سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲) اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے (ف۳) اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
(ف2)یعنی ہر چیز کا مالک ، خالِق اور حاکم اللہ تعالٰی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے تو وہی حمد و ثنا کا مستحق اور سزا وار ہے ۔(ف3)یعنی جیسا دنیا میں حمد کا مستحق اللہ تعالٰی ہے ویسا ہی آخرت میں بھی حمد کامستحق وہی ہے کیونکہ دونوں جہان اسی کی نعمتوں سے بھرے ہوئے ہیں دنیا میں تو بندوں پر اس کی حمد و ثنا واجب ہے کیونکہ یہ دارالتکلیف ہے اور آخرت میں اہلِ جنّت نعمتوں کے سرور اور راحتوں کی خوشی میں اس کی حمد کریں گے ۔
جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے (ف٤) اور جو زمین سے نکلتا ہے (ف۵) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف٦) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۷) اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،
(ف4)یعنی زمین کے اندر داخل ہوتا ہے جیسے کہ بارش کا پانی اور مردے اور دفینے ۔(ف5)جیسے کہ سبزہ اور درخت اور چشمے اور کانیں اور بوقتِ حشر مُردے ۔(ف6)جیسے کہ بارش برف اولے اور طرح طرح کی برکتیں اور فرشتے ۔(ف7)جیسے کہ فرشتے اور دعائیں اور بندوں کے عمل ۔
اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی (ف۸) تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا (ف۹) اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے (ف۱۰)
(ف8)یعنی انہوں نے قیامت کے آنے کا انکار کیا ۔(ف9)یعنی میرا ربّ غیب کا جاننے والا ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو قیامت کا آنا اور اس کے قائم ہونے کا وقت بھی اس کے علم میں ہے ۔(ف10)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور کافر بولے (ف۱۵) کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں (ف۱٦) جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہو کر بالکل ریزہ ہو کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،
(ف15)یعنی کافِروں نے آپس میں متعجّب ہو کر کہا ۔(ف16)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے (ف۱۷) بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۸) عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،
(ف17)جو وہ ایسی عجیب وغریب باتیں کہتے ہیں اللہ تعالٰی نے کُفّار کے اس مقولہ کا رد فرمایا کہ یہ دونوں باتیں نہیں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان دونوں سے مبرّا ہیں ۔(ف18)یعنی کافِر بَعث و حساب کا انکار کرنے والے ۔
تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین (ف۱۹) ہم چاہیں تو انھیں (ف۲۰) زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس (ف۲۱) میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے (ف۲۲)
(ف19)یعنی کیا وہ اندھے ہیں کہ انہوں نے آسمان و ز مین کی طرف نظر ہی نہیں ڈالی اور اپنے آگے پیچھے دیکھا ہی نہیں جو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ ہر طرف سے احاطہ میں ہیں اور زمین و آسمان کے اقطار سے باہر نہیں جا سکتے اور مُلکِ خدا سے نہیں نکل سکتے اور انہیں بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ، انہوں نے آیات اور رسول کی تکذیب و انکار کے دہشت انگیز جُرم کا ارتکاب کرتے ہوئے خوف نہ کھایا اور اپنی اس حالت کا خیال کر کے نہ ڈرے ۔(ف20)ان کی تکذیب و انکار کی سزائیں قارون کی طرح ۔(ف21)نظر و فکر ۔(ف22)جو دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی بَعث پر اور اس کے منکِر کے عذاب پر اور ہر شئے پر قادر ہے ۔
اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا (ف۲۳) اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! (ف۲٤) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا (ف۲۵)
(ف23)یعنی نبوّت اور کتاب اور کہا گیا ہے مُلک اور ایک قول یہ ہے کہ حُسنِ صوت وغیرہ تمام چیزیں جو آپ کو خصوصیت کے ساتھ عطا فرمائی گئیں اور اللہ تعالٰی نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا ۔(ف24)جب وہ تسبیح کریں ان کے ساتھ تسبیح کرو چنانچہ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیح سنی جاتی اور پرند جھک آتے ، یہ آپ کا معجِزہ تھا ۔(ف25)کہ آپ کے دستِ مبارک میں آ کر مثل موم یا گوندھے ہوئے آٹے کے نرم ہو جاتا اور آپ اس سے جو چاہتے بغیر آ گ کے اور بغیر ٹھونکے پیٹے بنا لیتے ۔ اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے حالات کی جستجو کے لئے اس طرح نکلتے کہ لوگ آپ کو نہ پہچانیں اور جب کوئی ملتا اور آپ کو نہ پہچانتا تو اس سے آپ دریافت کرتے کہ داؤد کیسا شخص ہے ؟ سب لوگ تعریف کرتے ، اللہ تعالٰی نے ایک فرشتہ بصورتِ انسان بھیجا ، حضرت داؤد علیہ السلام نے اس سے بھی حسبِ عادت یہی سوال کیا تو وہ فرشتہ نے کہا کہ داؤد ہیں تو بہت ہی اچھے آدمی ،کاش ان میں ایک خصلت نہ ہوتی ، اس پر آپ متوجِّہ ہوئے اور فرمایا کہ بندۂ خدا کون سی خصلت ؟ اس نے کہا کہ وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے لیتے ہیں ، یہ سن کر آپ کے خیال میں آیا کہ اگر آپ بیت المال سے وظیفہ نہ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا اس لئے آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ ان کے لئے کوئی ایسا سبب کر دے جس سے آپ اپنے اہل و عیال کا گذارہ کریں اور بیت المال (خزانۂ شاہی) سے آپ کو بے نیازی ہو جائے ، آپ کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کے لئے لوہے کو نرم کیا اور آپ کو صنعتِ زِرہ سازی کا علم دیا ، سب سے پہلے زِرہ بنانے والے آپ ہی ہیں ، آپ روزانہ ایک زِرہ بناتے تھے و ہ چار ہزار کو بِکتی تھی ، اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ فرماتے اور فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کرتے ۔ اس کا بیان آیت میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کر کے ان سے فرمایا ۔
اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ (ف۲۷) اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا (ف۲۸) اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کام کرتے اس کے رب کے حکم سے (ف۲۹) ادر جو ان میں ہمارے حکم سے پھرے (ف ۳۰) ہم اسے بھڑ کتی آگ کا عذاب چکھائیں گے،
(ف27)چنانچہ آپ صبح کو دمشق سے روانہ ہوتے تو دوپہر کو قیلولہ اُصُطخر میں فرماتے جو مُلکِ فارَس میں ہے اور دمشق سے ایک مہینہ کی راہ پر ہے اور شام کو اُصُطخر سے روانہ ہوتے تو شب کو کابل میں آرام فرماتے ، یہ بھی تیز سوار کے لئے ایک مہینہ کا راستہ ہے ۔(ف28)جو تین روز سرزمینِ یمن میں پانی کی طر ح جاری رہا اور ایک قول یہ ہے کہ ہر مہینہ میں تین روز جاری رہتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کو پِگھلا دیا جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کیا تھا ۔(ف29)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے جِنّات کو مطیع کیا ۔(ف30)اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی فرمانبرداری نہ کرے ۔
اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل (ف۳۱) اور تصویریں (ف۳۲) اور بڑے حوضوں کے برابر لگن (ف۳۳) اور لنگردار دیگیں (ف۳٤) اے داؤد والو! شکر کرو (ف۳۵) اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے، پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
(ف31)اور عالی شان عمارتیں اور مسجدیں اور انہیں میں سے بیت المقدس بھی ہے ۔(ف32)درندوں اور پرندوں وغیرہ کی تانبے اور بلور اور پتّھر وغیرہ سے اور اس شریعت میں تصویر بنانا حرام نہ تھا ۔(ف33)اتنے بڑے کہ ایک لگن میں ہزار آدمی کھاتے ۔(ف34)جو اپنے پایوں پر قائم تھیں اور بہت بڑی تھیں حتّٰی کہ اپنی جگہ سے ہٹائی نہیں جا سکتی تھیں سیڑھیاں لگا کر ان پرچڑھتے تھے یہ یمن میں تھیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے فرمایا کہ ۔(ف35)اللہ تعالٰی کا ان نعمتوں پر جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اس کی اطاعت بجا لا کر ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
(ف36)حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کی وفات کا حال جِنّات پر ظاہر نہ ہوتا کہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسبِ عادت نماز کے لئے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہو گئے ، جِنّات حسبِ دستور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اورحضرت سلیمان علیہ السلام کا عرصہ دراز تک اسی حال پر رہنا ان کے لئے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا کیونکہ وہ بارہا دیکھتے تھے کہ آپ ایک ماہ ، دو۲ دو۲ ماہ اور اس سے زیادہ عرصہ تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں اورآپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتّٰی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جِنّات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکمِ الٰہی دیمک نے آپ کا عصا کھا لیا اور آپ کا جسمِ مبارک جو لاٹھی کے سہارے سے قائم تھا زمین پر آیا ، اس وقت جِنّات کو آپ کی وفات کا علم ہوا ۔(ف37)کہ وہ غیب نہیں جانتے ۔(ف38)تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات سے مطلع ہوتے ۔(ف39)اور ایک سال تک عمارت کے کاموں میں تکلیفِ شاقّہ اٹھاتے نہ رہتے ۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بِنا اس مقام پر رکھی تھی جہاں حضرت موسٰی علیہ السلام کا خیمہ نصب کیا گیا تھا ، اس عمارت کے پورا ہونے سے قبل حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آ گیا تو آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی تکمیل کی وصیّت فرمائی چنانچہ آپ نے شیاطین کو اس کی تکمیل کا حکم دیا جب آپ کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے دعا کی کہ آپ کی وفات شیاطین پر ظاہر نہ ہو تاکہ وہ عمارت کی تکمیل تک مصروفِ عمل رہیں اور انہیں جو علمِ غیب کا دعوٰی ہے وہ باطل ہو جائے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف تریپن سال کی ہوئی تیرہ سال کی عمر شریف میں آپ سر یر آرائے سلطنت ہوئے چالیس سال حکمرانی فرمائی ۔
بیشک سبا (ف٤۰) کے لیے ان کی آبادی میں (ف٤۱) نشانی تھی (ف٤۲) دو باغ دہنے اور بائیں (ف٤۳) اپنے رب کا رزق کھاؤ (ف٤٤) اور اس کا شکر ادا کرو (ف٤۵) پاکیزہ شہر اور (ف٤٦) بخشنے والا رب (ف٤۷)
(ف40)سبا عرب کا ایک قبیلہ ہے جو اپنے جد کے نام سے مشہور ہے اور وہ جد سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان ہے ۔(ف41)جو حدودِ یمن میں واقع تھی ۔(ف42)اللہ تعالٰی کی وحدانیّت و قدرت پر دلالت کرنے والی اور وہ نشانی کیا تھی اس کا آگے بیان ہوتا ہے ۔(ف43)یعنی ان کی وادی کے داہنے اور بائیں دور تک چلے گئے اور ان سے کہا گیا تھا ۔(ف44)باغ ایسے کثیر الثمر تھے کہ جب کوئی شخص سر پر ٹوکرہ لئے گزرتا تو بغیر ہاتھ لگائے قِسم قِسم کے میووں سے اس کا ٹوکرہ بھر جاتا ۔(ف45)یعنی اس نعمت پر اس کی طاعت بجا لاؤ ۔(ف46)لطیف آب و ہوا صاف ستھری سرزمین ، نہ اس میں مچھر ، نہ مکھی ، نہ کھٹمل ، نہ سانپ ، نہ بچھو ، ہوا کی پاکیزگی کا یہ عالَم کہ اگر کہیں اور کا کوئی شخص اس شہر میں گزر جائے اور اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوں تو سب مر جائیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ شہرِ سبا صنعا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر تھا ۔(ف47)یعنی اگر تم ربّ کی روزی پر شکر کرو اور اطاعت بجا لاؤ تو وہ بخشش فرمانے والا ہے ۔
تو انہوں نے منہ پھیرا (ف٤۸) تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا (ف٤۹) اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انھیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ (ف۵۰) اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں (ف۵۱)
(ف48)اس کی شکر گزاری سے اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی ۔ وہب کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی طرف تیرہ نبی بھیجے جنہوں نے ان کو حق کی دعوتیں دیں اور اللہ تعالٰی کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کے عذاب سے ڈرایا مگر وہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے انبیاء کو جھٹلا دیا اور کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم پر خدا کی کوئی بھی نعمت ہو تم اپنے ربّ سے کہہ دو کہ اس سے ہو سکے تو وہ ان نعمتوں کو روک لے ۔(ف49)عظیم سیلاب جس سے ان کے باغ اموال سب ڈوب گئے اور ان کے مکانات ریت میں دفن ہوگئے اور اس طرح تباہ ہوئے کہ ان کی تباہی عرب کے لئے مثل بن گئی ۔(ف50)نہایت بدمزہ ۔(ف51)جیسی ویرانوں میں جم آتی ہیں اس طرح کی جھاڑیوں اور وحشت ناک جنگل کو جو ان کے خوش نما باغوں کی جگہ پیدا ہو گیا تھا بطریقِ مشاکلت باغ فرمایا ۔
اور ہم نے کیے تھے ان میں (ف۵۳) اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی (ف۵٤) سر راہ کتنے شہر (ف۵۵) اور انھیں منزل کے اندازے پر رکھا (ف۵٦) ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے (ف۵۷)
(ف53)یعنی شہرِ سبا میں ۔(ف54)کہ وہاں کے رہنے والوں کو وسیع نعمتیں اور پانی اور درخت اور چشمے عنایت کئے ، مراد ان سے شام کے شہر ہیں ۔(ف55)قریب قریب سبا سے شام تک سفر کرنے والوں کو اس راہ میں توشہ اور پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ ہوتی ۔(ف56)کہ چلنے والا ایک مقام سے صبح چلے تو دوپہر کو ایک آبادی میں پہنچ جائے جہاں ضروریات کے تمام سامان ہوں اور جب دوپہر کو چلے تو شام کو ایک شہر میں پہنچ جائے ، یمن سے شام تک کا تمام سفر اسی آسائش کے ساتھ طے ہو سکے اور ہم نے ان سے کہا کہ ۔(ف57)نہ راتوں میں کوئی کھٹکا ، نہ دنوں میں کوئی تکلیف ، نہ دشمن کا اندیشہ ، نہ بھوک پیاس کا غم ، مالداروں میں حسد پیدا ہوا کہ ہمارے اور غریبوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہا قریب قریب کی منزلیں ہیں لوگ خراماں خراماں ہوا خوری کرتے چلے جاتے ہیں ، تھوڑی دیر کے بعد دوسری آبادی آ جاتی ہے وہاں آرام کرتے ہیں ، نہ سفر میں تکان ہے نہ کوفت ، اگر منزلیں دور ہوتیں ، سفر کی مدّت دراز ہوتی ، راہ میں پانی نہ ملتا ، جنگلوں اور بیابانوں میں گزر ہوتا تو ہم توشہ ساتھ لیتے ، پانی کے انتظام کرتے ، سواریاں اور خدام ساتھ رکھتے ، سفر کا لطف آتا اور امیر و غریب کا فرق ظاہر ہوتا ، یہ خیال کر کے انہوں نے کہا۔
تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال (ف۵۸) اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انھیں کہانیاں کردیا (ف۵۹) اور انھیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا (ف٦۰) بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے (ف٦۱)
(ف58)یعنی ہمارے اور شام کے درمیان جنگل اور بیابان کر دے کہ بغیر توشہ اور سواری کے سفر نہ ہو سکے ۔(ف59)بعد والوں کے لئے کہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کریں ۔(ف60)قبیلہ قبیلہ منتشر ہو گیا وہ بستیاں غرق ہوگئیں اور لوگ بے خانماں ہو کر جُدا جُدا بلاد میں پہنچے ۔ غسان شام میں اور ازل عمّان میں اور خزاعہ تہامہ میں اور آلِ خزیمہ عراق میں اور اوس خزرج کا جد عمروبن عامر مدینہ میں ۔(ف61)اور صبر و شکر مومن کی صفت ہے کہ جب وہ بَلا میں مبتلا ہوتا ہے صبر کرتا ہے اور جب نعمت پاتا ہے شکر بجا لاتا ہے ۔
اور بیشک ابلیس نے انھیں اپنا گمان سچ کر دکھایا (ف٦۲) تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (ف٦۳)
(ف62)یعنی ابلیس جو گمان رکھتا تھا کہ بنی آدم کو وہ شہوت و حرص اور غضب کے ذریعہ گمراہ کر دے گا ۔ یہ گمان اس نے اہلِ سبا پر بلکہ تمام کافِروں پر سچّا کر دکھایا کہ وہ اس کے متبع ہو گئے اور اس کی اطاعت کرنے لگے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ شیطان نے نہ کسی پر تلوار کھینچی ، نہ کسی پر کوڑے مارے جھوٹے ، وعدوں اور باطل امیدوں سے اہلِ باطل کو گمراہ کر دیا ۔(ف63)انہوں نے اس کا اِتّباع نہ کیا ۔
اور شیطان کا ان پر (ف٦٤) کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھا دیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
تم فرماؤ (ف٦۵) پکارو انھیں جنہیں اللہ کے سوا (ف٦٦) سمجھے بیٹھے ہو (ف٦۷) وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
(ف65)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّہ مکرّمہ کے کافِروں سے ۔(ف66)اپنا معبود ۔(ف67)کہ وہ تمہاری مصیبتیں دور کریں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی نفع و ضرر میں ۔
اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے (ف٦۸) کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا (ف٦۹) اور وہی ہے بلند بڑائی والا،
(ف68)بطریقِ استبشار ۔(ف69)یعنی شفاعت کرنے والوں کو ایمانداروں کی شفاعت کا اذن دیا ۔
تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے (ف۷۰) تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۷۱) اور بیشک ہم یا تم (ف۷۲) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں (ف۷۳)
(ف70)یعنی آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین سے سبزہ اُگا کر ۔ (ف71)کیونکہ اس سوال کا بَجُز اس کے اورکوئی جواب ہی نہیں ۔(ف72)یعنی دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کے لئے ان دونوں حالوں میں سے ایک حال ضروری ہے ۔(ف73)اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص صرف اللہ تعالٰی کو روزی دینے والا ، پانی برسانے والا ، سبزہ اُگانے والا جانتے ہوئے بھی بُتوں کو پُوجے جو کسی ایک ذرّہ بھر چیز کے مالک نہیں (جیسا کہ اوپر آیات میں بیان ہو چکا ) وہ یقینا کُھلی گمراہی میں ہے ۔
م فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں (ف۷۷) ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،
(ف77)یعنی جن بُتوں کو تم نے عبادت میں شریک کیا ہے مجھے دکھاؤ تو کس قابل ہیں ، کیا وہ کچھ پیدا کرتے ہیں ، روزی دیتے ہیں اور جب یہ کچھ نہیں تو ان کو خدا کا شریک بنانا اور ان کی عبادت کرنا کیسی عظیم خطا ہے اس سے باز آؤ ۔
اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے (ف۷۸) خوشخبری دیتا (ف۷۹) اور ڈر سناتا (ف۸۰) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۸۱)
(ف78)اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت عامّہ ہے تمام انسان اس کے احاطہ میں ہیں گورے ہوں یا کالے ، عربی ہوں یا عجمی ، پہلے ہوں یا پچھلے سب کے لئے آپ رسول ہیں اور وہ سب آپ کے اُمّتی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا فرمائی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ دی گئیں (۱) ایک ماہ کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی (۲) تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کی گئی کہ جہاں میرے اُمّتی کو نماز کا وقت ہو نماز پڑھے (۳) اور میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں (۴) اور مجھے مرتبۂ شفاعت عطا کیا گیا (۵) اور انبیاء خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ حدیث میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فضائلِ مخصوصہ کا بیان ہے جن میں سے ایک آپ کی رسالتِ عا مّہ ہے جو تمام جن و انس کو شامل ہے خلاصہ یہ کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام خَلق کے رسول ہیں اور یہ مرتبہ خاص آپ کا ہے جو قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے سورۂ فرقان کی ابتداء میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے ۔ (خازن)(ف79)ایمان والوں کو اللہ تعالٰی کے فضل کی ۔(ف80)کافِروں کے اس کے عدل کا ۔(ف81)اور اپنے جہل کی وجہ سے آپ کی مخالفت کرتے ہیں ۔
اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں (ف۸٤) اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے (ف۸۵) ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے (ف۸٦) اگر تم نہ ہوتے (ف۸۷) تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
(ف84)توریت اور انجیل وغیرہ ۔(ف85)یعنی تابع اور پیرو تھے ۔(ف86)یعنی اپنے سرداروں سے ۔ (ف87)اور ہمیں ایمان لانے سے نہ روکتے ۔
اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا (ف۸۸) جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے (ف۸۹) جب عذاب دیکھا (ف۹۰) اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے (ف۹۱) وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے (ف۹۲)
(ف88)یعنی تم شب و روز ہمارے لئے مَکَر کرتے تھے اور ہمیں ہر وقت شرک پر ابھارتے تھے۔(ف89)دونوں فریق تابع بھی اور متبوع بھی ، پیرو بھی اور ان کے بہکانے والے بھی ایمان نہ لانے پر ۔ (ف90)جہنّم کا ۔(ف91)خواہ بہکانے والے ہوں یا ان کے کہنے میں آنے والے تمام کُفّار کی یہی سزا ہے ۔(ف92)دنیا میں کُفر اور معصیت ۔
اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں (ف۹۳)
(ف93)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسکینِ خاطر فرمائی گئی کہ آپ ان کُفّار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں ، کُفّار کا انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی دستور رہا ہے اور مالدار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے ہیں ۔شانِ نزول : دو شخص شریکِ تجارت تھے ان میں سے ایک مُلکِ شام کو گیا اور ایک مکّہ مکرّمہ میں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے اور اس نے مُلکِ شام میں حضور کی خبرسنی تو اپنے شریک کو خط لکھا اور اس سے حضور کا مفصّل حال دریافت کیا ، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی نبوّت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے چھوٹے درجے کے حقیر و غریب لوگوں کے اور کسی نے ان کا اِتّباع نہیں کیا جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے تجارتی کام چھوڑ کر مکّہ مکرّمہ آیا اور آتے ہی اپنے شریک سے کہا کہ مجھے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پتہ بتاؤ اور معلوم کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ دنیا کو کیا دعوت دیتے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟ فرمایا بُت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا اور آپ نے احکامِ اسلام بتائے ، یہ باتیں اس کے دل میں اثر کر گئیں اور وہ شخص پچھلی کتابوں کا عالِم تھا کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے شک اللہ تعالٰی کے رسول ہیں ، حضور نے فرمایا تم نے یہ کیسے جانا ؟ اس نے کہا کہ جب کبھی کوئی نبی بھیجا گیا پہلے چھوٹے درجے کے غریب لوگ ہی اس کے تابع ہوئے یہ سنتِ الٰہیہ ہمیشہ ہی جاری رہی ۔ اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں (ف۹٤)
(ف94)یعنی جب دنیا میں ہم خوش حال ہیں تو ہمارے اعمال و افعال اللہ تعالٰی کو پسند ہوں گے اور ایسا ہوا تو آخرت میں عذاب نہیں ہو گا ، اللہ تعالٰی نے ان کے اس خیالِ باطل کا ابطال فرما دیا کہ ثوابِ آخرت کو معیشتِ دنیا پر قیاس کرنا غلط ہے ۔
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۹۵) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،
(ف95)بطریقِ اِبتلا و امتحان تو دنیا میں روزی کی کشائش رضائے الٰہی کی دلیل نہیں اور ایسے ہی اس کی تنگی اللہ تعالٰی کی ناراضی کی دلیل نہیں ، کبھی گنہگار پر وسعت کرتا ہے ، کبھی فرمانبردار پر تنگی ، یہ اس کی حکمت ہے ثوابِ آخرت کو اس پر قیاس کرنا غلط و بیجا ہے ۔
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی (ف۹٦) ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ (ف۹۷) ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں (ف۹۸)(
(ف96)یعنی مال کسی کے لئے سببِ قرب نہیں سوائے مومنِ صالح کے جو اس کو راہِ خدا میں خرچ کرے اور اولاد کسی کے لئے سببِ قرب نہیں سوائے اس مومن کے جو انہیں نیک علم سکھائے ، دین کی تعلیم دے اور صالح و متقی بنائے ۔(ف97)ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنے تک اور اس سے بھی زیادہ جتنا خدا چاہے ۔(ف98)یعنی جنّت کے منازلِ بالا میں ۔
اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں (ف۹۹) وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے (ف۱۰۰)(
(ف99)یعنی قرآنِ کریم پر زبانِ طعن کھولتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنی ان باطل کاریوں سے وہ لوگوں کو ایمان لانے سے روک دیں گے اور ان کا یہ مَکَر اسلام کے حق میں چل جائے گا اور وہ ہمارے عذاب سے بچ رہیں گے کیونکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا ہی نہیں ہے تو عذاب ثواب کیسا ۔(ف100)اور ان کی مکّاریاں انہیں کچھ کام نہ آئیں گی ۔
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے (ف۱۰۱) اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (ف۱۰۲) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (ف۱۰۳)
(ف101)اپنے حسبِ حکمت ۔(ف102)دنیا میں یا آخرت میں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا ۔ دوسری حدیث میں ہے صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ، معاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے ، تو اضُع سے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔(ف103)کیونکہ اس کے سوا جو کوئی کسی کو دیتا ہے خواہ بادشاہ لشکر کو یا آقا غلام کو یا صاحبِ خانہ اپنے عیال کو وہ اللہ تعالٰی کی پیدا کی ہوئی اور اس کی عطا فرمائی ہوئی روزی میں سے دیتا ہے ، رزق اور اس سے منتفع ہونے کے اسباب کا خالِق سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی نہیں وہی رزّاقِ حقیقی ہے ۔
وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ (ف۱۰٦) بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے (ف۱۰۷) ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے (ف۱۰۸)
(ف106)یعنی ہماری ان سے کوئی دوستی نہیں تو ہم کس طرح ان کے پُوجنے سے راضی ہو سکتے تھے ہم اس سے بَری ہیں ۔(ف107)یعنی شیاطین کو کہ ان کی اطاعت کے لئے غیرِ خدا کو پُوجتے تھے ۔(ف108)یعنی شیاطین پر ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۱۱۱) پڑھی جائیں تو کہتے ہیں (ف۱۱۲) یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے (ف۱۱۳) اور کہتے ہیں (ف۱۱٤) یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا (ف۱۱۵) جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
(ف111)یعنی آیاتِ قرآن زبانِ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ۔(ف112)حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت ۔(ف113)یعنی بُتوں سے ۔(ف114)قرآن شریف کی نسبت ۔(ف115)یعنی قرآن شریف کو ۔
اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا (ف۱۱٦)
(ف116)یعنی آپ سے پہلے مشرکینِ عرب کے پاس نہ کوئی کتاب آئی نہ رسول جس کی طرف اپنے دین کی نسبت کر سکیں تو یہ جس خیال پر ہیں ان کے پاس اس کی کوئی سند نہیں وہ ان کے نفس کا فریب ہے ۔
اور ان سے اگلوں نے (ف۱۱۷) جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا (ف۱۱۸) پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا (ف۱۱۹)
(ف117)یعنی پہلی اُمّتوں نے مثل قریش کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو ۔(ف118)یعنی جو قوّت و کثرتِ مال و اولاد و طولِ عمر پہلوں کو دی گئی تھی مشرکینِ قریش کے پاس تو اس کا دسواں حصّہ بھی نہیں ، ان کے پہلے تو ان سے طاقت و قوّت مال و دولت میں دس گنے سے زیادہ تھے ۔(ف119)یعنی ان کو ناپسند رکھنا اور عذاب دینا اور ہلاک فرمانا یعنی پہلے مکذِّبین نے جب میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میں نے اپنے عذاب سے انہیں ہلاک کیا اور ان کی طاقت و قوّت اور مال و دولت کوئی چیز بھی کام نہ آئی ان لوگوں کی کیا حقیقت ہے انہیں ڈرنا چاہئے ۔
تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں (ف۱۲۰) کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو (ف۱۲۱) دو دو (ف۱۲۲) اور اکیلے اکیلے (ف۱۲۳) پھر سوچو (ف۱۲٤) کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے (ف۱۲۵) ایک سخت عذاب کے آگے (ف۱۲٦)
(ف120)اگر تم نے اس پر عمل کیا تو تم پر حق واضح ہو جائے گا اور تم وَساوِس و شبہات اور گمراہی کی مصیبت سے نجات پاؤ گے وہ نصیحت یہ ہے ۔(ف121)مَحض طلبِ حق کی نیّت سے اپنے آپ کو طرفداری اور تعصّب سے خالی کر کے ۔(ف122)تاکہ باہم مشورہ کر سکو اور ہر ایک دوسرے سے اپنی فکر کا نتیجہ بیان کر سکے اور دونوں انصاف کے ساتھ غور کر سکیں ۔(ف123)تاکہ مجمع اور اژدھام سے طبیعت متوحّش نہ ہو اور تعصّب اور طرفداری و مقابلہ و لحاظ وغیرہ سے طبیعتیں پاک رہیں اور اپنے دل میں انصاف کرنے کا موقع ملے ۔(ف124)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت غور کرو کہ کیا جیسا کہ کُفّار آپ کی طرف جنّون کی نسبت کرتے ہیں اس میں سچّائی کا کچھ شائبہ بھی ہے ؟ تمہارے اپنے تجربہ میں قریش میں یا نوعِ انسان میں کوئی شخص بھی اس مرتبہ کا عاقل نظر آیا ہے ؟ کیا ایسا ذہین ایسا صائب الرائے دیکھا ہے ، ایسا سچّا ، ایسا پاک نفس کوئی اور بھی پایا ہے ؟ جب تمہارا نفس حکم کر دے اور تمہارا ضمیر مان لے کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان اوصاف میں یکتا ہیں تو تم یقین جانو ۔(ف125)اللہ تعالٰی کے نبی ۔(ف126)اور وہ عذابِ آخرت ہے ۔
م فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۱۳۱) اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے (ف۱۳۲) بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے (ف۱۳۳)
(ف131)کُفّارِ مکّہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ گمراہ ہو گئے ۔ (معاذ اللہ تعالٰی) اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ میں بہکا تو اس کا وبال میرے نفس پر ہے ۔(ف132)حکمت و بیان کی کیونکہ راہ یاب ہونا اسی کی توفیق و ہدایت پر ہے ۔،انبیاء سب معصوم ہوتے ہیں گناہ ان سے نہیں ہو سکتا اور حضور تو سید الانبیاء ہیں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، خَلق کو نیکیوں کی راہیں آپ کے اِتّباع سے ملتی ہیں باوجود جلالتِ منزلت و رفعتِ مرتبت کے آپ کو حکم دیا گیا کہ ضلالت کی نسبت علٰی سبیلِ الفرض اپنے نفس کی طرف فرمائیں تاکہ خَلق کو معلوم ہو کہ ضلالت کا منشاء انسان کا نفس ہے ، جب اس کو اس پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس سے ضلالت پیدا ہوتی ہے اور ہدایت حضرتِ حق عزّ وعلا کی رحمت و موہبت سے حاصل ہوتی ہے نفس اس کا منشاء نہیں ۔(ف133)ہر راہ یاب اور گمراہ کو جانتا ہے اور ان کے عمل و کردار سے باخبر ہے کوئی کتنا ہی چُھپائے کسی کا حال اس سے چُھپ نہیں سکتا ۔ عرب کے ایک مایہ ناز شاعر اسلام لائے تو کُفّار نے ان سے کہا کہ کیا تم اپنے دین سے پھر گئے اور اپنے بڑے شاعر اور زبان کے ماہر ہو کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے ؟ انہوں نے کہا ہاں وہ مجھ پر غالب آ گئے ، قرآنِ کریم کی تین آیتیں میں نے سنیں اور چاہا کہ ان کے قافیہ پر تین شِعر کہوں ہر چندکوشش کی ، محنت اٹھائی ، اپنی قوّت صَرف کر دی مگر یہ ممکن نہ ہو سکا تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بشر کا کلام نہیں وہ آیتیں ' قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ' سے 'سَمِیْع قَرِیْب ' تک ہیں ۔ (روح البیان)
اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۳۷) اور اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے (ف۱۳۸)
(ف135)اور کوئی جگہ بھاگنے اور پناہ لینے کی نہ پا سکیں گے ۔(ف136)جہاں بھی ہوں گے کیونکہ کہیں بھی ہوں اللہ تعالٰی کی پکڑ سے دور نہیں ہو سکتے اس وقت حق کی معرفت کے لئے مضطر ہوں گے ۔(ف137)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ۔(ف138)یعنی اب مکلَّف ہونے کے محل سے دور ہو کر توبہ و ایمان کیسے پا سکیں گے ۔
کہ پہلے (ف۱۳۹) تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بےدیکھے پھینک مارتے ہیں (ف۱٤۰) دور مکان سے (ف۱٤۱)
(ف139)یعنی عذاب دیکھنے سے پہلے ۔(ف140)یعنی بے جانے کہہ گزرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں کہا تھا کہ وہ شاعر ہیں ، ساحر ہیں ، کاہن ہیں اور انہوں نے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شعر و سحر و کہانت کا صدور نہ دیکھا تھا ۔(ف141)یعنی صدق و واقعیّت سے دور کہ ان کے ان مطاعن کو صدق سے قرب و نزدیکی بھی نہیں ۔