بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا (ف۳) اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو (ف٤) کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا (ف۵) بیشک وہ فسادی تھا،
(ف3)یعنی سرزمینِ مِصر میں اس کا تسلّط تھا اور وہ ظلم و تکبُّر میں انتہا کو پہنچ گیا تھا حتی کہ اس نے اپنی عبدیت اور بندہ ہونا بھی بھلا دیا تھا ۔(ف4)یعنی بنی اسرائیل کو ۔(ف5)یعنی لڑکیوں کو خدمت گاری کے لئے زندہ چھوڑ دیتا اور بیٹوں کو ذبح کرنے کا سبب یہ تھا کہ کاہنوں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچّہ پیدا ہو گا جو تیرے مُلک کے زوال کا باعث ہو گا اس لئے وہ ایسا کرتا تھا اور یہ اس کی نہایت حماقت تھی کیونکہ وہ اگر اپنے خیال میں کاہنوں کو سچّا سمجھتا تھا تو یہ بات ہونی ہی تھی لڑکوں کے قتل کر دینے سے کیا نتیجہ تھا اور اگر سچّا نہیں جانتا تھا تو ایسی لغو بات کا کیا لحاظ تھا اور قتل کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔
اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوریوں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں (ف٦) اور ان کے ملک و مال کا انھیں کو وارث بنائیں (ف۷)
(ف6)کہ وہ لوگوں کو نیکی کی راہ بتائیں اور لوگ نیکی میں ان کی اقتدا کریں ۔(ف7)یعنی فرعون اور اس کی قوم کے اَملاک و اَموال ان ضعیف بنی اسرائیل کو دے دیں ۔
اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا (ف۱۰) کہ اسے دودھ پلا (ف۱۱) پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو (ف۱۲) تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر (ف۱۳) اور نہ غم کر (ف۱٤) بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں اور اسے رسول بنائیں گے (ف۱۵)
(ف10)حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ کا نام یوحانِذ ہے آپ لاوی بن یعقوب کی نسل سے ہیں اللہ تعالٰی نے ان کو خواب کے یا فرشتے کے ذریعہ یا ان کے دل میں ڈال کر الہام فرمایا ۔(ف11)چنانچہ وہ چند روز آپ کو دودھ پلاتی رہیں اس عرصہ میں نہ آپ روتے تھے نہ ان کی گود میں کوئی حرکت کرتے تھے نہ آپ کی ہمشیر کے سوا اور کسی کو آپ کی ولادت کی اطلاع تھی ۔(ف12)کہ ہمسایہ واقف ہو گئے ہیں وہ غمازی اور چغل خوری کریں گے اور فرعون اس فرزندِ ارجمند کے قتل کے درپے ہو جائے گا ۔(ف13)یعنی نیلِ مِصر میں بے خوف و خطر ڈ ال دے اور اس کے غرق و ہلاک کا اندیشہ نہ کر ۔(ف14)اس کی جدائی کا ۔(ف15)تو انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو تین ماہ دودھ پلایا اور جب آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو ایک صندوق میں رکھ کر (جو خاص طور پر اس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا) شب کے وقت دریائے نیل میں بہا دیا ۔
تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے (ف۱٦) کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو (ف۱۷) بیشک فرعون اور ہامان (ف۱۸) اور ان کے لشکر خطا کار تھے (ف۱۹)
(ف16)اس شب کی صبح کو اور اس صندوق کو فرعون کے سامنے رکھا اور وہ کھولا گیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام برآمد ہوئے جو اپنے انگوٹھے سے دودھ چوستے تھے ۔(ف17)آخر کار ۔(ف18)جو اس کا وزیر تھا ۔(ف19)یعنی نافرمان تو اللہ تعالٰی نے انہیں یہ سزا دی کہ ان کے ہلاک کرنے والے دشمن کی انہیں سے پر ورش کرائی ۔
اور فرعون کی بی بی نے کہا (ف۲۰) یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں (ف۲۱) اور وہ بےخبر تھے (ف۲۲)
(ف20)جب کہ فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کے ورغلانے سے موسٰی علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا ۔(ف21)کیونکہ یہ اسی قابل ہے ۔ فرعون کی بی بی آسیہ بہت نیک بی بی تھیں انبیاء کی نسل سے تھیں غریبوں اور مسکینوں پر رحم و کرم کرتی تھیں انہوں نے فرعون سے کہا کہ یہ بچہ سال بھر سے زیادہ عمر کا معلوم ہوتا ہے اور تو نے اس سال کے اندر پیدا ہونے والے بچّوں کے قتل کا حکم دیا ہے علاوہ بریں معلوم نہیں یہ بچّہ دریا میں کس سرزمین سے آیا تجھے جس بچّہ کا اندیشہ ہے وہ اسی مُلک کے بنی اسرائیل سے بتایا گیا ہے آسیہ کی یہ بات ان لوگوں نے مان لی ۔(ف22)اس سے جو انجام ہونے والا تھا ۔
اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا (ف۲۳) ضرور قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی (ف۲٤) اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے (ف۲۵)
(ف23)جب انہوں نے سنا کہ ان کے فرزند فرعون کے ہاتھ میں پہنچ گئے ۔(ف24)اور جوشِ مَحبتِ مادری میں واِبناہ واِبناہ (ہائے بیٹے ہائے بیٹے) پکار اٹھتیں ۔(ف25)جو وعدہ ہم کر چکے ہیں کہ تیرے اس فرزند کو تیری طرف پھیر لائیں گے ۔
اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں (ف۲۸) تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں (ف۲۹)
(ف28)چنانچہ جس قدر دائیاں حاضر کی گئیں ان میں سے کسی کی چھاتی آپ نے مُنہ میں نہ لی اس سے ان لوگوں کو بہت فکر ہوئی کہ کہیں سے کوئی ایسی دائی میسّر آئے جس کا دودھ آپ پی لیں دائیوں کے ساتھ آپ کی ہمشیر بھی یہ حال دیکھنے چلی گئی تھیں اب انہوں نے موقع پایا ۔(ف29)چنانچہ وہ ان کی خواہش پر اپنی والدہ کو بلا لائیں حضرت موسٰی علیہ السلام فرعون کی گود میں تھے اور دودھ کے لئے روتے تھے فرعون آپ کو شفقت کے ساتھ بہلاتا تھا جب آپ کی والدہ آئیں اور آپ نے ان کی خوشبو پائی تو آپ کو قرار آیا اور آپ نے ان کا دودھ منہ میں لیا ، فرعون نے کہا تو اس بچہ کی کون ہے کہ اس نے تیرے سوا کسی کے دودھ کو مُنہ بھی نہ لگایا ؟ انہوں نے کہا میں ایک عورت ہوں پاک صاف رہتی ہوں ، میرا دودھ خوشگوار ہے ، جسم خوشبودار ہے اس لئے جن بچوں کے مزاج میں نفاست ہوتی ہے وہ اور عورتوں کا دودھ نہیں لیتے ہیں ، میرا دودھ پی لیتے ہیں ، فرعون نے بچہ انہیں دیا اور دودھ پلانے پر انہیں مقرر کر کے فرزند کو اپنے گھر لے جانے کی اجازت دی چنانچہ آپ اپنے مکان پر لے آئیں اور اللہ تعالٰی کا وعدہ پورا ہوا ، اس وقت انہیں اطمینانِ کامل ہو گیا کہ یہ فرزندِ ارجمند ضرور نبی ہوں گے ۔ اللہ تعالٰی اس وعدہ کا ذکر فرماتا ہے ۔
تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۳۰)
(ف30)اور شک میں رہتے ہیں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اپنی والدہ کے پاس دودھ پینے کے زمانہ تک رہے اور اس زمانہ میں فرعون انہیں ایک اشرفی روز دیتا رہا دودھ چھوٹنے کے بعد آپ حضرت موسٰی علیہ السلام کو فرعون کے پاس لے آئیں اور آپ وہاں پرورش پاتے رہے ۔
اور اس شہر میں داخل ہوا (ف۳۳) جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بےخبر تھے (ف۳٤) تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا (ف۳۵) اور دوسرا اس کے دشمنوں سے (ف۳٦) تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا (ف۳۸) اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا (ف۳۸) تو اس کا کام تمام کردیا (ف۳۹) کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا (ف٤۰) بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،
(ف33)وہ شہر یا تو منف تھا جو حدودِ مِصر میں ہے ، اصل اس کی مافہ ہے زبانِ قبطی میں اس لفظ کے معنی ہیں تیس ۳۰ یہ پہلا شہر ہے جو طوفانِ حضرتِ نوح علیہ السلام کے بعد آباد ہوا اس سرزمین میں مِصر بن حام نے اقامت کی یہ اقامت کرنے والے کل تیس ۳۰ تھے اس لئے اس کا نام مافہ ہوا پھر اس کی عربی منف ہوئی یا وہ شہر حابین تھا جو مِصر سے دو فرسنگ کے فاصلہ پر تھا ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ شہر عینِ شمس تھا ۔ (جمل و خازن )(ف34)اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پوشیدہ طور پر داخل ہونے کا سبب یہ تھا کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام جوان ہوئے تو آپ نے حق کا بیان اور فرعون اور فرعونیوں کی گمراہی کا رد شروع کیا بنی اسرائیل کے لوگ آپ کی بات سنتے اور آپ کا اِتّباع کرتے آپ فرعونیوں کے دین کی ممانعت فرماتے شدہ شدہ اس کا چرچا ہوا اور فرعونی جستجو میں ہوئے اس لئے آپ جس بستی میں داخل ہوتے ایسے وقت داخل ہوتے جب وہاں کے لوگ غفلت میں ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ وہ دن عید کا تھا لوگ اپنے لہو و لعب میں مشغول تھے ۔ (مدارک و خازن)(ف35)بنی اسرائیل میں سے ۔(ف36)یعنی قبطی قومِ فرعون سے ۔ یہ اسرائیلی پر جبر کر رہا تھا تاکہ اس پر لکڑیوں کا انبار لاد کر فرعون کے مطبخ میں لے جائے ۔(ف37)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کے ۔(ف38)پہلے آپ نے قبطی سے کہا کہ اسرائیلی پر ظلم نہ کر اس کو چھوڑ دے لیکن وہ باز نہ آیا اور بدزبانی کرنے لگا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کو اس ظلم سے روکنے کے لئے گھونسا مارا ۔(ف39)یعنی وہ مر گیا اور آپ نے اس کو ریت میں دفن کر دیا آپ کا ارادہ قتل کرنے کا نہ تھا ۔(ف40)یعنی اس قبطی کا اسرائیلی پر ظلم کرنا جو اس کی ہلاکت کا باعث ہوا ۔ (خازن)
عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی (ف٤۱) تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
(ف41)یہ کلام حضرت موسٰی علیہ السلام کا بطریقِ تواضُع ہے کیونکہ آپ سے کوئی معصیت سرزد نہیں ہوئی اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ نہیں ہوتے ۔ قطبی کا مارنا آپ کا دفعِ ظلم اور امدادِ مظلوم تھی یہ کسی ملّت میں بھی گناہ نہیں پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور استغفار چاہنا یہ مقربین کا دستور ہی ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایاکہ اس میں تاخیر اولٰی تھی اس لئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے ترکِ اولٰی کو زیادتی فرمایا اور اس پر حق تعالٰی سے مغفرت طلب کی ۔
تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے (ف٤۳) جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کر رہا ہے (ف٤٤) موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے (ف٤۵)
(ف43)کہ خدا جانے اس قبطی کے مارے جانے کا کیا نتیجہ نکلے اور اس کی قوم کے لوگ کیا کریں ۔(ف44)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ فرعون کی قوم کے لوگوں نے فرعون کو اطلاع دی کہ کسی بنی اسرائیل نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے اس پر فرعون نے کہا کہ قاتل اور گواہوں کو تلاش کرو فرعونی گشت کرتے پھرتے تھے اور انہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا تھا دوسرے روز جب حضرت موسٰی علیہ السلام کو پھر ایسا اتفاق پیش آیا کہ وہی بنی اسرائیل جس نے ایک روز پہلے ان سے مدد چاہی تھی آج پھر ایک فرعونی سے لڑ رہا ہے اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو دیکھ کر ان سے فریاد کرنے لگا تب حضرت ۔(ف45)مراد یہ تھی کہ روز لوگوں سے لڑتا ہے اپنے آپ کو بھی مصیبت و پریشانی میں ڈالتا ہے اور اپنے مددگاروں کو بھی کیوں ایسے موقعوں سے نہیں بچتا اور کیوں احتیاط نہیں کرتا پھر حضرت موسٰی علیہ السلام کو رحم آیا اور آپ نے چاہا کہ اس کو فرعونی کے پنجۂ ظلم سے رہائی دلائیں ۔
تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے (ف٤٦) وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے (ف٤۷)
(ف46)یعنی فرعونی پر ۔ تو اسرائیلی غلطی سے یہ سمجھا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام مجھ سے خفا ہیں مجھے پکڑنا چاہتے ہیں یہ سمجھ کر ۔(ف47)فرعونی نے یہ بات سنی اور جا کر فرعون کو اطلاع دی کہ کل کے فرعونی مقتول کے قاتل حضرت موسٰی علیہ السلام ہیں فرعون نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا اور لوگ حضرت موسٰی علیہ السلام کو ڈھونڈھنے نکلے ۔
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص (ف٤۸) دوڑتا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے (ف٤۹) آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے (ف۵۰) میں آپ کا خیر خواہ ہوں (ف۵۱)
(ف48)جس کو مومنِ آلِ فرعون کہتے ہیں یہ خبر سن کر قریب کی راہ سے ۔(ف49)فرعون کے ۔(ف50)شہر سے ۔(ف51)یہ بات خیر خواہی اور مصلحت اندیشی سے کہتا ہوں ۔
اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا (ف۵۳) کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے (ف۵٤)
(ف53)مدیَن وہ مقام ہے جہاں حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام تشریف رکھتے تھے اس کو مدیَن ابنِ ابراہیم کہتے ہیں مِصر سے یہاں تک آٹھ روز کی مسافت ہے یہ شہر فرعون کے حدودِ قلمرو سے باہر تھا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کا رستہ بھی نہ دیکھا تھا ، نہ کوئی سواری ساتھ تھی ، نہ توشہ ، نہ کوئی ہمراہی ، راہ میں درختوں کے پتوں اور زمین کے سبزے کے سوا خوراک کی اور کوئی چیز نہ ملتی تھی ۔(ف54)چنانچہ اللہ تعالٰی نے ایک فرشتہ بھیجا جو آپ کو مدیَن تک لے گیا ۔
اور جب مدین کے پانی پر آیا (ف۵۵) وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور ان سے اس طرف (ف۵٦) دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں (ف۵۷) موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے (ف۵۸) وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں (ف۵۹) اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں (ف٦۰)
(ف55)یعنی کنوئیں پر جس سے وہاں کے لوگ پانی لیتے اور اپنے جانوروں کو سیراب کرتے تھے یہ کنواں شہر کے کنارے تھا ۔(ف56)یعنی مَردوں سے علیٰحدہ ۔(ف57)اس انتظار میں کہ لوگ فارغ ہوں اور کنواں خالی ہو کیونکہ کنوئیں کو قوی اور زورآور لوگوں نے گھیر رکھا تھا ان کے ہجوم میں عورتوں سے ممکن نہ تھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا سکتیں ۔(ف58)یعنی اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں ۔(ف59)کیونکہ نہ ہم مَردوں کے انبوہ میں جا سکتے ہیں نہ پانی کھینچ سکتے ہیں جب یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس ہو جاتے ہیں تو حوض میں جو پانی بچ رہتا ہے وہ ہم اپنے جانوروں کو پلا لیتے ہیں ۔(ف60)ضعیف ہیں خود یہ کام نہیں کر سکتے اس لئے جانوروں کو پانی پلانے کی ضرورت ہمیں پیش آئی جب موسٰی علیہ السلام نے ان کی باتیں سنیں تو آپ کو رقت آئی اور رحم آیا اور وہیں دوسرا کنواں جو اس کے قریب تھا اور ایک بہت بھاری پتھّر اس پر ڈھکا ہوا تھا جس کو بہت سے آدمی مل کر ہٹا سکتے تھے آپ نے تنہا اس کو ہٹا دیا ۔
تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا (ف٦۱) عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں (ف٦۲)
(ف61)دھوپ اور گرمی کی شدت تھی اور آپ نے کئی روز سے کھانا نہیں کھایا تھا بھوک کا غلبہ تھا اس لئے آرام حاصل کرنے کی غرض سے ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے اور بارگاہِ الٰہی میں ۔(ف62)حضرت موسٰی علیہ السلام کو کھانا ملاحظہ فرمائے پورا ہفتہ گزر چکا تھا اس درمیان میں ایک لقمہ نہ کھایا تھا شکمِ مبارک پُشْتِ اقدس سے مل گیا تھا اس حالت میں اپنے ربّ سے غذا طلب کی اور باوجود یکہ بارگاہِ الٰہی میں نہایت قرب و منزلت رکھتے ہیں اس عجز و انکسار کے ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا طلب کیا اور جب وہ دونوں صاحب زادیاں اس روز بہت جلد اپنے مکان واپس ہو گئیں تو ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ آج اس قدر جلد واپس آ جانے کا کیا سبب ہوا ؟ عرض کیا کہ ہم نے ایک نیک مرد پایا اس نے ہم پر رحم کیا اور ہمارے جانوروں کو سیراب کر دیا اس پر ان کے والد صاحب نے ایک صاحبزادی سے فرمایا کہ جاؤ اور اس مردِ صالح کو میرے پاس بلا لاؤ ۔
تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی (ف٦۳) بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے (ف٦٤) جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں (ف٦۵) اس نے کہا ڈریے نہیں، آپ بچ گئے ظالموں سے (ف٦٦)
(ف63)چہرہ آستین سے ڈھکے جسم چھپائے یہ بڑی صاحبزادی تھیں ان کا نام صفوراء ہے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھوٹی صاحبزادی تھیں ۔(ف64)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اجرت لینے پر تو راضی نہ ہوئے لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی زیارت اور ان کی ملاقات کے قصد سے چلے اور ان صاحبزادی صاحبہ سے فرمایا کہ آپ میرے پیچھے رہ کر رستہ بناتی جائیے یہ آپ نے پردہ کے اہتمام کے لئے فرمایا اور اس طرح تشریف لائے جب حضرت موسٰی علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس پہنچے تو کھانا حاضر تھا حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا بیٹھئے کھانا کھائیے حضرت موسٰی علیہ السلام نے منظور نہ کیا اور اعوذ باللہ فرمایا حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کیا سبب کھانے میں کیوں عذر ہے کیا آپ بھوک نہیں ہے ؟ فرمایا کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ کھانا میرے اس عمل کا عوض نہ ہو جائے جو میں نے آپ کے جانوروں کو پانی پلا کر انجام دیا ہے کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ عملِ خیر پر عوض لینا قبول نہیں کرتے حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا اے جوان ایسا نہیں ہے یہ کھانا آپ کے عمل کے عوض میں نہیں بلکہ میری اور میرے آباؤ اجداد کی عادت ہے کہ ہم مہمان خوانی کیا کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں تو آپ بیٹھے اور آپ نے کھانا تناول فرمایا ۔(ف65)اور تمام واقعات و احوال جو فرعون کے ساتھ گزرے تھے اپنی ولادت شریف سے لے کر قبطی کے قتل اور فرعونیوں کے آپ کے درپے جان ہونے تک کے سب حضرت شعیب علیہ السلام سے بیان کر دیئے ۔(ف66)یعنی فرعون اور فرعونیوں سے کیونکہ یہاں مدیَن میں فرعون کی حکومت و سلطنت نہیں ۔مسائل : اس سے ثابت ہوا کہ ایک شخص کی خبر پر عمل کرنا جائز ہے خواہ وہ غلام ہو یا عورت ہو اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اجنبیہ کے ساتھ ورع و احتیاط کے ساتھ چلنا جائز ہے ۔ (مدارک)
ان میں کی ایک بولی (ف٦۷) اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو (ف٦۸) بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانتدار ہو (ف٦۹)
(ف67)جو حضرت موسٰی علیہ السلام کو بلانے کے واسطے بھیجی گئی تھی بڑی یا چھوٹی ۔(ف68)کہ یہ ہماری بکریاں چَرایا کریں اور یہ کام ہمیں نہ کرنا پڑے ۔(ف69)حضرت شعیب علیہ السلام نے صاحبزادی سے دریافت کیا کہ تمہیں ان کی قوت و امانت کا کیا علم ؟ انہوں نے عرض کیا کہ قوت تو اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے تنہا کنوئیں پر سے وہ پتھّر اٹھا لیا جس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے اور امانت اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے ہمیں دیکھ کر سر جھکا لیا اور نظر نہ اٹھائی اور ہم سے کہا کہ تم پیچھے چلو ایسا نہ ہو کہ ہوا سے تمہارا کپڑا اڑے اور بدن کا کوئی حصّہ نمودار ہو یہ سُن کر حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔
کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں (ف۷۰) اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو (ف۷۱) پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے (ف۷۲) اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا (ف۷۳) قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے (ف۷٤)
(ف70)یہ وعدۂ نکاح تھا الفاظِ عقد نہ تھے کیونکہ مسئلہ عقد کے لئے صیغۂ ماضی ضروری ہے مسئلہ اور ایسے ہی منکوحہ کی تعیین بھی ضروری ہے ۔(ف71)مسئلہ : آزاد مرد کا آزاد عورت سے نکاح کسی دوسرے آزاد شخص کی خدمت کرنے یا بکریاں چَرانے کو مَہر قرار دے کر جائز ہے ۔مسئلہ : اور اگر آزاد مرد نے کسی مدّت تک عورت کی خدمت کرنے کو یا قرآن کی تعلیم کو مَہر قرار دے کر نکاح کیا تو نکاح جائز ہے اور یہ چیزیں مَہر نہ ہو سکیں گی بلکہ اس صورت میں مہرِ مثل لازم ہوگا ۔ (ہدایہ و احمدی)(ف72)یعنی یہ تمہاری مہربانی ہو گی اور تم پر واجب نہ ہو گا ۔(ف73)کہ تم پر پورے دس سال لازم کر دوں ۔(ف74)تو میری طرف سے حسنِ معاملت اور وفائے عہد ہی ہو گی اور ان شاء اللہ تعالٰی آپ نے اللہ تعالٰی کی توفیق و مدد پر بھروسہ کرنے کے لئے فرمایا ۔
موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں (ف۷۵) تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے (ف۷٦)
(ف75)خواہ دس سال کی یا آٹھ سال کی ۔(ف76)پھر جب آپ کا عقد ہو چکا تو حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی کو حکم دیا کہ وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو ایک عصاء دیں جس سے وہ بکریوں کی نگہبانی کریں اور درندوں کو دفع کریں حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس انبیاء علیہم السلام کے کئی عصاء تھے صاحبزادی صاحبہ کا ہاتھ حضرت آدم علیہ السلام کے عصاء پر پڑا جو آپ جنّت سے لائے تھے اور انبیاء اس کے وارث ہوتے چلے آئے تھے اور وہ حضرت شعیب علیہ السلام کوپہنچا تھا حضرت شعیب علیہ السلام نے یہ عصاء حضرت موسٰی علیہ السلام کو دیا ۔
پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی (ف۷۷) اور اپنی بی بی کو لے کر چلا (ف۷۸) طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (ف۷۹) اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤں (ف۸۰) یا تمہارے لیے کوئی آگ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،
(ف77)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بڑی میعاد یعنی دس سال پورے کئے پھر حضرت شعیب علیہ السلام سے مِصر کی طرف واپس جانے کی اجازت چاہی آپ نے اجازت دی ۔(ف78)ان کے والد کی اجازت سے مِصر کی طرف ۔(ف79)جب کہ آپ جنگل میں تھے اندھیری رات تھی ، سردی شدّت کی پڑ رہی تھی ، راستہ گم ہو گیا تھا اس وقت آپ نے آ گ دیکھ کر ۔(ف80)راہ کی کہ کس طرف ہے ۔
پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے (ف۸۱) برکت والے مقام میں پیڑ سے (ف۸۲) کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا (ف۵۳)
(ف81)جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے دستِ راست کی طرف تھا ۔(ف82)وہ درخت عناب کا تھا یا عوسج کا (عوسج ایک خاردار درخت ہے جو جنگلوں میں ہوتا ہے)(ف83)جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے سرسبز درخت میں آ گ دیکھی تو جان لیا کہ اللہ تعالٰی کے سوا یہ کسی کی قدرت نہیں اور بے شک اس کلام کا اللہ تعالٰی ہی متکلم ہے ۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ کلام حضرت موسٰی علیہ السلام نے صرف گوش مبارک ہی سے نہیں بلکہ اپنے جسمِ اقدس کے ہر ہر جزو سے سُنا ۔
اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا (ف۸٤) پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا (ف۸۵) اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے (ف۸٦)
(ف84)چنانچہ آپ نے عصا ڈال دیا وہ سانپ بن گیا ۔(ف85)تب ندا کی گئی ۔(ف86)کوئی خطرہ نہیں ۔
اپنا ہاتھ (ف۸۷) گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بےعیب (ف۸۸) اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو (ف۸۹) تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی (ف۹۰) فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف ، بیشک وہ بےحکم لوگ ہیں،
(ف87)اپنی قمیص کے ۔(ف88)شعاعِ آفتاب کی طرح تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا دستِ مبارک گریبان میں ڈال کر نکالا تو اس میں ایسی تیز چمک تھی جس سے نگاہیں جھپکیں ۔(ف89)تاکہ ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آئے اور خوف رفع ہو جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو سینہ پر ہاتھ ر کھنے کا حکم دیا تاکہ جو خوف سانپ دیکھنے کے وقت پیدا ہو گیا تھا رفع ہو جائے اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد جو خوف زدہ اپنا ہاتھ سینہ پر رکھے گا اس کا خوف دفع ہو جائے گا ۔(ف90)یعنی عصا اور یدِ بیضا تمہاری رسالت کی برہانیں ہیں ۔
فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے (ف۹۳)
پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو (ف۹٤) اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا (ف۹۵)
(ف94)ان بدنصیبوں نے معجزات کا انکار کر دیا اور ان کو جادو بتا دیا مطلب یہ تھا کہ جس طرح تمام انواعِ سحر باطل ہوتے ہیں اسی طرح معاذ اللہ یہ بھی ہے ۔(ف95)یعنی آپ سے پہلے ایسا کبھی نہیں کیا گیا یا یہ معنی ہیں کہ جو دعوت آپ ہمیں دیتے ہیں وہ ایسی نئی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بھی ایسی نہیں سنی گئی تھی ۔
اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا (ف۹٦) اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا (ف۹۷) بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے (ف۹۸)
(ف96)یعنی جو حق پر ہے اور جس کو اللہ تعالٰی نے نبوّت کے ساتھ سرفراز فرمایا ۔(ف97)اور وہ وہاں کی نعمتوں اور رحمتوں کے ساتھ نوازا جائے گا ۔(ف98)یعنی کافِروں کو آخرت کی فلاح میسّر نہیں ۔
اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر (ف۹۹) ایک محل بنا (ف۱۰۰) کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں (ف۱۰۱) اور بیشک میرے گمان میں تو وہ (ف۱۰۲) جھوٹا ہے (ف۱۰۳)
(ف99)اینٹ تیار کر ۔کہتے ہیں کہ یہی دنیا میں سب سے پہلے اینٹ بنانے والا ہے یہ صنعت اس سے پہلے نہ تھی ۔(ف100)نہایت بلند ۔(ف101)چنانچہ ہامان نے ہزارہا کاریگر اور مزدور جمع کئے اینٹیں بنوائیں اور عمارتی سامان جمع کر کے اتنی بلند عمارت بنوائی کہ دنیا میں اس کے بر ابر کوئی عمارت بلند نہ تھی فرعون نے یہ گمان کیا کہ (معاذاللہ) اللہ تعالٰی کے لئے بھی مکان ہے اور وہ جسم ہے کہ اس تک پہنچنا اس کے لئے ممکن ہو گا ۔(ف102)یعنی موسٰی علیہ السلام ۔(ف103)اپنے اس دعوٰی میں کہ اس کا ایک معبود ہے جس نے اس کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) (ف۱۱۰) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
(ف109)یعنی توریت ۔(ف110)مثل قومِ نوح و عاد و ثمود وغیرہ کے ۔
اور تم (ف۱۱۱) طور کی جانت مغرب میں نہ تھے (ف۱۱۲) جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا (ف۱۱۳) اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،
(ف111)اے سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف112)وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا میقات تھا ۔(ف113)اور ان سے کلام فرمایا اور انہیں مقرب کیا ۔
مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں (ف۱۱٤) کہ ان پر زمانہ دراز گزرا (ف۱۱۵) اور نہ تم اہل مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے ، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے (ف۱۱٦)
(ف114)یعنی بہت سی اُمّتیں بعد حضرت موسٰی علیہ السلام کے ۔(ف115)تو وہ اللہ کا عہد بھول گئے اور انہوں نے اس کی فرمانبرداری ترک کی اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم سے سیدِ عالَم حبیبِ خدا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں اور آپ پر ایمان لانے کے متعلق عہد لئے تھے جب دراز زمانہ گزرا اور اُمّتوں کے بعد اُمّتیں گزرتی چلی گئیں تو وہ لوگ ان عہدوں کو بھول گئے اور اس کی وفا ترک کر دی ۔(ف116)تو ہم نے آپ کو علم دیا اور پہلوں کے حالات پر مطّلع کیا ۔
اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی (ف۱۱۷) ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) (ف۱۱۸) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۱۱۹) یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،
(ف117)حضرت موسٰی علیہ السلام کو توریت عطا فرمانے کے بعد ۔(ف118)جن سے تم ان کے احوال بیان فرماتے ہو ۔ آپ کا ان امور کی خبر دینا آپ کی نبوّت کی ظاہر دلیل ہے ۔(ف119)اس قوم سے مراد اہلِ مکّہ ہیں جو زمانۂ فِترۃ میں تھے جو حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و حضرت عیسٰی علیہ السلام کے درمیان پانچ سو پچاس برس کی مدّت کا ہے ۔
اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انھیں کوئی مصیبت (ف۱۲۰) اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۱) تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے (ف۱۲۲)
(ف120)عذاب و سزا ۔(ف121)یعنی جو کُفر و عصیان انہوں نے کیا ۔(ف122)معنٰی آیت کے یہ ہیں کہ رسولوں کا بھیجنا ہی الزامِ حُجّت کے لئے ہے کہ انہیں یہ عذر کرنے کی گنجائش نہ ملے کہ ہمارے پاس رسول نہیں بھیجے گئے اس لئے گمراہ ہو گئے اگر رسول آتے تو ہم ضرور مطیع ہوتے اور ایمان لاتے ۔
پھر جب ان کے پاس حق آیا (ف۱۲۳) ہماری طرف سے بولے (ف۱۲٤) انھیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۵) کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲٦) بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں (ف۱۲۷)
(ف123)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف124)مکّہ کے کُفّار ۔(ف125)یعنی انہیں قرآنِ کریم یکبارگی کیوں نہیں دیا گیا جیسا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو پوری توریت ایک ہی بار میں عطا کی گئی تھی یا یہ معنی ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصا اور یدِ بیضا جیسے معجزات کیوں نہ دیئے گئے اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف126)یہود نے قریش کو پیغام بھیجا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے سے معجزات طلب کریں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن یہود نے یہ سوال کیا ہے کیا وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے اور جو انہیں اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اس کے منکر نہ ہوئے ۔(ف127)یعنی توریت کے بھی اور قرآن کے بھی ان دونوں کو انہوں نے جادو کہا اور ایک قراءت میں ساحران ہے اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ دونوں جادو گر ہیں یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت موسٰی علیہ السلام ۔شانِ نُزول : مشرکینِ مکّہ نے یہودِ مدینہ کے سرداروں کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کتبِ سابقہ میں کوئی خبر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں حضور کی نعت و صفت ان کی کتاب توریت میں موجود ہے جب یہ خبر قریش کو پہنچی تو حضرت موسٰی علیہ السلام و سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کہنے لگے کہ وہ دونوں جادو گر ہیں ان میں ایک دوسرے کا معین و مددگار ہے اس پر اللہ تعالٰی نے فرمایا ۔
تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو (ف۱۲۸) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۹)
(ف128)یعنی توریت و قرآن سے ۔(ف129)اپنے اس قول میں کہ یہ دونوں جادو یا جادوگر ہیں اس میں تنبیہ ہے کہ وہ اس کے مثل کتاب لانے سے عاجزِ مَحض ہیں چنانچہ آگے ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں (ف۱۳۰) تو جان لو کہ (ف۱۳۱) بس وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،
(ف130)اور ایسی کتاب نہ لا سکیں ۔(ف131)ان کے پاس کوئی حُجّت نہیں ہے ۔
جن کو ہم نے اس سے پہلے (ف۱۳۳) کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،
(ف133)یعنی قرآن شریف سے یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ۔شانِ نُزول : یہ آیت مؤمنینِ اہلِ کتاب حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے حق میں نازِل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان اہلِ انجیل کے حق میں نازِل ہوئی جو حبشہ سے آ کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ آئے جب انہوں نے مسلمانوں کی حاجت اور تنگیٔ معاش دیکھی تو بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ ہمارے پاس مال ہیں حضور اجازت دیں تو ہم واپس جا کر اپنے مال لے آئیں اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کریں حضور نے اجازت دی اور وہ جا کر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کی ۔ ان کے حق میں یہ آیات' مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ' تک نازِل ہوئیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ آیتیں اسی۸۰ اہلِ کتاب کے حق میں نازِل ہوئیں جن میں چالیس نجران کے اور بتّیس حبشہ کے اور آٹھ شام کے تھے ۔
اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پاس سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے (ف۱۳٤)
(ف134)یعنی نُزولِ قرآن سے قبل ہی ہم حبیبِ خدا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے کہ وہ نبیٔ برحق ہیں کیونکہ توریت و انجیل میں ان کا ذکر ہے ۔
ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا (ف۱۳۵) بدلہ ان کے صبر کا (ف۱۳٦) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں (ف۱۳۷) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۱۳۸)
(ف135)کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ پاک پر بھی ۔(ف136)کہ انہوں نے اپنے دین پر بھی صبر کیا اور مشرکین کی ایذا پر بھی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین قِسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں دو اجر ملیں گے ایک اہلِ کتاب کا وہ شخص جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی دوسرا وہ غلام جس نے اللہ کا حق بھی ادا کیا اور مولا کا بھی تیسرا وہ جس کے پاس باندی تھی جس سے قربت کرتا تھا پھر اس کو اچھی طرح ادب سکھایا اچھی تعلیم دی اور آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا اس کے لئے بھی دو اجر ہیں ۔(ف137)طاعت سے معصیت کو اور حلم سے ایذاء کو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ توحید کی شہادت یعنی اشہد ان لا الہ الا اللہ سے شرک کو ۔(ف138)طاعت میں یعنی صدقہ کرتے ہیں ۔
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام (ف۱٤۰) ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں (ف۱٤۱)
(ف139)مشرکین مکّہ مکرّمہ کے ایمانداروں کو ان کا دین ترک کرنے اور اسلام قبول کرنے پر گالیاں دیتے اور بُرا کہتے یہ حضرات ان کی بےہودہ باتیں سُن کر اعراض فرماتے ۔(ف140)یعنی ہم تمہاری بےہودہ باتوں اور گالیوں کے جواب میں گالیاں نہ دیں گے ۔
بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو (ف۱٤۲)
(ف141)ان کے ساتھ میل جول نشست و برخاست نہیں چاہتے ہمیں جاہلانہ حرکات گوارا نہیں ' نُسِخَ ذٰلِکَ بِالْقِتَالِ'(ف142)جن کے لئے اس نے ہدایت مقدر فرمائی جو دلائل سے پند پذیر ہونے اور حق بات ماننے والے ہیں ۔شانِ نُزول : مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں نازِل ہوئی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان کی موت کے وقت فرمایا اے چچا کہو ' لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ ' میں تمہارے لئے روزِ قیامت شاہد ہوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے عار دینے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کرتا اس کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھے ' وَلَقَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّ دِیْنَ مُحَمَّدٍ مِنْ خَیْرِ اَدْیَانِ الْبَرِیَّۃِ دِیْناً لَوْ لَا الْمَلَامَۃُ اَوْ حِذَارُمُسَبَّۃٍ لَوَجَدْ تَّنِیْ سَمُحًا بِذَاکَ مُبِیْنًا ' یعنی میں یقین سے جانتا ہوں کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین تمام جہانوں کے دینوں سے بہتر ہے اگر ملامت و بدگوئی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہایت صفائی کے ساتھ اس دین کو قبول کرتا اس کے بعد ابوطالب کا انتقال ہوگیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو لوگ ہمارے ملک سے ہمیں اچک لے جائیں گے (ف۱٤۳) کیا ہم نے انھیں جگہ نہ دی امان والی حرم میں (ف۱٤٤) جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں ہمارے پاس کی روزی لیکن ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۱٤۵)
(ف143)یعنی سرزمینِ عرب سے ایک دم نکال دیں گے ۔شانِ نُزول : یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف کے حق میں نازِل ہوئی اس نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ تو ہم یقین سے جانتے ہیں کہ جو آپ فرماتے ہیں وہ حق ہے لیکن اگر ہم آپ کے دین کا اِتّباع کریں تو ہمیں ڈر ہے کہ عرب کے لوگ ہمیں شہر بدر کر دیں گے اور ہمارے وطن میں نہ رہنے دیں گے ۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ۔(ف144)جہاں کے رہنے والے قتل و غارت سے امن میں ہیں اور جہاں جانوروں اور سبزوں تک کو امن ہے ۔(ف145)اور وہ اپنی جہالت سے نہیں جانتے کہ یہ روزی اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اگر یہ سمجھ ہوتی تو جانتے کہ خوف و امن بھی اسی کی طرف سے ہے اور ایمان لانے میں شہر بدر کئے جانے کا خوف نہ کرتے ۔
اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردیے جو اپنے عیش پر اترا گئے تھے (ف۱٤٦) تو یہ ہیں ان کے مکان (ف۱٤۷) کہ ان کے بعد ان میں سکونت نہ ہوئی مگر کم (ف۱٤۸) اور ہمیں وارث ہیں (ف۱٤۹)
(ف146)اور انہوں نے طغیان اختیار کیا تھا کہ اللہ تعالٰی کی دی ہوئی روزی کھاتے اور پوجتے بُتوں کو اہلِ مکّہ کو ایسی قوم کے خراب انجام سے خوف دلایا جاتا ہے جن کا حال ان کی طرح تھا کہ اللہ تعالٰی کی نعمتیں پاتے اور شکر نہ کرتے ان نعمتوں پر اِتراتے وہ ہلاک کر دیئے گئے ۔(ف147)جن کے آثار باقی ہیں اور عرب کے لوگ اپنے سفروں میں انہیں دیکھتے ہیں ۔(ف148)کہ کوئی مسافر یا رہرو ان میں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جاتا ہے پھر خالی پڑے رہتے ہیں ۔(ف149)ان مکانوں کے یعنی وہاں کے رہنے والے ایسے ہلاک ہوئے کہ ان کے بعد ان کا کوئی جانشین باقی نہ رہا اب اللہ کے سوا ان مکانوں کا کوئی وارث نہیں خَلق کی فنا کے بعد وہی سب کا وارث ہے ۔
اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے (ف۱۵۰) جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے (ف۱۵۱) اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں (ف۱۵۲)
(ف150)یعنی مرکزی مقام میں ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ اُم القرٰی سے مراد مکّہ مکرّمہ ہے اور رسول سے مراد خاتَمِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف151)اور انہیں تبلیغ کرے اور خبر دے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر عذاب کیا جائے گا تاکہ ان پر حُجّت لازم ہو اور ان کے لئے عذر کی گنجائش باقی نہ رہے ۔(ف152)رسول کی تکذیب کرتے ہوں اپنے کُفر پر مُصِر ہوں اور اس سبب سے عذاب کے مستحق ہوں ۔
اور جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے اور دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگھار ہے (ف۱۵۳) اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۱۵٤) اور وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا (ف۱۵۵) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۵٦)
(ف153)جس کی بقا بہت تھوڑی اور جس کا انجام فنا ۔(ف154)یعنی آخرت کے منافع ۔(ف155)تمام کدورتوں سے خالی اور دائم غیر منقطع ۔(ف156)کہ اتنا سمجھ سکو کہ باقی فانی سے بہتر ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کو دنیا پر ترجیح نہ دے وہ نادان ہے ۔
تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (ف۱۵۷) تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا (ف۱۵۸)
(ف157)ثواب جنّت کا ۔(ف158)یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ان میں پہلا جسے اچھا وعدہ دیا گیا مؤمن ہے اور دوسرا کافِر ۔
کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۱٦۱) اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انھیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے (ف۱٦۲) ہم ان سے بیزار ہو کر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے (ف۱٦۳)
(ف161)یعنی عذاب واجب ہو چکا اور وہ لوگ اہلِ ضلالت کے سردار اور ائمۂ کُفر ہیں ۔(ف162)یعنی وہ لوگ ہمارے بہکانے سے با اختیار خود گمراہ ہوئے ہماری ان کی گمراہی میں کوئی فرق نہیں ہم نے انہیں مجبور نہ کیا تھا ۔(ف163)بلکہ وہ اپنی خواہشوں کے پرستار اور اپنی شہوات کے مطیع تھے ۔
تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (ف۱٦۸) تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے (ف۱٦۹)
(ف168)اور کوئی عذر اور حُجّت انہیں نظر نہ آئے گی ۔(ف169)اور غایت دہشت سے ساکت رہ جائیں گے یا کوئی کسی سے اس لئے نہ پوچھے گا کہ جواب سے عاجز ہونے میں سب کے سب برابر ہیں تابع ہوں یا متبوع ، کافِر ہوں یا کافِر گر ۔
اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے (ف۱۷۲) ان کا (ف۱۷۳) کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،
(ف172)شانِ نُزول : یہ آیت مشرکین کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوّت کے لئے کیوں برگزیدہ کیا ۔ یہ قرآن مکّہ و طائف کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ اتارا اس کلام کا قائل ولید بن مغیرہ تھا اور بڑے آدمی سے وہ اپنے آپ کو اور عروہ بن مسعود ثقفی کو مراد لیتا تھا ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ رسولوں کا بھیجنا ان لوگوں کے اختیار سے نہیں ہے اللہ تعالٰی کی مرضی ہے اپنی حکمت وہی جانتا ہے ، انہیں اس کی مرضی میں دخل کی کیا مجال ۔(ف173)یعنی مشرکین کا ۔
اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے (ف۱۷٤) اور جو ظاہر کرتے ہیں (ف۱۷۵)
(ف174)یعنی کُفر اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت جس کو یہ لوگ چھپاتے ہیں ۔(ف175)اپنی زبانوں سے خلافِ واقع جیسے کہ نبوّت میں طعن کرنا اور قرآنِ پاک کی تکذیب ۔
اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا (ف۱۷٦) اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے (ف۱۷۷) اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
(ف176)کہ اس کے اولیاء د نیا میں بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کی حمد سے لذّت اٹھاتے ہیں ۔(ف177)اسی کی قضاء ہر چیز میں نافذ و جاری ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اپنے فرمانبرداروں کے لئے مغفرت کا اور نافرمانوں کے لئے شفاعت کا حکم فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف۱۷۸) بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے (ف۱۷۹) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے (ف۱۸۰) تو کیا تم سنتے نہیں (ف۱۸۱)
(ف178)اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہلِ مکّہ سے ۔(ف179)اور دن نکالے ہی نہیں ۔(ف180)جس میں تم اپنی معاش کے کام کر سکو ۔(ف181)گوشِ ہوش سے کہ شرک سے باز آؤ ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ دن رکھے (ف۱۸۲) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں رات لادے جس میں آرام کرو (ف۱۸۳) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۸٤)
(ف182)رات ہونے ہی نہ دے ۔(ف183)اور دن میں جو کام اور محنت کی تھی اس کی تکان دور کرو ۔(ف184)کہ تم کتنی بڑی غلطی میں ہو جو اس کے ساتھ اور کو شریک کرتے ہو ۔
اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر (ف۱۸۷) فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ (ف۱۸۸) تو جان لیں گے کہ (ف۱۸۹) حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے (ف۱۹۰)
(ف187)یہاں گواہ سے رسول مراد ہیں جو اپنی اپنی اُمّتوں پر شہادت دیں گے کہ انہوں نے انہیں ربّ کے پیام پہنچائے اور نصیحتیں کیں ۔(ف188)یعنی شرک اور رسولوں کی مخالفت جو تمہارا شیوا تھا اس پر کیا دلیل ہے پیش کرو ۔(ف189)الٰہیت و معبودیتِ خاص ۔(ف190)دنیا میں کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے ۔
بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا (ف۱۹۱) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم (ف۱۹۲) نے کہا اِترا نہیں (ف۱۹۳) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا،
(ف191)قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹھا تھا نہایت خوب صورت شکیل آدمی تھا اسی لئے اس کو منور کہتے تھے اور بنی اسرائیل میں توریت کا سب سے بہتر قاری تھا ، ناداری کے زمانہ میں نہایت متواضع و با اخلاق تھا ، دولت ہاتھ آتے ہی اس کا حال متغیر ہوا اور سامری کی طرح منافق ہوگیا ۔ کہا گیا ہے کہ فرعون نے اس کو بنی اسرائیل پر حاکم بنا دیا تھا ۔(ف192)یعنی مؤمنینِ بنی اسرائیل ۔(ف193)کثرتِ مال پر ۔
اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر (ف۱۹٤) اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول (ف۱۹۵) اور احسان کر (ف۱۹٦) جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور (ف۱۹۷) زمین میں فساد نہ چاه بیشک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ،
(ف194)اللہ کی نعمتوں کا شکر کر کے اور مال کو خدا کی راہ میں خرچ کر کے ۔(ف195)یعنی دنیا میں آخرت کے لئے عمل کر کہ عذاب سے نَجات پائے اس لئے کہ دنیا میں انسان کا حقیقی حصہ یہ ہے کہ آخرت کے لئے عمل کرے ، صدقہ دے کر ، صلہ رحمی کر کے اور اعمالِ خیر کے ساتھ اور اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی صحت و قوت و جوانی و دولت کو نہ بھول اس سے کہ ان کے ساتھ آخرت طلب کرے ۔ حدیث میں ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، تندرستی کو بیماری سے پہلے ، ثروت کو ناداری سے پہلے ، فراغت کو شغل سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔(ف196)اللہ کے بندوں کے ساتھ ۔(ف197)معاصی اور گناہوں کا ارتکاب کر کے اور ظلم و بغاوت کر کے ۔
بو لا یہ (ف۱۹۸) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے (ف۱۹۹) اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ (ف۲۰۰) اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں (ف۲۰۱)
(ف198)یعنی قارون نے کہا کہ یہ مال ۔(ف199)اس علم سے مراد یا علمِ توریت ہے یا علمِ کیمیا جو اس نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے حاصل کیا تھا اور اس کے ذریعہ سے رانگ کو چاندی اور تانبے کو سونا بنا لیتا تھا یا علمِ تجارت یا علمِ زراعت یا اور پیشوں کا علم ۔ سہل نے فرمایا جس نے خود بینی کی فلاح نہ پائی ۔(ف200)یعنی قوت و مال میں اس سے زیادہ تھے اور بڑی جماعتیں رکھتے تھے انہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کر دیا پھر یہ کیوں قوت و مال کی کثرت پر غرور کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہلاک ہے ۔(ف201)ان سے دریافت کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ اللہ تعالٰی ان کا حال جاننے والا ہے لہذا استعلام کے لئے سوال نہ ہوگا توبیخ و زجر کے لئے ہوگا ۔
اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا (ف۲۰۳) خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (ف۲۰٤) اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں (ف۲۰۵)
(ف203)یعنی بنی اسرائیل کے عُلَماء ۔(ف204)اس دولت سے جو دنیا میں قارون کو ملی ۔(ف205)یعنی عملِ صالح صابرین ہی کا حصہ ہیں اور اس کا ثواب وہی پاتے ہیں ۔
تو ہم نے اسے (ف۲۰٦) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی (ف۲۰۷) اور نہ وہ بدلہ لے سکا (ف۲۰۸)
(ف206)یعنی قارون کو ۔(ف207)قارون اور اس کے گھر کے دھنسانے کا واقعہ علماءِ سیر و اخبار نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے جانے کے بعد مذبح کی ریاست حضرت ہارون علیہ السلام کو تفویض کی بنی اسرائیل اپنی قربانیاں حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس لاتے اور وہ مذبح میں رکھتے آ گ آسمان سے اُتر کر ان کو کھا لیتی قارون کو حضرت ہارون کے اس منصب پر رشک ہوا اس نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا کہ رسالت تو آپ کی ہوئی اور قربانی کی سرداری حضرت ہارون کی ، میں کچھ بھی نہ رہا باوجود یکہ میں توریت کا بہترین قاری ہوں میں اس پر صبر نہیں کر سکتا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ منصب حضرت ہارون کو میں نے نہیں دیا اللہ نے دیا ہے قارون نے کہا خدا کی قسم میں آپ کی تصدیق نہ کروں گا جب تک آپ اس کا ثبوت مجھے دکھا نہ دیں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے رؤساءِ بنی اسرائیل کو جمع کر کے فرمایا کہ اپنی لاٹھیاں لے آؤ انہیں سب کو اپنے قبہ میں جمع کیا ، رات پھر بنی اسرائیل ان لاٹھیوں کا پہرہ دیتے رہے صبح کو حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا سرسبز و شاداب ہو گیا ، اس میں پتے نکل آئے ، حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا اے قارون تو نے یہ دیکھا ؟ قارون نے کہا یہ آپ کے جادو سے کچھ عجیب نہیں حضرت موسٰی علیہ السلام اس کی مدارت کرتے تھے اور وہ آپ کو ہر وقت ایذا دیتا تھا اور اس کی سرکشی اور تکبُّر اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ عداوت دم بدم ترقی پر تھی ، اس نے ایک مکان بنایا جس کا دروازہ سونے کا تھا اور اس کی دیواروں پر سونے کے تختے نصب کئے بنی اسرائیل صبح و شام اس کے پاس آتے ، کھانے کھاتے ، باتیں بناتے ، اسے ہنساتے ، جب زکوٰۃ کا حکم نازِل ہوا تو قارون موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس آیا تو اس نے آپ سے طے کیا کہ درہم و دینار و مویشی وغیرہ میں سے ہزارواں حصہ زکوٰۃ دے گا لیکن گھر جا کر حساب کیا تو اس کے مال میں سے اتنا بھی بہت کثیر ہوتا تھا اس کے نفس نے اتنی بھی ہمّت نہ کی اور اس نے بنی اسرائیل کو جمع کر کے کہا کہ تم نے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہر بات میں اطاعت کی اب وہ تمہارے مال لینا چاہتے ہیں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا آپ ہمارے بڑے ہیں جو آپ چاہیں حکم دیجئے کہنے لگا کہ فلانی بدچلن عورت کے پاس جاؤ اور اس سے ایک معاوضہ مقرر کرو کہ وہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر تہمت لگائے ایسا ہوا تو بنی اسرائیل حضرت موسٰی علیہ السلام کو چھوڑ دیں گے چنانچہ قارون نے اس عورت کو ہزار اشرفی اور ہزار روپیہ اور بہت سے مواعید کر کے یہ تہمت لگانے پر طے کیا اور دوسرے روز بنی اسرائیل کو جمع کر کے حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بنی اسرائیل آپ کا انتظار کر رہے ہیں کہ آپ انہیں وعظ و نصیحت فرمائیں حضرت تشریف لائے اور بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل جو چوری کرے گا اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے جو بہتان لگائے گا اس کے اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جو زنا کرے گا اس کے اگر بی بی نہیں ہے تو سو کوڑے مارے جائیں گے اور اگر بی بی ہے تو اس کو سنگسار کیا جائے گا یہاں تک کہ مر جائے ، قارون کہنے لگا کہ یہ حکم سب کے لئے ہے خواہ آپ ہی ہوں فرمایا خواہ میں ہی کیوں نہ ہوں کہنے لگا کہ بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ آپ نے فلاں بدکار عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا اسے بلاؤ وہ آئی تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا اس کی قَسم جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا پھاڑ ا اور اس میں رستے بنائے اور توریت نازِل کی سچ کہہ دے وہ عورت ڈر گئی اور اللہ کے رسول پر بہتان لگا کر انہیں ایذاء دینے کی جرأت اسے نہ ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ اس سے توبہ کرنا بہتر ہے اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا کہ جو کچھ قارون کہلانا چاہتا ہے اللہ عزوجل کی قَسم یہ جھوٹ ہے اور اس نے آپ پر تہمت لگانے کے عوض میں میرے لئے بہت مالِ کثیر مقرر کیا ہے ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے ربّ کے حضور روتے ہوئے سجدہ میں گرے اور یہ عرض کرنے لگے یا ربّ اگر میں تیرا رسول ہوں تو میری وجہ سے قارون پر غضب فرما اللہ تعالٰی نے آپ کو وحی فرمائی کہ میں نے زمین کو آپ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ہے آپ اس کو جو چاہیں حکم دیں ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا اے بنی اسرائیل اللہ تعالٰی نے مجھے قارون کی طرف بھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف بھیجا تھا جو قارون کا ساتھی ہو اس کے ساتھ اس کی جگہ ٹھہرا رہے جو میرا ساتھی ہو جدا ہو جائے ، سب لوگ قارون سے جدا ہو گئے اور سوا دو شخصوں کے کوئی اس کے ساتھ نہ رہا پھر حضرت موسٰی علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ لے تو وہ گھٹنوں تک دھنس گئے پھر آپ نے یہی فرمایا تو کمر تک دھنس گئے آپ یہی فرماتے رہے حتی کہ وہ لوگ گردنوں تک دھنس گئے اب وہ بہت منّت و لجاجت کرتے تھے اور قارون آپ کو اللہ کی قسمیں اور رشتہ و قرابت کے واسطے دیتا تھا مگر آپ نے التفات نہ فرمایا یہاں تک کہ وہ بالکل دھنس گئے اور زمین برابر ہو گئی ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ قیامت تک دھنستے ہی چلے جائیں گے ، بنی اسرائیل نے کہا کہ کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے قارون کے مکان اور اس کے خزائن و اموال کی وجہ سے اس کے لئے بددعا کی یہ سن کر اللہ تعالٰی سے دعا کی تو اس کا مکان اور اس کے خزانے و اموال سب زمین میں دھنس گئے ۔(ف208)حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔
اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح (ف۲۰۹) کہنے لگے عجب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۲۱۰) اگر اللہ ہم پر احسان فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا، اے عجب، کافروں کا بھلا نہیں،
(ف209)اپنی اس آرزو پر نادم ہو کر ۔(ف210)جس کے لئے چاہے ۔
بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا (ف۲۱٤) وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (ف۲۱۵) تم فرماؤ، میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے (ف۲۱٦)
(ف214)یعنی اس کی تلاوت و تبلیغ اور اس کے احکام پر عمل لازم کیا ۔(ف215)یعنی مکّہ مکرّمہ میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو فتحِ مکّہ کے دن مکّۂ مکرّمہ میں بڑے شان و شکوہ اور عزّت و وقار اور غلبہ و اقتدار کے ساتھ داخل کرے گا وہاں کے رہنے والے سب آپ کے زیر فرمان ہوں گے شرک اور اس کے حامی ذلیل و رسوا ہوں گے ۔شانِ نُزول : یہ آیتِ کریمہ جحفہ میں نازِل ہوئی جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور آپ کو اپنے اور اپنے آباء کے جائے ولادت مکّہ مکرّمہ کا شوق ہوا تو جبریلِ امین آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ کیا حضور کو اپنے شہر مکّہ مکرّمہ کا شوق ہے ؟ فرمایا ہاں ، انہوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھی ۔ معاد کی تفسیر موت و قیامت و جنّت سے بھی کی گئی ہے ۔(ف216)یعنی میرا ربّ جانتا ہے کہ میں ہدایت لایا اور میرے لئے اس کا اجر و ثواب ہے اور مشرکین گمراہی میں ہیں اور سخت عذاب کے مستحق ۔شانِ نُزول : یہ آیت کُفّارِ مکّہ کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کہا ' اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ'یعنی آپ ضرور کھلی گمراہی میں ہیں ۔ (معاذ اللہ)
اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی (ف۲۱۷) ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا (ف۲۱۸)
(ف217)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ خِطاب ظاہر میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے اور مراد اس سے مؤمنین ہیں ۔(ف218)ان کے معین و مددگار نہ ہونا ۔
اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں (ف۲۱۹) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۲۲۰) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا (ف۲۲۱)
(ف219)یعنی کُفّار کی گمراہ کن باتوں کی طرف التفات نہ کرنا اور انہیں ٹھکرا دینا ۔(ف220)خَلق کو اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دو ۔(ف221)ان کی اعانت و موافقت نہ کرنا ۔