Ghafir الغافر (مومن)

پارہ:
سورہ: 40
آیات: 85
حٰمٓ​ ۚ‏ ﴿1﴾

حٰمٓ

تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِۙ‏ ﴿2﴾

یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، علم والا،

غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ذِى الطَّوۡلِؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿3﴾

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا (ف۲) سخت عذاب کرنے والا (ف۳) بڑے انعام والا (ف٤) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)

مَا يُجَادِلُ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِى الۡبِلَادِ‏ ﴿4﴾

اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف٦) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)

كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ وَهَمَّتۡ كُلُّ اُمَّةٍۢ بِرَسُوۡلِهِمۡ لِيَاۡخُذُوۡهُ ؕ وَجَادَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُهُمۡ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ‏ ﴿5﴾

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱) (

وَكَذٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ​ۘ‏ ﴿6﴾

اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں،

اَلَّذِيۡنَ يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهٗ يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا​ ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَىۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿7﴾

وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱٤) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱٦) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،

رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اۨلَّتِىۡ وَعَدْتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآٮِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۙ‏ ﴿8﴾

اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،

وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَٮِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ ؕ وَذٰ لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ‏ ﴿9﴾

اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ مِنۡ مَّقۡتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَى الۡاِيۡمَانِ فَتَكۡفُرُوۡنَ‏ ﴿10﴾

بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،

قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَيۡنِ وَاَحۡيَيۡتَنَا اثۡنَتَيۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَهَلۡ اِلٰى خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِيۡلٍ‏ ﴿11﴾

کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳) (

ذٰ لِكُمۡ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِىَ اللّٰهُ وَحۡدَهٗ كَفَرۡتُمۡ ۚ وَاِنۡ يُّشۡرَكۡ بِهٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُكۡمُ لِلّٰهِ الۡعَلِىِّ الۡكَبِيۡرِ‏ ﴿12﴾

یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲٤) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،(

هُوَ الَّذِىۡ يُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُنَزِّلُ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنۡ يُّنِيۡبُ‏ ﴿13﴾

وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲٦) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)

فَادۡعُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ وَلَوۡ كَرِهَ الۡـكٰفِرُوۡنَ‏  ﴿14﴾

تو اللہ کی بندگی کرو نرے اس کے بندے ہو کر (ف۳۰) پڑے برا مانیں کافر،

رَفِيۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ​ ۚ يُلۡقِى الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ لِيُنۡذِرَ يَوۡمَ التَّلَاقِ ۙ‏ ﴿15﴾

بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کا مالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)

يَوۡمَ هُمۡ بَارِزُوۡنَ ۚ لَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡهُمۡ شَىۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ؕ لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ‏ ﴿16﴾

جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳٤) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳٦) ایک اللہ سب پر غا لب کی ، (ف۳۷)

اَ لۡيَوۡمَ تُجۡزٰى كُلُّ نَـفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡيَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏ ﴿17﴾

آج ہر جان اپنے کےٴ کا بدلہ پاےٴ گی (ف ۳۸) آج کسی پر زیادتی نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

وَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡاٰزِفَةِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَى الۡحَـنَاجِرِ كٰظِمِيۡنَ ؕ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ ؕ‏ ﴿18﴾

اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف٤۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف٤۱)

يَعۡلَمُ خَآٮِٕنَةَ الۡاَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِى الصُّدُوۡرُ‏ ﴿19﴾

اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ (ف٤۲) اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے (ف٤۳)

وَاللّٰهُ يَقۡضِىۡ بِالۡحَقِّؕ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَقۡضُوۡنَ بِشَىۡءٍؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ‏ ﴿20﴾

اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف٤٤) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف٤۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف٤٦)

اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ كَانُوۡا هُمۡ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِى الۡاَرۡضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡؕ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ‏ ﴿21﴾

تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف٤۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف٤۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف٤۹) (۲

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوۡا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّهٗ قَوِىٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ﴿22﴾

یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے (ف۵۰) پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،(۳

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ‏ ﴿23﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،

اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَ هَامٰنَ وَقَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ كَذَّابٌ‏ ﴿24﴾

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادوگر ہے بڑا جھوٹا (ف۵۱)

فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏ ﴿25﴾

پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵٤)

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِىۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ​ۚ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِى الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ‏  ﴿26﴾

اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵٦) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)

وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنِّىۡ عُذۡتُ بِرَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ‏ ﴿27﴾

اور موسیٰ نے (ف٦۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف٦۱)

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ​ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَكۡتُمُ اِيۡمَانَهٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّىَ اللّٰهُ وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ؕ وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ ؕ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِىۡ يَعِدُكُمۡ ۚ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ كَذَّابٌ‏  ﴿28﴾

اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے ( ف٦۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف٦۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف٦٤)

يٰقَوۡمِ لَـكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ظٰهِرِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰهِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ‏ ﴿29﴾

اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف٦۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف٦٦) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،

وَقَالَ الَّذِىۡۤ اٰمَنَ يٰقَوۡمِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِۙ‏ ﴿30﴾

اور وہ ایمان والا بولا اے میری قوم! مجھے تم پر (ف٦۷) اگلے گروہوں کے دن کا سا خوف ہے (ف٦۸)

مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡؕ وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ‏ ﴿31﴾

جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف٦۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)

وَيٰقَوۡمِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِۙ‏ ﴿32﴾

اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)

يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ​ۚ مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ‏ ﴿33﴾

جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے (ف۷۲) اللہ سے (ف۷۳) تمہیں کوئی بچانے والا نہیں، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡـتُمۡ فِىۡ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ ؕ حَتّٰٓى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ  ۚ ۖ‏ ﴿34﴾

اور بیشک اس سے پہلے (ف۷٤) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷٦)

اۨلَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰٮهُمۡ ؕ كَبُـرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ‏ ﴿35﴾

وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِىۡ صَرۡحًا لَّعَلِّىۡۤ اَبۡلُغُ الۡاَسۡبَابَۙ‏  ﴿36﴾

اور فرعون بولا (ف۷۹) اے ہامان! میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک،

اَسۡبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوۡسٰى وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ؕ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ؕ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِىۡ تَبَابٍ‏ ﴿37﴾

کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،(

وَقَالَ الَّذِىۡۤ اٰمَنَ يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ​ۚ‏  ﴿38﴾

اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،

يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ‏ ﴿39﴾

اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸٤) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے ، (ف۸۵)

مَنۡ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا ۚ وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓٮِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ‏ ﴿40﴾

جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بےگنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)

وَيٰقَوۡمِ مَا لِىۡۤ اَدۡعُوۡكُمۡ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَى النَّارِؕ‏ ﴿41﴾

اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا میں تمہیں بلاتا ہوں نجات کی طرف (ف۸۸) اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف (ف۸۹) (

تَدۡعُوۡنَنِىۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِىۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّاَنَا اَدۡعُوۡكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ الۡغَفَّارِ‏ ﴿42﴾

مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکا کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں،

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِى الدُّنۡيَا وَلَا فِى الۡاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ‏ ﴿43﴾

آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،

فَسَتَذۡكُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَـكُمۡؕ وَاُفَوِّضُ اَمۡرِىۡۤ اِلَى اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ‏ ﴿44﴾

تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹٤) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)

فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ​ۚ‏ ﴿45﴾

تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹٦) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)

اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ‏ ﴿46﴾

آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،

وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِى النَّارِ فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمۡ تَبَعًا فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ‏ ﴿47﴾

اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،

قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ ۙاِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ‏ ﴿48﴾

وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)

وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ‏ ﴿49﴾

اور جو آگ میں ہیں اس کے داروغوں سے بولے اپنے رب سے دعا کرو ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے، (ف۱۰٤)

قَالُوۡۤا اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ؕ قَالُوۡا بَلٰى ؕ قَالُوۡا​ فَادۡعُوۡا ۚ وَمَا دُعٰٓـؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏  ﴿50﴾

انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰٦) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،

اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ ۙ‏ ﴿51﴾

بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)

يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ الظّٰلِمِيۡنَ مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ‏ ﴿52﴾

جس دن ظالموں کو ان کے بہانے کچھ کام نہ دیں گے (ف۱۱۰) اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر (ف۱۱۱)

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡهُدٰى وَاَوۡرَثۡنَا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَۙ‏  ﴿53﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی عطا فرمائی (ف۱۱۲) اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا (ف۱۱۳)

هُدًى وَّذِكۡرٰى لِاُولِى الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿54﴾

عقلمندوں کی ہدایت اور نصیحت کو تو اے محبوب،

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِالۡعَشِىِّ وَالۡاِبۡكَارِ‏ ﴿55﴾

تم صبر کرو (ف۱۱٤) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱٦) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰٮهُمۡۙ اِنۡ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ اِلَّا كِبۡرٌ مَّا هُمۡ بِبَالِغِيۡهِؕ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ‏ ﴿56﴾

وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،

لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿57﴾

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)

وَمَا يَسۡتَوِى الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ ۙ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الۡمُسِىۡٓءُ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿58﴾

اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں (ف۱۲٤) اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار (ف۱۲۵) کتنا کم دھیان کرتے ہو،

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿59﴾

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے (ف۱۲٦)

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِىۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيۡنَ‏ ﴿60﴾

اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،

اَللّٰهُ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الَّيۡلَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿61﴾

اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا (ف۱۲۸) بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے،(

ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ​ ۘ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ​ۚ  فَاَ نّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ‏ ﴿62﴾

وہ ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا بنانے والا اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۱۲۹)

كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ‏  ﴿63﴾

یونہی اوندھے ہوتے ہیں (ف۱۳۰) وہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (ف۱۳۱) (

اَللّٰهُ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّصَوَّرَكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ​ ۖۚ فَتَبٰـرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿64﴾

اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳٤) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،(

هُوَ الۡحَىُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿65﴾

وہی زندہ ہے (ف۱۳٦) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اسے پوجو نرے اسی کے بندے ہوکر، سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب،

قُلۡ اِنِّىۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِىَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّىۡ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿66﴾

تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا ؕ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ وَلِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿67﴾

وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱٤۰) پانی کی بوند سے (ف۱٤۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱٤۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱٤۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱٤٤) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱٤۵)

هُوَ الَّذِىۡ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُؕ فَاِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ‏ ﴿68﴾

وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱٤٦)

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِؕ اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ  ۛۚ ۙ‏ ﴿69﴾

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے ہیں (ف۱٤۷) کہاں پھیرے جاتے ہیں (ف۱٤۸)

الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِالۡكِتٰبِ وَبِمَاۤ اَرۡسَلۡنَا بِهٖ رُسُلَنَا ۛ  فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ۙ‏ ﴿70﴾

وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱٤۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا ، (ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)

اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِىۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ‏ ﴿71﴾

جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (ف۱۵۲) گھسیٹے جائیں گے،

فِى الۡحَمِيۡمِ ۙ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ​ ۚ‏ ﴿72﴾

کھولتے پانی میں، پھر آگ میں دہکائے جائیں گے (ف۱۵۳)

ثُمَّ قِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ‏ ﴿73﴾

پھر ان سے فرمایا جائے گا کہاں گئے وہ جو تم شریک بناتے تھے (ف۱۵٤)

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلْ لَّمۡ نَـكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡــًٔـا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿74﴾

اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵٦) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،

ذٰ لِكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡـتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ​ ۚ‏ ﴿75﴾

یہ (ف۱۵۷) اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے (ف۱۵۸) اور اس کا بدلہ ہے جو تم اتراتے تھے ،(

اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَـنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ‏  ﴿76﴾

جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا (ف۱۵۹)

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿77﴾

تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱٦۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھا دیں (ف۱٦۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱٦۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱٦۳)

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ مِنۡهُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰه​ِۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ‏ ﴿78﴾

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱٦٤) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱٦۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بےحکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱٦٦) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱٦۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،

اَللّٰهُ الَّذِىۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡكَبُوۡا مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ‏ ﴿79﴾

اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ،

وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبۡلُغُوۡا عَلَيۡهَا حَاجَةً فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَؕ‏ ﴿80﴾

اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱٦۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱٦۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،

وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ ۖ  فَاَىَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنۡكِرُوۡنَ‏ ﴿81﴾

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۱۷۲) تو اللہ کی کونسی نشانی کا انکار کرو گے (ف۱۷۳)

اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡهُمۡ وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِى الۡاَرۡضِ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿82﴾

یا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷٤) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷٦) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ ﴿83﴾

تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)

فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿84﴾

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان کے منکر ہوئے (ف۱۸۰)

فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ قَدۡ خَلَتۡ فِىۡ عِبَادِهٖ​ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ‏  ﴿85﴾

تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)

Scroll to Top