سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(ف2)اپنے انبیاء کی طرف ۔(ف3)فرشتوں میں اور ان کے سوا اور مخلوق میں ۔
اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف٤) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)
(ف5)کہ اس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ، آسمان کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ، اپنی راہ بتانے اور حق کی دعوت دینے کے لئے رسولوں کو بھیجا ، رزق کے دروازے کھولے ۔(ف6)مینہ برسا کر اور طرح طرح کے نباتات پیدا کر کے ۔(ف7)اور یہ جانتے ہوئے کہ وہی خالِق و رازّق ہے ایمان و توحید سے کیوں پھرتے ہو ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی کے لئے فرمایا جاتا ہے ۔
اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)
(ف8)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور تمہاری نبوّت و رسالت کو نہ مانیں اور توحید و بَعث و حساب اور عذاب کا انکار کریں ۔(ف9)انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر فرمائیے ،کُفّار کا انبیاء کے ساتھ قدیم سے یہ دستور چلا آتا ہے ۔(ف10)وہ جھٹلانے والوں کو سزا دے گا اور رسولوں کی مدد فرمائے گا ۔
اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)
(ف11)قیامت ضرور آنی ہے مرنے کے بعد ضرور اٹھنا ہے ، اعمال کا حساب یقیناً ہو گا ، ہر ایک کو اس کے کئے کی جزاء بے شک ملے گی ۔(ف12)کہ اس کی لذّتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جاؤ ۔(ف13)یعنی شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو اللہ تعالٰی حلم فرمانے والا ہے وہ درگذر کرے گا ، اللہ تعالٰی بے شک حلم والا ہے لیکن شیطان کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ بندوں کو اس طرح توبہ و عملِ صالح سے روکتا ہے اور گناہ و معصیت پر جری کرتا ہے اس کے فریب سے ہوشیار رہو ۔
بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱٤) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱٦)
(ف14)اور اس کی اطاعت نہ کرو اور اللہ تعالٰی کی طاعت میں مشغول رہو ۔(ف15)یعنی اپنے متّبعین کو کُفر کی طرف ۔(ف16)اب شیطان کے متّبِعین اور اس کے مخالفین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا جاتا ہے ۔
تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،
(ف19)ہر گز نہیں بُرے کام کو اچھا سمجھنے والا راہ یاب کی طرح کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ اس بدکار سے بدرجہا بدتر ہے جو اپنے خراب عمل کو بُرا جانتا ہو اور حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہو ۔شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل وغیرہ مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے شرک و کُفر جیسے قبیح افعال کو شیطان کے بہکانے اور بَھلا سمجھانے سے اچھا سمجھتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت اصحابِ بدعت و ہَوا کے حق میں نازل ہوئی جن میں روافض و خوارج وغیرہ داخل ہیں جو اپنی بدمذہبیوں کو اچھا جانتے ہیں اور انہیں کے زُمرہ میں داخل ہیں ، تمام بدمذہب خواہ وہابی ہوں یا غیرِ مقلِد یا مرزائی یا چکڑالی اور کبیرہ گناہ والے جو اپنے گناہوں کو بُرا جانتے ہیں اور حلال نہیں سمجھتے اس میں داخل نہیں ۔(ف20)کہ افسوس وہ ایمان نہ لائے اور حق کو قبول کرنے سے محروم رہے ۔ مراد یہ کہ آپ ان کے کُفر و ہلاکت کا غم نہ فرمائیں ۔
اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)
(ف21)جس میں سبزہ اور کھیتی نہیں اور خشک سالی سے وہاں کی زمین بے جان ہو گئی ہے ۔(ف22)اور اس کو سرسبز و شاداب کر دیتے ہیں اس سے ہماری قدرت ظاہر ہے ۔(ف23)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک صحابی نے عرض کیا کہ اللہ تعالٰی مُردے کس طرح زندہ فرمائے گا ؟ خَلق میں اس کی کوئی نشانی ہو تو ارشاد فرمائیے ، فرمایا کہ کیا تیرا کسی ایسے جنگل میں گذر ہوا ہے جو خشک سالی سے بے جان ہو گیا ہو اور وہاں سبزہ کا نام و نشان نہ رہا ہو پھر کبھی اسی جنگل میں گزر ہوا ہو اور اس کو ہرا بھرا لہلہاتا پایا ہو ؟ ان صحابہ نے عرض کیا بے شک ایسا دیکھاہے حضورنے فرمایا ایسے ہی اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور خَلق میں یہ اس کی یہ نشانی ہے ۔
جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲٤) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲٦) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸
(ف24)دنیا و آخرت میں وہی عزّت کا مالک ہے جسے چاہے عزّت دے تو جو عزّت کا طلب گار ہو وہ اللہ تعالٰی سے عزّت طلب کرے کیو نکہ ہر چیز اس کے مالک ہی سے طلب کی جاتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ربّ تبارک و تعالٰی ہر روز فرماتا ہے جسے عزّتِ دارَین کی خواہش ہو چاہئے کہ وہ حضرت عزیز جَلَّتۡ عِزّ تُہ کی اطاعت کرے اور ذریعہ طلبِ عزّت کا ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں ۔(ف25)یعنی اس کے محلِّ قبول و رضا تک پہنچتا ہے اور پاکیزہ کلام سے مراد کلمۂ توحید و تسبیح و تحمید و تکبیر وغیرہ ہیں جیسا کہ حاکم و بیہقی نے روایت کیا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کلمۂ طیّب کی تفسیر ذکر سے فرمائی اور بعض مفسِّرین نے قرآن اور دعا بھی مراد لی ہے ۔(ف26)نیک کام سے مراد وہ عمل و عبادت ہے جو اخلاص سے ہو اور معنٰی یہ ہیں کہ کلمۂ طیّبہ عمل کو بلند کرتا ہے کیونکہ عمل بے توحید و ایمان مقبول نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ صالح کو اللہ تعالٰی رفعتِ قبول عطا فرماتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ نیک عمل کرنے والے کا مرتبہ بلند کرتے ہیں تو جو عزّت چاہے اس کو لازم ہے کہ نیک عمل کرے ۔(ف27)مراد ان مَکَر کرنے والوں سے وہ قریش ہیں جنہوں نے دارالنَّدوہ میں جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت قید کرنے اور قتل کرنے اور جِلا وطن کرنے کے مشورہ کئے تھے جس کا تفصیلی بیان سورۂ انفال میں ہو چکا ہے ۔(ف28)اور وہ اپنے داؤں و فریب میں کامیاب نہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے شر سے محفوظ رہے اور انہوں نے اپنی مکّاریوں کی سزائیں پائیں کہ بدر میں قید بھی ہوئے ، قتل بھی کئے گئے اور مکّہ مکرّمہ سے نکالے بھی گئے ۔
اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)
(ف29)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم علیہ السلام کو ۔(ف30)ان کی نسل کو ۔ (ف31)مرد و عورت ۔(ف32)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ معمّر وہ ہے جس کی عمر ساٹھ سال پہنچے اور کم عمر والا وہ جو اس سے قبل مر جائے ۔(ف33)یعنی عمل و اَجل کا مکتوب فرمانا ۔
اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳٤) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳٦) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)
(ف34)بلکہ دونوں میں فرق ہے ۔(ف35)یعنی مچھلی ۔(ف36)گوہر و مرجان ۔(ف37)دریا میں چلتے ہوئے اور ایک ہی ہوا میں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں ۔(ف38)تجارتوں میں نفع حاصل کر کے ۔(ف39)اور اللہ تعالٰی کی نعمتوں کی شکر گزاری کرو ۔
رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف٤۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف٤۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف٤۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف٤۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،
(ف40)تو دن بڑھ جاتا ہے ۔ (ف41)تو رات بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھنے والی دن یا رات کی مقدار پندرہ گھنٹہ تک پہنچتی ہے اور گَھٹنے والا نو گھنٹے کا رہ جاتا ہے ۔(ف42)یعنی روزِ قیامت تک کہ جب قیامت آ جائے گی تو ان کا چلنا موقوف ہو جائے گا اور یہ نظام باقی نہ رہے گا ۔(ف43)یعنی بُت ۔
تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف٤٤) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف٤۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف٤٦) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف٤۷)
(ف44)کیونکہ جماد بے جان ہیں ۔(ف45)کیونکہ اصلاً قدرت و اختیار نہیں رکھتے ۔(ف46)اور بیزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے تم ہمیں نہ پُوجتے تھے ۔(ف47)یعنی دارَین کے احوال اور بُت پرستی کے مآل کی جیسی خبر اللہ تعالٰی دیتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا ۔
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف٤۸) اور اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(ف48)یعنی اس کے فضل و احسان کے حاجت مند ہو اور تمام خَلق اس کی محتاج ہے ۔ حضرت ذوالنّون نے فرمایا کہ خَلق ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالٰی کی محتاج ہے اور کیوں نہ ہو گی ان کی ہستی اور ان کی بقا سب اس کے کرم سے ہے ۔
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بےدیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵٤) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
(ف51)معنٰی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کئے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں ان کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے ان کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا 'وَ لَیَحْمِلُنَّ اَ ثْقَالَھُمْ وَ اَ ثْقَالاً مَّعَ اَ ثْقَالِھِمْ ' اور درحقیقت یہ ان کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔(ف52)باپ یا ماں، بیٹا یا بھائی کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ماں باپ بیٹے کو لپٹیں گے اور کہیں گے اے ہمارے بیٹے ہمارے کچھ گناہ اٹھا لے ، وہ کہے گا میرے امکان میں نہیں میرا اپنا بار کیا کم ہے ۔(ف53)یعنی بدیوں سے بچا اور نیک عمل کئے ۔(ف54)اس نیکی کا نفع وہی پائے گا ۔
اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف٦۰) بیشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے (ف٦۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف٦۲)
(ف60)یعنی مومنین اور کُفّار یا عُلَماء اور جُھّال ۔(ف61)یعنی جس کی ہدایت منظور ہو اس کو توفیق عطا فرماتا ہے ۔(ف62)یعنی کُفّار کو ۔ اس آیت میں کُفّارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور پند پذیر نہیں ہوتے ، بدانجام کُفّار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کُفّار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سنتا ہے جس پر راہ یابی کا نفع مرتب ہو ، رہا مُردوں کا سننا وہ احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اس مسئلہ کا بیان بیسویں پارے کے دوسرے رکوع میں گزرا ۔
اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴿23﴾
تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف٦۳)
(ف63)تو اگر سننے والا آپ کے اِنذار پر کان رکھے اور بگوشِ قبول سنے تو نفع پائے اور اگر مصرِّین منکِرین میں سے ہو اور آپ کی نصیحت سے پندپذیر نہ ہو تو آپ کا کچھ حرج نہیں وہی محروم ہے ۔
اور اگر یہ (ف٦۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف٦۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف٦۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،
(ف67)کُفّارِ مکّہ ۔(ف68)اپنے رسولوں کو ، کُفّار کا قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی برتاؤ رہا ہے ۔(ف69)یعنی نبوّت پر دلالت کرنے والے معجزات ۔(ف70)توریت و انجیل و زبور ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷٤) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے اور کچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)
(ف73)بارش نازل کی ۔(ف74)سبز ، سرخ ، زرد وغیرہ طرح طرح کے انار ، سیب ، انجیر ، انگور ، کھجور وغیرہ بے شمار ۔
اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷٦) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،
(ف75)جیسے پھلوں اور پہاڑوں میں یہاں اللہ تعالٰی نے اپنی آیتیں اور اپنے نشانہائے قدرت اور آثارِ صنعت جن سے اس کی ذات و صفات پر استدلال کیا جائے ذکر کئے ، اس کے بعد فرمایا ۔(ف76)اور اس کے صفات جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں ، جتنا علم زیادہ اتنا خوف زیادہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ مخلوق میں اللہ تعالٰی کا خوف اس کو ہے جو اللہ تعالٰی کے جبروت اور اس کی عزّت و شان سے باخبر ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قَسم اللہ عزَّوجلَّ کی کہ میں اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کا خوف رکھنے والا ہوں ۔
بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،
اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)
(ف78)یعنی قرآنِ مجید ۔ (ف79)اور ان کے ظاہر و باطن کا جاننے والا ۔
پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،
(ف80)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمّت کو یہ کتاب عطا فرمائی جنہیں تمام اُمّتوں پر فضیلت دی اور سیدِ رُسُل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی و نیاز مندی کی کرامت و شرافت سے مشرف فرمایا ، اس اُمّت کے لوگ مختلف مدارج و مراتب رکھتے ہیں ۔(ف81)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سبقت لے جانے والا مومنِ مخلص ہے اور مقتصد یعنی میانہ روی کرنے والا وہ جس کے عمل ریا سے ہوں اور ظالم سے مراد یہاں وہ ہے جو نعمتِ الٰہی کا منکِر تو نہ ہو لیکن شکر بجا نہ لائے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا سابق تو سابق ہی ہے اور مقتصد ناجی اور ظالم مغفور اور ایک اور حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا نیکیوں میں سبقت لے جانے والا جنّت میں بے حساب داخل ہو گا اور مقتصد سے حساب میں آسانی کی جائے گی اور ظالم مقامِ حساب میں روکا جائے گا اس کو پریشانی پیش آئے گی پھر جنّت میں داخل ہو گا ۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ سابق عہدِ رسالت کے وہ مخلصین ہیں جن کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جنّت کی بشارت دی اور مقتصد وہ اصحاب ہیں جو آپ کے طریقہ پر عامل رہے اور ظالم لنفسہٖ ہم تم جیسے لوگ ہیں یہ کمالِ انکسار تھا ۔ حضرت اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھما کا کہ اپنے آپ کو اس تیسرے طبقہ میں شمار فرمایا باوجود اس جلالتِ منزلت و رفعتِ درَجت کے جو اللہ تعالٰی نے آپ کو عطا فرمائی تھی اور بھی اس کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں جو تفاسیر میں مفصلاً مذکور ہیں ۔
اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸٤)
(ف83)اس غم سے مراد یا دوزخ کا غم ہے یا موت کا یا گناہوں کا یا طاعتوں کے غیرِ مقبول ہونے کا یا اہوالِ قیامت کا ، غرض انہیں کوئی غم نہ ہو گا اور وہ اس پر اللہ کی حمد کریں گے ۔(ف84)کہ گناہوں کو بخشتا ہے اور طاعتیں قبول فرماتا ہے ۔
اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸٦) عذاب کچھ ہلکا کیا جائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،
(ف85)اور مَرکر عذاب سے چھوٹ سکیں ۔(ف86)یعنی جہنّم کا ۔
اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
(ف87)یعنی جہنّم میں چیختے اور فریاد کرتے ہوں گے کہ ۔(ف88)یعنی دوزخ سے نکال اور دنیا میں بھیج ۔(ف89)یعنی ہم بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت و نافرمانی کے تیری اطاعت اور فرمانبرداری کریں ، اس پر انہیں جواب دیا جائے گا ۔(ف90)یعنی رسولِ اکرم سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف91)تم نے اس رسولِ محترم کی دعوت قبول نہ کی اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری بجا نہ لائے ۔(ف92)عذاب کا مزہ ۔
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹٤) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹٦) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)
(ف93)اور ان کے املاک و مقبوضات کا مالک و متصرف بنایا اور ان کے منافع تمہارے لئے مباح کئے تاکہ تم ایمان و طاعت اختیار کر کے شکر گزاری کرو ۔(ف94)اور ان نعمتوں پر شکرِ الٰہی نہ بجا لائے ۔(ف95)یعنی اپنے کُفر کا وبال اسی کو برداشت کرنا پڑے گا ۔(ف96)یعنی غضبِ الٰہی ۔(ف97)آخرت میں ۔
تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)
(ف98)یعنی بُت ۔(ف99)کہ آسمانوں کے بنانے میں انہیں کچھ دخل ہو کس سبب سے انہیں مستحقِ عبادت قرار دیتے ہو ۔(ف100)ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ۔ (ف101)کہ ان میں جو بہکانے والے ہیں وہ اپنے متّبِعین کو دھوکا دیتے ہیں اور بُتوں کی طرف سے انہیں باطل امیدیں دلاتے ہیں ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰٤) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)
(ف103)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش نے یہود و نصارٰی کے اپنے رسولو ں کو نہ ماننے اور ان کو جھٹلانے کی نسبت کہا تھا کہ اللہ تعالٰی ان پر لعنت کرے کہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے رسول آئے اور انہوں نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا ، خدا کی قَسم اگر ہمارے پاس کوئی رسول آئے تو ہم ان سے زیادہ راہ پر ہوں گے اور اس رسول کو ماننے میں ان کے بہتر گروہ پر سبقت لے جائیں گے ۔(ف104)یعنی سیدُ المرسلین خاتمُ النّبیّین حبیبِ خدا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رونق افروزی و جلوہ آرائی ہوئی ۔(ف105)حق و ہدایت سے اور ۔
اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰٦) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،
(ف106)بُرے داؤں سے مراد یا تو شرک وکُفر ہے اور یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکَر و فریب کرنا ۔(ف107)یعنی مکّار پر چنانچہ فریب کاری کرنے والے بدر میں مارے گئے ۔(ف108)کہ انہوں نے تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
(ف109)یعنی کیا انہوں نے شام اور عراق اور یمن کے سفروں میں انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والو ں کی ہلاکت و بربادی اور ان کے عذاب اور تباہی کے نشانات نہیں دیکھے کہ ان سے عبرت حاصل کرتے ۔(ف110)یعنی وہ تباہ شدہ قومیں ان اہلِ مکّہ سے زور و قوّت میں زیادہ تھیں باوجود اس کے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ عذاب سے بھاگ کر کہیں پناہ لے سکتیں ۔
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)
(ف111)یعنی ان کے معاصی پر ۔(ف112)یعنی روزِ قیامت ۔(ف113)انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا جو عذاب کے مستحق ہیں انہیں عذاب فرمائے گا اور جو لائقِ کرم ہیں ان پر رحم و کرم کرے گا ۔