(ف2)شانِ نزول : جب آیت اُسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ نازل ہوئی ، کفّارِ مکّہ نے کہا رحمٰن کیا ہے ، ہم نہیں جانتے ، اس پر اللہ تعالٰی نے اَلرّحمٰن نازل فرمائی کہ رحمٰن جس کا تم انکار کرتے ہو ، وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ، اور ایک قول یہ ہے کہ اہلِ مکّہ نے جب کہا کہ محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا کہ رحمٰن نے قرآن اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سکھایا ۔ (خازن)
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَۙ ﴿3﴾
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ ﴿4﴾
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
(ف3)انسان سے اس آیت میں سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مراد ہیں اور بیان سےمَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ کا بیان ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّلین و آخرین کی خبریں دیتے تھے ۔ (خازن)
اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿5﴾
سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف٤)
(ف4)کہ تقدیرِ معیّن کے ساتھ اپنے بروج و منازل میں سیر کرتے ہیں اور اس میں خَلق کے لئے منافع ہیں ، اوقات کے حساب ، سالوں اور مہینوں کی شمار انہیں پر ہے ۔
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف٦) اور ترازو رکھی (ف۷)
(ف6)اور اپنے ملائکہ کا مسکن اور اپنے احکام کا جائے صدوربنایا ۔(ف7)جس سے اشیاء کا وزن کیا جائے اور ان کی مقداریں معلوم ہوں تاکہ لین دین میں عدل قائم رکھا جائے ۔
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
(ف12)اس سورۃ شریفہ میں یہ آیت اکتیس۳۱ بار آئی ہے ، بار بار نعمتوں کا ذکر فرما کر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ، یہ ہدایت وارشاد کا بہترین اسلوب ہے تاکہ سامع کے نفس کو تنبیہ ہو اور اسے اپنے جُرم اور ناسپاسی کا حال معلوم ہوجائے کہ اس نے کس قدر نعمتوں کو جھٹلایا ہے اور اسے شرم آئے اور وہ ادائے شکر و طاعت کی طرف مائل ہو اور یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالٰی کی بے شمار نعمتیں اس پر ہیں ، حدیث : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت میں نے جنّات کو سنائی وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے ، جب میں آیت فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن پڑھتا ، وہ کہتے اے رب ہمارے ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تجھے حمد ۔ ( الترمذی وقال غریب)
(ف13)یعنی خشک مٹی سے جو بجانے سے بجے اور کوئی چیز کھنکھناتی آواز دے ، پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی ، پھر اس کو گَلایا کہ وہ مثل سیاہ کیچ کے ہوگئی ۔
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
(ف20)جن چیزوں سے وہ کَشتیاں بنائی گئیں وہ بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کیں اور ان کو ترکیب دینے اور کَشتی بنانے اور صنّاعی کرنے کی عقل بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کی اور دریاؤں میں ان کَشتیوں کا چلنا اور تیرنا یہ سب اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہے ۔
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲٤)
(ف23)فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق ، کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں ، سب اس کے فضل کے محتاج ہیں اور زبانِ حال و قال سے اس کے حضور سائل ۔(ف24)یعنی وہ ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے ، کسی کو روزی دیتا ہے ، کسی کو مارتا ہے ، کسی کو جِلاتا ہے ، کسی کو عزّت دیتا ہے ، کسی کو ذلّت ، کسی کو غنی کرتا ہے ، کسی کو محتاج ، کسی کے گناہ بخشتا ہے ، کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی سنیچر کے روز کوئی کام نہیں کرتا ، ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا ، منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنٰی دریافت کئے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکِّر و مغموم ہو کر اپنے مکان پر آیا ، اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا : اے میرے آقا آپ کو کیا مصیبت پیش آئی ، بیان کیجئے ، وزیر نے بیان کیا تو غلام نے کہا کہ اس کے معنٰی بادشاہ کو میں سمجھادوں گا ، وزیر نے اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا کہ اے بادشاہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندے سے مردہ اور بیمار کو تندرسی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کرتا ہے ، مصیبت زدہ کو رہائی دیتا ہے اور بے غموں کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے ، عزّت والوں کو ذلیل کرتا ہے ، ذلیلوں کو عزّت دیتا ہے ، مالداروں کو محتاج کرتا ہے ، محتاجوں کو مالدار ، بادشاہ نے غلام کا جواب پسند کیا اور وزیر کو حکم دیا کہ اس غلام کو خلعتِ وزارت پہنائے ، غلام نے وزیر سے کہا اے آقا یہ بھی اللہ تعالٰی کی ایک شان ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿30﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
سَنَفۡرُغُ لَـكُمۡ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِۚ ﴿31﴾
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بےدھویں کی آگ کی لپٹ اور بےلپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
(ف27)روزِ قیامت جب تم قبروں سے نکلو گے ۔(ف28)حضرت مترجِم قدّس سِرّہ نے فرمایا لَپٹ میں دھواں ہو تو اس کے سب اجزاء جَلانے والے نہ ہوں گے کہ زمین کے اجزاء شامل ہیں ، جن سے دھواں بنتا ہے اور دھوئیں میں لَپٹ ہو تو وہ پورا سیاہ اور اندھیرا نہ ہوگا کہ لَپٹ کی رنگت شامل ہے ، ان پر بے دھوئیں کی لَپٹ بھیجی جائے گی جس کے سب اجزاء جَلانے والے اور بے لَپٹ کا دھواں جو سخت کالا اندھیرا اوراسی کے وجہ کریم کی پناہ ۔(ف29)اس عذاب سے نہ بچ سکو گے اور آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکوگے بلکہ یہ لَپٹ اور دھواں تمہیں محشرکی طرف لے جائیں گے ، پہلے سے اس کی خبر دے دینا یہ بھی اللہ تعالٰی کا لطف و کرم ہے تاکہ اس کی نافرمانی سے باز رہ کر اپنے آپ کو اس بَلاسے بچاسکو ۔
تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے (ف۳۲)
(ف31)یعنی جب کہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور آسمان پھٹے گا ۔(ف32)اس روز ملائکہ مجرمین سے دریافت نہ کریں گے ان کی صورتیں ہی دیکھ کر پہچان لیں گے اور سوال دوسرے وقت ہوگا جب کہ لوگ موقف میں جمع ہوں گے ۔
مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳٤)
(ف33)کہ ان کے منہ کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی ۔(ف34)پاؤں پیٹھ کے پیچھے سے لا کر پیشانیوں سے ملادیئے جائیں گے اور گھسیٹ کرجہنّم میں ڈالے جائیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعضے پیشانیوں سے گھسیٹے جائیں گے بعضے پاؤں سے ۔
پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳٦)
(ف36)کہ جب جہنّم کی آ گ سے جل بُھن کر فریاد کریں گے تو انہیں جلتا ، کھولتا پانی پلایا جائے گا اور اس کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے ۔ خدا کی نافرمانی کے اس انجام سے آگاہ فرمادینا اللہ تعالٰی کی نعمت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿45﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ﴿46﴾
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)
(ف37)یعنی جسے اپنے رب کے حضور روزِ قیامت موقف میں حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ معاصی ترک کرے اور فرائض بجالائے ۔(ف38)جنّتِ عدن اور جنّتِ نعیم ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جنّت رب سے ڈر نے کا صلہ اور ایک شہوات ترک کرنے کا صلہ ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿47﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍۚ ﴿48﴾
بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
(ف39)اور ہر ڈالی میں قِسم قِسم کے میوے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿49﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِۚ ﴿50﴾
ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف٤۰)
(ف40)ایک آبِ شیریں کا ، اور ایک شرابِ پاک کا ، یا ایک تسنیم ، دوسرا سلسبیل ۔
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف٤۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف٤۲)
(ف41)یعنی سنگین ریشم کا ، جب استرکا یہ حال ہے تو ابرا کیسا ہوگا ، سبحان اللہ ۔(ف42)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ درخت اتنا قریب ہوگا کہ اللہ تعالٰی کے پیارے کھڑے ، بیٹھے اس کا میوہ چُن لیں گے ۔
ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف٤۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے،
(ف43)جنّتی بیبیاں اپنے شوہر سے کہیں گی مجھے اپنے رب کے عزّت و جلال کی قَسم جنّت میں مجھے کوئی چیز تجھ سے زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی تو اس خدا کی حمد جس نے تجھے میرا شوہر کیا اور مجھے تیری بی بی بنایا ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۚ ﴿57﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُۚ ﴿58﴾
گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف٤٤)
(ف44)صفائی اور خوش رنگی میں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی حوروں کے صفائے ابدان کا یہ عالَم ہے کہ ان کی پنڈلی کا مغز اس طرح نظر آتا ہے جس طرح آبگینہ کی صراحی میں شرابِ سرخ ۔
(ف45)یعنی جس نے دنیا میں نیکی کی اس کی جزا آخرت میں احسانِ الٰہی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ جولَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا قائل ہو اور شریعتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عامل ، اس کی جزا جنّت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿61﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ ﴿62﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف٤٦)
(ف46)حدیث شریف میں ہے کہ دو جنّتیں تو ایسی ہیں جن کے ظروف اور سامان چاندی کے ہیں اور دو جنّتیں ایسی کہ جن کے ظروف و اسباب سونے کے ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی دو جنّتیں سونے اور چاندی کی اور دوسری یاقوت و زبرجد کی ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿63﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
مُدۡهَآمَّتٰنِۚ ﴿64﴾
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿65﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ ﴿66﴾
ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿67﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌۚ ﴿68﴾
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿69﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌۚ ﴿70﴾
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿71﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِۚ ﴿72﴾
حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف٤۷)
(ف47)کہ ان خیموں سے باہر نہیں نکلتیں یہ ان کی شرافت و کرامت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر جنّتی عورتوں میں سے زمین کی طرف کسی ایک کی جھلک پڑجائے تو آسمان وزمین کے درمیان کی تمام فضا روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ، اور ان کے خیمے موتی اور زبر جد کے ہوں گے ۔