(ف2)اللہ تعالٰی نے قلم کی قَسم ذکر فرمائی اس قلم سے مراد یا تو لکھنے والوں کے قلم ہیں جن سے دینی دنیوی مصالح و فوائد وابستہ ہیں اور یا قلمِ اعلٰی مراد ہے جو نوری قلم ہے اور اس کا طول فاصلۂِ زمین و آسمان کے برابر ہے اس نے بحکمِ الٰہی لوحِ محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ دیئے ۔(ف3)یعنی اعمالِ بنی آدم کے نگہبان فرشتوں کے لکھے کی قَسم ۔
(ف4)اس کا لطف و کرم تمہارے شاملِ حال ہے اس نے تم پر انعام و احسان فرمائے نبوّت اور حکمت عطا کی فصاحتِ تامّہ ، عقلِ کامل ، پاکیزہ خصائل ، پسندیدہ اخلاق عطا کئے مخلوق کےلئے جس قدر کمالات امکان میں ہیں سب علٰی وجہِ الکمال عطا فرمائے ، ہر عیب سے ذاتِ عالی صفات کو پاک رکھا ۔ اس میں کُفّار کے اس مقولہ کا رد ہے جو انہوں نے کہا تھا ۔یٰۤاَ یُّہَاالَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْن ۔
وَاِنَّ لَڪَ لَاَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُوۡنٍۚ ﴿3﴾
اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)
(ف5)تبلیغِ رسالت و اظہارِ نبوّت اور خَلق کو اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور کفّار کی ان بے ہودہ باتوں اور افتراؤں اور طعنوں پر صبر کرنے کا ۔
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ ﴿4﴾
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف٦)
(ف6)حضرت اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خُلق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے مکارمِ اخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم کے لئے مبعوث فرمایا ۔
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿5﴾
تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)
بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿8﴾
تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُوۡنَ ﴿9﴾
وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
(ف8)دِین کے معاملہ میں ان کی رعایت کرکے ۔
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيۡنٍۙ ﴿10﴾
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل
(ف9)کہ جھوٹی اور باطل باتوں پر قَسمیں کھانے میں دلیر ہے مراد اس سے یاولید بن مغیرہ ہے یا اسود بن یَغُوث یا اخنس بن شَریق ۔ آگے اس کی صفتوں کا بیان ہوتا ہے ۔
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيۡمٍۙ ﴿11﴾
بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)
(ف10)تاکہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالے ۔
مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ ﴿12﴾
بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)
(ف11)بخیل نہ خود خرچ کرے ، نہ دوسرے کو نیک کاموں میں خرچ کرنے دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کے معنٰی میں یہ فرمایا ہے کہ بھلائی سے روکنے سے مقصود اسلام سے روکنا ہے کیونکہ ولید بن مغیرہ اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی اسلام میں داخل ہوا تو میں اسے اپنے مال میں سے کچھ نہ دوں گا ۔(ف12)فاجر بدکار ۔
عُتُلٍّ ۢ بَعۡدَ ذٰلِكَ زَنِيۡمٍۙ ﴿13﴾
درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱٤)
(ف13) بد مزاج ، بد زبان ۔(ف14)یعنی بدگوہر تو اس سے افعالِ خبیثہ کا صدور کیا عجب ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکو تومیں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کوبلالیا تو اس سے ہے ۔ فائدہ : ولید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا مجنون ، اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیئے اس سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فضیلت اور شانِ محبوبیّت معلوم ہوتی ہے ۔
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱٦)
(ف15)یعنی قرآنِ مجید ۔(ف16)اور اس سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ جھوٹ ہے اور اس کا یہ کہنا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس کو مال اور اولاد دی ۔
سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ ﴿16﴾
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)
(ف17)یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اوراس کی بد باطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کےلئے سببِ عار ہو آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں بھی یہ خبر پوری ہو کر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر میں اس کی ناک کٹ گئی کَذَا قِیْلَ خَازِن وَمدَارک وَجَلَالَیْنِ وَ اُعْتُرِاضَ عَلَیْہِ بِاَنَّ وَلِیْداً کَانَ مِنَ المُسْتَہْزِ ئِیۡنَ الَّذِیْنَ مَاتُوْا قَبْلَ بَدْرٍ ۔
بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)
(ف18)یعنی اہلِ مکّہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعا سے جو آپ نے فرمائی تھی کہ یارب انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی تھی چنانچہ اہلِ مکّہ قحط کی ایسی مصیبت میں مبتلا کئے گئے کہ وہ بھوک کی شدّت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ۔(ف19)اس باغ کا نام ضردان تھا یہ باغ صنعاء یمن سے دو فرسنگ کے فاصلہ پر سرِ راہ تھا اس کا مالک ایک مردِ صالح تھا جو باغ کے میوے کثرت سے فقراء کو دیتا تھا جب باغ میں جاتا فقراء کو بلالیتا تمام گرے پڑے میوے فقراء لے لیتے اور باغ میں بستر بچھادیئے جاتے جب میوے توڑے جاتے تو جتنے میوے بستروں پر گرتے وہ بھی فقراء کو دے دیئے جاتے اور جو خالص اپنا حصّہ ہوتا اس سے بھی دسواں حصّہ فقراء کو دے دیتا اسی طرح کھیتی کاٹتے وقت بھی اس نے فقراء کے حقوق بہت زیادہ مقرر کئے تھے اس کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ مال قلیل ہے کنبہ بہت ہے اگر والد کی طرح ہم بھی خیرات جاری رکھیں تو تنگ دست ہوجائیں گے آپس میں مل کر قَسمیں کھائیں کہ صبح تڑکے لوگوں کے اٹھنے سے پہلے باغ چل کر میوے توڑ لیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔(ف20)تاکہ مسکینوں کو خبر نہ ہو ۔
(ف27)یعنی باغ کو کہ اس میں میوہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف28)یعنی کسی اور باغ پر پہنچ گئے ہمارا باغ تو بہت میوہ دار ہے پھر جب غور کیا اور اس کے درو دیوار کو دیکھا اور پہچانا کہ اپنا ہی باغ ہے تو بولے ۔
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿27﴾
بلکہ ہم بےنصیب ہوئے (ف۲۹)
(ف29)اس کے منافع سے مسکینوں کو نہ دینے کی نیّت کرکے ۔
امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)
(ف33)اس کے عفوو کرم کی امید رکھتے ہیں ان لوگوں نے صدق و اخلاص سے توبہ کی تو اللہ تعالٰی نے انہیں اس کے عوض اس سے بہتر باغ عطا فرمایا جس کا نام باغِ حیوان تھا اور اس میں کثرتِ پیدوار اور لطافتِ آب و ہوا کا یہ عالَم تھا کہ اس کے انگوروں کا ایک خوشہ ایک گدھے پر بار کیا جاتا تھا ۔
بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳٦) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)
(ف36)یعنی آخرت میں ۔(ف37)شانِ نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہمارا ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش ہے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جو آگے آتی ہے ۔
یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف٤۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف٤۱)
(ف40)جو منقطع نہ ہوں اس مضمون کی ۔(ف41)اپنے لئے ا للہ تعالٰی کے نزدیک خیر و کرامت کا ۔ اب اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرماتا ہے ۔
سَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ۛۚ ﴿40﴾
تم ان سے (ف٤۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف٤۳)
(ف42)یعنی کفّار سے ۔(ف43)کہ آخرت میں انہیں مسلمانوں سے بہتر یا ان کے برابر ملے گا ۔
یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف٤٤) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف٤۵)
(ف44)جو اس دعوے میں ان کی موافقت کریں اور ذمّہ دار بنیں ۔(ف45)حقیقت میں وہ باطل پر ہیں نہ ان کے پاس کوئی کتاب جس میں یہ مذکور ہو جو وہ کہتے ہیں ، نہ اللہ تعالٰی کا کوئی عہد ، نہ کوئی ان کا ضامن ، نہ موافق ۔
جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف٤٦) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف٤۷) تو نہ کرسکیں گے (ف٤۸)
(ف46)جمھور کے نزدیک کشفِ ساق شدّت و صعوبتِ امر سے عبارت ہے جو روزِ قیامت حساب و جزا کے لئے پیش آئے گی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ قیامت میں وہ بڑا سخت وقت ہے سلف کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اس کے معنٰی میں کلام نہیں کرتے اور یہ فرماتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے جو مراد ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف تفویض کرتے ہیں ۔(ف47)یعنی کفّار و منافقین بطریقِ امتحان و توبیخ ۔(ف48)ان کی پشتیں تانبے کے تختے کی طرح سخت ہوجائیں گی ۔
نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف٤۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)
(ف49)کہ ان پر ذلّت و ندامت چھائی ہوئی ہوگی ۔(ف50)اور اذانوں اور تکبیروں میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے ساتھ انہیں نماز و سجدے کی دعوت دی جاتی تھی ۔(ف51)باوجود اس کے سجدہ نہ کرتے تھے اسی کا نتیجہ ہے جو یہاں سجدے سے محروم رہے ۔
تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵٤) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
(ف52)یعنی قرآنِ مجید کو ۔(ف53)میں اس کو سزا دوں گا ۔(ف54)اپنے عذاب کی طرف اس طرح کہ باوجود معصیّتوں اور نافرمانیوں کے انہیں صحت و رزق سب کچھ ملتا رہے گا اور دمبدم عذاب قریب ہوتاجائے گا ۔
وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ ﴿45﴾
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)
تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو (ف٦۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف٦۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف٦۲)
(ف60)جو وہ ان کے حق میں فرمائے ۔ اور چندے ان کی ایذاؤں پر صبر کرو ۔ قِیْلَ اِنَّہ مَنْسُوخ بِآٰ یٰۃِ السَّیْفِ(ف61)قوم پر تعجیلِ غضب میں ۔ اور مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں ۔(ف62)مچھلی کے پیٹ میں غم سے ۔
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف٦۵) اور کہتے ہیں (ف٦٦) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
(ف65)اور بغض و عداوت کی نگاہوں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں ۔شانِ نزول : منقول ہے کہ عرب میں بعض لوگ نظر لگانے میں شہرۂِ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعوٰی کرکرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں نے گزند پہنچانے کے ارادے سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی ، ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں آچکے تھے کفّار نے ان سے کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نظر لگائیں تو ان لوگوں نے حضور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا نہ ایسی دلیلیں دیکھیں اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی ستم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام جِدّوجُہد کبھی مثل ان کے اور مکائد کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بے کار گئی اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جس کو نظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دم کردی جائے ۔(ف66)براہِ حسد و عناد ، اور لوگوں کو نفرت دلانے کےلئے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں جب آپ کو قرآنِ کریم پڑھتے دیکھتے ہیں ۔
وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴿52﴾
اور وہ (ف٦۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف٦۸)
(ف67)یعنی قرآن شریف یا سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔