اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۹) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۱۰) اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا (ف۱۳)
(ف9)جو زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے ۔(ف10)یعنی ستاروں سے ۔(ف11)کہ جب شیاطین آسمان کی طرف ان کی گفتگو سننے اور باتیں چُرانے پہنچیں تو کواکب سے شعلے اور چنگاریاں نکلیں جن سے انہیں مارا جائے ۔(ف12)یعنی شیاطین کے ۔(ف13)آخرت میں ۔
معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ (ف۱۵) ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا (ف۱٦)
(ف15)مالک اور ان کے اعوان بطریقِ تو بیخ ۔(ف16)یعنی اللہ کا نبی جو تمہیں عذابِ الٰہی کا خوف دلاتا ۔
اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے (ف۲۲)
(ف22)اس پر کچھ مخفی نہیں ۔ شانِ نزول : مشرکین آپس میں کہتے تھے چپکے چپکے بات کرو محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا خدا سن نہ پائے ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ اس سے کوئی چیز چُھپ نہیں سکتی یہ کوشش فضول ہے ۔
اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے (ف۳۲) اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۳۳) سوا رحمٰن کے (ف۳٤) بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
(ف32)ہوا میں اڑتے وقت ۔ (ف33)پر پھیلانے اور سمیٹنے کی حالت میں گرنے سے ۔(ف34)یعنی باوجودیہ کہ پرندے بوجھل ، موٹے جسیم ہوتے ہیں اور شے ثقیل طبعاً پستی کی طرف مائل ہوتی ہے وہ فضا میں نہیں رک سکتی اللہ تعالٰی کی قدرت ہے کہ وہ ٹھہرے رہتے ہیں ایسے ہی آسمانوں کو جب تک وہ چاہے رکے ہوئے ہیں اور وہ نہ روکے تو گر پڑیں ۔
تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے (ف۳۹) زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے (ف٤۰) سیدھی راہ پر (ف٤۱)
(ف39)نہ آگے دیکھے نہ پیچھے نہ دائیں نہ بائیں ۔(ف40)راستہ کو دیکھتا ۔(ف41)جو منزلِ مقصود تک پہنچانے والی ہے ، مقصود اس مثل کا یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں اس طرح حیران و سرگرداں جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم نہ راہ پہچانے اور مومن آنکھیں کھولے راہِ حق دیکھتا پہچانتا چلتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف٤۲) وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف٤۳) کتنا کم حق مانتے ہو (ف٤٤)
(ف42)اے مصطفٰی صلی اللہ عَلَیْکَ وَسلم مشرکین سے کہ جس خدا کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں وہ ۔(ف43)جو آلاتِ علم ہیں لیکن تم نے ان قوٰی سے فائدہ نہ اٹھایا ، جو سنا وہ نہ مانا ، جو دیکھا اس سے عبرت حاصل نہ کی ، جو سمجھا اس میں غورنہ کیا ۔(ف44)کہ اللہ تعالٰی کے عطا فرمائے ہوئے قوٰی اور آلاتِ ادراک سے وہ کام نہیں لیتے جس کےلئے وہ عطا ہوئے یہی سبب ہے کہ شرک و کفر میں مبتلا ہوتے ہو ۔
پھر جب اسے (ف٤۹) پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے (ف۵۰) اور ان سے فرمادیا جائے گا (ف۵۱) یہ ہے جو تم مانگتے تھے (ف۵۲)
(ف49)یعنی عذابِ موعود کو ۔(ف50)چہرے سیاہ پڑ جائیں گے ، وحشت و غم سے صورتیں خراب ہوجائیں گی ۔(ف51)جہنّم کے فرشتے کہیں گے ۔(ف52)اور انبیاء علیہم السلام سے کہتے تھے کہ وہ عذاب کہاں ہے ؟ جلدی لاؤ ، اب دیکھ لو یہ ہے وہ عذاب جس کی تمہیں طلب تھی ۔
تم فرماؤ (ف۵۳) بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو (ف۵٤) بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے (ف۵۵) تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا (ف۵٦)
(ف53) اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کفّارِ مکّہ سے جو آپ کی موت کی آرزو رکھتے ہیں ۔(ف54)یعنی میرے اصحاب کو ۔(ف55) اور ہماری عمریں دراز کردے ۔(ف56)تمہیں تو اپنے کفر کے سبب ضرور عذاب میں مبتلا ہونا ہماری موت تمہیں کیا فائدہ دے گی ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۵۹) تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا (ف٦۰)
(ف59)اور اتنی گہرائی میں پہنچ جائے کہ ڈول وغیرہ سے ہاتھ نہ آسکے ۔(ف60)کہ اس تک ہر ایک کا ہاتھ پہنچ سکے یہ صرف اللہ تعالٰی ہی کی قدرت میں ہے تو جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھے انہیں کیوں عبادت میں اس قادرِ برحق کا شریک کرتے ہو ۔