وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن (ف٦) لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں (ف۷) دیکھو بچھڑے ہوئے (ف۸) گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
He forced it upon them with strength, consecutively for seven nights and eight days – so you would see those people overthrown in it, like trunks of date palms fallen down.
वह उन पर क़ुव्वत से लगा दी सात रातें और आठ दिन लगातार तो उन लोगों को उनमें देखो बिछड़े हुए गोया वह ख़जूर के ढंढ (सूखे तने) हैं गिरे हुए,
Woh un par quwwat se laga di saat raatein aur aath din lagataar to un logon ko un mein dekho bichhde hue goya woh khajoor ke dhund (sookhe tane) hain gire hue,
(ف6)چہار شنبہ سے چہار شنبہ تک آخرِ ماہ شوال میں نہایت تیز سردی کے موسم میں ۔(ف7)یعنی ان دنوں میں ۔(ف8)کہ موت نے انہیں ایسا ڈھا دیا ۔
فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۡۢ بَاقِيَةٍ ﴿8﴾
تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو (ف۹)
So do you see any survivor among them?
तो तुम उनमें किसी को बचा हुआ देखते हो
To tum un mein kisi ko bacha hua dekhte ho
(ف9)کہا گیا ہے کہ آٹھویں روز جب صبح کو وہ سب لوگ ہلاک ہوگئے تو ہواؤں نے انہیں اڑا کر سمندر میں پھینک دیا اور ایک بھی باقی نہ رہا ۔
بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا (ف۱٤) ہم نے تمہیں (ف۱۵) کشتی میں سوار کیا (ف۱٦)
Indeed when the water swelled up, We boarded you onto the ship.
बेशक जब पानी ने सर उठाया था हम ने तुम्हें कश्ती में सवार किया
Beshak jab paani ne sar uthaya tha hum ne tumhein kashti mein sawar kiya
(ف14)اور وہ درختوں ، عمارتوں ، پہاڑوں اور ہر چیز سے بلند ہوگیا تھا ۔ یہ بیان طوفانِ نوح کا ہے علیہ السلام ۔(ف15)جب کہ تم اپنے آباء کے اصلاب میں تھے حضرت نوح علیہ السلام کی ۔(ف16)اور حضرت نوح علیہ السلام کو اور ان کے ساتھ والوں کو جو انپر ایمان لائے تھے نجات دی اور باقیوں کو غرق کیا ۔
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے (ف۲۲) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے (ف۲۳)
And the angels will be on its sides; and on that day, eight angels will carry the Throne of your Lord above them.
और फ़रिश्ते उस के किनारों पर खड़े होंगे और उस दिन तुम्हारे रब का अर्श अपने ऊपर आठ फ़रिश्ते उठाएंगे
Aur Farishte us ke kinaron par khade honge aur us din tumhare Rab ka Arsh apne upar aath Farishte uthayenge
(ف22)یعنی جن فرشتوں کا مسکن آسمان ہے وہ اس کے پھٹنے پر اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے پھر بحکمِ اٰلہی اتر کر زمین کا احاطہ کریں گے ۔(ف23)حدیث شریف میں ہے کہ حاملینِ عرش آج کل چار ہیں روزِ قیامت ان کی تائید کےلئے چار کا اور اضافہ کیا جائے گا آٹھ ہوجائیں گے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اس سے ملائکہ کی آٹھ صفیں مراد ہیں جن کی تعداد اللہ تعالٰی ہی جانے ۔
اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۹) کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
And whoever is given his book in his left hand – he will say, “Alas, if only my account were not given to me!”
और वह जो अपना नाम-ए-आमाल बाएं हाथ में दिया जाएगा कहेगा हाए किसी तरह मुझे अपना नुश्ता न दिया जाता,
Aur woh jo apna naamah-e-aamaal baayein haath mein diya jaayega kahega haaye kisi tarah mujhe apna nushta na diya jaata,
(ف29)جب اپنے نامۂِ اعمال کو دیکھے گا اور اس میں اپنے بد اعمال مکتوب پائے گا تو شرمندہ و رسوا ہو کر ۔
وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡۚ ﴿26﴾
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
“And had never come to know my account!”
और मैं न जानता कि मेरा हिसाब क्या है,
Aur main na jaanta ke mera hisaab kya hai,
يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ ۚ ﴿27﴾
ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی (ف۳۰)
“Alas, if only it had been just death.”
हाए किसी तरह मौत ही क़िस्सा चका जाती
Haaye kisi tarah maut hi qissa chuka jaati
(ف30)اور حساب کےلئے نہ اٹھایا جاتا اور یہ ذلّت و رسوائی پیش نہ آتی ۔
مَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ ﴿28﴾
میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال (ف۳۱)
“My wealth did not in the least benefit me.”
मेरे कुछ काम न आया मेरा माल
Mere kuch kaam na aaya mera maal
(ف31)جو میں نے دنیا میں جمع کیا تھا وہ ذرا بھی میرا عذاب ٹال نہ سکا ۔
هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡۚ ﴿29﴾
میرا سب زور جاتا رہا (ف۳۲)
“All my power has vanished.”
मेरा सब ज़ोर जाता रहा
Mera sab zor jaata raha
(ف32)اور میں ذلیل و محتاج رہ گیا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس سے اسکی مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جو حجّتیں میں کیا کرتا تھا وہ سب باطل ہوگئیں اب اللہ تعالٰی جہنّم کے خازنوں کو حکم دے گا ۔
خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ ۙ ﴿30﴾
اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو (ف۳۳)
It will be said, “Seize him, and shackle him.”
उसे पकड़ो फिर उसे तौक डालो
Use pakdo phir use toq daalo
(ف33)اس طرح کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے ملا کر طوق میں باندھ دو ۔
“Indeed he refused to accept faith in Allah, the Greatest.”
बेशक वह अज़मत वाले अल्लाह पर ईमान न लाता था
Beshak woh azmat wale Allah par imaan na laata tha
(ف36)اس کی عظمت و وحدانیّت کا معتقدنہ تھا ۔
وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ ﴿34﴾
اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا (ف۳۷)
“And did not urge to feed the needy.”
और मिस्कीन को खाने देने की रग़बत न देता
Aur miskeen ko khane dene ki ragbat na deta
(ف37)نہ اپنے نفس کو ، نہ اپنے اہل کو ، نہ دوسروں کو ۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ بعث کا قائل نہ تھا کیونکہ مسکین کا کھانا دینے والا مسکین سے تو کسی بدلہ کی امید رکھتا ہی نہیں محض رضائے الٰہی و ثوابِ آخرت کی امید پر مسکین کو دیتا ہے اور جو بعث و آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کو کھلانے کی کیا غرض ۔
فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ ﴿35﴾
تو آج یہاں (ف۳۸) اس کا کوئی دوست نہیں (ف۳۹)
“So he does not have any friend here this day.”
तो आज यहाँ उस का कोई दोस्त नहीं
To aaj yahan us ka koi dost nahi
(ف38)یعنی آخرت میں ۔(ف39)جو اسے کچھ نفع پہنچائے یا شفاعت کرے ۔
وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍۙ ﴿36﴾
اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
“Nor any food except the pus discharged from the people of hell.”
और न कुछ खाने को मगर दोज़ख़ियों का पीप,
Aur na kuch khane ko magar dozakhiyon ka peep,
لَّا يَاۡكُلُهٗۤ اِلَّا الۡخٰطِئُوْنَ ﴿37﴾
اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار (ف٤۰)
“Which none except the guilty shall eat.”
उसे न खाएंगे मगर ख़ताकार
Use na khayenge magar khatakaar
(ف40)کفّارِ بداطوار ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿38﴾
تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
So by oath of the things you see.
तो मुझे क़सम उन चीज़ों की जिन्हें तुम देखते हो,
To mujhe qasam un cheezon ki jinhein tum dekhte ho,
وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿39﴾
اور جنہیں تم نہیں دیکھتے (ف٤۱)
And by oath of those you do not see.
और जिन्हें तुम नहीं देखते
Aur jinhein tum nahi dekhte
(ف41)یعنی تمام مخلوقات کی قَسم جو تمہارے دیکھنے میں آئے اس کی بھی ، جو نہ آئے اس کی بھی ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ مَا تُبْصِرُوْنَ سے دنیا اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے آخرت مراد ہے ۔ اس کی تفسیر میں مفسّرین کے اور بھی کئی قول ہیں ۔
اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ ۙ ﴿40﴾
بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول (ف٤۲) سے باتیں ہیں (ف٤۳)
This Qur’an is the speech of Allah with a gracious Noble Messenger.
बेशक यह कुरआन एक करम वाले रसूल से बातें हैं
Beshak yeh Qur’an ek karam wale Rasool se baatein hain
(ف42)محمّد مصطفٰی حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف43)جو ان کے رب عزَّ و علا نے فرمائیں ۔
اور نہ کسی کاہن کی بات (ف٤٦) کتنا کم دھیان کرتے ہو (ف٤۷)
Nor is it the speech of a soothsayer; how little do you ponder!
और न किसी काहिन की बात कितना कम ध्यान करते हो
Aur na kisi kahin ki baat kitna kam dhyaan karte ho
(ف46)جیسا کہ تم میں سے بعضے کافر اس کتابِ الٰہی کی نسبت کہتے ہیں ۔(ف47)نہ اس کتاب کی ہدایات کو دیکھتے ہو ، نہ اس کی تعلیموں پر غور کرتے ہو کہ اس میں کیسی روحانی تعلیم ہے نہ اس کی فصاحت و بلاغت اور اعجازِ بے مثالی پر غور کرتے ہو جو یہ سمجھو کہ یہ کلام ۔
And indeed We know that some among you are deniers.
और ज़रूर हम जानते हैं कि तुम कुछ झुटलाने वाले हो,
Aur zaroor hum jaante hain ke tum kuch jhutlane wale ho,
وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿50﴾
اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے (ف۵۰)
And indeed it is a despair for the disbelievers.
और बेशक वह काफ़िरों पर हसरत है
Aur beshak woh kaafiron par hasrat hai
(ف50)کہ وہ روزِ قیامت جب قرآن پر ایمان لانے والوں کا ثواب اور اس کے انکار کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کا عذاب دیکھیں گے تو اپنے ایمان نہ لانے پر افسوس کریں گے اور حسرت و ندامت میں گرفتار ہوں گے ۔
وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ ﴿51﴾
اور بیشک وہ یقین حق ہے (ف۵۱)
And indeed it is a certain Truth.
और बेशक वह यक़ीन हक़ है
Aur beshak woh yaqeen haq hai
(ف51)کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿52﴾
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو (ف۵۲)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), proclaim the purity of your Lord, the Greatest.
तो ऐ महबूब तुम अपने अज़मत वाले रब की पाकी बोलो
To aye Mahboob tum apne azmat wale Rab ki paaki bolo",
(ف52)اور اس کاشکر کرو کہ اس نے تمہاری طرف اپنے اس کلامِ جلیل کی وحی فرمائی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page