(ف3)یعنی وہ گھٹائیں اور بدلیاں جو بارش کا پانی اٹھاتی ہیں ۔
فَالۡجٰرِيٰتِ يُسۡرًا ۙ ﴿3﴾
پھر نرم چلنے والیاں (ف٤)
(ف4)وہ کَشتیاں جو پانی میں بسہولت چلتی ہیں ۔
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ ﴿4﴾
پھر حکم سے بانٹنے والیاں (ف۵)
(ف5)یعنی فرشتوں کی وہ جماعتیں جو بحکمِ الٰہی بارش و رزق وغیرہ تقسیم کرتی ہیں اور جن کو اللہ تعالٰی نے مدبّرات الامر کیا ہے اور عالَم میں تدبیر و تصرّف کا اختیار عطا فرمایا ہے ۔ بعض مفسّرین کا قول ہے کہ یہ تمام صفتیں ہواؤں کی ہیں کہ وہ خاک بھی اڑاتی ہیں ، بادلوں کو بھی اٹھائے پھرتی ہیں ، پھر انہیں لے کر بسہولت چلتی ہیں ، پھر اللہ تعالٰی کے بلاد میں اس کے حکم سے بارش کو تقسیم کرتی ہیں ۔ قَسم کا مقصودِ اصلی اس چیز کی عظمت بیان کرنا ہے جس کے ساتھ قَسم فرمائی گئی کیونکہ یہ چیزیں کمالِ قدرتِ الٰہی پر دلا لت کرنے والی ہیں ۔ اربابِ دانش کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں نظر کرکے بعث و جزا پر استدلال کریں کہ جو قادرِ برحق ایسے امورِ عجیبہ پر قدرت رکھتا ہے وہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ ہستی عطا فرمانے پر بے شک قادر ہے ۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ ﴿5﴾
بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف٦) ضروری سچ ہے،
(ف6)یعنی بعث و جزا ۔
وَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ ؕ ﴿6﴾
اور بیشک انصاف ضرور ہونا (ف۷)
(ف7)اور حساب کے بعد نیکی بدی کا بدلہ ضرور ملنا ۔
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ ۙ ﴿7﴾
آرائش والے آسمان کی قسم (ف۸)
(ف8)جس کو ستاروں سے مزیّن فرمایا ہے کہ اےاہلِ مکّہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں اور قرآنِ پاک کے بارے میں ۔
اِنَّـكُمۡ لَفِىۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ ﴿8﴾
تم مختلف بات میں ہو (ف۹)
(ف9)کبھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ساحر کہتے ہو ، کبھی شاعر ، کبھی کاہن ، کبھی مجنون (معاذ اللہ تعالٰی) اسی طرح قرآنِ کریم کو کبھی سِحر بتاتے ہو ، کبھی شِعر ،کبھی کہانت ، کبھی اگلوں کی داستانیں ۔
يُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ ؕ ﴿9﴾
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو (ف۱۰)
(ف10)اور جو محرومِ ازلی ہے اس سعادت سے محروم رہتا ہے اور بہکانے والوں کے بہکائے میں آتا ہے ۔ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے کفّار جب کسی کو دیکھتے کہ ایمان لانے کا ارادہ کرتا ہے توا س سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کہتے کہ ان کے پاس کیوں جاتا ہے ؟ وہ تو شاعر ہیں ، ساحر ہیں ۔ کاذب ہیں ۔ (معاذ اللہ تعالٰی) اور اسی طرح قرآنِ پاک کو کہتے ہیں کہ وہ شِعر ہے ، سِحر ہے ، کذب ہے ۔ (معاذ اللہ تعالٰی)
قُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ ﴿10﴾
مارے جایں دل سے تراشنے والے
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ سَاهُوۡنَۙ ﴿11﴾
جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں (ف۱۱)
(ف11)یعنی نشۂِ جہالت میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں ۔
يَسۡـَٔــلُوۡنَ اَيَّانَ يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ ﴿12﴾
پوچھتے ہیں (ف۱۲) انصاف کا دن کب ہوگا (ف۱۳)
(ف12)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمسخر اور تکذیب کے طور پر کہ ۔(ف13)ان کے جوا ب میں فرمایا جاتا ہے ۔
(ف19)یعنی رات تہجّد اور شب بیداری میں گزارتے ہیں اور بہت تھوڑی دیر سوتے ہیں اور شب کا پچھلا حصّہ استِغفار میں گزارتے ہیں اور اتنے سوجانے کو بھی تقصیر سمجھتے ہیں ۔
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بےنصیب کا (ف۲۰)
(ف20)منگتا تو وہ جو اپنی حاجت کے لئے لوگوں سے سوال کرے اور محروم وہ کہ حاجت مند ہو اور حیاءً سوال بھی نہ کرے ۔
وَفِى الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَۙ ﴿20﴾
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو (ف۲۱)
(ف21)جو اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہیں ۔
وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿21﴾
اور خود تم میں (ف۲۲) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
(ف22)تمہاری پیدائش میں اور تمہارے تغیّرات میں اور تمہارے ظاہر و باطن میں اللہ تعالٰی کی قدرت کے ایسے بے شمار عجائب و غرائب ہیں جس سے بندوں کو اس کی شانِ خدائی معلوم ہوتی ہے ۔
تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا (ف۲۹) وہ بولے ڈریے نہیں (ف۳۰) اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
(ف29)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آپ کے دل میں بات آئی کہ یہ فرشتے ہیں اور عذاب کے لئے بھیجے گئے ہیں ۔(ف30)ہم اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے ہیں ۔
اس پر اس کی بی بی (ف۳۱) چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ (ف۳۲)
(ف31)یعنی حضرت سارہ ۔ (ف32)جس کے کبھی بچّہ نہیں ہوا اور نوّے ۹۰یا ننانوے ۹۹سال کی عمر ہوچکی ، مطلب یہ تھا کہ ایسی عمر اور ایسی حالت میں بچّہ ہونا نہایت تعجّب کی بات ہے ۔
جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں (ف۳۵)
(ف35)ان پتّھروں پر نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتّھروں میں سے نہیں ہیں ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتّھر پر اس کا نام مکتوب تھا جو اس سے ہلاک کیاجانے والا تھا ۔
اور ہم نے اس میں (ف۳۷) نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۳۸)
(ف37)یعنی قومِ لوط کے اس شہر میں کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد ۔(ف38)تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور ان کے جیسے افعال سے باز رہیں ، اور وہ نشانی ان کے اجڑے ہوئے دیار تھے یا وہ پتّھر جن سے وہ ہلاک کئے گئے یا وہ کالا بدبو دار پانی جو اس سرزمین سے نکلا تھا ۔
اور موسیٰ میں (ف۳۹) جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا (ف٤۰)
(ف39)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعہ میں بھی نشانی رکھی ۔(ف40)روشن سند سے مراد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات ہیں جو آپ نے فرعون اور فرعونیوں پر پیش فرمائے ۔
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا (ف۵۱) اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں (ف۵۲)
(ف51)اپنے دستِ قدرت سے ۔(ف52)اس کو اتنی کہ زمین مع اپنے فضا کے اس کے اندر اس طرح آجائے جیسے کہ ایک میدانِ وسیع میں گیند پڑی ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ ہم اپنی خَلق پر رزق وسیع کرنے والے ہیں ۔
اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے (ف۵۳) کہ تم دھیان کرو (ف۵٤)
(ف53)مثل آسمان اور زمین اورسورج اور چاند اور رات اور دن اورخشکی و تری اور گرمی و سردی اور جن و انس اور روشنی وتاریکی اور ایمان وکفر اور سعادت و شقاوت اور حق و باطل اور نَر و مادّہ کے ۔(ف54)اور سمجھو کہ ان تمام جوڑوں کا پیدا کرنے والا فردِ واحد ہے نہ اس کا نظیر ہے ، نہ شریک ، نہ ضد ، نہ نِد ، وہی مستحقِ عبادت ہے ۔
کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں (ف۵۷)
(ف57)یعنی پہلے کفّار نے اپنے پچھلوں کو یہ وصیّت تو نہیں کی کہ تم انبیاء کی تکذیب کرنا اور ان کی شان میں اس طرح کی باتیں بنانا لیکن چونکہ سرکشی اور طغیان کی علّت دونوں میں ہے اس لئے گمراہی میں ایک دوسرے کے موافق رہے ۔
تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں (ف۵۸)
(ف58)کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور دعوت و ارشاد میں جہدِ بلیغ صرف کرچکے اور آپ نے اپنی سعی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔شانِ نزول : جب یہ آیت نازل ہوئی تورسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غمگین ہوئے اور آپ کے اصحاب کو بہت رنج ہوا کہ جب رسول علیہ السلام کو اعراض کرنے کا حکم مل گیا تو اب وحی کیوں آئے گی اور جب نبی نے امّت کو تبلیغ بطریقِ اتم فرمادی اور امّت سرکشی سے باز نہ آئی اور رسول کو ان سے اعراض کا حکم مل گیا تو وقت آگیا کہ ان پر عذاب نازل ہو ، اس پر وہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جو اس آیت کے بعد ہے اور اس میں تسکین دی گئی کہ سلسلۂِ وحی منقطع نہیں ہوا ہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم کی نصیحت سعادت مندوں کے لئے جاری رہے گی چنانچہ ارشاد ہوا ۔
میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا (ف٦۰) اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں (ف٦۱)
(ف60)کہ میرے بندوں کو روزی دیں یا سب کی نہیں تو اپنی ہی روزی خود پیدا کریں کیونکہ رزّاق میں ہوں اور سب کی روزی کا میں ہی کفیل ہوں ۔(ف61)میری خَلق کے لئے ۔
تو بیشک ان ظالموں کے لیے (ف٦۳) عذاب کی ایک باری ہے (ف٦٤) جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی (ف٦۵) تو مجھ سے جلدی نہ کریں (ف٦٦)
(ف63)جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔(ف64)حصّہ ہے ، نصیب ہے ۔(ف65)یعنی اُمَمِ سابقہ کے کفّار کے لئے جو انبیاء کی تکذیب میں ان کے ساتھی تھے ، ان کا عذاب و ہلاک میں حصّہ تھا ۔