(ف2)شانِ نُزول : فارس اور روم کے درمیان جنگ تھی اورچونکہ اہلِ فارس مجوسی تھے اس لئے مشرکینِ عرب ان کا غلبہ پسند کرتے تھے ، رومی اہلِ کتاب تھے اس لئے مسلمانوں کو ان کا غلبہ اچھا معلوم ہوتا تھا ۔ خسرو پرویز بادشاہِ فارس نے رومیوں پر لشکر بھیجا اور قیصرِ روم نے بھی لشکر بھیجا یہ لشکر سرزمینِ شام کے قریب مقابل ہوئے اہلِ فارس غالب ہوئے ، مسلمانوں کو یہ خبر گراں گزری ، کُفّارِ مکّہ اس سے خوش ہو کر مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہلِ کتاب اور نصارٰی بھی اہلِ کتاب اور ہم بھی اُمّی اور اہلِ فارس بھی اُمّی ہمارے بھائی اہلِ فارس تمہارے بھائیوں رومیوں پر غالب ہوئے ہماری تمہاری جنگ ہوئی تو ہم بھی تم پر غالب ہوں گے ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان میں خبر دی گئی کہ چند سال میں پھر رومی اہلِ فارس پر غالب آ جائیں گے ، یہ آیتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کُفّارِ مکّہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ خدا کی قَسم رومی ضرور اہلِ فارس پر غلبہ پائیں گے اے اہلِ مکّہ تم اس وقت کے نتیجۂ جنگ سے خوش مت ہو ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خبر دی ہے ، اُ بَی بن خلف کافِر آپ کے مقابل کھڑا ہو گیا اور آپ کے اور اس کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط ہو گئی اگر نو سال میں اہلِ فارس غالب آ جائیں تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اُ بَی کو سو اونٹ دیں گے اور اگر رومی غالب آ جائیں تو اُ بَی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دے گا ۔ اس وقت تک قمار کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی ۔مسئلہ : اور حضرت اما م ابوحنیفہ و امام محمّد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے نزدیک حربی کُفّار کے ساتھ عقودِ فاسدہ ربٰوا وغیرہ جائز ہیں اور یہی واقعہ ان کی دلیل ہے ۔ القصّہ سات سال کے بعد اس خبر کا صدق ظاہر ہوا اور جنگِ حُدیبیہ یا بدر کے دن رومی اہلِ فارس پر غالب آئے اور رومیوں نے مدائن میں اپنے گھوڑے باندھے اور عراق میں رومیہ نامی ایک شہر کی بِنا رکھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شرط کے اونٹ اُ بَیْ کی اولاد سے وصول کر لئے کیونکہ وہ اس درمیان میں مر چکا تھا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ شرط کے مال کو صدقہ کر دیں ۔ یہ غیبی خبر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحتِ نبوّت اور قرآنِ کریم کے کلامِ الٰہی ہونے کی روشن دلیل ہے ۔ (خازن و مدارک)
چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف٦) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
(ف5)جن کی حد نو برس ہے ۔ (ف6)یعنی رومیوں کے غلبہ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی ۔ مراد یہ ہے کہ پہلے اہلِ فارس کا غلبہ ہونا اور دوبارہ اہلِ روم کا یہ سب اللہ تعالٰی کے امر و ارادے اور اس کے قضا و قدر سے ہے ۔
اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
(ف7)کہ اس نے کتابیوں کو غیرِ کتابیوں پر غلبہ دیا اور اسی روز بدر میں مسلمانون کو مشرکوں پر اور مسلمانوں کا صدق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ کریم کی خبر کی تصدیق ظاہر فرمائی ۔
کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱) اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳)
(ف11)یعنی آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ تعالٰی نے ان کو عبث اور باطل نہیں بنایا ان کی پیدائش میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔(ف12)یعنی ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا بلکہ ایک مدّت معیّن کر دی ہے جب وہ مدّت پوری ہو جاوے گی تو یہ فنا ہو جائیں گے اور وہ مدّت قیامت قائم ہونے کا وقت ہے ۔(ف13)یعنی بَعث بعد الموت پر ایمان نہیں لاتے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱٤) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱٦) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)
(ف14)کہ رسولوں کی تکذیب کے باعث ہلاک کئے گئے ان کے اجڑے ہوئے دیار اور ان کی بربادی کے آثار دیکھنے والوں کے لئے موجِبِ عبرت ہیں ۔(ف15)اہلِ مکّہ ۔(ف16)تو وہ ان پر ایمان نہ لائے ، پس اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔(ف17)ان کے حقوق کم کر کے اور انہیں بغیر جُرم کے ہلاک کر کے ۔(ف18)رسولوں کی تکذیب کر کے اپنے آپ کو مستحقِ عذاب بنا کر ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)
(ف21)اور کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ ان کا کلام منقطع ہو جائے گا وہ ساکت رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حُجّت نہ ہو گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ وہ رسوا ہوں گے ۔
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲٤)
(ف24)یعنی بُستانِ جنّت میں ان کا اکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے یہ خاطر داری جنّتی نعمتوں کے ساتھ ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سماع ہے کہ انہیں نغمات طرب انگیز سنائے جائیں گے جو اللہ تبارک و تعالٰی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے ۔
تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)
(ف27)پاکی بولنے سے یا تو اللہ تعالٰی کی تسبیح و ثناء مراد ہے اور اس کی احادیث میں بہت فضیلتیں وارد ہیں یا اس سے نماز مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا پنجگانہ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں ہے ؟ فرمایا ہاں اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات مذکور ہیں ۔(ف28)اس میں مغرب و عشاء کی نمازیں آ گئیں ۔(ف29)یہ نمازِ فجر ہوئی ۔
اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)
(ف30)یعنی آسمان اور زمین والوں پر اس کی حمد لازم ہے ۔(ف31) یعنی تسبیح کرو کچھ دن رہے ، یہ نمازِ عصر ہوئی ۔(ف32)یہ نمازِ ظہر ہوئی ۔حکمت : نماز کے لئے یہ پنجگانہ اوقات مقرر فرمائے گئے اس لئے کہ افضل اعمال وہ ہے جو مدام ہو اور انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ اپنے تمام اوقات نماز میں صرف کرے کیونکہ اس کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ کے حوائج و ضروریات ہیں تو اللہ تعالٰی نے بندہ پر عبادت میں تخفیف فرمائی اور دن کے اوّل و اوسط و آخر میں اور رات کے اوّل و آخر میں نمازیں مقرر کیں تاکہ ان اوقات میں مشغولِ نماز رہنا دائمی عبادت کے حکم میں ہو ۔ (مدارک و خازن)
وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳٤) اور زمین کو جٕلاتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳٦)
(ف33)جیسے کہ پرندکو انڈے سے اور انسان کو نطفہ سے اور مومن کو کافِر سے ۔(ف34)جیسے کہ انڈے کو پرند سے نطفہ کو انسان سے کافِر کو مومن سے ۔(ف35)یعنی خشک ہو جانے کے بعد مینہ برسا کر سبزہ اُگا کر ۔(ف36)قبروں سے بَعث و حساب کے لئے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
(ف38)کہ بغیر کسی پہلی معرفت اور بغیر کسی قرابت کے ایک دوسرے کے ساتھ مَحبت و ہمدردی ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
(ف39)زبانوں کا اختلاف تو یہ ہے کہ کوئی عربی بولتا ہے ، کوئی عجمی ، کوئی اور کچھ اور رنگتوں کا اختلاف یہ ہے کہ کوئی گورا ہے ، کوئی کالا ، کوئی گندمی اور یہ اختلاف نہایت عجیب ہے کیونکہ سب ایک اصل سے ہیں اور سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف٤۳) اور امید دلاتی (ف٤٤) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے ، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف٤۵)
(ف43)گرنے اور نقصان پہنچانے سے ۔ (ف44)بارش کی ۔(ف45)جو سوچیں اور قدرتِ الٰہی پر غور کریں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف٤٦) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف٤۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف٤۸)
(ف46)حضرت ابنِ عباس اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا کہ وہ دونوں بغیر کسی سہارے کے قائم ہیں ۔(ف47)یعنی تمہیں قبروں سے بلائے گا اس طرح کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام قبر والوں کے اٹھانے کے لئے صور پھونکیں گے تو اوّلین و آخرین میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو نہ اٹھے چنانچہ اس کے بعد ہی ارشاد فرماتا ہے ۔(ف48)یعنی قبروں سے زندہ ہو کر ۔
اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف٤۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(ف49)ہلاک ہونے کے بعد ۔(ف50)کیونکہ انسانوں کا تجربہ اور ان کی رائے یہی بتاتی ہے کہ شیٔ کا اعادہ اس کی ابتداء سے سہل ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی کے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ۔(ف51)کہ اس جیسا کوئی نہیں وہ معبودِ برحق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵٤) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵٦) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
(ف52)اے مشرکو ۔(ف53)وہ مثل (کہاوت) یہ ہے ۔(ف54)یعنی کیا تمہارے غلام تمہارے ساجھی ہیں ۔(ف55)مال و متاع وغیرہ ۔(ف56)یعنی آقا اور غلام کو اس مال و متاع میں یکساں استحقاق ہو ایسا کہ ۔(ف57)اپنے مال و متاع میں بغیر ان غلاموں کی اجازت سے تصرُّف کرنے سے ۔ (ف58)مدعٰی یہ ہے کہ تم کسی طرح اپنے مملوکوں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کر سکتے تو کتنا ظلم ہے کہ اللہ تعالٰی کے مملوکوں کو اس کا شریک قرار دو ۔ اے مشرکین تم اللہ تعالٰی کے سوا جنہیں اپنا معبود قرار دیتے ہو وہ اس کے بندے اور مملوک ہیں ۔
بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بےجانے (ف٦۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف٦۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف٦۲)
(ف59)جنہوں نے شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلمِ عظیم کیا ہے ۔(ف60)جہالت سے ۔(ف61)یعنی کوئی اس کا ہدایت کرنے والا نہیں ۔(ف62)جو انہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے ۔
تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہو کر (ف٦۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف٦٤) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف٦۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف٦٦)
(ف63)یعنی خلوص کے ساتھ دینِ الٰہی پر باستقامت و استقلال قائم رہو ۔(ف64)فطرت سے مراد دینِ اسلام ہے معنٰی یہ ہی کہ اللہ تعالٰی نے خَلق کو ایمان پر پیدا کیا جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچّہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اسی عہد پر جو' اَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ ' فرما کر لیا گیا ہے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ دینِ الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ تعالٰی نے خَلق کو پیدا کیا ہے ۔(ف65)یعنی دینِ الٰہی پر قائم رہنا ۔(ف66)اس کی حقیقت کو تو اس دین پر قائم رہو ۔
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
(ف70)مرض کی یا قحط کی یا اس کے سوا اور کوئی ۔(ف71)اس تکلیف سے خلاصی عنایت کرتا ہے اور راحت عطا فرماتا ہے ۔
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷٦) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)
(ف76)یعنی تندرستی اور وسعتِ رزق کا ۔(ف77)اور اِتراتے ہیں ۔(ف78)قحط یا خوف یا اور کوئی بَلا ۔(ف79)یعنی ان کی معصیتوں اور ان کے گناہوں کا ۔(ف80)اللہ تعالٰی کی رحمت سے اور یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہے کیونکہ مومن کا حال یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے تو شکر گزاری کرتا ہے اور جب سختی ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے ۔
تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انھیں کا کام بنا،
(ف81)اس کے ساتھ سلوک اور احسان کرو ۔(ف82)ان کے حق دو صدقہ دے کر اور مہمان نوازی کر کے ۔مسئلہ : اس آیت سے محارم کے نفقہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ (مدارک)(ف83)اور اللہ تعالٰی سے ثواب کے طالب ہیں ۔
اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸٤) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انھیں کے دُونے ہیں (ف۸٦)
(ف84)لوگوں کا دستور تھا کہ وہ دوست احباب اور آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیّت سے ہدیہ دیتے تھے کہ وہ انہیں اس سے زیادہ دے گا یہ جائز تو ہے لیکن اس پر ثواب نہ ملے گا اور اس میں برکت نہ ہو گی کیونکہ یہ عمل خالصاً لِلّٰہِ تَعالٰی نہیں ہوا ۔(ف85)نہ اس سے بدلہ لینا مقصود ہو نہ نام و نمود ۔(ف86)ان کا اجر و ثواب زیادہ ہو گا ایک نیکی کا دس گنا زیادہ دیا جائے گا ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
(ف87)پیدا کرنا ، روزی دینا ، مارنا ، جِلانا یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں ۔(ف88)یعنی بُتوں میں جنہیں تم اللہ تعالٰی کا شریک ٹھہراتے ہو ان میں ۔(ف89)اس کے جواب سے مشرکین عاجز ہوئے اور انہیں دَم مارنے کی مجال نہ ہوئی تو فرماتا ہے ۔
چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انھیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)
(ف90)شرک و معاصی کے سبب سے قحط اور امساکِ باراں اور قلّتِ پیداوار اور کھیتیوں کی خرابی اور تجارتوں کے نقصان اور آدمیوں اور جانوروں میں موت اور کثرتِ آتش زدگی اور غرق اور ہر شیٔ میں بے برکتی ۔(ف91)کُفر و معاصی سے اور تائب ہوں ۔
تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹٤) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)
(ف93)یعنی دینِ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو ۔(ف94)یعنی روزِ قیامت ۔(ف95)یعنی حساب کے بعد متفرق ہو جائیں گے جنّتی جنّت کی طرف جائیں گے اور دوزخی دوزخ کی طرف ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)
(ف98)بارش اور کثرتِ پیدوار کا ۔(ف99)دریا میں ان ہواؤں سے ۔(ف100)یعنی دریائی تجارتوں سے کسبِ معاش کرو ۔(ف101) ان نعمتوں کا اور اللہ کی توحید قبول کرو ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائےپھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰٤)
(ف102)جو ان رسولوں کے صدقِ رسالت پر دلیلِ واضح تھیں تو اس قوم میں سے بعض ایمان لائےاور بعض نے کُفر کیا ۔(ف103)کہ دنیا میں انہیں عذاب کر کے ہلاک کر دیا ۔(ف104)یعنی انہیں نجات دینا اور کافِروں کو ہلاک کرنا ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آخرت کی کامیابی اور اعداء پر فتح و نصرت کی بشارت دی گئی ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو بچائے گا اللہ تعالٰی اسے روزِ قیامت جہنّم کی آ گ سے بچائے گا یہ فرما کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ' کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ '۔
اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰٦) تو تو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
(ف105)قلیل یا کثیر ۔(ف106)یعنی کبھی تو اللہ تعالٰی ابرِ محیط بھیج دیتا ہے جس سے آسمان گھرا معلوم ہوتا ہے اور کبھی متفرق ٹکڑے علٰیحدہ علٰیحدہ ۔(ف107)یعنی مینہ کو ۔
تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف108)یعنی بارش کے اثر جو اس پر مرتّب ہوتے ہیں کہ بارش زمین کو سیراب کرتی ہے ، اس سے سبزہ نکلتا ہے ، سبزے سے پھل پیدا ہوتے ہیں ، پھلوں میں غذائیت ہوتی ہے اور اس سے جانداروں کے اجسام کے قوام کو مدد پہنچتی ہے اور یہ دیکھو کہ اللہ تعالٰی یہ سبزے اور پھل پیدا کر کے ۔(ف109)اور خشک میدان کو سبزہ زار بنا دیتا ہے جس کی یہ قدرت ہے ۔
اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)
(ف110)ایسی جو کھیتی اور سبزے کے لئے مُضِر ہو ۔(ف111)بعد اس کے کہ وہ سرسبز و شاداب تھی ۔(ف112)یعنی کھیتی زرد ہونے کے بعد ناشکری کرنے لگیں اور پہلی نعمت سے بھی مُکَر جائیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں رحمت پہنچتی ہے رزق ملتا ہے خوش ہو جاتے ہیں اور جب کوئی سختی آتی ہے کھیتی خراب ہوتی ہے تو پہلی نعمتوں سے بھی مُکَر جاتے ہیں ، چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالٰی پر توکُّل کرتے اور جب نعمت پہنچتی شکر بجا لاتے اور جب بَلا آتی صبر کرتے اور دعاء و استغفار میں مشغول ہوتے ۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی فرماتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی محرومی اور ان کے ایمان نہ لانے پر رنجیدہ نہ ہوں ۔
اس لیے کہ تم مردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱٤)
(ف113)یعنی جن کے دل مر چکے اور ان سے کسی طرح قبولِ حق کی توقع نہیں رہی ۔(ف114)یعنی حق کے سننے سے بہرے ہوں اور بہرے بھی ایسے کہ پیٹھ دے کر پھر گئے ان سے کسی طرح سمجھنے کی امید نہیں ۔
اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،
(ف115)یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے مراد ہیں ۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ یہاں مُردوں سے مراد کُفّار ہیں جو دنیوی زندگی تو رکھتے ہیں مگر پند و موعظت سے منتفع نہیں ہوتے اس لئے انہیں اموات سے تشبیہ دی گئی جو دارالعمل سے گزر گئے اور وہ پند و نصیحت سے منتفع نہیں ہو سکتے لہذا آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر سند لانا درست نہیں اور بکثرت احادیث سے مُردوں کا سننا اور اپنی قبروں پر زیارت کے لئے آنے والوں کو پہچاننا ثابت ہے ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱٦) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،
(ف116)اس میں انسان کے احوال کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے وہ ماں کے پیٹ میں جنین تھا پھر بچّہ ہو کر پیدا ہوا ، شیر خوار رہا یہ احوال نہایت ضعف کے ہیں ۔(ف117)یعنی بچپن کے ضعف کے بعد جوانی کی قوّت عطا فرمائی ۔(ف118)یعنی جوانی کی قوّت کے بعد ۔(ف119)ضعف اور قوّت اور جوانی اور بڑھاپا یہ سب اللہ کے پیدا کئے سے ہیں ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
(ف120)یعنی آخرت کو دیکھ کر اس کو دنیا یا قبر میں رہنے کی مدّت بہت تھوڑی معلوم ہو گی اس لئے وہ اس مدّت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں گے ۔(ف121)یعنی ایسے ہی دنیا میں غلط اور باطل باتوں پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور بَعث کا انکار کرتے تھے جیسے کہ اب قبر یا دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو قَسم کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں ان کی اس قَسم سے اللہ تعالٰی انہیں تمام اہلِ محشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں گے کہ ایسے مجمعِ عام میں قَسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں ۔
اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲٤) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
(ف122)یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مومنین ان کا رد کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم جھوٹ کہتے ہو ۔(ف123)یعنی جو اللہ تعالٰی نے اپنے سابق علم میں لوحِ محفوظ میں لکھا اسی کے مطابق تم قبروں میں رہے ۔(ف124)جس کے تم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف125)دنیا میں کہ وہ حق ہے ضرور واقع ہو گا ، اب تم نے جانا کہ وہ دن آ گیا اور اس کا آنا حق تھا تو اس وقت کا جاننا تمہیں نفع نہ دے گا جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،
(ف127)تاکہ انہیں تنبیہ ہو اور انذار اپنے کمال کو پہنچے لیکن انہوں نے اپنی سیاہ باطنی اور سخت دلی کے باعث کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جب کوئی آیتِ قرآن آئی اس کو جھٹلا دیا اور اس کا انکار کیا ۔
تو صبر کرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)
(ف129)ان کی ایذا و عداوت پر ۔(ف130)آپ کی مدد فرمانے کا اور دینِ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے کا ۔(ف131)یعنی یہ لوگ جنہیں آخرت کا یقین نہیں ہے اور بَعث و حساب کے منکِر ہیں ان کی شدّتیں اور ان کے انکار اور ان کے نالائق حرکات آپ کے لئے طیش اور قلق کا باعث نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے حق میں عذاب کی دعا کرنے میں جلدی فرمائیں ۔