(۱) جب آسمان پھٹ پڑے،
(۲) اور جب تارے جھڑ پڑیں،
(۳) اور جب سمندر بہادیے جائیں (ف۲)
(٤) اور جب قبریں کریدی جائیں (ف۳)
(۵) ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا (ف٤) اور جو پیچھے (ف۵)
(٦) اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے (ف٦)
(۷) جس نے تجھے پیدا کیا (ف۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۸) پھر ہموار فرمایا (ف۹)
(۸) جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا (ف۱۰)
(۹) کوئی نہیں (ف۱۱) بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلانتے ہو (ف۱۲)
(۱۰) اور بیشک تم پر کچھ نگہبان ہیں (ف۱۳)
(۱۱) معزز لکھنے والے (ف۱٤)
(۱۲) جانتے ہیں جو کچھ تم کرو (ف۱۵)
(۱۳) بیشک نِکو کار (ف۱٦) ضرور چین میں ہیں (ف۱۷)
(۱٤) اور بیشک بدکار (ف۱۸) ضرور دوزخ میں ہیں،
(۱۵) انصاف کے دن اس میں جائیں گے،
(۱٦) اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے،
(۱۷) اور تو کیا جانیں کیسا انصاف کا دن،
(۱۸) پھر تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن،
(۱۹) جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی (ف۱۹) اور سارا حکم اس دن اللہ کا ہے،