ۔
ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا (ف۱۵۰)
(ف150)یعنی قرآنِ پاک کہ وہ ذکرِ عظیم ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس کتابِ کریم میں نجات اور برکتیں ہیں اور اس کتابِ مقدّس میں اُمَمِ ماضیہ کے ایسے حالات کا ذکر و بیان ہے جو فکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لائق ہیں ۔
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱٦۰) تم فرماؤ انھیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا ،
(ف160)شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ قبیلۂ ثقیف کے ایک آدمی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا حال ہوگا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱٦۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱٦۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضور (ف۱٦۳) پست ہو کر رہ جائیں گی تو تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱٦٤)
(ف161)جو انہیں روزِ قیامت موقَف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا چلو رحمٰن کے حضور پیش ہو نے کو اور یہ پُکارنے والے حضرت اسرافیل ہوں گے ۔(ف162)اور اس دعوت سے کوئی انحراف نہ کر سکے گا ۔(ف163)ہیبت و جلال سے ۔(ف164)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایسی کہ اس میں صرف لبوں کی جنبش ہوگی ۔
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱٦٦) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱٦۷)
(ف166)یعنی تمام ماضیات و مستقبلات اور جملہ امورِ دنیا و آخرت یعنی اللہ تعالٰی کا علم بندوں کے ذات و صفات اور جملہ حالات کو مُحیط ہے ۔(ف167)یعنی تمام کائنات کا علم ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کر سکتا ، اس کی ذات کا ادراک علومِ کائنات کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اسماء و صفات اور آثارِ قدرت و شیونِ حکمت سے پہچانا جاتا ہے ۔شعر :کجا دریابد او را عقل چالاککہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک نظر کن اندر اسماء وصفاتش کہ واقف نیست کس از کنہ ذاتش ۔بعض مفسِّرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ علومِ خَلق معلوماتِ الٰہیہ کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ بظاہر یہ عبارتیں دو ہیں مگر مآل پر نظر رکھنے والے بآسانی سمجھ لیتے ہیں کہ فرق صرف تعبیر کا ہے ۔
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱٦۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱٦۹)
(ف168)اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی ، اللہ تعالٰی کے قہر و حکومت کا ظہورِ تام ہو گا ۔(ف169)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کی تفسیر میں فرمایا جس نے شرک کیا ٹوٹے میں رہا اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کا زیرِ بار ہو کر موقَفِ قیامت میں آئے اس سے بڑھ کر نامراد کون ۔
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)
(ف170)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ طاعت اور نیک اعمال سب کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے کہ ایمان ہو تو سب نیکیاں کار آمد ہیں اور ایمان نہ ہو تویہ سب عمل بے کار ۔
تو سب سے بلند ہے اللہ سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷٤) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
(ف173)جو اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ۔(ف174)شانِ نُزول : جب حضرت جبریل قرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی فرمایا گیا کہ آپ مشقت نہ اٹھائیں اورسورۂ قیامہ میں اللہ تعالٰی نے خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلّی فرما دی ۔
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷٦) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)
(ف176)اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ فضل و شرف کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اعراض کرنا دلیلِ حسد و عداوت ہے ۔ اس آیت میں شیطان کا حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنا آپ کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ۔(ف177)اور اپنی غذا اور خوراک کے لئے زمین جوتنے ، کھیتی کرنے ، دانہ نکالنے ، پیسنے ، پکانے کی محنت میں مبتلا ہو اور چونکہ عورت کا نفقہ مرد کے ذمہ ہے اس لئے اس تمام محنت کی نسبت صرف حضرت آدم علیہ السلام کی طرف فرمائی گئی ۔
تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸٦)
(ف181)یعنی بہشتی لباس ان کے جسم سے اُتر گئے ۔(ف182)ستر چھپانے اور جسم ڈھکنے کے لئے ۔(ف183)اور اس درخت کے کھانے سے دائمی حیات نہ ملی پھر حضرت آدم علیہ السلام توبہ و اِستِغفار میں مشغول ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کی ۔
فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸٤) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸٦)
(ف184)یعنی کتاب اور رسول ۔(ف185)یعنی دنیا میں ۔(ف186)آخرت میں کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں طریقِ حق سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی کتابِ الٰہی اور رسولِ برحق کا اِتّباع کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں بہکنے سے اور آخرت میں اس کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا ۔
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
(ف187)اور میری ہدایت سے روگردانی کی ۔(ف188)دنیا میں یا قبر میں یا آخرت میں یا دین میں یا ان سب میں دنیا کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر گرفتارِ حرص ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی اس کو فراخِ خاطر اور سکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ یہ نہیں وہ نہیں حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن متوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو حیاتِ طیبہ کہتے ہیں قَالَ تَعَالیٰ فَلَنُحْیِیَنَّہ، حَیٰوۃً طَیِبَّۃً اور قبر کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا کہ کافِر پر ننانوے اژدہے اس کی قبر میں مسلّط کئے جاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا شانِ نُزول : یہ آیت اسود بن عبد العزی مخزومی کے حق میں نازِل ہوئی اور قبر کی زندگانی سے مراد قبر کا اس سختی سے دبانا ہے جس سے ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں اور آخرت میں تنگ زندگانی جہنّم کے عذاب میں جہاں زقوم (تھوہڑ) اور کھولتا پانی اور جہنّمیوں کے خون اور ان کے پیپ کھانے پینے کو دی جائے گی اور دین میں تنگ زندگانی یہ ہے کہ نیکی کی راہیں تنگ ہو جائیں اور آدمی کسبِ حرام میں مبتلا ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے ۔ (تفسیرِ کبیر و خازن و مدارک وغیرہ)
تو کیا انھیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹٤)
(ف192)جو رسولوں کو نہیں مانتی تھیں ۔(ف193)یعنی قریش اپنے سفروں میں ان کے دیار پر گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے نشان دیکھتے ہیں ۔(ف194)جو عبرت حاصل کریں اور سمجھیں کہ انبیاء کی تکذیب اور ان کی مخالفت کا انجام بُرا ہے ۔
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)
(ف198)اس سے نمازِ فجر مراد ہے ۔(ف199)ا س سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں جو دن کے نصفِ آخر میں آفتاب کے زوال و غروب کے درمیان واقع ہیں ۔(ف200)یعنی مغرب و عشا کی نمازیں پڑھو ۔(ف201)فجر و مغرب کی نمازیں ان کی تاکیداً تکرار فرمائی گئی اور بعض مفسِّرین قبلِ غروب سے نمازِ عصر اور اطرافِ نہار سے ظہر مراد لیتے ہیں ، ان کی توجیہہ یہ ہے کہ نمازِ ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے نصفِ اوّل اور نصفِ آخر کے اطراف ملتے ہیں نصف اول کی انتہا ہے اور نصف آخر کی ابتدا ۔ (مدارک و خازن)(ف202)اللہ کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اکرام سے کہ تمہیں اُمّت کے حق میں شفیع بنا کر تمہاری شفاعت قبول فرمائے اور تمہیں راضی کرے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ۔
اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انھیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰٤) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
(ف203)یعنی اصناف و اقسامِ کُفّار یہود و نصارٰی وغیرہ کو جو دنیوی ساز و سامان دیا ہے مؤمن کو چاہیئے کہ اس کو استحسان و اعجاب کی نظر سے نہ دیکھے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نافرمانوں کے طمطراق نہ دیکھو لیکن یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلّت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے ۔(ف204)اس طرح کہ جتنی ان پر نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کی سزاوار ہوں ۔(ف205)یعنی جنّت اور اس کی نعمتیں ۔
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰٦) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
(ف206)اور اس کا مکلَّف نہیں کرتے کہ ہماری خَلق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کا ذمہ دار ہو بلکہ ۔(ف207)اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ، اپنے دل کو امرِ آخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللہ کے کام میں ہوتا ہے اللہ اس کی کارسازی کرتا ہے ۔
اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انھیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)
(ف208)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف209)جو ان کی صحتِ نبوّت پر دلالت کرے باوجودیکہ آیاتِ کثیرہ آ چکی تھیں اور معجزات کا متواتر ظہور ہو رہا تھا پھر کُفّار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ، اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف210)یعنی قرآن اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت اور آپ کی نبوّت و بعثت کا ذکر ، یہ کیسے اعظم آیات ہیں ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کی طلب کرنے کا کیا موقع ہے ۔
اور اگر ہم انھیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
(ف212)ہم بھی اور تم بھی ۔شانِ نُزول : مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں کہ کب مسلمانوں پر آئیں اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں ۔(ف213)جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی ۔