(ف2)یعنی اس پہاڑکی قَسم جس پر اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو شرفِ کلام سے مشرف فرمایا ۔
وَكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍۙ ﴿2﴾
اور اس نوشتہ کی (ف۳)
(ف3)اس نوشتہ سے مراد یا توریت ہے یا قرآن یا لوحِ محفوظ یا اعمال نویس فرشتوں کے دفتر ۔
فِىۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍۙ ﴿3﴾
جو کھلے دفتر میں لکھا ہے
وَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ ﴿4﴾
اور بیت معمور (ف٤)
(ف4)بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے ، یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ، ہر روز ستّر ہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لئے حاضر ہوتے ہیں ، پھر کبھی انہیں لوٹنے کا موقع نہیں ملتا ۲۴ہر روز نئے ستّر ہزار حاضر ہوتے ہیں ۔ حدیثِ معراج میں بصحت ثابت ہوا ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ساتویں آسمان میں بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا ۔
وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِۙ ﴿5﴾
اور بلند چھت (ف۵)
(ف5)اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلۂِ چھت کے ہے یا عرش جو جنّت کی چھت ہے ۔ (قرطبی عن ابنِ عباس)
وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِۙ ﴿6﴾
اور سلگائے ہوئے سمندر کی (ف٦)
(ف6)مروی ہے کہ اللہ تعالٰی روزِ قیامت تمام سمندروں کو آ گ کردے گا جس سےجہنّم کی آ گ میں اور بھی زیادتی ہوجائے گی ۔ (خازن)
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لوَاقِعٌ ۙ ﴿7﴾
بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے (ف۷)
(ف7)جس کا کفّار کو وعدہ دیا گیا ہے ۔
مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍۙ ﴿8﴾
اسے کوئی ٹالنے والا نہیں
يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ ﴿9﴾
جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے (ف۸)
(ف8)چکّی کی طرح گھومیں گے اور اس طرح حرکت میں آئیں گے کہ ان کے اجزاء مختلف و منتشر ہوجائیں ۔
وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ؕ ﴿10﴾
اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے (ف۹)
(ف9)جیسے کہ غبار ہوا میں اڑتا ہے ، یہ دن قیامت کا دن ہوگا ۔
جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے (ف۱۲)
(ف12)اورجہنّم کے خازن کافروں کے ہاتھ گردنوں سے اور پاؤں پیشانیوں سے ملا کر باندھیں گے اور انہیں منہ کے بَل جہنّم میں ڈھکیل دیں گے اور ان سے کہا جائے گا ۔
(ف14)یہ ان سے اس لئے کہا جائے گا کہ وہ دنیا میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سِحر کی نسبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری نظر بندی کردی ہے ۔
اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی (ف۲۰) اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی (ف۲۱) سب آدمی اپنے کیے میں گرفتار ہیں (ف۲۲)
(ف20)جنّت میں اگرچہ باپ دادا کے درجے بلند ہوں تو بھی ان کی خوشی کے لئے ان کی اولاد ان کے ساتھ ملادی جائے گی اور اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے اس اولاد کو بھی وہ درجہ عطا فرمائے گا ۔(ف21)انہیں ان کے اعمال کا پورا ثواب دیا اور اولاد کے درجے اپنے فضل و کرم سے بلند کئے ۔(ف22)یعنی ہر کافر اپنے کفری عمل میں دوزخ کے اندر گرفتار ہے ۔ (خازن)
ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری (ف۲٤)
(ف24)جیسا کہ دنیا کی شراب میں قِسم قِسم کے مفاسد تھے کیونکہ شرابِ جنّت کے پینے سے نہ عقل زائل ہوتی ہے ، نہ خصلتیں خراب ہوتی ہیں ، نہ پینے والا بے ہودہ بکتا ہے ، نہ گنہگار ہوتا ہے ۔
اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے (ف۲۵) گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے (ف۲٦)
(ف25)خدمت کے لئے اور انکے حسن و صفا وپاکیزگی کا یہ عالَم ہے ۔(ف26)جنہیں کوئی ہاتھ ہی نہ لگا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ کسی جنّتی کے پاس خدمت میں دوڑنے والے غلام ہزار سے کم نہ ہوں گے اور ہر غلام جدا جدا خدمت پر مقرر ہوگا ۔
اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۲۷)
(ف27)یعنی جنّتی جنّت میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ دنیامیں کس حال میں تھے اور کیا عمل کرتے تھے ، اور یہ دریافت کرنا نعمتِ الٰہی کے اعتراف کے لئے ہوگا ۔
بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے (ف۲۸)
(ف28)اللہ تعالٰی کے خو ف سے اور اس اندیشہ سے کہ نفس و شیطان خللِ ایمان کا باعث نہ ہوں اور نیکیوں کے روکے جانے اور بدیوں پر گرفت کئے جانے کا بھی اندیشہ تھا ۔
یا کہتے ہیں (ف۳۳) یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادث زمانہ کا انتظار ہے (ف۳٤)
(ف33)یہ کفّارِ مکّہ آپ کی شان میں ۔(ف34)کہ جیسے ان سے پہلے شاعر مرگئے اور ان کے جتھے ٹوٹ گئے یہی حال ان کا ہونا ہے ۔ ( معاذ اللہ) اور وہ کفّار یہ بھی کہتے تھے کہ ان کے والد کی موت جوانی میں ہوئی ہے ان کی بھی ایسی ہی ہوگی ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے فرماتا ہے ۔
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں (ف۳۷) یا وہ سرکش لوگ ہیں (ف۳۸)
(ف37)جو وہ حضور کی شان میں کہتے ہیں شاعر ، ساحر ، کاہن ، مجنون ، ایسا کہنا بالکل خلافِ عقل ہے اور طرّہ یہ کہ مجنون بھی کہتے جائیں اور شاعر ، ساحر ، کاہن بھی اور پھر اپنے عاقل ہونے کا دعوٰی ۔ (ف38)کہ عناد میں اندھے ہورہے ہیں اور کفر و طغیان میں حد سے گزر گئے ۔
یا کہتے ہیں انہوں نے (ف۳۹) یہ قرآن بنالیا، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے (ف٤۰)
(ف39)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دل سے ۔(ف40)اور دشمنی و خبثِ نفس سے ایسے طعن کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی ان پر حجّت قائم فرماتا ہے کہ اگر ان کے خیال میں قرآن جیسا کلام کوئی انسان بناسکتا ہے ۔
کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے (ف٤۲) یا وہی بنانے والے ہیں (ف٤۳)
(ف42)یعنی کیا وہ ماں باپ سے پیدا نہ ہوئے ، جماد ، بے عقل ہیں جن پر حجّت قائم نہ کی جائے گی ایسا نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ کیا وہ نطفہ سے پیدا نہیں ہوئے اور کیا انہیں خدا نے نہیں بنایا ۔(ف43)کہ انہوں نے اپنے آپ کو خود ہی بنالیا ہو یہ بھی محال ہے تو لا محالہ انہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ انہیں اللہ تعالٰی نے پیدا کیا پھر کیا سبب ہے کہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے اور بتوں کو پوجتے ہیں ۔
یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے (ف٤٤) بلکہ انہیں یقین نہیں (ف٤۵)
(ف44)یہ بھی نہیں ۔ اور اللہ تعالٰی کے سوائے آسمان و زمین پیدا کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا تو کیوں اس کی عبادت نہیں کرتے ۔(ف45)اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی قدرت و خالقیّت کا اگر اس کایقین ہوتا تو ضرور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لاتے ۔
یا کسی داؤں (فریب) کے ارادہ میں ہیں (ف۵٤) تو کافروں پر ہی داؤں (فریب) پڑنا ہے (ف۵۵)
(ف54)دارالنّدوہ میں جمع ہو کر اللہ تعالٰی کے نبی ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ضرر و قتل کے مشورے کرتے ہیں ۔(ف55)انکے مَکر وکید کا وبال انہیں پرپڑے گا ، چنانچہ ایسا ہی ہو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے مَکر سے محفوظ رکھا اور انہیں بدر میں ہلاک کیا ۔
اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے (ف۵۷)
(ف57)یہ جواب ہے کفّار کے اس مقولہ کا جو کہتے تھے کہ ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گراکر عذاب کیجئے ، اللہ تعالٰی اسی کے جواب میں فرماتا ہے کہ ان کا کفر و عناد اس حد پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان پر ایسا ہی کیا جائے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادیا جائے اور آسمان سے اسے گرتے ہوئے دیکھیں تو بھی کفر سے باز نہ آئیں اور براہِ عناد یہی کہیں کہ یہ تو ابر ہے اس سے ہم سیراب ہوں گے ۔
اور بیشک ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے (ف٦۰) مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف٦۱)
(ف60)ان کے کفر کے سبب عذابِ آخرت سے پہلے اور وہ عذاب یا تو بدر میں قتل ہونا ہے یا بھوک و قحط کی ہفت سالہ مصیبت یا عذابِ قبر ۔(ف61)کہ وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو (ف٦۲) کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو (ف٦۳) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو (ف٦٤)
(ف62)اور جو مہلت انہیں دی گئی ہے اس پر دل تنگ نہ ہو ۔(ف63)تمہیں وہ کچھ ضرر نہیں پہنچاسکتے ۔(ف64)نماز کے لئے ۔ اس سے تکبیرِ اولٰی کے بعدسُبْحَا نَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنا مراد ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ جب سو کر اٹھو تو اللہ تعالٰی کی حمد و تسبیح کیا کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد و تسبیح بجالایا کرو ۔