ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف٤) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف٦)
(ف3)کہ ہماری قدرت ووحدانیّت پر دلالت کریں ۔(ف4)وہ مقرر میعاد روزِ قیامت ہے جس کے آجانے پر آسمان و زمین فنا ہوجائیں گے ۔(ف5)اس چیز سے مراد یا عذاب ہے یا روزِ قیامت کی وحشت یا قرآنِ پاک جو بعث و حساب کا خوف دلاتا ہے ۔(ف6)کہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)
(ف7)یعنی بت جنہیں معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف8)جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اتاری ہو ، مراد یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید توحید اور ابطالِ شرک پر ناطق ہے اور جو کتاب بھی اس سے پہلے اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی اس میں یہی بیان ہے تم کُتُبِ ا لٰہیہ میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں تمہارے دِین(بت پرستی)کی شہادت ہو ۔(ف9)پہلوں کا ۔(ف10)اپنے اس دعوے میں کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱٦) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)
(ف15)یعنی اہلِ مکّہ پر ۔(ف16)یعنی قرآن شریف کو بغیر غور وفکر کئے اور اچھی طرح سنے ۔(ف17)کہ اس کے جادو ہونے میں شبہہ نہیں اور اس سے بھی بدتر بات کہتے ہیں ، جس کا آ گے ذکر ہے ۔
کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)
(ف18)یعنی سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔(ف19)یعنی اگر بالفرض میں دل سے بناتا اور اس کو اللہ تعالٰی کا کلام بتاتا تو وہ اللہ تعالٰی پر افتراء ہوتا اور اللہ تبارک و تعالٰی ایسے افتراء کرنے والے کو جلد عقوبت میں گرفتار کرتا ہے ، تمہیں تو یہ قدرت نہیں کہ تم اس کی عقوبت سے بچاسکو یا اس کے عذاب کو دفع کرسکو تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اللہ تعالٰی پر افتراء کرتا ۔(ف20)اور جو کچھ قرآنِ پاک کی نسبت کہتے ہو ۔(ف21)یعنی اگر تم کفر سے توبہ کرکے ایمان لاؤ تو اللہ تعالٰی تمہاری مغفرت فرمائے گا ، اور تم پر رحمت کرے گا ۔
تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲٤) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
(ف22)مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں تو تم کیوں نبوّت کا انکار کرتے ہو ۔(ف23)اس کے معنی میں مفسّرین کی چند قول ہیں ، ایک تو یہ کہ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا ؟ وہ مجھے معلوم نہیں ، یہ معنی ہوں تو یہ آیت منسوخ ہے ، مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزّٰی کی قَسم اللہ تعالٰی کے نزدیک ہمارا اور محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا یکساں حال ہے ، انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں ، اگر یہ قرآن انکا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کا بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کرے گا تو اللہ تعالٰی نے آیت ' لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ 'نازل فرمائی ، صحابہ نے عرض کیا یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا ، یہ انتظار ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ' لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ' اور یہ آیت نازل ہوئی ' بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اﷲِ فَضْلاً کَبِیْراً ' تو اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کیا کرے گا اور مومنین کے ساتھ کیا ، دوسرا قول آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی ، مکذّبین کا بھی ، معنٰی یہ ہیں کہ دنیا میں کیا کیا جائے گا ؟ یہ معلوم نہیں ، اگر یہ معنٰی لئے جائیں تو بھی آیت منسوخ ہے ، اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ بھی بتادیا ' لِیُظْہِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ ' اور ' مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ'بہرحال اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امّت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنٰی ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنٰی میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مؤیِّد ہے ، علامہ نیشا پوری نے اس آیت کے تحت میں فرمایا کہ اس میں نفی اپنی ذات سے جاننے کی ہے ، من جہت الوحی جاننے کی نفی نہیں ۔(ف24)یعنی میں جو کچھ جانتا ہوں اللہ تعالٰی کی تعلیم سے جانتا ہوں ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲٦) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
(ف25)وہ حضرت عبداللہ بن سلام ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی صحتِ نبوّت کی شہادت دی ۔(ف26)کہ وہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ۔(ف27)اور ایمان سے محروم رہے تو اس کا نتیجہ کیا ہونا ہے ۔
اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
(ف28)یعنی دِینِ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ۔(ف29)غریب لوگ ۔(ف30)شانِ نزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اگر دِینِ محمّدی حق ہوتا تو فلاں و فلاں اس کو ہم سے پہلے کیسے قبول کرلیتے ۔(ف31)عناد سے قرآن شریف کی نسبت ۔
اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف٤۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف٤۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف٤۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف٤۳) اور میں مسلمان ہوں (ف٤٤)
(ف37)مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقل مدّتِ حمل چھ ماہ ہے کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدّت دو سال ہوئی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ' حَوْ لَیْنِ کَامِلَیْنِ' تو حمل کے لئے چھ ماہ باقی رہے ، یہی قول ہے امام ابویوسف و امام محمّد رحمہما اللہ تعالٰی کا اور حضرت امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس آیت سے رضاع کی مدّت ڈھائی سال ثابت ہوتی ہے ۔ مسئلہ کی تفاصیل مع دلائل کُتُبِ اصول میں مذکور ہیں ۔(ف38)اور عقل وقوّت مستحکم ہوئی اور یہ بات تیس سے چالیس سال تک کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ۔(ف39)یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ، آپ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دو سال کم تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اختیار کی ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی ، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا ، ایک منزل پر ٹھہرے ، وہاں ایک بیری کا درخت تھا ، حضور سیدِ عالَم علیہ الصٰلوۃوالسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے پاس چلے گئے ، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ا بنِ عبداللہ ہیں ، عبدالمطلب کے پوتے ، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں ، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا ، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں ، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی ، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے ، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی ۔(ف40)کہ ہم سب کو ہدایت فرمائی اور اسلام سے مشرف کیا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد کا نام ابوقحافہ اور والدہ کا نام امّ الخیر ہے ۔(ف41)آپ کی یہ دعا بھی مستجاب ہوئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کو حسنِ عمل کی وہ دولت عطا فرمائی کہ تمام امّت کے اعمال آپ کے ایک عمل کے برابر نہیں ہوسکتے ، آپ کی نیکیوں میں سے ایک یہ ہے کہ نو مومن جو ایمان کی وجہ سے سخت ایذاؤں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے ان کو آپ نے آزاد کیا ، انہیں میں سے ہیں حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ نے یہ دعا کی ۔(ف42)یہ دعا بھی مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے آپ کی اولاد میں صلاح رکھی ، آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالٰی نے انہیں فضیلت دی ہے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدین بھی مسلمان اور آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں ، آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں ، خود بھی صحابی ، اولاد بھی صحابی ، پوتے بھی صحابی ، چارپشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف ۔(ف43)ہر امر میں جس میں تیری رضا ہو ۔(ف44)دل سے بھی اور زبان سے بھی ۔
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف٤۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف٤۸) اور وہ دونوں (ف٤۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
(ف47)مراد اس سے کوئی خاص شخص نہیں ہے بلکہ ہر کافر جو بعث کا منکِر ہو اور والدین کا نافرمان اور اس کے والدین اس کو دِینِ حق کی دعوت دیتے ہوں اور وہ انکار کرتا ہو ۔(ف48)ان میں سے کوئی مر کر زندہ نہ ہوا ۔(ف49)ماں باپ ۔(ف50)مردے زندہ فرمانے کا ۔
اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵٤)
(ف52)مومن ہو یا کافر ۔(ف53)یعنی منازل و مراتب ہیں ، اللہ تعالٰی کے نزدیک روزِ قیامت جنّت کے درجات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور جہنّم کے درجات پست ہوتے چلے جاتے ہیں تو جن کے عمل اچھے ہوں وہ جنّت کے اونچے درجے میں ہوں گے اور جو کفر و معصیّت میں انتہا کو پہنچ گئے ہوں وہ جہنّم کے سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔(ف54)یعنی مومنوں اور کافروں کو فرمانبرداری اور نافرمانی کی پوری جزا دے ۔
اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵٦)
(ف55)یعنی لذّت و عیش جو تمہیں پانا تھا وہ سب دنیا میں تم نے ختم کردیا ، اب تمہارے لئے آخرت میں کچھ بھی باقی نہ رہا ۔ اور بعض مفسّرین کا قول ہے کہ طیّبات سے قُوائے جسمانیہ اور جوانی مراد ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ تم نے اپنی جوانی اور اپنی قوّتوں کو دنیا کے اندر کفر و معصیّت میں خرچ کردیا۔(ف56)اس آیت میں اللہ تعالٰی نے دنیوی لذّات اختیارکرنے پر کفّار کو توبیخ فرمائی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے اصحاب نے لذّاتِ دنیویہ سے کنارہ کشی اختیار فرمائی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو روز بَرابر نہ کھائی ، یہ بھی حدیث میں ہے کہ پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا دولت سرائے اقدس میں آ گ نہ جلتی تھی ، چند کھجوروں اورپانی پر گزر کی جاتی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں چاہتا تو تم سے اچھا کھانا کھاتا اور تم سے بہتر لباس پہنتا لیکن میں اپنا عیش و راحت اپنی آخر ت کے لئے باقی رکھنا چاہتا ہوں ۔
اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمین احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
(ف57)حضرت ہود علیہ السلام ۔(ف58)شرک سے ۔ اور احقاف ایک ریگستانی وادی ہے جہاں قومِ عاد کے لوگ رہتے تھے ۔
ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦٦) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
(ف66)چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے ان کے مَردوں ، عورتوں ، چھوٹوں ، بڑوں کو ہلاک کردیا ، ان کے اموال آسمان وز مین کے درمیان اڑتے پھرتے تھے ، چیزیں پارہ پارہ ہوگئیں ، حضر ت ہود علیہ السلام نے اپنے اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گرد ایک خط کھینچ دیا تھا ہوا ، جب اس خط کے اندر آتی تو نہایت نرم ، پاکیزہ ، فرحت انگیز ، سرد ۔ اور وہی ہَوا قوم پر شدید ، سخت ، مہلِک ، اوریہ حضرت ہود علیہ السلام کا ایک معجزۂِ عظیمہ تھا ۔
اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف٦۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف٦۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
(ف67)اے اہلِ مکّہ وہ قوّت و مال اور طولِ عمر میں تم سے زیادہ تھے ۔(ف68)تاکہ دِین کے کام میں لائیں مگر انہوں نے سوائے دنیا کی طلب کے ان خدادا د نعمتوں سے دِین کا کام ہی نہیں لیا ۔
تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷٤) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)
(ف72)ان کفّار کی ان بتوں نے ۔(ف73)اور جن کی نسبت یہ کہا کرتے تھے کہ ان بتوں کے پوجنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ (ف74)اور نزولِ عذاب کے وقت کام نہ آئے ۔(ف75)کہ وہ بتوں کو معبود کہتے ہیں اور بت پرستی کو قربِ الٰہی کا ذریعہ ٹھہراتے ہیں ۔
اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷٦) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)
(ف76)یعنی اےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنّوں کی ایک جماعت کو بھیجا ، اس جماعت کی تعداد میں اختلاف ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سات جن تھے جنہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیام رساں بنایا ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ نو تھے علماءِ محقّقین کا اس پر اتفاق ہے کہ جن سب کے سب مکلّف ہیں ۔ اب ان جنّوں کا حال ارشاد ہوتا ہے کہ جب آپ نخلہ میں مکّہ مکرّمہ اور طائف کے درمیان مکّہ مکرّمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نمازِ فجر پڑھ رہے تھے اس وقت جن ۔(ف77)تاکہ اچھی طرح حضرت کی قرأت سن لیں ۔(ف78)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں ایمان نہ لانے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت سے ڈرایا ۔
بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
(ف79)یعنی قرآن شریف ۔(ف80)عطاء نے کہا چونکہ وہ جن دِینِ یہودیّت پر تھے اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرتٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لینے کا باعث یہ ہے کہ اس میں صرف مواعظ ہیں ، احکام بہت ہی کم ہیں ۔
اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸٤) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،
(ف83)اللہ تعالٰی سے کہیں بھاگ نہیں سکتا اور اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔(ف84)جو اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف85)جو اللہ تعالٰی کے منادی حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بات نہ مانیں ۔
کیا انہوں نے (ف۸٦) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)
(ف87)جس کے تم دنیا میں مرتکب ہوئے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خطاب فرماتا ہے ۔
تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بےحکم لوگ (ف۹۳)
(ف88)اپنی قوم کی ایذا پر ۔(ف89)عذاب طلب کرنے میں ، کیونکہ عذاب ان پر ضرور نازل ہونے والاہے ۔(ف90)عذابِ آخرت کو ۔(ف91) تو اس کی درازی اور دوام کے سامنے دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو بہت قلیل سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ ۔(ف92)یعنی یہ قرآن اور وہ ہدایت و بیّنات جو اس میں ہیں یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے تبلیغ ہے ۔(ف93)جو ایمان و طاعت سے خارج ہیں ۔