Page 2
id,volume_no,lesson_name,chapter_name,sub_chapter_name,block_no,text,hawala
838,27,پیش لفظ,,,4,"بسم الله الرحمن الرحیم ط
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں:
(۱)الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ) ",
839,27,پیش لفظ,,,5,"(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا چودہ سال کے مختصر عرصہ میں ستائیسویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی چھبیس جلدوں کے مشمولات کی تفصیل سنین اشاعتکتب وابوابمجموعی صفحاتتعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲",
840,27,پیش لفظ,,,6,"۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلح کتاب المضاربۃکتاب الامانات کتاب العاریۃکتاب الھبہ کتاب الاجارۃکتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہ کتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
۲۶ کتاب الفرائضکتاب الشتی حصہ اول ۳۲۵ ۸ محرم الحرام _____۱۴۲۵ مارچ _____۲۰۰۴ ۶۱۶
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہمدہمیازدہمدواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ ",
841,27,پیش لفظ,,,7,"سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائےنیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحقیق انیق کو بھی ہم نے پیش نظر رکھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کی۔عام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہذا اکیسویں جلد سے مسائل حظرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔کتاب الحظروالاباحۃ(جوچارجلدوں ۲۱۲۲۲۳۲۴ پرمشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مدایناتاشربہرہنقسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں جلد بھی منصہ شہود پرآچکی ہے۔اب ابواب فقہیہ میں سے صرف کتاب الفرائض باقی تھی جس کو پیش نظرجلد میں شامل کردیاگیاہے۔باقی رہے مسائل کلامیہ ودیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم کی جلد نہم ودوازدہم میں غیرمبوب وغیرمترتب طورپرمندرج ہیںان کی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل کی توفیقرحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین کی نظرعنایتاعلیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما کے روحانی تصرف وکرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبورکرلی اور کتاب الحظروالاباحۃ کی طرح ان بکھرے ہوئے موتیوں کوابواب کی لڑی میں پروکرمرتبط ومنضبط کردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا)ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب)تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د)مذکورہ بالادونوں جلدوں(نہم ودوازدہم قدیم)میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ)رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و)کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں ومناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔(ز)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
",
842,27,پیش لفظ,,,8,"(ح)کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
ستائیسویں۲۷ جلد
یہ جلد۳۵ سوالوں کے جوابات اورمجموعی طورپر ۶۸۴ صفحات پر مشتمل ہےاس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے سوائے رسالہ اطائب الصیب کے کہ اس کے مترجم حضرت مولانا مولوی سید محمد عبدالکریم قادری مجیدی علیہ الرحمہ ہیں۔رسالہ الکلمۃ الملھمۃ کے چند عربی حواشی جوکہ ادق فنی مباحث پرمشتمل تھے اورمس پرنٹنگ کی وجہ سے انھیں پڑھنے میں بہت دشواری آرہی تھی استاذی المکرم شرف الملت شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری دامت برکاتھم العالیہ نے علالت شدیدہ کے باوجود انتہائی عرق ریزی سے ان حواشی کو ازسر نو نقل فرمایا اور محنت شاقہ سےان کی تصحیح وترجمہ کرکے ہماری مشکل کشائی فرمائیجس پرہم تہہ دل سے ان کے شکرگزارہیں اور ان کی صحت ودرازی عمر کے لیے دعاگو ہیں۔
پیش نظر جلد بنیادی طورپرکتاب الشتی(حصہ دوم)کےچند ابوا ب فوائد حدیثیہفوائد فقہیہفلسفہطبعیاتسائنسنجوم مناظرہاورردبدمذہباں پرمشتمل ہےتاہم متعدد ودیگر عنوانات سےمتعلق کثیر مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیںلہذا مذکورہ بالابنیادی عنوانات کے تحت مندرج مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لیےتیار کردی گئیانتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل دس رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱)الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی(اقسام حدیثحدیث کی صحت اثری و صحت عملی اور نذیر حسین دہلوی کی جہالتوں کا بیان۱۳۱۳ھ)
(۲)مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید(غیر اسلامی اور خالص فلسفیانہ نظریات پر مشتمل مولوی محمد حسن صاحب سنبھلی کی کتاب""المنطق الجدید لناطق النالہ الحدید""کا زور دار عقلی و نقلی دلائل براہین سے رد ۱۳۰۴ھ)
",
843,27,پیش لفظ,,,9,"(۳)نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان(قرآنی آیات سے زمین وآسمان کے ساکن ہونے کا ثبوت (۱۳۳۹ھ)
(۴)معین مبین بہردور شمس و سکون زمین(امریکی منجم پروفیسر البرٹ ایف پورٹا کی پیشگوئی کا سترہ وجوہ سے رد(۱۳۳۸ھ)
(۵)فوز زمین در رد حرکت زمین(حرکت زمین کے نظریہ کا دلائل عقلیہ وبراہین فلسفہ سے زوردار رد(۱۳۳۸ھ)
(۶)الکلمۃ الملھمۃ فی الحکمۃ المحکمۃ لوھاء فلسفۃ المشئمۃ(فلسفہ قدیمہ کے نظریات کار د بلیغ (۱۳۳۸ھ)
(۷)النیر الشہابی علی تدلیس الوھابی(غیرمقلد وہابیوں کی تدلیس و تضلیل اورمسئلہ تقلید کی تحقیق و تفصیل (۱۳۰۹ھ)
(۸)السھم الشہابی علی خداع الوھابی(مولوی رحیم بخش غیر مقلد کی مکاریوں اور غیر مقلدین کو اہل حدیث قرار دینے کا مدلل رد(۱۳۲۵ھ)
(۹)دفع زیغ زاغ ملقب بلقب تاریخی رامی زاغیاں(وہ چالیس۴۰سوالات جو مصنف علیہ الرحمہ نے مولوی رشید احمد گنگوہی کو حلت غراب کے بارے میں ارسال کئے جن کے جوابات سے وہ عاجز رہے۔(۱۳۲۰ھ)
(۱۰)اطائب الصیب علی ارض الطیب(۱۳۱۸ھ)
تقلید کے ضروری ہونے کا ثبوت اور غیر مقلدین کارد۔
رسالہ""فوز مبین""در رد حرکت زمین""کی قلمی نسخہ سے تبییض حضرت علامہ مولانا عبد النعیم عزیزی(علیگ)بلرامپوری زید مجدہ کا قابل قدر کارنامہ ہے اور جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اختر رضاخان ازہر ی دامت برکاتہم العالیہ نے ادارہ""سنی دنیا""بریلی سے پہلی بار اس کی اشاعت کا اہتمام فرمایا جو ارباب علم ودانش پر آپ کا احسان عظیم ہے۔
رسالہ""مقامع الحدید""کی اصل نسخہ سے تبییض وتصحیح اور اس کی اشاعت اول حضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کی مرہون منت ہے۔اس رسالہ کے چند مقامات پر مولانا نواب سلطان احمد خان بریلوی علیہ الرحمہ اور علامہ مصباحی مد ظلہ العالی نے حواشی بھی تحریر فرمائے ہیں۔الله تعالی ان اکابر اہلسنت کی عظیم کا وشوں اورمساعی جمیلہ
",
844,27,پیش لفظ,,,10,"کو قبول فرمائے اور انہیں اس پر اجر جزیل عطا فرمائے آمین۔ان رسائل کو شائع ہوتے عرصہ دراز گزرگیا ہے اور تقریبا یہ نایاب ہوچکے ہیں ہم نے انھیں فتاوی رضویہ میں شامل اشاعت کردیا ہے تاکہ یہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائیں اور مسلسل شا ئع ہوتے رہیں۔
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ کوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑامگریہ اس سراپاکرامت وجود باجود کافیضان ہے کہ ان کے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ وعصریہ کے مستند فاضل اورحضرت مفتی اعظم کی علمی وتجرباتی وسعت وفراست کے وارث وامین ہیںنہایت صبرواستقامت کامظاہرہ فرماتے ہوئے تمام شعبہ جات کی ترویج وترقی کے لئے شب وروز ایك کئے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موصوف نے جامعہ کے طلباء کی تعداد میں خاصا اضافہ ہونے کے باعث متعدد تجربہ کارمدرسین مقررکئے ہیں اور فتاوی رضویہ جدید کی اشاعت وطباعت میں بھی بدستور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے نقوش جمیلہ پرگامزن ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حسب معمول سالانہ دوجلدوں کی اشاعت باقاعدگی سے ہورہی ہے۔بس آپ حضرات سے درخواست ہے کہ دعاؤں سے نوازتے رہئے تاکہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے مشن کو ان کے جسمانی وروحانی نائبین بحسن وخوبی ترقی سے ہمکنار کرنے میں اپناکردار سرانجام دیتے رہیں۔فقط
۱۰ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
۲/مارچ ۲۰۰۴ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہورشیخوپورہ(پاکستان)
",
845,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,11,"کتاب الشتی (حصہ دوم)
فوائد حدیثیہ
مسئلہ ۱: ازریاست عثمان پور ضلع بارہ بنکی مرسلہ مولوی محمد مظہر الحق صاحب نعمانی رودولوی نائب ریاست مذکور ۷ ربیع الاخر شریف ۱۳۲۱ ھ (سوال اصل میں مذکورنہیں)
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم الله تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ فقیر حقیر حاش ﷲ اس لفظ گراں مایہ مہین پایہ کے ہزارویں لاکھویں حصے کے لائق نہیں۔ ولاحول ولا قوۃ الا بالله۔ حضرا ت علمائے کرام اہلسنت اپنے کرم سے جن الفاظ عالیہ سے چاہتے ہیں نوازتے ہیں مگر تحقیق لفظ کے لیے گزارش ہے کہ حدیث میں راس حسب محاورہ عرب ضرور بمعنی آخر ہے۔ ولہذا علمائے کرام ارشاد فرماتے ہیں مجدد کے لیے ضروری ہے ان تمضی علیہ المائۃ وھو عالم مشھور مفید (اس پر صدی گزرے اس حال میں کہ وہ مفید مشہور عالم ہو۔ ت) لیکن ایسی اشیائے متوالیہ میں حد فاصل ایك آن مشترك ہوتی ہے کہ وہ جس طرح اول کے آخر ہے یونہی آخر کے اول اور عمل تجدید مجدد ہر گز ختم صدی سے ختم و منتہی نہیں ہوجاتا بلکہ وہ آخر اول و اول آخر دونوں میں ہوتا ہے۔ تمضی علیہ المائۃ وھو کذا (اس پر صدی گزرے اس حال میں کہ وہ ایسا ہو ۔ت) ہی اس پر دلیل ہے اور تمام مجددین معدودین للمائۃ کو ملاحظہ فرمائیں کہ آخر صدی ماضی وا ول صدی حاضر دونوں میں ان کی تجدید اسلام ",
846,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,12,"و مسلمین کو مفید رہی تو بحال حیات مجدد جب کہ ایك صدی کا آخر گزر گیااور دوسری کا اول موجود اور وہ حی ہو مجدد مائۃ ماضیہ کہنا مناسب ہوگا جو انقطاع تجدید کا موہم ہو۔ یا مجدد مائۃ حاضرہ کہ اس کی حیات اور فیض و تجدید کے استمرار پر دلیل ہو۔ والسلام۔ والله سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲: مرسلہ جناب خلیل صاحب سوداگر ۔ کٹرہ مانسرائے بریلی۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کو رمضان المبارك میں کوئی ہیبت ناك بات آنے والی ہے جس کی نسبت حضور کی طرف بعض آدمیوں نے کی ہے کہ مولوی صاحب نے ایسا فرمایا کہ جمعہ کی رات کو ایك ہیبت ناك آواز آئے گی۔ بینوا توجروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے ۔ت)
الجواب :
آئے گی مگر یہ نہ کہا تھا کہ اسی رمصان آئے گی۔ جب آئے گی تو وہ رمضان ہی ہوگا جس کی پندرھویں جمعہ کو ہوگی۔ اس سال زلزلے کثرت سے ہوں گے۔ اولے کثرت سے پڑیں گے۔ پندرھویں شب رمضان شب جمعہ ایك دھماکہ ہوگا صبح کی نماز کے بعد ایك چنگھاڑ سنائی دے گی۔ حدیث میں آیا کہ اس تاریخ کو نماز صبح پڑھ کر گھروں کے اندر داخل ہوجاؤ اور کواڑ بند کرلو۔ گھر میں جتنے روزن ہوں بند کرلو۔ کان بند کرلو۔ پھرآواز سنو تو فورا الله عزوجل کے لیے سجدہ میں گر و اورکہو""سبحن القدوس سبحن القدوس ربنا القدوس""(قدوس کے لیے پاکی ہے قدوس کے لیے پاکی ہے اور ہمارا پروردگار قدوس ہے۔ت) جو ایسا کرے گا نجات پائے گا جو نہ کرے گا ہلاك ہوگا ۔
یہ حدیث کا مضمون ہے۔ اس میں یہ تعیین نہیں کہ کس سنہ میں ایسا ہوگا۔ بہت رمضان گزر گئے جن کی پہلی جمعہ کو تھی اور ان شاء الله تعالی آئندہ بھی گزریں گے۔ ہاں جو خبر دی ہے ہونے والی ضرور ہے جب کبھی ہو۔ الله تعالی سے خوف و امید ہر وقت رکھنا چاہیے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳: مسئولہ حاجی شاہ محمد عرف کمال الله شاہ ساکن بریلی شریف محلہ برام پورہ ۱۴ ربیع الاخر شریف ۱۳۲۷ھ
ان الله خلق ادم علی صورتہ ( بے شك الله تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۔ ت) اور حضور سے یہ عرض ہے یہ حدیث ہے یا قول ہے
",
847,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,13," الجواب :
یہ حدیث صحیح ہے اور اضافت شرف کے لیے ہے جیسے بیتی ( میرا گھر ) اور ناقۃ الله ( الله کی اونٹنی) یا ضمیر آدم کی طرف ہے یعنی آدم کو ان کی کامل صورت پر بنایا ۔ طولہ ستون ذراعا ان کا قد ساٹھ ہاتھ کا بخلاف اولاد آدم کو بچہ چھوٹا پیدا ہوتا پھر بڑھ کر اپنے کامل قد کو پہنچتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴: از ملك بنگال ضلع فرید پور موضع ٹپورا کاندے مرسلہ شمس الدین صاحب""عبادلہ ثلثہ""محققین کی اصطلاح میں کن کو کہتے ہیں
الجواب :
ابنائے عمر و عباس و عمروابن العاص رضی الله تعالی عنہم ۔
لاشترا کھم فی الزمان فی الزمان واقترابھم فی الاسنان اما افضل العبادلۃ عبداللہ ابن مسعود فوق الکل وشیخ الکل رضوان الله تعالی علیھم اجمعین۔ ان کے ایك زمانے میں مشترك ہونے اور عمروں میں قریب قریب ہونے کی وجہ سے ان سب میں افضل عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ ہیں جو ان سب سے فائق اور سب کے شیخ ہیں رضی الله تعالی عنہم اجمعین (ت)
ہاں ہماری اصطلاح فقہی میں بجائے ثالث یہ ادل الکل ہیں۔ کمافی فتح القدیر والله تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۵: از صاحب گنج مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
کسی حدیث یا اقوال مشائخ وغیرہ سے ثابت ہے کہ چہار شنبہ کو عصر کے وقت عربی کتاب جو شروع کرتے ہیں یا نہیں اکثر لوگ چہار شنبہ عصر کے بعد نماز عربی کی کتاب اور جمعہ کے دن کو کسی وقت فارسی کی کتاب شروع کرنے کی عادت رکھتے ہیں یہ کیسا ہے
الجواب :
حدیث میں نبی کریم فرماتے ہیں:
",
848,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,14,"مامن شیئ بدا یوم الاربعاء الاتم ۔ جو چیز بدھ کے دن شروع کی جاتی ہے وہ اتمام کو پہنچتی ہے۔
مگر بعدنماز عصر کی تخصیص ثابت نہیں بلکہ ظہر و عصر کے درمیان مناسب ہے کہ بدھ کے دن یہ وقت ساعت اجابت ہے کما فی حدیث احمد عن جابر بن عبدالله رضی الله عنہما (جیسا کہ جابر بن عبدالله رضی الله عنہما سے مروی حدیث احمد میں ہے۔ ت)ابتدائے فارسی کے لیے جمعہ کی تخصیص بے اصل ہے اور نہ اس بارے میں کچھ وارد بلکہ صدر اول میں تو فارسی سے مخالفت تھی کہ وہ اس وقت کفار کی زبان تھی۔ امیر المومنین فارق اعظم رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ایاکم ورطانۃ الاعاجم فانہ یورث النفاق عجمیوں کی زبان سے بچو کہ یہ نفاق پیدا کرتی ہے۔ ت)
مسئلہ ۶: مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب از بنارس محلہ پترکنڈہ متصل تالاب ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء اکثر ہم الله تعالی کیا فرماتے ہیں کہ کتاب مستطاب""دلائل الخیرات""مطبوع مطبع نظامی ۱۲۷۹ھ میں حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم کے اسمائے شریفہ کے اخیر میں ایك اسم شریف""کریم المخرج""بھی لکھا ہے۔ اس کے متعلق حاشیہ پر یہ عبارت لکھی ہے:
""قال الشیخ ھذا زائد لیس بداخل الکتاب لکن جرت العادۃ بقرائہ لانہ موافق للحدیث الخ"" شیخ نے کہا یہ زائد ہے کتاب میں داخل نہیں لیکن اس کے پڑھنے کی عادت جاری ہے کیونکہ یہ حدیث کے موافق ہے۔(الخ ت)
پس وہ حدیث شریف جس کے یہ موافق ہے کون سی ہے اور کس کتاب میں ہے اور اس اسم شریف کا مفصل مطلب کیا ہے بینوا توجروا ۔
الجواب :
یہ نام نامی""دلائل الخیرات""کی بعض روایت میں داخل ہے او ر اس کا بلفظہ کسی جنس عــــــہ میں آنا
عــــــہ: فی الاصل ھکذااظنہ""حدیث""عبدالمنان اعظمی۔
",
849,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,15,"معلوم نہیں ۔مطالع المسرات میں اس پر کوئی حدیث نہ لکھی مواہب اللدنیہ و سیرت شامی و زرقانی میں اس نام کا ذکر نہیں۔ معنی و اضح ہیں مخرج جائز طور پر کہ نسب و مولد و محل اشتہار و غلبہ یعنی حرمین طییبین کو شامل ہے اور حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم بہمہ وجوہ کریم ہیں۔ خود کریم نسب کریم مولد کریم مہاجر کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
مسئلہ ۷: ۲۸ ذوالقعدہ ۱۳۲۱ھ
ذیل میں جو حدیث تحریر کی جاتی ہے اس کی صحت اور غیر صحت کی نسبت اختلاف ہے۔ لہذا علمائے دین محمدی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر حدیث مذکور صحیح ہے تو اپنے مہر و دستخط فرمائیں۔ اور جو شخص منکر اس حدیث کا ہو اس کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
""عن انس قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من قطع میراث وارثہ قطع الله میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ رواہ ابن ماجۃ البیھقی فی شعب الایمان"" حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے کاٹا الله تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹے۔ اس کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔-(ت)
الجواب :
یہ حدیث ابن ماجہ نے اپنی سنن ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ میں یوں روایت کی۔
""حدثناسوید بن سعید ثنا عبدالرحیم ابن زید العمی عن ابیہ عن انس ابن مالك رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من فرمن میراث وارثہ قطع الله میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ سوید ابن سعید عبدالرحیم ابن زید سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ سے وہ حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے کہ رسول کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی اپنے وارث کی میراث سے بھاگے الله تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹے۔
",
850,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,16,"اور دیلمی نے مسند الفردوس میں انہیں انس رضی الله تعالی عنہ سے بایں الفاظ روایت کی ۔
""من زوی میراثاعن وارثہ زوی الله عنہ میراثہ من الجنۃ"" جو اپنے وارث کی میراث سمیٹے تو الله جنت سے اس کی میراث سمیٹ لے گا۔
بطور محدثین اس کی سند میں کلام ہے۔
""فزید یضعف وابنہ شدید الضعف لاجرم ان قال السخاوی للحدیث بعد ایرادہ فی المقاصد الحسنۃ ھو ضعیف جدا وقال المناوی فی التیسیروالعزیزی فی السراج المنیر ضعفہ المنذری"" زید ضعیف ہیں اور ان کے لڑکے شدید ضعیف اسی لیے امام سخاوی نے اس حدیث کو مقاصد حسنہ میں نقل کرنے کے بعد فرمایا یہ حدیث بڑی ضعیف ہے۔ اور مناوی نے تیسیر میں اور عزیزی نے سراج منیر میں منذری کے حوالے سے اس کو ضعیف کہا۔
مگر اس کے معنی عند العلماء مقبول ہیں۔ مشکوۃ میں اسے بروایت انس رضی الله تعالی عنہ سنن ابن ماجہ اور بروایت ابوہریرہ رضی الله عنہ شعب الایمان سے""مذکور فی السوال""کا لفظ نقل کیا اور شراح نے اس کی توجیہات لکھیں اور ابن عادل نے اپنی تفسیر میں اسے بصیغہ جزم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے اس سے تحریم اضرار فی الوصیۃ پر استدلال کیا۔ اور یہ آیت کریمہ سے اس کی تاکید کی۔ حیث قال:
""الاضرار فی الوصیۃ علی وجوہ""ان یوصی باکثرمن الثلث اویقر بما لہ لا جنبی اوعـلی نفسہ بدین لا حقیقۃ لہ او بان الدین الذی کان لہ علی فلان استوفاہ اویبیع بثمن رخیص او یشتری بغال کل ذلك لان لایصل اضراروصیت میں چند طریقے پر ہوتا ہے ۔ (۱) ثلث سے زائد وصیت کرے (۲) اجنبی کے لیے مال کا اقرار کرے۔(۳) یا فرضی قرض کا اقرار کرے (۴) وہ قرض جو دوسرے پر تھا اس کو وصول کرچکا ہو۔(۵) کسی چیز کو سستا بیچ دے (۶) مہنگا خریدے (۷) ثلث کی وصیت کرے۔
",
851,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,17,"المال الی الورثۃ او یوصی بالثلث لا لوجہ الله لکن لتنقیص الورثۃ فھذا ھوالاضرار فی الوصیۃ وقال علیہ افضل الصلوۃ والسلام من قطع میراثا فرضۃ قطع الله میراثہ من الجنۃ ویدل علی ذلك قولہ تعالی بعد ھذہ الایۃ تلك حدود الله اھ ملخصا"" مگر رضائے الہی کے لیے نہیں ورثاء کو ضرر دینے کے لیے کہ میرے بعد مال انہیں نہ ملے تو یہ سب وصیت میں اضرار کی صورتیں ہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص الله تعالی کے مقرر کردہ حصہ کو قطع کرتا ہے الله تعالی اس کا حصہ جنت سے قطع کردے گا۔ اس کے بعد والی آیت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ الله تعالی فرماتاہے۔ یہ الله تعالی کے حدودہیں۔ اھ ملخصا
امام ابن حجر مکی نے زواجرعن اقتراف الکبائر میں اسی تمسك و تائید کو مقرر رکھا ہے۔ اور قصد حرمان ورثہ کو حرام بتایا نیز تیسیر میں زیرحدیث فرمایا۔
""افادان حرمان الوارث حرام وعدہ بعضھم من الکبائر"" ۔ پتہ چلا کہ وارث کو محروم کر ناحرام ہے اور بعض علمائے کرام نے اس کو گناہ کبیرہ بتایا ہے۔
عزیزی میں ہے۔""فاذا حرمان الوارث حرام ۳ ۔ وارث کو محروم کرنا حرام ہے۔
منکر حدیث مذکور اگر ذی علم ہے اور بوجہ ضعف سند مکدم کرتا ہے فی نفسہ اس میں حرج نہیں مگر عوام کے سامنے ایسی جگہ تضعیف سند کا ذکر ابطال معنی کی طرف منجر ہوتا ہے اور انہیں مخالفت شرع پر جری کردیتا ہے۔ اور حقیقۃ""قبول علماء""کے لیے شان عظیم ہے کہ اس کے بعد ضعف اصلامضر نہیں رہتا۔""کما حققناہ فی الہاد الکاف فی حکم الضعاف""( جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ الہاد الکاف فی حکم الضعاف میں کردی ہے۔ ت)
اور اگر جاہل ہے بطور خود جاہلانہ برسر پیکار ہے تو قابل تادیب و زجرو انکار ہے کہ جہال کو حدیث میں گفتگو کیا سزاوار ہے۔ وعید حدیث اپنی اخوات کی طرح زجرو تہدید یا حرمان دخول جنت
",
852,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,18,"مع السابقین یا صورت قصد مضارت بمضادت شریعت پر محمول ہے۔
""والاخراحب الی والاوسط وسطاوالاول لایعجبنی یطلع علی ذلك من راجع کلام الامام البزازی فی الوجیز فیما یذکر الفقھاء من الکفار"" آخری مجھے سب سے زیادہ پسند ہے ۔ درمیان والا متوسط ہے اور پہلا مجھے پسند نہیں۔ اس پر وہ شخص مطلع ہوگا جو امام بزازی کے کلام کی طرف رجوع کرے جو انہوں نے وجیز میں کفار سے متعلق اقوال فقہاء ذکر کیے ہیں۔(ت)
اقول : یا یہ کہ وہ قصور جناں کہ برتقدیر اسلام کفار کو ملتے اور ان سے خالی رہ کر مومنین کو بطور مزید عطا ہوں گے ان سے حرمان مراد ہو۔""وھذاان شاء الله تعالی احسن و امکن وابین و ازین""( اور ان شاء الله یہ سب سے بہتر سب سے مضبوط سب سے واضح اور سب سے خوبصورت ہے۔ ت) والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۸ و ۹ : مرسلہ حکیم عبدالشکور صاحب از ڈاکخانہ رتسٹر ضلع بلیا ۲ ربیع الاخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین سوالات مندرجہ ذیل میں :
(۱) زید کہتا ہے کہ اس پر ائمہ مجتہدین و علمائے کاملین و حضرات محدثین کا اتفاق ہوچکا ہے کہ ان صحاح ستہ میں آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارك کے ارشاد فرمائے ہوئے کلمات بعینہ اس حدیث میں موجود نہیں بلکہ صحابہ نے معنی مرادی ہی کو اختیار فرما کر اس پر حدیث کا حکم دے دیا ہے۔ زید کا یہ قول صحیح ہے یا غلط اور ایسے شخص پر آپ کا کیا فتوی ہے۔ جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث لفظی کو رد کرتا ہے
(۲)""حدیث اول ما خلق الله نوری واول ماخلق الله العقل واول ما خلق الله القلم واول ما خلق الله العرش۔ سب سے پہلے الله تعالی نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ میرا نور ہے اور سب سے پہلے الله تعالی نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ عقل ہے۔اور سب سے پہلے الله تعالی نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ قلم ہے۔ اور سب سے پہلے الله تعالی نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ عرش ہے۔(ت)
",
853,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,19,"یہ چار حدیثیں ہیں ان میں سے کون صحیح ہے اور کون موضوع زید کہتا ہے کہ حدیث اول ما خلق الله نوری بالمعنی صحیح ہے۔اگرچہ اس کے الفاظ کتابوں میں مذکور نہیں۔اب علماء سے سوال یہ ہے کہ جس حدیث کے الفاظ کتب احادیث میں مذکور نہیں اس کو موضوع کہیں گے یا نہیں اور اس کے مرادف کون حدیث ہے جس کے اعتبار سے کہا جائے کہ یہ حدیث بالمعنی صحیح ہے اور حدیث کے موضوع ہونے کے لیے کیا شرط ہےالفاظ اور معنی دونوں یا صرف الفاظ معنی نہیں جواب مفصل فرمائیے مع حوالہ کتب بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)روایت حدیث کے دونوں طریقے ہیں۔روایت باللفظ و روایت بالمعنیخود حضور اقدس صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ہے ' قرآن عظیم کے نظم کریم و حکم عظیم دونوں کے ساتھ تعبد ہے اس میں نقل بالمعنی جائز نہیں حدیث کے حکم کے ساتھ تعبد ہے جو الفاظ کریمہ جو امع الکلم سے ارشاد ہوئے ہیں وہ بعینہا منقول ہیں اور باقی میں لفظ پر اقتصار موجب ضیق و عسر تھا۔اور الله عزوجل فرماتا ہے:
"" ما جعل علیکم فی الدین من حرج "" ۔ تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔
اور وہ یقینا حدیث ہے اسے یہ کہنا کہ صحابہ نے اس پر حدیث کا حکم دے دیا ہی ایك بہت براپہلو رکھتا ہےبادشاہ فرمائے زید سے کہو کہ ابھی آئے اس پر حکم پہنچانے والا زید سے جا کر کہے کہ ظل سبحانی نے فرمایا ہے۔فورا حاضر ہوتو بے شك اس نے بادشاہ ہی کا حکم پہنچایا اور بادشاہ ہی کی بات نقل کی۔
(۲)عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالی عنہما سے روایت کی رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔
یاجابران الله تعالی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ اے جابر ! بے شك الله تعالی نے تمام عالم سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔یہ اس معنی میں نص صریح ہے اور قلم و عقل کے بارے میں بھی احادیث ذکر کی جاتی ہیں جن میں سے احادیث عقل غایت درجہ ضعف میں ہیں۔حدیث کے جب معنی حضور اقدس صلی الله علیہ
",
854,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,20,"وآلہ وسلم وسلم سے ثابت اور صحیح ہیں تو اسے موضوع نہیں کہہ سکتے ورنہ صحیحین کی صدہا حدیثیں معاذ الله موضوع ہوجائیں گی۔ہاں اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ یہی الفاظ بعینہا زبان اقدس سے صادر ہوئے ہیںاور اس کا ثبوت نہ ہو تو وہ سخت خاطی ہے اور اگر دانستہ کہے تو۔
""من کذب علی متعمد افلیتبوأ مقعدہ من النار"" جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔(ت)
میں داخل۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰: از محلہ بارہ ریواڑی ضلع گوڑگانوہ ہزاری مرسلہ مرزا یوسف صاحب ۳۰ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جس کے متعلق حدیث شریف ذیل میں درج ہے۔
""عن جابر بن سمرۃ قال سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول لایزال الاسلام عزیز ا الی اثناعشر خلیفۃ کلھم من قریش وفی روایۃ لایزال امرالناس ماضیا ماولھم اثنا عشرر جلاکلہم من قریش فی روایۃ لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعۃ اویکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش "" جابر بن سمرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بارہ خلیفوں کے گزرنے تك اسلام غالب رہے گا اور وہ قریش سے ہوں گے۔اور ایك روایت میں ہے کہ لوگوں کا معاملہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔جب تك ان پر بارہ خلیفوں کی ولایت رہے گیجو سب کے سب قریشی ہوں گے۔اور ایك روایت میں ہے کہ دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تك کہ قیامت قائم ہوجائے یا تم پر بارہ خلفاء کی خلافت قائم رہے گی جو تمام قریشی ہیں۔(ت)
",
855,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,21,"اشارۃ یہ عبارت کتاب سے نقل کردی ہے مجھ کو عربی لکھنے پڑھنے کی مہارت نہیں ہے۔لہذا یہ کام اہل علم کا ہے کہ وہ ذرا سے اشارہ سے سمجھ لیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ بموجب اس حدیث شریف کے وہ کون سے بارہ خلیفہ قریش میں سے آں سرور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد جانشین یا ولیعہد یا نائب منجانب خدا اور رسول امت محمدیہ میں قابل شمار ہیںچونکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے لیں تو پوری تعداد ہوگی۔اور اگر حضرت علی کرم الله وجہہ سے لیں تو اصحاب ثلثہ رہ جاتے ہیں غرض کونسی وہ صورت حق ہے جو اس حدیث شریف کا مصداق ہے یا یہ حدیث ہی ماننے کے قابل نہیں ہے۔الله تعالی آپ کو جزائے خیر عنایت کرے۔جواب سے ممنون فرمائیے۔
الجواب:
حدیث ہےاور صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ سے ہی شمار لینا لازم کہ اسی حدیث کی ایك روایت میں ہے۔
""یکون بعدی اثنا عشر خلیفۃ ابوبکر الصدیق لا یلبث الا قلیلہ""۔ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے ابوبکر تھوڑے ہی دن رہیں گے۔
اس سے مراد وہ خلفاء ہیں کہ والیان امت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریںان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہےان میں سے خلفائے اربعہ وامام حسن مجتبے و امیر معاویہ و حضرت عبدالله بن زبیر و حضرت عمر بن عبدالعزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے۔رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔یہ نو ہوئے باقی تین کی تعیین پر کوئی یقین نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱:از سیتا پورتا مسنگنج کوٹھی حضرت سید شاہ محمد صادق صاحب مرسلہ حضرت مولینا سید شاہ محمد صاحب قادری مدظلہ العالی ۹ جمادی الاخری ۱۳۳۷ھ
حضرت مولانا المعظم والمکرم دامت برکاتہم العالیہ۔پس از آداب و تسلیمات معروض کہ تحریر حامد علی کا جواب ابھی کچھ دینے کا ارادہ نہیں مگر اس میں جو""من مات الخ ولوکان سالم الخ ومن اتاکم الخ""مذکور ہیں ان کی نسبت اسی قدر دریافت طلب ہے کہ یہ احادیث ہیں اور ہیں تو کیسی جواب سے جلد معزز ہوں۔
",
856,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,22,"الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بوالاملاحظہ حضرت بابرکت حامی سنت جناب مولانا مولوی حافظ سید محمد میاں صاحت دامت برکاتہم التسلیم مع التعظیم۔نیاز مند پیلی بھیت گیا ہوا تھا کل جمعہ کو واپس آیا۔
(۱)""حدیث""من مات ولم یعرف""ان لفظوں سے نہیں ہاں صحیح مسلم میں یوں ہے:
من فارق الجماعۃ شبرافمات فمیتۃ جاھلیۃ"" جو ایك بالشت جماعت سے الگ ہوا پھر مر گیا تو جاہلیت کی موت مرے گا۔(ت)
(۲)حدیث""لوکنت مستخلفا (اگر میں کسی کو خلیفہ بناتا بغیر مشورہ کے تو عبدالله بن مسعود کو بتاتا)(ت)ترمذی و ابن ماجہ میں بسند ضعیف ہے اور تورپشتی وطیبی و علی قاری و شیخ محقق دہلوی و شارح جامع صغیر علامہ مناوی نے تصریح کی کہ۔
""المراد تامیرہ علی جیش بعینہ واستخلافہ فی امر من امورہ حال حیاتہ لا الخلافۃ لان الائمۃ من قریش اس سے مراد کسی خاص لشکر کا امیر بنانا اور حالت حیات میں کسی امر میں جانشین مقرر کرنا ہے اس سے مراد خلافت نہیں کیونکہ خلفاء تو قریش میں سے ہیں۔(ت)
امام تورپشتی وغیرہ نے فرمایا۔
""لایجوز حملہ الا علی ذلک""
(۳)""لوکان سالم مولی حذیفۃ بن الیمان حیا لا ستخلفہ"" اس حدیث کو صرف اسی معنی پر محمول کرنا جائز ہے(اس کے علاوہ پر محمول کرنا جائز نہیں)(ت)
اگر حذیفہ بن یمان کا مولی سالم زندہ ہوتا تو میں اس کو خلیفہ مقرر کرتا(ت)
",
857,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,23,"سائل معترض نے براہ خطا وضع کی ہے' نہ سالم حضرت حذیفہ بن الیمان رضی الله تعالی عنہم کے مولی تھے نہ حذیفہ کا کوئی مولی سالمبفرض صحت قطعا اس کی وہی مراد ہے جو حدیث ابن ام عبدرضی الله تعالی عنہ کی ہے۔
(۴)""من اتاکم وامرکم جمیع"" صحیح مسلم میں ہے مگر یوں۔
ستکون ھنات وھنات فمن ارادان یفرق امرھذہ الامۃ وھی جمیع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان۔ عنقریب فتنے ہوں گی تو جو شخص اس امت کی جمیعت کو توڑنے کا ارادہ کرے اس کو تلوار سے مارو چاہے وہ کوئی شخص ہو۔(ت)
یا یوں۔
""من اتاکم وامرکم جمیع علی رجل واحدیرید ان یشق عصاکم اویفرق جماعتکم فاقتلوہ"" جب تم ایك شخص کی امامت پر متفق ہو جاؤ تو جو شخص تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو۔(ت)
لمعات میں ہے:
""ادفعوا من خرج علی الامام بالسیف و ان کان اشرف و افضل و ترونہ احق وافضل"" جو شخص امام کے خلاف خروج کرے تو تلوار کے ساتھ اس کا دفاع کرو اگرچہ وہ خروج کرنے والا اشرف وا فضل ہو اور تم اس کو زیادہ حقدار اور افضل سمجھتے ہو۔(ت)
تو کلام خروج علی الامام میں ہے:
ثبت العرش ثم القش۔ کمال تحقیق ثابت ہو گئی اور گردوغبار چھٹ گیا
جہاں امام نہ ہو اسی صحیح مسلم میں حکم یہ ہے:
",
858,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,24,"""قلت فان لم یکن لھم جماعۃ ولا امام قال فاعتزل تلك الفرق کلھا"" میں نے کہا اگر اس وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے۔تو آپ نے فرمایا تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ۔(ت)
حدیث اول اگر اسی لفظ سے ہو جو سائل نے نقل کیے تو معرفت فرع وجود ہے یعنی جب امام موجود ہو تو اسے امام نہ جاننا باعث موت جاہلیت ہے۔یہ اس سے کیونکر مفہوم ہوا کہ ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی امام ہوگا۔یہی معہذا حدیث متواتر کے مقابل احاد سے استناد سخت جہالت اور اجماع کے رد میں بعضی اشارات سے اپنے استنباط پر اعتماد اشد ضلالت۔یہ جہال حدیث""ان امر علیکم عبدمجدع یقودکم بکتاب الله فاسمعوالہ واطیعوا"" (اگر تم پر ناك کٹے ہوئے غلام کو حاکم بنادیا جائے اور وہ تم کو کتاب الله کے مطابق حکم دے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ت)سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ا ور قید قرشیت درکنار قید حریت بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس سے مراد یہ کہ خلیفہ کسی شہر پر غلام کو والی کردے تو اطاعت واجب ہے۔نہ کہ خود غلام و خلیفہ ہو۔مرقاۃ وغیرہ میں ہے:
ای ان استعملہ الامام الاعظم علی القوم لاان العبد الحبشی ھوالامام الاعظم فان الائمۃ من قریش۔ یعنی اگر امام اعظم(خلیفہ)کسی حبشی غلام کو کسی قوم پر عامل بنادے نہ یہ کہ حبشی غلام ہی امام اعظم ہوجائے کیونکہ خلفاء تو قریش میں سے ہیں۔(ت)
اقو ل:(میں کہتا ہوں۔ت)حدیث سے بہتر حدیث کی تفسیر کیا ہوگیخود حدیث نے اس معنی کی تصریح فرمائیحاکم صحیح مستدرك اور بیہقی سنن میں امیر المومنین مولی علی سے راوی۔
الائمۃ من قریش وان امرت علیکم قریش عبدا حبشیا مجدعا فاسمعوالہ واطیعوا""۔ والله تعالی اعلم خلفاء قریش میں سے ہوں گےاور اگر قریش تم پر نکٹے حبشی غلام کو امیر مقرر کردیں تو اس کی بھی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔(ت)
",
859,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,25,"مسئلہ ۱۲: از سیتا پور محلہ تامسن گنج کوٹھی حضرت سید محمد صادق صاحب وکیل علیہ الرحمۃ
مرسلہ حضرت مولینا مولوی سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم ۱۷ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
حضرت مولانا المعظم والمکرم دامت برکاتہ العالیہ پس از آداب و تسلیمات معروضحدیث اول الرسل الخ۔کس کتاب احادیث میں مروی ہے اور حکیم ترمذی نے اسے اپنی کس کتاب میں روایت کیا ہے
الجواب:
حضرت بابرکت دامت برکاتہم السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہیہ حدیث سیدنا ابوذر علیہ الرضوان سے مسند احمد میں یوں ہے۔
قلت یارسول الله ای الانبیاء کان اول قال ادمقلت یارسول الله و نبی کانقال نعم نبی مکلم"" میں نے عرض کیا یارسول الله ! کون سا نبی سب سے اول ہوا آپ نے فرمایا آدم میں نے کہا وہ نبی تھے آپ نے فرمایا وہ نبی تھے جن سے کلام کیا گیا ہے۔(ت)
اور نوادر الاصول تصنیف امام حکیم الامۃ ترمذی کبیر میں ان سے مرفوعا یوں ہے:
اول الرسل ادم واخرھم محمد علیہ وعلیھم افضل الصلوۃ والسلام۔ رسولوں میں اول آدم اور ان میں آخر محمد ہیںآپ پر اور سب رسولوں پر بہترین درود و سلام ہو۔(ت)
والا نامہ کل یکشنبہ کو بعد روانگی ڈاك ملاورنہ کل ہی جواب حاضر کرتا والتسلیم۔
مسئلہ۱۳: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کابلی ۲۸ شوال ۱۳۳۷ھ
""قول حماد رضی الله تعالی عنہ ترکت الحدیث عــــــہ الخ مرابفہمایند"" حضرت حماد رحمۃ الله علیہ کے قول""میں نے حدیث کو چھوڑ دیا""کا مطلب مجھے سمجھادیں۔(ت)
عــــــہ:تمام عبارت مذکورہ سوال ایں است سمعت عبدالحکم بن میسرۃ یقول سوال میں مذکور مکمل عبارت یہ ہےمیں نے عبدالحکم بن میسرہ کو کہتے ہوئے سنا۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
",
860,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,26,"الجواب:
""درمناقب خوارزمی و درمناقب کردری ہر دو از حاکم صاحب مستدرك آوردہ اندکہ مرادش احادیث موضوعہ و مخالف کتاب ست اقول این بقول اوعلیك بالرای وقول حماد وترکت الحدیث نمی چسپد وانچہ نجاطرم ریختند کہ لام درحدیث برائے عہد ست حدیثے بودہ باشد کہ حماد روایتش میکرد وبواقع صحیح نبود امام حماد باعتمادش در مسئلہ قیاس صحیح میکرد تقدیما للحدیث علی الرای حضرت امام او را تنبیہ نمود کہ ایں حدیث صحیح نیست واعتماد رانشاید دریں مسئلہ ہم بررائے عمل کن عبدالحکم را مناقب خوارزمی اور مناقب کردری دونوں میں بحوالہ امام حاکم صاحب مستدرك وارد ہے کہ اس سے مراد موضوع حدیثیں ہیں جو کتاب الله کے مخالف ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ معنی امام صاحب کے قول کہ""تجھ پر لازم ہے کہ قیاس پر عمل کر""اور حضرت حماد کے قول کے""میں نے حدیث کو چھوڑ دیا ہے""پر منطبق نہیں ہوتا۔اور میرے دل میں القا ہوا ہے کہ حدیث پر الف لام عہدی ہے۔اس سے مراد کوئی خاص حدیث ہے جس کو حضرت حماد علیہ الرحمۃ روایت کرتے تھے اور واقع میں وہ حدیث صحیح نہ تھی جب کہ آپ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اور حدیث کو قیاس پر مقدم جانتے ہوئے کسی خاص مسئلہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اتیت حماد بن ابی حنیفہ وقد کان امسك عن الحدیث فسألتہ ان یحدثنی وذکرت لہ مجتبی ایاہ فقال ترکت الحدیث فانی رایت ابی فی المنام کانی اقول لہ ما فعل بك ربك فیقول ھیہات ھیہات علیك بالرای ثلاث مرات ودع الحدیث ودع الحدیث ثلاث مرات اھ کہ میں حضرت حماد بن امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ نے حدیث بیان کرنا بند کردیا تھا میں نے ان سے کہا کہ مجھے حدیث بیان فرمائیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے حدیث کو ترك کردیا ہے کیونکہ میں نے خواب میں اپنے والد گرامی کو دیکھا گویا کہ میں ان سے کہہ رہا ہوں۔کہ آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ کیا سلوك کیا ہے تووہ مجھے فرماتے ہیں کہ تجھ پر افسوس ہے۔قیاس پر عمل کرو۔یہ تین با ر فرمایا اور حدیث کو چھوڑ دویہ تین مرتبہ فرمایا۔اھ(ت)
",
861,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,27,"ازحماد ایں حدیث بواسطہ رسیدہ بود خواست حاضر و از حماد شنودپس او را سوال کرد حماد فرمود من آں حدیث راترك کردہ ام وآں خواب بیان کرد۔و ترك حدیث نہ بربنائے مجرد خواب باشد بلکہ بہ تنبیہہ امام متوجہ شدہ وعلت قادحہ درآں برو ظاہر گشتہ باشد والله تعالی اعلم"" میں قیاس صحیح کے خلاف عمل کرتے تھے۔حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اور اعتماد کے لائق نہیں ہے لہذا اس مسئلہ میں بھی قیاس پر عمل کرو۔عبدالحکم کو حضرت حماد کییہ حدیث کسی اور کے واسطے سے پہنچی تھی۔آپ نے خود حاضر ہو کر حضرت حماد سے یہ حدیث سننے کی خواہش کی۔چنانچہ ان سے حدیث سنانے کا مطالبہ کیا جس پر حضرت حماد نے فرمایا کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور خواب مذکور کو بیان کیا۔اس حدیث کو چھوڑنا' محض خواب کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ حضرت حماد علیہ الرحمۃ خواب میں امام صاحب کی تنبیہ فرمانے پر متوجہ ہوئے تو اس حدیث میں علت قادحہ آپ پر ظاہر ہوگئی ہوگی۔اور الله تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴: از شہر بریلی مدرسہ منطر الاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کابلی ۲۸ شوال ۱۳۳۷ھ)
""قام علیا رضی اﷲ تعالی عنہ وامکن لہ وھاب منہ وبجلہ عــــــہ چہ معنی دارد "" حضرت علی رضی الله عنہ کھڑے ہو کر امام ابوحنیفہ کو جگہ دی ان کو محتشم جانا اور ان کی تعظیم کیاس کا کیا معنی ہے(ت)
الجواب:
بسیارے از خواب ماول باشد نہ کہ برہر ظاہر بہت سے خواب ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر کے خلاف
عــــــہ:تمام عبارت ایں ست قال صالح بن الخلیل رأیت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم وعلیا معہ رضی الله تعالی عنہ فجاء ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ فقام علیا رضی الله تعالی عنہ وامکن لہ وھاب منہ و بجلہ پوری عبارت یوں ہےصالح بن خلیل نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا حضرت علی رضی الله عنہ بھی ساتھ تھے امام ابوحنیفہ رضی الله عنہ وہاں آئے تو حضرت علی رضی الله عنہ کھڑے ہوئے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کو جگہ دیاور انکومحتشم ٹھہرایا اور ان کی تعظیم کی۔(ت)
",
862,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,28,"محمول و تعظیم اکابر خور دان خود رابرائے اظہار عظمت ایشاں دور نیست سید عالم علیہ وسلم برائے حضرت بتول زہرا قیام فرمودے و دست اورا بوسہ دادہ برجائے خود نشاندے وہیبت اینجا بمعنی احتشام ست یعنی اورا محتشم داشت وعامل معہ معاملۃ الھائب والله تعالی اعلم۔ ہوتے ہیں یعنی ظاہر پر محمول نہیں ہوتے اور بڑوں کا اپنے سے چھوٹوں کی تعظیم کرکے ان کی عظمت کا اظہار کرنا کوئی بعید نہیں۔خود سید عالم صلی الله علیہ وسلم سیدہ بتول زہرہ رضی الله عنہا کے لیے کھڑے ہوتےان کا ہاتھ چومتے اور ان کو اپنی مسند پر بٹھاتے اور ہیبت یہاں(سوال میں)بمعنی احتشام ہے یعنی اسے محتشم قرار دیا اور اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جیسا کسی ہیبت ناك شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اور الله تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ۱۵: از شہر بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کابلی ۲۸ شوال ۱۳۳۷ھ
عــــــہ: حدیث کہ در شان امام صاحب رضی الله تعالی عنہ و اردست بسیار طرق و بسیار علماء الحفاظ اورا قبول کردہ انددرفقہ شافعی نیز مذکور ست شراح ہدایہ چرابوضع وے قول کردہ انددریں جامی باید کہ قول ازواضعین وی ثبوت رسانند واگر نہ قول ایشاں مقبول نیست۔ وہ حدیث جو امام اعظم ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کی شان میں متعدد طرق سے وارد ہے۔بہت علماء و حفاظ نے اس کو قبول کیا ہے اور وہ فقہ شافعی میں بھی مذکور ہے۔تو پھر ہدایہ کے شارحین نے اس کے موضوع ہونے کا قول کیا ہے۔اس جگہ ضروری ہے کہ اس کو موضوع قرار دینے والے ثبوت فراہم کریں ورنہ ان کا قول مقبول نہیں ہوگا۔(ت)
عــــــہ:لفظ آن حدیث ایں است قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سیکون فی امتی رجل یقال لہ ابوحنیفۃ النعمان وھو سراج امتی الی یوم القیامۃ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت سے ایك مرد کامل ہوگا جس کو ابوحنیفہ کہا جائے گا وہ قیامت تك میری امت کا چراغ ہوگا۔(ت)
",
863,27,کتاب الشتی (فوائدِ حدیثیہ),,,29,"در سندش کذابین وضاعین یا فتہ اندارجع الی اللآلی المصنوعۃ للحافظ السیوطی وشیخ قاسم حنفی نیز پیروی ایشاں کردردالمحتار بایددیدوالله تعالی اعلم۔ شارحین ہدایہ نے اس حدیث کی سند میں حدیثیں گھڑنے والے کذابوں کو پایا ہے۔امام حافط جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی کتاب""اللآلی المصنوعہ""کی طرف رجوع کرو۔ اور شیخ قاسم حنفی نے بھی ان کی پیروی کی ہے۔ردالمحتار کو دیکھنا چاہیے۔والله تعالی اعلم(ت)",
864,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,30,"رسالہ
الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی
(فضل(الہی)کا عطیہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے)
معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)
ملقب بلقب تاریخی
اعزالنکات بجواب سوال ارکات ۱۳۱۳ھ
مسئلہ۱۶: از گڑامپور علاقہ نارتھ ارکاٹ مرسلہ کاکا محمد عمر ۱۳ رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ کوئی حنفی المذہب حدیث صحیح غیر منسوخ وغیر متروك جس پر کوئی ایك امام آئمۃ اربعہ وغیرہم سے عمل کیا ہو۔جیسے آمین بالجہر اور رفع یدین قبل الرکوع و بعدالرکوع اور وتر تین رکعتیں ساتھ ایك قعدہ اور ایك سلام کے ادا کرے تو مذہب حنفی سے خارج ہوجاتا ہے یا حنفی ہی رہتا ہے۔اگر خارج ہوجاتا ہے کہیں تو رد المحتار میں جو حنفیہ کی معتبر کتاب ہے اس میں امام ابن الشحنہ سے نقل کیا۔ ",
865,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,31,"اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذہب عمل بالحدیث ویکون ذلك مذہبہ و لایخرج مقلدہ عن کو نہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عنہ انہ قال اذا صح الحدیث فھو مذہبیوحکی ذلك ابن عبدالبر عن ابی حنیفۃ وغیرہ من الائمۃ انتھی۔ جب صحت کو پہنچے حدیث اور وہ حدیث خلاف پر مذہب امام کے رہے عمل کرے وہ حنفی اس حدیث پراور ہوجائے وہ عمل مذہب اس کااور نہیں خارج ہوتا ہے مقلد امام کا حنفی ہونے سے بسبب عمل کرنے اس حدیث پراس لیے کہ مکرر صحت کو پہنچی یہ بات امام ابوحنیفہ سے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب صحت کو پہنچے حدیث پس وہی مذہب میرا ہے۔اور حکایت کیا اس کو ابن عبدالبر نے امام ابوحنیفہ اور دوسرے اماموں سے بھی۔انتہی۔
اور کتاب مقامات مظہری میں حضرت مظہر جانجاناں حنفی کے سولہویں(۱۶)مکتوب میں ہے:
اگر بحدیث ثابت عمل نمایداز مذہب امام برنمی آیدچرا کہ قول امام اذا صح الحدیث فھو مذہبی نص است دریں باب واگر باوجود اطلاع برحدیث ثابت عمل نکند ایں قول امام را ترکوا قولی بخبرالرسول(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)خلاف کردہ باشد۔ انتہی اگر کوئی شخص حدیث صحیح پر عمل کرے تو وہ امام اعظم ابو حنیفہ کے مذہب سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ قول امام جب حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے اس باب میں نص ہے۔اور اطلاع کے باوجود حدیث صحیح پر عمل نہ کرے تو امام اعظم علیہ الرحمہ کے اس قول کی خلاف ورزی کرنے والا ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث کے سامنے میرے قول کو چھوڑ دو(انتہی ت)
اور بھی اسی مکتوب میں ہے:
ہرکہ میگویدعمل بحدیث از مذہب امام برمی آرد اگر برہانے بریں دعوے دارد بیارو۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ حدیث پر عمل کرنا مذہب امام سے خارج کردیتا ہےاگر اس کے پاس اس دعوی کی کوئی دلیل ہے تو پیش کرے(ت)
",
866,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,32,"لاسبب لمخالفۃ حدیث النبی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)الانفاق خفی اوحمق جلی۔ پوشیدہ منافقت یا واضح حماقت کے بغیر حدیث رسول صلی اﷲ وسلم کی مخالفت کا کوئی سبب نہیں(ت)
ان سب بزرگوں کے ان اقوال کا کیا جواب اگر مذہب امام سے نہیں خارج ہوتا ہے کہیں تو اس پر طعن و تشنیع کرنا گناہ اور بے جاہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گےت)
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ الذی انزل الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ تمییز االطیب من الخبیث وامرنبیہ ان یبینہ للناس بما اراہ اﷲ فقرن القرآن ببیان الحدیث والصلوۃ والسلام علی من بین القرآن واقام المظان واذن للمجتہدین باعمال الاذھان فاستخرجوا الاحکام بالطلب الحثیث فلو لا الائمۃ لم تفھم السنۃ ولولا السنۃ لم یفھم الکتاب ولو لا الکتاب لم یعلم الخطاب فیا لھا من سلسلۃ تھدی و تغیث وعلی الہ و صحابتہ ومجتھدی ملتہ وسائرا متہ الی یوم التوریث۔ سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب نازل فرمائی اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے ستھری کو گندے سے الگ کرنے کے لیے اور اس نی اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے لیے بیان فرمایں جو کچھ اﷲ تعالی نے آپ کو دکھایا چنانچہ اس نے قرآن کو بیان حدیث کے ساتھ مقترن فرمایا اور درود و سلام ہو اس پر جس نے قرآن کی وضاحت فرمائی اور اصول قائم فرمائے اور مجتہدین کو اذن بخشا کہ وہ ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قیاس و اجتہاد کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھرپور طلب کے ساتھ احکام مستنبط کیے۔ اگر ائمہ متجہدین نہ ہوتے تو سنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہ سمجھی جاتی۔اور سنت نہ ہوتی تو اﷲ تعالی کا خطاب نہ سمجھا جاتا۔لہذا ایك راہنما اور معاون سلسلہ مہیا فرمادیانیز آپ کی آلصحابہآپ کی امت کے مجتہدین اور قیامت تك آپ کی امت پر درود و سلام ہو۔(ت)
",
867,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,33,"اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)صحت حدیث علی مصطلح الاثر وصحت حدیث العمل المجتہدین میں عموم خصوص مطلقا بلکہ من وجہ ہےکبھی حدیث سندا ضعیف ہوتی ہےاور ائمہ امت وامنائے ملت بنظر قرائن خارجہ یا مطابقت قواعد شرعیہ اس پر عمل فرماتے ہیں کہ ان کا یہ عمل ہی موجب تقویت و صحت حدیث ہوجاتا ہے۔یہاں صحت عمل پر متفرع ہوئی نہ عمل صحت پر۔امام ترمذی نے حدیث:
من جمع بین الصلوتین من غیر عذر فقدا تی بابا من ابواب الکبائر۔ جس شخص نے کسی عذر کے بغیر دو نمازوں کو جمع کیا تو بے شك وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایك دروازے میں داخل ہوا۔(ت)
روایت کرکے فرمایا۔
حنش ھذا ھو ابوعلی الرحبی وھو حنش بن قیس و ھو ضعیف عنداھل الحدیث ضعفہ احمد وغیرہ و العمل علی ھذا عنداھل العلم۔ اس حدیث کا راوی ابو علی رحبی حنش بن قیس اہل حدیث کے نزدیك ضعیف ہے۔امام احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف فرمائی اور علماء کا عمل اسی پر ہے۔
امام جلال الدین سیوطی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں فرماتے ہیں:
اشاربذلك الی ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقد صرح غیرواحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ۔ یعنی امام ترمذی نے اس سے اشارہ فرمایا کہ حدیث کو قول علماء سے قوت مل گئی اور بے شك متعدد ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کی موافقت بھی صحت حدیث کی دلیل ہوتی ہے۔اگرچہ اس کے لیے کوئی سند قابل اعتماد نہ ہو۔
امام شمس الدین سخاوی فتح المغیث میں شیخ ابوالقطان سے ناقل:
ھذا القسم لایحتج بہ کلہ بل یعمل بہ حدیث ضعیف حجت نہیں ہوتی بلکہفضائل اعمال
",
868,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,34,"فی فضائل الاعمالویتوقف عن العمل بہ فی الاحکام الا اذا کثرت طرقہ او عضدہ اتصال عمل اوموافقۃ شاھد صحیح اوظاھر القرآن۔ میں اس پر عمل کریں گے اور احکام میں اس پر عمل سے باز رہیں گے۔مگر جب کہ اس کی سندیں کثیر ہوں یا عمل علماء کے ملنے یا کسی شاہد صحیح یا ظاہر قرآن کی موافقت سے قوت پائے۔
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب صفۃ الصلوۃ میں فرماتے ہیں:
لیس معنی الضعیف الباطل فی نفس الامربل مالم یثبت بالشروط المعتبرۃ عنداھل الحدیث مع تجویز کونہ صحیحا فی نفس الامرفیجوز ان تقترن قرینۃ تحقق ذلك وان الراوی الضعیف اجاد فی ھذا المتن المعین فیحکم بہ۔ ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ واقع میں باطل ہے بلکہ یہ کہ ان شرطوں پر ثابت نہ ہوئی جو محدثین کے نزدیك معتبر ہیں۔ واقع میں جائز ہے کہ صحیح ہو تو ہوسکتا ہے کہ کوئی قرینہ ایسا ملے جو اس جواز کی تحقیق کردے اور بتادے کہ ضعیف راوی نے یہ خاص حدیث ٹھیك روایت کی ہے تو اس کی صحت پر حکم کردیا جائے گا۔
بارہا حدیث صحیح ہوتی ہے اور امام مجتہد اس پر عمل نہیں فرماتا خواہ یوں کہ اس کے نزدیك یہ حدیث نامتواتر نسخ کتاب اﷲ چاہتی ہے یا حدیث احاد زیادت علی الکتاب کررہی ہے۔یا حدیث موضوع تکرروقوع وعموم بلوی یا کثرت مشاہدین و توفردواعی میں احاد آئی ہے یا اس پر عمل میں تکرار نسخ لازم آتی ہے۔یا دوسری حدیث صحیح اس کی معارض اور وجوہ کثیرہ ترجیح میں کسی وجہ سے اس پر ترجیح رکھتی ہے۔یا وہ بحکم جمع وتطبیق و توفیق بین الادلہ ظاہر سے مصروف و موؤل ٹھیری ہےیا بحالت تساوی وعدم امکان جمع مقبول وجہل تاریخ بعد تساقط ادلہ نازلہ یا موافقت اصل کی طرف رجوع ہوئی ہے۔یا عمل علماء اس کے خلاف پر ماضی ہے۔ یا مثل مخابرہ تعامل امت نے راہ خلافت دی ہے۔یا حدیث مفسر کی صحابی راوی نے مخالفت کی ہے۔یا علت حکم مثل سہم مؤلفۃ القلوب وغیرہ اب منتفی ہے۔یا مثل حدیث لا تمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ (اﷲ کی بندیوں کو مسجدوں سے مت روکو۔ ت)مبنائے
",
869,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,35,"حکم حال عصر یا عرف مصر تھاکہ یہاں یا اب منقطع و منتہی ہےیا مثل حدیث شبہات اب اس پر عمل ضیق شدید و حرج فی الدین کی طرف داعی ہے۔یا مثل حدیث تغریب عام اب فتنہ و فساد ناشی ہےیا مثل حدیث ضجعہ فجر و جلسہ استراحت منشاء کوئی امر عادی یا عارضی ہے۔یا مثل جہربآیۃ فی الظہراحیانا وجہر فاروق بدعائے قنوت حامل کوئی حاجت خاصہ نہ تشریع دائمی ہے۔یا مثل حدیث علیك السلام تحیۃ الموتی (علیك السلام)۔ مردوں کا سلام ہے۔ت)مقصود مجرد اخبار نہ حکم شرعی ہے۔
الی غیر ذلك من الوجوہ التی یعرفھا النبیہ ولا یبلغ حقیقۃ کنھھا الاالمجتھد الفقیہ۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہ جن کو باخبر لوگ پہچانتے ہیںاور سوائے مجتہد عالم کے ان کی حقیقت تك کسی کی رسائی نہیں۔ (ت)
تو مجردصحت مصطلحہ اثر صحت عمل مجتہد کے لیے ہر گز کافی نہیں۔حضرات عالیہ صحابہ کرام سے لے کر پچھلے ائمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین تك کوئی مجتہد ایسا نہیں جس نے بعض احادیث صحیہ کو مؤول یا مرجوح یا کسی نہ کسی وجہ سے متروك العمل نہ ٹھہرایا ہو۔
امیر المومنین عمر فارق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے حدیث عمار رضی اﷲ تعالی عنہ دوبارہ تیمم جنب پر عمل نہ کیا۔اور فرمایا۔
اتق اﷲ یا عمار کما فی صحیح مسلم۔ اے عمار ! اﷲ سے ڈرجیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔(ت)
یونہی حدیث فاطمہ بن قیس دربارہ عدم النفقہ والسکنی للمبتوتہ پر۔اور فرمایا:
لانترك کتاب ربنا ولا سنۃ نبینا بقول امرأۃ لا ندری لعلھا حفظت ام نسیت رواہ مسلم ایضا۔ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایك ایسی عورت کے قول سے نہیں چھوڑیں گے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ اس نے یاد رکھایا بھول گئیاس کو بھی مسلم نے روایت کیا(ت)
یوں ہی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے حدیث مذکور تیمم پر اور حضرت
",
870,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,36,"ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
اولم تر عمر لم یقنع بقول عمارکما فی الصحیحین۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت عمار رضی اﷲ عنہ کے قول پر قناعت نہیں کیجیسا کہ صحیحین میں ہے۔(ت)
یونہی حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما نے حدیث مذکور فاطمہ پر اور فرمایا:
مالفاطمۃ الا تتقی اﷲرواہ البخاری۔ فاطمہ کو کیا ہےکیا وہ اﷲ تعالی سے نہیں ڈرتی۔اس کو بخاری نے روایت کیا۔(ت)
یونہی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ:
الوضوء مما مست النار۔ اس چیز کی وجہ سے وضو لازم ہے کہ جس کو آگ نے چھوا۔ت)
پر اور فرمایا:
انتوضاء من الدھن انتوضاء من الحمیم رواہ الترمذی۔ کیا ہم تیل کی وجہ سے وضو کریں گےکیا ہم گرم پانی کی وجہ سے وضو کریں گے۔اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔(ت)
یونہی حضرت امیر معاوضہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہا:
انہ لانستلم ھذین الرکنین۔ ہم ان دو رکنوں کو بوسہ نہیں دیتے۔(ت)
پر اور فرمایا:
لیس شیئ من البیت مھجوراکما فی البخاری۔ بیت اﷲ شریف میں سے کچھ بھی چھوڑنے کے لائق نہیں۔ جیسا کہ بخاری میں ہے۔(ت)
",
871,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,37,"یوں ہی جماہیرا ئمہ صحابہ و تابعین ومن بعد ہم نے حدیث الوضوء من لحوم الابل۔ (اونٹوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو ہے۔ت)پر:
وھوصحیح معروف من حدیث البراء وجابر بن سمرۃ وغیرھما رضی اﷲ تعالی عنھم۔ اور یہ حدیث حضرت براء اور جابر بن سمرۃ اور دیگر صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے صحیح ومعروف مروی ہے۔(ت)
امام دارالہجرۃ عالم مدینہ سیدنا مالك بن انس رضی اﷲ عنہ فرماتے:
العمل اثبت من الاحادیث۔ عمل علماء حدیثوں سے زیادہ مستحکم ہے۔
ان کے اتباع نے فرمایا:
انہ لضعیف ان یقال فی مثل ذلك حدثنی فلان عن فلان۔ ایسی جگہ حدیث سنانا پوچ بات ہے۔
ایك جماعت ائمہ تابعین کو جب دوسروں سے ان کے خلاف حدیثیں پہنچتیںفرماتے:
مانجھل ھذا ولکن مضی العمل علی غیرہ۔ ہمیں ان حدیثوں کی خبر ہے مگر عمل اس کے خلاف پر گزر چکا۔
امام محمد بن ابی بکر بن جریر سے بار ہا ان کے بھائی کہتے تم نے فلاں حدیث پر کیوں نہ حکم کیا فرماتے:
لم اجد الناس علیہ۔ میں نے علماء کو اس پر عمل کرتے نہ پایا۔بخاری و مسلم کے استاذ الاستاذ امام المحدثین عبدالرحمن بن مہدی فرماتے:
السنۃ المتقدمۃ من سنۃ اھل المدینۃ خیرمن الحدیث ۔ اہل مدینہ کی پرانی سنت حدیث سے بہتر ہے۔
",
872,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,38,"نقل ھذا الاقوال الخمسۃ الامام ابوعبداﷲ محمد بن الحاج العبدری المکی المالکی فی مدخلہ فی فصل النعوت المحدثۃوفیہ فی فصل فی الصلوۃ علی المیت فی المسجد ماورد""من ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی علی سہیل بن بیضاء فی المسجد""فلم یصحبہ العمل والعمل عند مالك رحمہ اﷲ اقوی الخ۔ ان پانچوں اقوال کو امام ابوعبداﷲ محمد بن الحاج العبدری مکی مالکی نے اپنی کتاب المدخل کی فصل فی النعوت المحدثۃ میں نقل فرمایااور اسی کتاب میں مسجد کے اندر نماز جنازہ سے متعلق فصل میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مسجد کے اندر سہیل بن بیضاء رضی اﷲ تعالی عنہ کی نماز جنازہ کے بارے میں جو وارد ہے عمل(علماء)اس کی موافقت نہیں کرتا۔اور امام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك عمل زیادہ مستحکم ہے۔(النخ(ت)
خود میاں نذیر حسین صاحب دہلوی معیار الحق میں لکھتے ہیں:بعض ائمہ کا ترك کرنا بعض احادیث کو فرع تحقیق ان کی ہے کیونکہ انہوں نے ان احادیث کو احادیث قابل عمل نہیں سمجھا۔بدعوی نسخ یا بدعوی ضعف اور امثال اس کے۔
اس امثال کے بڑھانے نے کھول دیا کہ بے دعوی نسخ یا ضعف بھی ائمہ بعض احادیث کو قابل عمل نہیں سمجھتے۔اور بے شك ایسا ہی ہے خود اسی معیار میں حدیث جلیل صحیح بخاری شریف حتی ساوی الظل التلول۔ (یہاں تك کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا۔ت)کو بعض مقلدین شافعیہ کی ٹھیٹ تقلید کرکے بحیلہ تاویلات باردہ کاسد ہ ساقطہ فاسدہ متروك العمل کردیا اور عذر گناہ کےلیے بولے کہ جمعابین الادلۃ۔ (دلائل میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے۔ت)یہ تاویلیں حقہ کی گئیں۔اور اس کے سوا اور بہت احادیث صحاح کو محض اپنا مذہب بنانے کے لیے بدعاوی باطلہ عاطلہ ذاہلہ زائلہ بے دھڑك واہیات و مردود بتادیا جس کی تفصیل جلیل فقیر کے رسالہ فـــــــ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین۱۳۱۳ھ میں مذکوریہ رسالہ صرف ایك
",
873,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,39,"مسئلہ میں ہے اس کے متعلق حضرت کی ایسی کاروائیاں وہاں شمار میں آئیں۔باقی مسائل کی کارگزاریاں کس نے گنیں اور کتنی پائیں۔ ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(اس کے باغ سے اس کی بہار کا اندازہ کرلے۔ت)
بالجملہ موافق مخالف کوئی ذی عقل اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ مجرد صحت اثری صحت عملی کو مستلزم نہیں بلکہ محال ہے کہ مستلزم ہو۔ورنہ ہنگام صحت متعارضین قول بالمتنافیین لازم آئے اور وہ عقلا ناممکن تو بالیقین اقوال مذکورہ سوال اور ان کے امثال میں صحت حدیث سے صحت عملیاور خبر سے وہی خبرواجب العمل عندالمجتہد مراد پھر نہایت اعلی بدیہات سے ہے کہ اگر کوئی حدیث مجتہد نے پائی اور براہ تاویل خواہ دیگر وجوہ سے اس پر عمل نہ کیا تو وہ حدیث اس کا مذہب نہیں ہوسکتیورنہ وہی استحالہ عقلی سامنے آئے کہ وہ صراحۃ اس کا خلاف فرماچکا تو آفتاب سے روشن تروجہ پر ظاہر ہوا کہ کوئی حدیث بزعم خود مذہب امام کے خلاف پا کر بحکم اقوال مذکورہ امام دعوی کردینا کہ مذہب امام اس کے مطابق ہےدوا امرپر موقوف۔
اولا:یقینا ثابت ہو کہ یہ حدیث امام کو نہ پہنچی تھی کہ بحال اطلا ع مذہب اس کے خلاف ہے نہ اس کے موافق۔
لاجرم علامہ زرقانی نے شرح موطا شریف میں تصریح فرمائی:
قد علم ان کون الحدیث مذھبہ محلہ اذا علم انہ لم یطلع علیہ اما اذا احتمل اطلاعہ علیہ وانہ حملہ علی محمل فلایکون مذھبہ۔ یعنی ثابت ہوچکا ہے کہ کسی حدیث کا مذہب مجتہد ہونا صرف اس صورت میں ہے جب کہ یقین ہو کہ یہ حدیث مجتہد کو نہ پہنچی تھی ورنہ اگر احتمال ہو کہ اس نے اطلاع پائی اور کسی دوسرے محل پر حمل کیتو یہ اس کا مذہب نہ ہوگی۔
ثانیا:یہ حکم کرنے والا احکام رجال و متون وطرق احتجاج ووجوہ استنباط او ر ان کے متعلقات اصول مذہب پر احاطہ تامہ رکھتا ہو۔یہاں اسے چار منزلیں سخت دشوار گزار پیش آئیں گی۔جن میں ہر ایك دوسری سے سخت تر ہے۔
منزل اول:نقدر جال کہ ان کے مراتب ثقہ وصدق و حفظ وضبط اور ان کے بارے میں ائمہ شان کے
",
874,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,40,"اقوال ووجوہ طعن و مراتب توثیقومواضع تقدیم جرح وتعدیل وحوامل طعن و مناشی توثیق ومواضع تحامل و تساہل و تحقیق پر مطلع ہواستخراج مرتبہ اتقان راوی بنقد روایات وضبط مخالفات واوہام وخطیات وغیرہا پر قادر ہوان کے اسامی و القاب و کنی و انساب ووجوہ مختلفہ تعبیر رواۃ خصوصا اصحابہ تدلیس شیوخ و تعیین مبہمات و متفق و متفرق و مختلف مؤتلف سے ماہر ہو۔ان کے موالیدو وفیات و بلدان ورحلات و لقاء و سماعات و اساتذہ و تلامذہ و طرق تحمل ووجوہ ادا وتدلیس و تسویہ و تغیر و اختلاط آخذین من قبل و آخذین من بعد و سامعین حالین وغیرہما تمام امور ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ان سب کے بعد صرف سند حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔
منزل دو م:صحاح و سنن و مسانید و جوامع ومعاجیم واجزاء وغیرہا کتب حدیث میں اس کے طرق مختلفہ والفاظ متنوعہ پر نظر تام کرے کہ حدیث کہ تواتر یا شہرت یا فردیت نسبیہ یا غرابت مطلقہ یا شذو ذ یا نکارت و اختلافات رفع ووقف و قطع ووصل و مزید فی متصل الاسانید و اضطرابات سند ومتن وغیرہا پر اطلاع پائے نیز اس جمع طرق و احاطہ الفاظ سے رفع ابہام و دفع اوہام وایضاح خفی و اظہار مشکل و ابانت مجمل و تعیین محتمل ہاتھ آئے۔ولہذا امام ابوحاتم رازی فرماتے ہم جب تك حدیث کو ساتھ(۶۰)وجہ سے نہ لکھتے اس کی معرفت نہ پاتے۔اس کے بعد اتنا حکم کرسکتا ہے کہ حدیث شاذ یا منکرمعروف یا محفوظمرفوع یا موقوففرد یا مشہور کس مرتبہ کی ہے۔
منزل سوم:اب علل خفیہ و غوامض دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں۔اگر بعد احاطہ وجوہ اعلال تمام علل سے منزہ پائے تو یہ تین منزلیں طے کرکے طرف صحت حدیث بمعنی مصطلح اثر پر حکم لگاسکتا ہے۔تمام حفاظ حدیث و اجلہ نقاد ناو اصلان ذروہ شامخہ اجتہاد کی رسائی صرف اس منزل تك ہے۔اور خدا انصاف دے تو مدعی اجتہاد و ہمسری ائمہ امجاد کو ان منازل کے طے میں اصحاب صحاح یا مصنفان اسماء الرجل کی تقلید جامد سخت بے حیائی نری بے غیرتی ہے بلکہ ان کے طور پر شرك جلی ہے۔کس آیت و حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ بخاری یا ترمذی بلکہ امام احمد و ابن المدینی جس حدیث کی تصحیح یا تجریح کردیں وہ واقع میں ویسی ہی ہے۔کون سا نص آیا کہ نقدر جال میں ذہبی وعسقلانی بلکہ نسائی و ابن عدی و دارقطنی بلکہ یحیی قطان ویحیی بن معین وشعبہ و ابن مہدی جو کچھ کہہ دیں وہی حق جلی ہے۔جب خود احکام الہیہ کے پہچاننے میں ان اکابر کی تقلید نہ ٹھہری جو ان سے بدرجہا ارفع واعلی واعلم واعظم تھے۔جن کے یہ حضرات اور ان کے امثال مقلد و متبع ہوتے جن کے
",
875,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,41,"درجات رفیعہ امامت انہیں مسلم تھے تو ان سے کم درجہ امور میں ان اکابر سے نہایت پست مرتبہ اشخاص کی ٹھیٹ تقلید یعنی چہ جرح وتعدیل وغیرہ جملہ امور مذکورہ جن جن میں گنجائش رائے زنی ہے محض اپنے اجتہاد سے پایہ ثبوت کو پہچائیےاور این وآن وفلان و بہمان کا نام زبان پر نہ لائیے۔ابھی ابھی تو کھلا جاتا ہے کہ کس برتے پہ تتا پانی
مااذا اخاضك یامغرورفی الخطر حتی ھلکت فلیت النمل لم تطر
(اے مغرور ! تجھے کس شے نے خطرے میں ڈالا یہاں تك کہ تو ہلاك ہوگیاکاش ! چیونٹی نہ اڑتی۔ت)
خیر کسی مسخرہ شیطان کے منہ کیا لگیں۔برادران باانصاف انہیں منازل کی دشواری دیکھیں جس میں ابو عبداﷲ حاکم جیسے محدث جلیل القدر پر کتنے عظیم شدید مواخذے ہوئےامام ابن حبان جیسے ناقد بصیر تساہل کی طرف نسبت کیے گئے۔ان دونوں سے بڑھ کر امام اجل ابوعیسی ترمذی تصحیح و تحسین میں متساہل ٹھہرےامام مسلم جیسے جبل رفیع نے بخاری و ابوذرعہ کے لوہے مانے۔کما اوضحنافی رسالتنا مدارج طبقات ۱۳۳۳ھ الحدیث(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ت)پھر چوتھی منزل تو فلك چہارم کی بلندی ہے جس پر نور اجتہاد سے آفتاب منیر ہی ہو کر رسائی ہے۔امام ائمۃ المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری سے زیادہ ان میں کون منازل ثلثہ کے منتہی کو پہنچا۔پھر جب مقام احکام و نقص و ابرام میں آتے ہین وہاں صحیح بخاری و عمدۃ القاری وغیرہا بنظر انصاف دیکھا چاہیے۔بکری کے دودھ کا قصہ معروف مشہور ہے۔امام عیسی بن ابان کے اشتغال الحدیث پھر ایك مسئلہ میں دو جگہ خطا کرنے اور تلامذہ امام اعظم رضی اﷲ عنہ کے ملازم خدمت بننے کی روایت معلوم وماثور ہے۔ولہذا امام اجل سفین بن عیینہ کہ امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ وا مام احمد رحمۃ اﷲ علیہ کے استاد اور امام بخاری وہ امام مسلم کے استاذ الاستاذ اور اجلہ ائمہ محدثین و فقہائے مجتہدین و تبع تابعین سے ہیں رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین ارشاد فرماتے ہیں:
الحدیث مضلۃ الا للفقھاء۔ حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو۔
علامہ ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:
",
876,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,42,"یرید ان غیر ھم قدیحمل الشیئ علی ظاھرہ ولد تاویل من حدیث غیرہ اودلیل یخفی علیہ اومتروك اوجب ترکہ غیر شیئ مما لایقوم بہ الا من ستبحرو تفقہ۔ یعنی امام سفین کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کبھی ظاہر حدیث سے جو معنے سمجھ میں آتے ہیں ان پر جم جاتا ہی حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے۔یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیںیا متعدد اسباب ایسے ہیں۔ جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصب اجتہاد تك پہنچا۔
خود حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نضراﷲ عبدا سمع مقالتی فحفظہا ووعاھا واداھا فرب حامل فقہ غیر فقیہ ورب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ۔ اخرجہ امام الشافعی والامام احمد۔ و الدارمی وابوداؤد و الترمذی وصححہ وابن ماجۃ و الضیاء فی المختارۃ والبیھقی فی المدخل عن زید بن ثابت والدارمی عن جبیر ین مطعم ونحوہ احمد و الترمذی و ابن حبان بسند صحیح اﷲ تعالی اس بندے کو سرسبز کرے جس نے میری حدیث سن کر یاد کی اور اسے دل میں جگہ دیاور ٹھیك ٹھیك اوروں کو پہنچادی کہ بہتریوں کو حدیث یاد ہوتی ہے مگر اس کے فہم و فقہ کی لیاقت نہیں رکھتے۔اور بہتیرے اگرچہ لیاقت رکھتے ہیں۔دوسرے ان سے زیادہ فہیم و فقیہ ہوتے ہیں۔(امام شافعی امام احمددارمیابوداؤد اور ترمذی نے اس کی تخریج کی اور اس کو صحیح قرار دیانیز اس کی تخرین کی ابن ماجہضیاء نے مختارہ میں اور بیہقی نے مدخل
",
877,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,43,"عن ابن مسعود والدارمی عن ابی الدرداء رضی اﷲ عنہم اجمعین۔ میںحضرت زید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور دارمی و احمد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے اورترمذی و ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور دارمی نے حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سےاﷲ تعالی ان سب پر راضی ہو۔ت)
فقط حدیث معلوم ہوجانا فہم حکم کے لیے کافی ہوتا تو اس ارشاد اقدس کے کیا معنی تھے۔
امام ابن حجر مکی شافعی کتاب الخیرا ت الحسان میں فرماتے ہیں امام محدثین سلیمان اعمش تابعی جلیل القدر سے کہ اجلہ ائمہ تابعین و شاگردان حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ سے ہیں کسی نے کچھ مسائل پوچھےاس وقت ہمارے امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ بھی حاضر مجلس تھےامام اعمش رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام سے پوچھے۔امام نے فورا جواب دیا۔امام اعمش نے کہا:یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے فرمایا۔ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں۔اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمادیں۔امام اعمش رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا۔
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بھذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھاالرجل اخذت بکلاالطرفین۔
والحمد ﷲ رب العلمین oذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاءواﷲذوالفضل العظیم بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سودن میں آپ کو سنائیں آپ گھڑی بھر میں مجھے سنائے دیتے ہیں۔مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کردیتے ہیں۔اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور محدث لوگ عطار ہیںیعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم مجتہدین جانتے ہو۔اور اے ابوحنیفہ ! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کنارے لیے۔
اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔یہ اﷲ تعالی کا فضل ہےجس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔اور اﷲ تعالی عظیم فضل والا ہے۔ت)
",
878,27,الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذہبی (€∞(فضل(الہٰی)کا عطیّہ(امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے) معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے)),,,44,"اب باقی رہی منزل چہارماور تو نے کیا جانا کیا ہے منزل چہارم سخت ترین منازل دشوار ترین مراحلجس کے سائرنہیں مگر اقل قلائلاس کی قدر کون جانے۔
گدائے فـــــــ خاك نشینی تو حافظامخروش کہ نظم مملکت خویش خسرواں دانند
(اے حافظ! تو خاك نشین گدا گر ہے شور مت مچاکیونکہ اپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ ہی جانتے ہیں۔ت)
اس کے لیے واجب ہے کہ جمیع لغات عرب و فنون ادب ووجوہ تخاطب و طرق تفاہم و اقسام نظم و صنوف معنے وادراك علل و تنقیح مناط و استخراج جامع وعرفان مانع و موارد تعدیہ و مواضع قصر و دلائل حکم آیات و احادیثواقاویل صحابہ و ائمہ فقہ قدیم و حدیث و مواقع تعارضو اسباب ترجیحو مناہج توفیق و مدارج دلیل و معارك تاویل مسالك تخصیصمناسك تقییدومشارع قیودو شوارع مقصود وغیرہ ذلك پر اطلاع تام ووقوف عام و نظرغائر و ذہن رفیعوبصیرت ناقدہ و بصر منیع رکھتا ہوجس کا ایك ادنی اجمال امام شیخ الاسلام زکریا انصاری قدس سرہ الباری نے فرمایا کہ:
ایاکم ان تبادرواالی الانکار علی قول مجتہد او تخطئتہ الابعد احاطتکم بادلۃ الشریعۃ کلھا و معرفتکم بجمیع لغات العرب التی احتوت علیھا الشریعۃ و معرفتکم بمعانیھا وطرقھا۔ خبردار مجتہد کے کسی قول پر انکاریا اسے خطا کی طرف نسبت نہ کرناجب تك شریعت مطہرہ کی تمام دلیلوں پر احاطہ نہ کرلو جب تك تمام لغت عرب جن پر شریعت مشتمل ہے پہچان نہ لوجب تك ان کے معانی ان کے راستے جان نہ لو۔
اور ساتھ ہی فرمادیا وانی لکم بذلك بھلا کہاں تم اور کہاں یہ احاطہ نقلہ الامام العارف باﷲ عبدالوھاب الشعرانی فی المیزان ۔(اس کو خدا شناس امام عبدالوہاب شعرانی نے میزان میں نقل فرمایا۔ت)ردالمحتار جس کی عبارت سوال میں نقل کی خود اسی ردالمحتار میں اسی عبارت کے متصل اس کے معنے فرمادیئے تھے کہ وہ سائل نے نقل نہ کیےفرماتے ہیں:
",
879,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,45,"ولا یخفی ان ذلك لمن کان اھلا للنظر فی النصوص و معرفۃ محکمھا من منسوخھا فاذانظر اھل المذہب فی الدلیل وعملوابہ صح نسبتہ الی المذاھب۔ یعنی ظاہر ہے کہ امام کا یہ ارشاد اس شخص کے حق میں ہے جو نصوص شرع میں نظر اور ان کے محکم و منسوخ کو پہچاننے کی لیاقت رکھتا ہو۔تو جب اصحاب مذہب دلیل میں نظر فرما کر اس پر عمل کریںاس وقت اس کی نسبت مذہب کی طرف صحیح ہے۔
اور شك نہیں کہ جو شخص ان چاروں منازل کو طے کر جائے وہ مجتہد فی المذہب ہےجیسے مذہب مہذب حنفی میں امام ابویوسف و امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما بلاشبہ ایسے ائمہ کو اس حکم و دعوے کا منصب حاصل ہے اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے خارج نہ ہوئے کہ اگرچہ صورۃ اس جزئیہ میں خلاف کیا مگر معنی اذن کلی امام پر عمل فرمایا پھر وہ بھی اگرچہ ماذون بالعمل ہوں۔یہ جزمی دعوی کہ اس حدیث کا مفاد خواہی نخواہی مذہب امام ہےنہیں کرسکتےنہایت کارظن ہےممکن کہ ان کے مدارك مدارك عالیہ امام سے قاصر رہے ہوں۔اگر امام پر عرض کرتے وہ قبول فرماتے تو مذہب امام ہونے پر تیقن تام وہاں بھی نہیں۔
خود اجل ائمہ مجتہدین فی المذہب قاضی الشرق و الغرب سیدنا امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جن کے مدارج رفیعہ حدیث کو موافقین و مخالفین مانے ہوئے ہیں۔امام مزنی تلمیذ جلیل امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔
ھو اتبع القوم للحدیث۔ (وہ سب قوم سے بڑھ کر حدیث کے پیروکار ہیں۔ت)
امام احمد بن حنبل نے فرمایا:منصف فی الحدیث ۔ (وہ حدیث میں منصف ہیں۔ت)
امام یحیی بن معین نے بآں تشدد شدید فرمایا:
لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثاو لااثبت من ابی یوسف۔ اصحاب رائے میں امام ابو یوسف سے بڑھ کر کوئی محدث نہیں اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مستحکم ہے۔ت)
",
880,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,46,"نیز فرمایا:
صاحب حدیث و صاحب سنۃ وہ صاحب حدیث و صاحب سنت ہیں۔(ت)
امام ابن عدی نے کامل میں کہا:
لیس فی اصحاب الرأی اکثر حدیثا منہ اصحاب رائے میں امام ابویوسف سے زیادہ بڑا کوئی محدث نہیں۔(ت)
امام عبداﷲ ذہبی شافعی نے اس جناب کو حفاظ حدیث میں شمار اور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں بعنوان الامام العلامۃ فقیہ العراقین۔ (امام بہت علم وا لا عراقیوں کا فقیہ ت)ذکر کیا۔یہ امام ابویوسف بایں جلالت شان حضور سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الا رأیت مذھبہ الذی ذھب الیہ انجی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ھو ابصربا الحدیث الصحیح منی۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ میں نے کسی مسئلہ میں امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا خلاف کرکے غور کیا ہومگر یہ کہ انہیں کے مذہب کو آخرت میں زیادہ وجہ نجات پایااور بارہا ہوتا کہ میں حدیث کی طرف جھکتا پھر تحقیق کرتا تو امام مجھ سے زیادہ حدیث صحیح کی نگاہ رکھتے تھے۔
نیز فرمایا:امام جب کسی قوم پر جزم فرماتے میں کوفہ کے محدثین پر دورہ کرتا کہ دیکھوں ان کی تقویت قول میں کوئی حدیث یا اثر پاتا ہوں۔بارہا دو تین حدیثیں میں امام کے پاس لے کر حاضر ہوتا ان میں سے کسی کو فرماتے صحیح نہیں کسی کو فرماتے معروف نہیں۔میں عرض کرتا حضور کو اس کی کیا خبر حالانکہ یہ تو قول حضور کے موافق ہیں۔فرماتے:میں اہل کوفہ کا عالم ہوں۔ذکر کلہ الامام ابن الحجرفی الخیرات الحسان(یہ سب کچھ امام ابن حجر نے الخیرات الحسان میں ذکر فرمایا ہے۔ت)
",
881,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,47,"بالجملہ نابالغان رتبہ اجتہاد نہ اصلا اس کے اہلنہ ہرگز یہاں مرادنہ کہ آج کل کے مدعیان خامکار جاہلان بے وقار کہ من و تو کا کلام سمجھنے کی لیاقت نہ رکھیں۔اور اساطین دین الہی کے اجتہاد پر کھیں۔اسی ردالمحتار کو دیکھا ہوتا کہ انہیں امام ابن الشحنہ و علامہ محمد بن محمد البہنسی استاد علامہ نور الدین علی قادری باقانی وعلماہ عمر بن نجیم مصری صاحب نہرالفائق و علامہ محمد بن علی دمشقی حصکفی صاحب ردمختار وغیرہم کیسے کیسے اکابر کی نسبت صریح کی کہ مخالفت مذہب درکنارروایات مذہب میں ایك راحج بتانے کے اہل نہیں۔کتاب الشہادات باب القبول میں علامہ سائحانی سے ہے:
ابن الشحنۃ لم یکن من اھل الاختیار ابن شحنہ اہل اختیار میں سے نہیں تھا۔(ت)
کتاب الزکوۃ صدقہ فطر میں ہے:
البھنسی لیس من اصحاب التصحیح البہنسی اصحاب تصحیح میں سے نہیں(ت)
کتاب الطلاق باب الحضانہ میں ہے:
صاحب النھرلیس من اھل الترجیح صاحب نہر الفائق اہل ترجیح میں سے نہیں (ت)
کتاب الرھن میں ایك بحث علامہ شارح کی نسبت ہے:
لاحاجۃ الی اثباتہ بالبحث والیقاس الذی لسنا اھلا لہ اس کو بحث و قیاس کے ساتھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں جس کے ہم اہل نہیں ہیں۔(ت)
ان کی بھی کیا گنتی خود اکابر اراکین مذہب اعاظم اجلہ رفیع الرتب مثل امام کبیر خصاف وامام اجل ابوجعفر طحاوی و امام ابو الحسن کرخی و امام شمس الائمہ حلوانی و امام شمس الائمہ سرخسی وامام فخر الاسلام بزدوی و امام فقیہ النفس قاضیخاں دامام ابوبکر رازی و امام ابوالحسن قدوری و امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ وغیرہم اعاظم کرام ادخلھم اﷲ تعالی فی دارالسلام۔(اﷲ تعالی ان کو سلامتی والے گھر میں داخل فرمائے۔(ت)کی نسبت علامہ ابن کمال باشا رحمۃ اﷲ تعالی سے تصریح نقل کی۔
",
882,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,48,"انھم لایقدرون علی شیئ من المخالفۃ لا فی الاصول ولا فی الفروع وہ اصلا مخالفت امام پر قدرت نہیں رکھتےنہ اصول میں نہ فروغ میں۔
ﷲ انصاف !اﷲ عزوجل کے حضور جانا اور اسے منہ دکھانا ہے ایك ذرا دیر منہ زوریہما ہمی ڈھٹائیہٹ دھرمی کی نہیں سہی آدمی اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور ان کا برائمہ عظام کے حضور اپنی لیاقت قابلیت کو دیکھے بھالے تو کہیں تحت الثری تك بھی پتا چلتا ہے۔ایمان نہ نگلے تو ان کے ادنی شاگردان شاگرد کی شاگردی و کفش برادری کی لیاقت نہ نکلے۔خدارا جو شکار ان شیران شرزہ کی جست سے باہر ہو لومڑیاںگیڈر اس پر ہمکنا چاہیں۔ہاں اس کا ذکر نہیں جسے ابلیس مرید اپنا مرید بنائے۔اور اپنی تقلید سے تمام ائمہ امت کے مقابل انا خیر منہ(میں اس سے بہتر ہوں(ت)سکھائے۔
جان برادر ! دین سنبھلانا ہے یا بات پالنا۔چند منٹ تك خفگیجھنجھلاہٹشوخی تلملاہٹ کی نہیں بدیذرالیاقتی دعووں کے آثار تو ملاحظہ ہوں۔تمام غیر مقلدان زمانہ کے سروسرگروہ سب سے اونچی چوٹی کے کوہ پر شکوہ سب سے بڑے محدث متوحد سب میں چھنٹے امام متفرد علامۃ الدہر مجتہد الدہر العصر جناب میاں نذیر حسین صاحب دہلوی ہداہ اﷲ تعالی الی الصراط السوی ہیں۔ انہیں کی لیاقت وقابلیت کا اندازہ کیجئے۔فقیر نے بضرورت سوال سائلین جو اسی ماہ رواں میں صرف ایك مسئلہ جمع بین الصلوتین کے متعلق حضرت کی حدیث دانی کھولی۔ماشاء اﷲ وہ وہ نزاکتیں پائیں کہ بایں گردش و کہن سالی آج تك پیر فلك کو بھی نظر نہ آئیں۔تفصیل درکار ہو تو فقیر کا رسالہ مذکورہ حاجزالبحرین عــــــہ ملاحظہ ہو۔
یہاں اجمالا معروض:
دہلوی مجتہدکی حدیث دانی اور ایك ہی مسئلہ میں اتنی گل فشانی
(۱)ضرت کو ضعیف محض متروك میں تمیز نہیں۔
(۲)تشیع و رفض میں فرق نہیں۔
(۳)فلان یغرب وفلان غریب الحدیث میں امتیا زنہیں۔
عــــــہ:رسالہ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین فتاوی رضویہ جلد پنجممطبوعہ رضا فاؤنڈیشناندرون لوہاری دروازہلاہور میں صفحہ ۱۵۹ پر ملاحظہ ہو۔
",
883,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,49," (۴)غریب و منکر میں تفرقہ نہیں۔
(۵)فلان یھم کو وہمی کہنا جانیں۔
(۶)لہ اوھام کا یہی مطلب مانیں
(۷)حدیث مرسل تو مردود و مخذول و عنعنہ مدلس ماخوذ و مقبول
(۸)ستم جہالت کہ وصل متاخر کو تعلیق بتائیںمثلا محدث کہے:
رواہ مالك عن نافع عن ابن عمر حدثنا بذلك فلان عن فلان عن مالک۔ اس کو امام مالك نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہم کو ایسے ہی حدیث بیان کی فلاں نے فلاں سے اور اس نے امام مالك سے۔(ت)
حضرت اسے معلق ٹھہرائیں اور حدثنا بذلك کو ہضم کرجائیں۔
(۹)صحیح حدیثوں کو نری زبان زوریوں سے مردود و منکر و واہیات بتائیں۔
(۱۰)حدیث ضعیف جس کے منکر و معلول ہونے کی امام بخاری وغیرہ اکابرائمہ نے تصریح کی محض بیگانہ تقریرون سے اسے صحیح بنائیں۔
(۱۱)ضعف حدیث کو ضعف رواۃ پر مقصور جانیں۔ہنگام ثقہ رواۃ علل قوادح کو لاشیئ مانیں۔
(۱۲)معرفت رجال میں وہ جوش تمیز کہ امام اجل سلمین اعمش عظیم القدر جلیل الفخر تابعی مشہور ومعروف کو سلیمن بن ارقم ضعیف سمجھیں۔
(۱۳)خالد بن الحارث ثقہ ثبت کو خالد بن مخلد قطوانی کہیں۔
(۱۴)ولید بن مسلم ثقہ مشہور کو ولید بن قاسم بنالیں۔
(۱۵)مسئلہ تقوی طرق سے نرے غافل۔
(۱۶)راوی مجروح و مرجوع کے فرق بدیہی سے محض جاہل۔
(۱۷)متابع و مدار میں تمیز دو بھر صاف صاف متابعت ثقاتوہ بھی باقرب وجوہ پیش نظرمگر بعض طرق میں بزعم شریف وقوع ضعیف سے حدیث سخیف۔
(۱۸)جا بجا طریق جلیلہ موضحۃ المعنی مشہور و متداول کتابوں خود صحیحین و سنن اربعہ میں موجود۔انہیں تك رسائی محالباقی کتب سے جمع طرق و احاطہ الفاظ اور مبانی و معانی کے محققانہ لحاظ کی کیا مجال۔
(۱۹)تصحیح و تصنیف میں قول ائمہ جبھی مقبول کہ خود ان کی تصانیف میں مذکور و منقولورنہ نقل ثقات
",
884,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,50," مردود و مخذول۔
(۲۰)اجلہ رواۃ بخاری و مسلم بے وجہ وجیہہ و دلیل ملزم کوئی مردود و خبیث کوئی متروك الحدیث مثل امام بشر بن بکر تنیسی و محمد بن فضیل بن غزوان کو فی وخالد بن مخلد ابوالہیثم بجلیبھلا یہ تو بخاری و مسلم کے خاص خاص رجال بے مساغ و مجال پر فقط منہ آئے۔اس سے بڑھ کر سنیئے کہ حضرت کی حدیث دانی نے صحاح ستہ کے ردوابطال کو قواعد سبعہ و ضع فرمائے کہ جس راوی کو تقریب میں صدوق رمی بالتشیع یا صدوق متشیع یا ثقہ یغرب یا صدوق یخطیئ یا صدوق یہم یا صدوق لہ اوہام لکھا ہو وہ سب ضعیف و مردود الروایت و متروك الحدیث ہیںحالانکہ باقی صحاح درکنارخود صحیحیں میں ان اقسام کے راوی دو چار نہیں دس بیس نہیں سینکڑوں ہیں چھ قاعدے تو یہ ہوئے۔جس سند میں کوئی راوی غیر منسوب واقع ہو۔مثلا حدثنا خالد عن شعبۃ عن سلیمن اسے برعایت قرب طبقہ و روایات مخرج جو ضعیف راوی اس نام کا ملے رجما با لغیب جزما بالترتیب اس پر حمل کرلیجئے۔ اور ضعف حدیث و سقوط روایت کا حکم کردیجئے
مسلمانو! حضرت کے یہ قواعد سبعہ پیش نظر رکھ کر بخاری و مسلم سامنے لائیے اور جو جو حدیثیں ان مخترع محدثات پر رد ہوتی جائیں کاٹتے جائیے۔اگر دونوں کتابیں آدھی تہائی بھی باقی رہ جائیں تو میرا ذمہ خدا نہ کرے کہ مقلدین ائمہ کا کوئی متوسط طالب علم بھی اتنا بوکھلایا ہو۔معاذ اﷲ جب ایك مسئلہ میں یہ کوتك تو تمام کلام کا کمال کہاں تک۔العظمۃ اﷲ ! جب پرانے پرانے چوٹی کے سیانے جنہیں طائفہ بھر اپنی ناك مانےاونچے پائے کا مجتہد جانےان کی لیاقت کا یہ اندازہ کہ نری شیخی اور تین کانےتو نئی امت چھٹ بھیوں کی جماعت کس گنتی شمار میں ہیں۔کس شمار قطار میں۔لافی العیر ولا فی النفیر والعیاذ باﷲ من شر الشر(نہ عیر میں اور نہ ہی نفیر میں(نہ تین میں نہ تیرہ میں)شریر کے شر سے اﷲ تعالی کی پناہ ت)مرزا صاحب و شاہ صاحب کیا عیاذا باﷲ ان جیسے بدعقل وعدیم الشعور تھے کہ اثبات احکام شریعت الہی و فہم احادیث رسالت پناہی صلوات اﷲ تعالی و سلامہ علیہ کی باگ ایسے بے مہاروں بےخرد نابکاروں کے ہاتھ میں دیتے۔ان کا مطلب بھی وہی ہے کہ جو اس کا اہل ہو اسے عمل کی اجازت بلکہ ضرورت نہ کہ کو دن نااہل بکھاری ترمجی مسکوۃ کے ترجمے میں ہلدی کی گرہ پائیں اور پنساری بن جائیں یا بنگالی بھوپالی کسی مذہب کو اپنے زعم میں خلاف حدیث بتائیں تو اﷲ عزوجل تقلید ائمہ حرام کرکے فرض فرمادے کہ بھوپالی بنگالی پر ایمان لے آئیں۔جان برادر یہ بودی تقلید تواب بھی رہی۔ابوحنیفہ و محمد کی تو نہ ہوئی۔بھوپالی بنگالی کی سہی۔وائے بے انصافی کہ شاہ صاحب و مرزا صاحب کے کلام کے یہ معنی
",
885,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,51,"مانیں اور انہیں معاذا ﷲ دائرہ عقل سے خارج جانیںحالانکہ ان دونوں صاحبوں کے ہادی بالامرشد اعلی دونوں صاحبوں کے اقائے نعمت مولائے بیعت دونوں صاحبوں کے امام ربانی جناب شیخ مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
مخدوما ! احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام درباب جواز اشارت سبابہ بسیار وارد شدہ اندو بعضے از روایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وغیر ظاہر مذہب استوآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم یشیرو نصنع کما یصنع النبی علیہ وعلی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہما ازروایات نوادر است نہ روایات اصولہ رگاہ در روایات معتبرہ حرمت اشارہ واقع شد باشدوبرکراہت اشارت فتوی دادہ باشندمامقلدان رانمی رسد کہ بمقضائے احادیث عمل نمودہ جرات دراشارت نمائیم مرتکب ایں امراز حنیفہ یا علمائے مجتہدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی آیدیا انگارد کہ اینہا بمقضاء آراء خود برخلاف احادیث حکم کردہ اندہر دو شق فاسد است تجویز نہ کندآنرا مگر سفیہ یا اے مخدوم گرامی ! احادیث نبوی(ان کے مصدر پر درود و سلام ہو)تشہد میں اشارہ سبابہ کے جواز کے باب میں بہت وارد ہوئی ہیں اور اس باب میں فقہ حنفی کی بھی بعض روایات آئی ہیں جو کہ ظاہر مذہب کے غیر ہیں۔اور وہ جو امام محمد شیبانی نے کہا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انگلی شہادت سے اشارہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی طرح اشارہ کرتے ہیں جس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کرتے تھے۔ پھر امام محمد نے فرمایا یہی میرا قول اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا قول ہے روایات نوادر میں سے ہے نہ روایات اصول میں سےجب کہ معتبر روایات میں اشارے کی حرمت واقع ہوچکی ہے اور اشا رےکے مکروہ ہونےپر فتوی دیا گیا ہے۔ہم مقلدوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حدیث کے متقضا کے مطابق عمل کرکے اشارہ کرنے کی جرات کریں۔حنفیہ میں سے اشارہ سبابہ کا ارتکاب کرنے والا دو حال سے خالی نہیںیا تو ان علمائے مجتہدین کے لیے جواز اشارہ میں معروف احادیث کا علم تسلیم نہیں کرتا یا ا ن کو ان احادیث کا عالم جانتا ہے۔لیکن ان بزرگوں کے لیے ان احادیث کے مطابق عمل جائز تسلیم نہیں کرتا۔اور خیال یہ کرتا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے خیالات
",
886,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,52,معاند حسن ظن مابہ ایں اکابر آنست کہ تادلیل برایشاں ظاہر نشدہ است حکم بحرمت یا کراہت نہ کردہ اندغایت ما فی الباب مارا علم بآں دلیل نیستوایں معنے مستلزم قدح اکابر نیست اگر کسے گوید کہ ماعلم بخلاف آں دلیل داریمگوئیم کہ علم مقلد دراثبات حل و حرمت معتبر نیستدریں باب ظن بہ مجتہد معتبراست احادیث را ایں اکابر بواسطہ قرب عہد ووفور علم وحصول ورع و تقوی ازمادور افتادگاں بہتر مے دانستند و صحت وسقم ونسخ وعدم نسخ آنہارابیشتر از مامی شناختندالبتہ وجہ موجہ داشتہ باشند درترك عمل بمقضائے احادیث علی صاحبہا الصلوۃ والسلام و آنچہ از امام اعظم منقول است کہ اگر حدیثے مخالف قول من بیابند برحدیث عمل نمائید مراد از اں حدیثے است کہ بحضرت امام نرسیدہ است و بنا برعدم علم ایں حدیث حکم بخلاف آں فرمودہ است و احادیث اشارت ازاں قبیل نیستاگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوے دادہ اند بمقتضائے فتاوائے معارضہ بہر طرف عمل مجوز باشند گوئیم اگر تعارض کے مطابق احادیث کے خلاف حرمت اور کراہت کا حکم صادر فرمایا ہے یہ دونوں شقیں فاسد ہیں انہیں وہی جائز قرار دے گا جو بے وقوف ہو یا ضدیان اکابر کے ساتھ ہمارا حسن ظن یہ ہے کہ اس باب میں جب تك ان پر حرمت یا کراہت کی دلیل ظاہر نہیں ہوئی حرمت یا کراہت کا انہوں نے حکم نہیں لگایا۔زیادہ سے زیادہ اس باب میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس دلیل کا علم نہیں ہے اور یہ معنی اکابر میں کسی عیب کو مستلزم نہیں ہے۔اگر کوئی شخص کہے کہ ہم اس دلیل کے خلاف علم رکھتے ہیں تو کہیں گےکہ حلت وحرمت کے اثبات میں مقلد کا علم معتبر نہیں ہے بلکہ اس باب میں مجتہد کے ظن کا اعتبار ہےیہ اکابر حدیث کو قرب زمانہ نبویزیادتی علماور ورع وتقوی سے آراستہ ہونے کی وجہ سے ہم دور افتادوں سے بہتر جانتے تھےاور احادیث کی صحت وسقم اور ان کے نسخ وعدم نسخ کو ہم سے زیادہ پہچانتے تھے انھیں ضرور کوئی معتبر دلیل ملی ہوگی تب ہی انھوں احادیث علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے مقتضی کے مطابق عمل نہیں کیااوروہ جو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی حدیث میرے قول کے مخالف پاؤ تو میرے قول کو چھوڑ دو اور حدیث پر عمل کرو تو اس حدیث سے مراد وہ حدیث ہے جو حضرت امام کو نہ پہنچی ہو۔اور اس حدیث کو نہ جاننے کی بنا پر ,
887,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,53,"درجواز وعدم جواز واقع شود ترجیح عدم جواز رااست۔ ملتقطا اس کے خلاف حکم فرمایا ہے اور اشارے کی حدیث اس قبیلہ سے نہیں۔ اگر کہیں کہ علمائے حنفیہ نے جواز اشارہ کا فتوی دیا ہے۔لہذا متعارض فتاوی کے مطابق جس بات پر بھی عمل کرلیا جائے جائز ہے۔ہم کہتےہیں کہ اگر جواز و عدم جواز اور حلت و حرمت میں تعارض واقع ہو تو تعارض کی صورت میں ترجیح عدم جواز اور جانب حرمت کی ہوتی ہے اھ التقاط (ت)
نیز جناب موصوف کے رسالہ مبد و معاد سے منقول ہے:
مدتے آرزوئے آں داشت کہ وجہے پیدا شود در مذہب حنفی تادرخلف امام قراءت فاتحہ نمودہ آیدامابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترك قراء ت مے کرد وایں ترك را از قبیل ریاضت مے شمردآخر الامر اﷲ تعالی ببرکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادستحقیقت مذہب حنفی در ترك قراءت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی از قراء ت حقیقی در نظر بصیرت زیبا تر نمود۔ مجھے ایك عرصہ تك آرزو رہی کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کی مذہب حنفی میں کوئی وجہ ظاہر ہوجائےمگر بواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترك قراء ت کرتا رہا اور اس ترك کو ریاضت کے قبیلے سے شمار کرتا رہا۔آخر اﷲ تعالی نے رعایت مذہب کی برکت سے(کیونکہ مذہب کی مخالفت الحاد ہے)مقتدی کی ترك قراء ت کے بارے میں مذہب حنفی کی حقانیت ظاہر فرمائی اور قراء ت حکمی کو نظر بصیرت میں قراء ت حقیقی سے خوب تر دکھایا(ت)
ہاں صاحب! ان بزرگوں کے اقوال کی خبریں کہیے۔ان بزرگوں کے بزرگبڑوں کے بڑے اماموں کے امام کیا کچھ فرمارہے ہیںادعائے باطل عمل بالحدیث پر کیا کیا بجلیاں توڑتے گھنگھور بادل گرمارہے ہیں۔
اولا: تصریحا تسلیم فرمایا کہ التحیات میں انگلی اٹھانا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بہت حدیثوں میں وارد۔
ثانیا: وہ حدیثیں معروف و مشہور ہیں۔
",
888,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,54,"ثالثا: مذہب حنفی میں بھی اختلاف ہے۔روایت نوادر میں خود امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اشارہ فرماتے تھے ہم بھی کریں گے۔
رابعا: صاف یہ بھی فرمادیا کہ یہی قول امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ہے۔
خامسا: نہ فقط روایت بلکہ علمائے حنفیہ کا فتوی بھی دونوں طرف ہے۔بااینہہ صرف اسی وجہ سے کہ روایات اشارہ ظاہر الروایۃ نہیںصاف صاف فرماتے ہیں کہ ہم مقلدوں کو جائز نہیں کہ حدیثوں پر عمل کرکے اشارے کی جرات کریں۔جب ایسی سہل و نرم حالت میں حضرت امام ربانی صاحب کا یہ قاہر ارشاد ہے تو جہاں فتوائے حنفیہ مختلف نہ ہو۔جہاں سرے سے اختلاف روایت ہی نہ ہو وہاں خلاف مذہب امام حدیث پر عمل کرنے کو کیا کچھ نہ فرمائیں گے۔
کیوں صاحبو! کیا انہیں کو شاہ ولی صاحب نے کہا تھا کہ کھلا احمق ہےیا چھپا منافقاستغفرا للہاستغفر اﷲ ذرا تو شرماؤذرا تو ڈروشاہ صاحب کی بزرگی سے حیا تو کرو۔ان کی تو کیا مجال تھی کہ معاذ اﷲ وہ جناب مجددیت مآب کی نسبت ایسا گمان مردود و نامحمود رکھتے وہ تو انہیں قطب الارشاد وہادی و مرشدو دافع بدعات جانتے ہیں اور ان کی تعظیم کو خدا کی تعظیمان کے شکر کو اﷲ کا شکر مانتے ہیں کہ اپنے مکتوب ہفتم میں لکھتے ہیں:
شیخ قطب ارشادایں دورہ است و بردست وے بسیارے از گمراہاں بادیہ صبیعت وبدعت خلاص شدہ اندتعظیم شیخ تعظیم حضرت مدور ادوار ومکون کائنات استو شکر نعمت مفیض اوست۔ اعظم اﷲ تعالی لہ الاجور۔ شیخ اس دور کے قطب ارشاد ہیںان کے ہاتھ پر تکبر و بدعت کی گمراہی میں مبتلا بہت سے افراد نے ہدایت پائیشیخ کی تعظیم خالق کائنات کی تعظیم ہے اور شیخ کی نعمت کا شکر اس نعمت کو عطا کرنے والے اﷲ کا شکر ہے۔اﷲ تعالی انہیں عظیم اجر عطا فرمائے۔(ت)
ہاں شاید میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کی چوٹ حضرت مجدد صاحب ہی پر ہے کہ معیار الحق میں لکھتے ہیں:
آج کل کے بعض لوگ اسی تقلید معین کے التزام سے مشرك ہورہے ہیں کہ مقابل میں روایت کیدانی کے اگر حدیث صحیح پیش کرو تو نہیں مانتے۔
",
889,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,55,"اسی مسئلہ اشارہ میں روایت کیدانی پیش کی جاتی ہے۔جناب مجدد صاحب نے فتاوی غرائب و جامع الرموز وخزانۃ الروایات وغیرہا پیش کیں۔وہ بات ایك ہی ہے۔یعنی فقہی روایت کے مقابل حدیث نہ ماننا۔اب دیکھ لیجئے حضرت مجدد کا روایت فقہی لانا اوران کے سبب صحیح حدیثوں پر عمل نہ فرمانا۔اور میاں جی صاحب دہلوی کا بے دھڑك شرك کی جڑ جاننا۔خدا ایسے شرك پسندوں کے سائے سے بچائے۔خیر یہ تو میاں جی جانیں اور ان کا کام
کلام جناب مجدد صاحب کے فوائد سنیے:
اول۱:بڑا بھاری فائدہ تو یہ ہوا۔
دوم۲:حضرت موصوف نے یہ بھی فرمادیا کہ اقوال امام کے مقابل ایسی معروف حدیثیں جیسی رفع یدین و قراء ت مقتدی وغیرہما میں آئیں کہ کسی طرح احادیث اشارہ سے اشتہار میں کم نہیں وہی پیش کرے گا جو نرا گاؤوی کودن بے عقل ہویا معاند مکابرہٹ دھرم کہ نہ وہ حدیثیں امام سے چھپ رہنے کی تھیں۔نہ معاذ اﷲ امام اپنی رائے سے حدیث کا خلاف کرنے والےتو ضرور کسی دلیل قوی شرعی سے ان سے عمل نہ فرمایا۔
سوم۳:یہ بھی فرمادیا کہ ہمیں جواب احادیث معلوم ہوجانا کچھ ضرور نہیں۔اس قدر اجمالا جان لینا بس ہے کہ ہمارے عالموں کے پاس وجہ موجود ہوگی۔
چہارم۴:یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علم میں کسی مسئلہ مذہب پر دلیل نہ ہونا درکناراگر صراحۃ اس کے خلاف پر ہمیں دلیل معلوم ہو جب بھی ہمارا علم کچھ معتبر نہیں اسی مسئلہ مذہب پر عمل رہے گا۔
پنجم۵:یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علمائے سلف رضی اﷲ تعالی عنہم کو جیسا علم حدیث تھا جیسا وہ صحیح و ضعیف و منسوخ و ناسخ پہچانتے تھے بعد کے لوگ ان کی برابری نہیں کرسکتے کہ نہ انہیں ویسا علم نہ یہ اس قدر زمانہ رسالت سے قریبجب حضرت مجدد اپنے زمانہ کو ایسا فرمائیں۔تو اب تو اس پر بھی تین سو برس گزر گئے۔آج کل کے الٹے سیدھے چند حرف پڑھنے والے کیا برابری ائمہ کی لیاقت رکھتے ہیں۔
ششم۶:اس شرط کی بھی تصریح فرمادی کہ امام کے وہ اقوال منقولہ سوال خاص اسی حدیث کے باب میں ہیں جو امام کو نہ پہنچی اور اس سے مخالف بربنائے عدم اطلاع ہوئی نہ یہ کہ اصول مذہب پر وہ بوجوہ مذکورہ کسی وجہ سے مرجوع یا مؤول یا متروك العمل تھی کہ یوں تو بحال اطلاع بھی مخالفت ہوتی۔کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
ہفتم۷:جناب مجدد صاحب کی شان علم سے تو ان حضرات کو بھی انکار نہ ہوگا۔یہی مرزا جانجاناں صاحب
",
890,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,56," جنہیں بزرگ مان کر ان کے کلام سے استناد کیا گیا۔جناب موضوع کوقابل اجتہاد خیال کرتے اور اپنے ملفوظ میں لکھتے ہیں:
عرض کردم یارسول اﷲ حضرت درحق مجدد الف ثانی چہ فرمایند فرمودند مثل ایشاں در امت من دیگر کیست عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ حضور حضرت مجدد الف ثانی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میری امت میں اس کی مثل دوسرا کون ہے۔(ت)
جب ایسے بزرگان بزرگ فرمائیں کہ ہم مقلدوں کو قول امام کے خلاف حدیثوں پر عمل جائزجو اس کا مرتکب ہو وہ احمق بے ہوش یا ناحق باطلل کوش ہے۔تو پھر آج کے جھوٹے مدعی کسی گنتی میں رہے۔
یہ سات فائدے عبارت مکتوبات میں تھے۔
ہشتم۸:اگرچہ قول امام کی حقانیت اپنے خیال میں نہ آئے مگر عمل اسی پر کرنا لازم یہی اﷲ عزوجل کو پسند موجب برکات ہے۔دیکھو ایك مدت تك مسئلہ قراء ت مقتدی میں حقانیت مذہب حنفی جناب مجدد صاحب پر ظاہر نہ تھیقراء ت کرنے کو دل چاہا مگر بپاس مذہب نہ کرسکےیہی ڈھونڈتے رہے کہ خود حنفی مذہب میں کوئی راہ جواز کی ملے۔
نہم۹:اس سوال کا بھی صاف صاف جواب دے دیا کہ ایك مسئلہ بھی اگر خلاف امام کیا اگرچہ اسی بنا پر کہ اس میں حقانیت مذہب ظاہرنہ ہوئی تاہم مذہب سے خارج ہوجائے گا۔اسے نقل ازمذہب فرماتے ہیں۔
دہم۱۰:یہ سخت اشد وقاہر حکم دیکھئے جو ایسا کرے وہ ملحد ہے۔آپ حضرات اپنے ایمان میں جو مناسب جانیں مانیںچاہے حضرت مجدد صاحب کے نزدیك معاذ اﷲ تعالی شاہ صاحب و مرزا صاحب کو سفید و معاند و ملحد قرار دیںچاہے ان دونوں صاحب کے طور پر حضرت مجدد کو مدعی باطل و مخالف امام اور عیاذا باﷲ کھلا حق یا چھپا منافق ٹھہرائیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم (گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق نہیں مگر بلندی و عظمت والے معبود کی توفیق سے۔(ت)لاجرم یہ دونوں صاحب اسی صحت عملی میں کلام کررہے ہیں جس پر اطلاع فقہائے اہل نظر و اجتہاد فی المذہب کا کاماب نہ یہ کلام باہم متخالفنہ ان میں کوئی حرف ہمارے مخالف ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
",
891,27,امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اس قول کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے,,,57,"(یوں ہی تحقیق ہونی چاہیے اور اﷲ تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔(ت)یہ محبث بہت طویل الاذیال تھی جس میں بسط کلام کو دفتر ضخیم لکھا جاتا۔مگر ماقل وکفی خیر مما کثر و الہی(جو مختصر اور جامع ہو وہ اس سے بہتر ہے جو کثیر اور لغو ہو)حضرات ناظرین خاص مبحث مسئول عنہ پر نظررکھیں۔خروج عن المبحث سے کہ صنیع شنیع جہلہ وعاجزین ہے حذر رکھیں۔
""ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفتحین ﴿۸۹﴾""
وصلی اﷲ تعالی علی سید المرسلین محمد والہ و صحبہ اجمعین۔ اے ہمارے رب ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیر افیصلہ سب سے بہتر ہےاور درود نازل فرما اﷲ تعالی رسول کے سردار محمد مصطفے پر اور آپ کی تمام آل و اصحاب پر (ت)
مناسب کہ ان مختصر سطور کو بلحاظ مضامین الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی (اﷲ تعالی کا عطا کردہ فضل اس قول (امام اعظم)کے معنی میں کہ جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے۔ت)سے مسمی کیجئے۔اور بنظر تاریخ اعزالنکات بجواب سوال ارکات(مضبوط ترین نکاتعلاقہ ارکاٹ سے بھیجے ہوئے سوال کے جواب میں ت۔)لقب دیجئے۔
""ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم﴿۱۲۷﴾""۔ آمین۔ و الحمدﷲ رب العلمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرمابے شك تو سننے والا جاننے والا ہےآمین اور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔اور اﷲ خوب جانتا ہے وہ پاك اور بلند ہے۔اس کی بزرگی جلیل اور اس کا علم تام مستحکم ہے۔(ت)
کتب عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
_____________
",
892,27,فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی,,,58,"فوائد فقہیہ وافتاء ورسم المفتی
مسئلہ۱۷: ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
الجواب:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارا ایمان ہے کہ آئمہ اربعہ برحق ہیں۔پھر ایك چیز معین پر انہی اماموں نے فرمایا ہے کہ حلال ہے اور حرام ہے۔مثلا کچھوا کہ ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ الله تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ حرام ہےاور امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں حلال ہےاور یہ محال ہے کہ ایك ہی چیز حرام بھی ہو اور حلال بھی ہواور ہم دونوں کو برحق کہیں۔بینوا بالدلیل وتوجروا من الجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کروجلالت والے الله کی بارگاہ سے اجر پاؤ گے۔ت)
الجواب:
سائل نے کچھوے کی مثال صحیح نہیں لکھی۔کچھوا امام شافعی کے صحیح مذہب میں بھی حرام ہے۔ہاں اور اشیاء ہیں کہ ان کے نزدیك حلال ہمارے نزدیك حرام ہیں۔جیسے متروك التسمیہ عمدا اور ضباور بعض شافعیہ کے نزدیك کچھوا بھی۔بہرحال دونوں برحق ہونے کی یہ معنی ہیں کہ ہر امام مجتہد کا اجتہاد جس طرف مودی ہو اس کے اور اس کے مقلدوں کے حق میں الله تعالی کا وہی حکم ہے۔شافعی المذہب اگر متروك التسمیہ عمدا کھائے گا اس کی عدالت میں فرق نہ آئے گا نہ دنیا میں اسے تعزیر دی جائے نہ آخرت میں اس سے اس کا مواخذہ ہو۔اور حنفی المذہب کہ اسے حرام جانتا ہے اور اس کا ارتکاب ",
893,27,فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی,,,59,"کرے گا تو اس کی عدالت بھی ساقط ہوگی اور دنیا میں مستحق تعزیر اور آخرت میں قابل مواخذہ ہوگا۔یونہی بالعکس جو چیز ہمارے نزدیك حلال ہے اور ان کے نزدیك حرامسیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل مجتھد مصیب والحق عندا لله واحد وقد یصیبہ وقدلا۔ ہر مجتہدمصیب ہےلیکن عنداﷲ حق ایك ہی ہے جس کو مجتہد کبھی پہنچتا ہے اور کبھی نہیں پہنچتا۔
امام شافعی رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
احدبہ واقبل شہادتہ یرید شارب المثلث نقلہما فی فواتح الرحموت۔ واﷲ تعالی اعلم۔ میں مثلث پینے والے پر حد بھی جاری کروں گا اور گواہی دے تو اس کی گواہی بھی قبول کروں گا اسے فواتح الرحموت میں نقل کیا گیا۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۸: ازگورکھپور محلہ دھمال مسؤلہ سعید الدین ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)امیر محلہ کا لفظ جو بعض کتب فقہ میں آیا ہے اور میر محلہ ان دونوں لفظوں میں کچھ شرعا وعرفا فرق ہے یا نہیں
(۲)ہندوستان میں عام طور پر سید کو میر صاحب کہتے ہیں تو کیا اس کہنے سے فی الواقع وہ امیر محلہ بن سکتے ہیں یا امیر محلہ کے احکام اس پر عائد ہوسکتے ہیں بینوا توجروا(بیان فرمایئےاجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
(۱)امیر اور میر میں کچھ فرق نہیںمیراسی کا مخفف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)فقط میر صاحب ہونے سے میر محلہ نہیں ہوتا میر محلہ وہ ہے جو علم دینی میں سب اہل محلہ سے زائد ہو یا جسے سلطان یا مسلمانوں نے میر محلہ بنایا ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰:
حامی دین متین ماحی البدعۃ والشرك محی الدین جناب مولینا زاد الله شرفہ۔بعد ہدیہ سلام و
",
894,27,فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی,,,60,"سنت رسول علیہ الصلوۃ والسلام معلوم فرمائیں ایك فتوی جس میں چند سوال ہیں آنجناب کی خدمت میں پیش کرنے کا قصد ہے اگرچہ مدارس اسلامیہ و جائے افتاء تو ہندوستان میں کثیر ہیں ولیکن بندہ کی خوشی یہ ہے کہ آنجناب کی لسان ترجمان فیص رسان و کلك سے جواب ظہور میں آئے اس وقت چونکہ رمضان شریف ہے روزہ کی وجہ سے شاید جواب میں دقت وکلفت ہوبدیں خیال مقدم یہ جوابی خط ارسال کرکے آنجناب کی مرضی مبارك حاصل کی جاتی ہے کہ اگر فتوی اس وقت رمضان شریف میں بھیجا جائے تو کیا اس وقت جواب مل سکتا ہے یا کہ بعد رمضان شریف اگر بعد رمضان شریف فتوی بھیجا جائے تو شوال کی کتنی تاریخ تك بھیجا جائے آپ کے جواب کا انتظار ہے۔جیسا آپ فرمائیں گے ویسا کیا جائے گا۔فقط زیادہ والسلامجوابی خط ارسال ہے۔
الجواب:
جناب من سلمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہرمضان مبارك میں بھی فتاوے بفضلہ تعالی لکھے جارہے ہیںآپ نے استفتاء نہ بتا کس مضمون کا ہے۔بعض ضروری وفوری ہوتے ہیںبعض مہلت و فرصت کےبعض ایسے کہ جواب دینا ہی بے کار یا ضروریات کے آگے ناقابل اعتبار غرض فتاوی کہ پوچھے جاتے ہیںان کی حالتیں بہت مختلف ہیںلوگ گمان کرتے ہیں کہ ہمارے ہر فتوی کا جواب ملنا شرعا لازم ہے اور وہ بھی تحریریاور حضرت سیدنا ابن مسعود علیہ الرضوان فرماتے ہیں:
من افتی فی کل مااستفتی فھو مجنون ۔ جو ہر استفتاء کا جواب دے مجنون ہے۔
یہ اس لیے لکھ دیا کہ اگر آپ نوعیت سوال سے مطلع فرماتے تو جواب لاونعم ودیر وشتاب معین ہوسکتا۔والسلام۔
مسئلہ ۲۱:السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہمن جانب احقر العباد ملك محمد امین جالندھر شہر
مجموعہ فتاوی عبدالحی صاحب اہلسنت وجماعت کے مطابق ہے یا کچھ گڑبڑہےاطلاع بخشی جائے۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔اس میں بہت مسائل میں فرق ہے خصوصا پہلی اور
",
895,27,فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی,,,61,"دوسری جلد میں جس کی کچھ کچھ اصلاح خود انہوں نے اپنی طرف سے سوالات قائم کرکے کی ہے والسلام۔
مسئلہ۲۲: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ مولوی نور محمد صاحب طالب علم ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے مرشد کے فتوے کے رد پر تصدیق کرے یہ بیعت سے خارج ہوا یا نہیں
الجواب:
بعض فتوؤں کا رد کفر ہوتا ہےبعض کا ضلالتبعض کا جہالتبعض کا حماقتبعض کا حق ایك حکم نہیں ہوسکتاکیا فتوی تھا اور کیا ردسائل مفصل لکھے اور یہ بھی تصدیق کرنے والے کو اس کے خلاف اپنے مرشد کا فتوی معلوم تھا یا نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
",
896,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,62,"فلسفہطبعیاتسائنسنجوممنطق
مسئلہ۲۳: مرسلہ مولوی احمد شاہساکن موضع سادات
بجلی کیا شے ہے
الجواب:
اﷲ تعالی نے بادلوں کے چلانے پر ایك فرشتہ مقرر فرمایاہے جس کا نام رعد ہےاس کا قد بہت چھوٹا ہےاور اس کے ہاتھ میں ایك بڑا کوڑا ہے۔جب وہ کوڑا بادل کو مارتا ہے اس کی تری سے آگ جھڑتی ہے اس کا نام بجلی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴: مرسلہ احمد شاہ مذکور
زلزلہ آنے کا کیا باعث ہے
الجواب:
اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیںاور پیدا ہوں ہوتا ہے کہ ایك پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تك اندر اندر پھیلتی ہیںجس زمین پر معاذاﷲ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
",
897,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,63,"مسئلہ ۲۵: از ضلع کھیری ڈاك خانہ مونڈا کوٹھی مجیب نگر مرسلہ سردار مجیب الرحمان خان ۲۶ صفر ۱۳۲۷ھ
جناب مولوی صاحب معظم مکرم منہل الطاف و کریم الاخلاق عمیم الاشفاق زاد مجدکم وفیوضکم۔پس از تسلیم مسنوننیاز مشحون و تمنائے لقائے شریف عرض خدمت والا ہے۔نسبت زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایك شاخ گاؤ پر ہے کہ وہ ایك مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔جب اس کا سینگ تھك جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایك ہی ہےاس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیےزلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کمکسی مقام پر زیادہکہیں بالکل نہیں آتا۔بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہواس سے معزز فرمائیے۔بعید از کرم نہ ہوگا۔زیادہ نیاز وادب۔
راقم آثم سردار مجیب رحمان خان عطیہ دار علاقہ مجیب نگر۔
الجواب:
جناب گرامی دام مجدکم السامیوعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
زلزلہ کا سبب مذکورہ زبان زد عوام محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظر بظاہر صحیح و صواب۔اگرچہ اس سے جواب ممکن تھا کہ ہمارے نزدیك ترکیب اجسام جواہر فردہ سے ہے اور ان کا اتصال محال صدرا وغیرہ میں کاسہ لیسان فلاسفہ نے جس قدر دلائل ابطال جزء لایتجزی پر لکھے ہیں ان میں کسی سے ابطال نفس جز نہیں ہوتا۔ہاں دو جز کا اتصال محال نکلتا ہےیہ نہ ہمارے قول کے منافی نہ جسم کے اتصال حسی کا نافیدیوار جسم و حدانی سمجھی جاتی ہےحالانکہ وہ اجسام متفرقہ ہےجسم انسان میں لاکھوں مسام مثبت افتراق ہیں اور ظاہر اتصالخوردبین سے دیکھنا بتاتا ہے کہ نظر جسے متصل گمان کرتی ہے کسی قدر منفصل ہےپھر ان شیشوں کی اختلاف قوت بتارہی ہے کہ مسام کی باریکی کسی حد پر محدود نہیں ٹھہراسکتے جوشیشہ ہمارے پاس اقوی سے اقوی ہو اور اس سے بعض اجسام مثل آہن وغیرہ میں مسام اصل نظر نہ آئیں ممکن کہ اس سے زیادہ قوت والا شیشہ انہیں دکھادے۔معہذا نظر آنے کے لیے دو۲ خط شعاعی میں کہ بصر سے نکلے زاویہ ہونا ضرور۔جب شے غایت صغر پر پہنچتی ہے دونوں خط باہم منطبق مظنون ہو کر زاویہ رویت معدوم ہوجاتا اور شے نظر نہیں آتی ہے یہی سبب ہے کہ کواکب ثابتہ کے لیے اختلاف منظر نہیں کہ بوجہ کثرت بعد وہاں نصف قطر زمین یعنی تقریبا چار ہزار میل کے طول و امتداد کی اصلا قدر نہ رہی دونوں خطہ کہ مرکز ارض اور مقام ناظر سے نکلے باہم ایك دوسرے پر منطبق معلوم ہوتے ہیں زاویہ نظر باقی نہیں رہتا تو مسام کا اس باریکی تك پہنچنا کچھ دشوارنہیں بلکہ ضرور ہے کہ کوئی قوی سے قوی خورد بین انہیں امتیاز نہ کرسکے اور سطح بظاہر متصل محسو س ہواور جب زمین اجزائے متفرقہ کا
",
898,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,64,"نام ہے تو اس حرکت کا اثر بعض اجرا ء کو پہنچنا بعض کو نہ پہنچنا مستبعد نہیں کہ اہل سنت کے نزدیك ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ اﷲ عزوجل ہے۔جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریك ہوا انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے وبس۔سواران دریا نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایام طوفان میں جو بلاد شمالیہ میں حوالی تحویل سرطان یعنی جون جولائی اور بلاد جنوبیہ میں حوالی تحویل جدی یعنی دسمبر جنوری ہے۔ ایك جہاز ادھر سے جاتا ہے اور دوسرا ادھر سے آرہا ہے۔دونوں مقابل ہو کر گزرے اس جہاز پر سخت طوفان ہے اور اسے بالکل اعتدال و اطمینانحالانکہ باہم کچھ ایسا فصل نہیں۔ایك وقت ایك پانی ایك ہوا اور اثر اس قدر مختلفتو بات وہی ہے کہ ماشاء اﷲ کان ومالم یشاء لم یکن جو خدا چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور جونہیں چاہتا نہیں ہوتا۔مگر اس جواب کی حاجت ہم کو اس وقت ہے کہ وہ بیان عوام شرع سے ثابت ہواس کے قریب قریب ثبوت صرف ابتدائے آفرنیش زمین کے وقت ہی جب تك پہاڑ پیدا نہ ہوئے تھے۔عبدالرزاق و فریابی وسعید بن منصور اپنی اپنی سنن اور عبدبن حمید وابن جریر و ابن المنذر و ابن مردودیہ و ابن ابی حاتم اپنی تفاسیر اور ابو الشیخ کتاب العظمہ اور حاکم بافادہ تصحیح صحیح مستدرك اور بیھقی کتاب الاسماء اور خطیب تاریخ بغداد اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان اول شیئ خلق اﷲ القلم فقال لہ اکتبفقال یارب ومااکتب قال اکتب القدر فجری من ذلك الیوم ماھو کائن الی ان تقوم الساعۃ ثم طوی الکتاب وارتفع القلم وکان عرشہ علی الماء فارتفع بخار الماء ففتقت منہ السموت ثم خلق النون فبسطت الارض علیہ والارض علی ظھر النون فاضطرب النون فمادت الارض فاثبتت بالجبال۔
کما قال تعالی ""و الجبال اوتادا ﴿۪۷﴾ "" ۔وقال تعالی "" و القی فی الارض روسی فرمایااﷲ عزوجل نے ان مخلوقات میں سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اس سے قیامت تك کے تمام مقادیر لکھوائے اور عرش الہی پانی پر تھاپانی کے بخارات اٹھے ان سے آسمان جدا جدا بنائے گئے پھر مولی عزوجل نے مچھلی پیدا کی اس پر زمین بچھائیزمین پشت ماہی پر ہےمچھلی تڑپیزمین جھونکے لینے لگی۔اس پر پہاڑ جما کر بوجھل کردی گئی۔
جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا۔اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔
اور اﷲ تعالی نے فرمایا اور اس نے زمین میں لنگر
",
899,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,65,"ان تمید بکم"" ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے۔(ت)
مگر یہ زلزلہ ساری زمین کو تھا۔خاص خاص خاص مواضع میں زلزلہ آنادوسری جگہ نہ ہونااور جہاں ہونا وہاں بھی شدت و خفت میں مختلف ہونااس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔سبب حقیقی تو وہی ارادۃ اﷲ ہےاور عالم اسباب میں باعث اصلی بندوں کے معاصی۔
""و ما اصبکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر ﴿۳۰﴾ "" تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کابدلہ ہے۔اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
اور وجہ وقوع کوہ قاف کے ریشہ کی حرکت ہے۔حق سبحنہ و تعالی نے تمام زمین کو محیط ایك پہاڑ پیدا کیا ہے جس کا نام قاف ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں نہ پھیلے ہوں۔جس طرح پیڑ کی جڑ بالائے زمین تھوڑی سی جگہ میں ہوتی ہے اس کے ریشے زمین کے اندر اندر بہت دور تك پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس کے لیے وجہ قرار ہوں اور آندھیوں میں گرنے سے روکیں۔پھر پیڑ جس قدر بڑا ہوگا اتنی ہی زیادہ دور تك اس کے ریشے گھیریں گے۔جبل قاف جس کا دور تمام کرہ زمین کو اپنے پیٹ میں لیے ہے اس کے ریشے ساری زمین میں اپنا جال بچھائے ہیں۔کہیں اوپر ظاہر ہو کر پہاڑیاں ہوگئے کہیں سطح تك آکر تھم رہے جسے زمین سنگلاخ کہتے ہیں۔کہیں زمین کے اندر ہے قریب یا بعید ایسے کہ پانی کی چوان سے بھی بہت نیچے ان مقامات میں زمین کا بالائی حصہ دور تك نرم مٹی رہتا ہے۔جسے عربی میں سھل کہتے ہیں۔ہمارے قرب کے عام بلاد ایسے ہی ہیں مگر اندر اندر قاف کے رگہ و ریشہ سے کوئی جگہ خالی نہیں جس جگہ زلزلہ کے لیے ارادہ الہی عزوجل ہوتا ہے۔والعیاذ برحمتہ ثمہ برحمۃ رسولہ جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اﷲ تعالی جل جلالہ کی پناہ اس کی رحمت کے ساتھ اور اس کے رسول اﷲ کی رحمت کے ساتھ۔ت)قاف کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دیتا ہے۔صرف وہین زلزلہ آئے گا جہاں کے ریشے کو حرکت دی گئی۔پھر جہاں خفیف کا حکم ہے اس کے محاذی ریشہ کو آہستہ ہلاتا ہے اور جہاں شدید کا امر ہے وہاں بقوتیہاں تك کہ بعض جگہ صرف ایك د ھکا سا لگ کر ختم ہوجاتا ہے۔اور اسی وقت دوسرے قریب مقام کے درو دیوار جھونکے لیتے اور تیسری جگہ زمین پھٹ کر پانی نکل
",
900,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,66,"آتا ہے۔یا عنف حرکت سے مادہ کبریتی مشتعل ہو کر شعلے نکلتے ہیں چیخوں کی آواز پیدا ہوتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہت)زمین کے نیچے رطوبتوں میں حرارت شمس کے عمل سے بخارات سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور بہت جگہ دخانی مادہ ہےجنبش کے سبب منافذ زمین متسع ہو کر وہ بخار و دخان نکلتے ہیںطبیعات میں پاؤں تلے کی دیکھنے والے انہیں کے ارادہ خروج کو سبب زلزلہ سمجھنے لگے حالانکہ ان کا خروج بھی سبب زلزلہ کا مسبب ہے۔
امام ابوبکر ابن ابی الدنیا کتاب العقوبات اور ابوالشیخ کتاب العظمہ میں حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال خلق اﷲ جبلا یقال لہ قاف محیط بالعالم وعرقہ الی الصخرۃ التی علیہا الارضفاذاا راداﷲ ان یزلزل قریۃ امر ذلك الجبلفحرك العرق الذی یلی تلك القریۃ فیزلز لھا ویحرکھا فمن ثم تتحرك القریۃ دون القریۃ اﷲ عزوجل نے ایك پہاڑ پیدا کیا جس کا نام ق ہےوہ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشے اس چٹان تك پھیلے ہیں جس پر زمین ہے جب اﷲ عزوجل کسی جگہ زلزلہ لانا چاہتا ہے اس پہاڑ کو حکم دیتا ہے وہ اپنے اس جگہ کے متصل ریشے کو لرزش و جنبش دیتا ہے۔یہی باعث ہے کہ زلزلہ ایك بستی میں آتا ہے۔دوسری میں نہیں۔
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ الشریف مثنوی شریف میں فرماتے ہیں
(۱) رفت ذوالقرنین سوئے کوہ قاف دید کہہ راکز زمرد بود صاف
(۲) گرد عالم گشتہ آں محیط ماند حیراں اندراں خلق بسیط
(۳) گفت تو کوہی دگرہا چیستند کہ بہ بیش عظیم تو بازایستند
(۴) گفت رگہائے من اندآں کو ہہا مثل من نبوند درحسن وبہا
(۵) من بہر شہرے رگے دارم نہاں برعروقم بستہ اطراف جہاں
(۶) حق چوخواہد زلزلہ شہرے مرا ام فرماید کہ جنباں عرق را
(۷) پس بجنبانم من آں رگ رابقہر کہ بداں رگ متصل گشت است شہر
(۸) چوں بگویدبسشود ساکن رگم ساکنم وزروئے فعل اندر تگم
(۹) ہمچومرہم ساکن وبس کارکن چوں خرد ساکن وزوجنباں سجن
(۱۰) نزد آنکس کہ نداند عقلش ایں زلزلہ ہست ازبخارات زمیں
",
901,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,67,"(۱۱) ایں بخارات زمیں نہ بود بداں زامرحق است وازاں کوہ گراں
(۱۲) مور کے بر کاغذے دیداوقلم گفت بامور دگر ایں راز ھم
(۱۳) کہ عجائب نقشہاآں کلك کرد ہمچو ریحان وچوسوسن زارو ورد
(۱۴) گفت آں موراصبع ست آں پیشہ ور دیں قلم در فعل فرع ست واثر
(۱۵) گفت آں مورسوم کزبازوست کا صبع لاغرنہ زورش نقش بست
(۱۶) ہمچنیں میرفت بالاتا بکے مہتر موراں فطن بوداند کے
(۱۷) گفت گز صورت مبینید ایں ہنر کہ بخواب ومرگ گرد د بے خبر
(۱۸) صورت آمد چوں لباس و چوں عصا جز بعقل وجاں نجنبد نقشہا
(۱)حضرت ذوالقرنین کوہ قاف کی طرف تشریف لے گئےانہوں نے ایك پہاڑ دیکھا جو زمرد سے زیادہ صاف تھا۔
(۲)اس احاطہ کرنے والے نے تمام جہاں کے گرد حلقہ کیا ہوا تھا۔اس وسیع مخلوق کو دیکھ کر آپ حیران رہ گئے۔
(۳)آپ نے فرمایا تو پہاڑ ہے دوسرے کیا ہیں کہ تیری بڑائی کے سامنے کھڑے ہوں۔
(۴)اس نے کہا کہ وہ دوسرے پہاڑ میری رگیں ہیں جو حسن اور قیمت میں میری مثل نہیں ہیں۔
(۵)ہر شہر میں میری رگ چھپی ہوئی ہے۔دنیا کے کنارے میری رگوں پر بندھے ہوئے ہیں۔
(۶)جب اﷲ تعالی کسی شہر میں زلزلہ لانا چاہتا ہے تو مجھے حکم دیتا ہے کہ رگ کو ہلادے۔
(۷)میں زور سے اس رگ کو ہلا دیتا ہوں جس رگ سے وہ شہر ملا ہوا ہوتا ہے۔
(۸)جب وہ فرماتا ہے کہ بستو میری رگ ساکن ہوجاتی ہےمییں بظاہر ساکن ہوں مگر حقیقت میں متحرك ہوں۔
(۹)جیسے کہ مرہم ساکن اور بہت کام کرنے والی ہے۔جیسے عقل ساکن ہے اور اس کی وجہ سے بات متحرك ہے۔
(۱۰)جس کی عقل اس کو نہیں سمجھتی اس کے نزدیك زلزلہ زمین کے بخارات کی وجہ سے۔
",
902,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,68,"(۱۱)سمجھ لے کہ یہ زمین کے بخارات نہیں ہیں اﷲ تعالی کے حکم اور اس بھاری پہاڑ کی وجہ سے ہے۔
(۱۲)ایك چھوٹی سی چیونٹی نے کاغذ پر قلم کو دیکھا۔تو اس نے دوسری چیونٹی سے بھی یہ راز کہہ دیا۔
(۱۳)کہ اس قلم نے عجیب نقشے کھینچے ہیںجیسے نازبوسوسن کا کھیت اور گلاب کا پھول۔
(۱۴)اس چیونٹی نے کہا اصل میں یہ سارا کام کرنے والی انگلی ہے۔یہ قلم تو عمل میں اس انگلی کے تابع ہے اور اس کا اثر ہے۔
(۱۵)تیسری چیونٹی نے کہا کہ وہ بازو کی وجہ سے ہے کیونکہ کمزور انگلی نے اپنی طاقت سے یہ نقش و نگار نہیں کیا ہے۔
(۱۶)بات اسی طرح اوپر چلتی گئی۔یہاں تك کہ چیونٹیوں کی ایك سردار جو کچھ سمجھدار تھی۔
(۱۷)اس نے کہا اس کو جسم کا ہنر مت سمجھو کیونکہ وہ تو نیند اور موت میں بے خبر ہوجاتا ہے۔
(۱۸)جسم تو لباس اور لاٹھی کی طرح ہے۔عقل اور جان کے بغیر یہ نقش نہیں بن سکتے ہیں۔(ت)
بحرالعلوم قدس سرہ فرماتے ہیں:
ایں ردست برفلا سفہ کہ میگویند بخارات در زمین محسوس مے شوند بالطبع میل خروج کنند واز مصادمت ایں ابخرہ تفرق اتصال اجزائے زمین مے شودو زمین درحرکت می آید و اینست زلزلہپس مولوی قدس سرہ ردایں قول می فرمایند کہ قیام زمین از کو ہہا ست ورنہ در حرکت میماند ہمیشہ پس آں کو ہ جنبش مے دہد زمین را بامرا ﷲ تعالی۔ یہ فلاسفہ پررد ہے جو کہتے ہیں کہ بخارات زمین میں محسوس ہوتے ہیں اور طبعی طور پر خروج کی طرف میلان کرتے ہیں۔چنانچہ ان بخارات کے ٹکڑاؤ کی وجہ سے زمین کے اجزائے متصلہ میں تفرق پیدا ہوتا ہے اور زمین حرکت کرنے لگتی ہے اور یہی زلزلہ ہے۔چنانچہ مولوی قدس سرہ اس قول کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زمین کا قیام تو پہاڑوں کے سبب ہے ورنہ یہ مسلسل حرکت کرتی رہتی۔لہذا وہ پہاڑ اﷲ تعالی کے حکم سے زمین کو حرکت دیتا ہے۔(ت)
چیونٹیوں کی حکایت سے بھی ان سفہاءکی تنگ نظری کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس طرح قلم کی حرکت انگلیوں سے انگلیوں کی قوت بازو سے بازو کی طاقت جان
",
903,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,69,"سے ہے تو نقش کہ قلم سے بنتے ہیں جان بناتی ہے مگر احمق چیونٹیاں اپنی اپنی رسائی کے موافق ان کا فاعل قلم انگلیوں بازو کو سمجھیںیوں ہی ارادۃ اﷲ سے کوہ قاف کی تحریك ہے اس کی تحریك سے بخارات کا نکلنا زمین کا ہلنا ہے۔یہ احمق چیونٹیاں جنہیں فلسفی یا طبیعی والے کہئے صدمہ بخارات کو سبصب زلزلہ سمجھ لیجئے)بلکہ نظر کیجئے تو یہ ان چیونٹیوں سے زیادہ کودن و بد عقل ہیں۔انہوں نے سبب ظاہر ی کو سبب سمجھا۔انہوں نے سبب کے دو مسببوں سے ایك کو دوسرے کا سبب ٹھہرایا۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(حفاظت اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتا ہے۔ت)
مسئلہ ۲۶: از سورنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۱۲ رجب ۱۳۲۱ھ
بادلہوا کی کیا بنیاد کس جگہ سے شروع ہوتے ہیں اور تمام جگہ یکساں ہوا چلتی ہےزمین میں مقام ہے یا آسمان پر
الجواب:
ہوا رب العزت تبارك وتعالی کی ایك پرانی مخلوق ہے کہ پانی سے بنائی گئی اور اس کے لیے علم الہی میں ایك خزانہ ہے جس پر دروازہ لگا ہوا ہے۔اور وہ بند ہے اور فرشتہ اس پر موکل ہے۔جتنی ہو ا اس میں سے رب العزت بھیجنا چاہتا ہے فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس میں سے بمقدار حکم ایك بہت خفیف حصہ روانہ کرتا ہے۔جب قوم عاد پر اﷲ تعالی نے ہوا کا طوفان بھیجنا چاہا جو سات راتیں اور آٹھ دن متواتر ان پر رہاان سب کو ہلاك کردیا۔اس وقت اس فرشتہ کو حکم ہوا تھا کہ عاد پر ہوا بھیج۔اس نے عرض کی اتنا سوراخ کھولوں جتنا بیل کا نتھنا۔فرمایا تو چاہتا ہے کہ ساری زمین کو الٹ دے بلکہ چھلے برابر کھول۔اور یوں ہوا ہروقت زمین اور آسمانوں سب میں بھری ہے اور انسان اور اکثر حیوانات کی اس پر زندگی ہے۔
اور بادل بخارات سے بنتے ہیںجب رطوبت میں حرارت عمل کرتی ہے بھاپ پیدا ہوتی ہےحق سبحانہہوا بھیجتا ہے کہ وہ اس کو جمع کرتی ہے پھر تہہ بہ تہہ اس کے بادل بناتی ہے پھر جہاں حکم ہوتا ہے اسے لے جاتی ہے اور بحکم الہی حرارت کے عمل سے وہ پگھل کر پانی ہو کر گرتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: مسئولہ محمد اسمعیل صاحب محمود آبادی امام مسجد چھاؤنی بریلی ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا یہ بات معتبر حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں کو نسبت مرد کے نو حصہ شہوت زیادہ دی گئی ہے
اگر ہے تو شریعت مطہرہ میں چار عورتوں تك نکاح جائز ہے ماسوائے اس کے لونڈیاں الگ۔تو ایك خاوند باوجود ہونے کے ایك حصہ شہوت کے کیونکر چار عورتوں اور لونڈیوں کی خواہش پوری کرسکے گا یہی اس میں کیا حکمت ہے براہ کرم بتفصیل جواب عنایت ہو تاکہ دشمنان اسلام کو اس شہوت کے بارے میں جواب
",
904,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,70,"دے سکیں۔مکرر آنکہ چار عورتوں تك کے حکم میں بہت سی حکمتیں ہیں مگر اس سوال میں فقط شہوت کی نسبت جواب طلب ہے۔
الجواب:
عورتوں کی شہوت فقط نو حصے نہیں بلکہ سو حصے زائد ہے۔ولکن اﷲ القی علیھن الحیاء ۔ لیکن اﷲ تعالی نے ان پر حیاء ڈال دی ہے۔آدمی جب اپنے سے کسی ذرا زائد عقل والے کا کام دیکھتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا تو کہتا ہے کہ اس کی عقل زائد ہے اس نے کچھ سمجھ کر کیا ہے۔پھر رب العزت حکیم و خبیر جل جلالہ کے افعال میں کیوں خدشات پیدا کرتا ہے کہ اس میں ایك سہل سی حکمت یہ ہے کہ فعل جماع میں مرد کا تعلق صرف لذت کا ہے اور عورت کو صد ہا مصائب کا سامنا ہےنو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے کہ چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا دشوار ہوتا ہے۔پھر پیدا ہوتے وقت تو ہر جھٹکے پر موت کا پورا سامنا ہوتا ہے پھر اقسام اقسام کے درد میں نفاس والی کی نیند اڑ جاتی ہے۔اسی لیے فرماتا ہے:
""حملتہ امہ کرہا و وضعتہ کرہا و حملہ و فصلہ ثلثون شہرا ""۔ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سےاور اس کو اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے۔(ت)
تو ہر بچہ کی پیدائش میں عورت کو کم از کم تین برس بامشقت جیل خانہ ہے تو اگر اس قدر کثیر و غالب نہ رکھی جاتی ایك بار کے بعد پھر کبھی پاس نہ آتی۔انتظام دنیا تباہ ہوجاتا ہے۔مرد کے پیٹ سے اگر ایك دفعہ بھی چوہے کا بچہ پیدا ہوتا تو عمر بھر کو کان پکڑ لیتایہ حکمت ہے جس کے سبب وہ ان تمام مصائب کو بھول جاتی ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸: از ڈاکخانہ دہاموں کے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم صاحب قریشی مدرس مدرسہ مورخہ ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
سوال رفع اشتباہ کے لیے مطلع فرمادیں کہ دن رات کی تبدیلی کا موجب گردش ارضی ہے یا سماوی جواب تفصیل سے مشکور فرمائیں۔اﷲ تعالی جزائے خیر و توفیق نیك عطا فرمائے۔
",
905,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,71,"الجواب:
دن رات کی تبدیلی گردش ارضی سے ماننا قرآن عظیم کے خلاف اور نصاری کا مذہب ہےاو ر گردش سماوی بھی ہمارے نزدیك باطل ہے۔حقیقتہ اس کا سبب گردش آفتاب ہے۔قال اﷲ تعالی:
""و الشمس تجری لمستقر لہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾""
واﷲ تعالی اعلم۔ اور سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیے یہ اندازہ ہے زبردست علم والے کا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۹: مسئولہ مولوی ظفر الدین صاحب۔
زائچہ نکالنے میں پہلا خانہ طالع وہ جزء فلك البروج کا ہوتا ہے جو وقت ولادت مولود طلوع کررہا ہے یا وہ جزء فلك البروج جس میں کوئی ستارہ سیارہ ہو تو اس وقت طلوع کررہا ہے۔یا بعد کو طلوع کرے گا۔ولادت عزیز یہ رزینہ خاتون سلمہا تقریبا ۷ بجے صبح کے وقت ہوئی تھی اور ولادت عزیزیہ رئیسہ خاتون شب جمعہ ۳ بجے۔کیا زائچہ ان دونوں کایہی ہوگا یا دوسرا
الجواب:
طالع وہ نقطہ فلك البروج ہے جو کسی وقت میں مطلوب میں جانب شرق افق حقیقی بعدی پر ہی زائچہ ولادت میں لیا جاتاہے۔ اور یہی زائچہ سال میں بھی جملہ اعمال میںاور یہ معنی کہ وہ برج طالع فی الحال یافی الاستقبال جس میں وقت مطلوب کوئی سیارہ ہو ہر گز سیاست ربح مجیم مکسر جفر وغیرہ کسی علم یا کسی ذی علم کی اصطلاح نہیںیوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی اصطلاح جو چاہے مقرر کرے مگر وہ اسی حد تك محدود رہے گی کسی علم یا فن میں ملحوظ نہیں ہوسکتی طالع اگرچہ غیر متجری ہے جیسا کہ اس کے موجب میں ظاہر ہوا مگر اہل تنجیم وفن تنجیم اس سے وہ درجہ مراد لیتے ہیں جو وقت مطلوب افق شرقی پر بلدی پر ہو اور اس کا باعث یہ ہے کہ انکے نزدیك احکام زائچہ متبدل نہیں ہوتے جب تك درجہ طالع نہ دے دےاور اس میں تین چارمنٹ تك کی غلطی کا تحمل بھی ہے کہ منٹ سکنڈ بالے صحیح وقت ولادت معلوم ہونا نادر ہے۔بہرحال اس تین چار منٹ کی تخمین کے اندرازرای محاسبہ جو نقطہ وقت ولادت خاص جائے ولادت کے افق شرقی پر ہوا سے طالع کہتے ہیں پھر حسب قواعدہ مقررہ اس سے وہاں دیگر بیوت معلوم کرتے ہیں
",
906,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,72,"پھر تسویۃ ا لبیوت کے تین قاعدوں میں(جن میں بحسب مرکز طالع فلك البروج یا معدل النہار یا اول البیوت کے بارہ حصے مساوی کیے جاتے ہیں اور یہ فقیر کے نزدیك بحسب دلائل مختار تقسیم اول السموت ہے) بیوت دوازدنگانہ کے مبادی و مقاطع معلوم کرکے زائچہ درست کرتے ہیں اب وقت مطلوب پر جو کچھ تقویم سیارات سبعہ و راس و ذنب ہواستخراج کرکے ہر ایك کو اس کے جہت میں رکھتے ہیں۔اور ہر کوکب کے ۴۵ ضعف ۶۶ نوموں اور اس کے مراتب سے نتیجہ حاصلہ قوت یا ضعف مع تعین مرتبہ نکالتے ہیں۔اس کے بعد استخراج اسہام ہے جس میں سہم السعادۃ سہم الغیب ضروری سمجھے جاتے ہیں اس کے بعد احکام بکنے کا وقت ہے۔جو محض جہل و جزاف ہے۔
""قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا اللہ "" تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اﷲ(ت)
آپ کی خوشی کے لیے استخراج طالع و مراکز بیوت دسنویۃ البیوت کرکے میں بھیج سکتا ہوںا ن شاء اﷲ تعالی مگر وقت ولادت کا دقیقہ ساعت اور موضع ولادت کے طول وعرض کا علم ضروری ہے اس سے اطلاع دیجئے اور جب تك آ پ تقویم کواکب سبعہ اس وقت حاضر کے لیے استخراج کرکے مجھے بھیج دیجئے کہ اس کی جانچ کرلوںتقویمات نکالنے کے متعدد برہان وطریقہ میرے رسالہ مسفر المطالع فی التقویم الطالع میں ہیں۔سہل تر طریقہ یہ ہے کہ۔
(۱)المنك میں ہر مہینہ کے صفحہ چہارم خانہ اول سے اس تاریخ آفتاب کی تقویم اور خانہ سوم سے اس کا لوگارثم بعد اٹھائے پھر ختم جداول سال النیر ین کے بعد جو خمسہ متحیرہ کے جدول میں دیتا ہے المناك حال میں ص ۱۴۶ جدول عطارد ہے ۱۵۴ سے جدول زہرہ و ہکذا اس میں تاریخ مطلوب تین اخیر خانوں سے طول کو کب بمر کزیت شمس و عرض کو کب بمرکزیت شمس ولوگارثم بعد کوکب اٹھا ئے یہ اسی ترتیب پر لکھے ہیں پھر تقدیم شمس پر چھ۶ برج اٹھا کر تقویم کو کب بمرکز یت شمس سے تفریق کیجئے باقی کا نام زاویۃ الشمس رکھئے مفروق منہ کم ہو تو اس پر درو بڑھالیجئے زاویۃ الشمس کے نصف کا ربع دور صہ حہ سے تفاضل لے کر اس کا نام محفوظ رکھئے محفوظ کاظل لوگارثمی لیجئے۔
(۲)عرض کوکب بمرکزیت شمس جیب التمام لوگارثمی لیجئے پھر علویات یعنی زحل ومشتری ومریخ میں اس لوجم کو لو بعد کوکب میں جمع کرکے لو لو شمس اس سے تفریق کردیجئے اور سفلیات یعنی زہرہ و عطارد میں لو بعد شمس سے
",
907,27,فلسفہ،طبعیات،سائنس،نجوم،منطق,,,73,"اس مجموعہ لوجم ولو بعد کوکب کو تفریق کیجئےبہرحال جو بچے اسے جدول ظل لوگارثمی میں مقوس کرکے قوس حاصل سے ۴۵ درجے گھٹا کر باقی کا ظل لوگار ثمی لیجئے۔
(۳)اسی ظل محفوظ کو جمع کیجئے اور سفلیان میں محفوظ سے تفریق اس حاصل یا باقی کا نام زاویہ الارض رکھئے۔پس اگر زاویۃ الشمس نصف دورقف جہ سے کم ہے تقویم شمس سے زاویۃ الارض کم کرلیجئے۔ورنہ تقویم شمس و زاویۃ الارض کو جمع کرلیجئے۔یہ باقی یا حاصل تقویم کو کب اس نصف النہار مرصدی کے لیے ہوگی۔اسی طرح دوسرے نصف النہار مرصدی کی تقویم لیجئے جب دو نصف النہار مرصدی مکتنف بوقت مطلوب کی تقویم معلوم ہوگئی تعدیل مافی طرفین سے تقویم کوکب بوقت مطلوم معلوم ہوجائے گی۔
تنبیہ:یہ جو ہم نے دو نصف النہار مکتنف بوقت مطلوب کی تقویم نکالنے کو کہا اور ابتدا وقت مطلوب کی تقویم لینانہ کہا ان سے تطویل نہ سمجھا جائے بلکہ بہت تخفیف مونت اور تین فائدوں پر مشتمل ہے۔
(۱)یوں تقویم و لو بعد شمس وتقویم کوکب بمر کزیت شمس شمس و عرض کوکب کذلك ولوبعدکوکب بعینہا لکھے ملیں گی ورنہ پانچوں میں تعدیل مابین السطرین کرنی ہوگی۔
(۲)دو نصف النہار مکتنف تقویض کے لینے سے کار احج کوکب واقف مستقیم ہونا معلوم ہوجائے گا۔
(۳)اس دن کے ہر منٹ کی تقویم اس سے معلوم ہوسکے گی اگر بعد کو تحقیق ہو کہ مثلا وقت ولادت اتنے منٹ آتے یا پیچھے تھا تو ادراك تقویمات کے لیے تجدید انحمال کی حاجت نہ ہوگی۔
",
908,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,74,"رسالہ
مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید ۱۳۰۴ھ
(لوہےکےگرز منطق جدید کے رخسار پر)
مسئلہ۳۰: ازبریلی مجانب نواب مولوی سلطان احمد صاحب یکم رجب ۱۳۰۴ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
رائے بیضاضیائے حضرات علمائے دین ادام اﷲ برکاتھم الی یوم الدین(اﷲ تعالی قیامت تك ان کی برکتوں کو دوام بخشے۔ت)پر واضح ہو کہ ان روزں(دنوں)زید فلسفی نے کہ اپنے آپ کو سنی کہتا بلکہ اعلم علمائے اہلسنت جانتا اور اپنے سوا اور علماء کو بہ نگاہ کوبہ نگاہ تحقیر واہانت دیکھتا ہے ایك کتاب منطق میں تالیف کی اور اسے جا بجا ذکر ہیولی وقدم اشیاء و عقول عشرہ و مزعومہ فلاسفہ وغیر ذلك مسائل فلسفیہ سے مملو و مشحون کیا۔
یہ خادم سنت بہ نظر حمایت ملت اس سے چند اقوال التقاط کرکے مشہدانظار عالیہ علمائے دین میں حاضر کرتا ہے عــــــہ:
عــــــہ:خلاصہ اقوال فلسفیہ مع حکم جواب از مستفتی۔
قول اول:اﷲ تعالی کے سوا عالم کے دس۱۰ خالق اور ہیں۔(باقی برصفحہ ائندہ) ",
909,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,75,"قول اول:التحقیق انھا لیست الطبائع کلھا مجردۃ محضۃ لکن للطبائع المرسلۃ فی باب التجردوالمادیۃ مراتب(الی ان قال) تحقیق یہ ہے کہ تمام طبعیتیں مجرومحض نہیں ہیں لیکن تجردو مادیت کے اعتبار سی طبائع مطلقہ کے کئی مرتبہ ہیں(یہاں تك کہ اس نے کہا)ساتواں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الجواب:یہ عقیدہ کفر ہے۔
قول دوم:مادہ اجسام قدیم ہے۔
الجواب:یہ قول کفر ہے۔
قول چہارم:عقول عشرہ و نفوس قدیم ہیں۔
الجواب:یہ قول کفر ہے۔
قول پنجم:بعض چیزیں خود زیادہ استحقاق ایجاد رکھتی ہیںاگر اﷲ تعالی انہیں نہ بنائے تو بخیل ٹھہرے اور ترجیح مرجوع لازم آئے۔
الجواب:یہ قول بدعت و ضلالت و مستلزم کفر ہے۔
قول ششم:کی دلیل میں نقل کیا کہ یہ عقول عشرہ ہر عیب و نقصان سے پاك ومنزہ ہیں اور محال ہے کہ تمام عالم میں کوئی ذرہ کسی وقت ان کے علم سے غائب ہو۔
الجواب:یہ کفر سے تمسك ہے۔
قول ہفتم:حدوث و تغیرنہ کوئی شے نابود تھی نہ کبھی نابود ہو بلکہ جسے ہم کہتے ہیں اب تك نہ تھی وہ فقط پوشیدہ تھی اور جسے کہتے ہیں اب نہ رہی وہ صرف مخفی ہوگئیحقیقۃ ہر چیز ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
الجواب:یہ کفر ہے اور بہت سے کفروں کو مستلزم۔
قول ہشتم:میری یہ کتاب نہایت تحقیق کے اپیہ پر اور فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔
الجواب:یہ قول نہایت سخت گناہ عظیم اور بہت جا روایت کی رو سے کفر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
",
910,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,76,"السابعۃ مرتبۃ الماھیات المجردۃ بالکلیۃلاتعلق لھا بالمادۃ تعلق التقویم اوالحلول اوالتدبیر و التصرفولا تعلق لھا الا تعلق الخلق والا یجاد مثلا وھی حقائق المفارقات القدسیۃ کالمعقب القدسی و سائر المعقول العشرۃ والحقیقۃ الواجبۃ اھ ملتقطا من ص ۲۵۰ الی ۲۵۱۔ مرتبہ ان ماہیتوں کا ہے جو کلی طور پر مجرد ہیںان کا مادہ کے ساتھ تقویم حلول باندر بیر وتصرف کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی تعلق خلق و ایجاد کے سوا ان کا کوئی اور تعلق ہے اور وہ حقائق مفارقات قدسیہ ہیں جیسے معقب قدسیعقول عشرہ اور حقیقت واجبہ اھ ملتقطا ص ۲۵۰ تا ۲۵۱۔
دوسرے رسالہ القول الوسیط میں اس مسئلہ کی تحقیق یوں لکھی ہے۔
العلۃ الجاعلۃ ھل یجب کونھا واجبۃ الوجود اویمکن کونھا ممکنۃ المشہور الثانی فیما بین الحکماء لکن المحققین منھم نصوا ان العلمۃ المؤثرۃ بالذات ھو الباریوالعقول کا لوسائط والشروط لتعلق التاثیر الواجبی بغیر ھا کیف والماھیۃ الامکانیۃ انما وجودھا بالاستعارۃ عن الواجبفھو المعطی بالذات الوجودات فان اعطاء المستعیرلیس اعطاء حقیقۃ وانما ھو اعطاء من تلقاء المالککما ان استناد اضاء العلم الی القمر لیس حقیقۃ بل بحسب الظاھروانما ھو مستند الی الشمسوالقمر واسطۃ محضۃ الانتقال ضوءھا الی العالمفالمنیر بالذات ھی لاھوفعلیۃ الممکن للممکن ظاھریۃ مجازیۃفھذا الوجود الضعیف کیاعلت جاعلہ کا واجب الوجود ہونا واجب ہے یا اس کا ممکن ہونا جائز ہے مشہور حکماء میں قول ثانی ہے لیکن ان میں سے محقق نے صراحت کی ہے کہ علت موثرہ بالذات فقط باری تعالی ہے اور عقول تاثیر واجبی کے ان کے غیر کے ساتھ متعلق ہونے کے لیے واسطوں اور شرطوں کی طرح ہیں کیوں نہ ہو حالانکہ ماہیت ممکنہ کا وجود تو واجب سے مستعار ہے چنانچہ وجود وں کا بالذات معطی واجب الوجود ہی ہے کیونکہ مستعیر کا کسی کو عطا کرنا درحقیقت اس کا عطا کرنا نہیں بلکہ وہ مالك کی طرف سے عطا کرنا ہے جیسا کہ عالم کو روشن کرنے کی نسبت چاند کی طرف کرنا حقیقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ ظاہر کے اعتبار سے ہے درحقیقت اضاست عالم سورج کی طرف منسوب ہے چاند تو اس کی روشنی کو عالم کی طرف منتقل کرنے کا محض واسطہ ہے۔لہذا بالذات روشن کرنے والا سورج ہے نہ کہ چاند۔چنانچہ
",
911,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,77,"یصلح علۃ بمعنی الواسطۃ والشرط والمتمم والالۃ لا مفیدۃ لا وجود عــــــہ حقیقۃ وقداستوفی ھذا التحقیق فی مقامہ اھ ملخصا ص ۲۔
قول دوم:المسئلۃ القائلۃ بان کل حادث مسبوق بالعدم مخصوصۃ بالحادث الزمانیوالمادۃ حادث ذاتی ا ھ مختصرا ص ۲۵۵۔
قول سوم:الصورۃ الجسمیۃ والنوعیۃ ایضامن
من الحوادث الذاتیۃ ص ۲۔
قول چہارم:السرمد یات والثابتات الدھریۃ کالعقول والنفوس القدیمۃ اھ ملتقطاص ۱۵۔
قول پنجم:کلی طبعی کے موجود فی الخارج ہونے پر لکھا: اعلم ان الباقر استدل علی ھذا بان طبیعۃ الحیوان المرسل لیس متعلق الذات بمادۃ ومدۃ فلایکون مرھونہ الوجود بالامکان الاستعدادی فالا مکان الذاتی ھناك ملاك فیضان الوجودفاذا کان ھذا الحیوان المتعلق بالمادۃ فائض الوجود کان المرسل احق بالفیضان لاستحقاق الامکان الذاتی۔و حاصلہ ان الحیوان المطلق مستحق ممکن کا ممکن کے لیے علت ہونا ظاہری و مجازی ہےتو یہ ضعیف وجود اس معنی میں علت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ واسطہشرطمتمم اور آلہ ہے نہ کہ حقیقتا مفید وجود ہے۔اس کی پوری تحقیق اپنے مقام پر کردی گئی ہے اھ ملخصاص ۲ (ت)۔
یہ جو کہاجاتا ہےکہ ہر حادث مسبوق بالعدم ہوتا ہے یہ مسئلہ حادت زمانی کے ساتھ مختص ہے اور مادہ حادث ذاتی ہے اھ (مختصرصفحہ ۲۵۵)(ت)۔
صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ بھی حوادث ذاتیہ میں سے ہیں۔ص ۲(ت)
سرمد یات(جن کی نہ ابتداء ہو نہ انتہاء)اور ثابتات دہریہ جیسے عقول اور نفوس قدیمہ اھ(التقاط ص ۱۵)۔
تو جان لے کہ میر باقر نے اس پر یوں استدلال کیا کہ بے شك حیوان مطلق کی طبیعت بالذات کسی مادہ و مدت سے متعلق نہیں ہوتی تو وہ امکان استعدادی کے ساتھ وجود کی مرہون نہ ہوگی چنانچہ امکان ذاتی یہاں پر فیضان وجود کی بنیاد ہوگاپس جب یہ حیوان جو کہ مادہ سے متعلق ہے وجود کا فیضان کرنے والا ہے تو حیوان مطلق امکان ذاتی کے استحقاق کی وجہ سے فیضان وجود کا زیادہ حقدار ہوگا۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حیوان مطلق امکان ذاتی کے سبب سے
عــــــہ:کذا فی المخطوطۃ المنقولۃولعل فی الاصل لا مفیدۃ وجودحقیقۃ ۱۲ محمد احمد۔
",
912,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,78,"للجود بامکانۃ الذاتیوالحیوان الخاص الجزئی یتوقف فی وجودہ علی استعداد ومادۃ وغواشیھا فالمطلق الکلی احق بفیضان الوجود۔
فلایردما اور دہ بعض الکتاب بان الامکان علۃ اقتصارلا علۃ الجعل۔فحقیقۃ الفیض لایستلزم الفعلیۃ لم لایجوز ان الطبیعۃ لقصور ھاوعدم قابلیتھا للوجود الخارجیما استفاض الوجود۔انتہی۔
ثم ھذا القول مردود بوجوہ:
الاول:ان احقیۃ الفیض مستلزمۃ للفعلیۃ لا نہ لابخل من جانب المبدء عــــــہ الفیاضفلولم یوجود الاحق واستفاض منہ غیر الاحق لزم ترجیح المرجوح۔اھ(باختصار ص ۳۴۹)۔ مستحق وجود ہے جب کہ حیوان خاص جزئی کا توقف اپنے وجود میں استعدادمادہ اور اس کے متعلقات پر ہوتا ہے۔لہذا مطلق کلی فیضان وجود کا احق(زیادہ حق دار ہوگا)۔
چنانچہ اس پر بعض مصنفوں کا یہ اعتراض و اراد نہ ہوگا کہ امکان تو علت اقتصار ہے نہ کہ علت جعل۔لہذا فیضان وجود کا احق ہونا اس کی فعلیت کو مستلزم نہیں۔ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ طبیعت اپنے قصور اور وجود خارجی کی عدم قابلیت کی وجہ سے مستفیض وجود نہ ہوئی ہو۔انتہی۔
پھر یہ قول کئی وجوہ سے مردود ہے۔
پہلی وجہ:یہ ہے کہ فیضان وجود کا احق ہونا اس کی فعلیت کو مسلتزم ہے کیونکہ مبدا فیاض کی جانب سےکوئی بخل نہیںلہذا اگر وہ احق کو وجود نہ بخسے اور غیر احق اس سے مستفیض ہوجائے تو مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا۔(اختصار ص ۳۴۹)۔
قول ششم:فلاسفہ نے مفہوم کی تقسیم جزئی و کلی کی طرف کی۔اس پر اعتراض ہوا کہ:
عــــــہ:اقول:اﷲ جل جلالہ کو مبدء فیاض کہنے میں نظر ہے۔
اولا:لفظ مبدء شرع سے ثابت نہیںبلکہ مبدئ جوباب اکرام سے ہے۔
ثانیا:مبدء ایك جانب کم متصل یا منفصل کو کہتے ہیں جہاں سے مثلا حرکت یا شمار آگے چلے تو لفظ موہم ہے۔
ثالثا:یوں ہی فیاض غیر ثابت
رابعا:حق تعالی پر اطلاق صیغہ مبالغہ سماع پر موقوف۔
خامسا:اس لفظ کے دوسرے معنی بھی ہیں کہ جناب باری پر محال۔فیض ہلاك شدن۔فیاض بسیار ہالك ۱۳
",
913,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,79,"الجزئی المجرد لایدرك الابعنوان کلیوالمادی لا یمکن ارتسامہ فی العقل المجردوالمفہوم ماحاصل فی العقل۔ جزئی مجرد کا ادراك عنوان کلی کے بغیر نہیں کہا جاسکتا اور جزئی مادی کا عقل مجرد میں مرتسم ہونا ممکن نہیں اور مفہوم وہ ہے جو عقل میں حاصل ہو۔(ت)
زید نے اسے طویلہ عبارت طویلہ میں بیان کرکے لکھا۔
الجواب:انا لا نسلم ان الجزئی المادی یدرك بعنوان کلیبل ذلك عــــــہ ھو التحقیق عندنا لا ن العقول العشرۃ عندھم مبرأۃ عن جمیع شوائب النقص والقبحومقدسۃ منزھۃ عن سائر القبائح والنقائصوالجھل اشد القبائحفلا یعزب عن علمھا ذرۃ من ذرات الموجود فی العالم کلیاتہ وجزئیاتہ ومادیاتہ ومجرداتہفلایمکن ان لایعلم العقل الاول مثلا تشخصات الموجودات والالزم الجھل فیہ اھ بقدر المقصود ص ۲۰۶۔
قول ہفتم:المذھب المحقق عند المحققین ان الاعدام اللاحقۃ الزمانیۃ جواب:بے شك ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جزئی مادی کا ادراك عنوان کلی سے ہوتا ہے بلکہ ہمارے نزدیك یہی تحقیق ہے۔کیونکہ فلاسفر کے نزدیك عقول عشرہ نقصان اور برائی کے تمام شائبوں سے بری اور تمام نقائص و قبائح سے پاك و صاف ہیں جب کہ جہالت تمام قباحتوں سے بڑی قباحت ہے چنانچہ موجودات عالم کے ذرات میں سے کوئی ذرہ عقول عشرہ کے علم سے پوشیدہ نہیں ہوسکتا چاہے کلیات ہوں یا جزئیاتچاہے مجردات ہوں یا مادیات۔لہذا یہ ممکن نہیں کہ عقل اول مثلا موجودات کے تشخص کو نہ جانے ورنہ اس میں جہل لازم آئے گا۔اھبقدر مقصود ص ۲۰۶۔
محققین کے نزدیك مذہب محق یہ ہے کہ لاحق ہونے والے اعدام زمانیہ درحقیقت اعدام نہیں بلکہ عدم لاحق
عــــــہ:اقول لایخفی قلق العبارۃ ھھناومقصودہ۔۔ عــــــہ ۔۔ان الجزئی المادی لاتدرکہ العقول بوجہ جزئیبل ذلکالخ ۱۲ سلطان احمد۔
عــــــہ:لایبدؤ وماھھنا فی الاصل۔لعلہ(ان یقول۔ونحوہ)والمعنی تام بدون ذلك ایضا ۱۲ محمد احمد غفرلہ۔
",
914,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,80,"لیست اعداما حقیقۃ بل العدم الاحق غیبوبۃ زمانیۃبناء علی ماثبت من وجود الدھرا المعبرعنہ بمتن نفس الامر وحاق الواقع الذی یسع کل موجود _______ وعلی ھذا فالاعدام السابقۃ علی الوجود اذا کان الحادث عــــــہ۱ متحققا فی جزء من اجزاء الزمانایضا غیبوبات مانیۃ والعدم الحقیقی انما ھوبالارتفاع والبطلان عن صفحۃ الواقعفلایکون العدم بانتفائہ عن کل جزء عــــــہ۲ من اجزاء الزمانکما فی السرمدیات المتعالیۃ عن الزمان و التغیر۔وبالجملۃ علی ھذا التحقیق لایکون الزمانیات معدومۃ عن الواقع بل عن وقت وجودہ عــــــہ۳ ۔اھ بالتقاط ص۱۵۔ تو غیبوبت زمانی کا نام ہے۔اس بات پر بناء کرتے ہوئے کہ وجود دہر میں سے کچھ ثابت ہے اس کو نفس الامر اور واقع سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کہ ہر موجود کو شامل ہے اور اس بنیاد پر وہ اعدام جو وجود پر سابق ہیں جب وجود زمانے کی کسی جزء میں متحقق ہو تو وہ بھی غیبوبت زمانیہ ہیں۔اور عدم حقیقی تو فقط صفحہ واقع سے مرتفع ہونے کا نام ہے۔چنانچہ اجزاء زمانہ میں سے ہر جز سے منتفی ہونے سے عدم نہ ہوگاجیسا کہ سرمدیات میں جو زمان و تغیر سے ماوراء ہیں۔اور مختصر یہ کہ اس تحقیق کی بنیاد پر زمانیات واقع سے معدوم نہیں ہوتیں بلکہ اس کے وجود کے وقت سے معدوم ہوتی ہیں اھ التقاط ص ۱۵(ت)
قول ہشتم:خود اسی کتاب کی تعریف میں لکھا ہے:
""یہ کتاب فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔اور صیقل ذہن کے لیے عجب اکسیر اعظم و نافع کبیر ہے""۔
عــــــہ ۱:اقول ھذا مستغنی عنہ بعد ذکر السبقۃ علی الوجودکما لا یخفی ۱۲ س۔
عــــــہ۲:اقول ھذا اجہل عظیمفان الزمانی لایوجد الافی الزمانفان خلاعنہ الزمان بجمیع اجزاءہ خلاعنہ الواقع البتۃ ___ وقسہ بالمکان ان خلت عنہ الامکنۃ باسرھا کان معدو مافی نفس الامروالا لم یکن المکانی مکانیاھف۱۲ س عفی عنہ۔
عــــــہ۳:اقول ھذا اعظم جہلافان الزمان ایضا بما فیہ موجود فی الدھروکذلك کون الزمان فی الزمانفلایمکن علی القول بالدھر ان ینعدم الزمانی عن وقت وجودہوھل ھذا الا کالقول بالنقیضین ۱۲ س عفی عنہ۔
",
915,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,81,"اور خطبہ کتاب میں اس کے مضامین کو اکتناہ حقائق و تدقیق فصیح وتحقیق صریح سے تعبیر کیا۔ص ۲ اور اس کا نام "" المنطق الجدید لناطق النالہ الحدید"" رکھا___لوح میں نام یونہی مطبوع ہوا مگر متن میں بجائے لناطقمن ناطق ہے۔
آیا یہ اقوال شرعا صحیح یا باطل ___ اور یہ مدح حلیہ صواب سے متحلی یا عاطل___ اور اس نام میں کوئی محذور شرعی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی رضی لنا الاسلام دینا واغنانا عن شقا شق الفلاسفۃ غناء مبینا *وارسل نبینا بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ *فاتم الحجۃ واوضح المحجۃوصدع بالحق دقہ وجلہ فصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علیہوعلی الہ وصحبہ ÷ خماۃ السننومحاۃ الفتنوکل محبوبو مرضی لدیہصلاۃ تبقی وتدوم * بدوام الملك الحی القیوم * واشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ فی الخلق والتدبیر *والامر والتقدیروالوجود القدیم والعلم المحیط* وان سیدنا ومولانا محمدا عبدہ ورسولہ الاتی تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے اسلام کو بطور دین پسند فرمایااور ہمیں فلاسفہ کے جھاگ سے واضح طور پر بے نیاز کردیا اور ہمارے نبی کو ہدایت و دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے چنانچہ اس نے دلیل کو تام اور راستے کو واضح فرمایا۔اور چھوٹے بڑے حق کو کھلم کھلا بیان کردیا۔اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام بھیجے اور برکتیں نازل فرمائے اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر جو سنتوں کے محافظ اور فتنوں کو مٹانے والے ہیں۔اور ہر اس شخص پر جو آپ کا محبوب و پسندیدہ ہے ایسا دردود جو باقی رہنے والا اور دائمی ہے بادشاہ حی و قیوم کے دوام کے ساتھاور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیںوہ اکیلا ہے اور خلق و تدبیرامرو تقدیرو جود قدیم اور علم محیط میں اس کا کوئی شریك نہیںاور یہ کہ ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
",
916,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,82,"بالملۃ الغراءوالحکمۃ البیضاء المنزھۃ عن کل خبط وتخلیط÷ وافراط و تفریط ÷ ___ صلوات اﷲ و سلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وکل منتم الیہامین امینالہ الحق امین! اس کے بندے اور رسول ہیںوہ ایسی چمکدار ملت اور روشن حکمت لے کر آئے ہیں جو ہر بے راہرویآمیزش اور کمی سے پاك ہےاﷲ تعالی کی رحمتیں اور سلام ہو آپ پرآپ کی آل پرآپ کے صحابہ پر اور ہر اس شخص پر جو آپ کی طرف منسوب ہے۔اے سچے معبود ! ہماری دعا قبول فرما(ت)
حق جل و علا دین حق پر قائم اور آفات تفلسف سے محفوظ و سالم رکھے۔فی الواقع عامہ اقوال مذکورہ سخت شنیع و فظیع ہیں۔اور شرع مطہر میں ان کے قائل کا حکم نہایت شدید و وجیع۔لاسیما۔
قول اول
کہ اس میں بالتصریح باری عز مجدہ کو تدبیر و تصرف مادیات سے بے علاقہ مانامثلا بدن انسانی میں جو مبین متینظاہرباہر زاہر قاہر تدبیریں صبح شامدن رات ہر وقت عیاں ونہاں ہوتی رہتی ہیں جن کی حکمتوں میں عقول متوسطہ انگشت بہ دنداں ہیںیہ سب جلیل و جمیل کام نفس ناطقہ کی خوبیاں ہیں۔اﷲ تعالی کو اصلا ان سے تعلق نہیںنہ اس کا بندوں کے بدنوں میں کوئی تصرف۔
لاالہ اﷲ محمد رسول اﷲ(اﷲ کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اﷲ کے رسول ہیں۔ت)___ استغفراﷲ (میں اﷲ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ت)___ والعیاذ باﷲ(اﷲ کی پناہت)ھیھاتھیھات ! اس سے بڑھ کرکونسا کفر ملعون ہوگا ___ سبحنہ وتعالی""سبحنہ و تعلی عما یقولون علواکبیرا ﴿۴۳﴾"" اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری۔ت)
سورہ یونس رعدو سورہ الم تنزیل السجدہ کے پہلے رکوع اس نزعہ فلسفیہ کے رد کو بس ہیں۔اور سورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے رکوع چہارم میں فرماتا ہے:"" قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع و الابصر و من یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی ومن
",
917,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,83,"یدبر الامر فسیقولون اللہ فقل افلا تتقون ﴿۳۱﴾ "" تو فرما کون تمہیں روزی دیتا ہے آسمان سے(مینہ اتار کر)اور زمین سے(کھیتی اگا کر)یا کون مالك ہے شنوائی اور نگاہوں کا۔(کہ مسببات کو اسباب سے ربط عادی دیتا ہے۔اور قرع سے ہوا کہ صوت کا حامل کرتاپھر اسے اذن حرکت دیتاپھر اسے عصبہ مفروشہ تك پہنچاتاپھر اس کے بچنے کو محض اپنی قدرت کاملہ سے ذریعہ ادراك فرماتا ہے___ اور اگر وہ نہ چاہے تو صور کی آواز بھی کان تك نہ جائے۔یونہی جو چیز آنکھ کے سامنے ہواور موانع و شرائط عادیہ مرتفع و مجتمع۔واﷲ اعلم ان ذلك بالانطباع اوخروج الشعاعکما قد شاعاوکیفما ماشاء(اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے کہ وہ انطباع کے ساتھ ہوا یا شعاع کے نکلنے سے ہوا جیسا کہ مشہور ہے یا جیسے اس نے چاہا۔ت)¬¬_____ اس وقت ابصار کا حکم دیتا ہے____ اور اگر وہ نہ جاہے روشن دن میں بلند پہاڑ نظر نہ آئے۔اور وہ کون ہےجو نکالتا ہے زندے کو مردے سے(کافر سے مومننطفہ سے انسانانڈے سے پرند)اور نکالتا ہے مردے کو زندے سےاور کون تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی۔ (آسمان میں اس کے کامزمین میں اس کی کامہر بدن میں اس کے کامکہ غذا پہنچاتا ہے۔پھر اسے روکتا ہے۔پھر ہضم بخشتا ہے۔پھر سہولت دفع کو پیاس دیتا ہے۔پھر پانی پہنچاتا ہے۔پھر اس کے غلیظ کو رقیقلزج کو منزلق کرتا ہے۔پھر ثقل کیلوس کو امعا کی طرف پھینکتا ہے۔پھر ماساریقا کی راہ سےخالص کو جگر میں لے جاتا ہے۔وہاں کیموس دیتا ہے۔تلچھٹ کا سوداجھاگوں کا صفرا۔کچے کا بلغمپکے کا خون بناتا ہے۔فضلہ کو مثانہ کی طرف پھینکتا ہے۔پھر انہیں باب الکبدکے راستے سے عروق میں بہاتا ہے۔ پھر وہاں سہ بارہ پکاتا ہے۔بے کا کو پسینہ بنا کر نکالتا ہے۔عطر کو بڑی رگوں سے جد اولجداول سے سواقیسواقی سے باریك عروقپیچ درپیچ تنگ برتنگ راہیں چلاتا ہوارگوں کے دہانوں سے اعضاء پر انڈیلتا ہے۔پھر یہ محال نہیں کہ ایك عضو کی غذا دوسرے پر گرے۔جو جس کے مناسب ہے اسے پہچانتا ہے۔پھر اعضاء میں چوتھا طبخ دیتا ہے کہ اس صورت کو چھوڑ کر صورت عضویہ لیں۔ان ",
918,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,84,"حکمتوں سے بقائے شخص کو مایتحلل کا عوض بھیجتا ہے___ جو حاجت سے بچتا ہے اس سے بالیدگی دیتا ہے اور وہ ان طریقوں کا محتاج نہیں۔چاہے تو بے غذا ہزار برس جلائے اور نماء کا مل پر پہنچائے___ پھر جو فضلہ رہا اسے منی بنا کر صلب و ترائب میں رکھتا ہے۔عقدو انعقاد کی قوت دیتا ہے۔زن و مرد میں تالیف کرتا ہے۔عورت کو باوجود مشقت حمل وصعوبت وضع شوق بخشتاہے۔حفظ نوع کا سامان فرماتاہے۔رحم کو اذن جذب دیتا ہے___ پھر ا س کے امساك کا حکم کرتا ہے۔پھر اسے پکا کر خون بناتا ہے۔پھر طبخ دے کر گوشت کا ٹکڑا کرتا ہے۔پھر اس میں کلیاںکنچھیان نکالتا ہے۔قسم قسم کی ہڈیاںہڈیوں پر گوشتگوشت پر پوستسینکڑوں رگیںہزاروں عجائب ___ پھر جیسی چاہے تصویر بناتا ہے۔پھر اپنی قدرت سے روح ڈالتا ہے۔بے دست و پا کو ان ظلمتوں میں رزق پہنچاتا ہے۔پھر قوت آنے کو ایك مدت تك روکے رہتا ہے۔پھر وقت معین پر حرکت وخروج کا حکم دیتاہے۔اس کے لیے راہیں آسان فرماتاہے۔مٹی کی مورت کو پیاری صورتعقل کا پتلاچمکتا تارا۔چاند کا ٹکڑا کر دکھاتا ہے۔""فتبرک اللہ احسن الخلقین ﴿۱۴﴾"" (تو بڑی برکت والا ہے اﷲ سب سے بہتر بنانے والا۔ت)اور وہ ان باتوں کا محتاج نہیںچاہے تو کروڑوں انسان پتھر سے نکالےآسمان سے برسالے۔
ہاں بتاؤ وہ کون ہے جس کے یہ سب کام ہیں ""فسیقولون اللہ "" اب کہا چاہتے ہیں کہ اللہ۔توفرما پھر ڈرتے کیوں نہیں
"" امنا باللہ وحدہ"" (ہم ایك اﷲ پر ایمان لائے۔ت)—— آہ ! آہ ! اے متفلسف مسکین! کیوں اب بھی یقین آیا یا نہیں کہ تدبیر و تصرف اسی حکم علیم کے کام ہیں۔جل جلالہ وعم نوالہ""فبای حدیثۭ بعدہ یؤمنون ﴿۱۸۵﴾"" (پھر اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ت)
",
919,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,85,"فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں یہ دو حرف مختصر بقد رضرورت ذکر کیےورنہ روزاول سے اب تك جو کچھ ہوااور آج سے قیامتاور قیامت سے ابدالاباد تك جو کچھ ہوگا وہ سب کا سب ان دو لفظوں کی شرح ہے کہ: "" یدبر الامر "" (اور تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ت)
سبحانہ مااعظم شانہ(وہ پاك ہے اور کتنی عظیم اس کی شان ہے۔(ت)
مسلمان غور کرے کہ یہ عظیم حکیم کام جن کے بحر سے ایك قطرےاور صحرا سے ایك ذرے کی طرف ہم نے اجمالی اشارہ کیاشبانہ روز انسان کے بدن میں ہواکرتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں نفوس ناطقہ کی زمین کو ان کی خبر نہیں ہوتی—— ہزاروں میں دو ایکسالہا سال کے ریاض و تعلیم میںان میں سے اقل قلیل پر بقدر قدرت اطلاع پاتے ہیں۔اس پر جو کل بگڑی بنائے نہیں بنتی۔جو ڈور الجھے سلجھائے نہیں سلجھےپھرکیسا سخت جاہل عــــــہ ہے جو تدبیر ابداننفس کے سر دھرے—— اچھا مدبر اور اچھے معتقد !! ""ضعف الطالب والمطلوب ﴿۷۳﴾"" ۔(کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا۔ت)
سبحن اﷲ اگر یہی بات واقعی ہےاور ہمارے رب تعالی کو ان امور سے اصلا علاقہ نہیں
عــــــہ:مگر سفہائے فلسفہنظر ائے ہبنقہ سے کیا جائے شکایت کہ وہ افعال متقنہ تصویر جنین کو نفس حیوانی بلکہ قوت غیر شاعرہ کی طرف مستند کرنے میں بھی باك نہیں رکھتے۔ ع
ماعلی مثلھم یعد الخطاء
(ان جیسوں پر خطاء شمار نہیں کی جاتی۔ت)
سبحان اﷲ ! خالق مختار جلت قدرتہ کی طرف بلاواسطہ تمام کائنات کے استنادمیں ان کے لیے وہ زہر گھلا ہے کہ یہ حق ناصع کسی طرح قبول نہیںاور ایسی بدیہی خرافتیں منظور و مقبول""و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾"" ۔(اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔ت)۱۲ منہ(من المصنف قدس سرہ)
",
920,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,86,"جیسا کہ اس متفلسف نے ادعا کیا تو وائے جہالت ! نفس ہی کو نہ پوجے ! جو ایسی قاہر قدرت رکھتااور بہ طور خود اپنے بدن کی یہ جلیل تدبیر کیا کرتا ہے—— ""و ربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون ﴿۱۱۲﴾"" (اور ہمارے رب رحمن ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو۔ت)
زیدکے اس قول میں ایك کفر جلی تو یہ ہے —— ثم اقول(میں پھر کہتا ہوں۔ت)ناظر عارفمناظر منصف آگاہ و واقف کو سوق عبارت سے خالقیت عقول متبادر عــــــہ۱ و منکشف— اور قائلان عقول کا یہ مسلك ہونا اس کا اقوی مشید و مرصف —اگرچہ پائے مکابرلنگنہ مجال مناقشہ تنگ — اور اگر نہ سہیتاہم عــــــہ۲ تعادل کفتین میں اشتباہ نہیں— اور نہ بھی مانو تو ایہام شدید سے بچنے کی راہ نہیں— اور ایسی جگہ مجرد ایہام بحکم شرع ممنوع و حرام ہے۔کما سیاتی۔
عــــــہ۱:اقول: فقیر ایك مثال واضح ذکر کرتا ہے کہ منصف کو کافی ہو اور متعسف کو دفتر بس نہیں—— مثلا اگر کہا جائے کہ قرآن مجید سے علاقہ رکھنے میں لوگ مختلف رنگ پر ہیں—— کوئی بہ قوت اجتہاد اس سے استنباط احکام کرتا ہےکوئی بہ حزم و احتیاط اس کی تفسیر لکھتا ہےکوئی حافظ ہے کوئی قاریکوئی سامع کوئی تالیایك معلم دوسرا متعلم —— یہ سب لوگ اس سے سچا علاقہ رکھتے ہیں—— اور بعض وہ جن کے لیے ان علاقوں میں سے کچھ نہیںاور انہیں قرآن کریم سے تعلق نہیں مگر مثلا علاقہ عداوتتکذیب جیسے مصنف منطق الجدید ومجوس و ہنود و نصاری و یہود۔
ایمان سے کہنا اس کلام سے صاف صاف یہی سمجھا جائے گا یا نہیں کہ قائل نے مصنف منطق الجدید کو بھی دشمن و مکذب قرآن بتایا—— اگر چہ لفظ ""مثلا "" میں اتنی گنجائش ہے کہ یہ علاقہ مذکورین مابعد کے لیے سمجھیں اور منصنف مسطور کے لیے اور کچھ تصور کرلیں۔مثلا فال کھولنا یا تجارت کرنا—— تقصیر معاف ! اس نہج خاص پر وضع مثال اظہار حق کے لیے ہے کہ آدمی اپنے مقابلہ میں خواہی نہ خواہی ظاہر متبادر پر جاتا ہےاور وہاں دوسرے کی طرف سے ابدائے عذر کو احتمالات بعید تلاش نہیں کرتا—— اب اس مثال کو اپنی عبارت سے ملا کر دیکھ لیجئے کہ بعینہ اسی رنگ کی ہے یا نہیں—— پھر جب یہاں یہ متبادر تو وہاں سے ادعائے خالقیت عقول کیونکر ظاہر نہ ہوگا واﷲ تعالی الھادی ۱۲ عبدہ سلطان احمد خان غفرلہ۔
عــــــہ۲:یہ سب تنزلات بہ لحاظ مجادلین ہیں ورنہ اصل کا رد ہی تبادر خالقیت ہے کما بینا ۱۲ س عفی عنہ۔
",
921,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,87,"بہرحال اگر یہی مقصود عــــــہ۱ تو اس کا کفر بواح ہونا خود ایسا بین کہ محتاج بیان نہیں—رب تبارك و تعالی فرماتا ہے:
""ہل من خلق غیر اللہ"" کیا کوئی اور بھی خالق ہے خدا کے سوا۔
اور ارشاد فرماتا ہے عزوجل:
""یایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ "" اے لوگو! ایك کہاوت بیان کی گئی اسے کان لگا کر سنوبے شك وہ جنہیں تم اﷲ کے سوا معبود ٹھہراتے ہو ہر گز ایك مکھی نہ بنائیں اگرچہ اس پر ایکا کرلیں۔
اور فرماتا ہے:
جلت عظمتہ"" الا لہ الخلق والامر تبرک اللہ رب العلمین ﴿۵۴﴾""
"" ۔ سن لو ! خاص اسی کے کام ہیں خلق عــــــہ۲ وتکوینبرکت والا ہے اﷲ مالك سارے جہان کا۔
اور فرماتا ہے تعالی شانہ:
""اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ہل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شیء سبحنہ وتعلی عما یشرکون ﴿۴۰﴾ "" اﷲ وہ ہے جس نے تمہیں بنایاپھر روزی دیپھر مارے گا پھر جلائے گا۔تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرك سے۔
عــــــہ ۱:کماھو الظاھر المتبادروان انکر المکابر ۱۲ س عفی عنہ۔
عــــــہ۲:یہاں خلق سے مراد مادہ سے بنانا جیسے آدمی نطفہ سےاور تکوین سے مراد امر کن سے موجود فرمادینا جیسے ارواح کی پیدائش ۱۲ سلطان احمد خاں بریلوی عفا عنہ المولی القوی۔
",
922,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,88,"اور سورہ لقمان میں افلاك و عناصر و جمادات و حیوانات و آثار علویہ و نباتات سب کی طرف اجمالی ارشارہ کرکے ارشاد فرماتا ہے تقدس اسمہ:
""ہذا خلق اللہ فارونی ماذا خلق الذین من دونہ بل الظلمون فی ضلل مبین ﴿۱۱﴾ یہ سب تو خدا کا بنایا ہوا ہے وہ مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا اوروں نے کیا بنایابلکہ ناانصاف لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
صدق اﷲ سبحنہ______ یہاں تك کہ اس امر کا باری عزاسمہ سے خاص ہونا مدارك مشرکین عرب میں بھی مرتسم تھا۔قال جل ذکرہ:
""ولئن سالتہم من خلق السموت و الارض لیقولن اللہ "" اور بے شك اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمان و زمین کس نے بنائےضرور کہیں گے اﷲ نے۔
یہ سخافت جلیہ وخرافت علیہ جس نے انہیں امیر الحیر بنایا عقلائے فلسفہ کا حصہ تھی۔""قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾"" (اﷲ تعالی انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)
سلمنا کہ زید کا یہ مطلب نہیںنہ وہ عقول عشرہ کو خالق بالذات و موجد مسقتل مانے بلکہ انہیں صرف شرط و واسطہ جانتااور باری تعالی کی تاثیر و فاعلیت کا متمم مانتا ہے تو گویا ""مثلا ""اسی تنویع کی طرف مشیرکہ علاقہ خلی ہو یا وساطت فی الخلقاور اس قدر سے اسے انکار کی گنجائش نہیںکہ دوسرے رسالہ میں خود اس کا اقرار کیا اور اسے مذہب محقق و مشرب حق قرار دیا____ تو یہ خود کفر و واضح وارتداد فاضح ہونے میں کیا کم ہے۔کہ اس میں صراحۃ اس قادر ذوالجلالغنی متعال تبارك و تعالی کو خلق و ایجاد میں غیر کافیاور دوسری چیز کے توسط وآلیت کا محتاج اور صاف صاف اس قدیر مجید عزوجل کو فاعلیت میں ناقصاور عقول عشرہ کو اس کا کامل و تام کرنے والا مانا ____ وای کفرا فحش من ھذا(اور کون سا کفر اس سے بدتر ہے(ت)____ یہ ایك کفر نہیں بلکہ معدن کفر ہے۔باری کا عجز ایك کفر ____ دوسرےکی طرف نیاز دو کفر ____ آپ ناقص ہونا تین کفر ____ غیر سے تکمیل پانا چار کفر____ خالق مستقل نہ ہونا پانچ کفر۔
",
923,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,89,"فکفرفوق کفر فوق کفر کان الکفر عــــــہ ۱ من کثرو وفر
کماء اسن عــــــہ۲ فی نتن دفر تتابع قطرہ من ثقب کفر عــــــہ۳
(وہ ایك کفر ہے اوپر کفر کے اوپر کفر کے۔گویا کہ کفر اس کی کثرت و بہتات سے ہے۔جیسے گندہ بدبودار متعفن پانیجس کے قطرے بڑے بڑے پہاڑ کے سوراخ سے پے درپے نکل رہے ہیں۔ت)
ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
ثم اقول:(پھر میں کہتا ہوں۔ت)استقصاء کیجئے تو ہنوز تعدد خالق کے لوائحکلام زید سے علانیہ لائح ____ قول وسیط کی تقریر____ اس میں چاند سورج کی تنظیر ____ قید ""بالذات"" کی بار بار تکریر صاف صاف بتارہی ہے کہ عقول سے صرف خالقیت ذاتیہ منتفی مانتا ہے____ نہ خالقیت مستفادہ ____ اور اس قدر واقع و نفس الامر میں صدق خالق کا منافی نہیں____ یوں تو علم وسمع وبصر وحیات بلکہ نفس وجود تمام عالم سے منفی اور حضرت حق جل و علاء سے خاص____ پھر بایں ہمہ ہمہ ""و انہ لذو علم"" (بے شك وہ صاحب علم ہے۔ت) و ""فجعلنہ سمیعا بصیرا ﴿۲﴾"" (ہم نے اسے سنتا دیکھتا کردیا۔ت) ""بل احیاء عند ربہم"" (بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ت)و""فانما یقول لہ کن فیکون﴿۱۱۷﴾"" (تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہوجا
عــــــہ۱:فیہ تو جیہان:الاول ان من بما بعدہ متعلق بالشطرالاتیوخبر کان قولہ ء الخ فمن علی ھذا للتعلیلوالثانی انہا ھی الخبر بعد تعلقہا بما خوذ اونحوہواللام فی الکفر للعہدای کان کفرہ ھذا ماخوذمن الکثروالوفر باسقاط بعض الحروف منہا ۱۲ س۔
عــــــہ۲:ماء اسن متغیر الطعم والرائحۃنتن گندہ شندن وگندگی۔دفر بدال مہملہ مفتوحہ بوئے بغل ۱۲ س۔
عــــــہ۳:کفر بالفتح کوہ بزرگ۔تتابع پے درپے آمدن ۱۲ س۔
",
924,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,90,"تو وہ فورا ہوجاتی ہے ت)قضایائے حقہ صادقہ ہیں۔اور حقائق الاشیاء ثابتۃ (اشیاء کی حقیقتیں ثابت ہیں۔ت)
پہلا عقیدہ خود اپنی ہی نظیر میں دیکھے کہ نور قمر تاب آفتاب سے مستفاد ہونا ""جعل الشمس ضیاء و القمر نورا"" عــــــہ (اس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا۔ت)کے مخالف نہ ٹھہرا۔
عــــــہ:آیہ کریمہ نص واضح ہےکہ قمر مستنیر ہو کر انارہ عالم کرتا ہے۔
ھوالراجع من جھۃ العقل ایضا والیہ جنح المحققون منھم الامام الرازی۔ عقل کے اعتبار سے بھی وہی راجح ہے اور محققین کا میلان بھی اسی کی طرف ہے جن میں امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ بھی شامل ہیں۔(ت)
نہ یہ کہ استنارہ صرف ضوء شمس کا تادیہ کرے کما ظنہبعض الفلاسفۃ(جیسا کہ بعض فلاسفہ نے اس کا گمان کیا ہے۔ت)
رہا یہ کہ وہ خود نورانی نہیں بلکہ پر تو مہر سے روشن ہوتا ہے۔اقول:اس کی نہ ہم نفی کریں لعدم ورود السمع بتکذیبہ(اس کی تکذیب پر دلیل نقلی وارد نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)نہ اس پر جزم ضرور ہے لعدم قیام البرھان علی تصویبہ اس کی درستگی پر برہان قائم نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)
والدوران لیس فی شیئ من البرھان وان زعمواانہ بدیہی ثابت بالحدسکیف ولا قاطع بابطال قول ابن الھیثم فی الاھلۃوما ذکروہ من حدیث الخسوف فیجوز ان یکون ذلك لان القادر تعالی ینزع منہ النور متی شاء من دون ان تکون اور دوران برہان میں سے کچھ نہیںاگرچہ ان کا گمان یہ ہے کہ یہ بدیہی ہے حدس سے ثابت ہےیہ کیسے ہوگاحالانکہ چاندوں کے بارے میں ابن ہثیم کے قول کے ابطال کا کوئی قاطع نہیں ہے۔اور چاند گرہن کے بارے میں جو حدیث انہوں نے ذکر کی تو ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ اﷲ تعالی اس پر قادر ہے کہ جب چاہے چاند کا نور سلب فرمادے بغیر اس کے کہ سورج اور چاند کے درمیان
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
925,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,91,"اور لفظ ""مجازی"" جس طرح ""حقیقت "" کے مقابل بولتے ہیںیونہی بہ مقابلہ ذاتی اطلاق
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الحیلولۃ ھی الموجبۃ لہ___ والمعیۃ لاتفید العلیۃ___ بل ھذا الذی ذکرنا ھوالمستفاد من ظواھر الاحادیث ___ وقدرأینا کذبھم فی کسوف وقع علی عہد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعشر خلون من شوال___ مع ان قاعدتھم تقضی بان لایقع الاآخر الشہراذ المقارنۃ لاتکون الا اذ ذاک۔فلما ظھرلنا انتقاض الدوران فی الکسوف عسی ان یظھر ایضا فی الخسوف __ علی ان فی الباب احتمالات اخر لایتکا فیہا الدلیل___ وبالجملۃ مالہ یخبر عنہ نراہ مضطر با ھکذاالی یوم القیمۃ فاستفدہ فانہ مھم__نعم افاد الامام عبدالوہاب الشعرانی فی میزان الشریعۃ الکبری اجماع اھل الکشف علی ان انور القمر مستفاد من انور الشمس فمن ھذا الوجہ نحن نقول بہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ (ای من المصنف قدس سرہ) زمین حائل ہو جو کہ چاند گرہن کا موجب ہے اور معیت مفید علیت نہیںبلکہ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہی ظاہر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔اور بے شك فلاسفہ کا جھوٹ ہم نے دیکھ لیا اس سورج گرہن میں جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دس شوال کو واقع ہواباوجود یہ کہ ان کے قاعدہ کا تقاضا یہ ہےکہ سورج گرہن صرف مہینہ کے آخر میں واقع ہوسکتا ہےکیونکہ مقارنت اسی وقت ہوتی ہے جب ہمارےلیے سورج گرہن میں دوران کا ٹوٹ جانا ظاہر ہوگیا ہے تو چاند گرہن میں بھی ظاہر ہوجائے گا۔علاوہ ازیں اس باب میں اوربھی کئی احتمال ہیں جن میں کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں۔خلاصہ یہ کہ جس کے بارے میں خبرنہیں دی گئی ہم اسے قیامت تك یوں ہی مضطرب دیکھیں گے۔اس سے فائدہ حاصل کر کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔ہاں۔امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمۃ نے میزان الشریعۃ الکبری میں افادہ فرمایا کہ نور قمر کے نور شمس سے مستفاد ہونے پر اہل کشف کا اجماع ہے۔اسی وجہ سے ہم اس کے قائل ہیں۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ(یعنی مصنف علیہ الرحمہ کی طرف سے)(ت)
",
926,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,92,"اور ذاتی کو بہ لفظ حقیقت خاص کرتے ہیں____ ہماری ملك ملك مجازی ہےیعنی بہ عطائے الہینہ اپنی ذات سے ____نہ یہ کہ حقیقت ونفس الامر میں باطل ہے۔
قال تعا لی: ""فہم لہا ملکون ﴿۷۱﴾"" (تو یہ ان کے مالك ہیںت)
قال تعا لی: ""ما ملکت ایمنکم "" (وہ جس کے مالك ہوئے ان کے دائیں ہاتھت)
ولہذا ""وسـل القریۃ"" (اور اس بستی سے پوچھ۔ت)
مجاز ہوا کہ علم و سماع و قدرت علی الجواب جو مصحح استفسار حقیقی ہیں وہاں مسلوب ومعدوم _____اور ""سلہم ایہم بذلک زعیم ﴿۴۰﴾ "" (تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے۔ت)قطعا حقیقت کہ ثبوت یقینی____ اگرچہ عطائی ہے۔
ہر عاقل جانتا ہے کہ مدار حقیقت ثبوت فی الواقع پر ہے____اور وہ ذاتی و مستفاد دونوں سے عام ____ع
ھذا الذی تعرف البطحاء واطأتہ
(یہ وہی ہے جس کے روندنے کو وادی بطجاپہچانتی ہے۔ت)
اور___ ع
العرب تعرف من انکرت والعجم
(جس کا تو نے انکار کیا اس کو عرب و عجم پہچانتے ہیں۔ت)
میں جو فرق استعمال ہے عاقل پر مستور نہیں____ یہیات ! اگر حقیقت منوط بہ ذاتیتہو تو لازم آئے معاذ اﷲ خلق اشیاء حقیقۃ جناب باری سے مسلوب بلکہ محال ہواور ان کا اثبات فقط مجازی خیال ____ کہ جب حقیقتہ افاضئہ وجود نہ ہوا تو واقع میں کچھ نہ بنا____ ""اعطی کل شیء خلقہ"" (اس نے ہرچیز کو اس کے لائق صورت دی۔ت)کیونکر صادق آئے وقس علی ھذا اشنائع اخری(اسی پردوسری برائیوں کو قیاس کرلو۔ت)
",
927,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,93,"لاجرم ایسی مجاریت صدق حقیقی کی نافی نہ ثبوت واقعی کے منافی ____ تو زید کا یہ بیان علی الاعلان منادی کہ عقول عشرہ سے صرف خالقیت ذاتیہ منفیورنہ حقیقتہ وہ خالق عالم ہیں جیسے چاند منیر زمین اگرچہ یہ خالقیت حق جل وعلا سے مستعارجس طرح شمس سے قمر کے انوار۔قرآن و اہل قرآن سے پوچھ دیکھئے کہ یہ عقیدہ ان کے نزدیك کس درجہ بطلان پر ہے۔حاش ﷲ ! نہ اﷲ کے سوا کوئی خالق بالذاتنہ ہر گز ہرگز اس نے منصب ایجاد عالم کسی کو عطا فرمایا کہ قدرت عــــــہ مستفادہ سے خالیقت کیا کرے۔""سبحنہ و تعلی عما یشرکون ﴿۱۸﴾ "" (اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرك سے۔ت)
عــــــہ: ""انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر"" ___ فلا یخفی علی ذی لب ان فیہ تبدیل الجسم التعلیمی دون ایجاد الطبعیبل ذلك ایضا___ اعنی زوال ابعاد و حدوث اخری___ انما ھو علی طریقۃ الحکماء القائلین بالکم المتصل واما المتکلمون فلم یحدث عندھم فی الطین شیئ لم یکنولم یزل عنہ شیئ قد کانوانما انتقلت الجواھر الفردۃ من طول الی عرض اوبالعکس مثلا کما صراحوابہ فی الشمعۃ___ وھذا ھو معنی تصویر الملك المؤکل بالرحم الجنین فیھافلیس الا ابداء ھیأت لاجزاء الجسملا ایجاد لحم اوشحم اوعظم واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ(قدس سرہ) بے شك میں تمہارے لیے مٹی سے پرندہ کی سی صورت بناتا ہوںکسی عقلمند پر پوشیدہ نہیں کہ یہ جسم تعلیمی کی تبدیلی ہے نہ کہ جسم طبعی کی ایجادبلکہ یہ بھی یعنی بعض ابعاد کا زوال اور دوسرے ابعاد کا حدوث بھی ان حکماء کے طریقہ پر ہے۔جو کم متصل کے قائل ہیں۔رہے متکلمین تو ان کی نزدیك گارے میں کوئی ایسی شے پیدا نہیں ہوئی جو پہلے نہ تھی اور نہ کوئی شے زائل ہوئی جو پہلے وہاں نہ تھی۔بلکہ فقط جواہر فردہ کا طول سے عرض یا عرض سے طول کی طرف انتقال ہوا جیسا کہ موم کے باری میں انہوں نے تصریح کی۔ماں کے پیٹ میں مؤکل فرشتی کے جنین کی صورت بنانے کا بھی یہی معنی ہے۔یہ تو محص اجزاء جسم کو ایك ہیات دینا ہے نہ کہ گوشتچربی اور ہڈیوں کو موجود کرنا۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہی ۱۲ منہ(قدس سرہ)
",
928,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,94,"بالجملہ باری تبارك و تعالی کو کسی شیئ کی تدبیر و تصرف سے بے تعلقیا اس کے غیر کو خالق جواہرخواہ ایجاد باری تعالی کا متمم کہنا قطعا جزما کفریات خالصیہ ______ اور یہ سب مسائل اجلی ضروریات دین سی ہیں ____ بلکہ ان میں بھی ممتاز ______ اور اپنے کمال وضوح میں تجشم ایضاح سے غنی و بے نیاز۔
تنبیہ:ہاں عجیب نہیں کہ زید کو سرگرمی و ساوس ان عذر بارد پر لائے کہ ان میں ان امور کا دل سے معتقد نہیںیہ تو میں نے فلاسفہ کے طور پر لکھ دیا ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)لاتعدم الخرقاء حیلۃ(کوئی مکار عورت حیلہ سازی سے خالی نہیں ہوتیت)______ بین و واضح کہ یہاں کوئی صورت اکراہ نہ تھیاور بلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفراگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہواور عامہ علما فرماتے ہیں کہ اس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اﷲ بھی کافر ہوجائے گا کہ اس نے دین کو معاذ اﷲ کھیل بنایا اور اس کی عظمت خیال میں نہ لایا۔امام علامہ فقیہ النفس فخر الدین اوزجندی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ خانیہ میں فرماتے ہیں:
رجل کفر بلسانہ طائعاو قلبہ علی الایمان یکون کافراولا یکون عنداﷲ مؤمنا ۔ جس شخص نے زبان سے بخوشی کلمہ کفر کہاحالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہوجائے گا اور وہ اﷲ تعالی کے نزدیك مومن نہ ہوگا۔(ت)
حاوی میں ہے:
من کفر باللسان وقلبہمطمئن بالایمان فہو کافرو لیس بمؤمن عند اﷲ ۔ جس نے زبان سے کفر بکا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہے اور اﷲ تعالی کے نزدیك وہ مومن نہیں ہے۔(ت)
مجمع الانہر وجواہر الاخلاطی میں ہے:وھذا الفظ المجمع(اور یہ لفظ مجمع کے ہیں۔ت):
من کفر بلسانہ طائعاوقلبہ مطمئن الایمان فھو کافر ولاینفعہ مافی قلبہلان الکافر یعرف بما ینطق بہ بالکفر فاذا نطق بالکفر جس نے بخوشی زبان سے کفر بکا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہےاور جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کو نفع نہ دے گا کیونکہ کافر تو منہ سے بولے ہوئے کفر سے پہچانا جاتا ہے جب اس نے
",
929,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,95,"کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالی ۔ زبان سے کفر بول دیا تو وہ ہمارے نزدیك اور اﷲ تعالی کے نزدیك کافر ہوگیا۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
والحاصل ان من تکلم بکلمۃ الکفر ھازلا او لاعبا کفر عندالکلولا اعتبار باعتقادہومن تکلمہ بہا خطأ اومکرھا لایکفر عند الکل ومن تکلم بہا عالما عامدا کفرعند الکل ۔ خلاصہ یہ کہ جس شخص نے بطور ہزل اور بطور کھیل کلمہ کفر بکا وہ سب کے نزدیك کافر ہوگیا اس کے اعتقاد کا کوئی اعتبار نہیں۔جس نے خطاء یا مجبورا کلمہ کفر کہا وہ سب کے نزدیك کافر نہ ہوگا۔اور جس نے جان بوجھ کر قصدا کلمہ کفر کہا وہ سب کے نزدیك کافر ہوگیا۔(ت)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
التکلم بما یوجبہ(ای الکفر)طائعا من غیر سبق اللسان عالما بانہ کفر(کفر)بالاتفاقوکذاالفعل و لوھزلا ومزاحا بلا اعتقاد مدلولہبل مع اعتقاد خلافہ(بقلبہ)فانہ یکفر عنداﷲ تعالی ایضا فلا یفیدہ(فی عدم الکفر)اعتقاد الحق(بقلبہ)لان ذلك جعل کفرا فی الشرعفلا تعمل النیۃ فی تغییرہ اھ ملخصا موجب کفر کے ساتھ تکلم جب کہ بخوشی بغیر سبقت لسانی کے ہوا اور متکلم جانتا ہو کہ یہ کلمہ کفر ہے بالاتفاق کفر ہے یہی حکم فعل کفر کا ہے اگرچہ ہزل ومزاح کے طور پر ہو اور اس کے مدلول کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی کافر ہوگا اور دلی طور پر حق کا معتقد ہونا اس عدم کفر میں مفید نہ ہوگا۔کیونکہ اس کو شرع میں کفر قرار دیا گیا ہے لہذا نیت اس کی تبدیلی میں عمل نہیں کرسکتی اھ تلخیص(ت)
",
930,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,96,"رہا یہ کہ فلاسفہ کے طور پر کہااقول:سچ ہےہم کب کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے طور پر کہاآخر جو کلمہ کفر کہا جائے گا والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ ت)وہ غالبا کسی نہ کسی فرقہ کافرہ کے طور پر ہوگا۔پھر کیا اس قدر اس حکم سے نجات دے سکتا ہے _____حاشا و کلا(ہر گز ہر گز نہیں۔ت)
زید متفلسف سے استفسار کیجئےبھلا اسے کفر تو جانتا تھا کہیں اس عبارت میں اس کے ردیا اس سے تبری کی طرف بھی اشارہ کیا_____کسی کلمہکسی حرف سے کراہت وناپسندی کی بو بھی آتی ہے ہیہات ہیہات !! نہ ہرگز ہرگز کوئی لفظ ایسا لکھا جس سے معلوم ہوتا کہ دوسرے کا قول نقل و حکایت کرتا ہےبلکہ اس سب کے برعکس اسے لفظ التحقیق کے نیچے داخل کیا۔اور ""قول وسیط"" میں ھذا التحقیق کہا جس نے رہا سہا بھرم کھول دیا فانا ﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)
آئمہ دینیہاں تك کہ خود منقح مذہب حضرت امام ربانی ابوعبداﷲ محمد بن حسن شیبانی اﷲ تعالی عنہ تصریح فرماتے ہیں کہ:""جو شخص اپنی زبان سے المسیح ابن اﷲ(مسیح اﷲ تعالی کا بیٹا ہے۔ت)کہے اور کوئی لفظ ایسا کہ حکایت قول نصاری پر دلیل ہوذکر نہ کرےاگرچہ قصد حکایت کا دعوی کرتا رہےہر گز سچا نہ ٹھہرائیں گی اور عورت نکاح سے نکل جانے کا حکم دیں گے""۔
علامہ بدر الدین رشید حنفی رسالہ الفاظ مکفرہ میں فتاوی صغری وغیرہا سے ناقل!
وقالت للقاضی سمعت زوجی یقول المسیح ابن اﷲ فقال انما قلت حکایۃ عمن یقولہفانہ اقر انہ لم یتکلم الا بھذہ الکلمۃ بانت امرأتہ ۔ اگر کسی عورت نے قاضی کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسیح اﷲ کا بیٹا ہے اس پر شور نے کہا کہ میں نے یہ کلمات اس شخص کی طرف سے نقل کرتے ہوئے کہے جو اس کا قائل ہے اور شوہر نے اقرار کیا۔کہ اس نے یہی کلمات کہے ہیں تو اس کی عورت بائنہ ہوجائے گی۔ (ت)
اسی میں ہے:
قال محمد ان شہدالشہود انھم سمعوہ یقول المسیح ابن اﷲو امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگر گواہ گواہی دیں کہ انہوں نے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
",
931,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,97,"لم یقل غیر ذلکیفرق القاضی بینھما ولا یصدقہ ۔ مسیح اﷲ تعالی کا بیٹا ہےاور اس کے علاوہ کوئی کلمہ اس نے نہیں کہا تو قاضی اس شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردے گا اور شوہر کی تصدیق نہیں کرے گا۔(ت)
سبحان اﷲ ! جب اس مسئلہ میں _____جہاں قرین قیا س کہ اس نے لفظ حکایت کہا ہو اور زن وشہود نے نہ سناحکم بینونت دیتے ہیں تو آدمی کفر صریح سے کتاب کو گندہ کرکے اور اسے وھذا التحقیق کے زیور پہنا کے کیونکر سبیل نجات پاسکتا ہے۔ ونسأل اﷲ العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے عافیت مانگتے ہیں۔ت)
سیدنا امام اجلعالم المدینہ مالك بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك شخص کی نسبت سوال ہوا کہ اس نے قرآن کریم کو مخلوق کہا۔فرمایا کافر ہےقتل کردواس نے عرض کی:میں نے تو اوروں کا قول ذکر کیا ہے۔فرمایا ہم نے تو تجھ سے سنا ہے۔اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
سأل رجل مالکاعمن یقول القران مخلوقفقال مالک:کافراقتلوہفقال:انما حکیتہعن غیری فقال مالک:انما سمعناہ منك ایك شخص نے امام مالك سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔آپ نے فرمایا:وہ کافر ہے اس کو قتل کردو۔اس شخص نے کہا:میں نے تو دوسروں کی بات نقل کی ہےتو آپ نے فرمایا:ہم نے تو تجھ ہی سے یہ سنا ہے۔(ت)
بلکہ علمائے دین تصریح فرماتے ہیں کہ ایسی باتیں بہ تصریح حکایت بیان کرنا بھی حرام و ناروااور حکایت کنندہ مستحق سزاجب تك غرض محمود و مہم عندالشرع۔مثل تحذیر خلق و اظہار حق وابطال باطل _____یا دارالحکم میں دعوی و شہادت بہ غرض قتل و عقوبت قائل وغیرہا ضرورات د ینیہ پر مبنی و مشتملاور علانیہ اظہار بیزاری و کراہت و تبری سے مقرون و متصل نہ ہو۔
امام علامہ قاضی عیاض مالکی قدس سرہشفا شریف اور علامہ شہاب الدین احمد خفا جی حنفی
",
932,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,98,"رحمۃ اﷲ تعالی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
اما ذکر ھا علی غیر ھذا(الوجہ من الرد والابطال و نحوہ مما مر)علی وجہ الحکایات والخوض فی قیل وقال وما لایعنی فکل ھذا(المحکی)ممنوع(غیر جائز شرعا)وبعضہ اشد فی المنع والعقوبۃ من بعضفما کان من قائلہ الحاکی لہ(عن غیرہ)علی غیر قصد و معرفۃ بمقدارماحکاہولم یکن الکلام(الذی حکاہ) من البشاعۃ حیث ھو ولم یظھر علی حاکیہ استحسانہ واستصوابہ زجر(ووبخ)ونھی عن العود الیہ وان قوم ببعض الادب فہو مستوجب لہوان کان لفظہ من البشاعۃ حیث ھوکان الادب اشد اھ ملخصا ۔ ان کلمات کفریہ کو رد و ابطال وغیرہ وجوہ مذکورہ کے علاوہ بطور حکایات نقل کرنا یا لایعنی قیل و قال کے طور پر ذکر کرنا سب ممنوع اور شرعا ناجائز ہےاور ممانعت و عقوبت میں بعض کلمات بعض سے شدید تر ہیں۔چنانچہ جو کچھ ناقل نے لاقصد تحقیر حکایت کیا جب کہ وہ اس کی شناعت کی حد سے بے خبر ہے اور وہ ایسا کلام نقل کرنے کا عادی بھی نہیں بلکہ محض نادرا اس سے ایسے کلام کا صدور ہوااور وہ کلام بھی حد درجے کا قابل اعتراض نہیں اور یہ بھی ظاہر نہیں ہوا کہ ناقل نے اس کلام کو مستحسن و پسندیدہ سمجھا ہے تو اس کو زجرو توبیخ کی جائے گی اور ایسے کلام کے اعادہ سے منع کیا جائے گا اگر اس کو کچھ سزا دی جائے تو وہ اس کا مستحق ہے۔اور اگر ا س کے الفاظ زیادہ قابل اعتراض ہیں تو ناقل کو سزا بھی زیادہ سخت دی جائے۔ اھ ملخصا(ت)
اقول:اور کیونکر حرام نہ کہیں گے حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ حدیث موضوع کی روایت بے ذکر رد و انکار ناجائز ہے۔وھذا ما اخذبہ علی الحافظین المعاصرین ابی نعیم وابن مندۃ(اور اسی وجہ سے دو ہمعصر حافظوں ابونعیم اور ابن مندہ کا مواخذہ کیا گیا۔ت)اور یہاں مجردبیان سند سے براء ت عہد نہیں۔صرح بہ الشمس الذھبی وغیرہ من آئمۃ الشان (امام شمس الذہبی اور دیگر عظیم الشان آئمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)تو جب وہاں یہ حکم ہے باآں کہ صدہا
",
933,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,99,"احادیث موضوعہ کے مضمون حق و نافع ہوتے ہیںتو ان اختلافات ملعونہ کی مجردد حکایت کیونکر حلال ہوگی جو صریح مخالف اسلام و مہلك ہائل و مضر عظیم و سم قاتل ہیں۔نسال اﷲ العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)
بلکہ بہت آئمہ ناصحین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین تو بروجہ رد و ابطال بھیایسی بلکہ ان سے بدرجہا کم خرافات کی اشاعت پسند نہیں کرتے۔اور ایك یہ وجہ بھی ہے جس کے سبب کلام متاخرین پر ہزاروں ہزار طعن و انکار فرماتے ہیںفصل بعضہ الفاضل علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر(جیسا کہ اس میں سے بعض کی تفصیل امام فاضل ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں کی ہے۔ت)
حتی کہ سیدنا امام ہمام عماد السنہ احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ نے سیدنا عارف باﷲ امام الصوفیہ حارث محاسبی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس وجہ پر ملاقات ترك کردی اور فرمایا۔
ویحك الست تحکی بدعتھم اولا ثم ترد علیھم الست تحمل الناس بتصنفك علی مطالعۃ البدعۃ والتفکر فی الشبہۃفید عوھم ذلك الی الرأی و البحث والفتنۃ تجھ پر افسوسکیا تو پہلے ان کی بدعات کو نقل نہیں کرتا پھر ان کا رد کرتا ہے کیا تو اپنی تصنیف کے ذریعے لوگوں کو بدعت کے مطالعہ اور شبہات میں غور کرنے پر برانگیختہ نہیں کرتا ہے چنانچہ یہ بات ان کو رائےبحث اور فتنہ کی طرف دعوت دیتی ہے۔(ت)
اگرچہ ہے یوں کہ رد اہل بدعتوقت حاجت اہم فرائض سے ہے۔اور خود امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے رد جہمیہ میں کتاب تصنیف فرمائی۔ وفی حدیث عندالخطیب وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال: خطیب وغیرہ کے نزدیك ایك حدیث میں رسول اﷲ نے فر مایا:
اذا ظھرت عــــــہ الفتن اوقال البدع وسب اصحابی فلیظھر العالم جب فتنے ظاہر ہوں یا فرمایا جب بدعتیں ظاہر ہو اور میرے اصحاب کو سبب وشتم کیا جائے تو
عــــــہ:اقول فانظر الی قولہ"" ظھرت"" یظھرلك الماخذانواﷲ تعالی اعلم۱۲ منہ(قدس سرہ)
",
934,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,100,"علمہفمن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعینلایقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا اہل علم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہیےجس نے ایسا نہ کیا اس پر اﷲ تعالیتمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہواﷲ تعالی اس کے فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔(ت)
بالجملہ اس میں شك نہیں کہ زید کی دونوں عبارتیں صریح کلمہ کفر ____ اور انہیں یوں داخل کتب کرنے میں کوئی عذر قابل قبول نہیںواﷲ المستعان(اور اﷲ تعالی ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ت)۔
قول دوم و سوم و چہار م
کابھی بعینہ یہی حال کہ ان میں ہیولی و صورت جسمیہ و صورت نوعیہ و عقول عشرہ و بعض نفوس کو قدیم زمانی مانا۔اور یہ سب کفر ہیں۔
آئمہ دین فرماتے ہیں:جو کسی غیر خدا کو ازلی کہے باجماع مسلمین کافر ہے۔شفا و نسیم میں فرمایا:
من اعتراف بالھیۃ اﷲ تعالی ووحدانیتہ لکنہ اعتقدقدیما غیرہ(ای غیر(عہ)ذاتہ وصفاتہاشارۃ الی ماذھب الیہ الفلاسفۃ من قدم العالم و العقول) اوصانعا للعالم سواہ(کالفلاسفۃ الذین یقولون ان الواحد لایصدر عنہ الا واحد)فذلك کلہ کفر(و معتقدہ کافر باجماع المسلمین جس نے اﷲ تعالی کی الوہیت و حدانیت کا اقرار کیا لیکن اﷲ تعالی کے غیر کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھا۔(یعنی اﷲ تعالی کی ذات و صفات کے علاوہیہ فلاسفہ کے مذہب یعنی عالم وعقول کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔یا اﷲ تعالی کے سوا کسی کو صانع عالم ماننا(جیسے فلاسفہ جو کہ کہتے ہیں واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد)تو یہ سب کفر ہے(اور اس کے معتقد کے کافر
عــــــہ:اقول:توضیح لاتوجیہ ___فان صفاتہ سبحنہ وتعالی لیست عندنا غیرہ کما ھی لیست عینہ ۱۲ منہ۔ میں کہتاہوں:یہ توجیہ نہیں بلکہ توضیح ہے کیونکہ اﷲ سبحنہ وتعالی کی صفات ہمارے نزدیك اس کا غیر نہیں ہے جیساکہ اس کا عین بھی نہیں ۱۲منہ۔
",
935,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,101,"کالا لھین من الفلاسفۃ والطبائعین )اھ ملخصا۔ ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جیسے فلاسفر کا فرقہ الہیہ اور فرقہ طبائعیہ)اھ تلخصیص(ت)
اور فرمایا:
نقطع بکفرمن قال بقدم العالم او بقاء اوشك فی ذلك علی مذھب بعض الفلاسفۃ(ومنھم من ذھب عــــــہ ہم اس شخص کے کفر کا قطعی حکم لگاتے ہیں جو عالم کے قدیم و باقی ہونےکا قائل ہے یا اسے اس میں شك ہے بعض فلاسفہ کے مذہب پر(اور ان
عــــــہ:اقول:اوتکون البعضیۃ راجعۃ الی الشك فھی اشارۃ الی ماحکی عن جالینوس انہ قال فی مرضہ الذی توفی فیہ لبعض تلامذتہ اکتب عنی انی ماعلمت ان العالم قدیم اومحدثوان النفس الناطقۃ ھی المزاج اوغیرہ __قد طعن فیہ اقرانہ بذلك حین ارادمن سلطان زمانہ تلقیبہ بالفیلسوفذکرہفی شرح المواقف ۔اقول:ان کان الطعن للترددا الاخیرفہو بذاك حری وجدید___ والا فمن العجب ان معتقد القدم یسمی فلسفیادون الشاك مع ان جہل ذلك مرکب وجھل جالینوس بسیط ___ میں کہتا ہوں:یا بعضیت شك کی طرف راجع ہوگییہ اشارہ اس حکایت کی طرف ہی جو جالینوس کے بارے میں منقول ہے کہ اس نے اپنے مرض الموت میں اپنے کسی شاگرد کو کہا میری طرف سے یہ لکھ لو کہ میں نہیں جانتا عالم قدیم ہےیا حادث اور یہ کہ نفس ناطقہ ہی مزاج ہے یا اس کا غیر ____یہی وجہ ہے کہ جب بادشاہ وقت نے جالینوس کوفیلسوف کا لقب دینےکاارادہ کیا تو اس کے معاصرین نے اس پر طعن کیا۔یہ شرح مواقف میں مذکور ہے۔میں کہتا ہوں:اگر یہ طعن آخری تردید کی وجہ سے ہے تو وہ اس کے لائق ومناسب ہے۔ورنہ تعجب خیز بات ہے کہ عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھنے والا تو فلسفی کہلائے اور شك کرنے والا نہ کہلائے باوجود یہ کہ قدم کے معتقد کا (باقی برصفحہ ائندہ)
",
936,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,102,"لغیرہ۔وقدکفرھم اھل الشرع بھذالمافیہ من تکذیب اﷲ ورسلہ وکتبہ)الی ان قال فلا شك فی کفر ھؤلا قطعا اجماعا وسمعا اھ ملتقطا۔ میں سے بعض اس کے غیر کی طرف گئے ہیںاہل شرع نے اس قول کی وجہ سے ان کی تکفیر کی ہےکیونکہ اس سے اﷲ تعالیاس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کو جھٹلانا لازم آتا ہے۔)یہاں تك کہ فرمایا ان کے کفر میں قطعیاجماعی اور سمعی طور پر کوئی شك نہیں اھ التقاط(ت)۔
علامہ ابن حجرمکی ہیثمی اعلام میں فرماتے ہیں:
اعتقاد قدم العالم او بعض اجزائہ کفرکما صرحوا بہ ۔ عالم یا اس کے بعض اجزاء کے قدیم ہونے کا اعتقاد کفر ہے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح کی ہے۔(ت)۔
اسی میں ہے:
من المکفرات القول الذی ھو کفرسواء اصدر عن اعتقاد او عناد او استھزاء فمن کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کافر بنادینے والی چیزوں میں سے ہے چاہے اس کو اعتقاد کے طور پر صادر کرے یا ضدو
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فان کان مثلعــــــہ الجھل لاینافی حکمۃ الحکیم فالبسیط اولی بہ___ الا ان یقال ان الفسلفی ھو المتناھی فی فی الخباثۃ وذلك فی المرکب ۱۲ منہ۔ جہل مرکب ہے اور جالینوس کا جہل بسیط ہے۔۔جب جہل مرکب حکیم کی حکمت کے منافی نہیں تو بسیط بدرجہ اولی اس کے منافی نہ ہوگا مگر یہ کہ یوں کہا جائے کہ فلسفی وہ ہے جو خباثت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو اور ایسا جہل مرکب ہوتا ہے۔۱۲ منہ(ت)
عــــــہ:کذا فی فی المخطوطۃویخاجل صدری ان العبارۃ ""مثل ذا الجہل"" او ""ا مثل الجہل"" ویصح ""مثل الجہل"" ایضا بجعل اللام للعہدلکن السیاق یستدعی مقابلۃ البسیط ۱۲ محمد احمد المصباحی۔)
",
937,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,103,"ذلك اعتقاد قدم العالم ۱ھ ملفقا۔ استہزاء کے طور پر عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد بھی ان ہی میں سے ہے اھ ملفقا(ت)
طوالع الانوار من مطالع الانظار میں ہے:
القول بالذوات القدیمۃ کفر ۔ ذوات قدیمہ کا قائل ہونا کفر ہے۔(ت)
شرح مواقف میں ہے:
اثبات المتعددمن الذوات القدیمۃ ھوالکفراجماعا متعد ذوات قدیمہ کو ثابت کرنابالاجماع کفر ہے۔(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
من یؤول النصوص الواردۃ فی حشر الاجساد وحدوث العالم وعلم الباری بالجزئیات فانہ یکفر جو شخص حشر اجسادحدوث عالم اور اﷲ تعالی کے علم جزئیات کے بارے میں وارد ہونے والی نصوص میں تاویل کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔
بحرالرائق میں جمع الجوامع اور اس کی شرح سے منقول:
من خرج بیدعتہ من اھل القبلۃ کمنکریحدوث العالمفلا نزع فی کفر ھم لانکار ھم بعض ماعلم مجیئ الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بہ ضرورۃ ا ھ مختصرا۔ جو کوئی بدعقیدگی کی وجہ سے اہل قبلہ سے خارج ہوجائیں ان کے کفر میں کوئی نزاع نہیں کیونکہ وہ بعض ایسی چیزوں کے منکر ہیں جن کو لےکر رسول اﷲ کا تشریف لانا بالبداہت معلوم ہے اھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں شرح تحریر علامہ ابن الہمام سے منقول:
لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام من حدوث العالم وحشر الاجساد ضروریات اسلام کے مخالف کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں جیسے حدوث عالمحشر اجساد اور(باری تعالی کے)
",
938,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,104,"ونفی عــــــہ۱ العلم بالجزئیاتوان کان من اھل القلبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات ۔ علم جزئیات کا منکر ہونا اگرچہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو اور تمام عمر عبادات کی پابندی کرنے والا ہو۔(ت)
مخالفۃ الضروریات وکان الیہ سبیلان:
اور اسی طرح امام ابو زکریا یحیی نووی نے روضہ اور فاضل سید احمد طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں نقل کیا ہے۔غرض تصریحیں اس کی کتب ائمہ میں بکثرت ہیں۔ولا مطمح فی الاستقصاء(اور احاطہ مقصود نہیں۔ت)___حتی کہ اہل بدعت بھی اس میں مخالف نہیں۔کما یرشدك الیہ قولہ ""باجماع المسلمین""(جیسا کہ اس کا قول ""اجماع مسلمین"" اس کی طرف تیری رہنمائی کرتا ہے۔(ت)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ محصل میں فرماتے ہیں:
اتفق المتکلمون عــــــہ۲ علی ان القدیم یستحیل متکلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ قدیم کو فاعل کی
عــــــہ۱:اقول:ھکذا وقع فی الکتابوالصواب اسقاط النفی۔ فانہ ھوالکفرا جماعاوالضروری ھو الاثبات __وکانہ رحمہاﷲ تعالی لما ارادتمثیل مخالفۃ الضروریات وکان الیہ سبیلان:احداھما بتعدید المخالفاتو الاخری بذکر الضروریات فالتبست فی البیان احداھما بالاخری ___ فسلك الاخری فی الاولینوالاولی فی الاخر ___ و الامر واضح فلیتنبۃ ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:ھولفظ یعم جمیع النظارمن اھل القلبۃ المقتدرین علی اثبات عقائد ھم میں کہتا ہوں کتاب میں یونہی واقع ہوا جب کہ صحیح یہ ہے کہ لفظ ""نفی"" کو ساقط کیا جائے کیونکہ علم جزئیات کی نفی ہی بالاجماع کفر ہےاور ضروری اس علم کا اثبات ہے گویا کہ مصنف علیہ الرحمہ نے جب ضرویات اسلام کی مثال ذکر کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے دو طریقے تھے:پہلا یہ کہ مخالفات کو گنواتےاور دسرا یہ کہ ضروریات کا ذکر کرتےتو بیان میں دوونوں کا دوسرا یہ کہ ضروریات کو ذکر کرتے تو بیان میں دونوں ایك دوسرے سے غلط ملظ ہوگئے چنانچہ مصنف علیہ الرحم نے پہلی بار دونوں مثالوں میں دوسرے طریقے کو جب کہ تیسری مثال میں پہلے طریقے کو اختیار کیا۔معاملہ واضح ہےآگاہ ہونا چاہئے ۱۲ منہ(ت)
یہ لفظ اہل قبلہ میں سے تمام اہل نظر کو شامل ہے جو اپنے عقائد کو جس کے ذریعے انہیں اﷲ تعالی کا (باقی اگلے صفحہ پر)
",
939,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,105,"ستنادہ الی الفاعل عــــــہ ۔ طرف منسوب کرنا محال ہے۔(ت)۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
التی انوابہا اﷲ تعالی بایراد الحجج وادحاض الشبۃ ___سواء کانوامصبئین کمعشر اھل السنۃ والجماعۃ حفظھم اﷲ تعالی اوخاطئین کمن عداھم۔کما صریح بہ فی المواقف وغیرھا فالحاصل ""اتفق المسلمون""۱۲ منہ۔
عــــــہ۱:اقول:یعنی الفاعل المختاراذلافاعل موجبا ___عند نا__ وھذا ھو الذی قالوا:انہ اجمع علیہ المتکلمون ___اما ان القدیم لا یکن اسنادہ الی الفاعل مطلقا حتی الموجب لوکانفمسلکخاص للامام الزرازی لم یوافقہ علیہ کثیرون ____ حتی قالوا:ان القول بقدم العالم انما ساغ للفلا سفۃ لقولھم بالفاعل الموجب ولو لا ذلك وامنوابالفاعل المختار ___ لاذعنوا بحدوث العالم عن اخرہ __ و کذا ایجاب المسلمین حدوث کل مخلوق لقولھم بالفاعل المختار ___ولو لا ذلك لقالوا بالقدم قلت المقصود نفی الا جماع علی التعمیم ___ھو حاصل__ وان کان فی الکلام کلام۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم ۱۲ منہ۔ قرب حاصل ہوتا ہے ایرا د ودلائل و ازلہ شبہات کے ساتھ ثابت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔چاہے وہ صحیح ہوں جیسے اہلسنت کا گروہ۔اﷲ تعالی ان کی حفاظت فرمائےیا وہ غلط ہوں جیسے اہلسنت و جماعت کے علاوہ دیگر گروہ۔جیسا کہ مواقف وغیرہ میں صراحت کردی گئی ہے۔حاصل اس کا یہ ہے کہ ""تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے""۱۲ منہ(ت)
اقول:فاعل سے مراد فاعل مختار ہے کیونکہ فاعل موجب یعنی غیر مختار نہیں ہوتا۔اسی موقف کے بارے میں مشائخ نے کہا ہے کہ اس پر متکلمین کا اجماع ہے۔رہی یہ بات کہ قدیم کی نسبت مطلقا فاعل کی طرف نہیں ہوسکتی چاہے فاعل موجب ہو۔اگر وہ موجود ہو تو یہ خاص امام رازی کا مسلك ہے اس میں اکثریت نے ان کی موافقت نہیں کییہاں تك کہ مشائخ نے کہا فلاسفہ کا قدم عالم کا قول اسی صورت میں بزعم خویش درست ہوسکتا ہےکہ وہ فاعل موجب کے قائل ہیںاگر وہ فاعل مختار کا یقین کرلیں تو تمام عالم کے حدوث کا یقین کرلیں اور اسی طرح مسلمانوں کا ہر مخلوق کو حادث قرار د ینا اس لیے ہے کہ وہ فاعل مختار کے قائل ہیں۔اگر وہ اس کے قائل نہ ہوں تو قدم عالم کا قول کرلیں۔قلت:مقصد تو تعمیم پر اجماع کی نفی ہے___ اور وہ حاصل ہے___ اگرچہ کلام میں کلام ہے۔اﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ(ت)
",
940,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,106,"بلکہ حددث تمام اجسام و صفات اجسام پر تمام اہل ملل کا اتفاق ہے۔یہود و نصاری تك اس میں خلاف نہیں رکھتے۔فی شرح المواقف:
الاجسام محدثۃبذو اتہاالجوھریۃو صفاتھا العرضیۃ وھوالحقوبہ قال الملیون کلھم من المسلمین و الیہود والنصاری والمجوس ۔ اجسام اپنی ذوات جوہریہ اور صفات عرضیہ کے ساتھ حادث ہیںاور یہی حق ہے۔اور یہی کہا تمام ملتوں نے مسلمانوں یہودیوں نصاری اور مجوسیوں میں سے۔(ت)
اور بیشك زہد کا ان مضامین کفریہ کو مقام ردو استدلال میں لانااور ان پر اختیار مذاہب و تحقیق مشارب کی بنا رکھناصراحۃ ان کی رضا و قبول پر دال۔اور بالفرض نہ ہو تو بلا اکراہ ایراد میں کیا مقال !
وتذکر کل ماقدمنا من الکلام علی القول الاولتجد ھنالك مافیہ الغناء وعلیہ المعول۔ قول اول پر جو گفتگو ہم نے مقدم کی اس کو یاد کرلےاس میں تو غناء پائے گا اور اسی پر بھروسہ ہے۔(ت)
معدن ضلالات قول پنجم
یہ قول متعدد ضلالتوںمتکثرجہالتوں کی طرفہ معجونبلکہ معجون فلاسفہ قرۃ العیون ہے ______زید مسکین نے تشد بقری عــــــہ کو علق نفیس جان کر امنا بہ تو کہہ دیا مگر نہ دیکھا کہ اس پر کیا کیا شناعات عظیمہ ہائلہ وارد۔
فاقول:وبحول اﷲ تعالی اصول(چنانچہ میں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی کی توفیق سے حملہ آور ہوتا ہوں۔ت)
اولا:تمام انواع کا قدم لازم کہ جب طبائع مرسلہ میں مجرد امکان ذاتی ملاك فیضان۔اور امکان ذاتی یعنی دائرہ قدرت میں داخل ہوناقطعا ازلی۔والالزم الانقلاب(ورنہ انقلاب لازم آئے گا۔ت)_____ اور جناب مبدی تبارك و تعالی میں قطعا بخل نہیں۔تو واجب ہوا کہ ہر نوع قدیم ہو۔
عــــــہ:مؤلف المنطق الجدید تمسك ھنا بما تفوہ بہ الباقر وھذا اللفظ یشیرالیہ ۱۲ محمد احمد۔
",
941,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,107,"اور یہ امراصول باطلہ فلسفہ پر قدم ہیولی وقدم صورت جسمیہوقدم صورت نوعیہوقدم جمیع اشخاص منحصرہ فیہا الانواعوقدم بعض افراد عــــــہ۱ انواع باقیہوقدم انواع و اشخاص اعراض لازمہ علی التفصیل المشار الیہ(اس تفصیل کی بنیاد پر جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔ت)کو مستلزمکما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)پورا پورا مذہب نامہذب فلسفہ مزخرفہ کا ثابت ہوگیا۔
فلسفی متبوع عــــــہ۲ کا مطلب بمادۃ ومدۃ سے نکلتا تھامتفلسف تابع نے مستلزمہ للفعلیہ صاف لکھ دیاہیہات! اس متبوع سے کیا جائے شکایت کہ وہ حضرات تو قدیما و حدیثا سفہائے سفسطہ کے فضلہ خوار رہے ہیں۔ومن لم یستغن بالقرآن فلا اغناہ اﷲ (جو قرآن کے ذریعے استغناء حاصل نہ کرے اﷲ تعالی اس کو غنی نہیں کرتا ت)مگر اس تابع مدعی تسنن کا تلون و تفنن قابل تماشا______ نسال اﷲ الثبات علی الایمان والسنۃ(ہم اﷲ تعالی سے ایمان و سنت پر ثابت قدمی طالب کرتے ہیں۔ت)
ثانیا:اور اشدو اعظم قباحت لازم کہ اس تقدیر پر قدرت الہیہ صرف انواع موجودہ میں منحصر ہوجاتی ہے۔اور جو نوع نہ بنی اس کے یہ معنی کہ حق جل و اعلا کو اس پر قدرت ہی نہ تھی کہ اگر مقدور ہوتی تو ممکن ہوتی۔اور طبیعت مطلقہ میں نفس امکان مستلزم فیضانتو انتفائے لازم انتفائے ملزوم پر دلیل جازم ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
یہ شناعت خبیثہ تو ایسی ہے کہ جس طرح اسلامیوں کے نزدیك کفریونہی شاید فلسفیوں کو بھی مقبول نہ ہو کہ وہ بھی تقاسیم کلی میں کلی معدوم الافراد کو قسیم ممتنع الافراد کی قسم بتاتے ہیں۔کما صرح بہ فی اسفارھم(جیسا کہ ان کی معتمد کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ت)
یاللعجب!اگر باقر غافل تھا ""متبقر""تو عاقل تھا۔ولکن صدق ربنا تبارك و تعالی(لیکن ہمارے رب تعالی نے صدق فرمایا ت)
""فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾"" آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(ت)
عــــــہ۱:ای بمعنی فرد منتشر ۱۲ منہ۔ عــــــہ۲:باقرد امادشیعی ۱۲ م۔
",
942,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,108,"ثالثا:تابع و متبوع کا یہ قول کہ ""جانب مبدء میں بخل نہ ہونا مستلزم فیضان ہے"" اصول سنت سے محض مباین اہل سنت کا ایمان ہے کہ مبدیئ تبارك و تعالی جوادکریماکرم الاکرمین ہے۔جل جلالہ وتقدس فعالہ۔مگر بایں ہمہ کوئی شے اس پر واجب نہیں مانتے۔عالم جب تك نہ بنایا تھا وہ جب جواد تھا۔اور اگر کبھی نہ بناتا تاہم جواد ہوتا۔نہ اس نہ بنانے سے کوئی عیب اسے لگتا نہ کوئی نقصان اس کے کمال اکمل میں آتا۔کسی شے کا ایجاد و اعدام کچھ اس پر ضرور نہیں۔قال تعالی: "" "" (تمہارا رب جو چاہے کرے۔ت)وقال تعالی: "" یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾ "" ""یحکم ما یرید ﴿۱﴾"" (اور اﷲ جو چاہے کرے اور وہ حکم فرماتا ہے جو چاہے۔ت)وقال تعالی ""لایسـل عما یفعل وہم یسـلون ﴿۲۳﴾"" (اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا۔ت)وھذا واضح جلی عند کل من نور اﷲ بصیرتہ(اور یہ واضح اور خوب روشن ہے ہر اس شخص پر جس کی بصیرت کو اﷲ تعالی نے منور فرمایا۔ت)_______ اﷲ تعالی کا فرمان ہے: ""و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾"" (جسے اﷲ تعالی نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔ت)تویہ استلزام بھی اسی فلسفہ ملعونہ پر مبنی کہ قادر مختار تعالی شانہ کو فاعل موجب اور ایجاد عالم کو اس کے کمال کا سبب جانتے ہیں۔ تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا(اﷲ تعالی اس سے بہت بلند ہے جو ظالم کہتے ہیں۔ت)رابعا:متفلسف تابع نے شطرنج میں یغلہ اور طنبور میں ایك نغمہ اور زائد کیا کہ ""اگر غیر احق صادر اور احق غیر صادر ہو تو ترجیح مرجوح لازم آئے گی""۔
سبحن اﷲ ! نہ وہاں کوئی احقنہ قادر حمید"" فعال لما یرید ﴿۱۶﴾"" پر تمہاری عقول سخیفہ حاکم نہ ہمارے نزدیك اس کے ارادہ کے سوا کوئی مرجحاور ہو بھی تو اس پر کچھ اعتراض نہیں۔قال تعالی: "" ان الحکم الا للہ "" (حکم نہیں مگر اﷲ کا۔ت)وقال تعالی "" واللہ یحکم لا معقب لحکمہ "" (اور اﷲ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں۔(ت)
",
943,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,109,"وقال تعالی:
"" و ربک یخلق ما یشاء و یختار ما کان لہم الخیرۃ سبحن اللہ وتعلی عما یشرکون ﴿۶۸﴾ "" اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہی ان کا کچھ اختیار نہیںپاکی اور برتری ہے اﷲ کو ان کے شرك سے-(ت)
واضح تر کہوں_____ حاصل مذہب اہل سنت یہ ہے کہ تمام مقدورات اس جناب رفیع کے حضور یکساں ہیں۔کوئی اپنی ذات سے کچھ استحقاق نہیں رکھتا کہ ایك کو راحج دوسرے کو مرجوع کہیں۔علامہ سنوسی شرح جزائریہ میں فرماتے ہیں:
ان الذی اوقع المعتزلۃ فی الضلالاتکا یجاب الثواب وفعل الصلاح ولاصلح علی اﷲ اعتماد ھم فی عقائد ھم علی التحسین والتقبیح العقلیینوقیاسھم افعال اﷲ تعالی واحکامہ علی افعال المخلوقین و احکامھممن غیران یکون فی ذلك جامع یقتضی التسویۃ فی الاحکاموالذی اجمع علیہ اھل الحق ان الافعال کلھا مستویۃ بالنسبۃ الی تعلق قدرۃ اﷲ تعالی وارادتہ عــــــہ بھا ۔ جس چیز نے معتزلہ کو اﷲ تعالی پر ثواب اور فعل صلاح و اصلح کے واجب قرار دینے جیسی گمراہیوں میں ڈالا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عقائد میں حسن و قبح کے عقلی ہونے پر اعتماد کیا۔اور اﷲ تعالی کے افعال و احکام کو مخلوق کے افعال و احکام پر قیاس کیا حالانکہ کوئی ایسا امر جامع موجود نہیں جو احکام میں برابر ی کا مقتضی ہواور جس پر اہل حق کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ بے شك اﷲ تعالی کی قدرت وارادہ کے ساتھ متعلق ہونے میں تمام افعال برابر ہیں۔(ت)
عــــــہ:ای فیقدر علی کل شیئ ویفعل مایرید لاترجیح قبل ارادتہ وانما الترجیح بارادتہ فہی موجبۃ یعنی وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کے ارادہ سے پہلے کوئی ترجیح نہیںترجیح تو فقط اس کے ارادہ کی وجہ سے ہوتی ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
",
944,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,110,"وہاں صرف ترجیح اس قدیر مجید عزمجدہ کے ارادہ سے ہے۔جس چیز کے ایجاد سے اس کا ارادہ متعلق ہوگیا اسی نے ترجیح پالی۔
شرح طوالع میں ہے:
تخصیص بعض المقدورات بالتحصیلوبعضھا بالتقدیم والتاخیرلا بدلہ من مخصصلان نسبۃ جمیع المقدورات الی ذاتہ متساویۃ ولیس ھونفس العلمفانہتابع للمعلومولا القدرۃ فان نسبتہا الی الجمیع علی وتیرۃ واحدۃ فلا بد من صفۃ اخری من شانہا التخصیصوھی الارادۃ ا ھ ملخصا۔ بعض مقدورات کے تحصیل اور بعض کے تقدیم و تاخیر کے ساتھ خاص کرنے کے لیے کسی مخصص کا ہونا ضروری ہے کیونکہ تمام مقدورات کی نسبت اﷲ تعالی کی ذات کی طرف مساوی ہےاور وہ مخصص نفس علم نہیں کیونکہ وہ تو معلوم کے تابع ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قدرت ہے کیونکہ اس کی نسبت سب کی طرف ایك جیسی ہے لہذا کسی اور صفت کا ہونا ضروری ہے جس کی شان تخصیص ہے اور وہ ارادہ ہے ا ھ تلخیص(ت)
اور بفرض باطل اگر یہاں کوئی مرجح ہو بھی تو اس کا اتباع مولی مقتدر جل جلالہ پر ضرور نہیں۔اسے اختیار ہے چاہے راجح کو کبھی نہ کرے اور مرجوع کو خلعت وجود عطا فرمائے۔زنہار اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔شرح مواقف میں ہے:
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الرجحان لاھومحرك الارادۃ ___ ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام۔وقد راینا تصدیق ذلکفی قعبی العطشان و طریقی السالکفارادۃ اﷲ سبحنہ اولی بذالك ۱۲ منہ۔ چنانچہ ارادہ موجب رجحان ہے نہ کہ رجحان محرك ارادہاس مقام کو یوں ہی سمجھنا چاہیے اور تحقیق ہم نے اس کی تصدیق پیا سے کے دو پیالوں اور چلنے والے کے دو راستوں مین دیکھی ہے۔پس اﷲ سبحانہ و تعالی کا ارادہ اس کے لیے اولی ہے۔۱۲ منہ(ت)
",
945,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,111,"اعلم ان الامۃ قد اجمعت اجماعا مرکبا علی ان اﷲ تعالی لایفعل القبیح ولا یترك الواجبفالاشاعرۃ من جہۃ انہ لاقبیح منہ ولا واجب علیہواما المعتزلۃ فمن جہۃ انہ ما ھو قبیح یترکہ وما یجب علیہ یفعلہ۔ونحن قد بینا فیما تقدم انہ تعالی الحاکم فیحکم بما یرید ویفعل مایشاءلاوجوب علیہ کما لاوجوب عنہ ولا استقباح منہ ا ھ ملتقطا۔ تو جان لے کہ امت کا اس پر اجماع مرکب ہوچکا ہے کہ بے شك اﷲ تعالی فعل قبیح نہیں کرتا اور نہ واجب کو ترك فرماتا ہے۔اشاعرہ تو اس جہت سے کہتے ہیں کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہو وہ قبیح نہیں اور اس پر کچھ واجب نہیںاور معتزلہ اس جہت سے کہ جو قبیح ہے وہ اس کو ترك کرتا ہے اور جو واجب ہے وہ اس کو کرتا ہے۔اور بے شك ہم ماقبل میں واضح کرچکے ہیں کہ اﷲ تعالی حاکم سے جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اس پر کچھ واجب نہیں جیسا کہ اس سے کچھ واجب نہیں اور نہ ہی اس کیطرف سے کچھ قبیح ہے اھ التقاط(ت)
مولی ناصح محمد آفندی برکلی طریقہ محمدیہ و سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہندیہ میں فرماتے ہیں:
لایلزم علیہ تعالی شیئ من فعل صلاح او اصلح او فساد اور افسد بل ھوالفاعل العدل المختار و یخلق اﷲ مایشاء و یختا ر اھ مختصرا۔ اﷲ تعالی پر فعل صلاح یا اصلح یا فساد یا افسد میں سے کچھ بھی لازم نہیں بلکہ وہ فاعل عادلمختار ہے اور جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور پسند فرماتا ہے اھ اختصار(ت)
شرح عقائد نسفی میں ہے:
لیت شعری مامعنی وجوب الشیئ علی اﷲ تعالی اذ لیس معناہ استحقاق تارکہ الذم والعقابوھو ظاھر ولا لزوم صدورہ عنہ تعالی بحیث لایتمکن من الترك بناء علی استلزامہ کاش میرا علم حاضر ہواﷲ تعالی پر کسی شیئ کے واجب ہونے کا کیا معنی ہے اس لیے کہ یہاں یہ معنی تو ہو نہیں سکتا کہ اس کا تارك ذم وعقاب کا مستحق ہے اور وہ ظاہر ہے اور نہ ہی یہ معنی ہوسکتا ہے کہ اس واجب کا صدور اﷲ تعالی
",
946,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,112,"محالا من سفہ اوجہل اوعبث اوبخل او نحر ذلك لانہ رفض لقاعدۃ الاختیارومیل الی الفلسفۃ الظاھرۃ العوار ۔ سے لازم ہے بایں طور کہ اس کے ترك پر قادر نہیں اس بنیاد پر یہ محال کو مستلزم ہے یعنی سفہجہلعبثبخل یا اس کی مثل کوئی اور قباحت لازم آئے گی۔یہ معنی اس لیے نہیں ہوسکتا کہ اس سے مختار ہونے کے قاعدے کا ٹوٹ جانا اور اس سے فلسفہ کی طرف میلان لازم آتا ہے جس کا عیب ظاہر ہے۔(ت)
دیکھو اس عبارت میں اس فلسفی کے الزام بخل کا بھی رد ہے۔وﷲ الحجۃ السامیۃ(اور اﷲ تعالی ہی کی حجت بلند ہے (ت) اور یہ سب مطالب کہ علماء نے افادہ فرمائے فردا فردا ان آیات کریمہ کہ فقیر نے تلاوت کیںثابت اوراگر کچھ نہ ہوتا سو آیہ کریمہ "" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ "" (بے شك اﷲ سب کچھ کرسکتا ہے۔ت)کے تو بس تھی کہ مرجوع بھی ایك شے ہی اور ہر شے مقدور۔اور معنی قدرت نہیں مگر صحت فعل وترکیعنی کرے یا نہ کرے دونوں یکساںاور کسی تقدیر پر کچھ حرج و نقصان نہیں۔طوائع میں ہے:
القادر ھو الذی یصح منہ ان یفعل المقدور وان لا یفعل اھ۔ قادر وہ ہے جس سے مقدور کو کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح ہوں ا ھ(ت)
پھر ترجیح مرجوع کا الزام کیسا !_____ ا ور قادر مختصار پر یہ تقولات کس شریعت میں روا !
ثم اقول:بعبارۃ اخصر(پھر میں مختصر عبارت کے ساتھ کہتا ہوں۔ت)ہم پوچھتے ہیں قول زید ""لزم ترجیح المرجوع"" (مرجوع کو ترجیح دینا لازم آیا ت سے کیا مقصود ____ آیا استحالہ ذاتیہ ____ تو بین البطلان کہ وہ ہماری قدرت فانیہ زائلہ قاصرہ باطلہ کے تحت میں داخل ____ نہ کہ قدرت باقیہ تامہکاملہ دائمہ ____ یا یہ کہ خدا کو عیب لگے گا___ تو یہ وہی اس غنی حمید کو بندوں پر قیاس کرنااور صد ہا نصوص قرآنیہ سے منہ پھیرنا ہے۔
ہمارے فعل بھلے برے سب طرح کے ہیں اور وہ جو کچھ کرے سب اچھا___ وہی کام ہم کریں ہم پر اعتراض ہو۔وہ کرے اس پر اصلا اعتراض نہیں___ یقین نہ آئے تو کافر کی حمایت میں کسی مسلمان کو قتل کر دیکھو۔
",
947,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,113," اور اس نے بارہا کفار کو مسلمین پر غلبہ دیا۔
واﷲ ! یہ وہ جگہ ہے کہ مومن کا دل اپنے مولی کی محبت سے چھلکےالعظمۃ ﷲ(عظمت اﷲ کے لیے ہے۔ت)جمیل کی ہر بات جمیل(ہیہات ہیہاتبلاتشبیہ)میلے کپڑی کی بدصورت پر سخت بدنما ہوں کسی حسین کو پہننے دیجئےدیکھئے کتنی بہار دیتے ہیں۔ وﷲ المثل الاعلی(اور اﷲ ہی کے لیے ہے سب سے برتر شان۔ت) عیاذا باﷲ(اﷲ کی پناہ۔ت)اگر وہ اپنے بندہ مسلمان کو دوزخ میں ڈالے۔(اور اسی کے وجہ کریم کی پناہ)اس وقت اس مومن سے پوچھئے تیرے رب نے یہ کام کیسا کیا واﷲ ! یہی کہے گا کہ بہت اچھانہایت خوبکمال بجاولکن عافیتك اوسع لی(لیکن تیری عافیت میر ے لیے زیادہ وسعت والی ہے۔
بالجملہ زید کا یہ قول انواع انواع ضلالات وجہالات کا مجمع _____ اور صریح فلسفہ و اعتزال اس کا منبع ____نسأل اﷲ العافیۃولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الحکیم۔(ہم اﷲ تعالی سے عافیت مانگتے ہیںاور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اﷲ عزت والے حکمت والے کی توفیق سے۔ت)
قول ششم
میں کہ ""عقول عشرہ کا تمام نقائص و قبائح سے مقدس و منزہاور ان کے علم کا تام و محیط باحاطہ تامہ ہونا نقل کیا۔یہاں تك کہ کوئی ذرہ ذرات عالم سے ان پر مخفی رہنا ممکن نہیں""_____ یہ خاص صفت حضرت عالم الغیب و الشہادہ کی ہے جل و علا۔ قال تعالی
"" وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السماء "" نہیں چھپتی تیرے رب سے ذرہ برابر چیز زمین میں اور نہ آسمان میں۔
اور اس کا غیر خدا کے لیے ثابت کرنا قطعا کفر لعزۃ اﷲ(عزت اﷲ کے لیے ہے۔ت)اس عدم امکان کو مسلمان غور کرے کہ کیسا کفر و اشگاف اور کتنے صریح نصوص قرآنیہ کا خلاف ہے۔
قال تعالی: "" و ما یعلم جنود ربک الا ہو ""۔ کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکروں کو
",
948,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,114,"اس کے سوا۔وقال تعالی: "" الیہ یرد علم الساعۃ ""۔ اسی کی طرف پھیرا جاتا ہی علم قیامت کا
وقال تعالی:"" و یقولون متی ہذا الوعد ان کنتم صدقین ﴿۲۵﴾ قل انما العلم عند اللہ ۪ و انما انا نذیر مبین ﴿۲۶﴾ "" ۔ کافر کہتے ہیں یہ قیامت کا وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔تو فرما اس کا علم تو خدا ہی کو ہےاور میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں صاف صاف۔
وقال تعالی: "" ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء"" ۔نہیں گھیرتے اس کے علم سے کچھمگر جتنا وہ چاہے۔
وقال تعالی حکایۃ عن ملئکتہ: "" سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم﴿۳۲﴾"" پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔بے شك تو ہی ہے داناحکمت والا۔
سبحن اﷲ ! متفلسفہ کہتے ہیں کہ عقول عشرہ ملئکہ سے عبارت ہے۔اگرچہ یہ بات محص غلطکہ جوامور وہ بے عقول ان دس عقول کے لیے ثابت کرتے ہیںصفات ملئکہ سے اصلا علاقہ نہیں رکھتے۔ولا اکذب ممن کذبہ القرآن(اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹا نہیں جس کو قرآن نے جھوٹا قرار دیا۔ت)بلکہ یہ صرف ان سفہاء کے اوہام تراشیدہ ہیں جن کی اصل نام کو نہیں۔
"" ان ہی الا اسماء سمیتموہا انتم و اباؤکم ما انزل اللہ بہا من سلطن "" وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔اﷲ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔(ت)
تاہم اگر مان لیں اور یوں سمجھیں کہ مشرکین عرب نے شان املاک(فرشتے)میں غلو کے ساتھ تفریط بھی کی کہ انہیں عورتیں ٹھہرایا۔کفار یونان نے وہ افراط خالص بنایا کہ اوصاف خلق سے متعالی بتایا۔تو اب اس آیہ کریمہ سے ان عقول کی حالت ادراك کیجئے۔
کس طرح ان احمقوں کو جھٹلاتےاور اپنے مالك کے حضور اپنے عجزو بے علمی کا اقرار لاتےاور پاکی و قدوسی اس کے وجہ کریمہ کے لیے خاص ٹھہراتے ہیں۔صدق اﷲ تعالی:
",
949,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,115,""" سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیہم ضدا ﴿۸۲﴾ "" عنقریب وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔(ت)
اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
من ادعی علم الغیب فی قضیۃ اوقضایالایکفر ومن ادعی علمہ فی سائر القضایا کفر جس نے ایك قضیہ یا چند قضایا میں علم غیب کا دعوی کیا وہ کافر نہ ہوگا۔اور جس نے تمام قضایا میں اپنے علم کا دعوی کیا وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
اور اسی میں علمائے حنیفہ سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول:
اووصف محدثا بصفاتہ او اسمائہ الخ یا کسی حادث کو اﷲ تعالی کی صفات یا اس کے اسماء کے ساتھ متصف کیا الخ(ت)
غرض حکم مسئلہ واضح ہے۔صرف محل نظر اس قدر کو یہاں زید نے لفظ عندھم لکھ دیا کہ صراحۃ حکایت پر دال۔اقول:مگر قطع نظر اس سے کہ جملہ لایمکن ان لایعلم العقل الا ول مثلا الخ(یہ ناممکن ہے کہ مثلا عقل اول کو علم نہ ہوا الخ۔ت)کہ خود وکفر جلی ہےداخل حکایت نہیںبلکہ تنزہ تام پر تفریح ہے کما یشھد بہ سوق البیان(جیسا کہ سیاق بیان اس پر شاہد ہے۔ت)عجب کرتا ہوں کہ یہ اسے مفید ہوا۔اس نے مجردات کا جزئیات مادیہ کو بروجہ جزئی جاننا اپنا مذہب محقق بتایا۔اور اس کی حقانیت پر اس قول کو دلیل ٹھہرایاتو وہ یہاں محض محل نقل وحکایت میں نہیںبلکہ مقام تمسك واستناد میں ہے۔وہ بھی مجیبا و منتصرا نہ سائلا وصائلا۔تو یہ صاف امارت رضا و قبول ہے کما لایخفی علی کل عاقلفضلا عن فاضل(جیسا کہ ہر عاقل پر پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ فاضل پر پوشیدہ ہو۔ت)علاوہ بریں ہم ثابت کرآئے کہ ایسے اقوال کا بہ تصریح حکایت بیان کرنا بھی حلال نہیں جب تك مقرون بہ ردو انکار نہ ہو۔
وبعداللتیا والتی اس قول کی شناعت و بشاعت میں شك نہیں۔تدبرتدر(غور کر
",
950,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,116,"تو سمجھ لے گا۔ت)
قول ہفتم
میں اس کفر بواح کو خوب چمکایا اور روئے ریا سے پردہ حیات اٹھا کر حق مبین و قول محققین ٹھہرایا صاف لکھا کہ۔عدم زمانی حقیققہ عدم نہیں جس نے کسی وقت میں خلعت وجود پایا یا پائے گا۔وہ نہ معدوم تھانہ معدوم ہوبلکہ یہ فقط پر دہ وحجاب ہیں۔پہلے نہ تھایعنی پوشیدہ تھا۔اور اب نہ رہا۔یعنی چھپ گیا۔ورنہ حقیقتہ وہ واقع و نفس الامر میں وجود سے منفك نہیں۔
انا اﷲ وانآ الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ کے مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھرنا ہے۔ت)
اس قول شنیع پر جو شناعات شدیدہ لازمحدعد سے خارج۔ولکن مالایدرك کلہ لایترك کلہ(لیکن جو چیز مکمل طور پر پائی نہ جاسکتی ہو وہ مکمل طور پر چھوڑ ی نہ جائے گی۔ت)
فاقول:وباﷲ التوفیق:(تو میں کہتا ہوںاور اﷲ تعالی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت):اولا نصوص صریحہئ قرآنیہ کا خلاف
اﷲ تبارك و تعالی فرماتا ہے۔
"" اولا یذکر الانسن انا خلقنہ من قبل ولم یک شیـا ﴿۶۷﴾"" کیا آدمی یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اسے بنایا اس سے پہلےاور وہ کچھ نہ تھا۔
زید متفلسف کہتا ہے۔تھا کیوں نہیں البتہ پوشیدہ تھا۔حق جل و علا فرماتا ہے:
"" و انہ اہلک عادۨ ا الاولی ﴿۵۰﴾ و ثمودا فما ابقی ﴿۵۱﴾"" اﷲ نے ہلاك کردیا اگلی قوم عاد کو اور ثمود کوسو ان میں کوئی باقی نہ رکھا۔
زید متفلسف کہتا ہےباقی کیسے نہیں واقع و نفس الامر میں روحیں بدن سے متعلق ہیں۔ہاں نگاہوں سے چھپ گئے۔رب تعالی وتقدس فرماتا ہے:
",
951,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,117,""" کل من علیہا فان ﴿۲۶﴾ و یبقی وجہ ربک ذوالجلل و الاکرام ﴿۲۷﴾"" جتنے زمین پر ہیں سب فنا ہونے والے ہیں اور باقی رہے گا تیرے رب کا وجہ کریم عظمت و تکریم والا۔
زید متفلسف کہتا ہےباقی تو سبھی رہیں گے مگر _______ اور پردہ میںاور توظاہر۔
اسی طرح صدہا آیات و احادیث ہیں جن سے زنہار زید کو جواب ممکن نہیں۔مگر یہ کہ جہاں جہاں قرآن و حدیث میں خکلق و ایجاد و ابداع و تکوین واقع ہوئے ہیںانہیں بمعنی ظہوراور اماتت و اہلاك و افنا واعدام کو بمنی تغییب اور عدم وفنا و موت و ہلاك کو بمعنی غیبوبت(کہے عــــــہ)
اور پر ظاہر کہ یہ تاویل نہیںتبدیل ہےکہ ہر گز لغت و عرف کچھ اس کے مساعد نہیں _______ اشقیائے فلاسفہ قرآن عظیم میں یوں ہی تحریف معنوی کرتے ہیں ___ جنت کیا ہے لذت نفسانی ___ نار کیا ہے الم روحانی "" تطلع علی الافـدۃ ﴿۷﴾"" (وہ آگ جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ت)دیکھا "" فی عمد ممددۃ ﴿۹﴾"" ۔(لمبے لمبے ستونوں مین ان پر بند کردی جائے گی۔(ت)سے کام نہیں۔عیاذا باﷲ(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
وہ دن قریب آتا ہے کہ "" یوم یدعون الی نار جہنم دعا ﴿۱۳﴾"" (جس دن جہنم کی طرف دھکادے کر دھکیلے جائیں گے۔(ت)جہنم میں دھکادے کر پوچھا جائے گا۔""افسحر ہذا ام انتم لا تبصرون ﴿۱۵﴾"" ۔کیوں بھلا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں ___ اس وقت ان تاویلوں کا مزہ آئے گا۔"" فانتظروا انی معکم من المنتظرین ﴿۷۱﴾"" ۔(تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں۔ت)
اور ایك انہیں پر کیا ہےدنیا بھر کے بدعتی نصوص شرع کے ساتھ یوں ہی کھیلتے ہیں۔خود اصل بدعت و منشاء ضلالت اسی قسم کی تاویلیں ہیں۔معتزلہ کہتے ہیں: "" والوزن یومئذ الحق ""۔ تول اس دن حق ہے _______ یعنی جانچ ہوگیمیزان کچھ نہیں۔
",
952,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,118,"""وجوہ یومئذ ناضرۃ ﴿۲۲﴾ الی ربہا ناظرۃ ﴿۲۳﴾"" کچھ منہ اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے۔
یعنی اس کی رحمت کی امید رکھتے رویت الہی نہ ہوئےالی غیر ذلك من الجھالات الکثیفۃ والضلالات الخسیفۃ(اس کے علاوہ بھاری جہالتوں اورذلیل گمراہیوں سے۔ت)۔
پھر کیا یہ تاویلیں ان کے کام آئیں اور انہیں بدعتی ہونے سے بچالیا _______ تاہم وزن سے جانچ اور منہ دیکھنے سے امید واری مراد ہونا اتنا بعید نہیں جس قدر بے لگاؤ تحریفیں اس متفلسف کو کرنی پڑیں گی۔کما لایخفی _______ واﷲ الھادی(جیسا کہ پوشیدہ نہیںاور اﷲ ہی ہادی ہے۔ت)
شفا شریف میں باطنیہ وغیرہم غلاۃ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:
زعمواان ظواھر الشرع لیس منھا شیئ علی مقتضی ومفھوم خطابھا وانما خاطبوابھا الخلق علی جہۃ المصلحۃ لھم اذلم یمکنھم التصریح لقصور افھامھم فمضمن مقالاتھم ابطال الشرائع وتکذیب الرسل والارتیاب فیما اتوابہ اھ ملخصا ۔ انہیں(باطنیہ)نے گمان کیا کہ نصوص شرع اپنے ظاہر ی الفاظ و خطاب کے مقتضی پر نہیںر سولوں نے تو مخلوق کو محض ان کی مصلحت کے اعتبار سے خطاب کیا کیونکہ مخلوق کی کم فہمی کی و جہ سے رسولوں کے لیے تصریح کرناممکن نہ تھا۔ان لوگوں کو(باطنیہ)کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ احکام شرع باطل ہو جائیںرسولوں کی تکذیب ہوجائے اور رسولوں کے لائے ہوئے احکام میں شك و شبہ پیدا ہوجائے اھ تلخصیص(ت)
اہل سنت کا اجماع ہے کہ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کیے جائیں اور ان میں پھر پھار حرام و نابہ کار کماصرح بہ فی کتب العقائد متنا وشرحا(جیسا کہ کتب عقائد چاہے متن ہوں یا شرح میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)
ثانیا: جب وعائے دہر میں باقی رہنا حقیقۃ وجود ٹھہرااور اعدام زمانیہ محض حجاب وخفاتو لازم آیا کہ حضرت حق جل وعلا کسی موجود کو معدوم نہ کرسکے۔اور اس کی مخلوق پر اس کا قابو نہ رہے کہ
",
953,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,119,"غایت درجہ انہیں غائب کرسکتا ہےصفحہ دہر سے مٹانا کیونکر ممکن کہ ان ہوئی کبھی نہ ہوگی۔_______ وھذا بین اجدا(اور یہ خوب ظاہر ہے۔ت)
والحاصل ان العدم الحقیقی علی ھذاھوالارتفاع عن صفحۃ الدھرکما اعترف بہوکل ماوجد ا یوجد فانہ مرتسم فیہا۔وانما المرتفع مالم یتناولم اسم الوجود من ازل الازال الی ابد الابود۔فما دخل فی الکون ولوانا قدتناولہ اسم الوجود___ لایمکن و لوانا قدتنا ولہ اسم الوجود۔لایمکن ان یصیر التناول لاتناولا فاستحال العدم الحقیقی والعیاذ باﷲ تعالی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس نظریے کی بنیاد پر عدم حقیقی صفحہ دہر سے مرتفع ہونے کا نام ہےجیسا کہ زید نے اس کا اعتراف کیا ہےجو شے بھی پائی گئی پائی جائے گی کہ وہ اس میں مرتسم ہے۔مرتفع تو فقط وہ ہے جو ازل سے ابد تك اسم وجود سے موسوم نہ ہو۔لہذا جوشیئ کون میں ایك آن کےلیے بھی داخل ہوئی اسم وجود اس کو متناول ہوگیا اور تناول کا لاتناول ہونا ممکن نہیں ہے۔چنانچہ عدم حقیقی محال ہوا۔اور اﷲ تعالی کی پناہ(ت)
ثالثا: جو مسلمان بہ شفاعت سیدالشافعین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا بہ محض رحمت ارحم الراحمین جلت عظمتہجہنم سے نکل کر جنت میں جائیںاس مذہب پر لازم کہ وہ واقع ونفس الامر میں جہنم میں ہوں اور اس نکلنے کا صرف یہ حاصل کہ ان کا دوزخ میں ہونا مخفی ہے۔
یوں ہی ابلیس قبل انکار سجود جنت میں تھاقال تعالی:
"" فاہبط منہا فما یکون لک ان تتکبر فیہا"" اتر جنت سے کہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں غرور کرے۔
تو لازم کہ واقع و نفس الامر میں وہ جنت میں ہے اور یہ نکالنا فقط اس امر کا چھپا ڈالنا۔
اگر کہیے ان مسلمانوں کو عذاب و عقاب کی تکلیف نہ رہے گی _______ ہم کہیں گے تمہارے طور پر بے شك رہے گی ____ نہایت یہ کہ چھپے چوری ____ واستغفراﷲ العظیم(میں عظمت والے اﷲ سے مغفرت چاہتا ہوں ت)۔اس طرح شیطان کا التذاذ۔غرض یہ کہ کسی قدر کوشش کیجئے خفاء وظہور سے بڑھ کر کوئی بات نہ نکلے گی۔اور کام واقع و نفس الامر سےہے۔
",
954,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,120,"رابعا:لازم کہ کافر عــــــہ بحالت کفر داخل جنت ہو _______مثلا زید کا فر تھا اب اسلام لایا تو اس کے کفر پر صرف عدم زمانی طاری ہوا جس کا محصل اختفاسے زیادہ نہیں _______ وجود حقیقی کی نفی نہیں کرسکتا _______ اور کفر طبیعت ناعتیہ ہے کہ اپنے قیام کو طالب موضوع اور تبدل موضوع بہ اجماع عقلا ممنوع:
فان القائم بھذا غیر القائم بذاک۔ اس لیے کہ جو اس کے ساتھ قائم ہے وہ اور ہےاور جو اس کے ساتھ قائم ہے وہ اور ہے۔(ت)
تو بالضرور وہ کفر کہ واقع و نفس الامر میں موجود ہے۔زید ہی کی ذات سی قائم۔اور قیام مبدء صدق مشتق کو مستلزم تو حقیقتہ وہ کافر بھی ہے۔
اور ہر کافر کہ مسلمان ہوجائے بہ حکم شرع داخل جنگ ہوگا۔تو بالضرورۃ لازم کہ یہ کافر باوصف کفر داخل جنت ہو ___ نہایت کارد یہ کہ وہ کفر اس کابہ وجہ عدم زمانی پوشیدہ ہے اور اسلام آشکار۔
خامسا:جب سابق ولا حق اعدام زمانیہ سب احتجاب و خفا تو لازم کہ عالم ایجاد کا ذرہ ذرہ ازلی ابدی ہو۔زید کل تك نہ تھایعنی پوشیدہ تھا____ پرسوں نہ رہے گا یعنی چھپ جائے گا_____ وجود حقیقیدائم و سرمدی ____ اس سے بڑھ کر کون سا کفر ہوگا !
تقریرہ ان القدم الذی نخصہ بالملکالعزیز جل جلالہ وصفاتہ العلیی لیس بمعنی ان لایمرز مان الا وھو فیہاولا یخلوعنہ جزء من اجزاء الزمانفانہ سبحنہ وتعالی متعال عن الزمانلایمر علیہ زمان کمالایحیط بہ مکانفہو مع کل زمان لکن لیس فی الزمانوکذلك صفاتہ جلت اسماء ہالا تری ان الفلاسفۃ قالوابقدم العقول اس کی تقریر یہ ہےکہ جو قدم ہم اﷲ تعالی کی ذات اور اس کی صفات عالیہ کے ساتھ مختص کرتے ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ کوئی زمانہ نہیں گزرتا مگر وہ اس میں ہوتا ہے یا یہ کہ اجزاء زمانہ میں سی کوئی جز اس سے خالی نہیں ہوتی۔اس لیے کہ اﷲ سبحنہ و تعالی زمان سے برتر ہے۔اس پر زمان کا مرور نہیں ہوسکتا جیسا کہ مکان اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔چنانچہ وہ ہر زبان کے ساتھ ہے لیکن ہر زمان میں نہیں ہے۔یونہی اس کی صفات جلیلہ ہیں۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ فلاسفہ نے عقول کو قدیم کہا تو ہم نے
عــــــہ:یوں ہی لازم کہ مسلمان باوصف اسلام مخلد فی النار ہو کما فی الارتدادوالعیاذ باﷲ والبیان البیان(جیسا کہ ارتعداد میں ہوتا ہے۔اور اﷲ کی پناہ۔جو بیان تمہارا وہی بیان ہمارا۔ت۱۲ منہ
",
955,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,121,"فاکفرنا ھممع انھم لایعتقدون قدمھا بالمعنی المذکور لانھا ایضا لیست عندھم من الزمانیات فاذن لانعنی بہ الا ان الشیئ لابدایۃ لوجودہ کما نقصد بالابدیۃ ان لانھایۃ لخلودہوھذا ظاھر جلی و قد صرح بہ آئمۃ الکلام کالامام الرازی وغیرہ۔ و آذاکان الامر کما وصفنالکوالاعدام الزماتیۃ لا تزید عندك علی غیبۃ وخفاء فاذن ما نظنہ ان الحدوث وان الفناء لیسا بھماولا بھما بدایۃ الوجود ونھایتہ وانما ھما انابدایۃ الظھور وانتھاءہاما الوجود الواقعی فلا اول لہ ولا اخراذلیس فی الدھر علی القول بہ امکان یسع ""یکون وقد کان"" فماخلت عنہ الصفحۃ لایرتسم فیھا ابداوما ارتسم فیھا مرۃ لاینمحق عنھا اصلافلابد ان کل موجود کان مستقرا فیھا من الازلویبقی مستمرا الی الابد فثبت ان لابدایۃ لوجودالعالم ولانھایۃ وھذا ما اردنا الالزام بہیقول العبدالضعیف انہیں کافر قرار دیا باوجود یہ کہ وہ معنی مذکور کے ساتھ عقول کے قدیم ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتےکیونکہ ان کے نزدیك عقول بھی زمانیات میں سے نہیں ہیں۔تو اب قدیم ہونے سے ہماری مراد فقط یہ ہے کہ شیئ کے وجود کی ابتداء نہ ہو جیسا کہ ہم ابدیت سے اس معنی کا قصد کرتے ہیں کہ اس کی خلود کی انتہا نہ ہو۔اور یہ خوب ظاہر ہے۔تحقیق اس کی تصریح فرمائی ہے آئمہ کلام نے جیسے امام رازی وغیرہ۔اور جب معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ہم نے تیرے لیے بیان کیا اور اعدام زمانیہ تیرے نزدیك حجاب و خفاء سے بڑھ کر نہیں ہیں تو اس صورت میں لازم آئے ا کہ جس کو ہم آن حدوث اور آن فناء گمان کرتے ہیں وہ آن حدوث و آن فناء نہ ہوں اور نہ ہی ان سے وجود کی ابتداء وانتہاء ہو بلکہ وہ تو ظہور کی آن ہدایت و آن نہایت ہوں گی۔رہا وجود واقعی تو اس کا نہ اول ہے نہ آخرکیونکہ اس قول کی بنیاد پر دہر میں کوئی امکان نہیں جو ہوسکتا ہو اور ہوچکا ہو۔ چنانچہ جس شے سے صفحہ دہر خالی ہے وہ کبھی بھی صفحہ دہر میں مرتسم نہیں ہوگا اور جو اس میں ایك مرتبہ مرتسم ہوگیا ہے وہ کبھی بھی اس سے نہیں مٹے گا۔لہذا ضروری ہے کہ ہر موجود اس میں ازل سے مستقر ہواور ابد تك مسلسل باقی رہے۔تو ثابت ہوگیا کہ وجود عالم کی نہ ابتداء ہے نہ انتہاء۔اور یہ ہی وہ الزام ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا۔عبدضعیف کہتا ہے۔",
956,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,122,"لطف بہ المولی اللطیف:انا لو اوسعنا المقالفی ابطال ھذاالمحال فعندنا بحمداﷲ تعالی شوارق بوارق تبھر العماء عــــــہ * وسحائب قواضب تمطر الدماء و لئن تضرعنا الی القریب المجید *لرجونا المزید* ونلنا البعید *ولکن فیما ذکرنا کفایۃ *لاھل الدرایۃ *والحمداﷲ علی حسن الہدایۃ * اﷲ مہربان اس پر مہربانی فرمائے کہ اگر ہم اس محال کو باطل کرنے میں کلام کو وسعت دیں تو اﷲ تعالی کی مہربانی سے ہمارے پاس ایسی چمکدار بجلیاں ہیں جو بلند بادل پر غالب آجائیں اور ایسی تیز برسنے والی بدلیاں ہیں جو خون برسا دیں۔ اور اگر ہم اپنی قریب بزرگی والے رب کی بارگاہ میں فریاد کریں تو مزید کی امید ہے اور ہم بعید کو بھی پالیں۔لیکن جس قدر ہم نے ذکر کیا ہی اس میں سمجھدارون کے لیے کفایت ہے اور اچھی ہدایت پر اﷲ تعالی کے لیے تمام حمدیں ہیں۔ (ت)
اے مسکین ! البتہ یہ شان ہمارے نزدیك علم باری عزمجدہ کی ہے کہ ازلا وابدا تمام کو ائن ماضیہ و آتیہ کو محیطاور زمانہ سے منزہ
"" لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت و لا فی الارض"" ۔ اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔(ت)
عالم جب تك نہ بنا تھا ذرہ ذرہ اس کے علم میں تھا۔اب کہ بنااب بھی بدستور ہے۔جب فانیات پر وعدہ الہیہ آئے گا اس وقت بھی ہر چیز اسی کے علم میں ہوگی۔عالم بدلتا ہے اور اس عالم کا علم نہیں بدلتا۔شے پر تین حال گزرے۔عدمحدوثفنا۔وہ اسے ان تینوں حالوں پر تفصیلا ازل سے جانتا ہے۔اور ابد تك جانے گا۔معلوم میں تغیر آیا اور علم میں اصلا تغیر نہ ہوا۔البتہ صرف ہماری زبان میں کہ دائرۃ زمان سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔اس علم سے تعبیریں متعدد ہوگئیں۔یعنی یوجدموجودکان وجد۔
غرض یہی ہےوہ نحو وجود جس میں تبد ل کو راہ نہیں۔اب چاہے اسے تم اپنی اصلاح میں ""وعائے"" دہر کہویا ""حاق واقع"" یا کچھ اور______ مگر حاشا کہ یہ اشیاءکا وجود حقیقی ذاتی نہیںنہ اس میں حصول سے شے کو فی نفسہ
عــــــہ:ھو الجاج لانھم قلیلا ما یبتھون ۱۲ منہ۔
",
957,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,123,"موجودکہیںورنہ وہی استحالے لازم آئیں۔
زمانیات کا وجود وعدم حقیقۃ یہی ہے جسے زید ظہور و خفا کہتا ہے _____ کافر مسلمان ہواقطعا اسکا کفر نفس الامر میں منعدم ہوگیا کہ وہ زنہار اب اس کی ذات سے قائم نہیںاور اس کا کون فی نفسیہ نہیں مگر کون فی الموضوعمسلمان دوزخ سے نکلایقینا وہ حالت معدوم ہوگئی۔کہ یہ بھی عرض ہے اور بعد زوال باطل ومرفوع _____ وعلی ھذا القیاس۔
یاھذا اگر صرف وجود علمیوجود واقعی ہو تو ممنعات کے سوا کوئی معدوم نہ رہے کہ علم میں حجر نہیں۔موجود ومعدوم سب سے متعلق ہوتا ہے۔مع ھذا ہر عاقل جانتا ہے کہ علم عالم میں وجود شے سے شے کو موجود نہیں کہہ سکتے_____ طوفان نوح مفقود ہے اور ہمارے علم میں موجود۔قیامت ہنوز معدوم ہے اور ہمارے ذہن کو معلوم ولن یقاس العلم بالواقعفاین الحکایۃ من المحکی عنہ (علم کا اندازہ واقع سے نہیں لگایا جاتا تو کہاں حکایت اور کہاں محکی عنہ ت)۔
اے نادان! یہ دقتیں جو تجھے پیش آئیں اس سفاہت کا ثمرہ تھیں کہ اس وعائے مخترع کا نفس الامر نام رکھ کر اس میں بقا واستمرار کو حقیقتہ وجود اشیاء مانا اور اعدام سابقہ ولا حقہ زمانیہ کو محض احتجاب وخفاجانا۔ ع
فلیت النمل لم تطر
(کاش ! چیونٹی نہ اڑتی ت)
اوراس پر طرہ یہ ہے کہ وعائے دہر کو ظرف حقیقی جداگانہ ٹھہرایا۔اور زمانیات کا وجود دہری وجود زمانی سے علیحدہ بتایایہاں تك کہ تمام اجزائے زمان سے انعدام پر بھی بقا باقی رکھی۔اور اس تقریر پر منہج عقل سے بھی جو استحالات قائممشتعلان فلسفہ وکلام ومعتادان جدال و خصام پر مختفی نہیں۔مگر ہم ان میں سے اضاعت اوقات نہ کریں گے کہ شان فتوی واجب الاعظام نہ یہ چپقلش ہمارا کام۔
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ (آدمی کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔(ت)
تنبیہ:قدعلمنا ان الکلام ھھنا سینجر تحقیق ہمیں معلوم ہےکہ کلام ایك مشکل علمی مسئلہ کی
",
958,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,124,"الی مسئلہ عویصۃ فی العلم __ ولکھاانما تعتاص علی الذین جعلوا قلوبھم وراء ظنونھماواعتادو الجدال * وقیل وقال *وکثرۃ السؤال *ورکض البغال عــــــہ۱ *فی مضیق المجال *اما اھل السنۃ فھم بحمد اﷲ امنون فرحون *بفضل اﷲ مستبشرون لا یصعب علیھم شیئ من مسائل الذات *ودقائق الصافات * کیف وانھم اصلوا اصلا فی اصول الدین * فہووردھم وھو صدر ھم فی کل حین *و ذلك ان ما اثبتہ الشرعفسمعاو طاعۃوماردہ فالیك عناو ما لم یخبر فعلمہ الی اﷲ ___ وھم لایجزون عــــــہ۲ التقول علی اﷲ سبحنہ وتعالی من دون ثبت اواثارۃ من علم"" سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم﴿۳۲﴾"" ۔ طرف بڑھے گا۔لیکن وہ مسئلہ ان لوگوں پر دشوار اور پیچیدہ ہوگا۔جنہوں نے اپنے دلوں کو گمانوں کے پیچھے کردیا۔یا وہ جھگڑےقیل وقالکثرت سوال اور تنگ میدان میں خچروں کو ایڑلگانے کے عادی ہیں۔رہے اہل سنت و جماعت تو وہ بحمداﷲ ایمان لانے والےخوش ہونے والے اور اﷲ تعالی کے فضل پر خوشیاں منانے والے ہیں۔ان پر مسائل ذات اور وقائق صفات میں سے کچھ بھی دشوار نہیںکیسے دشوار ہوسکتا ہے جب کہ خود انہوں نے دین کے اصول بیان کیے ہیں اور دین میں وہی گھاٹ ہے جس پر ہر وقت ان کا آنا جانا ہے۔او ریہ اس لیے کہ جس کو شرع نے ثابت کیا ہم اسی کو سنتے اور مانتے ہیں۔اور جس کو شرع نے رد کردیا تو وہ ہماری طرف سے تیری طرف لوٹا اور جس کی خبر شرع نے نہ دی تو اس کا علم اﷲ تعالی کو ہے۔وہ اﷲ سبحنہ و تعالی کے بارے میں دلیل و علم کے بغیرگفتگو کو روا نہیں رکھتے۔پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایابے شك تو ہی علم و حکمت والا ہے۔(ت)
عــــــہ۱:خصھا بالذکرلاجا تصلح لکرو لافی ۱۲ منہ (قدس سرہ)۔ بطور خاص اس کا ذکر کیا کیونکہ یہ کروفر کی صلاحیت نہیں رکھتا۔۱۲ منہ(ت)
عــــــہ۲:کذا فی نسختنا المخطوطۃ(لایجزون)یصلح معناہ ایضا۔لکن یخالج صدری انہ لایجیزون وسقطت الیاء من قلم الناسخفان الاخطاء وقعت من کثیرا وصوبنا الصعوبات یطولہ بالصورت یطول یطول ذکر ھا ۱۲ محمد احمد المصباحی۔
",
959,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,125,"واخرج الطبرانی فی الاوسط و ابن عدی والبیھقی وغیرھم عن ابن عمر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:تفکروافی الاء اﷲولا تفکروا فی اﷲ ۔
واخرج ابونعیم فی الحلیۃ عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:تفکروافی خلق اﷲ ولا تفکروا فی اﷲ۔
واخرج ابوالشیخ فی العظمۃ عن ابن عباس:تفکروا فی کل شیئولا تفکروا فی ذات اﷲفان بین السماء السابعۃ الی کرسیہ سبعۃ الاف نوروھو فوق ذلک ۔
واخرج ایضا عن ابی ذرعن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلفظ الحلیۃ وزاد فتہلکوا نسأل اﷲ العفو و العافیۃ۔
طبرانی نے اوسط میںابن عدی نے اور بہیقی وغیرہ نے سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ اﷲ تعالی کی نعمتوں میں غور کرو اور اﷲ تعالی کی ذات میں غور مت کرو۔-(ت)
ابونعیم نے حلیہ میں سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور انہوںنے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اﷲ تعالی کی مخلوق میںغور کرواور اﷲ تعالی کی ذات میں مت غور کرو۔(ت)
ابوالشیخ نے عظمت میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ ہر شے میں غور کرو اور اﷲ تعالی کی ذات میں مت غور کرواس لیے کہ ساتویں آسمان اور اس کی کرسی کے درمیان سات ہزار نور ہیں اور وہ اس سے فوق ہے۔ت)
نیز اس نے ابو ذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حلیہ کے لفظوں کی مثل روایت کی اور اس میں یہ لفظ بڑھایا ""فتہلکوا"" یعنی تم ہلاك ہوجاؤ گے۔ہم اﷲ تعالی سے عافیت طلب کرتے ہیں۔(ت)
",
960,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,126,"قول ہشتم
کی شناعت اقوال سبعہ سابقہ کے حکم سے خود ہی روشن ہوگئی۔ ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(اس کے گلستان سے اس کی بہار کا اندازہ کرو۔ت)
یہ کفریات تھے جن پر اس قدر ناز ہے ____ یہ گمراہیاں تھیں جن کا اتنا وقار و اعزاز ہے۔اور ہر مسلمان پر واضح کہ ایسی چیز کی مدح و ستائش کس اعلی درجہ خباثت پر ہوگی۔
وان بغیت التفصیل فاقول وعلی اﷲ التعویل(اگر تو تفصیل چاہتا ہے تو میں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی ہی پر بھروسہ ہے۔ت)
اولا:وہ اس کتاب کو تدقیق فصیح و تحقیق صریح و اکتناہ حقائق کہتا ہے۔اور یہ الفاظ تصحیح مضامین کتاب میں نص صریح ____اور معلوم کہ وہ مذاہب مکفرہ فلاسفہ سے مشحون____ اور علماء فرماتے ہیں جو مذاہب کفا ر سے کسی مذہب کی تصحیح کرے خود کافر____ اگرچہ مذہب اسلام کا معتقدو مقراور اعلی الاعلان اس کا مظہر ہو۔
شفا شریف میں ہے:
تکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشك اوصحح مذھبھم وان اظھرمع ذلك الاسلام واعتقد بطال کل مذہب سواہ فھو کافر باظھارہ ما اظھر من خلاف ذلك ۔ ہم اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں جس نے ملت مسلمین کے علاوہ کوئی دین اختیار کیا یا ان کے بارے میں توقف کرے یا شك کرے یا ان کے مذہب کو صحیح قرار دے اگرچہ وہ اسلام کو ظاہر کرے اور اس کا اعتقاد رکھے اور اس کے سوا ہر مذہب کے باطل ہونے کا معتقد ہوتو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز کا اظہار کیا۔جو اسلام کے مخالف ہے۔(ت)
اسی طرح امام اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے روضہ میں نقل فرمایا اور مقرر رکھابلکہ فرماتے ہیں:جو کافروں کے کسی امر کی تحسین کرے بالاتفاق کافر۔
علامہ سید احمد حموی غمزالعیون میں فرماتے ہیں:
",
961,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,127,"اتفق مشایخنان ان من رای امر الکفار حسنا فقد کفرحتی قالوا فی رجل قال ""ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المبحوساوترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن"" فھو کافر اھ و مثلہ فی البحر الرائق وغیرہ۔ ہمارے مشائخ کا اس پر اتفاق ہے کہ جو کافروں کے کسی کام کی تحسین کرے وہ کافر ہےیہاں تك انہوں نے اس شخص کے بارے میں کہا کہ وہ کافر ہے جس نے یوں کہا کیا مجوسیوں کا کھانے کےوقت کلام کو ترك کرنا حسن ہے یا حالت حیض میں ان کا بیوی کے ساتھ ہم بستری کو ترك کرنا حسن ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔(ت)
اعلام میں ہمارے علما سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول:
اوصدق کلام اھل الاھواء اوقال عندی کلامھم کلام معنوی او معناہ صحیح او حسن رسوم الکفار اھ ۔
و حمل العلامۃ ابن حجر اھل الاھواء علی الذین نکفرھم فی بدعتھمقلت وھو کما افادولا یستقیم التخریج علی قول من اطلق الکفار بکل بدعۃفان الکلام فی الکفر المتفق علیہفلینبہ۔ یااس نے بدمذہبوں کے کلام کی تصدیق کی یا کہا کہ میرے نزدیك ان کا کلام بامعنی ہے یا اس کا معنی صحیح ہے یا کافروں کی رسموں کی تحسین کی اھ ت۔
امام ابن حجر نے بدمذہبوں کو ان لوگوں پر محمول کیا ہے جن کو ان کی بدعات کی وجہ سے ہم کافر قرار دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہے جیسا امام ابن حجر نے افادہ فرمایا۔اور اس شخص کے قول پر تخریج درست نہ ہوگی جو ہراہل بدعت کو مطلقا کافر کہتا ہے کیونکہ کلام اس کفر میں ہے جو متفق علیہ ہے۔خبردار ہونا چاہیے۔ت)
ثانیا:ابوبکر بن ابی الدنیا کتاب ذم الغیبۃ اور ابویعلی اپنی مسند اور بیھقی شعب الایمان میں سیدنا انس رضی اﷲ تعالی عنہاور ابن عدی کامل میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلک جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے او ر اس کے سبب عرش خدا
",
962,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,128,"العرش۔ ہل جاتا ہے۔
علما فرماتے ہیںوجہ اس کی یہ ہے کہ رب تبارك و تعالی نے اس سے بچنے اور اسے دور کرنا کا حکم فرمایا۔افادہ المناوی خلاصہ یہ کہ وہ شرعا مستحق اہانت ہے اور مدح میں تعظیم۔
وھنالك فلیتقطع قلوب المتھدرین اور یہاں سے جسارت کرنے والوں کے دلوں کو دھل جانا چاہیے۔(ت)
کہ جب فاسق کی مدح بہ وجہ اشتمال معاصی اس درجہ سخت ٹھہری تو وہ کتاب جو صریح کفریات کو متضمن ہو اس کی مدح کس قدر غضب الہی کی سزا وار اور عرش رحمن کو ہلانے والی ہوگی____ اول تو وہاں گناہ ____ یہاں کفر دوسرے وہاں اتصافیہاں تضمن یعنی گناہ فاسقوں کے جزو بدن یا داخل روح نہیں ہوتےاور یہ کفریات تو اس کتاب کے اجزا اور اس کے مضمون و مفہوم و قراء ت و کتابت سب میں داخل ہیں____ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
ثالثا:ہم پوچھتی ہیں زید ان کفریات کو کفر جانتا ہے یا نہیں____ اگر کہے نہتو خود اپنے کفر عــــــہ کا مقر____ اور کہے ہاں ____ تو اس تالیف و تحریراور اس کی طبع و تشہیر کو بروجہ اشتمال کفریات و اشاعت ضلالاتلا اقل حرام قطعی مانتا ہے یا نہیں اور اگر کہے نہتو وہ ایسے اشدالکبائر کا مستحل ہوا____ اور استحلال کبیرہ کفر____ اور کہے ہاں تو اس نے ایسے حرام شدید التحریم کی مدح و تکریم کی۔اب اس پر وہ مسائل فقہ وارد ہوں گے کہ حرام قطعی کی تعریف و تحسین کفر مبین____ والعیاذ باﷲ رب العلمین (ا ﷲ رب العالمین کی پناہ ۔ت)
امام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام علامہ ظہیر ی و امام فقیہ النفس قاضی رحمہم اﷲ تعالی خلاصۃ الفتاوی میں فرماتے ہیں:
من قال احسنت لما ھو قبیح شرعا او جودت کفر۔ قبیح شرعی پر کہا کہ تو نے اچھا کیا یا تو نے خوب کیا تو کافر ہوگیا۔(ت)
عــــــہ:کما امرانفا من الشفاء ۱۲ منہ - جیسا کہ ابھی بحوالہ شفاء گزرا۔۱۲ منہ ت)
",
963,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,129,"طریقہ محمدیہ میں ہے:
کل تحسین للقبیح القطعی کفر ۔ جو قطعی طور پر قبیح ہو اس کی تحسین کفر ہے۔(ت)
اسی میں امام ظہیر الدین مرغینانی سے مروی:
من قال لمقریئ زماننا احسنت عند قراء تہ یکفر ۔ ہمارے زمانے کے نغمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے والے کو کسی نے کہا تو نے اچھا کیا ہے تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
محیط میں ہے:
اذا شرع فی الفاسد و قال لا صحابہ ""بیائید تایکے خوش بزیم"" کفر ۔ فساد شروع کیا اور اپنے ساتھیوں کو کہا کہ آؤ بخوشی جئیںتو کافر ہوگیا۔(ت)
اور اس اصل کی فروعکلمات علما میں پیش از بیش ہیں۔نسأل اﷲ العافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے عافیت مانگتے ہیں۔ت)
رابعا:اطرا واغراق کا طوفان مغرق فوران موبق تماشے کے لائق کہ یہ کتاب فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔
سبحان اﷲ ! کفریات و ضلالات و بطالات کا مجموعہاور یہ بڑا دعوی کہ آدمی کو فرشتہ عــــــہ بنادیتی ہے۔علماء فرماتے ہیں ملائکہ سے تشبیہ دینا نہ چاہیے۔اور اس پر اصرارمورث اکفارو العیاذ باﷲ تعالی۔شفا ونسیم میں ہے:
عــــــہ:یارب ! مگر وہ قول مرجوع و مہجور اختیار کیا گیا ہوگا کہ ابلیس بھی ایك صنف ملکی سے تھا اس بنا پر ""شیطان گر"" کی جگہ ""فرشتہ گر"" کا اطلاق کیایا منطق جدید تو ہے ہی۔نئی بولی میں شاید شیطان کو فرشتہ کہتے ہوں گے۔۱۲ سلطان احمد عفا عنہ و سلمہ ربہ۔
",
964,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,130,"من یمثل بعض الاشیاء ببعض ما عظم اﷲ من ملکوتہ(من الملئکۃ والعرش ونحوہ)غیر قاصد الاستخفاف فان تکور ھذا منہ وعرف بہ دل علی تلاعبہ بدینہوھذا کفر لا مرید فیہ اھ ملخصا ۔ جس نے بعض اشیاء کو ایسی بعض اشیاء کے ساتھ تشبیہہ دی جن کو اﷲ تعالی نے عظمت بخشی(ملائکہ و عرش وغیرہ)اور انحالیکہ تخفیف و تحقیر کے ارادہ سے نہ ہو۔تو اگر وہ اس کا تکرار کری اور اس کا عادی ہو تو یہ اس کے دین میں لہو و لعب کی دلیل ہے اور یہ کفر ہےاس میں کوئی شك نہیں ا ھ ملخصا(ت)
سبحن ا ﷲ ! پھر ایسے مجموعہ چنیں و چنان کو فرشتہ اثر کہنا کس درجہ سخت ہوگا۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال لاخر من ""فرشتہ توام"" فی موضع کذا اعینك علی امرکفقد قیل انہ لایکفر وکذا اذا قال مطلقا انا ملك بخلاف ما اذا قال ""انانبی"" کذا فی التارخانیۃ۔ ایك شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں تیرا فرشتہ ہوںفلاں جگہ تیرے کام میں تیری مدد کوں گا۔تو کہا گیا ہے کہ وہ کافر نہیں ہوگا۔یوں ہی اگر ملطلقا کہا کہ میں فرشتہ ہوںبخلاف اس کے کہ کہے ""میں نبی ہوں"" یوں ہی تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
محل غور ہے کہ فرشتہ بننا ایسی ہی خطرناك بات تھی جب تو بات مکفرات سے اسے مناسبت اور علماء کو اظہار حکم کی حاجت ہووہ بھی ایسے الفاظ سے جو غالبا مشعر ضعف یا اختلاف ___ تو فرشتہ گر بننا کس قدر اشد و اعظم ہوگا!
نسأل اﷲ العافیۃ * وتمام العافیۃ *و دوام العافیۃ *و الشکر علی العافیۃ *وحسن العاقبۃ *وکمال الایمان *واﷲ المستعان علیہ التکلان * ہم اﷲ تعالی سے عافیت طلب کرتے ہیںعافیت تامہعافیت دائمہعافیت پرشکراچھی عاقبت اور ایمان کامل مانگتے ہیں اور ا اﷲ تعالی ہی سے مدد طلب کی جاتی ہےاور اس پر بھروسہ ہے۔(ت)
",
965,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,131,"اب نہ باقی رہا مگر نام کتاب
جس کے حکم سے بعض خلص اعزہ کان حفظ اﷲ لہ نصیرا حسنا(اﷲ تعالی کی حفاظت اس کے لیے اچھی مددگار ہو۔ت)نے اس مسئلہ کے وردو سے پیشتر سوال کیا تھا۔ت)
فاقول:وبعون اﷲ اجول(چنانچہ میں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی کی مدد سے گھومتا ہوںت)اس میں بہ اعتبار اختلاف اضافت و توصیف لفظ ناطق احتمالات عدیدہ پیدا۔مگر کوئی مخذور شرعی سے خالی نہیں۔
برتقدیر اضافت:____ عام ازاں کہ نام میں لام ہو یا من _____ظاہر و متبادر ""ناطق النالہ الحدید"" سے جناب الہی ہے تعالی وتقدس ____کہ اس کا صریح ترجمہ النا لہ الحدید کہنے والے کا منطق جدید___ یا____ اس کی طرف سے منطق جدید۔ اور پر ظاہر کہ اس کلام کا فرمانے والا کون ہے___ ہمارا مولی تبارك و تعالی اس تقدیر پر متعدد شناعات شدید ہ لازم۔
اولا:مضامین کتاب کو حضرت عزت تبارك مجدہکی طرف نسبت کرناکہ جناب الہی جل ذکرہ پر کھلا افترا حق عزمن قائل فرماتا ہے:
"" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾"" بے شك جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں مراد کو نہ پہنچیں گے۔
اور فرماتا ہے۔
"" فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا"" اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر بہتان اٹھائے
یہاں تك کہ جمہور علماء ایسے شخص کو مطلقا کافر کہتے ہیں۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی الفتاوی الصغری من قال ""یعلم اﷲ انی فعلت ھذا"" وکان لم یفعل کفرای لانہ کذب علی اﷲ ۔ فتاوی صغری میں ہے جس نے کہا اﷲ تعالی جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اس نے وہ کام نہ کیا ہو تو کافر ہوجائے گا۔کیونکہ اس نے اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھا ہے۔(ت)
",
966,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,132,"محیط میں ہے:
فمن قیل لہ یا احمر قال خلقنی اﷲ من سویق التفاح وخلقك من الطین او من الحمأۃ وھی لیست کالسویق کفر ۔ جس شخص کو کہا گیا اے احمر تو اس نے کہا مجھے اﷲ تعالی نے سیب کی شراب سے بنایاجب کہ تجھے کیجڑ یا گارے سے بنایا ہے اور وہ شراب کی مثل نہیں تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
فاضل علی قاری نے فرمایا:
ای لافترائہ علی اﷲ تعالی مع احتمال انہ لایکفر بناء علی انہ کذب فی دعواہ۔ یعنی وہ اﷲ تعالی پر افتراء باندھنے کی وجہ سے کافر ہوجائے گا باوجود یہ کہ یہ احتمال موجود ہے کہ وہ کافر نہ ہو اس بنیاد پر کہ وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے۔(ت)
در مختار میں ہے:
ھل یکفر بقولہ ""اﷲ یعلم اویعلم اﷲ انہ فعل کذا اولم یفعل کذا"" کاذبا قال الزاھدی الاکثر نعیم وقال الشمنی الاصح لا۔ کیا کوئی شخص جھوٹ بول کر یہ کہنے سے کافر ہوجاتا ہے کہ اﷲ جانتا ہے میں نے یہ کام کیا ہے یا اﷲ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔زاہدی کا کہنا ہے کہ اکثر نے کہا ہے ہاں(یعنی کافر ہوجائے گا)اور شمنی نے کہا۔اصح یہ ہے کہ کافر نہیں ہوگا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے۔
ونقل فی نور العین عن الفتاوی تصحیح الاول۔ نورالعین میں فتاوی سے پہلے قول کی تصحیح منقول ہے۔(ت)
ثانیا:یہود و نصاری سے کامل مشابہت۔قال تعالی:
",
967,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,133,""" فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ٭ ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾""۔ سو خرابی ہے ان کے لیے جو اپنے ہاتھوںکتاب لکھے ہیں پھر کہتی ہیں یہ اﷲ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے تھوڑی قیمت لیں۔سو خرابی ہے انہیں ان کے ہاتھوں کے لکھے سے۔ اور خرابی ہے انہیں اس چیز سے جو کماتے ہیں۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھومنھم اخرجہ احمد وابوداؤد۔ ابویعلی والطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر باسناد حسنوعلقہ خ واخرجہ الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن حذیفۃ رضی اللہ تعالی عنہم۔ جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ (احمدابوداؤدابویعلی اور طبرانی نے معجم کبیر میں اسناد حسن کے ساتھ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے تخریج کی۔اور خ نے اس کو بطور تعلیق بیان کیا۔اور طبرانی نے معجم اوسط میں اسناد حسن کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج کی ہے۔ت)
ثالثا:علماء نفس منطق کے لیے فرماتے ہیں۔جو اسے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعلیم بتائے کافر ہے کہ اس نے علم اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تحقیر کی۔حدیقہ ندیہ میں ہے:
الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم لم یکونوا لیشغلوا انفسھم بھذاالفشار الذی اخترعہ الحکماء الفلاسفۃ __ بل من اعتقدفی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یعلم الصحابۃ ھذہ الشقاشق و الہذیانات المنطقیبہ فہو کافر لتحقیرہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی یہ شان نہیں تھی کہ وہ خود کو ایسے چھلکوں میں مشغول کرتے جن کو فلاسفہ نے گھڑا ہے۔بلکہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو یہ جھاگ اور منطق کی نا معقول باتیں سکھاتے تھے وہ کافر ہے کیونکہ اس نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
",
968,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,134,"علم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ علیہ وسلم علم کی تحقیر کی(ت)
سبحن اﷲ ! پھر یہ منطق مزخرف کہ صدہا وساوس ابالس ودسائس فلاسفہ پر مشتملاسے اﷲ جل جلالہ کی طرف سے ٹھہرانا کیونکرجناب الہی کی تحقیر و اہانت نہ ہوگی۔! والعیاذ باﷲ تعالی۔
رابعا:حضرت حق جل وعلا کو ""ناطق"" کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ شرح سے ثابت نہ ہوااسمائے الہیہ توقیفیہ ہیں۔یہاں تك کہ اﷲ تعالی جل جلالہکا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شرع میں وارد نہیں۔
والمسئلۃ شھیر وفی الکتب سطیر۔وقد یمثل بجواز الشافی دون الطبیب العدم الورود۔اقول: ولکن قدورد فی الحدیث اﷲ الطبیبوانت الرفیق __ و عن ابی بکر ان الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ: الطبیب امرضنی ____فلیحررواﷲ تعالی اعلم۔ مسئلہ مشہور ہےاور کتابوں میں لکھا ہوا ہےاور کبھی یوں اس کی مثال دی جاتی ہے کہ اﷲ تعالی کو شافی کہنا جائز اور طبیب کہنا ناجائز ہے کیونکہ شرع میں اس کے لیے طبیب وارد نہیں ہوا۔میں کہتا ہوں حدیث میں آیا ہے اﷲ طبیب ہے اور تو رفیق ہےاور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ طبیب نے مجھے بیمار ی میں مبتلا کیا۔اس کو لکھنا چاہیے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
خامسااس کے اطلاق پر ایہام نقص بھی ہے کہ نطق کلام باحروف و آواز کو کہتے ہیں۔قاموس میں ہے۔
نطق ینطق نطقاتکلم بصوت وحروف تعرف بھا المعانی ۔ نطق ینطق نطقا کا معنی ہے کہ اس نے آواز و حروف کے ساتھ تکلم کیا جن حروف کا معنی پہنچانا جاتاہے۔(ت)
",
969,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,135,"فائدہ:یہاں سے ظاہر ہوا کہ عدم ورود سے قطع نظر کرکے اطلاق ""نطق"" باری عزوجل پر لغۃ بھی غلط۔بخلاف کلام و قول کہ ان میں حرف و صورت شرط نہیں۔
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث ثقیفہ میں فرماتے ہیں:
زورت فی نفسیمقالۃ ۔ میں نے اپنی دل میں ایك مقالہ تیار کیا(ت)
اخطل کا شعر ہے:
ان الکلام لی الفؤادو انما
جعل اللسان علی الفؤاد دلیلا۔
(بے شك کلام دل میں ہوتا ہےزبان کو توفقط دل پر دلیل بنایا گیا ہے۔(ت)
ولہذا نطقت فی نفسی نہیں کہہ سکتے۔حقیقتہ نطق اس بولی کا نام ہی جیسے صہیل و نہیق آواز مخصوص اسپ و خرکااسی لیے سفہائے فلسفہ نے انسان کی تعریف حیوان ناطق سے کی۔جس طرح فرس و حمار کیحیوان صاہل و ناہق سے۔پھر اسی حد تام بنانے کے لیے متاخرین نے نطق کے معنی ادراك کلیات گھڑے مگر صہیل و نہیق میں کوئی تراش نہ کرسکے۔
"" ذلک مبلغہم من العلم "" "" ان ہم الا یخرصون ﴿۲۰﴾"" ۔(یہاں تك ان کے علم کی پہنچ چکی ہےیونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ت)
وجہ دوم:اگر مصنف کتاب دور از کاراضافت بہ ادنی ملابست مان کراس لفظ سے اپنی ذات مراد بتائے۔تو البتہ نسبت صحیح ومحذورات مذکورہ مندفع ____ مگر:
اولا:بے داعی شرعیروزمرہ باہمی میںخلاف متبادرمراد لینے کو علامہ آفات لسان سے شمار کرتے ہیں۔طریقہ وحدیقہ میں ہے:
الخامس من آفات اللسان ارادۃ غیر ظاھر المتبادر من الکلام(الذی یفھمہکل احد)وھو جائز عند آفات زبان میں سے پانچویں آفت کلام کے ظاہر ومتبادر معنی جس کو ہرکوئی سمجھتاہے کے غیر کا ارادہ کرنااور بوقت ضرورت جائز ہے جیسے جھوٹ بولنا
",
970,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,136,"الحاجۃ الیہ(کالکذب علی الزوجۃ وبین الاثنین وفی الحرب وما الحق بذلک)ویکرہ(کراھۃ تحریم) بدونھا۔ اھ ملخصا۔ بیوی کی دلجوائی کے لیےدو شخصوں کے درمیان صلح کرانے کے لیےجنگ اور اس کے ملحقات کے لیےاور بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔تلخیص(ت)
نہ کہ ایسی جگہ جس کا ظاہر وہ کچھ مجمع آفات ہو۔
ثانیا:مجرد ایہاممنع میں کافی __ رد المحتار میں ہے:
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع عن التلفظ بھذا الکلام وان احتمل معنی صحیحاولذا علل المشایخ بقولھم لانہ یوھم الخ۔ونظیرہ ماقالوا فی انا مؤمن ان شاء اﷲفانھم کرھوا ذلك وان قصد التبرك دون التعلیقلما فیہ من الایھامکما قررہ العلامۃ التفتازانی فی شرح العقائدوابن الھمام فی المسایرۃ۔ محض معنی محال کا ایہام اس کلام کے ساتھ تلفظ سے ممانعت کے لیے کافی ہےاسی لیے مشائخ نے علت ممانعت بیان کرتےہوئے کہا اس لیے کہ وہ وہم میں ڈالتا ہےالخ اور اس کی نظیر وہ ہے جو مشائخ نے کسی ایسے شخص کے بارے میں کہا۔جو کہے میں مومن ہوں اگر اﷲ چاہےکیونکہ انہوں نے اس قول کو ناپسند جانا اگرچہ وہ تبرك کا ارادہ کرے نہ کہ تعلیق کااس لیے کہ اس میں ایہام ہے جیسا کہ علامہ تفتازانی نے شرح العقائد اور علامہ ابن الہمام نے مسایرہ میں میں اس کی تقریر فرمائی ہے۔(ت)
نہ کہ معنی ئ ممنوع متبادر ہوں۔
ثالثا: ہنوز نجات نہیں۔اب وہ ملابست پوچھی جائے گی کہ حق جلا جلالہ کے اس کلام پاك سےجس میں وہ اپنے ایك نبی جلیل کو اپنی قدرت کاملہ سے ایك معجزہ عظیمہ عطا فرمانا۔ارشاد کرتا ہے۔تجھے کیا مناسبت وملابست ہے جس کے سبب یہ اضافت روا ہوئی۔
اگر کہے کہ میں نے مضامین مغلقہ کو ""حدید"" اور ان کی توضیح کو ""الانت"" سے تشبیہ دے کر ایسا کہا تو____ سخت مغروراور مقام رفیع و منصب منیع نبوت پر جری وجسور۔
",
971,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,137,"سبحن اﷲ ! کہاں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا اعجاز اور کہاں یہ ناپاك مضامین مجمع ہر گونہ انجاس وارجاز
ع۔ چہ نسبت خاك را باعالم پاک
مٹی کو عالم پاك سے کیا نسبت ہے۔ت
ع ۔ واین الثریا واین الثری
کہاں ثریا اور کہاں کیچڑ۔ت
ع ۔ وما التنا سب بین البول والعسل
پیشاب اور شہد میں کیا مناسبت ہے۔ت
ملائکہ سے تشبیہ کا حکم اوپر گزرا_____ پھر انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا تو ان سے افضل ہیں_____آئمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ ایسا شخص تو قیر نبوت و تعظیم رسالت سے برکراںاور مستحق زجرو نکیر و ضرب وتعزیرو قید گراں ہے۔اور فرماتے ہیں:یہ احمق ایسی باتوں کو سہل سمجھتے ہیں مگر وہ بوجہ گناہ کبیرہ ہونے کے اﷲ جل جلالہ کے نزدیك شدید ہیں اگرچہ قائل کو اہانت بنی منظور نہ ہو۔شفائے عیاض ونسیم الریاض میں ہے:
الوجہ الخامس ان لایقصد نقصا و لایذکرعیبا ولا سبا ولکنہ ینزع بذکر بعض اوصافہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی طریق التشبہ بہ اوعلی سبیل التمثیل وعدم التوقیر لنبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(لتشبیہ نفسہ بہ واین الثریاواین الثری) یحسبونہ ھینا و ھو عنداﷲ عظیم(لانہ من الکبائر) فان ھذہ وان لم تتضمن سباولا اضافت الی الملئکۃ و الانبیاء نقصاولا قصد قائلھا ازراء ولا غضا پانچویں وجہ یہ کہ متکلم نقص کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی عیب اور سب وشتم کو ذکر کرے لیکن نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعض اوصاف بطور تشبہ یا بطور تمثیل وعدم توقیر ذکر کرے تاکہ اپنی ذات کو آپ کے ساتھ تشبیہ دے کر(کہاں ثریا اور کہاں کیچڑ)وہ اسے ہلکا جانتے ہیں حالانکہ اﷲ تعالی کے ہاں وہ بہت عظیم ہے(کیونکہ وہ کبیر گناہوں میں سے ہے)اس لیے کہ یہ مثالیں اگرچہ سب وشتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی انہوں نے ملائکہ و انبیاء کی طرف کسی نقص کی نسبت کی اور ان کے قائل نے بھی جسارت و تنقیص کا
",
972,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,138,فماوقر النبوۃ ولا عظم الرسالۃحتی شبہ من شبہ فی کرامۃ نالھا اوضرب مثل بمن عظم اﷲ خطرہ وشرف قدرہوالزم توقیرہوبرہفحق ھذا(القائل) ان درئ عنہ القتلالادب(بضرب اولوم او زجر)و السجن۔ولم یزل المتقدمون(من السلف وکبار الائمۃ)ینکرون مثل ھذا ممن جاء بہ(فلیحذر من ارتکاب ھذہ القبائح الشدیدۃ الوزرالعظیمۃ الاثم فانھا ربما جرت الی الکفر نعوذ باﷲ من ذلک)وقد انکرالرشید علی ابی نواس فی قولہ * فان عصا موسی بکف خصیب(خصیب عبد للرشید ولاہ مصر استعار عصا موسی لسیاسۃ حاکمھم وقمع ظلمھم ففیہ استعارۃ وتشبیہ بدیعلکن فیہ سوء ادب لما فیہ من جعل العصا التی ھی معجزۃ لرسول بکف عبد من عبید الخلفاء ارادہ نہیں کیا۔مگر اس کے باوجود اس نے نبوت کی توقیر اور رسالت کی تعظیم کما حقہنہ کییہاں تك کہ کسی تشبیہ دینے والے نے اپنے ممدوح کو کسی کرامت کے حاصل ہونی کی وجہ سے یا بطور ضرب المثل اس عظیم الشان شخصیت سے تشبیہ دے دی جس کی شان کو اﷲ تعالی نے معظم اور اس کی قدرو منزلت کو مشرف کیااس کی توقیر اور اس کے ساتھ نیکی کرنے کو لازم قرار دیاچنانچہ اس قائل کو اگر قتل کی سزا نہ بھی دی جائے مگر وہ مار پیٹملامت اور زجرو توبیخ کے ساتھ تعزیر اور قید کا حقدار ہے(اسلاف و آئمہ کبار میں سے) متقدمین ایسی مثالوں میں ان کے قائل پر سخت ناراضگی و نا پسندیدگی کا اظہار کرتے تھے(لہذا اس قسم کی قبیح مثالوں سے بچنا چاہیے جن کا وبال شدید اور گناہ عظیم ہےکیونکہ بسا اوقات یہ کفر تك پہنچا دیتی ہیں۔ہم اس سے اﷲ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں)تحقیق رشید نے ابو نواس پر ناراضگی کا اظہار کی جب ابو نواس نے یہ کہا کہ بے شك عصا موسی خصیب کے ہاتھ میں ہے۔(خصیب رشید کا ایك غلام تھا جس کو رشید نے مصر کا حاکم بنادیا تھا۔ابونواس نے اہل مصر کے حاکم کی سیاست اور ان سے ظلم کو مٹانے کے لیے عصاء موسی کا استعارہ کیا اس کے کلام میں عمدہ تشبیہ اور استعارہ ہے لیکن اس میں بے ادبی ہے کیونکہ اس نے عصاء موسی کو خلفاء کے غلاموں میں سے ایك غلام کے ہاتھ میں,
973,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,139,"وجعل ذلك العبد کرسول من اولی العزم)وقال لہ(ای الرشید لابی نواس)یاابن اللخناء ! ھذا مما تشتم بہ العربواللخنا ھنا امہ من اللخنوھو النتن فاستعیر للفاحشۃ اوللمراۃ التی لم تختنای یادنی الاصل ولئیم الام ! اتستھزئ بعصاموسی (وھی معجزۃ نبی عظیم)وامرباخراجہ من عسکرہ من لیلتہ اھ ملتقطا۔ قرار دیا حالانکہ وہ عصا ایك عظیم الشان رسول کا معجزہ ہے اور اس نے غلام مذکورکو اولو العزم رسولوں میں سے ایك رسول کی مثل قرار دیا)اس نے کہا۔(یعنی رشید نے ابونواس کو کہا) اے لخناء کے بیٹے(اس کلمہ کے ساتھ اہل عرب گالی دیتے ہیںیہاں لخناء سے مراد اس کی ماں ہے۔یہ لفظ لخن بمنی بدبو سے مشتق ہے۔یہ لفظ فاحشہ یا غیر مختونہ عورت کے لیے بطور استعارہ بولا جاتا ہے۔(یعنی ایك گھٹیا نسب یا کمینی ماں والے)کیا تو عصاء موسی کا مذاق اڑاتا ہے۔(حالانکہ وہ ایك عظیم نبی کا معجزہ ہے)اور رشید نے اسی رات ابو نواس کو اپنے لشکر سے نکالنے کا حکم دے دیا ا ھ التقاط۔(ت)
بالجملہ کون مسلمان گوارا کرے گا کہ وہ آیت جس میں ایك نبی کریم کی مدح بیان فرمانی ہو تشبیہ وتمثیل کے زور لگا کر اپنے اوپر ڈھال لائے۔اور سلطان عظیم القدر جلیل الشان کا تاج لے کر ایك چمار کو پہنائے۔نسأل اﷲ العافیۃ(ہم اﷲ تعالے سے عافیت مانگتے ہیں۔ت)
وجہ سوم:یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اس ناطق سے کہ برتقدیر لاماور لوگ مثلا طلبہ منطق و ناظرین کتاب مراد لینا بھی نجات نہ دے گا کہ یہ تشبیہ جیسے اپنے نفس کے لیے ناجائز ہے یونہی ان کے لیے کمالایخفی۔
وجہ چہارم:ہاں اگر یوں جان بچایا چاہے کہ میں نے ناطق النالہ الحدید سے خود جناب سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کو مراد لیا ہے۔تو بے شك اس صورت میں یہ اضافت نہایت حسن و بجا_____ مگر اب وہ آفتیں رجعت قہقری کریں گی کہ نبی اﷲ پر تہمت رکھی اور اس کے علم عزیز کی تحقیر کی_____ کما یظھر مما قررنا انفاجیسا کہ اس تقریر سے ظاہر ہوتا ہے جو ہم نے ابھی ابھی کی ہے۔ت)اگر تہمت سے یوں بچے کہ حقیقت نسبت مقصود نہیںبلکہ اس طور پر کہا جیسے بے باك لوگ خوش آوازوں کے گاؤں کو ""نغمہ داؤدی"" یا ""الحان داؤد"" کہتے ہیں ___تو اب وہ بلائے تشبیہجگر دوزی و جاں گدازی کو بس ہے۔
غرض کوئی شکل مفر کی نہیں _____ والعیاذ باﷲ سبحنہ و تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ ت)
",
974,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,140,"اب برتقدیر توصیف چلیےیعنی ناطق کو تنوین دے کر _____ اس صورت میں من تواصلا چسپاں نہیںمگر بہ ارتکاب تمحل کہ تعلیلیہ ٹھہرائیں اور لاجل کے معنی میں لے کر لناطق کے قریب لے جائیں۔
بہرحال اس ترکیب میں النالہ الحدید کی ضمیر متکلم سے ذات مصنف مراد ہوگیکما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ت) اور ناطق سے وہی طلبہ ونظار _____ اور حدید سے مطالب عولصیہاور انکی الانت سے ایضاح وابانت_____ حاصل یہ کہ ""منطق جدید اس ناطق کے لیےجس کے واسطے ہم نے مطالب مشکلہ حل کردیئے""۔
اس معنی میں ناواقف کو کوئی محذور نظر نہ آئے مگر ہیہات۔۔۔ عــــــہ ۔۔۔یہاں محذور شدید باقی ہے _____ کلام الہی تعالت عظیمتہ(جس کی عظمت بلند ہے۔ت)کا اپنے کلام کے عوض ایسا استعمال شرعا حرام و وبال و نکال _____ یہاں تك کہ بہت فقہائے کرام نے حکم کفر دیا۔والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی(اور اﷲ سبحنہ و تعالی کی پناہ۔ت)_____ اور وجہ تحریم ظاہری وواضح۔
ذرا اپنے رب تبارك و تعالی کی عظمت پیش نظر رکھ کر خیال کرے کہ النالہ الحدید کس نے فرمایا اور ضمیر نا سے کون سی ذات پاك مراد اور لہ میں کس جلیل القدر کی طرف ضمیراور مضمون جملہ کس امر عظیم سے تعبیر _____اب اسی کلام کو کون شخص کس طرح اپنے استعمال میں لاتااور ضمیر نا سے خدا کے عوض کس ذلیل حقیر کو مراد لیتا۔اور کنایہ لہ نبی اﷲ کے بدلے کس کی طرف پھیرتا۔اور عز ت والی بات کوجس کی قدر خدا اور رسول ہی خوب جانتے ہیںکس بے ہودہ بات پر ڈھالتا ہے۔
ع حقا کہ تاج شاہی کناس رانہ زبید
(حق یہ ہے کہ بادشاہ کا تاج جھاڑو پھیرنے والے کے سر پر زیب نہیں دیتا)
یاھذا:حق بات اپنے مقابل کم سمجھ میں آتی ہے کہ نفس آمادہ رفع وانتصار ہوتا ہے۔دوسروں پر خیا ل کرکے دیکھ۔مثلا زید عمرو کو مال کثیر دے کر کہے کہ "" انا اعطینک الکوثر ﴿۱﴾"" (اے محبوب ! ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائے۔ت)کیا نہ کہا جائے گا کہ اس نے خدا و کلام خدا اور رسول خدا کی قدر نہ جانی۔
حاش اﷲ کہاں خداکہاں زید _____ کجا حضورکجا عمرو _____ کہاں کوثرکہاں زر _____!
یا عمرو نے زید کو کہیں بھیجا_____بکر نے پوچھا کس کے حکم سے گیا تھا_____ عمرو بولا: ""امرا من عندنا انا کنا مرسلین ﴿۵﴾ "" ۔ (ہمارے پاس کے حکم سے بے شك ہم بھیجنے والے ہیں۔ت)
عــــــہ:لایبدو وما ھنا فی المخطوطۃ صافیا ۱۲ محمد احمد)
",
975,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,141,"وعلی ھذا قیاس غیر ذلك من اراجیف جہلۃ الناس(اس کے علاوہ جاہل لوگوں کی منگھڑت باتوں کو اسی پر قیاس کرلو۔ت)
ہاں ہاں قطعا اس طرح کا استعمال مستلزم کفرواستخفاف۔پھر جس نے الزام بہ لازم کیا کافر کہا۔اور محققین نے عدم التزام پاکر صرف حرام ٹھہرایا۔
فاتقن ھذافانہ مفید *وتحقیق المقام یقتضی المزید *وان لہ عند العبد الضعیف ÷ یفضل المولی القوی اللطیف *تنقیحا وبسطا *توضیحا وضبطا * یطلب ھو وامثالہ من مجموعنا المبارك ان شاء اﷲ تعالی *العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ __ وبھذا القدروضع الامر۔وبان الفرق بینہ وبین التضمین فانہ سائغ عند الاکثرینوان ذھب ناس الی التحریم * واﷲ تعالی سبحنہ بالحق علیم۔ اس کو پختہ کرے کیونکہ یہ مفید ہے۔اس مقام کی تحقیق مزید کا تقاضا کرتی ہے اور اس کے لیے قوت ولطف والے مولی تعالی کے فضل سے عبدضعیف کے پاس تنقیح وتفصیل اور توضیح و ضبط ہے۔اس کو اور اس کی مثال کو ا ن شاء اﷲ تعالی ہمارے بابرکت مجموعے ""العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ"" سے طلب کیا جاسکتا ہے۔اس قدر سے معاملہ کی وضاحت ہوگئی۔اور اس کے درمیان اور تضمین کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا کیونکہ اکثر کے نزدیك وہ جائز ہے اگرچہ کچھ لوگ اس کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں۔اور اﷲ سبحنہ و تعالی حق کو خوب جانتا ہے۔(ت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
جمع اھل موضع وقال:فجمعنھم جمعا اوقال:وحشر نھم فلم نغادر منھم احدا oکفر اھ ملتقطا۔ کسی نے شہر والوں کو جمع کیا اور کہا فجمعنھم جمعا(تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے)یا کہا وحشر نھم فلم نغادرمنھم احدا اور ہم ان کو جمع کردیں گے تو ہم ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے)تو وہ کافر ہوگیا اھ التقاط(ت)
اسی میں ہے:
اذا قال لغیرہ خانہ چناں پاك کردہ کہ چوں جب دوسرے شخص کو کہا کہ گھر کو تو نے ایسا پاك
",
976,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,142,"والسماء والطارق oقیل یکفروقال الامام ابوبکر بن اسحق رحمۃ اﷲ تعالی ان کان القائل جاھلا لا یکفر زوان کان عالما یکفر۔واذقال:قاعا صفصفا شدہ است فھذہ مخاطرۃ عظیمۃ۔واذ قال لباقی القدر: والبقیت الصلحت۔فھذہ مخاطرۃ عظیمۃکذا فی الفصول العمادیۃ۔ کردیا ہے کہ جیسے والسماء والطارق(آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی)تو کہا گیا ہی کہ کافر ہوجائے گا۔اور امام ابوبکر بن اسحاق علیہ الرحمۃ نے کہا کہ اگر قائل جاہل ہے تو کافر نہ ہوگا اور اگر عاصم ہے تو کافر ہوجائے گا۔اور اگر کہا کہ قاعا صفصفا(کھلا ہموار میدان)ہوگیا ہے تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔اور جب ہنڈیا کی کھرچن یا بقیہ کے کے بارے میں کہا والباقیات الصالحات(باقی رہنے والے نیك کام)تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔فصول عماویہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
تتمۃ الفتاوی میں ہے:
من استعمل کلام اﷲ تعالی فی بدل کلامہ کمن قال فی ازدحام الناس فجمعنھم جمعا کفر ۔ جس نے اپنے کلام کے بدلے میں اﷲ تعالی کے کلام کو استعمال کیا تو کافر ہوجائےگا۔جیسے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں کہا فجمعنھم جمعا(تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے۔ت)
محیط میں ہے:
من جمع اھل موضع وقال:وحشر نھم فلم نغادر منھم احدا oاوقال فجمعنھم جمعاoکفر ۔ جس نے کسی بستی کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا وحشرنھم فلم نغاد رمنھم احدا(اور ہم ان کو جمع کریں گے تو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے)یا کہا فجمعنہم جمعا(تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے)تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
فاضل علی بن سلطان محمد مکی اس کی تعلیل میں فرماتے ہیں:
",
977,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,143,"لانہ وضع القران فی موضع کلامہ ۔ اس لیے اس نے قرآن مجید کو اپنے کلام کی جگہ رکھا۔(ت)
اعلام میں ہمارے علماءسے کفر اتفاقی میں منقول:
اوملأ قدحافقال:کاسا دھاقا o اوفرغ شرابا فقال: فکانت سرابا o اوقال بالاستہزاء عندالوزن او الکیلواذا کالوھم اووزنوھم یخسرون۔ الخ یا پیالہ بھرا اور کہا کأسا دھاقا(چھلکتا جام)یا شراب کو انڈیلا اور کہا فکانت سرابا(تو ہوجائیں گے جیسے چمکتا رہتا)یا ناپ اور وزن کرتے وقت بطور استہزاء کہا واذا کالوھم اوزنوھم یخسرون (اور جب انہیں دین ناپ کریا تو تول کر گھٹا کر دیں) (ت)
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے اس نام میں کوئی احتمال قابل قبول ارباب عقول ایسا نہیں جو واضع نام کو ارتکاب گناہ سے بچالے۔اور واقعی ایسی کتاب کو ایسا ہی نام پھبتا تھا۔
"" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت "" نسأل مولینا العفووالعافیۃ * والنعمۃ الوافیۃ * و الرحمۃ الکافیۃ*والہدایۃ * الشافیۃ * والعیشۃ الصافیۃ * انہ ھو الغفور الرحیم *ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم*وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین!
گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے۔
ہم اپنے مولی سے مانگتے ہیں درگزراور عافیتبھر پور نعمت کفایت کرنے والی رحمتشافی ہدایت اور ستھری زندگیبے شك وہی بخشنے والا مہربان ہے۔نہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے معبود کی توفیق سے۔اﷲ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی اور آپ کے تمام آل و اصحاب پر اے اﷲ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
",
978,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,144,"تنبیہ النبیہ(عظیم الشان تنبیہ)
اعلماکرمنی اﷲ تعالی وایاکووقانا جمیعا مواقع الھلاکان ھذاالکلام النفیس الموجزکان متعلقا بنفس الاقول *والان ان ان نتکلم علی المتکلم الردیالحالفاقول:وعلی اﷲ الوکول بان لك مما بینا ان اقوال زید وان لم تخرج بحذا فیرھا عن دائرۃ الاکفار واشد البوارلادقھا ولاجلھا ولا کثر ھا و لا قلھا۔فما منھا من قال ولا قیل * الا و اللکفرالیہ سبیل *لکنہا فی تنوع الموارد *اذلم یکن نسجھا علی منوال واحد *۔
فمنہا ماتنازعت فیہ اراء العلماء ویرد موردہ کفر لایعطیہ منطوق المقال وانما یتطرق الیہ من جھۃ الزوم کالذی الزمناہ علی القول السابع من خلوم الکافر المتلبس بکفرہ فی الجنۃ۔فھذا مما یتوار دعلیہ النفی والاثبات *من الائمۃ الاثبات___ فمن الزمہ بموجب کلامہ اکفرومن لافلا __کما فی الشفاء للامام نسیم الریاضمن قال(من توجان لے اﷲ تعالی مجھے اور تجھے عزت عطا فرمائے اور ہمیں ہلاکت کی جگہون سے بچائے کہ بیشك یہ عمدہ مختصر کلام نفس اقوال سے متعلق ہےاب وقت آگیا ہے کہ ہم ردی حال والے متکلم پر گفتگو کریں۔چنانچہ میں کہتا ہوں اورا ﷲ تعالی ہی پر بھروسہ ہےہمارے بیان سے تجھ پر عیاں ہوگیا کہ اگر زید کے چھوٹےبڑےکثیر وقلیل تمام اقوال دائرہ تکفیر اور شدید ترین ہلاکت سے خارج نہیںان میں کوئی قیل و قال ایسی نہیں جس کا کفر کی طرف راستہ نہ ہو لیکن ان کے مواضع استعمال مختلف انواع کے ہیں کیونکہ ان کو ایك ہی سانچے پر نہیں بنا گیا۔ان میں سے بعض ایسے اقوال ہیں جن میں علماء کی آراء باہم مختلف ہیں۔ان پر نفس کلام سے کفر وارد نہیں ہوتا مگر اس سے کفر لازم آتا ہی جیسے ہم نے قول ہفتم پر اسی الزام دیا کہ اس سے کافر کا کفر کے ساتھ ملبس ہوتی ہوئے ہمیشہ جنت میں رہنا لازم آتاہے۔یہ ان اقوال میں سے ہے جن پر متبحرائمہ اکرام سے کفر کی نفی واثبات دونوں وارد ہیں۔چنانچہ جس نے اس کو کلام کے موجب سے الزام دیااور جس نے ایسا نہیں کیااس نے کافر قرار نہیں دیا جیسا کہ امام قاضی عیاض کی تصنیف الشفاء اور اس کی شرح
",
979,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,145,اھل السنۃ)بالمال لما یؤدیہ الیہ قولہ کفرہ __ فکانھم صرحوا(عندالمکفرلھم)بما ادی الیہ قولھم __ ومن لم یر اخذھم بمال قولھم لم یراکفار ھم (لشمول معنی الایمان لھم بحسب الظاھر)قال لانھم اذاوقفوا علی ھذا قالوا نحن ننتفی من القول الذی الزمتموہ لنا ونعتقدنحن وانتم انہ کفر __ بل نقول ان قولنا لایؤول الیہ علی ما اصلناہ فعلی ھذین الماخذین اختلف الناس(من علماء الملۃ واھل السنۃ)فی اکفار اھل التاویل____ والصواب (عند المحققین)ترك اکفار ھم لکن یغلظ علیھم بوجیع الادبوشدید الزجروالھجرحتی یرجعوا عن بدعھم ____ وھذہ کانت سیرۃ الصدر الاول (من الصحابۃ والتابعین ومن قرب منھم)فیھم ماازاحوالھم قبراولا قطعوا لھم میراثالکنھم ھجروھم وادبوھم بالضرب والنہ القتل علی قدر احوالھملانھم فساق ضلال(اھل بدعواﷲ الموفق اھ ملتقطا ۔ نسیم الریاض میں ہےاہل سنت میں سے جس نے اس کے کلام کے مآل کو دیکھا اس نے اسے کافر قرار دے دیا انہوں نے(تکفیر کرنے والے کے نزدیک)ا س مآل کی تصریح کی جس کی طرف قائلین کا کلام پہنچاتا ہے۔اور جس نے مآل کلام کی بنیاد پر مؤاخذہ کو روانہ سمجھا اس نے ان کی تکفیرنہ کی (کیونکہ بظاہر معنی ایمان انہیں شامل ہے)اس نے کہا عدم تکفیر کی وجہ یہ ہے کہ جب انہیں مآل کلام سے آگاہ کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس قول سے انکاری ہیں جس کا الزام تم نے ہمیں دیا۔اور ہم اور تم اس کو کفر جانتے ہیںبلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے قول کی جو بنیاد رکھی ہے اس اعتبارسے ہمارے قول کا مآل وہ نہیں(جو تم نے بتایا)ان دو مآخذوں کی بنیاد پر لوگوں(یعنی علماء ملت و اہلسنت)میں اہل تاویل کی تکفیر میں اختلاف واقع ہوا۔اور(محققین کے نزدیک)درست یہ ہے ان کی تکفیر نہ کی جائے لیکن مارپیٹسخت ڈانٹ ڈپٹ اور بائیکاٹ کے ذریعے ان کو سزا دی جائے یہاں تك کہ وہ اپنی بدعتوں سے رجوع کرلیں۔یہ طریقہ ان کے بارے میں صدر اول(عہد صحابہ و تابعین وتبع تابعین میں تھا۔صدر اول کے مسلمانوں نے اہل تاویل کو نہ تو قبروں سے محروم کیا اور نہ ہی میراث سے منقطع کیا لیکن ان سے قطع تعلق کیا اور انکے حالات کے مطابق مار پیٹجلاوطنی اور قتل کے ذریعے انہیں سزائیں دیں کیونکہ وہ فاسقگمراہ اور اہل بدعت ہیں۔اور اﷲ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے اھ۔التفاد(ت) ,
980,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,146,"ومنہامالا امتراء فی کونہ کفرا____ لکن نشافی مطاوی المقال مااخرجہ عن حدالافصاح ÷ ووقع بہ التجاذب فی اعطاء الکفرالبواح÷ کلفظۃ ""عندھم"" فی القول السادس ____ فربما جاء للتبریوان کان الظاھر ثمہ خلاف ذلکعندالعارف باسالیب الکلام ___وھذان القسمان لااکفار بھما عند المحققین۔
اما الثانی:فواضحلان من یشھدبالشہادتین فقد ثبت اسلامہ بیقینوالیقین لایزول بالشک __ وقد روی ذلك عن ائمتناکما فی حاشیۃ السیداحمد الطحطاوی عن البحرالرائق عن جامع الفصولین عن الامام الطحاوی عن الاجلۃ الاصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم
واما الاول فلما صرح الائمۃ الاثبات ان التکفیرا مرعظیموخطرالاثبات ان التکفیرامرعظیم و خطر جسیم کلحم جمل غثہ علی راس جبل وعر لا سھل فیرتقیولا سمین فینتقی__ مسالکہ عسیرۃ و مھالکہ کثیرۃ ___فالذی اور بعض اقوال ایسے ہیں جن کے کفر ہونے میں کوئی شك نہیںلیکن اثناء کلام میں کوئی ایسا قرینہ پایا گیا جو اس کو کفرصریحی کی حد سے خارج کردیتا ہے۔اور اس کی وجہ سے قائل پر ظاہری کفر کا حکم لگانے میں باہم کشمکش واقع ہوجاتی ہے جیسے قول ششم میں لفظ ""عندھم"" بسا اوقات یہ لفظ برا ء ت کے لیے آتا ہےاگر چہ اسالیب کلام کے ماہر کے نزدیك وہاں بظاہر اس کے خلاف ہے۔ان دونوں قسموں پر محققین کے نزدیك تکفیر نہیں کی جاتی۔
قسم ثانی تو واضح ہے کیونکہ جو توحید و رسالت کی شہادت دے دے اس کا اسلام یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔اور یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔تحقیق ہمارے آئمہ کرام سے یہی مروی ہے جیسا کہ سید احمد طحطاوی کے حاشیہ میں البحرالرائق سے بحوالہ جامع الفصولین مذکور ہےجامع الفصولین نے امام طحاوی سے اور انہیں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔
رہی قسم اول تو وہ اس لیے کہ متجرائمہ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ بے شك تکفیر ایك عظیم اور بہت زیادہ ہلاکت میں ڈالنے والا معاملہ ہے۔جیسے لاغروانٹ کا گوشت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر پڑا ہونہ راستہ آسان کہ چڑھاجائے اور نہ ہی وہ گوشت طاقتور کہ اس کے لیے مشقت اٹھائی جائےاس کے
",
981,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,147,"یحتاط لدینہ لایتجاسرعلیہ الابدلائل کشموس بل اجلیحتی ان المسئلۃ ان کانت لہا وجھۃ الی الاسلام وتسع وتسعون وجھۃ الی الکفر فعلی المفتی ان یمیل الی الوجہۃ الاولیفان الاسلام یعلو ولا یعلی__ و ان کان ھذا لاینفع القائل عند اﷲ تعالی ان کان اراد وجہۃ اخری۔
وقد قال المولی العلامۃ زین بن نجیم المصری فی البحروالذی نحرر انہ لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسناوکان فی کفرہ اختلاف ولو روایۃ ضعیفۃ ___ قال رحمۃ اﷲ تعالی __فعلی ھذا اکثر الفاظ التکفیر المذکورۃ لایفنی بالتکفیر بہاولقدالزمت نفسی ان لا افتی بشیئ منھا اھ
قال الحبرالخیراالرملاقول:ولو کانت الروایۃ لغیر مذھبناویدل علی ذلك اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعا علیہ۔ اھ تابعہ علیہ
راستے دشوار اور اس کی ہلاکتیں کثیر ہیں۔جو شخص اپنے دین میں محتاط ہے وہ تکفیر پر جسارت نہیں کرتا۔جب تك سورج کی مثل بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن دلائل موجود نہ ہوں یہاں تك کہ اگر کسی مسئلہ میں ایك جہت اسلام کی اور ننانویں جہتیں کفر کی نکلتی ہوں تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ پہلی جہت کی طرف میلان کرے کیونکہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا اگرچہ یہ قائل کے لیے عنداﷲ نافع نہیں اگر اس نے دوسری جہت یعنی جہت کفر کا ارادہ کیا ہے۔
مولانا علامہ زین بن نحیم مصری نے البحرالرائق میں فرمایا اور وہ جسے ہم تحریر کرتے ہیں یہ ہے کہ کسی ایسے مسلمان کی تکفیر کا فتوی نہ دیا جائے جس کے کلام کو اچھے معنی پر محمول کرنا ممکن ہو یا جس کے کفر میں اختلاف پائے جائے۔اگرچہ ضعیف روایت کی وجہ سے ہو۔علامہ مصری علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اسی وجہ سے مذکورہ الفاظ تکفیر میں سے اکثر پر تکفیر کافتوی نہیں دیاجاسکتا اور میں نے خود پر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ کفر کا فتوی نہیں دوں گااھ)
عالم صالح خیر الدین رملی نے فرمایامیں کہتا ہوں اگرچہ وہ روایت ہمارے مذہب کے غیر کی ہواور موجب کفر کے متفق علیہ ہونے کی شرط لگانا۔اس پر دلالت کرتا ہے۔اھ ابوالسعود نے
",
982,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,148,"ابوالسعود فی شرح الاشباہ۔
وقد فصل الکلامفی ھذا المرام تاج المحققین سراج المدققینسیدنا الوالدقدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ التی شدد فیہا النکیر علی بعض اعلامہ عصرہ فلم یردو شیئاو کانوالہ مذعنین۔
ومنھا وھوالاکثر ما لاعذر فیہ لزید ولا مھلا ولا رویدکالا قوال الاربعۃ الاول وغیرھافانہ قد ناضل فیھا ضروریات الدینوخلع من رقبتہ ربقۃ الیقین واتی بما لا تغسلہ البحار ولاتساعد الحیل والا عذار __و قدعلمت انہاذا کان عن علم وعمد وطوع__ ولاریب فی وجودھا فھنا فلاتنفع العزائم ولا تمنع التمائمولاحول ولاقوۃ باﷲ العلی العظیم۔
واعلم ان العبدالضعیف لطف بہ المولی اللطیف لما وصل الی ھذا المقام * وحان اوان الحکم علی المتکلم بذالك الکلامتعرضت لہحشمۃ کلمۃ الاسلام فاستعظم الجزم بالاکفار
شرح اشباہ میں اس کی متابعت کی ہے۔
تحقیق اس مقصد میں کلام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے میرے والد ماجد قدس سرہنے جو محققین کے تاج اور مدققین کے چراغ ہیں اپنے ان بعض فتاوی میں جن میں آ پ نے اپنے ہمعصر مشاہیر پر سخت تنقید کی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ آپ کی اطاعت کرنے والے تھے۔
اور بعض اقوال جو کہ اکثر ہیں ایسے ہیں کہ ان میں زیدکے لیے عذر نہیںنہ ان میں کوئی مہلت ہے نہ ڈھیل جیسے پہلے چار اقوال وغیرہا کیونکہ ان میں اس نے ضرویات دین پر تیر اندازی کی اور یقین کا پھندا اپنی گردن سے اتار پھینکا اور ایسے غلیظ کلمات واقوال لایا کہ انہیں کئی سمندر بھی نہیں دھوسکتے اور نہ ہی حیلے بہانے اس کی مواققت کرتے ہیں۔تحقیق توجان چکا ہے کہ اگر وہ اقوال جانتے بوجھتے بخوشی کہے گئے جیسا کہ یہاں ان امور کی موجودگی میں کوئی شك نہیں تو نہ ارادے نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی تعویذات دفاع کرسکتے ہیں۔اور نہیں ہے برائی سے بچنے کی طاقت اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلند ی و عظمت والے معبود کی توفیق سے۔
تو جان لے کہ عبد ضعیف(اس پر مہربان مولی مہربانی فرمائے۔جب اس مقام پر پہنچا اور اس کلام کی وجہ سے متکلم پر حکم لگانی کا وقت آیا تو اسی کلمہ اسلام کی عظمت و جلالت دامنگیر ہوئیچنانچہ اس نے تکفیر کو بہت ہی عظیم معاملہ سمجھا اس بات کا خوف
",
983,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,149,ایما استعظام * فرقا من ان تکون ھناك دقیقۃ عمیقۃ لم یصلہا فھمیاو شاذۃ فاذۃ لم یحط بھا علمی * فاستخرت المولی سبحنہ وتعالی و جعلت اراجع الکتب واقلب الاوراق * حتی اکملت الجد وانھیت الجھد حسب مایطاق * وصرفت فیہ یومین کاملین * فلم ارشیئا تقر بہ العین * بل کلما تو غلت فی تتبع الاسفار * تتابع الاقوال تؤید الاکفار * الی ان وقفت علی معظم المسائل * وعامۃ الفروع فی کتاب الاماثل * من اصحابنا الحنفیۃ * وعمائد الشافعیۃ * وزعائم المالکیۃ * والذی تیسر من کلمات الحنبلیۃ * فاذاھی جمعا کما ھی علیحدۃ * کانھا ترمی عن قوس واحدۃ * فایقنت ان لیس للرجل محیص * ولا عن الحکم بالاکفار مفیص * اللھم الا حکایۃ ضعیفۃ عن بعض علمائنا فی الجامع الاصغر * ان عقد الخلد ھوالمعتبر * اوردھا ثم ردھا ثم ردھا ______ ولکن زدت بھا تلعثما * و وددت الوقوف ھناك تاثما علما منی بان الخلاف وان کان ضعیفا ھھنا کاف__فامعنت النظر وانعمت کرتے ہوئے کہ ہوسکتا ہے یہاں گہرا باریك علمی نکتہ ہو جس تك میری دانش نہ پہنچی ہو یا کوئی الگ تھلگعلمی بات جس کو میرا علم حاوی نہ ہوا ہوتو میں نے مولی سبحنہوتعالی سے استخارہ کیا اور کتابوں کی طرف مراجعت اور ورق گردانی کرنے لگایہاں تك کہ میں نے اپنی پوری کوشش کرلی اور مقدور بھر انتہائی محنت و مشقت کو بروئے کار لایا۔اور اس میں پورے دو دن صرف کردیئے۔اس کے باوجود میں نے کوئی ایسی شے نہ پائی جس سے آنکھ ٹھنڈی ہوتی بلکہ جب بھی کتابوں کی تلاش میں منہمك ہواپے درپے تکفیر کے مؤید اقوال ہی پائے۔یہاں تك میں نے حنفیشافعیمالکی اور حنبلی فقہاء کرام اور علماء عظام کی کتب میں بہت سے عظیم مسائل اور عام فروع پر واقفیت حاصل کی تو وہ مجموعی طور پر بھی ایسے ہی ہیں جیسے الگ الگ گویا کہ وہ سب ایك ہی کمان سے تیر اندازی کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے یقین کرلیا کہ اس شخص کے لیے کوئی جائے فرار نہیں اور نہ ہی حکم تکفیر سے ہٹنے کی گنجائش ہے۔اے اﷲ ! مگر ایك ضعیف روایت جو ہمارے بعض علماء سے جامع اصغر میں منقول ہے وہ یہ کہ ارادہ قلبی معتبر ہےجامع اصغرمیں اس کو وارد کیا پھر اس کا خوب رد کیا۔لیکن میں نے اس میں زیادہ سوچ بچار کی اور گناہ سے بچنے کے لیے توقف کو پسند کیا یہ سمجھتے ہوئے کہ مخالفت اگرچہ کمزور ہے مگر یہاں کافی ہے۔چنانچہ میں نے گہری نظر ڈالی اور فکر میں ,
984,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,150,"الفکر * حتی فتح المولی تبارك و تعالی ان الاکفار علیہ الاجماع * و انما وقع فی الکفر النزاع * فلا شك ولا ارتیاب ان من تکلم بکلمۃ الکفر طائعا عالما عامدا صاحیا فہو کافر عندنا قطعا لاینتطح فیہ عنزانو نجری علیہ احکام الردۃ ویحرم علی امراتہ ان یمکنہ من نفسھاویجوز لھا ان تنکح من دون طلاق من تشاء والقائل نحبسہ ثلاثاندبا عـــــہ ونمھلہ لیرزق توبافان تاب و الا قتل ورمی بجیفۃ کجیفۃ الکلابمن دون غسل ولا کفن * ولا صلوۃ ولا دفن * وقطعنا میراثہ عن مورثیہ المسلمین * و جعلنا کسب ردتہ فیئا لجمیع المؤمنینالی غیر ذلك من الاحکام المشرحۃ فی الکتب الفقھیۃ۔
اماانہ ھل یکفر بذلك فیما بینہ وبین ربہ تبارك وتعالی فقیلمالم یعقد الضمیر علیہلان التصدیق مبالغہ کیا یہاں تك کہ مولی تبارك و تعالی نے مجھ پر آشکارا فرمادیا کہ تکفیر پر اجماع ہےنزاع توفقط کفر میں ہے۔اس میں کوئی شك وشبہ نہیں کہ جس نے بخوشی جان بوجھ کر بقائمی ہوش وحواس کلمہ کفر بولا وہ ہمارے نزدیك قطعی طور پر کافر ہے۔اس میں دو بکریاں سینگ نہیں لڑائیں گی۔ہم اس پر مرتد ہونے کے احکام جاری کریں گے۔اس کی بیوی پر حرام ہوگا کہ وہ خود کو اس کے قابو میں دے اور اس کے لیے جائز ہوگا۔بغیر طلاق جس کے ساتھ چاہے نکاح کرلے اور کلمہ کفر کہنے والی کو ہم بطور استحباب تین دن محبوس رکھیں گے اور اس کو مہلت دیں گے تاکہ اسے توبہ کی توفیق ملے۔اگر اس نی توبہ کرلی تو ٹھیك ورنہ قتل کرکے اس کے لاش کو کتے کے لاش کی طرح غسلکفننماز جنازہ اور دفن کے بغیر پھینك دیں گے مسلمان مورثوں سے اس کی میراث منقطع کردیں گے۔ اور اس کی حالت ارتدادکی کمائی کو تمام مسلمانوں کے لیے غنیمت بنادیں گے۔اسی طرح اس کے علاوہ دیگر احکام جاری کریں گے جو کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔
رہا یہ مسئلہ کہ کیا وہ اس کلمہ کے ساتھ عنداﷲ کافر ہوجائے گا یا نہیںتو ایك قول یہ ہے کہ نہیں ہوگا جب ولی ارادہ نہ پایا جائے کیونکہ تصدیق کا
عــــــہ:الا اذا استمھل فیجب فی ظاھرالروایۃ ۱۲ منہ۔ مگر جب وہ مہلت طلب کرے تو پھر ظاہرالروایہ میں واجب ہے ۱۲منہ(ت)۔
",
985,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,151,"محلہ القلب وھذہ ھی الحکایۃ التی اشرنا الیھاوقال عامۃ العلماء و جمھورالامناءنعموان لم یعقد لانہ متلاعب بالدینوھوکفربیقین وقدقضی اﷲ تعالی ان مثل ذلك لایقدم علیہ الامن نزع اﷲ الایمان من قلبہعوذا بہ سبحنہ وتعالی
قال تعالی: "" ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم "" ۔
وھذا ھوا لصحیح الرجیح المذیل بطراز التصحیح فھنالك عملت فی ذلك رسالۃ جلیلۃ وعجالۃ جمیلۃ تشتمل علی غررالفوائد والدررالفرائدسمیتھا البارقۃ اللمعا فی سوء من نطق بکفر طوعا لیکون العلم علما علی التاریخ کرسالتنا ھذہ التی نحن الان مفیضون فیھا سمینا ھا ""مقامع الحدید علی خدا المنطق الجدید۱۳۰۴ھ""۔
محل دل ہے یہی وہ حکایت ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے جب کہ عام علماء کرام اور جمہورا امنا نے کہا ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا اگرچہ دلی طور پر عزم نہ پایا جائے کیونکہ وہ دین کے ساتھ کھیلنے والا ہے۔اور یہ یقینا کفر ہے۔تحقیق اﷲ تعالی نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ اس جیسے فعل کا ارتکاب صرف وہی کرے گا جس کے دل سے اﷲ تعالی ایمان سلب کرلیتا ہےاﷲ سبحنہ و تعالی کی پناہ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم نے یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہوبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ہو مسلمان ہو کر۔
اور یہی صحیح وراجح ہے جو تصحیح کے نقش ونگار سے مزین ہےتو یہاں سے ہی میں نے ایك خوبصورت جلیل القدر رسالہ بنا دیا جو چمك دار فوائد اور بڑے بڑے موتیوں پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام البارقۃ اللمعافی سوء من نطق بکفر طوعا (۱۳۰۴ھ)رکھا تاکہ نام سے رسالہ کی تاریخ تصنیف کا علم ہو جائے ہمارے اس رسالے کی طرح جس میں اب ہم مشغول ہونے والے ہیں اس کا نام ہم نے مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید رکھا۔
",
986,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,152,"فعلیک(عہ)بھا فانی حققت فیھا ان اکفار الطائع ھو الاجماع من دون نزاع واقمت علی ذلك دلائل ساطعۃ لاترام * و براھین قاطعۃ لاتضام * فسکن الصدر * و استقرالامر * وبان الصواب * وانکشف الحجاب * و الحمد اﷲ رب العلمین۔ تجھ پر اس رسالہ(البارقۃ اللمعا)کا مطالعہ لازم ہے کیونکہ میں نے اس میں تحقیق کی ہےکہ برضا ورغبت کفریہ کلمہ بولنے والے کی تکفیر پر اجماع ہے اس میں کوئی نزاع نہیںمیں نے اس پر ایسے بلند دلائل قائم کیے ہیں جنہیں جھکایا نہیں جاسکتا۔اور ایسے قطعی براہین قائم کیے ہیں جن میں کمی نہیں کی جاسکتی۔دل مطمئن معاملہ ثابتدرستگی ظاہر اور حجاب منکشف ہوگیا۔اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا(ت)
بالجملہ حکم اخیر یہ ہے:
کہ زیدکے اقوال مذکورہ بعض حرام وگناہ______ اور بعض بدعت و ضلالت______ اور اکثر خاص کلمات کفر والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
اور زید بہ حکم شرع فاسقفاجرمرتکب کبائربدعتی خاسرگمراہ غادر______ اس قدر پر تو اعلی درجہ کا یقین اس کے سوا اس پر حکم کفر وارتداد سے بھی کوئی مانع نظر نہیں آتا______ حنفیہشافعیہمالکیہحنبلیہ سب کے کلمات ______بلکہ صحابہ و تابعین سے لے کر اس زمانہ تك کے افتاء وقضیاتبالاتفاق یہی افادہ کرتے ہیں____ کما بینا فی ""البارقۃ اللمعا""(جیسا کہ اس کو ہم نے البارقۃ اللمعا میں بیان کردیا۔ت)
بالفر ض اگر بہ ہزار دقت کوئی بچتی ہوئی صورت نکل بھی سکی تو یہ بالجزم بین و مبین وصریح وظاہر کہ وہ اپنے ان اقوال کے سبب عامہ علمائے دین وجماہیر آئمہ کاملین کے نزدیك کافراور اس پر احکام ارتداد جاری اور بے توبہ مرے تو جہنمی ناری۔والعیاذ باﷲ القدیر الباری(اور اﷲ کی پناہ جو قدرت والا پیداکرنے والا ہے۔ت)
العظمۃ ﷲ !(بڑائی اﷲ کے لیے ہےت)اس قدر کیا کم ہے۔
عــــــہ:الضمیر یرجع الی ""البارقۃ اللمعا"" فانہا التی اشبع فیھا الکلام حول ذاالموضوع ۱۲ محمد احمد)
",
987,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,153,"اعلام میں فرماتے ہیں۔
لوتشبہ بالمعلمین فاخذ خشبۃ وجلس القوم حولہ کالصبیان فضحکوا واستھزاء وا کفرزاد فی الروضۃ الصواب لاولا یغتر بذلک فانہ یصیر مرتدا علی قول جماعۃوکفی بہذا خسارا وتفریطا اھ ملتقطا اگر کوئی معلمین کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے تخت پر بیٹھا اور لوگ مثل بچوں کے اس کے اردگرد بیٹھ گئے اور ہنسی مذاق کرنے لگے تو وہ کافر ہوجائیں گا۔روضہ میں یہ اضافہ کیا کہ درست بات یہ ہے کہ کافر نہ ہوگا۔اور تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے اس لیے کہ ایك بڑی جماعت کے قول پر وہ مرتد ہوجائے گااوراسے یہ خسارہ و نقصان کافی ہے اھ التقاط(ت)
مع ہذاشفا شریف سےاوپر منقول ہوا کہ:بعض اقوال اگرجہ فی نفسہ کفر نہیں مگر بار بار بہ تکرار ا ن کا صدقہ دلیل ہوتا ہے کہ قائل کے قلب میں اسلام کی عظمت نہیں۔اس وقت اس کے کفر میں زنہار شك نہ ہوگا۔
سبحن اﷲ ! پھر کفریات خالصہ کا بہ ایں زور وشورصدور کیونکر کفر قائل پر برہان کامل نہ ہوگا! ______لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العزیز الحکیم۔
زید پر ہر فرض سے بڑھ کر ازسر نور مسلمان ہو اور ان کفریات و ضلالات سے علی الاعلان توبہ کرےاور صرف بہ طور عادت کلمہ شہادت زبان پر لانا ہر گز کافی نہ ہوگا کہ اس قدر تووہ قبل از توبہ بھی بھی بجالاتا تھا۔بلکہ اس کے ساتھ تصریح کرے کہ وہ کلمات کفریہ تھے اور میں نے ان سے توبہ کی۔اس وقت اہل اسلام کے نزدیك اس کی توبہ صحیح ہوگی______ اور ایمان لائے کہ اﷲ جل جلالہ کے سوا کوئی خالق نہیںنہ اس کا غیر قدم کے لائق______او ر ایمان لائے کہ وہ تمام عالم کامدبر اور ہرچیزپرقادر ہے۔اور عقول مخترر فلاسفہ باطل______ الی غیر ذلك مما یظہربالمر اجعۃ الی ما قدمنا من المسائل(اس کے علاوہ جو کچھ ظاہر ہے ان مسائل کی طرف رجوع کرنے سے جن کو ماقبل میں ہم نے بیان کیا ہے۔ت)بحرالرائق میں ہے:
اتی بالشھادتین علی وجہ العادۃ بطور عادت شہادتیں کو لایا۔(کلمہ شہادت پڑھا)تو
",
988,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,154,"ینفعہ مالم یرجع عما قال اذلا یرتفع بھما کفرہ کذا فی البزاز یۃ و جامع الفصولین اھ ۔ اس کو نفع نہ دے گا جب تك اپنے قول سے رجوع نہ کیونکہ اتیان شہادتیں سے اس کا کفر مرتفع نہ ہوگا بزازیہ اور جامع الفصولین میں یونہی ہے اھ(ت)
اور ضرور ہے کہ جس طرح کتاب چھاپ کر ان کفریات و ضلالات کی اشاعت کی یوں ہی ان سے بری اوراپنی توبہ کا اعلان کرے کہ آشکارا گناہ کی توبہ بھی آشکارا ہوتی ہے۔امام احمد کتاب الزہداور طبرانی معجم کبیر میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور سیدنا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃالسر بالسروال
علانیۃ بالعلانیۃ
قلت:واسنادہ حسنع لی اصول الحنیفۃ۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا تو بہ بجالاپوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔
میں کہتا ہوں اصول حنیفہ کے مطابق اس کا اسناد حسن ہے۔ (ت)
اور اس کتاب تباہ خراب کی نسبت میں وہ نہیں کہتا جو بعض علمائے حنیفہ وشافعیہ کتب منطقیۃ کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان کے جو ورق نام خدا ورسول اﷲ سے خالی ہوں ان سے استنجاء روا۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
لوکان الکتاب فی المنطق ونحوہتجوزا اھانتہ فی الشریعۃحتی افتی بعض الحنفیۃ وکذا بعض الشافعیۃ بجواز الاستنجاء بہ اذا کان خالیا عن ذکر اﷲ تعالی مع الاتفاق علی عدم جواز الاستنجاء بالورق الابیض الخالی عن الکتابۃ اھ ملخصا اگر منطق وغیرہ میں کوئی کتاب ہو تو شریعت میں اس کی توہین کرنا جائز ہے یہاں تك کہ بعض حنفیوں نے یوں ہی بعض شافیوں نے اس کے ساتھ استنجاء کے جواز کا فتوی دیا ہے بشرطیکہ وہ اﷲ تعالی کے ذکر سے خالی ہو باوجود یہ کہ کتاب سے خالی سفید کاغذ کے ساتھ استنجاء کے عدم جواز پر اتفاق ہے اھ تلخیص(ت)
",
989,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,155,"ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ اب اس کی اشاعت سے باز رہے۔اور جس قدر جلدیں باقی ہوںجلادے اور حتی الوسع اس کے اخماد نا رو اماتت اذکار میں سعی کرے کہ منکر باطل اسی کے قابل قال اﷲ تعالی:
"" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ و اللہ یعلم و انتم لا تعلمون ﴿۱۹﴾ "" بے شك جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے مسلمانوں میں ان کے لیے دکھ کی مار ہے دنیا و آخرت میں اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
سبحن اﷲ ! اشاعت فاحشہ پر یہ ہائل وعید____ پھر اشاعت کفر کس قدر شدید____ والعیاذ باﷲ العلی الحمید(بلندی والے سراہے ہوئے معبود کی پناہ۔ت)
خاتمہ رزقنا اﷲ حسنھا(اﷲ تعالی ہمیں اچھا خاتمہ عطا فرمائے۔ت)چند تنبیہات زاکیات میں
تنبیہ اول:اے عزیز ! آدمی کو اس کی انانیت نے ہلاك کیاگناہ کرتا ہےاور جب اس سے کہا جائے توبہ کرتو اپنی کسر شان سمجھتا ہے۔عقل رکھتا تو اصرار میں زیادہ ذلت و خوار ی جانتا۔
یا ھذا۔ہرگز منصب علم کے منافی نہیں کہ حق کی طرف رجوع کیجئے۔بلکہ یہ عین مقتضائے علم ہے اور سخن پروری ہر جہل سے بدتر جہل____ وہ بھی کاہے میں کفریات میں۔والعیاذ باللہ(اﷲ کی پناہ۔ت)
یا ھذا صغیرہ پر اصرار اسی کبیرہ کردیتا ہے ____ کفریات پر اصرار کس قعر نار میں پہنچائے گا۔
یاھذا تیرا رب ایك شخص کی مذمت کرتا ہے:
"" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ و اللہ یعلم و انتم لا تعلمون ﴿۱۹﴾ "" یعنی جب اس سے کہا جائے خدا سے ڈرتو اسے غرور کے مارے گناہ کی ضد چڑھتی ہے۔سو کافی ہے اسے جہنم اور بے شك کیا برا ٹھکانا ہے۔
ﷲ ! اپنی جان پر رحم کراور اس شخص کا شریك حال نہ ہو۔
یاھذا تیرا مالك ایك قوم پر رد فرماتا ہے:
و اذا قیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ لووا رءوسہم و جب ان سے کہا جائے آو تمہارے لیے بخشش خدا کا رسولتو اپنے سر پھیرلیتے ہیں تو انہیں
",
990,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,156,"رایتہم یصدون و ہم مستکبرون ﴿۵﴾"" دیکھے کہ باز رہتے ہیں تکبر کرتے ہوئے۔
ہاں بھی تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف بلاتا ہوںخدا کو ماناور منہ نہ پھیر۔
یا ھذا تو سمجھتا ہےاگر میں تسلیم کرلوں گا تو لوگوں کی نگاہ میں میری قدر گھٹ جائے گی اور میرے علم فلسفی میں بٹا لگے۔ حالانکہ یہ محض وسوسہ شیطان ہے۔لاحول پڑھاور خدا کی طرف جھککہ اس سے اﷲ تعالی کے یہاں تیری عزت ہوگی۔اور خلق میں بے قدری بھی بھی غلطبلکہ تجھے منصف و حق پسند جانیں گے اور نہ مانے گا تو متکبر و شریر ولوند۔
یاھذا کیا یہ ڈرتا ہے کہ مان جاؤں گا تو اس مجیب کا علم مجھ سے زیادہ ٹھہرے گا_______ حاش ﷲ ! واﷲ کہ اگر کوئی بندہ خدا میرے ذریعہ سے ہدایت پائے تو اس میں میری آنکھ کی ٹھنڈك اس سے ہزار درجہ زائد ہے کہ میرا علم کسی سے زیادہ ٹھہرے۔
ہاں ! ہاں !! اگر تو اعلان توبہ کرے تو میں اپنے جہل اور تیرے فضل کا نوشتہ لکھ دوں۔
یاھذا اك ذرا تعصب سے الگ اور تنہائی میں بیٹھ کر سوچ کہ کفریات پر اصرار کی شامت تیرے حق میں بہتر ہے یا بعد رجوع و توبہ بعض جہال کی تحقیر و ملامت
ھیھاتھیھاتاﷲ کا عذاب بہت سخت ہے_____ وانہلات(اور وہ بلاشبہہ آنے والا ہے۔ت)میں تیرے بھلے کی کہتا ہوںعار پر نار کو اختیار نہ کرنا۔
الہی ! میرے بیان میں اثر بخش! اور اپنے اس بندہ کو ہدایت دے اور ہمارے قلوب دین حق پر قائم رکھ۔
یاواجدیاماجدلاتزل عنی لعمۃ نعمتہا علیبجاہ من ارسلتہ رحمۃ للعلمینواقمتہ شفیعا المذنبین المتلوثین الخطائین الھالکینصلی اﷲ تعالی علیہ و علی الہ وصحبہ اجمعینامین۔ اے محب ! اے کمال بزرگی والے ! جو نعمت تو نے مجھے عطا فرمائی ہے وہ مجھ سے سلب نہ فرمااس کے صدقے میں جسے تو نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اور تو نے اسے ہلاکت میں پڑنے والے خطاکاروں اور لتھڑے ہوئے گنہگاروں کے لیے شفیع بنایا ہے۔اﷲ تعالی آ پ پرآپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر رحمت نازل فرمائے۔(آمین)(ت)
",
991,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,157,"تنبیہ دوم:مبادا اگر رگ تعصب جوش میں آئے۔اور خدا ایسا نہ کرےتو اس قدر یاد رہے کہ عقائد اسلام و سنت کے مقابل ہم پر فلاں ہندی و بہمان سندی کسی کا قول سند نہیں_____ نہ احکام شرعیہ شخص دون شخص سے خاص _____ العزۃ ﷲ(عزت اﷲ تعالی کے لیے ہے۔ت)_____ شرح سب پر حجت ہے_____وہ کون ہے جوشرع پر حجت ہوسکے_____ اس قسم کی حرکت جس سے صادر ہوگئیوہ بقدر اپنے سیئہ کے حکم کا مستہق ہوگاکسے باشد کائنا من کان(جو بھی ہو۔ت)_____
این وآںسے ہمیں موافقت اسی وقت تك ہے جب تك وہ دین حق سے جدا نہیں۔اور اس کے بعدعیاذاباﷲ(اﷲ کی پناہ۔ت)ع۔
سایہ اش دور باد از ما دور
(اس کا سایہ ہم سے دور ہو۔ت)
جس کا قول ہم اسلام و سنت کے موافق پائیں گے تسلیم کریں گے۔نہ اس لیے کہ اس کا قول ہے۔بلکہ اس لیے کہ صراط مستقیم سے مطابق ہے_____ اور جس کی بات خلاف پائیں گے۔زید ہو یا عمروخالد ہو یا بکردیوار سے مار کر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رکاب سے لپٹ جائیں گے_____ اﷲ ان کا دامن ہم سے نہ چھڑائے دنیا میں نہ عقبی میں_____ آمین ! الہی امین۔
محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسراست کسے کہ خاك درش نیست خاك برسراو
(محمد عربی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دونوں جہانوں کی آبرو ہیںجو انکے در اقدس کی خاك نہیں ہے اس کے سر پر خاك ہو۔ت)
تنبیہہ سوم:واجب الملاحظۃ نافع الطلبہ(جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے وہ طلبہ کے لیے نفع بخش ہے۔ت)
ان اعصارو امصار کے طلبہ علم چشم عبرت کھولیں اور توغل فلسفہ کیآفت جان گزا غور سے دیکھیں زید کہ جس کے اقوال سے سوال ہے آخر اس حال کوکاہے کی بدولت پہنچا۔اور فلسفہ کی دبی آگ نے بی خبری میں بہ تدریج سلگ کر دفعۃ بھڑکی تو کہاں تك پھونکا
اے عزیز ! شیطان اول دھوکا دیتا ہے کہ مقصود بالذات تو علم دین ہے _____ اور علوم عقلیہ وسیلہ و آلہ______ پھر ان میں اشتعال کس لیے بے جا
ھیھات !اگر یہ امراپنے اطلاق پر مسلم بھی ہو تو اب اپنے حالات پر غور کرو کہ آلہ ومقصود کی شان ہوتی ہے شب وروز آلہ میں غرق ہوگئے۔مقصود کا نام تك زبان پر نہ آیا۔اچھا تو سل ہے۔
",
992,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,158,"اور اچھا قصد
بوقت صبح شود ہمچو روز معلومت
کہ باکہ باختہ عشق درشب دیکور
صبح کے وقت تجھے روز روشن کی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تاریك رات میں تو نے کس کے ساتھ عشق بازی کی ہے۔ت)
عزیزو ! اگر علم آخرت کے لیے سیکھتے ہو تو واﷲ کہ فلسفہ آخرت میں مضر_____ اور دنیا کے لیے تو یہاں وہ بھی بخیر___ اس سے تو بہتر کہ مڈل پاس کرو کہ دس روپیہ کی نوکری پا سکو۔
عزیزو !ﷲ انصاف ! مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث میں علم کو تزکیہ انبیاء ا و ر علماء کو ان کا وارث فرمادیا۔ذرا دیکھو تو وہ علم یہی ہے جس میں تم سراپا منہمکیا وہ جسے تم بایں بے پرواہیواستغنا تارک_____ بھلا ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا وارث بننا اچھایا ابن سینا وفارابی کا فضلہ خوار ع
بین تفاوت رہ ازکجاست تابہ کجا
(ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ت)
عزیز و! شیطان اس قوم کے کان میں پھونك دیتا ہے کہ عمر صرف کرنے کے قابل یہی علوم فلسفیہ ہیں اگر ان کے مدارك عمیق اور مسالك دقیقجب یہ آگئے تو علوم دنییہ کیا ہیں۔ادنی توجہ میں پانی ہوجائیں گے۔
حالانکہ واﷲ محض غلط______ تمہیں ان علوم ربانیہ کا مزہ ہی نہیں پڑے_____ ورنہ جانتے کہ علم یہی ہیں۔اور جو غموض ودقت و لطف ونزاکت ان میں ہے ان کا ہزارواں حصہ وہاں نہیں_____ مگر کیا کیجئے کہ۔ ع
الناس اعداءلما جھلوا
(لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جس سے وہ جاہل ہوتے ہیں۔(ت)
اچھا نہ سہی_____ مگر کیا نفیس تدقیقعمدہ تحقیق ہے کہ ہزاران برس گزرے آج تك کوئی بات منقح نہ ہوئی_____ لوگ کہتے ہیں تلاحق آراءسے علم نضج پاتے ہیں_____ وہاں اس کے خلاف۔ ع
شد پریشاںخواب شاں از کثرت تعبیر ہا
(زیادہ تعبیروں کی وجہ سے ان کا خواب پریشان ہوگیا۔ت)
سلف خلف میں جسے دیکھئے کیا چمك چمك کر تقریریں کرتا ہے گویا حق ناصح اس کی بغل سے نکل کر کہیں گیا ہی نہیں_____ جب دوسرا آیا اس نے نئی ہانك سنائیاگلے کی عقل اوندھی بتائی_____ یوں ہی یہ سلسلہ بے تمیزی لاتقف عندحد قبل یوم القیمۃ (قیامت سے پہلے یہ سلسلہ کسی حد پر نہیں
",
993,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,159,"رکے گا۔ت)چلا جاتا ہے اور چلا جائے گا۔کچھ محقق ہوسکا نہ ہرگز ہو۔ع
ہرکہ آمد عمارتے نو ساخت رفت و منزل بہ دیگرے پر داخت
(جو بھی آیا اس نے نئی عمارت بنائیچلا گیا اور عمارت دوسرے کے حوالے کردی۔ت)
کہیے پھر اس ""کاوکاو"" کا کیا محصل نکلا اور کون سا نتیجہ دامن میں آیا ____دم مرگ جب دیکھئے تو ہاتھ خالی۔
جہل تھا جو کچھ کہ سیکھاجو پڑھا افسانہ تھا ایك فلسفی نزع میں ہاتھ ملتا اور کہتا تھاعمر کھوئی کچھ تحقیق نہ ہو پایاسوا اس کے کہہر ممکن محتاج ہے اور امکان امر عدمی_____ دنیا سے چلا اور کچھ نہ ملا۔
اور دوسرا امریعنی علوم دینیہ اس کے ذریعہ سے خود آجانا_____ ایسا باطل فضیح ہے جس کی واقعیت تمہارے اذہان کے سوا کہیں نہ ملے گی_____ حاش ﷲ! کام پڑے دام کھلتے ہیں_____ دس مسائل دینی پوچھے جائیںاور کوئی فلسفی صاحب اپنے تفلسف کے روز سے ٹھیك جواب دےدیں تو جانیں_____یوں تو زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں۔ ع
کس نگوید کہ دوغ من ترش است
(اپنی لسی کو کھٹا کوئی نہیں کہتا۔ت)
عزیزو! یہ درس کہ ان بلاد میں رائجاحمق اسے منتہائے علم سمجھتے ہیں۔حاشا کہ وہ ابتدائی علم بھی نہیں۔اس سے استعداد آنا منظور ہے _____ رہا علم! _____ ہیہات ہیہات! ہنوز دلی دور ہے۔ ع
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
(بہت سفر چاہیے تاکہ کچا پکا ہوجائے۔ت)
طالب علم بے چارہ شفااشارات سب لپیٹ گیا اور یہ بھی نہ جانا کہ ""اصول دین"" کو کیونکر سمجھوں! اور خدا و رسول کی جناب میں کیا اعتقاد رکھوں! _____ اگر کچھ معلوم ہے تو سنی سنائی تقلیدی_____پھر حلال و حرام کا تو دوسرا درجہ ہے۔
افسوس واضع درس نے کتب دینیہ گنتی کی رکھیں کہ طلبہ خوض و غور کے عادی ہوجائیں اور ازاں جا کر
",
994,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,160,"ابھی عقل پختہ نہیںلہذا ایسی چیز میں مشق ہو جس کی الٹ پلٹ نقصان نہ دے____ مگر وہ ہورہی الٹی ___کہ انہیں لم ولا نسلم(کیوں اور ہم نہیں مانتے۔ت)کی آفت چرگئی___ اور جزتسلیمی پر کہ مدار ایمان سے قیامت گزر گئی۔
عزیزو! احمدترمذینسائیابن ماجہابن حبانحاکم بیہقیعبدبن حمید بغوی باسانیدصحیحہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان العبداذا اخطاخطیئۃ نکتت فی قلبہ نکتۃ سوداء فان ھونزع واستغفر وتاب صقل قلبہوان عاد زید فیھا حتی تعلو علی قلبہوھو الرأن الذی ذکر اﷲ تعالی کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوایکسبون ۔ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایك سیاہ دھبا پڑ جاتا ہےپس اگر وہ اس سے جدا ہوگیا اور توبہ استغفار کی تو اس کی دل پر صیقل ہوجاتی ہے۔اور اگر دوبارہ کیا تو سیاہی بڑھتی ہے یہاں تك کہ اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے۔اور یہی ہے وہ زنگ جس کا اﷲ تعالی نے ذکر فرمایا کہ:یوں نہیں بلکہ زنگ چڑھادی ہے ان کے دلوں پر انکے گناہوں نے کہ وہ کرتے تھے۔
دیکھو ایسا نہ ہو کہ یہ فلسفئہ مزخرفہ تمہارے دلوں پر زنگ جمادے کہ پھر علوم حقہ صادقہ ربانیہ کی گنجائش نہ رہے گی۔کہتے یہ ہو کہاس کے آنے سے وہ خود آجائیں گے۔حاشا! جب یہ دل میں پیر گیا وہ ہر گز سایہ تك نہ ڈالیں گے کہ وہ محص نور ہیں۔اور نور نہیں چمکتا مگر صاف آئینہ میں۔
عزیزو ! اسی زنگ کا ثمرہ ہے کہ منہمکان تفلسف علوم دینیہ کو حقیر جانتےاور علمائے دین سے استہزاء کرتے۔بلکہ انہیں جاہل اور لقب علم اپنے ہی لیے خاص سمجھتے ہیں۔
اگر آئینہ دل روشن ہوتا تو جانتے کہ وہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وارث و نائب ہیں۔وہ کیسی نفیس دولت کے حامل وصاحب ہیں جس کے لیے خدانے کتابیں اتاریںانبیاء نے تفہیم میں عمریں درازیں_____وہ اسلام کے رکن ہیں_____ وہ جنت کے عماد ہیں_____ وہ خدا کے محبوب ہیں___
",
995,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,161,"وہ جان رشاد ہیں_____ رہا ان کے ساتھ استہزااس کا مزہ آج نہ کھلا تو کل قریب ہے___ "" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"" ۔(اور اب وہ جانا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
عزیزو ! نفس خودی پسند آزادانہ اقول کا مزہ پا کر پھول گیا_____ اور قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں جو دل کا سرور اور آنکھوں کا نور ہے اسے بھول گیا۔
ہیہات ! کہاں وہ فن جس میں کہا جائے "" میں کہتا ہوں"" یا نقل بھی ہو تو ابن سینا گفت(ابن سینا نے کہا ت۔)
اور وہ فن جس میں کہا جائے ""خدا فرماتا ہے۔مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں""۔
جتنا میں اور مصطفی میں فرق ہے اتنا ہی اس اقول و قال اور دونوں علموں میں۔کیا خوب فرمایا عالم قریشی سیدنا اما م شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے۔
کل العلوم سوی القران مشغلۃ الا الحدیث والا الفقہ فی الدین
العلم ماکان فیہ قال حدثنا وما سوی فوسواس الشیاطین
(قرآن کے علاوہ تمام علوم ایك مشغلہ ہیں سوائے حدیث کے اور سوائے حدیث کے اور سوائے فقہ کے دین میں۔
علم تو وہ ہے جس میں کوئی شخص کہے کہ ہمیں حدیث بیان کی اور اس کے ماسوا شیطانوں کا وسوسہ ہے۔(ت)
انچہ قال اﷲ ونے قال الرسول
فضلہ باشدفضلہ می خواں اے فضول
(وہ کہ اﷲ نے فرمایا نہ رسول نےفضلہ ہوگا فضلہ پڑھتا ہےاے فضول ت)
عزیزو! خدا را غور کروقبر میں حشر میں تم سے یہ سوال ہوگا کہ عقائد کیا تھے اور اعمال کیسے یا یہ کہ وہ کلی طبعی خارج میں موجود ہے یا معدوم اور زمانہ غیر قارو حرکۃ بمعنی القطع کائن فی الاعیان ہیں یا آن سیال و حرکت بمعنی التوسط سے موہوم۔
عزیزو ! میں نہیں کہتا کہ منطق اسلامیاں ___ریاضیہندسہ وغیرہا اجزائے جائزہ فلسفہ ____ نہ پڑھو۔پڑھومگر بقدر ضرورت ___ پھر ان میں انہماك ہر گز نہ کرو____ بلکہ اصل کار علوم دینیہ سے رکھو۔راہ یہ ہے ____ اور آئندہ کسی پر جبر نہیں۔ "" واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾"" ۔(اور اﷲ تعالی جسے چاہے سیدھی راہ
",
996,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,162,""" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾ ""
وقع الفراغ من تسوید ھذہ الاوراق لسبع عــــــہ خلون من الشھرا السابعمن العام الرابعمن المائۃ الرابعۃمن الالف الثانی من ھجرۃ سراج الافق امام الخلقنبی الرفقذی العلم الحق الحکیم الربانیصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وکل مشتاق الیہبرحمتك یا ارحم الراحمین والحمد ﷲ رب العلمینو اﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ دکھائے۔ت)
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بے شك تو ہی بڑا دینے والا ہے(ت)
ان اوراق کے مسودہ سے فراغت ماہ ہفتم کی سات تاریخ کو ہوئی جب کہ تمام جہانوں کے سورجتمام مخلوق کے امامنرمی والے نبیعلم حق رکھنے والے حکیم ربانی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت اقدس کو تیرہ سو چار سال گزر چکے ہیں۔(یعنی ۷ رجب۱۳۰۴ھ)اﷲ تعالی کی رحمتیں اور سلام ہو آپ پر آپ کی آل پرآپ کے صحابہ پر اور ہر ایسے شخص پر جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا مشتاق ہے۔تیری رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے۔اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کو پالنے والا ہے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور اس کا علم تام و مستحکم ہے۔(ت)
عــــــہ:یعنی ہفتم شہر رجب ۱۳۰۴ ہجریہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ ۱۲سلطان احمد خان عفا عنہ اﷲ تعالی۔
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
",
997,27,مقامع الحدید علٰی خدّ المنطق الجدید (لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر),,,163,"ﷲ درالمجیب حیث اتی بتحقیق انیق نمقہ العبد المذنب الاواہ محمد لطف اﷲ
بلاشبہ مضامین رسالہ منطق الجدید جو مجیب مصیب نے نقل کیے اس پر خلاف شرع شریف اور مخالف عقائد حقہ اہل اسلام سلفا و خلفا ہیں۔اور مجیب مصیب نے قباحتیں اور شناعتیں اس کی بہ وجہ احسن بیان فرمائیں۔
جزاہ اﷲ سبحنہ عن المسلمین احسن الجزاء
",
998,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,164,"رسالہ
نزول ایات فرقان بسکون زمین واسمان
زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی(قرآن مجید کی)آیتوں کا نازل ہونا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ۳۱: ازموتی بازار لاہور مسئولہ مولوی حاکم علی صاحب ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
یاسیدی اعلیحضرت سلمکم اﷲ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
امابعد ھذا من تفسیر جلالین(ان اﷲ یمسك السموات والارض ان تزولا)ای یمنعھمامن الزوال۔ وایضا(اولم تکونوااقسمتم)حلفتم (من قبل)فی الدنیا(مالکم بعد ازیں یہ تفسیر جلالین کی عبارت ہے۔(بے شك اﷲ تعالی روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں)یعنی ان کو زوال سے روکے ہوئے ہے۔یہ بھی اس میں ہے(تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے)دنیا میں(نہیں ہے تمہیں)
", تفسیر جلالین تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱ مطبع مجتبائی دہلی حصہ دوم ص ۳۶۵
999,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,165,"من زائدۃ(زوال)عنھا الی الاخرۃ۔ وایضا(وان) ما(کان مکرھم)وان عظم(لتزول منہ الجبال) المعنی لایعبأ بہ ولا یضرالاانفسھم والمراد بالجبال ھنا قیل حقیقتا وقیل شرائع الاسلام المشبھۃ بھا فی القراء والثبات وفی قراء ۃ بفتح لام لتزول ورفع الفعل فان مخففۃ والمراد عــــــہ تعظیم مکرھم وقیل المراد بالمکرکفر ھم ویناسبہ علی الثانیۃ تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا وعلی الاول ما قرئ وما کان وسردار من دامت برکاتکم و این است از تفسیر حسینی(ان اﷲ)بدرستیکہ خدائے تعالی(یمسك من زائدہ ہے۔(ہٹ کے کہیں جانا)دنیا سے آخرت کی طرف۔ اور یہ بھی اسی میں ہے(اور نہیں ہے ان کا مکر) اگرچہ بہت بڑا ہے۔(کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں)معنی یہ ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں اور ان کا نقصان خود انہی کو ہے۔اور یہاں پہاڑوں سے مراد ایك قول کے مطابق حقیقتا خود پہاڑ ہیںاور ایك قول کے مطابق احکام شرع ہیں جن کو قرار و ثبات میں پہاڑوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔اور جس قراء ۃ میں لتزول کا لام مفتوح اور فعل مرفوع ہے اس قراء ۃ میں ""ان"" مخففہ ہوگا اور مراد ان کے مکرکی بڑائی۔اور کہا گیا کہ مکر سے مراد ان کا کفر ہے۔اور قراء ۃ ثانیہ کی صورت میں اس قول کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ کرتی ہے۔ (قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پریں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھہ کر)اور اول کی صورت میں جو پڑھا گیا ہے وما کان یعنی نہیں تھا۔(ان کا مکر)اور میرے سردار آپ کی برکتیں ہمیشہ رہیںیہ ہے
عــــــہ:والمعنی ولان کان مکرھم من الشدۃ بحیث تزول عنھا الجبال وتنقطع عن اماکنھا ۱۲ کمالین۔ معنی یہ ہے کہ ان کامکر اس قدر شدید ہے کہ اس سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔۱۲ کمالین(ت)
",
1000,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,166,السموت والارض)نگاہ میدارد آسمانہاوزمین را(ان تزولا) برائے آنکہ زائل نہ شوند ازاماکن خود چہ ممکن رادرحال بقاناچار است ازنگاہ دارندہ آور دہ اندکہ چوں یہود و نصاری عزیر وعیسی رابفرزندی حق سبحنہ نسبت کردند آسمان وزمین نزدیك بآں رسید کہ شگافتہ گرددحق تعالی فرمود کہ من بقدرت نگاہ می دارم ایشاں را تازوال نیا بند یعنی از جائے خود نروند ایضا (اولم تکونوا)درجواب ایشاں گویند فرشتگان آیا نبودید شما کہ ازروئے مبالغہ(اقسمتم من قبل)سوگندمے خوردید پیش ازیں دردنیا کہ شما پایندہ وخوابیدہ بودید(مالکم من زوال)نبا شد شماراہیچ زوالے مراد آنست کہ می گفتند کہ مادر دنیا خواہیم بودو بسرائے دیگر نقل نخواہیم نمود وایضا(وان کان مکرھم)وبدرستیکہ بودمکر ایشاں در سختی و ہول ساختہ پرداختہ (لتزول)تاازجائے برود(منہ الجبال)زاں مکر کوہ ہا۔ تفسیر حسینی کی عبارت(ان اﷲ)بے شك اﷲ تعالی(یمسك السموت والارض)محفوظ رکھتا ہے۔آسمانوں اور زمین کو (ان تزولا)اس واسطے کہ اپنی جگہوں سے زائل نہ ہوجائیں کیونکہ ممکن کے لیے حالت بقاء میں کسی محافظ کا ہونا ضروری ہےمنقول ہے کہ جب یہودو نصاری نے حضرت عزیر او ر حضرت عیسی علیہما السلام کو اﷲ تعالی کا بیٹا قرار دیا تو آسمان و زمین پھٹنے کے قریب ہوگئے۔اﷲ تعالی نے فرمایا کہ میں اپنی قدرت کے ساتھ ان کو محفوظ رکھتا ہوں تاکہ یہ زوال نہ پائیں یعنی اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔اسی میں ہے اولم تکونوا اقسمتم من قبل)ان کے جواب میں فرشتے بطور مبالغہ کہیں گے کہ کیا تم نے اس سے پہلے دنیا میں قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہو گے اور سوئے رہو گے مالکم من زوال تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہوگا۔مراد یہ کہ وہ کہتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ رہیں گے اور دوسرے جہاں میں منتقل نہیں ہونگے۔اور اسی میں ہے۔(وان کان مکرھم)یقینا ان کا مکر سختی وہولناکی میں اس حد تك بڑھا ہوا تھا کہ(لتزول منہ الجبال)اس کی وجہ سے پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جاتے(ت) ,
1001,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,167,"اے محبوب ومحب فقیر ایدکم اﷲ تعالی فی کل حال(اﷲ تعالی ہر حال میں آپ کی مدد فرمائے۔ت)جب کافروں کے زوال کے معنی ان کا اس دنیا سے دارالاخرۃ میں جانا مسلم ہوا تو معاملہ صاف ہوگیا کیونکہ کافر زمین پر پھرتے چلتے ہیںاس پھرنے چلنے کا نام زوال نہ ہوا کہ یہ ان کا چلنا پھرنا اپنے اماکن میں ہے کہ جہاں تك اﷲ تعالی نے ان کو حرکت کرنے کا امکان دیا ہے وہاں تك ان کا حرکت کرنا ان کا زوال نہ ہوا۔یہی حال پہاڑوں کا ہوا کہ ان کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا ان کا زوال ہوا۔جب یہ حال ہے تو زمین کا بھیاپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا اور اپنے اماکن میں اس کا حرکت کرنا زوال نہیں ہوسکتا۔شکر ہے اس پروردگار کا کہ کسی صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ سے بھی مجھے گریزنہ ہوا اور میری مشکل بھی ازبارگاہ حل المشکلات حل ہوگئی ببرکت کلام کریم
"" و من یـتق اللہ یجعل لہ مخرجا ﴿۲﴾ و یرزقہ من حیث لا یحتسب "" اور جو اﷲ سے ڈرے اﷲ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔ (ت)
اور یہ اس طرح ہوا کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکان کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایایعنی آسمان کی تصریح کی طرح تصریح نہ فرمائی یعنی خاموشی فرمائی قربان جاؤں احسن الخالقین تبارك و تعالی کے اور باعث خلق عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اور حضرت معلم التحیات رضی اﷲ تعالی عنہ کے کہ سائنس کی سرکوبی کے لیے زمین کے زوال اس کے اماکن سے کے معنی آپ کے اس تابعدار مجاہدکبیر پر عیاں فرمائے کہ زمین کے زوال نہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جن اماکن میں اﷲ تعالی نے اس کو امساك کیا ہے اس سے یہ باہر نہیں سرك سکتی مگر ان اماکن میں اس کو حرکت امر کردہ شدہ عطا فرمائی ہوئی ہے جیسے کہ اس پر کافر چلتے پھرتے ہیں اوریہ ان کا زوال نہیں ہےاسی طرح سے اپنے مدار میں اور سورج کی ہمراہی میں امساك کردہ شدہ ہے اور جاذبہ اور رفتار کیا ہے صرف اﷲ پاك کے امساك کا ایك ظہور ہے اور کچھ نہیںاب چاہیں تو جاذبہ اور رفتار دونوں کو معدوم کردیں اور ہر چیز کو اس کے حیز میں ساکن فرمادیں اس سے زائل نہیں ہوسکتی جیسے کہ سورج "" و الشمس تجری لمستقر لہا "" (اور سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیے۔ت)کی رو سے اپنے مجرے میں امساك کیا گیا ہوا ہے اور
",
1002,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,168,"اپنے مجرے میں چل رہا ہے مگر اس کے اس چلنے کا نام زوال نہیں بلکہ جریان ہے تو زمین کا بھی اپنے مدار میں اور سورج کی ہمراہی میں چلنا اس کا جریان ہے نہ کہ زوال۔
"" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ""
فالحمدﷲ رب العلمین والشکروالمنۃ۔ اﷲ تعالی کا فضل ہے جسے چاہے دے۔
اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا اور اس کا شکر اور احسان ہے۔(ت)
غریب نواز ! کرم فرما کر میرے ساتھ متفق ہوجاؤ تو پھر ان شاء اﷲ تعالی سائنس کو اور سائنسدانوں کو مسلمان کیا ہوا ہاں "" الم نجعل الارض مہدا ﴿۶﴾""۔ (کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا۔ت)کے بجائے"" الذی جعل لکم الارض مہدا"" الخ (وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔ت)درج فرمادیں دیباچہ میںسب کو سلام مسنون قبول ہو۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی بامرہ قامت السماء والارض والصلوۃ والسلام علی شفیع یوم العرض والہ وصحبہ وابنہ و حزبہ اجمعینامین ! تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں۔اور درود و سلام ہو روز قیامت شفاعت کرنے والے پر اور ان کی آل اصحاباولاد اور تمام امت پر۔آمین۔ (ت)
مجاہدکبیرمخلص فقیرحق طلب حق پذیر سلمہ اﷲ القدیروعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ و برکاتہدسواں دن ہے آپ کی رجسٹری آئی میری ضروری کتاب کہ طبع ہورہی ہے اس کی اصل کے صفحہ ۱۰۸۸ تك کاتب لکھ چکے اور صفحہ ۱۰۹۰ کے بعد سے مجھے تقریبا چالیس صفحات کے قدر مضامین بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئییہ مباحث جلیلہ دقیقہ پر مشتمل تھی۔میں نے ان کی تکمیل مقدم جانی کہ طبع جاری رہے۔ادھر طبیعت کی حالت آپ خود ملاحظہ فرماگئے ہیں وہی کیفیت اب تك ہے اب بھی اسی طرح چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد کو لے جاتے لاتے ہیںان اوراق کی تحریر اور ان مباحث جلیلہ غامضہ
",
1003,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,169,"کی تنقیح و تقریر سے بحمدہ تعالی رات فارغ ہوا اور آپ کی محبت پر اطمینان تھا کہ اس ضروری دینی کام کی تقدیم کو ناگوار نہ رکھیں گے۔
آپ نے اپنا لقب مجاہد کبیر رکھا ہے مگر میں تو اپنے تجربے سے آپ کو مجاہد اکبر کہہ سکتا ہوں۔حضرت مولانا الاسد الاسد الاشد مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا لہجہ جلد سے جلد حق قبول کرلینے والا میں نے آپ کے برابر نہ دیکھا اپنے جمے ہوئے خیال سے فورا حق کی طرف رجوع لے آنا جس کا میں بار ہا آپ سے تجربہ کرچکا نفس سے جہاد ہے۔اور نفس سے جہاد جہاد اکبر ہے تو آپ اس میں مجاہد اکبر ہیں۔بارك اﷲ تعالی وتقبل امینامید ہے کہ بعو نہ تعالی اس مسئلہ میں بھی آپ ایسا ہی جلداز جلد قبول حق فرمائیں گے۔کہ باطل پر ایك آن کے لیے بھی اصرار میں نے آپ سے نہ دیکھا وﷲ الحمد۔
اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ زمین و آسمان دونوں ساکن ہیں کواکب چل رہے ہیں۔"" وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"" ہر ایك ایك فلك میں تیرتا ہےجیسے پانی میں مچھلیاﷲ تعالی عزوجل کا ارشاد آپ کے پیش نظر ہے۔
"" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬ ولئن زالتا ان امسکہما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا ﴿۴۱﴾"" بے شك اﷲ آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ سرکیں تو اﷲ کے سوا انہیں کوئی روکےبے شك وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔(ت)
میں یہاں اولا اجمالا چند حرف گزارش کروں کہ ان شاء اﷲ تعالی آپ کی حق پسندی کو وہی کافی ہو پھر قدرے تفصیل۔
اجمال یہ کہ افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعہ سیدنا عبداﷲ ابن مسعود و صاحب سر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہم نے اس آیہ کریمہ سے مطلق حرکت کی نفی مانییہاں تك کہ اپنی جگہ قائم رہ کر محور پر گھومنے کو بھی زوال بتایا۔(دیکھئے نمبر ۲)
حضر ت امام ابو مالك تابعی ثقہ جلیل تلمیذ حضرت عبداﷲ بن عباس نے زوال کو مطلق حرکت سے تفسیر کیا۔(دیکھئے آخر نمبر ۲)
ان حضرات سے زائد عربی زبان و معانی قرآن سمجھنے والا کون !
",
1004,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,170," علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے تفسیر ر غائب الفرقان میں اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:(ان تزولا)کراھۃ زوالھما عن مقر ھما ومرکز ھما یعنی اﷲ تعالی آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے۔کہ کہیں اپنے مقرو مرکز سے ہٹ نہ جائیں۔مقر ہی کافی تھا کہ جائے قرارو آرام ہےقرار سکون ہے منافی حرکت قاموس میں آتا ہے۔قر سکن مگر انہوں نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کا عطف تفسیری مرکز ھما زائد کیا مرکز جائے رکزرکز گاڑناجمانایعنی آسمان و زمین جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں۔نیز غرائب القرآن میں زیر قولہ تعالی الذی جعل لکم الارض فراشا(اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔ت)فرمایا:
لایتم الافتراش علیہا مالم تکن ساکنۃ ویکفی فی ذلك ما اعطا ھا خالقھا ورکزفیھا من المیل الطبیعی الی الوسط الحقیقی بقدرتہواختیارہ ان اﷲ یمسك السموات والارض ان تزولا۔ زمین کو بچھونا بنانا اس وقت تك تام نہیں ہوتا جب تك وہ ساکن نہ ہواور اس میں کافی ہے وہ جو اﷲ تعالی نے اپنی قدرت و اختیار کے ساتھ اس میں وسط حقیقی کی طرف میل طبعی مرتکز فرمایا ہے اﷲ تعالی کا ارشاد ہےبے شك اﷲ تعالی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں۔ (ت)
اسی آیت کے نیچے تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی میں ہے۔
اعلم ان کون الارض فراشا مشروط بکونھا ساکنۃ فالارض غیر متحرکۃ لا بالاستدارۃ ولا بالاستقامۃو سکون الارض لیس الا من اﷲ تعالی بقدرتہ و اختیارہ ولہذا قال اﷲ تعالی ان اﷲ یمسك السموت و الارض ان تزولا۔ ا ھ ملتقطا جان لے کہ زمین کا بچھونا ہونا اس کے ساکن ہونے کے ساتھ مشروط ہےلہذا زمین نہ تو حرکت مستدیرہ کے ساتھ متحرك ہے اور نہ ہی حرکت مستقیمہ کے ساتھ۔اور اس کا ساکن ہونا محض اﷲ تعالی کی قدرت و اختیار سے ہے جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایابے شك اﷲ تعالی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سر کنے نہ پائیں۔الخ التقاط(ت)
",
1005,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,171,"قرآن عظیم کے وہی معنی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین معتمدین نے لیے ان سب کے خلاف وہ معنی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہوسکتا ہےقرآن کریم کی تفسیر بالرائے اشد کبیرہ ہے جس پر حکم ہے۔
فلیتبوأمقعدہ من النار۔ وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنالے۔
یہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہوگا کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بھی نہیں بلکہ رائے نصاری کے موافقوالعیاذ باللہیہ حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہما وہ صحابی جلیل القدر ہیں جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اسرار سکھائے ان کا لقب ہی صاحب سر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ان سے اسرار حضور کی باتیں پوچھتےاور عبداﷲ تو عبداﷲ ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ یہ جو فرمائیں اسے مضبوط تھامو۔ تمسکوا بعھد ا بن مسعود۔ ا بن مسعود کے فرمان کو مضبوطی سے تھامو۔ت) اور ایك حدیث میں ارشاد ہے:
رضیت لامتی مارضی لھا ابن ام عبدوکرھت لامتی ماکرہ لہا ابن ام عبد۔ میں نے اپنی امت کے لیے پسند فرمایا جو اس کے لیے عبداﷲ ابن مسعود پسند کریں اور میں نے اپنی امت کے لیے ناپسند رکھا جو اس کے لیے ابن مسعود ناپسند رکھیں۔
اور خود انکے علم قرآن کو اس درجہ ترجیح بخشی کہ ارشاد فرمایا:
استقرأو ا القرآن من اربعۃ من عبداﷲ ابن مسعود۔ الحدیث۔ قرآن چار شخصوں سے پڑھو۔سب میں پہلے عبداﷲ ابن مسعود کا نام لیا۔
یہ حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بروایت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما حضرت اقدس صلی اﷲ تعالی
",
1006,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,172,"علیہ وسلم ہے۔
اور عجائب نعمائے الہیہ سے یہ کہ آیہ کریمہ ان تزولا کی یہ تفسیر اور یہ کہ محور پر حرکت بھی موجب زوال ہے چہ جائے حرکت علی المدارہم نے دو صحابی جلیل القدر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیدونوں کی نسبت حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جو بات تم سے بیان کریں اس کی تصدیق کرو۔دونوں حدیثیں جامع ترمذی شریف کی ہیں۔اول:
ماحدثکم ابن مسعود فصد قوہ۔ جو با ت تم سے ابن مسعود بیان کرے اس کی تصدیق کرو۔ (ت)
دوم:
ماحدثکم حذیفۃ فصدقوہ۔ جو بات تم سے حذیفہ بیان کرے اس کی تصدیق کرو۔(ت)
اب یہ تفسیر ان دونوں حصرات کی نہیں بلکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے مانو اس کی تصدیق کرو والحمدﷲ تعالی رب العالمینہمارے معنی کی تو یہ عظمت شان ہے کہ مفسرین سے ثابتتابعین سے ثابتاجلہ صحابہ کرام سے ثابتخود حضور سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام سے اس کی تصدیق کا حکم۔
اورعنقریب ہم بفضل اﷲ تعالی اور بہت آیات اور صدہا احادیث اور اجماع امت اور خود اقرار مجاہد کبیر سے اس معنی کی حقیقت اور زمین کا سکون مطلق ثابت کریں گے وباﷲ التوفیق۔آپ نے جو معنی لیے کیا کسی صحابیکسی تابعیکسی امامکسی تفسیر یا جانے دیجئے چھوٹی سے چھوٹی کسی اسلامی عام کتاب میں دکھا سکتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ زمین گرد آفتاب دورہ کرتی ہےاﷲ تعالی اسے صرف اتنا روکے ہوئے ہے کہ اس مدار سے باہر نہ جائے لیکن اس پر اسے حرکت کرنے کا امر فرمایا ہے۔ حاش ﷲ ! ہرگز کسی اسلامی رسالہپرچےرقعہ سے اس کا پتا نہیں دے سکتے سوا سائنس نصاری کے۔آگے آپ انصاف کرلیں گے کہ معنی قرآن وہ لیے جائیں یا یہمحبامخلصا! وہ
",
1007,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,173,"کون سا نص ہے جس میں کوئی تاویل نہیں گھڑ سکتے یہاں تك کہ قادیانی کافر نے "" و خاتم النبین "" میں تاویل گھڑدی کہ رسالت کی افضلیت ان پر ختم ہوگئی ان جیسا کوئی رسول نہیں۔ نانوتوی نے گھڑدی کہ وہ نبی بالذات ہیں اور نبی بالعرضاور موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے ان کے بعد بھی اگر کوئی نبی ہو تو ختم نبوت کے خلاف نہیں۔ کہ یوں ہی کوئی مشرك لا الہ الا اﷲ میں تاویل کرسکتا ہے کہ اعلی میں حصر ہے یعنی اﷲ کے برابر کوئی خدا نہیں اگرچہ اس سے چھوٹے بہت سے ہوں جیسے حدیث شریف میں ہے:
لافتی الا علی لاسیف الا ذوالفقار۔ نہیں ہے کوئی جو ان مگر علی(کرم اﷲ وجہہ الکریم اور نہیں ہے کوئی تلوار مگر ذوالفقار۔ت)
دوسری حدیث:
لاوجع الاوجع العین ولا ھم الا ھم الدین۔ درد نہیں مگر آنکھ کا درد اور پریشانی نہیں مگر قرض کی پریشانی۔
ایسی تاویلوں پر خوش نہ ہونا چاہئے بلکہ جو تفسیر ماثور ہے اس کے حضور سر رکھ دیا جائے اور جو مسئلہ تمام مسلمانوں میں مشہور ومقبول ہے مسلمان اسی پر اعتقاد لائے۔
محبی مخلصی! اﷲ عزوجل نے آپ کو پکا مستقل سنی کیا ہے آپ جانتے ہیں کہ اب سے پہلے رافضی جو مرتد نہ تھے کاہے سے رافضی ہوئےکیا اﷲ یا قرآن یارسول یاقیامت وغیرہا ضروریات دین سے کسی کے منکر تھے ہر گز نہیںانہیں اسی نے رافضی کیا کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی عظمت نہ کی۔محبا ! دل کو صحابہ کی عظمت سے مملوکرلینا فرض ہے انہوں نے قرآن کریم صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پڑھا حضور سے اس کے معانی سیکھے ان کے ارشاد کے آگے اپنی فہم ناقص کی وہ نسبت سمجھنی بھی ظلم ہے جو ایك علامہ متبحر کے حضور کسی جاہل گنوار بے تمیز کو۔محبا! صحابہ اور خصوصا حذیفہ وعبداﷲ ابن مسعود جیسے
",
1008,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,174,"صحابہ کی یہ کیا عظمت ہوئی اگر ہم خیال کریں کہ جو معنی قرآن عظیم انہوں نے سمجھے غلط ہیں ہم جو سمجھے وہ صحیح ہیں۔میں آپ کو اﷲ عزوجل کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کے دل میں ایسا خطرہ بھی گزرے۔ "" فاللہ خیر حفظا ۪ وہو ارحم الرحمین ﴿۶۴﴾""۔ (تو اﷲ تعالی سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ہے۔ت)
میں امیدواثق رکھتا ہوں کہ اسی قدر اجمال جمیل آپ کے انصاف جزیل کو بس۔اب قدرے تفصیل بھی عرض کروں۔
(۱)زوال کے اصلی معنی سرکناہٹناجاناحرکت کرنابدلنا ہیں۔قاموس میں ہے:
الزوال الذھاب والاستحالۃ۔ زوال کا معنی ہے جانا اور ایك حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا۔ت)
اسی میں ہے۔
کل ماتحول فقد حال واستحال۔ ہر وہ جس نے جگہ بدلی تو بے شك اس نے حال بدلا اور ایك حال سے دوسرے حال کیطرف منتقل ہوا۔(ت)
ایك نسخہ میں ہے۔ کل ماتحرك اوتغیر۔ (ہر وہ جس نے حرکت کی یا تبدیل ہوا۔ت)یوں ہی عباب میں ہے: تحول او تحرک۔ (بدلایا حرکت کی۔ت)تاج العروس میں ہے:
ازال اﷲ تعالی زوالہ ای اذھب اﷲ حرکتہ وزال زوالہ ای ذھبت (ازال اﷲ)اﷲ تعالی نے اس کے زوال کا ازالہ فرمایا یعنی اس کی حرکت کو ختم فرمادیا۔اور
",
1009,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,175,"حرکتہ۔ اس کا زوال زائل ہوایعنی اس کی حرکت ختم ہوگئی۔(ت)
نہایہ ابن اثیر میں ہے:
فی حدیث جندب الجھنی ""واﷲ لقد خالطہ سھمی ولو کان زائلۃ لتحرک"" الزائلۃ کل شیئ من الحیوان یزول عن مکانہ ولا یستقروکان ھذا المرمی قد سکن نفسہ لایتحرك لئلا یحس بہ فیجھز علیہ۔ جندب جہنی کی حدیث میں ہے بخدا میرا تیر ا اس میں پیوست ہوگیااگر اس میں حرکت کی طاقت ہوتی تو وہ حرکت کرتا زائلہ اس حیوان کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور قرار نہ پکڑے۔جس کو تیرلگا تھا اس نے اپنے آپ کو حرکت سے روك لیا تاکہ اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے اور اس کو ہلاك نہ کردیا جائے۔ت)
(ا)دیکھو زوال بمعنی حرکت ہے اور قرآن عظیم نے آسمان و زمین سے اس کی نفی فرمائی تو حرکت زمین و حرکت آسمان دونوں باطل ہوئیں۔
(ب)""زوال"" جانا اور بدلنا ہےحرکت محوری میں بدلنا ہے۔اور مدار پر حرکت میں جانا بھیتو دونوں کی نفی ہوئی۔
(ج)نیز نہایہ و درنثیر امام جلال الدین سیوطی میں ہے:
الزویل الانزعاج بحیث لایستقرعلی المکان وھو والزوال بمعنی ۔ زویل کا معنی بے قرار ی ہے اس طور پر کہ کسی ایك جگہ قرار نہ پکڑے۔زویل اور زوال کا معنی ایك ہی ہے۔ت)
قاموس میں ہے:
زعجہ واقلقہ وقلعہ من مکانہ کازعجہ فانزعج۔ اس کو بے قرار و مضطرب کیا اور اس کو اپنی جگہ سے ہٹایاجیسے اس کو بے قرار کیاتو وہ بے قرار ہوگیا۔(ت)
",
1010,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,176,"لسان میں ہے:
الازعاج نقیض الاقرار۔ ازعاج(بے قرار کرنا)اقرار(ایك جگہ ٹھہرانے کی ضد ہے۔(ت)
تاج میں ہے:
قلق الشیئ قلقاوھوان لایستقر فی مکان واحد۔ قلق الشیئ قلقا کا معنی یہ ہے کہ شے ایك جگہ میں قرار نہ پکڑے۔ت)
مفردات امام راغب میں ہے:
قرنی مکانہ یقرقرارا ثبت ثبوتا جامدا واصلہ من القروھو البرد وھو یقتضی السکون والحریقتضی الحرکۃ ۔ قرنی مکانہ یقرقرارا کا معنی یہ ہے کہ شیئ اپنی جگہ ثابت ہو کر ٹھہر گئی۔یہ اصل میں مشتق ہے قر سے جس کا معنی سردی ہے اور وہ سکون کا تقاضا کرتی ہے جب کہ گرمی حرکت کی مقتضی ہے۔(ت)
قاموس میں ہے:
قربالمکان ثبت وسکن کا ستقر۔ قربالمکان کا معنی ٹھہرنا اور ساکن ہونا جیسا کہ استقرکا معنی بھی یہی ہے۔ت
دیکھو زوال انزعاج ہےاور انزعاج قلق مقابل قرار اور سکون ہو تو زوال مقابل سکون ہے اور مقابل سکون نہیں مگر حرکتتو ہر حرکت زوال ہے۔قرآن عظیم آسمان و زمین کے زوال سے انکار فرماتا ہیلاجرم ان کی ہر گونہ حرکت کی نفی فرماتا ہے۔
(د)صراح میں ہے:
زائلہ جنبیدہ و روندہ وآئندہ۔ زائلہ کا معنی جنبش کرنے والاجانے والا اور آنے والا ہے۔(ت)
",
1011,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,177,"زمین اگر محور پر حرکت کرتی جنبیدہ ہوتی اور مدار پر تو آئندہ دروندہ بھی بہرحال زائلہ ہوتی اور قرآن عظیم اس کے زوال کو باطل فرماتا ہےلاجرم اس سے ہر نوع حرکت زائل۔
(۲)کریمہ "" و ان کان مکرہم لتزول منہ الجبال ﴿۴۶﴾ "" ان کا مکر اتنا نہیں جس سے پہاڑ جگہ سے ٹل جائیںیا اگرچہ ان کا مکر ایسا بڑا ہو کہ جس سے پہاڑ ٹل جائیں۔یہ قطعا ہماری ہی مؤید اور ہر گو نہ حرکت جبال کی نفی ہے۔
(ا)ہر عاقل بلکہ غبی تك جانتا ہے کہ پہاڑ ثابت ساکن و مستقر ایك جگہ جمے ہوئے ہیں جن کو اصلا جنبش نہیں۔تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
ثبوت الجبل یعرفہ الغبی والذکی۔ پہاڑ کے ثبوت و قرار کو کندذہن اور تیز ذہن والا دونوں جانتے ہیں۔(ت)
قرآن عظیم میں ان کو رواسی فرمایاراسی ایك جگہ جما ہوا پہاڑاگر ایك انگل بھی سرك جائے گا قطعا زال الجبل صادق آئے گا نہ یہ کہ تمام دنیا میں لڑھکتا پھرے۔اور زال الجبل نہ کہا جائے ثبات و قرار ثابت رہے کہ ابھی دنیا سے آخرت کی طرف گیا ہی نہیں زوال کیسے ہوگیا۔اپنی منقولہ عبارت جلالین دیکھئے پہاڑ کے اسی ثبات واستقرار پر شرائع اسلام کو اس سے تشبیہ دی ہے جن کا ذرہ بھر ہلانا ممکن نہیں۔
(ب)اسی عبارت جلالین کا آخر دیکھئے کہ تفسیر دوم پر یہ آیت آیت "" و تخر الجبال ہدا ﴿۹۰﴾""۔ ""کے مناسب ہے یعنی ان کی ملعون بات ایسی سخت ہے جس سے قریب تھا کہ پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے۔یوں ہی معالم التنزیل میں ہے:
وھومعنی قولہ تعالی ""و تخر الجبال ہدا ﴿۹۰﴾""۔ اور یہی معنی ہے اﷲ تعالی کے اس قول کا اور پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے(ت)
یہ مضمون ابوعبید وابن جریر و ابن المنذرو ابن ابی حاتم نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا نیز جو یبر ضحاك سے راوی ہوئے کقولہ تعالی"" و تخر الجبال ہدا ﴿۹۰﴾""۔ ""۔ (جیسا کہ اﷲ تعالی کا قول
",
1012,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,178,"اور وہ پہاڑ گر جائیں گے ڈھہ کر۔ت)اسی طرح قتادہ شاگرد انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاظاہر ہے کہ ڈھہ کر گرنا اس جنگل سے بھی اسے نہ نکال دے گا جس میں تھا نہ کہ دنیا سے۔ہاں جما ہوا ساکن مستقر نہ رہے گا تو اسی کو زوال سے تعبیر فرمایا اور اسی کی نفی زمین سے فرمائی تو وہ ضرور جمی ہوئی ساکن مستقر ہے۔
(ج)رب عزوجل نے سیدنا موسی علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا:
"" لن ترىنی ولکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترىنی "" تم ہر گز مجھے نہ دیکھو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے۔
پھر فرمایا:
"" فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسی صعقا "" جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی اسے ٹکڑے کردیا اور موسی غش کھا کر گرے۔
کیا ٹکڑے ہو کر دنیا سے نکل گیا یا ایشیا یا اس ملك سے۔اس معنی پر تو ہر گز جگہ سے نہ ٹلاہاں وہ خاص محل جس میں جما ہوا تھا وہاں نہ جما رہاتو معلوم ہوا اسی قدر عدم استقرار کو کافی ہے۔اور اوپر گزرا کہ عدم استقرار عین زوال ہے زمین بھی جہاں جمی ہوئی ہے وہاں سے سر کےتو بے شك زائلہ ہوگی اگرچہ دنیا یا مدار سے باہر نہ جائے۔
(د)اس آیہ کریمہ کے نیچے تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے:
وان کان مکرھم فی غایۃ المتانۃ و الشدۃ معد الازالۃ الجبال عن مقار ھا۔ اگرچہ ان کا مکر مضبوطی اور سختی کی زیادتی کے سبب سے پہاڑوں کو اپنی جگہوں سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔(ت)
نیشاپوری میں ہے: ازالۃ الجبال عن اماکنھا۔ (پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے ہٹانا۔ت)
",
1013,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,179,"خازن میں ہے: تزول عن اماکنھا۔ (پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں۔ت)کشاف میں ہے۔ تنقلع عن اماکنھا۔ (پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ جائیں۔ت)مدارك میں ہے: تنقطع عن اماکنھا۔ (پہاڑ اپنی جگہوں سے جدا ہوجائیں۔ت) اسی کے مثل آپ نے کمالین سے نقل کیایہاں بھی مکان ومقر سے قطعا وہی قرار ہے جو کریمہ"" فان استقر مکانہ"" ۔میں تھا ز ارشاد کا ارشاد مقارھا جاہا ئے قرار اور کشاف کا لفظ تنقلع خاص قابل لحاظ ہے کہ اکھڑ جانے ہی کو زوال بتایا۔
(ہ)سعیدبن منصور اپنے سنن اور ابن ابی حاتم تفسیر میں حضرت ابومالك غزو ان غفاری کوفی استاذ امام سدی کبیر وتلمیذ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال قال تحرکت۔ اگرچہ ان کا مکر اس حد تك تھا کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ حرکت کریں۔(ت)
انہوں نے صاف تصریح کردی کہ زوال جبال ان کا حرکت کرنا جنبش کھانا ہے۔اسی کی زمین سے نفی ہے۔وﷲ الحمد۔
(۳)اوپر گزرا کہ زوال مقابل قرار و ثبات ہے اور قرار و ثبات حقیقی سکون مطلق ہے دربارہ قرار عبارتامام راغب گزریاور قاموس میں ہے:
المثبت کمکرم من لاحراك بہ من المرض وبکسر الباء الذی ثقل فلم یبرح الفراش وداء ثبات بالضم معجزعن الحرکۃ۔ مثبت بروزن مکرم وہ شخص ہے جس میں بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہواور اگر مثبت یعنی باء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا وہ شخص جس کی بیماری بڑھ گئی اور وہ صاحب فراش ہوگیا۔اور داء کامعنی ثبات ہواثاء پر ضمہ کے ساتھیعنی حرکت سے عاجز کردینے والا مرض(ت)
",
1014,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,180,"مگر تو سعا قرار و ثبات ایك حالت پر بقاء کو کہتے ہیں اگرچہ اس میں سکون مطلق نہ ہو تو اس کا مقابل زوال اسی حالت سے انفصال ہوگا۔یونہی مقرو مستقرو مکان ہر جسم کے لیے حقیقہ وہ سطح یا بعد مجرد یا موہوم ہے جو جمیع جوانب سے اس جسم کو حاوی اور اس سے ملاصق ہے۔یعنی علمائے اسلام کے نزدیك وہ فضائے متصل جسے یہ جسم بھرے ہوئے ہے ظاہر ہے کہ وہ دبنے سرکنے سے بدل گئیلہذا اس حرکت کو حرکت اینیہ کہتے ہیں یعنی جس سے دمبدم این کہ مکان وجائے کا نام ہے بدلتا ہے یہی جسم کا مکان خاص ہے اور اسی میں قرار و ثبات حقیقی ہے اس کے لیے یہ بھی ضرور کہ وضع بھی نہ بدلےکرہ کہ اپنی جگہ قائم رہ کر اپنے محور پر گھومے مکان نہیں بدلتا مگر اسے قار وثابت وساکن نہ کہیں گے بلکہ زائل و حائل و متحرکپھر اسی توسع کے طور پر بیت بلکہ دار بلکہ محلے بلکہ شہر بلکہ کثیر ملکوں کے حاوی حصہ زمین مثل ایشیا بلکہ ساری زمین بلکہ تمام دنیا کو مقرو مستقرو مکان کہتے ہیں۔قال تعالی:
"" ولکم فی الارض مستقر ومتع الی حین﴿۳۶﴾ "" اور تمہیں ایك وقت تك زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے۔ت)
اور اس سے جب تك جدائی نہ ہو اسے قرار و قیام بلکہ سکون سے تعبیر کرتے ہیں اگرچہ ہزاروں حرکات پر مشتمل ہو ولہذا کہیں گے کہ موتی بازار بلکہ لاہور بلکہ پنجاب بلکہ ہندوستان بلکہ ایشیا بلکہ زمین ہمارے مجاہد کبیر کا مسکن ہے وہ ان میں سکونت رکھتے ہیں وہ ان کے ساکن ہیں حالانکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ سکون و حرکت متبائن مگر یہ معنی مجازی ہیںلہذا جائے اعتراض نہیں۔ لاجرم محل نفی میں ان کا مقابل زوال بھی انہیں کی طرح مجازی وتوسع ہے اور وہ نہ ہوگا جب تك ان سے انتقال نہ ہوکفار کی وہ قسم کہ مالنا من زوال اسی معنی پر تھی یہ قسم نہ کھاتے تھے کہ ہم ساکن مطلق ہیں چلتے پھرتے نہیںنہ یہ کہ ہم ایك شہر یا ملك کے پابند ہیں اس سے منتقل نہیں ہوسکتے بلکہ دنیا کی نسبت قسم کھاتے تھے کہ ہمیں یہاں سے آخرت میں جا نا نہیں "" الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا وما نحن بمبعوثین ﴿۪۳۷﴾ "" ۔(وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں اور ہمیں اٹھنا نہیں۔ت)مولی تعالی فرماتا ہے:
"" واقسموا باللہ جہد ایمنہم لا یبعث اللہ من یموت "" اور انہوں نے اﷲ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش کی کہ اﷲ تعالی مردے نہ اٹھائے گا۔(ت)
",
1015,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,181," لاجرم تیسری آیہ کریمہ میں زوال سے مراد دنیا سے آخرت میں جانا ہےنہ یہ کہ دنیا میں ان کا چلنا پھرنا زوال نہیں قطعا حقیقی زوال ہے جس کی سندیں اوپر سن چکے اور عظیم شافی بیان آگے آتا ہےمگر یہاں اس کا ذکر ہے جس کی وہ قسم کھاتے تھے اور وہ نہ تھا مگر دنیا سے انتقال معنی مجازی کے لیے قرینہ درکار ہوتا ہے۔یہاں قرینہ ان کے یہی اقوال بعینہ ہیں بلکہ خود اسی آیت صدر میں قرینہ صریحہ مقالیہ موجود کہ روز قیامت ہی کے سوال وجواب کاذکر ہے فرماتا ہے:
"" و انذر الناس یوم یاتیہم العذاب فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل اولم تکونوا اقسمتم من قبل ما لکم من زوال ﴿۴۴﴾"" اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گاتو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں۔تو کیا تم پہلے قسم نہ کھا چکے تھے کہ ہمیں دنیا سے ہٹ کر کہیں جانا نہیں۔(ت)
لیکن کریمہ "" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬"" ۔ (بے شك اﷲ تعالی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں جنبش نہ کریں۔ت)میں کوئی قرینہ نہیں تو معنی مجازی لینا کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا بلکہ قطعا زوال اپنے معنی حقیقی پر رہے گا۔یعنی قرار وثبات و سکون حقیقی کا چھوڑنااس کی نفی ہے تو ضرور سکون کا اثبات ہے ایك جگہ معنی مجازی میں استعمال دیکھ کر دوسری جگہ بلاقرینہ مجاز مراد لینا ہر گز حلال نہیں۔
(۴)نہیں نہیں بلاقرینہ نہیں بلکہ خلاف قرینہیہ اور سخت تر ہے کہ کلام اﷲ میں پوری تحریف معنوی کا پہلو دے گا رب عزوجل نے یمسك فرمایا ہے اور امساك روکناتھامنابند کرنا ہے۔ولہذا جو زمین کے پانی کو بہنے نہ دے روك رکھے اسے مسك اور مساك کہتے ہیں انہارو ابحار کو نہیں کہتے حالانکہ ان میں بھی پانی کی حرکت وہیں تك ہوگی جہاں تك احسن الخالقین جل و علا نے اس کا امکان دیا ہے۔قاموس میں ہے:
امسکہ حبسہ المسك محرکۃ الموضع یمسك الماء کالمساك کسحاب۔ امسکہ کا معنی ہے اس کو روکا۔المسک(س پر حرکت کے ساتھ) اس جگہ کو کہتے ہیں جو پانی کو روکےجیسے مساك بروزن سحاب(ت)
",
1016,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,182,"یوں تو دنیا بھر میں کوئی حرکت کبھی بھی زوال نہ ہو کہ جہاں تك احسن الخالقین تعالی نے امکان دیا ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
(۵)اگر ان معنی کو مجازی نہ لیجئے بلکہ کہیے کہ زوال عام ہے مکان و مستقرحقیقی خاص سے سرکنا اور موقع عام اور موطن اعم اور اعم از اعم سے جدا ہونا سب اس کے فرد ہیں تو ہر ایك پر اس کا اطلاق حقیقت ہے جیسے زید و عمرو وبکر وغیرہم کسی فرد کو انسان کہنا تو اب بھی قرآن کریم کا مفاد زمین کا وہی سکون مطلق ہوگا نہ کہ اپنے مدار سے باہر نہ جانا۔
تزولا فعل ہے اور محل نفی میں وارد ہے اور علم اصول میں مصرح ہے کہ فعل قوۃ نکرہ میں ہے اور نکرہ حیزنفی میں عام ہوتا ہےتو معنی آیت یہ ہوئے کہ آسمان و زمین کو کسی قسم کا زوال نہیں نہ موقع عام سے نہ مستقر حقیقی خاص سےاور یہی سکون حقیقی ہے وﷲ الحمد۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے مجاہد کبیر کو اپنی عبارت میں ہر جگہ قید بڑھانی پڑی زمین کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا۔زائل ہوجانا قطعا مطلقا زوال ہے۔زائل ہوجانا زوال کا ترجمہ ہی تو ہے۔مکان خاص سے ہو خواہ اماکن سےمگر اول کے اخراج کو اس قید کی حاجت ہوتی تو یونہی فرمایازمین کا زوال اس کے اماکن سے۔پھر فرمایا جن اماکن میں اﷲ تعالی نے اس کو امساك کیا ہے۔اس سے باہر سرك نہیں سکتی۔پھر فرمایا اپنے مدار میں امساك کردہ شدہ ہے اس سے زائل نہیں ہوسکتی۔اور نفی کی جگہ فرمایا:حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہیں فرمایا۔یہاں جمع اماکن کا ظاہر کردیا مگر رب عزوجل نے تو ان میں سے کوئی قید نہ لگائی۔مطلق یمسك فرمایا ہے اور مطلق ان تزولا۔اﷲ آسمان و زمین ہر ایك کو روکے ہوئے کہ سرکنے نہ پائے یہ نہ فرمایا کہ اس کے مدار میں روکے ہوئے ہے۔یہ نہ فرمایا کہ ہر ایك کے لیے اماکن عدیدہ ہیں ان اماکن سے باہر نہ جانے پائے۔تواس کا بڑھانا کلام الہی میں اپنی طرف سے پیوند لگانا ہوگا از پیش خویش قرآن عظیم کے مطلق کو مقیدعام کو مخصص بنانا ہوگا۔اور یہ ہر گز روا نہیں۔اہل سنت کا عقیدہ ہے جو ان کی کتب عقائد میں مصرح ہے۔کہ النصوص تحمل علی ظواھر ھا (نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہوتی ہیں۔ ت)بلکہ تمام ضلاتوں کا بڑا پھاٹك یہی ہے کہ بطور خود نصوص کو ظاہر سے پھیریں۔مطلق کو مقید عام کو مخصص کریں۔ "" ما لکم من زوال ﴿۴۴﴾"" ۔ (تمہارے لیے زوال نہیں ت)کی تخصیص واضح سے ان تزولا
",
1017,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,183,"کو بھی مخصص کرلینا اس کی نظیر یہی ہے کہ "" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾"" ۔ (بے شك اﷲ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ت) کی تخصیص دیکھ کر "" ان اللہ بکل شیء علیم ﴿۷۵﴾"" (بے شك اﷲ تعالی ہرچیز کو جاننے والا ہے۔ت)کو بھی مخصص مان لیں کہ جس طرح وہاں ذات و صفات و محالات زیر قدرت نہیں یوں ہی معاملہ صاف ہوگیا کہ ذات و صفات و محالات کا معاذ اﷲ علم بھی نہیں۔زیادہ تشفی بحمدہ تعالی نمبر ۸ میں آتی ہے جس سے واضح ہوجائے گا کہ اﷲ و رسول وصحابہ و مسلمین کے کلام میں یہاں یعنی خاص محل نزاع میں زوال سے مطلقا ایك جگہ سے سرکنا مراد ہوا ہے اگرچہ اماکن معینہ سے باہر نہ جائے یا زوال کفار کی طرح دنیا خواہ مدار چھوڑ کر الگ بھاگ جانافانتظر(چنانچہ انتظار کر۔ت)
(۶)لاجرم وہ جنہوں نے خود صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے قرآن کریم پڑھا۔خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم سے اس کے معانی سیکھے انہوں نے آیہ کریمہ کو ہر گو نہ زوال کی نافی اور سکون مطلق حقیقی کی مثبت بتایا۔سعید بن منصور و عبد بن حمید و ابن جریروابن المنذر نے حضرت شقیق ابن سلمہ سے کہ زمانہ رسالت پائے ہوئے تھے روایت کی اور حدیث ابن جریر بسند صحیح برجال صحیحین بخاری ومسلم ہے:
حدثنا ابن بشار ثنا عبدالرحمن ثنا سفین عن الاعمش عن ابی وائل قال جاء رجل الی عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال من این جئت قال من الشام فقال من لقیت قال لقیت کعبا۔فقال ما حدثك کعب قال حدثنی ان السموت تدور علی منکب ملك قال فصدقتہ اوکذبتہ ہمیں ابن بشار نے حدیث بیان کی کہ ہم کو عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ ہم کو اعمش نے بحوالہ ابووائل حدیث بیان کیابو وائل نے کہا کہ ایك صاحب حضرت سیدنا عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حضور حاضر ہوئے فرمایا:کہاں سے آئے عرض کی:شام سے۔فرمایا وہاں کس سے ملے عرض کی:کعب سے فرمایا کعب نے تم سے کیا بات کی عرض کییہ کہا کہ آسمان ایك فرشتے کے شانے پر گھومتے ہیں فرمایا:تم نے اس میں کعب کی تصدیق کی یا تکذیب
",
1018,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,184,"قال ما صدقتہ ولا کذبتہقال لوددت انك افتدیت من رحلتك الیہ براحلتك ورحلھا وکذب کعب ان اﷲ یقول "" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬ ولئن زالتا ان امسکہما من احد من بعدہ ""
زاد غیر ابن جریر و کفی بہا زوالا ان تدورا۔
عرض کیکچھ نہیں(یعنی جس طرح حکم ہے کہ جب تك اپنی کتاب کریم کا حکم نہ معلوم ہو اہل کتاب کی باتوں کو نہ سچ جانو نہ جھوٹ)حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:کاش تم اپنا اونٹ اور اس کا کجاوہ سب اپنے اس سفر سے چھٹکارے کو دے دیتے کعب نے جھوٹ کہا اﷲ تعالی فرماتا ہے۔بے شك اﷲ تعالی آسمانوں اور زمینوں کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ ہٹیں تو اﷲ کے سوا انہیں کون تھامےابن جریر کے غیر نے یہ اضافہ کیا کہ گھومنا ان کے سرك جانے کو بہت ہے۔
نیز محمد طبری نے بسند صحیح بر اصول حنفیہ برجال بخاری و مسلم حضرت سیدنا امام ابوحنیفہ کے استاذ الاستاذ امام اجل ابراہیم نخعی سے روایت کی:
حدثنا جریر عن مغیرۃ عن ابراھیم قال ذھب جندب البجلی الی کعب الاحبار فقدم علیہ ثم رجع فقال لہ عبداﷲ حدثنا ما حدثکفقال حدثنی ان السماء فی قطب کقطب الرحا و القطب عمود علی منکب ملکقال عبداﷲ لوددت انك افتدیت رحلتك بمثل راحلتکثم قال ماتنتکت الیھودیۃ فی قلب عبدفکادت ہمیں جریر نے بحوالہ مغیرہ ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ ابراہیم نے کہا کہ جندب بجلی کعب احبار کے پاس جا کر واپس آئے۔حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:کہو کعب نے تم سے کیا کہا عرض کیا:یہ کہا کہ آسمان چکی کی طرح ایك کیلی میں ہے اور کیلی ایك فرشتے کے کاندھے پر ہے۔حضرت عبداﷲ نے فرمایا:مجھے تمنا ہوئی کہ تم اپنے ناقہ کے برابر مال دے کر ا س سفر سے چھٹ گئے ہوتےیہودیت کی خراش جس دل میں لگتی ہے پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہے۔اﷲ
",
1019,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,185,"تفارقہ ثم قال"" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬""۔کفی بہازوالا ان تدورا۔ تو فرما رہا ہے بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ نہ سرکیںان کے سرکنے کو گھومنا ہی کافی ہے۔
عبدبن حمید نے قتادہ شاگرد حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
ان کعبا کان یقول ان السماء تدور علی نصب مثل نصب الرحا فقال حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہما کذب کعب ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬""۔ کعب کہا کرتے کہ آسمان ایك کیلی پر دورہ کرتا ہے جیسے چکی کی کیلی۔اس پر حذیفہ الیمان رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا کعب نے جھوٹ کہا۔بے شك اﷲ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ جنبش نہ کریں۔
دیکھو ان اجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے مطلق حرکت کو زوال مانا اور اس پر انکار فرمایا اور قائل کی تکذیب کی اور اسے بقایائے خیالات یہودیت سے بتایاکیا وہ اتنا نہ سمجھ سکتے تھے کہ ہم کعب کی ناحق تکذیب کیوں فرمائیں آیت میں تو زوال کی نفی فرمائی ہے اور ان کا یہ پھرنا چلنا اپنے اماکن میں ہے جہاں تك احسن الخالقین تعالی نے ان کو حرکت کا امکان دیا ہے وہاں تك ان کا حرکت کرنا ان کا زوال نہ ہوگا۔مگر ان کا ذہن مبارك اس معنی باطل کی طرف نہ گیا نہ جاسکتا تھا بلکہ اس کے ابطال ہی کی طرف گیا اور جانا ضرور تھا کہ اﷲ تعالی نے مطلقا زوال کی نفی فرمائی ہے نہ کہ خاص زوال عن المدار کی تو انہوں نے روانہ رکھا کہ کلام الہی میں اپنی طرف سے یہ پیوند لگالیں لاجرم اس پر رد فرمایا اور اس قدر شدید واشد فرمایا وﷲ الحمد۔
تنبیہ:کعب احبار تابعین اخیار سے ہیں خلافت فاروقی میں یہودی سے مسلمان ہوئے کتب سابقہ کے عالم تھے۔اہل کتاب کی احادیث اکثر بیان کرتے انہیں میں سے یہ خیال تھا جس کی تغلیط ان اکابر صحابہ نے قرآن عظیم سے فرمادی تو کذ ب کعب کے یہ معنی ہیں کہ کعب نے غلط کہا نہ کہ معاذ اﷲ قصدا جھوٹ کہا۔ کذب بمعنی اخطا محاورہ حجاز ہے اور خراش یہودیت بمشکل چھوٹنے سے یہ مراد کہ ان کے دل میں علم یہود بھرا ہوا تھا وہ تین قسم ہے باطل صریح و حق صحیح
",
1020,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,186,"اور مشکوك کہ جب تك اپنی شریعت سے اس کا حال نہ معلوم ہو حکم ہے کہ اس کی تصدیق نہ کرو ممکن کہ ان کی تحریفات یا خرافات سے ہونہ تکذیب کرو ممکن کہ توریت یا تعلیمات سے ہواسلام لا کر قسم اول کا حرف حرف قطعا ان کے دل سے نکل گیا۔قسم دوم کا علم اور مسجل ہوگیایہ مسئلہ قسم سوم بقایائے علم یہود سے تھا جس کے بطلان پر آگاہ نہ ہو کر انہوں نے بیان کیا اورصحابہ کرام نے قرآن عظیم سے اس کا بطلان ظاہر فرمادیا یعنی یہ نہ توریت سے ہے نہ تعلیمات سے بلکہ ان خبیثوں کی خرافات سے تابعین صحابہ کرام کے تابع و خادم ہیںمخدوم اپنے خدام کو ایسے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے جو ہم نے واضح کیا وﷲ الحمد۔
(۷)اس ساری تحریر میں مجھے آپ سے اس فقرے کا زیادہ تعجب ہوا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایاخاموشی فرمائیاسے آپ نے اپنی مشکل کا حل تصور کیا۔کعب احبا رنے آسمان ہی کا گھومنا بیان کیا تھا اور یہود اسی قدر کے قائل تھے زمین کو وہ بھی ساکن مانتے تھے بلکہ ۱۵۳۰ء سے پہلے(جس میں کوپرنیکس نے حرکت زمین کی بدعت ضالہ کو کہ دو ہزار برس سے مردہ پڑی تھی جلایا)نصاری بھی سکون ارض ہی کے قائل تھےاسی قدر یعنی صرف دورہ آسمان کا ان حضرات عالیات کے حضور تذکرہ ہوا اس کی تکذیب فرمادی۔دورہ زمین کہا کس نے تھا کہ اس کا رد فرماتےاگر کوئی صرف زمین کا دورہ کہتا صحابہ اسی آیتہ کریمہ سے اس کی تکذیب کرتے اور اگر کوئی آسمان و زمین دونوں کا دورہ بتاتاصحابہ اسی آیت سے دونوں کا ابطال فرماتے جواب بقدر سوال دیکھ لیا یہ نہ دیکھا کہ جس آیت سے وہ سند لائے اس میں آسمان وزمین دونوں کا ذکر ہے یا صرف آسمان کاآیت پڑھیے صراحتا دونوں ایك حالت پر مذکور ہیں دونوں پر ایك ہی حکم ہے۔جب حسب ارشاد صحابہ آیہ کریمہ مطلق حرکت کا انکار فرماتی ہے اور وہ انکار آسمان و زمین دونوں کے لیے ایك نسق ایك لفظ ان تزولا میں ہے جس کی ضمیر دونوں کی طرف ہے تو قطعا آیت نے زمین کی بھی ہر گو نہ حرکت کو باطل فرمایا جس طرح آسمان کیایك شخص کہے حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے آفتاب کو اپنے لیے سجدہ کرتے نہ دیکھا تھا اس پر عالم فرمائے وہ جھوٹا ہے۔ آیہ کریمہ میں ہے:
"" انی رایت احد عشرکوکبا والشمس والقمر رایتہم لی سجدین ﴿۴﴾"" میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔
",
1021,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,187,"اس کے بعد ایك دوسرا اٹھے اور چاند کو ساجد دیکھنے سے منکر ہو اور کہے قربان جائیے عالم نے سورج کے سجدہ کی تصریح فرمائی مگر چاند کے بارے میں ایسا نہ فرمایا:خاموشی فرمائی اسے کیا کہا جائے گااب تو آپ نے خیال فرمالیا ہوگا کہ قائل حرکت ارض کو اجلہ صحابہ کرام بلکہ خود صاف ظاہر نص قرآن عظیم سے گریز کے سوا کوئی چارہ نہیںاور یہ معاذ اﷲ خسر ان مبین ہے جس سے اﷲ تعالی ہمیں اور آپ اور سب اہلسنت کو بچائے۔آمین۔
(۸)عجب کہ آپ نے آفتاب کا زوال نہ سنااسے تو میں نے آپ سے بالمشافہ کہہ دیا تھا۔
(ا)حدیثوں میں کتنی جگہ زالت الشمس(سورج ڈھل گیا۔ت)ہے بلکہ قرآن عظیم میں ہے:
"" اقم الصلوۃ لدلوک الشمس""۔ نماز قائم کرو سورج ڈھلتے وقت۔(ت)
تفسیر ابن مردویہ میں امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لدلوك الشمس کی تفسیر میں فرمایا: لزوال الشمس۔ ابن جریر نے عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اتانی جبرئیل لدلوك الشمس حین زالت فصلی بی الظھر۔ میرے پاس جبرائیل آئے جب سورج ڈھل گیا توآپ نے میرے ساتھ نماز ظہرپڑھی۔
نیز ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصلی الظھر اذازالت الشمسثم تلا اقم الصلوۃ لدلوك الشمس ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔پھر ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی کہ سورج ڈھلتے وقت نماز قائم کرو۔(ت)
نیز مثل سعید ابن منصور عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے: دلوکہا زوالہا (سورج کے دلوك کا معنی
",
1022,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,188,"اس کا زوال ہے۔ت)
بزار و ابو الشیخ و ابن مردویہ نے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ دلوك الشمس زوالھا۔ (سورج کے دلوك کا معنی اس کا زوال ہے۔ت)عبدالرزاق نے مصنف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے:
دلوك الشمس اذا زالت عن بطن السماء۔ سورج کا دلوك یہ ہے کہ جب وہ آسمان کے بطن سے ڈھل جائے(ت)
مجمع بحارالانوار میں ہے:
زاغت الشمس مالت وزالت علی اعلی درجات ارتفاعھا۔ زاغت الشمس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی بلندی کے اعلی درجے سے ڈھل گیا(ت)
فقہ میں وقت زوال ہر کتاب میں مذکور اور عوام تك کی زبانوں پر مشہور۔کیا اس وقت آفتاب اپنے مدار سے باہر نکل جاتا ہے اور احسن الخالقین جل و علا نے جہاں تك کی حرکت کا اسے امکان دیا ہے اس سے آگے پاؤں پھیلاتا ہے حاشا ! مدار ہی میں رہتا ہے اور پھر زوال ہوگیا۔یونہی زمین اگر دورہ کرتی ضرور اسے زوال ہوتا اگرچہ مدار سے نہ نکلتیاس پر اگر یہ خیال جائے کہ ایك جگہ سے دوسری جگہ سرکنا تو آفتاب کو ہر وقت ہے پھر ہر وقت کو زوال کیوں نہیں کہتےتو یہ محض جاہلانہ سوال ہوگا۔وجہ تسمیہ مطرد نہیں ہوتی۔کتب میں یہ مشہور حکایت ہے کہ مطر د ماننے والے سے پوچھا جرجیر یعنی چینے کو کہ ایك قسم کا اناج ہے جرجیر کیوں کہتے ہیں۔کہا لانہ یتجرجر علی الارض اس لیے کہ وہ زمین پر جنبش کرتا ہے کہا تمہاری داڑھی کو جرجیر کیوں نہیں کہتے یہ بھی تو جنبش کرتی ہے۔قارورے کو قارورہ کیوں کہتے ہیںکہا لان الماء یقرفیھا اس لیے کہ اس میں پانی ٹھہرتا ہے کہا تمہارے پیٹ کو قارورہ کیوں نہیں کہتے اس میں بھی تو پانی ٹھہرتا ہے۔یہاں تین ہی موضع ممتاز تھے افق شرقی و غربی و دائرہ نصف النہاران سے سرکنے کا نام طلوع و غروب رکھا کہ یہی انسب ووجہ تمایز تھا اور اس سے تجاوز کو زوال کہا اگرچہ جگہ سے زوال آفتاب کو بلاشبہ ہر وقت ہے کریمہ والشمس تجری لمستقر لھا میں
",
1023,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,189,"عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی قراء ت ہے لا مستقرلھا یعنی سورج چلتا ہے کسی وقت اسے قرار نہیں۔اوپر گزرا کہ قرار کا مقابل زوال ہےجب کسی وقت قرار نہیں تو ہر وقت زوال ہے اگرچہ تسمیہ میں ایك زوال معین کا نام زوال رکھاغرض کلام اس میں ہے کہ احادیث مرفوعہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و آثار صحابہ کرام و اجماع اہل اسلام نے آفتاب کا اپنے مدار میں رہ کر ایك جگہ سے سرکنے کو زوال کہا اگر زمین متحرك ہوتی تو یقینا ایك جگہ سے اس کا سرکنا ہی زوال ہوتا اگر چہ مدار سے باہر نہ جاتی لیکن قرآن عظیم نے صاف ارشاد میں اس کے زوال کا انکار فرمایا ہے تو قطعا واجب کہ زمین اصلا متحرك نہ ہو۔
(ب)بلکہ خود یہی زوال کہ قرآن و حدیث و فقہ و زبان جملہ مسلمین سب میں مذکور قائلان دورہ زمین اسے زمین ہی کا زوال کہیں گے کہ وہ حرکت یومیہ اسی کی جانب منسوب کرتے ہیں۔یعنی آفتاب یہ حرکت نہیں کرتا بلکہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے جب وہ حصہ جس پر ہم ہیں گھوم کر آفتاب سے آڑ میں ہوگیا رات ہوئی۔جب گھوم کر آفتاب کے سامنے آیا کہتے ہیں آفتاب نے طلوع کیا۔حالانکہ زمین یعنی اس حصہ ارض نے جانب شمس رخ کیا جب اتنا گھوما کہ آفتاب ہمارے سروں کے محاذی ہوا یعنی ہمارا دائرہ نصف النہار مرکز شمس کے مقابل آیا دوپہر ہوگیا جب زمین یہاں سے آگے بڑھی دوپہر ڈھل گیا کہتے ہیں آفتاب کو زوال ہوا حالانکہ زمین کو ہوایہ ان کا مذہب ہے اور صراحۃ قرآن عظیم کا مکذب و مکذب ہے۔مسلمین تو مسلمینبیروت وغیرہ کے سفہائے قائلان حرکت ارض بھی جن کی زبان عربی ہے اس وقت کو وقت زوال اور دھوپ گھڑی کو مزولہ کہتے ہیں یعنی زوال پہچاننے کا آلہ۔اور اگر ان سے کہے کیا شمس زوال کرتا ہے کہیں گے:نہیں بلکہ زمینحالانکہ وہ مدار سے باہر نہ گئی۔تو آپ کی تاویل موافقین و مخالفین کسی کو بھی مقبول نہیں۔
(ج)اوروں سے کیا کامآپ تو بفضلہ تعالی مسلمان ہیںابتدائے وقت ظہر زوال سے جانتے ہیںکیا ہزار بار نہ کہا ہوگا کہ زوال کا وقت ہےزوال ہونے کو ہےزوال ہوگیا۔کاہے سے زوال ہوادائرہ نصف النہار سے۔کس کا زوال ہوا آپ کے نزدیك زمین کا کہ اسی کی حرکت محوری سے ہوا۔حالانکہ اﷲ تعالی عزوجل فرماتا ہے کہ زمین کو زوال نہیںاب خود مان کر کہ زمین متحرك ہو تو روزانہ اپنے مدار کے اندر ہی رہ کر اسے زوال ہوتا ہے دنیا سےزوال کفار پیش کرنے کا کیا موقع رہاانصاف شرط ہے اور قرآن عظیم کے ارشاد پر ایمان لازم وباﷲ التوفیق۔
(د)یہاں سے بحمدہ تعالی حضرت معلم التحیات رضی اﷲ تعالی عنہ کے اس ارشاد کی خوب
",
1024,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,190,"توضیح ہوگئی کہ صرف حرکت محوری زوال کو بس ہے۔
(۹)بحمدﷲ تین آیتیں یہ گزریں:
آیت ۱:"" ان اللہ یمسک"" ۔آیت ۲:"" ولئن زالتا "" ۔
آیت ۳:"" لدلوک الشمس"" ۔آیت ۴:"" فلما افلت "" ۔
آیت ۵:"" و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب ﴿۳۹﴾"" ۔
آیت ۶: "" وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبہا "" ۔
آیت۷: حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدہا تطلع علی قوم لم نجعل لہم من دونہا سترا ﴿۹۰﴾"""" ۔
اور ان سب سے زائد آیت۸:"" وتری الشمس اذا طلعت تزور عن کہفہم ذات الیمین و اذا غربت تقرضہم ذات الشمال و ہم فی فجوۃ منہ ذلک من ایت اللہ "" ۔
اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو۔سورج چمکنے سے پہلے اورڈوبنے سے پہلے(ت)
اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو۔سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے(ت)
یہاں تك کہ سور ج نکلنے کی جگہ پہنچا اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی(ت)
تو آفتاب کو دیکھے گا جب طلوع کرتا ہے ان کے غار سے دہنی طرف مائل ہوتا ہے اور جب ڈوبتا ہے ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے حالانکہ وہ غار کے کھلے میدان میں ہیںیہ قدرت الہی کی نشانیوں سے ہیں۔(ت)
",
1025,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,191,"یونہی صدہا احادیث ارشاد سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خصوصا حدیث صحیح بخاری ابو ذر رضی اﷲ تعالی عنہ:
قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ لابی ذرحین غربت الشمس اتدری این تذھب قلت اﷲ ورسولہ اعلم قال فانھا تذھب حتی تسجد تحت العرش فتستأذن فیؤذن لھا ویو شك ان تسجدفلایقبل منھا وتستأذن فلا یؤذن لھا یقال لھا ارجعی من حیث جئت فتطلع من مغربھا فذلك قولہ تعالی و الشمس تجری لمستقرلھا ذلك تقدیر العزیز العلیم۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرمایا جب کہ سورج غروب ہوچکا تھا کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے حضرت ابوذر کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ اﷲ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا:وہ جاتا ہے تاکہ عرش کے نیچے سجدہ کرے۔ چنانچہ وہ اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دے دی جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرےوہ سجدہ اس کی طرف سے قبول نہ کیا جائے اور وہ اجازت طلب کرے تو اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور اسے کہا جائے کہ تو لوٹ جہاں سے آیا ہے۔پھر وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔یہی معنی ہے اﷲ تعالی کے ارشاد کا اور سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیےیہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔(ت)
یونہی ہزار ہا آثار صحابہ عظام و تابعین کرام و اجماع امت جن سب میں ذکر ہے کہ آفتاب طلوع و غروب کرتا ہے آفتاب کو وسط سماء سے زوال ہوتا ہے آفتاب کی طرح روشن دلائل ہیں کہ زمین ساکن محض ہے بدیہی ہے اور خود مخالفین کو تسلیم کہ طلوع و غروب و زوال نہیں مگر حرکت یومیہ سے تو جس کے یہ احوال ہیں حرکت یومیہ اسی کی حرکت ہے تو قرآن عظیم و احادیث متواترہ و اجماع امت سے ثابت کہ حرکت یومیہ حرکت شمس ہے نہ کہ حرکت زمینلیکن اگر زمین حرکت محور کرتی تو حرکت یومیہ اسی کی حرکت ہوتی جیسا کہ مزعوم مخالفین ہے تو روشن ہوا کہ زعم سائنس باطل و مردود ہے۔پھر شمس کی حرکت یومیہ جس سے طلوع وغروب وزوال ہے۔نہ ہوگی مگر یوں کہ وہ گرد زمین دورہ کرتا ہے تو قرآن و حدیث و اجماع سے ثابت ہوا کہ آفتاب حول ارض دائرہ ہےلاجرم زمین مدارشمس کے جوف میں ہے
",
1026,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,192," تو ناممکن ہے کہ زمین گرد شمس دورہ کرے اور آفتاب مدار زمین کے جوف میں ہو تو بحمداﷲ تعالی آیات متکاثرہ و احادیث متواترہ و اجماع امت طاہرہ سے واضح ہوا کہ زمین کی حرکت محوری و مداری دونوں باطل ہیں وﷲ الحمدزیادہ سے زیادہ مخالف یہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ غروب تو حقیقہ شمس کے لیے ہے کہ وہ غیبت ہے اور آفتاب ہی اس حرکت زمین کے باعث نگاہ سے غائب ہوتا ہے اور زوال حقیقتہ زمین کے لیے ہے کہ یہ ہٹتی ہے نہ کہ آفتاب اور طلوع حقیقۃ کسی کے لیے نہیں کہ طلوع صعود اور اوپر چڑھنا ہے۔
حدیث میں ہے: لکل حد مطلع ۔ (ہر حد کے لیے چڑھنے کی جگہ ہے۔ت)
نہایہ و درنثیر و مجمع البحارو قاموس میں ہے: ای مصعد یصعد الیہ من عرفۃ علمیہ ۔یعنی چڑھنے کی جگہ جس کی طرف وہ اپنی علمی معرفت کے ساتھ چڑھتا ہے۔(ت)
نیز ثلاثۃ اصول تاج العروس میں ہے:مطلع الجبل مصعدہ (پہاڑ کا مطلع اس پر چڑھنے کی بلند جگہ ہے۔ت)
حدیث میں ہے:طلع المنبر۔ (منبر پر چڑھا۔ت)
مجمع البحار میں ہے: ای علاہ (یعنی اس کے اوپر چڑھا ت)
ظاہر ہے کہ زمین آفتاب پر نہیں چڑھتیاور مخالف کے نزدیك آفتاب بھی اس وقت زمین پر نہ چڑھا کہ طلوع اس کی حرکت سے نہیں لاجرم طلوع سرے سے باطل محض ہے مگر مکان زمین کو حرکت میں محسوس نہیں ہوتی۔انہیں وہم گزرتا ہے کہ آفتاب چلتاڈھلتا ہے لہذا طلوع و زوال الشمس کہتے ہیں۔یہ کوئی کافر کہہ سکے۔مسلمان کیونکر وہ روا رکھ سکے کہ جاہلانہ وہم جو لوگوں کو گزرتا ہے قرآن عظیم بھی معاذ اﷲ اسی وہم پر چلا ہے اور واقع کے خلاف طلوع و زوال کو آفتاب کی طرف نسبت فرمادیا ہے۔
",
1027,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,193,"والعیاذ باﷲ تعالیلاجرم مسلمان پر فرض ہے کہ حرکت شمس و سکون زمین پر ایمان لائے واﷲ الہادی۔
(۱۰)سورہ طہ وسورہ زخرف دو جگہ ارشاد ہوا ہے:
"" الذی جعل لکم الارض مہدا"" ۔ وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔(ت)
دونوں جگہ صرف کوفیوں مثل امام عاصم نے جن کی قراء ت ہند میں رائج ہے مھدا پڑھاباقی تمام ائمہ قراء ت نے مھدا بزیادت الف۔دونوں کے معنی ہیں بچھونا۔جیسے فرش و فراش یونہی مھدومھاد۔
(ا)پس قراء ت عام ائمہ نے قراء ت کو فی تفسیر فرمادی کہ مھد سے مراد فرش ہے مدارك شریف سورہ طہ میں ہے:
(مھدا)کوفی وغیر ھم مھادا وھما لغتان لما یبسط و یفرش۔ (مھدا)یہ کوفیوں کی قراء ۃ ہے ان کے غیر مھادا پڑھتے ہیں یہ دونوں لغتیں ہیںاس کا معنی ہے وہ شے جس کو بچھایا جاتا ہے اور بچھونا بنایا جاتا ہے۔(ت)
اسی کی سورہ زخرف میں ہے:
(مھدا)کوفی وغیرہ مھادا ای موضوع قرار۔ (مھدا)کو فی قراء ۃ ہے اور ان کے غیر کی قراء ۃ مھادا ہے یعنی قرار کی جگہ(ت)
معالم شریف میں ہے:
قرأ اھل الکوفۃ مھدا ھھنا وفی الزخرف فیکون مصدرا ای فرشا و قرا الاخرون مھادا کقولہ تعالی الم نجعل الارض مھادا ای فراشاوھو اسم مایفرش کالبساط۔ اہل کوفہ نے یہاں سورہ زخرف میں مھدا پڑھا ہے اور دوسروں نے مھادا پڑھا ہے جیسے اﷲ تعالی کاقول ""کیاہم نے زمین کو مھاد نہیں بنایا یعنی فراشوہ اس چیز کانام ہے جسے بچھایا جاتاہے جیسے بچھونا(ت)
",
1028,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,194,"تفسیر ابن عباس میں دونوں جگہ ہے:(مھدا)فراشا (یعنی بچھونا۔ت)نیز یہی مضمون قرآن عظیم کی بہت آیات میں ارشاد ہےفرماتاہے:
"" الم نجعل الارض مہدا ﴿۶﴾"" کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا(ت)
فرماتاہے:
"" و الارض فرشنہا فنعم المہدون ﴿۴۸﴾"" اور زمین کوہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں(ت)
فرماتا ہے:
"" و اللہ جعل لکم الارض بساطا ﴿۱۹﴾"" اور اﷲ تعالی نے تمہارےلیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت)
فرماتا ہے:
"" الذی جعل لکم الارض فرشا"" جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت)
اور قرآن کی بہتر تفسیر وہ ہے کہ خود قرآن کریم فرمائے۔
(ب)بچے ہی کا مہد ہو تو وہ کیا اس کے بچھونے کو نہیں کہتےجلالین سورہ زخرف میں ہے: مھادا فراشا کا لمھد للصبی۔ (مھادا) بچھونا جیسے بچوں کے لیے گہوارہ(ت)
لاجرم حضرت شیخ سعدی و شاہ ولی اﷲ نے مھدا کا ترجمہ طہ میں فرش اور زخرف میں بساط ہی کیا اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے دونوں جگہ بچھونا۔
(ج)گہوارہ ہی لو تو اس سے تشبیہ آرام میں ہوگی نہ کہ حرکت میںظاہر کہ زمین اگر بفرض باطل جنبش بھی کرتی تو اس سے نہ ساکنوں کو نیند آتی ہے نہ گرمی کے وقت ہوا لاتی تو گہوارہ سے اسے بحیثیت جنبش مشابہت نہیں تو بحیثیت آرام و راحت ہے۔خود گہوارہ سے اصل مقصد یہی ہےنہ کہ ہلاناتووجہ شبہ وہی ہے نہ یہ۔لاجرم اسی کو مفسرین نے اختیار کیا۔
(د)لطف یہ کہ علماء نے اس تشبیہ مہد سے بھی زمین کا سکون ہی ثابت کیا بالکل نقیض اس کا جو آپ
",
1029,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,195,"چاہتے ہیںتفسیر کبیر میں ہے:
کون الارض مھداانما حصل لاجل کونھا واقفۃ ساکنۃ ولما کان المہد موضع الراحۃ للصبی جعل الارض مھدا لکثرۃ ما فیھامن الراحات ۔ زمین کاگہوارہ ہونا اس کے ٹھہرنےاور ساکن ہونے کی وجہ سے حاصل ہو ااورجب گہوارہ بچے کے لیے راحت کی جگہ ہے تو زمین کواس لیے گہوارہ قرار دیا گیا کہ اس میں کئی طرح متعدد راحتیں موجود ہیں۔(ت)
خازن میں ہے:
(جعل لکم الارض مھدا)معناہ واقفۃ ساکنۃ یمکن الانتفاع بھا ولما کان المہد موضع الراحۃ للصبی فلذلك سمی الارض مھادا لکثرۃ ما فیھامن الراحۃ للخلق (تمہارے لیے زمین کوگہوارہ بنایا)اس کا معنی ہے کہ وہ ٹھہری ہوئی پرسکون ہے جس سے نفع اٹھانا ممکن ہے۔جب کہ گہوارہ بچے کے لیے راحت کی جگہ ہے تو اسی لیے زمین کا نام گہوارہ رکھا گیاہے کیونکہ اس میں مخلوق کے لیے کثیر راحتیں موجود ہیں۔(ت)
خطیب شربنیی پھر فتوحات الہیہ میں زیر کریمہ زخرف ہے:
ای لوشاء لجعلھا متحرکۃ فلا یمکن الا نتفاع بھا فالانتفاع بہا انما حصل لکونھا مسطحۃ قارۃ ساکنۃ یعنی اگر اﷲ تعالی چاہتا تو زمین کو متحرك بناتا جس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہ ہوتا۔نفع تو اس سے اس صورت میں حاصل ہوا کہ وہ ہموارقرار پکڑنے والی اور ساکن ہے۔(ت)
اس ارشاد علماء پر کہ زمین محترك ہوتی تو اس سے انتفاع ہوتا۔کاسہ لیسان فلسفہ جدیدہ کو اگر یہ شبہ لگے کہ اس کی حرکت محسوس نہیں۔تو ان سے کہیے یہ تمہاری ہوس خام ہے۔فوزمبین دیکھئے ہم نے خود فلسفہ جدیدہ کے مسلمات عدیدہ سے ثابت کیا ہے کہ اگر زمین متحرك ہوتی جیسا وہ مانتے ہیں تو یقینا اس کی
",
1030,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,196,"حرکت ہر وقت سخت زلزلہ اور شدید آندھیاں لاتیانسان حیوان کوئی اس پر نہ بس سکتا۔زبان سے ایك بات ہانك دینا آسان ہے مگر اس پر جو قاہر رد ہوں ان کا اٹھانا ہزار ہا بانس پیراتا ہے۔
(۱۱)دیباچہ میں جو آپ نے دلائل حرکت زمین کتب انگریزی سے نقل فرمائے الحمدﷲ ان میں کوئی نام کو تام نہیں سب پا در ہوا ہیں۔زندگی بالخیر ہے تو آپ ان شاء اﷲ تعالی ان سب کا ر د بلیغ فقیر کی کتاب فوزمبین کی فصل چہارم میں دیکھیں گے بلکہ وہ آٹھ سطریں جو میں نے اول میں لکھ دی ہیں کہ یورپ والوں کو طرز استدلال اصلا نہیں آتا انہیں اثبات دعوی کی تمیز نہیںان کے اوہام جن کو بنام دلیل پیش کرتے ہیں یہ یہ علتیں رکھتے ہیں۔منصف ذی فہم مناظرہ داں کے لیے وہی ان کے رد میں بس ہیں کہ دلائل بھی انہیں علتوں کے پابند ہوس ہیں اور بفضلہ تعالی آپ جیسے دیندار و سنی مسلمان کو تو اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے کہ ارشاد قرآن عظیم و نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم و مسئلہ اسلامی واجماع امت گرامی کے خلاف کیونکر کوئی دلیل قائم ہوسکتیاگر بالفرض اس وقت ہماری سمجھ میں اس کا رد نہ آئے جب بھی یقینا وہ مردود اور قرآن و حدیث و اجماع سچے۔یہ ہے بحمداﷲ شان اسلام۔
محب فقیر ! سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو آیات و نصوص میں تاویلات ودرازکار کرکے سائنس کے مطابق کرلیا جائے۔یوں تو معاذ اﷲ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلاموہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اسے خلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے دلائل سائنس کو مردود و پامال کردیا جائے جا بجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اثبات ہوسائنس کا ابطال و اسکات ہویوں قابو میں آئے گی۔اور یہ آپ جیسے فہیم سائنس داں کو باذنہ تعالی دشوار نہیں آپ اسے بچشم پسند دیکھتے ہیں۔
وعین الرضاء عن کل عیب کلیلۃ۔
(رضا مندی کی آنکھ ہر عیب کو دیکھنے سے عاجز ہوتی ہے۔ت)
اس کے معائب مخفی رہتے ہیں مولی عزوجل کی عنایت اور حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اعانت پر بھروسہ کرکے اس کے دعاوی باطلہ مخالفہ اسلام کو بنظر تحقیر و مخالفت دیکھئےاس وقت ان شاء اﷲ العزیز القدیر اس کی ملمع کاریاں آپ پر کھلتی جائیں گی اور آپ جس طرح اب دیوبندیہ مخذولین پر مجاہد ہیں یونہی سائنس کے مقابل آپ نصرت اسلام کے لیے تیار ہوجائیں گے ع
",
1031,27,نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان (زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)),,,197,"ولکن عین السخط تبدی المساویا
(لیکن ناراضگی کی آنکھ عیبوں کو عیاں کرتی ہے۔ت)
مولوی قدس سرہ المعنوی فرماتے ہیں:۔
دشمن راہ خدا را خوار دار دزد رامنبر منہ بردار دار
(اﷲ تعالی کے راستے کے دشمن کو ذلیل رکھچور کے لیے منبر مت بچھا بلکہ اس کو سولی پر رکھ۔ت)
رب کریم بجاہ نبی رؤف رحیم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہمیں اور آپ اور ہمارے بھائیوں اہل سنت خادمان ملت کو نصرت دین حق کی توفیق بخشے اور قبول فرمائے۔آمین
الہ الحق امین واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولینا فانصرنا علی القوم الکفرین oوالحمد ﷲ رب العلمین oوصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولینا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین oامین واﷲ تعالی اعلم اے معبود برحق ! ہماری دعا قبول فرمااور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔تو ہمارا مولی ہے۔تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔اور تمام تعریفیں اﷲ رب العلمین کے لیے ہیں۔اﷲ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد مصطفی اور آپ کی آلاصحاباولاد اور تمام امت پر۔آمین اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
__________________
رسالہ
نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان
ختم ہوا
",
1032,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,198,"رسالہ
معین مبین بھردور شمس وسکون زمین ۱۳۳۸ھ
(سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار)
(امریکی منجم پروفیسر البرٹ ایفپورٹا کی پیشگوئی کا رد)
مسئلہ ۳۲:دارالافتاء میں ملك العلماء جناب مولانا ظفر الدین صاحب بہاری(رحمۃ اﷲ علیہ)ازتلامذہ اعلیحضرت علیہ الرحمۃ نے بانکی پور کے انگریزی اخبار ایکسپریس ۱۸ اکتوبر۱۹۱۹ء کے دوسرے ورق کا صرف پہلا کالم تراش کر بغرض ملاحظہ واستصواب حاضر کیا جس پر امریکہ کے منجم پروفسیر البرٹ کی ہولناك پیش گوئی ہے۔جناب نواب وزیر احمد خان صاحب وجناب سید اشتیاق علی صاحب رضوی نے ترجمہ کیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔
۱۷ دسمبر کو عطاردمریخزہرہمشتریزحلنیپچونیہ چھ سیارے جن کی طاقت سب سے زائد ہے قرآن میں ہوں گے آفتاب کے ایك طرف ۲۶ درجے کے تنگ فاصلہ میں جمع ہو کر اسے بقوت کھینچیں گے۔اور وہ ان کے ٹھیك مقابلہ میں ہوگا اور مقابلہ میں آتا جائے گا۔ایك بڑا کوکب یورنیس سیاروں کا ایسا اجتماع تاریخ ہیأت میں کبھی نہ جانا گیا۔یورنیس اور ان چھ میں مقناطیسی لہر آفتاب میں بڑے بھالے کی طرح سوراخ کرے گی۔ان چھ بڑے سیاروں کے اجتماع سے چوبیس صدیوں سے نہ دیکھا گیا تھا۔ممالك متحدہ کو دسمبر میں بڑے خوفناك طوفان آب سے صاف کردیا جائے گا۔یہ داغ شمس ۱۷ دسمبر کو ظاہر ہوگا جو بغیر آلات کے آنکھ سے دیکھا جائے گا۔ایسا داغ کہ بغیر آلات کے دیکھا جائے آج تك ظاہر نہ ہوا اور ایك وسیع زخم آفتاب کے ایك جانب میں ہوگا۔یہ داغ شمس کرہ ہوا میں تزلزل ڈالے گا۔طوفانبجلیاں اور سخت مینہ اور بڑے زلزلے ہوں گے ",
1033,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,199,"زمین ہفتوں میں اعتدال پر آئے گی۔
محسن ملت اعلیحضرت علیہ الرحمۃ نے اس کا جواب حسب ذیل ارشاد فرمایا۔
یہ سب اوہام باطلہ وہوسات عاطلہ ہیںمسلمانوں کو ان کی طرف اصلا التفات جائز نہیں۔
(۱)منجم نے ان کی بناکواکب کے طول وسطی پر رکھی جسے ہیأت جدیدہ میں طول بفرض مرکزیت شمس کہتے ہیںاس میں وہ چھ کواکب باہم ۲۶ درجے ۳ ۲ دقیقے کے فصل میں ہوں گے مگر یہ فرض خود فرض باطل ومطرود اور قرآن عظیم کے ارشادات سے مردود ہےنہ شمس مرکز ہے نہ کواکب اس کے گرد متحرك بلکہ زمین کا مرکز ثقل مرکز عالم ہے اور سب کواکب اور خود دشمس اس کے گرددائر۔اﷲ تعالی عزوجل فرماتا ہے:
"" الشمس و القمر بحسبان ﴿۪۵﴾"" سورج اور چاند کی چال حساب سے ہے۔
اور فرماتا ہے:
"" و الشمس تجری لمستقر لہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾ "" سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیےیہ سادھا ہوا ہے زبردست علم والے کا۔
اور فرماتا ہے:
"" کل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"" چاند سورج ایك ایك گھیرے میں تیررہے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
"" وسخرلکم الشمس والقمر دائبین "" تمہارے لیے چاند اور سورج مسخر کیے کہ دونوں باقاعدہ چل رہے ہیں۔
اور سورہ رعد میں فرماتا ہے:
"" وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی "" اﷲ نے مسخر فرمائے چاندسورجہر ایك ٹھہرائے وقت تك چل رہا ہے۔
بعینہ اسی طرح سورہ لقمانسورہ ملکسورہ زمر میں فرمایا۔اس پر جو جاہلانہ اختراع پیش کرے۔
",
1034,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,200,"اس کے جواب کو آیہ کریمہ تمہیں تعلیم فرمادی ہے۔
""الا یعلم من خلق و ہو اللطیف الخبیر ﴿۱۴﴾"" کیا وہ نجانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاك خبردار۔
توپیش گوئی کا سرے سے مبنی ہی باطل ہے۔
(۲)یہ جسے طول بفرض مرکزیت شمس کہتے ہیں حقیقۃ کواکب کے اوساط معدلہ بتعدیل اول ہیں جیسا کہ واقف علم زیجات پر ظاہر ہے اور اوساط کواکب کے حقیقی مقامات نہیں ہوتے بلکہ فرضیاوراعتبار حقیقی کا ہے۔۱۷ دسمبر کو کواکب کے حقیقی مقام یہ ہوں گے۔
ظاہر ہے کہ ان چھ۶ کا باہمی فاصلہ نہ ۲۶ درجے میں محدود بلکہ ۱۱۲ درجے تك محدودیہ تقویمیہ اس دن تمام ہندوستان میں ریلوے وقت سے ساڑھے پانچ بجے شام اور نیویارك ممالك متحدہ امریکہ میں ۷ بجے صبح اور لندن میں دوپہر کے ۱۲ بجے ہوں۔یہ فاصلہ ان تقویمات کاہے باہمی بعد اس سے قلیل مختلف ہوگا کہ عرض کی قوسین چھوٹی ہیں اس کے استخراج کی حاجت نہیں کہ کہاں ۲۶ اور کہاں ۱۱۲)
",
1035,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,201,"(۳)یہ کلام اسلامی اصول پر تھا۔اب کچھ عقلی بھی لیجئے۔یہ کہنا کہ دو ہزار برس سے ایسا اجتماع نہ دیکھا گیا بلکہ جب سے کواکب کی تاریخ شروع ہوئی ہے نہ جانا گیا محض جزاف ہےمدعی اس پر دلیل رکھتا ہے تو پیش کرے ورنہ روز اول کواکب درکنار دو ہزار برس کے تمام زیجات بالاستیعاب اس نے مطالعہ کئے اور ایسا اجتماع نہ پایایہ بھی یقینا نہیںتو دعوی بے دلیل باطل و ذلیل۔اور یورنیس اور نیپچون تو اب ظاہر ہوئے۔اگلے زیجات میں ان کا پتہ کہاں مگر یہ کہ اوساط موجودہ سے بطریق تفریق ان کے ہزاروں برس کے اوساط نکالے ہوں یہ بھی ظاہر النفی اوردعوے محض ادعاء۔
(۴)کیا سب کو کواکب نے آپس میں صلح کرکے آزار آفتاب پر ایکا کرلیا ہے یہ تو محض باطل ہےبلکہ مسئلہ جاذبیت اگر صحیح ہے تو اس کا اثر سب پر ہے اور قریب تر پر قوی تر اور ضعیف ترپرشدید تر۔اور ۱۷ دسمبر کو اوساط کواکب کا نقشہ یہ ہے۔
اور ظاہر ہے کہ آفتاب ان سے ہزاروں درجے بڑا ہے۔جب اتنے بڑے پر ۶ کی کھینچ تان اس کا منہ زخمی کرنے میں کامیاب ہوگی تو زحل کہ اس سے نہایت صغیر و حقیر ہےپانچ کی کشاکش اور ادھر سے یورنیس کی مارا مار یقینا اس کو فنا کردینے کے لیے کافی ہوگی اور اس کے اعتبار سے ان کا فاصلہ اور بھی تنگصرف ۲۵ درجے۔
(۵)مریخ زحل سے بھی بہت چھوٹا ہے اور اس کے لحاظ سے فاصلہ اور بھی کمفقط ساڑھے۲/ ۱۔۲۴ درجے
",
1036,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,202,"تو یہ پانچ ہی مل کر اسے پاش پاش کردیں گے۔
(۶)عطارد تو سب میں چھوٹا اور اس کے حساب سے باقی ۱۳ہی درجے کے فاصلہ میں ہیں تو ۲۶کا آدھا ہے تو یہ تین عظیم ہاتھی مع یورنیس اس چھوٹی سی چڑیاکے ریزہ ریزہ کردینے کو بہت ہیں۔منجم نے اسی مضمون میں کہا کہ دو سیارے ملے ہوئے کافی ہیں ایك چھوٹا داغ شمس میں پیدا کرنے اور ایك چھوٹا طوفان برپا کرنے میں اور تین ان میں سے بڑا طوفان اور بڑا داغ اور چار فی الحقیقۃ ایك بہت بڑا طوفان اور بہت بڑا داغ جب آفتاب میں تین اور چار کا یہ عمل ہے تو بے بیچارے عطارد و مریخ چار اور پانچ کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں اور زحل پر اکٹھے چھ جمع ہیں تو جو نسبت ان کو آفتاب سے ہے اسی نسبت سے ان پر اثر زیادہ ہونا لازم واجب تھا کہ کھینچنے والوں سے چمٹ جائیں لیکن ان میں نافریت بھی رکھی ہے وہ انہیں تمرد پر لائے گی جس کا صاف نتیجہ ان کا ریزہ ریزہ ہو کر جواذب میں گم جانا۔جیسا کہ ہمیشہ مشہود ہے کہ کمزور چیز نہایت قوی قوت سے کھینچی جائے۔اگر دوسری طرف اس کا تعلق ضعیف ہے کھینچ آئے گی ورنہ ٹکڑے ہوجائے گی۔یہ سب اگر نہ ہوگاتو کیوںحالانکہ آفتاب پر اثر ضرب شدید کا مقتضی یہی ہے اور ہوگا تو غنیمت ہے کہ آفتاب کی جان چھوٹی وہ آپس میں کٹ مرکر فنا ہوں گےنہ آفتاب کے اس طرف ۶ رہیں گے نہ اس کے زخم آئے گا۔بالجملہ پیشگوئی محض باطل و پا در ہوا ہے۔غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہےپھر اس کی عطا سے اس کے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہے۔ا ﷲ تعالی اپنے خلق میں جو چاہے کرے۔اگر اتفاقا بمشیت الہی معاذ اﷲ ان میں سے بعض یافرض کیجئے کہ سب باتیں واقع ہوجائیں جب بھی پیشگوئی قطعا یقینی جھوٹی ہے کہ وہ جن اوضاع کواکب پر مبنی ہیں وہ اوضاع فرضی ہیں اور اگر بفرض غلط واقعی بھی ہوئے تو نتائج جن اصول پر مبنی ہیں وہ اصول محض بے اصل من گڑھت ہیں جن کا مہمل و بے اثر ہونا خود اسی اجتماع نے روشن کردیااگر جاذبیت صحیح ہے تو یہ اجتماع نہ چاہیے اور اگر یہ اجتماع قائم ہے تو جاذبیت کا اثر غلط ہےبہرحال پیشگوئی باطل۔واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل۔
(۷)جاذبیت پر ایك سہل سوال اوج وحضیض شمس سے ہوتا ہے جس کا ہر سال مشاہدہ ہے نقطہ اوج پر کہ اس کا وقت تقریبا سوم جولائی ہےآفتاب زمین سے غایت بعد پر ہوتا ہے اورنقطہ حضیض پر کہ تقریبا سوم جنوری ہے غایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے کہ تفتیش جدید میں بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا ہے اور ہم نے حساب کیامابین المرکز ین دو درجے پینتالیس ثانیے یعنی ۵۲۱۲۔ء ۲ ہے۔تو بعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶میل ہوا اور بعد اقرب
",
1037,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,203," ۹۷۴۴۱۱۳۹ میل تفاوت ۰۵۲۱۶۳۱ میل اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدار بیضی پر گھومتی ہے جس کے مرکز اسفل میں آفتاب ہے جیسا کہ ہیات جدیدہ کا زعم ہے۔اول تو نافریت ارض کو جاذبیت شمس سے کیا نسبت کہ آفتاب حسب بیان اصول علم الہیأت ہیأت جدیدہ میں بارہ لاکھ پینتالیس ہزار ایك سو تیس زمینوں کے برابر ہے اور ہم نے بربنائے مقررات عــــــہ تازہ اصل کروی پر حساب کیا تو اس سے بھی زائد آیا یعنی آفتاب تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر ہے بعض کتب جدیدہ میں ۱۴ لاکھ ہے وہ جرم کہ اس کے بارہ تیرہ لاکھ کے حصوں میں سے ایك کے بھی برابر نہیں اس کی کیا مقاومت کرسکتا ہے تو کرو و دورہ کرنا نہ تھا بلکہ پہلے ہی دن کھینچ کر اس میں مل جاناکیا بارہ تیرہ لاکھ آدمی مل کر ایك کو کھینچیں تو وہ کھنچ نہ سکے گا بلکہ ان کے گرد گھومے گا۔
ثانیا جب کہ نصف دورے میں جاذبیت شمس غالب آکر اکتیس لاکھ میل سے زائد زمین کو قریب کھینچ لائی تو نصف دوم میں اسے کس نے ضعیف کردیا کہ زمین پھر اکتیس لاکھ میل سے زیادہ دور بھاگ گئی۔حالانکہ قرب موجب قوت اثر جذب ہے تو حضیض پر لاکر جاذبیت شمس کا اثر اور قوی تر ہونا اور زمین کا وقتا فوقتاقریب ترہوتا جانا لازم تھا نہ کہ نہایت قرب پر اس کی قوت سست پڑ کر اور اس کے نیچے سے چھوٹ کر پھراتنی دور ہوجائےشاید جولائی سے جنوری تك آفتاب کو راتب زیادہ ملتا ہے قوت تیز ہوجاتی ہےا ور جنوری سے جولائی تك بھوکا رہتا ہے کمزور پڑ جاتا ہے۔دو جسم اگر برابر کے ہوتے تو یہ کہنا ایك ظاہری لگتی ہوئی بات ہوتی کہ نصف دور ے میں یہ غالب رہتا ہے نصف میں وہنہ کہ وہ جرم کہ زمین کے ۱۲ لاکھ امثال سے بڑا ہے اسے کھینچ کر ۳۱لاکھ میل سے زیادہ قریب
عــــــہ:وہ مقررات تازہ یہ ہیں قطر مدار شمس اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل قطر معدل زمین ۰۸۶ء۷۹۱۳ میل قطر اوسط شمس دقائق محیطیہ سے ۳۲ دقیقے ۴ ثانیےپس اس قاعدے پر کہ ہم نے ایجاد اور اپنے فتاوی جلد اول رسالہ الھنیئ النمیر میں ایراد کیا ۲۶۹۰۴۵۷ء۸ لوامیال قطر مدار۔۴۹۷۱۴۹۹ء ـ۰ = ۷۶۶۱۹۵۶ء۸۔لو امیال محیطما۔۵۵۳۸ ۳۳۴۴ء۴ لو دقائق محیط= ۴۳۱۷۴۱۸ء۴ لودقیقہ محیطیہ ما+ ۵۰۶۰۵۳۹ء۱ دقائق قطر شمس = ۹۳۷۷۹۵۷ء۵ لو امیال قطر شمس ما۔۸۹۸۳۴۵۹ء۳ لوامیال قطر زمین =۰۹۴۴۹۸ء۲ لو نسبت قطرین ما x۳ کہ کرہ:کرہ::قطر:قطر مثلثہ بالتکریر=۱۱۸۳۴۹۴ء۶لو نسبت کر تین عدد ۱۳۱۳۲۵۶ وھو المقصود یعنی محیط فلك شمس اٹھاون کروڑ پینتیس لاکھ آٹھ ہزار میل ہے اور ایك دقیقہ محیطیہ ۵ء۲۷۰۲۳ میل اور قطر شمس ۲ء۸۶۶۵۵۴ میل اور وہ قطر زمین کے ۵۰۹ء۱۰۹ مثل ہے اور جرم شمس تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کی برابر اور علم حق اس کے خالق جل وعلا کو ۱۲ منہ مدظلہ العالی۔
",
1038,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,204,"کرلے اور عین شباب اثر جذب کے وقت سست پڑجائے اور ادھر ایك ادھر ۱۲ لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف القسام پائے۔
ثالثا خاص انہیں نقطوں کا تعین اور ہر سال انہیں پر غلبہ و مغلوبیت کی کیا وجہ ہے بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب عــــــہ اس کے گرد ایك ایسے دائرے پر متحرك جس کا مرکز مرکز عالم سے۔
عــــــہ: تنبیہ ضروری:آفتاب کو مرکز ساکن اور زمین کو اس کے گرددائر ماننا تو صراحۃ آیات قرآنیہ کا صاف انکار ہے ہی ہیأت یونان کا مزعوم کو آفتاب مرکز زمین کے گرد دائر تو ہے مگر نہ خود بلکہ حرکت فلك سےآفتاب کی حرکت عرضیہ ہے جیسے جالس سفینہ کییہ بھی ظاہر قرآن کریم کے خلاف ہے بلکہ خود آفتاب متحرك ہے آسمان میں تیرتا ہے جس طرح دریا میں مچھلیقال اﷲ تعالی:
"" وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"" اور چاند سورج ایك ایك گھیرے میں تیررہے ہیں۔(ت)
افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعہ سیدنا عبداﷲ بن مسعود صاحب سررسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کے حضور کعب کا قول مذکور ہوا کہ آسمان گھومتا ہے دونوں حضرات نے بالاتفاق فرمایا۔
کذب کعب "" ان اللہ یمسک السموت و الارض ان تزولا ۬""
زاد ابن مسعود:وکفی بہازولا ان تدور رواہ عنہ سعید بن منصور و عبد بن حمید وابن جریر و ابن المنذرو عن حذیفۃ عبد بن حمید۔ کعب نے غلط کہا اﷲ تعالی فرماتا ہے بے شك اﷲ تعالی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکیں نہیں۔
ابن مسعود نے اتنا زیادہ کیا کہ گھومنا اس کے زوال کے لیے کافی ہے اس کو عبداﷲ بن مسعود سے سعید بن منصورعبدبن حمیدابن جریر اور ابن منذر نے روایت کیاجب کہ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے عبدبن حمید نے روایت کیا۔(ت)
اس آیت میں اگرچہ تاویل ہوسکےصحابہ کرام خصوصا ایسے اجلہ اعلم بمعانی القرآن ہیں اور انکا اتباع واجب ۱۲۔منہ مدظلہ العالی۔
"," القرآن الکریم ۳۶/ ۴۰
جامع البیان(التفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۰،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
جامع البیان(التفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۱،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
"
1039,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,205,"اکتیس لاکھ سولہ ہزار باون میل باہر ہے اگر مرکز متحد ہوتا زمین سے آفتاب کا بعد ہمیشہ یکساں رہتا مگر بوجہ خروج مرکز جب آفتاب نقطہ ا پر ہوگا مرکز زمین سے اس کا فصل اج ہوگا یعنی بقدر ا۔ب نصف قطر مدار شمس + ب ج مابین المرکزین اور جب نقطہ ء پر ہو گا اس کا فصل ج ء ہو گا یعنی بقدر ب ء نصف قطر مدار شمس + ب ج مابین المرکزین دونوں فصلوں میں بقدر دو چند مابین المرکزین فرق ہوگا یہ اصل کروی پر ہے لیکن وہ بعد اوسط اصل بیضی پر لیا گیا ہے اس میں بعد اوسط منتصف مابین المرکزین پر ہے تو بعد اوسط +نصف مابین المرکزین = بعد ابعد۔نصف مذکور = بعد اقرب لاجرم بقدر مابین المرکزین فرق ہوگا اور یہی نقطے اس قرب و بعد کے لیے خود ہی متعین رہیں گے۔کتنی صاف بات ہے جس میں نہ جاذبیت کا جھگڑا نہ نافریت کا بکھیڑا۔
"" ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾"" یہ سادھا ہوا ہے زبردست جاننے والے کاجل وعلاو صلی اﷲ تعالی علی سیدنا وآلہ وصحبہ وسلم ۱۹ صفر ۱۳۳۸ھ ۱۲ نومبر ۱۹۱۹۔ عــــــہ
(۸)اقول:جاذبیت کے بطلان پر دوسرا شاہد عدل قمر ہے۔ہیئات جدیدہ میں قرار پاچکا ہے کہ اگرچہ زمین قمر کو قریب سے کھینچی ہے اور آفتاب دور سےمگر جرم شمس لاکھوں درجے جرم زمین سے بڑا ہونے کے باعث اس کی جاذبیت قمر پر زمین کی جاذبیت سے ۵/۱۔۲ گنی ہے۔یعنی زمین اگر چاند کو پانچ میل میں کھینچتی ہے تو آفتاب گیارہ میل اور شك نہیں کہ یہ زیادت ہزاروں برس سے مستمر ہے تو کیا وجہ کہ چاند زمین کو چھوڑ کر اب تك آفتاب سے نہ جا ملا یا کم از کم ہر روز یا ہر مہینے اس کا فاصلہ زمین سے زیادہ اور آفتاب سے کم ہوجاتا مگر مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں تو ضرور جاذبیت باطل و مہمل خیال ہے اور یہاں یہ عذر کہ آفتاب زمین کو بھی تو کھینچتا ہے عجب صدائے بے معنی ہے زمین کو کھینچنے سے قمر پر اس کی کشش کیوں کم ہوگی۔ایك اور ۵/ ۱۱ کی نسبت اسی حالت موجودہ ہی پر تو مانی گئی ہے جس میں شمس زمین کو بھی جذب کررہا ہے پھر اس قرار یافتہ مسلم کا کیا علاج ہوا۔
(۹)لطف یہ کہ اجتماع کے وقت قمر آفتاب سے قریب تر ہوجاتا ہے اور مقابلہ کے وقت دور تر حالانکہ قریب وقت اجتماع آفتاب کی جاذبیت کہ ۱۶/ ۱۱ ہے صرف ۸/ ۳ ہی عمل کرتی ہے کہ قمر شمس وارض
عــــــہ:ماہنامہ الرضا بریلی صفر ۱۳۳۸ھ۔
", القرآن الکریم ۳۶/ ۳۸
1040,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,206,"کے درمیان ہوتا ہے زمین اپنی طرف ۵ حصے کھینچتی ہے اور شمس اپنی طرف ۱۱ حصے تو بقدر فضل جذب شمس ۱۶/ ۶ جانب شمس کھینچا اور قریب وقت مقابلہ جاذبیت کے سب سولہ حصے قمر کو جانب شمس کھینچتے ہیں کہ ارض شمس وقمرکے درمیان ہوتی ہے تو دونوں مل کر قمر کو ایك ہی طرف کھینچتے ہیںغرض وہاں تفاضل کا عمل تھا یہاں مجموع کا کہ اس کے سہ چند کے قریب ہےتو واجب کہ وقت مقابلہ شمس سے بہ نسبت وقت اجتماع قریب تر آجائے حالانکہ اس کا عکس ہے تو ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل ہے۔
(۱۰)طرفہ یہ کہ اس بیچارے صغیر الجثہ چاند کو صرف شمس ہی نہیں اس کے ساتھ زہرہ عطارد بھی جانب شمس کھینچتے ہیں اور ادھر سے ارض اپنی طرف گھسیٹتی ہے خصوصا ان تینوں کا ایك درجہ سے بھی کم فاصلہ میں ہزاروں بار قران ہوچکا ہے نہ ان تینوں کی مجموعی کشش جذب زمین پر غالب آتی ہےنہ اس ستم کشاکش میں قمر کو کوئی زخم پہنچتا ہے۔نہ وہ ہسپتال جاتا ہے نہ سول سرجن کا معائنہ ہوتاہے عــــــہ آفتاب ۱
عــــــہ:لطیفہ:اعلیحضرت مدظلہ کی نوعمری کا واقعہ ہے جسے تقریبا ۴۵ سال سے زائد ہوئے اعلیحضرت قبلہ ایك طبیب کے ہاں تشریف لے گئے ان کے استاد ایك نواب صاحب(جو علم عربی بھی رکھتے تھے اور علوم جدیدہ کے گرویدہ)ان کو مسئلہ جاذبیت سمجھا رہے تھے کہ ہر چیز دوسری کو جذب کرتی ہے اثقال کہ زمین پر گرتے ہیں نہ اپنے میل طبعی بلکہ کشش زمین سے۔
اعلی حضرت قبلہ:بھاری چیز اوپر سے دیر میں آنا چاہیے اور ہلکی جلد کہ آسان کھینچے گی حالانکہ امر بالعکس ہے۔
نواب صاحب:جنسیت موجب قوت جذب ہے ثقیل میں اجزائے ارضیہ زائد ہیں لہذا زمین اسے زیادہ قوت سے کھنچتی ہے۔
اعلی حضرت:جب ہر شے جاذب ہے اور اپنی جنس کو نہایت قوت سے کھینچتی ہے تو جمعہ وعیدین میں امام ایك ہوتا ہے اور مقتدی ہزاروںچاہیے کہ مقتدی امام کو کھینچ لیں۔
نواب صاحب:اس میں روح مانع اثر جذب ہے۔
اعلیحضرت:ایك جنازے پر دس ہزار نمازی ہوتے ہیں اور اس میں روح نہیں کہ نہ کھینچنے دے تو لازم ہے کہ مردہ اڑ کر نمازیوں سے لپٹ جائے۔نواب صاحب خاموش رہے۔
۱ :اصول علم الہیأۃ میں قمر کو زمین کا ۴۹/ ۱ لکھا اور بالتوفیق ۲۰۳۴ء۰ حدائق النجوم ۰۲۰۳۶ء۰ میں شمس اس کے نزدیك زمین کے ۱۲۴۵۱۳۰ مثل ہے اسے ۰۲۰۳۴ء پر تقسیم کیے سے آفتاب ۶۱۲۱۵۸۴۳ قمر کی مثل ہوا اور ہمارے حساب سے کہ قطر شمس ۲ء۸۶۶۵۵۴ میل ہے اور قطر قمر ہنس نے ۲۱۶۱ میل بتایا کما فی اصول الھیأۃ تو شمسی ۶۴۴۷۹۶۶۷ قمر کے برابرہوا بہرحال چھ کروڑ چاند کے بموجب سب سے لاکھوں کی قدر ہے۔
",
1041,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,207,"کہ چھ کروڑ چاند سے بھی لاکھوں حصے بڑا ہے اس پر تو چار کے اجتماع سے وہ ظلم ہوتا تھا۔قمر بیچارے کی کیا ہستی یہ اس کھینچ تان میں پرزے پرزے ہوجانا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر حرف آنا درکنا ر اس کی منضبط چال میں اصلا فرق نہیں آنا۔تو منجم کے اوہام اور جاذبیت کے تخیلات سب باطل ہیں۔
(۱۱)اس کے بعد بفضلہ تعالی جاذبیت کے ردنافریت کے رد حرکت زمین کے رد میں اور مضامین نفیسہ کہ آج تك کسی کتاب میں نہ ملیں گے۔خیال میں آئے ان کا بیان موجب طول تھا لہذا انہیں ان شاء اﷲ العزیز ایك مستقل رسالہ میں تحریر کریں گے۔ یہاں بقیہ کلام منجم کی طرف متوجہ ہوں۔آفتاب کا کلف جسے داغ کہا بارہا نظر آیا۔۱۷ دسمبروالا اگر ہو تو انہیں میں کا ایك ہوگا جو بارہاگزرچکے۔
(ا)قدیم زمانے میں شیز نامی ایك عیسائی راہب نے اپنے رئیس سے کہا میں نے سطح آب پر ایك داغ دیکھا اس نے اعتبار نہ کیا اور کہا میں نے اول تاآخر ارسطوکی کتابیں پڑھیں ان میں کہیں داغ شمس کا ذکر نہیں۔
(ب)علامہ قطب الدین شیرازی نے تحفہ شاہیہ میں بعض قدماء سے نقل کیا کہ صفحہ شمس پر مرکز سے کچھ اوپر محور قمر کی مانند ایك سیاہ نقطہ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ نقطہ کہ مہندس نے محض نظر سے دیکھا کتنا بڑا ہوگا۔کم از کم اس کا قطر۲۲۵۲۰ میل ہوگا کما یعلم مما سیاتی(جیسا کہ معلوم ہوجائے گا اس دلیل سے جو عنقریب آرہی ہےت)
(ج)ابن ماجہ اندلسی نے طلوع کے وقت روئے شمس پر دو سیاہ نقطے دیکھے جن کو زہرہ وعطارد گمان کیا۔
(د)ہر شل دوم نے ایك داغ دیکھا جس کی مساحت تین ارب اٹھتر کروڑ میل بتائی۔
اقول:یعنی اگر وہ بشکل دائرہ تھا تو اس کا قطر۶۹۳۷۵ میل۔
(ہ)یورپ کے ایك اور مہندس نے ایك اور داغ دیکھا جس کا قطر ایك لاکھ چالیس ہزار میل حساب کیا۔
اقول:یعنی اگر دائرہ تھا تو اس کی مساحت پندرہ ارب انتالیس کروڑ اڑتیس لاکھ میل۔
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
",
1042,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,208,"(و)۲۹ جولائی ۱۸۰۷ء میں سمٹ نے اس شکل کا داغ دیکھا۔
(ز)بیس جنوری ۱۸۶۵ء میں کوسکی نے اس صورت کا داغ دیکھا۔
(ح)قرار پاچکا ہے کہ جو کلف قطر شمس کے پچاس ثانیے سے زائد ہوگا بے آلہ نظرآئے گاہاں آفتاب پر نگاہ جمنے کے لیے لطیف بخارات ہوں یا رنگین شیشے کی آڑ۔
",
1043,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,209,"(۱۲)کہا گیا ہے کہ یہ کلفت قطبین شمس کے پاس اصلا نہیں ہوتی اور اس کے خط استواء کے پاس کموہاں سے ۳۰۳۵ درجے شمال جنوب کو بکثرت ان میں بھی شمال کو زائد جنوب کو کماگر یہ قران و مقابلہ سیارات کا اثر ہے تو یہ تخصیصیں کس لیے ہیں شمس کے جس حصہ کو ان سے مواجہہ ہو وہاں ہوں۔
(۱۳)ان کا حدوث آفتاب کی جانب شرقی اور زوال جانب غربی سے شروع ہوتا ہے۔اثر قرانات میں یہ خصوصیت کیوں
(۱۴)بعض کلف دیرپا ہوتے ہیں کہ قرص شمس پر دورہ کرتے ہیں جانب شرقی سے باریك خط کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیںپھر جتنا اوپر چڑھتے ہیں چوڑے ہوتے جاتے ہیں مرکز شمس تك اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں جب آگے بڑھے گھٹنا شروع کردیتے ہیں۔ کنارہ غربی پر پھر بشکل خط رہ کر غائب ہوجاتے ہیں پھر کنارہ شرقی سے اسی طرح چمکتے ہیں۔ان کے دورے کی ایك مقرر میعاد خیال کی گئی ہے کہ پونے چودہ دن میں صفحہ شمس کو قطع کرتے ہیں اور پہلے ظہور شرقی سے ۲۷ دن ۱۲ گھنٹے ۲۰ دن کے بعد دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں لیکن اکثر داغوں میں آنا فانا بادلوں کے سے تغیرات ہوتے ہیں جن سے متاخرین یورپ نے گمان کیا ہے کہ یہ کرہ آفتاب کے سحاب ہیں بعض اوقات دفعۃ پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات دیکھتے دیکھتے غائب ہوجاتے ہیںہر شل یکم دور بین سے داغوں کا ایك گچھا دیکھ رہا تھا لحظہ بھر کے لیے نگاہ ہٹائی اب جو دیکھے ایك داغ بھی نہیںکبھی آفتاب کی جانب غربی سے ایك داغ زائل ہوا ہی تھا کہ معا جانب شرقی میں نیا پیدا ہوگیا۔ابھی ایك داغ دیکھ ہی رہے ہیں تھوڑی دیر میں وہ پھٹ کر چند داغ ہوجاتا ہے چند داغ ہیں اور ابھی مل کر ایك ہو گئے راجر لانك نے ایك گو ل داغ دیکھا جس کا قطر آٹھ ہزار میل تھا دفعۃ وہ متفرق متفرق ہو کر دوداغ ہوگیا اور ایك ٹکڑا دوسرے سے بہت دور دراز مسافت پر چلاگیا اکثر یہ ہے کہ اگر چند داغ بتدریج پیدا ہوتے ہیں ویسے ہی چند بتدریج فنا ہوجاتے ہیں اور اگر کئی داغ دفعۃ چمکے ویسے ہی کئی دفعہ جاتے رہے ان کا کوئی وقت بھی مقرر نہیں۔ایك بار وسا میں تیس سال کامل ان کی رصد بندی کی گئی۔بعض برسوں میں کوئی دن بھی داغ سے خالی نہ تھا۔ بعض میں صرف ایك دن خالی گیا بعض میں ایك سو ترانوے دن صاف ان تمام حالات کو قرانات کے سر ڈھالنا کس قدر بعید ہے۔
(۱۵)داغ پیدا کرنے کے لیے اقتران کی کیا حاجت ہےسیارے آفتاب کے نزدیك ہمیشہ رہتے اور تمہارے زعم میں اسے ہمیشہ جذب کرتے ہیںتو چاہیے کہ آفتاب کا گیس مدام اڑتا رہے اور آتش فشانی سے کوئی وقت خالی نہ ہو۔اس کا جواب یہ ہوگا کہ اور وقت ان کا اثر جرم شمس پرمتفرق ہوتا ہے جس سے آفتاب متاثر نہیں ہوتا بخلاف قران کے
",
1044,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,212,"دو یا زائد مل کر موضع واحد پر اثر ڈالتے ہیں۔اس سے یہ آگ بھڑکتی ہے ایسا ہے تو جب وہ ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے کے فاصلہ میں منتشر ہیں اب بھی ان کا اثر آفتاب کے متفرق مواضع پر تنہا ہے نہ مجموعی ایك جگہ پر پھر آفتاب کیوں متاثرہوگا۔یہ فاصلہ کہ تھوڑا سمجھے مرکز شمس سے فلك نیپچون تك ہر سیارے کے مرکز پر گزرتے ہوئے خط کھینچے جائیں تو معلوم ہو کہ سو کروڑ میل سے زائد کا فصل ہے۔شمس سے نیپچون کا بعد زمین کے تیس گنے سے زیادہ ہے۔اگر تیس ہی رکھیں تو دو ارب اٹھتر کروڑ ستر لاکھ میل ہوا اور اس کے مدار کا قطر پانچ ارب ستاون کروڑ چالیس لاکھ میل اور اس کا محیط ستر ارب اکیاون کروڑ بارہ لاکھ میل سے زائد اور اس کے ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے ایك ارب اٹھائیس کروڑ ۳۳ لاکھ۴۶ ہزار میل سے زیادہ ایسے شدید بعید فاصلہ میں پھیلا ہوا انتشار کیا مجموعی قوت کا کام دے گا۔یہ بھی اس حالت میں ہے کہ ان کے اختلاف عرض کا لحاظ نہ کیا اور اگر ضرر رسانی شمس کے لیے سب کو سب سے قریب تر فلك عطارد پر لاڈالیں تو بعد عطارد:بعد ارض::۳۸۷ء:۱ تو شمس سے بعد عطارد ۳۵۹۵۲۳۰۰ میل ہوا تقریبا تین کروڑ ساٹھ لاکھ میل اور قطر مدار ۷۱۹۰۴۶۰۰ سات کروڑ ۱۹ لاکھ میل سے زائد اور محیط ۲۲ کروڑ ۵۸لاکھ ۹۵ ہزار میل اور ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے ایك کروڑ ۶۵ لاکھ ۵۵ ہزار ۱۷۳ میلیہ فاصلہ کیا کم ہے بلکہ بالفرض سب دوریاں اٹھا کر تمام سیاروں کو خود سطح آفتاب پر لاکھ رکھیں جب بھی یہ فاصلہ دو لاکھ میل ہوگا یعنی ۱۹۹۵۱۴ کہ قرص شمس کا دائرہ ۲۷ لاکھ ۲۲ ہزار ۳۶۱ میل ہے۔
(۱۶)اگر آفتاب کا جسم ایسا ہی کمزور مسام ناك ہے کہ اس قدر شدید متفرق زدسرایت کرکے اس کے موضع واحدپر ہوجاتی ہے تو پچاس ساٹھ یا ستر اسی یا سو درجے کے فاصلہ پرپھیلے ہوئے ستارے کہ اکثر اوقات گر د شمس رہتے ہیں ان کی مجموعی زد ہمیشہ کیوں نہیں عمل کرتیاگر اتنا فاصلہ مانع ہے تو دو سیاروں کا مقابلہ کیوں عمل کرتا ہے جب کہ ان میں غایت درجے کا فصل ۱۸۰ درجے ہے خصوصا ایسا فرضی مقابلہ جیسا یہاں یورنیس کو ہے کہ تحقیقی کسی سے نہیں جس پر خط واحدکا مہمل عذر ہوسکے۔
(۱۷)بالفرض یہ سب کچھ سہی پھر آفتاب کے داغوں کو زمین کے زلزلوںطوفانوںبجلیوںبارشوں سے کیا نسبت ہے۔کیا یہ احکام منجموں کے لیے بے سرو پا خیالات کے مثل نہیں کہ فلاں گروہ یا جوگ یا نچھتر کے اثر سے دنیا میں یہ حادثات ہوئے جس کو تم بھی خرافات سمجھتے ہو اور واقعی خرافات ہیںپھر آفتاب کیا امریکہ کی پیدائش یا وہیں کا ساکن ہے کہ
",
1045,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,213,"رسالہ
فوزمبین دررد حرکت زمین
(زمین کی حرکت کے رد میں کھلی کامیابی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمالحمدﷲ الذی یمسك السموت والارض ان تزولا oولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا oوسخرلکم الفلك لتجری فی البحر اﷲ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا۔ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔تمام تعریفیں اﷲ تعالی کےلیے ہیں جو روکے ہوئے ہیں آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریںاور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اﷲ کے سوابے شك وہ حلم والا بخشنے والا ہے اور اس نے تمہارے لیے کشتی کومسخر کیا کہ اس کے حکم سے
",
1046,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,214,"بامرہ وسخرلکم الانھر oوسخر لکم الشمس والقمر دائبین و سخرلکم الیل والنہار وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی الاھو العزیز الغفار o ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحنك فقنا عذاب النار قلت و قولك الحق والشمس تجری لمستقرلہا ذلك تقدیر العزیز العلیم oوالقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم فصل وسلم وبارك علی شمس اقمار النبوۃ و الرسالۃ oمارج معارج اوج القرب والجلالۃ oبحیث لم یبق لاحد مرمی oان الی ربك المنتھی oوعلی الہ وصحبہ وابنہ وحرز ما طلعت شمس وکان الیوم بین غدوامس oامین دریا میں چلے اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیںاور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کئے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پرلگایا ہر ایك ایك ٹھہرائی ہوئی معیاد کے لیے چلتا ہےسنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے۔اے رب ہمارے تو نے یہ بے کار نہ بنایا۔پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے تو نے فرمایا اور تیرا فرمان حق ہے اور سوج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تك کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال۔درودو سلام اور برکت نازل فرما نبوت رسالت کے چاندوں کے سورج پر جو قرب بزرگی کی بلندی کی سیڑھیون کا روشن چمکدار شعلہ ہے اس طور پر کہ کسی کے لیے تیر پھینکنے کی جگہ نہ رہے۔بے شك تمہارے رب ہی طرف انتہا ہے۔اور آپ کی آلآپ کے اصحاب اور آپ کے بیٹے پر۔اور حفاظت فرما جب تك سورج طلوع ہوتا رہے اور گزشتہ کل اور آئندہ کل کے درمیان آج رہے۔امین۔
الحمدﷲ وہ نور کہ طور سینا سے آیا اور جبل ساعیر سے چمکا اورفاران مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے فائض الانوار
",
1047,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,215,"وعالم آشکارہوا۔شمس و قمر کا چلنا اور زمین کا سکون روشن طور پر لایا آج جس کا خلاف سکھایا جاتا ہے اور مسلمان ناواقف نادان لڑکوں کے ذہن میں جگہ پاتا اور ان کے ایمان و اسلام پر حرف لاتا ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی فلسفہ قدیمہ بھی اس کا قائل نہ تھا اس نے اجمالا اس پر ناکافی بحث کی جو اس کے اپنے اصول پر مبنی اور اصول مخالفین سے اجنبی تھی۔فقیر بارگاہ عالم پناہ مصطفوی عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ کے دل میں ملك الہام نے ڈالا کہ اس بارے میں باذنہ تعالی ایك شافی و کافی رسالہ لکھے اور اس میں ہیأت جدیدہ ہی کے اصول پر بنائے کار رکھے کہ اسی کے اقراروں سے اس کا زعم زائل اور حرکت زمین و سکون شمس بداہۃباطل ہوو باﷲ التوفیق(اور توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔ت)
یہ رسالہ مسمی بنام تاریخ فوز مبین دردد حرکت زمین(۱۳۳۸ھ)ایك مقدمہ اور چار فصل اور ایك خاتمہ پر مشمل۔
مقدمہ:میں مقررات ہیأت جدیدہ کا بیان جن سے اس رسالہ میں کا م لیا جائے گا۔فصل اول:میں نافریت پر بحث اور اس سے ابطال حرکت زمین پر بارہ دلیلیں۔فصل دوم میں جاذبیت پر کلام اورا س سے بطلان حرکت زمین پر پچاس دلیلیں۔فصل سوم میں خود حرکت زمین کے ابطال پر اور تینتالیس دلیلیں یہ بحمدہ تعالی بطلان حرکت زمین پر ایك سو پانچ دلیلیں ہوئیں جن میں پندرہ اگلی کتابوں کی ہیں جن کی ہم نے اصلاح و تصحیح کیاور پورے نوے دلائل نہایت روشن و کامل بفضلہ تعالی خاص ہمار ے ایجاد ہیں۔
فصل چہارم میں ان شبہات کا رد جو ہیات جدیدہ اثبات حرکت زمین میں پیش کرتی ہے۔خاتمہ میں کتب الہیہ سے گردش آفتاب و سکون زمین کا ثبوت والحمدﷲ مالك الملك والملکوت۔
مقدمہ_____امور مسلمہ ہیأت جدیدہ میں
ہم یہاں وہ امور بیان کریں گے جو ہیات جدیدہ میں قرار یافتہ و تسلیم شدہ ہیں واقع میں صحیح ہوں یا غلط جذب و نفرت و حرکت زمین کے رد میں تو یہ رسالہ ہی ہے اور اغلاط پر تنبیہ بھی کردیں گے۔وباﷲ التوفیق۔
(۱)ہر جسم میں دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کی ایك قوت طبعی ہے جسے باذبا یاجاذبیت کہتے ہیں۔
اس کا پتہ نیوٹن کو ۱۶۶۵ء میں اس وقت چلا جب وہ وبا سے بھاگ کرکسی گاؤں گیاباغ میں تھا کہ درخت سے سیب ٹوٹا اسے دیکھ کر اسے سلسلہ خیالات چھوٹا جس سے قواعد کشش کا بھبھوکا پھوٹا۔
اقول۱: سیب گرنے اور جاذبیت کا آسیب جاگنے میں علاقہ بھی ایسا لزوم کا تھا کہ وہ گرا اور یہ
", یعنی اصول علم طبعی ص ۷۵۔۱۲
1048,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,216,"اچھلا کیونکہ اس کے سوا اس کا کوئی سبب ہوسکتا ہی نہ تھا۔اس کی پوری بحث تو فصل دوم میں آتی ہے۔۱۶۶۵ء تك ہزاروں برس کے عقلا سب اس فہم سے محروم گئے تو گئے تعجب یہ کہ اس سیب سے پہلے نیوٹن نے بھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہ دیکھی یا جب تك اس کا کوئی اور سبب خیال میں تھا جسے اس سیب نے گر کر توڑ دیا۔
(۲)اجسام۔ میں اصلا کسی طرف اٹھنے گرنے سرکنے کا میل ذاتی نہیں بلکہ۔ ان میں بالطبع قوت ماسکہ ہے کہ حرکت کی مانع اور تاثیر قاسر کی تاحد طاقت مدافع ہے۔یہ قوت ہر جسم میں اس کے وزن کے لائق ہوتی ہی۔ولہذا ایك جسم سے کوئی حصہ جدا کرکے دوسرے میں شامل کردیں وزن کی نسبت پر اول میں گھٹ جائے گی اور دوسرے میں بڑھ جائے گی۔
اقول۲:اولا خود جسم میں یہ قوت ہونے پر کیا دلیل ہے اگر کہیے تجربہ کہ ہم جتنے زیادہ وزنی جسم کو حرکت دینا چاہتے ہیں زیادہ مقابلہ کرتا اور قوی طاقت مانگتا ہے۔
اقول۳: جذب زمین کدھر بھلایا زمین اسے کھینچ رہی ہے تم اسے جدا حرکت دینی چاہتے ہو اس کی روك کا احساس کرتے ہو یہ تمہارے طور پر ہے اگر یقینا باطل ہے جس کا بیان فصل دوم میں آتا ہے اور ہمارے نزدیك جسم کا میل طبعی اپنے خلاف جہت میں مزاحمت کرتا ہے مطلقا حرکت سے ابا۔یہ تو تمہارا تخیل ہے اور فلسفہ قدیمہ اس کے عکس کا قائل ہے کہ ہر ایك جسم میں کوئی نہ کوئی میل مستقیم خواہ مستدیر ضرور ہے وہ اپنے خلاف میل کی مدافعت کرے گا اور موافق کی مطاوعت جیسے پتھر اوپر پھینکنے اور نیچے گرانے میں اس کا رد بھی بعونہ تعالی تذییل فصل سوم میں آتا ہے ہمارے نزدیك اجسام مشہودہ میں میل ہے سب میں ہونا کچھ ضرور نہیں ماسکہ کسی میں پائی نہ گئی اور ہو تو کچھ محذور نہیں۔
ثانیا یہ اخیر فقرہ ایسا کہا ہے جس نے تمام ہیئات جدیدہ کا تسمہ لگا نہ رکھاجس کا بیان آتا ہے ان شاء اﷲ تعالی اور یہ تمہاری اپنی نہیں بلکہ نیوٹن صاحب کی اپنی جاذبیت پرعنایت ہے کہ نمبر ۸ میں آتی ہیں۔
(۳)ہر جسم بالطبع دوسرے کے جذب سے بھاگتا ہے اس قوت کا نام نافرہہاربہدافعہمحر کہ نافریت ہے۔
اقول۴:جاذبہ تو سیب کے گرنے سے پہچانییہ کا ہے سے جانیشاید سیب گرنے میں نیچے دیکھا تو
"," ط ص ۱۲/ ۱۱
ح حدائق النجوم ص ۱۲/
ط سے مراد علم طبعی ہے۔عزیزی
"
1049,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,217,"زمین تھیاس کا جذب خیال میں آیا اوپر دیکھا تو سیب شاخ سے بھاگتا پایایوں نافرہ کا ذہن لڑایا حالانکہ نیچے لانے کو ان میں ایك کافی ہے دوکس لیے۔حدائق النجوم۔ میں کہا برابر سطح پر گولی پھینکیں تو بالطبع خط مستقیم پر جاتی ہے یہ نافرہ ہے۔
اقول۵:پھینکیں میں اس کا جواب ہے آہستہ رکھ دیں کہ جنبش نہ ہو تو بال بھر نہ سرکے گی۔ہاں سطح پوری لیول میں نہ ہو تو ڈھال کی طرف ڈھلے گی۔پھر کہاکنکیا میں پتھر باندھ کر اڑائیں سیدھا زمین پر آئے گا۔یہ نافرہ ہے۔
اقول۶:وہی بات آگئی جو ہم نے ان کی دانش پر گمان کی تھی کہ نیچے دیکھا تو جذب سمجھے اوپر نگاہ اٹھی تو اسے بھول گئے فرار پر قرار ہوا۔
(۴)جب کوئی جسم کسی دائرے پر حرکت کرے اس میں مرکز سے نفرت ہوتی ہے۔پتھر رسی میں باندھ کر اپنے گرد گھماؤ وہ چھوٹنا چاہے گا اور جتنے زور سےگھماؤ گے زیادہ زور کرے گا اگر چھٹ گیا تو سیدھا چلا جائے گا اور جس قدر قوت سے گھمایا تھا اتنی دور جا کر گرے گا۔یہ مرکز سے پتھر کی نافریت ہے۔
اقول ۷:نافریت بے دلیل اور پتھر کی تمثیلنری علیلپتھر کو انسان یا مرکز سے نفرت نہ رغبت جانب خلاف جو اس کا زور دیکھتے ہو تمہاری دافعہ کا اثر ہے نہ کہ پتھر کی نفرتتحقیق مقام کے لیے ہم ان قوتوں کی قسمیں استخراج کریں جو باعتبار حرکت کسی جسم پر قاسر کا اثر ڈالتی ہیں۔
فاقول۸:وہ تقسیم اول میں دو ہیںمحرکہ کہ حرکت پیدا کرے اور حاصرہ کہ حرکت کو بڑھنے نہ دے مثلا ڈھلکتے ہوئے پتھر کو ہاتھ سے روك لو۔پھر محرکہ دو قسم ہے۔
جاذبہ:کہ متحرك کو قاسر کی سمت پر لائےجیسے پتھر کو اپنی طرف پھینکے خواہ اس میں قاسر سے دور کرنا ہو کہ ظاہر ہے یا قریب کرنامثلا اس شکل میں
ا
مقام انسان ہےج پتھر کا موضع۔آدمی نے لکڑی مار کر پتھر کو ج سے ب پر پھینکا تو یہ جذب نہیں کہ انسان کی سمت خط ا ج تھا اس پر لاتا تو جذب ہوتاوہ خط ب ج پر گیا کہ سمت غیر ہے لہذا
"," ص ۱۲/ ۳۸ ، ح ص ۳۸ ط ص ۳۰ ن یعنی نظارہ عالم ص ۲۳۔۱۲ منہ
ص یعنی اصول علم الہیأۃ ع ۱۰۳ وغیرہ
"
1050,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,218,"دفع ہی ہوااگرچہ پتھر پہلے سے زیادہ انسان سے قریب ہوگیا کہ اب ضلع قائمہ اج وتر سے چھوٹی ہے پھر یہ دونوں باعتبار اتصال و انفصال زمین دو قسم میں رافعہ کہ حرکت میں زمین سے بلند ہی رکھے۔
ملصقہ:مثلا پتھر کو زمین سے ملا ملا اپنی طرف لاؤ یا آگے سرکاؤ اور باعتبار نقص و کمال دو قسم ہیں
منھیہ:کہ متحرك کو منتہائے مقصد تك پہنچائے۔
قاصرہ:کہ کمی رکھے۔
اور باعتبار وحدت و تعدد خط حرکت دو قسم ہیں۔مثبتہ کہ ایك ہی خط پر رکھےناقلہ کہ حرکت کا خط بدل دے مثلا اس شکل میں پتھر ا سے ج کی طرف پھینکا جب ب پر پہنچا لکڑی مار کر ہ کی طرف پھیر دیا یہ دافعہ ناقلہ ہوئی۔اس حرکت میں جب د تك پہنچا ر کی طرف کھینچ لیا یہ جاذبہ ناقلہ ہوئیاور اگر ج کی طرف پھینك کر ب سے ا کی طرف کھینچ لیا تو ب تك دافعہ مثبتہ تھی کہ اسی خط پر لیے جاتی تھی(ب)سے واپسی میں جاذبہ مثبتہ ہوئی کہ اسی خط پر لائی۔
یہ کل ۱۳ قسمیں ہیں ان میں سے پتھر گرد سرگھمانے میں جاذبہ کا تو کچھ کام نہیں کہ اپنی سمت پر لانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مضر مقصود ہے باقی سات عــــــہ میں سے چار قوتیں یہاں کام کرتی ہیں حاصرہ اور تین دافعہ یعنی منہیہ رافعہ ناقلہ پتھر کو پورا دور پھینکو کہ رسی خوب تن جائے یہ منہیہ ہوئیہاتھ اٹھائے رکھو کہ زمین پر گرنے نہ پائےیہ رافعہ ہوئی ہاتھ گرد سر پھراتے جاؤ کہ خط حرکت ہر وقت بدلےیہ ناقلہ ہوئی یہ قوتیں ہر وقت برقرار رہیں کہ نہ رسی میں جھول آنے پائےنہ زمین کی طرف لائے نہ ایك سمت کھینچ کر رك جائےپھر یہ دافعہ کہ یہاں عمل کررہی ہے اس کا کام خط مستقیم پر حرکت دینا ہے تو دفع اول سے اسی سمت کو جاتا اور ہر نقل سے اس کی سیدھی سمت لیتا لیکن رسی جسے منہیہ تانے اور رافعہ اٹھائے اور ناقلہ بدل رہی ہے۔کسی وقت اپنی مقدار سے آگے بڑھنے نہیں دیتی ناچار ہر دفع و نقل اسی حد تك محدودرہتے ہیں اور انسان کہ یہاں مثل مرکز ہے ہر جانب اس سے فاصلہ اسی قدر رہتا ہے یہ حاصرہ ہوئی جس کا کام رسی کی بندش سے لیا گیا اس نے شکل دائر پیدا کردی اسے جاذب سمجھنا جیسا کہ نصرانی بیروتی سے نمبر ۱۳ میں آتا ہےجہالت و نافہمی ہےیہاں جاذبہ کو اصلا دخل نہیںنہ پتھر میں کوئی نافرہ ہے بلکہ حاصرہ و دافعہ کام کررہی ہے جتنے زور سے گھماؤ گے اتنی ہی قوت کا دفع ہوگا پتھر اتنی ہی طاقت سے چھوٹتا گمان کیا جائے گا حالانکہ یہ نہ اس کا تقاضا ہے نہ اس کا زو ربلکہ تمہارے دفع کی قوت ہے جسے نافہمی سے پتھر کی نافریت سمجھ رہے ہو۔
عــــــہ۱:ایك حاصرہ تھی اور چھ چھ جاذبہ و دافعہجاذبہ کی چھ نکل کر سات رہیں ۱۲ منہ غفرلہ
",
1051,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,219,"تنبیہ:یہاں ان لوگوں کا کلام مضطرب ہے عام طور پر اس قوت کو نافرہ عن المرکز کہا۔ص ۶۶ کی تقریر میں مرکز دائرہ ہی سے تنفر لیا مگر جا بجا جاذب مثلا شمس سے تنفر رکھااور ص ۱۸ میں شمس ہی کو وہ مرکز بتایا۔
اقول۹:ان کے طور پر حقیقت امر یہی چاہیے اس لیے کہ جسم بوجہ ماسکہ اثر جذب سے انکا ر کرے گا تو جاذب سے تنفر ہوگا۔اور انہیں دو کے اجتماع سے اس کے گرد دورہ کرے گا۔جس کا بیان نمبر آئندہ میں ہے جب تك دورہ نہ کیا تھا مرکز تھا ہی کہاں جس سے تنفر ہوتاوہ تو اس کے دورے کے بعد مشخص ہوگا مگر ہم ان لوگوں کے اضطراب سخن کے سبب فصل اول میں مرکز و شمس دونوں پر کلام کریں گے۔
(۵)انہیں جاذبہ و نافرہ کے اجتماع سے حرکت دوریہ پیدا ہوتی ہے تمام سیاروں کی گردش شمس کی جاذبہ اور اپنی ہاربہ کے سبب ہے۔فرض کرو زمین یا کوئی سیارہ نقطہ ا پر ہے اور آفتاب ج پر شمس کی جاذبہ اسے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ کا قاعدہ ہے کہ خط مماس۔ پر لے جانا چاہتی ہے یعنی اس خط پر کہ خط جاذبہ پر عمود ہو جیسے ا ج پر اب دونوں اثروں کی کشا کش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین نہ ب کی طرف جاسکتی ہے نہ ج کی جانب بلکہ دونوں کی بیچ میں ہو کر ء پر نکلتی ہے یہاں بھی وہی دونوں اثر ہیں جاذبہ ء سے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ ہ کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
لہذا زمین دونوں کے بیچ میں ہو کر ر کی طرف بڑھتی ہے اسی طرح دورہ پیدا ہوتا ہے۔یہ مدار جو اس حرکت سے بنا بظاہر مثل دائرہ خط واحد معلوم ہوتا ہے اور حقیقۃ ایك لہردار خط ہے جو بکثرت نہایت چھوٹے چھوٹے مستقیم خطوں سے مرکب ہوا ہے جن میں ہر خط گویا ایك نہایت چھوٹی شکل متوازی الاضلاع کاقطر ہے۔
اقول۱۰:یہ جو یہاں ہے کہ نافرہ سے دورہ پیدا ہوتا ہے یہی ان کے طور پر قرین قیاس ہے اور وہ جو ان کا زبان زد ہے کہ دورے سے نافرہ پیدا ہوتی ہے بے معنی ہے مگر ہیات جدیدہ الٹی کہنے کی عادی ہے جس کا ذکر تذ ییل فصل سوم میں ہوگا ان شاء اﷲ تعالی۔
تنبیہ:یہ جو یہاں مذکور ہوا کہ جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ بناتی ہیں یہی ہیات جدیدہ کا مزعوم ہے۔تمام مقامات پر انہیں کا چرچا انہیں کی دھوم ہے ط(ص۹۳)پر بھی یہی مرقوم ہے ص ۵۶ پر اس نے ایك
"," ح:ص ۳۷ اص ۷۷ ط ص ۶۳۔ ۱۲۔
ص ۱۰۶ وغیرہ ح:ص ۳۸ ط:۵۸
ص ۱۰۴ وغیرہ ط ح وغیرہا ۱۲۔
ص ۱۰۴ عہ۵:ص ۱۰۲ ط ص ۸۲ ن ص ۲۳۔ ۱۲۔
"
1052,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,220,"شاخسانہ بڑھایا کہ فرض کرو وقت پیدائش زمین خلا میں پھینکی گئی تھی کوئی شے حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ ادھر ہی کو چلی جاتی راستے میں آفتاب ملا اور اس نے کھینچ تان شروع کی۔
اقول ۱۱:واقعیات کا کام فرضیات سے نہیں چلتامدعی کا مطلب شاید اور ممکن سے نہیں نکلتا یہ لوگ طریقہ استدلال سے محض نا بلد ہیںاگر کوئی شے مشاہدہ یا دلیل سے ثابت ہو اور اس کے لیے ایك سبب متعین مگر اس میں کچھ اشکال ہے جو چند طریقوں سے دفع ہوسکتا ہے۔اور ان میں کوئی طریقہ معلوم الوقوع نہیں۔وہاں احتمال کی گنجائش ہے کہ جب فہم متحقق اور اس کا یہ سبب متعین تو اشکال واقع میں یقینا مندفع تو یہ کہنا کافی کہ شاید یہ طریقہ ہو لیکن نا ثابت بات کے ثابت کرنے میں فرض و احتمال کا اصلا محل نہیں کہ یوں تو ہمارے اس فرض کی تابع ہوئی یوں فرض کریں تو ہوسکے نہ کریں نہ ہوسکے اس سے مدعی کے لیے وہی کافی مانے گاجو مجنون ہے۔پھر اگر شے ثابت و متحقق ہے اور یہ سب متعین نہیں تو دفع اشکال پر بنائے احتمال ایك مجنونانہ خیال اور اگر سرے سے شیئ ہی ثابت نہیںنہ اس کے لیے یہ سبب متعینپھر اس میں یہ اشکال تو کسی احتمال سے اس کا علاج کرکے شے اور سبب دونوں ثابت مان لینا۔دوہرا جنون اور پوراضلال۔پھر اگر علاج کے بعد بھی بات نہ بنے جیسا کہ یہاں ہے جب تو جنونوں کی گنتی ہی نہ رہی۔یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ بعض جگہ مخالف دھوکا نہ دے سکے۔
(۶)ہر مدار میں جاذبہ و نافرہ دونوں برابر رہتی ہیںورنہ جاذبہ غالب ہو تو مثلا زمین شمس سے جا ملےنافرہ غالب ہو تو خط مماس پر سیدھی چلی جائے دورہ کا انتظام نہ رہے۔
اقول۱۲:بتاتے یہ ہیں اور خود ہی اس کے خلا ف کہتے ہیں اور حقیقتا تناقض پر مجبور ہیں جس کا بیان فصل اول سے بعونہ تعالی ظاہر ہوگا۔
(۷)نافرہ بمقدار جذب ہے اور سرعت حرکت بمقدار نافرہجذب جتنا قوی ہوگا نافرہ زیادہ ہوگی کہ اس کی مقاومت کرے اور نافرہ جتنی بڑھے گی چال کا تیز ہونا ظاہر ہے کہ وہ نتیجہ نفرت ہے و لہذا سیارہ آفتاب سے جتنا بعید ہے اتنا ہی اپنے مدار میں آہستہ حرکت کرتا ہے۔سب سے قریب عطارد ہے کہ ایك گھنٹہ میں ایك لاکھ پانچہزار تین سو تیس میل عــــــہ۳ چلتا ہے اور سب سے دور نیپچون ایك گھنٹہ میں گیارہ ہزار نو سو اٹھاون میل۔
اقول۱۳:یہ قرین قیاس ہےاور وہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہی کہ جاذبہ و نافرہ بحسب سرعت بدلتی ہیں معکوس گوئی پر مبنی ہونا ضرور نہیں بلکہ مقصود و نسبت بتانا ہے۔
"," ص ۱۰۳۔
ط ص ۶۴۔ ۱۲۔ عہ۳:ص ۲۶۷ ۲۱ ط ص ۵۸ ن ص ۲۴۔۱۲
"
1053,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,221,"(۸)اجسام اجزائے دیمقراطییہ سے مرکب ہیںنیوٹن نے تصریح کی کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے جسم ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے بالطبع قابل حرکت و ثقیل و سخت و بے جوف ہیںان میں کوئی حس میں تقسیم کے اصلا لائق نہیں اگرچہ وہم ان میں حصے فرض کرسکے۔
اقول ۱۴:اولا: یہ من وجہ ہمارے مذہب سے قریب ہے ہمارے نزدیك ترکیب اجسام جواہر فردہ یعنی اجزائے لایتجزی سے ہے کہ ہر ایك نقطہ جوہری ہے جن میں عرضطول عمقاصلا نہیں وہم میں بھی انکی تقسیم نہیں ہوسکتی۔فلسفہ قدیمہ جسم کو متصل وحدانی مانتا ہے جس میں بالفعل اجزاء نہیں اور بالقوہ تقسیم غیر متناہی کا قائل ہے۔
ثانیا: نیوٹن کی تصریح کہ وہ سب اجزا بالطبع قابل حرکت ہیں بظاہر نمبر ۲ کے مناقض ہے کہ جسم بالطبع حرکت سے منکر ہے اور اثر قاسر سے قبول حرکت اس کے فقط بالطبع کے خلاف ہے مگر یہ کہا جائے کہ طبیعت ہی میں قبول اثر قاسر کی استعداد رکھی گئی ہے کہ یہ صلاحیت نہ ہوتی تو قاسر سے بھی حرکت ناممکن ہوتی اور طبیعت ہی کو اپنے وزن و ثقل طبعی کے باعث حرکت سے انکار ہے یہ قوت ہے جس کا کام فعل کرنا ہے یعنی محرك کی مزاحمت اور وہ صلاحیت ہے جس کی شان قبول اثر ہے۔حاصل یہ کہ اپنے وزن کے سبب ممانعت کرتی ہے اور قوت قسر کے باعث قبول کرلیتی ہے تو تعارض نہیں۔
اقول۱۶:ثالثا یہ سب سہی مگر یہ قول ایسا صادر ہوا کہ ساری ہیات جدیدہ کا خاتمہ کرادیا جس کا بیان ان شاء اﷲ آتا ہے معلوم نہیں نیوٹن نے کس حال میں ایسا لفظ ثقیل لکھ دیا جس نے اسی کے ساختہ پر داختہ قواعد جاذبیت کو خفیف کردیا۔
فائدہ:ہمارے علمائے متکلمین ثقل ووزن میں فرق فرماتے ہیں وہ بلحاظ نوع ہے یہ بلحاظ فد وہ ایك صفت مقتضائے صورت نوعیہ ہے جس کا اثر طلب سفل ہے اسے حجم و وزن و کثرت اجزائے سے تعلق نہیں لٹھے میں لوہے کی چھٹنکی سے وزن زائد ہے مگر لوہا لکڑی سے زیادہ ثقیل ہے اور حدائق النجوم میں کہا ثقل ہمیشہ جسم کو نیچے کھینچتا ہے پھر نقل کیا کہ ثقل وہ میل طبعی ہے کہ سب اجسام کو کسی مرکز کی طرف ہے۔
اقول ۱۷:یہ مسامحت ہے ثقل میں میل نہیں بلکہ سبب میل ہے جیسا خود آگے کہا کہ وہ دو قسم ہے اول مطلق یعنی نفس ثقل جس کے سبب جملہ اجسام اپنے مرکز مجموعہ کی طرف میل کرتے ہیںجیسے ہمارے کرہ کے عنصریات جانب مرکز زمین یہ ہمیشہ مقدار مادہ جسم کے برابر ہوتا ہے جس میں اس کی جسامت کا اعتبار نہیں تو لکڑی اور لوہا دونوں کا ثقل مطلق برابر ہے۔
"," ح ۳۲۔ ۱۲۔
ح ص ۳۴۔۱۲
ص ۳۷۔ ۱۲۔
"
1054,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,222,"اقول۱۸:اولا: یہ کہنا تھا کہ دونوں ثقل مطلق میں برابر ہیں یعنی میل بمرکز زمین دونوں کی طبیعت میں ہے مطلق میں موازنہ کی گنجائش کہاں۔
ثانیا ۱۹:اسی وجہ سے مطلق کو مقدار مادے کے مساوی ماننا جہل ہے کیا مقدار مادہ کی کمی بیشی سے مطلق بدلے گا۔
ثالثا ۲۰:یہ جو تفاوت مادے سے کم بیش ہوتا ہے محال ہے کہ لوہے اور لکڑی میں مساوی ہو۔جسم جتنا کثیف تر اس میں مادہ یعنی وہی اجزائے دیمقر اطیسیہ کما سیأتی۔(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)بیشتر لوہے کی کثافت لکڑی کہاں سے لائے گی۔یہ لوگ جب اس میدان میں آتے ہیں ایسی ہی ٹھوکریں کھاتے ہیںپھر کہا دوسرا ثقل مضاف یعنی ایك جسم کو دوسرے کی نسبت سے یہ باختلاف انواع مختلف ہوتا ہےایك ہی حجم کی دو چیزوں میں ان کے مادوں کی نسبت سے مختلف ہوتا ہے۔
ایك انگل مکعب لوہا بھی لو اور لکڑی بھیلوہا زیادہ بھاری ہوگا کہ مساوی جسامت کے لوہے میں لکڑی سے مادہ زائد ہے۔
اقول ۲۱:فرق کیا ہواثقل مطلق بھی موافق مقدار مادہ تھا جس کے یہی معنی کہ مادے کی کمی بیشتی سے بدلے گایہی مضاف میں ہے کمی بیشی کا لحاظ وہاں بھی بے لحاظ تعددو نسبت دو شے ممکن نہیںاگر یہ فرض کرلو کہ شے واحد میں مادہ اس سے کم ہوجائے تو ثقل کم ہوگا اور زائد تو زائد تو کیا یہ دو چیزوں اور ان کی نسبت کا اعتبار نہ ہوا۔بالجملہ ان کے یہاں مدار ثقل کثرت اجزاء پر ہے کم اجزا میں کم زائد میں زائداور یہ نہیں مگر وزن تو ان کے یہاں ثقل ووزن شے واحد ہےہم آئندہ غالبا اسی پر بنائے کلام رکھیں گے۔
(۹)ہر جسم کا مادہ جسے ہیولی وجسمیہ بھی کہتے ہیں وہ چیز ہے جس سے جسم اپنے مکان کو بھرتا اور دوسرے جسم کو اپنی جگہ آنے سے روکتا ہے۔
اقول۲۲:یہ وہی اجزائے دیمقراطیسیہ ہوئے اور ان کی کمی بیشی جسم تعلیمی یعنی طول عرض عمق کی کمی بیشی پر نہیں بلکہ جسم کی کثافت پرایك حجم کے دو جسم ایك دوسرے سے کثیف تر ہوں جیسے آہن وچوب یا طلا وسیم کثیف تر ہیںاجزاء زیادہ ہوں گے کبھی زیادہ حجم میں کم جیسے لوہا اور روئی۔
(۱۰)جاذبیت بحسب مادہ سیدھی بدلتی ہے اور بحسب مربع بعد بالقلب
اقول ۲۳:یہاں مادے سے مادہ جاذب مراد ہے اور تبدل سے طاقت جذب کا تفاوت یعنی
"," ح ص ۳۲۔
ص ۱۲
"
1055,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,223,"جاذب میں جتنا مادہ زائد اتنا ہی اس کا جذب قوی۔یہ سیدھی نسبت ہوئی اور بعد مجذوب کا مجذورجتنا زائد اتنا ہی اس کا جذب ضعیف گز بھر بعد پر جو جذب ہے دو گز پر اس کا چہارم ہوگا۔دس گز پر اس کا سوواں حصہ یہ نسبت معکوس ہوئی کہ کم پر زائدزائد پر کم۔
نتیجہ:(ا)کثیف ترکہ جذب اشد۔
(ب)قریب تر پر اثر اکثر۔
(ج)خط عمود پر عمل اقویز
تنبیہ جلیل:اقول ۲۴:یہ قاعدہ دلیل روشن ہے کہ طبعی قوت جذب ہر شے کی طرف یکساں متوجہ ہوتی ہے مجذوب کی حالت دیکھ کر اس پر اپنی پوری یا آدھی یا جتنی قوت اس کے مناسب جانے صرف کرنا اس کا کام ہے جو شعور و ارادہ رکھے طبعی قوت ادراك نہیں رکھتی کہ مجذوب کی حالت جانچے اور اس کے لائق اپنے کل یا حصے سے کام لے وہ تو ایك ودیعت رکھی قوت بے ارادہ و بے ادراك ہے نہ اس میں جدا جدا حصے ہیں شے واحد ہے اور اس کا فعل واحد ہے اس کا کام اپنا عمل کرنا ہے مقابل کوئی شے کیسی ہی ہوبھیگا ہوا کپڑا دھوپ میں پھیلا دو جس کے ایك حصے میں خفیف نم ہو اور دوسرا حصہ خوب تر۔حرارت کا کام جذب رطوبات ہےاس وقت کی دھوپ میں جتنی حرارت ہے وہ دونوں حصوں پر ایك سی متوجہ ہوگی۔ولہذا نم کا حصہ جلد خشك ہوجائے گا۔اور دوسرا دیر میں کہ اتنی حرارت اس خفیف کو جلد جذب کرسکتی تھی اور اگر یہ ہوتا کہ طبعی قوت بھی مقابل کی حالت دیکھ کر اسی کے لائق اپنے حصے سے اس پر کام لیتی تو واجب تھا کہ نم بھی اتنی ہی دیر میں سوکھتی جتنی میں وہ گہری تری کہ ہر ایك پر اسی کے لائق جذب آتانم پر کم اور تری پر زائدحالانکہ ہر گز ایسا نہیں بلکہ دھوپ اپنی قوت جذب کا پورا عمل دونوں پر کرتی ہےولہذا کم کو جلد جذب کرلیتی ہے یوں ہی مقناطیس لوہے کے ذروں کو ریزوں سے جلد جذب کرے گا اگر ہر ایك کے لائق جذب کرتا تو جس قوت سے ریزوں کو کھینچا تھا عام ازیں کہ کل قوت تھی یا بعض جو نسبت ذروں کو ان ریزوں سے ہے اسی نسبت کے حصہ قوت سے ذروں کو کھینچتا دونوں برابر آتے نہیں نہیں بلکہ قطعا سب کو اپنی پوری قوت سے کھینچا جس نے ہلکے پر زیادہ عمل کیایوں ہی بعد کے بڑھنے سے جذب کا ضعیف ہوتا جانا قطعا اسی بنا پر ہے کہ وہی قوت واحدہ ہر جگہ عمل کررہی ہےظاہر کہ قریب پر اس کا عمل قوی ہوگا اور جتنا بعد بڑھے گا گھٹتا جائے گا اور اگر ہر بعد کے لائق مختلف حصے کام کرتے تو ہر گز بعد بڑھنے سے جذب میں ضعف نہ آتا جب تك ساری طاقت ختم نہ ہوچکتی کہ ہر حصے بعد پر طبیعت اپنی قوت کے حصے پڑھاتی جاتی اور نسبت یکساں رہتی ہاں جب آگے کوئی حصہ نہ رہتا تو اب بعد بڑھنے سے گھٹتی کہ اب عمل کرنے کی یہی قوت واحدہ معینہ رہ گئی بالجملہ بعد بڑھنے سے ضعف آنے کو لازم ہے کہ ہر جگہ ایك ہی قوت معینہ عامل ہو اور وہ کوئی حصہ نہیں ہوسکتی کہ
",
1056,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,224," حصوں کی تقسیم غیر متناہی یہ حصہ معین ہوا وہ کیوں نہ ہوا ترجیح بلا مرجح ہے لہذا واجب کہ طبعی جاذب ہمیشہ اپنی پوری قوت سے عمل کرتا ہے۔یہ جلیل فائدہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالی بہت کام دے گا۔
تنبیہ:اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مثلا زمین کا پورا کرہ اپنی ساری قوت سے ہر شے کو کھینچتا ہے بلکہ مجذوب کے مقابل جتنا ٹکڑا ہے جیسے اس کپڑے کو شرق تا غرب پھیلی ہوئی ساری دھوپ نے نہ سکھایا تھا بلکہ اسی قدر نے جو اس کے محاذی تھی۔
(۱۱)جذب بحسب مادہ مجذوب ہےدس جز کا جسم جتنی طاقت سے کھینچے گا سو۱۰۰ جز کا اس کی دو چند سے۔اگر تم ایك سیر اوردوسرے دس۱۰ سیر کے جسم کو برابر عرصے میں کھنیچنا چاہو تو کیا دس سیر کو دس گنے زور سے نہ کھینچو گے۔
اقول۲۵:یہ بجائے خود ہی صحیح رکھتا تھا جب اس میں مجذوب پر نظر ہو اور اس کے دو محل ہوتے اول طلب کا تبدل یعنی ہر مجذوب اپنے مادے اور بعد کے لائق طاقت مانگے گا جاذب میں اتنی قوت ہے کھینچ لے گا ورنہ نہیںیوں یہ دونوں نسبتیں مستقیمہ ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جو کچھ بھی زائد ہو اتنی ہی طاقت چاہے گا۔
دوم مجذوب پر اثر کا تبدل۔یوں یہ دونوں نسبتیں معکوس ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جس قدر زائد اسی قدر اس پر جذب کا اثر کم اور جتنا مادہ یا بعد کم اتنا ہی زائد۔مگر اس صحیح بات کو غلط استعمال کیا ہے اس میں جاذب پر نظر رکھی کہ وہ مادہ وزن مجذوب کے لائق اس پر اپنی قوت صرف کرتا ہے یہ بھی صاحب ارادہ طاقت کے اعتبار سے صحیح تھا مگر اسے قوت طبیعہ پر ڈھالاکہ مجذوب میں جتنا مادہ ہوگا زمین اسے اتنی ہی طاقت سے کھینچے گی۔اب یہ محض باطل ہوگیا۔اولا: اس کا بطلان ابھی سن چکے اور انسان سے تمثیل جہالتانسان ذی شعور ہے زمین صاحب ادراك نہیں کہ مجذوب کو دیکھے او راس کی حالت جانچے اور اس کے لائق قوت کا اندازہ کرے تاکہ اتنی ہی قوت اس پر خرچ کرے۔
تنبیہ:اگر یہ ہے تو وہ پہلا قاعدہ جس پر ساری ہیأت جدیدہ کا اجماع اور سردار فلسفہ جدیدہ نیوٹن کا اختراع ہے صاف غلط ہوجائے گا جب زمین مجذوب کے مادوں کا ادراك کرتی ہے اور ان کے قابل اپنی قوت کے حصے چھانٹتی ہے تو کیوں نہ اس کے بعد کا ادراك کرے گی اور ہر بعد کے لائق اپنی قوت کا حصہ چھانٹے گی تو ہر بعد پر جذب یکساں رہے گا۔
",
1057,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,225,"ثانیا تنبیہ اقول: ملاحظہ نمبر ۲ سے یہاں ایك اور سخت اعتراض ہے نمبر ۱۵ میں آتا ہے کہ تمہارے نزدیك اختلاف وزن اختلاف جذب پر متفرع ہے اور ہم ثابت کردیں گے کہ ہیات جدیدہ کو اس اقرار پر قائم رہنا لازم ورنہ ساری ہیات باطل ہو جائے گی۔اب یہاں اختلاف جذب اختلاف وزن پر متفرع کیا کہ دس سیر کا جسم دس گنی طاقت سے کھنچے گا۔یہ کھلا دور ہے اگر کہیے اختلاف وزن پر نہیں اختلاف مادے پر متفرع کیا اختلاف وزن سے مثال دی ہے کہ ہماری جذب سے پہلے جذب زمین نے وزن پیدا کردیا ہے۔
اقول:مختلف قوت جذب چاہنا اختلاف وزن سے ہوتا ہے مادے میں جب پیش از جذب کچھ وزن ہی نہیں تو بے وزن چیز قلیل ہو یا کثیر مختلف قوت چاہے گی۔اگر کہے اختلاف مادے سے ماسکہ مختلف ہوگی لہذا مختلف جذب درکار ہوگا۔
اقول:ماسکہ بحسب وزن ہی تو ہے۔پھر اختلاف وزن ہی پر بنا آگئی اور دور قائم رہا مگر صاف انصاف یہ کہ نمبر ۲ نیوٹن کے قول نمبر ۸ پر مبنی اور ہیات جدیدہ کا بیخکن ہے جسے وہ کسی طرح تسلیم نہیں کرسکتی بلکہ جا بجا اس کا رد کرتی ہے جس کا بیان نمبر ۱۵ میں آتا ہے۔ہیات جدیدہ کے طور پر صحیح یہ ہے کہ ماسکہ بربنائے وزن نہیں بلکہ نفس مادے کی طبیعت میں حرکت سے انکار ہے تو جس میں مادہ زیادہ ماسکہ زائد تو انکار افزون تو اس کے جذب کو قوت زیادہ درکاریہ تقریر یاد رکھیے اور اب یہ اعتراض یکسر اٹھ گیا۔
تنبیہ:ہیئات جدیدہ نے اس تناقض کی بنا پر ایك اور قاعدہ اس سے بھی زیادہ باطل تراشا جسے اپنے مشاہدے سے ثابت بتاتی ہے بھلا مشاہدے سے زیادہ اور کیا درکار ہے۔وہ اس سے اگلا قاعدہ ہے۔
تنبیہ ضروری:اقول: یہ دونوں قاعدے متناقض صحیح مگر ان سے اتنا کھل گیا کہ جذب کی تبدیلی تین ہی وجہ سے ہے مادہ جذب مادہ مجذوب بعدجن میں قابل قبول صرف دو ہیںمادہ مجذوب اس نمبر ۱۱ نے طنبور میں نغمہ اور شطرنج میں بغلہ بڑھایا۔ بہرحال مجذوب واحد پر بعد واحد سے جاذب واحد کا جذب ہمیشہ یکساں رہے گاوہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہے کہ جاذبیت بحسب سرعت بدلتی ہےنمبر ۷ میں گزرا کہ اصل میں سرعت بحسب جاذبیت بدلتی ہے۔
(۱۲)جذب اگرچہ باختلاف مادہ مجذوب مختلف ہوتا ہے مگر جاذب واحد مثلا زمین کے جذب کا اثر تمام مجذوبات صغیرو کبیر پر یکساں ہےسب ہلکے بھاری اجسام کہ زمین سے برابر فاصلے پر ہوں ایك ہی رفتار سے ایك ہی آن میں زمین پر گرتے کہ ان میں آپ تو کوئی میل ہے نہیں جذب سے گرتے اور اس کا اثر سب پر
", ط ص ۱۰تا ص۱۵۔ ۱۲۔
1058,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,226," برابر ایك حصہ مادے کو زمین نے ایك قوت سے کھینچا اور دس حصے کو وہ چند قوت سے تو حاصل وہی رہا کہ ہر حصہ مادہ کے مقابل ایك قوت لہذا اثر میں اصلا فرق نہ ہوتا مگر ہوتا ہے بھاری جسم جلد آتا ہے اور ہلکا دیر میں اس کا سبب بیچ میں ہوائے حائل کی مقاومت ہے بھاری جسم سے جلد مغلوب ہوجائے گی کم روکے گی جلد آئے گیہلکے سے دیر میں متاثر ہوگی۔زیادہ روکے گی دیر لگائے گا۔اس کا امتحان آلہ ایر پمپ سے ہوتا ہی جس کے ذریعہ ہوا برتن سے نکال لیتے ہیں۔اس وقت روپیہ اور روپے برابر کاغذ یا پر ایك ہی رفتار سے زمین پر پہنچتے ہیں یہ حاصل ہے اس کا جو چار صفحوں سے زائد میں لکھا۔
اقول:اولا: اس سے بڑھ کر عاقل کون کہ لفظ کہے اور معنی نہ سمجھے جس میں وزن زیادہ ہے وہ مقاومت ہوا پر جلد غالب آتا ہےزیادہ وزن کے کیا معنی یہی نا کہ وہ زیادہ جھکتا ہےیہ اس کی اپنی ذات سے ہے تو اسی کا نام میل طبعی ہے جس کا ابھی تم نے انکار مطلق کیا اور اگر زمین اسے زیادہ جھکاتی ہے تو یہی تفاوت اثر جذب ہے اس پر زیادہ نہ ہوتا تو زیادہ کیوں جھکتا۔
ثانیا: زیادت وزن کا اثر صرف یہی نہیں کہ مقاومت پر جلد غالب آئے بلکہ اس کا اصل اثر زیادہ جھکنا ہے۔مقاومت پر جلد غلبہ بھی اسی زیادہ جھکنے سے پیدا ہوتا ہے اگر پہاڑ آکر معلق رہے نیچے نہ جھکے ہوا کو ذرہ بھر شق نہ کرے گا۔
تمہاری جہالت کہ تم نے فرع کو اصل سمجھا اور اصل کو یك لخت اڑا دیا۔مقاومت پر اثر ڈالنا زیادہ جھکنے پر موقوف تھا لیکن زیادہ جھکنا کسی مقاوم کے ہونے نہ ہونے پر موقوف نہیں وہ نفس زیادت وزن کا اثر ہے تو ہوا بالکل نکال لینے پر بھی یقینا رہے گا اور روپیہ ہی جلد پہنچے گا بلکہ ممکن کہ اب پہلے سے بھی زیادہ کہ اس وقت اس کی جھونك کو ہوا کی روك تھی اب وہ روك بھی نہیں۔اہل انصاف دیکھیں کیسی صریح باطل بات کہی اور مشاہدے کے سرتھوپ دییہ حالت ہے ان کے مشاہدات کییہ دیگ کا چاول یاد رہے کہ آئندہ کے اور خلاف عقل دعوؤں کی بانگی ہے اور اس کا زیادہ مزہ فصل دوم میں کھلے گا ان شاء اﷲ تعالی اور ہمارے نزدیك حقیقت امر یہ ہے کہ ہر ثقیل میں ذاتی ثقل او ر طبعی میل سفل ہے۔کہ بزیادت وزن زائد ہوتا ہے تو ہلکی خود ہی کم جھکے گی اگرچہ ہوا حائل نہ ہواور حائل ہوئی تو اسے شق بھی کم کرے گی تو بھاری چیز کے جلد آنے کا ایك عام سبب ہے اس میں میل فزوں ہونا خواہ کوئی حائل ہو یا نہ ہواور در صورت حیلولت زیادت وزن کے باعث حائل کو زیادہ شق کرنا تو بغرض غلطہوا برتن سے بالکل نکال بھی لی جائے روپیہ پھر بھی پر سے یقینا جلد آئے گا اگرچہ چند انگل کی مسافت میں تمہیں فر ق محسوس نہ ہو۔
(۱۳)جب کوئی جسم دائرے میں دائر ہو تو مرکز سے نافرہ اور مرکز کی طرف جاذبہ(ازانجاکہ
", ص ۱۰۳۔ ۱۲
1059,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,227,"دونوں برابر ہوتی ہیں)مربع سرعت بے نصف قطر دائرہ کی نسبت سے بدلتی ہیں۔اء سرعت ہے یعنی وہ مسافت کہ جسم نے مثلا ایك سیکنڈ میں قطع کی نافرہ کی دلیل اب ہے یعنی وہ اسے یہاں تك پھینکتی ہے تو سیدھا اسی طرح جاتا مگر جاذبہ ار نے اسے ی مرکز کی طرف کھینچا تو جسم ا ب سے ا ء کی طرف پھر گیاچھوٹی قوس اور اس کے وتر میں فرق کم ہوتا ہے۔
لہذا قوس ا ء کی جگہ وتر اء لو اور جاذبہ کو ح اور سرعت کو س فرض کر:ار:اء::اء یعنی ح:س::س:قطر یعنی ح = س۲/قطر یعنی جاذب س ۲/نصف قطر کی نسبت پر بدلے گی اور دائرے پر حرکت میں جاذبہ و نافرہ برابر ہوتی ہیں اور ایك دائرے میں نصف قطر کی قیمت محفوظ ہے لہذا جاذبہ ونافرہ مربع سرعت کی نسبت بدلیں گی مثلا ڈور میں گیند باندھ کر گھماؤ جب سرعت دو چند ہوگی ڈور پر زور چہار چند ہوگا تو ڈور یعنی جاذبہ کی مضبوطی بھی چہار چندہونی چاہیے۔
اقول: یہ سب تلبیسیں و تدلیس ہے۔
اولا: ا ر جاذبیت رکھی کہ سہم قوس ا ء ہے اور اب واقعیت کے مساوی رء جب قوس مذکور ہے اور جیب سہم سواربع دو روسہ ربع دور کے کبھی مساوی نہیں ہوسکتے ربع اول و چہارم میں ہمیشہ جیب بڑی ہوگی اور دوم و سوم میں ہمیشہ سہم اور بوجہ صغر قوس قلت تفاوت کا عذر مردود ہے۔
ثانیا: اب دافعیت نہیں بلکہ وہ مسافت جس تك اس دفع کے اثر سے جاتا خود بھی اسے دلیل نافرہ کہا یہاں دافع کہا جب اتنا اثر ہے تو جاذبہ کے تجاذب سے اگر گھٹے نہیں تو بڑھنا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا تو جسم یہاں اسی قدر مسافت پر جاسکتا ہے۔وہ قوس ا ء رکھی پھر وتر اء تو واجب کہ ا ب و اء یعنی جیب وتر مساوی ہوں اور یہ قطعا ہمیشہ محال ہے ا رء قائم الزاویین اور دونوں قائمے ہوئے یا قائمہ مساوی حادہ اور عذر صغر پہلے رد ہوچکا۔
ثالثا:ا رسہم و ا ء وتر بھی مساوی ہوگئے اور یہ بھی محال ہے ا ب مثلث ا ر ء قائم الزاویہ مختلف الاضلاع ہوگیا اور قائمہ ۶۰ درجے کا رہ گیا اور ایك ثانیہ ۱۸۰ درجے ایك ثانیہ یہ ہوا کہ رء عــــــہ ا محیطیہ ایك ثانیہ پر پڑا ہے اور ر ا ء محیطیہ ایك ثانیہ کم نصف دور پر اور دونوں مساوی ہیں کہ دونوں کے وتر
عــــــہ: تو یہ نصف ثانیہ ہوا اور ر ا ء ۵۹۵۹۸۹۔۳ اور دونوں مساوی ہیں اور نسبت اضعاف مثل نسبت انصاف ہے۔(اقلیدس ۵ مقالہ شکل ۱۵)تو ایك ثانیہ ۵۹۵۹۱۷۹ کے برابر ہوایعنی ۱=۶۴۷۹۹۹::۶۴۷۹۹۸ یہ ہیں تحقیقات جدیدہ ۱۲ منہ غفرلہ
",
1060,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,228,"
مساوی ہیں۔(مامونی)تو دونوں قوسیں مساوی ہیں۔(مقالہ ۳ شکل ۲۵)بالجملہ اس پر بے شمار استحالے ہیں۔
رابعا: یہ ضرور ہے کہ مہندسین نہایت صغیر قوسوں میں ان کے وتر ان کی جگہ لے لیتے ہیں جیسے اعمال کسوف و خسوف میںمگر اسے تو حکم عام دینا ہےہر جگہ یہ ٹٹو کیسے چلے گادیکھو نصف دو ۱۸۰ درجے محیط ہے اور اس کا وتر کہ قطر ہے صرف ۱۲۰ درجے وہ بھی قطریہ کہ محیطیہ کے ۱۵ ۱ عــــــہ۱ سے بھی کم ہوئے فرض کرو قوس ا ء ۶۰ درجے ہے تو درجات قطریہ سے ا ر سہم صرف ۳۰ ہے اور رء جیب تقریبا ۵۲ عــــــہ۲ ا ء قوس تقریبا ۶۳ عــــــہ۳ مجنون ہے جو ان سب کو مساوی کہے۔
خامسا: تساوی قوتین پر شکل وہ نہ ہوگی بلکہ یہ اب دلیل واقعہ ہے ا کو مرکز مان کر بعد ب پر قوس ب ر کھینچی جس نے محیط کو ء پر قطع کیا اورقطر کو ر پر تو ا ء مسافت واثر دافعیت ہوئی اور ا ر اثر جاذبیت ا ب ا ر سہم قوس اء نہیں بلکہ اس کا سہم ا ح ہے بحکم شکل مذکور اقلیدس ا ح بحسب مربع ا ء بدلے گا نہ کہ جاذبیت ا ر۔
سادسا: دعوی میں جاذبہ نافرہ دونوں تھیں اور بغرض باطل اس دلیل سے ثابت ہوا تو جاذبہ کا بحسب مربع مسافت بدلنا جسے بنادانی مربع سرعت کہا سرعت مسافت نہیں بلکہ مسافت مساویہ کو زمانہ اقل میں قطع کرنا نافرہ کے دعوے کو تساوی جاذبہ ونافرہ پر حوالہ کیا اور اسے خود شکل میں بگاڑ دیا کہ جاذبہ سہم رکھی اور دافعہ جیببلکہ وتربلکہ قوساہل انصاف دیکھیں یہ حالت ہے انکی اوہام پرستی کیاپنے باطل خیالات کو کیسا زبردستی برہان ہندسی کا لباس پہنا کر پیش کرتے ہیں۔
(۱۴)ہر دائرے میں جاذبہ ہو یا نافرہ بحسب نصف قطر مربع زمانہ دورہ ہے اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آفتاب جو زمین کو کھینچتا ہے اور زمین قمر کو ان دونوں کششوں میں کیا نسبت ہے نصف قطر مدار قمر کو ایك فرض کریں تو نصف قطر مدار زمین ۴۰۰ ہوگا اور اس کی مدت دورہ ۳۲۵ء ۲۷ دن ہے اور اس کی
","€&عــــــہ€∞۱:یعنی ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۷ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ
€&عــــــہ€∞۲:یعنی ۵۱ درجے ۵۷ دقیقے ۴۱ ثانیے ۲۹ ثالثے ۱۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ
€&عــــــہ€∞۳:یعنی ۶۲ درجے ۴۹ دقیقے ۵۴ ثا نیے ۴۰ ثالثے ۴۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ۔
"
1061,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,229,"۲۵ء۳۶۵ دن::انجذاب قمربہ شمس:انجذاب قمربہ ارض
یعنی شمس اگرچہ دور ہےقمر کو ۲۔۱/ ۵ زمین سے زیادہ کھینچتا ہے انتہی۔
اقول:منتسبین بدل گئے یوں کہنا تھا کہ انجذاب قمربہ ارض:انجذاب قمربہ شمس::الخ اور اختصار میں ۴/۱۔۲ چاہیے تھا کہ حاصل ۲۳۷ء۲ ہے کہ ربع سے قریب ہے پھر بفرض صحت اس سے ثابت ہوتی تو وہ نسبت جو قمر کو زمین اور زمین کو شمس کی کشش میں ہے جیسا کہ ابتداء دعوی کیا تھا اور نتیجہ میں رکھی وہ نسبت جو قمر کو کشش زمین و شمس میں ہے خیر اسے کہہ سکیں کہ بوجہ قلت عــــــہ تفاوت دورہ و بعد زمین کو دورہ و بعد قمر رکھا مگر اس کے بیان میں اس دلیل کا مبنی یہی قاعدہ نمبر ۱۴ ہے اور اس کا مبنی قاعدہ نمبر ۱۳ جس کے شدید ابطال ابھی سن چکے۔
(۱۵)وزن جذب سے پیدا ہوتا او را سکے اختلاف سے گھٹتا بڑھتا ہے۔اگر جسم پر جذب اصلا نہ ہو یاسب طرف سے مساوی ہونے کے باعث اس کا اثر نہ رہے تو جسم میں کچھ وزن ہوگا ہم اگر مرکز زمیں پر چلے جائیں تمام ذرات زمین ہم کو برابر کھینچیں گے اور اثر کشش جاتا رہے گا ہم بے وزن ہوجائیں گے۔
اقول:یہ نری بے وزن بدیہی البطلان بات کہ جسم میں خود کچھ وزن نہیں جذب سے پیدا ہوتا ہے ہیات جدیدہ کی کثیر تصریحات سے واضح و آشکار ہے۔ا کثافت عطارد سونے کے قریب زمین سے دو چند ہے مگر اس کے صغر کے سبب اس کی جاذبیت جاذبیت زمین کی ۳ / ۵ ہے اسی نسبت سے اوزان اس کی سطح پر گھٹتے ہیں جو چیز زمین پر من بھر ہے عطارد پر رکھ کر تولیں تو صرف چوبیس۲۴سیر ہوگی۔ب سطح آفتاب پر جسم کا وزن سطح زمین سے ۲۸ گنا ہوتا ہے یعنی یہاں کامن وہاں کا ٹن ہوجائے گا وہاں کاٹن یہاں من رہے گا اس کا رد فصل ۲ رد ۱۴ سے روشن ہوگا۔ج جو چیز سطح زمین سے تین ہزار چھ سو رطل کی ہے کہ اس کے بعد مرکز سے بقدر نصف قطر زمین ہے اگر سطح زمین نصف قطر کی دوری پر رکھیں ۹ سورطل رہ جائے گی اور پورے قطر کہ بعد پر چارہی سو اور ڈیڑھ قطر کے فاصلے پر سوا دو سو اور دو قطر کے فصل پر ایك سو چوالیس ہی رطل رہے گی کہ مربع بعد جتنے بڑھتے ہیں جاذبیت اتنی ہی کم ہوتی ہے تو ویسا ہی وزن گھٹتاجائے گا یعنی ساڑھے چار قطر کے بعد پر ۳۶ ہی رطل رہے گا اور ساڑھے پانچ پر صرف ۲۵اور ساڑھے نو پر ۹ ہی رطلاور ساڑھے چودہ پر چار رطلاور ساڑھے انتیس
عــــــہ:کما قال فی اول ھذہ النمرۃ ۲۰۹ ان القمر یدورحول الشمس علی معدل بعد الارض وفی نفس مدۃ دوران الارض حولھا الخ
"," ط ص ۱۰۔ ۱۲۔
ط ص ۸۳۔ ۱۲۔
ص ۲۷۶۔۱۲
ص ۱۳۲
ح ص ۳۸
"
1062,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,230,"پر ایك ہی رطل رہے گا تین ہزار پانچ سو ننانوے رطل اڑ جائیں گے وعلی ہذا القیاس ء زمین پر خط استوا کے پاس شے کا وزن کم ہوگا اور جتنا قطر کی طرف ہٹو بڑھتا جائے گا کہ خط استواء کے پاس جاذبیت کم ہے اور قطب کے پاس زیادہ۔ولیم ہرشل نے کہا نجیمات پر یعنی مریخ و مشتری کے درمیان آدمی ہو تو ساٹھ فٹ اونچا بے تکلف جست کرسکے۔
اقول:تو یورینس پر جا کر تو خاصا پکھیرو ہوجائے گا جدھر چاہے اڑتا پھرے گا پھر کہا اور ساٹھ فٹ بلندی سے ان پر گرے تو اس سے زیادہ ضرر نہ دے جتنا ہاتھ پر بلندی سے زمین پر گرنا۔
اقول: تو نیپچون پر جا کر تو روئی کا گالا ہوجائے گا کہ ہزاروں گز بلندی سے سخت پتھر پر گرے کچھ ضرر نہ ہوگا۔یہ ہیں ان کی خیال بندیاں اور انہیں ایسا بیان کریں گے گویا عطاردو آفتاب پر کچھ رکھ کر تول لائے ہیں نجیمات پر بیٹھ کر کود آئے ہیںان تمام خرافات کا بھی ماحصل وہی ہے کہ جسم میں فی نفسہ کوئی وزن نہیں ورنہ ہر کرے ہر مقام ہر بعد پر محفوظ رہتا جاذبیت کی کمی بیشی سے صرف اس پر زیادت میں کمی بیشی ہوتی ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی وزن مانو اس سے زیادہ بعد پر بقدر مربع بعد گھٹے گا اور بعید ہیئات جدیدہ میں غیر محدود ہے تو کمی بھی غیر محدود ہےپہاڑ کا وزن عــــــہ رائی کے دانے کا ہزاروں حصہ رہے گا پھر اس پر بھی نہ رکے گا تو کوئی وزن کہیں محفوظ نہیں جسے اصلی ٹھہرائیے مگر اس جری بہادر ط نے اسے اور بھی کھلے لفظوں میں کہہ دیا اس کی عبارت یہ ہے جس سبب سے کہ چیزیں زمین پر گر پڑتی ہیں اسی سبب سے ان میں وزن بھی پیدا ہوتا ہے یعنی کشش ثقل ان کو بھاری کرتی ہے بوجھ اشیاء میں موافق مقدار کشش کے ہوگا۔یہ ہے فلسفہ جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ کہ پہاڑ میں آپ کچھ وزن نہیں وہ اور رائی کا ایك دانہ ایك حالت میں ہیں۔
اقول:حقیقت امر اور اختلاف جذب سے ان کے دھوکے کا کشف یہ ہے کہ ہر جسم ثقیل یقینا اپنی حد ذات میں وزن رکھتا ہے۔ پہاڑ اور رائی ضرور مختلف ہیںشیئ میں جتنا وزن ہو اس کے لائق دباؤ ڈالے گی پھر اگر اس کے ساتھ کوئی جذب بھی شریك کرو تو دباؤ بڑھ جائے گا اور جتنا جذب بڑھے اور بڑھے گا بیس سیر کا پتھر آدمی سر پر رکھے وہ دبائے گا اور اس میں رسیاں باندھ کر دو آدمی نیچے کو زور کریںدباؤ بڑھے گا۔چار آدمی چاروں طرف سے کھینچیں اور بڑھے گا لیکن جذب کی کمی بیشی اصل وزن پر کچھ اثر نہ ڈالے گی جذب کم ہو
عــــــہ:اقول:بعد دیگرے سیارہ دیگر کے جذب سے اور وزن ہلکا ہوگا زمین کے خلاف جہت کھینچا اور بفرض غلط ہو بھی تو کام نہ دے گا کہ وہ بھی عارضی ہوا کلام وزن اصلی میں ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
"," ط ص ۸۳۔۱۲
ص ۲۹۰
دیکھو ۲۶۔ ۱۲۔
"
1063,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,231,"یا زائد یا اصلا نہ ہو وہ بدستور رہے گیہاں اگر اوپر کی جانب کوئی جاذب یا چاری کی طرف ادھر سے سہارا دے یا کمانی کی لچك کی طرح اوپر اچھالے تو ان صورتوں میں وزن کا احساس کم ہوگا یا اصلا نہ ہوگا فی نفسہ وزن اصلی اب بھی برقرار رہے گا مگر جذب زیریں کی کمی یا نفی احساس اصلی بھی فرق نہیں کرسکتی کہ نیچے جذب نہ ہونا نہ اوپر کو کھینچتا ہے نہ سارا نہ اچھال تو اصلی وزن کا دباؤ کم ہونا محال۔بالجملہ جذب مؤید تھا نہ کہ مولدلیکن انہوں نے جذب کو وزن کا مولد مانا اور واقعی ان کو اس مکابرے کی ضرورت ہے کہ وزن ذاتی میل طبعی کو ثابت کرے گا اور اس کا ثبوت جاذبیت کا خاتمہ کردے گا کما سیأتی(جیسا کہ آئے گا۔ت) اور اس کے ختم ہوتے ہی ساری ہیات جدیدہ کی عمارت ڈھہ جائے گی کہ اس کی بنیاد کا یہی ایك پتھر ہے تو قطعا اس کا مذہب یہی ہے جیسا کہ اس کی تصریحات کثیرہ سے آشکارنیوٹن کا قول نمبر ۸ جسے ماننا ہو پہلے ہیات جدیدہ کا سارا دفتر اور خود نیوٹن کے قواعد جاذبیت سب دریا برد کردے ظاہرا وہ نیوٹن نے ۱۶۶۵ء سے پہلے کہا ہو جب تك سیب نے گر کر جاذبیت نہ سمجھائی تھی اور اسی پر نادانستہ نمبر ۲ مبنی ہوا بہرحال کچھ ہو ہم سب ان کی ان تصریحات متناقصہ سے کام لے سکتے ہیں کہ انہیں کے اقوال ہیں لیکن ان کو اس نمبر ۱۵ سے کوئی مفر نہیں وہ ہیات جدیدہ کی بنی رکھی چاہیں تو اس کے ماننے پر مجبور ہیں کہ کسی جسم میں خود کوئی وزن نہیں بلکہ جذب سے پیدا ہوتا ہے۔یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ آئندہ دھوکا نہ ہو ہم اس پر اس سے زیادہ کیا کہیں جو کہہ چکے کہ یہ بداھۃ باطل ہے ہاں وہ جو کروں پر اختلاف وزن بتایا ہے اس سے سہل ترانہیں بتادیں۔
فاقول:ہیأت جدیدہ سے کہے کیوں خط استوا سے قطب تك دوڑے یا عطاردو آفتاب تك پھلانگتی پھرے اس کا زعم سلامت ہے تو خود اس کے گھر میں ایك ہی جگہ رکھے رکھے شے کا وزن گھٹتا بڑھتا رہے گا آج سیر بھر عــــــہ کی ہے کل سوا سیر ہوجائے گی پرسوں تین پاؤ رہ جائے گی پھر ڈیڑھ سیر ہوجائے گیکوئی عاقل بھی اس کا قائل ہے وجہ یہ کہ سیارات و اقمارات ونجیمات(وہ مشابہ سیارہ سوا سو سے زائد اجرام کہ مریخ و مشتری کے درمیان ابھی انیسیویں صدی میں ظاہر ہوئے ہیں جن میں جو نو ووسطا وسیرس و پلاس زیادہ مشہور ہیں)اگرچہ کثافت و بعد میں مختلف ہوں جاذبیت رکھتے ہیں قطعا مجموعہ تفاضل کے برابر نہیں ہو سکتااب جس وقت ان کا اجتماع زمین کی جانب مقابل ہو کہ شے ان کے اور زمین کے بیچ میں ہو تو زمین کی جاذبیت تو شے میں وزن پیدا کرے گی اور ان سب کی جاذبیت کہ جانب مخالف ہے ہلکا کرے گی۔غلبہ جذب زمین کے باعث وزن بقدر تفاضل رہے گا اور جب ان کا اجتماع زمین کے اس طرف ہو کہ شے
عــــــہ:یہ مدت وعدت تنظیر ہے نہ کہ تحدید ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1064,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,232," سے زمین اور وہ سب ایك طرف واقع ہوں تو وہ اور زمین سب کی مجموعی جاذبیت اس میں وزن پیدا کرکے بہت بھاری کردے گی اور جب کچھ ادھر کچھ ادھر ہوں وزن بین بین ہوگا۔جوہر اختلاف اوضاع پر بدلے گا اگر کہیے اختلاف وزن کیونکر معلوم ہوسکے گا۔جس چیز سے تو لاتھا وہ بھی تو اتنی ہی بھاری یا ہلکی ہوجائے گی۔
اقول:قطب و خط استوا پر اختلاف وزن کیونکر جانااب کہو گے ساقول سےہم کہیں گے یہاں بھی اسی سے۔
(۱۶)ہر شبانہ روز عــــــہ میں دو بار سمندر میں مدوجزر ہوتا ہے جسے جوار بھاٹا کہتے ہیں۔پانی گزوں یہاں تك کہ خلیج فوندی میں نیز شہر برستول کے قریب جہاں نہر سفرن سمندر میں گرتی ہے ستر فٹ تك اونچا اٹھتا پھر بیٹھ جاتا ہے اور جس وقت زمین کے اس طرف اٹھتا ہے ساتھ ہی دوسری طرف بھی یعنی قطر زمین کے دونوں کناروں پر ایك ساتھ مد ہوتا ہے یہ جذب قمر کا اثر ہےولہذا جب قمر نصف النہار پر آتا ہے اس کے چند ساعت بعد حادث ہوتا ہے آفتاب کو بھی اس میں دخل ہے ولہذا اجتماع و مقابلہ نیر ین کے ڈیڑھ دن بعد سب سے بڑا مد ہوتا ہے مگر اثر شمس بہت کم ہےحدائق النجوم میں جذب قمر سے ۳/۱۰ کہا اصول ہیأت میں ۲/۵ یا ۲۳/۵۸ جاڑوں میں صبح کا مد شام کے مد سے زیادہ بلند ہوتا ہے اور گرمیوں میں بالعکس چھوٹے سمندروں اور بڑی نہروں اور ان پانیوں میں جن کو خشکی محیط ہے جیسے دریائے قزبین و دریائے ارال و بحر متوسط و بحر بالطیق وجحیوں وسیحون وگنگ و جمن وغیرہ میں نہیں ہوتا۔
اقول:مد کا جذب قمر سے ہونا اگر چہ نہ ہم کو مضر نہ اس کا انکار ضرورمگر برسبیل ترك ظنون وطلب تحقیق وہ بوجوہ مخدوش ہے:
وجہ اول:چاند تو زمین کے ایك طرف ہوگا دوسری طرف پانی کس نے کھینچایہ تو جذب
عــــــہ: ص ۲۶۳ میں ۲۴ گھنٹے ۵۰ منٹ کہے نیز ص ۲۷۳ و ح ص ۲۰۷ میں ۲۴ ت۴۸ ط ص ۱۰۶ ۲۴ت ص ۱۰۹ ۲۴ ت۔۴۵ تعریبات شافیہ جزثانی ص ۳۸۲۴ ت۵۱ جغرافیاطبعی ص ۱۹۲۴ ت۵۴ بہرحال ہر یوم قمری میں دو مد ہیں یونہی جزء ۱۲ منہ غفرلہ۔
"," ص ۲۷۲۔ ۱۲۔
ص ۲۶۳ ح ص ۲۰۵و۲۰۶ ط ۱۰۶و ۱۰۷۔
ص ۲۶۵ ح ص ۲۰۵۔ط ۱۰۹
حدائق النجوم ص ۲۰۰ میں اس کی اصل مقدار تین گھنٹے بتائی اگرچہ عوارض خارجیہ سے تفاوت ہوتا ہے۔
ص ۲۶۷۔شافیہ جلد دوم ص ۳۹
ص ۲۰۵۔ص ۲۰۶
۲۶۶
ح ص ۲۰۷
ص ۲۶۳و ۲۷۰،۲۷۲ ح ص ۲۰۷۔
"
1065,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,233,"نہ ہوا دفع ہوا۔اصول علم الہیات وغیرہ سب میں اس کا یہ جواب دیا کہ بعید پر جذب کم ہوتا ہے سمت مواجہ قمر میں پانی قمر سے قریب اور زمین بعید ہےلہذا اس پانی پر زمین سے زیادہ جذب ہوا اور بہ نسبت زمین کے چاند سے قریب تر ہوگیا۔یوں ارتفاع ہوا ادھر کا پانی قمر سے بعید اور زمین سے قریب ہےلہذا زمین پر پانی سے زیادہ جذب ہوا اور ادھر کا حصہ زمین چاند سے بہ نسبت آب قریب تر ہوگیا تو وہ پانی مرکز زمین سے دور ہوگیا اور مرکز زمین سے دوری بلندی ہے ادھر یوں ارتفاع ہوا۔
اقول:اولا: جس طرح قرب وبعد سے اثر جذب میں اختلاف ہوتا ہے یونہی مجذوب کے ثقل و خفت سے بھاری چیز کم کھینچے گی اور ہلکی زیادہ سمت مقابل کا پانی بہ نسبت زمین کیا ایسا بعید ہے کہ زمین سے متصل ہے اور سمندر کی گہرائی زیادہ سے زیادہ پانچ میل بتائی گئی ہے قمر کا بعد اوسط ۲۳۸۸۳۳ میل ہے اور زمین کا قطر معدل ۷۹۱۳ میل تو اس جانب کے اجزائے ارضیہ کا قمر سے بعد ۲۴۶۷۴۶ میل ہوا اس کثیر بعد پر چار پانچ میل کا اضافہ ایسا کیا فرق دے گا لیکن پانی بہ نسبت زمین بہت ہلکا ہے زمین کی کثافت پانی سے چھ گنی کے قریب ہے یعنی۶۷ء۵ تو اگر تفاوت بعد اس کے جذب میں کچھ کمی کرے تفاوت ثقل اس کمی پر غالب آئے گا یا نہ سہی پوری تو کردے گا۔اور زمین و آب پر جذب یکساں رہ کر پانی زمین سے ملا ہی رہے گا تو مد نہ ہوگا بخلاف سمت مواجہ قمر کہ ادھر کا پانی قرب و لطافت دونوں وجہ کا جامع ہے تو اسی طرف مد ہونا چاہیے۔
ثانیا:نمبر ۱۸ میں آتا ہے ہوا و آب و خاك مجموعہ تمہارے نزدیك کرہ زمین ہے اور قمر مجموع کو جذب کررہا ہے تو سب ایك ساتھ اٹھیں نہ کہ ادھر کا پانی زمین کو چھوڑ جائے اور ادھر کی زمین پانی کو چھوڑ آئےدیکھو تمہارے زعم میں جذب شمس سے زمین گھومتی ہے تو تینوں جز خاك و آب و باد کو ایك ساتھ یکسان متحرك مانتے ہو نہ کہ سب ایك دوسرے سے جدا ہو کر چلیں۔
"," ص ۲۶۴ ط ص ۱۰۷۔ ح ص ۲۰۵ و ۲۰۶ ص ۵۲ اس کے اخیر میں اسے جاہلانہ بیان کیا اور ط میں متحیرانہ اقرار کرکے کہ اس کا بیان پیچیدہ ہے اور بات صاف نہ کہہ سکا،ح کا کلام بھی مضطرب و مشتبہ سارہا،ص نے صاف بیان کیا لہذا ہم نے اسی سے نقل کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
نظار ہ عالم میں براہِ جہالت اُسے یوں لکھا کہ دوسری جانب کاپانی بعد کے باعث ساکن رہتا ہے لیکن زمین جو اس پانی کے اندر ہے کھینچتی ہے۔
جغرافیہ طبعی ص ۱۹۔۱۲
حدائق میں گزرا ۳ گھنٹے بعد۔
"
1066,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,234,"ثالثا: اگر ایسا ہوتا سمت مواجہ کی ہوا پر قمر کا جذب ادھر کے پانی سے بھی زائد ہوتا کہ اقرب بھی اور الطف بھیاور ادھر کی ہوا کو تمہارے زعم باطل پر ادھر کا پانی چھوڑ آتا جس طرح اس پانی کو ادھر کی زمین چھوڑ گئی تو لازم تھا کہ مد کے وقت دونوں طرف نہ سطح زمین پر پانی ہوتا نہ سطح آب پر ہوابلکہ ہر دو کے بیچ میں خلا ہوتا۔یہ بداہۃ باطل ہےاطراف کے پانی کا آکر اس جگہ کو بھرنا کیوں یہ حرکت نہ ان پانیوں کے متقضائے طبع ہے نہ زمین کا اثر نہ استحالہ خلا کی ضرورتنمبر ۲۵ میں آتا ہے۔کہ خلا تمہارے نزدیك محال نہیں پھر بلاوجہ اور پانی کیوں چل کر آئیں گے۔
وجہ دوم:کشش قمر سے مد ہوتا تو اس وقت ہوتا جب قمر عین نصف النہار پر سیدھے خطوں میں پانی کو کھینچتا ہے لیکن پانی وہاں کا اٹھتا ہے جہاں نصف النہار سے گزرے قمر کو گھنٹے ہوچکتے ہیں ۔اصول ہیأت میں اس کے دو حیلے گھڑے یکم پانی کا سکون ا سے فورا جذب قبول نہیں کرنے دیتا انتہی یعنی جسم میں حرکت سے انکار ہے حتی الامکان محرك کی مقاومت کرے گا اس لیے پانی فورا نہیں اٹھتا۔
اقول:اولا: قمر صرف سیدھے خط پر کھینچتا ہے یا ترچھے پر بھیبرتقدیر اول کس قدر باطل صریح ہے کہ جس وقت جذب ہورہا تھا پانی نہ ہلاجب جذب اصلا نہ رہا گزوں اٹھا یعنی وجود مسبب وجود سبب سے نہیں ہوتا بلکہ سبب معدوم ہونے کے گھنٹوں بعدبرتقدیر ثانی قمر جس وقت افق شرقی پر آیا اس وقت سے اس پانی کو کھینچ رہا تھا تو ٹھیك دوپہر کو اٹھنا فورا اثر قبول کرنا نہ تھا بلکہ چھ گھنٹے بعد عجب کہ دوپہر کامل جذب ہوا اور وہ بھی اس طرح کہ ہرلمحہ پر پہلے سے قوی تر ہوتا جائے یہاں تك کہ نصف النہار پر غایت قوت پر آئے اور پانی کو اصلا خبر نہ ہو جب جذب ضعیف پڑے اور آنا فانا زیادہ ضعیف ہوتا جائے تو گھنٹوں کے بعد اب اثر پیدا ہوا اور یہیں سے حدائق النجوم کے جواب کا رد ہوگیا کہ امتداد سبب اشتداد سبب سے زیادہ موثر ہے۔
اقول:ہاں گرمی کے سہ پہر کو دوپہر سے زیادہ گرمی ہوتی ہے جاڑے کی سحر کو شب سے زیادہ سردی ہوتی ہے مگر زیادت کا فرق ہوتاہے نہ یہ کہ مدت مدید تك بڑھتا ہوا اشتداد امتداد رکھے اور اثر اصلا نہ ہو جب وقتا فوقتا بڑھتے ہوئے ضعف کا امتداد ہو اس وقت آغاز اثر ہو یعنی جونجولائی کی دوپہر کو اصلا گرمی نہ ہو تیسرے پہر کوہو۔دسمبرجنوری کی آدھی رات کو سردی نام کو نہ ہو سحر کے وقت ہوایسا الٹا اثر ہیئات جدیدہ میں ہوتا ہوگا۔
ثانیا: محرك کی قوت اگر جسم پر غالب نہ ہو اصلا حرکت نہ کرے گامن بھر کے پتھر میں رسی باندھ کر ", ص ۲۶۶
1067,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,235,"ایك بچہ کھینچے کبھی نہ کھینچے گا اور اگر اس درجہ غالب ہو کہ اسے تاب مقاومت نہ ہو فورا متحرك ہو گا مزاحمت کا اثر اصلا ظاہر نہ ہوگا جیسے ایك مرد گیند کو کھینچے اور اسکی مقاومت اس کی قوت کے سامنے قیمت رکھتی ہے تو البتہ فورا اثر نہ ہوگا اسے قوت بڑھانی پڑےگی زیادت قوت کے وقت اثر ہوگا نہ یہ کہ منتہائے قوت تك زور کرکے تھك جائے اور نہ ہلے اب کہ ضعیف زور رہ جائے اور لحظہ بہ لحظہ گھٹتا جائے تو اس گھٹی ہوئی قوت کو مانے۔پانی کی مقاومت قمر کی قوت کے آگے اول تو قسم دوم کی ہونی چاہئے جو ساری زمین کو کھینچ لے جاتا ہے اس کے سامنے اتنا پانی ایسا کتنے پانی میں ہے کہ گھنٹوں نام کونہ ہلے اور نہ سہی قسم سوم ہی مانئے تو انتہائے قوت کے وقت اثر ظاہر ہونا تھا نہ کہ تھك رہنے کے بعد مری ہوئی طاقت سے۔
ثالثا: جب پانی اتنی مقاومت کرے واجب ہے کہ زمین اس سے بدرجہا زائد مزاحم ہو تو جس وقت پانی اثر لے زمین اس سے بہت دیر بعد متاثرہواور اس طرف کے پانی کا اٹھنا خود نہ تھا بلکہ زمین کے اٹھنے سے تو واجب کہ ادھر کے پانی میں جب مد ہو ادھر کے پانی میں سکون ہو ادھر کے پانی میں مدتوں بعد جب زمین اثر مانے مد ہو اس وقت ادھر کے پانی میں کب کا ختم ہو چکا حالانکہ دونوں طرف ایك ساتھ ہوتا ہے۔
رابعا: رات دن میں دو۲ ہی مد ہوتے ہیں اب لازم کہ چارہوں دو پانی کے اپنے اور دو جب زمین متاثر ہو کر اٹھے۔
خامسا: جانب قمر میں چار۴ مد ہو ں اور طرف مقابل میں دو کہ باتباع زمین ہیں اور اس کے دوہی تھےغرض یہ لوگ اپنے اوہام بنانے کے لیے جو چاہیں منہ کھول دیتے ہیں۔اس سے غرض نہیں کہ اوندھی پڑے یا سیدھیاور پڑتی اوندھی ہی ہے۔حیلہ دوم قعر دریا میں اور کناروں پرپانی کی حرکت بھی اثر جذب میں دیر کی معین ہوتی ہے۔
اقول: سمندر کے قعر میں پانی کی حرکت کیسیسمندر میں نہرو ں کا سا ڈھال نہیںولہذا دھار نہیںنہ قعر میں ہوا ہے نہ اوپر کی ہوا کا اثر قعر تك پہنچتا ہے کیسی ہی آندھی ہو سو۱۰۰ فٹ کے بعد پانی بالکل ساکن رہتا ہے کناروں کی حرکت ہوا سے ہے جہات اربعہ سے ایك جہت مثلا مشرق کو حرکت قمر کی طرف حرکت صاعدہ کے لیے کیا منافی ہے کہ تاخیر اثر میں معین ہوگی دیکھو تمہارے نزدیك زمین مشرق کو جاتی ہے اور اسی آن میں جذب شمس سے مدار پر چڑھتی ہے دونوں حرکتیں ایك ساتھ ہوتی ہیں۔
", تعریبات شافیہ جزء ثانی ص ۳۸۔ ۱۲۔
1068,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,236,"وجہ سوم:کشش ماہ سے مد ہوتا تو چھوٹے پانیوں میں کیوں نہیں ہوتا۔چاند جس پانی کے سامنے آئے گا اسے کھنچے گا اس کے جواب میں اصول الہیأت نے تو ہتھیار ڈال دیئےکہا یہ کسی مقامی سبب سے ہے۔
اقول:یہی کہنا تھا تو وہاں کہنا چاہیے تھا کہ جزر و مد کا کوئی مقامی سبب ہے جس کے سبب یہ قاہر ایراد نہ ہوتے۔حدائق النجوم نے اس پر دو مہمل حیلے تراشےیکم مد کے لیے اجزائے آب کا اختلاف چاہیے کہ بعض کو قمر کھینچے بعض کو نہیں تو جسے کھینچا وہ اٹھتا معلوم ہو یہ پانی چھوٹے ہیں قمر جب ان کی سمت الراس پر آتا ہےسارے پانی کو ایك ساتھ کھینچتا ہے لہذا مد نہیں ہوتا۔
اقول:اولا:جہالت ہے اگر سارا پانی ایك ساتھ اٹھے توکیا اس کا بڑھنا اورکناروں پرپھیلنااور پھر گھٹنا اور کناروں سے اتر جانا محسوس نہ ہوگاعقل عجب چیز ہے۔
ثانیا: تمھارے نزدیك تو قمر سارے کرہ زمین کوکھینچتاہے نہ کہ بڑے سمندر میں ایك حصہ آب کوکھینچے باقی کونہیں۔کچھ بھی ٹھکانے کی کہتے ہوحیلہ دوم قمر کی قوت تاثیر صرف اس وقت ہے کہ نصف النہار پر گزرے اور وہ تھوڑی دیر تك ہے یہ پانی کم پھیلے ہوئے ہیں ان کی سمت الراس سے قمر جلد گزرجاتا ہے لہذا اثر نہیں ہونے پاتا۔
اقول: بڑے سمندروں میں قمر سمت الراس پر بدرجہ اولی نہ ہوگا بلکہ مختلف حصوں پر مختلف وقتوں میں آئے گا اور ہر حصے سے اتنا ہی جلد گزر جائے گا جتنا جلد چھوٹے سمندروں سے گزرا تھا تو چاہیے کہیں بھی مدنہ ہو اور اگر قبل و بعد کے ترچھے خطوط پر جذب یہاں کام دے گا تو وہاں کیا نصف النہار سے گزر کر جذب نہیں ہوتا۔طلوع سے غروب تك ترچھے خطوط پر برابر پانی کو جذب کرتا ہے تو سب میں مد لازم حتی کہ جھیلوں تالابوں بلکہ کٹورے کے پانی میں جب کہ طلوع قمر سے غروب تك کھلے میدان میں رکھا ہو۔
وجہ چہارم:سوائے وقت اجتماع و مقابنلہ پانی پر نیرین کا گزر ہر روز جدا ہوتا ہے کیا آفتاب پانی کا جذب نہیں کرتا حالانکہ وہ حرارت اور یہ رطوبت ہے اور حرارت جاذب رطوبت ہے۔شمس اگر بہ نسبت قمر بعید تر ہے تو دونوں کے مادے کی نسبتتو دیکھو بعد شمس بعد قمر کا ۳۳ء۳۷۳ ہی مثل ہے اور مادہ شمس تو مادہ قمر کا تقریبا ڈھائی کروڑ گناہ یا اس سے بھی زائد ہے تو اسی حساب سے جذب شمس زائد ہونا تھا رات دن میں چار مد ہوتے ہیں دو قمر دو شمس سےحالانکہ دو ہی ہوت ہیںتو معلوم ہوا کہ جذب شمس نہیں
", اصول ہیئات ص ۲۹۴ میں ۲۴۴۹۰۷۴۴ کہا اور ص ۱۵۶ پر ۲۵۱۸۰۸۰۰ کہ ڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔۱۲ منہ غفرلہ۔
1069,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,237,"تو جذب قمر بالاولے نہیں اس کے دو جواب دئے گئےیکم حدائق النجوم میں اس پر صرف وہی تفاوت بعد کا عذر سنا کر کہا پانی کو جذب شمس جذب قمر کا ۳/۱۰ ہے۔
اقول: اولا:اس کا رد نفس تقریر سوال میں گزرا کہ بعد کی نسبت دیکھی مادوں کی تو دیکھو۔
ثانیا:۳/۱۰ ہی سہی جب بھی چار مدوں سے کدھر مفرقمر سے دوبار ستر فٹ اٹھے شمس سے دوبارہ اکیس فٹ دوم اصول الہیأۃ میں اس پر وہ مہمل سا مہمل راگ گایا کہ تذکرہ کرتے بھی کاغذ کے حال پر رحم آئے کہ اسے کیوں سیاہ کیا جائے۔کہتا ہے مدتو یوں ہوتا ہے کہ زمین کی دونوں جانب جاذبیت کا اثر پیش ہو جتنا تفاوت ہوگا مد زیادہ ہوگا بالعکس آفتاب کا زمین سے بعد قطر زمین کے گیارہ ہزار پانچسو سینتیس مثل ہے تو دونوں جانب کے پانیوں کا آفتاب سے بعد ۱/۱۱۵۳۷کا فرق رکھے گا تو جذب دونوں طرف تقریبا برابر ہوگا۔لیکن قمر کا زمین سے بعد قطر زمین کے تیس ہی مثل ہے لہذا دونوں طرف کا فرق ۱/۳۰ ہوگا تو جذب میں تفاوت بین ہوگا اور اسی پر مد کا توقف ہے اور بالاخر نتیجہ یہ دیا کہ قمر شمس::۲ /۱۔۲:۱
اقول:اولا: موج مدکو تفاوت جذب جانبیں ارض پر موقوف ماننا کیسا جہل شدید ہےجب ایك جانب جذب ہو بداہتہ ارتفاع ہوگا خواہ دوسری جانب جذب اس سے کم یا زائد یا برابر ہو یا اصلا نہ ہو۔
ثانیا: اب بھی چار مد بدستور رہے قمر سے دو بار ستر فٹ اٹھے تو شمس سے دوبار اٹھائیس فٹ۔
وجہ پنجم:کہتے ہیں اجتماع یا مقابلہ نیرین کے وقت مداعظم یوں ہوتا ہے کہ دونوں جذب معا عمل کرتے ہیں۔
اقول:مقابلہ میں اثر واحد مقتضائے ہر دو جاذبہ نہ ہوگا بلکہ متضاد کہ ہر ایك اپنی طرف کھینچے گا اس کی صورتوں کی تفصیل اور نتائج کی تحصیل اور یہاں جو کچھ ہیأت جدیدہ نے کہا اس کی تقبیح و تذلیل موجب تطویلسے جانے دیجئے مگر تصریح ہے کہ مداعظم اجتماع واستقبال کے ڈیڑھ دن بعد ہوتا ہے وہاں تو پانی نے ۹ ہی گھنٹے اثر نہ لیا تھا یہاں ۳۶ گھنٹے ندارداگر اثر اجتماع دو جذب تھا وقت اجتماع پیدا ہوتا نہ کہ بارہ پہرگزار کر۔
وجہ ششم:یوں ہی تربعین میں بھی مد اقصر ۳۶ گھنٹے بعد ہے۔
وجہ ہفتم:اقول: اگر یہ جذب قمر ہوتا تو ہمیشہ دائرۃ الارتفاع قمر کی سطح میں رہتا تو بحرین شمالی و جنوبی میں جن کا میل میل قمر سے زائد ہے جب قمر افق شرقی پر ہوتا مد جانب مشرق چلتا شمالی میں جنوب کو مائلجنوبی
", ص ۲۷۳ ص ۱۵۹۔ ۱۲۔
1070,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,238,"میں شمال کوپھر جتنا قمر مرتفع ہوتا شمالی کا جنوب جنوبی کا شمال کو مائل ہوجاتا۔جب نصف النہار پر پہنچتا شمالی کا ٹھیك جنوبی جنوبی کا ٹھیك شمالی ہوجاتاجب غرب کی طرف چلتا دونوں جانب غرب متوجہ ہوتے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ مد کی حرکت مغرب سے مشرق کو مشاہدہ ہوتی ہے اس کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ مدسیر قمر کا اتباع کرتا ہے۔
اقول:مجذوب کو موضع جاذب کا اتباع لازم ہے اس کی طرف کھینچےنہ یہ کہ چال میں اس کی نقل کرےقمر اپنی سیر خاص سے جس میں روبمشرق ہے دو گھنٹے میں کم و بیش ایك درجہ چلتا ہے اور اتنی ہی دیر میں زمیں تمہارے نزدیك ۳۰ درجے مشرق ہی کو چلتی ہیں تو ہر گھنٹے پر ساڑھے چودہ درجے مغرب کو پیچھے رہتا ہے تو مدکولازم کہ جانب جاذب یعنی مشرق سے مغرب کو جائے نہ کہ اس کی چال کی نقل اتارنے کو اسے پیچھ کرکے اپنا منہ بھی مشرق کو لے کر جتنا چلے جاذب سے دور پڑے۔
وجہ ہشتم:اقول: موسم سرما میں صبح کا مد کیوں زیادہ بلند ہوتا ہے اور گرما میں شام کاکیا سردی میں چاند صبح کو پانی سے زیادہ قریب ہوتا ہے شام کو دور ہوجاتا ہےاور گرمی میں بالعکس۔
وجہ نہم:اقول: مد کی چال تجددامثال سے ہے نہ یہ کہ وہی پانی جو یہاں اٹھا تھا کسی طرف منہ کرکے سطح آب کی سیر کرتا ہے اثر قمر سے سب اجزائے آب پر باری باری ہے تو سب متاثر ہوں گے نہ کہ ایك اثر لے کر دوڑتا پھرے باقی چپکے پڑے رہیں۔اس کی نظیر سایہ ہے جب آدمی چلتا ہی دیکھنے والے کو گمان ہوتا ہے۔کہ سایہ اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ایسا نہیں بلکہ جب آدمی یہاں تھاآفتاب یا چراغ سے یہ جگہ محجوب تھی۔اس پر سایہ تھا جب آگے بڑھایہ جگہ حجاب میں نہ رہی یہ سایہ معدوم ہوگیا اب اگلی جگہ حجاب میں ہے اس پر سایہ پیدا ہوااسی طرح ہر جز حرکت پر ایك سایہ معدوم اور دوسرا حادث ہوتا ہے۔سلسلہ پے درپے بلافصل ہونے سے گمان ہوتا ہے کہ وہی سایہ متحرك ہے یہی حال یہاں ہونا لازم تو اوقیانوس شمالی میں جہاں قمر پانی سے جنوب کو ہے ضرور ہے کہ پانی کا جنوبی حصہ پہلے اٹھے پھر جو اس سے شمالی ہے کہ اقرب فالاقرب کا سلسلہ بھی یہی ہے اور ہر قریب تر پر خط جذب بھی استقامت سے قریب ہے تو مد کی چال جنوب سے شمال کو ہو اور اسی دلیل سے اوقیا نوس جنوبی میں شمال سے جنوب کوحالانکہ ہوتا عکس ہے۔شمالی میں موج جنوب کو جاتی ہے جنوبی میں شمال کو۔
وجہ دہم: مد کی چال بحراطلانتك یعنی اوقیانوس غربی میں فی ساعت سات۷۰۰سو میل ہے۔
"," ح ص ۲۰۷۔ ۱۲۔
ح محل مذکور ۱۲۔
ص ۲۲۷۔ ۱۲۔
ص ۲۷۳۔۱۲۔
"
1071,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,239,"جزائر غربیہ و آئرلینڈ کے درمیان ۵۰۰ میل کہیں ۱۶۰ میل کہیں ۶۰ کہیں ۳۰ ہی میل جذب قمر میں یہ اختلاف کیوںبالجملہ جذب قمر راست نہیں آتارہا دوران یعنی وجود وعدم میں دوشے کی معیت ایك کے لیے دوسری کی علیت پر دلیل نہیں نہ کہ بعدیتہاں ان مشاہدات سے اتنا خیال جائے گا کہ علت کو ان اوقات سے کچھ خصوصیت ہے اگر کہیے علت کیا ہے۔
اقول: اولا:ہمارے نزدیك ہر حادث کی علت محض ارادۃ اﷲ جل وعلا ہے مسببات کو جو اسباب سے مربوط فرمایا ہے سب کا جان لینا ہمیں کیا ضروربلکہ قطعا نامقدور کون بتاسکتا ہے کہ سوزن مقناطیس کا جدی الفرقد سے کیا ارتباط ہےابھی گزرا کہ اصول ہیأت میں بحیرات وانہار میں مدنہ ہونا سبب مجہول کی طرف نسبت کیا اسی طرح اماکن مختلفہ سے اختلاف مدت حدوث مدکو۔
ثانیا: ہمارے یہاں تو ثابت ہی تھا کہ سمندر کے نیچے آگ ہے۔قرآن عظیم نے فرمایا: "" و البحر المسجور ﴿۶﴾"" (اور قسم ہے سلگائے ہوئے سمندر کیت)
حدیث میں ہے:ان تحت البحرنارا۔ (بے شك سمندر کے نیچے آگ ہے۔ت)
ہیأت جدیدہ بھی اسے مانتی ہے ۱۰۵۶ء میں بحرالکاہل سے دھواں نکلنا شروع ہوا اور مادہ آتشی کہ قعر دریا سے نکلا تھا مجتمع و منجمد ہو کر سطح آب پر بشکل جزیرہ ہوگیا اس میں سوراخ تھے جن سے ایسے شعلے نکلتے کہ دس میل تك روشن کرتے۔طوفان آب کے اسباب سے ایك سبب دریا کے اندر بخارو دخان پیدا ہونا ہےایسے ہی بخارات اندر سے آتے اور پانی کو اٹھاتے ہوں یہ مد ہوا جیسے جوش کرنے میں پانی اونچا ہوتا ہے ان کے منتشر ہونے پر پانی بیٹھتا ہو یہ جزر ہواجاڑوں میں صبح کا مد زیادہ ہونا بھی اس کا موید ہے سرما میں صبح کو تالابوں سے بکثرت بخارات نکلتے ہیںکنویں کا پانی گرم ہوتا ہےسطح ارض پر استیلائے برد کے سبب حرارت باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور رات بڑی اس طویل عمل حرارت سے ادھر بخارات زیادہ اٹھے پانی میں زیادہ بلند ہونے کی استعداد آگئی "" واللہ بکل شیء علیم ﴿۶۴﴾"" ۔
"," القرآن الکریم ۵۲/۶
المستدرك للحاکم کتاب الاھوال ان البحرھوجہنم،دارالفکر بیروت،۴/ ۵۹۶
جغ ص ۲۶۔۱۲ جغ سے مراد جغمینی یا چغمینی ہے۔عبد النعیم عزیزی
ح ص ۲۰۸ وغیرہ ۱۲
القرآن الکریم ۲۴/۶۴
"
1072,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,240,"(۱۷)جاذبیت مرکز سے نکل کر اس کے اطراف میں خط مستقیم پر پھیلتی اور مرکز ہی کی طرف کھینچتی ہے۔
اقول:یہاں تك کہہ سکتے تھے کہ جاذبیت کا آغاز مرکز سے ہےنہ یہ کہ مرکز ہی جاذب ہے مگر نمبر۱۵ میں گزرا کہ حدائق میں مجذوب کا بعد مرکز زمین سے لیا اور اس کے اختلاف پر وزن گھٹایا یوں ہی اصول الہیات میں مرکز زمین سے بعد لیا اس کا مفادیہ ہے کہ مرکز ہی جاذب ہے۔لیکن اولا: یہی لوگ قائل ہیں کہ ہر شئے میں جذب ہے۔ثانیا: یہ کہ جذب بحسب مادہ جاذب ہے۔(نمبر۱۰)(مرکز میں اختلاف مادہ کہاں۔
ثالثا: اختلاف کثافت سے اختلاف قوت مرکز قدر قرین قیاس تھی حجم کرہکا مرکز پر کیا اثر مگر بالعکس ہے۔کثافت عطارد زمین سے زائد ہے مگر بوجہ صغر جاذبیت ۳/۵ کثافت زمین شمس سے چوگنی ہے مگر جاذبیت ۱/ ۲۸(نمبر۱۵)
رابعا: یہی کہتے ہیں جو زمین کے اندر چلا جائے اس کے اوپر کے اجزاے زمین اسے اوپر کھینیچیں گے اور نیچے کے نیچے کو اور خاص مرکز پر سب طرف کوشش اجزاء یکساں ہوگی اور یہی ان کے قواعد سے موافق تر ہے۔
(۱۸)ہوا پانیمٹی سب مل کر ایك کرہ زمین ہےیہ سب ثقیل ہیںہوا روئے زمین سے ۴۵ میل بلندی تك ہے اور اتنی بھاری ہے کہ ایك انچ مربع جگہ پر اس کا بوجھ ۱۵ پونڈ ہے ہر میانہ قد آدمی پر ۳۹۲ من کے قریب بوجھ ہے یہاں سے صرف ۳۷ میل بلندی تك ہوا کا وزن ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۱۴۴۹۸۴۰۰۰ من ہے یہ ہیات جدیدہ کے تخیلات ہیں ہمارے نزدیك عنصر چار ہیں نارو ہوا خفیف و طالب علم اور آب و خاك ثقیل وطالب سفلہیأت جدیدہ نے ثقل ہوا پر یہ دلیل پیش کی کہ بوتل کو تو لو پھر بذریعہ آلہ اسے ہوا سے خالی کرکے تولو۔اب ہلکی ہوگی چھ انچ مکسر بوتل کا وزن ہوانکال کر تولنے سے دو گرین ہے معتدل کی قید اس لیے کہ زیادہ گرمی سے ہوا رقیق ہو کر وزن گھٹ جائے گا۔اقول:بلکہ تمہاری نافہمییہ ہوا کا وزن نہیں زمین سے قریب ہوا میں اجزائے ارضیہ اجزائے بخاریہ و اجزائے دخانیہ وغیرہا مخلوط ہیں ان کا وزن ہے یہ تو ان کی دلیل کا ابطال ہوا۔دعوے کی ابطال کی کیا ضرورت ہر شخص اپنے
"," ح ص ۳۸۔۱۲
ط ص ۱۱۴۔۱۲
ص ص۲۶۶۔۱۲
ط ص۸۳۔۱۲
ح ص ۱۵۲۔۱۲
ط ص ۱۳۴۔۱۲ اور ح میں ۵/ ۲۔۱۴پونڈ کہا ۱۲ منہ غفرلہ
ط ص۱۱۔۱۲
ص ص ۱۲۰۔۱۲
ط ص ۱۳۴۔۱۲
"
1073,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,241,"وجدان سے جانتا ہے کہ اسے اپنے سر پر ماشہ بھر بھی بوجھ نہیں معلوم ہوتا نہ کہ ۳۹۲ منانسان تو انسان ہاتھی کی بھی جان نہ تھی کہ اتنا بوجھ سہارے اور سہارنا کیسا محسوس تك نہ ہواس کے دو جواب دیتے ہیں اول یہ کہ آدمی کے اندر بھی ہوا ہے باہر کی ہوا انسان کو دباتی اور اندر کی ہوا ابھارتی ہے یوں مساوات رہتی ہے اور بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔باہر کی ہوا نہ ہوتی تو اندر کی جسم کو چاك کرکے نکل جاتیبیرونی ہوا کے دباؤ میں ضرر کی جگہ نفع دیا۔
اقول:اولا: کہاں یہ جوف بشر کی دو چار ماشے ہوا اور کہاں وہ ۳۹۲ من پختہ کا انبار کچھ بھی عقل کی کہتے ہوزمین کی نافریت اپنے تیرہ۱۳ لاکھ گناہ آفتاب کی جاذبیت پر غالب آتی ہے۔سب سیارے مل کر کہ چاند سے کروڑوں حصے زیادہ قوی ہوئے اسے کھینچتے ہیں اور وہ نہیں سرکتا۔چاند کا جذب اپنے سے مہاسنکھوں زائد جذب زمین پر غالب آکر پانی بلکہ خود سارے کرہ زمین کو کھینچ لے جاتا ہےدو ماشے ہوا چار سو من ہوا کا بوجھ برابر کرتی ہے کوئی بات بھی ٹھکانی کی ہے۔
ثانیا:وہ اپنی بوتل کہاں بھلائیجب ہوا سے خالی کر اندر کا ابھار گیا اور اوپر سے منوں کا بوجھبوتل ٹوٹ کیوں نہ گئیتمہارے تولنے کو کیوں باقی رہی۔
ثالثا: اندر کی ہوا کیا بیرونی ہوا کی غیر جنس ہے اس میں دبانا اس میں ابھارنا کیوں ہے۔
رابعا: جب ہوا ثقیل ہے اندر کی بھی ثقیل ہے بلکہ آمیزش رطوبات سے ثقیل ترثقیل اپنے سے ہلکے کو ابھارتا ہے جسم انسانی ہوا سے کہیں بھاری ہے اسے ابھارنا کیا معنی ! واجب تھا کہ اندر کی ہوا بھی جذب زمین سے متاثر ہو کر نیچے کو دباتی مگر اقرار کرتے ہو کہ اوپر کو ابھارتی ہے تو معلوم ہوا کہ جذب زمین بھی باطل اور ہوا کا ثقل بھی باطلبلکہ وہ خفیف و طالب علو ہے۔
دوم یہ کہ ہوا کا یہ بوجھ اجزائے جسم پر مساوی تقسیم ہے لہذا محسوس نہیں ہوتا۔
اقول:اولا: یہ عجیب منطق ہے کہ ایك طرف سے دباؤ تو بوجھ معلوم ہو اور سب طرف سے صد ہاان کے دباؤ میں پیسو تو رتی بھر بھی محسوس نہ ہوایك گولر کو صرف اوپر سے ہتھیلی رکھ کر دباؤ تو وہ پچك جائے گا اور مٹھی میں لے کر چاروں طرف سے دباؤ تو سرمہ ہوجائے گا۔
ثانیا:مساوی تقسیم بھی غلط ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ ہوا جسے کرہ بخار و عالم نسیم کہتے ہیں اس کا دل سر کی جانب صرف ۴۵ میل اور دہنے بائیں آگے پیچھے چھ سو میل کے قریب ہے
"," ط ص ۱۳۲۔۱۲
ان سب کابیان فصل دوم میں آتا ہے۔۱۲ منہ غفر لہ
"
1074,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,242,"تو ایك طرف سے اگر ۳۹۲ من بوجھ ہے اور اطراف سے ۵۲۲۷ من ہے پھر مساوات کہاں۔
ثالثا: سب اجزائے جسم پر تقسیم بھی غلط کھڑے ہونے میں تلووں پر ہوا کا کیا بوجھ ہے اور لیٹنے میں ایك جانب سر سے پاؤں تك کچھ نہیں۔
رابعا: بالفرض سہی تو ایك انسان کے سر کی سطح بالا کہ نیم سطح بیضی کے قریب ہے کم و بیش اسی انچ ہے اور تمہارے نزدیك ایك انچ کی سطح پر ہوا کا بوجھ ۰۷ / سیر تو صرف سر پر ۱۵ من بوجھ ہوا یہ تو اور اجزاء پر تقسیم نہیںکیا انسان کا سر ۱۵ من بوجھ اٹھا سکتا ہےکیا وہ پس کر سرمہ نہ ہوجائے گا نہ کہ اصلا محسوس تك ہو۔اس جواب دوم کو پانی کی مثال سے واضح کیا جاتا ہے کہ دیکھو دریا میں غوطہ لگاؤ تو صد ہا من پانی اوپر ہے مگر بوجھ نہ معلوم ہوگا اس کی وہی وجہ ہے کہ سب طرف سے دباؤ مساوی تقسیم ہے۔
اقول:ہزار ہاتھ گہرے کنویں میں غوطہ لگا کر تہہ تك پہنچے جب بھی بوجھ محسوس نہ ہوگا حالانکہ سارا پانی سر ہی پر ہے کروٹوں پر صرف بالشت دو بالشت پاؤں پر کچھ نہیں تو وجہ یہ نہیں بلکہ وہ جس کی طرف ابھی ہم نے اشارہ کیا کہ ثقیل اپنے حیز میں اپنے سے ہلکے کو ابھارتا ہے جس کا خود ہیات جدیدہ کو اعتراف ہے ولہذا غوطہ خور کو نیچے جانے میں پانی کے ساتھ زور کرنا پڑتا ہے اور اوپر بسہولت اٹھتا ہے۔اور جو خود ابھارے اس کا دباؤ پڑنا کیا معنی بخلاف ہوا کہ جسم انسان سے ہلکی ہے یہ اگر ثقیل ہوتی تو اس صد ہا من بوجھ سے ضرور انسان کو پیس ڈالتی اگر کہیےزمین کے قریب ہوا میں ابھی تم نے بھی وزن تسلیم کیا پھر کچھ تو محسوس ہو۔
اقول: وہ اجزاء غبار و بخار و دخان وغیرہا نہایت باریك باریك ہو امیں متفرق ہیں تو انسان کے سر سے گنتی کے جز متصل ہوتے ہیں جن سے زیادہ گرد اڑ کر سر پر پڑنے میں ہوتے ہیں جن کا بار اصلا محسوس نہیں ہوتا۔ان دونوں جوابوں کی غلطی ظاہر ہوگئی۔
اقول:یہاں اور مباحث و انظار دقیقہ ہیں جن کی تفصیل موجب تطویلنہ ہم کو ضرورت نہ دلیل ابطال کی حاجت کہ ہم ابطال دلیل کرچکے رددعوے کو اسی قدر بس ہے کہ دعوی بے دلیل باطل وذلیل۔رہا حقیقت ماننا اس کے لیے شہادت حس کافی ہے کہ کس قدر کثیر حجم کی سروں پر موجود ہے اور باز نہیں ڈالتی بلا دلیل اس شہادت کو غلط نہیں کہہ سکتے جیسے حس بصر میں اغلاط ہوتے ہیں مگرغلطی وہیں مانی جاتی ہے جہاں دلیل سے خلاف ثابت ہو بلادلیل تغلیط حس سے امان اٹھا دینا ہے تو روشن ہواکہ ہوا کو خفیف ہی کہا جائے گا اور اس کا ثقیل ماننا باطل۔
"," ص ۱۳۲۔۱۲
ط ص ۱۲۰۔۱۲
"
1075,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,243,"(۱۹)ہوائے تجارت یعنی مقامی ہوا کہ خط استوا میں ہمیشہ مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اور عرض شمالی میں شمال اور جنوبی میں جنوب سے خط استوا کی طرف مائل ہوتی ہے اور بحر احمر میں ہمیشہ سواحل عرب شریف کی موازات کا لحاظ رکھتی ہے اور تجارت کے لیے کمال نافع ہے اس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ خط استوا پر حرارت شمس زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی ہوا ہلکی ہو کر اوپر چڑھتی ہے اور قطبین کی ہوا تعدیل کے لیے یہاں آتی ہے خط استوا پر حرکت زائد ہے کہ مدار بڑا ہے جتنی تیز حرکت یہاں ہے ہوا کہ طرفین سے اتنی تیز حرکت نہ کرے گی تو اس کی گردش زمین کے برابر نہ ہوگی بلکہ زمین اس کے اندر گردش کرے گی اور مشرق کو زیادہ بڑھ جائے گی۔ہوا مغرب کی طرف پیچھے رہ جائے گی لہذا خط استوا پر ہوا شرقی ہوگی یعنی مشرق سے مغرب کو جاتی معلوم ہوگی ہوا کہ قطبین سے خط استوا کی طرف تعدیل کے لیے چلی شمالی سیدھی جنوبی نہیں رہتی بلکہ جنوبی مغربی ہوجاتی ہے اور جنوبی سیدھی شمالی نہیں رہتی بلکہ شمالی مغربی کہ وہ خط استوا کے قریب اتنی تیز رفتار نہیں کرسکتی تو زمین کا وہ حصہ نکل جائے گا اور شمالی ہوا کا رخ بجائے جنوب جنوب و مغرب اور جنوب کا بجائے شمال شمال و مغرب کو ہوجائے گا۔
اقول: تعدیل کیا واجب ہے اور خلا تمہارے نزدیك محال نہیں پھر ہوائیں کیوں الٹ پلٹ ہوتی ہے۔
(۲۰)زمین اگر ابتدائے آفرنیش میں جامد ہوتی اور اپنے محور پر گھومتی تو خط استوا پر پانی کے سبب یکساں رہتی مگر پانی سیال تھا اور خط استوا پر حرکت سب سے زیادہ تو اسی طرف پانی کا ہجوم ہوتا اور قطبین جہاں حرکت نہیں پانی سے کھل جاتے لیکن ایسا نہیں تو معلوم ہوا کہ زمین ابتدا میں جامد نہ بنائی گئی۔
(۲۱)زمین خط استوا پر اونچی اور قطبین کے پاس چپٹی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اول میں سیال ہی بنائی گئی تھی تیزی حرکت کے باعث خط استوا پر اس کے اجزاء زیادہ چڑھ گئے اور قطبین کے پاس کم ہوگئے۔حدائق میں ان دونوں مضمونوں کو یوں بیان کیا زمین کی محوری حرکت سے ضرور تھا کہ کرہ آب شلجمی شکل ہوتا کہ حرکت مستدیرہ میں جسم لطیف مرکز سے متجاوز ہوگا اور جہاں تیزی حرکت ہے وہاں زیادہ جمع ہو کر شلجمی شکلہوجائے گا اگر زمین ابتدا میں سخت ہوتی مواضع خط استوا غرق آب رہتے حالانکہ وہاں اکثر خشکی ہے۔تو معلوم ہوا کہ زمین خود ہی شلجمی ہے یعنی ابتدا میں سیال تھی حرکت محوری کے سبب یہ شکل ہو کر اس کے بعد منجمد ہوئی اور
"," جغ ص ۹۔۱۲
ط ص ۱۴۱۔۱۲
جغ ص۹۔۱۲
ص۱۰۵۔۱۲
ط ص ۸۲ و ص۱۰۵ ۔۱۲
ح ص ۱۵۷۔۱۲
"
1076,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,244,"اسی کو شروع حدیقہ سوم میں تمام سیا رات پر یوں ڈھالا کہ حرکت وضعیہ قطبین پر اصلا نہیں ہوتی پھر بڑھتی جاتی ہے اور منطقہ پر سب سے زائد تیز ہوتی ہے اور طبیعات میں ثابت ہے کہ حرکت موجب حرارت جاذب رطوبات تو ضرور ہوا کہ قطبین سے اجزا منتقل ہو کر منطقہ پر جمع ہوجائیں اور قطر استوائی محور سے بڑا ہو اھ یہ تقریر نافریت سے دور اور قبول سے نزدیك ہے اگر سیا رات کا سیال ہونا ثابت ہوتا۔
(۲۲)دونوں نقطہ اعتدال ہر سال مغرب کو ۲ء۵۰ ہٹتے جاتے ہیں اسے مبادرت اعتدالین کہتے ہیںیہ ہٹنا صحیح ہے جس کی وجہ ہیأت قدیمہ میں فلك البروج کا برخلاف معدل مشرق کو آنا ہے یہ نقطہ تقاطع مغرب میں رہ جاتا ہی اور اس کی جگہ دوسرا نقطہ قائم ہوتا ہے۔لہذا نقطہ تقاطع معدل النہار سے شخصی ہے اور فلك البروج سے نوعی کہ منطقہ کی حرکت شرقی کے سبب معدل کے اس پر نطقہ پر منطقہ کے مختلف نقطے آتے رہتے ہیں۔
ا ح ب معدل النہار اء ب فلك البروج معدل کی حرکت کہ شرق سے غرب کو ہے اس میں تو منطقہ بھی اس کا تابع ہے اس سے کوئی تفاوت نہ ہوگا لیکن منطقہ اپنی ذاتی حرکت خفیفہ مغرب سے مشرق کو رکھتا ہے۔ا ج تقاطع نقطتین اب پر ہے اب منطقہ کا نقطہ ا حرکت کرکے ہ پر آیا تو ضرور نقطہ ح کہ اس سے مغرب کو تھا ا کی جگہ آئے گا ا ب ح پر تقاطع ہوگا جواسے مغرب کو تھا جبحچل کرہکی جگہ آئے گاطکہ اس سے مغربی ہے محل تقاطع پر آئے گا یونہی جب امحلہپر آیا ضرور ہے کہ ب بڑھ کرککی جگہ آیا اوراب ءکہ اس سے مغرب کو تھابکی جگہ تقاطع پر آیا جب یہککی طرف بڑھالنے کہ اس سے مغرب کو تھا تقاطع کیا یوں ہر روز تقاطع منطقہ کے عربی نقطوں پر منتقل رہے گا جس کی مقدار روزانہ تقریبا دس ثالثے بتائی گئی ہے کتنی صاف وجہ ہے جس پر عقلا کچھ غبار نہیں لیکن ہیأۃ جدیدہ کو تو ہر چیز جاذبیت کے سر منڈھنی بنے خواہ نہ بنے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ زمین خط استوا پر پھولی ہوئی ہے تو شمس و قمر کا بہ نسبت اور اجزائے زمین کے اس چھلے پر بوجہ قرب جذب زائد ہے آفتاب اس کے ہر جز کو منطقہ البروج کی طرف کھینچتاہے اور اور وہ جز ء زمین کی حرکت محوری سے اسی چھلے کے ساتھ جانا چاہتا ہے لاجم دونوں سمتوں کے بیچ میں بڑھتا ہے اور سارا چھلا اسی کشمکش میں ہے لہذا منطقہ البروج سے تقاطع کے نقطے اب آگے مغرب کو پڑتے ہیں اور یہ فعل مستمر رہتا ہے مگر جب آفتاب نقطتین اعتدال پر ہو جیسے مارچ ستمبر میں کچھ دیر تو اتنی دیر البتہ یہ فعل
"," ح ص۹۷۔۱۲
ص۱۸۰ نیز ح ص ۱۷۲۔۱۲
"
1077,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,245,"باطل ہوگا کہ خط استوا یہاں خود ہی دائرۃ البرج سے متحد ہے تو ایك دوسرے کی طرف کھینچے گا کیا اور سب سے زائد اس وقت ہوگا جب آفتاب مدارین میں ہو یعنی راس السرطان ور اس ابجدی پر اور اس میں بوجہ قرب قمر کا فعل شمس سے زائد ہے یعنی ۷/۳ اور چند سطر بعد کہا تقریبا ۵ /۲ مجموع جذب نیرین سے اعتدالین ۴۱ء ۵۰ ہر سال ہٹتے ہیں مگر اور سیاروں کی جاذبیت ان کے فعل کی ضد ہے وہ مبادرت کو ۲۱ء ۰ گھٹاتی ہے لہذا ۲۰ء۵۰ رہتی ہے مبادرت کی تصویر یہ ہے۔
اب ء منطقہ پر ر محل شمس ہے وہ ا ح ب معدل کے مثلا نقطہ ہ کو اپنی طرف جذب کرتا ہے لیکن وہ زمین کی حرکت محوری سے اسی دائرہ ا ح ب پر جانب ا جانا چاہتا ہے دونوں تقاضوں کے تجاذب سے وہ نہ ر کی طرف جائے گا نہ ا کیبلکہ دونوں کے بیچ میں ہو کر ح کی طرف بڑھے گا اور اب ا کی جگہ اور نقطہ کہ اس سے مغربی تھا نقطہ تقاطع ہوجائے گا۔
اقول: یعنی ہ کا ح کی طرف بڑھنا یوں تو نہ ہوگا کہ ہ چھلے سے نکل کر خط ہ ح پر بڑھ جائے بلکہ سارا ہی چھلا اس طرح بڑھے گا کہ ہ ادھر ر سے قریب ہوجائے اور ادھر ح سے تو ا اپنی اس جگہ سے باہر نکل جائے گا اور اس کی جگہ اس کے بعد کا نقطہ ح کی طرف قریب کے نقطہ سے مل کر تقاطع پیدا کرے گا ممکن نہیں کہ معدل کا وہی نقطہ ہٹ کر تقاطع کرے کہ ہ جذب کے سبب جست کرکے اونچا ہوگیا ہے تو یہاں ا ہ کے قابل فاصلہ نہ رہالاجرم ا آگے نکل گیا اور اس کے پیچھے کانقطہ محل تقاطع ہوا اور اب یہ شکل ہوگی۔
ا پہلے نطقہ تقاطع تھا جب ہ بڑھ کر ہ کی جگہ آیا خط استوا کا حصہ اہ ا ب حصہ ا ہ ہوا ا موضع تقاطع سے آگے نکل گیا اور تقاطع منطقہ کے نقطہ اسے پیچھے ہٹ کر مغرب کو پڑا تو اب ط نقطہ تقاطع ہوا کہ ح سے بہ نسبت ر پہلے تقاطع کے قریب ہے تو ان کے طور پر تقاطع دائرۃ البروج و معدل النہار یعنی خط استوا دونوں سے نوعی ہے اس کا نوعی ہونا تو ظاہر کہ تقاطع منطقے کے اجزائے غربیہ پر منتقل ہے اور اس کا یوں کہ اسے جاذبیت نے بڑھا یا اور پہلے نقطے کو قائم نہ رہنے دیا ان کے طور پر غربیت کیوں ہوئی۔
اقول:اسے ہم اپنے طریقے پر توضیح کریں اگرچہ دو نصف بالائے افق و زیر افق کے اعتبار سے مشرق و مغرب کی تعبیر بدلتی ہے۔ہمارا مشرق امریکہ کا مغرب ہے اور ہمارا مغرب اس کا مشرقمگر توالی بروج متبدل نہیں اور وہ ہر جگہ مشرق سے مغرب کو ہےحمل جہاں ہو ثور اس سے مشرق میں ہے۔کہ اس کے بعد طالع وغارب ہوگا
", ص ۱۹۰ دونوں میں ۱/ ۲۵ کا فرق ہے ۱۲ منہ غفرلہ
1078,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,246," اور حوت مغرب میں کہ پہلے یونہی ہر جگہ میزان سے عقرب شرقی اور سنبلہ غربی تو جو چیز توالی بروج پر انتقال کرے مثلا حمل سے ثور میں آئے یا راس الحمل سے حمل کے دوسرے درجے میں وہ مغرب سے مشرق کو جاتی ہے اور جو چیز خلاف توالی محترك ہومثلا حمل سے حوت کے ۳۰ سے ۲۹ میں و ہ مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اس شکل میں اگر ا مشرق پر راس الحمل ہے تو ضرور اط ح ر ا لخ حوتدلوجدی الخ ہیں خواہ ا ر قوس بالائے افق ہو کہ یہ اس سے پہلے طلوع کرتے ہیں یا قوس زیر افق کہ اب ا کہ ادھر کا مشرق ہی ہمارا مغرب ہے اور حوت دلو جدی الخ اس سے پہلے غروب کرتے ہیں اور اگر مشرق پر راس المیزان ہے تو ضرور بوجہ مذکوردونوں صورتوں میں اط ح ر الخ سنبلہ اسد سرطان الخ ہیں اب کہ ا کی جگہ ط نقطہ تقاطع ہوا۔پہلے صورت میں راس الحمل اپنی جگہ سے ہٹ کر حوت سابق کا کوئی حصہ راس الحمل ٹھہرا اور دوسری صورت میں راس المیزن ہٹ کر سنبلہ سابقہ کا کوئی نقطہ راس المیزان ہوا بہرحال نقطہ اعتدال خلاف توالی پر بڑھا تو مغرب کو ہٹا۔وھو المقصود۔
تم سمجھے کہ یوں جاذبیت کے ہاتھوں مبادرت بن گئی اب رد سنیے:
فاقول:اولا: ایك سہل سوال تو پہلے یہی ہے کہ شمس کا جذب صرف خط عمود پر نہیں بلکہ تمام اجزائے مقابلہ پر ہے اگرچہ موقع عمود پر زائداور ظاہر ہے کہ چھلے کے اجزاء اگرچہ ایك سمت میں نہیں کہ قوس کے ٹکڑے ہیں مگر انکی سمتیں قوس انتظام میں منتظم ہیں ان پر جذب کے جو خطوط آئیں گے ان کی سمتوں کا اختلاف اور رنگ کا ہوگا اور مختلف زاویے بناتے آئیں گے ہر جز اپنے زاویے کے بیچ میں نکلے گا جو قوسی انتظام میں منتظم نہیں تو کیا وجہ کہ اجزاء متفرق نہ ہوجائیں اس کا ثبوت تمہارے ذمہ ہے کہ ان کا نکلنا ایسے ہی تناسب پر ہوگا کہ چھلا بدستوار برقرار رہے۔
ثانیا: جب عمود و منحرف کا بھی فرق اور قرب بھی مختلفلاجرم جذب مختلف تونافریت مختلف تو چال مختلف تو اجزاء متفرق اور چھلا منتشر۔
ثالثا: وسط کے جز پر سب سے زیادہ جذب ہے اور دونوں پہلوؤں پر بتدریج متناقص تو واجب کہ چھلے کا جزءاوسط سب سے زیادہ اپنے محل سابق سے تجاوز کرے اور دونوں طرف کے اجزاء اخیر تك بترتیب کم تو موضع تقاطع کے دونوں جز اپنے محل سابق سے بہت کم ہٹے ہوں اور باقی کا بعد بڑھتا جائے یہاں تك کہ جز اوسط سب سے زیادہ اپنی پہلی جگہ سے دور ہوجائے مگر یہاں یہ ناممکن بلکہ اس کا عکس واجب کہ جب دونوں دائروں کا نقطہ تقاطع پیچھے ہٹا ہے تو خط استوا کی اب جو وضع ہوگی وہ پہلی وضع سے قطعا وسط میں متقاطع ہوگی۔
",
1079,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,247,"مثلا ا ر اس الحمل ب راس المیزان تھا اب راس الحمل ح پر ہوا تو واجب کہ راس المیزان ء پر ہو ح ء کو وصل کرنے والی قوس یقینا قوس سابق ا ب سے وسط میں تقاطع کرے گی تو ثابت کہ محل تقاطع کے اجزاء اپنی جگہ سے بہت زیادہ ہٹے اور پھر بعد گھٹتا گیا یہاں تك کہ وسط پر اصلا نہ رہا بالکل اس کا عکس جو جاذبیت کا متقضی تھا تو جاذبیت سے مبادرت ماننا جہل محض ہے۔
رابعا: جذب نیرین کا اثر ہمیشہ متوافق ماننا جز اف ہے بلکہ کبھی متوافق ہوگا جیسے اجتماع میں اور اس وقت مبادرت بہت سریع ہونا چاہیے کہ دسویں حصے ایك طرف کھینچ رہے ہیں اور کبھی متخالف ہوگا کبھی متعارض جیسے اس شکل میں
اب منطقہ اح خط استواء شمس ر قمر نقطہ ۃ خط اہ پر جانا چاہتا ہے اور شمس اسے ء ہ پر کھینچتا ہے تو اس کا مقتضی خط ہ ح پر جانا ہوگا اور قمر رہ پرکشش کرتا ہے اس کا مقتضی خط ہ ط پر جانا ہوگا۔اب اگر بعد قمر سے کمی جذب اس نسبت ۷/ ۳ سے جو ان کے جذبوں میں ہے زائد ہے قمر کا اثر ضعیف ہوگا کم ہے شمس کا اثر سست ہوگا برابر ہے تو دونوں اثر مساوی ہوں گے بہرحال اس پر تین مختلف اثر ہیں بحال تعارض اگر جذب نیرین ساقط ہو سیدھا ا ہ پر جائے گا مبادرت ہوگی ہی نہیں بحال تخالف اگر سست معتدبہ نہ رہے اگر وہ اثر شمس ہے ہ ط پر جائے ا ور اثر قمر تو ہ ح پر ورنہ ان تینوں کے سوا چوتھا خط نکالے گا بہر طور مبادرت کی چال ہر گز منتظم نہ ہوگی حالانکہ باتفاق ارصاد منتظم ہے۔
خامسا: جاذبیت دیگر سیارات کا مبادرت کو گھٹانا یونہی ہوسکتا ہے کہ نیرین اعتدالین کو جانب غرب بڑھاتے اور یہ جانب شرق پھینکتے یا مطلقا حرکت سے روکتے ہوں ثانی تو بداہۃ باطل کو روکنا کا رجاذبیت نہیں اور اول یعنی تقاطع کا کسی ایسے نقطہ منطقہ پر لے جانا جو پہلے نقطے سے مشرق کو ہو اسی حالت میں متصور
کہ وہ نصف شمالی میں خط استوا سے جنوب کو ہوں یا نصف جنوبی میں شمال کو کہ اس صورت میں سیارہ ء معدل کے نقطہ ہ کو اپنی طرف کھینچے گا اور وہ ا کی طرف جانا چاہے گا اور خط ہ ح پر نکل کر منطقہ سے دور ہوگا اور ا کے بدلے ر پر تقاطع ہوگا جو ہمارے بیان سابق کے مطابق توالی بروج پر ا کے آگے اور اس سے شرقی ہے سیارات میں ایسا نہیں نصف شمالی میں ان کا میل شمالی اور جنوبی میں جنوبی ہوتا ہے اور برعکس بھی ہو تو نادر تو اکثر اوقات سیارات اس میں نیرین کے
",
1080,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,248,"موافق ہی ہوں گے نہ کہ صد نقطہ خط استوا کے آگے بڑھنے میں کچھ رکاوٹ پیدا کرنا مبادرت کو غربی سے شرقی کرنا نہ چاہے گا کہ وہ منطقہ سے قریب ہوتا ہوا جتنا بھی بڑھے بہرحال مبادرت غربیہ ہوگی۔
سادسا: فرض کیجئے کہ یہ نادر نہیں تو ہمیشہ کے لیے ہمیشہ عکس ہی لازم کہ نصف شمالی میں ان کا میل دائما جنوبی ہو اور جنوبی میں دائما شمالی اور یہ قطعا باطل۔
سابعا: قرب قمر سے اس کی جاذبیت اقوی ہونے کا رد ابحاث مد کی وجہ چہارم میں گزرا۔
ثامنا: مدارین پر عمل اقوی ہونا عجیب ہے یعنی غایت بعد پر جذب اقوی اور جتنا قرب ہوتا جائے اضعف۔
تاسعا: حلقہ استوائی کا بوجہ ارتفاع اقرب ماننا بھی عجیب ہے ایسا کتنا فرق ارتفاع ہے قطب سے خط استوا تك تقریبا ۱۳ ہی میل کا تو فرق ہے اور مدار سے خط استوا تك ۳ ۲ درجے ۲۷ دقیقے ہیں کہ ۲ کروڑ ۳ ۸ لاکھ میل سے زیادہ ہوئے شمس جب مدارین میں ہوگا قریب کے مداروں کو کھینچے گا یا پونے تین کروڑ میل سے زائد بیچ میں چھوڑ کر صرف ۱۳ میل بلندی کو جا پکڑے گا۔
عاشرا: اب واجب ہے کہ جب شمس مدار صیفی میں ہو تمام مدارات کہ اس سے جانب جنوب ہیں شمالی ہوں خواہ جنوبی مع خط استوا سب کو جانب شمال کھینچے اور باقی تمام مدارات یعنی قطب شمالی تك انکے موازی دائروں کو جانب جنوب یوں ہی جس مدار پر منتقل ہو اسے چھوڑ کر اس سے شمالیوں کو جنوب اور جنوبیوں کو شمال کو طرف جذب کرے یہاں تك کہ خط استوا پرآئے اب اسے چھوڑ کر تمام شمالیات کو جنوب اور جمیع جنوبیات کو شمال کی طرف لائے جب اس سے جنوب کو چلے سب شمالیات و خط استوا کو جانب جنوب کشش کرے باقی کو جانب شمال غرض نہ خط استوا بلکہ زمین کا ہر چھلا اس کے موازی ہے جانب شمس کھینچے مدار صیفی سے باہر جتنے چھلے ہیں سب ہمیشہ جنوب کو بڑھیں اور مدار شتوی سے جتنے باہر ہیں سب ہمیشہ شمال کو تو زمین قطبین پر سے روز بروز خالی ہوتی جائے اور مدارین کے اندر چھلے ہیں وہ ہمیشہ برودمات میں رہیں کبھی جنوب کو ہٹیں کبھی شمال کو دیکھو کیا اچھی مبادرت اعتدالین بنی۔
حادی عشر: خط استوا پر فعل باطل ہونے کے کیا معنی اب منطقہ کی طرف نہ کھینچے اپنی طرف تو کھینچے گا تو لازم کہ تقاطع کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر نہ صرف آگے بڑھے بلکہ اونچا ہوجائے۔
ثانی عشر :یہ اپنی طرف کھینچتا خط استوا ہی پر نہیں بلکہ ہر مدار پر ہوگا دن کو ادھر کے نقطے کو اونچا
", ص ۱۱۲۔۱۲ وغیرہ
1081,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,249,"کرے گا رات کو ادھر کے نقطے کو تو لازم کہ مابین المدارین زمین بہت اونچی ہوجاتی اور قطر استوائی پر سال زیادہ ہوتا جاتا اور شکل زمین بمرور زماں یہ ہوتی۔ یہ ہے تمہاری جاذبیت اور اس کے ہاتھوں نظم مبادرت۔
(۲۳)میل کلی ہمیشہ کم ہوتا جاتا ہے زمانہ اقلیدس میں ۲۴ درجے تھا اس لیے اس نے مقالہ رابعہ میں دائرے میں ۱۵ ضلع کی شکل بنانے کا طریقہ لکھا اور اب ۲۳ درجے ۲۷ دقیقے ہے اس کی وجہ بھی وہی بتائی کہ آفتاب خط استواء کے چھلے کو منطقہ کی طرف کھینچتا ہی اصول الہیأۃ میں اس پر یہ طرہ بڑھایا کہ نصف چھلے کو جو آفتاب سے قریب ہے منطقہ سے نزدیك ہوتا ہے اور دوسرے نصف کو دور مگر اس کی دوری اس کی نزدیکی سے کم ہے لہذا قرب ہی بڑھتا ہے اور پھر گھٹے گا بھی ان نصفوں میں فاصل وہ خط ہے کہ دونوں نقطہ اعتدال میں واصل ہے وہ اس دوری کا محور ہے۔
اقول اولا: جب دو۲ عظیمے مثلا ا ر ب ا ح ب متقاطع ہوں اوران کا تقاطع نہ ہوگا مگر نصف پر ہر نصف منتصف پر ان میں غایت بعد ہوگا جسے میل کلی و بعد اعظم کہتے ہیں جیسے ح ء ہ ر)اور یہ قوس اس زاویہ ا یا ب کا قیاس ہوگی اور بداہۃ دونوں زاویے ا ح ء ہ ا ر متساوی ہیں تو وجوبا ح ء ہ ر دونوں قوسین برابر ہیں تو محال ہے کہ ایك نصف مثلا ا ح ب کو اء ب سے قریب کرے اور دوسرے نصف ا ہ ب کو ا ر ب سے بعید بلکہ جتنا ایك ادھر کے نصف سے قریب ہوگا وجوبا اتنا ہی دوسرا نصف دوسرے نصف سے قریب تر ہوجائے گا ورنہ دائرے کے دو ٹکڑے ہوجائیں گے۔
ثانیا: اس قریب و بعید کرنے میں تفاوت کے کیا معنے!
ثالثا: چھلے کے دونوں نصف ہر روز آفتاب سے قرب و بعد بدلتے ہیں دن کو جو نصف قریب ہے شب کو بعید ہوگا وبالعکس تو دن کا عمل رات میں باطل رات کا عمل دن میں زائل اور سال بسال میل کی کمی غیر حاصل۔
رابعا: کیا دلیل ہے کہ عمل کبوء یك زمانے کے بعد منعکس ہوگا اور میل کہ گھٹتا جاتا ہے پھر بڑھنے لگے گا یا جو منہ پر آیا دعوی کر ڈالا یہاں تك کہ لکھ دیا کہ ابدالآباد تك یونہی کبھی گھٹتا کبھی بڑھتا رہے گا۔
"," ص ۱۸۶ و ص ۱۹۰ نیز ح ص ۱۷۶۔
ص ۱۵۸۔۱۲۔
"
1082,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,250,"خامسا: کبؤ مبادرت دونوں متلازم اور ایك علت کے معاذل ہیں جب کبوء منعکس ہوگا اور میل بڑھے گا ضرور خط استوا منطقہ سے دور ہوتا جائے گا اور تقاطع غرب سے شرق کو آئے گا کبھی ایسا سنا یا قدیم و جدید میں کسی کا ایسا زعم ہوا یا تحکمات بے سروپا ہی کا نام تحقیق جدید ہے۔
(۲۴)مرکز شمس تحت حقیقی ہے جو اس سے قریب ہے نیچے ہے اور بعید اوپر۔
اقول:یہ مضمون ہیات جدیدہ سے بوجوہ ثابت:
اولا: صاف تصریح کہ شمس ہی ثقیل حقیقی ہے باقی سب اضافی ہر ایك بقدر اپنے ثقل کے مرکز شمس سے قرب چاہتا ہے اور اس سے زیادہ قرب سے بھاگتا ہے مع اس اقرار کے ثقل کا کام جانب زیریں کھینچنا ہے تو روشن ہوا کہ مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے۔
ثانیا:ہماری طرف یہ بھی زہرہ و عطارد کو سفلیین اور مریخ و مافوقہ کو علویات کہتے ہیں ہمارے طور پر تو اس کی وجہ صحیح و ظاہر ہے کہ مرکز زمین تحت حقیقی ہے زہرہ عطارد اس سے قریب ہیں اگر چہ اپنے بعد ابعد پر ہوں اور مریخ ومافوقہ بعید اگرچہ بعد اقرب پر ہوں لیکن ان کے طور پر یہ نہیں بنتی کہ ہیات جدیدہ کے زعم میں بارہا مریخ زمین سے قریب اور زہرہ و عطارد دور ہوتے ہیں زیجات سنویہ یعنی المکنون میں دیکھئے گا کہ جا بجا کتنے کتنے دن زمین سے بعد مریخ کے لوگار ثم میں عدد صحیح ۹ ہے کہ کسر محض ہوئی اور زہرہ و عطارد میں صفر کہ احاد صحاح کا مرتبہ ہوا۔سب میں زیادہ تفاوت کا مقام وہ ہے کہ دونوں شمس کے ساتھ قران اعلی میں ہوں اور مریخ مقابلے میں
اس صورت پر ظاہر ہے کہ اس وقت مریخ زمین سے قریب ہوگا اور زہرہ و عطارد دور ہیات جدیدہ نے اس وقت زمین سے عطارد کا بعد اعظم ۱۳۵۶۳۱۰۴۹ تیرہ کروڑ میل سے زائد اور زہرہ کا ۱۵۹۵۵۱۴۳۶ سولہ کروڑ میل کے قریب اور مریخ کا بعد اقل ۲۶۳۸۸۹۸۵ کہ پونے تین کروڑ میل بھی نہیں تو اگر مرکز زمین تحت حقیقی ہو تو لازم کہ بارہا مریخ نیچا اور زہرہ و عطارد اوپر ہوں حالانکہ ایسا نہیں لاجرم مرکز شمس کو تحت حقیقی لیا کہ زہرہ وعطارد و ہمیشہ اس سے قریب ہیں اور مریخ بعید۔
ثالثا: صاف تصریح ہے کہ زہرہ و عطارد کا مدار مدار زمین کے اندر ہونے کے سبب ان کو سفلین
"," ح ص ۲۹۔۱۲
ح ص ۳۴
ص ۲۷۴ ح ص ۹۶۔۱۲
"
1083,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,251,"کہتے ہیں اور مریخ وغیرہ کا مدار مدار ارض سے باہر ہونے کے باعث ان کو علویات ظاہر ہے کہ یہ علو و سفل اضافی ہیں یعنی زہرہ و عطارد کا مدار اندر ہونے کے سبب تحت حقیقی سے بہ نسبت مدارارض نزدیك تر ہے اور مریخ وغیرہ کا دور تر کھل گیا کہ ان کے نزدیك مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے یہ ہیأت جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ تمام عقلائے عالم کے خلاف اس نمبر کا پورا مزہ فصل سوم میں کھلے گا ان شاء اﷲ تعالی۔
(۲۵)خلا ممکن بلکہ واقع ہے بذریعہ آلہ کسی ظرف یا مکان کو ہوا سے بالکل خالی کرلیتے ہیں۔
اقول:یہ ان کا مزعوم جا بجا ہے آلہ ایئر پمپ کا ذکر نمبر ۱۸ میں گزرا فلسفہ قدیمہ خلا کو محال مانتا ہے۔ہمارے نزدیك وہ ممکن ہے مگر زرا قات عــــــہ وسراقات وغیرہا کی شہادت سے عادۃ محال اور ہوا بہت متخلخل جسم ہے کیا دلیل ہے کہ بذریعہ آلہ بالکل نکل جاتی ہے جزو قلیل متخلخل ہو کر سارے مکان کو بھردیتا ہے جو بوجہ قلت قابل احساس نہیں ہوتا۔نیوٹن نے لکھا اگر زمین کو اتنا دباتے کہ مسام بالکل نہ رہتے تو انکی مساحت ایك انچ مکعب سے زیادہ نہ ہوتی جب یہ عظیم کرہ جس کی مساحت دو کھرب انسٹھ ارب تینتالیس کروڑ چھیانوے لاکھ ساٹھ ہزا
عــــــہ:زراقہ پچکاری سراقہ نیچورا۔اس کا تنگ منہ اور نیچے باریك سوراخ پانی بھر کر اوپر انگوٹھی سے دبالو پانی نیچی نہ گرے گا کہ ہوا کے جانے کی کوئی جگہ نہ ہوگی پانی گرے تو خلا لازم آئے انگوٹھا اٹھا لو تو اب گرے گا کہ نیچے سے جتنا پانی نکلے گا اوپر سے اتنی ہوا داخل ہوگی ڈاٹ پچکاری کے نتھنے تك دبا کر پانی پر رکھ کر کھینچو پانی چڑھ آئے گا کہ ڈاٹ کے نکلنے سے جگہ خالی ہوگی اس خلا کو بھرے اور جب پانی بھر جائے اور ڈاٹ سے منہ بند ہو جھکانے سے پانی نہ گرے گا جیسے نیچوری سے نہ گرتا تھا کہ خلا نہ لازم آئے مدت ہوئی میں ایك مشہور طبیب کے یہاں مدعو تھا گرمی کا موسم تھا حقہ بھر کرآیا نے خشك تھی دھواں نہ دیا میں نے اسے کہا تازہ کرو اب دھواں دینے لگا میں نے حکیم صاحب سے وجہ پوچھی کچھ نہ بتائی میں نے کہا جب نے خشك تھی مسام کھلے ہوئے تھے پینے کے جذب سے جتنی ہوا نے کے اندر سے منہ میں آتی اس کے قریب باہر کی ہوا مسام کے ذریعے سے نے کے اندر آجاتی جگہ بھر جاتی اور دھوئیں تك جذب کا اثر نہ پہنچا تازہ کرنے سے مسام بند ہوگئے اندر کی ہوا پینے سے کھینچی اور باہر کی آنہ سکی لاجرم خلا بھرنے کو دھواں نے میں آیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
"," ط ص ۲۱۔۱۲۔
ص ۲۶۶ میں اس سے بھی زائد بتائی دو کھرب ساٹھ ارب اکسٹھ کروڑ تیس لاکھ میل مگر ہم نے مقررات جدیدہ پر حساب کیا تو اُسی قدر آئی ہم نے اپنے رسالہ الھنئی النمیر فـــــــ میں ذکر کیا ہے کہ(باقی برصفحہ آئندہ)
ف:رسالہ الھنئی النمیر فی الماء المستدیر فتاوی رضویہ جلد ۲ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور میں ہے۔
"
1084,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,252,"میل ہے دب کر ایك انچ رہ جاتا تو ہوا کہ اس سے کثافت میں ہزاروں درجے کم ہے کیا ایك تل بھر پھیل کر کروڑوں مکانوں کو نہ بھر سکے گی۔
تنبیہ لطیف:اقول:اہل انصاف دیکھیں سردار ہیأت جدیدہ نیوٹن نے کیسی صریح خارج از عقل بات کہی کرہ زمین اگر دب کر ایك انچ مکعب رہ جائے تو۔
اولا یہ سارا کرہ کہ کھربوں میل میں پھیلا ہوا ہے صرف ایك لاکھ دس ہزار پانچ سو بانوے(۱۱۰۵۹۲) ذروں کا مجموعہ ہو ہر ذرہ بال کی نوك کے برابر اس لیے کہ گز اڑتالیس انگل ہے ہر انگل ۶جو ہر جو دم اسپ ترکی کے ۶ بال تو گز ۱۷۴۸ بال کی نوك ہے اسے ۳۶ پر تقسیم کیے سے انچ میں ۴۸ بال ہوئے تو زمین کہ صرف ایك انچ مکعب کے لائق ہے ۱۱۰۵۹۲ ذروں کا ہی مجموعہ ہوئی یہ کیسا کھلا باطل ہے اتنے ذرے تو اب ایك انچ مکعب مٹی میں ہوں گے باقی کھربوں میل کا پھیلاؤ کدھر گیا یوں نہ ظاہر ہو تو ا یك خط میں دیکھ لیجئے جب
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لو قطر + ۴۹۷۱۴۹۹ء۰ = لومحیط اور اصول الہندسہ مقالہ ۷ شکل ۱۰ میں ہے کہ سطح قطر و محیط دائرہ عظیمہ سطح کرہ اور اسی کی شکل ۱۴ میں ہے کہ سطح کرہ /۶ xقطر = مساحت جرم کرہ لہذا لوگا ر ثم مذکور سے ۶ کا لوگار ثم ۷۷۸۱۵۱۳ء۰کم کرکے سہ چند لوگار ثم قطر میں شامل کیا ۳ لو قطر + ۷۱۸۹۹۸۶ء ا = لو مساحت کرہ ہواتفتیش تازہ ترین زمین کا قطر معدل ۰۸۶ء۷۹۱۳ میل ہے۔لو ۸۹۸۳۴۵۹ء ۳x۳=۶۹۵۰۳۷۷ء ۱۱+ ۷۱۸۹۹۸۶ء آ = ۴۱۴۰۳۶۳ء ۱۱ عدد ۲۵۹۴۳۹۶۶۰۰۰۰ وھوالمطلوب ۱۲ منہ غفرلہ)
نوٹ:ہمارا یہ طریقہ مختصر ہے۔اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے رسالہ مذکور ہ میں بیان کیا کہ وہ لو قطر + ۸۹۵۰۸۹۹ء۱ = لو مساحت دائرہ پھر ۲/۳ مساحت دائرہ عظیمہ xقطر = مساحت کرہ اس لیے کہ اصول الہندسہ مقالہ ۴ شکل ۱۲۔میں ثابت ہوا ہے کہ ربع مسطح قطر ومحیط = مساحت دائرہ ہے اور مقالہ بہ شکل ۱۰ میں ہے کہ مسطح قطرو محیط دائرہ عظیمہ= مساحت سطح کرہ تو سطح کرہ چار مثل سطح عظیمہ ہوئی اور اس کا مسدس xقطر =مطلوب::۸۹۵۰۸۹۹ء ۱ میں ۲ کالو ۳۰۱۰۳۰۰ ء جمع اور ۳ کالو ۴۷۷۱۲۱۳ء ۰ تفریق کرہ خواہ ۴ کالو۔۶۰۲۰۶۰۰ء۰جمع اور ۶ کالو ۷۷۸۱۵۱۳ء۰ = تفریق کرو بہرحال حاصل ۷۱۸۹۹۸۶ء ۱ ہے ۲ لو قطرپہلے تھا اور ایك اب بڑھا لہذا ۳ لو قطر ہوا ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1085,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,253,"کرہ زمین ایك انچ ہوتا اس کا قطر تقریبا سوا انچ ہوتا یعنی عــــــہ ۲۴۰۷۰۰۹ء ا جس میں بال کی نوك کے برابر ذرے صرف ۵۵۳۶۴۵ء۵۹ ہوسکتے پورے ساٹھ سمجھئے بس یہ کائنات قطر زمین کی ہوتی اور اب ایك انچ طول کی خاك میں گن لیجئے اتنے ذرے فی الحال موجود ہیں تو باقی ۸ ہزار میل کا خط کہاں سے بنا۔
ثانیا جب قطر میں ۶۰ ہی ذرے ہوئے اور وہ ہے ۱۲۰ درجے اور زمین کا درجہ قطریہ ۶۶ میل کے قریب ہے یعنی ۹۴۳۳ء۶۵ میل کے نصف قطر معدل ۵۴۳ء۳۹۵۶ میل ہے تو سبب اس سمٹنے کے بعد پھیل کر حالت موجود ہ پر آتی ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر ہوتا تو زمین محسوس ہی نہ ہوسکتی۔
ثالثا اگر بفرض غلط یہ منزلوں کے فاصلے پر ایك ایك ذرہ دوسرے سے جدا نظر بھی آتا تو کوئی مجنون ہی اسے جسم واحد گمان کرتا۔
رابعا زمین پر انسان حیوان کا بسنا چلنا درکنار کوئی مکان تعمیر ہونا محال ہو تا کہ ہرذرے کے بیچ میں ۱۳۲ میل کا خلاہے۔
خامسا اگر لو گ ہوا میں معلق بستے بھی تو امریکہ کے ہندوستان سے دکھائی دیتے اور ہندوستان کے امریکہ سے اورشمس و قمر کو کواکب کا طلوع غروب سب باطل ہوتا کہ منزلوں کے خلا میں متفرق ذرے کیا حاجب ہوتے۔یہ سب حالتیں زمین کی حالت موجودہ میں لازم ہیں کہ یہ وہی حالت تو ہے جو سمٹ کر پھیلنے کے بعد ہوتی۔سمٹنے سے اجزاء کم و بیش نہیں ہوجاتے تو اب بھی قطر زمین وہی ۶۰ ذرے بھرہے اور سارے کرے
عــــــہ:اس لیے کہ بحکم تعکیس لو مساحت کرہ۔۷۱۸۹۹۸۶/۳ء۱ = لوقطر یہاں مساحت ایك ہے نہ صفر۔عدد مذکور=۲۸۱۰۰۱۴ء ۰ - ۳=۰۹۶۳۶۷۱۳ء ۰ عددش ۲۴۰۷۰۰۹ء۱ یعنی ایك انچ مع کسر مذکور کہ قریب ربع ہے۔
فائدہ:اقول:یونہی کرہ جس مقدار میں ایك فرض کیا جائے گا اس کا قطر تقریبا سوا یا ہوگا اور قطر جس مقدار میں ایك فرض کیا جائے کہ وہ اس سے ۱۳۱/ ۲۵۰ یعنی ۱۳/ ۲۵ ہوگا اور بالتدقیق ۵۲۳۵۹۸۹ء۰ کہ جب قطر ایك ہے اس کا لوگار ثم اور سہ چند لوگار ثم سب صفر ہوا تو لو مساحت کرہ صرف ۷۱۸۹۹۸۶ء ۱ رہا جس کا عدد وہی مذکور ہے اور اس ۱۳۴ سے مقدار قطر کی کرہ پر زیادت متوہم نہو کہ قطر میں اس مقدار قطر کی کرہ پر زیادت متوہم نہو کہ قطر میں اس مقدار کی پہلی قوت ہوگی اور کرے میں تیسری یہیں دیکھئے کہ قطر میں ۶۰ ذرے ہوئے یعنی ایك انچ میں ۴۸ اور کرے کی ایك انچ میں ۱۱۰۵۹۲ کہ ۴۸ کی مکعب ہے اس کی تصدیق یوں ہوسکتی ہے کہ سوا انچ قطر میں ذرے ۵۵۳۶۴۵ء۵۹لوگار ثم ۷۷۴۹۰۸۳ء ۱x۳=۵۱۳۲۴۷۲۴۹+ ۷۱۸۹۹۸۶ء۱= ۵۲۰۴۳۷۲۳۵ = لو مساحت انچ مکعب اس کا عدد وہی ۱۱۰۵۹۲ عدد ذرات کرہ ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1086,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,254,"میں کل جمع ۱۱۰۵۹۲ ذرے اگر کہے اجزائے دیمقر اطیسیہ بال کی نوك سے چھوٹے ہیں تو وہ قطر میں ۶۰ نہیں بہت ہیں۔
اقول:ایسے کتنے بہت ہیں ایسے کتنے چھوٹے ہیں ذہنی تقسیم میں کلام نہیں جس پر کہیں روك نہیں ایك خشخاش کے دانہ پر دائرہ عظیمہ لے کر اس کے ۳۶۰ درجے ہر درجے کے ۶۰ دقیقے ہر دقیقے کے ۶۰ ثانیے یوں ہی عاشرے اور عاشرے کے عاشرے تك جتنے چاہیے حساب کرلیجئے کیا یہ جس میں متمایز ہوسکتے ہیں۔یہ فلك شمس جسے تم مدار زمین کہتے ہو جس کا محیط دائرہ ۵۸ کروڑ میل سے زائد ہے۔ہم فصل اول میں ثابت کریں گے کہ اس کا عاشرہ ایك بال کی نوك کے سوا لاکھ حصوں سے ایك حصہ ہے۔تقسیم حسی میں کلام ہے جس کا انتفااجزاء دیمقراطیسیہ میں لیا گیاہے اور شك نہیں کہ بال کی نوك کا پچاسواں حصہ بھی حساجدانہیں ہوسکتا تو جز دیمقراطیسی زیادہ سے زیادہ ایك ذرے میں پچاس رکھ لیجئے۔نہ سہی ہر بال کی نوك میں ۱۳۲ فرض کیجئے اب تو کوئی گلہ نہ رہا اور کاسے میں آش بدستور جب ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر تھا اب ہر جز دوسرے سے میل میل بھر کے فاصلے پر ہوا اب کیا اس کا قطر بال کی ۶۰ نوك سے بڑھ جاتا ہے ایك نوك کے حصے کتنے ہی ٹھہرالو اب کیا زمین محسوس ہوسکتی۔اب کیا جسم و احد سمجھی جاتی اب کیا اس پر کھڑا ہونا یا مکان ممکن ہوجاتا اب کیا ادھر کی آبادی ادھر نظر نہ آتی۔اب کیا چاند سورج یا کوئی تارا غروب کرسکتا ہر دو جز میں ایك میل کا فاصلہ کیا کم ہے ملاحظہ ہو یہ ہیں ان کی تحقیقات جدیدہ اور یہ ہیں ان کے اتباع کی خوش اعتقادیاں کہ متبوع کیسی ہی بے عقلی کا ہذیان لکھ جائے یہ امنا کہنے کو موجود۔
اخیر میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ صحت کی تمامتر کوشش کے باوجود۔
(۲۶)آسمان کچھ نہیں فضائے خالی نامحدود و غیر متناہی ہے ایك پتھر کہ پھینکا جائے اگر جذب زمین و مزاحمت ہوا وغیرہ نہ روکیں تو ہمیشہ یکساں رفتار سے چلا جائے کبھی نہ ٹھہرے زمین کو کشش آفتاب حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ مساوی حرکت سے سیدھی ایك طرف چلی جاتی۔یہ ان کی خام خیالیاں ہیں۔آسمان پر ایمان ہر آسمانی کتاب ماننے والے پر لازم اور بعد موجود قطعا محدود لا متناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے مردود۔
(۲۷)اگلے تو غلطی میں پڑ کر وجود فلك کے قائل ہوئے اور ہم پچھلے(یعنی)ہیأت جدیدہ والے اگرچہ آسمان نہیں مانتے پھر بھی حسابی غلطیوں اور ہندسی خطاؤں کے رفع کے لیے ان تمام حرکات و دوائر کو اگلوں کی طرح ایك کرہ کے مقعر میں مانتے ہیں جو منتہائے نظر راصد پر ہے اور اس کا مرکز مرکز زمین۔
"," ح ص ۲۴ وغیرہ ط ص ۱۷۔۱۲
ط ص ۵۶۔۱۲
ح ص ۴۶ اور اسی کا اشارہ ص ۲۳ میں ہے ۱۲۔
"
1087,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,255,"اقول:اولا: یہ اقرار غنیمت ہے کہ بے آسمانی کرہ مانے حساب میں غلطی اور ہندسی اعمال میں خطا پڑتی ہے مگر یہ منطق نرالی ہے کہ وہی غلط ہے جس کے ماننےسے غلطیاں رفع ہوتی ہیں۔
ثانیا: تمام عقلا تو ان دوائر کو آسمانی کرہ کی محدب پر مانتے ہیں مگر یہ انہیں کیونکر راست آتا کہ فضائے نامحدود کا محدب کہاں لہذا مقعرلیا اب اس کو بھی تجدید درکار وہ انتہائے نظر راصد سے لی۔تحدید تو اب بھی نہ ہوئی۔
راصدوں کی نظریں مختلف ہیں سب سے تیز نظر کا لیا جائے تو آگے آلات ہیں اور ان کی قوتیں مختلف ہیں سب سے قوی قوت کا لیا جائے تو اس کی بھی حد نہیں روز نئے آلے ایجاد ہوتے ہیں نگاہ مجرد ہو یا مع آلہ اس کی اپنی انتہا اس سقف نیلی پر ہے جسے ہیات قدیمہ نہایت عالم نسیم کرہ بخار کہتی ہے اور جدیدہ ایك محض موہوم حد نظر اور حقیقت میں وہ اس آسمان دنیا یعنی فلك قمر کا مقعر ہے اس کے بعد روشن اجرام نہ ہوتے تو کچھ نظر نہ آتا اور روشن اجرام زاویہ بابصار بننے کے لائق بعد پر کتنے ہی دور لے جائیں نگاہ ان تك پہنچے گی تو واقعہ میں کوئی حد نہیں ہاں یہ کہے کہ کل جب تك یہ آلات نہ نکلے تھے جہاں تك نگاہ پہنچتی تھی اس بعد پر یہ مقعر و دائر بنتے تھے آلات بن کر ان سے زائد پر ہوئے اور جو آلہ قوی تر ایجاد ہوتا گیا یہ کرہ عالم اونچا ہوتا گیا اور آئندہ یوں ہی ہوتا رہے گا حد بندی کچھ نہیں کیونکہ حساب و ہندسہ کی غلطیاں رفع کرنے کو ایك غلط بات ماننا درکار ہے جیسی بھی ہو۔
ثالثا: سماوی کرہ واقعی خواہ فرضی بالطبع ایسا ہونا لازم کہ تحت حقیقی سے اس تك بعد ہر جانب سے برابر ہوا اس کے کوئی معنی نہیں کہ یہ مقعر ایك طرف زیادہ اونچا ہے دوسری طرف کم تو اسے مرکز شمس پر لینا تھا کہ وہی تمہارے نزدیك تحت حقیقی ہے۔۲۴ مگر مجبوری سب کچھ کراتی ہے وہ حسابی وہ ہندسی غلطیاں یونہی رفع ہوتی ہیں کہ باتباع قد ما مرکز عالم مرکز زمین پر لیا جائے۔
رابعا: مرکز زمین ہو یا مرکز شمس یا کوئی ایك مرکز معین ہیات جدیدہ سب دوائر کو جن سے ہیات کانظام بنتا ہے ایك مرکز پر مان سکتی ہی نہیں جس کا بیان عنقریب آتا ہے اور بے ایك مرکز پر مانے ہیات کا نظام سب درہم و برہم غرض بیچارے ہیں مشکل میں دو ائر اور ان کے مسائل سب قدماء سے سیکھے اور انہیں کی طرح ان سے بحث چاہتے ہیں مگر جدید مذہب والا بننے کو اصول معکوس لیے اب نہ وہ بنتے ہیں نہ یہ چھوٹتے ہیں سانپ کے منہ کی چھچوندر ہیں۔آسمان گما کر سورج تھما کر جاذبیت کے مثل ہاتھوں سیارے گھما کر چار طرف ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بنتی کچھ نہیں۔بعونہ تعالی یہ سب بیان عیاں ہوجائے گا۔وباﷲ التوفیق۔
(۲۸)زمین کے خط استوا کو جب مقعر سماوی تك لے جائیں تو ایك دائرہ عظیمہ پیدا ہوگا کہ
",
1088,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,256,"کرہ فلك کے دو حصے مساوی کردے۔یہ خط اعتدال یا آسمانی خط استوا یعنی معدل النہار ہے دائرہ عظیمہ وہ دائرہ ہے کہ کرہ کے دو برابر حصے کردے۔
اقول:اتنی قدماء سے سیکھ کر ٹھیك کہی مگر ہیات جدیدہ ہر گز اسے ٹھیك نہ رکھے گی جس کا بیان بعونہ تعالی عنقریب آتا ہے۔ حدائق نے اس میں ایك مہمل اضافہ کیا کہ منطقہ حرکت یومیہ زمین کو قاطع عالم فرض کرنے سے عالم علوی میں معدل النہار اور زمین پر خط استوا پیدا ہوتا ہے۔
اقول:خط استوا ہی تو وہ منطقہ ہے اسے قاطع عالم ماننے سے خود اس کا پیدا ہونا عجیب ہے۔
(۲۹)تمام مباحث ہیات کی امہات دوائر دو دائرے ہیں معدل النہار کہ گزرا دوسرا دائرۃ البروج اس کی تعیین ہیات جدیدہ کے اضطراب دیکھے سیکھا اسے بھی قدما سے اور بے اس کے ہیات کے کام احکام چل نہیں سکتے ناچار ابحاث واحکام میں قدماء کی تقلید کی مگر بیخبرکہ ہیات جدیدہ کے غلط اصول ان کا تھل بیڑا نہ رکھیں گے نہ تمہیں دائرۃ البروج کی صحیح تعریف کرنے دیں گے اصول علم الہیات میں کہا زمین اپنے دورہ سالانہ گردشمس سے جو دائرہ عظیمہ بناتی ہے وہ دائرۃ البروج ہے اس کی سطح معدل پر ۲۳ درجے ۷ ۲ دقیقے کچھ ثانیے مائل ہے یہ بارہ برج مساوی پر تقسیم ہے جن میں چھ خط استوا سے شمال کو ہیں چھ جنوب کو ہر برج ۳۰ درجے حدائق میں کہا یہ دائرہ مدار زمین کو قاطع عالم فرض کرنے سے فضائے علوی میں حادث ہوتا ہے۔
اقول اولا:یہ سب غلط ہے بلکہ مدار شمس(جسے یہ مدار زمین کہتے ہیں)مرکز عالم سے جدا مرکز پر واقع ہے تو اس کے قطر کا ایك نقطہ مرکز عالم سے غایت بعد پر ہے جسے اوج کہتے ہیں دوسرا غایت قرب پر جسے حضیض جن کی تصویر ۳۳ میں آتی ہے مرکز عالم پر اوج کی دوری سے دائرہ کھنچیں کہ منطقہ و ممثل ہے۔اس دائرے کو قاطع لین محدب فلك الافلاك پر اس کے موازی جو دائرہ بنا وہ دائرۃ البروج ہے جس کا مرکز مرکز عالم ہے ہمارے بیان کاحق او ران کے مزعوم کا باطل ہونا ابھی خود ان کے اقراروں سے کھلا جاتا ہے ان شاء اﷲ تعالی۔
ثانیا: اس سے قطع نظر ہو تو طریق علمی سے مشابہ وہی ہے جو حدائق میں کہا نہ کہ نفس مدار کو دائرۃ البروج ماننا جس سے اوپر ڈیڑھ سو کے قریب مدار موجود ہیں او ر سب کی مبانیت اس سے لی جاتی ہے جو اسے مقعر سماوی سے اتنا نیچا لینے پر نہیں بن سکتی۔
ثالثا: مدار زمین تو بیضی مانتے ہو دائرۃ البروج دائرہ کیسے ہوا اور مجاز کا دامن تھامنا کام نہ دے کہ میل و عرض ہما کے مؤامرات علم مثلث کروی پر مبنی اور وہ دوائر تامہ ہی میں جاری۔
(۳۰)معدل النہاردوائرۃ البروج کا تقاطع تناصف پر ہے یعنی نقطتین اعتدال سے دونوں کی تصنیف کروی ہے ہیات جدیدہ میں بھی جتنے کرے بنتے ہیں سماوی خواہ ارضی جن کو گلوب کہتے ہیں سب
",
1089,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,257," میں دیکھ لو دونوں دائرے متناصف ملیں گے اور یہ ایك ایسی بات ہے جس سے ہر بچہ آگاہ ہے جس نے قدیمہ خواہ جدیدہ کسی ہیات کے دروازے میں پہلا قدم رکھا ہو۔نیز ابھی نمبر ۲۹ میں اصول علم الہیات سے گزرا کہ ایك نقطہ اعتدال سے دوسرے تك دائرۃ البروج کے ۸۰ا درجے ہیں یہ اس کی تنصیف ہوئی اور اسی سے نمبر ۲۳ میں گزرا کہ خط استوا کے نصفین کی تحدید انہیں دو نقطہ اعتدال سے ہے نیز اسی کے نمبر ۵۹ میں ہے کہ یہ دونوں عظیمے ایك دوسرے کو دو نقطہ متقابل پر قطع کرتے ہیں ظاہر ہے کہ دائرے پر متقابل نقطے وہی ہوتے ہیں جن میں نصف دور کا فصل ہو اور سب سے صاف تر ۱۵۷ میں کہا کہ دونوں نقطہ اعتدا ل میں مطالع یعنی معدل کی قوس ۱۸۰ درجے ہے پھر کہا یعنی دائرۃ البروج خط استواکو دو نقطہ متقابلہ پر قطع کرتا ہے جن میں فصل ۱۸۰ درجے ہے پھر کہایہ برہان ہے اس پر کہ دائرہ بروج دائرہ عظیمہ ہی ہے کہ سوا عظیمہ کے کوئی دائرہ خط استوا یعنی معدل کو اس طرح قطع نہیں کرسکتا غرض یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر ہیات جدیدہ و جملہ عقلائے عالم سب کا اتفاق ہے۔
اقول:اب اسے تین نتیجے بدیہی طور پر لازم:
(ا)یہ دونوں دائرے متساوی ہیں۔
(ب)دونوں مرکز واحد پر ہیں۔
(ج)دونوں ایك کرے کے دائرہ عظیمہ ہیں۔
ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے دائروں کا تناصف ممکن نہیں ورنہ جزو کل مساوی ہوجائیں دائرہ ا ح ء نے چھوٹے دائرہ اب ح کی نقطتین ا ح پر تنفصیف کی ا ح وصل کیا ضرور ہے کہ اب ح کے مرکز سے ہ پر گزرا اور اس کا قطر ہوا اب انہیں نقطوں پر دائرہ اح ء کی بھی تنصیف مانو تو اگر یہی ا ح اس کا بھی قطر ہو تو دونوں دائرے مساوی ہوگئے اور اگر اس کا قطر ح ط ہوا تو قوس ا ء ح بھی اس کی نصف ہوئی اور ح ء ط بھی بہرحال جزو کل برابر ہوگئے۔یونہی دو مساوی دائروں کا مرکز مختلف ہو تو ان کا تنا صف محال۔
دائرہ ا ر ب کا مرکز ح ہے اور ا ح ب کا ء اور نقطتین اب پر تناصف اب وصل کیا ضرورۃ ہر ایك کا قطر ہوا کہ اس کے نصفین میں فاصل ہے تو قطعا دونوں کے مرکز پر گزرا کہ ہ ہے تو ہر دائرے کے دو مرکز ہوگئے اور یہ محال ہے ورنہ جزو کل مساوی ہوں اور جب یہ دونوں عظیمے مساوی دائرے مرکز واحد پر ہیں تو یقینا کرہ واحدہ کے عظام سے
",
1090,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,258,"ہیں بالجملہ یہ تینوں نتیجے متفق علیہ ہیں اور خود جملہ کرات ارضی و سماوی کہ اب تك ہیات جدیدہ میں بنتے ہیں ان کی صحت پر شاہد عادل۔
فوائد: ا سطح مستوی میں کبھی دو دائرے تناصف نہیں کرسکتے کہ اس کے لیے اتحاد مرکز لازم اور وہ اس کے متقاطع دائروں میں محال(اقلیدس عــــــہ مقالہ ۳ شکل ۵)ب دائرۃ البروج کی تعریف کہ حدائق میں کی باطل ہے کہ معدل سے مرکز بدل گیا۔ج اصول الہیات کی تعریف اس سے باطل تر ہے کہ مرکز بھی مختلف اور دائرے بھی چھوٹے بڑے اور حق وہ ہے جو ہم نے کہا۔ء جب ان کے مرکز مختلف تو دونوں عظیمے کیسے ہوسکتے ہیں کہ عظیمہ کا مرکز نفس مرکز کرہ ہونا لازم(دیکھو مثلت کروی باب اول نمبر ۳)ہ حدائق نے سنی سنائی یا اسی ہوشیاری سے سب دوائر کو ایك مقعر مساوی پر لیا جس کا مرکز زمین ہے مگر بھلا کر تمہارے نزدیك تو وہ مدار زمین ہے یا مقعر فلك پر اس کا موازی بہرحال اس کا مرکز مرکز مدار زمین مرکز زمین ہونا کیسی صریح جنون کی بات ہے دائرۃ البروج کو اپنے مرکز پر رکھ کر مقعر سماوی پر لیا ہے تو نہ وہ عظیمہ ہوسکتا ہے نہ معدل النہار اس کا تنا صف ممکن ا ور اگر اسے مرکز زمین کی طرف منتقل کرلیا تو دائرہ ہی وہ نہ رہا نہ اس کی جگہ وہ رہی نہ اب اس جدید دائرے اور معدل کا غایت بعد کہ میل کلی کہلاتا ہے دائرۃ البروج کا میل ہوسکتا ہے غرض تمام نظام ہیات تہ و بالا ہے تقلیدی باتیں کہتے چلے گئے اور خبر نہیں کہ ان کے اصول کی شامت لگ گئی۔
(۳۱)معدل النہار دوائرۃ البروج دونوں دائرہ شخصیہ ہیں یعنی ہر ایك شخص واحد معین ہے کہ اختلاف لحاظ سے نہ اس کا محل بدلے نہ حال بخلاف دوائر نوعیہ کہ مختلف لحاظوں سے مختلف پڑتے ہیں جیسے دائرہ نصف النہار کہ ہر طول میں جدا ہے اور دائرہ افق کہ ہر عرض و ہر طول میں نیا ہے۔
عــــــہ:اقلیدس نے ایك شکل یہ رکھی چھٹی یہ کہ دو متماس دائروں کا ایك مرکز نہیں ہوسکتا اور ایك شق باقی رہی کہ دو متبائن غیر متوازی دائروں کا مرکز ایك ہو ممکن نہیں مناسب یہ تھا کہ ایك شکل ان تینوں کو حاوی رکھی جاتی کہ دو غیر متوازی دائروں کا مرکز ایك ہونا ممکن خواہ متقاطع ہوں یا متماس کہ جب مرکز ایك ہے تو اس سے ہر دائرے تك ہر طرف بعد مساوی ہے اور مساویوں سے مساوی ساقط کرکے مساوی رہیں گے تو دونوں دائروں کا ہر طرف فصل مساوی ہوا تو متوازی ہوگئے اور فرض کئے تھے نامتوازی ۱۲ منہ غفرلہ۔
", ح ص ۴۶۔۱۲۔
1091,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,259,"اقول:بلاشبہ حق یہی ہے اور خود ہیأت جدیدہ کے سماوی و ارضی کرے اس پر شاہد کہ دونوں دائروں کو غیر متبدل بناتے ہیں بخلاف افق و نصف النہار کہ ان کی تبدیل حسب موقع کا طریقہ رکھتی ہیں مگر ہیأت جدیدہ کا یہ اقرار اور قولا و فعلا اظہار بھی نرا تقلیدی ہے جس نے اس کے اصول کا خاتمہ کردیا علی اھلہا تجنی براقش (براقش اپنے ہی اہل مصیبت لاتی ہے۔دائرۃ البروج کا حال تو ابھی گزرا تھا مرکز مدار پر اور لیتے ہیں مرکز زمین پر تو وہ شخص کیسا وہ نوع ہی بدل گئی اور معدل کا حال ابھی آتا ہے۔
(۳۲)قطبین جنوبی و شمالی ساکن نہیں بلکہ قطبین دائرۃ البروج کے گرد گھومتے ہیں مبادرت اعتدالین کے باعث۲۵۸۱۷ برس میں ان کا دورہ پورا ہو تا ہے مبادرت ہرسال ۲ء۵۰ ہے اور ہر دائرےمیں ۱۲۹۶۰۰۷ ثا نیے ان کو ۲ء۵۰ پر تقسیم کیے سے ۲۵۸۱۷ حاصل ہوئے۔
اقول:ہیات جدیدہ کہ ہمیشہ معکوس گوئی کی عادی ہے جس کا کچھ بیان بعونہ تعالی آتا ہے اس پر مجبور ہے کہ قطبین عالم کو متحرك مانے کہ زمین اس دائرے پر حرکت کرتی ہے جس کا قطر ۱۹ کروڑ میل کے قریب ہے او راس کا مدار ایك دائرہ ثابتہ ہے تو قطبین مدار تو ساکن ہیں اور قطبین جنوب و شمال کہ قطبین عالم و قطبین اعتدال ہیں اور زمین کے محور تحرك کے دونوں کناروں پر ہیں ضرو راس کی حرکت سے کروڑوں میل اوپر اٹھیں گے اور کروڑوں میل نیچے گریں گے مگر اولا: اب معدل النہار دائرہ شخصیہ کب رہا بلکہ ہر آن نیا ہے کہ ہر آن اس کے مرکز کا مقام جدا ہے۔
ثانیا: وہ فرض کیے ہوئے مقعر سماوی کو بھی دم بھر چین نہ لینے دے گا کہ اس مقعر کا مرکز بھی مرکز زمین مانا ہے۔۲۷ اور وہ کروڑوں میل اٹھنے گرنے میں ہے تو یونہی ہر آن مقعر سماوی بدلے گا اور اگر وہ بحال رہے تو دائرہ اس پر کب رہا کروڑوں میل اس کے اندر جائے گا اور دوسری طرف خلا چھوڑ ے گا پھر دوسری طرف کروڑوں میل اندر جائے گا۔اور ادھر خلاء چھوڑے گا اسی کو کہا تھا کہ یہ سب دوائر ایك مقعر سماوی پر لیتے ہیں۔
ثالثا: بفرض باطل دائرۃ البروج کو بھی اسی مقعر و مرکز پر لے لیا اور یہ ہر آن متبدل ہیں تو دائرہ البروج بھی ہر آن بدلے گا تو شخصیہ کب رہا۔یا وہ تنہا خواہ مع مقعر سماوی برقرار رکھا جائے گا کہ اس کا مرکز ثابت ہے تو اس کی تبدیل کی وجہ نہیں تو میل اور صد ہا مسائل کا کیا ٹھکانا رہے گا غرض بات وہی ہے کہ
"," المنجد داراشاعت کراچی، ص ۱۱۶۰
ص ۳۳۷ و ۱۸۴ و ۱۹۰۔۱۲
ص ۱۸۳۔۱۲
یعنی ۷۳۳۳ء ۲۵۸۱۱۶ باسقاط خفیف ۱۲ منہ غفرلہ
"
1092,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,260,"تقلیدا معدل النہار دوائرۃ البروج کا نام سن لیا اور ادھر ان احکام کی تقلید کی جو اصول قدما پر مبنی تھے ادھر اپنے اصول کا گندہ بروزہ ملایا وہ ایك مہمل معجون باطل ہو کر رہ گیا۔یہ ہے ہیأت جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ۔
(۳۳)زمین وغیرہ ہر سیارے کا اپنے محور پر گھومنا اس سبب سے ہے کہ طبیعت میں ثابت ہوا ہے کہ ہر چیز بالطبع آفتاب سے نورو حرارت لینا چاہتا ہے اگر سیارے حرکت و ضعیہ نہ کریں جمیع اجزا کو نور و حرارت نہ پہنچے۔
اقول:یہ وجہ موجہ نہیں اولا: اجزا میں جاذبہ و ماسکہ و نافرہ کے علاوہ ایك قوت شائقہ ماننی پڑے گی اور اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
ثانیا: زمین سے ذرے اور ریگ کے دانے خفیف پھونك سے جدا ہوجاتے ہیں ان کا یہ شوق طبعی کیا اتنی بھی قوت نہ رکھے گا کہ زمین سے بے جدا کیے ان کو گھمائے پھر ایك ایك ذرہ اور ریتے کا دانہ آفتاب میں اپنے نفس پر حرکت مستدیرہ کیوں نہیں کرتا اس کا جو حصہ مقابل آفتاب ہے سو برس گزر جائیں جب تك ہٹایا نہ جائے وہی مقابل رہتا ہے دوسرا حصہ کہ آفتاب سے حجاب میں ہے کیوں نہیں طلب حرارت و نور کے لیے آگے آتا۔
ثالثا: زمین میں مسام اتنے ہیں کہ پوری دبائیں تو ایك انچ کی رہ جائے۔(۲۵)تو ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جزو دوسرے سے متصل نہیں سب ایك دوسرے سے بہت فصل پر ہیں تو ہر جز اپنے نفس پر کیوں نہ گھوماکہ اس کے سب اطراف کو روشنی و گرمی پہنچتی صرف کرے کے محور پر گھومنے سے ہر جز پورے انتفاع سے محروم رہا۔
رابعا: کرہ کی حرکت و ضعیہ سے سطح بالا ہی کے سب اجزاء فی الجملہ مستفید ہوں گے اندر کے جملہ اجزاء اب بھی محروم مطلق رہے تو جمیع اجزاء کا استفادہ کب ہوا اندر کے اجزاء طلب نور و حرارت کےلیے اوپر کیوں نہیں آتے۔اگر کہیے اوپر کے اجزاء جگہ روکے ہوئے ہیں۔
اقول:اولا: غلط انچ بھر کی زمین جب پونے تین کھرب میل میں پھیلی ہوئی ہے اس میں کس قدر وسیع مسام ہوں گے۔(نمبر ۲۵)ان سوراخوں سے باہر کیوں نہیں آتے۔
ثانیا: اوپر کے اجزاء میں جو آفتاب سے حجاب ہیں ان کی جگہ اگلے اجزا ء رکے ہوئے ہیں جو مقابل شمس ہیں پھر حرکت وضعیہ کیونکر ہوتی ہے۔
", ح ص ۱۱۴
1093,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,261,"ثالثا: آفتاب بھی تو اپنے محور پر گھومتا ہے وہ کس نور و حرارت کی طلب کو ہے۔بالجملہ یہ وجہ بے ہودہ ہے بلکہ اصول ہیأت جدیدہ پر اس کی وجہ ہم بیان کریں۔
اقول:اس کا سبب بھی جاذبہ عــــــہ۱ ونافرہ ہے جذب قرب و بعد سے مختلف ہوتا ہے ولہذا خط عمود پر سب سے زیادہ ہے کلیت سیارہ مثلا ارض کے لیے جاذب سے تنفر کا جواب مدار پر جانے سے ہوگیا مگر اب بھی اس کے اجزاء پر جذب مختلف ہے خاص وہ اجزا کہ مقابل شمس ہیں ان پر جذب اقوی ہے اور ان میں بھی جو بالخصوص زیر عمود ہے پھر جتنا قریب ہے۔(نمبر۱۰)یہ اجزاء اس سے بچنے کے لیے مقابلہ سے ہٹتے اور بالضرورت اپنے اگلے اجزاء کو اپنے لیے جگہ خالی کرنے کو دفع کرتے ہیں وہ اپنے اگلوں کو وہ اپنے اگلوں کو یوں محور پر دورہ پیدا ہوتا ہے اب جو اجزاء پہلے اجزا سے مقابلہ کے پیچھے تھے مقابل آئے اب یہ مقابلہ سے بچنے کو اپنے اگلوں کو ہٹاتے ہیں اور وہی سلسلہ چلتا ہے یوں دورہ پر دورہ مستمر رہتا ہے۔اگر کہئے زمین بوجہ کثرت بعد وقلت حجم آفتاب کے آگے گویا ایك نقطہ ہے ولہذا آفتاب کا اختلاف منظر ۹ ثانیے بھی نہیں تو اس کے اجزا پر مقابلہ وہ حجاب کا اختلاف نہ ہوگا بلکہ گویا سب مقابل ہیں۔
اقول:اولا نظر عــــــہ۲ ظاہر میں تو یہی کافی کہ ایسا ہے تو تقریبا نصف کرہ زمین میں ہمیشہ رات کیوں رہتی ہے سب ہی روشن رہا کرے کہ سب مقابل شمس ہے۔
ثانیا آخر کچھ نہیں تو اختلاف منظر کیوں جب نصف قطر کی یہ مقدار ہے کل سطح کی اکثر واکبر ہے۔اسی قدر اختلاف جذب کو بس ہے۔
ثالثا بالفرض سب ہی مقابل سہی عمود و منحرف کا فرق کدھر جائے گا۔یوں بھی اختلاف حاصل بالجملہ یہ تقریر ان مقدمات پر مبنی ہے جو ضرور ہیات جدیدہ کے اصول مقررہ ہیں تو یہی اسے واجب التسلیم ہے اگرچہ حقیقۃ اعتراض سے خالی نہ یہ نہ وہ بلکہ ہم بتو فیقہ تعالی فصل سوم میں روشن کریں گے کہ دونوں وجہیں باطل محض ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اصول باطلہ ہیات جدیدہ پر مبنی ہیں پھر بھی یہ اس سے اسلم اور اصول جدیدہ پر تو نہایت محکم ہے۔
تنبیہ:اقول:وجہ یہ ہو خواہ وہ بہر طور زمین کی حرکت مستدیرہ حقیقۃ حرکت وضعیہ یعنی
عــــــہ۱:یہ وجہ شمس کو بھی شامل ہے کہ وہ بھی اور سیاروں کے جذب سے بچنے کو اپنے محور پر گھومتا ہے۔جغ ص ۱۲۱ ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۲:اس سے ایك تدقیق دقیق کی طرف اشارہ ہے جسے ہم نے اپنے رسالہ صبح میں روشن کیا ۱۲ منہ غفرلہ)
(رسالہ صبح سے مراد ہے درء القبح عن درك وقت الصبح(زبان اردو فن توقیت)از اعلیحضرت عبدالنعیم عزیزی)
",
1094,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,262,"مجموع کرہ کی حرکت واحدہ محوریہ نہیں بلکہ کثیر متوالی حرکات ایتیہ اجزاء کا مجموعہ وجہ اول پر پچھلے اجزا اگلے اجزا کو خود مقابل آنے کے لیے ہٹاتے ہیں پھر ان سے پچھلے ان کو ان سے پچھلے ان کو اسی طرح آخر تك اور وجہ دوم پر اگلے اجزاء مقابلہ سے ہٹنے کے لیے اپنے اگلوں کو ہٹاتے ہیں وہ اپنے اگلوں یہ اپنے اگلوں کو یونہی آخر تك بہرحال یہ حرکت خاص اجزاء سے پیدا ہو کر سب میں یکے بعد دیگرے بتدریج پھیلتی ہے نہ کہ مجموع کرہ حرکت واحدہ سے متحرك ہو۔وجہ اول پر تمام اجزاء کے لیے نوبت بہ نوبت طبعی بھی ہے اور قسری بھی جو اجزاء حجاب میں ہیں ان کے لیے طبعی اور جو مقابل ہیں ان کے لیے قسری کے پچھلے اجزاء ان کے حاصل شدہ مقتضائے طبع سے ہٹاتے ہیں جب یہ بالقسر مقابلہ سے ہٹ جائیں گے بالطبع حرکت چاہیں گے اور تازہ مقابلہ والوں کو قسر کریں گے اور وجہ دوم پر سب کے لیے قسری کو جاذبہ سے پیدا ہوئی اگرچہ نافرہ طبعی ہو۔فافھم۔
(۳۴)ارب ہ بیضی مدار زمین ہے ا ر رب ب ہ ہ ا چاروں نطاق عــــــہ ہیں اب قطر اطول ہے اس کے دونوں کناروں پر مرکز ج سے پورا بعد ہے ہ ر قطر اقصر۔
اس کے دونوں نقطوں پرج سےبعد اقرب ح ء دونوں فوکز یعنی محترق ہیں جن کے اسفل پر شمس مستقر ہے ا نقطہ ء اوج شمس سے غایت بعد پر ہے اور ب حضیض غایت قرب پر زمین ا پر مرکز و شمس دونوں سے نہایت دوری پر ہوتی ہے یہاں سے چلتے ہی ا ر نطاق اول میں دونوں سے قریب ہوتی جاتی ہیں یہاں تك کہ ر پر مرکز سے غایت قرب میں ہوتی ہے رب نطاق دوم میں مرکز سے دور ہونا شروع کرتی ہے لیکن شمس سے اب بھی قرب ہی بڑھاتی ہے یہاں تك کہ ب حضیض مرکز سے دوبارہ غایت بعد پر ہوجاتی ہے اور شمس سے نہایت قرب پر آتی ہے اس نصف حضیضی ارب میں شمس سے قرب ہی بڑھتا اور چال بھی برابر متزاید رہتی ہے تیزی کی انتہا نقطہ ب پر ہوتی ہے پھر انہیں قدموں پر سست ہوتی جاتی ہے ب ہ نطاق سوم میں زمین مرکز سے قریب اور شمس سے دور ہوتی جاتی ہے یہاں تك کہ ہ پر دوبارہ مرکز سے کمال قرب پر آجاتی ہے ہ نطاق چہارم میں مرکز و شمس دونوں سے دور ہوتی جاتی ہے یہاں تك کہ ا پر دونوں سے کمال بعد پاتی ہے
عــــــہ: قر ب وبعد مرکز کے سبب یہاں نطاق لیے ہمارے نزدیك خط ہ ر منتصف مابین المرکزین پر لیتےہیں کہ یہاں بعد اوسط ہے یا مرکز عالم پرکہ یہاں سیر اوسط ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
",
1095,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,263,"اس نصف اوجی ب ہ ا میں شمس سے بعد ہی بڑھتا اور چال برابر متناقص رہتی ہے سستی کی انتہا نقطہ ا پر ہوتی ہے پھر وہی دورہ شروع ہوتا ہے یہ سب مسائل عام کتب میں ہیں اور خود مشہور اور قرب و بعد شمس و مرکز کی حالت ملاحظہ شکل ہی سے مشہود اور ہمارے نزدیك بھی قطروں کے خلاف اور مرکز سے قرب و بعد کے سوا اصل کروی میں ناممکن یہ سب باتیں یوں ہی ہیں جب کہ مدار شمس لو اور نقطہ ء پر مرکز زمین اور اگر مدار بیضی مان لیں تو یہ رسالہ بیان متفق علیہ ہے صرف شمس کی جگہ زمین اور زمین کی جگہ شمس کہا جائے۔
(۳۵)چال میں تیزی و سستی کا اختلاف دوسرے مرکز کے لحاظ سے ہے واقع میں اس کی چال نہ کبھی تیز ہوتی ہے نہ سست ہمیشہ یکساں رہتی ہے اور مساوی وقتوں میں مساوی قوسین قطع کرتی ہے۔قواعد کپلر سے دوسرا قاعدہ یہی ہے۔
اقول:یہ بھی مجمع علیہ ہے لہذا طویل الذیل برہان ہندسی کی حاجت نہیں۔
مبتدی کے لیے ہمارے طور پر اس کا تصور اس تصویر سے ظاہر ا ح ر ط ط ر رح ح ا خارج المرکز یعنی مدار شمس کے چار مربع مساوی ہیں جن کو وہ برابر مدت میں قطع کرتا ہے لیکن ان کے مقابل دائرۃ البروج کی مختلف قوسین ہیں جب شمس ا سے ط پر آیا مرکز عالم ہ سے اس پر خط ہ ب گزرا تو اس مدت میں اس پر قوس ا ب قطع کی جو ربع سے بہت یعنی بقدر ب ک چھوٹی ہے جب ط سے ر تك آیا اس ربع کے مقابل دائرۃ البروج کی قوس ب ل ہوئی جو ربع سے بہت بڑی ہے یونہی دو ربع باقی ہیں تو باآنکہ شمس واقع میں ہمیشہ ایك ہی چال پر ہے دائرۃ البروج کے اعتبار سے اس کی چال تیز وسست ہوتی ہے ط ر ح کی ششماہی میں ب ل ح قطع کرتا ہے کہ نصف سے بہت زائد ہے اور ح ا ط کی ششماہی میں ح ا ب چلتا ہے کہ نصف سے بہت کم ہے لہذا تیز و سست نظر آتا ہے حالانکہ واقع میں اس کی چال ہمیشہ یکساں ہے یہی حال ہیأت جدیدہ کے نزدیك زمین کا ہے۔ الحمدﷲ مقدمہ ختم ہوا۔وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد وآلہ ابدا۔
"," ح ص ۹۷۔تا ص ۹۸۔۱۲
ص ۱۶۸۔۱۲
ص ۱۷۰۔۱۲
"
1096,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,264," رد اول:اقول:ابتداء اتنا ہی بس کہ نافریت بے دلیل ہے اور دعوی بے دلیل باطل و علیل اور پتھر کی مثال کا حال نمبر۴۔میں گزرا وہی اس کے حال کی کافی مثال ہے۔
رد دوم:اقول:مرکز دائرہ سے محیط کے نقطہ پر خط قاطع اب کھینچو اور ہ ب کے دونوں طرف اس کے مساوی چھ خط جن میں ح ہ ء ہ مماس ہوں اور ر ہ ح ہ ط ہ ی ہ ان دونوں قائموں کی برابر تقسیم کرنے والے اور سب کو ا سے ملادو۔ظاہر ہے کہ ان میں ہر خط اپنے نظیر کے مساوی ہوگا اور ا ح سے ا ر ار سے اح ا ح سے ا ب بڑا ہوگا۔یوں ہی ای سے اط اط سے اب
اس لیے کہ مثلثات ا ہ ح ا ہ ر اہ ح میں مشترک۔اور ہ ح ہ رہ ہ ح برابر ہیں۔اور ہ پر کا زاویہ بڑھتا گیا ہے کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے لاجرم ا ح ار اح قاعدے بڑھتے جائیں گے(اقلیدس مقالہ شکل ۲۴)رہا ا ب ح ب ملادیا تو مثلث متساوی الساقین ح ہ ب کے دونوں زاویہ ح ب مساوی ہوئے اور ظاہر ہے کہ مثلث ا ح ب میں زاویہ ح جس کا وتر اب ہے زاویہ ہ ح ب سے بڑا ہے۔تو ا ح کہ چھوٹے زاویہ کا وتر ہے اب سے چھوٹا ہے۔(شکل ۱۹)غرض ان میں سب سے زیادہ مرکز سے دوری ب کو ہے باقی جتنا مماس کی طرف آؤ مرکز سے قرب ہے کہ اب زمین نقطہ ہ پر تھی اور نافریت کے سبب اس نے مرکز سے دور ہونا چاہا واجب ہے کہ خط ہ ب پر ہٹے کہ اسی طرح مرکز سے بعد محض ہے اور سب بعد اضافی ہیں کہ ایك وجہ سے بعد ہیں تو دوسری وجہ سے قرب ہیں بعد محض چھوڑ کر ان میں سے کسی کو کیوں لیا یہ ترجیح مرجوح ہوئی پھر اس میں جس خط پر جائے دوسری طرف اس کا مساوی موجود ہے ادھر کیوں نہ گئی ترجیح بلا مرجح ہے اور دونوں باطل ہیں زمین
",
1097,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,265,"کوئی جاندار ذی عقل نہیں جسے ہر گونہ ارادے کا اختیار ہے اور جب ہ ب پر جائے گی دورہ محال ہوگا۔اگر نافریت غالب آئے گی ب سے قریب ہوجائے گی اور جاذبیت تو اسے اور برابر رہیں تو ہ پر رہے گی کسی طرف نہ ہوجائے گی بہرحال دورہ نہ کرے گی۔
رد سوم:اقول نہیں نہیں بلکہ واجب ہے کہ ہ ہی پر رہے کہ تمہارے نزدیك نافریت و جاذبیت برابر ہیں(نمبر۶)اور دائرہ پر حرکت میں اختلاف سرعت سے جذب و نفرت باہم کم و بیش ہوں تو ابتدائے آفرینش میں جب کہ زمین پہلے نقطہ ہ پر ہے کہاں دائرہ اور کہاں حرکت اور کہاں اختلاف سرعت لاجرم اس وقت دونوں کانٹے کی تول برابر ہیں تو واجب کہ زمین جہاں اول پیدائش میں بنی تھی اب تك وہی ٹھہری ہوئی ہے اور وہیں ٹھہری رہے گی تو تمہاری نافریت وجاذبیت ہی نے زمین کا سکون مبرہن کردیا۔ﷲ الحمد
رد چہارم:اقول:معلوم ہولیا نافریت نہ ہے نہ اس کا مقتضی ہر گز خط مماس پر لے جانا اور بے اس کے زمین کی حرکت دور یہ گرد شمس منظم نہیں ہوسکتی تو ضرور کوئی واقعہ ناقلہ درکار ہے کہ اسے ہر وقت خط مماس پر واقع کرے اور شمس اپنی طرف کھینچے دونوں کا اوسط دائرے پر گردش نکلے ایك دفعہ کا دفعہ کافی نہیں زمین میں کیل گاڑ کر اس میں ڈورا اور ڈورے میں گیند باندھو اور ایك بار اسے مارو ڈورا تن جائے گا۔گیند ایك ہی ضرب سے کیل کے گرد دورہ نہ کرے گی تو ہر وقت دفع و نقل کی حاجت ہے یہ شمس کا اثر ہو نہیں سکتا کہ وہ تو اس کے خلاف جذب چاہ رہا ہے تو ضرور کوئی اور سیارہ چاہیے جو زمین کو مماس پر جذب کرے اور ہر وقت زمین کے ساتھ پھرے نہ نقل کا کام دے وہ سیارہ کہاں ہے اور بفرض ہو تو اسے کس نے گردش دی اس کے لیے اور سیارہ درکار ہوگا اور اسی طرح غیر متناہی سلسلہ چلا جائے گا اور تسلسل محال لاجرم زمین کی گردش محض باطل خیال۔
رد پنجم:اقول:دو مساویوں میں ایك کا اختیار کرنا عقل و ارادہ کا کام ہے نہ طبیعت غیر شاعرہ کا ظاہر ہے کہ نقطہ ہ سے ح اور ء دونوں طرف قائمہ اور یکساں حالت ہے اور ظاہر ہے کہ زمین صاحب شعور و ارادہ نہیں اب اگر بفرض باطل زمین میں نافریت ہے اور بفرض باطل نافریت مماس پر پھینکتی یعنی جاذبیت پر قائمہ بناتی ہے مگر نافریت کا اس طرف کے مماس سے کوئی رشتہ ہے جس سے زمین کواکب سرطان جوزا ثور میں جاتی تو ایك طرف کولینا دوسری کو چھوڑنا کس بنا پر ہوا۔یہ ترجیح بلا مرجح ہے اور وہ باطل اور بالفرض ایك بار جزا فا ایك سمت لی ہمیشہ اس کا التزام کس لیے کیوں نہیں ہوتا کہ ایك بار نقطہ اوج پر آکر پھر انہیں قدموں پیچھے پلٹ جائے کہ جاذبیت و نافریت کے اقتضاء یوں بھی بحال ہیں بالجملہ یہ
",
1098,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,266,"حرکت کسی طرح نافریت عــــــہ کے ماتھے نہیں جاسکتی۔
رد ششم:یہ سب محض ہے دلیل ٹھان لیجئے تو نافریت قائمہ ہی پر تو لے جائے گی۔(نمبر۵)حادہ پر لانا تو اور مرکز سے قریب کرنا ہے تو نفرت نہ ہوئی بلکہ رغبت لیکن ہیات جدیدہ مدار زمین دائرہ نہیں مانتی بلکہ بیضی اور اس میں طرفین قطر کے سوا باقی سب زاویے حادے بنیں گے جس کا خود ان کو اعتراف ہے تونافریت باطل اور رغبت حاصل۔
فائدہ:اس دلیل کو چاہے ابطال نافریت و ابطال حرکت زمین پر کرلو چاہے ابطال بیضیت مدار پر اول تو یوں ہیں جو ابھی مذکور ہوا کہ نافریت ہوتی تو مدار بیضی نہ ہوتا۔ لیکن وہ بیضی ہے اور نافریت باطل تو حرکت زمین باطل اور آخر یوں ہوا کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو نافریت نہ ہوتی تو دورہ نہ ہوتا اور دورہ نہ ہوتا تو مدار نہ ہوتا۔نتیجہ یہ کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو مدار نہ ہوتا شے خود اپنے نفس کی مبطل لہذا بیضیت باطل اب ہیأت جدیدہ کو اختیار ہے جس کا بطلان چاہے قبول کرے مگر یاد رہے کہ بیضیت وہ چیز ہے کہ شروع سترھویں صدی عیسوی میں کپلر نے آٹھ سال رصدبندی کی جانکاہ محنت کی اور مدار کو دائرہ مان کر ۱۹ طریقے فنا کیے کوئی نہ بنا اس کے بعد مدار بیضی لیا اور سب حساب بن گیا اور اسی پر قواعد کپلر کی بنا ہوئی جس بیضیت اور قواعد کپلر پر تمام یورپ کا ایمان ہے اسے باطل مان لینا سہل نہ ہوگا۔لہذا راہ یہی ہے کہ حرکت زمین سے ہاتھ اٹھائیں کہ ان تمام خرخشوں سے نجات پائیں۔
رد ہفتم:اقول:ظاہر ہے کہ نفرت جذب سے ہے اور جذب جمیع جہات شمس سے یکساں اور جتنا جذب اتنی ہی نفرت(۷)تو واجب کہ ہر طرف نافریت یکساں ہو اور جتنی نافریت اتنا ہی بعد تو لازم کہ سب طرف شمس سے بعد یکسا ں ہو آفتاب عین مرکز مدار ہو لیکن وہ مرکز سے ۳۱ لاکھ میل فاصلہ پر فوکز اسفل میں ہے تو نافریت باطل کہ وہ ایسی چیز چاہتی ہے جو امر واقع و ثابت کے خلاف ہے۔
عــــــہ:اگر کہیے ارادہ الہیہ نے ایك سمت معین کردی اگرچہ اس کہنے کی تم سے امید نہیں کہ طبیعات والے اسے بالکل بھولے بیٹھے ہیں ہر بات میں طبیعت و مادہ کے بندے ہیں یوں کہے تو جاذبیت و نافریت کا سارا گورکھ دھندہ اٹھا رکھئے ارادہ الہیہ خود سب کچھ کرسکتا ہے اور جب رجوع الی اﷲ کی ٹھہری تو ہیات جدیدہ کا تھل بیڑہ نہ لگا رہے گا اس کا ارادہ وہ جانے یا تم کتب الہیہ آسمانوں کا وجود بتائیں گی اور آفتاب کی حرکت جیسا کہ بعونہ تعالی خاتمہ میں آتا ہے اس پر ایمان لانا ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ۔
"," ط ص ۵۹۔۱۲
ص ۱۷۰۔۱۲
"
1099,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,267,"فائدہ:اسی دلیل سے بیضیت رد ہوسکتی ہے کہ جب ہر طرف بعد برابر تو ضرور مدار دائرہ تامہ ہوگا نہ بیضی لیکن وہ بیضیت سے انکار کرسکتے ہیں نہ کوئی عاقل شمس کو عین مرکز پر مان سکتا ہے کہ مشاہدہ ہر سال سے باطل ہے لاجرم نافریت و حرکت زمین کو رخصت کرنا لازم ہے۔
رد ہشتم:اقول:نافریت جاذبیت سے دست و گریبان ہو کر کوئی مدار بنا ہی نہیں سکتی نمبر ۳۴ میں سن چکے کہ زمین کو نصف حضیضی میں قرب زیادہ ہوتا جاتا ہے۔اور نصف اوجی میں بعد اور نطاق اول و سوم میں مرکز سے قرب بڑھتا جاتا ہے اور دوم و چہارم میں بعد۔یہ مسائل مسلمہ ہیں جن میں کسی کو مجال سخن نہیں لیکن نافریت و جاذبیت کا تجاذب ہر گز یہ کھیل نہ بنا رکھے گا۔
ا ط کوئی سا قطرفرض کرلیجئے اور ا اس کا کوئی ساکنارہ اور ط مرکز خواہ شمس کی جاذبیت نے زمین کو ا سے ط اور نافریت نے ب کی طرف قائمہ پر پھینکنا چاہا اور تعاول قوتین نے کہ جاذبیت اور نافریت کو مساوی مانا ہے(نمبر۶)اسے کسی طرف نہ جانے دیا بلکہ زاویہ ا کی تصنیف کرتا ہوا خط ا ح پر ح تك لایا۔اب ا سے زمین کا بعد ط ح ہوا زاویہ ا ط ایك عاشرہ یا اس سے بھی خفیف تر کوئی حصہ مانیے تاکہ وہ لہر دار متفرق مستقیم خطوط جن کو چھوٹے چھوٹے مستطیلوں کے قطر کہا جو ہر جزء حرکت پر جذب و نفرت سے بچ کر بیچ میں پڑتے اور ایك لہر دار منحنی کثیر الزوایا شکل بناتے ہیں غایت صغر کے سبب ان کے زاویے اصلا کسی آلے سے بھی قابل احساس نہ رہیں اور ایك منتظم گولائی لیے ہوئے شبیہ بہ دائرہ یا بیضی پیدا ہو مثلث ا ط ج میں ا نصف قائمہ ہوگا۔اور ط وہ خفیف کا لعدم زاویہ اور ح مفرجہ کہ ۱۳۵ درجے سے صرف بقدر ط چھوٹا ہے لا جرم ط ح کہ حادہ کا وتر ہے۔اط سے چھوٹا ہوگا یعنی ط سے زمین کا بعد کم ہوا۔ا ب ح پر وہی کشمکش ہے جاذبیت ا سے ط کی طرف کھنچتی ہے اور نافریت ۳ کی طرف قائمہ پر پھینکتی اور تعاول قوتیں دونوں سے بچا کر ط ح ء قائمہ کے منصف ح ہ پر ہ تك لانا اور پھر ر اور ح ط ہ اتنا ہی خفیف بنتا اور ط ہ وتر حادہ ط ح و تر منفرجہ سے چھوٹا ہوتا ہے یعنی ط سے اور قریب ہوئی یونہی ہ پر وہی معاملہ پیش آئے گا اور ط ح ط ح سے چھوٹا ہوگا ہمیشہ یہی حالت رہے گی تو زمین کو ط سے ہر وقت قرب ہی بڑھے گا تو اس کا کوئی مدار بنانا اصلا ممکن نہیں دائرہ ہو تو وہ ہر طرف بعد برابر چاہے گا اور یہاں ہر وقت مختلف ہے اور بیفی اہلیلجی شلجمی کوئی شکل ہو تو ایك قطر اطول ایك اقصر رہے جس میں دو نطاق مرکز سے قریب کریں گے تو دو بعید ایك نصف شمس سے قریب کرے گا تو دوسرا بعید حالانکہ یہاں ہرو قت قرب ہی بڑھ رہا ہے تو زمین اگر گرد شمس
",
1100,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,268,"گھومی تو شکل یہ بنائے گی۔@ جس میں ہر وقت شمس سے قریب ہوتی جائے گی یہاں تك کہ اس سے مل جائے نہ کہ کسی مدار واحد پر دائرہ ہو۔
رد نہم:اقول:بالفرض جاذبہ و نافرہ کو مساوی ماننے سے استعفا بھی دو اور ط ا ح کو نصف قائمہ سے بڑا مانو تو ہم دعوی کرتے ہیں کہ وہیں تك بڑھ سکتا ہے کہ زاویہ ط سے مل کر ایك قائمہ کم رہے یعنی لازم کہ ا ح ط منفرجہ آئے کہ اگر قائمہ ہو تو ی ا ح بھی ط کے برابر ہوگا۔کہ دونوں ط ا ح کے تمام تاقائمہ ہیں تو نافریت کا حصہ ایك عاشرہ کم پورا قائمہ رہا اور جاذبیت کا حصہ ایك ہی عاشرہ جو اس کے سامنے عدم محض ہے اور اگر حادہ ہو تو اور بھی صغیر و حقیر رہے گا۔
فرض کر اء قائمہ کا خط ہے یعنی جس نے ا سے نکل کر ط ب پر قائمہ بنایا تو حادے کا خط اس سے نیچا مثل ا ح نہیں گر سکتا ورنہ مثلث ا ء ح قائمہ و منفرجہ جمع ہوجائیں نہ ا ء پر آسکتا ہے ورنہ قائمہ و حادہ برابر ہوجائیں۔لاجرم اس سے اوپر پڑے گا۔خواہ ا ر کی طرف ر ط ا ط قطع کرے کہ یہ حادہ ا کے مساوی ہو یا ا ہ کی طرح اط سے چھوٹا کہ یہ حادہ ا سے بڑا ہو یا اح کی طرح اس سے بڑا کہ یہ حادہ ا سے چھوٹا ہو بہرحال جب خط ا ء سے اوپر پڑا تو زاویہ زاویہ ب ا ء ایك عاشرہ پورا ہی ہو تو قائمہ میں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۵۴۴۱۹۵۵۸۴۰۰ عاشرے ہوتے ہیں۔حاصل یہ کہ نافریت کہ ب کی طرف لے جاتی تھی اسے پانچ مہاسنکھ چوالیس سنکھ انیس پدم پچپن نیل تراسی کھرب ننانوے ارب ننانوے کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے حصے کھینچ لے گئی اور بیچاری جاذبیت کہ ط کی طرف لاتی تھی صرف ایك حصہ کھینچ سکی یہ نہ معقول ہے نہ اس کی کوئی وجہ نہ کوئی اتنا فرق مانتا ہے نہ مان سکتا ہے۔جانتے ہو کہ ایك عاشرے کی قوس کتنی ہے مدار شمس یا تمہارے طور مدار زمین میں جس کا قطر اوسطا اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل ہے ایك بال کی نوك کا لاکھواں حصہ بھی نہیں محیط ۳۶۰ درجے ہے درجہ ۶۰ دقیقہ اور ہم نے حساب کیا اس مدار کا ایك دقیقہ ستائیس ہزار تئیس میل ۵ء ہے اور ہر میل ۱۷۶۰ گز ۴۸ انگل ہر انگل چھ جوہر جو دم اسپ ترکی کے چھ بال تو ایك درجے میں صرف ۴۹۳۱۶۱۸۰۴۸۰۰ بال ہوئے کہ پچاس کھرب بھی نہیں اور ایك درجے میں عاشرے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۶۰۴۶۶۱۷۶۰ ہوتے ہیں کہ چھ سنکھ سے بھی زائد ہیں اس پر تقسیم کیے گئے تھے
",
1101,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,269,"۸ حاصل ہوا یعنی اس مدار عظیم کا عاشرہ ایك بال کی نوك سو الاکھ حصوں سے ایك حصہ ہے کیا جاذبیت اتنا ہی کھینچ سکی باقی سارا ماثر نافریت لے گئی لاجرم واجب کہ ج ہ ح سب منفرجے آئیں اور بعد ہمیشہ گھٹتا جائے گا بلکہ انصافا ا نصف قائمے سے فرق کرے گا بھی تو قلیل اور ح وغیرہ ۱۳۵ درجے سے کچھ ہی کم ہوں گے اور قرب بین فرق سے دائما بڑھتا جائے گا یہاں تك کہ زمین آفتاب سے لپٹ جائے اب مدار بنانے کی خبریں کہئے۔
رد دہم:اقول:اینہم برعلم تو یہاں بعد لی کمی بیشی ایك ہی چیز تو نہیں بلکہ مرکز سے نطاق اول کم ہوتا گیا۔دوم میں زیادہ سوم میں پھر کم چہارم میں پھر زیادہ اور شمس سے نصف حضیضی میں کم ہوتا گیا نصف اوجی میں زیادہ(نمبر۳۴)کیا وجہ ہے کہ نافریت یہ مختلف ثمر ے لاتی ہے وہ قوت شاعرہ نہیں کہ تم سے مشورے لے کہ جس نطاق میں جیسا تم کہو ویسا مختلف کام کرے او راپنے اثر بدلتی رہے۔اگر کہئے کہ نطاق اول وسوم میں نافریت ضعیف ہوتی جاتی ہے اس کا اثر کہ بعید کرنا تھا گھٹتا جاتا ہے۔نطاق دوم و چہارم میں قوی ہوتی جاتی ہے اس کا عمل بڑھتا جاتا ہے۔
اقول:یہ محض ہوس ہے۔اولا: اس کے اس اختلاف قوت و ضعف کا کیا سبب ہے۔
ثانیا: کیوں انہیں نطاقوں پر اس کا تعین منتظم مرتب ہے۔
ثالثا: نطاق دوم میں مرکز سے بعد بڑھتا ہے شمس سے قرب کیا وہی نافریت مرکز کے حق میں قوی ہوتی اور شمس کے حق میں ضعیف ہوتی جاتی ہے۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چال برابر بڑھ رہی ہے جو تمہارے طور پر دلیل قوت نافریت ہے۔
رابعا: نطاق سوم میں مرکز سے قرب بڑھتا ہے اور شمس سے بعد کیا وہی نافریت اب یہاں الٹی ہو کر مرکز کے حق میں کمزور پڑتی اور شمس کے لیے تیز ہوتی جاتی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چال برابر سست پڑتی جاتی ہے جو دلیل ضعف نافریت ہے مگر یہ کہیے کہ نافریت ایك ذ ی شعور اور سخت احمق ہے اسے مرکز و شمس دونوں سے نفرت ہے لیکن وہ اپنی حماقت سے دشمن کے گھر میں سوتی رہتی ہے اور جب سر پر آلگتی ہے اس وقت جاگتی ہے مگر پھر بھی غالبا ایك اسی آنکھ سے جس طرف کی زد سر پر آلگی دوسری آنکھ سے اس وقت بھی سوتی رہتی ہے یوں آپ کا نظام پائے گا دیکھو شکل مذکور ۳۴ نقطہ ا یعنی اوج پر نافریت دونوں آنکھوں سے سوتی غافل پڑی خراٹے لے رہی ہے اور اس کی دشمن جاذبیت اپنا کام کررہی ہے زمین کو چپکے چپکے مرکز و شمس دونوں سے قریب لارہی ہے سیدھا یوں نہیں کھینچتی کہ نافریت جاگ اٹھے گی لہذا بچتی کتراتی میر بحری بجاتی لا رہی ہے یہاں تك کہ نقطہ ر یعنی ایك کنارہ قطر اقصر
",
1102,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,270,"پر لے آئی جہاں مرکز سے غایت قرب ہے اب نافریت کی وہ آنکھ جو مرکز کی طرف ہے کھلی کہ اسی طرف سے زد آئی تھی زمین کو مرکز سے لے کر بھاگی اور دور کرنا شروع کیا مگر شمس کی طرف والی آنکھ سے اب سو رہی ہے اسے خبر نہیں کہ شمس سے دور کرتی تو مرکز سے تو قریب لارہی ہوں یہاں تك کہ نقطہ ہ پر دوبارہ مرکز سے غایت قرب میں آئی البتہ اب اس کی دونوں آنکھیں کھلیں اور زمین کو دونوں سے دور لے کر بھاگی یہاں تك کہ نقطہ ا پر پہنچی کھینچ تان کی محنت بہت اٹھائی تھی سال پورا دوڑتے دوڑتے ہوگیا یہاں آکر چاروں شانے چت دونوں آنکھوں سے ایك ساتھ سوگئی اور پھر وہی دورہ شروع ہوا۔یہ فسانہ عجائب یا بوستان خیال تم تسلیم کرو کہ کوئی عاقل تو بے دلیل اسے مان نہیں سکتا۔
رد یا زدہم:اقول:یہاں سے ایك اور رد کا دروازہ کھلا ہرغیر مجنون جانتا ہے کہ نافریت کا اثر بعید کرنا ہے جیسے جاذبیت کا اثر قریب کرنا اور تم خود کہتے ہو کہ جتنی جاذبیت قوی ہوگی اتنی نافریت زور پکڑے گی کہ اس کی مقاومت کرسکے(۷)اتنی قرین قیاس ہے آگے کہتے ہیں کہ جتنی نافریت قوی ہوگی چال تیز ہوگی۔(۷)یہ بھی قرین قیاس تھی اگر وہ چال تیز ہوتی جو بعید کرے لیکن نافریت کی بدقسمتی سے چال وہ تیز ہوتی ہے جو زمین کو شمس سے قریب کرے یعنی نصف حضیضی میں اور مرکز سے لو تو نطاق اول رد کو حاضر کہ جتنی چال تیز ہوتی ہے اتنا مرکز سے قرب بڑھتا ہے۔یہ الٹی نافریت کیسی۔
رد دوازدہم:اقول:جانے دو کیسی بھی چال سہی نری اوندھی مگر جاذبیت اگر کوئی شے ہو تو نصف حضیضی میں اس کی قوت ہر وقت بڑھناآنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ہر روز آفتاب قریب سے بڑھتا جاتا ہے تو اگر نافریت ہوئی واجب کہ وہ بھی واقعی بڑھتی جس طرح جاذبیت فی الواقع بڑھی نہ کہ محض برائے گفتن اور اس کے واقعی بڑھنے کو لازم تھا کہ چال حقیقت میں تیز ہوجاتی لیکن تمام عقلاء کا اتفاق اور تمہیں خود مسلم ہے کہ شمس کہو یا زمین اس مدار پر دورہ کرنے والے کی چال ہمیسہ متشابہ ہے کبھی نہ سست ہوتی ہے نہ تیز ہمیشہ مساوی وقتوں میں مساوی قوسیں قطع کرتی ہے اگرچہ دوسرے دائرے کے اعتبار سے دیکھنے والوں کو تیز و سست نظر آئے(دیکھو نمبر۳۵)تو ثابت ہوا کہ نافریت باطل ہے کہ انتفائے لازم کو انتفائے ملزوم لازم ہے یعنی ترقی جاذبیت تو مشاہدہ ہے اگر نافریت واقع میں ہوتی تو اس وقت ضرور بڑھتی اور اس کے بڑھنے سے چال واقعی تیز ہوتی لیکن اصلا نہ ہوئی تو نافریت تو ضرور غلط ہے تو گردش زمین باطل ہے کہ بے نافریت اس کا پہیہ ڈھلکے گا یا یوں کہئے کہ اس کی گردش دو پہیے ہیں نافریت و جاذبیت ایك کے گر جانے نے زمین کی گاڑی زمین میں گاڑی کہ ہل نہیں سکتی۔وﷲ الحمد۔
",
1103,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں,,271,"رد اول:اقول:اہل ہیأت جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی و ہندسہ و ہیأت میں منہك ہے عقلیات میں ان کی بضاعت قاصر یا قریب صفر ہے وہ نہ طریق استدلال جانتے ہیں نہ داب بحث کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصول موضوعہ ٹھہرا کہ ان پر بے سرو پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑسکتی ہے ان میں نہیں ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے۔دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنانہیں چاہتے۔جاذبیت ان کے لیے ایسے ہی مسائل سے ہے اور وہ اس درجہ اہم ہے کہ ان کا تمام نظام شمسی سارا علم ہیأت اسی پر مبنی ہے۔وہ باطل ہو تو سب کچھ باطل وہ لڑکوں کے کھیل کے برابر برابر کھڑی ہوئی اینٹیں ہیں کہ اگر گراؤ سب گرجائیں۔ایسی چیز کا روشن قاطع دلیل پر مبنی ہونا تھا نہ کہ محض خیال نیوٹن پر ایك سیب ٹوٹ کر گرتا ہے اس سے یہ اٹکل دوڑاتا ہے کہ زمین میں کشش ہے جس نے کھینچ کر گرالیا مگر اس پر دلیل کیا ہے جواب ندارد۔
اولا: عقلائے عالم اثقال میں میل سفل مانتے ہیں کیا وہ میل اس کے گرانے کو کافی نہ تھا یا میل نجانا یوں نہ سمجھ سکتا تھا کہ ثقیل کے استقرار کو وہ محل چاہیے جو اس کا بوجھ سہارے سیب وہی ٹوٹے گا۔جس کا علاقہ شاخ سے ضعیف ہوجائے وہ کمزور تعلق اب اس کا بوجھ نہ سہار سکے ورنہ سبھی نہ ایك ساتھ ٹوٹ جائیں ادھر تو ضعیف علاقہ کے سبب شاخ سے چھوٹا ادھراس سے نرم تر ملاء ہوا کا ملاء اسے کیا سہارتی لہذا
عــــــہ:تنبیہ:مطلقا جاذبیت سے انکار نہیں کہ کوئی شے کو جذب نہیں کرتی مقناطیس و کہر با کا جذب مشہور ہے بلکہ جاذبیت شمس و ارض کا رد مقصود ہے اول کا لذاتہ کہ اسی کی بنا پرحرکت زمین ہے اور دوم کا اس لیے کہ اسی کو دیکھ کر اس میں بلادلیل جذب مانا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ہ
",
1104,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,272,"اس سے کثیف تر ملاء درکار ہوا کہ زمین ہو یا پانی کیا اتنی سمجھ نہ تھی یا بطلان میل پر کوئی قطعی دلیل قائم کرلی اور جب کچھ نہیں تو جاذبیت کا خیال محض ایك احتمال ہوا محتمل مشکوك بے ثبوت بات پر علوم کی بنا رکھنا کار خردمنداں نیست(عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ت)
ثانیا لطف یہ کہ یہی ہیأت جدیدہ والے جا بجا عــــــہ۱ ثقیل میں میل سفل مانتے خفیف میں میل علو لکھ جاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ میل جاذبیت کا سارا میل کاٹ دے گا جب ثقیل اپنے میل سے گرتا سیب کا ٹوٹنا جاذبیت پر کہاں دلالت کرتا ہے یہ یقین و احتمال و طریق استدلال و منصب مدعی و سوال سے ان کی ناواقفی ہے معلول کےلیے علت درکار ہے جب ایك کافی ووافی علت موجود اور تمہیں بھی مسلم ہے تو اسے چھوڑ کر دوسری بے ثبوت کی طرف اسے منسوب کرنا کون سی عقل ہے۔بالفرض اگر علت کافیہ معلوم نہ ہوتی بلادلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردود ہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہ ہوتی بلا دلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردو دہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہیں نہ یہ کہ کافی علت موجود و مسلم ہوتے ہوئے اس سے فرار اور دوسری بے دلیل قرار جاذبیت کے رد کو ایك یہی بس ہے یہاں سے ظاہر ہوا جاذبیت پر ایمان بالغیب انہیں مجبورانہ میل طبعی کے انکار پر لانا ہے اگرچہ وہ نادانی سے کہیں مقر ہوں اگرچہ وہ بے دلیل منکر ہو(عــــــہ۲ ۔۱۱)اور میل طبعی کا ثبوت بلکہ احتمال ہی جاذبیت کو باطل کرتا ہے کہ جب میل ہے جاذبیت کی کیا حاجت اور اس کے وجود پر کیا دلیل یہ تقریر بعض دلائل آئندہ میں ملحوظ خاطر رہے۔
رد دوم:اقول:فرض کردم کہ سیب گرنے سے زمین پر جاذبیت کا آسیب آیا مگر اس سے شمس میں جاذبیت کیسے سمجھی گئی جس کے سبب گردش کا طومار باندھ دیا گیا اس پر بھی کوئی سیب گرتے دیکھا۔یا یہ ضرور ہے کہ جو کچھ زمین کے لیے ثابت ہو آفتاب میں بھی ہو۔زمین بے نور ہے آفتاب سے منور ہوتی ہے۔آفتاب بھی بے نور ہوگا کسی اور سے روشن ہوگا۔یونہی یہ قیاس اس ثالث کو نہ چھوڑے گا اس کے لیے
","€&عــــــہ€∞۱:ح ص ۳۴ ثقل ہمیشہ اجسام کو جانب اسفل کھینچتا ہے۔ص۳۷ اجسام کو جانب پائیں مائل کرتا ہے۔ص ۳۹ اجسام بقدر ثقیل مطلق سے قرب کے طالب پانی ہمیشہ بالطبع بلندی سے پستی کی طرف میل کرتا ہی۔ص ۲۱۲ بخار جتنا ہلکا ہوگا۔زیادہ بلند ہوگا۔ص ۲۱۷ بخار ہوا سے زیادہ لطیف و خفیف لہذا میل علو کرتا ہے۔
€&عــــــہ€∞۲:ص ۲۱۷ حرارت آفتاب کے سبب اجزائے آب ہلکے ہو کر قصد بالا کرتے ہیں یونہی زمین کے جلے ہوئے اجزاء حرارت وقفت کے باعث۔ص ۲۱۵ ابربحسب ثقل یا لطافت نیچے یا اوپر حرکت کرتا ہے۔ط ص ۱۱۵ منجمد اجسام کے تمام اجزاء مل کر زمین کی طرف میل کرتے ہیں اور سیال اجسام کا ہر جز جدا میل زمین کرتا ہے ص ۱۴۱۔ص ۲۱۷ ہوا گرمی سے ہلکی ہو کر بالا سعود کرتی ہے یونہی جغ ص ۹ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
"
1105,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,273,"رابع درکار ہوگا۔اور اسی طرح غیر متناہی چلا جائے گا یا واپس آئے گا۔مثلا شمس ثالث سے روشن اور ثالث شمس سے وہ تسلسل تھا یہ دور ہے اور دونوں محال یہ منطق الطیر اسی بے بضاعتی کا نتیجہ ہے جو ان لوگوں کو علوم عقلیہ میں ہے ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ شاہد پر غالب کا قیاس محض وہم اور وسواسی ہے۔
رد سوم:اقول:تم جاذبیت کے لیے نافریت لازم مانتے ہو کہ وہ ہو اور یہ نہ ہو تو کھینچ کر وصل ہوجائے اور ہم نافریت باطل کرچکے تو جاذبیت خود ہی باطل ہوگئی کہ بطلان لازم بطلان ملزوم ہے۔
رد چہارم:اقول:جاذبیت کے بطلان پر پہلاشاہد عدل آفتاب ہے اس کے مدار میں جسے وہ مدار زمین سمجھتے ہیں ایك نقطہ مرکز زمین سے غایت بعد پر ہے جسے ہم اوج کہتے ہیں اور دوسرا نہایت قرب پر جسے حضیض ان کا مشاہدہ ہر سال ہوتا ہے تقریبا سوم جولائی کو آفتاب زمین سے اپنے کمال بعد پر ہوتا ہے اور سوم جنوری کو نہایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے تفتیش جدیدہ میں شمس کا بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا اور ہم نے حساب کیا مابین المرکزین دو درجے ۴۵ ثانیے یعنی ۵۲۱۲ء ۲ ہے تو بعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶ میل ہوا اور بعد اقرب ۹۱۳۴۱۹۷۴ میل تفاوت ۳۱۱۶۰۵۲ میل اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدار بیضی پر گھومتی ہے جس کے فوکز اسفل میں شمس ہے جیسا کہ ہیأت جدیدہ کا زعم ہے تو اول ان کی سمجھ کے لائق یہی سوال ہے کہ زمین اتنے قوی عظیم شدیدہ ممتدید ہزار ہا سال کے متواتر جذب سے کھینچ کیوں نہ گئی۔ہیأت جدیدہ میں آفتاب ۱۲ لاکھ ۳۵ ہزار ۱۳۰ زمینوں کے برابر اور بعض نے دس۱۰ لاکھ بعض نے چودہ لاکھ دس۱۰ ہزار لکھا اور ہم نے مقررات عــــــہ جدیدہ پر بربنائے اصل کروی حساب کیا تو تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو۲ سو چھپن زمینوں کے برابر آیا۔
عــــــہ:وہ مقررات تازہ یہ ہیں قطر مدار شمس ۱۸ کروڑ ۵۸ لاکھ میل قطر معدل زمین ۰۸۶ء ۷۹۱۳ میل قطر اوسط شمس دقائق محیطیہ سے ۳۲ دقیقے ۴ ثانیے پس اس قاعدے پر کہ ہم نے ایجاداوراپنے فتاوی میں جلد اول رسالہ الھنئی المنیر فی الماء المستدیر میں ایراد کیا۔۶۹۰۴۵۷ء لوامیال قطر مدار + ۴۹۷۱۴۹۹ء۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
"," ۱۸۱۔۱۲۔
ص۔۔۔۔۔۔۔۔۔قلمی نسخہ میں پھٹا ہے(پھر)۱۳۰ ہی کہا، ۱۲۵۹۷۔ص ۲۶۶ غائب، ۳۶۱ء۱۳۴۵۱۲۶ یہ اس کی عادت ہے۔کہ ہر جگہ مختلف کہے ۱۲ منہ۔
سوالنامہ ہیأت ص ۱۸۔۱۲۔
نظارہ عالم ص ۷۔۱۲
"
1106,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,274,"بہرحال وہ جرم کہ اس کے ۱۲ لاکھ حصوں میں سے ایك کے بھی برابر نہیں اس کی کیا مقاومت کرسکتا ہے تو گرد دورہ کرنا نہ تھا بلکہ پہلے ہی دن کھینچ کر اس میں مل جانا کیا ۱۲ لاکھ اشخاص مل کرایك کو کھینچیں اور وہ دوری چاہے تو بارہ لاکھ سے کھنچ نہ سکے گا بلکہ ان کے گرد گھومے گا اور کامل علمی ردیہ ہے کہ کسی قوت کا قوی پڑ کر ضعیف ہوجانا محتاج علت ہے اگرچہ اسی قدر کہ زوال علت قوت جب کہ نصف دورے می جاذبیت شمس غالب آکر ۳۱ لاکھ میل سے زائد زمین کو قریب کھینچ لائی تو نصف دوم میں اسے کس نے ضعیف کردیاکہ زمین پھر ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ دور بھاگ گئی حالانکہ قرب موجب قوت اثر جذب ہے(۱۰)تو حضیض پر لاکر جاذبیت شمس کا اثر اور قوی تر ہونا اور زمین کا وقتا فوقتا قریب تر ہوتا جانا لازم تھا نہ کہ نہایت قرب پر آکر اس کی قوت سست پڑے اور زمین اس کے نیچے سے چھوٹ کر پھر اتنی ہی دور ہوجائے شاید جولائی سے جنوری تك آفتاب کو راتب زیادہ ملتا ہے قوت تیز ہوتی ہے اور جنوری سے جولائی تك بھوکا رہتا ہے کمزور پڑ جاتا ہے۔دو جسم اگر برابر کے ہوتے تو یہ کہنا ایك ظاہری لگتی ہوئی بات ہوتی کہ نصف دورے میں یہ غالب رہتا ہے نصف میں وہ نہ کہ وہ جرم کہ زمین کے ۱۲ لاکھ امثال سے بڑا ہے اسے کھینچ کر ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ قریب کرے اور عین شباب اثر جذب کے وقت سست پڑ جائے اور ادھر ایك ادھر ۱۲ لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف انقسام پائے اس پر یہ مہمل عذر پیش ہوتا ہے کہ نقطہ حضیض پر نافریت بہت بڑھ جاتی ہے وہ زمین کوآفتاب کے نیچے سے چھڑا کر پھر دور لے جاتی ہے۔
اقول:یہ ہارے کا حیلہ محض بے سروپا ہے۔اولا: جاذبیت و نافریت کا گھٹنا بڑھنا متلازم ہے نافریت اتنی ہی بڑھے گی جتنی جاذبیت اور بہرحال مساوی رہیں گی۔۱۶۔۱۲۔۱۴ یہاں اگر نافریت
",(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشت۸۷۷۶۶۱۹۵۶ لو امیال محیط اC=۳۳۴۴۵۳۸ء۴ء لودقائق محیط = ۴۳۱۷۴۱۸ء۴ لودقیقہ محیطیہ ما + ۵۶۰۵۳۹ء الودقائق قطر شمس = ۹۳۷۷۹۵۷ء۵ لو امیال قطر شمس =۸۹۸۳۴۵۹ء۳ لوامیال قطرزمین = ۰۹۴۴۹۸ء۲ لو نسبت قطرین ما x۳ کہ کرہ:کرہ قطر:قطر مثلثۃ بالتکریر = ۱۱۸۳۴۹۴ء۶ لونسبت کہ تین عدد ۱۳۱۳۲۵۶ وھو المقصود یعنی محیط فلك شمس ۵۸ کروڑ ۳۷ لاکھ ۸ ہزار میل ہے۔اور ایك دقیقہ محیطیہ ۵ء۲۷۰۲۳ میل اور قطر شمس ۳ء۸۶۶۵۵۴ میل اور وہ قطر زمین کے ۵۰۹ء۱۰۹مثل ہے اور جرم شمس تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر اور علم حق اس کے خالق عزوجل کو ۱۲ منہ۔
1107,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,275,"بدرجہ غایت ہے کہ چال سب سے زیادہ تیز ہے تو جاذبیت بھی بحد کمال ہے کہ قرب شمس سب جگہ سے زائد ہے نافریت جاذبیت سے چھینے تو جب کہ اس پر غالب آئے برابر سے چھین لینا کیا معنی!
ثانیا: اگر مساوی قوت دوسری پر غالب آسکتی ہے تو یہاں خاص نافریت کیوں غالب آئی جاذبیت بھی تو مساوی تھی وہ کیوں نہ غالب ہوئی یہ ترجیح بلا مرجح ہے۔
ثالثا: اگر نافریت ہی میں کوئی ایسا طرہ ہے کہ بحال مساوات وہی غالب آئے تو اسے مساوات تو روز اول سے تھی اور نقطوں پر کیوں نہ غالب آئی اسی نقطے کی تعین کیوں ہوئی۔
رابعا: ہمیشہ اسی کا التزام کیوں ہوا۔
خامسا: مساوات تو تم بگھار رہے ہو ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ نقطہ اوج سے نقطہ حضیض تك برابر جاذبیت غالب آرہی ہے۔قوت کا غلبہ اس کے اثر سے ظاہر ہوتا ہے جاذبیت قرب کرنا چاہتی ہے اور نافریت دور پھینکنا مگر وہاں سے یہاں تك برابر شمس سے قرب ہی بڑھتا جاتا ہے نافریت اگرچہ بیچارے برابری کے درجے پر متواتر چال تیز کررہی ہے لیکن اس کی ایك نہیں چلتی اور جاذبیت ہی کا اثر علی الاتصال غالب آرہا ہے پھر کیا معنی کہ عین شباب غلبہ پر دفعۃ مغلوب ہوجائے۔
سادسا: نافریت اگر بڑھی ہے تو خاص نقطہ حضیض پر یا تو اس نے زمین کو آفتاب سے بال بھر بھی نہ چھینا کہ غایت قرب پر ہے چھینے گی۔آگے بڑھ کر اس نقطے سے چل کر شمس سے بعد بڑھتا جائے گامگر اس نقطے سے سرکتے ہی نافریت بھی تیزی پر رہے گی ہر آن ضعیف ہوتی جائے گی کہ قدم قدم پر چال سست ہوگی۔عجیب کہ اپنی کمال قوت پر تو نہ چھین سکی جب ضعیف پڑی چھین لی گئی۔
سابعا: طرفہ یہ کہ جتنی ضعیف ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ چھین رہی ہے کہ جس قدر چال سست ہوتی ہے اتنا ہی بعد بڑھتا ہے یہاں تك کہ ا پر کمال سستی کے ساتھ نہایت بعد ہے کیا عقل سلیم ان معکوس باتوں کو قبول کرسکتی ہے ہر گز نہیں عاجزی سب کچھ کراتی ہے۔اصول علم الہیاۃ نے اس پر عذر گھڑا کہ مرکز شمس کے گرد جو دائرہ ہے اوج میں زمین کا راستہ اس دائرے کے اندر ہو کر ہے لہذا شمس کی طرف آتی ہے اور حضیض میں اس دائرے سے باہر ہے لہذا نکل جاتی ہے۔
اقول:اولا: کون سا دائرہ یہاں ایك دائرہ معدل المسیر لیا جاتا ہے کہ مرکز شمس کے گرد نہیں مرکز بیضی کے گرد ہے اور دونوں نقطہ اوج و حضیض پر یکساں گزرا ہوا ہے اس شکل سے
", ص ۱۸۱ ۱۲۔
1108,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,276,"ا ہ ر ب مدار بیضی ہے مرکز ط شمس اس کے نیچے نقطہ ح پر ا و ج ب حضیض مرکز ط پر بعد اط یا ط ب سے کہ مساوی ہیں دائرہ ا ب ح ء معدل المسیر ہے اور اگر یہ مراد کہ مرکز شمس پر اوج کی دوری سے دائرہ کھینچیں ظاہر ہے کہ زمین اوج میں اس دائرے پر آئے گی اور حضیض میں اس سے باہر ہوگی یعنی اس پر نہ ہوگی اس کے اندر ہوگی تو اس کے تعین کی کیا علت کیوں نہ مرکز شمس پر حضیض کی دوری سے دائرہ کھینچے کہ زمین حضیض میں اس پر ہو اور اوج میں نہ اس پر نہ اندر حقیقۃ باہر معتبر و ملحوظ دائرہ معدل المسیرہی کیوں نہیں لیا جاتا کہ دونوں میں اس پر گزرے۔
ثانیا: اس دائرے پر آنے کو شمس کی طرف لائے اور اس سے جدائی کو شمس سے لے جانے میں کیا دخل ہے لانا جذب ہے اور بحسب قرب ہے تو دور سے لانا اور قریب بھگانا الٹی منطق ہے شاید نقطہ اوج میں لاسا لگا ہے کہ طائر زمین کو پھانس لاتا ہے نقطہ حضیض پر کھٹکھٹا بندھا ہے کہ بھگا دیتا ہے۔
ثالثا: اس دائرے ہی میں کچھ وصف ہے تو زمین صرف حلول نقطہ اوجی ہی کے وقت وہ ایك آن کے لیے اس پر ہوگی یہ آدھے سال آنا اور آدھے سال بھاگنا کیوں غرض یہ کہ بنائے نہیں بنتی ظاہر ہوا کہ حیلے بہانے محض اسکولی لڑکوں کو بہلانے کے لیے مغالطے ہیں جاذبیت و نافریت کے ہاتھوں ہر گز مداربن نہیں سکتا۔بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب اس کے گرد ایك ایسے دائرے پر متحرك جس کا مرکز مرکز عالم سے اکتیس لاکھ سولہ ہزار باون میل باہر ہے اگر مرکز متحد ہوتا زمین سے آفتاب کا بعد ہمیشہ یکساں رہتا مگر بوجہ خروج مرکز جب آفتاب نقطہ ا پر ہوگا مرکز زمین سے اس کا فصل ا ح ہوگا یعنی بقدر اب نصف قطر مدار شمس ب ح مابین المرکزین اور جب نطقہ ء پر ہوگا اس کا فصل ح ء ہوگا یعنی بقدر ب ء نصف قطر مدار شمس مابین المرکزین دونوں فصلوں میں دو چند مابین المرکزین فرق ہوگا۔یہ اصل کروی پر ب ح ہے لیکن وہ بعد اوسط پر لیا گیا ہے۔ہ مرکز مدار شمس ب فوکز اعلی ح فوکز اسفل جس پر زمین ہے اس میں شمس اس مابین المرکز ین ب ح مابین الفو کزین جانتے ہیں اور مابین المرکزین ہ ح اس کا نصف کہ بعد اوسط اج متصف مابین الفوکزین پر ہے۔
",
1109,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,277," تو بعد اوسط نصف مابین الفوکزین = بعد ابعد نصف مذکور بعد اقرب لاجرم شمس بقدر مابین الفوکزین و ضعف مابین المرکزین جدید فرق ہوگا اور یہی نقطے اس قرب و بعد کے لیے خود ہی متعین رہیں گے۔کتنی صاف بات ہے جس میں نہ جاذبیت کا جھگڑا نہ نافریت کا بکھیڑا۔
رد پنجم:جاذبیت کے بطلان پر دوسرا شاہد عادل قمر ہے اصول علم الہیأۃ ص ۲۰۹ میں خود ہیأۃ جدیدہ پر ایك سوال قائم کیا جس کی توضیح یہ کہ اگرچہ زمین قمر کو قرب سے کھینچتی ہے اور آفتاب دور سے مگر جرم شمس لاکھوں درجے زمین سے بڑا ہونے کے باعث اس کی جاذبیت قمر پر زمین کی جاذیبت سے ۱۱/ ۵ ہے یعنی زمین اگر چاند کو پانچ میل کھینچتی ہے تو آفتاب گیارہ میل اور شك نہیں کہ یہ زیادت ہزاروں برس سے مستمر ہے تو کیا وجہ ہے کہ چاند زمین کو چھوڑ کر اب تك آفتاب سے نہ جا ملا تو معلوم ہوا کہ جاذبیت باطل و مہمل خیال ہے اور اس کا یہ جواب دیا کہ آفتاب زمین کو بھی تو کھینچتا ہے کبھی قمر سے کم کبھی زیادہ جیسا ان کا بعد آفتاب سے ہو تو شمس جتنا قمر کو کھینچتا ہے زمین اپنا چاند بچانے کو اس سے پوری جاذبیت کا مقابلہ کرنے کی محتاج نہیں بلکہ صرف اتنی کا جس قدر جاذبیت مذکورہ زمین کو جاذبیت شمس سے زائد ہے اور یہ اس جاذبیت سے کم ہے جتنی زمین کو قمر پر ہے لہذا قمر آفتاب سے نہیں ملتا۔
اقول:توضیح جواب یہ ہے کہ قمر کا شمس سے جا ملنا اس جذب پر ہے جو قمر کو زمین سے جدا کرے۔جذب شمسی زمین و قمر دونوں پر ہے تو جہاں تك وہ مساوی ہیں اس جذب کا اثر زمین سے جدائی قمر نہ ہوگی کہ وہ بھی ساتھ ساتھ بنی ہے۔ہاں قمر پر جتنا جذب زمین پر جذب سے زائد ہوگا وہ موجب جدائی قمر ہوتا لیکن زمین اس قدر سے زیادہ اسے جذب کررہی ہے تو جدائی نہ ہوگی فرض کرو شمس قمر کو ۹۹ گز کھنیچتا ہے اور زمین سے ا سے ۴۵ گز کہ جذب شمس سے ۵/ ۱۱ ہے اور آفتاب زمین کو ۹۰ گز کھینچے تو ۹۰ گز تك تو زمین و قمر مساوی ہیں قمر پر ۹ ہی گز جذب شمس زائد ہے لیکن زمین کا جذب اس پر ۴۵ گز ہے تو جذب شمس سے پچگنا ہے لہذا شمس سے ملنے نہیں پاتا۔
اقول:خوب جواب دیا کہ قمر کو بڑے سفر سے بچالیا چھوٹا ہی سفر کرنا پڑا۔اب کہ جذب زمین اس پر زیادہ ہے زمین پر کیوں نہیں آگرتا۔سوال کا منشا تو جذبوں کا تفاوت تھا وہ اب کیا مٹا قمر شمس پر نہ گرا زمین پر سہی۔
رد ششم:اقول:لطف یہ کہ اجتماع کے وقت قمر آفتاب سے قریب ہوجاتا ہے اور
", اصول علم الہیأۃ نمبر۲۱۰۔۱۲
1110,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,278,"مقابلہ کے وقت دور تر حالانکہ قریب وقت اجتماع آفتاب کی جاذبیت کہ مجموع ہر دو جذب کی ۱۱/۱۶ ہے صرف ۳/۸ ہی عمل کرتی ہے کہ قمر شمس وارض کے درمیان ہوتا ہے زمین اپنی طرف پانچ حصے کھینچتی ہے اور شمس اپنی طرف گیارہ حصے تو بقدر فصل جذب شمس ۶/۱۶ جانب شمس کھینچا نہیں نہیں بلکہ بہت ہی خفیف جیسا کہ ابھی ردپنجم میں واضح ہوا اور قریب وقت مقابلہ جاذبیت کے سب ۱۶ حصے قمر کو جانب شمس کھینچتے ہیں کہ ارض شمس و قمر کے درمیان ہوتی ہے دونوں مل کر قمر کو ایك ہی طرف کھینچتے ہیں۔غرض وہاں تفاضیل کا عمل تھا یہاں مجموع کا کہ اس کے سہ چند کے قریب بلکہ بدرجہائے کثیرہ زائد ہے تو واجب کہ وقت مقابلہ قمر شمس سے بہ نسبت اجتماع قریب تو آجائے حالانکہ اس کا عکس ہے تو ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل ہے۔ اصول الہیأت نمبر۲۱۰ میں اس قرب و بعد کی یوں تقریر کی کہ اجتماع کے وقت زمین قمر کو شمس سے چھین لے جاتی ہے اور وہ دور ہوتا رہتا ہے یہاں تك کہ مقابل شمس آتا ہے اس وقت شمس و زمین دونوں اسے ایك طرف کھینچتے ہیں تو آفتاب سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تك کہ اجتماع میں آتا رہتا ہے۔
اقول:کیا زمین وقت مقابلہ سے وقت اجتماع تك نیرین کے بیچ ہی میں رہتی ہے کہ وہ سلسلہ آفتاب سے قریب کرنے کا مسلسل رہتا ہے یا زمین تو مقابلے کے بعد ایك کنارے کو گئی اور جب سے اجتماع ہونے تك جہت خلاف شمس کھینچتی رہی اور اس کا جذب جذب شمس سے بدرجہا زائد ہے جیسا کہ ابھی ردپنجم میں گزرا پھر بھی چاند ہی کہ شمس ہی کی طرف کھینچتا ہے شاید مقابلہ کے خفیف ساعت میں زمین نے اس کے کان میں پھونك دیا تھا کہ چاہے میں کہیں ہوں چاہے میں کسی طرف کھینچوں اور کتنے ہی غالب زور سے کھینچوں مگر تو اسی وقت کے اثر پر رہنا آفتاب ہی سے قریب ہوتا جانا میری ایك نہ مانا کیونکہ وہ بڑا بوڑھا ہے اس کا لحاظ واجب ہے اور چاند ایسا سعادت مند کہ اسی پر کار بند جب کھینچتے وہ آفتاب کی گود کے پاس پہنچا یعنی اجتماع میں آتا ہے اس وقت زمین اپنی نصیحت پر پریشان ہوتی ہے اور بڑھ کر وہ ہاتھ لگاتی ہے کہ شمس کی گود سے اسے چھین کر آدھے دورے میں نہایت دوری پر لے جاتی ہے یہاں آکر پھر بھول جاتی اور وہی انچھر چاند کے کان میں پھونکتی ہے ایسی پاگل زمین ہیأت جدیدہ میں ہوتی ہوگی غرض دنیا بھر کے عاقلوں کے نزدیك علت کے ساتھ معلول ہوتا ہے اور وہ علت فنا ہو کر علت خلاف پیدا ہو تو فورا خلاف ہوجاتا ہے لیکن ہیات جدیدہ کے نزدیك علت کو فنا ہوئے مدتیں گزریں اور خلاف کی علتیں برابر روزانہ ترقی پر ہیں مگر معلول اسی مردہ علت کا جاگ رہا ہے اور ان زندہ علتوں کا معلول فنا ہے یعنی ادھر تو علت معدوم اور معلول قائم اور ادھر علت موجود دو مترقی اور معلوم معدوم۔
رد ہفتم:اقول:پھر وہ پانچ وگیارہ کی نسبت تو مزعوم ہیأت جدیدہ تھی جس میں خود قاعدہ نیوٹن سے کہ جاذبیت بحسب مربع بعد بالقلب بدلتی ہے عدل تھا۔اس کا رد نمبر ۱۴ میں گزرا یہ قاعدہ نیوٹن اگر
",
1111,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,279,"صحیح ہے تو قمر پر جاذبیت شمس بہ نسبت جاذبیت ارض ۱ /۵۰۰۰ ہوگی یہ بھی بہت نادر اکثر اوقات اس سے بھی کم زمین سے قمر کا بعد ابعد ۹۴۷ء ۲۵۱ میل ہے شمس سے زمین کا بعد اقرب ۹۱۳۴۱۹۷۴ میل فرض کیجئے شمس اپنے بعد اقرب پر ہے اور قمر اجتماع میں اپنے بعد ابعد پر کہ شمس و ارض سے فاصلہ قمر میں سب سے کم تفاوت کی صورت ہے باقی سب صورتوں میں اس سے زیادہ فرق ہوگا جو جاذبیت شمس کو اور چھوٹا کرے گا اس نادر صورت پر شمس سے قمر کا بعد۹۱۰۹۰۰۲۷ میل میں ہوگا۔اب اگر شمس و ارض میں قوت جذب برابر ہوتی تو نسبت یہ ہوتی جذب الارض للقمر جذب الشمس للقمر::(۹۱۰۹۰۰۲۷) ۲(۲۵۱۹۴۷)۲ اول کو ایك فرض کریں تو چہارم ÷ سوم = دوم یعنی
جذب الشمس للقمر یعنی قمر کو جذب ارض اگر دس کروڑ ہے تو جذب شمس صرف ۷۶۵ یعنی تقریبا ایك لاکھ تینتس ہزار تین سو تینتس حصوں سے ایك حصہ لیکن شمس میں قوت جذوب باعتبار قوت زمین ۲ء۲۷ ہے یا ۲۸ تو حاصل کو اس میں ضرب دیئے سے ۰۰۰۲ء ۰ حاصل رہا یعنی شمس اگر قمر کو اپنی طرف ایك میل کھینچتا ہے تو زمین اپنی طرف پانچہزار میل اور تقریر رد پنجم شامل کیے سے تو جذب زمین کے مقابل جذب شمس گویا صفر محض رہ جائے گا اور زمین کا جذب المعارض و مزاحم کام فرمائے گا اور شك نہیں کہ یہ جذب ہزاروں برس سے جاری ہے اور وجہ کیا ہے کہ قمر اب تك زمین پر نہ گر پڑا اگر جاذبیت صحیح ہوتی ضرور کب کا گر چکا ہوتا تو جاذبیت محض مہمل خیال ہے۔
رد ہشتم:اقول:قمر کو جذب شمس وارض میں کچھ بھی نسبت ہو یہ تو اجتماع نیرین میں دیکھی جائے گی کہ شمس ایك طرف کھنچے گا اور ارض دوسری طرف مقابلہ میں تو شمس و ارض دونوں ایك طرف ہوتے ہیں اصول الہیأت مضمون مذکور ردششم میں یہ خوب کہی کہ اس کے سبب قمر شمس سے قریب ہوتا ہے۔بہت خوب زمین بھی شمس ہی کے لیے کھینچی ہوگی عقلمند بیچ میں زمین ہے تو اس وقت ارض دوسری طرف مقابلہ میں تو شمس و ارض دونوں ایك طرف ہوتے ہیں اصول الہیأت مضمون مذکور ردششم میں یہ خوب کہی دونوں اپنی مجموعی طاقت سےقمر کو زمین ہی کی طرف کھینچتے ہیں اب کیوں نہیں گرتا اگر کہیے اور سیارے ادھر کو کھینچتے ہیں
"," اصول علم الہیاۃ ص ۱۱۳ و ص ۲۶۴۔۱۲۔
اس کا بیان ابھی جاذبیت کے ردچہارم میں گزرا۔
اصول علم الہیأۃ ص ۲۶۷۔۱۲
اصول علم الہیاۃ ص ۸۳، ۱۲
"
1112,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,280,"اقول:ہزاروں بار ہوتا ہے کہ سب سیارے مع زمین ایك طرف ہوتے ہیں اور تنہا قمر دوسری جانب اور ثوابت کا اثر جذب نہ مانا گیا ہے نہ ماننے کے قابل ہے کہ وہ سب طرف محیط ہیں تو داب یکساں ہو کر اثر صفر رہا۔اب قمر کیوں نہیں گرتا۔یہ تمام عظیم ہاتھی جمع ہو کر اپنی پوری طاقت سے اس چھوٹی سی چڑیا کو کھینچتے کھینچتے ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور چڑیا ہے کہ بال بھر نہیں سرکتی اس کی تیوری پر میل تك نہیں آتا یہ کیسی جاذبیت ہے لاجرم جاذبیت محض غلط ہے۔
ردنہم:اقول:نافریت کی گندم پہلے کاٹ چکے ہیں اور بفرض باطل ہو بھی تو یہ قرار داد ہے کہ وہ بقدر جاذبیت بڑھتی ہے اور چال بقدر نافریت(نمبر۷)تو واجب تھا کہ جب سیارے گرد قمر متفرق ہوتے اس کی چال کم ہوتی کہ ان کی جاذبیت باہم معارض ہو کر قمر پر اثر کم پڑرہا ہے اور جب سیارے قمر سے ایك طرف ہوتے اس کی چال ہمیشہ سے بہت زائد ہوجاتی کہ اسے مجموع جا ذبیتوں کا مقابلہ کرنا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ "" و القمر قدرنہ منازل"" (اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کیں۔ت)کے زبردست محکم انتظام نے اسے جس روش پر ڈال دیا ہے ہمیشہ اسی پر رہتا ہے وہ سیاروں کے اجتماع کی پرواہ کرتا ہے نہ تفر ق کی تو قطعا ثابت ہوا کہ جاذبیت محض وہمی گھڑت ہے۔
رد دہم:اقول:ان سب سے بڑھ کر بطلان جاذبیت پر شہادت بحراوقیانوس کا مدوجزر ہے ہر روز دوبار پانی گزوں حتی کہ ۷۰ فٹ تك اونچا اٹھتا اور پھر بیٹھ جاتا ہے اسے جاذبیت قمر کے سر ڈھالنا جاذبیت ارض کو سلام کرنا ہے اگر قمر کو اس کے بعد اقرب ۲۲۵۷۱۹ میل پر رکھئے اور زمین کی جاذبیت اس کے مرکز سے لیجئے کہ پانی کو اس سے ۵ء ۳۹۵۶ میل بعد ہو تو حسب قاعدہ نیوٹن اگر زمین و قمر میں قوت جذب برابر ہوتی پانی پر دونوں کے جذب کی نسبت یہ ہوئی جذب قمر:جذب ارض: :(۵ء۳۹۵۶)۲ =(۳۵۵۷۱۹)۲ ثانی کو ایك فرض کریں تو سوم =چہارم = جذب قمر ہوتا یعنی ۲۵ء۱۵۶۵۳۸۹۲
۵۰۹۴۹۰۶۶۹۶۱ = ۰۰۰۳۰۷۲۴۵۹ء۰لیکن قمر میں قوت جذب قوت زمین کی ۱۵ ہے لہذا اسے ۰۵ء میں ضرب دیا حاصل ۰۰۰۰۴۶ء۰ یعنی پانی پر جذب قمر اگر ۲۳ ہے تو جذب زمین پانچ لاکھ یا قمر اگر ایك قوت سے جذب کرتا ہے توز مین ۲۱۷۳۹ قوتوں سے پھر کیونکر ممکن پانی بال برابر بھی اٹھنے پائے
"," القرآن الکریم ۳۶/ ۳۹
اصول ہردوصفحہ مذکور ہ
اصول ص ۲۶۷۔۱۲۔
"
1113,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,281,"ہم نے نمبر ۱۷ کے اعمال ح وص کے لحاظ سے پانی کا بعد مرکز زمین سے لیا ورنہ زمین سے تو اسے اصلا بعد نہیں اور ہم ثابت کرآئے کہ جذب اگر ہے تو ہر گز خاص بمرکز نہیں تمام کرہ جاذب ہے______________ہاں انتہائے جذب جانب مرکز ہے تو جب تك جسم واصل مرکز نہ ہو زیر جذب رہے گا ولہذا زمین پر رکھا ہو پتھر بھی بھاری ہے اور وزن نہیں ہوتا مگر جذب سے تو ثابت ہوا کہ زمین میں جذب ہے تو ضرور ثقیل متصل کو بھی جذب کرتی ہے بلکہ سب سے اقوی کہ جاذبیت قرب سے بڑھتی ہے۔(۱۰)اور یہ نہایت قرب سے اب تو جذب قمر کو جذب زمین سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی ہے اور اگر اس سے بھی در گزر کرکے تسلیم کرلیں کہ جذب کے لیے فصل ضرور ہے تو ایك فصل معتدبہ مثلا ایك انگل رکھئے بفرض غلط قبول کرلیں کہ قمر نے ایك انگل پانی زمین سے جدا کرلیا اب محال ہے کہ بال کا ہزاروں حصہ اور بڑھےنہ کہ ۷۰ فٹ تك قمر کا بعد اوسط ۲۳۸۸۲۳ میل ہے ہر میل ۱۷۶۰ گز ہر گز اڑتالیس انگل تو بعد قمر ۱۸۴۰ء۲۰۱۷۶۶۱ بیس ارب انگل مع زیادات ہوا۔ایك انگل کا مربع ایك کہ جذب قمر ہو اور اس بعد کا مربع ۲۸۱۸۵۶۰۰ ۴۰۷۰۹۵۶۶۵۳۴۲۰ کو جذب ارض ہوتا اگر قوت جذب دونوں کروں میں مساوی ہوتی لیکن قمر میں ۱۵ء ہے تو اس عدد کو ۱۵ء پر تقسیم کیا جذب ارض۔______________ ۲۷۱۳۹۷۱۱۰۲۲۸۰۱۸۷۹۰۴۰۰۰ ہوا یعنی پانی پر جذب قمر کی ایك قوت ہے تو جذب زمین کی دو سو اکہتر مہاسنکھ سے بھی سنکھوں زائد ہے تو مدمحال قطعی ہوتا ہے لیکن واقع ہے تو یقینا زمین میں جاذبیت نہیں اگر کہے ہیأت جدیدہ والے تو یہ کہتے ہیں کہ چاند سارے کرہ زمین کو گزوں اونچا اٹھالیتا ہے تو پانی کا ستر فٹ اٹھالینا کیا دشوا رہے۔
اقول:چاند کا زمین کو اونچا اٹھالینا نرا ہذیان ہے زمین کا وزن _______۱۶۹۹۳۲۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ سولہ ہزار نو سو ترانوے مہاسنکھ من اور بیس سنکھ من ہے وہ قمر سے انچاس حصے بڑی ہے بلکہ اس کاجرم جرم قمر کا وزن میں ۵ء۸۱ مثل ہے کیا چٹھنکی ڈیڑھ چھٹانك پانچ سیر پختہ وزن پر غالب آکر اسے کھینچ لے گی یا قمر کو جر ثقیل کی کوئی کل دی گئی ہے اس کے پاس ایك کل ہوگی تو زمین کے پاس انچاس کہ قبل اس کے کہ وہ اسے بال بھر اٹھا سکے یہ اسے کھینچ کر گرالے گی اور اگر بالفرض قمر زمین کو اٹھا بھی لے تو زمین چاہے سو گز نہیں سومیل
"," اصول ہر دو صفحہ مذکورہ ہوا۔
ص ۱۲۰۰۔۱۲
ص ۱۹۷۔۱۲
ص ۲۱۰۔۱۲۔
"
1114,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,282,"کھنچ جائے پانی کا ذرہ بھر اٹھنا ممکن نہیں زمین کے اس طرف چاند کے خلاف کوئی دوسرا حامل اقوی نہ تھا جس سے چاند اسے نہ چھین سکتا اور پانی کو زمین مہا سنکھوں زیادہ زور سے کھینچ رہی ہیں چاند اسے کیونکر کھینچ سکے گا۔اس کی نظیر یہ ہے کہ مثلا سیر بھر وزن کے ایك گولے میں لوہے کا پتر نہایت مضبوط کیلوں سے جڑا ہوا ہے تم اس گولے کو ہاتھ سے کھینچ سکتے ہو لیکن اس پتر کو گولے سے جدا نہیں کرسکتے جب تك و ہ کیلیں نہ نکالو یہاں پانی پر وہ کیلیں صد ہا مہاسنکھوں طاقت سے جذب ہے جب تك یہ معدوم نہ ہو پانی ہزاروں چاندوں کے ہلائے ہل نہیں سکتا لیکن ہلتا کیا گزوں اٹھتا ہے تو ضرور جذب زمین معدوم ہے۔ وھو المقصود اگر کہیے ضرور اس سے زمین کی جاذبیت تو باطل ہوگئی لیکن قمر کی تو مسلم رہی۔
اقول:اول: مقصود ابطال حرکت زمین ہے وہ جاذبیت شمس پر مبنی اور اوپر گزرا کہ زمین ہی میں جاذبیت گمان کرکے شمس کو اس پر بلادلیل قیاس کیا ہے جب یہی باطل ہوگئی قیاس کا دریا ہی جل گیا شمس میں کہاں سے آئے گی یا یوں کہیے کہ ہیأت جدیدہ کا وہ کلیہ کہ ہرجسم میں بقدر مادہ جاذبیت ہے جس کی بنا ء پر شمس میں اس کے لائق جاذبیت اور اس کے سبب زمین کی حرکت مانی تھی باطل ہوگیا اور جب معلوم ہوگیا کہ بعض اجسام میں جذب ہے بعض میں نہیں تو جذب شمس پر دلیل نہ رہی ممکن کہ شمس انہیں اجسام سے ہو جن میں جذب نہیں۔
ثانیا: مد کا جذب قمر سے ہونا بھی بوجوہ کثیرہ مخدوش ہے جن کا بیان نمبر ۱۶ میں گزرا۔
رد یاز دہم:اقول:جو دوسری طرف کی مد کی توجیہ کی کہ زمین اٹھتی ہے اور ادھر کے پانی کو چھوڑ آتی ہے۔جاذبیت ارض کی نفی پر دلیل روشن ہے سمت مواجہ کے پانی پر تو ارض و قمر کا تجاذب تھا یہ غلط مان لیا کہ قمر غالب آیا سمت دیگر کے پانی کو تو دونوں جانب زمین ہی کھینچ رہی ہے اسے زمین نے کیونکر چھوڑا قمر کا جذب اس پر کم تو زمین کاجذب تو بقوت اتم ہے اور یہاں اس کا معارض نہیں پھر چھوڑ دینے کے کیا معنی !
رد دوازدہم:اقول:یہ جو ہیات جدیدہ نے اقرار کیا کہ جذب قمر میں پانی زمین کا ملازم نہیں رہتا قمر کی جانب مواجہ میں بوجہ لطافت و قرب آب پانی زمین سے زیادہ اٹھتا ہے اور دوسری طرف بوجہ بعد آب زمین پانی سے زیادہ اٹھتی ہے۔یہ بڑے کام کی بات ہے اس نے زمین پر جاذبیت شمس کا قطعی خاتمہ کردیا اگر وہ صحیح ہوتی تو جب جذب قمر سے یہ حالت ہے جو انتہا درجہ صر ف ۷۰ ہی فٹ اٹھا سکتا ہے تو جذب شمس کہ زمین کو ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ کھینچ لاتا ہے۔واجب تھا کہ پانی پر اسی ۷۰ فٹ اور ۳۱ لاکھ ۱۶ ہزار باون میل کی نسبت سے اشد واقوی ہوتا سامنے کے پانی زمین کو چھوڑ کر
",
1115,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,283,"لاکھوں میل چلے جاتے زمین نری سوکھی رہ جاتی یا قوت جذب کے سبب قوت نافریت پانی کو زمین سے بہت زیادہ جلد تر گھماتی یا تو ساری زمین پانی میں ڈوب جاتی اگر پانی پھیلتا یا ہر سال سارے جنگل اور شہر غرقاب ہو کر سمندر ہوجاتے اور تمام سمندر چٹیل زمین ہوجایا کرتے اگر پانی اتنی ہی مساحت پر رہتا۔
رد سیزدہم:اقول:ہوا تو پانی سے بھی لطیف تر ہے اور بہ نسبت آب آفتاب سے قریب بھی زیادہ تو اس پر جذب شمس اور بھی اقوی ہوتا اور روئے زمین پر ہوا کا نام و نشان نہ رہا ہوتا یا نافریت آڑے آتی تو ہوا کو زمین سے بہت زیادہ گھماتی اب اگر ہوا بھی مثل زمین مشرق کو جاتی تو تمہارے طور پر لازم تھا کہ پتھر جو سیدھا اوپر پھینکا جاتا ہے بہت دور شرق میں جا کر گرتا ہوا کی تیزی زمین سے دو چند ہی ہوتی اور پتھر مثلا ۲ سیکنڈ میں ۱۶ فٹ اوپر چڑھتا اور ایك سیکنڈ میں نیچے اتر تا تو اس تین سیکنڈ میں زمین ۲ء۱۵۱۹گز چلتی لیکن ہوا کہ ان سیکنڈوں میں پتھر جس کا تابع رہا ۴ء۳۰۳۸ گز جاتی تو پتھر ۱۵۱۹ گز دور جا کر اترتا ہے حالانکہ جہاں سے پھینکا تھا وہیں اترتا ہے اور اگر ہوا غرب کو جاتی تو پتھر ۴۵۵۸ گز دور غرب میں گرتا کہ تین سیکنڈ میں زمین کا وہ موضع جہاں سے پتھر پھینکا تھا ۲ء۱۵۱۹ گز مشرق کو چلا اور پتھر باتباع ہوا وہاں سے ۴ء ۳۰۳۸ گز غرب کو گیا مجموع ۴۵۵۸ گز ڈھائی میل سے زیادہ کا فاصلہ ہوگیا لیکن وہاں کا وہیں گرتا ہے تو یقینا جذب شمس و حرکت زمین دونوں باطل۔
رد چار دہم:اقول:کتنی واضح و فیصلہ کن بات ہے کاغذ کا تختہ دو برابر حصے کرکے ایك ویسا ہی پھیلا ہوا ایك پلے میں رکھو اور دوسرا گولی بنا کر کہ پہلے سے مساحت میں دسواں حصہ رہ جائے اگر جاذبیت ہے واجب کہ اس کا وزن گولی سے دس گنا ہوجائے کہ جذب بحسب مادہ جاذب بدلے گا (۱۰)اور مادہ مجذوب و بعد یہاں واحد ہیں اور اول کے مقابل زمین کے دس۱۰ حصے ہیں تو اس پر دس جذب ہیں اور گولی پر ایك اور وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۱۵)تو واجب کہ اس کا وزن گولی دہ گنا ہو حالانکہ بداہۃ باطل ہے تو جذب قطعا باطل بلکہ ان کا جھکنا اپنے میل طبعی سے ہے اور نوع واحد میں میل بحسب مادہ ہے اور یہاں مادہ مساوی لہذا میل برابر لہذا وزن یکساں۔
فائدہ:اقول:یہاں سے ظاہر ہوا کہ وہ جو مختلف کروں پر شیئ کا وزن مختلف ہوجانا بتایا تھا(۱۵)سب محض تراشیدہ خیال باطل تھے ورنہ جیسے وہاں جذب شمس وارض میں ا و ۸ کی نسبت تھی یہاں بھی دونوں حصے زمین میں اور ۱۰ کی نسبت ہے اور ۱ء ۲۸ اور ۱ و۱۰ کی ہوسکتی ہے۔
رد پانزدہم:اقول:واجب کہ وہ تختہ اور گولی دونوں ایك مسافت سے ایك وقت میں
",
1116,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,284,"زمین پر اتریں کہ اگر تختہ پر ہوا کی مزاحمت دہ چند ہے تو اس پر زمین کا جذب بھی تو دہ چند ہے بہرحال مانع ومقتضی کی نسبت دونوں جگہ برابر ہے تو اترنے میں مساوات لازم حالانکہ قطعا تختہ دیر میں اترے گا تو ثابت ہوا کہ مقتضی جذب نہیں بلکہ ان کا طبعی میل کہ دونوں میں برابر ہے تو مقتضی مساوی ایك پر مانع دہ چند لاجرم دیر کرے گا۔
رد شانزدہم:اقول:ملا جتناکثیف تر جاذبیت بیشتر(نمبر۱۰)تو وزن اکثر(۱۵)توپانی میں بہ نسبت ہوا وزن بڑھنا چاہیے حالانکہ عکس ہے استاذ ابو ریحان بیرونی نے سو مثقال سونا ہوا میں تول کر سونے کا پلہ پانی میں رکھا اور باٹ کا ہوا میں ۴/۳۔۹۴ مثقال رہ گیا۔بیسیوں حصے سے زیادہ گھٹ گیا۔ہم نے سونے کے کڑے کہ ہوا میں ایك چھٹانك چار روپے ایك چونی ڈیڑھ ماشے بھر سونا تھے پانی میں تولے سونے کا پلہ سطح آب سے ملتے ہی ہلکا پڑا وزن کا پلہ ہوا میں جھکا جب سونے کا پلہ پانی کے اندر پہنچا وزن صرف ایك چھٹانك تین روپے بھر رہ گیادسویں حصے سے زیادہ گھٹ گیا۔یہ کمی اختلاف آب و ہوا و موسم سے بدلے گی۔ابو ریحان نے جیحون کا پانی لیا اور خوار زم میں فصل خریف میں تولا اور ہم نے کنویں کاپانی اپنے شہر میں موسم سرمامیں میل طبعی پر اس کی وجہ ظاہر ہے میل بقدر روزن جھکاتا ہے اور جس ملا میں حجم ہے وہ بقدر کثافت مزاحمت کرتا ہے وزن دونوں پلوں کا برابر ہے ہوا میں دونوں کا مزاحم بھی برابر تھا برابر رہے جب ایك پانی سے ملا جھکنے کا مقتضی کہ میل ہے اب بھی بدستور برابر ہے مگر جھکنے کا مزاحم اس پلے پر بہت قوی ہے کہ پانی ہوا سے بدرجہاکثیف تر ہے لاجرم یہ کم جھکا اور ہوا کا پلہ زیادہ فافہم وتامل لیکن بربنائے جاذبیت یہ اصلا نہ بن سکے گا کہ جس کی کثافت آب نے مزاحمت بڑھائی ہے اسی کثافت نے اسی نسبت پر وزن بھی بڑھایا ہے تو مانع و مقتضی برابر ہو کر حالت بدستور رہنی لازم تھی اور ایسا نہیں تو ضرور جاذبیت باطل ہے اصول طبعی میں کہا سبب اس کا یہ ہے کہ پانی اوپر کی طرف زور کرتا ہے لہذا سونے کو سہارا دے کر وزن کم کرتا ہے۔
اقول:اولا: اگر اس سے صرف نیچے جانے کی مزاحمت مراد تو ضرور صحیح ہے اور اس کا جواب بھی سن چکے اور اگر یہ مقصود کہ پانی سونے کو اوپر پھینکتا ہے جیسا کہ اوپر کی طرف زور کرنے سے ظاہرتو عجیب جہل شدید ہے پانی اپنے سے ہلکی چیز کو اوپر پھینکتا ہے کہ خود اس سے زیادہ اسفل کو چاہتا ہے اپنے سے بھاری کو سہارا دے تو لوہا بلکہ کوئی چیز پانی میں نہ ڈوبے۔
", ص ۱۱۵۔۱۲۔
1117,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,285,"ثانیا:ایسا ہو تو یہ جذب زمین پر تازہ رد ہوگا جب پانی اپنے سے ہلکی بھاری ہر چیز کو پھینکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کی طبیعت میں وضع ہے اور دفع ضد جذب ہے تو اس کی طبیعت میں جذب نہیں اور وہ زمین ہی کا جزء ہے تو زمین میں نہیں تو شمس میں کس دلیل سے آئے گا اور حرکت زمین کا انتظام کدھر جائے گا۔
ردہفدہم:اقول:ایك بڑی مشك اور ایك مشکیزہ ہوا سے خوب بھر کر منہ باندھ کر پانی میں بٹھانا چاہو تو مشك زیادہ طاقت مانگے گی اور دیر میں بیٹھے گی اور بٹھا کر چھوڑ دو تو مشکیزہ سے جلد اوپر آئے گی اور ایك بڑا پتھر اور ایك چھوٹا اوپرحد واحد تك پھینکو تو بڑا زیادہ طاقت چاہے گا اور دیر میں جائے گا اور چھوٹے سے جلد اتر آئے گا پانی کا دباؤ اگر مشکوں کو اٹھاتا اور زمین کا جذب پتھروں کو گراتاتو قسراقوی پر ضعف ہوتا ہے اور اضعف پر اقوی چھوٹا پتھر اور مشکیزہ جلد آتا ہے اور بڑا پتھر اور مشك دیر میں۔ہاں ہاں یہ کہئے کہ بڑے کا دافع بڑا ہے زیادہ دفع کرے گا تو وہ مدفوع بھی تو بڑا ہے کم دفع ہوگا تو غایت یہ کہ نسبت برابر رہے دونوں برابر اٹھیں مشك پر زیادہ کیوں یونہی جذب میں اگر کہے مشك اور بڑے پتھر نے یوں جلدی کی کہ بیچ میں جو ملا حائل ہے بڑی چیز اس کے چیرنے پر زیادہ قادر ہے تو اولا بڑے حائل بھی بڑا ہے تو نسبت برابر رہی۔یہ وجہ کہ بڑی چیز اثر قسر کم قبول کرتی ہے تو پانی کے دباؤ سے مشك کیوں جلد اٹھی اور زمین کے جذب سے بڑا پتھر کیوں جلد آیا اگر کہیے جذب بحسب مادہ ہے بڑے پتھر میں مادہ زائد تھا اس پر جذب زمین زیادہ تھا لہذا دیر میں اوپر گیا اور جلد نیچے آیا۔
اقول:اولا: یہ مردود ہے دیکھو۔۱۱
ثانیا: خود اس قول کو تفاوت اثر سے انکار ہے(۱۲)
ثالثا:یہ وہی بات ہے کہ جاذبیت کا تھل بیڑا لگا رکھے گی تمہارے یہاں وہی اجزائے دیمقرا طیسیہ ثقیل با لطبع ہیں(نمبر۸۔۹)تو جذب کیوں ہو وہ اپنی طبیعت سے طالب سفل ہوں گے۔
رابعا: بڑی مشك کی ہوا میں بھی مادہ زیادہ ہے اور ہیأت جدیدہ میں ہوا بھی ثقیل مانی گئی ہے۔(۱۸)تو بلاشبہہ بڑی مشك پر جذب زمین زائدہ ہے پھر یہ دیر میں نیچی کیوں بیٹھی اور جلد اوپر کیوں آئی اگر کہیے پانی اس سے زیادہ ثقیل ہے لہذا زمین اسے زیادہ جذب کرتی ہے اس لیے یہ اوپر مندفع ہوتی ہے۔
اقول:اولا: یہ وہی قول مردود ہے کہ جذب بحسب مجذوب ہے۔
ثانیا: دفع بحسب نسبت ثقل ہوگا پانی اس مشك سے اثقل ہے اور مشك یہ مشکیزہ سے تو مشك پر جذب زمینی مشکیزہ سے زائدہوا اور دفع مشکیزہ سے
",
1118,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,286,"کم تو واجب کہ مشك جلد بیٹھے اور مشکیزہ جلد اٹھے حالانکہ امربالعکس ہے یا بدستور بلحاظ نسبت تساوی رہے غرض کوئی کل ٹھیك نہیں بیٹھتی اور اگر جذب کو چھوڑ کر میل طبعی مانو تو سب موجہ ہیں ہوا کا میل فوق اور حجر کا تحت ہے مشك پر باد کا بیٹھنا اور پتھر کا اوپر جانا خلاف طبع تھا اس لیے اکبر نے زیادہ مقاومت کی اور دیر ہوئی اور مشك کا اٹھنا اور پتھر کا گرنا مقتضائے طبع تھا لہذا اکبر نے جلدی کی۔
ردہیزدہم:اقول:شے واحد پر بعد واحد سے جاذب واحد کا جذب مختلف ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
تنبیہ:بعد(۱۱)تھرمامیٹر کا پارہ ہوائے معتدل میں ایك جگہ پر قائم ہے اس پر جذب زمین کی ایك مقدار معین محدود ہے جو ان کے مادوں اور اس کے بعد معین کا تقاضا ہے اب اگر ہوا گرم ہوئی پارہ اوپر چڑھے گا کیا جذب زمین کم پڑے گا۔کیوں کم ہوا۔اس وقت بھی تو زمین و زیبق انہیں مادوں پر تھی وہی بعد تھا۔گرمی نے زمین یا پارے میں سے کچھ کترنہ لیا یہاں آکر پارہ ٹھہرے گا جب تك اسی گرمی پر ہے اب ہوا سرد پڑی پارہ نیچے اترے گا اور خط اعتدال پر بھی نہ ٹھہرے گا۔کیا جذب زمین بڑھے گا۔کیوں اب بھی تو ارض و سیماب کے وہی مادے وہی بعد تھا سردی نے زمین یا پارے میں کوئی پیوند جوڑ نہ دیا یہ اختلاف ہوا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا کہ پارہ ہوا سے ہمیشہ اثقل ہے۔گرمی ہوا نے اگر اس میں کچھ خفت پیدا کی تو اس سے پہلے ہوا میں اس سے زیادہ پیدا ہوچکی بلکہ لطافت وکثافت ہوا کا عکس ہے۔لاجرم جذب غلط ہے بلکہ برودت موجب ثقل ہے اور ثقل طالب سفل اور حرارت موجب خفت ہے اور خفت طالب علو۔
رد نوز دہم:اقول:بخارات پیدا ہوتے ہی اوپر جاتے ہیں ان کا مرکب اجزائے مائیہ وہوائیہ سے ہے اور ان کے نزدیك ہوا بھی ثقیل ہے۔(نمبر۱۸)اور پانی اثقل کہ ہوا سے سات سو ستر یا آٹھ سو گنا یا آٹھ سو انیس مثل بھاری ہے اور ظاہر ہے کہ جو ثقیل و اثقل سے ایسا مرکب ہو وہ اس ثقیل سے اثقل ہوگا تو بخار ہوا سے بھاری ہے تو یہاں وہ عذر نہیں چلتا جو پانی کے تیل کو پھینکنے میں ہوتا کہ بھاری چیز ہلکی کوپھینکتی ہے کہ ہلکی بھاری کو پھر ان کے جانے کی کیا وجہ ہے زمین اگر انہیں جذب کرتی تو کوئی چیز انہیں زمین سے چھین کر اوپر لے جاتی کیا کوئی سیارہ تو شب کا وہ وقت لیجئے کہ کوئی سیارہ
"," تعریبات شافیہ جزثانی ص ۴۰،۱۲
ط ص ۱۳۴۔۱۲
ح ص ۲۱۰۔۱۲
یعنی جس میں مزاج و استحکام ترکیب نہیں ورنہ نسبت اجزاء کا تحفظ ضرور نہ رہے گا جیسے سوناکہ زیبق وکبریت سے مرکب ہے۱۲ منہ غفرلہ
"
1119,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,287,"نصف النہار بلکہ افق پر اصلا نہ ہو جیسے وہ زمانہ کہ سیارات و قمر نور سے سنبلہ تك ہوں اور طالع راس الحمل یا ثوابت تو مہا سنکھوں میل دور سے اجزائے زمین کو خاص اس کی گود سے اچك لیتے تو چاہیے کہ تمام دنیا کے ریگستانوں میں ریت کا ٹیلہ نہ رہا ہوتا سب کو ثوابت اڑالے گئے ہوتے زمین کہ ان کو جذب کررہی ہے محال ہے کہ وہی دفع کرتی کہ دو ضدین مقتضائے طبع نہیں ہوسکتیں تو ثابت ہوا کہ جذب زمین غلط ہے بلکہ ہوا خفیف ہے اور انمیں جو اجزائے ہوائیہ میں گرمی کے سبب اور لطیف ہوگئے اور اجزائے مائیہ کہ ان میں محبوس ہیں ان میں بوجہ حرارت خفت آگئی جوش دینے میں پانی کے اجزا اوپر اٹھتے ہیں لہذا اجزائے ہوائیہ انہیں اڑا لے گئے کہ حقیقت طالب علو ہے تو بالضرورۃ ثقیل طالب سفل ہے کہ الضد بالضد یہی میل طبعی ہے تو جاذبیت مہمل یہ اسی دلیل میں دوسری وجہ سے ردجاذبیت ہوا اگر کہیے اس حقیقت نے ہمیں کیوں نہ فائدہ دیا۔حرارت نے اجزائے آب و ہوا کو ہلکاکیا لہذا ان پر جذب کم ہوا اور برابر کی ہوا نے جس جذب زائد سے ان کو اوپر پھینکا جیسے پانی نے تیل کو۔
اقول:اولا کیا بخار اسی وقت اٹھتا ہے جب مثلا پانی جہاں گرم ہوا تھا وہاں سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ لے جاؤ جہاں کہ ہوا کو اثر گرمی نہ پہنچا حاشا بلکہ وہ پیدا ہوتے ہی معا اٹھتا وہ حرارت کہ اس ہوا کو گرم کرے گی اس کے برابر والی کو گرم نہ کرے گی خصوصا تیزی شمس کے پانی سے بخار اٹھنا کہ آفتاب نے قطعی برابر والی کو بھی اتنا ہی گرم کیا جتنا اسے پھر اس میں اجزائے مائیہ ہونے سے وزن زائد
ثانیا: بالکل الٹی کہی تمہارے نزدیك تو جتنا جذب کم اتنا وزن کم(نمبر۱۵)تو خفت قلت جذب سے ہوتی ہے نہ کہ قلت جذب خفت سے۔
ثالثا: وہی جو اوپر گزرا کہ مادہ بدستور بعد بدستور پھر حرارت سے جذب میں کیوں فتور کیا سبب ہوا کو گرمی نے ہلکا کردیا۔اگر کہیے کہ حرارت بالطبع طالب علو ہے ولہذا نارو ہوا اوپر جاتی ہیں اور برودت بالطبع طالب سفل ہے ولہذا آب و خاك نیچے جھکتے ہیں تو ضرور حرارت سے خفت پیدا ہوگی مگر یہ میل طبعی کا قرار اور جاذبیت پر تلوار ہوگا۔
ردبستم:جو نمبر۱۸ کے رابعہ میں گزرا کہ جذب زمین ہے تو اندر کی ہوا کا اوپر کا ابھارنا کیا معنی اور وہ اس قوت سے کہ صدہا من کے بوجھ کو سہارا دے نہیں نہیں فنا کردے کہ محسوس ہی نہ ہو۔
رد بست ویکم:اقول:ہر عاقل جانتا ہے کہ رائی کا دانہ پہاڑ کے کروڑویں حصے کے بھی ہم وزن نہیں ہوسکتا نہ کہ سارے پہاڑ سے کانٹے کی تول برابر مگر مسئلہ جاذبیت صحیح ہے تو یہ ہو کر رہے گا بلکہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا ظاہر ہے کہ پلے کا جھکنا اثر جذب ہے جس پر
",
1120,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,288,"جذب زائد ہوگا اس کا پلہ جھکے گا اور برابر ہوں پلے برابر رہیں گے۔(نمبر۱۵)اب دو کرے ایسے لیجئے جن میں قوت جذب برابر ہے ان میں بعد مساوی پر جذب مساوی ہوگا یا سہی مختلف قوت کے لیجئے جیسے قمرزمین رائی اور پہاڑ کو قمر سے اتنا قریب فرض کرلیجئے کہ زیادت قرب سے قوت جذب قمر اس کے ضعف جاذبیت کی تلافی کردے جسے اصول علم الہیأت نمبر۳۲۲ میں قطر زمین کا ۹ء۳ کہا اگرچہ ہمارے حساب عــــــہ سے تقریبا ۱ء۳ ہے۔
عــــــہ:اصول علم الہیأۃ میں مادہ زمین کا ۱/۷۵ لیا اور زمین سے بعد قمر قطر زمین کا ۳۰ مثل اور ہیأت جدیدہ میں مقرر ہے کہ جاذبیت بحسب مادہ بالاستقامت بدلتی ہے اور بحسب مربع بعد بالقلب تو جسم پر جذب قمر و ارض مساوی ہونے کے لیے زمین سے ایسے بعد پر ہونا چاہیے کہ اس کا مربع قمر سے بعد جسم کے مربع کے ۵۷ مثل ہو۔
اقول:تو یہاں سے دو مساواتیں ملیں۔قمر سے بعد کوئی فرض کیجئے اور زمین سے لا:۰ لا =۷۵ ی۲ لا+ی = ۳۰:۰ لا۲/ ۷۵ =(۳۰۔لا۲)= ۹۰۰۔۶۰ لا +لا۲:۰ لا = ۶۷۵۰۰۔۴۵۰۰ لا +۷۵ لا۲:۰ ۰ = ۶۷۵۰۰۔۴۵۰۰ لا + ۷۴ لا۲بلکہ ۷۴ لا۲۔۴۵۰۰لا =۶۷۵۰۰:۰ لا۲۔۵۰۰/۷۴۔۶۷۵۰۰/۷۴:۰ تکمل مجذور لا۲۔۴۵۰۰لا /۷۴ + ۵۰۶۲۵۰۰/۵۴۷۶ =۔۶۷۵۰۰ /۷۴ + ۵۰۶۲۵۰۰/۵۴۷۶ =۔۵۴۷۶/ ۴۹۹۵۰۰۰ + ۵۴۷۶/ ۴۹۹۵۰۰۰ = ۷۶۵۰۰/۵۴۷۶:۰ لا۔۲۲۵۰/۷۴ = ۷۴/ ۸۱ء ۲۵۹ یہ جذر یہاں منفی ہے:۰ لا = ۲۲۵۰/۷۰ = ۷۴/ ۸۱ء ۲۵۹ = ۷۴/۱۹ء۱۹۹۰ = ۸۹۴ء۲۶:۰ ی = ۱۰۶ ء ۳ وبوجہ دیگر مساوات درجہ اول سے اگرچہ جملہ قوت دوم پر مشتمل ہے مساوات اولی کا جذر لیا:۰ لا ۷۵ ی = ۶۶۰۳ء۸ ی:۰ لا = ۶۶۰۳ ء ۸(۳۰۔لا)= ۸۰۹ء۲۵۹۔۶۶۰۳ء۸ لا:۰ ۶۶۰۳ء۹ لا= ۸۰۹ء ۲۵۹:۰ لا = ۸۰۹ء۲۵۹۔۔۔۔۔۔۶۶۰۳ء۹ = ۸۹۵ء ۲۶ ی = ۱۰۵ء۳ پھر اس کتاب کی عام عادت ہے کہ کچھ کہے گی دوسری جگہ کچھ مادوں میں ۱/۷۵ کی نسبت لی اور اوپر گزرا کہ جاذبیت قمر کو جاذبیت ۱۵ء بتایا ہے اس تقدیر پر مساوات یہ ہوگی:۳لا۲ = ۲۰ ی لا+ ی = ۳۰:۰ ۳لا=۲۰(۹۰۰۔۶۰لا + لا۲)= ۱۸۰۰۰۔۱۲۰۰ لا + ۲۰ لا ۲:۰ ۱۷لا۲۔۱۲۰۰ لا=۔۱۸۰۰۰ بلکہ لا۔۱۲۰۰لا/۱۷ = ۱۸۰۰۰ /۱۷:۰ لا۲۔۱۲۰۰لا/۱۷ +۳۶۰۰۰۰/۱۸۹۔۳۰۶۰۰۰۰ /۱۸۹۔۳۰۶۰۰۰۰/۱۸۹ = ۵۴۰۰۰/۱۸۹:۰ لا۔۶۰۰/۱۷ = ۱۷/۳۷۹ء۳۲ یہ جذر منفی ہے:۰ لا = ۶۲۱ء۳۶۷/ ۱۷ = ۶۲۵ء۲۱:۰ ی =۳۷۵ء۸ یا ۳لا = ۲۰۵(۳۰۔لا):۰ ۷۳۲۰۵ء ۱ لا = ۴۷۲۱۳۶ء۴:۰(۳۰۔لا)= ۱۶۴۰۸۰ء۴ ۱۳ (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1121,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,289,"حیز وہی ہے کہ یہاں اس کی تحقیق سے غرض نہیں تو حاصل یہ ٹھہرا کہ جب رائی اور پہاڑ دونوں قمر و ارض سے ایسے فاصلے پر ہوں کہ قمر کی طرف قطر ارض کا ۹ء۳ ہو اور زمین کی طرف اء۲۶ کہ ارض و قمر میں بعد قطر زمین کا تیس گناہ ہے۔اس وقت ان دونوں پر قمر و ارض دونوں کی جاذبیت مساوی ہوگی تو دونوں اسی خط پر رہیں گے نہ کوئی قمر کی طرف جاسکے گا نہ زمین کی طرف جھکے گا تو واجب ہے کہ اگر یہ کسی ترازو کے پلڑوں میں ہوں تو دونوں پلڑے کانٹے کی تول برابر رہیں۔اور اگر رائی کا پلڑا ایك خفیف مقدار پر اس خط مساوات سے زمین کی طرف مائل ہو اور پہاڑ کا اسی خط پر تو پہاڑ وہیں قائم رہے گا اور رائی کا پلڑا اور جھکے گا کہ جذب زمین بقدر قرب بڑھے گا پہاڑ کا پلڑا ایك خفیف مقدار جانب قمر مائل ہو اور رائی کا اسی خط پر تو رائی یہیں قائم رہے گی اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہوگا کہ اس پر جذب قمر بڑھے گا اور اگر رائی کا پلڑا خط سے اس طرف اور پہاڑ کا اس طرف ہوا جب تو رائی کا پلڑا جھکنے اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہونے کی کوئی حد ہی نہ ہوگی۔زیادت کی ان اصورتوں میں اگر کوئی عذر ہو تو رائی اور پہاڑ کے ہم وزن ہونے میں تو کلام کی گنجاش ہی نہیں کیا عقل سلیم اسے قبول کرسکتی ہے اگر کہیے جذب مساوی رہی پہاڑ خود وزنی ہے لہذا اسی کا پلڑا جھکے گا۔
اقول:اولا: دیکھو پھر بولے تمہارے یہاں وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۱۵)جب دونوں طر ف جذب مساوی ہو کر اثر جذب کچھ نہ رہا ٭ پہاڑ میں وزن کہاں سے آیا۔
","(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
۔۴۷۲۱۳۶ء لا:۰ ۲۰۴۱۸۶ء۶لا = ۱۶۴۰۸۰ء۱۳۴:۰ لا = ۱۶۴۰۸۰ ء۱۳۴/۲۰۴۱۸۶ء ۶= ۶۳۵ء۲۱:۰ ی = ۳۷۵ء۸ کس قدر فرق ہے کہاں تین مثل قطر کہاں آٹھ مثل، ڈھائی لاکھ میل سے کم بعد میں چالیس ہزار میل کا تفاوت، جاذبیت، قمر اگر ۱۵ ء تھی واجب کہ مادہ قمر بھی اتنا ہوتا نہ کہ ۱/۷۵ اور مادہ ۱/۷۵ تھا تو واجب کہ جاذبیت بھی اسی قدر ہوتی نہ کہ ۱۵ء کہ جاذبیت بحسب مادہ ہے، اگر کہیے ۱/۷۵، فقط مثال کے لیے فر ض کرلیا ہے۔اقول:ہر گز نہیں ص۲۶۶ پر جو جدول دی ہے اس میں مادہ قمر مادہ زمین کا ۰۱۲۸ء بتایا ہے کہ تقریبًا یہی ۱/۷۵ ہوتا ہے۔۱/۷۵ =۰۱۳ء۰ رفع سے ۱۲۸ ۰ء ۰ بھی ۰۱۳ء۰ ہے اور بفرض غلط اگر فرض غلط تھا تو واقعیت معلوم ہوتے ہوئے غلط فرض کیا معنی کیا واقع سے مثال نہ ہوسکتی مگر ہے یہ کہ واقعی نہ یہ نہ وہ، ان لوگوں کی خیال بندیاں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
٭ اقول:وغیرہ پر جو نمبر یعنی ہندسہ ہے وہ یہاں سے ختم ہے قلمی نسخہ میں اس طرح نہیں ہے، عبدالنعیم عزیزی۔"
1122,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,290,"ثانیا: اگر پہاڑ خوردوزنی ہے تو کیا اس کا اور رائی کے دانے کا اتنا ہی فرق ہے کہ اس کا پلڑا جھکے نہیں نہیں وہ یقینا اپنے وزن ہی سے زمین پر پہنچے گا اور جس طرح وہاں جھکنے میں جذب کا محتاج نہ تھا زمین تك آنے بھی جذب کا محتاج نہ ہوگا۔بلکہ اس کے اپنےذاتی وزن کی نسبت ہے اسے زمین پر لائے گی تو ثابت ہوا کہ جذب باطل ہے ورنہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھاری ہوا یہ جاذبیت کی خوبی ہے اور میل لیجئے تو چاہے رائی اور پہاڑ کو آسمان ہفتم پر رکھ دیجئے ہمیشہ ان میں وہی نسبت رہے گی جو زمین پر ہے کہ ان کا میل ذاتی نہ بدلے گا۔
رد بست و دوم:اقول:دونوں ہیأتوں کے اتفاق سے اعتدالین کی مغرب کو حرکت منتظمہ ہے اور ہم نمبر ۲۲ میں دلائل قاطعہ سے روشن کرچکے کہ وہ جاذبیت سے بن سکنا درکنار جاذبیت ہو تو ہر گز منتظمہ نہ رہے گی۔
رد بست وسوم:اقول:میل کلی ہر سال منتظم روش پر روبکمی ہے اسے بھی جاذبیت مختل کردے گی۔(۲۳)
ردبست و چہارم:اقول:جاذبیت ہو تو زمین کے چھلوں کا نظام مختل ہوجائے اور ہر سال قطبین پر زمین زیادہ خالی ہوتی جائے۔
رد بست وپنجم:اقول:تقاطع اعتدالین کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر اونچا ہوجائے۔
ردبست و ششم:اقول:ہر سال قطر استوائی بڑھے۔
ردبست و ہفتم:اقول:زمین کی یہ شکل ہوجائے یہ سب مطالب نمبر ۲۲ میں واضح ہوئے۔
دلائل نیوٹن ساز جاذبیت گداز:
ردبست وہشتم:جب ترك اجسام اجزائے ثقیلہ بالطبع سے ہے اور اس کی تصریح خود نیوٹن ساز نے کی(۸)تو قطعا جسم ثقیل بلاجذب جاذب خود اپنی ذات میں ثقیل ہے اور ثقیل نہیں مگر وہ کہ جانب ثقل جھکنا چاہے دو چیزوں میں جو زیادہ جھکے اسے دوسری سے ثقیل تر کہیں گے۔تو ثابت ہوا کہ یہ اجسام بذات خود بے جذب جاذب ثقل ہے۔اس سے زیادہ میل طبعی کا ثبوت اور جاذبیت کا بطلان کیا درکار ہے جس کا خود مخترع جاذبیت نیوٹن کو اقرار ہے۔
ردبست و نہم:اقول:ظاہر ہے کہ جذب زمین اگر ہو تو وہ نہیں مگر ایك تحریك قسری اور
",
1123,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,291,"ہر جسم میں قوت ماسکہ ہے جسے حرکت سے ابا ہے اور اس کا منشا جسم کا ثقل وزن ہے۔(نمبر۳)تو زمین جسے جذب کرے گی اس کا وزن جذب کی مقاومت کرے گا تو ضرور وزن ذات جسم میں ہے اور وزن ہی وہ شے ہے جس سے پلڑا جھکتا ہے تو میل ثقل طبیعت کا مقتضی ہے تو جذب لغو و بے معنی ہے و بعبارۃ اخری بداہۃ معلوم کہ اجسام اپنے جذب کو مختلف قوت چاہتے ہیں پہاڑ اس قوت سے نہیں کھینچ سکتا جس سے رائی کا دانہ یہ اختلاف ان کی ثقل کا ہے جسم جتنا بھاری ہے اس کے جذب کو اتنی ہی قوت درکار ہے۔(۱۱)کہ ثقل خود جسم میں ہے قوت جذب سے پیدا نہیں بلکہ قوت جذب کا اختلاف اس پر متفرع ہے یہی میل طبعی ہے۔
دلائل بربنائے اتحاد و اثر جذب
نمبر ۱۲ میں گزرا کہ چھوٹے بڑے ہلکے بھاری تمام اقسام اجسام پر اثر جذب یکساں ہے اگر موافقت ہوا نہ ہوتی تو سب جسم ایك ہی رفتار سے اترتے اور ہیت جدیدہ کو اس پر اتنا وثوق ہے کہ اسے مشاہدہ سے ثابت بتاتی ہے۔مشاہدہ سے زیادہ اور کیا چاہیے۔یہ دلائل اسی نمبر کی بناء پر ہیں۔
رد سیم:اقول:اجسام کا نیچے آنا جذب سے ہوا اور اس کا اثر سب پر یکساں ہو اور وزن اسی سے پیدا ہوتا ہے۔(۱۵)تو لازم ہے کہ تمام اجسام کا وزن برابر ہو رائی اور پہاڑ ہم وزن ہوں کانٹے ترازو باٹ سب آلات وزن چھوٹے ہوجائیں بازاروں کا نظام درہم برہم ہوجائے اگر کہیے وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے اور جذب بحسب مادہ مجذوب ہے۔(۱۱)تو جس میں مادہ زیادہ اس پر جذب زیادہ اور جس پر جذب زیادہ اس کا وزن زیادہ۔
اقول:اولا:۱۱۔مردود محض ہے کما تقدم۔
ثانیا: واھی وزنوں سے کام نہیں چلتا۔وزن زیادہ ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ نیچے زیادہ جھکے جو زیادہ نہ جھکے جسم میں کتنا ہی بڑا ہو وزن میں زیادہ نہیں ہوسکتا جیسے لوہے کا پنسیر اور پان سیرروئی کے گالے اور زیادہ جھکنا تیزی رفتار کو مستلزم۔ظاہر ہے کہ مثلا دس گز مسافت سے نیچے اترنے والی دو چیزوں میں جو زیادہ جھکے گی اس مسافت کو زیادہ طے کرے گی کہ یہ مسافت جھکنے ہی سے قطع ہوتی ہے۔جس کا جھکنا زیادہ اس کا قطع زیادہ تو اسی کی رفتار زیادہ اور ہیئت جدیدہ کہہ چکی کہ جذب پر چھوٹے بڑے ہلکے بھاری میں مساوی رفتار پیدا کرتا ہے کہ خارج سے روك نہ ہو تو باقتضائے جذب سب برابر اتریں تو جذب سب کو یکساں جھکاتا ہے اور یہی حامل وزن تھا روشن ہوا کہ جذب سب میں یکساں وزن
",
1124,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,292,"پیدا کرتا ہے اور وزن نہیں مگر جذب سے تو قطعا تمام اجسام رائی اور پہاڑ ہم وزن ہوئے اس سے بڑھ کر اور کیا سفسطہ ہے لاجرم جذب باطل بلکہ اجسام میں خود وزن ہے اور وہ اپنے میل سے آتے ہیں جو بڑے ہیں چھوٹے سے زائد لہذا اس کی رفتار زائد۔
رد سی ویکم:اقول:ہر عاقل جانتا ہے کہ نیچے اترنے والے جسم کا ہوا کو زیادہ چیرنا زیادہ جھکنے کی بناء پر ہوگا اگر اصلا نہ جھکے اصلا نہ چیرے گا کہ جھکے کم شق کرے گا زیادہ تو زیادہ لیکن ثابت ہوچکا کہ جذب سب اجسام کو برابر جھکاتا ہے تو سب ہوا کو برابر شق کریں گے پھر ہوا سے اختلاف کرنا دھوکا ہے تو واجب کہ رائی اور پہاڑ ایك ہی چال سے اتریں اور یہ جنون ہے ہلکا بھاری کہنا محض مغالطہ ہے بھاری وہ زیادہ جھکے جب کوئی آپ نہیں جھکتا سب کو جذب جھکاتا ہے او ر وہ سب کو برابر جھکاتا ہے تو نہ کوئی ہلکا ہے کہ ہوا پر کم دباؤ ڈالے نہ بھاری کہ زیادہ۔
رد سی ودوم:ہر عاقل جانتا ہے کہ مزاحمت طلب خلاف سے ہوتی ہے جو چیز نیچے جھکنا چاہے اور تم اسے اوپر اٹھاؤ کہ مزاحمت کرے گی اور جو جتنا زیادہ جھکے گی زیادہ مزاحم ہوگی۔اور دو چیزیں کہ برابر جھکیں مزاحمت میں بھی برابر ہوں گی کہ مخالف مساوی ہے اور ابھی ثابت ہوچکا کہ نیچے جھکنے میں تمام اجسام برابر ہیں تو کسی میں دوسرے سے زائد مزاحمت نہیں تو جس طاقت سے تم ایك پنیسرا اٹھا لیتے ہو اسی خفیف رازسے پہاڑ کیوں نہ اٹھالو اور اگر پہاڑ نہیں اٹھتا تو کنکری کیسے اٹھا لیتے ہو اس پر بھی تو جذب زمین کا ویسا ہی اثر ہے جیسا پہاڑ پر یہاں تو ہوا کی روك کا بھی کوئی جھگڑا نہیں اور وزن کی گند اوپر کٹ چکی کہ اس میں وزن کے سوا کچھ باقی نہیں۔
ردسی وسوم:اقول:گلاس میں تیل ہوا اور پانی ڈالو۔تیل کیوں اوپر آتا ہے اور جذب کا اثر تو دونوں پر ایك سا ہے اگر دھارکے صدمہ سے ایسا ہوتا ہے تو پانی پر تیل ڈالنے سے پانی کیوں نہیں اوپر آجاتا۔
ردسی و چہارم:اقول:کنکری ڈوبتی ہے لکڑی تیرتی ہے یہ کس لیے اثر تو یکساں ہے۔
رد سی وپنجم:اقول:اب بخارجاذبیت سے بخار نکالے گا اور دھواں اس کے دھوئیں بکھیر ے گا یہ اوپر کیوں اٹھتے ہیں ہوا انہیں دباتی ہے یہ ہوا کو کیوں نہیں دباتے اثر تو سب پر برابر ہے واجب کہ بخار و دخان زمین سے لپٹے رہیں بال بھر نہ اٹھیں۔
ردسی و ششم:اقول:پہاڑ گرے تو دور تك زمین کو توڑتا اس کے اندر گھس جائے گا۔
",
1125,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,293,"یہ پہاڑ کی نہ اپنی طاقت ہے کہ اس میں میل نہیں نہ اپنا وزن کہ وزن تو جذب سے ہوا جذب کا اثر جیسا اس پر ویسا ہی تم پر تم اوپر سے گر کر زمین میں کیوں نہیں دھنس جاتے۔اگر کہے اس کا سبب صدمہ ہے کہ پہاڑ سے زیادہ پہنچتا ہے۔
اقول:صدمہ کو دو چیزیں درکار شدت ثقل وقوت رفتار اثر جذب کی مساوات دونوں کو اس میں برابر کرچکی کما عرفت(جیسا کہ تو جان چکا ہے۔ت)پھر تفاوت کیا معنی ! بالجملہ ہزاروں استحالے ہیں۔
یہ ہیں تحقیقات جدیدہ اور ان کے مشاہدات چشم دیدہ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
دلائل بر بناء جذب کلی
ہم نمبر۔۱۰ و ۱۱ میں روشن کر آئے کہ جاذب طبعی پر مجذوب کو اپنی پوری قوت سے جذب کرتا ہے اور یہ کہ قوت غیر شاعرہ کا جذب بحسب زیادت کافی کہ مجذوب زائد ہونا محض جہالت سفسطہ ہے اور ہیأت جدیدہ کے نزدیك ہر جسم میں اس کے مادے کے لائق ماسکہ ہے جس کو حرکت سے ابا ہے وہ اسی قدر محرك کی مزاحمت کرتا ہے۔دلائل آئندہ کی انہیں روشن مقدمات پر بنا ہے اور وہیں ان کی آسانی کو تسلیم کرلیا ہے کہ ہر شیئ کو کل کرہ جاذب نہیں بلکہ مرکز تك اس کا جتنا حصہ سطح مجذوب کے مقابل ہو کہ ساری زمین اپنی پوری قوت سے ہر شے کو جذب کرے تو ان پر اور بھی مشکل ہو ولہذا التساوی قوت جذب کے لیے مجذوبات کی سطح مواجہ زمین کی مساوات لی۔
ردسی وہفتم:اقول:بداہۃ معلوم اور ہیأت جدیدہ کو بھی اقرار کہ ہوا اور پانی ان میں اترنے والی چیزوں کی ان کے لائق مزاحمت کرتے ہیں پر اور کاغذ کی زائد اورلوہے اور پتھر کی کم۔یہ دلیل قاطع ہے کہ ان کا اترنا اپنا فعل ہے یعنی میل طبعی سے نہ فعل زمین کے اس کے جذب سے اس لیے کسی فعل میں مزاحمت جس پر فعل ہورہا ہے اس کی مخالفت نہیں بلکہ جو فعل کررہا ہے اس کے مقابلہ ہے۔اب چار صورتیں ہیں۔
مزاحم اگرفاعل سے قوی ہو اور فعل خلاف چاہے فعل واقع کرے گا اور صرف روك چاہے یا فاعل سے قوت میں مساوی ہوا تو فعل ہونے نہ دے گا اور خفیف ہوا مگر معتدبہ تو دیر لگائے گا یعنی فعل تو حسب خواہش فاعل ہو مگر بدیر اور معتدبہ کو اصلا اثر مزاحمت ظاہر نہ ہوگا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ زمین سے گزبھر اونچی ہوا آدھا گز بلکہ انگل بھر ہی اونچا پانی اجسام کی مزاحمت کرتے ہیں۔کہاں ان کی ہستی اور کہاں ان کے مقابل
",
1126,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,294,"چار ہزار میل تك زمین جس کا ایك ٹکڑا کہ ان کے برابر کا ہو ان سے کثافت وطاقت میں درجوں زائد ہے نہ کہ وہ پورا حصہ یقینا یہ اس کے سامنے محض کالعدم ہیں۔ہرگز اس کے فعل میں نام کو مزاحم نہیں ہوسکتے۔تو روشن ہوا کہ اجسام کا اترنا زمین کا فعل نہیں بلکہ خود ان کا جن کی نسبت سے ہوا اور پانی چاروں قسم کے ہوسکتے ہیں۔
ردسی و ہشتم:اقول:مقناطیس کی ذرا سی بٹیا اور کہر باء کا چھوٹا سا دانہ لوہے اورتنکے کو کھینچ لیتے ہیں اگر جذب زمین ہوتی تو ان سے مقابل چار ہزار میل پر جو حصہ زمین ہے یہ خود ان جاذبوں کو اور ان سے ہزاروں حصے زائد کو یہ نہایت آسانی سے کھینچ لے جائے۔اس کے سامنے ان کی کیا حقیقت تھی کہ یہ اس سے چھین کر اپنے سے ملالیتے۔لاجرم قطعا یہ زمین سے اتصال لوہے اور تنکے کا اپنا فعل تھا جس پر مقناطیس وکہرباء کی قوت غالب آگئی۔
رد سی و نہم:اقول:پکا سیب ٹپك پڑتا ہے اور کچا اگرچہ حجم میں اس سے زائد ہو نہیں گرتا اور شك نہیں کہ لوہے کا ستون جس کی سطح مواجہ اس سیب کے برابر ہو اگرچہ دس ہزار من کا ہو زمین اسے کھینچ لے گی یہاں جس طاقت سے دس ہزار من لوہے کا ستون باآسانی کھنچ آئے گا۔کچے سیب کا شاخ سے تعلق نہ چھوٹ سکے گا تو واجب کہ کچے پکے پھل سب یکساں ٹوٹ پڑیں لیکن ایسا نہیں ہوتا تو یقینا جذب زمین باطل بلکہ سب اپنے میل سے آتا ہے۔پکے کا میل اس کے ضعیف تعلق پر غالب آیا ٹوٹ پڑا کچے کا اس کے قوی تعلق پر غالب نہ آسکا آویزاں رہا۔
ردچہلم:اقول:آدمی کے پاؤں کی اتنی سطح ہے اس مسافت کا ستون آہنی دس ہزار گزارتقاع کا آدمی کیا۔ہاتھی کی قوت سے بھی نہ ہل سکے گا اور بوجہ مساوات سطح مواجہ آدمی پر بھی جذب زمین اتنا ہی قوی ہے تو واجب کہ انسان کو قدم اٹھانا محال ہو دوڑنا تو بڑی بات ہے۔یونہی ہر جانور کا چلنا پرندکا اڑنا سب ناممکن ہوا لیکن واقع ہیں تو جذب باطل۔
رد چہل ویکم:پانی اور تیل ہم وزن لے کر گلاس میں تیل ڈالو اوپر سے پانی کی دھار پانی نیچے آجائے گا خود ہی ہیئات جدیدہ کو مسلم کہ اس کی وجہ پانی کا وزن ہونا ہے۔یہ کلمہ حق ہے کہ بے سمجھے کہہ دیا اور جاذبیت کا خاتمہ کرلیا بربنائے جاذبیت ہر گز یہ پانی تیل سے وزنی نہیں۔وزن جذب سے ہوتا ہے تو وزن جس پر جذب زیادہ ہو وہ اس پانی پر کم ہے کہ ایك کو وہ نسبت روغن زمین سے دور جسے تم نے نمبر ۱۶ میں کہا تھا کہ ادھر کا پانی اگرچہ زمین سے متصل ہے نسبت زمین قمر سے دور ہے دوسری دھار کی مساحت اس گلاس میں
", ط ص ۱۱۴۔۱۲
1127,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,295,"پھیلے ہوئے تیل سے کم تو اس کا جاذب چھوٹا کثرت مادہ سے وزنی بتاتے اس کا علاج ہموزن لینے نے کردیا۔بلکہ وہ پورا پانی پڑنے سے بھی نہ پائے گا تو تیل کو اچھال دے گا تو ہر طرح پانی ہی کم وزنی ہے۔اور تیل پہلے پہنچا تو اس پر واجب تا کہ پانی اوپر ہی رہتا۔ مگر جاذبیت ابطال کو نیچے ہی جاتا ہے۔اب کوئی سبیل نہ رہی کہ سوا اس کے کہ اپنے مزعوم نمبر ۸ یعنی اتحاد ثقل ووزن کو استعفے دو اور کہو کہ اگرچہ پانی ہم وزن بلکہ کم وزن ہو ثقل طبعی میں تیل سے زائد ہے۔لہذا اس سے اسفل کا طالب ہے اور اسے اعلی کی طرف دافع اب ٹھکانے سے آگئے اور ثابت ہوا کہ جاذب باطل و مہمل اور میل طبعی مسجل۔
ردچہل و دوم:اقول:جذب زمین ہو تو واجب کہ جسم میں جتنا مادہ کم ہو اسی قدر روزن زائد ہو اور جتنا زائد اسی قدر کم مثلا گز بھر مربع کا غذ کے تختے سے گز بھر مکعب لوہے کی سل بہت ہلکی ہو اور وہ سل جس کی سطح مواجہ ایك گز مربع اور ارتفاع سو گز ہے اور زیادہ خفیف ہو اور جتنا ارتفاع زائد اور لوہا کثیر ہوتا جائے اتنا ہی وزن ہلکا ہوتا جائے یہاں تك کہ کاغذ کا تختہ اگر تولہ بھرکا تھا تو وہ عظیم لوہے کی سل رتی بھر بھی نہ ہو نہ رتی کا ہزاروں لاکھوں حصہ ہو وجہ سنئے جسم میں جتنا مادہ زیادہ ماسکہ زیادہ اور جتنی ما سکہ زیادہ جاذب کی مزاحمت زیادہ اور جتنی مزاحمت زیادہ اتنا ہی جذب کم اتنا ہی وزن کم کہ وزن تو جذب ہی سے پیدا ہوتا ہے جو کم کھینچے گا کم جھکے گا اور کم جھکنا ہی وزن میں کمی ہونا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جتنا مادہ زیادہ اتنا ہی وزن کم۔بالجملہ ہر عاقل جانتا ہے کہ قوی پر اثر ضعیف ہوتا ہے اور ضعیف پر قوی جب دو چیزوں کے جاذب مساوی ہوں ان کی قوتیں مادی ہوں گی اور مساوی قوتوں کا اثر اختلاف مادہ مجذوب سے بالقلب بدلے گا یعنی مجذوب میں جتنا مادہ زائد اتنا اس پر جذب کم ہوگا لاجرم اتنا ہی وزن کم ہوگا اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ درکار ہے بقیہ کلام رد چوالیس میں آتا ہے۔
ردچہل وسوم:اقول:جذب جس طرح اوپر سے نیچے لانے کا سبب ہوتا ہے نیچے سے اوپر اٹھانے کا مزاحم ہوتا ہے کہ جاذب کے خلاف پر حرکت دینا ہے۔پہلوان اور لڑکے کی مثال رد اڑتالیس میں آتی ہے اور ثابت ہوچکا کہ جتنا مادہ کم اتنا ہی جذب قوی تو واجب کہ ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سل ایك چٹکی سے اٹھ آئے جیسے کاغذ کا تختہ اور کاغذ کا تختہ سو پہلوانوں کے ہلائے نہ ہلے۔
جیسے وہ لوہے کی سل غرض جاذبیت سلامت ہے تو زمین و آسمان تہ و بالا ہو کر رہیں گے تمام نظام عالم منقلب ہوجائے گا۔
رد چہل و چہارم:اقول:واجب کہ وہ کاغذ کا تختہ اس ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سل سے بہت جلد اترے کہ جتنا مادہ کم اتنا ہی جذب زائد اتنا ہی جھکنا زائد اور جتنا جھکنا زائد اتنا ہی اترنا جلد
",
1128,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,296,"حالانکہ قطعا اس کا عکس ہے تو واضح ہوا کہ اترنا جذب سے نہیں بلکہ ان کی اپنی طاقت سے جس میں مادہ زائد میل زائد تو جھکنا زائد تو اترنا جلد رہا مزاحمت ہوا کا عذر(۱۲)
اقول اولا: ابھی ہم ثابت کرچکے کہ ہوا میں اصلا تاب مزاحمت نہیں۔
ثانیا: بالفرض ہو تو وہ باعتبار سطح مقابل ہوگی جس کا ہیأت جدیدہ کو اعتراف ہے اور سطح مقابل مساوی دونوں پر مزاحمت ہوا یکساں اور کاغذ پر جذب اس سل سے ہزاروں حصے زائد تو اس کا جلد اترنا واجب اگر کہیے جذب سے وزن بحسب مادہ پیدا ہوتا ہے جس میں جتنا مادہ زائد اسی قدر اس میں وزن زیادہ پیدا ہوگا اسی قدر زیادہ جھکے گا کہ وزن موجب تسفل ہوگا۔یہاں سے نمبر۴۲ تا ۴۴ کا جواب ہوگیا۔
اقول:یہ محض ہوس خام ہے اولا: کہ وزن جذب سے پیدا ہوگا اس کی خفیف نہیں مگر جھکناکہ بلاواسطہ جذب کا اثر ہے نہ یہ کہ جذب مادہ میں کوئی صفت جدید پیدا کرے جس کا نام وزن ہواور حسب مادہ پیدا ہو اور اب وہ صفت جھکنے کا اقتضا کرے وہاں صرف چار چیزیں ہیں مادہ اور اس کے ماسکہ اور اس کے موافق مزاحمت اور چوتھی چیز مطاوعت یعنی اثر جذب سے متاثر ہو کر جھکنا۔پہلی تین چیزیں جذب سے نہیں صرف یہ چہارم اثر جذب ہے اور بلاشبہ خود جذب ہی کا اثر ہے نہ کہ جذب نے تو نہ جھکایا۔بلکہ اس سے کوئی اور پانچویں چیز پیدا ہوئی وہ جھکنے کی مقتدی ہوئی ایسا ہوتا اور وہ پانچویں جسے اب وزن کہتے ہو اثر جذب سے بحسب مادہ پیدا ہوتی تو یہاں دو سلسلے قائم ہوتے۔
اول: جتنا مادہ زائد ماسکہ زائد تو مقاومت زائد تو اثر جذب کم ان میں کوئی جملہ ایسا نہیں جس میں کسی عاقل کو تامل ہوسکے اور اب یہ ٹھہرا جتنا مادہ زائد وزن زائد تو جھکنا زائد۔
دوم: جتنا مادہ کم ماسکہ کم تو مقاومت کم تو اثر جذب زائداور اب یہ ہوا کہ جتنا مادہ کم وزن کم تو جھکناکم۔
نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا مادہ زائد اثر جذب کم اور جھکنا زیادہ اور جتنامادہ کم اثر جذب زائد اور جھکنا کم۔تو جھکنا اثر جذب کا مخالف ہوا کہ اس کے گھٹنی سے بڑھتا اور بڑھنے سے گھٹتا ہے۔کوئی عاقل اسے قبول کرسکتا ہے اثر جذب جھکنے کے سوا اور کس جانور کا نام تھا اس کا اثر شیئ کو اپنی طرف لانا اور قریب کرنا ہے تو زیادت قرب اس کی زیادت ہے۔ اور کمی کمی اور جب مجذوب اوپر ہو تو قرب نہ ہوگا مگر جھکنے سے
", ط ص ۱۲۔ہوا اجسام کواترتے وقت موافق انداز سے ان کی مقدار کامقابلہ کرتی ہے نہ کہ موافق ان کے وزن کے مزاحمت ایك قد کی گیند چمڑے کی یا لوہے کی ہوبرابر ہوگی۔اھ۱۲۔
1129,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,297,"تو زیادہ جھکنا ہی اس کی زیادت ہے۔اور کم جھکنا بھی اس کی کمی نہ کہ عکس کہ بداہۃ باطل ہے۔
ثانیا: بفرض غلط ایسی بدیہی بات باطل مان لی جائے تو اب بھی ان تینوں نمبروں سے رہائی نہیں اب نمبر ۴۲ کی یہ تقریر ہوگی کہ کاغذ کا تختہ اور وہ دس ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سل(تول کانٹے کی)ہموزن ہوں۔
اقول:وجہ یہ کہ جذب اختلاف مادہ مجذوب سے بالقلب بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد جذب کم کما تقدم اور وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۵)اور مادہ جسم سے بالا ستقامت بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد وزن زائد جذب وزن کا سبب ہے۔سبب جتنا ضعیف ہوگا مسبب کم اور مادہ وزن کا محل ہے۔محل جتنا وسیع ہوگا حال زیادہ۔تو بحال اتحاد جاذب پر دو جسم میں وزن برابر رہے گا اگرچہ مادے کتنے ہی مختلف ہوں۔لوہے کی سل میں بتقاضائے کثرت مادہ جتنا وزن بڑھنا چاہیے بتقاضائے ضعف جذب اتنا ہی گھٹنا لازم اور کاغذ کے تختے میں بوجہ قلت مادہ جتنا وزن گھٹنا چاہیے بوجہ قوت جذب اتنا ہی بڑھنا لازم ہے کہ یہ ضعف وقوت اور وہ کثرت و قلت دونوں بحسب مادہ ہیں۔اسے دو رنگتوں سے سمجھو کہ ایك دوسرے سے دس گناہ گہری ہے گہری میں ایك گز کپڑا ڈبویا اس پر دس گنا رنگ آیا ہلکی میں دس گز کپڑا ڈالا اس پر گہرا رنگ آیا لیکن ہر گز پر ایك حصہ ہے۔تو مجموع پر دس حصے ہوا کہ اول کے برابر ہے۔یونہی فرض کرو ایك حصہ جذب سے ایك حصہ مادہ میں ایك اس پر وزن پیدا ہوتا ہے تو دس حصے جذب سے ایك حصہ مادہ میں دس سیرہوگا اور ایك حصہ جذب سے اور دس حصے مادہ میں بھی دس سیر کہ حصہ جذب سے ہر حصہ مادہ میں ایك سیر ہے تو ایك حصہ مادہ میں دس جذب اور دس حصے مادہ میں ایك جذب سے حاصل دونوں میں دس سیر وزن ہوگا اور نمبر ۴۳ میں یہ کہا جائے گا کہ جس آسانی سے کاغذ کے تختے کو زمین سے اٹھالیتے ہو اس ہزاروں گز ارتفاع والی آہنی سل کو بھی اسی آسانی سے اٹھا سکو جس طرح وہ سل ہزار آدمیوں سے ہل بھی نہیں سکتی کاغذ کاتختہ بھی جنبش نہ کھاسکے گا۔کہ دونوں کا وزن برابر ہے اور نمبر ۴۴ میں یہ کہ کاغذ اور وہ آہنی سل دونوں برابر اتریں اور لوازم سب باطل ہیں۔لہذا جاذبیت باطل غرض یہاں دو نظریے ہوئے ایك حقیقت بربنائے جاذبیت کہ جسم میں جتنامادہ زائد اتنا ہی وزن کم۔دوسرے اس باطل کے فرض پر یہ کہ جب جاذب مساوی ہوں تو سب چھوٹے بڑے اجسام ہموزن ہوں گے اور دونوں صریح باطل ہیں تو جاذبیت باطل
ردچہل و پنجم:اقول:مساوی سطح کی تین لکڑیاں بلندی سے تالاب میں گرتی ہیں ایك روئے آب پررہ جاتی ہے۔دوسری جیسے عود غرقی تہ نشین ہوتی ہے۔تیسری پانی کے نصف عمق تك ڈوب کر پھر اوپر آتی اور تیرتی رہتی ہے۔یہ اختلاف کیوں ا س کا جواب کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ ان کے مادوں کا اختلاف
",
1130,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,298,"جس میں مادہ سب سے زائد تھا تہ نشین ہوئی جس میں سب سے کم تھا روئے آب پر رہی اور متوسط متوسط مگر بربنائے جاذبیت اس جواب کی طرف راہ نہیں حق خفیف پر تو عکس لازم تھا کہ جس میں مادہ زائد اس پر جذب کم اور اسی کا وزن کم تو اس کو روئے آب پر رہنا چاہیے تھا اور جس میں مادہ سب سے کم اس کا تہ نشین ہونا اور اس فرض باطل پر کہا جائے گاکہ مختلف مادوں پر مساوی جذب مساوی پیداکرے گا پھر اختلاف کیوں
ردچہل وششم:اقول:تیسری لکڑی کا نصف عمق سے آگے نہ بڑھنا کیوں زمین جس قوت سے اسے کھینچ کر لائی تھی اب بھی اسی قوت سے کھینچ رہی ہے کہ ہنوز منتہی تك وصول نہ ہوا ملا آب کی مقاومت رد سیم میں باطل ہوچکی اور ہو بھی تو وہ سطح آب سے ملتے ہی تھی۔جب جاذب واحد مقاوم واحد بلکہ اب جذب اقوی ہے کہ زمین سے قرب بڑھ گیا اور مقاومت کم ہے کہ ملاء آب آدھا رہ گیا تو آگے شق نہ کرنا کیا معنی اگر کہئے اس کا پانی کے اندر جانا جذب زمین سے نہ تھا بلکہ اس صدمہ کا اثر جو اسکے گرنے سے پانی کو پہنچا پہلی لکڑی نے پانی کو اتنا صدمہ نہ دیا کہ اسے شق کرتی۔دوسرے نے پورا صدمہ دیا اور تہ تك پہنچی۔ تیسری متوسط تھی متوسط رہی۔
اقول اولا:جذب مان کرجانب اسفل حرکت کو جذب سے نہ ماننا سخت عجب ہے صدمہ اس حرکت ہی نے تو دیا کہ زمین اسے بقوت کھینچ کر لائی تھی اسی قوت نے نصف پانی شق کیا آگے کیوں تھك رہی۔اگر زمین میں یہیں تك لانے کی قوت تھی تو دوسری لکڑی کو کیسے تہ تك لے گئی۔
ثانیا: صدمہ کے لیے دو چیزیں درکار شدت ثقل متصادم اور اس کی قوت رفتار پتے کو کتنی ہی قوت سے زمین پر مارو یا کیسے ہی بھاری گولے کو زمین پر آہستہ سے رکھ دو صدمہ نہ دے گا لیکن اگر گولے کو قوت سے زمین پر پٹکوصدمہ پہنچائے گا اور اس میں قوت رفتار کو شدت ثقل سے زیادہ دخل ہے بندوق کی گولی جو کام دے گی اس سے دس گنا سیسا ہاتھ سے پھینك کر مارو وہ کام نہیں دے سکتا۔
صورت مذکور ہ میں جاذبیت کی بدنصیبی سے قوت رفتار و شدت ثقل دونوں میل طبعی کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں۔جب اجسام اپنی ذات میں ثقل رکھتے اور اپنی قوت سے نیچے آتے ہیں اور وہ مختلف ہیں تو جس میں ثقل زائد اس میں میل زائد اسی کی رفتار تیز اسی کا صدمہ قوی اور کم میں کماوسط میں اوسط اور بربنائے جاذبیت حق حقیقت لیجئے تو پہلی میں مادہ سب سے کم تو اس پر جذب سب سے زائد تو اسی کی رفتار قوی اور وہی زیادہ بھاری تو اس سے صدمہ سب سے پہلے اقوی پہنچا تھا اور دوسری میں مادہ سب سے زائد تو جذب سب سے کم تو رفتار سب سے ضعیف اور وزن سب سے ہلکا تو اسی سے صدمہ نہ پہنچنا تھا اور اس فرض باطل پر سب پر اثر برابر پھر اختلاف صدمہ یعنی چہ۔
",
1131,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,299,"ردچہل و ہفتم:اقول:تو اس تیسری لکڑی کا ڈوب کر اچھلنا کیوں اس میں خود اوپر آنے کی میل نہیں(۲)ورنہ لکڑیاں اڑتی پھرتیں نہ یہ زمین کا دفع ہے کہ وہ تو جذب کررہی ہے نہ کسی کوکب کا جذب کہ وہ ہوتا تو جب اس سے قریب اور زمین سے دور تھی اور اس وقت گرنے نہ دیتا نہ کہ اسی وقت خاموش بیٹھا رہا جب زمین کھینچ کر اسے نصف آب تك لے گئی اور جاذبیت ارض بوجہ قرب زیادہ ہوگئی اس وقت جاگا اور اپنی مغلوب جاذبیت سے اوپر لے گیا اور ایسا ہی تھا تو پہلی لکڑی اوپرکیوں نہیں اٹھالیتا۔پانی کے چیرنے سے ہوا کا چیرناآسان ہے غرض کہ کوئی صورت نہیں سوا اس کے کہ پانی نے اسے اچھالا اور اپنے محل سے واقع کرکے اوپر لاڈالا۔پانی نہ ہوتا تو زمین تینوں کو کھینچ کر اپنے سے ملالیتی۔اب سوال یہ ہے کہ پانی بھی تو زمین ہی کا جز ہے(۱۸)تو وہ بھی جاذب ہوتا نہ کہ دافع اگر کہئے یہ دافع صدمہ کا جواب ہے جسم کا قاعدہ ہے کہ دوسرا جسم جب اس سے مقاومت کرتا ہے یہ اس کو اتنی ہی طاقت سے دفع کرتا ہے جتنے زور کا صدمہ تھا۔یہ دفع زمین میں بھی ہے۔گیند جتنے زور سے اس پر مارو اتنے ہی زور سے اوپر اٹھے گی۔
اقول اولا:صدمہ کا خاتمہ اوپر ہوچکا کہ حق حقیقت پر بالعکس ہونا تھا اور فرض باطل پہ مساوی اور یہ کہ اس کا ماننا میل طبعی پر ایمان لانا اور جاذبیت کو رخصت کرنا ہے اور جب صدمہ نہیں جواب کا ہے کا۔
ثانیا: دوسری لکڑی نے تو اتنا صدمہ دیا کہ تہ تك شق کرگئی اتنی ہی قوت سے اسے کیوں نہ دفع کیا۔
ثالثا: پانی جوابا دفع چاہتا اور زمین جذب کررہی ہے یہ پانی اس کی کیا مزاحمت کرسکتا نہ کہ اس پر غالب آجائے اس سے چھین کر اوپر لے جائے۔
رابعا: پانی کو صدمہ تو اس وقت پہنچا جب لکڑی اس کی سطح سے ملی اس وقت جواب کیوں نہ دیا اگر کہیے پانی لطیف ہے اس وقت تك گرنے والی لکڑی کی طاقت باقی تھی پانی شق کرتا مگر جب اس کی طاقت پوری ہوئی اس وقت پانی نے جواب دیا۔
اقول:لکڑی کی طاقت جذب زمین سے ہوتی تو نصف پانی تك جا کر تھك نہ رہتی ضرور جذب نہیں بلکہ لکڑی اپنی طاقت سے آئی جو اس کی ہستی ہے پھر نصف پانی چیر سکی پھر پانی نے پلٹا دیا۔بالجملہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں سوا اس کے کہ یہ لکڑی پہلی لکڑی سے بھاری ہے۔اس نے اپنی متوسط قوت سے نصف آب تك مداخلت کی مگر پانی سے ہلکی ہے اور ہر بھاری چیز اسفل سے اپنا اتصال چاہتی ہے۔ اس سے ہلکی چیز اگر پہلے پہنچی ہوتی ہے اور یہ قدرت پائے تو اسے اوپر پھینك کر خود وہاں مستقر ہوتی ہے جیسے گلاس کے تیل اور پانی کی مثال میں گزرا۔لہذا دوسری لکڑی کو نہ پھینکا کہ وہ پانی سے بھاری تھی اسفل اسی کا محل ہے تو ثابت ہوا کہ ثقیل طالب سفل ہے اور اثقل طالب اسفل اسی کا نام
",
1132,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,300,"میل طبعی ہے تو جاذبیت باطل و مہمل یہ دونوں باتوں سے ردجا ذبیت ہوا ایك تو یہی دوسری یہ کہ ان میں خود وزن ہے جو جانب اسفل جھکاتا ہے جس پر اس اختلاف کی بناء ہے پھر جاذبیت کے لیے اختصار ا قصر مسافت کیجئے تو وہی جملہ کافی ہے کہ بداہۃ معلوم کہ پہلے کا اوپر ٹھہرنا اور تیسری کا نصف آب تك جا کر پلٹنا دونوں باتیں قطعا خلاف اصل مقتضی ہیں اور یہ نہیں مگر مزاحمت آب سے پانی نہ ہوتا تو یقینا تینوں لکڑیاں تہ تك پہنچیں اور بلاشبہ اس سے ہزار حصے زائد پانی فصل زمین کا مزاحم نہ ہوسکتا تھا تو قطعا یہ اقتضائے زمین نہیں بلکہ خود ان لکڑیوں کی مختلف قوت تو جاذبیت باطل و مہمل اور میل طبعی مسجل
والحمد ﷲ العلی العظیم الاجل فضل اﷲ تعالی سیدنا مولینا محمدا والہ وصحبہ وسلم وبجل امین۔
دلائل قدیمہ
بفضلہ تعالی ردنافریت میں وہ بارہ اور ردجاذبیت میں سینتالیس فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہیں۔نافریت پر تو کسی کتاب میں بحث اصلا نظر سے نہ گزری۔
جاذبیت پر بعض کلام دیکھا گیا وہ صرف ایك دلیل جس کی ہم توجیہ بھی کریں اور طرز بیان سے ایك کو تین کردیں۔
رد چہل و ہشتم:زمین میں جذب نہ ہو تو چاہیے کہ زمین کا کوئی جز اس سے جدا نہ کرسکیں کہ قوت زمین کا مقابلہ کون کرے(مفتاح الرصد)
اقول:اسی جذب کلی پر مبنی ہے کہ برتقدیر جذب وہی قرینہ عقل تھا اور ہماری تقریرات سابقہ سے واضح کہ جتنا پارہ زمین لیا جائے اس میں اتنی قوت جذب ہے جس کا انسان مقابلہ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے مقابل کو اگرچہ ہزاروں من کا ہو بے تکلف کھینچ لے گا اور وہ پوری طاقت پر مقابل پر مصروف ہے تو نہ صرف جزو زمین بلکہ کسی پتے کا زمین سے اٹھانا ناممکن ہے قلت مادہ کے سبب وزن نہ رہے تو جذب کی قوت تو ہے تو دیکھو جس کا مقابلہ کرنا ہوگا ٹین کی ہلکی طشتری کو دو برس کا بچہ سہل سے اٹھا سکتا ہے لیکن اگر کوئی پہلوان دونوں ہاتھ سے اسے مضبوط تھامے اپنے سینے سے ملائے ہے اب بچہ کیا کمزور مرد بھی ہر گز اسے نہیں ہلاسکتا۔
ردچہل ونہم:زمین میں جذب ہو تو اس کے اجزاء میں بھی ہو کہ طبیعت متحد ہے تو چاہیے کہ بڑے ڈھیلے کے نیچے چھوٹا ملادیں اس سے چھٹ جائے بلکہ بڑا خود ہی چھوٹے کو کھینچ لے(مفتاح الرصد)
اقول:اس کا ظاہر جواب یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا اگر زمین اسے نہ کھینچتی۔جذب زمین کے مقابل بڑے ڈھیلے کا جذب کیا ظاہر ہو مگر مقناطیس و کہرباء اس جواب کو قائم نہ رکھے گا۔جذب زمین کے مقابل اس کا جذب کیسے ظاہر ہوتا ہے یوں ہی بڑے ڈھیلے کا ظاہر ہوتا اگر اس میں جذب ہوتا لیکن وہ
",
1133,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),جاذبیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں,,301,"ہر گز جذب نہیں کرتا تو زمین بھی جذب نہیں کرتی کہ طبیعت متحد ہے۔فافھم۔
ردپنجا ہم:زمین نافریت کرکے بچ جاتی ہے۔یہ حقیر چیزیں تو نہ بچ سکتیں۔اگر کہیے آفتاب ضرور ان کو جذب کرتا ہے مگر زمین بھی تو کھینچتی ہے اور یہ اس سے متصل اور آفتاب سے کروڑوں میل دور لہذا جذب زمین غالب آتا اور آفتاب انہیں نہیں اٹھا سکتا۔ہم کہیں گے زمین کا اپنے اجزاء کو جذب ثابت ہے دیکھو ابھی دو دلیل سابق(مفتاح الرصد)۔
تذییل:کلام قدماء میں ایك اور دلیل مذکور کہ جذب عــــــہ ہوتا تو چھوٹا پتھر جلدآتا(شرح تذکرہ بطوسی للعلامہ الخضری)یعنی ظاہر ہے کہ جاذب کاجذب اضعف پر اقوی ہوگا تو چھوٹا پتھر جلد کھینچے حالانکہ عکس ہے اس سے ظاہر کہ وہ اپنی میل طبعی سے گرتے ہیں جو بڑے میں زائد ہیں۔
اقول:اضعف پر اقوی ہونا مساوی قوتو ں میں ہے اور یہاں چھوٹے کا جاذب بھی چھوٹا ہے تو اتنے ضمیمہ کی حاجت ہے کہ دونوں کی سطح مواجہہ زمین مساوی ہو۔اب حق حقیقت پر یہ بعینہ رد چوالیس ۴۴ ہوگا۔اور اس فرض باطل پر اتنا بھی کافی نہ ہوگا کہ چھوٹا اب بھی جلد نہ آئے گا بلکہ برابر کمامر اب یہ صورت لینی ہوگی کہ بڑا ارتفاع ہیں ہزار گنا اور سطح مواجہہ میں مثلا آدھا ہے۔اب یہ اعتراض پورا ہوگا کہ چھوٹے کا جاذب ہے۔فرض کرو بڑے میں دس حصے مادہ ہے اور چھوٹے میں ایك حصہ اگر سطح مواجہہ برابر ہوتی دونوں دس دس سیر وزن ہوتا جس کی تقریر گزری لیکن چھوٹے کی سطح مواجہہ دو چند ہے تو بڑے میں دس سیر وزن ہوگا اور چھوٹے میں بیس سیر لہذا اسی کا جلد آنا لازم حالانکہ قطعا اس کا نصف ہے تو جاذبیت باطل و جزاف ہے اور میل طبعی کا میدان ہموار صاف ہے واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔
",€&عــــــہ€∞:یہ نو ٹ الرضا نمبر سے لکھا جائے جس میں ایك نواب صاحب سے مکالمہ ہے الرضا کا یہ مقالہ مل نہ سکا۔عبدالنعیم عزیزی۔
1134,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,302," بارہ۱۲ رد نافریت او رپچاس۵۰جاذبیت پرسب حرکت زمین کے رد تھے کہ ا س کی گاڑی بے ان دو پہیوں کے نہیں چل سکتی تو یہاں تك ۶۲ دلیلیں مذکور ہوئیں۔
دلیل ۶۳:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل النہار و منطقۃ البروج دونوں مساوی دائرے ہیں۔نتیجہ(نمبر۳۰)جتنے سماوی وارضی کرے ہیئت قدیمہ وجدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاید ہیں لیکن منطقہ کو مدار زمین مان کر یہ ہر گز ممکن نہیں۔معدل تو بالا اجماع مقعر سماوی پر ہے۔(نمبر ۲۸)اگر منطقہ نفس مدار پر رکھو جیسا اصول الہیئت کا زعم ہے۔(نمبر ۲۹)جب تو ظاہر کہاں یہ صرف انیس کروڑ میل کا ذرا سا قطر اور کہاں مقعر سماوی کا قطر اربوں میل سے زائد جو آج تك اندازہ ہی نہیں ہو سکا اور اگر حسب بیان حدائق مدار کو مقعر سماوی پر لے جاؤ یعنی اس کا موازی وہاں بناکر اس کا نام منطقہ رکھو جب بھی تساوی محال کہ اس مقعر کا مرکز مرکز زمین ہے(نمبر۲۷)اور یہی مرکز معدل(نمبر۲۸)تو معدل عظیم ہے لیکن مرکز مدار کا مرکز زمین سے اتحاد محال تو منطقہ ضرورۃ دائرہ صغیرہ ہے کہ عظیم ہوتا تو اس کا مرکز مرکز مقعر ہوتا۔(فائدہ ۳۰)اور صغیرہ عظیمہ کی مساوات محال تو منطقہ کو مدار زمین ماننا قطعا باطل خیال۔
دلیل۶۴:تمام علقائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہےکہ معدل و منطقہ کا مرکز ایك ہے۔(نتیجہ نمبر۳۰)جتنے سماوی وارضی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن مدار پر دور زمین مان کر یہ ہدایۃ محال کہ مرکز و محیط کا انطباق کیسا جہل شدید ہے۔
دلیل ۶۵ اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل و منطقہ کا تقاطع تنا صف پر ہے۔(نمبر ۳۰)جتنے سماوی وارضی کرہ ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں
ہ",
1135,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,303,"لیکن زمین دائرہ ہو تو تنا صف محال کہ مرکز ایك نہ رہے گا۔لاجرم دائرہ زمین باطل۔
دلیل ۶۶:اقول:ان عــــــہ سب سے خاص تر عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل و منطقہ دونوں کرے سماوی حقیقی یا مقدر کے دائرہ عظیمہ میں(نمبر ۲۸۲۹۳۰)جتنے سماوی و ارضی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیںسب ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن دورئہ زمین پر یہ بوجوہ ناممکن کہ نہ تساوی نہ اتحاد مرکز نہ تنا صفتو وہ دورہ زمین قطعا باطل۔
دلیل ۶۷:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل ومنطقہ دائرہ شخصیہ ہے(نمبر۳۱)جتنے سماوی وارضی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن زمین دائر ہو تو ان میں کوئی شخص نہ رہے گا(دیکھو ۳۱۳۲)تو زمین کا دورہ باطل۔
دلیل ۶۸:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ بارہ برج متساوی ہیں ہر برج تیس درجے(۲۹)جتنے سماوی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن منطقہ کو مدار زمین مان کر ۶ برج ۴۰۔۴۰ درجے کے ہوجائیں گے اور ۶ صرف ۲۰۲۰ کے رہیں گے اس کا بیان دو مقدموں میں واضح ہے۔
مقدمہ ۱:اقول: دو۲ متساوی دائروں میں جب ایك دوسرے کے مرکز پر گزرا ہو واجب کہ وہ دوسرا بھی اس کے مرکز پر گزرے۔
عــــــہ:اقول:تساوی و اتحاد مرکز میں عموم و خصوص من وجہ ہے مدارین متساوی ہیں اور اتحاد مرکز نہیں اور سطح معدل و خط استوا متحدہ المرکز ہیں اور تساوی نہیں ہر کرہ کے عظمتیں متساوی بھی نہیں اور متحدہ المرکز بھی اور یہ دونوں تناصف سے عام مطلقا ہیں۔جب تنا صف ہوگا تساوی و اتحاد مرکز ضرور ہوں گے کہ چھوٹے بڑی یا مختلف المرکز دائرے متنا صف نہیں ہوسکتے اور تساوی یا اتحاد مرکز ہو تو تناصف درکنارتقاطع بھی ضرور نہیںجیسے مدارین یا معدل و خط استوامہاں تساوی و اتحاد مرکز کا اجتماع دائرہ کرہ میں تناصف کا متساوی ہے جب مساوی دائرے مرکز واحد ہر ہوں گے ضرور متناصف ہوں گے وبالعکس یہ تینوں ایك کرہ کے دوائر عظام ہونے سے عام مطلقا ہیں۔ایك کر ہ کے دو عظیمے قطعا متساوی بھی ہوں گے اور متحدالمرکز بھی اور متناصف بھی اور ثخن کرہ میں مرکز واحد پر دو متساوی دائرے متناصف ہوں گے اور عظیم نہیں۔ان دلائل میں عام سے خاص کی طرف ترقی ہے کہ ہیئت جدیدہ نے بھی معدل و منطقہ کی تساوی مانی ہے اور اس سے دورہ زمین باطل بلکہ اس سے بھی من وجہ خاص تر اتحاد مرکز مانا ہے بلکہ ان سے بھی خاص تر تنا صف بلکہ سب سے خاص تر عظام ہونا ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1136,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,304,"ا ب ح کے اب ء کے مرکز ہ پر گزرا ہے ضرو راس کا مرکز ر ہے جس پر اء ب گزرا ہے ورنہ اگر ط ہو تو اس کا نصف قطر ط ہ یا ح ہو تو ح نصف قطر اء ب یعنی رح کے مساوی ہو۔بہرحال جز و کل برابر ہوں۔
مقدمہ ۲:اقول:جب متساوی دائرے ایك دوسرے کے مرکز پر گزرے ہوں ان کاتقاطع تثلیث ہوگایعنی ہر ایك کی قوس کہ دوسرے کے اندر پڑے گی ثلث دائرہ ہوگی اور جتنی باہر رہے گی۔
دو ثلت مرکزین ہر نقطتین تقاطع ۱ ب تك خطوط ملائیے کہ سب نصف قطر اور ۴ مساوی قوتوں ا ہہ با ررب کہ اگر ۲۴۰ لاجرم ہر قوس ۶۰ درجے رہے کہ نصف قطر وتر نہیں مگر سدس درجہ کا تو ا ہ با ر ب ہر ایك ۱۲۰ درجے ہے اور ا ح ب ا ء ب ہر ایك ۲۴۰ درجے ہے۔یہاں پہلا دائرہ معد ہے دوسرا منطقہ راس الحمل ب راس المیزان ء سرطان ہ جدی تو حمل سے سنبلہ تك ۶ برج کہ قوس اء ب میں ہے ۴۰۔۴۰ درجے کے ہوئے اور میزان سے حوت تك ۶ برج کہ قوس ا ہ ب میں ہیں۔۔۲۰۔۲۰ درجے کے اس کا قائل نہ ہوگا مگر مجنونتو دورہ زمین ثمرہ جنونکوپرنیکس کی تقلیدسے مان بیٹھے اور آگاہ پیجھا کچھ نہ دیکھا کہ وہ تمام ہیئت کا دفتر الٹ دے گا۔
دلیل ۶۹:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ مبادات اعتدالین ایك بہت خفیف حرکت ہے کہ ایك سال کامل میں پورا ایك دقیقہ بھی نہیں ۲ ء ۵۰ ہے(۲۲)پچیس ہزار آٹھ سو سترہ برس میں دورہ پورا ہوتا ہے۔(۳۲)لیکن اگر زمین منطقہ پر دائرہے تو واجب کہ ہر سال دورہ پورا ہوجایا کرے تقاطع کا نقطہ ہر سہ ماہی میں تین برج طے کرلیا کرے وہ حرکت کہ اکہتر عــــــہ برس میں بھی ایك درجہ نہیں چل سکتی ہر روز ایك درجہ اڑے۔
اب جء منطقہ البروج ہے۔مرکز ن پر جب زمین نقطہ آ پر تھی معدل دائرہ س ہ ہواجتنے منطقہ کو ہ راس الحمل ر راس المیزان پر قطع کیا۔(برصفحہ ائندہ)
عــــــہ: کہ حاصل نسبت ۷۱۳ء۷۱ ہے ۱۲ منہ غفرلہ
",
1137,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,305,"
جب زمین نطقہ ب پر آئی معدل دائرہ عہ ہوا اور ح راس الحملط راس المیزان جب زمین ح پر آئی معدل دائرہ ف ہوا اور ی راس الحمل ك ر اس المیزان جب ء پر آئی معدل صہ ہوا اور ل راس الحمل م راس المیزانان چاروں دائروں نے منطقہ کو بارہ مساوی حصوں پر تقسیم کیا۔مثلا منطقہ کی قوس اب ربع دور ہے اور بحکم مقدمہ ثانیہ تقاطع رائرہ عہ سے قوس ا ہ ۶۰ درجے تو ب ہ ۳۰ درجےیوں ہی تقاطع دائرہ عہ سے ب ط ۶۰ درجے تو اط ۳۰ درجے لاجرم بیچ میں ہ ط بھی ۳۰ درجےاسی طرح ہر رابع میں پس بالضرورۃ چاروں بار کے راس الحمل ہ ح ی ل میں ۹۰۹۰ درجے کا فاصلہ تو ہر سال راس الحمل تمام منطقہ پر دورہ کر آیا اور ہر سہ ماہی میں تین برج چلا ہر روز ایك درجہ بڑھ کر اس سے جہالت اور کیا ہوگی تو دورہ زمین قطعا باطل۔
دلیل ۷۰:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ اس مدار پر دورہ کرنے والا(شمس ہو یا زمین)سال بھر میں تمام بروج میں ہو آتا ہے لیکن اگر یہ مدار زمین کا ہے تو ایك برج کیا ایك درجہ کیا ایك دقیق چال چلنا محال۔جب زمین آ پر تھی راس الحمل ہ تھا تو آ کہ ۶۰ ہی درجے آگے ہے تو ضرور ب راس الدلو ہےیونہی زمین جہاں ہوگی راس الحمل اس سے ۶۰ درجے آگے رہے گا اور زمین ہمیشہ راس الدلوہی پر رہے گی تو بروج میں انتقال نہ ہونا درکنار۔
اوپر تو جاذبیت و نافریت اسباب و زن نے سکون زمین ثابت کیا تھایہاں خود دورہ زمین نے سکون زمین مبرہن کردیا۔ثابت ہوا کہ ابتدائے آفرنیش میں جہاں تھی وہیں اب بھی ہے اور جب تك باقی ہے وہیں رہے گی۔اس سے زیادہ قاہر دلیل اور کیا ہوگی کہ دورہ ماننا ہی ساکن منوا چھوڑے۔اہل ہیئت جدیدہ تقلید کوپرنیکس کے نشے میں ان عظیم خرابیوں سے غافل رہے تو رہے عجب کہ آج تك ان کے رد کرنے والوں کو بھی یہ آفتاب سے زیادہ روشن دلائل خیال میں نہ آئے دور کی باتیں بلکہ دور از کار باتیںبھی لکھا کیے فریقین کا اس طرف خیال ہی نہ گیا کہ منطقہ کو مدار زمین مانتے ہی تمام ہیئت کا پٹا الٹ جائے گا۔
دلیل ۷۱:اقول:جب ہ راس الحمل اور زمین ط راس الدلو پر ہے تو ضرور ط راس الحوت ہے۔
",
1138,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,306,"جب زمین ط پر آئی اور اس ا لحمل ہمیشہ ۶۰ درجے اس سے آگے ہوگا تو راس الحوت راس الحمل کے بیج ایك اور برج ہوا۔
دلیل ۷۲:جب ہ پر آئی کہ راس الحمل تھا تو راس لحمل سے راس الحمل ۶۰ درجے آگے ہوا۔
دلیل ۷۳:جب ب پر آئی کہ راس الثور تھا حمل کہ اس سے ۳۰ درجے پیچھے تھا۔۶۰ درجے آگے ہوگیا وعلی ھذا القیاس۔
دلیل ۷۴:ہر برج راس الحمل سے کبھی آگے ہوگا کبھی پیچھے کہ راس الحمل سال میں ۱۲ برج پر دورہ کرے گا تو بروج شمالی و جنوبی کی کوئی تعین نہ رہی سب شمالی اور سب جنوبی اور ہر برج ایك وقت نہ شمالی نہ جنوبی جب کہ راس الحمل اسی پر ہو۔
دلیل ۷۵:چاروں فصلوں کو تعیین باطل ہوگئی۔
دلیل ۷۶:جب زمین ط پر آئی کہ راس الحوت اور راس الحمل اس سے ۶۰ درجے آگے ہے اور شك نہیں کہ اس سے ۳۰ درجے آگے راس الحمل ہے تو دور اس الحمل ہوئے تو دور اس المیزن ہوئے تو دو دائروں تقاطع چار جگہ ہوا اور یہ محال ہے۔دائرے دو جگہ سے زیادہ تقاطع نہیں کرسکتے۔(اقلیدس مقالہ ۳ شکل۱۰)بالجملہ صد ہا استحالہ ہیںدیکھو دورہ زمین ماننے نے کیا کیا آفت جوتی تمام ہیئت دریا بردوگاؤ خورد کردی۔
دلیل ۷۷:اقول:تمام عقلائے عالم وہیئت جدیدہ کا اجتماع ہے کہ معدل سے منطقہ کا میل کلی بتانے والا دائرہ جسے دائرہ جے دائرہ میلیہ کہتے ہیں ایك متعین دائرہ ہے جس کی قوس کہ ان کے منصف محل تقاطع پر گزرتی ہے خود ایك مقدار معین رکھی ہے نہ یہ کہ چھوٹی بری قوسیں متحمل ہوں جن سے میل کی تجدید نہ ہوسکے لیکن اگر منطقہ مدار زمین ہے تو ایسا ہی ہوگا اور تحدید میل ناممکن ہوگی اس تحدید کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں دائرے برابر ہوں کہ تیسرا ان کا مساوی ان کے اقطاب پر گزارا جائے اور وہ میل بتائے اگر متقاطع دائرے چھوٹے بڑے ہوں تو میلیہ کی تعیین کہاں سے آئے گی۔چھوٹے کے برابر تو بڑے کے برابر کیوں نہ لو۔وبالعکس اور دونوں سے مختلف لو تو کیا وجہاور پھر کتنا مختلف لو اور پھر صغر کی طرف یا کبر کی جانب کوئی تعین نہیں اور شك نہیں کہ ان سب محتمل دائرون کی قوسیں مختلف ہوگئیں اور ان میں جو ایك لو اس اس کی قوس کی قیمت چھوٹے کے لحاظ سے اور بڑے کے لحاظ سے اور ہوگی۔غرض تحدید میل کی طرف کوئی راہ نہ رہے۔اور ہم دلیل ۵۷ میں ثابت کرچکے کہ منطقہ کو مدار زمین مان کر معدل و منطقہ کی مساوات محال تو تحدید میل محال مگر وہ قطعا یعنی اجماعی ہے۔لاجرم دورہ زمین باطل۔
دلیل ۷۸:اقول: بفرض غلط مساوات بھی لے لو مثلا خو د اپنی ہیئت جدیدہ کے اقرارات و تصریحات
",
1139,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,307,"وعملیات سب پر خاك ڈال کر یہیں کا یہیں مدار زمین کے برابر ایك دائرہ موازی خط استوا لے کر اس کا نام معدل رکھ لواور اب میل کا حساب راست آئے گا۔تمام عقلائے عالم ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ میل کلی ہزاروں برس سے ۲۳۲۴ درجے کے اندر ہے(۲۹۲۳)لیکن زمین دورہ کرتی ہے تو اب میل کلی پورا ۶۰ درجے آئے گا اور متساوی دائرے کہ ہر ایك دوسرے کے مرکز پر گزرا ہو(مقدمہ۱)ان کا بعد ہمیشہ ان کے نصف قطر کے برابر ہوگا۔
ا ح ب مرکزہ پر اور ح ا ب مرکز ر پر تو ح ہ یا ر ء بعد ہے کہ ہر ایك نصف قطرہےیہ سطح مستوی میں تھا جس میں نصف قطر یعنی ۶۰ درجہ قطریہ کی قیمت درجات محیطیہ سے ۷۵ ردجے۱۷ دقیقےثانیے۴۸ ثالثےاور ۱۵ رابعے ہیں
لیکن کرے پر بعد دائرے سے لیا جاتا ہے تو ان کا مساوی دائرہ میلیہ کا نقطتین ح ہ یا ر ء پرگزرے گا یہ نصف قطر اس کا وتر ہوگا تو دائرۃ البروج کا میل ۲۳۲۴ کی جگہ کامل ۶۰ درجے آئے گا اور یہ سب کے نزدیك باطلتو دورہ زمین قطعا وہم باطل۔
دلیل ۷۹:اقولجتنے مسائل کرہ سماوی پر بذریعہ علم مثلث کروی حل کیے جاتے ہیں جن کے مثلث میں ایك قوس دائرۃ البروج کی ہوخصوصا جب کہ دوسری قوس معدل کی ہوجیسے کو کب عــــــہ کے میل و مطالع قمر سے اس کے
عــــــہ:خاص اس مسئلہ میں ہمارا ایك رسالہ ہے البرھان القویم علی الارض والتقویمجس میں اٹھارہ صورتیں قائم کرکے انہیں ۶ کی طرف راجع کیاپھر ہر ایك میں جتنی شقیں متحمل ہیں جن کا مجموعہ ۳۵ ہے سب کو سب کی اور ان پر تو امرات بیان کیے کہ ہر صورت میں کیونکر میل الطالع سے تقویم و عرض نکالیں دونوں کے جدا جدا نکالنے کے بھی طریقے بتائیے پھر تقویم سے عرض اور عرض سے تقویم معلوم کرنے کے پھر جملہ طاق پر براہین ہندسیہ شکل شمس وظلی سے قائم کیں۔یہ سب بیان تو اس رسالہ پر محمول۔
اصول علم الہیئت ۹۷ میں بھی چند سطر کے اس توامر کے ذکر میں لکھیں جن میں عجب خطائے فاحش کی شکل یہ بنائی۔
ی ق خط استوا یعنی(معدل الہنار ف)اس کا قطبی س دائرۃ البروجر ا س کا قطبص موضع کوکبف ص یعنی(میلیہ)اور رص یعنی (عرضیہ)بنائے ف ص پر ب ص عمود گرایا۔ف ص تمام میل ہے اور رف یعنی مابین القطبین۔(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1140,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,308,"عرض و تقویم کا استخراج منطقہ کو مدار زمین ماننے سے سب باطل ہوگئے کہ اس کا مبنی کرہ سماوی پر منطقہ کا عظیمہ ہوگا ہے۔بالخصوص اس کا منبی یہ ہے کہ منطقہ و معدل دونوں مساوی دائرہ ہیں اور دونوں کامرکز ایك ہو اور دونوں کا تقاطع تناصف پر ہو منجملہ دونوں ایك کرہ کے عظیمہ ہواور ہم ثابت کرچکے کہ منطقہ مدار زمین ہو کر یہ سب محاللاجرم دورہ زمین باطل خیال۔
دلیل ۸۰:اقول:یہاں چند مقدمات نافعہ ہیںدوشیئ میں اضافیمتقابلمتضاد نسبتیں کہ شے واحد میں دوسری کے لحاظ سے با اعتبار واحد جمع نہ ہوسکیںدو قسمیں ہیں۔
اول:اعتباری محض جس کے لیے کوئی منشا واقع میں متعین نہیںلحاظ و اعتبار سے تعین ہوتا ہے تو ہر شیئ اسی دوسری کے اعبتار سے ان دونوں ضدوں سے متصف ہوسکتی ہےجیسے اشیاء کی گنتی میں ادھر سے گنوں تو یہ اول وہ دوم ہےادھر سے گنوں تو عکس ہے کہ ان کے اول و ثانی ہونے کے لیے واقع میں کوئی منشاء متعین نہیں تمہارے لحاظ کا تابع ہے جدھر سے گنتی شروع کرو وہی اول ہے۔
دوم:واقعی جس کے لیے نفس الامر میں منشاء متعین یہاں دو شے میں ایك کے لیے ایك ضد متعین ہوگی دوسری کے لیے دوسریہم کسی دوسرے لحاظ سے ان میں تبدیل نہیں کرسکتے کہ ان کا منشاء ہمارے لحاظ کا تابع نہیںجیسے تقدم وتاخر زمانی مثلا ۱ ھ یقینا ۲ ھ سے پہلے ہے۔اسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ ۲ ھ پہلے ہوا بعد ایك آیا۔
(۲)ان واقعات میں شیئ واحد کو دو کے لحاظ سے دونوں ضدیں عارض ہوسکتی ہیںیہ تغیرنسبت نہ ہوا بلکہ تغیر منتسبین مگر ایك ہی شے کے لحاظ سے ممکن نہیں کہ تغیر نسبت ہے مثلا
","(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یہ یؔ یؔ میل کلی کہ اؔ راس الحمل،زاویہ ص ف قؔ تمام مطالع،زاویہ صؔ ر سؔ تمام تقویم،ر صؔ تمام عرض ہے یہاں تك مستدیر تھی آگے مثلث فؔ صؔ بؔ قائم الزاویہ سے فؔ بؔ پھر اس سے میل کلی رفؔ ملا کر ربؔ معلوم کیا اور اس سے زاویہ ر کو تمام تقویم ہے۔یوں تقویم معلوم ہوئی،اب عرض معلوم کرنے کو مثلث رؔ صؔ بؔ قائم الزاویہ لیا جس کی ر ب زاویہ ر معلوم ہوئے ہیں ان سے رصؔ تمام عرض جان کر عرض معلوم کیا یہ بدایتہً باطل ہے جب فؔ صؔ بؔ قائمہ ہے ر صؔ بؔ کیونکر قائم ہوسکتا ہے،جزوکل برابر،خیر ہمیں اس سے غرض نہیں واقفِ فن جانتا ہے کہ اسی شکل میں کتنی جگہ سے منطقہ کا مدار زمین ہونا باطل ہوا۔۱۲ منہ غفرلہ۔
"
1141,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,309,"۲ ھ /۳ ھ سے پہلے ہے ۱ ھ سے بعدلیکن ان میں ایك کی نظر سے دونوں نہیں ہوسکتےزید بن عمرو بن بکر میں عمرو بیٹا بھی ہے اور باپ بھی مگر دو شخص کے لیے عمرو کا ایك باپ ہواور اسی کا بیٹا بھییہ محال ہے۔
(۳)ان واقعی نسبتوں میں بعض وہ ہیں کہ شے کو بالعرض بھی عارض ہوتی ہے اگر چہ بالعرض میں بنظر ذات ایك ہی شیئ کے اعتبار سے دونوں ضدوں کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ اس میں بھی محال ہے کہ وقت واحد میں دو اعتبار مختلف سے دونوں ضدیں مان سکیں ورنہ نسبت اعتبار یہ مثلا زید ا ء میں پیدا ہو ا عمر و سے کہ ۲ ء میں ہوا عمر میں بڑا ہے۔اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی دوسرے اعتبار سے عمر و زید سے عمر میں بڑا ہی اگرچہ ان کی ذات کی نظر سے یہ محال نہ تھا کہ عمرو ا ء میں پیدا ہوتا اور زید ۲ء میں۔عمر میں بڑا چھوٹا ہونا منعکس ہوجاتا۔
(۴)فوق و تخت ان ہی نسبت واقعیہ سے ہیں۔چھت اوپر ہے اور صحن نیچےتو جب زمین پر کھڑے ہو تمہارا سر اوپر ہے اور پاؤں نیچےکوئی عاقل ہرگز نہ کہے کہ یہ زیر و بالا واقعی نہیں نرا اعتباری ہے۔کسی دوسرے لحاظ سے چھت نیچے ہے اور حن اوپرتمہارا سر نیچے اور ٹانگیں اوپریعنی واقع میں نہ چھت اور سراوپر ہیں اور نہ پاؤں اور صحن نیچےبلکہ عندیہ کی طرح ہمارے اعتبار کے تابع ہیںہم چاہیں تو سر اور چھت کو اونچا سمجھ لیں چاہے پاؤں اور صحن کو کیا مجنوں کے سوا کوئی ایسا کہہ دے گا۔
(۵)جب یہ نسبت واقعیہ ہے تو اس کے لیے نفس الامر میں ضرور کوئی منشاء متعین ہے جو کسی کے لحاظ وا عتبار کا تابع نہیںوہ فوق کے لیے تمہارا سر یا چھت خواہ تحت کے لیے تمہارے پاؤں یا صحن نہیں اگر تمہیں الٹا کھڑا کیا جائے تو سر نیچا ہوجائے گا اور پاؤں اوپر۔یوں ہی اگر شہر لوطیاں کی طرح معاذ اﷲ مکان الٹ جائے تو صحن اوپر ہوگا۔چھت نیچےتو معلوم ہوا کہ ان کو یہ نسبتیں بالذات عارض نہیں بلکہ بالعرض و منشاء کچھ اور ہے جسے ان کا عرض بالذات ہے اور اس کے واسطے سے چھٹ اور سر کو۔
(۶)نسب متقابلہ واقعیہ میں کبھی دونوں جانب تحدید یعنی حد بندی ہوتی ہے۔مثلا زید کا ولد اول وولد اخیر نہ اول سے پہلے اس کا کوئی ولد ہوسکتا ہے ورنہ یہ اول نہ ہوگا نہ آخر کے بعد ورنہ آخر نہ ہوگا۔اور کبھی صرف ایك تحدید ہوتی ہےدوسری جانب اس کے مقابلے پر غیر محدود مرسل رہتی ہےجیسے کسی شے سے اتصال و انفصالاتصال محدود ہے اس میں کمی و بیشی کی راہ محدود مگر انفصال کے لیے کوئی حد نہیںجتنا بھی فاصلہ ہوگا انفصال ہی رہے گاہاں نسبت اعتباریہ
",
1142,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,310,"میں کسی طرف تحدید ضرور نہیں کہ وہ تابع اعتبار ہیں۔فوق و تحت نسبت واقعیہ سے ہیں تو ضرور ان میں تو ایك جانب تحدید ضرور ہے ورنہ اعتبار محض رہ جائیں گے ہر تحت سے تحت اور ہر فوق سے فوق متصورتو کسی کا کوئی منشا ء متعین نہیںجسے چاہو تحت فرض کرلوتو مابقی سب فوق ٹھہریں گے پھر فوق کو تخت فرض کرو تو یہ سب فوق ہوجائے گا اور وہ فوق تحت لاجرم ان کی تحدید میں تین صورتوں سے ایك لازم یا تو دو متقابل چیزیں یا بالذات فوق وتحت ہوں کہ نہ فوق بالذات سے اوپر ممکن ہے نہ تحت بالذات سے نیچےباقی اشیا کہ ان کے اندر ہیںجو فوق سے قریب ہو فوق بالعرض ہے جو تحت سے قریب ہو۔تحت بالعرض ہےاور ان میں ہر شے دو چیز اقرب وابعد کے لحاظ سے فوق و تحت دونوںیہ صورت دونوں طرف تحدید کی ہوگی یا فوق بالذات متعین ہو کہ اس سے تفوق محال اور اس کے مقابل غیر محدود جتنے چلے جاؤ سب تحت ہے اور ہر اسفل سے اسفل تك ممکن یا تحت بالذات متعین ہو کہ اس سے تفسل ممتنع اور اس سے محاذی یا متنائی جتنے بڑھوسب فوق ہے اور ہر بالا سے بالا تر متصور تینوں صورتیں اپنی ذات میں تحت وفوق کے نسبت واقعہ ہونے کو بس ہیں۔
(۷)اب تمام عقلائے عالم کے اتفاق سے تحت محدود ہےفوق کی تحدید کہ ہر ایك شے پر جا کر فوقیت منتہی ہوجائے اور اس سے فوق ناممکن ہوبالضرورت واقعیت ہو نہیں سکتی کہ وہ تو حاصل ہوچکی اور خارج سے اس پر کوئی دلیل نہیں۔تو اس کا ماننا جزاف ہے۔
فلسفہ قدیمہ کا رد بعونہ تعالی تدنیل جلیل میں آتا ہے۔یہاں اس کی حاجت نہیںاور ہیئت جدیدہ کا اتفاق ہے کہ فوق محدود نہیں۔مسئلہ تناہی ابعد ہم پروارد نہیں کہ ہمارے نزدیك فضائے خالی بعد موہوم ہے کہ انقطاع وہم سے منقطع ہوجائے گا جب پھر تو ہم کرو گے اور آگے بڑھے گا اور کسی حد پر منتہی نہ ہوگا کہ اس کے اوپر متوہم نہ ہوسکے تو شق ثالث متعین ہوئی یعنی تحت بالذات متعین ہے اس کے سوا کوئی تحت اس سے جو قریب ہے وہ تحت اضافی ہےجو بعید ہے وہ فوق تاغیر نہایت ہے۔
۰۰۰۰۰کہ تحت کے سب اطراف یکساں ہیںایك کو دوسرے پر ترجیح نہیں کہ ایك طرف بعد زائد دوسری طرف کم بلکہ جو سب طرف لامتناہی ہے سب طرف برابر ہے کہ دو نامنتہی کہ ایك مبدء سے شروع ہوں اور امتداد میں کم و بیش نہیں ہوسکتے۔ورنہ جو کم رہا متناہی ہوگیا تو لازم کہ تحت حقیقی تمام امتدادوں کی وسعت میں ایك شیئ موجود متعین ہو جس کے ہر طرف فوق ہواور تحت کا اشارہ ہر جانب سے اسی پر منتہی ہوامتداد جو آگے بڑھے فوق کی طرف چلے۔
(۸)یہیں سے ظاہر ہے کہ تحت بالذات کا ایك نقطہ غیر متجزیہ ہونا لازم و رنہ جسم یا سطح یا خط میں نقاط کثیرہ فرض ہوسکتے ہیں جن کی طرف اشارہ حسیہ جدا جدا ہوگا اور ایك دوسرے سے بعید تر ہوگا تو خود ان میں فوق وتحت
",
1143,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,311,"ہوں گے اور تحت حقیقی ایك نقطہ ہی رہے گا۔
(۹)یہ نقطہ متعینہ جس کے جمیع جہات سے وسط جملہ امتدادات ہونے نے اسے مرکز کرہ بنایاضرور ہے کہ کسی کرہ موجود کا مرکز ہو جو بالذات تحت ہونے کے لیے متعین ہو نہ یہ کہ کسی اعتبار و اصطلاح پر ہو ورنہ نسبت واقعیہ نہ رہے گیفضائے خالی میں کوئی نقطہ اصلا تمیز ہی نہیں رکھتا۔ہمارے اعتبار سی متمیز ہوگا نہ کہ تحت ہونے کے لیے بالذات متعین۔
(۱۰)ضرور ہے کہ اس مرکز کو حرکت اینیہ سے ممکن کہ وہ مرکز فوق کے قریب آجائے اور تحت سے بعید ہوجائے تو باوصف اپنی اپنی جگہ ثابت رہنے کے لیے فوق تحت ہوجائے اور تحت فوق اور اسے کوئی عاقل قبول نہ کرے گا۔مثلا ایك مکان کسی دوسرے مقام پر ہے جس کا صحن اس تحت ذاتی سے قریب ہے اور سقف دور۔اب وہ مرکز متحرك ہو کر اوپر آجائے تو چھت اس سے قریب ہوجائے گی اور صحن دوراب کہنا پڑے گا کہ بیٹھے بٹھائے سیدھے مکان کی چھت نیچے ہوگئی اور صحن اوپریوں ہی وہاں جو آدمی کھڑا ہوا بیچارہ بدستور کھڑا ہے مگر سر نیچے ہوگیا اور ٹانگیں اوپرجب یہ مقدمات ممہد ہولیےاب ہم دیکھتے ہیں کہ جب تم زمین پر سیدھے کھڑے ہو تمہارے سر کی جانب جہت فوق تا دور چلی گئی ہے تو بحکم مقدمہ ششم ضرور ہے کہ پاؤں کی جانب جہت تحت کسی حد کی جانب منتہی ہوجائے اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس کرہ زمین میں ہے یا اس کے بعد لیکن بداہۃ معلوم اور ہر عاقل کو معقول کہ جس طرح تم اس طرف زمین کے اوپر ہواور تمہارا سر اونچا پاؤں نیچے یونہی امریکہ میں یا تمام سطح زمین میں کسی جگہ کوئی کھڑا ہو اس کی بھی یہی حالت ہوگی۔امریکہ والوں کو یہ نہ کہاجائے گا وہ زمین پر نہیںبلکہ زمین اوپر ہے یا ان کا سر اوپر نہیں بلکہ ٹانگیں اوپر ہیں تو روشن ہوا کہ وہ حد زمین ہی کے اندر ہے اور اس کا مرکز تحت حقیقی ہے تو بحکم مقدمہ عاشرہ کرہ زمین ساکن ہو اور اس کی حرکت اینیہ باطل۔
دلیل ۸۱:اقول:وہ کرہ موجود جس کا مرکز تحت حقیقی ہےفلك ہے یا شمسیا ارضیا اور کوئی سیاہ یا ثابتہ یا قمر۔
اول:تو ہیئت جدیدمان نہیں سکتی کہ وہ وجود افلاك ہی کے قائل نہیں۔
دوم:ضرور اس کا مدعا ہے کہ شمس کو ساکن فی الوسط مانتی ہےضرور کہ اہل ہیئت جدیدہ جب دوپہر کو زمین پر سیدھے کھڑے ہوں تو سر نیچے ہو اور ٹانگیں اوپراس لیے کہ سر تخت حقیقی سے قریب ہے اور پاؤں دورجب زمین کی حرکت مستدیر قریب غروب اس حالت پرلائے کہ سر اور پاؤں کا فعل مرکز شمس سے برابر رہ جائے تو اب نہ سر اوپر نہ پاؤںہاں آدھی رات کو ادمیت پر آئیں کہ سر اوپر ہوجائے کہ تحت سے
",
1144,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,312,"بعید ہے اورپاؤں نیچے کہ قریب ہیںجب بعد طلوع پھر وہی حالت تساوی ہو سر اور پاؤں دوبارہ برابر ہوجائیںجب دوپہر ہو پھر سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوجائیں۔ہمیشہ بے جنبش کیے یونہی قلابازیاں کھائیںیہی حال ہر روز صحن وسقف کا ہو کہ کبھی صحن اوپر اور چھت نیچے کبھی بالعکسیہی حال زمین میں قائم درختوں کا کہ آدھی رات کو جڑ نیچے ہے اور شاخیں اوپر۔دوپہر ہوتے ہی پیڑ بدستور رہے مگر شاکیں نیچے ہوگئیں اور جڑ اوپردوپہر کے وقت جو بخار یا دھواں اٹھے کہو کہ نیچے گراجو پتھر گرے کہو کہ اوپر اڑا۔یوں ہی بے شمار استحالے ہیں۔دیگر سیارہ و اقمار و ثوابت کا بھی یہی حال ہے کہ ان میں جس کسی کا بھی مرکز لو گے ایسے ہی استحالے ہوں گے۔لاجرم مرکز زمین ہی وہ مرکز ساکن ہے اور زمین کی حرکت اینیہ باطل۔
دلیل ۸۲:اقول:ہر عاقل جانتا ہے کہ جہات ستہ میں چپ وراست پس و پیش پہلو بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔مشرق کو منہ کرو تو مشرق اگےمغرب پیچھے جنوب داہنےشمال بائیں ہیں اور مغرب کی طرف متوجہ ہو تو سب بدل جائیں گے کہ ان میں تمھارے اعضاء منہ اور پیٹھ اور بازوؤں کا اعتبار ہےیہ جس طرف ہوں گے وہ سمت پیش و پس وراس وچپ ہوگی مگر زیرو بالا میں تمھارے سروپا کا اعتبار نہیں کہ جدھر سیدھے وہ اوپر ہےاور جدھر پاؤں وہ نیچےبلکہ وہ جہتیں خود متعین ہیں۔سیدھے کھڑے ہونے میں جو جانب فوق اور دوسری طرف تحت ہےالٹے ہو جاؤ جب بھی فوق و تحت وہی رہیں گے۔اب یہ نہ ہوگا کہ سر کی طرف اوپر اور پاؤں کی طرف نیچےبلکہ یہ ہوگا کہ اب تمھارا سر نیچے پاؤں اوپر ہیں۔اگر مرکز شمس جیساکہ ہیات جدیدہ کا گمان ہے وہ مرکز ساکن وتحت حقیقی ہو زیر و بالا کی بھی وہی حالت ہوجائے گی جو ان چاروں جہات کی تھی۔جب افتاب طلوع سے ایك خفیف دوپہر کے بعد یا غروب سے ایك خفیف دوپہر پہلے افق حسی کی محاذات میں ائے تو اگر اس کی طرف پاؤں کرکے لیٹو تو سر اوپر ہےاور پاؤں نیچےکہ مرکز شمس سے قریب تر ہیں اور اسی وقت سر جانب شمس کرکے لیٹ جاؤ تمھارا سر نیچے ہوگیا اور ٹانگیں اوپر کہ اب سر مرکز شمس سے قریب ہے۔اسی طرح جوسیارہ یا ثابتہ یا قمر لو یہی حالت ہوگی سوائے زمین کے کہ اس کا مرکز تحت حقیقی ماننے سے سب شکلیں ٹھیك رہتی ہیں۔لاجرم وہ مرکز ساکن ہے اور حرکت زمین باطل۔
دلیل ۸۳:اقول:ہر عاقل جانتا ہے کہ حرکت موجب سخونت و حرارت ہےعاقل درکنار ہر جاہل بلکہ ہر مجنون کی طبیعت غیر شاعرہ اس مسئلہ سے واقف ہےلہذا جاڑے میں بدن بشدت کانپنے لگتا ہےکہ حرکت سے حرکت پیدا کرے بھیگے ہوئے کپڑوں کو ہلاتے ہیں کہ خشك ہوجائیںیہ خود بدیہی ہونے کے علاوہ ہیئت جدیدہ کو بھی تسلیمبعض اوقات آسمان سے کچھ سخت اجسام نہایت سوزون و مشتعل گرتے ہیں
۔", ح صفحہ نمبر ۲۴۱
1145,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,313," جن کا حدوث بعض کے نزدیك یوں ہے کہ قمر پتھر کے آتشی پہاڑوں سے آتے ہیں کہ شدت اشتعال کے سبب جاذبیت قمر کے قابو سے نکل کر جاذبیت ارض کے دائرے میں آکر گر جاتے ہیںاس پر اعتراض ہوا کہ زمین پر گرنے کے بعد تھوڑی ہی دیر میں سرد ہوجاتے ہیںیہ لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنے میں کیوں نہ ٹھنڈے ہوگئے اس کا جواب یہی دیا جاتا ہے کہ اگر و ہ نرے سرد ہی چلتے یا راہ میں سرد ہوجاتی جب بھی اس تیز حرکت کے سبب آ گ ہوجاتے کہ حرکت موجب حرارت اور اس کا افراط باعث اشتعال ہے۔اب حرکت زمین کی شدت اور اس کے اشتعال وحدت کا اندازہ کیجئے۔یہ مدار جس کا قطر اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل ہے اور اس کا دورہ ہر سال تقریبا تین سو پینسٹھ۳۶۵ دن پانچ گھنٹے اڑتالیس منٹ میں تمام ہوتا دیکھ رہے ہیں۔اگر یہ حرکت حرکت زمین ہوتی یعنی ہر گھنٹے میں اڑسٹھ ہزار میل کہ کوئی تیز سے تیز ریل اس کے ہزارویں حصے کو نہیں پہنچتی پھر یہ سخت قاہر حرکت نہ ایك دن نہ ایك سال نہ سو برس بلکہ ہزار ہا سال سے لگاتار بے فتور دائمہ مستمر ہے تو اس عظیم حدت و حرارت کا کون اندازہ کرسکتا ہے جو زمین کو پہنچتیواجب تھا کہ اس کا پانی کب کا خشك ہوگیا ہوتا اس کی ہوا آگ ہوگئی ہوتیزمین دہکتا انگارہ بن جاتی جس پر کوئی جاندار سانس نہ لے سکتا پاؤں رکھنا تو بڑی بات ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ زمین ٹھنڈی ہےاس کا مزاج بھی سرد ہےاس کا پانی اس سے زیادہ خنك ہےاس کی ہوا خوشگوار ہےتو واجب کہ یہ حرکت اس کی نہ ہو بلکہ اس آگ کے پہاڑ کی جسے آفتاب کہتے ہیں جسے اس حرکت کی بدولت آگ ہونا ہی تھا۔یہی واضح دلیل حرکت یومیہ جس سے طلوع اور غروب کواکب ہے زمین کی طرف نسبت کرنے سے مانع ہے کہ اس میں زمین ہر گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ گھومے گی۔یہ سخت دورہ کیا کم ہےاگر کہے یہی استحالہ قمر میں ہے کہ اگرچہ اس کا مدار چھوٹا ہے مگر مدت بارھویں حصے سے کم ہے کہ گھنٹے میں تقریبا سوا دو ہزار میل چلتا ہے۔اس شدید صریح حرکت نے اسے کیوں نہ گرم کیا۔
اقول:یہ بھی ہیئت جدیدہ پر وارد ہے جس میں آسمان نہ مانے گئےفضائے خالی میں جنبش ہے تو ضرور چاند کا آگ اور چاند کا سخت دھوپ ساگرم ہوجانا تھا لیکن ہمارے نزدیك "" وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"" ہر ایك ایك گھیرے میں پیرتا ہے۔ممکن کہ فلك قمر یا اس کا وہ حص جتنے میں قمر شناوری کرتا ہے خالق عظیم عزجلالہنے ایسا سرد بنایا ہو کہ اس حرارت حرکت کی تعدیل کرتا اور قمر کو گرم ہونے دیتا ہو جس طرح آفتاب کے لیے حدیث میں ہے کہ اسے روزانہ برف سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ورنہ جس چیز پر گرتا جلا دیتا۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عن صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
", القرآن الکریم ۳۶ /۴۰
1146,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,314,"دلیل ۸۴:اقول:زمین ی حرکت یومیہ یعنی اپنے محور پر گھومنے کاسبب ہر جز کا طالب نور و حرارت ہونا ہے یا جذب شمس سے نافریت(نمبر ۳۳)بہرحال تقاضائے طبع ہے اور اس کے لیے متعدد راستے تھے اگر زمین مشرق سے مغرب کوجاتی جب بھی دونوں مطلب بعینہ ایسے ہی حاصل تھے جیسے مغرب سے مشرق کو جانے میںپھر ایك کی تخصیص کیوں ہوئییہ ترجیح بلا مرجح ہے جو قوت غیر شاعرہ سے نامکنلہذا زمین کی حرکت باطل۔
دلیل ۸۵:اقول:یہ دونوں وجہ پر واجب تھا کہ خط استوا دائرۃ البروج کی سطح میں ہو۔
ی ك ل م شمس ہےاور ا ح ب ء زمین۔ی ال ب دونوں کو مماس ہیں تو زمین کا قطعہ اح ب نصف عــــــہ سے بڑا شمس کے مقابل اور اس سے مستنیر ہے اور قطعہ ا ء ب نصف سے چھوٹا تاریك اور اس سے مستنیر ہ ہے اور ح ء سطح دائرۃ البروج اور ہ ر خط استواح ط قطبین میں ہے اور مرکز شمس یعنی سہ پر گزرتا ہے اور مرکز شمس ملازم دائرۃ البروج ہے۔ح ہر ء میل کلی ہیں اور ظاہر ہے کہ قطعہ ی م ل میں ارفع نقاط م ہے اور قطعہ ا ح ب کو م ح کو اقصر خطوط واصلہ ہے تو زمین شمس سے قریب تر نقطہ ح ہے پھر ہر طرف ء و ب تك بعد بڑھتا گیا۔یہاں تك کہ ان کے بعد مقابلہ استثناء اصلا تر تو سب سے زیادہ جذب ح پر ہے اور جاذبیت و نافریت مساوی ہیں۔(نمبر۶)تو واجب کہ سب سے زیادہ نافریت بھی یہیں ہوا اور کرئہ متحرکہ میں سب سے زیادہ نافریت منطقہ یہ ہے کہ وہی دائرہ سب سے بڑا ہے پھر قطبین تك اس کے موازی چھوٹے ہوتے گئے ہیں یہاں تك کہ قطبین پر حرکت ہی نہ رہی۔تو واجب تھا کہ ح ط حرکت محوری زمین کا منطقہ یعنی خط استوا ہوتا لیکن ایسا نہیں بلکہ
عــــــہ : ہیأت جدیدہ کو تسلیم کہ اس نے اپنی تحریر ات ریاضی میں براہیں ہندسیہ سے ثابت یہاں چھوٹا کرہ جب بڑے کے محاذی ہو تو بڑے کا چھوٹا قطعہ چھوٹے کے بڑے قطعے سے مقابل ہوگا ۔ خطوط مماسہ بڑاے کرے سے اس کے قطر کے ادھر وتر ی ل سے نکلیں گے اور چھوٹے کرے کے قطرسے ادھر وتر ا ب کے کناروں پر مس کرینگے ولہذا شمس سے زمین کے استنارے میں نصف شمس سے کم منیر اور نصف ارض سے زیادہ مستنیر ہوتاہے اور قمر سے زمین کے استنارے میں بالعکس ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1147,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,315,"منطقہ ہ رہے تو جہاں جاذبیت کم ہے وہاں نافریت زائد ہے اور جہاں زائد ہے وہاں کماور یہ باطل ہےلاجرم حرکت زمین باطل ہےیوں ہی طلب نورو حرارت کے لیے ا ب کے نیچے جو اجزاء ہیں وہ آگے بڑھتے اور اپنے اگلے اجزاء کو بڑھاتے اور حرکت منطقہ ح ء پر پیدا ہوتی نہ ح ط کے نیچے جو اجزاء نور و حرارت پارہے ہیں وہ آگے بڑھتی اور حرکت منطقہ ہ ر پر ہوتی۔
دلیل ۸۶:اقول:حرکت و ضعیہ میں قطب سے قطب تك تمام اجزاء محور ساکن ہوتے ہیں اور ہم نمبر ۳۳ میں ثابت کر آئے ہیں کہ زمین کی یہ حرکت اگر ہے تو ہر گز تمام کرے کی حرکت واحد نہیںجس کے لیے قطبین و محور ہوں جب کہ ہر جز کی جدا حرکت اینیہ ہے کہ ہر جز میں نافریت اور طلب نور و حرارت ہے تو اجزاء محورکا سکون بے معنی نہ کہ وہ بھی خط ح ط پر جہاں جاذبیت ہے نہ قوت اور اس کے بعد تك مقابلہ باقی ہے تو بطلان حرکت زمین میں کوئی شبہ نہیں۔
دلیل ۸۷:اقول:ہماری تقریر ۳۳ سے واضہ کہ اجزاء زمین میں تدافع ہے۔
اولا:اجزاء کی حرکت اینیہ میں اور ہر اینیہ میں قوت دفع ہے کہ وہ مکان بدلتی ہے جو اس کی راہ میں پڑے اسے ہٹاتی ہے۔
ثانیا:یہاں اسی قدر نہیں بلکہ اجزاء کی چال مضطرب ہے تو تدافع نہیں تلاطم ہے۔حرکت محوری اگرجاذبیت و نافریت سے ہو جس طرح ہم نے نمبر ۳۳ میں تقریر کی جب تو ظاہر کہ قرب مختلف تو جذب مختلف تو نافریت مختلف تو چال مختلف تو اضطراب حاصل ورنہ اس کی کوئی بھی وجہ ہو۔بہرحال اصول ہیئت جدیدہ پر یہ احکام یقینا ثابت کہ:
(۱)بعض اجزاء ارض کا مقابل شمس اور بعض کا حجاب میں ہونا قطعی۔
(۲)مقابلہ زمین قرب و بعد اور خطوط واصلہ کا عمود منحرف ہونے کا اختلاف یقینی۔
(۳)ان اختلافات سے جاذبیت میں اختلاف ضروری۔
(۴)اس کے اختلاف سے نافر یت میں کمی بیشی لازمی۔
(۵)اس کی کمی بیشی سے چال میں تفاوت حتمی۔
(۶)اس تفاوت سے اجزاء میں تلاطم و اضطراب ان میں سے کسی مقدمہ کا انکار ممکن نہیں تو حکم متیقن تو واجب کہ معاذ اﷲ زمین میں ہر وقت حالت زلزلہ رہےہر شخص اپنے پاؤں کے نیچے اجزاء زمین کو سرکتا تلاطم کرتا پائے اور آدمی کا زمین کے ساتھ حرکت عرضیہ کرنا اس احساس کا مانع نہیںجیسے ریل میں بیٹھنے سے حال محسوس ہوتی ہے خصوصا پرانی گاڑی میں لیکن بحمد اﷲ تعالی ایسا نہیں تو حرکت محوری
",
1148,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,316,"یقینا باطلمقام شکر ہے کہ خود ہیئت جدیدہ کا اقرار ا س کا آزار۔
کسی نے کہا تھا کہ زمین چلتی تو ہم کو چلتی معلوم ہوتی۔اس کا جواب یہی دیا کہ زمین کی حرکت اگر مختلف ہوتی یا اس کے اجزاء جدا جدا حرکت کرتے ضرور محسوس ہوتی۔مجموع کرہ کو ایك حرکت ہموار لاحق ہےلہذا حس میں نہیں آتیجیسے کشتی کی حرکت کشتی نشیں کو محسوس نہیں ہوتی یعنی جب تك جھکے گا نہیں۔
الحمدﷲ ہم نے دونوں باتیں ثابت کردیں کہ زمین کو اگر حرکت ہوتی تو ضرور اجزاء کو جدا جدا ہوتی اور ضرور ناہموار و مضطرب ہی ہوتی جب ایك بات پر محسوس ہونا لازم تھا کہ اب کہ دونوں جمع ہیں بدرجہ اولی احساس واجب لیکن اصلا نہیںتو زمین یقینا ساکن محض ہے۔
دلیل ۸۸:اقول:پانی زمین سے بھی کہیں لطیف تر ہے تو اس کے اجزاء میں تلاطم واضطراب اشد ہوتا اور سمندر میں ہر طرف طوفان رہتا۔
دلیل ۸۹:اقول:پھر ہوا کی لطافت کا کیا کہناواجب تھا کہ آٹھ پہر عرب سے شرق تك تحت سے فوق تك ہوا کی ٹکڑیاں باہم ٹکراتیںایك دوسرے سے تپانچے کھاتیں اور ہر وقت سخت آندھی لاتیںلیکن ایسا نہیں تو بلاشبہہ زمین کی حرکت محور باطل اور اس کا ثبوت و سکون ثابت ومحکموﷲ الحمد وصلی اﷲ علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم امین!
دلائل قدیمہ
یہاں ہم نے زیادہ توجہ گردشمس دورئہ زمین کے ابطال پر رکھیفصل اول میں رد اول عام کے سوا باقی گیارہ اور فصل سوم میں سات اخیر کے سوا باقی بیس سب اسی کے ابطال میں ہیںاگلوں نے ساری ہمت گرد محو حرکت زمین کے ابطال پر صرف کی ہم ان میں سے وہ انتخاب کریں جن سے اگرچہ جواب دیا گیا بلکہ بہت کو خود مستدلین نے رد کردیا لیکن ہم ان کی تشہید و تائید کریں گے اور خود ہیئت جدیدہ کے اقراروں سے ان کا تام و کامل ہونا ثابت کردیں گے پھر زیادات میں وہ جن کی اور طرح توجیہہ کرکے تصحیح کریں گے پھر تذییل میں اگلوں سے وہ دلائل جن پر اگرچہ انہوں نے اعتماد کیا مگر ہمارے نزدیك باطل و ناتمام ہیں وباﷲ التوفیق۔
", ص ۱۶۷
1149,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,317,"دلیل ۹۰:بھاری پتھر عــــــہ۱ اوپر پھینکیں سیدھا وہیں گرتا ہےاگر زمین مشرق کو متحرك ہوئی تو مغرب میں گرتا کہ جتنی دیر وہ اوپر گیا اور آیا اس میں زمین کی وہ جگہ جہاں سے پتھر پھینکا تھا۔حرکت زمین کے سبب کنارہ مشرق کو ہٹا گئی۔اقول:زمین کی محوری چال ہر سیکنڈ ۴ء ۵۰۶ گز ہے اگر پتھر کے جانے آنے میں ۵سیکنڈ صرف ہوں تو وہ جگہ ۲۵۳۲ گز سرك گئی پتھر تقریبا ڈیڑھ میل مغرب کو گرنا چاہیے حالانکہ وہیں آتا ہے۔
دلیل ۹۱:دو پتھر عــــــہ۲ ایك قوت سے مشرق و مغرب کو پھینکیں تو چاہیے کہ مغربی پتھر بہت تیز جاتا معلوم اور مشرق سست نہیں نہیں بلکہ مشرقی بھی الٹا مغرب ہی میں گرے۔اقول:یا پھینکنے والے کے ماتھے پر گرے۔مثلا وہ پتھر اتنی قوت سے پھینکے تھے کہ دونوں طرف تین سیکنڈ میں ۱۹ گز پر جاکرگرتے۔سنگ غربی موضع رمی سے جب تك ۱۹ گز مغرب کو ہٹاہے اتنی دیر موضع رمی ۱۵۱۹ گز مشرق کو ہٹ گیا تو یہ پتھر موضع رمی سے ۱۵۳۸ گز کے فاصلے پر گرے گا اور سنگ مشرق وہاں سے انگل بھی نہ سرکنے پائے گا کہ موضع رمی زمین کی حرکت سے اسے جالے گا۔اب اگر پھینکنے والے نے اپنے محاذات سے بچا کر پھینکا تھا تو یہ پتھر تین سیکنڈ میں ۱۹ گز مشرق کو چل کر گرجائے گا اور اتنی دور میں موضع رمی ۱۵۱۹ گز تك پہنچے گا یہ موضع رمی سے۱۵۰۰ گز مغرب میں گرے گا اور اگر محاذات پر پھینکا تھاتو معا زمین کی حرکت سے پھینکنے والا پتھر سے ٹکرائے گا۔اور پتھر اس کے لگ کر و ہیں کا وہیں گرجائے گا لیکن ان میں سے کچھ نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ حرکت زمین باطل ہے۔
ثم اقول:بلکہ اولی یہ کہ یہ دلیل بایں تفصیل قائم کریں جس سے دو دلیل ہونے کی جگہ تین دلیلیں قائم ہوجائیں کہ جہاں شقوق واقع ایك ہی ہوسکے وہ ایك ہی دلیل ہوگی اگرچہ شقیں سو ہوں اور جہاں ہر شق واقع ہوسکے ایك پر استحالہ ہو وہ ہر شق جدا دلیل ہےدرخت کی ایك شاخ سے دو پرند مساوی پرواز کے مساوی مدت تك مثلا ایك گھنٹہ اڑےایك مغرب دوسرا مشرق کو اگر ان کی پرواز رفتار زمین کے مساوی ہے۔
عــــــہ۱:یہ اور اس کے بعد کی دلیل تذکرہ طوسی و شرح حکمت العین و ہدیہ سعدیہ تك اکثر کتب میں ہے۔
عــــــہ۲:شرح خضری سے ہدیہ سعیدیہ اسی دلیل سے یوں بھی ثابت کرتے ہیں کہ تیر و طائر و ابر مشرق کو چلتے معلوم ہوں(شرح حکمت العین)اسی سے یوں کہ مشرق کو جاتا مغرب کو چلتا نظر آئے۔(خضری)
اقول:بلکہ مشرق کوجانا مغرب کوجانا ہو کہ اب تك پرند کی جگہ جو پتھر مشرق کو سر کے یہ جگہ سیکڑوں جگہ نکل جائے گی تو یہ اس جگہ سے تجاوز کرنے درکنار ہمیشہ اس سے پیچھے ہی رہے گا۔۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1150,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,318,"گھنٹے میں ایك ہزار چھتیس میل تو غربی اس شاخ سے دو ہزار بہتر میل پر پہنچا کہ جتنا وہ مغرب کو چلا اسی قدر یہ شاخ زمین کے ساتھ مشرق کو گئی اور مشرق بال بھر بھی شاخ سے جدا نہ ہوا کہ جتنا اڑتا ہے زمین بھی اتنی ہی رفتار سے شاخ کو اس کے ساتھ ساتھ لارہی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مساوی پر واز والے مساوی فصل پاتے ہیں۔
دلیل ۹۲:اگر ان کی پرواز رفتار زمین سے زائد ہے مثلا گھنٹے میں ۱۰۳۷ میل تو غربی ۲۰۷۳ میل مغرب میں پہنچے گا اور اس کی مساوی پرواز والا مشرقی ۱۰۳۷ میل اڑکر صرف ایك ہی میل مشرق کو طے کرسکے گا یہ بھی بداہۃ باطل وخلاف مشاہدہ ہے۔
دلیل ۹۳:اگر ان کی پرواز رفتار زمین سے کم ہے مثلا گھنٹے میں ۱۰۳۵ میل تو غربی ۲۰۷۱میل پر ہوجائے گا۔اور اس کا ہم پرواز مشرقی جس نے گھنٹہ بھر محنت کرکے ۱۰۳۵ میل مشرق کو طے کیے۔نتیجہ یہ پائے گا کہ الٹا اس شاخ سے اك میل مغرب میں گرے گا۔اڑا تو مشرق کو اور پہنچا مغرب میںیہ سب سے بڑھ کر باطل اورخلاف مشاہدہ ہے۔
دلیل ۹۴:جتنی مسافت قطع کریں اس سے صد ہا گنا فاصلہ ہوجائے۔(خضری)یعنی ہر عاقل جانتا ہے کہ مثلا طائر جس مقام سے جتنا اڑے وہاں سے اسے اتنا ہی فاصلہ ہوگا لیکن یہاں اڑے صرف ایك میل اور فاصلہ ہزار میل سے زائد ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ میں اگر طائروں کی پرواز گھنٹے میں ایك میل ہے تو شرقی ۱۰۳۵ میل مغرب میں پڑے گا اور غربی ۱۰۳۷ میل۔
دلیل ۹۵:موضع انفصال اس شاخ سے مثلا شاخ مذکور سے دونوں کے فاصلے کا مجموعہ اتنی دیر میں حرکت زمین کا دو چند یا زائد یا زائد کچھ خفیف کم ہو(خضری)۔
اقول:اول:اس حالت میں ہے کہ دونوں پرندوں کی پرواز باہم متساوی ہو۔اور دوم جب کہ غربی کی پرواز شرقی سے زائد ہواور سوم جب کہ عکس ہو۔اور خفیف اس لیے کہ تیر یا طائر یا گولا عادۃ کوئی زمین کا دسواں حصہ بھی نہیں چلتا اور دونوں طائروں کی پرواز ایك میل ہے تو شرقی ۱۰۳۵ میل مغرب میں پڑے گا اور غربی ۱۰۳۷ میل پر گریں گے۔جب کہ ابھی گزرا مجموعہ ۲۰۷۲ کہ گھنٹے میں رفتار زمین کا دو چند ہے اور غربی ایك ساعت میں دو میل اڑے اور شرقی ایك میل تو وہ ۱۰۳۸ میل پر ہوگا اور یہ ۱۰۳۵ پر مجموعہ ۲۰۷۳ میل کہ ضعف سیر زمین کے دو چند سے بھی ایك میل زائد ہے اور شرقی دو میل غربی ایك میل تو وہ ۱۰۳۴ میل پر ہوگا اور یہ ۱۰۳۷پر مجموعہ ۲۰۱۷میل کہ ضعف سیر زمین سے ایك ہی میل کم ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان پروازوں پر مجموع فاصلہ ہر گز دو تین میل سے زائد نہیں ہوتاتو ضرور حرکت زمین باطل۔
",
1151,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,319,"دلیل ۹۶:جو پرند ہم سے جنوب یا شمال کی طرف ہوا میں ہو تیر سے شکار نہ ہوسکے(مفتاح)اقولجنوب وشمال کی تخصیص بیکارہے بلکہ مشرق پر اعتراض اظہر ہے اور استحالے میں یہ زائد کرنا چاہئے یاوہ پرند کہ ہم سے دس گز کے فاصلے پر تھا صدہا گز کے فاصلے پرگرے۔بیان اس کا یہ ہے کہ تیر وکمان اٹھاناتیر جوڑناکمان کھینچناتیر چھوڑنا اگر دو ہی سیکنڈ میں ہو جائے اور آدمی پرند کو اپنے سےدس گز کے فاصلے پر دیکھ کر یہ افعال کرے تو خود حرکت زمین کے سبب اتنی دیر میں وہاں سےایك ہزار تیرہ گز کے فصل پر ہو جائے گااب اگر اسی محاذات پر تیر چھوڑا جیساکہ یہی ہوتا ہے تو تیر سیدھا شمال کو گیااور جانور شمالی غربی ہے یا سیدھا جنوب کو اور جانور جنوبی غربی یامشرق کو اور جانور مغرب میں ہو گیا۔ان تینوں صورتوں میں تیر جانور کی سمت ہی پر نہ گیا اور مشرق میں سب سے بڑھ کر حماقت اور مغرب میں اگرچہ سمت وہی رہی جانور ۱۰۲۳ گز کے فاصلے پر ہو گیا یونہی اوراگر ان تینوں جہات میں تیر چھوڑتے وقت محاذات بدل لی تو اگر جانور مشرق میں تھا اب ہزار گز سے زیادہ مغرب ہو گیااور اگر جنوب یا شمال میں تھاتو ایك ہزار تیرہ گز سے کچھ کم فاصلے پر ہو گاکہ ۸۴ء۱۰۲۵۸۶۳ کا جذر ہے بہر حال اب تیر اس تك کہاں پہنچتا ہےاور اگر فرض کر لیجئےکہ دس گز کے فصل پر آنے سے پہلے یہ سب کام ہوئے تھے یعنی پہلے سے کسی اور وجہ سےتیر کمان میں جوڑا ہو اور کمان کھینچی ہوئی تھی کہ اس جانور کیلئےہزار گز فاصلے سے ایسا کرنانہیں خیر کسی طرح یہ سب کام تیارتھاکہ تیر عین اسی وقت چھوٹا کہ جانور دس گز کے فاصلے پر محاذات میں تھاتو تیر تو ضرور اس کے لگ جائے گا کہ جانور کی طرح تیر بھی چھوٹ کر حرکت زمین کاتابع نہ رہا مگر تیر اس تك اگر دو ہی سیکنڈ میں پہنچے تو ہم اتنی دیر میں ایك ہزار تیرہ گز مشرق کو چلے جائیں گے اور وہی فاصلے جو صورت دوم میں تیر کو جانور سے تھے ہم کو اس سے ہو جائیں گے۔تو اب ہمیں ہزار گز سے زائدپلٹنا چاہئے کہ گرے ہوئے جانور کو پائیں۔یہ تمام صورتیں لاکھوں بار کے مشاہدہ سے باطل ہیںلہذا حرکت زمین باطل۔
دلیل ۹۷:جو جسم ہوا میں ساکن ہو ہمیں بہت تیزی سے مغرب کی طرف اڑتا نظر آتا ہے۔(مفتاح)
اقول:طبعیاتجدیدہ میں قرار پاچکا ہے کہ ہوا اوپر اٹھنے کی مقاومت کرتی ہے۔پرند اپنی بازو
"," یہ اور اس کے بعد کی دلیل مفتاح الرصد میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ
اُس وقت فاصلہ ۱۰ گز تھا اور زمین ۸ء۱۰۱۲ گز ہٹی،یہ دونوں ضلع قائمہ ہوئیں اور اب کہ فاصلہ اُ س کا وتر ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
ط ص ۲۳۔۱۲
"
1152,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,320,"مار کر اس مقاومت کو دفع کرتے ہیںیہ زور اگر اس کے وزن اجسام سے زائد ہے اوپر بلند ہوں گے کم ہے نیچے اتریں گے برابر ہے ساکن رہیں گے اور اس کی مثال چنڈول سے دی گئی ہے کہ بارہا پر کھول کر ہوا میں ساکن محض رہتا ہے۔اس صورت میں سیدھاجلد گھونسلے میں پہنچتا ہے۔فرض کیجئے کہ وہ چھ سیکنڈ ٹھہرا اور ہے نیچا اور ہوا بالکل ساکن تو اتنی دیر میں ہم تین ہزار گز سے زیادہ مشرق کو چلے جائیں گے اور وہی تمہارا کہنا کہ ہم اپنی حرکت سے آگاہ نہیںلہذا اسے جانیں گے کہ تین ہزار گز مغرب کو اڑ گیا جیسے تیز چلتی ریل میں بیٹھنے والا درختوں کو اپنے خلاف جہت چلتا دیکھتا ہے لیکن یہ باطل ہے ہم یقینا ساکن کو ساکن ہی دیکھتے ہیں تو حرکت زمین باطل ہے۔
دلیل۹۸ عــــــہ:پرند کہ اپنے آشیانے سے گز بھر فاصلے پر جانب غرب کسی ستون پر بیٹھا ہے قیامت تك اڑ کر آشیانے کے پاس نہ آسکے کہ وہ ہر سیکنڈ میں ۵۰۶ گز مشرق کو جارہا ہےپرند زمین کی نا آ۰۰۰۰۰۰۰٭۰۰۰۰۰۰ چھوڑ کر اڑان کہاں سے لائے گا۔
یہ سات دلائل کتب میں ابطال حرکت وضعیہ زمین پر ہیںاسی قبیل ابطال حرکت اینیہ پر بھی ہوسکتی ہیں مثلا اگر زمین گرد شمس
گھومتی ہو۔
فرض کیجئے کہ ا او ج ہے اور ب حضیض اور ہ شمس اور ج ء زمینمثلا ج کی طرف ہندوستان ہے اور ء کی طرف امریکہاب اگر زمین اوج کی طرف جارہی ہے تو ہندوستان والے یا حضیض کی طرف آرہی ہے تو امریکہ والے کیسی ہی قوی توپ کو سیدھا جانب آسمان کرکے گولا چھوڑیں توپ کے منہ سے بال برابر نہ بڑھ سکے کو گولا جس سمت جاتا اسی کی طرف اس کے پیچھے زمین آرہی ہے اور کیسی آرہی ہے ہر سیکنڈ میں ۱۹ میل اڑتی ہوئی تو گولا کیونکر اس سے آگے نکل سکتا ہے۔
عــــــہ:یہ دلیل اسی عنوان پر ہم نے اضافہ کی تھی پھر بعض رسائل کی تصانیف میں نظر آئی پھر اسی حکمت العین میں اسی طور پر دیکھا کہ مشرقی شہر کی طرف اڑنے والا پرند اسے نہ پہنچے نیز یونہی اس شرح میں اس سے پہلےلکھاجس کو ہم نے اپنی تقریر سے رد کردیا اس کے بعد شرح حکمت العین میں دلیل یوں نظرآئی کہ ابریا پرند کہ ساکن ہوساکن نظر نہ آئے ۱۲ منہ غفرلہ۔
٭:اصل میں اسی طرح تحریر ہے۔عبدالنعیم عزیزی
",
1153,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,321,"دلیل ۹۹ عــــــہ:اقول:زمین اگر اوج کو جارہی ہے تو امریکہ والے یا حضیض کو آرہی ہے تو ہندوستان والے اپنے سر کی طرف ایك پتھر ۱۶ فٹ تك پھینکیں تو وہ قیامت تك زمین پر نہ اترے کہ زمین کے خلاف جہت پھینکا ہےجذب زمین ۱۶ فٹ سے ایك سیکنڈ میں اسے زمین تك لاتا لیکن زمین اتنی دیر میں ۱۹ میل ہٹ جائے گی اور ا ب ایك سیکنڈ میں ۱۶ فٹ سے بھی کم کھینچ سکے گی کہ زیادت بعد موجب قلت جذب ہے اور اس کی اپنی چال وہی ۱۹ میل ہت جائے گی اور اب ایك سیکنڈ میں ۱۶ فٹ سے بھی کم کھنچ سکے گی کہ زیادت بعد موجب قلت جذب ہے اور اس کی اپنی چال وہی ۱۹ میل رہے گی تو پھر کبھی زمین پر نہیں آسکتا۔
ان گیارہ۱۱ دلائل سے کہ سات اگلوں کی رہیں اور اسی سوال پر چار ہم نے بڑھائےہیئت جدیدہ
عــــــہ:یہ دلیل ہماری دلیل ۹۹ کا عکس ہے اس کے ساتھ اس کا ذہن میں آنا لازم تھا۔اگلے میں بعض اس کے قائل تھے کہ زمین ہمیشہ اوپر چڑھتی ہےبعض اس کے ہمیشہ نیچے اترتی ہے اور دونوں میں دو۲ قول ہیں۔ایك یہ کہ تنہا زمیندوسرا یہ کہ اس کے ساتھ آسمان بھی چڑھتا یا اترتا ہےان مہمل اقوال کی بحث پر ہم نے نظر نہ کی تھی کہ ہمارے مقصود سے خارج تھے پھر شرح مجسطی میں دیکھا کہ بطلمیوس نے قول دوم پر دو رد کیے ایك تو ضعیف کہ ایسا ہوتا تو آسمان سے جاملتی بلکہ اسے چیر کر نکل جاتی۔دوسرے میں استحالہ یہی قائم کیا جو ہماری دلیل ۱۰۰ میں ہے کہ ڈھیلا زمین پر نہ اتر سکتا تھا مگر اسے یوں بیان کیا کہ بڑے جسم کا میل زیادہ تو حرکت زیادہاور اس پر رد ہوا کہ نیچے اترنا صرف بربنائے ثقل نہیں بلکہ جنس کی طرف میل زائد ہے تو ممکن کہ ڈھیلا پیچھے نہ رہے۔اس پر علامہ قطب شیرازی نے جواب دیا کہ نہ سہی اتنا تو ہوتا کہ پھینکے ہوئے ڈھیلے کی مسافت چڑھنے میں کم ہوتی اور اترنے میں زیادہ کہ جتنی دور چڑھا اتنا اترے اور اتنی دیر میں زمین جتنی نیچے اتر گئی اور اترے۔شرح قطبی میں اس پر رد کیا کہ ممکن کہ اتنی دیر میں زمین کا اترنا بہت قلیل ہو کہ فرق محسوس نہیں۔ظاہر ہے کہ اس ہر دو بات کو ہمارے محبث سے کچھ علاقہ نہیں۔یہ دلیل باتباع مجسطی کتاب جو نپوری میں بھی مذکور ہوئی جس سے ابطال پر ہماری دلیل ۹۹ تھی۔بطلمیوس نے تو اسے ابطال ہبوط پر چھوڑا کہ جب اترنا ہم باطل کرچکے تو چڑھنا بھی باطل کہ ایك طرف سے چڑھنا دوسری طرف سے اترنا ہے اور جونپوری نے اس پر ایك اور دلیل دور ازکار دی کہ زمین اوپر چڑھتی تو ڈھیلے بھی۔اس لیے کہ طبیعت ایك ہےہدیہ سعیدیہ نے ایك اور اضافہ کیا کہ بڑا ڈھیلا چھوٹے سے سہل تر اوپر پھینکا جاسکتا ہے کہ خود اس میں اوپر کا میل زیادہ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ میل طبعی پر مبنی ہیں جسے مخالف نہیں مانتا۔ہمارے دلائل مستحکم و صاف و ناقابل خلاف ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1154,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,322,"کی طرف سے دو جواب ہوئے۔
جواب اول:ہوا و دریا زمین کے ساتھ ساتھ اور جو کچھ ان میں ہوں ان کی طبیعت سے سب ایسے ہی متحرك ہیں۔لہذا ۱پتھر کو اوپر پھینکا جائے تو موضع رمی کی محاذات نہیں چھوڑتا۔۲دو پرند کہ مشرق و مغرب کو اڑیں شاخ سے صرف اپنی حرکت ذاتیہ سے جدا ہوں گے زمین کی حرکت ان میں فرق نہ ڈالے گی کہ ہوا ان کو زمین کے ساتھ ساتھ لارہی ہے تو نہ مشرقی ساکن رہے گا ۳نہ مغربی زیادہ اڑے گا۔۴نہ مشرقی مغرب کو گرے گا۔۵نہ پرواز سے زائد فاصلہ ہوگانہ ۶فاصلوں کا مجموعہ ان کی ذاتی حرکتوں سے زیادہ ہوگا۔
اقول:اور مغربی کا اپنی چال سے مغرب کو اور زمین و ہوا کے اتباع سے مشرق کو جانا کچھ بعید نہیں کہ اول حرکت قسر یہ ہے اور دوسری عرضیہ جیسے کشتی مشرق کو جاتی ہو اور اس میں کسی ڈھال پر کہ مغرب کی طرف ہو پانی ڈالو اپنی چال سے غرب کو جائے گا اور شك نہیں کہ اسی حالت میں کشتی اسے مشرق کی طرف لیے جاتی ہوگی۔مثلا فرض کرو کنارے پر کسی درخت کے محاذ پر پانی بہایا کہ گز بھر مغرب کو بہا اور اتنی دیر میں کشتی چار گز مشرق کو بڑھی تو پانی محاذات شجر سے تین گز دور ہوگا اور کشتی ساکن رہتی یہ پیڑ سے گز بھر مغرب کو ہوجاتا یہ ساکن رہتا اور کشتی چلتی تو چار گز مشرق کو ہوتا مگر یہ گز بھر مغرب کو ہٹا اور کشتی چار گز مشرق کولہذا یہ تین ہی گز مشرق کو ہوا۔۷یونہی پرند کو ہوا زمین کے ساتھ چلا رہی ہے تو اس پہلی محاذات اور اسی دس گز کے فاصلے پر رہے گا اگر خود کسی کی طرف حرکت نہ کرے ۸جو ہوا میں ساکن ہے یوں ساکن ہے کہ اپنی ذاتی حرکت نہیں رکھتا ہوا کے ساتھ حرکت عرضیہ سے زمین کے برابر جارہا ہے جیسے جالس سفینہ ساکن ہے اور کشتی کے ساتھ متحرک۹پرندے آشیانہ اسی ہاتھ بھر کے فاصلہ پر ہوگا کہ اسے درخت اور اسے ہوا ۱۰زمین کے ساتھ لیے جاتے ہیں۔زمین گولے کو نہ پکڑے گی کہ جس ہوا میں گولا ہے وہ اسے بھی زمین کے آگے آگے اسی ایك سیکنڈ میں ۱۹ میل کی چال سے لیے جاتی ہے تو اس میں زمین کے مساوی ہوا اور قوت دفع سے جتنا دور جانا تھا گیا۔۱۱پتھر سے زمین اپنی چال سے دور نہ ہوگی کہ اسی چال سے اسی طرف اسے ہوا لیے جاتی ہے تو ۱۶ہی فٹ کے فاصلے پر رہے گا اور جذب زمین سے ایك سیکنڈ میں زمین سے ملے گا۔اس کا دفع ۵ وجہ سے لیا گیا جن میں سے ہمارے نزدیك دو صحیح ہیں۔
مبناء بیان تین باتیں خیال کی گئیں۔
(۱)آب و ہوا کا باتباع زمین حرکت عرضیہ کرنا۔
(۲)ہوا و آب میں جو کچھ ہو اس کا ان کی طبیعت سے متحرك بالعرض ہونا۔
(۳)ان حرکات کا زمین کی حرکت ذاتیہ کے مساوی رہنا جس کے سبب اشیاء میں فاصلہ و
", الہدیۃ السعیدیۃ الفن الثالث فی العنصریات ابطال المذھب الثالث فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۹۴ و ۹۸
1155,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,323,"مقابلہ بحال رہے۔
ظاہر ہے کہ جواز جتنی باتوں پر مبنی ہو ان میں سے ہر ایك کا بطلان اس کے بطلان کو بس ہے نہ کہ جب سب باطل ہوںلہذا ان تینوں مبنی کے لحاظ سے اس پر رد کیے گئے۔
دفع اول:کہ دفع اول ہےآب و ہوا زمین کو حاوی ہیں اور خود بارہا مستقل حرکت مختلف جہات کو کرتے ہیں تو ملازم ارض نہیں اور جو حاوی ملازم محوی نہ ہو اس کی حرکت سے اس کی حرکت بالعرض لازم نہیں۔
اقول:اولا:نہ یہاں حاوی و محوی سے تفرقہ نہ دوسری مستقل حرکت سے خللمدار کار اس تعلق پر ہے جس کے سبب ایك کی حرکت دوسری کی طرف منسوب ہو۔کپڑے انسان کو حاوی نہیں اور ہوا سے دامن ہلتے ہیں یہ ان کی مستقل حرکت ہے بعینہ بلا شبہہ وہ انسان کی حرکت سے متحرك بالعرض ہے۔اور ہم عــــــہ۱ مستدل ہیں ہمیں عدم لزوم کافی نہیں لزوم عدم چاہیے۔ مخالف عــــــہ۲ کو جواز بس ہے مگر یہ کہیں کہ حقیقتا مخالف مدعی
عــــــہ۱:قال فی الھدیۃ السعیدیۃ بعد ذکر مزعوم الفرنج من حرکت الارض بالاستدارۃ ھذا الرأی ایضا باطل بوجوہ ۔۱۲ منہ ہدیۃ السعیدیہ میں فرنج کے اس زعم کو ذکر کرنے کے بعد کہ زمین کی حرکت مستدیرہ ہےکہا یہ رائے بھی کئی وجوہ سے باطل ہے۔۱۲ منہ(ت)
عــــــہ۲:خود ہدیہ سعیدیہ میں مخالف کی طرف سے تقریر جواب میں ہے:
یجوزان یکون مایتصل بالارض من الھواء یشایعھا ۔ ممکن ہے کہ زمین سے متصل جوہوا ہے وہ اسے ساتھ ساتھ لے جاتی ہو۔(ت)
شرح تذکرہ طوسی للعلامۃ الخضری میں ہے کہ:
لاینفع المستدل لان تجویز مشایعۃ الہواء الارض کافیۃ لتزییف الدلیلین ۔ یہ مستدل کو نفع نہیں دیتا کیونکہ زمین کے لیے ہوا کی مشایعت کو جائز قرار دینا دونوں دلیلوں کی کھوٹ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔(ت)
حکمۃ العین میں ہے:
الملازمۃ ممنوعۃ لجواز عن الھواء ملازمہ ممنوع ہے کیونکہ ممکن ہے کہ (باقی برصفحہ ائندہ)
"," الہدیۃ السعیدیۃ ابطال المذھب الثانی فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۸۴
الہدیۃ السعیدیۃ ابطال المذھب الثانی فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۸۴
شرح تذکرۃ النصیریۃ للخضری
"
1156,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,324,"حرکت ارض ہے اور ہم مانع اور یہ کہ صورت دلائل میں پیش کیا منع کی سند میں۔
اقول:اس میں نظر ہے یہ ملازمتیں عــــــہ کہ زمین متحرك ہوتی تو یہ یہ امور واقع ہوتے ان میں ضرور ہم مدعی ہیں یہ کیا کہنے کی بات ہوسکتی ہے کہ زمین متحرك ہوتی تو ممکن تھا کہ پتھر مغرب کو گرتاہاں ممکن تھاپھر کیا ہوا اور اگر اس سے قطع نظر بھی ہو تو حاوی وغیر ملازم کی قیدیں اب بھی بے وجہ ہے۔اگر محوی مطلقا اور حاوی ملازم کوحرکت رفیق سے متحرك بالعرض لازم ہوتا تو ان قیود کی حاجت ہوتی مگر ہرگز انہیں بھی لازم نہیں۔دو چکر ایك دوسرے کے اندر ہوں اگر ان میں ایسا تعلق نہیں کہ ایك کی حرکت دوسرے کو دفع کرے تو جسے گھمائیے صرف وہی گھومے گا اگرچہ ان میں کوئی دوسری حرکت مستقلہ نہ رکھتا ہو دولاب یا چرخی کی حرکت سے ان کے اندر کا لوہا یا لکڑی جس پر وہ گھومتے ہیں نہیں گھومتے۔شاید غیر ملازم کی قید اس لحاظ سے ہو کہ جب ملازم ہو آپ ہی اس کی حرکت سے محترك ہوگا۔
اقول:ملازمت جسم للجسم ملازمت وضع للوضع کو مستلزم نہیں اور غالبا حاوی کی قید فلکیات میں مزعوم فلاسفہ یونان کے تحفظ کو ہو کہ کب تدویر کا تابع ہے۔تدویر حامل کی حامل ممثل کا ممثل فلك الافلاك کا ہر ایك دوسرے کی حرکت سے متحرك بالعرض ہے اور خود اپنی حرکت ذاتیہ جدا رکھتا ہے۔
اقول:ہمارے نزدیك تو افلاك متحرك ہی نہیں جیسا کہ بعونہ تعالی کاتمہ میں مذکور ہوگا نہ برخلاف خود اصول فلسفہ مثل یساطتفلك تداویر و حوام جاننے کی حاجت اور ہو تو عندالتحقیق یہ حرکت ہر گز عرضیہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یشایعا کالارض للفلك ۔ ہوا اس کی مشایعت کررہی ہو جیسے زمین فلك کے لیے(ت)
شرح مجسطی للعلامۃ عبدالعلی میں ہے:
لم لایجوز ان یتحرك الھواء بمثل حرکۃ الارض ۱۲ منہ غفرلہ۔ کیوں جائز نہیں کہ ہوا زمین کی حرکت کی مثل حرکت کرے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
عــــــہ:اس کی غایت توجیہ دفع پنجم میں آتی ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
"," حکمت العین
شرح مجسطی للعلامۃ عبد العلی
"
1157,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,325,"نہیں۔حرکت عرضیہ میں متحرك بالغرض خود ساکن ہوتا ہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسے جالس سفینہ بلکہ بند گاڑی میں بھرا غلہاور یہاں یہ افلاك و اجزاء خود اسی حرکت یومیہ سے متحرك ہیں اگرچہ انکے تحرك کا باعث فلك الافلاك کا تحرك ہو۔فلك البروج اگر منتقل نہ ہوں تو کواکب و درجات بروج کا طلوع و غروب کیونکر ہوتا تو یقینا انتقال ان عـــــہ۱ کے ساتھ بھی قائم ہے اگر چہ اس کے حصول میں دوسرا واسطہ ہوتا تو یہ حرکت ذاتیہ بذریعہ واسطہ ہوئیجیسے ہاتھ کی جنبش سے کنجی کی گردشنہ کہ عرضیہ جس میں عــــــہ۲ انتقا ل اس کے
عــــــہ۱: خود ہدیہ سعیدیہ میں ہے:
وفی الحرکۃ الوضعیۃ کا لکرۃ المحویۃ الملتصقۃ بکرۃ حاویۃ متحرکۃ علی الاستدارۃ اذا کان بین الکرتین علاقۃ التصاق تو جب حرکۃ احدھما بحرکۃ الاخری ومن ھذا القبیل اتصاف الافلاك المحویۃ بالحرکۃ الیومیۃ التی ھی حرکۃ الفلك الاطلس بالذات ۔ا ھ ۱۲۔ حرکت عرضیہ کی پہلی قسم کی مثال حرکت وضعیہ میں یوں سمجھیں کہ ایك کرہ محوی ہو اور ایك کرہ حاوی ہواور حاوی کرہ حرکت مستدیرہ کررہا ہوان کے درمیان ایسا کنکشن ہو کہ ایك حرکت کرے تو دوسرا لازما حرکت کرے۔(دوسرے کرہ کی حرکت عرضیہ ہوگی)جن افلاك کا احاطہ کیا گیا ان کا حرکت یومیہ کے ساتھ متصف ہونا اسی قبیلے سے ہےحرکت یومیہ وہ فلك اطلس کی حرکت بالذات ہے ا ھ ۱۲(ت)
عــــــہ۲: خود ہدیہ سعیدہ میں ہے:
مایوصف بالحرکۃ اما ان یکون الانتقال قائما بغیرہ و ینسب الیہ لاجل علاقۃ لہ مع ذلك الغیر فحرکۃ عرضیۃ اھ۔اقول:من ھھنا ظھر ان فی قول الھدیۃ السعیدیۃ فی بیان انحاء الحرکۃ العرضیۃ لکن جو چیز حرکت کے ساتھ موصوف ہے(اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ)انتقال کسی دوسری چیز کے ساتھ قائم ہے لیکن انتقال کی نسبت پہلی چیز کی طرف اس لیے کی جاتی ہے کہ اس کا تعلق اس غیر کے ساتھ ہے تو یہ حرکت عرضیہ ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
"," الہدیۃ السعیدیۃ فصل الحرکۃ اما ذاتیۃ او عرضیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱
الہدیۃ السعیدیۃ فصل الحرکۃ اما ذاتیۃ او عرضیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸
"
1158,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,326,"ساتھ قائم ہی نہیں دوسرے کے علاقہ سے اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
وثانیا اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)ہماری رائے میں حق یہ ہے کہ حرکت وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر پایہ ثبوت تك نہ پہنچی۔جب تك مابا العرض مابالذات کے ثخن میں ایسا نہ ہو کہ اس کی حرکت وضعیہ سے اس کا این موہوم بدلےاین موہوم سے یہاں ہماری مراد وہ فضا ہے کہ مابالذات کو محیط ہے۔ظاہر ہے کہ حامل کو جو فضا حاوی ہے تصویر کے ثخن حامل میں ہےاس فضا کے ایك حصے میں ہے جب حامل حرکت و ضعیہ کرے گا ضرار تدویر اس حصہ فضا سے دوسرے حصے میں آئے گی تو اگرچہ خود ساکن محض ہو ضرور اس کی حرکت وضعیہ سے اس کی وضع بدلے گی کہ این موہوم بدلا اگرچہ این محقق برقرار ہے بخلاف حامل یا خارج المرکز کہ اگر دونوں متمم کو ایك جسم مانیں تو یہ اس کے ثخن میں ضرار ہے مگر ان کی گردش سے اس کا این موہوم نہ بدلے گا تو ان کی حرکت سے یہ متحرك بالغرض نہ ہوگا۔
جونپوری کے شمس بازغہ میں زعم کہ اگر یہ اس کے ساتھ نہ پھرے تو اسے حرکت سے روك دے گا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لایتحرك ھو بنفسہ و مثلہ بما مرمن الافلاك ان کان النفی منصبا علی القید کان حرکۃ المفتاح بحرکۃ الید وکل حرکۃ قسریۃ بل وارادیۃ داخلۃ فی الحرکۃ العرضیۃ وھو کما تری وان انصب علی نفس المقید لاقید نفسہ صح ولم یصح جعل حرکۃ الا فلاك منہ بل ھی ان کانت فقسریۃ وھم انما یھربون عنھا الی ادعاء العرضیۃ لا نہ لا قاسر عندھم فی الافلاك ۱۲ منہ۔ میں کہتا ہوں:اس جگہ سے ظاہر ہوگیا کہ حرکت عرضیہ کی قسمیں بیان کرتے ہوئے ہدیہ سعیدیہ(ص ۵۱)میں جو کہا ہے:لکن لا یتحرك ھو بنفسہ(کسی مقولے میں حرکت عرضیہ کا موصوف اس لائق ہے کہ اس مقولے میں حرکت سے متصف ہو لیکن وہ خود متحرك نہیں ہوتا)اور اس سے پہلے اس کی مثال افلاك سے دی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ نفی کسی پر وارد ہے(۱)اگر قیدپروارد ہے(تو معنی یہ ہو کہ وہ موصوف حرکت تو کرتا ہےلیکن بنفسہ حرکت نہیں کرتا)تو ہاتھ کی حرکت سے چابی کی حرکت اور ہر قسری حرکت بلکہ حرکت ارادیہ بھی حرکت عرضیہ میں داخل ہوگی اور یہ باطل ہے جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں اور اگر(۲)نفی مقید پرواد ہے نہ کہ فی نفسہ کی قید پر تو یہ صحیح ہےلیکن افلاك کی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفہ اسی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفر اسی حرکت قسریہ سے بھاگتے ہیں اور حرکت کے عرضی ہونے کا دعوی کرتے ہیںکیونکہ ان کے نزدیك افلاك میں کوئی قاسر نہیں ہے۔ (ترجمہ)محمد عبدالحکیم شرف قادری)
", ص ۱۵۸۔۱۲
1159,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,327,"دو۲ وجہ سے محض بے معنی ہے۔
(۱)نہ یہ اس کی راہ میں واقع ہے نہ اس میں جڑا ہوا ہے کہ بے اپنے اسے نہ چلنے دے۔
(۲)اور اگر بالفرض راہ روکے ہوئے ہے تو گھومنے سے کھول دے گا۔
حرکت وضیعہ سے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی اگر یہ ان میں چسپاں بھی ہو تو ان کے گھومنے سے ضرور گھومے گا۔مگر یہ انتقال بالذات اسے بھی عارض ہوگا اگرچہ د وسرے کے علاقے سے ہو۔عرضی نہ ہوگا بلکہ ذاتی عرضی صورت کے سوا وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر ثابت نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان(جو دعوی کرے بیان کرنا اسی کے ذمہ ہے۔ت)افلاك میں فلاسفہ کا محض ادعی ہے اس لیے کہ ان میں قاصر سے بھاگتے ہیں۔مشایعت میں ساتھ ساتھ چلنا ہے نہ یہ کہ ایك ساکن محض رہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہے۔
چکروں کا بیان ابھی گزرا تو عرضیہ میں فریقین کی بحث خارج از محل ہے۔ابن سینا پھر جونپوری مذکور نے زعم کیا کہ فلك کی مشایعت میں کرہ نار کی حرکت عرضیہ اس لیے ہے کہ ہر جزء نار نے اپنی محاذی کے جزء فلك کو گویا اپنا مکان طبعی سمجھ رکھا ہے اور بے شعوری کے باعث یہ خبر نہیں کہ اگر اسے چھوڑے تو اسے دوسرا جز بھی ایسا ہی اقرب و محاذی مل جائے گانا چار بالطبع اس کا ملازم ہوگیا ہے۔لہذا جب وہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتا ہے کہ اس کا ساتھ نہ چھوٹے اور اس پر اعتراض ہوا کہ فلك ثوابت فلك اطلس کے سبب کیوں متحرك بالعرض ہے اس کے اجزاء نے تو اس سے اجزاء کو نہیں پکڑا کہ خود جدا حرکت رکھتا ہے۔ اس کا جواب دیا کہ اس کے اقطاب نے اپنے محاذی اجزاء کی ملازمت کرلی ہے اور وہ اسکے اقطاب پر نہیںلہذا ان اجزاء کی حرکت سے اس کے قطب گھومتے ہیںلاجرم سارا کرہ گھوم جاتا ہے۔
اقول:یہ شیخ چلی کی سی کہانیاں اگر مسلم بھی مان لیں تو عاقل بننے والوں نے اتنا نہ سوچا کہ جب نارو فلك البروج کی یہ حرکت اپنے اس مکان کی حفاطت کو ہے تو اس کی اپنی ذاتی حرکت ہوئی یا عرضیہ۔
وثالثا: مخالف کو یہاں عرضیہ ماننے کی حاجت ہی نہیں اس کے نزدیك آب وہوا و خاك سب کرہ واحدہ ہیں اور حرکت واحدہ سے متحرک۔
دفع دوم:کہ اول کا رد دوم ہےپانی اور وہ ہوا کہ جو زمین پر ہے کیوں اس کی متابعت کرنے لگی کہ وہ زمین سے متصل نہیں اور دریائے متحرك بالعرض سے اس کا اتصال اسے متحرك بالعرض نہ کردے گا۔ورنہ تمام عالم زمین کی حرکت سے متحرك بالعرض ہوجائے کہ اتصال دراتصال سب کو ہے۔اب لازم کہ جہاز سے جو پتھر پھینکیں اوپر کو تو وہ جہاز میں لوٹ کر نہ آئے بلکہ مغرب کو گرے کہ دریا زمین کی حرکت سے
", ص۱۵۸۔۱۲
1160,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,328,"متحرك بالعرض ہےجہاز اس کے ساتھ مغرب کو جائے گا لیکن پتھر اب جہاز پر نہیں ہوا میں ہے اور ہوا متحرك بالعرض نہیں تو جب تك پتھر نیچے آئے جہاز کہیں کا کہیں نکل جائے گا۔
اقول:اولا: فلك الافلاك سے متصل تو صرف فلك ثوابت ہے۔تمہارے نزدیك اس کی حرکت عرضیہ سات زینے اتر کر فلك قمر تك کیسے گئی۔
ثانیا: وہی کہ مجموع کرہ واحدہ ہے تو سب خود متحرک۔
دفع سوم:کہ دوم کا رداول ہےجو جسم کہ دوسرے کو اٹھا سکے اس کا اس پر قرار ہوسکے اس کی حرکت سے اس کی حرکت بالعرض ممکن ہے۔اور جب عــــــہ۱ یہ اس پر ٹھہر ہی نہ سکے وہ اسے سنبھال ہی نہ سکے تو اس کی طبیعت اسے کب ہوئی کہ اس کی حرکت سے متحرك ہویہ قطعا بدیہی بات ہے اور اس کا انکار مکابرہ۔
دفع چھارم:کہ دوم کا رد دوم ہےجسے علامہ قطب الدین شیرازی نے تحفہ شاہیہ میں ذکر فرمایا کہ ہوااگر حرکت مستدیرہ ارض سے بالعرض متحرك ہو جب بھی چھوٹے پتھر پر بڑے سے اثر زائد ہو گا کہ جسم جتنا بھاری ہو گا دوسرے کی تحریك کا اثر کم قبول کرے گا تو ان ساتوں(یعنی۱۱)دلائل میں ہم ایك بار ہلکے ایك بار بھاری اجسام دکھائیں گے ان میں تو فرق ہونا چاہئے مثلا پر اور ایك پتھر اوپر پھینکیں تو چاہئے۔
عــــــہ۱:بے شك معقول بات ہے اسے ہدیہ سعیدیہ سے پہلے مفتاح الرصد نے لیا مگر شطرنج میں بغلہ اور طنبور میں نغمہ زائد کیا جس نے اسے فاسد کردیا کہتا ہے:
تحریك ہوا مرا جسام را بر سبیل عرضیت اصلا ممکن نیست زیرا کہ حرکت متصورنمی شودمگر وقتے کہ جسم متحرك العرض درجسم متحرك بالذات طبعا یاقسرا مستقرشود ومشتغل بحرکت طبعی نباشد وہرگاہ بحرکت طبعی مشتغل باشد چگونہ حرکت عرضی صورت بندد اھ۔ ہوا کا اجسام کو بطور عرضیت حرکت دینا بالکل ممکن نہیں کیونکہ حرکت اس وقت تك متصور نہیں ہوتی جب تك جسم متحرك بالعرض جسم متحرك بالذات میں طبعا یا قسرا مستقر نہ ہوجائے اور حرکت طبعی کے ساتھ بھی مشتغل نہ ہواور جب حرکت طبعی کے ساتھ مشتغل ہوگا تو حرکت عرضی کی صورت کیونکر اختیار کرے گا۔اھ(ت)
اقول:اولا: اس چگونہ کا حال اس پانی سے واضح ہوگیا جسے چلتی کشتی کے اندر کسی ڈھال پر ڈالا۔
ثانیا: ہوا جن اجسام کو اٹھاسکتی ہے جیسے بخارو دخان بخارحرکت ہوا سے ان کی حرکت مستنکر نہیں تو سلب کلی بے جا ہے۔۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:پھر میرك بخاری نے شرح حکمۃ العین میں ان کا اتباع کیا ۱۲
",
1161,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,329,"کہ پر تو وہیں آکر گرے کہ ہوا کی حرکت عرضیہ کا پورا اثر لے گا اور پتھر وہاں نہ آئے مغرب کو گرے کہ ہوا پورا ساتھ نہ دے گا حالانکہ اس کا عکس ہےپتھر وہیں آتا ہے اور پر بدل بھی جاتا ہے۔
مخالف کی طرف سے علامہ عبدالعلی نے شرح مجسطی میں اس کے تین جوابات نقل کیے۔
(۱)مشایعت فرض کرکے مشایعت سے انکار عجیب ہے:مشایعت عــــــہ ہوا کی فرض کی ہے نہ کہ پتھر کیاعتراض عجیب ہے۔ (۲)شرح مجسطی میں کہا یوں جواب ہوسکتا ہے۔
عــــــہ:فی شرح حکمۃ العین لا مشایعۃ ھھنا والا لما وقع الحجران الخوفی شرح المجسطی قال صاحب التحفۃ لو تحرك الھواء بمثل تلك الحرکۃ الزم ان لایقع الحجران الخ۔اقول:وھذا الکلام یحتمل ان یکون ابطالا لمشایعۃ الھواء للارض انہ لویشا یعھا لزم الخلف وح یرد علیہ ا لا یراد الاول لاشك ویحتمل ان یکون انکارا لمشایعۃ الحجرللھوا ء بعد تسلیم مشایعۃ الہواء ای لئن شایعھا الھواء لایشایعہ الحجر وح لاورودلہ وعلی الاول حملہ العلامۃ الخضری حیث قال ما قال صاحب التحفۃ فی ابطال مشایعۃ الھواء للارض انہ لوکان مشایعتھا لھا لما دقع الحجران الخ۔وحملہ علی الثانی وھو الصواب فان اختلاف الاثر فی الحجرین انما بقدح فی مشایعتہا للھواء۔ شرح حکمۃ العین میں ہے کہ یہاں کوئی مشایعت نہیں ورنہ دونوں پتھر نہ گرتے الخ۔شرح مجسطی میں ہے صاحب تحفہ نے کہا کہ اگر ہوا اس کی حرکت کی مثل حرکت کرتی تو لازم آتا کہ دونوں پتھر نہ گریں الخ۔میں کہتا ہوں یہ کلام زمین کے لیے ہوا کی مشایعت کے ابطال کا احتمال رکھتا ہے کہ اگر ہوا اس کی مشایع ہوتی تو خلف لازم آتا۔اس صورت میں اس پر بلاشك اعتراض اول وارد ہوگا۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کلام مشایعت ہوا کوتسلیم کرنے کے بعد ہوا کے لیے پتھر کی مشایعت کے انکار کے لیے ہو یعنی اگر ہوا زمین کے مشایع ہے تو پتھر ہوا کے مشائع نہ ہوگا۔اس صورت میں کوئی اعتراض وارد نہ ہوگا۔علامہ خضری نے اس کو احتمال اول پر محمول کیا کیونکہ اس نے فرمایا:صاحب تحفہ نے زمین کے لیے مشایعت ہوا کے ابطال سے متعلق جو کہا ہے کہ اگر ہوا زمین کے مشائع ہوتی تو دونوں پتھر نہ گرتے۔الخ اور اس نے اسے احتمال ثانی پر محمول کیا ہے اور یہی درست ہے کیونکہ دونوں پتھروں میں اختلاف اثر ہوا کے لیے ان دونوں کی مشایعت میں قدح کی وجہ سے ہے۔(ت)یہ جواب فاضل خضری نے شرح تذکرہ میں دیا ہے اور جو نپوری نے اسے برقرار رکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔
"," شرح الحکمۃ العین
شرح المجسطی
شرح التذکرۃ النصیریۃ للخضری
"
1162,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,330,"مقصود تحفہ انکار مشایعت حجر ہے بلکہ وہ متحرك ہوگا تو قسر ہوا سے کہ ہوا تو یوں مشایع زمین ہوئی کہ اسکا مقعر ملازم ارض ہے حجر کو ہوا سے ایسا علاقہ نہیں۔
اقول:اولا: تضعیف جواب بے وجہ ہے۔
ثانیا: یہ زیادت زائد و ناموجہ ہے۔
ملازمت مقعر کیا مفید مشایعت ہےورنہ افلاك تك مشایع ہوں اور اگر یہ مقصود کہ ہوا میں یہ علاقہ منشاء شبہہ ہے بھیحجر میں تو اتنا بھی نہیں۔
اقول:وہاں تو ایك سطح سے مس ہے اور یہاں جملہ اطراف سے احاطہدو بڑے چھوٹے پتھروں پر اثر کا فرق تو تجربہ سے کھلے اور وہ یہاں متعذر کہ بڑا پتھر اوپر پھینکا جائے گا اور چھوٹا اپنی حرکت میں ہوا کے سبب پریشان ہوجائے گا۔علامہ نے کہا مثلا سیر بھر کا پتھر ہواسے مشوش نہ ہوگا اور تین سیر کا اوپر پھینك سکتا ہے۔
اقول:وہ جواب ہی فراہمل ہے اولا اوپر سے تو گراسکتے ہیں ثانیا: خود فرق کیا کہ چھوٹا ہوا سے مشوش ہوگا نہ بڑا یہی تو منشاء دفع تھا کہ ان پر اثر یکسا ں نہ ہوگا۔ثالثا: قبول اثر تحریك میں صغیر و کبیر کا تفاوت حکم عقل ہے محتاج تجربہ نہیں۔
(۳)بڑے چھوٹے پر اثر کا فرق حرکت قسریہ میں ہےعرضیہ میں سب برابر رہتے ہیں کشتی میں ہاتھی اور بلی برابر راستہ قطع کریں گے۔علامہ نے کہا مصرح ہوچکا ہے کہ ایك کی حرکت سے دوسرے کی حرکت عرضیہ صرف اس وقت ہے کہ یہ اس کا مثل جز ہویا وہ اس کا مکان طبعی حجر کو ہوا سے دونوں تعلق نہیں تو ہوا کی حرکت اگرچہ عرضیہ ہو پتھر کو قسرا ہی حرکت دے گی اور یہ ممتنع نہیںجیسے جالس سفینہ کا کسی شے کو قسر متحرك بالعرض دوسرے کو اور حرکت قسریہ دے سکتا ہے اور اسی حرکت عرضیہ سے بھی قسر کرسکتا ہے جب کہ اینیہ ہوجیسے جالس سفینہ کی محاذات میں کسی درخت کی شاخ آئیں اس کے صدمے سے ہٹ جائیں گی ہر حرکت اینیہ میں دفع ہے لیکن حرکت و ضعیہ میں دفع نہیںجس کی تحقیق ہم زیادات فضلیہ میں کریں گےتو قیاس مع الفارق ہےہدیہ سعیدیہ میں اس سوم پر یوم رد کیا کہ عرضیہ میں بھی تساوی مسلم نہیں۔بہتے دریا میں لٹھا اور چھوٹی لکڑی ڈال دو لکڑی زیادہ بہے گی۔
اقول:یہاں نری عرضیہ نہیںقسریہ بھی ہے کہ پیچھے سے آنے والی موجیں آگے کو دفع کرتی ہیں جیسے لکڑی لٹھے سے زیادہ قبول کرتی ہے۔
دفع پنجم:دوم کا رد سوم اشیاء کی ہوا میں چسپاں ہونا بدیہی ورنہ کوئی پرند اڑ نہ سکتا ابر آگے
",
1163,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,331,"بڑھ نہ سکتا اور جب چسپاں نہیں تو کیا محال ہے کہ ہوا انہیں چھوڑ جائے اوپر پھینکا ہوا پتھر مغرب کو گرے وغیرہ استحالات(تحریر مجسطی)یہ جواب ضعیف ہے۔محال نہ ہونے سے وقوع لازم نہیں فلك الافلاك کی حرکت بھی تو بے حرکت دیگر افلاك محال نہیں مگر کبھی بے ان کے واقع نہیں ہوتی۔(شرح مجسطی)
اقول:افلاك کی حرکت عرضیہ ہونے کا رد اوپر گزرا۔طوسی اتنا سفیہ نہ تھا کہ سوال پر سوال جواز کے مقابل جواز پیش کرتا۔مقصود یہ ہے کہ امور عادیہ کا خلاف بلاوجہ وجیہ محض شاید ولیکن سے نہیں مانا جاتا۔عادت یہ ہے کہ جو شے دوسری سے ضعیف علاقہ رکھتی ہو حرکت میں ہمیشہ اس کی ملازم نہیں رہتی بلکہ غالب چھوٹ جانا ہی ہے۔تنکوں کو دیکھتے ہیں کہ ہوا انہیں اڑاتی ہے کچھ دور چل کر گر جاتے ہیںپھرپتھروں کا کیا ذکرلیکن کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا۔جب سے عالم آباد ہے کبھی نہ سنا گیا کہ پتھر پھینکا اوپر ہوا اور گرا ہو ہزاروں گز مغرب میںاسی طرح باقی استحالے اب کبھی ہوا تو تاریخیں اس سے بھری ہوتی۔یہ ہر خلاف عادت دوام محض امکان کی بنا پر نہیں ہوسکتا اگر وجوب نہیں تو ضرور بحکم عادت اس کا خلاف بھی تھا بلکہ وہی اکثر ہوتا اوراگر وجوب ہے تو وہ یوں ہی مقصود کہ پتھر ہوا میں چسپاں ہو اور اس کا بطلان بدیہی۔یہ اس تقریر کی غایت توجیہ ہے۔اور اگر چسپاں ہونے سے ہوا میں استقرار مراد لیا جائے تو بے شك صحیح ہے مگر اس وقت وہی دفع سوم ہے۔
دفع ششم:سوم کا رد کہ ہوا نہایت نرم و لطیف ہےادنی اثر سے اس کے اجزاء متفرق ہوجاتے ہیں۔تو اگر وہ حرکت عرضیہ کرے بھی تو ضرور نہیں کہ زمین کے ساتھ ہی رہے تو جو اس وقت ہوا میں کسی موضع زمین کے محاذی ہے کچھ دیر کے بعد کیونکر اس موضع کا محاذ ہی رہے گا۔
اقول:سوم کی طرح یہ دفع بھی صحیح ہے۔فقط۔اولا: حرکت سے عرضیہ کی قید ترك کرنی چاہیے کہ اعتراض نہ ہو کہ ان سے نزدیك ہوا کی یہ حرکت ذاتیہ ہے۔
ثانیا: ضرور نہیں کہ جگہ یہ کہنا چاہیے کہ ساتھ نہ رہے گی کہ وہ مستدل و مانع کی بحث پیش نہ آئے اور خود آخر میں کہا کیونکہ محاذی رہے گا۔نہ یہ کہ محاذی رہنا ضرور نہ ہوگا۔اگر کہیے ساتھ نہ رہے گی۔کیا ثبوت۔
اقول:عقل سلیم و مشاہد دونوں شاہد اور خود عــــــہ ہیئت جدیدہ کو تسلیم ہے کہ کثیف منجمد کے اجزاء حرکت
عــــــہ:ص ۱۱۵۔اگر تم کسی جسم سیال کو ہلاؤ تو اس کی ہمواری میں خلل انداز ہوگےقاعدہ کلیہ ہے اور تین میں جزئیات کی تصریحیں آتی ہیں۱۲ غفرلہ
",
1164,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,332,"میں برقرار رہتے ہیں جب تك اتنی قوی ہو کہ تفریق اتصال کردے اور لطیف سیال کے اجزاء ادنی حرکت معتد بہا سے متفرق ہوجاتے ہیں ہر گز اس نظام پر نہیں رہتے تو اتنی سخت قوی حرکت سے ہوا و آب کا منتشر ہوجانا لازم تھا نہ یہ کہ ہر جزء جس جزاء ارض کا محاذی تھا اس کے ساتھ رہے گویا وہ نہایت سخت جسم ہے جسے دوسرے سخت میں مضبوط میخوں سے جڑ دیا ہےان بیانوں عــــــہ سے ظاہر ہوا کہ وہ حرکت عرضیہ اشیاء باتباع آب و ہوا کا عذرجس پر ہیئت جدیدہ کے اس گھروندے کی بناء ہے دو وجہ صحیح سے پادر ہوا ہے۔
واقول:اگر کچھ نہ ہوتا تو خود ہیئت جدیدہ نے اپنے دونوں منبی باطل ہونے کی صاف شہادتیں دیں۔
عــــــہ:یہ فصل سوم تمام و کمال لکھ لینے کے بعد جب کہ فصل چہارم شروع کرنے کا ارادہ تھا ولد ا عز مولوی حسنین رضا خان سلمہکے پاس سے شرح حکمۃ العین ملی اس میں د و دفع اور نظر آئے کہ دونوں رد اول ہیں۔صاحب کتاب نے انہیں نقل کرکے رد کیا وہ یہ ہیں۔
دفع ہفتم:ہوا اس حرکت سے متحرك ہو تو ہمیں اس کی یہ حرکت محسوس ہورویہ جب ہو کہ ہم اسی حرکت سے متحرك نہ ہوں کشتی جتنی تیزی سے چلےقطعا وہ ہوا کہ اس میں بھری ہے اتنی تیزی سے اس کے ساتھ جاری ہے مگر کشتی نشین کو محسوس نہیں ہوتی یعنی جب کہ ہوا ساکن ہو اپنی حرکت ذاتیہ سے متحرك نہ ہو۔
دفع ہشتم:ابرو ہوا مغرب کو حرکت کرتے محسوس نہ ہوںخصوصا جب کہ چال نرم ہو بلکہ مغرب کو ان کی حرکت محال ہو کہ اتنا قوی شدید جھونکا انہیں مغرب کو پھینك رہا ہے۔
رد ہوا کی کسی حرکت عرضیہ سے متحرك ہونا اس کے خلاف جہت میں ہے جسم کی نرم حرکت ذاتیہ اس شخص کا مانع نہیں ہوتا ورنہ سوار کشتی جہت کشتی کے خلاف نہ چل سکے کہ اندر کی ہوا سے حرکت میں بہت تیز ہے نہ وہ اس نرم حرکت کے احساس کو منع کرتا ہے اور نہ پتھر کہ کشتی کی ہوا میں خلاف جہت پھینکیں چلتا نہ معلوم ہو نہ پنکھے کی ہوا محسوس جب کہ جہت خلاف کو جھلیں۔
اقول:یہ دونوں دفع وہی زیادات فضلیہ میں کہ عنقریب آتی ہیں جن کو ہم نے ہدیہ سعید یہ کی طبع راد خیال کیا تھادفع ہفتم بعینہ دلیل ۱۰۵ ہے اور ہشتم کے دونوں حصے دلیل ۱۰۱ و ۱۰۲باقی دونوں بھی انہیں پر متفرع ہیں تو وہ پانچ ہیں یا انہیں دنوں سے ماخوذ ہیںیا تو ارد ہوا اور ہم وہاں تحقیق کریں گے اگرچہ یہ دلیلیں جس طرح قائم کی گئیں ضرور ساقط ہیں مگر ان کی اور توجیہ وجیہ ہے جس سے شرح حکمۃ العین کے رد مردودفانتظر ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1165,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,333,"اس کے مزعوم کی بناء دوباتوں پر ہےآب و ہوا کی حرکت مستدیرہ کا حرکت زمین کے مساوی ہونا اور جو اشیاء ان میں ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ان کا اس حرکت میں ملازم آب و ہوا رہنا دونوں کا بطلان اس نے خود ظاہر کردیا۔
اولا: تصریح کی جاتی کہ خط استوا کی ہوا زمین کے برابر حرکت نہیں کرسکتیمغرب کی طرف زمین سے پیچھے رہ جاتی ہے۔(۱۹)
ثانیا: یہ کہ ہوا ئیں جو قطبین سے تعدیل کے لیے آتی ہیں خط استوا کے برابر نہیں چل سکتیںناچار ان کا رخ بدل جاتا ہے۔(۱۱)
ثالثا: یہ کہ جامد زمین محور پر گھومتی تو اوپر کا پانی قطبین کو چھوڑ دیتا اور خط استواء پر اس کا انبار ہوجاتا۔(۲۰)
رابعا: یہ کہ زمین ابتدا میں سیال تھی لہذا حرکت سے کرہ کی شکل پر نہ رہی۔قطبین پر چپٹی اور خط استواء پر اونچی ہوگئی۔(۲۱)
خامسا: فصل چہارم میں ہیئت جدیدہ کے شبہات حرکت ارض کے بیان میں آتا ہے کہ لیکن جو جنوبا شمالا متحرك ہو اسی سطح پر حرکت کرتا رہے گا اور زمین اس کے نیچے دورہ کرے گی۔وہ زمین کے ساتھ دائر نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ نہ ہوا و آب زمین کے ملازم رہتے ہیں نہ ان میں جو اجسام ہیں انکے تودونوں منبی باطل اور حرکت عرضیہ کا عذر زائل۔
جواب دوم:
ہیئت جدیدہ نے جب حرکت عرضیہ میں اپنی اماننہ پائی ناچار ایك ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰اور ادعائے عــــــہ باطل پر آئی کہ جو جسم کسی متحرك جسم میں ہو اس کی حرکت اسی قدر ان میں بھی بھرجاتی ہے یہاں تك کہ اس کی حرکت تھمنے پر بھی بلکہ اس سے جدا ہو کر بھی اس میں باقی رہتی ہے۔
اقول:یعنی پتھر ہوا میں بالعرض متحرك نہیں بلکہ یہ گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ مشرق کو بھاگنے اور ایك منٹ میں گیارہ سو میل سے زائد اوپر چڑھنے کا سودا خود پتھر کے سر میں پیدا ہوگیا ہے۔ انصاف والو !
عــــــہ:یہ ادعا مفتاح الرصد میں نقل کیا اور نمبر۱ حدائق میں بھی اس کی طرف میل ہوا اور نظارہ عالم ۲۱۔۲۲ میں اس پر بہت زور دیا جو مثالیں ہم کسی کتاب کی طرف نسبت نہ کریں وہ اسی سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1166,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,334,"کیا اس سے عجیب تر بات زائد سنی ہوگی۔مخالف آداب مناظرہ سے ناواقف اس پر دلیل دینے سے عاجز ہے ناچار چھ مثالون سے اس کا ثبوت دینا چاہتا ہے ہم ہر مثال کے ساتھ بالائی کلمہ تبرعا ذکر کریں جس کی حاجت نہیںپھر بتوفیقہ تعالی جامع وقامع رد بیان کریںوہ مثالیں یہ ہیں۔
(۱)شیشہ پانی سے بھر کر جہاز کے مسطول میں باندھیںدوسرا اس کے نیچے رکھیںحرکت جہاز سے پانی کے جو قطرے اوپر کے شیشے سے چھلکیں گے نیچے کے شیشے باہر نہ گریں گے۔(حدائق )یعنی اس کا یہی سبب ہے کہ جہاز کی حرکت ان قطروں میں بھی پیدا ہوگئی ہے یہ خود بھی اسی قدر سفینہ کے ساتھ متحرك ہیں لہذا محاذات نہیں چھوڑتے اس کے لفظ مثال دوم میں یہ ہیں۔
درحرکت سفینہ مشارك بودہ پائے ستون می افتد ۔ کشی کی حرکت میں مشارك ہو کر ستون کے پاس گرتا ہے۔ (ت)
اس سے ظاہر وہی ہے جو اور جدیدہ والوں نے تصریح کی کہ خود اس جسم میں وہ حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر عرضیہ سے یعنی جہاز کی حرکت سے مسطول تك ہوا اور ہوا کی حرکت سے یہ قطرے بالعرض متحرك ہیں تو قطع نظر اس سے کہ مسطول تك ہوا کی حرکت عرضیہ کیونکر پہنچی ہوگی تو اتنی ہوا کہ جو جہاز میں بھرتی ہے اس کے جواب کو وہی بس ہے کہ پانی کی یہی بوندا اگر ہوا میں حرکت عرضیہ سے بالعرض متحرك ہوتی تو سومن کے پتھرکا اس پر قیاس کیونکر صحیح جسے ہوا کسی طرح سنبھالنا درکنار سہارا تك نہیں دے سکتی۔مفتاح الرصد میں اس پر تین ردہیں۔
یکم مضمر کہ بفرض و تسلیم اگر ایسا ہو بھیاقول:یعنی کون سا مشاہدہ اس پر شاہد ہے کہ قطرے اس سے باہر نہیں گرتے تو منزل پر کھڑے ہو اور زمین پر شیشہ رکھ کر اپنے ہاتھ میں کٹورے کو جنبش دو کہ قطرے چھلکیں ہر گز اس کی ذمہ داری نہیں دے سکتے کہ شیشے ہی میں گریں گے بلکہ اکثر باہر ہی جائیں گے۔یہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ اپنے تخیلات کو مشاہدات و تجربات کے رنگ میں دکھاتے ہیں۔
دوم:جو ہوا جہاز کو حرکت دیتی ہے ان قطروں کو بھی دے گا۔اقول:یعنی دخانی جہازوں پر بھی ہوا کی مدد ہے اگر اس سمت کی نہ ہو پردے باندھ کر کی جاتی ہے۔
سوم:اوپر کا شیشہ جہاز میں بندھاہوا ہےاس کی حرکت سے اسی طرف جھٹکا کھاتا ہے اس کا جھٹکا ان چھلکتے قطروں کو اسی سمت متوجہ کرتا ہے اور اپنی پہلی محاذات پر نہیں گرنے دیتا ہاتھ پانی میں بھر کر ایك طرف کو جھٹکو تو قطرے جھٹکے کیطرف جائیں گے نہ کہ جس جگہ ہاتھ سےجدا ہوئے اس کی محاذات میں
"," ص ۱۶۷۔۱۲
حدائق
"
1167,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,335,"سیدھے اتریں۔
اقول:رد چہارم مثال دوم میں آتا ہے۔
(۲)مسطول سے پتھر گراؤ تو سیدھا اس کے پاس گرے گا حالانکہ جب تك وہ اوپر سے نیچے آئے کشتی کتنی سرك گئی۔لیکن یہ حرکت کشتی کا شریك ہو کر محاذات نہ چھوڑے گا۔(حدائق )
اقول:سارا مدار خیال بندیوں پر ہے ضرور یہ مسطول پر چڑھے اور وہاں سے پھر پھینکنے اور ان خط عمود پر اترنا آزماچکے وہ پتھر کتنے بھاری تھےہوا کی کیا حالت تھی ہ کس رخ کی تھیجہاز کتنی چال سے جارہا تھاسمت کیا تھیمسطولوں کی بلندی کتنی تھیاور جہاز کی حرکت سے کتنی بلندی تك ہوا متحرك ہوتی ہےتم کتنا بڑا پتھر لے کر یہاں تك چڑھے تھے دونوں ہاتھوں میں سیدھا محاذات پر رکھ کر آہستہ چھوڑ دیا تھا یا پھینکا تھااس وقت ہاتھ نے کدھر کو حرکت کی تھی پتھر جہاں گرا وہیں جم گیا تھا یا اچھلا تھا اس حد کا کیا ثبوت ہے ان سوالوں کے جواب سے حقیقت کھل جائے گی یا معلوم ہوجائے گا کہ قطرے شیشہ ہی میں گرنے کی طرح خواب دیکھا تھا بعونہ تعالی دلائل قطعیہ ابھی آتے ہیں جن کے بعد آنکھ کھل جائے گی تو کچھ نہ تھا - نمبر ۱۲)پھر فصل دوم رد ۲۰ تا ۳۶ میں دیکھ چکے کہ یہ لوگ کیسی صریح باطل بات کو مشاہدہ کے سر تھوپ دیتے ہیں او راس سے بڑھ کر اس کی نظیر افضل چہار م میں آتی ہے ان شاء اﷲ تعالی فصل چہارم میں انہیں لوگوں کا زعم آتا ہے کہ بڑے یورپین مہندسوں کے تجربے یے ہیں کہ پتھر بلندی سے پھینکو تو سیدھا وہاں نہیں گرتا بلکہ مشرق سے ہٹ کراب یہاں یہ ادعا کہ مسطول سے پتھر پھینکو تو وہیں گرتا ہے۔پتھر تو پتھر ہے قطرہ جو مسطول کی شیشی سے چھلکے سیدھا نیچے کی شیشی میں آتا ہے یہاں زمین کی حرکت کو بھول گئے غرض زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں جو چاہا کہہ ڈالا اور مشاہدے کے سر مارا۔
(۳)گھوڑا یا گاڑی چلتے چلتے دفعۃ تھم جائے تو سوار کا سر آگے جھك جاتا ہےکشتی جب کنارے لگتی ہے بیٹھنے والے نہ سنبھلیں تو منہ کے بل گر پڑیں۔اس کا سبب یہی ہے کہ ان سواریوں کی حرکت سواروں میں بھی اتنی ہی ہوگئی تھی وہ تھیں اور انمیں حرکت باقی تھی جس کا اثر یہ ہوا۔
اقول:اولا: کشتی ساحل سے نہ ٹکرائے یا گھوڑا یا گاڑی آہستہ چلتے ہوں اور دفعۃ ٹھہر جائیں یا تیز چلے ہوں اور بتدریج ٹھہریں تو کچھ بھی نہیں ہوتاکیوں نہیں ہوتا کیا اب حرکت نہ بھری تھی۔اس کی وجہ محض جھٹکا لگنا ہے نہ یہ۔
", ص ۱۶۷۔۱۲
1168,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,336,"ثانیا:بارہ کا مشاہدہ ہے کہ دفعۃ ریل کے اسٹیشن سے چل دینے میں آدمی نہ سنبھلے تو گر پڑے اس وقت کونسی حرکت بھری تھیئ سبب وہی جھٹکا ہے۔
(۴)جس طرف میں پانی بھرا ہو تھوڑا ہلا کر یکایك روك لو پانی ہلتا رہے گا کہ وہ حرکت ہنوز اس میں بھری ہے۔
اقول:اولا: آٹا بھرا ہو تو وہ کیوں نہیں ہلتا رہتا۔حرکت جب پتھر میں بھر جاتی ہے آٹے میں کیوں نہ بھری۔
ثانیا: پانی لطیف ہے اس ہلانے کے صدمہ نے بالذات اسے حرکت دی اور اس کے اجزاء کی تماسك کم ہونے کے باعث دیر تك رہی نہ یہ کہ طرف کی حرکت اس میں بھر گئی کچھ بھی عقل کی کہتے ہو۔
(۵)انگریز نٹ زمین میں دو لکڑیاں گاڑ کر ان میں اتنی اونچی رسی باندھتا ہے کہ گھوڑا نیچے سے نکل جائے۔پھر گھوڑے پر کھڑے ہو کر گیند اچھالتا گھوڑا دوڑاتا ہے اسی کے قریب آکر گھوڑا نیچے سے اور سوار گیند اچھالتا اوپر سے اچھل کر پھر گھوڑے پر آجاتا ہے۔اس کا یہی سبب ہے کہ گھوڑے کی حرکت سوار اور سوار کی گیند میں برابر موجود تھی صرف اسے اچھلنے کی حرکت اور کرنی ہوئی۔
اقول:اولا:نٹ یا بھان متی کے کرتبوں سے جو محسوس ہوا اس سے استدلال تمہارا یہی ہے اس کے سب اسباب خفیہ ہوتے ہیں۔
ثانیا: گھوڑے کی پیٹھ ختم گردن سے پٹھوں تك ڈیڑھ گز فرض کیجئے اگر رسی پشت اسپ سے بارہ گرہ اونچی ہے اور نٹ گھوڑے کی گردن کے پاس کھڑا ہےتو جتنی دیر میں گھوڑے کی پیٹھ رسی کے نیچے سے گزرے گی اتنی دیر میں نٹ سی کے اوپر گھوڑے کے اوپر آجائے گا اور اگر بارہ گرہ سے کم اونچی ہے تو اور آسانی ہے اور اگر زائد ہی ہو بہرحال نٹ کے قد سے ضرور کم ہوگی ورنہ اچھلنا نہ پڑتا تو غایت یہ کہ اتنی خفیف مسافت میں اسی نسبت سے نٹ کی اچھال گھوڑے کی چال سے زائد ہویہ کیا محال ہےخصوصا سدھائے ہوئے گھوڑے کو تھپکی دے کر ا س کا اچھلنا اتنی دیر گھوڑی کے جھجکنے کو کافی ہے۔
اور اگر یہ نہ مانو اور وہی صورت بتاؤ جس میں اس کے جانے آنے کی مسافت گزرا سپ کی مسافت سے بہت زائد ہوجائے اور جو تو جیہ ہم نے کی اس کی گنجائش نہ رہے تو اور بھی بہتر کہ تمہارا استناد خود ابتر۔تم نٹ میں گھوڑے کی چال تو پھر ہی رہے تو پھر اس سے کتنے ہی گز زائد کہاں سے آگئی۔مثلا رسی دو گز اونچے پراور یہ اس کے متصل آکر اچھلا پھر پشت اسپ کے اسی حصے پر آگیاجہاں تھا تو گھوڑے نے اتنی دیر میں صرف رسی کا عرض طے کیا جسے انگل بھر رکھ لیجئے۔اور نٹ اتنی ہی دیر میں ایك سو ترانوے انگل طے کر آیا۔
",
1169,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,337,"۹۶ جاتے ۹۶ آتے اور ایك انگل رسیتو نٹ کا ہے کو ہے وہ انجن ہے جس میں ۹۳ا گھوڑوں کا زور ہے جب ۱۹۲ زور اور کہیں سے آگئے تو وہ بچا ہوا ایك اور کہیں سے نہیں آسکتا۔اس گھوڑے ہی کا بھر نا کیا ضرور ہے۔
رہی گیند تو وہ نٹ کے اپنے ہاتھ کا کھیل ہےاڑتے جانور پر بندوق چلانے والا پہلے اندازہ کرلیتا ہے کہ اتنی دیر میں کہاں تك اڑ کر جائے گا۔
(۶)باقی حال نارنگی میں آتا ہے۔چلتی ریل میں نارنگی اچھالیںہاتھ میں آتی ہے حالانکہ اس کے چڑھنے اترنے کی دیر میں ہم کچھ آگے بڑھ گئے۔معلوم ہوا کہ نارنگی میں ریل کی چال بھری ہے وہ اسے محاذات سے الگ نہیں ہونے دیتی۔
اقول:یہ خیال تو صریح محال ہے کہ جسم واحد وقت واحد میں بذات خود دوجہت مختلف کو دوحرکت اینیہ کرے۔لاجرم نارنگی میں اگر دو حرکتیں جمع ہوتیں ترچھے خط پر چڑھتی اور ترچھے عــــــہ ہی پر اترتی
مثلا ریل ا سے ب کی طرف جارہی ہے ا پر تم ہو تم نے نارنگی اچھالی یہ حرکت ا سے ج کی طرف لے جاتی لیکن ریل کی حرکت جو اس میں بھری ہے اس سے وہ ب کی طرف جانا چاہتی ہے اور دونوں زور باہم متضاد نہیں کہ ایك آگے کھینچے دوسرا پیچھے تو اگر دونوں زور مساوی ہوں حرکت اصلا نہ ہو ورنہ صرف غالب کی طرف جائے یہاں ایسا نہیں بلکہ دو جہتیں مختلف ہیں نہ متضادلہذا نارنگی دونوں کا اثر قبول کرتی اور اب وہ نہ ج کی طرف جاتی نہ ب کی طرف کہ یہ تو ایك ہی کا اثر ہوا۔لاجرم دونوں کے بیچ میں ء کی طرف گزرتی جیسے تم زمین میں کہتے ہو کہ شمس نے اپنی طرف کھینچا اور نافریت نے قائمہ کے دوسرے ضلع پرلہذا وہ نہ ادھر آئی نہ ادھر گئیبلکہ بیچ میں ہو کر نکل گئی(۵)پھر جب ء پر پہنچی اور می کی تاثیر ضرور ہوتی۔میل طبعی یا تمہارے طور پر جذب زمین اسے خط ء پر لانا چاہتا لیکن ریل کی حرکت جو اس میں بھری ہے اس سے خط ء ز پر جانا چاہتی تو اب بھی دونوں کے بیچ میں خط ء ح پر اترتی اور اتنی دیر میں تم ا سے ح تك پہنچے نارنگی ہاتھ میں آگئی یوں ان دو حرکتوں کا اجتماع ہوسکتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر گز نارنگی اپنے صعودو
عــــــہ:واقع میں یہ خط نہ مستقیم ہوتا نہ قوس بلکہ چھوٹے چھوٹے مستقیموں کا مجموعہ شبیہ قوس جیسا کہ حرکت زمین میں گزرا مگر اتنے چھوٹے خطوں میں تفاوت کے سبب انہیں قوسین کی جگہ ساقین لیا جیسا قوس صغیر ووتر میں تفاوت نہیں لیتے ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1170,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,338,"نزول میں مثلث ۱ ء ح نہیں بناتی سیدھی چڑھتی اترتی ہے یا کچھ انحراف ہو تو نہ اس پابندی سے کہ آگے ہی کی طرف مائل چڑھے اور وہاں سے اور آگے کی جانب مائل اترےاگر کہیے ہوتا یہی ہے مگر انحراف خفیف ہی لہذا محسوس نہیں ہوتا۔اقول:ہر گز خفیف نہیں بہت کثیر ہے۔فرض کیجئے نارنگی اتنی قوت سے اچھالی کہ گز بھر اوپر جائے اور اس کے آنے جانے میں ایك ہی سیکند صرف ہوا اور یل فی ساعت ۳۰ میل جارہی ہے تو ایك سیکنڈ میں ۱۵ فٹ کے قریب یعنی ۶ء۱۴ فٹ بڑھ جائے گیاب مثلث اء ح میں قاعدہ ا ح ۱۵ فٹ اور عمود ء ہ ۳ فٹتو دونوں زاویے ا ء ح ۲۱ درجے ۴۸ دقیقے ہوئے تو زاویہ ح ا ء ۶۸ درجے ۱۲ دقیقے ہوا یعنی نارنگی کا زمین فصل چہارم سے بھی کم ہوا اور انسان کے چہرے سے فاصلہ تین حصے سے بھی زائد ہے۔
خط ا ح ہے اور نارنگی خط ا ء پر گئیکیا اتنے عظیم جھکاؤ کو کوئی سلیم الحواس سیدھا ح کی طرف جانا سمجھ سکتا ہے تم کہ عرضیہ سے بھاگے اور خود نارنگی میں ریل کی حرکت بھریاس میں دو ذاتیہ اینیہ حرکتوں کے اجتماع پر بند کریں اس اشکال کا حل تمہارے ذمے ہے سر سے بلند حرکت پر اگر یہ عذر نکل سکتاکہ ریل کی حرکت میں نارنگی اور آدمی دونوں برابر شریك ہیں لہذا وہ ہر وقت سر کے محاذی ہی رہی اور خط منحرف کو مستقیم گمان کیا مگر یہ صورت کہ نیچے ہاتھ رکھ کر گز بھر اچھالیوہاں یہ عذر کیونکر چلے گا۔ بعض نے اس مثال میں جہاز لیا کہ نارنگی دور پھنك سکےاور کہا اپنی پوری طاقت سے اچھالی اور ہاتھ میں آتی ہے۔
اقول:اولایہ تو اور بھی آسان ہے خط عمود پر پھینکنا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہی کہ ہاتھ سیدھا رکھ کر اوپر اس طرح جنبش دو کہ ہاتھ کسی جانب اصلا میل نہ کرے یہ بہت خفیف حرکت ہوگی پوری قوت سے اوپر پھینکنا ہمیشہ خود ہی خط منحرف پر ہوگا۔ جہاز جدھر جارہا ہی اس کے خلاف طرف منہ کرکے پوری قوت ہاتھ کے کامل جھٹکے سے پھینك کر دیکھو نارنگی کدھر جاتی ہے۔
ثانیا: اگر بالفرض ہاتھ خط مستقیم پر دور پھینك سکے تو پہنچتا نہیں ہے کہ ہوا اسے مستقیم نہیں رکھتی۔آتشبازی کا بتاسایا ناڑی نہ خط مستقیم پر رہیں نہ اسی خط پر عود کریں یہ تو بہت قوی قوت سے خط عمود ہی پر پھینکے
"," مثلث مستقیم الاضلاع میں:ء ہ:ا ہ::ظل ا:ع =۲۴ ظل زاویہ ا ہوا مقدار زاویہ ۴۸۲۱۔۱۲ منہ غفرلہ۔
ط ص ۲۱۸
"
1171,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,339,"گئے تھے ان کو کس نے ترچھا کیا۔اس میں کس کی حرکت بھردی تھی۔یونہی زمین پر بندق سیدھی رکھ کر فائر کرو کیا گولی اتر کر نالی میں آجائے گی۔یہ بدیہی باتیں ہیں پھر ان کے انحراف کی کوئی سمت نہیں۔یونہی جہاز سے بقوت تمام پھینکی نارنگی اگر آگے ہی کی طرف بقدر مناسب منحرف ہوئی ہاتھ میں آجائے گی ورنہ بتا سے اور ناڑی گولی کی طرح وہ بھی کہیں کی کہیں جائے گی اور کھل جائے گا کہ مسطول کے پتھر کی طرح یہ بھی تمہارا خواب تھا جہاز کے شیشوں کی طرح یہاں مباحث اور بھی ہیں مگر ہم جامع اعتراضات کریں جو سب مثالوں کے رد کو بس ہوں۔
فاقول اولا:جتنی مثالیں ہم نے دیں سب میں حرکت اینیہ میں قوت دفع ہے۔دیکھو دلیل(۸۷)تو ہر دفع مدفوع میں حرکت واحد کا میل ہوا ہے جس سے پھینکا ہوا پتھر متحرك ہوا ہے یہ حرکت جس طرح اب مزاحم کو دفع کرتی ہے اس کا متعلق بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں ہوتا۔گھوڑے کی سواری میں رگ رگ ہل جاتی ہے گاڑی میں ہال لگتی ہے جہاز میں غیر عادی کا سر گھومتا ہے غشیان ہوتا ہے۔بالفرض اگر وہ استعداد بوجہ شدت حرکت اس حدکو پہنچی کہ حرکت تھمنے یا جدا ہونے کے بعد کچھ رنگ لائے چیستاں عجب نہیں۔بعد ات اس لیے کہ ظہور از بعد عدم معدیت پتھر اس وقت متحرك ہوتا ہے جب ہاتھ کی وہ حرکت تھم جاتی ہے اور پتھر اس سے جدا ہوجاتا ہے ہواو آب کی حرکت وضیعہ دوبارہ دفع کا اس پر قیاس نہیں ہوسکتا۔حرکت وضعیہ عین ذاتیہ ہو خواہ عرضیہ اس کی تحقیق زیادات فضلیہ پر کلام میں آتی ہے قوت دافع نہیں اس میں کسی طرف کو بڑھنا نہیں کہ راہ میں جو پڑے اسے دفع کرے وہ اپنی رات میں خود ہی ہے دوسرا اگر اس کے ثخن میں اس طرح ہے کہ سب طرف سے اسے جرم کرہ سے اتصال ہے جیسے کرہ آب و ہوا میں ہوتا ہے تو اگر کرہ اسے اٹھا سکتا ہے وہ اس میں اٹھا ہوا چلا جائے گا۔خود اس میں نام کو جنبش نہ ہوگی ورنہ گر پڑے گا تو عظیم پتھر کہ ہوا کے اندر ہے جسے ہوا ایك آن کو بھی سہارا تك نہیں دے سکتی ہے محال عقل ہے کہ ساکن وقت میں جس وقت پتا بھی نہیں ہلتا ہوا اس سو من کی سل کو اپنی گود میں لے کر گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ اڑ جائے جب حرکت مستدیر پر اسے جو متحرك ثخن میں اسے بروجہ مذکور ہوا اصلا جنبش نہیں دیتی تو وہ اثر کیا ہے جو پتھر کے سر میں بھر جائے گا اور بداہۃ محال ہے کہ پتھر خود بخود ہزاروں میل اڑنے لگے۔لاجرم مثالیں ہوئیں اور زمین کی حرکت باطلاور اگر کہو کہ نہیں بلکہ حرکت مستدیرہ بھی دھکا دیتی ہے اور جو اس کے ثخن میں ہوا اسے بھییا نمبر ۳۳ میں ہماری تحقیق سے اخذ کردہ یہ حرکت وضیعہ نہیں بلکہ حرکات متوالیہ کا مجموعہ تو چشم ماروشن دل ماشاد و حرکت زمین و ہوا کا بوجوہ یہیں پر خاتمہ ہوگیا۔
یکم:ذرا سی آندھی جس کی چال گھنٹے میں تیس چالیس ہی میل ہو بڑے سے بڑے پیڑوں کو جڑسے اکھاڑ دیتی ہے۔قلعوں کو ہلا دیتی ہے۔یہ آٹھ پہر کی اتنی عظیم شدید آندھی گھنٹے میں ۱۰۳۶ میل
",
1172,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,340,"اڑنے والی کیا کچھ قہرنہ ڈھاتیانسان وحیوان کی کیا جان ہے پہاڑوں کو سلامت نہ رکھتی۔
دوم تا نہم:یونہی وہ آٹھ پہاڑ کہ تین دلیل(۸۷تا ۸۹)تھے اور پانچ زیادات فضیلیہ میں آئے ہیں باطل ہوسکتے ہیں اور باطل ہوں گے۔
دہم:اب کہ پتھر وغیرہ کی حرکت بھی تم نے عرضیہ نہ رکھی قسریہ ٹھہری اس دفعہ چہارم سے مضر نہ رہی کہ حرکت قسریہ میں ضرور ضعیف و قوی پر اثر کا تفاوت لازماگر صرف رکنے قابل تو من بھر کے پتھر کو کون ساتھ لائے گا۔اور اگر من بھر کے پتھر کو منٹ میں ۲۰ میل پھینکا تو ماشہ بھر پتھر کو کے ہزار میل پھر مساوات کیسے رہ سکتی ہے۔بہرحال ثابت ہوا زمین کی حرکت باطل ہے۔
ثانیا: یہ کلمہ تمہاری باگ ڈھیلی ڈالنے سے تھا اب باگ کری کریںجب کسی جسم میں حرکت بھر جاتی ہے اس کے بعد اس قوت کے پھر ختم ہونے تك وہ محرك کا محتاج نہیں رہتا نہ حل نکلنے پر دفعۃ اپنی میل طبعی یا جذب زمین سے گر جاتا ہے بلکہ یہاں تك کہ قوت رفتہ رفتہ ضعیف ہوتی اور بالاخر میل یا جذب اس پر غالب آتا ہے پھینکے ہوئے پتھر سے دونوں باتیں واضح ہیں اگر خود اجسام میں ان محرکات کی بھر جاتی تو ۱چلتی کشتی میں جو پتھر اس میں کوك بھری ہوئی ہے چاہیے کہ کشتی ٹھہرنے پر بھی یہ سب کچھ دیر تك چلتے رہیںبرتن صندوق وغیرہ میں رکھے ہیں چند سیکنڈ تو آگے سرکیں ۲کشتی معاذ اﷲ دفعۃ ٹوٹ جائے تو آدمی کچھ دور تو کشتی کی چالیں چلیں۳ریل میں بیچ کا تختہ ٹوٹ جائے تو فورا نیچے نہ جائیں بلکہ کچھ دور چل کر میل یا جذب کا اثر لیں۔ ۴گھوڑا گر جائے جب بھی وہ نٹ کچھ دیر ہوا پر گھوڑے کی دوڑ اڑے کہ جب تك حرکت بھری ہے جذب سے متاثر نہ ہوگا۔۵جہاز رکنے پر وہ قطرے کہ شیشے میں گر رہے تھے اب جہت حرکت کی طرف آگے کریں بلکہ انکے اترنے میں جہاز رك جائے ۶تو یہاں تك سیدھے آتے آتے فورا آگے بڑھ جائیں کہ نیچے کا شیشہ ٹھہر گیا اور ان میں ابھی کوك باقی ہے۔۷یونہی جہاز رکتے ہی مسطول سے پتھر پھینکیں تو اب اس کی نیچے نہ گرے بلکہ آگے بڑھ کر ۸اور اس کے گرتے جہاز روك لیں تو آدھے رستے سے فورا سمت بدل دے ۹نیز چلتی گاڑی میں جس کی پشت گھوڑوں کی طرف ہے۔دفعۃ رکنے پر ان کے سر آگے کو نہ جھکیں بلکہ سرین پیچھے کو سرکیں کہ ان میں ادھر کی کنجی دی ہوئی ہے۔۱۰ریل رکتے ہی نارنگی اچھالیں تو اب ہاتھ میں نہ آئے آگے بڑھ کر گرے۔دس یہ ہیں صدہا اور کتنے استحالے تم پر پڑے۔
ثالثا: پتھر کہ زمین پر رکھا اس کے ساتھ گھوم رہا ہے اس کی یہ حرکت وضعیہ نہیں کہ وہ کرہ نہ اپنے محور پر گھومتا ہے اور خود اس میں حرکت بھری ہے جس کا مقتضی آگے بڑھتا اور دائرہ زمین کو قطع کرتا ہے اگرچہ کچھ دیر کو ہوا و زمین رك جائیں پتھر جب بھی چلے گا تم کہہ چکے کہ محرك کے رکنے پر بھی اس کی حرکت باقی رہتی ہے
",
1173,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,341,"تو اس کے حق میں ضرو ر اینیہ ہے یہ بات اور ہے کہ زمین و ہوا بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جس سے آئین نہیں بدلتا یہ یوں نہیں کہ وہ آئین بدلنا نہیں چاہتا بلکہ یوں ہے کہ آئین اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا غرض شك نہیں کہ دائرہ زمین پر اس کی حرکت ایسی ہی ہے جیسے مجموعہ کرہ زمین و دیگر سیارات کے اپنے مدار پر کہ قطعا اینیہ ہے اور حرکت اینیہ اپنے مقابل کی ضرور مدافعت کرتی ہے تو لازم کہ پتھر کا ٹکڑا جو زمین پر رکھا ہے جسے تم مشرق کی طرف ایك انگلی سے سرکا سکو اسے مغرب کی طرف چاروں ہاتھ پاؤں کے زور سے جنبش نہ دے سکو کہ اس میں مشرق کی طرف فی ساعت ہزار میل دوڑنے کا زور بھرا ہوا ہے یہ زور کیا تمہاری سہل مان لے گا کہ تمہیں الٹا نہ پھینکے گا۔
رابعا: بے چارے پتھر کے سر ایك ہی حرکت نہیں یك نشد دوشد ہے زمین کی اپنی طور پر حرکت اسے مشرق کی طرف فی ساعت ہزار میل سے زیادہ دوڑاتی ہے اور اپنے مدارپر حرکت اسے مدار کی طرف ہر منٹ میں گیارہ سو میل سے زیادہ دوڑاتی ہے ایك جسم ایك وقت میں دو طرف کو صرف تین صورتوں میں حرکت کرسکتا ہے۔
(۱)ایك وضعیہ ہو دوسری اینیہجیسے بنگو کا گھومتے ہوئے بڑھنا۔
(۲)دونوں اینیہ ہوں مگر عرضیہجیسے اس آدمی کے کپڑے جو کشتی کے اندر مغرب کو چل رہا ہے اور کشتی مشرق کو۔
(۳)ایك ذاتیہ ہو دوسریع رضیہجیسے شخص مذکور کی کشتی میں حرکتمگر یہ کہ دونوں اینیہ ہوں اور دونوں ذاتیہیہ قطعا محال ہے ورنہ ایك جسم وقت واحد میں دو مکانوں میں ہو۔ہاں دو محرك اسے دو مختلف غیر متقابل اطراف کو حرکت دیں تو وہ ان دونون میں سے کسی طرف نہ جائے گا بلکہ دونوں جہتوں کے بیچ میں گزرے گا جیسا کہ ابھی مثال ششم کے رد میں گزرا۔تو یہ پتھر کہ زمین پر رکھا ہے اور تم عرضیہ سے بھاگ کر خود اس میں حرکت بھر چکے تو دونوں اس کی ذاتیہ ہوئیں اور ہم بیان کرچکے کہ اس کے حق میں وہ شرقی حرکت بھی وضعیہ نہیں اینیہ ہے تو وقت واحد میں سنگ واہد دو مختلف جہت کو دو حرکت اینیہ ذاتیہ ہر گز نہ کرے گا بلکہ ان کے بیچ میں گزرے گا۔
اب زمین ج مقام ب پر پتھر ہے ز مین کی حرکت صاعدہ نے اس میں ج کی طرف جانے کی کوك بھری اور حرکت مستدیرہ نے ء کی طرف آنے کی کنجی دی تو پتھر نہ ج کو جائے گا نہ ء کو آئے گا بلکہ ہ کی طرف اڑے گا تو لازم کہ نہ ایك پتھر بلکہ تمام اسباب صندوق پٹارے برتن پلنگ وغیرہ وغیرہ بلکہ انسان حیوان سب کے سب ہر وقت
",
1174,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,342,"ہوا میں اڑتے رہیں تم نے دیکھا کہ عرضیہ سے بھاگ کر خود اجسام میں کوك بھرتا اس سے بھی زیادہ کسی درجہ فاحش تھا عــــــہ۱ ۔لاجرم وہ گیارہ دلیلیں بھی لاجواب ہیں۔(زیادات فضلیہ)خاتمہ کتب حکمت یونانیہ یعنی ہدیہ سعیدیہ میں حرکت ارض پر کلام مبسوط ہوا جس میں سے بہت اوپر اس کے ابطال پر آٹھ دلیلیں اپنی طبع زاد کرلیں جن میں سے ایك دفع دوم میں گزری۔اور دو تذییل میں آتی ہیں پانچ کی یہاں تلخیص کریں یہ دلیلیں مرعوم مخالف تحرك باقی ہمنوا بغرض ہو و ہوا بغرض فرض کرہ کی حرکت وضعیہ پر کلام شدید ہے خصوصا بطور طبیعات یونان جس میں ہدیہ سعیدیہ ہے بین بین ابطال بتوفیقہ تعالی اپنی تحقیق سے ان کا رخ بدل کر تصحیح وتائید میں۔لیں گے۔
دلیل ۱۰۱:ہوا کی حرکت شرقیہ عــــــہ۲ کہ اس قدر تیز ہے اس کے معمولی چلنے سے بدرجہا سخت ہوگی تو چاہیے پر وائی کبھی چلتی معلوم ہی نہ ہو ہمیشہ بچھاؤ ہی رہے۔
دلیل ۱۰۲:پر وغیرہ ہلکے اجسام پچھاؤ میں مغرب کو کیونکر جاتے ہیں حالانکہ وہ قہر آندھی مشرق کو چلتی ہوئی انہیں پیچھے پھینکتی ہے۔
دلیل ۱۰۳:تھمی ہوا میں دو پرند مساوی قوت سے مشر ق و مغرب کو اڑیں ان کی اڑان کیونکر برابر رہتی ہےحالانکہ ہوا پہلے کی معاون اور دوسرے کی معاوق ہےیونہی دو کشتیاں۔
دلیل ۱۰۴:تیز پچھاؤ میں مغرب کو اڑنے والا پرند تیز جاتا ہے اور مشرق والا سست کہ پچھآو اول کا معاون دوم کا معاوق ہے ہوا مشرق کو دورہ تو اس کا عکس لازم تھا کہ اول معاون پچھیاؤ ضعیف ہے اور معاوق حرکت شرقیہ قوی اور ثانی میں عکسیونہی عــــــہ۳ یونہی دو کشتیاں۔
عــــــہ۱:ان پانچ کا طبغراد کرنا مشکوك ہوگیا کہ ان کے ماخذ شرح حکمۃ العین میں نظر آئے جن کا بیان دفع۷۔۸ میں گزراہاں تو اردبعید نہیں بلکہ اظہر ہیں ورنہ شارح مذکور نے ان پر جو رد کیے ہدیہ سعید یہ میں ان کے دفع ی طرف توجہ ہوتی یا انہیں دیکھ کر یہ دلائل ذکر ہی نہ کیے جاتے۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:ہر جگہ ہم نے لفظ عرضیہ بوجہ معلوم کم کردیا ہے۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۳:یہاں زیادہ تفصیل سے کام لیا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اوپر دریا و ہوا اس مزعوم حرکت کا کچھ اثر نہیں ہوتا بلکہ ظاہر موج و دوش کا اگر دریا ہے اور دونوں ساکن ہیں مشرقی غربی دونوں کشتیاں کہ مساوی قوت سے چلیں مساوی چلیں گی اور پانی جاری ہے تیز ہوگی اور دوسری سست اور دریا و ہوا دونوں کی حرکت ایك طرف کو ہے تو موافق بہت تیز مخالف بہت سست اور دو طرف کو تو ہوا و دریا جس کی حرکت زائد ہے اس کی موافق بقدر اس زیادت کے تیز اور دوسری سست ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1175,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,343,"دلیل ۱۰۵:آدمی جب تیز ہوا میں اس کے سامنے آتا ہوہوا کو اپنی مدافعت کرتا پائے گا مگر یہاں مشرق و مغرب دونوں طرف چلنے میں کوئی احساس نہیں ہوتا۔
اقول:ان پانچ دلیلوں کا حاصل یہ ہے کہ چلتی ہوا اپنے سامنے کی شے کو دفع کرتی ہے اور یہ مدافعت یہاں نہیںلہذا ہوا کی حرکت مستدیرہ باطلاور وہ حرکت زمین کو لازم تھی اور انتفائے لازم انتفائے ملزوم ہے تو حرکت زمین باطلمگر ہے یہ کہ معاونت اس وت حرکت اینیہ میں ہے جیسے پانی کی موجیںہوا کے جھونکے جس میں ہر لاحق مکان سابق میں آنا چاہتا ہے تو اسے دفع کرتا ہے اب اس ہوا یا پانی میں اگر مثلا انسان چلے تو وہ ایسے مکان میں آیا جس پر لطمے اور صدمے متوالی چلے آتے ہیں لہذا اگر اس کا منہ ادھر کو ہے معاوقت پائے گا اور پشت تو معاونتمگر حرکت وضعیہ حرکت واحدہ کل کرے کو عارض ہے نہ کہ اجزائے متفرقہ کی کثیر حرکات اینیہ متوالیہ کا مجموعہ کہ طبیعیات یونان میں جسم متصل وحدانی ہے اس میں بالفعل اجزاء ہی نہیں اور اگر اجزاء سے ترکب تو جب بھی حرکت وضعیہ میں تموج و تلاطلم آب و ہوا کسی طرح تدافع نہیں اس میں کوئی جز دوسرے کو دفع نہیں کرتا کہ دفع کرے کہ اپنی راہ میں کسی کو اپنی طرف آگے یا ساکن یا اپنی جہت میں اپنے سے کم چلتا پائے۔یہی تین صورتیں دفع کی ہیں اور وہ سب یہاں مفقود بلکہ سب اجزاء ایك ہی طرف کو یکساں چال سے اپنی اپنی جگہ قائم چلے جاتے ہیں تو جو جز جس جگہ بڑھنا چاہے اس سے پہلا جز اس کے وہاں پہنچنے سے پہلے اس کے لیے جگہ خالی کرچکا ہوگا اور جب یہاں تلاطم تدافع نہیں تو احساس کس کا ہوگااگر کہیے یہ تو کرے کی اپنی حالت ہوئی جب مثلا انسان اس میں داخل ہوا تو تفرق اتصال بداہۃ ہوا اب ضرور ہے کہ آنے والا اسے دفع کرے۔
اقول:دفع تو جب کرے کہ یہ حصہ خود چلتا ہوحصہ کوئی بھی نہیں چلتا کل کرہ متحرك ہے جس کے بعض اجزاء کی جگہ اب انسان ہے جسم اتصال اجزاء کے ماتحت ایك جزء دوسرے کو دفع نہ کرتا تھا اب اسے بھی کوئی دفع نہ کرے گا۔
اگر کہے کلام اس میں ہے کہ وہ داخل مثل انسان اس حرکت کے خلاف جہت ا س جسم میں چلے تو اس کا مزاحم ہوگا اور مزاحم کی مدافعت ضرور۔
اقول:جب متابع ہے مزاحم کہاں اس حرکت کے ساتھ خود چل رہا ہے اس کی مخالفت نہیں کرتا ہاں اپنی ذاتی حرکت سے پانی یا ہوا کو چیرتاہے اس میں جتنی معاونت ہوتی ہے ہوا کی ورنہ نہیںبالجملہ یہاں اجزاء میں تدافع نہیں تو اس میں انسان جہاں داخل ہو یا چلے ایسے مکان میں ہوگا جس پر کسی طرف سے دفع نہیں اور اس پر حرکت منتظمہ نہیں خود اس کا شریك و تابع ہے تو کسی طرف نہ معاونت
",
1176,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,344,"پائے گا نہ مقاومتیونہی اجسام اور مزعوم پر ان دلائل کی گنجائش۔
اقول:یہ کلام بروجہ تحقیق تھا کہ حرکت وضعیہ ان دلائل سے رد نہیں ہوگی مگر ہم ثابت کر آئے کہ زمین کی یہ حرکت اگر ہے تو یہ ہر گز وضعیہ نہیں بلکہ قطعی حرکت کی جدا حرکت اینیہ ہے اور حرکت اینیہ میں بے شك دفع ہی یوں یہ پانچوں دلائل بھی صحیح ہو جائیں گے۔ان کی بناء دوسرے جسم کو دفع کرنے پر ہے اور ہمارے دلائل ۸۷ تا ۸۹ کی اجزاء کے تدافع وتلاطم اور خلاف میں ہے کہ اس سے ادق و احق ہے والحمد ﷲ علی ما علم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا والہ وصحبہ وسلم۔بحمد اﷲ تعالی ایك سو پانچ۱۰۵ دلیلیں ہیں۔نوے خاص ہماری ایجاد اور پندرہ اگلوں عــــــہ۱ سےلیکن فصل اول کی پہلی اور دوم کی پچاس۵۰اور سوم کی دلیل نمبر ۸۳یہ ۵۲ دلیلیں زمین کی حرکت گردشمس اور حرکت گرد محور و دونوں کو باطل کرتی ہیںاور فصل سوم کی ۸۴تا ۱۰۵باستثناء ۹۹۱۰۰ جملہ تینتیس۳۳ خاص حرکت محوری کا رد ہیں۔اول کی آخیر گیارہ اور سوم کی ۶۳ تا ۸۲ بیس یہاور ۹۹ ۱۰۰ جملہ تینتس۳۳ خاص حرکت گردش شمس کا رد ہیں تو محور پر گردش زمین بہتر ۷۲ دلائل مردود اور آفتاب کے گرد زمین کا دورہ پچاسی۸۵دلیلوں سے باطلوﷲ الحمدوصلی اﷲ تعالی علی نبی الحمد والہ وصحبہ الاکارم الحمد امین !
(تذییل)رددیگر دلائل فلسفہ قدیمہ میں
الحمدﷲ ! ہم نے ابطال حرکت زمین پر ایك سو پانچ۱۰۵ دلائل قاہرہ قائم کیے کتب گزشتگان مثل مجسطی بطلیموس وتحریر طوسی وشرح علامہ برجندی و تذکرہ طوسی وشرح فاضل خضری وشمس بازعہ متشد جونپوری و ہدیہ فاضل خیر آبادی وغیرہا عــــــہ۲ میں بعض اور دلائل ہیں جن پر اگرچہ انہوں نے اعتماد کیا ہمارے نزدیك باطل ہیں۔
عــــــہ۱:اگلوں کے کلام میں ہم نے چوبیس۲۴ دلیلیں پائیںایك رد جاذبیت میں صحیح ہے اور ہم نے اسے تین کردیا اور تئیس۲۳ زمین کی حرکت محوری کے رد میں ان مین گیارہ محض باطل ہیںایکد فعہ دوم میں گزری اور دس تذییل میں آتی ہیںان میں دفع دوم والی اور دو آخر تذییل کییہ تین ایجادات فاضل خیر آبادی سے ہیں۔رہیں بارہ ان میں پانچ کہ یہ بھی زیادات فضلیہ میں جس شے کے ابطال کو تھیں اسے باطل نہ کرسکیں باقی سات۷ کہ ان سے اگلوں کی تھیں اور انہوں نے خود رد کردیں۔یوں تئیس کی تئیس رد ہوگئیں مگر ہم نے زیادات فضلیہ کی پانچ کو رخ بدل کر صحیح کردیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:مثل حکمۃ العین کاتبی قراوینی تلمیذ طوسی شرح حکمۃ العین میرك بخاری ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1177,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,345,"انہیں بھی مع مختصر کلام ذکر کردیں۔وباﷲ التوفیق وبہ استعین(اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے اور اسی سے میں مدد چاہتا ہوں)۔
وہ دس ۱۰ عــــــہ تعلیلیں ہیں کچھ اسی رنگ کی جو گزریں اور ہم نے ان کی تصحیح و توجیہ کیانہیں مقدم رکھیں کہ جنس مقارن جنس ہو اور کچھ خالص اصول فلسفہ قدیمہ پر مبنی جن کے شافی و کافی ابطال میں بعونہ تعالی ایك مستقل کتاب الکلمۃ الملھمہ جدا تصنیف کی یہاں پر حوالہ کافی۔واﷲ الموفق۔
تعلیل اول:دو کشتیاں برابر قوت سے چلیںایك مشرق ایك مغرب کواگر زمین متحرك اور دریا اس کا تابع ہو تو لازم کہ شرقی بہت تیز نظر آئے کہ دو حرکتوں سے جاری ہے ایك اپنی تحریك ملاح سے دوسری دریا کی حرکت ارض سے ہےاور غربی بہت آہستہ کہ صرف اپنی حرکت سے جاری ہے اور اس پر معا وقت حرکت شرقیہ دریا کا طرہ بلکہ چاہیے اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہوہوا کو بھی اسی حرکت زمین سے متحرك ماننا نفع نہ دے گا اور شناعت بڑھے گا کہ اب شرقیہ تین طاقتوں سے جارہی ہے اور غربیہ پر دو طاقتیں مزاحم ہیں۔(ہدیہ سعیدیہ)
اقول:یہ دلیل ۹۱ کا عکس ہے وہاں ہوا کو تابع زمین نہ مان کر لازم کیا تھا کہ متحرك غربی سے شرقی سے بہت سست ہے بلکہ خود بھی غربی ہوجائے یہاں دریا و ہوا کو تابع مان کر یہ لازم کرنا چاہا ہے کہ متحرك شرقی سے غربی بہت سست ہے بلکہ اس کی حرکت محسوس بھی نہ ہویہاں بھی اس پر اقتصار کرنا نہ تھا اسی طرح کہنا تھا کہ بلکہ مغرب کو جانے والی مشرق کو جاتی معلوم ہو۔
اقول:عکس چاہا مگر نہ بنااصلا وارد نہیںزمین کو اگر حرکت اور دریا و ہوا کو اس کی تبعیت ہے تو اس میں جہال و استجار اور یہ کشتیاں اور ان کے اور باہر کے تمام انسان حیوان سب یکساں شریك ہیں تو اس سے ان میں تفاو ت نہیں پڑسکتا نہ کہ اس کے امتیاز کا ان کے پاس کوئی ذریعہکشتیاں اپنی چال سے
عــــــہ:پھر شرح حکمۃ العین میں ایك اور دلیل علیل(کمزور)دیکھی جس پر اس نے دوبارہ نفی حرکت اینیہ زمین اقتصار لیا۔
قال اوتحریك من الوسط حرکتہ اینیۃ یعرض ما یعرض لو لم تکن فیہ ا ھ اقول:نعم:لولا القسرفان قلت لا یدوم اقول:اولا ممنوع و ثانیا فلم تنتف ھو بل دوامھا۱۲ منہ غفرلہ"" میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات اس وقت قابل تسلیم ہے اگر قسر نہ ہو(سوال)قسر ہمیشہ تو نہیں رہے گا۔(جواب)(۱)یہ ممنوع ہے۔ (ہوسکتا ہی قسر دائمی ہو)(۲)حرکت اینیہ سرے سے منتفی نہ ہوئی بلکہ اس کا دام منتفی ہو۔(ترجمہ عبدالحکیم اشرف القادری)
", شرح حکمۃ العین
1178,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,346,جتنا چلیں وہی محسوس ہوگابرابر رفتار سے بڑھی ہیں تو برابر فاصلے سے ایك مشرق اور دوسری مغرب کو معلوم ہوگی مثلا دریا کنارے ایك درخت کے محاذات سے چلیں اور وہیں کنارے جو کچھ لوگ کھڑے ہیں اگر صرف کشتیاں اس مشرق حرکت فی ثانیہ ۵۰۶ گز میں شریك ہوتیں اور وہ درخت و ناظرین اس سے جدا رہے اور ہر کشتی اس سیکنڈ میں مثلا ایك ایك گز چلتی تو ضرور ایك ہی سیکنڈ کے بعد دونوں کشتیوں میں دو گز کا فاصلہ ہوجاتا اور درخت دونوں سے مغرب کی طرف رہ جاتاغربی سے ۵۰۵ گز کے فصل پر اور مشرقی سے ۵۰۷ گزپر اور کنارے کے آدمی غربی کشتی کو بھی اسی تیز چال سے مشرقی کو بہتی دیکھتے کہ ایك سیکنڈ میں ۵۰۵ گز اڑ گئی نہ یہ کہ اس کی حرکت محسوس نہ ہوئی لیکن درخت و ناظرین سب اسی ایك ناؤ میں سوار ہیں جو اسی تیزی سے ان سب کو مشرق لیے جارہی ہے تو مشرقی کشتی اسی سیکنڈ میں وہاں سے ۵۰۷ گز ہٹی اور غربی ۵۰۵ گز اور درخت و ناظرین ۵۰۶ گز سب کے سب مشرق کوتو درخت و ناظرین سے مشرقی کشتی کا فاصلہ صرف ایك گز مشرق کو ہوا اور غربی کا فقط ایك گز مغرب کولہذا ناظرین کشتیوں کو دیکھنے سے دور کشتی کے سوار درخت پر نظر سے یہی سمجھیں گے کہ اس سیکنڈ میں دونوں کشتیاں ایك ایك گز برابر چلیں اور یہ کہ شرقی مشرق کو ہٹی اور غربی مغرب کو۔اس کی نظیر وہ کشتی ہے کہ مثلا مشرق کو فی ثانیہ دس ۱۰ گز کی چال جارہی ہے اور کشتی کا طول بیس گز ہے اس کے وسط کے محاذی کنارے پر ایك درخت اور کچھ ناظریں ہیں اس کے محاذات سے دو شخض کشتی کے اندر ایك چال سے فی ثانیہ پانچ گز چلے ایك مشرق ایك مغرب کودونوں برابر دو ہی سیکنڈ میں کشتی کے کناروں پر پہنچیں گے اور اگر اپنی چال پر نظر کریں گے اس میں کچھ تفاوت نہ پائیں گے اور یقینا ایك کشتی کے کنارے شرقی پر پہنچا دوسرا غربی پرتو ضرور وہ مشرق کو ہٹا یہ مغرب کولیکن باہر والے ناظرین دیکھیں گے کہ وہ جو مشرق کو چلا ان سے تیس گز کے فاصلے پر ہوگیا کہ وہ سیکنڈ میں تیس گز کشتی بڑھی اور دس گز یہاور وہ جو مغرب کو چلا ان سے غربی ہونے کے عوض وہ بھی ان سے مشرق ہی کو ہٹا مگر صرف دس۱۰ گز کہ یہ دس گز مغرب کو بڑھا اور کشتی اسے بیس گز مشرق کو لے گئی تو دراصل مشرق کو دس گز جانا ہوا تو ناظرین دونوں کو مشق میں ہٹتا پائیں گے مشرق کو تیز مغرب کو سست یونہی اندر چلنے والے اس درخت پر نظر کریں تو یہی دیکھیں گے کہ وہ دونوں سے مغرب کو رہ گیا مشرق سے تیس گز غربی سے دس گزا ور اگر ان کی چال کشتی کے برابر ہے تو ایك ہی سیکنڈ میں شرقی بیس گز مشرقی کو ہٹ جائے گا اور غربی وہیں کا وہیں نظر آئے گا۔درخت و ناظرین کی محاذات نہ چھوڑے گا کہ جتنا یہ مغرب کو بڑھتا ہے کشتی اتنا ہی اسے مشرق کو لے جاتی ہے دونوں چالیں ساقط ہو کر محاذات قائم رہی۔تو وہ جو تم چاہتے ہو یہاں کشتی نشینوں اور ناظرین سب کو محسوس ہوا اس لیے کہ ناظرین اور وہ درخت جس سے سواران کشتی نے اندازہ کیا کہ کشتی کی چال میں شریك نہ تھے بخلاف صورت سابقہ کہ اس میں ,
1179,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,347,"برابر ہیں تو کوئی ذریعئہ امتیاز نہیں کشتی کی ذاتی ہی چالیں سب کو محسوس ہوں گی وہیں تو اس کے امتیاز کے لیے وہ ناظرین ہوں جو کرہ زمین و ہوا سے باہر ہوں کہ اس کی چال میں شریك نہ ہوں یا اہل زمین کے اپنے اور اس کے لیے اسی قسم کی کوئی ساکن شے ہووہ کہاںکو اکبہ کا بعد اتنا ہے کہ کشتیوں کی یہ چالیں وہاں ایك نقطہ ہیں۔سحاب ضرور قریب ہے دو چار ہی میل اونچا ہے مگر وہ خود اسی ناؤ میں سوار ہے بذریعہ ہوا شریك رفتار ہے لہذا امتیاز معدوم اور اعتراض ساقط۔
تعلیل دوم:دو طائر تھمی ہوا میں ایك پرواز سے مشرق و مغرب کو اڑے اگر ہوا بھی زمین کے ساتھ متحرك ہے تو مشرقی بہت تیز ہوجائے اور غربی ہوا میں ٹھہرا معلوم ہو یا بہت سست اور اگر نہیں تو معلوم کہ وہ مشرق کو اڑے غرب میں پڑے۔(ہدیہ)
اقول:یہ کوئی نئی بات نہیں تعلیل سابق اور دلیل ۹۱ کو جمع کردیا ہے ہوا تابع نہ ماننے پر وہ دلیل ۹۱ ہے جو انکار تبعیت پر یقینا صحیح ہے اور ماننے پر ہی تعلیل اول ہے جو تبعیت مانو تو باطل نہ مانو تو باطل۔مانو تو اس روشن بیان سے جو ابھی سنا اور نہ مانو تو کشتیوں پر ندوں کی اپنی ذاتی حرکتیں رہ گئیںسرے سے بنائے دلیل ہی اڑ گئے۔بالجملہ یہ تعلیل علیل کو ایك شق کے ابطال سے کلیل۔
تعلیل سوم:حرکت یومیہ سب سے تیز حرکت ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جسم جتنا لطیف تر اس کی حرکت سریع تر۔ہوا اجسام ارضیہ سے بہت تیز جاتی ہے تو اس حرکت کا فلك ہی کے لیے ثابت کرنا زیادہ مناسب کہ ہوا و نار سے بھی لطیف تر ہے عــــــہ۱ (تحریر مجسطی مقالہ اولی فصل ہفتم)یہ صراحۃ نری خطابی بات ہے۔(شرح مجسطی)
اقول:اس کی نظیر ادھر سے بھی پیش ہوتی ہے کہ اتنے بڑے اجسام کے گھومنے سے چھوٹے جسم کا گھومنا آسان ہے۔(سعیدیہ)
اولا: مخالف عــــــہ۲ آسمان کا قائل ہی نہیں اور لطیف معلوم یعنی ہو ا کہ شریك حرکت مانتا ہے۔
ثانیا: فلك کے الطف ہونے پر کیا دلیل۔اگر علو کے عناصر میں دیکھ رہے ہیں کہ ہوا لطف اعلی ہے اور یہ ان سے بھی اعلی تو ان سے بھی الطف۔
اقول:یہ فلك میں میل مستقیم ماننا ہوگا۔جو فلسفئہ قدیمہ کی بنا ڈھادے گا اس کی تصریح ہے کہ
عــــــہ۱:اقول:اس کی اتنی تقریر بھی ہم نے کیاصل میں اتنی ہی ہے جو حاشیہ آئندہ میں شرح سے آتی ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۲:ان اعتراضوں سےکہ اکثر دلائل آئندہ پر بھی آئیں گے یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ تعلیل جس طرح تحقیقا صحیح نہیں یوں ہی الزامی بھی نہیں ہوسکتیں۔۱۲ منہ غفرلہ
",
1180,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,348,"فلك جب ثقیل نہ ہو خفیف بھی نہیں اگر کہیے اس کی لطافت یہ کہ نظر نہیں آتا۔
اقول:اولا:اس میں نارو ہوا بھی شریک۔ثانیا: عدم لون نظر نہ آنے کو کافی اگرچہ کتنا ہی کثیف ہو۔
ثالثا: نظر نہ آنا تمہاری جہالت ہے یہ سقف نیلگوں کہ نظر آرہی ہے یقینا فلك قمر ہے جس کا اسلامی بیان خاتمہ میں آئے گا ان شاء اﷲ تعالی پھر اصل تعلیل پر۔ثالثا ورابعا: در رد اور زیر تعلیل ششم آسان ہیں۔
تعلیل چہارم:جرم عــــــہ لطیف متشابہ الاجزایعنی فلك سے حرکت مستدیرہ کی نفی اور جسم کثیف مختلف الاجزاء یعنی ارض کے لیے اثبات خلاف طبعیات ہے۔(تحریر مجسطی)
اقول:اولا: ان کے نزدیك فلك کہاں تو نفی بنفی موضوع ہے۔
ثانیا: اجزائے زمین طبعیت میں مختلف نہیں کہ مثل فلك بسیط ہے اور امور زائد میں اختلاف جیسے جہال اربالیہ فلکیات میں بھی معلوم و مشہود کامل و مہتممات و مدار میں کواکب اور ان کی حرکات و جہات اور جب یہ ان آٹھ افلاك میں منافی بساطت نہ ہوافلك اعظم میں ہو تو کون مانع عدم علم علم عدم نہیں۔
ثالثا: کون سا طبعیات کا مسئلہ ہے کہ کثافت مانع حرکت مستدیرہ ہےغایت یہ کہ الطف انسب ہے۔تو محض خطابت ہوئی۔
رابعا: ہوا سے نفی ہوئی تو حرکت طبعیہ ارض کی قسریہ پر کیا اعتراض۔
خامسا و سادسا: زیر تعلیل ششم۔
تعلیل پنجم:فلك میں مبدء میل مستدیر ہے اور زمین میں مبدء میل مستقیم تو دونوں کی طبیعت متضاد کہ اگر زمین حرکت مستدیرہ قسری تو اس میں شریك فلك ہوجائے اور اشتراك ضدین جائز نہیں۔(تحریر مجسطی) علامہ برجندی نے شرح میں اس پر دو اعتراض کیے۔
اول:تمہارے نزدیك فلك پر خرق محال تو کیونکہ معلوم ہوا کہ اس کے اجزاء میں میل مستقیم نہیں۔
دوم:کیا محال ہے کہ اجزاء میں میل مستقیم ہے اور گل میں میل مستدیر۔
عــــــہ۱:شرح برجندی میں پہلے ہی فقرے کو ایك دلیل ٹھہرایا لطیف متشابہ الاجزاء سے نفی خلاف طبعیات ہے اور دوسرے فقرے کو دلیل سابق کا جزء ٹھہرایا کہ جرم کثیف کے لیے اثبات بیچا ہے کہ ہوا کہ فلك سے کم لطیف ہے وہ تو اجسام ارضیہ سے اشرع ہے تو حرکت مستدیرہ فلك ہی کو انسب انتہی اور اظہروہ ہے جو ہم نے کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1181,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,349,"اقول:اولا:جب تجزیہ فلك محال کی نسبت یہ پوچھنا کہ کہاں سے جانا کہ اس میں میل مستقیم نہیں کیا معنی۔
ثانیا: استحالہ خرق بربنائے استحالہ میل مستقیم ہی کہتے ہیں اور اس کا استحالہ فلك واجزاء دونوں پر ایك ہی دلیل دیتے ہیں اگرچہ وہ مبطل اور ان کے دلائل باطل کلام اس تقدیر پر ہے۔
ثالثا: جزو کل کی جب طبیعت معتد ہے جیسے زمین و کلوختو مقتضائے طبع کا انجام لازم۔علامہ عــــــہ سے ایسے اعتراضوں کا تعجب ہے صحیح اعتراض ہم بنائیں۔
فاقول:اولا: مخالف فلك ہی کا قائل نہیںاس میں مبدء میل مستدیر درکنار۔
ثانیا: نہ وہ زمین میں مبدءمیل مستقیم مانےڈھیلے کا گرانا جذب سے ہے۔
ثالثا: تمہارے نزدیك فلك کی حرکت مستدیرہ طبعی نہیں زمین میں طبعی ہو تو متضاد طبائع کا مقتضی میں اشتراك کب ہواور محال یہی ہے۔
رابعا: یہی کہ بفرض غلط باطل ہوئی تو حرکت طبعیہ قسریہ کو اشتراك سے کیا علاقہ۔
خامسا وسادسا وسابعا: عنقریب۔
تعلیل ششم:حرکت میں نئی نئی وضعیں بدلنے کو ہوتی ہےزمین کو اس کی حاجت نہیں کہ گردش فلك سے خود اس کی وضعیں بدل رہی ہیںفاضل خضر ی نے اسے نظر کرکے کہا فیہ مافیہ۔
اقول:اولا: مخالف منکر فلک۔
ثانیا: گردش فلك ناثابت۔
ثالثا: اس میں مبدمیل مستدیر ثابت۔
رابعا: بلکہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اصول فلسفہ قدیمہ پر فلك کی حرکت مستدیرہ محال۔
یہ سب باتیں و تعلیل ہماری کتاب ""الکلمۃ الملھمہ"" میں ہیں وباﷲ التوفیق یہ تینوں وجہیں تعلیل پنجم پر بھی رد ہیں اور اخیر کی دو تعلیل سوم و چہارم پر بھی۔
خامسا: حاجت نہ ہونا اس وقت ہوتا کہ فلك وارض میں اقطاب وجہت و قدر حرکت سب متحد ہوتے ان میں کسی کا اختلاف تبدل وضع میں تبدیل کردے گا زمین کو کیا ضروری کہ سب باتوں میں فلك کے
عــــــہ:یہ دونوں اعتراض ہم نےحدائق میں دیکھے تھے اور گمان تھا کہ یہ اس کی اپنی جہالت کثیرہ سے ہیں مگر شرح مجسطی سے کھلا وہ آخذ ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1182,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,350,"موافق ہی حرکت کرے اور جب کسی بات میں مخالفت کی تو ضروری حرکت فلك سے تبدیل اور طرح کی ہوگی اور حرکت ارض سے اور طور کیپھر استغناء کیوں !
سادسا: فرض کیا کہ زمین موافقت پر مجبور تو ہم دیکھتے ہیں فلك الافلاك حرکت یومیہ کررہاہے اور فلك البروج در قول ممثل متفق اقطاب وجہت ومقدر پر ایك سی حرکت ہےاگر سب سے اختلاف ضرور تو یہ آٹھوں متفق کیے اور اگر بعض سے کافی تو زمین اگر فلك الافلاك کے موافق متحرك ہو تو ان آٹھ کی مخالفت ہےان آٹھ کے موافق تو اس ایك سے پھر استغناء کیسا !
سابعا: فرض کیا کہ سب افلاك ایك سے متحرك ہوں اور زمین بھی ان کے موافق پھر بھی زمین کو حرکت سے کون مانع تھا۔وہ ذی شعور ہیں جان کر بھی اوروں کی حرکت کو کسی نے اپنے لیے کافی نہ جانازمین کو کیا خبر کہ اور بھی کوئی اسی حرکت سے متحرك ہے میں کیوں کروں۔
ثامنا: فلك ہی سے وضعیں بدلنا کیا ضرورکرہ نارا گر متحرك ہے اورہوا و آب تو ساکن ہیں ان سے وضعیں بدلیں گی۔
تاسعا: مخالف کے نزدیك زمین کی حرکت وضع بدلنے کو نہیں بلکہ جذب سے نفرت یا ہر چیز کے کسب نور و حرارت کے لیے جس کی تقریر تجزیہ ۳۳ میں گزری۔
عاشرہ:بلکہ ہم نے الکلمۃ الملھمہ کے مقام نہم میں روشن کیا ہے کہ حرکت کے لیے کوئی غرض ہی ضرور نہیں نفس کی حرکت بھی مطلوب طبع ہوسکتی ہے۔
تعلیل ہفتم:جس پر تذکرہ سے آج تك اعتماد ہوا بلکہ طوسی عــــــہ۱ پھر جونپوری نے شمس بازغہ میں ۹۰۹۱ دو صحیح دلیلوں کو رد کرکے اسی پر مدار رکھا کہ طبیعت زمین میں مبدء میل مستقیم ہے جو ڈھیلا گرنے سے ظاہر اور جس میں مبدء میل مستقیم ہونا محال ہے کہ بالطبع عــــــہ۲ حرکت مستدیرہ بری اورہدیہ میں اسے یوں تعبیر کیا گیا اس میں مبدء میل مستدیر نہیں ہوسکتا۔
اقول:یہ دلیل بھی عــــــہ۳ نہ الزامی ہوسکتی ہے نہ تحقیقی۔
عــــــہ۱:یوں ہی طوسی کے تلمیذ قزوینی نے حکمۃ العین میں دلیل ۹۸ و رد کرکے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:کاتبی مذکور نے مطلق کہا کہ اس کو حرکت مستدیرہ محال ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۳:یعنی تعلیل سوم سے ہشتم تك چاروں تعلیلوں کا بھی یہی حال تھا جیسا کہ ان کے ردوں سے ظاہر ہوا۔۱۲ منہ غفرلہ
",
1183,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,352," اولا: مخالف میل کا قائل نہیں۔
ثانیا: وہ حرکت مستدیرہ طبعی نہیں مانتا بلکہ جذب سمس و نافریت سےمقتضاء نافریت پر جاتی تو طبعی ہوتی اور بوقت جذب اس کا حدوث منافی طبیعت نہ ہوتا کہ حرکت طبعیہ حدوث منافر ہی کے وقت ہوتی ہے مگر وہ بیچ میں ہو کر نکلییہ ہر گز مقتضائے طبع نہیں۔
ثالثا: طبعیہ کا رد ہوا قسریہ سے کیا مانع۹۰ مبدء میل ایك طبعی دوسری قسری کا اجتماع جائز بلکہ واقع ہے اور پھینکا ہوا پتھر دونوں کا جامع ہے۔
تعلیل ھشتم:حرکت زمین طبعی وارادی نہ ہونا ظاہرقسری یوں نہیں ہوسکتی کہ ان کے نزدیك دائمہ ہے اور قسر کو دوام نہیں ورنہ وجوہ میں تعلیل لازم آئے۔فاضل خضری نے اسے بھی نقل کرکے فیہ ما فیہ کہا اور علامہ برجندی نے شرح مجسطی میں یوں تفصیل کی:طبعیہ نہیں ہوسکتی کہ میل مستقیم رکھتی ہے نہ ارادیہ کہ ارادہ کا نفس ہے اور عناصر سے نفس متعلق نہیں ہوتا مگر بعد ترکیب نہ قسریہ کہ ان کے نزدیك ازلی ہے اور قسری کا ازلی ہونا محالطبیعات میں ان سب پر براہین ہیں اور عرضیہ نہ ہونا ظاہرتو زمین کو کسی طرح حرکت مستدیرہ نہیں۔پھر کہا یہ برہان تام ہے۔
اقول:اولا: نفی طبیعیہ کی اس وجہ پر کلام گزراہاں ایك اور وجہ ہے جس پر کلام ہماری کتاب الکلمۃ الملھمۃ میں ہے۔
ثانیا: زمین کا ذات ارادہ نہ ہونا فریقین کو مسلم ورنہ قبل ترکیب تعلق نفس کا امتناع ممنوع۔
ثالثا: ہیئت جدیدہ قائل حدوث زمین ہے جیسا کہ یہی حق ہے تو قضیہ دائمہ نہیں فعلیہ ہے۔
رابعا: باطل ہوئی تو ازلیت نہ کہ حرکت۔
خامسا: ہمارے نزدیك یہ مقدمہ کہ قسر ازلی نہیںیوں حق ہے کہ ازل میں کوئی شے قابل مقسوریت ہورہی نہیں ہوسکتی کہ عالم بجمیع اجزائیہ حادث ہے فلسفہ اس پر کیا دلیل رکھتا اس کے رد میں ہماری کتاب الکلمۃ الملمتہ کا مقام دواز دہم ہے۔
تعلیل نہم:ان کے نزدیك یہ حرکت غیر متناہیہ ہے تو قوت جسمانی سے اس کا صدور محال۔خضری نے اسےقرب کہا۔
اقول:اولا:حرکت کا ابطال نہ ہوا بلکہ لامتناہی ہے۔
ثانیا وہ ضرور اسے حادث ابدی غیر منقطع اور قاسر کو قوت جسمانی یعنی جذب شمس ہی مانتے ہیں تو دلیل اگرچہ تحقیقی ہوتی کہ حرکت منقطعہ بارا وہ الہیہ کا استحالہ ثابت نہ کرتی مگر الزامی تھی۔",
1184,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,353,"رسالہ
الکلمۃ الملھمۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوھاء الفلسفۃ المشئمۃ ۱۳۳۸ھ
(مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ وکفی وسلم علی عبادہ الذین اصطفی آﷲ خیر اما یشرکون بل اﷲ خیر واعلی واجل واکرم اعوذ باﷲ من نزغات الفلسفۃ فما ھوالافل وسفہ قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی غفراﷲ تعالی لہ ما مضی من سیئاتہ وما یأتی۔ سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور بساور سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پرکیا اﷲ بہتر ہے یا ان کے ساختہ شریکبلکہ اﷲ ہی بہتر سب سے بلند اور جلالت و کرم والا ہے میں اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں فلسفہ کے وسوسوں سے وہ تو محض بے عقلی اور حماقت ہے۔کہتا ہے فقیر عبدالمصطفی احمد رضاسنی حنفی قادری برکاتی۔اﷲ تعالی اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت فرما۔
بعونہ تعالی فقیر نے رد فلسفہ جدیدہ میں ایك مبسوط کتاب مسمی بنام تاریخی ",
1185,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,354,فوزمبین دررد حرکت زمین لکھی جس میں ایك سو پانچ ۱۰۵ دلائل سے حرکت زمین باطل کیاور جاذبیت و نافریت و غیرھما مزعومات فلسفہ جدیدہ پروہ روشن رد کیے جن کے مطالعہ سے ہر ذی انصاف پر بحمدہ تعالی آفتاب سے زیادہ روشن ہوجائے کہ فلسفہ جدیدہ کو اصلا عقل سے مس نہیںاس کی فصل سوم میں ایك تذئیل لکھی جس میں وہ دس دلائل ذکر کیےکہ فلسفہ قدیمہ نے رد حرکت زمین پر دئیے۔ہم نے ان کا ابطال کیا۔کہ یہ دلائل باطل و زائل ہیںان میں سے تعلیل پنجم یہ تھی فلك میں میل مستدیر ہے تو زمین میں نہ ہوگا کہ طبیعت متضاد ہے۔ہفتم یہ کہ زمین میں مبدء میل مستقیم ہے تو مبدء میل مستدیر محالہشتم یہ تھی کہ زمین کا دورہ طبعا وارادۃ نہ ہونا ظاہر اور قسر کو دوام نہیںنہم یہ کہ حرکت زمین ماننے والوں کے نزدیك یہ حرکت نامتناہی ہے تو قوت جسمانی سے اس کا صدور محال۔دہم یہ کہ طبیعیات میں ثابت ہے کہ حرکت وضعیہ نہ ہوگی مگر ارادیہاور زمین ذات ارادہ نہیں۔ان کے رد نے اصول فلسفہ قدیمہ کے ازہاق وابطال کا دروازہ کھولا۔ہم نے تیس مقام ان کے رد میں لکھے جن سے بعونہ تعالی تمام فلسفہ قدیمہ کی نسبت روشن ہوگیا کہ فلسفہ جدیدہ کی طرح بازیچہ اطفال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔یہ تذییل ان مقامات جلیل کے سبب بہت طویل ہوگئی اور اس کی فصل چہارم دور جا پڑی۔ولد اعز ابوالبرکات محی الدین جیلانی آل الرحمن معروف بہ مولوی مصطفی رضا خان سلمہ الملك المنان وابقاہ والی معالی کمالات الدین والدنیا رقاہ کی رائے ہوئی کہ ان مقامات کو رد فلسفہ قدیمہ میں مستقل کتاب کیا جائے کہ اگرچہ دم الاخوین یکجا نہ ہو۔ایك کتاب رد فلسفہ جدیدہ میں رہے۔ دوسری رد فلسفہ قدیمہ میںاور مقاصد فوزمبین میں اجنبی سے فصل طویل نہ ہو۔یہ رائے فقیر کو پسند آئیوہ کتاب کامل النصاف بعون الملك الوہاب یہ ہے مسمی بنام تاریخی۔الکلمۃ الملھمۃ فی الحکمۃ لوھاء فلسفۃ المشئمۃ مسلمان طلباء پر دونوں کتابوں کا بغور بالاستیعاب مطالعہ اہم ضروریات سے ہے کہ دونوں فلسفہ مزخرفہ کی شناعتوں جہالتوںسفاہتوںضلالتوںپر مطلع رہیں۔اور بعونہ تعالی عقائد حقہ اسلامیہ سے ان کے قدم متزلزل نہ ہوں۔فقیر کا درس بحمدہ تعالی تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوااس کے بعد چند سال تك طلباء کو پڑھایا۔فلسفہ جدیدہ سے تو کوئی تعلق ہی نہ تھا۔علوم ریاضیہ و ہندسہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع تفریق ضرب تقسیم کے چار قاعدے کہ بہت بچپن میں اس غرض سے سیکھے تھے کہ فرائض میں کام آئیں گے اور صرف شکل اول تحریر اقلیدس کی وبس۔جس دن یہ شکل حضرت اقدس حجۃ اﷲ فی الارضین معجزۃ من معجزات سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین خاتمۃ المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی۔ ارشاد فرمایا تم اپنے علوم دینیہ کیطرف متوجہ رہو ,
1186,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,355," ان علوم کو خود حل کرلوگے۔اﷲ عزوجل اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے۔حسب ارشاد سامی بعونہ تعالی فقیر نے حساب و جبرو مقابلہ ولوگار ثم و علم مربعاتوعلم مثلث کروی و علم ہیئت قدیمہ وہیأت جدیدہ و زیجات وارثما طیقی وغیرہا میں تصنیفات فائقہ و تحریرات رائقہ لکھیں اور صدہا قواعد و ضوابط خود ایجاد کیے۔تحدثا بنعمۃ اﷲ یہ بحمداﷲ تعالی اس ارشاد اقدس کی تصدیق تھی کہ ان کو خود حل کرلوگے۔فلسفہ قدیمہ کی دو چار کتابیں مطابق درس نظامی اعلیحضرت قدس سرہ الشریف سے پڑھیں اور چند روز طلبہ کو پڑھائیںمگر بحمد اﷲ تعالی روز اول سے طبیعت اس کی ضلالتوں سے دور اور اس کی ظلمتوں سے نفور تھی۔سرکار ابد قرار بارگاہ عالم پناہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ سے دو خدمتیں اس خانہ زاد ہچکارہ کے سپرد ہوئیںافتاء اور رد وہابیہانہوں نے مشغلہ تدریس بھی چھڑایا اور آج ۴۵ برس سے زائد ہوئے کہ بحمداﷲ تعالی فلسفہ کیطرف رخ نہ کیا نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا۔اب اخیر عمر میں سرکار نے اپنے کرم بے پایاں کا صدقہ بندہ عاجز سے یہ خدمت لی کہ دونوں فلسفوں کا رد کرے اور ان کی قباحتوںشناعتوںحماقتوںضلالتوں پر اپنے دینی بھائیوں طلبہ علم کو اطلاع دے ناظرین والا تمکین اہل انصاف لادین سے امید کہ حسب عادت متفلسفہ لم ولا نسلم وانکار واضحات و تشکیك بے ثبات وفارغ مجادلات کو کام میں نہ لائیںان کے اجلہ اکابر ماہرین ابن سینا سے جو نپوری مصنف شمس بازغہ تك کون ایسا گزرا ہے جس پر رد و طرد نہ ہوتے رہےفلسفہ مزخرفہ کا شیوہ ہی یہ ہے کہ
ہر کہ آمد عمارتے نو ساخت رفت و منزل بدیگر ے پرداخت
(جو بھی آیا اس نے نئی عمار ت بنائیچلا گیا اور عمارت دوسرے کے حوالے کردی۔ت)
یہ چند اوراق تو اس کے قلم کے ہیں جس نے ابتدا ہی سے فلسفہ کو سخت مکروہ جانا اور صرف دو چار کتابیں درس میں پڑھ کر دو ایك بار پڑھا کر جو چھوڑ اتو ۴۵ سال سے زائد ہوئے کہ اس کا نام نہ لیا لغو و فضول ابحاث کی حاجت نہیںبنگاہ ایمانی اصل مقاصد کو دیکھئے۔اگر حق پائیے تو ابن سینا اور اس کے احزاب کی بات زبردستی بنانے کی ضرورت نہیں۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل و حسبنا اﷲ و نعم الوکیل۔ اور اﷲ تعالی کی توفیق کے سبب ہی گناہوں سے بچاؤ ہوسکتا ہےاور اﷲ حق فرماتا ہےاور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہےاور ہمارے لیے اﷲ ہی کافی ہےاور کیا ہی اچھا کارساز ہے(ت)
", گلستان سعدی درسبب تالیف مکتبہ اویسیہ بہاولپور ص ۱۳
1187,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,356,"اس کی تقریب یوں ہوئی ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ کو ولداعزہ مولنا مولوی محمد ظفر الدین بہاری اعلی مدرس عالیہ شہسرام جعلہ اﷲ کا سمہ ظفر الدین نے ایك سوال بھیجا کہ امریکہ کے کسی مہندس نے دعوی کیا ہے کہ ۱۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کو اجتماع سیارات کے سبب آفتاب میں اتنا بڑا داغ پڑے گا کہ اس کے باعث زلزلے آئیں گے۔طوفان شدید آئے گاممالك برباد کردیئے جائیں گے۔یہ ہوگا وہ ہوگاغرض قیامت کا نمونہ بتایا تھا یہ صحیح ہے یا غلط اس کا جواب چند ورق پر دے دیا گیا کہ یہ محض اباطیل بے اصل ہیں نہ وہ اجتماع سیارات اس تاریخ کو ہوگا جس کا وہ مدعی ہےنہ جاذبیت کوئی حقیقت رکھتی ہے اس کے ضمن میں بعض دلائل رد حرکت زمین کے لکھے جب انہیں طویل ہوتا دیکھا جدا کرلیے اور رد فلسفہ جدیدہ میں بعونہ تعالی کا فل وکافل کتاب فوزمبین لکھی اس کی تذلیل نے رد فلسفہ قدیمہ کی تقریب کی جسے اس سے جدا کرکے بحمدہ تعالی یہ کتاب الکلمۃ الملھمۃ تیار ہوئی۔
والحمدﷲ رب العلمین اب ہم ان مقامات عالیہ کو ذکر کریں وباﷲ التوفیق و بہ الوصول الی ذری التحقیق(اور توفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے اور اسی کے ذریعے تحقیق کی چوٹیوں تك رسائی ہوسکتی ہے۔(ت)
مقام اول
اﷲ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند یہ مقدمہ نظر ایمانی میں تو آپ ہی ضروری و بدیہی۔
"" و یفعل اللہ ما یشاء ﴿۲۷﴾"" "" فعال لما یرید ﴿۱۶﴾"" اور اﷲ جو چاہے کرےجب جو چاہے کرےاختیار اسی کو ہے۔(ت)
یوں ہی عقل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کو دیکھ رہا ہے کہ دو متساویوں میں بے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کرلیتا ہے۔ دو جام یکساں ایك صورت ایك نظافت کے دونوں میں ایك سا پانی بھرا ہو۔اس سے ایك قرب پر رکھے ہوں۔یہ پینا چاہے ان میں سے جسے جی چاہے اٹھالے گا۔ایك مطلوب تك دو راستے بالکل برابر ویکساں ہوں جسے چاہے چلے گا۔ایك سے دو کپڑے ہوں جسے چاہے پہنے گا۔پھر اس فعال لما یرید کے ارادہ کا کیا کہنا۔
اقول:(میں کہتا ہوںت)یہاں سے ظاہر ہوا کہ محال ترجیح بلا مرجح ہےدو متساویوں
"," القرآن الکریم ۱۴/ ۲۷
القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷
"
1188,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,357,"میں سے ایك خود ہی راجح ہوجائے یہ یہاں نہیں کہ نفس ارادہ مرجح ہے اور ترجیح بلا مرجح میں مصدر اگر صرافت مصدریت پر ہو یا مبنی للفاعل تو ہر گز محال نہیںبداہۃ واقع ہےہاں مبنی للمفعول ہو تو محال کہ وہی ترجیح بلا مرجح ہے۔فلسفی اس کے فاعل مختار ہونے سے کفر و انکار رکھتا ہے مگر الحمد ﷲ کہ افلاك و کواکب اور ان کی حرکات نے اپنے خالق عزوجل کا مختار مطلق ہونا روشن کردیا اور خود فلسفی کے ہاتھوں فلسفی کے منہ میں پتھر دے دیافلسفہ کا ادعاء ہے کہ۔
(۱)افلاك بسیط میں ہر فلك کی طبیعت ۱واحد۲مادہ واحد ہےاگرچہ باہم افلاك کے طبائع و مواد مختلف ہیں۔
(۲)طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں ایك ہی فعل نسق واحدہ پر کرسکتی ہے۔اختلاف ممکن نہیں ولہذا ہر بسیط کی شکل طبعی کرہ ہے کہ وہی نسق واحد پر ہے بخلاف مثلث مربع وغیرہ کہ ان میں کہیں سطح ہے کہیں خط کہیں نقطہیونہی اور اختلاف بھی سبب ہے کہ پانی کی جو بوند گرے آگ کا جوپھول اڑے اس کی شکل کروی ہوتی ہے۔
(۳)فاعل عــــــہ دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں کرسکتا کہ اس کی نسبت سب طرف
عــــــہ:متفلسف جونپوری نے اپنی ظلمت نازغہ مسمے ظلما شمس بازغہ کی فصل حیز میں کہا۔
وجود الجسم بدون فاعل وان کان غیر ممکن لکن نسبۃ الفاعل الی جمیع الاحیاز علی السواء فلا یمکن تعیین الحیز منہ مالم یمکن لطبیعۃ الجسم خصوصیۃ معہ ۔ جسم کا وجود بغیر فاعل کے اگرچہ ناممکن ہے لیکن فاعل کی نسبت چونکہ تمام حیزوں کی طرف برابر ہے لہذا کسی خاص حیز کے ساتھ فاعل کی طرف سے جسم کی تعیین ممکن نہیں جب تك طبیعت جسم کو اس حیز کے ساتھ کوئی خصوصیت حاصل نہ ہو۔(ت)
دیکھو کیسا صاف کہا کہ خالق کو قدرت نہیں کہ جسم کو کسی خاص حیز میں پیدا کرسکے جب تك طبیعت ہی کو اس حیز سے کوئی خصوصیت نہ ہو۔
"" کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ "" ۱۲۔منہ غفرلہ یونہی مہر کردیتا ہے اﷲ تعالی متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (ت)
"," الشمس البازغہ،فصل وبالحری ان یبین ان کل مالا یمکن خلوالجسم عنہ الخ مطبع علوی لکھنو ۱۳۹
القرآن الکریم ۴۰/۳۵
"
1189,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,358,"برابر ہےاگر ترجیح دے بلا مرجح ہو اور یہ محال ہے۔
فلسفہ ذو سفہ اپنے یہ تینوں ادعاء یاد رکھے اور اب افلاك میں خود اپنے بتائے ہوئے اختلافات کی چارہ جوئی کرے ہم اولا ہر فلك کی شکل و حرکت وجہت اور پرزے اور ان کی حرکتیں اور جہتیں سنائیںپھر سوالات گنائیں۔
امر عام:تو یہ ہے کہ ہر فلك کرہ مجوفہ ہے جس میں محدب و مقعر دو سطحیں ایك فلك دوسرے کے جوف میں ہے اور سب سے نیچے فلك قمر کے پیٹ میں چاروں عناصر فلك اطلس سب سے اوپر اور اس کی حرکت سب سے سریع تر ہے مرکز عالم پر مشرق سے مغرب کو چلتا اور ایك رات دن بلکہ ۲۴ گھنٹے سے بھی ۳ منٹ ۵۶ سیکنڈ کم میں دورہ پورا کرتا ہے۔قطبین شمالی اور جنوبی اس کے قطب ہیں اور معدل النہار جس کی سطح میں خط استواء واقع ہے اسی کا منطقہ یہ فلك تمام افلاك زیرین کو بھی اپنے ساتھ ساتھ گھماتا ہے۔طلوع وغروب جملہ کواکب اسی وجہ سے ہے۔اس میں کوئی ستارہ یا پرزہ نہیں۔
اقول:نہیں کہنا جزاف ہے یہ کہیں کہ معلوم نہیںکیا استحالہ ہے کہ اس میں کچھ کواکب ہوں کہ بوجہ شدت بعد نظر نہ آتے ہوں بلکہ کیا دلیل ہے کہ انہی کواکب مشہودہ سے بعض فلك اعظم میں نہیں بلکہ کہکشاں اور نثرہ اور کف الخضیف کے پیچھے اور ان کے سوا جہاں جہاں سحابی شکلیں ہیں ان میں صریح احتمال ہے کہ یہ ستارے تمام ثوابت سے اوپر ہوں کہ بوجہ بعد منظر و قرب باہم ان کے اجرام متمیز نہ ہوتے ہوں ایك چمکیلی سطح ابر سفید کی شکل میں نظر آتی ہو۔
فلك ثوابت:اس کا مرکز اس سے متحد ہے مگر قطب قطبین عالم سے ۲۳ درجے ۲۷ دقیقہ جدا ہیں اس کی حرکت مغرب سے مشرق کو ہےیہ بائیس ہزار برس میں بھی ایك دورہ پورا نہیں کرتا اور اگلوں کے خیال میں تو ۳۶ ہزار برس میں اس کا دورہ تھا تمام ثوابت رنگارنگ مختلف اقدار کے اسی میں ہیںساتویں آسمان کے ممثلات مرکز واقطاب وجہت حرکت وقدر سرعت سب میں اسی کے موافق ہیں اس لیے ان کو ممثلات کہتے ہیں کہ ان باتوں میں فلك البروج کے مماثل ہیں اس فلك میں کواکب کے سوا اور کوئی پرزہ نہیں۔
اقول:ضرور ہیں اور ہزاروں ہیں ثوابت کی چال باہم مختلف مرصود ہوئی ہے زیج اجد میں بیاسی ثوابت کی چال منضبط کی ہے کوئی ۶۳ برس میں ایك درجہ طے کرتا ہے جیسے عرقوب الرامیکوئی ۶۴ میں جیسے نسر واقع کوئی ۶۵ میں جیسے رکبۃ الرامیکوئی ۶۶ میں جیسے سہیل یمانی نسرطائر جدی الفرقہکوئی ۶۷ میں جیسے نیر الفبلکہیوں ہی فی درجہ ۸۲ برس تك اختلاف ہے جب ایك درجہ میں ۱۹ برس کا تفاوت ہے تو پورے دورے میں تقریبا سات ہزار برس کا
",
1190,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,359,"فرق ہوگا۔تو ضرور سب کی جدا تدویریں ہیں جن کی چالیں مختلف۔
فلك زحل:اس میں پانچ پرزے مختلف الشکل ہیں ا ء ممثل مرکز ر پر ہے کہ مرکز عالم ہے۔اس کے ثخن میں ح ب سطح حامل مرکزہ پر ہے کہ مرکز عالم سے جدا ہے ان دونوں کے محدب و مقعر متوازی ہیں ا کا متوازی ء ہے اور ب کا متوازی حلاجرم اس حامل کے سبب مثل میں دو کلیاں بچیں جن میں ہر ایك کا دل مختلف ہےاوپر کی کلی ا ب نقطہ آ ء ح ی پر پتلی اور پھر ل تك چوڑی ہوتی گئی ہے اسے متمم حاوی کہتے ہیں اور نیجے کی کلی ج ء نقطہ حضیض ك پر پتلی او ر پھر م تك چوڑی ہوتی گئی ہے ثخن حامل ح ب میں ح تدویر ہے یعنی ایك مستقل کرہ کہ ان سطحوں کی طرح زمین کو شامل نہیںاور ایك کنارے کا جوف ہے اس جوف میں ط کوکب مثل زحل مرکز ہے متمم حاوی و محوی کی چال جہت و قدر و مرکزوقطب میں وہی ممثل کی چال ہے ہر روز ۸ ثالثے کہ اس کے محدب و مقعر انہیں میں ہیں اور حامل کی ہر روز دو دقیقے ۳۵ ثالثے تدویر کی ۵۷قہ دقیقے ۷ ثانئے ۴۴ ثالثے۔
فلك مشتری:سب باتوں میں مثل فلك زحل ہے مگر حامل ہر روز چار دقیقے ۵۹ ثانئے ۱۶ ثالثے تدویر ۵۴ دقیقے ۹ ثانئے ۳ ثالثے۔
فلك مریخ:حامل ۳۱ دقیقے ۲۶ ثانئے۴۰ ثالثے تدویر۲۷ دقیقے ۴۱ ثانیے ۴۰ ثالثے باقی سب باتوں میں بدستور۔
فلك شمس:اس میں چار پرزے ہیںشکل وہی ہے جو گزریصرف یہاں تدویر کی جگہ شمس سمجھو حامل کو یہاں خارج المرکز کہتے ہیںاس کی چال روزانہ ۲۹ دقیقے ۸ ثانیے ۱۲ ثالثے۔باقی بدستور۔
فلك زہرہ:سابق کی طرح پانچ پرزےحامل کی چال مثل خارج شمس تدویر ۳۶ دقیقے ۵۹ ثانئے ۲۹ ثالثے باقی اسی طرح۔
فلك عطارد:سات پرزے ہے۔
",
1191,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,360,"
ا ل ممثل مرکز ر پر مرکز عالم ہے ا م مدیر مرکزی پر اس کا متمم حاویب ح محویل ما ھ حامل مرکز ك پر اس کا متمم حاوی ح ء محوی م ھ ا ھ حامل کے اندر ح تدویر اس کے اندر ط عطارد ممثل بدستور حامل ایك درجہ ۵۸ دقیقے ۱۶ ثانئے ۳۲ ثالثے مدیر مثل خارج شمس تدویر ۳ درجے ۶ دقیقے ۲۴ ثانیے ۷ ثالثے۔
فلك قمر:چھ پرزے ہیں ا ط ممثل مرکز ر پرب ح جو زہرہ ح مائل نیز مرکز پرمتمم حاوی ء ج محوی ط ی۔ہ ء حامل مرکز ك پرح تدویر ط قمر ممثل بدستور۔
جو زہر ۳ دقیقے ۱۰ ثانئے۳۷ ثالثے مائل ۱۱ درجے ۹ دقیقے ۷ ثانئے ۴۳ ثالثے حامل ۲۴ درجے ۲۲ دقیقے ۵۳ ثانئے ۲۲ ثالثے تدویر ۱۳ درجے ۳ دقیقے ۵۳ ثانئے ۵۶ ثالثےیہ تمام حرکات
",
1192,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,361,"مثل منطقۃ البروج مغرب سے مشرق کو ہیں مگر مدیر عطارد جو زہرو مائل قمر کہ تینوں مثل اطلس مشرق سے مغرب کو اور تمام تدویروں کا نصف بالا مثل منطقہ ہے مگر قمر میں مثل اطلسمتاخرین نے خمسہ متحیرہ و قمر کے افلاك میں چودہ پرزے اور مانے ہیں جن کی تفصیل شروح تذکرہ میں ہے۔
سوالات
(۱)اقول:مادہ واحدہ میں طبیعت واحدہ کا فعل واحد تو اس کا مقتضی تھا کہ افلاك مثل زمین کرہ مصمۃ بے جوف بنتے کہ ایك ہی سطح رکھتےدیکھو پانی کے قطرے اور آگ کے پھول ایسے ہی نکلتے ہیں نہ کہ اندر سے خالی جوف کا اقتضاء طبع بسیط نے کس بناء پر کیا جس سے محدب و مقعر دوسطحیں متبائن بالنوع پیدا ہوئیںبڑی سطوح مستدیرہ فلاسفہ کے نزدیك مختلف بالنوع ہیں جیسے مستوی و مستدیر کہ ایك کا دوسرے پر انطباق ناممکن اگر کہیے بنتا تو یہی مگر جوف میں اور اجسام کا ہونا مانع آیا۔
اقول:یہ مانع خارج سے ہے تو قسر ہواایك تو افلاك پرقسر لازم آیا دوسرے اس کا دواماگر کہیے وہ مادہ جس میں طبیعت نے فعل کیا یہیں ملا۔
اقول:مادہ متحیز بالذات نہیں لباس صورت کے بعد متحیز ہوگا۔اور صورت بے شکل موجود نہیں ہوسکتی۔کمانص علیہ ابن سینا فی الارشارات(جیسا کہ ابن سینا نے اشارات(جیسا کہ ابن سینا نے اشارات میں اس پر نص کی ہے۔ت)اور یہاں فعل ایجاد شکل کے لیے ہے تو اس وقت تحیز ہیولی کہاںاگر کہیے مادہ میں اسی کھکل شکل کی قابلیت تھی۔
اقول:اولا:مادہ باعتبار اشکال لوح مادہ ہے ہر نقش کی قابلیت رکھتا ہے وہ قابلیت ہرگونہ اتصال و انفصال ہی کے لیے مانا گیا ہے اور شك نہیں کہ ان کے ورود سے ہر طرح کی مختلف شکلیں پیدا ہوں گی فلك پر کہ استحالہ خرق والتیام کے مدعی ہیں وہ جہت مادہ سے نہیں بلکہ تجدید جہت سے۔
ثانیا: مادے میں کسی شکل خاص کا اقتضا باقی سے آیا ہو تو فلاسفہ کا مدعا کہ ہر جسم کی ایك شکل طبعی ہے جیسا کہ مقام پنجم میں آتا ہے مردود ہوجائے گا وہاں انہوں نے خود تصریح کی ہے کہ خصوصیت شکل جانب مادہ مستند نہیں ہوسکتی۔
",
1193,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,362,"(۲)فلک تو بسیط ہے ہر جہت سے اسے یکساں نسبت ہے پھر کس نے تخصیص کی کہ اطس مشرق سے مغرب کو گھومے یا ممثلات مغرب سے مشرق کو۔اس کا جواب سفہاء نے تین مہمل تحکمات سے دیا۔
(ا)ہر فلك کا مادہ اسی طرف حرکت کو قبول کرتا ہے۔
(ب)سافلات سے ان کے تعلقات اسی سے حاصل ہوتے ہیں۔
(ج)ہر فلك اپنے مبداء مفارق کا عاشق اور اپنے معشوق سے تشبیہ چاہتا ہے وہ یونہی ملتا ہے۔
اقول:اولا:یہ بداہۃ نرے تحکم ہیںجہت میں کیا خصوصیت ہے کہ مادہ اسی کو قبول کرےدوسرے سے ابانہ سافلات سے تعلق یا مفارقات سے تشبیہ کسی جہت خاص پر موقوفومن ادعی فعلیہ البیان(جس نے دعوی کیا دلیل اس کے ذمہ ہے۔ت)
ثانیا: کتنا صریح جھوٹ ہے کہ ہر فلك کا مادہ اسی کا قابلسفہاء نے افلاك کلیہ کو دیکھا انہیں مختلف بالمادہ مان چکے ہیں سمجھے کہ نجات پائیہر فلك کے افلاك جزئیہ کو دیکھیں۔فلك شمس میں دو حرکتیں ہیں ممثل و خارج کیفلك علویات و زہرہ میں تین تین ممثل و حامل و تدویر کی فلك عطارد میں چارتین یہ اور ایك مدیر کی فلك قمر میں پانچتین وہ اور جو زہر و مائل کیبلکہ ہر ایك میں ایك ایك حرکت زائد ہے کہ کوکب خود بھی حرکت وضعیہ رکھتا ہے اور ان سب کی قدر مختلف ہے جیسا کہ گزرا۔اور فلك زیریں میں اختلاف جہت بھی عطارد میں مدیر مغرب کو جاتا ہے باقی مشر ق کواور قمر میں ممثل و حامل مشرق کو جاتے ہیں باقی مغرب کواور شك نہیں کہ مادہ واحد ہےوہ اگر ایك ہی کو قبول کرتا ہے دوسری کدھر سے آئی۔یونہی تعلق و تشبہ کے لیے مختلف راہیں لینا کیونکرحالانکہ سب پرزوں سے ایك ہی نفس متعلق اور قابل بھی واحدپھر اختلاف یعنی چہ۔
ثالثا: کیا فارق ہے کہ اطلس کا تعلق و تشبہ حرکت شرقیہ ہی سے ہوسکا غربیہ سے ناممکن تھا۔اور باقی آٹھ کا غربیہ ہی سے بن پڑا شرقیہ سے محال تھا۔
رابعا: افلاك عقول کے کسی امر مشترك میں تشبہ چاہتے ہیںیا ہر فلك اپنے معشوق کے امر خاص میںبرتقدیر اول اسے وجہ تخصیص ٹھہرانا کیسا جہل ہے۔برتقدیر ثانی واجب تھا کہ ہر فلك کی
"," مواقف وموقف رابع اول فصل دوم قسم اول مقصد دوم ۱۲ منہ غفرلہ۔
مثل صدرا وغیرہ ۱۲منہ۔
"
1194,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,363,"حرکت نئی طرز کی ہوتیخصوصا اس حالت میں کہ فلاسفہ کے نزدیك ہر عقل دوسری سے متباین بالنوع ہےلیکن ہم دیکھتے ہیں کہ صرف فلك اطلس کی حرکت جدا ہے باقی آٹھوں افلاك کلیہ اقطاب و محاورو مناطق و جہت و قدر حرکت سب میں متوافق ہیں۔یہ تشبہ کیسا تبین حرکت میں مفارقات سے تشبہ یہ بگھارتے ہیں کہ مفارقات کے لیے سب کمالات ممکنہ بالفعل ہیں افلاك سب اوضاع ممکنہ کو دفعۃ حاصل نہیں کرسکتے کہ ان کا اجتماع محالناچارگھوم گھوم کر وضعیں بدلتے ہیں کہ سب احوال ممکنہ حاصل تو ہوجائیں اگرچہ علی وجہ التعاقب۔
اقول:اولا: یہ تخصیص جہت وغیرہ کا مبطل ہے کہ تبدل اوضاع ہر گو نہ حرکت سے حاصل۔
ثانیا: وہاں کمالات بالفعل تھے تبدل وضع کیا کمال ہے محض لغو حرکت ہے تو حاصل یہ ہوا کہ معشوق میں کمالات جمع ہیں عاشق لغویات اکٹھے کرتے یہ تشبیہ ہوا یا تمسخر۔
ثالثا: فرض کر دم کہ تبدیل وضع سے فلك کو کمالات حاصل ہوتے ہیں تو وہ ہر وضع حاصل کو معا ترك کرتا ہے تو ایك جہت سے اگر تحصیل کمالات ہے معا دوسری جہت سے ابطال کمالاتتو حرکت سے ہر آن میں اگر ایك وجہ سے تشبہ ہے معا دوسری وجہ سے تبایندونوں متعارض ہو کر ساقط ہوئے اور حرکت نہ ہوئی مگر لغو حرکت۔
رابعا:ہر دورے میں جن اوضاع کو چھوڑا انہیں کھائی ہوئی کھوئیوں ہی کو پھر دہراتا ہے۔اگر اس قدر اوضاع تبدل سے تشبہ حاصل ہوتا ہے تو ایك دورہ ختم کرکے تھم جانا واجب تھا کہ حرکت مقصود بالعرض ہوتی ہے جس غرض کے لیے تھی وہ مل گئی اب دہرانا حماقت بلکہ معشو ق سے تباین محض کہ حصول بالفعل کا تشبہ حاصل ہوچکا۔اب تجدد و تغیر نرا تباین رہ گیا اور اگر ان سے تشبہ نہیں ہوتا تو ہر بار وہی تو ہیں اب کیوں حاصل ہوجائے گا۔نا محصل تشبہ کیا دوسری دفعہ میں محصل ہوجائے گا اول تو یہ خود باطلاور بالفرض ہو بھی تو دوبارہ سے غرض حاصل ہوگئی۔اب تھمنا واجب تھا
خامسا:قطع نظر اس سے کہ نا محصل کبھی خود محصل کیونکر ہوجائے گا۔سوال یہ ہے کہ اس سرگردانی سے غرض تشبہ کبھی حاصل ہوسکتی ہے یا کبھی نہیں اگر کبھی نہیں تو یہاں کوئی کمال ثانی نہیں جس کے لحاظ سے یہ حرکت کمال اول ہو کہ جو ممتنع الحصول ہے اس کا کمال نہیں ہوسکتا اور حرکت نہیں مگر کمال اول تو حرکت باطل ہوئی۔اور اگر ہاں ایك وقت وہ آئے گا کہ یہ مقصد حاصل
",
1195,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,364,"ہوجائے گا تو اسی وقت حرکت کا انقطاع واجب اور کوئی حرکت منقطعہ حرکت فلك نہیں کہ کوئی حرکت فلك منقطعہ نہیںبالجملہ یا تو یہ حرکت ہی نہیں یا حرکت ہے تو حرکت فلك نہیں۔بہرحال حرکت فلك باطل۔
سادسا: مفارقات تجدد و تغیر سے بری ہیں تو ان سے تشبہ سکون و قرار میں تھا نہ کہ ہمیشہ کی سرگردانی و تغیر و بے قراری میں۔
سابعا: مانا کہ یوں بھی کوئی تشبہ ملتا تو سکون سے یہ تشبہ حاصل کیا مرجح ہوا کہ اس تشبہ کو چھوڑ کر اسے لیا۔
ثامنا: بلکہ تشبہ بالسکون ابتدا خود فلك کو ملتا کہ تغیر سے جدا رہا اور حرکت میں اسے اصالۃ تشبہ نہیں کہ اس کی اپنی ذاتی وضع نہ بدلی بلکہ اجزائے موہومہ کی جن کا وجود خارج میں محال کہ خرق جائز نہیں مانتے تو یہ تشبہ اصالۃ ان موہومات ناممکنہ کو ہوا نہ کہ فلك کواور وہ فلك کو بھی ہوتا اور ان موہومات کو بھیتو وہی راجح تھا۔یہ ترجیح مرجوح ہوئی۔اس کی تحقیق مقام پنجم میں آتی ہے ان شاء اللہ۔
تاسعا: اسے لیا بھی تھا تو ایك ہی تشبہ کا دائما التزام اور دوسرے سے ہمیشہ انحراف کیا معنیکبھی یہ ہوتا کبھی وہ کہ جملہ وجوہ تشبہ حاصل ہوتے۔
عاشرا: یہی تشبہ لیا سہی قطبین کا التزام غرض مقصود کے سخت منافی ہوا کہ ایك ہی قسم کا تبدل اوضاع حاصل ہوا واجب تھا کہ ہر دورہ نئے قطبین پر ہوتا کہ حتی الوسع استیعاب وضع ہوتا۔تلك عشرۃ کاملۃ(یہ پوری دس ہیں۔ت)
(۳)عــــــہ۱ وضعیہ کے لیے تعیین قطبین ضروراور فلك پر ہر دو نقطے قطبین بن سکتے ہیں۔
اقول:جو عظیمہ لیجئے اس کے دو متقاطر نقطے قطبین ہوسکتے اور ایك عظیمہ میں غیر متناہی نقاط ممکناور سطح فلك پر غیر متناہی عظیمے ممکنتو یہ غیر متناہی دس غیر متناہی سے ایك کی تخصیص کیونکر ہوئی۔اس عــــــہ۲ کا جواب دیا گیا کہ یہ تخصیص فلك کے نفس منطبعہ سے ہے۔
عــــــہ۱:مواقف محل مذکور ۱۲ منہ
عــــــہ۲:یہ جواب سوال ۲ سے بھی ہےجونپوری نے منطبعہ کی قید نہ لگائیبلکہ اس بحث میں کہ ہر جسم میں میل ضرور ہےتخصیص قطبین و منطقہ کا چاك رفو کرنے کو کہاممکن کہ نفس شاعرہ فلك نے یہ (باقی اگلے صفحہ پر)
",
1196,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,365,"اقول:نفس کے فعل کو استعداد مادہ درکار یا وہ بطور خود اپنے ارادے سے جسے چاہے تخصیص کردے۔علی الثانی مسئلہ فیصل اور ہمارا مطلب حاصل جب فلك کا نفس اور وہ بھی منطبعہ محض اپنے ارادے سے تخصیص کرتا ہے تو اﷲ عزوجل سب سے اعزو اعلی ہےفمالکم لاتؤمنون(تمہیں کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے ہو۔ت)برتقدیر اول یہ استعداد یہیں تھی یا تمام سطح فلك میں اول اختلاف مادہ ہے اور دوم وہی آش درکاسہ کہ ترجیح بلا مرجح لازم طوسی عــــــہ نے اور بڑھ کر کہی کہ دلیل بتاچکی کہ فلك قابل حرکت مستدیرہ ہے تو ضرور اس میں مبدء میل مستدیر ہے تو ضرور وہ متحرك بالاستدارہ ہے تو قطبین وجہت و قدرو حرکت کی تخصیص ضرور کسی وجہ سے ہوئیو ہمیں نہ معلوم۔ان شاء اﷲ تعالی
(رد)اولا اقول:قابلیت استدارہ کی قلعی عنقریب مقام ۱۶ میں کھل جائے گی۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ترجیح کسی وجہ سے کی ہوجس کا جاننا ہمیں کیا ضرور۔
اقول:جواب تو ابھی سنو گے مگر تف ہے ان کے ادعائے علم و حکمت پر کہ فلك پر یہ اعتقاد رکھیں اور خالق افلاك عزجلالہ کے حق میں اس اعتقاد کو حرام جانیں وہاں نہیں کہتے کہ وہ جو چاہے کرے اس کی حکمتیں وہی جانےاگر کوئی مرجح ہی ضرور ہے تو اس کے علم میں ہوگا ہمیں اس کا جانناکیا ضرور۔یوں کہو تو عامہ ظلمات فلسفہ خبیثہ سے نجات ہی نہ پاؤنہیں نہیں وہاں تویہ کہو گے جو مقام پنجم میں آتا ہے کہ فاعل اپنی طرف سے تخصیص نہیں کرسکتا۔اسی مستشرق جونپوری نے لا یمکن منہ کہا ہے۔
ان لھم ولادعائھم العقل فضلا من ادعائھم الاسلام
عــــــہ:نقلہ السیالکوتی فی حاشیۃ شرح المواقف ۱۲ منہ۔ ان کا دعوی عقل ہی صحیح نہیں چہ جائیکہ دعوی اسلام(ت)
اس کو سیالکوٹی نے شرح مواقف کے حاشیہ میں نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
",
1197,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,366,"ثانیا: مبدء میل ہونا مستلزم حرکت نہیں مانع سے تخلف ہوسکتا ہے۔(سید شریف)
اقول:نیز عدم شرط سےدیکھو زمین اور ہاتھ پر اٹھائے ہوئے پتھر میں مبدء میل ہے اور حرکت نہیں۔سیالکوٹی نے کہا حرکت مستدیرہ سے مانع صرف میل مستقیم ہے وہ افلاك میں نہیں۔
اقول:دونوں مقدمے غلط ہیں۔
(۱)ہم ثابت کریں گے کہ فلك پر قصر جائز۔
(۲)ثابت کریں گے کہ اس میں میل مستقیم ہے۔
(۳)مناط حرکت کمال ثانی ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ وہ یہاں مقصود۔
ثالثا اقول:تخصیص قطبین و قدر وجہت مادہ کرے گا یا صورۃ جسمیہ یا نوعیہ یا فاعل اجنبی ان پانچ میں حصر قطعی ہے اور پانچوں باطلاول وسوم بوجہ بساطۃدوم و چہارم بوجہ استوائے نسبتپنجم بلکہ چہارم بھی بوجہ لزوم قسرجب اس شق کا بطلان نامعلوم تخصیص یقینا معدومپھر اس کہنے کے کیا معنی کہ ضرور کسی وجہ سے ہوئی۔
رابعا اقول:مناظرہ میں معارضہ کا دروازہ ہی بند کردیا ہر معارضہ پر مستدل یہی کہہ دے گا کہ میں مدعا دلیل سے ثابت کرچکا یہ استحالہ جو تم بتاتے ہو کسی وجہ سے ضرور مندفع ہے گو ہمیں نہ معلوم ہویہ ہے منطق میں ان کا عمر گنوانا۔
(۳)اقول:فلك اطلس کے لیے یہ قدر حرکت کہ ۲۳ گھنٹے ۵۶ دقیقے ۴ ثانئے ۵ ثالثے ۲۶ رابعے میں دورہ پورا کرے کسی نے معین کیاگر کہیے فلك کی حرکت ارادیہ ہے اس نے اتنا ہی ارادہ کیا۔
اقول:یہ ترجیح بلا مرجح ہے کہ اس کا مقصود تبدل اوضاع تھا وہ ہر قدر حرکت سے حاصل تھا۔نہیں نہیں ترجیح مرجوح ہےکہ حرکت وصول الی المطلوب کے لیے مقصود بالعرض ہے اگر بلا حرکت وصول ہوسکتا حرکت نہ ہوتی اور مقصود جس قدر جلد حاصل ہو بہترتو واجب تھا کہ اس سے سریع تر حرکت چاہتا اس قدر کا ارادہ قصد مقصود میں تعویق ہے اگر کہیے یوں تو ہر اسرع سے اسرع متصور ہے۔تو جو مقدار اختیار کرتا اس پر یہی سوال ہوتا کہ اس سے اسرع کیوں نہ کی۔
اقول:ضرور ہوتا اور تمہیں اس سے مفر نہ تھا اس سوال کا انقطاع بے اس کے ناممکن نفس ارادہ کو مخصص ومرجح مانیں اور اس میں تمام فلسفہ کی عمارت زائل اور ہمارا مقصود حاصل
",
1198,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,367,"اگر کہیے زمانہ ایك مقدار معین ہے اور وہ اسی قدر حرکت اطلس سے حاصل کم و بیش ہو تو زمانہ بدل جائے۔
اقول:کیوں الٹے چلتے ہو زمانہ تو اسی کی مقدار حرکت ہے۔اس کی تعیین تو اسی کی حرکت سے ہوئی نہ کہ اس کی حرکت کی تجدید اس سے کرو اس کی حرکت کم و بیش ہوتی تو زمانہ آپ ہی کم بیش ہوتا اور کچھ حرج نہ تھا۔
(۵)اقول:یہی سوال ہر فلك کی حرکت پر ہے وہاں زمانے کا بدلنا بھی نہیں۔
(۶)اقول:تقاطع معدل و منطقہ پر کون حامل ہےکیا انطباق ناممکن تھا۔
(۷)اقول:ہوا تو اسی مقدارپر کیوں ہوااگر یہ مقدار محفوظ ہے جیسا کہ اگلوں کا خیال تھا جتنا تبدل ہر صدی پر ہوتا ہے جیسا اب سمجھا جاتا ہے۔اس سے کم زیادہ کیوں نہ ہوا۔اس خاص کو اس نے معین کیاوجہ تعیین کیا ہےمادی یا طبیعت کو ا ن خصوصیات سے کیا خصوصیت ہے اور بفرض غلط اطلس یا ثامن کے مادے یا طبیعت کو ایك صورت سے اختصاص ہو بھی تو دوسرے کے مادے یا طبیعت کو اس سے کیوں اختصاص ہواحالانکہ دونوں کے مادے بھی مختلف اور طبیعت بھی۔
(۸)اقول:یہ دونوں نقطے معدل سے شخصی ہیں انہیں نقاط کی کس نے تخصیص کی اور نقطوں پر کیوں نہ ہوا۔
(۹)اقول:فلك ثوابت کا مادہ واحد طبیعت واحد پھر اتنے حصے سادہ رہے اتنے حصے ستارے ہوگئے اس کی کیا وجہ۔
(۱۰)اقول:جو حصے ستارے ہوئے کیا سادہ نہیں رہ سکتے تھے جو سادے پھر ستارے نہیں ہوسکتے تھے پھر تعین کس نے کی کہ یہی سادہ رہیں وہی ستارے ہوں۔
(۱۱)اقول:پھر ستارے جن جن مواضع پر ہیں ان کی تعین کہاں سے آئی مثلا شعری یمانی کی جگہ شامیشامی کی جگہ یمانینسرطائر کی جگہ واقعواقع کی جگہ طائر کیوں نہ ہوا۔یونہی ہر کوکب تمام باقی کے ساتھ تو یہ سوال کہ درون سوال ہے۔
(۱۲ و ۱۳)اقول:پھر ان کی قدریں مختلف کیوں ہوئیں اور ہر کوکب کے ساتھ اس کی قدر کس نے خاص کی۔
(۱۴)اقول:کو اکب کو حرکت کل کے علاوہ حرکات خاصہ کیوں ہوئیںباقی حصوں کو کیونکر نہ ہوئیں۔
",
1199,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,368,"(۱۵)اقول:ستارے ذی لون ہوئے کہ نظر آئیں باقی حصے بے لون رہے کہ نظر نہیں آسکتے یہ اختلاف کس نے دیا۔
(۱۶)اقول:ستارے خود لون میں مختلف ہیں۔یہ تفاوت کدھر سے آیا۔
(۱۷ تا ۲۴)اقول:۷ سے ۱۴ تك آٹھوں سوال ساتوں سیاروں پر بھی وارد ہیں۔
(۲۵)اقول:ایك ہی فلك کے پرزوں کو مختلف حرکت کس نے دی۔
(۲۶)اقول:فلك عطارد وقمر میں ان کی جہت کس نے مختلف کی۔
(۲۷)اقول:ہر ستارہ اپنی تدویر کے جس حصہ میں ہے اسی میں کیوں ہوا دوسرے میں کیوں نہ ہوا۔
(۲۸)اقول:ہر حاصل اور اس کے دونوں متمموں کے مخصوص دل میں جن سے کمی بیشی غیر متناہی وجوہ پر ممکن ہےحامل جتنا چوڑا ہوتا متمم پتلے ہوتے وبالعکس اس خاص دل کی تعیین کس نے کیتو کہیے عامل کی تردید جتنی بڑی ہے اتنا ہی اس کا دل ہونا ضروری ہے۔
اقول:اولا: اتنا ہی ہونا کیا ضرور اس سے بڑا ہونا کیا محذورجیسے فلك ثوابت کا دل ایك ہے اور اس میں چھوٹے بڑے ستارے سب ہیں۔
ثانیا: یہ سوال خود آتا ہے کہ تدویر وں کا اتنا بڑا ہونا ہی کس نے لازم کیا اس سے چھوٹی یا کیوں نہ ہوئیں۔
(۲۹)ہر متمم میں ایك طرف رقت ایك طرف غفلت ہے۔طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں یہ مختلف افعال کیسے کئے (مواقف)اور جب سخن میں اختلاف جائز شکل میں کیوں منع تو کیا ضرور ہے کہ بسیط کی شکل کروی ہو۔(شرح مواقف)اس سے جواب دیا گیا کہ فعل واحد سے یہ مراد کہ دو فعل مختلف بالنوع نہ ہوں جیسے کوئی شکل مضلع مثل مثلت یا مربع ہو تو اس میں سطح اور خطا اور نقطہ اور زاویہ نکلے گا اور یہ سب انواع مختلفہ ہیںیہ مراد نہیں کہ اصلا اختلاف نہ ہو متموں کے ثخن کا اختلاف فعل کو دو نوع کردے گا۔علامہ سید شریف قدس سرہنے اس جواب کو مقرر رکھا۔
اقول:اولا: اگر صرف اختلاف نوعی ممنوع تو بسیط کی شکل بیضوی یا عدسی یا شلجمی ہونے میں کیا حرجان میں بھی کوئی خط یا نقطہ یا زاویہ نہ ہوگا ایك ہی سطح ہوگی اختلاف قطر نہیں مگر اختلاف ثخن سے جسے مان چکے کہ فعل کو دو نوع نہ کرے گا تو بسیط کی شکل کروی بھی ہونا باطل ہوا اور یہ تمام ہیئات و فلکیات کو باطل کردے گا تو ثابت ہوا کہ مجرد ثخن یا قطر یا قدر میں اختلاف بھی طبیعت
",
1200,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,369,"واحدہ سے مادہ واحدہ میں محال ہے۔
ثانیا: کلام ترجیح بلا مرجح میں ہے اس کے لیے اختلاف نوع کیا ضرور ایك نوع کی دو مساوی فردوں میں ایك کے اختیار کو کوئی مرجح درکاروہ نہ بسیط کا مادہ ہوسکتا ہے نہ طبیعت نہ فاعل کہ اس کی نسبت سب طرف برابر ہے تومتمم حاوی کی رقت جانب اوج اور غلظت جانب حضیض اور محوی کی بالعکس نیز حسب سوال ۲۸ ہر ایك کا یہ معین دل کس طرح ہوا۔
ثالثا: ہر متمم میں دو مستدیر سطحیں چھوٹی بڑی پیدا ہوں گی وہ بتصریح فلاسفہ مختلف بالنوع ہیں۔
رابعا: یہ فلاسفہ اپنی ہیأت میں ہر متمم کی انتہاء ایك نقطہ پر بتاتے ہیں کہ حاوی میں اوج اور محوی میں حضیض ہے تو ہر ایك میں ایك نقطہ اور ایك سطح پیدا ہوئی یہ متباین انواع ہیں۔
خامسا: شکل مثلث میں طبیعت کو چار مستوی مثلث سطحیں بنانی پڑیں گی اور مربع میں ۶ مربعمثلث خواہ مربع سطحیں آپس میں متحد بالنوع ہیں خطوط و نقاط و زوایا طبیعت کو بنانے نہ ہوں گے وہ نہایت ابعادو تلاقی نہایات سے خود ہی پیدا ہوجائیں گے پھر بسیط کی شکل طبعی مضلع ہونی کیا دشوا ر۔
سادسا: اب ایك اور ترجیح بلا مرجح گلے پڑی۔جب طبیعت بسیط کی شکل بیضی عدسی شلجمی کروی مثلث مربع مخمس حتی کہ متمموں کی طرح ہیات مسطحہ میں گویا ہلالی سب انداز کی بناسکتی ہے توبا وصف اتحاد مادہ و شمول قابلیت ایك کا اختیار اسے روا نہیں تو بسیط کا بننا ہی محال ہوا الحق فاعل مختار کو چھوڑنے والے زمین و آسمان میں کہیں مفر نہیں پاسکتے۔وﷲ الحجۃ البالغۃ۔
سابعا: سب درکنار کرہ مجوف و بے خوف تو طبیعت کے بنائے ہوئے دونوں موجود ہیں۔آٹھ مصمت ۳۵ مجوف اگر اسے دونوں کا اختیار توفاعل مختار پر ایمان سے کیوں انکاراور اگر وہ ایك ہی طرح کا چاہتی تھی ممانعت خارج سے ہوئی تو قسر کا دوام لازم فلکیات پر قسم لازم۔
(۳۰)ہر تدویراتنی ہی بڑی کیوں ہوئی کم و بیش کیوں نہ ہوسکی۔(مواقف)اگر کہیے حامل اتنا ہی دل رکھتا تھا۔
اقول:اولا: اس کا اتنا ہی دل کس نے لازم کیا۔
ثانیا: کیا ضرور کہ تدویر حامل کے مقعر و محدب کو بھردے کیوں نہ بیچ میں خواہ ایك کنارے پر
",
1201,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,370,"اس قدر سے چھوٹی رہے جیسے فلك البروج میں چھوٹے ستارے۔
(۳۱)تدویریں حاملوں میں جس جس جگہ ہیں اس کی تخصیص کس نے کی ہر جگہ ہوسکتی تھیں۔
(۳۲)سرے سے طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں یہ کلیان پرزے حاملوں میں یہ غار جن میں تدویریں ہیں تدویروں میں یہ غار جن میں کواکب ہیں کیونکر بنائے یہ مختلف افعال کدھر سے آئے(مواقف وغیرہ)اس کے چار جواب ہوئے۔
(ا)سب سے بالا سب سے نرالا فلسفہ کے گھر کا پورا اجالا کہ کہاں جھگڑے کے لیے پھرتے ہو یہ حامل خارج تدویریں ستارے سیارے چاند سورج سب نرے فرضی اوہام ہیں حقیقت میں ان کا کچھ وجود نہیں۔آسمان نرے ہموار سپاٹ ہیںنہ کوئی پرزہ نہ ستارہانصاف کیجئے اس سے بڑھ کر اور کیا جواب ہوسکتا۔جونپوری بیچارہ اسے نقل کرکے اس کے سوا اور کیا کہے لا ازید علی الحکایۃ (میں حکایت پر کچھ اضافہ نہیں کرتا۔ت)یعنی رویش ببیں حالش مپرس(یعنی اسکا چہرہ دیکھ اور اس کا حال مت پوچھ ت۔)اس عناد کو دیکھئے کہ عقل اور آنکھوں سب کو رخصت کردینا منظور مگر فاعل مختار عزجلالہپر ایمان لانا کسی طرح قبول نہیںاصل جواب یہی تھاباقی تینوں جوابوں نے فاعل مختار مان لیا مگر جحود و انکار برقرار ان کی سنئے۔
(ب)یہ اختلافات جیسے قابل کی طرف سے ہوسکتے ہیںیونہی فاعل کی طرف سے یہاں جانب قابل سے تو ناممکن کہ مادہ بسیط ہے فاعل کی طرف سے ہونے میں کیا حرج ہے۔(طوسی)
افسوس مجبوری سب کچھ کراتی ہے فاعل حسب استعداد کرے گا یا اپنا استبداد اول مفقود اور ثانی ہمارا عین مقصوداب تمام فلسفہ مزخرفہ باطل و مردودلاجرم جونپوری سے نہ رہا گیا صاف کہہ دیا کہ طوسی نے ایك گھر بنادیا اور سارا شہر ڈھادیا فلسفے کی کثیر چولیں اوکس عــــــہ گئیں۔
(ج)یہ اختلاف یہ ہے کہ جرم فلك کے بعض حصوں پر جدا جدا صور نوعیہ فائض ہوئیں اور بعض نے ستارے بعض نے تدویروں کے غار اور تدویروں میں غار خود ہی ہوا چاہیں اور حامل و خارج غیر مرکز پر تھے تو متمموں کی کلیاں آپ ہی ضرورۃ پیدا ہوئیں ایضا طوسی)ناظرین دیکھتے ہیں کال تو اب بھی نہ کٹا۔
عــــــہ: بمعنی انقص ۱۲ الجیلانی
",
1202,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,371,"اولا: جب مادے میں مختلف استعداد نہیں مختلف صورتوں کا فیضان کس طرح ہوا۔
ثانیا:اقول:پھر مادہ متشابہ میں سے ہر ٹکڑا ایك صورت نوعیہ کے لیے کس نے خاص کیا ہر صورت اور ٹکڑے پر کیوں نہ فائض ہوئی اس کا پھر وہی جواب ہوا کہ یہ فاعل کی طرف سے ہے-(سید شریف)اور اس پر وہی رد ہے جو جواب ب پر گزرا۔علامہ سید قدس سرہ سنی مسلمان ہیں اور ان کے قلب و قلم نے اسے بخوشی قبول فرمالیا۔طوسی بھی اسلام کا دم بھرتا ہے اس کے قلم سے نکل گیا اور اس وقت فلسفہ کی بربادی کی طرف دھیان نہ گیا۔فلسفیوں اور جونپوری کے دل سے پوچھو کہ آرے چل گئے۔
قدبنی قصراوھدم مصرا وبطل الدلیل وانثم اصول کثیرۃ۔ تحقیق اس نے محل بنایا اور شہر کو گرایا۔دلیل باطل ہوگئی اور بہت سے اصول کمزور ہوگئے۔(ت)
(د)جو نپوری نے ان سب جوابوں کو رد کردیا اور اقرار کردیا کہ یہ سوالات بہت ٹیڑھی کھیر ہیں اور یہ کہ فکریں ان کے حل میں حیران ہیں اور یہ کہ ان سے جس جس طرح فلسفیوں نے جان چھڑانی چاہی زیادہ زیادہ دم پر بن آئی اور کچھ بنائے نہ بنی۔اچھا جونپوری صاحب ! تم تو فلسفہ کے سپوت ہو تو پورے نضج کے بعد اپچے ہو تمہیں کچھ بولوتو کہتا ہے میرا علم قاصر ہے اور ایك میں کیا طاقت بشری یہاں فائز ہے پھر بھی اتنا کہتا ہوں کہ فلکیات کثیر کرے مختلف مادوں کے ہیں خالق کی عنایت اس کی مقتضی ہوئی کہ ان میں بعض بعض کے جوف میں ہوں اور بعض بعض کے ثخن میںاور جو ثخن میں ہوں ان میں کچھ مرکز محیط کو شامل ہوں کچھ نہ ہوں۔ناچار آپ ہی ان میں غار اور کلیاں ہوئیں اگر عنایت ازلی اس کی خواستگار نہ ہوتی تو سب زمین کی طرح بے خوف ہوتے جس طرح ان کے جوف دار ہونے سے قوت فعل میں تکثر نہ ہوا یونہی ان غاروں اور کلیوں سے نہ ہوگا۔فقط اتنا چاہیے کہ سب کی سطح کروی ہو بساطت فلك سے قوم یعنی فلاسفہ کی یہ مراد نہیں کہ ان میں ستارے اور پرزے نہیں بلکہ یا تو یہ مراد ہے کہ جیسے موالید میں عناصر کسرو انکسار پا کر مزاج حاصل کرتے ہیں فلك ایسا نہیں یا یہ کہ سارا فلك تو بسیط نہیں بلکہ ستارے حامل خارج تدویر متمم ان میں ہر پرزے بسیط ہےانتہی۔
اقول:عجز کی شامت دیکھی کیا کیا انکھی بلواتی ہے۔
اولا: تمام کتابوں میں دھوم ہے کہ افلاك بسیط ہیںافلاك بسیط ہیں اب ان کی بساطت کو استعفاء دیا جاتا ہےکہ قوم کی یہ مراد ہے کہ وہ تو بسیط نہیں پرزے بسیط ہیں
ثانیا: مزاج نہ سہی اجزاء تو ہیںوہ ایك طبیعت کے ہیں یا مختلف علی الاول یہ اختلاف کیسےعلی الثانی بساطت کہاں۔
",
1203,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,372,"ثالثا:جوف دار ہونے کا منافی کثرت فعل نہ ہونا ایسا بیان کیا گویا وہ مسلم ہے حالانکہ اس پر بھی وہی رد ہے۔ہم نے آغاز کلام اسی سے کیا۔ہاں اتنا فائدہ ہوا کہ وہ جو ہم نے کہا تھا کہ طبیعت کا اپنا اقتضاء جوف نہ ہونا ہے وہ جونپور ی نے صاف مان لیا اور ہمارے اعتراض کو اور مستحکم کردیا۔
رابعا: ہاں عنایت الہی نے کیا جو کچھ کیا یہ مختلف اجزاء کی نسبت مختلف عنایات پھر عنایات کی تعیین مقادیر کی تعیین مواضع کی تعیین وغیرہ وغیرہ سب بپابندی استعداد ہیں یا بطور استبداد اول کہاں بسیط مادے میں اختلاف استعداد کیسااور ثانی وہی فاعل مختار پر ایمان ہوا۔طوسی نے سارے فلسفے کا شہر ڈھادیا تم نے کون سی اینٹ سلامت رکھی۔بات وہی ہوئی کہ یہ تخصیصیں فاعل کی طرف سے ہیں تین بیسی اور ساٹھ ناك کہاں کہ یوں ہائے مجبوری وائے مجبوری اﷲ اللہ۔اﷲ عزوجل کو فاعل مختار ماننا وہ سخت ناگوار ہے کہ ہچکیاں لودم توڑ و ان کہیاں بولو مگر اس پر ایمان محال دل سے مان بھی چکےزبان چبا چبا کر کہہ بھی چکے مگر اقرار ناممکن کہ فلسفہ کا سارا شہر ڈھے جائے گا۔
"" وجحدوا بہا و استیقنتہا انفسہم ظلما و علوا "" اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر سے۔(ت)
خامسا جونپوری وہی تو ہے جس نے فصل حیز میں کہا کہ فاعل تخصیص نہیں کرسکتا جب تك طبیعت کو خصوصیت نہ ہو۔اب وہی فاعل یہ بے شمار تخصیصیں بے خصوصیت طبیعت کیسے کررہا ہے۔
نے فروعت محکم آمد نے اصول شرم بادت از خدا و از رسول
(نہ تیری فروع مستحکم ہیں اور نہ ہی اصولتجھے اﷲ و رسول سے شرم آنی چاہیے۔ت)
جل و علا وصلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلمبالجملہ روشن ہوا کہ بغیر فاعل مختار کے زمین و آسمان کا کوئی نظام بن سکتا ہی نہیں اور اس کی سطوت وہ قاہر ہے جس نے منکروں سے بھی قبولوا چھوڑا۔
والحمد ﷲ رب العلمین oوخسر ھنالك المبطلون oوقیل بعدا للقوم الظالمین oاف لکم ولما تعبدون من دون اﷲ بھتم وتھتم ثم لاتؤمنون و اور سب خوبیاں اﷲ کو جو سارے جہانوں کا رب ہے اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ تف ہے تم پر اور ان بتوں پرجن کو تم اﷲ کے سو اپوجتے ہو۔تم لاجواب ہوگئے اور فضول باتوں میں مشغول
", القرآن الکریم ۲۷/۱۴
1204,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,373,"تعترفون ثم لا تنصرفون ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوھاب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد و الہ وصحبہ بغیر حساب۔آمین ہوگئے تو پھر ایمان نہیں لاتے ہو۔اور اعتراف کرتے ہو پھر باز نہیں آتے ہو۔اے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دیاور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشك تو ہی بڑا دینے والا ہے۔
اور درود نازل فرما ہمارے آقا ومولی محمد مصطفی پرآپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر بغیر حساب کےاے اﷲ ! ہماری دعا قبول فرما۔(ت)
مقام دوم
اﷲ واحد قہار ایك اکیلا خالق جملہ عالم ہےخالقیت میں عقول وغیرہا کوئی نہ اس کا شریك نہ تخلیق میں واسطہ "" ہل من خلق غیر اللہ"" (کیا اﷲ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہےت)بحمد اﷲ تعالی فاعل کا مختار ہونا آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا مگر فلاسفہ اور ان کے فضلہ خوار اس خلاق علیم کو صرف ایك شے عقل اول کا موجد جانتے ہیں باقی تمام جہان کی خالقیت عقول کے سر منڈھتے ہیں وہ تو عقل اول بنا کر معاذ اﷲ معطل ہوگیا۔عقل اول نے عقل ثانی و فلك تاسع بنائے عقل ثانی نے عقل ثالث و فلك ثامنیوں ہر عقل ایك عقل اور ایك فلك بناتی آئی یہاں تك کہ عقل تاسع نے عقل عاشر و فلك قمر بنائے پھر عقل عاشر نے ساری دنیا گھڑ ڈالی اور ہمیشہ گھڑتی رہے گی اسی لیے اسے عقل فعال کہتے ہیں تو کہیں وہ بے دین یہ نہ سمجھیں کہ اس کا مختار ہونا ثابت ہوا حاشا یا عالم میں کوئی نہ فاعل موجب نہ فاعل مختارفاعل مطلق و فاعل مختار ایك اﷲ واحد قہاریہ مسئلہ بھی نگاہ ایمان میں بدیہیات سے ہے۔اور عقل سلیم خود حاکم کہ ممکن آ پ اپنے وجود میں محتاج ہے دوسرے پر کیا افاضہ وجود کرےدو حرف مختصر اس پر بھی لکھ دیں کہ راہ ایمان سے یہ کانٹا بھی باذنہ عزوجل صاف ہوجائے۔یہاں ابلیس نے فلاسفہ کی راہ یہ سمجھا کر ماری کہ جو واحد محض ہو جہاں تعدد جہات بھی نہ ہو اس سے ایك ہی شیئ صادر ہوسکتی دوسری کسی شیئ کا اس سے صدور محال اور واجب تعالی ایسا ہی واحد ہے لہذا وہ صرف عقل اول بنا سکا باقی ہیچ۔وہ خبثاء اپنے اس مطلب پر
", القرآن الکریم ۳۵/ ۳
1205,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,374," دلیل عــــــہ لائے جس کے رد میں ہمارے اکثر متکلمین مصروف ہوئےاور لمولا نسلم(کیوں اور ہم نہیں مانتے ت)کا سلسلہ بڑھا حالانکہ اس دعوی و دلیل کو ہاتھ لگانے کی اصلا حاجت نہ تھی وہ ہمیں نہ کچھ مضر تھا نہ ان مشرکین کو اصلا کچھ نافع جیسے قہار واحد کے بارے میں ا ن کا دعوی اور اس پر ان کی دلیل ہے۔مولی عزوجل اپنی خالقیت میں اس سے منزہ و متعالی ہے تو اس دعوی سے نہ خالقیت دیگر اشیاء اس سے مسلوب ہوسکتی ہیں نہ کسی دوسرے کے لیے ہر گز ثابتقریب تر راہ وہ ہے کہ انہیں کی جوتی انہیں کا سر ہوخبثاء سے پوچھا گیا کہ عقل اول بھی تو ایك ہی چیز ہے اس سے دو بلکہ چار بلکہ ابن سینا کے ظاہر کلام پر پانچ کیسے صادر ہوئے۔عقل ثانی اور فلك تاسع کا مادہ اور اس کی صورت اور اس کا نفس مجردہ اور نفس منطبعہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ وہ اگرچہ اپنی ذات میں واحد ہے مگر جہات و اعتبارات رکھتی ہے اب مضطرب ہوئے بعض نے دو جہتیں رکھیں امکان ذاتی اور وجوب بالغیر ان دو جہتوں سے فلك وعقل اس سے صادرہوئے۔بعض چرچے کہ فکل میں نرا جسم ہی تو نہیں نفس بھی ہے تو دوجہتیں کیا کافی ہوں گی انہوں نے تیسری اور بڑھائی وجود فی نفسہ بعض اور چونکے اب بھی بس نہیں جسم فلك میں دو جوہر دھرے ہوئے ہیں۔ہیولی و صورت انہوں نے چوتھی اضافہ کی اس کا اپنے موجد کو جاننابعض نے شاید یہ خیال کیا کہ ابھی نفس منطبعہ رہ گیا انھوں نے پانچویں زیادہ کی کہ عقل کا اپنے آپ کو جاننا اس پر ہماری طرف سے کھلا اعتراض ہے کہ سفیہو ایسے جہات کیا مبدا اول میں نہیں اس کا وجوب ہے وجود ہے اپنی ذات کریم کو جاننا ہے اپنے ہر غیر کو جاننا ہے بے شمار سلب ہیں کہ نہ جوہر ہے نہ عرض نہ مرکب نہ متجزی نہ جسم نہ جسمانی نہ مکانی نہ زمانی نہنہنہالی آخرہخبثاء کا صریح ظلم کہ عقل میں جہات لے کر اسے تو موجد متعدد اشیاء مانیں اور یہاں محال جانیںیہ حاصل ہے اس سہل وصاف راستے کا جو ہماری طرف سے چلا گیا مناسب ہے کہ ہم بتوفیقہ تعالی اس کی توضیح و تفصیل و تتمیم و تکمیل اور سفہائے فلاسفہ کی تسفیہ و تجہیل پھر حقیقت واقعہ کی تبیین وتسجیل کرکے بعونہ عزوجل آخر میں وہ ظاہر کریں جو شاید آج تك ظاہر نہ کیا گیا یعنی یہ کہ فلاسفہ کا دعوی الواحد لایصدر عنہ الاالواحد خود ہی فرض محال و تناقض و جنون ہے۔
عــــــہ:ہم بتوفیقہ تعالی اس دلیل پر بھی ایك نہایت مختصر و کافی کلام کردیں گے نہ اس لیے کہ اس پر کلام کی حاجت بلکہ اس لیے کہ اس سے بعونہ تعالی ایك فائدہ جلیلہ مسئلہ صفات الہیہ میں روشن ہوگا جس میں رائیں مضطرب و متحیر ہیں۔وباﷲ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1206,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,375,"وباﷲ التوفیق۔
اولا اقول:عقل اول میں ایك جہت او زچ رہی وہ اس کا تشخص اس جہت سے ایجاد کیوں نہ کیا۔کیا مفارقت میں بخل ہے۔
ثانیا اقول:فلاسفہ نے اسی دلیل میں کہا ہے کہ جب ایك سے دو صادر ہوں تو دونوں عــــــہ
عــــــہ:علت میں ایك خصوصیت ضرور جس کے سبب وہ معلول ہیں موثر ہو وہی مصدریت سے مراد ہےنہ معنی اضافیوہ خصوصیت عین ذات علت ہے اگر نفس ذات موثر ہے ورنہ کوئی حالت اور ہر معلول کے لیے علت میں خصوصیت جدا گانہ لازم اب اگر واحد کا معلول واحد ہو تو مصدریت سے اس میں تعددلازم نہیںجب نفس ذات علت ہے تو مصدریت عین ذات ہے لیکن جب دوہوں تو اگر نفس ذات کسی کی علت نہیں تو دونوں مصدریتیں ورنہ جس کے لیے نہیں اس کی مصدریت ذات پر زائد ہوئی اور ضرور ہے کہ وہ مصدریت ذات ہی سے صادر ہو کہ واحد کو علت مانا ہے نہ کہ جزء علت اب اس کے صدور میں کلام ہوگا۔اور غیر متناہی مصدریتیں لازماور وہ دو حاصروں میں محصورواحد اور اس کا یہ معلول یہ وہ غایت تو جیہ ہے جو دلیل فلسفی کی کی گئی۔
اقول:اولا: سب ایرادوں سے قطع نظر ہو تو موضوع قضیہ یعنی واحد محض اب بھی محال ہوگیا اور محال سے واحد کا صدور جائز ماننا صریح جہل ہےمانا کہ مصدریت عین ذات ہو مگر فرق اعتباری قطعا حاصلذات من حیث الخصوصیۃ یقینا ذات من حیث ھی ھی نہیں تو دو جہتیں اب یہی حاصل اور واحد محض کہ نفس ذات کے سوا کچھ نہ ہو نہ رہا فافھم۔
ثانیا فائدہ جلیلہ:اقو ل:وباﷲ التوفیق۔(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔(ت)ذات میں جو کچھ زائد بر ذات ہوکیا ضرور کہ صادر از ذات ہو یعنی ذات اس کی علت فاعلی و مفیض وجود ہو کہ صدور سے یہی مراد ہے کیوں نہیں جائز کہ لازم ذات ہو اور لوازم ذات مجعول ذات نہیں ہوسکتے کہ لازم ذات مرتبہ تقرر ذات میں ہے تقرر خود بھی ایك لازم ذات ہے اور مرتبہ تقرر مرتبہ وجود پر مقدم ہے تو لازم ذات اگر مجعول ذات ہو اپنے نفس پر دو یا تین مرتبے مقدم ہو لاجرم ان کا صادر عن الذات ہونا محال بلکہ ان کا وجود خود وجود ذات میں منطوی ہے اگر ذات مجعول ہے یہ بھی بعینہ اسی جعل سے مجعول ہیں نہ یہ کہ ذات جاعل ہو یا جاعل ذاتان کا جعل جدا گانہ (باقی اگلے صفحہ پر)
",
1207,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,376,"یا ایك مصدریت ضرور ذات سے زاید ہے تو ضرور ذات سے صادر ہےیوں ہی ہم کہتے ہیں کہ فلك تاسع کے قطبین معین کرنا جہت حرکت خاص کرناقدر حرکت مقرر کرنا یہ سب یہی ذات عقل پر زائد ہیں تو ضرور اس سے صادر ہیں تو عقل اول سے آٹھ صادر ہوئے اور جہتیں کل چھتو واحد محض سے تین کا صدور لازم۔
ثالثا اقول:جب صادر آٹھ یا پانچ یا دو ہی سہی تو حسب تصریح دلیل فلاسفہ ان کی مصدریتیں ذات پر زائد اور اس سے صادر ہوں گی۔اور جب یہ صادر ہوئیں تو ان کی بھی مصدریتیں زائد و صادر ہوئیں یونہی تا غیر نہایت تو وہ تمام اعتراضات کہ یہ واحد سے صدور متعدد پر کرتے تھے۔عقل اول سے صدور عقل و فلك پر نازل ہوئےتسلسل بھی ہوااور غیر متناہی کا دور حاصروں میں محصور ہونا بھی ہوا ایك عقل اول اور دوسرا فلك یا عقل ثانی اور واحد سے نہ متعدد بلکہ غیر متناہی کا صدور بھی ہوا شرك بھی کیا اور کال بھی نہ کٹا۔
رابعا اقول:جب عقل اول میں چھ جہتیں ہیں اور ممکن کہ وہ بعض کا ایجاد ایك ایك جہت سے کرے-(واﷲ یہ لفظ ہمارے قلب پر ثقیل ہوتا ہے مگر کیا کیجئے کہ مشرکوں کے مزعوم ہی پر انہیں نیچا دکھانا ہے)اور بعض کا دو دو جہت کے وصل سے مثلا بحیثیت مجموع امکان و وجوب یا مجموع امکان وو جود وغیرہ وغیرہ بعض کا جہات کی ترکیب ثلاثیرباعیخماسیسداسیسے اب چھ جہتیں حاوی ہوئیں۔
","(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کرے اور اگر ذات مجعول نہیں یہ بھی اصلًا مجعول نہیں، نہ ذات کے نہ کسی کے ، جیسے صفاتِ باری عزوجل کہ لازم ذات و مقتضائے ذات ہیں نہ کہ معاذ اﷲ ایجابًا یا اختیارًا مجعول و صادر عن الذات اس تحقیق سے روشن ہوا کہ ہر ممکن اپنے وجود میں واجب کا محتاج ہے خواہ افاضہ وجود میں جب کہ اس کا وجود وجوب واجب سے جدا ہو خواہ اضافت وجود میں جب کہ جدا نہ ہو۔ اسی بنا پر ہمارے علماء نے علتِ احتیاج حدوث کو لیا، یعنی احتیاج الی الجعل ورنہ مطلقًا افتقار کو امکان کافی اور یہی ہے وہ کہ کرام عشیرہ اعنی ائمہ اشاعرہ نے تصریح فرمائی کہ صفاتِ علیہ مقتضائے ذات ہیں نہ کہ صادر عن الذات یہ فائدہ جلیلہ واجب الحفظ ہے €&وباﷲ التوفیق€∞ ۱۲ منہ غفرلہ۔
"
1208,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,377,"پندرہ ثنائی عــــــہ۱ بیس ثلاثی عــــــہ۲ پندرہ رباعی عــــــہ۳ پانچ خماسی عــــــہ۴ ایك سداسی عــــــہ۵ جملہ ساٹھ ہر وجہ پر ایك شیئ صادر ہواس پر ساٹھ وجہیں اور بڑھیں گییعنی ہر ایك کی مصدریت ان ۶۰ میں وجوہ اجتماع لیجئے پھر ان وجوہ اجتماع کی ان پہلی وجوہ اجتماع سے وجوہ اجتماع لیجئے۔اور اس مبلغ کی قدر مصدریتیں بڑھائیے پھر ان میں یہی اعمال کیجئے اور ان کی مصدریتیں لیجئے یہ سلسلہ قطعا غیر متناہی ہوں گے تو ایك عقل اول سے تمام دنیا کی غیر متناہی چیزیں صادر ہوسکیں گی۔تو ثابت ہوا کہ عقلیں محض لغو ہیں۔
خامسا: بھلا عقل اول تو اپنی پانچ وجہوں سے پانچ چیزیں بنا گئی عقل ثانی کے سر گنتی کی دو دیکھ لیںعقل ثالث و فلك ثامنیہ نہ دیکھا کہ فلك ثامن میں کتنے ستارے ہیں یہ کروڑوں وجہیں وہ کس گھر سے لائے گی۔(مواقف)
اقول:مجاز فین عــــــہ۶ یورپ کہتے ہیں کہ ہرشل کی بڑی دوربین سے دو کروڑ ستارے گن لیے ہیں اورشك نہیں کہ وہ اس سے بھی زائد ہیں پھر ہر ایك لیے تعیین قدر تعیین محل تعیین لون ثوابت دو ہی کروڑ ہیں تو آٹھ کروڑ صادر تو یہی ہوگئے پھر ان کی حرکات مختلف ہیں تو ان کے لیے تدویریں ہیں ان تدویروں کی تعیین قطر تعیین موضع یہ کتنے کروڑ ایك عقل ثانی کے سر ہوئے۔علامہ تفتازانی نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے کہ فلك ثوابت کا مبدء عقول کثیرہ ہوں۔
اقول:(۱)ان کے مزعوم کا ردا ور ان کے ظلم کا بیان ہے کہ اپنی مخترع عقول سے جو کچھ جائز مانتے ہیں حق عزوعلا کو معاذ اﷲ اس سے عاجز جانتے ہیں۔
","€&عــــــہ€∞۱:اب۔ا ج۔ا ء۔اہ۔ا و۔ب ج۔ب ء۔ب ہ۔ب و۔ج ء۔ج ہ۔ج و۔ء ہ۔ء و۔ہ و،
€&عــــــہ€∞۲:اب ج،اب ء،اب ہ،اب و،اج ء،اج ہ،اج و،اء ہ،اء و،اہ و،ب ج ء،ب ج ہ،ب ج و،ب ء ہ،ب ء و،ب ہ و،ج ء ہ،ج ء و،ج ہ و،ء ہ و،
€&عــــــہ€∞۳:اب ج ء،ا ب ج و ہ،اب ج و،اب ء ہ،ا ب ء و،اب ہ و،ا ج ء و،ا ء ہ و،ب ج ء ہ،ا ج ء و،اج ہ و،ب ج ء و،ب ج ہ و،ب ء ہ و،ج ء ہ و،
€&عــــــہ€∞۴:اب ج ء ہ،اب ج ء و،اب ج ہ و،اب ء ہ و،ا ج ء ہ و،
€&عــــــہ€∞۵:اب ج ء ہ و ۱۲ منہ غفرلہ۔
€&عــــــہ€∞۶:ص ۱۳۳۸ /۱۲ منہ غفرلہ۔
"
1209,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,378,"(۲)مصدریتیوں میں ہماری تقریر سن چکےاب عقول غیر متناہیہ موجودہ بالفعل لازم آئے گیپھر کیا جائز ہے کہ اس کا مبدء عقل واحد باعتبار جہات نامحصور ہو آخر میں خود رد فرمایا کہ واقع(عہ)کا کام جائز سے نہیں چلتا۔
اقول:یعنی وہ جہات بتائے اور اگر وہ طریقہ لیجئے کہ ابھی ہم نے رابعا میں کہا تو عقل ثانی کو سرے سے پان رخصت دینا ہوگا۔
سادسا اقول:اس اشد ظلم کو دیکھئے کہ عقل اول میں اس کا امکان ایك جہت ایجاد رکھا حالانکہ امکان جہت افتقار فی الوجود ہے نہ کہ جہت افاضہ وجودبہرحال وہ نہیں مگر ایك مفہوم سلبیتو سلوب غیر متناہیہ کہ اغیار غیر متناہیہ کے اعتبار سے باری عزوجل کے لیے ہیں کیوں نہ جہات ایجاد ہوسکے حالانکہ مناسبت ظاہر ہے کہ موجد وموجد میں تغایر قطعا لازمتو جب تك موجد پر سلب موجد نہ صادق ہو ایجاد ممکن نہیں۔
سابعا اقول:خود بھی صفات الہیہ کے قائل ہیں اگرچہ عین ذات کہیں فرق اعتباری سے تو مفر نہیں تو قطعا لا بشرط شیئ وبشرط شیئ کے دونوں مرتبے یہاں بھی تھے۔عقل میں اگر اعتبارات سے بشرط شیئ کا مرتبہ ہے تو نفس ذات سے لابشرط شیئ کا کیا نہیںاگر اسے لابشرط شیئ کے مرتبے میں لو وہ بھی واحد محض رہ جائے گی اور اس سے صدور کثرت محال ہوگااس شدید بے ایمانی کو دیکھئے کہ دونوں طرف دونوں مرتبے ہوتے ہوئے عقل میں بشرط شے کا مرتبہ لیا کہ اسے قادر بنائیں اور واجب میں لابشرط شیئ کا کہ معاذ اﷲ اسے عاجز ٹھہرائیں۔
ثامنا اقول:خود کہتے ہو کہ صدور بے مصدریت ممکن نہیں یعنی فاعل میں وہ خصوصیت جس سے معلول میں موثر ہو اور اس خصوصیت کو وحدت محضہ فاعل کا منافی نہیں جانتے کہ ممکن کہ عین ذات ہو ولہذا واحد محض سے صدور واحد جانتے ہو اب کیوں نہیں جائز کہ واجب تعالی میں وہ خصوصیت اس کا ارادہ ازلیہ جسے تم عین ذات کہتے ہو فرق اعتباری اس مصدریت و خصوصیت کو کیا نہ تھا۔یقینا وہ حیثیت بھی ذات من حیث ھی ھی کے علاوہ تھی یہ وہی تو ہے اور تمام عالم کے ایجاد کو اس کا یہی ارادہ ازلیہ اجمالیہ کافی تکثر مرادات سے ارادہ متکثرنہ ہوجائے گا۔جیسا کہ اس کا علم اجمالی واحد بسیط مانتے ہو اور پھر جمیع معلومات کو محیط مکثر معلومات سے
عــــــہ:یہ جواب بنگاہ اولین خیال میں آیا تھاکہ تمام بحث ختم کرکے آخر میں خود علامہ نے اس کی طرف ایماء کیا ۱۲منہ غفرلہ۔
",
1210,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,379,"اس میں تکثر نہ ہوا "" فانی تؤفکون ﴿۹۵﴾"" (پھر کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
تاسعا اقول:خود ہزاروں چیزیں عنایت الہیہ کی طرف نسبت کرتے ہوافلاك میں جوف افلاك میں پرزے تداویر کواکب وغیرہ وغیرہ یہ تکثر اضافات عنایت الہیہ کامکثر اور وحدت محضہ پرموثر باصدور کثیر عن الواحد کا موجب ہوا یانہیںاگر نہیں تو ارادہ میں کیوں ہوگااور اگرہاں توتم خود مان چکے "" فانی تصرفون ﴿۳۲﴾"" (پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔ت)
عاشرا اقول:حقیقت امر یہ ہے کہ مرتبہ وحدت محضہ مرتبہ ذات ہے اور مرتبہ ذات میں ایجاد ایجاب ہے اور باری عزوجل ایجاب سے منزہوہ فاعل بالایجاب نہیں بلکہ خالق بالاختیار ہےاور خلق بالاختیار ارادہ و علم و قدرت پر موقوف وہ تو نہیں مگر مرتبہ صفات میں اور مرتبہ صفات اس وحدت محضہ کا مرتبہ نہیں "" فانی تسحرون ﴿۸۹﴾"" (تو کہاں اوندھے جاتے ہو۔ت)
حادی عشر اقول::یہ تو ہمارے طور پر تھا لیکن تمہارے قضیہ نامرضیۃ الواحد لایصدر عنہ الاالواحد خود ہی تمہارے طور پر باطل و متناقض ہے کلام موثر من حیث ھو موثر یعنی موجود مفیض وجود میں ہے اور ایجاد و جود خارجی سے مشروطجو خود موجود نہیں محال ہے کہ دوسرے پر افاضہ وجود کرے اس کا فاعل وموجد بنےنیز وہ خصوصیت درکار جس کا نام مصدریت رکھا ہے تو ذات وتقرر ووجود و تعیین اور وہ خصوصیت سب قطعا اس میں ملحوظ ہیں کہ بے ان کے موجد ہونا محال تو موثر من حیث ھو موثر کا واحد محض ہونا محالاور تم نے اسے ایسا ہی فرض کیا وصف عنوانی کے حکم ضمنی میں نقیضین کو جمع کرلیا یعنی وہ واحد محض کہ ہر گز واحد نہیں اس سے ایك ہی شیئ صادر ہوگی۔ایسا جامع نقیضین خود ہی محال ہے نہ کہ اس سے کسی شے کے صدور و عدم صدور کی بحث نہ کہ اس سے صدور واحد کی تجویز تو استثناء کا حکم صریح بھی باطل۔
ثانی عشر اقول:ویسا واحد اگر ہوگا عــــــہ بھی تو نہ ہوگا مگر ظرف خلط و تعریہ میں کہ خارج میں
عــــــہ اس تحقیق کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف ابھی ایماء ہوا کہ موضوع میں نفس ذات من حیث ھی ھی ملحوظ نہیں بلکہ من حیث التاثیر جو امور شرائط تاثیر ہیں سب ملحوظ ہیں اگرچہ لحاظ اجمالی میں تفصیل ملتفت الیہ نہ ہو جیسے وجود نہار کا لحاظ یقینا طلوع شمس کا لحاظ ہے۔اور بارہا اس وقت ذہن میں اس کی طرف التفات نہیں ہوتا۔ذہن اگرچہ ہر گو نہ غلط وتعریہ کا ظرف ہے مگر دونوں کو جمع نہیں کر سکتا۔جب موثر موثر من حیث ہو موثر کا لحاظ ہوا یہ خلط ہے پھر تعریہ کہاں تو ایسا موضوع ذہن میں بھی نہیں ہوسکتا۔اگر نفس ذات کا لحاظ کرو گے تو وہ یہ موضوع ہوگا قضیہ بدل جائے گا۔(۱۲ منہ)
"," القرآن الکریم ۶/ ۹۵ و ۱۰/ ۳۴ و ۳۵ / ۳ و ۴۰/ ۶۲
القرآن الکریم ۱۰/ ۳۲ و ۳۹/ ۶
القرآن الکریم ۲۳/ ۸۹
"
1211,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,380,"موثر من حیث موثر کا شرائط ایجاد سے انفکاك بداہۃ محالتو تمہارے دعوی کا حاصل یہ ہوا کہ اس موجود ذہنی سے ایك ہی صادر ہوگا یہاولا: مبحث سے بے گانہ ثانیا: خود جنون کہ موجود ذہنی ایك شیئ کا بھی موجود نہیں ہوسکتا۔تو الا الواحد کہنا حماقت خصوصا حضرت عزت عزت عزتہ کہ ذہن میں آنے سے متعالی ہے ذہن میں نہ ہوگی مگر کوئی وجہ بعید وہ کیا صالح ایجاد ہے تو حاصل ہوا کہ جس سے ایجاد منفی ہو وہ الہ نہیں اور جو الہ ہے اس سے نفی ایجاد کثیر کی کوئی نہیں پھر عقول کو فاعل و خالق ماننا کیسا صریح جنون ہے کہ وہ اسی ضرورت باطلہ کے لیے اوڑھا گیا تھا جس کا بطلان آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا۔طرفہ یہ کہ انہیں مان کر بھی ان کی خالقیت نہیں بنتی جس کے روشن بیان سن چکے تو مجنون ہو کر بھی نجات نہ ملی"" وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾"" (اور ظالموں کی یہی جزا ہے ت)الحمد ﷲ! فلسفہ مزخرفہ کی الہیات باطلہ سے انہیں دو مسئلوں کا رد تمام ارکان فلسفہ کو متزلزل کر گیا۔اب ان کے ہاتھ میں نہ رہا مگر چند اوہامخیالات خام یا حساب و ہندسہ و ریاضی کے متفق علیہ احکام یا ہیأت کے وہ مسائل و نظام جن کو شرع مطہر سے مخالفت نہیں۔لہذا ان میں خلاف کی حاجت نہیں۔
وذلك فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرونرب اوزعنی ان اشکر نعمتك التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضاہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیك وانا من المسلمین والحمد ﷲ رب العلمین یہ اﷲ کا ایك فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ا ے میرے رب ! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح رکھ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں مسلمان ہوںاور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
مقام سوم
فلك محدد جہات نہیں۔اقول:اس پر روشن دلیل مقام ۶ میں آتی ہے یہاں نفس تحدید پر کلام کریں۔دلیل ۸۰میں گزرا کہ فوق و تحت میں صرف ایك کی تجدید ضروری ہے۔
", القرآن الکریم ۵/ ۲۹
1212,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل,,381,"تحت یقینا مرکز زمین سے محدوداب فوق کے لیے تلاش تحدید جز اف و مردودفلسفہ قدیمہ نے یہاں یہ حیلہ تراشی ہےکہ جہت فوق موہوم نہیں عــــــہ۱ بلکہ موجود ہے اور عالم میں جو موجود ہے ضرور محدود ہے وجود فوق پر دو دلیلیں عــــــہ۲ دیتی ہے۔
اول:تحت کی طرح فوق بھی مطلوب بعض اجسام ہے اور معدوم مطلوب نہیں ہوتا۔
اقول:ہر ثقیل بقدر ثقل تحت حقیقی سے طالب قرب ہے اور ہر خفیف بقدر خفت اس سے طلب بعد اور اس سے بعد ہی علو ہےیوں ہر خفیف طالب فوق ہے نہ یہ کہ فوق کوئی خاص شیئ متعین ہے خفیف کو جس کی طلب ہے اور یہ انہیں فلسفیوں کے اس مذہب عــــــہ۳ پر اظہر کہ ہوا کا حیز طبعی مقعر کرہ نار ہے تو ہوا اپنی خفت بھر تحت حقیقی سے طالب بعد ہی رہی نہ کہ کسی ایسے فوق کی۔
عــــــہ ۱:اعترضہ فی شرح حکمۃ العین بان الجہۃ نہایۃ امتداد الاشارۃ و الامتداد موھوم فلا یکون طرفہ الامو ھو ما اقول:لم یفرق بین ماتنتھی الاشارۃ الیہ وما تنتھی بہ الطرف ھوالثانی والجھۃ من الاول الاتری انا اذا اشرنا الی زید فانما انتہت اشارۃ الی زید ولیس طرفھا بل طرفھا نقطۃ موھومۃ اخر ذلك الخط الموھوم ۱۲ منہ اس پر شرح حکمۃ العین میں اعتراض کیا ہے کہ جہت تو امتداد اشارہ کی نہایت کو کہتے ہیں اور امتداد موہوم ہےلہذا اس کی طرف بھی موہوم ہی ہوگی۔اقول:(میں کہتا ہوں کہ)اس نے فرق نہیں کیا درمیان اس کے جس تك اشارہ کی انتہا ہوتی ہے اور درمیان اس کے جس پر اشارہ کی انتہا ہوتی ہے۔طرف ثانی جب کہ جہت اول کا نام ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب ہم زید کی طرف اشارہ کریں تو زید تك اشارہ کی انتہا ہوجاتی ہے حالانکہ وہ اس کی طرف نہیں بلکہ طرف تو وہ موہوم نقطہ ہے جو اس موہوم خط کا آخر ہے۔(ت)
عــــــہ۲:یہ دونوں وجہیں اثیرابہری کی کتاب میں تھیں پھر اس کے تلمیذ کابتی کی حکمۃ العین میں بھی ملیںیہاں شراح و محشین نے جو نقض و ابرام کیے ہم ان کی نقل وتزییف سے تطویل نہیں چاہتے ۱۲ منہ۔
عــــــہ۳:جونپوری نے شمس بازغہ میں اسی کو اختیار کیا ورنہ اجسام حیز میں مشترك ہوجائیں ۱۲ منہ۔
", شرح حکمۃ العین
1213,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,382,"جس سے فوق نہیں اور جب ہوا میں یہ ہے یہی نار میں ہوگا وہ اس سے اخف ہے لہذا ا س سے زیادہ بعد عن التحت کی طالب ہے وبساور اس پر انہیں فلاسفہ کے اصول سے یہ اصل شاہد کہ وجود میں تعطیل نہیں طبیعت کا دواما اپنے کمال سے محروم رہنا محالظاہر ہے کہ اگر فوق حقیقی محدب فلك الافلاك ہو اور نار اس کی طلب اور افلاك پر خرق محال تو نار دائما اپنے کمال سے محروم رہے۔بلکہ جملہ عناصر سوا اس ذرہ زمین کے جو مرکز پر منطبق ہے کہ دو طالب محدب ہیں دو طالب مرکز اور اپنے مطلوب تك اس ذرے کے سوا کوئی نہ پہنچا۔
دوم: فوق کی طرف اشارہ حسیہ ہوتا ہے:
اقول:اگر یہ مراد کہ اس اشارے سے کسی شیئ خاص کو بتایا جاتا ہے جس پر اس اشارے کا روك دینا مقصود مشیر ہوتا ہے تو اولا اول نزاع ہے۔
ثانیا: ہر گز یہ امر اشارہ کرنے والوں کی خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی خاص سطح کو بتارہے ہیں۔
ثالثا: بلکہ فوقیت کا زور کہیں رك جانا ان کے خیال کے خلاف ہے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تحت سے جتنا بھی بعد ہو سب فوق ہے نہ کہ ایك بعد معین پر جا کر فوقیت تمام ہوگئی۔اور اسلامی اصول پر تو اس کا بطلان اظہر من الشمس ہے قدرت ربانی محدود نہیں وہ قادر ہے کہ فلك الافلاك کے اوپر کوئی جسم پیدا کرے بلکہ عندالتحقیق واقع ہے فلك اطلس سے اوپر کرسی اس کے اوپر حاملان عرش ان سے اوپر عرش مجیدجیسا کہ امام المکاشفین شیخ اکبر قدس سرہ نے فتوحات میں تصریح فرمائی اور یہ زعم کہ کرسی فلك البروج کا نام ہے اور عرش فلك اطلس کا بشہادت احادیث مردود ہے۔
رابعا: بعینہ ان کی تقریر اتصال و انفصال میں جاری ہر ذی شعور منافر عــــــہ سے انفصال کا طالب ہے اور بے شك اس کی طرف اشارہ حسیہ ہوسکتا ہے کہ اس طرف اتصال اور
عــــــہ: اقول:غیرشاعر اشیاء میں بنظر ظاہر پارہ اس کی مثال ہوسکتا تھا کہ آگ سے انفصال کا طالب ہے مگر ہم نے رسالہ میں تحقیق کیاہے کہ یہ پارے کافعل نہیں بلکہ آگ کااس کاکام نصعید رطوبات ہے جیسے پانی گرم کرنے میں اجزائے مائیہ کو بخار میں اڑاتی ہے اورپارے کے اجزائے رطبہ ویابسہ کی گرہ ایسی محکم ہے کہ آگ سے نہیں کھلتی ناچار رطوبات ویسی ہی گرہ بستہ اڑتی ہیں۔۱۲منہ
",
1214,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,383,"اس طرف انفصال ہے اگرچہ اشارہ ایك طرف ہوگا۔اور انفصال سب طرف ہے جیسے فوق کا اشارہ ایك طرف ہوتا ہے اور وہ ہر جانب ہے اب چاہیے کہ کوئی جسم کری اتصال و انفصال کا محدود بھی ہو اور ہر جسم سے اتصال و انفصال کے حدود جدا ہوں گےتو ہر ذرے کے اعتبار سے ایك کرہ محدود چاہیے جس کا مرکز وہ ذرہ ہو جس سے تحدید اتصال ہے اور محیط سے تحدید انفصال اور بنے گی جب بھی نہیں کہ جب ان کروں کے مرکز مختلف ہیں محدب ایك نہیں ہوسکتا اور بعض محیط بعض سے ابعد ہوں گےتو انفصال آگے بڑھا اور تحدید نہ ہوئی۔کلام یہاں طویل ہے اور عاقل کو اسی قدر کافی۔
مقام چہارم
قسر کے لیے مقسور میں کوئی میل طبعی ہونا کچھ ضرور نہیںفلاسفہ کا زعم ہے کہ قسری نہ ہوگا مگر طبعی(عہ۱)کے
عــــــہ:عبر من دعواھم ھذہ فی الھدیۃ السعیدیۃ بان الذی لیس فیہ مبدء میل طباعی لا یمکن ان یتحرك بقسر اقول:وھو خطاء فان مقصود ھم بہذا احالۃ القسر علی الفلك مع ان فیہ میلا طباعیا فالصواب٭ فی التعبیر مبدء میل طبعی وھذہ ھی دعواھم ان لا قسر حیث لا طبع وان کان ثمہ طباع ۱۲ منہ غفرلہ ان کے اس دعوی کو ہدیہ سعیدیہ میں یوں تعبیر کیا گیا ہے کہ جس میں میل طباعی کا مبدانہ ہو اس کا حرکت قسری کرنا ممکن نہیں اقول:(میں کہتا ہوں)یہ غلط ہے کیونکہ ان کا مقصد اس سے یہ ثابت کرنا ہے کہ فلك پر قسر محال ہے باوجود یہ کہ اس میں میل طباعی موجود ہے لہذا درست یہ ہے کہ مبداء میل طبعی کے ساتھ تعبیر کیا جائے اور یہی ان کا دعوی ہے کہ جہاں طبع نہیں وہاں قسر نہیں اگرچہ وہاں طباع موجود ہو۔۱۲ منہ غفرلہ(ت)
٭ اس لیے کہ طبعی بسوئے طبیعت منسوب ہے اور طباعی بسوئے طباع اور اصطلاحات طبیعت میل غیر ارادی کے مبداء کو کہتے ہیں اور طباع عام ہے کہ میل ارادی اور غیر ارادی دونوں کے مبدء کو شاملنظر براہ ہدیہ سعیدیہ کی عبارت سے یہ ثابت ہوگا کہ جس میں میل ارادی دونوں کا مبدء نہ ہو اس کا تحرك بالقسر ممکن نہیں اس سے فلك کے تحرك بالقسر کی نفی نہ ہوگی کہ اس میں میل ارادی کا مبدء موجود ہے یعنی اس کا نفس لہذا صحیح یہی ہے کہ مبدء میل طباعی کی جگہ مبدء میل طبعی کہا جائے ۱۲ الجیلانی۔
", الہدیۃ السعیدیۃ فصل فی ان الجسم الذی لامیل فیہ بالقوہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۵۴
1215,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,384,"خلافولہذا فلك پر قسر نہیں مانتے کہ اس میں کوئی میل طبعی نہیں جانتے۔
اقول:یہ باطل ہے اولا: حکیم بننے والوں نے معنی لغوی پر لحاظ کیا کہ قسر جبر وا کراہ سے خبردیتا ہے اصطلاح بھول گئے جس کا مبدء خارج سے ہو سب قسری ہے اور جو کچھ نہ مقتضائے طبع ہو نہ مراد متحرکیقینا اس کا مبدء نہ ہوگامگر خارج سے تو قسر کو صرف اقتضاء درکار نہ کہ اقتضاء عدم ورنہ یہ صورت خارج رہ کر تین میں حصر عــــــہ باطل کرے گی۔اگر کہیے صرف عدم اقتضاء متصور نہیں کہ ہر جسم میں کوئی میل ضرور۔
اقول:عنقریب آتا ہے کہ یہ کلیہ اسی مقدمہ باطلہ پر مبنی تو اس کی اس پر بنا صریح مصادرہ و دور ہے۔
ثانیا: فرض کردم کہ اقتضائے عدم ہی ضرور اس کے لیے اتنا بس کہ فعل قاسر کا نہ ہونا چاہیےیہ کیا ضرور ہے کہ اس کے خلاف کسی دوسرے فعل کا تقاضا ہو اور میل تقاضائے فعل ہے۔
ثالثا: مانا کہ تقاضائے فعل خلاف ہی ضرور مگر یہ کہاں سے کہ اس کی مقتضی نفس طبیعت ہو۔کیا ارادہ نہیں ہوسکتا۔تمہارے نزدیك افلاك میں میل طبعی نہیں ان کی حرکت ارادیہ ہے اب جس جہت کو وہ حرکت چاہتا ہے اگر اس کے خلاف یہ حرکت وضعیہ ہی دی جائے(کہ فلك پر حرکت مستقیمہ جائز ہونے نہ ہونے کا جھگڑا پیش نہ آئے)کیا یہ قسر نہ ہوگاقطعا ہوگاحالانکہ میل طبعی نہیں ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ فلك پر قسر جائز فلاسفہ اپنے زعم مذکور پر دودلیلیں پیش کرتے ہیںہمارے اس بیان سے دونوں رد ہوگئیں۔ایك یہ کہ جسم پر قاسر قوی کا اثر زائد ضعیف کا کم ہونا بدیہی ہےتو یہ نہیں مگر اس لیے کہ مقسور قاسر کی مزاحمت کرتا ہےضعیف پر غالب آتا ہے قوی سے مغلوب ہوجاتا ہے اور یہ مزاحمت نفس جسمیت سے نہیں تو ضرور جسم کے اندر کوئی اور چیز ہے کہ قاسر کی مزاحمت کرتی اور مکان یا وضع کی محافظت چاہتی ہے یہی میل طبعی ہےیہ دلیل ان کی شیخ ابن سینا نے دی۔
اقول:اولا:مزاحمت اقتضائے خلاف فعل ہے نہ کہ اقتضائے فعل خلاف اور محافظت طلب سکون نہ کہ طلب حرکت جو شان میل ہے۔
عــــــہ:یعنی حرکت کے تین اقسام طبعیارادی قسری میں کہ برتقدیر اقتضائے عدم صورت عدم اقتضاء کسی میں داخل نہیں۔۱۲ الجیلانی۔
",
1216,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,385,"ثانیا: مزاحمت و محافظت ارادے سے بھی ہوسکتی ہےطبعا ہی کیا ضرور قاسر کا قوی ہونا اس کے ارادہ مزاحمت کا کیامانع ہے اگرچہ جانے کہ منتج نہ ہوگیجیسا کہ بار ہا مشہود ہے۔
ثالثا:مانا کہ طبیعت ہی سے لازم پھر کیا محال ہے کہ بعض اجسام میں بالطبع سکون کا اقتضاء اور حرکت سے مطلقا ابا ہواب جو اسے حرکت دے گا ضرور خلاف مقتضائے طبع ہوگی اور میل نہیں بلکہ اس کی مزاحمت میل طبعی سے وسیع تر ہوگی میل طبعی تو صرف جہت خلاف ہی کی مزاحمت کرے گا اور یہ ہر جہت کی اب اس کا انکار پھر اسی طرف جائے گا کہ ہر جسم میں تقاضائے حرکت لازم اور یہ وہی دور و مصادرہ ہے۔
رابعا:مطلقا حرکت سے اباء بھی ضرورصرف اس حرکت سے انکار چاہیے جو قاسر دینا چاہے اور یہ افلاك میں یقینا موجودہم مقام ۱۴ میں ثابت کریں گے کہ ہر فلك کا حیز طبعی وہ وضع خاص ہے جس پر وہ ہے کہ اس تك اشارہ حسیہ اس حد تك محدود ہوتا ہےجب یہ اس کا حیز طبعی ہے تو وہ ضرور یہاں طالب سکون ہے اور جو اسے یہاں سے ہٹائے اس کی مقاومت کرے گا۔قسر کو اسی قدر درکار۔
خامسا:ان لوگوں کی تمام سعی ملمع کاری و مغالطہ شعاری ہے۔اثر قسر کا اختلاف دو سبب سے ہےقوت قاسر کا تفاوت کہ فاعل قوی کا فعل اقوی ہوگا اور قوت مکسور کا فرق کہ مقابل قوی پر اثر کم ہوگا۔وہ اختلاف کہ جانب فاعل میں ہے جانب مقابل کی کسی حالت پر موقوف نہیں ان کی قوتوں کا فی نفسہ متفاوت ہونا موجب تفاوت اثر ہے کیا اگر مقسور مزاحمت نہ کرے تو فاعل قوی و ضعیف اثر میں برابر ہوجائیں گے یہ بھی اسی بداہت کے خلاف ہے اور خود فلسفہ کو اس کا اعتراف عــــــہ ہے پتھر کہ بقوت اوپر سے نیچے پھینکا جائے بلاشبہ اس حالت سے جلد متحرك ہوگا۔
عــــــہ:جونپوری نے فصل تقسیمات حرکت میں کہا:
قدتکون حرکۃ الی غایۃ طبیعۃ لکن لاعلی الطبیعۃ وحدھا کحرکۃ الحجر المرمی الی اسفل علی خط مستقیم بحیث لا یصدر مثلہا عن طبیعۃ الحجر وحدھا ۔ کبھی حرکت غایت طبیعت کی طرف ہوتی ہے مگر وہ تنہا طبیعت پر مبنی نہیں ہوتی جیسے خط مستقیم پر نیچے کی طرف پھینکا ہوا پتھراس لیے کہ اس کی مثل تنہا پتھر کی طبیعت سے صادر نہیں ہوتی۔(ت)
", الشمس البازغۃ فصل حرکۃ الشیئ ذاتیۃ لہ مطبع علوی لکھنؤ ص ۱۲۳
1217,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,386,"کہ خود آئے کہ اب اس میں میل خارجی و داخلی دونوں جمع ہیں اور شك نہیں کہ رمی جتنی قوت سے ہوگی اس سرعت میں زیادت ہوگی اور طبیعت حجر میں نیچے جانے کی مزاحمت نہیں بلکہ اقتضا ہےاور یہ بھی نہیں کہ کسی حد معین پر اقتضا اور زائد سے اباء ہو۔بلکہ بمقتضائے طبع اسرع اوقات میں حصول مطلوب ہے تو ظاہرہوا کہ فاعل کی مختلف قوتوں کا اثر مختلف ہونا مزاحمت پر موقوف نہیں البتہ وہ اختلاف کو جانب قابل سے ہے اس کی مزاحمت سے ہے قوی زیادہ مزاحم ہوگا اور ضعیف کم اب اولا: ان کے شیخ کی چالاکی دیکھئے قوت و ضعف جانب فاعل لیے کہ قاسر قوی و ضعیف اور اس پر حکم جانب قابل کا لگادیا کہ یہ نہیں مگر مزاحمت مقسور سے یہ صریح باطل ہے جانب فاعل کا اختلاف ہر گز مزاحمت مقسور سے نہیں ان کی قوتوں کے ذاتی اختلاف سے ہے۔
ثانیا: اس تقدیر پر کیا محال ہے کہ مزاحمت نفس جسم سے ہویہ کہنا کہ ایسا ہو تو کوئی جسم اثر قسر قبول نہ کرے۔
اقول:جہل محض ہے مغلوب ہو کر قبول لینا کیا منافی مزاحمت ہے مبدء میل طبعی بھی تو قبول کرلیتا ہے حالانکہ مزاحم ہے اگر کہیے قبول وعدم مختلف ہوتے ہیں اور میل مختلف ہیں اور جسمیت سب میں یکساں۔
اقول:یہ اس اختلاف میں کلام جو جانب قابل سے ہے اور تمہارا شیخ اس اختلاف میں چا نہ زن عــــــہ ہے جو جانب فاعل سے ہے اور اگر کہیے ہم نے اسے چھوڑا اب ہم جانب قابل ہی میں کلام کریں گے۔ظاہر ہے کہ مقسور اقوی پر اثر کم ہوگا اضعف پر زائداور یہ نہیں مگر ان کی مزاحمت اور جانب جسمیت سے نہیں کہ سب میں یکساں لاجرم ان کی طبیعت سے ہے۔اسی کا نام میل طبعی ہے۔
اقول:اولا: وہی ایراد کہ مزاحمت حفظ وضع و این کے لیے ہے اور وہ سکون سے ہے نہ میل و طلب حرکت سے۔
ثانیا: کیا محال ہے کہ بعض طباع کا مقتضی سکون ہو۔
ثالثا: ہاں طبیعت سے ہے اور میل نہیں ہم ثابت کرچکے کہ افلاك کو اپنے حیز میں بالطبع حرکت اینیہ سے اباء ہے اور یہ میل نہیں۔
رابعا: اب مقسور قوی وضعیف کے معنی پوچھے جائیں گے۔اقوی یہ نہیں کہ جثہ بڑا ہے
عــــــہ:یعنی بکواس کرنے والا ۱۲ الجیلانی۔
",
1218,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,387,"روئی اور لوہے کو نہ دیکھا۔اب قوی یا تو وہ ہے جس میں مزاحمت زیادہ ہوتو حاصل یہ ہوا کہ جس کی مزاحمت زائد اس کی مزاحمت زائد یہ نیم جنون ہےیا وہ جس میں میل زیادہ ہو یا جس میں معاوق داخلی اکثر ہو یہ مصادرہ علی المطلوب ہوگا۔
خامسا:بہرحال اقوی واضعف کا ذکر لغو ہوگا۔اور حاصل اتنا رہے گا کہ اجسام قاسر کی مزاحمت کرتے ہیں اور یہ ان کے میل طبعی سے ہے یہ قضیہ اگر کلیہ ہے تو باطل کیا دلیل ہے کہ ہر جسم قاسر کی مزاحمت کرتا ہے بعض میں مشاہدہ استقرائے ناقص ہے اور اگر مہملہ ہے تو ضرور صحیح مگر مہملہ عــــــہ ہے دلیل دعوی سے خاص ہوگئی اس سے ثابت بھی ہوا تو اتنا کہ بعض مقسوروں میں میل طبعی ہے نہ کہ بے میل طبعی قسر ممکن ہی نہیں یہ ہیں وہ وجوہ جن کے سبب تمہارے شیخ نے اختلاف قوت مقسور چھوڑ کر اختلاف قوت قاسر لیا مگر بات بے اختلاف مقسور بنتی نہ پائی۔لہذا جو اس کا حکم تھا وہ اس کے سر دھر دیا یہ ہے تمہارا تفلسف۔
شبہ دوم:جس جسم میں معاوق داخلی نہ ہو لاجرم وہ بقسر قاسر ایك مسافت ایك زمانہ معین میں طے کرے گا اور جس میں معاوق ہے اسی قاسر کے قسر سے اس سے زیادہ دیر میں فرض کرو۔دو چند میں اب اسی قاسر کی تحریك ایك ایسے جسم کو لو جس میں معاون اس سے نصف ہے ضرور ہے کہ اس سے نصف دیر میں طے کرے گا کہ محرك و مسافت متحد ہیں تو فرق نہ ہوگا مگر نسبت معاوقت پر تو حرکت مع معاوق حرکت بلا معاوق کے برابر ہوگئی اسے بہت طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے ملخص کیا (رد)تمام اعتراضوں سے قطع نظر ہو تو معاوق ہی تو درکار اس کا میل طبعی میں کب انحصار۔
مقام پنجم
خلا محال نہیںفلاسفہ مقام سابق کی اسی دلیل دوم کو اثبات معاوق داخلی یعنی میل طبعی میں پیش کرتے ہیں جس طرح سن چکے اور اسی کو اثبات معاوق خارجی یعنی ملا و استحالہ خلا میں لاتے ہیں کہ اگر خلا ہو تو اس میں حرکت ایك حد تك ایك زمانہ معین میں ہوگی اور ایك جسم ایك ملا میں اتنی ہی مسافت چلے ضرور ہے کہ خلا والے سے دیر میں چلے گا کہ ملا اس کا معاوق ہے فرض کرو دو چند میں اب وہ ملا لیجئے جس کی معاوقت پہلے ملا سے نصف ہو تو نصف ہو تو ضرور ہے کہ اس سے
عــــــہ:یعنی مہمل کہ غیرمفید ہے ۱۲ الجیلانی۔
",
1219,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,388,"نصف دیر میں چلے گا تو حرکت مع معاوق بلا معاوق کے برابر ہوگئی حالانکہ دونوں جگہ صرف معاوق درکارپہلی صورت میں معاوق خارجی مثل ملا کافی توقسر کے لیے ضرورت میل طبعی ثابت نہیں اور دوسری میں معاوق داخلی مثل میل کافی تو استحالہ خلاف ثابت نہیںغرض وہاں معاوق خارجی کو بھولتے ہیں اور یہاں داخلی کو یہ ہے ان کا تفلسف فلاسفہ کے لیے استحالہ خلا میں دو واہی شبہے اور ہیں کہ مواقف میں مع رد مذکور میں اور زرنقات و سر نقات عــــــہ اگر ثابت ہوگا تو استحالہ عادیہ نہ عقلیہ ان کی بڑی دستاویز یہی شبہ مردودہ تھا اس پر بھی زیادہ کلام کی حاجت نہیں کہ خود ان کے بڑے خونگرم حامی متشدق جونپوری نے شمس بازغہ میں اگرچہ ابوالبرکات بغدادی کے اعتراض کو نہایت سقوط میں بتایا مگر اسی سے اخذ کرکے دونوں مقاموں میں فلاسفہ کا جہل واضح ہو روشن کردیا ہے اور دونوں جگہ دلیل کا ناتمام ہونا صاف مان لیا ہے پھر بھی دونوں دعوؤں پر فصلیں عقد کرتا اور انہیں مردود باتوں پر لاتا ہے۔یونہی اور مواضع مردودہ میں بااینہمہ خطبہ میں ادعا کرتا ہے کہ اس کی کتاب حکمت حقہ حقیقیہ یقینیہ کے بیان میں ہے جس کا اتباع واجبمعاذ اﷲ اسی خرافات مطرودہ اور ان سے بدتر کفریات مردودہ کو جن میں سے بعض کا بیان آتا ہے قرآن عظیم ٹھہرادیا۔"" زین لہم سوء اعملہم "" ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں(ت)
مقام ششم
حیز شکل مقدار اور جتنی چیزیں جسم کے لیے فی نفسہ ضروری ہیں کہ جسم کا ان سے خلو نا متصور ان میں بھی کسی شیئ کا جسم کے لیے طبعی ہونا کچھ ضرور نہیںفلسفی ضرور جانتااور اس پر دلیل یہ دیتا ہے کہ جب جسم کو بعد وجود اس کی طبیعت پر چھوڑا جائے جتنے امور خارجیہ سے خالی ہوسکتا ہے خالی فرض کیا جائے ضرور اس تقدیر پر بھی کسی حیز میں نہ ہونا محال اور معا سب چیزوں میں ہونا محال لاجرم ۱کسی حیز خاص میں ہوگا۔اب مطلق جسم تو مطلق حیز ۲ کا طالب تھا اس خصوص کے لیے کوئی مقتضی درکار وہ کوئی امر خارج نہیں ہوسکتا کہ اس سے خلو مفروض نہ فاعل کہ بے اس کے اگرچہ
عــــــہ:یہ دونوں مسودہ میں ایسے ہی لکھے ہیں پڑھنے میں نہیں آئے۔
", القرآن الکریم ۹/ ۳۷
1220,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,389,"وجود متصور نہیں۔مگر اس کی نسبت سب چیزوں کی طرف یکساں ہے تو اس سے بھی تعیین نہیں ہوسکتی نہ صورت جسمیہ کہ سب میں مشترك ہے نہ ہیولے کہ قابل محض ہے نہ کہ مقتضینیز وہ خود متحیز ہی نہیں یہ بتبعیت صورت تحیز پاتاہےلاجرم یہ خصوصیت کسی اور شیئ داخل جسم کااقتضاء ہے اسی کا نام طبیعت ہے تو یہ حیز طبعی ہوا کہ اگر قسرا اس سے جدا ہو بعد زوال قسر بالطبع اس میں پھر آجائے یونہی شکل و مقدار وغیرہما اشیائے لازمہ۔
اقول:اولا: ہویت باقی رہی مطلق جسم نے مطلق حیز چاہا ھذیۃ ھذیۃ چاہے گی۔اگر کہیے ھذیۃ فرد منتشر چاہے گی کہ خاص کا کسی میں ہونا ضرور خاصیہ خاص کس لیے۔
اقول:مطلق ھذیۃ فرد منتشر چاہے گی اور ھذیۃ خاصہ فرد متعیناگر کہیے اس ھذیۃ کو اس خاص سے کیا مناسبت کہ خاص اسی کو چاہا۔
اقول:اولا: علم مناسبت کیا ضرور مقتضیات طبیعت میں بہت جگہ ادراك مناسبت سے عقول دانیہ قاصربعض کا ذکر عنقریب آتا ہے۔
ثانیا: ترجیح کے لیے قرب خاص یہی خاص اقرب تھا لہذا اس میں حصول ہوا اپنے طور پر زمین کے اجزاء کو دیکھئےڈھیلا کہ اوپر سے گرے کسی حصہ مشقر پر نہ ہونا محال اور معا سب حصوں میں ہونا محاللاجرم ایك حصہ خاص میں ہوگا اس خصوص خاص کا اقتضا ء ہر گز طبیعت سے نہیں اگر یہی ڈھیلا دوسری جگہ سے اترے دوسرے حصہ خاص میں ہوگا۔تیسری جگہ تیسرے میں وہکذا تصریح نہیں مگر قرب۔
ثالثا:دلیل ہر جسم کے اجزاء مقداریہ سے منقوص جو جز لو اور ہر خارج سے قطع نظر کرو محال ہے کہ کسی حصہ حیز میں نہ ہو یا معا سب میں ہولاجرم ایك حصہ خاصہ میں ہوگا تو وہی اس کا حیز طبعی ہواجیسے کل کا کل اب بسیط کے اجزاء مختلف الطبائع ہوگئے نیز لازم کہ زمین کا ڈھیلا جس جگہ سے کاٹ کر ہزاروں کوس لے جاؤ جب چھوڑو خاص اس جگہ پہنچے کہ حیز طبعی کی یہی شان ہے اگر کہیے اجزائے مقدار یہ موہوم ہیں اور موہوم معدوم اور معدوم کے لیے حیز نہیں۔
اقول:اب فلك کی حرکت مستدیرہ باطل ہوگئی وضعیہ نہ ہوگی مگر تبدیل اوضاع سے اور اوضاع اصالتا نہ ہوتے۔مگر اجزائے مقدار یہ کہ خارج سے نسبت انہیں کی لی جاتی ہے اور وہ معدوم اور معدوم کے لیے وضع نہیں۔اگر کہیے ان کے مناشی انتزاع موجود ہیں اور عقل حکم کرتی ہے کہ یہ حیز ایك وضع خاص رکھتا ہے جو اس حیز کے لیے نہیں۔
",
1221,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,390,"اقول:یہاں بھی مناشی انتزاع موجود ہیں اور عقل حکم کرتی ہے کہ یہ حیز کے ایك حصہ خاص میں ہے جس میں وہ حیز نہیں۔
رابعا: روشن ہوچکا کہ خالق عزوجل فاعل مختار ہے پھر کوئی مخصص کیا درکار ہے یہ کہنا کہ فاعل سے تخصیص ممکن نہیں اگر مراد فاعل حقیقی عزجلالہ ہے صریح کفر ہے اور اگر حسب تحلت عــــــہ فلسفی عقل فعال مراد تو غیر خدا کو موجد اجسام ماننا کیا کفر نہیں۔
خامسا: جب جسم کو بلحاظ وجود فی الاعیان لیا ہے کہ اس میں وہ حیز معین کا محتاج تو تخلیہ انہیں امور سے ہوسکتا ہے جن پر وجود کو توقف نہیں ان سے خالی ہو کر وجود ہی نہ رہے گا تو وہ نحوایجاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے وجود ہوا صالح عزل نہیں نحو ایجادیہ ہے کہ اس حیز میں اس شکل اس مقدار پر بنایا تو اس خارج سے تخصیص اس خلو کے منافی نہیں ولہذا دلیل کو باوصف اسقاط ہر خارج نفی تخصیص فاعل کی حاجت ہوئی رہا سیالکوٹی کا کہنا کہ فاعل بحیثیت ایجاد معتبر نہ بحیثیت تخصیص حیزاس وجہ سے اس سے تخلیہ ہے۔
عــــــہ۱:بمعنی مذہب ۱۲ الجیلانی۔
عــــــہ۲:حیز میں تحقیق مقام یہ کہ کل کے لیے اپنی تین وضعیں ہیں۔
(۱)وہ جس سے اس کی طرف اشارہ حسیہ ہے۔
اقول:یعنی یہ اشارہ خاصہ محدودہ کہ نہ اس سے کم پر رکے نہ آگے بڑھے ہم مقام ۱۴ میں تحقیق کریں گے کہ یہی اس کا حیز طبعی ہے تو یہ وضع مقولہ وضع سے نہیں مقولہ این سے ہے حرکت وضعیہ سے نہ بدلے گی بلکہ اینیہ سے۔
(۲)وہ کہ اس کے اجزاء و اشیائے خارجیہ کی نسبت سے ہے۔
(۳)وہ کہ اجزاء کی باہم نسبت سے یہ دونوں انحائے مقولہ وضع ہیں۔
اقول:ظاہر ہے کہ دونوں اولا:بالذات اجزاء کے لیے ہیں اور ان کے واسطے سے کل کو
مثلا ایك کمرہ دوسرے کے اندر اس طرح ہے کہ اس کے نقطہ ا کو اس کے ج سے غایت قرب اور ح کے مقاطر ء سے غایت بعد ہے اور ا کے مقاطر ب کو ء سے غایت قرب اور ح سے غایت بعد ہے اور اگریہ کرہ الٹ کر رکھا جائے تو ا کو ء سے غایت قرب اور ج سے غایت بعد ہو اور ب کو بالعکس یا وہ اس ہیات پر بنا ہے کہ اس نقطہ ا نقطہ ب وغیرہا ہر نقطے سے اتنے اتنے (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1222,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,391,"اقول:ایجاد جسم معین بے تعیین حیز خاص متصور نہیں تو ایجاد کو اس پر توقف ہے اور کسی جہت کا اعتبار ان سب کا اعتبار ہے جو اس کے موقوف علیہ ہوں و لہذا تمہیں فاعل من حیث الایجاد کے اعتبار سے چارہ نہ ہوا کہ وجود اس پر موقوف ہے۔
سادسا و سابعا: آئندہ دو مقام ہیں۔
مقام ہفتم
فلك الافلاك میں میل مستقیم ہے۔
اقول:اولا:یہ اسی حیز طبعی کی دلیل سے ثابت ہو کر فلسفہ کی عمارتیں ڈھا گیا حیز طبعی نہیں مگر وہ کہ طبیعت جسم اس میں کون و سکون کی مقتضی ہو یعنی جسم اس میں ہے تو سکون چاہے اور باہر ہو تو عود۔یہی مبد میل مستقیم ہے جس کا مقتضی بشرط خروج طلب عود اس کے لیے نہ وقوع عود ضرور نہ امکان عــــــہ خروج کہ یہ امور اقتضا سے خارج ہیں مقدم کا امکان شرط شرطیہ نہیںکلام اس میں ہے کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فصل مخصوص پر ہےاگر اجزا کے مواضع بدل دیئے جائیں یہ فصل بدل جائیں ان میں وضع بمعنی دوم ہی حرکت وضعیہ سے بدلتی ہے اور بمعنی سوم نہ وضعیہ سے بدلے نہ اینیہ سے جب تك اجزاء متفرق ہو کر الٹ پلٹ نہ ہوں ظاہر ہے کہ اگر اجزاء یا ان کی نسبتیں باہم امور خارجہ سے نہ ہوں تو نفس کل میں کوئی تغیر بیان ہی نہیں۔لہذا یہ دونوں وصفیں کل کی اپنی ذاتی نہیں بواسطہ اجزا میں ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ:یہی فلسفہ اس مدعا پر کہ فلك کی محرك قوت جسمانیہ نہیں وہ دلیل لایا کہ اس قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جس کی تحریك پر قادر ہو کل قوت بھی اس پر قاد رہوئی(تاآخر بیان مذکور تعطیل نہم)اس پر کھلے دو اعتراض تھے۔
(۱)اقول:جب قوت جسم میں ساریہ ہے تو اس کا تجزیہ نہ ہوگا مگر بہ تجزیہ جسم اور وہ تمہارے فلك پر محال تو نہ کوئی حصہ فوت ہے نہ کوئی جزو جسم جس پر دلیل چل سکے۔
(۲)قوت اسی کو حرکت دے گی جس میں حلول کیے ہے تو نہ کل قوت بعض جسم کی محرك ہوگی نہ بعض کل کی دلیل ماشی ہو یہ دوسرا خود متشدق جونپوری نے وارد کیا اور وہی جواب دیا نہ کلام محض فرض و تقدیر پر ہے کہ اگر ایسا ہو تو ان قوتوں کا اقتضاء یہ ہے یونہی یہاں ہے کہ بغرض خروج طلب عود لازم اور یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
",
1223,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,392,"اس کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز ہے یا نہیں کہ برتقدیر خروج اسے پھر یہاں لانا چاہیے اگر نہیں تو حیز طبعی نہ ہوا اور اگر ہاں تو اسی کا نام مبدء میل مستقیم ہے تو ثابت ہوا کہ اگر ہر جسم کے لیے حیز طبعی ضرور ہے تو ہر جسم میں مبدء میل مستقیم ضرور ہے اور فلك بھی ایك جسم ہے تو ضرور وہ بھی مبد میل مستقیم رکھتا ہے۔
ثانیا:ہم ثابت کریں گے کہ اس میں مبد میل مستدیر نہیں تو ضرو رمبدء میل مستقیم کہ دونوں سے خلو محال جانتے ہیں(تبیین)
اقول:یہاں سے روشن ہوا کہ فلك محدد جہات نہیں کہ جس میں مبدء میل مستقیم ہے قابل حرکت اینیہ ہے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو اس سے پہلے تحددجہات لازملہذا اس کا محدد ہونا محال۔
مقام ہشتم
فلك میں مبدء میل مستدیر نہیں۔
اقول:اولا: یہ اسی مقام سابق عــــــہ سے ثابت کہ فلاسفہ کے نزدیك دو مبدء میل کا اجتماع محال۔
ثانیا: ہم ثابت کریں گے کہ فلك پر حرکت مستدیرہ محال تو ضرور اس میں مبدء میل مستدیر نہیں کہ ہوتا تو حرکت محال نہ ہوتی کہ فلك پر عالق نہیں مانتے۔
مقام نہم
جسم میں کوئی نہ کوئی مبدء میل ہونا کچھ ضرور نہیںفلسفی ضروری جانتا اور اس پر دو دلیلیں دیتا ہے۔
(۱)جسم اگر حیز بدل سکے تو میل مستقیم ہوانہ بدل سکے تو دوسرے اجسام سے جو اس کے اجزاء کی وضع ہے خاص وہی لازم نہیںدوسری بھی جائز تو مع ثبات حیز وضع بدلناجائز ہوا۔یہ میل مستدیر ہوا۔بہرحال اگر طباعی ہے یعنی خود جسم کی طبیعت یا ارادے سےتو اس میں مبدء میل
عــــــہ:مقام ششم کے ثانیہ میں اس مقام کا ثانیہ ملحوظ اورا س مقام کے اولا میں مقام ششم کا اولا فلادور ۱۲ منہ۔
",
1224,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,393,"ثابت ہوا۔اور اگر خارج سے ہو تو ضرور جسم میں کوئی مبدء میل طبعی ہے کہ طبع نہیں تو قسر نہیں۔
(۲)حیز نہ بدلے تو وہی تقریر سابق اور بدل سکے تو ہر جسم کے لیے ایك حیز طبعی ہے جب اس سے جدا ہو ضرور ہے کہ بالطبع اسے طلب کرے یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
اقول:اولا: وہ مقدمہ کی طبع نہیں تو قسر نہیں کہ دونوں دلیلوں کا مبنی ہے مقام چہارم میں باطل ہوچکا۔
ثانیا: ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہونا مقام پنجم میں باطل ہوا۔
ثالثا: کیا محال ہے کہ مقتضی طبع بعض اجسام سکون محض ہو اور انتقال سے مطلقا اباء تو تبدیل وضع جائز نہ ہوگی نہ اس لیے کہ یہ وضع خاص مقتضائے طبع ہے بلکہ اس لیے کہ طبع کو انتقال سے اباء ہے جیسے وہ ثقیل کہ مرکز یا خفیف کہ محیط کو واصل ہو ضرور اسے اجسام مخصوصہ سے ایك بین فصل ہوگا جسے وہ بدلنا نہ چاہے گا نہ اس لیے کہ خصوص فصل مطلوب ہے بلکہ اس لیے کہ اس کی تبدیل حرکت سے ہوگی اور وہ حرکت سے آبی۔
رابعا: اگر بالفرض ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہو تو دلیل سے اگر ثابت ہو ا تو اس قدر کہ حیز کی تعیین طبیعت کرے کہ ترجیح بلا مرجح نہ ہو وہ حیز و طبیعت میں مناسبت سے حاصل کہ اسی قدر ترجیح کو بس ہے بحال زوال طلب و عود کی کیا ضرورت کہ یہ نہ لازم مناسبت ہے نہ شرط ترجیح ممکن کہ جسم میں حرکت کی صلاحیت ہی نہ ہو جہاں اٹھا کر رکھ دیں وہیں رہ ہوئے۔
خامسا: اس عیاری کو دیکھئے کہ دلیل دوم کو اس جسم سے خاص کرتے ہیں جو حیز بدل سکے حالانکہ وہ صحیح ہے تو یقینا عام ہے کہ ہر جسم کے لیے ایك حیز طبعی ہے بدل سکے یا نہیں تو بغرض خروج ضرور بالطبع جس کا طالب ہوگا۔یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
مقام دہم
حرکت وضعیہ کا طبعیہ ہونا محال نہیںفلسفی محال جانتا اور جہاں قاسر نہ ہو ارادیہ واجب مانتا ہےدلیل یہ کہ اس میں جو متروك ہے اسی آن میں مطلوب ہے جو نقطہ جہاں سے چلا وہیں آرہا ہےیہ بات طبعیہ میں ناممکن کہ بالطبع کسی وضع کی طالب بھی ہو اور اس سے ہارب بھی بخلاف ارادہ کہ اعتبارات عــــــہ مختلفہ کا تصور کرکے ایك جہت سے طلب دوسری سے ہرب میں
عــــــہ:بعض نے یوں تقریر کی کہ ہرب ایك وقت میں ہے۔(یعنی جب وہاں سے چلا)اور طلب (باقی برصفحہ ائندہ
",
1225,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,394,"حرج نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دوسرے وقت میں(یعنی تمام دورہ کے بعد اس پر آتے وقت نیز غرض حرکت چیز دیگر ہے۔(یعنی مثلا مفارق سے تشبہ)اور یہ طلب و ہرب دونوں بعرض تو اجتماع میں حرج نہیںشرح حکمۃ العین میں اس پر رد کیا کہ بلاشبہ طلب و ہرب وقت واحد میں ہے کہ جہاں سے چلا اسی وقت تو اس کی طرف متوجہ ہے اور حرکت واحدہ میں شیئ واحد کی طلب و ترك معا ارادۃ بداہۃ محال ہے اگر دونوں بالعرض ہوں اور خود یوں تقریر کی کہ اس وقت ہرب مثلا اس نقطے سے ہے اور توجہ اس کے برابر والے نقطہ کی طرف یہ توجہ اس پہلے کی طرف بھی توجہ بالعرض یوں ہوگئی کہ وہ اسی جہت توجہ میں واقع ہے ورنہ اس ارادے میں وہ مطلوب نہیں۔ہاں تمامی دورے کے بعد پھر مطلوب ہوگامگر وہ ارادہ جدید ہوگا۔ہر ہر نقطہ کا تازہ ارادہ ہے۔طبیعت غیر شاعرہ سے ایسا نہیں ہوسکتا۔(شرح مذکور مع حاشیہ علامہ سید شریف)
اقول:اولا: بات وہی تو ہوئی جو اس بعض نے کہی تھی کہ ہرب ایك وقت میں ہے طلب دوسرے وقتشرح کی تقریر صرف اس کی شرح ہے۔
ثانیا: جب اختلاف وقت حاصل تو شیئ واحد کے مطلوب و مہروب بالعرض ہونے میں حرج نہ ہونا اور بالعرض کی قید اس نے اس لیے لگائی کہ وہی مطلوب بالذات ہوتا اس تك پہنچ کر انقطاع حرکت لازم تھا۔فافہم۔
ثالثا: متن میں ہماری تقریر دیکھئے کہ طبیعت غیر شاعرہ سے بھی ایسا ناممکن۔
رابعا:حرکت وضعیہ اگر حرکت واحدہ ہے تو کل جسم کے لیے اس میں نہ کسی وضع کی طلب ہے نہ ترك کہ اس سے کل کی وضعیں بدلتی ہی نہیں ہر جز کی بدلے گی اور حیز کے اعتبار سے ہر ہر نقطہ سے دوسرے تك حرکت تازہ ہے تو مختلف وقتوں میں مختلف حرکتیں ہیں۔کیا محال ہے کہ ایك وقت و حرکت میں ایك نقطہ بالطبع مطلوب اور دوسرے وقت و حرکت میں مہروب ہو۔جیسے قطرہ کہ اترتا ہے ہر آن ایك جز مسافت پر آنا چاہتا اور اس پر آکر اسے چھوڑنا چاہتا ہے اس کا جواب شارح نے یہی دیا تھا کہ یہ دو حرکتوں میں ہوا نہ حرکت واحدہ میںوہی جواب یہاں ہے ۱۲ منہ۔
", شرح عین الحکمۃ
1226,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,395,"رد اول:کیسے نقطے اور کیسی وضعیںکس کی طلب اور کس سے ہربتمہارے نزدیك جسم متصل وحدانی ہے نہ اس میں اجزاء بالفعل ہیں نہ حرکت موجودہ میں دونوں کی تجزی وہم میں ہے تو کیا محال ہے کہ بعض اجسام کی طبیعت مقتضی حرکت مستدیرہ ہو یوں کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔ عــــــہ۱ (امام حجۃ الاسلام فی تہافت الفلاسفہ)
اقول:امام کی شان بالا ہےفقیر کوتامل ہےیہاں شك نہیں کہ اجزاء اگرچہ بالفعل نہیں ان کے مناشی انتزاع موجود ہیں اور ان میں ہر ایك کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے اور یہی امتیاز ان کے لیے امتیازا وضاع کا ضامن ہے اور یہ امتیازقطعا واقعی ہے اعتبار کا تابع نہیں اس منشا کو دوسرے جسم کے جز موجود یا اس کے منشا سے جو محاذات یا قرب و بعد ہے یقینا دوسرے جز یا اس کے منشا سے اس کا غیر ہے اسی قدر طلب و ترك اوضاع کو بس ہے تو ایراد میں صرف جملہ اخیرہ پر اقتصار چاہیے یعنی کیا ضرور ہے کہ حرکت وضعیہ طلب اوضاع ہی کے لیے ہو کیوں نہیں جائز کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔علامہ خواجہ زادہ عــــــہ۲ نے اس منع کا ایضاح کیا کہ حقیقت حرکت
عــــــہ۱:قزوینی نے حکمۃ العین میں اس اعتراض میں امام کی تقلید کی اور میرك بخاری نے شرح میں اس کی تائید کی۔طوسی نے شرح اشارات میں اس اعتراض کا مہمل جواب دیا تھا اسے رد کیا جواب یہ تھا کہ شیئ کا مقتضی اس کے دوام سے دائم رہتا ہے۔تو جسم قادرالذات حرکت غیر قارہ کا کیونکر مقتضی ہوسکتا ہے بلکہ کسی اور غرض کا مقتضی ہوگا۔شارح نے رد کیا کہ بحسب تجددو توالی امور مقتضی ہوسکتا ہے۔
وانا اقول:(اور میں کہتا ہوں ت)موجودہ حرکت بمعنی التوسط ہےوہ غیر قار نہیں اور بلاشبہ دائم رہ سکتی ہےمتجدد و منصرم حرکت بمعنی القطع ہے وہ نہ مقتضے نہ موجود بلکہ انتزاع وہم ہے۔پھر شارح حکمۃ العین نے خود حواشی علامہ قطب شیرازی سے یہ جواب نقل لیا۔اور مقرر رکھا کہ جب حالت مطلوب حاصل ہوتی ہے۔طبیعت حرکت تھمادیتی ہے۔یہ جواب جیسا ہے خود ظاہر لاجرم علامہ سید شریف نے حواشی میں فرمایا کہ یہ جب ہو کہ حرکت کے سوا کوئی اور فرض مطلوب ہو اور جب خود حرکت مطلوب یعنی محترك رہنا ہی مقتضائے طبع ہو تو انقطاع حرکت کیا معنی ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:علامہ نے دلیل فلاسفہ پر ایك اور رد کیا کہ وضع متروك معدوم ہوجائے گی اور تمہارے نزدیك (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1227,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,396,"یہی ہوتا کہ دوسری شے کی طرف لے جائے۔(یعنی اس کا کمال ثانی کی غرض سے کمال اول ہونا جسے طوسی نے شرح اشارات میں اس رد کا جواب قرار دیا)فلسفی زعم ہے ہمیں مسلم نہیںہاں اکثر حرکتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔اس سے کیا لازم کہ حرکت ایسی ہی ہوابن رشد فلسفی مالکی نے جواب دیا کہ حرکت محض امر ذہنی سے تو بالذات اسی کی کی مطلوب ہوسکتی ہے۔جو صاحب ارادہ ہو کہ خود حرکت کی طلب نہ ہوگی مگر شوق حرکت سے اور شوق بے تصور ناممکن۔
اقول:اولا: حرکت کا ذہنی محض ہونا قبل حدوث مراد یا بعد علی الاول کوئی غرض کبھی نہیں ہوتی مگر ذہنی کہ موجود ہو تو تحصیل حاصل ہو مثلا طلب خیز نہیں بلکہ طلب حصول فی الخیر کہ غرض وہ جو فعل پر مرتب ہو اور ذات حیز حرکت پر مترتب نہیں کہ وقت حرکت حصول فی الخیر موجود فی الخارج نہیں تو اس کا وجود نہ ہوگا مگر ذہنی تو حرکت وغیر حرکت میں فرق باطل و علی الثانی حرکت ہر گز ذہنی نہیں موجود فی الخارج ہے جس سے ایك ذہنی محض منتز ہوتی ہے۔
ثانیا: طلب بے شوق نہ ہونا عام ہے یا حرکت ہی سے خاص ثانی ممنوع بلکہ بداہۃ تحکم اور اول حرکت طبعیہ کا مطلقا احالہ۔
ثالثا: ذہنی کے لیے تعقل چاہیے تو خارجی کے لیے احساس ضرور نہیں اور طبیعت دونوں سے عاری اور یہ کہ ادراك یہیں درکار نہ وہاں تحکم محض ہے یہ ہے ان کی فلسفیت۔
رابعا: پتھر مٹی کے ستون پر رکھا تھاستون مہندم ہو کر نیچے سے نکل گیا۔پتھر جانب زمین چلا راہ میں ہوا وغیرہ جو مزاحم ملا اسے دفع کرتا زمین تك پہنچا تو۔
(۱)وقت حرکت جانا کہ میں اپنے حیز میں نہیں۔
(۲)یہ کہ حیز وہ ہے۔
(۳)اس سمت پر ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اعادہ معدوم محالدوبارہ اس کی مثل وضع آئے گی۔نہ وہ تو جو متروك ہے مطلوب نہیں۔
اقول:اول: وضع آئندہ وگزشتہ میں فارق نہ ہوگا مگر زمانہ اور اقتضائے طبع تبدل زمانہ سے تبدیل نہیں ہوتا۔
ثانیا: امر طبعی میں جس طرح یہ محال کہ جو متروك ہے وہی مطلوب ہویونہی یہ بھی محال کہ جو مطلوب ہے وہی مترك ہو تجددو امثال سے اول کا جواب ہوگیا ثانی بدستور رہا کہ یہ مثل آئندہ کہ اب مطلوب ہے یہی مل کر متروك ہوگا۔۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1228,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,397,"(۳)حرکت مجھے اس تك پہنچائے گی۔
(۵)وہ اقرب طرق پر چاہیے کہ جلد وصول ہو۔
(۶)یہ جو راہ میں ملا اجنبی ہے۔
(۷)اسے دفع نہ کروں تو یہ مجھے وصول الی المطلوب سے روکے گا۔
(۸)جس پر جب تھا اور جس پر اب آیا دونوں جنس واحد سے تھے ان میں تمیز کی کہ یہ میرے مقصد سے دور اور وہ نزدیك ہے بغیر ان آٹھ مقصودوں کے یہ افعال کیسے واقع ہوئے ہیں جن میں ایك خود حرکت بھی ہے اور جب ان سب کے نتائج قوت غیر شاعرہ سے ایسے ہی واقع ہورہے ہیں گویا اسے ان سب کا شعورہے تو نری حرکت کا صدور بے قصور و بے شعور کیا محال و محذور۔
(رد دوم)اقول:کیا محا ل ہے کہ تمام اوضاع کہ اس دورے سے حاصل ہوں سب منافر طبع ہوں تو وہ سب مہروب ہوں گے ان میں مطلوب کوئی نہیں۔تو حرکت کمال اول بھی رہی کہ کمال ثانی ترك منافر ہے اور منقطع بھی نہ ہوگی کہ ہر جگہ منافر کا تجدد ہے اور مطلوب و مہروب بھی ایك ہی نہ ہوئے کہ مطلوب منافر سے بچنا ہے اور وہ متروك نہیں متروك یہ اوضاع ہیں اور وہ مطلوب نہیںہر جز کا ایك وضع چھوڑ کر دوسری پر آنا اس کی تحصیل کو نہیں بلکہ اس کی تبدیل کو۔
(رد سوم)اقول:کیا محال ہے کہ مقتضائے طبع اقرب اوضاع جدیدہ کی تحصیل ہو نہ بااعتبار خصوص وضع بلکہ اعتبار وصف مذکور اقتضائے طبع پر کوئی ایسی تحدید نہیں جس سے یہ اس میں نہ آسکے نہ ہر گز اس کی لم معلوم ہونی ضرور۔مقناطیس کا جذبکہروبا کی کششمقناطیسی سوئی کا ہر وقت مواجہہ ستارہ قطب رہناادھر سے پھیری جائے تو تھرتھرا کرپھر اسی طرف ہوجانا آفتاب پر جب کوئی بڑ ا کلف پیدا ہو اس سوئی کا زیادہ مضطرب و بے قرار ہوناسورج مکھی کے پھول کا بر وقت روبہ شمس رہناطلوع سے غروب تك آفتاب جیسا جیسا بدلے اس کا اسی طرف رخ پھرنا غروب کے بعد نیچے گر جانا وغیرہا۔صدہا افعال طبعیہ غیر معقول المعنی ہیںکیا دشوار کہ یہ بھی انہیں میں سے ہو تو وضع حاصل کا ترك وضع اقرب جدید کی تحصیل کو ہے اور بعد تمامی دورہ اس پر آنا اس وقت اس کی طلب نہیں بلکہ تمام متوسط طلبوں کے بعد یہ اقرب اوضاع جدیدہ
", ص ۱۴۷۔۱۲
1229,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,398,"ہوجائے گی تو کوئی وضع معا مطلوب و مہروب ہونا درکنار بعینہ نہ مطلوب نہ مہروب طلب وصف اقرب جدید کی ہے اور اس سے ہرب نہیںہرب ہر وضع حاصل سے ہے اور اس کی طلب نہیں۔
مقام یازدہم
حرکت وضعیہ فلك بھی طبیعہ ہوسکتی ہےفلسفی نے اول تو مطلقا مستدیرہ طبعیہ ہونا محال مانا جس کے ردسن چکے یہ شبہ خاص دربارہ فلك ہے کہ حرکت طبعیہ واجب الانقطاع ہے اور حرکت فلك ممتنع الانقطاع تو حرکت فلك طبعیہ نہیں ہوسکتی۔کبری عــــــہ اس لیے کہ اس کی حرکت کی مقدار زیادہ ہے وہ منقطع ہو تو زمانہ منقطع ہو۔اور زمانہ کا انقطاع محال اور صغری اس لیے کہ وہ کسی غرض کے لیے ہونی ضروراور کبھی نہ کبھی غرض کا حاصل ہوجانا واجبورنہ جب متحرك کا اس تك وصول ممکن ہی نہ ہو کمال ثانی کب ہوئیمعہذا علم اعلی میں ثابت ہوچکا ہے کہ طبیعت ہمیشہ اپنے کمال سے محروم نہ رہے گی۔لاجرم بعد حصول غرض انقطاع لازم
اقول:بحمدہ تعالی ایك حرف صحیح نہیں۔
(۱)زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
(۲)موجود سہی تو مقدار حرکت نہیں ہوسکتا۔
(۳)ہو تو حرکت فلك کی مقدار ہونا ممنوعیہ سب بیان عنقریب آتے ہیں۔
(۴)حرکت فلك کی اس سے تقدیر ہو بھی تو اس کے انقطاع سے انقطاع زمانہ لازم نہیں کیا محال ہے کہ کواکب میں حرکات پیدا ہو کر اسکی حفاظت کریں۔
(۵)نہ سہی انقطاع زمانہ ہی کس نے محال کیااس کا روشن بیان آتا ہے۔
(۶)تو حرکت فلك ہر گز ممتنع الانقطاع نہیں۔
(۷)ابھی سن چکے کہ حرکت کا غرض کے لیے ہونا کچھ ضرور نہیں۔
(۸)یہ بھی کہ غرض ایسی ممکن جو ہر آن حاصل ومستمر ہو تو کمال ثانی بھی موجود اور انقطاع
عــــــہ:ای ما اقمنا موضعھا لاستلزامہ لھامنہ غفرلہ۔ یعنی جس کو ہم نے کبری کی جگہ رکھا کیونکہ وہ کبری کومستلزم ہے غفرلہ۔(ت)
",
1230,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,399,"بھی مفقود۔
(۹)دعوی یہ تھا کہ غرض کا حصول بالفعل واجباور دلیل یہ کہ حصول محال ہو تو کمال ثانی نہ رہےکہاں بالفعل حاصل نہ ہونا کہاں محال و ممتنع ہونابہت حرکات ہیں کہ ان کی غرض ان پر کبھی مترتب نہیں ہوتی بے کارجاتی ہیںکیا وہ حرکت ہونے سے خارج ہوگئیں۔
(۱۰)استحالہ حرمان طبیعت ممنوع۔
(۱۱)بعد حصول غرض لزوم انقطاع ممنوع ممکن کہ ہمیشہ غرض دیگر پیدا ہوتی رہے۔
(۱۲)تو حرکت طبعیہ کا وجوب انقطاع ممنوع۔
مقام دوازدہم
طبیعت کا دائما اپنے کمال سے محروم رہنا محال نہیںفلسفی محال کہتا ہے اور اس پر اس مقدمہ کی بنا کرتا ہے کہ دوام قسر محال۔
اقول:یہ مقدمہ ہمارے نزدیك یوں ہے کہ ازل میں کوئی شے قابل مقسور ہوئی نہیں تو قسر نہ ہوگا مگر حادثلیکن جس طرح فلسفی کہتا ہے ہرگز صحیح نہیں کمال تك ایصال فعل ذی الجلال ہے اور اس پر کچھ واجب نہیںکلام یہاں مزعوم فلسفی پر ہےلہذا اسی کے زعم پر بعض دلیلیں پیش کریں۔
فاقول:(پس میں کہتا ہوں ت)دلیل اول:ہم نے مقام اول میں ثابت کیا کہ بسیط کی شکل طبعی کرہ مصمتہ غیر مجوفہ ہے اور افلاك سب مجوف ہیں اور ان کے نزدیك اسی شکل پر ازلی ابدی دائما اپنے کمال طبعی سے محروم ہیں۔
دلیل دوم:فلاسفہ مختلف ہیں کہ نار و ہوا دونوں طالب محیط اور ارض وماء دونوں طالب مرکز ہیںیا نار طالب محیط عــــــہ اور ہوا کا حیز زیر حیز نار وبالائے حیز آب ہے اور ارض طالب مرکز اور
عــــــہ:فی حکمۃ العین وشرحھا(البسیط العنصری(ان تحرك عن الوسط فہو الخفیف المطلق ان طلب نفس المحیط وھو النار(والا فالخفیف المضاف) حکمۃ العین اور اس کی شرح میں ہے کہ بسیط عنصری دو۲ حال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ وسط سے حرکت کرے گا یا وسط کی طرف حرکت کرے گا۔اگر وسط سے کرے گا تو پھر دو حال سے خالی
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1231,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,400,"آب کا حیز بالائے حیز ارض و زیر حیز ہوا ہےبہرحال اس پر اتفاق ہوا کہ نار طالب محیط ہے اور
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وھوالہواء(وان تحرك الی الوسط فہوالثقیل المطلق ان طلب نفس المرکز)وھو الارض(والا فالثقیل المضاف) زوھو الماء اھ و فی المواقف وشرحھا فی قسم العناصر (المتاخرون)من الحکماء علی انھا اربعۃ اقسام خفیف یطلب المحیط فی جمیع الاحیاز وھو النار و خفیف یقتضی ان یکون تحت النار وفوق الاخرین و ھو الھوا ء وثقیل مطلق یطلب المرکز وہی الارض و ثقیل مضاف یقتضی ان یکون فوق الارض وتحت الاخرین وھو الماء اھ وقولہ المتاخرون راجع الی من جعلہا اربعۃ فان منھم من قال بواحد وباثنین وبثلثۃ ۱۲ منہ نہ ہوگا کہ وہ طالب نفس محیط ہے یا نہیںبصورت اول خفیف مطلق ہے اور وہی نار ہے اور بصورت ثانی خفیف مضاف ہے اور وہی ہوا ہےاور اگر وسط کی طرف حرکت کرے گا توپھر دوحال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ مطالب نفس مرکز ہوگا یا نہیں بصورت اول ثقیل مطلق اور وہی ارض ہےاور بصورت ثانی ثقیل مضاف اور وہی ماء ہے اھ۔مواقف اور اس کی شرح میں قسم عناصر میں ہے متاخرین حکماء کا نظریہ یہ ہے کہ عناصر چار ہیں(۱)وہ خفیف جو تمام حیزوں میں طالب محیط ہے اور وہی نار(آگ)ہے(۲)وہ خفیف جو تقاضا کرتا ہے کہ وہ نار کے نیچے اور باقی دونوں کے اوپر ہو اور وہی ہوا ہے۔(۳)ثقیل مطلق جو طالب مرکز ہے اور وہی ارض ہے (۴)ثقیل مضاف جو ارض کے اوپر اور باقی دونوں کے نیچے ہونے کا مقتضی ہے اور وہی ماء(پانی ہے)اور اس کا قول متاخرون اس کی طرف راجع ہے جس نے عناصر کو چار قسمیں ٹھہرایا ہے کیونکہ ان میں بعض نے ایك کابعض نے دو کا اور بعض نے تین کا قول کیا ہے۔۱۲ منہ(ت)
"," شرح حکمۃ العین
شرح المواقف القسم الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۷/ ۱۳۷
"
1232,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,401,"وہ ازلا ابدا کبھی نہ محیط کو پہنچینہ پہنچے تو دواما حیلولت افلاك سے مقسور ہے۔
دلیل سوم:اگرچہ ان کے یہاں مشہور وہی قول دوم ہے مگر ہم دلائل سے اول کو ترجیح دیں۔
اولا: اگر پانی کا حیز طبعی زیر ہوا و بالا ئے ارض رہنا تھا تو واجب کہ جو کنواں جو سطح زمین کے برابر ہو تو اس پر کھڑے ہو کر کسی برتن سے پانی الٹیں کنارہ چاہ پر رك جائے اندر نہ گرے اور اگر کنویں کی من سطح ارض سے اونچی ہے تو جتنی بلند ہے وہاں تك پانی لے جائے سطح زمین کی محاذات پر فورا رك جائے کہ یہیں تك اس کا حیز طبعی ہے اور حیز طبعی میں شے کو روك کے لیے کسی سہارے کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ اس سے تجاوز کے لیے قاسر کی ضرورت ہوتی ہے۔
ثانیا: سطح زمین میں جو ڈھال اس کی اصلی حالت سے نیچا پیدا ہوگیا جیسے عام نالی وغیرہاواجب ہے کہ پانی اس کی طرف متوجہ نہ ہو کہ وہ طالب سفل مطلق نہیں اور جس سطح کا طالب ہے یہ ڈھال اس سے نیچے ہیںحالانکہ یقینا پانی جتنا ڈھال پائے گا اس کا طالب ہوگا تو ضرور وہ سفل مطلق چاہتا ہے زمین کہ اس سے اثقل ہے مرکز تك پہلے پہنچ گئی ہے لہذا ا س سے محجوب ہے۔
ثالثا: سمندر کا پانی تمہارے نزدیك اپنے حیز طبعی میں ہے کہ اس کنارے پر مثلا ایك انگل کے فاصلے سے ایك گڑھا کھودیں پھر اس فاصلے کو پانی کی طرف ہاتھ مار کر توڑ دیں۔ہاتھ کے صدمے سے پانی قدر جانب خلاف کو ہٹ کر پھر پلٹے گا اب واجب تھا کہ پلٹ کر اپنی پہلی جگہ پر رك جاتاغار میں نہ آتا کہ وہیں تك اس کا حیز طبعی ہے اور آگے حرکت پر کوئی قاسر نہیں نہ پانی صاحب ارادہ ہے کہ وہ بھی حکم قاسر میں ہے۔بلا قاسر حیز غریب میں جانا کیا معنی اگر کہیے اس غار میں ہوا مقسور تھی کہ بوجہ استحالہ خلا نہ نکل سکتی تھی اب کہ اس نے دیکھا کہ دوسرا جسم یعنی پانی موجود ہے کہ میرے نکلنے پر اسے بھردے گا وہ نکلی اور پانی بضرورت خلا داخل ہوا۔
اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ حیز ہوا و آب دونوں کے لیے غریب ہے ہوا کو کیا ترجیح ہے کہ وہ خود اس سے آزاد ہو کر پانی کو مقید کردے اگر ایسا ہے تو واجب کہ سمندر کا پانی تمام روئے زمین پر پھیل جائے کہ برابر کی ہوا حیز غریب میں ہے اور وہ اپنے پاس پانی دیکھ رہی ہے جو اس کے نکل جانے پر ضرورت خلاء کو پورا کردے گا تو کیوں نہیں اپنے حیز طبعی کی طرف اڑتی کہ پانی پھیل کر محیط زمین ہوجا ئے۔
",
1233,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,402,"رابعا: تالابوںنالوں میں جو پانی بھرا ہے تمہارے طور پر حیز غریب میں ہے تو واجب کہ اپنے حیز طبعی کی طرف حرکت کرے اور استحالہ خلا کے دفع کو ہوا موجود ہے جیسے وہاں پانی موجود تھا بلکہ یہی صورت راجح ہے کہ اب ہوا و پانی دونوں حیز غریب میں ہیںاور پانی اونچا کہ اپنے حیز طبعی میں آجائے اور ہوا اس خلا کو بھر دے تو یہ ایك ہی حیز غریب میں ہوگا۔
خامسا: بسیط کا ہر جز طالب حیز ہے ولہذا پانی کہ زمین پر ڈالیں اس کی دھار اپنے دل پر نہیں رہتی بلکہ تمام اجزاء اتر کر پھیل جاتے ہیں مگر ڈھال کی طرف خط مستقیم پر جاتے ہیں۔اگر مستدیر شکل میں پھیلیں جلد اپنے مقصد کو پہنچیں کہ مرکز سے محیط تك کسی کو اتنا فصل نہ ہوگا جو اجزائے بعید کو خط مستقیم میں اور طبیعت ہمیشہ قرب طرق سے اپنے مقتضی میں جانا چاہتی ہے تو واجب تھا کہ زمین پر شکل دائرہ میں پھیلتا۔ان تمام وجوہ سے ثابت کہ پانی طالب سفل مطلق ہے تو قول اول ار جح ہے تو اس دورہ زمین یعنی حیز لایتجزی کے سوا جو مرکز عالم پر منطبق ہے چاروں عناصر ازلا ابدا اپنے حیز طبعی سے محروم ہیں۔
دلیل چہارم:تم کرہ نار کو مشایعت فلك میں دائم حرکت مستدیرہ مانتے ہوظاہر ہے کہ یہ نہ ارادیہ نہ طبعیہاور ہم نے فوزمبین میں زیر دلیل صدم بیان قاطع سے روشن کیا کہ فلاسفہ کا اسے عرضیہ کہنا باطل ابن سینا نے جو اس کی وجہ تراشی مضحکہ محضہ ہے لاجرم قسریہ ہےاور قسریہ کو دوام۔
دلیل پنجم:اس سے بڑھ کر فلك ثوابت و جملہ ممثلات کا بہ تبعیت فلك الافلاك حرکت یومیہ کرنا اور یہاں جوابن سینا نے فرضیت کی وجہ گھڑی بالکل شیخ چلی کی کہانی ہے کما بینافی کتابنا الفوز المبین(جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب فوزمبین میں اس کو بیان کیا ہے۔ت)لاجرم یہ سب قسریہ ہیں اور سب دائم یہاں فوزمبین میں ہمارا کلام یہ ہے۔
اقول:وباﷲ التوفیق ہماری رائے میں حق یہ ہے کہ حرکت وضعیہ میں عرضیت کی کوئی تصویر پایہ ثبوت تك نہ پہنچی۔جب تك مابالعرض مابالذات کے ثخن میں ایسا نہ ہو کہ اس کی حرکت وضعیہ سے اس کا این موہوم بدلے این موہوم سے یہاں ہماری مراد وہ قضا ہے کہ مابالذات کو محیط ہے ظاہر ہے کہ حامل کو جو فضا حاوی ہے تدویر کہ ثحن حامل میں ہے۔اس فضا کے ایك حصے میں ہے جب حامل حرکت و ضعیہ کرے گا ضرور تدویر اس حصہ فضا سے دوسرے حصہ میں آئے گی تو اگر چہ خود ساکن محض ہو ضرور ضرور اس کی حرکت وضعیہ سے اس کی وضع بدلے گی این موہوم بدلا۔
",
1234,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,403,"اگرچہ این محقق برقرار ہے بخلاف مائل یا خارج المرکز کہ اگر دونوں متمم کو ایك جسم مانیں تو یہ اس کے ثخن میں ضرور ہے مگر ان کی گردش سے اس کا این موہوم نہ بدلے گا تو ان کی حرکت سے یہ متحرك بالعرض نہ ہوگا۔جونپوری کا شمس بازغہ میں زعم کہ اگر اس کے ساتھ نہ پھرے تو اسے حرکت سے روك دے گا۔
اقول:دو۲ وجہ سے محض بے معنی ہے۔
(۱)نہ یہ اس کی راہ میں واقع ہے نہ اس میں جڑا ہوا ہے کہ بے اپنے اسے چلنے نہ دےاور اگر بالفرض راہ روکے ہوئے ہے تو۔۔ ۔۔۔۔کھول دے گاحرکت وضعیہ سے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی۔
(۲)اگر یہ ان میں چسپاں بھی ہو تو ان کے گھومنے سے ضرور گھومے گا۔مگر یہ انتقال بالذات اسے بھی عارض ہوگا اگرچہ دوسرے کے علاقہ سے تو عرضی نہ ہوگا بلکہ ذاتی غرض اس صورت کے سوا وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر ثابت نہیں۔ومن ادعی فعلیہ البیان(اور دلیل مدعی کے ذمے ہے۔ت)افلاك میں فلاسفہ کا محض ادعا ہے اس لیے کہ ان میں قاسر سے بھاگتے ہیں۔مشایعت ساتھ ساتھ چلتا ہے نہ یہ کہ ایك ساکن محض رہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہو۔چکروں کا بیان ابھی گزرا تو عرضیہ میں فریقین کی بحث خارج از محل ہے ابن سینا پھر جو نپوری مذکور نے زعم کیا کہ فلك کی مشایعت میں کرہ نار کی حرکت عرضیہ اس لیے ہے کہ ہر جزو نار نے اپنے محاذی کے جز و فلك کو اپنا مکان طبعی سمجھ رکھا ہے اور بے شعوری کے باعث یہ خبر نہیں کہ اگر اسے چھوڑے تو اسے دوسرا جز بھی ایسا ہی اقرب و محاذی مل جائے گا ناچار بالطبع اس کا ملازملہذا جب وہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتا ہے کہ اس کا ساتھ نہ چھوٹے اور اس پر اعتراض ہوا کہ پھر فلك ثوابت فلك اطلس کے سبب کیوں متحرك بالعرض ہے اس کے اجزاء نے تو اس کے اجزاء کو نہیں پکڑا کہ خود جدا حرکت رکھتا ہے اس کا جواب دیا کہ اس کے اقطاب نے اپنے محاذی اجزاء کی ملازمت کرلی ہے اور اس کے اقطاب پر نہیں لہذا ان اجزاء کی حرکت سے اس کے قطب گھومتے ہیں۔ لاجرم سارا کوہ گھوم جاتا ہے۔
اقول:یہ شیخ چلی کی سی کہانیاں اگر مسلم بھی ہوں تو عاقل بننے والوں نے اتنا نہ سوچا کہ جب نارو فلك البروج کی یہ حرکت اپنے اس مکان کی حفاظت کو ہے تو ان کی اپنی ذاتی حرکت ہوئی یا عرضیہ۔
",
1235,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,404,"حرکت قلب قسریہ ہوسکتی ہےفلسفی اس کے استحالہ پر چند شبہات پیش کرتا ہے۔
شبہ ۱:قسر کو دوام نہیں اور حرکت فلك دائم۔
اقول:دونوں مقدمے مردود ہیںثانی کا ردا بھی سن چکے اور اول کا رد تعلیل ہفتم میں
شبہ ۲:میل قسری نہ ہوگا میل طبعی کے خلاف اور فلك میں میل طبعی نہیں کہ میل مستدیر طبعی نہیں ہوسکتا کہ متروك بعینہ مطلوب ہے اور میل مستقیم کسی جہت کو اور جہات کی تحدید خود فلك سے ہے۔
اقول:ایك ایك حرف مردود ہےمقام سوم و چہارم و نہم میں رد گزرے۔
شبہ ۳:فلك کی حرکت مستدیرہ فاعل کے قسر سے ہوتی تو سب اجسام میں ہوتی کہ فاعل کی نسبت سب سے یکساں ہے لاجرم اگر ہو تو کسی دوسرے فلك کے قسر سے اور اس کا قسریوں ہی ہوگا کہ وہ اپنی حرکت سے اسے حرکت دے جیسے ہاتھ کنجی کواب اس فلك کے قاسر میں کلام ہوگا اس کی حرکت ارادیہ پر انتہا لازمتو ثابت ہوا کہ افلاك میں وہ ہے جس کی حرکت ارادیہ ہےیہ اس دلیل کی توجیہ و توضیح و تلخیص و تقریب ہے جو امام حجۃ الاسلام نے فلاسفہ سے نقل فرمائی۔امام نے اس پر دو رد فرمائے۔
اولا: مولی عزوجل فاعل مختار ہے۔
اقول:رد میں اسی قدر بس ہے آگے جو ترقی فرمائی کہ اس کا فعل ہر جسم کے ساتھ مختلف ہونا اگر ان کی صفتوں کے اختلاف پر مبنی ہو تو ان صفتوں میں کلام ہوگا کہ یہ صفت اس جسم اور وہ اس جسم کے ساتھ کیوں خاص ہوئیاس کی حاجت نہیں کہ بحث کو طول ہو اور ابطال قدم نوعی کی حاجت پڑے جیسا کہ مباحث صور نوعیہ میں معرو ف ہے۔
ثانیا: کیا ضرور ہے کہ وہ جسم قاسر کوئی دوسرا فلك ہی ہو ممکن کہ اور کوئی جسم ہو کہ نہ کرہ ہو نہ محیط تو کسی فلك کی حرکت ارادیہ نہ ثابت ہوگی۔
اقول:نفی کرویت کی حاجت نہیںنفی احاطہ پر اقتصار اولی کہ اسی قدر فلك نہ ہونے کو کافیانہیں اس زعم کی گنجائش نہ دی جائے کہ وہاں کوئی ایسا جسم نہیں فلك سے ورانہ خلا و ملا اور افلاك متلاصق اور عنصریات ان کے زعم میں افلاك سے قابل ہیں نہ کہ افلاك میں فاعل یہ عذر۔
",
1236,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,405,"اگرچہ بارد ہےمگر اس کی راہ ہی کیوں ہو سرے سے کہیں کہ ممکن کہ ایك یا لاکھوں کو کب اگرچہ انہیں ثوابت میں سے کہ نظر آتے ہیں یا ان کے غیر کہ بوجہ بعد شہود نہیں فلك اعظم میں ہوں اور وہ اپنی حرکت ارادیہ سے فلك کو دھکا دیتے ہوں کہ اجزاء پر استحالہ اینیہ ثابت نہیں۔
ثالثا اقول:استوائے نسبت فاعل کی اب یہاں تك توسیع ہوئی کہ اختلاف طبائع و مواد و استعداد یہی اڑ گیا کہ قسر جانب فاعل سے ہوتا تو سب پر ہوتا۔
رابعا اقول:فلك قاسر قاسر فلك کیا ضرور ہے کہ اپنی حرکت ہی سے قسر کرے ممکن کہ بعض ارادے سے مسخر کرلے جیسے ہمارا نفس اپنے جوارح کو۔ہم میں بھی یہ حرکت بہ نظر جسم حقیقیہ قسریہ ہی ہے کہ طبیعت جسم سے نہیں مگر ارادیہ کہلاتی ہے کہ وہ نفس اسی جسم سے متعلق ہے تو گویا تحریك خارج سے نہیں مگر فلك قاسر کا نفس دیگر افلاك سے متعلق نہیں اس کی تحریك ضرور قسری ہوگی اور حرکت ارادیہ پر انتہا لازم نہ ہوگی۔
خامسا اقول:بالفرض ثبوت ہوا بھی تو اس قدر کا کہ کسی ایك فلك کی حرکت ارادیہ ہے وہ موجبہ کلیہ کدھر گیا کہ سب کی ارادیہ ہے اور وہ سالبہ کلیہ کیا ہوا کہ فلکیات میں کہیں قسر نہیں۔
شبہ ۴:افلاك اگر قسرسے متحرك ہوتے تو سب کی حرکت موافق قطبوں پر ایك ہی طرف ایك ہی مقدار پر ہوتی کہ سب قاسر ہی کی موافقت کرتے حالانکہ اختلاف مشہود ہے عــــــہ۱ علامہ خواجہ زادہ تہافت الفلاسفہ میں اسے نقل کرکے رد کیا کہ یہ جب لازم عــــــہ۲ ہو کہ قاسر فلك ہی میں منحصر ہو اور یہ ممنوع ہے۔
اقول:خدا کی شان کہ ایسے مہملات بکنے والے عقل و حکمت کے مدعی ہیں۔
اولا:وحدت قاسر کیا ضرورممکن کہ ہر ایك پر جدا قاسر ہو۔
ثانیا:قسر بذریعہ حرکت وضعیہ ہی کیا ضرور کہ اقطاب وغیرہا میں موافقت لازم ہو۔
عــــــہ۱:پھر حکمۃ العین اور اس کی شرح میں بھی یہ مہمل دلیل نظر آئی اور وہی اس کا ایك جواب دیا جو ہمارا اولا میں پیش پا افتادہ تھا۔۱۲ منہ۔
عــــــہ۲:اقول:جب بھی نہیں جیسا کہ ہمارے رد سے واضح ہوگا غالبا علامہ نے اسے تنزلا فرمایا ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1237,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,406,"ثالثا: قاسرواحد کا سب پر اثر یکساں ہونا کیا ضرور اثر جس طرح قوت قاسر سے بالا ستقامۃ بدلتا ہے۔یوں ہی قوت مقسور سے بالقلب ہلکا بھاری پتھر ایك ہاتھ سے ایك قوت سے پھینکو ہلکا دور جائے گا بھاری کم۔
رابعا: اس سے باطل ہوا تو دو فلك پر قسر ایك مثلا محدود پر قسر کا کیا انکار ہوا۔
خامسا: اختلاف مشہود ہے تو حرکات خاصہ کا حرکت یومیہ سب کو عام ہے اور اس کے اقطاب و جہت و قدر کچھ مختلف نہیں تو کیا محال ہے کہ سب میں قاسر واحد کے قسر واحد سے ہو غرض تفلسف ہے عجیب چیز۔
مقام چار دہم
فلك کی حرکت ارادیہ ہونا ثابت نہیں۔فلسفی یہاں دو شبہے پیش کرتا ہے۔
شبہ۱:فلك کی حرکت مستدیرہ ہے اور وہ طبعیہ نہیں ہوسکتینہ فلك میں قسریہان شبہات سے کہ مقام۹ تا ۱۱ میں گزرے لاجرم ارادیہ ہے۔
اقول:اولا: یہ تلاش تو جب ہو کہ پہلے اس کی حرکت بھی ثابت ہو لےاور ہم عنقریب واضح کریں گے کہ اس کی حرکت کا کچھ ثبوت نہیں۔
ثانیا: بلکہ سکون ثابت ہے۔
ثالثا: بلکہ فلك میں حرکت کی قابلیت تك ثابت نہیں۔
رابعا: بلکہ اصول فلسفہ پر اس کا متحرك ہونا محال پھر ارادیہ وغیرارادیہ یعنی چہ۔
خامسا ہم ثابت کرچکے کہ مطلقا حرکت مستدیرہ اور خود فلك کی وضعیہ طبعیہ ہوسکتی ہے۔
سادسا:قسریہ ہوسکتی ہے۔
شبہ ۲:ہمیں ایك ہی شے مطلوب یہی ہے مہروب بھییہ بغیر ارادہ ناممکن۔
اولا: یہ وہی بات ہے کہ نفی طبعیہ میں کہی اور اس کے کافی و وافی ردو ہیں گزرے۔
ثانیا: مانا کہ ارادہ ضرورپھر یہی کیا لازم کہ متحرك کا ہو ممکن کہ محرك کا ہو کیا چرخ و مغزل فسان عــــــہ وغیرہ کی حرکات و ضعیہ نہ دیکھیں ان میں بھی وہی طلب و ترك ہے کیا ان کے ارادے سے ہے۔
عــــــہ:بمعنی سان جس پر چاقو وغیرہ تیز کیا جاتا ہے۔۱۲ الجیلانی
",
1238,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,407,"کچھ بھی عقل کی کہتے ہو۔
ثالثا: پتھر کے نیچے گزرے مسافت میں جو نقطہ فرض کر واسے طلب کرتا پھر اس سے گزرتاہے اگر کہیے یہ نقاط مطلوب نہیں بلکہ حیزیہ راہ میں پڑے ناچار ان پر گزر ہوا ہم کہیں گے کہ ممکن کہ یوں ہی مستدیرہ میں اوضاع مطلوب نہ ہوں بلکہ نفس حرکت(علامہ خواجہ زادہ)اس کی کافی بحث(عہ)بھی وہیں گزری۔یہ ہے وہ جو ہمیں ان مقامات کی وضع پر محرك ہوا۔اثنائے بحث میں ہم نے متعدد وعدے کیے ہیں۔دو ضروری مقام اور لکھ کر بعونہ تعالی ان کا انجاز کریں۔
مقام پانزدہم
بلکہ افلاك کی حرکت قسریہ ہونا ثابتاس پر دو۲ دلیلیں ہیں:ایك افلاك شمانیہ میں اور ایك محدد وغیرہ سب ہیں۔(حجت اولی) اقول:آٹھوں ممثلوں کو اپنی حرکت خفیہ کے سوا حرکت یومیہ بھی ہے کہ جہت ومقدار واقطاب سب میں ان کی حرکت خاصہ بطیہ کے خلاف ہےان کا نفس وقت واحد میں دوجہتوں کو دو مختلف حرکتیں نہ دے گا۔آخر یہ دوسری کہاں سے ہے۔سفہاء خود کہتے ہیں کہ فلك اعظم کا نفس ایسا قوی ہے کہ ایسے اور باقی سب افلاك کو حرکت یومیہ سے گھماتا ہے تو ضرور باقی افلاك پر قسر ہوا کہ مبدء خارج سے ہے نہ ان کی طبیعت نہ ان کا ارادہسفہاء قسر سے نجات اس میں جانتے ہیں کہ باقی کی حرکت عرضیہ ٹھہراتے ہیں۔
اقول:اولا: جب ان کو حرکت ہی نہ ہوئی اطلس کی حرکت ان کی طرف بالعرض نسبت کردی جاتی ہے تو اعلی کا نفس ان کی تحریك پرخاك قادر ہوا۔
ثانیا: ہم ۱۰۰ کے بعد جواب اول کے دفع اول میں روشن طور پر بیان کرآئے کہ افلاك کی حرکت کو عرضیہ کہنا جہل محض ہے یہ ضرور ذاتیہ ہے اور تم مان چکے کہ فلك اعلی کی قوت نفس سے ہے تو یقینا ان پر قسر کے قائل ہوئے ولکن لاتفقہون(لیکن تم نہیں سمجھتے۔ت)
عــــــہ:شرح حکمۃ العین میں جو یہ جواب دیا کہ پتھر کی یہ طلب و ترك حرکت واحدہ میں نہیںوہیں ہم نے اس کے اقرار سے ثابت کردیا کہ مستدیرہ میں بھی حرکت واحدہ میں نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1239,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,408,"(حجت ثانیہ)ایك نہایت لطیف و نفیس بات کہ فلك الافلاك اور فلك کی حرکت قسریہ ہونا قبول وادی فلك کا قابل استدارہ ہونا یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ بسیط ہے ہر وضع سے اس کے اجزاء کو نسبت یکساں ہے تو انتقال جائز۔
اقول:نہیں نہیں بلکہ واجب کہ سکون میں ایك وضع کالزوم ہو اور وہ ترجیح بلا مرجح ہو۔اور وہ محالاور جو فعل دفع محال کی ضرورت سے ہو قسری ہے کہ اس کا مبدء خارج سے ہے۔جیسے پنچورے سے پانی کا نہ گرنا یا پچکاری میں اوپر چڑھنا وغیرہ ذلك الافعال کہ بے اقتضائے طبع بضرورت امتناع خلا ہیں سب قسری ہیںلاجرم تمام افلاك کی حرکت قسری ہے۔
مقام شانزدہم
فلك عــــــہ پر خرق و التیام جائز ہے۔فلسفی اسے محال کہتا ہے اور اس کے فضلہ خوارنیچری وغیرہم اسی بناء پر معراج پاك سے منکر ہیں۔طرفہ یہ کہ ایمان و کلمہ گوئی و تصدیق قرآن عظیم و ایمان _________قیامت کے مدعی ہیں۔قرآن و قیامت پر ایمان استحالہ خرق والتیام کے ساتھ کیونکر جمع ہوا جس میں بکثرت نصوص قاطعہ ہیں کہ روز قیامت آسمان پارہ پارہ ہوجائیں گے
"" ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون ﴿۳۳﴾"" لیکن ظالم اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔(ت)
فلسفی کے پاس کوئی دلیل نہیں سوا اس مشہور شبہ باطلہ کے کہ خرق و التیام نہ ہوگا مگر حرکت سے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو محدد یا اس کے اجزاء اگر حرکت اینیہ قبول کریں تو محدد کے لیے جہت درکار ہوئی نہ کہ جہت کی حد بندی محدد سے ہوئیرد بوجوہ کثیرہ ہے۔
اولا اقول:ہم روشن بیانوں سے باطل کرچکے کہ فلك محدد جہات ہے تو وہ دربا
عــــــہ:اس بحث میں جن کے لیے یہ مقامات وضع ہوئے اگرچہ اس مسئلہ کی حاجت نہیں مگر ضروری دینی ایمانی مسئلہ ہے اور انہیں مقامات نے اسے بعونہ تعالی صاف کردیا لہذا ان کے بعد اسے ایك مستقل مقام مقرر کرنا مناسب ہوا کہ نہایت اہمیت رکھتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
", القران الکریم ۶/ ۳۳
1240,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,409,"ہی جل گیا جس پر یہ اور بیسیوں تفریعات باطلہ تھیں۔
ثانیا اقول:ہم روشن بیانوں سے ثابت کرچکے کہ فلك میں مبدء میل مستقیم ہے تو ضرور اجزاء میں بھی ہے کہ طبیعت متحد ہے پھر عدم قبول اینیہ کیا معنی۔
ثالثا: خرق کے لیے اینیہ کیا ضرورمستدیرہ سے بھی ہوسکتا ہےمثلا سارے محدود کا دل بیچ میں سے چیر کر تلے اوپر دو کرے ہو جائیں ایك متحرك رہے ایك ساکنیا ایك شرق کو چلے ایك غرب کوتو یہ حرکت کسی جہت سے جہت کو نہ ہوئی کہ تحدید جہات کے خلاف ہو۔متشدق جونپوری نے کہا۔یوں تو محدود ہی اوپر والا ٹکڑا رہے گا نیچے کو لغو ہوگا۔
اقول:یہ بوجوہ مردود ہے۔
(۱)آج تك جسے محدود کہہ رہے تھے اس کے ٹکڑے ہوگئے اب اس ٹکڑے کی خبر سناؤ کیا اسی طرح بیچ میں سے نہیں چر سکتا تو اب اس کا نصف زیریں لغو ہوجائے گانصف بالا محدود رہے گا۔اب اس میں کلام ہوگا اور کہیں نہ رکے گا کہ تقسیم جسم غیر متناہی مانتے ہو۔لاجرم تمہارے ہاتھ میں خالی خیالی ہوا کے سوا کچھ نہ ہوگا جسے محدود مقررکرو محدود صاحب جہات کی تردید کرتے تھے یہاں خود انہیں کی تحدیدپڑگئےقرار ہوگا تو صرف اس پر کہ صرف سطح محدب محدد ہے اب سارا دل لغو محض رہا۔بقائے محدب کے بعد محدد کے تمام اجزاء نیچے اوپر ادھر ادھر ہوا کریں کٹ کٹ کر گرا کریں تحدید پر حرف نہیں آتا۔کیا اسی کا نام استحالہ خرق تھا۔
(۲)کیوں دو ٹکڑے نیچے اوپر لیجئے بلکہ مثلا معتدل عــــــہ النہار پر دو ٹکڑے ہوجائیںیونہی دونوں
عــــــہ:بعض نے کہا تھا کہ ممکن کہ فلك کا ایك جزو دائرے پر حرکت کرے تو حرکت جہت کو نہ ہوئی اور خرق ہوگیا۔علامہ سید شریف نے حاشیہ شرح حکمۃ العین میں جواب دیا کہ ضرور اس کے جز کے لیے حرکت اینیہ ہوئی تو وہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو اور محدد کے ساتھ بحال تو ہم جو اس جز کی حرکت ہے وہ محض وہم میں ہے نہ خارج میں۔
اقول:اولا: اس جواب کو ہماری تقریر سے مس نہیں کہ پورے حلقے کی حرکت ہرگز اینیہ نہیں قطعا وضعیہ ہے۔
ثانیا: وہ اعتراض کہ آتا ہے کہ جز کی حرکت اینیہ ضرور جہت سے جہت کو ہوگیمگر (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1241,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,410,"طرف اس کے موازی ہر مدار پر کہ سارا فلك چھلے چھلے ہوجائے اور جس طرح یہ چھلے اب موہوم ہیںاور تو ہم میں حرکت مستدیرہ کررہے ہیں کہ صرف وضع بدلتی ہے این نہیں بدلتا یونہی اس وقت یہ چھلے اور ان کے دورے واقع ہوجائیں تو ان میں کسی کی حرکت جہت سے جہت کو نہ ہوگی۔جس طرح اب نہیں اور بیچارہ فلك پاش پاش پرزے پرزے ہوگیا۔اب ان ٹکڑوں میں نہ کوئی محیط ہے نہ کوئی محاط لغو کسے کرو گے ہاں یہاں حر زبانی کا شبہ وارد ہوگا کہ خرق و التیام بے اقتران و افتراق اجزاء نہ ہوگا اور وہ مستدعی حرکت اینیہ۔
اقول:وباﷲ التوفیق ایك ہموار سطح کا دوسری ہموار سطح سے تماس کلی کہ اصلا باہم فصل نہ رہے۔ممکن ہے یا نہیں مثلا دو مساوی جسم ہر ایك نصف کرے کی صحیح شکل پر ہو۔اگر انہیں ملا کر پورے کرلے گی شکل پر رکھیں تو بالکل مل جائیں گے یا ایك سطح دوسری سے وصل ہو ہی نہیں سکتی۔فصل ضرور ہے برتقدیر ثانی یہ فصل ایك نقطے کی قدر ہے یا خط کی علی الاول نقطہ جو ھری ثابت خواہ وہ نقطہ قائمہ بذاتہ ہو یا کسی شیئ ثالث سے جوان دو میں فصل ہے علی الثانی اس فصل میں کوئی جسم نہیں تو خلا لازم اور ہے تو اس کی سطحوں سے ان پہلی دو سطحوں کا تماس کلی
مثلا مشرق سے مغرب کو یا بالعکس اور ان جہات کی تحدید محدود سے نہیں تحدید تحت و فوق کی ہے۔اور جز کی حرکت قطعا ان کی طرف نہیں۔
ثالثا: جز کی حرکت محض اختراع وہم ماننا فلك کی حرکت مستدیرہ کا خاتمہ کردے گا کہ وہ نہیں مگر استخراج اوضاع کواور اصالۃ وضع نہ بدلتی مگر اجزا کیاور وہ موہوم ہیں۔موہوم کے لیے خارج میں کوئی وضع بھی نہیں کہ وہ خود ہی خارج میں نہیں پھر یہ حرکت کس لیے۔
رابعا: سکون قلب پر جو استحالہ مانتے ہیں کہ ایك وضع کا لزوم ہوگا اور وہ ترجیح بلا مرجح ہے اجزائے فلك کی نسبت سب اوضاع سے برابر ہے یہ بھی باطل ہوگیانہ اجزا ہیںنہ اوضاعنہ لزومنہ تبدل رہا وجود منشا کا عذر۔
اقول:مشترك ہے غرض۔
ولن یصلح العطار ماافسدہ الدھر(۱۲ منہ غفرلہ)
(عطا ر ہر گز اس کی اصلاح نہیں کرسکتا جس کو زمانہ نے بگاڑ دیا۔ت)
",
1242,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,411,"ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو وہاں وہی کلام ہوگا اور منقطع نہ ہوگا مگر تسلیم خلا ملایا اس اقرار پر کہ ہاں دوجدا جدا سطحیں ایسی وصل ہو سکتی ہیں کہ بیچ میں اصلا نقطے بھر بھی فصل نہ ہو۔جب دو جسم منفصل میں ایسا اتصال ممکن تو جسم متصل میں کیوں ایسا انفصال ناممکنضرور جائز کہ دو حصے ہوجائیں اور انکے بیچ میں اصلا فصل نہ ہو اور جب فصل نہ ہوا مسافت نہ ہوئی حرکت کہاں سے آئے گییہ جو ذہن پر مستولی ہو رہا ہے کہ پھٹے گا تو ہٹے گایہ استیلائے وہم ہے کہ ہم نے افتراق یوں ہی ہوتے دیکھا اور یہی ہمارے خیا ل میں ہے اور عقل قطعا جائز رکھتی ہے کہ دو ٹکڑے اس حالت پر پیدا ہوں جو حالت دو املس سطحوں کے وصل سے ہوتی ہے کہ ہیں دو اورفصل نام کو نہیں
انتہاء یہ صورت واقع ہے ابتدء کون مانع ہے۔
رابعا اقول:جہت کو منتہائے اشارہ حسیہ کہتے ہو اور مقعر اطلس یقینا منتہی نہیں اشارہ قطعا محدب تك جائے گا تو ثخن بلاشبہ تحدید میں لغو ہےاب اجزائے ثخن میں حرکت اینیہ سے کون مانع تو ظاہر ہوا کہ میبذی نے جو تقرر کی کہ خرق حرکت عــــــہ۱ مستقیمہ سے ہو تو فلك اس کا قابل نہیں اور مستدیرہ سے ہو کہ بعض جزو ایك طرف حرکت مستدیرہ کریں اور بعض دوسری طرفیا ساکن رہیںیہ طبعا نہیں ہوسکتی کہ طبیعت اجزاء متحد نہ قسرا کہ فلك پر قاسر نہیںنہ ارادۃ کہ فلك بسیط ہےآلات مختلف نہیں رکھتا جن کے ذریعے سے فلکی بالارادہ مختلف افعال کرے۔
اقول:محض ندامن بعید و دور ازکار ہےقطع نظر اس سے کہ اس کا ایك مقدمہ باطل جس کا بطلان بارہاظاہر ہوچکا ہے۔ہمارے کلام سے اصلا مس نہیں منع مستقیمہ پر بنائے تحدید ہے اور تحدید میں ثخن لغو۔
خامسا: فلك محدود ہے تو فوق و تحت کا عــــــہ۲ نہ ہر جہت کاممکن کہ جز ء فلك گرد مرکز عالم
عــــــہ۱:(۱)منع مستقیمہ ممنوع(۲)اتحاد طبع ممنوع(۳)منع قاسر ممنوع(۴)بساطت فلك ممنوع(۵)آلات مختلفہ نہ ہونا ممنوع جس طرح ہمارے جوارح ہمارے نفس کے آلات ہیں یونہی فلك کے پرزے خارج حامل جو زہر مائل مدیر تدویر متمم حاوی محدی کواکب نفس فلکی کے ہوناکیا محال۔(۶)اقول:ایك جزو متحرك اور دوسرا ساکن تو اختلاف افعال نہ ہوا سکون فعل نہیں۔۱۲۔
عــــــہ۲:علامہ سید شریف نے بھی حاشیہ شرح حکمۃ العین میں اسے نقل کیا اور اتنا بڑھایا کہ یہ دعوی (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1243,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,412,"حرکت مستدیرہ کرے تو خرق ہوااور تحدید جہتین میں کچھ فرق نہ آیا کہ یہ حرکت تحت و فوق میں نہیں(شرح تجرید قوشجی) اس کا جواب میر ہاشم وغیرہ نے حواشی میبذی میں دیا کہ دوانی نے تحقیق کیا ہے کہ جہات ستہ سے باقی چھ جہتیں بھی انہیں فوق و تحت کی طرف راجع ہیں۔
اقول:ہاں جو حرکات خطوط مستقیمہ یا منحنیہغیر مستدیرہ یا مستدیرہ غیر محیط بمرکز عالم یا محیطہ خارجۃ المرکز پر ہوں ضرور تحت و فوق کی طرف راجع ہیں لیکن جو خطوط مستدیرہ موافقۃ المرکز پر ہوں محال ہے کہ ا ن کی طرف راجع ہوں ورنہ مرکز سے دائرہ تك بعد مساوی نہ رہے گا۔کمالا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں)ت)بلکہ سیالکوٹی نے یوں تقریر کی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر ایك جہت حقیقیۃ سے دوسری کو کہ یادونوں مکان طبعی ہوں گے یا دونوں قسرییا ایك طبعی ایك قسریبہرحال حرکت حقیقیہ سے حقیقیہ کو ہے۔(حاشیہ شرح مواقف)
اقول:(۱)یہ اسی بداہت کے خلاف ہے گرد مرکز عالم کسی دائرہ موافق المرکز پر حرکت کیونکر تحت سے فوق یا فوق سے تحت کو ہو سکتی ہے حالانکہ ہر وقت مرکز سے بعد یکساں ہے۔
(۲)اگر اینیہ جہات حقیقیہ ہی میں منحصر تو زمین اگر اپنی کرویت حقیقیہ پر رہتی کوئی سیاح تمام روئے زمین کے ذرے ذرے پر سیاحت کر آنے والا کبھی خواہ کیسے ہی منحنی خطوط پر مختلف جہات میں چلتا متحرك نہ ٹھہرتا کہ آن کو بھی جہات حقیقیہ سے اس کا فاصلہ نہ بدلا۔
(۳)جزء نار اگر کرہ نار پر حرکت اینیہ مستدیرہ کرے طبعی سے طبعی کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ سے حقیقیہ کی طرف نہیں۔
(۳)جزء نار اگر محدب ہوا میں یونہی متحرك ہو قسری سے قسری کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ میں تبدیل نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نہیں کرسکتا کہ ہر حرکت مستقیمہ(یعنی اینیہ)جہت حقیقیہ سے جہت حقیقیہ ہی کی طرف ہو پھر فرمایا فتاملاس کے بعد وہ تقریر فرمائی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو۔
اقول:جب تك وہ ثابت نہ ہولے کہ اینیہ نہ ہوگی مگر تحت و فوق میں اس تقریر کا محل نہ تھا اور اس کے اثبات کی طرف کوئی راہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1244,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,413,"سادسا اقول:محدد کے لیلے جہت درکار نہیں بلکہ اس کے اجزا عــــــہ کی حرکت کے لیے تو کیا محال ہے کہ
عــــــہ:انت تعلم ان الکلام فی الاجزاء المقداریۃ و یکفی للخرق افتراقہا وہی مؤخرۃ عن الکل فاند فع مافی المیبذی من ان التحدید مقدم علی الاجزاء والاجزاء علی الکل فلزم تقدم التحدید علی الفلك انتھیاما زعم صدر ا ان امکان الحرکۃ الاینیۃ فی جسم یتوقف علی وجود الجھۃ وتحددھا بجسم اخر اذلولا ھی لا متنعت الاینیۃ فیجب تقدم الجہات وتحدد ھا بالتحدید علی الاجزاء الاعلی حرکاتھا فقط انتہی فاقول:اولا منقوض بالحرکۃ الوضعیۃ فان امکانھا فی جسم یتوقف علی وجود الاوضاع و تعینہا بجسم اخراذلولا ھی و تعبہا لامتنعت الوضعیۃ فیجب تقدم الاوضاع علی جنس الاجزاء لا علی حرکاتھا فقط وھواشنع المحالات اذلاوضع للاجزاء اذھو تو جانتا ہے کہ گفتگو اجزائے مقداریہ میں ہے اور خرق کے لیے ان کا افتراق کافی ہے اور وہ کل سے موخر ہیں چنانچہ اس سے میبذی کے اس قول کا اندفاع ہوگیا کہ تحدید مقدم ہے اجزاء پر اور اجزاء مقدم ہیں کل پرتو اس طرح تحدید کا فلك پر مقدم ہونا لازم آیا انتہیرہا صدرا کا زعم کہ کسی جسم میں حرکت اینیہ کا امکان وجود جہت اور اس کے کسی دوسرے جسم کے ساتھ تحدد پر موقوف ہے کیونکہ اگر جہت موجود نہ ہوگی تو اینیہ ممتنع ہوگی لہذا جہات اور تحدید کے ساتھ ان کے تحدد کا نفس اجزاء پر مقدم ہونا واجب ہوگا نہ کہ فقط ان کی حرکات پرانتہیمیں کہتا ہوں اولا تو یہ منقوض ہے حرکت وضعیہ سے کہ اس کا کسی جسم میں امکان اوضاع کے وجود اور کسی دوسرے جسم کے ساتھ ان کے تعین پر موقوف ہے اس لیے کہ اگر وہ نہ ہوں اور ان کا تعین نہ ہو تو وضیعہ ممتنع ہوگی لہذا اوضاع کی تقدیم جنس اجزاء پر واجب ہوگی نہ کہ فقط ان کی حرکات پریہ بدترین محال ہے کیونکہ اجزاء کی کوئی وضع نہیں۔اس لیے
",
1245,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,414,"ان کے اجزاء کی حرکت کو وہی جہات درکار ہوں جن کی حد بندی خود اس کی شکل نے کی۔توضیح اس کی یہ کہ خرق کے لیے خود فلك کا حرکت اینیہ کرنا مطلوب نہیں بلکہ اس کے بعض اجزاء کا اور تحدید صرف اس کے تشکل پر موقوف او رتشکل مساوق تعیین اور تعین مساوق وجود تو وجود تك تحدید پر فقط ایك مرتبہ تقدم ہے وہ بھی ذاتی نہ زمانی اور اجزا کی حرکت اینیہ ممکن کہ ارادی ہو فلك کا نفس منطبع انہیں یہ حرکت دے جیسے تمہارے نزدیك کل کو حرکت مستدیرہ دے رہا ہے ا ور اس ارادہ کا لازم وجود ہونا ضرور نہیں ممکن کہ لایزال میں ہو جس طرح کل متعاقب حادث دورے نئے نئے تخیلات نفس منطبعہ سے پیدا ہورہے ہیں۔ ممکن کہ وہ تخیل و شوق جو اجزائے مذکورہ کو حرکت اینیہ دینے پر باعث ہوا کسی دورہ خاصہ کل سے منوط و مشروط ہو جیسے ہر دورہ دورہ آئندہ کے لیے معد ہوتا ہے تو یہ تحریك نہ ہوگی۔مگر حادثاور اسے جہات وہی درکار ہوں گی جن کی حد بندی خود شکل فلك تمہارے زعم سے ازل میں کرچکی۔
سابعا اقول:بلکہ ممکن کہ یہ حرکت ارادیہ بھی وجود فلك کے ساتھ ہی ہوا اور اب بھی تحدید کو اس پر تقدم ہی رہے گا کہ یہ حرکت ارادے پر موقوف اور ارادہ شوق پر اور شوق تصور پر او ر تصور وجود پر تو وجود کو حرکت پر چار مرتبے تقدم ہوا اور تحدید پر ایك ہی مرتبہ تھا تو تحدید حرکت پر تین مرتبہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
المتبدل فی الوضعیۃ دون وضع الکل و ثانیا وھو الحل ان اراد الامکان الذاتی بمعنی ان الجسم فی حدذاتہ لایاباھا فلا یجب لہ وجود الجہات بل تصور ھا وان ارادالوقوعی لایجب کو نہ مع الذات حتی یلزم تقدم الجہات علی نفس الاجزاء ۱۲ منہ غفرلہ۔ کہ وہی متبدل ہوتی ہے حرکت وضعیہ میں نہ کہ وضع کل اور میں ثانیا کہتا ہوں اور وہی حل ہے کہ امکان سے اگر اس کی مراد امکان ذاتی ہے بایں معنی کہ جسم بااعتبار اپنی ذات کے اس سے انکار ی نہیں ہے تو اس کے لیے وجود جہت واجب نہیں بلکہ تصور جہت واجب ہے اور اگر اس کی مراد امکان سے امکان واقعی ہے تو اس کا ذات کے ساتھ ہونا واجب نہیں یہا ں تك کہ جہات کا نفس اجزاء پر مقدم ہونا لازم آئے۔(۱۲ منہ)(ت)
",
1246,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,415,"مقدم رہی۔
ثامنا اقول:ہم ثابت کریں گے کہ بساطت فلك باطل ہے اور جب اجزاء مختلف الطبائع ہوئے تو خود کہتے ہو کہ وہ طبعا اپنے اپنی حیز کے طالب اور اجتماع پر مقسور ہوں گے اور قسر کو دوام نہیں رفتہ رفتہ ضعیف ہو کر قوی اجزاء غالب آکر ترکیب کی گرہ کھل جائے گی اور اجزاء اپنے اپنے حیز کو جائیں گے تو یہ حرکت نہ ہوگی مگر لایزال میں اور تحدید ازل میں ہوچکی۔اگر کہے حرکت کبھی ہو جب طبعی ہے اس کا اقتضا تو طبیعت میں مدد وجود سے ہوگا جس پر وجود کو ایك ہی مرتبہ تقدم ذاتی ہوگا اور اسی قدر تحدید پر تھا تو اقتضائے حرکت اینیہ و تحدید مرتبہ واحدہ میں ہوگئے حالانکہ تحدید اس پر مقدم ہے کہ اسے اس پر توقف ہے۔
اقول:اگر نفس اقتضائے حرکت وجودجہت پر موقوف بھی ہو تو حرکت متقضائے طبع نہیں مگر بالعرض جب حیز میں نہ ہو تو اقتضائے حرکت فقدان حیز پر موقوف اور فقدان حیز قسر پر اور قسر قتضائے طبعی حیز پر کہ جہاں طبع نہیں قسر نہیں اور اقتضائے طبعی وجود پر تو اقتضائے حرکت وجود سے چار مرتبہ موخر ہے اور تحدید ایك ہی مرتبہ تو تحدید اقتضائے حرکت پر تین مرتبہ مقدم رہی۔اگر کہیے نفس حیز میں فوق وتحت ملحوظ خفیف کا وہ ثقیل کا یہ۔
اقول:ہر جسم کا حیز ایك ہویت رکھتا ہے جس کے سبب اس کی طرف اشارہ حسیہ اوروں سے جدا ہے وہ ہویت مقتضائے طبع ہے فوق و تحت ملحوظ نہیں اور اگر نہیں مانتے تو فلك الافلاك کا حیز طبعی بتاؤ۔اگر کہیے وہ وضع جس سے وہ باقی اجسام سے ممتاز ہے اور وہ اس کا سب سے اوپر ہونا ہے۔(ہدیہ سعیدیہ)
اقول:اب اقتضائے فوقیت مقتضے سے پہلے تحدید جہات چاہے گا محدد محدد نہ رہا۔اگر کہئے وہ ترتیب جس سے وہ باقی اجسام سے ممتاز ہے۔(جونپوری فصل شکل)
اقول:یہ بھی اول کے قریب یا دوسرے لفظوں میں وہی ہے ترتیب ممتاز یہی ہے کہ سب سے اوپر ہےمعہذا یہ دونوں لوسی کے طور پر باطل ہیں کہ ہر ایك میں لحاظ امور کارجہ کا ہے تو حیز طبعی نہ ہوا۔اگر کہیے اس کی وضع(جونپوری فصل حیز)یہ لفظ مجمل ہے وضع سے اگر وہ نسبت مراد جو اس کے اجزا کو دیگر اجسام سے ہے تو نسبب لحاظ خارج حیز طبعی نہیںولہذا طوسی نے اس معنی سے انکار کیا۔معہذا یہ وضع تو بر وقت بدل رہی ہے اگر طبعی ہوتی نہ بدلتی کہ فلك پر قاسر نہیں مانتے۔
اقول:یہی رد ان کے طور پر صحیح ہے نہ وہ کہ طوسی نے کہاہم عنقریب بیان کریں گے
",
1247,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,416,"کہ مقتضی بالفتح میں لحاظ خارج ہوگاہاں یہ اعتراض کریں کہ اجزا کا لحاظ خود خارج کا لحاظ ہے جیسا کہ ابھی آتا ہے تو ضرور صحیح اور اگر وہ نسبت جو باہم اس کے اجزاء میں ہے اسے طوسی نے اختیار کیا اور نہ جانا کہ یہ کب لحاظ خارج سے خارج ہے فلك جسم متصل وحدانی ہے نہ اس میں اجزاء نہ ان کے اوضاع تو طبیعت اگر اپنی حالت پر چھوڑی جائے ان میں سے کچھ نہ ہوگا جس کا اقتضا کرے۔
اقول:معہذا جب اجزا محد الطبع ہر ایك کے لیے ایك وضع کی تخصیص کا اقتضا کیا معنی وضع کے تیسرے معنی اور ہیں ایسا ہونا کہ اشارہ حسیہ ہوسکے سیالکوٹی اور ان کے اتباع سے حمد اﷲ نے کہا یہ تو صورت جسیمہ کا مقتضی ہے طبائع مختلفہ سے تعلق نہیںتعلق نہیں رکھتا تو مراد نہیں ہوسکتا۔
اقول:جسمیہ کا مقتضی مطلق اشارہ حسیہ کا صالح ہونا ہے نہ خاص اشارہ محدودکا جو بے کم و بیش یہاں تك منتہی ہے یہ وہی حیز طبعی کی تحدید ہے کہ طبیعت سے ہوئی لاجرم فلك اطلس کا حیز طبعی یہی وضع بمعنی اخیر ہے اور اس میں فوق وتحت ملحوظ نہیں یونہی تمام اجسام کے لیے عندالتحقیق ہر ایك کے لیے جو وضع خاص محدود ہے وہی اس کا حیز طبعی ہے نہ جس طرح ابن سینا نے کہا کہ یہ خاص اطلس میں ہے باقی میں حیز طبعی ان کا مکان مکان تو تمہارے نزدیك سطح حاوی ہے تو لحاظ خارج سے چارہ نہیں پھر طبعی کب ہوا۔(حمد اﷲ)
اقول:یہ وارد نہیں طبعی کے لیے جانب مقتضی بالکسر ہیں لحاظ خارج نہیں نہ کہ جانب مقتضی بالفتح میں ورنہ حیز خود ایك امر خارج ہے کیونکر مقتضی ہوگا۔رہا یہ کہ اس پر صحیح رد کیا ہے۔
اقول:ظاہر ہے کہ جسم اگر اپنی طبیعت پرچھوڑا جائے ہر گز اس کا قتضایہ نہ ہوگا کہ کوئی دوسرا جسم اسے حاوی ہو تو مکان کو طبعی کہنا جہل ہے بلکہ وہی وضع مذکور ہر ایك کے لیے اس کا حیز طبعی ہے۔اگر کہیے اشارہ نہ ہوگا مگر جہت کو تو وضع بایں معنی خود محتاج جہات ہے۔
اقول:ہاں مگر محتاج تحدید جہات نہیں کہ تحت یہیں تك ہے فوق آگے نہیں اور محذور تقدم تحدید میں ہے نہ تقدم نفس جہت میں ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہیےاور اﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے۔
تاسعا اقول:یہاں سے ایك اور ردو اضح ہوا حرکت کی جہت چاہیے کہ مبدء و منتہی کی طرف اشارہ جدا ہو تحدید کی حاجت نہیں اور نفس جہد کی حاجت خود محدد کو ہے کہ بے اس کے اس کا حیز طبعی
",
1248,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,417,"نامتصور سرے سے شبہ کا منبی ہی اڑ گیا۔
عاشرا اقول:سب جانے دو فلك بسیط ہی سہی اور حرکت کے لیے تحدید کی حاجت اور یہ حرکت اجزا نہ طبعیہ نہ ارادیہ پھر قاسر سے کون مانع ہے ہم روشن کرچکے کہ فلك پر قاصر جائزاب اس کی تحدید کی ہوئی جہات میں قاسر کا اس کے اجزاء کو حرکت دینا کیا محال ہے۔
تنبیہ:ہم نے حرکت اجزاء ارادیہ طبیعہ قسریہ ہر طرح کی لی ان میں جائز کہ نیچے ہی کے اجزا حیز غریب میں ہوں یا انہیں سے ارادہ متعلق ہو کہ خود مرجح ہے یا کوئی وجہ ترجیح ہو یا قاسر انہیں پر قسر کرے خواہ ارادۃ یا یوں کہ مثلا بوجہ قرب انہیں پر اثر قسر پہنچے ان سب صورتوں میں اوپر کے اجزاء کہ حافظ محدب ہیں برقرار رہیں گے اور ممکن کہ وہ بھی تخلخل و تکاثف سے حرکت اینیہ کریں یا ان کا کوئی حصہ کٹ کر نیچے آئے اور معا دوسرا جسم پیدا ہو کر اس کی جگہ بھردے یا جوش دیگ کی طرح اوپر کے اجزا نیچے نیچی کے اوپر جایا کریں۔ان میں سب کو حرکت اینیہ ہوگی اور جملہ صور میں تحدید جہت میں خلل نہ آئے گا۔
الحمدﷲ تلك عشرۃ کاملۃ(الحمدﷲ یہ پوری دس ہوئیں ۱۰ ت)فلك اعلی پر تھا۔اب ایك باقی افلاك پر بھی سن لیجئے۔
حادی عشر:تحدید کا قصہ فلك اطلس میں تھا باقی آٹھ پر خرق سے کیا مانع اور معراج مبارك میں انہیں سات آٹھ کا خرق درکار نہ کہ تا سع کا جسے تم عرش اعظم سمجھتے ہو۔اس پر فلسفی نے کہا کہ ہر فلك میں مبدء میل مستدیر ہے تو مبدء میل مستقیم نہیں کہ اجتماع محال اور فلك پر قسر محال میل مستقیم محال تو حرکت مستقیمہ محال تو خرق محال۔یہ انہیں مقدمات باطلہ اور انکی امثال ہوسات عاطلہ پر مبنی ہے۔
اولا اقول:حرکت مستدیرہ کہ مرصاد ہے حرکت کواکب ہے عنقریب آتا ہے کہ کسی فلك کے لیے حرکت درکنار اس کی صلاحیت ثابت نہیں تو مبدءمیل مستدیر کہاں سے آئے گا۔
ثانیا اقول:بلکہ ہم ثابت کریں گے کہ اصول فلسفہ پر فلك کی حرکت مستدیرہ بلکہ مطلقا حرکت محال۔
ثالثا اقول:ہم ثابت کرچکے کہ فلك میں مبدءمیل مستقیم ہے۔
رابعا: اجتماع میلین کیا محال مثلا بنگو اور پہیے کی حرکت میں دونوں ہیں۔(مواقف)
",
1249,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,418,"اس عــــــہ پر عبدالحکیم نے کہا کہ حرکت مستدیرہ اصطلاح میں ہے وہ ہے کہ حیز سے باہر نہ کرے یہ دحرجہ میں کہاں(حاشیہ شرح مواقف)
اقول:(۱)یہ عجیب جواب ہے جب مستدیرہ کے معنی یہ لے لئے تو اس مستقیمہ سے امتناع اجتماع بدیہی ہوگیا۔فلسفی کہ خود مسئلے کو نظری مان رہا اور جسم مرکب میں اجتماع میلین کے امتناع میں خود فلسفہ مضطرب ہورہا ہے اس کا کیا محل رہا۔
(۲)کلام اجتماع دو مبدء میل میں ہے نہ بالفعل اجتماع میلین میں حرکت مستدیرہ محص وضیعہ ہونا کیا اس کے منافی کہ اس میں مبدءمیل مستقیم بھی ہو حیز میں حرکت مستدیرہ کرے اور بغرض خروج مستدعی عود ہو یہی مبدءمیل مستقیم ہے تو سند غیر مساوی پر کلام کو جواب سمجھنا قانون مناظرہ سے خروج ہے۔
فلسفی مقدمہ ممنوعہ کا ثبوت دیتا ہے کہ میل مستقیم خط مستقیم پر لے جانا چاہتا ہے اور مستدیر اس سےپھیرتا ہے تو دونوں متنافی ہیںاور محال ہے کہ بسیط میں دو متنافیوں کا اقتضاء ہو اس پر صریح رد ہے کہ دو شرط سے دو متنافی کا اقتضاء کیا محال ہے مثلا حیز میں ہو تو وضعیہ چاہے اور باہر ہو تو اینیہ جونپوری نے کہا دو متنافی اگر باختلاف احوال ایك غایت طبیعہ تك موصول ہوں تو دونوں بالعرض مقتضائے طبع ہوسکتے ہیں جیسے حیز سے باہر حرکت اور اندر سکون کہ دونوں سے مطلوب حیز طبعی ہے میل مستقیم و مستدیر ایسے نہیں اس کی غایت حیز ہے اور اس کی نہیں کہ یہ اس تك موصل نہیں معہذا اگر اس کی غایت یہی استدارہ نہ رہے۔اور جب یہ متنافیون کی دو غایتیں ہوں تو اگر وہ غایتیں یہی متنافی ہوں تو طبیعت واحدہ مقتضی متنافیین نہیں ہوسکتی اور نہ ہوں تو طبیعت دونوں کو معا چاہے گی تو ان تك موصل یعنی دونوں میل متنافی جمع ہوجائیں گے۔
اقول:(۱)جب دونوں اقتضا منوط بشروط اور شرطین متنافی تو ان کا اجتماع کیونکر
عــــــہ:بعض نے حواشی میبذی میں اور اونچی آن لی کہ اس کا مبنی الواحد لا یصدرعنہ الا الواحد ۔
(واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد۔ت)ہے طبیعت واحدہ دو چیزوں کا اقتضا کیونکر کرے اقول:حیزشکلمقدار طبعی کیفیات جیسے زمین میں برودتیبوستبس ان میں سے ایك اختیار کرلو کہ وہ طبعی ہے باقی سب غیر طبعیفلسفی ایسے بھی ہوتے ہیں۱۲ منہ غفرلہ۔
", شرح المقاصد المبحث الرابع دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱/ ۱۶۱
1250,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,419,"ہوسکتا ہے۔اقتضا میں داکل شرط مقتضی کے طبع ہونے کا مانع نہیں کہ شرط نہ مقتضی ہےنہ جزء مقتضی جیسے خود میل مستقیم کہ بالا تفاق بخروج عن الخیر ہے۔اور بالا اتفاق طبعی ہےاور اگر تم یہ اصطلاح گھڑو کہ طبعی وہی ہے کہ جو نفس طبیعت من حیث ھی ھی کا مقتضی ہو تو یہ مسئلہ جس لیے تم نے اچھالا ہے کہ فلك پر میل مستقیم اور عناصر پر مستدیر منع کرو جیسا کہ جو نپوری نے اس کے متصل فصل میں کیا وہ وہیں باطل ہوجائے گا۔فلك و عناصر میں ثابت ہوا تو اتنا کہ میل کا اقتضا ہے یہ کہ خالص نفس طباع سے ہے جس میں کسی امر زائد کی اصلا مداخلت نہیں۔اس پر کیا دلیل غایت عدم ثبوت ہے نہ کہ ثبوت عدم۔
(۲)ہم وہ غایتیں لیتے ہیں کہ خود متنافی نہیں اور ان میں ایك منوط بشرط ہونا بدیہی اور تمہیں بھی تسلیماور دوسری بلاشرط اور دونوں میل اس حد تك موصلکیا محال ہے کہ طبیعت تبدل وضع چاہے اور حیز کو تو چاہا ہی ہے اب اگر حیز سے باہر ہو حیز تك حرکت مستقیمہ کرے گ ا دونوں غایتیں اسی حرکت سے حاصل ہوں گی حیز تك وصول یہی اور اوضاع کا تبدل یہی جب حیز میں پہنچا میل مستقیم ختم ہوجائے گا کہ اس کی غایت حاصل ہوگئی اب میل مستدیر شروع ہوگا کہ یہاں دوسری غایت یعنی تبدل اوضاع اسی سے ممکن تو حیز سے باہر مستقیمہ کرے گا اور حیز کے اندر مستدیرہ اور دونوں کا مبدء طبیعت واحدہ۔
خامسا:اوپر کتنے وجوہ سے روشن ہوچکا کہ خرق حرکت مستقیمہ پر موقوف نہیں غرض دلیل ذلیل کا ایك حرف بھی صحیح نہیں۔
سادسا:ارصاد نے اگر بتایا تو اتنا کہ فلك میں میل مستدیر ہے نہ یہ کہ ہمیشہ رہے گا نہ اس کے دوام پر دلیل تمامتو کیا محال ہے کہ میل مستدیر منقطع ہو کر میل مستقیم حادث ہواب تو اجتماع متنافیین نہ ہوگا۔(شرح مقاصد)ناتمامی دلیل دوام کا بیان عنقریبآتا ہے ان شاء اﷲ تعالی۔
سابعا اقول:سب سے لطیف تریہ کہ دلیل جمیع مقدمات صحیح مان لیں جب بھی اسے مدعا سے اصلا مس نہیں نہ آئندہ بلکہ اس وقت خواہ کسی وقت خرق افلاك کی نافی نہیںمتفلسفہ کی نری عیاری ہےوجہ سنیے۔دلیل اگر بتائے گی تو صرف اتنا کہ دو میل طبعی جمع نہیں ہوسکتے اور براہ چالاکی دعوی عام کیا کہ طباعی نہیں ہوسکتے جس میں طبعی وارادی دونوں آجائیں کہ فلك کی بگڑی بنائیںمگر یہ ظلم شدید یاجہل بعید ہے ایك طبعی ایك ارادی ہو تو اصلا تنافی نہ ان کا اجتماع دشوارخود جونپوری نے میل مستقیم طبعی کے ساتھ میل مستدیر ارادی جائز رکھا ہے جیسے حیوان کہ قصدا گھومےفلك میں
",
1251,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,420,"بعینہ یہی صورت ہے کہ اس کا گھومنا قصدا مانتے ہو طبیعت میں میل مستقیم ہونے سے کون مانعیہ ہیں ان کے مزخرفات جن کو جونپوری دلائل حقہ قطعیہ واجب الاذعان کہتا ہے۔
"" "" زین لہ سوء عملہ واتبعوا اہواءہم ﴿۱۴﴾ اس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے۔(ت)
ان سات اور ان گیارہ جملہ اٹھارہ وجوہ نے بحمدہ تعالی روشن کردیا کہ خود فلك الافلاك اور جملہ افلاك کا خرق والتیام یقینا جائزاتنا عقلا ہے اور سمعا تو بالیقین خرق سماوات قطعا واقع جس پر ایمان فرض۔
""وﷲ الحجۃ السامیۃ وخسرھنا لك المبطلونوقیل بعدا للقوم الظالمینوالحمدﷲ رب العلمین""۔ اور اﷲ ہی کے لیے بلند حجت ہے وہاں باطل والے خسارے میں ہوں گے اور فرمایا گیا دور ہوں ظالم لوگ اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
اس ضروری مسئلہ دینی پر کلام بحمداﷲ تعالی ہماری کتاب کے خواص سے ہے اور ایك یہی کیا بفضلہ تعالی اس ساری کتاب میں معدود مباحث کے سوا عام ابحاث وہی ہیں کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائز ہوئی ہیں۔اور ایك یہی کتاب نہیںبعونہ عزوجل فقیر کی عامہ تصنیفات افکار تازہ سے مملو عــــــہ ہوتی ہیں حتی کہ فقہ میں جہاں مقلدین کو ابدائے احکام میں مجال دم زدن نہیں۔
تحدثابنعمۃ اﷲ واﷲ ذوالفضل العظیم رب انعمت فزد یا واحد یاماجد لاتزل اﷲ تعالی کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے اور اﷲ بڑے فضل والا ہے اے میرے پروردگار تو نے انعام فرمایا ہے تو اس میں اضافہ فرما۔
عــــــہ:صدقت یا سیدی لاریب فیہ ازکان فضل اﷲ علیك عظیما فاسئلك من زکوتہ حظایسیرا
بملازمہ سلطان کہ رساند ایں دعارا
کہ بشکر بادشاہی بنوازد ایں گدا را(الجیلانی)
",
1252,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,421,"عنی نعمۃ انعتمہا علی وصل وسلم علی نعمتك الکبری ورحمتك المعداۃ وفضلك العظیم وعلی الہ وصحبہ وامتہ وحزبہ اجمعین امین والحمدﷲ رب العلمین"" اے واحد اے بزرگی والی ! جو نعمت تو نے مجھے عطا فرمائی ہی وہ مجھ سے زائل نہ فرما۔اور درود و سلام نازل فرما اپنی سب سے بڑی نعمتاپنی بڑھی ہوئی رحمت اور اپنے فضل عظیم پر اور آپ کی آل آپ کے اصحاب اور آپ کی تمام امت پر۔آمین ! اور سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا(ت)
مقام ہفدہم
بسیط نہیںفلسفی یہاں چار شبہے رکھتا ہے جن کا حاصل دوہی ہے۔
شبہ ۱:اگر اجزائے مختلف الطبائع سے مرکب ہو تو ہر جز اپنے حیز کا طالب ہوگا تو اجزا پر حرکت مستقیمہ جائز ہوگی جو فلك میں محال ہےیہ ہے وہ جسے بہت طویل کہا تھا۔ہم نے ایك سطر میں تلخیص کی اور اس کے کافی و وافی رد مقام ۶ و ۱۲ میں سن چکے۔
شبہ ۲:اجزاء بعض یا کل اپنے حیز سے جدا ہوں گے کہ دو طبیعتوں کا ایك حیز نہیں ہوسکتا تو جو غیر حیز میں ہے قسیرا ہے اور قسر کو دوام نہیں۔مقاومت طبع سے سست ہوتا جائے گا۔اور بالاخر طبیعت غالب آئے گی اور گرہ کھل جائے گی تو فلك بکھر جائے گا اور حرکت باطل ہوجائے گی تو زمانہ منقطع ہوجائے گا کہ اسی کی مقدار تھا حالانکہ زمانہ سرمدی ہے۔
اولا:بارہا سن چکے کہ قسر کا وجوب انقطاع ممنوع
ثانیا:عنقریب آتا ہے کہ زمانہ مقدار حرکت فلکیہ بلکہ اصلا کسی حرکت کی مقدار نہیں۔
ثالثا:یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع و دوام کیسا۔
رابعا:یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع جائز۔
شبہ ۳:جن اجزاء سے فلك مرکب ہو ان کی انتہا بسائط پر ضرورہر بسیط اگر اپنی شکل طبعی پر ہو تو کرہ ہوگا کہ بسیط کی یہی شکل طبعی ہے اور متعدد کرے مل کر ایك سطح کروی نہیں بن سکتی(کہ ہر دو کا تماس نہ ہوگا مگر ایك نقطے پر باقی بیچ میں فرجہ رہے گا)ورنہ جو شکل غیر طبعی پر ہوں ان کا طبعی کی طرف عود جائز ہوگا تو حرکت مستقیمہ جائز ہوئی۔(جونپوری)
",
1253,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,422,"اقول:یہ وہی شبہ اولی ہے اور انہیں ردود سے مردودفرق اتنا کردیا ہے کہ وہاں حیز پر کلام تھا یہاں شکل پر۔
شبہ ۴:وہ بسائط جن سے فلك کا ترکب ہو طبیعت واحدہ پر ہوں گے یا مختلف برتقدیر اول ایك طبیعت کے متعدد فرد یونہی ہوتے ہیں کہ ہیولی میں انفصال ہو کر ایك حصہ اس فرد کے لیے ہو ایك اس کے لیے اور مادہ قابل انفصال نہیں ہوتا جب تك کوئی صورت نہ پہنے وہ صورت اگر یہی تھی جواب ہے تو قابل خرق ہوئی اور دوسری تھی تو کون وفساد ہوا اور فلك پر دونوں محال برتقدیر ثانی ہر بسیط اگر اپنے حیز طبعی میں ہو تو محیط کی جہتیں مختلف ہوجائیں گی کہ ان میں ایك سے قریب ایك حیز کا حیز طبعی ہو دوسری سے دوسرے کا تو وہ جہات اس جسم سے پہلے تحدید پاچکیں فلك محدود نہ ہوا(جونپوری)
اقول اولا:فلك پر خرق جائز مگر "" اشربوا فی قلوبہم العجل"" (ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا۔ت)
ثانیا:کون وفساد کا امتناع حرکت مستقیمہ پر مبنی اور وہ باطل۔
ثالثا:فلك کا محدد ہونا مردود۔
رابعا:شق ثانی میں یہ شق چھوڑ دی کہ بعض غیر طبعی میں ہوں اور اس کے لیے پھر اسی شبہ اولی کی طرف رجوع ضرور ہوگی جس طرح وہاں یہ شق متروك تھی کہ سب اپنے اپنے حیز طبعی میں ہوں جس کے لیے اسی شبہ چہارم کی طرف رجوع ہوئی تو دونوں مل کر شبہ واحدہ ہیں کلام یہاں طویل ہے مگر خیر الکلام ماقل ودل(بہترین کلام وہ ہے جو مختصرا اور جامع ہوت)
اقول:یہ تو ان کے شبہات تھےاب ہم اصول فلسفہ پر حجت قطعیہ پیش کریں کہ بساطت فلك محالفلك اگر بسیط ہو تو اس کا سکون محال ہو کہ اجزاء متحد الطبع ہیں۔ہر چیز کو سب اوضاع سے نسبت یکساں تو ایك پرقرار ترجیح بلا مرجحنیز حرکت محال ہو کہ حرکت اینیہ ہوگی۔یا وضعیہ فلك پر اینیہ محال اور وضعیہ کے لیے تعیین قطبین درکاراور سب اجزاء صالح قطبیتتو سب کو چھوڑ کر دو کی تخصیص ترجیح بلا مرجحاور جب بربنائے بساطت سکون و حرکت دونوں محال اور جسم کا ان سے خلو محال تو بساطت محال۔
", القرآن الکریم ۲/ ۹۳
1254,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,423,"مقام ہیجدہم
فلك کا قابل حرکت مستدیرہ ہونا ثابت نہیںفلسفی اس کا یہ ثبوت دیتا ہے کہ فلك میں جتنے اجزاء فرض کرو متحد الطبع ہوں گے کہ وہ بسیط ہے تو کسی جز کے لیے کوئی وضع معین لازم نہیں تمام اوضاع سے اسے یکساں نسبتتو ہر جزپر ایك وضع سے دوسری کی طرف انتقال جائز اور یہ یہاں حرکت مستقیمہ سے نہ ہوگا کہ فلك پر اینیہ جائز نہیںلاجرم مستدیرہ سے ہوگاتو ثابت ہوا کہ فلك قابل حرکت مستدیرہ ہےاور ثابت ہوا کہ اس میں مبدء میل مستدیر ہے کہ جواز تبدیل عــــــہ خود اس کی ذات سے ناشی ہے۔ لہذا خارج سے ہو تو قسر ہواور قسر بے میل طبعی ناممکن اور فلك میں میل طبعی نہیں تو قسر محال تو قابل استدارہ نہ رہے گا حرکت بے میل ناممکنلاجرم اس میں مبدء میل مستدیر ہے۔
(رد)یہ سب زخرفہ ہے۔
ثانیا اقول:امتناع اینیہ بربنائے تحدید ہے اور تحدید ثابت نہیں۔
ثالثا اقول:ہم ثابت کرچکے کہ اس میں مبدء میل مستقیم ہے۔
رابعا اقول:ہم باطل کرچکے کہ قسر بے میل طبعی نہیں۔
خامسا:عنقریب آتا ہے کہ یہی دلیل فلك کی حرکت مستدیرہ محال کررہی ہے نہ کہ قابلیت
عــــــہ:اقول:یہ جملہ دلیل میں اپنی طرف سے زائد کیا ہے اور اس میں علامہ خواجہ زادہ کے اس ایراء کا جواب ہے کہ تبدیل وضع کے لیے فلك ہی کی حرکت کیا ضرور دوسرا جسم جس کے اعتبار سے اوضاع لی جائیں اس کی حرکت بھی تبدیل اوضاع کردے گی۔ علامہ کا دوسرا ایراد یہ ہے کہ ممکن کے بعض اجزاء کو ایك جدا گانہ صورت نوعیہ ملے جو اس وضع خاص کا اقتضاء کرے۔
اقول:یہ دو باتوں پر مبنیایك یہ کہ یا تو فلك بسیط نہ ہو یا افاضہ صورت استعداد مادہ پر موقوف نہ ہو کہ فاعل مختار ہےدوسرے یہ کہ فلك پر قسر جائز ہو کہ جب بعض کی صورت نوعیہ کل کو حرکت سے مانع ہوئی تو باقی اجزاء مقسور ہوئے اور ان میں سے ہر بات خود ہی ان کی دلیل کی ہادم ہے تو اس اضافہ لفاضہ کی حاجت نہیں اور اگر ان کے اصول پر کلام مبنی ہو تو نہ خاك پر قسر جائز نہ بسیط کے مادہ پر اختلاف صور ممکن نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1255,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,424,"ثابت کرے(مواقف)
سادسا:امکان انتقال کو امکان مبدءمیل درکار نہ کہ اس کا وجود بالفعل(سیدشریف و خواجہ زادہ)اس پر سیالکوٹی نے اعتراض کیا کہ مبدء میل بالفعل نہ ہو تو نظر بذات جسم حرکت محال ہو کہ جس میں میل نہیں قاسر سے قبول حرکت نہ کرے گا حالانکہ اس کا امکان ثابت ہوچکا۔
اقول:اس مبنی کے بطلان سے قطع نظر امتناع للذات اور امتناع لعدم الشرط میں فرق نہ کیانفس ذات کو حرکت سے ابا نہیں کہ امتناع ذاتی ہوبالفعل امتناع اس لیے ہے کہ علت حرکت یعنی میل موجود نہیں مگر ذات کو اس کے حدوث سے منافات بھی نہیں تو حرکت سے ابا کب ہوا۔بالجملہ سلب امکان للذات میں لام تعلیل پر دو احتمال ہیں۔
اول:للذات متعلق سلب ہو یہ امتناع ذاتی ہے اور یہ یہاں نہیں۔
دوم:متعلق امکان ہو یعنی نفس ذات اس کے لیے کافی ہو اور کسی شے کی حاجت نہ ہو یہ ضرور یہاں مسلوب ہے اور منافی قابلیت نہیں وبعبارۃ اخری امکان للذات ہی کے دو معنی ہیں لام تخصیص کا ہو یا تعلیل کااول امکان ذاتی ہے وہ ضرور ہے اور محتاج وجود مبدء نہیںدوم امکان وقوع بوجہ نفس ذات ہے یہ بے میل نہیں اور امکان ذاتی کا منافی نہیں۔
سابعا:بنظر طبیعت سب اوضاع سے اجزاء کی تساوی نسبت بنظر خصوص جز تساوی کو مستلزم نہیں ممکن کہ خاص اس جز کو خاص اس وضع سے مناسبت ہو تو اس کے لیے یہی وضع واجب ہو۔(سیالکوٹی)
اقول:یہ محل نظر ہے ہذیت بے وجود خارجی معدوم ہے اور معدوم میں اقتضا نہیںفتأمل(پس غور کیجئے)بہرحال چھ وجوہ سابقہ رد کے لیے وافی و افر ہیں۔
مقام نوزدہم
فلك کی حرکت ثابت نہیں۔ریاضیوں نے کواکب کی نو حرکات مختلفہ دیکھیں ایك سب سے تیز حرکت یومیہ جس میں سب شریك ہیں۔اور ایك سب سے ست حرکت ثوابت اور ساتوں سیاروں کی۔
اقول:اور اتنا طبعیات سے لیا کہ افلاك پر خرق خال لاجرم افلاك کو متحرك بالذات مانا۔اور کواکب کو بالفرض اور اسی انتظام کے لیے وہ حوامل و متممات و تداویر وجو زہر و مائل و تددیر وغیرہا کے
",
1256,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,425,"محتاج ہوئے مگر فلك الافلك زبردستی مان لیا بلکہ فلك ثامن بھی علامہ قطب الدین شیرازی نے کیا خوب کہا کہ نو حرکتوں کو نو فلك کیا ضرور ہوسکتا ہے کہ ثوابت ممثل فلك زحل میں ہوں اس کی حرکت خاصہ سے متحرك اور ساتوں افلاك کے ساتھ ایك نفس متعلق کہ انہیں حرکت یومیہ دےیعنی تو آسمان سات ہی رہیں گےجیسا کہ ان کے خالق کا ارشاد ہے۔
اقول:بلکہ یوں کہتا تھا کہ نفس فلك زحل باقی کے قسر پر قادر ہو جس طرح نفس انسانی قسر حجار پر تو فلك زحل کی حرکت ارادی ہوتی باقی کی قسرییہ اس لیے کہ ایك نفس دو جسموں سے متعلق نہیں ہوتا۔جیسے دو نفس ایك جسم سے طبعی اپنی طبیعات پر چلے اور اتنا ریاضیوں سے لیا کہ نوفلك ہیں اور ان کی حرکت کے ثبوت میں تین شبہے پیش کیے۔
شبہ ۱:مقام سابق میں فلسفی کی دلیل گزری کہ افلاك میں مبدءمیل مستدیر ہے تو ضرور میل مستدیر ہے تو ضرور متحرك بالا ستدارہ ہے کہ وجود موثر کے وقت وجود اثر واجب ہے۔اس کے مفصل ردا ابھی اور مقام اول سوال سوم میں گزرے۔
شبہ ۲:جب ہر جز کو سب اوضاع سے نسبت مساوی تو یا جز کسی وضع پر نہ ہوگا یا ایك ہی پر ہوگا یا سب پر معا ہوگا یا بدل بدل کر اول و ثالث بداہۃمحال ہیں اور ثانی ترجیح بلا مرجحلاجرم رابع لازم اور یہی حرکت مستدیرہ ہے مواقف و شرح میں اس پر دو وجہ سے رد فرمایا۔
اولا:اس کا مبنی بساطت فلك ہے اور وہ محدد عــــــہ کے سوا اور افلاك کے لیے ثابت نہیں۔
اقول:حاشا اس کے لیے بھی نہیں جس کی تفصیل سن چکے۔
ثانیا:بساطت اگر سب میں مسلم ہو تو وہ مقتضی حرکت نہیں بلکہ مانع حرکت ہے کہ قطبین کی تعیین جہت کی تعین قدر حرکت کی تعین ضروری ہوگی۔اور وہ ہر ایك بیشمار طور پر ممکنتو ایك کی تخصیص ترجیح بلا مرجح ہے۔اسی پر طوسی کا وہ جواب تھا جس کی سرکوبی سوال سوم میں گزری۔
ثالثا:اقول:دلیل چاروں کرئہ عناصر سے منقوض وہ بھی بسیط ہیں تو واجب کہ سب ہمیشہ حرکت مستدیرہ کریں۔
رابعا:اقول:کیوں نہیں جائز کہ مقتضائے طبیعت فلك سکون ہو تو خصوص وضع نہ تخیص وضع ہے نہ ترجیح بلا مرجحاس کا بیان مقام ۸ میں گزرا۔
عــــــہ:علامہ خواجہ زادہ نے تہفت الفلاسفہ میں بھی یوں ہی استثناء کیا ۱۲ منہ غفرلہ المولی سبحانہ وتعالی۔
",
1257,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,426,"خامسا:اقول:بلکہ سکون میں بلاوجہ التزام وضع کی کوئی وجہ ہی نہیںوضع وہ لیتے ہو جو فلك کے لیے ہے تو اس کا التزام ضروری ہے کہ وہی اس کا حیز طبعی ہے جیسا کہ مقام ۱۴ میں ہم نے مبرہن کیایا وہ اوضاع جو اجزا کو ہیں تو خارج میں کہاں عــــــہ۱ اجزاءاور کہاں اوضاع یہ تو محض ذہنی انزاع اگر اس سے یہی ترجیح بلا مرجح واقع میں لازم آتی اور اس کا دفع ضروری ہے تو باہر ہی سے ان کے اوضاع کیوں لو آپس میں بھی تو وضعیں ہوں گی عــــــہ۲ ایك جز دوسرے سے گرہ بھر دور ہے تیسرے سے گز بھر چوتھے سے لاکھ میل۔یہ سب ترجیح بلا مرجح ہیںتو نہ صرف دورہ بلکہ واجب ہے کہ فلك کے تمام اجزاء میں تلاطلم ہوتا ہمیشہ یہ اجزاء ان کی جگہ جاتے وہ ان کی جگہ آتےسارے جسم کی بناوٹ ہر وقت تہ و بالا ہوتی رہتی۔اچھا خرق محال مانا تھا کہ ذرہ ذرہ پاش پاش کردیا اور اب بھی نجات نہیںجتنے تجزئے ممکن تھے سب ہوئے تھے تو جزلایتجزی لازماور اگر ہنوز ہر جز کا تجزیہ ممکن تھا جیسا تمہارا مذہب ہے تواس جز کے اجزاء کی باہم اوضاع کب بدلیں پھر ترجیح بلا مرجح رہی واجب کہ ہر جز کے ریزے ریزے بھی جگہیں بدلتے اور اب ان ریزوں پر بھی کلام ہوگا اور کبھی منتہی نہ ہوگا تو ترجیح بلا مرجح سے کبھی نجات نہیں ہاں ایك ہی جائے پناہ ہے کہ فاعل عزوجل کو مختار مانو اور اس کے مانتے ہی تمہاری دلیل راسا مہندمہم شق دوم اختیار کریں گے اور ترجیح بلا مرجح نہیں بلکہ مرجح ارادہ فاعل جل و علا ہے جس وضع پر اس نے بنادی ااسی پر بناپھر حرکت کس لیے اگر کہیے ترجیح بلا مرجح حفظ اوضاع بیرونی میں ہے نہ اندرونی میں کہ فلك میں صورت نوعیہ حافظ اتصال ہے اور مانع استدارہ نہیں۔
اقول:خاص فلك میں حافظ اتصال ہے تو اس کا حاصل وہی امتناع خرق کہ باطل ہوچکا اور مطلقا تو صریح باطل آب و ہوا میں کیا صورت نوعیہ نہیں۔پھر کس قدر جلد ان کے اجزاء متفرق ہوجاتے ہیں اگر کہیے امتناع خرق وہ باطل ہوا کہ جہت امتناع حرکت مستقیمہ سے ہو کیوں نہیں ممکن کہ باوصف امکان مستقیمہ خود صورت نوعیہ آبی تفرق ہو تو اس کی جہت سے خرق محال ہوگا۔
اقول:سب ایرادوں سے قطع نظر یونہی کیوں نہیں ممکن کہ خود صورت نوعیہ آبی استدارہ ہو تو اوضاع بیرونی کا دوام اسی جہت سے ہوگا۔اگر کہئے ہم امتناع خرق سے در گزرے اب کیوں نہیں ممکن کہ فلك میں صلابت ہو کہ تفرق
عــــــہ۱:اقول:یہاں وہ اعتراض وارد نہیں ہوسکتا جو ہم نے مقام ۹ میں کہا کہ مناشی کا وجود بیرونی و اندرونی سب بستیوں کے لیے ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:تنبیہ:اقول:یہاں کلام بقائے شکل میں ہے نہ نفس تشکل میں کہ شکل بننے میں یہ جز یہاں اور وہاں کیوں ہوا تو متشدق کا یہ شقشقہ کہ اجزاء تو بعد تشکل ہوں گے یہاں ناشی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1258,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,427,"اجزا دشوار ہو ترجیح حفظ اوضاع اندرونی کو اسی قدر بس ہے امتنا ع تفرق کی حاجت نہیں۔
اقول:علی التسلیم جب امتناع خرق جا کر صلابت ممکن تو حرکت مستقیمہ ممکن ہوئی کہ محال ہوئی تو خرق محال ہوتا اور جب حرکت مستقیمہ ممکن تو یوںنہیںممکن کہ فلك میں ثقل شدید ہو کہ اسے مطلقا ہلنے نہ دے حفظ اوضاع انرونی کہ مرجع صلابت ہوئی حفظ اوضاع بیرونی کا مرجح ثقل ہو تو شبہ کی شق ثانی مختار رہی اور ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئی بہرحال استدارہ ناثابت رہا۔
سادسا:اقول:تم پر مصیبت یہ ہے کہ حرکت مستدیرہ کرکے بھی سب اوضاع پر علی سبیل البدلیۃ بھی نہ آسکے گا۔ظاہر ہے کہ ان قطبوں کے سوا اور اقطاب پر متحرك ہو تو اور اوضاع بدلیں گی اور اقطاب غیر متناہی اقسام تبدیل باقی رہ گئیں۔اگر کہیے مقصود اس قدر ہے کہ ایك وضع کا التزام نہ رہے کہ ترجیح بلا مرجح لازم اور جب ایك محور پر ہمیشہ متحرك ہے ہر وقت وضعیں بدل رہی رہی ہیں گو استیعاب اوضاع نہ ہو۔
اقول اولا:یہ جواب کیا ہوا التزام وضع سے فرار تو اس لیے تھا کہ ترجیح بلا مرجح نہ ہو وہ اب بھی حاصل کہ ایك وضع کا التزام نہ سہی غیر متناہی وجوہ تبدیل سے ایك ہی وجہ کا التزام تو ہے۔
ثانیا: اگر صرف اتنے میں کام چل جاتا ہے کہ وضع واحد کا التزام نہ رہے تو حرکت مستدیرہ کیا ضرور ہر وقت ایك خفیف ہلتا رہنا کافیاگرچہ ایك ہی بال برابر کہ وضع ہر وقت یونہی بدلے گی۔
سابعا اقول:سب جانے دو وضع واحد پر رہنا اس وقت ترجیح بلا مرجح ہے کہ انتقال سے کوئی مانع نہ ہو اور عدم مانع ممنوع۔
ثامنا تا عاشرا:بلکہ تین مانع موجود ہیں کہ قدرو جہت و محور کسی کی تعیین نہیں ہوسکتی۔رب انعمت علی فزد(اے میرے پرورگار تو نے مجھ پر انعام فرمایا ہے اس میں اضافہ فرما۔ت)
شبہ ۳:جب خود فلك میں مبدءمیل مستدیر ہے تو اس میں اس سے منع نہ ہوگا نہیں ہوسکتا کہ طالب بھی ہو اور مانع بھی نہ خارج سے ممانعت ہوگی کہ حرکت مستدیرہ سے مانع نہیں مگر میل مستقیم اور فلك میں نہیں
لاجرم میل موجود ہوگا اور وہ موجب حرکتیہ شبہ اولی کے چاك کار فو ہے وہاں نفس وجود مبدء کو موجب وجود میل ٹھہرادیا تھا۔اور اس سے ذہول کہ مانع بھی کوئی چیز ہے یہاں اس کا شعور ہوکر عدم مانع کا شاخسانہ بڑھایا اور اب بھی بوجوہ مردود
اولا:مبدءمیل مستدیرکا وجود ثابت نہیں۔(سیدشریف)
ثانیا:اقول:بلکہ عدم ثابتکما تقدم
",
1259,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,428,"ثالثا عــــــہ:طلب و منع کا امتناع اجتماع بحسب طبیعت غیر شاعرہ مسلم اور فلك شاعر ہے۔
اقول:یعنی ممکن کہ نفس طالب استدارہ ہو اور طبیعت مانع جیسے انسان کے اوپر جست کرنے میں۔
رابعا:مستدیرہ سے مانع کا میل مستقیم میں حصہ ممنوع۔
اقول:تین مانع ہم بتاچکے۔
خامسا کیا ثبوت ہے کہ وہاں کوئی میل مستقیم والا نہیں جو فلك کو روکے۔
سادسا:مانا کہ مبدء میل بھی ہے اور مانع بھی نہیں پھر یہی وجود میل کیا ضرورممکن کہ میل کس شرط پر موقوف ہو جو یہاں مفقود۔
سابعا اقول:بلکہ یہاں میل محال کہ وہ علت حرکت ہے اور حرکت وہ کہ کمال ثانی رکھے اور یہاں کمال ثانی مفقود۔
دیکھو سوال دوم میں ہماری تقریریں۔
مقام بستم
بلکہ اصول فلسفہ پر فلك کی حرکت مستدیرہ بلکہ مطلقا جنبش یکسر باطل و محال کسی چیز کو باطل کہنا دو طور پر ہوتا ہے۔ایك بطلان ثبوتیہ اول تھا اور اس میں فلاسفہ مدعی تھے۔
دوم: ثبوت بطلان یہ اب ہے اور اس میں ہم مدعی ہیںثبوت ہمارے ذمہ ہے فنقول وباﷲ التوفیق(تو ہم اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتے ہیں۔ت)
حجت ا تا ۳:تعیین جہت تعین قدر تعیین محور میں لزوم ترجیحات بلا مرجح کہ بارہا مبین ہوا۔
اقول:اور اول و دوم مطلقا حرکت پر وارد اگرچہ وضعیہ نہ ہو۔
حجت ۴:اقول:بعض اوضاع کا استخراج ترجیح بلا مرجح اور کل کا محال اور فلسفی کے نزدیك طلب محال محال تو حرکت محال۔
حجت ۵:اقول:فلك الافلاك میں عرضیہ کی کوئی وجہ نہیں۔اور باقی افلاك میں عرضیہ ہم باطل کرچکے اور طبعیہ وقسریہ سب میں تم باطل جانتے ہواور ارادیہ ہم نے باطل کردیتو جمیع وجوہ حرکت منتفی تو حرکت باطل۔
عــــــہ:یہ اور اس کے بعد کی تین تہافت الفلاسفہ للعلامۃ خعاجہ زادہ میں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ
",
1260,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,429,"حجت ۶:اقول:بارہاگزرا کہ حرکت فلکی اس کی بساطت کی نافیاور اس کی نفی اساس فلسفہ کی ہادماور اساس فلسفہ کی ہادم اور اساس فلسفہ تمہارے نزدیك مستحکملاجرم حرکت فلك باطل۔
حجت ۷:اقول:تصریح کرتے ہو کہ حرکت بے عائق داخلی یا خارجی ناممکن کہ اس کے لیے زمانہ کی تحدید اسی سے ہوتی ہے ایك مسافت جتنے زمانہ میں قطع ہوتی ہے مانو کہ اس کے نصف میں بھی قطع ہوسکتی ہے جب کہ سرعت اس سے دو چند ہواور ربع میں جب کہ چوگنی ہو نہ زمانے کی تقسیم متناہی نہ سرعت کسی حد پر متہی کوئی روکنے والاہوگا تو اس کی مقدار مزاحمت سے قدر سراعت متقدر ہوگی اور بے اس کی تقدیر کے وقوع حرکت نامتصورلیکن فلك عــــــہ میں نہ میل طبعی مانتے ہو نہ مان خارجیتو دونوں عائق معدوم تو وقوع حرکت محال۔
مقام بست ویکم
دو حرکت مستقیمہ کے بیچ میں سکون لازم نہیں۔ارسطو اور اس کا گروہ برخلاف افلاطون جب کہتا ہے اور دو شبہے پیش کرتا ہے۔
شبہ ۱:ایك حرکت کے ختم پر متحرك کو منتہائے مسافت سے اتصال ہوگا۔اور دوسری حرکت کے شروع پر اس سے فراق و زوال ہوگا اور اتصال و فراق ایك آن میں جمع نہیں ہوسکتے۔ضرور ان فراق بعد آں اتصال ہے اور دونوں آئیں متصل نہیں ہوسکتیں ورنہ جز لایتجزی لازم آئے تو ضرور ان کے بیچ میں ایك زمانہ ہوگا جس میں نہ پہلی حرکت ہے کہ ختم ہوچکی نہ دوسری کہ ابھی شروع نہ ہوئیلاجرم سکون ہے یہ برہان قد مائے فلاسفہ کی ہے اس پر رد بوجوہ ہے خود ان کے شیخ ابن سینا نے اسے حجت سو فسطائی کہا یہاں اسی قدر کافی کہ اولا: حرکت واحدہ کی حدود مسافت سے منقوض ظاہر ہے کہ متہرك ہر حد مفروض پر پہنچتا ہے پھر اس سے گزرتا ہے تو ہر حد پر اتصال و زوال کے لیے دو آنیں درکار ہوں اور ان کے بیچ میں زمانہ تو حرکت واحدہ واحدہ نہ رہے بیچ میں ہزاروں سکون فاصل ہوں۔
اقول:یہ اعتراض باول نگاہ ہمارےذہن میں آیا تھا۔پھر شرح مقاصد میں دیکھا کہ اسے
عــــــہ:اور وہ جو ہدیہ سعیدیہ میں کہا کہ حرکت ارادیہ میں جائز ہے کہ متحرك کا ارادہ ایك حد سرعت کی تعیین کرلے اس کا رد مقام اول سوال ۴ میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ
",
1261,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,430,"ذکر کیا اور جواب دیا کہ کہ انقسام مسافت محض موہوم ہے۔
اقول:مقام ۱۰میں ہم اجزائے مقدار یہ پر کلام کرچکے وہی یہاں کافی ہے بداہۃمتحرك مسافت کو شیئا فشیئا قطع کرتا اور اس کے حصول پر پہنچتا گزرتا ہے۔یہ حالت اس کے لیے خارج میں ہے نہ کہ ذہن ذاہن پر موقوف۔
ثانیا:حل یہ کہ جدائی اگرچہ تاریخی نہیں کہ منتہی منقسم نہیں مگر اس کا حدوث آنی ہونا کب لازمتم فلاسفہ ہی کہتے ہو کہ حدوث کی تیسری قسم وہ ہے کہ نہ دفعہ ہو نہ تدریجی بلکہ زمانی غیر تدریجی ہو جیسے حرکت توسطیہ کہ ہر گز ایك آن میں حادث نہیں ہو سکتی نہ ہر گز تدریجی کہ غیر منتقسم ہے کہ کیا محال ہے کہ جدائی بھی اسی قسم سے ہو۔
اقول:بلکہ مبانیت کا ایسا ہی ہونا لازم کہ وہ نہ ہوگی مگر حرکت سے اور حرکت زمانیتو تتالی آنین لازم نہ آئی وہی زمانہ جس کی طرف یہ آن وصول ہے اس کا زمان حدوث ہے اور یہی زمانہ حرکت ثانیہ ہے۔بالجملہ یہی آن وصول دونوں حرکتوں اور دونوں جدائیوں کے دونوں زمانوں میں حد فاصل ہے اس سے پہلے پہلی جدائی تھی اور حرکت اولی اور اس کے بعد دوسری جدائی ہے اور حرکت ثانیہ اور خود اس آن میں نہ کوئی جدائی نہ کوئی حرکت اور آن میں وجود حرکت نہ ہونا سکون نہیں ورنہ ہمیشہ سکون ہی رہے کہ کوئی حرکت کبھی ایك آن میں نہیں ہوسکتی۔
شبہ ۲:حرکت میل سے پیدا ہوتی ہے اور یہی میل اس کی منتہی تك علت وصول ہے تو آن وصول میں اس کا وجود ضرور کہ معلول بے علت ناممکن اب دوسری حرکت کو دوسرا میل درکاروہ اس آن میں ہوگا کہ پہلے میل نے جہاں تك پہنچایا دوسرا وہاں سے جدا کرے گا تو دونوں متنافی ہیں اور متنافیوں کا اجتماع ناممکناور میل کا حدوث آنی ہےتو اس دوسرے کی آن حدوث اس آن وصول کے بعد ہے اور بیچ میں زمانہ فاصل جس میں سکون حاصلیہ شبہ ابن سینا کا ہے اس پر بھی رد کثیر ہیں بعض ذکر کریں۔
اولا:میل معد وصول ہے نہ کہ فاعلتو آن وصول میں اس کا وجود کیا ضرور بلکہ عدم ضرورتو دوسرا میل اسی آن میں پیدا ہو کر بلا فصل زمانہ دوسری حرکت دے گا نہ میلین کا اجتماع ہوگا نہ حرکت کا انقطاع۔
اقول:بحمدہ تعالی یہ رد بھی بہ نگاہ اولین ہمارے ذہن میں آیا پھر شرح مقاصد میں دیکھا کہ اسے ضمنا ذکر کرکے تصعیف کی اور وجہ ضعف نہ بتائی وہاں عبارت یوں تھی کہ اگر مان لیں کہ
",
1262,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,431,"جز لایتجزی باطل ہے اور میل معد نہیں علت موجبہ ہے تو رد یوں ہے اسے فرمایا منع اول کا ضعف ظاہر ہے۔شاید یہ صرف مسئلہ جز ی طرف اشارہ ہو معد سے اعتراض میں کیا ضعف ہے۔
اقول:بلکہ اس معنی پر جو ہم نے کلام ابن سینا سے مستنبط کیے غالبا اس نے اسی چاك کے رفو کو یہ جملہ بڑھایا کہ یہ میل ہی حدود و حرکات تك پہنچاتا ایك سے ہٹاتا اور دوسرے پر لاتا ہے ا ھ یعنی جب تمام حدود متوسطہ مسافت پر وصول کی علت وہی تھا اور ہر گز معد نہ تھا کہ ختم حرکت تك ا س کا وجود واجب تو حد اخیر تك پہچانے کی علت بھی وہی ہوگا اور جیسے ان حدود میں معد نہ تھا موجود تھا یہاں بھی کہ حدوحد میں تفرقہ تحکم ہے یہ ہے وہ جو ہم نے اس کے کلام سے استنباط کیا۔
اقول:مگر رفو نہ ہونا تھا نہ ہوا۔مسافت کو اگر بلحاظ وحدانی ملحوظ کرتے ہو جس طرح وہ خارج میں ہے تو یہاں حدود کہاں مسافت واحد ہے اور حرکت واحد اور میل واحد کہ علت حرکت ہے اور حداخیر تك وصول کا معد اور اگر مسافت میں حدود فرض کرکے منقسم لیتے ہو تو اس کی تقسیم سے حرکت یہی منقسم ہوگی۔اب یہ ایك حرکت نہیں بلکہ ہر حد تك جدا حرکتاو رظاہر ہے کہ جو حرکت ایك حد تھی اس پر ختم ہو کر دوسری شروع ہوگی تو واجب کہ اس کی علت میل بھی یونہی منقسم ہو اس حد پر تو ہر میل ہر حد کے وصول کا معد ہی ہوا نہ کہ علت موجبہیونہی حد اخیر کا کہ حد وحد میں تفرقہ تحکم ہے۔معہذا بفرض غلط اگر اس ایك اعتراض کا علاج ہو بھی جائے اعتراضات آئندہ قطعا اس کی تقریر پر بھیو اردلاجرم اس کی سعی بھی ویسی ہی مردود و سوفسطائی۔
ثانیا اقول:یہی فلاسفہ تصریح کرتے ہیں اور خود عقل سلیم حاکم کہ جسم کے لیے اس کے حیز میں میل طبعی نہیں کہ میل طالب حرکت ہے اور حیز میں طبیعت طالب سکون محال ہے کہ وہاں سے حرکت طلب کرے اب جو جسم حرکت طبعی سے حیز میں پہنچے آن وصول میں یہ میل نہ ہوگا۔کہ آن وصول آن حصول ہے اور حصول نافی میل تو تمہارا زعم کہ آن وصول میں میل موصل باقی ہونا لازم صراحۃ باطل ہے اب کیا محال ہے کہ اسی آن میں میل دیگر قسری یا ارادی پیدا ہو کر حرکت دیگرے دے تو نہ اجتماع نہ انقطاع۔
ثالثا:میل پر بھی وہی وارد جو مبانیت پر تھاکیا ضرور کہ اس کا حدوث آنی ہوممکن کہ زمانی غیر تدریجی ہو۔
",
1263,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,432,"رابعا اقول:اجتماع متنافیین اس وقت ہے کہ دونوں کا مقتضی ایك ہو یا دونوں مقتضے پورے عامل ہوں کہ ہر ایك کا پورا اثر واقع ہو۔ا ور اگر مقتضے دو ہوں اور ایك عامل دوسرا معطل یا دونوں عاملمگر اثر ساقط یا صرف غالب کا بقدر غلبہ ظاہر تو ہر گز محال نہیں بلکہ واقع ہے جیسے وہ مرکب جس میں جز ناری نیچے اور ارضی اوپر ہو۔شك نہیں کہ نار اوپر لے جانا چاہے گی اور تراب نیچے لانا تو دو متنافی اثروں کا وقت واحد میں اقتضاہے مگر مقتضی جدا پھر اگر نارو تراب دونوں نوری کی قوت برابر ہے ساقط ہو کر اثر اصلا مرتب نہ ہوگا مرکب ساکن رہے گا ورنہ جو غالب ہے اپنی طرف لے جائے گا۔اور دوسرے کی ممانعت سے اس میں ضعف آجائے گا۔یہاں اتنا بھی نہیں بلکہ شق اول ہے یعنی ایك عامل اور دوسرا محض معطلمثلا میل طبعی ایك منتہی تك لایا اور ہم نے مان لیا کہ وہ آن وصول میں موجود ہے مگر اس سے جدا کرنا طبیعت نہ چاہے گی بلکہ میل قسری یا ارادی کہ اسی آن میں حادث ہوا اور ان کا اجتماع متنافیین نہ ہوا کہ مقتضی جدا ہیں اور پہلا یعنی میل طبعی یہاں معطل محض کہ طبیعت جسم کا اسے حیز کا ہٹانا محال اور دوسرا عامل ہے تو کسی طرح اجتماع متنافیین نہ جانب موثر سے ہوا نہ جانب اثر میں۔یہ ہے ابن سینا کی وہ سعی جس پر جونپوری کو وہ ناز تھا کہ اس میں بصیرت طلبوں کی ہدایت ہے اور رشد خواہوں کو گمراہوں سے نجات عــــــہ۔ "" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾"" ۔(اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔ت)واﷲ حق ہے کہ من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور مگر نہ جانا کہ اس کا مصداق خود یہی مغرور۔
مقام بست و دوم
امور غیر متناہیہ کا عدم سے وجود میں آجانا مطلقا محال ہے مجتمع ہوں خواہ متعاقب مرتب
عــــــہ:گرفتار فلسفہ مزخرفہ سے اس آیت پر ایمان تعجب کہ اہل نور کے نور جعل واجب سے ہوں تو اس کے مجعولات غیر متناہی ہوں گے حالانکہ وہ واحد من جمیع الجہات ہے والواحد لا یصدر عنہ الاالواحد بل ولا واحد(واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد بلکہ نا واحد۔ت)تو یوں کہاہوتا کہ من لم یجعل العقل الفعال(جسے عقل فعال نہ دے۔ت)ہاں بالعرض کا باب واسع ہے کہ واسطہ در واسطہ ہو کر واسطوں سے جعل اس تك منتہی ۱۲ منہ غفرلہ۔
", القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
1264,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,433,"ہوں یا غیر مرتب فلسفی زمانہ و حرکت فلك کی ازلیت اور خود افلاك و عناصر و ہیولات کے قدم شخصی اور موالید وصور نوعیہ کے قدم نوعی اور نفوس مجردہ کے بالفعل لاتناہی کے تحفظ کو زبردستی اس میں اجتماع بالفعل و ترتیب بالفعل کی دو قیدیں بڑھتا ہے اور یہ عــــــہ۱ اس کی ہوس خام ہے برہان تطبیق و برہان تضایف وغیرہما قطعا مجتمع و متعاقب میں دونوں یکساں جاری۔
اولا:ایام زمانہ و دورات فلك و انواع موالیداگر یونہی ازلی ہوں کہ ایك فنا ہو کر دوسرا پیدا ہو جب بھی قطعا عقل حکم کرتی ہے کہ ایك سلسلہ کہ آج تك ہے یقینا اس سلسلہ سدے کہ کل تك تھا بڑا ہے اب کل کو آج اور پرسوں کو کل اور اترسوں کو پرسوں سے مطابق کرتے جاؤ۔اگر دونوں سلسلے برابر چلے جائیں کبھی ختم نہ ہوں تو جزو کل برابر ہوگئےاور اگر چھوٹا ختم ہوجائے تو متناہی ہوا۔اور بڑا اس پر زائد نہ تھا مگر ایك سے تو وہ بھی متناہی۔اس کے لیے ان کا بالفعل موجود ہونا کیا ضرورتطبیق اگر خارج یا ذہن میں بالفعل تفصیلی درکار ہو تو وہ غیر متناہی موجود بالفعل میں بھی ممکن نہیں۔اور عــــــہ۲ اگرذہنی اجمالی کافی اور یقینا کافی تو سب کافی الحال موجود ہونا کیا ضرور۔
اقول:بلکہ سلسلے متناہی نہ ہوں تو نہ صرف جز کل کا مساوی بلکہ اپنے کل کے ہزاروں لاکھوں مثل سے بڑا ہو تمام عدد صفر کے برابر رہ جائیں بلکہ صفر سے بھی کروڑوں حصے چھوٹے ہوںغرض لاکھوں استحالے لازم آئیںیہ سب ایك جملہ جبریہ سے واضحیہ سلسلہ غیر متناہی سے ایك یا لاکھ جس قدر کم کرو اس کا نام ص رکھو ا ور باقی کا نام لااب تطبیق دو اگر دونوں برابر چلے جائیں تو لا + ص = لا – مشترك ساقط کیا ""ص"" ظاہر ہے کہ ""ص"" ہر عدد ہوسکتا ہے تو ہر عدد صفر کے برابر ہوا اور آپس میں بھی سب برابر ہوئے اور شك نہیں کہ دس کھرب لاکھ سے کروڑ حصے بڑا ہے تو ایك بھی لاکھ کا کروڑ مثل ہے نیز دس کھرب صفر کے برابر ہے تو لاکھ صفر کا بھی کروڑواں
عــــــہ۱:ملا جلال دوانی نے شرح عقائد عضدی اور ملا حسن لکھنوی نے حاشیہ مزخرفات جونپوری میں اس مبحث کو واضح کردیا ہے اسی سے متشدق جونپوری کی تمام خرافات کا رد روشن ہےہمیں تطویل کی حاجت نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:اقول:تطبیق اجمالی نہ ہوگی مگر ذہن میں کہ خارج میں ہر ایك کا وجود ممتاز و منحاز ہے تو اجمال نہ ہوگا۔مگر انہیں اجمالا لحاظ سے اور تطبیق تفصیلی ذہن و خارج دونوں میں ہوسکتی ہےلہذا انہیں تین حصر ہے ۱۲ منہ)
",
1265,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,434,"حصہ ہے اسی طرح غیر متناہی استحالے ہیں۔
ثم اقول:لطف یہ کہ ان کے متشدقین اسی زمانہ ممتد غیر قار کو متصل وحدانی موجود فی الخارج مانتے ہیں اور جب استحالہئ لاتناہی وارد کیا جائے تعاقب وعدم وجود بالفعل کی طرف بھاگتے ہیں حالانکہ اس میں بھی مضر نہیںاگر کہیے یہی تقریر بعینہ جانب ابدودار د ایك سلسلہ آج سے ابد تك لیں اور دوسرا کل آئندہ سے تو قطعا پہلا دوسرے سے بڑا ہوگا۔اور ذہن تطبیق اجمالی کرسکے گا تو دونوں برابر ہوجائیں گے یا ابد متناہی۔
اقول:ہاں ضرور دلیل وہاں بھی جاریپھر کیا حاصل ہواوہی تو جو ہمارا مدعا ہے یعنی غیر متناہی اشیاء کا وجود میں آجانا محال اگر چہ برسبیل تعاقب ہوجانب ازل لاتناہی سے غیر متناہی کا وجود میں آچکنا لازم اور وہ محال اور یہ جانب ابد بھی محال کہ کسی وقت یہ صادق آئے کہ غیر متناہی وجود میں آلیے بلکہ ابادلاباد تك جتنے موجود ہوتے جائیں گے خواہ باقی رہیں یا فنا ہوتے جائیں سب متناہی ہوں گے تو محال لازم نہ آیا اور سلسلہ آگے بڑھنے میں محذور نہیں کہ زیارت نہ ہوگی مگر متناہی پربالجملہ جانب ازل لاتناہی کمی ہے اور وہ محال اور جانب ابد لاتناہی لا تقفی اور وہ جائز۔
ثانیا:دو۲ متقابل چیزیں کہ ذات واحدہ میں جہت واحدہ سے جمع نہ ہوسکیں اور ان میں کسی کا تصور بغیر دوسرے کے ناممکن ہو وہ متضایف کہلاتی ہیں جیسے ابوت و بنوت یا علیت و معلولیت یا تقدم وتاخران کا ذہن و خارج میں ہمیشہ برابر رہنا واجب مثلا ممکن نہیں کہ ایك شے مقدم اور اس سے کوئی موخر نہیں یا موخر ہو اور اس سے کوئی مقدم نہیں تو ان کا سلسلہ کہیں تك لیا جاتا قطعا ہر تاخر کے مقابل تقدم اور ہر تقدم کے مقابل تاخر ہوگا۔اب آج سے ازل تك ایام زمانہ یا دورات فلك یا انواع عنصریات کا ئنہ و فاسدہ لیں تو یقینا آج کا دن یا دورہ یا نوع اس سلسلہ میں سب سے موخر ہے اور کسی پر مقدم نہیں اور کل اور پرسوں اترسوں وغیر کا ہر ایك اپنے موخر سے مقدم اور مقدم سے موخر ہے اب اگر یہ سلسلہ غیر متناہی ہے تو اوپر کے تقدم تاخر برابر رہے اور یہ سب میں بعد کا تاخر خالی رہ گیا گنتی میں تقدموں سے تاخر زیادہ رہے اور یہ محال ہے تو واجب کہ ابتداء میں ایك تقدم ایسا نکلے جو خالی تقدم ہو اور اس سے پہلے کچھ نہ ہوتا کہ تقدم و تاخر گنتی میں برابر رہیں تو ثابت ہوا کہ ایام و دورات و انواع کی ازیست محال ظاہر ہے کہ یہ تقریر بھی اصلا ان کے بالفعل مجتمع ہونے پر موقوف نہیں باپ بیٹے مرتے جیتے رہیں ممکن نہیں کہ نبوت و ابوت کی گنتی برابر نہ ہو قطعا ہر نبوت کے مقابل ایوت اور ہر ابوت کے مقابل نبوت ہے اور عدو مساوی۔
",
1266,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,435,"رہی ترتیب سلسلہ تضایف میںتو وہ خود ہی حاصل ہے اور تطبیق کے لیے بھی اس کا بالفعل ہونا کیا ضرور۔ہر غیر مرتب لحاظ میں مرتب ہوسکتا ہے کہ غیر متناہی نا مرتب کو ایك بار ایك سے دو تین چار غیر متناہی لیں دوبارہ ایك جز الگ رکھ کر باقی کو یونہی ایك دو تین چار لاکھ پھر ایك کی ایك اور دو کی دو سے آخر تك تطبیق اجمالی لحاظ کریں حکم مذکور ظاہر ہوگا یا تناہی یا جزو و کل کی تساوی دونوں غیر متناہی چلے گئے تو جزو و کل برابر ورنہ دونوں متناہی مباحث یہاں کثیر ہیں اور عاقل کے لیے اسی قدر میں کفایت۔
مقام بست وسوم
قدم نوعی محال ہے فلسفی بہت اشیاء کو ایسا مانتا ہے کہ ان کے اشخاص و افراد سب حادث ہیں مگر طبیعت کلیہ قدیم ہے زمانہ کے دن ا ور فلك کے دورے اور موالید کے انواع ایسے ہی قدیم ہیں مثلا فلك کے سب دورے حادث ہیں کوئی خاص دورہ ازل میں نہ تھا مگر ہیں ازل سے یعنی کوئی دورہ ایسا نہیں جس سے پہلے غیرمتناہی دورے نہ ہوئے ہوں۔یہ صراحۃ کچا جنون ہے اور اس کے بطلان پر براہین قطعیہ قائم۔
حجت ۱:برہان تضایف۔
حجت ۲:برہان تطبیقان کا بیان ابھی سن چکے۔
حجت ۳:بدیہی ہے کہ قدیم ہر حادث پر مقدم ہے اس کے لیے ایك ایسا وقت ضروری ہے کہ وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہو کہ اگر ہر وقت اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادث رہا تو اسے سب حوادث پر تقدم نہ ہوا حالانکہ بداہۃسب پر ہے لیکن قدم نوعی کی حالت میں یہی بدیہی باطل لازم آتا ہے قدیم کے لیے کوئی وقت ایسا نہ نکلے گا جس میں وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہواس پر جلال دوانی نے شرح ۳عقائد عضدی میں کہا کہ یہ بداہت وہم ہے قدیم کے ہر حادث پر مقدم ہونے سے اتنا لازم کہ کوئی حادث ایسا نہ ہو جس پر وجود قدیم کو سبقت نہ ہو۔یہ یہاں ضرور حاصل ہے کہ اس حادث سے پہلے ایك حادث تھا اس وقت یہ حادث نہ تھا اور قدیم موجود تھا تو قدیم اس پر مقدم ہو اگرچہ اس پہلے حادث کا مقارن ہوا اور وہ پہلا بھی حادث ہے اس سے پہلے اور حادث تھا اس وقت یہ نہ تھا اور قدیم جب یہی تھا تو قدیم اس پر بھی مقدم ہوااسی طرح ہر حادث کا حال ہے تو قدیم ہر حادث پر مقدم بھی ہے۔اور ہر وقت ایك نہ ایك حادث اس کا مقارن ہے۔قدیم کے لیے ایك وقت ایسا ہونا جس میں
",
1267,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,436,"کوئی حادث نہ ہو یہ حوادث متناہیہ میں ہےنہ غیر متناہیہ میں ان میں وہ ہوگا کہ قدیم ہر حادث سے پہلے ہوگا اور کوئی نہ کوئی حادث ضرور دواما اس کے ساتھ ہوگا۔
اقول:اس بداہت کو بداہت وہم کہنا وہم کا دھوکا ہے قدیم قطعا ازل میں ہے اور یقینا کوئی حادث ازل میں نہیں ورنہ حادث نہ ہو تو بلاشبہ قدیم کے لیے وہ وقت ہے جس میں کوئی حادث نہیں۔رہا یہ کہنا کہ یہ حوادث غیر متناہیہ میں نہیں۔
اقول:یہی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ان میں نہیں اور اس کا ہونا یقینی ہے لہذا حوادث غیر متناہیہ باطل نہ یہ کہ اسی یقینی ہی کو الٹ اس سے باطل کیجئے۔یوں تو جس مقدمہ قطعیہ یقینیہ سے کسی پر رد کیجئے وہ یہی جواب دے دے کہ یہ مقدمہ اس صورت کے ماورا میں ہے یہیں نہ دیکھئے بعض سفہانے برہان تطبیق پر کہا کہ کل میں بعض سے کچھ زیادہ ضروری ہونا امور متناہیہ میں ہے نہ غیر متناہیہ میں۔اب یہ کس سے کہا جائے کہ جب کل میں بعض سے کچھ زیادت نہیں تو کاہے کا کل اور کس لیے بعض تقصیر معاف آپ کا جواب ایسا نہیں تو اس سے دوسرے نمبر پر ضرور ہے۔
حجت ۴:کتنی واضح بات ہے کہ طبیعت کا وجود نہیں ہوسکتا مگر ضمن فرد میں جب ازل میں کوئی فرد نہیں طبیعت کہاں سے آئے گی۔دوانی نے اسے بھی کلام سخیف کہا اور جواب کچھ نہ دیا۔صرف اتنا کہا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ اس نوع کا کوئی نہ کوئی فرد ہمیشہ رہے کبھی منقطع نہ ہواور ظاہر ہے کہ ہر فرد کا حادث ہونا اصلا اس کے منافی نہیں۔
اقول:یہ جواب نہیں بلکہ دعوی کا اعادہ ہے جب جمیع افراد معینہ حادث ہیں تو فرد منتشر ازلی کیسے ہوگا کہ خارج میں اس کا وجود نہ ہوگا مگر ضمن فرد معین میں۔ہاں ایك نظیر دی اور اسے بے نظیر سمجھا اور وہ ضرور مبحث سے بے گانہ ہونے میں بے نظیر ہے وہ یہ کہ گلاب کے پھولوں میں کیا کہو گےہر پھول ایك دو دن سے زیادہ نہیں رہتا حالانکہ گلاب مہینے دو مہینے باقی رہتا ہے۔اور بداہۃ معلوم کہ ایسے حکم میں متناہی وغیر متناہی میں کچھ فرق نہیں یعنی تو یہاں بھی اگر طبیعت ازل میں ہوئیحالانکہ کوئی فرد ازلی نہ تھا تو کیا حرج ہوا جیسے طبیعت گل دو مہینے رہی۔حالانکہ کوئی پھول دو مہینے نہ رہا۔
اقول:حاصل حجت یہ سمجھے کہ جو حکم جمیع افراد سے مسلوب ہو طبیعت کے لیے ثابت نہیں ہوسکتا یہ بلاشبہ باطل ہے اور اس کے رد کو دور جانا نہ تھا کلیت ہی ایسی چیز ہے کہ جمیع افراد سے مسلوب اور طبیعت کے لیے ثابتیہ حاصل حجت نہیں بلکہ یہ کہ جو ظرف وجود خارجی وجود جمیع افراد
",
1268,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,437,"سے خالی ہو۔طبیعت اس میں نہیں ہوسکتی کہ اس کا وجود نہ ہونا مگر ضمن فرد میں اور یہ ظرف ہرر فرد سے خالیلہذا قطعا طبیعت سے بھی خالی اس سے گلاب کی مثال کو کیا مس ہوا۔کوئی پھول اگرچہ دو مہینے یا دو گھڑی بھی نہ رہا مگر یہ ظرف وجود (یعنی دو مہینے)کس ساعت پھول سے خالی ہوا ہر وقت کوئی نہ کوئی پھول اس میں موجود رہا تو ضرور طبیعت موجود رہی لیکن ظرف ازل جمیع افراد حوادث سے قطعا خالی ہے محال ہے کہ کوئی فرد حادث ازلی ہو ورنہ حادث نہ رہے تو ضرور طبیعت سے بھی خالی ہے بے تشخص خارج میں موجود ہواور یہ محال ہے گلاب کے یہ دو مہینے دیکھنے نہ تھے جو خود ظرف وجود افراد تھے ان مہینوں سے پہلے دیکھو جس وقت کوئی پھول موجود نہ تھا کیا اس وقت طبیعت گل موجود تھی ہر گز نہیںعجب کہ فاضل دوانی سے شخص کو ایسا صریح مغالطہ ہو۔
حجت ۵:کہ گویا رابعہ کی تفصیل و تکمیل اور رگ مثال گل کی راسا قاطع ہے۔اقول: طبیعت خارج میں موجود نہ ہوگی مگر ضمن فرد معین یا منتشر میں اور فرد منتشر خود خارج میں نہیں ہوسکتا۔مگر ضمن فرد معین میں کہ وجود خارجی مساوق ہذیت ہے اور ہذیت منافی انتشاروہاں وہ کسی ایك یا چند افراد معینہ مجتمعہ یا متعاقبہ فی الوجود سے منتزع ہوگااور بہرحال طبیعت اس کے ساتھ موجود رہے گی۔لیکن جہاں نہ فرد ہو نہ افراد نہ مجتمع نہ متعاقتب وہاں نہ فرد منتشر ہوسکتا ہے نہ طبیعت کہ نہ اس کا منزع منہ نہ اس کا مورد۔ازل میں افراد حادثہ کا یہی حال ہے فرد یا افراد معینہ کے ازلی ہونے سے تم خود منکر ہو اور ان کا حادث ہونا آپ ہی اس انکار کا ضامناور ازل میں تعاقب نہیں کہ تعاقب سبوقیۃ کو چاہتا ہے اور ازل سے مسبوقیہ سے پاك لاجرم ازل میں افراد متعاقبہ بھی نہ تھے تو فرد منتشر و طبیعت دونوں کے جمیع انجائے وجود منتفی تھے تو ہر گز طبیعت ازلی نہیں ہوسکتی بخلاف گل کہ اگرچہ ہر معین پھول سے دو مہینے استمرار وجود مسلوب ہے مگر فرد منتشر سے مسلوب نہیں کہ وہ ان مہینوں میں اول تا آخر افراد متاقبہ سے منتزع ہے۔
حجت ۶:اقول:ازل میں طبیعت کے وجود خارجی کی علت تامہ موجود تھی یا نہیں اگر نہیں تو ازل میں وجود طبیعت بداہۃمحال اور اگر ہاں تو طبیعت ضرور ازل میں موجود فی الخارج تھی کہ تخلف محال اور وجود خارجی بے تعین ناممکن اور طبیعت معروضہ للتعین ہی فرد معین ہے تو ضرور ازل میں فرد معین موجود تھا حالانکہ سب افراد حادث ہیںہذاخلف اور اب غیر متناہی دو حاصروں میں محصور ہوگئے ایك فرد ازلی اور دوسرا مثلا آج کا فرد تو ضرور شق اول معین اور باوصف حدوث افراد طبیعت کا ازلی ہونا قطعا محال تو دلائل قاطعہ سے روشن ہوا کہ نہ زمانہ قدیم نہ حرکت نہ فلك نہ موالید نہ افلاك نہ عناصروالحمدﷲ رب العلمین(اور سب
",
1269,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,438,"تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
تنبیہ:ملت اسلامیہ میں ذات و صفات الہی عزجلالہ کے سوا کوئی شے قدیم نہیںانواع بھی غیر ذات وصفات ہیں تو کسی شے کا قدم نوعی ماننا بھی مخالف اسلام ہے بلکہ ہم روشن کرچکے کہ قدم نوعی بے قدم شخصی ناممکناور غیر کے لیے قدم شخصی ماننا قطعا ضروریات دین کا انکار ہے۔فاضل دوانی نے کہ ان دو حجتوں پر وہ بحثیں کردیںاور ان سے پہلے فلاسفہ کی دلیل قدم عالم پر دو جگہ رد میں کہا کہ اس سے قدم جنسی لازم آیا نہ شخصییہ سب عادت نظار پر ہے دلیل مخالف میں یہ کہنا کہ اس سے اتنا لازم آیا نہ وہ کہ تیرا مدعا ہے اس سے مقصود اس قدر کہ دلیل اس کے مدعا کی مثبت نہیں۔نہ یہ کہ جو لازم بتایا مسلم ہے کہ بلکہ وہ برسبیل تنزل وارخائے عنان بھی ہوتا ہے اور دلیل موافق پر نقض سے تو معاذ اﷲ مدعا میں کلام مفہوم بھی نہیں ہوتا یہاں تك کہ بعض دلائل توحید و وجود واجب پر ابحاث کرتے ہیں اس سے مقصود صرف اس دلیل خاص کی تضعیف ہوتی ہے آخر یہ وہی فاضل ہیں جنہوں نی اس کے بعد براہین تطبیق و تضانیف کا بلا شرط اجتماع و ترتیب مطلقا جاری ہونا بہ سعی بلیغ ثابت کیاکیا وہ ابطال قدم نوعی کو کافی نہیں قطعا عــــــہ کافی ہیں۔
عــــــہ:اما قولہ بعد ذکر القدم الجنسی وقد قال بذلك بعض المحدثین المتاخرین وقدرایت فی بعض تصانیف ابن تیمیہ القول بہ فی العرش اھ ۔ فاقول:ما یدریك وان المحدثین ھھنا من التفعیل دون الا فعال بل ھو المتعین فان القائل بہ لاشك مبتدع ضال ویؤیدہ نقلہ عن ابن تیمیۃ احد الضلال ویشیدہ ان المذکور رہا اس کا قول قدم جنسی کے ذکر کے بعد کہ بعض متاخرین محدثین اس کے قائل ہیں اور میں نے ابن تیمیہ کی بعض تصانیف میں عرش کے بارے میں یہ قول دیکھا ہے ا ھ تو میں کہتا ہوں کہ تجھے کیا خبر ہے کہ محدثین یہاں پر تفعیل سے ہے نہ کہ افعال سے بلکہ افعال سے ہونا ہی متعین ہے کیونکہ اس کا قائل بلاشبہ بدعتی گمراہ ہے ابن تیمیہ جو کہ ایك گمراہ ہے سے اس کا نقل کرنا اس کی تائید کرتا ہے۔اور اس کو تقویت (باقی برصفحہ ائندہ)
", علامہ دوانی
1270,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,439,"مقام بست و چہارم
قوت جسمانیہ کا غیر متناہی پر قادر ہونا محال نہیں فلسفی محال مانتا ہے اس کی دلیل کی کہ ابن سینا نے دی اور آج تك متداول رہی۔تلخیص یہ ہے کہ حرکت غیر متناہیہ اگر قوت جسمانیہ سے ہو تو اس قوت کے حصے ہوسکیں گے کہ جسم میں ساری ہے کہ تجزی جسم سے متجزی ہوگی۔اب ہم پوچھتے ہیں اس قوت کا حصہ مثلا نصف بھی تحریك کل یا بعض جسم پر قادر ہے یا نہیںاگر نہیں تو یہ سارے جسم میں ساری ہونے کے خلاف ہےاور اگر ہاں تو قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جسے حرکت دے سکے ضرور کل قوت بھی اسے حرکت دے سکتی ہے ورنہ جز کل سے بڑھ جائے اب حصے کی تحریك مدت
عنہ القول بقدم العرش و ھو شخص فالمعنی قد قال بالقدم النوعی بعض الضالین ولا عزو فقد قال ابن تیمیہ بالقدم الشخصی فی العرش ھذا ولا یبعد من جہالات ابن تیمیۃ ان یقول فی العرش بالقدم النوعی فقد نقلوا عنہ التجسیم والجسم لا بدلہ من مستقر ولم یتجاسرعلی اثبات قدیم بالشخص فعاد الی النوعی اولم یرض معبودہ ان یبقی دائما علی عرش خلق وقد وھن من طول الامد فاستجندلہ عرشا کل حین ھذا کلہ ان ثبت عنہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دیتا ہے ابن تمیہ کی طرف سے قدم عرش کا قول کرنا جو کہ شخص ہےچنانچہ معنی ی ہوا کہ بعض گمراہ قدم نوعی کے قائل ہیں اور بے شك ابن تیمیہ عرش کے قدم شخصی کا قائل ہے اور ابن تیمیہ کی جہالتوں سے بعید نہیں کہ وہ عرش کے بارے میں قدم نوعی کا قول کرےکیونکہ اس سے منقول ہے کہ وہ اﷲ تعالی کے لیے جسم مانتا ہے اور جسم کے لیے مستقر کا ہونا ضروری ہے۔اور اس نے قدیم شخصی کے اثبات کی جسارت نہ کیلہذا قدم نوعی کی طرف عود کیایا اس کا معبود اس بات پر راضی نہ ہوا کہ وہ ہمیشہ پرانے عرش پر رہے گا جو کہ طویل عرصہ گزرنے پر کمزور ہوچکا ہے تو اس نے ہر گھڑی نیا عرش چاہا ہے یہ تمام اس صورت میں ہے جب کہ ابن تیمہ سے یہ قول ثابت ہو۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
",
1271,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,440,"وعدت میں کل کے برابر ہوئی کہ جتنے زمانے میں جتنے دورے کل قوت دے سکے حصہ یہی جب تو جز و کل برابر ہوگئے ورنہ ایك مبدء سے دونوں تحریکیں شروع کریں۔ضرور ہے کہ حصے کی تحریك تھك رہے گی تو متناہی ہوئی اور کل کی تحریك اسی نسبت محدود سے اس پر زائد ہوگی حصہ نصف ہے تو دوچند ثلث ہے تو سہ چندا ور جو متناہی پر بقدر متناہی زائد ہو امتناہی ہے تو قوت جسمانیہ کا اثر نہ ہوا مگر متناہی ہے طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے تلخیص کیا۔
اقول:یہ محض تمویہہ وملمع کاری ہے۔
اولا:ہم اختیار کرتے ہیں کہ حصہ مدت میں برابر اور عدت میں اپنی قدر ہوگا۔مثلا کل قوت ایك دن میں دورہ دے تو نصف قوت دو دن میں دے گیثلث تین دن میں سبع ایك ہفتہ میں اس کے دورے اور اس کے دوروں کے آدھے تہائی ۷ /۱ ہوں گے مگر منقطع کوئی نہ ہوگا تو زمانہ برابر رہا اور دوروں کی گنتی سے فرق پڑا تو نہ جزء وکل برابر ہوئے نہ جزء کی تحریك منقطع نہ کل کیاس پر بقدر متناہی زائد ابد کے دن ہفتے مہینے سال سب غیر متناہی ہیں اور دونوں سے ہفتے ۷ /۱ مہینے ۳۰/ ۱سال ۳۵۵ /۱ نہ تساوی ہے نہ انقطاع۔
ثانیا: کیا ضرور کہ جس کام پر کل قوت قادر ہو نصف اس کے نصف پر ہو۔ممکن کہ اس اثر پر قوی ہونا مشروط بہ ہیئت اجمتاعیہ ہو تو حصے سے ممکن نہیںنظیر سے توضیح عــــــہ چاہو تو بداہۃمعلوم کہ جہاز کے وزن مخصوص پر تحریك کے لیے ہوا کی ایك قوت درکار کہ اس سے کم ہو تو اصلا حرکت نہ دے سکے اور یہ واقع ہے یقینا معلوم کہ ہوا کی وہ قوت جو صرف ایك پتے کو کو ہلا سکے تحریك جہاز پر اصلا قادر نہیں اور اس کی ایك قوت وہ ہے کہ جہازوں کو روزانہ سو میل لے جاتی ہے ضرور ہے کہ پہلی قوت غیر محرکہ کو اس قوت سے کوئی نسبت ہوگیفرض کیجئے۔۱/۱۰۰۰ یا ۱/۱۰۰۰۰۰ تو تمہارے
عــــــہ:بظاہر اس سے اقرب یہ مثال ہوسکتی ہے کہ کرہ حرکت وضیعہ کرسکتا ہے اور اس کے ثخن میں اسکا کوئی حصہ مثلا نصف کسی شکل مضلع مثلا مثلث یا مربع پر خواہ جڑا ہو یا جدا ہو ہر گز نصف دورہ یا حرکت وضعیہ کا کوئی حصہ نہیں کرسکتا کہ مضلع جب ادنی جنبش کرے قطعا حرکت اینیہ ہوگی نہ وضعیہ جس میں این برقرار رہے اور صرف وضع بدلے۔فافھم ان کنت تفھم(تو سمجھ لے اگر تو سمجھتا ہے۔ت)۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1272,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,441,"طور پر لازم کہ اسی نسبت سے پہلی قوت اسے روزانہ ۱۰۰ میل کے ایك حصہ تك لے جایا کرے یعنی ایك میل کا دوسواں حصہ ۱۷۶گز یا ہزارواں حصہ ۷۶ء ۱ گز کہ پونے دو گز عــــــہ سے زائد ہوا حالانکہ وہ یقینا اسے اصلا نہیں ہلاسکتی۔
ثالثا:اگر کہیں کہ جذب مرکز سے ہے کہ میل ہو یا جذب ضرور جانب مرکز ہے تو مانحن فیہ میں سرے سے تقسیم حصص کا جھگڑا ہی نہ رہے گا۔
تکملہ:یہ دونوں اعتراض ہم نے بفضلہ تعالی بہ نگاہ اولین کیے تھے پھر جو نپوری کی کتاب دیکھی تو اس میں دونوں مع نام جواب پائے۔
اول پر اقرار کردیا کہ اس صورت میں ہماری یہ دلیل جاری نہیں پھر اس پر یہ عذر بارد گھڑا کہ جب ہم ثابت کرچکے کہ قوت جسمانیہ ایك سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر نہیں تو زیادہ پر کیسے قادر ہوجائے گی۔اس کا مطلب حمد ا ﷲ کی سمجھ میں نہ آیا الٹ پھیر کر انہیں لفظوں کو دہرادیا اور کہا ھذا ماعندی فی حل ھذہ العبارۃ(یہ وہ ہے جو اس عبارت کے حل میں میرے پاس ہے۔ت)
اقول:اس کا مطلب عقل میں نہ آنا بعید نہیں کہ اس کا مطلب خود عقل سے بعید ہے وہ یہ کہتا ہےکہ تم نے جزو و کل میں فرق یہ نکالا کہ مثلا قوت کا سوواں حصہ ایك دن میں ایك دورہ دے تو پوری قوت ایك دن میں سو دورے دے گیاور دن غیر متناہی ہیں تو اس کی اکائیاں نامتناہی ہوں گی اور اس کی صدیاں بھیگویا وہ ایك سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر ہوا۔اور یہ سو سلاسل نامتناہی پر تو جز و کل کا فرق یہی رہا اور تناہی نہ ہوئی لیکن ہم بیان کرچکے کہ کل قوت ایك سلسلہ پر قادر نہیںورنہ جزء و کل برابر ہوں تو سو سلسلوں پر کہاں سے قدر ہوجائے گی۔یہ اس کے مذعوم کی تقریر ہے۔
اقول:یہ محض مغالطہ یا نری سفاہت ہے بشرط شے و بشرط الامین فرق نہ کیاجز ایك سلسلہ پر قادر ہو تو کل ضرور ایك پر قادر نہ ہوگا ورنہ کل و جز برابر ہوجائیں مگر یہ ایك پر اس کی قدرت کا سلب کس معنی پر ہے یا بایں معنی کہ صرف ایك ہی پر قادر نہیں بلکہ سو پر ہے نہ بایں معنی کہ ایك اس کی قدرت ہی نہیں جو سو پر قادر ہے قطعا ایك اور اس کے
عــــــہ:یعنی ۱۔۲۵/ ۱۹ گز ۱۲ الجیلانی۔
",
1273,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,442," ۹۹ مثل اور پر قادر ہے تویہ کہنا کہ جو ایك پر قادر نہیں سوپر کیسے قدر ہوگاکیسا صریح مغالطہ ہےیوں کہیے کہ ہم دلیل سے ثابت کرچکے کہ کل کی قدرت ایك پر محدود نہیں تو ضرور زائد پر ہےاگر کہیے کہ کل اس تنہا ایك سلسلہ پر بھی قادر ہے یا نہیںاگر نہیں تو جز کل سے بڑھ گیا۔اور اگر ہاں تو اس سلسلے کے اعتبار سے دلیل جاری ہوگی اب اس میں تو ایك متعدد کا فرق نہیںدلیل کو ایك شے ایسی چاہیے جس پر کل و جز دونوں قادر ہو ولہذا اس صورت میں بھی جاری تھی کہ جز صرف بعض کی تحریك پر قادر ہو ظاہر ہے کہ کل بھی اسے حرکت دے سکے گا تو دلیل جاری ہوگئی اگرچہ کل اس بعض جیسے ہزار بعض اور پر قادر ہے۔
اقول:ہاں کل اس تنہا ایك پر بھی قادر ہے مگر نہ اپنی پوری قوت بلکہ بعض سے وہ جس کی پوری قوت سو پر قادر ہے اگر ایك پر اختصار چاہیے گا پوری قوت اس پر صرف نہ کرے گا بلکہ سوواں حضہ تو بغض قوت کل کا کل قوت بعض سے مساوی ہونا لازم آیا اور یہ غیر محذور بلکہ ضرور۔
دوم:کی تقریریوں کی کی جائز ہے کہ کل کے لیے ایك قوت ہو کہ تقسیم سے نہ رہے جیسے مرکب کی قوت کہ بعد مزاج حاصل ہوتی ہے ان بسائط پر نہیں جن سے اس کی ترکیب ہوئی اور کشتی کہ دو کی تحریك سے حرکت کرے ایك سے متحرك نہ ہوگی پھر جواب دیا کہ قوت جو مزاج سے حاصل ہوئی اگرچہ قبل امتزاج بسائط میں نہ تھی مگر اب ضرور ہر بسیط بھی اس کا حامل ہے کہ تمام جسم میں ساریہ مانی گئی ہے اور ہم جز کو کل سے جدا کرکے کلام نہیں کرتے بلکہ اسی حالت میں کہ وہ مزاج حاصل کیے ہوئے ہے تو ضرور کل سے اسے جو نسبت ہے اسی نسبت پر اس قوت کا حصہ اس میں ہے اور ایك شخص اگر اس کشتی کو نہیں ہلا سکتا تو اس سے چھوٹی کو تو ہلا سکے گا۔
اقول:بحمداﷲ تعالی ہماری تقریر مزاج پر نہیں جس میں ایك قوت جدیدہ خود ان بسائط ہی کو بعد کسرو انکسار حاصل ہوتی ہے۔ہمارے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ کل کو ایك شے پر قوت ہو تو ضرور نہیں کہ مقوی علیہ کے حصہ حصص قوت کے مقابل ہوں کہ کل مقوی علیہ پر کل کو قوت ہے تو اس کے نصف پر نصف اور ثلث پر ثالث کو وھکذا(اور اسی طرحت)بلکہ ممکن کہ مقوی علیہ پر قوت ہیئت اجتماعیہ سے مشروط ہو تو جب کوئی حصہ لو گے خواہ کل سے قطع کرکے یا اس میں ملا ہوا جز اس پر اصلا قادر نہ ہوگا جز بشرط شیئ قادر ہے کہ عین جز اگر چہ خارج میں کل سے جدا نہ کیا لیا تو اس سے تنہا اور شرط قوت کہ اجتماع تھا نہ رہا یہاں بھی وہی تفرقہ نہ کیا
",
1274,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,443,"جز بشرط شے قادر ہے کہ عین کل ہے اور کلام بشرط لا میناگر کہئے کہ جز قادر ہو جب تو محال مذکور لازم آئے گا۔
اقول:ہاں تو اس سے جز کا قادر ہونا محال ہوا کہ اس کے فرض سے محال لازم آیا نہ کہ قوت کل کی لامتناہی فاند فع ما قال الملاحسن فی حاشیتہ(تو جو ملا حسن نے اس کے حاشیہ میں کہا وہ مندفع ہوگیا۔ت)رہا وہ اخیر جملہ کو ایك اس سے چھوٹی کو ہلا سکے گا۔
اقول:وہ بھی ہماری اس تقریر سے رد ہوگیا مقوی علیہ کے حصوں کا قوت کے حصوں پر انقسام ضرور ہے یا نہیںاگر نہیں تو تمہاری دلیل باطلاور اگر ہاں تو جو ہوا جہاز کو روزانہ سو میل لے جائے لازم کہ اس کا تجزیہ کرتے جاؤ۔تو سو میل کا ان پر اقسام ہوتا رہے اور وہ حصہ کہ پتے کو بھی نہ ہلا سکے اس جہاز کو انگل بھر یا بال بھر غرض کچھ نہ کچھ روزانہ ضرور ہلائے یہ صریح باطل ہے یہ بیان اس کے ایضاح کو تھا کہ ممکن بعض قدرتیں ہیئت اجتماعیہ سے مروط ہوں اور ہیئت اجتماعیہ مجموع میں حیث ہو مجموع کو عارض ہے نہ کہ ہر جز میں ساری تواجزا میں اس کا حصہ ہونا ضرور نہیں بلکہ نہ ہونا ضرور ہے کہ شرط مفقود ہے تو جسم کا ہر جز جسم ہونا اور بداہۃجنس قوت کل سے کسی شیئ پر قادر ہونا اگر چہ اپنی نسبت پر اس جسم سے اصغر کی تحریك پر ہو یہ کچھ تمہیں مفید نہیںہاں ہر جز بھی کسی نہ کسی حصہ جسم کی تحریك پر قادر سہی مگر ممکن کہ عدت و مدت میں لامتناہی پر قدرت ہیئت اجتماعیہ سے مشروط ہو تو وہ ہر گز نہ کسی جز میں ہوگی نہ اس کی نسبت پر انقسام پائے گی کہ استحالہ لازم آئے کہ غیر متناہی کی تنصیف تثلیث وغیرہ ناممکن""فاند فع ما تفوہ بہ الجونفوری واندفع ما ارادیہ اصلاحہ الملاحسن فی حاشیتہ""(تو مندفع ہوگیا وہ جو اس کے حاشیہ(تو مندفع ہوگیا وہ جو اس کے حاشیہ میں ملا حسن نے کہا۔ت)اس کے بعد جونپوری نے ابن سینا کی تقریر پر رد کیا اور اپنی طرف سے حسب عادت کو شقشقہ لسان و لقلقہ بیان ہی اس کی بضاعت ہے اس دلیل کی ایك اور تقریر طویل ولا طائل گھڑی۔
اقول:بحمدہ تعالی وہ بھی ہماری اسی تقریر سے رد ہوگئی اس کا مبنی بھی اسی پر ہے کہ قوت بانقسام محل منقسم ہوااور ہم روشن کرچکے کہ قوت مشروطہ بہیئت اجتماعیہ اجزا پر منقسم نہ ہوگی کل ہر گز اجزا کی گنتی کا نام نہیں جیسے عشرہ کہ دس وحدتوں سی زیادہ اس میں کچھ نہیں تو اس کی قوت نہ ہوگی مگر قوائے اجزاء کا حاصل جمع بلکہ یہاں ایك امر زائد ہے جس نے کثرت کو وحدت کر دیایعنی یات اجتماعیہ اس سے جو قوت حاصل ہوگی یقینا مجموع قوائے اجزاء کے علاوہ ہے اور اس کا خود جونپوری کو یہی اعتراف ہے مگر پھر ہیئت اجتماعیہ کو نہیں سمجھتااور انقسام محل سے تقسیم کرتا ہے۔
",
1275,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,444,"یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ موثر صرف جمیع اجزا بشرط اجتماع ہوں اور اگر جموع من حیث ھو مجموع موثر ہو یعنی ہیئت اجتماعیہ موثر میں داخل تو امراظہر ہےاب اجزاء تین وجہ پر ہیں
(۱)مرسل نفس اجزا۔(۲)معری متفرقہ۔(۳)محلی مجتمعہ کہ لابشرط و بشرط لاوبشرط شے کے مراتب ہیں۔
پانچ مرسل دس مرسل کا نصف ہے لیکن دس مع ہیئت اجتماعیہ کا نصف نہ پانچ مرسل ہے نہ بلا ہیئت اجتماعیہ نہ مع ہیئت اجتماعیہ کو یہ ہیئت اجتماعیہ اسی کی مثل ہے جو دس۱۰ محلی میں ہے نہ کہ اس کی نصف تو دس محلی کی جو قوت ہوگی اس کے انصاف و اثلاث میں نہ ہوگی کہ اس کے لیے انصاف و اثلاث ہی نہیں۔یہ جو انصاف و اثلاث ہیں دس مرسل کے ہیں اور اس کے لیے وہ قوت نہیں۔اسی قدر اس کے رد کو بس ہے زیادہ اطالت کی حاجت نہیںوﷲ الحمد۔
مقام بست وپنجم
آن سیال کوئی چیز نہیںارسطو وابن سینا اور ان کے چیلوں نے کہا حرکت کے دو اطلاق ہیں۔
اول:حرکت بمعنی التوسط کہ مبدء سے جدائی کے بعد اور منتہی تك وصول سے پہلے جسم کے لیے مبدء و منتہی میں متوسط ہونے کی ایك حالت دائمہ باقیہ ہے کہ خود اپنی ذات میں ناقابل قسمت اور اول تا آخر بحالہا محفوظ و مستمر ہے اور آنات مفروضہ زمان حرکت میں حدود مفروضہ مسافت سے ہر آن اسے ایك نسبت تازہ ہے کہ نہ پہلے تھی نہ بعد کو ہو اس اعتبار سے سیال و نامستقر ہے اسے حرکت توسطیہ کہتے ہیں۔
دوم:حرکت بمعنی القطع جس طرح مینہ کی اترتی بوند سے پانی کا ایك خط اور بینٹی گھمانے سے آگ کا ایك دائرہ متوہم ہوتا ہے یونہی حرکت توسطیہ کے ان اختلاف نسب کے علی الاتصال توارد کے باعث مبدء سے منتہی تك ایك حرکت متصلہ وحدانیہ متخیل ہوتی ہے وجہ یہ کہ اس بوند یا شعلے یا متحرك کے ایك مکان میں ہونے کی ایك صورت خیال میں مرتسم ہوئی اور وہ بھی زائل نہ ہونے پائی تھی کہ معا دوسرے تیسرے مکانوں میں ہونے کی صورتیں آئیں یونہی آخر تك لاجرم دہم میں ایك شیئ ممتد متصل پیدا ہوئی جو صور مذکورہ میں خط و دائرہ و حرکت ممتدہ وحدانیہ ہے اسے حرکت قطعیہ
",
1276,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,445,"کہتے ہیں۔ان صنادید فلسفہ نے جب خود اسے موہوم کہا تو ہمیں یہاں بحث کی حاجت نہیں اگرچہ جائے سخن وسیع ہے مگر جز اف بے معنی یہ ہے کہ اسی پر قیاس کرکے کہا کہ جس طرح خارج میں حرکت تو سطیہ اپنی ذات میں بسیطہ مستمرہ اور نسبتوں سے غیر مستقرہ ہے اور اس کے سیلان سے قطعیہ موہوم ہوتی ہے یونہی خارج میں ایك آن سیال ہے کہ اپنی ذات میں بسیط و ناقابل قسمت وغیر متبدل ہے اور اپنے سیلان سے اذہان میں ایك امتداد موہوم متصل کی راسم ہے جس کا نام زمانہ ہے آن سیال حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اور زمانہ حرکت قطعیہ پر یہ بوجوہ ناقابل قبول۔
اولا:کیا ضرور ہے کہ امتداد موہوم زمانی کسی امر خارج مستمر غیر مستقر ہی سے منتزع ہو کیوں نہیں ممکن کہ ابتدا ذہن میں حاصل ہو۔(علامہ خواجہ زادہ)
اقول:حرکت تو سطیہ بمعونت حس مدرك ہے کہ متحرك کو بین الغایتین مبدء سے منصرف منتہی کی طرف متوجہ اس سے ہٹتا اس کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں اور یہی معنی توسط ہے اور اس کے استمراد سے ایك اتصال متوہم ہونا معقول وہ حرکت قطعیہ ہے امتداد زمانی کا علم ہر بچے جانور کو ہے یہاں خارج میں کسی مستمر نامستقر کا نہ مشاہدہ نہ اس پر دلیل تو محض قیاس غائب علی الشاہد مردود و ذلیل اگر کہیے وجود ذہنی نہیں ہوتا مگر ظلی۔
اقول:یہ دلیل نہیں بلکہ دوسرے لفظوں میں مدعا کا اعادہ اور صریح عــــــہ مصادرہ ہے۔
ثانیا اقول:سیلان خارجی سے ایك اتصال متخیل ہونا پہلے اس سیلان کے ارتسام کی فرع ہے جس نے نہ قطرہ اترتا دیکھا نہ شعلہ گھومتا محال ہے کہ ان کے نزول و دوران سے اس کے ذہن میں خط و دائرہ مرتسم ہوں یہاں امتداد زمانی کی وہ شہرت کہ صبیان و حیوان بھی اس سے آگاہ اور آن سیال تم چند کے سوا کسی کے خیال میں یہی نہیں تو اس کے سیلان سے اذہان میں اس ارتسام کے کیا معنی۔
ثالثا اقول:اگر رسم زمانہ کو خارج میں کوئی سیلان ہی درکاراور فرض کرلیں کہ سیلان رسم زمانہ کرسکتا ہے تو کیوں نہ ہوکہ حرکت توسطیہ کا سیلان یہ راسم ہو آن و سیلان آن کی کیا حاجت بلکہ اس تقدیر پر یونہی ہونا چاہیےکہ خود کہتے ہو سیلان توسطیہ سے حرکت قطعیہ متصلہ موہوم ہوتی ہے تو قطعیہ کا اتصال اسی سیلان کا مرسوم اور قطعیہ کے اتصال ہی کا نام
عــــــہ:اور اس کا ابطال صریح مقام آئندہ میں آتا ہے ۱۲ منہ۔
",
1277,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,446,"زمانہ ہے۔
رابعا اقول:سب جانے دو فرض کردم کہ کوئی آن ہے اور اسے سیلان ہے لیکن محال ہے کہ وہ راسم زمانہ ہوذرا سیلان کے معنی بتائیے آن تو فی نفسہ دائم و مستمر ہے اس کا سیلان نہ ہوگا مگر یہ آنات متعاقبہ میں حدود مختلفہ سے اس کی نسب متجددہ اس کے سوا اگر کچھ معنی سیلان راسم بتاسکتے ہو بتاؤ اور جب سیلان یہ ہے تو یہ خود زمانے پر موقوف تو اسے راسم زمانہ نہ کہے گا مگر سخت بے وقوفاس مقام کی صعوبت بلکہ مطلقا عدم استقامت نے اگلوں کو بیان معنی سیلان آن سیال سے صم بکم رکھا مگر آخر زمانے میں ہدیہ سعیدیہ نے اس کی مشکل کشائی پوری کردی کہ حاضر ہمیشہ آن ہے زمانہ حاضر ہو تو قار ہوجائے۔زمانہ یوں تو متخیل ہوتا ہے کہ آن حاضر کا تخیل کیا پھر ایك زمانہ لطیف کے بعد دوسری آن کاپھر زمانہ قلیل کے بعد تیسری آن کا یوں ایك آن مستمر سیال ہوتی ہے کہ گویا راسم زمانہ ہے جیسے قطرہ سیال و شعلہ جوالہ۔
اقول:بوجوہ کثیرہ آن سیال نے وہ سیلان کیاکہ بالکل بہہ گئی۔
(۱)وہ موجودخارجی تھی یہ متخیل۔(۲)وہ واحدیہ متعدد(۳)وہ برقرار عــــــہ۱ یہ متجدد۔
(۴)اس پر زمانہ موقوف کہ اسی سے متخیل ہوتا ہے یہ خود زمانے پر موقوف کہ اسی کے اطراف وحدود۔
(۵)وہ راسم زمانہیہ اس سے مرسوم عــــــہ۲ کہ جب تك زمانہ نہ گزرے دوسری آن متخیل نہ ہو
(۶)وہ علی عــــــہ۳ الاتصال سیال یہ متفرق بالانفصال۔
عــــــہ ۱:عدم التغیر فوق الوحدۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:کونہامرسومۃ بالزمان فوق توقفہا علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۳:ھھنا ثلاث اتصالات الاول مایطلبہ السیلان لوقوعہ فیہ وھوالمراد فی السابع۔والثانی مایتخیل بھذا السیلان عدم تغیر وحدت سے فوق ہے۔(ت)
عاس کا زمان سے مرسوم ہونا اس پر موقوف ہونے سے فوق ہے۔(ت)
یہاں تین اتصال ہیں:اول وہ کہ سیلان اس کو طلب کرتا ہے اس میں گرنے کے لیے وہی مراد وجہ ہفتم ہیں۔ثانی وہ جو اس سیلان سے مختیل ہے۔(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1278,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,447,"(۷)اس کا سیلانا امتداد متصل میں واقع ان کے طفرے اس اتصال کے قاطع۔
(۸)اس سے جدید امتداد متخیل ان کے بعد حتاج تخیل کہ اس کا سیلان رسم امتداد کا ذمہ دار ان کے خلا بھرنے کو خود امتدادور کار۔
(۹)اس کا سیلان امتداد کا راسم ان کا تفرق اس کا بھی حاسم عــــــہ یعنی وہ امتداد متصل وحدانی دکھائے یہاں مستقل تخیل کے بعد بھی جو بنے ٹکڑے ٹکڑے آئے۔
(۱۰)زمانہ تخیل حدود پر موقوف نہیں۔
(۱۱)نہ اس کا محتاج کہ بعد تفرق اتصال پائے اس کے اتصال موہوم میں یہ حدود فرض کرسکتے ہیں نہ کہ یہ حدود ہولیں اس کے بعد انہیں امتدادوں سے وصل کیا جائے۔
(۱۲)قطرئہ سیالہ و شعلہ جوالہ کی مثالیں بھی اس بیان پر خوب منطبق ان میں یونہی حدود فرض ہو کہ خطوط وصل ہوتے ہوں گے۔دیکھئے نہ کوئی شے بسیط موجود بتاسکے نہ ہر گز اس کا سیلان بناسکے۔
ولن یصلح العطار ماافسدہ الدھر
(جس کو دہر فاسد کردے اس کی اصلاح عطار ہرگز نہیں کرسکتا۔(ت)
خامسا اقول:جب سیلان خارجی سے امتداد ذہنی بنتا ہے وہاں دو چیزیں خارج میں ہوتی ہیںایك وہ سیال جیسے قطرہ نازلہ دوسرے اس کی مقدار مثلا جو بھراور دو ذہن میں ایك وہ امر ممتمد کہ اس کے سیلان متصل سے موہوم ہوا مثلا خط آبی دوسرے اس ممتد کی مقدار مثلا دس گز خارج کی دوسری چیزیں ذہن کی دونوں چیزوں کی مجانس ا ور گویا ان کے اجزا سے ایك جز ان کے حصوں سے ایك حصہ ہوتی ہیں بایں معنی کہ مثلا یہ پانی کا خط اگر خارج میں ہوتا تو وہ قطرہ اس کا ایك حصہ ہوتا اور اس کی جو بھر مقدار اس کی دس گز مقدار کا حصہ کہ سیلان سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وھو المراد فی الثامن و بعدہ۔والثالث مایعرض نفس السائل بالعرض بحسب السیلان وھوالمراد فی السادس فافہم ۱۲ منہ۔
عــــــہ:الجسم فوق عدم التخیل فشتان ماثبوت العدم وعدم الثبوت ۱۲ منہ غفرلہ۔ وہی مراد ہے وجہ ہشتم اور اس کے مابعد میں۔ثالث وہ جو نفس سائل کو عارض ہو باعتبار سیلان کےوجہ ششم میں وہی مراد ہےتو سمجھ لے۔(ت)
جسم عدم تخیل سے فوق ہے تو ثبوت عدم اور عدم ثبوت میں بہت فر ق ہے۔(ت)
",
1279,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,448,"ذہن میں اسی کی صورت کے امثال پے درپے اتصال پا کر امتداد بناتے ہیں تو ممتدذہنی گویا اسی سیال خارجی کے امثال سے مرکب اور اس کی مقدار انہیں مقادیر امثال کا مجموعہ کہ اسی مقدار خارجی کے اضعاف ہیں۔اب یہاں ممتدذہنی تو حرکت قطعیہ ہے اوراس کی مقدار زمانہ خارج میں سیالتم نے آن کو لیا۔
(۱)اس کی مقدار محال کہ وہ راسا ناقابل انقسامتو چار میں سے ایك تو یہ غائب ہوئی۔
(۲)وہ جو ایك خارج میں ہے مقدار کے مقابل نہیں بلکہ سیال کے تو چاہیے کہ آن حرکت قطعیہ کی جنس سے ہو اور حرکت قطعیہ کے حصوں سے ایك حصہیہ بھی باطل پھر اس کے سیلان سے ان کا ارتسام کیسااگر کہیے ہم وہ امر ممتد اور اس کی مقدار حرکت قطعیہ وزمانہ نہیں لیتے بلکہ زمانہ او راس کا امتداداب ممتد جنس سیال سے ہوگیا اور گویا اس کے حصوں سے ایك حصہ۔
اقول:اب بھی بوجوہ غلط۔
(۱)اب زمانہ متقدر ہوگیا حالانکہ مقدار ہے امتداد زمانے کو عارض ہوگیا حالانکہ وہ خود امتداد ہے۔
(۲)زمانہ اگر خارج میں موجود ہو آن نہ ہر گز اس کا حصہ ہوگی نہ حصہ کا مثلبلکہ اس کی طرف۔
(۳)آن کی مقدار اب یہی معدوم جو امتداد زمانہ کے مقابل ہوتی اگر کہیے ہم وہ خارج کی دو چیزیں حرکت تو سطیہ و آن لیتے ہیں اور ذہن کی دو حرکت قطعیہ و زمانہ آن کو سیال اس لیے کہہ دیا ہے کہ سیال یعنی حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اب تو چاروں کا تجانس و تعادل ہوگیا۔
اقول:اب بھی غلط:
(۱)جس طرح آن کے لیے مقدار نہیں آن کسی کے لیے مقدار نہیں۔
(۲)وہی کہ آن حصہ ئ زمانہ نہیں غرض خارج سے ذہن میں ارتسام زمانہ کسی پہلو ٹھیك نہیں آتا۔
سادسا اقول:آن سیال کا حرکت تو سطیہ پر انطباق بھی محالآن کسی وجہ سے کسی جہت میں اصلا قابل انقسام نہیں اور حرکت توسطیہ صرف جہت مسافت سے منقسم نہیں کہ ایك نقطہ
",
1280,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,449,"متحرك ہویا سو گز کا جسم مبدء سے جدائی کے بعد منتہی تك پہنچنے سے پہلے توسط دونوں کو یکساں ہے یہ نہیں کہ نقطےکا توسط جسم کے توسط سے چھوٹا ہے کہ توسط میں تشکیك نہیں لیکن جہت متحرك سے وہ غیر متناہی تقسیم کے قابل ہے کہ تمام جسم متحرك میں ساری ہے اس میں جہاں جو جز فرض کیجئے مبدءومنتہی میں متوسط ہے ہر آن میں اس کی جو حالت تھی نہ کبھی پہلے تھی نہ بعد کواسی کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ حرکت تو سطیہ عرض میں منقسم ہے طول میں نہیں۔طول سے مراد جانب مسافت اور عرض سے جانب متحرك خواہ تقسیم اس کے طول یا عرض کسی بعد میں ہو۔اور جب وہ ایسی منقسم ہے آن اس پر کیونکر منطبق ہوسکتی ہے اگر کہیے اس حالت میں وہ حرکت واحدہ نہیں بلکہ کثیرہ متحرکوں کی کثیر حرکاتجیسا جونپوری وغیرہ نے کہا اس لیے کہ ہر جز اور اس کی حرکت جدا ہے اور ہم نے حرکت واحدہ کو بسیط کہا ہے۔
اقول:اس سے یہ مراد کہ جس طرح جسم میں اجزاء بالقوہ ہیں یونہی یہ حرکت حرکات بالقوہ تو بھی قابلیت انقسام ہے اور اگر یہ مقصود کہ بحسب اجزا حرکات کثیرہ بالفعل ہیں ان میں ہر ایك بسیط ہے نہ مجموعہ تو اولا یا تو جواہر فردہ لازم کہ یہ حرکات بسیطہ نہ ہوں گی مگر اجزائے بسیط کی اور جب بالفعل ہیں تو ضرور متحرکات بھی بالفعل یا غیر متناہی کا محصو رہونا کہ اجزا باوصف لامتناہی حدود شکل میں محصور ہیں۔
ثانیا:آن سیال ظاہر ہے کہ جو ہر نہیں ورنہ جوہر فرد ہو ا ور ضرور مقولہ کیف سے ہے کہ نہ بالذات قابل قسمت نہ طالب نسبت اور اس کا موضوع نہیں مگر حرکت عــــــہ توسطیہ جس طرح زمانہ کا
عــــــہ:صاحب قبسات نے اسے جرم فلك الافلاك سے قائم بتایا اور یہ ہمارے قول کے منافی نہیں یہ حرکت توسطیہ سے قائم اور وہ فلك سے تو یہ فلك سے۔قبسات کی عبارت یہ ہے۔
کما فی الحرکۃ امران مختلفان بالمفہوم متباینان بالذات کذلك بازائھما فی الزمان شیئان مختلفان احدھما الان السیال وھو مکیال الحرکۃ التوسطیۃ و ما تنطبق ھی علیہ غیر مفارقۃ ایاہ مادامت موجودۃ والاخر جیسے حرکت میں دو امر ہیں جو مفہوم میں مختلف اور ذات کے لحاظ سے متبائن ہیںاسی طرح ان کے مقابل زمانہ میں دو مختلف چیزیں ہیں ایك آن سیال اور یہ حرکت تو سطیہ کا پیمانہ ہے اور حرکت تو سطیہ اس پر منطبق ہوتی ہے اور جب تك موجود رہتی ہے اس سے جدا نہیں ہوتی دوسری (باقی اگلے صفحہ پر)
",
1281,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,450,"موضوع حرکت قطعیہ اور اس کا قیام ضرور انضمامی کہ موجود فی الخارج ہے اب وہ اجزائے فلك کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الزمان المتصل الممتد وھو مقدار الحرکۃ القطعیۃ و ما توجد ھی فیہ وتنطبق علیہ وکما ان الحرکۃ التوسطیۃ السیالۃ وراء حدودالحرکۃ بعمنی القطع کذلك الان السیال غیر الان الذی ھو طرف الزمان والفصل المشترك بین قسمیہ الماضی والمستقبل غیر قائم بجرم الفلك الاقصی الذی ھو موضوع الحرکۃ القطعیۃ المستدیرۃ التی ھی محل الزمان و الحرکۃ التوسطیۃ الدوریۃ التی ھی ملزومۃ الان السیال وبالان السیال تکال الحرکات التوسطیہ الدوریۃ و الاستقامیۃ جمیعا کما بالزمان یقدر جمیع الحرکات القطعیۃ المستدیرۃ وغیر المستدیرۃ و الان السیال والحرکۃ التوسطیۃ الراسمان للزمان و الحرکۃ بمعنی القطع فی ازاء النقطۃ الفاعلۃ للخط کما اذافرض مرور راس مخروط علی سطح والانات الموھومۃ التی ھی اطراف الازمنۃ و الاکوان فی حدود المسافۃ چیز زمانہ متصل ممتد ہے اور وہ حرکت قطعیہ اور جس میں حرکت قطعیہ پائی جائے کی مقدار ہے نیز حرکت قطعیہ اس پر منطبق ہے اور جیسے حرکت توسطیہ سیالہ حرکت قطعیہ کی حدود کے علاوہ ہے اسی طرح آن سیال اس آن کے مغایر ہے جو طرف زمان ہے اور زمانے کی دوق سموں ماضی اور مستقبل کے درمیان حد مشترك ہےنیز آن سیال فلك الافلاك کے جسم کے ساتھ قائم نہیں ہے جو حرکت قطعیہ مستدیرہ کا موضوع اور حرکت قطعیہ مستدیرہ زمانے کا محل ہے۔حرکت توسطیہ دور یہ جسے آن سیال لازم ہے اور آن سیال ہی سے تمام توسطی دوری اور مستقیم حرکتوں کی پیمائش کی جاتی ہے جیسے زمانے سے تمام حرکات مستدیرہ اور غیر مستدیرہ کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔آن سیال اور حرکت توسطیہ زمانے کو اور حرکت قطعیہ کو نقش کرتی ہیں اور یہ مقابل ہے اس نقطے کے جو خط کھینچنے کا سبب ہوتا ہے جیسے کہ جب ایك مخروطی جسم کا سرا فرض کیا جائے کہ وہ ایك سطح پر گزررہا ہے اور آنات فرض کی جائیں جو زمانوں کی اطراف ہیں اور حرکت قطعیہ کی وہمی حدود کے مقابل (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1282,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,451,"ان سب حرکات کثیرہ سے قائم ہے۔تو عرض واحدہ بالشخص کا موضوعات جداگانہ سے قیام لازم اور ان میں ایك سے تو ترجیح بلا مرجح۔
ردتشدق:آن سیال کے بارے میں اگلے زبانی ادعا اور حرکت پر فاسد قیاس کے سوا کوئی دلیل یا شبہ نہ لائے نہ اس کا سیلان بتانے پائے مگر متشدق جو نپوری سے کب رہا جائے ا س حدس کے سر ڈھالا اور سیلان کا راستہ نکالا اور ایك طویل شقشقہ گھڑ ڈالا جس کا حاصل بے حاصل یہ کہ متحرك جس وقت حرکت کررہا ہے اس کی ذات کے مقابل نہ مسافت ہے نہ حرکت قطعیہنہ زمانہ کہ ان سب میں کچھ گزر گیا کچھ آئندہ ہے بلکہ اس کے مقابل مسافت سے ایك نقطہ ہے اور حرکت قطعیہ سے توسط اور زمانہ سے ایك آن۔یہ سب حدود و غایات ہیںاور خود متحرك بحیثیت تحرك اپنے نفس کے لیے ایك حد ہے گویا وہ مبدء سے یہاں تك ایك امر ممتد ہے تو ہر حد مسافت پر اپنی حیثیت انتقال کے لحاظ سے خود اپنی حد ہے اب متحرك اپنی ذا ت سے باقی اور ان نسبتوں سے متجددیونہی حرکت توسطیہتو اس سے ذہن میں آپ ہی آتا ہے کہ وہ آن جو زمانے سے اس کا خط ہے وہ بھی بذات خود باقی ہو اگر چہ بحیثت آنیت باقی نہ ہو کہ آن کا وجود نہیں مگر زمانے کے دو جزوں میں حد فاصل ہو کر پھر وہاں سے منتقل ہو کر دوسرے جزوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
التی ھی بازاء الحدود الموھومۃ للحرکۃ بمعنی القطع فی ازاء النقاط التی ھی اطراف الخطوط بالفعل و النقاط المفروضۃ فی الخط المتصل بالتوھم الا ان الان لیس الاالان الوھمی فی الزمان ولایکون الا فاصلا والنقط منھا موھومۃ واصلۃ ومنہا موجودۃ فاصلۃ کما فی الحدود الحرکات القطعیۃ واطرافہا اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ مسافت کی حدود میں متحرك کے وجودات فرض کیے جائیں ان نقاط کے مقابل جو خطوط کے اطراف میں بالفعل ہیں یا خط متصل میں وہم کی مدد سے فرض کیے گئے ہیں۔لیکن آن تو وہی ہے جس کا زمانے میں وہمی طور پر ثبوت ہے اور یہ فاصل ہی ہوگی جب کہ بعض نقطے وہمی اور واصل ہیں اور بعض موجود ہیں۔اور فاصل جیسے کہ حرکات قطعیہ کی حدود اور ان کی اطراف میں ہے ۱ ھ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
",
1283,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,452," میں فاصل کیسے ہوجائے گی یہی آن بذات خود نہ اس حیثیت سے کہ عرض زمانہ ہے آن سیال ہے کہ زمانے کی موہوم آنوں کی طرح زمانے میں نہیں بلکہ زمانے سے باہر زمانے کی حد ہے اور اپنے سیلان سے اسے حادث کرتی ہے جیسے اترتا قطرہ خط آبی کو۔
اقول اولا:متشدق کے نزدیك زمانہ خود موجود فی الخارج ہے نہ کہ خط آبی کی طرح مرسوم موہوم اگر کہیے صرف رسم میں تشبیہ مقصود ہے نہ کہ وہم میں ولہذا متشدق نے شروع بحث میں سطح مستوی پر راس مخروط کی حرکت سے خط بننے پر کہا کہ یہ خط اگر چہ محض تخیل میں بنے گا نہ حقیقۃ کہ مسافت میں نقطہ اسی وقت پیدا ہوگا جب سر مخروط اس کے ایك نقطہ سے ملا آگے بڑھتی ہی یہ نقطہ باطل ہو کر دوسرا پیدا ہوگا تو جب نقطے باطل ہوجائیں گے خط کہاں پیدا ہوگا۔تو ظاہر ہوا کہ اسے رسم باقی مانتا ہے نہ محو ہوتی ہوئی۔
اقول:یہ تو ایسی چیز ہے جیسے کاغذ پر سیاہی سے خط کھینچنا کہ قلم کی حرکت سے بنااور باقی رہا۔یہ مثال کیا دور تھی جو اس کا صحیح تصور آسان کرتی۔غلط تصور دلانے اور اس کی غلطی بنانے کی کیا حاجت تھی۔خیر یوں سہی مگر رسم جب کہ سیلان سے ہے بلاشبہ بتدریج ہوگا کہ سیلان حرکت ہے اور حرکت تدریجی اور تدریجی کو مسبوقیت لازم اور ازل مسبوقیت سے مبرا تو زمانہ ازلی کب ہوا۔خود متشدق کو یہاں بھی کہتے بنی۔احدث بسیلانہ زمانا آن سیال نے زمانہ حادث کیا اور اسے حدوث ذاتی پر حمل ناممکن کو حدوث ذاتی کسی کے دیئے سے نہیں ہوتا لاجرم وہ ازلیت زمانہ باطل ہوئی جس پر متشدق نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب اور فلاسفہ کی تصدیق میں کئی ورق سیاہ کیے ہیں اور آیات قرآنیہ کو کہا کہ معاذ اﷲ جاہلوں کے مدار کی طرف تنزل کرکے آسمان و زمین کو حادث لکھ دیا ہے۔ورنہ واقع میں عالم قدیم ہے۔یہاں شبہات اہل مکابرہ کے رد میں ناظرین مقام ۲۳ سے مدد لیں۔
ثانیا:آن سیال کا سیلان مستدیر ہے کہ فلك کی حرکت توسطیہ مستدیرہ یا حسب تصریح صاحب قبسات خود جرم فلك سے قائم ہے اور ظاہر ہے کہ سیلان جس شکل کا ہوگا اتصال اسی صورت کا مرسوم ہوگا نہ یہ کہ گھماؤ پر کار اور بنے خط مستقیماور وہ بھی یوں کہ ایك چھلے برابر حلقے پر جتنی بار پر کار پھراتے جاؤ لاکھوں منزل تك سیدھا خط کھینچتا جائے فلك کے محیط کو امتداد غیر متناہی سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایك چھلے کے حلقے کو کروڑوں منزل کے امداد سے لیکن زمانے کا امتداد مستدیر نہیں کہ ہر دورے پر وہی پہلا زمانہ پلٹ پلٹ کر آتار ہے۔ ع
",
1284,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,453,"گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
تو ضرور اس کا امتداد مستقیم ہے اور زنہار آن سیال سے مرسوم نہیں ہوسکتا یہ رد اس وقت یہی ہے کہ زمانے کو موہوم مانو کہ تو ہم بھی ا سی صورت کا ہوگا جس نہج پر سیلان راسم ہے قطرے کے اترنے سے آبی دائرہ یا بینٹی گھمانے سے آتشی سیدھا خط کبھی متوہم نہ ہوگا اور وجود خارجی پر تو اختلاف ممکن ہی نہیں۔
ثالثا: فاعل کسی ذی مقدار پر افاضہ وجود ایك مقدار ہی پر کرے گا ناممکن کہ فاعل اس کی نفس ذات کو بے مقدار بنائے تو فاعل ذات ہی فاعل مقدار ہے اگرچہ خصوصی مقدار کا اقتضا شے دیگر سے ہو اس اقتضا کے مطابق مقدار پر فاعل اسے بنائے سفہاء جو طبیعت کو فاعل شکل و قدر کہتے ہیں حاصل یہی ہے کہ طبیعت اس کی مقتضی ہے اس خصوص کے سبب فاعل سے یہ سے یہی افاضہ ہوئی ہے نہ یہ کہ فاعل نے نفس ذات بے شکل و قدر پر افاضہ وجود کیا۔اور انہیں طبیعت بنا کر اس میں چپکا دیا۔اب تمہارے نزدیك فاعل حرکت فلکیہ اس کا نفس ہے تو وہی اس کا مقدار زمانہ کا فاعل ہو نہ یہ کہ وہ تو اسے بے مقدار زمانے کا فاعل ہو نہ یہ کہ وہ تو اسے بے مقدار بنائے اور آن سیال زمانہ بنا کر اس میں لگادے۔
رابعا:جب یہ آن زمانے سے باہر ہے زمانے کی حد کیونکر ہوسکتی ہے حد یہ کہ طرف ہو ا ور طرف شے شے سے جدا نہیں ہوتی۔
خامسا:متشدق نے حاصل سیلان یہ رکھا کہ ذات آنباقی اور وصف آنیت متجدد و مقتضی ظاہر ہے کہ یہ تجدد و تقضی ظرف زمان سے باہر ناممکن کہ جو زمانے سے متعالی ہے اس سے بری ہے نہ دوسرے زمانے میں ہوسکتی ہے کہ زمانے دو نہیں شیئ واحد کو دو مستقل مقدار یں لاحق نہیں ہوسکتیں اب اس زمانے میں دو ہی طرح ممکن ایك یہ کہ آن سیال شیئا فشیئا سیلان کرے اور ہر حصے پر تازہ وصف آنیت اسے عارض ہو اتنا بنایااس کی حد ہوئی آگے بنایا وہ حدیث زائل ہو کر نئی آئی جس طرح متشدق نے ذات محرك میں کہا ہے یوں یہ سیلان واقعی ہوگادوسرے یہ کہ زمانہ ازلی ابدی متصل وحدانی حدود سے بری دائما موجود خارجی ہے جیسا متشدق کا زعم کفری ہے اس میں جہاں چاہو تجزیہ فرض کرلو وہیں وہ آن سیال دونوں جزوں میں حد فاضل ہوگییہ فصل محض اعتباری تابع اعتبار ہوگا اور لاحظ کو اختیار ہوگا کہ اوپر سے نیچے اترتا ہوا اجزاء فرض کرتا آئے خواہ نیچے سے اوپر چرتا دونوں صورتوں میں وصف آنیت کو سیلان ہوگا کہ محض اعتباری الٹے سیدھے میں مترددنیز لاحظ کو اختیار ہوگا کہ معا ہزار جگہ تجزیہ فرض کرلے اب نہ سیلان
",
1285,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,454,"ہوگا نہ آن خارجی کو وصف آنیت کا عروض کہ سب جگہ ایك ہی آن حد فاصل نہیں ہوسکتی کما اعترف بہ(جیسا کہ اس کا اعتراف کیا گیات)اگر یہ صورت لیتے ہو تو یا سیلان ہی نہیں یا نرا اعتباری کہ موجود خارجی کا راسم نہیں ہوسکتا۔اور پہلی صورت لو تو زمانہ حادث اور اس کا بعض معدوم بعض موجوداور متشدق کا مذہب مذکور مردود۔
سادسا:یہ تو سیلان پر کلام تھا اب اس کا نفس وجوب جس مہمل حدس سے لیا اس کا حال سنیےآغاز کلام اس سےکیا کہ ذات متحرك کے مقابل جس طرح مسافت سے ایك نقطہ ہے یونہی زمانے سے ایك نامنقسم چاہیئے اور انجام میں وہ نا منقسم نکالا کہ زمانے سے اصلا نہیں بلکہ اس سے باہر ہےزمانے سے ایك نامنقسم تو وہی آن موہوم ہوتی جس طرح مسافت سے نامنقسم و نقطہ موہومہ یہ حدس ہوا یا حدث۔
سابعا:غلط کہا کہ متحرك کے لیے حرکت قطعیہ سے وہ نامنقسم حرکت وسطیہ ہے حرکت وسطیہ ہر گز حرکت قطعیہ سے نہیں بلکہ مستقل مباین اس کی اصل ہے حرکت قطعیہ سے وہ نامنقسم ایك ایك حد مسافت کی موافات ہے۔
ثامنا:صریح جھوٹ کہا کہ یہ سب حدود و نہایات ہیںحرکت وسطیہ ہرگز حدو نہایت نہیں بلکہ حدود نہایات سے نسبت رکھنے والی۔
تاسعا:خود مذہب متشدق پر سلسلہ صاف یہ تھا کہ متحرك کے لیے بحال تحرك تینوں چیزوں سے ایك ایك نامنقسم متجدد منقضی موہوم ہے مسافت سے وہ نقطے حرکت سے ان حدود کی موافاتین زمانے سے ان تك وصولی کی موہوم آنین اس میں اس حدس کی راہ کہاں تھی لہذا زبردستی حرکت توسطیہ کو حدود میں بھرتی کیا اور خود متحرك کے سر ایك تجدد رکھا کیا حدس یونہی اخلاط وتکلفات بار دوہ سے ہوتا ہے۔
عاشر ا:بفرض غلط یہ بھی سہیاب اس سلسلے میں مسافت و حرکت قطعیہ بھی ہیں اور متحرك و حرکت توسطیہ بھیان دو سے اگر آن سیال کا قیاس نکلتا ہے۔ان دو سے آن موہوم کا۔پھر کیا وجہ کہ حدس ادھر کا ہواچاہیے یہ تھا کہ تعارض نظائر کے سبب کسی طرف کا نہ ہوتا اور یوں بھی ہوسکتا ہے تو ادھر کا لینا اور ادھر کا نہ لینا صرف جزاف ہےتلك عشرۃ کاملۃیہ ہے ان کا تشدق و تخذق۔
",
1286,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,455,"مقام بست وششم
زمانے کا وجود خارجی اصلا ثابت نہیں۔یونہی حرکت قطعیہ کا کسب کلام میں انکار وجود زمانہ پر دلائل ہیں جن پر خدشات ہوئے اور کلام طویل ہے ہمیں ان میں سے یہ دو مختصر جملے پسند ہیں۔
اول: یہ کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کی مقدار کیسے موجود فی الخارج ہوسکتی ہے۔شرح مقاصد میں اس سے جواب دیا کہ حرکت قطعیہ امر غیر قار ہے اس کے دو جز ایك ساتھ نہیں ہوسکتے بلکہ ایك جز ختم ہوتا اور دوسرا آتا ہے اس کے وجود خارجی کے کے یہی معنی ہیں تو یہی حال اس کی مقدار زمانے کا ہے ہاں امر ممتد موجود فی الخارج نہیں بلکہ موہوم ہے۔
اقول:یہ اعتراف بالحق ہے زمانہ و حرکت قطعیہ انہیں ممتد متصل ہی کا نام ہے نہ اس غیر منقسم کا اور یہ کہنا کہ اس کے وجود خارجی کے یہی معنی ہیں۔
اقول:بلکہ اس کے عدم فی الخارج کے یہی معنی ہیں کہ وجود امتداد مع فنائے اجزا محال ہے بلکہ سارے امتدا د سے ایك جز فنا ہو تو مجموع فنا ہو کہ عدم جز عدم جز عدم کل ہے نہ کہ جب ہر جز فنا ہو اس کے بعد شرح مقاصد میں بحث طویل ہے جس کا حاصل وہی کہ حرکت توسطیہ وآن سیال موجود ہیں اور قطعیہ و زمانہ موہوم۔
اقول:ردکو تائیداور اقرار کو انکار کیونکر قرار دیا جائے۔
دوم:یہ کہ زمانہ موجود اگر قابل انقسام ہو تو قار ہوگیا اور ناقابل تو جز لازم آیا کہ زمانہ حرکت اور حرکت مسافت پر منطبق ہے۔شرح مقاصد میں اس پر رد فرمایا کہ ہم شق اول اختیار کرتے ہیں اور اجتماع اجزا نہ ہوا کہ اجتماع معیت اور اجزاء زمانہ بعض بعض پر سابق دو جز ء ساتھ نہیں ہوسکتے کہ قار ہو۔
اقول اولا:قار کے لیے وجود میں اجتماع درکار یعنی دونوں جز پر معا حکم وجود صادق ہو یا محل واحد میں اجتماع علی الثانی مسافت وغیرہا تمام اجسام غیر قار ہوئے کہ ان کے کوئی دو جز ایك محل میں نہیں ہوسکتے ورنہ تداخل لازم آئے۔وعلی الاول ضرور زمانہ قار ہوا کہ جب موجود منقسم ہے تو سب اجزاء پر معا حکم وجود صادق ہے۔
ثانیا:زمانہ اگر موجود ہو تو اس کے اجزاء موہوم اختراعی نہیں بلکہ قطعا مناشی موجود ہیں ان کا وجود اگر بروجہ تصرم ہو ا کہ ایك فنا ہو کر دوسرا آیا تو موجود نہیں مگر غیر منقسم اور اگر بلا تصرم ہوا یعنی پہلا باقی تھا کہ دوسرا آیا تو یہی اجتماع فی الوجود قرار ہے۔پھر فرمایا ہم شق دوم اختیار کرتے ہیں۔
",
1287,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,456,"اور جز لازم نہیں کہ ممکن کہ نامنقسم وہی منقسم ہو۔
اقول:ہم تشقیق انقسام وہمی ہی میں لیتے ہیںاگر موجود غیر منقسم فی الوہم ہے تو جز لازم ورنہ اجزاء مقدار یہ مجتمع فی الوجود ہو گئےاور اسی قدر قار ہونے کو درکار نہ کہ بالفعل اجزاء ہونا جیسے ہر جسم متصل وحدانی خصوصا فلك جس کا تجزیہ ان کے نزدیك محال تو اس کا انقسام نہ ہوگا مگر وہم میں طرفہ یہ کہ ارسطو وابن سینا اور ان کے چیلے ہمیشہ اسے تسلیم کرتے آئے کہ زمانہ و حرکت قطعیہ موجود فی الاعیان نہیں آن سیال و حرکت توسطیہ سے متوہم ہیں ولہذا شرح مقاصد میں ان کے وجود خارجی کو اسی طرف راجع فرمایا کہ ان کے راسم خارج میں ہیں جن سے یہ موہوم ہوتے ہیں۔کما تقدم۔
مگر متشدق جونپوری اس پر بہت کچھ رویا اور کہا یہ فلاسفہ وارسطو و ابن سینا پر افتراء ہے وہ یقینا ساری حرکت قطعیہ اور تمام زمانہ ممتدازل تا ابد کو متصل واحدانی بالفعل موجود خارجی مانتے ہیں انکار اس کا کیا ہے کہ وہ کسی آن میں موجود نہیں کہ غیر قار ہیں اور غیر قار کا وجود کسی آن میں نہیں ہوسکتا۔اور اس پر کلام ابن سینا میں اشارہ بتایا کہ اس نے حرکت قطعیہ کو کہا لایجوز ان یحصل بالفعل قائما فی الاعیان(نہیں جائز کہ حاصل ہو بالفعل اس حال میں کہ قائم ہوا عیان میں۔ت)
دیکھو اس کے وجود فی الاعیان کا منکر نہیں بلکہ وجود قائم یعنی قار کا سب سے پہلے یہ اختراع خضری نے کیا پھر باقر پھر اس کے شاگرد صدر شیرازی پھر اس متشدق نے تقلید کی۔
اقول اولا:ارسطو سے زمانہ خضری تك کی تصریحات اور قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ سے توہم خط و دائرہ کے تمثیلات جن سے عامہ کتب فلسفہ مملو اور ان سے عامہ کتب کلام میں منقول سب کو یہ قرار دینا کہ وہ اپنا مذہب نہ سمجھے کیونکر قابل قبول۔
ثانیا:ابن سینا کا یہاں لفظ قائم دیکھ لیا کہ متحمل وجوہ ہےاور وہیں حرکت توسطیہ میں اس کی تصریح ہے والاخریجوز ان یحصل فی الاعیان ۔(اور دوسرا ائز ہے کہ اعیان میں حاصل ہو۔ت)یہاں لفظ قائم کہاں مطلق حصول فی الاعیان کو توسطیہ سے خاص کررہا ہے اور سب سے صاف تر اس کے برابر حرکت قطعیہ میں اس کا قول ذلك لایحصل البتہ المتحرك وھو بین المبدء والمنتھی بل انما یظن انہ قد حصل نحوا من الحصول اذاکان المتحرك عنداالمنتھی ویکون ھزا المتصل المعقول قد بطل من حیث الوجود فکیف لہ حصول حقیقی فی الوجود دیکھو اس کا ایك ایك لفظ حرکت قطعیہ کے مطلقا وجود عینی کا منکر ہے اسے معقول کہا اور کہا جب تك متحرك حرکت کررہا ہے اس کا حاصل نہ ہونا ظاہر
",
1288,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,457,"ہاں یہ گمان ہوتا ہے کہ جب متحرك منتہی کے پاس پہنچے اس وقت یہ حرکت متصلہ حاصل ہوگئی اب اس میں سے کچھ باقی نہ رہا حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس قت حرکت بالکل باطل ہوئی اب اس میں سے کچھ باقی نہ رہاپھر صاف کہا کہ اسے وجود حقیقی کیسے مل سکتا ہےحقیقی کی قید اس لیے کہ وجود انتزاعی ضروری ہے۔
ثالثا:ابن سینا اگر تناقض کرے ہمیں بحث نہیں منتشدق خود اپنے تناقض کی خبر لے فصل زمان میں خود کہا:
تکون الحرکۃ حینئذ قد زالت لا انھا تحصلت ۔ اس وقت حرکت زائل ہوجاتی ہے نہ کہ حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
رابعا:اور بڑھ کر پورا تناقض لیجئے اسی فصل میں ایك شقشقہ طویلہ کے بعد کہا:
فلاح ان الحرکۃ القطعیۃ حقیقۃ اعتباریۃ ۔ تو ظاہر ہوگیا کہ حرکت قطعیہ حقیقت اعتبار یہ ہے۔(ت)
کیا حقائق اعتبار یہ حقائق متاصلہ فی الاعیان ہوتی ہیں یہ صریح شدید تناقض ہے مگر حافظہ نباشد۔
خامسا: تمام فلاسفہ اور خود اس متشد ق کو مسلم کہ زمانہ و حرکت قطعیہ متجددو متصرم ہیں تقضی و تصرم ان کی ذات میں ہے پھر خارج میں متصل وحدانی کیسےہوسکتے ہیںاتصال و تصرم کا اجتماع محالیہ تیسرا تنافض ہے۔
سادسا:خود اسی متشدق نے اواخر فصل تناہی ابعاد پھر فصل آن میں حادث بحدوث تدریجی کی دو قسمیں کیں۔ایك وہ کہ بروجہ تجدد و تصرم پیدا ہو جیسے زمانہ و حرکت قطعیہ واصوات ئ ان کے لیے کبھی کھی آن میں وجود نہ ہوگا۔دوسرا وہ کہ تدریجا پیدا ہو مگر نہ بروجہ تجدد تصرم بلکہ جزسابق لاحق کے ساتھ جمع ہویہ پورا حادث ہونے کے بعد باقی رہ سکتا ہے ا ھصاف ظاہر ہوا کہ قسم اول کی اشیاء کو جن میں زمانہ و حرکت قطعیہ ہیں بقا نہیں و لہذا کسی آن میں ان پر حکم وجود نہیں ہوسکتا بخلاف قسم دوم کہ بعد تمامی حدوث اس پر ہر آن میں حکم وجود ہوگا۔اب پورا موجود ہے یہ چوتھا تناقض ہے۔
", الشمس البازغۃ فصل اذا ابتدأت معا حرکات مختلفۃ فی السرعۃ برقی پریس دہلی ص۱۱۴
1289,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,458,"سابعا:جز ء سابق لاحق سے جمع نہ ہونے کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ دونوں ایك محل میں ہوںایسا تو قطعا قسم دوم میں بھی نہیں دو۲ خط کہ ایك دوسرے پر منطبق ہوں ایك پورا ثابت رہے اور دوسرے کا ایك کنارہ اس کنارے سے ملا رکھو۔دوسرے کنارے کو حرکت دویہاں تك کہ مثلا ۶۰ درجے کا زاویہ ہیداہو اسے قسم دوم کی مثال بتایا ہے کہ حدوث تدریجا ہو۔اور بعد تمامی حدوث اجزاء مجتمع ہیں کیا وہ انفراج جو پہلے درجے میں ہے ساٹھویں میں ہے سب درجے اپنی اپنی جگہ جدا نہیں کوئی مجنون ہی ایسا کہے گا بلکہ قطعا یہی معنی کہ بعد تمامی سب مقارن فی الوجود ہیں بخلاف قسم اول متصرم کہ اس میں جو جزء آیا فنا ہوگیا اس کے بعد دوسرا آیا تو جب سابق تھا لاحق نہ تھا اب کہ لاحق آیا سابق معدوم ہوگیا تو مجتمع فی الوجود نہیں ہوسکتے یہ ہے زمانہ وحرکت قطعیہیہ پانچواں تناقض ہے۔
ثامنا:سب کو اور خود متشدق کو مسلم کہ زمانہ وحرکت قطعیہ غیر قار ہیں جب خارج میں متصل وحدانی ہیں قطعا قار ہوئے۔یہ چھٹا تناقض ہے____ متشدق نے باب الحرکت میں کہا حرکت قطعیہ مو جود فی الاعیان ہے نہ بر وجہ قرار ذات کہ اجزا مجتمع ہوں کسی آن میں موجود ہو بلکہ بر وجہ فنا و انقطاع تو حرکت قطعیہ و زمانہ دونو ں اپنی ذات متصل وحدانی ہیں مگر جو آن فرض کرو ان کے وجود کی ظرف نہیں بلکہ وہ زمانہ ماضی و مستقبل میں حد فاصل ہےماضی یہ نہیں کہ فنا ہو گیا بلکہ اس آن کے اعتبار سے ماضی ہے بلکہ اس سے پہلے تھااور مستقبل یہ نہیں کہ ابھی وجود میں نہ آیا بلکہ اس آن کے اعتبار سے مستقبل ہے کہ اس کے بعد ہےیہی حال حرکت قطعیہ کا ہےخلاصہ یہ کہ وہ کسی آن میں نہیں آن ان کا ظرف نہیںان کے غیر قار فی الخارج نے سے یہی مراد ہے ہاں اذہان میں قار ہیں۔
اقول اولا:تقضیو تصرم یعنی فنا و انقطاع مان کر فنا وانقطاع سے انکار وہی تناقض ہے مگر اسے اسی پر ڈھالنا کہ ماضی اس آن کے اندر نہیں اس کے اعتبار سے منقضی ومنصرم ہےیونہی مستقبل اس آن کے اندر نہیں اس کے لحاظ سے متجدد ہےغیر قار ہونے کا یہ حاصل ہے دنیا بھر میں کسی امتداد کو قار نہ رکھے گا مسافت قطعا قار ہے مگر جس آن میں اس کی ایك حد معین میں ہو گا کہ جتنا حصہ مسافت کا طے ہو لیا اس حد میں ہرگز نہیں اس سے پہلے منقضی ہو چکا اور جو حصہ بعد کو طے ہو گا وہ بھی اس حد میں ہر گز نہیں اس کے بعد آئے گا تو مسافت بھی غیر قار اور منصرم ومتجدد ہوئیاور بلا لحاظ حرکت بھی مسافت میں جو نقطہ دو حصوں میں حد فاصل فرض کرو ہرگز
",
1290,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,459,"ذہن میں بھی قار نہیںاور دوم پر خارج میں بھی قار ہےبالجملہ زمانے کے موجود خارجی ماننے میں متشدق کی تمام سعی مردود و بے کار ہےمتشدق نے اواخر فصل زمان میں کہا عدم قرار بمعنی امتناع اجتماع اجزا ہے۔
اقول:یہ بھی ہماری اسی تقریر سے رد ہوگیا اجتماع فی الوجود الخارجی ممتنع ہے تو یہ ہمارا عین مقصود اور تمہارا زعم مردوداگر اجتماع فی الحد الحاصل متمنع ہے تو یہ ہر قار میں حاصل متشدق نے یہیں اس سے پہلے کہا کہ عدم قرار کا صرف یہ حاصل کہ اگر اس میں اجزا فرض کیے جائیں تو ان میں ایك کا وجود پہلے ہو دوسرے کا بعد میں۔
اقول:وجود خارجی بوجود منشامراد یا وجود فی الانتزاع اول میں تقدم تاخر کہاںکہ کل بوجود واحد متصل موجود بالفعل مانتے ہو اور ثانی سے اگر عدم قرار ہوا تو وجود ذہنی میں نہ خارجی میں۔عکس اس کا جو تم مانتے ہو۔دیکھئے معنی عدم قرار میں کیا کیابے قراریاں متشدق کو لاحق ہیں اور بنتی ایك نہیں۔
ابطال دلائل وجود حرکت بمعنی القطع
متشدق نے باب حرکت میں ادعا کیا کہ خارج میں حرکت قطعیہ کا وجود بدیہی ہے۔
اقول:حاشا بلکہ خارج میں اس کا عدم بدیہی ہےمبدء سے منتہی تك کوئی شے ممتد متصل وحدانی ہر گز خارج میں نہیں بلکہ ایك شیئ مقتضی متجدد ہے جس کا ہر حصہ پہلے کی فنا پر آتا اور خود فنا ہو کر دوسرے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے اس سے ذہن میں ایك اتصال موہوم ہوتا ہے اپنے شیخ کی اور خود اپنی نہ سنی کہ جب تك حرکت ہورہی ہے وہ اتصال موجود نہیں اور جب ہوچکی سب فنا ہوگیا۔متشدق کے حاشیہ میں حمد اﷲ نے وجود خارجی حرکت قطعیہ پریہ دلیل نقل کی کہ حرکت تو سطیہ بسیط غیر منقسم ہے جو اجزائے مسافت پر منطبق نہیں ورنہ منقسم وغیر منقسم کا انطباق لازم آئے وہ صرف ان حدود پر منطبق ہے جو مسافت میں فرض کی جائیں اور ہر دو حد کے بیچ میں جو مقدار مسافت رہی اس پر منطبق نہیں تو اگر خارج میں صرف حرکت توسطیہ میں موجود ہو تو چاہیے کہ متحرك کا اجزائے مسافت پر اصلا گزر نہ ہو بلکہ ہر حد مفروض سے سے دوسری تك طفرہ کرے اور بیچ میں تمام مقادیر کو چھوڑتا جائے۔
اقول اولا:تو حرکت توسطیہ ضرور طفرے کرتی ہےطفرہ جیسے حرکت قطعیہ میں محال ہے
",
1291,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,460,"یونہی تو سطیہ میں۔ثانیا:جہل شدید یہ کہ یہاں کچھ حدود معینہ مفروضہ لیں کہ انہیں پرمرور ہواور بیچ کی سب مقداریں متروك حالانکہ حدود کی کچھ تعیین نہیں۔ہر دو حد کے وسط میں جو مقدار ہے اس میں بھی حدود فرض ہوں گی اور ان پر بھی قطعا مرور ہوا اور ان چھوٹی حدوں کے بیچ میں جو چھوٹی مقداریں ہیں ان میں بھی حدود فرض ہوسکتی ہیں ان پر بھی قطعا گزار ہوایونہی غیر متناہی تقسیم میں تو ہر جزء مسافت حد فرض ہوسکتا ہے اور ہر حد پر مرور خود مانتے ہو تو ہر جز مسافت پر یقینا مرور ہوا۔فلسفہ کے مستدلین ایسے ہی ہوتے ہیں۔
ابطال دلائل وجود زمانہ:
وہ چند شبہات ہیں:
شبہ ۱:ہم یقینا جانتے ہیں کہ طرفین مسافت کے درمیان ایك امکان یعنی اتساع ہے جس میں حرکت ایك حد معین سرعت پر واقع ہوسکتی ہے یعنی اس سے بطی ہو تو اس مسافت کو اس مقدار اتساع سے زائد میں قطع کرے گی اور اسرع ہو تو کم میں یا بطی ہو تو اس مقدار اتساع میں اس مسافت سے کم طے کرے گی اور سریع تو زیادہ اسی اتساع کا نام زمانہ ہے اور یہ ہر گز کسی تو ہم پر موقوف نہیںاگر وہم دواہم معدوم ہوں جب یہی طرفین مسافت میں یہ اتساع ضرور ہے تو یہ حکم ایجابی بنظر واقع صادق ہے تو ضرور یہ اتساع یعنی زمانہ موجود خارجی ہے اسے بہت طویل بیان کرتے ہیں جس کی ہم نے تلخیص کی۔یہی دلیل ابن سینا سے آج تك ان متفلسفوں کی بہت بڑی دستاویز ہے اور وہ بوجوہ محض مردود۔
اولا:صدق ایجاب کو اگر درکار ہے تو موضوع کا وجود واقعی اور وہ وجود خارجی سے عام ہے۔
اقول:فوقیت سماء ثابت ہے یہ حکم ایجابی قطعا صادق و واقعی ہے اور اس سے فوقیت کا وجود خارجی لازم نہیں۔
ثانیا:یہ جو سرعت و بطوء اور مسافت کم یا زیادہ طے کرنا لے رہے ہو یہ سب حرکت قطعیہ میں ہے۔حرکت توسطیہ کہ محض توسط بین المبدء و المنتہی ہے نہ سریع ہو نہ بطی نہ مسافت کی کمی بیشی سی متغیر اور حرکت قطعیہ باتفاق فریقین امرموہوم تو اس کی مقدار یعنی یہی اتسا ع جو
",
1292,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,461,"اس کی کمی بیشی کا اندازہ کررہا ہےضرور موہوم ہے۔(مواقف موضحا)
شبہ ۲:بداہۃ معلوم کہ زمانہ قابل زیادت و نقصان ہے حرکت کہ ایك مسافت میں ایك زمانے میں ہوئی ضرور اس کا نصف اس سے کم میں ہوااور امر عدمی قابل زیادت و نقصان نہیں۔لاجرم زمانہ امروجودی ہےیہ اول سے بھی زیادہ فاسد و کاسد ہے شك نہیں کہ طوفان نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے بعثت سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك جو زمانہ ہے وہ اس سے اکثر ہے جو بعثت سیدنا موسی علیہ السلام سے بعثت اقدس تک(مواقف)یونہی آج سے ختم ماہ حاضر تك جو زمانہ ہے وہ اس سے کم ہے جو آج سے دو ماہ آئندہ تك حالانکہ ماضی مسقبل سب معدوم ہیں۔
اقول:یہ سندیں مناسب نہیں کہ متشدق اور اس کے متبوع تمام ماضی و مستقبل کو موجود مانتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ شك نہیں کہ معدل النہار باقی سب مدارات یومیہ سے بڑا ہے اور ہر مدار کہ اس سے قریب ہے مدار بعید سے بڑا ہے اور ہر فلك بالا کا منطقہ فلك زیریں کے منطقے سے اور قطر قطر اور محور محور سے بڑا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی شئے موجود خارجی نہیں بلکہ قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ کے خط آبی ودائرہ آتشی لیجئے وہ بھی قطعا چھوٹے بڑے بھی ہوسکتے ہیں اور نصف و ثلث بھی۔حل یہ کہ تمہاری دلیل شکل ثانی ہے یعنی زمانہ قابل تفاوت ہے اور اگر معدوم قابل تفاوت نہیں یا شکل اول ہے اگر عکس کبری کو کبری کرو اور کبری کو اس کی دلیل کہ سالبہ کلیہ کنفسہا منعکس ہےبہرحال صغری میں قابلیت خارجی میں مراد تو ہر گز مسلم نہیں بلکہ اول نزاع ہےاور مطلق مراد اگرچہ ذہن میں ہو تو کبری میں اگر قابلیت خارجی مقصود حد اوسط متکرر نہیں اور یہاں یہی مطلق مقصودتو معدوم سے اگر معدوم فی الخارج مراد تو صراحۃ باطل اور سندیں وہی قطرو محورمنطقہ اور معدوم مطلق تو اتنا ثابت ہوا کہ زمانہ معدوم مطلق نہیںنہ یہ کہ موجود خارجی ہے۔
شبہ ۳:باپ کابیٹے پر وجود میں تقدم قطعا واقعی ہے اور بداہۃ زمانی ہے اور زمانہ موہوم ہو تو اس کے اعتبار کاتقدم بھی موہوم ہو حالانکہ واقعی ہے اسے بھی بہت طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے ملخص کیا یہ بھی مردود ہےتقدم امر عقلی ہےنہ خارجی و لہذا اعدام کو عارض ہوتاہے عدمحادث اس کے وجود سے پہلے ہے اور جب وہ عقلی ہے تو مابہ التقدم خارجی ہوناکیا ضرور (مواقف)
اقول:شك نہیں کہ تقدم وتاخر نسبتین ہیں اور اعیان سے نہیںاسی قدر بس ہے
",
1293,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,462,"اوراس سند کی کہ عدم حادث مقدم ہے حاجت نہیں جس پرایراد ہوکہ اس کاتقدم بالتبع ہےاور کلام اس میں ہے جسے بالذات عارض ہواور اس کے سبب سے وجود پدریاعدم حادث کو۔
اقول:حل برقیاس سابق ہے دلیلیہ قیاس مرکب ہے کہ زمانہ مابہ التقدم الواقعی ہے اورمابہ التقدم الواقعی موہوم نہیں اور جو موہوم نہیں موجود ہے۔مقدمہ ثانیہ میں اگر موہوم سے مراد معدوم فی الخارج ہے تومسلم نہیں بلکہ ادل نزاع ہے واقعی کے لیے خاصخارجی کیا ضروراور اگر مخترع محض مراداور مقدمہ ثالثہ میں معدوم فی الخارجتو حد اوسط متکرر نہیںاور اگر یہاں بھی مخترع مراد تو اب موجود سے اگر موجود فی الخارج مقصود تو مقدمہ مردودعدم اختراع سے خارجیت کب لازماور اگر مطلق موجود مراد توصحیح ہےاوراب اتنا ثبوت ہواکہ زمانے کے لیے ایك نحو وجود ہے نہ کہ خاص خارجی۔
شبہ ۴:نافین زمانہ زبان سے انکار کرتے اور دل میں خوب مانے ہوئے ہیںاسے دنوں مہینوںبرسوں کی طرف تقسیم کرتے ہیںوقائع معاملات کی تاریخیں اس سے منفبط کتے ہیں اپنی عمریں درازاعدا کی کوتاہ چاہتے ہیں۔(متشدق)
اقول اولا:گرفتار ان زمانہ زبان سے موجود خارجی کہتے اور دل میں خود اس سے منکر ہیں کہ اسے غیر قار متقضی متصرم مان رہے ہیں۔
ثانیا:نفی واقعیت نہیں کی جاتی اور جو کچھ مذکور ہوا مستلزم خارجیت نہیں فلسفہ منطقۃ البروج کو بروج درجات و دقائق و ثوانی کی طرف تقسیم کرتے ہیںان سے تقویمات و انظار و اتصالات منضبط کرتے ہیں اپنے لیے اضافات مثل ابوت اعداء کے لیے سلوب عمی کی تمنا کرتے ہیںحالانکہ ان میں سے کوئی کچھ موجود خارجی نہیں
ثالثا:اس کی تقسیم اور ایك حصہ دراز ایك کوتاہ ہونا تمہارے نزدیك بھی نہیں مگر ذہنی پھر اس سے وجود خارجی کیونکر لازم بلکہ واقعیت یہی لازم مجرد قسمت نہیں خط آبی و دائرہ ناری بھی صالح تقسیم ہیں۔
شبہ ۵:وجود ذہنی تین قسم ہے:ایك اختراعی محض جیسے انیاب اغوال:
دوم:وہ کہ شے کو اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے کوئی حالت واقعی عارض ہو۔ظاہر ہے کہ اسی شے کے تصور پر موقوف ہوگی کہ اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے ہے مگر اس کے
",
1294,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,463,"بعد کسی تعمل ذہن کی محتاج نہ ہوگی کہ اختراعی نہیں واقعی ہے مثلا جب کسی نے اپنے ذہن میں ""زید قائم"" حکم کیا خود اس سے لازم آیا کہ اس کے ذہن میں ایك موضوع دوسرا محمول ہے اگرچہ وہ وضع و حمل کا تصور نہ کرے لیکن جب تك ذہن میں یہ حکم نہ تھا وضع و حمل بھی نہ تھے۔
سوم:کسی شے کی حالت خارجی سے منتزع جیسے فوقیت و عمی یہ قسم اضافیات و سلوب میں منحصر ہے۔اور ظاہر ہے کہ نہ زمانہ اختراع محض ہے نہ کسی موجود ذہنی کو عارض کہ اسے تصور نہ کریں تو زمانہ ہی نہ ہو نہ وہ اضافت یا سلب ہےلاجرم موجود خارجی ہے(متشدق فصل الظنون فی الزمان)یہ محض زخرفہ ہے۔
اولا:منتزع عن الخارج کا سلب و اضافت میں حصر مردودحرکت فلك سے جو دوائر صغارو کبار منطقہ سے قطبین تك منتزع ہوتے ہیں قطعا اس کی حالت خارجیہ سے منتزع ہیں اور سلب و اضافت نہیں۔
ثانیا اقول:موجود ذہنی واقعی کا دو میں حصر ممنوع کیوں نہیں جائز کہ کوئی شیئ ذہن میں اصالۃ پیدا ہو کہ نہ خارج سے منتزع ہو نہ کسی موجود ذہنی کی حالتجیسے خود انتزاع کہ کسی موجود ذہنی کا وصف نہیں بلکہ موجود ذہنی اس سے پیدا ہوتا ہے اور منتزع بھی نہیں ورنہ انتزاع کے لیے انتزاع درکار ہو اور جانب مبدء تسلسل لازم آئے کہ منتزع کا وجود انتزاع پر موقوف اور یہ اعتباریات میں بھی محال فافھم عــــــہ (تو سمجھ لے ت۔)
عــــــہ:یشیرالی ان لقائل ان یقول ان الا نتزاع من اعمال الذھن وھو و اعمالہ کا لتصور والحکم من الموجودات الخارجیۃ وانما الموجود الذھنی ماوجودہ بعمل الذھن فافھم وفیہ ان الکلام فی السند الخاص لایجدی المستدل ولا یغنیہ من جوع ۱۲ منہ غفرلہ۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ا نتزاع تو ذہن کے اعمال میں سے ہے۔اور وہ اور اس کے اعمال جیسے تصور و حکم موجودات خارجیہ سے ہیں۔موجود ذہنی تو وہ ہوتا ہے جس کا وجود ذہن کی عمل سے ہوتو سمجھ لے اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ کسی سند خاص میں کلام مستدل کو نفع نہیں دیتا اور نہ بھوك میں اس کے کام آتا ہے۔(ت)
",
1295,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,464,"ثالثا اقول:خود کہتے ہو کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہےاور ہم ثابت کرچکے اور تمہارے سب اگلوں کو اعتراف تھا کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو زمانہ ایك موجود ذہنی کو عارض ہوا اور جب یہ برہان سے ثابت تو اس پر یہ استبعاد کہ زمانہ تصور پر موقوف ہوگیا تصور نہ ہو تو زمانہ ہی نہ محض جہالت ہے ہاں ایسا ہی ہوگا پھر کیا محال ہے بلکہ ایسا ہی ہونا واجب کہ مقدار حرکت ہونے کو یہی لازماس کاجواب جہلا کی طرف سے ادعائے بداہۃ ہوتا ہے کہ ہم بداہۃ جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں تو زمانہ ضرور ہوگا۔
اقول:برہانا ہم جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں زمانہ ہر گز نہ ہوگا اور جواب ترکی بہ ترکی وہ ہے کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے کہ ہم بداہۃ جانتے ہیں کہ اگر فلك وہ حرکت نہ ہوں زمانہ ضرور ہوگا۔اس پر سفہاء کہتے ہیں بداہت وہم ہے جب زمانہ اسی کی مقدار تو بے اس کے کیونکر ہوسکتا ہے ہم کہتے ہیں وہ تمہاری بداہت وہم ہے جب زمانہ ایك امر ذہنی کی مقدار تو بے ذہن و ذاہن کیونکر ہوسکتا ہےفرق اتنا ہے کہ تم جس پر تکذیب بداہت کرتے ہو یعنی زمانے کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا وہ ہر گز ثابت نہیںجیسا کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے تو تمہاری تکذیب کا ذب ہے اور ہم جو تمہاری بداہۃ وہمیہ کا رد کرتے ہیں اس پر برہان ناطق ہے تو ہمارا رد صادق ہے۔
رابعا:حالت خارجی سے منتزع کا وجود ذہنی بھی تصور شیئ پر موقوفتو اس میں اور قسم دوم میں فرق کرنا یہاں سلب و اضافت میں حصہ لینا اور وہاں یہ کہنا کہ وہ کسی تصور پر موقوف اور زمانہ ایسا نہیں اور شق اختراعی بڑھانا محض تطویل و تہویل ہے اصل اتنی ہے جو تمہارے دلوں میں ملادی گئی ہے کہ زمانے کا وجود اذہان پر موقوف نہیںاگر یہ ثابت ہو تو پھر کسی تطویل و تہویل کی کیا حاجتخود ہی مدعا ثابت اور اگر یہ ثابت نہیں اور بے شك نہیں تو اسے پیش کرنا صراحۃ مصادرہ علی المطلوب ہے اور تمہاری دلیل مردود و مسلوباس مصادرے کے چھپانے ہی کے لیے یہ تشقیق و شقشقہ تھا تشدق اسی کا نام ہے۔
شبہ ۶:زمانہ اگر انتزاعی ہو تو ضرور ہے کہ اس کا منشا انتزاع کم متصل غیر قار موجود فی الخارج ہو ورنہ تسلسل لازم آئےاسی منتشاء موجود خارجی کا نام زمانہ ہے(ملا حسن علی المتشدق)
",
1296,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,465,"اقول اولا: کیا ضرور ہو کہ منشاء کم ہو بلکہ متکمم ذہنی جس کے اتصال سے یہ کم منزع ہے۔
ثانیا:کیا محال ہے کہ وہ متکمم ذہنی کسی موجود خارجی غیر متکمم سے منزع ہو۔
ثالثا کیا ضرور ہے کہ وہ منزع عنہ غیر قار الذات ہو ممکن کہ بحسب نسب متجدد وہنہ تسلسل لازم آیانہ کسی کم غیر قار کا خارج میں وجوداور یہاں ایسا ہی ہے زمانہ حرکت قطعیہ سے منتزع ہے اور وہ حرکت تو سطیہ بسیطہ کے تجدد نسب سے۔
تنبیہ جلیل: اقول:احادیث میں ہے کہ ایام و شہور محشور ہوں گےجمعہ و رمضان شفیع و شہید ہوں گے۔ہر مہینہ اپنے ہر قسم و قائع کی گواہی دے گا سوائے رجب کے کہ حسنات بیان کرے گا اور سیئات کے ذکر پر کہے گا میں بہرا تھا مجھے خبر نہیں اس لیے اسے شہراصم کہتے ہیں ہر مہینے اپنے آنے سے پہلے خدمت اقدس حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں حاضر ہوتا اور جو کچھ اس میں ہونا والا ہے سب عرض کرتا اس سے زمانے کے وجود خارجی پر استدلال نہیں ہوسکتایہ ارواح ہیں کہ ان معانی سے متعلق ہیں یا عالم مثال کے تمثیلات جن میں اعراض متجسد ہوتے ہیںخود اس فقیر نے اس ایك سال جس سے پہلے کشش باراں ہوچکی تھی فصل بارش کے دوسرے مہینے کو جسے ہندی میں ساون کہتے ہیں ایك نہایت سیاہ فام تروتازہ فربہ حبشی کی شکل میں دیکھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہواساون میں خوب کالی گھٹائیں آئیں اور زور شور سے برسیں۔
رد شبہ کے لیے دو باتیں بس ہیں۔
اول:شہورو ایام زمانے کے اجزائے ممتازہ منفرزہ ہیں اور زمانے کے اجزاکا ایسا وجود خارجی مخالفین بھی نہیں مانتے۔
دوم:سارا دن اور پور امہینہ مجتمع حاضر ہوگا حالانکہ مخالفین بھی خارج میں اس کا اجتماع اجزا محال جانتے ہیں بہرحال امور آخرت کو امور دنیا پر قیاس نہیں کرسکتے وہاں اعمال کہ اعراض ہیں میزان میں رکھ کر تو لے جائیں گے جب وہ قیام بالذات اعراض کے قیام بالذات کا موجب نہ ہوا وجود خارجی وجود خارجی کا مستوجب نہ ہوگا۔
فاستقم وتثبت تبتنا اﷲ وایاك بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی (سیدھا ہو جا اور ثابت قدم رہ اﷲ تعالی ہمیں اور تجھے ثابت رکھے حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میںاے اﷲ
",
1297,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,466,"الاخرۃ امین۔ ہماری دعا کو قبول فرما۔ت)
مقام بست وہفتم
زمانے کے لیے خارج میں کوئی منشا انتزاع بھی نہیں۔
اقول:اس کا منشا انتزاع حرکت قطعیہ ہے یا توسطیہ یا آنا فانا حدود مفروضہ مسافت سے اس کی نسبت متجددہ یا آن سیال یا اس کا سیلان یا مسافت یا اس کا اتصال یا نسب متجددہ یا اس کے اتصال سے حرکت کا اتصال عرضی یا متحرك یا اس کا اتصال یا تجدد نسبان کے سوا تیرھویں کوئی چیز ایسی متعلق نہیں جس سے انتزاع زمانہ کا تو ہم ہوسکےاور ان بارہ میں کوئی صالح انتزاع زمانہ نہیں اس کے لیے چار شرطوں کی جامعیت لازم۔
(۱)امتداد کہ بسیط غیر منقسم سے انتزاع امتداد معقول نہیں۔
(۲)عدم قرار کہ قارمن حیث ھوقار سے انتزاع غیر قارنا متصور۔
(۳)وجود خارجی کہ اسی میں کلام ہے۔
(۴)اس کا وجود زمانے پر موقوف نہ ہونا کہ دور نہ ہو۔
ان بارہ۱۲ میں سے کوئی ے ان چاروں شرائط کی جامع نہیں۔
شرط اول سے حرکت توسطیہ و آن سیال خارج کہ بسیط غیر منقسم ہیں۔
شرط دوم سے یہ دونوں اور مسافت و متحرك اور ان کے اتصال یہ چھ خارج کہ قار ہیں۔
شرط سوم سے باقی چھ نیز آن سیالسات خارجی کہ ہم ثابت کر آئے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کا اتصال عرضی بدرجہ اولیاور یہ کہ آن سیال اور اس کا سیلان محض اختراع بے اصل ہےاور نسبتوں کا اعیان سے نہ ہونا بدیہیشرط چہارم سے سیلان آن اور تینوں تجدد نسب بلکہ حرکت قطعیہ اور اس کا اتصال عرضی بھییہ چھ خارج ہم مقام ۲۵ میں ثابت کر آئے کہ سیلان آن بلحاظ زمان ہی ہے اور تجدد کا زمانے پر توقف بدیہی کہ وہ نہیں مگر یہ کہ آن سابق میں نسبت یہ تھی اور لاحق میں یہاور عنقریب ہم مقام ۲۸ میں ثابت کریں گے کہ حرکت قطعیہ زمانے پر موقوف اور اس کا اتصال عرضی اس کی ذات پر موقوف ہونا ظاہر تو زمانے کا ان سے انتزاع دور ہے۔تو روشن ہوا کہ خارج میں کوئی منشاء نہیں جس سے انتزاع زمانہ ہوسکے اگر کہیے جب خارجی میں نہ زمانہ نہ اس کا منشاء انتزاع تو انیاب اغوال کی طرح محض ",
1298,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,467,"اختراعاور یہ عقلا باطل اور نقلا ابتداع۔
اقول:ہاں متشدق اور اس کے متبوعوں کے طور پر ایسا ہی ہے کہ وہ اسے موجود خارجی مانتے ہیں حالانکہ خارج میں نہ وہ نہ منشاء ا ور ایسی شیئ کو بحکم وہم موجود فی الخارج سمجھنا ہی انیاب اغوال کا اختراع ہے لیکن موجود ذہنی کو موجود ذہنی جاننا اختراع نہیں واقعیت ہے جیسے معقولات ثانیہ کو اسے انیاب اغوال سے کہنا جنونہم اوپر ثابت کرچکے کہ زمانہ ممکن کہ کسی حالت ذہنیہ سے منتزع ہوممکن کہ بالا انتزاع اصالۃ ذہن میں موجود ہو اور دونوں صورتوں پر انیاب اغوال سے نہیں ہوسکتا۔
تنبیہہ نافع :اقول:حق یہ ہے کہ یہ ایك سخت کمند غیبی ہے کہ وہم کی گردن میں ڈالی گئی اور عقول ناقصہ کے سراس میں پھنس گئے۔"" وللبسنا علیہم ما یلبسون ﴿۹﴾ "" ۔(اور ہم نے ان پر وہی شبہ رکھا جس میں اب پڑے ہیں۔ت
کے زبردست ہاتھوں نے اس دارالامتحان میں اس کا حلقہ اتنا سخت محکم کردیا کہ۔ ع
تو چنداں کہ اندیشی گرد و بلند سرخود برون ناور دزین کمند
(تو جتنا اندیشہ کرے گا وہ اور بلند ہوگیاس کمند سے اپنے سر کو نہیں بچایاجاسکتا)
ان کی ناقص عقلوں میں آ ہی نہیں سکتا کہ بھلا زمانہ کیونکر محض موہوم ہو ان کی بداہت وہم حکم کرتی ہے کہ اگر ذہن و ذاہن کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتاحالانکہ وہی بداہت حکم کرتی ہے کہ اگر فلك و حرکت کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتا اسے بداہت وہم کہتے ہو اسے کیوں نہیں کہتے اتنی بات وسواس نے ان کے دلوں میں ڈالی اور یہ وہ پہلا بنیاد کا پتھر تھا جس پر صدہا کفریات کی عمارت چنتے چلے گئے جب زمانہ خود موجود متاصل ہے ضرور ازلی ابدی ہوگا ورنہ زمانے سے پہلے یا بعد زمانہ لازم آئے اور جب وہ سرمدی ہے ضرور حرکت فلکیہ کہ ان کے زعم میں یہ اس کی مقدار ہے ازلی ابدی ہے تو فلك الافلاك قدیم ہے پھر استحالہ خلا سے نیچے کے افلاك و عناصر قدیم ہیں غرض عالم قدیم ہے اور جو ان سے بھی زیادہ بدعقل تھے ان پر یہ گتھی اور بھی کری لگی ان کے عقل میں بھی نہیں آسکتا کہ کوئی موجود زمانہ سے خارج ہوایسی ہی وہم پر وری ان پر مکان وجہت سے پڑی بھلا جو کسی جگہ نہ ہو کسی طرف نہ ہو کسی وقت میں نہ ہو موجود کیسے ہوسکتا ہے ناچار ", القرآن الکریم ۶/ ۹
1299,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,468,"انہوں نے اپنے معبود کو زمانی مکانی جہت میں مستقر مان کر خاصہ ایك جسم بنادیالاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے(ت)
مقام بست وہشتم
زمانہ موجود ہو خواہ موہوم کسی حرکت کی مقدار نہیں ہوسکتا۔
اقول:ظاہر کہ زمانہ حرکت توسطیہ کی مقدار ہونا ناممکن کہ وہ متجزی ہی نہیںیہ امتداد وہ متجدد نہیں یہ غیر قار تو ضرور اگر ہوگا تو حرکت قطعیہ کی مقدار ہوگا تو ۱وجود زمانہ وجود حرکت قطعیہ پر موقوف کہ معروض کو عارض پر تقدم بالذاتاور ۲حرکت قطعیہ کا نہ صرف تشخص بلکہ نفس ماہیۃ انتقال پر موقوف کہ یہ اس کی ایك نوع ہے تو اسے اس پر تقدم بالذات۳اور انتقال بداہۃ تقدم منتقل عنہ پر موقوفاگر منتقل عنہ پہلے نہ تھا انتقال کس سے ہوااور پر ظاہر کہ یہاں سابق و لاحق جمع نہ ہوسکتے ورنہ انتقال انتقال نہ ہوا اور تمہاری تصریحوں سے وہ تقدم جس میں قبل وبعد جمع نہ ہو سکیں نہیں ہوتامگر زمانی ا ور ۴بلاشبہہ تقدم زمانی وجود زمانہ پر موقوف تو وجود زمانہ وجود زمانہ پر کئی درجے مقدم اس سے زائد کیا محال درکار۔
الحمدﷲ ہماری اس تقریر سے دفع دور کا وہ حیلہ جو افق المبین و قبسات باقر وغیرہما میں کیا گیا دفع و دور ہوگیادوریوں قائم کیا جاتا کہ زمانہ کی مقدار حرکت ہےحرکت پر موقوف اور حرکت کا وجود ممکن نہیں مگر سرعت و بطوء کی ایك حد معین پر اور سرعت و بطو بے تقدر زمانہ ناممکنتو حرکت زمانہ پر موقوفاور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمانہ ماہیت حرکت پر موقوف ہے اور ماہیت میں سرعت و بطوء کچھ داخل نہیںیہ حرکت شخصیہ کو درکار تو تشخص حرکت زمانی پر موقوف ہوا اور دور نہیں جیسے مقدار جسم جسم پر موقوف اور جسم اپنے تشخص میں مقدار کا محتاجظاہر ہے کہ ہماری تقریر سے اسے کچھ مس نہیںہم نے خود ماہیت حرکت کا زمانہ پر توقف ثابت کیا ہےمباحث یہاں اور بھی ہیں جن کے ایراد سے اطالت کی حاجت نہیں۔
مقام بست و نہم
زمانہ کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا تو کسی طرح ثابت نہیں بلکہ نہ ہوناثابت ہےشے کو معدوم ",
1300,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,469,"ماننے سے اس کی مقدار کا عدم بالبداہت لازم آتا ہے(کوئی عاقل گمان نہیں کرسکتا کہ جسم تو معدوم ہے مگر اس کا طول و عرض باقی ہے)زمانہ اگر مقدار حرکت فلکیہ ہوتا تو اس کے عدم سے اس کا عدم بدیہی ہوتا اور یہ تصور کرنا کہ فلك نہیں اور زمانہ ہے ایسا تصور ہوتا کہ حرکت نہیں اور ہے حالانکہ ہر گز ایسا عــــــہ نہیں بلکہ اس کے خلاف پر یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر چہ نہ فلك ہوتا نہ اس کی حرکتجب بھی ایك امتداد جس سے تقدم و تاخر و ماضی و مستقبل ہوں ضرور ہوتااور اگر تصور کریں کہ فلك نہ تھا پھر ہوا یا ساکن تھا پر متحرك ہوا یا آئندہ فلك یا اس کی حرکت نہ رہے جب بھی وہ امتداد تھا اور رہے گا(کہ تھا اور نہ تھا اور پھر ائندہ سب اسی سے متعلق ہیں)فلسفی کا زعم یہ کہ یہ بداہت بداہت وہم سے جیسے وہم کا یہ زعم کہ فلك الافلك کے باہر غیر متناہی فضا ہے محض تحکم ہے یہ امتداد(جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کی بنا ہے جسے ہر بچہ اور ہر ابلہ جانتا ہے)اس پر یقین دونوں حالتوں میں یکساں ہے خواہ حرکت فلك کہ موجود مانیں یا معدوماگر یہ حکم عقل کا ہے تو دونوں حالتوں میں اور وہم کا ہے تو دونوں میں یہ تفرقہ کہ حرکت فلك ماننے کی حالت میں تو یہ حکم حکم عقل ہے اور نہ ماننے کی حالت میں حکم وہم ہے محتاج برہان ہے حرکت فلك نہ ہونے کی حالت میں اگر اذہان اسے قبول کرسکتے ہیں کہ وہ امر واضح جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کہ بنا ہے)نہ ہوگا تو حرکت فلك ہونے کی حالت میں اسے کیوں نہ قبول کرسکیں گے(لیکن وہ دونوں حالتوں کو اس کے قبول و انکار میں یکساں پاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ امر واضح کوئی جدا گانہ شیئ ہے جس کے ماننے کو فلك و حرکت فلك سے کوئی تعلق نہیں(شرح مقاصد بتلخیص و ترتیب و ایضاح بزیادۃ الاہلۃ منا)
اقول:کلام بہت چمیلا ہے مگر یہاں مفید نہیں وصف شیئ اگر اسی وصف سے کہ فلاں شی کا وصف ہے مشہور و معلوم ہو تو بے شك رفع شے سے اس کا رفع بدیہی ہوگا اور اگر وہ فی نفسہ معلوم و متیقن اور اس کا وصف شے ہونا معلوم و مسلم نہ ہوا اگرچہ وہ واقع میں وصف
عــــــہ:علامہ نے یہاں یہ زائد کیا کہ لہذا آج تك کسی عاقل نے یہ زعم نہ کیا کہ حرکت فلك کا ازلی بدی ہونا بدیہی ہے۔
اقول:عدم حرکت سے عدم زمانہ کی بداہت اسے مستلزم نہیں کہ حرکت فلك کی سرمدیت بدیہی ہو یہ جب ہوتا کہ زمانہ کی سرمدیت بدیہی ہوتی ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1301,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,470," شے ہو تو ہر گز رفع شیئ سے اس کا رفع خیال بھی نہ کریں گے اور وہ یقین جو ان کو اس وصف پر بالاستقلال حاصل ہے وجود شیئ وعدم شیئ کی تقدیروں سے نہ بدلے گاان کے نزدیك استقلال سے واقع میں اس کا استقلال لازم نہیںتو اس بیان سے مقدار حرکت فلك ہونے کی نفی نہیں ہوتی وہاں جہاں وہ زمانے کے وجود خارجی پر کہتے ہیں کہ ہم قطعا جانتے ہیں کہ ذہن نہ ہوتا جب بھی زمانہ ہوتاوہاں یہ تقریر مفید ہے جس طرح ہم نے مقام ۲۶ میں ذکر کی اور ہمیں اس پر استدلال کی حاجت نہیں مدعی مخالف ہے اس کی دلیل کا ابطال ہی بس ہے بلکہ ہم اسی کی دلیل سے ثابت کردیں گے کہ زمانہ حرکت فلك کی مقدار نہیں فلسفی اپنے زعم پر دلیل یہ گھڑتا ہے کہ زمانہ مقدار حرکت ہے اور ازلی و ابدی تو حرکت مستقیمہ کی مقدار نہیں ہوسکتا ایك ہی حرکت ہو تو بعد نامتناہی لازم یا پلٹ پلٹ کر ہو تو ہر پلٹے پر سکون ضرور کہ کہ دو حرکت مستقیمہ متصل نہیں اور س کے سکون سے زمانہ کہ اس کی مقدار ہے منقطع ہوجائے گا لاجرم مقدار حرکت مستدیرہ ہے اور واجب کہ یہ حرکت ہر حرکت سے سریع ہو ورنہ زمانہ اسرع کی تقدیر سے عاجز رہے گا حالانکہ جملہ حرکت اس سے اندازہ ہوتی ہیں اور واجب کہ سب حرکتوں سے ظاہر تر ہوکہ اس کی مقدار زمانہ ہر صبی و جاہل پر ظاہر ہے اور وہ نہیں مگر حرکت یومیہ جس سے رات دنمہینے برس اندازہ کیے جاتے ہیں اور واجب کہ جو جسم اس سے متحرك ہے بسیط ہو کہ مختلف الطبیعۃ اجزاء سے مرکب ہو تو ہر جز اپنے حیز طبعی سے جدا ہو کر قسرا اسی حیز کل میں ہوااور قسر کو دوام ہیں تو انجام کار اجزاء متفرق ہوجائیں اور جسم ٹوٹ کر حرکت نہ رہے زمانہ قطع ہوجائے اور جب وہ بسیط ہے تو واجب کہ کرہ ہو کہ بسیط کی یہی شکل طبعی ہے تو ثابت ہوا کہ وہ جسم جس کی مقدار حرکت زمانہ ہے وہی کرہ بسیطہ متحرك بحرکت مستدیرہ ہے جس کی حرکت حرکت یومیہ ہے اور وہ نہیں مگر فلك الافلك اور یہاں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ فلك اور اس کی حرکت ازلی ابدی ہیں۔
اقول:حاشا بلکہ فلاسفہ کا کذب و سفہ۔اولا:ہم ثابت کرچکے کہ زمانہ مقدار حرکت ہی نہیں۔
ثانیا:باذنہ تعالی روشن کریں گے کہ وہ قطعا حادث ہے۔
ثالثا:مقام ۲۱ میں واضح ہوچکا کہ حرکاتف مستقیمہ کا اتصال جائز۔
رابعا:نہ سہی پھر انقطاع زمانہ ہی کیا محال۔
خامسا:وجوب انقطاع قسر کا رد مقام ۱۲ میں گزرا۔ ",
1302,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,471," سادسا:ان سب سے قطع نظر ہو تو اس کا حرکت مستدیرہ وضعیہ ہونا ہی کیا ضرور۔کیوں نہیں جائز کہ کسی دائرے یا مدار بیضی عدسی شلجمی اہلیلجی پر حرکت اینیہ ہو اب نہ لاتناہی بعد لازم نہ تخلل سکون۔
سابعا:غایت یہ کہ اس حرکت سے اسرع نہ ہو نہ کہ وہی اسرع ہو۔
ثامنا:اگر اس کی بساطت ضرور تو ہم ثابت کرچکے کہ افلاك بسیط نہیں تو ضرور زمانہ مقدار حرکت فلك نہیں۔
تاسعا:بسیط کی شکل طبعی کرہ ہونے سے شکل طبعی پر ہونا کب واجبجیسے تین عنصر کرویت پر نہیں۔
عاشرا:زمانہ کا اظہر اشیاء سے ہونا کیا اسے مستلزم کہ وہ حرکت بھی ایسی ہی اظہر ہواس کا مقدار حرکت ہونا خود شدید الخفا ہے لاکھوں عقلا اسے نہیں مانتے اور اگر یہ بھی ایسا ہی ظاہر ہوتا جب بھی خاص اس حرکت کا ظہور کیا ضرورعام اذہان میں اتنا ہونا کہ یہ کسی حرکت کی مقدار ہے اس حرکت کے معلوم ہونے کو کب مستلزم۔
حادی عشر:یہ بھی ماننا تو اب ضرور ہے کہ وہ حرکت حرکت فلك نہ ہو کہ حرکت فلك سخت اشد الخفا ہے ہیئت جدیدہ و الے تو سرے سے فلك ہی نہیں مانتے اور ہیئت اسلامیہ فلك کا متحرك ہونا قبول نہیں فرماتیاور عامہ اذہان یہی اس سے خالی تو ضرور یہ حرکت حرکت یومیہ حرکت شمس ہے جس سے ہر جاہل ہر بچہ تك آگاہ اور بلاشبہ اظہر الحرکات ہے۔ہیئت جدیدہ اگرچہ ہنگام ادعا اسے براہ جہالت منسوب بزمین کرے مگر اعمال و محاسبات میں وہ بھی حرکت شمس ہی کہتی اور لکھتی اور اس کے مدار منطقۃ البروج کا نام آف دی سن(of the sun)رکھتی ہے یعنی شمس کا راستہنہ آف دی ارتھ(of the earth)زمین کا۔
ثانی عشر:بساطت کا شگوفہ بھی یہی گل کھلاتا ہے ہم مقام اول میں ثابت کرچکے کہ بسیط کی شکل طبعی کرہ مضمتہ بے جوف ہے اور شمس ہی ایسا ہے نہ کہ فلك تو ضرور حرکت یومیہ شمس ہی کی حرکت ہے نہ فلك کی متشدق زیادہ چالاك ہےاس نے تمام احتمالات کا احاطہ کرکے ماورائے مطلوب کا ابطال چاہا اور کہا حرکات مستقیمہ و کمیہ و کیفیہ نیز تمام طبعیہ وقسریہ سب حادث ہوتی ہیں اور حادث کو زمانہ درکارتو زمانہ کہ ان پر مقدم ہے ",
1303,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,472," ان کی مقدار نہیں ہوسکتا۔نیز مستقیمہ طبعیہ سے پہلے تحدید جہات درکاراور وہ نہ ہوگی مگر ایسے جسم سے جس کی حرکت مستدیرہ واجب اور قسریہ بے امکان طبعیہ نہیں تو یوں بھی زمانہ حرکت مستقیمہ کی مقدار نہیں ہوسکتا۔نیز حرکت کو اتصال مسافت کے ذریعہ سے جو اتصال عرضی ملتا ہی وہ علت زمانہ ہے اور حرکات کیفیہ بلکہ کمیہ بحیثیت کمیہ کے لیے بھی اتصال مسافی نہیں صرف اتصال زمانی ہے تو اس وجہ سے بھی یہ خارج ہوئیں اور نہ رہی مگر حرکت مستدیرہ ارادیہ ازلیہ ابدیہ وہی زمانہ بنائے گیاور وہ نہیں مگر حرکت فلک۔
اقول اولا:حرکت مطلقا ہوسکتی ہی نہیں مگر حادث کو وہ انتقال ہےاور انتقال موجب مسبوقیت اور ازلی مسبوقیت سے پاك اور قدم نوعی کی گند عــــــہ ہم پہلے ہی کاٹ چکے ہیں تو حرکت سے علی الاطلاق ہاتھ دھولواور زمانہ کی مقدار حرکت ہونے کو استغفا دو۔
ثانیا:طبعیہ کا عدم دوام یا اس پر مبنی کہ ۱مستدیرہ طبیعہ نہیں ہوسکتی اور مستقیمہ کا دوام لاتناہی بعد کو مستلزم ورنہ تخل ۲سکون لازم یا اس پر کہ طبعیہ نہ ہوگی مگر جب حالت منافرہ پائی جائے اور وہ نہ ہوگی مگر قاسر سے اور ۳قسر کو دوام نہیں یا اس پر طبعیہ طلب مقتضائے طبیعہ کے لیے ہے اسے پا کر ۴سکون واجب اور ۵طبعیہ کا دائما اپنے کمال سے محروم رہنا محال اور ہم ثابت کرچکے کہ پانچویں مقدمے باطل و ممنوع ہیں۔چہارم کا ابطال مقام دہم میں گزرا۔
ثالثا:یونہی قسریہ کا عدم دوام یا اس لیے ہے کہ مستدیرہ قسریہ نہیں ہوسکتی نہ مستقیمہ دائمہ نہ قسر کو دوام اور تینوں باطل ہیں۔
رابعا:کمیہ کا دوام کیوں محال نمودائم کے لیے بھی بعد غیر متناہی درکار نہیںممکن کہ ایك بار گز بھر نمو ہو پھر آدھ گز پھر پاؤ گز یونہی الی غیر النہایہ کو تقسیم ذراع نامتناہی ہے اور کبھی دو گز تك بھی مقدار نہ پہنچے گی نہ کہ غیر متناہی اور قوت جسمانیہ کا غیر متناہی پر قادر نہ ہونا مقام ۲۴ میں باطل ہوچکا اور ذبول میں تو کوئی دقت ہی نہیں کہ تجزیہ جسم نامتناہی ہے۔
خامسا:یونہی دوام حرکت کیفیہ کا استحالہ ممنوع۔
سادسا:انقطاع زمانہ ہی کیا محالپھر دائما کی کیا حاجت۔
سابعا:ہم مقام ۲۶ میں ثابت کرچکے کہ مطلقا حرکت محتاج زمانہ ہے تو زمانہ اس کی
عــــــہ:بالفتح بمعنی گندگی ۱۲ الجیلان ",
1304,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,473," مقدار نہیں ہوسکتا۔
ثامنا:تحدید جہات کا قضیہ بھی طے ہوچکا۔تاسعا:غلط ہے کہ محدد کا استدارہ واجب بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ باطل۔عاشرا:یہ بھی غلط کہ جہاں طبع نہیں قسر نہیں۔
حادی عشر:ہر ایك کی مسافت اس کے لائق ہے حرکت کمیہ کہ ذبول یا تکاثف سے ہو اس کی مسافت جسم تعلیمی ہے کہ ہر آن مقدار گھٹے گی اور وہ ضرور اتصال رکھتا ہے اس کے ذریعہ سے کمیہ کو بحثیت کمیہ ہونے کے اتصال عارض ہوگا اگر چہ نمو وتخلل میں بحیثیت اینیہ ہوتا۔
ثانی عشر:تم تو آن سیال کو راسم زمانہ کہتے ہو اتصال مسافی کیسا
ثالث عشر:کیوں نہیں جائز کہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ کسی دائرہ وغیرہ خط منحنی واحد پر کسی کی حرکت ہو۔
رابع عشر:سب جانے دو وہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ حرکت فلك ہی ہونا کیا ضرورکیوں نہ حرکت شمس ہو۔
خامس عشرتا سابع عشر:آگے وہی شعریات گائے کہ یہ اظہر المقادیر ہے تو وہ اظہر الحرکات واسرع الحرکات ہونا چاہیے اور اس پر وہی سابق کے ۷ و ۱۰ و ۱۱ وارد۔
ثامن عشر:شطرنج میں بغلہ اور بڑھایا کہ جس جسم کی یہ حرکت ہے چاہیے کہ وہ سب اجسام کو محیط ہو یہ کیوںیہ اس لیے کہ شیخ چلی یونہی کہہ گئے ہیں یہ ہیں اس کی وہ خرافات مضحکہ جن کو کہتا ہے حکمت حقہ حقیقیہ یقینیہ واجب الاتباع ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔ت)
مقام سیم:
زمانہ حادث ہے:
حجت ۱:زمانے کو مقدار حرکت کہتے ہو اور ابھی واضح ہوچکا کہ حرکت کا قدم محال۔
حجت ۲:روشن ہوچکا کہ وہ موہوم ہے خارج میں اس کا وجود درکنار سب سے ضعیف تر انحائے وجود خارجی یعنی وجود منشا تك اس کے لیے نہیں پھر سب سے اعلی یعنی وجود ازلی کیسے ہوسکتاہے۔ ",
1305,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,474," حجت ۳:برہان تطبیق کہ ایام زمانہ ماضی میں بے تکلف جاری خصوصا اس متشدق اور اس کے متبوعوں کے طور پر کہ تمام ازمنہ ماضیہ و مستقبلہ کو موجود بالفعل مانتا ہے تو یہاں وہ فلسفی عذر بارد بھی ناوارد۔
حجت ۵ تا ۷:ظاہر ہے کہ یوم یا جزء زمانہ ماضی لو سابق سے مسبوق ہے تو باقی دلائل ابطال قدم نوعی بھی قائم۔
کشف معضلہ وباﷲ التوفیق(اور توفیق اﷲ تعالی ہی کی ہے۔ت)اہل انصاف کے نزدیك بحث ختم ہوگئی مخالف کو گنجائش دم زدن نہ رہی جب تك ان حجج ساطعہ سے عہدہ بررآ نہ ہولے وانی لہ ذلک(اور اس کے لیے یہ کہاں ت)فلسفی اگر قدم زمانہ پر ہزار دلائل قائم کرے بقانون مناظرہ سب کے معارضہ کو ایك حجت بس نہ کہ ساتمگر بے انصافوں کے دل سے اپنے شبہ باطلہ کا خلجان زائل نہیں ہوتا جب تك بالخصوص اسے نہ توڑا جائے لہذا ہم چاہتے ہیں کہ بتوفقیہ تعالی اس مزلہ مضلہ کی بیخ کنی کردیں جس پر آج تك کے متفلسفہ کو ناز ہے وہ یہ کہ زمانہ اگر حادث ہو تو اس کا وجود مسبوق بالعدم ہواور شك نہیں کہ یہاں قبل وبعد کا اجتماع محالتو یہ قبلیت نہ ہوئی مگر زمانی تو زمانے سے پہلے زمانہ لازم مواقف و مقاصد و تجرید طوسی و طوالع الانوار علامہ بیضاوی و شروح علامہ سید شریف و علامہ تفتازانی وفاضل قوشجی و شمس اصفہانی وشرح دیگر طوالع منسوب بہ تفتازانی و تہافت الفلاسفہ للامام حجۃ الاسلام وللعلامۃ خواجہ زادہ میں اس کے متعدد عــــــہ جواب دیئے گئے جن میں فقیر کو کلام ہے کما بینا علی ھوا مشھا
عــــــہ:ھی خمسۃ اجوبۃ و ثم سادس لغیرھم۔
(۱)قال الامام حجۃ الاسلام قدس سرہ الزمان حادث و لیس قبلہ ویعنی بقولنا ان اﷲ تعالی یہ پانچ جواب ہیں اور اس جگہ ایك چھٹا جواب بھی ہے جو مذکورہ بالا علماء کے علاوہ کسی نے دیا ہے۔
(۱)امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ نے فرمایا:زمانہ حادث ہے اور اس سے پہلے زمانہ نہیں ہے اور ہم جو کہتے ہیں کہ اﷲ تعالی
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1306,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,475," (جیسا کہ ہم نے ان کے حواشی میں بیان کیا۔ت)فیض قدیر عزجلالہسے جو کچھ قلب فقیر پر فائض ہو حاضر کرے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مقدم علی العالم والزمان انہ کان ولا عالم ثم کان ٭ومعہ عالم فلم یتضمن اللفظ الاوجود ذات وعدم ذات ثم وجود ذاتین ولیس من ضرورۃ ذلك تقدیر شیئ ثالث وان عالم اور زمانے سے مقدم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالی موجود تھا اور عالم موجود نہ تھا پھر اﷲ تعالی موجود تھا اور اس کے ساتھ عالم بھی موجود تھاتو ان الفاظ کا مطلب صرف اتنا ہے پہلے ایك ذات موجود تھی اور دوسری ذات موجود نہ تھیپھر دو ذاتیں موجود تھیںاس سے یہ لازم(باقی برصفحہ ائندہ)
٭ اقول:رحمہ اﷲ الا مام و ایانا بہ حق العبارۃ ان یقال ثم کان وھو مع العالم فھو تعالی مع کل شیئ وتعالی ان یکون معہ شیئ معیۃ متعالیۃ عن المعیۃ المتعارفۃ المشترکۃ فی المعنی المتساویۃ فی الاثنین "" و ہو معکم این ما کنتم "" ولم یرد انتم معہ بل الاولی فی التعبیرثم کان العالم واﷲ معہ کیلا یوھم کونہ ثانیا ﷲ عزوجل ۱۲ منہ غفرلہ۔ ٭اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی امام غزالی پر رحم فرمائے اور ان کے وسیلے سے ہم پر رحم فرمائے عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی ثم کان وھو مع العالم پھر اﷲ تعالی عالم کے ساتھ موجود تھا پس اﷲ تعالی ہر شے کے ساتھ ہے اور وہ بلند ہے اس سے کہ کوئی شے اس کے ساتھ ہواس کی معیت معروف معیت سے بلند ہے جس مین دو چیزیں کسی معنی میں شریك ہوتی ہیں اور ان میں مساوات ہوتی ہے۔ارشاد ربانی ہے وھو معکم اینما کنتم وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہواور یہ نہیں فرمایا کہ انتم معہ تم اس کے ساتھ ہو۔اس لیے بہتر تعبیر یہ ہے۔پھر عالم موجود تھا اور اﷲ تعالی اس کے ساتھ تھاتاکہ عالم کا اﷲ تعالی کے لیے ثانی ہونا لازم نہ آئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
", القرآن الکریم ۵۷ /۴
1307,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,476,"ربہ ثم برسولہ استعین صلی اﷲ تعالی وسلم علیہ وعلی ذویہ اجمعین امین(اس سے پھر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کان الوھم لایسکت عندہ اھ ویقال علی قیاسہ ھنا انہ کان العدم و لاحادث ثم کان الحادث ولاعدم ھنا ثم الاثبات شیئ ونفی اخرو لاثالث لھما اقول:لا یعقل ثم الابتقدیر ثالث۔
(۲)لا نسلم التقدم بالزمان سالانہ فرع وجود الزمان (مواقف شرجہا) ۔اقول:تقدم ابینا ادم علیہ الصلوۃ و السلام علینا زمان یعلمہ البلہ والصبیان فلا یسوع انکارہ موجود ا کان الزمان موھوما وتقدم عدم الزمان علی الزمان بالزمان ولو الحاظ العقل محال قطعا۔ نہیں آتا کہ کسی تیسری چیزکو بھی فرض کیا جائے اگرچہ وہم اس بات پر اکتفا نہیں کرتا اھ۔اس پر قیاس کرتے ہوئے اس جگہ یہ کہا جائے گا کہ پہلے عدم تھا حادث نہیں تھاپھر حادث موجود تھا جبکہ عدم نہیںاس جگہ ایك چیز کا اثبات اور دوسری کی نفی ہےتیسری کوئی چیز نہیں ہے۔اقول:(میں کہتا ہوں کہ)اس جگہ تیسری چیز کی تقدیر کے بغیر بات معقول نہیں ہے۔
(۲)ہم سرے سے نہیں مانتے کہ یہ تقدم زمانی ہے کیونکہ تقدم زمانی فرع ہے وجود زمان کی(مواقف اور شرح مواقف)اقول: حضرت آدم علیہ السلام کا ہم سے مقدم ہونا زمانے کے اعتبار سے ہے اسے بے وقوف اور بچے بھی جانتے ہیں اس لیے اس کا انکار درست نہیں ہےچاہے زمانہ موجود ہو یا موہوم اور عدم زمان کا زمانے پر تقدم زمانی کے ساتھ مقدم ہونا اگرچہ لحاظ عقل میں ہو قطعا محال ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
"," تہافت الفلاسفہ فی العقائد
شرح المواقف"
1308,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,477," اس کے رسول سے مدد مانگتا ہوںاﷲ تعالی آپ پر اور آپ کے تمام متعلقین پر درود سلام نازل فرمائے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
(۳)التحقیق ان الزمان وھمی ولیس امرا موجودا من جملۃ العلم یتصف بالقدم اوالحدوث (مقاصد و شرحہا)وتبعہ المتعاصران القوشجی وخواجہ زادہ ولفظہ لیس امرا موجودا لیلزم من انتفاء حدوثہ قدمہ اھ۔
اقول:اولا قداجمعا علی حدوثہ ففیہ انکار لا صل والدعوی وثانیا لا شك فی واقعیۃ الزمان وقد نطق بہ نصوص القرآن "" و اللہ یقدر الیل و النہار "" وما التقدیر الا للامتداد"" یولج الیل فی النہار و یولج النہار فی الیل "" ای یربی تارۃ مقدار ھذا علی ذلك واخری (۳)تحقیق یہ ہےکہ زمانہ ایك موہوم امر ہےامر موجود نہیں ہے بلکہ یہ از قبیل معلومات ہے قدم اور حدوث کے ساتھ متصف ہوتا ہے(مقاصد و شرح مقاصد)صاحب مقاصد کی پیروی ان کے دو معاصروں علامہ قوشجی اور خواجہ زادہ نے کی ہےان کی عبارت کا ترجمہ یہ ہےزمانہ ا مر موجود نہیں ہے تاکہ اس کے حادث نہ ہونے سے اس کا قدیم ہونا لازم آئے۔
اقول:(۱)ہمارا اس بات پر اجماع ہے کہ زمانہ حادث ہے اس جواب میں تو اصل دعوی ہی کا انکار کردیا گیا ہے۔(۲)زمانے کے امر واقعی ہونے میں کوئی شك نہیں ہے نصوص قرآن اس کی گواہی دے رہی ہیں و اللہ یقدر الیل و النہار اﷲ دن اور رات کا اندازہ مقرر فرماتا ہے اور اندازہ امتداد ہی کا مقرر کیا جاتا ہے۔ "" یولج الیل فی النہار و یولج النہار فی الیل""رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
"," شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴
تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ
القرآن الکریم ۷۳ /۲۰
القرآن الکریم ۵۷ /۶"
1309,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,478," اے اﷲ ! ہماری دعا کو قبول فرما۔ت)۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بالعکس و ذلك ان القدر الاوسط للکل منھما اثنا عشرۃ ساعۃفتارۃ ید خل اللیل فی ساعات النہار فتصیر اربع عشر ساعۃ مثلا ویبقی النہار عشرا وتارۃ بالعکس ان عدۃ الشھور عنداﷲ اثنا عشر شھرا فی کتاب اﷲ یوم خلق المسوات والارض ۱ ۔ھذا النص ایۃ علی واقعیۃ الزمان وعلی حدوثہ معا بیدی الدھر اقلب اللیل و النہار الی غیر ذلك واذلیس وجودہ فی الاعیان کما دل علیہ یعنی کبھی اس کی مقدار اس پر زیادہ کرتا ہے اور کبھی اس کے برعکس فرماتا ہے اور یہ اس طرح کہ دن اور رات کی درمیانی مقدار بارہ گھنٹے ہےپس کبھی رات کو دن کی ساعتوں میں داخل فرمادیتا ہے تو رات مثلا چودہ۱۴ گھنٹوں کی ہوجاتی ہے اور دن دس گھنٹوں کا رہ جاتا ہےاور کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے ان عدۃ الشہور عنداﷲ اثنا عشر شھرا فی کتاب اﷲ یوم خلق السموات والارض بے شك مہینوں کی گنتی اﷲ کے پاس۱۲ مہینے ہے اﷲ کی کتاب میں جب آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیایہ آیت بہت واضح طور پر زمانے کے امر واقعی اور حادث ہونے پر دلالت کرتی ہے بیدی الدھر اقلب اللیل والنہار میرے ہی ہاتھ میں زمانہ ہے میں دن اور رات
(باقی برصفحہ ائندہ)
"," القرآن الکرم ۹/ ۳۶
صحیح البخاری باب ومایہلکنا الاالدھر ۲/ ۷۱۵ وباب قول اﷲ تعالٰی یریدون ان یبدلواکلام اﷲ ۲ /۱۱۱۶،صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب النہی عن نسب الدھر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷،سُنن ابی داؤد باب فی الرجل یسب الدھر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۹،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۳۸"
1310,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,479," جواب اول اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ت)ممکن کو
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
البرھان فلا محید عن وجودہ فی الاذھانفاذا لم تجز مسبوقیتہ بالعدم وجب کونہ فی الذھن من الازل فیلزم قدمہ و قدم الذھن قال فی المقاصد وشرحھا فان ثبت وجود الزمان بمعنی مقدار الحرکۃ لم یمتنع سبق العدم علیہ باعتبار ھذا الامر الوھمی کما فی سائر الحوادث ۔ اقول:نعم ولکن امتنع علی ھذا الوھمی سبق العدم کما علمتولیس وھمیا بمعنی المخترع بل یدفع بہ کونہ موھوما اذلوکان موھوما لم یکن قبل التوھم ولولم یکن قبل التوھم لکان قبل التوھم ولو کان قبل التوھم لم یکن موھوما الطرفان ظاھران والوسط لجریان المعضلۃ فی الوجود الذھنی کجریا نھا فی العینی فینتج ان لوکان موھوما کا ردوبدل کرتا ہوںاس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں اور جب زمانہ خارج میں موجود نہیں ہے جیسے کہ دلیل سے ثابت ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اذہان میں موجود ہے اور جب عدم اس سے مقدم بتقدم زمانی نہیں ہوسکتا تو ماننا پڑے گا کہ وہ ازل سے ذہن میں تھا۔اس طرح نہ صرف زمانے کا قدیم ہونا لازم آئے گا بلکہ ذہن کا قدیم ہونا بھی لازم آئے گا مقاصد اور اس کی شرح میں ہے زمانہ جو مقدار حرکت ہے اگر اس کا وجود ثابت ہوجائے تو تمام حوادث کی طرح اس امر وہمی کے اعتبار سے عدم کا اس سے پہلے ہونا محال نہیں ہوگا۔اقول: (میں کہتا ہوں)ٹھیك ہے لیکن عدم کا اس وہمی پر مقدم ہونا محال ہے جیسے کہ تم جان چکے ہوزمانے کے وہمی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہےکہ وہ اختراعی ہےبلکہ دلیل سے اس کے وہمی اختراعی ہونے کا رد کیا جاسکتا ہے اور وہ یوں کہ اگر زمانہ وہمی امر ہو تو تو ہم سے پہلے نہیں ہوگا اور اگر توہم سے پہلے موجود نہیں ہوگاتو وہ تو ہم سے پہلے موجود ہوگا۔
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1311,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,480," اگر بشرط وجود لو تو اس کا عدم محال ہوگا اور بشرط عدم تو وجود یونہی بشرط استمرار انقطاع اور بشرط
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لم یکن موھو ما فیثبت انہ غیر موھوم بل موجود فی الاعیانفان قلت المتکلمون ینکرون الوجود الذھنی۔ اقول:(جواب)مرجعہ عند التحقیق الی انکار حصول الاعیان بانفسھا فی الازھان والا فہو مردود بالبرھان کما بینہ فی شرح المقاصد و مصادم البداھۃ الوجد ان کما یعرفہ کل فاھم و قاصداما ھذا الذی ذکر نا فحق بلا مریۃ ویلزم القائل بحصولھا بانفسھا عرضیۃ الجوھر لقیامہ بالذھن واعتذار ابن سینا ان الجوھر مامن شانہ القیام بنفسہ اذا وجد فی الاعیان بھت بحت فالتجھر لایتبدل بتبدل الظرف والا تبدلت الذات و بالجملۃ ذات لا قیام لھا الا بغیرھا اور اگر تو ہم سے پہلے موجود ہوا تو موہوم نہیں ہوگادونوں طرفین ظاہر ہیں اور متوسط کا وجود ذہنی میں جاری ہونا اسی طرح مشکل ہے جس طرح وجود خارجی میں مشکل ہےنتیجہ یہ ہوگا کہ اگر وہ ہو موم ہوا تو موہوم نہیں ہوگا بلکہ خارج میں موہود ہوگا۔سوال: متکلمین تو وجود ذہنی کا انکار کرتے ہیںجواب:تحقیق یہ ہے کہ وہ موجودات خارجیہ کے بذواتہا ذہنوں میں حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں ورنہ ان کا انکار دلیل سے باطل ہے جس طرح علامہ نے شرح مقاصد میں بیان کیا اور یہ بداہۃ وجدان کے مخالف ہے جیسے کہ ہر سمجھنے اور قصد کرنے والا جانتا ہے لیکن وہ مطلب جو ہم نے بیان کیا ہے وہ حق ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ ا شیاء خود ذہن میں حاصل ہوجاتی ہیں اس پر جو ہر کا عرض ہونا لازم آتا ہے کیونکہ جو ہر ذہن کے ساتھ قائم ہوجائے گا۔ابن سینا کا یہ عذر پیش کرنا کہ جو ہر وہ موجود ہے کہ جب وہ خارج میں پایا جائے تو قائم بنفسہ ہوگا یہ محض سینہ زوری ہےجو ہر ہونا ایسی چیز نہیں جو ظرف کے بدلنے سے بدل جائے ورنہ ذات بدیل ہوجائے گیخلاصہ یہ کہ وہ ذات جو صرف غیر کے ساتھ قائم ہے قطعی طور پر (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1312,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,481," انقطاع استمرارکلام اس میں نہیں بلکہ نفس ذات ممکن میںوہ ان میں کسی کی نہ مقتضی نہ منافی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تبائن بالقطع ذاتا تقوم بنفسہا فثبت ان الحصول بالشبح لا بعین۔
(۴)لیس تقدم عدم الزمان علی وجودہ بالزمان بل بتقدم اجزاء الزمان بعضا علی بعض ۔(مقاصد و شرحھا وخواجہ زادہ وتجرید)اعنی التقدم بالذات لا بامر زائد علیہا السید)وھو قسم سادس للتقدم (تجرید وشرحہ فی مباحث السبق)ولا نسلم ان التقدم والتاخر داخلان فی مفہوم اجزاء الزمان و انما جاء ھذا فی الامس والغدلاخذ الزمان مع التقدم المخصوص و التاخراما نفس اجزائہ فلا بل غایتہ لزوم التقدم والتاخر فیھا لکونھا عبارۃ عن اتصال غیر قار اس ذات کے مبائن ہے جو قائم بنفسہا ہےلہذا ثابت ہوا کہ شے کی ذات ذہن میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا شیج (عکس)حاصل ہوتا ہے۔زمانے کے عدم کا اس کے وجود پر مقدم ہونا بالزمان نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے جیسے زمانے کے بعض اجزاء بعض پر مقدم ہیں(مقاصداس کی شرح خواجہ زادہ اور تجرید)یعنی تقدم بالذات ہے ایسے امر کی وجہ سے نہیں جو ذات سے زائد ہے اور یہ تقدم کی چھٹی قسم ہے(تجرید اور اس کی شرح تقدم کی مباحث میں)اور ہم تسلیم نہیں کرتے کہ تقدم اور تاخر اجزاء زمان کے مفہوم میں داخل ہے یہ بات امس(گذشتہ کل)اور غد(آئندہ کل)میں اس لیے آئی ہے کہ زمانے کو تقدم مخصوص اور تاخر کے ساتھ لیا گیا ہےجہاں تك زمانے کے نفس اجزاء کا تعلق ہے تو ان میں تقدم و تأخر ماخوذ نہیں ہے زیادہ سے زیادہ لزوم تقدم و تاخر ہے کیونکہ اجزاء زمانہ اتصال غیر قار سے عبارت (باقی برصفحہ ائندہ)
"," شرح المواقف المقصد الثانی فی الحقیقۃ منشورات الشریف قم ایران ۵ /۱۰۵،شرح المقاصد المقصد الثانی المنحج الثالث المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۳۴
تجرید طوسی "
1313,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,482," تو یہ سب اس کے لیے ممکن بالذات ہیں اب عدم زمانہ قطعا ممکن ہے ورنہ زمانہ واجب بالذات ہو
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولو سلم فالحادث من حیث الحدوث ایضا کذلك اذ لا معنی لہ سوی مایکون وجودہ مسبوقا بالعدم ولو سلمہ فالمقصود منع انحصار السبق فی الاقسام الخمسۃ مستندا الی السبق فیما بین زمانہ اجزاء الزمان فانہ لیس زمانیا بمعنی ان یوجد المتقدم فی زمان لایوجد فیہ المتاخرولا یضرنا تسمیتہ زمانیا بمعنی اخر وشرح مقاصد و سلك خواجہ زادھا مسلکا اخر فقال اجزاء الزمان ذکر سندا للمنع فلا یضردرجہ فی السبق الزمانی لان اندفاع السند لایستلزمہ اندفاع المنع ۔اقول اولا:کل ذلك لا ینفع ما لم یدفع ان القبلیۃ المحیلۃ للمعیۃ لاتکون الا زمانیۃ ودفعہ عند العقول المحبوسۃ فی سجن الزمان غیر یسیر فان امتناع الاجتماع انما یتاتی بامتداد ہیں اور اگر تسلیم کرلیا جائے تو احادث بھی اسی طرح ہے کیونکہ حادث کا یہی معنی ہے کہ جس کا وجود عدم کے بعد ہو اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے تو ہم نہیں مانتے کہ تقدم پانچ قسموں میں منحصر ہے اور اس منع کی سند یہ ہے کہ زمانے کے اجزا میں تقدم اور تاخر پایا جاتا ہے حالانکہ یہ تقدم اس معنی کے اعتبار سے زمانی نہیں ہیں کہ مقدم ایسے زمانے میں ہایا جائے جس میں مؤخر نہ پایا جائے اس تقدم کو اگر کسی دوسرے معنی کے اعتبار سے زمانی کہا جائے تو وہ ہمیں نقصان نہیں دیتا۔(شرح مقاصد)خواجہ زادہ نے ایك دوسرا راستہ اختیار کیا ہے انہوں نے کہا کہ اجزاء زمان کا ذکر منع کی سند کے طور پر کیا گیا ہے لہذا اسے اگر تقدم زمانی میں داخل مان لیا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ سند کے رد ہونے سے منع کا رد ہونا لازم نہیں آتا۔اقول:(میں کہتا ہوں کہ)(۱)یہ سب گفتگو اس وقت تك فائدہ نہیں دے گی جب تك اس بات کو رد نہ کیا جائے کہ وہ قبلیت جو معیت کو محال قرار دیتی ہے وہ صرف زمانی ہی ہوگی اور زمانے کے قید خانے میں مقید عقلوں کے لیے اس کا رد کرنا آسان نہیں ہے(باقی برصفحہ ائندہ)
"," شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴
تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ"
1314,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,483," اور قطعا اس کا ظرف زمانہ میں ہونا محال ورنہ بداہۃ اجتماع وجود وعدم ہو تو یقینا یہ عدم زمانہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
متجدد منصرم غیر قاراذلولا الامتداد لم تکن فیہ اثنینیۃ فکان کل ما یقع فیہ مجتمعا وکذ الوکان قارا لاجتمعت اجزاء ہ فی الوجود فکذا مایقع فیھا اما المتصرم فلا جزان منہ یجتمعان وجود اولا مایقع فیھا و لاجزء مع واقع فیھما ولاجزء مع واقع فی اخر ولا یعلم ھذاا لمتصرم الا بالزمان اذبہ تقدر المتجددات حتی الحرکۃ القطعیۃ المشارکۃ لہ فی التصوم سواء بسواء فان جزء ھا الاول لایکون اولا الا لحصولہ اولا ای وقوعہ فی الجزء السابق من الزمان فالما ضی والا ستقبال انما یعرضان اولا اجزاء الزمان و کیونکہ اجتماع اسی وقت محال ہوگا جب ایك ایسا امتداد پایا جائے گا جو نوبہ نو پیدا ہوتا جائےختم ہوتا ہو اور مجمع الاجزاء نہ ہو اس لیے کہ اگر امتداد ہو تو اس میں اثنینیت نہیں ہوگی تو جو کچھ اس میں واقع ہوگا وہ مجتمع ہوگا اسی طرح اگر قار(مجتمع الاجزاء)ہو تو اس کے اجزاء وجود میں اکٹھے ہوجائیں گے تو جو چیزیں اس میں پائی جائیں گی وہ بھی اکٹھی ہوجائیں گی لیکن جو چیز ساتھ ساتھ ختم ہوتی جائے تو نہ اس کے اجزاء وجود میں جمع ہوں گے اور نہ ہی اس میں پائی جانے والی چیزیں جمع ہوں گی اسی طرح اس قار کی کوئی جزء دوسری جز میں پائی جانے والی چیز کے ساتھ جمع نہیں ہوگی۔اور یہ ساتھ ساتھ ختم ہونے والی چیز زمانے ہی کے ذریعے پہنچائی جائے گی کیونکہ زمانے ہی کے ذریعے متجدد اشیاء کا اندازہ لگایا جاتا یہاں تك حرکت قطعیہ جو تصرم میں زمانے کے ساتھ شریك ہے کیونکہ اس کی پہلی جزء اس لیے پہلی جزء بنے گی کہ وہ پہلے موجود ہوئی ہے یعنی وہ زمانے کی جز سابق میں پائی گئی ہے پس ماضی یا مستقبل ہونا پہلے اجزاء زمان کو لاحق ہوتا اور (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1315,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,484," یونہی ممکن کہ غیر زمانہ میں ہو اور بحکم مقدمہ سابقہ اس کا استمرار بھی مقتضائے ذات نہیں تو قطعا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بواسطتہ سائرالاشیاء ولا نعنی بالتقدم الزمانی الاھذا الشامل للوجوہ الثلثۃ فیشمل تقدم جزع من الزمان علی جزء اخر وجزء عن الواقع فی جزاء متاخر و الواقع فی متقدم علی واقع فی متاخرومن ھذا الثالث الحادث و عدمہ فاندفع المنع الاول وظھر ان جعلہ کتقدم اجزاء الزمان فیما بینھا لایخرجہ عن التقدم الزمانیوثانیا ظھر ان ھذاالتقدم والتأخر لیس الا بالزمان سواء دخل فی مفہوم اجزاءہ اولاوثالثا ظھر ان البعدیۃالماخوذۃ فی الحادث لیست الا زمانیۃ فلا ینفع قولہ فالحادث کذلك ۔ورابعا ظہر ان لاحاجۃ الی الحصرفی الخمس اس کے واسطے سے باقی اشیاء کو اور ہم تقدم زمانی کا یہی معنی مراد لیتے ہیں جو تینوں قسموں کو شامل ہے۔(۱لف)زمانے کی ایك جز کا دوسری جزء پر مقدم ہونا(ب)زمانے کی ایك جز کا مقدم ہونا اس چیز سے جو دوسری جز میں واقع ہے۔ (ج)جزء متقدم میں واقع ہونے والی چیز کا دوسری جزء میں وقع ہونے والی چیز سے مقدم ہوناحادثاور اس کا عدم اسی تیسری قسم سے تعلق رکھ ا ہے لہذا پہلا منع دور ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ اس تقدم کو زمانے کے اجزاء کے باہمی تقدم کی طرح قرار دینا اسے تقدم زمانی سے نکال نہیں دیتا۔(۲)ظاہر ہوگیا کہ یہ تقدم اور تاخر زمانی ہی ہے چاہے زمانہ اس کے اجزاء کے مفہوم میں داخل ہو یا نہ(۳)یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ حادث میں جو بعدیت ماخوذ ہے وہ زمانی ہی ہے لہذا ان(شارح مقاصد)کا یہ قول فائدہ نہیں دے گا کہ حادث بھی اسی طرح ہے۔(۴)ظاہر ہوگیا کہ پانچ میں حصہ کرنے (باقی برصفحہ ائندہ)
", شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴
1316,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,485," انقطاع ممکن بالذاتاور وہ نہ ہوگا مگر وجود سے تو روشن ہوا کہ وہ عدم زمانہ کہ زمانے میں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فلیس ھذا الا من الخمسوخامسا ظھر ان الاندراج فی الزمانی بھذاالمعنی مضرقطعاوسادسا ظھر الفرق بین اجزاء الزمان وبین الحادث وعدمہ فانزھق التسویۃ بین الفریقینوسابعا لو کان تقدم عدم الحادث علیہ لذاتہ التقدمہ ایضا عدمہ الطاری لان العدمین لا یختلفان ذاتاوبالجملۃ لا محید الا فماذکرنا من البرھا نین فانھما القاطعان لعرق الضلال والحمدﷲ ذی الجلال۔
(۵)لواعتبرفی ماھیۃ القدیم والحادث الزمان فالزمان المعتبر ان کان قدیما لایشترط لقدمہ زمان اخر
کی حاجت نہیں ہے کیونکہ یہ تقدم ان ہی پانچ قسموں میں ہے۔ (۵)زمانی کے اس معنی میں داخل ہونا قطعا مضرہے۔(۶)اجزاء زمان اور حادث کے وجود و عدم کے درمیان فرق ظاہر ہوگیالہذا دونوں کو برابر قرار دینا غلط ہوگیا۔(۷)اگر حادث کے عدم کا اس پر مقدم ہونا لذاتہ ہو تو اس کا عدم طاری بھی مقدم ہوگا کیونکہ دونوں عدم ذات کے اعتبار سے مختلف نہیں۔(اقول:حادث جسے لذاتہ پہلے قرار دیا جارہا ہے اسے مراد وہ عدم سابق ہے اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ عدم طاری بھی مقدم ہوگا ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر عدم سابق لذاتہ مقدم ہو تو عدم طاری اور عدم لاحق بھی لذاتہ مؤخر ہوگا۔۱۲ شرف قادری)خلاصہ یہ کہ ہم نے جو دوبرہان ذکر کیے ہیں ان سے خلاصی نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں گمراہی کی رگ کو کاٹنے والے ہیں والحمدﷲ ذی الجلال۔
(۵)اگر قدیم اور حادث کی ماہیت میں زمانہ معتبر ہو تو وہ زمانہ جو معتبر ہے دو حال سے خالی نہیں ہوگا۔(۱)اگر قدیم ہو تو اس کے قدم کے لیے دوسرا زمانہ شرط نہیں ہوگا ورنہ (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1317,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,486," نہیں منقطع ہو کر وجود زمانہ ہوسکتا ہے یہی حدوث زمانہ ہے اور قبل زمانہ زمانہ لازم نہیں کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والا لزم للزمان زمان فقد عقل قدیم من غیر اعتبار الزمان فیعقل مثلہ فی حق اﷲ سبحنہ وتعالی وصفاتہ وان کان حادثا لم یشترط ایضالحدوثہ زمان اخر فقد تصور حدوث من غیر اعتبار الزمان فلیتصور مثلہ فی حق العالم(خواجہ زادہ ۔اھ ملخصا)و حاصلہ ان الزمان سواء کان حادثا اوفرض قدیما لایحتاج فی حدوثہ ولا قدمہ الی زمان اخر فظھر ان ماھیۃ القدم و الحدوث معقول بدون الزمان فلیکن کذلك فی اﷲ تعالی والعالم والفرق بان ماھیۃ القدم والحدوث مستغنیۃ عن الزمان فی الزمان و زمانے کے لیے زمانی کا ہونا لازم آئے گااس کا مطلب یہ ہوا کہ زمانے کے اعتبار کے بغیر قدیم کا تصور کیا جاسکتا ہے یہی بات اﷲ تعالی اور اس کی صفات کے بارے میں بھی مان لینی چاہیے اور اگر وہ زمانہ حادث ہے تو بھی اس کے حدوث کے لیے دوسرا زمانہ شرط نہیں ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کا اعتبار کیے بغیر حدوث کا تصور کیا جاسکتا ہے تو یہی بات اﷲ تعالی اور کائنات کے بارے میں مان لینی چاہیے(خواجہ زادہ ملخصا)اس کا حاصل یہ ہے کہ زمانہ چاہے حادث ہو یا قدیم فرض کیا جائے وہ اپنے حدوث اور قدم میں دوسرے زمانے کا محتاج نہیں ہے اس سے ظاہر ہوگیا کہ حدوث و قدم کی ماہیت کا تصور زمانے کے بغیر کیا جاسکتا ہے اسی طرح اﷲ تعالی اور اعلم کے بارے میں بھی مان لینا چاہیے یہ فرق کرنا کہ قدم اور حدوث کی ماہیت زمان میں زمانے سے مستغنی ہے اور غیر زمانہ(باقی برصفحہ ائندہ)
", تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ
1318,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,487," عدم منقطع زمانہ میں نہ تھا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
محتاجۃ الیہ فی غیرہ یجعل لکل منھما ماھیتین وھو کما تری۔
اقول:الزمان ماخوذ فی القدیم سلبا ای مالیس قبلہ زمان وفی الحادث ایجابا ای ماکان قبلہ زمان وھذا الزمان الماخوذ سواء اعتبرقدیما اوحادثا او مطلقا لا یلزم للزمان زمان ولا تعدد ماھیۃ شیئ من القدیم والحادث فالزمان قدیم عندھم لانہ لیس قبلہ زمان لاقدیم ولا حادث والزمان الحادث حادث لان قبلہ زمانا قدیما ولا ن زمانا حادثا ایضا لان قبل کل من الزمان الحادث زمان حادث عندھم کما تقدم۔
(۶)الشیرازی المعروف بصدرا تبعا لا ستاذہ الباقر امن بحدوث العالم والزمان فحاول ردالمعظلۃ بان تناھی مقدار میں اس کی طرف محتاج ہےاس سے یہ لازم آتا ہے کہ حدوث و قدوم کی دو دو ماہیتیں ہوں اور یہ ظاہر البطلان ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)قدم میں زمانہ سلبا ماخوذ ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ نہیں ہے اور حادث میں ایجابا معتبر ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ ہے اور یہ زمانہ جو ماخوذ ہے اسے قدیم مانا جائے یا حادث یا مطلقا اعتبار کیا جائے زمانے کے لیے زمانہ لازم نہیں آتا اور نہ ہی حدوث و قدم میں سے کسی کی ماہیت کا تعدد لازم آتا ہے زمانہ فلاسفہ کے نزدیك قدیم ہے کیونکہ اس سے پہلے کوئی زمانہ نہیں ہے نہ قدیم ا ورنہ حادثاور زمانہ جو حادث ہے وہ حادث ہے کیونکہ اس سے پہلے قدیم زمانہ ہےبلکہ اس سے پہلے زمانہ حادث بھی ہے کیونکہ ان کے نزدیك ہر زمانہ حادث سے پہلے زمانہ حادث ہے جیسے کہ ا سے پہلے گزرا گیا ہے۔
(۶)صدر شیرازی اپنے استاد میر باقر داماد کی پیروی میں عالم اور زمانے کے حدوث پر ایمان رکھتا ہے اس لیے پیچیدہ اعتراض کا جواب یوں دیتا ہے کہ مقدار کا متناہی ہونا (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1319,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,488," جواب دوماقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لایستدعی مسبوقیۃ بالعدم الا تری ان تناھی محدد الجہات لایستلزم تاخرہ عن امر متقدر موجود او موھوم ملاء اوخلاء تأخرا مکانیا کذلك تناھی الزمان لا یستلزم تاخرہ عن امتداد زمانی موھوم اوموجود تاخرا زمانیا وان کان الوھم یعجز من ادراك تناھیہ کما یعجزعن ادراك ان لیس وراء الفلك خلاء ولا ملاء ۔
اقول:لم یکن الزام الزمان قبل الزمان علی تقدیر حدوثہ بناء علی ان تناھی مقدار یوجب ان یکون وراء ہ مقدار من جنسہ کالمکان وراء المکان خلو تناھی الزمان لکان وراء الزمان زمان فان ھذا لایصح ان یتفوہ بہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ عدم سے موخر ہو کیا تم نہیں دیکھتے محدد جہات(فلك الافلاک)کے متناہی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی امر مقدر موجود یا موہوم ملا یا خلاسے موخر ہو تاخر مکانی کے ساتھ اسی طرح زمانے کا متناہی ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ امتداد زمانی موہوم یا موجود سے موخر ہوتا خر زمانی کے ساتھ اگر چہ وہم اس کے متناہی ہونے کا ادراك کرنے سے عاجز ہے جیسے کہ یہ جاننے سے عاجز ہے کہ فلك الافلاك کے پار نہ خلا ہے اور نہ ملا ہے۔اقول:(میں کہتا ہوں)زمانے کے حادث ہونے کی صورت میں زمانے سے پہلے زمانہ ہونے کا لازم آنا اس بنا پر نہیں تھا کہ مقدار کے متناہی ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہا س کے ختم ہونے کے بعد اس کی ہم جنس مقدار ہو جیسے مکانکے بعد مکان ہونابس اگر زمانہ متناہی ہو تو زمانے کی انتہا کے بعدزمانے کا ہونا (باقی برصفحہ ائندہ)
", شرح ہدایت الحکمت فصل فی الزمان مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱۱ و ۲۱۲
1320,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,489," وجود شے اگر کسی ظرف میں ہو تو اس کا عدم کہ وجود کا رافع یا اس سے مرفوع وبالجملہ اس کے ساتھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الامجنون کیف وانہ یکون التناھی علی ھذا موجبا للاتناھی لان وراء کل المقدار مقدار مثلہ بل علی ان حدوث شیئ لیس معنا ہ الا الوجود بعد العدم بعدیۃ محیلۃ للمعیۃ و لیست عندھم غیر الزمانیۃ فمن قبل ھذا الزم قبل الزمان زمان وای مساس بھذا لتناھی المکان فلیس مقتضاہ ان بعد البعد بعد او شغلابعد فراغ حتی یلزم تقدیر شیئ ورائہ فقیاس الزمان علی المکان من البطلان ثم استدل ببراھین ابطال التسلسل۔ اقول:وھو طریق حق کما قد مناہ غیر انہا معارضۃ و نحن فی حل عقدۃ معضلۃ نفسہا کما تقدم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ لازم ہے کیونکہ یہ ایسی بات ہے جو صرف پاگل ہی کہہ سکتا ہےکیونکہ اس بنا پر تو متناہی ہونا غیر متناہی ہونے کو واجب کرے گااس لیے کہ ہر مقدار کے بعد اس جیسی مقدار رہے بلکہ الزام کی بنا اس پر تھی کہ کسی شے کے حادث ہونے کا صرف یہ مطلب ہے کہ عدم کے بعد وجود ایسی بعدیت کے ساتھ پایا جائے کہ جو معیت کو محال قرار دے اور ایسی بعدیت فلاسفہ کے نزدیك صرف زمانی ہےتو جو شخص اس بات کو تسلیم کرلے گا اس پر زمانے سے پہلے زمانے کا موجود ہونا لازم آئے گا اور اسے مکان کے متناہی ہونے کے ساتھ کیا تعلق ہے اس کا مقتضا یہ نہیں ہے کہ بعد کے بعد بعد یا فراغ کے بعد شغل ہو یہاں تك کہ اس کے بعد کسی چیز کی تقدیر لازم آئےپس زمانے کا امکان پر قیاس کرنا باطل ہے پھر صدر شیرازی نے ابطال تسلسل کے براہین سے استدلال کیا ہے۔ اقول:یہ صحیح راستہ ہے جیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ہاں اتنا ہے کہ یہ معارضہ ہے اور ہم اس لایخل عقدے کو حل کرنے کے درپے ہیں جس طرح کہ اس سے پہلے گزر ا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم منہ غفرلہ(ترجمہ محمد عبدالحکیم شرف قادری)
",
1321,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,490,"ممتنع الاجتماع ہےاسی ظرف میں ہونا لازم کہ ایك ظرف میں وجود دوسرے ظرف میں عدم کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے جب کہ وجود اسی ظرف سے خاص ہو اور اگر وجود شے لافی الظرف ہو تو عدم کہ اس کا منافی ہے وہ بھی لافی الظرف ہوگا کہ وجود لافی ظرف عدم فی ظرف کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے۔اب مفارقات غیر باری عزوجل مثلا تمہارے نزدیك عقل اول جن کا وجود زمانے سے متعالی ہے ورنہ مفارق نہ ہوں مادی ہوں کہ زمانہ کہ مادہ میں حال ہے ضرور مادی ہے اسے حرکت میں حلول سریانی ہے اور حرکت کو جرم میں تو اسے جرم فلك میں اور مادی میں واقع نہ ہوگا۔مگر مادی اور وہ اپنی نفس ذات میں مفارق ہیں تو بالذات وقوع فی الزمان سے آبی ہیںلاجرم ان کا وجود کسی ظرف دیگر میں ہے یا لافی ظرفبہرحال ان کا حدوث ممکن بالذات ہے کہ ذات ممکن نہ قدم کی مقتضی نہ عدم کیتوقطعا حدوث کی منافی نہیںجیسے کہ اس کی مقتضی بھی نہیں یہی حدوث کا امکان ذاتی ہے اور حدوث بے سبقت عدم ممکن نہیں تو ضرور ان کے وجود پر ان کے عدم کی سبقت ممکن اور بحکم مقدمہ سابقہ یہ عدم نہ ہوگا مگر ان کی طرح لافی ظرف یا ظرف دیگر میں بہرحال زمانےمیں نہ ہوگاتو روشن ہوا کہ جس کا وجود زمانے میں نہیں برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق بھی زمانے میں نہ ہوگابلکہ ظرف دیگر میں یا لافی ظرفاور زمانہ بھی ایسا ہی ہے کہ اس کا وجود زمانے میں نہیں ورنہ ظرفیۃ الشیئ لنفسہ لازم آئے تو قطعا برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق زمانہ میں نہ ہوگا اور زمانے سے پہلے زمانہ لازم نہ آئے گاوباﷲ التوفیقیہ بات وہی ہے جو اوپر گزری کہ زمانے کی محکم کمند تمہارے اوہام کی گردن میں پڑی ہے جس میں تمہاری عقول ناقصہ کے سر پھنس گئے۔تمہیں وجود کی سابقیت و مسبوقیت بے تصور زمانہ بن ہی نہیں پڑتیحالانکہ برہان سے ثابت کہ بے زمانہ بھی ممکنالحمدﷲ قبلیت مذکورہ بلازمانہ بھی ہونے پر یہ دو روشن دلیلیں "" فذنک برہنان من ربک "" (یہ دو برہان ہیں تمہارے رب کی طرف سے)کے فضل سے اس فقیر پر فائز ہوئیں والحمدﷲ رب العلمین(اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)ان کے بعد زیادہ بحث کی حاجت نہیں مگر کلمات علماء میں اس معضلہ سے پانچ جواب مذکور ہوئے ہم بھی بعونہ تعالی پانچ کی تکمیل کریں کہ ان سے مل کر تلك عشرۃ کاملۃ ہوں۔
جواب سوماقول:ظاہر ہے کہ جب زمانہ حادث ہوگا اس کے لیے ظرف اول ہوگی نہیں مگر آن اور زمانہ کہ امتداد ہےاس کے بعد ہوگا تو اس آن سابق میں زمانہ نہیںلاجرم
", القرآن الکریم ۲۸/ ۳۲
1322,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,491,"اس کا عدم ہے تو عدم زمانہ اس کے وجود پر سابق ہے اور زمانہ میں نہیں بلکہ آن میں ہےاگر کہیے ا س آن سے پہلے عدم زمانہ تھا یا نہیںبہرحال زمانہ سے پہلے زمانہ لازم۔اگر نہ تھا جب تو ظاہر کہ وجود زمانہ تھا اور اگر پہلے عدم تھا تو یہ وہی قبلیت زمانیہ ہے۔
اقول:اقتصار نہ کرو بات پوری کہو قبل وبعد صفت ہیں موصوف ظاہر کرو اگر یہ موصوف زمانہ لیا یعنی اس آن سے پہلے جو زمانہ تھا اس میں کیا تھا تو سوال نر ا جنون ہے آن حدو ث زمانہ سے پہلے زمانہ کیسا اور اگر کوئی اور امکان و اتساع لیا تو ہم کہیں گے اس میں بھی عدم زمانہ تھا اور زمانہ سے پہلے زمانہ نہ ہوا۔
جواب چہارم:اقول:حق یہ کہ عدم موجود نہیں تو نہ اس کے لیے کوئی ظرف ہے نہ وہ تقدم سے موصوف ہوسکے کہ یہاں تقدم و تأخر من حیث التحقیق میں کلام ہے عمرو سے پہلے زید تھا اس کے یہ معنی کہ وجود عمرو سے وجود زید سابق تھایونہی وجود سے پہلے عدم ہونے کا یہی مفہوم کہ عدم کا وجود اس سے مقدم تھا حالانکہ عدم ہر گز موجود نہیں ورنہ اعدام معلل ہوں کہ ان کا وجود نہ ہوگا مگر ممکن ورنہ حوادث محال یا واجب ہوجائیں اور ہر ممکن محتاج علتحالانکہ عدم معلل نہیں نیز اگر اعدام موجود ہوں تو امور غیر متناہیہ مرتبہ موجودہ بالفعل لازم آئیں مثلا عقول دس ہیںدس سے زیادہ گیارہ بارہ الی غیر النہایۃ سب معدوم ہیں تو تمام اعدام مرتبہ نامتناہیہ موجود بالفعل ہیں اور یہ محال ہے تو یہ کہنا کہ حادث کا وجود مسبوق بالعدم ہے یا اعدام ازلی ہیں محض ظاہری بات ہے حادث وہ جس کا وجود ازل میں نہ تھا نہ وہ جس کا عدم ازل میں تھا کہ عدم تھا اور ہے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ازل کوئی زمانہ نہیں فلاسفہ بھی مانتے ہیں کہ مفارقات ازلی ہیں اور زمانی نہیں اگر کہیے جب ازل میں نہ حادث کا وجود تھا نہ عدم تو ارتفاع نقیضین ہوگیا۔
اقول:حادث کے وجود وعدم نقیضین نہیں باری عزوجل نہ حادث کا وجود ہے نہ عدم اگر کہیے جب ازل میں حادث کا عدم نہ تھا ضرور وجود تھا کہ سلب عدم کو وجود لازم تو حادث حادث نہ رہا۔
اقول:ازل میں حادث کا وجود نہ تھا اس کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ عدم تھا ورنہ عدم ثبوت ثبوت عدم نہیںنہ اس کی نفی سے اس کی نفی ہو کہ وجود لازم آئے سلب بسیط سلب معدوم نہیں نہ اس کے سلب کو تحصیل لازمزید معدوم کے لیے جس طرح قائم ثابت نہیں
",
1323,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,492," لاقائم بھی ثابت نہیں کہ یہ بھی ثبوت موضوع کا طالب تو زید لیس بلا قائم ثابت اور اس سے زید قائم ثابت نہیں۔
جواب پنجم:اقول:بربی استخیر وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل فان اصبت فمن اﷲ ولہ الحمد لوان اخطأت فمن الشیطان وانا اعتقدبکل ماھو حق عندا لرحمن۔ اقول:میں اپنے پروردگار سے خیر طلب کرتا ہوںاورہمیں اﷲ تعالی کافی ہےاور کیا ہی اچھا وہ کارساز ہےچنانچہ اگر میں نے درست بات کہی تو وہ اﷲ تعالی کی طرف سے ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور اگر میں نے غلطی کی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور میں اعتقاد رکھتا ہوں ہر اس چیز کا جو رحمان کے نزدیك حق ہے۔(ت)
(۱)ہر عاقل جانتا ہے کہ وجود باری عزوجل کو اس کی صفات قدیمہ(یا فلاسفہ کے نزدیك عقل اول)پر تقدم ذاتی ہے یونہی سب حوادث پر بھی مگر بداہت عقل شاہد کہ وجود حوادث پر اس کے وجودکو ایك اور۔۔۔۔۔۔۔۔بھی ہے جو صفات(یا بطور فلاسفہ عقل اول)پر نہیں یقینا کہا جائے گا کہ ازل میں وجود الہی تھا اور وجود حوادث نہ تھا بلکہ بعد کو ہوا اور ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ازل میں اﷲ تعالی تھا اور صفات الہیہ نہ تھیںنہ فلسفی کہہ سکتا ہے کہ ازل میں واجب کہتا اور معلول اول نہ تھابالجملہ صفات یا معلول اول کو ازل سے تخلف نہیں اور وجود حوادث کو قطعا ہے تو حوادث پر وجود حق کو تقدم ذاتی کے سوا دوسرا تقدم اور ہے اور وہ ہر گز زمانی نہیں کہ باری عزوجل زمانے سے پاك ہے فلاسفہ بھی اس تنزیہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔
(۶)صفات الہیہ قطعا قدیم ہیں اور قدیم بالذات نہیں مگر ذات علیہ اور صفات بھی زمانے سے متعالی تو ان کا قدم(عہ)زمانی بھی نہیں ہوسکتا۔
عــــــہ:وقع فی المقاصد وشرحہا مانصہ لاقدیم بالذات سوی اﷲ تعالی واما بالزمان فصفات اﷲ فقط اقول: وھو سہوعظیم فی العبارۃ عــــــہ:مقاصد اور اس کی شرح میں ہے کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی قدیم بالذات نہیں ہےالبتہ قدیم بالزمان صرف اﷲ تعالی کی صفات ہیں۔اقول:اس عبارت میں عظیم سہو ہے۔
(باقی برصفحہ ائندہ)
", شرح المقاصد المقصد الثانی المنحج الثالث المبحث الاول دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۲۹
1324,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,493," (۳)باری و صفات باری عزجلالہ کے لیے یقینا بقا ہے کہ وجود اس کا موجب ہے اور وہ نہیں عــــــہ۱ مگر استمرار وجود اور اسمترار مقتضی اتساعاور محال ہے کہ زمانہ ہو عــــــہ۲ لاجرم اگر میری فکر خطا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فلیتنبہ و غایۃ توجیہہ عندی ان المتکلمین یقدرون لتصویر القدم وتقریبہ الی الفہم ازمنۃ ماضیۃ لا تتناھی فکل ماکان مع جمیع تلك المفروضات ای لم یصح ان یفرض زمان و ھو لیس معہ فہو القدیم لکن علی ھذا الا وجہہ لتخصیصہ بالصفات فانہ القدم الاخر للذات ۱۲ منہ۔
عــــــہ۱:قال فی المقاصد وشرحھا المعقول منہ ای من البقاء استمرار الوجود منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:وقع فیھا بعد ماقدمت ولا معنی لذلك سوی الوجود من حیث انتسابہ الی اس پر آگاہ ہونا ضروری ہےمیرے نزدیك اس کی انتہائی توجیہ یہ ہے کہ متکلمین قدم کی تصویر کھینچنے اور اسے فہم کے قریب کرنے کے لیے ماضی کے غیر متناہی زمانوں کو فرض کرتے ہیں تو ہر وہ چیز جو ان تمام مفروضات کے ساتھ ہو یعنی کوئی ایسا زمانہ فرض نہ کیا جاسکے جس کے ساتھ وہ چیز نہ ہو تو وہ قدیم ہے لیکن اس صورت میں تو اسے صفات کے ساتھ مختص قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ تو ذات کے لیے ایك اور قدم ثابت ہوگیا ۱۲ منہ۔
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے المعقول منہ استمرار الوجودمنہ بقاء سے جو معنی سمجھ میں آتا ہے وہ ہے وجود کا جاری رہنا زمانے سے ۱۲ منہ۔
مقاصد اور شرح مقاصد میں ابھی نقل کردہ عبارت کے بعد ہے اور اس کا یہی معنی ہے کہ پہلے زمانے کے بعد وجود دوسرے زمانے (باقی برصفحہ ائندہ)
", شرح المقاصد المقصد الثالث الفصل الاول المبحث الخامس دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۸۰
1325,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,494," نہیں کرتی تو ضرور علم الہی میں ایك اتساع قدسی زمان و زمانیات سے متعالی ہے جس کا پر تو حوادث
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الزمان الثانی بعد الزمان الاول اھ۔
اقول:اولا تعالی عن ان ینسب وجودہ الی زمانہ و ثانیا لو کان بقاء ہ بھذا المعنی لزم قدم الزمان و العذر عن ھذا ما قدمت وقداحسن صاحب المواقف اذقال بعد اثبات امتناع ثبوت الزمان لہ تعالی یعلم مما ذکرنا ان بقاء ہ تعالی لیس عبارۃ عن وجودہ فی زمانین اھ قال السید بل ھو عبارۃ امتناع عدمہ و مقارنتہ مع الازمنۃ ۔
اقول:اولا تعالی ان یقترن بزمانو ثانیا لوکان بقاؤ ہ بھذاالمعنی لم یکن باقیا قبل الزمان کی نسبت سے پایا جائےکی نسبت سے پایا جائے ا ھ۔
اقول:(میں کہتا ہوں)(۱)اﷲ تعالی اس بات سے بلند ہے کہ اس کا وجود زمانے کی طرف منسوب کیا جائے(۲)اگر اﷲ تعالی کا باقی رہنا اس معنی سے ہو تو زمانے کا قدیم ہونا لازم آئے گا۔اس کی توجیہ وہ ہے جو میں اس سے پہلے بیان کرچکا ہوںصاحب مواقف نے اچھا انداز اپنایا ہے انہوں نے پہلے یہ بیان کیا کہ اﷲ تعالی کے لیے زمانے کا ثابت ہونا محال ہے اس کے بعد فرمایاہماری گفتگو سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اﷲ تعالی کے باقی رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دو زمانوں میں موجود ہے اھ میر سید شریف نے اس کی شرح میں فرمایا:بل ھو عبارۃ امتناع عدمہ ومقارنتہ مع الازمنۃ ا ھ اﷲ تعالی کی بقا کا مطلب ہے کہ اس کا عدم محال ہے اور وہ تمام زمانوں کے ساتھ مقارن ہے۔(یہ اس عبارت کا ایك مطلب ہے دوسرا مطلب بعد میں آرہا ہے۔۱۲ شرف قادری) اقول:(۱)اﷲ تعالی (باقی برصفحہ ائندہ)
"," شرح المقاصد المقصد الثالث الفصل الاول المحث الخامس دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۸۰
شرح المواقف الموقف الخامس المرصد الثانی المقصد الرابع منشورات الرضی الشریف قم ایران ۸ /۲۸
حاشیۃ سید الشریف علی شرح المواقف الموقف الخامس المرصد الثانی المقصد الرابع منشورات الرضی الشریف قم ایران ۸ /۲۸
"
1326,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,495," میں زمانہ ہے عجب نہیں کہ آیہ کریمہ "" و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون ﴿۴۷﴾ "" ۔(اور بے شک
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لعدم الاقتران ولعلہ معطوف علی العدم ای بقاء ہ تعالی عبارۃ عن امتناع عدمہ مع امتناع مقارنتہ مع الازمنۃ وھذا وان کان بعیدا احسن من ذلك القریب لصحتہ وقربہ من الادباما الذی انسلخ عن الادب رأسا وبعد عن الدین بمرۃ وھوالمتشدق الجونفوری فزعم ان الفطرۃ المنفطمۃ عن لبان الطبیعۃ تشتھی سلب البقاء عنہ سبحنہ وتعدہ عین التقدیس اھ فلا واﷲ ماھذا الاتقدیس ابلیس نسائل اﷲ العافیۃ ع
یبقی وجہ ربك ذوالجلال
فلا تسمع تشدق ذی خلال ۱۲ منہ زمانے کے ساتھ مقارن ہونے سے بلند ہے
(۲)اگر اﷲ تعالی کی بقا کا یہ معنی ہو تو وہ زمانے سے پہلے باقی نہیں ہوگا کیونکہ زمانے کے ساتھ اقتران نہیں ہوگا(اس عبار ت کی توجیہ یہ ہے کہ)غالبا مقارنتہ کا عطف عدمہ پر ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ اﷲ تعالی کی بقاء کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عدم محال ہے اور زمانوں کے ساتھ اس کا مقارن ہونا بھی محال ہے یہ مطلب اگرچہ ظاہر عبارت سے بعید ہے لیکن اس قریب مطلب سے بہتر ہے کیونکہ یہ صحیح بھی ہے اور ادب کے قریب بھی ہے لیکن وہ متشدق (بے باکصاحب شمس بازغہ محمود)جونپوری جوادب سے یك دم جدا اور دین سے بالکل دور ہے اس کا گمان ہے کہ وہ فطرت جو طبیعت کا دودھ پینا چھوڑ چکی ہے چاہتی ہے کہ اﷲ تعالی سے بقا کی نفی کی جائے اور اسے عین تقدیس شمار کرتی ہے اھ اﷲ تعالی کی قسم یہ ابلیس کی تقدیس ہے ہم اﷲ تعالی سے عافیت کی درخواست کرتے ہیں۔تیرے رب ذوالجلال کی ذات باقی رہے گی لہذا تو اس مختلف خصلتوں والے بیباك گفتگو نہ سن۔۱۲ منہ۔
(ترجمہ محمد عبدالحکیم شرف قادری)
"," القرآن الکریم ۲۲ /۴۷
الشمس البازغۃ"
1327,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,496," تمہارے رب کے یہاں ایك دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔ت)اس کی طرف اشارہ ہوواﷲ تعالی اعلم اس اتساع متعالی میں صفات کو ذات یا معاذ اﷲ بطور فلاسفہ عقل اول کو واجب تعالی سے معیت اور تقو م واستمرار موجود ہے اس کے لحاظ سے ذات عــــــہ و صفات یابطور فلاسفہ عقول کو حوادث پر یہ دوسرا تقدم ہےاور اس کا وجود صرف علمی ہے کہ ہر گز وجود خارجی
عــــــہ:اقول:واذلیس وجودہ عینیا بل علمیا فما ثم شیئ یمرعلیہ او یحیط بہ بل ھو بکل شیئ محیط اما الزمان فحادث وان لم یکن موجود افی الاعیان فلم یتعلق بہ فی الازل فما کان یتعلق بہ فی مالا یزال لا نہ تعالی ان یتجدد لہ شیئ و معلوم انہ تعالی یعلم ویبصرویسمع ذاتہ العلیۃ علی وجہ الکمال وقد احاط بکل شیئ علما و لیس الا ان الکل منکشف لدیہ وھوالمحیط بعلمہ و بصرہ وسمعہ وبکل شیئ وبالجملۃ فالعقول عاجزۃ عن ادراك کنہ الذات والصفات امنابہ کما ھو باسمائہ و صفاتہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ عــــــہ:اقول:(میں کہتا ہوں)چونکہ زمانے کا وجود خارجی نہیں بلکہ علمی ہےتو کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جو اﷲ تعالی پر گزرے یا اس کا احاطہ کرےبلکہ وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہےلیکن زمانہ تو وہ حادث ہےاگرچہ خارج میں موجود نہیں ہےلہذا ازل میں زمانے کا تعلق ذات باری تعالی کے ساتھ نہیں ہوگاآئندہ بھی متعلق نہیں ہوسکتاکیونکہ اﷲ تعالی اس بات سے بلند ہے کہ اس کے لیے کوئی چیز نوبہ نو ثابت ہواور یہ بات معلوم ہے کہ اﷲ تعالی اپنی ذات عالیہ کو کامل طور پر جانتادیکھتا اور سنتا ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ سب چیزیں اس کے نزدیك منکشف ہیں اور وہ اپنے علمبصرسمع اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے مختصر یہ کہ عقلیں اس کی ذات و صفات کی حقیقت کے جاننے سے عاجز ہیںہمارا اﷲ تعالی پر ایمان ہے جیسے وہ فی الواقع ہے اور اس کے اسماء اور صفات پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔(ترجمہ عبدالحکیم شرف قادری)۔
",
1328,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,497,"نہیںبلا تشبیہ جس طرح ہمارے اذہان میں زمانے کا وجود وہمی کہ ہر گز وجود(عہ)عینی نہیں۔
عــــــہ:فائدۃ جلیلۃ: بھذا واﷲ الحمد تحل عقدۃ حارث فیھا الافہام وھو جریان برھان التطبیق فی علم اﷲ عزوجل لانہ یعلم کل متناہ وغیر متناہ علی التفصیل اجاب الدوانی فی شرح العقائد بان علمہ تعالی واحد بسیط فلا تعدد فی المعلومات بحسب علمہ بل ھی ھناك متحدۃ غیر متکثرہ ۔اما فی وجودھا الخارجی فالعالم حادث فلیس الموجود الامتناھیا وان لم یقف عند حد الی الابدھذا حاصل ما اطال بہ وردہ عبدالحکیم بنقل الکلام الی علمہ تعالی التفصیلی۔
اقول:لا الجواب بشیئ ولا الرد علیہ فان عــــــہ:فائدہ جلیلہ:اﷲ تعالی کا شکر ہے کہ اس کے ذریعے وہ عقدہ حل ہوجائے گا جس کے بارے میں عقلیں حیران ہیں اور وہ ہے برہان تطبیق کا اﷲ تعالی کے علم میں جاری ہونا کیونکہ اﷲ تعالی ہر متناہی اور غیر متناہی کو تفصیلا جانتا ہے۔علامہ دوانی نے شرح عقائد میں جواب دیا کہ اﷲ تعالی کا علم واحد اور بسیط ہے۔لہذا معلومات میں اﷲ تعالی کے علم کے اعتبار سے تعدد نہیں ہے بلکہ وہ معلومات متکثر نہیں بلکہ متحد ہیںجہاں تك معلومات کے وجود خارجی کا تعلق ہے تو عالم حادث ہےاس لیے جتنی اشیاء موجود ہیں وہ متناہی ہیں اگرچہ ہمیشہ کے لیے کسی حد پر جا کر ان کا خاتمہ نہیں ہوتایہ ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے اسے رد کیا ہے کہ ہم گفتگو کو علم تفصیلی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔
اقول:(میں کہتا ہوں)نہ تو یہ جواب درست ہے اور نہ ہی اس پر رد صحیح ہے۔ (باقی اگلے صفحہ پر)
", شرح العقائد العضدیۃ للدوانی مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۰ و ۲۱
1329,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,498,"الاعیان الثابتۃ لم تشم رائحۃ من الوجود(اعیان ثابتہ نے وجود کی بو نہ سونگھیت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تقسیم علمہ الی اجمالی وتفصیل من بدعات الفلا سفۃ بل علمہ تعالی واحد بسیط متعلق بجمیع الموجودات والمعدومات والممکنات والمحالات علی اتم تفصیل لا امکان للزیادۃ علیہ فالعلم واحد والمعلومات غیر متناھیۃ فی غیر متناہ فی غیر متناہ کما بینتہ فی فی کتابی ""الدولۃ المکیۃ"" و تعلیقا تھا ""الفیوض الملکیۃ""۔
قال السیا لکوتی بل الجواب فی تعلیقات الفارابی انہ تعالی یعلم الاشیاء الغیرالمتناھیۃ متناھیۃ و ذلك لان الجواھر والاعراض متناھیۃ والنسب یمکن ان نعتبرھا نحن غیر متناھیۃ اما عندہ تعالی فمتناھیۃ اذیصح ان توجد تلك الجواھر والاعراض فی کیونکہ اﷲ تعالی کے علم کی تقسیم اجمالی اور تفصیلی کی طرف فلاسفہ کی بدعتوں میں سے ہےجب کہ اﷲ تعالی کا علم واحد ہے بسیط ہے اور اس کا تعلق تمام موجوداتمعدومات ممکنات اور محالات سے اتنی مکمل تفصیل کے ساتھ ہےکہ اس پر زیادتی ممکن ہی نہیں ہےپس علم ایك ہے اور معلومات غیر متناہی در غیر متناہی جیسے کہ میں نے اپنی کتاب الدولۃ المکیۃ اور اس کے حواشی الفیوض الملکیۃ میں بیان کیا ہے۔
علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کہتے ہیں کہ جواب وہ ہے جو فارابی کی تعلیقات میں ہے اور وہ یہ کہ اﷲ تعالی غیر متناہی اشیاء کو متناہی جانتا ہے(یعنی اشیاء اگرچہ غیر متناہی ہیں لیکن اﷲ تعالی کے علم میں متناہی ہیں۱۲ شرف قادری)اور یہ اس لیے کہ جواہر اور اعراض متناہی ہیں ان کے درمیان نسبتیں غیر متناہی ہیں ہم یہ اعتبار کرسکتے ہیں کہ وہ غیر متناہی ہیںلیکن اﷲ تعالی کے نزدیك متناہی ہیں کیونکہ یہ جواہر اور اعراض کا خارج میں پایا جانا ممکن ہےجب یہ خارج (باقی اگلے صفحہ پر)
",
1330,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,499," زمانے کا عدم اسی اتساع قدسی میں اس کے وجود حادث پر مقدم ہے اور زمانے سے پہلے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الاعیان فبوجودھا توجد النسب بالفعل لانھا لواز مھا و وجود کل شیئ ھو معلومیتہ ﷲ عزوجلھذا تلخیص ما أطال بہ۔
اقول:اولا علمہ تعالی لاینحصرفی الجواھر والا عراض الموجودۃ بل یحیط بھا وبالممکنۃ وھی غیر متناھیۃ قطعا کنعم الجنۃ والام النار والعیاذ باﷲ منہا۔
وثانیا:من یعلم الغیر المتناھی متناھیا فقد علم الشیئ علی خلاف ماھو علیہ واﷲ تعالی متعال عنہ وان ارید ان العلم الالھی محیط بھا فکانت محصورۃ فیہ کالمتناھی لم یفدفی منع میں موجود ہوں گے تو نسبتیں بھی بالفعل پائی جائیں گیکیونکہ یہ نسبتیں جواہر و اعراض کو لازم ہیں اور ہر شے کا وجود یہی اس کا اﷲ تعالی کے لیے معلوم ہونا ہے۔(یعنی ہر شیئ کا وجود عبدالباری تعالی بحیثیت معلول ہونے کے یہی اﷲ تعالی کا ان اشیاء سے متعلق علم تفصیلی ہے ۱۲ شرف)یہ ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔
اقول:(میں کہتا ہوں کہ)اس میں کئی وجہ سے کلام ہے۔(۱)اﷲ تعالی کا علم جواہر اور اعراض موجود ہ میں منحصر نہیں ہےبلکہ انہیں بھی محیط ہےجواہر و اعراض ممکنہ کو بھی شامل ہے اور وہ قطعا غیر متناہی ہیںجیسے جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی تکلیفیںاﷲ تعالی ان تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔
(۲)جو غیر متناہی کو متناہی جانتا ہے وہ شیئ کو ایسے وصف سے متصف جانتا ہے جس کے ساتھ وہ متصف نہیں(یعنی خلاف واقع صفت کے ساتھ موصوف جانتا ہے)اور اﷲ تعالی اس سے بلند ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ علم الہی ان امور غیر متناہیہ پر محیط ہے تو وہ امور علم الہی میں متناہی کی طرح محصور ہوں گےاس صورت میں
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1331,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,500," زمانہ لازم نہیں اگر کہیے ہم اسی اتساع قدسی کا نام زمانہ رکھتے ہیں اب تو قدیم ہوا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جریان البرھان۔
وثالثا:لاوجہ لقولہ یمکن ان نعتبرھا غیر متناھیۃ بل نعلم قطعا انہا غیر متناھیۃ فیجری البرھان فیہا بحسب علمنا ولا یحتاج الی علمنا بھا تفصیلا و الا لم یجرالبرھان فی شیئ قط اذلا یحیط العلم الحادث بغیر المتناھی تفصیلا ابدا۔
ورابعا:قولہ اذیصح لامساس لہ بما جعلہ تعلیلا لہ برہان تطیق کے جاری ہونے کو منع کرنا مفید نہ رہا(فقیر کہتا ہے کہ غالبا علامہ سیالکوٹی کا مطلب یہ ہے کہ وہ امور جو مخلوق کے لیے غیر متناہی ہیں اور مخلوق کی گنتی میں نہیں آسکتے وہ علم الہی میں متناہی ہیں تو اعتراض مذکور(فقد علم الشیئ علی خلاف ماھو علیہ)لازم آئے گا اعنی أن تلك الامور غیر متناھیۃ بالنسبۃ الی علم الخلق ومتناھیۃ بالنسبۃ الی علم الخالق ۱۲ شرف قادری)۔
(۳)علامہ نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ہم جواہر وا عراض کے درمیان پائی جانے والی نسبتوں کو غیر متناہی اعتبار کریں اس کی کوئی وجہ نہیں ہےبلکہ ہمیں قطعا معلوم ہے کہ وہ نسبتیں غیر متناہی ہیں لہذا ان میں ہمارے علم کے مطابق برہان تطبیق جاری ہوجائے گابرہان کا جاری ہونا اس امر کا محتاج نہیں کہ ہم انہیں تفصیلا ہی جانیں ورنہ برہان بالکل کسی شیئ میں بھی جاری نہیں ہوگا کیونکہ علم حادث کبھی بھی غیر متناہی کا تفصیلی احاطہ نہیں کرسکتا۔
(۴)علامہ نے کہا ہے:اذ یصح الخ اس قول کو جس کی تعلیل قرار دیا ہے اس کے (باقی برصفحہ ائندہ)
",
1332,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,501," اقول:اولا:صریح غلط تم تو زمانے کو عرض قائم بالفلك مانتے ہو کہ وہ مقدار حرکت ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولا یفیدشبھۃ عامۃ فضلا عن علۃ۔
وخامسا:من العجب قولہ اذا وجدت وجدت نسب بالفعل وکیف توجد نسبۃ فی الاعیان۔
وسادسا:کیف یجتمع غیر المتناھی فی الوجود وحصول الترتیب غیر بعید
وسابعا:کیف بتوقف علمہ تعالی بہا علی وجودھا فی الخارج لکن الفلسفی بجھلہ یجعل العلم التفصیل حادثا تعالی سبحنہ و تعالی عما یقولون علواکبیرا۔
وبالجملۃ فلاغنی فی شیئ من ھذا بل الجواب ما اقول:بتوفیق الوھاب انما یقتضی البرھان بامتناع خروج غیر المتناھی من القوۃ الی الفعل وھو حاصل ھھنا قطعا فلا معنی لتخلف البرھان وذلك ان تعلق العلم بشیئ ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہےیہ علت تو کیا عام شبہہ کا بھی فائدہ نہیں دیتا۔
(۵)وہ فرماتے ہیں کہ جب جواہر اور اعراض خارج میں پائی جائیں گے تو نسبتیں بھی بالفعل پائی جائیںیہ قول باعث تعجب ہے نسبتیں خارج میں کیسے پائی جائیں گی
(۶)غیر متناہی چیزیں وجود میں کیسے جمع ہوسکتی ہیں ان میں ترتیب کا حاصل ہونا کچھ بعید نہیں ہے۔
(۷)اﷲ تعالی کا ان امور کو جاننا ان کے وجود فی الخارج پر کیسے موقوف ہوسکتا ہے لیکن فلسفی اپنی جہالت کی بنا پر علم تفصیلی کو حادث قرار دیتا ہے اﷲ تعالی ان باتوں سے بہت بلند ہےجو یہ فلاسفہ کہتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یہ جواب کچھ بھی فائدہ نہیں دیتاجواب وہ ہے جو میں اﷲ تعالی کی توفیق سے دیتا ہوںاور وہ یہ کہ برہان تطبیق کا تقاضا ہے کہ غیر متناہی کا قوت سے فعل کی طرف نکلنا محال ہو اور یہ بات اس جگہ قطعا حاصل ہے لہذا یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ برہان نہیں پایا گیااور یہ اس لیے کہ کسی چیز کے ساتھ علم کا
(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1333,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,502," تو حرکت سے قائم اور حرکت فلك سے قائم اور قائم سے قائم قائم اور یہ اتساع اس سے منزہ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لایخرجہ من القوۃ الی الفعل
فاولا الاتری انہ تعالی علم للحوادث فی الازل انہا معدومۃ فی نفس الامروستوجد فی اوقاتھا فان کان العلم موجب وجود ھا بالفعل کان العلم بانہا معدومۃ فی نفس الامر علی خلاف الواقع۔
وثانیا:انما اراداﷲ تعالی وجود الحوادث فی اوقاتھا ولا وجود لہا الا بارادتہ تعالی فیستحیل ان تکون موجودۃ فی الازل۔
وثالثا الا تری انہ تعالی یعلم کل محال ویعلم کل محال ویعلم ان لوکان کیف کان فتعلق علمہ تعالی بہ لم یخرجہ عن الاحالۃ فضلا عن العدم وما سبیل غیر المتناھی الاسبیل سائر المحالات فھو تعالی یعلمہ ویعلم انہ محال ان یوجد تعلق ہونا اسے قوت سے فعل کی طرف نہیں نکالتااس کے چند دلائل ہیں:
(۱)کیا تو نہیں دیکھتا کہ اﷲ تعالی کو ازل میں حوادث کے بارے میں علم تھا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں اور عنقریب اپنے اوقات میں پائیں جائیں اگر علم کی وجہ سے ان کا وجود بالفعل ضروری ہوتا تو ان کے بارے میں یہ جاننا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں خلاف واقع ہوگا۔
(۲)اﷲ تعالی نے ارادہ فرمایا کہ حوادث اپنے اوقات میں پائے جائیں اور ان کا وجود تو صرف اﷲ تعالی کے ارادے سے ہوگااس لیے ان کا ازل میں موجود ہونا محال ہے۔
(۳)کیا تو نہیں دیکھتا کہ اﷲ تعالی ہر محال کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ موجود ہوتا تو کیسے ہوتا۔پس اﷲ تعالی کا علم اس سے متعلق ہے اس کے باوجود اس تعلق نے اسے محال ہونے سے نہیں نکالاچہ جائیکہ عدم سے نکال دیتاغیر متناہی کا معاملہ وہی ہے جو باقی محالات کا ہے پس اﷲ تعالی غیر متناہی کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا واقع میں پایا جانا محال ہے۔تمام(باقی برصفحہ ائندہ)
",
1334,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,503," ثانیا: قدم فرع وجود ہے اور یہ موجود ہی نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فانکشف الاعضال والحمدﷲ ذی الجلال مع انہ احق الحق عندنا انا امنا بربنا وصفاتہ واسمائہ ولا نشتغل بکنھھا ولا نقول کیف حیث لاکیف ولا علم لنا بذلك ولا سبیل الی تلك المسالك واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم ۱۲ منہ غفرلہ۔ تعریفیں صاحب عظمت و جلال اﷲ تعالی کے لیے اشکال حل ہو گیا۔باوجود یہ کہ ہمارے نزدیك صحیح ترین بات یہ ہے کہ ہم اپنے رب اور اس کی صفات اور اس کے اسماء پر ایمان لائے ہیں اور ہم ان کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے نہیں ہوتے اور ہم نہیں کہتے کہ کیسے کیونکر اس جگہ کیسے والی بات نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں علم ہے اور ان راستوں تك پہنچنے کی کوئی صورت نہیں ہےاﷲ تعالی جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔۱۲ منہ غفرلہ (امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کا حاشیہ ختم ہوا)(ترجمہ شرف قادری)
اقول:قد اتضح بما افادہ الامام احمد رضا البریلوی قدس سرہ القوی أن خروج الغیرالمتناھی من القوۃ الی الفعل محالوتبین أیضا أن تعلق العلم بشیئ لا یوجب وجودہ فی الواقعلکن بقی ھھنا سؤال معضل:وھوانا قائلون باحاطۃ علم الباری تعالی امور الغیر المتناھیۃ وھی مرتبۃ فی علم الباری تعالی فکیف لایجری فیہا برھان التطبیق ولا نسلم ان البرھان لایقتضی الا امتناع خروج غیر المتناھی من القوۃ الی الفعلانما یقتضی البرہان استحالۃ الامور الغیر المتناھیۃ المرتبۃ سواء کانت موجودۃ ام لا وایضا لما کان علم الباری محیطا بالامور الغیر المتناھیۃ فلا بد ان تکون متناھیۃ عندہ تعالی جل مجدہ فلا مخلص الا فی ماقال العلامۃ عبدالحکیم السیالکوتی بانھا غیر متناھیۃ بحسب علمنا ولا نستطیع ان نعدھا بأی عدد (باقی برصفحہ ائندہ) ",
1335,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,504," ثالثا: مقصود تو یہ تھا کہ تمہاری ظلمتوں سے خلاص ہو کر زمانہ قدیم ہے اور وہ مقدار حرکت فلك ہے تو حرکت قدیم ہے تو فلك قدیم ہے تو افلاك و عناصر قدیم ہیںیہ بحمدہ تعالی باطل اور ظلمتیں زائل اور نجات حاصلوالحمد ﷲ رب العالمین(سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا ت)
تنبیہ:معضلہ کی ایسی ہی تقریر امتناع انقطاع زمانہ پر کی جاتی ہے کہ منقطع ہو تو عدم کو وجود سے ایسی ہی بعدیت ہوگی جس میں سابق ولا حق دونوں جمع نہ ہوسکیںاور وہ نہیں مگر زمانیتو زمانے کے بعد زمانہ لازماور ہمارے پانچوں جواب بعون الوہاب اس کے رد کو بھی کافی ووافیکما لایخفے فاعرف وﷲ الحمد(جیسا کہ پوشیدہ نہیںتو جان لے اور اﷲ تعالی ہی کے لیے حمد ہے۔)اور یہ تقاریر زمانے کے موہوم ہونے ہی پر موقوف نہیںاگر بالفرض زمانہ موجود خارجی اور مقدار حرکت اور خاص حرکت فلکیہ ہی کی مقدار یا کوئی جوہر مستقل ہو غرض عالم میں سے کچھ بھی ہو اس کے حدوث و امکان انقطاع پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔ وﷲ الحمد یہ تقریر خوب ذہن نشین کرلی جائے کہ بعونہ تعالی بکثرت ظلمات فلسفہ سے نجات ہےمیں امید کرتا ہوں کہ رد فلسفہ قدیمہ میں اگر میں اور کچھ نہ لکھتا تو یہی ایك مقام بہت تھا جس کا صاف ہونا فیض ازل نے اس عبداذل کے ہاتھ پر رکھا تھا۔وﷲ الحمد۔
یہ ہیں وہ ۳۰ مقام کہ اس تذییل میں تھےبعونہ تعالی دو کا بافاضہ اور اضافہ ہو کہ فلسفہ کی کوئی مہم مردودبات رد سے نہ رہ جائے۔ وباﷲ التوفیق۔
مقام سی ویکم۳۱
جزء لایتجزی باطل نہیں یہ وہ مسئلہ علم کلام ہے جسے نہایت پست حالت میں سمجھا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وای الۃ حاسبۃ أمابحسب علم اﷲ فھی متناھیۃوانما کتبت ھذا الاعضال الذی ھو جذراصم رجاء من ا ﷲ تعالی ان یوفق أی عالم کبیر أن یحل ھذہ المعضلۃ باحسن وجہ واﷲ الموفق)
محمد عبدالحکیم شرف القادری
۷ من ذالقعدۃ ۲۴ع ۱ ھ / الموافق باول ینایر عام ۲۰۰۴ م۔ ",
1336,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,505," بلکہ اس کے بطلان پر یقین کلی کیا جاتا ہے فلاسفہ اس کے ابطال پر چمك چمك کر دلائل حتی کہ بکثرت براہین ہندسیہ قائم کرتے ہیں عقلی تمسك میں بیان ہندسی سے زیادہ اور کیا ہے جس میں شك و تردد کو اصلا جگہ ہی نہیں رہتی اور متکلمین ان دلائل سے جواب نہیں دیتے اپنے سکوت سے ان کا لاجواب ہونا بتاتے ہیں تو گویا فریقین اس کے بطلان پر اتفاق کیے ہیں مگر بحمدہ تعالی ہم واضح کردیں گے کہ اس کے رد میں فلاسفہ کی تمام حجتیں اور ہندسی برہانیں پادر ہوا ہیں وباﷲ التوفیق یہ مقام چار موقفوں پر مشتمل ہے۔
موقف اول : اس مسئلہ میں ابطال رائے فلسفی اور دربارہ جز ہ ہمارا مسلک۔
اقول : وبربنا التوفیق یہاں ہمارا مسلك فریقین سے جدا ہے۔
(۱) ہمارے نزدیك جزو لایتخری باطل نہیں خلافا للحکماء لیکن دو جزوں کا اتصال محال ہے خلافا لظاھر ماعن جمہور المتکلمین۔ ظاہر ہے کہ اتصال غیر تداخل ہے تو وہ یونہی ممکن ہر ایك میں شیئ دو ن شیئ یعنی جدا اطراف ہوں دونوں ایك ایك طرف سے باہم ملیں اور دوسری طرف سے جدا رہیں ورنہ تداخل ہوجائے گا اور جزء میں شے دو ن شے محال تو وہ اپنی نفس ذات سے آبی ا تصال فلسفی کی تمام براہین ہندسیہ اور اکثر دیگر دلائل اس اتصال ہی کو باطل کرتی ہیں وہ خود ہمارے نزدیك نفس ملاحظہ معنی اتصال وجزو سے باطل ہے ان تطویلات کی کیا حاجت۔ امید کہ اتصال اجزاء ماننے سے ہمارے متکلمین کی مراد اتصال حسی ہو جیسا انہوں نے نفی دائرہ وغیرہ میں فرمایا ہےکہ یہ اتصال مرئی حس کی غلطی ہے ان سے مماست جز پر جو تفریعات منقول ہیں اسی پر محمول ہیں ورنہ اتصال حقیقی کا بطلان محتاج بیان نہیں۔
(۲) ہمیں یہاں پر اصل مقصود ابطال ہیولی ہے کہ اس کی ظلمتیں قدم عالم اگرچہ نوعی کے کفریات لاتی ہیں اس کی کلیت کا ابطال یہاں ہے اور ابطال بالکلیہ بعونہ تعالی مقام آئندہ میں تو ہم یہاں مقام منع میں ہیں۔ ہمیں ہیولی صورت کے سوا دوسری وجہ سے ترکب جسم کا دعوی کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اس بارے میں جوکچھ کہیں گے محض ابدائے احتمال ہوگا کہ تغلیس مدعی کے لیے اسی قدر کافی۔
(۳) رب عزوجل فاعل مختار ہے اس کے ارادے کے سوا عالم میں کوئی شے موثر نہیں رویت شے نہ اجتماع شرائط عادیہ سے واجب نہ ان کے انتفاء سے محال وہ چاہے تو سب شرطیں جمع ہوں اور دن کو سامنے کا پہاڑ نظر نہ آئے اور چاہے تو بلا شرط رویت ہوجائے جیسے ",
1337,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,506," بحمدہ تعالی روز قیامت اس کا دیدار کہ کیفیت وجہت ولون ووقوع ضوومحاذات وقرب و بعد و مسافت وغیرہا جملہ شرائط عادیہ سے پاك و منزہ ہے۔اب عادت یوں جاری ہے کہ نہایت باریك چیز کہ تنہا اصلا قابل ابصار نہ ہو جب بکثرت مجتمع ہوتی ہے اگر اتصال نہ ہو وہ مجموعہ مرئی ہوتا ہے۔کوٹھڑی کے روزن سے دھوپ آئے تو اس میں ایك عمودمستطیل وسعت روزن کی قدر عمیق محسوس ہوتا ہے۔یہ نہایت باریك باریك اجزاء متفرقہ کا مجموعہ ہے جن کو ہباء منثورہ کہتے ہیں پراگندہ ونا متصل ان میں کوئی جز رویت کے قابل نہیں اگر تنہا ہو ہر گز نظر نہ آئے میں ان ذروں کو نہیں کہتا جو اس عمود میں جدا اڑتے نظر آتے ہیں بلکہ ان اجزاء کو جن سے وہ عمود بنا ہے اور جو ایك سحابی شکل کے سوا کسی جز کو نہیں دکھاتا ان کی لطافت اس درجہ ہےکہ اس عمود میں ہاتھ رکھ کر مٹھی بند کرو ہاتھ میں کچھ نہ آئے گا مگر کثرت اجتماع بے اقتران سے ایك جسم عمیق طویل عریض بشکل عمود محسوس ہوتا ہے بلکہ دخان و بخار کی بھی یہی حالت ہے وہ اجزاء ہوائیہ کے ساتھ اجزاء ارضیہ یا مائیہ ایسے ہی متفرق و باریك و ممتزع ہیں کہ تنہا ایك نظر نہ آئے اور اجتماع سے یہ جسم دخانی وبخاری نظر آتا ہے بعینہ یہی حالت متفرقانہ اجتماع جواہر فردہ سے احساس جسم کی ہوسکتی ہے جسم انہیں متفرق اجزاء لایتجزی کے مجموعہ کا نام ہو جن میں کوئی دو جز متصل نہیں اور ان کا تفرق نظر میں وحدت جسم کا مانع نہیں جیسے اینٹوں کی دیوار کہ ہر اینٹ دوسری سے جدا معلوم ہوتی ہے اور پھر دیوار ایك ہے تختوں کا کواڑ یا تخت کہ ہر تختہ جدا ہے اور مجموعہ ایک اکثر اجسام میں مسام محسوس ہوتے ہیں اور وحدت جسم میں مخل نہیں ہوتے مسام کا فرجہ تمہارے نزدیك انقسام غیرمتناہی رکھتاہے تو ضرور اس حد صغر کو پہنچے گا کہ مسام واقع میں ہوں اور حس میں نہ آئیں۔اگر کہیے جب کوئی دو جز متصل نہیں تو جو فرجہ ان کے بیچ میں ہے اس میں ہوا وغیرہ کوئی جسم ہے یا نہیں اگر نہیں تو خلا ہے اور اگر ہے تو اس جسم کے اجزاء میں کلام ہوگا اور بالاخر خلا ماننا پڑے گا۔
اقول:ہاں ضرور خلا ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ وہ محال نہیں۔
(۴)صغر مسام میں ایك تقریر قاطع ابھی ہم کرچکے اس کے علاوہ عادت یوں جارہی ہے کہ جب فصل بہت کم رہ جائے کہ امتیاز میں نہ آئے تو شیئ متصل وحدانی معلوم ہوتی ہے وہ واقع میں اس کا اتصال نہیں بلکہ حس مشترك میں صور کمال متقاربہ کا اجتماع اس کا باعث ہوتا ہے کہ ان کے خلاؤں میں بھی ویسی ہی صورت مدرك ہوتی ہے اور سطح واحد متصل سمجھی جاتی ہے کپڑے میں زری کے پھول بہت قریب قریب ہوں نزدیك سے دیکھئے تو ہر پھول دوسرے سے جدا اور ",
1338,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,507," بیچ میں خلا مگر دور سے سارا کپڑا مغرق معلوم ہوتا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ بوجہ بعد جس نسبت سے پھولوں کے خلا چھوٹے ہوتے گئے اسی نسبت سے پھول بھی چھوٹے ہوتے جاتےقریب سے بڑے پھول اور ان میں بڑا خلا محسوس ہوتا ہے بعید سے چھوٹے پھول اور ان میں چھوٹا خلا محسوس ہوتا مگر یہ نہیں ہوتا بلکہ خلا معدوم ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ بھی نہ ہی زری کی صورت محسوس ہو کر ساری سطح زری سے مغرق بے فرجہ معلوم ہوتی ہے ممکن کہ بعض اجسام دونوں حالتوں کے ہوں جن میں مسام نظر آئیں وہ اس کپڑے کو قریب سے دیکھنے کی حالت اور جن میں بالکل نظر نہ آئیں دور سے دیکھنے کی کہ خلا کے صغر نے سطح کو اجزا سے مغرق کردیا کہ جسم متصل وحدانی بلا مسام نظر آیا۔
(۵)ہندسہ کی بنا خطوط موہومہ پر ہے۔یہاں جب کوئی دو جز متصل نہیں ضرور ہر دو۲ جز میں ایك خط موہوم فاصل ہوگا جس کے دو۲ نقطہ طرف پر یہ دو۲ جز ہیں خطوط موہومہ ایك حد تك کتنے ہی چھوتے ہوں ان کی تقسیم وہما ہوگی یا مجاراۃ للفلاسفہیہ بھی سہی کہ ان کی تقسیم غیر متناہی ہے اس تقدیر پر یہ جسم اگرچہ فی نفسہ متصل نہیں اجزائے متفرقہ ہیں تو اجزائے واقعیہ کی طرف اس کی تحلیل قطعا متناہی ہوگی مگر وہ اتصال موہوم جس کا نام جسم تعلیمی ہے انقسام وہمی میں اس کی تقسیم غیر متناہی لاتقفی ہوگی اگر کہیے جسم تعلیمی جسم طبعی ہی کی تو مقدار ہے جب اسکی تقسیم نامتناہی تو اس کی بھی کہ یہ اسی سے متنزع ہے۔
اقول:پھر بھولتے ہو اس کی ذات سے منتزع نہیں بلکہ ہوتا تو اس کے اتصال سے اس جسم طبعی کو متصل ہی کس نے مانا ہے کہ جسم تعلیمی اس سے منتزع یا اس کی مقدار ہو وہ تو اجزائے متفرقہ ہیں جن میں خطوط فاصلہ کے تو ہم سے ایك مقدار موہوم ہوگی تو اس کی تقسیموں سے وہی موہوم منقسم ہوگا نہ کہ جسم طبعی۔
(۶)ہماری تقریر ۴ و ۵ کے ملاحظہ سے واضح کہ اتصال تین قسم ہے۔حقیقی حسی وہمی جب اقسام کا ترکب اس طور پر ہو۔اول ان میں اصلا کسی جسم کو نہ ہوگا اور ثالث جو ہر جسم کو ہے اور ثانی سے اگر یہ مراد لو کہ اگرچہ حس میں مسام ہوں مگر جسم واحد سمجھا جائے تو یہ بھی ہر جسم کو ہے اور اسی پر تمام احکام شرعیہ وعقلیہ کی بنا ہے اور اگر یہ مراد لو کہ حس اس میں اصلا تفرق کا ادراك نہ کرے تو یہ ان میں صرف بعض اجسام میں ہوگا جو املس ہوں جس طرح آئینے اور لوہے کا تختہ پالش کیا ہوا۔
(۷)ہمارادعوی نہیں کہ سب اجسام یا فلاں خاص کا ترکب اس طرح ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن کہ بعض کا ترکب اس طرح ہو اس سے تین فائدے ہوئے۔ ",
1339,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,508,"(ا)فلاسفہ کا ادعا کہ جسم کا ترکب اجزائے لاتتجزی سے نہیں ہوسکتا باطل ہوا۔
(ب)ان کا کلیہ کہ ہر جسم ہیولی و صورت سے مرکب ہے باطل ہوا۔
(ج)وہ دلائل کہ ابطال ترکب پر لائے تھے بے کار و ضائع گئے۔کما ستعرف ان شاء اﷲ تعالی(جیسا کہ عنقریب تو جان لے گا اگر اﷲ تعالی نے چاہا۔ت)
موقف دوم:اثبات جزہم اوپر بیان کرچکے کہ ہمیں اس کی حاجت نہیں صرف امکان کافی ہے تو یہ موقف محض تبرعی ہے ولہذا ہم نے عنوان مقام میں یہ کہا کہ جز باطل نہیں یعنی اس کے بطلان پر کوئی دلیل قائم نہیں نہ یہ کہ جز ثابت ہے کہ ابطال فلسفہ میں ہمیں اس کی حاجت نہیں متکلمین نے یہاں بہت کچھ کلام کیا ہے۔اور وہ ہمارے نزدیك تام نہیں اگرچہ ان میں بعض کو شرح مقاصد میں قوی بتایا لہذا ہم اس سب سے اعراض کرکے اسلامی قلوب مستقیمہ کے لیے بتوفیقہ تعالی خود قرآن عظیم سے جز کا ثبوت دیں۔
فاقول:قال المولی سبحانہ وتعالی"" و مزقنہم کل ممزق "" ۔(اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا۔ت)تمزیق پارہ پارہ کرنا۔ہم نے انکی کوئی تمزیق باقی نہ رکھی سب بالفعل کردیں۔
ظاہر ہے کہ یہاں تمز یق موجود مراد نہیں ہوسکتی۔کہ تحصیل حاصل ناممکن۔لاجرم تمزیق ممکن مراد یعنی جہاں تك تجزیہ کا امکان تھا سب بالفعل کردیا تو ضرو ریہ تجزیہ ان اجزاء پر منتہی ہوا جن کے آگے تجزیہ ممکن نہیں ورنہ کل مزق نہ ہوتا کہ ابھی بعض تمیزیقین باقی تھیں اور ہ وہ اجزاء جن کا تجزیہ ناممکن ہو نہیں مگر اجزائے لاتجزی تو اس عــــــہ تقدیر پر حاصل یہ ہوا کہ ان کے اجسام کے تمام اتصالات حسیہ ہر حصے اور ہر ہر حصے کے حصے باطل فرما کر ان کے اجزائے لاتجزی دور دور بکھیردیئے کہ اب کسی جز کو دوسرے سے اتصال حسی بھی نہ رہا۔اگر کہیے مراد تقسیم فکی ہے نہ وہمی یعنی خارج میں جتنے پارے ہوسکتے تھے سب کردیئے اگرچہ ہر پارہ وہم میں غیر متناہی تقسیم سے منقسم ہوسکتا ہے تو اجزائے لاتجزی لازم نہ آئے کہ وہ وہما بھی قابل اقسام نہیں۔
اقول:اولا:تخصیص بلا دلیل باطل و ذلیل:
عــــــہ:یعنی جب کہ ترکب اجزا سے فرض کریں ورنہ اجزائے لاتتجزی کی طرف تحلیل تو ضرور مفاد ارشاد ہے کماسیأتی ۱۲ منہ غفرلہ۔ ", القرآن الکریم ۳ ۴/۱۹
1340,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,509," ثانیا:وہم سے اگر مجرد اختراع مراد ہو تو وہ کہیں بھی بند نہیں اور اگر وہ کہ واقعیت رکھے تو ناممکن ہے جب تك واقع میں شے دون شیئ یعنی دو حصے متمائز نہ ہوں۔فکی و وہمی کا فرق انسانی علم قاصر و قدرت ناقصہ کے اعتبار سے ہے شے جب غایت صغر کو پہنچ جائے گی انسان کسی آلے سے بھی اس کا تجزیہ نہیں کرسکتا بلکہ وہ اسے محسوس ہی نہ ہوگی تجزیہ تو دوسرا درجہ ہے لیکن مولی عزوجل کا علم محیط اور قدرت غیر متناہی جب تك حصوں میں شے دون شیئ کا تمایز باقی ہے قطعا مولی تعالی عزوجل ان کے جدا فرمانے پر قادر ہے تو وہ جو تمزیق فرمائے اس میں کل ممزق وہیں منتہی ہوگا جہاں واقعی میں شیئ دون شے باقی نہ رہے اور وہ نہیں مگر جزو لایتجزی۔
موقف سوم:ابطلال دلائل ابطال:ابطال جز کے لیے فلاسفہ کے شبہات کثیر ہیں اور بحمدہ تعالی سب پادر ہوا۔شبہ ۱:کہ ان کا نقل مجلس ہے اجزاء اگر باہم ملاقی نہ ہوں گے حجم حاصل نہ ہوگا تو جسم نہ بنے گا اور ملاقی ہوں گے تو اگر ایك جز دوسرے سے بالکل ملاقی یعنی متداخل ہو جب بھی حجم نہ ہوا سب جزء واحد کے حکم میں ہوئے اور اگر ایسا نہ ہو تو ضرو رایك حصہ ملا ہوگا اور دوسرا جدا تو جز منقسم ہوگیا جواب با اختیار شق اول ہے۔
اقول:اور حصول حجم کی صورت ہم بتاچکے۔
شبہ ۲:جس میں چاك اول کا رفو چاہا ہے۔اجزاء ملاقی ہوں جب تو وہی تداخل یا انقسام ہے ورنہ ان میں خلا ہوگا۔یہ خلا کوئی وضع ممتاز رکھتا ہے یعنی اس کی طرف اشارہ حسیہ اجزاء کی طرف اشارے کا غیر ہے یا نہیں برتقدیر ثانی اجزاء میں تلاقی ہوگئی برتقدیر اول یہ خلا عدم صر ف نہیں کہ ذی وضع ممتاز ہے اب ہم اسے پوچھتے ہیں یہ اجزاء سے ملاقی ہے یا نہیں اگر نہیں تو عدم صرف ہوا اس سے حجم کیا پیدا ہوگا۔حجم تو یوں ہوتا کہ ایك جز یہاں ہے ایك وہاں بیچ میں خلا ہے اور اگر ہاں تو بالکل ملاقی یعنی اجزاء کے ساتھ متداخل ہے جب بھی حجم نہ ہوا اور بالبعض ملاقی ہے تو جزء منقسم ہوگیا۔(سندیلی علی الجونفوری)
اقول:اولا:خط اب اپنے دونوں نقطہ طرف ا وب سے ملا ہے یا جدا برتقدیر ثانی یہ نقطے اس کی طرف کب ہوئے کہ طرف شیئ شے سے منفصل نہیں ہوتی برتقدیر اول بالکل ملاقی یعنی نقطوں سے متداخل ہے تو خط کب ہوا کہ اس کو امتداد چاہیے اور اگر بالبعض ملاقی ہے تو نقطہ منقسم ہوگیا۔ ",
1341,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,510," ثانیا:وھوالحل:جہالت کے سر پر سینگ نہیں ہوتے شق اخیر مختار ہے یہ خلا ذو وضع ہے اور اجزا سے ملاقی ہے اور ملاقات بالبعض ہے اور منقسم خلا ہوا نہ کہ جز ہر دو جز کے بیچ میں خلا ایك خط موہوم ہے جس کے دونوں نقطہ طرف دونوں جز واقع فی الطرف پر منطبق ہیں اور بیچ میں امتداد خطی تو یہ خلاوخط منقسم ہیں نہ کہ اجزاء و نقطہ۔
شبہ ۳:دوسرا رفو یوں چاہاکہ ہم اس خلا کو اجزاء سے بھریں گے تو ہم تو تلاقی اجزاء ہوجائے گی اور اگر کبھی نہ بھرسکے تو خلا کی تقسیم غیر متناہی ہوئی تو جسم کی تقسیم غیر متناہی لازم آئی۔اور یہی مطلوب ہے۔اور اگر بھر جائے اور ایك جز سے کم کی جگہ رہے تو جز منقسم(سندیلی)
اقول:اولا:دو۲ جزوں کا ملنا محال تو بھرنے کا قصد قصہ محال جیسے کوئی کہے کہ خط ا ب میں ہم برابر نقطے رکھیں گے اب تین حال سے خالی نہیں یا متناہی نقطوں سے بھرے گا یا غیر متناہی سے کہ دو حاصروں میں محصور ہوں گے یا نہ بھرے گا یعنی ایك نقطہ سے کم کی جگہ خالی رہے گی کہ موجب تقسیم نقطہ ہے اور بہر صورت تتالی نقاط لازم اس سے یہی کہا جائے گا کہ احمق دو نقطے برابر ہوسکتے ہی نہیں نہ کہ متوالی نقطوں سے خط بھرنے کی ہوس۔
ثانیا:خدا کی تقسیم لامتناہی ہونے سے امتداد موہوم کی تقسیم نامتناہی ہوئی نہ کہ جسم کی۔
ثالثا:اگر نظر میں یہ تقسیم جسم ہونے سے واقع میں اس کی تقسیم ہوجائے تو کیا ایسی ہی غیر متناہی تقسیم مطلوب تھی کہ جسم کا تالف اجزائے لاتتجزی سے اور ان کے خلاؤں کے ذریعہ سے جسم کی تقسیم نامتناہی لا متناہی قسمت تو جز سے بھاگنے کو لیتے تھے جب اجزاء موجود پھر لاتناہی پر خوشی کا ہے کی۔
شبہ ۴:اجائے جسم میں جو چیز دو کے بیچ میں ہے وہ ان کو تلاقی سے مانع ہے ورنہ تداخل ہوگا حجم نہ بنے گااور یہ ممانعت یوں ہی ہوگی کہ ایك طرف سے ایك جز سے ملا ہو دوسری طرف سے دوسرے جز سے تو ضرور یہ طرفین ممتاز فی الوضع ہوں گی کہ ہر ایك کی طرف اشارہ جدا ہوگا جب تو ایك طرف سے اس سے دوسری سے اس سے ملنا ہوگا اور جب اس کے لیے طرفین ممتاز فی الوضع ہیں تو ضرور اس میں شے دون شے فرض کرسکتے ہیں تو انقسام ہوگیا اگرچہ وہما۔
اقول:یہ وہی شبہ اولی بعبارت اخری ہے اور جواب واضح نہ کوئی جز دوسرے سے ملا نہ دو جزوں کا مانع لقابلکہ تھامانع بیچ کا خلا جیسے نقطتین طرف کو امتداد خط۔
شبہ ۵:ایك جز دو۲ جزوں کے ملتقی پر ہوسکتا ہے اور جب ایسا ہوگا جزو لا یتجزی نہ ہوگا کہ ملتقی پر ہونے کے یہی معنی کہ اس کا ایك حصہ ایك جز پر ہے دوسرا دوسرے پر لیکن ملتقی پر ",
1342,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,511," ہوسکنا ثابت ہے تو لا یتجزی ہونا باطل۔
اقول:وہ تو باطل نہیں بلکہ ایك جز کا دو کے ملتقی پر ہونا ہی باطل ہےکہ اتصال جزئین محال اس کا امکان تین وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔
(۱)جب مسافت اجزائے لاتتجری سے مرکب ہے اور ایك عــــــہ جز اس پر حرکت کرے یعنی اس کے ایك جز سے منتقل ہو کر دوسرے جز پر آئے تو ظاہر ہے کہ دونوں جز اس حرکت کے مبدء و منتہی ہوئے اور حرکت نہ مبدء میں ہوتی ہے نہ منتہی میں بلکہ بینھما تو ضرور حرکت اس جز کے لیے اسی وقت ہوئی جب ان دونوں کے بیچ میں تھا یہی ملتقی پر ہوتا ہے۔
اقول:سب اعتراضوں سے قطع نظر مسافت کے دو جز متصل ہونا محال بلکہ ہر دو جز میں ایك امتداد موہوم فاصل ہے۔جز متحرك وقت حرکت اس امتداد میں ہوگا۔
(۲)ایك خط اجزائے زوج مثلا چھ جز ۱ ب ج ء ہ ر سے مرکب فرض کریں خط کے اوپر ا کے محاذی ایك جزح ہے اور خط کے نیچے ر کے محاذی ایك جز ط اس شکل پر ح ا ح ب خ غ ہ ط د ا ب فرض کرو کہ ح ط کی طرف اور ط ح کی طرف مساوی چال سے چلے تو ضرور بیچ میں ایك دوسرے کی محازات میں آئیں گے یہ محاذات نہ نقطہ ح پر ہوگی جب تك ح نقطہ ح پرآئے گا۔ط نقطہ ع پر ہوگا ابھی محاذات تك نہ آیا نہ نطقہ ع پر ہوگی کہ جب ح نقطہ ء پر آئے گا ط نقطہ ح پر پہنچے گا محاذات سے گزر گیا ہوگا ضرور ج و ع کے بیچ میں ہوگی تو اس وقت ح ط دونوں ج و ع کے ملتقی پر ہوں گے۔
اقول:یہ بھی اتصال اجزاء پر مبنی اور وہ محال بلکہ ج و ء میں امتداد موہوم ہے اس کے منتصف پر یہ محاذات ہوگی۔
(۳)ایك خط اجزائے طاق مثلا پانچ جز ۱ ب ح ء ہ سے مرکب میں خط کے اوپر دو جز ح و ط ہوں ایك ا پر دوسراہ پر اور ایك دوسرے کی طرف ایك چال سے چلیں تو ضرور جزاء و سطانی ح پر آکر ملیں گے تو ح ان دونوں کے ملتقی پر ہوا۔
اقول:یہ فرض محال ہے وہ مساوی چال سے چلیں یا مختلف سے یا ایك چلے دوسر اساکن
عــــــہ:اقول:جز کا ان اجزاء سے ملنا ہی محال ہے مگر حرکت بلا اتصال بہ تبدل محاذات بھی ہوسکتی ہے لہذا ہم نے فرض پر کلام نہ کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔ ",
1343,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,512," رہے۔بہرحال محال ہے کہ کہیں مل سکیں کہ اتصال جزئین ممکن نہیں جیسے دو جسم کہ ایك دوسرے کی طرف مساوی یا مختلف سیر سے چلیں یا ایك ہی چلے بہرحال بعد تلاقی وقوف وواجب کہ تداخل محال یہاں قبل تلافی وقوف لازم کہ اتصال محال بقائے میل موجب حرکت نہیں جب کہ کوئی مانع ہو اور لزوم محال سے بڑھ کر اور کیا مانع وہاں امتناع تداخل نے تلاقی پر حرکت روك دی اگرچہ میل باقی ہو یہاں استحالہ اتصال قبل تلاقی روك دے گا اگر کہیے کہاں روکے گا جہاں رکیں ضرور ان میں ایك امتداد موہوم فاضل ہوگا جس کی تقسیم نامتناہی ہوسکتی ہے۔تو ممکن ہے کہ ابھی اور بڑھیں اور ہمیشہ یہی سوال رہے گا۔
اقول:یہ وہ سوال ہے جو تم پر وارد کیا گیا کہ جب مسافت کی تقسیم نامتناہی ہے تو محال ہے کہ کوئی متحرك اسے قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع ہوجائے گا وہی جواب یہاں ہے یوں نہ سمجھو تو یوں سہی آیا کبھی وہ وقت آئے گا کہ اب ان کی حرکت موجب تلاقی ہو یا بوجہ لامتناہی تقسیم کبھی نہ آئے گا برتقدیر ثانی غیر متناہی چلے جائیں گے اور کبھی نہ ملیں گے کہ کوئی جز ان کے ملتقی پر ہو اور برتقدیر اول جہاں وہ حرکت رہے گی کہ اب ملادے وہیں رك جانا واجب ہوگا۔
شبہ۶:بارہا حرکت سریعہ و بطیئہ متلازم ہوتی ہیں۔(اسے بوجوہ ثابت کیا ہے ان سے تطویل کی حاجت نہیں ایك مثال آسیابس ہے)ظاہر ہے کہ چکی کا دائرہ قطبیہ(جو اس کی کیلی کے پاس ہے)چھوٹا ہے اور دائرہ طوقیہ(جو اس کے بیرونی کنارے پر رہے۔)بڑا ہے دونوں دائروں پر ایك ایك جز لیجئے یقینا دونوں ایك ساتھ دورہ پورا کریں گے۔جز قطبی نے جتنی دیر میں یہ چھوٹا دائرہ طے کیا اتنی ہی دیر میں جز طوقی نے وہ بڑا دائرہ تو اس کی بطیہ اس کی سریعہ متلازم ہیں۔فرض کیجئے کہ دائرہ طوقیہ دائرہ قطبیہ کا دس گناہ ہے تو جتنی دیر میں جز قطبی ایك جز مسافت طے کرے گا ضرور ہے کہ جز طوقی دس جز چلے گا تو طوقی جتنی دیر میں ایك جز قطعی کرے گا قطبی ایك جز کا دسواں حصہ چلے گا تو جز منقسم ہوگیا۔یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایك جز چلا اتنید یر میں قطبی بھی ایك جز چلا تو جز منقسم ہوگیا یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایك جز چلا اتنی دیر میں قطبی بھی ایك جز چلا تو سریعہ و بطیہ برابر ہوگئیں اور ایك جز سے زائد چلا تو بطیئہ سریعہ سے بڑھ گئی اور دونوں باطل ہیں۔لاجرم ایك جز سے کم چلے گا اور یہی انقسام ہے۔ اس شبہ نے متکلمین کو بہت پریشان کیا۔نظام تو طغرے کا قائل ہوا یعنی مثلا ایك اور دس کی نسبت ہے جو قطبی جتنی دیر میں ایك جز متصل پر منتقل ہوا طوقی اتنی ہی دیر میں بیچ سے نو جز چھوڑ کر دوسویں جز پر ہوجائے گا تو طوقی نے ایك سے لے کر نو جز تك قطع ہی نہ کئے کہ اتنی دیر میں قطبی کے لیے جز کا کوئی حصہ ہو بلکہ ",
1344,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,513," دونوں ایك ہی ایك جز چلے مگر یہ جز متصل اور وہ نو جز کے بعد والا جز تو سریع وبطی برابر بھی نہ ہوئیں اور متلازم بھی رہیں اور انقسام جز بھی نہ ہوا مگر یہ ایسی بات ہے جسے کوئی ادنی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا کہ متحرك بیچ میں اجزائے مسافت کو ایسا چھوڑ جائے کہ نہ انہیں قطع کرے نہ ان کے محاذی ہو اور دفعۃ ادھر سے ادھر ہو رہےکم از کم نو جزوں کی محاذات پر توگزرا اور ہر جز کی محاذات ایك حصہ حرکت سے ہوئی اتنی دیر میں جزء قطبی ساکن رہا تو حرکتین کا تلازم نہ ہوا اور محترك ہوا تو ضرور ایك جز سے کم قطع کیا۔ہمارے متکلمین تلازم حرکتین کے منکر ہوئے اور مان لیا کہ جب تك طوقی مثلا نوجز چلے قطبی ساکن رہے گا جب وہ نویں سے دسویں پر آئے گا یہ اپنے پہلے سے دوسرے پر ہوجائے گا تو نہ ساتھ چھوٹا نہ سریعہ و بطیئہ برابر ہوئیں نہ جز کا انقسام ہوا اس پر رد کیا گیا کہ ایسا ہو تو چکی کے اجزاء سب متفرق ہوگئے کہ طوقی چلیں گے اور قطبی ساکن رہیں گے یوں ہی بیچ والے اپنے اپنے لائق ٹھہریں گے کہ معیت باقی رہے تو چکی اگرچہ کیسے ہی مضبوط لوہے کی ہو اس کے تمام اجزائے لاتتجزی گھماتے ہی سب متفرق ہوجائیں گے اور ٹھہراتے ہی سب بدستور ایسے جم جائیں گے کہ ہزاز حیلوں سے جدا نہ ہوسکیں پھر ہر دائرے کے اجزاء کو اتنی عقل درکار کہ مجھے اتنا ٹھہرنا چاہیے کہ ساتھ نہ چھوٹے اس کا جواب التزام سے دیا کہ ہاں یہ سب کچھ فاعل مختار عزجلالہ کے ارادے سے ہو تا ہے فاعل مختار پر ہمارا ایمان فرض ہے مگر بداہت عقل شاہد کہ وہ ایسا کرتا نہیں جس طرح ممکن ہے کہ وہ پلنگ جس پر سے ہم ابھی اٹھ کر آئے ہیں اس کے پائے علماء فضلا ہوگئے ہوں۔ومسلم الثبوت کاد رس دے رہے ہوں قطعا قادر مطلق عزمجدہ کی قدرت اسے شامل مگر ہم یقینا کہ ایسا ہوتانہیں معہذا چکی نہ سہی خود اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر ایڑھیاں جماکر گھومے تو قطعا اس کے ہاتھوں کی انگلیوں نے جتنی دیر میں بڑا دائرہ طے کیا پاؤں کی انگلیوں نے اتنی ہی دیر میں چھوٹا دائرہ تو ان کی ایك جز مسافت کے مقابل ان کے لیے جز کا حصہ آئے گا یا آدمی کے اجزاء بھی چکی کی طرح متفرق ہوجائیں گے آدمی ریزہ ریزہ پاش پاش ہوگیا اور اسے خبر نہ ہوئی اس کا الزام کیونکر معقول انفار متفلسفہ کو اس طغرہ و تفریق اجزاء پر بہت قہقہے لگانے کا موقع ملا ابن سینا سے متشدق جونپوری تك سب نے اس کا مضحکہ بنایا۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق:(اور میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ت)بات کچھ بھی نہیں مسافت اگر جواہر فردہ سے مرکب ہوگی ہر گز دو جوہر متصل نہ ہوں گے ان میں ",
1345,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,514," امتداد موہوم فاصل ہوگا اب جز طوقی کی مسافت میں اگر اجزائے مسافت جز قطبی کے برابر ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ایك اور دس کی نسبت میں ان کا فاصلہ ان کے فاصلے سے دس گناہ ہوگا طوقی جتنی دیر میں ایك جز قطع کرے گا اتنی ہی میں قطبی بھی مگر مساوات نہ ہوئی
کہ اس نے بڑی قوس قطع کی اور اس نے چھوٹی اس شکل پر طوقی ا پر تھا اور قطبی ہ پر جب وہ ایك جز طے کرے گا یعنی ب پر آئے گا۔یہ بھی ایك جز چلے گا ر پر ہوگا اس نے قو س ا ب قطع کی اور اس نے قوس ہ ر اور اگر مسافت طوقی میں اجزائے مسافت قطبی سے زائد ہیں مثلا ا ب میں دس جز ہیں اور ر ہ میں یہی دو اس شکل پر تو جب طوقی ایك جز چلے گا یعنی ا سے ح پر ہوگا قطبی ایك جز نہ چلے گا بلکہ جب وہ نوجز چل کر اسی ب پر آئے گا یہ ایك جز چل کر ہ سے ر پر ہوگا اور جز کا انقسام نہ ہوا بلکہ امتداد فاصل کا یعنی جب طوقی ا سے ح پر آئے گا۔قطبی اس فاصلے کا جوہ سے ر تك ہے نواں حصہ قطع کرے گا۔جب وہ ء پر ہوگا یہ اس فاصلے کا ۹/۲ طے کرے گا وھکذا تو نہ طغرا ہوا نہ تفریق اجزا نہ انقسام جز نہ تساوی حرکتیں نہ ان کا تلازم اصلا کوئی محذور لازم نہیں۔وﷲ الحمد وہ سارے مصائب اتصال اجزا ماننے پر تھے اور وہ خود محال۔
امیج بنانی ہے جلد ۲۷ ص ۵۴۵
شبہ ۷:تلازم سریعہ وبطیئہ جن وجوہ سے ثابت کیا جن کو جھوڑ دیا کہ وہ خود ہمیں مسلم ہے حاجت اثبات نہیں ان میں سے ایك وجہ کو خود مستقل شبہ کرتے ہیں۔یوں کہ ایك خط عــــــہ فرض کیجئے تین جز سے
عــــــہ:سیالکوٹی نے شرح مواقف میں اس سے یہ جواب دیا کہ اصحاب جز ایك جزو منفرد کا وجود ہی نہیں مانتے اس کی حرکت درکنار اور یہ جواب شرح مقاصد سے ماخوذ ہے اور اس نے تیسری وجہ اور مستفادکہ ان وجود پر حرکت کے قائل نہیں جن سے محال لازم آتا ہے۔
اقول:یہ جواب اگر صحیح ہو تو شبہ پنجم کی وجوہ ثلاثہ سے بھی ہوسکے مگر اس کی صحت میں نظر ہے جز من حیث ہو جز ضرور منفرد نہ ہوگا مگر جب جزو لایتجزی ممکن جو ہر فرد کیوں ناممکن اور جب وہ ممکن تو اس کی حرکت کیوں محال اور جب حرکت ممکن تو اس کی حرکت میں کیا استحالہ بداہت عقل(باقی برصفحہ ائندہ) ",
1346,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,515," مرکب ۱ ب ح دوسرا دو جز سے ء ہ یہ دوسرا اس سے پہلے پر ہے یوں کہ ا کے مقابل ء اور ب کے محاذی ہ اور اس دوسرے پر ایك جز ر اس کے ء پر ہے۔اس شکل پر اب فرض کر و خط ء ہ خط ا ب ح پر بقدر ایك جز کے حرکت کر لے تو ضرور ر کہ اس پر رکھا ہے بالعرض وہ بھی متحرك ہوگا اگر خود حرکت نہ کرتا اس حرکت سے یہ شکل ہوجاتی ر ا سے منتقل ہو کر ب پر آیا ہ ب سے چل کر أ ب ہ ح ح پر اور ر حرکت عرضیہ کے سبب ء ہ ا سے ہٹ کر ب پر لیکن فرض کرو کہ اس نے اپنی ذاتی حرکت بھی ایك جز کی تو شکل ا ب ج یوں ہوئی ر کہ ر ایك جز حرکت عرضیہ سے ہٹا ورنہ ایك جز حرکت ذاتیہ سے اور ا سے ا ب ء ج ہ ح کے مقابل ہوگیا تو جتنی دیر میں ر نے اپنی مجموعی حرکتین سے دو جز قطع کیے ب و ج اتنی دیر میں ء نے ایك ہی جز طے کیا ب تو جتنی دیر میں ر اپنی مجموع حرکتین سے ایك جز قطع کرکے ب کے محاذی آیا ہوگا ظاہر ہے کہ اتنی دیر میں ء نے ب سے کم قطع کیا ہوگا تو جز منقسم ہوگیا۔
اقول:یہ سب ملمع ہے اولا ر کا خط ء ہ سے اتصال کہ اس کی حرکت سے حرکت عرضیہ کرے محال کہ اتصال جزئین ممکن نہیں۔
ثانیا:ا ب ح سب اجزائے متفرقہ ہیں ا ور ان میں امتداد فاصل تو جتنی دیر میں ر مجموع حرکتین سے ب کے محاذی ہوگا اتنی دیر میں ء اس نصف امتداد کو طے کرے گا جو ا و ب میں ہے نہ کہ نصف جز کو۔
شبہ ۸:وجوہ تلازم سریعہ وبطیہئ سے ایك اور وجہ کو حکمۃ العین میں مستقل شبہ قرار دیا اس کا ذکر بھی کردیں کہ کوئی متروك نہ سمجھے۔
اقول:اس کا ایضاح یہ کہ ایك لکڑی زمین میں نصب کرو طلوع آفتاب کے وقت اس کا سایہ روئے زمین پر جانب مغرب پھیلا ہوگا جس کی مقدار دائرہ زمین کے ایك حصہ کی قدر ہوگی آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا سایہ سمٹتا آئے گا یہاں تك کہ جب آفتاب آسمان کا ربع دائرہ قطع
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
شاہد ہے کہ متحرك کے لیے اس نحو حرکت میں کوئی استحالہ نہیں تو وہ ناشی نہ ہوا مگر فرض جو ہر فرد فاہم با ایں ہمہ جب ان سب کے تسلیم پر ہمارے پاس جواب شافی موجود ہے تو ان کے انکار کی کیا حاجت وہ بھی بشکل مدعی کہ بار ثبوت ہم پر ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ",
1347,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,516," کرکے نصف النہار پر پہنچے گا سایہ اپنی انتہائے کمی کو پہنچے گا اگر آفتاب اس جگہ کے سمت الراس سے جنوب یا شمال کو ہٹا ہوا ہو اور عین سمت الراس پر ہو تو سایہ منعدم ہوجائے گا۔بہرحال جتنی دیر میں آفتاب نے اپنے فلك کا ربع دائرہ قطع کیا کہ کروڑوں میل ہے اتنی دیر میں سایہ نے دائرہ زمین کا یہ حصہ قطع کیا جس پر وقت طلوع پھیلا ہوا تھا یا اس سے بھی کچھ کم اگر دوپہر کو بالکل منعدم نہ ہوگیا یہ سریعہ وبطیئہ کا تلازم تھا اور یہیں سے ظاہر کہ آفتاب جتنی مقدار قطع کرے گا سایہ اس سے بھی بہت کم کہ اسے یہ چھوٹی مسافت آفتاب کی اس بڑی مسافت کے ساتھ ساتھ قطع کرنا ہے تو اسی نسبت سے اس کے بڑے حصوں کے مقابل اس کے چھوٹے حصے پڑیں گے اور شك نہیں کہ آفتاب کا ارتفاع انتقاض ظل کی علت ہے اب اگر مسافت اجزائے لاتتجزی سے مرکب ہو اور فرض کریں کہ آفتاب نے ایك جز قطع کیا تو سایہ اتنی دیر میں اگر ساکن رہے یعنی نہ گھٹے تو معلول کا علت سے تخلف ہو اور یہ محال ہے اور اگر حرکت کرے یعنی گھٹے تو اس کی حرکت بھی اگر ایك جز یا زائد ہو تو بطیہ سریعہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر ہوگئی لاجرم ایك جز سے کم ہوگی اور یہ انقسام ہے۔
اقول:قطع نظر اس سے کہ سایہ کوئی شے باقی مستمر متحرك متزائد یا متناقض نہیں آفتاب دو لمحہ ایك مدار پر نہیں رہتا اور ہر مدار کی تبدیل پر پہلا سایہ معدوم ہو کر دوسرا جدید حادث ہوگا کہ اس وقت جو حصہ زمین مواجہ شمس تھا اب مستور ہے اور جو مستور تھا اب مواجہ ہے اور ہر نیا طلوع سے دوپہر تك کم حادث ہوگا اور دوپہر سے غروب تك پہلے سے زائد نہ کہ ایك ہی سایہ گھٹتا بڑھتا رہا تو یہاں نہ کوئی حرکت ہے نہ متحرك نئے نئے سائے مختلف المقدار ہر لمحہ جدید پیدا ہونے کو مجازا حرکت کہہ لو جواب وہی ہے کہ مسافت میں اجزاء متصل نہیں بلکہ متفرق اور ان میں امتدادات و ہمیہ فاصل تو ایك جز سے دوسرے پر آفتاب نہ آئے گا مگر ایك امتداد طے کرکے سایہ اس کے حصوں میں سے کوئی حصہ کم ہوگا جیسا جز طوقی وقطبی کے حرکات میں گزرا بالجملہ اجزا نہیں مگر حدود مسافت کی طرح جن کی لحظہ بلحظہ تبدیل سے حرکت تو سطیہ و متحرك کو بین الغایتین جدید نسبتیں حاصل ہوتی ہیں اور حرکت قطعیہ میں انہیں کی موافات ہوتی ہے اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدود بلاشبہ نقاط غیر منقسمہ ہیں آفتاب جتنی دیر میں ایك حد طے کرے سایہ ضرور اس سے کم طے کرے گا ورنہ سریعہ وبطیئہ برابر ہوجائیں گی تو نقطہ منقسم ہوگیا اس کا جواب یہی دو گے کہ دو۲ نقطے متصل نہیں وہی جواب یہاں ہے۔
شبہ ۹:جز متناہی ہے اور ہر متناہی متشکل اب اگر مضلع ہو تو جانب زاویہ غیر جانب ضلع ",
1348,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,517," ا نقسام ہوگیا اور اگر کرہ ہو تو جب کرے ملیں(یعنی دو کرے متصل ہوں اور تیسرا ان دونوں کے اوپر)ضرور فرجہ کہ بیچ میں رہا ہر کرے سے چھوٹا ہوتا ہے تو جز منقسم ہوگیا(متن و شرح حکمۃ العین)
اقول: اولا:جز کا متناہی یعنی صاحبف نہایت ہونا مسلم نہیں متناہی وغیر متناہی امداد کے اقسام ہیں ولہذا تصریح کرتی ہیں کہ خط کے لیے جہت بمعنی نہایت صرف دو ہیں عرض میں وہ امتداد ہی نہیں رکھتا کہ نہایت ہو۔
ثانیا:اگر تناہی عدم امتداد کو بھی شامل مانیں تو شکل بے امتداد ممکن نہیں کہ وہ ایك یا زائد حدود کے احاطہ سے بنتی ہے احاطہ کو دو چیزیں درکار محیط و محاط اور اثنینیت بے امتداد معقول نہیں۔ہر متشکل متناہی ہے ہر متناہی متشکل نہیں جیسے نقطہ وہ اور جز خود اپنے نفس کے لیے حد ہیں نہ کہ ان کو کوئی حد محیط۔
ثالثا:ہم فرض کرتے ہیں کہ کرے ہوں گے اور فرجے رہنا اتصال پر موقوف اور وہ محال اگر کہیے اتصال محال سہی مگر عقل حکم کرتی ہے کہ اگر متصل ہوتے ضرور ان کے فرجے ان سے چھوٹے ہوتے امتناع اتصال اس حکم عقل کا نافی نہیں تو ضرور فی نفسہ ان میں اس کی صلاحیت ہے کہ ان سے چھوٹی مقدار پیدا ہو اگر چہ خارج سے وہ صورت محال ہے۔
اقول:اولا:یہ جب تھا کہ نظر بنفس ذات ان کا اتصال ممکن اور خارج سے محال یا بغیر ہوت امگر ہم بتا آئے کہ جز کی نفس ذات آبی اتصال۔
ثانیا:حل یہ کہ یہاں یہ حکم عقل ہر گز نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر متصل ہوتے متداخل ہوتے کہ ایك طرف سے ملنے دوسرے طرف سے جدا ہونے کی ان میں اصلا صلاحیت نہیں جیسے دو خط جب اپنے طول میں ایك دوسرے کی طرف متحرك ہوں ملتے ہی انکے دونوں نقطے متداخل ہوجائیں گے نہ کہ متجاوز رہیں اور جب متداخل ہوتے فرجے کدھر سے آتے اگر کہیے نقطے عرض ہیں ان کا تداخل ممکن یہ تو جوہر ہیں ان کا تداخل کیونکر ممکن۔
اقول:جبھی تو ان کا اتصال محال ہوا کہ وہ بے تداخل ناممکن تھا اور تداخل محال اگر کہیے ہم تو نفس حکم عقل برتقدیر اتصال میں کلام کرتے ہیں۔
اقول:ہاں اس فرض مخترع پر ضرور انقسام ہوجاتا اور حرج نہیں کہ محال محال کو مستلزم ہو ا جیسے فلسفی اگر حمار ہوتا ضرور ناہق ہوتا اور اس تقریر پر تمہیں اس سارے تجشم تشکل و مضلع وکرہ وفرجہ کی حاجت نہ تھی کہ ان کا نفس اتصال بلا تداخل ہی موجب انقسام۔ ",
1349,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,518," رابعا:مستدل نے عبث تطویل کی نفس کرویت ہی مستلزم انقسام کہ اس میں فرض مرکز و محیط سے چارہ نہیں اور سر اس میں وہی ہے کہ شکل بے امتداد ناممکن اور اسی میں اس کا جواب ہے کہ جب جز میں امتداد نہیں شکل کہا۔
شبہ ۱۰:کرے پر منطقہ اپنے تمام موازی دائروں سے بڑا ہے اب اگر کسی موازی میں اس کے ہر جز کے مقابل ایك جز ہے تو جز و کل مساوی ہوگئے کہ دونوں میں اجزا برابر ہیں لاجرم لازم کہ اس کے ایك جز کے مقابل اس میں ایك جز سے کم ہو اور یہی انقسام ہے۔
اقول:اجزا کسی میں متصل نہیں ان میں امتدا د فاصل ہیں تو اولا ممکن کہ دونوںمیں جزا مساوی ہوں اور کروں کی تساوی نہ ہو کہ بڑے میں اجزا زیادہ فصل پر ہوں گے چھوٹے میں کم پر۔
ثانیا:بلکہ ممکن کہ چھوٹے میں اجزا زائد ہوں اور بڑا زیادت امتداد سے بڑآ ہو۔
ثالثا:اگر کم ہی ہوں تو جز منقسم نہ ہوگا بلکہ امتداد کما مرمرارا(جیسا کہ متعدد بار گزر چکا ہے۔ت)
شبہ ۱۱:جب کسی شاخص کا ظل اس کا دو چند ہوجائے جیسا وقت عصر حنفی میں تو نصف ظل ظل نصف ہوگا۔اب اگر وہ شاخص خط جوہری اجزائے طاق مثلا پانچ سے مرکب ہے تو اس کی تصنیف جز کی تصنیف کردے گی۔
اقول: اولا:بدستور امتداد کی تنصیف ہوگی اور اگر اس کے منتصف پر کوئی جز نہیں جب تو ظاہر اور اگر ہے تو وہی جز نصفین میں حد فاصل ہوگا نہ کہ منقسم۔
ثانیا:یہ اس پر مبنی کہ خط جوہری کا سایہ پڑے اور یہ مسلم نہیں کہ وہ حاجب نہیں ہوسکتا کما سیأتی(جیساکہ آگے آئے گا)۔
شبہ۱۲:جسم اگر اجزا سے مرکب ہوتا جز اس کا ذاتی ہوتا تو اس کے لیے بین الثبوت ہوتا کہ اس کے تعقل سے پہلے متعقل ہوتا تو نہ محتاج اثبات ہوتا نہ کہ اکثر عقلا اس کے منکر۔
اقول:ایك یہ شبہ عقل فلاسفہ کے قابل ہے میں اس کی حکایت کو اس کے رد سے مغنی رکھوں گا اور صرف اتنا کہوں گا کہ جسم اگر ہیولی و صورت سے مرکب ہوتا ہیولی اس کا ذاتی ہوتا تو اس کے لیے بین الثبوت ہوتا۔الخ اب کہو گے ہیولی تو جز ء خارجی ہے نہ کہ عقلی۔
اقول:پھر جز میں اسے کیوں بھولے۔ ",
1350,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,519," شبہ ۱۳:تین خط اجزائے لاتتجزی سے مرکب آپس میں متماس فرض کریں ان میں ایك فلك الافلاك کے قطر پر منطقہ ہو او ر اس کے ایك جانب خط ا ب دوسری طرف خط ح ء اس شکل پر
امیج بنانی ہے جلد ۲۷ ص ۵۵۰
اور ا سے ء تك ایك خط ملائیں ضرور یہ خط ا ء ایك قطر فلك الافلاك پر ہوگا کہ اس کے مرکز پر گزرا ہوا دونوں طرف محدب سے ء ا ملاصق ہے تو ثابت ہوا کہ اگر خط کا اجزا سے ترکب ممکن ہو تو فلك الافلاك کا قطر تین جز کی قدر ہو اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ درکار(حواشہ فخریہ)
اقول:توجیہ و تقریب یہ ہے کہ ہ ر قطر ہے اور ا ب ح ء اس کے مقارن و موازی چاروں طرف اس کے مساوی فصل پر ہیں تو ا ہ۔ہ۔ج۔ب ر۔ر ء چاروں قوسین برابر ہیں تو ان کے یہ چاروں زاویہ ا ہ ر ج ہ ر۔ب ر ہ۔ء ر ہ کہ مساوی قوسوں پر پڑے مساوی ہیں۔
تو مثلث(ا ہ ن ۶ ء ر ن)سے یہ دونوں زاویہ اور قوسین(ا ہ ۶ ء ر)اور دونوں زاویہ(ن)بوجہ تقاطع برابر ہیں تو بحکم شکل(۲۶ ہ ن = ن ر۔)لاجرم ن جس پر خط ا ء گزرا مرکز ہے اور وہ ا ن ء دونوں کنارے محدب پر بھی گزرا ہے تو قطر فلك الافلاك ہے اور ضرور وہ ان تین خطوں سے ایك ہی ایك جز لے گا ا ب سے ا ہ ر سے(ن ج ء)سے ء کہ اگر طرفین میں کسی سے دو جز پر گزرے تو زاویہ پیدا ہو کر دو خط ہوجائے گا یوں(ن /ح)اور وسطانی سے دو جز لے تو دو زاویے پیدا ہو کر تین خط یوں(ا۔ن ح۔یا ا ح ن ء)تو ثابت ہوا کہ قطر فلك الافلاك صرف تین جزء لایتجزی کے برابر ہوگا۔یہ تقریر شبہ ہے علامہ بحر العلوم قدس سرہ نے حواشی صدرا میں اس کا یہ رد فرمایا کہ اصل جز پر اس وصل خط کا امکان ممنوع۔
اقول:ہر دو نقطوں میں وصل خط اگرچہ وہما کا امکان بدیہی ہے صالح انکار نہیں رہا یہ کہ پھر جواب صحیح کیا ہے۔
اقول:واضح ہے خطوط جوہری کا اتصال محال ضرور ان میں امتداد فاضل ہوگا۔ا سے مرکز تك نصف قطر فلك الافلاك ہوگا اور مرکز سے ء تك دوسرا نصف۔
شبہ ۱۴:ہر متحیز کی داہنی جانب بائیں کی غیر ہوگی یونہی تمام جہات مقابلہ اور یہ حکم بدیہی ہے تو قطعا ہر متحیز جمیع جہات میں منقسم ہوگا تو نہ ہوگا مگر جسم تو جوہر فرد و خط جوہری وسطح جوہری خود ہی محال ",
1351,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,520," ہیں نہ کہ ان کا جسم سے ترکب(مواقف و شرح)ماد متحیز سے متحیز بالذات ہے کہ اسی کو جہات درکار بخلاف نقطہ و خط وسطح عرضیات کہ ان کا تحیز بہ تعبیت جسم ہے توان کے لیے جہات متصور نہیں۔(سید)ملا عبدالحکیم نے حاشیہ میں جواب دیا کہ یہ بدہات بداہت وہم ہے مالوف و معہود اشیائے منقسمہ ہیں ان میں جہات ایسی ہی ہوتی ہیں وہم سمجھتا ہے کہ سب میں یونہی ضرور ہیں۔)حالانکہ غیر منقسم کا منقسم پر قیاس باطل ہے وہ بذات خود ہر شے کا محاذی ہوگا جیسے نطقہ مرکز کہ خود ہی تمام نقاط محیط کا محاذی ہے نہ یہ کہ جدا جدہ حصوں سے ہر نقطے کی محاذات کرے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ محاذات ایك امر اعتباری ہے کہ دو چیزوں کی ایك وضع خاص سے منتزع ہوتی ہے اس کے لیے ایك طرف سے تعدد بس ہے دونوں طرف تعدد کی کیا حاجت جیسے ایك با پ کے دس۱۰ بیٹے ہوں اس کے لیے ہر ایك کے اعتبار سے ایك ابوت ہونا اس کی ذات میں تعدد کا باعث نہیں ہاں اگر محاذات کوئی عرض قائم بالمحل ہوتی تو ضرور ہر محاذات کے لیے محل جدا گانہ درکار ہوتا اور انقسام لازم آتا انتہی یہ جواب باول نظر ہمارے خیال میں آیا تھا۔
والآن اقول:وباﷲ التوفیق(اب میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ ت)
جہت ووضع کی سبیل واحد ہے جس طرح وضع کبھی اجزائے شے کی باہمی نسبت سے لی جاتی ہے اور کبھی بلحاظ خارج دوم ہر ذی وضع کے لیے لازم متحیز بالذات ہو خواہ بالتبع شك نہیں کہ راس مخروط کا نقطہ ایك وضع ممتاز رکھتا ہے کہ وضع مخروط سے جدا ہے بلاشبہ وہ قاعدے اور اس کے دائرے اور اس کے ہر نقطے سے ایك جہت مخصوص رکھتا ہے اور اس تکثر جہات سے متکثر نہیں ہوتا یونہی جز اور بمعنی اول نہ ہوگی مگر متجزی میں اسے غیر متجزی میں تلاش کرنا خلاف عقل ہے یونہی جہت کے دو معنی ہیں ایك شے کے باہم حصص میں کہ اس کا ایك حصہ اوپر دوسرا نیچے ہو ایك حصہ آگے دوسرا پیچھے ہو ایك حصہ داہنا دوسرا بایاں یہ غیر متجزی میں قطعا محال اور اسے بدیہی ماننا قطعا باطل خیال بلکہ اس میں اس کا نہ ہونا بدیہی ہے۔دوم شے کے لیے خارج کے لحاظ سے یہ منقسم وغیر منقسم متحیز بالذات و بالتبع سب میں ہوگی۔یہی ہر متحیز کے لیے بدیہی ہے اور ا س سے انقسام لازم نہیں کہ محض نسبت ہے اور تعدد نسب سے منتسب میں حصے نہیں ہوجاتے دو جہت واقعہ غیر متبدلہ یعنی فوق و تحت میں تو ظاہر یہ ایك سے فوق یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے بعید یا تمہارے طور پر محدب سے قریب ہے اور دوسرے سے تحت یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے قریب ہے تو ان میں منقسم کی بھی نفس ذات ہی کا اعتبار ہے نہ حصص کا تو غیر منقسم کے حصے کہاں سے ہوجائیں گے ",
1352,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,521," باقی چار حقیقۃ انسان و حیوانات میں ہیں کہ جو انسان کے منہ کی جانب ہے اس سے آگے ہے اور پیٹھ کی طرف پیچھےداہنے ہاتھ کی طرف اس سے جانب راست اور بائیں کی طرف جانب چپ حجر سے حقیقتا نہ کچھ آگے نہ پیچھے نہ داہنے نہ بائیں ہاں غیر ذی روح کو ایك طرف متوجہ فرض کرو تو اس فرض سے یہ چاروں جہتیں فرضا پیدا ہوجائیں گی۔انسان و حیوان میں ان کی تبدیل وضع کے بغیر نہ بدلیں گی انسان جب تك مشرق کو منہ کیے ہے جو چیز اس سےشرق ہے اس سے آگے اور غربی پیچھے اور جنوبی داہنے شمالی بائیں ہے ہاں جب غرب کو منہ کرلے گا سببدل جائیں گی لیکن حجر میں بے اس کی تبدیل وضع کے محض تبدیل فرض سے مبدل ہوں گی پتھر کو جو مشرق کی طرف متوجہ فرض کرے اس کے نزدیك وہ پہلی بار چار جہتیں ہیں اور اسی حال میں جو اسے مغرب کی طرف متوجہ قرار دے اس کے نزدیك پچھلی یہاں توجہ کی تعین جہت حرکت سے ہوجاتی ہے جو جس طرف متحرك ہے اسی طرف متوجہ سمجھا جاتا ہے کہ عادتا انسان یا حیوان جدھر چلے اس طرف منہ کرتا ہے تو پتھر یا جز مثلا اگر شرق کی جانب متحرك ہو جو اس سے شرق ہے آگے ہے یعنی اس سے جہت حرکت کی طرف ہے اور غربی پیچھے یعنی جہت متروك مبدء کی طرف اور جنوبی راست یعنی اس سے جانب جنوب کو اور شمالی چپ یعنی جانب شمال کو اسے انقسام سے کیا علاقہ اور شك نہیں کہ اس کے لیے تحیز بالذات کی حاجت نہیں۔
(۱)کون کہہ سکتا ہےکہ فلك کا محدب ا وپر اور مقعر نیچے نہیں۔(۲)کیا معدل النہار منطقۃ البروج سے اوپر نہیں۔
(۳)کیا نقطہ اعتدال سے مرکز نیچا نہیں۔(۴)کیا راس الحمل سے راس الثور آگے اور راس الحوت پیچھے نہیں۔
(۵)کیا توالی بروج میں انقلاب صیفی سے اس کا نظیرہ داہنی جانب اور شتوی سے اس کا نظیرہ بائیں جانب نہیں الی غیر ذلک۔
(۶۔۷)فلاسفہ کی تصریح ہے اور خود علامہ سید شریف قدس سرہ نے بعض حواشی میں فرمایا کہ خط کی دوجہتیں ہیں اور سطح کے لیے چار۔
اقول:یعنی خط کے لیے فوق و تحت کہ امتداد طولی سے ماخوذ ہیں اور سطح کے لیے یمین و یسیار بھی کہ امتداد عرضی سے لیتے ہیں نہ قدام و خلف کہ امتداد عمق سے ہیں تو ثابت ہوا کہ اولا: تحیز بالذات کی تخصیص باطل۔
ثانیا:منشا شبہ دو معنی جہت کا اشتباہ تھا اس کے کش سے زاہق و زائل ایك یہی ",
1353,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,522," شبہ اتصال جز میں جدا تھا جس کا انکشاف بحمدہ تعالی بروجہ احسن ہوگیا باقی تمام شبہات سابقہ ولا حقہ کے جواب میں یہی ایك حرف کافی کہ اتصال جزئین محال والحمدﷲ شدید المحال۔
تنبیہاقول:اس شبہ کی ایك تقریر یوں ہوسکتی ہے کہ ا ب ح تین جز ہیں شك نہیں کہ ب کے ایك طرف ا ہے اور اس کے دوسری طرف ح کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ دونوں اس کی ایك ہی طرف ہیں تو ضرور ب میں دو طرفین ممتا زہیں جن کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے تو شے دون شے کا مصداق ہوگیا اور یہی انقسام ہے اور جواب ہماری تقریر سابق سے واضح ہے۔
اولا:ب کی ایك طرف ا اور اس کی دوسری طرف ح نہیں بلکہ ب سے ایك طرف ا اور اس سے دوسری طرف ح ہے تو انقسام نہیں اور دونوں عبارتوں کا فرق ہمارے بیان سابق سے روشن ہے۔
ثانیا:تین مخروط ہیں ان کے رؤس نقاط ابح٭ا ٭ب٭ح یہ تقریر بعینہ ان تین نقطوں میں جاری کون کہہ سکتا ہے کہ ا و ح دونوں ب کے ایك طرف ہیں اگر کہیے کہ یہ انقاط معدوم و موہوم ہیں تو ان کے لیے جہات نہیں۔
اقول:اولا:خود فلاسفہ قائل اور دلائل قاطعہ قائم کی کہ اطراف یعنی سطح و خط و نقطہ کہ نہایات جسم و سطح و خط ہیں موجود فی الخارج ہیں۔
(۱)اقلیدس نے اس کا موجود ہونا اصول موضوعہ میں رکھا طوسی نے تحریر میں اس کی تقریر کی علامہ قطب الدین شیرازی نے حواشی حکمۃ العین میں فرمایا انہیں موجود نہ ماننا مذہب فلاسفہ کے خلاف ہے انہوں نے حکماء کا لفظ کہا ہے اور مشائین و اشراقین کسی کی تخصص نہ کی نیز فرمایا کہ اطراف یعنی خط وسطح ان کے نزدیك انواع کم متصل موجود فی الخارج سے ہیں تو معدوم کیسے ہوسکتے ہیں۔یعنی تو یونہی نقطہ کہ وہ خط موجود کی طرف ہے بعض متاخرین نے کہ ان کا وجود انتزاعی مانا باقر نے صراط مستقیم میں اسے رد کیا اور ان بعض کے زعم کو کہ ابن سینا نے اس کی تصریح کی۔حمد اﷲ علی المتشدق نے فی الآن میں خلاف واقع بتایا۔
(۲)شرح حکمۃ العین میں کہا کہ اطراف اگر موجود نہ ہوں تو وہ مقدار متناہی نہ ہوگی ضرور ہے کہ مقدار متناہی کسی شے پر ختم ہوگی وہی اس کی طرف ہے تو مقادیر متناہیہ کے اطراف بلاریب موجود ہیں۔
(۳)صاحب حکمۃ العین نے اپنی بعض تصانیف میں اس پر یہ دلیل قائم کی کہ دو۲ جسموں ",
1354,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,523," کا تماس اپنی پوری ذات سے نہیں ہوسکتا و رنہ تداخل لازم آئے نہ کسی امر معدوم سے یہ بداہۃ ظاہر ہے نہ کسی ایسے امر سے کہ جانب تماس میں منقسم ہو کہ یہ منقسم اگر بالکلیہ مماس ہوں تداخل ہے اور بالبعض تو ہم اس بعض میں کلام کریں گے کہ وہ منقسم ہے یا غیر منتقسم اور بالاخر غیر منقسم پر انتہا ضرور ہے اور یہ غیر منتقسم اجزاء جسم نہیں کہ جز لا یتجزی باطل ہے تو ثابت ہوا کہ ایك شے ذو وضع کے جانب عمق میں منقسم نہیں موجود فی الخارج ہے اسی سے اجسام کا تماس ہے اور وہ نہیں مگر سطح یونہی سطحوں کے تماس سے نقطے کا وجود فی الخارج لازم۔سید شریف نے فرمایا وجود اطراف پر یہ دلیل سب سے ظاہر تر ہے۔
ثانیا:بالفرض ان کا وجود انتزاعی ہو تو وہ منتزعات کہ خارج میں ان کے احکام جدا ہوں ان پر آثار مترتب ہوں ضرور وجود خارجی سے خط رکھتے ہیں۔اطراف ایسے ہی ہیں اور اسی قدر تمایز جہات و سماوات کو کافی۔
ثالثا:ہم ان خطوط و نقاط میں کہ ضرور انتزاعی ہیں جہات ثابت کرچکے مقر کدھر۔
شبہ ۱۵:سطح جوہری کے اجزائے تتجزی سے مرکب ہو جب شمس کے مقابل ہو ضرورۃ اس کا ایك رخ روشن دوسرا تاریك ہوگا۔ (مواقف ومقاصد)صدرا نے بڑھایا کہ دوسرا غیر مرئی ہوگا۔کہ ایك ہی شے حالت واحدہ میں مرئی و غیر مرئی نہیں ہوسکتی تو جانب عمق میں انقسام ہوگیا۔
اقول:وہی مالوف و معہود کے دائرے میں وہم کا گھرا ہونا غائب کا شاہد پر قیا س کررہا ہے وہم سطح عرضی میں یونہی سمجھتا ہے کہ اس کا رخ ہمارے سامنے ہے اور پشت جسم سے متصل۔علامہ بحرالعلوم نے حواشی صدرا میں فرمایا اس کا تو یہی ایك رخ ہے کہ ہمارے مواجہ اور شمس سے مستنیرہے سطح میں دو رخ کہاں یعنی مرئی و غیر مرئی کی مغایرت تلاش کرنی حماقت ہے اس میں غیر مرئی کچھ نہیں وہ بتمامہ مرئی اور بتمامہ مستنیر ہے۔پھر فرمایا خلاصہ دلیل یعنی شبہ مذکورہ یہ ہے کہ جو چیز متحیز بالذات ہوگی ضرور بصر میں اور دوسری اشیاء میں حاجب ہوگی۔یوں ہی نور شمس سے ساتر ہوگی تو ضرور اس کے لیے دو رخ ہوں گے اور اس کا انکار مکابرہ ہے۔
اقول:اولا: اب شبہ کی حالت اور بھی ردی ہوگئی۔حاجب وساتر ہونے کے لیے ضرور دو رخ ہونا ہی کافی نہیں بلکہ لازم کہ شعاع بصر و شمس دوسرے رخ تك نہ پہنچے ورنہ ہر گز حاجب نہ ہوگی جیسے آئینہ کتنے ہی دل کا ہو نہ نگاہ کو روکے نہ دھوپ کو جب ممتد منقسم دوسری جہت تك شعاع پہنچنے سے ساتر نہیں ہوسکتا تو وہ جس میں اصلا امتداد ہی نہیں کیونکر حاجب ہو ",
1355,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,524," حاجب ہوجائے گا اس کا اثبات مکابرہ ہے۔
ثانیا:مستدل جانتا تھا کہ تنہا ایك جز لایتجزی بصرو شمس کو حاجب نہیں ہوسکتا کہ وہ مقدار ہی نہیں رکھتا۔لہذا اجزاء سے مرکب سطح لی کہ حجم و مقدار پیدا ہو کر صلاحیت حجب ہوجائے اور نہ جانا کہ اجزاء کا اتصال محال و متفرق ہوں گے اور ہر دو کے بیچ میں خلا تو بصر یا شمع کی شعاعیں جہاں پہنچیں گی ان کے مقابل نہ ہوگا۔مگر جزء واحد کہ محض بے مقدار ناقابل ستر ہے یا خلا کہ بدرجہ اولی اور وہ طریقہ اتصال حسی کہ ہم نے اوپر ذکر کیا محض ارادۃ اﷲ عزوجل پر مبنی ہے اسے انقسام سے علاقہ نہیں۔
شبہات بہ براہین ہندسیہ
علامہ تفتازانی نے مقاصد و شرح میں ان پر رد اجمالی کیا کہ وہ سب انتفائے جز پر مبنی ہیں۔اور ملا عبدالحکیم نے حواشی شرح مواقف میں کہا اشکال ہندسیہ ثبوت مقدار پر موقوف ہیں وہ اتصال جسم پر وہ نفی جز پر تو ان سے نفی جز پر استدلال دور ہے اصحاب جز کے نزدیك نہ زاویہ ہے نہ وتر نہ قطر نہ دائرہ سب تخیلات باطلہ ہیں کہ توہم اتصال سے پیدا ہیں شرح مقاصد میں یوں تفصیل فرمائی کہ براہین ہندسیہ سے ابطال جز میں مثلث متساوی الاضلاح وتنصیف زاویہ و تنصیف خط و وجود دائرہ ووجود کرہ سے مدد لی ہے اور ان میں سے کچھ بے نفی جز ثابت نہیں۔اقلیدس نے تنصیف خط اس پر مثلث متساوی الاضلاع بنا کر کی اور تنصیف زاویہ اس کی ساقین برابر کرکے وتر نکال کر اس پر دوسری طرف مثلث مذکور بنا کر اور مثلث مذکور خط پر دو دائرے کھینچ کر اور کرہ یوں ثابت کرتے ہیں کہ قطر دائرہ کی بجائے محور مانیں اور اس کے دونوں نقطہ طرف کو بجائے قطبین اب نصف دائرہ کو اس محو رپر گھمائیں یہاں تك کہ اپنی وضع اول پر آجائے اس سے سطح کروی کہ محدب کرہ اور اسے محیط ہے پیدا ہوگی تو سب کا مبنی ثبوت دائرہ ہوا اور وجود دائرہ یوں ثابت کرتے ہیں کہ سطح مستوی پر ایك خط مستقیم عــــــہ تخیل کریں۔
عــــــہ:علامہ نے فرمایا ایك خط مستقیم متناہی اقول:صرف اتنا ہی خط کافی نہیں بلکہ وہ شرط ضرور ہے جو ہم نے ذکر کی ۱۲ منہ غفرلہ ",
1356,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,525," اقول:یعنی سطح متناہی ہو اور یہ خط اس میں ایسی جگہ کہ کسی طرف سطح کا امتداد اس خط کی مقدار سے کم نہ ہو)اس خط کا ایك کنارہ ثابت رکھیں اور دوسرے کو دورہ دیں یہاں تك کہ اپنے محل اول پر آجائے اس دورہ سے سطح دائرہ حاصل ہوگی جیسے عمل پر کار سے لیکن برتقدیر جزیہ حرکت خط جس سے دائرہ بنایا خود محال ہے کہ مستلزم محال ہے تو بے نفی جز ان میں سے کسی کا اثبات محض خیال ہے۔ملا حسن نے حواشی صدرا میں اس حرکت کا استحالہ یوں بتایا کہ خط کا ایك کنارہ ثابت رکھ کر دوسرے کو جو حرکت دی ہے یہ کنارہ جتنی دیر میں اس سطح مستوی کا ایك جز قطع کرے وہ جز خط کہ کنارہ ثابتہ کے متصل ہے اگر وہ بھی ایك ہی جز قطع کرے یونہی آخر تك جب تو دائرہ صغیرہ وکبیرہ مساوی ہوجائیں گے اور اگر جز سے کم تو جز منقسم ہوگیا اور اگر یہ ساکن رہے تو خط کے اجزاء بکھر گئے تو دائرہ پورا ہونا لازم نہ ہوگا حالانکہ لازم مانا تھا تینوں شقیں محال ہیں لہذا وہ حرکت محال ہے۔
اقول:کلام یہاں طویل ہے اور انصاف یہ کہ تخیل دائرہ ان تجشمات کا محتاج نہیں اور وجود دائرہ کا ان سے ثبوت نہیں ہوسکتا کہ یہ سب تخیلات نامقدورہ ہیں خارج میں پرکار ہے جو بحالت اتصال جسم دائرہ حقیقیہ بنانے کی ضمانت نہیں کرسکتی نہ وہ سطح جسے مستوی سمجھیں واقع مستوی ہونی ضرور جس سے حقیقت تك عظیم فرق ہے نہ پرکار کی رفتار میں اول سے آخر تك فرق نہ پڑنے کی ذمہ داری ہوسکتی ہے نہ وہ نشان کہ اس سے بنے تمام مسافت میں یقینی یکساں ہونے کی تو وجود ثابت نہیں مگر دائرہ حسیہ کا صدرا نے با آنکہ اقرار کیا کہ ابطال جز پر اشکال ہندسیہ سے استدلال ضعیف ترین طریق ہے کہ ان کا وجود اور اتصال جسم ماننا ایك ہی چیز ہے مگر مربع مثلث قائم الزاویہ کا استثنا کیا اس بنا پر کہ ابن سینا نے اصحاب جز کا مذہب بتایا کہ مربع کے منکر نہیں۔اور ظاہر ہے کہ مربع میں قطر ڈالنے سے دو مثلث قائم الزاویہ پیدا ہوں گے تو جو دلیل اس پر مبنی ہو اصحاب جز سے اس کا دفع ناممکن ہے انتہی اصحاب جز کی طرف یہ نسبت کذب محض ہے ان کی کتب میں کہیں تسلیم مربع حقیقی کا پتہ نہیں۔
اقول:بلکہ وہ صراحتہ وجود زاویہ کا انکار کرتے ہیں پھر مربع کہاں سے آئے گا صراحۃ سرے سے مقدار ہی نہیں مانتے تو کوئی شکل کہاں سے آئے گی۔ابن سینا نے کہا ہمارے پاس وجود دائرہ کے دو ثبوت اور ہیں کہ نفی جز پر مبنی نہیں۔
اول: اجسام میں بسیط بھی ہیں۔(یعنی مرکبات کی انتہا بسائط کی طرف لازم)اور بسیط کی شکل طبعی کرہ ہے اور جب کرے کے دو حصے مساوی حسایا وہما کیے جائیں گے۔دو۲ دائرہ حاد ث ہوں گے۔بحرالعلوم نے فرمایا یہ اگرچہ نفی جز پر مبنی نہیں۔ ",
1357,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,526," اولا:اس پر مبنی ہے کہ اجسام میں طبعیت ہے۔ثانیا:اس پر کہ شکل مقتضائے طبع ہے۔
ثالثا:اس پر کہ طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں فعل واحد ہی کرے گی اور یہ سب ممنوع بلکہ باطل ہیں۔
اقول: رابعا:بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ ان کے نزدیك طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں افعال مختلفہ متباینہ بالنوع کئے کہ افلاك مجوف بنائے جن میں محدب و معقر۔
خامسا:اثبات وجود واقعی کے درپے ہو کر تنصیف کرہ میں وہما بھی ملانا عجیب ہے تنصیف وہمی سے دائرہ موہومہ بنے گا یا موجودہ۔
سادسا:اگر وہمی سے گزر کر خاص حسی لو تو اب وہ کرہ بتاؤ جس کی تنصیف حسی کرو گے۔زمین پر کسی کرے کا حقیقیہ ہونا ثابت نہیں کرسکتے اور واقع میں افلاك میں بھی ثبوت نہیں کما تقدم(جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے)اور فرض کرلیں تو ان کی تنصیف حسی تمہارے نزدیك محال۔
سابعا:فرض کرلیں کہ کوئی کرہ حقیقیہ قابل تنصیف حسی تمہیں مل سکے اب اپنی تنصیف کا ضامن بتاؤ کہ صحیح دو نصف کرسکو گے ہاتھ اتنا بھی نہ بہك سکے کہ ایك جز لایتجزی کی قدر دونوں نصفوں میں فرق ہو۔اور جب یہ کچھ نہیں تو وہی نرا تو ہم رہ گیا جس کا کوئی منکر نہیں۔دائرہ واقعیہ نہ ثابت ہونا تھا نہ ہوا۔
ثامنا:نفی جز پر مبنی نہ ہونا بھی عجیب منطق ہے اس کی بنا ثبوت مادہ پر ہے اور ثبوت مادہ کی بنا نفی جزیر یہ ہے ابن سینا کی ریاست۔
اگر کہیے طبیعت واحدہ اجزا میں بھی فعل واحدہ ہی کرے گی۔اقول:انہیں ملا ہی نہ سکے گی کہ اتصال اجزا محال ہے پھر کرہ کہاں سے بنائے گی۔
دوم:اصحاب جزو دائرہ حسیہ سے تو منکر نہیں حسیہ حقیقیہ ہوسکتا ہے یوں کہ دائرہ حسیہ میں کچھ اجزا واقع میں اونچی کچھ نیچے ہوں گے۔ہم ایك خط مستقیم مرکز دائرہ پر رکھ کر سب سے اونچے جز پر رکھیں گے نیچے اجزاء میں اس خط کی مقدار سے جتنی کمی ہے اسے اجزاء لاتتجزی بھر کر پوری کریں گے۔اگر سب طرف کمی پوری ہو کر بعد برابر ہوجائیں دائرہ حقیقیہ ہوگیا اور اگر کہیں اتنی کمی رہے کہ اب ایك جزء رکھیں تو خط کی مقدار سے اونچا ہوجائے گا تو معلوم ہوا کہ یہاں کمی ایك جز سے کم کی ہے تو جز منقسم ہوگیا اور اگر غیر متناہی اجزاء رکھتے جائیں اورخلا کبھی نہ بھرے ",
1358,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,527," تو اس کی تقسیم نامتناہی ہوئی اور یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ ہر بعد کو وہ بھی متناہی مانتے ہیں۔
اقول:اولا:کلام وجود دائرہ میں تھا نہ نرے تو ہم وتخیل میں کہ محتاج تجشم نہ تھا اور اس تدبیر سے ثابت ہوا تو و ہی توہم نہ واقع میں۔دائرہ بنالینا کہ یہ تدبیر نہ ہوگی مگر وہم میں واقع میں ایك جز کی قدر نشیب و فراز کو نہ امتیاز کرسکتے ہو نہ اس کے بھرنے کو ایك جز کہیں سے لاسکتے ہو تو جو مقصود تھا ثابت نہ ہوا اور جو ثابت ہوا مقصود نہ تھا یہ ابن سینا کی ریاست ہے۔
ثانیا:ابن سینا کی جاں فشانی پر افسوس آتا ہے کہ محض خرط القتا د ونفح فی الزماد ہے دو جز متصل ہو ہی نہیں سکتے ان سے خلا بھرنا کیسا ایسی ہی تقریر شبہ ثالثہ میں تھی اور وہیں اس کا رد گزرا۔
ثم اقول:یہ سب بردو مات بے وجہ ہے ہمارے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ نہ براہین ہندسیہ نفی جز پر مبنی نہ ان سے نفی جز ہو سکے ان کی بنا خطوط موہومہ پر ہے اگرچہ واقع میں اجزاء سے ترکب ہو عمارتوں میں ان سے مدد لی جاتی ہے دیواروں و ستون کو کون کہہ سکتا ہے کہ متصل وحدانی ہیں مگر وہی اتصال موہوم کام دیتا ہے اور نفی جز ان سے یوں نہیں ہوسکتی کہ وہ وجود جز باطل نہیں کرتیں بلکہ اتصال اور وہ خود محال وباﷲ التوفیق اب ان شبہات کو اگر ہم ذکر نہ بھی کریں عاقل خود ان کا جواب سمجھ لے گا مگر گنا دینا مناسب کہ ناواقف کو یہ وہم نہ ہو کہ فلاں شبہ جواب سے رہ گیا معہذا بعونہ تعالی بیان جوابات عدیدہ و افادات جدیدہ لائے گا وباﷲ التوفیق۔
شبہ ۱۶:بحکم شکل عروسی قطر مربع یعنی و تر مثلث قائم الزاویہ متساوی الساقین کا مجذور مجذور ضلع کا دو چند ہے اور اصول ہندسیہ میں ثابت ہوچکا ہے کہ نسبت مجذورین مجذور نسبت جذرین ہوتی ہے تو ضرور قطر وضلع مذکور میں وہ نسبت ہے کہ اس کی مثناۃ بالتکریر ہے یعنی اس کا مجذور دو ہے اور دو کسی عدد کا مجذور نہیں تو ضرور قطر وضلع مذکور میں نسبت صمیہ ہے جس کے لیے کوئی عاد مشترك نہ نکل سکے اور اعداد میں یہ نسبت محال کہ سب کا عاد کم از کم ایك موجود ہے اور اگر ان خطوط کا ترکب اجزاء سے ہوتا تو ضرور ان میں نسبت عددیہ ہوتی یعنی ضلع کو وہ نسبت قطر سے ہے جو ایك کو اتنے سے اس نسبت کا نہ ہوسکنا دلیل روشن ہے کہ ان کا ترکب اجزاء سے نہیں بلکہ یہ مقادیر متصلہ ہیں جن میں نسبت صمیہ پائی جاتی ہے۔(صدرا)
اقول:ہاں اجزائے متفرقہ سے ترکب ہے اور خطوط موہومہ سے اتصال ان کی نسبت عددیہ ہے اور یہ صمیہ ان موہومات کی برہان نے یہی تو ثابت کیا کہ ان مقادیر متصلہ میں نسبت صمیہ ہے ",
1359,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,528," مقادیر متصلہ یہی خطوط موہومہ ہیں نہ کہ وہ اجزائے متفرقہ۔
شبہ ۱۷:ایك مثلث قائم الزاویہ کو جس کا ہر ضلع ۱۰ جز سے مرکب تو بحکم عروسی وتر ۳۰۰ کا جزر ہوگا اور وہ بلا کسر ممکن نہیں تو جز منقسم ہوگیا۔(مواقف مقاصد)بلکہ تحقیق یہ کہ جذرا صم باطل ہے تو لازم کہ اس وتر کے لیے واقع میں کوئی مقدار ہی نہ ہو۔یہ صریح البطلان ہے کہ امتداد بے مقدار یعنی چہ(صدرا)۔
شبہ ۱۸:وہ جز کا ایك خط ہو ان میں ایك جز پر تیسرا جزر زاویہ قائمہ بناتا رکھیں تو اس قائمہ کا وتر دو جز سے زیادہ اور تین سے کم ہوگا کہ ۸ کا جذر ہے جز منقسم ہوگیا۔(مقاصد)
شبہ ۱۹:ایك ضلع قائمہ جب ۳ جز ہو دوسرا دو جز تو وتر بحکم عروسی ۳ سے بڑا اور بحکم حماری ۴ سے چھوٹا ہوگا۔(صدرا)
اقول:یہ سب شبہات ایك ہیں اور ان کا منشا وہی شبہ ۱۶ اور وہی ان کا جواب کہ تمہاری عروسی تمہاری حماری سب انہیں خطوط موہومہ میں ہیں اجزائے متفرقہ میں کہ جز کا انقسام ہو عجب کہ علامہ تفتازانی نے ۱۷ و ۱۸ کو جدا دو شبہے کیا اور صدرا نے ۱۷ و ۱۹ کو یوں تو کروڑوں بلکہ غیر متناہی صورتیں نکل سکتی ہیں جن میں مجموع مجذورین ضلعین مجذور صحیح نہ ہو پھر غیر متناہی شبہے کیوں نہ گنائیے۔
شبہ ۲۰:چار چار جز کے چار مستقیم خط لیں اور انہیں برابر رکھیں تاحد امکان خوب ملادیں کہ شکل مربع پیدا ہوں(:::::)ظاہر ہے کہ اس کے قطر میں بھی چار ہی جز آئیں گے اگر واقع میں اتنے ہی ہیں تو قطر و ضلع برابر ہوگئے اور یہ عروسی سے محال اور اگر ایك ایك جز کے فصل سے ہیں تو قطر سات جز کا ہوا اور یہی مقدار دو ضلعوں کی ہے کہ ایك جز دونوں میں مشترك ہے تو مثلث کے دو ضلعے مل کر تیسرے کے برابر ہوئے یہ حماری سے محال(یعنی اگر کہیں ایك جز سے زائد کا فصل ہے تو محال اعظم کہ ایك ضلع دو کے مجموعہ سے بڑھ گیا)اگر کہیں ایك سے کم کا فصل ہے تو جز منقسم ہوگیا۔(ابن سینا مواقف مقاصد صدرا)
اقول:ایك بات ہے لفظ گھماگھما کر جتنی بار چاہو کہو تو یہ مواقف نے ایك کو دو کیا اور مقاصد و صدرا نے تین اور جواب وہی کہ ملانا محال بلکہ اضلاع و قطر سب کے تمام اجزا متفرق رہیں گے اور عروسی و حماری امتدادات موہومہ کا حال بتائیں گی۔اجزائے قطر ضلع یا مجموعہ ضلعین سے کم ہو یا برابر یا زائد اس میں ایك شق ابن سینا سے رہ گئی کہ ممکن کہ اجزائے قطر میں کہیں خلا ہو ",
1360,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,529," زائد اور ۷ سے کم رہے مواقف و صدرا سے یہی شق رہ گئی شرح مقاصد میں اس کی طرف توجہ کی کہ یوں ممتنع ہے کہ خطوط مستقیم ہیں اور تاحد امکان ملادیئے ہیں۔
اقول:تاحد امکان ملادینا نفی خلا کرتا ہے تو پہلی ہی شق پر اقتصار واجب تھا باقی سب بے کار اور جب اس کے بعد یہی خلا کا احتمال اور اس کی وہ تین شقیں ممکن رہیں تو اس چوتھی سے کون مانع ہے کیا واجب ہے کہ ملانے کا اثر سب اجزاء پر یکساں ہو بلکہ یہی کیا ضرور ہے کہ تمہارے ملانے کے بعد خطوط مستقیمہ ہی رہیں غایت یہ کہ مستقیمہ رہ کر بھی تفاوت خلا سے مربع نہ بنے پھر اس کا بننا ہی کیا ضرور بلکہ نہ بنا ضرور کہ عروسی حماری نہ بگڑیں۔
ثم اقول:ابن سینا کی یہ جاں کا ہی پتہ دے رہی ہے کہ اصحاب جز کی طرف اس کی وہ نسبت اقرار مربع غلط تھی ورنہ نہ اس محنت کی حاجت ہوتی نہ ان شقوں کی نہ حماری کا خلف دکھانے کی نہ آسانی کو کوئی خاص شمارا جزاء فرض کرنے کی بلکہ اتنا کہہ دینا کافی ہوتا کہ مربع تمہیں مسلم اور برتقدیر اجزا ہر ضلع میں جتنے الزاویہ جس کا ہر ضلع میں جتنے جزہوں گےاتنے ہی قطر میں آئیں گے اور یہ عروسی سے باطل۔
شبہہ ۲۱:مثلث قائم الزاویہ جس کا ہر ضلع ۵ ۵ جز ہے بحکم عروسی اس کا وتر ۵۰ کا جذر ہوگا اب ہم اس وتر کا ایك سرا اس کے پاس کے ضلع کا ایك جز چھوڑ کر رکھیں تو ضرور ہےکہ دوسرا سرا ایك جز سے کم اپنے پاس کے ضلع سے سر کے توجز منقسم ہوگیا ایك جز سے کم سرکنا یوں ضرور ہے کہ اگر یہ بھی ایك جزسر کے تو پہلا ضلع ۴ جز کا ہوا اور دوسرا ۶ کا تو یہ وتر ۵۲ کا جزر ہوگیا حالانکہ ۵۰ کا تھا(صدرا)
اقول:تیمم تقریب یہ ہےکہ مثلا مثلث ا ب ح میں جب وتر ا ح کو نقطہ سے نیچے سرکا کر مثلا نقطہ ء پر رکھو تو محال ہے کہ اس کا دوسرا کنارہ نقطہ ح پر منطبق رہے ورنہ ء ح = ا ح ہو۔
حالانکہ قطعا چھوٹا ہے کہ وہ ا بب ح کے مربعوں کا جزر ہے۔
اور یہ ء ب ۶ ب ح کے ب ح مشترك ہے اور ء ب ا ب سے چھوٹا ہے تو اس کا مربع چھوٹا ہے تو ان دو مربعوں کا مجموع ان دو مربعوں کے مجموعہ سے چھوٹا ہے تو ان کا جذر ء ح ان کے جذر ا ح سے چھوٹا ہے تو واجب ہے کہ وتر کا دوسرا کنارہ بھی نقطہ ح سے آگے پڑے اور اس کا وقوع خط ب ح کی استقامت پر ممکن بلکہ واقع ہے مثلا ا ب دیوار ہموار ہو ",
1361,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,530," اور ب ء صحن مستوی اس دیوار پر ا ح ایك چھڑی یوں رکھی ہے کہ زاویہ قائمہ ب کا وتر بنی ہے جب اس کا سرا کہ ا پر ہے نیچے سرکا کر ہ پر رکھو گے ضرور دوسرا سرا کہ ح پر تھا ء کی طرف سرك کر ر پر آئے گا۔تو اسی ضلع ب ح کی استقامت پر آئے اور ا ب مثلت ا ب ح کے عوض ہ ب ر ہوگا اس صورت میں ا ہ اگر ایك جز ہے ضرور ح ر ایك جز سے کم ہوگا اور یہاں سے ظاہر ہوا کہ اس مثلث کا متساوی الساقین ہونا جس طرح شبہ میں لیا ضرور نہیں۔وہ صرف ایك تصوریر ہے جس سے اختلاف مقدار وتر دکھائی جاسکے۔رہا جب اقول:واضح ہے اولا مثلث بے اتصال اجزا نہ بنے گا اور وہ محال۔
ثانیا:تینوں ضلعوں میں اجزائے متفرقہ ہیں اور ان میں امتدادات وتر کا ایك سرا اگر ایك ضلع کے جز سے دوسرے پر آئے گا ضرور ایك امتداد طے کرے گا اور دوسرا سرا اس سے کم امتداد نہ کہ جز سے کم۔
ثالثا:اگر اتصال اجزاء لو تو یہ سارا دفتر گاؤ خورد ہوجائے گا سرکانے سے وتر ہی وہ نہ رہے گا جسے کہو کہ شیئ واحد کی مقدار بڑھ گئی پہلے اتنے کا جذر تھا اب وہی وتر اتنے کا جذر ہوگیا۔ فرض کرو ا ب ح ایك مثلث ہے جس کا ضلع ا ب ۳ جز ب ح ۴ جز وتر ا ح ۵ جز جس سے ب ء ہ عروسی نہ بگڑے اس وتر کا نقطہ ا ضلع ا ب میں مشترك ہے اور ح ضلع ب ح میں ا ب ا گر دونوں ضلعوں کی مقدار برقرار رکھ کر وتر کو سرکانا چاہو تو وہ صرف تین جز کا رہ جائے گا اور اگر وتر کی مقدار بحال رکھو تو دونوں ضلعوں میں سے ایك ایك جز کم ہوجائے گا اور ا ب وہ ع ب ۶ ب ہ ہوں گی اور اس ۵ جز کے وتر ا ح کو اگر یوں رکھو کہ اس کا جزء ا ضلع ء ب سے اوپر ہو تو یہی صورت ا ب ح پھر عود کرے گی ا ور اگر یوں رکھو کہ ء اسی کے اجزا کی سمت میں رہے اس طرح ح تو اب نقطہ ء بھی اس میں شامل ہو کر وتر ۶ جز کا ہوجائے گا وہ وتر نہ رہا اس پر اگر عروسی وارد کرو تو یہ شبہ ۱۶ تا ۱۹ کی طرف رجوع کرے گا اور انہیں کے رد سے رد ہوجائے گا کلام اس شبہ میں ہے اور اگر سمت بچا کر یوں رکھوں تو نہ مثلث رہا نہ وتر شکل ذواربعہ اضلاع ہوگئی بہرحال تمہارا مقصود کہ سرکانے سے وتر واحد کی مقدار بدل گئی حاصل نہیں ہوسکتا۔
شبہ ۲۲:وہی دیوار و صحن پر چھڑی کے دونوں سرے جن سے مثلث قائم الزاویہ بنے ",
1362,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,531," اب اسے نیچے کی طرف سے جہاں صحن سے ملی ہے بتدریج ضلع ب ح کی جانب مقابل کھینچیں یوں کہ دیوار سے ملی ملی اترے یہاں تك کہ بائیں دیوار میں زمین پر آجائے ظاہر ہےکہ ا دیوار سے اترتا جائے گا اور ح صحن پر جانب مقابل ب ح میں بڑھتا جائے گا اب اگر یہ اترنا اور بڑھنا برابر مقدار میں ہو تو وتر ا ح زمین پر اب اس طرح رکھا ہے کہ پورے ضلع ب ح پر ہے اور اس سے جتنا سرکا اتنا زائد ہے اور وہ سرکنا اترنے کے برابر اور اترنا بقدر ضلع ا ب یعنی قامت دیوار تھا تو وتر دونوں ضلعوں کے مجموعہ کے برابر ہوگیا۔اور یہ حماری سے محال ہے۔(یعنی اور اگر سرکنا اترنے سے زائد لو تو استحالہ ازید ہے کہ وتر دونوں ضلعوں کے مجموعے سے بڑھ گیا)لاجرم سرکنا اترنے سے کم ہوگا اب اگر دیوار پر سے ایك جز اترے تو واجب کے صحن پر ایك جز سے کم سر کے انقام ہوگیا۔(مواقف موضحا)
اقول:یہ اسی شبہ سابقہ کی گویا دوسری تقریر ہے اور اس پر اولا وثانیا:وہی ہیں۔
ثالثا:اس پورے وتر کا دیوار پر سے اترنا محال کہ اس کا جز ا دیوار کا جز تھا کہ دونوں میں مشترك تھا۔
رابعا یہیں سے ظاہر کہ اس چھڑی یا کڑی کو وتر کہنا صحیح نہیں وتر میں دو جز اور ہیں ایك دیوار کا ایك صحن کا۔
خامسا:یہیں سے روشن کہ اس پورے وتر کا صحن پر سرکانا بھی باطل کہ ح اس میں اور صحن میں مشترك ہے اور اگر ا و ح دونوں جز چھوڑ کر صرف چھڑی کو سرکائیے تو شبہ کا ایك ایك فقرہ مختل ہوگا۔
اولا:یہ وتر نہیں۔
ثانیا:اترنے کی مسافت سارا ضلع ا ب نہ ہوئی کہ اس کا جز ا متروك ہے۔
ثالثا:نہ صرف ا بلکہ ب بھی کہ چھڑی دیوار سے ملی ملی جو زمین پر پہنچے گی اس کا پہلا سرا نقطہ ب پر نہیں آسکتا بلکہ ب کے برابر جو جز ضلع ب ح میں ہے اس پر آئے گا کہ دیوار سے ملی ہوئی اتری ہے نہ کہ حلول و تداخل کیے۔
رابعا: اب اس کا انطباق بھی پورے ضلع ب ح پر نہ ہوگا کہ جزء ب متروك ہے۔ ",
1363,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,532," خامسا:اس صورت پر حاصل یہ ہوا کہ ضلع ا ب۔۲ جز + ضلع ب ج۔یك جز= وتر – ۲جز ÷ ضلع ا ب + ضلع ب ح یك جز = وتر تو حماری وارد نہ ہوگی ہاں اگر عروسی وارد ہو تو اسی شبہ ۱۶ تا ۱۹ کی طرف رجوع اور اسی کے دفع سے مدفوع ہوگی کلام اس تقریر شبہ میں ہے۔
شبہ ۲۳:اقلید س نے مقالہ دوم میں ثابت کیا ہے کہ ہر خط کے ایسے عــــــہ۱ دو حصے کرسکتے ہیں کہ قسم اصغر میں خط کی سطح یعنی حاصل ضرب قسم اکبر کے مربع کے برابر ہو اب جو خط مثلا تین جز سے ہے اسے اگر صحیح تقسیم کریں تو دو اور ایك اقسام ہوئے کل یعنی تین جز کا قسم اصغر ایك میں حاصل ضرب ۳ ہوا۔اور قسم اکبر ۲ کا مربع ۴ تو ضرور ہے کہ کسر پر تقسیم کریں۔(یعنی قسم اکبر دو جز سے کم لیں اور اصغر ایك جز سے کچھ زیادہ کہ وہ تقسیم بن پڑے تو جز منقسم ہوگیا)(صدرا)۔
اقول:اولا:ہر گز کسر سے بھی صحےح نہ آئے گا کہ اس کی تصحیح کو انقسام جز مانیں دلیل یہ کہ خط کو لا فرض کیجئے اور قسم اکبر کو ء تو قسم اصغر لا – ء ہوگی اور مساوات یہ بنے گی۔
مربع کامل ہے کہ مربع کامل کا مساوی ہے اور اقلیدس کے مقالہ ۹ شکل اول سے ثابت ہے کہ مربع کو مربع میں ضرب دینے یا مربع پر تقسیم کرنے عــــــہ۲ سے بھی مربع کامل حاصل ہوتا ہے تو لا۲ /۴ مربع کامل ہے جس کا جذر ۱۱/۲ نیز اسی شکل نے ثبوت دیا ہے کہ مربع کا مل کو جس میں ضرب دیئے یا جس پر تقسیم کیے عــــــہ۳ سے مربع کا مل حاصل ہو وہ مضروب فیہ یا مقسوم علیہ
عــــــہ۱:اقول:یہی نسبت ذات طرفین ووسط ہے یعنی خط:قسم اکبر:قسم اکبر:قسم اصغر لاجرم بحکم اربعہ متناسبہ خط × قسم اصغر = مربع قسم اکبر کو اقلیدس نے کہ مقالہ دوم شکل ۱۱ میں خط کی یہ تقسیم بیان کی پھر مقالہ ۶ شکل ۲۷ میں خط کو نسبت ذات طرفین و وسط پر تقسیم کرنا محض عبث ہے یہ وہیں مقالہ دوم میں ثابت ہوچکا تھا ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:مسئلہ ضرب استبانت اولی میں ہے اور مسئلہ تقسیم کہ ہم نے زائد کیا استبانت چہارم سے ظاہر اگر دو مربعوں کا حاصل قسمت مربع نہ ہواور حاصل قسمت و مقسوم علیہ کا مسطح = مقسوم ہوتا ہے تو مربع وغیر مربع کا مسطح مربع ہوا حالانکہ استبانت چہارم ہےکہ غیر مربع ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۳:مسئلہ ضرب استبانت دوم میں ہے اور مسئلہ تقسیم کہ ہم نے زائد کیا اس سے ظاہر مربع ÷ عدد جب کہ مربع ہے تو ضرور عدد مربع = مربع ہے تو عدد مربع ہے ۱۲ منہ۔",
1364,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,533," بھی مربع عــــــہ کامل ہوتا ہے یہاں لا۲ /۴ کو ۵ میں ضرب دینے سے مربع کامل حاصل ہوا تو واجب کہ ۵ بھی مربع کامل ہوا اور یہ یدیہی البطلان ہے وبوجہ دیگر ء قسم اصغر کو فرض کیجئے تو اکبر لا – ء ہے اور مساوات یہ
یہاں دو استحالے ہوئے ایك تو بدستور تین کا مجذور کامل ہونا دوسرے منفی کا مجذور ہونا حالانکہ کوئی منفی مجذور نہیں ہوسکتا کہ اس کا جذر مثبت ہو یا منفی بہرحال اس کے نفس میں حاصل ضرب مثبت آئے گا کہ اثبات کا اثبات اور نفی کی نفی دونوں اثبات ہیں ہاں نفی کا اثبات یا اثبات کی نفی نفی ہے مگر مجذور میں اس کا امکان نہیں کہ مضروبین میں تبدل نفی و اثبات سے شے کی ضرب اس کے نفس میں نہ ہوئی تو اگر یہ شکلیں خط مرکب من الاجزاء کو بھی شامل ہوں خود غلط و باطل ہیں۔
لطیفہ اقول:ہمارے یہ دونوں بیان نفس ہر دو شکل پر بھی وارد ہوسکتے ہیں کہ لا و ء جس طرح اعداد مفروض ہوسکتے ہیں یونہی امتداد ولہ جواب ترکناہ للاختیار۔
لطیفہ اقول:یہاں ایك منطقی سوال ہے شك نہیں کہ ہر مجذور منفی ہوسکتا ہے مثلا ۳۶ –(۲۴)= ۲۰ تو صادق ہوا کہ بعض مجذور منفی ہیں تو اس کا عکس بھی صادق ہوگا۔کہ بعض منفی مجذور ہیں حالانکہ اس کی نقیض صادق ہے کہ کوئی منفی مجذور نہیں وجوابہ ظاہر من دون استتار۔
ثانیا:حل وہی ہے کہ ہندسہ ہمیشہ امتدادات موہومہ سے بحث کرتا ہے اجزائے متفرقہ سے جو خط مرکب ہو اسے ایك اتصال موہوم عارض ہوگا اس کی یہ تقسیم ہوسکے گی نہ کہ اجزا کی۔
شبہ ۲۴:اقلید س کی پہلی شکل ہے کہ ہر خط پر مثلث متساوی الاضلاح بناسکتے ہیں تو اگر خط دو جز کا ہوا اس پر مثلث نہ بنے گا مگر یونہی کہ تیسرا جز ان دونوں کے ملتقی پر رکھا جائے
عــــــہ:یا یوں کہیے کہ جب دو عددوں کا حاصل ضرب مربع ہو تو وہ دونوں مسطح متشابہ ہیں-(شکل ۲ مقالہ ۹)دو مسطح متشابہ وہ جن کے اجزائے ضربی متناسب ہوں۔(صدرامقالہ ۷)اور ہر دو مسطح متشابہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوتے ہیں۔(شکل ۸ مقالہ ۸)تو جن کا حاصل ضرب مربع ہو وہ دو مربعوں کی نسبت پر ہیں پھر ہر دو عدد کہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوتے ہیں۔(شکل ۸ مقالہ ۸)تو جن کا حاصل ضرب مربع ہو وہ دو مربعوں کی نسبت پر ہیں پھر ہر دو عدد کہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوں اور ان میں ایك مربع ہو تو دوسرا بھی مربع ہے-(شکل ۲۲ مقالہ ۸)تو جن کا حاصل ضرب مربع ہواور ان میں ایك مربع ہے تو دوسرا بھی مربع ہے تو لا۲ /۴ کہ مربع ہے اور ۵ میں ضرب دینے سے مربع بنا لاجرم ۵ بھی مربع ہے حالانکہ ہر گز نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ ",
1365,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,534," تو انقسام ہوگیا(شرح مقاصد)
اقول:یہ وہی شبہ ۵ ہے اور ا س کا ردو ہیں گزرا اجزاء کبھی نہ ملیں گے بلکہ ان میں امتداد فاصل ہوگا اسی کا انقسام حاصل ہوگا۔
شبہ ۲۵:ہر خط کی تنصیف کرسکتے ہیں اب اگر اجزائے طاق سے ہو جز ء منقسم ہوجائے گا(مواقف و صدرا)
اقول:یہ وہی شبہ ۱۱ ہے اور وہیں اس کا جواب۔
شبہ ۲۶:ہر زاویہ کی تنصیف ہوسکتی ہے(مواقف و مقاصد)تو وہ جز کہ دونوں خطوں کے ملتقی پر ہے منتصف ہوگیا۔(شرح مقاصد)
اقول:تنصیف زاویہ کی ہوگی یا راس کی ثانی خود محال کہ راس زاویہ فلاسفہ کے نزدیك بھی نہیں مگر ایك نقطہ اور اول پر جب تنصیف زاویہ سے تنصیف نقطہ راس نہ ہوئی تنصیف جزء راس کیوں ہوگی کہ وہ نہیں مگر اسی نقطے کی جگہ۔
شبہ ۲۷:ایك مثلث متساوی الساقین لیں جس کے قاعدے کے اجزاء ہر ساق سے کم ہوں ظاہر ہے کہ راس زاویہ پر ساقوں میں اصلا انفراج نہیں اور پھر ہر امتداد پر بڑھتا گیا ہے تو قاعدے کی طرف سے اوپر چلنے میں ہر جگہ گھٹتا جائے گا یہاں تك کہ ایك جزء کی قدر رہ جائے گا اور اس سے اوپر ایك جزء سے کم ہوگا۔یہی انقسام ہے(حضری فی شرح کتاب الابہری)شاہ عبدالعزیز صاحب نے حواشی صدرا میں اس کی یہ تصویر کی کہ دونوں ساقین ۵۵ جز کی ہوں اور قاعدہ ۴ جز کا اور انفراج کا گھٹنا یوں کہ دونوں ساقوں سے ایك ایك جز حذف کریں تو وہ ۴۴ کی رہیں گی اور وتر ۳ کا یونہی ایك ایك جز ساقوں میں سے کم کرتے جائیں تو وتر ایك جز سے کم رہے گا۔
اقول:وتر کا تین جز کی قدر سے کم ہونا محال کہ ساقوں میں کتنے ہی اجزا کم لیں ضرور دو جز متقابل ہوں گے کہ دونوں وتر میں داخل ہوں گے اور ان کے بیچ میں کم سے کم ایك جز کی قدر انفراج اور اگر ساقوں کے دونوں جز منتہی چھوڑ کر وتر میں ۴ جز لیے اگرچہ یہ خلاف فرض ہے کہ اب وتر ساقوں سے اکبر ہوا مگر اب تصویر مذکور پر کوئی محال نہ لازم آئے گا جب ساقوں میں ۵۵ جز ہیں وتر میں ۴ جز ہیں ایك ایك کے حذف پر جب ساقوں میں دو دو جزء رہیں گے وتر میں جز ء وسطانی ایك ہوگا آگے ساقوں میں سے حذف نہیں کرسکتے کہ یہ ۲۲ جزء یوں ہیں کہ ایك ملتقی کا دونوں میں مشترك ہے اور ایك ایك امتداد کا جب اسے حذف کرو گے صرف جز ملتقی رہ جائے گا نہ ساقین رہیں گی نہ وتر نہ مثلث تو انقسام کب ہوا صدرا نے اس ",
1366,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,535," شبہ حضری کو ضعیف ترین دلائل سے کہا۔عماد نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد زاویہ بقدر ایك جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگالیکن یہ ممنوع ہے کیوں نہیں جائز کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر دو جز کے ہو تو ملتقی پر پورا جز ہوگا۔
اقول:اولا:صدرا نے اس بنا پر تضعیف نہ کی اس نے خود وجہ ضعف بتادی ہے کہ جتنے دلائل مثلث قائم الزاویہ مسلممتکلمین کے سوا اور کسی شکل ہندسی پر مبنی ہیں اضعف دلائل ہیں کہ متکلمین انہیں نہیں مانتے تو ان کا وجود اتصال جسم پر مبنی اور اتصال جسم نفی جزء پرتو ان سے نفی جز پر استدلال مصادرہ ہے یعنی یہ دلیل ایسی ہی ظاہر ہے کہ مثلث متساوی الساقین جس کا قاعدہ چھوٹا ہو نہ ہوگا مگر حاد الزوایا اور متکلمین صرف مثلث قائم الزاویہ کے قائل ہیں یہ وجہ ضعف ہے نہ وہ اگرچہ اس استثنا کا بطلان بھی اس پر سن چکے کہ متکلمین ہر گز کسی شکل کے قائل نہیں۔
ثانیا:یہ بھی ایك ہی کہی کہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر ایك جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگا۔سبحان اﷲ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔
ثالثا:ایك جز سے کم ہوگا۔سبحان اﷲ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔
ثالثا:ایك جز سے مراد تنہا جزو واحد تو خود باطل ہے جسے مجنون ہی جسے مجنون ہی مانے گا ساقوں کے دونوں جز کدھر جائیں گے اور اگر ایك جزء انفراج مراد تو اس پر بنائے دلیل خرط التقاد اور دو جز کی اصلا حاجت نہیں جب ساقوں کا یہ ایك ایك جز حذف کرو گے نہ مثلث رہے گا نہ ساقین نہ وتر نہ زاویہ نہ انفراج کما تقدم۔
رابعا:ہم شبہ کی وہ تقریر کریں جس پر کچھ وارد نہیں۔۱۰۱۰ جز کے دونوں ضلعے اور ۶ جز کا وترساقوں کا انفراج وہ فاصلہ ہے جو ان کے دونوں جزو متقابل کے اندر ہے اس کی مقدار وتر کے اجزائے وسطانی ہی ہیں یعنی ساقین کے دونوں جز چھوڑ کر یہ مجموعہ امتداد وتر ہے نہ کہ فصل بین الساقینتو صورت مذکورہ میں انفراج ۴ جز ہوا اب ساقین سے ایك ایك جز کم کیاضرور ہے کہ انفراج گھٹااب اگر ایك جز سے کم گھٹے جز منقسم ہوجائے گا۔تو ضرور یہاں انفراج ۳ جز رہا پھر ایك ایك جز ساقوں سے گھٹایا دو جز رہا پھر گھٹایا ایك جز رہا۔اب ساقوں میں ۷۷ جز ہیں اور انفراج صرف ایك جزاب جتنی بار ساقوں سے ایك ایك جز کم کرو گے ضرور انفراج ایك جز سے کمپھر اس کم سے کم پھر اس سے بھی کم رہے گا اور یہی انقسام ہے۔
ثم اقول:حضری نے تطویل کی اور قاعدہ چھوٹا لینے کی بھی حاجت نہیں بہت ",
1367,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,536,"صاف و مختصر یہ تقریر ہے کہ مثلث متساوی الاضلاع ہے جس کا ہر ضلع ۳ جز ب ۰:۰ ا ج ء ہ کا فاصلہ ایك جز ہے تو ضرور ب ح کا اس سے کم رہا۔
جواب اقول:واضح ہے اجزاء ہر گز متصل نہ ہوں گے امتداد فاصل ہے وہی ہر جگہ گھٹے گا خواہ اجزاء پہلے امتداد سے کم ہوں یا برابر یا زائد۔
شبہ ۲۸:محیط دائرہ اگر اجزائے لا تتجزی سے مرکب ہو تو ظاہر ہے کہ ان کے لیے دو طرف ہوں گی ایك بیرونی خارج دائرہ کی جانب ہےیہ محدب ہےدوسری اندرونی کہ داخل دائرہ کی طرف ہےیہ مقعر ہےیہ دونوں طرفیں اگر برابر ہوں تو مرکز زمین پر جو دائرہ بال بھر قطر کا لو دہ اور فلك الافلاك کا منطقہ برابر ہوگیا کہ معدل النہار کے محدب و مقعر معدل کے مساوی ہوئے اب اس کے نیچے ایك اور دائرہ بلا فصل لیجئے ضرور اس کا محدب مقعر معدل کے مساوی ہے کہ دونوں منطبق ہیں اور بغرض مذکور اس کا مقعر اس کے محدب کے مساوی ہے تو اس کا مقعر محدب معدل کا مساوی ہےیونہی متصل دائرے فرض کرتے آئے یہاں تك کہ اس دائرہ صغیرہ سے مل جائیں جو مرکز زمین پر لیا تھا ان سب کے مقعر و محدب برابر ہوں گے اور ہر ایك کا محدب بحکم انطباق اس سے اور پروانے کے معقر سے اور بحکم تساوی اس کے محدب سے تو فلك سے اس دائرہ زمین تك یہ تمام دو ائر برابر ہوئےلاجرم دائرے کا مقعر اس کے محدب سے چھوٹا ہوگا یہ چھوٹا ہونا دو ہی طرح ہوسکتا ہے:ایك یہ کہ اجزاء کی زیریں جانب بالائی سے چھوٹی ہو تو جز منقسم ہوگیا دوسرے یہ کہ زیریں جانب اجزاء خوب ملے ہوئے ہوں اور بالائی جانب جدا جدا یوں بھی انقسام ہوگیا کہ غیر ملاقی غیر ملاقی ہے۔معہذا بالائی جانب میں جو فرجے ہیں اگر ایك جز سے کم ہیں جز منقسم ہوگیا اور ایك جز کی قدر ہیںتو دائرے کا محدب مقعر سے دونا ہوگیا اور یہ بشہادت حس باطل ہے۔(ملخص مواقف و مقاصد)
اقول:رحم اﷲ العلماء ورحمنا بھم(اﷲ تعالی علماء پر رحم فرمائے اور ان کے صدقے ہم پر بھی رحم فرمائے۔ت)یہ سب تلمیع محض ہے۔
اول محدب و مقعر کرے میں ہوتے ہیں محیط دائرہ میں محدب و مقعر آج ہی سنے محیط بہرحال ایك خط غیر منقسم ہے جس میں عرض محال خواہ خط عرضی ہو جیسے فلاسفہ مانتے ہیںیا جوہری محیط کےلیے اگر دو طرفین ضروری ہوں تو دائرہ قطعا محال ہوگیا کہ اسے محیط سے چارہ نہیں اور وہ جوہری ہو یا عرضی مستحیل العرض۔
ثانیا:اگر بالخصوص محیطجوہری میں یہ بداہت عقل کی مصادمت ہے تو دلیل یہیں تمام ہوگئی کہ اجزاء میں دو۲ طرفین ثابت ہوئیںقطعا فرض شے دون شے کے صالح ہوئے۔آگے
",
1368,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,537,"تمام شقوق تطویل فضول ہیں۔ثالثا:جب محیط واحد میں مقعر کا محدب سے چھوٹا ہونا واجبتو دوسرا دائرہ جو اس کے پیٹ میں اس سے بالکل متصل لیا جائے گا اس کا محدب اس کے مقعر سے مساوی ہونا کیونکر ممکنخط واحد میں نیچے کی طرف جب اوپر والی سے چھوٹی ہے تو اس کا محدب کہ اس کے مقعر کے نیچے ہے قطعا اس سے چھوٹا ہےیہاں انطباق بطور تساوی نہیں بلکہ بطور احاطہ ہے کہ اس کا مقعر اس کے محدب کو محیط ہے اور محیط ضروری محاط سے بڑا ہے۔رابعا:ایك دائرہ جوہری سے دوسرا ملاصق ہونا محال کہ موجب اتصال اجزا ہے۔خامسا:اجزاء میں نہ زیریں و بالائی جانبین ہیںنہ ہر گز ان میں کوئی جز دوسرے سے متصل ہے بلکہ متفرق ہیںاور امتداد فاصل اور شبہ زائل۔شبہ ۲۹:
ا ب ایك خط ہے اور اس پر ا ح متناہی اور بہ ح غیر متناہی دو عمود خط غیر متناہی سے نقطہ ء و ہ و ح الخ کو مرکز فرض کرکے ب کی دوری پر ا ح کی طرف قوسین کھینچیں ہر مرکز نقطہ ب سے جتنا بعید ہوگا قوس کا ملتقی خط ا ح میں نقطہ ا سے قریب ہوگا اور خط ب ح غیر متناہی لیا ہے تو ضرور خط ا ح کی تقسیم غیر متناہی ہوگی کہ قوس کبھی خط مستقیم پر منطبق نہیں ہوسکتی اور جب تقسیم نامتناہی ہے تو جز باطل ہے(حدائق)اقول:بلکہ توجیہ و تقریب شبہ یہ ہے ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہر خط محدود و غیر متناہی تقسیم کے قابل ہے۔
ا ح خط محدود ہے اس پر مربع ا ء بنایا اور خط ب ء کو ح تك کھینچ دیا ء پ ب کی دوری سے دائرہ ب ی ر سم کیا ضرور ہے کہ نقطہ ح پر گزرے گا کہ ح ء اس کا نصف قطر ہےاب خط ب ح میں ء سے نیچے نقطہ ہ کو مرکز لے کر ب کی دوری پر دائرہ ب ل کھینچیں ضرور ہے کہ خط ا ح کو کہیں قطع کرے اگرچہ صہ یا ن تك بڑھا کر کر اس کا نصف قطر سہ ہ
",
1369,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,538,"خط ح ء سے بڑا ہے تو ضرور اس مسافت سے گزر جائے گا لیکن ب یب ل دونوں دائروں کے مرکز خط واحد ب ح پر ہیں ا ور دونوں ب کی دوری پر کھینچے گئے تو ب پر متماس ہیں اور متماس دائروں کا دوبارہ تماس یا کہیں تقاطع محال ہے ورنہ قطر مختلف ہوجائے لاجرم جس کا قطر بڑا ہے جیسے یہاں دائرہ ب ل و نقطہ تماس سے چل کر تمام دورے میں چھوٹے قطر والے جیسے دائرہ ب ی کے باہر باہر گزرے گا تو محال ہے کہ ب ل خط ا ح کو ح پر قطع کرے یا ح کے اندر سے گزر کر ح سے نیچے مثلا ن پرنیز یہ محال ہے کہ ا یا اس سے اوپر مثلاعہ عــــــہ پر قطع کرے کہ ا ب ان سب قوسوں کا ظل اول یعنی خط مماس ہے کہ اس قطر پر عمود ہے جوان کی ایك طرف پر گزرا ہے اور یوں وتر یا وتر کا جز بہرحال قطع ہوجائے گا یہ ثبوت ہے نہ وہ کہ مستدل نے کہا ا پر گزرنے سے قوس و خط کا انطباق کب لازم۔لاجرم ا وح کے درمیان کسی نقطے مثلا ر پر قطع کرے گا بعینہ اسی بیان سے جتنا مرکز نیچے لیتے جاؤ گے قوس کا ملتقی ا و ح کے درمیان ا کی طرف گرے گا۔کسی خط کے لیے اگر چہ لامتناہی کمی محال ہے مگر تقضی ضرور ہے خط ب ح جتنا چاہیں بڑھا سکتے ہیں اور اس پر نقطے فرض کرکے ب کی دوری پر جتنے دائرے کھینچیں سب کی قوسیں ا و ح کے درمیان گریں گی تو خط محدود ا ح کی تقسیم نا محدود ہوئیاگر اجزائے سے مرکب ہونا واجب تھا کہ اس کی تقسیم محدود ہوتی کہ کوئی قوس جز سے کم پر نہیں گر سکتی ورنہ منقسم ہو تو ہر قوس کے مقابل ایك جز درکار اگر اجزا لامتناہی ہوں تقسیم نامتناہی لاتقضی ممکن نہ ہو کہ وقوف واجب ہونا چار نظام معتزلی کی طرح اجزائے غیر متناہیہ بالفعل ماننے پڑیں حالانکہ دو حاصروں میں محصور ہیںیہ تقریر شبہ ہےرہا جواب۔
اقول:واضح ہے یہ تقسیم نامتناہی امتداد موہوم کی ہوئی اور وہ اجزائے متفرقہ سے ترکب کی نافی نہیں ہاں متصلہ ہوئے تو ضرور نفی کرتی کہ قوسین انہیں پر گزرتیں اور وہ محدود لیکن اتصال ممتنع تو شبہ مندفع۔
تنبیہ اقول:اگر نفی جز سے دستبردار ہو کر اس شبہ سے صرف امتداد موہوم کی لاتناہی قسمت کا ثبوت چاہو تو وہ بھی بخیر۔
اولا:سطح مستوی جس مین خط ب ح کو بڑھاؤایسی کتنی دور تك مل سکتی ہے زمین
عــــــہ:ا پر قطع کرے جیسے قو ا ب تو خود اس کا وتر ہے اور ا سے اوپر جیسے قوس ف ب تو اس وتر کا جز ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1370,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,539,"کرہ ہے۔
ثانیا:وہ پر کار کہاں سے آئے گی کہ جو بھر خط پر ہزار قوسین متمیز بناسکے۔نا محدود درکنار تو فعلی تقسیم تو یقینا نا مقدور۔رہی وہمی اس کے لیے اتنا بھی ضرور کہ وہم وہاں متمایز حصے تخیل کرسکے۔کیا جو بھر خط میں کروڑ یا بال بھر میں ہزار حصے ممتاز وہم کے وہم میں بھی آسکتے ہیں۔سب کی تفصیل بالائے طاق وہم اتنا ہی بتائے کہ بال کی نوك کا ہزارواں حصہ اتنا ہوگا تو محض اجمالی تصور عقلی رہا نہ کہ تقسیم وہمی کہ اس کی مقدار وہم میں بھی نہیں آسکتی۔
ثالثا:خط ب ح زیادہ سے زیادہ محدب کرہ نار تك بڑھ سکے گا تمہارے نزدیك خرق افلاك محال یا خرق وہمی سہی تو محدب فلك الافلاك سے آگےتو کسی بعد کے لیے اصلا راہ نہیں تو خط کی لاتناہی لا تقفی بھی باطل بلکہ وقوف واجباگر کہیے تو ہم تو آگے بھی کرسکتے ہیں۔
اقول:تو وہ نرا اختراع ہوگا تقسیم اختراع ہوئی نہ کہ وہمییوں تو جس طرح خط کی تنصیف نامتناہی کہتے ہو تضعیف بھی نامتناہی کہو جس کا کوئی عاقل قائل نہیں اگر کہیے یہ سب کچھ مسلم مگر عقل قطعا حکم کرتی ہے کہ اگر قوسین غیر متناہی ہوئیں ضرور ا و ح کے درمیان ہی پڑیں گی۔تو ضرور اس خط میں نامتناہی حصوں کی گنجائش ہے۔
اقول:تو اب ہر خط اگرچہ بال بھر کا ہو حصص غیر متناہیہ بالفعل کے قابل ہوگیااگر اس میں کسی محدود ہی کی گنجائش ہے تو ضرور تقسیم وہیں رك جائے گی حالانکہ نہیں رکتی تو ضرور اس میں بالفعل حصص غیر متناہیہ کی وسعت ہے اور پھر وہ وسعت دو حاصروں میں محصور اور حاصر بھی کیسے جن میں صرف بال کی نوك کا تفاوت اگر فلسفہ ایسی ہی بدیہی البطلان باتیں مانتا ہے تو جنوں و تفلسف میں کتنا فرق ہے۔
ثم قول:بحمدہ تعالی یہ ردفی نفسہ ہر جگہ ان کے ادعائے تقسیم نامتناہی بالقوہ کے رد کو بس ہے کہ یہاں قوت مستلزم فعلیت وسعت ہے ظاہر ہے کہ تقسیم سے خط یا سطح یا جسم یا زاویہ کی مقدار بڑھتی نہ جائے گی کہ نئی وسعت پیدا ہوتی جائےوسعت تو اس کی اتنی ہی ہے جو موجود بالفعل ہے اگر اس میں بالفعل غیر متناہی حصوں کی گنجائش نہیں بلکہ صرف محدود ومعدود کی ہے تو قطعا تقسیم نامتناہی لا تقضی بھی ممکن نہیں جب اس حد تك پہنچے گی وقوف بالفعل واجب ہوگا کہ آگے وسعت نہیں تو لامتناہی لاتقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازماور وہ قطعا باطل۔لاجرم لاتناہی لا تقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازماور وہ قطعا باطل۔لاجرم لاتناہی بالقوہ بھی باطل وﷲ الحمد۔
",
1371,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,540,"حق یہ کہ فلاسفہ کے پاس اس ادعائے باطل پر کوئی دلیل نہیں صرف جز سے بھاگنے کے لیے اس کے مدعی ہوئے ہیں اور براہ جہالت اسے ہندسہ کے سر منڈھتے ہیںحالانکہ ہندسہ ان کے افترا سے بری ہے اس نے کہیں یہ دعوی نہیں کیا کہ ہر خط یا زاویہ کی تنصیف نامتناہی ہے بلکہ طریقہ بتایا ہے کہ زاویہ کی تنصیف چاہو تو یوں کرو خط کی چاہو تو یہ کرو۔یہ تو وہیں تك محدود ہے جہاں تك بالفعل ہم کرسکتے ہیں اس کے لیے اس نے طریقہ بتایا ہے آگے سب فلاسفہ کی وہم پرستی و بادبدستی ہے۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق والحمد ﷲ رب العالمین وافضل الصلوۃ والسلام علی الجوھر الفردالمبین والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین۔ تحقیق یونہی چاہیے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں اور بہترین درود و سلام ہو حق کو ظاہر کرنے والے جو ہر فرد(در یکتا)پر اور آپ کے آلاصحاباولاد اور تمام امت پر آمین(ت)
یہ ہے وہ جس پر زمین سر پر اٹھا رکھی تھی کہ جز کا مسئلہ ایسا باطلاس کے بطلان پر اتنے برہان قاطعبحمدہ تعالی کھل گیا کہ وہ خاك بھی براہین قاطعہ نہیں بلکہ خود شبہات مقطوعہ ہیں۔
یہ ۲۹ ہی شبہے کتابوں میں ہماری نظر سے گزرے اور ان میں بھی بہت متداخل ہیں۔
ایك ایك کو کئی کئی کرکے دکھایا ہے جس کا اشارہ ہر جگہ گزرا اور ان پر بحمد اﷲ تعالی رد وہ ہوئے کہ اگر ہزار شبہات اور ہوں تو ہر طالب علم جو ہمارے طریقے کو سمجھ گیا ہے ان کو ھباء منثورا کرسکتا ہے۔وﷲ الحمد۔
مؤقف چہارم:دربارہ جسم ہماری رائےاقول:وباﷲ التوفیق(ہم اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتے ہیں ت)ہم نے روشن کردیا کہ جز لایتجزی ممکن بلکہ واقع اور ا سسے جسم کی ترکیب بھی ممکناگر بعض اجسام اس طرح مرکب ہوئے ہیں کچھ محذور نہیں مگر یہ کلیہ نہیں کہ اس طرح کے اجسام میں تماس ناممکن کہ موجب اتصال دو جز ہے اور جسم حسی جس طرح ہم نے ثابت کیا یونہی تماس حسی ماننا مشکل ہے۔
اولا:حس بصر میں متقارب فصلوں کو اتصال سمجھنا معہود ہے۔یونہی اگرچہ بصر متقارب جسموں کو متماس گمان کرے مگر تماس میں قوت لامسہ کا ادراك اس غلطی پر کیونکر
",
1372,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,541,"محمول ہو۔
ثانیا:انگشتری ایك انگلی میں ٹھیکدوسری میں تنگتیسری میں ڈھیلی ہوتی ہےیہ فرق تماس حقیقی ہی بتاتا ہے کہ اگر انگشتری کے اجزاء کا انگلی کے اجزاء سے جدا رہنا واجب نہ ہو تو جدائی کی کمی بیشی یہ فرق نہیں لاسکتی ہے۔
ثالثا:ہم نے اجزائے تتجزی کی طرف بعض اجسام کی تحلیل قرآن کریم سے استفادہ کی تھی بعض اجسام کا متصل بلا انفصال ہونا بھی کتاب عزیز سے استفادہ کریں۔
قال عزوجل:"" افلم ینظروا الی السماء فوقہم کیف بنینہا و زینہا و ما لہا من فروج ﴿۶﴾ "" ۔ عزت و جلال والے اﷲ نے فرمایا کیا اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھتے ہم نے اسے کیسے بنایا اور آراستہ فرمایا اور اس میں اصلا رخنے نہیں۔
آسمان اگر جزائے لاتتجزی سے مرکب ہوتا بلاشبہ اس میں بے شمار رخنے ہوتے کہ کوئی جز دوسرے سے نہ مل سکتا تو ثابت ہوا کہ آسمان جسم متصل ہے اور عنقریب بعونہ تعالی مقام آئندہ میں آتا ہے کہ ہیولی و صورت سے جسم کا ترکب باطل بلکہ جسم بسیط خود ہی متصل اور خود ہی قابل انفصال ہے یہاں تك کہ اشراقیین ہمارے ساتھ ہیں جن کا مسلك طوسی نے تجرید میں اختیا ر کیامگر ہم ثابت کرچکے کہ تقسیم غیر متناہی اگرچہ بالقوہ ہو باطل و محال ہے تو اجسام کی تحلیل اگر تاحد امکان کی جائے گی ضرور اجزائے لاتتجزی پر منتہی ہوگیجس طرح ہم نے موقف دوم میں آیۃ کریمہ سے استنباط کیااور اب معنی آیت یہ ہوں گے کہ ہم نے ان کے جسم کے اجزائے متصلہ کو اتنا ریزہ ریزہ کردیا کہ آگے تجزیہ ممکن نہیں تو صحیح بعض اجسام میں امکانا مذہب جمہور متکلمین ہے اور بعض میں وقوعا مذہب محمد بن عبدالکریم شہر ستانی یہ اس مسئلے میں ہماری رائے ہے اور علم حق عزجلالہکو یہاں سے ظاہر ہوا کہ مذہب خمسہ مشہورہ میں سب سے باطل مذہب نظام ہے۔پھر عــــــہ۲ نہایت پوچ و باطل مسلك مشائین پھر عــــــہ۲ مشرب اشراقین
عــــــہ۱:اس کے تین جزء ہیں نفی جزء اور ہیولی سے ترکب اور انقسام نامتناہی اور تینوں باطل ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۲:اس کے بھی تین جزء ہیں اول وسوم وہی اور دونوں باطلدوم اتصال ہر جسم اس کی کلیت پر جزم صحیح نہیں۔ممکن کہ بعض اجسام اجزائے لا تتجزی سے ہوں ۱۲ منہ غفرلہ
", القرآن الکریم ۵۰/ ۶
1373,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,542,"پھر مذہب عــــــہ۱ جمہور متکلمین کی کلیتپھر مذہب عــــــہ۲ شہر ستانی میں کلیت پر جزماور صحیح یہ ہے جو بتوفیقہ تعالی ہم نے اختیار کیا۔ہم اگرچہ اس رائے میں متفرد ہیں مگر الحمدﷲ آیات کریمہ و دلائل قویمہ ہمارے ساتھ ہیں اس مسلك پر کہ جسم متصل ہواور تقسیم متناہی متشدق جونپوری کا اعتراض کہ اجزائے تحیلیہ بداہۃ ایسے ہونا لازم کہ اگر موجود بالفعل مانے جائیں تو ان سے حجم حاصل ہو تو واجب کہ ایسے ہوں کہ ملیں اور متداخل نہ ہوں تو اجزائے لاتتجزی نہیں ہوسکتے۔
اقول:اولا:یہ بداہت وہیں تك مسلم ہے کہ تجزیہ اجزائے منقسمہ تك ہو یہی تم نے دیکھا اور یہی تمہارے ذہنوں میں جما ہوا ہے۔ دربارہ جواہر تمہاری جتنی بداہتیں گزریں سب قیاس غائب علی الشاہد اور صریح حکم عقل کے خلاف اپنے مالوفات کے دھوکا پر بداہت وہم تھیں یہ بھی انہیں میں سے ہے اس وقت تو جسم کو حجم یوں ہے کہ خود ہی متصل وحدانی ہے اور اسے دو چار ہزار دس ہزار جتنے ٹکڑے ایسے کرو جن کا اتصال ممکن ان کے ملنے سے ضرور حجم بن سکے گا۔
لیکن جب تقسیم ان اجزاء پر منتہی ہو جن کا اتصال محالتو ان سے دوبارہ تحصیل حجم باطل خیال۔ہاں اتنا حکم رہے گا کہ اگر یہ بے تداخل مل سکتے تو ضرور ان سے وہی مقدار جسم حاصل ہوتی بس حکم بداہت اس قدر ہے نہ یہ کہ ان کا ملنا بھی ممکن جس طرح عقل ہاں ہاں وہی بداہت قطعا حکم کرتی ہے کہ اگر فلك کے ہزار ٹکڑے کیے جائیں اور وہ ٹکڑے انہیں اوضاع پر پھر ملادئے جائیں دوبارہ یہی کرہ بن جائے گا۔اس حکم بداہت سے تمہارے نزدیك یہ لازم نہیں آتا کہ فلك کے ٹکڑے ہوسکیں کہ خرق ہے پھر وہ ٹکڑے مل سکیں کہ التیام ہے۔
ثانیا:علی اھلہا تجنی براقش(براقش اپنے ہی گھر والوں پر جنات کرتی ہے ت)اجزاء تحلیلیہ با لفعل مانی جائیں تو صالح ترکیب ہوں اس سے جمیع اجزا ء مرادجہاں تك انقسام کی جسم میں صلاحیت ہے یا بعض۔برتقدیر ثانی ہم پر کیا اعتراض اتنے اقسام لو جن کا انقسام ممکنضرور ان سے ترکیب ہوسکے گی۔برتقدیر اول تم اپنے جملہ اقسام موجود بالفعل مان کر صلاحیت ترکیب دکھاؤضرور ہے کہ
عــــــہ۱:کہ ہر جسم اجزائے لا تجزی سے ہے حالانکہ یقینا فلك وغیرہ بہت اجسام ان سے نہیں ہاں اثبات جز صحیح ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــــہ۲:کہ سب اجسام متصل ہیں نیز نفی جز باطل ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
",
1374,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,543,"جملہ اقسام ممکنہ موجود بالفعل فرض کیے تو وہ نہ ہوں گے مگر اجزائے لاتتجزی کہ اگر ان میں کسی کا انقسام ہوسکے تو جمیع اقسام موجود بالفعل نہ ہوئے تو وہی آش تمہارے کاسہ میں ہےبہرحال اجزائے لا تجزی پر انتہاء واجبفرق اتنا ہے کہ ہمارے نزدیك متناہی ہیں تمہارے نزدیك غیر متناہیاور اجزاء متناہی ہوں خواہ غیر متناہی کسی طرح اس قابل نہیں کہ ملیں اور متداخل نہ ہوںاور ان سے حجم و ترکیب حاصل ہوتو اعتراض نہ تھا مگر جہالت خالصہاب متشد ق صاحب کو چاہیے کہ اجزائے دیمقراطیسیہ پر ایمان لائیں کہ انہیں تك تحلیل ہو کر پھر ترکیب بن پڑے گییہ ہے ان کا تفلسفیہ ہے ان کا تشدق و تصلف۔ہاں یہاں ایك شبہ رہے گا کہ جب بعض کفار کے جسم پر موت اجزائے لاتجزی فرمادیئے گئے جیسا کہ آیت کریمہ سے گزرا اور اجزائے لاتتجزی مل نہیں سکتے تو ان کا اعادہ کس طرح ہوگا۔
اقول:قدرت الہیہ کہیں عاجز نہیں ممکن کہ مولی سبحنہ و تعالی نے اجزاء میں قوت نمور کھی ہو۔روز قیامت ان پر مینہ برسایا جائے گاجیسا کہ حدیث صحیح کا ارشاد ہے اس بارش سے ان میں بالش ہو اور بالیدگی ان کو اجسام قابل اتصال کردے بعد امتزاج ان سے وہی جسم متصل وحدانی حاصل ہو جیسے قطرات کے ملنے سے جسم آب اور بعد اتصال اس مقدار کی طرف رد فرما دیا جائے جس پر دنیا میں تھا اوکما شاء ربنا وعلی مایشاء قدیر(یا جیسا ہمارے رب نے چاہا اور وہ اپنے چاہے پر قادر ہے۔ت)ظاہر ہے کہ یہاں اس اعتراض کی گنجائش نہیں جو علامہ بحرالعلوم نے شبہ ۲۱ کی تقریر میں اس احتمال پر کیا کہ ممکن کہ سرکا نے سے وتر میں تخلخل ہو کر خود بڑھ جائےیہ احتمال خود ہی مہمل تھا اس پر رد کیا کہ تمہارے نزدیك تو مقدار انضمام اجزاء سے بڑھتی ہے یہاں وتر میں کون سا جز بڑھااور اگر جز خود ہی بڑا ہوجائے تو جز کب رہا خط ہوگیا۔
اقول:یہ رد وہاں بھی جیسا تھا ظاہر ہے اولا متکلمین نے یہ کہا کہ انضمام اجزاء سے مقدار بڑھتی ہےیہ کب کہا کہ یوں ہی بڑھ سکتی ہے۔
ثانیا:بعد تخلخل جزء نہ رہا تو اس کا جزء رہنا کس نے واجب کیا تھاغالبا اسی لیے اخیر میں فرمادیا فافھم(پس غور کرو۔ت)مگر ہمارے کلام پر تو بفضلہ تعالی اسے راسا ورود نہیں کمالا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہےت)یہ ہے وہ جس کی طرف ہماری نظر مودی ہوئی۔
والعلم بالحق عند ربنا وھو اورحق کا علم ہمارے رب کے پاس ہے اور
",
1375,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,544,بکل شیئ علیم وعلی سیدنا محمد و الہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم امین۔والحمد ﷲ رب العلمین۔ وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور ہمارے آقاآپ کی آل اور اصحاب پر درود و سلام ہوآمیناور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔(ت),
1376,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,545,"مناظرہ و رد بدمذہباں
مسئلہ ۳۳: از فقیر محمد مہدی حسن قادری مبارکی ۱۹ رمضان ۳۶ ۱۳ھ
اس طرف دیوبندیوں کے امام در باطن بلکہ بعض مقام پر کھلے بند مولوی محمد علی کانپوری سابق ناظم ہیں جو ظاہرا صوفی کہلاتے ہیں ایك شخص صاحب دل پیر طریقت کا مرید تھا دیوبندیوں یعنی ناظم صاحب کی ذریات نے ان کے پیر کو فاتحہ قیام کی وجہ سے بدعتی بنا کر دوبارہ بیعت مولوی محمد علی سے کرادیا مگر جب آپ حضرات کے نام لیواؤں نے اس مرید کو سمجھایا کہ دوبارہ مرید ہونا پیر طریقت سے پھر جانا گناہ ہے اس پر اس نے اول پیر کے پاس جا کر توبہ کی تو دیوبندیوں اور ناظم صاحب کی ذریات نے یہ فساد مچایا کہ اب وہ مرید مسلمان نہ رہاکیونکہ محمد علی کے ایسے شخص سے مرید ہو کر پھر پیر اول کے پاس چلا گیاتو درحقیقت کیا ہے مکرریہ کہ مولوی محمد علی سابق ناظم ندوہ کس عقیدہ کے بزرگ ہیں حضور جواب جلد مرحمت فرمائیں والسلام۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط ۔نحمدہ و نصلی علی رسول الکریم ط
پیر طریقیت جامع شرائط صحت بیعت سے بلاوجہ شرعی انحراف ارتداد طریقیت ہے اور شرعا معصیت کہ بلاوجہ ایذاء و اختقار مسلم ہےاور وہ دونوں حرام۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ",
1377,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,546,""" فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ "" تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے برے عہد کو توڑا۔(ت)
اور فرماتا ہے:
"" والذین یؤذون المؤمنین و المؤمنت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بہتنا و اثما مبینا ﴿۵۸﴾ "" اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲرواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائیاور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اﷲ تعالی کو تکلیف پہنچائی اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔(ت)
خصوصا اس بنا پر پھرنا کہ پیر قیام و فاتحہ کرتے ہیں یہ نری معصیت ہی نہیں بلکہ یہ پھرنا بربنائے قبول شیطنت وہابیہ خبثا ہےتو اس پھرنے والے کے دین کی بھی خیر نہ تھیا س پر فرض تھا کہ اس نے پھرنے سے پھرے اور وہ جدید بیعت جو بربنائے اثر وہابیت سے فسخ کرے۔وہ کہ تائب ہوا اور ارتداد طریقت و معصیت و ضلالت سے باز آیا بہت اچھا فعلمستحسن بوجہ اول اور فرض بوجہ دوم بجالایااس پر جو لوگ یہ دند مچاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہ رہا جھوٹے کذاب ہیں اور بلاوجہ مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں وہ خود اپنے اسلام کی خیر منائیں اگر وہابی یا ان کے رفیق نہیں ورنہ وہابیہ اور ان کے رفقاء وا مثالہم خود ہی اسلام سے خارج ہیں ہاں جو بہمہ وجوہ مسلمان ہوا سے تکفیر مسلم سے خوف لازم ہےاور ایسی جگہ فقہ اس پر تجدید اسلام و تجدید نکاح کی حاکم۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:فقد باء بھا
",
1378,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,547,"احمدھما ۔(بے شك ان دونوں میں سے ایك اس کے ساتھ لوٹا۔ت)اور اس بارے میں اقوال فقہاء کرام کی تفصیل و تحقیق ہماری کتاب الکوکبۃ الشہابیہ اور النھی الاکیدوفتاوی رضویہ میں ہے۔
رہا سوال دوم یعنی سابق ناظم ندوہ کے عقیدہ سے استفسار ایام نظامت میں ان صاحب کے اقوال ضلال اور حمایت کفار و تعظیم مرتدین و بدخواہی اسلام و مسلمین واضح و آشکار اور حرمین شریفین کے مبارك فتوی مسمی بہ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین (۱۳۱۷ھ)سے طشت ازبام ہوچکے تھےاب بحکم الذنب یجزالذنب ۔والمرامع من احب (گناہ گناہ کو کھینچتا ہے اور ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔ت) دیوبندیوں سے ان کا اتحاد مسموع ہوا بلکہ دیوبندیوں کے ساتھ علماء اہلسنت کے مقابلہ پر آنا اور حسب عادت ""ضعف الطالب والمطلوب"" مولی و مشیر سب کافر ار فرمانا یہ اگر ہے تو چیز دیگر ہے ا ور اس کا امتحان بفضلہ تعالی علمائے کرام حرمین شریفین کے دوسرے فتاوی مبارکہ مسمی بہ حسام الحرمین علی منحر الکفروالمین نے بہت آسان کردیا یہ فتوی پیش کیجئے جو صاحب بکشادہ پیشانی ارشاد علمائے حرمین شریفین کو کہ عین اصل اصول ایمان کے بارے میں ہے اور جس کا خلاف کفر ہے قبول کریں فبہا ورنہ خود ہی کھل جائے گا کہ منہم میں اور پھر وہی فتوائے مبارکہ حرمین طیبین بتادے گا کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر میں شك کیا خود کافر ہوگیا۔(ت)
یعنی گنگوہی وتھانوی و امثالہماواذنا بہما کے ان کفروں پر مطلع ہو کر جو ان کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
"," صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفراخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال اخیر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۷
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال اخیر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۷
صحیح البخاری کتاب الادب باب علامۃ الحب فی اﷲ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۱،صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ والادب باب المرمن احب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۲
حسام الحرمین علٰی منح الکفروالمین مطبع اہلسنت و جماعت بریلی ص ۹۴
"
1379,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,548,یہ ہے وہ امر حق کہ بعد سوال حفظ دین عوام اہل اسلام کے لیے جس کا اظہار ہم پر فرض تھا جس کا عہد ہم سے قرآن عظیم و حدیث نبی کریم علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیم نے لیا ورنہ ناظم صاحب ہمارے قدیم عنایت فرماہیں اور دین و مذہب سے جدا کرکے ہم انہیں ایك معقول آدمی جانتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔ ,
1380,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,549,"بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۴: از غازی پورمرسلہ جہانگیر خان ۱۵ صفر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دو چار کتابیں اردو کی دیکھ کر چاروں اماموں کے مسئلے اخذ کرتا ہے اور اپنے اوپر آئمہ اربعہ سے ایك کی تقلید واجب نہیں جانتااس کو عمرو نے کہا کہ تو لامذہب ہے جو ایسا کرتا ہے کیونکہ تجھ کو بالکل احادیث متواتر و مشہور واحاد وعزیز و غریب و صحیح و حسن و ضعیف و مرسل و متروك و منقطع و موضوع وغیرہ کی شناخت نہیں ہے کہ کس کو کہتے ہیں حالانکہ بڑے بڑے علماء اس وقت اپنے اوپر تقلید واحد کی واجب سمجھتے ہیں اور ان کو بغیر تقلید کے چارہ نہیں تو تو ایك بے علم آدمی ہے جو عالموں کی خاك پا کے برابر نہیں ہےنہ معلوم اپنے تئین تو کیا سمجھتا ہے جو ایسا کر تا ہے اس کے جواب میں اس نے اس کو رافضی و خارجی و شیعہ وغیرہ بنایا بلکہ بہت سے کلمات سخت سست بھی کہے حالانکہ لامذہب کہنے سے اس کی یہ غرض نہ تھی کہ تو خارج از اسلام ہے بلکہ یہ غرض تھی کہ ان چاروں مذہبوں میں سے تمہارا کوئی مذہب نہیں ہے۔
",
1381,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,550,"اور اس کی غرض شیعہ ورافضی بنانے سے یہ تھی کہ تو ایك امام کی تقلید کرتا ہے جیسے رافضی تین خلیفوں کو نہیں مانتے اور دوسرے یہ کہ ایك امام کی تقلید کرنے سے بخوبی عمل کل دین محمدی پر نہیں ہوسکتا اور چاروں اماموں کے مسئلے اخذ کرنے میں کل دین محمد ی پر بخوبی عمل ہوسکتا ہےآیا ان دونوں سے کس نے حق کہا اور کس نے غیر حق اور حکم شرع کا ان دونوں کے واسطے کیا ہے جو ایك دوسرے کو سخت کلامی سے پیش آئے امید کہ ساتھ مہرعالی کے مزین فرما کر ارشاد فرمائیں۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گےت)فقط۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ ذی الجلالۃ والصلوۃ والسلام علی صاحب الرسالۃ الذی لا تجتمع امتہ علی الضلالۃ وعلی الہ و صحبہ و مجتہدی ملتہ اولی الایدی والابصار و النبالۃ۔ تمام تعریفیں جلالت والے اﷲ تعالی کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو صاحب رسالت پر جس کی امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی اور آپ کی آلآپ کے صحابہ اور آپ کی امت کے مجتہدین کرام پر جو قوت و بصیرت اور شرافت والے ہیں۔ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ حق و درستگی کی ہدایت عطا فرما۔ت)
مسئلہ تقلید کی تحقیق و تفصیل دفتر طویل درکارفقیر غفراﷲ تعالی لہنے اپنے رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید(۱۳۰۵ھ)اور فتاوائے مندرجہ البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ جلد یاز دہم فتاوائے فقیر مسمی بہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں قدرے کلمات وافیہ ذکر کیے۔
یہاں بقدر ضرورت صرف اس مقدار پر کہ بطلان کید زید ظاہر کرے اکتفاء ہوتا ہے۔اس کا قول دو امر پر مشتمل ہے۔
اول:بکمال زبان درازی مقلدان حضرات آئمہ کرام علیہم الرضوان من الملك العلام کو معاذ اﷲ رافضی خارجی بنانا۔
", رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامع نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور کی جلد ششم کے صفحہ ۶۴۷ پر مرقوم ہے۔
1382,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,551,"دوم:وہ تلبیس عجیب و تدلیس غریب کہ ترك تقلید میں تمام دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنا ہے۔
امر اول:کی نسبت ان کے امام الطائفہ کے علما و نسبا دادا اور بیعۃ پر دادا یعنی شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی کی گواہی کافی وہ رسالہ انصاف میں انصاف کرتے ہیں:
بعدالمائتین ظہر فیہم التمذھب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذھب مجتہد لعینہ وکان ھذا ھوالواجب فی ذلك زمان ۔ یعنی دو صدی کے بعد خاص ایك مجتہد کا مذہب اختیار کرنا اہل اسلام میں شائع ہوا۔کم کوئی شخص تھا جو ایك امام معین کے مذہب پر اعتماد نہ کرتا ہواور اس وقت یہی واجب ہوا۔
اسی میں لکھتے ہیں:
وبالجملۃ فالتمذھب للمجتہدین سر اللھمہ اﷲ تعالی العلماء وجمعھم علیہ من حیث یشعرون او لا یشعرون ۔ یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایك مذہب کا اختیار کرلینا ایك راز ہےکہ حق سبحانہو تعالی نے علماء کے قلوب میں القاء فرمایا اور انہیں اس پر جمع کردیا چاہے اس راز کو سمجھ کر اس پر متفق ہوئے ہوں یا بے جانے۔
زید بے قید دیکھے کہ اس نے بشہادت شاہ ولی اﷲ صاحب گیارہ سو۱۱۰۰ برس سے زائد کے آئمہ و علماء و مشائخ و اولیاء عامہ اہلسنت و جماعت کو معاذ اﷲ رافضی و خارجی بنایا اور اﷲ عزوجل کے سر جلیل و الہام جمیل کو جس پر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق علمائے امت کو مجتمع و متفق فرمایا۔ضلالت و گمراہی ٹھہرایا۔علامہ سید احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ حاشیہ در مختار میں ناقل:
ھذا الطائفۃ الناجیۃقداجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون و الشافعیون و الحنبلیون رحمھم اﷲ تعالی ومن یعنی اہل سنت کا گروہ ناجی اب چار مذہب میں مجتمع ہے حنفی مالکیشافعی حنبلیا ﷲتعالی ان سب پر رحمت فرمائےاب جو ان چار سے
"," الانصاف باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۱۹
الانصاف باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۲۰
"
1383,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,552,"کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔ باہر ہے بدعتی جہنمی ہے۔
واقعی ان حضرات نے اس ارشاد علماء کا خوب ہی جواب ترکی بترکی دیا یعنی علمائے اہلسنت ہمیں بدعتی ناری بتاتے ہیں ہم گیارہ سو برس تك کے ان کے اکابر و ائمہ کو رافضی و خارجی بنائیں گے۔ ع
کہ تو ہم درمیان ماتلخی
(کہ تو بھی ہمارے درمیان تلخ ہے۔ت)
مولی تعالی ہدایت بخشے آمین۔
مگر پھر بھی زید بے چارے نے بہت تنزل کیا کہ صرف رفض و خروج پر قانع رہا اس کے پیشوا تو کافر و مشرك تك کہتے ہیں۔
"" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾ "" اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں کے۔ (ت)
یہ ناپاك ترکہ اسی بے باك اخبث امام اول دین مستحدث یعنی ابن عبدالوہاب نجدی علیہ ما علیہ کا ہے کہ اپنے موافقان ناخرد مندنفر ے چند بے قید و بند آزادی پسند کے سوا تمام عالم کے مسلمانوں کو کافر و مشرك کہتااور خود اپنے باپدادااساتذہ مشائخ کو بھی صراحۃ کافر کہہ کر پوری سعادت مندی ظاہر کرتااور نہ صرف انہیں پر قانع ہوتا بلکہ آج سے آٹھ سو برس تك کے تمام علماء و اولیاء سائر امت مرحومہ کو(خاك بدہان ناپاک)صاف صاف کافر بتاتا اور جو شخض اس کے جال میں پھنس کر اس کے دست شیطان پرست پر بعیت کرتا اس سے آج تك اس کے اور اس کے ماں باپ اور اکابر علمائے سلف نام بنام سب کے کفر پر اقرار لیتااور اگرچہ بظاہر ادعائے حنبلیت رکھتا مگر مذاہب آئمہ کو مطلقا باطل جانتا اور سب پر طعن کرتا اور اپنے اتباع ہر کندہ ناترا شیدہ کو مجتہد بننے کا حکم دیتا۔یہ دو چار حرف اردو کے پڑھ کر استر بے لگام و اشتربے مہار ہوجانا بھی اسی خرنا مشخص کی تعلیم ہے خاتمۃ المحققین مولینا امین الملۃ والدین سیدی محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمختار علی الدرالمختار کی جلد ثالث کتاب الجہاد باب البغاۃ میں زیر بیان خوارج فرماتے ہیں:
"," حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴ /۱۵۳
القرآن الکریم ۲۶ / ۲۲۷
"
1384,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,553,"کما وقع فی زماننا فی اتباع عبدالوھاب الذین خرجوا من نجدو تغلبوا علی الحرمین وکانو ینتحلون مذھب الحنابلۃ لکنھم اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقادھم مشرکون و استباحوابذلك قتل اھل السنۃ وقتل علمائھم حتی کسر اﷲ تعالی شوکتھم وخرب بلادھم وظفر بھم عساکر المسلمین عام ثالث وثلثین و مائتین والف ۔ والحمد ﷲ رب العلمین"" وقیل بعدا للقوم الظلمین ﴿۴۴﴾ ""
یعنی خارجی ایسے ہوتے ہیں جیسا ہمارے زمانے میں پیروان عبدالوہاب سے واقع ہوا جنہوں نے نجد سے خروج کرکے حرمین محترمین پر تغلب کیا اور وہ اپنے آپ کو کہتے تو حنبلی تھے مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مسلمان بس وہی ہیں اور جو ان کے مذہب پر نہیں وہ سب مشرك ہیں اس وجہ سے انہوں نے اہلسنت کا قتل اور ان کے علماء کاشہید کرنا مباح ٹھہرالیایہاں تك کہ اﷲ تعالی نے ان کی شوکت توڑ دی اور ان کے شہر ویران کیے اور لشکر مسلمین کو ان پر فتح بخشی ۱۲۳۳ھ میں(ت)
اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہےاور کہا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(ت)
امام العلماء سید سند شیخ الاسلام بالبلدالحرام سیدی احمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی نے اپنی کتاب مستطاب درر سنیہ میں اس طائفہ بے باك اور اس کے امام سفاك کے اعمال کا حال عقائد کا ضلال خاتمہ کا وبال قدرے مفصل تحریر فرمایااور بیس حدیثوں میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور حضرت امیر المومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ وہ حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کا اس طائفہ تالفہ کے ظہور پر شرور کی طرف ایماو اشعار فرمانا بتایا ان بعض حدیثوں اور ان سے زائد کی تفصیل فقیر کے رسالہ النہی الاکید میں مذکوریہاں اس کتاب مستطاب ہادی صواب سے چند حرف اس مقام کے متعلق نقل کرنا منظور۔
قال رضی اﷲ تعالی عنہ ھؤلاء القوم لایعتقدون شیخ سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ گروہ وہابیہ اپنے
"," ردالمحتار کتاب الجہاد،باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۰۹
القرآن الکریم ۱۱ /۴۴
"
1385,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,554,موحدا الامن تبعھم کان محمد بن عبدالوہاب ابتدع ھذہ البدعۃوکان اخوہ الشیخ سلیمن من اھل العلم فکان ینکرعلیہ انکارا شدید افی کل یفعلہ اویامربہ فقال لہ یوما کم ارکان الاسلام قال خمسۃقال انت جعلتہا ستۃالسادس من لم یتبعك فلیس بمسلمھذا عندك رکن سادس للاسلاموقال رجل اخریوما کم یعتق اﷲ کل لیلۃ فی رمضان قال مائۃ الفوفی اخرلیلۃ یعتق مثل ما اعتق فی الشھرکلہ فقال لہ لم یبلغ من اتبعك عشر عشر ماذکر ت فمن ھؤلاء المسلمون الذین یعتقھم اﷲ وقد حصرت المسلمین فیك وفیمن اتبعك فبھت الذی کفرفقال لہ رجل اخر ھذا الدین الذی جئت بہ متصل ام منفصل فقال حتی مشایخی و مشایخھم الی ستمائۃ سنۃ کلھم مشرکون فقال الرجل اذن دینك منفصل لا متصل فعمن اخذتہ قال وحی الھام کالخضر ومن مقابحہ انہ قتل رجلا اعمی کان مؤذنا صالحاذا صوت حسن نہاہ عن الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ پیروں کے سوا کسی کو موحد نہیں جانتےمحمد بن عبد الوہاب نے یہ نیا مذہب نکالااس کے بھائی شیخ سلیمن رحمۃ اﷲ علیہ کہ اہل علم سے تھے اس پر ہر فعل و قول میں سخت انکار فرماتے ایك دن اس سے کہا اسلام کے رکن کے ہیں بولا:پانچ فرمایا تو نے چھ کردیئےچھٹا یہ کہ جو تیری پیروی نہ کرے وہ مسلمان نہیںیہ تیرے نزدیك اسلام کا رکن ششم ہےاور ایك صاحب نے اس سے پوچھا:اﷲ تعالی رمضان شریف میں کتنے بندے ہر رات آزاد فرماتا ہے ہے۔ بولا:ایك لاکھ اور پچھلی شب اتنے کہ سارے مہینے میں آزاد فرمائے تھے۔ان صاحب نے کہا:تیرے پیرو تو اس کے سوویں حصہ کو بھی نہ پہنچے وہ کون مسلمان ہیں جنہیں اﷲ تعالی رمضان میں آزاد فرماتا ہےتیرے نزدیك تو بس تو اور تیرے پیرو ہی مسلمان ہیںاس کے جواب میں حیران ہو کر رہ گیا کافراور ایك شخص نے اس سے کہا یہ دین کہ تو لایا نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے متصل ہے یا منفصل بولا خود میرے اساتذہ اور ان کے اساتذہ چھ سو برس تك سب مشرك تھے کہا:تو تیرا دین منفصل ہوا متصل تو نہ ہواپھر تو نے کس سے سیکھا بولا:مجھے خضر کی طرح الہامی وحی ہوئیاور اس کی خباثتوں سے ایك یہ ہے کہ ایك نابینا متقی خوش آواز موذن کو منع کیا کہ منارہ پر اذان کے بعد صلوۃ نہ پڑھا کرانہوں نے نہ مانا اور ,
1386,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,555,تعالی علیہ وسلم فامربقتلہ فقتل ثم قال ان الریابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) فی المنائروکان یمنع اتباعہ من مطالعۃ کتب الفقہ و احرق کثیرا منھا واذن لکل من اتبعہ ان یفسر القرآن بحسب فھمہ حتی ھمج الھمج من اتباعہ فکان کل واحد منھم یفعل ذلك ولوکان لایحفظ القرآن ولا شیئا منہ فیقول الذی لایقرؤ منھم لا خریقرؤاقرأ علی حتی افسرلك فاذا قرأ علیہ یفسرہ لہ برایہ وامرھم ان یعملوا ویحکموا بما یفھمونہ فجعل ذلك مقدما علی کتب العلم ونصوص العلماء وکان یقول فی کثیر من اقوال الائمۃ الاربعۃ لیست بشئی وتارۃ یتستر ویقول ان الائمۃ علی حق و یقدح فی اتباعھم من العلماء الذین القوا فی مذھب الاربعۃ وحرروھا ویقول انھم ضلوا واضلوام وتارۃ یقول ان الشریعۃ واحدۃ فما لھؤلاء جعلوھا مذاھب اربعۃ ھذا کتاب اﷲ وسنۃ رسولہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صلوۃ پڑھی اس نے ان کے قتل کا حکم دے کر شہید کرادیا کہ رنڈی کی چھوکری اس کے گھر ستار بجانے والی اتنی گنہگار نہیں جتنا منارہ پر باآواز بلند نبی(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)پر درود بھیجنے والااور اپنے پیروؤں کو کتب فقہ دیکھنے سے منع کرتافقہ کی بہت سی کتابیں جلادیں اور انہیں اجازت دی کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے موافق قرآن کے معنی گھڑ لیا کرے یہاں تك کہ کمینہ سا کمینہ کو دن ساکو دن اس کے پیروؤں کا تو ان میں ہر شخص ایسا ہی کرتا اگرچہ قرآن عظیم کی ایك آیت بھی نہ یاد ہوتیجو محض ناخواندہ تھا وہ پڑھے ہوئے سے کہتا کہ تو مجھے پڑھ کر سنا میں اس کی تفسیر بیان کروںوہ پڑھتا اور یہ معنی گھڑتا۔پھر انہیں تفسیر ہی کرنے کی اجازت نہ دی بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی حکم کیا کہ قرآن کے جو معنی تمہاری اپنی اٹکل میں آئیں انہیں پر عمل کرو اور انہیں پر مقدمات میں حکم دو اور انہیں کتابوں کے حکم اور اماموں کے ارشاد سے مقدم سمجھوآئمہ اربعہ کے بہت سے اقوال کو محض ہیچ وپوچ بتاتا اور کبھی تقیہ کرجاتا اور کہتا کہ امام تو حق پر تھے مگر یہ علماء جو ان کے مقلد تھے اور چاروں مذہب میں کتابیں تصنیف کر گئے اور ان مذاہب کی تحقیق و تلخیص کو گزرے یہ سب گمراہ تھے اور اوروں کو گمراہ کر گئے۔ اور کبھی کہتا شریعت تو ایك ہے ان فقہاء کو کیا ہوا کہ اس کے چار مذہب کردیئے یہ قرآن و حدیث موجود ہیں ہم تو ,
1387,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,556,صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتعمل الا بھما کان ابتداء ظھورا مرہ فی الشرق ۱۱۴۳ھوھی فتنۃ من اعظم الفتن کانوا اذا اراد احد ان یتبعھم علی دینھم طوعا او کرھا یا مرونہ بالاتیان بالشھادتین اولا ثم یقولون لہ اشھد علی نفسك ان کنت کافر اواشھد علی و الدیك انھما ماتا کافرین واشھد علی فلان وفلان و یسمون لہ جماعۃ من اکابر العلماء الماضین فان شھدوا بذلك قبلوھم والا امرو ابقتلہم وکانوا یصرحون بتکفیر الا مۃ من منذست مائۃ سنۃو اول من صرح بذلك محمد بن عبدالوھاب فتبعوہ فی ذلکوکان یطعن فی مذاھب الائمۃ واقوال العلماء ویدعی الانتساب الی مذھب الامام احمد رضی اﷲ تعالی عند کذبا وتسترا وزورا والا مام احمد برئ منہ واعجب من ذلك انہ کان یکتب الی عمالہ الذین ھم من اجھل الجاھلین اجتہدوا بحسب فھمکم ولا تلتفتوا الھذہ الکتب فان فیھا الحق والباطل وکان اصحابہ لایتخذون مذھبا من المذاھب بل یجتہدون کما امرھم ویتسترون ظاھرا بمذھب الامام احمد ویلبسون بذلك علی العامۃفانتدب انہیں پر عمل کریں گےمشرق میں اس کے مذہب جدید ۱۱۴۳ھ سے ظہور کیا اور یہ فتنہ عظیم فتنوں سے ہواجب کوئی شخص خوشی سے خواہ جبرا وہابیوں کے مذہب میں آنا چاہتا اس سے پہلے کلمہ پڑھواتے پھر کہتے خود اپنے اوپر گواہی دے کہ اب تك تو کافر تھا اور اپنے ماں باپ پر گواہی دے کہ وہ کافر مرے اور اکابر آئمہ سلف سے ایك جماعت کے نام لے کر کہتے ان پر گواہی دے کہ یہ سب کافر تھے پھر اگر اس نے گواہیاں دے لیں جب تو مقبول ورنہ مقتول۔اگر ذرا انکا ر کیا مروا ڈالتے اور صاف کہتے کہ چھ سو۶۰۰ برس سے ساری امت کافر ہےاول اس کی تصریح اسی عبدالوہاب نے کی پھر سارے وہابی یہی کہنے لگےوہ آئمہ کے مذہب اور علماء کے اقوال پر طعن کرتا اور براہ تقیہ جھوٹ فریب سے حنبلی ہونے کا ادعا رکھتا حالانکہ امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ اس سے بری و بیزار ہیں اور اس سے عجیب تر یہ کہ اس کے نائب جوہر جاہل سے بدتر جاہل ہوتے انہیں لکھ بھیجتا کہ اپنی سمجھ کے موافق اجتہاد کرو اور ان کتابوں کی طرف منہ پھیر کر نہ دیکھو کہ ان میں حق و باطل سب کچھ ہےاس کے ساتھ لا مذہب تھے اس کے کہنے کے مطابق آپ مجتہد بنتے اور بظاہر جاہلوں کے دھوکا دینے کو مذہب امام احمد کی ڈھال رکھتے یہ چال ڈھال دیکھ کر مشرق و مغرب کے علمائے جمیع ,
1388,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,557,"للرد علیہ علماء المشرق والمغرب من جمیع المذاھب ومن منکراتہ منع الناس من قراء ۃ مولدالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی المنائر بعد الاذانومنع الدعاء بعد الصلوۃ وکان یصرح بتکفیر المتوسل بالانبیاء والاولیاء وینکرعلم الفقہ ویقول ان ذلك بدعۃ ملتقطا ۔ مذاہب اس کے رد پر کمر بستہ ہوئے۔اس کی بری باتوں سے یہ بھی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے میلاد شریف پڑھنے اور اذان کے بعد مناروں پر حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صلوۃ بھیجنے اور نماز کے بعد دعا مانگنے کو ناجائز بتایا اور انبیاء و اولیاء سے توسل کرنے والون کو صراحتہ کافر کہتا اور علم فقہ سے انکار رکھتا اور اسے بدعت کہا کرتا انتہی ملتقطا۔
مسلمان دیکھیں کہ بعینہ یہی عقیدے ان ہندی وہابیوں کے ہیں پھر ان کے ہندی امام نے اسی نجدی امام کی کتاب التوحید صغیر سے سیکھ کر کفر مسلمین پر وہ چمکتی دلیل لکھی کہ صاف صاف خود اپنے اور اپنے ہم مشربوں سب کے کفر پر مہر کردی یعنی حدیث صحیح مسلملایذھب اللیل و النھار حتی تعبدالات والعزی(الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)یبعث اﷲ ریحا طیبۃ فتوفی من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الی دین ابائھم ۔
مشکوۃ کے باب لا تقدم الساعۃ الا علی شرار الناس سے نقل کرکے بے دھڑك زمانہ موجودہ پر جمادی جس میں حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمانہ فنا نہ ہوگا جب تك لات و عزی کی پھر پرستش نہ ہواور وہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالی ایك پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھالے گی۔جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان ہوگا انتقال کرے گاجب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پرستش جاری ہوجائے گی۔
اس حدیث کو(اسمعیل دہلوی نے)نقل کرکے صاف لکھ دیا سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے
"," الدررالسنیہ،المکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۳۹ تا ۵۳
مشکوۃ المصابیح کتاب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الاعلی الشرار الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۸۱
"
1389,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,558,"موافق ہوا ۔اناﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف ہم نے لوٹنا ہے ت)
بدحواس کو اتنا نہ سوجھا کہ اگر وہ یہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث میں خبر ہے تو واجب کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام و نشان نہ رہابھلے مانس اب تو اور تیرے ساتھی نجدو ہند کے سارے وہابی گرفتارخرابی کہاں بچ کر جاتے ہیںکیا تمہارا طائفہ کہیں دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستا ہےتم سب بدتر سے بدتر کافروں میں ہوئے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں اور دین کفار کی طرف پھر کر بتوں کی پوجا میں ڈوبے ہوئے ہیںسچ آیا حدیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ۔
حبك الشیئ یعمی ویصم ۔ کسی شے سے تیری محبت تجھے اندھا اور بہر کردیتی ہے۔ت)
شرك کی محبت نے اس کفر دوست کو ایسا اندھا بہرا کردیا کہ خود اپنے کفر کا اقرار کر بیٹھا مطلب تو یہ ہے کہ کسی طرح تمام مسلمان معاذ اﷲ مشرك ٹھہریں اگرچہ برائے شگون کو اپنا ہی چہرہ ہموار سہی۔
"" کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾ "" اﷲ تعالی یونہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر(ت)
وہابی صاحبو!اپنے پیشواؤں کی تصریحیں دیکھتے جاؤ صدہا سال کے علماء واولیاء و مقبولان خدا کو رافضی خارجی کہتے شرماؤ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تم بزور زبان و بہتان دوسروں پر تبرا بھیجتے ہو مگر ہندو نجد کے سارے وہابی اپنے ہندی و نجدی اماموں کی تصریح اور وہ دونوں امام معنوی عوام خودا اپنے اقرارات صریح سے کافر بے ایمان مشرك بت پرست شراب کفر سے مخمورو بدمست ہیںاقرار مرد آزاد مرد چاہ کن راچاہ درپیش(مرد کا اقرار مرد کا آزار ہےکنواں کھودنے والا خود کنویں میں گرتا ہے۔ت)
اسمان کا تھوکا حلق میں آیاتف برماہ بر روئے خویش(چاند پر تھوکنے والا اپنے چہرے پر تھوکتا ہے۔ت)
"," تقویۃ الایمان،الفصل الرابع،مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۳۰
سُنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۳،مسند احمد حنبل مرویات ابی الدردا ۵ /۱۹۴ وکنزالعمال حدیث ۴۴۱۰۴ ۱۶ /۱۱۵
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
"
1390,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,559,""" کذلک العذاب و لعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون ﴿۳۳﴾ "" مار ایسی ہی ہوتی ہے اور بے شك آخرت کی مار سب سے بڑی ہےکیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر کہ لقب رافضی وخارجی کے مستحق بھی یہی حضرات ہیں کہ چاروں آئمہ کرام اور ان کے سب مقلدین سے تبری کرتے اور تصریحا و تلویحا سب پر تبرا بھیجتے ہیں بخلاف اہلسنت کہ سب کو امام اہلسنت جانتے اور سب کی جناب میں عقیدت رکھتے سب کے مقلدوں کو رشد و ہدایت پر مانتے ہیں۔طرفہ یہ کہ زید بیچارہ رافضیوں پر تین خلفاء کے نہ ماننے کا الزام رکھتا ہے حالانکہ اس کا امام مذہب خود حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ماننا بھی حرام و شرك بتاتا ہےاپنی کتاب تقویۃ الایمان جہال خراب میں صاف لکھتا ہے کہ۔""اﷲ کے سوا کسی کو نہ مان"" ۔
اسی میں کہتا ہے:"" سب سے اﷲ صاحب نے قول و قرار لیا کہ کسی کو میے سوا نہ مانیو"" ۔
نے فروعت محکم آمد نے اصول
شرم بادت از خدا وازرسول
(نہ تیرے فروع متکلم ہیں اور نہ ہی اصولتجھے اﷲ ورسول سے شرم آنی چاہیے۔ت)
جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
امردوم:کہ چاروں آئمہ کے مسائل لینے میں کل دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بخوبی عمل ہوسکتا ہے اور ایك کی تقلید میں ناممکنیہ وہ پوچ دھوکا ضعیف کید ہے کہ نرے ناخواندہ بیچاروں کو سنا کر بہکالیں مگر جب کسی ادنی طالب علم یا صحبت یافتہ ذی فہم کے سامنے کہیں تو خود ہی "" کان ضعیفا ﴿۷۶﴾ "" (شیطان کا داؤ کمزور ہے ت) ماننا پڑے اس مغلظہ فاحشہ کا حاصل جیسا کہ ان کے خواص و عوام کے زبان زد ہے یہ کہ چاروں مذہب حق ہیں اور سب دین متین کی شاخیں
"," القران الکریم ۶۸ /۳۳
تقویۃ الایمان الفصل الاول،مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۲
تقویۃ الایمان الفصل الاول،مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۲
القرآن الکریم ۴/۷۶
"
1391,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,560,"تو ایك ہی تقلید سے گویا چہارم دین پر عمل ہوا بخلاف اس کے کہ کبھی کبھی ہر مذہب پر چلے کہ یوں سارے دین پر عمل ہوجائے گا۔
اقول اولا:یہ اس مدہوش کا جنونی خیال ہے جسے دربار شاہی تك چار سیدھے راستے معلوم ہوئے رعایا کو دیکھا کہ ان کا ہر گزوہ ایك راہ پر ہولیا اور اسی پر چلا جاتا ہے مگر ان حضرات نے اسے بیجا حرکت سمجھا کہ جب چاروں راستے یکساں ہیں تو وجہ کیا کہ ایك ہی کو اختیار کرلیجئےپکارتا رہا کہ صاحبو ہر شخص چاروں راہ پر چلے مگر کسی نے نہ سنیناچار آپ ہی تانا تننا شروع کیاکوس بھر شرقی راستہ چلا پھرا سے چھوڑ اجنوبی کو دوڑاپھر اس سے بھی منہ موڑاغربی کو پکڑا پھر اس سے بھاگ کر شمالی پر ہولیا ادھر سے پلٹ کر پھر شرقی پر آرہا تیلی کے سے بیل کو گھر ہی کوس پچاس عقلاء سے پوچھ دیکھو ایسے کو مجنوں کہیں گے یا صحیح الحواسیہ مثال میری ایجاد نہیں بلکہ علمائے کرام واولیائے عظام کا ارشاد ہے اور ان سے امام علام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں نقل فرمائی ا ور اس کے مشابہ دوسری مثال انگلیوں کے پوروں کی اپنے شیخ حضرت سیدی علی خواص رحمۃ اﷲ تعلای علیہ سے روایت کییہ امام ہمام وہ ہیں جن کی اسی کتاب مستطاب سے اسی مسئلہ تقلید میں غیر مقلدان زمانہ کے معلم جدید میاں نذیر حسین دہلوی براہ اغواء سند لائے اور اسی کتاب میں ان کی ہزار در ہزار قاہر تصریحوں سے کہ جہالات طائفہ کا پور اعلاج تھیں آنکھ بند کرگئے مگر کیا جائے شکایت کہ۔
"" افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض "" ۔ تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔ت)
اس سے نئے طائفہ کی پرانی خصلت جسے اس کی سیر دیکھنی منظور ہو بعض احباب فقیر کا رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا (۱۲۹۹ھ)مطالعہ کرے۔
ثانیا:کل دین متین پر ایسے عمل کا صحابہ و تابعین و سائر آئمہ مجتہدان دین کو بھی حکم تھا یا خدا و رسول نے خاص آپ ہی کے واسطے رکھابرتقدیر اول ثبوت دو کہ وہ حضرات ہر گز اپنے مذہب پر قائم نہ رہتے بلکہ نماز و روزہ و تمام اعمال و احکام میں آج اپنے اجتہاد پر چلتے تو کل دوسرے
","
القرآن الکریم ۲ /۸۵
"
1392,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,561,"کے پرسوں تیسرے کے برتقدیر ثانی یہ اچھی دولت دین ہے جس سے تمام سرداران امت و پیشوا یان ملت باز رہ کر محروم گئے کیا ان کے وقت میں یہ اختلاف مذاہب نہ تھا یا انہیں نہ معلوم تھا کہ ہم ناحق کل دین متین پر عمل چھوڑے بیٹھے ہیں۔
ثالثا:اف رے مغالطہ کہ کل دین پر یك لخت عمل چھوڑنے کا نام سارے دین پر عمل کرنا رکھا۔ ع
برعکس نہند نام زنگی کافور
(الٹا حبشی کا نام کافور رکھتے ہیں۔ت)
بھلا مسائل اختلافیہ میں سب اقوال پر ایك وقت میں عمل تو محال عقلی ہاں یوں ہوں کہ مثلا آج امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی مگر یہ کل دین متین کے خلاف ہواکیا امام ابوحنیفہ(رضی اﷲ تعالی عنہ)کے نزدیك مقتدی کو قراء ت بعض اوقات میں ناجائز تھی حاشا بلکہ ہمیشہکیا امام شافعی کی رائے میں ماموم پر فاتحہ احیانا واجب تھی حاشا بلکہ دواما توجو نہ دائما تارك نہ دائما عامل وہ دونون قول کا مخالف و نافی پر ظاہر کہ ایجاب و سلب فعلی سلب و ایجاب دوامی دونوں کا دافع و منافیاب تو کھلا کہ تم رفض و خروج دونوں کے جامع کہ چاروں میں سے کسی کے معتقد نہ کسی کے تابع۔
رابعا:جو امر ایك مذہب میں واجب دوسرے میں حراممثلا قراء ت مقتدی تو عامل بالمذہبین فی وقتین کو کیا حکم دیتے ہوآیا اسے ۱ہمیشہ اپنے حق میں حرام سمجھے یا ہمیشہ۲ واجب یا وقت۳ عمل واجب وقت ترك حرام یا بالعکس۴ یا جس۵ وقت جو چاہے سمجھے یا کبھی۶ کچھ نہ سمجھے یعنی واجب غیر واجب حرام غیر حرام کچھ تصور نہ کرے یا مذہب۷ آئمہ یعنی واجب و حرام دونوں کے خلاف محض مباح جانے۔شقین اولین پر یہ ٹھہرتا ہے کہ حرام جان کر ارتکاب کیا یا واجب مان کر اجتناباور شق رابع پر دونوں یہ صریح اجازت قصد فسق و تعمد معصیت ہے اور شق ثالث مثل رابع کھلم کھلا"" یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما "" ۔ (ایك برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں۔ت)میں داخل ہونا کہ ایك ہی چیز کو آج واجب جان لیا کل حرام مان لیا پرسوں پھر واجب ٹھہرالیادین نہ ہوا کھیل ہوایا کفار سو فسطائیہ عندیہ کامیل کہ جس چیز کو ہم جو اعتقاد کرلیں وہ نفس الامر میں ویسی ہی ہوجائے۔شق خامس پر یہ دونوں استحالے قائم کہ جب اجازت مطلقہ ہے تو عاما شہرا یوما درکنار
", القرآن الکریم ۹ /۳۷
1393,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,562,"یحلونہ انا و یحرمونہ انا(ایك گھڑی اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسری گھڑی اسے حرام مانتے ہیں ت)لازم اور نیز وقت عمل اعتقاد حرمتوقت ترك اعتقاد و جوب کی اجازترہی شق سادس وہ خود معقول نہیں بلکہ صریح قول بالمتناقضین کہ آدمی جب عمل بالمذہبین جائز جانے گا قطعا فعل و ترك روما نے گا اس کا حکم او راس سے منع بے ہودہ ہےمعہذا یہ شق بھی استحالہ اولی کے حصہ سے سلامت نہیں اچھا حکم دیتے ہو کہ آدمی نماز میں ایك فعل کرے مگر خبردار یہ نہ سمجھے کہ خدا نے میرے لکیے جائز کیا ہے لاجرم شق ہفتم رہے گی اور گل وہی کھلے گا کہ کل دین متین کا خلاف یعنی محصل جواز فعل و ترك نکلا اور وہ وجوب و حرمت دونوں کے منافی۔
بالجملہ حضرات براہ فریب ناحق چاروں مذہب کو حق جاننے کا ادعا کرتے اور اس دھوکے سے عوام بے چاروں کو بے قیدی کی طرف بلاتے ہیں۔ہاں یوں کہیں کہ آئمہ اہلسنت کے سب مذہبوں میں کچھ کچھ باتیں خلاف دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں لہذا ان میں تنہا ایك پر عمل ناجائز و حرام بلکہ شرك ہے لاجرم ہر ایك کے دینی مسئلے چن لیے جائیں اور بے دینی کے چھوڑ دیئے جائیں۔
صاحبویہ تمہارا خاص دلی عقیدہ ہے جسے تمہارے عمائد طائفہ لکھ بھی چکے پھر ڈر کس کا ہےیہ بلاد مدینہ طیبہ و بلد حرام نہیں حجاز و مصرو روم و شام نہیں زیر سلطنت سنت واسلام نہیں کھل کر کہو کہ چاروں اماموں کے مذہب معاذ اﷲ بے دینی ہیں کہ آخر دین و خلاف دین کا مجموعہ ہر گز دین نہ ہوگا بلکہ یقینا بے دینیوالعیاذ باﷲ رب العالمین۔
خامسا:فقیر ایك لطیفہ تازہ عرض کرتا ہے جس سے غیر مقلدین عصر کی تمام جہالت کا دفعۃ تنقیہ ہوآج کل وہ محدث حادث جو سب غیر مقلدوں کے مقلد و امام معتمد ہیں یعنی میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتوی مصدقہ مہر دستخطی میں(کہ ان کے زعم میں رد تقلید تھا اور من حیث لایشعرون اثبات تقلید)مع اخوان و ذریات اہل خواتیم فرما چکے ہیں کہ جسے آئمہ اربعہ کا قول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کا مذہب بدعت نہیں ٹھہرسکتا جو ایسا کہے وہ خبیث خود بدعتی احبارو ر ہبان پر ست ہے۔ بہت اچھا چشم ماروشن دل ماشاد(ہماری آنکھ روشن اور دل خوش ت)اب یہ بھی حضرت سے پوچھ دیکھئے کہ آئمہ اربعہ کے سوا کون کون مجتہد ہیں اسی فتوے میں تصریح کی کہ امام الحرمین و حجۃ الاسلام غزالی و کیاہراسی و ابن سمعانی وغیر ہم آئمہ محض
",
1394,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,563," انتساب میں شآفعی تھے اور حقیقۃ مجتہد مطلق ۔اور اسی میں لکھا بے شك جو منصف مزاج ہے وہ ہر گز امام شعرانی کے منصب کا مل اجتہاد میں کلام نہیں کرسکتا بہت بہتر کاش اس کے ساتھ یہ بھی لکھ دیتے کہ کلام کرے یا ان اقراروں سے پھرے تو اسے مکہ معظمہ میں ترکی پاشا کا حوالہ د یکھیے خود حضرت کے اقراروں سے ثابت ہولیا کہ ان پانچوں اماموں کا قول بھی ہر گز گمراہی نہیں ہوسکتا اور جوان کے فرمان پر چلے اصلا مورد اعتراض نہیں جو اسے بدعتی کہے وہ خبیث خود بدعتی احبار ورہبان پرست ہے اب ان حضرات سے کہتے ذرا آنکھ کھول کر دیکھو غیر مقلد ی بے چاری کا سویرا ہوگیا ملاحظہ تو ہو کہ یہی امام مجتہد شعرانی انہیں چاروں امام مجتہد سے اپنی میزان مبارك میں کس زور و شور سے وجوب تقلید شخصی نقل فرماتے اور اسے مقبول و مسلم رکھتے ہیں۔
قال علیہ رحمۃ ذی الجلال بہ صرح امام الحرمین و ابن السمعانی و الغزالی والکیا الھر اسی وغیرھم و قالوا لتلامذ تہم یجب علیکم التقید بمذہب امامکم ولا عذر لکم عنداﷲ تعالی فی العدول عنہ ۔ امام شعرانی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ اسی کی تصریح کی امام اےرہمین و ابن السمعانی و غزالی و کیا ہر اسی وغیرہم آئمہ نےاور اپنے شاگردوں سے فرمایا تم پر واجب ہے خاص اپنے امام کے مذہب کا پابند رہنا اگر ان کے مذہب سے عدول کیا تو خدا کے حضور تمہارے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔
اب ایمان سے کہنا وجوب تقلید شخصی کی حقانیت کس شدومد سے ثابت ہوئی اور سارے غیر مقلدین کہ اسے بدعت وضلالت کہتے ہیں کیسے علانیہ خبیث بدعتی احبار و رہبان پرست ٹھہرے
الحمدﷲ رب العلمین "" وقیل بعدا للقوم الظلمین ﴿۴۴﴾ "" ۔ اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔اور کہا گیا ظالم لوگ دور ہوں۔(ت)
واقعی سنت الہیہ ہے کہ گمراہوں پر خود انہیں کہ قول سے حجت قائم فرماتا ہے۔ ع
","
میزان الشریعۃ الکبرٰی،فصل فی بیان استحالہ خروج شئی الخ درالکتب العلمیہ بیروت ا/۵۳،۵۴
القرآن الکریم ۱۱ /۴۴
"
1395,27,مناظرہ و رَدِّ بدمذہباں,,,564,"ومنہا علی بطلانہا الشواھد
(خود اسی سے اس کے بطلان پر دلائل موجود ہیںت)
پھر نہ صرف ترك تقلید بلکہ بعونہ تعالی سارے نجدیت پوری وہابیت ان شاء العزیز انہیں آئمہ کرام کے ارشاد سے باطل ہوجائے گی۔حضرات ذرا ان اقراروں پر جمے رہیں اور اپنے ایك ایك عقیدہ زائغہ کا ردلیتے جائیں وباﷲ التوفیق اصل تحریر ان مجتہد صاحب اور ان کے مقلد وں کی مہری بعض احباب فقیر غفر اﷲ تعالی لہ کے پاس موجود۔
والحمد ﷲ العزیز الودود والصلوۃ والسلام علی النبی المحمود وآلہ وصحبہ الی یوم الخلودواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عز شانہ ا حکم
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
",
17082,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,565,"رسالہ
السھم الشھابی علی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ
(شعلے برساتا ہوا تیر بڑے دھوکا باز وہابی پر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۳۵: از شہر جیت پور کا ٹھیا وار مرسلہ جماعت میمناں ۸ شوال ۱۳۲۵ھ
حضرات کرام علمائے اہلسنت وارث علوم حضرت رسالت علیہ الصلوۃ والسلام اس باب میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخض مولوی رحیم بخش نامی لاہور کے رہنے والے نے مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے اردو کی کتابوں کا ایك سلسلہ بنایا ہے جس کا نام اسلام کی پہلی کتاباسلام کی دوسری کتاباسلام کی تیسری کتاب وغیرہ رکھا ہےان کتابوں کا مصنف اسلام کی دوسری کتاب کے صفحہ ۳ سطر ۸ میں لکھتا ہے:ان کتابوں میں بعض مقام میں جو لفظ اہل حدیث اور فقہاء کا استعمال کیا گیا ہے اس سے نہ اہل حدیث پر طعن مقصود ہے اور نہ فقہاء کو مخالف حدیث کا لقب مدنظر ہے بلکہ اہل حدیث سے وہ لوگ مراد ہیں جو صرف صحیح حدیث پڑھ کر یا سن کر عمل کرتے ہیں کسی خاص مذہب کے پابند نہیںاور فقہاء سے وہ لوگ مراد ہیں جو خاص کتب فقہ اور خاص مذہب امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے پابند ہیں اور اپنے مذہب کی روایت کو زیادہ مانتے ہیں اس اختلاف کو اس سلسلے میں اس لیے بیان کیا ہے کہ اس زمانہ میں اکثر اہل حدیث اور فقہاء کے اختلاف کا زیادہ چرچا ہے۔ ",
17083,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,566," اور دونوں فریق کے لوگ بکثرت موجود ہیں ______________________اور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی تعلیم اور اتحاد مقصود ہےاور یہ اختلاف اسی اختلاف کے مشابہ ہے جو قدیم سے صحابہ اور آئمہ دین میں چلا آیا ہے اور کتب فقہ وغیرہ میں اکثر حنفی شافعی وغیرہ کے نام سے مذکور ہےاصول دین میں سب متفق ہیںصرف بعض فروع میں مختلف ہیں فروعی اختلاف میں بھی سند رکھتے ہیںغایت یہ ہے کہ کسی کی دلیل قوی ہے اور کسی کی ضعیف اور جو ضعیف پر ہے وہ بھی اپنے نزدیك اس کو قوی سمجھتا ہے غرض ہمیں اس میں نہ تعصب ہے اور نہ کسی کی مخالفت منظور ہےمحض اشاعت دین اور اتباع رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقصود ہے۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳ سطر ۶ میں لکھتا ہے:""حیض کی مدت میں علماء کا یہ اقوال ہیں۔ایك دن راتدو دن راتتین دن راتسات دن راتدس دنپندرہ دناصل یہ ہے کہ یہ امر ہر عورت کی عادت اور طبیعت پر منحصر ہے""۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۵ میں مرقوم ہے:""پانی کی طبیعت پاك ہے تھوڑا ہو یا بہتبندہو یا جاریبومزہ بدلنے سے ناپاك ہو جاتا ہے""۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۲۴ سطر ۸ میں کہتا ہے:""ظہر کا وقت آفتاب کے ڈھلنے کے وقت سے اصلی سایہ کے سوا ایك مثل تك ہےبعض فقہا کے نزدیك دوسرے مثل تك بھی رہتا ہے لیکن مکروہ""۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۷ سطر ۵ میں تحریر ہے:""جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے یہ ہیںظہرعصرعشاء ان میں سنتیں بھی معاف ہیں""۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۳ سطر ۸ میں لکھا ہے:""جو شخص خطبے میں آکر شریك ہو دو رکعت سنت پڑھ کر بیٹھےجو شخض دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے""۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۱ سطر ۱۳ میں کہتا ہے:""اگر ایك دن میں جمعہ اور عید اتفاق سے اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت آئی ہے اگر پڑھے تو بہتر ہے""۔
پھر مولوی رحیم بخش کی بنا ئی ہوئی اسلام کی تیسری کتاب کے صفحہ ۸۶ میں مذکور ہے: ",
17084,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,567," ""طلاق تین قسم کی ہےاحسنجائزبدعت""۔
پھر طلاق بدعت کی نسبت اسی صفحے کی سطر ۶ میں کہتا ہے:"" طلاق بدعت یہ ہے کہ ایك طہر میں تین طاقیں پوری کردے یا ایك ہی دفعہ تین طلاق دے دے""۔
پھر صفحہ ۸۷ میں کہتا ہے:""طلاق بدعت بعض کے نزدیك تو واقع ہی نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیك ہوتی ہے لیکن مکروہتین طلاق ایك دفعہ میں یہ اختلاف ہے اگر تین طلاق ایك دفعہ دے دے تو کسی کے نزدیك طلاق ہے اور کسی کے نزدیك نہیںجیسے طلاق بدعت میں بیان ہوا ہے۔""
یہ مشتے نمونہ ازخروار ہے جو رحیم بخش مذکور کی طرف دو کتابوں میں سے مع نشان صفحہ و سطر آپ کے حضور میں پیش کیا گیا ہےاب ارشاد ہو کہ مولوی رحیم بخش مذکور سنی حنفی پاك دین ہے یا پکا کٹا وہابی غیر مقلد بدمذہب اور اس کی کتابوں میں سے جو مسائل نکال کر لکھے گئے ہیں اور شناخت کے لیے ان پر قومے("" "")لگادئے ہیںیہ مسائل حنفیوں کے ہیں یا لامذہب وہابیوں کےپھر اگر مولوی رحیم بخش وہابی غیر مقلد ہے اور اس کی کتابوں میں مسائل مخالف ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے بصراحت موجود ہیں تو سنی حنفیوں کے نادان بچوں کو ایسی برباد کرنے والی اور مقلدوں کو لامذہب بنانے والی کتابوں کا پڑھانا جائز ہے یا حرام یا ناجائز پھر جو شخص قصدا سنی بچوں کو ایسی کتابیں پڑھائے اور دوسرے نادانوں میں ان کی اشاعت کرے اور ان کے پڑھنے کی ترغیب دلائے وہ شخص خود بھی پکا وہابی اور لامذہب ہے یا نہیں اور جو شخص اس مصنف کو سنی حنفی بتائے اور مسائل مندرجہ کی نسبت کہے کہ ایسے مسائل تو حنفیوں کی معتبر کتابوں ہدایہ وغیرہا میں لکھے ہیں اور ایسا اختلاف تو حنفیوں میں چلا آتا ہے اور کہے کہ ان کتابوں کا بچوں کو ایسی صورت میں پڑھانا کہ ان کے باپ داد ا اور شہر کے رہنے والے حنفی ہوں کچھ حرج نہیں بلاکراہت جائز ہے وہ خود بھی پکا وہابیپکا لامذہبدین کا چورسنیوں کا ٹھگ ہے یا نہیں ان سب باتوں کا مفصل جواب عطا فرما کر ہم مسلمانان اہلسنت کو دین کے فتنے سے بچائیے اور خداوند کریم سے اجر عظیم حاصل فرمائیے۔
سائلان ہم سنی حنفی مسلمانان جیت پور ملك کاٹھیا وار ",
17085,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,568," الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ الذی انجانا من کیدالکائدین والصلوۃ والسلام علی من رد فساد المفسدین وعلی الہ وصحبہ والمجتہدین ومقلدیھم الی یوم الدین۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے ہمیں مکاروں کے مکر سے نجات عطا فرمائیاور درود و سلام ہو اس پر جس نے فسادیوں کے فساد کو رد فرمایااور آپ کی آل پرآپ کے صحابہ پرآئمہ مجتہدین پر اور ان کے مقلدوں پر قیامت کے روز تک(ت)
شخص مذکور صریح غیر مقلد و ہابی ہے اور حنفیوں کا صریح مخالف و بدخواہاور اس کی یہ ناپاك کتاب یقینا گمراہی و فساد پھیلانے والی اور عظیم دھوکا دے کر حنفی بچوں کے دلوں میں بچپن سے لامذہبی و گمراہی کا بیچ بونے والی ہےبچےجوان کسی کو اس کتاب کا پڑھانا ہر گز جائز نہیں۔جو حنفی بچوں اور عامیوں میں اس ضلالت مآب کتاب کی اشاعت کرتا اور اس کے پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے حنفیہ کا دشمنحنفیہ کا بدخواہخود غیر مقلدلا مذہبگمراہی پسند گمراہ ہےجو سفیہ اس کے مصنف کو سنی حنفی کہے اور کہے کہ ایسا اختلاف خود حنفیہ میں چلا آتا ہے اور ایسے مسائل خود ہدایہ وغیرہ کتب حنفیہ میں موجود ہیں اور ان کا پڑھانا بلا کراہت جائز ہے وہ خود بھی منہم اور انہیں بدمذہبوں کی دم ہے۔
اولا:مصنف عیار کا اتنا لکھنا ہی اس کی بدمذہبی و غیر مقلدی کے اظہار کو بس تھا کہ وہ لا مذہبوں کو جن کا نام اس نے انہیں لا مذہبوں سے سیکھ کر اہل حدیث و محدثین رکھا ہے اور حنفیہ کرام کو ایك پلے میں رکھتا ہے اور ان کا اختلاف مثلا اختلاف صحابہ کرام و آئمہ اعلام رضی اﷲ تعالی عنہم صرف فروعی بتاتا اور دونوں فریق میں اتحاد مناتا ہے حالانکہ غیر مقلدین کا ہم سے اختلاف صرف فروعی نہیں بلکہ بکثرت اصول دین میں ہمارا ان کا اختلاف ہےہماری تمام کتب اصول مالا مال ہیں کہ ہمارے اور جملہ آئمہ اہلسنت کے نزدیك اصول شرع چار ہیںکتاب و سنت اجماع و قیاس لامذہبوں نے اجماع و قیاس کو بالکل اڑا دیا۔ان کا پیشوا صدیق حسن بھوپالی لکھتا ہے۔
قیاس باطل اور اجماع بے اثرآمد۔ قیاس باطل اور اجماع بے اثر ہے(ت)
",
17086,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,569," ان کی تمام کتابیں اس سے پر ہیں کہ وہ سوا قرآن و حدیث کے کسی کا اتباع نہیں کرتے اور اجماع و قیاس کے سخت منکر ہیں اور ہمارے آئمہ نے اجماع و قیاس کے ماننے کی ضروریات دین سے گنا ہے اور ان کے منکر کو ضروریات دین کا منکر کہا ہے اور ضروریات دین کا منکر کافر ہےپھر ہمارا ان کا اختلاف فروعی کیسے ہوسکتا ہے مواقف و شرح و مواقف موقف اولمرصد خامسمقصد سادس میں ہے:
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین ۔ یعنی اجماع کا حجت قطعی ہونا ضروریات دین سے ہے:
کشف البزدوی شریف میں ہے:
قد ثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم عملوا بالقیاس و شاع وذاع ذلك فیما بینھم من غیر رد وانکار ۔ یعنی تواتر سے ثابت ہوا کہ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم قیاس پر عمل فرماتے تھے اور یہ ان میں مشہور و معروف تھا جس پر کسی کو اعتراض و انکار نہ تھا۔
اسی میں امام غزالی سے ہے:
قد ثبت بالقوا طع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد و القول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ و ثبت ذلك بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکر ھا احد من الامۃ فاورث ذلك علماء ضروریات فکیف یترك المعلوم ضرورۃ ۔ یعنی قطعی دلیلوں سے ثابت ہے کہ جمیع صحابہ کرام اجتہاد و قیاس کو مانتے تھے اور اس کے ماننے والوں پر انکار نہ کرتے تھے اور یہ مشہور واقعوں میں تواتر کے ساتھ ثابت ہوااور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہ کیا تو اس سے علم ضروری پیدا ہوا تو جو بات ضروریات دین سے ہے کیونکر چھوڑی جائے گی۔
درمختار کتاب السیر باب المرتد میں ہے:
الکفرتکذیبہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یعنی ضروریات دین نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
"," شرح الموقف الموقف الاول المرصد الخامس المقصد السادس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۲۵۵
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب القیاس دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۰
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب القیاس دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱
"
17087,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,570,"فی شئی مما جاء بہ من الدین ضرورۃ ۔ میں سے کسی شے کا انکار کفر ہے۔
بالخصوص امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قیاس سے ان گمراہوں کو جس قدر مخالفت ہے عالم آشکار ہےان کی کتابیں ظفر المبین وغیرہ امام و قیاسات امام پر طعن سے مملوہیں۔اور فتاوی عالمگیری جلد ثانی میں ہے:
رجل قال قیاس ابی حنیفہ حق نیست یکفر کذا فی التاتارخانۃ ۔ یعنی جو شخص کہے کہ امام ابوحنیفہ کا قیاس حق نہیں وہ کافر ہوجائے گا۔ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے۔
ثانیا:یہ چالاك مصنف خود اقرار کرتا ہے کہ اسے کسی فریق سے مخالفت نہیںیہ بات لامذہب بے دینی ہی کی ہوسکتی ہے جسے دین و مذہب سے کچھ غرض نہیں ورنہ دو متخالف فریقوں میں مخالفت نہ ہوئی کیونکر معقول۔
ثالثا:لا مذہبوں کا اہلسنت کے ساتھ اختلاف مثلا اختلاف صحابہ کرام بتانا صراحۃ انہیں اہلسنت بنانا ہے حالانکہ ہمارے علماء صاف فرماتے ہیں کہ وہ گمراہ بدعتی جہنمی ہیں۔طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ میں ہے:
ھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاہب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون و الحنبلیون رحمہم اﷲ ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فہو من اھل البدعۃ والنار ۔ یہ نجات والا اگر وہ یعنی اہلسنت و جماعت آج چار مذہب حنفیمالکیشافعیحنبلی میں جمع ہوگیا ہے۔اب جوان چار سے باہر ہے وہ بدمذہب جہنمی ہے۔
اور جو بدعتیوں جہنمیوں کو اہلسنت جانے اور ان کا خلاف مثل اختلاف صحابہ مانے خود بدعتی "," الدارالمختار کتاب السیر باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۵
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۷۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴ /۱۵۳
"
17088,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,571," ناری جہنمی ہے۔
رابعا:اس بیان سے غیر مقلدوں لامذہبوں کی وقعت و توقیر مسلمان بچوں کے دلوں میں جمے گی کہ ان کا اختلاف مثل اختلاف صحابہ کرام ہےاور حدیث میں ہے رسول اﷲ نے فرمایا:
من وقر صاحب بدعتہ فقداعان علی ھدم الاسلام ۱ ۔ جو کسی بدمذہب کی توقیر کرے اس نے دین اسلام کے ڈھانے پرمدد دی۔
تو اس کتاب کا نام ""اسلام کی کتاب"" رکھنا نہ تھا بلکہ اسلام ڈھانے کی کتاب۔
خامسا:اس مصنف عیار نے نادان مسلمانوں اور ان کے بے سمجھ بچوں کو کیسا سخت فریب شدید دھوکا دیا ہےیہاں تو لکھ دیا کہ وہ کسی مذہب سے تعصب نہیں رکھتا ملك میں فقہاء و اہل حدیث دونوں بکثرت موجود ہیںاور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی تعلیم مقصود ہے اس لیے دونوں فریق کا اختلاف اس میں بیان کردیا ہے جس سے ظاہر ہوا کہ وہ ہر جگہ مذہب فریقین بیان کر دے گا کہ ہر فریق والا اپنا مذہب جان لے مگر اس نے صراحۃ اس کے خلاف کیاکہیں کہیں اختلاف بتایا اور وہاں بھی جا بجا دوسروں کے مذہب کو اصل مسئلہ ٹھہرایا۔اور حنفیہ کے مذہب کو کمزور کرکے کہا کہ بعض یوں کہتے ہیںاور بہت جگہ صرف لا مذہبوں کے مسئلے لکھے جو مذہب حنفی کے صریح خلاف ہیںدراصل اختلاف کا پتا بھی نہ دیا جس سے مسلمانوں کے بچی اس مذہب مخالف پر جم جائیں اور اپنے مذہب کی خبر بھی نہ پائیں اگر وہ ابتداء میں اختلافات بتانے کا وعدہ نہ کرتا تو دھوکا اتنا سخت نہ ہوتاجب مسلمان جانتے کہ اس کتاب میں حنفیہ وغیر حنفیہ سب کے مسائل گھال میل بے تمیز ہیںتو مسلمان اس کتاب سے بچتےاب کے ان کو یہ دھوکا دیا کہ جہاں اختلاف ہے دونوں مذہب بتادیئے جائیں گے تو ان کو اطمینان ہوگیا کہ اپنا مذہب لیں گے دوسروں کا چھوڑ دیں گے اب کیا یہ گیا کہ کہیں کہیں اختلاف بتا کر بکثرت مواقع پر مذہب لکھا دوسروں کا اور اختلاف اصلا نہ بتایا تو ناواقفوں کو صاف بتایا کہ یہ مسئلے متفق علیہ ہیں ان پر بے تکلف عمل کرو یہ کتنی بڑی دغا بازی اور مسلمان بچوں کی بد خواہی ہےاس کی نظیریہ ہے کہ کوئی شخص سبیل لگائے اور اشتہار دے دے کہ جو آبخورے ناپاك یا تمہارے مذہب کے خلاف ہیں ان پر چٹ لگادی ہے اور بعض پر تو چٹ لگائے ", شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۷/ ۶۱
17089,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,572," باقی بہت ناپاك آبخورے بے چٹ کے ملادے تو وہ صراحۃ بے ایمانی و دغا بازی کررہا ہے اگر وہ اتنا ہی کہتا کہ ان میں کچھ آنجورے نجس بھی ہیں تو کوئی مسلمان انہیں ہاتھ نہ لگاتاچٹ کے دھوکے نے مسلمانوں کو فریب دیاغیر مقلدوں کے طور پر سوئر کی چربی حلال اور شراب وخون پاك ہےیہ کتاب ایسی ہوئی کہ کسی غیر مقلد نے کوئی عام دعوت کی اور اعلان کردیا کہ جس سالن میں گھی ہے وہ حنفیہ کے لیے پکایا ہے اور جس میں سوئر کی چربی ہے وہ ان غیر مقلدوں اہل حدیث کے لیے پکایا ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ حنفیہ کا کھانا چینی کے برتنوں میں ہے اور غیر مقلدوں کا پیتل کے بٹوے میں۔اور پھر کرے یہ کہ بہت سالن سوئر کی چربی والا چینی کے برتنوں میں رکھ دےہر صاحب انصاف یہی کہے گا کہ یہ شخص سخت مفسد ہے اور بڑے فساد کا بیج بوتا ہے۔اس وقت اس کی دوسری کتاب ہمارے پیش نظر ہے اس سے اسی قسم کے چند اقوال التقاط کیے جاتے ہیں۔
(۱)کچھ سر کا مسح فرض ہےحالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ حنفیہ کرام کے نزدیك ربع سرکا مسح فرض ہے اگر ربع سے کم کا کرے گا ہر گز نہ وضو ہوگا نہ نماز۔ہدایہ میں ہے:
المفروض فی مسح الراس مقدار الناصیۃ وھوربع الراس ۔ سرکا مسح ناصیہ کی مقدر وض ہے اور وہ سرکا چوتھا حصہ ہے۔ (ت)
(۲ و ۳)ص ۳۰:بول و براز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے خون نکلنے اور قے کرنے سے وضوبہتر ہے حنفیہ کے نزدیك خون بہہ کر نکلے یا منہ بھر قے ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔وضو کرنا فقط بہتر ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔ہدایہ میں ہے:
نواقض الوضوء الدم والقی ملئ الفم ۔ (خون کا بہنا اور منہ بھر کر قے وضو توڑنے والی چیزیں ہیں۔ت)
(۴)حاشیہ ص۹:بعض کے نزدیك عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے گو ٹوٹنے پر کوئی دلیل کافی نہیں تاہم اختلاف سے نکلنا بہتر ہےنکسیر کا بھی یہی مسئلہ ہے۔یہاں صراحۃ نکسیر کے بارے میں حنفی مذہب کے مسئلہ کو بے دلیل کہا اور اس سے وضو بہتر بتایا "," الہدایۃ کتاب الطہارات المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۳
الہدایۃ کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضو ا/۸
"
17090,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,573," حالانکہ حنفیہ کے نزدیك اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہےہدایہ:
لو نزل من الراس الی ما لا ن من الانف نقض الوضوء بالاتفاق ۔ اگر خون سر سے نازل ہوا اور ناك کے نرم حصہ تك پہنچ گیا تو بالاتفاق وضو ٹوٹ گیا۔(ت)
(۵)ص ۱۰:غسل کے فرائض میں صرف اتنا لکھا ہے کہ سارے بدن پر پانی ڈالنا فرض ہے حالانکہ مذہب حنفی میں غسل کے تین فرض ہیں:کلی اور ناك میں پانی پہنچانا اور سارے بدن پر پانی ڈالناہدایہ:
فرض الغسل المضمضۃ والا ستنشاق وغسل سائر البدن ۔ غسل کے فرائض کلی کرناناك میں پانی پہنچانااور سارے بدن پر پانی بہانا(ت)
(۶)ص ۱۳:وہ کہ سائل نے دربارئہ حیض نقل کیا اصل یہ ہے کہ یہ امر ہر عورت کی عادت و طبیعت پر منحضر ہےیہ صراحۃ مذہب حنفی کا رد ہے حنفیہ کے نزدیك حیض نہ تین رات دن سے کم ہوسکتا ہے نہ دس رات دن سے زائد ہدایہ:
اقل الحیض ثلثۃ ایام ولیا لیھا و مانقص من ذلك فہواستحاضۃ واکثرہ عشرایام والزائد استحاضۃ ۔ حیض کم از کم تین دن رات ہے جو اس سے کم ہو وہ استحاضہ ہےاور زیادہ سے زیادہ حیض ۱۰ دن ہے جو اس سے زائد ہو وہ استحاضہ ہے۔ت)
(۷)ص ۱۵:وہ کہ سائل نے نقل کیا کہ پانی کی طبیعت پاك ہےحنفیہ کے نزدیك تھوڑا پانی ایك قطرہ نجاست سے بھی ناپاك ہوجائے گا یہاں جو اس غیر مقلد نے فقط مزے اور بو کے بدلنے پر مدار رکھا اجماع تمام امت کے خلاف ہے کہ نجاست کے سبب رنگ بدلنے سے بھی بالاجماع پانی ناپاك ہوجائے گا اگرچہ مزہ و بو نہ بدلےدرمختار باب المیاہ:
ینجس الماء القلیل بموت بط وبتغیر احد اوصافہ من لون قلیل پانی بطخ کے اس میں مرنے کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے اور کثیر پانی نجاست کی وجہ سے
"," الہدایۃ کتاب اطہارات فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۱۰
الہدایۃ کتاب اطہارات فصل فی الغسل الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۲
الہدایۃ کتاب اطہارات باب الحیض والا اسحاضہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۴۶
"
17091,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,574,"اوطعم اوریح و ینجس الکثیرو لو جاریا اجماعا اما القلیل فینجس وان لم یتغیر نجس ہوجاتا ہےاور کثیر پانی نجاست کی وجہ سے رنگبو یا مزہ بدلنے سے بالا جماع نجس ہوجاتا ہے اگرچہ جاری ہواور قلیل پانی نجاست کے وقوع سے نجس ہوجاتا ہے اگرچہ اس کا کوئی وصف نہ بدلے(ت)
(۸)ص ۲۵:عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تك اور وتروں کا اخیر رات تك ہے یہ نہ فقط حنفیہ بلکہ آئمہ اربعہ کے خلاف ہےچاروں اماموں کے نزدیك عشاء کا وقت طلوع فجر تك رہتا ہے۔درمختار میں ہے:
وقت العشاء والوترالی الصبح ۔ عشاء اور وتر کا وقت صبح صادق تك ہے۔(ت)
میزان الشریعۃ الکبری میں ہے:
وقت العشاء فانہ ید خل اذا غاب الشفق عند مالك والشافعی واحمد ویبقی الی الفجر ۔ امام مالکامام شافعی اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کے نزدیك عشاء کا وقت شفق کے غائب ہونے پر داخل ہوتا ہے اور صبح صادق تك باقی رہتا ہے۔(ت)
(۹)ص ۲۶:پردہ زیر ناف گھٹنوں کے اوپر تك فرض ہےحنفیہ کے مذہب میں گھٹنے بھی ستر میں داخل ہیں تو نماز میں گھٹنے کھلے رکھنے کی اجازت حنفی مذہب کے خلاف بھی ہے اور نماز میں بے ادبی کی تعلیم بھیدرمختار میں ہے:
الرابع ستر عورتہ وھی للرجل ماتحت سرتہ الی ما تحت رکبتہ ۔ چوتھی شرط ستر عورت ہے اور مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تك ہے۔(ت)
(۱۰)ص ۲۷:آزاد عورت کو منہ اور ہاتھ اورپاؤں کے سوا سب بدن کا چھپانا فرض ہے۔ "," الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب المیاہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵
الدرالمختار کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۹
میزان الشریعۃ الکبری کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۳
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۵
"
17092,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,575," باندی کو اکثر منہ اور ہاتھ پاؤں کے سوا پیٹ اور پیٹھ اور باقی جسم کا چھپانا فرض ہےیہ شخص باندی کا عجب حکم لکھ رہا ہے کہ نہ فقط حنفیہ بلکہ تمام امت کے خلافاس نے آزاد عورت اور باندی کا حکم حرف بحرف ایك رکھا کہ منہ اور ہاتھ اور پاؤں کے سوا باقی بدن کا چھپانا دونوں پر فرض کیا فقط فرق یہ رکھا کہ آزاد عورت کے لیے سارا منہ مستثنی کیا اور باندی کے لیے اکثر منہ۔اس کا حاصل یہ ہوا کہ باندی کا ستر آزاد کے ستر سے زائد ہے کہ اسے نماز میں سارے منہ کھولنے کی اجازت ہے اور باندی کو کچھ منہ کا حصہ چھپانا بھی فرض ہے یہ تمام جہان میں کسی مسلمان کا قول نہیں۔ایسی ہی خود ساختہ مسائل کی اشاعت کا نام اشاعت دین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رکھتاہے۔درمختار میں ہے۔:
ماھوعورۃ منہ عورۃ من الامۃ مع ظھرھا وبطنہا و جنبہا و وللحرۃ جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین و القدمین ۔ جو مرد کے لیے ستر ہے وہی لونڈی کے لیے بھی سترہے سوائے پشتپیٹ اور پہلوؤں کے جب کہ آزاد عورت کا تمام بدن ستر ہے سوائے چہرےہتھیلیوں اور قدموں کے۔(ت)
(۱۱)ص ۲۷:مقتدی کو امام کے اقتداء کی نیت کرنا چاہیے(حاشیہ)امام مالك کے نزدیك بالکل نہیں ہوتی۔یہاں سے صاف ظاہر ہوا کہ مذہب حنفی میں مقتدی کو نیت اقتداء کی ضرورت نہیں صر ف اولی ہے اگر نہ کرے گا جب بھی نماز ہوجائے گی حالانکہ یہ محض غلط ہےہدایہ میں ہے:
ان کان مقتدیا بغیرہ ینوی الصلوۃ ومتا بعتہ لانہ یلزمہ فساد الصلوۃ من جہتہ فلابد من التزامہ ۔ اگر نمازی غیر کامقتدی ہے تو نماز کی نیت بھی کرے اور متابعت امام کی نیت بھی کرے کیونکہ اس کی نماز کا فساد امام کی جہت سے لازم آتا ہے لہذا اس کا التزام ضروری ہے۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لاقتداء لایجوز بدون النیۃ کذ ا فی فتاوی قاضی خان ۔ (بغیر نیت کے اقتداء جائز نہیں۔فتاوی قا ضی خان میں یونہی ہے۔ت)
"," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۵و ۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۸۰
الفتاوٰی الہندیہ کتاب الصلوۃ الباب الثالث الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۶۶
"
17093,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,576," (۱۲)ص ۲۹:تصویر دار کپڑے میں نماز نہیں ہوتی۔یہ غلط ہے نماز ہوجاتی ہے البتہ مکروہ ہوتی ہے۔ہدایہ میں ہے:
لولبس ثوبافیہ تصاویر یکرہ الصلوۃ جائزۃ لاستجماع شرائطہا ۔ اگر ایسے کپڑے پہنے جن میں تصویریں ہیں تو مکروہ ہے تاہم نماز ہوجائے گی کیونکہ شرائط نماز تمام موجود ہیں۔(ت)
(۱۳)ص ۲۹:ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا ہو تو نماز نہیں ہوتییہ شریعت مطہرہ پر محض افترا ہے اس صورت میں نماز نہ ہونا کسی کا مذہب نہیں بلکہ تہبند لٹکا اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو ناجائز بھی نہیں جائز وروا ہے صرف خلاف اولی ہے۔عالمگیری میں ہے:
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن لخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیۃ کذا فی الغرائب ۔ مرد اگر بلا نیت تکبر اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تك لٹکائے تو مکروہ تنزیہی ہے غرائب میں یونہی ہے۔(ت)
(۱۴)ص ۳۰:مسجد کے سوا نماز بلا عذر نہیں ہوتی۔یہ بھی غلط ہے نماز بلاشبہ ہوجاتی ہے مگر مسجد کی جماعت گھر کی جماعت سے افضل ہےاور بلا عذر ترك مسجد فی نفسہ ممنوع ہے مگرمانع صحت نماز نہیں۔ردالمتحار میں ہے:
الاصح انہا کاقامتہا فی المسجدالا فی الافضلیۃ ۔ اصح یہ ہے کہ گھر میں نماز قائم کرنا مسجد میں نماز قائم کرنے کی طرح ہے مگر افضلیت میں فرق ہے۔(ت)
(۱۵)ص ۳۳:فقہاء کے نزدیك الحمدپڑھنا صرف امام ہی کے لیے واجب ہےیہ اس نے فقہاء پر محض افترا کیا۔صرف اور ہی دو کلمے حصر کے جمع کردیئے حالانکہ ہمارے آئمہ کے نزدیك امام اور منفرد سب پر سورہ فاتحہ واجب ہے صرف مقتدی کے لیے ممنوع ہے۔درمختار میں ہے:
لھا واجبات ھی قراء ۃ فاتحۃ الکتاب نماز کے لیے کچھ واجبات میںوہ سورہ فاتحہ کا
"," الہدایۃ کتاب الصلوۃ فصل فی مکروہات الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۲۲
الفتاوی النہدیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۷۲
"
17094,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,577,"وضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وفی جمیع رکعات النفل والوتر ۔ پڑھنا اور فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی تمام رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت ملانا۔(ت)
اسی میں ہے:
والمؤتم لا یقرؤ مطلقا ولا الفاتحۃ ۔ مقتدی مطلقا قراء ت نہ کرے اور نہ ہی فاتحہ پڑھے(ت)
(۱۶)ص ۳۳:مغرب و عشاء فجر میں قراء ت آواز سے پڑھنی اور ظہر و عصر میں آہستہ پڑھنی سنت ہے۔یہ بھی غلط ہے حنفی مذہب میں یہ صرف سنت نہیں بلکہ امام پر واجب ہیں۔درمختار واجبات نماز میں ہے:
والجھرللامام والاسرار للکل فیما یجھر فیہ ویسر ۔ اونچی قراء ت امام کے لیے اور پست قراء ت سب کے لیے جہری اور سری قراء ت والی نمازوںمیں(ت)
(۱۷)ص ۳۳:پہلی دورکعتوں میں سورت ملانی سنت ہےحنفی مذہب میں یہ بھی واجب ہے ۔درمختار کی عبارت گزری۔
(۱۸)ص ۳۳:رکوع میں پیٹھ کو سر کے برابر کرنا فرض ہے۔یہ محض افترا ہے مذہب حنفی میں فقط سنت ہے نہ فرض نہ واجب۔درمختار میں ہے:
ویسن ان یبسط ظہرہ غیر رافع ولا منکس راسہ ۔ سنت ہے کہ پیٹھ کو سر کے برابر کرے نہ کہ بلند کرے نہ پست کرے۔
(۱۹ و ۲۰)ص ۳۴:سجدہ سے سر اٹھا کر دوزانو بیٹھنا اور ٹھہرنا فرض ہےرکوع سے اٹھ کر تسبیح کے برابر کھڑے رہنا فرض ہے یہ بھی محض افتراء ہے دوزانو بیٹھنا صرف سنت ہے بلکہ "," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی ۱ /۷۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی ۱ /۸۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی ۱ /۷۲
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی ۱ /۷۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی ۱ /۷۵
"
17095,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,578," مذہب حنفی میں اصل بیٹھنا بھی فرض نہیں واجب ہے بلکہ اصل مذہب مشہور حنفی میں اس جلسہ کو صرف سنت کہا یہی حال رکوع سے کھڑے ہونے کا ہےردالمحتار میں ہے:
یجب التعدیل فی القومۃ من الرکوع والجلسۃ بین السجدتین و تضمن کلامہ وجوب نفس القومۃ و الجلسۃ ایضا ۔ رکوع کے بعد کھڑے ہونے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں تعدیل واجب ہےماتن کا کلام خود قومہ اور جلسہ کے وجوب کو بھی متضمن ہے۔(ت)
نیز اسی میں ہے:
اما القومۃ والجلسۃ وتعدیلھما فالمشہور فی المذھب السنیۃ وروی وجوبہا ۔ لیکن قومہ اور جلسہ اور ان میں تعدیل تو مذہب میں ان کا سنت ہونا مشہور ہے اور وجوب بھی مروی ہے۔ت)
(۲۱)ص ۳۵:نماز کے سب فعلوں کو بالترتیب ادا کرنا سنت ہےمذہب حنفی میں بہت ترتیبیں فرض اور بہت واجب ہیںفقط سنت کہنا جہل و افتراء ہےدرمختار میں ہے:
بقی من الفروض ترتیب القیام علی الرکوع والرکوع علی السجودو القعود الاخیر علی ما قبلہ باقی ہے فرائض نماز میں سےقیام کی ترتیب رکوع پر اور رکوع کی ترتیب سجدہ پر اور آخری قعدہ کی ترتیب اس کے ماقبل پر۔(ت)
اسی کے واجبات نماز میں ہے:
ورعایۃ الترتیب بین القراء ۃ والرکوع وفیمایتکرر امافیما لا یتکرر ففرض کما مر ۔ ترتیب کو ملحوظ رکھنا قراء ت و رکوع کے درمیان اور افعال متکررہ میں واجب ہےرہے افعال غیر متکررہ تو ان میں رعایت ترتیب فرض ہےجیسا کہ گزرا(ت)
"," ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ا/۳۱۲
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ا/۳۱۲
الدرالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء مطبع مجتبائی دہلی ا/۷۱
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء مطبع مجتبائی دہلی ا/۷۱
"
17096,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,579," (۲۲)ص ۳۶:اخیر کا التحیات اکثر کے نزدیك فرض اور بعض کے نزدیك سنت ہے مذہب حنفی میں یہ دونوں باتیں باطل ہیں نہ فرض ہے نہ سنتبلکہ واجبدرمختار باب واجبات الصلوۃ میں ہے:
والتشہدان ۔ اور دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا واجب ہے(ت)
(۲۴ و ۲۴ و ۲۵)ص ۳۶:دائیں بائیں طرف سلام پھیرنا فرض ہےاس میں تین باتیں فرض کیںسلام پھیرنا اور اس کا دائیں طرف ہونا اور بائیں طرف ہونااور یہ تینوں باطل ہیں ان میں کچھ فرض نہیںلفظ سلام فقط واجب ہے اور داہنے بائیں منہ پھیرنا سنتدرمختار واجبات نماز میں ہے:
ولفظ السلام ۔ اور لفظ سلام واجب ہے۔(ت)
مراقی الفلاح میں ہے:
یسن الالتفات یمینا ثم یسارا بالتسلمتین ۔ سلام کے وقت نمازی کا دائیں بائیں منہ پھیرنا سنت ہے۔(ت)
(۲۶ و ۲۷)ص ۳۹:اگر قرآن شریف پڑھنے میں سب برابر ہوں تو وہ امام بنے جو زیادہ عالم ہواگر علم میں سب برابر ہوں تو وہ لائق ہے جو عمر میں سب سے بڑا ہو۔یہ دونوں باتیں بھی مذہب حنفی کے خلاف ہیں مذہب حنفی میں امامت کے لیے سب سے مقدم وہ ہے جو علم زیادہ رکھتا ہوپھر جو زیادہ قاری ہوپھر جو زیادہ شبہات سے بچنے والا ہوپھر جو عمر میں بڑا یعنی اسلام میں مقدم ہودرمختار میں ہے:
الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ ثم الاحسن تلاوۃ وتجویدا ثم الاکثر اتقاء للشبہات ثم الاسن امام کا زیادہ حق دار وہ ہے جو نماز کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہوپھر جو زیادہ اچھی قراء ت کرتا ہوپھر وہ جو شبہات سے زیادہ بچتا ہوپھر وہ جو عمر میں سب سے بڑھ کر ہو
"," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۲
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۷۲
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوۃ فصل فی بیان سننہا دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۲۷۴
"
17097,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,580,"ای الاقدم اسلام ۔ یعنی اسلام میں مقدم ہو ت)۔
(۲۸)صفحہ ۴۱:جو اکیلا نماز پڑھ لے اگر پھر اس وقت کی جماعت مل جائے تو جماعت میں شریك ہوجائے۔یہ مطلق حکم بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے مذہب حنفی میں جس نے فجر یا عصر یا مغرب پڑھ لی دوبارہ ان کی جماعت میں شریك نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے:
من صلی الفجر و والعصرو المغرب مرۃ فیخرج مطلقا وان اقیمت ۔ جو شخص ایك مرتبہ فجرعصر اور مغرب کی نماز پڑھ چکا ہو وہ مطلقا مسجد سے نکل سکتا ہے اگرچہ اقامت ہوجائے(ت)
(۲۹)ص ۴۲:جو شخص صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔یہ بھی محض افترا ہے بلاضرورت ایسا کرنے میں صرف کراہت ہے نماز یقینا ہوجائے گی۔درمختار میں ہے:
قدمنا کراھۃ القیام خلف صف منفرد ابل بجذب احد من الصف لکن قالوا فی زماننا ترکہ اولی ولذا قال فی البحریکرہ واحدہ اذا لم یجدفرجۃ ۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اکیلے مقتدی کا صف کے پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے بلکہ وہ صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ لے۔ لیکن ہمارے زمانے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس کا ترك اولی ہے اسی لیے بحر میں فرمایااکیلے کھڑے ہونا مکروہ ہے مگر جب صف میں جگہ میں جگہ نہ پائے تو مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
(۳۰)ص ۵۳:نماز استخارہ سنت ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پھر نماز پڑھ کر سو رہے۔یہ سنت ہے سورہنے کا ذکر کہیں حدیث میں نہیں۔
(۳۱)ص ۵۷:وہ جو سائل نے نقل کیا کہ جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے ان میں سنت بھی معاف ہیںیہ محض جہالت ہے حالت قرار میں کسی نماز کی سنت معاف نہیں اور حالت فرار میں سب کی معاف ہیںمطلقا معافی کا حکم دینا غلط اور اس معافی کو قصر کے ساتھ خاص "," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ادراك الفریضہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ادراك الفریضہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲
"
17098,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,581," کرنا دوسری غلطیدرمختا رمیں ہے:
یاتی المسافر بالسنن ان کان فی حال امن وقرار والا بان کان فی حال خوف وفرار لایاتی بھاھوالمختار ۔ حالت امن و قرار میں مسافر سنتیں ادا کرے ورنہ یعنی حالت خوف و فرار میں نہ ادا کرےیہی مختار ہے۔(ت)
(۳۲ و ۳۳)۵۸:جب کسی دشمن یا درندہ وغیرہ کا خوف ہو تو چار رکعت نماز فرض سے دو رکعت پڑھنا جائز ہے۔یہ محض غلط ہے مسافر پر چار رکعت فرض کی پڑھنی ویسی ہی واجب ہے اگر چہ کچھ خوف نہ ہواور غیر مسافر کو چار رکعت فرض کیدو پڑھنی اصلا جائز نہیں اگرچہ کتنا ہی خوف ہو۔درمختار میں ہے:
من خرج من عمارۃ موضع اقامتہ قاصد امسیرۃ ثلثۃ ایام ولیالیہا صلی الفرض الرباعی رکعتین وجوبا ۔ جو شخص تین دن رات کی مسافت کے ارادے سے اپنی جائے اقامت کی آبادی سے نکلا اس پر واجب ہے کہ چار رکعتی فرضوں میں دو دو رکعتیں پڑھے ت)۔
اسی میں ہے:
صلوۃ الخوف جائزۃ بشرط حضور عدواوسبع فیجعل الامام طائفۃ بازاء العدوو یصلی باخری رکعۃ فی الثنائی ورکعتین فی غیرہ ۔ نماز خوف اس شرط پر جائز ہے کہ دشمن یا درندہ سامنے موجود ہوچنانچہ امام لوگوں کے دوگروہ بنائے گا ان میں سے ایك گروہ کو دشمن کے سامنے کھڑا کرے گا جب کہ دوسرے کو دورکعتی نماز میں سے ایك رکعت اور چار رکعتی نماز میں سے دو رکعتین پڑھائے گا۔(ت)
(۳۴)ص ۵۹:کوئی نماز دیدہ و دانستہ قضا ہوجائے تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ "," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ المسافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۸
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ المسافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۷
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الخوف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۸و ۱۱۹
"
17099,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,582," (۳۵)ص۶۳:جو سائل نے نقل کیا جو خطبہ میں آکر شامل ہو دورکعت سنت پڑھ کر بیٹھےمذہب حنفی میں خطبہ ہوتے وقت ان رکعتوں کا پڑھنا حرام ہےدرمختار میں ہے:
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام الی تمامھا ۔ جب امام خطبہ کے لیے نکلے تو ا سکے اتمام تك کوئی نماز اور کوئی کلام جائز نہیں۔(ت)
(۳۶)ص ۶۳:وہ جو سائل نے نقل کیا جو شخص کے دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے۔یہ محض غلط وافتراء ہے مذہب حنفی میں تو اگر التحیات یا سجدہ سہو بھی امام کے ساتھ پالیا تو جمعہ ہی پڑھے گا اور امام محمد کے نزدیك بھی دوسری رکعت کا رکوع پانے والا جمعہ پڑھتا ہے حالانکہ وہ بھی دوسری رکعت کے قیام کے بعد ملاہدایہ میں ہے:
من ادرك الامام یوم الجمعۃ صلی معہ ما ادرکہ و بنی علیھا الجمعۃ وان کان ادرکہ فی التشہدا وفی سجود السہو بنی علیہا الجمعۃ عندھما وقال محمد ان ادرك معہ اکثرالرکعۃ الثانیۃ بنی علیھا الجمعۃ ۔ جس نے جمعہ کے دن امام کو پالیا تو امام کے ساتھ جتنی نماز پائی وہ اس کے ساتھ پڑھےاور اس پر جمعہ کی بنا کرےاگر اس نے امام کو تشہد یا سجدہ سہو میں پایا تو شیخین کے نزدیك اس پر جمعہ کی بنا کرے اور امام محمد کے نزدیك اگر امام کے ساتھ دوسری رکعت اکثر پالی تو اس پر جمعہ کی بنا کرے۔(ت)
(۳۷)ص ۶۴۰:تین آدمی بھی جمع ہوجائیں تو جمعہ پڑھ لیں۔یہ بھی ہمارے امام کے مذہب کے خلاف ہے کم سے کم چار آدمی درکار ہیں۔درمختار میں ہے:
والسادس الجماعۃ واقلہا ثلثۃ رجال سوی الامام ۔ چھٹی شرط جماعت ہے اور وہ یہ کہ امام کے علاوہ کم از کم تین مرد ہوں۔(ت)
(۳۸)ص ۶۴:عید کی نماز ہر مسلمان پر واجب ہے مرد ہو یا عورت یہ بھی غلط ہے۔ "," الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ الجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۳
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ الجمعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۵۰
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ الجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۱
"
17100,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,583," مذہب حنفی میں عورتوں پر نہ جمعہ ہے نہ عیدہدایہ میں ہے:
تجب صلوۃ العید علی کل من تجب علیہ صلوۃ الجمعۃ ۔ نماز عید ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نماز جمعہ واجب ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لاتجب الجمعۃ علی مسافر ولا امرأۃ ۔ مسافر اور عورت پر جمعہ واجب نہیں(ت)
(۳۹)ص ۶۵:دونوں عیدیں جب بارش وغیرہ کا عذر ہو مسجد میں جائز ہیں۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ بارش وغیرہ کا عذر نہ ہو تو مسجد میں ناجائز ہیں یہ محض غلط ہے۔درمختار میں ہے:
الخروج الیہا ای الجبانۃ الصلوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ۔ نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف نکلنا سنت ہے اگرچہ جامع مسجد میں لوگ سما سکتے ہوں۔(ت)
(۴۰)ص ۶۶:بکری بھینگی ناجائز ہےیہ بھینگی کا حکم بھی غلط لکھ رہا ہے مذہب حنفی میں بھینگی بکری کی قربانی جائز ہے۔ردالمحتار میں ہے:
وتجوز الحولاء مافی عینہا حول ۔ جس کی آنکھ بھینگی ہو اس کی قربانی جائز ہے۔(ت)
(۴۱)ص ۶۳:وہ جو سوال میں منقول ہوا کہ ایك دن میں جمعہ وعید اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت آئی ہے لیکن پڑھنا بہتر ہے۔یہ بھی غلط ہے مذہب حنفی میں عید واجب اور جمعہ فرض ہے کوئی متروك نہیں ہوسکتاہدایہ میں ہے:
وفی الجامع الصغیر عیدان اجتمعا فی یوم واحد فالاول سنۃ والثانی فریضۃ ولا یترك واحد منھما ۔ جامع صغیر میں ہے کہ اگر ایك دن میں دو عیدیں جمع ہو جائیں تو پہلی سنت(واجب مثبت بالسنہ)اور دوسری فرض ہے ان میں سے کوئی بھی ترك نہیں کی جائے گی۔(ت)"," الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجمعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۵۱
الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجمعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۴۹
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب العیدین مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۴
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۷
الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب العیدین المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۱۵۱
"
17101,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,584," (۴۲)ص ۶۶:عید کے پیچھے تین دن تك قربانی درست ہےمذہب حنفی میں صرف بارھویں تك قربانی جائز ہے۔درمختار میں ہے:
تجب التضحیۃ فجریوم النحرالی اخر ایامہ وھی ثلثۃ افضلہا اولہا ۔ قربانی کرنا واجب ہے یوم نحر کی فجر سے ایام قربانی کے آخری دن تکاور وہ تین دن ہیں جن میں سے پہلا افضل ہے۔(ت)
(۴۳)ص ۷۶:خاوند اگر اپنی عورت کو غسل دے جائز ہےمذہب حنفی میں محض ناجائز ہے۔درمختار میں ہے:
ویمنع زوجہا من غسلہا و مسھا لامن النظر الیہاعلی الاصح ۔ اصح یہ ہے کہ خاوند کا بیوی کو غسل دینا اور اسے چھونا ممنوع ہے مگر اسے دیکھنا ممنوع نہیں ہے۔(ت)
(۴۴)ص ۸۰:شہید پر نماز پڑھنی ضروری نہیںمذہب حنفی میں ضروری ہے۔درمختار میں باب الشہید میں ہے:
یصلی علیہ بلا غسل ۔ شہید پر بلا غسل نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔(ت)
(۴۵)ص ۸۰:جو جنازہ میں نہ مل سکے قبر پر پڑھ لے۔مذہب حنفی میں جو نماز جنازہ میں نہ مل سکے اب وہ کہیں نہیں پڑھ سکتاکہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں مگر اس حالت میں کہ پہلی نماز اس نے پڑھ لی ہو۔جسے ولایت نہ تھی۔درمختار میں ہے:
ان صلی غیر الولی ولم یتابعہ الولی اعاد الولی ولو علی قبرہ ان شاء ولیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرار ھا غیر مشروع ۔ اگر غیر ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو نماز جنازہ کا اعادہ کرسکتا ہےاگرچہ قبر پر پڑھ لے اور جو پہلے جنازہ میں شریك ہوچکا ہے وہ دوبارہ ولی کے ساتھ شریك نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں ہے۔(ت)
"," الدرالمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۱
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۰
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الشہید مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۷
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۳
"
17102,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,585," (۴۶)ص ۸۸:جو مرجائے اور اس پر فرض روزے رہ جائیں اس کے ولی کو چاہیے کہ اس کی طرف سے روزے رکھے۔مذہب حنفی میں کوئی دوسرے کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا۔ہدایہ میں ہے:
لایصوم عنہ الولی ولا یصلی لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد ۱ ۔ اور میت کی طرف سے اس کا ولی نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ رسول اﷲ کا فرمان ہے کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہ رکھے اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے(ت)
(۴۷)ص ۹۳:ہر مسلمان امیر وغریب پر صدقہئ فطر واجب ہے مذہب حنفی میں صرف غنی پر واجب ہے فقیر پر ہر گز نہیں
ہدایہ میں ہے:
صدقۃ الفطر واجبۃ علی الحرالمسلم اذا کان مالکا لمقدار النصاف فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاصدقۃ الاعن ظہر غنی ۔ صدقہ فطر آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مقدار نصاف کا مالك ہو درانحالیکہ وہ نصاف اس کے رہائشی مکانلباسسامان خانہ داریسواری کے گھوڑےہتھیاروں اور خدمت کے غلاموں سے زائدہورسول اﷲ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ نہیں ہے صدقہ مگر مالداری کو باقی رکھتے ہوئے۔(ت)
(۴۸)ص ۹۳:صدقہ فطر عورت کا خاوند کو لازم ہےیہ بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے ہدایہ میں ہے:
لایؤدی عن زوجتہ ۔ (صدقہ فطر)خاوند اپنی بیوی کی طرف سے ادا نہ کرے۔(ت)
"," الہدایۃ کتاب الصوم فصل ومن کان مریضًافی رمضان المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۲۰۳
الہدایۃ کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر المکتۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۸۸
الہدایۃ کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر المکتۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۸۹
"
17103,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,586," (۴۹)ص ۹۲:صدقہ فطر نماز سے پیچھے ناجائز ہےیہ بھی محض غلط ہےہدایہ میں ہے:
ان اخروھا عن یوم الفطر لم تسقط وکان علیہم اخراجہا ۔ اگر لوگوں نے صدقہ فطر روز عید سے مؤخر کردیا تو ساقط نہ ہوااس کی ادائیگی ان پر لازم ہے۔(ت)
(۵۰)ص ۹۴:اعتکاف سنت مؤکدہ ہے سال بھر میں جب کیا جائے جائز ہے رمضان شریف کے پچھلے عشرہ میں افضل ہےمذہب حنفی میں پچھلے عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہےعالمگیری میں ہے:
الاعتکاف سنۃ مؤکدۃ فی العشرالاخیر من رمضان ۔ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔(ت)
یہ چھوٹے چھوٹے گنتی کے اوراق میں اس کے پچاس دھوکے ہیں اور بہت چھوڑ دیئےاور صرف اس کی ایك کتاب ہی پیش نظر ہے۔باقی ۱۳ میں خدا جانے اپنے دین و دیانت کو کیا کچھ تین تیرہ کیا ہو۔اس کے حمایتی دیکھیں کہ ہدایہ وغیرہ حنفیہ کی معتبر کتابوں میں مسائل خلافیہ لکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ غیر مذہبوں بلکہ لامذہبوں کے مسائل لکھ جائیں اور انہیں کو احکام خدا و رسول ٹھہرائیں اور مذہب حنفی کا نام بھی زبان پر نہ لائیں۔یہ صریح دغا بازوںفریبیوںبددیانتوںمفسدوںدشمنان حنفیہ کا کام ہے۔تو یہ مصنف اور اس کے حمایتی جتنے ہیں سب مذہب حنفی کے دشمن اور حنفیہ کے بدخواہ ہیں۔مسلمانوں پر ان سے احتراز فرض ہے۔
"" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ""
نسئل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی بیران کی باتوں سے جھلك اٹھااور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہےہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو۔(ت)
ہم اﷲ تعالی سے در گزر اور عافیت کا سوال کرتے ہیںاور اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی
"," الہدایۃ کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر المکتۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۹۱
الفتاوی الھندیۃ کتاب الصوم الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۱۱
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
"
17104,27,رسالہ السّھم الشھابی علٰی خداع الوھابی ۱۳۲۵ھ (شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر),,,587,"خیر خلقہ محمد والہ واصحابہ اجمعین و بارك وسلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ نیکی کرنے کی قوتاور اﷲ تعالی درود و سلام اور برکت بھیجے اس پر جو تمام مخلوق سے بہتر ہے اور آپ کی آل پر اور تمام صحابہ پراور اﷲ سبحنہ و تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
کـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتبہ
عفی عنہ بمحمدن المصطفی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
yahan aik image hai ",
17105,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,588,"رسالہ
دفع زیغ زاغ
(کوے کی کجی کو دور کرنا)
ملقب بلقب تاریخی
رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ
(کوا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ الذی احل لنا الطیبات وحرم علینا الخبیثات وجعل الفواسق تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے پاکیزہ اشیاء حلال اور گندی اشیاء حرام فرمائی ہیں اور خبیث اشیاء کی طرف خبیث ہی
",
17106,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,589,"لایمیل لاکلہا الاکل فاسق فان الجنس للجنس شواق والشبہ الی الشبہ باشواق والصلوۃ والسلام علی من بین الحلال والحرام واحل قتل الفواسق فی الحل والحرم للحلال ولحرام فلا یستطیبہا من بعد ماجاء ہ من العلم الا من زاغ والی الخبث و الفسق مثلہا راغوعلی الہ وصحبہ وعلماء حزبہ و علینا معھم وبھم ولھم اجمعین الی یوم الدین امین یا ارحم الراحمین۔ مائل ہوتا ہےہر کوئی اپنے ہم جنس اور اپنی مثل کا طلبگار ہوتا ہے اور درود و سلام ہو اس پر جس نے حلال و حرام کو بیان فرمایا اور خبیث جانوروں کا قتل حل و حرم میں محرم و غیر محرم کے لیے حلال کیا اس کے بعد انہیں حلال نہ جانے گا مگر وہ جس نے کجروی اختیار کی اور اپنے جیسے خبیث و فاسق کی طرف راغب ہوااور آپ کے آل واصحاب وعلمائے امت پر اور ان کے صدقے ان کے ساتھ ہم سب پر تاقیامتاے بہتر رحم فرمانے والے۔آمین۔
فقیر غلام محی الدین عرف محمد سلطان الدین حنفی قادری برکاتی سلہٹی عاملہ اﷲ بلطفہ الحفی الوفی(اﷲ تعالی اس کے ساتھ اپنی بھر پور مخفی مہربانی کے ساتھ معاملہ فرمائے۔(ت)خدمت برادران دین میں عرض رسااس زمانہ فتن و محن میں کہ علم ضائع اور جہل ذائع ہے بعض شوخ طبیعتیں پیرانہ سالی میں بھی نچلی نہیں بیٹھتیںآئے دن ایك نہ ایك بات ایسی نکالتی رہتی ہیں جن سے مسلمانوں میں اختلاف پڑے فتنہ پھیلے اپنا کام بنے نام چلےجناب کرامی القاب وسیع المناقب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے پہلے مسئلہ امکان کذب نکالا کہ معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کا سچا ہونا ضرور نہیں جھوٹا بھی ہوسکتا ہےپھر ابلیس لعین کے علم کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتایا۔ان کے یہ دونوں مسئلے براہین قاطعہ کے صفحہ ۳ و صفحہ ۴۷ پر ہیں پھر بحکم آنکہ۔ ع
قدم عشق پیشتر بہتر
(عشق کا قدم آگے بہتر ہے)
ایك مہری فتوے میں تصریح کردی کہ اﷲ تعالی کو بالفعل جھوٹا ماننا فسق بھی نہیں اگلے امام بھی خدا کو ایسا مانتے ہیں جو خدا کو بالفعل جھوٹا کہے اسے گمراہ فاسق کچھ نہ کہنا چاہیے ہاں ایك غلطی ہے جس میں وہ تنہا نہیں بلکہ بہت اماموں کا پیرو ہے۔ حضرت کا یہ ایمان ان کے مہری فتوے میں ہے جو برسوں سے بمبئی میں وغیرہ میں مع رد بارہا چھپ گیا اور علماء نے صریح حکم کفر دیا اور جناب کرامی القاب سے جواب نہ ہوایونہی دو مسئلہ اولین کے رد میں علماء کے متعدد رسائل سالہا سال سے چھپ چکے اور لاجواب ",
17107,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,590, رہے۔ا دھر سے کان ٹھنڈے ہوئے تھے کہ حضرت کی اختراعی طبیعت نے کوا پسند کیا اس کی حلت کا غوغا بلند کیا پھر بھی غنیمت ہے کہ کفرو ایمان سے اتر کر حلال و حرام میں آئے مسلمانوں کے قلوب میں اس پر بھی عام شورش و نفرت پیدا ہوئیاگر حق سبحانہ و تعالی توفیق عطا فرماتا تو بصیر اسی سے اندازہ کرلیتا کہ کوے کو اسلامی طبیعتیں کیسا سمجھتی ہیںعام قلوب میں اس کی حلت سن کر ایسی شورش پیدا ہوئی آخر بیچیز ے نیستقمری یا کبوتر کو حلال بتانے پر بھی کبھی اختلاف پیدا ہواعلماء و عامہ نے اسے نیا مسئلہ سمجھ کر تعجب کی نگاہ سے دیکھا ہندوستان پر انہیں چند سال میں قحط کے کتنے حملے ہوئے یہ سیاہ پوش صاحب ہر گلی کوچے میں کثرت سے ملتے ہیں عام مسلمین جن کی طبائع میں من جانب اﷲ اس فاسق پر ند کی خباثت و حرمت مذکور ہےان کا خیال تو ادھر کیوں جاتا مگر اس وقت تك جناب کو بھی اس مسئلہ کا الہام نہ ہواورنہ اور نہیں تو آپ کے معتقدین قحط زدوں کو تو مفت کا حلال طیب گوشت ہاتھ آتا اور چار طرف کاؤں کاؤں کا شور بھی کچھ کم پاتااب حال وسعت و فراخی میں آپ کو سوجھی کہ کوا حلالنہ صرف حلال بلکہ حلال طیب ہےمتعدد بلاد میں اہل علم نے اس کے رد لکھےیہاں تك کہ بعض معتقدین جناب گنگوہی صاحب نے بھی ان کے خلاف تحریریں کیںآنحضرت عظیم البرکۃ مجدد دین و ملت حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کے حضور میر ٹھ سہارنپور گلاوٹی کانپور وغیرہا دس بلاد نزدیك و دور سے اس کے بارے میں سوالات آئے اکثر جگہ مختصر جوابات عطا ہوئے کہ یہ کوا فاسق ہے خبیث ہےحرام بحکم قرآن و حدیث ہےاور بایں لحاظ کہ متعدد بلاد میں اہل علم کااس طرف متوجہ ہونا حلت کے رد لکھنا صحیح خبروں سے معلوم تھا اور یہاں کثرت کا ربیرون از شمار تصنیف کتب دین و رد طوائف مبتدعین کے علاوہ بنگال سے مدراس اور برہما سے کشمیر تك کے فتاوی کا روزانہ کام ایك ایك وقت میں دو دو سو استفتاء کا اجتماع وازدحاملہذا باین لحاظ کہ لوگ اس مجہلہ تازہ کا رد کررہے ہیں خود زیادہ توجہ فرمانے کے حاجت نہ جانیاسی اثناء میں متعدد تحریرات مطبوعہ طرفین نظر سے گزریںان کے ملاحظہ سے واضح ہو اکہ یہ مسئلہ بھی اعلیحضرت دام ظلہم کے التفات خاص کی حد تك پہنچ گیا ہے۔بعض تحریرات معتقدین جناب گنگوہی صاحب میں یہ بھی تھا کہ یہ مسئلہ انکے علماء سے طے کرلیا جاتا یہ امر پسندیدہ خاطر عاطر آیا اور ایك مفاوضہ عالیہ چالیس سوالات شرعیہ پر مشتمل جناب گنگوہی صاحب کے نام امضافرمایایہ سوالات حقیقۃ حرمت غراب کے دلائل بازغ اور اوہام طائفہ جدیدہ غرابیہ کے رد بالغ تھے جو ذی علم بدستیاری انصاف و فہم انہیں مطالعہ کرے اس پر حقیقت حال اور حلت زاغ کے جملہ اوہام کا زیغ وضلال روشن ہوجائےجناب مولوی گنگوہی صاحب بھی ,
17108,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,591," سمجھ لیے کہ واقعی سوالات لاجواب اور خیالات زاغیہ سب نعیق غراب بلکہ نقش بر آب ہیں مفاوضہ عالیہ بصیغہ رجسٹری رسید طلب مرسل ہوا تھا ضابطے کی رسید تو دیتے ہی براہ عنایت اس کے ساتھ ایك کارڈ بھی بھیجا کہ آپ کا طویل مسئلہ پہنچا میں نے نہ سنا نہ سننے کا قصد ہےانا ﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ تعالی کے مال ہیں اور ہم کو اس کی طرف پھرنا ہے۔ت) ہزار افسوس نام علم و حالت علماء پر بے سمجھے بوجھے ایك نیا مسئلہ نکالنا مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا اور جب علماء مطالبہ دلیل و افادہ حق فرمائیں یوں چپ سادھ لینا ارشاد قرآن "" و اذ اخذ اللہ میثق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس "" ۔ (اور یاد کرو جب اﷲ تعالی نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا۔ت) کو بھلا دینا ایسے ہی شیوخ الطائفہ کو زیبا ہے جنہیں خود ان کا معتقد فرقہ اپنا پیر مغاں لکھتا ہے۔افسوس معتقدین کی بھی نہ چلی کہ ہمارے علماء سے طے کرلو۔طے کس سے کیجئے وہاں تو آواز ندارد۔سوالات میں ایك سوال یہ بھی تھا کہ فلاں فلاں پرچے جو حلت زاغ میں چھپے آپ کی رائے و رضا سے ہیں یا نہیں ان کے مضامین آپ کے نزدیك مقبول ہیں یا مردود۔جناب گنگوہی صاحب نے خیال فرمایا کہ مقبول کہتا ہوں تو سب بار مجھی پر آتا ہے مردود بتاؤں تو اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوا جاتا ہے لہذا صاف کانوں پر ہاتھ دھر گئے کہ میں نے اس وقت تك اس مسئلہ میں کوئی تحریر موافق نہ مخالف اصلا نہ سنینہ سننے کا قصد ہے۔مجھے تو آج تك یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس بارے میں کسی طرف سے کوئی تحریر چھپی ہے چلیے فراغت شد۔
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے
حضرت جناب گنگوہی صاحب اور ان سے قربت رکھنے والے خوب جانتے ہوں گے کہ یہ کیسا صریح سچ ارشاد ہوا ہے مگر وہاں اس کی کیا پروا ہے جو اپنے معبود کو جھوٹا بالفعل کہنا سہل جانیںبندوں پر جھوٹ بولنا آپ ہی واجب بالدوام مانیں۔عالم اہل سنت دام ظلہ العالی نے فورا اس کا رڈ کا رد رجسٹر رسید طلب کے ساتھ روانہ فرمایا فراست المومن سے گمان تھا کہ گنگوہی صاحب پہلا مفاوضہ انجانی میں لے چکے ہیں اور قوت سوالات دیکھ کر تحقیق مسئلہ شرعیہ سے بچتے ہیں عجب نہیں کہ اس بار رجسٹری واپس فرمائیں لہذا واضح قلم سے لفافے پر یہ الفاظ تحریر ", القرآن الکریم ۳ /۱۸۷
17109,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,592," فرمادیئے تھے:دینی مسئلہ ہے صرف تحقیق حق مقصود ہے کوئی مخاصمہ نہیں اگر رجسٹری واپس کردی تو حق پرستی کے خلاف ہوگا اور عجز پر دلیل صافمگر بندگان خدا صادق کی فراست ایمانی بحمداﷲ تعالی صادق ہی ہوتی ہے وہی گل کھلا کر جناب مولوی گنگوہی صاحب نے انکاری ہو کر مفاوضہ واپس کردیا۔اہالی ڈاك نے لکھ دیا کہ حضرت کو انکار ہے لہذا واپس اناﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ کے مال ہیں اور اسی کی طرف ہم کو پھرنا ہے۔ت)
فقیر محض بنظر تحقیق حق ورفع اختلاف مسلمین وہ مفاوضات اور کارڈ بعینہ شائع کرتا اور اب چھاپ کر جناب مولوی گنگوہی صاحب سے سوالات شرعیہ کا جواب مانگتا ہےجناب گنگوہی صاحب نام مناظرہ سے خائف ہولیے تھے۔کہ سبحن السبوح میں حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا حملہ شیرا نہ دیکھ چکے تھے یہ فقیر محض بطور استفادہ مسئلہ شرعیہ آپ سے جواب سوالات پوچھتا ہے جب آپ کے نزدیك کوا حلال ہے اور لوگ اس حلال خدا کو حرام سمجھے ہوئے ہیں اور خاص آپ سے اس دینی مسئلہ کی تحقیق چاہتے ہیں تو جواب نہ دینا کیا معنی رکھتا ہے۔پہلے بھی مفاوضہ عالیہ نے آپ کو سنادیا تھا اور اب فقیر بھی گزارش کیے دیتا ہے کہ خاص آپ کا جواب درکار ہے اسی سے رفع نزاع ممکن ہے زید و عمر و سے غرض نہیں ایں و آں پر التفات نہ ہوگا آپ سے مسائل شرعیہ کا سوال ہے آپ پر جواب واجب ہے آخر ماہ رمضان المبارك تك چالیس دن کی مہلت نذر ہے اگر عید ہوگئی اور جناب نے ہر سوال کا مفصل جواب اپنا مہری نہ بھیجا تو واضح ہوگا کہ آپ کو حلال و حرام کی پروا نہیں آپ مسائل شرعیہ پوچھنے والوں کے جواب سے عاجز ہیں آپ بے سمجھے مسائل منہ سے نکالتے اور مسلمانوں میں اختلاف ڈالتے اور جواب کے وقت خموشی پالتے ہیںاور اگر آپ نے جواب تفصیلی بھیجے اور اسی قدر یا استفادہ مکرر سے فقیر کو اطمینان ہوگیا تو میں وہ نہیں کہ جو چاہوں مان لوں اور عجز کے وقت سکوت کی امان لوں میں وعدہ دیتا ہوں کہ حلال خدا کو کبھی حرام نہ کہوں گا آپ کی طرف سے ایك تحقیق حاصل ہونے کا ممنون ہوگا آئندہ اختیار بدست مختارحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد والہ بالتبجیل۔
نقل مفاوضہ اول حضرت اہلسنت مدظلہ بنام جناب مولوی گنگوہی صاحب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
بنظر خاص مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیالسلام علی من اتبع الہدی(سلام اس پر ",
17110,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,593," جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ت)حلت غراب کے دو۲ پرچے خیر المطابع میرٹھ کے چھپے کہ کسی صاحب ابوالمنصور مظفر میرٹھی کے نام سے شائع ہوئے ایك کا عنوان تردید ضمیمہ اخبار عالم مطبوعہ ۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء دوسرے کی پیشانی تردید ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء بعض احباب نے بھیجے اس کا یہ فقرہ واقعی لائق پسند ہے کہ شرعی مسئلہ کا صرف علماء میں طے ہونا۔لہذا بغرض رفع شکوك عوام و تمیز حلال و حرام خاص آپ سے بعض امور مسئول اور ایك ہفتے میں جواب مامولچار روز آمدورفت ڈاك کے ہوئے اگر تین دن کامل میں بھی آپ نے جواب لکھا تو چار دہم شعبان روز چار شنبہ تك آجانا چاہیے کہ آج شنبہ ہفتم شعبان ہےاور اگر اس مہلت میں نہ ہوسکے تو اس کا مضائقہ نہیں۔ ع
نکو گوئی اگر دیر کوئی چہ غم
(بات اچھی کہے اگر دیر سے کہے تو کیا غم ہے ت)
مگر اس تقدیر پر بوالپسی ڈاك وعدہ جواب و تعیین مدت سے اطلاع ضرور ہے ورنہ سکوت متصور ہوگا۔جواب میں اختیار ہے کہ اپنے جن جن معاونین سے چاہیے استعانت کیجئے بلکہ بہتر ہوگا کہ سب کو جمع کرکے شورے مشورے سے جواب دیجئے کہ دس کی سوجھ بوجھ ایك سے کچھ اچھی ہی ہوگی۔مگر بہرحال مجیب خود آپ ہی ہوں۔زید و عمرو کے نام سے جواب جواب کو جواب ہوگا نہ جواب کہ مقصود تو ان امور میں آپ کی رائے معلوم ہونا ہے زید و عمرو کی خوش نوائیاں تو اخباروں اشتہاروں میں ہو ہی چکیںتحریر پر مہر بھی ضرور ہو کہ جحود جاحد کا احتمال دور ہومسئلہ مسئلہ دینیہ ہے اور مسئلہ دینیہ میں بے غور کامل و فحص بالغ آنکھیں بند کرکے منہ کھول دینا سخت بددیانتیتو ضرور ہے کہ آ پ اس مسئلہ کے تمام اطراف و جوانب پر نظر ڈال چکے اور جمیع مالہ و ما علیہ پر تال چکے ہوں گے تحقیق تنقیح تطبیق ترجیح سب ہی کچھ کرلی ہوگی تو ان سوالوں کے جواب میں آپ کو دقت یا معذوری چشم کا عذر نہ ہوگا خصوصا اس حالت میں کہ عالمگیری جیسی بیس۲۰ کتابیں آپ کے سینے شریف میں بند ہیں جیسا کہ مشتہر صاحب نے ادعا کیا ہر سوال کا صاف صاف جواب ہواگر کسی امر میں خفا رہا یا جواب سوال سے پورا متعلق نہ ہوا یا کسی جواب پر کوئی سوال تازہ پیدا ہوا تو دوبارہ سوال کرلیا جائے گا کہ مقصود وضوح حق ہے نہ خالی ہار جیت کی زق زق۔واﷲ الھادی الی صراط الحق(اور اﷲ تعالی ہی راہ حق کی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
سوال اول:پہلے یہی معلوم ہو کہ دونوں پرچہ مذکورہ اور وہ کاغذات جن کے طبع کا پرچہ اخیرہ میں وعدہ دیا آپ کی رائے و اطلاع و رضا سے ہیں یا بالائی لوگوں نے بطور خود شائع کیے ان کے سب ",
17111,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,594," مضامین آپ کو قبول ہیں یا کل مردود یا بعضعلی الثالث مردود کی تعیینبحال سکوت وہ پرچے آپ ہی کے قرار پائیں گے خبر شرط ست خبر شرط ست خبر شرط ست من انذر فقد اعذر(خبر شرط ہےخبر شرط ہےخبر شرط ہےجس نے ڈرایا اس نے عذر پیش کردیا۔ت)اور اگر صرف اتنا جواب دیا کہ ان کا نفس حکم منظور تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ان کے دلائل وابحاث آپ کے نزدیك مردود و مطرود ہیںورنہ قبول میں تخصیص حکم نہ ہوتی۔اور نسبت دلائل و ابحاث اجمالی بات کہ مثلا بعض یا اکثر صحیح ہیں کافی نہ ہوگی۔وہ لفظ یاد رہے کہ علی الثالث مردود کی تعیین۔
سوال دوم:شامی و طحطاوی و حلبی وغیرہا میں کہ عقعق وابقع وعذاف واعصم وزاغ کی طرف غراب کی تقسیم ہے صحیح و حاصر ہے یا غلط وقاصرعلی الثانی اس میں کیا کیا اغلاط کتنا قصور ہے اور ان پر کیا دلیل۔
سوال سوم:غراب جب مطلق بولا جائے ان متعارف متنازع فیہ کووں کو شامل ہے یا نہیں کیا غراب کا ترجمہ کوا نہیں۔
سوال چہارم:اقسام خسمہ میں ہر ایك کی جامع مانع تعریف کیا ہے خصوصا ابقع وعقعق کی رسم صحیح کہ طردا وعکسا ہر طرح سالم ہو مع بیان ماخذ۔
سوال پنجم:اگر تعریفات میں کچھ اختلاف واقع ہوئے ہیں تو ان میں کوئی ترجیح یا تطبیق ہے یا اختیار ہے کہ جزافا جو چاہیے سمجھ لیجئے علی الاول آپ نے کیا کیا اختلاف پائے اور ان میں کس ذریعے سے ترجیح یا تطبیق دے کر کیا قول منقح نکالا۔
سوال ششم:متنازع فیہ کوا اقسام خسمہ سے کس قسم میں ہےجو قسم معین کی جائے اس کی تعیین اور مابقی سے امتیاز مبین کی دلیل کافی بملاحظہ جملہ جوانب مبین کی جائے۔
سوال ہفتم:یہ کوے جس طرح اب دائرو سائر ہیں کہ ہر جگہ ہر شہر و قریہ میں بکثرت وافرہ ہمیشہ ملتے ہیں اور ان کا غیر شہروں میں نادرکیا اس پر کوئی دلیل ہے کہ ان کی یہ شہرت و کثرت اور امصار میں ان کے غیر کی ندرت اب حادث ہوگی فقہائے کرام اصحاب متون وشروح و فتاوی کے زمانے میں نہ تھی وہ حضرات ان کووں سے واقف تھے یا نادر الوجود ہونے کے باعث ان کا حکم بیان فرمانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے جوان کے زمانے میں کثیر الوجود تھے ان کے حکم بیان کیے آپ کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جو شق چاہیے اختیار کرلیجئے مگر ان کے سوا کوئی راہ چلئے تو ان دونوں کے بطلان اور اس کی صحت پر اقامت برہان ضرور ہوگی۔ ",
17112,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,595," سوال ہشتم:متون وشروح وفتاوی میں اختلاف ہو تو ترجیح کسے ہےاصل مذہب صاحب مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ وہ ہے جو متون لکھیں یا وہ کہ بعض فتاوے یا شروح حاکی ہوں۔علماء نے ہدایہ کو بھی متون میں شمار فرمایا ہے یا نہیںیاد کرکے کہیے۔
سوال نہم:غداف جب اقسام غراب میں مذکور ہو اس سے نسر یعنی گدھ مراد ہے یا کیا۔
سوال دہم:کیا کوئی کوا شکاری بھی ہے کہ زندہ پرندوں کو پنجے سے شکار کرکے کھاتا ہےاگر ہے تو اس کا کیا نام ہے اور وہ ان اقسام خمسہ سے کس قسم میں ہے یا ان سے خارج کوئی نئی چیز ہے علی الاول وہ قسم مطلقا شکاری ہےیا بعض افراد علی الثانی شکاری وغیرہ شکاری ایك نوع کیوں ہوئے۔
سوال یازدہم:جیفہ و شکار جدا جدا چیزیں ہیں یا ہر شکار کرکے کھانے والا جیفہ خوار ہے۔
سوال دوازدہم:پہاڑی کوا کہ اس کوے سے بڑا اور یکرنگ سیاہ ہوتا اور گرمیوں میں آتا ہے کیا ان کوؤں کی طرف آپ کے نزدیك وہ بھی حلال ہے یا حرام علی الاول کس کتاب میں حلال لکھا ہے۔علی الثانی اس کی حرمت کی وجہ کیا ہے۔
سوال سیزدہم:بعض کتب طبیہ میں جو عقعق کو مہوکا لکھا اور وہ ایك اور جانور کوے کے مشابہ ہےنجاست وغیرہ کھاتا ہے اور شہر میں کم آتا ہے اور ہدایہ و تبیین و فتح اﷲ المعین میں جس قدر باتیں عقعق کی نسبت تحریر فرمائی ہیں سب اس میں موجود ہیں آپ کے پاس ا س کی تکذیب پر کیا دلیل ہے۔
سوال چہار دہم: حدیث:
خمس من الفواسق یقتلن فی الحل والحرم۔ پانچ جانور خبیث ہیں انہیں حل و حرم میں قتل کیا جائے گا۔ت)
سے تحریم فواسق پر استدلال مذہب حنفی کے مطابق و مقبول ہے یا باطل و مخذول۔
سوال پانزدہم:قول صحابہ اصول حنفی میں حجت شرعی ہے یا نہیںخصوصا جب کہ اس کا ", صحیح مسلم کتاب الحج باب یندب للمحرم وغیرہ الخ،قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۸۱،سنن ابن ماجہ کتاب المناسك باب مایقتل المحرم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۳۰،کنز العمال حدیث ۱۱۹۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۳۷
17113,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,596," خلاف دیگر صحابہ سے مسموع نہ ہو رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
سوال شانزدہم:آپ حمار یعنی خرکو حلال جانتے ہیں یا حراماگر حرام ہے تو علت حرمت کیا ہےحالانکہ وہ صرف دانہ گھاس وغیرہ پاك ہی چیزیں کھاتا ہے یا لااقل خلط تو کرتاہے۔
سوال ہفدہم:کیا جلالہ کہ کثرت اکل نجاسات سے بولے آئی ہو حرام و ممنوع ہے یا نہیں جب کہ کبھی گھاس بھی کھالیتی ہواگر نہیں تو یوںحالانکہ نجاست اس کے رگ و پے میں ایسی ساری ہوگئی کہ باہر سے بو دینے لگی تنہا اکل نجاسات بھی اور اس سے زیادہ کیا وصف موثر فی التحریم پیدا کرے گا۔اور اگر ہے تو کیوں حالانکہ خلط تو پایا گیا۔
سوال ہیجدہم:ترك استفصال عندالسؤال دلیل عموم ہے یا نہیںذرا فتح القدیر دیکھی ہوتی۔
سوال نوزدہم:جس شے میں علت حلت و حرمت جمع ہوں حلال ہوگی یا حرام یا مشتبہ
علی الثالث اس پر اقدام کیسااور وہ طیبات میں معدود ہوگی یا نہیں۔
سوال بستم:نہ جاننے والا ا یك حکم شرعی عالم سے استفسار کرے شرعا اس مسئلہ میں تفصیل ہو کہ بعض صور جائز بعض ناجائزتو ایك حکم مطلق بیان کردینا اضلال ہے یا نہیں۔
سوال بست ویکم:حل اگر معلول قرار پائے تو علت حلت عدم جمیع علل حرمت ہے یا صرف کسی وصف وجودی کا ثبوتکیا شرع میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ امروجودی کے محض تحقق کو مناط حل قرار دے دیا ہو جب تك اس کا وجود ارتفاع جمیع و جود خطر کو مستلزم نہ ہو۔
سوال بست و دوم:کوے کہ بالاتفاق حرام ہیںفقہائے کرام نے ان کی تحریم کی تعلیل صرف اکل محض نجاست سے کی ہے یا اور بھی کوئی علت ارشاد ہوئی ہے۔
سوال بست وسوم:کیا اکل میں خلط نجس و طاہر ارتفاع جملہ وجود تحریم کو مستلزم ہے کہ جہاں خلط پایا جائے وہاں کوئی وجہ تحریم نہیں وہسکتی کہ باوصف وجود ملزوم انتفائے لازم قطعا معلوم۔
سوال بست و چہارم:غذا پر نظر کرنا اور یہ اصل کلی باندھنا کہ جو جانور صرف نجاست کھائے حرام اور جو نرا طاہر یا دونوں کھائے حلال ہے خاص اس صورت میں جب دیگر وجوہ حرمت سے کچھ نہ ہو یا یونہی عموم و اطلاق پر ہے کہ صرف غذا دیکھیں گے باقی سبعیت یا فسق یا خبث وغیرہا کسی بات پر نظر نہ ہوگی۔شق ثانی ماننے والا عاقل مصیب ہے یا یا جاہل دیوانگی نصیب۔
سوال بست وپنجم:قاعدہ مذکورہ امام کے کسی کلام سے استنباط کیا گیا ہے یا خود امام نے اس کلیے پر نص فرمایا ہے علی الثانی ثبوت علی الاول وہ کلام امام کیسی چیز سے متعلق تھا اور قاعدہ
",
17114,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,597," مستنبط اسی کے نظائر سے متعلق ہوسکے گا یا اپنے ماخذ سے بھی عام ہوجائے گا۔علی الثانی صحت استنباط کیونکر۔
سوال بست وششم:وصف ابقع یعنی دو۲رنگا ہونا خود موثر فی التحریم ہے یا سلبا و ایجابا مدار حرمت یا علامت ملزومہ یا لازمہ تحریم یا ان سب سے خارج ہےجو کہیے سمجھ کر کہیے۔
سوال بست و ہفتم:پانی کو مطہر کہنا ٹھیك ہے یا نہیں کیا اس پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ پانی تو مائے مضاف بھی ہے اس سے وضو کب جائز ہے اگر نہیں ہوسکتا تو کیوںحالانکہ مضاف بھی مائے مطلق نہ سہی مطلق ماء میں تو ضرور داخل ہے اور اس کلام میں پانی مطلق ہی تھا۔یعنی لابشرط شیئ نہ مقید باطلاق یعنی بشرط لا۔
سوال بست و ہشتم:اگر شارح یا محشی کسی کلام کو ایسے محل سے متعلق کردے جو اصول مسلمہ شرعیہ کے خلاف ہو تواس کی یہ توجیہ خطائے بشری ٹھہرے گی یا اس کے سبب اصل شرعی ہی رد کردی جائے گی۔
سوال بست ونہم:کیا حنفیہ کلام شارع میں مفہوم صفت معتبر رکھتے ہیں۔
سوال سیم:مذہب حنفی میں کوے کی کوئی نوع فی نفسہ بھی حرام ہے جسے حرمت لازم ہویا حقیقیۃ سب انواع حلال ہیں حرام کی حرمت صرف بعارض و زوال پذیر ہے علی الثانی ہمارے ائمہ سے ثبوت علی الاول علت حرمت کا بیان۔
سوال سی ویکم:غیر حوا کی میں نوعیت صوت حیوانات کا خاصا شاملہ ہے یا نہیں حتی کہ منطقیوں نے جب ادراك ذاتیات کا راستہ نہ پایا اسے فصول قریبہ سے کنایہ بنایا اور حیوان ناطق حیوان صاہل حیوان ناہق کو انسان و فرس و حمار کی حد ٹھہرایاان شہروں میں گھوڑا ہنہناتا کتا بھونکتا ہے کیا کہیں اس کا عکس بھی ہے کہ کتا ہنہناتا گھوڑا بھونکتا ہے۔
سوال سی و دوم:کیا وجہ تسمیہ میں تعدد محال ہے یا ایك وجہ دوسرے کے معارض سمجھی جائےکیا اس میں اطراد شرط ہے ریش کو جرجیر اور پیٹ کو قارورہ کہیں گے۔
سوال سی وسوم:کوئی کوا آپ نے دیکھا یا کسی معتمد سے دیکھنا سنا ہے کہ سوائے نجاست کے کبھی دانے وغیرہ کسی پاك چیز کو اصلا نہ چھوئےیہاں دو۲ قسم کے کوے دیکھے جاتے ہیںیہ اور کگارکیا کگار دانہ کھاتے نہیں دیکھا جاتا۔
سوال سی و چہارم:عق عق عق عق اور غاق غاق یا ہندی کہئے کچ کچ کچ کچ اور
",
17115,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,598," کاؤں کاؤںکیا یہ دونوں حکایتیں متباین آوازوں کی نہیںکیا کوئی سمجھ وال بچہ بھی کاؤں کاؤں کرنے والے کو کہے گا کہ عق عق عق عق کہہ رہا ہے۔
سوال سی وپنجم:کیا لون حیوانات اختلاف بلاد سے مختلف نہیں ہوتا اگرچہ بنظر حالت معہودہ اسی سے شناحت حیوان کرائیں مثلا تو تے کی رسم میں سبز رنگحالانکہ سپید بھی ہوتا ہےتو کیا صرف موضع لون میں اختلاف نوع حیوان کو بدل دے گا حالانکہ نوعیت لون بھی نہ بدلیخصوصا جہاں خود کلمات راسمین تعیین موضع میں ایك وجہ پر نہ آئے ہوںبہت نے مطلق کہا بعض نے ایك طرح تخصیص محل کی بعض نے دوسری طرحتو کیا صرف ان بعض مخصصین میں بعض کا قول دیکھ کر خصوص موضع میں ایك فرق قریب پر تبدل ذات حیوان کا زعم جنون ہے یا نہیں۔
سوال سی وششم:کراہت و ممانعت کہ بوجہ اکل نجاست ہولذاتہ ہوتی ہے یا اسی وصف کے سببیہاں تك کہ اگر وصف زائل ہو کراہت زائل ہوہمارے ائمہ نے دجاجہ مخلاۃ وبقرہ جلالہ میں بعد حبس اور امام ابو یوسف کی روایت میں عقعق کی نسبت کیا فرمایا ہے۔
سوال سی وہفتم:جامع الرموز کتب ضیغہ نامعتمدہ سے ہے یا نہیںوہ اگر کسی بات میں ہدایہ وکافی وتبیین وایضاح و لباب وجوہرہ و غیرہا متون و شروح معتمدہ و معتبرہ کے معارض مانی جائے تو انکے مقابل کچھ بھی التفات کے قابل ٹھہر سکتی ہے بلکہ ان سب عمائد کی تصریحات جلیلہ سے اگر کوئی معتبر کتاب بھی مخالفت کرے جس کا مصنف نہ مجتہد فی الفتوی مانا گیا نہ ان میں اکابر کا ہم پایہتو ترجیح کس طرف ہےراجح کو چھوڑ کر مرجوح پر فتوی دینے کو علما نے جہل و خرق اجماع بتایا یا نہیں۔
سوال سی وہشتم:جانوروں میں فسق کے کیا معنے ہیںبازو شکرہ و گربہ و کلب معلم بھی فاسق ہیں یا نہیںعلی الاول ثبوت علی الثانی ان میں اور زاغ میں کیا فرق ہے جس کے سبب شرع مطہر نے کوے کو فاسق بتایا نہ ان کو۔
سوال سی ونہم:ظہر کا ترجمہ کمر کہاں کی زبان ہےکیا اگر کوے کی کمر پر سپیدی نہ ہو تو نہ وہ فاسق ہے نہ خبیث بلکہ مطلقا حلال طیب ہے یہ کس کا مذہب ہےکمر کی سپیدی کو حلت حرمت میں کیا اور کتنا اور کیوں دخل ہے۔
سوال چہلم:ایذا کہ حیوانات میں فسق ہے اس سے مطلقا ایذا مراد ہے انسان کو ہو یا حیوان کو ابتدا ہو یا مقاومۃطبعا عادۃ ہو یا نادرا و کیفما کان شکاری جانور ہونا بھی اس ایذا ",
17116,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,599," میں شرعا داخل ہے یا نہیںعلی الاول ثبوت درکار کہ علماء نے ایذائے مناط فی الفسق میں اسے مطلقا داخل کیا یا باز وغیرہ شکاری پرندوں کو خود اسی بنا پر کہ وہ شکاری ہیں فاسق بتایا ہوشرع کی کس دلیل کس امام معتمد کی تصریح سے ثابت ہے کہ طیور و بہائم میں مناط فسق و مناط سبعیت واحد ہےکیا فسق و سبعیت میں یہاں کچھ فرق نہیںنیز غیر طیور و بہائم میں مناط کس قسم کی ایذا ہے اور وہ یہاں صلوح مناطیت سے کیوں معزول ہوئی۔
تنبیہ:بہت سوالوں میں کئی کئی سوالبہت میں متعدد شقوق ہیں نمبر وارہر سوال کی پوری باتوں کا جواب درکار۔
واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ علی سیدنا ومولانا محمد والہ اجمعین۔ اور ہماری دعا کا اختتام اس پر ہے کہ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہےاور اﷲ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی پر اور آپ کی تمام آل پر(ت)
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ ۷ شعبان معظم ۱۳۲۰ ہجریہ علی صاحبہاافضل الصلوۃ والتحیۃ۔
نقل کارڈ مولوی گنگوہی صاحب بجواب مفاوضہ عالیہ
از بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ بعد سلام مسنون آنکہ آپ کی تحریرطویل دربارہ مسئلہ زاغ بندہ کے پاس پہنچی بندہ نے اس وقت تك کوی عــــــہ اس مسئلہ میں نہ کوی(عہ)اس مسئلہ میں نہ کوی موافق تحریر سنی ہے نہ مخالف۔
عــــــہ:املائے شریف میں کوی کا لفظ یونہی مکرر ہے اور ہونا ہی چاہیے تھا کہ محبوب تازہ یعنی کوے کے ہمشکل ہے اس کی لذت نے اسے قند کردیا۔حبك الشیئ یعمی ویصم ۔ کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہے۱۲۔ ", سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۴۳،مسند احمد ابن حنبل بقیہ حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۱۹۴،مسند احمد ابن حنبل بقیہ حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۵۰
17117,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,600," اور نہ آئندہ ارادہ سننے کا ہے اور نہ مسئلہ حلۃ غراب موجودہ دیار عــــــہ۱ میں مجھے کسی قسم کا شبہ یا خلجان ہے جس کے رفع کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہو ایام طلب علمی سے یہ مسئلہ بندہ کو معلوم ہے اسی وقت بغرض اطمینان اپنے اساتذہ کرام سے بھی پوچھ لیا تھا ورنہ کتب متداولہ درسیہ سے اس کی حلت خود ظاہر ہے اور متدبر کو ذرا غور سے واضح ہوجاتا ہے۔بحث مباحثہ مناظر ہ مجادلہ کا نہ مجھے شوق ہوا نہ اس قدر فرصت ملی البتہ نفس مسئلہ حلت وحرمت مجھ سے بارہا سینکڑوں ہزاروں مرتبہ مجھ سے عــــــہ۲ کسی نے پوچھا اور میں نے بتلادیا اب نہ معلوم پچاس۵۰ سال کے بعد یہ غل شور کیوں ہوا میں نے آپ کا مسئلہ بھی نہ سنا ہے اور نہ سننے کا قصد ہے مگر چونکہ آپ عــــــہ۳ نے ٹکٹ نہیں بھیجا اس لیے اسکو واپس نہیں کیا صرف یہ کارڈ آپ کے رفع انتظار کے لیے بھیجا ہے ورنہ اس کی بھی حاجۃ نہ تھی مجھے عــــــہ۴ اس وقت سے پہلے یہ بھی خبر نہ ہوئی تھی کہ اس مسئلہ میں کوی تحریر کسی طرف سے چھپی ہے البتہ مجھے سینکڑوں آدمیوں نے پوچھا ہے میں نے اسی قدر جس قدر ہدایہ عــــــہ۵ وغیرہ میں درج ہے لکھ دیا ہے۔والسلام۔
عــــــہ۱:غراب کی تانیث عجب محاورہ ہے شاید یہی خیال باعث الفت ہوا ہو کالا سر تو کبھی دیکھا ہی تھا اگرچہ
ترا برف بارید برپرزاغ نشاید چوبلبل تماشائے باغ
(کوے کے پروں پر اگر برف برس جائے تب بھی وہ بلبل کی طرح تماشائے باغ کے لائق نہیں ہوتا)
عــــــہ۲:یہ مجھسے مکررہے(کوے مجھ سے کوی مجھ سے)دوبارہ فرمایا ہے گویا وہ کمال محبت میں عرب کا محاورہ ادا کرکے ارشاد ہوا ہے کہ۔
الغراب منی وانا من الغراب ۱۲
کوا مجھ سے اور میں کوے سے ہوں۔(ت)
عــــــہ۳:سوالات جواب آنے کو بھیجے تھے نہ کہ واپس دینے کواگر فقط ٹکٹ کی ناچاری جواب دینے کی سد راہ ہے تو آپ جواب بیرنگ دیں بلکہ رجسٹری کراکر جودوانی اٹھے اتنے کا ویلو بھیجیں دو آنے وہ اور تین اور نذرانے کے میں حاضر کروں۔۱۲
عــــــہ۴:وہ دیکھئے جھلك دے گئی۔اس وقت سے پہلے کا لفظ صاف بتارہا ہے کہ اب مفاوضہ عالیہ سننے سے خبر ہوئی حالانکہ آپ فرماتے ہیں میں نے سنا ہی نہیں ۱۲۔
عــــــہ۵:ہدایہ میں صریح روشن بیان واضح تبیان سے آپ کا رد لکھا ہے مگر زیغ زاغ میں ہدایہ سو جھے بھی ۱۲۔ ",
17118,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,601," مفاوضہ دوم حضرت عالم اہلسنت مدظلہ دررد کارڈ
گنگوہی صاحب رد حلہ عــــــہ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
بنظر خاص مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیسلم علی المسلمین اجمعین(سلام ہو مسلمانوں پر۔ت)آپ کا کارڈ مشعررسید مسائل مرسلہ فقیر آیاعجلت ارسال رسید باعث مسرت ہوئی مگر ساتھ ہی جواب دینے سے انکار پر حسرتمیری آپ کی مخالفت اصول عقائد میں ہے جس میں فقیر بحمدربہ القدیر جل جلالہ یقینا حق و ہدی پر ہے۔
"" الحمد للہ الذی ہدىنا لہذا وماکنا لنہتدی لولا ان ہدىنا اللہ لقد جاءت رسل ربنا بالحق ""۔
لاامکان فیہ المکذب ولا احتمال فیہ للریب فضلا عن ادعاء فعلیتہ الکفر المطلق۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اﷲ تعالی نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتیتحقیق ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق کے ساتھ آئےیہ حق ہے اس میں جھوٹ کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی شك کا کوئی احتمال ہے چہ جائیکہ اس میں جھوٹ کی فعلیت ووقوع کا دعوی کیا جائے جو کفر خالص ہے(ت)
مگر یہ مسئلہ دائرہ محض فرعی فقہی ہے فقہ میں فقیر بھی بحمدہ تعالی حنفی ہے اور آپ بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیںتو ان مسائل کو ان جلائل پر قیاس کرکے پہلو تہی کرنےکی حاجت نہیں۔
اپ کا جواب:کہ نہ مسئلہ حلت غراب موجودہ دیار میں مجھے کسی قسم کا شبہ یا خلجان ہے جس کے دفع کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوسوئے اتفاق سے سخت بے محل واقع ہوا۔فقیر نے کب کہا تھا کہ آپ کوے کے مسئلے میں حالت شك میں ہیں بلکہ صاف لفظ تھے کہ بغرض رفع شکوك عوام
عــــــہ:یعنی رد کیا گیا کوے کو ان کا حلال کہنا ۱۲ ", القرآن الکریم ۷/ ۴۳
17119,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,602, وتمیز حلال و حرام خاص آپ سے بعض امور مسئول اور آپ کی نسبت یہ الفاظ تھےضرور ہے کہ آپ اس مسئلے کے تمام اطراف جوانب پر نظر ڈال چکے اور جمیع مالہ ماعلیہ پر تال چکے ہوں گے تحقیق تنقیح تطبیق ترجیح سبھی کچھ کرلی ہوگی۔جن سے صاف روشن تھا کہ آپ کو حلت میں شاك و متردد نہ جانانہ آپ کے خلجان کے لیے یہ مراسلہ بھیجا۔آپ کو شك نہیں عوام کو تو شکوك ہیںمسلمانوں میں اختلاف پڑا ہےآتش خصام شعلہ زا ہےایك طائفہ آپ کا مقلد آپ کے فتوے سے حلت کا معتقد ہےتو کیا رفع نزاع بین المسلمین سے آپ کو غرض نہیں۔نگاہ انصاف صاف ہو تو یہ جواب بے محل ہی نہیں بالکل برعکس آیا آپ اس مسئلے میں حالت شك میں ہوتے تو یہ جواب کچھ قرین قیاس ہوتا کہ میں اس میں کیا کہوں میں تو خود تردد و شك میں پڑا ہوں اور جب کہ آپ کو حکم شرعی تحقیق ہے شبہہ و خلجان اصلا باقی نہیں تو جو آپ کے خیال میں خلاف حق پر ہیں حلال خدا کو حرام جانتے ہیں آپ پر لازم ہے کہ حق ان پر واضح کیجئے نہ کہ بعد سوال بھی جواب نہ دیجئےدیکھئے تو خود آپ کے معتقدین اسی مذکور اشتہار پرچہ دوم میں کیا کہتے ہیں:حق میں بطلان کے ملانے کی کوشش جن کی طرف سے ہوئی ان کو جواب دینے اور عین وقت پر دودھ پانی علیحدہ کردینا فرض منصبی۔آپ اس مراسلہ فقیر کو مسئلہ دائرہ میں سوال سائل سمجھے یا مناظرہ مقابل یا لاولا یعنی کچھ نہ کھلا۔برتقدیر اول اس جواب کا حسن آپ خود جان سکتے ہیں جسے یہ سمجھے کہ دلیل شرعی سے مسئلہ شرعیہ کی تحقیق پوچھتا ہے اس کا یہ کیا جواب ہوا کہ ہمیں تحقیق ہے۔جی وہ آپ کی اس تحقیق ہی کو تو پوچھتا ہے کہ کیا ہے ان شبہات کا اس میں کیونکر انتفا ہے نہ یہ کہ آپ کو تحقیق ہے یا نہیں۔ماوھل کے مقاصد میں فرق نہ کرنا عامی سے بھی بعید ہے نہ کہ مدعیان علم۔ برتقدیر ثالث جو کلام آپ نے نہ سنا نہ سمجھا اس پر جزافا یہ جواب کیسا بے سنے سمجھے کیونکر معلوم ہو کہ اس نے کیا کہا اور آپ کو جواب میں کیا کہنا چاہیے۔رہی تقدیر ثانی یعنی گمان مناظرہ اس پر بھی یہ نہایت عجابکیا حلت غراب موجود پر کوئی نص قطعی آپ کے پاس تھی یا جانے دیجئے خاص ان کووں کا نام لے کر ائمہ مذہب نے حکم حل دیا تھا جس کے سبب آپ کو ایسا تیقن کلی تھا کہ مناظرہ کا کلام بھی سننے کا دماغ نہ ہواکبر ے یقینی ہونا درکنار یہاں سرے سے اپنے صغری ہی پر آپ کسی کتاب معتمد کا نص نہیں دکھاسکتےمثلا عقعق کو کتابوں میں اختلافی حلال ضرور لکھا مگر یہ کس کتاب میں ہے کہ کوے جن میں گفتگو ہے عقعق ہیںیہ تو آپ یا آپ کے اساتذہ نے اپنی اٹکلوں ہی سے ٹھہرالیا ہوگاپھر اٹکلوں پر ایسا تیقن کہ مطلق شبہہ نہیں اصلا خلجان نہیں مزید تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں مناظر کی بات سنیں گے بھی نہیں یعنی چہ کیا کلمۃ الحق ,
17120,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,603,"ضالۃ المؤمن۔ (حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ت)نہیںکیا آپ یا آپ کے اساتذہ کی اٹکل میں غلطی ممکن نہیں زآپ کے معتقدین تو اسی اشتہار غراب پرچہ اولی میں آپ کی خطائیں نگاہ عوام میں ہلکی ٹھہرانے کے لیے حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا تك بڑھ گئے کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں اور بشریت سے اولیاء کیا معنی انبیاء علیہم السلام بھی خالی نہیں حالانکہ ایسی جگہ اکابر کو ضرب المثل بنانا سوئے ادب ہے اور قائل مستحق تعزیز شدیدشفا شریف میں ہے:
الوجہ الخامس ان لا یقصد نقصا ولایذکر عیبا ولا سبالکن ینزع بذکر بعض اوصافہ علیہ الصلوۃ و السلام اویستشہد ببعض احوالہ علیہ الصلوۃ و السلام الجائزۃ علیہ فی الدنیا علی طریق ضرب المثل والحجۃ لنفسہ اولغیرہ اوعلی التشبہ بہ او عند ھضمیۃ نالتہ اوغضاضۃ لحقتہ کقول القائل ان قیل فی السوء فقد قیل فی النبی او کذبت فقد کذب الانبیاءاوانا اسلم من السنۃ الناس ولم تسلم منہم انبیاء اﷲوانما کثرنا بشاھدھا مع استثقا لنا حکایتہا لتساھل کثیر من الناس فی ولوج ھذا الباب الضنك وقلۃ علمھم بعظیم مافیہ من الوزر یحسبونہ ھینا بے ادبی کی پانچویں صورت یہ ہے کہ قائل نہ تو توہین کا ارادہ کرے نہ ہی کوئی برائی یا دشنام زبان پر لائے مگر ذکر بعض اوصاف نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف جھکے یا بعض احوال کو کہ حضور پر دنیا میں روا تھے دستاویز بنائے ضرب المثل کے طور پر یا اپنے یا دوسرے کے لیے حجت لانے یا حضور سے تشبیہ دینے کو یا اپنے یا دوسرے پر سے کسی نقص یا قصور کا الزام اٹھاتے وقت جیسے قائل کا کہنا کہ مجھے برا کہا گیا تو نبی کو بھی تو لوگ برا کہتے تھے یا مجھے جھٹلایا تو لوگوں نے انبیاء کی بھی تو تکذیب کی ہے یا میں لوگوں کی زبان سے کیا بچوں کہ انبیاء تك ان سے سلامت نہ رہے۔(امام فرماتے ہیں ہم نے یہ الفاظ باآنکہ ان کی نقل ہم پر گراں تھی اس لیے بکثرت ذکر کیے کہ بہت لوگ اس تنگ دروازے میں گھس پڑنے کو سہل سمجھے ہوئے ہیں اور اس میں جو سخت وبال ہے اس سے کم واقف ہیں اسے آسان
", جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳،سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب الحکمۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۱۷
17121,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,604,"وھو عند اﷲ عظیمفان ھذہ کلھا وان لم تتضمن سبا ولااضافت الی الملئکۃ والانبیاء نقصا ولا قصد قائلھا غضا فما وقر النبوۃ ولا عظم الرسالۃ حتی شبہ من شبہ فی کرامۃ نالھا او معرۃ قصدا لانتفاء منھا او ضرب مثلا بمن عظم اﷲ خطرہ فحق ھذا ان درئ عنہ القتل الادب والسجن وقوۃ تعزیرہ بحسب شنعہ مقالہ اھ مختصرا۔ جانتے ہیں اور وہ اﷲ کے نزدیك سخت بات ہے)تو یہ اقوال اگرچہ دشنام پر مشتمل ہیں نہ ان میں انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف کسی نقص کی نسبت ہے نہ قائل نے تنقیص شان کا ارادہ کیا پھر بھی اس نے نہ نبوت کا ادب کیا نہ رسالت کی تعظیم کہ جن کے شرف کو اﷲ تعالی نے عظمت دی ان کے ساتھ ایں وآں کو تشبیہ دی کسی فضیلت میں کہ اسے ملی یا کسی نقص کا الزام اٹھانے کو یا ان کے ذکر پاك کو ضرب المثل بنایا تو ایسے سے اگر قتل دفع بھی کریں تو وہ تعزیر و قید اور اپنے قول کی برائی کے لائق سخت سزا کا مستحق ہے۔(ت۱۲)
خیر یہ باتیں تو وہ جانتے ہیں جنہیں حق سبحنہ و تعالی نے اپنے محبوبان کرام علیہم الصلوۃ والسلام حسن ادب بخشا ہےکلام اس میں ہے کہ انبیاء تك کا آپ کی خاطر یوں ذکر لایا جائے تو سخت عجب ہے کہ آپ کا خیال اس سے بڑھ کر اپنے آپ یا اپنے اساتذہ کو بالکل بشریت سے خالی بتائےمیرے پاس آپ کی مہری تحریر ہے جس میں آپ نے بزعم خود یہ مان کر کہ کتب فقہ میں الو کو حلال لکھا ہے پھر ان کے حکم کو محض غلط کہا اور فقہاء کو بے تحقیق کیے حکم شرعی لکھ دینے کی طرف نسبت کردیااسی کو یاد کرکے آپ نے مناظرہ کا کلام بگوش ہوش سنا ہوتا کہ جیسے اگلے فقہائے کرام نے آپ کے زعم میں الو کی حلت بے تحقیق لکھ دیشاید یوں ہی کوے کے باب میں آپ کو اور آپ کے اساتذہ کو دھوکا لگا اور بے تحقیق حرام کو حلال سمجھ لیا ہویا آپ اور آپ کے اساتذہ بشریت سے بالکل خالی سہی یہ خطا بھی فقہاء ہی کے ماتھے جائے شاید انہیں نے الو کی طرح کوے کو بھی حلال لکھ دیا ہو۔ مناظرہ کے کلام سے کشف خطا ہواس کی بدولت حق کی معرفت عطا ہو۔غرض اصلا نہ سننا اور یہ جواب دے دینا کہ ہمیں تحقیق ہے کسی وجہ پر کوئی معنی نہیں رکھتامجھے معلوم نہیں کہ یہ لاتسمعوا الھذا(اس کو نہ سنو ت)کا صیغہ آپ کی طبیعت کا تقاضا یا معتقدین کا ", الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول فصل الوجہ الخامس الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۲۲۸ تا ۲۳۰
17122,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,605," مشورہ تھاآپ نے سنا ہو جب ہر قل کے پاس فرمان اقدس پہنچا اور اس نے پڑھنا چاہا اور اس کا بھائی یا بھتیجا مانع آیا تو اس نے کیا جواب دیا ہےیہ کہا انك لضعیف الرأی اترید ان ارمی الکتاب قبل ان اعلم مافیہ تو ضرور ناقص العقل ہے کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں بے مضمون معلوم کیے خط ڈال دوں ۔ہر قل اگرچہ نبوت اقدس سے آگاہ تھا مگر اسے اظہار نہ کرتا تھا ایك عام تہذیب کی بات بتا کر اس احمق کا رد کیا مدعی تہذیب و عقل اسلامی کو ایك نصرانی کی فہم و انسانیت سے کم نہ رہنا چاہیے ہاں یناق ازرق احمر احمق کی رائے پسند ہو تو جدا بات ہےرہا آپ کا فرمانا کہ بحث مباحثہ مناظرہ مجادلہ کا نہ مجھے شوق ہوا نہ اس قدر فرصت ملیاور اسی بنا پر یہ جبروتی حکم کہ میں نے آپ کا مسئلہ بھی نہ سنا ہے اور نہ سننے کا قصد ہےبراہین قاطعہ تو خاص ردو مجادلہ کا رسالہ ہے اس کی تقریظ میں آپ لکھتے ہیںاحقر الناس رشید احمد گنگوہی نے اس کتاب کو اول سے آخر تك بغور دیکھا۔ مناظرہ ومباحثہ کا شوق نہ ہونا اگر تحریرات مناظرہ نہ دیکھنے کو مستلزم تو اتنے حجم کا طومار حرف بحرف بغور آپ نے کیونکر دیکھا اور مستلزم نہیں تو فقیر کا ایك ورق کا رسالہ سننے سے کیوں اجتناب ہوا۔اگر کہیے کہ وہ رسالہ پسند تھا یہ ناپسند لہذا اسے بغو ردیکھا اسے بیغوری سے بھی نہ سنا تو صراحۃ واژگونہ ہے پسند و ناپسند دیکھنے سننے پر متفرع ہے بے دیکھے سنے رجما بالغیب استحسان واستہجان کس خواب کی تعبیر سمجھا جائے۔علاوہ بریں مناظرہ میں خود آپ کے چند اوراقی رسائل مثل رد الطغیان ورسالہ تراویح وہدایۃ الشیعہ چھپے ہیں مگر یہ کہیے کہ بحمداﷲ تعالی فرق بین ہےجس پر یہ شوق و بے شوقی مبتنی ہے یعنی نہ ہر جائے مرکب الی آخرہ۔آپ کا فرمانا کہ میں نے آپ کا مسئلہ نہ سنا۔ ع
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
مگرکارڈ دیکھنے والے اس پر چرچتے اور کہتے ہیںیہ فرمانا کہ بندہ نے اس وقت تك کوئی اس مسئلہ میں نہ کوئی موافق تحریر سنی ہے نہ خلاف نہ آئندہ ارادہ سننے کا ہے مجھے اس وقت سے پہلے یہ بھی خبر نہ ہوئی تھی کہ اس مسئلہ میں کوئی تحریر کس طرف سے چھپی ہےاسی امر کی پیشبندی ہے جو مراسلہ کے سوال اول میں معروض ہوا تھا کہ دونوں پرچہ مذکورہ آپ کی رائے سے ہیں یا بالائی لوگوں نے بطور خود شائع کیے۔علی الثانی ان کے سب مضامین آپ کو قبول ہیں یا کل مردود یا بعض بحال سکوت وہ پرچے آپ ہی کے قرار پائیں گے۔ظاہر یہی ہے کہ آپ نے ضرور یہ شقوق سنیں اور ان سے مفر اصلا نظر نہ آئی سو اس صورت کے کہ سرے سے کانوں پر ہاتھ دھر لیے کہ میرے کان تك ان کی "," شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالثانی الفصل السادس دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۳۹
البراہین القاطعۃ تقریظ مولوی رشید احمد،مطبع لے بلا سا ڈھور،ص ۲۷۰
"
17123,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,606," خبر بھی نہ پہنچیمضمون سننا تو بڑی بات ہے میں کیسے کہہ دوں کہ مقبول ہیں یا مردوداور واقعی قبول کرنے میں سارا بار اپنے سر آتا تھا اورنہ قبول کرنے میں معتقدین کا دل دکھتا بلکہ غالبا اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوتا تھا ناچار سوا اس انکار کے علاج کیا تھا ورنہ کیونکر قرین قیاس ہو کہ آپ کا مسئلہ آپ کا معاملہ آپ کا فرقہ آپ کا سلسلہ شہروں شہروں وہ شور و غلغلہ اور آپ کانوں کان خبر نہیںطرفہ یہ کہ آپ خود اسی کارڈ میں فرمارہے ہیںنفس مسئلہ مجھ سے ہزاروں مرتبہ مجھ سے کسی نے پوچھا اور میں نے بتلادیا اب نا معلوم پچاس۵۰ سال کے بعد یہ غل شور کیوں ہوا۔غل شور کی خبر ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ غل کیا اور کس پیرایہ میں ہے۔لطف یہ کہ معتقدین معرض بیان میں سکوت سے عرفا اقرار دے چکے کہ ان کے مضامین آپ ہی کی تعلیم ہیں ضمیمہ شحنہ ہند کے اس بیان پر کہ یہ لچر اعتراضات مجوزین اکل زاغ ہذا کے ہیں جو غالبا ان کے کسی تعلیم دہندہ نے ہدایت فرمائی ہے جن کے ارشاد کے موافق بحکم۔ ع
بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
(شراب کے ساتھ مصلی رنگین کرلے اگر پیر مغاں کہے ت)
اس موذی خبیث زاغ کا کھانا اس فریق نے اختیار کیا ہے آپ کو معلوم ہو کہ یہ پیر مغاں باتفاق فریقین آپ ہیں خود آپ کے معقتدین پرچہ اولی میں فرماتے ہیں:شك نہیں کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں لیکن یہ کون سعادت مندی ہے کہ بلاسوچے سمجھے ایسے پیر مغاں فقیہ مسلم پر اعتراض کر بیٹھےواہ رے زمانہ غافل و مدہوش مغبچوں میں یہ شور و خروش اور پیر مغان در خواب خرگوشخیر یہ تو آپ جانیں یا آپ کے مریدکلام اس میں ہے کہ ضمیمہ شحنہ کا یہ کلام تردید والوں نے دیکھا اور آپ کا تبریہ نہ کیا اب ظاہر تو یہ ہے کہ جو ظاہر تھا وہ ظاہر ہولیا۔ ع
نہاں کے ماند آں رازے الخ
(وہ راز پوشیدہ کیسے رہ سکتا ہے۔ت)
کتب متداولہ درسیہ سے کوا حلال ہونے کا ادعا اسی وقت تك سز اہے کہ جواب سوالات سے دامن کھینچا ہےنمبر وار ہر سوال کا صاف صاف جواب بے پیچ و تاب دیتے ہی تو بعونہ تعالی کھلا جاتا ہے کہ یا غراب البین یا لیت بینی و بینك بعد المشرقین(اے فراق کے کوے کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق مغرب جتنا فاصلہ ہوتا۔ت)آپ فرماتے ہیں:صرف یہ کارڈ آپ کے رفع انتظار کے لیے بھیجا ہے ورنہ اس کی بھی حاجت نہ تھی۔میں کہتا ہوں حاجت تو کوا کھانے کی بھی نہ تھی اب کہ ", دیوان حافظ،سب رنگ کتاب گھر دہلی ص ۲۹
17124,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,607," واقع ہولیا مسائل شرعیہ کا جواب دینے کی ضرورت ہے تقریر بالا یاد کیجئے خیر یہ تو آپ کے عذر کا ضروری جواب تھا جس سے مقصود مسئلہ شرعیہ میں وضوح حق کا فتحباب تھا اگرچہ آپ بنظر مخالفت اسے اپنے کارڈ کا رد سمجھیں بلکہ گلوے کارڈ پر کا رد جانیںمجھے اس سے بحث نہیں مجھے اپنی نیت معلوم ہے میں آپ سے پھر گزارش کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں فتنہ پھیلانے سے رفع اختلاف بھلا ہے آپ کا معتقد گروہ دوسرا قرآن سے کہے تو نہیں سنتاآپ کی بے دلیل کی سنتا ہے اور وہ خود بھی اشارے اشارے میں کہہ چکا کہ ہمارے مولوی سے طے ہوجانا اولی ہےاور اب تو آپ کو پچاس برس سے یہ مسئلہ چھان رکھنے کا ادعا ہےاپنے اساتذہ سے بھی تحقیق کرلینا لکھا ہےدوسرے آپ سے صرف وضوح حق کے لیے سوالات شرعیہ کررہا ہےاور حق سبحنہ وتعالی نے قرآن عظیم میں حق صاف بیان فرمانے کا عہد لیا ہے۔قال تعالی:
"" و اذ اخذ اللہ میثق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس "" اور یاد کرو جب اﷲ تعالی نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا۔(ت)
پھر سوالات نہ سننے اور جوابات نہ دینے کی وجہ کیا ہے آپ مناظرہ کا خوف نہ کیجئے میں اطمینان دلاتا ہوں کہ یہ سوالات مخاصمانہ نہیں ضرف ظہور حق کے لیے ہیںآپ کا کارڈ پانچویں دن بعد ظہر آیا آج رجسٹری کا وقت نہیں یہ خط ان شاء اﷲ کل رجسٹری شدہ حاضر ہوگا سہ شنبہ ۱۶ شعبان تك جواب جملہ سوالات تین روز آئندہ میں آنے کا مژدہ یا تعیین مدت کا وعدہ ملے ورنہ فقیر اتمام حجت کرچکا ہے۔سوالات شرعیہ کا جواب نہ دینے اور مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر الگ ہو بیٹھنے کا مطالبہ حشر میں ہوا تو جب ہوگا یہاں بھی عقلا اس پہلو تہی کو جواب سے عجز پر محمول کریں گے آئندہ اختیار بدست مختارجواب میں جملہ شرائط مراسلہ سابقہ ملحوظ رہیں اور سوال اول کا جواب دینے کو وہ دونوں پرچے اور جو تحریرات چھپی ہوں امر دین ورفع نزاع مسلمین کے لیے ایك گھڑی بھر کی کلفت اٹھا کر براہین قاطعہ کی طرح اول سے آخر تك بغور سن لیجئے اور جلد جواب دیجئے۔
واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم اور اﷲ تعالی حق ارشاد فرماتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور
", القرآن ا لکریم ۳/ ۱۸۷
17125,27,رسالہ دفع زیغ زاغ (کوّے کی کجی کو دُور کرنا) ملقّب بلقب تاریخی رامی زاغیان ۱۳۲۰ھ (کوّا والوں پر تیرا نداز ی کرنے والا),,,608,"الوکیل وصلی اﷲ تعالی علی السید الجلیل والہ و صحبہ اولی التبجیل امین والحمدﷲ رب العلمین۔ وہ کیا اچھا کار ساز ہےاﷲ تعالی درود نازل فرمائے بزرگی والے سردار پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر جولائق تعظیم ہیں۔اے اﷲ۔ہماری دعا قبول فرما اور تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے جو کل جہانوں کا پرورگارہے۔(ت)
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
یاز دہم شعبان معظم ۱۳۲۰ھ
______________________ ",
17126,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,609,"رسالہ
اطائب الصیب علی ارض الطیب۱۳۱۹ھ
(طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ الذی نصر المقلدین للائمۃ المجتہدین بالاحسان فی الدین علی الطغام الماردین واظہر عجز المفسدین و جہل الابلدین الغیرالفارقین بین الدائن والمدینوالصلوۃ والسلام علی سید الانام وسند الکرام والہ العظام وصحبہ الفخام و ائمۃ الاسلام واولیاء الاعلام المتصرفین باذنہ فی الارواح والاجسام وعلینا بھم یا ذاالجلال والاکرام امین تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے احسان کے ساتھ دین میں اجتہاد فرمانے والے ائمہ کرام کے مقلدوں کی مدد فرمائیاور مفسدوں کے عجز اور دائن و مدین کے درمیان فرق نہ کرنے والوں کندذہنوں کے جہل کو ظاہر فرمایااور درود و سلام ہو کائنات کے سردار پر جو کہ کریموں کی سندہیں اور ان کے عظیم آل و اصحاب پراور ائمہ اسلام اور اولیاء کرام پر جو اس کی اجازت سے ارواح و اجسام میں تصرف کرنے والے ہیںاور ان کے صدقے میں ہم پر بھی اے جلالت و بزرگی والے آمین(ت)
",
17127,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,610," بعد حمد وصلوۃ حضرت عظیم البرکۃصاحب حجت قاہرہ وصولت باہرہ وتصانیف زاہرہ مجدد المأتہ الحاضرہتاج الفقہاءغیظ السفہاء محمود الکملأ محسوذ الفضلاء ماحی الفتنحامی السننزین الزمنحبر شریعتبحر طریقتناصر ملتحضرت عالم اہلسنت دام ظلہ و مد فضلہ و کثرت احباء ہ وکسرت اعداہ بالنبی الکریم علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیم نے آخر رسالہ فیض مقالہ ازالۃ العاربحجرالکرائم عن کلاب النار میں تمیز سنی وہابی کے لیے چند کلمات مجلہ ارشاد فرمائے کہ جوان کو مانے وہابیت سے پاک ہو سنی بن جائے
ازانجملہ فرمایا:
(۴)تقلید ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصف اجتہاد اس سے روگردانی گمراہ بددین کا کام ہے غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نا مقلد ی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارک تقلید ہونا اور دوسرے جاہلوں اپنے سے بھی اجہلوں کو ترک تقلید کا اغواء کرنا صریح گمراہی و گمراہ گری ہے۔
(۵)مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد و ہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اسی کا پیرورہے کبھی کسی مسئلے میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراط مستقیم پر ہے اس پر شرعا کوئی الزام نہیںان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کو کافی ہے۔تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔
(۶)متعلقات انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والثناء مثل استعانت ونداء و علم و تصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات و احیاء میں نجدی اور دہلوی اور ان کے اذناب نے جو احکام شرک گھڑے اور عامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے یہ ان ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انہیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔
ایک بزرگوار تقریبا تیس سال سے خاکی رامپور ہیں۔زبان عوام میں مولوی طیب عرب کے نام سے مشہور ہیںیہیں کچھ پڑھا پڑھایا۔انقلاب زمانہ نے پرنسپل بنایابیس برس ہوئے۱۳۰۰ھ سے پہلے حضرت عالم اہلسنت دام ظلہ رامپور تشریف لے جاتےاس زمانے میں عرب صاحب کچھ ایسی ہی شد بد جانتے اور کج مج عربی بول لیتے۔خدمت اقدس میں اکثر حاضر آتےیہی ہندوستانی انگرکھا وغیرہ پہنے ہوئے ہوتے مگر عرب کہلانے کے باعث حضرت والا اعزاز فرماتےہاں اس وضع کے سبب قلب میں اندیشہ تھا کہ دیکھئے ہندوستان کا پانی عرب صاحب پر کیا اثر ڈالے۔ابھی تو افضل البلاد کی وضع بدلی ہے آگے کیا کچھ پر پرزے نکالے۔جب ۱۳۰۲ھ میں جناب منشی محمد فضل حسن ",
17128,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,611," صاحب مرحوم مغفور نے انتقال فرمایا حضرت کا رامپور تشریف لے جانا نہ ہوا کہ ان سے قرابت قریبہ داعی زیارت تھی اور جس بندہ خدا کو فضل الہی تمام امصار و اقطار ہند کے علاوہ بنگالہ و کشمیر و برہما وغیرہ ملکوں کا مرجع فتوی بنائے اسے بے ضرورت سفر کی کب فرصت تھی جب سے عرب صاحب کا کچھ حال نہ ملا مگر ادھر حضرت والا کی فراست صادقہ کا رنگ کھلاپرنسپلی نے زور لگایا۔عرب صاحب کو مجتہد بنایاوہ رسالہ مبارکہ کہیں ان بزرگوار نے بھی مطالعہ کیاتقلید ائمہ کو فرض قطعی دیکھ کر نئی مجتہدی کا ننھا سا کلیجہ دھک سے ہوگیا۔حضرت والا کی خدمت میں عریضہ لکھایہاں سے جواب مع دلائل صواب کا افاضہ اور مجتہدی ی قلعی کھولنے کو بعض سوالات کا اضافہ ہوا عرب صاحب نے جواب تو عاجزانہ قبول کیا مگر سوالوں کا جواب اصلا نہ دیا بلکہ دوسرے مسئلہ تصرف اولیائے کرام میں سوال کا راستہ لیا۔ادھر سے اس کے جواب کا بھی افادہ اور دربارہ تقلید سلسلہ سوالات زیادہ ہوا۔اب عرب صاحب سوگئے۔ان سوالوں کو پانچان کو تین مہینے ہوگئے۔آخر ادھر سے تقاضائے جواب ہوا۔عرب صاحب کو پیچ و تاب ہوا۔تہذیب کے رنگ بدل گئےبھرے بیٹھے تھے ابل گئے۔کذب وجہل سے کام لیا مگر روز موعود گزرا جواب نہ دیا۔یہاں فضل الہ ہے۔ایسوں ویسوں کی کیا پروا ہےاکناف و اقطار سے ہزاروں مفیدانہ پوچھتےفیض پاتے ہیںجو معاندانہ الجھیں منہ کی کھاتے ہیں۔روز افزوں فضل باری ہےیہی کارخانہ جاری ہےایسوں کا مخاطبہ کیا شے تھا کہ قابل اشاعت سمجھا جاتا۔خصوصا وہ خوش فہم جنہیں بدیہیات کا بھی ادراک نہیںتنبییہ کے بعد بھی احتیاج تامل سے انفکاک نہیں۔حضرات ناظرین ! ازالۃ العار کی عبارت آپ کے پیش نظر ہے ملاحظہ ہو کہ نمبر(۴)میں مطلق تقلید بے تخصیص وتقیید جلوہ گر ہےتقلید خاص کے بیان میں مستقل جداگانہ پانچواں نمبر ہےیہ مجتہد صاحب ایسے سلیس اردو کلام جدا جدا نمبر تک کے انتظام کو نہ سمجھے اور خط اول میں پوچھنے بیٹھےکہ آپ تقلید کی کون سی قسم کو فرض قطعی فرماتے ہیں۔(دیکھو ا س رسالہ کا ص ۷)
آخر حلیمانہ جواب عطا ہو کہ ہم مطلق تقلید کو فرض قطعی بتاتے ہیں(دیکھو ص ۱۵)اس پر بھی دوسرے خط میں بولے کہ مجھے آپ کے جواب میں غورو تامل کرنے سے یہ کھلا کہ آپ نے وہاں مطلق کا حکم لکھا۔(دیکھو ص ۲۳)انا ﷲ وانا الیہ راجعون
(چہ خوش چرانباشد آخر نہ اجتہاد ست)
(بہت خوبکیوں نہ ہوآخر اجتہاد نہیں ہے۔ت)
مگر معتمدین سے خبر مسموع ہوئی کہ مجتہد صاحب کو خود اپنی تشہیر مطبوع ہوئیاس بارے میں اور ان کی ",
17129,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,612," کوئی تحریر چھپنی شروع ہوئیوہ دو چار ہی دن جاتے ہیں کہ وہ نامطبوع مطبوع ہوئی اس پر یہاں بھی احباب نے مناسب جانا کہ خطوط بعینہا شائع ہوں کہ ناظرین اصل واقعے پر مطلع ہوںاگر مجتہد صاحب نے کچھ غیرت اجتہاد سے کام لیاتحریر میں تمام سوالات سے جواب دیا فبہایہ رسالہ بعونہ تعالی رسالہ جو اب کا مقدمہ ممہد ہوگا۔اور اگر جوابوں سے راہ کترائیمیر بحری بچائیخارجی باتوں میں اڑان گھائی بتائی تو یہی رسالہ ان کی تحریر کا پیشی رد ہوگا کہ حضرت پہلے سوالات کا جواب دیجئے اس کے بعد کچھ کہنے کا نام لیجئے۔لہذا تو کلا علی اﷲ یہ رسالہ جمع کیا اور عموم فائدہ کو خطوط کا سلیس ترجمہ کردیا:الصلوۃ والسلام علی نبی الہد ی والہ وصحبہ دائما ابدا۔
خط اول عرب صاحب بنام نامی حضرت عالم اہلسنت مدظلہ السامی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الی حضرۃ الفاضل العلامۃ الشیخ احمد رضا مدظلہ العالی۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبعد السؤال عن عزیز خاطر کم نعرفکم باناقداطلعنافی بعض تصانیفک انک تقول ان التقلید فرض قطعی فتعجبت وحق لی ان اتعجب لانی قد قضیت نحوا من ثلثین سنۃ فی خدمۃ طلبۃ العلم فلم اھتد الی استحباب التقلید فضلا عن وجوبہ فکیف بفرضیتہ لا مطلقابل فرضیتہ قطعیۃ فلہذا ارغب الیک ان تعلمنی ادلۃ ذلک وعین لی ان ای قسم من اقسام التقلید فرضا قطعیا ثم اخبرنی ان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أبتقلید او بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ببارگاہ فاضل علامہ حضرت احمد رضا مدظلہ العالی۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہپرسش مزاج گرامی کے بعد ہم جناب کو معرفت کراتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بعض تصنیفوں میں آپ کا یہ قول دیکھا کہ تقلید فرض قطعی ہے اس سے مجھے تعجب ہوا اور مجھے سزاوار تھا کہ تعجب کروں اس لیے کہ میں نے تیس برس کے قریب طالب علموں کی خدمت میں گزاری مجھے تقلید کو مستحب جاننے کی ہدایت نہ ہوئی چہ جائے وجوبپھر کہاں فرضیتوہ بھی مطلق نہیں بلکہ فرضیت قطعیہاس وجہ سے میں آپ کی طرف آرزو لاتا ہوں کہ مجھے اس کے دلائل تعلیم فرمائیے اور معین کیجئے کہ تقلید کی کون سی قسم فرض قطعی ہے پھر مجھے بتائیے کہ مجتہدوں میں سے کسی کو کیونکر اختیار کرے آیا تقلید سے یا اجتہاد سے بات یہ ہے
",
17130,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,613,"باجتہاد ثم اخبر نی کیف یختارالمجتہدین أبتقلید ام باجتہاد ھذاواﷲ یہدینا وایاکم الی سبیل الرشاد۔
محمد طیب محمد طیب ۱۴ جمادی الثانی ۱۳۱۹ ازرامپور اور اللہ ہمیں اور آپ کو راہ ہدایت دکھائے۔
۱۴ جمادی الثانی ۱۳۱۹ھ ازرامپور۔
مفاوضہ او ل از حضرت عالم اہلسنت مدظلہ الاکمل بجواب خط اول
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمالی الفاضل الکامل الشیخ محمد طیب المکی سددہ اﷲ بقلب ملکیاما بعد فانی احمد اﷲ الیکسلام علیکوصل الکتاب وحصل الخطاب غب ماطال امد وزال ابدو ظن الوداد ان قد نفد او کان قد و ممایسر ان التخاطب فی امردینی والسوال عن فرض یقینی واحببت الجواب رجاء للثواب و اظہاراللصواب وقضاء لحق اخوۃ الاحبابولو انک یا اخی رجعت فی ھذا الی الکلام المبین لاغناک عن مراجعۃ مثلی من المقلدین کما بہ تغنیت فیما تمنیت عن الائمۃ المجتہدین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین الم ترالی ربک کیف یقول بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بنام فاضل کامل شیخ محمد طیب مکی سددہ اﷲ بقلب ملکی۔بعد حمد وصلوۃ میں آپ عــــــہ سے حمد الہی بیان کرتا ہوںسلام علیک۔خط آیامخاطبہ لایابعد اس کے کہ ایک زمانہ گزرا اور مدت دراز نے انقضاپایا اور دوستی نے گمان کرلیا تھا کہ جاچکی یا اب گئیاور خوشی کی بات یہ ہے کہ گفتگو ایک امر دینی میں ہے اور سوال ایک فرض یقینی سےتو میں نے جواب دینا چاہا بامید ثواب واظہار صواب و ادائے حق محبت احباببرادرم اگر آپ اس معاملے میں قرآن عظیم کی طرف رجوع کرتے تو مجھ جیسے مقلد مقلد کی جانب رجوع کی حاجت نہ ہوتی جیسا کہ آ پ اپنے خیال میں قرآن فہمی کے باعث حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعینسے بے نیاز ہوگئے ہیںآپ نے دیکھا کہ آپ کا رب کیا فرمارہا ہے۔
عــــــہ: یہ مزاج پرسی کے جواب میں شکر الہی کا اظہار ہے ۱۲ مترجم۔ ",
17131,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,614,"وقولہ الحق"" وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومہم اذا رجعوا الیہم لعلہم یحذرون ﴿۱۲۲﴾
"" فقد فرض التفقہ فی الدین واعفی عنہ عامۃ المومنین و لم یترک احدا منھم سدی فانما ارشد للتقلید من اھتدی الم تعلم ان اﷲ علی خلقہ فرائض لا تترک و محارم لا تنتھب وحدودا من تعداھا فقد ظلم و ھلک ولکلہا او جلہا شرائط وتفاصیل لایہتدی الیہا الا قلیل"" وما یعقلہا الا العلمون ﴿۴۳﴾ ""
"" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ ""۔ اور اس کا قول سچا ہے وماکان المؤمنون لینفرواکافۃ الآیۃ یعنی مسلمان سب کے سب تو باہر جانے سے رہے تو کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ سے ایک ٹکڑا نکلتا کہ دین میں فقہ سیکھے اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائے اس امید پر کہ وہ خلاف حکم کرنے سے بچیںتو اللہ تعالی نے فقہ سیکھنا فرض فرمایا اور عام مومنین کو اس سے معاف فرمایا اور مہمل اور آزاد کسی کو نہیں رکھا ہے تو ضرور اہل ہدایت کو تقلید ہی کا ارشاد ہوا۔ عــــــہ کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق پر کچھ فرض ہیں کہ چھوڑنے کے نہیں کچھ حرام ہیں کہ حرمت توڑنے کے نہیںکچھ حدیں ہیں کہ جوان سے آگے بڑھے ظالم ہو اور ہلاکت میں پڑےاور ان سب یا اکثر کے لیے شرطیں اور تفصیلیں ہیں جنہیں گنتی ہی کے لوگ جانتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں مگر عالموں کوتو اہل ذکر سے مسئلہ پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔بلکہ آپ اپنی
عــــــہ:یعنی جب احکام الہیہ ہر عام و عامی پر ہیں آزاد کوئی نہ چھوڑ ا گیا اور فقہ سیکھنے کو صاف فرمادیا کہ سب سے نہیں ہوسکتاہر گروہ سے بعض اشخاص سیکھیں اور اپنی قوم کو احکام بتائیں کہ وہ مخالفت حکم سے بچیں تو صاف صاف عام لوگوں کو ان فقیہوں کی بات پر چلنے کا حکم ہوا اور اسی کا نام تقلید ہے جس کی فرضیت قرآن عظیم کی نص قطعی سے ثابت ہوئی ۱۲ مترجم۔ "," القران الکریم ۹/ ۱۲۲
القرآن الکریم ۲۹/ ۴۳
القرآن الکریم ۱۶/ ۴۳
"
17132,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,615,"بل لو رجعت الی نفسک لا لغیت غدک ھذا کمثل امسک وانا اجیرھا باﷲ ان تبہت اوتکابر اوتتعامی عن البدر وھو زاھر سلھا ھل ﷲ سبحنہ وتعالی علی العباد مالا یدرک علمہ اول مایدرک الابنص او اجتہاد فان ابت فمنکرا اتت وان سلمت سلمت واسلمت فسلھا اتربن الناس کلھم عالمین بما لہم وعلیہم من امورالدین لا حاطتھم جمیعا بمعا نی النصوص و اقتدارھم طراعلی استنباط المسکوت عن المنصوص فان عممت فقد عمیت وان احجمت فقد ھدیت فسلھا عن الذین لایعلمون و لا یبصرون ولا علی الاجتہاد یقتدرون اولئک متروکون سدی فان انعمت فقد ضلت الہدی وان ابصرت فانکرت عقل ہی کی طرف رجوع لاتے تو اپنی اس آئندہ عــــــہ۱ کل کو گزشتہ کل کی طرح پاتے۔اور میں آپ کی عقل کو خدا کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ انہوئی جوڑے یا ڈھٹائی کرے یا چمکے چاند ماہ تمام سے اندھی بنے اپنی عقل ہی سے پوچھیے کیا اللہ تعالی کے لیے بندوں پر کچھ ایسے احکام ہیں یا نہیں کہ ابتداء ان کا علم بغیر تصریح شارع یا اجتہاد مجتہد کے حاصل نہیں ہوتا۔اگر وہ انکا ر کرے تو واجب الانکار شناعت لائی اور اگر مانے تو سلامت رہی اور طاعت لائی۔اب اس سے پوچھیے کیا تیرے خیال میں تمام آدمی حلال و حرام و جائز واجب دین کے جتنے احکام ان پر ہیں سب کے عالم میں نصوص شریعت کے معانی کا سب کو احاطہ ہے۔منصوص سے مسکوت کا حکم پیدا کرنے پر سب کو قدرت ہے پس اگر وہ تعمیم کرے تو یقینا اندھی ہے اور اس سے باز رہے تو ضرور مہتدی ہے۔اب اس سے ان کا حکم پوچھیے جنہیں نہ علم ہے نہ بصیرت نہ اجتہاد کی قدرتکیا وہ شتر عــــــہ۲ بے مہار بنا کر چھوڑ دیئے گئے ہیں اگر ہاں کہے تو قطعا گمراہ ہوئے اور اگر آنکھ کھولے اور بے مہاری سے
عــــــہ۱:آئندہ کل کا حال مخفی ہے اور گزشتہ کا ظاہر یعنی دل ہی میں سوچتے تو تقلید کی فرضیت کہ آپ پر مخفی ہے ظاہر ہوجاتی ۱۲مترجم عــــــہ۲:یعنی ان پرشریعت کے کچھ احکام نہیں ۱۲ مترجم ",
17133,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,616,"فسلہا مالھم من السبیل الی ان یعلموا احکام الجلیل ان یروا بانفسہم وھم لایبصرون و یستنبطوا وھم لایقدرون اویرجعوا الی العلماء المرشدین فیعتمدون علیھم فی امور الدین ویعلموا بقولھم منقادین فان بالا ول اجابت فقد بھتت وخابت "" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا ""۔ وان ابت وابت الی الاخراصابت و وقد وجدت ضالۃ ضلت ربعہاثم من العجب سؤلک عمایسآل عنہ مثلکان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أ باجتہاد اوبتقلید فلقد قصرت ولا قصر وزعمت الحصرحیث لا حصر اماعلمت ان الضروری فی علمہ عنھما جمیعا لغنی الیس ان کل مسلم یعلم ضرورۃ من الدین علما لا یخالطہ ظن و لاتخمین ان ﷲ علیہ فرائض وحرمات وحدود اوتکلیفات ویعلم منہم من لایعلم علما وجدانیا ان لایعلم وانہ لایقدر ان یعلم الا ان یعلم انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے کہ ان کے لیے احکام الہی جاننے کی کیا سبیل ہے آیا یہ کہ خود دیکھیں حالانکہ وہ نگاہ نہیں رکھتےاجتہاد کریں حالانکہ قدرت نہیں رکھتے یا یہ کہ ہدایت و ارشاد والے علماء کی طرف رجوع لائیںامور دین میں ان پر اعتماد کریں جو وہ فرمائیں مطیع ہو کر اس پر کاربند رہیںاگر جواب میں پہلی بات کہی تو یقینا بہتان اٹھاتی ہے اور نامراد رہیاور اگر اس سے انکار کرکے دوسری طرف پلٹی تو راہ صواب پر آئی اور جس گم شدہ کا مکان نہ جانتی تھی اس کی ملاقات پائیپھر عجب بات ہے آپ کا ایسے امر سے سوال جسے آپ جیسا دریافت نہ کرتا کہ مکلف کو تقلید فرض ہونے کا علم اجتہاد سے ہے یا تقلید سے آپ نے قصر کیا اور قصر نہ تھا اور حصر سمجھے جہاں حصر نہ تھا۔کیا آپ کو خبر نہیں کہ بدیہی بات اپنے جاننے میں ان دونوں سے یکسر بے نیاز ہے۔کیا ہر مسلمان بالبداہت ایسے یقین سے جس میں کسی گمان و تخمین کی آمیزش نہیں اپنے دین کا یہ حکم نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل کے لیے اس پر کچھ فرض ہیں کچھ حرام کچھ حدیں ہیں کچھ احکام اور ان میں جو جاہل ہے وہ اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ جاہل ہے اور یہ کہ جب تک اسے بتایا نہ جائے خود جان لینے ", القرآن الکریم ۲/ ۲۸۶
17134,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,617,"ویعلم ان لا براء ۃ ذمۃ الا بالعمل ولاعمل الا بالعلم ولا علم الا لمن تعلم فینقدح فی ذہنہ بداھۃ ان علیہ سؤال من اذا سئل ھدی وعلم ھذا سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قائلا وقولہ اصدق مقال الاسالوااذ لم یعلموا فانما شفاء العی السوال۔
و قد تو اترذلک من لدن الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنھم وھلم جرا تواتر کتا بۃ الصلوۃ وسائر المکتوبات علانیۃ وجہرا بل ھوامر مجبول علیہ اجبال البشر من امن منھم ومن کفرفتری عوام کل فرقۃ تاتی علماء ھاوالباء ھا وتسال دواء داجہلہا من تحسبہم اطباءھا علما من لدیھم بانہ القاضی ما علیہم فاسألھم ابتقلیدکان ام باجتہاد فسیأتیک بالاخبار من لم تزودہ بالازواد اوانت بنفسک انبئنی سے عاجز ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ بے عمل کیے چھٹکارا نہیں اور بے علم عمل کا یارانہیں اور بے سیکھے علم نہ آئے گا تو بداہۃ اس کے ذہن میں خود آجائے گا کہ اس پر ایسے سے پوچھنا لازم ہے جو مسئلہ بتا کر ہدایت فرمائے اور یہ ہیں ہمارے مولا رسول اللہ صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم فرماتے ہوئے اور ان کا ارشاد ہر قول سے زیادہ سچ ہے الا سالواالحدیث یعنی کیوں نہ پوچھا جب خود نہ جانتے تھے کہ عجز کا علاج تو سوال ہی ہے اور بے شک وہ زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے آج تک برابر فرضیت نماز و دیگر فرائض کی طرح علانیہ و ظاہر متواتر ہے بلکہ وہ ہر انسان کی جبلی بات ہے خواہ وہ مومن ہے خواہ کافر ہے لہذا ہر گروہ کے عوام کو دیکھو گے کہ اپنے یہاں کے اہل علم و دانش کے پاس آتے اور جنہیں اپنا طبیب سمجھتے ان سے مرض جہل کی دوا پوچھتے ہیں اس لیے کہ وہ یقینا اپنے دل سے جان رہے ہیں کہ ہم اسی طور پر اپنے فرض سے ادا ہوں گے اب ان سے پوچھیے یہ تقلید سے تھایا اجتہاد سےعنقریب تمہیں وہ خبریں لا کر دے گا جسے تم نے توشہ نہ بندھوادیا تھا یا آپ خود ہی
", سنن ابی داود کتاب الطہارۃ باب المجدور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۴۹،سنن دار قطنی کتاب الطہارۃ باب جواز التیمم لصاحب الجراح حدیث ۷۱۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۳۵،مشکوۃ المصابیح باب التیمم الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۵۵
17135,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,618,عن قولک لی ارغب الیک ان تعلمنی وانا عائذ باﷲ ان یکون سؤلک سؤل متعنت عنید بل سؤل طالب للحق مستفید فباجتہاد اتیتنی ام بتقلیدفان الا مر دین والعبث فیہ من صنیع المفسدین فلیس عن اعتقاد حکم محیدولا اعتقاد الا عن منشأ سدید وقد انحصرفی الاجتہاد و التقلید ثم اذلم تہتد وانت تخدم الطلبۃ مذثلثین عاما لدلیل یدلک علی استحباب التقلید فضلا عن وجوبہ فضلا عن افتراضہ قطعا وابراما فسواء علیک ان یکون عندک حکم فی القضیۃ من تحریم اوکراھۃ او اباحۃ شرعیۃ اوانت شاک فیما ھناک اوشاک و شاک فی انک شاک ایا ماکان فلا محیدلک من تجویزجواز ترک التقلید وتلقی الاحکام من الکتاب المجید لکل عامی جھول بلید لایعرف الغث من السمین ولا الشمال من الیمین ولا الظلمات ولا النور و لا الظل و لا الحرور اذلولاہ لما اعتراک شک شائک فی وجوب التقلید علی اولئک فضلا عن الاستحباب اپنے اس حال بولیے جو آپ نے مجھے لکھا کہ میں آپ کی طرف آرزو لاتا ہوں کہ مجھے تعلیم فرمائیے اور میں اﷲ عزوجل کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ آپ کا سوال کسی باطل کوش سرکش کا سوال ہو بلکہ حق طلب فائدہ خواہ کا سوال ہے تو اب آپ میرے پاس اجتہاد سے آئے یا تقلید سے کہ یہ معاملہ دین کا ہے اور دین میں لہو مفسدوں کا کام ہے تو کسی نہ کسی حکم کے اعتقاد سے چارہ نہیں اور اعتقاد حاصل نہ ہوگا مگر منشاء درست سے اور اجتہاد و تقلید میں منحصر ہوچکا پھر جب کہ آپ نے اس تیس برس کی خدمت طلبہ میں دلیل استحباب تقلید کی طرف ہدایت نہ پائی چہ جائے فرضیت قطعیہ یقینیہتو اب آپ پر یکساں ہے خواہ آپ کو تقلید کا کوئی حکم معلوم ہو کہ وہ شرعا حرام یا مکروہ یا مباح ہے یا آپ کو شک ہو یا حکم میں شک ہو اوراس میں بھی شک ہو کہ آپ کو شک ہے بہرحال اس سے مفر نہیں کہ آپ تقلید چھوڑنا اور قرآن مجید سے احکام نکالنا ہر ایسے عامی جاہل احمق کے لیے جائز جانیں جسے نہ لاغرو فربہ میں تمیز ہونہ دہنے بائیں میںنہ اندھیری پہچانے نہ روشنی نہ سایہ نہ دھوپ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان لوگوں پر تقلید خود واجب ہونے میں کوئی خلش ڈالتا ہوا شک آپ کو پیش آتا نہ کہ استحباب نہ کہ تقلید سے بچنے کا ایجاب نہ کہ وجوب تقلید کی کسی خاص ضد پر جھوٹا یقین,
17136,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,619,فضلا عن الزام الاجتناب فضلا عن التیقن الکذاب بخصوص نوع من اضداد الایجاب ولا وربک لن یستقیم لک ذلک الا باحد مسلکین من اشنع المسالک موقعین السالک فی اسؤ المہالک زعم ان الناس عن اخرھم من اھل الاجتہاد فی جل مایحتاجون الیہ فلہم یدان باستنباط الا حکام وابتداع سبیل اخر الی تعرفہا غیر التقلید والاجتہاد فیعلمون من دون علم ولا استعلام وانا اعیذک برب المشرقین ان تقول بشیئ من ھذین الشططین وان وجدت احدا من رعاع الجاھلین یتفوہ بمثل الباطل المبین فاﷲ اﷲ خذبیدہ والی اسبتعلاج الدماغ ارشدہ واھدہ فقدا خذہ جنون والجنون فنون و الدین نصح والنصح یثیب والطیب اللبیب الحاذق الاریب الاجمل منک قریب دع عنک العوام نبئنی عن نفسک فی تلک الاعوام کیف عبدت اﷲ وعاملتا لعبید اباجتہادام بتقلید و علی کل فالا نسان علی نفسہ بصیرۃ ولوالقی معاذیرہ ھل انت من شروط الاجتہاد ملی قادر علیہ ام عاجز خلیعلی الاخرما انت اویش انت حتی لایجب علیک التقلیدایسوغ الاجتہاد اور تمہارے رب کی قسم یہ تمہیں راست نہ آئے گا مگر دورا ہوں میں ایک سے جو سخت بری راہوں سے ہیں اور اپنے چلنے والے کو نہایت بدمہلکے میں ڈالنے والی ہیں یا تو گمان اس کا کہ تمام لوگ ہر مسئلے میں جس کی انہیں حاجت ہو اہل اجتہاد سے ہیں انہیں احکام نکالنے پر دسترس ہے یا یہ کہ تقلید و اجتہاد کے سوا ان تمام احکام پہچاننے کا اور کوئی طریقہ گھڑئیے کہ یہ جہال بے علم بے سیکھے احکام جان لیں اور میں آ پ کو پروردگار مشرقین کی پناہ میں دیتا ہوں کہ آپ ان دونوں ظالموں میں سے کسی کے قائل ہوں اور اگر کسی کمینے جاہل کو پائیں کہ ایسا صریح باطل بکتا ہے تو للہ خدا کو مان کر اس کا ہاتھ پکڑیئے اور علاج دماغ کی طرف اسے ہدایت کیجئے کہ اسے جنون نے آلیا اور جنون طرح طرح کا ہوتا ہے اور دین خیر خواہی ہے اور خیر خواہی پر ثواب ملتاہے اور طبیب حاذق عاقل زیرک اجمل اکمل آپ کے پاس موجود ہیں عوامی سے در گزر یے خود اپنے حال سے خبر دیجئے آپ نے ان برسوں میں اﷲ کو کیونکر پوجا اور بندوں سے کس طرح معاملہ کیا آیا اجتہاد سے یا تقلید سےاور بہر تقدیر آدمی کو اپنے حال پر خوب نگاہ ہے اگرچہ حلیے کتنے ہی بنائےآپ شروط اجتہاد سے پر ہیںاجتہاد پر قادر ہیں یا عاجز و خالی ہیںبرتقدیر اخیر آپ کیا اور آپ کی حقیقت کتنی کہ آپ پر تقلید واجب نہ ہو کیا ایسے کے لیے اجتہاد جائز ہوگا جو ,
17137,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,620,لعاربلید عائر بائر ذی عی شدید ھل ھوالاعی بعید ام لتعرف الاحکام سبیل جدید وھاانت حاصرہ فی اجتہاد و تقلیدوعلی الاول ھل یسوغ لک الاجتہاد فی جمیع غصون الشرع ام فی بعص دون بعض من فنون الاصل والفرععلی الاخیر ما انت فیہ مجتہدفعین وما لا فسبیلک فیہ فبینوعلی الاول بل ھوالمتعین وعلیہ المعول اذلولم یحل لک الاجتہاد فی جمیع المواد لوجب التقلید فی بعض الفنون وبالخلومن اھتدائہ لم تخل سنونفیا قریب مالک ورقیب ابن ادریس ھات ھنیہاتک وافتح الکیس فات بعشرصور مفتریت من مسائل فقہ اجتہادیات تکون انت اباعذرھا لاتستند باحد فی بناء جدرھا لا فی بطن ولا فی ظھرلا فی وردو لا فی صدرو لا فی جرح ولا تعدیل ولا تفریع ولا تاصیل فیظھر الحق ویزول الغرور ولایغرنک باﷲ تعالی الغروروکانی بک مسترشد مما وعیت ان القیت السمع وانت شہید ان کلامی کان فی نفس التقلید من حیث ھؤلا اثر فیہ للتقید فلا معنی عاری بے عقل متزلزل ہالک سخت عاجز ہو تو یہ دور کی گمراہی ہے یا احکام پہچاننے کے لیے کوئی نئی راہ اور ہے اور یہ ہیں آپ کہ خود اجتہاد و تقلید میں اس کا حصر کرچکے ہیں۔برتقدیر اول کیا آپ کو علوم شرعیہ کے تمام اصول و فروع کی شاخوں میں اجتہاد پہنچتا ہے۔یا کسی میں پہنچتا ہے کسی میں نہیں۔برتقدیر اخیر جس میں آپ مجتہد ہیںاس کی تعیین کیجئے اور جس میں مجتہد نہیں اس میں اپنی راہ بتائے۔اور برتقدیر اول بلکہ وہی خوامخواہ ماننی ہے اس لیے کہ اگر تمام مواد میں آپ کے لیے اجتہاد حلال نہ ہوتا تو بعض فنون میں ضرور تقلید واجب ہوتی اور یہ برس کے برس اس کی طرف ہدایت پانے سے خالی نہ جاتے تو اب امام مالک کے قریب امام شافعی کے رقیب اپنی پونجیاں دکھائیے اور تھیلی کھولئے فقہی مسائل اجتہادی کی دس گھڑی ہوئی صورتیں لائیے جن کا حکم خاص آپ نے استنباط کیا ہو جس کی بنا کے ظاہر و باطن و اول و آخر وجرح و تعدیل و تفریع و تاصیل کسی بات میں آپ دوسرےکی سند نہ پکڑیں ابھی ابھی حق ظاہر ہوا جاتا اور دھوکا زوال پاتا ہے اور دیکھو تمہیں اللہ کے معاملے میں فریب نہ دے وہ فریبی اور مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ میرا بیان آپ نے حضور قلب سے کان لگا کر سنا تو راہ پالیے ہوں گے میرا کلام نفس تقلید کی محض ذات میں تھا اس میں کوئی اثر کسی قید کا نہ تھا تو خاص کسی ,
17138,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,621,للسوال عن خصوص نوع وتعیینہ و مابان محملا وماکان مجملا فما الا قتراح لتبیینہ اما ان المکلف ھل یتخیرام یخیر فبحث اخر والکلام فیہ فاش مشتہر ولہما ثالث فی الالتزام والکل خارج عن ھذا المرام فایاک ثم ایاک ان تخلط الکلام وتخرج المقال عن النظام وعلیک بالانصاف خیر الاوصاف فان رایت ماالتمستہ انت ولم یاتک بدء انہ ھو الطریق القویم فذاک المامول من طبعک السلیم و ودک القدیم ولا فانی اعوذ بربی وربک ان تکابر تحقیقا اوتدابر صدیقا وان ابیت فما ان بات ما اتیت ولعلک تجدمن یجازی بمثل ولا یمل مکابرۃ ولا یخشی مدابرۃ واﷲ الہادی ولہ الحمد فی الاولی و الاخرۃ وصلی اللہ تعالی علی سیدنا ومولانا الامان الامین فاتح الخلق وخاتم النبیین محمد شارع الاجتہاد للماھرین وامر التقلید للقاصرین وعلی الہ الطاھرین وصحبہ نوع کی تعیین سے سوال کےکوئی معنی نہیں اور جس کلام کا مطلب صاف تھا کوئی اجمال نہ تھا اس کی شرح چاہنا کیا۔رہا یہ کہ مکلف بہتر کو چھانٹے یا مختار ہےیہ دوسری بحث ہے اور اس میں کلام مشہور و معروف ہے اور ان دو کے لیے مسئلہ التزام میں تیسرا اور ہے اور سب اس مطلب سے باہر ہیں تو دیکھو خبردار کلام کو خلط نہ کرنا اور بات کو اس کے سلسلے سے باہر نہ لے جانا اور آپ پر انصاف لازم ہے کہ وہ بہترین اوصاف ہے۔پس اگر آپ دیکھیں کہ یہ جواب جو آپ کی خواہش پر آیا اور اس نے خود پہل نہ کی یہی سیدھا راستہ ہے جب تو آپ کی طبع سلیم و دوستی قدیم سے اس کی امید ہے ورنہ میں اپنے اور آپ کے رب کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ تحقیق کے ساتھ مکابرہ کریں یا دوست سے قطع دوستیاور اگر نہ مانتے تو میں ایسا نہ کروں گا اور کیا عجب کہ آپ کو کوئی ایسا مل جائے جو آپ ہی جیسا برتاؤ کرےنہ مکابرے سے تھکے نہ قطع محبت سے ڈرےاور اللہ ہادی ہے اور دونوں جہان میں اسی کے لیے حمد ہےاور اللہ کی درودیں ہمارے سردار و مولی و پناہ و امینآغاز خلقت و انجام رسالت محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر جنہوں نے ماہروں کے واسطے اجتہاد مشروع کیا اور کوتاہ دستوں کو ان کی تقلید کا حکم دیااور ان کی پاکیزہ آل اور غلبہ والے ,
17139,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,622,"الظاھرین و مجتہدی ملتہ والمقلدین لھم باحسان الی یوم الدین وبارک وسلم ابدالابدین امین امین والحمدﷲ رب العلمین۔ اصحاب اور مجتہدین ملت اور خوبی کے ساتھ قیامت تک ان کے مقلدین پر اور اللہ کی برکتیں اور ا س کا سلام ہمیشگی والوں کی ہمیشگی تک آمین آمین ! اور ساری خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا مالک ہے۔ت)
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لعشربقین من جمادی الاخرۃ ۱۳۱۹ھ
خط دوم عرب صاحب بقبول ہدایت اولی و استفادہ مسئلہ اخری
بخدمۃ عــــــہ۱ حضرۃ العالم الفاضل جناب مولوی عــــــہ۲ احمد رضا خاں صاحب قادری عــــــہ۳ سلمہ
اما بعد حمد اﷲ العظیم والصلوۃ والسلام علی نبیہ الکریم فاقول بعد السلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ ان کتابک المنبی عماعندک فی التقلید و فرضیتہ القطعیۃ قدوصل وبہ السرور قد حصل لازلت موفقا ومھدیا و لکن قد بقیت مسئلۃ اخری ھی قرینۃ لمسئلۃ التقلیدوھی مسئلۃ القول بان لاولیاء اﷲ رضی اللہ عنہم اﷲ کی حمد اور اس کے نبی کریم پر درود و سلام کے بعد میں السلام علیک ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کے بعد کہتا ہوں کہ آپ کا نامہ تقلید اور اس کی فرضیت قطعیہ میں آپ کے اعتقاد سے خبر دینے والا آیا اور خاص اسی کے سبب بے شک سرور حاصل ہوا آپ ہمیشہ توفیق پائیں اور ہدایت کے ساتھ رہیںلیکن ایک مسئلہ اور باقی رہ گیا ہے وہ اسی مسئلہ تقلید کے متصل مذکور ہے اور وہ مسئلہ اس کہنے کا ہے کہ اولیاء اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم
عــــــہ ۱:ھکذا بخطہ ۱۲۔ عــــــہ۲ ھکذا بخطہ ۱۲ عــــــہ۳:ھکذا بخطہ ۱۲
",
17140,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,623,"تصرف عــــــہ فی العالم بمعنی ان الکاملین من البشر قد فوض الیھم انتظام جزء من العالم ومنھم من فوض الیہ العالم کلہ فمنھم من ھو مثل الوزیر و منھم من ھو مثل العمال ومنھم من ھو مثل الاعوان ولا اقول ان التصرف لیس لہ الاھذا المعنی بل انا لا استبشع الا ھذاالمعنی فان کان علی التصرف بھذا المعنی دلیل من الشرع فافدنی بہ وان کان للتصرف معنی غیر بشع فعلمنیہ۔والسلام محمد طیب۔ویا سیدی انی لما تأملت جوابک عن مسئلۃ وجوب التقلید وجدتک تقول ان کلامک فی التقلید المطلق لا فی المقید افترید ان التقلید الخاص لشخص معین غیر واجب فان کان ھذامراد ک فعرفنا بہ والا فبین لنا مطلبک ولیس مراد نا من مخاطبتک الا لاطلاع علی ما عندک ونسئلک المساحۃ فی التکلیف ۔ کے لیے عالم میں تصرف حاصل ہے اس معنی پر کہ کامل آدمیوں کو ایک حصہ عالم کا انتظام سپرد ہوا ہے اور بعض کو تمام جہان سپرد ہے تو ان میں کوئی وزیر کی مانند ہے اور ان میں کوئی کارکنوں کی طرح اور ان میں کوئی سپاہی کی مثل ہے اور میں نہیں کہتا کہ تصرف کے لیے بس یہی معنی ہیں بلکہ میں ناخوش نہیں سمجھتا مگر اسی معنی تصرف پر شرع سے کوئی دلیل ہو تو مجھے افادہ فرمایئے اور اگر تصرف کے کوئی اور معنی ہوں کہ ناخوش نہ ہوں تو مجھے تعلیم کیجئے۔والسلام محمد طیب۔
اور اے میرے آقا! جب میں نے مسئلہ وجوب تقلید میں آپ کے جواب کو غور کیا تو آپ کا یہ بیان پایا کہ آپ کا کلام مطلق تقلید میں ہے نہ مقید میںتو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص معین کی خاص تقلید واجب نہیں۔پس اگر آپ کی یہ مراد ہے تو ہمیں اس کی معرفت دیجئے ورنہ ہم سے اپنا مطلب بیان کیجئے اور آپ کے مخاطبے سے ہماری اسی قدر مراد ہے کہ جو کچھ آپ کے نزدیک حکم ہے وہ ہمیں معلوم ہوجائے اور ہم اس تکلیف دہی میں آپ سے معافی مانگتے ہیں فقط۔
مترجم غفراﷲ لہ گزارش کرتا ہے کہ عرب صاحب کا یہ دوسرا خط ایک مدت کے بعد ماہ رجب میں آیاحضرت عالم اہلسنت دام ظلہم اندر تشریف فرماتھے۔دروازے پر ایک سید صاحب تشریف رکھتے تھےعرب صاحب کافر ستادہ کوئی لڑکا انہیں خط دے کر روانہ ہوا۔جب خط ملاحظہ عالیہ
عــــــہ:ھکذا بخطہ ۱۲۔
",
17141,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,624," حضرت مکتوب الیہ میں حاضر ہوا اگرچہ مدت سے دورہ درد کمر شروع ہوگیا اور بخار بھی تھا مگر فورا جواب دینا چاہاخط لانے والے کے لیے ارشاد ہوا ذرا ٹھہریں۔معلوم ہوا کہ وہ تو اسی وقت چلتا ہوا اور وہ سید صاحب اسے پہچانتے بھی نہیں کہ کون تھا کہاں گیا۔حکیم مولوی خلیل اﷲ خاں صاحب بریلوی رامپور سے وطن واپس تشریف لانے والے تھے ان کا انتظار کرکے دوسرے مفاوضہ عالیہ ان کے ہاتھ مرسل ہوا۔
مفاوضہ دوم حضرت عالم اہلسنت مدظلہ بجواب خط دوم
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
سمع سامع حسن بلاء اﷲ فینافلوجھہ الکریم الحمد حمدایکفیناومن کل داء باذنہ یشفیناومن کل عاھۃ بمنہ یقیناویزیدنا بفضلہ ھدی ویقینا والصلوۃ والسلام علی والیناوسیدنا وھادینا وشافعنا وشافینا الارأف بنا من امھاتنا وابینا خلیفۃ اﷲ الاعظم فی العالمیناالمولی علینا وعلی ماخلفنا وما بین ایدینا وعلی الہ وصحبہ الفائزین فوزا مبینا واولیائہ المتصرفین فی العالم باذنہ تمکیناو علینا بھم ولھم اجمعیناویرحم اﷲ من قال امینااما بعد فجاء الکتاب و سربہ قلوب الاحباب لما فیہ افصاح جوکان رکھتا ہو ہم پر اللہ تعالی کی خوبی نعمت سنے اسے کی وجہ کریم کے لیے وہ حمد ہے جو ہمیں بس ہو اور باذن الہی ہمیں ہر مرض سے شفا بخشنے اور باحسان ربانی ہمیں ہر آفت سے بچائے اور بفضل خداوندی ہمیں ہدایت ویقین زیادہ فرمائے اورصلوۃ و سلام ہمارے والی ہمارے مولی ہمارے ہادی ہمارے شافع ہمارے شافی پر جو ہم پر ہمارے ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں تمام جہان میں سب سے بڑے نائب خدا ہیں ہم پر اور تمام آئندہ مخلوق اور گزشتہ خلقت سب پر والی و حاکم ہیں اور انکے آل و اصحاب پر کہ روشن کامیابی سے کامیاب ہیں اور ان کے اولیاء پر کہ ان کے حکم سے قابو پا کر عالم میں تصرف کرتے ہیں اوران سب کے صدقے میں ان کی برکت سے ہم پراور اﷲ کی مہر آمین کہنے پربعد حمد و صلوۃ واضح ہو خط آیا اور دل دوستاں نے سرورپایا کہ اس سے قبول حق صاف پیدا تھا اور
",
17142,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,625,بقبول الصواب واقتراح فی مسئلۃ اخری لکشف الحجاب وھکذادیدن اولی الالباب یردون ناھلین مناھل العباب لیرتووا ویرووا من یروہ فی تباب فاردت وحق لی من فوری الجواب وان کان للحمی بحمای اقتراب و جع فی الخاصرۃ قدطال وطاب کفارۃ للذنوب ان شاء الوہاب والی الان منہ بقیۃ للذھاب فانبئت ان الاتی بالکتاب اب وغاب و لم ادرمن ھو والی این ثاب حتی جاء اخی وانسی وسرور نفسی الحکیم المولوی خلیل اﷲ خان حفظہ اﷲ الی یوم الحساب فاجبت ان ارسل علی یدیہ الجواب لان مثل الکتاب لااحب ان یکون الاباصطحاب وبرنا نستعین فی کل بابنعم قد قلت واقول ان مقولی الذی کان عنہ السؤال انما کان فی التقلیدمن دون تقییدلکن یا اخی ھل یشعرالحکم علی مرسل بنفیہ عن شیئ فی حوزہ دخل فمع قطع النظر عن ان سوالک ھذا المجددعسی ان لایری لہ منشؤ مسدد ان اشعر اشعر بنفی الفرضیۃ ایۃ فرضیۃ للقطع مرضیۃ فماذا الوثوب الی الوجوب وھا انت ایک اور مسئلے سے پردہ کشائی کی درخواست تھی اور خرد مندوں کا یہی دستور ہے کہ پیاسے ہوں تو دریائے عظیم کے گھاٹ پر آتے ہیں کہ آپ سیراب ہوں اور جسے ہلاک ہوتا دیکھیں اسے سیراب کریںمیں نے چاہا اور خود یہی مجھے سزاوار تھا کہ فورا جواب دوں اگرچہ تپ کر میرے بدن سے قریب تھا اور کمر میں درد کہ مدتوں رہا اور اچھا ہوا اﷲ چاہے تو گناہوں کا کفارہ تھا اور ابھی اس کا بقیہ جانے کو باقی ہے اتنے میں مجھے خبر ملی کہ آرندہ پلٹ گیا اور غائب ہوا اور مجھے نہ معلوم ہوا کہ وہ کون تھا اور کہاں واپس گیا یہاں تک کہ میرے برادر مونس و سرور قلب حکیم مولوی خلیل اﷲ خاں کہ اﷲ تعالی قیامت تک ان کا نگہبان ہوآئے تو میں نے ان کی معرفت جواب بھیجنا چاہا کہ ایسے خطوط میں مجھے یہی پسند ہے کہ کسی کے ساتھ ہی مرسل ہوں اور ہم معاملے میں اپنے رب کی مدد چاہتے ہیں ہاں بے شک میں نے کہا اور اب کہتا ہوں کہ میرا وہ کلام جس سے سوال ہوا بے کسی تخصیص کے محض تقلید میں تھا مگر برادرم! کیا کسی مطلق پر حکم ایسی کسی شے سے نفی بتاتا ہے جو اس کے احاطہ میں داخل ہے تو قطع نظر اس سے کہ آپ کے اس سوال تازہ کا شاید کوئی صحیح منشا نظر ہی نہ آئے وہ کلام اگر بالفرض مشعر ہوگا تو خاص سے نفی فرضیت کاکیسی فرضیت جو یقین کے لیے پسندیدہ ہے تو یہ وجوب کی طرف کود جانا کیسا اور ہاں یہ ہیں آپ سلیم طبیعت والے ,
17143,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,626,ذاذوقریحۃ سلیمۃ قدابان ابن اخت خالتک الکریمۃ ان البون بین الواجب والفرض کمثلہ بین السما والارض بل قد اظھر ان الفرض علمی وعملی وان الکلام ھھنا فی العلمی فمالی اراہ یعف وینکر ویخیرویذھل عمایخبر وان اولتہ بالافتراض القطعی فلم یقل بہ احد فی الخصوص النوعی نعم اذا اتضح لک الحق فی مبحث قدسبق فاعلن بافتراض التقلید المطلق فمثلک بالاعتراف للحق احق ثم ان اردت ان تصدر بالحق عماوردت فاجبنی اولا عما سألتک وطریت الجواب ان کیف عملک وعلمک بمحلک ومجالک فی ھذاالباب الی غیر ذلک مما فصلتہ فی اول کتاب ثم اذا انت من اخوانہ العلم وقد قلت اخدمہ مذثلثین سنۃ فلایظن بک ان تلا تعمل اوتعمل وانت عن حکم سبیلہ فی غفلۃ وسنۃ وقد علمت ان ابناء الزمان فی ذاالمنھج لیسوا علی شان بل ھم بین مکفرومحرم ومجوز وملزم و مخیر ومتخیر ومطلق و خود آپ کی خالہ کریمہ کا بھانجا ظاہر چکا کہ واجب وفرض میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ یہ روشن کرچکا کہ فرض دو قسم ہےعلمی و عملیاور یہاں گفتگو علمی میں ہےتو اب کیا وجہ ہے کہ میں اسے پاتا ہوں کہ پہچان کر شنا سا ہوتا ہے اور خود خبر دے کر بھولا جاتا ہے اور اگر آپ اسے فرضیت قطعیہ سے تاویل کریں تو خاص نوع میں اس کا کوئی قائل نہیںہاں جب کہ گزشتہ بحث میں آپ پر حق واضح ہوگیا ہے تو تقلید مطلق کی فرضیت کا اعلان دیجئے کہ آپ جیسے کو حق کا اقرار زیادہ سزاوار ہے پھر اگر آپ چاہیں کہ جہاں آئے وہاں سے حق کے ساتھ پلٹئے تو اولا ان امور کا جواب دیجئے جو میں نے سوال کیے اور آپ نے جواب نہ دئیے اور آپ کا عمل کیونکر رہا اور آپ اس میں اپنا مرتبہ وا قتدار کہاں تک جانتے ہیں اور ا سکے سوا اور سوالات جو نامہ اول میں میں نے بہ تفصیل لکھے پھر جب کہ آپ برادران علم سے ہیں اور خود اپنے منہ سے تیس سال سے اس کے خادم رہے ہیں تو یہ تو آپ پر گمان نہ ہوگا کہ آپ عمل ہی نہیں کرتے یا عمل کرتے ہیں تو اس طرح کہ اس کی راہ کے حکم سے غفلت و خواب میں ہیںاور آپ کو خوب معلوم ہے کہ ابنائے زمان اس مسلک میں ایک حال پر نہیں بلکہ کوئی کفر کہتا ہے کوئی حرامکوئی جائزکوئی واجبکوئی تخییر کی راہ چلتا ہے کوئی تخیر کی۔کوئی مطلق ,
17144,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,627,حاصر فی الاربعۃ الاکابر وقائل بالتلفیق ومائل فیہ الی التفسیق ومبیع فی اعمال لا فی عمل و مرخص و ناہ بعد العمل فھذہ عدۃ مواضع ولہم فی کلہا مشارع ومنازع ومن طلب الحق و جانب المراء فلیس الکلام معھم علی حد سواء فعین لی ثانیا فی جمیعہا ماانت سابلکہ لتخاطب علی منسک انت ناسکہ ثم ائت اخاک سائلا مستفیدا لاصائلا عنیدا اولن فی یدہ وانقدبقودہ فمنھما سألک عن شیئ فاجب و ایمنا ساربک فاقصدواقترب فبعون الہہہ لیسلکن بک صراط سوی ویستدرجک حتی یوقفک علی منزل الھدی ولربما لایعرف بدء بعض مقاصدہ ثم یحمد اخراحسن مواردہ فمن طلب الحق فہذا السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل اما سؤلک عن تصرف الاولیاء فی العالم واعترافاک انک لا تستشبع من معانیہ الا ما تعلم فان کان مرادک بتفویض امر مایوجب معاذ اﷲ کہتا ہےکوئی چاراکابر میں محصور کرتا ہےکوئی تلفیق مانتا ہےکوئی اسے فسق بتانے کی طرف جھکتا ہےکوئی کہتا ہے مختلف اعمال میں جائز ہے نہ ایک میںکوئی عمل کے بعد رخصت دیتا کوئی منع کرتا ہے۔تو یہ متعدد مواضع میں اور لوگوں کے لیے ان سب میں مختلف راہیں مختلف ماخذ ہیں اور جو حق کا طالب اور جدال سے مجتنب ہوتوظاہر ہے کہ ان سب کے ساتھ گفتگو ایک روش پر نہیں تو ثانیا ان تمام مواضع میں اپنا مسلک معین کیجئے کہ آپ سے اسی روش پر کلام ہو۔اس کے بعد اپنے بھائی کے اس طلب فائدہ کے لیے آئیے نہ حملہ آور ہٹ دھرم بن کر اور اس کے ہاتھ میں نرم ہوجائیے جو کچھ پوچھئے بتائیےجہاں لے چلے قصد کیجئے اور قریب ہوجائیے تو قسم ہے کہ وہ اپنے رب کی مدد سے آپ کو سیدھی راہ لے جائے گا اور آپ کو آہستہ آہستہ چلائے گا یہاں تک کہ منزل ہدایت پر کھڑا کردے گا اور بے شک بارہا ابتداء میں اس کے بعض مقصد پہچان میں نہ آئیں گے پھر انجام کار اس کی خوبی مورد کی حمد ہوگی تو جو طالب حق ہو تو راہ یہ ہے اور اﷲ ہمیں کافی ہے اور اچھا کام بنانے والارہا عالم میں تصرف اولیاء سے آپ کاسوال اور آپ کا اقرار کہ اس کے معانی سے آپ وہی ناخوش سمجھتے ہیں جو آپ کے علم میں ہے اگر سپرد کردینے سے آپ کی وہ مراد ہو جو معاذ اﷲ ,
17145,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,628,تعطیل ذی الامرکملک فی الدنیا ولی ازمۃ امر الی بعض الامراء فتنفذ احکامہ فیہ غنیۃ عن احکام الملک فی خصوص ماجری بل من دون عملہ بما حدث واعتری وکذلک بالعون والوزیر من ھو للملک معین ونصیر یتحمل عنہ بعض ماعلیہ من الاوزار والاثقال ویفیدہ عونا فیما یہمہ من الاعمال و الاشغال فھذا لا شک بشع شنیع لامحص بشع بل کفر فظیع وحاش ﷲ ان یتوھمہ احد من المسلمین بل کافرایضا اذا کان من الموحدین فاستبشاعک اذن انما یرجع الی معنی باطل اخترعہ تو ہم عاطل مالہ فی المسلمین عین ولا اثرو من ساء بھم ظنا فقد کذب وفجروان کان معناک واجیرک باﷲ ان یکون مرماک ان البشع ان یکون المولی سبحنہ وتعالی شرف جمعا من عبادہ المکرمین بان اذن لہم فی التصرف فی العلمین من دون ان یجری فی مبلکہ الا مایشاء اویکون لغیرہ ذرۃ من ملک فی ارض وسماء اویتوھم ھناک مالک امر کو معطل کردینے کی موجب ہو جیسے دنیا کا کوئی بادشاہ کسی کام کی باگیں ایک امیر کو سپرد کرے تو اس میں اس امیر کے احکام نافذ رہیں گے اور خاص خاص وقائع میں احکام شاہی کے محتاج نہ ہوں گے بلکہ جو واقعہ نیا پیدا ہوا اور جو پیش آیا بادشاہ کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی اور ایسے ہی سپاہی و وزیر سے وہ مراد ہو جو بادشاہ کی اعانت و یاروی کرے اس پر سے بعض بوجھ اور بار اٹھالے بعض کا رد شغل میں جن کی بادشاہ کو فکر تھی اسے مدد دے کر فائدہ پہنچائے تو بے شک ناخوش و قبیح ہےنہ صرف ناخوش بلکہ سخت ہولناک کفر ہے اور خدا کی پناہ کہ اس کا وہم گزرے مسلمان بلکہ کسی کافر کو بھی جب کہ خدا کو ایک جانتا ہواس تقدیر پر آپ کا ناخوش جاننا ایک ایسے معنی باطل کی طرف راجع ہے جسے بے اصل وہم نے گھڑلیا مسلمانوں میں نہ اس کا وجود نہ نشاناور جو مسلمانوں پر بد گمانی کرے وہ جھوٹا اور بدکار ہے اور اگر آپ کی مراد یہ ہو(اور میں آپ کو خدا کی پناہ میں دیتا ہوں کہ یہ آپ کی مراد ہو)کہ ناخوش یہ ہے کہ اﷲ عزوجل اپنے گرامی بندوں سے ایک گروہ کو شرف بخشے انہیں عالم میں تصرف کااذن دے بغیر اس کے کہ اس کے ملک میں بے اس کے چاہے کچھ ہوسکے یا اس کے غیر کے لیے زمین یا آسمان میں کوئی ذرہ بھر ملک ہو یا یہاں کسی قدر معطل ہونے یا بوجھ اٹھانے ,
17146,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,629,"شیئ من تعطیل اوتحمل وزراء وتخفیف ثقیل کما اذن سبحنہ لجبریل ومیکائیل وعزرائیل وغیر ھم من مقربی حضرۃ الجلیل علیھم الصلوۃ والسلام بالتبجیل فی تدبیرالقطر والمطر والزرع والنبات والریاح والجنود والحیواۃ والممات وتصویر الاجنۃ فی بطون الامھات وتیسرالرزق وقضاء الحاجات الی غیر ذلک من حوادث الکائنات وھم فیما بینھم علی منازل شتی کما انزلھم ربھم حتما وبتا سلاطین و وزراء واعوان وامراء فھذا مایقولہ المسلم والامراء ھذا کلام اﷲ قولا فصلا وحکما عدلاقائلا ""فالمدبرت امرا ﴿۵﴾"" توفتہ رسلنا""قل یتوفىکم ملک الموت الذی وکل بکم""۔ ""و ہو القاہر فوق عبادہ و یرسل علیکم حفظۃ "" ۔ ""لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ "" ۔ اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا""۔ بار بار ہلکا کرنے کا وہم گزرے جیسے اس پاک بے نیاز نے جبریل و میکائیل و عزرائیل وغیرہم مقربان بارگاہ عزت علیہم الصلوۃ والتحیۃ کو بوندوں اور بارش اور روئیدگی اور ہواؤں اور لشکروں اور زندگی اور موت کی تدبیر اور ماؤں کے پیٹ میں بچوں کی تصویر اور خلق کے لیے روزی آسان اور حاجتیں روا کرنے اور ان کے سوا اور حوادث کائنات کا اذن دیا ہے اور وہ قطعا یقینا اپنے آپس میں مختلف مرتبوں پر ہیں جسے اس کے رب نے جو مرتبہ بخشا ہے بادشاہ ووزیر و سپاہی و امیرتو یہ بات بے شک مسلمانوں کے کہنے کی ہے اور یہ ہے اللہ کا کلام فیصلہ کرنے والاارشاد اور عدالت و الا حاکم فرمارہا ہےقسم ان کی جو کاموں کی تدبیرکرتے ہیںاسے ہمارے رسولوں نے وفات دیتو فرما تمہیں ملک الموت وفات دیتا ہے جو تم پر مقرر فرمایا گیا ہے۔اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبانآدمی کے لیے بدلی والے ہیں اس کے آگے اور پیچھے کہ اس کی حفاظت کرتے ہیں خدا کے حکم سے جب وحی بھیجتا ہے تیرا رب فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم ثابت قدمی بخشو ایمان والوں کو۔ "," القرآن الکریم ۷۹/ ۵
القرآن الکریم ۳۲/ ۱۱
القرآن الکریم ۶/ ۶۱
القرآن لکریم ۱۳/ ۱۱
القرآن الکریم ۸/ ۱۲
"
17147,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,630,"""انہ لقول رسول کریم ﴿۱۹﴾ ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ﴿۲۰﴾ مطاع ثم امین ﴿۲۱﴾"" ۔"" انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾"" "" انی جاعل فی الارض خلیفۃ ""
""یداود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض"" ""انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی و الاشراق ﴿۱۸﴾ والطیر محشورۃ کل لہ اواب ﴿۱۹﴾"" ""
فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب ﴿۳۶﴾"" ""والشیطین کل بناء و غواص ﴿۳۷﴾""
""واخرین مقرنین فی الاصفاد ﴿۳۸﴾"" ""ہذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیر حساب ﴿۳۹﴾"" ""
وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ"" "" و لکن اللہ یسلط رسلہ علی من
یشاء "" بے شك وہ ایك عزت والے زبردست رسول کی بات ہے کہ مالك عرش کے حضور جس کی عزت ہے وہاں اس کا حکم چلتا ہے امانت والا ہے۔میں تو یہی تیرے رب کا رسول ہوں اور میں تجھے ستھرا بیٹا عطا کردوںبے شك میں زمین پر نائب بنانے والاہوں۔ اے داؤد! بے شك ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا۔بے شك ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو قابو کردیا پاکی بولتے ہیں پچھلے دن اور سورج چمکتے اور پرندوں کو مسخر کردیا گروہ کے گروہ جمع کیے ہوئےسب اس کی طرف رجوع لاتے ہیںتو ہم نے سلیمان کے قابو میں ہوا کو کردیا کہ سلیمان کے حکم سے نرم نرم چلتی ہے جہاں وہ چاہے اور دیو مسخر کردیئےاور ہر راج اور غوطہ خوراور بندھنوں میں جکڑے ہوئےیہ ہماری دین ہے تو چاہے دے چاہے روك رکھ بیحساب میں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو اچھا کرتا ہوں اور میں مردے جلادیتا ہوںخدا کے حکم سےلیکن اﷲ اپنے رسولوں کو قابو دیتا ہے۔
"," القران الکریم ۸۱/ ۱۹،۲۰،۲۱
القران الکریم ۱۹/۱۹
القران الکریم ۲/ ۳۰
القران الکریم ۳۸/ ۲۶
القران الکریم ۳۸/ ۱۸۔۱۹
القران الکریم ۳۸/ ۳۶
القران الکریم ۳۸/ ۳۷
القران الکریم ۳۸/ ۳۸
القران الکریم ۳۸/ ۳۹
القران الکریم ۳۸/ ۳۹
القران الکریم ۵۹/ ۶
"
17148,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,631,""" اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ "" حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ """" یایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم """" ولو ردوہ الی الرسول و الی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم "" "" منھم فنبئنی بعلم ماذاتستبشع فیہ انما عہدی بك عقولا غیر سفیہ واﷲ الہادی وولی الایادی وللعبد الضعیف فی ھذا الباب کتاب جامع نافع مستطاب یہدی المستھدی الی الصواب ویردی المستھوی الی التباب جار طبعہ باذن الوھاب سمیتہ الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(۱۱ ۱۳ھ)ولقبتہ باکمال الطامہ علی شرك سوی بالامور العامہ(۱۳۱۱ھ)تجدفیہ ستین ایۃ وثلث مائۃ احادیث تمیز الطیب من الخبیث وفیما تلوت کفایۃ لاولی الدرایۃ و جس پرچاہے۔انہیں غنی کردیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اپنے فضل سے۔ہمیں خدا بس ہے اب دیتا ہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اور اﷲ کا رسول۔ا ے ایمان والو! حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں کاموں کے اختیار والے ہیں۔اور اگر اسے لاتے رسول کے حضور اور اپنے ذی اختیاروں کے سامنے تو ضرور اس کی حقیقت جان لیتے وہ جوان میں بات کی تہہ کو پہنچ جانے والے ہیں۔تو اب علمی راہ سے کہیے اس میں آپ کو کیا برا لگتا ہےاور میں نے آپ کو جب دیکھا تھا عاقل غیر سفید ہی پایا تھا اوراﷲ ہادی اور نعمتوں کا مالك ہے۔اور بندہ ضعیف کی اس باب میں ایك کتاب جامع نافع مستطاب ہے کہ ہدایت چاہنے والے کوراہ حق دکھاتی اور تباہی میں گرنے والے کو ہلاك کرتی ہےبحکم الہی زیر طبع ہے میں نے الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(۱۳۱۱ھ)اس کا نام اور اکمال الطامہ علی شرك سوی بالامور العامہ(۱۳۱۱ھ) لقب رکھا ہے اس میں ساٹھ آیتیں اور تین سو حدیثیں پائیے گا کہ طیب کو خبیث سے جدا کرتی ہیں اور جو آیتیں اس وقت میں تلاوت کیں عاقلوں کو وہی "," القران الکریم ۹/۷۴
القران الکریم ۹/۵۹
القران الکریم ۴/ ۵۹
القران الکریم ۴/ ۸۳
"
17149,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,632,"باﷲ الہدایۃ والحفظ والوقایۃ والحمدﷲ فی البدایۃ والنہایۃ وصلی اﷲ تعالی علی الوالی الاعظم والمولی الاکرم والمولی الاقدم والہ وصحبہ قادۃ الامم واولیائہ المتصرفین باذنہ فی العالم وعلینا بھم وبارك وسلم امین۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
للیلتین خلتا من شعبان ۱۳۱۹ھ کافی ہیں اور اﷲ ہی کی طرف سے ہدایت اور حفظ و نگہبانی ہے۔اور سب تعریفیں اﷲ کو آغاز و انجام میں۔اور اﷲ کی درودیں والی اعظم و مولائے اکرم وحاکم اقدم اور ان کے آل و اصحاب پیشوایان امت اور ان کے اولیاء پر کہ ان کے حکم سے عالم میں تصرف فرماتے ہیں اور ان کے صدقے میں ہم پر اور اﷲ کی برکت اور سلاما مین(ت)
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
من شعبان ۱۳۱۹ھ
مترجم: کہتا ہے غفرلہ اس صحیفہ شریفہ کے بعد تین مہینے کامل انتظار ہواعرب صاحب کی طرف سے جواب نہ آیاآخر تین مہینے تین دن کے بعد عالیجناب نواب مولوی محمد سلطان احمد صاحب قادری دام مجدہم کے ہاتھ کہ پنجم ذی القعدہ کو رامپور تشریف لیے جاتے تھے تیسرا صحیفہ شریفہ بہ تقاضائے جواب سوالات مرسل ہوا۔
مفاوضہ سوم از حضرت عالم اہلسنت مدظلہ بتقاضائے جواب سوالات دو۲ مفاوضہ سابقہ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریموبعد فھذا رابع شھرمذارسلت الکتاب و لم تحرالجواب وقدکان کصاحب السابق الماضی علیہ خمسۃ شھور مشتملا علی اسئلۃ دینیۃ لامعۃ النور فلم تجب عن ھذا ولا عن ذاك مع بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمبعد حمد وصلوۃ یہ چوتھا مہینہ ہے کہ میں نے خط بھیجا اور آپ نے جواب نہ دیا اور یہ خط بھی پہلے کی طرح جسے پانچ مہینے گزرے ہیں روشن و تاباں سوالات دینیہ پر مشتمل تھا آپ نے نہ اس کا جواب دیا نہ اس کاحالانکہ یہ سلسلہ خود آپ ہی نے شروع کیا تھا۔
",
17150,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,633,"مع انك انت البادی فیما ھناك وانا امھلك عدۃ ایام اخر لتجیب مفصلا عن کل مستطر فان مضی یوم الخمیس تاسع ھذاالشھر النفیس ولم یأت منك الجواب تبین انك غلقت الباب و طویت الصحف وجف القلم بما سیجف وﷲ الحمد فی الاولی والاخرۃ والصلوات الزاھرۃ والتحیات الفاخرۃ علی سیدنا وصحبہ و عترتہ الطاھرۃ امین۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
لخمس خلون من ذی القعدۃ یوم السبت ۱۳۱۹ھ میں آپ کو چند دن کی اور مہلت دیتا ہوں کہ جتنے سوالات لکھے ہیں سب کا مفصل جواب دیجئےاگر روز پنچشنبہ کہ اس نفیس مہینے کی(دسویں عــــــہ)ہوگی گزر گیا اور آپ کی طرف سے سوالات کا جواب نہ آیا تو ظاہر ہوگا کہ آپ نے دروازہ بند کرلیا اور دفترلپیٹ دیئے اور قلم خشك ہوجائے گا جس بات پر عنقریب خشك ہونے والا ہے اور اﷲ ہی کے لیے اول وآخر میں حمد ہے اور چمکتی درودیں ا ور گرامی تحیتیں ہمارے مولی اور انکے اصحاب و آل طاہرین پرآمین !(ت)
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
پنجم ذی العقدہ بروز شنبہ ۱۳۱۹ھ
مترجم: غفرلہ کہتا ہے مسلمان ملاحظہ فرمائیں کہ اس صحیفہ منیفہ میں سواتقاضائے جواب کے کیا تھاعرب صاحب کی نسبت کون سا سخت کلمہ تھا مگر ہوا یہ کہ عرب صاحب جوابوں کے عجز سے بھرے بیٹھے تھے وہ سوال ان پر پہاڑ سے زیادہ گراں تھے ڈر تھا کہ مبادا جواب طلب ہوا تو کیا کہوں گا جب پہلے کو پانچ اور دوسرے کو تین مہینے گزر گئے دل میں کچھ مطمئن ہوئے ہوں گے کہ شاید قسمت کا لکھا ٹل گیا مگر افسوس کہ ناگاہ ادھر سے تقاضوں کا پہاڑ ٹوٹ ہی پڑا۔اب رنگ بدل گیا اور وہ عجز جس سے بھرے بیٹھے تھے جہل بن کر ابل گیا۔اس صحیفہ شریفہ کا پہنچنا اور طیب صاحب کا نام کی طیب وپاکیزگی سے اپنی ذاتی اصالت کی طرف پلٹ جانااگلے مراسلات میں طرفین کے محاورات
عــــــہ:پنجشنبہ کی دسویں خود اسی صحیفہ شریفہ کی تاریخ سے ظاہر تھی کہ پنجم روز شنبہ ارشاد فرمائیلفظ تاسع سبق قلم تھا اور خود پنجشنبہ صراحۃ مذکور ہونا رفع التباس کو بس تھا۔مہلت پنجشنبہ تك عطا ہوئی وہ تاسع ہو یا عاشر ۱۲ مترجم۔ ",
17151,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,634," دیکھئے اور اب اس تحریر ثالث کو ملاحظہ کیجئے۔
خط سوم عرب صاحب بہ تبدیل رنگ واظہار خشم بے درنگ
وصلتی خطك المورخ عــــــہ۱ ۵ذوالقعدۃ ۱۱ عــــــہ۲ ۱۱ ذو القعدۃ فکیف اجیبك یوم التاسع ولکن امتثالا لا مرك سیأتیك الجواب الذی تعلم بہ اننی ماسکت عن الجواب الاصیانۃ لاغلاطك ان تظھر ولجہلك ان یشہر ستعلم لیلی ای دین تداینت وای غریم فی التقاضی غریمہا۔
محمد طیب ۱۱ مجھے تمہارا خط پانچویں ذوالقعدہ کا لکھا گیارہویں ذوالقعدہ کو پہنچا تو میں نویں تاریخ کو کیسے تمہیں جواب دوںمگر آپ کا حکم ماننے کو عنقریب آپ کے پاس وہ جواب آتا ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگا کہ میں جواب سے صرف اس لیے خاموش رہا تھا کہ تمہاری غلطیوں کو ظاہر ہونے اور تمہاری جہالت کو تشہیر سے بچاؤں اب جانا چاہتی ہے لیلی کہ کیسے قرض کا اس نے لین دین کیا اور اس کا قرض خواہ تقاضا کرنے میں کیسا قرض خواہ ہے۔ محمد طیب۱۱
مترجم:غفرلہ کہتا ہے کہ تقاضائے جواب پر عجز کی جھنجھلاہٹ نے عرب صاحب کو ایسے غیظ میں ڈالا کہ ذرا سے کارڈ میں بدحواسیاں صادر ہوگئیںمثلا پہلی بدحواسی کہ ابتداء میں القاب و آداب درکنار اﷲ عزوجل کا نام بھی چھوٹاپہلے دونوں خط مسلمانی طریقے پر بسم اﷲ شریف یا حمد و صلوۃ سے آغاز تھے اس کی ابتداء یہیں ہے کہ وصلنی خطک(تمہارا خط پہنچا)دوسری بدحواسی براہ طنزوسخریہ ایك پرانا شعر عــــــہ۳ لکھ دینے کا شوق چرایا تو ایسے بہکے کہ اپنے ہی کو لیلی بنایا۔
عــــــہ۱:ھکذا بخطہ دام فی خبطہ ۱۲ عــــــہ۲:ھکذا بخطہ لازال فی خبطہ ۱۲
عــــــہ۳:یہ شعر ایك عجیب قصیدے کا ہے جس کی تفصیل مضامین جناب مولوی عبدالحق صاحب خیر آبادی بیان کرتے تھے اگرچہ قصیدہ یہاں سے متعلق نہیں مگر الشیئ بالشیئ یذکر الخ پر بات یاد آجاتی ہے۔(باقی برصفحہ ائندہ ) ",
17152,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,635," حق برزبان جاری شودیہ نہ دیکھا کہ کون مدیون ہے کون قرضدار ہے سوالات کا قرضہ کس پر سوار ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)دوستان علم و ادب کے لیے اسی کے بعض اشعار کہ اس وقت یاد آئے تحریر ہوتے ہیںزبان عرب کا مستندشاعر اپنی ایك کنیز کی شان میں کہتا ہے۔
عجبت للیلی زنجباراشتریھا
وکاتبتہا کیما یتم نعیمہا
فما صنعت الا الا باق مدینۃ
وما ابقیت الاودینی ندیمہا
ستعلم لیلی ای دین تداینت
وای غریم فی التقاضی غریمہا
تمکت بحکم الرق ثم تھتدت
اباقا وسیما الزنج فی القلب سیمہا
تودا ولودرس الخیانۃ لیتنا
مدرسۃ للغدرفیما نقیمہا
ترفضت الخناء ثم تنشرت
تعدی الدواء الداء عی حکمیہا
فلیلی وان کان اسمہا طیبا غدت
خبیثۃ نفیس یرتضیہا لئیمہا
ورب مسمی کاذب یعبق ا سمہ
برائحۃ مافی المسمی نسیمھا
کمہلکۃ تدعی بعکس مفازۃ
وکافورۃ زنجیۃ بان شیمہا
الیلی الیلی ای دفار ھجوت من
اتتہ المعالی صفوھا وصمیمھا مجھے زنجبار کی لیلی سے تعجب آتا ہے میں نے اسے خریدا اور مکاتب کیا تھا کہ اس کی آسائش پوری ہو(یعنی اتنا مال اپنے کسب سے کمائے تو تو آزاد ہے)اس نے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ میرا دین لے کر بھاگ گئی اور وہ نہ بھاگی مگر اس حال پر کہ میرا دین اس کے ساتھ ہے اب جانا چاہتی ہے لیلی کہ کیسے قرض کا اس نے لین دین کیا اور اس کا قرض خواہ تقاضا کرنے میں کیسا قرضخواہ ہے۔کنیزی کے باعث مکیہ بنی پھر بھاگ کر ہندیہ ہوگئی اور زندگی صور ت کی علامتیں دل میں موجود ہیں خیانت کے درس والے تمنا کرتے ہیں کاش ہم اسے اپنے یہاں بے وفائی کی تعلیم دینے پر مدرس مقرر کریں وہ سڑا ہندی پہلے تو رافضن بنی پھر نیچریہ ہوگئیدوا کی حد سے مرض بڑھ گیا۔اس کا حکیم اس کے علاج سے عاجز آیا تو لیلی اگرچہ نام کی پاکیزہ ہے نفس کی خبیثہ ہے کہ اسے نفس کا کمینہ پسند کرے گا اور بہت جھوٹے نام کے مسمے ہوتے ہیں کہ نام ایسی خوشبو سے مہکتا ہے کہ مسمے میں جس کی ہوا بھی نہیں جیسے جائے ہلاك کو برعکس مفازہ یعنی جائے نجات کہتے ہیں اور زن زنگیہ کو جس کی سیاہیاں ظاہر ہیں۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
",
17153,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,636," کس سے تقاضا ہے کس پر چڑھائی ہے غریم نے کس کی جان پر بنائی ہے۔
چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر
خیر ع
مہر باں آپ کی خفت مرے سر آنکھوں پر
تیسری بدحواسی اسی خط تقاضا پہنچتے ہی یاران سرپل میں کچریاں پکیں وہابیت کی فوج مقہوریت موج(جو حضرت نواب خلد آشیاں مرحوم مغفور کے عہد سنیت مہد میں کرے جوتے کے نیچے دبی تھی سر اٹھانے بلکہ مذہب بتانے کی جان نہ تھی اب کچھ کچھ کھل کھیلی اور گریز کرکے پر پرزے نکال چلی ہے)ہل چلی مچی پرانے پرانوں کا سہارا لگانے سنت کے خلاف پرندوہ منانے سے کمیٹی میں یہ رائے پاس ہوئی کہ عرب صاحب نے بہت مدتوں سے دشمنی تقلید میں سر کھپایابرسوں دودچراغ کھایاکچھ خرافات مزخرفات کا ملغوبا جمع کر پایا ہے۔سوالات کے جواب کو تو اڑان گھائی بتائیے اور وہ پچھلی محنتوں کا سارا نتیجہ بنام جواب آگے لائیے۔جب بعون اﷲ تعالی دندان شکن رد ہوگا۔اس وقت تو وہ عوام کے آگے ناك رہ جائے گی کہ دیکھو۔ ع
ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں
خط تقاضا چھٹی ذی القعدہ روز ایك شنبہ کوپہنچا تھاآٹھویں تك کمیٹی میں یہ رائے جم پائی اور وہ جواب بہ صد پیچ و تاب تحریر ہوا کہ جواب پیچھے سے دیں گےصحفیہ تقاضا میں پنجشنبہ تك کی مہلت مقرر فرمادی تھیاس کا یہ جواب سوچا کہ خط ہمیں ۱۱ ذی القعدہ روز جمعہ کو پہنچا ہم پنجشنبہ تك جواب کیونکر دیتے یہاں تك تو عیاری و چالاکی سے کام لیا گیا۔اب عجز کی بدحواسی اپنی جھلك دکھاتی ہے کمیٹی وہابیت نے ایسے کذب صریح کی رائے دی تھی تو لفافے میں بھیجنا تھا کہ کذب پر لفافہ رہتا عام شخصوں پر ثبوت نہ ہوسکتا مگر بدقسمتی سے کارڈ میں لکھا جس پر روانگی ووصول کی مہر ہائے ڈاك نے واضح کردیا کہ بعنایت الہی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دعی عنك تہجاء الرجال واقبلی
لك الحظ لاللاخیلیۃ کافورہ نام رکھتے ہیں اے لیلی اے لیلی اری گندی تو نے اس کی ہجو کہی جسے صاف و خاص بلندیاں حاصل ہوئیںمردوں کی بدگوئی سے درگزر اور آکہ میں لیلے اخیلیہ کا نہیں تیرا حصہ ہے ۱۲ مترجم۔
",
17154,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,637," حضرت کا یہ فریب نامہ سہ شنبہ ۸ ذی القعدہ کو ڈاك خانہ رامپور سے روانہ ہو کر چہار شنبہ نویں ذی القعدہ کو خدمت اقدس بندگان حضرت مکتوب الیہ میں باریاب ہولیا یعنی لکھے جانے سے دو چار دن پہلے ہی پہنچ گیا۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔عرب صاحب کی ان خوبیوں پر بھی حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی نے اسی علم سے کام لیا جوار باب علم کو اہل جہل کے ساتھ شایان ہے بغور ملاحظہ فریب نامہ مذکور ہ ڈاکخانہ سے رسید لے کر یہ صحیفہ چہارم امضاء ہوا۔
مفاوضہ چہارم حضرت عالم اہلسنت دام ظلہ بجواب خط سوم
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریموبعد فجاء الکتاب ولم یات الجواب ولست متفرغا للجھل والسباب ووصولہ قبل وجودہ بیومین عجب عجاب وبعد قد بقی علیك من الیوم الی الغدالوقت الموعود فان مضی ولم یأت الجواب علم ان بابك مسدود وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علی صاحب المقام المحمود والہ وصحبہ العز السعود والحمد ﷲ الغفور الودود۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
لتسع خلون من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ یوم الاربعاء بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بعد حمد وصلوۃ واضح ہو خط آیا اور جواب نہ آیا اور جہالت کی باتوں اور گالی گلوچ کی مجھے فرصت نہیں اور اس خط کا عالم ایجاد میں آنے سے دو دن پہلے یہاں پہنچ جانا سخت تعجب کا اچنبھا ہے اور ہنوز آج سے کل تك آپ کے لیے روز موعود کا وقت باقی ہے اگر وہ گزر گیا اور جواب نہ آیا تو معلوم ہوگا کہ آپ کا دروازہ بند ہےاور اﷲ تعالی کے درود و سلام و برکات صاحب مقام محمود اور ان کے آل و اصحاب نورو سعادت والوں پر اور سب خوبیاں اﷲ کو جو گناہ بخشے اور اپنے بندوں سے محبت فرمائے۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
لتسع خلون من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ روز چہار شنبہ
",
17155,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,638," مترجم:غفرلہ کہتا ہے کہ روز موعود گزرا اور جمعہ گزرا اور جواب نہ آیا تو اس صحیفہ پنجم نے امضاپایا۔
مفاوضہ پنجم حضرت عالم اہلسنت دام ظلہ باعلام تمامی حجت
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریموبعد فقد مضی امس یومك الموعود بل زاد علیہ الیوم الموجود یوم الجمعۃ المبارك المسعود ولم یأت منك شیئ من المردود فانجلی الحجاب وانتھی الخطاب والحمد ﷲ الکریم الوہاب ولن یقبل منك ھذا الا الانقیاد لما ارشد ناك الیہ من الحق والرشاد والحمد ﷲ العلی الجوادو الصلوۃ و السلام علی سیدالاسیاد محمد والہ وصحبہ الامجادامین۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
لاحدی عشرۃ مضین من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمبعد حمد وصلوۃ بلاشبہہ کل آپ کا روز موعود گزر گیا بلکہ آج کا دن روز مبارك و ہمایوں جمعہ اور زائد ہو ا اور آپ کی طرف سے کچھ جواب نہ آیا تو پردہ کھل گیا اور مخاطبہ تمام ہوا اور سب خوبیاں اﷲ کریم بہت عطا فرمانے والے کواور آپ سے کچھ پذیر نہ ہوگا مگر اس حق و صواب کےلیے مطیع ہونا جس کی طرف ہم نے آپ کو ہدایت کی اور سب تعریفیں اﷲ بالا و بے غرض بخشندہ کو اور درود و سلام سب سرداروں کے سردار محمد اور ان کے آل و اصحاب معززین پر آمین۔
کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
یازدہم من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ
مترجم:غفرلہ کہتا ہے الحمدﷲ حضرت عالم اہلسنت کے ساتھ عرب صاحب کا مکالمہ ختم ہوا اور عرب صاحب کا جوابوں سے عجز روشن و آشکار ہوگیا۔
ذلك بان اﷲ ھوالحق وان اﷲ لایھدی کیدالخائنین والحمد ﷲ رب العلمین وقیل بعداللقوم الظلمین۔ ",
17156,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,639,"زیادت افادت
عرب صاحب کی خوبی تہذیب اور اس کے جواب میں حضرت عالم اہلسنت کا حلم عجیب ناظرین نے ملاحظہ فرمایا اب مستفیدان بارگاہ سنت کا ادب اجمل اور کریمہ۔"" و اعرض عن الجہلین ﴿۱۹۹﴾"" ۔یہ کریمانہ عمل بنظر اعتبار مشاہدہ کیجئے۔مکرمنا مولوی محمد واعظ الدین صاحب اسلام آبادی قادری برکاتی سلمہ الہادی نے اگرچہ عرب صاحب کے خط سوم میں کلمات جہل و اشتلم ملاحظہ فرما کر آیہ کریمہ "" واغلظ علیہم "" پر عمل چاہا مگر اثر تادیب و کمال تہذیب کہ عرب صاحب کو معذور ہی رکھا اور ان کی نسبت کلام خوبی و اکرام ہی لکھا سارا قصور نفس امارہ پر طویلے کی بلا بندر کے سر۔
نامی نامہ مولانا واعظ الدین صاحب بجواب ہماں خط سوم عرب صاحب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الی جناب الفاصل الوسیع المناقب السنیع المناصب المولوی طیب صاحب دامت عنایتھم
اما بعد فاتت الیوم کریمتکم المسطورۃ ونمیقتکم الغیر المسطورۃ ضحی تاسع ذی القعدۃ یوم الاربعاء فوجدنا ھا علی خلاف ماھو الما مول من العلماء وایضا علی خلاف ما عہد منکم فی اختیہا السالفتین فعلمنا انہا لیست من قبل قلبکم بل رشحۃ من النفس الامارۃ بالشین اذلیس فیہا بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
بجناب فاضل فراخ مناقب نیکی مناصب مولوی طیب صاحب دام عنایتہم۔
بعد حمد و صلوۃ واضح ہو آج نہم ذی القعدہ روز چار شنبہ وقت چاشت آپ کی گرامی کتابت اور بے پردہ عــــــہ تحریر آئی ہم نے اس رنگ کے خلاف پائی جس کی علماء سے توقع تھی نیز اس طرز کے مخالف آئی جو اس کی دو اگلی بہنوں میں آپ کی طرف سے معرو ف رہے تو ہم نے جانا کہ وہ آپ کے قلب کی طرف سے نہیں بلکہ نفس امارہ کے چھینٹوں سے جو بکثرت عیب کی طرف داعی ہے اس لیے
عــــــہ:بے پردہ دووجہ سےایك تو کارڈ پرتھی دوسرے برہنہ گوئی ۱۲مترجم "," القرآن الکریم ۷/ ۱۹۹
القرآن الکریم ۹ /۷۳
"
17157,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,640,"جواب سوال الاکذب وفحش وجہل بضلال فسیدنا العلامۃ عالم اھل السنۃ مدظلہ ودام فضلہ لما کشف عن خدرھا ووقف علی ھذرھا وھجرھا لم یجد علیکم لاجلہا بل فتبسم ضاحکا من قولہا و قال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی ولدی و ان اعمل صلحا ترضىہ و ادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین ﴿۱۹﴾"" علما منہ بان لا معصوم الا من عصم اﷲ فکیف یؤخذ بجہل النفس صدیق قدیم ماکان یرضاہ ولکنا نحن خدام العتبۃ العلیۃ فی عجب عاجب من ھذہ القضیۃ کتاب یکتب ۱۱ ذی القعدۃ الحرام ویصل لحضرۃ المکتوب الیہ تاسع الشہر من ذلك العام وانا لموقنون انکم من مثل ھذاالکذب الجلی معزولون وانما ھو من تعاجیب نفس امارۃ ولم تدرالسفیھۃ ان منھا علی کہ اس تحریرمیں جھوٹ اور زبان درازی اور بہکی ہوئی جہالت کے سوا کسی سوال کا جواب نہ تھا تو ہمارے سردار علامہ عالم اہلسنت مدظلہ و دام فضلہ نے جب کہ اس کا پردہ کھولا اور اس کی بے ہودہ سرائی و پریشان گوئی پر وقوف پایا اس کے سبب آپ پر کچھ غضب نہ فرمایا بلکہ اس کی بات سے ہنستے ہوئے مسکرائے اور دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری ان نعمتوں کاشکر ادا کروں جو کہ تو نے مجھ پر اور میرے باپ دادا پر فرمائیں اور میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیك بندوں میں داخل فرمالے۔وجہ یہ کہ حضرت والا کو معلوم ہے کہ معصوم تو وہی ہے جسے اﷲ عزوجل نے عصمت عطا فرمائی تو نفس امارہ کی جہالت کے باعث ایك پرانے دوست پر جو ایسی باتوں کو ناپسند رکھتا تھا کیا مواخذہ ہو مگر خادمان آستانہ والا اس معاملے میں سخت عجب میں ہیں خط لکھا جائے تو جائے ذی القعدۃ الحرام کی گیارہویں کو اور حضرت مکتوب الیہ کے پاس پہنچے اسی سال اسی ذی القعدہ کی نویں کوہم کو یقین ہے کہ آپ ایسے سفید جھوٹ سے برکنار ہیں یہ تو اسی نفس امارہ کی انوکھیاں ہیں اور وہ احمق یعنی نفس امارہ عــــــہ کی شرارت یہ نہ سمجھی کہ ا سکے جھوٹ
عــــــہ:نفس زبان عربی میں مونث ہے یہاں مطابقت ترجمہ کے لیے شرارت نفس یا شریرہ مکتوب ہوئی۔۱۲ مترجم ", القرآن الکریم ۲۷/ ۱۹
17158,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,641,کذبہا لدلیل وامارۃ فان تاریخ ارسال القرطاس فی طابع بوسطہ رامفور ۱۸ فروری یوم الثلثاء و تاریخ وصولہ فی طابع بوسطۃ بریلی ۱۹ فروری یوم الاربعاء وھی تزعم انہا کتبت ۲۱ فروری یوم الجمعۃ الغراء فیالہا من ولادۃ قبل الحمل مالہا نظیر فی خارج ولا عقلو لایخفی علی جنابکم الرفیع ان مثل ھذا الاحتیال الشنیع لا تقضی الابوقاحۃ المحتالۃ ولا تفضی الا الی فضیحۃ الفعالۃ وما ھی الا النفس الامارۃ اماقلبکم فلم یرض عارہ ولا عوراہ فتبین انہا لو ارسلت الجواب لجاء قبل یوم الخمیس کہذاالکتاب ولکنہا عجزت فمکرت وکذبت وھجرت وزعمت انما بھذا سترت فواحش جہلہا ولا واﷲ ظہرت فیا مولانا الفاضل الکامل ان اسألك بما رزقت من العلم و الفضائل ان تکبح عنا نہا عن الجھل والفحش و الرذائل وقل لھا یا ھذہ تمضی الشہور وتنقضی الدھور و لاتردین الجواب ولوان السؤال کان طلاقا علیك لخرجت من العدۃ وحللت للخطاب پر خود اس کی طرف سے دلیل و علامت موجود ہے کہ مہر ڈاك خانہ رامپور میں روانگی کارڈ کی تاریخ ۱۸ فروری سہ شنبہ ہے اور مہر ڈاکخانہ بریلی میں پہنچنے کی تاریخ ۱۹ فروری روز چار شنبہ اور وہ شریرہ یہ بکتی ہے کہ اس نے یہ کارڈ ۲۱ فروری روز روشن جمعہ کو لکھا تو یہ پیش از حمل ولادت تو نہایت ہی عجیب ہے جس کی نظیر نہ خارج میں ہے نہ ذہن میںاور آپ کی جناب میں پوشیدہ نہیں کہ ایسے برے حیلے کا حکم نہیں ہوتا مگر اس سخت بدافعال کی رسوائی اور وہ حیلہ گربدکار کون ہے یہی نفس امارہ کی شرارت آپ کا قلب تو اس کذب و مکر کے عار و عیب پر راضی نہیں تو ظاہر ہوا کہ وہ شریرہ اگر جواب بھیجتی تواس کارڈ کی طرف جمعرات سے پہے آجاتا مگر وہ تو عاجز آئی لہذا فریب کیا اور جھوٹ بولی اور بے ہودہ بکا اور سمجھی کہ اس تدبیر سے اس کے جہل کی بے حیائیاں چھپ گئیں حالانکہ خدا کی قسم ظاہر ہوگئیںتو اے مولانا فاضل کامل ! آپ کو جو علم و فضائل ملے انہیں ذریعہ بنا کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جہل اور فحش اور کمینہ باتوں سے اس شریرہ کی باگ روکیے اور فرمایئے کہ اے فلانی ! مہینے گزریںزمانے پلٹیں اور تو جواب نہ دے اگر بالفرض وہ سوال تجھ پر طلاق بھی ہو تو تو ضرور اتنی مدت میں عدت سے نکل کر پیام دینے والوں کے لیے,
17159,27,رسالہ اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب۱۳۱۹ھ (طیب(عرب صاحب)کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش),,,642,"ثم اذاطولبت فحشت وھذرت و خدعت ومکرت والی الان علیك باقیۃ من الزمان الی انقصاء الخمیس الموعود فان مضی ولم یصل جوابك ففحشك و جہلك علیك مردود ولا واﷲ یا امارۃ جہلت علی عالم واحتملت اثما احتملت لن یقبل منك الا الجواب عن کل ماسئلت و لا تظنی ان یلتفت العلماء الفحول الی ماتشحنین بہ جرابك من الجہل و الفضول نعم ان طعنیت وبغیت والجہل بغیت فلعلك تجدین من یجہل علیك فوق ماتجھلین فتعضی علی یدیک و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"" "" ۔ ع
دعی عنك تھجاء الرجال واقبلی الخ والسلام علی من اتبع الہدی وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علی المولی المصطفی والہ وصحبہ دائما ابدا۔
کتبہ الفقیر واعظ الدین القادری الاسلام آبادی غفرلہ المولی الہادی لتسع خلون من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ حلال ہوگئی ہوتی پھر جب تجھ سے جوابوں کا مطالبہ ہو تو تو فحش و بے ہودہ بکے اور مکرو فریب کرے اور ابھی روز موعود پنجشنبہ گزرنے تك تجھ پر کچھ زمانہ باقی ہے پس اگر وہ گزر گیا اور تیرا جواب نہ پہنچا تو تیرا فحش و جہل تیرے ہی منہ پر مارا جائے گا اور قسم بخدا اے وہ امارہ جو ایك عالم سے جہل کے ساتھ پیش آئی اور حاملہ ہوئی جس گناہ کی حاملہ ہوئی زنہار تجھ سے پذیرانہ ہوگا مگر ان تمام سوالات کا جواب دینا جو تجھ سے کیے گئے ہیں اور یہ گمان نہ کرنا کہ علماء فحول اس جہل و فضول کی طرف التفات کریں جس سے تو اپنی بوری بھررہی ہے ہاں اگر تو سرکشی اور زیادتی کرے اور جہل ہی چاہے تو کیا عجب کہ تجھے کوئی ایسا مل جائے جو تیرے جہل سے بڑھ کر تجھ سے جہل کرے پھر تو اپنے ہاتھ چباتی رہ جائے اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس پلٹے پر پلٹا کھاتے ہیں۔مردوں کی ہجوگوئی سے درگزر اور الخ اور سلام ان پر جو ہدایت کے پیرو ہوئے اور اﷲ تعالی کے درود و سلام و برکات مولی مصطفی اور ان کے آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ۔
راقم واعظ الدین قادری اسلام آبادی غفرلہ المولی الہادی نہم ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
___________________ ", القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷
17160,27,خاتمہ,,,643,"خاتمہ
وہ سوالات کہ عرب صاحب سے کیے گئے اور انہوں نے جواب نہ دیئے اور انہیں بار بار مطلع کردیا ہے کہ بے ان کے جواب کے آپ کی خارجی باتیں مسموع نہ ہوں گی۔
_______________________________________________________
س ۱:کچھ احکام شرع ایسے ہیں یا نہیں کہ ابتداء ان کا علم بے نص صریح یا اجتہاد مجتہد کے نہ ملے گا۔
س ۲:کیا تمام آدمی جمیع احکام کے عالممعانی نصوص کو محیطاجتہاد پر قادر ہیں
س ۳:کیا جاہلان عاری شتران بیمہار ہیں ان پر شریعت کے احکام نہیں
س ۴:ان کے لیے احکام الہی جاننے کی کیا سبیل ہے اس سبیل کا اختیار ان پر فرضواجبجائز کیسا ہے
س ۵:آپ نے اپنی عمر تك اﷲ تعالی کو کیونکر پوجا اور بندوں سے کس طرح معاملہ کیااجتہاد سے یا تقلید سےآپ شروط اجتہاد سے پر ہیں یا خالی
س ۶:آپ کو علوم شرعیہ کے تمام اصول و فروع میں اجتہاد پہنچتا ہے یا بعض میں برتقدیر اخیر جس میں آپ مجتہد ہیںاس کی تعیین کیجئے اور جس میں نہیں اس میں اپنی راہ بتائیےبرتقدیر اول فقہی مسائل اجتہادی کی دس گھڑی ہوئی صورتیں لائیے جن کا حکم خاص آپ نے استنباط کیا ہو جس کی بنا کے ظاہر و باطن و جرح و تعدیل و تفریع وتاصیل میں آپ دوسر ے کی سند نہ پکڑیں۔
س ۷:تقلید شخصی آپ کے نزدیك کفر ہے یا حرام یا مباح یا واجب
س ۸:ائمہ و اقوال میں ہر مکلف نامجتہد کو تخییر ہے یا حکم تخیر اور اس کی کیا سبیل
س ۹:یہ تخییر یا تخیر مطلق ہے یا چار اکابر میں محصور
س ۱۰:تلفیق فسق ہے یا جائز
س ۱۱:مختلف اعمال میں یا ایك میں بھی
س ۱۲:قبل عمل یا بعد میں
عرب صاحب کو اب ہم مطالبان حق اپنی طرف سے ازسر نو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ختم سال تك ان مسائل کا مفصل جواب دے دیں جس بات میں اجمال رہے گا یا آپ کے بیان پر ایضاح حق ",
17161,27,خاتمہ,,,644," کے لیے اور سوال پیدا ہوگا پھر عرض کرکے صاف کرلیا جائے گا یہاں تك کہ بعونہ تعالی حق و اضح ہو واخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمدوالہ وصحبہ امین۔ سید عبدالکریم قادری غفرلہ ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ
تنبیہ:جواب مفصل ہوں مواقع ضرورت و عدم ضرورت وغیرہا قیود و تخصیصات جو مکنون خاطر ہوں مصرح ہوں ورنہ مطلق اطلاق پر محمول رہے گا اور بعد وردو اعتراض ادعائے تخصیص وتقیید وتاویل مسموع نہ ہوگا۔
تنبیہ:ہر سوال کا جواب مدلل ہو اور اپنے لیے جو منصب قرار دیجئے دلائل اس منصب کے نصاب پر مکمل ورنہ بے محل سرود مطبوع نہ ہوگاوالحمدﷲ اولا واخرا والصلوۃ علی رسولہ والہ باطنا وظاھرا امین۔
عرب صاحب کی تہذیب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
اس کے بعض نمونے تو عرب صاحب کے خط سوم میں جو آپ کو اسی رسالہ کے صفحہ ۳۲۴ پر ملے گاملاحظہ ہوں مگر عرب صاحب کی جو روداد تہذیب و انسانیت اب رامپور میں چھپ رہی ہے اس کی نسبت بعض علمائے کرام ساکنان رامپور کی مرسلہ تحریر نے عجب خبریں دی ہیں ذرا استماع فرمائیے۔
بملاحظہ مخدومی مکرمی جناب مولوی سید عبدالکریم صاحب زید مجدہمتسلیممولوی طیب صاحب عرب ایك رسالہ بنام ملاطفۃ الاحباب چھپوا رہے ہیںاس کے بیانات کی بے حد غلطیاں تو اہل علم جانیں گے مگر طرز کلام میں نہایت تہذیب وانسانیت کو کام فرمایا ہے میں نے حضرت عالم اہلسنت کے خطوط انہیں کے رسالے میں دیکھے جس میں صرف عالمانہ کلام ہے مگر ان صاحب کی غصہ ناك تحریر نے کوئی دقیقہ بد زبانی کا اٹھا نہ رکھااس کے بعض اوراق چھپ گئے ہیں انہی سے کچھ انتخاب ملاحظہ ہو۔
ص ۴:یہ شخص خود اپنا کہا نہیں سمجھتا۔
ص ۶:یہ شخص مسلمانوں کا بھی مخالف ہے اور عاقلوں کے بھی خلاف۔
ص۲ ۱:یہ شخص ان لوگوں میں ہے جو اپنا گھر اپنے ہاتھوں بھی خراب کرتے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی یہ یہودی کا بیان ہے۔ ",
17162,27,خاتمہ,,,645,"
ص ۴ ۱:بیڑیاں پاؤں میں ہیں اور مکرکرتا ہے۔
ص ۳۰:ناصر بدعت دشمن موحدین مکفر محدثین۔
ص ۳۰:علمی مذاکرے کے لائق نہیں۔
ص۳۲:آپ کاٹے اور چلائے۔
ص ۳۳:مردہ بے حیات یہاں تك کہ ص ۱۵ سطر ۱۱ میں صریح فحش تك تجاوز کیا ہے۔
ایسی ناپاك تحریر کا اگر آپ یااور کوئی صاحب رد لکھیں تو بہتر یہ ہے کہ حلم سے کام لیں جو شان علم ہے۔والسلام ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ انتہی۔
ہمیں اپنے معزز دوست کی یہ رائے بجان و دل منظور ہےتحریر دیکھی جائے گیاگر سوا ایسی ہی خرافات کے کچھ نہ ہوا تو اہل علم بلکہ ہر عاقل کے نزدیك وہ آپ ہی اپنا جواب ہے ورنہ اس کی زبان درازیوں سے اعراض ہوگا اور اس کی جہالتوں پر بعون اﷲ تعالی اعتراض عرب صاحب اپنی تہذیبوں کا جواب اگر عرب کی مثل سے چاہیں تو اول العی الاحتلاط یعنی جو عاجز آتا ہے غصے میں بھرجاتا ہے۔ومن اطاع غضبہ اضاع ادبہ:جو غصے پر چےے گا ادب ہاتھ سے کھوئے گا۔البغل التغل وھولذلك اھل یعنی لؤم اصلہ فخبث فعلہ:اگر اشعار سے چاہیں تو کثیر عزہ کے یہ دو شعر بس ہیں۔
یکلفہا الخنزیر شتمی وما بہا ھوانی ولکن للملیك استذلت
ھنیئا مریئا غیرداء مخاصر لغرۃ من اعراضنا ما استحلت:
یعنی
بدم گفتی وخرسند عفاك اﷲ نکوگفتی ! جواب تلخ می زیبدلب لعل شکر خارا
(تو نے برا کہا اور میں خوش ہوں اﷲ تعالی تجھے معاف فرمائے تو نے خوب کہا۔کڑوا جواب شیریں سخن سرخ ہونٹوں سے اچھا محسوس ہوتا ہے۔(ت)
یہ تو عرب صاحب کی طرز پر امثال و اشعار سے جواب تھے اور ہمارا تیسرا پورا سچا جواب یہ ہے جو ہمارے رب عزوجل نے ہمیں تعلیم فرمایا کہ۔
"" سلم علیکم ۫ لا نبتغی الجہلین ﴿۵۵﴾"" پس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی نہیں(ت)
", القرآن الکریم ۲۸/ ۵۵
17163,27,خاتمہ,,,646,""" و اذا خاطبہم الجہلون قالوا سلما ﴿۶۳﴾""
"" و اذا مروا باللغو مروا کراما ﴿۷۲﴾"" والسلام اور جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔
اور جب وہ بے ہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔(ت)
عرب صاحب کی عربی دانی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔عرب صاحب کی تحریرات ثلاثہ کا مجموعہ صرف انتیس سطریں ہیں انہیں میں ملاحظہ ہو کہ عربیت وفصاحت کی کیا بہتی نہریں ہیں۔مثلا بطور نمونہ معروض:
(۱)ان ص۵ ای قسم من اقسام التقلید فرضا قطعیا۔ان کی خبر منصوب
(۲)جمادی ص۵ الثانی مونث کی صفت مذکر۔
(۳)حضرت نے جمادے کا کوئی تیسرا بھی دیکھا ہوگا کہ عرب ثانی بے ثالث نہیں بولتے۔
(۴)مہینے کا علم جمادے الاخرہ ہے اعلام میں تصرف کیسا !(اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو۔فافہم)
(۵)بخدمت ص۱۷ حضرۃ العالم بہ تائے کشیدہ یہ متعلق املا ہے۔خط کی خطاء ہےبحث فصاحت سے جدا ہے مگر علم کا پتا ہے۔
(۶)جناب ص ۱۷ مولوی الف ہضم ہوا تو ہوا لام تو ٹیڑھی کھیر تھا۔
(۷)قادری ص۱۷ موصوف معرفہ صفت نکرہ۔
(۸)القول ص۱۷ بان لاولیاء اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم تصرف ان کا اسم مرفوعمگر ہاں ادعائے محدثی ہے۔
(۹)۵ ذوالقعدۃ ص۳۲
(۱۰)۱۱ ذوالقعدۃ مضاف الیہ مرفوع مگر یہ کہیے کہ قلم ہی مرفوع۔
ان کے سوا اور بھی بعض مواقع محل کلاماور خود عشرۃ کاملۃ ہی کیا کم ہیںجو آدمی ۲۹ سطریں لکھے اور ۱۰ غلطیاں کرے وہ ضرور فصیح ادیب ہواخصوصا جہاں عربی الاصل ہونے کا ادعاء۔"," القرآن الکریم ۲۵/ ۶۳
القرآن الکریم ۲۵/ ۷۲
"
17164,27,خاتمہ,,,647," بات یہ ہے کہ عرب صاحب کو عرب شریف میں رہنے کا اتفاق بہت کم ہواعمر کا زیادہ حصہ ہندوستان میں گزرا بہتر ہو کہ ائندہ عربی کو کم تکلیف دیںاپنی ٹوٹی پھوٹی اردو ہی خرچ کریںتاویلات کا دروازہ کشادہ ہے۔
لاتعدم خرقاء حیلۃ(چتر کے لیے حیلوں کی کمی نہیں۔ت)مگر سعت کلام میں مجروح و مطروح و شاذ ناممدوح کا دامن پکڑنا تسلیم اعتراض ہے گو پردے کے اندر۔
لطیفہ
عرب صاحب کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء
آپ نے اپنی ادب دانی کھولنے کو چند اوراق کی اہاجی عــــــہ لکھی ہے جس میں اطفال مکتب سے کچھ لے دے کرکچھ ادھر ادھر سے سیکھ سکھا کر داد ادب دی ہے اس میں ان مکسورہ سے شاذ نادر نصب خبر میں حدیث ان قعر جہنم سبعین خریفا ۔
(جہنم کی گہرائی ستر خریف ہے۔ت)تحریر کی اور بے دھڑك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کردی کہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیراان قعرجہنم سبعین خریفامجتہد صاحب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر یہ کھلا افتراء متداول کتاب تك رسائی محال اور اجتہاد کا ادعاء جناب من یہ قول ابوہریرہ فارسی ہے رضی اﷲ تعالی عنہ اور اس کی نسبت باقی کلام کی ان سطور میں وسعت نہیں۔آپ کو ہوس ہوئی تو پھر معروض ہوگا ان شاء اﷲ تعالی وباﷲ التوفیق۔
____________
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ
یہ مجتھدصاحب تو نیچری کانفرس کے رکن رکین نکلے
جب سے پہلے خط کا جواب گیارامپور سے عرب صاحب کی بدمذہبی کی نسبت متعدد خبریں آیا کیں جن کے سبب اگر حکم بالجزم میں احتیاط رہی مگر کیف وقد قبل طرز کتابت میں تبدیل ہوئی نامہ دوم سے
عــــــہ:بالہاء لابالحاء ۱۲
", صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ،قدیمی کتاب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۲
17165,27,خاتمہ,,,648,"القاب وسلام تحریر نہ فرمائے گئے کہ مبتدع کو سلام اور اس کا اعزاز و اعظام شرعا حرامفقیر کا یہ رسالہ ۱۵ ذوالحجہ کو تمام و کمال چھپ چکا کہ خبر وثوق نام کے ساتھ آئی کہ عرب صاحب نے نیچریوں کی ممبری پائیاب ان کی روداد تلاش کی گئییہاں نہ ملی نیچریوں سے ویلومنگائی انہوں نے نہ دی بمشکل بعض صاحبوں کے یہاں سے ضمیمہ کانفرنس رامپور ۱۹۰۰ء ملادیکھا تو صفحہ ۲۷ پر ط کی ردیف میں سب سے اونچے جلوہ گر ہیں۔حرص کے نمبر ۲۹۸ دے کر لکھا ہے مولوی محمد طیب صاحب عرف عــــــہ مدرس اعلی مدرسہ عالیہ رامپور پانچ روپے۔لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ! اب غیر مقلدی کی شکایت کیا ہے وہاں چوکھا رنگ نیچریت کا چڑھا ہے۔افسوس عرب کا نام بدنام کیا۔ممبری کی انچ انچی تھی تو اسلامی نام کے بہت جلسے تھی مگر یہ فخر کہاں سے کہ جہاں مولوی طیب صاحب پانچ روپے پر ہیں وہیں طابق النعل بالنعل لالہ بھگوتی پرشاد(۱۲۹)بابوپربھودیال(۱۳۴)لالہ بنارسی داس (۱۲۴)بھی برابر وہمسر ہیں بلکہ لالہ برج کشور(۲۴)منشی بلا قید اس(۲۷)منشی پیارے لال(نمبر۲۸)وغیرہ وغیرہ آپ سے کمتر ہیں کہ عرب صاحب پانچ روپے کے ممبروہ دو دو روپے کے وزیٹر ہیں اگرچہ بابو برہما نند(۱۳۰)بابوبھولانا ناتھ (۱۲۶)لالہ برج بھوکن سرنداس(۱۲۸)طیب صاحب کے اوپر ہیں کہ یہ پانچ ہی کے ہو ئے وہ دس دس اور پچیس پچیس کے اعلی ممبر ہیں طیب صاحب معاف فرمائیں انہیں ختم سال تك مہلت تھی کہ تلاش روئیداد ہی میں ختم ہوئی۔۱۵ محرم ۱۳۲۰ھ تك مہلت سہی اگرچہ جب نیچریت ٹھہری تو اس بحث کی کیا حاجت رہی۔
حسبنا اﷲ ونعم الوکیل وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعینآمین۔
_____________________
نوٹ
جلد ۲۷ کتاب الشتی کے حصہ دوممناظرہ و رد بدمذہبان کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی
جلد ۲۸ کتاب الشتی کے حصہ سوم سے شروع ہوگی ان شاء اﷲ۔
عــــــہ:مطبع مفید عام میں تصحیح کا بھی اہتمام ہےیہ لفظ یونہی(عرف)چھپا ہے شاید(عرب)صاحب برج ستارہ ممبری کی(ب)کثرت استعمال سے(ف)ہوگئی۱۲)
",
19698,27,معین مبین بھردور شمس وسکون زمین (سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار),,,212,"اس کی مصیبت خاص ممالك متحدہ کا صفایا کردے گی۔کل زمین سے اس کو تعلق کیوں نہ ہوابیان منجم پر اور مواخذات بھی ہیں مگر ۱۷ دسمبر کے لیے ۱۷ پر ہی اکتفا کریں عــــــہ ۔واﷲ تعالی اعلم
_________________
رسالہ
معین مبین بہرد ورشمس وسکون زمین
ختم ہوا۔
عــــــہ :ماہنامہ الرضا بریلی ربیع الاول ۱۳۳۸ھ۔",
19699,27,فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین (زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی),,,353,"اگر یہ مقدمہ صحیح ہوتا کہ قوت جسمانیہ کا انقطاع عقلا واجب لیکن ہیئت جدیدہ کہ اس کا تسلیم ہونا درکنار فلسفہ یونان پر بھی ثابت نہیں اس کے روشن بیان میں ہماری کتاب الکلمۃ الملھمۃ کا مقام ۲۲ ہے۔
نوٹ:تکملہ کے بعد کا صفحہ ہی نہیں ہےاصل میں یہیں پر ختم ہے۔",
19709,27,الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ (مضبوط حکمت میں الہام شدہ کلمہ منحوس فلسفہ کی کمزوری کے لیے),,,459," کوئی حصہ اس حد میں موجود نہیں اپنی اپنی جگہ موجود ہیں یونہی زمانے میں جو آن حد مشترك لو تو دونوں حصے اس میں نہیں اپنے اپنے موقع پر موجود بتاتے ہیں خود متشدق نے اسی جگہ کہا کہ اسے یوں سمجھو جیسے مکان کے اعتبار سے جسم کا حال کہ وہ خود متصل واحد مکان واحد میں موجود ہے اور جب وہم میں اس کے دو حصے لے لو تو یہ مکان میں جمع نہ ہوں گے ہر حصہ دوسرے کے مکان میں بھی معدوم ہوگا اور بیچ میں جو حد مشترك لی ہے اس میں بھی معدوم ہوگا مگر ہر ایك اپنی اپنی جگہ موجود ہےاگر کہیے قرار کے لیے ہر شیئ میں اس کے حدود معتبر نہیں کہ کسی شے کے حصے اس کے کسی حد میں نہیں ہوسکتے تو سب غیر قار ہو جائیں بلکہ معتبر صرف حد زمانہ ہے کہ آن ہے تمام قارات ایك آن میں موجود ہیں اور زمانہ کسی آن میں موجود نہیں لہذا غیر قار ہوا۔
اقول:غیر قار وہ کہ بوجہ تجدد و تصرم کسی آن میں نہ ہوزمانے کا آن میں نہ ہونا اس وجہ سے نہیںاسے تو بتمامہ موجود بالفعل بلکہ علی الدوام مانتے ہو بلکہ اس کی وجہ وہی ہے کہ آن اس کی حد ہے اور کسی شیئ کے حصے اس کی کسی حد میں نہیں ہوسکتے اگر اس قدر عدم قرار کو کافی ہے تو ہر قار غیر قار ہے ورنہ زمانہ کیوں غیر قار ہے۔ثانیا:حرکت قطعیہ جبکہ اول تا آخراپنے زمانے میں موجود ہے بلاشبہ بعد حدوث ہر آن میں موجود ہےآن اس کی حد نہیں کہ اس میں نہ ہوسکے تو یہ غیر قار کیوں ہوئی۔مجرد تدریج فی الحدوث اگر غیر قار کردے تو زاویہ بھی غیر قار ہو۔
ثالثا: بایں معنی زمانہ ذہن میں بھی قار نہیں کہ امتداد متصور فی الذہن میں جو آن اس کے دومفروض حصوں میں حد فاصل لوہر گز کوئی حصہ اس حد میں نہیں ایك اس سے سابق ہے دوسرا لاحق اگر کہیے جب سارا اتصال ذہن میں معا متصور تو تابقا ئے تصور ہر آن میں پورا اتصال موجود فی الذہن ہے۔
اقول:جب سارا اتصال خارج میں معا متحقق تو تابقائے تحقق ہر آن میں پورا اتصال موجود فی الخارج ہےبالجملہ آن کو اگر ظرف وجود ہر حصہ لو تو وہ جیسا خارج میں نہیں ذہن میں بھی نہیں اور اگر ظرف حکم بالو جود علی الکل لو تو وہ جیسا ذہن میں ہے قطعا خارج میں بھی مان رہے ہو۔جس آن میں تم نے زمانہ پر بتمامہ متصل وحدانی ہونے کا حکم کیا اس آن میں کل زمانے پر حکم وجود فی الخارج کیا یا نہیںمغالطہ یہ دیتے ہو کہ خارج میں نفی قرار کے وقت آن کو ظرف وجود لیتے ہو اور ذہن میں اثبات قرار کے وقت آن کو ظرف حکم بالوجودحالانکہ اول پر ",






