بیشک آدمی پر (ف۲) ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا (ف۳)
(ف2)یعنی حضرت آدم علیہ السلام پر نفخِ روح سے پہلے چالیس سال کا ۔(ف3)کیونکہ وہ ایک مٹی کا خمیر تھا ، نہ کہیں اس کا ذکر تھا ، نہ اس کو کوئی جانتا تھا ، نہ کسی کو اس کی پیدائش کی حکمتیں معلوم تھیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے انسان سے جنس مراد ہے اوروقت سے اس کے حمل میں رہنے کا زمانہ ۔
اپنی منتیں پوری کرتے ہیں (ف۱۵) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی (ف۱٦) پھیلی ہوئی ہے (ف۱۷)
(ف15)مَنّت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرے ، مثلاً یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہِ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں نماز پڑھوں گا ۔ اس نذر کی وفا واجب ہوتی ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ وہ لوگ طاعت و عبادت اور شرع کے واجبات کے عامل ہیں حتّٰی کہ جو طاعاتِ غیرِ واجبہ اپنے اوپر نذر سے واجب کرلیتے ہیں ، اس کو بھی ادا کرتے ہیں ۔(ف16)یعنی شدّت اور سختی ۔(ف17)قتادہ نے کہا کہ اس دن کی شدّت اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ آسمان پھٹ جائیں گے ، ستارے گِر پڑیں گے ، چاند سورج بے نور ہوجائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ، کوئی عمارت باقی نہ رہے گی ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اعمال ریا و نمائش سے خالی ہیں ۔
اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر (ف۱۸) مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
(ف18)یعنی ایسی حالت میں جب کہ خود انہیں کھانے کی حاجت و خواہش ہو اور بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی لئے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی محبّت میں کھلاتے ہیں ۔شانِ نزول: یہ آیت حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کی کنیز فضّہ کے حق میں نازل ہوئی ، حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما بیمار ہوئے ، ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی ، اللہ تعالٰی نے صحت دی ، نذر کی وفا کا وقت آیا ، سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک یہودی سے تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے) جَو لائے ، حضرت خاتونِ جنّت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کاوقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ، ایک روز یتیم ، ایک روز اسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا ۔
کیسے شیشے چاندی کے (ف۲۳) ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا (ف۲٤)
(ف23)جنّتی برتن چاندی کے ہوں گے اور چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ مثل آبگینہ کے صاف شفاف ہوں گے ،کہ ان میں جو چیز پی جائے گی وہ باہر سے نظر آئے گی ۔(ف24)یعنی پینے والوں کی رغبت کی قدر ، نہ اس سے کم ، نہ زیادہ ۔ یہ سلیقہ جنّتی خدام کے ساتھ خاص ہے دنیا کے ساقیوں کو میسّرنہیں ۔
اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے (ف۲۵) جس کی ملونی ادرک ہوگی (ف۲٦)
(ف25)شرابِ طہور کے ۔(ف26)اس کی آمیزش سے شراب کی لذّت اور زیادہ ہوجائے گی ۔
عَيۡنًا فِيۡهَا تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا ﴿18﴾
وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں (ف۲۷)
(ف27)مقرّبین تو خالص اسی کو پئیں گے اور باقی اہلِ جنّت کی شرابوں میں اس کی آمیزش ہوگی ۔ یہ چشمہ زیرِ عرش سے جنّتِ عدن ہوتا ہوا تمام جنّتوں میں گذرتا ہے ۔
اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۲۸) جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے (ف۲۹)
(ف28)جو نہ کبھی مریں گے ، نہ بوڑھے ہوں گے ، نہ ان میں کوئی تغیّر آئے گا ، نہ خدمت سے اکتائیں گے ، ان کے حسن کا یہ عالَم ہوگا ۔(ف29)یعنی جس طرح فرشِ مصفّٰی پر گوہرِ آبدار غلطاں ہو اس حسن و صفا کے ساتھ جنّتی غلمان مشغولِ خدمت ہوں گے ۔
اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے (ف۳۰) اور بڑی سلطنت (ف۳۱)
(ف30)جس کا وصف بیان میں نہیں آسکتا ۔(ف31)جس کی حدّ و نہایت نہیں ، نہ اس کو زوال ، نہ جنّتی کو وہاں سے انتقال ۔ وسعت کا یہ عالَم کہ ادنٰی مرتبہ کا جنّتی جب اپنے مِلک میں نظر کرے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتاہو ، شوکت و شکوہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بے اجازت نہ آئیں گے ۔
ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے (ف۳۲) اور قنا ویز کے (ف۳۳) اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے (ف۳٤) اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی (ف۳۵)
(ف32)یعنی باریک ریشم کے ۔(ف33)یعنی دبیز ریشم کے ۔(ف34)حضرت ابنِ مسیّب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہر ایک جنّتی کے ہاتھ میں تین گنگن ہوں گے ، ایک چاندی کا ، ایک سونے کا ، ایک موتی کا ۔(ف35)جو نہایت پاک صاف ، نہ اسے کسی کا ہاتھ لگا، نہ کسی نے چھوا ، نہ وہ پینے کے بعد شرابِ دنیا کی طرح جسم کے اندر سڑ کر بول بنے ، بلکہ اس کی صفائی کا یہ عالَم ہے کہ جسم کے اندر اتر کر پاکیزہ خوشبو بن کر جسم سے نکلتی ہے اہلِ جنّت کو کھانے کے بعدشراب پیش کی جائے گی ، اس کو پینے سے ان کے پیٹ صاف ہوجائیں گے اور جو انہوں نے کھایا ہے وہ پاکیزہ خوشبو بن کر ان کے جسموں سے نکلے گا اور ان کی خواہشیں اور رغبتیں پھرتازہ ہوجائیں گی ۔
تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو (ف٤۰) اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو (ف٤۱)
(ف40)رسالت کی تبلیغ فرما کر اور اس میں مشقّتیں اٹھا کر اور دشمنانِ دِین کی ایذائیں برداشت کرکے ۔(ف41)شانِ نزول : عتبہ بن ربیعہ اور ولید ابنِ مغیرہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ اس کام سے باز آئیے یعنی دِین سے ، عتبہ نے کہا کہ آپ ایسا کریں تو میں اپنی بیٹی آپ کو بیاہ دوں اور بغیر مَہر کے آپ کی خدمت میں حاضر کردوں ، ولید نے کہا کہ میں آپ کو اتنا مال دے دوں کہ آپ راضی ہوجائیں ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی ۔
اور کچھ میں اسے سجدہ کرو (ف٤۳) اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو (ف٤٤)
(ف43)یعنی مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھو ۔ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ۔(ف44)یعنی فرائض کے بعد نوافل پڑھتے رہو ، اس میں نمازِ تہجد آگئی ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ مراد ذکرِ لسانی ہے مقصود یہ ہے کہ روز و شب کے تمام اوقات میں دل اور زبان سے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہو ۔
بیشک یہ لوگ (ف٤۵) پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں (ف٤٦) اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں (ف٤۷)
(ف45)یعنی کفّار ۔(ف46)یعنی محبّتِ دنیا میں گرفتار ہیں ۔(ف47)یعنی روزِ قیامت کو جس کے شدائد کفّار پر بہت بھاری ہوں گے ، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، نہ اس دن کےلئے عمل کرتے ہیں ۔