بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ و ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جوادارہ چندسال قبل قائم ہوا تھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کتاب الطہارۃ كتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم اور کتاب الحج پرمشتمل دس خوبصورت جلدیں آپ تک پہنچ چکی ہیں اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسول الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گیارہویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
گیارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے آغاز سے باب الکفاءۃ کے آخر تک ۴۵۹ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی عنہ نے کیاہے۔ رضاعی بھائی کی اولاد کے ساتھ حرمت نکاح سے متعلق رسالہ ''الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن''پیش نظرجلد میں شامل کیاگیاہے جو پہلے فتاوی رضویہ میں شامل نہیں تھا۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل چارعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱) کتاب النکاح
(۲) باب المحرمات
(۳) باب الولی
(۴) باب الکفاءۃ
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ و ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جوادارہ چندسال قبل قائم ہوا تھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کتاب الطہارۃ كتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم اور کتاب الحج پرمشتمل دس خوبصورت جلدیں آپ تک پہنچ چکی ہیں اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسول الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گیارہویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
گیارہویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم کے آغاز سے باب الکفاءۃ کے آخر تک ۴۵۹ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ بتوفیق اﷲ تعالی وبفضلہ اس راقم پرتقصیر عفی عنہ نے کیاہے۔ رضاعی بھائی کی اولاد کے ساتھ حرمت نکاح سے متعلق رسالہ ''الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن''پیش نظرجلد میں شامل کیاگیاہے جو پہلے فتاوی رضویہ میں شامل نہیں تھا۔ علاوہ ازیں اس میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست بھی راقم نے افادہ قارئین کے لئے تیارکردی ہے۔ متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل چارعنوانات زیربحث لائے گئے ہیں :
(۱) کتاب النکاح
(۲) باب المحرمات
(۳) باب الولی
(۴) باب الکفاءۃ
مندرجہ ذیل عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گراں قدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل چھ رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
(۱)عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار(۱۳۰۷ھ)
شاہدین کی موجودگی میں مرد اور عورت کے فقط ایک دوسرے کو شوہروبیوی کہہ دینے سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے یا نہیں۔
(۲)ماحی الضلالۃ فی انکحۃ الھند وبنجالۃ(۱۳۱۷ھ)
ہند وبنگال میں عورت سے اجازت نکاح لینے کی رسم کے متعلق۔
(۳)ھبۃ النساء فی تحقق المصاھرۃ بالزناء(۱۳۱۵ھ)
ساس سے زنا کرنے والے کے بارے میں شرعی حکم کابیان
(۴)ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار(۱۳۱۵ھ)
غیرمقلد وہابی سے نکاح جائزہے یاممنوع اس کا تفصیلی بیان۔
(۵)الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن(۱۳۳۰ھ)
رضاعی بھائی کی اولاد کے ساتھ حرمت نکاح کا عمدہ اور روشن بیان۔
(۶)تجویزالرد عن تزویج الابعد(۱۳۱۵ھ)
ولی اقرب کی عدم موجودگی میں ولی ابعد کے نکاح کردینے کاشرعی حکم
محرم الحرام ۱۴۱۸ھ حافظ عبدالستارسعیدی
مئی ۱۹۹۷ء ناظم تعلیمات جامعہ رضویہ لاہور
(۱)عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار(۱۳۰۷ھ)
شاہدین کی موجودگی میں مرد اور عورت کے فقط ایک دوسرے کو شوہروبیوی کہہ دینے سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے یا نہیں۔
(۲)ماحی الضلالۃ فی انکحۃ الھند وبنجالۃ(۱۳۱۷ھ)
ہند وبنگال میں عورت سے اجازت نکاح لینے کی رسم کے متعلق۔
(۳)ھبۃ النساء فی تحقق المصاھرۃ بالزناء(۱۳۱۵ھ)
ساس سے زنا کرنے والے کے بارے میں شرعی حکم کابیان
(۴)ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار(۱۳۱۵ھ)
غیرمقلد وہابی سے نکاح جائزہے یاممنوع اس کا تفصیلی بیان۔
(۵)الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن(۱۳۳۰ھ)
رضاعی بھائی کی اولاد کے ساتھ حرمت نکاح کا عمدہ اور روشن بیان۔
(۶)تجویزالرد عن تزویج الابعد(۱۳۱۵ھ)
ولی اقرب کی عدم موجودگی میں ولی ابعد کے نکاح کردینے کاشرعی حکم
محرم الحرام ۱۴۱۸ھ حافظ عبدالستارسعیدی
مئی ۱۹۹۷ء ناظم تعلیمات جامعہ رضویہ لاہور
مسئلہ ۱ : جس شادی میں رقص اور باجا وغیرہ ممنوعات شرعیہ ہوں وہاں نکاح ہوجاتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اس میں شك نہیں کہ یہ ناچ اور اکثر باجے شرعا حرام ہیں اور ان کے دیکھنے سننے کا مرتکب فاسق وگنہگار مگر کفر نہیں کہ نکاح ہی نہ ہو شرع مطہر میں نکاح صرف اس سے ہوجاتا ہے کہ مرد وزن ایجاب وقبول کریں اور دو گواہ سنتے سمجھتے ہوں باقی اس کا کسی ممنوع شرعی پر مشتمل نہ ہونا شرط نہیں۔ شیطان کے طرق اغوا سے ایك بدتر طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو حسنات کے حیلہ سے ہلاك کرتا ہے۔ امر بالمعروف ونھی عن المنکر عمدہ تمغائے مسلمانی ہے۔ اس نیك کام میں بہت لوگ حدود خداوندی کا خیال نہیں رکھتے اور تشدد وتعصب کو یہاں تك نباہتے ہیں کہ ان کا گناہ ان جاہلوں کے گناہ سے بدر جہا زائد ہوجاتا ہے جن کے لیے یہ ناصح مشفق بنے تھے اور یہ بلاحضرات وہابیہ میں بہت ہے ذرا ذراسی بات کو کفر شرک بدعت ضلالت مخل اصل ایمان کہہ دیتے ہیں اور مطلق پاس ولحاظ اسلام ومسلمین دل میں نہیں لاتے۔ اسی طرح یہ قائل بھی اور وں کو ناچ گانے سے روکتاتھا اور خود اس سے اشد گناہ یعنی شریعت مطہرہ پر افتراء کیا معہذا اس پر لازم کہ اہل ہند اکثر عوام مسلمین مرد وزن کو معاذ الله زانی وزانیہ اور ان کی اوالاد کو ولدالزنا ٹھہرائے حالانکہ حق سبحنہ و تعالی فرماتا ہے :
الجواب :
اس میں شك نہیں کہ یہ ناچ اور اکثر باجے شرعا حرام ہیں اور ان کے دیکھنے سننے کا مرتکب فاسق وگنہگار مگر کفر نہیں کہ نکاح ہی نہ ہو شرع مطہر میں نکاح صرف اس سے ہوجاتا ہے کہ مرد وزن ایجاب وقبول کریں اور دو گواہ سنتے سمجھتے ہوں باقی اس کا کسی ممنوع شرعی پر مشتمل نہ ہونا شرط نہیں۔ شیطان کے طرق اغوا سے ایك بدتر طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو حسنات کے حیلہ سے ہلاك کرتا ہے۔ امر بالمعروف ونھی عن المنکر عمدہ تمغائے مسلمانی ہے۔ اس نیك کام میں بہت لوگ حدود خداوندی کا خیال نہیں رکھتے اور تشدد وتعصب کو یہاں تك نباہتے ہیں کہ ان کا گناہ ان جاہلوں کے گناہ سے بدر جہا زائد ہوجاتا ہے جن کے لیے یہ ناصح مشفق بنے تھے اور یہ بلاحضرات وہابیہ میں بہت ہے ذرا ذراسی بات کو کفر شرک بدعت ضلالت مخل اصل ایمان کہہ دیتے ہیں اور مطلق پاس ولحاظ اسلام ومسلمین دل میں نہیں لاتے۔ اسی طرح یہ قائل بھی اور وں کو ناچ گانے سے روکتاتھا اور خود اس سے اشد گناہ یعنی شریعت مطہرہ پر افتراء کیا معہذا اس پر لازم کہ اہل ہند اکثر عوام مسلمین مرد وزن کو معاذ الله زانی وزانیہ اور ان کی اوالاد کو ولدالزنا ٹھہرائے حالانکہ حق سبحنہ و تعالی فرماتا ہے :
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷)
الله تعالی تمھیں دوبارہ کبھی اس طرح کرنے سے منع فرماتا ہے بشرطیکہ تم مومن ہو۔ (ت)
غرض امر بالمعروف ونھی عن المنکر کی بھی ایك حد مقرر ہے کہ اس سے تجاوز آدمی کو خود ترك معروف وارتکاب منکر میں مبتلا کردیتا ہے۔
و من یتعد حدود الله فقد ظلم نفسه-
جس نے حدود سے تجاو زکیا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ (ت)
ہاں اگر دولھا دلہن میں سے کسی کایہ عقیدہ ومذہب ہوکہ رنڈیوں کا یہ ناچ حلا ل ومباح ہے تو وہاں اس حکم کی گنجائش ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲ : از شہر کہنہ ۱۲ صفر المظفر ۱۳۰۷ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ماقولہم رضی الله تعالی عنہم اجمعین اس صورت میں کہ شخص واحد کا متولی ہونا دونوں طرفوں نکاح کا جبکہ وہ اصیل ایك طرف سے ہو اور ولی دوسری طر ف سے ہو ساتھ ایسے ایجاب کے کہ قائم مقام قبول ہے۔ جیسے ابن العم نے سامنے گواہوں کے کہا “ زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی “ (جیسے چچا زاد کہے کہ میں نے اپنی چچازاد فلاں لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کیا۔ ت)جائز ونافذ ہے یا نہیں۔ اور یہ جواز ونفاذ باجماع علمائے حنفیہ رحمہم اللہ تعالی کے ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں اگر بنت عم نابالغہ ہے اور اس ابن عم سے اقرب اس کا کوئی ولی حاضر نہیں یابالغہ ہے اور ابن عم نے خاص اپنے ساتھ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے لیا ہے عام ازیں کہ اس کے لیے اور ولی اقرب ہو یا نہ ہو “ فان ھذہ وکالۃ ولاولایۃ مجبرۃ علی البالغۃ “ (تویہ وکالت ہے بالغہ پرجبری ولایت نہیں ہے۔ ت)ائمہ ثلثہ رضوان الله تعالی علیہم کے نزدیك یہ شخص کہ ایك جانب سے اصیل دوسری طرف سے ولی یا وکیل ہے طرفین نکاح کا متولی ہوسکتا ہے خلافا للامام زفر رحمہ اﷲ تعالی(امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ ت)ہدایہ میں ہے :
یجوز لابن العم ان یزوج بنت عمہ من نفسہ ۔
چچا زاد کو جائزہے کہ وہ چچازاد لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کر لے۔ (ت)
الله تعالی تمھیں دوبارہ کبھی اس طرح کرنے سے منع فرماتا ہے بشرطیکہ تم مومن ہو۔ (ت)
غرض امر بالمعروف ونھی عن المنکر کی بھی ایك حد مقرر ہے کہ اس سے تجاوز آدمی کو خود ترك معروف وارتکاب منکر میں مبتلا کردیتا ہے۔
و من یتعد حدود الله فقد ظلم نفسه-
جس نے حدود سے تجاو زکیا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ (ت)
ہاں اگر دولھا دلہن میں سے کسی کایہ عقیدہ ومذہب ہوکہ رنڈیوں کا یہ ناچ حلا ل ومباح ہے تو وہاں اس حکم کی گنجائش ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲ : از شہر کہنہ ۱۲ صفر المظفر ۱۳۰۷ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ماقولہم رضی الله تعالی عنہم اجمعین اس صورت میں کہ شخص واحد کا متولی ہونا دونوں طرفوں نکاح کا جبکہ وہ اصیل ایك طرف سے ہو اور ولی دوسری طر ف سے ہو ساتھ ایسے ایجاب کے کہ قائم مقام قبول ہے۔ جیسے ابن العم نے سامنے گواہوں کے کہا “ زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی “ (جیسے چچا زاد کہے کہ میں نے اپنی چچازاد فلاں لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کیا۔ ت)جائز ونافذ ہے یا نہیں۔ اور یہ جواز ونفاذ باجماع علمائے حنفیہ رحمہم اللہ تعالی کے ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں اگر بنت عم نابالغہ ہے اور اس ابن عم سے اقرب اس کا کوئی ولی حاضر نہیں یابالغہ ہے اور ابن عم نے خاص اپنے ساتھ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے لیا ہے عام ازیں کہ اس کے لیے اور ولی اقرب ہو یا نہ ہو “ فان ھذہ وکالۃ ولاولایۃ مجبرۃ علی البالغۃ “ (تویہ وکالت ہے بالغہ پرجبری ولایت نہیں ہے۔ ت)ائمہ ثلثہ رضوان الله تعالی علیہم کے نزدیك یہ شخص کہ ایك جانب سے اصیل دوسری طرف سے ولی یا وکیل ہے طرفین نکاح کا متولی ہوسکتا ہے خلافا للامام زفر رحمہ اﷲ تعالی(امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ ت)ہدایہ میں ہے :
یجوز لابن العم ان یزوج بنت عمہ من نفسہ ۔
چچا زاد کو جائزہے کہ وہ چچازاد لڑکی کا اپنے ساتھ نکاح کر لے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۲۴ / ۱۷
القرآن ۶۵ / ۱
الھدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
القرآن ۶۵ / ۱
الھدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
فتح القدیر میں ہے : الصغیرۃ بغیر اذنھا والبالغۃ باذنھا (صغیرہ کا نکاح بغیر اجازت اور بالغہ کا اجازت سے کرے۔ ت)ہدایہ میں ہے :
وقال زفررحمہ اﷲ تعالی لایجوز واذا اذنت المرأۃ للرجل ان یزوجھا من نفسہ فعقد بحضرۃ شاھدین جاز وقال زفروالشافعی رحمہما اﷲ تعالی لایجوز اھ۔
۱اقول : وبہ ظھر ان مافی ردالمحتار من نفاذخمس صور بالاتفاق وھی التی لافضولی فیھا من جانب فانما اراد الاتفاق من ائمتنا الثلثۃ لاجمیع الائمۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین۔
امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : یہ جائز نہیں۔ اور جب کسی عورت نے کسی مرد کو اپنے ساتھ نکاح کی اجازت دے دی تو اس مر دنے اگر دوگواہوں کی موجودگی میں اس سے نکاح کر لیا تو جائز ہے۔ اور امام زفر اور شافعی رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا ناجائز ہے اھ(ت)
اقول(میں کہتا ہوں)اس سے واضح ہواکہ ان پانچ صورتوں کے بارے میں جن میں سے کسی جانب سے خود نکاح کرنے والافضولی نہ بنے ردالمحتار کا “ بالاتفاق “ کہنا اس سے ان کی مراد صرف امام ابوحنیفہ ا مام یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کاا تفاق ہے تمام ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالی کا اتفاق مراد نہیں ہے۔ (ت)
پس ان صورتوں میں اس کی تنہا عبارت قائم مقام عبارتین ایجاب وقبول ہوجائے گی اور عبارت دیگر کی حاجت نہ ہوگی۔
ہدایہ میں ہے :
اذا تولی طرفیہ فقولہ زوجت یتضمن الشطرین ولایحتاج الی القبول ۔
جب یہ شخص نکاح کی دونوں طرفوں کا ولی ہو تو اس کا یہ کہنا کہ میں نے نکاح کرلیا ایجاب وقبول دونوں طرفوں کو شامل ہوگا اور اب قبول کہنے کی ضرورت نہیں نکاح کرلیا یا نکاح کردیا کہے دونوں طرح جائز ہے۔ (ت)
عام ازیں کہ یہ شخص وہ لفظ ادا کرے جن میں خود اصیل ہے مثلا “ تزوجت “ یا وہ جس میں ولی یا وکیل ہے جیسے “ زوجت “ خلافا للامام شیخ الامام بکر خواھر زادہ فی الثانی(امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ کا دوسرے یعنی “ نکاح کردیا “ کہنے میں خلاف ہے۔ ت)
وقال زفررحمہ اﷲ تعالی لایجوز واذا اذنت المرأۃ للرجل ان یزوجھا من نفسہ فعقد بحضرۃ شاھدین جاز وقال زفروالشافعی رحمہما اﷲ تعالی لایجوز اھ۔
۱اقول : وبہ ظھر ان مافی ردالمحتار من نفاذخمس صور بالاتفاق وھی التی لافضولی فیھا من جانب فانما اراد الاتفاق من ائمتنا الثلثۃ لاجمیع الائمۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین۔
امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : یہ جائز نہیں۔ اور جب کسی عورت نے کسی مرد کو اپنے ساتھ نکاح کی اجازت دے دی تو اس مر دنے اگر دوگواہوں کی موجودگی میں اس سے نکاح کر لیا تو جائز ہے۔ اور امام زفر اور شافعی رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا ناجائز ہے اھ(ت)
اقول(میں کہتا ہوں)اس سے واضح ہواکہ ان پانچ صورتوں کے بارے میں جن میں سے کسی جانب سے خود نکاح کرنے والافضولی نہ بنے ردالمحتار کا “ بالاتفاق “ کہنا اس سے ان کی مراد صرف امام ابوحنیفہ ا مام یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کاا تفاق ہے تمام ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالی کا اتفاق مراد نہیں ہے۔ (ت)
پس ان صورتوں میں اس کی تنہا عبارت قائم مقام عبارتین ایجاب وقبول ہوجائے گی اور عبارت دیگر کی حاجت نہ ہوگی۔
ہدایہ میں ہے :
اذا تولی طرفیہ فقولہ زوجت یتضمن الشطرین ولایحتاج الی القبول ۔
جب یہ شخص نکاح کی دونوں طرفوں کا ولی ہو تو اس کا یہ کہنا کہ میں نے نکاح کرلیا ایجاب وقبول دونوں طرفوں کو شامل ہوگا اور اب قبول کہنے کی ضرورت نہیں نکاح کرلیا یا نکاح کردیا کہے دونوں طرح جائز ہے۔ (ت)
عام ازیں کہ یہ شخص وہ لفظ ادا کرے جن میں خود اصیل ہے مثلا “ تزوجت “ یا وہ جس میں ولی یا وکیل ہے جیسے “ زوجت “ خلافا للامام شیخ الامام بکر خواھر زادہ فی الثانی(امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ کا دوسرے یعنی “ نکاح کردیا “ کہنے میں خلاف ہے۔ ت)
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر ۳ / ۱۹۶
الہدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
الہدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
الہدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
الہدایۃ فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۳۰۲
فتح القدیر میں ہے :
قال شیخ الاسلام خواھر زادہ ھذا اذا ذکر لفظا ھو اصیل فیہ امااذا ذکر لفظا ھونائب فیہ فلایکفی فان قال تزوجت فلانۃ کفی وان قال زوجتھا من نفسی لایکفی لانہ نائب فیہ وعبارۃ الھدایۃ وھی ماذکرناہ انفاصریحۃ فی نفی ھذا الاشتراط وصرح بنفیہ فی التجنیس ایضا فی علامۃ غریب الروایۃ والفتاوی الصغری الخ۔
۲قلت وعلی ھذا عول فی الدر وغیرہ من المعتبرات وافاد البحر وغیرہ ضعف خلافہ۔
شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت جائز ہوگا جب وہ اپنے اصیل ہونے کو تعبیر کرے یعنی “ میں نے نکاح کرلیا “ کہے لیکن اگر اس نے نائب ہونے کو تعبیر کیااور “ نکاح کردیا “ کہا تو یہ کافی نہیں پس اگر اس نے “ فلاں عورت سے نکاح کرلیا “ کہا تو وہ کافی ہے اور اگر یوں کہا کہ “ میں نے فلاں عورت کا اپنے ساتھ نکاح کردیا “ تو کافی نہ ہوگا کیونکہ اس کہنے میں وہ نائب ہے۔ اور ہدایہ کی وہ عبارت جو ابھی ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی نفی میں صریح ہے اور تجنیس میں بھی اس کی نفی پر تصریح غریب الروایۃ اور فتاوی صغری کے حوالے سے کی ہے الخ(ت)
قلت(میں کہتاہوں۔ ت)کہ در وغیرہ معتبرہ کتب میں اسی کو معتمد علیہ قراردیا ہے۔ اور بحر وغیرہ نے اس کے خلاف کو ضعیف ظاہر کیا ہے۔ (ت)
البتہ مشہود کے سامنے منکوحہ کا متمیز ہوجانا ضرور ہے۔
حتی لوکان حاضرۃ متنقبۃ کفت الاشارۃ وان کان الاحوط کشف الوجہ۔
حتی کہ اگر وہ عورت نقاب پہنے مجلس میں حاضر ہو تو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ وہ چہرہ کھلارکھے۔ (ت)
پس اگر بحالت غیبت صرف بنت عمی یا فلانۃ یابنت عمی فلانۃ یا ان کے مثل جس لفظ سے شہود اسے متمیز کرلیں تو اس قدر کافی ورنہ ذکر اب وجد یعنی فلانہ بنت فلاں بن فلاں کہنا ضروری ہے۔
خلافا للامام الخصاف ومنتقی الامام الحاکم الشھید والامام شمس الائمۃ السرخسی۔
امام خصاف نے اور منتقی میں امام حاکم شہید اور امام شمس الائمہ سرخسی نے اس کے خلاف قول کیا ہے۔ (ت)
قال شیخ الاسلام خواھر زادہ ھذا اذا ذکر لفظا ھو اصیل فیہ امااذا ذکر لفظا ھونائب فیہ فلایکفی فان قال تزوجت فلانۃ کفی وان قال زوجتھا من نفسی لایکفی لانہ نائب فیہ وعبارۃ الھدایۃ وھی ماذکرناہ انفاصریحۃ فی نفی ھذا الاشتراط وصرح بنفیہ فی التجنیس ایضا فی علامۃ غریب الروایۃ والفتاوی الصغری الخ۔
۲قلت وعلی ھذا عول فی الدر وغیرہ من المعتبرات وافاد البحر وغیرہ ضعف خلافہ۔
شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت جائز ہوگا جب وہ اپنے اصیل ہونے کو تعبیر کرے یعنی “ میں نے نکاح کرلیا “ کہے لیکن اگر اس نے نائب ہونے کو تعبیر کیااور “ نکاح کردیا “ کہا تو یہ کافی نہیں پس اگر اس نے “ فلاں عورت سے نکاح کرلیا “ کہا تو وہ کافی ہے اور اگر یوں کہا کہ “ میں نے فلاں عورت کا اپنے ساتھ نکاح کردیا “ تو کافی نہ ہوگا کیونکہ اس کہنے میں وہ نائب ہے۔ اور ہدایہ کی وہ عبارت جو ابھی ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی نفی میں صریح ہے اور تجنیس میں بھی اس کی نفی پر تصریح غریب الروایۃ اور فتاوی صغری کے حوالے سے کی ہے الخ(ت)
قلت(میں کہتاہوں۔ ت)کہ در وغیرہ معتبرہ کتب میں اسی کو معتمد علیہ قراردیا ہے۔ اور بحر وغیرہ نے اس کے خلاف کو ضعیف ظاہر کیا ہے۔ (ت)
البتہ مشہود کے سامنے منکوحہ کا متمیز ہوجانا ضرور ہے۔
حتی لوکان حاضرۃ متنقبۃ کفت الاشارۃ وان کان الاحوط کشف الوجہ۔
حتی کہ اگر وہ عورت نقاب پہنے مجلس میں حاضر ہو تو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ وہ چہرہ کھلارکھے۔ (ت)
پس اگر بحالت غیبت صرف بنت عمی یا فلانۃ یابنت عمی فلانۃ یا ان کے مثل جس لفظ سے شہود اسے متمیز کرلیں تو اس قدر کافی ورنہ ذکر اب وجد یعنی فلانہ بنت فلاں بن فلاں کہنا ضروری ہے۔
خلافا للامام الخصاف ومنتقی الامام الحاکم الشھید والامام شمس الائمۃ السرخسی۔
امام خصاف نے اور منتقی میں امام حاکم شہید اور امام شمس الائمہ سرخسی نے اس کے خلاف قول کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر ۳ / ۱۹۷
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر لابد من تمییز المنکو حۃ عند الشاھدین لتنتفی الجھالۃ فان کانت حاضرۃ متنقبۃ کفی الاشارۃ الیھا والاحتیاط کشف وجھھا فان لم یروا شخصھا وسمعوا کلامھا من البیت ان کانت وحدھا فیہ جاز ولو معھا اخری فلالعدم زوال الجھالۃ وان کانت غائبۃ ولم یسمعوا کلامھا بان عقد لھا وکیلھا فان کان الشھود یعرفونھا کفی ذکر اسمھا اذا علموا انہ ارادھا وان لم یعرفوھا لابدمن ذکر اسمھا واسم ابیھا وجدھا وجوز الخصاف النکاح مطلقا حتی لو وکلتہ فقال بحضرتھما زوجت نفسی من موکلتی اومن امرأۃ جعلت امرھا بیدی فانہ یصح عندہ قال قاضی خان والخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ وذکر الحاکم الشھید فی المنتقی کما قال الخصاف اھ قلت وفی التتارخانیۃ
بحر میں ہے کہ گواہوں کے نزدیك منکوحہ کا ممتاز ہونا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی جہالت ولاعلمی نہ رہے پس اگر مجلس میں نقاب پہن کر حاضر ہوتو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ چہرہ کھلا رکھنے میں احتیاط ہے۔ اگر مجلس والے اس عورت کی شخصیت کو نہ دیکھ پائیں اور کمرے میں سے اس کی آواز سن رہے ہوں اگر وہ کمرے میں اکیلی ہو تو نکاح جائز ہے اور اگر اس کے ساتھ کمرے میں کوئی عورت بھی ہو تو جائز نہیں کیونکہ لاعلمی باقی ہے۔ اور اگر وہ عورت مجلس میں موجود نہیں اور اس کی آواز بھی سنی نہیں جاسکتی اس کی طرف سے اس کا نکاح وکیل کر رہا ہو تو اگر گواہ اس عورت کو جانتے ہیں تو نکاح میں عورت کا نام ذکر کردینا کافی ہے جبکہ گواہوں کو علم ہو کہ وکیل کی مراد وہی عورت ہے۔ اور اگر گواہ اس کو نہ پہچانتے ہوں تو عورت اس کے والد اور دادا کانام ذکرکرنا ضروری ہے۔ اور امام خصاف نے نام ذکر کئے بغیر بھی جائز کہا ہے مثلا ایك عورت نے نکاح کرنے والے کو گواہوں کے سامنے اپنا وکیل بنایا ہو تو اس سے نکاح کرنے والا یوں کہہ دے کہ میں نے ان گواہوں کی موجودگی میں اپنی مؤکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کردیا یا یوں کہہ دے کہ جس عورت نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دیا ہے میں نے اس کا نکاح اپنے ساتھ کردیا تو اس طرح بھی امام خصاف کے قول پر نکاح صحیح ہوگا امام قاضی خاں نے فرمایا کہ خصاف کا علم میں بڑا مقام ہے اس کی بات پر
فی البحر لابد من تمییز المنکو حۃ عند الشاھدین لتنتفی الجھالۃ فان کانت حاضرۃ متنقبۃ کفی الاشارۃ الیھا والاحتیاط کشف وجھھا فان لم یروا شخصھا وسمعوا کلامھا من البیت ان کانت وحدھا فیہ جاز ولو معھا اخری فلالعدم زوال الجھالۃ وان کانت غائبۃ ولم یسمعوا کلامھا بان عقد لھا وکیلھا فان کان الشھود یعرفونھا کفی ذکر اسمھا اذا علموا انہ ارادھا وان لم یعرفوھا لابدمن ذکر اسمھا واسم ابیھا وجدھا وجوز الخصاف النکاح مطلقا حتی لو وکلتہ فقال بحضرتھما زوجت نفسی من موکلتی اومن امرأۃ جعلت امرھا بیدی فانہ یصح عندہ قال قاضی خان والخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ وذکر الحاکم الشھید فی المنتقی کما قال الخصاف اھ قلت وفی التتارخانیۃ
بحر میں ہے کہ گواہوں کے نزدیك منکوحہ کا ممتاز ہونا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی جہالت ولاعلمی نہ رہے پس اگر مجلس میں نقاب پہن کر حاضر ہوتو نکاح میں اس کی طرف اشارہ کافی ہے اگرچہ چہرہ کھلا رکھنے میں احتیاط ہے۔ اگر مجلس والے اس عورت کی شخصیت کو نہ دیکھ پائیں اور کمرے میں سے اس کی آواز سن رہے ہوں اگر وہ کمرے میں اکیلی ہو تو نکاح جائز ہے اور اگر اس کے ساتھ کمرے میں کوئی عورت بھی ہو تو جائز نہیں کیونکہ لاعلمی باقی ہے۔ اور اگر وہ عورت مجلس میں موجود نہیں اور اس کی آواز بھی سنی نہیں جاسکتی اس کی طرف سے اس کا نکاح وکیل کر رہا ہو تو اگر گواہ اس عورت کو جانتے ہیں تو نکاح میں عورت کا نام ذکر کردینا کافی ہے جبکہ گواہوں کو علم ہو کہ وکیل کی مراد وہی عورت ہے۔ اور اگر گواہ اس کو نہ پہچانتے ہوں تو عورت اس کے والد اور دادا کانام ذکرکرنا ضروری ہے۔ اور امام خصاف نے نام ذکر کئے بغیر بھی جائز کہا ہے مثلا ایك عورت نے نکاح کرنے والے کو گواہوں کے سامنے اپنا وکیل بنایا ہو تو اس سے نکاح کرنے والا یوں کہہ دے کہ میں نے ان گواہوں کی موجودگی میں اپنی مؤکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کردیا یا یوں کہہ دے کہ جس عورت نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دیا ہے میں نے اس کا نکاح اپنے ساتھ کردیا تو اس طرح بھی امام خصاف کے قول پر نکاح صحیح ہوگا امام قاضی خاں نے فرمایا کہ خصاف کا علم میں بڑا مقام ہے اس کی بات پر
عن المضمرات ان الاول ھوالصحیح وعلیہ الفتوی وکذا قال فی البحر فی فصل الوکیل والفضولی ان المختار فی المذھب خلاف ماقالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا اھ مافی ردالمحتار ملخصا۔
۳اقول : وما عزافی البحر للامام قاضیخان فانما نقلہ قاضی خان عن الامام شمس الائمۃ السرخسی اما ھوبنفسہ فقد قدم عدم الصحۃ ومعلوم انہ انما یقدم مایعتمدہ۔
عمل جائز ہے۔ اور حاکم شہید نے بھی منتقی میں خصاف جیسا قول کیا ہے اھ قلت اور تتارخانیہ میں مضمرات کے حوالے سے ہے کہ پہلاقول صحیح ہے اورا سی پر فتوی ہے۔ بحر میں فضولی اور وکیل کی فصل میں یونہی اس کو مذہب میں مختار قرار دیا ہے جو کہ خصاف کے قول کے خلاف ہے اگرچہ خصاف کا بڑا علمی مقام ہے اھ یہاں رد المحتار کی عبارت کا خلاصہ ختم ہوا۔
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)بحر میں جو کچھ امام قاضی خاں کی طرف منسوب کیا اس کو قاضی خاں نے امام شمس الائمہ سرخسی سے نقل کیا ہے لیکن خود ان کا موقف عدم صحت ہے جس کو انھوں نے پہلے ذکر کیا ہے اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ وہ اپنے معتمد علیہ کو پہلے ذکر کرتے ہیں۔ (ت)
اور اگر بنت عم نابالغہ کے لیے ولی اقرب موجود ہے “ ای غیر غائب بغیبۃ منقطعۃ “ (یعنی لمبے سفر پر غائب نہ ہو۔ ت)یا بالغہ سے خاص اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا اذن نہ لیا اگرچہ اس نے مطلق تزویج کا اذن دیا ہو تو ان صورتوں میں یہ ابن العم ایك جانب سے فضولی ہوگا اور جو کسی طرف سے فضولی ہو اس کے لیے “ تولی شطری النکاح “ جانز نہیں اگرچہ ایجاب وقبول دو عبارتوں جداگانہ میں ادا کرے ھوالحق الصواب خلاف لما فھم من بعض الکتب(یہ حق اور صحیح ہے بعض کتب سے جو سمجھا گیا ہے وہ اس کے خلاف ہے۔ ت)یہاں تك کہ تنہا اس کا عقد کرلینا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك باطل محض ہے کہ اس کے بعد اجازت ولی یا بالغہ سے بھی نافذ نہ ہوگا۔
خلافا للامام الثانی حیث جعلہ من الموقوف فان اجاز من لہ الاجازۃ جاز والا لا۔
امام ثانی(یعنی امام یوسف)نے اس کے خلاف اس نکاح کو موقوف قرار دیا ہے کہ اگر صاحب اجازت اس کو جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ نہیں۔ (ت)
۳اقول : وما عزافی البحر للامام قاضیخان فانما نقلہ قاضی خان عن الامام شمس الائمۃ السرخسی اما ھوبنفسہ فقد قدم عدم الصحۃ ومعلوم انہ انما یقدم مایعتمدہ۔
عمل جائز ہے۔ اور حاکم شہید نے بھی منتقی میں خصاف جیسا قول کیا ہے اھ قلت اور تتارخانیہ میں مضمرات کے حوالے سے ہے کہ پہلاقول صحیح ہے اورا سی پر فتوی ہے۔ بحر میں فضولی اور وکیل کی فصل میں یونہی اس کو مذہب میں مختار قرار دیا ہے جو کہ خصاف کے قول کے خلاف ہے اگرچہ خصاف کا بڑا علمی مقام ہے اھ یہاں رد المحتار کی عبارت کا خلاصہ ختم ہوا۔
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)بحر میں جو کچھ امام قاضی خاں کی طرف منسوب کیا اس کو قاضی خاں نے امام شمس الائمہ سرخسی سے نقل کیا ہے لیکن خود ان کا موقف عدم صحت ہے جس کو انھوں نے پہلے ذکر کیا ہے اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ وہ اپنے معتمد علیہ کو پہلے ذکر کرتے ہیں۔ (ت)
اور اگر بنت عم نابالغہ کے لیے ولی اقرب موجود ہے “ ای غیر غائب بغیبۃ منقطعۃ “ (یعنی لمبے سفر پر غائب نہ ہو۔ ت)یا بالغہ سے خاص اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا اذن نہ لیا اگرچہ اس نے مطلق تزویج کا اذن دیا ہو تو ان صورتوں میں یہ ابن العم ایك جانب سے فضولی ہوگا اور جو کسی طرف سے فضولی ہو اس کے لیے “ تولی شطری النکاح “ جانز نہیں اگرچہ ایجاب وقبول دو عبارتوں جداگانہ میں ادا کرے ھوالحق الصواب خلاف لما فھم من بعض الکتب(یہ حق اور صحیح ہے بعض کتب سے جو سمجھا گیا ہے وہ اس کے خلاف ہے۔ ت)یہاں تك کہ تنہا اس کا عقد کرلینا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك باطل محض ہے کہ اس کے بعد اجازت ولی یا بالغہ سے بھی نافذ نہ ہوگا۔
خلافا للامام الثانی حیث جعلہ من الموقوف فان اجاز من لہ الاجازۃ جاز والا لا۔
امام ثانی(یعنی امام یوسف)نے اس کے خلاف اس نکاح کو موقوف قرار دیا ہے کہ اگر صاحب اجازت اس کو جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۲
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
یتولی طرفی النکاح واحد لیس بفضولی ولومن جانب وان تکلم بکلامین علی الراجح ملخصا اھ
جو شخص دونوں جانب سے نکاح کا ولی ہو وہ کسی جانب سے بھی فضولی نہ قرار پائے گا اگرچہ وہ ایجاب وقبول دو کلاموں سے ادا کرے یہ راجح قول ہے ملخصا اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا کان فضولیا منھما اومن احدھما ومن الاخر اصیلااووکیلااوولیا ففی ھذہ الاربع لایتوقف بل یبطل عندھما خلافا للثانی حیث قال یتوقف علی قبول الغائب کما یتوقف اتفاقا لوقبل عنہ فضولی اخر قولہ وان تکلم بکلامین خلافا لما فی حواشی الھدایۃ وشرح الکافی من انہ لوتکلم بکلامین یتوقف اتفاقا وردہ فی الفتح بان الحق خلافہ ولاوجود لھذا القید فی کلام اصحاب المذھب اھ مختصرا۔
اگر کوئی شخص دونوں جانب سے فضولی ہو یا ایك جانب سے فضولی اور دوسری جانب سے اصیل ہو یا وکیل یا ولی ہو تو ان چاروں صورتوں میں نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك باطل ہوگا امام یوسف اس کے خلاف ہیں ان کے نزدیك یہ موقوف ہوگا جس طرح ایك فضولی کی طرف سے ایجاب کو دوسرا فضولی قبول کرلے تو بالاتفاق موقوف ہوتا ہے قولہ(اس کا قول)کہ اگرچہ دو کلاموں سے ایجاب وقبول کرے یہ خلاف ہے اس کے جو ہدایہ کے بعض حواشی اور کافی کی شرح میں ہے کہ اگر دو کلاموں سے اس نے ادا کیا تو بالاتفاق نکاح مو قوف ہوگا اس کو فتح میں رد کردیا گیا ہے کیونکہ حق اس کے خلاف ہے اور اس قید کا اصحاب مذہب میں کوئی وجود نہیں ہے اھ مختصرا(ت)
تنویر میں ہے :
لابن العم ان یزوج بنت عمہ الصغیرۃ من نفسہ ۔
چچا زاد کو جائز ہے کہ وہ اپنی چچا زاد نابالغہ کا خود اپنے ساتھ نکاح کرلے۔ (ت)
یتولی طرفی النکاح واحد لیس بفضولی ولومن جانب وان تکلم بکلامین علی الراجح ملخصا اھ
جو شخص دونوں جانب سے نکاح کا ولی ہو وہ کسی جانب سے بھی فضولی نہ قرار پائے گا اگرچہ وہ ایجاب وقبول دو کلاموں سے ادا کرے یہ راجح قول ہے ملخصا اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا کان فضولیا منھما اومن احدھما ومن الاخر اصیلااووکیلااوولیا ففی ھذہ الاربع لایتوقف بل یبطل عندھما خلافا للثانی حیث قال یتوقف علی قبول الغائب کما یتوقف اتفاقا لوقبل عنہ فضولی اخر قولہ وان تکلم بکلامین خلافا لما فی حواشی الھدایۃ وشرح الکافی من انہ لوتکلم بکلامین یتوقف اتفاقا وردہ فی الفتح بان الحق خلافہ ولاوجود لھذا القید فی کلام اصحاب المذھب اھ مختصرا۔
اگر کوئی شخص دونوں جانب سے فضولی ہو یا ایك جانب سے فضولی اور دوسری جانب سے اصیل ہو یا وکیل یا ولی ہو تو ان چاروں صورتوں میں نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك باطل ہوگا امام یوسف اس کے خلاف ہیں ان کے نزدیك یہ موقوف ہوگا جس طرح ایك فضولی کی طرف سے ایجاب کو دوسرا فضولی قبول کرلے تو بالاتفاق موقوف ہوتا ہے قولہ(اس کا قول)کہ اگرچہ دو کلاموں سے ایجاب وقبول کرے یہ خلاف ہے اس کے جو ہدایہ کے بعض حواشی اور کافی کی شرح میں ہے کہ اگر دو کلاموں سے اس نے ادا کیا تو بالاتفاق نکاح مو قوف ہوگا اس کو فتح میں رد کردیا گیا ہے کیونکہ حق اس کے خلاف ہے اور اس قید کا اصحاب مذہب میں کوئی وجود نہیں ہے اھ مختصرا(ت)
تنویر میں ہے :
لابن العم ان یزوج بنت عمہ الصغیرۃ من نفسہ ۔
چچا زاد کو جائز ہے کہ وہ اپنی چچا زاد نابالغہ کا خود اپنے ساتھ نکاح کرلے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ مطلب فی الوکیل والفضولی فی النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ مطلب فی الوکیل والفضولی فی النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
شامی میں ہے :
ولایخفی ان المراد حیث لاولی اقرب منہ ۔
اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے زیادہ قریب کوئی اور ولی نہ ہو۔ (ت)
شرح علائی میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ اھ
اقول : فافادان الابعد عند حضور الاقرب فضولی فاذا تولی الشطرین بطل۔
اگر بعید ولی نے اقرب کی موجودگی کے باوجود نابالغہ کانکاح کیا تو یہ اقرب ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ(ت)
اقول : اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ اقرب کی موجودگی میں بعید ولی فضولی قرار پائے گا۔ لہذا اگر بعید اس صورت میں دونوں جانب سے ولی بن کر نکاح کرے تو نکاح باطل ہوگا (ت)
اسی میں ہے :
فلو کبیرۃ فلابد من الاستیذ ان(قبل العقد اھ ش)حتی لو تزوجھا بلااستیذان فسکتت اوافصحت بالرضی لایجوز عندھما(لانہ تولی طرفی النکاح وھو فضولی من جانبھا فلم یتوقف عندھما بل بطل اھ ش)و قال ابویوسف یجوز اھ مزیدا من حاشیۃ الشامی۔
اگر لڑکی بالغہ ہو تو اس سے اجازت لینا ضروری ہے(قبل از نکاح اھ ش)حتی کہ اگر فضولی نے اس سے خود نکاح بغیر اجازت کرلیا اور لڑکی خاموش رہی یا نکاح کے بعد اس نے رضامندی ظاہرکی توا مام اعظم اور امام محمد کے قول پر نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ بالغہ کی موجودگی میں خود اس کی طرف سے فضولی ہے لہذا دونوں اماموں کے نزدیك یہ نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اھ ش اور امام ابو یوسف کے قول پر جائز ہے۔ اضافی عبارت حاشیہ شامی کی ہے۔ (ت)
ولایخفی ان المراد حیث لاولی اقرب منہ ۔
اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے زیادہ قریب کوئی اور ولی نہ ہو۔ (ت)
شرح علائی میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ اھ
اقول : فافادان الابعد عند حضور الاقرب فضولی فاذا تولی الشطرین بطل۔
اگر بعید ولی نے اقرب کی موجودگی کے باوجود نابالغہ کانکاح کیا تو یہ اقرب ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ(ت)
اقول : اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ اقرب کی موجودگی میں بعید ولی فضولی قرار پائے گا۔ لہذا اگر بعید اس صورت میں دونوں جانب سے ولی بن کر نکاح کرے تو نکاح باطل ہوگا (ت)
اسی میں ہے :
فلو کبیرۃ فلابد من الاستیذ ان(قبل العقد اھ ش)حتی لو تزوجھا بلااستیذان فسکتت اوافصحت بالرضی لایجوز عندھما(لانہ تولی طرفی النکاح وھو فضولی من جانبھا فلم یتوقف عندھما بل بطل اھ ش)و قال ابویوسف یجوز اھ مزیدا من حاشیۃ الشامی۔
اگر لڑکی بالغہ ہو تو اس سے اجازت لینا ضروری ہے(قبل از نکاح اھ ش)حتی کہ اگر فضولی نے اس سے خود نکاح بغیر اجازت کرلیا اور لڑکی خاموش رہی یا نکاح کے بعد اس نے رضامندی ظاہرکی توا مام اعظم اور امام محمد کے قول پر نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ بالغہ کی موجودگی میں خود اس کی طرف سے فضولی ہے لہذا دونوں اماموں کے نزدیك یہ نکاح موقوف نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اھ ش اور امام ابو یوسف کے قول پر جائز ہے۔ اضافی عبارت حاشیہ شامی کی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکفاءۃ مطلب فی الوکیل والفضولی الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۷
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الکفاءۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶ ، ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۷
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الکفاءۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶ ، ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۷
فتح القدیر میں ہے :
وکلتہ ان یزوجھا مطلقا فانہ لو زوجھا من نفسہ لایجوز ۔
اگر بالغہ نے کسی کو کہا کہ میرا نکاح کردے اور کوئی تخصیص نہ کی اس صورت میں اگر اس شخص نے اس کا نکاح خود اپنے ساتھ کرلیا تو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
الحمد لله حکم مسئلہ مفصل ومنقح ہوگیا اور سوال کی صورت کلیہ یعنی “ تولی الواحد طرفی النکاح “ اور الفاظ جزئیہ یعنی “ زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی “ (نکاح کی دونوں جانب سے ایك ہی شخص کا ولی بننا اور جزئیہ کے الفاظ کہ میں نے چچا زاد کا نکاح اپنے ساتھ کرلیا۔ ت)دونوں کے متعلق احکام وخلافیات علمائے کرام وتصحیحات ائمہ وغیرہا ضروریات متعلقہ مقام سب نے وضوح تام وانجلائے تمام پایا اسی قدر بس ہے اور زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳ : علمائے دین اور مفتیان شرع متین بیچ اس مقدمہ کے کیا فرماتے ہیں ایك عورت ہے کہ اس کے علامت سوائے مخرج بول کے اور نہیں ہے اور نکاح اس کا زید سے ہو گیا ہے بعد نکاح ہونے کے یہ حال معلوم ہوا اب اس کا نکاح درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں وہ نکاح صحیح اور نصف مہر ذمہ زید لازم
فی فتاوی الامام قاضی خان خیار العیب وھو حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلا ترد المرأۃ بعیب ما وفی الدرالمختار الخلوۃ بلا مانع کالوطی فی تاکد المھر انتھی مختصرا و ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
فتاوی قاضی خاں میں ہے خیار عیب جو کہ عیب کی وجہ سے حق فسخ کا نام ہے ہمارے نزدیك یہ نکاح میں ثابت نہیں ہوتا لہذا کسی عیب کی بنا پر عورت کا نکاح رد نہ ہوگا درمختار میں ہے کہ نکاح کے بعد خلوت وطی کی طرح مہر لازم کردیتی ہے بشرطیکہ خلوت کے دوران کوئی مانع نہ ہو اھ مختصرا وملخصا والله تعالی اعلم۔ (ت)
وکلتہ ان یزوجھا مطلقا فانہ لو زوجھا من نفسہ لایجوز ۔
اگر بالغہ نے کسی کو کہا کہ میرا نکاح کردے اور کوئی تخصیص نہ کی اس صورت میں اگر اس شخص نے اس کا نکاح خود اپنے ساتھ کرلیا تو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
الحمد لله حکم مسئلہ مفصل ومنقح ہوگیا اور سوال کی صورت کلیہ یعنی “ تولی الواحد طرفی النکاح “ اور الفاظ جزئیہ یعنی “ زوجت بنت عمی فلانۃ من نفسی “ (نکاح کی دونوں جانب سے ایك ہی شخص کا ولی بننا اور جزئیہ کے الفاظ کہ میں نے چچا زاد کا نکاح اپنے ساتھ کرلیا۔ ت)دونوں کے متعلق احکام وخلافیات علمائے کرام وتصحیحات ائمہ وغیرہا ضروریات متعلقہ مقام سب نے وضوح تام وانجلائے تمام پایا اسی قدر بس ہے اور زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳ : علمائے دین اور مفتیان شرع متین بیچ اس مقدمہ کے کیا فرماتے ہیں ایك عورت ہے کہ اس کے علامت سوائے مخرج بول کے اور نہیں ہے اور نکاح اس کا زید سے ہو گیا ہے بعد نکاح ہونے کے یہ حال معلوم ہوا اب اس کا نکاح درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں وہ نکاح صحیح اور نصف مہر ذمہ زید لازم
فی فتاوی الامام قاضی خان خیار العیب وھو حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلا ترد المرأۃ بعیب ما وفی الدرالمختار الخلوۃ بلا مانع کالوطی فی تاکد المھر انتھی مختصرا و ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
فتاوی قاضی خاں میں ہے خیار عیب جو کہ عیب کی وجہ سے حق فسخ کا نام ہے ہمارے نزدیك یہ نکاح میں ثابت نہیں ہوتا لہذا کسی عیب کی بنا پر عورت کا نکاح رد نہ ہوگا درمختار میں ہے کہ نکاح کے بعد خلوت وطی کی طرح مہر لازم کردیتی ہے بشرطیکہ خلوت کے دوران کوئی مانع نہ ہو اھ مختصرا وملخصا والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح المکتبۃ النوریہ ا لرضویہ سکھر ۳ / ۱۹۷
فتاوٰی قاضیخاں فصل فی الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۷
درمختار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹۔ ۹۸
فتاوٰی قاضیخاں فصل فی الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۷
درمختار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹۔ ۹۸
مسئلہ ۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ انیس بیس برس ایك مکان میں بے تکلف بطور زن وشوہر رہتے اور زید لباس اور جملہ امور خانہ داری میں اسے مثل زنان برادری رکھتا خاندان میں آمدو رفت اس کی بتقریب شادی وغمی رہتی اور زوجہ زید مشہور تھی اور زید مرد پارسا تھا اس کی وضع پر گمان بدکاری نہیں ہوتا آیا مرد وزن زوج وزوجہ تصور کئے جائیں گے اور جو لوگ جلسہ نکاح میں موجود نہ تھے مگر اس حال سے واقف ہیں ان کی گواہی سے نکاح ثابت ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں وہ مرد وزن زوج وزوجہ تصور کئے جائیں گے یہاں تك کہ جو اشخاص اس حال سے واقف ہیں ان کے زوج وزوجہ ہونے پر گواہی دے سکتے ہیں ہدایہ میں ہے :
وکذالك لورأی انسانا جلس مجلس القضاء یدخل علیہ الخصوم حل لہ ان یشھد علی کونہ قاضیا وکذا اذا رأی رجلاوامرأۃ یسکنان بیتا ینبسط کل واحد منھما الی الاخر انبساط الازواج وفی الخلاصۃ واما النکاح اذا رأی رجلا یدخل علی امرأۃ وسمع من الناس ان فلانۃ زوجۃ فلان وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ وان لم یعاین عقد النکاح وفی فتاوی قاضیخان ولو رأی رجلا وامرأۃ یسکنان فی منزلہ وینبسط کل واحد منھما علی صاحبہ کما یکون بین الازواج حل لہ ان یشھد علی نکاحھما ۔
اور ایسے ہی اگر کسی نے ایك شخص کو مجلس قضاء پر دیکھا اور اس کے ہاں فیصلے کے لیے مختلف فریقوں کا آنا جانا دیکھا تو اس کو جائز ہے کہ وہ شخص کے قاضی ہونے کی گواہی دے اور ایسے ہی اگر کسی مرد وعورت کو ایك کمرے میں خاوند بیوی کی طرح ایك دوسرے کے ساتھ برتاؤ کرتے دیکھا اور خلاصہ میں ہے کہ نکاح کے ثبوت میں اگر کسی نے ایك شخص کو عورت کے ہاں آتے جاتے دیکھا اور لوگوں سے بھی سنا کہ یہ مرد عورت آپس میں خاوند بیوی ہیں تو دیکھنے سننے والے کو جائز ہے کہ وہ اس عورت کے اس مرد کی بیوی ہونے کی شہادت دے اگرچہ اس نے ان کے نکاح کی مجلس نہ دیکھی ہو اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر کسی نے مرد وعورت کو ایك مکان میں رہتے دیکھا اور ان کوآپس میں میاں بیوی کی طرح بے تکلف پایا تو اس کے لیے ان دونوں کے نکاح کی شہادت دینا جائز ہے۔ (ت)
الجواب :
صورت مسئولہ میں وہ مرد وزن زوج وزوجہ تصور کئے جائیں گے یہاں تك کہ جو اشخاص اس حال سے واقف ہیں ان کے زوج وزوجہ ہونے پر گواہی دے سکتے ہیں ہدایہ میں ہے :
وکذالك لورأی انسانا جلس مجلس القضاء یدخل علیہ الخصوم حل لہ ان یشھد علی کونہ قاضیا وکذا اذا رأی رجلاوامرأۃ یسکنان بیتا ینبسط کل واحد منھما الی الاخر انبساط الازواج وفی الخلاصۃ واما النکاح اذا رأی رجلا یدخل علی امرأۃ وسمع من الناس ان فلانۃ زوجۃ فلان وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ وان لم یعاین عقد النکاح وفی فتاوی قاضیخان ولو رأی رجلا وامرأۃ یسکنان فی منزلہ وینبسط کل واحد منھما علی صاحبہ کما یکون بین الازواج حل لہ ان یشھد علی نکاحھما ۔
اور ایسے ہی اگر کسی نے ایك شخص کو مجلس قضاء پر دیکھا اور اس کے ہاں فیصلے کے لیے مختلف فریقوں کا آنا جانا دیکھا تو اس کو جائز ہے کہ وہ شخص کے قاضی ہونے کی گواہی دے اور ایسے ہی اگر کسی مرد وعورت کو ایك کمرے میں خاوند بیوی کی طرح ایك دوسرے کے ساتھ برتاؤ کرتے دیکھا اور خلاصہ میں ہے کہ نکاح کے ثبوت میں اگر کسی نے ایك شخص کو عورت کے ہاں آتے جاتے دیکھا اور لوگوں سے بھی سنا کہ یہ مرد عورت آپس میں خاوند بیوی ہیں تو دیکھنے سننے والے کو جائز ہے کہ وہ اس عورت کے اس مرد کی بیوی ہونے کی شہادت دے اگرچہ اس نے ان کے نکاح کی مجلس نہ دیکھی ہو اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر کسی نے مرد وعورت کو ایك مکان میں رہتے دیکھا اور ان کوآپس میں میاں بیوی کی طرح بے تکلف پایا تو اس کے لیے ان دونوں کے نکاح کی شہادت دینا جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ہدایہ کتاب الشہادۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۵۸
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الشہادۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۵۲
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الشہادۃ علی النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الشہادۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۵۲
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الشہادۃ علی النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۵
اور گواہ اگر انھیں زوج زوجہ بیان کریں اور کہیں ہم جلسہ نکاح میں نہ تھے لیکن یہ امر مشہور ہے توا ن کی گواہی شرعا مقبول ہے اور نکاح ثابت ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے :
بل فی العزمیۃ عن الخانیۃ معنی التفسیران یقولا شہدنا لانا سمعنا من الناس امالو قالالم نعاین ذلك ولکنہ اشتھر عندنا جازت فی الکل وصححہ شارح الوھبانیۃ وغیرہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بلکہ عزمیہ میں خانیہ سے منقول ہے کہ گواہ تفسیر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم نے لوگوں سے سنا ہے۔ لیکن اگر یوں بھی کہہ دیا کہ ہم نے نکاح ہوتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے ہاں لوگوں میں مشہور ہے کہ(دونوں میاں بیوی ہیں)تو تمام صورتوں میں شہادت درست ہوگی۔ اس قول کو شارح وہبانیہ وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
بل فی العزمیۃ عن الخانیۃ معنی التفسیران یقولا شہدنا لانا سمعنا من الناس امالو قالالم نعاین ذلك ولکنہ اشتھر عندنا جازت فی الکل وصححہ شارح الوھبانیۃ وغیرہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بلکہ عزمیہ میں خانیہ سے منقول ہے کہ گواہ تفسیر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم نے لوگوں سے سنا ہے۔ لیکن اگر یوں بھی کہہ دیا کہ ہم نے نکاح ہوتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے ہاں لوگوں میں مشہور ہے کہ(دونوں میاں بیوی ہیں)تو تمام صورتوں میں شہادت درست ہوگی۔ اس قول کو شارح وہبانیہ وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۹۳
رسالہ : عباب الانواران لانکاح بمجرد الاقرار ۱۳۰۷ھ
(محض اقرار کی بنیاد پر نکاح نہ ہونے کے بیان میں انوار کی موج)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۵ و ۶ : از پنجاب فیروز پور صدر بازار مسجد جامع مرسلہ مولوی فضل الرحمن صاحب ۴ جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
از فقیر محمد فضل الرحمان بخدمت حضرت فیض درجت مظہر علوم دینی ومصدر فیوض دنیوی جناب مولانا بالفضل والکمال اولنا جناب مولوی محمد احمدرضاخان صاحب فاضل بریلوی دام فیضہ القوی السلام علیکم!
سوال(۱)زید نے ہندہ سے جو اپنے فعل شنیع قبیح سے تائب ہوئی غیر ضلع میں جاکر نکاح کیا تا کہ کوئی مخل اور مانع اس کار خیر کا نہ ہو اہل ضلع نے جب ان سے استفسار کیا کہ تمھار نکاح ہوا ہے تو انھوں نے یہ پاسخ دیا کہ اس قدر مہر پر ہمارا نکاح ہوا ہے آیا یہ صورت نکاح صحیح ہے
(۲)اگر زید نے اقرار کیا کہ یہ میری بی بی ہے اور ہندہ نے بیان کیا کہ یہ میرا خاوند ہے یہ قیل وقال محض شہود میں بیان کی گئی کیا ان الفاظ سے انعقاد نکاح ہوجاتا ہے اس صورت میں ذکر مہر نہیں آیا بعد توفیق وتطبیق روایات کے جواب مزین بمہر ودستخط فرما کر ﷲ عطا فرمایا جائے تاکہ آئندہ کسی جاہل کو مجال باقی نہ رہے والسلام مع الاکرام۔
(محض اقرار کی بنیاد پر نکاح نہ ہونے کے بیان میں انوار کی موج)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۵ و ۶ : از پنجاب فیروز پور صدر بازار مسجد جامع مرسلہ مولوی فضل الرحمن صاحب ۴ جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
از فقیر محمد فضل الرحمان بخدمت حضرت فیض درجت مظہر علوم دینی ومصدر فیوض دنیوی جناب مولانا بالفضل والکمال اولنا جناب مولوی محمد احمدرضاخان صاحب فاضل بریلوی دام فیضہ القوی السلام علیکم!
سوال(۱)زید نے ہندہ سے جو اپنے فعل شنیع قبیح سے تائب ہوئی غیر ضلع میں جاکر نکاح کیا تا کہ کوئی مخل اور مانع اس کار خیر کا نہ ہو اہل ضلع نے جب ان سے استفسار کیا کہ تمھار نکاح ہوا ہے تو انھوں نے یہ پاسخ دیا کہ اس قدر مہر پر ہمارا نکاح ہوا ہے آیا یہ صورت نکاح صحیح ہے
(۲)اگر زید نے اقرار کیا کہ یہ میری بی بی ہے اور ہندہ نے بیان کیا کہ یہ میرا خاوند ہے یہ قیل وقال محض شہود میں بیان کی گئی کیا ان الفاظ سے انعقاد نکاح ہوجاتا ہے اس صورت میں ذکر مہر نہیں آیا بعد توفیق وتطبیق روایات کے جواب مزین بمہر ودستخط فرما کر ﷲ عطا فرمایا جائے تاکہ آئندہ کسی جاہل کو مجال باقی نہ رہے والسلام مع الاکرام۔
الجواب :
لك الحمد رب الارباب صل علی الحبیب الاواب مع الال والاصحاب واھدنا الحق والصواب امین الھنا الوھاب۔
تمام کو پالنے والے اے رب! تیرے لیے ہی تمام حمد ہے سب سے زیادہ رجوع فرما نے والے محبوب پر رحمت نچھاور فرما اور اس پر مع اس کی آل واصحاب سلامتی نازل فرما اور ہماری حق وصواب پر رہنمائی فرما آمین اے عطا کرنے والے ہمارے اﷲ تعالی!(ت)
کرم فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ واقعی یہ مسئلہ قابل امعان انظار واعمال افکار ہے
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی اوج التحقیق(پس میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے اور تحقیق کی بلندی تك پہنچنا اسی کی مدد سے ہے۔ ت)اس میں شك نہیں کہ حکم قضا میں نکاح تصادق مرد وزن سے ثابت ہوجاتا ہے یعنی جب وہ دونوں اقرار کریں کہ ہم زوج وزوجہ ہیں یا باہم نکاح ہوگیا ہے یا اور الفاظ جو اس معنی کومودی ہوں تو بلاشبہہ انھیں زوج وزوجہ جانیں گے اور قضاء تمام احکام زوجیت ثابت ہوں گے بلکہ عندالناس اس سے بھی کمتر امر ثبوت نکاح کو کافی ہے جب مرد وزن کو دیکھے مثل زن وشو ایك مکان میں رہتے اور باہم انبساط زن وشوئی رکھتے ہیں تو ان پر بدگمانی حرام اوران کے زوج و زوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز اگرچہ عقدنکاح کا معائنہ نہ کیا ہو
نص علیہ فی الھدایہ والھندیۃ وغیرھما وفی قرۃ العیون عن الدرر ویشھد من رأی رجلا وامرأۃ بینھما انبساط الازواج انھا عرسہ ۔
ہدایہ ہندیہ وغیرہما اور قرۃ العیون میں درر سے ان سب کتب میں ہے کہ جس نے مرد وعورت کو خاوند بیوی کی طرح بے تکلف معاملات کرتے دیکھا اس کوجائز ہے کہ مرد کے لیے اس عورت کے بیوی ہونے کی شہادت دے۔ (ت)
اسی طرح تسامع بھی سامعین کے نزدیك اثبات نکاح کو بس ہوتا ہے یعنی جب ان کا زوج وزوجہ ہونا لوگوں میں مشہور ہو تو انھیں یہی سمجھا جائے گا اور زوجیت پر شہادت رواہوگی اگرچہ خود ان کی زبان سے اقرار نہ سنا ہو۔
کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار و
جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں اور
لك الحمد رب الارباب صل علی الحبیب الاواب مع الال والاصحاب واھدنا الحق والصواب امین الھنا الوھاب۔
تمام کو پالنے والے اے رب! تیرے لیے ہی تمام حمد ہے سب سے زیادہ رجوع فرما نے والے محبوب پر رحمت نچھاور فرما اور اس پر مع اس کی آل واصحاب سلامتی نازل فرما اور ہماری حق وصواب پر رہنمائی فرما آمین اے عطا کرنے والے ہمارے اﷲ تعالی!(ت)
کرم فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ واقعی یہ مسئلہ قابل امعان انظار واعمال افکار ہے
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی اوج التحقیق(پس میں کہتا ہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے اور تحقیق کی بلندی تك پہنچنا اسی کی مدد سے ہے۔ ت)اس میں شك نہیں کہ حکم قضا میں نکاح تصادق مرد وزن سے ثابت ہوجاتا ہے یعنی جب وہ دونوں اقرار کریں کہ ہم زوج وزوجہ ہیں یا باہم نکاح ہوگیا ہے یا اور الفاظ جو اس معنی کومودی ہوں تو بلاشبہہ انھیں زوج وزوجہ جانیں گے اور قضاء تمام احکام زوجیت ثابت ہوں گے بلکہ عندالناس اس سے بھی کمتر امر ثبوت نکاح کو کافی ہے جب مرد وزن کو دیکھے مثل زن وشو ایك مکان میں رہتے اور باہم انبساط زن وشوئی رکھتے ہیں تو ان پر بدگمانی حرام اوران کے زوج و زوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز اگرچہ عقدنکاح کا معائنہ نہ کیا ہو
نص علیہ فی الھدایہ والھندیۃ وغیرھما وفی قرۃ العیون عن الدرر ویشھد من رأی رجلا وامرأۃ بینھما انبساط الازواج انھا عرسہ ۔
ہدایہ ہندیہ وغیرہما اور قرۃ العیون میں درر سے ان سب کتب میں ہے کہ جس نے مرد وعورت کو خاوند بیوی کی طرح بے تکلف معاملات کرتے دیکھا اس کوجائز ہے کہ مرد کے لیے اس عورت کے بیوی ہونے کی شہادت دے۔ (ت)
اسی طرح تسامع بھی سامعین کے نزدیك اثبات نکاح کو بس ہوتا ہے یعنی جب ان کا زوج وزوجہ ہونا لوگوں میں مشہور ہو تو انھیں یہی سمجھا جائے گا اور زوجیت پر شہادت رواہوگی اگرچہ خود ان کی زبان سے اقرار نہ سنا ہو۔
کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار و
جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں اور
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۱
فی قرۃ العیون عن العمادیۃ کذا تجوز الشھادۃ بالشھرۃ والتسامع فی النکاح حتی لورأی رجلا یدخل علی امرأۃ وسمع من الناس ان فلانۃ زوجۃ فلان وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ وان لم یعاین عقدالنکاح ۔
قرۃ العیون میں عمادیہ سے منقول کہ نکاح کے معاملہ میں شہرت کی بنا پر بغیر تحقیق شہادت جائزہے حتی کہ ایك شخص کو ایك عورت کے ہاں آتے جاتے دیکھا اور لوگوں سے معلوم ہوا کہ یہ عورت اس شخص کی بیوی ہے تو اس کو جائزہے کہ وہ اس عورت کے بارے میں اس شخص کی بیوی ہونے کی شہادت دے اگرچہ ا س نے نکاح نہ دیکھا ہو۔ (ت)
تو ان کا باہم تصادق بدرجہ اولی مثبت نکاح
فی الشامیۃ عن ابی السعود عن العلامۃ الحانوتی صرحوا بان النکاح یثبت بالتصادق والمراد منہ ان القاضی یثبتہ بہ ویحکم بہ اھ ملخصا۔
فتاوی شامی میں ہے ابی سعود کی علامہ حانوتی سے راویت ہے کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ مرد وعورت کی آپس میں خاوند بیوی ہونے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی اس نکاح کو ثابت قرار دے گا اور اس کو نافذ رکھے گا اھ ملخصا(ت)
پس ایسی صورت میں واجب ہے کہ انھیں زوج وزوجہ ہی تصور کیا جائے گا جو خواہی نخواہی ان کی تکذیب کرے گا اور بدگمانی کے ساتھ پیش آئے گا مرتکب حرام قطعی ہوگا باایں ہمہ حکم قضا اور ہے اور امر دیانت اور چیز اگر وہ اپنے اظہار واخبار میں حقیقۃ سچے ہوں یعنی واقع میں ان کے باہم نکاح ہو لیا ہے تو عنداﷲ بھی زوج و زوجہ ہیں ورنہ مجرد ان الفاظ سے جبکہ بطور اخبار بیان میں آئے ہوں نکاح منعقد نہ ہوگا وہ بدستور اجنبی و اجنبیہ رہیں گے نکاح جن امور وافعال کو ثابت وحلال کرتا ہے دیانۃ ان کے لیے اصلا ثابت وروا نہ ہوں گے کہ اس تقدیر پر یہ الفاظ کوئی عقد وانشا نہ تھے محض جھوٹی خبر تھی اور جھوٹی خبر دیانۃ باطل و بے اثر
۴اقول : علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاء طلاق ہوگئی مگر دیانۃ ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
قرۃ العیون میں عمادیہ سے منقول کہ نکاح کے معاملہ میں شہرت کی بنا پر بغیر تحقیق شہادت جائزہے حتی کہ ایك شخص کو ایك عورت کے ہاں آتے جاتے دیکھا اور لوگوں سے معلوم ہوا کہ یہ عورت اس شخص کی بیوی ہے تو اس کو جائزہے کہ وہ اس عورت کے بارے میں اس شخص کی بیوی ہونے کی شہادت دے اگرچہ ا س نے نکاح نہ دیکھا ہو۔ (ت)
تو ان کا باہم تصادق بدرجہ اولی مثبت نکاح
فی الشامیۃ عن ابی السعود عن العلامۃ الحانوتی صرحوا بان النکاح یثبت بالتصادق والمراد منہ ان القاضی یثبتہ بہ ویحکم بہ اھ ملخصا۔
فتاوی شامی میں ہے ابی سعود کی علامہ حانوتی سے راویت ہے کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ مرد وعورت کی آپس میں خاوند بیوی ہونے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی اس نکاح کو ثابت قرار دے گا اور اس کو نافذ رکھے گا اھ ملخصا(ت)
پس ایسی صورت میں واجب ہے کہ انھیں زوج وزوجہ ہی تصور کیا جائے گا جو خواہی نخواہی ان کی تکذیب کرے گا اور بدگمانی کے ساتھ پیش آئے گا مرتکب حرام قطعی ہوگا باایں ہمہ حکم قضا اور ہے اور امر دیانت اور چیز اگر وہ اپنے اظہار واخبار میں حقیقۃ سچے ہوں یعنی واقع میں ان کے باہم نکاح ہو لیا ہے تو عنداﷲ بھی زوج و زوجہ ہیں ورنہ مجرد ان الفاظ سے جبکہ بطور اخبار بیان میں آئے ہوں نکاح منعقد نہ ہوگا وہ بدستور اجنبی و اجنبیہ رہیں گے نکاح جن امور وافعال کو ثابت وحلال کرتا ہے دیانۃ ان کے لیے اصلا ثابت وروا نہ ہوں گے کہ اس تقدیر پر یہ الفاظ کوئی عقد وانشا نہ تھے محض جھوٹی خبر تھی اور جھوٹی خبر دیانۃ باطل و بے اثر
۴اقول : علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاء طلاق ہوگئی مگر دیانۃ ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات دارالکتاب العربیۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۷۱
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی ۲ / ۲۶۵
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی ۲ / ۲۶۵
الاقرار بالطلاق کاذبا یقع بہ الطلاق قضاء لادیانۃ ۔
طلاق کا جھوٹا اقرار قاضی کے ہاں طلاق قرار پائیگا عنداﷲ نہیں۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
رجل طلق زوجتہ المدخولۃ واحدۃ رجعیۃ فسئل کیف طلقت زوجتك فقال ثلثا کاذبا لایقع فی الدیانۃ الاماکان اوقعہ من الواحدۃ الرجعیۃ فیملك مراجعتھا فی العدۃ والحال ھذہ اھ ملخصا۔
ایك شخص نے اپنی مدخولہ بیوی کوایك رجعی طلاق دی تو اس سے پوچھا گیا کہ تونے اپنی بیوی کو کتنی طلاقیں دی ہیں جواب میں اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دی ہیں۔ تو عنداﷲ ایك ہی رجعی طلاق ہوگی جو اس نے دی ہے تو عنداﷲ اس کوعدت کے دوران رجوع کا حق ہے۔ اھ ملخصا۔ (ت)
تو جب اقرار خلاف واقع سے عنداﷲ طلاق واقع نہیں ہوتی نکاح بدرجہ اولی منعقد نہ ہوگا طلاق سبب تحریم فرج ہے اور نکاح سبب تحلیل اور امر فرج میں احتیاط جلیل ولہذا علماء متون وشروح وفتاوی میں تصریح فرماتے ہیں کہ مجرد اقرار مرد وزن سے نکاح ہر گز منعقد نہیں ہوتا اسی پر ۱وقایہ و۲نقایہ و۳اصلاح و۴ملتقی میں کہ سب اعاظم متون معتبرہ مذہب سے ہیں جزم میں فرمایا اسی پر کتب ۵البیہقی و ۶فتاوائے اہل سمر قند وغیرہما میں اقتصار کیا اسی کو ۷شرح جصاص و۸مختارات النوازل و۹فتاواے خلاصہ و۱۰خزانۃ المفتین و۱۱مختار الفتاوی و۱۲ایضاح الاصلاح و۱۳جامع الرموز میں مذہب مختار بتایا اسی کو ۱۴تنویر الابصار و۱۵درمختار میں مقدم رکھ کر ضعف مخالف کی طرف اشارہ فرمایا اسی کو ۱۶فتاوی ظہیریہ و۱۷فتاوی عالمگیریہ میں صحیح کہا اسی پر ۱۸جواہر اخلاطی میں ان دونوں لفظ فتوی یعنی مختار و صحیح کو جمع کرکے تیسر الفظ آکد واقوی علیہ الفتوی اور زائد کیا علامہ ۱۹حانوتی وسید ۲۰ابوالسعود کی عبارتیں ابھی گزریں باقی نصوص بالتلخیص یہ ہیں وقایۃ الروایہ ومختصرالوقایۃ میں ہے : لا ینعقد بقولھا عند الشہود مازن وشوئیم (گواہوں کے سامنے مرد وعورت کا یہ کہنا کہ ہم بیوی خاوند ہیں نکاح نہ ہوگا ت)شرح نقایہ قہستانی میں ہے : لاینعقدعلی المختار (مذہب مختار پر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ ت)متن و شروح علامہ ابن کمال وزیر
طلاق کا جھوٹا اقرار قاضی کے ہاں طلاق قرار پائیگا عنداﷲ نہیں۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
رجل طلق زوجتہ المدخولۃ واحدۃ رجعیۃ فسئل کیف طلقت زوجتك فقال ثلثا کاذبا لایقع فی الدیانۃ الاماکان اوقعہ من الواحدۃ الرجعیۃ فیملك مراجعتھا فی العدۃ والحال ھذہ اھ ملخصا۔
ایك شخص نے اپنی مدخولہ بیوی کوایك رجعی طلاق دی تو اس سے پوچھا گیا کہ تونے اپنی بیوی کو کتنی طلاقیں دی ہیں جواب میں اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دی ہیں۔ تو عنداﷲ ایك ہی رجعی طلاق ہوگی جو اس نے دی ہے تو عنداﷲ اس کوعدت کے دوران رجوع کا حق ہے۔ اھ ملخصا۔ (ت)
تو جب اقرار خلاف واقع سے عنداﷲ طلاق واقع نہیں ہوتی نکاح بدرجہ اولی منعقد نہ ہوگا طلاق سبب تحریم فرج ہے اور نکاح سبب تحلیل اور امر فرج میں احتیاط جلیل ولہذا علماء متون وشروح وفتاوی میں تصریح فرماتے ہیں کہ مجرد اقرار مرد وزن سے نکاح ہر گز منعقد نہیں ہوتا اسی پر ۱وقایہ و۲نقایہ و۳اصلاح و۴ملتقی میں کہ سب اعاظم متون معتبرہ مذہب سے ہیں جزم میں فرمایا اسی پر کتب ۵البیہقی و ۶فتاوائے اہل سمر قند وغیرہما میں اقتصار کیا اسی کو ۷شرح جصاص و۸مختارات النوازل و۹فتاواے خلاصہ و۱۰خزانۃ المفتین و۱۱مختار الفتاوی و۱۲ایضاح الاصلاح و۱۳جامع الرموز میں مذہب مختار بتایا اسی کو ۱۴تنویر الابصار و۱۵درمختار میں مقدم رکھ کر ضعف مخالف کی طرف اشارہ فرمایا اسی کو ۱۶فتاوی ظہیریہ و۱۷فتاوی عالمگیریہ میں صحیح کہا اسی پر ۱۸جواہر اخلاطی میں ان دونوں لفظ فتوی یعنی مختار و صحیح کو جمع کرکے تیسر الفظ آکد واقوی علیہ الفتوی اور زائد کیا علامہ ۱۹حانوتی وسید ۲۰ابوالسعود کی عبارتیں ابھی گزریں باقی نصوص بالتلخیص یہ ہیں وقایۃ الروایہ ومختصرالوقایۃ میں ہے : لا ینعقد بقولھا عند الشہود مازن وشوئیم (گواہوں کے سامنے مرد وعورت کا یہ کہنا کہ ہم بیوی خاوند ہیں نکاح نہ ہوگا ت)شرح نقایہ قہستانی میں ہے : لاینعقدعلی المختار (مذہب مختار پر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ ت)متن و شروح علامہ ابن کمال وزیر
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۶
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق مطلب طلق زوجتہ واحدۃ رجعیۃ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۸
نقایۃ مختصرالوقایہ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۱
جامع الرموز کتاب النکاح مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۵
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق مطلب طلق زوجتہ واحدۃ رجعیۃ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۸
نقایۃ مختصرالوقایہ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۱
جامع الرموز کتاب النکاح مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۵
میں ہے :
لابقولھما مازن وشوئیم لان النکاح اثبات وھذا اظھار والاظھار غیر الاثبات ذکرہ فی التخییر وقال فی مختارات النوازل ھو المختار ۔
نکاح منعقد نہ ہوگا جب انھوں نے کہا کہ ہم بیوی خاوند ہیں کیونکہ نکاح معاملہ کو قائم کرنے کا نام ہے اور مرد وعورت کا یہ اقرار اظہار ہے اور اظہار اثبات نہیں ہے اس کو انھوں نے تخییر میں ذکر کیا ہے اور مختارات النوازل میں ہے کہ یہی مختار مذہب ہے۔ (ت)
متن علامہ ابراہیم حلبی میں ہے :
لوقالا عند الشھود مازن وشوئیم لاینعقد ۔
اگرا نھوں نے گواہوں کے سامنے کہاکہ ہم بیوی خاوند ہیں تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
ذکر البیھقی رحمہ اﷲ تعالی فی کتابہ رجل وامرأۃ لیس بینھما نکاح اتفقا ان یقرا بالنکاح فاقرا لم یلزمھما قال لان الاقرار اخبار عن امرمتقدم ولم یتقدم وکذالك فی البیع اذا اقرا ببیع لم یکن ثم اجاز لم یجز ۔
بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ کسی مرد و عورت میں پہلے نکاح نہیں ہے اب انھوں نے با لاتفاق نکاح کا اقرار کرلیا توا س اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار پہلے ثابت شدہ چیز کی خبر ہوتی ہے جبکہ اقرار سے قبل ان کا نکاح نہیں تھا اس طرح خرید وفروخت کامعاملہ ہے کہ دو فریقوں نے بیع کا اقرار کیا حالانکہ پہلے بیع نہ تھی تو اس اقرار سے بیع منعقد نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
ذکر فی النوازل رجل وامرأۃ اقرابین یدی الشہود بالفارسیۃ مازن وشوئیم لاینعقد النکاح بینھما و کذا لوقال لامرأۃ ھذہ
نوازل میں مذکور ہے کہ مرد وعورت نے گواہوں کے سامنے یہ اقرار فارسی میں کیا کہ “ ہم بیوی خاوند ہیں “ تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر مرد نے
لابقولھما مازن وشوئیم لان النکاح اثبات وھذا اظھار والاظھار غیر الاثبات ذکرہ فی التخییر وقال فی مختارات النوازل ھو المختار ۔
نکاح منعقد نہ ہوگا جب انھوں نے کہا کہ ہم بیوی خاوند ہیں کیونکہ نکاح معاملہ کو قائم کرنے کا نام ہے اور مرد وعورت کا یہ اقرار اظہار ہے اور اظہار اثبات نہیں ہے اس کو انھوں نے تخییر میں ذکر کیا ہے اور مختارات النوازل میں ہے کہ یہی مختار مذہب ہے۔ (ت)
متن علامہ ابراہیم حلبی میں ہے :
لوقالا عند الشھود مازن وشوئیم لاینعقد ۔
اگرا نھوں نے گواہوں کے سامنے کہاکہ ہم بیوی خاوند ہیں تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
ذکر البیھقی رحمہ اﷲ تعالی فی کتابہ رجل وامرأۃ لیس بینھما نکاح اتفقا ان یقرا بالنکاح فاقرا لم یلزمھما قال لان الاقرار اخبار عن امرمتقدم ولم یتقدم وکذالك فی البیع اذا اقرا ببیع لم یکن ثم اجاز لم یجز ۔
بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ کسی مرد و عورت میں پہلے نکاح نہیں ہے اب انھوں نے با لاتفاق نکاح کا اقرار کرلیا توا س اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار پہلے ثابت شدہ چیز کی خبر ہوتی ہے جبکہ اقرار سے قبل ان کا نکاح نہیں تھا اس طرح خرید وفروخت کامعاملہ ہے کہ دو فریقوں نے بیع کا اقرار کیا حالانکہ پہلے بیع نہ تھی تو اس اقرار سے بیع منعقد نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
ذکر فی النوازل رجل وامرأۃ اقرابین یدی الشہود بالفارسیۃ مازن وشوئیم لاینعقد النکاح بینھما و کذا لوقال لامرأۃ ھذہ
نوازل میں مذکور ہے کہ مرد وعورت نے گواہوں کے سامنے یہ اقرار فارسی میں کیا کہ “ ہم بیوی خاوند ہیں “ تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر مرد نے
حوالہ / References
ایضاح واصلاح
ملتقی الابحر کتاب النکاح موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۳۸
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
ملتقی الابحر کتاب النکاح موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۳۸
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
امرأتی وقالت ھی ھذا زوجی لایکون نکاحا ۔
ایك عورت کے بارے میں کہا کہ یہ میری بیوی ہے اور اس عورت نے بھی کہا کہ یہ میرا خاوند ہے تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
فتاوی امام علامہ حسین بن محمد سمعانی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشہود فقال مازن وشوئیم لاینعقد ھوالمختار لان النکاح اثبات والاظھار غیر الاثبات ولھذا لواقربالمال لانسان کاذبا لایصیر ملکا خ(یعنی الخلاصۃ)ولو قال الرجل ھذہ امرأتی وقالت المرأۃ ھذا زوجی بمحضر من الشہود لایکون نکاحا لان الاقرار اخبار عن امر متقدم ولم یتقدم (س)(ای فتاوی اھل سمر قند)۔ (ملخصا)
مرد وعورت نے گواہوں کے سامنے کہا کہ ہم بیوی خاوند ہیں تونکاح نہ ہوگا یہی مختار ہے کیونکہ نکاح اثبات کا نام ہے اور اقرار اثبات نہیں ہوتا بلکہ اظہار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے کے لیے اپنے مال کا جھوٹا اقرار کیا تو دوسرے کے لیے ملکیت ثابت نہ ہوگی خ(یعنی خلاصہ)اگر کسی مرد نے کسی عورت کے متعلق کہا یہ میری بیوی ہے اور عورت نے کہا یہ میرا خاوند ہے تو گواہوں کے سامنے اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار پہلے سے موجود چیز کے بارے میں خبر ہوتی ہے جبکہ یہاں نکاح موجود نہیں ہے س(فتاوی سمرقند)۔ (ت)
متن مولی غزی وشرح محقق علائی میں ہے :
لاینعقد بالاقرار علی المختار خلاصۃ کقولہ ھی امرأتی الاقرار اظھار لما ھو ثابت ولیس بانشاء الخ وسیأتی تمامہ۔
محض اقرار سے نکاح نہ ہوگا مختار قول پر خلاصہ۔ جیسا کہ کوئی شخص کہے کہ یہ میری عورت ہے تو اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار ثابت شدہ چیز کے اظہار کا نام ہے اور یہ انشاء نہیں ہوتا الخ یہ مکمل آئندہ آئے گا۔ (ت)
فتاوی ہندیہ میں عبارت خلاصہ ھوالمختار(یہی مختار ہے۔ ت)تك نقل کی پھر لکھا :
لوقال این زن من ست بمحضر من الشہود
اگر کسی نے گواہوں کے سامنے کہا یہ میری بیوی ہے
ایك عورت کے بارے میں کہا کہ یہ میری بیوی ہے اور اس عورت نے بھی کہا کہ یہ میرا خاوند ہے تو اس سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
فتاوی امام علامہ حسین بن محمد سمعانی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشہود فقال مازن وشوئیم لاینعقد ھوالمختار لان النکاح اثبات والاظھار غیر الاثبات ولھذا لواقربالمال لانسان کاذبا لایصیر ملکا خ(یعنی الخلاصۃ)ولو قال الرجل ھذہ امرأتی وقالت المرأۃ ھذا زوجی بمحضر من الشہود لایکون نکاحا لان الاقرار اخبار عن امر متقدم ولم یتقدم (س)(ای فتاوی اھل سمر قند)۔ (ملخصا)
مرد وعورت نے گواہوں کے سامنے کہا کہ ہم بیوی خاوند ہیں تونکاح نہ ہوگا یہی مختار ہے کیونکہ نکاح اثبات کا نام ہے اور اقرار اثبات نہیں ہوتا بلکہ اظہار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے کے لیے اپنے مال کا جھوٹا اقرار کیا تو دوسرے کے لیے ملکیت ثابت نہ ہوگی خ(یعنی خلاصہ)اگر کسی مرد نے کسی عورت کے متعلق کہا یہ میری بیوی ہے اور عورت نے کہا یہ میرا خاوند ہے تو گواہوں کے سامنے اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار پہلے سے موجود چیز کے بارے میں خبر ہوتی ہے جبکہ یہاں نکاح موجود نہیں ہے س(فتاوی سمرقند)۔ (ت)
متن مولی غزی وشرح محقق علائی میں ہے :
لاینعقد بالاقرار علی المختار خلاصۃ کقولہ ھی امرأتی الاقرار اظھار لما ھو ثابت ولیس بانشاء الخ وسیأتی تمامہ۔
محض اقرار سے نکاح نہ ہوگا مختار قول پر خلاصہ۔ جیسا کہ کوئی شخص کہے کہ یہ میری عورت ہے تو اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا کیونکہ اقرار ثابت شدہ چیز کے اظہار کا نام ہے اور یہ انشاء نہیں ہوتا الخ یہ مکمل آئندہ آئے گا۔ (ت)
فتاوی ہندیہ میں عبارت خلاصہ ھوالمختار(یہی مختار ہے۔ ت)تك نقل کی پھر لکھا :
لوقال این زن من ست بمحضر من الشہود
اگر کسی نے گواہوں کے سامنے کہا یہ میری بیوی ہے
حوالہ / References
فتاوٰی خانیہ کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ ۱ / ۷۶
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ ۱ / ۷۶
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
و قالت المرأۃ ایں شوئی من است ولم یکن بینھما نکاح سابق اختلف المشائخ فیہ والصحیح انہ لایکون نکاحا کذا فی الظھیریۃ وفی شرح الجصاص المختار انہ ینعقد اذا قضی بالنکاح اوقال الشھود لھما جعلتما ھذانکاحا فقال نعم ینعقد ھکذا فی مختار الفتاوی اھ۔
۵اقول : وجہ الانعقاد فی الاول ان القضاء یرفع الخلاف او انہ ینفذ ظاھراوباطنا وفی الثانی ان السؤال معاد فی الجواب والجعل انشاء کمافی الفتح و الدر وغیرھا۔
اور عورت نے کہا کہ یہ میرا خاوند ہے حالانکہ ان کا پہلے نکاح نہیں تھا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے جبکہ صحیح یہی ہے کہ نکاح نہ ہوگا ظہیریہ میں اسی طرح ہے۔ اور جصاص کی شرح میں ہے کہ اگر قاضی نے نکاح کا فیصلہ دیا یا مردوعورت کو گواہوں نے کہا کہ تم نے ان الفاظ کو نکاح بنادیا تو ا نھوں نے جواب میں ہاں کہہ دیا تو مختار یہ ہے کہ نکاح منعقد ہو جائیگا مختار الفتاوی میں ایسے ہی ہے۔ اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)قاضی کے فیصلے کی صورت میں نکاح ہوجانے کی وجہ یہ ہے کہ حکم قاضی رافع خلاف ہے اور قضا ظاہرا اور باطنا نافذ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں انعقاد کی وجہ سے کہ جواب سوال پر مشتمل ہوتا ہے تو سوال میں نکاح بنانے کا ذکر ہے توجواب میں بھی بنانے کے ذکر سے نکاح کا انشاء ہوگیا جیسا کہ فتح اور در وغیرہ میں ہے۔ (ت)
فتاوی علامہ برہان الدین بن ابی بکر بن محمد اخلاطی حسینی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشہود بقولھما مازن و شوئیم لاینعقد ھوالمختار قال بحضور الشھود ھذہ المرأۃ زوجی فقالت ھذا الرجل زوجی ولم یکن بینھما نکاح سابق لا ینعقد ھوالصحیح وعلیہ الفتوی ۔
دونوں نے گواہوں کے سامنے اقرار کیا کہ ہم بیوی خاوند ہیں تو اس سے نکاح نہ ہوگا یہی مختار ہے مرد نے گواہوں کے سامنے کہا یہ میری بیوی ہے اورعورت نے بھی گواہوں کے سامنے کہا یہ میرا خاوند ہے تو اس سے نکاح نہ ہوگا جبکہ پہلے نکاح نہ تھا یہی صحیح ہے اور اس پر فتوی ہے۔ (ت)
۵اقول : وجہ الانعقاد فی الاول ان القضاء یرفع الخلاف او انہ ینفذ ظاھراوباطنا وفی الثانی ان السؤال معاد فی الجواب والجعل انشاء کمافی الفتح و الدر وغیرھا۔
اور عورت نے کہا کہ یہ میرا خاوند ہے حالانکہ ان کا پہلے نکاح نہیں تھا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے جبکہ صحیح یہی ہے کہ نکاح نہ ہوگا ظہیریہ میں اسی طرح ہے۔ اور جصاص کی شرح میں ہے کہ اگر قاضی نے نکاح کا فیصلہ دیا یا مردوعورت کو گواہوں نے کہا کہ تم نے ان الفاظ کو نکاح بنادیا تو ا نھوں نے جواب میں ہاں کہہ دیا تو مختار یہ ہے کہ نکاح منعقد ہو جائیگا مختار الفتاوی میں ایسے ہی ہے۔ اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)قاضی کے فیصلے کی صورت میں نکاح ہوجانے کی وجہ یہ ہے کہ حکم قاضی رافع خلاف ہے اور قضا ظاہرا اور باطنا نافذ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں انعقاد کی وجہ سے کہ جواب سوال پر مشتمل ہوتا ہے تو سوال میں نکاح بنانے کا ذکر ہے توجواب میں بھی بنانے کے ذکر سے نکاح کا انشاء ہوگیا جیسا کہ فتح اور در وغیرہ میں ہے۔ (ت)
فتاوی علامہ برہان الدین بن ابی بکر بن محمد اخلاطی حسینی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشہود بقولھما مازن و شوئیم لاینعقد ھوالمختار قال بحضور الشھود ھذہ المرأۃ زوجی فقالت ھذا الرجل زوجی ولم یکن بینھما نکاح سابق لا ینعقد ھوالصحیح وعلیہ الفتوی ۔
دونوں نے گواہوں کے سامنے اقرار کیا کہ ہم بیوی خاوند ہیں تو اس سے نکاح نہ ہوگا یہی مختار ہے مرد نے گواہوں کے سامنے کہا یہ میری بیوی ہے اورعورت نے بھی گواہوں کے سامنے کہا یہ میرا خاوند ہے تو اس سے نکاح نہ ہوگا جبکہ پہلے نکاح نہ تھا یہی صحیح ہے اور اس پر فتوی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۲
جواھر اخلاطی کتاب النکاح فصل فیما ینعقد النکاح من الالفاظ قلمی نسخہ ص۴۸
جواھر اخلاطی کتاب النکاح فصل فیما ینعقد النکاح من الالفاظ قلمی نسخہ ص۴۸
بالجملہ اخبار وانشا کا تبائن بدیہی تو ارادہ اخبار ارادہ منافی اور ارادہ منافی عقد کا نافی۔
۷اقول : وبتقریری ھذا اندفع ماعسی ان یتوھم من ان النکاح مما یستوی فیہ الھزل والجد فلایحتاج الی نیۃ وقصد حتی لو تکلما بالایجاب والقبول ھازلین اومکرھین ینعقد فکان المناط مجرد التلفظ وان عدم القصد وذلك لان بونا بینا بین عدم القصد وقصد العدم بارادۃ شیئ اخرغیرہ مما یحتملہ اللفظ ومالایحتاج الی القصد یصح مع الاول دون الاخرا لاتری انہ لوقال انت طالق ولم ینو شیأ طلقت وان نوی الطلاق عن الوثاق اوالاخبار عن طلاق سابق صادقا او کاذبالم تطلق دیانۃ کما نصوا علیہ اتقن ھذا فانہ ھو التحقیق الحقیق بالقبول وان خفی بعضہ علی بعض الفحول علی ان ھذا انما ھو فی اللفظ الصریح اما الکنایات فلاشك فی توقفھا علی النیۃ کما فی الطلاق والعتاق۔
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)میری اس تقریر سے اس شبہ کا ازالہ ہوگیا جس میں کہا گیا کہ نکاح تو ان امور میں سے ہے جن میں مذاق اور قصد برابر ہیں لہذا اس میں قصد اور ارادہ کی ضرورت نہیں حتی کہ جب مرد و عورت نے ایجاب قبول کے کلمات بول دئیے اگرچہ مذاق یا جبر سے کہے ہوں تونکاح ہوجا ئے گا اس کی صحت کے لیے صرف الفاظ کی ادائیگی کافی ہے اگرچہ قصد نہ بھی ہو(لہذا بصورت اقرار نکاح صحیح ہونا چاہئے)اس شبہہ کے ازالہ کی وجہ یہ ہے کہ قصد نہ ہونا اور بات ہے اور نکاح کے خلاف کسی محتمل لفظ کا قصد کرنا اور بات ہے ان دونوں میں بڑا فرق ہے وہ امور جو قصد کے بغیر ہوجاتے ہیں وہ پہلی صورت یعنی قصد نہ ہونے کی صورت میں صحیح ہوجاتے ہیں۔ مگر کسی مخالف چیز کے قصد سے وہ صحیح نہیں ہوتے۔ آپ دیکھئے کہ طلاق کا لفظ بغیر ارادہ کے بولا جائے توطلاق ہوجاتی ہے لیکن اگر یہی لفظ طلاق بول کر کسی دوسرے معنی کا ارادہ کیا جائے مثلا طلاق بول کر باندھے ہوئے کو کھولنا مراد لیا جائے یا انت طالق کہہ کر پہلی دی ہوئی طلاق کو سچی یا جھوٹی خبر اور حکایت کا قصد وارادہ کیا جائے تو دیانۃ یعنی عنداﷲ طلاق نہ ہوگی جیسا کہ فقہاء کرام نے اس کو واضح بیان کیا ہے۔ اس فرق کو محفوظ کرو کیونکہ یہ تحقیق قابل قبول ہے۔ اگرچہ یہ قدرے بعض بڑی شخصیات پر مخفی رہا ہے تاہم یہ بیان صریح الفاظ کے متعلق ہے لیکن کنایہ کے الفاظ بہر حال نیت کے محتاج ہیں جیسا کہ طلاق وعتاق میں صریح وکنایہ کا فرق موجود ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ ظاہرا اعوام ان الفاظ سے ارادہ انشاء کو جانتے بھی نہ ہوں گے بلکہ جو ان کا مفہوم متبادر ہے یعنی اخبار وہی ان کا مراد ومقصود ہوگا اور سامعین بھی انھیں سن کر یہی سمجھیں گے تو جبکہ واقع میں اس سے پہلے نکاح نہ ہوا تو صرف یہ سوال وجواب واخبار غلط کیونکر انھیں عنداﷲ زوج وزوجہ بنا سکتے ہیں
ھذا مما لایعقل ولایستاھل ان یقبل
یہ غیر معقول ہے اور قبول کرلینے کے قابل نہیں
۷اقول : وبتقریری ھذا اندفع ماعسی ان یتوھم من ان النکاح مما یستوی فیہ الھزل والجد فلایحتاج الی نیۃ وقصد حتی لو تکلما بالایجاب والقبول ھازلین اومکرھین ینعقد فکان المناط مجرد التلفظ وان عدم القصد وذلك لان بونا بینا بین عدم القصد وقصد العدم بارادۃ شیئ اخرغیرہ مما یحتملہ اللفظ ومالایحتاج الی القصد یصح مع الاول دون الاخرا لاتری انہ لوقال انت طالق ولم ینو شیأ طلقت وان نوی الطلاق عن الوثاق اوالاخبار عن طلاق سابق صادقا او کاذبالم تطلق دیانۃ کما نصوا علیہ اتقن ھذا فانہ ھو التحقیق الحقیق بالقبول وان خفی بعضہ علی بعض الفحول علی ان ھذا انما ھو فی اللفظ الصریح اما الکنایات فلاشك فی توقفھا علی النیۃ کما فی الطلاق والعتاق۔
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)میری اس تقریر سے اس شبہ کا ازالہ ہوگیا جس میں کہا گیا کہ نکاح تو ان امور میں سے ہے جن میں مذاق اور قصد برابر ہیں لہذا اس میں قصد اور ارادہ کی ضرورت نہیں حتی کہ جب مرد و عورت نے ایجاب قبول کے کلمات بول دئیے اگرچہ مذاق یا جبر سے کہے ہوں تونکاح ہوجا ئے گا اس کی صحت کے لیے صرف الفاظ کی ادائیگی کافی ہے اگرچہ قصد نہ بھی ہو(لہذا بصورت اقرار نکاح صحیح ہونا چاہئے)اس شبہہ کے ازالہ کی وجہ یہ ہے کہ قصد نہ ہونا اور بات ہے اور نکاح کے خلاف کسی محتمل لفظ کا قصد کرنا اور بات ہے ان دونوں میں بڑا فرق ہے وہ امور جو قصد کے بغیر ہوجاتے ہیں وہ پہلی صورت یعنی قصد نہ ہونے کی صورت میں صحیح ہوجاتے ہیں۔ مگر کسی مخالف چیز کے قصد سے وہ صحیح نہیں ہوتے۔ آپ دیکھئے کہ طلاق کا لفظ بغیر ارادہ کے بولا جائے توطلاق ہوجاتی ہے لیکن اگر یہی لفظ طلاق بول کر کسی دوسرے معنی کا ارادہ کیا جائے مثلا طلاق بول کر باندھے ہوئے کو کھولنا مراد لیا جائے یا انت طالق کہہ کر پہلی دی ہوئی طلاق کو سچی یا جھوٹی خبر اور حکایت کا قصد وارادہ کیا جائے تو دیانۃ یعنی عنداﷲ طلاق نہ ہوگی جیسا کہ فقہاء کرام نے اس کو واضح بیان کیا ہے۔ اس فرق کو محفوظ کرو کیونکہ یہ تحقیق قابل قبول ہے۔ اگرچہ یہ قدرے بعض بڑی شخصیات پر مخفی رہا ہے تاہم یہ بیان صریح الفاظ کے متعلق ہے لیکن کنایہ کے الفاظ بہر حال نیت کے محتاج ہیں جیسا کہ طلاق وعتاق میں صریح وکنایہ کا فرق موجود ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ ظاہرا اعوام ان الفاظ سے ارادہ انشاء کو جانتے بھی نہ ہوں گے بلکہ جو ان کا مفہوم متبادر ہے یعنی اخبار وہی ان کا مراد ومقصود ہوگا اور سامعین بھی انھیں سن کر یہی سمجھیں گے تو جبکہ واقع میں اس سے پہلے نکاح نہ ہوا تو صرف یہ سوال وجواب واخبار غلط کیونکر انھیں عنداﷲ زوج وزوجہ بنا سکتے ہیں
ھذا مما لایعقل ولایستاھل ان یقبل
یہ غیر معقول ہے اور قبول کرلینے کے قابل نہیں
۷اقول : فقد بان بحمد اﷲ ضعف مانقل فی التنویر والدر عن الذخیرۃ بعد ماقدما عدم الانعقاد بالاقرار علی المختار کما سمعت حیث قال عقیبہ وقیل ان کان بمحضر من الشھود صح وجعل الاقرار انشاء وھو الاصح ذخیرۃ اھ فاعلم اولا ان المولیین المحققین رحمھما اﷲ تعالی قد اشارا الی تضیعف ھذا بوجوہ اماالمصنف فبتقدیمہ الاول وتعبیرہ ھذا بقیل واما المؤلف فبتقریرہ علی الامرین وتعلیلہ للاول فان التعلیل دلیل التعویل کما نص علیہ فی العقود الدریۃ وغیرھا فافھم و۸ثانیا ان تاملت ماالقینا علیك فوجوہ ضعفہ لاتخفی لدیك ط ففلما تقدم فی کلامی وکلمات العلماء الکرام علی عدم الانعقاد بالاقرار من دلائل لاترد ولاترام ولاشك ان الاقوی دلیلااحق تعویلا و اما ثانیا فلما لہ من کثرۃ الترجیحات وقد تقرران العمل بما علیہ الاکثر
اقول : بحمداﷲ تعالی تنویر اوردر میں جو ذخیرہ سے نقل کیا گیا جہاں انھوں نے اقرار انکاح کو مختار قول کے مطابق نکاح قراردیا جیسا کہ تو نے سنا اور اس کے بعد یہ کہا(کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اقرار گواہوں کے سامنے ہو تو نکاح صحیح ہے اور اقرار کو انھوں نے انشاء قرار دیا ہے اور ذخیرہ کے حوالے سے اس کو اصح کہا)اس نقل کا ضعف واضح ہوگیا تو غور کرو اولا اس لیے کہ(شامی اور طحطاوی رحمہما اﷲ دونوں قابل احترام حضرات نے اس کے ضعف پر کئی وجوہ سے اشارہ فرمایا اور بیشك مصنف(صاحب در)نے پہلے قول یعنی عدم انعقاد کو پہلے ذکر اور دوسرے کو “ قیل “ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور مؤلف یعنی صاحب ذخیرہ نے اگرچہ دونوں قولوں کو ذکر کیا لیکن وجہ اور دلیل صرف پہلے قول کی ذکر کی جو کہ قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ یہ قاعدہ عقود الدریہ وغیرہ میں بیان ہے غور کرو ___دوسرا اس لیے کہ میں نے جو وجوہ ضعف آپ کو بیان کئے ہیں اگر آپ نے غور کیا ہو تو اس نقل کے ضعف کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں مثلا اول یہ کہ میں نے اور دیگر علماء کرام نے جو کلمات ذکر کئے ہیں کہ اقرار سے نکاح نہیں ہوتا اور اس پر جو دلائل پیش کئے گئے وہ ناقابل تردید ہیں اور بلاشك وشبہہ جو دلائل وزنی ہوں گے وہ زیادہ قابل اعتماد ہونگے ثانیا اس لیے کہ اس پر کثیر ترجیحات ذکر کی گئی ہیں اوریہ بات مسلمہ ہے کہ جس پر اکثریت ہو وہ عمل کے لیے
اقول : بحمداﷲ تعالی تنویر اوردر میں جو ذخیرہ سے نقل کیا گیا جہاں انھوں نے اقرار انکاح کو مختار قول کے مطابق نکاح قراردیا جیسا کہ تو نے سنا اور اس کے بعد یہ کہا(کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اقرار گواہوں کے سامنے ہو تو نکاح صحیح ہے اور اقرار کو انھوں نے انشاء قرار دیا ہے اور ذخیرہ کے حوالے سے اس کو اصح کہا)اس نقل کا ضعف واضح ہوگیا تو غور کرو اولا اس لیے کہ(شامی اور طحطاوی رحمہما اﷲ دونوں قابل احترام حضرات نے اس کے ضعف پر کئی وجوہ سے اشارہ فرمایا اور بیشك مصنف(صاحب در)نے پہلے قول یعنی عدم انعقاد کو پہلے ذکر اور دوسرے کو “ قیل “ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور مؤلف یعنی صاحب ذخیرہ نے اگرچہ دونوں قولوں کو ذکر کیا لیکن وجہ اور دلیل صرف پہلے قول کی ذکر کی جو کہ قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ یہ قاعدہ عقود الدریہ وغیرہ میں بیان ہے غور کرو ___دوسرا اس لیے کہ میں نے جو وجوہ ضعف آپ کو بیان کئے ہیں اگر آپ نے غور کیا ہو تو اس نقل کے ضعف کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں مثلا اول یہ کہ میں نے اور دیگر علماء کرام نے جو کلمات ذکر کئے ہیں کہ اقرار سے نکاح نہیں ہوتا اور اس پر جو دلائل پیش کئے گئے وہ ناقابل تردید ہیں اور بلاشك وشبہہ جو دلائل وزنی ہوں گے وہ زیادہ قابل اعتماد ہونگے ثانیا اس لیے کہ اس پر کثیر ترجیحات ذکر کی گئی ہیں اوریہ بات مسلمہ ہے کہ جس پر اکثریت ہو وہ عمل کے لیے
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶۔ ۱۸۵
کمافی العقود وغیرھا و اما ثالثا فلان مالہ من علامۃ الافتاء اشد قوۃ واعظم وقعۃ مما لھذا فقد نصوا ان علیہ الفتوی وبہ یفتی اکد مایکون من الفاظ الفتوی و اما رابعا فلان ماعلیہ المتون وھی العمدۃ والیھا الرکون فھذہ والاربعۃ فقد ظھرت من قبل
و اما خامسا فلما تسمع انفا قد اظھر لنا المولی الامام برھان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرھما فی ذخیرتہ مأخذ خیرتہ اذبنی ذلك انہ ذکر محرر المذھب محمد رضی اﷲ تعالی عنہ فی صلح الاصل ادعی رجل علی امرأۃ نکاحا فجحدت فصا لحھا بما ئۃ علی ان تقربھذا فاقرت فھذا الاقرار جائز والمال لازم اھ فظن المولی البرھان ان محمدا اجاز النکاح بالاقرار وقد علم ان ھذا لایصح الابمحضر من الشھود ففرع علیہ
قابل قبول ہے جیساکہ عقود وغیرہ میں ہے ثالثا اس لیے کہ جس میں فتوی کی قوی علامت پائی جائے وہ قوت اور وقعت کے لحاظ سے پختہ اور وزنی ہوتا ہے چنانچہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے “ علیہ الفتوی “ اور “ بہ یفتی “ کے الفاظ فتوی کے باب میں سب سے زیادہ پختہ الفاظ ہیں۔ رابعا اس لیے کہ کتب متون جس کو معتمد علیہ قرار دیں اس کی طرف ہی رجوع کرنا ہوتا ہے یہ چاروں امورپہلے واضح ہوچکے ہیں خامسا اس لیے جو آپ ابھی سنیں گے کہ امام برہان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرہمانے اپنے ذخیرہ میں جس کو اپنے پسندیدہ امور کا ماخذ ہمارے لیے ظاہر کیا ہے اس کی بنیاد محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے ذکر کردہ مسئلہ پر ہے جس کو انھوں نے اصل یعنی مبسوط کے “ باب الصلح “ میں بیان کیا ہے وہ یہ کہ ایك شخص نے ایك عورت کے بارے میں دعوی بیان کیا کہ یہ میری منکوحہ ہے جبکہ عورت نکاح سے انکاری ہے تو اس نے عورت سے سوروپے کے بدلے صلح کرکے اس سے نکاح کا اقرار کرالیا تو عورت کا اقرار جائزاور مال لازم ہوجائے گا اھ اس سے محترم برہان الدین کو گمان ہواکہ امام محمد نے عورت کے اقرار سے نکاح کو جائز قراردیا اور علامہ برہان الدین نے یقین کرلیا کہ یہ اقرار گواہوں کی موجود گی میں ہوا تو صحیح ہوگا
و اما خامسا فلما تسمع انفا قد اظھر لنا المولی الامام برھان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرھما فی ذخیرتہ مأخذ خیرتہ اذبنی ذلك انہ ذکر محرر المذھب محمد رضی اﷲ تعالی عنہ فی صلح الاصل ادعی رجل علی امرأۃ نکاحا فجحدت فصا لحھا بما ئۃ علی ان تقربھذا فاقرت فھذا الاقرار جائز والمال لازم اھ فظن المولی البرھان ان محمدا اجاز النکاح بالاقرار وقد علم ان ھذا لایصح الابمحضر من الشھود ففرع علیہ
قابل قبول ہے جیساکہ عقود وغیرہ میں ہے ثالثا اس لیے کہ جس میں فتوی کی قوی علامت پائی جائے وہ قوت اور وقعت کے لحاظ سے پختہ اور وزنی ہوتا ہے چنانچہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے “ علیہ الفتوی “ اور “ بہ یفتی “ کے الفاظ فتوی کے باب میں سب سے زیادہ پختہ الفاظ ہیں۔ رابعا اس لیے کہ کتب متون جس کو معتمد علیہ قرار دیں اس کی طرف ہی رجوع کرنا ہوتا ہے یہ چاروں امورپہلے واضح ہوچکے ہیں خامسا اس لیے جو آپ ابھی سنیں گے کہ امام برہان الدین محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد قدس سرہمانے اپنے ذخیرہ میں جس کو اپنے پسندیدہ امور کا ماخذ ہمارے لیے ظاہر کیا ہے اس کی بنیاد محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے ذکر کردہ مسئلہ پر ہے جس کو انھوں نے اصل یعنی مبسوط کے “ باب الصلح “ میں بیان کیا ہے وہ یہ کہ ایك شخص نے ایك عورت کے بارے میں دعوی بیان کیا کہ یہ میری منکوحہ ہے جبکہ عورت نکاح سے انکاری ہے تو اس نے عورت سے سوروپے کے بدلے صلح کرکے اس سے نکاح کا اقرار کرالیا تو عورت کا اقرار جائزاور مال لازم ہوجائے گا اھ اس سے محترم برہان الدین کو گمان ہواکہ امام محمد نے عورت کے اقرار سے نکاح کو جائز قراردیا اور علامہ برہان الدین نے یقین کرلیا کہ یہ اقرار گواہوں کی موجود گی میں ہوا تو صحیح ہوگا
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ صلح الاصل کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی ۲ / ۶۶۔ ۲۶۵
ان الاصح الصحۃ لوالشھود حضورا قال العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف وای شیئ اکون انا حتی اتکلم بین یدی ھذا الامام الجلیل قدس سرہ الجمیل ولکن کثرۃ تصحیحات الائمۃ وجزمھم فی الجانب الاخر بما تجرؤنی ان ۹اقول : وباﷲ التوفیق لامساس لما فی الاصل بھذا الفصل فان محمدا انما اجاز الاقرار والزم المال فانما افاد جواز الصلح و انقطاع الجدال بحیث لوعادت المرأ ۃ بعد ذلك الی الجحود لم یسمعہ القاضی امالو لم یجز الصلح لم یلزم المال واقرت المرأۃ علی انکارھا ھذا ھو حاصل جواز الصلح وعدم جوازہ کمالایخفی واین ھذا من انعقاد العقد فی الواقع فیما بینھم وبین ربھم العلیم الخبیر تبارك وتعالی الیس قد صرحوا انہ لایطیب لہ البدل ان کان کاذ باولو ادعی رجل علی اخربیع دارہ مثلا فاقربہ افتداءعن یمینہ اوفرارا عن ذل الجثوبین یدی القاضی ثبت البیع قضاء وجرت الاحکام من وجوب التسلیم ولزوم الشفعۃ وغیر ذلك لکن ھذا المدعی الکاذب انما یأخذ جمرۃ نار ثم السران المصالحین
اسی لیے انھوں نے اس کے بعد یہ تفریع قائم کی کہ اصح بات یہ ہے کہ گواہ موجود ہو تو اقرار سے نکاح صحیح ہوگا یہ عبد ضعیف(اﷲ تعالی مہربان ا س پر مہربانی فرمائے) میں کون ہوں جوا س عظیم امام کے سامنے بات کروں لیکن تصحیح کی کثرت اور ائمہ کرام کا جزم اس کے خلاف ہے جس کی وجہ سے مجھے جرأت ہو رہی ہے کہ میں بات کروں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ اصل کے بیان کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے صرف اقرار کو جائزا ور مال کو لازم فرمایا ہے جس کا مفاد صرف صلح کا جواز اور جھگڑا ختم کرنا ہے حتی کہ اگر عورت ا س کے بعد دوبارہ انکار کرے تو قاضی اس کی سماعت نہیں کرے گا لیکن اگر صلح کو جائز نہ مانا جائے تو مال لازم نہیں ہوگا اور عورت کا انکار باقی رہے گا صلح کے جواز اور عدم جوازکا حاصل صرف یہی ہے جیسا کہ واضح ہے اس کافی الواقع عند اﷲ نکاح کے منعقد ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیا ایسی صورت میں مدعی کے جھوٹا ہونے پر معاوضہ کے اس کے لیے طیب نہ ہونے پر فقہاء نے تصریح نہیں کی ایك شخص دوسرے کے خلاف ا س کے مکان کی فروختگی کا جھوٹا دعوی کرے اور مدعی علیہ قسم سے بچنے کے لیے فروختگی کا اقرار کرلے یا قاضی کے ہاں پیشی کی رسوائی سے بچتے ہوئے اقرار کرلے تو اس صورت قضاء بیع ثابت ہو جائےگی اور اس پر مکان کا قبضہ دینا اور شفعہ وغیرہ جیسے احکام جاری ہوں گے اس کے باوجود جھوٹے مدعی کی وصولی اس کے لیے جہنم کا انگارا ہے پھر دو صلح کرنے والوں نے
اسی لیے انھوں نے اس کے بعد یہ تفریع قائم کی کہ اصح بات یہ ہے کہ گواہ موجود ہو تو اقرار سے نکاح صحیح ہوگا یہ عبد ضعیف(اﷲ تعالی مہربان ا س پر مہربانی فرمائے) میں کون ہوں جوا س عظیم امام کے سامنے بات کروں لیکن تصحیح کی کثرت اور ائمہ کرام کا جزم اس کے خلاف ہے جس کی وجہ سے مجھے جرأت ہو رہی ہے کہ میں بات کروں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ اصل کے بیان کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے صرف اقرار کو جائزا ور مال کو لازم فرمایا ہے جس کا مفاد صرف صلح کا جواز اور جھگڑا ختم کرنا ہے حتی کہ اگر عورت ا س کے بعد دوبارہ انکار کرے تو قاضی اس کی سماعت نہیں کرے گا لیکن اگر صلح کو جائز نہ مانا جائے تو مال لازم نہیں ہوگا اور عورت کا انکار باقی رہے گا صلح کے جواز اور عدم جوازکا حاصل صرف یہی ہے جیسا کہ واضح ہے اس کافی الواقع عند اﷲ نکاح کے منعقد ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیا ایسی صورت میں مدعی کے جھوٹا ہونے پر معاوضہ کے اس کے لیے طیب نہ ہونے پر فقہاء نے تصریح نہیں کی ایك شخص دوسرے کے خلاف ا س کے مکان کی فروختگی کا جھوٹا دعوی کرے اور مدعی علیہ قسم سے بچنے کے لیے فروختگی کا اقرار کرلے یا قاضی کے ہاں پیشی کی رسوائی سے بچتے ہوئے اقرار کرلے تو اس صورت قضاء بیع ثابت ہو جائےگی اور اس پر مکان کا قبضہ دینا اور شفعہ وغیرہ جیسے احکام جاری ہوں گے اس کے باوجود جھوٹے مدعی کی وصولی اس کے لیے جہنم کا انگارا ہے پھر دو صلح کرنے والوں نے
ارادا عقد الصلح وھو انما یصور بارجاعہ الی عقدمن العقود الشرعیۃ فلابد من حملہ علی اشبہ عقد بہ ضرورۃ تصحیح الکلام وقطع الخصام اما ھھنا اعنی فیما نحن فیہ فلم یریدا عقداوانما اخبرا خبرا کذبا و الکذب وان یرج علی الناس فلایصحح عند اﷲ اصلافوضح الفرق وزال الاشتباہ والحمد ﷲ قال فی الھدایۃ اذا ادعی رجل علی امرأۃ نکاحا وھی تجحد فصالحتہ علی مال بدلتہ حتی یترك الدعوی جاز وکان فی معنی الخلع لانہ امکن تصحیحہ خلعا فی جانبہ بناء علی زعمہ وفی جانبھا بذلا للمال لدفع الخصومۃ قالوا ولایحل لہ ان یأخذ فیما بینہ وبین اﷲ تعالی اذا کان مبطلا فی دعواہ اھ قال فی الکفایۃ ھذا عام فی جمیع انواع الصلح اھوفی الدرالمختار عن القھستاتی اما الصلح علی بعض الدین فیصح ویبرأعن دعوی الباقی ای قضاء لادیانۃ ولذا لوظفر بہ اخذہ اھ
جب صلح کا عہد کر لیا تو حکمت کا تقاضا ہے کہ اس معاہدہ کو کسی شرعی عقد کی صورت دینے کے لیے اس کے قریب ترین عقد پر محمول کیا جائے تاکہ ان دونوں کی کلام کو صحیح بنایا جائے اور ان کے جھگڑے کو ختم کیاجاسکے لیکن یہاں ہمارے زیر بحث مسئلہ میں تو مرد وعورت نے کوئی عقد نہیں کیا بلکہ دونوں نے جھوٹی خبر دی جھوٹ اگرچہ لوگوں پر اثر انداز ہوجاتا ہے لیکن عنداﷲ موثر نہیں ہوسکتا پس فرق واضح اور اشتباہ ختم ہوا ﷲ الحمد
ہدایہ میں فرمایا اگر کسی مرد نے کسی عورت پر اس سے نکاح کا دعوی کیا جبکہ عورت انکاری ہے اور دعوی کو ختم کرنے کے لیے مال دے کر صلح کرتی ہے تو یہ صلح جائز ہے اوراس صلح کو خلع کے معنی پر محمول کیا جائیگا کیونکہ مرد کی طرف سے اس کے دعوی کی بنا پر اس معاوضہ کی وصولی کو خلع قرار دینا صحیح ہے اور عورت کی طرف مال کی ادائیگی جھگڑے کو ختم کرنے کی کارروائی تصور کیا جائیگا اس کے باوجود فقہاء کرام نے یہاں فرمایا کہ اگر وہ مرد جھوٹا ہے تواس کو عورت سے معاوضہ لینا حلال نہیں ہے اھ اور کفایہ میں کہا کہ یہ ہرقسم کی صلح کو شامل ہے اھ درمختار میں قہستانی سے منقول ہے کہ قرض کے کچھ حصے پر صلح ہوجائے تو جائز ہے اور باقی قرض سے قضاء بری ہوجائے گا دیانۃ یعنی عنداﷲ بری نہ ہوگا اسی لیے اگر قرضخواہ کو موقع ملے تو باقی کو وصول کرے اھ
جب صلح کا عہد کر لیا تو حکمت کا تقاضا ہے کہ اس معاہدہ کو کسی شرعی عقد کی صورت دینے کے لیے اس کے قریب ترین عقد پر محمول کیا جائے تاکہ ان دونوں کی کلام کو صحیح بنایا جائے اور ان کے جھگڑے کو ختم کیاجاسکے لیکن یہاں ہمارے زیر بحث مسئلہ میں تو مرد وعورت نے کوئی عقد نہیں کیا بلکہ دونوں نے جھوٹی خبر دی جھوٹ اگرچہ لوگوں پر اثر انداز ہوجاتا ہے لیکن عنداﷲ موثر نہیں ہوسکتا پس فرق واضح اور اشتباہ ختم ہوا ﷲ الحمد
ہدایہ میں فرمایا اگر کسی مرد نے کسی عورت پر اس سے نکاح کا دعوی کیا جبکہ عورت انکاری ہے اور دعوی کو ختم کرنے کے لیے مال دے کر صلح کرتی ہے تو یہ صلح جائز ہے اوراس صلح کو خلع کے معنی پر محمول کیا جائیگا کیونکہ مرد کی طرف سے اس کے دعوی کی بنا پر اس معاوضہ کی وصولی کو خلع قرار دینا صحیح ہے اور عورت کی طرف مال کی ادائیگی جھگڑے کو ختم کرنے کی کارروائی تصور کیا جائیگا اس کے باوجود فقہاء کرام نے یہاں فرمایا کہ اگر وہ مرد جھوٹا ہے تواس کو عورت سے معاوضہ لینا حلال نہیں ہے اھ اور کفایہ میں کہا کہ یہ ہرقسم کی صلح کو شامل ہے اھ درمختار میں قہستانی سے منقول ہے کہ قرض کے کچھ حصے پر صلح ہوجائے تو جائز ہے اور باقی قرض سے قضاء بری ہوجائے گا دیانۃ یعنی عنداﷲ بری نہ ہوگا اسی لیے اگر قرضخواہ کو موقع ملے تو باقی کو وصول کرے اھ
حوالہ / References
ہدایہ کتاب الصلح مطبع یوسفی لکھنو ۳ / ۲۴۷
کفایہ مع فتح القدیر کتاب الصلح نوریہ رضویہ سکھر ۷ / ۳۸۹
درمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۴۲
کفایہ مع فتح القدیر کتاب الصلح نوریہ رضویہ سکھر ۷ / ۳۸۹
درمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۴۲
وفی الشامیۃ عن المقدسی عن المحیط قضاہ الالف فانکر الطالب فصالحہ بمائۃ صح ولایحل لہ اخذھا دیانۃ اھ وسرد النقول فی ذاك یطول وقال فی الھدایۃ الاصل ان الصلح یجب حملہ علی اقرب العقود الیہ واشبھھابہ احتیالا لتصحیح تصرف العاقد ما امکن اھ فبما اسمعتك یتحصل الجواب عن تمسك المولی البرھان بثلثۃ اوجہ ۱۱الاول ارجاع الصلح الی تلك العقود تقدیر وتصویر ضروری فلایتعدی ۱۲الثانی انما تثبت ھذہ العقود بتلك الالفاظ فی ضمن الصلح وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا الاتری ان قولہ اعتق عبدك ھذا عنی بالف یتضمن الابتیاع مع انہ لایعقد قصدا بلفظ الاعتاق ۱۳الثالث ان ھذہ العقود انما تقدر قضاء ولاتؤ ثر فی الدیانۃ
اور فتاوی شامی میں ہے مقدسی کے حوالے سے محیط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے قرض خواہ کو ہزار دیا مگر قرضخواہ وصولی سے منکر ہے تو مقروض نے ایك صد پر صلح کر لی توصحیح ہے لیکن قرض خواہ کو دیانۃ لینا حلال نہیں ہےاھ یہاں تمام نقول کو ذکر کرنا ناطوالت کا باعث ہوگا
ہدایہ میں فر مایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ صلح کرنے والے کے تصرف کو صحیح قرار دینے کے لیے صلح کے قریب ترین کسی عقد پر محمول کرنا ضروری ہے تاکہ حتی الامکان اس کے عقد کو صحیح بنایا جاسکے اھ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے مولانا برھان الدین کی دلیل کے تین جواب ہوئے پہلا یہ کہ اس صلح کو عقود کی طرف راجح کرنا صرف فرضی صورت ہے جو کہ ایك ضرورت کے لیے ہے اس ضرورت کے بغیر تجاوز کرنا درست نہیں دوسرا یہ کہ ان عقود کا ثبوت صلح کے الفاظ میں ضمنا ہوتا ہے جبکہ بہت سے امور ضمنا تو ثابت ہوتے ہیں لیکن مقصودا ثابت نہیں ہوتے آپ غور کریں کہ جب کوئی کہتا ہے کہ تو اپنے غلام کو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے آزاد کردے تو یہاں ضمنا بیع ہوجاتی ہے جبکہ “ آزاد کردے “ کے لفظ سے قصدا بیع منعقد نہیں ہوتی تیسرا یہ کہ یہ عقود صلح کے ضمن میں صرف قضاء نافذ ہوتے ہیں
اور فتاوی شامی میں ہے مقدسی کے حوالے سے محیط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے قرض خواہ کو ہزار دیا مگر قرضخواہ وصولی سے منکر ہے تو مقروض نے ایك صد پر صلح کر لی توصحیح ہے لیکن قرض خواہ کو دیانۃ لینا حلال نہیں ہےاھ یہاں تمام نقول کو ذکر کرنا ناطوالت کا باعث ہوگا
ہدایہ میں فر مایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ صلح کرنے والے کے تصرف کو صحیح قرار دینے کے لیے صلح کے قریب ترین کسی عقد پر محمول کرنا ضروری ہے تاکہ حتی الامکان اس کے عقد کو صحیح بنایا جاسکے اھ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے مولانا برھان الدین کی دلیل کے تین جواب ہوئے پہلا یہ کہ اس صلح کو عقود کی طرف راجح کرنا صرف فرضی صورت ہے جو کہ ایك ضرورت کے لیے ہے اس ضرورت کے بغیر تجاوز کرنا درست نہیں دوسرا یہ کہ ان عقود کا ثبوت صلح کے الفاظ میں ضمنا ہوتا ہے جبکہ بہت سے امور ضمنا تو ثابت ہوتے ہیں لیکن مقصودا ثابت نہیں ہوتے آپ غور کریں کہ جب کوئی کہتا ہے کہ تو اپنے غلام کو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے آزاد کردے تو یہاں ضمنا بیع ہوجاتی ہے جبکہ “ آزاد کردے “ کے لفظ سے قصدا بیع منعقد نہیں ہوتی تیسرا یہ کہ یہ عقود صلح کے ضمن میں صرف قضاء نافذ ہوتے ہیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۴۷۵
ہدایہ کتاب الصلح مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۲۴۶
ہدایہ کتاب الصلح مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۲۴۶
اذا کان مبطلا ونحن لاننکران باقرار ھما یثبت النکاح قضاء وانما الکلام فی الدیانۃ فان کان مراد الامام البرھان ھو الصحۃ قضاء وقد یستأنس لہ بقولہ عطراﷲ مرقدہ جعل الاقرار انشاء حیث لم یقل کان انشاء ویعینہ بناؤہ الامر علی عبارۃ الاصل فانھا کما علمت لاتفید الاالجواز قضاء فھذا حق لامریۃ فیہ ولاغروفی المصیر الیہ تصحیحا لکلام ھذا الامام وتحصیلا للوفاق بینہ وبین غیرہ من الائمۃ الاعلام وان کان فیہ بعد بالنظر الی ظاھر الکلام والافلاشك ان الحق مع ھؤلاء الجھابذۃ الکرام واﷲ تعالی اعلم بحقیقۃ الامر فی کل مرام والحمد ﷲ مولینا الھادی ذی الجلال والاکرام۔
صلح جھوٹ پر مبنی ہو تو دیانۃ نافذ نہیں ہوتے اور یہ بات ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مر د و عورت کے قاضی کے ہاں اقرار سے قضاء نکاح ہوجاتا ہے جبکہ ہماری گفتگو دیانت یعنی عنداﷲ کے بارے میں ہے تو اگر امام برہان الدین کی مراد یہ ہو کہ صرف قضاء نکاح ہوجاتا ہے جبکہ ان کاکلام اس طرف مائل ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے اقرار کو انشاء بنایا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ وہ انشاء ہے اور پھر انھوں نے اپنی بات کا مدار اصل یعنی مبسوط کی عبارت کو بنایا ہے جس سے صرف قضاء جواز ثابت ہے اگر ان کا یہی مقصد ہے تو بجاا ور حق ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور اگر اس عظیم امام کے کلام کودرست بنانے کے لیے اس مقصد کی طرف راجع کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ ان کے ظاہر کلام سے یہ مقصد بعید نظر آتاہے تاہم اس سے ان کے اور دیگر ائمہ کرام کے کلام میں موافقت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر ان کا مذکورہ مقصد نہ ہو تو پھر اس میں کوئی شك نہیں کہ ان کے مقابلہ میں دیگر ائمہ کا کلام حق ہے اور ہر مقصد میں اﷲ تعالی ہی حقیقت کو بہتر جاننے والا ہے اﷲ تعالی رہنمائی فرمانے والے کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ (ت)
ہاں اگر مرد وزن نے وہ الفاظ کہے جوامر ماضی سے خبردینے کے لیے متعین نہ تھے مثلا مرد نے کہا یہ میری زوجہ ہے عورت بولی یہ میراشوہر ہے یا مرد نے کہا میں اس کا خاوند ہوں عورت بولی میں اس کی جورو ہوں اور دونوں نے ان الفاظ سے عقد نکاح کرنے کی نیت کی یعنی ان میں کسی کا قصد اخبار نہ تھا دونوں نے باارادہ انشاء کہے تو بیشك یہ الفاظ عقد نکاح ٹھہریں گے کہ جب قصد اخبار نہیں تو یہ لفظ اقرار نہیں اور جب اخبار ماضی کے لیے متعین نہیں تو ارادہ انشاء کے صالح ہیں تو انھوں نے الفاظ صالحہ سے قصد انشاء کیا اور اسی قدر تحقیق ایجاب وقبول کے لیے بس ہے بخلاف ان الفاظ کے جو اخبار الماضی کے سوا دوسرے معنی کے محتمل نہ ہوں مثلا کہیں باہم ہمارا نکاح ہوچکا ہے کہ اب اخبار میں متعین اور انشاء سے مبائن
صلح جھوٹ پر مبنی ہو تو دیانۃ نافذ نہیں ہوتے اور یہ بات ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مر د و عورت کے قاضی کے ہاں اقرار سے قضاء نکاح ہوجاتا ہے جبکہ ہماری گفتگو دیانت یعنی عنداﷲ کے بارے میں ہے تو اگر امام برہان الدین کی مراد یہ ہو کہ صرف قضاء نکاح ہوجاتا ہے جبکہ ان کاکلام اس طرف مائل ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے اقرار کو انشاء بنایا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ وہ انشاء ہے اور پھر انھوں نے اپنی بات کا مدار اصل یعنی مبسوط کی عبارت کو بنایا ہے جس سے صرف قضاء جواز ثابت ہے اگر ان کا یہی مقصد ہے تو بجاا ور حق ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور اگر اس عظیم امام کے کلام کودرست بنانے کے لیے اس مقصد کی طرف راجع کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ ان کے ظاہر کلام سے یہ مقصد بعید نظر آتاہے تاہم اس سے ان کے اور دیگر ائمہ کرام کے کلام میں موافقت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر ان کا مذکورہ مقصد نہ ہو تو پھر اس میں کوئی شك نہیں کہ ان کے مقابلہ میں دیگر ائمہ کا کلام حق ہے اور ہر مقصد میں اﷲ تعالی ہی حقیقت کو بہتر جاننے والا ہے اﷲ تعالی رہنمائی فرمانے والے کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ (ت)
ہاں اگر مرد وزن نے وہ الفاظ کہے جوامر ماضی سے خبردینے کے لیے متعین نہ تھے مثلا مرد نے کہا یہ میری زوجہ ہے عورت بولی یہ میراشوہر ہے یا مرد نے کہا میں اس کا خاوند ہوں عورت بولی میں اس کی جورو ہوں اور دونوں نے ان الفاظ سے عقد نکاح کرنے کی نیت کی یعنی ان میں کسی کا قصد اخبار نہ تھا دونوں نے باارادہ انشاء کہے تو بیشك یہ الفاظ عقد نکاح ٹھہریں گے کہ جب قصد اخبار نہیں تو یہ لفظ اقرار نہیں اور جب اخبار ماضی کے لیے متعین نہیں تو ارادہ انشاء کے صالح ہیں تو انھوں نے الفاظ صالحہ سے قصد انشاء کیا اور اسی قدر تحقیق ایجاب وقبول کے لیے بس ہے بخلاف ان الفاظ کے جو اخبار الماضی کے سوا دوسرے معنی کے محتمل نہ ہوں مثلا کہیں باہم ہمارا نکاح ہوچکا ہے کہ اب اخبار میں متعین اور انشاء سے مبائن
۱۴اقول : ھذ ا الذی قررتہ بتوفیق اﷲ تعالی یجب ان یکون ھوالمراد من قولہ الامام الاجل فقیہ النفس قاضیخاں رحمہ اﷲ تعالی حیث افاد بعد مااثر عن البیھقی والنوازل مااسلفنا قال مولنا رضی اﷲ تعالی عنہ ینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان اقرا بعقد ماض ولم یکن بینھما عقد لایکون نکاحا وان اقرت المرأۃ انہ زوجھا واقر االرجل انھا امرأتہ یکون ذلك نکاحا ویتضمن اقرارھما بذلك انشاء النکاح بینھما بخلاف مااذا اقرا بعقد لم یکن لان ذلك کذب محض وھو کما قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اذا قال الرجل لامرأتہ لست لی بامرأۃ ونوی بہ الطلاق یقع ویجعل کانہ قال لست لی بامرأۃ لانی قد طلقتك ولو قال لم اکن تزوجتھا ونوی بہ الطلاق لایقع لان ذلك کذب محض لایمکن تصحیحہ اھ قال فی الفتح علی مانقل عنہ فی ردالمحتار ان الحق ھذا التفصیل اھ
اقول : میں نے اﷲ تعالی کی توفیق سے جو تقریر کی ہے امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے قول کا بھی لازمی طور پر یہی مقصد ہے جہاں انھوں نے بیہقی اور نوازل کے قول کو ہمارے بیان کردہ کے مطابق نقل کرنے کے بعد افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مناسب ہے کہ جواب میں تفصیل سے کام لیا جائے کہ مرد وعورت نے ماضی میں نکاح نہ ہونے کے باوجود ماضی میں نکاح ہونے کا اقرار کیا تو اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا اور اگر عورت نے اقرار میں یوں کہا کہ یہ میرا خاوند ہے اور مردنے یوں کہا کہ یہ میری بیوی ہے تو یہ اقرار نکاح قرار پائے گا اور ان کے اقرار کے ضمن میں نکاح ایجاب ہوجائیگا بخلاف جبکہ ماضی کے نکاح کے بارے میں اقرار ہو کیونکہ وہ محض جھوٹ ہے۔ اس تفصیل کا ماحاصل ایسے ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری بیوی نہیں ہے اور اس نے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق ہو جائے گی گویا اس شخص نے یوں کہاں کہ تومیری بیوی نہیں کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے اور اگر اس نے بیوی کویوں کہا کہ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا اس قول سے اس نے طلاق کی نیت کی ہوتوطلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ ایسا جھوٹ ہے جس کی توجیہ نہیں ہوسکتی اھ ردالمحتار میں فتح سے نقل کیا گیا ہے کہ یہی تفصیل حق ہے اھ اس
اقول : میں نے اﷲ تعالی کی توفیق سے جو تقریر کی ہے امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے قول کا بھی لازمی طور پر یہی مقصد ہے جہاں انھوں نے بیہقی اور نوازل کے قول کو ہمارے بیان کردہ کے مطابق نقل کرنے کے بعد افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مناسب ہے کہ جواب میں تفصیل سے کام لیا جائے کہ مرد وعورت نے ماضی میں نکاح نہ ہونے کے باوجود ماضی میں نکاح ہونے کا اقرار کیا تو اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا اور اگر عورت نے اقرار میں یوں کہا کہ یہ میرا خاوند ہے اور مردنے یوں کہا کہ یہ میری بیوی ہے تو یہ اقرار نکاح قرار پائے گا اور ان کے اقرار کے ضمن میں نکاح ایجاب ہوجائیگا بخلاف جبکہ ماضی کے نکاح کے بارے میں اقرار ہو کیونکہ وہ محض جھوٹ ہے۔ اس تفصیل کا ماحاصل ایسے ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری بیوی نہیں ہے اور اس نے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق ہو جائے گی گویا اس شخص نے یوں کہاں کہ تومیری بیوی نہیں کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے اور اگر اس نے بیوی کویوں کہا کہ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا اس قول سے اس نے طلاق کی نیت کی ہوتوطلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ ایسا جھوٹ ہے جس کی توجیہ نہیں ہوسکتی اھ ردالمحتار میں فتح سے نقل کیا گیا ہے کہ یہی تفصیل حق ہے اھ اس
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح الفصل الاول نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
ردالمحتار کتاب النکاح الفصل الاول داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۶
ردالمحتار کتاب النکاح الفصل الاول داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۶
فانما المعنی علی مابینا ولیس المراد ان اللفظ اذالم یتعین للاخبار عن الماضی صح العقد وان نویا بہ الاخبار کیف وانہ لایکون ح الامحض کذب ویشھد لك بذلك مااستشھد بہ من مسئلۃ الطلاق فانہ ان قال لست لی بامرأۃ ولم ینوبہ انشاء الطلاق وانما قصدا الاخبار الکاذب لم یقع قطعا فانہ لایقع عند ذلك بالتصریح کما قدمنا فکیف بالکنایات الاتری انہ بنفسہ قید المسئلۃ بقولہ ونوی الطلاق فکذا یقال ھھنا ونویا النکاح ھذا ماصرت الیہ لما وعیت ثم بتوفیق المولی سبحانہ وتعالی رأیت العلامۃ عبدالعلی برجندی نقل فی شرح النقایۃ کلام الامام فقیہ النفس بالمعنی وعبرعنہ بعین ما فھمتہ وﷲ الحمد
وھذا نصہ فی الظھیریۃ لوقال بمحضرمن الشہود این زن من است فقالت ایں شوئی من ست اختلف المشائخ فیہ والصحیح انہ لاینعقد وفی فتاوی قاضی خان انما لایکون ھذا نکاحا اذا قالا ذلك علی سبیل الاخبار عن عقد ماض ولم یکن بینھما عقد اما
تفصیل کا مقصد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا اور اس سے یہ مراد نہیں کہ جب اقرار کا لفظ ماضی کی خبر کیلےمتعین نہ ہو تو خبرکے باوجود عقد نکاح صحیح ہوگا یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مرد وعورت نے محض جھوٹ سے کام لیا ہے اس کا شاہد یہ بھی ہے کہ امام قاضیخان نے اس بیان پر طلاق کے مسئلہ کوبطور شاہد پیش فرمایا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تومیری بیوی نہیں ہے اوراس نے انشاء طلاق کا ارادہ نہ کیا بلکہ صرف جھوٹ مراد لیا تو قطعا طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں صریح لفظ سے جب طلاق نہیں ہوتی تو کنایہ سے کیسے طلاق ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں آپ نے غور فرمایا ہوگا کہ انھوں نے اس مسئلہ کو طلاق کی نیت سے مقید کیا ہے(مذکورہ لفظ طلاق کی نیت سے کہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں)اسی طرح جھوٹے اقرار نکاح میں بھی دونوں نے نکاح کی نیت کی ہو تو نکاح ہوگا ورنہ نہیں یہ جس کو میں نے سمجھا وہی میں نے اختیار کیا ہے پھر میں نے اﷲ تعالی کی توفیق سے علامہ عبدالعلی برجندی کو دیکھا کہ انھوں نے نقایہ کی شرح میں امام قاضی خان کی عبارت کو بالمعنی نقل کیا اور اس کی وہی تعبیر کی جو میں نے سمجھی اور اﷲ تعالی کے لیے ہی تمام حمد ہے
یہی ظہیریہ کی عبارت ہے کہ اگر ایك شخص نے لوگوں کی موجودگی میں ایك عورت کو کہا کہ یہ میری بیوی ہے اورعورت نے کہا یہ میرا خاوند ہے تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور فتاوی قاضیخان میں ہے کہ اس صورت میں نکاح نہ ہوگا جب مرد و
وھذا نصہ فی الظھیریۃ لوقال بمحضرمن الشہود این زن من است فقالت ایں شوئی من ست اختلف المشائخ فیہ والصحیح انہ لاینعقد وفی فتاوی قاضی خان انما لایکون ھذا نکاحا اذا قالا ذلك علی سبیل الاخبار عن عقد ماض ولم یکن بینھما عقد اما
تفصیل کا مقصد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا اور اس سے یہ مراد نہیں کہ جب اقرار کا لفظ ماضی کی خبر کیلےمتعین نہ ہو تو خبرکے باوجود عقد نکاح صحیح ہوگا یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مرد وعورت نے محض جھوٹ سے کام لیا ہے اس کا شاہد یہ بھی ہے کہ امام قاضیخان نے اس بیان پر طلاق کے مسئلہ کوبطور شاہد پیش فرمایا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تومیری بیوی نہیں ہے اوراس نے انشاء طلاق کا ارادہ نہ کیا بلکہ صرف جھوٹ مراد لیا تو قطعا طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں صریح لفظ سے جب طلاق نہیں ہوتی تو کنایہ سے کیسے طلاق ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں آپ نے غور فرمایا ہوگا کہ انھوں نے اس مسئلہ کو طلاق کی نیت سے مقید کیا ہے(مذکورہ لفظ طلاق کی نیت سے کہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں)اسی طرح جھوٹے اقرار نکاح میں بھی دونوں نے نکاح کی نیت کی ہو تو نکاح ہوگا ورنہ نہیں یہ جس کو میں نے سمجھا وہی میں نے اختیار کیا ہے پھر میں نے اﷲ تعالی کی توفیق سے علامہ عبدالعلی برجندی کو دیکھا کہ انھوں نے نقایہ کی شرح میں امام قاضی خان کی عبارت کو بالمعنی نقل کیا اور اس کی وہی تعبیر کی جو میں نے سمجھی اور اﷲ تعالی کے لیے ہی تمام حمد ہے
یہی ظہیریہ کی عبارت ہے کہ اگر ایك شخص نے لوگوں کی موجودگی میں ایك عورت کو کہا کہ یہ میری بیوی ہے اورعورت نے کہا یہ میرا خاوند ہے تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور فتاوی قاضیخان میں ہے کہ اس صورت میں نکاح نہ ہوگا جب مرد و
اذا اقرت انہ زوجہاو اقرانھا زوجتہ وارادا بذلك انشاء النکاح فھو نکاح اھ فالحمد ﷲ علی حسن التفھم
۱۵اقول : وبما قررت ظھر لك ان ھذا الذی اختارہ المولی فقیہ النفس وقال المحقق علی الاطلاق انہ الحق لایخالف ماصححہ عامۃ الائمۃ اصلا بل ھو عین مااعتمدوہ فانھم انما صححو ا ان النکاح لاینعقد بالاقرار والاقرار انما یکون عند قصد الاخبار و ح قد نص الفقیہ علی عدم الانعقاد اما اذا قالاہ مریدین بہ الانشاء لم یکن ذلك من الاقرار فی شئی فان الاقرار ھوالاخبار دون الانشاء فتوافق القولان وتظافرت التصحیحات علی صحۃ ماافتیت بہ فان حمل کلام الذخیرۃ علی مااسلفناحصل التوفیق فی الاقوال جمیعا والافعلیکم بماحررت عضوا علیہ بالنواجذ۔
عورت نے جھوٹی خبر کے طور پر ماضی میں عقد کے بارے میں کہا ہو اور اگر انھوں نے اس سے انشاء نکاح کا ارادہ کیا تویہ نکاح منعقد ہوگا اچھے فہم پراﷲ تعالی کی حمد ہے
اقول : میری تقریر سے آپ پر واضح ہوگیا کہ جو کچھ امام قاضیخان اور محقق علی الاطلاق نے فرمایا وہی حق ہے اور وہ عام ائمہ کرام کی تصحیح کے ہر گز خلاف نہیں ہے کیونکہ ان ائمہ کرام نے یہی تصحیح کی ہے کہ صرف اقرار سے نکاح منعقد نہ ہوگا کیونکہ اقرار ماضی کے بارے میں خبر کا نام ہے جس وجہ سے امام قاضی خان نے نکاح نہ ہونے کی تصریح کی ہے لیکن اگر مر د وعورت نے نکاح منعقد کرنے یعنی انشاء نکاح کے ارادے سے اقرار کیا تو یہ بمعنی اخبار نہ ہوگا بلکہ انشاء ہوگا جبکہ اقرار حقیقتا خبر کو کہتے ہیں پس فقہا ء اور امام کے قول کے موافق اور تمام تصحیحات میرے فتوے پر مجتمع ہوگئیں اور اگر ذخیرہ کی عبارت کواسی معنی میں لیا جائے جو میں نے پہلے ذکر کیا تو اس سے تمام اقوال میں بھی موافقت ہوجائے گی ورنہ میری تحریر کو مضبوطی سے اپناؤ۔ (ت)
۱۶اقول : اب یہاں ایك مسئلہ خلافیہ وارد ہوگا جس طرح نکاح مسلم میں وقت ایجاب وقبول دو مردوں یا ایك مرد دوعورتوں عاقل بالغ آزاد اور نکاح مسلم میں انھیں اوصاف کے خاص مسلمین کا حاضر ہونابالاتفاق اور ان کا کلام عاقدین معا سننا عندالجمہور علی المذہب المنصور شرط وضرور ہے آیا یوں ہی ان کا کلام عاقدین سمجھنا بھی شرط ہے یانہیں۔ مثلا اگر دو ہندیوں کے سامنے مرد وزن نے عربی میں ایجاب وقبول کرلیا وہ نہ سمجھے آیا یہ نکاح فاسد ہوگا یا صحیح علمائے کرام کے اس میں دونوں قول منقول ہوئے
جزم با لاول العلامۃ الزیلعی فی التبیین و
امام زیلعی نے تبیین میں اور محقق علی الاطلاق نے
۱۵اقول : وبما قررت ظھر لك ان ھذا الذی اختارہ المولی فقیہ النفس وقال المحقق علی الاطلاق انہ الحق لایخالف ماصححہ عامۃ الائمۃ اصلا بل ھو عین مااعتمدوہ فانھم انما صححو ا ان النکاح لاینعقد بالاقرار والاقرار انما یکون عند قصد الاخبار و ح قد نص الفقیہ علی عدم الانعقاد اما اذا قالاہ مریدین بہ الانشاء لم یکن ذلك من الاقرار فی شئی فان الاقرار ھوالاخبار دون الانشاء فتوافق القولان وتظافرت التصحیحات علی صحۃ ماافتیت بہ فان حمل کلام الذخیرۃ علی مااسلفناحصل التوفیق فی الاقوال جمیعا والافعلیکم بماحررت عضوا علیہ بالنواجذ۔
عورت نے جھوٹی خبر کے طور پر ماضی میں عقد کے بارے میں کہا ہو اور اگر انھوں نے اس سے انشاء نکاح کا ارادہ کیا تویہ نکاح منعقد ہوگا اچھے فہم پراﷲ تعالی کی حمد ہے
اقول : میری تقریر سے آپ پر واضح ہوگیا کہ جو کچھ امام قاضیخان اور محقق علی الاطلاق نے فرمایا وہی حق ہے اور وہ عام ائمہ کرام کی تصحیح کے ہر گز خلاف نہیں ہے کیونکہ ان ائمہ کرام نے یہی تصحیح کی ہے کہ صرف اقرار سے نکاح منعقد نہ ہوگا کیونکہ اقرار ماضی کے بارے میں خبر کا نام ہے جس وجہ سے امام قاضی خان نے نکاح نہ ہونے کی تصریح کی ہے لیکن اگر مر د وعورت نے نکاح منعقد کرنے یعنی انشاء نکاح کے ارادے سے اقرار کیا تو یہ بمعنی اخبار نہ ہوگا بلکہ انشاء ہوگا جبکہ اقرار حقیقتا خبر کو کہتے ہیں پس فقہا ء اور امام کے قول کے موافق اور تمام تصحیحات میرے فتوے پر مجتمع ہوگئیں اور اگر ذخیرہ کی عبارت کواسی معنی میں لیا جائے جو میں نے پہلے ذکر کیا تو اس سے تمام اقوال میں بھی موافقت ہوجائے گی ورنہ میری تحریر کو مضبوطی سے اپناؤ۔ (ت)
۱۶اقول : اب یہاں ایك مسئلہ خلافیہ وارد ہوگا جس طرح نکاح مسلم میں وقت ایجاب وقبول دو مردوں یا ایك مرد دوعورتوں عاقل بالغ آزاد اور نکاح مسلم میں انھیں اوصاف کے خاص مسلمین کا حاضر ہونابالاتفاق اور ان کا کلام عاقدین معا سننا عندالجمہور علی المذہب المنصور شرط وضرور ہے آیا یوں ہی ان کا کلام عاقدین سمجھنا بھی شرط ہے یانہیں۔ مثلا اگر دو ہندیوں کے سامنے مرد وزن نے عربی میں ایجاب وقبول کرلیا وہ نہ سمجھے آیا یہ نکاح فاسد ہوگا یا صحیح علمائے کرام کے اس میں دونوں قول منقول ہوئے
جزم با لاول العلامۃ الزیلعی فی التبیین و
امام زیلعی نے تبیین میں اور محقق علی الاطلاق نے
حوالہ / References
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب النکاح نولکشورلکھنؤ ۲ / ۳۷۴
المحقق علی الاطلاق فی الفتح والمولی الغزی فی متن التنویر وصححہ فی الجوھرۃ وقال فی الذخیرۃ والظھیریۃ وخزانۃ المفتین والسراج الوھاج وشرحی النقایۃ للقھستانی والبرجندی ومجمع الانھر والھندیۃ انہ الظاھر وکذا اختارہ فقیہ النفس فی الخانیۃ وضعف خلافہ قال الذخیرۃ ثم البحر ثم الدر ومجمع الانھر فکان ھوالمذھب
وجزم بالثانی فی الفتاوی وکذا ذکرہ البقالی وقال فی الخلاصۃ وجواھر الاخلاطی انہ الاصح وفی مجمع الانھر عن النصاب علیہ الفتوی ولم یتعرض لقید الفھم فی مختصر القدوری والوقایۃ والنقایۃ والکنز والاصلاح والایضاح والملتقی وکلاھما روایۃ عن مدار المذھب محمد رضی اﷲ تعالی عنہ لما فی الفتح۔
فتح میں پہلے پر جزم کیا ہے اور غزی نے تنویر کے متن میں ذکرکیا اور جوہرہ میں اس کی تصحیح کی۔ ذخیرہ ظہیریہ خزانۃ المفتین سراج الوہاج قہستانی اور برجندی نے اپنی شرحوں مجمع الانھر اور ہندیہ میں فرمایا کہ یہ ظاہر ہے اور یونہی قاضی خان نے خانیہ میں اس کو پسندیدہ قرار دیا اوراس کے خلاف کو ضعیف کہا ہے۔ اور ذخیرہ بحر در مجمع الانہر نے کہا کہ یہی مذہب ہے اور دوسرے(صحیح)پر جزم کا اظہار فتاوی میں کیا اور یوں اس کو بقالی نے ذکرکیا۔ اور خلاصہ اور جواہر الاخلاطی میں کہا کہ یہ ظاہر ہے۔ اور مجمع الانہر میں نصاب کے حوالے سے کہا کہ اس پر فتوی ہے اور مختصر القدوری وقایہ نقایہ کنز اصلاح ایضاح اور ملتقی میں فہم کی قید کو ذکر نہیں کیا جبکہ یہ دونوں قول مدار مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں جیساکہ فتح میں مذکور ہے۔ (ت)
اور توفیق نفیس یہ ہے کہ معنی الفاظ سمجھنا ضروری نہیں مگر اس قدر سمجھنا ضرور ہے کہ یہ عقد نکاح ہورہا ہے۔
وجزم بالثانی فی الفتاوی وکذا ذکرہ البقالی وقال فی الخلاصۃ وجواھر الاخلاطی انہ الاصح وفی مجمع الانھر عن النصاب علیہ الفتوی ولم یتعرض لقید الفھم فی مختصر القدوری والوقایۃ والنقایۃ والکنز والاصلاح والایضاح والملتقی وکلاھما روایۃ عن مدار المذھب محمد رضی اﷲ تعالی عنہ لما فی الفتح۔
فتح میں پہلے پر جزم کیا ہے اور غزی نے تنویر کے متن میں ذکرکیا اور جوہرہ میں اس کی تصحیح کی۔ ذخیرہ ظہیریہ خزانۃ المفتین سراج الوہاج قہستانی اور برجندی نے اپنی شرحوں مجمع الانھر اور ہندیہ میں فرمایا کہ یہ ظاہر ہے اور یونہی قاضی خان نے خانیہ میں اس کو پسندیدہ قرار دیا اوراس کے خلاف کو ضعیف کہا ہے۔ اور ذخیرہ بحر در مجمع الانہر نے کہا کہ یہی مذہب ہے اور دوسرے(صحیح)پر جزم کا اظہار فتاوی میں کیا اور یوں اس کو بقالی نے ذکرکیا۔ اور خلاصہ اور جواہر الاخلاطی میں کہا کہ یہ ظاہر ہے۔ اور مجمع الانہر میں نصاب کے حوالے سے کہا کہ اس پر فتوی ہے اور مختصر القدوری وقایہ نقایہ کنز اصلاح ایضاح اور ملتقی میں فہم کی قید کو ذکر نہیں کیا جبکہ یہ دونوں قول مدار مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں جیساکہ فتح میں مذکور ہے۔ (ت)
اور توفیق نفیس یہ ہے کہ معنی الفاظ سمجھنا ضروری نہیں مگر اس قدر سمجھنا ضرور ہے کہ یہ عقد نکاح ہورہا ہے۔
حوالہ / References
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۲ / ۴ ، مجمع الانہر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۱
مجمع الانہر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۱
جواہر اخلاطی کتاب النکاح قلمی نسخہ ص۴۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۱
مجمع الانہر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۱
جواہر اخلاطی کتاب النکاح قلمی نسخہ ص۴۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۱
اقول : وقدکان سنح لی ھذا ثم رأیتہ للعلامۃ مصطفی الرحمتی لمحشی الدر وقال فی ردالمحتار ووفق الرحمتی یحمل القول بالاشتراط علی اشتراط فھم انہ عقد نکاح والقول بعدمہ علی عدم اشتراط فھم معانی الالفاظ بعد فھم ان المراد عقد النکاح اھ وھو کما تری حسن جدا
اقول : ومن علم الفقہ والحکمۃ فی اشتراط الشھادۃ فی عقد النکاح اتقن بھذا التوفیق فان من علم ان ھذا نکاح فقد شھد العقد وان لم یقف علی خصوص ترجمۃ الالفاظ ومن لم یفہم فکأن لم یسمع ومن لم یسمع فکأن لم یحضر وبتقریری ھذا یتضح لك ان الاجتزاء بذکر الحضور اوبہ وبالسماع اوذکر ھما مع الفھم کل یودی مودی واحدا عندالتدقیق واﷲ ولی التوفیق۔
اقول : مجھے یہ واضح ہوا پھر اس کے بعد مجھے یہ بات در کے محشی علامہ مصطفی رحمتی کے ہاں مل گئی۔ اور ردالمحتار میں فرمایا کہ علامہ رحمتی نے فہم کی شرط والے قول اور فہم کی شرط نہ ہونے والے قول میں یوں تطبیق دی ہے____ کہ جہاں فہم کی شرط کا قول ہے اس سے مراد نکاح ہونے کا فہم ہے اور جہاں فہم کی شرط کی نفی ہے اس سے نکاح کے وقت بولے جانے والے الفاظ کے فہم کی نفی مراد ہے بشرطیکہ نکاح ہو نا سمجھا گیا ہو۔ اھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بہت اچھی تطبیق ہے
اقول : جس کو عقد نکاح میں گواہوں کے موجود ہونے کی شرط کی حکمت معلوم ہے وہ اس تطبیق کی توثیق کرے گا کیونکہ جس نے گواہوں میں سے یہ معلوم کرلیا کہ یہ نکاح ہے تونکاح کا گواہ اگرچہ اس نے الفاظ کا ترجمہ نہ سمجھا اور جس کو نکاح کا فہم نہ ہوا گویا اس نے سنا ہی نہیں اور جس نے نہ سنا گویا وہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوا۔ میری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ نکاح کے جواز میں صرف گواہوں کا حاضر ہونا یا گواہوں کی حاضری اور سماع یا ان دونوں کے ساتھ فہم کا ذکر حقیقۃ ان سب کا مقصد ایك ہی ہے اور اﷲ سبحانہ تعالی توفیق کا مالك ہے۔ (ت)
پس مسئلہ دائرہ میں جبکہ مرد وزن ان الفاظ سے قصد انشاء کریں اس کے ساتھ یہ بھی ضرور کہ دو شاہد بھی ان کی اس گفتگو کو عقدنکاح سمجھیں خواہ بذریعہ قرائن یاخود عاقدین کے مطلع کر رکھنے سے ورنہ اگر سب حضار نے اسے محض اخبار جانا تو “ فاھمین انہ نکاح “ صادق نہ آیا اور نکاح صحیح نہ ہوا۔
اقول : ومن علم الفقہ والحکمۃ فی اشتراط الشھادۃ فی عقد النکاح اتقن بھذا التوفیق فان من علم ان ھذا نکاح فقد شھد العقد وان لم یقف علی خصوص ترجمۃ الالفاظ ومن لم یفہم فکأن لم یسمع ومن لم یسمع فکأن لم یحضر وبتقریری ھذا یتضح لك ان الاجتزاء بذکر الحضور اوبہ وبالسماع اوذکر ھما مع الفھم کل یودی مودی واحدا عندالتدقیق واﷲ ولی التوفیق۔
اقول : مجھے یہ واضح ہوا پھر اس کے بعد مجھے یہ بات در کے محشی علامہ مصطفی رحمتی کے ہاں مل گئی۔ اور ردالمحتار میں فرمایا کہ علامہ رحمتی نے فہم کی شرط والے قول اور فہم کی شرط نہ ہونے والے قول میں یوں تطبیق دی ہے____ کہ جہاں فہم کی شرط کا قول ہے اس سے مراد نکاح ہونے کا فہم ہے اور جہاں فہم کی شرط کی نفی ہے اس سے نکاح کے وقت بولے جانے والے الفاظ کے فہم کی نفی مراد ہے بشرطیکہ نکاح ہو نا سمجھا گیا ہو۔ اھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بہت اچھی تطبیق ہے
اقول : جس کو عقد نکاح میں گواہوں کے موجود ہونے کی شرط کی حکمت معلوم ہے وہ اس تطبیق کی توثیق کرے گا کیونکہ جس نے گواہوں میں سے یہ معلوم کرلیا کہ یہ نکاح ہے تونکاح کا گواہ اگرچہ اس نے الفاظ کا ترجمہ نہ سمجھا اور جس کو نکاح کا فہم نہ ہوا گویا اس نے سنا ہی نہیں اور جس نے نہ سنا گویا وہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوا۔ میری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ نکاح کے جواز میں صرف گواہوں کا حاضر ہونا یا گواہوں کی حاضری اور سماع یا ان دونوں کے ساتھ فہم کا ذکر حقیقۃ ان سب کا مقصد ایك ہی ہے اور اﷲ سبحانہ تعالی توفیق کا مالك ہے۔ (ت)
پس مسئلہ دائرہ میں جبکہ مرد وزن ان الفاظ سے قصد انشاء کریں اس کے ساتھ یہ بھی ضرور کہ دو شاہد بھی ان کی اس گفتگو کو عقدنکاح سمجھیں خواہ بذریعہ قرائن یاخود عاقدین کے مطلع کر رکھنے سے ورنہ اگر سب حضار نے اسے محض اخبار جانا تو “ فاھمین انہ نکاح “ صادق نہ آیا اور نکاح صحیح نہ ہوا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۳
ھذا ما قلتہ تفقھا ثم رأیت فی ردالمحتار قال حاصل مافی الفتح وملخصہ انہ لابد فی کنایات النکاح من النیۃ مع قرینۃ او تصدیق القابل للموجب وفھم الشھود المراد اعلامھم بہ اھ فاتضح المرام والحمد ﷲ ولی الانعام اقول : وینبغی ان یکون الاعلام قبل العقد کما اشرت الیہ لیکونا جامعی شرائط الشھادۃ عند العقد الاتری ان فاھمین فی کلامھم حال ولابد من مقارنۃ الحال والعامل واﷲ تعالی اعلم ھذا کلہ ممافاض علی قلب الفقیر بفیض القدیر والمولی تعالی اذا شاء الحق الجاھل العاجز بالماھر الخبیر والحمد ﷲ علی حسن التوفیق والھام التحقیق والصلوۃ والسلام علی سید العالمین محمد والہ وصحبہا اجمعین۔
یہ میں نے اپنی سمجھ سے کہا پھرمیں نے ردالمحتار میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ فتح کا ماحاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ کنایات نکاح میں نیت مع قرینہ یاقبول کرنے والے کا ایجاب کرنے والے کی تصدیق کرنا اور گواہوں کا مراد سمجھنا یا ان کو بتایاجانا ضروری ہے اھ پس مقصد واضح ہوگیا اور اﷲ تعالی مالك انعام کے لیے تعریف ہے اقول : گواہوں کو نکاح کے بارے میں پہلے بتانا مناسب ہے تاکہ وہ نکاح کے وقت شہادت کی شرائط پوری کرسکیں۔ جیسا کہ میں نے اشارہ کیا ہے کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ فقہاء نے گواہوں کے فاہم ہونے کو حال قرار دیا ہے جبکہ حال اور اس کے عامل کا مقارن ہونا ضروری ہے اوراﷲ تعالی بہتر جانتا ہے۔ یہ سب کچھ اس فقیر کے قلب پر فیضان ہوا مولی تعالی قادر کے فیض سے جب اﷲ تعالی چاہے تو وہ جاہل عاجز کو ماہر خبیر سے ملحق کردیتا ہے اور اﷲ تعالی کے لیے سب تعریفیں ہیں اس کے اچھی توفیق دینے پر اور تحقیق کے الہام پر محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سید العالمین پر صلوۃ وسلام اور ان کی آل واصحاب پر آمین!(ت)
پھر جس حالت میں انعقادنکاح کا حکم ہو ذکر مہر کی کوئی حاجت نہیں کہ نکاح بے ذکر بلکہ بذکر عدم مہر بھی صحیح ومنعقد ہے کما نصوا علیہ(جیسا کہ اس پر انھوں نے تصریح کی ہے۔ ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ تعالی اتم واحکم۔
__________________
یہ میں نے اپنی سمجھ سے کہا پھرمیں نے ردالمحتار میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ فتح کا ماحاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ کنایات نکاح میں نیت مع قرینہ یاقبول کرنے والے کا ایجاب کرنے والے کی تصدیق کرنا اور گواہوں کا مراد سمجھنا یا ان کو بتایاجانا ضروری ہے اھ پس مقصد واضح ہوگیا اور اﷲ تعالی مالك انعام کے لیے تعریف ہے اقول : گواہوں کو نکاح کے بارے میں پہلے بتانا مناسب ہے تاکہ وہ نکاح کے وقت شہادت کی شرائط پوری کرسکیں۔ جیسا کہ میں نے اشارہ کیا ہے کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ فقہاء نے گواہوں کے فاہم ہونے کو حال قرار دیا ہے جبکہ حال اور اس کے عامل کا مقارن ہونا ضروری ہے اوراﷲ تعالی بہتر جانتا ہے۔ یہ سب کچھ اس فقیر کے قلب پر فیضان ہوا مولی تعالی قادر کے فیض سے جب اﷲ تعالی چاہے تو وہ جاہل عاجز کو ماہر خبیر سے ملحق کردیتا ہے اور اﷲ تعالی کے لیے سب تعریفیں ہیں اس کے اچھی توفیق دینے پر اور تحقیق کے الہام پر محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سید العالمین پر صلوۃ وسلام اور ان کی آل واصحاب پر آمین!(ت)
پھر جس حالت میں انعقادنکاح کا حکم ہو ذکر مہر کی کوئی حاجت نہیں کہ نکاح بے ذکر بلکہ بذکر عدم مہر بھی صحیح ومنعقد ہے کما نصوا علیہ(جیسا کہ اس پر انھوں نے تصریح کی ہے۔ ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ تعالی اتم واحکم۔
__________________
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۹
رسالہ : ماحی الضلالۃ فی انکحۃ الھند وبنجالہ ۱۳۱۷ھ
(بنگال اور ہندوستان میں نکاحوں کے بارے میں کوتاہی کو مٹانے والا)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۷ : ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۱۷ہجریہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ جو کہ عقد ہوتے ہیں کہ ایك شخص غیر کو ولی ہندہ نے وکیل قرار دے کر اور دو شخص اور ہمراہ اس کے واسطے گواہی کے مقرر کرکے واسطے اجازت لینے نکاح کے ہندہ کے پاس بھیجے وہ شخص کسی کا سر اور کسی کا پاؤں کچلتا ہوا ہنگامہ مستورات میں جاکر قریب ہندہ کے بیٹھا اور یہ کلمات کہے کہ تو مجھ کو واسطے عقد اپنے کے وکیل کردے وہ بے چاری بباعث رواج اس ملك اور شرم کے کب گویا ہوتی ہے اکثر مستورات اس کو فہمائش کرتی ہیں مگر وہ نہیں جواب دیتی اور بعض بعض کچھ گریہ یا “ ہوں “ کا اشارہ کردیتی ہیں۔ بعد کو وکیل صاحب باہر تشریف مع دونوں گواہوں کے لاکر دولھا کے روبرو آکر بیٹھتے ہیں اور داہنے دولھا کے ایك شخص اور کہ دعوی قضا کا رکھتے ہیں اور پیشہ کفش دوزی یا خیاطی یا نور بافی کا کرتے ہیں وہ بھی بیٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوکہ وکیل صاحب مع گواہوں کے تشریف لائے تھے وہ قاضی صاحب سے سلام علیك کرکے رو برو دولھا کے بیٹھ گئے قاضی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ آپ کا آنا کہاں سے ہوا وکیل صاحب نے جواب اس کے ارشاد کیاکہ دختر فلاں نے واسطے عقد اپنے کے مجھ کو وکیل مقرر کرکے
(بنگال اور ہندوستان میں نکاحوں کے بارے میں کوتاہی کو مٹانے والا)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۷ : ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۱۷ہجریہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ جو کہ عقد ہوتے ہیں کہ ایك شخص غیر کو ولی ہندہ نے وکیل قرار دے کر اور دو شخص اور ہمراہ اس کے واسطے گواہی کے مقرر کرکے واسطے اجازت لینے نکاح کے ہندہ کے پاس بھیجے وہ شخص کسی کا سر اور کسی کا پاؤں کچلتا ہوا ہنگامہ مستورات میں جاکر قریب ہندہ کے بیٹھا اور یہ کلمات کہے کہ تو مجھ کو واسطے عقد اپنے کے وکیل کردے وہ بے چاری بباعث رواج اس ملك اور شرم کے کب گویا ہوتی ہے اکثر مستورات اس کو فہمائش کرتی ہیں مگر وہ نہیں جواب دیتی اور بعض بعض کچھ گریہ یا “ ہوں “ کا اشارہ کردیتی ہیں۔ بعد کو وکیل صاحب باہر تشریف مع دونوں گواہوں کے لاکر دولھا کے روبرو آکر بیٹھتے ہیں اور داہنے دولھا کے ایك شخص اور کہ دعوی قضا کا رکھتے ہیں اور پیشہ کفش دوزی یا خیاطی یا نور بافی کا کرتے ہیں وہ بھی بیٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوکہ وکیل صاحب مع گواہوں کے تشریف لائے تھے وہ قاضی صاحب سے سلام علیك کرکے رو برو دولھا کے بیٹھ گئے قاضی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ آپ کا آنا کہاں سے ہوا وکیل صاحب نے جواب اس کے ارشاد کیاکہ دختر فلاں نے واسطے عقد اپنے کے مجھ کو وکیل مقرر کرکے
بھیجا ہے اور میری وکالت کے یہ دونوں اشخاص گواہ ہیں آپ اس کا عقد نوشہ ہذا کے ساتھ کردیجئے۔ قاضی صاحب نے بعد طے ہونے گفتگو عقد اور تعین مہر مبلغ ایك لاکھ روپے اور بیس دینار سرخ سوائے نان نفقہ کے نوشہ کی طرف متوجہ ہو کر خیال کیا کہ کنگنہ جو ہاتھ میں دولھا کے بندھا تھا وہ کھول کر علیحدہ رکھ دیا اور سہرا کولوٹ کر شملہ پر لپیٹ دیا اور یہ کلمات فرمائے کہ فلاں شخص کی دختر کو بوکالت فلاں شخص اور بہ گواہی فلاں شخص کے بالعوض اس قدر مہر سوائے نان نفقہ کے بیچ نکاح تیرے کے دی میں نے قبول کی تونے اس نے کہاقبول کی میں نے۔ بعد کو وکیل صاحب مع گواہوں کے چلے گئے اورقاضی صاحب بھی اپنا حق نکاح خوانی مع دو رکابی پلاؤ کے لے کر تشریف لے گئے۔ دولھا نے وہ کنگنہ پھر اپنے ہاتھ میں باندھ لیا۔ آیا یہ نکاح درست ہوا یا نہیں اور جو کہ اولاد ہوئی وہ حرام کی ہوئی یا حلال کی ہوئی اور قول زید کا یہ ہے کہ نکاح درست نہیں ہوا اور جو کہ اولاد ہوئی وہ حرامی ہوئی اورشناخت حرام اور حلال کی یہ ہے کہ جو اولاد ایسے نکاحوں سے ہوتی ہے ان سے اکثر یہ فعل سرزد ہوتے ہیں جیسے زنا یا شراب خوری یا قمار بازی یا لواطت سوا اس کے جو فعل ناشائستہ ہیں وہ سرزد ہوتے ہیں یاکہ والدین سے جنگ جدال کرنا اوربزرگ کا لحاظ پاس نہ کرنا۔ یہ فعل اولاد صالح اور حلال سے ہر گز عمل میں نہیں آئیں گے۔ اور قول عمرو کا یہ ہے کہ کچھ اس نکاح میں قباحت نہیں اور نہ اولاد حرام ہوسکتی ہے کیونکہ قدیم سے یہی رسم چلی آئی۔ اگر ایسا ہو توسب مخلوق خدا حرامی ہوگی آیا قول زید کا درست ہے یا عمرو کا اور قول زید کا یہ ہے کہ بالفرض کنگنہ بھی نہیں ہے اور نکاح بھی اصالۃ یا ولایۃ یا کہ جو وکیل ہے اسی نے ایجاب قبول کرایا اور بعد اس کے کلمات کفر کے طرفین سے خواہ شوہر یا عورت سے سرزد ہوئے اور ان کی تمیز نہیں ہے کہ یہ کلمات کفرہیں جب بھی نکاح جاتا رہے گا اور جو قبل از توبہ اور سرنو ایجاب قبول کرنے کے اولاد ہوگی وہ بھی حرامی ہوگی۔ بینوا توجروا من اﷲ۔
الجواب :
ظاہر ہے کہ عورت سے اذن جبھی لیا جاتا ہے کہ عاقلہ بالغہ ہو اور بیشك عاقلہ بالغہ کا اذن شرعا معتبر اور بیشك دوشیزہ کا سکوت بھی اذن۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم البکر تستأذن فی نفسھا واذنھا صماتھا رواہ احمد والستۃ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : باکرہ لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے اور اجازت کے جواب میں خاموشی باکرہ کی
الجواب :
ظاہر ہے کہ عورت سے اذن جبھی لیا جاتا ہے کہ عاقلہ بالغہ ہو اور بیشك عاقلہ بالغہ کا اذن شرعا معتبر اور بیشك دوشیزہ کا سکوت بھی اذن۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم البکر تستأذن فی نفسھا واذنھا صماتھا رواہ احمد والستۃ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : باکرہ لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے اور اجازت کے جواب میں خاموشی باکرہ کی
حوالہ / References
صحیح مسلم باب استیذان الثیب فی النکاح بالنطق والبکر بالسکوت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۵
الا البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اجازت ہوگی۔ امام احمد نے اور صحاح ستہ میں ماسوائے بخاری کے اس کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
مگریہ اسی وقت ہے جبکہ ولی اقرب اس سے اذن لے ورنہ مجرد خاموشی اذن نہ ٹھہرے گی۔ درمختار میں ہے :
فان استاذنھا غیر الاقرب کا جنبی او ولی بعید فلا عبرۃ لسکوتھا الخ۔
اگر باکرہ سے ولی اقرب کاغیر مثلا کوئی اجنبی یا ولی بعید اجازت طلب کرے تو یہاں باکرہ کی خاموشی رضامیں معتبر نہیں الخ۔ (ت)
اور بیشك اکثر لوگ جو وکیل کئے جاتے ہیں اجنبی یاولی بعید ہوتے ہیں تو ایسی حالت میں اگر انھوں نے اذن لے لیا اور دوشیزہ نے سکوت کیا تو سرے سے انھیں کے لیے وکالت ثابت نہ ہوئی اور اگر اس نے صاف “ ہوں “ کہہ دیا یا ولی اقرب کے اذن لینے پر سکوت کیا تو اس کے لیے وکالت حاصل ہوگئی مگر وکیل بالنکاح کو شرعا اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تك ماذون مطلق یا صراحۃ دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہوگا اگرچہ عقد اس کے سامنے ہی واقع ہو
فی ردالمحتار عن العلامۃ الرحمتی عن العلامۃ الحموی عن کلام الامام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمبا شرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع الخ
۲۱اقول : نص الغمز عن الولوالجیۃ ھکذا لو وکل رجلافوکل الوکیل غیرہ وفعل الثانی بحضرۃ الاول فان کان بیعا اوشراء یجوز وماعدا البیع والشراء من الخصومۃ والتقاضی والنکاح والطلاق وغیر ذلك
ردالمحتا رمیں علامہ رحمتی نے علامہ حموی کے حوالے سے اصل(مبسوط)میں ذکر شدہ امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ کا کلام نقل کیا ہے کہ نکاح میں خود وکیل کی موجودگی میں وکیل کی بات معتبر نہیں ہے بیع کا معاملہ اس کے برخلاف ہے اقول : میں کہتا ہوں کہ غمز نے ولوالجیہ سے یوں نقل کیا ہے کہ اگر کسی نے کسی کو اپنا وکیل بنایا اور اگر دوسرے وکیل نے پہلے وکیل کی موجودگی میں عمل کیا توا یسی صورت میں اگر بیع وشراء کا معاملہ ہو توجائز ہے اوراس کے علاوہ دیگر امور مثلا عدالتی مطالبہ نکاح
اجازت ہوگی۔ امام احمد نے اور صحاح ستہ میں ماسوائے بخاری کے اس کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
مگریہ اسی وقت ہے جبکہ ولی اقرب اس سے اذن لے ورنہ مجرد خاموشی اذن نہ ٹھہرے گی۔ درمختار میں ہے :
فان استاذنھا غیر الاقرب کا جنبی او ولی بعید فلا عبرۃ لسکوتھا الخ۔
اگر باکرہ سے ولی اقرب کاغیر مثلا کوئی اجنبی یا ولی بعید اجازت طلب کرے تو یہاں باکرہ کی خاموشی رضامیں معتبر نہیں الخ۔ (ت)
اور بیشك اکثر لوگ جو وکیل کئے جاتے ہیں اجنبی یاولی بعید ہوتے ہیں تو ایسی حالت میں اگر انھوں نے اذن لے لیا اور دوشیزہ نے سکوت کیا تو سرے سے انھیں کے لیے وکالت ثابت نہ ہوئی اور اگر اس نے صاف “ ہوں “ کہہ دیا یا ولی اقرب کے اذن لینے پر سکوت کیا تو اس کے لیے وکالت حاصل ہوگئی مگر وکیل بالنکاح کو شرعا اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تك ماذون مطلق یا صراحۃ دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہوگا اگرچہ عقد اس کے سامنے ہی واقع ہو
فی ردالمحتار عن العلامۃ الرحمتی عن العلامۃ الحموی عن کلام الامام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمبا شرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع الخ
۲۱اقول : نص الغمز عن الولوالجیۃ ھکذا لو وکل رجلافوکل الوکیل غیرہ وفعل الثانی بحضرۃ الاول فان کان بیعا اوشراء یجوز وماعدا البیع والشراء من الخصومۃ والتقاضی والنکاح والطلاق وغیر ذلك
ردالمحتا رمیں علامہ رحمتی نے علامہ حموی کے حوالے سے اصل(مبسوط)میں ذکر شدہ امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ کا کلام نقل کیا ہے کہ نکاح میں خود وکیل کی موجودگی میں وکیل کی بات معتبر نہیں ہے بیع کا معاملہ اس کے برخلاف ہے اقول : میں کہتا ہوں کہ غمز نے ولوالجیہ سے یوں نقل کیا ہے کہ اگر کسی نے کسی کو اپنا وکیل بنایا اور اگر دوسرے وکیل نے پہلے وکیل کی موجودگی میں عمل کیا توا یسی صورت میں اگر بیع وشراء کا معاملہ ہو توجائز ہے اوراس کے علاوہ دیگر امور مثلا عدالتی مطالبہ نکاح
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
ذکر عصام فی مختصرہ انہ یجوز وذکر محمد فی الاصل انہ لایجوز فانہ قال اذا فعل الثانی بحضرۃ الاول لم یجز الافی البیع والشراء وھو الصحیح اھ ملخصا فاذا کان ھذا ھو مفاد الاصل وقد ذیل با لتصحیح فانقطع الخلاف واضمحلت الروایۃ النادرۃ وسقط مافی الخانیۃ فکیف بما فی القنیۃ وان ایدہ العلامۃ الطحطاوی وترکہ علامۃ البحر فی البحر والمحقق العلائی فی الدر مستشکلا ولاغرو فقد شہدت کلماتھم رحمھم اﷲ تعالی انہم لم یطلعوا اذ ذاك علی کلام الاصل اصلاحیث لم یلموا بہ الماما ولااشموا منہ اشماما ولکن العجب من خاتمۃ المحققین العلامۃ الشامی قدس سرہ السامی حیث اورد کلام الاصل ثم لم یسمح الاباستظہار عدم الجواز مریدا عدم النفاذ اذ العقد عقد فضولی فکانہ اقتصر علی النقل عن العلامۃ مصطفی ولوراجع الغمز لرأی تصحیح الامام الولوالجی لما فی الاصل ومعلوم ان
طلاق وغیرہ ہوں توعصام نے اپنی مختصر میں ذکر کیا ہے کہ ان امور میں بھی اس کا عمل جائز ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل میں ذکر کیا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے تو یوں فرمایا کہ اگر دوسرا وکیل پہلے وکیل کی موجودگی میں عمل کرے توبیع وشراء کے علاوہ میں جائز نہیں ہے اور یہی صحیح ہے اھ ملخصا جب اصل(مبسوط)کا مفاد یہی ہے اور اسی ضمن میں اس کی تصحیح کردی گئی ہے توا س کا خلاف ختم اور نادر روایت کمزور ثابت ہوگئی اور خانیہ کا بیان ساقط ہوگیا۔ تو اب قنیہ کے بیان کی کیا حیثیت ہے اگرچہ علامہ طحطاوی نے اس کی تائید کی ہے اور پھر اس کو علامہ بحر نے بحر میں اور محقق علائی نے در میں باعث اشکال قراردیا ہے اور کوئی بعید نہیں ان حضرات نے اصل کے بیان پر اطلاع نہ پائی ہو جیسا کہ ان حضرات کے کلام سے عیاں ہو رہا ہے کہ انھوں نے اصل کے مضمون کو چھوا تك نہیں ہے لیکن علامہ شامی رحمۃ الله تعالی علیہ کے بارے میں تعجب ہے کہ انھوں نے اصل کے بیان کو ذکر کرنے کے باوجود عدم جواز کے اظہار کے علاوہ کچھ تعرض نہ فرمایا حالانکہ وہ اس کے نفاذ کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ دوسرے وکیل کا نکاح میں یہ عقد فضولی ہے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ شامی نے علامہ مصطفی کی نقل کو کافی سمجھا اور اگر وہ غمز کی طرف رجوع کرتے تو امام ولوالجی کا اصل کی عبارت کو صحیح قرار دینا دیکھ لیتے
طلاق وغیرہ ہوں توعصام نے اپنی مختصر میں ذکر کیا ہے کہ ان امور میں بھی اس کا عمل جائز ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل میں ذکر کیا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے تو یوں فرمایا کہ اگر دوسرا وکیل پہلے وکیل کی موجودگی میں عمل کرے توبیع وشراء کے علاوہ میں جائز نہیں ہے اور یہی صحیح ہے اھ ملخصا جب اصل(مبسوط)کا مفاد یہی ہے اور اسی ضمن میں اس کی تصحیح کردی گئی ہے توا س کا خلاف ختم اور نادر روایت کمزور ثابت ہوگئی اور خانیہ کا بیان ساقط ہوگیا۔ تو اب قنیہ کے بیان کی کیا حیثیت ہے اگرچہ علامہ طحطاوی نے اس کی تائید کی ہے اور پھر اس کو علامہ بحر نے بحر میں اور محقق علائی نے در میں باعث اشکال قراردیا ہے اور کوئی بعید نہیں ان حضرات نے اصل کے بیان پر اطلاع نہ پائی ہو جیسا کہ ان حضرات کے کلام سے عیاں ہو رہا ہے کہ انھوں نے اصل کے مضمون کو چھوا تك نہیں ہے لیکن علامہ شامی رحمۃ الله تعالی علیہ کے بارے میں تعجب ہے کہ انھوں نے اصل کے بیان کو ذکر کرنے کے باوجود عدم جواز کے اظہار کے علاوہ کچھ تعرض نہ فرمایا حالانکہ وہ اس کے نفاذ کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ دوسرے وکیل کا نکاح میں یہ عقد فضولی ہے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ شامی نے علامہ مصطفی کی نقل کو کافی سمجھا اور اگر وہ غمز کی طرف رجوع کرتے تو امام ولوالجی کا اصل کی عبارت کو صحیح قرار دینا دیکھ لیتے
حوالہ / References
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱
روایۃ الاصول اذا صححت سقطت کل روایۃ سواھا فکان السبیل الجزم دون مجرد الاستظھار واﷲ ولی التوفیق۔
____ کیونکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ جب اصول کی روایات کی تصحیح ہوجائے تو باقی تمام روایات ساقط قرار پاتی ہیں اس لیے مناسب تھا کہ علامہ شامی صرف اظہار کی بجائے اپنے جزم کو کلام میں لاتے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ (ت)
بہر حال مذہب راجح پر یہ نکاح نکاح فضولی ہوتے ہیں اور نکاح فضولی کو مذہب حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضولی بلکہ باجماع ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت اصیل پر(کہ یہاں وہ عورت ہے جس کے لیے بے اذن اس کا نکاح غیر وکیل نے کردیا)موقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل۔
کما ھو حکم تصرفات الفضولی جمیعا عندنا کما صرح بہ فی عامۃ کتب المذھب۔
جیسا کہ فضولی کے تمام تصرفات کاہمارے ہاں حکم ہے جس کی تمام کتب مذہب میں تصریح ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراکانت اوثیبا فان فعل ذلك فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج ۔
عاقلہ بالغہ کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کا کیا ہوا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوگا خواہ وہ عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔ اگر ایسا ہو توا س کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ اگر رد کردے تو وہ نکاح باطل ہوجائے گا سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔ (ت)
پھر اجازت جس طرح قول سے ہوتی ہے مثلا عورت خبرنکاح سن کرکہے میں نے جائز کیا یا اجازت دی یا راضی ہوئی یا مجھے قبول ہے یا اچھا کیا یا خدا مبارك کرے الی غیر ذلك من الفاظ الرضا(علاوہ ازیں تمام وہ الفاظ جو رضا پر دلالت کرتے ہیں۔ ت)یوں ہی اس فعل یا حال سے بھی آگاہ ہو جاتی ہے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلا عورت اپنا مہر مانگے یا نقد طلب کرے یا مبارکباد لے یا خبر نکاح سن کر خوشی سے ہنسے یا مسکرائے یا اپنا جہیز شوہر کے گھر بھجوائے یااس کا بھیجا ہوا مہر لے لے یا اسے بلا جبر واکراہ اپنے ساتھ جماع یا بوس وکنار ومساس کرنے دے یا تنہا مکان میں اپنے ساتھ خلوت میں آنے دے یا اس کے
____ کیونکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ جب اصول کی روایات کی تصحیح ہوجائے تو باقی تمام روایات ساقط قرار پاتی ہیں اس لیے مناسب تھا کہ علامہ شامی صرف اظہار کی بجائے اپنے جزم کو کلام میں لاتے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ (ت)
بہر حال مذہب راجح پر یہ نکاح نکاح فضولی ہوتے ہیں اور نکاح فضولی کو مذہب حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضولی بلکہ باجماع ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت اصیل پر(کہ یہاں وہ عورت ہے جس کے لیے بے اذن اس کا نکاح غیر وکیل نے کردیا)موقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل۔
کما ھو حکم تصرفات الفضولی جمیعا عندنا کما صرح بہ فی عامۃ کتب المذھب۔
جیسا کہ فضولی کے تمام تصرفات کاہمارے ہاں حکم ہے جس کی تمام کتب مذہب میں تصریح ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراکانت اوثیبا فان فعل ذلك فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج ۔
عاقلہ بالغہ کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کا کیا ہوا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوگا خواہ وہ عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔ اگر ایسا ہو توا س کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ اگر رد کردے تو وہ نکاح باطل ہوجائے گا سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔ (ت)
پھر اجازت جس طرح قول سے ہوتی ہے مثلا عورت خبرنکاح سن کرکہے میں نے جائز کیا یا اجازت دی یا راضی ہوئی یا مجھے قبول ہے یا اچھا کیا یا خدا مبارك کرے الی غیر ذلك من الفاظ الرضا(علاوہ ازیں تمام وہ الفاظ جو رضا پر دلالت کرتے ہیں۔ ت)یوں ہی اس فعل یا حال سے بھی آگاہ ہو جاتی ہے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلا عورت اپنا مہر مانگے یا نقد طلب کرے یا مبارکباد لے یا خبر نکاح سن کر خوشی سے ہنسے یا مسکرائے یا اپنا جہیز شوہر کے گھر بھجوائے یااس کا بھیجا ہوا مہر لے لے یا اسے بلا جبر واکراہ اپنے ساتھ جماع یا بوس وکنار ومساس کرنے دے یا تنہا مکان میں اپنے ساتھ خلوت میں آنے دے یا اس کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
کام خدمت میں مشغول ہو جبکہ نکاح سے پہلے اس کی خدمت نہ کیا کرتی ہو۔ ونحو ذلك من کل فعل یدل علی الرضا (اور یونہی اس قسم کے تمام وہ افعال جو رضا مندی پر دلالت کرتے ہیں۔ ت)ان سب صورتوں میں وہ نکاح کہ موقوف تھا جائز ونافذ ولازم ہوجائے گا۔ عالمگیری میں ہے۔
کما یتحقق رضاھا بالقول کقولھا رضیت وقبلت واحسنت واصبت وبارك اﷲ لك اولناونحوہ یتحقق بالدلالۃ کطلب مھرھا ونفقتھا وتمکینھا من الوطی وقبول التھنئۃ والضحك بالسرور من غیر استھزاء کذا فی التبیین ۔
جیسا کہ میں راضی ہوں میں نے قبول کیا تونے اچھا کیا تونے درست کیا۔ الله تعالی تجھے برکت دے یاہمیں برکت دے جیسے الفاظ سے عاقلہ بالغہ کی رضامندی ثابت ہوتی ہے یوں ہی ان افعال سے دلالۃ رضا ثابت ہوگی مثلا مہر طلب کرنا نفقہ طلب کرنا وطی کی اجازت دینا مبارکباد قبول کرنا خوشی سے ہنسنا وغیرہ جیسا کہ تبیین میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وان تبسمت فھو رضا ھوالصحیح من المذھب ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی کذافی المحیط ۔
اگر وہ خوشی سے تبسم کرے تو وہ رضا ہے یہی صحیح مذہب ہے۔ اس کو شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
الرضا باللسان اوالفعل الذی یدل علی الرضا نحوا لتمکین من الوطی وطلب المھر وقبول المھر دون قبول الھدیۃ وکذافی حق الغلام ۔
رضا زبانی اور عمل دونوں طرح ہوتی ہے یہ ان امور میں ہے جو رضا پر دلالت کریں۔ جیسے وطی کی اجازت مہر طلب کرنا مہر کو وصول کرلینا بخلاف ہدیہ قبول کرنے کے کہ یہ نکاح پر رضا مندی نہ ہوگی لڑکے کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ میں زیرقول درمختار وقبول التھنئۃ والضحك سرور او نحو ذلک(مبارك باد قبول کرنا ہنسنا خوشی میں وغیرہ۔ ت)ہے کامرھا بحمل جھازھا الی بیت الزوج (جیسے لڑکی کاجہیز کے سامان
کما یتحقق رضاھا بالقول کقولھا رضیت وقبلت واحسنت واصبت وبارك اﷲ لك اولناونحوہ یتحقق بالدلالۃ کطلب مھرھا ونفقتھا وتمکینھا من الوطی وقبول التھنئۃ والضحك بالسرور من غیر استھزاء کذا فی التبیین ۔
جیسا کہ میں راضی ہوں میں نے قبول کیا تونے اچھا کیا تونے درست کیا۔ الله تعالی تجھے برکت دے یاہمیں برکت دے جیسے الفاظ سے عاقلہ بالغہ کی رضامندی ثابت ہوتی ہے یوں ہی ان افعال سے دلالۃ رضا ثابت ہوگی مثلا مہر طلب کرنا نفقہ طلب کرنا وطی کی اجازت دینا مبارکباد قبول کرنا خوشی سے ہنسنا وغیرہ جیسا کہ تبیین میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وان تبسمت فھو رضا ھوالصحیح من المذھب ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی کذافی المحیط ۔
اگر وہ خوشی سے تبسم کرے تو وہ رضا ہے یہی صحیح مذہب ہے۔ اس کو شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
الرضا باللسان اوالفعل الذی یدل علی الرضا نحوا لتمکین من الوطی وطلب المھر وقبول المھر دون قبول الھدیۃ وکذافی حق الغلام ۔
رضا زبانی اور عمل دونوں طرح ہوتی ہے یہ ان امور میں ہے جو رضا پر دلالت کریں۔ جیسے وطی کی اجازت مہر طلب کرنا مہر کو وصول کرلینا بخلاف ہدیہ قبول کرنے کے کہ یہ نکاح پر رضا مندی نہ ہوگی لڑکے کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ میں زیرقول درمختار وقبول التھنئۃ والضحك سرور او نحو ذلک(مبارك باد قبول کرنا ہنسنا خوشی میں وغیرہ۔ ت)ہے کامرھا بحمل جھازھا الی بیت الزوج (جیسے لڑکی کاجہیز کے سامان
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی شرائط النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۸
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی شرائط النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۸
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۲
کو خاوند کے ہاں منتقل کرنے کا کہنا۔ ت)ردالمحتارمیں ہے :
فی البحر عن الظھیریۃ لوخلاھا برضا ھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسئلۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ فی البزازیۃ الظاھر انہ اجازۃ اھ مافی الشامیۃ ۲۲اقول : ومن ھھنا زدت المس والتعانق والتقبیل لان الخلوۃ برضاھا لما کانت امارۃ الرضا فھذہ الافعال اجد ر واحری کمالایخفی۔
بحرمیں ظہیریہ سے منقول ہے کہ لڑکی کی رضامندی سے وہ شخص خلوت کرلے تو کیا یہ لڑکی کی طرف سے نکاح کو جائز قرار دینا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کی روایت نہیں ہے اور میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہوگی اھ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اقول : یہاں پر میں نے چھونا معانقہ بوسہ کو مزید بڑھایا کیونکہ جب خلوت رضاکی دلیل ہے تو یہ امور رضاپر دلیل ہونے میں زیادہ واضح ہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
حاشیتین علامہ طحطاوی وشامی میں ہے :
قولہ بخلاف خدمتہ ای ان کانت تخدمہ من قبل ففی البحر عن المحیط والظھیریۃ ولوأکلت من طعامہ اوخدمتہ کما کانت فلیس برضی دلالۃ ا ھ۔
ماتن کے قول “ لڑکی کاخدمت کرنا “ اس کے خلاف ہے یعنی اگر لڑکی نکاح سے پہلے اس شخص کی خادمہ تھی تو اس بارے میں بحر محیط اور ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر لڑکی نے اس شخص کاکھانا کھایا یا اس کی خدمت کی تو یہ رضا پر دلیل نہ ہوگی اھ(ت)
ہمارے بلاد میں عام لوگوں خصوصاشریفوں خصوصا اغنیاء میں اگرچہ یہ اکثر باتیں شب زفاف بلکہ مدت تك اس کے بعد بھی واقع نہیں ہوتیں۔ اور بوس وکنار ومساس وجماع جو اس شب ہوتے ہیں غالبا نہایت اظہار کراہت ونفرت کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے باعث انھیں دلیل رضا ٹھہرانے میں دقت ہے مگراس میں شبہہ نہیں کہ شوہر کو شب زفاف تنہا مکان میں اپنے پاس آنے دینا اور اس خلوت پر سوا شرم کے کوئی اثر مترتب نہ ہونا یقینا ہوتاہے نکاح نافذ ہوجانے کے لیے اسی قدر بس ہے اوریہ امر قطعا پیش از جماع واقع ہوتا ہے تو جماع بعد نفاذ ولزوم نکاح واقع ہوا اور اولاد حلال ہوئی ۲۳بلکہ اگرمقاصد شرع مطہرہ اور اپنے بلاد کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نگاہ دقیق فقہی سے کام لیجئے تو شب اول شوہر کو اپنے ساتھ جماع پر قدرت دینا بھی حقیقۃ رضا ہے
فی البحر عن الظھیریۃ لوخلاھا برضا ھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسئلۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ فی البزازیۃ الظاھر انہ اجازۃ اھ مافی الشامیۃ ۲۲اقول : ومن ھھنا زدت المس والتعانق والتقبیل لان الخلوۃ برضاھا لما کانت امارۃ الرضا فھذہ الافعال اجد ر واحری کمالایخفی۔
بحرمیں ظہیریہ سے منقول ہے کہ لڑکی کی رضامندی سے وہ شخص خلوت کرلے تو کیا یہ لڑکی کی طرف سے نکاح کو جائز قرار دینا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کی روایت نہیں ہے اور میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہوگی اھ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اقول : یہاں پر میں نے چھونا معانقہ بوسہ کو مزید بڑھایا کیونکہ جب خلوت رضاکی دلیل ہے تو یہ امور رضاپر دلیل ہونے میں زیادہ واضح ہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
حاشیتین علامہ طحطاوی وشامی میں ہے :
قولہ بخلاف خدمتہ ای ان کانت تخدمہ من قبل ففی البحر عن المحیط والظھیریۃ ولوأکلت من طعامہ اوخدمتہ کما کانت فلیس برضی دلالۃ ا ھ۔
ماتن کے قول “ لڑکی کاخدمت کرنا “ اس کے خلاف ہے یعنی اگر لڑکی نکاح سے پہلے اس شخص کی خادمہ تھی تو اس بارے میں بحر محیط اور ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر لڑکی نے اس شخص کاکھانا کھایا یا اس کی خدمت کی تو یہ رضا پر دلیل نہ ہوگی اھ(ت)
ہمارے بلاد میں عام لوگوں خصوصاشریفوں خصوصا اغنیاء میں اگرچہ یہ اکثر باتیں شب زفاف بلکہ مدت تك اس کے بعد بھی واقع نہیں ہوتیں۔ اور بوس وکنار ومساس وجماع جو اس شب ہوتے ہیں غالبا نہایت اظہار کراہت ونفرت کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے باعث انھیں دلیل رضا ٹھہرانے میں دقت ہے مگراس میں شبہہ نہیں کہ شوہر کو شب زفاف تنہا مکان میں اپنے پاس آنے دینا اور اس خلوت پر سوا شرم کے کوئی اثر مترتب نہ ہونا یقینا ہوتاہے نکاح نافذ ہوجانے کے لیے اسی قدر بس ہے اوریہ امر قطعا پیش از جماع واقع ہوتا ہے تو جماع بعد نفاذ ولزوم نکاح واقع ہوا اور اولاد حلال ہوئی ۲۳بلکہ اگرمقاصد شرع مطہرہ اور اپنے بلاد کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نگاہ دقیق فقہی سے کام لیجئے تو شب اول شوہر کو اپنے ساتھ جماع پر قدرت دینا بھی حقیقۃ رضا ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۲ ، حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۲ ، حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۲
اگرچہ بظاہر ہزار اظہار تنفر کے ساتھ ہوں کہ یہ کراہتیں جیسی ہوتی ہیں سب کو معلوم ہے حقیقۃ حال یوں منکشف ہو کہ اس مرد کی جگہ کسی اجنبی کو فرض کیجئے جس سے اس کانکاح نہ کیا گیا اس وقت بھی ایسی ہی ظاہر کراہتوں پر قناعت کرکے بالآخر جماع پر قدرت دے دے گی حاشا وکلا تو صاف ثابت ہوا کہ یہ سب امور حقیقۃ قبول نکاح سے ناشی ہوتے ۲۴بلکہ اس سے پہلے رخصت ہوکر جانا بھی اگرچہ بوجہ مفارقت اعزہ وخانہ مالوفہ نہایت گریہ وبکا کے ساتھ ہو انصافا دلیل رضا ہے کہ اگر اسے اپنا شوہر ہونا پسند نہ کرتی اجنبی جانتی ہر گز زفاف کے لیے رخصت ہو کر اس کے یہاں نہ جاتی ۲۵بلکہ اس سے بھی پہلے آرسی مصحف یعنی جلوہ کی رسم جہاں ہے بشرطیکہ عورت پہلے سے اس کے سامنے نہ آتی ہو وہ بھی دلیل قبول ہے کہ اگر غیر مرد سمجھتی زنہار منہ دکھانے پر راضی نہ ہوتی ۲۶اسی طرح مٹھی کھلوانے وغیرہ کی رسمیں بھی کہ جلوہ سے بھی پیشتر ہوتی ہیں دلالت وعلامت قرار پاسکتی ہیں اور ان تمام باتوں میں بکروثیب یکساں ہیں کہ ان میں صرف مسئلہ سکوت میں فرق ہے باقی دلالتیں دونوں برابر ہیں تبیین الحقائق میں ہے :
لافرق بینھما فی اشتراط الاستئذان والرضا وان رضا ھما قد یکون صریحا وقد یکون دلالۃ غیران سکوت البکر رضا دلالۃ لحیائھا دون الثیب ۔
باکرہ اور ثیبہ دونوں کا معاملہ اجازت طلب کرنے اور رضا حاصل کرنے میں مساوی ہے ہاں صرف اجازت کے موقعہ پر سکوت کے بارے میں فرق ہے کہ باکرہ کا سکوت اس کے حیاء کی وجہ سے رضا کی دلیل ہے مگر ثیبہ کے لیے نہیں۔ (ت)
غرض جب شرع سے قاعدہ کلیہ معلوم ہو لیا کہ جس فعل سے اس نکاح پر عورت کی رضا ثابت ہو اذن و اجازت ہے اور بنظر تحقیق وانصاف جب اس شخص اور مرد اجنبی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو یہ امور دلیل رضا وقبول نکلتے ہیں تو نفاذ نکاح کاا نکار نہ کرے گا مگر جاہل بلکہ جب یہ طریقہ نکاح ہمارے بلاد میں عام طورپر رائج اور معلوم ہے کہ وکیل خود نہ پڑھا ئے گا ۲۷بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو کہہ سکتے ہیں کہ ضمن اذن میں دوسرے کو اذن دینے کا بھی عرفا اذن مل گیا فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ(جیساکہ فقہی قواعد میں ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے(یعنی عرف میں مقررہ امور بغیر ذکر بھی معتبر ہوں گے۔ ت)اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہوتو بیشك اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعمیم الخ(اشباہ میں ہے کہ کوئی وکیل اپنا نائب وکیل مؤکل کی
لافرق بینھما فی اشتراط الاستئذان والرضا وان رضا ھما قد یکون صریحا وقد یکون دلالۃ غیران سکوت البکر رضا دلالۃ لحیائھا دون الثیب ۔
باکرہ اور ثیبہ دونوں کا معاملہ اجازت طلب کرنے اور رضا حاصل کرنے میں مساوی ہے ہاں صرف اجازت کے موقعہ پر سکوت کے بارے میں فرق ہے کہ باکرہ کا سکوت اس کے حیاء کی وجہ سے رضا کی دلیل ہے مگر ثیبہ کے لیے نہیں۔ (ت)
غرض جب شرع سے قاعدہ کلیہ معلوم ہو لیا کہ جس فعل سے اس نکاح پر عورت کی رضا ثابت ہو اذن و اجازت ہے اور بنظر تحقیق وانصاف جب اس شخص اور مرد اجنبی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو یہ امور دلیل رضا وقبول نکلتے ہیں تو نفاذ نکاح کاا نکار نہ کرے گا مگر جاہل بلکہ جب یہ طریقہ نکاح ہمارے بلاد میں عام طورپر رائج اور معلوم ہے کہ وکیل خود نہ پڑھا ئے گا ۲۷بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو کہہ سکتے ہیں کہ ضمن اذن میں دوسرے کو اذن دینے کا بھی عرفا اذن مل گیا فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ(جیساکہ فقہی قواعد میں ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے(یعنی عرف میں مقررہ امور بغیر ذکر بھی معتبر ہوں گے۔ ت)اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہوتو بیشك اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعمیم الخ(اشباہ میں ہے کہ کوئی وکیل اپنا نائب وکیل مؤکل کی
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء المطبعۃ الکبرٰی الامیر یۃ مصر ۲ / ۱۱۹
الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶
الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶
اجازت یا عمومی اختیار کے بغیر نہیں بنا سکتا ہے۔ ت)
اس تقدیر پر یہ نکاح سرے سے نافذ ولازم واقع ہوا جس کی تنقیذ میں ان تدقیقات کی اصلا حاجت نہ رہی مگریہ جب ہی کہہ سکیں گے کہ اس طریقہ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اورجانتی ہوں کہ وکیل خو د نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا۔
والالم یکن معروفا عند ھن فلایجعل کالمشروط فی حقہن تأمل وراجع مسئلۃ سعرالخبز وغیرہ فی البلد۔
ورنہ یہ لڑکیوں کے ہاں معروف نہیں ہوگا اس لیے ان کے حق میں مشروط کی طرح نہ ہوگا غور کرو اور شہر میں روٹی کے بھاؤ وغیرہ کے مسئلہ کی طرف رجوع کرو۔ (ت)
یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وکیل اصلی نے بعد نکاح کوئی کلمہ ایسانہ کہا جو اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کرنے سے جائز ہوجائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل اصلا نہ ہو۔
فی الاشباہ الوکیل اذا وکل بغیر اذن وتعمیم واجاز مافعلہ وکیلہ نفذ الاالطلاق والعتاق ۔
اشباہ میں ہے کہ اگر موکل کی اجازت کے بغیر یا عمومی اختیار حاصل کئے بغیر وکیل نے از خود دوسرا وکیل بنا لیا تو دوسرے وکیل کے لیے عمل کو پہلے وکیل نے جائز قراردیا تویہ عمل نافذ ہوجائے گا ماسوائے طلاق اور عتاق کہ ان میں نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
حموی میں ہے :
وکذا لو عقد اجنبی فاجاز الاول ۔
یوں ہی اگر وکیل کے لیے کسی اجنبی نے عمل کیا تو وکیل نے اسے جائز قرار دیا۔ (ت)
غرض ہر طرح پیش از جماع ان نکاحوں کے نافذ اور لازم ہونے میں شبہہ نہیں تو اولاد قطعا اولاد حلال اور ۲۸بالفرض ان باتوں سے قطع نظر کیجئے اور بتقدیر باطل ہی مان لیجئے کہ اصلا ان امور سے کچھ واقع نہیں ہوتا تاہم جب ان بلاد میں عام مسلمین کو اس میں ابتلا ہے تو راہ یہ تھی کہ اس روایت پر عمل کریں جسے امام عصام نے اپنے متن میں اختیار فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اپنے فتاوی اور زاہدی نے قنیہ میں ا س پر جزم کیا اور علامہ سیدی احمد طحطاوی نے اس کی تائید کی یعنی وکیل بالنکاح جب دوسرے کو نکاح پڑھانے کی اجازت دے اور وہ اس کے سامنے پڑھادے تو نکاح جائز و نافذ ہوجائے گااگرچہ وکیل کو
اس تقدیر پر یہ نکاح سرے سے نافذ ولازم واقع ہوا جس کی تنقیذ میں ان تدقیقات کی اصلا حاجت نہ رہی مگریہ جب ہی کہہ سکیں گے کہ اس طریقہ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اورجانتی ہوں کہ وکیل خو د نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا۔
والالم یکن معروفا عند ھن فلایجعل کالمشروط فی حقہن تأمل وراجع مسئلۃ سعرالخبز وغیرہ فی البلد۔
ورنہ یہ لڑکیوں کے ہاں معروف نہیں ہوگا اس لیے ان کے حق میں مشروط کی طرح نہ ہوگا غور کرو اور شہر میں روٹی کے بھاؤ وغیرہ کے مسئلہ کی طرف رجوع کرو۔ (ت)
یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وکیل اصلی نے بعد نکاح کوئی کلمہ ایسانہ کہا جو اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کرنے سے جائز ہوجائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل اصلا نہ ہو۔
فی الاشباہ الوکیل اذا وکل بغیر اذن وتعمیم واجاز مافعلہ وکیلہ نفذ الاالطلاق والعتاق ۔
اشباہ میں ہے کہ اگر موکل کی اجازت کے بغیر یا عمومی اختیار حاصل کئے بغیر وکیل نے از خود دوسرا وکیل بنا لیا تو دوسرے وکیل کے لیے عمل کو پہلے وکیل نے جائز قراردیا تویہ عمل نافذ ہوجائے گا ماسوائے طلاق اور عتاق کہ ان میں نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
حموی میں ہے :
وکذا لو عقد اجنبی فاجاز الاول ۔
یوں ہی اگر وکیل کے لیے کسی اجنبی نے عمل کیا تو وکیل نے اسے جائز قرار دیا۔ (ت)
غرض ہر طرح پیش از جماع ان نکاحوں کے نافذ اور لازم ہونے میں شبہہ نہیں تو اولاد قطعا اولاد حلال اور ۲۸بالفرض ان باتوں سے قطع نظر کیجئے اور بتقدیر باطل ہی مان لیجئے کہ اصلا ان امور سے کچھ واقع نہیں ہوتا تاہم جب ان بلاد میں عام مسلمین کو اس میں ابتلا ہے تو راہ یہ تھی کہ اس روایت پر عمل کریں جسے امام عصام نے اپنے متن میں اختیار فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اپنے فتاوی اور زاہدی نے قنیہ میں ا س پر جزم کیا اور علامہ سیدی احمد طحطاوی نے اس کی تائید کی یعنی وکیل بالنکاح جب دوسرے کو نکاح پڑھانے کی اجازت دے اور وہ اس کے سامنے پڑھادے تو نکاح جائز و نافذ ہوجائے گااگرچہ وکیل کو
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱۔ ۱۰
غمز عیون البصائر شرح اشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱
غمز عیون البصائر شرح اشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱
اذن توکیل نہ ہو۔
اما روایۃ عصام فقد سمعت واما الامام فقیہ النفس فقال فی وکالۃ الخانیۃ الوکیل بالتزویج لیس لہ ان یؤکل غیرہ فان فعل فزوج الثانی بحضرۃ الاول جاز اھ واما القنیۃ ففی الدرلوا ستأذنھا فسکتت فوکل من یزو جھا ممن سماہ جازان عرفت الزوج والمھر کما فی القنیہ واستشکلہ فی البحر بانہ لیس للوکیل ان یوکل بلااذن فمقتضاہ عدم الجواز او انھا مستثناہ اھ قال ط قولہ فمقتضاہ عدم الجواز قد یقال ان الوکیل فی النکاح وان تعدد سفیر ومعبر الحقوق ترجع الی الموکل فاذا لاضیر فی تعددہ لاسیما والزوج والمھر معلومان ویؤید ذلك ماذکرہ المص والشارح فی الوکالۃ حیث قالا الوکیل لایوکل الاباذن امرہ الااذا وکلہ فی دفع زکاۃ فوکل اخر
لیکن عصام کی روایت توآپ نے سن لی مگر امام فقیہ النفس(قاضی خاں)توانھوں نے خانیہ کے باب وکالت میں فرما یا کہ نکاح کے وکیل نے اگر کسی کو وکیل بنایا تو یہ اس کو جائز نہیں اور بنالیا تو دوسرے نے اگر پہلے کی موجودگی میں نکاح کیا توجائز ہوگا اھ مگر قنیہ تو د ر میں ہے کہ اگر وکیل نے لڑکی سے اذن لینا چاہا تو لڑکی خاموش رہی اور وکیل نے دوسرے شخص کو نامزد کیا تاکہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرے تو لڑکی کو اگر زوج کا نام اور مہر معلوم ہوجائے تو اس دوسرے وکیل کا کیا ہوا نکاح جائز ہوگا۔ جیسا کہ قنیہ میں ہے اس پر بحر میں اشکال کیاکہ وکیل از خود دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا لہذ اس بنا پر دوسرے کا نکاح صحیح نہیں ہونا چاہئے یا یہ صورت مستثنی قرار دی جا ئے اھ اس پر طحطاوی نے فرمایا کہ اس کا قول عدم جواز چاہئے اس پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ نکاح کا وکیل صرف سفیر اور معبر ہوتا ہے وہ اگر متعدد بھی ہوں تو حقوق صرف مؤکل کی طرف راجح ہوتے ہیں تو یہ زیادہ بھی ہوں تو کوئی مضر نہیں خصوصا جبکہ لڑکی کو خاوند اور مہر کا علم ہوجائے اس کی تائید مصنف اور شارح کے اس بیان سے ہوتی ہے جو انھوں نے وکالت کی بحث میں ذکر کیا ہے جہاں پر انھوں نے
اما روایۃ عصام فقد سمعت واما الامام فقیہ النفس فقال فی وکالۃ الخانیۃ الوکیل بالتزویج لیس لہ ان یؤکل غیرہ فان فعل فزوج الثانی بحضرۃ الاول جاز اھ واما القنیۃ ففی الدرلوا ستأذنھا فسکتت فوکل من یزو جھا ممن سماہ جازان عرفت الزوج والمھر کما فی القنیہ واستشکلہ فی البحر بانہ لیس للوکیل ان یوکل بلااذن فمقتضاہ عدم الجواز او انھا مستثناہ اھ قال ط قولہ فمقتضاہ عدم الجواز قد یقال ان الوکیل فی النکاح وان تعدد سفیر ومعبر الحقوق ترجع الی الموکل فاذا لاضیر فی تعددہ لاسیما والزوج والمھر معلومان ویؤید ذلك ماذکرہ المص والشارح فی الوکالۃ حیث قالا الوکیل لایوکل الاباذن امرہ الااذا وکلہ فی دفع زکاۃ فوکل اخر
لیکن عصام کی روایت توآپ نے سن لی مگر امام فقیہ النفس(قاضی خاں)توانھوں نے خانیہ کے باب وکالت میں فرما یا کہ نکاح کے وکیل نے اگر کسی کو وکیل بنایا تو یہ اس کو جائز نہیں اور بنالیا تو دوسرے نے اگر پہلے کی موجودگی میں نکاح کیا توجائز ہوگا اھ مگر قنیہ تو د ر میں ہے کہ اگر وکیل نے لڑکی سے اذن لینا چاہا تو لڑکی خاموش رہی اور وکیل نے دوسرے شخص کو نامزد کیا تاکہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرے تو لڑکی کو اگر زوج کا نام اور مہر معلوم ہوجائے تو اس دوسرے وکیل کا کیا ہوا نکاح جائز ہوگا۔ جیسا کہ قنیہ میں ہے اس پر بحر میں اشکال کیاکہ وکیل از خود دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا لہذ اس بنا پر دوسرے کا نکاح صحیح نہیں ہونا چاہئے یا یہ صورت مستثنی قرار دی جا ئے اھ اس پر طحطاوی نے فرمایا کہ اس کا قول عدم جواز چاہئے اس پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ نکاح کا وکیل صرف سفیر اور معبر ہوتا ہے وہ اگر متعدد بھی ہوں تو حقوق صرف مؤکل کی طرف راجح ہوتے ہیں تو یہ زیادہ بھی ہوں تو کوئی مضر نہیں خصوصا جبکہ لڑکی کو خاوند اور مہر کا علم ہوجائے اس کی تائید مصنف اور شارح کے اس بیان سے ہوتی ہے جو انھوں نے وکالت کی بحث میں ذکر کیا ہے جہاں پر انھوں نے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوکالۃ فصل فی التوکیل بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۸۰
درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
و الوکیل بقبض الدین اذا وکل من فی عیالہ والاعند تقدیر الثمن من المؤکل للوکیل فیجوز التوکیل بلااجازۃ لحصول المقصود اھ ففی مسئلتنا ھذہ تظھر ھذہ العلۃ و ھی کالمسئلۃ الاخیرۃ بجامع التعیین فی کل فتکون مستثناۃ فتعین الجواب الثانی فی الشرح فتأمل اھ مافی ط۔
فرمایا کہ وکیل بغیر اجازت دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا مگر جب کسی وکیل نے زکوۃ دینے کے لیے کسی کو اور قرض وصول کرنے میں وکیل نے اپنے عیال کو اور وکیل کے لیے موکل کی طرف سے ثمن طے کردینے کے بعد کسی دوسرے کو وکیل بنایا تو بلااجازت یہ وکالت جائز ہوگی کیونکہ اس سے مقصد پورا ہوجا تا ہے اھ تو ہمارے اس مسئلہ میں بھی یہی علت ظاہر ہوئی اور یہ آخری مسئلہ کی طرح ہے کہ ان میں جامع علت مقصد کی تعیین ہے اس لیے یہ مستثنی قرار پائے گا۔ اور شارح کا جواب ثانی متعین ہوجائے گا غور کر۔ طحطاوی کابیان ختم ہوا۔ (ت)
اور اگر بحالت استیذان غیر اقرب سکوت ہوا تو روایت امام کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ موجود کہ مطلقا سکوت کافی ہے۔
فی ردالمحتار تحت قولہ استأذنہا غیر الاقرب فلاعبرۃ لسکوتھا الخ وعن الکرخی یکفی سکوتھا فتح اھ ۔
ردالمحتار میں “ لڑکی سے اجازت حاصل کرے کوئی غیر اقرب شخص توا س صورت میں لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہیں الخ “ کے تحت فرمایا امام کرخی سے ایك روایت میں ہے کہ اس کا سکوت رضا مندی کے لیے کافی ہے فتح اھ (ت)
مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتاہے کہ شریعت مطہرہ رفق وتیسیر فرماتی ہے نہ معاذالله تضییق وتشدید ولہذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علمائے کرام انھیں روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بناء پر مسلمان تنگی سے بچیں۔ ردالمحتار کی کتاب الحدود میں ہے :
ھو خلاف الواقع حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ ۔
یہ لوگوں میں مروج کے خلاف ہے اور بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس سے پوری امت کو گنہگار ٹھہرانا لازم آتا ہے۔ (ت)
فرمایا کہ وکیل بغیر اجازت دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا مگر جب کسی وکیل نے زکوۃ دینے کے لیے کسی کو اور قرض وصول کرنے میں وکیل نے اپنے عیال کو اور وکیل کے لیے موکل کی طرف سے ثمن طے کردینے کے بعد کسی دوسرے کو وکیل بنایا تو بلااجازت یہ وکالت جائز ہوگی کیونکہ اس سے مقصد پورا ہوجا تا ہے اھ تو ہمارے اس مسئلہ میں بھی یہی علت ظاہر ہوئی اور یہ آخری مسئلہ کی طرح ہے کہ ان میں جامع علت مقصد کی تعیین ہے اس لیے یہ مستثنی قرار پائے گا۔ اور شارح کا جواب ثانی متعین ہوجائے گا غور کر۔ طحطاوی کابیان ختم ہوا۔ (ت)
اور اگر بحالت استیذان غیر اقرب سکوت ہوا تو روایت امام کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ موجود کہ مطلقا سکوت کافی ہے۔
فی ردالمحتار تحت قولہ استأذنہا غیر الاقرب فلاعبرۃ لسکوتھا الخ وعن الکرخی یکفی سکوتھا فتح اھ ۔
ردالمحتار میں “ لڑکی سے اجازت حاصل کرے کوئی غیر اقرب شخص توا س صورت میں لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہیں الخ “ کے تحت فرمایا امام کرخی سے ایك روایت میں ہے کہ اس کا سکوت رضا مندی کے لیے کافی ہے فتح اھ (ت)
مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتاہے کہ شریعت مطہرہ رفق وتیسیر فرماتی ہے نہ معاذالله تضییق وتشدید ولہذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علمائے کرام انھیں روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بناء پر مسلمان تنگی سے بچیں۔ ردالمحتار کی کتاب الحدود میں ہے :
ھو خلاف الواقع حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ ۔
یہ لوگوں میں مروج کے خلاف ہے اور بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس سے پوری امت کو گنہگار ٹھہرانا لازم آتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۰۔ ۲۹
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب فیمن وطی من زفت الیہ داراحیا ء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۵
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب فیمن وطی من زفت الیہ داراحیا ء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۵
اسی کی کتاب الحظر میں ہے :
ھوارفق باھل ھذا الزمان لئلا یقعوا فی الفسق والعصیان ۔
یہ بات موجودہ زمانہ کے لوگوں کے لیے بڑی رعایت ہے تاکہ وہ فسق وگناہ میں مبتلا نہ قرار پائیں۔ (ت)
اسی کی کتاب البیوع میں ہے :
لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا ولاسیما فی مثل دمشق الشام فانہ لغلبۃ الجھل علی الناس لایمکن الزامھم بالتخلص باحد الطرق المذکورۃ وان امکن ذلك بالنسبۃ الی بعض افراد الناس لایمکن بالنسبۃ الی عامتھم وفی نزعھم عن عادتھم حرج وما ضاق الامر الا اتسع ولایخفی ان ھذا مسوغ للعدول عن ظاھر الروایۃ کما یعلم من رسالتنا المسماۃ نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف فراجعھا اھ ملخصا۔
ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کاپایا جانا واضح ہے خصوصا شام میں دمشق جیسے شہر کے لیے کیونکہ لوگوں میں جہالت کے غلبہ کی وجہ سے ان کو مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقہ سے باز رہنے کا پابند نہیں کیا جاسکتا اگرچہ بعض لوگوں کو پابند بنانا ممکن ہے مگر عام لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے جبکہ عوام کو ان کی عادت سے منع کرنا ان کے لیے تنگی کا باعث ہے اور جہاں معاملہ تنگ ہوتاہے تو وہ وسعت کا باعث ہوتاہے اور یہ بات مخفی نہ رہے کہ ظاہر روایت سے اختلاف کی وجہ یہی چیز ہوتی ہے جیسا کہ ہمارے رسالہ “ نشر العرف فی بناء الاحکام علی العرف “ سے معلوم کیا جاسکتا ہے تو اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اھ ملخصا۔ (ت)
پس روشن ہوگیا کہ اگر روایت عصام وکرخی ہی پر مسلمانوں کا ان سخت آفتوں سے بچانا منحصر ہوتا تو انھیں پر بنائے کار چاہئے تھی نہ کہ مذاہب صحیحہ مشہورہ معتمدہ پر بالیقین یہ نکاح جائز ونافذ ہوں پھر بزور زبان یہاں کے عام مسلمان مردوں مسلمان عورتوں خدا کے پاکیزہ بندوں ستھری بندیوں کو معاذاﷲ زانی و زانیہ و اولاد الزنا قرار دیا جائے ایسی ناپاك جرأت نہ کرے گا مگر سخت ناخدا ترس۔
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷) ۔
الله تمھیں نصیحت فرماتا ہے کہ پھر ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو۔
ھوارفق باھل ھذا الزمان لئلا یقعوا فی الفسق والعصیان ۔
یہ بات موجودہ زمانہ کے لوگوں کے لیے بڑی رعایت ہے تاکہ وہ فسق وگناہ میں مبتلا نہ قرار پائیں۔ (ت)
اسی کی کتاب البیوع میں ہے :
لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا ولاسیما فی مثل دمشق الشام فانہ لغلبۃ الجھل علی الناس لایمکن الزامھم بالتخلص باحد الطرق المذکورۃ وان امکن ذلك بالنسبۃ الی بعض افراد الناس لایمکن بالنسبۃ الی عامتھم وفی نزعھم عن عادتھم حرج وما ضاق الامر الا اتسع ولایخفی ان ھذا مسوغ للعدول عن ظاھر الروایۃ کما یعلم من رسالتنا المسماۃ نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف فراجعھا اھ ملخصا۔
ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کاپایا جانا واضح ہے خصوصا شام میں دمشق جیسے شہر کے لیے کیونکہ لوگوں میں جہالت کے غلبہ کی وجہ سے ان کو مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقہ سے باز رہنے کا پابند نہیں کیا جاسکتا اگرچہ بعض لوگوں کو پابند بنانا ممکن ہے مگر عام لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے جبکہ عوام کو ان کی عادت سے منع کرنا ان کے لیے تنگی کا باعث ہے اور جہاں معاملہ تنگ ہوتاہے تو وہ وسعت کا باعث ہوتاہے اور یہ بات مخفی نہ رہے کہ ظاہر روایت سے اختلاف کی وجہ یہی چیز ہوتی ہے جیسا کہ ہمارے رسالہ “ نشر العرف فی بناء الاحکام علی العرف “ سے معلوم کیا جاسکتا ہے تو اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اھ ملخصا۔ (ت)
پس روشن ہوگیا کہ اگر روایت عصام وکرخی ہی پر مسلمانوں کا ان سخت آفتوں سے بچانا منحصر ہوتا تو انھیں پر بنائے کار چاہئے تھی نہ کہ مذاہب صحیحہ مشہورہ معتمدہ پر بالیقین یہ نکاح جائز ونافذ ہوں پھر بزور زبان یہاں کے عام مسلمان مردوں مسلمان عورتوں خدا کے پاکیزہ بندوں ستھری بندیوں کو معاذاﷲ زانی و زانیہ و اولاد الزنا قرار دیا جائے ایسی ناپاك جرأت نہ کرے گا مگر سخت ناخدا ترس۔
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷) ۔
الله تمھیں نصیحت فرماتا ہے کہ پھر ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۲۵
ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی بیع الثمر والزرع الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۹
القرآن ۲۴ / ۷۱
ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی بیع الثمر والزرع الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۹
القرآن ۲۴ / ۷۱
اور اس کے باقی ہذیانات کہ ولد حلال وحرام کی تمیز چنیں وچناں ہے کلمات جنوں سے بہت مشابہ جو بشدت اہوال قابل جواب نہیں البتہ اس قدر ضرور ہے کہ اس طریقہ نکاح میں ایك بے احتیاطی ہے جس کے باعث بعض دقتوں میں پڑنے کا احتمال تو اہل اسلام کو ہدایت چاہئے کہ اس سے باز آئیں تین باتوں سے ایك اختیار کریں :
اولا سب سے بہتر یہ ہے کہ جس سے نکاح پڑھوانا منظور ہے عورت سے خاص اسی کے نام اذن طلب کریں اور ہمیشہ ہر طریقہ میں ملحوظ خاطر رہے کہ اذن لینے والا یا تو ولی اقرب یا اس کا وکیل یا رسول ہو یا عورت سے صراحۃ “ ہوں “ کہلوالیں مجرد سکوت پر قناعت نہ کریں اور بعض احمق جاہلوں میں جو بدستور سنا گیا ہے کہ دلہن کے سر سے بلاٹالنے کوپاس بیٹھنے والیوں میں سے کوئی “ ہوں “ کہہ دیتی ہے اس کا انسداد کریں۔
ثانیا وکالت دوسرے ہی کے نام کرنا چاہیں تویوں سہی کہ جس طرح دلھن سے اس کی وکالت کا اذن مانگیں یونہی اسے اختیار توکیل دینا بھی طلب کریں یعنی کہیں تو نے فلاں بن فلاں بن فلاں کو فلاں بن فلاں بن فلاں کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کا وکیل کیا اور اسے اختیار دیا کہ چاہے خود پڑھائے یا دوسرے کو اپنا نائب بنائے دلھن کہے “ ہوں “
ثالثا اگریہ بھی نہ ہو اور دوسرے ہی شخص نے وکیل کے سامنے نکاح پڑھایا تو جب وہ پڑھاچکے وکیل فورا اپنی زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے اس نکاح کو جائز کیا۔ اور اس کہنے میں تاخیر نہ کرے کہ مبادا ا س کے جائز کرنے سے دلھن کو خبر نکاح پہنچے اورا س کی ہم عمریں حسب عادت زمانہ اسے کچھ چھیڑیں اور وہ اپنی جہالت سے کوئی ایسی بات کہہ بیٹھے جس سے یہ نکاح کہ اب نکاح فضولی تھا رد ہوجائے پھر وکیل تو وکیل خود دلھن کے جائز کئے بھی جائز نہ ہوگا فان الاجازۃ لاتلحق المفسوخ (کیونکہ فسخ شدہ نکاح کو بعد کی اجازت مفید نہیں ہے۔ ت) بخلاف ان تینوں شکلوں کے کہ بالکل اندیشہ ودغدغہ سے پاك ہیں۔
رہا زید کا کنگنے وغیرہ کو ذکر کرنا وہ محض فضول کہ آخر یہ رسمیں کفر تو نہیں جن کے باعث نکاح نہ ہو۔ ہاں معاذالله اگر مرد یا عورت نے پش از نکاح کفر صریح کا ارتکاب کیا تھا اور بے تو بہ واسلام ان کا نکاح کیا گیا تو قطعانکاح باطل اور اس سے جو اولاد ہوہوگی ولد الزنا اس طرح اگر بعد نکاح ان میں کوئی معاذ الله مرتد ہوگیا اوراس کے بعد کے جماع سے اولاد ہوئی تو وہ بھی حرامی ہوگی اس کے سوا وہ کلمات جن پر فتاوی وغیر ہامیں خلاف تحقیق حکم کفر لکھ دیتے ہیں اور وہ کلمات جن میں کوئی ضعیف مرجوع روایت بھی اگرچہ اور کسی امام کے مذہب میں عدم کفر کی نکل آئے ان کے ارتکاب سے گویا تجدید اسلام ونکاح کا حکم دیں مگر اولاد اولاد زنا نہیں۔
اولا سب سے بہتر یہ ہے کہ جس سے نکاح پڑھوانا منظور ہے عورت سے خاص اسی کے نام اذن طلب کریں اور ہمیشہ ہر طریقہ میں ملحوظ خاطر رہے کہ اذن لینے والا یا تو ولی اقرب یا اس کا وکیل یا رسول ہو یا عورت سے صراحۃ “ ہوں “ کہلوالیں مجرد سکوت پر قناعت نہ کریں اور بعض احمق جاہلوں میں جو بدستور سنا گیا ہے کہ دلہن کے سر سے بلاٹالنے کوپاس بیٹھنے والیوں میں سے کوئی “ ہوں “ کہہ دیتی ہے اس کا انسداد کریں۔
ثانیا وکالت دوسرے ہی کے نام کرنا چاہیں تویوں سہی کہ جس طرح دلھن سے اس کی وکالت کا اذن مانگیں یونہی اسے اختیار توکیل دینا بھی طلب کریں یعنی کہیں تو نے فلاں بن فلاں بن فلاں کو فلاں بن فلاں بن فلاں کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کا وکیل کیا اور اسے اختیار دیا کہ چاہے خود پڑھائے یا دوسرے کو اپنا نائب بنائے دلھن کہے “ ہوں “
ثالثا اگریہ بھی نہ ہو اور دوسرے ہی شخص نے وکیل کے سامنے نکاح پڑھایا تو جب وہ پڑھاچکے وکیل فورا اپنی زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے اس نکاح کو جائز کیا۔ اور اس کہنے میں تاخیر نہ کرے کہ مبادا ا س کے جائز کرنے سے دلھن کو خبر نکاح پہنچے اورا س کی ہم عمریں حسب عادت زمانہ اسے کچھ چھیڑیں اور وہ اپنی جہالت سے کوئی ایسی بات کہہ بیٹھے جس سے یہ نکاح کہ اب نکاح فضولی تھا رد ہوجائے پھر وکیل تو وکیل خود دلھن کے جائز کئے بھی جائز نہ ہوگا فان الاجازۃ لاتلحق المفسوخ (کیونکہ فسخ شدہ نکاح کو بعد کی اجازت مفید نہیں ہے۔ ت) بخلاف ان تینوں شکلوں کے کہ بالکل اندیشہ ودغدغہ سے پاك ہیں۔
رہا زید کا کنگنے وغیرہ کو ذکر کرنا وہ محض فضول کہ آخر یہ رسمیں کفر تو نہیں جن کے باعث نکاح نہ ہو۔ ہاں معاذالله اگر مرد یا عورت نے پش از نکاح کفر صریح کا ارتکاب کیا تھا اور بے تو بہ واسلام ان کا نکاح کیا گیا تو قطعانکاح باطل اور اس سے جو اولاد ہوہوگی ولد الزنا اس طرح اگر بعد نکاح ان میں کوئی معاذ الله مرتد ہوگیا اوراس کے بعد کے جماع سے اولاد ہوئی تو وہ بھی حرامی ہوگی اس کے سوا وہ کلمات جن پر فتاوی وغیر ہامیں خلاف تحقیق حکم کفر لکھ دیتے ہیں اور وہ کلمات جن میں کوئی ضعیف مرجوع روایت بھی اگرچہ اور کسی امام کے مذہب میں عدم کفر کی نکل آئے ان کے ارتکاب سے گویا تجدید اسلام ونکاح کا حکم دیں مگر اولاد اولاد زنا نہیں۔
فی الدرالمختار وغیرہ مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یؤمر بالتوبۃ والاستغفار وتجدید النکاح اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
درمختار وغیرہ میں ہے جو چیز بالاتفاق کفر ہو اس کے ارتکاب سے عمل اور نکاح باطل ہوجاتا ہے اوراس کے بعد کی اولاد ولد زنا ہوگی اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے ارتکاب پر توبہ واستغفار اور تجدید نکاح کا حکم ہوگا اھ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۸ : ا ز رامپور افغاناں فرنگن محل بزریہ ملا ظریف مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب چاٹگامی ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ اس ملك بنگالہ میں زمانہ قدیم سے درمیان عوام بلکہ اکثر خواص کے بھی یہی دستور ہے کہ بعد خواستگاری اور قول اقرار مربیان طرفین اور قبل ایجاب وقبول کے مخطوبہ کو بعد ضیافت براتیان کے مکان میں لاکر اس طور پر نکاح کراتے ہیں کہ چندمربیان عاقدین بالغین وچند بزرگان مجلس کی اجازت سے ایك شخص کواس مجلس والے وکیل مخطوبہ قرارد ے کر اور دو گواہ یا تین چار گواہ کوا س وکیل کے ساتھ کرکے دولھا کی مجلس سے مخطوبہ کے پاس جو قریب پردہ کے اندر بیٹھی ہوئی ہے روانہ کرتے ہیں اب یہ وکیل مخطوبہ کے قریب گواہوں کے ساتھ جاکر مخطوبہ سے اس طرح قبول کراتا ہے کہ اے فاطمہ زید کی بیٹی! تو نے بکر کو جو خالد کا پسر ہے اس قدر مہر پر جو اس کے اوپر واجب الادا ہوگا اپنی زوجیت میں قبول کیا تو فاطمہ بآواز بلند کہتی ہے کہ میں نے قبول کیا یافقط “ قبول کیا “ کہہ دیا اور اس قبول مخطوبہ کو گواہان نے بھی سن لیا ا ب پھر وہ وکیل خاطب کی مجلس میں اپنے گواہان کے ساتھ حاضر ہوتا ہے تو جو قاضی عقد کرانے کو دولھا کے پاس بیٹھا ہے وہ اس وکیل سے سوال کرتا ہے کہ تو کون ہے تو وہ وکیل جواب دیتا ہے کہ میں فاطمہ مخطوبہ کا وکیل ہوں تو قاضی دریافت کرتا ہے کہ توکیا جانتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے کہ فاطمہ دختر زید نے بکر پسر خالد کو اپنی زوجیت میں قبول کیا ہے اور میں نے قبول کرایا ہے پھر قاضی سوال کرتا ہے کہ تمھارا کوئی گواہ بھی ہے تو وکیل اپنے گواہوں کی طرف اشارہ کرکے بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ گواہ موجود ہیں تو قاضی پھر ان گواہوں کی طرف متوجہ ہوکر ہر ایك گواہ سے الگ الگ سوال کرتا ہے اور گواہ لوگ اپنی سماعت بیان کرتے ہیں یعنی فاطمہ نے بکرکو قبول کیا اب جب قاضی کو سماعت شہادت سے فراغت ہوئی تو بہ تعلیم قاضی یا خود وکیل مذکور بکر کو قبول
درمختار وغیرہ میں ہے جو چیز بالاتفاق کفر ہو اس کے ارتکاب سے عمل اور نکاح باطل ہوجاتا ہے اوراس کے بعد کی اولاد ولد زنا ہوگی اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے ارتکاب پر توبہ واستغفار اور تجدید نکاح کا حکم ہوگا اھ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۸ : ا ز رامپور افغاناں فرنگن محل بزریہ ملا ظریف مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب چاٹگامی ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ اس ملك بنگالہ میں زمانہ قدیم سے درمیان عوام بلکہ اکثر خواص کے بھی یہی دستور ہے کہ بعد خواستگاری اور قول اقرار مربیان طرفین اور قبل ایجاب وقبول کے مخطوبہ کو بعد ضیافت براتیان کے مکان میں لاکر اس طور پر نکاح کراتے ہیں کہ چندمربیان عاقدین بالغین وچند بزرگان مجلس کی اجازت سے ایك شخص کواس مجلس والے وکیل مخطوبہ قرارد ے کر اور دو گواہ یا تین چار گواہ کوا س وکیل کے ساتھ کرکے دولھا کی مجلس سے مخطوبہ کے پاس جو قریب پردہ کے اندر بیٹھی ہوئی ہے روانہ کرتے ہیں اب یہ وکیل مخطوبہ کے قریب گواہوں کے ساتھ جاکر مخطوبہ سے اس طرح قبول کراتا ہے کہ اے فاطمہ زید کی بیٹی! تو نے بکر کو جو خالد کا پسر ہے اس قدر مہر پر جو اس کے اوپر واجب الادا ہوگا اپنی زوجیت میں قبول کیا تو فاطمہ بآواز بلند کہتی ہے کہ میں نے قبول کیا یافقط “ قبول کیا “ کہہ دیا اور اس قبول مخطوبہ کو گواہان نے بھی سن لیا ا ب پھر وہ وکیل خاطب کی مجلس میں اپنے گواہان کے ساتھ حاضر ہوتا ہے تو جو قاضی عقد کرانے کو دولھا کے پاس بیٹھا ہے وہ اس وکیل سے سوال کرتا ہے کہ تو کون ہے تو وہ وکیل جواب دیتا ہے کہ میں فاطمہ مخطوبہ کا وکیل ہوں تو قاضی دریافت کرتا ہے کہ توکیا جانتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے کہ فاطمہ دختر زید نے بکر پسر خالد کو اپنی زوجیت میں قبول کیا ہے اور میں نے قبول کرایا ہے پھر قاضی سوال کرتا ہے کہ تمھارا کوئی گواہ بھی ہے تو وکیل اپنے گواہوں کی طرف اشارہ کرکے بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ گواہ موجود ہیں تو قاضی پھر ان گواہوں کی طرف متوجہ ہوکر ہر ایك گواہ سے الگ الگ سوال کرتا ہے اور گواہ لوگ اپنی سماعت بیان کرتے ہیں یعنی فاطمہ نے بکرکو قبول کیا اب جب قاضی کو سماعت شہادت سے فراغت ہوئی تو بہ تعلیم قاضی یا خود وکیل مذکور بکر کو قبول
حوالہ / References
در مختار کتاب الجھاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
کراتا ہے کہ تونے فاطمہ دختر کو اس قدر (سور وپے یا ہزار مثلا) مہر اپنے ذمہ لے کر قبول کیا یا “ قبلت “ تو بکر اقرار کرتا ہے کہ میں نے ہندہ کو قبول کیا یا فقط قبول کیا یا “ قبلت “ کہہ دیاپھر قاضی خطبہ وغیرہ پڑھ کر مجلس عقد ختم کردیتا ہے تو اب صورت مذکورہ میں فاطمہ اور بکر کانکاح منعقد ہو ایا نہیں برتقدیر اول بعض علماء کو یہ شبہہ ہے کہ یہ وکیل مذکور نہ تو خاطب کی طرف سے مقرر ہو انہ مخطو بہ کی طرف سے حالانکہ یہ دونوں بالغ ہیں اور بالغ کا نکاح بلااذن عاقدین کیونکر ہوسکتا ہے اور برتقدیر ثانی ہزاروں آدمی حرامزادے قرارپاتے ہیں اور یہ ایجاب وقبول مذکور کیا قرار پائیں گے کیا نکاح مذکور بالکل معدوم قرار دیا جائے گا۔ کیا نکاح فضولی سے خارج ہوگیا بینوا توجروا۔
الجواب :
اس مسئلہ میں ابانت جواب اور بتوفیقہ تعالی اصابت صواب محتاج نظر غائر وفکر دقیق۔
۲۹فاقول : وبا لله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ سفیر مذکور جسے وہ عوام وکیل مخطوبہ ٹھہراتے ہیں اس کا مخطوبہ و خاطب دونوں سے خطاب مذکور بصورت استفہام ہے اگرچہ حرف استفہام مقدر ہے اور استفہام وعقد اقسام انشاسے دوقسم متبائن ہیں تو جہاں حقیقت استفہام مقصود ومفہوم ہو وہ کلام ایجاب یا قبول نہیں قرار پاسکتا ہاں اگر صورۃ استفہام اور معنی تحقیق عقد مستفاد ہو تو ایجاب یا توکیل متصور ہوگا مگر اس کے لیے قیام قرینہ درکار کما ھو شان کل مجاز (جیسا کہ ہر مجاز کا تقاضا ہے۔ ت) ولہذا علماء فرماتے ہیں اگر زید نے عمرو سے کہا تو نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اس نے کہا “ دی “ یا “ ہاں “ نکاح نہ ہوگا جب تك زید اس کے جواب میں “ میں نے قبول کی “ نہ کہے تنویر الابصارو درمختار میں ہے :
لو قال رجل لاخر زو جتنی ابنتك فقال الاخر زوجت اوقال نعم مجیبا لہ لم یکن نکاحا مالم یقل الموجب بعدہ قبلت لان زوجتنی استخبار ولیس بعقد بخلاف زوجنی لانہ توکیل ۔
اگر ایك شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو نے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی دوسرے نے جواب میں کہاکہ نکاح کردی یا “ ہاں “ کہہ دیا تو نکاح نہ ہوگا جب تك ایجاب کرنے والا بعد میں یہ نہ کہے کہ میں نے قبول کی کیونکہ پہلے کا یہ کہنا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی یہ صرف طلب خبر ہے عقد نکاح نہیں ہے اس کے برخلاف اگرپہلا یہ کہتا کہ تومجھے نکاح کردے تو اس سے دوسرا وکیل بن جاتا اورا س کا “ نکاح کردی “ کہنے سے نکاح ہوجاتا۔ (ت)
الجواب :
اس مسئلہ میں ابانت جواب اور بتوفیقہ تعالی اصابت صواب محتاج نظر غائر وفکر دقیق۔
۲۹فاقول : وبا لله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ سفیر مذکور جسے وہ عوام وکیل مخطوبہ ٹھہراتے ہیں اس کا مخطوبہ و خاطب دونوں سے خطاب مذکور بصورت استفہام ہے اگرچہ حرف استفہام مقدر ہے اور استفہام وعقد اقسام انشاسے دوقسم متبائن ہیں تو جہاں حقیقت استفہام مقصود ومفہوم ہو وہ کلام ایجاب یا قبول نہیں قرار پاسکتا ہاں اگر صورۃ استفہام اور معنی تحقیق عقد مستفاد ہو تو ایجاب یا توکیل متصور ہوگا مگر اس کے لیے قیام قرینہ درکار کما ھو شان کل مجاز (جیسا کہ ہر مجاز کا تقاضا ہے۔ ت) ولہذا علماء فرماتے ہیں اگر زید نے عمرو سے کہا تو نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اس نے کہا “ دی “ یا “ ہاں “ نکاح نہ ہوگا جب تك زید اس کے جواب میں “ میں نے قبول کی “ نہ کہے تنویر الابصارو درمختار میں ہے :
لو قال رجل لاخر زو جتنی ابنتك فقال الاخر زوجت اوقال نعم مجیبا لہ لم یکن نکاحا مالم یقل الموجب بعدہ قبلت لان زوجتنی استخبار ولیس بعقد بخلاف زوجنی لانہ توکیل ۔
اگر ایك شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو نے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی دوسرے نے جواب میں کہاکہ نکاح کردی یا “ ہاں “ کہہ دیا تو نکاح نہ ہوگا جب تك ایجاب کرنے والا بعد میں یہ نہ کہے کہ میں نے قبول کی کیونکہ پہلے کا یہ کہنا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی یہ صرف طلب خبر ہے عقد نکاح نہیں ہے اس کے برخلاف اگرپہلا یہ کہتا کہ تومجھے نکاح کردے تو اس سے دوسرا وکیل بن جاتا اورا س کا “ نکاح کردی “ کہنے سے نکاح ہوجاتا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
رجل قال لاخر دختر خویش فلانہ مرادہ بزنی فقال دادم وھی صغیرۃ ینعقد النکاح وان لم یقل الزوج قبلت ولوقال دادی لایجوز اذا قال دادم مالم یقل الزوج پذیر فتم الخ۔
ایك شخص نے دوسرے کو کہا تو اپنی فلاں لڑکی مجھے بیوی کے طور دے دے تو دوسرے نے کہا میں نے دی اس صورت میں اگر وہ لڑکی نابالغہ ہو تو پہلے کے “ قبلت “ (میں نے قبول کی) کہے بغیر نکاح ہوجائے گا۔ اور پہلے نے یہ کہا کہ تونے مجھے دی ہے تو دوسرے کے “ دے دی “ کہنے سے نکاح نہ ہوگا جب تك پہلا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے الخ (ت)
فتاوی امام قاضی خان وہندیہ میں امام ابوبکر محمد بن عقیل الفضل سے ہے :
اذا قال لاب البنت زوجتنی ابنتك فقال زوجت اوقال نعم لایکون نکاحا الاان یقول لہ الرجل بعد ذلك قبلت لان زوجتنی استخبار ولیس بعقد بخلاف قولہ زوجنی لانہ توکیل اھ باختصار۔
جب ایك شخص نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے نکاح کردی یا “ ہاں “ کہا تو نکاح نہ ہوگا مگر یہ کہ بعد میں پہلا شخص “ میں نے قبول کی “ کہہ دے تو نکاح ہوجائیگا کیونکہ “ تونے نکاح کی “ کا لفظ خبر کے حصول کے لیے ہے اور عقد نکاح نہیں ہے اس کے بخلاف اگر پہلا یوں کہتا ہے کہ “ تو مجھے نکاح کردے “ تو بطور توکیل نکاح ہوجاتا ہے اھ اختصارا (ت)
نیز خانیہ میں ہے :
رجل قال لغیرہ بالفارسیۃ دختر خویش را مرادادی فقال دادم لایکون نکاحا۔
ایك شخص نے دوسرے کو فارسی میں کہا کہ تونے اپنی لڑکی مجھے دی تو جواب میں دوسرے نے کہا دے دی تو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
اسی طرح کتب معتبرہ کثیرہ میں ہے یہ اصل استفہام کا حکم ہے
فالا طلاق انما ھو بالنظر الی الحقیقۃ
کلام میں اطلاق حقیقی معنی کے لحاظ سے ہوتا ہے
رجل قال لاخر دختر خویش فلانہ مرادہ بزنی فقال دادم وھی صغیرۃ ینعقد النکاح وان لم یقل الزوج قبلت ولوقال دادی لایجوز اذا قال دادم مالم یقل الزوج پذیر فتم الخ۔
ایك شخص نے دوسرے کو کہا تو اپنی فلاں لڑکی مجھے بیوی کے طور دے دے تو دوسرے نے کہا میں نے دی اس صورت میں اگر وہ لڑکی نابالغہ ہو تو پہلے کے “ قبلت “ (میں نے قبول کی) کہے بغیر نکاح ہوجائے گا۔ اور پہلے نے یہ کہا کہ تونے مجھے دی ہے تو دوسرے کے “ دے دی “ کہنے سے نکاح نہ ہوگا جب تك پہلا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے الخ (ت)
فتاوی امام قاضی خان وہندیہ میں امام ابوبکر محمد بن عقیل الفضل سے ہے :
اذا قال لاب البنت زوجتنی ابنتك فقال زوجت اوقال نعم لایکون نکاحا الاان یقول لہ الرجل بعد ذلك قبلت لان زوجتنی استخبار ولیس بعقد بخلاف قولہ زوجنی لانہ توکیل اھ باختصار۔
جب ایك شخص نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے نکاح کردی تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے نکاح کردی یا “ ہاں “ کہا تو نکاح نہ ہوگا مگر یہ کہ بعد میں پہلا شخص “ میں نے قبول کی “ کہہ دے تو نکاح ہوجائیگا کیونکہ “ تونے نکاح کی “ کا لفظ خبر کے حصول کے لیے ہے اور عقد نکاح نہیں ہے اس کے بخلاف اگر پہلا یوں کہتا ہے کہ “ تو مجھے نکاح کردے “ تو بطور توکیل نکاح ہوجاتا ہے اھ اختصارا (ت)
نیز خانیہ میں ہے :
رجل قال لغیرہ بالفارسیۃ دختر خویش را مرادادی فقال دادم لایکون نکاحا۔
ایك شخص نے دوسرے کو فارسی میں کہا کہ تونے اپنی لڑکی مجھے دی تو جواب میں دوسرے نے کہا دے دی تو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
اسی طرح کتب معتبرہ کثیرہ میں ہے یہ اصل استفہام کا حکم ہے
فالا طلاق انما ھو بالنظر الی الحقیقۃ
کلام میں اطلاق حقیقی معنی کے لحاظ سے ہوتا ہے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴ ، خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ ۱ / ۷۶
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۹
اما لو اطلقت عــــہ فھی مقیدۃ حقیقۃ بما اذا لم یرد بہ التحقیق۔
اور اگر عام کر دیا جائے تو پھر اس وقت حقیقی معنی مراد لینے کے لیے مجازی معنی (تحقیق عقد) مراد نہ ہونے کی قید ضرور ہوگی۔ (ت)
یہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ہنگام ارادہ تحقیق عقدتام ہے۔ فتاوی ظہیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
لو قال بالفارسیۃ دختر خویش مرادادی فقال دادم لاینعقد النکاح لان ھذا استخبار واستیعاد فلا یصیر وکیلا الا اذا ارادبہ التحقیق دون الاستیلام ۔
اگر ایك نے دوسرے سے فارسی میں کہا کہ تونے اپنی لڑکی مجھے دی تودوسرے نے کہا “ دی “ تو نکاح منعقد نہ ہوگا کیونکہ یہ پہلے کا کلام طلب خبر ہے اور طلب وعدہ ہے لہذا ا س کلام سے دوسرا پہلے وکیل نہ ہوسکے گا۔ مگر یہ کہ پہلے نے اپنی کلام سے تحقیق عقد (مجازی معنی) مراد لیا ہو تو نکاح ہوجائے گا اور استفہام کا حقیقی معنی استفسار اور منگنی واستخبار ہو تو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
قال لہ دختر خود فلانہ رابمن دہ فقال دادم وھی صغیرۃ انعقد وان لم یقل قبلت لانہ توکیل ولو قال بمن دادی لا الا اذا قال دادم وقال الزوج پذیر فتم الا اذا اراد بدادی التحقیق ۔
ایك نے دوسرے سے کہا کہ اپنی فلاں لڑکی مجھے دے تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے دی تو نابالغہ لڑکی ہو تونکاح ہوجائیگا اگرچہ پہلے نے اس کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہا ہو کیونکہ “ اپنی لڑکی دے “ کہنا دوسرے کو وکیل بنانا ہے اور اگر پہلے نے یہ کہا ہو کہ “ تونے مجھے دی “ تو پھر نکاح نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب دوسرے نے “ میں نے دی “ کہا اور پہلے نے اس کے جواب “ میں نے قبول کی “ کہا ہو ہاں اگر پہلے نے دادی کے لفظ سے استفہام کی بجائے تحقیق عقد مرادلی ہو۔ (ت)
عــــــہ : ای جعلت الکلام مطلقا شاملا للحقیقۃ والمجاز و بالجملۃ فالتقیید موجب للاطلاق والاطلاق موجب للتقیید فافھم ۱۲ منہ ـ غفرلہ۔ (م)
یعنی کلام کو اطلاق پر رکھ کر عام کردیا جائے یوں کہ حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو۔ خلاصہ یہ کہ کلام کو حقیقت سے مقید کرنا دلالت میں اطلاق کو چاہتا ہے اور کلام کو عام کرنا (حقیقت ومجاز کو شامل کرنا)عدم جوازکی قیدکوچاہتاہے غورکرو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اور اگر عام کر دیا جائے تو پھر اس وقت حقیقی معنی مراد لینے کے لیے مجازی معنی (تحقیق عقد) مراد نہ ہونے کی قید ضرور ہوگی۔ (ت)
یہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ہنگام ارادہ تحقیق عقدتام ہے۔ فتاوی ظہیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
لو قال بالفارسیۃ دختر خویش مرادادی فقال دادم لاینعقد النکاح لان ھذا استخبار واستیعاد فلا یصیر وکیلا الا اذا ارادبہ التحقیق دون الاستیلام ۔
اگر ایك نے دوسرے سے فارسی میں کہا کہ تونے اپنی لڑکی مجھے دی تودوسرے نے کہا “ دی “ تو نکاح منعقد نہ ہوگا کیونکہ یہ پہلے کا کلام طلب خبر ہے اور طلب وعدہ ہے لہذا ا س کلام سے دوسرا پہلے وکیل نہ ہوسکے گا۔ مگر یہ کہ پہلے نے اپنی کلام سے تحقیق عقد (مجازی معنی) مراد لیا ہو تو نکاح ہوجائے گا اور استفہام کا حقیقی معنی استفسار اور منگنی واستخبار ہو تو نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
قال لہ دختر خود فلانہ رابمن دہ فقال دادم وھی صغیرۃ انعقد وان لم یقل قبلت لانہ توکیل ولو قال بمن دادی لا الا اذا قال دادم وقال الزوج پذیر فتم الا اذا اراد بدادی التحقیق ۔
ایك نے دوسرے سے کہا کہ اپنی فلاں لڑکی مجھے دے تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے دی تو نابالغہ لڑکی ہو تونکاح ہوجائیگا اگرچہ پہلے نے اس کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہا ہو کیونکہ “ اپنی لڑکی دے “ کہنا دوسرے کو وکیل بنانا ہے اور اگر پہلے نے یہ کہا ہو کہ “ تونے مجھے دی “ تو پھر نکاح نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب دوسرے نے “ میں نے دی “ کہا اور پہلے نے اس کے جواب “ میں نے قبول کی “ کہا ہو ہاں اگر پہلے نے دادی کے لفظ سے استفہام کی بجائے تحقیق عقد مرادلی ہو۔ (ت)
عــــــہ : ای جعلت الکلام مطلقا شاملا للحقیقۃ والمجاز و بالجملۃ فالتقیید موجب للاطلاق والاطلاق موجب للتقیید فافھم ۱۲ منہ ـ غفرلہ۔ (م)
یعنی کلام کو اطلاق پر رکھ کر عام کردیا جائے یوں کہ حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو۔ خلاصہ یہ کہ کلام کو حقیقت سے مقید کرنا دلالت میں اطلاق کو چاہتا ہے اور کلام کو عام کرنا (حقیقت ومجاز کو شامل کرنا)عدم جوازکی قیدکوچاہتاہے غورکرو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ ۱ / ۷۶
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۰
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۰
محیط و ہندیہ میں ہے :
لاینعقد النکاح مالم یقل الخاطب پذیر فتم الااذا اراد بقول دادی التحقیق دون السوم الخ۔
منگنی پوچھنے والا جب تك لڑکی کے باپ کے جواب کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہے گا نکاح نہ ہوگا مگر یہ کہ اس کے اس کہنے “ مجھے تونے اپنی لڑکی دی “ سے مراد منگنی نہ ہو بلکہ تحقیق مراد ہے الخ (ت)
ذخیرۃ العقبی میں ہے :
قولہ دادی استخبار فلایثبت التوکیل بہ نعم اذا ارید بقولہ دادی التحقیق دون السوم ینعقد النکاح وان لم یقل الخا طب پذیر فتم الخ ۔
ایك کاکہنا “ تونے دی “ یہ طلب خبر ہے اس سے توکیل ثابت نہ ہوگی ہاں اگر “ تونے دی “ سے مراد منگنی کی بجائے تحقیق ہوتو نکاح ہوجائے گا اگرچہ بعد میں یہ کہنے والا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے الخ (ت)
یہی محل ہے اس فرع ذخیرہ و ہندیہ کا :
قیل لامرأۃ خویش رازن من کردی فقالت کردم ینعقد النکاح وکذا لو قال خویش رازن من گردانیدی فقالت گردانیدم ۔
اگر کسی عورت کو یہ کہا گیا تونے اپنے کو میری بیوی کردیا تو عورت نے کہا “ میں نے کردیا “ تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور یونہی اگر کسی نے عورت کو کہا تونے اپنے کو میری بیوی بنادیا تو عورت نے کہا “ میں نے بنا دیا “ نکاح ہوجائے گا (ت)
اور اس فرع محیط وہندیہ کا :
سئل نجم الدین عمن قال لامرأۃ خویشتن را بہزاردرم بمن بزنی دادی فقالت بالسمع والطاعۃ قال ینعقد النکاح ولو قالت سپاس دارم لاینعقد لان الاول
نجم الدین سے سوال کیا گیا کہ جس نے کسی عورت کو کہا کہ تونے اپنے کو ہزار مہرکے بدلے میری بیوی کردیا تو عورت نے جواب میں کہا “ سنا اور اطاعت کی “ تو انھوں نے فرمایا : نکاح منعقد ہوگیا اور اگر عورت
لاینعقد النکاح مالم یقل الخاطب پذیر فتم الااذا اراد بقول دادی التحقیق دون السوم الخ۔
منگنی پوچھنے والا جب تك لڑکی کے باپ کے جواب کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہے گا نکاح نہ ہوگا مگر یہ کہ اس کے اس کہنے “ مجھے تونے اپنی لڑکی دی “ سے مراد منگنی نہ ہو بلکہ تحقیق مراد ہے الخ (ت)
ذخیرۃ العقبی میں ہے :
قولہ دادی استخبار فلایثبت التوکیل بہ نعم اذا ارید بقولہ دادی التحقیق دون السوم ینعقد النکاح وان لم یقل الخا طب پذیر فتم الخ ۔
ایك کاکہنا “ تونے دی “ یہ طلب خبر ہے اس سے توکیل ثابت نہ ہوگی ہاں اگر “ تونے دی “ سے مراد منگنی کی بجائے تحقیق ہوتو نکاح ہوجائے گا اگرچہ بعد میں یہ کہنے والا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے الخ (ت)
یہی محل ہے اس فرع ذخیرہ و ہندیہ کا :
قیل لامرأۃ خویش رازن من کردی فقالت کردم ینعقد النکاح وکذا لو قال خویش رازن من گردانیدی فقالت گردانیدم ۔
اگر کسی عورت کو یہ کہا گیا تونے اپنے کو میری بیوی کردیا تو عورت نے کہا “ میں نے کردیا “ تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور یونہی اگر کسی نے عورت کو کہا تونے اپنے کو میری بیوی بنادیا تو عورت نے کہا “ میں نے بنا دیا “ نکاح ہوجائے گا (ت)
اور اس فرع محیط وہندیہ کا :
سئل نجم الدین عمن قال لامرأۃ خویشتن را بہزاردرم بمن بزنی دادی فقالت بالسمع والطاعۃ قال ینعقد النکاح ولو قالت سپاس دارم لاینعقد لان الاول
نجم الدین سے سوال کیا گیا کہ جس نے کسی عورت کو کہا کہ تونے اپنے کو ہزار مہرکے بدلے میری بیوی کردیا تو عورت نے جواب میں کہا “ سنا اور اطاعت کی “ تو انھوں نے فرمایا : نکاح منعقد ہوگیا اور اگر عورت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
ذخیرہ عقبٰی کتاب النکاح نولکشور کانپور ۲ / ۱۷۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
ذخیرہ عقبٰی کتاب النکاح نولکشور کانپور ۲ / ۱۷۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
اجابۃ والثانی وعد ۔
نے جواب میں یوں کہا “ پسند کرتی ہوں “ تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ پہلا جواب قبولیت ہے اور دوسرا صرف وعدہ ہے۔ (ت)
لاجرم قول فیصل یہ قرار پا یا کہ مدار کا مفہوم ومستفاد بنظر احوال وقرائن استعمال پر ہے۔ زید نے کہا تو نے اپنی بیٹی مجھے دی عمرو نے کہا دی اگر مجلس منگنی کی تھی منگنی ہوئی اورنکاح کی تھی تو نکاح ہوگیا۔ درمختار میں ہے :
وکذا (ای فی کونہ ایجابا قولہ) انا متزوجك اوجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح اوھل اعطیتنیھا ان کان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔
یوں ہی الفاظ ایجاب میں سے یہ بھی ہیں “ میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “ یا “ میں پیغام نکاح دینے کے لیے آیا ہوں “ یا “ کیا تونے مجھے اپنی لڑکی دی “ ان صورتوں میں اگر مجلس نکاح ہے تو نکاح قرار پائے گا اور اگر یہ مجلس منگنی ہو تو منگنی قرار پائے گی کیونکہ نکاح میں بھاؤ جاری نہیں ہوتا (صرف منگنی یا نکاح ہوتاہے) (ت)
شرح مختصر الطحاوی للاسبیحابی پھر شرح قدوری للزاہدی پھر انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعد وان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
ایك نے دوسرے کو کہا تونے اپنی لڑکی مجھے دی ہے تو دوسرے نے کہا میں نے دی تو اگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور مجلس منگنی ہو تو منگنی ہوگی (ت)
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے :
لما علمنا ان الملاحظۃ من جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مسا و للطرف الاخر فقلنا لوقال بالمضارع ذی الھمزۃ اتزوجك فقالت زوجت نفسی انعقد و
جب ہمیں معلوم ہوا کہ نکاح کے منعقد ہونے اور اس حکم کے لازم ہونے میں شریعت نے رضا والے پہلوکا لحاظ کیا ہے۔ توہم نے اس پر نکاح کے حکم کوایسے الفاظ تك پھیلایا جورضا کے اظہار کا فائدہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ رضا کے خلاف کا مساوی طور پر احتمال نہ رکھتے ہوں اس لیے ہم نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مضارع واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یوں کہا “ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں “ تو عورت نے اس کے جواب میں کہا “ میں نے اپنا نکاح کیا “ تونکاح ہوجائے گا اگر کسی نے مضارع واحد مخاطب کے صیغہ کواستعمال کیا ا ور یوں کہا
اجابۃ والثانی وعد ۔
نے جواب میں یوں کہا “ پسند کرتی ہوں “ تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ پہلا جواب قبولیت ہے اور دوسرا صرف وعدہ ہے۔ (ت)
لاجرم قول فیصل یہ قرار پا یا کہ مدار کا مفہوم ومستفاد بنظر احوال وقرائن استعمال پر ہے۔ زید نے کہا تو نے اپنی بیٹی مجھے دی عمرو نے کہا دی اگر مجلس منگنی کی تھی منگنی ہوئی اورنکاح کی تھی تو نکاح ہوگیا۔ درمختار میں ہے :
وکذا (ای فی کونہ ایجابا قولہ) انا متزوجك اوجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح اوھل اعطیتنیھا ان کان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔
یوں ہی الفاظ ایجاب میں سے یہ بھی ہیں “ میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “ یا “ میں پیغام نکاح دینے کے لیے آیا ہوں “ یا “ کیا تونے مجھے اپنی لڑکی دی “ ان صورتوں میں اگر مجلس نکاح ہے تو نکاح قرار پائے گا اور اگر یہ مجلس منگنی ہو تو منگنی قرار پائے گی کیونکہ نکاح میں بھاؤ جاری نہیں ہوتا (صرف منگنی یا نکاح ہوتاہے) (ت)
شرح مختصر الطحاوی للاسبیحابی پھر شرح قدوری للزاہدی پھر انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعد وان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
ایك نے دوسرے کو کہا تونے اپنی لڑکی مجھے دی ہے تو دوسرے نے کہا میں نے دی تو اگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور مجلس منگنی ہو تو منگنی ہوگی (ت)
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے :
لما علمنا ان الملاحظۃ من جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مسا و للطرف الاخر فقلنا لوقال بالمضارع ذی الھمزۃ اتزوجك فقالت زوجت نفسی انعقد و
جب ہمیں معلوم ہوا کہ نکاح کے منعقد ہونے اور اس حکم کے لازم ہونے میں شریعت نے رضا والے پہلوکا لحاظ کیا ہے۔ توہم نے اس پر نکاح کے حکم کوایسے الفاظ تك پھیلایا جورضا کے اظہار کا فائدہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ رضا کے خلاف کا مساوی طور پر احتمال نہ رکھتے ہوں اس لیے ہم نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مضارع واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یوں کہا “ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں “ تو عورت نے اس کے جواب میں کہا “ میں نے اپنا نکاح کیا “ تونکاح ہوجائے گا اگر کسی نے مضارع واحد مخاطب کے صیغہ کواستعمال کیا ا ور یوں کہا
نے جواب میں یوں کہا “ پسند کرتی ہوں “ تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ پہلا جواب قبولیت ہے اور دوسرا صرف وعدہ ہے۔ (ت)
لاجرم قول فیصل یہ قرار پا یا کہ مدار کا مفہوم ومستفاد بنظر احوال وقرائن استعمال پر ہے۔ زید نے کہا تو نے اپنی بیٹی مجھے دی عمرو نے کہا دی اگر مجلس منگنی کی تھی منگنی ہوئی اورنکاح کی تھی تو نکاح ہوگیا۔ درمختار میں ہے :
وکذا (ای فی کونہ ایجابا قولہ) انا متزوجك اوجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح اوھل اعطیتنیھا ان کان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔
یوں ہی الفاظ ایجاب میں سے یہ بھی ہیں “ میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “ یا “ میں پیغام نکاح دینے کے لیے آیا ہوں “ یا “ کیا تونے مجھے اپنی لڑکی دی “ ان صورتوں میں اگر مجلس نکاح ہے تو نکاح قرار پائے گا اور اگر یہ مجلس منگنی ہو تو منگنی قرار پائے گی کیونکہ نکاح میں بھاؤ جاری نہیں ہوتا (صرف منگنی یا نکاح ہوتاہے) (ت)
شرح مختصر الطحاوی للاسبیحابی پھر شرح قدوری للزاہدی پھر انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعد وان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
ایك نے دوسرے کو کہا تونے اپنی لڑکی مجھے دی ہے تو دوسرے نے کہا میں نے دی تو اگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور مجلس منگنی ہو تو منگنی ہوگی (ت)
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے :
لما علمنا ان الملاحظۃ من جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مسا و للطرف الاخر فقلنا لوقال بالمضارع ذی الھمزۃ اتزوجك فقالت زوجت نفسی انعقد و
جب ہمیں معلوم ہوا کہ نکاح کے منعقد ہونے اور اس حکم کے لازم ہونے میں شریعت نے رضا والے پہلوکا لحاظ کیا ہے۔ توہم نے اس پر نکاح کے حکم کوایسے الفاظ تك پھیلایا جورضا کے اظہار کا فائدہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ رضا کے خلاف کا مساوی طور پر احتمال نہ رکھتے ہوں اس لیے ہم نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مضارع واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یوں کہا “ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں “ تو عورت نے اس کے جواب میں کہا “ میں نے اپنا نکاح کیا “ تونکاح ہوجائے گا اگر کسی نے مضارع واحد مخاطب کے صیغہ کواستعمال کیا ا ور یوں کہا
اجابۃ والثانی وعد ۔
نے جواب میں یوں کہا “ پسند کرتی ہوں “ تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ پہلا جواب قبولیت ہے اور دوسرا صرف وعدہ ہے۔ (ت)
لاجرم قول فیصل یہ قرار پا یا کہ مدار کا مفہوم ومستفاد بنظر احوال وقرائن استعمال پر ہے۔ زید نے کہا تو نے اپنی بیٹی مجھے دی عمرو نے کہا دی اگر مجلس منگنی کی تھی منگنی ہوئی اورنکاح کی تھی تو نکاح ہوگیا۔ درمختار میں ہے :
وکذا (ای فی کونہ ایجابا قولہ) انا متزوجك اوجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح اوھل اعطیتنیھا ان کان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔
یوں ہی الفاظ ایجاب میں سے یہ بھی ہیں “ میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “ یا “ میں پیغام نکاح دینے کے لیے آیا ہوں “ یا “ کیا تونے مجھے اپنی لڑکی دی “ ان صورتوں میں اگر مجلس نکاح ہے تو نکاح قرار پائے گا اور اگر یہ مجلس منگنی ہو تو منگنی قرار پائے گی کیونکہ نکاح میں بھاؤ جاری نہیں ہوتا (صرف منگنی یا نکاح ہوتاہے) (ت)
شرح مختصر الطحاوی للاسبیحابی پھر شرح قدوری للزاہدی پھر انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعد وان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
ایك نے دوسرے کو کہا تونے اپنی لڑکی مجھے دی ہے تو دوسرے نے کہا میں نے دی تو اگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور مجلس منگنی ہو تو منگنی ہوگی (ت)
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے :
لما علمنا ان الملاحظۃ من جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مسا و للطرف الاخر فقلنا لوقال بالمضارع ذی الھمزۃ اتزوجك فقالت زوجت نفسی انعقد و
جب ہمیں معلوم ہوا کہ نکاح کے منعقد ہونے اور اس حکم کے لازم ہونے میں شریعت نے رضا والے پہلوکا لحاظ کیا ہے۔ توہم نے اس پر نکاح کے حکم کوایسے الفاظ تك پھیلایا جورضا کے اظہار کا فائدہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ رضا کے خلاف کا مساوی طور پر احتمال نہ رکھتے ہوں اس لیے ہم نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مضارع واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یوں کہا “ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں “ تو عورت نے اس کے جواب میں کہا “ میں نے اپنا نکاح کیا “ تونکاح ہوجائے گا اگر کسی نے مضارع واحد مخاطب کے صیغہ کواستعمال کیا ا ور یوں کہا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
فتاوٰی انقرویہ کتاب النکاح دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۱ / ۳۳
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
فتاوٰی انقرویہ کتاب النکاح دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۱ / ۳۳
فی المبدوء بالتاء تزوجنی بنتك فقال فعلت عند عدم قصد الاستیعاد لانہ یتحقق فیہ ھذا الاحتمال بخلاف الاول لانہ لایستخبر نفسہ عن الوعد واذاکان کذالك والنکاح مما لایجری فیہ المساومۃ کان للتحقیق فی الحال فانعقد بہ لاباعتبار وضعہ للانشاء بل باعتبار استعمالہ فی غرض تحقیقہ واستفادۃ الرضی منہ حتی قلنا لوصرح بالاستفہام اعتبر فھم الحال قال فی شرح الطحاوی لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقد فنکاح اھ۔
“ تواپنی بیٹی مجھ سے نکاح کردے گا “ توجواب میں دوسرے نے کہا “ میں نے کردیا “ جب اس سے وعدہ کا ارادہ نہ ہو تویہ الفاظ بھی چونکہ رضامندی کا احتمال رکھتے ہیں اس لیے نکاح ہوجائے گا ا سکے بخلاف پہلی صورت میں وعدہ کا احتمال نہیں کیونکہ خود متکلم مضارع کے صیغہ سے اپنی ذات کے بارے میں وعدہ کی خبر نہیں دیتا جب یہ معاملہ ہے تواس صورت میں فی الحال نکاح کوقائم کرنا مقصود ہے تواسی وقت نکاح ہوجائے گا کیونکہ نکاح میں مذکورہ الفاظ سے بھاؤتومراد نہیں ہوسکتا توایسے الفاظ سے نکاح کا انعقاد اس لیے نہیں کہ یہ الفاظ نکاح کے لیے وضع ہیں بلکہ اس لیے کہ ان الفاظ کا استعمال مقصد کوحاصل کرنے کی غرض سے کیا گیا اور ان سے رضامندی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ حتی کہ ہم یہ کہیں گے اگر کسی نے ان الفاظ سے صراحۃ استفہام مراد لیا توپھر حال کا اعتبار کیا جائے گا طحاوی کی شرح میں فرمایا کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا : “ کیا تونے اپنی بیٹی مجھے دی ہے “ تودوسرے نے جواب میں کہا کہ “ میں نے دی ہے “ تواس صورت میں اگر مجلس منگنی ہوتویہ منگنی ہوگی اور یہ مجلس نکاح ہوتونکاح ہوگاا ھ (ت)
اس تحقیق انیق سے عبارات ملتئم ہوگئیں اور حکم منتظم وتمام الکلام علی مسألۃ الاستفہام فیما علقنا ہ علی رد المحتار(اور مسئلہ استفہام پر مکمل کلام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ ت) جب یہ اصل متضح ہولی اب صورت مستفسرہ کی طرف چلئے شخص مذکور کہ مجلس خاطب سے اٹھ کر مخطوبہ کے پاس جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے نہ خاطب سے اذن لیا نہ مخطوبہ سے اور وہ دونوں بالغ ہیں کہ ان کے معاملہ میں غیر کا اذن کوئی چیز نہیں تواسے وکالت سے کیا علاقہ یقینا فضولی محض ہوتا ہے مگر ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ
“ تواپنی بیٹی مجھ سے نکاح کردے گا “ توجواب میں دوسرے نے کہا “ میں نے کردیا “ جب اس سے وعدہ کا ارادہ نہ ہو تویہ الفاظ بھی چونکہ رضامندی کا احتمال رکھتے ہیں اس لیے نکاح ہوجائے گا ا سکے بخلاف پہلی صورت میں وعدہ کا احتمال نہیں کیونکہ خود متکلم مضارع کے صیغہ سے اپنی ذات کے بارے میں وعدہ کی خبر نہیں دیتا جب یہ معاملہ ہے تواس صورت میں فی الحال نکاح کوقائم کرنا مقصود ہے تواسی وقت نکاح ہوجائے گا کیونکہ نکاح میں مذکورہ الفاظ سے بھاؤتومراد نہیں ہوسکتا توایسے الفاظ سے نکاح کا انعقاد اس لیے نہیں کہ یہ الفاظ نکاح کے لیے وضع ہیں بلکہ اس لیے کہ ان الفاظ کا استعمال مقصد کوحاصل کرنے کی غرض سے کیا گیا اور ان سے رضامندی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ حتی کہ ہم یہ کہیں گے اگر کسی نے ان الفاظ سے صراحۃ استفہام مراد لیا توپھر حال کا اعتبار کیا جائے گا طحاوی کی شرح میں فرمایا کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا : “ کیا تونے اپنی بیٹی مجھے دی ہے “ تودوسرے نے جواب میں کہا کہ “ میں نے دی ہے “ تواس صورت میں اگر مجلس منگنی ہوتویہ منگنی ہوگی اور یہ مجلس نکاح ہوتونکاح ہوگاا ھ (ت)
اس تحقیق انیق سے عبارات ملتئم ہوگئیں اور حکم منتظم وتمام الکلام علی مسألۃ الاستفہام فیما علقنا ہ علی رد المحتار(اور مسئلہ استفہام پر مکمل کلام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ ت) جب یہ اصل متضح ہولی اب صورت مستفسرہ کی طرف چلئے شخص مذکور کہ مجلس خاطب سے اٹھ کر مخطوبہ کے پاس جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے نہ خاطب سے اذن لیا نہ مخطوبہ سے اور وہ دونوں بالغ ہیں کہ ان کے معاملہ میں غیر کا اذن کوئی چیز نہیں تواسے وکالت سے کیا علاقہ یقینا فضولی محض ہوتا ہے مگر ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
کے نزدیك عقد فضولی محض فضول ونامقبول نہیں بلکہ منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت صاحب اجازت پر موقوف رہتا ہے کما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ(جیسا کہ فقہاء نے تمام کتابوں میں اس پر نص کی ہے۔ ت) پس اگر اس کلام سے کہ یہ فضولی مخطوبہ سے کہتا ہے تحقیق عقد مراد ومفہوم ہوتی تواس وقت انعقاد نکاح میں شبہہ نہ تھا اس کا کلام ایجاب ہوا اور مخطوبہ کا جواب قبول۔ عقد موقوفا منعقد ہوگیا۔ اس کے بعد جب فضولی مذکورہ خواہ دوسرے شخص نے خاطب کواس کی خبر دی اور اس نے اظہار قبول کیا یہ صراحۃ اس عقد موقوف کی تنقیذ ہوئی اور نکاح تام ونافذ ہوگیا “ قبول کیا میں نے “ اور “ قبول کیا “ دونوں یکساں ہیں کہ جب “ تونے قبول کیا “ کے جواب میں “ قبول کیا “ کہا تواس کے صاف یہی معنی ہوئے کہ “ میں نے قبول کیا “ لان السوال معاد فی الجواب(کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہوتا ہے۔ ت)ذخیرہ وہندیہ میں ہے :
قیل لامرأۃ خویشتن رابفلاں بزنے دادی فقالت داد وقیل للزوج پذیر فتی فقال پذیر فت ینعقد النکاح وان لم تقل المرأۃ دادم والزوج پذیرفتم ۔
اگر کسی عورت کوکہا کہ “ تونے اپنے کوفلاں کی بیوی بنادیا “ توعورت نے جواب میں کہا “ بنادیا “ توخاوند کوکہا گیا “ تونے قبول کیا “ اس نے کہا “ قبول ہے “ تونکاح ہوجائیگا اگرچہ عورت اور مرد نے “ میں نے قبول کیا “ یا “ میں نے اپنا نکاح دیا “ نہ کہا ہو۔ (ت)
اصلاح وایضاح میں ہے :
قولھما داد پذیرفت بعد دادی وپذیر فتی جواب وقبول لمکان العرف فان جواب مثل ھذا الکلام قد یذکر بالمیم وبدونہ کفر وخت وخرید فی البیع ۔
“ تونے دی تونے قبول کی “ کے الفاظ کے بعد صرف “ دی “ “ قبول کی “ کہنا عرف کی بناپر ایجاب وقبول ہے کیونکہ ایسی کلام کے جواب میں متکلم کا صیغہ ضروری نہیں ہے۔ جیسے بیع میں صرف “ خرید وفروخت “ کا لفظ استعمال کر لیاجاتا ہے۔ (ت)
۳۰اقول : جب فارسی میں داد ودادم وپذیرفت وپذیر فتم کا ایك حکم ہے تواردومیں بدرجہ اولی
فان صیغۃ الماضی بالفارسیۃ للغائب
کیونکہ فارسی میں ماضی غائب اور متکلم کاصیغہ
قیل لامرأۃ خویشتن رابفلاں بزنے دادی فقالت داد وقیل للزوج پذیر فتی فقال پذیر فت ینعقد النکاح وان لم تقل المرأۃ دادم والزوج پذیرفتم ۔
اگر کسی عورت کوکہا کہ “ تونے اپنے کوفلاں کی بیوی بنادیا “ توعورت نے جواب میں کہا “ بنادیا “ توخاوند کوکہا گیا “ تونے قبول کیا “ اس نے کہا “ قبول ہے “ تونکاح ہوجائیگا اگرچہ عورت اور مرد نے “ میں نے قبول کیا “ یا “ میں نے اپنا نکاح دیا “ نہ کہا ہو۔ (ت)
اصلاح وایضاح میں ہے :
قولھما داد پذیرفت بعد دادی وپذیر فتی جواب وقبول لمکان العرف فان جواب مثل ھذا الکلام قد یذکر بالمیم وبدونہ کفر وخت وخرید فی البیع ۔
“ تونے دی تونے قبول کی “ کے الفاظ کے بعد صرف “ دی “ “ قبول کی “ کہنا عرف کی بناپر ایجاب وقبول ہے کیونکہ ایسی کلام کے جواب میں متکلم کا صیغہ ضروری نہیں ہے۔ جیسے بیع میں صرف “ خرید وفروخت “ کا لفظ استعمال کر لیاجاتا ہے۔ (ت)
۳۰اقول : جب فارسی میں داد ودادم وپذیرفت وپذیر فتم کا ایك حکم ہے تواردومیں بدرجہ اولی
فان صیغۃ الماضی بالفارسیۃ للغائب
کیونکہ فارسی میں ماضی غائب اور متکلم کاصیغہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
اصلاح وایضاح
اصلاح وایضاح
غیرھا للمتکلم بخلاف لساننا فانما ھی صیغۃ واحدۃ للغائب والحاضر والمتکلم جمیعا وانما یفرق بالضمائر اوذکر الظاھر الاتری ان الفرس تقول اوکرد و توکردی ومن کردم ونحن نقول فی الکل اس نے کیا تونے کیا میں نے کیا ومن کذلك فی الفعل اللازم وہ آیا تو آیا میں آیا وانما یفرق فیہ بین الواحد والجمع والمذکر والمؤ نث فصیغہ فی اللازم اربع آیا آئی للواحد المذکر والمؤنث وآئے آئیں للجمعین کذلك وفی المتعدی صیغۃ واحدۃ للکل وھوکیا مثلا سواء اسندتہ الی اس او انھوں او تو او ہم للذکر اوالذکور او الاثنی اوالاناث اولہم ذکرانا اواناثا ولافرق بین الغائب والحاضر والمتکلم فی شیئ منھما اصلا بہ تبین بطلان زعم من یزعم ان قول الخاطب قبول کی بدون میں نے لاینعقد بہ النکاح لعدم تعین القابل۔
علیحدہ ہے جبکہ ہماری زبان میں ماضی غائب حاضر اور متکلم کا ایك ہی صیغہ ہے جو صرف ضمیر یا اسم ظاہر کی تبدیلی میں فرق پیدا کرتا ہے آپ دیکھیں کہ فارسی والے اوکرد تو کردی اور من کردم ہر ایك کے لیے علیحدہ صیغہ استعمال کرتے ہیں جبکہ ہم سب کے لیے صرف “ کیا “ کہتے ہیں اس نے قبول کیا تو نے کیا میں نے کیا اور یوں ہی ہماری زبان میں فعل کابھی ایك ہی صیغہ ہے جو ضمیر لگانے سے غائب حاضر اور متکلم کا فرق ظاہر کرتا ہے مثلا وہ آیا توآیا میں آیا البتہ واحدو جمع اور مذکر ومونث کے لحاظ سے لازم کے چار صیغے ہیں آیا آئی واحد مؤنث ومذکر کے لیے آئے اور آئیں جمع مذکر ومونث کے لیے ہیں اور فعل متعدی کا صرف ایك صیغہ ہے اوریہ کیا ہے اس کوبھی ضمیر لگا کر واحد مذکر ومونث جمع مذکر ومونث کے ساتھ غائب حاضر متکلم کا فرق کیا جاتا ہے مثلا اس نے کیا تونے کیا میں نے کیا غرضیکہ اردو میں فعل لازم اور متعدی کے لیے غائب حاضر اور متکلم کا ضمیر وں کے بغیر کوئی فرق نہیں ہے اس بحث سے واضح ہوگیا کہ بعض کا خیال غلط ہے کہ شادی کا پیغام دینے والے پہلے شخص کا دوسرے کے “ میں نے دی “ کے جواب میں صرف “ قبول کی “ کہنا کافی نہیں جب تك اس کے ساتھ “ میں نے “ ذکر نہ کرے کیونکہ اس سے قبول کرنے والے کا تعین نہیں ہوتا لہذا “ میں نے قبول کی “ کہنا ضروری ہے (اس خیال کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں غائب حاضر متکلم کے لیے صیغہ کا فرق نہیں ہے)۔ (ت)
مگر تقدیر مذکور سوال سے ظاہر یہ ہے کہ فضولی کا مخطوبہ سے وہ کلام بقصد انشائے عقد نہیں ہوتا نہ وہ مجلس مجلس عقد سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے اپنے زعم میں ہندہ سے طلب اذن کی مجلس سمجھتے اور اس گفتگو کو استیذان جانتے اور مجلس عقد مجلس کو قرار دیتے ہیں جب یہ وہاں سے واپس آکر خاطب سے خطاب کرتا ہے
علیحدہ ہے جبکہ ہماری زبان میں ماضی غائب حاضر اور متکلم کا ایك ہی صیغہ ہے جو صرف ضمیر یا اسم ظاہر کی تبدیلی میں فرق پیدا کرتا ہے آپ دیکھیں کہ فارسی والے اوکرد تو کردی اور من کردم ہر ایك کے لیے علیحدہ صیغہ استعمال کرتے ہیں جبکہ ہم سب کے لیے صرف “ کیا “ کہتے ہیں اس نے قبول کیا تو نے کیا میں نے کیا اور یوں ہی ہماری زبان میں فعل کابھی ایك ہی صیغہ ہے جو ضمیر لگانے سے غائب حاضر اور متکلم کا فرق ظاہر کرتا ہے مثلا وہ آیا توآیا میں آیا البتہ واحدو جمع اور مذکر ومونث کے لحاظ سے لازم کے چار صیغے ہیں آیا آئی واحد مؤنث ومذکر کے لیے آئے اور آئیں جمع مذکر ومونث کے لیے ہیں اور فعل متعدی کا صرف ایك صیغہ ہے اوریہ کیا ہے اس کوبھی ضمیر لگا کر واحد مذکر ومونث جمع مذکر ومونث کے ساتھ غائب حاضر متکلم کا فرق کیا جاتا ہے مثلا اس نے کیا تونے کیا میں نے کیا غرضیکہ اردو میں فعل لازم اور متعدی کے لیے غائب حاضر اور متکلم کا ضمیر وں کے بغیر کوئی فرق نہیں ہے اس بحث سے واضح ہوگیا کہ بعض کا خیال غلط ہے کہ شادی کا پیغام دینے والے پہلے شخص کا دوسرے کے “ میں نے دی “ کے جواب میں صرف “ قبول کی “ کہنا کافی نہیں جب تك اس کے ساتھ “ میں نے “ ذکر نہ کرے کیونکہ اس سے قبول کرنے والے کا تعین نہیں ہوتا لہذا “ میں نے قبول کی “ کہنا ضروری ہے (اس خیال کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں غائب حاضر متکلم کے لیے صیغہ کا فرق نہیں ہے)۔ (ت)
مگر تقدیر مذکور سوال سے ظاہر یہ ہے کہ فضولی کا مخطوبہ سے وہ کلام بقصد انشائے عقد نہیں ہوتا نہ وہ مجلس مجلس عقد سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے اپنے زعم میں ہندہ سے طلب اذن کی مجلس سمجھتے اور اس گفتگو کو استیذان جانتے اور مجلس عقد مجلس کو قرار دیتے ہیں جب یہ وہاں سے واپس آکر خاطب سے خطاب کرتا ہے
ولہذا پلٹ کر قاضی کے پاس جاتا ہے جو عقد کرانے کو دولھا کے پاس بیٹھا ہے اور اس کے سوال پر اپنے آپ کو وکیل مخطوبہ ظاہر کرتا ہے اوراس کے قبول یعنی رضا سے خبردیتا ہے ان قرائن واضحہ سے مجلس مخطوبہ کا مجلس عقد نہ ہونا ظاہر اور لا اقل اتناتو بدیہی کہ ارادہ عقد ظاہر نہیں معنی مجاز مراد نہ ہوسکنے کو اس قدربس ہے۔
فان المجاز مفتقرالی قرینۃ تظھر ارادتہ فحیث لاقرینۃ ترجح جانبہ لاتصح ارادتہ کما علمت من قول المحقق علی الاطلاق بلااحتمال مسا وللطرف الاخر واذاکان الامر ماوصفنا لم یصح جعل الاستفہام تحقیقا کما دریت۔
کیونکہ مجاز ایسے قرینے کا محتاج ہے جس سے متکلم کا ارادہ واضح ہوسکے۔ تو جہاں ایسا قرینہ نہ ہو جو مراد کو واضح کرسکے وہاں اس معنی مجازی کو مراد نہیں لیا جاسکتا جیسا کہ محقق علی الاطلاق کے قول “ غیر کا مساوی احتمال نہ ہو “ سے واضح معلوم ہوا جب معاملہ یہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے تو استفہام کا مجازی معنی تحقیق عقد قرینہ کے بغیر مراد لینا درست نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے سمجھ لیا۔ (ت)
اب قول مخطوبہ کو ایك رکن عقد یعنی ایجاب وقبول قرار دیجئے تو باطل محض ہے کہ اس ایجاب کا قبول جاکر دوسری مجلس خاطب میں ہوگا اور کوئی ایجاب مجلس سے باہر قبول پر موقوف نہیں رہ سکتا۔
کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب وفی النھر والدر من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس وفی التنویر وشرحیہ لایتوقف الایجاب علی قبول غائب عن المجلس فی سائر العقود من نکاح وبیع وغیرھما بل یبطل الایجاب ولا تلحقہ الاجازۃ اتفاقا ۔
جیسا کہ فقہاء کرام نے عام کتب میں اس کی تصریح کردی ہے۔ نہر اور در میں ہے کہ ایجاب وقبول کے معتبرہونے میں مجلس کا اتحاد ضروری ہے اور تنویر اورا س کی دونوں شرحوں میں ہے کہ ایجاب مجلس سے کسی غائب شخص کے قبول کرنے پر موقوف نہ ہوگا تمام عقود نکاح وبیع وغیرہما کا یہی حکم ہے کہ ایجاب بالاتفاق باطل ہوجاتا ہے اور اس کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔ (ت)
اور اگر توکیل ٹھہرائیں تو اس کی طرف بھی راہ نہیں توکیل دوسرے کو کسی تصرف جائز معلوم میں اپنا نائب بنانا ہے انابت کا اصلا کوئی ذکر نہ کلام شخص مذکور میں تھا نہ کلام مخطوبہ میں تو اس کا حاصل صرف اس قدر ہو اکہ مخطوبہ نے اس کے سامنے زید کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کی رضا ظاہر کی یہ تو کیل نہ ہوئی۔
فان المجاز مفتقرالی قرینۃ تظھر ارادتہ فحیث لاقرینۃ ترجح جانبہ لاتصح ارادتہ کما علمت من قول المحقق علی الاطلاق بلااحتمال مسا وللطرف الاخر واذاکان الامر ماوصفنا لم یصح جعل الاستفہام تحقیقا کما دریت۔
کیونکہ مجاز ایسے قرینے کا محتاج ہے جس سے متکلم کا ارادہ واضح ہوسکے۔ تو جہاں ایسا قرینہ نہ ہو جو مراد کو واضح کرسکے وہاں اس معنی مجازی کو مراد نہیں لیا جاسکتا جیسا کہ محقق علی الاطلاق کے قول “ غیر کا مساوی احتمال نہ ہو “ سے واضح معلوم ہوا جب معاملہ یہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے تو استفہام کا مجازی معنی تحقیق عقد قرینہ کے بغیر مراد لینا درست نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے سمجھ لیا۔ (ت)
اب قول مخطوبہ کو ایك رکن عقد یعنی ایجاب وقبول قرار دیجئے تو باطل محض ہے کہ اس ایجاب کا قبول جاکر دوسری مجلس خاطب میں ہوگا اور کوئی ایجاب مجلس سے باہر قبول پر موقوف نہیں رہ سکتا۔
کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب وفی النھر والدر من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس وفی التنویر وشرحیہ لایتوقف الایجاب علی قبول غائب عن المجلس فی سائر العقود من نکاح وبیع وغیرھما بل یبطل الایجاب ولا تلحقہ الاجازۃ اتفاقا ۔
جیسا کہ فقہاء کرام نے عام کتب میں اس کی تصریح کردی ہے۔ نہر اور در میں ہے کہ ایجاب وقبول کے معتبرہونے میں مجلس کا اتحاد ضروری ہے اور تنویر اورا س کی دونوں شرحوں میں ہے کہ ایجاب مجلس سے کسی غائب شخص کے قبول کرنے پر موقوف نہ ہوگا تمام عقود نکاح وبیع وغیرہما کا یہی حکم ہے کہ ایجاب بالاتفاق باطل ہوجاتا ہے اور اس کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔ (ت)
اور اگر توکیل ٹھہرائیں تو اس کی طرف بھی راہ نہیں توکیل دوسرے کو کسی تصرف جائز معلوم میں اپنا نائب بنانا ہے انابت کا اصلا کوئی ذکر نہ کلام شخص مذکور میں تھا نہ کلام مخطوبہ میں تو اس کا حاصل صرف اس قدر ہو اکہ مخطوبہ نے اس کے سامنے زید کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کی رضا ظاہر کی یہ تو کیل نہ ہوئی۔
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
درمختار شرح تنویرا لابصار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
درمختار شرح تنویرا لابصار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
تنویر الابصار میں ہے :
ھوا قامۃ الغیر مقام نفسہ فی تصرف جائز معلوم ۔
وہ یہ کہ غیر کو کسی تصرف جائز معلوم میں اپنے قائم مقام بنانا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں زید و عمرو سے کہا کاش! تو میرا نکاح فلاں عورت سے کردیتا اس نے کردیا یہ نکاح نکاح فضولی ہوا حالانکہ یہاں صراحۃ عمرو سے استعانت تھی تو مجرد اس قدر کہ اس نے کہا تو فلاں سے نکاح پر راضی ہے اس نے کہاں “ ہوں “ کیونکر توکیل ہوسکتی ہے۔ فتاوی خیریہ میں ہے :
سئل فی رجل قال کل امرأۃ اتزوجھا فھی طالق ثم قال بمجلس لرجل لیتك تزوجنی فلانۃ ھل اذازوجہ یحنث ام لااجاب لایحنث لانہ لم یتزوج بل زوج والمزوج فضولی بلاشك والحال ھذہ الخ۔
ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کہا ہو کہ جس عورت سے بھی نکاح کروں اس کوطلاق ہے پھر اس شخص نے کسی مجلس میں ایك آدمی کو کہا کاش تو فلاں عورت سے میرا نکاح کردے تو اس آدمی نے اس کا نکاح اس عورت سے کردیا تو کیا حانث ہو گا یعنی اس عورت کو طلاق ہوجائیگی یا نہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے خود نکاح نہیں کیا بلکہ اس کا نکاح ایك غیر شخص (فضولی) نے کیا ہے اور بلاشك معاملہ یہی ہے الخ (ت)
بالجملہ اس وقت تك کی جو کارروائی تھی لغو وفضول گئی اب رہا وہاں سے واپسی کے بعد شخص مذکور کا خاطب سے خطاب یہاں ضرور تحقیق عقد ہی مقصود ہے کہ ان کے زعم میں مجلس مخطوبہ مجلس توکیل تھی اب کہ یہ اپنےنزدیك وکیل بن کر آیا اس مجلس عقد میں عقد کرتا ہے تو یہ استفہام حقیقۃ ایجاب ہوا اور زوج کا کہنا قبول کیا قبول۔
۳۱اقول : وبالله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ استفہام ہنگام ارادہ تحقیق مفید معنی امر ہوتا ہے
قال اﷲ تعالی فهل انتم منتهون ای انتھوا
الله تعالی نے فرمایا : کیا تم باز آؤگے اس سے مراد یہ ہے
ھوا قامۃ الغیر مقام نفسہ فی تصرف جائز معلوم ۔
وہ یہ کہ غیر کو کسی تصرف جائز معلوم میں اپنے قائم مقام بنانا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں زید و عمرو سے کہا کاش! تو میرا نکاح فلاں عورت سے کردیتا اس نے کردیا یہ نکاح نکاح فضولی ہوا حالانکہ یہاں صراحۃ عمرو سے استعانت تھی تو مجرد اس قدر کہ اس نے کہا تو فلاں سے نکاح پر راضی ہے اس نے کہاں “ ہوں “ کیونکر توکیل ہوسکتی ہے۔ فتاوی خیریہ میں ہے :
سئل فی رجل قال کل امرأۃ اتزوجھا فھی طالق ثم قال بمجلس لرجل لیتك تزوجنی فلانۃ ھل اذازوجہ یحنث ام لااجاب لایحنث لانہ لم یتزوج بل زوج والمزوج فضولی بلاشك والحال ھذہ الخ۔
ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کہا ہو کہ جس عورت سے بھی نکاح کروں اس کوطلاق ہے پھر اس شخص نے کسی مجلس میں ایك آدمی کو کہا کاش تو فلاں عورت سے میرا نکاح کردے تو اس آدمی نے اس کا نکاح اس عورت سے کردیا تو کیا حانث ہو گا یعنی اس عورت کو طلاق ہوجائیگی یا نہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے خود نکاح نہیں کیا بلکہ اس کا نکاح ایك غیر شخص (فضولی) نے کیا ہے اور بلاشك معاملہ یہی ہے الخ (ت)
بالجملہ اس وقت تك کی جو کارروائی تھی لغو وفضول گئی اب رہا وہاں سے واپسی کے بعد شخص مذکور کا خاطب سے خطاب یہاں ضرور تحقیق عقد ہی مقصود ہے کہ ان کے زعم میں مجلس مخطوبہ مجلس توکیل تھی اب کہ یہ اپنےنزدیك وکیل بن کر آیا اس مجلس عقد میں عقد کرتا ہے تو یہ استفہام حقیقۃ ایجاب ہوا اور زوج کا کہنا قبول کیا قبول۔
۳۱اقول : وبالله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ استفہام ہنگام ارادہ تحقیق مفید معنی امر ہوتا ہے
قال اﷲ تعالی فهل انتم منتهون ای انتھوا
الله تعالی نے فرمایا : کیا تم باز آؤگے اس سے مراد یہ ہے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوکالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۰۳
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح فصل فی نکاح الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۷
تفسیرجلالین تحت الآیۃ فھل انتم منتھون اصح المطابع دہلی ص۱۰۶
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح فصل فی نکاح الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۷
تفسیرجلالین تحت الآیۃ فھل انتم منتھون اصح المطابع دہلی ص۱۰۶
وقال تعالی اتصبرون وکان ربک بصیرا ﴿۲۰﴾ای اصبروا
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل انتم تارکوا لی صاحبی ای اترکوا۔
یہ ہے کہ باز آؤ۔ اور الله تعالی کا ارشاد ہے : کیا تم صبر کروگے۔ اور تیرا رب تعالی بصیر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ صبر کرو اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیاتم مجھے میرے صاحب کے بارے میں چھوڑ وگے اس سے مراد یہ ہے کہ تم چھوڑو (ت)
تو “ تونے قبول کیا “ بمعنی “ قبول کر “ ہے اور امر میں اگرچہ ہمارے علما مختلف ہوئے کہ وہ توکیل ہے یا ایجاب۔
فی الدر المختار زوجنی او زوجینی نفسك اوکونی امرأتی لیس بایجاب بل توکیل ضمنی وقیل ایجاب ورجحہ فی البحر اھ مختصرا وفی ردالمحتار مشی علی الاول فی الھدایۃ والمجمع ونسبہ فی الفتح الی المحققین وعلی الثانی ظاھر الکنز و اعترضہ فی الدرر بانہ مخالف لکلامھم واجاب فی البحر والنھر بانہ صرح بہ فی الخلاصۃ والخانیۃ قال فی الخانیۃ و لفظۃ الامرفی النکاح ایجاب وکذا فی الخلع والطلاق والکفالۃ والھبۃ اھ قال فی الفتح و ھوالحسن الخ۔
درمختار میں ہے : تو میرا نکاح کردے اے عورت تو میرا نکاح کر یا اس کو کہا تومیری بیوی ہوجا تو یہ کلمات ایجاب نہ ہوں گے بلکہ ضمنا توکیل ہوگی بعض نے کہا کہ یہ ایجاب ہے اور بحر میں اس کو ترجیح دی ہے ا ھ مختصرا اور ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ اور مجمع میں پہلے قول کو اپنایاہے اور اس کو فتح میں محققین کی طرف منسبو ب کیا ہے اور دوسرے پر کنز نے ظاہر کہا ہے ا ور اس پر درر میں اعتراض کیا ہے کہ یہ علماء کے قول کے مخالف ہے اوراس کا جواب بحر اور نہر میں یہ دیا گیا کہ خلاصہ اور خانیہ میں اس پر تصریح کی ہے اور خانیہ میں فرمایا کہ امر کا لفظ نکاح میں ایجاب ہوتا ہے اور خلع طلاق کفالہ اور ہبہ میں بھی ایجاب ہے اور فتح میں فرمایا کہ یہ احسن ہے الخ (ت)
اورقول توکیل پر یہاں انعقاد نکاح میں دقت ہوتی کہ یہ شخص خاطب کو وکیل کرنے والا کون نکاح کا وکیل
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھل انتم تارکوا لی صاحبی ای اترکوا۔
یہ ہے کہ باز آؤ۔ اور الله تعالی کا ارشاد ہے : کیا تم صبر کروگے۔ اور تیرا رب تعالی بصیر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ صبر کرو اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیاتم مجھے میرے صاحب کے بارے میں چھوڑ وگے اس سے مراد یہ ہے کہ تم چھوڑو (ت)
تو “ تونے قبول کیا “ بمعنی “ قبول کر “ ہے اور امر میں اگرچہ ہمارے علما مختلف ہوئے کہ وہ توکیل ہے یا ایجاب۔
فی الدر المختار زوجنی او زوجینی نفسك اوکونی امرأتی لیس بایجاب بل توکیل ضمنی وقیل ایجاب ورجحہ فی البحر اھ مختصرا وفی ردالمحتار مشی علی الاول فی الھدایۃ والمجمع ونسبہ فی الفتح الی المحققین وعلی الثانی ظاھر الکنز و اعترضہ فی الدرر بانہ مخالف لکلامھم واجاب فی البحر والنھر بانہ صرح بہ فی الخلاصۃ والخانیۃ قال فی الخانیۃ و لفظۃ الامرفی النکاح ایجاب وکذا فی الخلع والطلاق والکفالۃ والھبۃ اھ قال فی الفتح و ھوالحسن الخ۔
درمختار میں ہے : تو میرا نکاح کردے اے عورت تو میرا نکاح کر یا اس کو کہا تومیری بیوی ہوجا تو یہ کلمات ایجاب نہ ہوں گے بلکہ ضمنا توکیل ہوگی بعض نے کہا کہ یہ ایجاب ہے اور بحر میں اس کو ترجیح دی ہے ا ھ مختصرا اور ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ اور مجمع میں پہلے قول کو اپنایاہے اور اس کو فتح میں محققین کی طرف منسبو ب کیا ہے اور دوسرے پر کنز نے ظاہر کہا ہے ا ور اس پر درر میں اعتراض کیا ہے کہ یہ علماء کے قول کے مخالف ہے اوراس کا جواب بحر اور نہر میں یہ دیا گیا کہ خلاصہ اور خانیہ میں اس پر تصریح کی ہے اور خانیہ میں فرمایا کہ امر کا لفظ نکاح میں ایجاب ہوتا ہے اور خلع طلاق کفالہ اور ہبہ میں بھی ایجاب ہے اور فتح میں فرمایا کہ یہ احسن ہے الخ (ت)
اورقول توکیل پر یہاں انعقاد نکاح میں دقت ہوتی کہ یہ شخص خاطب کو وکیل کرنے والا کون نکاح کا وکیل
حوالہ / References
تفسیر جلالین تحت الآیۃ اتصبرون وکان ربك بصیرا اصح المطابع کراچی ص۳۰۴
صحیح بخاری باب فضل ابی بکر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۱۷
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۳
صحیح بخاری باب فضل ابی بکر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۱۷
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۳
بالنکاح تو دوسرے کو وکیل کر سکتا ہی نہیں فضولی کیا چیز ہے
فی الخلاصۃ لوقال الوکیل بالنکاح ھب ابنتك لفلان فقال الاب وھبت لاینعقد النکاح مالم یقل الوکیل بعدہ قبلت لان الوکیل لایملك التوکیل اھ وان کان یترا ای لی ان لقائل ان یقول لعل لاینعقد فیہ بمعنی لاینفذ فانہ ان لم یملك کان توکیل فضولی فکان ماذا الا تری ان الفضولی لایملك التزویج ولو زوج لحصل الزواج ولو موقوفا فکذا ینبغی ان تحصل بتوکیلہ الوکالۃ وان توقف نفاذہ علی تنفیذ من لہ التنفیذ قال فی البحر من البیوع الظاھر من فروعھم ان کل ماصح التوکیل بہ فانہ اذا باشرہ الفضولی یتوقف الا الشراء بشرطہ اھ و معلوم ان التوکیل ممایصح بہ التوکیل فالظاھر الانعقاد موقوفا وان ارید عدمہ اصلا مالم یقل الوکیل قبلت فالتعلیل الصحیح الواضح ماافاد العلامۃ الفھامۃ علی المقدسی
خلاصہ یہ ہے اگر وکیل نے کسی کو کہا کہ تو اپنی لڑکی فلاں کو دے تو باپ نے جواب میں “ میں نے دی “ کہا تو جب تك اس کے بعد وکیل “ میں نے فلاں کے لیے قبول کی “ نہ کہے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ کہ وکیل از خود دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا اھ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس پر کوئی معترض یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ جب نکاح کا وکیل دوسرے کو وکیل نہیں بناسکتا تودوسرا فضولی قرار پائے گا اورفضولی کا عقد نافذ نہیں ہوتا اگرچہ عقد کی حد تك ہوجاتاہے تویہاں “ منعقد نہ ہوگا “ کامعنی “ نافذ نہ ہوگا “ ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ فضولی کو نکاح کردینے کا اختیار نہ ہونے کے باوجود اگر وہ نکاح کردے تو اس کا نفاذ موقوف رہتا ہے تو یہا ں بھی وکیل کی توکیل موقوف ہوکر نافذ کرنے والے کی اجازت سے نافذ ہوجائے گی بحر کے بیوع میں کہا ہے کہ فقہاء کرام کے بیان کردہ جزئیات سے ظاہر ہے کہ وہ امور جن میں توکیل جائز ہے اگران امور کو فضولی از خود سرانجام دے تو یہ امور موقوف رہیں گے ماسوائے کسی شرط کے ساتھ خرید کے اھ توظاہر ہے کہ وکیل بنانا بھی ان امور میں سے ہے جن میں توکیل جائز ہے توظاہر ہوا یہاں بھی فضولی کا تصرف جائز ہونا موقوف ہوگا اگر وکیل کی قبولیت کے بغیر باپ کے “ دے دی “ کہنے سے
فی الخلاصۃ لوقال الوکیل بالنکاح ھب ابنتك لفلان فقال الاب وھبت لاینعقد النکاح مالم یقل الوکیل بعدہ قبلت لان الوکیل لایملك التوکیل اھ وان کان یترا ای لی ان لقائل ان یقول لعل لاینعقد فیہ بمعنی لاینفذ فانہ ان لم یملك کان توکیل فضولی فکان ماذا الا تری ان الفضولی لایملك التزویج ولو زوج لحصل الزواج ولو موقوفا فکذا ینبغی ان تحصل بتوکیلہ الوکالۃ وان توقف نفاذہ علی تنفیذ من لہ التنفیذ قال فی البحر من البیوع الظاھر من فروعھم ان کل ماصح التوکیل بہ فانہ اذا باشرہ الفضولی یتوقف الا الشراء بشرطہ اھ و معلوم ان التوکیل ممایصح بہ التوکیل فالظاھر الانعقاد موقوفا وان ارید عدمہ اصلا مالم یقل الوکیل قبلت فالتعلیل الصحیح الواضح ماافاد العلامۃ الفھامۃ علی المقدسی
خلاصہ یہ ہے اگر وکیل نے کسی کو کہا کہ تو اپنی لڑکی فلاں کو دے تو باپ نے جواب میں “ میں نے دی “ کہا تو جب تك اس کے بعد وکیل “ میں نے فلاں کے لیے قبول کی “ نہ کہے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ کہ وکیل از خود دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا اھ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس پر کوئی معترض یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ جب نکاح کا وکیل دوسرے کو وکیل نہیں بناسکتا تودوسرا فضولی قرار پائے گا اورفضولی کا عقد نافذ نہیں ہوتا اگرچہ عقد کی حد تك ہوجاتاہے تویہاں “ منعقد نہ ہوگا “ کامعنی “ نافذ نہ ہوگا “ ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ فضولی کو نکاح کردینے کا اختیار نہ ہونے کے باوجود اگر وہ نکاح کردے تو اس کا نفاذ موقوف رہتا ہے تو یہا ں بھی وکیل کی توکیل موقوف ہوکر نافذ کرنے والے کی اجازت سے نافذ ہوجائے گی بحر کے بیوع میں کہا ہے کہ فقہاء کرام کے بیان کردہ جزئیات سے ظاہر ہے کہ وہ امور جن میں توکیل جائز ہے اگران امور کو فضولی از خود سرانجام دے تو یہ امور موقوف رہیں گے ماسوائے کسی شرط کے ساتھ خرید کے اھ توظاہر ہے کہ وکیل بنانا بھی ان امور میں سے ہے جن میں توکیل جائز ہے توظاہر ہوا یہاں بھی فضولی کا تصرف جائز ہونا موقوف ہوگا اگر وکیل کی قبولیت کے بغیر باپ کے “ دے دی “ کہنے سے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب النکاح مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۳۰
البحرالرائق فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۱۵۱
البحرالرائق فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۱۵۱
ان قول الوکیل ھب ابنتك لفلان ظاھر فی الطلب وانہ مستقبل لم یرد بہ الحال والتحقق لم یتم بہ العقد بخلاف زوجنی بنتك بکذا بعد الخطبۃ ونحوھا فانہ ظاھر فی التحقق والاثبات الذی ھو معنی الایجاب اھ ویعینہ عیناما فی البحر عن الظھیریۃ لوقال ھب ابنتك لابنی فقال وھبت لم یصح مالم یقل ابوالصغیر قبلت اھ فلا مساغ ھھنا لزعم ان الاب لایملك التوکیل۔
بالکل نکاح نہ ہونا مراد ہو تو پھر اس کی واضح وجہ وہ ہےجس کو علامہ مقدسی نے بیان فرمایا ہے کہ وکیل کا لڑکی کے باپ کو “ اپنی فلاں کو دے “ کہنا امر اور طلب ہے جو کہ مستقبل کا صیغہ ہے اورفی الحال تحقق مراد نہیں لہذا عقدتام نہ ہوگا اس کے خلاف ہے وہ صورت جس میں خود مرد نے کہا کہ “ تو اپنی لڑکی مجھے نکاح کردے “ تو یہاں منگنی وغیرہ کے بعد یہ کلام اثبات وتحقق میں ظاہر ہے اور یہی ایجاب ہوتا ہے اھ بحر میں ظہیریہ سے نقل میں اسی وجہ کومعین کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایك نے کہا کہ “ تو اپنی بیٹی میرے بیٹے کو دے “ دوسرے نے کہا “ میں نے دی “ تو اس وقت نکاح صحیح نہ گا بلکہ لڑکے کے باپ کوا س کے بعد “ میں نے قبول کی “ کہنا ضروری ہوگا اھ تویہا ں لڑکے کے باپ کے بارے میں یہ خیال کرنا درست نہیں کہ یہ وکیل بنانے کا مالك نہیں ہے (ت)
مگرنظر فقہی حاکم ہے کہ یہ امر بالاتفاق مفید ایجاب اور ان دقتوں سے برکراں ہو
فانہ امر بالقبول والقبول یطلق ویراد بہ الرضا وھو المحمل فی قول الفضولی المذکور للمخطوبۃ لعدم ارادتھم اذ ذلك الااستبانۃ رضا ھا من دون تتمیم العقد کما قدمنا ویرادبہ احد رکنی العقد وھوالمراد ھھنا حیث المراد تحقیق العقد وھذا القبول وجود لہ الاتلو الایجاب فی ردالمحتار
کیونکہ یہ قبول کرنے کی درخواست ہوتی ہے اور جواب میں قبول سے مراد رضا مندی ہوتی ہے اور فضولی شخص اگر لڑکی کو کسی کے لیے نکاح کی درخواست کرے تو یہاں بھی یہی مقصود ہوتا ہے کیونکہ اس کارروائی کا مقصد صرف لڑکی کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ نکاح مکمل کرنا ہوتا ہے جیساکہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے اور جہاں مجلس نکاح میں یہ بات کہی جائے توا س سے نکاح کا ایك رکن مرادہوتا ہے جیسا کہ زیر بحث مسئلہ میں ہے قبول کا
بالکل نکاح نہ ہونا مراد ہو تو پھر اس کی واضح وجہ وہ ہےجس کو علامہ مقدسی نے بیان فرمایا ہے کہ وکیل کا لڑکی کے باپ کو “ اپنی فلاں کو دے “ کہنا امر اور طلب ہے جو کہ مستقبل کا صیغہ ہے اورفی الحال تحقق مراد نہیں لہذا عقدتام نہ ہوگا اس کے خلاف ہے وہ صورت جس میں خود مرد نے کہا کہ “ تو اپنی لڑکی مجھے نکاح کردے “ تو یہاں منگنی وغیرہ کے بعد یہ کلام اثبات وتحقق میں ظاہر ہے اور یہی ایجاب ہوتا ہے اھ بحر میں ظہیریہ سے نقل میں اسی وجہ کومعین کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایك نے کہا کہ “ تو اپنی بیٹی میرے بیٹے کو دے “ دوسرے نے کہا “ میں نے دی “ تو اس وقت نکاح صحیح نہ گا بلکہ لڑکے کے باپ کوا س کے بعد “ میں نے قبول کی “ کہنا ضروری ہوگا اھ تویہا ں لڑکے کے باپ کے بارے میں یہ خیال کرنا درست نہیں کہ یہ وکیل بنانے کا مالك نہیں ہے (ت)
مگرنظر فقہی حاکم ہے کہ یہ امر بالاتفاق مفید ایجاب اور ان دقتوں سے برکراں ہو
فانہ امر بالقبول والقبول یطلق ویراد بہ الرضا وھو المحمل فی قول الفضولی المذکور للمخطوبۃ لعدم ارادتھم اذ ذلك الااستبانۃ رضا ھا من دون تتمیم العقد کما قدمنا ویرادبہ احد رکنی العقد وھوالمراد ھھنا حیث المراد تحقیق العقد وھذا القبول وجود لہ الاتلو الایجاب فی ردالمحتار
کیونکہ یہ قبول کرنے کی درخواست ہوتی ہے اور جواب میں قبول سے مراد رضا مندی ہوتی ہے اور فضولی شخص اگر لڑکی کو کسی کے لیے نکاح کی درخواست کرے تو یہاں بھی یہی مقصود ہوتا ہے کیونکہ اس کارروائی کا مقصد صرف لڑکی کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ نکاح مکمل کرنا ہوتا ہے جیساکہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے اور جہاں مجلس نکاح میں یہ بات کہی جائے توا س سے نکاح کا ایك رکن مرادہوتا ہے جیسا کہ زیر بحث مسئلہ میں ہے قبول کا
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ العلامۃ المقدسی کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
البحرالرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۲
البحرالرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۲
اشار الی ان المقدم من کلام العاقدین ایجاب سواء کان المتقدم کلام الزوج اوکلام الزوجۃ والمتاخر قبول
ح عن المنح فلایتصور تقدیم القبول الخ فالامر بالقبول یتضمن الایجاب علی جھۃ الاقتضاء کقولہ اعتق عبدك عنی بالف یتضمن البیع کذلك وکما ان العبد لوتزوج بلااذن مولاہ فقول المولی لہ طلقھا رجعیۃ اجازۃ للنکاح الموقوف کما فی الدرالمختار لان الطلاق الرجعی لایکون الابعد النکاح الصحیح فکان الامر بہ اجازۃ اقتضاء کما فی ردالمحتار ھذا ما ظھر لی وھو ظاھر جلی وان ابیت فالقول بالایجاب مرجح مصحح بقول الفتح ھو احسن کما علمت۔
لفظ یہاں پر ایجاب کا جواب ہوتا ہے ردالمحتار میں یہ اشارہ دیا کہ عاقدین میں سے پہلے کا کلام ایجاب اور دوسرے کا قبول کہلائے گا خواہ مرد کا پہلا کلام ہو یاعورت کا۔
اب منح کے قو ل کہ “ قبول پہلے متصور نہیں ہوسکتا الخ تواس پر قبول کرنے کی درخواست اقتضاء ایجاب پر مشتمل ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ تو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے میں اپنا غلام آزاد کردے تو یہ قول ضمنا بیع پر مشتمل ہے (یعنی مجھے فروخت اور پھر آزاد کر) اور جیسا کہ کوئی غلام اپنے مالك کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس پر مالك اس کو کہے “ تو رجعی طلاق دے “ تو مالك کایہ کہنا موقوف نکاح کو جائز قرار دینا ہے جیساکہ درمختارمیں ہے کیونکہ رجعی طلاق نکاح کے بعد ہی ہوسکتی ہے لہذا رجعی طلاق کا حکم نکاح کی اجازت متصور ہوگا جیسا کہ ردالمحتار میں ہے یہ مجھے بالکل واضح معلوم ہوا ہے اور اگر یہ قول قابل قبول نہ بھی ہو تو ایجاب والے قول کے بارے میں فتح کایہ کہنا کہ “ یہ احسن ہے “ اس کے لیے ترجیح اور تصحیح قرار پائے گا جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔ (ت)
بہر کیف یہاں آکر اس نکاح کے منعقد ہوجانے میں شبہ نہیں مگر از آنجا شخص مذکور فضولی تھا اجازت مخطوبہ پر موقوف رہا اب اگر بعد وقوع نکاح اس کی خبر پاکر قبل اس کے کہ مخطوبہ سے کوئی قول یا فعل دلیل رد وابطال صادر ہو قولا یا فعلا یا سکوتا اجازت پائی گئی تونکاح صحیح وتام ونافذ ہوگیا۔ اجازت قولی یہ کہ مثلا مخطوبہ کہے میں راضی ہوئی مجھے منظور ہے یا اچھا کیا الحمد للہ اورفعلی یہ کہ مثلا بے جبر واکراہ شوہرکو خلوت
ح عن المنح فلایتصور تقدیم القبول الخ فالامر بالقبول یتضمن الایجاب علی جھۃ الاقتضاء کقولہ اعتق عبدك عنی بالف یتضمن البیع کذلك وکما ان العبد لوتزوج بلااذن مولاہ فقول المولی لہ طلقھا رجعیۃ اجازۃ للنکاح الموقوف کما فی الدرالمختار لان الطلاق الرجعی لایکون الابعد النکاح الصحیح فکان الامر بہ اجازۃ اقتضاء کما فی ردالمحتار ھذا ما ظھر لی وھو ظاھر جلی وان ابیت فالقول بالایجاب مرجح مصحح بقول الفتح ھو احسن کما علمت۔
لفظ یہاں پر ایجاب کا جواب ہوتا ہے ردالمحتار میں یہ اشارہ دیا کہ عاقدین میں سے پہلے کا کلام ایجاب اور دوسرے کا قبول کہلائے گا خواہ مرد کا پہلا کلام ہو یاعورت کا۔
اب منح کے قو ل کہ “ قبول پہلے متصور نہیں ہوسکتا الخ تواس پر قبول کرنے کی درخواست اقتضاء ایجاب پر مشتمل ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ تو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے میں اپنا غلام آزاد کردے تو یہ قول ضمنا بیع پر مشتمل ہے (یعنی مجھے فروخت اور پھر آزاد کر) اور جیسا کہ کوئی غلام اپنے مالك کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس پر مالك اس کو کہے “ تو رجعی طلاق دے “ تو مالك کایہ کہنا موقوف نکاح کو جائز قرار دینا ہے جیساکہ درمختارمیں ہے کیونکہ رجعی طلاق نکاح کے بعد ہی ہوسکتی ہے لہذا رجعی طلاق کا حکم نکاح کی اجازت متصور ہوگا جیسا کہ ردالمحتار میں ہے یہ مجھے بالکل واضح معلوم ہوا ہے اور اگر یہ قول قابل قبول نہ بھی ہو تو ایجاب والے قول کے بارے میں فتح کایہ کہنا کہ “ یہ احسن ہے “ اس کے لیے ترجیح اور تصحیح قرار پائے گا جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔ (ت)
بہر کیف یہاں آکر اس نکاح کے منعقد ہوجانے میں شبہ نہیں مگر از آنجا شخص مذکور فضولی تھا اجازت مخطوبہ پر موقوف رہا اب اگر بعد وقوع نکاح اس کی خبر پاکر قبل اس کے کہ مخطوبہ سے کوئی قول یا فعل دلیل رد وابطال صادر ہو قولا یا فعلا یا سکوتا اجازت پائی گئی تونکاح صحیح وتام ونافذ ہوگیا۔ اجازت قولی یہ کہ مثلا مخطوبہ کہے میں راضی ہوئی مجھے منظور ہے یا اچھا کیا الحمد للہ اورفعلی یہ کہ مثلا بے جبر واکراہ شوہرکو خلوت
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۳
درمختار باب نکاح الرقیق مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۴
ردالمحتار باب نکاح الرقیق داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۱ / ۳۷۳
درمختار باب نکاح الرقیق مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۴
ردالمحتار باب نکاح الرقیق داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۱ / ۳۷۳
میں اپنے پاس آنے دے یا اس سے مہر یانقد طلب کرے یاا ور کوئی فعل کہ دلیل رضا ہو اورسکوتی یہ کہ خودولی یااس کا رسول یا ایك ثقہ پر ہیزگار جس کی عدالت معلوم متحقق ہو یا دو مستورالحال جن کافسق معلوم نہ ہو مخطوبہ کو نکاح کی اطلاع دیں اور وہ شوہر کو پہچانتی ہو اوروہ اس کا کفو بھی ہو یعنی دین یا نسب یا پیشے یا چال چلن وغیرہ میں ایسی کمی نہ رکھتاہو کہ اس سے نکاح اولیاء مخطوبہ کے لیے عارہو اس صورت میں مخطوبہ یہ خبر سن کر خاموش ہو رہے تو یہ سکوت بھی اجازت سمجھا جائے گا وقد فصلنا القول فی کل ذلك فی فتاونا(اس تمام بحث کو ہم اپنے فتاوی میں بیان کرچکے ہیں۔ ت)با لجملہ یہ صورت رائجہ دقت سے خالی نہیں خصوصا بعد استماع خبر اظہار نفرت واقع ہو جیسا کہ بلاد ہندوستان میں اکثر دختران دوشیزہ کا معمول ہے جب تو نکاح صاف رد ہوجائے گا کہ پھر مخطوبہ کے جائز کئے بھی جائز نہیں ہوسکتا لہذا اس طریقے کی تبدیلی ہی واجب ومناسب ہے یا تو شخص متوسط پہلے خاطب سے اذن و وکالت حاصل کرکے جائے اور وہاں جو کلام مخطوبہ سے کہتا ہے اس سے تحقیق عقد مقصود رکھے کہ مخطوبہ سے اسی قدر گفتگو پر نکاح تام ونافذ ہوجائے یا مخطوبہ سے یہ الفاظ نہ کہے بلکہ اپنے لیے اذن و وکالت لے کہ تونے فلاں ابن فلاں ابن فلاں کے ساتھ اتنے مہر پر اپنا نکاح کرنے کے لیے مجھے وکیل کیا۔ مخطوبہ کہے ہاں پھر وہاں سے آکر خود یہی شخص خاطب سے کہے میں نے فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو اتنے مہر پر تیرے نکاح میں دیا تو نے قبول کیا خاطب کہے ہاں یا یہی الفاظ رکھنا چاہیں تواول ہی مخطوبہ سے جو گفتگو کی جاتی ہے اسے مجلس توکیل وطلب رضا نہ سمجھیں بلکہ اسی کو مجلس عقد سمجھیں اور شخص مذکور وہ الفاظ بقصد تحقیق عقد ہی مخطوبہ سے کہے کہ نکاح وہیں منعقد ہوجائے پھر خاطب کا قبول اس کی تنفیذ قرار پائے۔
یہ سب تفصیل کہ مذکور ہوئی اس صورت میں ہے کہ مخطوبہ جلسہ خاطب سے اتنی دور بیٹھی ہو کہ اس کا کلام یہاں والے نہ سنیں یا وہ قبول کیا کہہ کر اٹھ جائے اس کے بعد خاطب سے گفتگو آئے یاجب مخطوبہ نے قبول کیا کہہ لیا اس کے بعد خاطب اٹھ کھڑا ہو پھر اس سے کہا گیا کہ ان صورتوں میں مجلس متبدل ہوگی یا شہود ان دونوں کا کلا م معا نہ سنیں گے اور اگر وہ اس قدر بیٹھی ہے کہ اہل جلسہ خاطب نے اس کا قبول کیا کہنا سنا اور ابھی خاطب ومخطوبہ ویسے ہی بیٹھے ہیں کہ خاطب سے آکر بیان کیا گیا اورا س نے قبول کیا کہا کہ مجلس واحد میں دونوں کا کہنا حاضرین میں کم ازکم دو مردوں یا ایك مرد دوعورتوں نے معاسنا اور سمجھا تو نکاح کی صحت وتمامی میں اصلا کلام نہیں اب یہ بیچ کا شخص محض لغو وفضولی ہوگا اور خاطب ومخطوبہ ہی کاکلام ایجاب وقبول ہوگا
وذلك ماقدمنا عن الاصلاح والایضاح
اس کو ہم پہلے اصلاح ایضاح ذخیرہ اور
یہ سب تفصیل کہ مذکور ہوئی اس صورت میں ہے کہ مخطوبہ جلسہ خاطب سے اتنی دور بیٹھی ہو کہ اس کا کلام یہاں والے نہ سنیں یا وہ قبول کیا کہہ کر اٹھ جائے اس کے بعد خاطب سے گفتگو آئے یاجب مخطوبہ نے قبول کیا کہہ لیا اس کے بعد خاطب اٹھ کھڑا ہو پھر اس سے کہا گیا کہ ان صورتوں میں مجلس متبدل ہوگی یا شہود ان دونوں کا کلا م معا نہ سنیں گے اور اگر وہ اس قدر بیٹھی ہے کہ اہل جلسہ خاطب نے اس کا قبول کیا کہنا سنا اور ابھی خاطب ومخطوبہ ویسے ہی بیٹھے ہیں کہ خاطب سے آکر بیان کیا گیا اورا س نے قبول کیا کہا کہ مجلس واحد میں دونوں کا کہنا حاضرین میں کم ازکم دو مردوں یا ایك مرد دوعورتوں نے معاسنا اور سمجھا تو نکاح کی صحت وتمامی میں اصلا کلام نہیں اب یہ بیچ کا شخص محض لغو وفضولی ہوگا اور خاطب ومخطوبہ ہی کاکلام ایجاب وقبول ہوگا
وذلك ماقدمنا عن الاصلاح والایضاح
اس کو ہم پہلے اصلاح ایضاح ذخیرہ اور
والذخیرۃ والھندیہ من قول قائل للمرأۃ دادی فقالت داد ثم للزوج پذیر فتی فقال پذیرفت وفی الوقایۃ وشرحھا لصدر الشریعۃ اذا قیل للمرأۃ خویشتن را بزنی فلاں دادی فقالت داد ثم قیل للزوج پذیر فتی فقالت پذیرفت بحذف المیم یصح النکاح کبیع وشراء ای اذا قیل للبائع فروختی فقال فروخت ثم قیل للمشتری خرید فقا ل خرید یصح البیع اھ
ہندیہ سے نقل کرچکے ہیں کہ اگر کوئی شخص عورت کو کہے کہ تو نے فلاں کو اپنا نکاح دیا تو عورت نے دادم کی بجائے داد کہا پھر اس شخص نے مرد کو کہا کہ تونے قبول کی تو اس نے “ میں نے قبول کی “ کے بجائے صرف “ قبول کی “ کہا تونکاح صحیح ہوگا وقایہ اور اس کی شرح صدر الشریعۃ میں ہے کہ جب عورت کو کہا جائے کہ تونے فلاں کو بیوی ہونا دیا تو عورت نے صرف “ دیا “ کہا اور پھر خاوند کو کہا گیا تو نے قبول کی تو اس نے بھی صرف “ قبول کی “ کہا تو نکاح صحیح ہے جیساکہ بیع کی صورت میں بائع کو کہا گیا کہ تونے بیچی تو اس نے جواب میں “ بیچی “ کہا ہو اور “ میں نے بیچی “ نہ کہا پھر خریدار کے ساتھ بھی یہی سوال وجواب ہواتو بیع ہوجائے گی اھ (ت)
اور عورت کا پردے میں ہونا تغایر مجلس کا مقتضی نہیں نہ صحت نکاح میں مخل ہوسکے جبکہ مخطوبہ دو شاہدوں کو عینا یا تسمیۃ معلوم ہو۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن فتاوی ابی اللیث رجل قال لقوم اشھد وا انی تزوجتہ ھذہ المرأۃ التی فی ھذا البیت فقالت المرأۃ قبلت فسمع الشھود مقالتھا ولم یرواشخصھا فان کانت فی البیت وحدھا جاز النکاح الخ قلت فافا دان الحجاب لایغیر المجلس وانما اشترط کونھا
ہندیہ میں ذخیرہ سے اورانھوں نے فتاوی ابی اللیث کے حوالے سے ذکر کیا کہ ایك شخص نے لوگوں کو کہاکہ گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اس کمرہ میں موجود عورت سے نکاح کیا اور عورت نے اندر سے جواب دیا کہ “ میں نے قبول کیا “ گواہوں نے عورت کی یہ بات سن لی اورعورت کو دیکھا نہیں اگر عورت اس کمرہ میں اکیلی تھی تو نکاح ہوجائے گا الخ قلت(تو میں کہتا ہوں)حجاب مجلس کو تبدیل نہیں کرتا صرف شرط یہ ہے کہ وہاں
ہندیہ سے نقل کرچکے ہیں کہ اگر کوئی شخص عورت کو کہے کہ تو نے فلاں کو اپنا نکاح دیا تو عورت نے دادم کی بجائے داد کہا پھر اس شخص نے مرد کو کہا کہ تونے قبول کی تو اس نے “ میں نے قبول کی “ کے بجائے صرف “ قبول کی “ کہا تونکاح صحیح ہوگا وقایہ اور اس کی شرح صدر الشریعۃ میں ہے کہ جب عورت کو کہا جائے کہ تونے فلاں کو بیوی ہونا دیا تو عورت نے صرف “ دیا “ کہا اور پھر خاوند کو کہا گیا تو نے قبول کی تو اس نے بھی صرف “ قبول کی “ کہا تو نکاح صحیح ہے جیساکہ بیع کی صورت میں بائع کو کہا گیا کہ تونے بیچی تو اس نے جواب میں “ بیچی “ کہا ہو اور “ میں نے بیچی “ نہ کہا پھر خریدار کے ساتھ بھی یہی سوال وجواب ہواتو بیع ہوجائے گی اھ (ت)
اور عورت کا پردے میں ہونا تغایر مجلس کا مقتضی نہیں نہ صحت نکاح میں مخل ہوسکے جبکہ مخطوبہ دو شاہدوں کو عینا یا تسمیۃ معلوم ہو۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن فتاوی ابی اللیث رجل قال لقوم اشھد وا انی تزوجتہ ھذہ المرأۃ التی فی ھذا البیت فقالت المرأۃ قبلت فسمع الشھود مقالتھا ولم یرواشخصھا فان کانت فی البیت وحدھا جاز النکاح الخ قلت فافا دان الحجاب لایغیر المجلس وانما اشترط کونھا
ہندیہ میں ذخیرہ سے اورانھوں نے فتاوی ابی اللیث کے حوالے سے ذکر کیا کہ ایك شخص نے لوگوں کو کہاکہ گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اس کمرہ میں موجود عورت سے نکاح کیا اور عورت نے اندر سے جواب دیا کہ “ میں نے قبول کیا “ گواہوں نے عورت کی یہ بات سن لی اورعورت کو دیکھا نہیں اگر عورت اس کمرہ میں اکیلی تھی تو نکاح ہوجائے گا الخ قلت(تو میں کہتا ہوں)حجاب مجلس کو تبدیل نہیں کرتا صرف شرط یہ ہے کہ وہاں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
شرح وقایہ کتاب النکاح الباب الثانی مجتبائی دہلی ۲ / ۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۸
شرح وقایہ کتاب النکاح الباب الثانی مجتبائی دہلی ۲ / ۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۸
وحدھا لانہ لم یسمھا وتعریف الغائب عند الاحتمال انما یکون بالتسمیۃ وفی الھندیۃ ایضا عن محیط السرخسی ان کانت حاضرۃ متنقبۃ ولایعرفھا الشہود جاز النکاح وھو الصحیح ۔
عورت اکیلی ہو کیونکہ مرد نے اس کا نام ذکر نہیں کیا جبکہ شبہ کی صورت میں عورت غائبانہ کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے اورہندیہ میں محیط سرخسی سے بھی منقول ہے کہ اگر وہ نقاب اوڑھے مجلس میں حاضر ہو اور گواہ نام نہ جانتے ہوں تو بھی نکاح جائز ہوگا یہی صحیح ہے۔ (ت)
اسی طرح قبول خاطب میں اپنا وقفہ کہ شخص مذکور وہاں سے اٹھ کر یہاں آیا اور قاضی سے وہ گفتگو ہوئی گواہیاں لی گئیں اس کے بعد خاطب سے کہا گیا تو اس نے قبول کیا کچھ مضر نہیں جبکہ مجلس متبدل نہ ہو کہ قبول فورا ہوناضرور نہیں فی ردالمحتار عن البحر اما الفور فلیس من شرطہ (ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے لیکن فورا ہونا ضروری شرط نہیں ا ھ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : مرسلہ حضرت نور العارفین دام ظلہم المبین از سیتا پور تامسن گنج ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ
بخدمت عالمان متبحر التماس ہے مثلا کوئی لڑکا کہ عمر اس کی تیرہ چودہ برس کی ہے اور نابالغ ہے اپنے گھر کے عورات کو لے کر میلہ ہنود میں جاتا ہے اور عورتیں اس کے گھر کی پرستش رسم ہنود کی کرتیں ہیں ایسا لڑکا اگر کسی کا نکاح پڑھائے تو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر فی الواقع اس کے یہاں کی عورات غیر خدا کو پوجتی ہیں یعنی حقیقۃ دوسرے کی عبادت کہ شرك حقیقی ہے (نہ صرف وہ بعض رسوم جاہلیت یا افعال جہالت کہ حد فسق وگناہ سے متجاوز نہیں گو اہل تشدد انھیں بنام شرك وپرستش غیر تعبیر کریں) اور وہ اس شرك حقیقی پرمطلع اور اس پر راضی ہے تو خود کافر ومرتد ہے فان الرضا بالکفر کفر (کیونکہ کفر پررضا بھی کفر ہے۔ ت) اس تقدیر پر اس سے نکاح پڑھوانا ہر گز نہ چاہئے کہ مرتد کے پاس تك بیٹھنا شرعا معیوب ہے۔
قال تعالی فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
الله تعالی نے فرمایا : یاد آنے پر ظالم لوگوں کی مجلس میں مت بیٹھو۔ (ت)
عورت اکیلی ہو کیونکہ مرد نے اس کا نام ذکر نہیں کیا جبکہ شبہ کی صورت میں عورت غائبانہ کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے اورہندیہ میں محیط سرخسی سے بھی منقول ہے کہ اگر وہ نقاب اوڑھے مجلس میں حاضر ہو اور گواہ نام نہ جانتے ہوں تو بھی نکاح جائز ہوگا یہی صحیح ہے۔ (ت)
اسی طرح قبول خاطب میں اپنا وقفہ کہ شخص مذکور وہاں سے اٹھ کر یہاں آیا اور قاضی سے وہ گفتگو ہوئی گواہیاں لی گئیں اس کے بعد خاطب سے کہا گیا تو اس نے قبول کیا کچھ مضر نہیں جبکہ مجلس متبدل نہ ہو کہ قبول فورا ہوناضرور نہیں فی ردالمحتار عن البحر اما الفور فلیس من شرطہ (ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے لیکن فورا ہونا ضروری شرط نہیں ا ھ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹ : مرسلہ حضرت نور العارفین دام ظلہم المبین از سیتا پور تامسن گنج ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ
بخدمت عالمان متبحر التماس ہے مثلا کوئی لڑکا کہ عمر اس کی تیرہ چودہ برس کی ہے اور نابالغ ہے اپنے گھر کے عورات کو لے کر میلہ ہنود میں جاتا ہے اور عورتیں اس کے گھر کی پرستش رسم ہنود کی کرتیں ہیں ایسا لڑکا اگر کسی کا نکاح پڑھائے تو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر فی الواقع اس کے یہاں کی عورات غیر خدا کو پوجتی ہیں یعنی حقیقۃ دوسرے کی عبادت کہ شرك حقیقی ہے (نہ صرف وہ بعض رسوم جاہلیت یا افعال جہالت کہ حد فسق وگناہ سے متجاوز نہیں گو اہل تشدد انھیں بنام شرك وپرستش غیر تعبیر کریں) اور وہ اس شرك حقیقی پرمطلع اور اس پر راضی ہے تو خود کافر ومرتد ہے فان الرضا بالکفر کفر (کیونکہ کفر پررضا بھی کفر ہے۔ ت) اس تقدیر پر اس سے نکاح پڑھوانا ہر گز نہ چاہئے کہ مرتد کے پاس تك بیٹھنا شرعا معیوب ہے۔
قال تعالی فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
الله تعالی نے فرمایا : یاد آنے پر ظالم لوگوں کی مجلس میں مت بیٹھو۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۸
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۶
القرآن ۶ / ۶۸
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۶
القرآن ۶ / ۶۸
نہ کہ خاص دینی شرعی کام میں اس سے مدد لینا
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا لا نستعین بمشرك ۔ اخرجہ احمد وابوداؤد و ابن ماجۃ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہم مشرك سے مدد لینا ناپسند کرتے ہیں اس کو صحیح سند کے ساتھ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے احمد ابوداؤد اورا بن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ (ت)
مگر پڑھائے گا تو نکاح صحیح ہوجائے گا کہ اگر وہ صرف الفاظ ایجاب وقبول کہلوانے والا ہے کہنے والے خود عاقدین یا ان کے اولیاء یا وکلاء جب توظاہر کہ اسے عقد سے کوئی علاقہ نہیں تو اس کے کفر واسلام یا بلوغ یا عدم بلوغ سے عقد پر کیا اثر ہوسکتا ہے اور اگر وکیل بھی ہوکہ خود ہی ایجاب یا قبول کرے گا تاہم صحت وکالت کے لیے اسلام خواہ بلوغ شرط نہیں عاقل ہونا درکار وہ حاصل ہے ہندیہ میں ہے :
تجوز وکالۃ المرتدبان وکل مسلم مرتدا وکذا لوکان مسلما وقت التوکیل ثم ارتد فھو علی وکالتہ الا ان یلحق بدار الحرب فتبطل وکالتہ کذا فی البدائع ۔
مسلمان نے کسی مرتد کو وکیل بنایا مرتد کی وکالت جائز ہوگی اور یوں ہی کسی مسلمان کو وکیل بنایا پھر وہ وکیل مرتد ہوگیا تو اس کی وکالت باقی رہے گی مگر وہ دارالحرب بھاگ جائے تو پھر اس کی وکالت باطل ہوجائے گی بدائع میں اسی طرح ہے(ت)
اسی میں ہے :
لاتصح وکالۃ المجنون و الصبی الذی لایعقل واما البلوغ والحریۃ فلیسا بشرط لصحۃ الوکالۃ ۔
مجنون اورناسمجھ بچے کی وکالت صحیح نہیں ہے تاہم بالغ ہونا اور آزاد ہونا وکالت کے لیے شرط نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر بے توکیل کسی مرد یا عورت بالغ وبالغہ خواہ صبی وصبیہ کا نکاح اس نے پڑھا دیا اور اس نابالغ کا کوئی ولی شرعی موجود ہے اگرچہ حاکم شرع ماذون بالتزویج یا سلطان اسلام ہی سہی جب بھی صحیح ومنعقد ہوگیا کہ اس تقدیر پر یہ فضولی تھاا ور فضولی کا عقد ہمارے نزدیك باطل نہیں اجازت پرموقوف رہتا ہے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا لا نستعین بمشرك ۔ اخرجہ احمد وابوداؤد و ابن ماجۃ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہم مشرك سے مدد لینا ناپسند کرتے ہیں اس کو صحیح سند کے ساتھ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے احمد ابوداؤد اورا بن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ (ت)
مگر پڑھائے گا تو نکاح صحیح ہوجائے گا کہ اگر وہ صرف الفاظ ایجاب وقبول کہلوانے والا ہے کہنے والے خود عاقدین یا ان کے اولیاء یا وکلاء جب توظاہر کہ اسے عقد سے کوئی علاقہ نہیں تو اس کے کفر واسلام یا بلوغ یا عدم بلوغ سے عقد پر کیا اثر ہوسکتا ہے اور اگر وکیل بھی ہوکہ خود ہی ایجاب یا قبول کرے گا تاہم صحت وکالت کے لیے اسلام خواہ بلوغ شرط نہیں عاقل ہونا درکار وہ حاصل ہے ہندیہ میں ہے :
تجوز وکالۃ المرتدبان وکل مسلم مرتدا وکذا لوکان مسلما وقت التوکیل ثم ارتد فھو علی وکالتہ الا ان یلحق بدار الحرب فتبطل وکالتہ کذا فی البدائع ۔
مسلمان نے کسی مرتد کو وکیل بنایا مرتد کی وکالت جائز ہوگی اور یوں ہی کسی مسلمان کو وکیل بنایا پھر وہ وکیل مرتد ہوگیا تو اس کی وکالت باقی رہے گی مگر وہ دارالحرب بھاگ جائے تو پھر اس کی وکالت باطل ہوجائے گی بدائع میں اسی طرح ہے(ت)
اسی میں ہے :
لاتصح وکالۃ المجنون و الصبی الذی لایعقل واما البلوغ والحریۃ فلیسا بشرط لصحۃ الوکالۃ ۔
مجنون اورناسمجھ بچے کی وکالت صحیح نہیں ہے تاہم بالغ ہونا اور آزاد ہونا وکالت کے لیے شرط نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح اگر بے توکیل کسی مرد یا عورت بالغ وبالغہ خواہ صبی وصبیہ کا نکاح اس نے پڑھا دیا اور اس نابالغ کا کوئی ولی شرعی موجود ہے اگرچہ حاکم شرع ماذون بالتزویج یا سلطان اسلام ہی سہی جب بھی صحیح ومنعقد ہوگیا کہ اس تقدیر پر یہ فضولی تھاا ور فضولی کا عقد ہمارے نزدیك باطل نہیں اجازت پرموقوف رہتا ہے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوکالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۶۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوکالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۶۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوکالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۶۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوکالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۶۲
تو جس کانکاح بے اجازت معتبرہ شرعیہ اس نے پڑھایا اگر وہ خود بالغ یا بالغہ ہے تو خود اس کے ورنہ اس کے ولی مذکور کی اجاز ت پر موقوف رہے گا اگر اس نے جائز رکھا جائز ہوجائے گا۔
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ وقد کان یصلح لھذہ فکذا لتلک۔
بعد کی ازجازت بھی پہلے کی وکالت کی طرح ہے جب وکالت میں یہ صلاحیت ہے توبعد والی اجازت بھی ایسی ہی ہے۔ (ت)
اور رد کردیا تو باطل کما ھو شان عقد الفضولی(جیسا کہ عقد فضولی کا مقام ہے۔ ت) اور اگر ان عورات کے افعال حد کفر تك نہیں یا ہیں مگر یہ ان پرر اضی نہیں جب تومسلمان ہے صور مذکورہ میں اس سے نکاح پڑھوا نے میں اصلا مضائقہ نہیں ہاں اگر کوئی مرتد یا صبی نابالغ اپنے بیٹے بیٹی بہن بھائی خواہ کسی اورنابالغ نابالغہ کا نکاح اگرچہ بزعم ولایت پڑھائے اوران کا مسلمان باپ یا جوان مسلمان بھائی چچا خواہ کوئی اور ولی شرعی مرتد عورت یہاں تك کہ وہاں سلطان اسلام یا اس کی طرف سے کوئی حاکم شرع ماذون بالا نکاح بھی ہو تو البتہ اس صورت میں یہ نکاح باطل محض ہوگا کہ مرتد یا نابالغ صالح ولایت نہیں تو عقد عقد فضولی ہوا اور ایسی حالت میں صدورپایا کہ شرعا اس کا کوئی اجازت دینے والا نہیں
وکل عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ فھو باطل کما فی الدر وغیرہ وفی الھندیۃ لا ولایۃ لصغیرکذا فی الحاوی ولا للمرتد علی احد لا علی مسلم ولا علی کافر ولا علی مرتد مثلہ کذا فی البدائع (ملخصا) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
فضولی کا ہر وہ عقد جس کو کوئی جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ باطل ہوتا ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہے اور ہندیہ میں ہے کہ نابالغ کو ولایت حاصل نہیں جیساکہ حاوی میں ہے ا ورنہ مرتد کو مسلم وکافر پر اور نہ ہی اس کو اپنے جیسے مرتد پر ولایت ہے بدائع میں ایسے ہی ہے(ملخصا)
والله سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰ : ۲۲ رجب ۱۳۰۹ ھ از کٹھور ضلع سورت مرسلہ مولوی محمد عبدالحق صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شر ع متین زادھم الله تعالی شرفا وتعظیما لدیہ اس مسئلہ میں کہ سبحان خان نے اپنی دختر عاقلہ بالغہ مسماۃ امینہ بی بی کا خطبہ یعنی منگنی نورالدین عاقل بالغ سے بے کسی شرط واقرار کے کردی جب نکاح کے چند روز رہے نورالدین سے کہا کہ مخطوبہ کے نام ایك مکان خرید دو
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ وقد کان یصلح لھذہ فکذا لتلک۔
بعد کی ازجازت بھی پہلے کی وکالت کی طرح ہے جب وکالت میں یہ صلاحیت ہے توبعد والی اجازت بھی ایسی ہی ہے۔ (ت)
اور رد کردیا تو باطل کما ھو شان عقد الفضولی(جیسا کہ عقد فضولی کا مقام ہے۔ ت) اور اگر ان عورات کے افعال حد کفر تك نہیں یا ہیں مگر یہ ان پرر اضی نہیں جب تومسلمان ہے صور مذکورہ میں اس سے نکاح پڑھوا نے میں اصلا مضائقہ نہیں ہاں اگر کوئی مرتد یا صبی نابالغ اپنے بیٹے بیٹی بہن بھائی خواہ کسی اورنابالغ نابالغہ کا نکاح اگرچہ بزعم ولایت پڑھائے اوران کا مسلمان باپ یا جوان مسلمان بھائی چچا خواہ کوئی اور ولی شرعی مرتد عورت یہاں تك کہ وہاں سلطان اسلام یا اس کی طرف سے کوئی حاکم شرع ماذون بالا نکاح بھی ہو تو البتہ اس صورت میں یہ نکاح باطل محض ہوگا کہ مرتد یا نابالغ صالح ولایت نہیں تو عقد عقد فضولی ہوا اور ایسی حالت میں صدورپایا کہ شرعا اس کا کوئی اجازت دینے والا نہیں
وکل عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ فھو باطل کما فی الدر وغیرہ وفی الھندیۃ لا ولایۃ لصغیرکذا فی الحاوی ولا للمرتد علی احد لا علی مسلم ولا علی کافر ولا علی مرتد مثلہ کذا فی البدائع (ملخصا) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
فضولی کا ہر وہ عقد جس کو کوئی جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ باطل ہوتا ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہے اور ہندیہ میں ہے کہ نابالغ کو ولایت حاصل نہیں جیساکہ حاوی میں ہے ا ورنہ مرتد کو مسلم وکافر پر اور نہ ہی اس کو اپنے جیسے مرتد پر ولایت ہے بدائع میں ایسے ہی ہے(ملخصا)
والله سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰ : ۲۲ رجب ۱۳۰۹ ھ از کٹھور ضلع سورت مرسلہ مولوی محمد عبدالحق صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شر ع متین زادھم الله تعالی شرفا وتعظیما لدیہ اس مسئلہ میں کہ سبحان خان نے اپنی دختر عاقلہ بالغہ مسماۃ امینہ بی بی کا خطبہ یعنی منگنی نورالدین عاقل بالغ سے بے کسی شرط واقرار کے کردی جب نکاح کے چند روز رہے نورالدین سے کہا کہ مخطوبہ کے نام ایك مکان خرید دو
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۴
تو نکاح کردوں ورنہ تین برس نہ کروں گا اس نے کہا پہلے تم نکاح کردو تو برس چھ مہینے کے بعد ہاتھ پہنچنے سے میں مکان خرید دوں گا۔ سبحان خاں راضی ہوگیا اور پانچ چھ دن بعد نکاح کرکے دوسرے دن وداع کردی دو تین مہینے تك زن وشو ہمبستر رہے اب سبحان خان نے امینہ کو اپنے یہاں روك رکھا اور کہتا ہے نکاح بوجہ شرط مکان فاسد ہوا حالانکہ عورت نے وقت توکیل بالنکاح یا اس سے پہلے سوا ایك سو ساٹھ روپے مہر کے کوئی شر ط مکان وغیرہ کی نہ کی نہ بعد وداع کوئی گفتگو زبان پر لائی اورمکان بھی مجہول ہے کہ پختہ و خام کی کوئی تصریح نہ ہوئی نورالدین کا اقرار بھی معلق تھا کہ پہلے نکاح کردو تو بعد کو خرید دوں گا پس یہ نکاح بلاشرط ہوا یا معلق بالشرط الصحیح یا با لشرط الفاسد اور اقرار مذکور نورالدین معلق بالشرط ہے اور اقرار معلق بالشرط باطل ہے یا نہیں بہر تقدیر شرعا ا س نکاح میں کوئی خلل نورالدین سے مکان دلوانا واجب ہے یا نہیں بینوا بیانا شافیا للمذھب الحنفی من الکتب المعتبرۃ المتداولۃ بین العلماء العظام والفقہاء الکرام تو جروا اجرکم الله تعالی اجرا وافیا۔
الجواب :
نکاح مذکور صحیح وبے خلل اورگمان فساد محض باطل وپرزلل۔
اولا : تقریر سوال سے واضح کہ مکان دینا کلام سبحان خاں میں شرط تعجیل نکاح تھا بالآخر وہ بھی نہ رہی نہ شرط فی النکاح۔
ثانیا : علی التسلیم زوج پر ایجاب مال للزوج مقتضیات عقد نکاح سے ہے نہ اس کے خلاف “ ومثلہ لایفسد البیع فکیف بالنکاح “ (اس طرح سے بیع فاسد نہیں ہوتی چہ جائیکہ نکاح فاسد کرے۔ ت) اگر واقعی مہر وشرط بھی نہ صرف بروجہ وعدہ اس قرارداد کا ذکر خود اصل عقد میں آتا تاہم اصلا خلل نہ لاتا نہ جہالت مکان سے کوئی نقصان آتا کہ وہ بحالت ایفا بالشرط خود متعین ہو کر مجہول نہ رہتا اور بے ایفا الزام مہر مثل ہوتا۔
کماحققہ المولی المحقق الشامی قدس سرہ السامی فی رد المحتار قال فقد صرح فی النھر بانہ فی المبسوط بعد ان ذکر عبارۃ محمد لوتزوجھا علی الف و کرامتھا اویھدی لھا ھدیۃ فلھا مہر مثلھا لاینقص عن الالف قال ھذہ المسألۃ
جیسا کہ محقق شامی قدس سرہ السامی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کرتے ہوئے فرمایا کہ نہر میں تصریح ہے کہ مبسوط میں امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا اگر کسی شخص نے عورت سے ہزار اور اعزاز پر یا ہزار اور ہدیہ دینے کے شرط پر نکاح کیا تو اس کا مہر مثل ہو گا جوہزار سے کم نہ ہو علامہ شامی نے
الجواب :
نکاح مذکور صحیح وبے خلل اورگمان فساد محض باطل وپرزلل۔
اولا : تقریر سوال سے واضح کہ مکان دینا کلام سبحان خاں میں شرط تعجیل نکاح تھا بالآخر وہ بھی نہ رہی نہ شرط فی النکاح۔
ثانیا : علی التسلیم زوج پر ایجاب مال للزوج مقتضیات عقد نکاح سے ہے نہ اس کے خلاف “ ومثلہ لایفسد البیع فکیف بالنکاح “ (اس طرح سے بیع فاسد نہیں ہوتی چہ جائیکہ نکاح فاسد کرے۔ ت) اگر واقعی مہر وشرط بھی نہ صرف بروجہ وعدہ اس قرارداد کا ذکر خود اصل عقد میں آتا تاہم اصلا خلل نہ لاتا نہ جہالت مکان سے کوئی نقصان آتا کہ وہ بحالت ایفا بالشرط خود متعین ہو کر مجہول نہ رہتا اور بے ایفا الزام مہر مثل ہوتا۔
کماحققہ المولی المحقق الشامی قدس سرہ السامی فی رد المحتار قال فقد صرح فی النھر بانہ فی المبسوط بعد ان ذکر عبارۃ محمد لوتزوجھا علی الف و کرامتھا اویھدی لھا ھدیۃ فلھا مہر مثلھا لاینقص عن الالف قال ھذہ المسألۃ
جیسا کہ محقق شامی قدس سرہ السامی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کرتے ہوئے فرمایا کہ نہر میں تصریح ہے کہ مبسوط میں امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا اگر کسی شخص نے عورت سے ہزار اور اعزاز پر یا ہزار اور ہدیہ دینے کے شرط پر نکاح کیا تو اس کا مہر مثل ہو گا جوہزار سے کم نہ ہو علامہ شامی نے
علی وجہین ان اکر مھا واھدی لھا ھدیۃ فلھا المسمی والافمھر المثل اھ وفی البدائع لو شرط مع المسمی شیئا مجھولا کأن تزوجہا علی الف درھم وان یھدی لماھدیۃ فاذا لم یف بالھدیۃ یجب تمام مھرالمثل اھ وجہالۃ الھدیۃ والاکرام ترتفع بعد وجودھا اھ ملخصا وتمامہ فیہ۔
فرمایا کہ اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں اگر اس نے وعدہ کے مطابق کوئی اعزازیہ یا ہدیہ دیا تو پھر مہر مقررہ ہزار ہی ہوگا ورنہ مہر مثل ہوگا اھ بدائع میں ہے کہ اگر مقررہ مہر کے ساتھ کوئی مجہول شیئ ذکر کی مثلایوں کہا کہ ایك ہزار درہم اور کوئی ہدیہ دے گا۔ تواگر ہدیہ کا وعدہ پورا نہ کیا تو پورا مہر مثل واجب ہوگاا ھ ہدیہ اور اعزاز یہ دینے کے بعد اس کی جہالت ختم ہوجائے گی اھ ملخصا مکمل بحث ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
ثالثا : بفرض باطل اسے شرط فاسد بھی مانیے تاہم پر ظاہر کہ وقت عقد اس کا کوئی ذکر نہ ہوا وہ صرف ایك گفتگو پیش ا ز عقد تھی جس کا طے ہونا باعث علی التزوج ہو ا نہ کہ ماخوذ فی التزویج اورشرط مذکور قبل العقد مبادلات مالیہ میں بھی ملتحقق بالعقد نہیں ہوتی مالم یتفقا علی المواضعۃ علیہ حین العقد(میاں بیوی جب تك کمی پر متفقہ طورپہ راضی نہ ہوں گے اس وقت تك خاوند پر نکاح کے وقت ذکر شدہ مہر لازم رہے گا۔ ت) نہ کہ امثال نکاح میں جامع الفصولین میں ہے :
لو شرطا شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد ۔
اگر نکاح سے پہلے کوئی فاسد شرط ذکر کی ہو تو اس کے بعد کا نکاح باطل نہ ہوگا۔ (ت)
رابعا : التحاق بھی سہی یعنی مان لیجئے کہ وہ شرط فی النکاح ہی تھی اورفاسد بھی تھی اورنفس عقد میں ملحوظ اورماخوذ بھی رہی تو نکاح ان عقود میں نہیں کہ شروط فاسدہ سے فاسد ہوسکے بلکہ وہ شرط ہی خود فاسد ہوتی اور نکاح صحیح وبے خلل رہتا ہے اورجہالت بدل کا علاج مہر مثل ہے۔ خلاصہ میں ہے :
فی شرح الطحاوی العقود ثلثۃ عقد یتعلق بالجائز من الشرط وھوذ کر البدل والفاسد من الشرط یفسدہ کالبیع والاجارۃ والقسمۃ والصلح عن مال وعقد لایتعلق بالجائز من الشرط والفاسد من الشرط
شرح الطحاوی میں ہے کہ عقد تین قسم پر ہیں ایك وہ کہ جس میں جائز شرط موثر ہو مثلا بدل کا ذکر اور فاسد شرط بھی موثر ہویعنی اس کو فاسد کردے جیسے عقد اجارہ بیع تقسیم مال پر صلح اور دوسرا وہ کہ اس میں کوئی شرط خواہ جائز ہو یا فاسد موثر نہ ہو جیسے نکاح خلع
فرمایا کہ اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں اگر اس نے وعدہ کے مطابق کوئی اعزازیہ یا ہدیہ دیا تو پھر مہر مقررہ ہزار ہی ہوگا ورنہ مہر مثل ہوگا اھ بدائع میں ہے کہ اگر مقررہ مہر کے ساتھ کوئی مجہول شیئ ذکر کی مثلایوں کہا کہ ایك ہزار درہم اور کوئی ہدیہ دے گا۔ تواگر ہدیہ کا وعدہ پورا نہ کیا تو پورا مہر مثل واجب ہوگاا ھ ہدیہ اور اعزاز یہ دینے کے بعد اس کی جہالت ختم ہوجائے گی اھ ملخصا مکمل بحث ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
ثالثا : بفرض باطل اسے شرط فاسد بھی مانیے تاہم پر ظاہر کہ وقت عقد اس کا کوئی ذکر نہ ہوا وہ صرف ایك گفتگو پیش ا ز عقد تھی جس کا طے ہونا باعث علی التزوج ہو ا نہ کہ ماخوذ فی التزویج اورشرط مذکور قبل العقد مبادلات مالیہ میں بھی ملتحقق بالعقد نہیں ہوتی مالم یتفقا علی المواضعۃ علیہ حین العقد(میاں بیوی جب تك کمی پر متفقہ طورپہ راضی نہ ہوں گے اس وقت تك خاوند پر نکاح کے وقت ذکر شدہ مہر لازم رہے گا۔ ت) نہ کہ امثال نکاح میں جامع الفصولین میں ہے :
لو شرطا شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد ۔
اگر نکاح سے پہلے کوئی فاسد شرط ذکر کی ہو تو اس کے بعد کا نکاح باطل نہ ہوگا۔ (ت)
رابعا : التحاق بھی سہی یعنی مان لیجئے کہ وہ شرط فی النکاح ہی تھی اورفاسد بھی تھی اورنفس عقد میں ملحوظ اورماخوذ بھی رہی تو نکاح ان عقود میں نہیں کہ شروط فاسدہ سے فاسد ہوسکے بلکہ وہ شرط ہی خود فاسد ہوتی اور نکاح صحیح وبے خلل رہتا ہے اورجہالت بدل کا علاج مہر مثل ہے۔ خلاصہ میں ہے :
فی شرح الطحاوی العقود ثلثۃ عقد یتعلق بالجائز من الشرط وھوذ کر البدل والفاسد من الشرط یفسدہ کالبیع والاجارۃ والقسمۃ والصلح عن مال وعقد لایتعلق بالجائز من الشرط والفاسد من الشرط
شرح الطحاوی میں ہے کہ عقد تین قسم پر ہیں ایك وہ کہ جس میں جائز شرط موثر ہو مثلا بدل کا ذکر اور فاسد شرط بھی موثر ہویعنی اس کو فاسد کردے جیسے عقد اجارہ بیع تقسیم مال پر صلح اور دوسرا وہ کہ اس میں کوئی شرط خواہ جائز ہو یا فاسد موثر نہ ہو جیسے نکاح خلع
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہرمطلب تزوجہا علی عشرۃ دراھم وثوب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۹
جامع الفصولین الفصل الثامن عشر فی بیع الوفاء الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۷
جامع الفصولین الفصل الثامن عشر فی بیع الوفاء الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۷
لایبطلہ کالنکاح والخلع والصلح عن دم العمد والعتق عن مال فھذہ العقود تصح بغیر ذکرہ البدل وتجوز بالبدل المجھول الخ وفی زیادات القاضی ا لامام فخر الدین العقود التی یتعلق تمامھا بالقبول اقسام ثلثۃ قسم یبطلہ الشرط الفاسد وجھالۃ البدل وھی مبادلۃ المال کالبیع والاجارۃ وقسم لا یبطلہ الشرط الفاسد ولاجھالۃ البدل وھو معاوضۃ المال بمالیس بما ل کالنکاح والخلع اھ ملخصا۔
قتل عمد پر صلح اور عتق علی المال یہ عقو دبدل کو متعین کئے بغیر بھی صحیح ہوتے ہیں اوربدل مجہول پر بھی جائز ہوتے ہیں الخ قاضی امام فخر الدین کی زیادات میں ہے کہ وہ عقود جو صرف قبول کرلینے سے مکمل ہوجاتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں ایك وہ کہ جن کو فاسد شرط اور بدل کی جہالت فاسد کردیتی ہے اوریہ مالی عقود ہیں جیسے بیع اور اجارہ وغیرہ دوسری وہ جن کو فاسد شرط اور جہالت بد ل فاسدنہیں کرتی جیسے وہ عقود جن میں غیر مال کے بدلے مال ہو مثلا نکاح اور خلع اھ ملخصا(ت)
بیان حکم نکاح میں یہی وجہ کافی ووافی تھی مگر اسئلہ سائل کا استیفائے جواب ذکر وجوہ سابقہ پر حامل ہوا وبالله التوفیق بالجملہ صورت مستفسرہ میں نکاح کو فاسد خیال کرنا سخت جہالت بے معنی ہے رہا مکان تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ وہ بطور مہر نہ مانا گیا۔ نہ عاقدین نے اسے بدل بضع قرار دینے پر لحاظ کیا بلکہ نورالدین کی طرف سے بدرخواست سبحان خاں ایك وعدہ تھا جس پر رضا مندی ہوکر تزویج ایك جدامہر مسمی پر واقع ہوئی اس صور ت میں وہ مکان دینا بیشك مکارم اخلاق سے ہے اور ایفائے وعدہ شرعا محبوب اور خلف وعدہ ناپسند ومکروہ۔ تو نورالدین کو بھی چاہئے کہ بشرط دسترس(جس کی تصریح وہ اصل وعدہ کرچکا ہے) امینہ کو ایك مکان خرید دے اقرار اگرچہ تعلیق بالشرط کی صلاحیت نہیں رکھتا سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ مبسوط کی کتاب الاقرار میں فرماتے ہیں : تعلیق الاقرار بالشرط باطل (اقرار کو شرط سے معلق کرنا باطل ہے۔ ت)خلاصہ میں ہے :
التی تبطل بالشروط الفاسدۃ ولایصح تعلیقھا بالشرط ثلثۃ عشر البیع والقسمۃ والاجارۃ(الی قولہ)
وہ امور جو فاسد شرط سے باطل ہوجاتے ہیں اوران کی کسی شرط سے تعلیق بھی صحیح نہیں ہوتی ایسے امور کی تعداد تیرہ ہے ان میں بیع تقسیم اجارہ
قتل عمد پر صلح اور عتق علی المال یہ عقو دبدل کو متعین کئے بغیر بھی صحیح ہوتے ہیں اوربدل مجہول پر بھی جائز ہوتے ہیں الخ قاضی امام فخر الدین کی زیادات میں ہے کہ وہ عقود جو صرف قبول کرلینے سے مکمل ہوجاتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں ایك وہ کہ جن کو فاسد شرط اور بدل کی جہالت فاسد کردیتی ہے اوریہ مالی عقود ہیں جیسے بیع اور اجارہ وغیرہ دوسری وہ جن کو فاسد شرط اور جہالت بد ل فاسدنہیں کرتی جیسے وہ عقود جن میں غیر مال کے بدلے مال ہو مثلا نکاح اور خلع اھ ملخصا(ت)
بیان حکم نکاح میں یہی وجہ کافی ووافی تھی مگر اسئلہ سائل کا استیفائے جواب ذکر وجوہ سابقہ پر حامل ہوا وبالله التوفیق بالجملہ صورت مستفسرہ میں نکاح کو فاسد خیال کرنا سخت جہالت بے معنی ہے رہا مکان تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ وہ بطور مہر نہ مانا گیا۔ نہ عاقدین نے اسے بدل بضع قرار دینے پر لحاظ کیا بلکہ نورالدین کی طرف سے بدرخواست سبحان خاں ایك وعدہ تھا جس پر رضا مندی ہوکر تزویج ایك جدامہر مسمی پر واقع ہوئی اس صور ت میں وہ مکان دینا بیشك مکارم اخلاق سے ہے اور ایفائے وعدہ شرعا محبوب اور خلف وعدہ ناپسند ومکروہ۔ تو نورالدین کو بھی چاہئے کہ بشرط دسترس(جس کی تصریح وہ اصل وعدہ کرچکا ہے) امینہ کو ایك مکان خرید دے اقرار اگرچہ تعلیق بالشرط کی صلاحیت نہیں رکھتا سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ مبسوط کی کتاب الاقرار میں فرماتے ہیں : تعلیق الاقرار بالشرط باطل (اقرار کو شرط سے معلق کرنا باطل ہے۔ ت)خلاصہ میں ہے :
التی تبطل بالشروط الفاسدۃ ولایصح تعلیقھا بالشرط ثلثۃ عشر البیع والقسمۃ والاجارۃ(الی قولہ)
وہ امور جو فاسد شرط سے باطل ہوجاتے ہیں اوران کی کسی شرط سے تعلیق بھی صحیح نہیں ہوتی ایسے امور کی تعداد تیرہ ہے ان میں بیع تقسیم اجارہ
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی البیع اذاکان فیہ شرط مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۵۲ و ۵۱
مبسوط امام محمد
مبسوط امام محمد
والاقرار ۔
اور اقراربھی ہے۔ (ت)
مگر پر ظاہر کہ یہ اقرار مصطلح فقہی نہیں
فانہ اخبار من حق کائن علیہ ھذا ھوالتحقیق عندی او ھذا اخبار من وجہ وانشاء منجز من وجہ کما لھج بہ کثیرون۔
کیونکہ وہ پہلے سے موجود حق سے خبر دینا ہے میرے نزدیك یہی تحقیق بات ہے یامن وجہ خبر اور من وجہ پورا کرنے کا انشاء ہے جیسا کہ بہت سے علماء نے بیان کیا ہے۔ (ت)
بلکہ وعدہ ہے اور وعدے کی تعلیق بالشرط جائز بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں وعدہ تعلیق پاکر واجب ہوجاتا ہے اشباہ میں ہے :
فی القنیۃ وعد ان یاتیہ فلم یاتہ لایاثم ولایلزم الوعد الااذ اکان معلقا کما فی کفالۃ البزازیہ وبیع الوفاء کما ذکرہ الزیلعی ۔
قنیہ میں ہے ایك شخص نے وعدہ کیا کہ میں آؤں گا تو وہ نہ آیا گنہگار نہ ہوگا اور وعدہ صرف وہی لازم ہوتا ہے جوکسی شرط سے معلق ہو جیسا کہ بزازیہ کی کفالت کی بحث میں ہے اور بیع الوفاء بھی وعدہ کی یہی قسم ہے جیسا کہ امام زیلعی نے ذکر فرمایا۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ ۔
جن وعدوں میں تعلیق ذکر کی جائے وہ لازم ہوتے ہیں۔ (ت)
تو ظاہر اطلاق عبارات مذکورہ سے صورت دائرہ میں بھی نورالدین پر جس نے وعدہ معلقہ بتقدیم نکاح کیا تھا اور شرط تقدیم متحقق ہوئی بحال دسترس وجوب وفا مستفاد ہوسکتا ہے مگر بعد احاطہ کلمات ائمہ نظر غائر استظہار کرتی ہے کہ یہ وجوب ہوبھی تو دیانۃ ہے قضاء وفائے وعدہ پر جبر نہیں۔
الا فی الکفالۃ وفی بیع الوفاء علی قول وقدذکرنا الوجہ فیھما فیما علقنا علی ردالمحتار۔
صرف کفالت اور بیع الوفاء میں ایك قول کے مطابق وفالازم ہے جس کی وجہ ہم نے ان دونوں مقام پر ردالمحتار کے حاشیہ میں ذکرکردی ہے۔ (ت)
اور اقراربھی ہے۔ (ت)
مگر پر ظاہر کہ یہ اقرار مصطلح فقہی نہیں
فانہ اخبار من حق کائن علیہ ھذا ھوالتحقیق عندی او ھذا اخبار من وجہ وانشاء منجز من وجہ کما لھج بہ کثیرون۔
کیونکہ وہ پہلے سے موجود حق سے خبر دینا ہے میرے نزدیك یہی تحقیق بات ہے یامن وجہ خبر اور من وجہ پورا کرنے کا انشاء ہے جیسا کہ بہت سے علماء نے بیان کیا ہے۔ (ت)
بلکہ وعدہ ہے اور وعدے کی تعلیق بالشرط جائز بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں وعدہ تعلیق پاکر واجب ہوجاتا ہے اشباہ میں ہے :
فی القنیۃ وعد ان یاتیہ فلم یاتہ لایاثم ولایلزم الوعد الااذ اکان معلقا کما فی کفالۃ البزازیہ وبیع الوفاء کما ذکرہ الزیلعی ۔
قنیہ میں ہے ایك شخص نے وعدہ کیا کہ میں آؤں گا تو وہ نہ آیا گنہگار نہ ہوگا اور وعدہ صرف وہی لازم ہوتا ہے جوکسی شرط سے معلق ہو جیسا کہ بزازیہ کی کفالت کی بحث میں ہے اور بیع الوفاء بھی وعدہ کی یہی قسم ہے جیسا کہ امام زیلعی نے ذکر فرمایا۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ ۔
جن وعدوں میں تعلیق ذکر کی جائے وہ لازم ہوتے ہیں۔ (ت)
تو ظاہر اطلاق عبارات مذکورہ سے صورت دائرہ میں بھی نورالدین پر جس نے وعدہ معلقہ بتقدیم نکاح کیا تھا اور شرط تقدیم متحقق ہوئی بحال دسترس وجوب وفا مستفاد ہوسکتا ہے مگر بعد احاطہ کلمات ائمہ نظر غائر استظہار کرتی ہے کہ یہ وجوب ہوبھی تو دیانۃ ہے قضاء وفائے وعدہ پر جبر نہیں۔
الا فی الکفالۃ وفی بیع الوفاء علی قول وقدذکرنا الوجہ فیھما فیما علقنا علی ردالمحتار۔
صرف کفالت اور بیع الوفاء میں ایك قول کے مطابق وفالازم ہے جس کی وجہ ہم نے ان دونوں مقام پر ردالمحتار کے حاشیہ میں ذکرکردی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی البیع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۵۵ ، ۵۴
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃا لقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱۰
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش ہندیہ کتا ب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃا لقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱۰
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش ہندیہ کتا ب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳
امام فقیہ النفس فخرالدین خانیہ میں فرماتے ہیں :
رجل اجردارہ کل شہر بدرھم وسلم ثم باعھا من غیرہ وکان المشتری یاخذ اجرۃ الدارمن ھذا المستاجر ومضی علی ذلك زمان وکان المشتری وعدالبائع انہ اذارد علیہ الثمن یرد دارہ ویحتسب ما قبض من المستاجر من ثمن الدار فجاء البائع بالدراھم و اراد ان یجعل الاجر محسوبا من الثمن قالوا لیس للبائع ان یجعل ذلك من الثمن وماقال المشتری للبائع کان وعدا فلایلزم الوفاء بذلك حکما فان نجز وعدہ کان حسنا والافلا شئی علیہ اھ ملخصا۔
ایك شخص نے اپنا مکان ہر ماہ فی درہم کرایہ پر دیا پھر اس نے وہ مکان اس کے غیر کو فروخت کردیا اور اب کرایہ دار سے یہ مشتری کرایہ ایك زمانہ تك وصول کرتا رہا جبکہ مشتری نے بائع سے یہ وعدہ کررکھا تھاکہ جب آپ مکان کی قیمت واپس کردیں گے تو میں مکان واپس آپ کو دے دوں گا اور قیمت میں سے وصول شدہ کرایہ آپ کو منہا کردوں گا اب ایك مدت بعد بائع نے آکر مشتری کو مکان کی قیمت واپس کردی اور اس نے کرایہ کی رقم میں منہا کرنا چاہی تو اس پر فقہا کرام نے فرمایا کہ بائع کو کرایہ کی رقم قیمت میں شمار کرکے منہا کرنے کا اختیار نہیں اور مشتری نے جو یہ وعدہ کیاتھا وہ وعدہ تھا جس کی وفا مشتری پرلازم نہیں ہے ہاں اگر مشتری اپنے طور پر وعدہ کو پورا کردے تو بہترہے ورنہ اس پر حکما لازم نہیں ہے اھ ملخصا(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے اسی صورت خانیہ میں ہے :
ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزمہ الوفاء بالمواعید ۔
اگر وہ وعدہ پورا کردے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کی وفا لازم نہیں ہے۔ (ت)
خیریہ میں ہے :
سئل فی رجل لہ وظیفۃ فرغ منھا لاخر بعوض وقررہ القاضی لاھلیتہ ونذر المفروغ لہ للفارغ اذارد الیہ نظیر المدفوع یفرغ لہ فھل
ایك شخص کو قاضی نے اس کی اہلیت کی بناء پر وظیفہ مقرر کرکے ایك کام سپر د کیا تو اس نے ایك معاوضہ کے بدلے وہ کام آگے ایك دوسرے کے سپرد کردیا اورقاضی نے بھی اس کو منظور کرلیا جبکہ دوسرے
رجل اجردارہ کل شہر بدرھم وسلم ثم باعھا من غیرہ وکان المشتری یاخذ اجرۃ الدارمن ھذا المستاجر ومضی علی ذلك زمان وکان المشتری وعدالبائع انہ اذارد علیہ الثمن یرد دارہ ویحتسب ما قبض من المستاجر من ثمن الدار فجاء البائع بالدراھم و اراد ان یجعل الاجر محسوبا من الثمن قالوا لیس للبائع ان یجعل ذلك من الثمن وماقال المشتری للبائع کان وعدا فلایلزم الوفاء بذلك حکما فان نجز وعدہ کان حسنا والافلا شئی علیہ اھ ملخصا۔
ایك شخص نے اپنا مکان ہر ماہ فی درہم کرایہ پر دیا پھر اس نے وہ مکان اس کے غیر کو فروخت کردیا اور اب کرایہ دار سے یہ مشتری کرایہ ایك زمانہ تك وصول کرتا رہا جبکہ مشتری نے بائع سے یہ وعدہ کررکھا تھاکہ جب آپ مکان کی قیمت واپس کردیں گے تو میں مکان واپس آپ کو دے دوں گا اور قیمت میں سے وصول شدہ کرایہ آپ کو منہا کردوں گا اب ایك مدت بعد بائع نے آکر مشتری کو مکان کی قیمت واپس کردی اور اس نے کرایہ کی رقم میں منہا کرنا چاہی تو اس پر فقہا کرام نے فرمایا کہ بائع کو کرایہ کی رقم قیمت میں شمار کرکے منہا کرنے کا اختیار نہیں اور مشتری نے جو یہ وعدہ کیاتھا وہ وعدہ تھا جس کی وفا مشتری پرلازم نہیں ہے ہاں اگر مشتری اپنے طور پر وعدہ کو پورا کردے تو بہترہے ورنہ اس پر حکما لازم نہیں ہے اھ ملخصا(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے اسی صورت خانیہ میں ہے :
ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزمہ الوفاء بالمواعید ۔
اگر وہ وعدہ پورا کردے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کی وفا لازم نہیں ہے۔ (ت)
خیریہ میں ہے :
سئل فی رجل لہ وظیفۃ فرغ منھا لاخر بعوض وقررہ القاضی لاھلیتہ ونذر المفروغ لہ للفارغ اذارد الیہ نظیر المدفوع یفرغ لہ فھل
ایك شخص کو قاضی نے اس کی اہلیت کی بناء پر وظیفہ مقرر کرکے ایك کام سپر د کیا تو اس نے ایك معاوضہ کے بدلے وہ کام آگے ایك دوسرے کے سپرد کردیا اورقاضی نے بھی اس کو منظور کرلیا جبکہ دوسرے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاجارات فصل فی الاجارۃ الطویلۃ نولکشور لکھنو ۳ / ۴۲۳
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۲۷
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۲۷
لایلزم الوفاء بہ شرعا اجاب لایلزمہ الوفاء بمانذر اذ النذر لایلزم الوفاء بہ الابشروط وھی متخلفۃ فی ھذاولو فرضنا اجتماع شرائطہ فالقاضی لایقضی بہ علی الناذر کما صرحوا بہ قاطبۃ اھ ملخصا فافھم ولاتعجل۔
شخص نے یہ عہد کیاتھا کہ اگر پہلے مقررہ شخص مجھ سے وصول کردہ کے برابر مجھے واپس کردے تو میں اس کے حق میں اس کام سے دستبردار ہوجاؤں گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس دوسرے شخص پر اپنے عہدکی پابندی ضروری شرعا ہے تو جواب میں فرمایا کہ عہد کی وفا لازم نہیں ہے کیونکہ عہد کی وفا چند شرطوں کے بغیر لازم نہیں جویہاں مفقود ہیں چنانچہ قاضی عہد کرنے والے شخص پر ایفائے عہد کے لزوم کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ (ت)
قرۃ العیون میں ہے :
قال سیدی الوالد رحمہ اﷲ تعالی لایلزم الوفاء بالوعد شرعا۔
میرے آقا والد صاحب نے فرمایا کہ شرعا وعدہ کی وفالازم نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے وتمام تحقیق المسألۃ حسب ماارانا اﷲ تعالی فی تعلیقنا المذکور(اور مسئلہ کی پوری تحقیق بتوفیق الہی ہمارے مذکورہ حاشیہ میں ہے۔ ت) بہر حال یہاں ایجاب قضاء کی گنجائش نہیں تو نہ امینہ کوا س پر مطالبہ جبری پہنچتا ہے نہ حاکم جبرا مکان دلاسکتاہے خیریہ میں ہے :
ھذا اذا ذکر علی سبیل انہ من المھر وان ذکر علی سبیل العدۃ فھو غیر لازم بالکلیۃ الاان یتبرع الزوج ۔
یہ تب ہے جب خاوند نے اس کو مہر میں سے قرار دیا ہو اور اگر وعدہ کے طور پر ذکرہو تو بالکل لازم نہیں ہاں اگر بطور عطیہ دے دے تو درست ہے۔ (ت)
ہاں اگر معلوم ہو کہ وہ بھی علی جہۃ المہرمشروط اور عاقدین کو عقد میں اس کی طرف لحاظ تھا تو حکم وہی ہے جو اوپرگزرا کہ اگر مکان دے گا تو باقی مہر مسمی بھی بدستور لازم ورنہ مہر مثل کہ اس مقدار مسمی سے کم نہ ہو کما اسلفنا عن الامام محمد رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہم نے
شخص نے یہ عہد کیاتھا کہ اگر پہلے مقررہ شخص مجھ سے وصول کردہ کے برابر مجھے واپس کردے تو میں اس کے حق میں اس کام سے دستبردار ہوجاؤں گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس دوسرے شخص پر اپنے عہدکی پابندی ضروری شرعا ہے تو جواب میں فرمایا کہ عہد کی وفا لازم نہیں ہے کیونکہ عہد کی وفا چند شرطوں کے بغیر لازم نہیں جویہاں مفقود ہیں چنانچہ قاضی عہد کرنے والے شخص پر ایفائے عہد کے لزوم کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ (ت)
قرۃ العیون میں ہے :
قال سیدی الوالد رحمہ اﷲ تعالی لایلزم الوفاء بالوعد شرعا۔
میرے آقا والد صاحب نے فرمایا کہ شرعا وعدہ کی وفالازم نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے وتمام تحقیق المسألۃ حسب ماارانا اﷲ تعالی فی تعلیقنا المذکور(اور مسئلہ کی پوری تحقیق بتوفیق الہی ہمارے مذکورہ حاشیہ میں ہے۔ ت) بہر حال یہاں ایجاب قضاء کی گنجائش نہیں تو نہ امینہ کوا س پر مطالبہ جبری پہنچتا ہے نہ حاکم جبرا مکان دلاسکتاہے خیریہ میں ہے :
ھذا اذا ذکر علی سبیل انہ من المھر وان ذکر علی سبیل العدۃ فھو غیر لازم بالکلیۃ الاان یتبرع الزوج ۔
یہ تب ہے جب خاوند نے اس کو مہر میں سے قرار دیا ہو اور اگر وعدہ کے طور پر ذکرہو تو بالکل لازم نہیں ہاں اگر بطور عطیہ دے دے تو درست ہے۔ (ت)
ہاں اگر معلوم ہو کہ وہ بھی علی جہۃ المہرمشروط اور عاقدین کو عقد میں اس کی طرف لحاظ تھا تو حکم وہی ہے جو اوپرگزرا کہ اگر مکان دے گا تو باقی مہر مسمی بھی بدستور لازم ورنہ مہر مثل کہ اس مقدار مسمی سے کم نہ ہو کما اسلفنا عن الامام محمد رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہم نے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۸۔ ۱۵۷
قرۃ العیون کتاب العاریہ دارالکتب العربیہ الکبرٰی مصر ۲ / ۳۰۰
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۰
قرۃ العیون کتاب العاریہ دارالکتب العربیہ الکبرٰی مصر ۲ / ۳۰۰
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۰
پہلے نقل کردیا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱ : ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۱۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ رضا مند زید کوتھی اور جابر نے جبر کیا بلارضا مندی ہندہ اور بغیر رضامندی ولیوں کے عمرو سے فرضی مہر مقرر کرکے ایجاب وقبول کرایا اور وقت ایجاب کے مسماۃ آہ وزاری اور فریاد واویلا انکار کرتی تھی مسماۃ کے اس انکار آہ وزاری شور واویلا کو اذن قراردے کر دولھا سے ایجاب قبول کراکے نکاح مشہور کر کے شیرینی تقسیم کردی ایسا نکاح نزدیك علمائے حقانی جائز ہے یا ناجائزـ اگر ناجائز ہو یا جائز ہو تو ادلہ مع آیات اور حدیث کے تحریر فرمائیے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نا بالغہ تھی جب تو اس کا انکار اقرار کوئی چیز نہ تھا اس کے ولی سے اجازت لینی تھی اور اگر بالغہ تھی تو اگرچہ اذن لیتے وقت اس کا انکار بلکہ صحیح مذہب پر صرف آواز اور فریاد سے رونا ہی رد استیذان کے لیے کافی ہو مگر اس کا حامل اس قدر نکاح کرنے والے کی وکالت صحیح نہ ہوئی بہرحال یہ نکاح فضولی ہوا کہ درصورت بلوغ ہندہ خود اس کی وجہ اس کے ولی کی اجاز ت پر موقوف رہا اگر بعد نکاح جب خبر نکاح پہنچے رد کیا جائے گا رد ہوجائے گا ا وراجازت دی جائیگی تو جائز ہوجائے گا۔
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ بعضھم قالو ان کان مع الصیاح والصوت فھو رد والافھو رضی وھو الاوجہ وعلیہ الفتوی اھ تمامہ فیہ فی الدرالمختار لواستاذ نھا فی معین فردت ثم زوجہا منہ فسکتت صح فی الاصح واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ اگر لڑکی کا رونا چیخ وپکار کے طور پرہو تو یہ نکاح سے انکار ہوگا ورنہ وہ رضا ہے اور یہی درست ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ اور پوری بحث ردالمحتار میں ہے اور درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی سے معین شخص کے ساتھ نکاح کی اجازت طلب کی تو لڑکی نے انکار کردیا۔ اس کے بعد پھر اس کا نکاح اسی شخص سے کیاا ورلڑکی خاموش رہی تو نکاح صحیح ہوگا اصح قول میں والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۲ : از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مدینہ شاہ مرسلہ نظام الدین ۲۹ رمضان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح قبولیت سے جائز ہے یا کوئی اور بات اور قاضی کا
مسئلہ ۱۱ : ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۱۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ رضا مند زید کوتھی اور جابر نے جبر کیا بلارضا مندی ہندہ اور بغیر رضامندی ولیوں کے عمرو سے فرضی مہر مقرر کرکے ایجاب وقبول کرایا اور وقت ایجاب کے مسماۃ آہ وزاری اور فریاد واویلا انکار کرتی تھی مسماۃ کے اس انکار آہ وزاری شور واویلا کو اذن قراردے کر دولھا سے ایجاب قبول کراکے نکاح مشہور کر کے شیرینی تقسیم کردی ایسا نکاح نزدیك علمائے حقانی جائز ہے یا ناجائزـ اگر ناجائز ہو یا جائز ہو تو ادلہ مع آیات اور حدیث کے تحریر فرمائیے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نا بالغہ تھی جب تو اس کا انکار اقرار کوئی چیز نہ تھا اس کے ولی سے اجازت لینی تھی اور اگر بالغہ تھی تو اگرچہ اذن لیتے وقت اس کا انکار بلکہ صحیح مذہب پر صرف آواز اور فریاد سے رونا ہی رد استیذان کے لیے کافی ہو مگر اس کا حامل اس قدر نکاح کرنے والے کی وکالت صحیح نہ ہوئی بہرحال یہ نکاح فضولی ہوا کہ درصورت بلوغ ہندہ خود اس کی وجہ اس کے ولی کی اجاز ت پر موقوف رہا اگر بعد نکاح جب خبر نکاح پہنچے رد کیا جائے گا رد ہوجائے گا ا وراجازت دی جائیگی تو جائز ہوجائے گا۔
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ بعضھم قالو ان کان مع الصیاح والصوت فھو رد والافھو رضی وھو الاوجہ وعلیہ الفتوی اھ تمامہ فیہ فی الدرالمختار لواستاذ نھا فی معین فردت ثم زوجہا منہ فسکتت صح فی الاصح واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ اگر لڑکی کا رونا چیخ وپکار کے طور پرہو تو یہ نکاح سے انکار ہوگا ورنہ وہ رضا ہے اور یہی درست ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ اور پوری بحث ردالمحتار میں ہے اور درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی سے معین شخص کے ساتھ نکاح کی اجازت طلب کی تو لڑکی نے انکار کردیا۔ اس کے بعد پھر اس کا نکاح اسی شخص سے کیاا ورلڑکی خاموش رہی تو نکاح صحیح ہوگا اصح قول میں والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۲ : از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مدینہ شاہ مرسلہ نظام الدین ۲۹ رمضان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح قبولیت سے جائز ہے یا کوئی اور بات اور قاضی کا
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ہو نا ضروری ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب
نکاح کے لیے فقط مرد وعورت کا ایجاب وقبول چاہئے اور دو مرد یا ایك مرد دوعورتوں کا اسی جلسہ میں ایجا ب وقبول کو سننا اور سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بس اسی قدر درکار ہے اس سے زیادہ قاضی وغیرہ کی حاجت نہیں
فی الدرالمختار ینعقد بایجاب وقبول وشرط حضور شاھدین حرین ا وحر وحرتین مکلفین سامعین قولھمامعا علی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ دو۲ مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کی موجودگی میں جو کہ عاقل بالغ اور حرہوں اور انھوں نے لڑکے لڑکی کاایجاب وقبول ایك مجلس میں سنا ہو تو نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ ان گواہوں نے اس کو نکاح سمجھا ہو مذہب یہی ہے بحر اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۳ : از مدراس محلہ چك منڈی مسیت مکہ مرسلہ مولوی عبدالرزاق صاحب امام مسجد غرہ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کثر ھم الله تعالی ایك شخص عمرو نے اپنی برادری کو دعوت منگنی کی دے دی اور وہ اسباب جوفی زماننا دولھا کی جانب سے دئے جاتے ہیں مثلا ساڑھی اور انگیا اور زیور وغیرہ حاضر کیا اہل برادری نے ولی سے باز پرس کی کہ ہم طلبی کی کیا وجہ تھی تو اس نے جواب دیا کہ عبدالله صاحب نے اپنی لڑکی مسمی بہ ہندہ میرے لڑکے مسمی بہ زید کو دے دی ہے لیکن چونکہ مجھے یہ مقصود تھا کہ یہ بات علی رؤس الاشہاد متحقق ہوجائے لہذا میں نے آپ کو تکلیف دی ہے علی ھذا القیاس ولی صغیرہ سے دریافت کیا گیا کیا تم نے اپنی لڑکی مسمی بہ ہندہ زید کو دی ہےــ اس نے کہا ہاں میں نے دی ہے اور آپ کی تکلیف دہی کی یہی وجہ ہے تو ایسی صورت میں نکاح صغیروصغیرہ منعقد ہوا یا نہیں ا ورجو درمختار کتا ب النکاح میں مذکور ہے :
وکذا انا متزوجك وجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح ۔
ا وریوں ہی کہ تجھ سے نکاح کرتاہوں اور میں تجھے نکاح کا پیغام دینے آیا ہوں کیونکہ نکاح بھاؤ چکانا نہیں ہوتا۔ (ت)
الجواب
نکاح کے لیے فقط مرد وعورت کا ایجاب وقبول چاہئے اور دو مرد یا ایك مرد دوعورتوں کا اسی جلسہ میں ایجا ب وقبول کو سننا اور سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بس اسی قدر درکار ہے اس سے زیادہ قاضی وغیرہ کی حاجت نہیں
فی الدرالمختار ینعقد بایجاب وقبول وشرط حضور شاھدین حرین ا وحر وحرتین مکلفین سامعین قولھمامعا علی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ دو۲ مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کی موجودگی میں جو کہ عاقل بالغ اور حرہوں اور انھوں نے لڑکے لڑکی کاایجاب وقبول ایك مجلس میں سنا ہو تو نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ ان گواہوں نے اس کو نکاح سمجھا ہو مذہب یہی ہے بحر اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۳ : از مدراس محلہ چك منڈی مسیت مکہ مرسلہ مولوی عبدالرزاق صاحب امام مسجد غرہ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کثر ھم الله تعالی ایك شخص عمرو نے اپنی برادری کو دعوت منگنی کی دے دی اور وہ اسباب جوفی زماننا دولھا کی جانب سے دئے جاتے ہیں مثلا ساڑھی اور انگیا اور زیور وغیرہ حاضر کیا اہل برادری نے ولی سے باز پرس کی کہ ہم طلبی کی کیا وجہ تھی تو اس نے جواب دیا کہ عبدالله صاحب نے اپنی لڑکی مسمی بہ ہندہ میرے لڑکے مسمی بہ زید کو دے دی ہے لیکن چونکہ مجھے یہ مقصود تھا کہ یہ بات علی رؤس الاشہاد متحقق ہوجائے لہذا میں نے آپ کو تکلیف دی ہے علی ھذا القیاس ولی صغیرہ سے دریافت کیا گیا کیا تم نے اپنی لڑکی مسمی بہ ہندہ زید کو دی ہےــ اس نے کہا ہاں میں نے دی ہے اور آپ کی تکلیف دہی کی یہی وجہ ہے تو ایسی صورت میں نکاح صغیروصغیرہ منعقد ہوا یا نہیں ا ورجو درمختار کتا ب النکاح میں مذکور ہے :
وکذا انا متزوجك وجئتك خاطبا لعدم جریان المساومۃ فی النکاح ۔
ا وریوں ہی کہ تجھ سے نکاح کرتاہوں اور میں تجھے نکاح کا پیغام دینے آیا ہوں کیونکہ نکاح بھاؤ چکانا نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتا ب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶۔ ۱۸۵
درمختار کتا ب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶۔ ۱۸۵
درمختار کتا ب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶۔ ۱۸۵
آیا اس عبارت منقولہ سے منگنی نکاح ہوسکتی ہے اگر ہوسکتی ہے تو فھو المراد والااس عبارت کا کیا مطلب
الجواب :
ارشادات علمائے کرام میں نظر سے واضح کہ کلمات مذکورہ فی السوال انعقاد نکاح کے لیے اصلا کافی نہیں عمر و عبدالله دونوں کے کلام صراحۃ اخبار ہیں کہ ہماری زبان میں صیغہ ماضی مقرون بلفظ ہے خاص امر واقع شدہ سے خبر دینے کے لیے ہے نہ امر غیر واقع کے انشاء وایجاد کو پھر کلام عمر وسخن ا بتدائی نہیں اہل برادری کے اس باز پرس کا جواب ہے کہ ہماری طلبی کی کیا وجہ تھی پر ظاہر کہ اس سوال کا جواب اخبار ہوگا۔ نہ کہ انشائے ایجاب یوں ہی کلام عبدالله کا سیاق بھی کہ ہاں دی ہے اورآپ کی تکلیف دہی کی یہی وجہ ہے صاف صاف اسی معنی اخبار وبیان وجہ جمع کی تاکید کرر ہا ہے کما لایخفی علی العارف باسالیب الکلام(جیسا کہ کلام کے اسلوب کو سمجھنے والے پرمخفی نہیں۔ ت) اور شك نہیں کہ وقوع نکاح سے خبردینا انشائے عقد سے بالکل مبائن وغیرمؤثرہے اگربنظرظاہر کہئے تو حسب تصحیحات جمہورائمہ واختیارات خبر دینا انشائے مذہب مذیل بآکد الفاظ اور نظر وثیق لیجئے تو امثال مقام میں بالاجماع بلانزاع
کما حققنا ذلك بتوفیق اﷲ تعالی فی رسالتنا “ عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار “ من فتاونا و لنقتصر ھھنا علی الاشارۃ الی بعض عبارات الافتاء تنزلا الی الطریقۃ الاولی۔
جیسا کہ ہم نے اس کو الله تعالی کی توفیق سے اپنے رسالہ “ عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار “ میں محقق کیا ہے اور یہاں ہم صرف فتوی کی بعض عبارات کی طرف اشارہ کرینگے پہلے طریقہ پر۔ (ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشھود لاینعقد ھو المختار وقیل ینعقد والاول ھو الصحیح وعلیہ الفتوی ۔
مرد وعورت نے گواہوں کی موجودگی میں اقرار کیا تو اس سے مختار قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا اور بعض نے کہا کہ ہوجائے گا۔ لیکن پہلا قول صحیح اور اسی پرفتوی ہے۔ (ت)
اصلاح وایضاح میں ہے :
النکاح اثبات وھذا اظھار والاظھار
اقرار اظہار کا نام ہے جبکہ نکاح اثبات کا نام ہے
الجواب :
ارشادات علمائے کرام میں نظر سے واضح کہ کلمات مذکورہ فی السوال انعقاد نکاح کے لیے اصلا کافی نہیں عمر و عبدالله دونوں کے کلام صراحۃ اخبار ہیں کہ ہماری زبان میں صیغہ ماضی مقرون بلفظ ہے خاص امر واقع شدہ سے خبر دینے کے لیے ہے نہ امر غیر واقع کے انشاء وایجاد کو پھر کلام عمر وسخن ا بتدائی نہیں اہل برادری کے اس باز پرس کا جواب ہے کہ ہماری طلبی کی کیا وجہ تھی پر ظاہر کہ اس سوال کا جواب اخبار ہوگا۔ نہ کہ انشائے ایجاب یوں ہی کلام عبدالله کا سیاق بھی کہ ہاں دی ہے اورآپ کی تکلیف دہی کی یہی وجہ ہے صاف صاف اسی معنی اخبار وبیان وجہ جمع کی تاکید کرر ہا ہے کما لایخفی علی العارف باسالیب الکلام(جیسا کہ کلام کے اسلوب کو سمجھنے والے پرمخفی نہیں۔ ت) اور شك نہیں کہ وقوع نکاح سے خبردینا انشائے عقد سے بالکل مبائن وغیرمؤثرہے اگربنظرظاہر کہئے تو حسب تصحیحات جمہورائمہ واختیارات خبر دینا انشائے مذہب مذیل بآکد الفاظ اور نظر وثیق لیجئے تو امثال مقام میں بالاجماع بلانزاع
کما حققنا ذلك بتوفیق اﷲ تعالی فی رسالتنا “ عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار “ من فتاونا و لنقتصر ھھنا علی الاشارۃ الی بعض عبارات الافتاء تنزلا الی الطریقۃ الاولی۔
جیسا کہ ہم نے اس کو الله تعالی کی توفیق سے اپنے رسالہ “ عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار “ میں محقق کیا ہے اور یہاں ہم صرف فتوی کی بعض عبارات کی طرف اشارہ کرینگے پہلے طریقہ پر۔ (ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
اقرا بالنکاح بین یدی الشھود لاینعقد ھو المختار وقیل ینعقد والاول ھو الصحیح وعلیہ الفتوی ۔
مرد وعورت نے گواہوں کی موجودگی میں اقرار کیا تو اس سے مختار قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا اور بعض نے کہا کہ ہوجائے گا۔ لیکن پہلا قول صحیح اور اسی پرفتوی ہے۔ (ت)
اصلاح وایضاح میں ہے :
النکاح اثبات وھذا اظھار والاظھار
اقرار اظہار کا نام ہے جبکہ نکاح اثبات کا نام ہے
حوالہ / References
جواھرالاخلاطی کتاب النکاح قلمی نسخہ ص۴۸
غیر الاثبات ذکرہ فی التخییر وقال فی مختارات النوازل ھوالمختار ۔
ا ور ا ظہار و اثبات دو مختلف چیزیں ہیں اس کو تخییر میں ذکر کیا ہے اور مختارات النوازل میں کہا کہ یہی مختار ہے۔ (ت)
ہندیہ میں ہے : الصحیح انہ لایکون نکاحا کذا فی الظہیریہ (صحیح یہی ہے کہ نکاح نہ ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے ت) وجیز کردری میں ہے : لاینعقد فی المختار الصحیح (مختار اور صحیح قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)علاوہ بریں دینا عطا ہبہ یہ الفاظ خودہی نکاح میں صریح نہیں کنایہ ہیں اور عقد و وعد دونوں کو محتمل منگنی ہونے پر بھی عرف شائع میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی فلاں کو دی ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ بہ نیت خطبہ کہے جائیں تو خطبہ ہی ٹھہرے گا مجلس وعد میں صادر ہوں تو وعدہ ہی قرار پائے گا۔ درمختار میں ہے :
لفظ ترویج ونکاح صریح وماعداھما کنایۃ وھو کل لفظ وضع لتملیك عین کاملۃ فی الحال کھبۃ وتملیك وصدقۃ وعطیۃ بشرط نیۃ اوقرینۃ وفھم الشھود المقصود اھ ملتقطا۔
نکاح میں لفظ “ ترویج “ اور “ نکاح “ صریح ہیں۔ ان کے علاوہ باقی سب کنایہ ہیں اور کنایہ کے لئے وہ تمام الفاظ ہیں جو بروقت کسی کامل چیز کی تملیك کے لیے ہوں مثلا ہبہ صدقہ عطیہ اور تملیك کے الفاظ جب نکاح کی نیت سے استعمال ہوں یا اس پر قرینہ موجود ہو اور اس سے گواہ بھی مقصد کو سمجھ سکیں اھ ملتقطا(ت)
خانیہ میں ہے :
اذا قال لاب البنت وھبت ابنتك منی فقال وھبت فقال قبلت قالوا ان کان ھذا القول من الخاطب علی وجہ الخطبۃ ومن الاب ایضا علی وجہ الاجابۃ لاعلی وجہ العقد
جب ایك لڑکے نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ آپ نے اپنی لڑکی مجھے ہبہ کی تو باپ نے جواب میں کہا کہ میں نے ہبہ کی اس کے بعد پہلے نے کہا میں نے قبول کی فقہاء کرام نے فرمایا اگر منگنی کرنے والے اور باپ نے مذکورہ
ا ور ا ظہار و اثبات دو مختلف چیزیں ہیں اس کو تخییر میں ذکر کیا ہے اور مختارات النوازل میں کہا کہ یہی مختار ہے۔ (ت)
ہندیہ میں ہے : الصحیح انہ لایکون نکاحا کذا فی الظہیریہ (صحیح یہی ہے کہ نکاح نہ ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے ت) وجیز کردری میں ہے : لاینعقد فی المختار الصحیح (مختار اور صحیح قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا۔ (ت)علاوہ بریں دینا عطا ہبہ یہ الفاظ خودہی نکاح میں صریح نہیں کنایہ ہیں اور عقد و وعد دونوں کو محتمل منگنی ہونے پر بھی عرف شائع میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی فلاں کو دی ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ بہ نیت خطبہ کہے جائیں تو خطبہ ہی ٹھہرے گا مجلس وعد میں صادر ہوں تو وعدہ ہی قرار پائے گا۔ درمختار میں ہے :
لفظ ترویج ونکاح صریح وماعداھما کنایۃ وھو کل لفظ وضع لتملیك عین کاملۃ فی الحال کھبۃ وتملیك وصدقۃ وعطیۃ بشرط نیۃ اوقرینۃ وفھم الشھود المقصود اھ ملتقطا۔
نکاح میں لفظ “ ترویج “ اور “ نکاح “ صریح ہیں۔ ان کے علاوہ باقی سب کنایہ ہیں اور کنایہ کے لئے وہ تمام الفاظ ہیں جو بروقت کسی کامل چیز کی تملیك کے لیے ہوں مثلا ہبہ صدقہ عطیہ اور تملیك کے الفاظ جب نکاح کی نیت سے استعمال ہوں یا اس پر قرینہ موجود ہو اور اس سے گواہ بھی مقصد کو سمجھ سکیں اھ ملتقطا(ت)
خانیہ میں ہے :
اذا قال لاب البنت وھبت ابنتك منی فقال وھبت فقال قبلت قالوا ان کان ھذا القول من الخاطب علی وجہ الخطبۃ ومن الاب ایضا علی وجہ الاجابۃ لاعلی وجہ العقد
جب ایك لڑکے نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ آپ نے اپنی لڑکی مجھے ہبہ کی تو باپ نے جواب میں کہا کہ میں نے ہبہ کی اس کے بعد پہلے نے کہا میں نے قبول کی فقہاء کرام نے فرمایا اگر منگنی کرنے والے اور باپ نے مذکورہ
حوالہ / References
اصلاح وایضاح
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۲
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰۹
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۲
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰۹
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
لم یکن نکاحا اھ ملخصا۔
الفاظ منگنی اوراس کے جوا ب کے طور پر استعمال کئے اور عقد نکاح مقصود نہ ہو تو نکاح نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
شرح طحاوی پھر مجتبی پھر مجموعہ علامہ انقروی وواقعات علامہ قدری افندی وغیرہا میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعدوان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
کسی نے لڑکی کے باپ کو کہا تو نے مجھے لڑکی دی توباپ نے کہادی تو مجلس نکاح میں نکاح اور منگنی کی مجلس ہو تو منگنی ہوگی۔ (ت)
سوال سے ظاہر کہ یہ مجلس منگنی ہی کی تھی ا ورکوئی قرینہ واضحہ ایسا نہ پایا گیا جو ان الفاظ کو انشائے عقد کے لیے متعین کرے تو یوں بھی منگنی ہی ٹھہرے گی نہ نکاح والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال دوم : نکاح عقد ہے اور منگنی وعد عقد ووعد کاتباین بدیہی تو منگنی کو نکاح ٹھہرانا بداہۃ باطل اور اجماعا غلط ابھی کلمات علماء سے عقد و وعد کا تفرقہ گزرا اس کے نصوص کے نقل بدیہی پراستدلال ہے جئتك خاطبا سے انعقاد نکاح نہ اس وجہ سے ہے کہ خطبہ عقد ہو بلکہ الفاظ مذکورہ خود الفاظ عقدہی قرار پائے ہیں یعنی جبکہ نیت وقرینہ متحقق ہو لما علمت ان ماعدا التزویج والنکاح کنایۃ تفتقر الیھما(جیسا کہ آپ نے معلوم کرلیا کہ تزویج اورنکاح کے الفاظ کے علاوہ باقی کنایہ ہیں جو کہ نیت اور قرینہ کے محتاج ہیں۔ ت) ولہذا علماء انھیں الفاظ ایجاب کے ساتھ شمارفر ماتے ہیں وجیز کردری میں ہے :
کتاب النکاح تسعۃ عشر فصلا الاول فی الالۃ کل لفظ یفید ملك الرقبۃ انعقد بہ کقولہ بعت و تزوجت و انکحت و ملکتك ووھبت وتصدقت وجئتك خاطبا وجعلت نفسی لك ۔
کتاب النکاح میں انیس بحثیں ہیں پہلی آلہ میں وہ ہر لفظ جو رقبہ کی ملکیت کے لیے مفید ہوا س سے نکاح منعقد ہوگا جیسے میں نے فروخت کیا نکاح کردیا تجھے مالك بنایا ہبہ کیا۔ صدقہ کیا میں رشتہ لینے آیا ہوں میں نے اپنا نفس تجھے دیا۔ (ت)
خلاصہ و خزانۃ المفتین میں ہے :
ینعقد بقول تزوجت وانکحت وملکتک
نکاح منعقد ہوجاتا ہے ان الفاظ سے : میں نے نکاح
الفاظ منگنی اوراس کے جوا ب کے طور پر استعمال کئے اور عقد نکاح مقصود نہ ہو تو نکاح نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
شرح طحاوی پھر مجتبی پھر مجموعہ علامہ انقروی وواقعات علامہ قدری افندی وغیرہا میں ہے :
قال لہ ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت فان کان المجلس للوعد فوعدوان کان لعقد النکاح فنکاح ۔
کسی نے لڑکی کے باپ کو کہا تو نے مجھے لڑکی دی توباپ نے کہادی تو مجلس نکاح میں نکاح اور منگنی کی مجلس ہو تو منگنی ہوگی۔ (ت)
سوال سے ظاہر کہ یہ مجلس منگنی ہی کی تھی ا ورکوئی قرینہ واضحہ ایسا نہ پایا گیا جو ان الفاظ کو انشائے عقد کے لیے متعین کرے تو یوں بھی منگنی ہی ٹھہرے گی نہ نکاح والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال دوم : نکاح عقد ہے اور منگنی وعد عقد ووعد کاتباین بدیہی تو منگنی کو نکاح ٹھہرانا بداہۃ باطل اور اجماعا غلط ابھی کلمات علماء سے عقد و وعد کا تفرقہ گزرا اس کے نصوص کے نقل بدیہی پراستدلال ہے جئتك خاطبا سے انعقاد نکاح نہ اس وجہ سے ہے کہ خطبہ عقد ہو بلکہ الفاظ مذکورہ خود الفاظ عقدہی قرار پائے ہیں یعنی جبکہ نیت وقرینہ متحقق ہو لما علمت ان ماعدا التزویج والنکاح کنایۃ تفتقر الیھما(جیسا کہ آپ نے معلوم کرلیا کہ تزویج اورنکاح کے الفاظ کے علاوہ باقی کنایہ ہیں جو کہ نیت اور قرینہ کے محتاج ہیں۔ ت) ولہذا علماء انھیں الفاظ ایجاب کے ساتھ شمارفر ماتے ہیں وجیز کردری میں ہے :
کتاب النکاح تسعۃ عشر فصلا الاول فی الالۃ کل لفظ یفید ملك الرقبۃ انعقد بہ کقولہ بعت و تزوجت و انکحت و ملکتك ووھبت وتصدقت وجئتك خاطبا وجعلت نفسی لك ۔
کتاب النکاح میں انیس بحثیں ہیں پہلی آلہ میں وہ ہر لفظ جو رقبہ کی ملکیت کے لیے مفید ہوا س سے نکاح منعقد ہوگا جیسے میں نے فروخت کیا نکاح کردیا تجھے مالك بنایا ہبہ کیا۔ صدقہ کیا میں رشتہ لینے آیا ہوں میں نے اپنا نفس تجھے دیا۔ (ت)
خلاصہ و خزانۃ المفتین میں ہے :
ینعقد بقول تزوجت وانکحت وملکتک
نکاح منعقد ہوجاتا ہے ان الفاظ سے : میں نے نکاح
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح الفصل الاول نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۰
فتاوٰی انقرویہ کتاب النکاح دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۳۳
فتاوی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خا نہ پشاور ۴ / ۱۰۸
فتاوٰی انقرویہ کتاب النکاح دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۳۳
فتاوی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خا نہ پشاور ۴ / ۱۰۸
و وھبت وتصدقت وجئتك خاطبا وجعلت نفسی لك وبعت ۔
کردیا تجھے مالك بنادیا ہبہ کیا صدقہ کیا میں رشتہ لینے آیاہوں میں نے اپنا نفس تجھے دیا فروخت کیا۔ (ت)
۳۴اقول : وبالله التوفیق فقہ اس میں یہ ہے کہ جئتك خاطبا(میں رشتہ لینے آیا ہوں۔ ت) کسی خطبہ متقدمہ سے اخبار نہیں بلکہ انشائے طلب وتزویج ہے اور انشائے طلب عین حاصل امر تو جئتك خاطبا بمعنی زوجنی ہے۔ ولہذابزازیہ میں ان دونوں کا ایك حکم رکھا۔
حیث قال جاء رجل فقال زوجنی بنتك ا وجئتك خاطبا ا وجئتك تزوجنی بنتك فقال زوجتك فالنکاح واقع لازم ولیس للخاطب ان لایقبل ۔
جیسا کہ انھوں نے ذکر کیا کہ ایك آدمی نے آکر کہا کہ تواپنی بیٹی مجھے نکاح کردے یا میں آپ کے پاس رشتہ لینے آیا ہوں یا میں اس لیے آیاہوں کہ آپ مجھے اپنی بیٹی بیاہ دیں تو باپ نے کہا میں نے بیاہ دی تو ان الفاظ سے لازمی نکاح ہوجائے گا اب رشتہ طلب کرنے والے کوقبول نہ کر نے کی کوئی گنجائش نہیں۔ (ت)
ا ور “ زوجنی “ الفاظ مفیدہ عقد سے ہے
توکیلا ا و ایجابا علی اختلاف قولین والاولی عــــہ اظھر عندی کما بیناہ فیما علقناہ علی ہامش ردالمحتار تو اسی طرح جئتك خاطبا۔
وکیل بناتے ہوئے یا ایجاب کے طور پر دونوں اقوال کے اختلاف پر اور پہلا یعنی وکیل بناتے ہوئے میرے نزدیك اظہر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پربیان کیا ہے تو اسی طرح میں تیرے پاس رشتہ لینے آیا ہوں۔ (ت)
بالجملہ لفظ خطبہ باضافت بیانیہ بعد تحقق نیت وقیام قرینہ الفاظ عقد سے ہے نہ الفاظ خطبہ باضافت لامیہ یعنی وہ الفاظ کہ شرعا خطبہ قرار پائیں نہ کہ وہ الفاظ کہ صراحۃ اخبارہوں اور معنی انشاء سے منزلوں دور کما لایخفی علی ذی شعور (جیسا کہ اہل شعور پر مخفی نہیں۔ (ت)رہا نکاح میں عدم جریان مساومت ۳۵اقول : وبالله التوفیق اس کا منشاء خود یہی ہے کہ عادۃ نکاح
عــــہ : انظرہ مع ما اذکرہ ۱۲ منہ(م)
کردیا تجھے مالك بنادیا ہبہ کیا صدقہ کیا میں رشتہ لینے آیاہوں میں نے اپنا نفس تجھے دیا فروخت کیا۔ (ت)
۳۴اقول : وبالله التوفیق فقہ اس میں یہ ہے کہ جئتك خاطبا(میں رشتہ لینے آیا ہوں۔ ت) کسی خطبہ متقدمہ سے اخبار نہیں بلکہ انشائے طلب وتزویج ہے اور انشائے طلب عین حاصل امر تو جئتك خاطبا بمعنی زوجنی ہے۔ ولہذابزازیہ میں ان دونوں کا ایك حکم رکھا۔
حیث قال جاء رجل فقال زوجنی بنتك ا وجئتك خاطبا ا وجئتك تزوجنی بنتك فقال زوجتك فالنکاح واقع لازم ولیس للخاطب ان لایقبل ۔
جیسا کہ انھوں نے ذکر کیا کہ ایك آدمی نے آکر کہا کہ تواپنی بیٹی مجھے نکاح کردے یا میں آپ کے پاس رشتہ لینے آیا ہوں یا میں اس لیے آیاہوں کہ آپ مجھے اپنی بیٹی بیاہ دیں تو باپ نے کہا میں نے بیاہ دی تو ان الفاظ سے لازمی نکاح ہوجائے گا اب رشتہ طلب کرنے والے کوقبول نہ کر نے کی کوئی گنجائش نہیں۔ (ت)
ا ور “ زوجنی “ الفاظ مفیدہ عقد سے ہے
توکیلا ا و ایجابا علی اختلاف قولین والاولی عــــہ اظھر عندی کما بیناہ فیما علقناہ علی ہامش ردالمحتار تو اسی طرح جئتك خاطبا۔
وکیل بناتے ہوئے یا ایجاب کے طور پر دونوں اقوال کے اختلاف پر اور پہلا یعنی وکیل بناتے ہوئے میرے نزدیك اظہر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پربیان کیا ہے تو اسی طرح میں تیرے پاس رشتہ لینے آیا ہوں۔ (ت)
بالجملہ لفظ خطبہ باضافت بیانیہ بعد تحقق نیت وقیام قرینہ الفاظ عقد سے ہے نہ الفاظ خطبہ باضافت لامیہ یعنی وہ الفاظ کہ شرعا خطبہ قرار پائیں نہ کہ وہ الفاظ کہ صراحۃ اخبارہوں اور معنی انشاء سے منزلوں دور کما لایخفی علی ذی شعور (جیسا کہ اہل شعور پر مخفی نہیں۔ (ت)رہا نکاح میں عدم جریان مساومت ۳۵اقول : وبالله التوفیق اس کا منشاء خود یہی ہے کہ عادۃ نکاح
عــــہ : انظرہ مع ما اذکرہ ۱۲ منہ(م)
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح مکتبہ حبیبیہ کانسی روڈ کوئٹہ ۲ / ۲
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش فتاوٰی ھندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۱
فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش فتاوٰی ھندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۱
سے پہلے منگنی وغیرہ مقدمات ہوچکتے ہیں تو ان کے بعد الفاظ مجلس عقدکو مساومت پر حمل نہیں کرسکتے بخلاف بیع کہ نہ وہاں ایسا تقدم نہ اس کے لیے کوئی مجلس قرینہ قصدعقد فتح القدیر پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
النکاح لایدخل المساومۃ لانہ لایکون الابعد مقدمات ومراجعات فکان للتحقیق بخلاف البیع ۔
نکاح میں بھاؤ لگانا نہیں ہوتا کیونکہ نکاح کئی مقدمات اور آمدورفت کے بعد ہواکرتا ہے تو کنایہ الفاظ اس موقعہ پر نکاح کے تحقق کے لیے ہوتے ہیں بخلاف بیع کے۔ (ت)
تحقیق مقام یہ ہے کہ عبارت مذکورہ سوال کے معنی اگر یہ ٹھہریں کہ امثال الفاظ بعد قیام قرینہ قصد مثل جلسہ نکاح بعد خطبہ وقرأت خطبہ وغیرہما بحکم دلالت ظاہرہ جانب عقد متصرف ہوں گے نہ کہ سوئے مساومت کہ یہاں کوئی محل مساومت نہیں تو بیشك صحیح ہے۔ اور یہی معنی مقصودومراد۔
الاتری ان الکلام فی الکنایۃ ولاانعقاد بھا الاعند قیام القرینۃ کما علمت۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ گفتگو کنایہ کے بارے میں ہے ا وران میں قرینہ کے بغیر نکاح منعقد نہ ہوگا جیسا کہ آپ معلوم کر چکے ہیں۔ (ت)
مگر اس بنا پر ہر منگنی یا الفاظ مذکورہ عمر و و عبدالله کو نکاح نہیں ٹھہراسکتے کما بینا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔ ت) ا وراگر یہ معنی لیں کہ جو کچھ الفاظ خاطب ومخطوب الیہ میں جاری ہوں خواہی نخواہی نکاح ٹھہریں گے اگرچہ معنی مساومت وطلب وعد کو محتمل اور قرینہ معینہ قصد عقد سے عاری تومحض باطل نہ ہر گز یہ مراد علماء علماء صاف تصریحات فرماتے ہیں کہ احتمال مساومت واستیعاد یعنی صورت واقعہ میں معنی استیام وطلب وعد کا احتمال ہونا مانع انعقاد نکاح ہے۔ خزانۃ المفتین برمز ظ فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی سے ہے :
لو قال بالفارسیۃ دختر خویش مرادادی فقال دادم لاینعقد النکاح لان ھذا استخبار واستیعاد فلا یصیر وکیلا الا اذا ارادبہ التحقیق دون الاستیام ۔
اگر ایك نے فارسی میں کہا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے دی تو دوسرے نے جواب میں “ دادم “ کہا تو اس سے بغیر ارادہ نکاح متحقق نہ ہوگا کیونکہ یہ الفاظ حقیقتا خبر معلوم کرنے اور وعدہ لینے کے لیے ہوتے ہیں اس لیے دوسرا وکیل نہ بنے گا۔ (ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
النکاح لایدخل المساومۃ لانہ لایکون الابعد مقدمات ومراجعات فکان للتحقیق بخلاف البیع ۔
نکاح میں بھاؤ لگانا نہیں ہوتا کیونکہ نکاح کئی مقدمات اور آمدورفت کے بعد ہواکرتا ہے تو کنایہ الفاظ اس موقعہ پر نکاح کے تحقق کے لیے ہوتے ہیں بخلاف بیع کے۔ (ت)
تحقیق مقام یہ ہے کہ عبارت مذکورہ سوال کے معنی اگر یہ ٹھہریں کہ امثال الفاظ بعد قیام قرینہ قصد مثل جلسہ نکاح بعد خطبہ وقرأت خطبہ وغیرہما بحکم دلالت ظاہرہ جانب عقد متصرف ہوں گے نہ کہ سوئے مساومت کہ یہاں کوئی محل مساومت نہیں تو بیشك صحیح ہے۔ اور یہی معنی مقصودومراد۔
الاتری ان الکلام فی الکنایۃ ولاانعقاد بھا الاعند قیام القرینۃ کما علمت۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ گفتگو کنایہ کے بارے میں ہے ا وران میں قرینہ کے بغیر نکاح منعقد نہ ہوگا جیسا کہ آپ معلوم کر چکے ہیں۔ (ت)
مگر اس بنا پر ہر منگنی یا الفاظ مذکورہ عمر و و عبدالله کو نکاح نہیں ٹھہراسکتے کما بینا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔ ت) ا وراگر یہ معنی لیں کہ جو کچھ الفاظ خاطب ومخطوب الیہ میں جاری ہوں خواہی نخواہی نکاح ٹھہریں گے اگرچہ معنی مساومت وطلب وعد کو محتمل اور قرینہ معینہ قصد عقد سے عاری تومحض باطل نہ ہر گز یہ مراد علماء علماء صاف تصریحات فرماتے ہیں کہ احتمال مساومت واستیعاد یعنی صورت واقعہ میں معنی استیام وطلب وعد کا احتمال ہونا مانع انعقاد نکاح ہے۔ خزانۃ المفتین برمز ظ فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی سے ہے :
لو قال بالفارسیۃ دختر خویش مرادادی فقال دادم لاینعقد النکاح لان ھذا استخبار واستیعاد فلا یصیر وکیلا الا اذا ارادبہ التحقیق دون الاستیام ۔
اگر ایك نے فارسی میں کہا کہ تونے اپنی بیٹی مجھے دی تو دوسرے نے جواب میں “ دادم “ کہا تو اس سے بغیر ارادہ نکاح متحقق نہ ہوگا کیونکہ یہ الفاظ حقیقتا خبر معلوم کرنے اور وعدہ لینے کے لیے ہوتے ہیں اس لیے دوسرا وکیل نہ بنے گا۔ (ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ(غیر مطبوعہ) ۱ / ۷۶
خزانۃ المفتین کتاب النکاح قلمی نسخہ(غیر مطبوعہ) ۱ / ۷۶
اذا قال لغیرہ دختر خویش مرادہ فقال دادم ینعقد النکاح وان لم یقل الخاطب پذیر فتم ولو قال مراد ادی فقال دادم لاینعقد النکاح مالم یقل الخاطب پذیر فتم الا اذا اراد بقولہ دادی التحقیق دون السوم ۔
جب دوسرے کوکہا کہ توا پنی لڑکی مجھے دے۔ تو دوسرے نے کہا “ دی “ تو اس سے نکاح منعقد ہوجائے گا اگرچہ پہلا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے ا وراگر پہلے نے کہا “ تو نے بیٹی مجھے دی “ تو دوسرے نے جواب میں کہا “ میں نے دی “ تو جب تك پہلا اس کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ ہاں اگر اس صورت میں دوسرے نے “ میں نے دی “ سے مراد نکاح کا تحقق لیاا ور خواہش اور مرضی کا اظہار مراد نہ لیا تونکاح ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح بزازیہ میں ہے ___ ردالمحتار میں شرح علامہ مقدسی سے نقل فرمایا :
انما توقف الانعقاد علی القبول فی قول الاب ا والوکیل ھب ابنتك لفلان اولابنی ا واعطھا مثلا لانہ ظاھر فی الطلب وانہ مستقبل لم یرد بہ الحال والتحقق فلم یتم بہ العقد بخلاف زوجنی بنتك بکذا بعد الخطبۃ ونحوھا فانہ ظاھر فی التحقق والاثبات الذی ھو معنی الایجاب ۔
لڑکے کے باپ یا وکیل نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ تو اپنی بیٹی فلاں کو یا میرے لڑکے کو ہبہ کریا عطا کر تو اس میں نکاح کا انعقاد لڑکی کے باپ کے دے دینے کے بعد لڑکے کے باپ یا وکیل کے قبول کرلینے پر موقوف رہے گا کیونکہ یہ الفاظ ظاہر طور پر طلب کے لیے ہوتے ہیں جس میں مستقبل ہوتا ہے۔ تحقق ا ور حال مرادنہیں ہوتا لہذا عقد تام نہ ہوگا اس کے برخلاف اگر یہ کہا ہو کہ “ تو اپنی بیٹی مجھے بیاہ دے “ ا ور یہ کہنا مہر طے کرنے ا ورمنگنی کے بعد ہو تو یہ الفاظ تحقق اور اثبات میں ظاہر ہیں جو کہ ایجاب کہلاتا ہے۔ (ت)
شرح طحاوی سے گزرا کہ ھل اعطیتنیھا(کیا تونے بیٹی مجھے عطا کی۔ ت) مجلس عقد میں مفید عقد ہے ا ور جلسہ وعد میں طلب وعد بالجملہ الفاظ محتملہ میں مدار قرینہ پر ہے۔ پھر الفاظ مذکورہ عمر و وعبدالله تو مساومت وتحقیق دونوں سے مہجور اور خاص اخبار میں متعین ہیں تو انھیں اس عبارت سے بھی کچھ علاقہ نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
جب دوسرے کوکہا کہ توا پنی لڑکی مجھے دے۔ تو دوسرے نے کہا “ دی “ تو اس سے نکاح منعقد ہوجائے گا اگرچہ پہلا “ میں نے قبول کی “ نہ کہے ا وراگر پہلے نے کہا “ تو نے بیٹی مجھے دی “ تو دوسرے نے جواب میں کہا “ میں نے دی “ تو جب تك پہلا اس کے بعد “ میں نے قبول کی “ نہ کہے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ ہاں اگر اس صورت میں دوسرے نے “ میں نے دی “ سے مراد نکاح کا تحقق لیاا ور خواہش اور مرضی کا اظہار مراد نہ لیا تونکاح ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح بزازیہ میں ہے ___ ردالمحتار میں شرح علامہ مقدسی سے نقل فرمایا :
انما توقف الانعقاد علی القبول فی قول الاب ا والوکیل ھب ابنتك لفلان اولابنی ا واعطھا مثلا لانہ ظاھر فی الطلب وانہ مستقبل لم یرد بہ الحال والتحقق فلم یتم بہ العقد بخلاف زوجنی بنتك بکذا بعد الخطبۃ ونحوھا فانہ ظاھر فی التحقق والاثبات الذی ھو معنی الایجاب ۔
لڑکے کے باپ یا وکیل نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ تو اپنی بیٹی فلاں کو یا میرے لڑکے کو ہبہ کریا عطا کر تو اس میں نکاح کا انعقاد لڑکی کے باپ کے دے دینے کے بعد لڑکے کے باپ یا وکیل کے قبول کرلینے پر موقوف رہے گا کیونکہ یہ الفاظ ظاہر طور پر طلب کے لیے ہوتے ہیں جس میں مستقبل ہوتا ہے۔ تحقق ا ور حال مرادنہیں ہوتا لہذا عقد تام نہ ہوگا اس کے برخلاف اگر یہ کہا ہو کہ “ تو اپنی بیٹی مجھے بیاہ دے “ ا ور یہ کہنا مہر طے کرنے ا ورمنگنی کے بعد ہو تو یہ الفاظ تحقق اور اثبات میں ظاہر ہیں جو کہ ایجاب کہلاتا ہے۔ (ت)
شرح طحاوی سے گزرا کہ ھل اعطیتنیھا(کیا تونے بیٹی مجھے عطا کی۔ ت) مجلس عقد میں مفید عقد ہے ا ور جلسہ وعد میں طلب وعد بالجملہ الفاظ محتملہ میں مدار قرینہ پر ہے۔ پھر الفاظ مذکورہ عمر و وعبدالله تو مساومت وتحقیق دونوں سے مہجور اور خاص اخبار میں متعین ہیں تو انھیں اس عبارت سے بھی کچھ علاقہ نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی فیما ینعقد النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۱
ردالمحتار کتاب النکاح الباب الثانی فیما ینعقد النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
ردالمحتار کتاب النکاح الباب الثانی فیما ینعقد النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
مسئلہ ۱۴ ۱۵ : از ملك آسام ضلع جورہاٹ ڈاکخانہ کٹنگا مقام سرائے بہی مرسلہ سید محمد صفاء الدین صاحب ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
سوال اول : ایك عدیم البصر عالم وفاضل اور ایك نگہبان بھی اس کے پاس موجود تھا اس نے نکاح پڑھایا نکاح جائزہے یا نہ
الجواب
بلاشبہہ جائز ہے کہ نکاح پڑھانے میں آنکھوں کا کیا کام بلکہ جب وہ عالم ہے تو وہی انسب و اولی خود گواہان نکاح جن کے بغیر نکاح اصلا صحیح نہیں اگر نابینا ہوں کچھ مضائقہ نہیں ۔
کمانص علیہ فی المتون کا لکنز والوقایۃ والاصلاح والمختار والہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا۔
جیسا کہ کنز وقایہ اصلاح مختار ہدایہ ملتقی اور تنویر وغیرہ متون میں اس پر تصریح موجود ہے۔ (ت)
تونکاح پڑھانے والے کی بینائی کیا ضرورکہ وہ خود ہی نکاح کے لیے ضروری نہیں عاقدین کا آپ ایجاب وقبول کافی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
سوال دوم : اگر عدیم البصر عالم نہ ہو اور نگہبان بھی موجود نہ ہوا س صورت میں اس نے نکاح پڑھایا آیا جائز ہے یا نہ بینوا توجروا۔
الجواب :
اب بھی جائز ہے جبکہ ٹھیك پڑھائے بے نگاہی یا بے نگاہ بانی کچھ نکاح پڑھانے میں مخل نہیں ہاں جاہل ہونا مخل ہوسکتا ہے کہ جب مسائل نکاح سے آگاہ نہیں تو ممکن کہ وہ صورت کردے جس سے نکاح صحیح نہ ہواور زوجین بھی بوجہ جہل اس سے غافل رہیں تومعاذالله عمر بھر حرام میں مبتلا ہوں لہذا نکاح میں بہت احتیاط لازم عقد کرنے والادیندار متقی مسائل نکاح سے واقف ہو کہ جاہل سے نادانستہ وقوع مخل کااندیشہ تھا فاسق بددیانت پر اعتماد نہیں جب وہ خود حلال وحرام کی پروانہیں رکھتا تواوروں کے لیے احتیاط کی کیا امید بحرالرائق و درمختار وفتح الله المعین وغیرہا میں ہے :
واللفظ للدریندب اعلانہ وتقدیم خطبۃ
درکے الفاظ ہیں نکاح کا اعلان اس سے پہلے خطبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
سوال اول : ایك عدیم البصر عالم وفاضل اور ایك نگہبان بھی اس کے پاس موجود تھا اس نے نکاح پڑھایا نکاح جائزہے یا نہ
الجواب
بلاشبہہ جائز ہے کہ نکاح پڑھانے میں آنکھوں کا کیا کام بلکہ جب وہ عالم ہے تو وہی انسب و اولی خود گواہان نکاح جن کے بغیر نکاح اصلا صحیح نہیں اگر نابینا ہوں کچھ مضائقہ نہیں ۔
کمانص علیہ فی المتون کا لکنز والوقایۃ والاصلاح والمختار والہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا۔
جیسا کہ کنز وقایہ اصلاح مختار ہدایہ ملتقی اور تنویر وغیرہ متون میں اس پر تصریح موجود ہے۔ (ت)
تونکاح پڑھانے والے کی بینائی کیا ضرورکہ وہ خود ہی نکاح کے لیے ضروری نہیں عاقدین کا آپ ایجاب وقبول کافی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
سوال دوم : اگر عدیم البصر عالم نہ ہو اور نگہبان بھی موجود نہ ہوا س صورت میں اس نے نکاح پڑھایا آیا جائز ہے یا نہ بینوا توجروا۔
الجواب :
اب بھی جائز ہے جبکہ ٹھیك پڑھائے بے نگاہی یا بے نگاہ بانی کچھ نکاح پڑھانے میں مخل نہیں ہاں جاہل ہونا مخل ہوسکتا ہے کہ جب مسائل نکاح سے آگاہ نہیں تو ممکن کہ وہ صورت کردے جس سے نکاح صحیح نہ ہواور زوجین بھی بوجہ جہل اس سے غافل رہیں تومعاذالله عمر بھر حرام میں مبتلا ہوں لہذا نکاح میں بہت احتیاط لازم عقد کرنے والادیندار متقی مسائل نکاح سے واقف ہو کہ جاہل سے نادانستہ وقوع مخل کااندیشہ تھا فاسق بددیانت پر اعتماد نہیں جب وہ خود حلال وحرام کی پروانہیں رکھتا تواوروں کے لیے احتیاط کی کیا امید بحرالرائق و درمختار وفتح الله المعین وغیرہا میں ہے :
واللفظ للدریندب اعلانہ وتقدیم خطبۃ
درکے الفاظ ہیں نکاح کا اعلان اس سے پہلے خطبہ
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
وکونہ فی مسجد یوم جمعۃ بعاقد رشید الخ .
مسجد میں ہونا جمعہ کا دن ہونا اور نکاح کرنیوالا صاحب رشد یعنی صاحب علم وعمل ہونا مستحب ہے الخ۔ (ت)
۳۶اقول : الرشد ینتظم العلم والعمل(رشد علم اور عمل دونوں کو جامع ہے۔ ت) ا س زمانہ جہل وفسا د میں اکثر وہ صورت رائج ہے کہ اگر اہل علم حاضر جلسہ نہ ہوں تو نکاح میں سخت خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے یعنی دولھن سے زیدکے لیے صرف وکالت نکاح لی یہ تصریح نہ کرائی کہ اسے دوسرے کو وکیل کردینے کا بھی اختیار ہے۔ اب زید وکیل جو شرعا صرف نکاح پڑھانے کا مجاز ہوا وہ خودنہیں پڑھاتا بلکہ قاضی کوئی اور صاحب باہر بیٹھے ہیں ان سے آکرکہتاہے مجھے فلاں عورت نے اپنے نکاح کا وکیل کیا دو گواہ گواہی دیتے ہیں وہ تو اتنا کہہ کر الگ ہوگیا اب قاضی جی نے نکاح پڑھایا یہ نکاح ہر گز نہ ہوا کہ نہ خود عورت نے ایجاب وقبول کیا نہ اس کے وکیل ماذون نے بلکہ ایك اجبنی شخص نے کہ اول تو وکیل کا اپنی وکالت سے خبر دینا اس قاضی کو اپنی طرف سے وکیل کرنا نہیں اور ہو بھی تو صحیح مذہب میں وکیل نکاح کو دوسرے کے وکیل کرنے کا بے اذن موکل اختیار نہیں۔
فی الدر عن البحر لیس للوکیل(ای فی النکاح) ان یؤکل بلااذن وفی وکالۃ غمزالعیون عن الولوالجیہ لووکل رجلافی نکاح فوکل الوکیل غیرہ ذکرہ محمد فی الاصل انہ لایجوز فانہ قال اذا فعل الثانی بحضرۃ الاول لم یجز وھوا لصحیح اھ ملخصا۔
نکاح کے وکیل کو جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت اس میں کسی دوسرے کو وکیل بنائے یہ بحر کے حوالے سے در میں مذکور ہے اھ غمز العیون کی وکالت کی بحث میں ولوالجیہ سے منقول ہے کہ اگرایك نے کسی کونکاح کا وکیل بنایا تو وکیل نے کسی دوسرے کو از خود وکیل بنالیا توا مام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل یعنی مبسوط میں ذکر کیا کہ یہ جائز نہیں انھوں نے فرمایا کہ پہلے کی موجودگی میں دوسرے وکیل نے کارروائی کی توجائز نہیں ہوگی یہی صحیح ہے اھ ملخصا(ت)
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت زن بالغہ پر موقوف رہا اگر خبر پر نفرت وکراہت ظاہر کی جیساکہ اکثر دختران دوشیزہ سے ایساہی واقع ہوتا ہے جب تو ڈھول سے کھال بھی گئی اب وہ نکاح یکسر باطل ہوگیاکہ آئندہ اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا۔
مسجد میں ہونا جمعہ کا دن ہونا اور نکاح کرنیوالا صاحب رشد یعنی صاحب علم وعمل ہونا مستحب ہے الخ۔ (ت)
۳۶اقول : الرشد ینتظم العلم والعمل(رشد علم اور عمل دونوں کو جامع ہے۔ ت) ا س زمانہ جہل وفسا د میں اکثر وہ صورت رائج ہے کہ اگر اہل علم حاضر جلسہ نہ ہوں تو نکاح میں سخت خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے یعنی دولھن سے زیدکے لیے صرف وکالت نکاح لی یہ تصریح نہ کرائی کہ اسے دوسرے کو وکیل کردینے کا بھی اختیار ہے۔ اب زید وکیل جو شرعا صرف نکاح پڑھانے کا مجاز ہوا وہ خودنہیں پڑھاتا بلکہ قاضی کوئی اور صاحب باہر بیٹھے ہیں ان سے آکرکہتاہے مجھے فلاں عورت نے اپنے نکاح کا وکیل کیا دو گواہ گواہی دیتے ہیں وہ تو اتنا کہہ کر الگ ہوگیا اب قاضی جی نے نکاح پڑھایا یہ نکاح ہر گز نہ ہوا کہ نہ خود عورت نے ایجاب وقبول کیا نہ اس کے وکیل ماذون نے بلکہ ایك اجبنی شخص نے کہ اول تو وکیل کا اپنی وکالت سے خبر دینا اس قاضی کو اپنی طرف سے وکیل کرنا نہیں اور ہو بھی تو صحیح مذہب میں وکیل نکاح کو دوسرے کے وکیل کرنے کا بے اذن موکل اختیار نہیں۔
فی الدر عن البحر لیس للوکیل(ای فی النکاح) ان یؤکل بلااذن وفی وکالۃ غمزالعیون عن الولوالجیہ لووکل رجلافی نکاح فوکل الوکیل غیرہ ذکرہ محمد فی الاصل انہ لایجوز فانہ قال اذا فعل الثانی بحضرۃ الاول لم یجز وھوا لصحیح اھ ملخصا۔
نکاح کے وکیل کو جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت اس میں کسی دوسرے کو وکیل بنائے یہ بحر کے حوالے سے در میں مذکور ہے اھ غمز العیون کی وکالت کی بحث میں ولوالجیہ سے منقول ہے کہ اگرایك نے کسی کونکاح کا وکیل بنایا تو وکیل نے کسی دوسرے کو از خود وکیل بنالیا توا مام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل یعنی مبسوط میں ذکر کیا کہ یہ جائز نہیں انھوں نے فرمایا کہ پہلے کی موجودگی میں دوسرے وکیل نے کارروائی کی توجائز نہیں ہوگی یہی صحیح ہے اھ ملخصا(ت)
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت زن بالغہ پر موقوف رہا اگر خبر پر نفرت وکراہت ظاہر کی جیساکہ اکثر دختران دوشیزہ سے ایساہی واقع ہوتا ہے جب تو ڈھول سے کھال بھی گئی اب وہ نکاح یکسر باطل ہوگیاکہ آئندہ اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۲۔ ۴۱۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۲۔ ۴۱۱
فی الدرالمختار لو بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ولذا استحسنواالتجدید عند الزفاف لان الغالب اظھار النفرۃ عند فجأۃ السماع ۔
درمختار میں ہے کہ لڑکی کونکاح کی اطلاع ملی تو انکار کردیا پھربعد میں اس نے کہا میں راضی ہوں تو پہلے رد شدہ نکاح اس سے جائز نہ ہوگا کیونکہ وہ انکار کرنے کی وجہ سے باطل ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام نے فرمایا کہ ایسی صورت میں رخصتی کے وقت دوبارہ نکاح کرنا بہتر ہوگا کیونکہ اچانك نکاح کی خبر پر نفرت کااظہار ہوتا ہے(اس لیے پہلا انکارنفر ت کی وجہ سے ہوا)(ت)
یونہی بعض نکاحوں میں مشاہدہ ہوا ہے کہ نکاح خواں نے کلمات ایجاب دولھا کے کان میں کہے کہ حاضرین میں کسی نے نہ سنے صحیح مذہب میں یوں نکاح نہیں ہوتا کہ مجلس واحد میں معا دو گواہوں کا دونوں الفاظ ایجاب وقبول سننا شرط ہے۔
فی الدر وشرط حضور شاھدین حرین ا وحروحرتین مکلفین سامعین قولھما معا علی الاصح ۔
درمیں ہے کہ نکاح میں دو عاقل بالغ حر مر دیاایك مرد ا ور دوعورتیں گواہ کے طور پر مجلس میں موجود ہو کر نکاح کے دونوں فریقوں کا کلام سنیں یہ شرط قرار دیا گیا ہے صحیح قول کے مطابق۔ (ت)
ان باتوں کامنشا وہی جہل وناواقفی ہے اوران کے سوا اوربیس اغلاط کا اندیشہ ہے جن سے علماء ہی آگاہ ہوتے ہیں یا وہ نیك توفیق والے جنھیں علماء کی خدمت وصحبت اور ان سے مسائل دینیہ کی تحقیقات کا شوق کامل ہے غرض جاہل کی نکاح خوانی قطعا خلاف اولی ہے جس طرح اس کی امامت یا مضاربت کہ جو اندیشہ خلل و فساد وہاں ہے وہی نکاح میں بھی کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶ : از جورہاٹ ملك آسام ہائی اسکول مرسلہ میاں محمد علی صاحب ۳ شعبان ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(الله تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کاکیا فرمان ہے) اس مسئلہ میں کہ اگرزید نے ایك عورت سے دو گواہ غیر ملکی کے سامنے نکاح کیا پھر زیدنے وہ دونوں گواہ جانے کے بعد اپنے نکاح کو ظاہر کیا اور عورت بھی نکاح ہونے پر زید کے مقر ہے اور وہ دونوں گواہان مذکوران ایك غیر ملك میں جاکر ایك عالم سے اور اپنے ملك میں جاکر قاضی کے روبرو دونوں
درمختار میں ہے کہ لڑکی کونکاح کی اطلاع ملی تو انکار کردیا پھربعد میں اس نے کہا میں راضی ہوں تو پہلے رد شدہ نکاح اس سے جائز نہ ہوگا کیونکہ وہ انکار کرنے کی وجہ سے باطل ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام نے فرمایا کہ ایسی صورت میں رخصتی کے وقت دوبارہ نکاح کرنا بہتر ہوگا کیونکہ اچانك نکاح کی خبر پر نفرت کااظہار ہوتا ہے(اس لیے پہلا انکارنفر ت کی وجہ سے ہوا)(ت)
یونہی بعض نکاحوں میں مشاہدہ ہوا ہے کہ نکاح خواں نے کلمات ایجاب دولھا کے کان میں کہے کہ حاضرین میں کسی نے نہ سنے صحیح مذہب میں یوں نکاح نہیں ہوتا کہ مجلس واحد میں معا دو گواہوں کا دونوں الفاظ ایجاب وقبول سننا شرط ہے۔
فی الدر وشرط حضور شاھدین حرین ا وحروحرتین مکلفین سامعین قولھما معا علی الاصح ۔
درمیں ہے کہ نکاح میں دو عاقل بالغ حر مر دیاایك مرد ا ور دوعورتیں گواہ کے طور پر مجلس میں موجود ہو کر نکاح کے دونوں فریقوں کا کلام سنیں یہ شرط قرار دیا گیا ہے صحیح قول کے مطابق۔ (ت)
ان باتوں کامنشا وہی جہل وناواقفی ہے اوران کے سوا اوربیس اغلاط کا اندیشہ ہے جن سے علماء ہی آگاہ ہوتے ہیں یا وہ نیك توفیق والے جنھیں علماء کی خدمت وصحبت اور ان سے مسائل دینیہ کی تحقیقات کا شوق کامل ہے غرض جاہل کی نکاح خوانی قطعا خلاف اولی ہے جس طرح اس کی امامت یا مضاربت کہ جو اندیشہ خلل و فساد وہاں ہے وہی نکاح میں بھی کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶ : از جورہاٹ ملك آسام ہائی اسکول مرسلہ میاں محمد علی صاحب ۳ شعبان ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(الله تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کاکیا فرمان ہے) اس مسئلہ میں کہ اگرزید نے ایك عورت سے دو گواہ غیر ملکی کے سامنے نکاح کیا پھر زیدنے وہ دونوں گواہ جانے کے بعد اپنے نکاح کو ظاہر کیا اور عورت بھی نکاح ہونے پر زید کے مقر ہے اور وہ دونوں گواہان مذکوران ایك غیر ملك میں جاکر ایك عالم سے اور اپنے ملك میں جاکر قاضی کے روبرو دونوں
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
جگہ نکاح ہونے زید کی گواہی دئے ہیں اور دونوں جگہ سے دو خط مع مہر ودستخط کے اور صورت گواہی ان دونوں گواہوں کے زید کے نکاح ہونے کا ثبوت زید کے ملك کے ایك عالم ا ور ایك معتبرآد می کے پاس ارسال کیا پھر ایك برس کے بعدان دونوں گواہوں سے ایك گواہ آکر پہلے تین چار آدمی کے روبرو نکاح ہونے زید کی گواہی دی تھی بعدہ دس بارہ روز کے بعد ایك جماعت کے روبرو انکار نکاح زید کا کیا زید اور بی بی کے درمیان میں کوئی جھگڑا اور تنازع نہیں ہے زید بھی خاص وعام کے روبرو کہتاہے کہ وہ میری بی بی ہے اور بی بی کہتی ہے کہ زید میرا شوہر ہے اور حال چال بھی دونوں کے خاوند اور جورو ہونے کے پائے جاتے ہیں اور مقر نکاح جانبین ہے۔ از روئے شرع شریف کے زیدکانکاح درست اور نافذ ہوا یانہیں اور نکاح دوبارہ کرنا لازم آئے گا یا نہ اور صورت نکاح دوبارہ میں حد ان دونوں کے اوپر یعنی زوج زوجہ کے اوپر لازم ہوگا یانہیںــ مع دلیل وبرہان کے جواب باصواب فرمائیں اگر دونوں گواہ انکار نکاح کا ہوجائیں توا س صورت میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں زوج وزوجہ ہیں ان کا نکاح صحیح و ثابت ہے دوبارہ نکاح کی اصلا حاجت نہیں اگرچہ دونوں گواہ انکار کرجائیں۔
فان الشہود شرط النکاح فی الابتداء دون البقاء۔
گواہوں کا ہونا نکاح کی ابتداء میں شرط ہے اس کے بقاء کے لیے شرط نہیں۔ (ت)
جبکہ دونوں باہم مقر نکاح ہیں یہ اسے اپنی بی بی وہ اسے اپنا شوہر بتاتی ہے تو کسی کو اعتراض کی ہر گز گنجائش نہیں بلکہ ان کا صر ف یہ باہمی اقرار ہی ثبوت نکاح کے لیے کافی ہے اگرچہ کوئی گواہ گواہی نہ دے
فی ردالمحتار صرحوا ان النکاح یثبت بالتصادق فی الھدایۃ حل لہ ان یشھد اذ رأی رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد منھما الی الاخر انبساط الازواج اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(ردالمحتار میں ہے کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ ایك دوسرے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجاتا ہے۔ ت) پھر ان کا باہم زن و شو کی طرح رہنا دوسرا مثبت نکاح ہے یہاں تك کہ جتنے لوگ اس حال سے واقف ہیں سب کو ان کے زوج وزوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز ہے۔ ہدایہ میں ہے جب کوئی مرد و عورت آپس میں خاوند بیوی کی طر ح گھر میں رہیں اور دونوں آپس میں میاں بیوی کی طرح بے تکلف ہوں تو دیکھنے والے کو ان کے نکاح کی شہادت دینا جائز ہے اھ ملخصا والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ (ت)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں زوج وزوجہ ہیں ان کا نکاح صحیح و ثابت ہے دوبارہ نکاح کی اصلا حاجت نہیں اگرچہ دونوں گواہ انکار کرجائیں۔
فان الشہود شرط النکاح فی الابتداء دون البقاء۔
گواہوں کا ہونا نکاح کی ابتداء میں شرط ہے اس کے بقاء کے لیے شرط نہیں۔ (ت)
جبکہ دونوں باہم مقر نکاح ہیں یہ اسے اپنی بی بی وہ اسے اپنا شوہر بتاتی ہے تو کسی کو اعتراض کی ہر گز گنجائش نہیں بلکہ ان کا صر ف یہ باہمی اقرار ہی ثبوت نکاح کے لیے کافی ہے اگرچہ کوئی گواہ گواہی نہ دے
فی ردالمحتار صرحوا ان النکاح یثبت بالتصادق فی الھدایۃ حل لہ ان یشھد اذ رأی رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد منھما الی الاخر انبساط الازواج اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(ردالمحتار میں ہے کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ ایك دوسرے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجاتا ہے۔ ت) پھر ان کا باہم زن و شو کی طرح رہنا دوسرا مثبت نکاح ہے یہاں تك کہ جتنے لوگ اس حال سے واقف ہیں سب کو ان کے زوج وزوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز ہے۔ ہدایہ میں ہے جب کوئی مرد و عورت آپس میں خاوند بیوی کی طر ح گھر میں رہیں اور دونوں آپس میں میاں بیوی کی طرح بے تکلف ہوں تو دیکھنے والے کو ان کے نکاح کی شہادت دینا جائز ہے اھ ملخصا والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۵
ہدایہ کتاب الشہادۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۵۸
ہدایہ کتاب الشہادۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۱۵۸
مسئلہ ۱۷ : ۱۵ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے بایں شرط نکاح کیا کہ بعد ایك ماہ کے طلاق دے دوں گا۔ اور اس امر کو اپنے دل میں رکھا یایہ کہ ہندہ سے بیان کیا تو آیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیںـ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح صحیح ہے خواہ دل میں یہ قصد رکھا خواہ عقدمیں اس کی شرط کرلی کہ طلاق کا شرط کرنا ہی ارادہ نکاح دائم پردلیل ہے ہاں اگر یوں عقد کرے کہ میں نے تجھ سے ایك مہینہ یا ایك برس یا سو برس کے لیے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا کہ ایك وقت تك نکاح کو محدود کردینا صورت متعہ ہے اور متعہ محض حرام اور زنا درمختار میں ہے :
بطل نکاح متعۃ وموقت وان جھلت المدۃ لوطالت فی الاصح ولیس منہ مالو نکحھا علی ان یطلقھا بعد شھر اونوی مکثہ معھا مدۃ معینۃ ۔
متعہ کے طور پر نکاح یا مقررہ مدت کے لیے نکاح خواہ مدت لمبی ہو یا مدت مجہول ہو توصحیح مذہب میں یہ نکاح باطل ہے اور اگر اس شرط پر نکاح کیا کہ ایك ماہ بعد طلاق دے دوں گا یا اس وقت دل میں مقررہ مدت کی نیت کی تھی تو باطل نہ ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان اشتراط القاطع یدل علی انعقادہ مؤبدا وبطل الشرط بحر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس لیے کہ نکاح میں طلاق کی شرط دلالت کرتی ہے کہ یہ نکاح دائمی ہے اور شرط باطل ہوگی بحر۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ منکوحہ زید میں کوئی علامت مردی وزنی سے نہیں صرف ایك مخرج ہے جس سے بول آتا ہے مگر پستان اس کے مثل زنان ہیں اس صورت میں یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں اور اگر زید اسے طلاق دے تو ادائے مہر ذمہ زید لازم ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صور ت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے ا ورنصف مہر بعد طلاق ذمہ زید پرواجب الادا کہ منکوحہ زید اگرچہ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے بایں شرط نکاح کیا کہ بعد ایك ماہ کے طلاق دے دوں گا۔ اور اس امر کو اپنے دل میں رکھا یایہ کہ ہندہ سے بیان کیا تو آیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیںـ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح صحیح ہے خواہ دل میں یہ قصد رکھا خواہ عقدمیں اس کی شرط کرلی کہ طلاق کا شرط کرنا ہی ارادہ نکاح دائم پردلیل ہے ہاں اگر یوں عقد کرے کہ میں نے تجھ سے ایك مہینہ یا ایك برس یا سو برس کے لیے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا کہ ایك وقت تك نکاح کو محدود کردینا صورت متعہ ہے اور متعہ محض حرام اور زنا درمختار میں ہے :
بطل نکاح متعۃ وموقت وان جھلت المدۃ لوطالت فی الاصح ولیس منہ مالو نکحھا علی ان یطلقھا بعد شھر اونوی مکثہ معھا مدۃ معینۃ ۔
متعہ کے طور پر نکاح یا مقررہ مدت کے لیے نکاح خواہ مدت لمبی ہو یا مدت مجہول ہو توصحیح مذہب میں یہ نکاح باطل ہے اور اگر اس شرط پر نکاح کیا کہ ایك ماہ بعد طلاق دے دوں گا یا اس وقت دل میں مقررہ مدت کی نیت کی تھی تو باطل نہ ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان اشتراط القاطع یدل علی انعقادہ مؤبدا وبطل الشرط بحر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس لیے کہ نکاح میں طلاق کی شرط دلالت کرتی ہے کہ یہ نکاح دائمی ہے اور شرط باطل ہوگی بحر۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ منکوحہ زید میں کوئی علامت مردی وزنی سے نہیں صرف ایك مخرج ہے جس سے بول آتا ہے مگر پستان اس کے مثل زنان ہیں اس صورت میں یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں اور اگر زید اسے طلاق دے تو ادائے مہر ذمہ زید لازم ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صور ت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے ا ورنصف مہر بعد طلاق ذمہ زید پرواجب الادا کہ منکوحہ زید اگرچہ
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۴
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۴
قبل از بلوغ بوجہ انتفائے ہر دو علامت از قبیل خنثی تھی مگر جب بعد بلوغ ا س کی پستانیں مثل پستان زن ظاہر ہوئیں تو اشکال زائل اور اس کا عورت ہونا منکشف ہوگیا اب بلاشبہہ یہ نکاح اپنے محل میں واقع اور حل استمتاع کو شرعا مفید کہ شرائط صحت سب موجود ہیں اور موانع شرعیہ بالکل مفقود البتہ فسادخلوت عدم تاکد مہر کا باعث ہے اور خیار عیب کونکاح میں دخل نہیں تاکہ زید بوجہ ا س کے فسخ نکاح کرسکے اور کل مہر اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے رہا امر حسی کا عائق ہونا وہ ہرگز منافی جواز نہیں۔
فی تنویر الابصار من کتاب الخنثی ھوذوفرج وذکر اومن عری عن الانثیین فان ظھرلہ ثدی فامرأۃ انتھی مع التلخیص وفی الدرالمختار من النکاح ھو عندالفقہاء عقد یفید ملك المتعۃ ای حل استمتاع الرجل من امرأۃ لم یمنع من نکاحھا مانع شرعی انتھی وفیہ من باب المھر الخلوۃ بلامانع حسی کرتق بفتحتین التلاحم وقرن بالسکون عظم وعقل بفتحتین غدۃ لایطاق فیہ الجماع کالوطی فی تاکد المھر انتھی ملخصا وفیہ من ذلك الباب ویجب نصفہ بطلاق قبل وطی او خلوۃ انتھی وفی فتاوی الامام قاضی خاں والرتق
تنویر الابصار کی خنثی کی بحث میں ہے خنثی وہ ہے کہ جس کا ذکر اور فرج دونوں ہوں یا خصیتین نہ ہوں توا گر اس کے پستان ظاہر ہو جائیں توعورت قرار پائے گی تنویرکی عبارت ختم ہوئی تلخیصا۔ درمختارمیں نکاح کی بحث میں ہے فقہاء کرام کے ہاں نکاح ایسا عقد ہے جو مرد کوعورت سے جماع کا مالك بنا دیتاہے جبکہ اس سے کوئی شرعی مانع نہ ہواھ ا وراسی کے مہر کے باب میں ہے کہ جب خلوت بغیر کسی حسی مانع کے حاصل ہوجائے توا س کا حکم مہر کو لازم کرنے میں جماع کی طرح ہے خلوت میں حسی مانع جیسے رتق(راء اور تافتح کے ساتھ) جس کا معنی شرمگاہ میں گوشت کا ابھر جانا اور جیسے قرن بسکون راء جس کا معنی ہڈی اور عقل ع اور ق پر فتح جس کا معنی غدود ہے یعنی ہڈی اور غدود شرمگاہ میں اس طرح بڑھ جائے کہ جماع کے لیے مانع بن جائے اھ ملخصا درمختار کے اسی باب میں ہے کہ نصف مہر لازم ہوگا جب خلوت یاجماع سے
فی تنویر الابصار من کتاب الخنثی ھوذوفرج وذکر اومن عری عن الانثیین فان ظھرلہ ثدی فامرأۃ انتھی مع التلخیص وفی الدرالمختار من النکاح ھو عندالفقہاء عقد یفید ملك المتعۃ ای حل استمتاع الرجل من امرأۃ لم یمنع من نکاحھا مانع شرعی انتھی وفیہ من باب المھر الخلوۃ بلامانع حسی کرتق بفتحتین التلاحم وقرن بالسکون عظم وعقل بفتحتین غدۃ لایطاق فیہ الجماع کالوطی فی تاکد المھر انتھی ملخصا وفیہ من ذلك الباب ویجب نصفہ بطلاق قبل وطی او خلوۃ انتھی وفی فتاوی الامام قاضی خاں والرتق
تنویر الابصار کی خنثی کی بحث میں ہے خنثی وہ ہے کہ جس کا ذکر اور فرج دونوں ہوں یا خصیتین نہ ہوں توا گر اس کے پستان ظاہر ہو جائیں توعورت قرار پائے گی تنویرکی عبارت ختم ہوئی تلخیصا۔ درمختارمیں نکاح کی بحث میں ہے فقہاء کرام کے ہاں نکاح ایسا عقد ہے جو مرد کوعورت سے جماع کا مالك بنا دیتاہے جبکہ اس سے کوئی شرعی مانع نہ ہواھ ا وراسی کے مہر کے باب میں ہے کہ جب خلوت بغیر کسی حسی مانع کے حاصل ہوجائے توا س کا حکم مہر کو لازم کرنے میں جماع کی طرح ہے خلوت میں حسی مانع جیسے رتق(راء اور تافتح کے ساتھ) جس کا معنی شرمگاہ میں گوشت کا ابھر جانا اور جیسے قرن بسکون راء جس کا معنی ہڈی اور عقل ع اور ق پر فتح جس کا معنی غدود ہے یعنی ہڈی اور غدود شرمگاہ میں اس طرح بڑھ جائے کہ جماع کے لیے مانع بن جائے اھ ملخصا درمختار کے اسی باب میں ہے کہ نصف مہر لازم ہوگا جب خلوت یاجماع سے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الخنثی مجتبائی دہلی ۲ / ۳۴۱
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
یمنع الخلوۃ لانہ یمنع الجماع وذکر فی طلاق الاصل ان العدۃ یجب علی الرتقاء ای فلھا نصف المھر انتھی وفیھا من فصل خیارات النکاح ومنھا خیار العیب وھو حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلاترد المرأۃ بعیب ما و قال الشافعی لہ ان یرد بالقرن والرتق و یفسخ النکاح فان رد قبل الدخول یسقط کل المھر والامھر المثل کماھو حکم الفسخ انتھی مع التلخیص واﷲ تعالی اعلم۔
قبل طلاق دی ہو اھ فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ رتق خلوت کے لیے مانع ہے کیونکہ یہ جماع کے لیے مانع ہے اور اصل(مبسوط) کی بحث طلاق کے بیان میں ہے کہ رتقا عورت پر عدت واجب ہے اور اس کے لیے نصف مہر ہوگا اھ اور اصل کی بحث اختیارات نکاح میں ہے کہ خیار عیب جس کو عیب کی وجہ سے حق فسخ کہتے ہیں ہمارے ہاں نکاح کے باب میں ثابت نہیں لہذا کسی عیب کی وجہ سے عورت کو رد نہیں کیاجائے گا۔ اور امام شافعی نے فرمایا کہ قرن اور ر تق والےعیب کی وجہ سے مرد کو فسخ کا اختیار ہے پس اگر قبل از خود دخول رد یافسخ کردے توتمام مہر ساقط ہوجائے گاورنہ پورا مہرمثل عورت کا حق ہے جیساکہ فسخ کا حکم ہے اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت طوائف کسی مرد آشنا کے ساتھ پردہ میں حسب دستور عیاشیوں کے جو بغرض مفید رکھنے اور نہ ملتفت ہونے اس کے ساتھ دوسرے مرد کے پردہ میں رکھتے ہیں ہم خانہ رہی ہو وہ عورت شرعا زوجہ تصور کی جائے گی یا نہیں اور اگر زوجہ تصور کی جائے گی تو ایسے ہم خانہ رہنے کے واسطے کوئی مدت مقرر ہے یا نہیں اور ہے تو کس قدر مدت ہے بینو ا توجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں پردہ اس طوائف کا صرف ان لوگوں سے جن سے احتمال موافقت کا ہو معتد بہ نہیں ایسا پردہ ثبوت نکاح کی دلیل نہیں ہو سکتا البتہ اگر وہ مرد وزن مثل زوج وزوجہ رہتے اور جو لوگ ان کے حالات خانگی سے واقف ہیں انھیں زوج وزوجہ تصور کرتے ہوں تو شرعا زوج زوجہ قرار پائیں گے نہ کہ زانی وزانیہ کہ مسلمان کی طرف بدکاری کی نسبت بے ثبوت شرعی ہرگز جائز نہیں شارع نے جس قدر احتیاط اس بارے میں فرمائی دوسرے معاملہ
قبل طلاق دی ہو اھ فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ رتق خلوت کے لیے مانع ہے کیونکہ یہ جماع کے لیے مانع ہے اور اصل(مبسوط) کی بحث طلاق کے بیان میں ہے کہ رتقا عورت پر عدت واجب ہے اور اس کے لیے نصف مہر ہوگا اھ اور اصل کی بحث اختیارات نکاح میں ہے کہ خیار عیب جس کو عیب کی وجہ سے حق فسخ کہتے ہیں ہمارے ہاں نکاح کے باب میں ثابت نہیں لہذا کسی عیب کی وجہ سے عورت کو رد نہیں کیاجائے گا۔ اور امام شافعی نے فرمایا کہ قرن اور ر تق والےعیب کی وجہ سے مرد کو فسخ کا اختیار ہے پس اگر قبل از خود دخول رد یافسخ کردے توتمام مہر ساقط ہوجائے گاورنہ پورا مہرمثل عورت کا حق ہے جیساکہ فسخ کا حکم ہے اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت طوائف کسی مرد آشنا کے ساتھ پردہ میں حسب دستور عیاشیوں کے جو بغرض مفید رکھنے اور نہ ملتفت ہونے اس کے ساتھ دوسرے مرد کے پردہ میں رکھتے ہیں ہم خانہ رہی ہو وہ عورت شرعا زوجہ تصور کی جائے گی یا نہیں اور اگر زوجہ تصور کی جائے گی تو ایسے ہم خانہ رہنے کے واسطے کوئی مدت مقرر ہے یا نہیں اور ہے تو کس قدر مدت ہے بینو ا توجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں پردہ اس طوائف کا صرف ان لوگوں سے جن سے احتمال موافقت کا ہو معتد بہ نہیں ایسا پردہ ثبوت نکاح کی دلیل نہیں ہو سکتا البتہ اگر وہ مرد وزن مثل زوج وزوجہ رہتے اور جو لوگ ان کے حالات خانگی سے واقف ہیں انھیں زوج وزوجہ تصور کرتے ہوں تو شرعا زوج زوجہ قرار پائیں گے نہ کہ زانی وزانیہ کہ مسلمان کی طرف بدکاری کی نسبت بے ثبوت شرعی ہرگز جائز نہیں شارع نے جس قدر احتیاط اس بارے میں فرمائی دوسرے معاملہ
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الخلوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۱
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۷
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۷
میں نہ آئی یہاں حسن ظن واجب اور تکذیب قاذف لازم قال عزاسمہ لو لا جآءو علیه باربعة شهدآء- الآیۃ (اس پر اگر وہ چار گواہ پیش نہ کریں الآیۃ۔ ت)اور ارشاد ہوتا ہےـ : و لو لا اذ سمعتموه قلتم الآیۃ (اور کیوں نہیں تم کہتے جب تم اسے سنتے ہو الآیۃ۔ ت)اگر کوئی مسلمان حرعاقل بالغ عفیف کی طرف نسبت زنا کرے اور چار گواہوں سے ثابث نہ کردے تو بعد طلب مقذوف کے اسے اسی کوڑے مارے جاتے ہیں اورگواہی اس کی کبھی قبول نہیں ہوتی قال اﷲ تعالی : و الذین یرمون الآیۃ (اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں الآیۃ۔ ت)اسی طرح اگر تین گواہ معائنہ زناکی گواہی دیں اور چوتھا نہ ہو تو ان گواہوں پر قذف لازم آتی ہے
فی الفتاوی الھندیۃ ان یشھد علی الزنا اقل من اربعۃ بأن شھد واحد أواثنان أوثلثہ لاتقبل الشھادۃ ویحد الشاھد حد القذف اھ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ اگر چار سے کم ایك یادو یاتین گواہ زنا کی گواہی دیں تو ان کی شہادت قبول نہ ہوگی اور گواہوں پر حد قذف ہوگی اھ (ت)
پس ایسی صورت میں گو گواہان معائنہ نکاح موجود نہ ہوں شرع حکم نکاح کافرمادیتی ہے ا ور اس امر کے لیے شرع شریف میں کوئی مدت مقرر نہ فرمائی بلکہ بحالت عدم شہود معائنہ مدار ثبوت انبساط وشہرت پر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور زید شب زفاف میں بالکل مخاطب نہ ہوا اور جا پر علیحدہ رہا اور باہم صحبت زید نے ہندہ سے نہیں کی بعدہ معلوم ہواکہ زید نامر د ہے ا ور ہندہ نے زید کا عنین ہونے کا بھی ایك عرصہ تك علاج کیا لیکن صورت صحبت ظہورمیں نہ آئی اب ہندہ اپنے والدین کے یہاں رہتی ہے اور زید سبب نامردی کے چاہتا ہے کہ ہندہ کو جان سے مارڈالے اس صورت میں نکاح ہندہ کا زیدسے درست ہوا یا نہیں اور ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیںـ جیساکہ حکم شرع شریف کاہو ویسا کیا جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح ہندہ کا زید سے درست ہے
اذلیس عدم العنۃ من شرائط صحتہ ولوکان کذلك لما احتیج الی ماذکروہ من باب العنین من المرافعۃ و
کیونکہ نکاح کے درست ہونے کے لیے نامرد نہ ہونا شرط نہیں ہے اور اگریہ بات ہوتی تو پھر نامرد کے سلسلہ میں قاضی کے ہاں پیش کرنے اور قاضی کا مہلت
فی الفتاوی الھندیۃ ان یشھد علی الزنا اقل من اربعۃ بأن شھد واحد أواثنان أوثلثہ لاتقبل الشھادۃ ویحد الشاھد حد القذف اھ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ اگر چار سے کم ایك یادو یاتین گواہ زنا کی گواہی دیں تو ان کی شہادت قبول نہ ہوگی اور گواہوں پر حد قذف ہوگی اھ (ت)
پس ایسی صورت میں گو گواہان معائنہ نکاح موجود نہ ہوں شرع حکم نکاح کافرمادیتی ہے ا ور اس امر کے لیے شرع شریف میں کوئی مدت مقرر نہ فرمائی بلکہ بحالت عدم شہود معائنہ مدار ثبوت انبساط وشہرت پر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور زید شب زفاف میں بالکل مخاطب نہ ہوا اور جا پر علیحدہ رہا اور باہم صحبت زید نے ہندہ سے نہیں کی بعدہ معلوم ہواکہ زید نامر د ہے ا ور ہندہ نے زید کا عنین ہونے کا بھی ایك عرصہ تك علاج کیا لیکن صورت صحبت ظہورمیں نہ آئی اب ہندہ اپنے والدین کے یہاں رہتی ہے اور زید سبب نامردی کے چاہتا ہے کہ ہندہ کو جان سے مارڈالے اس صورت میں نکاح ہندہ کا زیدسے درست ہوا یا نہیں اور ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیںـ جیساکہ حکم شرع شریف کاہو ویسا کیا جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح ہندہ کا زید سے درست ہے
اذلیس عدم العنۃ من شرائط صحتہ ولوکان کذلك لما احتیج الی ماذکروہ من باب العنین من المرافعۃ و
کیونکہ نکاح کے درست ہونے کے لیے نامرد نہ ہونا شرط نہیں ہے اور اگریہ بات ہوتی تو پھر نامرد کے سلسلہ میں قاضی کے ہاں پیش کرنے اور قاضی کا مہلت
حوالہ / References
القرآن ۲۴ / ۱۳
القرآن ۲۴ / ۱۶
القرآن ۲۴ / ۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحدود الباب الخامس فی الشہادۃ علی الزنا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۵۲۔ ۱۵۱
القرآن ۲۴ / ۱۶
القرآن ۲۴ / ۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحدود الباب الخامس فی الشہادۃ علی الزنا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۵۲۔ ۱۵۱
التاجیل والطلب والتفریق وھذا واضح جدا۔
دینا عورت کا مطالبہ اور پھر قاضی کی تفریق وغیرہ امور ذکر کرنے کی فقہاء کو ضرورت پیش نہ آتی جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے۔ (ت)
ہندہ کو ہرگز روا نہیں کہ بغیر حصول طلاق دوسرے شخص سے نکاح کرلے اگر کرے گی نکاح ثانی باطل محض ہوگا اور شوہر ثانی سے قربت زنائے خالص والعیاذ بالله تعالی۔
وذلك لبقاء العصمۃ کما ذکرنا فالعنین وغیرہ فیھا سواء۔
دوسرے نکاح کا عدم جوازپہلے نکاح کے تحفظ کے لیے ہوتاہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے پس اس معاملہ میں نامرد اور مرد برابر ہیں۔ (ت)
ہاں صورت خلاص یہ ہے کہ زید وہندہ اپنے معاملہ میں کسی ذی علم کو پنچ کریں۔
ففی الخیریہ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحد ولاقو د ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوا بطلب الزوجۃ اھ۔
توفتاوی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں حکم بنانا ا س لیے درست ہے کہ یہ حد قصاص اورعاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے حکم حضرات کے لیے عورت کے مطالبہ پر تفریق کرناجائز ہے اھ (ت)
ہندہ اس کے حضور عنت شوہر کا دعوی کرے اور اس بنا ء پر تفریق چاہے پنچ کے نزدیك جب اس کا عنین ہونا بطریق شرعیہ کہ ان میں سے ایك طریقہ مثلا اقرار زید ہے ثابت ہوجائے گا تو بملا حظہ تفاصیل مذکورہ فی الفقہ سال بھر کی زید کو مہلت دے اور اس تمام برس میں زن وشویکجا رہیں اگر کچھ دنوں کو ہندہ کہیں چلی جائیگی وہ دن سال میں معدود نہ ہوں گے جب ا س طرح سال کامل گزر جائے ا ور زید ہندہ پر قدرت نہ پائے تو اس وقت بطلب ہندہ زید وہندہ میں تفریق کردی جائے اب بعد عدت ہندہ کو اختیار نکاح ہوگا۔
وکل ماذکر نا مفصل فی الدرالمختار وردالمحتار والفتاوی الخیریہ وغیرھا من الکتب الفقہیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ا س کی تفصیل درمختار ردالمحتار اور فتاوی خیریہ وغیرہ کتب میں موجود ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۱ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مع چند ہمراہیوں کے عمرو کے یہاں ا س کی دختر کو پیام دینے گیا عمرو نے اس کے ساتھ شادی دختر کردینے پر رضاظاہر کی اور گفتگو کرنے والوں سے
دینا عورت کا مطالبہ اور پھر قاضی کی تفریق وغیرہ امور ذکر کرنے کی فقہاء کو ضرورت پیش نہ آتی جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے۔ (ت)
ہندہ کو ہرگز روا نہیں کہ بغیر حصول طلاق دوسرے شخص سے نکاح کرلے اگر کرے گی نکاح ثانی باطل محض ہوگا اور شوہر ثانی سے قربت زنائے خالص والعیاذ بالله تعالی۔
وذلك لبقاء العصمۃ کما ذکرنا فالعنین وغیرہ فیھا سواء۔
دوسرے نکاح کا عدم جوازپہلے نکاح کے تحفظ کے لیے ہوتاہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے پس اس معاملہ میں نامرد اور مرد برابر ہیں۔ (ت)
ہاں صورت خلاص یہ ہے کہ زید وہندہ اپنے معاملہ میں کسی ذی علم کو پنچ کریں۔
ففی الخیریہ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحد ولاقو د ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوا بطلب الزوجۃ اھ۔
توفتاوی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں حکم بنانا ا س لیے درست ہے کہ یہ حد قصاص اورعاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے حکم حضرات کے لیے عورت کے مطالبہ پر تفریق کرناجائز ہے اھ (ت)
ہندہ اس کے حضور عنت شوہر کا دعوی کرے اور اس بنا ء پر تفریق چاہے پنچ کے نزدیك جب اس کا عنین ہونا بطریق شرعیہ کہ ان میں سے ایك طریقہ مثلا اقرار زید ہے ثابت ہوجائے گا تو بملا حظہ تفاصیل مذکورہ فی الفقہ سال بھر کی زید کو مہلت دے اور اس تمام برس میں زن وشویکجا رہیں اگر کچھ دنوں کو ہندہ کہیں چلی جائیگی وہ دن سال میں معدود نہ ہوں گے جب ا س طرح سال کامل گزر جائے ا ور زید ہندہ پر قدرت نہ پائے تو اس وقت بطلب ہندہ زید وہندہ میں تفریق کردی جائے اب بعد عدت ہندہ کو اختیار نکاح ہوگا۔
وکل ماذکر نا مفصل فی الدرالمختار وردالمحتار والفتاوی الخیریہ وغیرھا من الکتب الفقہیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ا س کی تفصیل درمختار ردالمحتار اور فتاوی خیریہ وغیرہ کتب میں موجود ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۱ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مع چند ہمراہیوں کے عمرو کے یہاں ا س کی دختر کو پیام دینے گیا عمرو نے اس کے ساتھ شادی دختر کردینے پر رضاظاہر کی اور گفتگو کرنے والوں سے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۶
مخاطب ہوکر کہا میں نے اپنی لڑکی آپ کو دی اس پر زید نے کہا بہتر ہم کو منظور ہے جب آپ نے میرا خطبہ کو منظور کیا اور زبان دی تو میری تسکین ہوگئی غرض بہمہ وجوہ قرار پاگئی ا ورطرفین کااطمینان ہوگیا اب عمرو اس دختر کانکاح دوسرے شخص سے کرنا چاہتا ہے یہ اسے جائز ہے یا نہیں اور بغیر ترك یااعراض زید کے دوسرے شخص سے اس دختر کا نکاح صحیح ہوگا یا نہیں اورجبکہ عمرو نے کہا میں نے اپنی لڑکی آپ کو دی اور زید نے اس کے جواب میں کہا بہتر قبول ومنظور ہے تو یہ صاف ایجاب وقبول ہوکر نکاح منعقد ہوگیا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگرچہ مخطوب منہ کا اپنے اقرار سے پھرنا ا ورخاطب اول کو زبان دے کر دوسرے سے قصد تزویج کرنا شرعا مذموم وبے جا و قابل مواخذہ ہے قال تبارك وتعالی : ان العهد كان مسـٴـولا (۳۴) (عہد کے بارے میں سوال کیاجائے گا۔ ت)اور جس طرح مخطوب منہ پر مواخذہ ہے اسی طرح وہ دوسرا خاطب جس نے مخطوبہ غیر پر پیام دیا شرعا مرتکب شناعت ہے
وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن السوم علی سوم اخیہ والخطبۃ علی خطبۃ اخیہ ۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھائی کے سودے پر سودے اور بھائی کی منگنی پر منگنی سے منع فرمایا۔ (ت)
مگر بااینہمہ اگر مخطوب منہ اپنی لڑکی کا خاطب اول سے نکاح نہ کرے اور غیر سے تزویج کردے یہ نکاح شرعا صحیح ودرست ہوجائے گا اور ترك واعراض خاطب اول کی کچھ حاجت نہیں کہ وہ گفتگو جواب تك خاطب و مخطوب منہ کے درمیان آئی اس کی طرف سے مجرد خطبہ تھی اور اس کی جانب سے محض وعدہ نہ عقد ایجاب و قبول پس مخطوبہ ہنوز خاطب کی عصمت نکاح میں نہ داخل ہوئی جس کے سبب غیر سے ا س کی تزویج ناروا ٹھہرے
فی العقود الدریۃ سئل فیما اذا خطب وکیل زید ابنۃ عمروا لبالغۃ لزید بمحضر من الناس فاجابہ الاب الی ذلك قائلا ان مھر ابنتی کذا ان رضیت فبھا والافلافرضی الخاطب ودفع للاب
عقود الدریہ میں سوال کیا گیا کہ جب زید کے وکیل عمرو کی بالغہ لڑکی کے بارے میں لوگوں کی موجودگی میں زید کے لیے منگنی کی تولڑکی کے باپ نے جوا ب میں کہا کہ میری لڑکی کا اتنا مہر ہے اگر آپ راضی ہیں توبہتر ورنہ نہیں اس پر منگنی والاراضی ہوگیا اور
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگرچہ مخطوب منہ کا اپنے اقرار سے پھرنا ا ورخاطب اول کو زبان دے کر دوسرے سے قصد تزویج کرنا شرعا مذموم وبے جا و قابل مواخذہ ہے قال تبارك وتعالی : ان العهد كان مسـٴـولا (۳۴) (عہد کے بارے میں سوال کیاجائے گا۔ ت)اور جس طرح مخطوب منہ پر مواخذہ ہے اسی طرح وہ دوسرا خاطب جس نے مخطوبہ غیر پر پیام دیا شرعا مرتکب شناعت ہے
وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن السوم علی سوم اخیہ والخطبۃ علی خطبۃ اخیہ ۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھائی کے سودے پر سودے اور بھائی کی منگنی پر منگنی سے منع فرمایا۔ (ت)
مگر بااینہمہ اگر مخطوب منہ اپنی لڑکی کا خاطب اول سے نکاح نہ کرے اور غیر سے تزویج کردے یہ نکاح شرعا صحیح ودرست ہوجائے گا اور ترك واعراض خاطب اول کی کچھ حاجت نہیں کہ وہ گفتگو جواب تك خاطب و مخطوب منہ کے درمیان آئی اس کی طرف سے مجرد خطبہ تھی اور اس کی جانب سے محض وعدہ نہ عقد ایجاب و قبول پس مخطوبہ ہنوز خاطب کی عصمت نکاح میں نہ داخل ہوئی جس کے سبب غیر سے ا س کی تزویج ناروا ٹھہرے
فی العقود الدریۃ سئل فیما اذا خطب وکیل زید ابنۃ عمروا لبالغۃ لزید بمحضر من الناس فاجابہ الاب الی ذلك قائلا ان مھر ابنتی کذا ان رضیت فبھا والافلافرضی الخاطب ودفع للاب
عقود الدریہ میں سوال کیا گیا کہ جب زید کے وکیل عمرو کی بالغہ لڑکی کے بارے میں لوگوں کی موجودگی میں زید کے لیے منگنی کی تولڑکی کے باپ نے جوا ب میں کہا کہ میری لڑکی کا اتنا مہر ہے اگر آپ راضی ہیں توبہتر ورنہ نہیں اس پر منگنی والاراضی ہوگیا اور
حوالہ / References
القرآن ۱۷ / ۳۴
صحیح مسلم باب یحرم الخطبۃ علی خطبہ اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱ / ۴۵۴
صحیح مسلم باب یحرم الخطبۃ علی خطبہ اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱ / ۴۵۴
شیئا من الحلی والبسہ لابنتہ فلم ترض البنت بالخطبۃ و ردتھا فھل یسوغ لھا ذلك ولاتکون الخطبۃ واقعۃ موقع عقد النکاح اصلا الجواب حیث لم یجر بینھما عقد نکاح شرعی بایجاب وقبول شرعیین لاتکون الخطبۃ واقعۃ موقع عقدالنکاح اصلا ۔
اس نے لڑکی کے باپ کوکچھ زیور دئے اور لڑکی کو کپڑا پہنایا تو لڑکی نے منگنی پر رضامندی سے انکار کردیا اور منگنی کو رد کردیا تواس صورت میں کیا لڑکی کو ردکا اختیار ہے اور کیا یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی جواب : شرعی طورپر یہ قبول وایجاب کے ساتھ نکاح نہ ہوا اور یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی۔
اوریہ لفظ کہ میں نے لڑکی آپ کو دی ہر چند کنایات تزویج سے ہے مگر مجلس عقدمیں عقدقرار پاتاہے اور مجلس وعد میں وعد۔
فی ردالمحتار عن فتح القدیر عن شرح الطحاوی لوقال اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعدوان کان للعقد فنکاح اھ واقرہ العلامۃ العلائی والفاضل الرحمتی والسید الطحطاوی و غیرہم رحمہم اﷲ تعالی۔
ردالمحتار میں فتح القدیر کے حوالے سے طحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا کہ تو نے لڑکی مجھے دی جوا ب میں اس نے کہا کہ میں نے دی تو اگر بات مجلس نکاح میں ہے تو نکاح ہے اور وعد(منگنی) کی مجلس ہے تومنگنی ہوگی اھ اس کو علامہ علائی فاضل رحمتی سید طحطاوی وغیرہم رحمہم اللہ تعالی نے ثابت رکھا۔ (ت)
اوپر ظاہر ہواکہ وہ مجلس مجلس نکاح نہ تھی ا ورخاطب کا اس وقت مع چند ہمراہیوں کے جانا بات ٹھہرانے اور وعدہ لینے اوررضامندی حاصل کرنے ہی کے طور پرتھا توپدرمخطوبہ کے وہ الفاظ بھی وعدہ ہی پرمحمول ہوں گے نہ عقد پر یہاں تك کہ خود خاطب کے کلام سے واضح وروشن کہ وہ بھی ان کلمات کو اقرار نکاح واظہار رضا وقبول خطبہ ہی سمجھا نہ ایجاب وتزویج کہ اس نے جواب میں کہا : بہتر ہم کو منظور ہے جب آپ نے میرے خطبہ کو منظور کیا اور زبان دی تو میری تسکین ہوگئی اور ہر عامی جانتا ہے کہ ہماری زبان میں زبان دینا کسی کام کے وعدہ کو کہتے ہیں نہ کہ اس کے ایقاع واصدار کو زید نے اگر عمرو سے کچھ روپے مانگے
اس نے لڑکی کے باپ کوکچھ زیور دئے اور لڑکی کو کپڑا پہنایا تو لڑکی نے منگنی پر رضامندی سے انکار کردیا اور منگنی کو رد کردیا تواس صورت میں کیا لڑکی کو ردکا اختیار ہے اور کیا یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی جواب : شرعی طورپر یہ قبول وایجاب کے ساتھ نکاح نہ ہوا اور یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی۔
اوریہ لفظ کہ میں نے لڑکی آپ کو دی ہر چند کنایات تزویج سے ہے مگر مجلس عقدمیں عقدقرار پاتاہے اور مجلس وعد میں وعد۔
فی ردالمحتار عن فتح القدیر عن شرح الطحاوی لوقال اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعدوان کان للعقد فنکاح اھ واقرہ العلامۃ العلائی والفاضل الرحمتی والسید الطحطاوی و غیرہم رحمہم اﷲ تعالی۔
ردالمحتار میں فتح القدیر کے حوالے سے طحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا کہ تو نے لڑکی مجھے دی جوا ب میں اس نے کہا کہ میں نے دی تو اگر بات مجلس نکاح میں ہے تو نکاح ہے اور وعد(منگنی) کی مجلس ہے تومنگنی ہوگی اھ اس کو علامہ علائی فاضل رحمتی سید طحطاوی وغیرہم رحمہم اللہ تعالی نے ثابت رکھا۔ (ت)
اوپر ظاہر ہواکہ وہ مجلس مجلس نکاح نہ تھی ا ورخاطب کا اس وقت مع چند ہمراہیوں کے جانا بات ٹھہرانے اور وعدہ لینے اوررضامندی حاصل کرنے ہی کے طور پرتھا توپدرمخطوبہ کے وہ الفاظ بھی وعدہ ہی پرمحمول ہوں گے نہ عقد پر یہاں تك کہ خود خاطب کے کلام سے واضح وروشن کہ وہ بھی ان کلمات کو اقرار نکاح واظہار رضا وقبول خطبہ ہی سمجھا نہ ایجاب وتزویج کہ اس نے جواب میں کہا : بہتر ہم کو منظور ہے جب آپ نے میرے خطبہ کو منظور کیا اور زبان دی تو میری تسکین ہوگئی اور ہر عامی جانتا ہے کہ ہماری زبان میں زبان دینا کسی کام کے وعدہ کو کہتے ہیں نہ کہ اس کے ایقاع واصدار کو زید نے اگر عمرو سے کچھ روپے مانگے
حوالہ / References
عقود الدریہ علی تنقیح حامدیہ مسائل منشورہ من ابواب النکاح حاجی عبدالغفار وپسران تاجرانِ کتب قندھار ۱ / ۳۱
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۴
اور اس نے دے دئے تو یہ نہ کہا جائے گا کہ عمرو زبان دے چکا ہاں نہ دئے اور دینے کا وعدہ کرلیا تو یہ لفظ بولنا صحیح ہوگا پس ثابت ہوگیا کہ مخطوب منہ کا وہ کلام محض اجابت تھا نہ کہ لفظ ایجاب وشتان بینھم (دونوں میں فرق ہے۔ ت) ایك وجہ تو عدم نکاح کی یہ ہوئی اوریہیں سے دوسری وجہ بھی ظاہر ہے کہ جب کلام خاطب باعلی ندا منادی کہ وہ سخن مخطوب منہ کا محصل اقدام العقد نہ سمجھا تھا بلکہ محض اقرار و وعد جانا تو اب اس کا یہ کہنا بھی کہ “ بہتر ہم کو منظور “ برسبیل قبول وتزویج نہ تھا بلکہ اس کی اجابت پر اپنی خوشی کا اظہا رتھا تو اگر فی الواقع مخطوبہ منہ کے وہ الفاظ ایجاب ہی ٹھہریں تاہم مفقود ہے اور جملہ اخیرہ کہ “ آپ نے زبان دی تو میری تسکین ہوگئی “ مفسر مرادموجود جس کے سبب لفظ اول صریح قبول ٹھہراکر الفاظ اورنیت کا الغا نہیں کرسکتے اور اس کے سوابعض وجوہ اور بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو عدم انعقاد نکاح پردلالت کریں۔
کمالایخفی علی ماھر الفقیہ وفیما ذکرنا کفایۃ للنبیہ۔
جیساکہ مخفی نہیں ماہر فقیہ پر اور ہم نے جو ذکر کردیا ہے وہ عالم کو وضاحت کے لیے کافی ہے۔ (ت)
بالجملہ نہ الفاظ مخطوب الیہ ایجاب کے قابل نہ جانب خاطب سے قبول حاصل نہ مخطوبہ حبالہ نکاح خاطب میں داخل نہ غیر سے تزویج ناروا وباطل رہا مخطوب منہ پر گناہ وہ بھی اسی وقت تك ہے کہ اس نے بلاوجہ یا کسی رنجش دنیوی کے سبب تزویج خاطب اول سے اعراض کیا ہو اور اگر درحقیقت کوئی عذر مقبول پیدا ہوا اور اس نکاح میں اس نے حرج شرعی سمجھا اور خاطب ثانی کو حق دختر میں بہتر جانا تو شرع مطہر ہرگز اس پر دلیل لازم نہیں کرتی کہ تواپنی زبان پالنے کے لیے محذورشرعی گوارا یا دیدہ ودانستہ بیٹی کے حق میں بر اکر نیك و بد پر کامل نظر ذمہ پدر واجب وضرور ا ور آدمی نہ تبدیل رائے سے محفوظ ومصون نہ کسی وقت بعض مصالح پر نہ اطلاع پانے پر مامون یہ توصرف اقرار ہی تھا ہمارے حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تودربارہ قسم ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر تم کسی بات پر قسم کھا بیٹھو پھر خیال میں آئے کہ اس کاخلاف شرعا بہتر ہے تو اس بہتری پرعمل کر واور قسم کا کفارہ دے دو۔
فقد اخرج الامام احمد ومسلم فی صحیحہ و الترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرا منھا فلیات الذی ھو خیر ولیکفر عن یمینہ ۔
امام احمد نے اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں اورامام ترمذی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے کوئی قسم کھائی اور ا س نے اس قسم کے خلاف کو بہتر جانا تو بہتر کو اپنا لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ (ت)
کمالایخفی علی ماھر الفقیہ وفیما ذکرنا کفایۃ للنبیہ۔
جیساکہ مخفی نہیں ماہر فقیہ پر اور ہم نے جو ذکر کردیا ہے وہ عالم کو وضاحت کے لیے کافی ہے۔ (ت)
بالجملہ نہ الفاظ مخطوب الیہ ایجاب کے قابل نہ جانب خاطب سے قبول حاصل نہ مخطوبہ حبالہ نکاح خاطب میں داخل نہ غیر سے تزویج ناروا وباطل رہا مخطوب منہ پر گناہ وہ بھی اسی وقت تك ہے کہ اس نے بلاوجہ یا کسی رنجش دنیوی کے سبب تزویج خاطب اول سے اعراض کیا ہو اور اگر درحقیقت کوئی عذر مقبول پیدا ہوا اور اس نکاح میں اس نے حرج شرعی سمجھا اور خاطب ثانی کو حق دختر میں بہتر جانا تو شرع مطہر ہرگز اس پر دلیل لازم نہیں کرتی کہ تواپنی زبان پالنے کے لیے محذورشرعی گوارا یا دیدہ ودانستہ بیٹی کے حق میں بر اکر نیك و بد پر کامل نظر ذمہ پدر واجب وضرور ا ور آدمی نہ تبدیل رائے سے محفوظ ومصون نہ کسی وقت بعض مصالح پر نہ اطلاع پانے پر مامون یہ توصرف اقرار ہی تھا ہمارے حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تودربارہ قسم ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر تم کسی بات پر قسم کھا بیٹھو پھر خیال میں آئے کہ اس کاخلاف شرعا بہتر ہے تو اس بہتری پرعمل کر واور قسم کا کفارہ دے دو۔
فقد اخرج الامام احمد ومسلم فی صحیحہ و الترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرا منھا فلیات الذی ھو خیر ولیکفر عن یمینہ ۔
امام احمد نے اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں اورامام ترمذی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے کوئی قسم کھائی اور ا س نے اس قسم کے خلاف کو بہتر جانا تو بہتر کو اپنا لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم باب ندب من حلف یمینًا فرای غیرھا خیرًا منہا الخ قدیمی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۸
پس پدر مخطوبہ پر لازم ہے کہ خدا سے ڈرے اور اصلح واوفق پر نظر کرے وہ دو مطالبوں کے زیر تقاضا ہے ایفائے موعدت ودفع مفسدت پھر اگر خاطب اول میں کوئی محظور شرعی نہ ہو تو اول پر عمل کرے ورنہ ثانی پر کاربند رہے من ابتلی بلیتین فاختار اھونھما (جو دو آزمائشوں میں مبتلا ہو تو آسان کو اختیار کرے۔ ت) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ کو نکاح ہندہ بالغہ کا زید کے ساتھ جو اہل کفو سے ہے منظور نہ تھا اورنہ ہے زید نے بغیبت باپ ہندہ جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقہ پر تھا بہ سکوت وگریہ ہندہ برضامندی مادر ونانی ہندہ وکالت اورشہادت تین اقر با خاص نکاح ظاہر کیا ہندہ کہہ رہی ہے کہ مجھ کو بلارضامندی اپنے باپ کے یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا اور نہ اب ہے۔ ایسی حالت میں باپ ہندہ یا ہندہ کے مجبور کرنے کے واسطے منجانب زید بخیال جواز نکاح یہ بیان وشہادت گزری کہ ہندہ نے زبان سے اقرار کیا تھا وبعد از رخصتی بذریعہ عدالت یا جس طرح پر ہو اپنے گھر جاکر نکاح کاقصد رکھیں ایسی صورت میں ہندہ کو جو ولایت اپنے باپ میں ہے کسی ذریعہ سے لی جائے اطلاق غصب یا کس گناہ کاہوگا ونکاح مابعد کی نسبت جو گھر لے جاکر دختر مذکور کومجبور کرکے کرے کیا کہنا چاہئے وزید وغیرہ مرتکب کس گناہ کے ہوں گے یا کچھ نہیں فرض کیا جائے کہ قضاء بوجہ نصاب شہادت نکاح جائز ہو لیکن جب باپ ہندہ کو نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے وہندہ کہہ رہی تھی کہ مجھ کو بلارضامندی اپنے باپ کے یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے ایسی حالت میں زید وغیرہ کی نسبت کیاکہنا چاہئے کہ بالجبر باپ ہندہ خواہ ہندہ کو مجبور کرنا کیسا ہے اگر ناجائز ہے تو مرتکب غصب یا کس گناہ کا مرتکب وگواہ و وکیل و معین ا س کے کس گناہ کے مرتکب اور نکاح آئندہ کی نسبت جو بالجبر اپنے گھر لے جاکر کرے کیا کہنا چاہئے اوریہاں رضاعت کابھی شبہہ ہے اگرچہ اس میں شك واقع ہے کہ ہندہ کی نانی اور ہندہ نے پہلے کہاتھا کہ ایام رضاعت میں زید کو دودھ پلایا ہے بعدہ بحلف کہنے کو موجودکہ نہیں پلایا ہے ایسی صورت میں احتیاط وتقوی کا کیا مقتضی ہے گو نکاح ناجائز ہو مگر احتیاط وتقوی مقتضی ا س امر کا ہے کہ نہ کیاجائے اگرہوگیا توترك کیاجائے یا کیا اگر احتیاط مانع ہے تو اس احتیاط کے ہاتھ سے نہ جانے میں جس قدر باپ ہندہ کا جان دے رہا اور نقصان امور دنیاوی اٹھا رہا ہے آوارہ وطن ہوجائے داخل امور دینی وثواب ہے اور اگر ا س صدمہ سے یا مقابلہ میں یعنی جس وقت زید رخصت بجبر یا کوئی فعل جبر یہ کرناچاہئے اس وقت جان جاتی رہے تو شہید کا اطلاق کیا جائے یا کیا ونیز متعلق اسی کے یہ مسئلہ دریافت طلب ہے کہ زید وغیرہ کہتے ہیں جب بسبب عدم ثبوت رضاعت نکاح شرعا جائز تو تجدید نکاح کردو گو احتیاط وتقوی مانع ہے وباپ ہندہ کہتا ہے کہ جب احتیاط وتقوی مانع ہے توہم کیوں کریں پس ایسی صور ت میں سوال یہ ہے کہ زید کا قول مرقومہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ احتیاط وتقوی کو ایك ادنی چیز سمجھتا ہے یاکچھ نکلتا ہے دوسرے یہ کہ زید جو وہ باپ ہندہ کو احتیاط وتقوی سے روکتا ہے
مسئلہ ۲۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ کو نکاح ہندہ بالغہ کا زید کے ساتھ جو اہل کفو سے ہے منظور نہ تھا اورنہ ہے زید نے بغیبت باپ ہندہ جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقہ پر تھا بہ سکوت وگریہ ہندہ برضامندی مادر ونانی ہندہ وکالت اورشہادت تین اقر با خاص نکاح ظاہر کیا ہندہ کہہ رہی ہے کہ مجھ کو بلارضامندی اپنے باپ کے یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا اور نہ اب ہے۔ ایسی حالت میں باپ ہندہ یا ہندہ کے مجبور کرنے کے واسطے منجانب زید بخیال جواز نکاح یہ بیان وشہادت گزری کہ ہندہ نے زبان سے اقرار کیا تھا وبعد از رخصتی بذریعہ عدالت یا جس طرح پر ہو اپنے گھر جاکر نکاح کاقصد رکھیں ایسی صورت میں ہندہ کو جو ولایت اپنے باپ میں ہے کسی ذریعہ سے لی جائے اطلاق غصب یا کس گناہ کاہوگا ونکاح مابعد کی نسبت جو گھر لے جاکر دختر مذکور کومجبور کرکے کرے کیا کہنا چاہئے وزید وغیرہ مرتکب کس گناہ کے ہوں گے یا کچھ نہیں فرض کیا جائے کہ قضاء بوجہ نصاب شہادت نکاح جائز ہو لیکن جب باپ ہندہ کو نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے وہندہ کہہ رہی تھی کہ مجھ کو بلارضامندی اپنے باپ کے یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے ایسی حالت میں زید وغیرہ کی نسبت کیاکہنا چاہئے کہ بالجبر باپ ہندہ خواہ ہندہ کو مجبور کرنا کیسا ہے اگر ناجائز ہے تو مرتکب غصب یا کس گناہ کا مرتکب وگواہ و وکیل و معین ا س کے کس گناہ کے مرتکب اور نکاح آئندہ کی نسبت جو بالجبر اپنے گھر لے جاکر کرے کیا کہنا چاہئے اوریہاں رضاعت کابھی شبہہ ہے اگرچہ اس میں شك واقع ہے کہ ہندہ کی نانی اور ہندہ نے پہلے کہاتھا کہ ایام رضاعت میں زید کو دودھ پلایا ہے بعدہ بحلف کہنے کو موجودکہ نہیں پلایا ہے ایسی صورت میں احتیاط وتقوی کا کیا مقتضی ہے گو نکاح ناجائز ہو مگر احتیاط وتقوی مقتضی ا س امر کا ہے کہ نہ کیاجائے اگرہوگیا توترك کیاجائے یا کیا اگر احتیاط مانع ہے تو اس احتیاط کے ہاتھ سے نہ جانے میں جس قدر باپ ہندہ کا جان دے رہا اور نقصان امور دنیاوی اٹھا رہا ہے آوارہ وطن ہوجائے داخل امور دینی وثواب ہے اور اگر ا س صدمہ سے یا مقابلہ میں یعنی جس وقت زید رخصت بجبر یا کوئی فعل جبر یہ کرناچاہئے اس وقت جان جاتی رہے تو شہید کا اطلاق کیا جائے یا کیا ونیز متعلق اسی کے یہ مسئلہ دریافت طلب ہے کہ زید وغیرہ کہتے ہیں جب بسبب عدم ثبوت رضاعت نکاح شرعا جائز تو تجدید نکاح کردو گو احتیاط وتقوی مانع ہے وباپ ہندہ کہتا ہے کہ جب احتیاط وتقوی مانع ہے توہم کیوں کریں پس ایسی صور ت میں سوال یہ ہے کہ زید کا قول مرقومہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ احتیاط وتقوی کو ایك ادنی چیز سمجھتا ہے یاکچھ نکلتا ہے دوسرے یہ کہ زید جو وہ باپ ہندہ کو احتیاط وتقوی سے روکتا ہے
کیسا فعل ہے
الجواب :
جواب سوال اول عــــہ میں واضح ہوچکا ہے عہ : کہ یہ نکاح اگر باذن صریح ہندہ نہ ہوا نہ بعد کو اذن صریح قولی یا فعلی سے نافذ ہولیا تو مجرد سکوت ہندہ اس کے نفاذ کے لیے کافی نہیں نکاح نکاح فضولی تھاا وراذن ہندہ پر موقوف جب ہندہ نے کہا کہ مجھے یہ نکاح نہ پہلے منظور رتھا نہ اب ہے تو یہ صاف رد وباطل ہوگیا اب اگر ہندہ وپدر ہندہ کہ مجبور کرنے کے لیے کسی جھوٹی شہادت سے نفاذنکاح ثابت کیا جائے تو زید اور اس کے شہود سب مستحق غضب الہی وعذاب شدید ہوں گے جھوٹی گواہی دینے والے پر جو سخت ہولناك وعیدیں ارشاد ہوئی ہیں ہر مسلمان جانتا ہے یہاں تك کہ قرآن عظیم میں اسے بت پوجنے کے برابرشمار فرمایا
قال الله تعالی : فاجتنبوا الرجس من الاوثان و اجتنبوا قول الزور(۳۰) حنفاء ﷲ غیر مشرکین بہ ۔
بتوں کی نجاست سے بچو جھوٹی بات سے پرہیز کرو شرك سے بچتے ہوئے الله تعالی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عدلت شہادۃ الزور الاشراك باﷲ عدلت شہادۃ الزور الاشراك باﷲ ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خریم بن فاتك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جھوٹی گواہی خد ا کے ساتھ شریك کرنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی خدا کے لیےشریك بتانے کے ہمسر ٹھہرائی گئی (جھوٹی گواہی خدا کا شریك ماننے کے مساوی کی گئی) اس کو ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے خریم بن فاتك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الا انبئکم باکبر الکبائر قول الزورا وقال شہادۃ الزور ۔ رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کیا میں تمھیں نہ بتادوں کہ سب کبیروں سے بڑا کبیرہ کون سا ہے بناوٹ کی بات یا فرمایا جھوٹی گواہی (اسے شیخین نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
عــــہ : یعنی مقام مذکورہ کا سوال کہ باب الولی میں ہے ۱۲ منہ (م)
الجواب :
جواب سوال اول عــــہ میں واضح ہوچکا ہے عہ : کہ یہ نکاح اگر باذن صریح ہندہ نہ ہوا نہ بعد کو اذن صریح قولی یا فعلی سے نافذ ہولیا تو مجرد سکوت ہندہ اس کے نفاذ کے لیے کافی نہیں نکاح نکاح فضولی تھاا وراذن ہندہ پر موقوف جب ہندہ نے کہا کہ مجھے یہ نکاح نہ پہلے منظور رتھا نہ اب ہے تو یہ صاف رد وباطل ہوگیا اب اگر ہندہ وپدر ہندہ کہ مجبور کرنے کے لیے کسی جھوٹی شہادت سے نفاذنکاح ثابت کیا جائے تو زید اور اس کے شہود سب مستحق غضب الہی وعذاب شدید ہوں گے جھوٹی گواہی دینے والے پر جو سخت ہولناك وعیدیں ارشاد ہوئی ہیں ہر مسلمان جانتا ہے یہاں تك کہ قرآن عظیم میں اسے بت پوجنے کے برابرشمار فرمایا
قال الله تعالی : فاجتنبوا الرجس من الاوثان و اجتنبوا قول الزور(۳۰) حنفاء ﷲ غیر مشرکین بہ ۔
بتوں کی نجاست سے بچو جھوٹی بات سے پرہیز کرو شرك سے بچتے ہوئے الله تعالی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عدلت شہادۃ الزور الاشراك باﷲ عدلت شہادۃ الزور الاشراك باﷲ ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خریم بن فاتك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جھوٹی گواہی خد ا کے ساتھ شریك کرنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی خدا کے لیےشریك بتانے کے ہمسر ٹھہرائی گئی (جھوٹی گواہی خدا کا شریك ماننے کے مساوی کی گئی) اس کو ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے خریم بن فاتك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الا انبئکم باکبر الکبائر قول الزورا وقال شہادۃ الزور ۔ رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کیا میں تمھیں نہ بتادوں کہ سب کبیروں سے بڑا کبیرہ کون سا ہے بناوٹ کی بات یا فرمایا جھوٹی گواہی (اسے شیخین نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
عــــہ : یعنی مقام مذکورہ کا سوال کہ باب الولی میں ہے ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
القرآن ۲۲ / ۳۰
سنن ابی داؤد باب فی شہادۃ الزور آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۵۰
صحیح بخاری باب ماقیل فی شہادۃ الزور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۶۲ ، صحیح مسلم باب الکبائر واکبرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۴
سنن ابی داؤد باب فی شہادۃ الزور آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۵۰
صحیح بخاری باب ماقیل فی شہادۃ الزور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۶۲ ، صحیح مسلم باب الکبائر واکبرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۴
نیز حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لن تزول قد ماشاھد الزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
جھوٹی گواہی دینے والا اپنے پاؤں ہٹانے نہیں پاتا کہ الله عزوجل ا س کے لیے جہنم واجب کردیتا ہے اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح قرار دے کر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
ایسی ناپاك کارروائی کے ساتھ کسی کی بیٹی کو بلانکاح رخصت کراکرلے جانا اگرچہ اسی قصد پر ہوکہ گھر لے جا کر نکاح کرلیں گے سخت شدید کبیرہ عظیمہ ملعونہ ہے جس کا مرتکب کہ اشد ظلم میں گرفتار ہے مستحق عذاب الیم نار ہے
الله عزوجل فرماتا ہے الا لعنة الله على الظلمین(۱۸) سن لو خدا کی لعنت ہے ظلم کرنے والوں پر حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : دفتر تین ہیں ایك میں سے الله عزوجل کچھ نہ بخشے گا اور دوسرے کی اسے کچھ پروا نہیں اورتیسرے میں سے کچھ نہ چھوڑے گا وہ جس سے کچھ نہ بخشے گا کفر ہے اور وہ جس کی اسے پروا نہیں آدمی کے حقوق الله میں گناہ ہیں جیسے کسی دن کا روزہ یا کوئی نماز ترك کرنی کہ الله عزوجل چاہے گا توا سے معاف فرمادے گا واما الدیوان الذی لایترك اﷲ منہ شیئا مظالم العباد بینھم القصاص لامحالۃ اور وہ دفتر جس میں سے الله تعالی کچھ نہ چھوڑے گا بندوں کا آپس میں ایك دوسرے پر ظلم ہے ا س کا بدلہ ضرور ہونا ہے رواہ الامام احمد والحاکم وصححہ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا (اس کو امام احمد اور حاکم نے صحیح قرار دے کر حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت) نکاح اگرچہ جبر واکراہ سے بھی ہوجاتا ہے
فی الھندیۃ الاصل ان تصرفات المکرہ کلھا قولا منعقدۃ عندنا الا ان مایحتمل الفسخ منہ کالبیع والاجارۃ یفسخ وما لایحتمل الفسخ منہ کا لطلاق
ہندیہ میں ہے یہ قاعدہ کہ جس پر جبر کیا گیا ہو اس کے اس حالت کے تمام تصرفات نافذ العمل ہونگے ہاں وہ تصرفات جو فسخ کا احتمال رکھتے ہوں جیسے بیع اور اجارہ کہ یہ فسخ قرار پائیں گے اور جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتے
لن تزول قد ماشاھد الزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
جھوٹی گواہی دینے والا اپنے پاؤں ہٹانے نہیں پاتا کہ الله عزوجل ا س کے لیے جہنم واجب کردیتا ہے اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح قرار دے کر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
ایسی ناپاك کارروائی کے ساتھ کسی کی بیٹی کو بلانکاح رخصت کراکرلے جانا اگرچہ اسی قصد پر ہوکہ گھر لے جا کر نکاح کرلیں گے سخت شدید کبیرہ عظیمہ ملعونہ ہے جس کا مرتکب کہ اشد ظلم میں گرفتار ہے مستحق عذاب الیم نار ہے
الله عزوجل فرماتا ہے الا لعنة الله على الظلمین(۱۸) سن لو خدا کی لعنت ہے ظلم کرنے والوں پر حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : دفتر تین ہیں ایك میں سے الله عزوجل کچھ نہ بخشے گا اور دوسرے کی اسے کچھ پروا نہیں اورتیسرے میں سے کچھ نہ چھوڑے گا وہ جس سے کچھ نہ بخشے گا کفر ہے اور وہ جس کی اسے پروا نہیں آدمی کے حقوق الله میں گناہ ہیں جیسے کسی دن کا روزہ یا کوئی نماز ترك کرنی کہ الله عزوجل چاہے گا توا سے معاف فرمادے گا واما الدیوان الذی لایترك اﷲ منہ شیئا مظالم العباد بینھم القصاص لامحالۃ اور وہ دفتر جس میں سے الله تعالی کچھ نہ چھوڑے گا بندوں کا آپس میں ایك دوسرے پر ظلم ہے ا س کا بدلہ ضرور ہونا ہے رواہ الامام احمد والحاکم وصححہ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا (اس کو امام احمد اور حاکم نے صحیح قرار دے کر حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت) نکاح اگرچہ جبر واکراہ سے بھی ہوجاتا ہے
فی الھندیۃ الاصل ان تصرفات المکرہ کلھا قولا منعقدۃ عندنا الا ان مایحتمل الفسخ منہ کالبیع والاجارۃ یفسخ وما لایحتمل الفسخ منہ کا لطلاق
ہندیہ میں ہے یہ قاعدہ کہ جس پر جبر کیا گیا ہو اس کے اس حالت کے تمام تصرفات نافذ العمل ہونگے ہاں وہ تصرفات جو فسخ کا احتمال رکھتے ہوں جیسے بیع اور اجارہ کہ یہ فسخ قرار پائیں گے اور جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتے
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
القرآن ۱۱ / ۱۸
مسند احمد بن حنبل مرویات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا دارالفکر بیروت ۶ / ۲۴۰
القرآن ۱۱ / ۱۸
مسند احمد بن حنبل مرویات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا دارالفکر بیروت ۶ / ۲۴۰
والعتاق والنکاح والتدبیر والاستیلاد والنذور فھو لازم کذافی الکافی اھ وتمامہ فی ردالمحتار قبیل قولہ وشرط حضور شاھدین الخ
اقول : واما قول الھندیۃ رضا المرأۃ اذکانت بالغۃ الخ فقد کتبنا علی ھامشہ مانصہ ای اذنھا قو لاوفعلا صریحا اودلالۃ ولو جبرا وکرھا ھکذاینبغی ان یفسرھذا المقام۔
مثلا طلاق عتاق نکاح مدبر بنانا ام ولد بنانا اور نذر تو یہ امور لازم ہوجائیں گے جیسا کہ کافی میں ہے اھ اس کی تمام بحث ردالمحتار میں ہے ان کے قول “ گواہوں کی موجودگی شرط ہےـ “ سے تھوڑا پہلے ہے الخ اقول : ہندیہ کا قول جوکہ انھوں نے خانیہ سے نقل کیا نکاح کی شرائط میں جن میں سے ایك یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ عورت کی رضا الخ توہم نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے یعنی اس کی اجازت قول فعل صریح یا دلالت سے ہوجاتی ہے اگرچہ بطور جبر ہو اس مقام کی یونہی تفسیر مناسب ہے۔ (ت)
مگر کسی کی بیٹی کو جبرا بلا نکاح لے جانا پھر بالجبر نکاح کرنا ظلم پر ظلم اور مسلمان کو عار لاحق کرناہے۔
قال اﷲ تعالی لا اكراه فی الدین ﳜ ۔
الله تعالی نے فرمایا : دین میں جبر نہیں ہے۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ :
لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی لکڑی بغیراس کی دلی مرضی کے لے لے (اس کو ابن حبان نے صحیح میں ابوحمید الساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
جب بے مرضی لکڑی لینی حرام ہے لڑکی یعنی کس درجہ حرام واشدحرام ہوگی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اقول : واما قول الھندیۃ رضا المرأۃ اذکانت بالغۃ الخ فقد کتبنا علی ھامشہ مانصہ ای اذنھا قو لاوفعلا صریحا اودلالۃ ولو جبرا وکرھا ھکذاینبغی ان یفسرھذا المقام۔
مثلا طلاق عتاق نکاح مدبر بنانا ام ولد بنانا اور نذر تو یہ امور لازم ہوجائیں گے جیسا کہ کافی میں ہے اھ اس کی تمام بحث ردالمحتار میں ہے ان کے قول “ گواہوں کی موجودگی شرط ہےـ “ سے تھوڑا پہلے ہے الخ اقول : ہندیہ کا قول جوکہ انھوں نے خانیہ سے نقل کیا نکاح کی شرائط میں جن میں سے ایك یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ عورت کی رضا الخ توہم نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے یعنی اس کی اجازت قول فعل صریح یا دلالت سے ہوجاتی ہے اگرچہ بطور جبر ہو اس مقام کی یونہی تفسیر مناسب ہے۔ (ت)
مگر کسی کی بیٹی کو جبرا بلا نکاح لے جانا پھر بالجبر نکاح کرنا ظلم پر ظلم اور مسلمان کو عار لاحق کرناہے۔
قال اﷲ تعالی لا اكراه فی الدین ﳜ ۔
الله تعالی نے فرمایا : دین میں جبر نہیں ہے۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ :
لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی لکڑی بغیراس کی دلی مرضی کے لے لے (اس کو ابن حبان نے صحیح میں ابوحمید الساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
جب بے مرضی لکڑی لینی حرام ہے لڑکی یعنی کس درجہ حرام واشدحرام ہوگی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۸
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۹
القرآن ۲ / ۲۵۲
مورد الظمآن الٰی زوائد ابن حبان کتاب البیوع باب ماجاء فی الغصب حدیث ۱۱۶۶ المطبعۃ السلفیہ بالروضۃ ص۲۸۳
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۹
القرآن ۲ / ۲۵۲
مورد الظمآن الٰی زوائد ابن حبان کتاب البیوع باب ماجاء فی الغصب حدیث ۱۱۶۶ المطبعۃ السلفیہ بالروضۃ ص۲۸۳
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی ا س نے الله عزوجل کو ایذادی۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
گواہ ووکیل ومعین جتنے لوگ اس واقعہ پر آگاہ ہو کر زید کی اعانت کریں گے سب اس کی مثل ظلم و حرام واستحقاق عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
الله تعالی کا ارشاد ہے : گناہ وعداوت میں ایك دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقدخرج من الاسلام ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و الضیاء فی المختار عن اوس بن شرحبیل الاشجعی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی ظالم کے ساتھ چلا اس کی مدد کرنے اور وہ جانتا ہے کہ یہ ظالم ہے وہ بیشك اسلام سے نکل گیا۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں اور ضیاء نے مختار میں اوس بن شرحبیل اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
رہا مسئلہ رضاعت ہمارے مذہب میں ایك عورت کا بیان ثبوت رضاعت کے لیے کافی نہیں خصوصا جبکہ خود مضطرب ہو
کما فصلناہ فی فتاونا السابقۃ الواردۃ علینا من المسائل فی ھذا الباب۔
جیسا کہ ہم نے اس بارے میں پہلے سے آئے ہوئے مسائل کے جوابات میں اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ (ت)
اس سے احتیاطا بچنا صرف مرتبہ استحباب میں ہے اور فعل غایت درجہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی کہ نہ کرے تو بہتر کرے توکچھ گناہ نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ فاخبر رجل مسلم ثقۃ
ایك شخص کا عورت سے نکاح ہونے کے بعد ایك ثقہ
جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی ا س نے الله عزوجل کو ایذادی۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
گواہ ووکیل ومعین جتنے لوگ اس واقعہ پر آگاہ ہو کر زید کی اعانت کریں گے سب اس کی مثل ظلم و حرام واستحقاق عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
الله تعالی کا ارشاد ہے : گناہ وعداوت میں ایك دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقدخرج من الاسلام ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و الضیاء فی المختار عن اوس بن شرحبیل الاشجعی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی ظالم کے ساتھ چلا اس کی مدد کرنے اور وہ جانتا ہے کہ یہ ظالم ہے وہ بیشك اسلام سے نکل گیا۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں اور ضیاء نے مختار میں اوس بن شرحبیل اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
رہا مسئلہ رضاعت ہمارے مذہب میں ایك عورت کا بیان ثبوت رضاعت کے لیے کافی نہیں خصوصا جبکہ خود مضطرب ہو
کما فصلناہ فی فتاونا السابقۃ الواردۃ علینا من المسائل فی ھذا الباب۔
جیسا کہ ہم نے اس بارے میں پہلے سے آئے ہوئے مسائل کے جوابات میں اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ (ت)
اس سے احتیاطا بچنا صرف مرتبہ استحباب میں ہے اور فعل غایت درجہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی کہ نہ کرے تو بہتر کرے توکچھ گناہ نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ فاخبر رجل مسلم ثقۃ
ایك شخص کا عورت سے نکاح ہونے کے بعد ایك ثقہ
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ / ۳۷۳ ، الترغیب والترھیب من تخطی بہ الرقاب یوم الجمعۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۴
القرآن ۵ / ۲
معجم کبیر حدیث۶۱۹ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱ / ۲۲۷
القرآن ۵ / ۲
معجم کبیر حدیث۶۱۹ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱ / ۲۲۷
اوامرأۃ انھما ارتضعا من امرأۃ واحدۃ قال فی الکتاب احب الی ان یتنزہ فیطلقھا ویعطیھا نصف المھر ان لم یدخل بھا ولایثبت الحرمۃ بخبر الواحد عندنا مالم یشھد بہ رجلان اورجل وامرأتان ۔
مرد یا عورت نے یہ خبر دی کہ ان میاں بیوی نے ایك عورت کا دودھ پیا ہے تو امام قاضی خان نے کتاب میں فرمایا کہ میرے نزدیك بہتر یہ ہے کہ وہ شخص بطور احتیاط عورت کو طلاق دے دے اور دخول نہ کیاہو تو نصف مہر ادا کرے جبکہ رضاعت کی حرمت ایك شخص کی خبر سے ثابت نہیں ہوتی جب تك دو مرد یاایك مرد دو عورتیں شہادت نہ دیں حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
ایسے امر سے بچنے کے لیے جان دینے کی اجازت ہر گزنہیں ہوسکتی کہ جان کا رکھنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اہل وعیال کوچھوڑ کر جلا وطنی وغیرہ امور بھی کہ خود گناہ یا منجربہ گناہ ہوں جائز نہیں ہوسکتے۔
اذلیس من قضیۃ الشرع الکریم والعقل السلیم درء شی خفیف بارتکاب ثقیل عظیم۔
شریعت مطہرہ اور عقل سلیم اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ معمولی چیز کو کسی عظیم اور بھاری چیز کے ارتکاب سے ختم کیا جائے۔ (ت)
یہاں تقوی بمعنی اتقائے شہادت ہے وہ صرف مستحب ہے نہ فرض وواجب علماء فرماتے ہیں :
لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات کمافی الاشباہ وغیرہ عن الخانیہ والتجنیس وغیرھما۔
جس طرح اشباہ وغیرہ میں خانیہ اور تجنیس کے حوالے سے ہے کہ ہمار ا زمانہ شبہات سے بچاؤ کا زمانہ نہیں ہے۔ (ت)
زید وغیرہ کی اس درخواست سے تقوی کی اہانت نہیں نکلتی بلکہ اس احتیاط کا غیر ضروری ہونااور اس قدر ضرور صحیح ہے ہاں ا س سے درکنار اگر بالجبر ہوتوہم لکھ چکے ہیں کہ مسلمان پر جبر واکراہ کسی امر مباح میں حرام وظلم ہے نہ امر غیر مستحب میں مگر اس پر جان نہیں دے سکتے البتہ صورت اولی میں یعنی جبکہ واقع میں نکاح باطل ہو ا اور زید جھوٹی گواہیاں دلواکر بالجبر بلانکاح چھین لے جانا _______ یا بالجبر اس کے ساتھ کوئی فعل ناجائز کرنا چاہے ا س وقت اگرچہ اپنے ناموس کی حفاظت جائزہ کرے جو شرعا وعقلا وعرفا ہر طرح ا س کاحق ہے اور ظالم اسے قتل کردے تو یہ شہید ہوگا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قتل دون مالہ فھو شہید ومن
جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید جو
مرد یا عورت نے یہ خبر دی کہ ان میاں بیوی نے ایك عورت کا دودھ پیا ہے تو امام قاضی خان نے کتاب میں فرمایا کہ میرے نزدیك بہتر یہ ہے کہ وہ شخص بطور احتیاط عورت کو طلاق دے دے اور دخول نہ کیاہو تو نصف مہر ادا کرے جبکہ رضاعت کی حرمت ایك شخص کی خبر سے ثابت نہیں ہوتی جب تك دو مرد یاایك مرد دو عورتیں شہادت نہ دیں حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
ایسے امر سے بچنے کے لیے جان دینے کی اجازت ہر گزنہیں ہوسکتی کہ جان کا رکھنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اہل وعیال کوچھوڑ کر جلا وطنی وغیرہ امور بھی کہ خود گناہ یا منجربہ گناہ ہوں جائز نہیں ہوسکتے۔
اذلیس من قضیۃ الشرع الکریم والعقل السلیم درء شی خفیف بارتکاب ثقیل عظیم۔
شریعت مطہرہ اور عقل سلیم اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ معمولی چیز کو کسی عظیم اور بھاری چیز کے ارتکاب سے ختم کیا جائے۔ (ت)
یہاں تقوی بمعنی اتقائے شہادت ہے وہ صرف مستحب ہے نہ فرض وواجب علماء فرماتے ہیں :
لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات کمافی الاشباہ وغیرہ عن الخانیہ والتجنیس وغیرھما۔
جس طرح اشباہ وغیرہ میں خانیہ اور تجنیس کے حوالے سے ہے کہ ہمار ا زمانہ شبہات سے بچاؤ کا زمانہ نہیں ہے۔ (ت)
زید وغیرہ کی اس درخواست سے تقوی کی اہانت نہیں نکلتی بلکہ اس احتیاط کا غیر ضروری ہونااور اس قدر ضرور صحیح ہے ہاں ا س سے درکنار اگر بالجبر ہوتوہم لکھ چکے ہیں کہ مسلمان پر جبر واکراہ کسی امر مباح میں حرام وظلم ہے نہ امر غیر مستحب میں مگر اس پر جان نہیں دے سکتے البتہ صورت اولی میں یعنی جبکہ واقع میں نکاح باطل ہو ا اور زید جھوٹی گواہیاں دلواکر بالجبر بلانکاح چھین لے جانا _______ یا بالجبر اس کے ساتھ کوئی فعل ناجائز کرنا چاہے ا س وقت اگرچہ اپنے ناموس کی حفاظت جائزہ کرے جو شرعا وعقلا وعرفا ہر طرح ا س کاحق ہے اور ظالم اسے قتل کردے تو یہ شہید ہوگا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قتل دون مالہ فھو شہید ومن
جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید جو
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فیما یقبل قول الواحد الخ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۷۸۷
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۰۸
الاشباہ والنظائر کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۰۸
قتل دون دمہ فھو شہید ومن قتل دون دینہ فھو شہید ومن قتل دون اھلہ فھو شہید ۔ اخرجہ الائمۃ احمد وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان فی صحاحھم عن سعید بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اپنی جان بچانے میں ماراجائے وہ شہید جو اپنا دین بچانے میں مارا جائے وہ شہید جو اپنے گھروالوں کے بچانے میں ماراجائے وہ شہید (اسے احمد ابوداؤد ترمذی نسائی ابن حبان نے سعید بن زید سے اپنی صحاح (کتب) میں روایت کیا۔ والله تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۲۳ : از مسجد جامع مرسلہ مولوی احسان حسن صاحب ۱۷ محرم الحرام ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید وہندہ نے باہم کلمات ایجاب وقبول نکاح کے بموجودگی دو آدمیوں کے کہے ۔ لیکن ان دونوں آد میوں کو مطلقا سماعت اورعلم نکاح زید اورہندہ کانہ ہوا۔ بعدازاں زید نکاح سے منکر ہوا۔ اور ان دونوں شاہدوں نے بھی سماعت اور علم نکاح سے لاعلمی روبروحاکم شرع کے ظاہر کی تو آیا حاکم شرع زوجہ کو مہر دلائے گا یا نہیں اوریہ نکاح منعقد ہوگا یا نہیںــ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح میں شرط ہے کہ دونوں گواہ معا دونوں لفظ ایجاب وقبول جلسہ واحدہ میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہورہا ہے۔
فی الدرالمختار شرط حضور شاھدین حرین اوحر وحرتین مکلفین سامعین قولھما معاعلی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر۔
درمختار میں ہے کہ نکاح میں دومردوں یاایك مرد دو عورتوں عاقل بالغ اورآزاد کا مجلس میں اس طرح موجود ہونا کہ وہ نکاح سمجھتے ہوئے نکاح کرنے والوں کے کلام کوسنیں شرط ہے یہ صحیح مذہب ہے بحر۔ (ت)
تو مذہب اصح پر یہ نکاح منعقد نہ ہوا زید کا انکار سچا ہے اگر نوبت ہمبستری نہ آئی تو مہر سے کیا علاقہ ورنہ مہر مثل دیناہوگا۔
فان الوطء فی دارالاسلام لو یخلو عن حد اوعقر کما فی الدرالمختار وغیرہ
کیونکہ دارالاسلام میں بے محل جماع حد یا عقر سے خالی نہیں ہوتا جیسا کہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔
اپنی جان بچانے میں ماراجائے وہ شہید جو اپنا دین بچانے میں مارا جائے وہ شہید جو اپنے گھروالوں کے بچانے میں ماراجائے وہ شہید (اسے احمد ابوداؤد ترمذی نسائی ابن حبان نے سعید بن زید سے اپنی صحاح (کتب) میں روایت کیا۔ والله تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۲۳ : از مسجد جامع مرسلہ مولوی احسان حسن صاحب ۱۷ محرم الحرام ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید وہندہ نے باہم کلمات ایجاب وقبول نکاح کے بموجودگی دو آدمیوں کے کہے ۔ لیکن ان دونوں آد میوں کو مطلقا سماعت اورعلم نکاح زید اورہندہ کانہ ہوا۔ بعدازاں زید نکاح سے منکر ہوا۔ اور ان دونوں شاہدوں نے بھی سماعت اور علم نکاح سے لاعلمی روبروحاکم شرع کے ظاہر کی تو آیا حاکم شرع زوجہ کو مہر دلائے گا یا نہیں اوریہ نکاح منعقد ہوگا یا نہیںــ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح میں شرط ہے کہ دونوں گواہ معا دونوں لفظ ایجاب وقبول جلسہ واحدہ میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہورہا ہے۔
فی الدرالمختار شرط حضور شاھدین حرین اوحر وحرتین مکلفین سامعین قولھما معاعلی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر۔
درمختار میں ہے کہ نکاح میں دومردوں یاایك مرد دو عورتوں عاقل بالغ اورآزاد کا مجلس میں اس طرح موجود ہونا کہ وہ نکاح سمجھتے ہوئے نکاح کرنے والوں کے کلام کوسنیں شرط ہے یہ صحیح مذہب ہے بحر۔ (ت)
تو مذہب اصح پر یہ نکاح منعقد نہ ہوا زید کا انکار سچا ہے اگر نوبت ہمبستری نہ آئی تو مہر سے کیا علاقہ ورنہ مہر مثل دیناہوگا۔
فان الوطء فی دارالاسلام لو یخلو عن حد اوعقر کما فی الدرالمختار وغیرہ
کیونکہ دارالاسلام میں بے محل جماع حد یا عقر سے خالی نہیں ہوتا جیسا کہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب المحاربۃ تحریم الدم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ / ۱۷۲
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
درمختار با ب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۴
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
درمختار با ب المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۴
من معتمدات الاسفار وقد کانت ھھنا شبہۃ العقد فالحد سقط فالعقر ثبت۔
یہاں چونکہ نکاح کا شبہ ہے لہذا حد ساقط ہوگئی تو عقر واجب ہوگا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴ : مسئولہ حافظ علی بخش صاحب ساکن آنوالہ مسجد حنفیاں ۲۵ شوال ۱۳۲۳ھ
تعظیما جمع کالفظ خد اکی شان میں بولنا جائزہے یانہیں جیسے کہ “ الله جل شانہ یوں فرماتے ہیں “ اسی طرح ناکح سے کہناکہ “ تم نے یہ عورت قبول کی “ جمع بولنا چاہئے یا نہیںـ بینوا توجروا۔
الجواب :
حرج نہیں اور بہتر صیغہ واحد ہے کہ واحد احد کے لیے وہی انسب ہے قرآن عظیم میں ایك جگہ رب عزوجل سے خطاب جمع ہے رب ارجعون(۹۹) وہ بھی زبان کافر سے ہے۔ اور ناکح سے کہنا کہ تم یا آپ یا جناب نے قبول کی اس میں بھی حرج نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵ : ۱ صفر ۱۳۰۳ ھ
زید کہتا ہے کہ متناکحین بالغین کو بوقت نکاح کلمے اورصفت ایمان مجمل ومفصل پڑھانا بہت ضرور بہتر ہے ا س کو کرنا چاہئے شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی قدس سرہ کے فتاوی میں ہے :
از روئے شریعت غرانکاح درمیان مومن وکافر منعقد نمی گردد وظاہر است کہ ازانسان درحالت لاعلمی یاازروئے سہوا کثر کلمہ کفر صادر مے گردد کہ برآں متنبہ نمی شود دریں صورت اگر نکاح متناکحین واقع شد منعقد نمی شود لہذا متاخرین از علمائے محتاطین احتیاطا صفت ایمان مجمل ومفصل رابحضور متناکحین می گویند ومی گو یا نند تاانعقاد بحالت اسلام واقع شود فی الحققیت علمائے متاخرین ایں احتیاط را در عقد نکاح افزو دہ خالی از نزاکت اسلامی نیست کسائے کہ از اسلام بہر ہ ندارند بلطف
روشن شریعت کی روسے مومن کافر کے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا ظاہر ہے کہ انسان سے لاعلمی میں کبھی سہوا کوئی کلمہ کفر صادرہوجاتا ہے جس پر وہ آگاہ ہی نہیں ہوتا تو اس صورت میں اگر مرد وعورت کا نکاح ہوا تو منعقدنہیں ہوگا لہذا محتاط علماء متاخرین مجلس نکاح میں صفت ایمان مجمل ومفصل خود بھی کہتے ہیں اورمردو عورت سے بھی کہلواتے ہیں تاکہ نکاح بحالت اسلام واقع ہو علماء متاخرین نے عقد نکاح میں اس احتیاط کا جو اضافہ فرمایاہے وہ درحقیقت اسلامی نزاکت سے خالی نہیں جو لوگ اسلام کے بارے میں معلومات
یہاں چونکہ نکاح کا شبہ ہے لہذا حد ساقط ہوگئی تو عقر واجب ہوگا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴ : مسئولہ حافظ علی بخش صاحب ساکن آنوالہ مسجد حنفیاں ۲۵ شوال ۱۳۲۳ھ
تعظیما جمع کالفظ خد اکی شان میں بولنا جائزہے یانہیں جیسے کہ “ الله جل شانہ یوں فرماتے ہیں “ اسی طرح ناکح سے کہناکہ “ تم نے یہ عورت قبول کی “ جمع بولنا چاہئے یا نہیںـ بینوا توجروا۔
الجواب :
حرج نہیں اور بہتر صیغہ واحد ہے کہ واحد احد کے لیے وہی انسب ہے قرآن عظیم میں ایك جگہ رب عزوجل سے خطاب جمع ہے رب ارجعون(۹۹) وہ بھی زبان کافر سے ہے۔ اور ناکح سے کہنا کہ تم یا آپ یا جناب نے قبول کی اس میں بھی حرج نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵ : ۱ صفر ۱۳۰۳ ھ
زید کہتا ہے کہ متناکحین بالغین کو بوقت نکاح کلمے اورصفت ایمان مجمل ومفصل پڑھانا بہت ضرور بہتر ہے ا س کو کرنا چاہئے شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی قدس سرہ کے فتاوی میں ہے :
از روئے شریعت غرانکاح درمیان مومن وکافر منعقد نمی گردد وظاہر است کہ ازانسان درحالت لاعلمی یاازروئے سہوا کثر کلمہ کفر صادر مے گردد کہ برآں متنبہ نمی شود دریں صورت اگر نکاح متناکحین واقع شد منعقد نمی شود لہذا متاخرین از علمائے محتاطین احتیاطا صفت ایمان مجمل ومفصل رابحضور متناکحین می گویند ومی گو یا نند تاانعقاد بحالت اسلام واقع شود فی الحققیت علمائے متاخرین ایں احتیاط را در عقد نکاح افزو دہ خالی از نزاکت اسلامی نیست کسائے کہ از اسلام بہر ہ ندارند بلطف
روشن شریعت کی روسے مومن کافر کے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا ظاہر ہے کہ انسان سے لاعلمی میں کبھی سہوا کوئی کلمہ کفر صادرہوجاتا ہے جس پر وہ آگاہ ہی نہیں ہوتا تو اس صورت میں اگر مرد وعورت کا نکاح ہوا تو منعقدنہیں ہوگا لہذا محتاط علماء متاخرین مجلس نکاح میں صفت ایمان مجمل ومفصل خود بھی کہتے ہیں اورمردو عورت سے بھی کہلواتے ہیں تاکہ نکاح بحالت اسلام واقع ہو علماء متاخرین نے عقد نکاح میں اس احتیاط کا جو اضافہ فرمایاہے وہ درحقیقت اسلامی نزاکت سے خالی نہیں جو لوگ اسلام کے بارے میں معلومات
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۹۹
آن کے میرسند ۔ انتہی
نہیں رکھتے وہ اس کی لطافت تك کب پہنچ سکتے ہیں۔ (ت)
یہ قول زید کا صحیح ہے یا نہیں ـ بینواتوجروا۔
الجواب :
بہتر ہونے میں کیا کلام کہ ذکر خدا ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خیر محض ہے خصوصا تجدید ایمان کہ ویسے بھی حدیث میں اس کا حکم ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ :
ان الایمان لیخلق فی جوف احدکم کما یخلق الثوب الخلق فاسئلوا اﷲ تعالی ان یجدد الایمان فی قلوبکم ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر بسند حسن والحاکم فی المستدرك عن عمر وبسند صحیح رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
بیشك ایمان تم میں کسی کے باطن میں پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا کہنہ ہوجاتا ہے توا لله عزوجل سے مانگوکہ تمھارے دلوں میں ایمان کو تازہ فرمائے (اسے طبرانی نے کبیرمیں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن اور حاکم نے مستدرك میں حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
جدد وا ایمانکم اکثر وامن قول لاالہ الااﷲ ۔ رواہ الامام احمد والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔
اپنے ایمان تازے کرو لاالہ الااﷲ بکثرت کہو۔ (اس کو امام احمد اور حاکم نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
تو اس قدر ضرور مسلم کہ اس کو کرنا چاہئے ہاں بہت ضروری کہنانوع افراط سے خالی نہیں جہلا یاسہوا معاذا لله کلمہ کفر صادر ہوجانا محتمل سہی مگراسے مظنون ٹھہرالینا سوئے ظن ہے اور بے حصول ظن حکم ضرورت نہیں کما لایخفی والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶ : ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دختر زید بعمر سترہ۱۷ سال وپسر عمرو بعمر تئیس۲۳ سال ہے اور
نہیں رکھتے وہ اس کی لطافت تك کب پہنچ سکتے ہیں۔ (ت)
یہ قول زید کا صحیح ہے یا نہیں ـ بینواتوجروا۔
الجواب :
بہتر ہونے میں کیا کلام کہ ذکر خدا ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خیر محض ہے خصوصا تجدید ایمان کہ ویسے بھی حدیث میں اس کا حکم ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ :
ان الایمان لیخلق فی جوف احدکم کما یخلق الثوب الخلق فاسئلوا اﷲ تعالی ان یجدد الایمان فی قلوبکم ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر بسند حسن والحاکم فی المستدرك عن عمر وبسند صحیح رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
بیشك ایمان تم میں کسی کے باطن میں پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا کہنہ ہوجاتا ہے توا لله عزوجل سے مانگوکہ تمھارے دلوں میں ایمان کو تازہ فرمائے (اسے طبرانی نے کبیرمیں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن اور حاکم نے مستدرك میں حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
جدد وا ایمانکم اکثر وامن قول لاالہ الااﷲ ۔ رواہ الامام احمد والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔
اپنے ایمان تازے کرو لاالہ الااﷲ بکثرت کہو۔ (اس کو امام احمد اور حاکم نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
تو اس قدر ضرور مسلم کہ اس کو کرنا چاہئے ہاں بہت ضروری کہنانوع افراط سے خالی نہیں جہلا یاسہوا معاذا لله کلمہ کفر صادر ہوجانا محتمل سہی مگراسے مظنون ٹھہرالینا سوئے ظن ہے اور بے حصول ظن حکم ضرورت نہیں کما لایخفی والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶ : ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دختر زید بعمر سترہ۱۷ سال وپسر عمرو بعمر تئیس۲۳ سال ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی عزیزی حکم اعلام کلمھا وصفت ایمان مجمل ومفصل بروز عقد نکاح مجتبائی دہلی ۲ / ۱۲۶
مستدرك للحاکم کتاب الایمان الامر بسؤال تجدید الایمان دارالفکر بیروت ۱ / ۴
مسند احمد بن حنبل مروی از ابی ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۵۹
مستدرك للحاکم کتاب الایمان الامر بسؤال تجدید الایمان دارالفکر بیروت ۱ / ۴
مسند احمد بن حنبل مروی از ابی ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۵۹
مانع شرعی موجودنہیں پسر کاولی واسطے نکاح کے چار ماہ کی مہلت چاہتا ہے اگر مہلت دی جائے تو شرعا گنہگاری ہے یا نہیںـــ بینوا توجروا۔
الجواب :
کوئی گناہ نہیں جبکہ کوئی اندیشہ صحیح نہ ہو۔ اوراگر معاذالله اندیشہ ہے اور دوسرا کفو موجود ہے تو مہلت نہ دینا چاہئے ا گر نہ مانے اس دوسرے سے نکاح کردیں جبکہ دختر رضامند ہو۔
لحدیث یا علی لاتؤخرثلثا الصلوۃ اذا حانت والجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس حدیث کی بنا پر جس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نما زمیں جب وقت ہوجائے جنازہ میں جب حاضر ہو اور غیرشادی شدہ لڑکی میں جب اس کا کفو ملے۔ یا جیسے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۷ : ا ز ریاست رام پور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ ۲۰ محرم ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس طور پرنکاح کیا کہ دو گواہوں اور ایك وکیل نے ہندہ کے پاس جاکر یہ کہا کہ بکر کے بیٹے زید نے ایك ہزار روپے کے بدلے میں تم کو اپنی زوجیت میں طلب کیا ہے یعنی خواستگاری کی ہے تم بھی ا س کو اپنی شوہریت میں قبول کرو اور مجھ کو وکیل قرار دو تو ہندہ مذکورہ نے فقط لفظ “ قبول “ کہا (اور اس لفظ قبول کو اس ملك کے عوام وخواص قائم مقام ایجاب کے بنا بر عرف کے سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں) پھر اس طرح تینوں شخص زید کے پاس گئے اور وکیل نے زید سے جاکر کہا کہ تم نے خالد کی بیٹی ہندہ کو مہر مذکور پر قبول کیا تو زید نے صرف لفظ “ قبول “ کہا (اور اس قبول کو یہاں کے باشندے بمنزل قبول نکاح کے تصور کرتے ہیں اورہزاروں نکاح اس طور سے ہوگئے اور ہوتے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے کیونکہ یہ طور یہاں کا رسم ورواج قرار پایا ہے) اب اس صورت میں فقط لفظ “ قبول “ سے نکاح صحیح ہوگا یا نہیں بعضے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نکاح صحیح ہوجائے گا کیونکہ عاقل وبالغ کا کلام لغو کرنا نہ چاہئے ورنہ ہزاروں آدمی حرام زادہ قرار پائیں گے مسلمان کو زنا سے شرعا بچانا چاہئے اور عرف اور رواج
الجواب :
کوئی گناہ نہیں جبکہ کوئی اندیشہ صحیح نہ ہو۔ اوراگر معاذالله اندیشہ ہے اور دوسرا کفو موجود ہے تو مہلت نہ دینا چاہئے ا گر نہ مانے اس دوسرے سے نکاح کردیں جبکہ دختر رضامند ہو۔
لحدیث یا علی لاتؤخرثلثا الصلوۃ اذا حانت والجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس حدیث کی بنا پر جس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نما زمیں جب وقت ہوجائے جنازہ میں جب حاضر ہو اور غیرشادی شدہ لڑکی میں جب اس کا کفو ملے۔ یا جیسے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۷ : ا ز ریاست رام پور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ ۲۰ محرم ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس طور پرنکاح کیا کہ دو گواہوں اور ایك وکیل نے ہندہ کے پاس جاکر یہ کہا کہ بکر کے بیٹے زید نے ایك ہزار روپے کے بدلے میں تم کو اپنی زوجیت میں طلب کیا ہے یعنی خواستگاری کی ہے تم بھی ا س کو اپنی شوہریت میں قبول کرو اور مجھ کو وکیل قرار دو تو ہندہ مذکورہ نے فقط لفظ “ قبول “ کہا (اور اس لفظ قبول کو اس ملك کے عوام وخواص قائم مقام ایجاب کے بنا بر عرف کے سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں) پھر اس طرح تینوں شخص زید کے پاس گئے اور وکیل نے زید سے جاکر کہا کہ تم نے خالد کی بیٹی ہندہ کو مہر مذکور پر قبول کیا تو زید نے صرف لفظ “ قبول “ کہا (اور اس قبول کو یہاں کے باشندے بمنزل قبول نکاح کے تصور کرتے ہیں اورہزاروں نکاح اس طور سے ہوگئے اور ہوتے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے کیونکہ یہ طور یہاں کا رسم ورواج قرار پایا ہے) اب اس صورت میں فقط لفظ “ قبول “ سے نکاح صحیح ہوگا یا نہیں بعضے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نکاح صحیح ہوجائے گا کیونکہ عاقل وبالغ کا کلام لغو کرنا نہ چاہئے ورنہ ہزاروں آدمی حرام زادہ قرار پائیں گے مسلمان کو زنا سے شرعا بچانا چاہئے اور عرف اور رواج
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۵۲ ، سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب اعتبار الکفاءۃ دارصادر بیروت ۷ / ۱۳۳
بھی ادلہ شرعیہ سے ایك دلیل ہے تو موافق عرف کے نکاح کو صحیح قرار دینا چاہئے اوربعضے علماء کہتے ہیں کہ لفظ “ قبول “ سے نکاح صحیح نہیں ہوتا ہے کیونکہ لفظ “ قبول “ مصدر ہے اورمصدر سے نکاح درست نہیں ہوتا اب متنازعہ فیہ میں حکم شرع شریف جوارشاد ہو عوام بیچارے نہ مصدر کو جانیں نہ ماضی کو وہ تو اپنے عرف ورواج جانتے ہیں اسی کے پیرو وتابعدارہیں ان کی اصلاح کس طور پر ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں صحت نکاح میں شبہہ نہیں جب ہندہ نے بعد سوال توکیل لفظ “ قبول “ کہا یہ ایجاب توکیل ہوا اور وہ شخص وکیل ماذون ہوگیا۔
فان التوکیل یتم بمجرد الایجاب ولایتوقف علی القبول وان کان یرتد بالرد کما فی الاشباہ والہندیہ وغیرھما وھھنا وان امکن ان یجعل قول الوکیل تقبلیہ فی زوجیتك ایجاب فضولی بناء علی ماصرح فی الخانیۃ والخلاصۃ ان الامر فی النکاح ای جاب قال فی الفتح وھذا احسن وح یکون قول المرأۃ “ قبول “ قبولا وینعقد النکاح موقوفا علی اجازۃ الرجل فاذا خاطبہ الوکیل وقال قبول یکون تنفیذ ا لکنہ خلاف ماقصدوہ فان صنیعھم شاھدانھم لم یجعلوا مجلس المخاطبۃ مع المخطوبۃ مجلس عقد بل استئذان فیکون طلبا للوکالۃ وقولھا قبول توکیلا۔
وکیل بنانے کے لیے صرف ایجاب کافی ہے اور قبول کرنے پر موقوف نہیں اگرچہ ایجاب کو رد کردینے پر وکالت رد ہو جائیگی جیسا کہ اشباہ اورہندیہ وغیرہ میں ہے۔ اوریہاں اس مسئلہ میں اگرچہ وکیل کا لڑکی کو یہ کہنا کہ “ تو بھی لڑکے کو اپنا خاوند ہوناقبول کرلے “ فضولی کی طرف سے ایجاب قرار دیا جاسکتاہے وہ خانیہ اور خلاصہ کی اس تصریح کی بناپر کہ “ نکاح میں درخواست “ ایجاب ہوجاتاہے جس کے متعلق فتح میں کہا گیا کہ یہ قول بہت اچھاہے تو فضولی کے جواب میں لڑکی کا “ قبول “ کہنا نکاح کو قبول کرنا قراردیا جائے گا جس سے نکاح منعقد ہوجائے اور لڑکے کی اجازت پر موقوف قرار پائے اور جب نکاح کرانے والا شخص (فضولی) لڑکے کو پیشکش کرے اور لڑکا قبول کرلے تونکاح نافذ ہوجائے۔ لیکن یہاں مجلس والوں کا مقصد یہ نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد صرف لڑکی سے اجاز ت طلب کرنا ہے اور اس مجلس میں وکالت کرنا اور لڑکی کا “ قبول “ کہنا صرف توکیل ہوگی۔ (ت)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں صحت نکاح میں شبہہ نہیں جب ہندہ نے بعد سوال توکیل لفظ “ قبول “ کہا یہ ایجاب توکیل ہوا اور وہ شخص وکیل ماذون ہوگیا۔
فان التوکیل یتم بمجرد الایجاب ولایتوقف علی القبول وان کان یرتد بالرد کما فی الاشباہ والہندیہ وغیرھما وھھنا وان امکن ان یجعل قول الوکیل تقبلیہ فی زوجیتك ایجاب فضولی بناء علی ماصرح فی الخانیۃ والخلاصۃ ان الامر فی النکاح ای جاب قال فی الفتح وھذا احسن وح یکون قول المرأۃ “ قبول “ قبولا وینعقد النکاح موقوفا علی اجازۃ الرجل فاذا خاطبہ الوکیل وقال قبول یکون تنفیذ ا لکنہ خلاف ماقصدوہ فان صنیعھم شاھدانھم لم یجعلوا مجلس المخاطبۃ مع المخطوبۃ مجلس عقد بل استئذان فیکون طلبا للوکالۃ وقولھا قبول توکیلا۔
وکیل بنانے کے لیے صرف ایجاب کافی ہے اور قبول کرنے پر موقوف نہیں اگرچہ ایجاب کو رد کردینے پر وکالت رد ہو جائیگی جیسا کہ اشباہ اورہندیہ وغیرہ میں ہے۔ اوریہاں اس مسئلہ میں اگرچہ وکیل کا لڑکی کو یہ کہنا کہ “ تو بھی لڑکے کو اپنا خاوند ہوناقبول کرلے “ فضولی کی طرف سے ایجاب قرار دیا جاسکتاہے وہ خانیہ اور خلاصہ کی اس تصریح کی بناپر کہ “ نکاح میں درخواست “ ایجاب ہوجاتاہے جس کے متعلق فتح میں کہا گیا کہ یہ قول بہت اچھاہے تو فضولی کے جواب میں لڑکی کا “ قبول “ کہنا نکاح کو قبول کرنا قراردیا جائے گا جس سے نکاح منعقد ہوجائے اور لڑکے کی اجازت پر موقوف قرار پائے اور جب نکاح کرانے والا شخص (فضولی) لڑکے کو پیشکش کرے اور لڑکا قبول کرلے تونکاح نافذ ہوجائے۔ لیکن یہاں مجلس والوں کا مقصد یہ نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد صرف لڑکی سے اجاز ت طلب کرنا ہے اور اس مجلس میں وکالت کرنا اور لڑکی کا “ قبول “ کہنا صرف توکیل ہوگی۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح الفصل الاول نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
فتح القدیر کتاب النکاح نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۴
فتح القدیر کتاب النکاح نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۴
اب کہ وکیل نے خاطب سے آکر وہ لفظ کہے یہ جانب وکیل سے ایجاب ہوا
فانہ استفھام وان کان حرفہ مقد را والا ستفہام عند ارادۃ التحقیق یؤدی مودی الامر کما حققناہ فی فتاونا والامر کما سمعت ایجاب فی النکاح ولانعدل عن ھذا القول المرجح الی قول انہ توکیل لان الوکیل لایملك التوکیل فلا ینفذ العقد وفیہ تضییق واﷲ یحب الرفق۔
تو حقیقتا یہ استفہام ہے اگرچہ صرف استفہام پوشیدہ ہے اور استفہام مقام تحقیق وانعقاد میں امر کا معنی دیتا ہے جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں تحقیق کی ہے اور نکاح میں امر ایجاب قرارپاتا ہے اس ترجیح یافتہ قول کو چھوڑکر ہم اس کو توکیل نہ بنائیں گے کیونکہ عورت کا وکیل کسی دوسرے کو وکیل نہیں بناسکتا جس کی بناپر عقد نافذنہ ہوگا جبکہ اس میں تنگی ہے اور الله تعالی تو نرمی اور وسعت کوپسند فرماتا ہے۔ (ت)
اور زو ج کا “ قبول “ کہنا قبول ہوا اور نکاح صحیح وتام نافذ ہوگیا اور یہ اعتراض کہ قبول مصدر ہے اورمصدر سے نکاح درست نہیں راسا ساقط ہے کہ یہ لفظ اس سوال وکیل کے جواب میں ہے کہ تم نے ہندہ کو قبول کیا اور عقل ونقل کا قاعدہ اجماعیہ ہے کہ :
السؤال معاد فی الجواب کما صرح بہ فی الاشباہ وغیر ھما کتاب۔
جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہوتا ہے جیساکہ اشباہ وغیرہ بہت سی کتب میں تصریح ہے۔ (ت)
توجواب میں صرف لفظ “ قبول “ کے قطعا یہی معنی ہیں کہ “ قبول کیا “ اوریہ ماضی ہے اور ماضی سے نکاح یقینا درست ہے کما صرحوا بہ متونا وشروحا وفتاوی (جیسا کہ متون شروح اور فتاوی میں تصریح ہے۔ ت) معہذا یہاں اصل کار وہ الفاظ ہیں جو رضا بالا نشاپر بے احتمال مساوی دلیل ہوں اور شك نہیں کہ لفظ “ قبول “ صراحۃ اس پر دال ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں اگر عورت سے کہا اپنے نفس کومیری زوجیت میں دے اس نے کہا بالسمع والطاعۃ نکاح ہوگیا۔
کما فی النوازل والخلاصۃ والبزازیۃ والبحر والدر والمحیط والھندیۃ وغیرھا من الاسفار الغر۔
جیسا کہ نوازل خلاصہ بزازیہ بحر در محیط ہندیہ وغیرہا مشہور کتب میں ہے۔ (ت)
سمع وطاعت بھی مصدر ہی ہیں اورمناط صحت وہی تقدیر ماضی ہے یا اعتبار تراضی وہ دونوں
فانہ استفھام وان کان حرفہ مقد را والا ستفہام عند ارادۃ التحقیق یؤدی مودی الامر کما حققناہ فی فتاونا والامر کما سمعت ایجاب فی النکاح ولانعدل عن ھذا القول المرجح الی قول انہ توکیل لان الوکیل لایملك التوکیل فلا ینفذ العقد وفیہ تضییق واﷲ یحب الرفق۔
تو حقیقتا یہ استفہام ہے اگرچہ صرف استفہام پوشیدہ ہے اور استفہام مقام تحقیق وانعقاد میں امر کا معنی دیتا ہے جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں تحقیق کی ہے اور نکاح میں امر ایجاب قرارپاتا ہے اس ترجیح یافتہ قول کو چھوڑکر ہم اس کو توکیل نہ بنائیں گے کیونکہ عورت کا وکیل کسی دوسرے کو وکیل نہیں بناسکتا جس کی بناپر عقد نافذنہ ہوگا جبکہ اس میں تنگی ہے اور الله تعالی تو نرمی اور وسعت کوپسند فرماتا ہے۔ (ت)
اور زو ج کا “ قبول “ کہنا قبول ہوا اور نکاح صحیح وتام نافذ ہوگیا اور یہ اعتراض کہ قبول مصدر ہے اورمصدر سے نکاح درست نہیں راسا ساقط ہے کہ یہ لفظ اس سوال وکیل کے جواب میں ہے کہ تم نے ہندہ کو قبول کیا اور عقل ونقل کا قاعدہ اجماعیہ ہے کہ :
السؤال معاد فی الجواب کما صرح بہ فی الاشباہ وغیر ھما کتاب۔
جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہوتا ہے جیساکہ اشباہ وغیرہ بہت سی کتب میں تصریح ہے۔ (ت)
توجواب میں صرف لفظ “ قبول “ کے قطعا یہی معنی ہیں کہ “ قبول کیا “ اوریہ ماضی ہے اور ماضی سے نکاح یقینا درست ہے کما صرحوا بہ متونا وشروحا وفتاوی (جیسا کہ متون شروح اور فتاوی میں تصریح ہے۔ ت) معہذا یہاں اصل کار وہ الفاظ ہیں جو رضا بالا نشاپر بے احتمال مساوی دلیل ہوں اور شك نہیں کہ لفظ “ قبول “ صراحۃ اس پر دال ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں اگر عورت سے کہا اپنے نفس کومیری زوجیت میں دے اس نے کہا بالسمع والطاعۃ نکاح ہوگیا۔
کما فی النوازل والخلاصۃ والبزازیۃ والبحر والدر والمحیط والھندیۃ وغیرھا من الاسفار الغر۔
جیسا کہ نوازل خلاصہ بزازیہ بحر در محیط ہندیہ وغیرہا مشہور کتب میں ہے۔ (ت)
سمع وطاعت بھی مصدر ہی ہیں اورمناط صحت وہی تقدیر ماضی ہے یا اعتبار تراضی وہ دونوں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الحادیۃ عشرۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۱۷۳
یہاں حاصل تو حکم عدم نکاح محض باطل فتح القدیر میں ہے :
لما علمنا ان الملاحظۃ جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مساوللطرف الاخر الخ۔
جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ نکاح کے انعقاد اورا س کے حکم کے لزوم میں شرعا رضا کے پہلو کا اعتبار ہے تو ہم نے اس حکم کو ہر ایسے لفظ میں معتبر قرار دیا جوا س چیز کا احتمال رکھتاہو اورا س کے مخالف پہلوکا ا س میں مساویانہ احتمال نہ ہو الخ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ اوبالسمع والطاعۃ متعلق بمحذوف دل علیہ المذکورای زوجت اوقبلت متلبسا بالسمع والطاعۃ لامرك یحصل السمع والطاعۃ لامرہ الابتقدیر الجواب ماضیا مرادا بہ الانشاء لیتم شرط العقد بکون احدھما للمضی ۔
ماتن کا قول “ اوبالسمع والطاعۃ “ کا متعلق محذوف ہے جس پر مذکور دال ہے یعنی میں نے نکاح کیا یاقبول کیا آپ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور حکم کی اطاعت مقدر طور پر ماضی کے صیغہ کے ساتھ جواب کے بغیر نہیں ہوسکتی جبکہ ماضی سے انشاء مراد ہوگی تاکہ نکاح کی شرط یعنی ایجاب وقبول میں سے ایك کا صیغہ ہونا تام ہوجائے۔ (ت)
بحرالرائق میں زیر قول کنز : انما یصح بلفظ النکاح والتزویج وما وضع لتملیك العین فی الحال ( “ نکاح تزویج اورتملیك عین فی الحال کے لیے موضوع الفاظ سے عقد ہوجاتا ہے۔ “ ت)فرمایا :
یرد علی المصنف الفاظ ینعقد بھا النکاح غیر الثلثۃ (وعد اشیاء کثیرۃ الی ان قال) ومنھا بالسمع والطاعۃ لوقال زوجی نفسك منی فقالت بالسمع والطاعۃ فھو نکاح کمافی الخلاصۃ
مصنف پر اعتراض ہے کہ ان مذکورہ الفاظ ثلثہ کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے وہاں انھوں نے بہت سے امور ذکر کیے جن میں سے سمع وطاعت بھی ذکر کرکے فرمایا کہ اگر کسی مرد نے کسی عورت کو کہا کہ تواپنے نفس کو مجھے بیاہ دے تو عورت نے جواب میں “ بالسمع والطاعۃ “ کہہ دیا تو نکاح
لما علمنا ان الملاحظۃ جہۃ الشرع فی ثبوت الانعقاد ولزوم حکمہ جانب الرضی عدینا حکمہ الی کل لفظ یفید ذلك بلا احتمال مساوللطرف الاخر الخ۔
جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ نکاح کے انعقاد اورا س کے حکم کے لزوم میں شرعا رضا کے پہلو کا اعتبار ہے تو ہم نے اس حکم کو ہر ایسے لفظ میں معتبر قرار دیا جوا س چیز کا احتمال رکھتاہو اورا س کے مخالف پہلوکا ا س میں مساویانہ احتمال نہ ہو الخ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ اوبالسمع والطاعۃ متعلق بمحذوف دل علیہ المذکورای زوجت اوقبلت متلبسا بالسمع والطاعۃ لامرك یحصل السمع والطاعۃ لامرہ الابتقدیر الجواب ماضیا مرادا بہ الانشاء لیتم شرط العقد بکون احدھما للمضی ۔
ماتن کا قول “ اوبالسمع والطاعۃ “ کا متعلق محذوف ہے جس پر مذکور دال ہے یعنی میں نے نکاح کیا یاقبول کیا آپ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور حکم کی اطاعت مقدر طور پر ماضی کے صیغہ کے ساتھ جواب کے بغیر نہیں ہوسکتی جبکہ ماضی سے انشاء مراد ہوگی تاکہ نکاح کی شرط یعنی ایجاب وقبول میں سے ایك کا صیغہ ہونا تام ہوجائے۔ (ت)
بحرالرائق میں زیر قول کنز : انما یصح بلفظ النکاح والتزویج وما وضع لتملیك العین فی الحال ( “ نکاح تزویج اورتملیك عین فی الحال کے لیے موضوع الفاظ سے عقد ہوجاتا ہے۔ “ ت)فرمایا :
یرد علی المصنف الفاظ ینعقد بھا النکاح غیر الثلثۃ (وعد اشیاء کثیرۃ الی ان قال) ومنھا بالسمع والطاعۃ لوقال زوجی نفسك منی فقالت بالسمع والطاعۃ فھو نکاح کمافی الخلاصۃ
مصنف پر اعتراض ہے کہ ان مذکورہ الفاظ ثلثہ کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے وہاں انھوں نے بہت سے امور ذکر کیے جن میں سے سمع وطاعت بھی ذکر کرکے فرمایا کہ اگر کسی مرد نے کسی عورت کو کہا کہ تواپنے نفس کو مجھے بیاہ دے تو عورت نے جواب میں “ بالسمع والطاعۃ “ کہہ دیا تو نکاح
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب النکاح نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۳
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۳
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۶۳
ومنھا مافی الذخیرۃ لو قال یثبت حقی فی منافع بضعك بالف فقالت نعم صح النکاح اھ والجواب ان العبرۃ فی العقود للمعانی حتی فی النکاح کما صرحوا بہ وھذہ الالفاظ تؤدی معنی النکاح ۔
ہوجائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ہے ان الفاظ سے وہ بھی ہے جو ذخیرہ میں مذکور ہے کہ اگر مرد نے عورت کو کہا کہ ہزار کے بدلے تجھ سے جماع کا حق میرے لیے ثابت ہے تو عورت نے جواب میں کہا کہ “ ہاں “ تو نکاح صحیح ثابت ہوگا اھ تو جواب یہ ہے کہ عقود میں حتی کہ نکاح میں معانی کا اعتبار ہوتا ہے جیساکہ فقہاء نے تصریح کی ہے جبکہ یہ مذکورہ الفاظ نکاح کا معنی اداکررہے ہیں۔ ت) والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ دونوں شخص چند شخصوں کے روبرو اس کے مقر ہوں کہ ہمارا نکاح آپس میں ہوگیا یا زید علیحدہ ایك وقت میں چند اشخاص کے روبروفردا فردا یہ ظاہر کریں کہ ہمارانکاح آپس میں ہوگیا ہے اور پھر خط وکتابت میں ہندہ زیدکو وہی القاب آداب جو بی بی خاوند کو لکھتی ہے استعمال کرے تو کیا سمجھا جائے گا اور شرعا کیا حکم دیا جائے گا
الجواب :
تصادق مرد وزن کہ مرد کہے یہ میری منکوحہ ہے عورت کہے یہ میر اشوہر ہے عند الناس مثبت نکاح ہے مگر اگر غلط اقرار کیا ہو تو عندالله ہر گز نفع نہ دے گا وہ زانی وزانیہ ہوں گے اور سخت عذاب جہنم کے مستحق اور اولاد ولد الزنا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ : ۱ ذی قعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك عورت سے اس شرط پرنکاح کیا کہ میں تجھ کو بعد تین چار ماہ کے طلاق دوں گا آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح جائز ہے اور طلاق دینا اس پر لازم نہیں فان النکاح لایبطل بالشروط الفاسدۃ بل ھی التی تبطل (شرائط فاسدہ سے نکاح باطل نہیں ہوتا بلکہ شرائط خود باطل قرار پاتی ہیں ت) والله تعالی اعلم
ہوجائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ہے ان الفاظ سے وہ بھی ہے جو ذخیرہ میں مذکور ہے کہ اگر مرد نے عورت کو کہا کہ ہزار کے بدلے تجھ سے جماع کا حق میرے لیے ثابت ہے تو عورت نے جواب میں کہا کہ “ ہاں “ تو نکاح صحیح ثابت ہوگا اھ تو جواب یہ ہے کہ عقود میں حتی کہ نکاح میں معانی کا اعتبار ہوتا ہے جیساکہ فقہاء نے تصریح کی ہے جبکہ یہ مذکورہ الفاظ نکاح کا معنی اداکررہے ہیں۔ ت) والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸ : ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ دونوں شخص چند شخصوں کے روبرو اس کے مقر ہوں کہ ہمارا نکاح آپس میں ہوگیا یا زید علیحدہ ایك وقت میں چند اشخاص کے روبروفردا فردا یہ ظاہر کریں کہ ہمارانکاح آپس میں ہوگیا ہے اور پھر خط وکتابت میں ہندہ زیدکو وہی القاب آداب جو بی بی خاوند کو لکھتی ہے استعمال کرے تو کیا سمجھا جائے گا اور شرعا کیا حکم دیا جائے گا
الجواب :
تصادق مرد وزن کہ مرد کہے یہ میری منکوحہ ہے عورت کہے یہ میر اشوہر ہے عند الناس مثبت نکاح ہے مگر اگر غلط اقرار کیا ہو تو عندالله ہر گز نفع نہ دے گا وہ زانی وزانیہ ہوں گے اور سخت عذاب جہنم کے مستحق اور اولاد ولد الزنا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ : ۱ ذی قعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك عورت سے اس شرط پرنکاح کیا کہ میں تجھ کو بعد تین چار ماہ کے طلاق دوں گا آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح جائز ہے اور طلاق دینا اس پر لازم نہیں فان النکاح لایبطل بالشروط الفاسدۃ بل ھی التی تبطل (شرائط فاسدہ سے نکاح باطل نہیں ہوتا بلکہ شرائط خود باطل قرار پاتی ہیں ت) والله تعالی اعلم
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۸۷
مسئلہ ۳۰ : ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۱۸ھ
حال یہ ہے کہ حامد اور محمودہ دونوں میں ایسارشتہ تھا کہ محمودہ اس کے سامنے آسکتی تھی اور یہ دونوں ایك مدت تك صغر سنی میں ایك ہی جگہ رہتے سہتے تھے۔ ۱۸۹۷ء میں حامد کی بیوی کا انتقال ہوگیا اوربرضا مندی فریقین (یعنی حامداور محمودہ) کے والدین کی نسبت محمودہ سے ہوگئی اورمراسم نسبت ادا ہونے کے بعد ایك تاریخ نکاح مقرر ہوگئی لیکن اس تاریخ مقررہ پر حامد کو کہ وہ گورنمنٹ کا ملازم تھا اتفاق سے رخصت نہ ملی اور تاریخ مقررہ پر نکاح نہ ہوسکا اس کے بعد کچھ جھگڑے ایسے درپیش ہوگئے کہ دوسری تاریخ مقرر ہونے سے پہلے حامداپنی ملازمت سے علیحدہ ہوا اس کے بعد جب حامد کے والدین نے تاریخ مقرر کرنا چاہی تو محمودہ کے والدین نے یہ عذر پیش کیاکہ حامد اب بے نوکر ہے اس لیے ہم نکاح نہیں کرناچاہتے۔ حامد اور محمودہ دونوں بالغ ہیں محمودہ تاریخ نسبت سے حامد سے پردہ کرتی ہے جب یہ حال محمودہ کومعلوم ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں دوسرے امیر گھر جانا پسند نہ کروں گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجس سے نسبت ہوئی اس سے نکاح ہو جانا چاہئے محمودہ کے باپ واقعی امیرکبیر ہیں اور حامد ایك معمولی حیثیت کا آدمی ہے محمودہ کے باپ یہ کوشش کرتے ہیں کہ محمودہ کا کسی امیر اور مالدار سے نکاح کردیں اور محمودہ کی رضامندی پر کوئی توجہ نہ کی جائے اس لیے محمودہ یہ چاہتی ہے کہ قبل اس کے کہ یہ جبر اس پر کیا جائے وہ حامدکے ساتھ اپنا نکاح کرلے مگرا س نکاح کا حال اس کے والدین کو نہ معلوم ہوا ور حامد بھی یہی چاہتا ہے توعلمائے دین محمدی سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ محض اگر گواہان اور وکیل کی موجودگی اور علم میں قاضی صاحب نکاح پڑھا دیں اور ازروئے شریعت ایجاب وقبول کا اطمینان کرلیں تو یہ نکاح خفیہ جائزہے اور کسی طرح ناقص تو نہیںـ فقط۔
الجواب :
بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویفتی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان
درمختا رمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونےکا فتوی ہے کہ فساد زمان کی وجہ سے نکاح منعقد ہی نہ ہوگا۔ (ت)
حال یہ ہے کہ حامد اور محمودہ دونوں میں ایسارشتہ تھا کہ محمودہ اس کے سامنے آسکتی تھی اور یہ دونوں ایك مدت تك صغر سنی میں ایك ہی جگہ رہتے سہتے تھے۔ ۱۸۹۷ء میں حامد کی بیوی کا انتقال ہوگیا اوربرضا مندی فریقین (یعنی حامداور محمودہ) کے والدین کی نسبت محمودہ سے ہوگئی اورمراسم نسبت ادا ہونے کے بعد ایك تاریخ نکاح مقرر ہوگئی لیکن اس تاریخ مقررہ پر حامد کو کہ وہ گورنمنٹ کا ملازم تھا اتفاق سے رخصت نہ ملی اور تاریخ مقررہ پر نکاح نہ ہوسکا اس کے بعد کچھ جھگڑے ایسے درپیش ہوگئے کہ دوسری تاریخ مقرر ہونے سے پہلے حامداپنی ملازمت سے علیحدہ ہوا اس کے بعد جب حامد کے والدین نے تاریخ مقرر کرنا چاہی تو محمودہ کے والدین نے یہ عذر پیش کیاکہ حامد اب بے نوکر ہے اس لیے ہم نکاح نہیں کرناچاہتے۔ حامد اور محمودہ دونوں بالغ ہیں محمودہ تاریخ نسبت سے حامد سے پردہ کرتی ہے جب یہ حال محمودہ کومعلوم ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں دوسرے امیر گھر جانا پسند نہ کروں گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجس سے نسبت ہوئی اس سے نکاح ہو جانا چاہئے محمودہ کے باپ واقعی امیرکبیر ہیں اور حامد ایك معمولی حیثیت کا آدمی ہے محمودہ کے باپ یہ کوشش کرتے ہیں کہ محمودہ کا کسی امیر اور مالدار سے نکاح کردیں اور محمودہ کی رضامندی پر کوئی توجہ نہ کی جائے اس لیے محمودہ یہ چاہتی ہے کہ قبل اس کے کہ یہ جبر اس پر کیا جائے وہ حامدکے ساتھ اپنا نکاح کرلے مگرا س نکاح کا حال اس کے والدین کو نہ معلوم ہوا ور حامد بھی یہی چاہتا ہے توعلمائے دین محمدی سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ محض اگر گواہان اور وکیل کی موجودگی اور علم میں قاضی صاحب نکاح پڑھا دیں اور ازروئے شریعت ایجاب وقبول کا اطمینان کرلیں تو یہ نکاح خفیہ جائزہے اور کسی طرح ناقص تو نہیںـ فقط۔
الجواب :
بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا
فی الدرالمختار ویفتی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان
درمختا رمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونےکا فتوی ہے کہ فساد زمان کی وجہ سے نکاح منعقد ہی نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الو لی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
مال میں کفاءت کو صر ف اس قدر کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیـہ کے قابل کفایت روزانہ دے سکے اور پیشہ ورنہیں تو ایك مہینہ کا نفقہ دے سکے اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے۔
فی الدرالمختار تعتبر الکفاءۃ فی العرب والعجم ما لابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شہر لوغیر محترف و الا فان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ مال کے اعتبار سے عرب وعجم میں کفو کا اعتبار بایں طورہے کہ مہر معجل دینے اور ایك روزانہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو جبکہ غیر کا روباری ہو ورنہ روزانہ کا خرچہ دینے پر قدرت رکھتاہو بشرطیکہ بیوی جماع کی قدرت رکھتی ہو ملخصا (ت)
پس اگر حامد اس قدر مال رکھتا ہو اورمذہب ونسب وحرفت وروش میں بھی محمودہ سے ویسا کم نہیں کہ اس سے نکاح باعث عار پدر محمودہ ہو جیساکہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے کہ باپ پہلے اس سے نکاح پر راضی تھا اب صرف نوکری نہ رہنے کا عذر کرتا ہے توا س صورت میں برتقدیر صدق مستفتی دومرد یا ایك مرد دوعورتوں کے سامنے حامد اور محمودہ کے ایجاب وقبول کر لینے سے جائز وصحیح ہوجائے گا۔ نفس نکاح میں نقصان نہ ہوگا ماں باپ کو ناراض کرنے کا وبال محمودہ پر ہو تو جدا ا مر ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱ : ضلع پشاور تحصیل صوابی ڈاکخانہ یار حسین موضع یعقوبی سید عیدشاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی والدہ اور ہمشیرہ عمر و کے مکان پر بطور مہمان داری کے آئیں وسوئی تھیں عمرو نے زید کی والدہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بیٹی تم کو دی ہے جس سے اس کا منشا یہ تھا کہ زید سے اس لڑکی کانکاح کریں گے زید کی والدہ نے اس کے جواب میں عمرو کو دعائیں دیں اور قبول زبان سے نہیں کیا بعدکو زید نے ایك چھوٹا سازیور بطور نشانی کے بنا کر عمرو کی بیٹی کے واسطے بھیجا اور جس وقت عمرو نے اپنی بیٹی کا تذکرہ زید کی والدہ سے کیا اس وقت زید کی والدہ اور ہمشیرہ اور عمروکی بیوی تھی یہ تین عورتیں موجود تھیں اور سوائے عمرو کے اورکوئی مرد گھرمیں موجود نہیں تھا نہ اس ایجاب کا قبول صراحۃ ہو ا نہ ذکر مہر ہوا اورنہ گواہ موجود تھے پھر عمرو کے انتقال کے بعد عمرو کے لڑکے نے اس نابالغہ کا عقد خالد سے کیاا ور ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے لیکن عقد مع گواہ اورذکر مہر کے ہوا ہے توا س صورت میں عقد خالد کا صحیح ہوا یا نہیں اور زید مدعی اس بات کا ہے کہ نکاح مجھ سے صحیح ہے بینوا توجروا۔
فی الدرالمختار تعتبر الکفاءۃ فی العرب والعجم ما لابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شہر لوغیر محترف و الا فان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ مال کے اعتبار سے عرب وعجم میں کفو کا اعتبار بایں طورہے کہ مہر معجل دینے اور ایك روزانہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو جبکہ غیر کا روباری ہو ورنہ روزانہ کا خرچہ دینے پر قدرت رکھتاہو بشرطیکہ بیوی جماع کی قدرت رکھتی ہو ملخصا (ت)
پس اگر حامد اس قدر مال رکھتا ہو اورمذہب ونسب وحرفت وروش میں بھی محمودہ سے ویسا کم نہیں کہ اس سے نکاح باعث عار پدر محمودہ ہو جیساکہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے کہ باپ پہلے اس سے نکاح پر راضی تھا اب صرف نوکری نہ رہنے کا عذر کرتا ہے توا س صورت میں برتقدیر صدق مستفتی دومرد یا ایك مرد دوعورتوں کے سامنے حامد اور محمودہ کے ایجاب وقبول کر لینے سے جائز وصحیح ہوجائے گا۔ نفس نکاح میں نقصان نہ ہوگا ماں باپ کو ناراض کرنے کا وبال محمودہ پر ہو تو جدا ا مر ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱ : ضلع پشاور تحصیل صوابی ڈاکخانہ یار حسین موضع یعقوبی سید عیدشاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی والدہ اور ہمشیرہ عمر و کے مکان پر بطور مہمان داری کے آئیں وسوئی تھیں عمرو نے زید کی والدہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بیٹی تم کو دی ہے جس سے اس کا منشا یہ تھا کہ زید سے اس لڑکی کانکاح کریں گے زید کی والدہ نے اس کے جواب میں عمرو کو دعائیں دیں اور قبول زبان سے نہیں کیا بعدکو زید نے ایك چھوٹا سازیور بطور نشانی کے بنا کر عمرو کی بیٹی کے واسطے بھیجا اور جس وقت عمرو نے اپنی بیٹی کا تذکرہ زید کی والدہ سے کیا اس وقت زید کی والدہ اور ہمشیرہ اور عمروکی بیوی تھی یہ تین عورتیں موجود تھیں اور سوائے عمرو کے اورکوئی مرد گھرمیں موجود نہیں تھا نہ اس ایجاب کا قبول صراحۃ ہو ا نہ ذکر مہر ہوا اورنہ گواہ موجود تھے پھر عمرو کے انتقال کے بعد عمرو کے لڑکے نے اس نابالغہ کا عقد خالد سے کیاا ور ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے لیکن عقد مع گواہ اورذکر مہر کے ہوا ہے توا س صورت میں عقد خالد کا صحیح ہوا یا نہیں اور زید مدعی اس بات کا ہے کہ نکاح مجھ سے صحیح ہے بینوا توجروا۔
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
الجواب :
زید کا دعوی محض غلط ہے اس سے نکاح ہر گز صحیح نہ ہوا
وان فرض ان کلام عمر و مع ام زید کان ایجابا وان دعاء ھا لہ قام مقام القبول لدلالۃ الرضا وان بعثہ حلیا للعرس کانہ اجازتہ لعقد الفضولی فعلی فرض کل ذلك لاوجہ للصحۃ فی الوجہ المذکور لعدم شاھد من الذکور۔
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ عمرو کی والدہ سے بات کرنا ایجاب ہے اور والدہ مذکورہ کا عمرو کو دعائیں د ینا قبول کے قائم مقام ہے کہ یہ اظہار رضا مندی ہے اور پھر زید کا زیور بھیجنا زید کی طرف سے فضولی کے عقد کی اجازت ہے بایں ہمہ مذکورہ صورت میں نکاح صحیح نہیں ہے کیونکہ اس عقد کا کوئی مردگواہ نہیں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شرطہ حضور شاھدین حرین اوحرو حرتین مکلفین ۔
نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اورحر مجلس میں حاضر ہوں (ت)
بحرالرائق میں ہے :
فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصیبان ۔
غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
خالد کا عقد صحیح ہوا۔
لان الا قدام علیہ فسخ للفاسدان قلنا بالفرق بینہ وبین الباطل فی النکاح کما ھو قضیۃ فروع جمۃ۔
ا س لیے کہ ا س کا یہ اقدام فاسدنکاح کے لیے فسخ قرار پایا ہے جب ہم نکاح میں فاسد وباطل کے فرق کا قول کریں جیساکہ تمام فروع کا معاملہ ہے (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲ : مسئولہ مولوی سید ظہور احمد صاحب از بیتھو شریف ضلع گیا ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
ایك شخص کانکاح بحضور دو شخص کے عورت کی اجازت سے ہوا اور دونوں شخص چپ رہے توایسی صورت میں نکاح درست ہوا یا نہیںـ اور وکیل بالنکاح ایك شخص ثالث ہے اور وہ شخصین ناکح کوجانتے ہیں
زید کا دعوی محض غلط ہے اس سے نکاح ہر گز صحیح نہ ہوا
وان فرض ان کلام عمر و مع ام زید کان ایجابا وان دعاء ھا لہ قام مقام القبول لدلالۃ الرضا وان بعثہ حلیا للعرس کانہ اجازتہ لعقد الفضولی فعلی فرض کل ذلك لاوجہ للصحۃ فی الوجہ المذکور لعدم شاھد من الذکور۔
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ عمرو کی والدہ سے بات کرنا ایجاب ہے اور والدہ مذکورہ کا عمرو کو دعائیں د ینا قبول کے قائم مقام ہے کہ یہ اظہار رضا مندی ہے اور پھر زید کا زیور بھیجنا زید کی طرف سے فضولی کے عقد کی اجازت ہے بایں ہمہ مذکورہ صورت میں نکاح صحیح نہیں ہے کیونکہ اس عقد کا کوئی مردگواہ نہیں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شرطہ حضور شاھدین حرین اوحرو حرتین مکلفین ۔
نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اورحر مجلس میں حاضر ہوں (ت)
بحرالرائق میں ہے :
فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصیبان ۔
غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا۔ (ت)
خالد کا عقد صحیح ہوا۔
لان الا قدام علیہ فسخ للفاسدان قلنا بالفرق بینہ وبین الباطل فی النکاح کما ھو قضیۃ فروع جمۃ۔
ا س لیے کہ ا س کا یہ اقدام فاسدنکاح کے لیے فسخ قرار پایا ہے جب ہم نکاح میں فاسد وباطل کے فرق کا قول کریں جیساکہ تمام فروع کا معاملہ ہے (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲ : مسئولہ مولوی سید ظہور احمد صاحب از بیتھو شریف ضلع گیا ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
ایك شخص کانکاح بحضور دو شخص کے عورت کی اجازت سے ہوا اور دونوں شخص چپ رہے توایسی صورت میں نکاح درست ہوا یا نہیںـ اور وکیل بالنکاح ایك شخص ثالث ہے اور وہ شخصین ناکح کوجانتے ہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
بحرالرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۹
بحرالرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۹
لیکن ناکح نہیں جانتاہے اور عورت نے وکیل بالنکاح کو وہ دوشخص کے سامنے پردہ سے اپنے نکاح کی اجازت دی اور وکیل نے یوں کہاکہ فلاں عورت کو اس قدر مہر پر آپ کودیا نہ نکاح کا لفظ کہا ہو اور نہ زوجیت کا۔
الجواب :
نہ ناکح کا شاہدین کو پہچاننا ضرور نہ شاہدین کا وقت عقد کچھ بولنا ضرور نہ خاص نکاح یاز وجیت ضرور نہ صرف فلاں عورت کہنے میں محذور جبکہ تنہا اسی قدر سے اس کی معرفت ہوجائے شاہدین کا معا لفظین ایجاب وقبول کو سننا اور اتنا سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہاہے اور لفظ نکاح وتزویج ہو نا یا کوئی اور لفظ جوتملیك عین کا فی الحال کے لیے وضع کیا گیا اور شاہدین کے نزدیك عاقدین اعنی زوج وزوجہ کا متمیز ہوجانا خواہ بحضور و رؤیت واشارہ یا بغیبت وتسمیہ مجردہ یا مع نسبت وغیرہ متمیزات میں اس قدر ضرور ہے اور شك نہیں کہ کسی مرد کو اتنے مہر پر عورت کا دیا جانا مفید معنی نکاح ہے توصورت مستفسرہ میں اگر باقی شرائط مذکورہ مجتمع تھے نکاح درست ہوگیا والمسائل کلھا مصرحۃ فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار (ان تمام مسائل کی تصریح درمختار اور دیگر معتمد کتب میں موجود ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۳ : مرسلہ سید ظہور احمد مذکور الصدر ۳۰ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
ناکح کوتین مرتبہ قبول کرناشرط ہے یا ایك بار اور گھبرانے کی وجہ تین بار تین طرح کہا کبھی یہ کہ قبول ہے کبھی میں نے قبول کیا کبھی قبلت ایسی صورت میں نکاح درست ہوا یا نہیں اور یہ بحضور شاہدین ہے اور عورت سے ایجاب درست طور پر ہو ا یا نہیں
الجواب :
نکاح خواہ کسی عقد میں تین بار قبول اصلا ضرورنہیں ایك ہی بار کافی ہے اور تین بار تین طرح الفاظ قبول اداہونا کچھ مضر نہیں ہاں اگر گھبراہٹ میں بجائے قبول بعض الفاظ رد و انکا ر اداہوں تو یہ دیکھا جائے گا کہ پہلے لفظ قبول کہا تھا تو نکاح ہوگیا کہ بعد تمامی عقد رد وانکار مانع انعقاد نہیں اورپہلے لفظ “ انکار “ نکلا تو وہ ایجاب ردہوگیا اب جو اس کے بعد اس نے لفظ “ قبول “ کہا یہ اس کی طرف سے ایجاب ہوا اگر اس مجلس میں ادھر سے لفظ “ قبول “ متحقق ہوا منعقد ہوجائے گا ورنہ باطل ہوجائے گا اور اگر متعدد الفاظ میں لفظ ردکوئی نہیں تھا ہاں ایسے الفاظ تھے کہ قبول نہ ٹھہریں تو وہ خواہ پہلے ہوں یا پیچھے جبکہ مجلس بدلنے سے پہلے ایك لفظ بھی قبول صحیح کا ادا ہوگا نکاح ہوجائے گا لان الفور غیر شرط والمجلس یجمع المتفرق(کیونکہ فورا قبول کرنا شرط نہیں اور مجلس جامع متفرقات ہے۔ ت) او ر ایجاب عورت کی طرف سے ہو یا مر دکی طرف سے دونوں درست ہیں عقودمیں ایجاب وقبول کچھ متعین نہیں عاقدین میں جس کی طرف سے الفاظ
الجواب :
نہ ناکح کا شاہدین کو پہچاننا ضرور نہ شاہدین کا وقت عقد کچھ بولنا ضرور نہ خاص نکاح یاز وجیت ضرور نہ صرف فلاں عورت کہنے میں محذور جبکہ تنہا اسی قدر سے اس کی معرفت ہوجائے شاہدین کا معا لفظین ایجاب وقبول کو سننا اور اتنا سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہاہے اور لفظ نکاح وتزویج ہو نا یا کوئی اور لفظ جوتملیك عین کا فی الحال کے لیے وضع کیا گیا اور شاہدین کے نزدیك عاقدین اعنی زوج وزوجہ کا متمیز ہوجانا خواہ بحضور و رؤیت واشارہ یا بغیبت وتسمیہ مجردہ یا مع نسبت وغیرہ متمیزات میں اس قدر ضرور ہے اور شك نہیں کہ کسی مرد کو اتنے مہر پر عورت کا دیا جانا مفید معنی نکاح ہے توصورت مستفسرہ میں اگر باقی شرائط مذکورہ مجتمع تھے نکاح درست ہوگیا والمسائل کلھا مصرحۃ فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار (ان تمام مسائل کی تصریح درمختار اور دیگر معتمد کتب میں موجود ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۳ : مرسلہ سید ظہور احمد مذکور الصدر ۳۰ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
ناکح کوتین مرتبہ قبول کرناشرط ہے یا ایك بار اور گھبرانے کی وجہ تین بار تین طرح کہا کبھی یہ کہ قبول ہے کبھی میں نے قبول کیا کبھی قبلت ایسی صورت میں نکاح درست ہوا یا نہیں اور یہ بحضور شاہدین ہے اور عورت سے ایجاب درست طور پر ہو ا یا نہیں
الجواب :
نکاح خواہ کسی عقد میں تین بار قبول اصلا ضرورنہیں ایك ہی بار کافی ہے اور تین بار تین طرح الفاظ قبول اداہونا کچھ مضر نہیں ہاں اگر گھبراہٹ میں بجائے قبول بعض الفاظ رد و انکا ر اداہوں تو یہ دیکھا جائے گا کہ پہلے لفظ قبول کہا تھا تو نکاح ہوگیا کہ بعد تمامی عقد رد وانکار مانع انعقاد نہیں اورپہلے لفظ “ انکار “ نکلا تو وہ ایجاب ردہوگیا اب جو اس کے بعد اس نے لفظ “ قبول “ کہا یہ اس کی طرف سے ایجاب ہوا اگر اس مجلس میں ادھر سے لفظ “ قبول “ متحقق ہوا منعقد ہوجائے گا ورنہ باطل ہوجائے گا اور اگر متعدد الفاظ میں لفظ ردکوئی نہیں تھا ہاں ایسے الفاظ تھے کہ قبول نہ ٹھہریں تو وہ خواہ پہلے ہوں یا پیچھے جبکہ مجلس بدلنے سے پہلے ایك لفظ بھی قبول صحیح کا ادا ہوگا نکاح ہوجائے گا لان الفور غیر شرط والمجلس یجمع المتفرق(کیونکہ فورا قبول کرنا شرط نہیں اور مجلس جامع متفرقات ہے۔ ت) او ر ایجاب عورت کی طرف سے ہو یا مر دکی طرف سے دونوں درست ہیں عقودمیں ایجاب وقبول کچھ متعین نہیں عاقدین میں جس کی طرف سے الفاظ
عقد پہلے صادر ہوں گے ان کا نام “ ایجاب “ رکھا جائے گا ان کے جوا ب میں دوسرا جوکہے گا وہ قبول اقرار پائے گا مثلا عورت نے مر دسے کہا “ میں نے تجھے اپنی زوجیت میں قبول کیا “ یہ ایجاب ہوا اگرچہ بلفظ قبول ہے مرد نے اس کے جواب میں کہا “ میں نے تجھے اپنی زوجیت میں لیا “ یہ قبول ہو ااگرچہ بلفظ قبول نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ : از موضع بیتھو ضلع گیا مرسلہ جناب مولوی سید ظہور احمد صاحب ۱ شوال ۱۳۲۴ھ
جناب مولانا صاحب السلام علیک استفتایہ ہے کہ اگر وکیل بالنکاح یا شاہدین نکاح غیرمقلد وہابی ہو توایسے شخص کی وکالت یا شہادت درست ہوسکتی ہے یا نہیں اور نکاح درست ہوگا یانہیں ا گرا یسے لوگ وکیل یاشاہد ہوں
الجواب :
سید صاحب! وعلیك السلام وہابی وغیر مقلد کی ضلالت جبکہ کفر تك نہ پہنچی ہو (اور یہ غیر مقلد وہابیوں میں نادر ہے اورجیسے طائفہ رشیدیہ پیدا ہوا مقلد وہابیوں میں بھی کٹر اسمعیلوں کی طرح یہی حالت ہوگئی ان میں غالبا کوئی نہ ہوگا جس پر بحکم فقہائے کرام لزوم کفر نہ ہو اور بہت تو صریح التزام کی حد پر ہیں نسأل اﷲ العافیۃ وحسن العاقبۃ) جب تونکاح میں ان کا شاہد ہونا اصلا مخل نہیں اوراگر حد کفر پرہوں تو وکالت جب بھی جائز ہے کہ مرتد کو وکیل کرسکتے ہیں اس کی وکالت صحیح ہوجائے گی اگرچہ اس سے میل جو ل اختلاط حرام ہے ہندیہ میں ہے :
تجوز وکالۃ المرتد بان وکل مسلم مرتدا وکذ الوکان مسلما وقت التوکیل ثم ارتد فھو علی وکالتہ الاان یلحق بدارالحرب فتبطل وکالتہ کذافی البدائع ۔
مسلمان نے مرتد کو وکیل بنایا یا مسلمان کو وکیل بنایاوہ بعد میں مرتد ہوگیا تو یہ وکالت باقی رہے گی مگر جب وہ دارالحرب بھاگ جائے تو وکالت ختم ہوجائے گی بدائع میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
رہی شہادت عوام میں دو شخص جن کو گواہی نکاح سے نامزد کیا جاتاہے وہ اگر دونوں مرتد وہابی تھے مگر جلسے میں اور دو مرد یا ایك مرد دوعورتیں مسلمان ہیں جنھوں نے معا ایجاب وقبول سنا اور سمجھا جب تو اگرچہ نکاح صحیح ہوگیا لوجود الشھود وان کان من سموا شھودامرتدین (گواہوں کی حاضری کی وجہ سے اگرچہ انھوں نے مرتد گواہوں کو نامز د کیا ہو۔ ت) اور اگر صرف یہی حاضر وسامع وفاہم تھے یااور جتنے ہیں وہ بھی ایسے ہی ہیں ایك نصاب مسلمانوں سے پورانہیں تو نکاح صحیح نہ ہوا فاسد محض ہوا لان من شرائط الصحۃ
مسئلہ ۳۴ : از موضع بیتھو ضلع گیا مرسلہ جناب مولوی سید ظہور احمد صاحب ۱ شوال ۱۳۲۴ھ
جناب مولانا صاحب السلام علیک استفتایہ ہے کہ اگر وکیل بالنکاح یا شاہدین نکاح غیرمقلد وہابی ہو توایسے شخص کی وکالت یا شہادت درست ہوسکتی ہے یا نہیں اور نکاح درست ہوگا یانہیں ا گرا یسے لوگ وکیل یاشاہد ہوں
الجواب :
سید صاحب! وعلیك السلام وہابی وغیر مقلد کی ضلالت جبکہ کفر تك نہ پہنچی ہو (اور یہ غیر مقلد وہابیوں میں نادر ہے اورجیسے طائفہ رشیدیہ پیدا ہوا مقلد وہابیوں میں بھی کٹر اسمعیلوں کی طرح یہی حالت ہوگئی ان میں غالبا کوئی نہ ہوگا جس پر بحکم فقہائے کرام لزوم کفر نہ ہو اور بہت تو صریح التزام کی حد پر ہیں نسأل اﷲ العافیۃ وحسن العاقبۃ) جب تونکاح میں ان کا شاہد ہونا اصلا مخل نہیں اوراگر حد کفر پرہوں تو وکالت جب بھی جائز ہے کہ مرتد کو وکیل کرسکتے ہیں اس کی وکالت صحیح ہوجائے گی اگرچہ اس سے میل جو ل اختلاط حرام ہے ہندیہ میں ہے :
تجوز وکالۃ المرتد بان وکل مسلم مرتدا وکذ الوکان مسلما وقت التوکیل ثم ارتد فھو علی وکالتہ الاان یلحق بدارالحرب فتبطل وکالتہ کذافی البدائع ۔
مسلمان نے مرتد کو وکیل بنایا یا مسلمان کو وکیل بنایاوہ بعد میں مرتد ہوگیا تو یہ وکالت باقی رہے گی مگر جب وہ دارالحرب بھاگ جائے تو وکالت ختم ہوجائے گی بدائع میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
رہی شہادت عوام میں دو شخص جن کو گواہی نکاح سے نامزد کیا جاتاہے وہ اگر دونوں مرتد وہابی تھے مگر جلسے میں اور دو مرد یا ایك مرد دوعورتیں مسلمان ہیں جنھوں نے معا ایجاب وقبول سنا اور سمجھا جب تو اگرچہ نکاح صحیح ہوگیا لوجود الشھود وان کان من سموا شھودامرتدین (گواہوں کی حاضری کی وجہ سے اگرچہ انھوں نے مرتد گواہوں کو نامز د کیا ہو۔ ت) اور اگر صرف یہی حاضر وسامع وفاہم تھے یااور جتنے ہیں وہ بھی ایسے ہی ہیں ایك نصاب مسلمانوں سے پورانہیں تو نکاح صحیح نہ ہوا فاسد محض ہوا لان من شرائط الصحۃ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوکالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۶۳
الشھود ولاشہادۃ لمرتد کمافی الدرالمختار وغیرہ (کیونکہ صحت کے لیے گواہی شرط ہے اور مرتد شہادت دینے کا اہل نہیں ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵ : عورت مرد اگر باہم ایجاب وقبول کرلیں اور کسی کو اطلاع نہ ہوتو یہ نکاح ہوجائے گا
الجواب :
بے حضور د وگواہ نکاح فاسد ہے حدیث میں فرمایاـ :
الزوانی ف اللاتی ان ینکحن انفسھن بغیر بینۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
زنا کار ہیں جو اپنی جانوں کو نکاح میں دیتی ہیں بغیر گواہوں کے۔
مسئلہ ۳۶ : مسئولہ محمد یوسف از جبل پور ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مقلد کسی مقلد کانکاح بموجب شرع مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پڑھادے تو اس کا پڑھایا ہوا نکاح جائز ہے یا حرام اور جو اس نکاح سے اولاد پیدا ہو وہ حرامی تو نہ ہوگی بینوا توجروا۔
الجواب :
اگرچہ نکاح خواں شرع مطہر میں کوئی چیز نہیں اگر کوئی ہندومشرك زوجین کو ایجاب وقبول روبروئے گواہان کرادے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ مگر یہاں ایك نکتہ جلیلہ ہے جسے وہی سمجھتے ہیں جوموفق من الله تعالی عزوجل ہیں وہ یہ کہ اگر ہندو مشرك پڑھا جائے گاتو کوئی کلمہ گوا سے معظم دینی بلکہ مسلمان بھی نہ جانے گا بخلاف ان کلمہ گویان کفردردل کے کہ عوام ان کو خالص مسلمان جانتے ہیں حالانکہ ان پر صدہا وجہ سے بحکم احادیث صحیحہ وتصریحات فقہیہ حکم کفرلازم ہے۔
کما فصلنا فی الکوکبۃ الشھابیۃ وفی النھی الاکید وغیرھما ولدی مزید۔ جیسا کہ الکوکبۃ الشہابیہ اور النہی الاکید
وغیرہ رسائل میں ہم نے تفصیل بیان کردی ہے اور میری نظر میں مزید امور بھی ہیں (ت)
اور ان میں بہت تو کھلم کھلا ضروریات دین کے منکر اور قطعا اجماعا مرتد کافر ہیں اور نکاح خوانی کے لیے لوگ اسے بلاتے ہیں جسے اپنے نزدیك صالح اور معتبر جانتے ہیں تو اگر زوجین میں سے کسی نے ان کے کفریات پر مطلع ہوکر پھران کو نیك اور صالح سمجھا توا ن پر بھی وہی حکم نقد وقت ہوگا کما صرح بہ فی الشفاء والاشباہ وغیرھما
مسئلہ ۳۵ : عورت مرد اگر باہم ایجاب وقبول کرلیں اور کسی کو اطلاع نہ ہوتو یہ نکاح ہوجائے گا
الجواب :
بے حضور د وگواہ نکاح فاسد ہے حدیث میں فرمایاـ :
الزوانی ف اللاتی ان ینکحن انفسھن بغیر بینۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
زنا کار ہیں جو اپنی جانوں کو نکاح میں دیتی ہیں بغیر گواہوں کے۔
مسئلہ ۳۶ : مسئولہ محمد یوسف از جبل پور ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مقلد کسی مقلد کانکاح بموجب شرع مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پڑھادے تو اس کا پڑھایا ہوا نکاح جائز ہے یا حرام اور جو اس نکاح سے اولاد پیدا ہو وہ حرامی تو نہ ہوگی بینوا توجروا۔
الجواب :
اگرچہ نکاح خواں شرع مطہر میں کوئی چیز نہیں اگر کوئی ہندومشرك زوجین کو ایجاب وقبول روبروئے گواہان کرادے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ مگر یہاں ایك نکتہ جلیلہ ہے جسے وہی سمجھتے ہیں جوموفق من الله تعالی عزوجل ہیں وہ یہ کہ اگر ہندو مشرك پڑھا جائے گاتو کوئی کلمہ گوا سے معظم دینی بلکہ مسلمان بھی نہ جانے گا بخلاف ان کلمہ گویان کفردردل کے کہ عوام ان کو خالص مسلمان جانتے ہیں حالانکہ ان پر صدہا وجہ سے بحکم احادیث صحیحہ وتصریحات فقہیہ حکم کفرلازم ہے۔
کما فصلنا فی الکوکبۃ الشھابیۃ وفی النھی الاکید وغیرھما ولدی مزید۔ جیسا کہ الکوکبۃ الشہابیہ اور النہی الاکید
وغیرہ رسائل میں ہم نے تفصیل بیان کردی ہے اور میری نظر میں مزید امور بھی ہیں (ت)
اور ان میں بہت تو کھلم کھلا ضروریات دین کے منکر اور قطعا اجماعا مرتد کافر ہیں اور نکاح خوانی کے لیے لوگ اسے بلاتے ہیں جسے اپنے نزدیك صالح اور معتبر جانتے ہیں تو اگر زوجین میں سے کسی نے ان کے کفریات پر مطلع ہوکر پھران کو نیك اور صالح سمجھا توا ن پر بھی وہی حکم نقد وقت ہوگا کما صرح بہ فی الشفاء والاشباہ وغیرھما
حوالہ / References
السنن الکبرٰی للبیھقی کتاب النکاح دارصادر بیروت ۷ / ۱۲۵
ف : یہ حدیث سنن کبرٰی سے ملی اس میں الزوانی کے بجائے البغایا کالفظ ہے۔ نذیر احمد
ف : یہ حدیث سنن کبرٰی سے ملی اس میں الزوانی کے بجائے البغایا کالفظ ہے۔ نذیر احمد
(جیسا کہ الشفاء اور الاشباہ وغیرہما میں تصریح کی گئی ہے۔ ت) ایسی صورت میں بحکم فقہ اصلا مطلق نکاح نہ ہوگا لہذا احتیاط کی ضرورت ہے اگر ایسا واقع ہو لیا یعنی اس کی گواہیوں پر مطلع ہوکر پھر اسے معظم ومتبرك سمجھ کر نکاح خوانی کے لیے بلایا تو بعد توبہ تجدید اسلام تجدیدنکاح لازم۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷ : از نگلہ مرہرو ڈاکخانہ بیلاؤ دہ ضلع میرٹھ مسئولہ محمدذاکر علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکیاں توام ہیں کمرسے لے کر سرین تك جڑیں ہوئی ہیں مبر زایك ہے اور باقی عام اعضاء الگ الگ علیحدہ علیحدہ وہ اپنی مادری زبان تلنگی میں اچھی طرح گفتگو کرسکتی ہیں عمر ان کی بارہ سال ہے یہ قصہ سکندر آباد دکن کاہے میں نے اس کو اخبار وطن لاہور جلد نمبر ۸ ۲۳ مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۰۸ ص ۱۳ میں دیکھا ہے لکھاہے کہ یہ ہندوہیں ان کے والدین کو ان کے ذریعہ سے کافی آمدنی ہے درصورت صحیح ہونے اور مسلمان ہونے ان کے لیے ان کی صورت نکاح کیاہے اگر کیا جائے تو دو بہنیں ایك مردکے نکاح جمع نہیں ہوسکتیں اور کہاجائے کہ دو سے کیا جائے تو بے حیائی لازم آتی ہے اور یہ دونوں لڑکیاں علیحدہ نہیں ہوسکتیں حکم اس مسئلہ کا مفصل مدلل ارقام فرمائے اور روایت فقہاء بھی تحریر کیجئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ظاہرا یہ اخباری گپ ہے ایسے عجائب اگر نادرا پیداہوتے ہیں تو عادۃ زندہ نہیں رہتے اگر بارہ بر س سے ایسا عجوبہ ملك میں موجودہوتا تو جب ہی سے تمام اخبار اس کے ذکر سے بھر جاتے دیار وامصار میں شہر ت ہوتی نہ کہ اب بارہ سال کے بعد درج اخبارہوا اور بالفرض اگر صحیح بھی ہوا اور وہ دونوں مسلمان بھی ہوجائیں تو شریعت مطہرہ نے کوئی مسئلہ لاجواب نہ چھوڑا بھلا یہ صورت تو بہت بعید ہے فرض کیجئے جو عورت ابتدائے بلوغ سے معاذالله جذام وبرص میں مبتلا ہو اور اس کے ساتھ ایسی کریہیہ المنظر کہ اسے کوئی قبول نہ کرتا نہ کہ بحالت جذام اس کے لیے کیا صورت ہوگی اسے شرع کیا حکم دے گی ہا ں اسے عفت وصبر کا حکم فرماتی ہے اور روزں کی کثرت اس کا علاج بتاتی ہے الله عزوجل فرماتاہے :
و لیستعفف الذین لا یجدون نكاحا حتى یغنیهم الله من فضله- ۔
جو نکاح کی طرف کوئی راہ نہ پائیں وہ بچے رہیں جب تك الله اپنے فضل سے انھیں بے پرواہ کردے۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مسئلہ ۳۷ : از نگلہ مرہرو ڈاکخانہ بیلاؤ دہ ضلع میرٹھ مسئولہ محمدذاکر علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکیاں توام ہیں کمرسے لے کر سرین تك جڑیں ہوئی ہیں مبر زایك ہے اور باقی عام اعضاء الگ الگ علیحدہ علیحدہ وہ اپنی مادری زبان تلنگی میں اچھی طرح گفتگو کرسکتی ہیں عمر ان کی بارہ سال ہے یہ قصہ سکندر آباد دکن کاہے میں نے اس کو اخبار وطن لاہور جلد نمبر ۸ ۲۳ مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۰۸ ص ۱۳ میں دیکھا ہے لکھاہے کہ یہ ہندوہیں ان کے والدین کو ان کے ذریعہ سے کافی آمدنی ہے درصورت صحیح ہونے اور مسلمان ہونے ان کے لیے ان کی صورت نکاح کیاہے اگر کیا جائے تو دو بہنیں ایك مردکے نکاح جمع نہیں ہوسکتیں اور کہاجائے کہ دو سے کیا جائے تو بے حیائی لازم آتی ہے اور یہ دونوں لڑکیاں علیحدہ نہیں ہوسکتیں حکم اس مسئلہ کا مفصل مدلل ارقام فرمائے اور روایت فقہاء بھی تحریر کیجئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ظاہرا یہ اخباری گپ ہے ایسے عجائب اگر نادرا پیداہوتے ہیں تو عادۃ زندہ نہیں رہتے اگر بارہ بر س سے ایسا عجوبہ ملك میں موجودہوتا تو جب ہی سے تمام اخبار اس کے ذکر سے بھر جاتے دیار وامصار میں شہر ت ہوتی نہ کہ اب بارہ سال کے بعد درج اخبارہوا اور بالفرض اگر صحیح بھی ہوا اور وہ دونوں مسلمان بھی ہوجائیں تو شریعت مطہرہ نے کوئی مسئلہ لاجواب نہ چھوڑا بھلا یہ صورت تو بہت بعید ہے فرض کیجئے جو عورت ابتدائے بلوغ سے معاذالله جذام وبرص میں مبتلا ہو اور اس کے ساتھ ایسی کریہیہ المنظر کہ اسے کوئی قبول نہ کرتا نہ کہ بحالت جذام اس کے لیے کیا صورت ہوگی اسے شرع کیا حکم دے گی ہا ں اسے عفت وصبر کا حکم فرماتی ہے اور روزں کی کثرت اس کا علاج بتاتی ہے الله عزوجل فرماتاہے :
و لیستعفف الذین لا یجدون نكاحا حتى یغنیهم الله من فضله- ۔
جو نکاح کی طرف کوئی راہ نہ پائیں وہ بچے رہیں جب تك الله اپنے فضل سے انھیں بے پرواہ کردے۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
ا لقرآن ۲۴ / ۳۳
یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء ۔
اے گروہ نوجوانان! تم میں جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کہ نکاح پریشان نظری وبدکاری روکنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے اور جسے ناممکن ہو اس پر روزے لازم ہیں کہ کسر شہوت نفسانی کردیں گے۔
یہی حکم وعلاج اس عجوبہ خلقت کے لیے ہوگا اس کی نظیر وہ سوال ہے کہ جہال عرض تسعین کی نسبت کیا کرتے ہیں جہاں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہے کہ وہاں رمضان کے روزے کیسے رکھیں حالانکہ وہاں انسانی آبادی کا نام نہیں کہ اسی درجے عرض سے آگے لوگوں کا گزربھی نہیں کہ ہمیشہ کی ہر آن برف باری نے وہاں سمندر کو دلدل کر رکھا ہے نہ پانی رہا کہ جہاز گزرے نہ زمین ہوگیا کہ آدمی چلیں بلکہ ستر درجے آگے سے آبادی کا پتا نہیں وہاں جبکہ چھ چھ مہینے دن رات ہیں بلکہ قطب شمالی میں چھ۶ مہینے نو دن کا دن اور نو دن سے کم چھ مہینے کی رات اورقطب جنوبی میں بالعکس اس لیے کہ اوج آفتابی شمالی اور حضیض جنوبی ہے اور اس کی رفتار اوج میں سست اور حضیض میں تیز ہے پھر یہ نہا ر ولیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصہ انکسار بڑھ کر مقدار نہار میں او ر بہت سے دن بڑھ جائیں گے اور نہار شرعی کے لیے اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل ہوکر رات بہت کم رہ جائے گی اوروہاں قمر وغیرہ کسی کوکب کا طلوع وغروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے جب منطقہ سے شمالی ہوگا قطب شمالی میں طلوع کرے گا اور جب تك شمالی رہے گا طالع رہے گا پھر جب جنوبی ہوگا غروب کرے گا اور جب تك جنوبی رہے گا غارب رہے گا اور اس ظہور وبطون کے لیے کوئی تعیین نہیں کہ قمر اس وقت اجتماع میں ہو یااستقبال میں تربیع میں ہو یاشکل ہلال میں توسال کے بارہ دن رات جو قمر نے پائے ان میں حساب انتظام اہلہ وشہور نامقدور اور اگر حکما صورت تقدیر واندازہ لیجئے بھی جس طرح دربارہ ایام طوال دجال نمازوں کے لیے ارشاد ہوا تو وہی قرآن عظیم جس نے فمن شهد منكم الشهر فلیصمه- (جو تم میں سے ماہ رمضان کو پائے تو اس کا روزہ رکھے۔ ت) فرمایا اس نے و على الذین یطیقونه فدیة طعام مسكین- (جو روزہ کی استطاعت نہ رکھے تو مسکین کا کھانا فدیہ میں دے۔ ت) ارشاد کیا یعنی جنھیں روزے کی قدرت نہ ہوان پر بدلہ ہے ہرروزے کے عوض ایك مسکین کاکھانا
اے گروہ نوجوانان! تم میں جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کہ نکاح پریشان نظری وبدکاری روکنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے اور جسے ناممکن ہو اس پر روزے لازم ہیں کہ کسر شہوت نفسانی کردیں گے۔
یہی حکم وعلاج اس عجوبہ خلقت کے لیے ہوگا اس کی نظیر وہ سوال ہے کہ جہال عرض تسعین کی نسبت کیا کرتے ہیں جہاں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہے کہ وہاں رمضان کے روزے کیسے رکھیں حالانکہ وہاں انسانی آبادی کا نام نہیں کہ اسی درجے عرض سے آگے لوگوں کا گزربھی نہیں کہ ہمیشہ کی ہر آن برف باری نے وہاں سمندر کو دلدل کر رکھا ہے نہ پانی رہا کہ جہاز گزرے نہ زمین ہوگیا کہ آدمی چلیں بلکہ ستر درجے آگے سے آبادی کا پتا نہیں وہاں جبکہ چھ چھ مہینے دن رات ہیں بلکہ قطب شمالی میں چھ۶ مہینے نو دن کا دن اور نو دن سے کم چھ مہینے کی رات اورقطب جنوبی میں بالعکس اس لیے کہ اوج آفتابی شمالی اور حضیض جنوبی ہے اور اس کی رفتار اوج میں سست اور حضیض میں تیز ہے پھر یہ نہا ر ولیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصہ انکسار بڑھ کر مقدار نہار میں او ر بہت سے دن بڑھ جائیں گے اور نہار شرعی کے لیے اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل ہوکر رات بہت کم رہ جائے گی اوروہاں قمر وغیرہ کسی کوکب کا طلوع وغروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے جب منطقہ سے شمالی ہوگا قطب شمالی میں طلوع کرے گا اور جب تك شمالی رہے گا طالع رہے گا پھر جب جنوبی ہوگا غروب کرے گا اور جب تك جنوبی رہے گا غارب رہے گا اور اس ظہور وبطون کے لیے کوئی تعیین نہیں کہ قمر اس وقت اجتماع میں ہو یااستقبال میں تربیع میں ہو یاشکل ہلال میں توسال کے بارہ دن رات جو قمر نے پائے ان میں حساب انتظام اہلہ وشہور نامقدور اور اگر حکما صورت تقدیر واندازہ لیجئے بھی جس طرح دربارہ ایام طوال دجال نمازوں کے لیے ارشاد ہوا تو وہی قرآن عظیم جس نے فمن شهد منكم الشهر فلیصمه- (جو تم میں سے ماہ رمضان کو پائے تو اس کا روزہ رکھے۔ ت) فرمایا اس نے و على الذین یطیقونه فدیة طعام مسكین- (جو روزہ کی استطاعت نہ رکھے تو مسکین کا کھانا فدیہ میں دے۔ ت) ارشاد کیا یعنی جنھیں روزے کی قدرت نہ ہوان پر بدلہ ہے ہرروزے کے عوض ایك مسکین کاکھانا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح قدیمی کتب خانہ پشاور ۲ / ۷۵۸ ، صحیح مسلم کتاب النکاح قدیمی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۴۹
القرآن ۲ / ۱۸۵
القرآن ۲ / ۱۸۵
اور جن کوا س کی بھی استطاعت نہ ہو و ہ حصول استطاعت کا انتظارکریں اور اپنے رب سے انابت واستغفار کہ وہی قرآن کریم میں فرماتا ہے : لا یكلف الله نفسا الا وسعها- خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیتا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸ : از خیرآباد محلہ میاں سرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ سید فخر الحسن صاحب ۳ ذی القعدہ ۱۳۲ھ
خطبہ نکاح کا کھڑے ہوکر پڑھناچاہئے یا بیٹھ کر اور کس طریقہ سے مسنون ہے
الجواب :
اگرچہ خطبہ میں مطلقا افضل قیام ہے کہ آواز بھی دور پہنچتی ہے اور باعث توجہ حاضرین بھی ہوتا ہے اور اس امر میں سب خطبے مشترك ہیں ہاں جو خطبہ سواری پر ہوتا ہے جیسے خطبہ عرفہ۔ وہاں قیام مرکب قائم مقام قیام راکب ہے مگر خطب نافلہ بیٹھ کر بھی ثابت ہیں
ابن جریر عن سماك بن حرب قال سمعت معرورا اوابن معرور التمیمی قال سمعت عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ وصعد المنبر قعددون مقعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمقعدین فقال اوصیکم بتقوی اﷲ واسمعوا واطیعوا من ولاہ اﷲ تعالی امرکم ۔
ابن جریر نے سماك بن حرب سے روایت کیا کہ انھوں نے فرمایاـ : میں نے معروریا ابن معرو رتمیمی سے سناانھوں نے کہا میں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا جبکہ آپ منبر پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نشستگاہ سے دو سیڑھیاں نیچے تشریف فرماہوئے توآپ نے فرمایا میں تمھیں الله تعالی سے تقوی کی وصیت کرتاہوں اور الله تعالی کی طرف سے تمھارے امور کے بنائے ہوئے والی کی اطاعت وسمع اختیار کرو۔ (ت)
اور خطبہ نکاح نفل ہی ہے توبیٹھ کر بھی مضائقہ نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹ : از سلون ضلع رائے بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ وعلی من لدیکم کیا مسلك ہے آپ کا اس مسئلہ میں کہ زید نے “ تزوجت “ اورہندہ نے “ قبلت “ دوگواہوں کے سامنے کہہ دیا اوردونوں ان الفاظ کے معنی نہیں سمجھتے بلکہ گواہ بھی نہیں سمجھے۔ آیا اس صور ت میں نکاح منعقد ہوجائے گا یانہیں
مسئلہ ۳۸ : از خیرآباد محلہ میاں سرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ سید فخر الحسن صاحب ۳ ذی القعدہ ۱۳۲ھ
خطبہ نکاح کا کھڑے ہوکر پڑھناچاہئے یا بیٹھ کر اور کس طریقہ سے مسنون ہے
الجواب :
اگرچہ خطبہ میں مطلقا افضل قیام ہے کہ آواز بھی دور پہنچتی ہے اور باعث توجہ حاضرین بھی ہوتا ہے اور اس امر میں سب خطبے مشترك ہیں ہاں جو خطبہ سواری پر ہوتا ہے جیسے خطبہ عرفہ۔ وہاں قیام مرکب قائم مقام قیام راکب ہے مگر خطب نافلہ بیٹھ کر بھی ثابت ہیں
ابن جریر عن سماك بن حرب قال سمعت معرورا اوابن معرور التمیمی قال سمعت عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ وصعد المنبر قعددون مقعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمقعدین فقال اوصیکم بتقوی اﷲ واسمعوا واطیعوا من ولاہ اﷲ تعالی امرکم ۔
ابن جریر نے سماك بن حرب سے روایت کیا کہ انھوں نے فرمایاـ : میں نے معروریا ابن معرو رتمیمی سے سناانھوں نے کہا میں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا جبکہ آپ منبر پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نشستگاہ سے دو سیڑھیاں نیچے تشریف فرماہوئے توآپ نے فرمایا میں تمھیں الله تعالی سے تقوی کی وصیت کرتاہوں اور الله تعالی کی طرف سے تمھارے امور کے بنائے ہوئے والی کی اطاعت وسمع اختیار کرو۔ (ت)
اور خطبہ نکاح نفل ہی ہے توبیٹھ کر بھی مضائقہ نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹ : از سلون ضلع رائے بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ وعلی من لدیکم کیا مسلك ہے آپ کا اس مسئلہ میں کہ زید نے “ تزوجت “ اورہندہ نے “ قبلت “ دوگواہوں کے سامنے کہہ دیا اوردونوں ان الفاظ کے معنی نہیں سمجھتے بلکہ گواہ بھی نہیں سمجھے۔ آیا اس صور ت میں نکاح منعقد ہوجائے گا یانہیں
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۶۸۶
کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۴۴۱۹۷ خطب عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۱۵۷
کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۴۴۱۹۷ خطب عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۱۵۷
شرح وقایہ اور فتاوی قاضی خاں اور فتاوی ظہیریہ اور ردالمحتار اور درمختار میں ایسا نکاح جائز لکھاہے بلکہ درمختار میں اس پر فتوی ہے اور دلیل اس کی کل کتابوں میں یہ لکھی ہیے کہ مضمون لفظ کا علم اور اس کا سمجھنا ان امور میں معتبر ہے جن میں نیت اور قصد کی ضرورت ہو اور جن امور میں جدو ہزل برابرہوں ان میں معنی سمجھنے کی ضرورت نہیں لہذا نکاح محض بتلفظ “ نکحت وقبلت “ بلا فہم معنی منعقدہوجائیگا جیساکہ قاضی خاں وغیرہ میں ہے :
لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلا یعتبر فیما یستوی فیہ الجد والھزل انتھی۔
کیونکہ لفظ کے مضمون کا علم کسی چیز کے قصد کے لیے ضروری ہوتا ہے اور جس میں قصد اور غیر قصد مساوی ہوں وہاں مضمون کاعلم معتبر نہ ہوگا انتہی (ت)
میرے خیال میں یہ دلیل صحیح نہیں عبارت قاضی خاں کی فلا یعتبر (ای العلم بمضمون اللفظ) فیما یستوی فیہ الجد والھزل (لفط کے مضمون کا علم معتبر نہ ہوگا جہاں قصد اور غیر قصد (مذاق) برابر ہو۔ ت) ہر گز قابل تسلیم نہیں ہزل میں مضمون لفظ کا علم اور معنی کا سمجھنا ضروری ہے بغیر فہم معنی ہزل غیر ممکن ہے اس واسطے کہ استعمال لفظ وارادہ غیر معنی حقیقی ومجازی کا نام ہز ل ہے اور اس میں شرط ہے کہ قبل عقد متعاقدین آپس میں ذکر کرلیں کہ یہ عقد بطریق ہزل ہے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہےـ :
الھزل ان یراد بالشی غیر ماوضع لہ بغیر مناسبۃ بینھما والجد مایراد بہ ماوضع لہ اوماصلح لہ اللفظ مجازا اھ۔
ہزل (مذاق) سے مراد یہ ہے کہ مناسبت کے بغیرمجازی معنی مراد لینا جد (قصد) سے مرادیہ کہ حقیقی معنی یا ایسا مجازی معنی مراد لینا جس کے لیے لفظ صلاحیت رکھتاہو اھ (ت)
نورالانوار میں ہے :
وشرط الھزل ان یکون صریحا مشروطا باللسان بان یذکر العاقد ان قبل العقد انھما یھزلان فی العقد ولایثبت ذلك بدلالۃ الحال ۔
مذاق کی شرط یہ ہے کہ زبانی طور پر صراحۃ عقد کرنے والے دونوں فریقوں عقد سے قبل ذکر کریں کہ ہم مذاقا عقد کریں گے اور مذاق دلالت حال سے ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلا یعتبر فیما یستوی فیہ الجد والھزل انتھی۔
کیونکہ لفظ کے مضمون کا علم کسی چیز کے قصد کے لیے ضروری ہوتا ہے اور جس میں قصد اور غیر قصد مساوی ہوں وہاں مضمون کاعلم معتبر نہ ہوگا انتہی (ت)
میرے خیال میں یہ دلیل صحیح نہیں عبارت قاضی خاں کی فلا یعتبر (ای العلم بمضمون اللفظ) فیما یستوی فیہ الجد والھزل (لفط کے مضمون کا علم معتبر نہ ہوگا جہاں قصد اور غیر قصد (مذاق) برابر ہو۔ ت) ہر گز قابل تسلیم نہیں ہزل میں مضمون لفظ کا علم اور معنی کا سمجھنا ضروری ہے بغیر فہم معنی ہزل غیر ممکن ہے اس واسطے کہ استعمال لفظ وارادہ غیر معنی حقیقی ومجازی کا نام ہز ل ہے اور اس میں شرط ہے کہ قبل عقد متعاقدین آپس میں ذکر کرلیں کہ یہ عقد بطریق ہزل ہے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہےـ :
الھزل ان یراد بالشی غیر ماوضع لہ بغیر مناسبۃ بینھما والجد مایراد بہ ماوضع لہ اوماصلح لہ اللفظ مجازا اھ۔
ہزل (مذاق) سے مراد یہ ہے کہ مناسبت کے بغیرمجازی معنی مراد لینا جد (قصد) سے مرادیہ کہ حقیقی معنی یا ایسا مجازی معنی مراد لینا جس کے لیے لفظ صلاحیت رکھتاہو اھ (ت)
نورالانوار میں ہے :
وشرط الھزل ان یکون صریحا مشروطا باللسان بان یذکر العاقد ان قبل العقد انھما یھزلان فی العقد ولایثبت ذلك بدلالۃ الحال ۔
مذاق کی شرط یہ ہے کہ زبانی طور پر صراحۃ عقد کرنے والے دونوں فریقوں عقد سے قبل ذکر کریں کہ ہم مذاقا عقد کریں گے اور مذاق دلالت حال سے ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح الفصل الاول نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الخلع والطلاق المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۴۲۷
نورالانوار مبحث الامور المعترضۃ للاھلیۃ نوعان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۰۳۔ ۳۰۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الخلع والطلاق المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ / ۴۲۷
نورالانوار مبحث الامور المعترضۃ للاھلیۃ نوعان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۰۳۔ ۳۰۲
اس صورت میں جبکہ عاقدین بالکل سمجھتے ہی نہیں کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں اور کس موقع میں استعمال کئے جاتے ہیں توہزل کیسے ہوسکتا ہے قطع نظر اس کے کہ ہزل میں اگرچہ ہازل نفس حکم سے راضی نہیں ہوتا لیکن اس کے اسباب سے راضی رہتاہے جیساکہ نورالانوار میں ہے :
وانہ ینافی اختیار الحکم والرضاء بہ ولاینافی الرضاء بالمباشرۃ الخ۔
مذاق حکم اور اس پر رضامندی کے منافی ہے لیکن کا م کو سرانجام دینے کے لیے منافی نہیں ہے۔ (ت)
اور یہاں عاقدین جانتے ہیں کہ یہ الفاظ کیسے ہیں اورا ن کے کیا معنی ہیں تو رضا بالا سباب بھی مفقود ہے لہذا اس صورت کو ہزل میں داخل کرناکسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا دوسری دلیل مجوزین کی یہ ہے کہ اگرچہ متعاقدین معنی نہیں سمجھتے لیکن ان کا جہل معتبر نہ ہوگا اور نکاح منقعد ہوجائے گا۔
لان الدار دارالاسلام فلایکون الجھل فی احکام الشرعیۃ عذرا۔
چونکہ یہ دارالاسلام ہے لہذا احکام شرعیہ سے جاہل ہونا کوئی عذر نہ بن سکے گا۔ (ت)
اس جگہ دعوی ودلیل میں صراحۃ تخلف ہے دلیل کا منشا تویہ ہے کہ احکام شرعیہ میں جہل معتبر نہیں یہ ضرورت قابل تسلیم ہے لیکن یہ اس امر کو مستلزم نہیں کہ زبان عربی سے جہل بھی غیر معتبر ہو احکام شرعیہ منحصر بزبان عربی نہیں عاقدین احکام نکاح کو زبان غیر عربی مثلا فارسی اردو وغیرہ میں جانتے ہیں اور زبان عربی سے واقف نہیں تویہ نہیں کیا جاسکتا کہ جاہل بالاحکام ہیں جہل بالاحکام اور جہل باللسان کو متحد جان کر دونوں کو غیر معتبر کہنا صحیح نہیں ہوسکتا لہذا جب عاقدین کو کسی طرح اس کاعلم نہیں کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں اور کس موقع پر اس کا استعمال ہوتاہے توان کے تلفظ سے نکاح نہیں ہوسکتا فصول عمادی میں ہے :
انہ لایصح عقدمن العقود اذالم یعلما معناہ اھ ۔
جب گواہ حضرات کسی عقد کا معنی نہ سمجھیں تو عقد صحیح نہ ہوگا اھ (ت)
فتاوی حمادیہ میں مثل ا س کے لکھا ہے شمس الاسلام اوزجندی سے کسی نے ا س مسئلہ کو پوچھا فرمایا : نہ منعقد ہوگا
لان المرأۃ فی ھذہ بمنزلۃ الطوطی والصبی الذی لایعقل۔
کیونکہ اس معاملے میں عورت طوطے اور ناسمجھ بچے کی طرح ہے۔ (ت)
وانہ ینافی اختیار الحکم والرضاء بہ ولاینافی الرضاء بالمباشرۃ الخ۔
مذاق حکم اور اس پر رضامندی کے منافی ہے لیکن کا م کو سرانجام دینے کے لیے منافی نہیں ہے۔ (ت)
اور یہاں عاقدین جانتے ہیں کہ یہ الفاظ کیسے ہیں اورا ن کے کیا معنی ہیں تو رضا بالا سباب بھی مفقود ہے لہذا اس صورت کو ہزل میں داخل کرناکسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا دوسری دلیل مجوزین کی یہ ہے کہ اگرچہ متعاقدین معنی نہیں سمجھتے لیکن ان کا جہل معتبر نہ ہوگا اور نکاح منقعد ہوجائے گا۔
لان الدار دارالاسلام فلایکون الجھل فی احکام الشرعیۃ عذرا۔
چونکہ یہ دارالاسلام ہے لہذا احکام شرعیہ سے جاہل ہونا کوئی عذر نہ بن سکے گا۔ (ت)
اس جگہ دعوی ودلیل میں صراحۃ تخلف ہے دلیل کا منشا تویہ ہے کہ احکام شرعیہ میں جہل معتبر نہیں یہ ضرورت قابل تسلیم ہے لیکن یہ اس امر کو مستلزم نہیں کہ زبان عربی سے جہل بھی غیر معتبر ہو احکام شرعیہ منحصر بزبان عربی نہیں عاقدین احکام نکاح کو زبان غیر عربی مثلا فارسی اردو وغیرہ میں جانتے ہیں اور زبان عربی سے واقف نہیں تویہ نہیں کیا جاسکتا کہ جاہل بالاحکام ہیں جہل بالاحکام اور جہل باللسان کو متحد جان کر دونوں کو غیر معتبر کہنا صحیح نہیں ہوسکتا لہذا جب عاقدین کو کسی طرح اس کاعلم نہیں کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں اور کس موقع پر اس کا استعمال ہوتاہے توان کے تلفظ سے نکاح نہیں ہوسکتا فصول عمادی میں ہے :
انہ لایصح عقدمن العقود اذالم یعلما معناہ اھ ۔
جب گواہ حضرات کسی عقد کا معنی نہ سمجھیں تو عقد صحیح نہ ہوگا اھ (ت)
فتاوی حمادیہ میں مثل ا س کے لکھا ہے شمس الاسلام اوزجندی سے کسی نے ا س مسئلہ کو پوچھا فرمایا : نہ منعقد ہوگا
لان المرأۃ فی ھذہ بمنزلۃ الطوطی والصبی الذی لایعقل۔
کیونکہ اس معاملے میں عورت طوطے اور ناسمجھ بچے کی طرح ہے۔ (ت)
حوالہ / References
نورالانوار مبحث الامور المعترضۃ للاھلیۃ نوعان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰۲
فصول عمادی
فصول عمادی
صاحب فتاوی بزازیہ کی بھی یہی رائے ہے درمختار کے فتوی کو ردالمحتار میں لکھا ہے کہ اس میں اختلاف ہے اب آپ کے نزدیك اگر یہ نکاح جائز ہے تو شبہہ مذکورہ بالا کا جواب مدلل طور سے ارقام فرمائے اور اگر ناجائز ہے تو یہ فرمائے کہ مجوزین کی دلیل بالکل سست ہے یا نہیںـ تیسری دلیل میں نےان لوگوں کی نہیں دیکھی اگر آپ کی نظرسے گزری ہو تومطلع فرمائیے یہ بھی جانتاہوں کہ آپ بہت عدیم الفرصت ہوں گے مگرخدا نے وارث الانبیاء آپ کو کیا ہے سائل اور کس سے اپنے شہبے رفع کرے والسلام۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ فقیرکی رائے میں دونوں دلیلیں اعتراض سے بری اور دونوں قول اپنے اپنے محل پر صحیح ہیں دلیل اول کی برأت تو واضح تر امام اجل قاضی خاں نے فتاوی خانیہ میں امام ظہیرالدین مرغینانی نے فتاوی ظہیریہ امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں اسے افادہ فرمایا اور امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر محقق زین نے بحرالرائق میں اس پر تعویل کی اس میں صورت مذکورہ کو ہزل نہ کہا بلکہ ایك مقدمہ دلیل پر مسئلہ ہزل سے استدلال فرمایا ہے تقریر کلام یہ ہے کہ یہاں انعقاد نکاح سے مانع ہوتویہی کہ معنی معلوم نہیں اورایسا ہو تو علم بمعنی شرط ہولیکن وہ شرط نہیں کہ اس کااشتراط ہو تو قصد ہی کے لیے اوریہاں قصد درکارنہیں دیکھو ہزل میں معنی مقصود نہیں ہوتے اورنکاح صحیح ہے اسی مطلب کو تجنیس میں بایں عبارت ادافرمایا :
ولو عقدا عقد النکاح بلفظ لایفھمان کونہ نکاحا ھل ینعقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضھم ینعقد لان النکاح لایشترط فیہ القصد ۔
اگر مرد وعورت نے ایسے الفاظ سے نکاح منعقد کیاجن سے ان دونوں کو نکاح ہونے کا پتا نہ چل سکے کیا اس صورت میں نکاح ہوجائے گا اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ نکاح منعقد ہوجائےگا کیونکہ نکاح میں قصد شرط نہیں ہے۔ (ت)
رہی دوسری دلیل اس پراعتراض اشتباہ معنی سے ناشی ہے فقیر بعون القدیر اسے ایسے نہج سے بیان کرے جس سے دلائل واحکام سب کا انکشاف ہوجائے ۳۸فاقول : وبالله التوفیق یہاں دوچیزیں ہیں ۱لفظ کا مفہوم کہ لغوی شرعی عرفی حقیقی مجازی کی طر ف مقسوم اور ۲اس کا حکم کہ غرض غایت مقصود وثمرہ وغیرہا سے موسوم ان دونوں پر لفظ کے معنی مضمون حتی کہ موضوع لہ کا بھی اطلاق آتا ہے اگرچہ اول کے بعض
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ فقیرکی رائے میں دونوں دلیلیں اعتراض سے بری اور دونوں قول اپنے اپنے محل پر صحیح ہیں دلیل اول کی برأت تو واضح تر امام اجل قاضی خاں نے فتاوی خانیہ میں امام ظہیرالدین مرغینانی نے فتاوی ظہیریہ امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں اسے افادہ فرمایا اور امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر محقق زین نے بحرالرائق میں اس پر تعویل کی اس میں صورت مذکورہ کو ہزل نہ کہا بلکہ ایك مقدمہ دلیل پر مسئلہ ہزل سے استدلال فرمایا ہے تقریر کلام یہ ہے کہ یہاں انعقاد نکاح سے مانع ہوتویہی کہ معنی معلوم نہیں اورایسا ہو تو علم بمعنی شرط ہولیکن وہ شرط نہیں کہ اس کااشتراط ہو تو قصد ہی کے لیے اوریہاں قصد درکارنہیں دیکھو ہزل میں معنی مقصود نہیں ہوتے اورنکاح صحیح ہے اسی مطلب کو تجنیس میں بایں عبارت ادافرمایا :
ولو عقدا عقد النکاح بلفظ لایفھمان کونہ نکاحا ھل ینعقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضھم ینعقد لان النکاح لایشترط فیہ القصد ۔
اگر مرد وعورت نے ایسے الفاظ سے نکاح منعقد کیاجن سے ان دونوں کو نکاح ہونے کا پتا نہ چل سکے کیا اس صورت میں نکاح ہوجائے گا اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ نکاح منعقد ہوجائےگا کیونکہ نکاح میں قصد شرط نہیں ہے۔ (ت)
رہی دوسری دلیل اس پراعتراض اشتباہ معنی سے ناشی ہے فقیر بعون القدیر اسے ایسے نہج سے بیان کرے جس سے دلائل واحکام سب کا انکشاف ہوجائے ۳۸فاقول : وبالله التوفیق یہاں دوچیزیں ہیں ۱لفظ کا مفہوم کہ لغوی شرعی عرفی حقیقی مجازی کی طر ف مقسوم اور ۲اس کا حکم کہ غرض غایت مقصود وثمرہ وغیرہا سے موسوم ان دونوں پر لفظ کے معنی مضمون حتی کہ موضوع لہ کا بھی اطلاق آتا ہے اگرچہ اول کے بعض
حوالہ / References
التجنیس والمزید
اقسام میں وضع نوعی ہے۔ امام اجل فخرالاسلام بزدوی قدس سرہ نے اصول میں فرمایاــ :
الھزل اللعب وھوان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وھو ضدالجد وھوان یراد بالشیئ ماوضع لہ ۔
ہزل (مذاق) ایسے کھیل کا نام ہے جس میں کسی چیز سے ایسی مراد لی جائے جس کے لیے وہ چیز وضع نہ کی گئی ہو یہ جد (قصد) کی ضد ہے اور جد کسی چیز سے اس کا موضوع لہ مراد لینا ہے۔ (ت)
امام جلیل عبدالعزیز بخاری اس کی شرح کشف کبیرمیں فرماتے ہیںـ :
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیربل وضع العقل والشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ فی حقیقۃ کان اومجاز ا والتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیر موضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا وارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادۃ الحکم اصلا فہو الھزل وتبین بما ذکرنا الفرق بین المجاز والھزل فان الموضوع العقلی للکلام وھوافادۃ المعنی فی المجاز مراد وان لم یکن الموضوع لہ اللغوی مرادا وفی الھزل کلاھما لیس بمراد وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ اﷲ تعالی ان الھزل ما لایراد بہ معنی ۔
یہاں وضع سے خاص وضع لغوی مرادنہیں بلکہ وضع عقلی وشرعی سب کو شامل ہے کیونکہ عقلی طور پر کلام کی وضع اس لیے ہے کہ اپنے معنی کا فائد ہ دے چاہے معنی حقیقی ہو یا مجازی ہوا ور شرعی تصرف کی وضع اس کے حکم کے افادہ کے لیے ہے تو جب کلام سے ا س کا عقلی معنی یعنی افادہ مقصد مراد نہ ہو اور تصرف شرعی سے شرعی معنی یعنی حکم کاافادہ مراد نہ ہو تو اس کو ہزل کہتے ہیں ہمارے بیان سے واضح ہوگیا کہ مجاز اور ہزل (مذاق) میں فرق ہے کہ مجاز میں عقلی وضع کے لحاظ سے معنی مراد لیا جاتا ہے اگرچہ لغوی معنی مراد نہیں ہوتا جبکہ مذاق میں دونوں معنوں میں سے کوئی بھی مراد نہیں ہوتا ا ورشیخ ابومنصور رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ سے منقول کا یہی معنی ہے کہ مذاق وہ ہے جس سے کوئی معنی مرادنہ لیا جائے (ت)
معنی بمعنی اول کا علم اصلا ضرور نہیں ولہذا اگر عورت نے “ زوجت نفسی منك بالف “ اور مرد نے “ قبلت “ کہا اور دونوں زبان عربی سے محض نا آشنا تھے مگر اتنا اجمالا معلوم تھا کہ یہ الفاظ عقد نکاح
الھزل اللعب وھوان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وھو ضدالجد وھوان یراد بالشیئ ماوضع لہ ۔
ہزل (مذاق) ایسے کھیل کا نام ہے جس میں کسی چیز سے ایسی مراد لی جائے جس کے لیے وہ چیز وضع نہ کی گئی ہو یہ جد (قصد) کی ضد ہے اور جد کسی چیز سے اس کا موضوع لہ مراد لینا ہے۔ (ت)
امام جلیل عبدالعزیز بخاری اس کی شرح کشف کبیرمیں فرماتے ہیںـ :
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیربل وضع العقل والشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ فی حقیقۃ کان اومجاز ا والتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیر موضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا وارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادۃ الحکم اصلا فہو الھزل وتبین بما ذکرنا الفرق بین المجاز والھزل فان الموضوع العقلی للکلام وھوافادۃ المعنی فی المجاز مراد وان لم یکن الموضوع لہ اللغوی مرادا وفی الھزل کلاھما لیس بمراد وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ اﷲ تعالی ان الھزل ما لایراد بہ معنی ۔
یہاں وضع سے خاص وضع لغوی مرادنہیں بلکہ وضع عقلی وشرعی سب کو شامل ہے کیونکہ عقلی طور پر کلام کی وضع اس لیے ہے کہ اپنے معنی کا فائد ہ دے چاہے معنی حقیقی ہو یا مجازی ہوا ور شرعی تصرف کی وضع اس کے حکم کے افادہ کے لیے ہے تو جب کلام سے ا س کا عقلی معنی یعنی افادہ مقصد مراد نہ ہو اور تصرف شرعی سے شرعی معنی یعنی حکم کاافادہ مراد نہ ہو تو اس کو ہزل کہتے ہیں ہمارے بیان سے واضح ہوگیا کہ مجاز اور ہزل (مذاق) میں فرق ہے کہ مجاز میں عقلی وضع کے لحاظ سے معنی مراد لیا جاتا ہے اگرچہ لغوی معنی مراد نہیں ہوتا جبکہ مذاق میں دونوں معنوں میں سے کوئی بھی مراد نہیں ہوتا ا ورشیخ ابومنصور رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ سے منقول کا یہی معنی ہے کہ مذاق وہ ہے جس سے کوئی معنی مرادنہ لیا جائے (ت)
معنی بمعنی اول کا علم اصلا ضرور نہیں ولہذا اگر عورت نے “ زوجت نفسی منك بالف “ اور مرد نے “ قبلت “ کہا اور دونوں زبان عربی سے محض نا آشنا تھے مگر اتنا اجمالا معلوم تھا کہ یہ الفاظ عقد نکاح
حوالہ / References
اصول البزدوی فصل الھزل نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۷
کشف الاسرار عن اصول البزدوی فصل الھزل دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۵۷
کشف الاسرار عن اصول البزدوی فصل الھزل دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۵۷
کے لیے کہے جاتے ہیں باتفاق علماء نکاح ہوگیا خانیہ میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ بلفظۃ العربیۃ اوبلفظ لایعرف معناہ او زوجت المرأۃ نفسھا بذلك ان علما ان ھذالفظ ینعقد بہ النکاح یکون النکاح عند الکل ۔
اگر کسی مرد نے عربی زبان یاکسی بھی زبان کا ایسا لفظ استعمال کرکے نکاح کیا اوریوں ہی عورت نے ایسا لفظ استعمال کیا کہ جس کا معنی اسے معلوم نہ ہو اگر ان دونوں کو ان الفاظ سے نکاح کے انعقاد کا علم ہوگیاتو یہ نکاح سب کے ہاں درست ہے۔ (ت)
یوں ہی اگرنا آشنایان عربی نے “ بعت اشتریت “ بقصد بیع وشراء کہا اور جانتے تھے کہ یہ الفاظ عقد بیع کے ہیں ضرور بیع ہوجائے گی اگرچہ تفسیر الفاظ سے ناواقف ہوں کہ بعد علم حکم بقصد ان الفاظ کا تحاور دلیل مراضاۃ ہے اور ایسی مراضاۃ ہی ان عقود میں کفیل اثبات ہے۔ ہدایہ میں ہے :
المعنی ھو المعتبر فی ھذہ العقود ولھذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ ۔
ان عقود میں معنی کااعتبار ہوتاہے اور اس لیے ہر چھوٹی موٹی چیز کے لین دین کرنے سے بیع منعقد ہوجاتی ہے کیونکہ اس صورت میں رضا ظاھر ہوجاتی ہے (ت)
توثابت ہوا کہ مسئلہ دائرہ میں معنی بمعنی دوم ہی مراد ہے کہ اول بالاجماع مراد نہیں توا س کا جہل مناط نزاع نہیں ہوسکتا بعض اکابر نے کہ الفاظ عربی اور عاقدین کے ہندی یا ترکی ہونے سے تصویر فرمائی وہ بحسب عادات فقہاء ہے کہ مظنہ غالبہ شئے کو قائم مقام شیئ کرتے ہیں۔
کما لایخفی علی من مارس کلما تھم العلیہ وقد ذکر نا طرفا منھافی فتاونا۔
جیساکہ فقہاء کرام کے کلام کے فہم میں ماہر پر مخفی نہیں جس کا کچھ بیان ہم نے اپنے فتاوی میں کیا ہے۔ (ت)
غالب یہی ہے کہ آدمی الفاظ زبان غیر مفہوم کے مقاصد پر بھی مطلع نہیں ہوتا ولہذا امام فقیہ النفس نے “ وان لم یعرفا معنی اللفظ “ (اگرچہ دونوں نے لفظ کا معنی نہ سمجھا۔ ت) پر قناعت نہ کی کہ اول کی طر ف ذہن نہ جائے بلکہ افادہ مراد کے لیے “ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح “ (اور دونوں نے
رجل تزوج امرأۃ بلفظۃ العربیۃ اوبلفظ لایعرف معناہ او زوجت المرأۃ نفسھا بذلك ان علما ان ھذالفظ ینعقد بہ النکاح یکون النکاح عند الکل ۔
اگر کسی مرد نے عربی زبان یاکسی بھی زبان کا ایسا لفظ استعمال کرکے نکاح کیا اوریوں ہی عورت نے ایسا لفظ استعمال کیا کہ جس کا معنی اسے معلوم نہ ہو اگر ان دونوں کو ان الفاظ سے نکاح کے انعقاد کا علم ہوگیاتو یہ نکاح سب کے ہاں درست ہے۔ (ت)
یوں ہی اگرنا آشنایان عربی نے “ بعت اشتریت “ بقصد بیع وشراء کہا اور جانتے تھے کہ یہ الفاظ عقد بیع کے ہیں ضرور بیع ہوجائے گی اگرچہ تفسیر الفاظ سے ناواقف ہوں کہ بعد علم حکم بقصد ان الفاظ کا تحاور دلیل مراضاۃ ہے اور ایسی مراضاۃ ہی ان عقود میں کفیل اثبات ہے۔ ہدایہ میں ہے :
المعنی ھو المعتبر فی ھذہ العقود ولھذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ ۔
ان عقود میں معنی کااعتبار ہوتاہے اور اس لیے ہر چھوٹی موٹی چیز کے لین دین کرنے سے بیع منعقد ہوجاتی ہے کیونکہ اس صورت میں رضا ظاھر ہوجاتی ہے (ت)
توثابت ہوا کہ مسئلہ دائرہ میں معنی بمعنی دوم ہی مراد ہے کہ اول بالاجماع مراد نہیں توا س کا جہل مناط نزاع نہیں ہوسکتا بعض اکابر نے کہ الفاظ عربی اور عاقدین کے ہندی یا ترکی ہونے سے تصویر فرمائی وہ بحسب عادات فقہاء ہے کہ مظنہ غالبہ شئے کو قائم مقام شیئ کرتے ہیں۔
کما لایخفی علی من مارس کلما تھم العلیہ وقد ذکر نا طرفا منھافی فتاونا۔
جیساکہ فقہاء کرام کے کلام کے فہم میں ماہر پر مخفی نہیں جس کا کچھ بیان ہم نے اپنے فتاوی میں کیا ہے۔ (ت)
غالب یہی ہے کہ آدمی الفاظ زبان غیر مفہوم کے مقاصد پر بھی مطلع نہیں ہوتا ولہذا امام فقیہ النفس نے “ وان لم یعرفا معنی اللفظ “ (اگرچہ دونوں نے لفظ کا معنی نہ سمجھا۔ ت) پر قناعت نہ کی کہ اول کی طر ف ذہن نہ جائے بلکہ افادہ مراد کے لیے “ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح “ (اور دونوں نے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنو ۱ / ۱۵۱
ہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۲۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
ہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۲۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
یہ نہ سمجھا کہ اس لفظ سے نکاح منعقدہو جاتاہے۔ ت)بڑھایا اور امام برہان الدین نے اصل مقصود لفظ لایفھما کونہ نکاحا(ایسا لفظ جس سے دونوں نے
نکاح ہونا نہ سمجھا۔ ت) فرمایا علامہ ابن عابدین نے منحۃ الخالق میں کلام خانیہ سے یہی اخیر فقرہ مقصود ہ نقل کیا اول ترك کردیا
حیث قال قال فی الخانیۃ وان لم یعلما ان ھذالفظ ینعقد بہ النکاح فھذہ جملۃ مسائل الخ۔
جہاں انھوں نے کہا کہ خانیہ میں فرمایا کہ اگر انھوں نے اس لفظ سے نکاح ہونا نہ سمجھا تویہ تمام مسائل ہیں الخ (ت)
اسی قدر نے دلیل دوم سے رفع اعتراض کردیا۔
۳۹ثم اقول : پھر جس طرح علم بمعنی اول اصلا ضرورنہیں بمعنی دوم دیانۃ مطلقا ضرور ہے قال تعالی
لانذركم به و من بلغ- (تاکہ تمھیں ڈر سناؤ ں اور ان لوگوں کوجن کویہ ڈر پہنچے۔ ت) اگرچہ یہ بلوغ حکم حکما ہو جیسے دارالاسلام میں ہونا اورسیکھنے کا تیسر کہ پھر نہ جاننا اپنی تقصیر ہے ولہذا جہل کو عوارض مکتسبہ سے شمار فرماتے ہیں کہ ازالہ پرقا در ہوں کہ باقی رکھنا گویا آپ ا س کا حاصل کرناہے یہی منشاہے کہ نشہ کی طلاق واقع ہے اگرچہ ایقاع کو عقل ضرور اور نشہ ا س کا مزیل مگر دانستہ اس کا ارتکاب خود اس کا قصور اصول امام بزدوی میں ہے :
الجھل فی دارالحرب من مسلم لم یھا جریکون عذرا فی الشرائع حتی لاتلزمہ لانہ غیر مقصر وکذلك الخطاب فی اول مانزل فان من لم یبلغہ کان معذور ا فاما اذا انتشرالخطاب فی دارالاسلام فقد تم تقصیر فمن جہل بعد فانما اتی من قبلہ تقصیرہ فلا یعذر کمن لم یطلب الماء فی العمران وتیمم وکان الماء موجود افصلی لم یجز ۔
دارالحرب میں مسلمان جوکہ ہجرت کرکے دارالاسلام نہ آیا ہو اس کی شرعی مسائل میں جہالت عذر ہے کہ اس عذر کی بناء پر وہاں اس کے لیے لازم نہ ہوں گے کیونکہ یہ اس کی طرف سے کوتاہی نہیں ہے یونہی جب پہلا خطاب نازل ہوا اور دارالاسلام میں رہنے والے کو نہ پہنچا تووہ بھی معذور قرار پائیگا لیکن وہ خطاب جب دارالاسلام میں پھیل جائے اور تبلیغ تام ہوجائے اس کے بعد جو جاہل رہے تویہ اس کی کوتاہی شمارہوگی تو وہ معذور نہ قرار پائے گاجیسا کہ کوئی شخص آبادی میں جہاں پانی موجود ہے تو پانی طلب یا تلاش کئے بغیر تیمم سے نماز پڑھ لے تو نماز نہ ہوگی۔ ت)
نکاح ہونا نہ سمجھا۔ ت) فرمایا علامہ ابن عابدین نے منحۃ الخالق میں کلام خانیہ سے یہی اخیر فقرہ مقصود ہ نقل کیا اول ترك کردیا
حیث قال قال فی الخانیۃ وان لم یعلما ان ھذالفظ ینعقد بہ النکاح فھذہ جملۃ مسائل الخ۔
جہاں انھوں نے کہا کہ خانیہ میں فرمایا کہ اگر انھوں نے اس لفظ سے نکاح ہونا نہ سمجھا تویہ تمام مسائل ہیں الخ (ت)
اسی قدر نے دلیل دوم سے رفع اعتراض کردیا۔
۳۹ثم اقول : پھر جس طرح علم بمعنی اول اصلا ضرورنہیں بمعنی دوم دیانۃ مطلقا ضرور ہے قال تعالی
لانذركم به و من بلغ- (تاکہ تمھیں ڈر سناؤ ں اور ان لوگوں کوجن کویہ ڈر پہنچے۔ ت) اگرچہ یہ بلوغ حکم حکما ہو جیسے دارالاسلام میں ہونا اورسیکھنے کا تیسر کہ پھر نہ جاننا اپنی تقصیر ہے ولہذا جہل کو عوارض مکتسبہ سے شمار فرماتے ہیں کہ ازالہ پرقا در ہوں کہ باقی رکھنا گویا آپ ا س کا حاصل کرناہے یہی منشاہے کہ نشہ کی طلاق واقع ہے اگرچہ ایقاع کو عقل ضرور اور نشہ ا س کا مزیل مگر دانستہ اس کا ارتکاب خود اس کا قصور اصول امام بزدوی میں ہے :
الجھل فی دارالحرب من مسلم لم یھا جریکون عذرا فی الشرائع حتی لاتلزمہ لانہ غیر مقصر وکذلك الخطاب فی اول مانزل فان من لم یبلغہ کان معذور ا فاما اذا انتشرالخطاب فی دارالاسلام فقد تم تقصیر فمن جہل بعد فانما اتی من قبلہ تقصیرہ فلا یعذر کمن لم یطلب الماء فی العمران وتیمم وکان الماء موجود افصلی لم یجز ۔
دارالحرب میں مسلمان جوکہ ہجرت کرکے دارالاسلام نہ آیا ہو اس کی شرعی مسائل میں جہالت عذر ہے کہ اس عذر کی بناء پر وہاں اس کے لیے لازم نہ ہوں گے کیونکہ یہ اس کی طرف سے کوتاہی نہیں ہے یونہی جب پہلا خطاب نازل ہوا اور دارالاسلام میں رہنے والے کو نہ پہنچا تووہ بھی معذور قرار پائیگا لیکن وہ خطاب جب دارالاسلام میں پھیل جائے اور تبلیغ تام ہوجائے اس کے بعد جو جاہل رہے تویہ اس کی کوتاہی شمارہوگی تو وہ معذور نہ قرار پائے گاجیسا کہ کوئی شخص آبادی میں جہاں پانی موجود ہے تو پانی طلب یا تلاش کئے بغیر تیمم سے نماز پڑھ لے تو نماز نہ ہوگی۔ ت)
حوالہ / References
منحۃ الخالق حاشیۃعلی البحرالرائق کتاب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۵
القرآن ۶ / ۱۹
اصول البزدوی باب العوارض المکتسبہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۵
القرآن ۶ / ۱۹
اصول البزدوی باب العوارض المکتسبہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۵
یہی معنی ہیں اس قول کے کہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں اور یہیں سے واضح ہوا کہ اگر ہمارے بلاد میں کوئی جاہل سا جاہل اپنی غیر مدخولہ عورت سے کہے تجھ پر طلاق ہے عورت فورا نکاح سے باہر ہوجائے گی اور بے حاجت عدت اسے اختیار ہوگا کہ جس سے چاہے نکاح کرلے اور اس کایہ مسئلہ نہ جانناکہ غیر مدخولہ مطلقا ہر طلاق سے بائن ہوجاتی ہے اسے مفید نہ ہوگا کسی نا خواندہ ہندی یا بنگالی کو اگر سکھائے کہ عورت سے کہہ : ترا از ز نی بہشتم (تجھ کو زوجیت سے نکال دیا۔ ت) یا طلقتك فالحقی باھلك (میں نے تجھے طلاق دے دی ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔ ت) اور وہ نہ جانے کہ یہ کلمات طلاق کے ہیں عندالله طلاق نہ ہوگی کہ یہ جہل بالحکم جہل باللسان سے ناشی ہوا اور جہل باللسان تقصیر نہیں فارسی سیکھنا اصلا اور عربی سیکھنا ہرشخص پر فرض نہیں اسی سے امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :
لابد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناہ اوالنسبۃ الی الغایۃ کما یفیدہ فروع الخ۔
لفظ طلاق سے خطاب کرتے ہوئے اس کے معنی کا علم یا غرض کی طرف نسبت ہوجیساکہ فروع نے افادہ کیا الخ (ت)
یعنی علم بمعنی دوم طلاق بھی ضرور ہے اگر وہ صورت پائی جائے کہ اس کے جہل میں معذور ہو جیسے جہل بالحکم بوجہ جہل باللسان تودیانۃ طلاق نہ ہوگی نہر الفائق میں ہے :
اراد انہ شرط للوقوع قضاء ودیانۃ فخرج مالایقع بہ لاقضاء ولادیانۃ کمن کرر مسائل الطلاق ومایقع بہ قضاء فقط کمن سبق لسانہ لانہ لایقع فیہ دیانۃ اھ ۴۰قلت فقولہ قضاء ودیانۃ ای معا ای ھو شرط لان یقع دیانۃ ایضا کما یقع قضاء ولوبدونہ فافھم۔
ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قضاء ودیانۃ وقوع طلاق کے لیے شرط ہے تواس سے وہ صورت خارج ہے جس میں قضاء ودیانۃ واقع نہ ہو جیسے کوئی شخص مسائل طلاق کا تکرار کرے اور وہ صورت بھی خارج ہے جس میں صرف قضاء واقع ہو جیسے غلطی سے کہہ دیا ہو توا س میں دیانۃ واقع نہ ہوگی اھ قلت اس کے “ قول قضاء و دیانۃ “ کا مطلب یہ ہے کہ “ قضاء ودیانۃ “ دونوں اکٹھی یعنی یہ شرط دیانۃ وقوع کے لیے بھی ہے جس طرح قضاء بغیر دیانۃ کے لیے شرط ہے اسے سمجھو۔ ت)
البتہ قاضی دعوی جہل نہ مانے گا اور حکم طلاق دے گا جب تك دلائل واضحہ سے اس کا عذر روشن نہ ہوجائے۔
لابد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناہ اوالنسبۃ الی الغایۃ کما یفیدہ فروع الخ۔
لفظ طلاق سے خطاب کرتے ہوئے اس کے معنی کا علم یا غرض کی طرف نسبت ہوجیساکہ فروع نے افادہ کیا الخ (ت)
یعنی علم بمعنی دوم طلاق بھی ضرور ہے اگر وہ صورت پائی جائے کہ اس کے جہل میں معذور ہو جیسے جہل بالحکم بوجہ جہل باللسان تودیانۃ طلاق نہ ہوگی نہر الفائق میں ہے :
اراد انہ شرط للوقوع قضاء ودیانۃ فخرج مالایقع بہ لاقضاء ولادیانۃ کمن کرر مسائل الطلاق ومایقع بہ قضاء فقط کمن سبق لسانہ لانہ لایقع فیہ دیانۃ اھ ۴۰قلت فقولہ قضاء ودیانۃ ای معا ای ھو شرط لان یقع دیانۃ ایضا کما یقع قضاء ولوبدونہ فافھم۔
ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قضاء ودیانۃ وقوع طلاق کے لیے شرط ہے تواس سے وہ صورت خارج ہے جس میں قضاء ودیانۃ واقع نہ ہو جیسے کوئی شخص مسائل طلاق کا تکرار کرے اور وہ صورت بھی خارج ہے جس میں صرف قضاء واقع ہو جیسے غلطی سے کہہ دیا ہو توا س میں دیانۃ واقع نہ ہوگی اھ قلت اس کے “ قول قضاء و دیانۃ “ کا مطلب یہ ہے کہ “ قضاء ودیانۃ “ دونوں اکٹھی یعنی یہ شرط دیانۃ وقوع کے لیے بھی ہے جس طرح قضاء بغیر دیانۃ کے لیے شرط ہے اسے سمجھو۔ ت)
البتہ قاضی دعوی جہل نہ مانے گا اور حکم طلاق دے گا جب تك دلائل واضحہ سے اس کا عذر روشن نہ ہوجائے۔
حوالہ / References
فتح القدیر باب ایقاع الطلاق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۳۵۱
نہرالفائق
نہرالفائق
ولہذا درمختار میں فرمایا :
تلفظ بہ (ای بالطلاق) غیرعالم بمعناہ اوغافلا اوساھیا اوبالفاظ مصحفۃ یقع قضاء فقط بخلاف الھازل واللاعب فانہ یقع قضاء ودیانۃ لان الشارع جعل ھزلہ بہ جدا ۔ فتح۔
معنی معلوم نہ ہونے یاغفلت یا بھول کر یا غلط تلفظ کی صورت میں طلاق کا لفظ بولا توصرف قضاء طلاق ہوگی اس کے برخلاف جبکہ مذاق اورکھیل کے طورپر لفظ طلاق بولے تو قضاء ودیانۃ دونوں طرح طلاق ہوجائی گی کیونکہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے طلاق میں مذاق کو قصدا طلاق کا حکم دیا ہے۔ فتح۔ (ت)
ا س تقریر سے مستنیر ہو اکہ جن اکابر نے صورت مسئولہ میں انعقاد نہ مانا وہ حکم دیانت ہے اور جن ائمہ نے مانا وہ حکم قضا ہے۔ لاجرم امام فقیہ النفس نے صاف فرمایا :
ان لم یعرفا معنی اللفظ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح فہذہ جملۃ مسائل الطلاق والعتاق والتدبیر والنکاح والخلع والابراء عن الحقوق و البیع والتملیك فالطلاق والعتاق والتدبیر واقع فی الحکم ذکرہ فی عتاق الاصل فی باب التدبیر واذا عرف الجواب فی الطلاق والعتاق ینبغی ان یکون النکاح کذلك لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلایشترط فیما یستوی فیہ الجد والھزل بخلاف البیع ونحو ذلك ۔
اگر دونوں لفظ کا معنی نہیں جانتے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس لفظ سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے تو طلاق عتاق تدبیر خلع حقوق سے بری کرنا بیع اور تملیك یہ تمام مسائل ہیں ان میں سے طلاق عتاق اورتدبیر (مدبر بنانا) حکم میں شامل ہیں امام محمد نے اس حکم کو اصل کے باب عتاق کی بحث تدبیر میں ذکرکیا ہے اور جب طلاق وعتاق کا حکم معلوم ہوگیا تو نکاح کابھی یہی حکم ہونا چاہئے کیونکہ لفظ کے مضمون کا علم قصد واختیار کے لیے معتبرہوتاہے توجہاں قصد ومذاق کاحکم مساوی ہو وہاں یہ علم شرط نہیں ہوگا بخلاف بیع جیسے امور کے (وہاں علم مذکور شرط ہے) (ت)
ہاں مشائخ اوزجند نے اہل تلبیس کا مکرر رد کرنے کو مطلقا عدم انعقاد فرمایا یعنی قضاء بھی حکم نہ دیں گے۔ بحرالرائق میں ہے :
تلفظ بہ (ای بالطلاق) غیرعالم بمعناہ اوغافلا اوساھیا اوبالفاظ مصحفۃ یقع قضاء فقط بخلاف الھازل واللاعب فانہ یقع قضاء ودیانۃ لان الشارع جعل ھزلہ بہ جدا ۔ فتح۔
معنی معلوم نہ ہونے یاغفلت یا بھول کر یا غلط تلفظ کی صورت میں طلاق کا لفظ بولا توصرف قضاء طلاق ہوگی اس کے برخلاف جبکہ مذاق اورکھیل کے طورپر لفظ طلاق بولے تو قضاء ودیانۃ دونوں طرح طلاق ہوجائی گی کیونکہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے طلاق میں مذاق کو قصدا طلاق کا حکم دیا ہے۔ فتح۔ (ت)
ا س تقریر سے مستنیر ہو اکہ جن اکابر نے صورت مسئولہ میں انعقاد نہ مانا وہ حکم دیانت ہے اور جن ائمہ نے مانا وہ حکم قضا ہے۔ لاجرم امام فقیہ النفس نے صاف فرمایا :
ان لم یعرفا معنی اللفظ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح فہذہ جملۃ مسائل الطلاق والعتاق والتدبیر والنکاح والخلع والابراء عن الحقوق و البیع والتملیك فالطلاق والعتاق والتدبیر واقع فی الحکم ذکرہ فی عتاق الاصل فی باب التدبیر واذا عرف الجواب فی الطلاق والعتاق ینبغی ان یکون النکاح کذلك لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلایشترط فیما یستوی فیہ الجد والھزل بخلاف البیع ونحو ذلك ۔
اگر دونوں لفظ کا معنی نہیں جانتے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس لفظ سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے تو طلاق عتاق تدبیر خلع حقوق سے بری کرنا بیع اور تملیك یہ تمام مسائل ہیں ان میں سے طلاق عتاق اورتدبیر (مدبر بنانا) حکم میں شامل ہیں امام محمد نے اس حکم کو اصل کے باب عتاق کی بحث تدبیر میں ذکرکیا ہے اور جب طلاق وعتاق کا حکم معلوم ہوگیا تو نکاح کابھی یہی حکم ہونا چاہئے کیونکہ لفظ کے مضمون کا علم قصد واختیار کے لیے معتبرہوتاہے توجہاں قصد ومذاق کاحکم مساوی ہو وہاں یہ علم شرط نہیں ہوگا بخلاف بیع جیسے امور کے (وہاں علم مذکور شرط ہے) (ت)
ہاں مشائخ اوزجند نے اہل تلبیس کا مکرر رد کرنے کو مطلقا عدم انعقاد فرمایا یعنی قضاء بھی حکم نہ دیں گے۔ بحرالرائق میں ہے :
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۱
لو لقنتہ لفظ الطلاق فتلفظ بہ غیر عالم بمعناہ وقع قضاء لادیانۃ وقال مشائخ اوزجندی لایقع اصلا صیانۃ لاملاك الناس عن الضیاع بالتلبیس کمافی البدائع کذا فی البزازیۃ ۔
اگر بیوی نے خاوند کو طلاق کے لفظ کہلائے جبکہ خاوند کو ان کا معنی معلوم نہیں تھا تو یہ لفظ کہنے سے طلاق قضاء واقع ہوگی دیانۃ نہیں ہوگی مشائخ اوزجند نے فرمایا کہ اس صورت میں بالکل طلاق نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایا جاسکے جیساکہ بدائع میں ہے اور یوں ہی بزازیہ میں ہے۔ (ت)
تاتار خانیہ پھرمنحہ میں ہے :
حکی عن القاضی الامام محمود الاوزجندی عمن لقنتہ امرأۃ طلاقا فطلقھا وھو لایعلم بذلك قال وقعت ھذہ المسألۃ باوزجند فشاورت اصحابی فی ذلك واتفقت اراؤنا انہ لایفتی بوقوع الطلاق صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بنوع تلبیس ولو لقنھا ان تخلع نفسھا منہ بمھرھا ونفقۃ عدتھا و اختلعت لایصح وبہ یفتی ۔
امام قاضی محمود اوزجندی کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے اس صورت کے بارے میں کہ بیوی نے خاوند کو طلاق سکھائی جبکہ خاوند کو اس کامعنی معلوم نہ تھا خاوند نے طلاق کہہ دی فرمایا کہ یہ مسئلہ اوزجند میں پیش آیا تو میں نے اپنے اصحاب سے اس کے متعلق مشورہ کیا توہماری متفقہ رائے یہ قرارپائی کہ اس صورت میں طلاق ہوجانےکا فتوی نہیں دیا جائیگا تاکہ دھوکے کے ذریعے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایاجاسکے اور اگر خاوند نے بیوی کو خلع بعوض مہر نفقہ عد ت سکھایا تو عورت نے خلع کے یہ الفاظ کہہ دئے تو خلع صحیح نہ ہوگا اسی پر فتوی ہے۔(ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
لقنت المرأۃ بالعربیۃ زوجت نفسی من فلان ولا تعرف ذلك وقال فلان قبلت والشھود یعلمون اولایعلمون صح النکاح قال فی النصاب وعلیہ الفتوی وکذا الطلاق
کسی عورت کو عربی میں کہلایا گیا “ زوجت نفسی من فلان “ (میں نے اپنے آپ کو فلاں شخص سے بیاہ دیا) جبکہ عورت کو اس عبارت کا معنی معلوم نہ تھا اس کے بعداس فلاں شخص نے جوا ب میں
اگر بیوی نے خاوند کو طلاق کے لفظ کہلائے جبکہ خاوند کو ان کا معنی معلوم نہیں تھا تو یہ لفظ کہنے سے طلاق قضاء واقع ہوگی دیانۃ نہیں ہوگی مشائخ اوزجند نے فرمایا کہ اس صورت میں بالکل طلاق نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایا جاسکے جیساکہ بدائع میں ہے اور یوں ہی بزازیہ میں ہے۔ (ت)
تاتار خانیہ پھرمنحہ میں ہے :
حکی عن القاضی الامام محمود الاوزجندی عمن لقنتہ امرأۃ طلاقا فطلقھا وھو لایعلم بذلك قال وقعت ھذہ المسألۃ باوزجند فشاورت اصحابی فی ذلك واتفقت اراؤنا انہ لایفتی بوقوع الطلاق صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بنوع تلبیس ولو لقنھا ان تخلع نفسھا منہ بمھرھا ونفقۃ عدتھا و اختلعت لایصح وبہ یفتی ۔
امام قاضی محمود اوزجندی کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے اس صورت کے بارے میں کہ بیوی نے خاوند کو طلاق سکھائی جبکہ خاوند کو اس کامعنی معلوم نہ تھا خاوند نے طلاق کہہ دی فرمایا کہ یہ مسئلہ اوزجند میں پیش آیا تو میں نے اپنے اصحاب سے اس کے متعلق مشورہ کیا توہماری متفقہ رائے یہ قرارپائی کہ اس صورت میں طلاق ہوجانےکا فتوی نہیں دیا جائیگا تاکہ دھوکے کے ذریعے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایاجاسکے اور اگر خاوند نے بیوی کو خلع بعوض مہر نفقہ عد ت سکھایا تو عورت نے خلع کے یہ الفاظ کہہ دئے تو خلع صحیح نہ ہوگا اسی پر فتوی ہے۔(ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
لقنت المرأۃ بالعربیۃ زوجت نفسی من فلان ولا تعرف ذلك وقال فلان قبلت والشھود یعلمون اولایعلمون صح النکاح قال فی النصاب وعلیہ الفتوی وکذا الطلاق
کسی عورت کو عربی میں کہلایا گیا “ زوجت نفسی من فلان “ (میں نے اپنے آپ کو فلاں شخص سے بیاہ دیا) جبکہ عورت کو اس عبارت کا معنی معلوم نہ تھا اس کے بعداس فلاں شخص نے جوا ب میں
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب الطلاق ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۵۸۔ ۲۵۷
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرا لرائق کتاب الطلاق ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۲۵۸
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرا لرائق کتاب الطلاق ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۲۵۸
وقال الامام شمس الاسلام الاوزجندی لالانہ کالطوطی وسیأتی علیہ التعویل ۔
“ قبلت “ (میں نے قبول کیا) کہا تو صحیح ہوگا خواہ گواہوں کو عبارت کا معنی معلوم ہو یا نہ ہو نصاب میں فرمایا کہ اسی پر فتوی ہے اور مسئلہ طلاق کا بھی یہی حکم ہے اور امام شمس الاسلام اوزجندی نے فرمایا : طلاق نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ صورت میں مرد طوطے کے مانند ہے اور عنقریب آئے گا کہ اس پر اعتماد ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لقنہ الطلاق بالعربیۃ وھولایعلم قال الفقیہ ابو اللیث لایقع دیانۃ وقال مشائخ اوزجند لایقع اصلا صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بالتلبیس وکذا لو لقنت الخلع وھی لاتعلم وقیل یصح و المختار ماذکرنا اھ ملتقطا۔
خاوند کو کسی نے عربی زبان میں طلاق سکھائی جبکہ وہ ا س کا معنی اورمقصد نہ جانتا تھا اس کے طلاق کہنے پر فقیہ ابواللیث کے قول کے مطابق دیانۃ طلاق نہ ہوگی اور مشائخ اوزجند نے فرمایا طلاق بالکل نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے اموال کو ضیاع سے بچایاجاسکے اوریوں ہی اگر عورت کو خلع سکھایاگیا اور اس کو معلوم نہیں کہ معنی کیاہے تو بعض نے کہا کہ خلع صحیح ہوگا جبکہ مختار وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے اھ ملتقطا (ت)
رہا نکاح میں گواہوں کا سمجھنا اس میں تحقیق وتوفیق یہ ہے کہ معنی بمعنی اول کا سمجھنا ضرور نہیں بمعنی دوم کا سمجھنا دیانۃ وقضاء ہر طرح لازم ہے یعنی اتنا جانتے ہیں کہ یہ نکاح ہورہاہے یہ الفاظ ایجاب وقبول ہیں اگرچہ تفسیر الفاظ نہ جانیں نہ اس سے آگاہ ہوں درمختار میں ہے :
شرط حضور شاہدین فا ھمین انہ نکاح علی المذھب بحر ۔
نکاح سمجھنے والے دوگواہوں کی حاضری شرط ہے یہ مذہب ہے بحر۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر جزم فی التبیین بانہ لوعقدا بحضرۃ ھندیین لم یفھما کلامھما لم یجز و
بحر میں ہے کہ تبیین میں اس پر جزم کیا گیا ہے کہ اگر دو ہندی گواہوں کی حاضری میں عربی میں نکاح فریقین نے کیا جن کے کلام کو وہ نہ سمجھ سکے تو نکاح جائز نہ ہوگا۔
“ قبلت “ (میں نے قبول کیا) کہا تو صحیح ہوگا خواہ گواہوں کو عبارت کا معنی معلوم ہو یا نہ ہو نصاب میں فرمایا کہ اسی پر فتوی ہے اور مسئلہ طلاق کا بھی یہی حکم ہے اور امام شمس الاسلام اوزجندی نے فرمایا : طلاق نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ صورت میں مرد طوطے کے مانند ہے اور عنقریب آئے گا کہ اس پر اعتماد ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لقنہ الطلاق بالعربیۃ وھولایعلم قال الفقیہ ابو اللیث لایقع دیانۃ وقال مشائخ اوزجند لایقع اصلا صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بالتلبیس وکذا لو لقنت الخلع وھی لاتعلم وقیل یصح و المختار ماذکرنا اھ ملتقطا۔
خاوند کو کسی نے عربی زبان میں طلاق سکھائی جبکہ وہ ا س کا معنی اورمقصد نہ جانتا تھا اس کے طلاق کہنے پر فقیہ ابواللیث کے قول کے مطابق دیانۃ طلاق نہ ہوگی اور مشائخ اوزجند نے فرمایا طلاق بالکل نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے اموال کو ضیاع سے بچایاجاسکے اوریوں ہی اگر عورت کو خلع سکھایاگیا اور اس کو معلوم نہیں کہ معنی کیاہے تو بعض نے کہا کہ خلع صحیح ہوگا جبکہ مختار وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے اھ ملتقطا (ت)
رہا نکاح میں گواہوں کا سمجھنا اس میں تحقیق وتوفیق یہ ہے کہ معنی بمعنی اول کا سمجھنا ضرور نہیں بمعنی دوم کا سمجھنا دیانۃ وقضاء ہر طرح لازم ہے یعنی اتنا جانتے ہیں کہ یہ نکاح ہورہاہے یہ الفاظ ایجاب وقبول ہیں اگرچہ تفسیر الفاظ نہ جانیں نہ اس سے آگاہ ہوں درمختار میں ہے :
شرط حضور شاہدین فا ھمین انہ نکاح علی المذھب بحر ۔
نکاح سمجھنے والے دوگواہوں کی حاضری شرط ہے یہ مذہب ہے بحر۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر جزم فی التبیین بانہ لوعقدا بحضرۃ ھندیین لم یفھما کلامھما لم یجز و
بحر میں ہے کہ تبیین میں اس پر جزم کیا گیا ہے کہ اگر دو ہندی گواہوں کی حاضری میں عربی میں نکاح فریقین نے کیا جن کے کلام کو وہ نہ سمجھ سکے تو نکاح جائز نہ ہوگا۔
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰۹
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ مسائل الایقاع بلاقصد الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷۹
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ مسائل الایقاع بلاقصد الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷۹
درمختار کتاب النکاح مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
صححہ فی الجوھرۃ وقال فی الظھیریۃ والظاھرانہ یشترط فھم انہ نکاح واختارہ فی الخانیۃ فکان ھو المذھب لکن فی الخلاصۃ لویحسنان العربیۃ فعقد ابھا والشھود لایعرفونھا الاصح انہ ینعقد ووفق الرحمتی بحمل الاشتراط علی اشتراط فھم انہ عقد نکاح والقول بعدمہ علی عدم اشتراط فھم معانی الالفاظ بعد فھم ان المراد عقد نکاح اھ۔
۴۱قلت قدکان سنح للعبد الضعیف قبل ان ارہ لاشك انہ حسن جد اوفی وجیز الامام الکردری تزوجھا بالعربی وھما یعقلان لاالشھود قال فی المحیط الاصح انہ ینعقد وعن محمد تزوجھا بحضرۃ ھندیین ولم یمکنھما ان یعبرا لم یجز فھذا نص علی انہ لایجوز فی الاول ایضا اھ ۔
جوہر ہ میں اس حکم کو صحیح کہا ہے اور ظہیریہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح ہونا گواہوں کو سمجھناشرط ہے۔ اور خانیہ میں ا س کو مختار کہا تو یہی مذہب ہے لیکن خلاصہ میں ہے کہ اگر نکاح کے فریقین عربی اچھی طرح جانتے ہیں اور انھوں نے نکاح عربی میں کیا جس کو گواہوں نے نہ سمجھا تو اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائیگا۔ اور علامہ رحمتی نے دونوں اقوال میں یہ موافقت کی کہ جہاں گواہوں کے فہم کو شرط کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نکاح ہونے کو سمجھ لیں اورجہاں فہم کوشرط قرار نہیں دیا گیا اس سے مراد یہ ہے کہ قبول وایجاب کے الفاظ کے معانی سمجھنا شرط نہیں جبکہ نکاح ہونے کافہم حاصل ہوچکا ہو ا ھ
قلت اس عبد ضعیف پر واضح ہوا کہ یہ تطبیق بہت اچھی ہے جبکہ ابھی میں نے یہ نہیں دیکھا تھا اور وجیز کردری میں ہے کہ مر دوعورت نے عربی میں نکاح کیا وہ دونوں عربی جانتے تھے اور گواہ نہ جانتے تھے محیط میں فرمایا کہ اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائے گا اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ فریقین نے عربی میں دو ہندی حضرات کی حاضری میں نکاح کیاجبکہ یہ حضرات ا س کی تعبیر پر قدرت نہیں رکھتے تو نکاح جائزنہ ہوگا امام احمدسے مروی یہ اس بات پر نص ہے کہ عقدنکاح ہونا سمجھنے سے بھی نکاح نہ ہوگا اھ
۴۱قلت قدکان سنح للعبد الضعیف قبل ان ارہ لاشك انہ حسن جد اوفی وجیز الامام الکردری تزوجھا بالعربی وھما یعقلان لاالشھود قال فی المحیط الاصح انہ ینعقد وعن محمد تزوجھا بحضرۃ ھندیین ولم یمکنھما ان یعبرا لم یجز فھذا نص علی انہ لایجوز فی الاول ایضا اھ ۔
جوہر ہ میں اس حکم کو صحیح کہا ہے اور ظہیریہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح ہونا گواہوں کو سمجھناشرط ہے۔ اور خانیہ میں ا س کو مختار کہا تو یہی مذہب ہے لیکن خلاصہ میں ہے کہ اگر نکاح کے فریقین عربی اچھی طرح جانتے ہیں اور انھوں نے نکاح عربی میں کیا جس کو گواہوں نے نہ سمجھا تو اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائیگا۔ اور علامہ رحمتی نے دونوں اقوال میں یہ موافقت کی کہ جہاں گواہوں کے فہم کو شرط کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نکاح ہونے کو سمجھ لیں اورجہاں فہم کوشرط قرار نہیں دیا گیا اس سے مراد یہ ہے کہ قبول وایجاب کے الفاظ کے معانی سمجھنا شرط نہیں جبکہ نکاح ہونے کافہم حاصل ہوچکا ہو ا ھ
قلت اس عبد ضعیف پر واضح ہوا کہ یہ تطبیق بہت اچھی ہے جبکہ ابھی میں نے یہ نہیں دیکھا تھا اور وجیز کردری میں ہے کہ مر دوعورت نے عربی میں نکاح کیا وہ دونوں عربی جانتے تھے اور گواہ نہ جانتے تھے محیط میں فرمایا کہ اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائے گا اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ فریقین نے عربی میں دو ہندی حضرات کی حاضری میں نکاح کیاجبکہ یہ حضرات ا س کی تعبیر پر قدرت نہیں رکھتے تو نکاح جائزنہ ہوگا امام احمدسے مروی یہ اس بات پر نص ہے کہ عقدنکاح ہونا سمجھنے سے بھی نکاح نہ ہوگا اھ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۳
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۸
۴۲اقول : فی قول محمد رضی اﷲ تعالی عنہ لم یمکنھما ان یعبرا اشارۃ الی ماذکر نا اذلاحاجۃ الاالی التعبیر الذی یطلب من الشھود عنداداء الشہادۃ ولیس علیھم ان یعید وا الالفاظ التی تلفظا بھا ولا ان یعبروھا بمرادفاتھا اوترجمتھا بل لوشہد واان فلا ناتزوج فلا نۃ کفی فھذا ھوا لتعبیر المحتاج الیہ اویکفی فھذا ھوالتعبیر المحتاج الیہ اویکفی لہ ان یفھما انہ عقد نکاح وان لم یعرفا تفسیر الکلام لفظا لفظا وایضا اشتراط ھذا ھو المحقق للمقصد الذی شرع لہ الشرع شرط الشھود فی ھذا العقد منفر زاعن سائر العقود فاسقاطہ الغاء للمقصود واشتراط فھم الالفاظ زیادۃ مستغنی عنھا فعلیہا فلیکن التعویل وبہ یحصل التوفیق وباﷲ التوفیق ثم لم یظھرلی معنی قول البزازیہ فی الاول ایضا فما ھوالا الاول۔
اقول : امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کہ “ گواہ تعبیر نہ کرسکیں “ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کیونکہ گواہوں کو تعبیر کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب ان سے گواہی اداکرنے کا مطالبہ کیا جائے تواس وقت گواہوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ نکاح کے فریقین کے الفاظ کو دہرائیں یا ان کے الفاظ کے مترادف الفاظ یا ان الفا ظ کا ترجمہ بیان کریں بلکہ اگر اتنا ہی بیان کردیں کہ فلاں مرد کا فلاں عور ت سے نکاح ہوا ہے تو کافی ہے بس یہ وہ تعبیر ہے جس کی ضرورت ہے اور اس کے لیے گواہوں کا مجلس میں اتنا سمجھنا کافی ہے کہ نکاح ہو رہاہے اگرچہ وہ الفاظ کی تفسیر و معانی نہ سمجھ پائیں پھر یہ کہ شریعت نے خاص اس عقد نکاح کے لیے گواہوں کی حاضری کا جو مقصد متعین کیا ہے اس کے لیے یہ شرط مثبت ہے لہذا ا تنی شرط کو سمجھناشرعی مقصد سے بے اعتنائی ہوگی اور گواہوں کی شرط لگانا غیر ضروری زیادتی ہے توا س پراعتماد ہونا چاہئے جبکہ اسی سے تطبیق ہوجاتی ہے اور الله تعالی ہی سے توفیق ہے۔ پھر مجھے بزازیہ کے پہلے قول کا مفہوم بھی نہیں ملا تو معلوم ہوا کہ ان کا بیان کردہ قول وہ پہلا قول ہی ہے۔(ت)
بالجملہ حاصل حکم یہ ہے کہ اگر دو گواہ یہ نہ سمجھے کہ یہ عقد نکاح ہے تو نکاح مطلقا نہ ہوا اگرچہ زن ومرد خوب سمجھتے اور انشائے نکاح ہی کا قصد رکھتے ہوں اور اگردو گواہ اس قدر سمجھ لیے اگرچہ تفسیر الفاظ نہ جانتے ہوں تو اگر عاقدین بھی اتنا جانتے ہوں کہ ان الفاظ سے نکاح ہوجاتاہے تو بالاجماع نکاح ہوجائے گا اگرچہ اس زبان سے دونوں وہ اور گواہ سب نا آشنا ہوں اور اگر عاقدین میں دونوں یا ایك کو معلوم نہ تھا کہ یہ الفاظ نکاح ہیں توجہاں احکام اسلام کا چرچا نہیں وہاں یہ جہل عذر ہے اور جہاں چرچا ہے اور وہ
اقول : امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کہ “ گواہ تعبیر نہ کرسکیں “ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کیونکہ گواہوں کو تعبیر کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب ان سے گواہی اداکرنے کا مطالبہ کیا جائے تواس وقت گواہوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ نکاح کے فریقین کے الفاظ کو دہرائیں یا ان کے الفاظ کے مترادف الفاظ یا ان الفا ظ کا ترجمہ بیان کریں بلکہ اگر اتنا ہی بیان کردیں کہ فلاں مرد کا فلاں عور ت سے نکاح ہوا ہے تو کافی ہے بس یہ وہ تعبیر ہے جس کی ضرورت ہے اور اس کے لیے گواہوں کا مجلس میں اتنا سمجھنا کافی ہے کہ نکاح ہو رہاہے اگرچہ وہ الفاظ کی تفسیر و معانی نہ سمجھ پائیں پھر یہ کہ شریعت نے خاص اس عقد نکاح کے لیے گواہوں کی حاضری کا جو مقصد متعین کیا ہے اس کے لیے یہ شرط مثبت ہے لہذا ا تنی شرط کو سمجھناشرعی مقصد سے بے اعتنائی ہوگی اور گواہوں کی شرط لگانا غیر ضروری زیادتی ہے توا س پراعتماد ہونا چاہئے جبکہ اسی سے تطبیق ہوجاتی ہے اور الله تعالی ہی سے توفیق ہے۔ پھر مجھے بزازیہ کے پہلے قول کا مفہوم بھی نہیں ملا تو معلوم ہوا کہ ان کا بیان کردہ قول وہ پہلا قول ہی ہے۔(ت)
بالجملہ حاصل حکم یہ ہے کہ اگر دو گواہ یہ نہ سمجھے کہ یہ عقد نکاح ہے تو نکاح مطلقا نہ ہوا اگرچہ زن ومرد خوب سمجھتے اور انشائے نکاح ہی کا قصد رکھتے ہوں اور اگردو گواہ اس قدر سمجھ لیے اگرچہ تفسیر الفاظ نہ جانتے ہوں تو اگر عاقدین بھی اتنا جانتے ہوں کہ ان الفاظ سے نکاح ہوجاتاہے تو بالاجماع نکاح ہوجائے گا اگرچہ اس زبان سے دونوں وہ اور گواہ سب نا آشنا ہوں اور اگر عاقدین میں دونوں یا ایك کو معلوم نہ تھا کہ یہ الفاظ نکاح ہیں توجہاں احکام اسلام کا چرچا نہیں وہاں یہ جہل عذر ہے اور جہاں چرچا ہے اور وہ
الفاظ کسی غیر زبان کے نہ تھے جس سےآگاہی نہ ہو تونکاح ہوجائے گا اور یہ عذر مسموع نہیں اوراگر غیر زبان کے تھے اور فی الواقع اس نے اسے عقد نہ سمجھا تو عندالله نکاح نہ ہوگا رہا قاضی اسے نظر کامل چاہئے اگر ظاہر ہو کہ واقعی فریب کیا گیا اور دھوکا دیا گیا تو بطلان نکاح کا حکم دے ورنہ صحت کا۔
ھذا ماعندی وارجو ان یکون ھوالفقہ المتین والقول الجامع الناصع المبین۔
میرے ہاں فہم یہ ہے اور امید ہے کہ یہی مضبوط فہم ہے اور یہی جامع واضح اور خاص قول ہے (ت)
زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پرقائم رہے اوریہ تاقدر قدرت انسدادنہ کرے تو یہ دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب مگریہ حکم ا س کی اس بے غیرتی پرہے نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں حق سبحانہ وتعالی نے محرمات گنا کر فرمایاـ : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت) رہی آیہ کریمہ :
و الزانیة لا ینكحها الا زان او مشرك-و حرم ذلك على المؤمنین(۳) ۔
زانیہ عورت سے صرف زانی یا مشرك نکاح کرے اور مومنین پر یہ حرام ہے (ت)
اس کاحکم منسوخ ہے قالہ سعید بن مسیب وجماعۃ (یہ سعید بن مسیب اور ایك جماعت کا قول ہے۔ ت) یا نکاح سے یہاں جماع مراد ہے کما قال حبرالامۃ عبداﷲ بن عباس وسعید بن جبیر ومجاھد والضحاك وعکرمۃ وعبدالرحمن بن زید بن اسلم ویزید بن ھارون (جیساکہ امت کے ماہر عالم عبدالله بن عباس اور سعید بن جبیر اور مجاہد ضحاک عکرمہ عبدالرحمان بن زید بن اسلم اور یزید بن ہارون کا قول ہے۔ ت)والتفصیل فی فتاونا (اس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰ : مسئولہ عبدالرحیم خاں یکم رجب ۱۳۲۹ھ
نکاح کے وقت ولی کی بات قبول کی جائے گی یا لڑکی کے زبانی الفاظ جو وہ کہتی ہے اور ولی کس کو بنا نا چاہئےـ نکاح میں ضروری الفاظ اور لازمی کیا کیا ہیں ا ور ان کا طریقہ کیا ہے
الجواب :
لڑکی بالغہ ہے توا س کا اپنا ایجاب یا قبول ہونا چاہئے اگرچہ بواسطہ وکیل۔ اور نابالغہ ہے تو
ھذا ماعندی وارجو ان یکون ھوالفقہ المتین والقول الجامع الناصع المبین۔
میرے ہاں فہم یہ ہے اور امید ہے کہ یہی مضبوط فہم ہے اور یہی جامع واضح اور خاص قول ہے (ت)
زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پرقائم رہے اوریہ تاقدر قدرت انسدادنہ کرے تو یہ دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب مگریہ حکم ا س کی اس بے غیرتی پرہے نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں حق سبحانہ وتعالی نے محرمات گنا کر فرمایاـ : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت) رہی آیہ کریمہ :
و الزانیة لا ینكحها الا زان او مشرك-و حرم ذلك على المؤمنین(۳) ۔
زانیہ عورت سے صرف زانی یا مشرك نکاح کرے اور مومنین پر یہ حرام ہے (ت)
اس کاحکم منسوخ ہے قالہ سعید بن مسیب وجماعۃ (یہ سعید بن مسیب اور ایك جماعت کا قول ہے۔ ت) یا نکاح سے یہاں جماع مراد ہے کما قال حبرالامۃ عبداﷲ بن عباس وسعید بن جبیر ومجاھد والضحاك وعکرمۃ وعبدالرحمن بن زید بن اسلم ویزید بن ھارون (جیساکہ امت کے ماہر عالم عبدالله بن عباس اور سعید بن جبیر اور مجاہد ضحاک عکرمہ عبدالرحمان بن زید بن اسلم اور یزید بن ہارون کا قول ہے۔ ت)والتفصیل فی فتاونا (اس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰ : مسئولہ عبدالرحیم خاں یکم رجب ۱۳۲۹ھ
نکاح کے وقت ولی کی بات قبول کی جائے گی یا لڑکی کے زبانی الفاظ جو وہ کہتی ہے اور ولی کس کو بنا نا چاہئےـ نکاح میں ضروری الفاظ اور لازمی کیا کیا ہیں ا ور ان کا طریقہ کیا ہے
الجواب :
لڑکی بالغہ ہے توا س کا اپنا ایجاب یا قبول ہونا چاہئے اگرچہ بواسطہ وکیل۔ اور نابالغہ ہے تو
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۲۴ / ۳
تفسیردر منثور سورۃ النور آیہ اللہ العظمی النجفی قم ایران ۵ / ۱۹
القرآن ۲۴ / ۳
تفسیردر منثور سورۃ النور آیہ اللہ العظمی النجفی قم ایران ۵ / ۱۹
ا س کے ولی کا ولی کسی کے بنانے کا نہیں ہوتابلکہ وہ شرع مطہر نے ترتیب وار مقرر کئے ہیں سب میں پہلا ولی بیٹا ہے پھر باپ پھر داداپھر سگابھائی پھر سوتیلا پھر سگا بھتیجا پھر سوتیلا پھر سگا چچا پھر سوتیلا پھر سگے چچا کا بیٹا پھر سوتیلے کا وعلی ہذالقیاس دادا پر داداکی اولاد کا جومرد عاقل بالغ قریب تر ہو گاوہی ولی ہے اور ان میں کوئی نہ ہو تو پھر ماں ہے اسی طرح بترتیب اصحاب فرائض پھر ذوی الارحام اورا ن میں کوئی نہ ہو تو پھر حاکم اسلام۔ نکاح میں ضروری الفاظ ایجاب وقبول ہیں جن سے عقد سمجھا جائے نہ وعدہ مثلا مرد عورت سے کہے میں نے تجھے اپنے نکاح میں لیا عورت کہے میں نے قبول کیا یاعورت کا وکیل کہے میں نے فلاں عورت بنت فلان ابن فلاں کو دادا تك نام لے اگرصرف باپ کے نام سے پوری تمیز نہ ہوجائے یا عورت سامنے بیٹھی ہے تو کسی کے نام لینے کی حاجت نہیں اشارہ کرکے کہے اس عور ت کو تیرے نکاح میں دیا مردکہے میں نے قبول کیا اور دو مرد یاایك مرد دو عورتیں مسلمان عاقل بالغ آزاد ان دونوں کی گفتگو کو معا سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بس اسی قدر ضروری ہے اس کے سوا خطبہ پڑھنا سنت ہے اور کلمے پڑھانا ایك اچھی بات ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۴۱ : از ریاست رام پور محلہ پیلا تالاب مرسلہ مولوی شفاعت رسول صاحب سلمہ قادری برکاتی رضوی ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حضور پر نور کادربارہ متعہ کے کیا ارشاد ہے اوائل اسلام میں جائز تھا پھر حرام کردیا گیا آیا اس کی حرمت حدیث سے ثابت ہے یا اقوال سے
الجواب :
متعہ کی حرمت صحیح حدیثوں سے ثابت ہے امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم کے ارشادوں سے ثابت ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال شریفہ سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن عظیم سے ثابت ہے الله عزوجل فرماتا ہے۔
و الذین هم لفروجهم حفظون(۵) الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم فانهم غیر ملومین(۶) فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ماسوا سے اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں وہ ملامت سے محفوظ ہیں اور جو لوگ غیر کے متلاشی ہیں وہ حد سے متجاوز ہیں۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱ : از ریاست رام پور محلہ پیلا تالاب مرسلہ مولوی شفاعت رسول صاحب سلمہ قادری برکاتی رضوی ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حضور پر نور کادربارہ متعہ کے کیا ارشاد ہے اوائل اسلام میں جائز تھا پھر حرام کردیا گیا آیا اس کی حرمت حدیث سے ثابت ہے یا اقوال سے
الجواب :
متعہ کی حرمت صحیح حدیثوں سے ثابت ہے امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم کے ارشادوں سے ثابت ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال شریفہ سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن عظیم سے ثابت ہے الله عزوجل فرماتا ہے۔
و الذین هم لفروجهم حفظون(۵) الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم فانهم غیر ملومین(۶) فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ماسوا سے اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں وہ ملامت سے محفوظ ہیں اور جو لوگ غیر کے متلاشی ہیں وہ حد سے متجاوز ہیں۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۷۔ ۶۔ ۵
مسئلہ ۴۲ : از موضع میونڈی بزرگ مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب مورخہ ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی آشنائی ایك طوائف سے ہے اورا س سے فعل حرام کرتاہے اور اس سے کئی اولاد پیدا ہوچکی ہیں اب طوائف مذکور کایہ ارادہ ہے کہ میرا نکاح ا س زید آشنا سے ہوجائے تاکہ میں فعل حرا م سے بچ جاؤں زیدکی بھی کچھ منشاپائی جاتی ہے لیکن زید کے گھروالے اس نکاح کے منکرہیں اور زید پر اس بات کا دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر تونے اپنا نکاح طوائف سے کیا تو تم کو برادری سے خارج کردیں گے اس واسطے کہ ہمارے خاندان کو دھبہ لگانا ہے کیونکہ ہم شریف ہیں اور نہ اس کی اولاد کا ہم لوگ اپنی برادری میں شادی بیاہ کرسکتے ہیں یہ نکاح ٹھیك نہیں اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ نکاح کرنا کیساہے آیا سنت میں داخل ہے یاخلاف سنت اور زید ا س نکاح کے کرنے سے دائرہ اسلام اور برادری میں رہا یانہیں اور منکر اس نکاح کے کس درجہ میں شمار کئے جائیں اور جو اس نکاح پر اعتراض کریں اور برا کہیں وہ کس درجہ میں شمارہیں فقط جناب اعلی حضرت کے مع آیت وحدیث مہر دستخط کے امید وار ہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح سنت ہے مگر رنڈی سے نکاح سنت نہیں بلکہ اس کے جائز ہی ہونے میں ائمہ کااختلاف ہے پھر ایك جائز بات جس سے فتنہ ونفرت پیدا ہو اورآپس میں پھوٹ پڑے ناجائز ہوجاتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ : بشروا ولاتنفروا (خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ ۴۴ : از چوہڑ کوٹ یارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین دریں مسائل کہ :
(۱) اگرزنے بیوہ شود دویم بارنکاح کردن لازم است یامیخواہد کہ من نکاح نمی کنم کہ مے گوید بنشینم رواست یا نہ خواہ جوان باشد یا درمیان سالہ باشد یا پیرز ن بود ہر چہ حکم شرع باشد تحریر فرمایند۔
(۲) چو پدر درزندگی خود دختر را بکود کے درعقد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) کوئی عورت بیوہ ہوجائے توکیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرے جبکہ وہ کہتی ہے میں نکاح نہیں کروں گی اور بغیر نکاح بیٹھوں گی جوان درمیانہ عمر یا عمر رسیدہ ہو کیا اس کو بغیر دوسرے نکاح کے بیٹھنا جائز ہے جو شرعی حکم ہو تحریر فرمادیں۔
(۲) باپ نے بیٹی کا نکاح کسی بچے سے کیا اور خاوند
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی آشنائی ایك طوائف سے ہے اورا س سے فعل حرام کرتاہے اور اس سے کئی اولاد پیدا ہوچکی ہیں اب طوائف مذکور کایہ ارادہ ہے کہ میرا نکاح ا س زید آشنا سے ہوجائے تاکہ میں فعل حرا م سے بچ جاؤں زیدکی بھی کچھ منشاپائی جاتی ہے لیکن زید کے گھروالے اس نکاح کے منکرہیں اور زید پر اس بات کا دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر تونے اپنا نکاح طوائف سے کیا تو تم کو برادری سے خارج کردیں گے اس واسطے کہ ہمارے خاندان کو دھبہ لگانا ہے کیونکہ ہم شریف ہیں اور نہ اس کی اولاد کا ہم لوگ اپنی برادری میں شادی بیاہ کرسکتے ہیں یہ نکاح ٹھیك نہیں اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ نکاح کرنا کیساہے آیا سنت میں داخل ہے یاخلاف سنت اور زید ا س نکاح کے کرنے سے دائرہ اسلام اور برادری میں رہا یانہیں اور منکر اس نکاح کے کس درجہ میں شمار کئے جائیں اور جو اس نکاح پر اعتراض کریں اور برا کہیں وہ کس درجہ میں شمارہیں فقط جناب اعلی حضرت کے مع آیت وحدیث مہر دستخط کے امید وار ہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح سنت ہے مگر رنڈی سے نکاح سنت نہیں بلکہ اس کے جائز ہی ہونے میں ائمہ کااختلاف ہے پھر ایك جائز بات جس سے فتنہ ونفرت پیدا ہو اورآپس میں پھوٹ پڑے ناجائز ہوجاتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںـ : بشروا ولاتنفروا (خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ ۴۴ : از چوہڑ کوٹ یارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین دریں مسائل کہ :
(۱) اگرزنے بیوہ شود دویم بارنکاح کردن لازم است یامیخواہد کہ من نکاح نمی کنم کہ مے گوید بنشینم رواست یا نہ خواہ جوان باشد یا درمیان سالہ باشد یا پیرز ن بود ہر چہ حکم شرع باشد تحریر فرمایند۔
(۲) چو پدر درزندگی خود دختر را بکود کے درعقد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) کوئی عورت بیوہ ہوجائے توکیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرے جبکہ وہ کہتی ہے میں نکاح نہیں کروں گی اور بغیر نکاح بیٹھوں گی جوان درمیانہ عمر یا عمر رسیدہ ہو کیا اس کو بغیر دوسرے نکاح کے بیٹھنا جائز ہے جو شرعی حکم ہو تحریر فرمادیں۔
(۲) باپ نے بیٹی کا نکاح کسی بچے سے کیا اور خاوند
حوالہ / References
صحیح بخاری باب ماکان النبی یتخولھم بالموعظۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
نکاح آورد کہ صغیر ست درخانہ خود دختر نشستہ ست محض ایجاب وقبول کردہ پدرش بمرد دختر دوسہ سال منقضی گردید کہ بالغہ است وکود ك تاحال خورد آیا شرعا اکنوں بر برا دران گناہ ست یا نہ یا حوالہ آں خورد بکنند ایں چنیں کار برائے پدر مرحوم چگونہ باشد و چہ گناہ
بچہ ہے اس لیے باپ نے بیٹی کو اپنے گھرپر رکھا اور رخصتی نہ دی باپ کے فوت ہونے پر بیٹی دو تین سال سے بالغ ہے اور لڑکا تاحال نابالغ ہے تو کیا اب لڑکی کے بھائیوں پر کوئی گناہ ہوگا اگر وہ نابالغ کے حوالے نہ کریں یا گناہ نہ ہوگا اور اب باپ مرحوم کے بارے میں بھی بتا یا جائے کہ اس کا فعل درست تھا یا نہیں اگر نہیں تو کیا گناہ ہے (ت)
الجواب :
(۱) پیر زن راخود جبر برنکاح نتواں کردہ جوان نیزاگر بر نفس خود اطمینان دارد واتباع رسم باطل ہنود نمی کنند از قید نکاح دیگر آزا دماندنش می رسد کمادل علیہ حدیث ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنہا وبیناہ فی اطائب التھانی آرے اگر برخود اطمینان ندارد نکاح واجب ست والله تعالی اعلم۔
(۲) قاصرہ رانکاح یکہ پدر کرد فسخ نتواں نمود گوبا غیر کفو وبغبن فاحش درمہر باش صبی اگر مراہق شدہ زنش رامے خواہد باوسپر دن لازم ست۔ والله تعالی اعلم
(۱) عورت بوڑھی ہو تو اسے نکاح پر مجبور نہ کیا جائے اور اگر جوان ہے تو بھی اس پر جبر نہیں بشرطیکہ وہ اپنے نفس کو محفوظ رکھنے میں مطمئن ہو اور ہندؤوں کی غلط رسم کی پیروی میں نکاح سے انکار نہ کرتی ہو توا س کو دوسرے نکاح کی قید سے آزاد رہنے کا حق ہے جیساکہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا والی حدیث اس پر دال ہے اور اس کو ہم نے اطائب التہانی میں بیان کیا ہے ہاں اگر جوان عورت کو اپنے نفس کے بارے میں اطمینان نہ ہو تو پھر اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
نابالغہ کا نکاح جو والد نے کیا ہے وہ لازم ہے کفو میں ہو یا غیر کفو میں پورے مہر سے ہو یا بہت کم مہر پر لڑکا اگر قریب البلوغ ہواور وہ بیوی کی رخصتی کا مطالبہ کرے تو رخصتی ضروری ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵ : از مقام گائے گھاٹ ڈاکخانہ ہلدی ضلع بلیا مرسلہ مولوی عبدالحی صاحب ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت گنگی یہاں ایك ماہ سے آئی ہے اس کے ساتھ اس کا ایك لڑکا چار پانچ برس کا ہے اس کے قبل یہ عورت یہاں سے دس میل پر ایك گاؤں ہے وہاں پندرہ
بچہ ہے اس لیے باپ نے بیٹی کو اپنے گھرپر رکھا اور رخصتی نہ دی باپ کے فوت ہونے پر بیٹی دو تین سال سے بالغ ہے اور لڑکا تاحال نابالغ ہے تو کیا اب لڑکی کے بھائیوں پر کوئی گناہ ہوگا اگر وہ نابالغ کے حوالے نہ کریں یا گناہ نہ ہوگا اور اب باپ مرحوم کے بارے میں بھی بتا یا جائے کہ اس کا فعل درست تھا یا نہیں اگر نہیں تو کیا گناہ ہے (ت)
الجواب :
(۱) پیر زن راخود جبر برنکاح نتواں کردہ جوان نیزاگر بر نفس خود اطمینان دارد واتباع رسم باطل ہنود نمی کنند از قید نکاح دیگر آزا دماندنش می رسد کمادل علیہ حدیث ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنہا وبیناہ فی اطائب التھانی آرے اگر برخود اطمینان ندارد نکاح واجب ست والله تعالی اعلم۔
(۲) قاصرہ رانکاح یکہ پدر کرد فسخ نتواں نمود گوبا غیر کفو وبغبن فاحش درمہر باش صبی اگر مراہق شدہ زنش رامے خواہد باوسپر دن لازم ست۔ والله تعالی اعلم
(۱) عورت بوڑھی ہو تو اسے نکاح پر مجبور نہ کیا جائے اور اگر جوان ہے تو بھی اس پر جبر نہیں بشرطیکہ وہ اپنے نفس کو محفوظ رکھنے میں مطمئن ہو اور ہندؤوں کی غلط رسم کی پیروی میں نکاح سے انکار نہ کرتی ہو توا س کو دوسرے نکاح کی قید سے آزاد رہنے کا حق ہے جیساکہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا والی حدیث اس پر دال ہے اور اس کو ہم نے اطائب التہانی میں بیان کیا ہے ہاں اگر جوان عورت کو اپنے نفس کے بارے میں اطمینان نہ ہو تو پھر اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
نابالغہ کا نکاح جو والد نے کیا ہے وہ لازم ہے کفو میں ہو یا غیر کفو میں پورے مہر سے ہو یا بہت کم مہر پر لڑکا اگر قریب البلوغ ہواور وہ بیوی کی رخصتی کا مطالبہ کرے تو رخصتی ضروری ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵ : از مقام گائے گھاٹ ڈاکخانہ ہلدی ضلع بلیا مرسلہ مولوی عبدالحی صاحب ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت گنگی یہاں ایك ماہ سے آئی ہے اس کے ساتھ اس کا ایك لڑکا چار پانچ برس کا ہے اس کے قبل یہ عورت یہاں سے دس میل پر ایك گاؤں ہے وہاں پندرہ
مہینے سے تھی جب وہاں آئی تو ادھر ادھر پتا لگایا گیا مگریہ پتا نہیں لگا کہ عورت کہا ں کی ہے اور اس کا شوہر مرگیا ہے یا زندہ ہے اور لاپتا ہوگیا یا طلاق دے دیا اب اس کو ایك شخص نے نکاح کرنے کے لیے رکھا ہے بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کا شوہر زندہ رہتا تو لڑکے کو نہ چھوڑتا اب اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح نہیں ہوسکتا
فان المانع معلومہ والمزیل مجھول وما ثبت بیقین لایزول الا بیقین مثلہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ اس سے نکاح میں مانع (شادی شدہ) ہونا معلوم ہوتا ہے اورمانع کو ختم کرنے والا (خاوند کا فوت ہونا یا طلاق دینا) معلوم نہیں ہے تویقینی امر کا زوال بھی اس جیسے یقینی امر سے ہی ہوسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۴۶ : از ملیح آباد ضلع لکھنؤ مرسلہ محمد یوسف خاں صاحب ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص حنفی المذہب بحلف کچہری میں بیان کرتا ہے کہ اس نے ایك مسماۃ کے ساتھ عقد کے وعدہ پر متعہ کرلیا اب ایسا شخص مذہب حنفی کے اندر داخل رہا یا نہیں اور سنی حنفی لوگوں کو نماز میں اس کی امامت یا جماعت جائز ہے یا نہیں اور اس کا یہ فعل شرعا کیا قراردیا جاسکتا ہے اور ایسی حالت میں اس کی بیعت ارادت جوایك بزر گ کے ہاتھ پر کی تھی قائم رہی یا نہیں اور ایسے شخص کے افعال واقوال معتبرہوں گے یا نہیں اور حنفی سنی لوگ بعدا س کے مرنے کے اس شخص کی تجہیز وتکفین ونماز جنازہ پڑھنے کے شرعا ذمہ دار ہیں یا نہیں
الجواب :
متعہ نص قرآن عظیم واجماع ائمہ اہلسنت بلا شبہ باطل وحرام قطعی ہے
قال تعالی : فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷) ۔
الله تعالی نے فرمایا : جو شخص (بیویوں اور لونڈی مملوکہ) کے علاوہ غیر کی خواہش کرتاہے وہ حد سے متجاوز ہے۔ (ت)
شخص مذکوراس کے ارتکاب اور کچہری میں اعلان سے فاسق معلن ہوا اس کی امامت ممنوع اور اس کے پیچھے
الجواب :
نکاح نہیں ہوسکتا
فان المانع معلومہ والمزیل مجھول وما ثبت بیقین لایزول الا بیقین مثلہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ اس سے نکاح میں مانع (شادی شدہ) ہونا معلوم ہوتا ہے اورمانع کو ختم کرنے والا (خاوند کا فوت ہونا یا طلاق دینا) معلوم نہیں ہے تویقینی امر کا زوال بھی اس جیسے یقینی امر سے ہی ہوسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۴۶ : از ملیح آباد ضلع لکھنؤ مرسلہ محمد یوسف خاں صاحب ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص حنفی المذہب بحلف کچہری میں بیان کرتا ہے کہ اس نے ایك مسماۃ کے ساتھ عقد کے وعدہ پر متعہ کرلیا اب ایسا شخص مذہب حنفی کے اندر داخل رہا یا نہیں اور سنی حنفی لوگوں کو نماز میں اس کی امامت یا جماعت جائز ہے یا نہیں اور اس کا یہ فعل شرعا کیا قراردیا جاسکتا ہے اور ایسی حالت میں اس کی بیعت ارادت جوایك بزر گ کے ہاتھ پر کی تھی قائم رہی یا نہیں اور ایسے شخص کے افعال واقوال معتبرہوں گے یا نہیں اور حنفی سنی لوگ بعدا س کے مرنے کے اس شخص کی تجہیز وتکفین ونماز جنازہ پڑھنے کے شرعا ذمہ دار ہیں یا نہیں
الجواب :
متعہ نص قرآن عظیم واجماع ائمہ اہلسنت بلا شبہ باطل وحرام قطعی ہے
قال تعالی : فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷) ۔
الله تعالی نے فرمایا : جو شخص (بیویوں اور لونڈی مملوکہ) کے علاوہ غیر کی خواہش کرتاہے وہ حد سے متجاوز ہے۔ (ت)
شخص مذکوراس کے ارتکاب اور کچہری میں اعلان سے فاسق معلن ہوا اس کی امامت ممنوع اور اس کے پیچھے
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۷
نماز پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ فتاوی حجہ میں ہے :
لوقد موا فاسقا یاثمون ۔
اگر فاسق کوامام بنایا تووہ گناہ گار ہوں گے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ما ینافیھا ھو الغالب بالنظر الی فسقہ ۔
اس بناپر کہ فاسق کو امام بنانے کی کراہت کراہت تحریمی ہے کیونکہ وہ دینی امور سے بے اعتنائی کرتاہے تو کیا بعیدکہ وہ نماز کی بعض شرطوں میں خلل اور ان کے منافی عمل نماز میں کردے اس کے ظاہر حال سے یہی غالب گمان ہوتا ہے (ت)
اور جب ایك بدبودار چمڑے کے لیے اس نے حرام قطعی کا ارتکاب کیا اور بیباك اتناکہ کچہری میں اس کا خود اعلان کیا تواس کے قول وفعل کا کیا اعتبار رہا بلکہ معاذالله مرتے وقت اس کے سلب ایمان کا خوف ہے تا تارخانیہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے :
حکی ان رجلا من اصحاب ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ خطب الی رجل من اصحاب الحدیث ابنتہ فی عہد ابی بکر الجوزجانی فابی الا ان یترك مذھبہ فیقرأ خلف الامام ویرفع یدیہ عندالانحطاط ونحو ذلك فاجا بہ فزوجہ فقال الشیخ بعد ماسئل عن ھذہ واطرق راسہ النکاح جائز ولکن اخاف علیہ ان یذھب ایمانہ وقت النزع لانہ استخف بمذھب الذی ھو حق عندہ وترکہ لاجل جیفۃ منتنۃ ۔
ایك شخص کے متعلق بیان کیا گیاہے کہ وہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقلد تھا اس نے (شافعی مسلک) ایك محدث کی لڑکی کی منگنی چاہی تو محدث صاحب نے حنفی مسلك چھوڑنے اور رفع یدین اور قرأت خلف الامام کرنے کی شرط پر رشتہ دیا جواس نے قبول کرلیا اور محدث صاحب نے نکاح دے دیا یہ واقعہ شیخ ابو بکر جوزجانی کے زمانے کا ہے جب آپ سے اس واقعہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے سوچ بچار کے بعد فرمایا : نکاح تو جائز ہے لیکن اس شخص کے بارے میں مجھے اندیشہ ہے کہ نزع کے وقت اس کا ایمان جاتا رہے کیونکہ اس نے اپنے پسندیدہ مذہب کی توہین کی ہے اور اسے بدبودار مردار
لوقد موا فاسقا یاثمون ۔
اگر فاسق کوامام بنایا تووہ گناہ گار ہوں گے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ما ینافیھا ھو الغالب بالنظر الی فسقہ ۔
اس بناپر کہ فاسق کو امام بنانے کی کراہت کراہت تحریمی ہے کیونکہ وہ دینی امور سے بے اعتنائی کرتاہے تو کیا بعیدکہ وہ نماز کی بعض شرطوں میں خلل اور ان کے منافی عمل نماز میں کردے اس کے ظاہر حال سے یہی غالب گمان ہوتا ہے (ت)
اور جب ایك بدبودار چمڑے کے لیے اس نے حرام قطعی کا ارتکاب کیا اور بیباك اتناکہ کچہری میں اس کا خود اعلان کیا تواس کے قول وفعل کا کیا اعتبار رہا بلکہ معاذالله مرتے وقت اس کے سلب ایمان کا خوف ہے تا تارخانیہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے :
حکی ان رجلا من اصحاب ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ خطب الی رجل من اصحاب الحدیث ابنتہ فی عہد ابی بکر الجوزجانی فابی الا ان یترك مذھبہ فیقرأ خلف الامام ویرفع یدیہ عندالانحطاط ونحو ذلك فاجا بہ فزوجہ فقال الشیخ بعد ماسئل عن ھذہ واطرق راسہ النکاح جائز ولکن اخاف علیہ ان یذھب ایمانہ وقت النزع لانہ استخف بمذھب الذی ھو حق عندہ وترکہ لاجل جیفۃ منتنۃ ۔
ایك شخص کے متعلق بیان کیا گیاہے کہ وہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقلد تھا اس نے (شافعی مسلک) ایك محدث کی لڑکی کی منگنی چاہی تو محدث صاحب نے حنفی مسلك چھوڑنے اور رفع یدین اور قرأت خلف الامام کرنے کی شرط پر رشتہ دیا جواس نے قبول کرلیا اور محدث صاحب نے نکاح دے دیا یہ واقعہ شیخ ابو بکر جوزجانی کے زمانے کا ہے جب آپ سے اس واقعہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے سوچ بچار کے بعد فرمایا : نکاح تو جائز ہے لیکن اس شخص کے بارے میں مجھے اندیشہ ہے کہ نزع کے وقت اس کا ایمان جاتا رہے کیونکہ اس نے اپنے پسندیدہ مذہب کی توہین کی ہے اور اسے بدبودار مردار
حوالہ / References
غنیہ المستملی منیۃ المصلی بحوالہ فتاوٰی حجہ فصل فی الامامۃ مجتبائی دہلی ص۲۷۹
غنیہ المستملی منیۃ المصلی بحوالہ فتاوٰی حجہ فصل فی الامامۃ مجتبائی دہلی ص۲۷۹
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب اذا ار تحل الٰی غیر مذھبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۹۰
غنیہ المستملی منیۃ المصلی بحوالہ فتاوٰی حجہ فصل فی الامامۃ مجتبائی دہلی ص۲۷۹
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب اذا ار تحل الٰی غیر مذھبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۹۰
کی خاطر چھوڑ دیا۔ (ت)بلکہ متعہ کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی سوائے اس کے کہ جس سے کیاوہ رافضیہ ہو اور رافضیہ حال سے نکاح بھی باطل ہے نہ کہ متعہ تو یہ حرام در حرام ہوا ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے : احکامھم احکام المرتدین (ان سے متعلق مرتدین کے احکام ہیں۔ ت) بالجملہ وہ شرعا سخت سز اکا مستحق ہے مگر ارتکاب حرام کے باعث کافر نہ ہوا کہ اس کی بیعت فسخ ہوجاتی یا اس کے مرنے پرمسلمان اس کی تجہیز وتکفین ونماز کے ذمہ دار نہ رہیں بلکہ بہ سبب کبیرہ حنفیت سے بھی خارج نہ ہوگا اگر اسے حرام جان کر کیا ہو ہاں اگرحلال جانا توحنفیت کیا سنیت سے خارج ہوگیا ولایخرج عن الاسلام لما لھم فیم الشبھۃ (شبہ والی بات سے خارج از اسلام نہ ہوگا۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۷ : از موضع نڈوا مہوا ڈاکخانہ بکھربازار ضلع بستی مرسلہ گل میاں صاحب ۱۳ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ساکن مہداول میں اپنی سگی بھتیجی عاقل بالغ کو ایك شخص ساکن امر ڈوبھا کے حوالے کردی چونکہ اس لڑکی کا باپ مدت سے انتقال کر گیا لڑکی کا چچا ا س کا مربی تھا وہ لڑکی جس شخص کے حوالے کردی اس کو کہا گیا کہ تم اپنے گھر جاکر اس لڑکی سے نکاح کرلو جمعہ کے روز رو برو گواہان معتبران کے نکاح کر لیاگیا بعد چند یوم کے چچا کو اس کے عزیزوں نے بہکادیا انھوں نے جھگڑا ڈال کرکے ایك مولوی کو بلایا مولوی صاحب نے یہ حکم دیا جمعہ کی نماز اداکرنے کے پہلے نکاح جائز نہیں ہوتا اس واسطے ہم لوگ یہ عریضہ آپ کی خدمت میں روانہ کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ سچ ہے کہ جمعہ کے روز نکاح ناجائز ہے برائے مہربانی یہ مسئلہ لکھ کرکے روانہ فرمادیں۔
الجواب :
اس شخص کا یہ کہنا محض غلط اور شریعت پر افترا ہے نکاح ہر دن جائز ہے ہاں اگر اذان جمعہ ہوگئی تو اس کے بعد جب تك نماز نہ پڑھ لی جائے نکاح کی اجازت نہیں کہ اذان ہوتے ہی جمعہ کی طرف سعی واجب ہوجاتی ہے :
قال تعالی یایها الذین امنوا اذا نودی للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله و ذروا البیع- ۔
الله تعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! جب جمعہ کے روز اس کی اذان ہو تو الله تعالی کے ذکر کے لیے چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو۔ (ت)
مسئلہ ۴۷ : از موضع نڈوا مہوا ڈاکخانہ بکھربازار ضلع بستی مرسلہ گل میاں صاحب ۱۳ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ساکن مہداول میں اپنی سگی بھتیجی عاقل بالغ کو ایك شخص ساکن امر ڈوبھا کے حوالے کردی چونکہ اس لڑکی کا باپ مدت سے انتقال کر گیا لڑکی کا چچا ا س کا مربی تھا وہ لڑکی جس شخص کے حوالے کردی اس کو کہا گیا کہ تم اپنے گھر جاکر اس لڑکی سے نکاح کرلو جمعہ کے روز رو برو گواہان معتبران کے نکاح کر لیاگیا بعد چند یوم کے چچا کو اس کے عزیزوں نے بہکادیا انھوں نے جھگڑا ڈال کرکے ایك مولوی کو بلایا مولوی صاحب نے یہ حکم دیا جمعہ کی نماز اداکرنے کے پہلے نکاح جائز نہیں ہوتا اس واسطے ہم لوگ یہ عریضہ آپ کی خدمت میں روانہ کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ سچ ہے کہ جمعہ کے روز نکاح ناجائز ہے برائے مہربانی یہ مسئلہ لکھ کرکے روانہ فرمادیں۔
الجواب :
اس شخص کا یہ کہنا محض غلط اور شریعت پر افترا ہے نکاح ہر دن جائز ہے ہاں اگر اذان جمعہ ہوگئی تو اس کے بعد جب تك نماز نہ پڑھ لی جائے نکاح کی اجازت نہیں کہ اذان ہوتے ہی جمعہ کی طرف سعی واجب ہوجاتی ہے :
قال تعالی یایها الذین امنوا اذا نودی للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله و ذروا البیع- ۔
الله تعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! جب جمعہ کے روز اس کی اذان ہو تو الله تعالی کے ذکر کے لیے چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو۔ (ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ مطلب الاستخفاف بالشریعۃ کفر ای ردہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۰۵
القرآن ۶۲ / ۹
القرآن ۶۲ / ۹
پھر بھی اگر بعد اذان نکاح کریگا گناہ ہوگا مگر نکاح جائز وصحیح ہوجائے گا کما فی الھدایۃ فی البیع ان الکراھۃ للمجاور (جیسا کہ ہدایہ میں بیع کے بارے میں ہے کہ کراہت مجاور یعنی ترك سعی کی وجہ سے ہے ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۴۸ : از اجمیر شریف ڈگی بازار مرسلہ سید زاہد حسین صاحب مالك ومینجر پریس اعلان الحق ۱۴ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص یا چند اشخاص نے خصومۃ یہ کہہ دیاہو کہ فلان شخص خواص منکوحہ سے ہے جو خواص باعصمت وعفت لکھی گئی ہو تو کیا وہ اولاد جائز ہے اور وہ جدی ورثہ پانے کے مستحق ہے یا نہیں کیا ایسی اولاد کی شرافت ونجابت میں کوئی شك وشبہہ ہے خواص وکنیز ك میں کیا فرق ہے اوران کی تعریف کیا ہے
الجواب :
خواص وکنیز ك میں کوئی فرق نہیں وہ عورت کہ بملك شرعی کسی کی ملك ہو اس کی کنیز ہے پھر اگر دوسرے کی کنیز سے اس کی اجازت سے اس نے نکاح کیا تونکاح صحیح ہوا۔ اور باپ اگر شریف ونجیب ہے تو اولاد بھی شریف ونجیب ہے کہ شرعا نسب باپ سے لیا جاتا ہے۔
قال اﷲ تعالی و على المولود له رزقهن ۔
الله تعالی نے فرمایا اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا خرچہ ہے۔ (ت)
ہاں ہندوستان میں دربارہ کفاءت اسے کم مانیں گے کہ یہاں کنیز کی اولاد کو کم درجہ سمجھتے ہیں اور اگر اپنی کنیز شرعی ہے تو اس سے نکاح باطل ہے اور بلا نکاح حلال ہے اگر کوئی ممانعت شرعیہ نہ ہو۔ بہر حال مولا کے جو ا ولاد اس سے ہو صحیح النسب ہے اور ترکہ پدری پانے کی مستحق ہے جبکہ مولا نے اقرار کیا ہو کہ یہ میری اولاد ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۴۹ : از دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ سید محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اکثر جاہل لوگوں میں رواج ہے کہ اگر کوئی شخص مرگیا اور بعد عدت اس عورت نے برادری کے مرد سے نکاح کرنا چاہا تو اس مرنے والے کے لواحقین نے کچھ روپیہ نکاح کرنے والے سے نقد لے کر اس عورت کو نکاح کرنے دیا روپیہ کی تعداد دوسو سے تین سے تك لیتے ہیں اگر ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ روپیہ لینا جائز نہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ یہ تو پنچان کی رسوم ہے اگر یہ رسوم نہ ہو تو تمام عورتیں
مسئلہ ۴۸ : از اجمیر شریف ڈگی بازار مرسلہ سید زاہد حسین صاحب مالك ومینجر پریس اعلان الحق ۱۴ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص یا چند اشخاص نے خصومۃ یہ کہہ دیاہو کہ فلان شخص خواص منکوحہ سے ہے جو خواص باعصمت وعفت لکھی گئی ہو تو کیا وہ اولاد جائز ہے اور وہ جدی ورثہ پانے کے مستحق ہے یا نہیں کیا ایسی اولاد کی شرافت ونجابت میں کوئی شك وشبہہ ہے خواص وکنیز ك میں کیا فرق ہے اوران کی تعریف کیا ہے
الجواب :
خواص وکنیز ك میں کوئی فرق نہیں وہ عورت کہ بملك شرعی کسی کی ملك ہو اس کی کنیز ہے پھر اگر دوسرے کی کنیز سے اس کی اجازت سے اس نے نکاح کیا تونکاح صحیح ہوا۔ اور باپ اگر شریف ونجیب ہے تو اولاد بھی شریف ونجیب ہے کہ شرعا نسب باپ سے لیا جاتا ہے۔
قال اﷲ تعالی و على المولود له رزقهن ۔
الله تعالی نے فرمایا اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا خرچہ ہے۔ (ت)
ہاں ہندوستان میں دربارہ کفاءت اسے کم مانیں گے کہ یہاں کنیز کی اولاد کو کم درجہ سمجھتے ہیں اور اگر اپنی کنیز شرعی ہے تو اس سے نکاح باطل ہے اور بلا نکاح حلال ہے اگر کوئی ممانعت شرعیہ نہ ہو۔ بہر حال مولا کے جو ا ولاد اس سے ہو صحیح النسب ہے اور ترکہ پدری پانے کی مستحق ہے جبکہ مولا نے اقرار کیا ہو کہ یہ میری اولاد ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۴۹ : از دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ سید محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اکثر جاہل لوگوں میں رواج ہے کہ اگر کوئی شخص مرگیا اور بعد عدت اس عورت نے برادری کے مرد سے نکاح کرنا چاہا تو اس مرنے والے کے لواحقین نے کچھ روپیہ نکاح کرنے والے سے نقد لے کر اس عورت کو نکاح کرنے دیا روپیہ کی تعداد دوسو سے تین سے تك لیتے ہیں اگر ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ روپیہ لینا جائز نہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ یہ تو پنچان کی رسوم ہے اگر یہ رسوم نہ ہو تو تمام عورتیں
حوالہ / References
ہدایہ کتاب البیوع فصل فیما یکرہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۷۰
القرآن ۲ / ۲۳۳
القرآن ۲ / ۲۳۳
بیوہ کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جائیں گی اور کوئی عورت برادری میں نکاح نہیں کرے گی اب سوال یہ ہے کہ تمام وجوہات سوچ کر جیسے قرآن شریف اور حدیث شریف فقہ شریف سے ثابت ہو ارشاد فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جائے۔
الجواب :
یہ روپے حرام اور رشوت ہیں ان کا لینا دینا دونوں حرام اور ان کے کھانے والے حرام خور پنچوں کی رسم سے شریعت کا حرام حلال نہیں ہوسکتا مسلمانوں کو الله کے عذاب سے ڈرنا چاہئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ : از ریاست رامپور مسئولہ سید احمد میاں صاحب برادرزادہ مولانا سید محمد عاشق صاحب علیہ الرحمۃ رمضان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالد کا نکاح مسماۃ حیات النساء بیگم عرف رضیہ بیگم پر دہ نشین بنت زید سے قرار پایاتھا حسب قاعدہ شہود واسطے حصول اجازت واذن مسماۃ کے پاس گئے اور بعد حصول اجاز ت شہود نے قاضی کے روبرو جلسہ عام میں شہادت اس صورت سے ادا کی کہ سعادت النساء بیگم عرف رضیہ بیگم بنت زید نے اپنے نکاح کا اختیار عمرو وکیل کو دیا چنانچہ قاضی نے باجازت عمرو وکیل بہ تعداد مہرمثل خالد کے ساتھ نکاح پڑھایا آیا شرعا نکاح مسماۃ مذکور کاخالد مذکو ر کے ساتھ صحیح ہوا یا نہیں کیونکہ شہود نے بجائے نام حیات النساء عرف رضیہ بیگم زید کے سعادت النساء بیگم عرف رضیہ بیگم بنت زید شہادت میں ادا کیا سعادت النساء بیگم بنت زید کوئی نہیں ہے اورنہ سعادت النساء کا عرف رضیہ بیگم ہے اس صورت کی غلطی سے نکاح منعقد ہوا یا نہیں
الجواب :
یہ طریقہ نکاح مخترع اہل ہند ہے وکیل بالنکاح مجاز توکیل نہیں شہادت کہ ان گواہوں نے دی باطل گئی نہ اس کا کچھ اعتبار ہے قاضی جس نے ایجاب کیا اگر اس نے ایجاب صحیح لفظوں سے کیا جن سے کم ازکم دو حاضران جلسہ جامعان شرائط شہادت کے نزدیك منکوحہ متمیز ہوگئی نکاح فضولی منعقد ہوگیا کہ رضیہ کی اجازت پر موقوف رہا اور اگر اس نے بھی ایجاب میں وہی لفظ سعادت عرف رضیہ بنت زید کہے تو نکاح باطل ہوا کہ ان تینوں لفظوں کی مصداق وہاں کوئی عورت نہیں عالمگیریہ میں ہے :
لرجل بنتان کبری عائشہ وصغری فاطمۃ ارادان یزوج الکبری وعقد باسم فاطمۃ ینعقد علی الصغری ولو قال زوجت ابنتی الکبری فاطمۃ
ایك شخص کی دو بیٹیاں ہیں ایك بڑی جس کا نام عائشہ ا ور دوسری چھوٹی جس کا نام فاطمہ ہے اس نے بڑی کانکاح کرتے ہوئے فاطمہ کا نام لیا تو چھوٹی کا نکاح ہوگیا اور اگرنکاح کرتے ہوئے اس نے
الجواب :
یہ روپے حرام اور رشوت ہیں ان کا لینا دینا دونوں حرام اور ان کے کھانے والے حرام خور پنچوں کی رسم سے شریعت کا حرام حلال نہیں ہوسکتا مسلمانوں کو الله کے عذاب سے ڈرنا چاہئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ : از ریاست رامپور مسئولہ سید احمد میاں صاحب برادرزادہ مولانا سید محمد عاشق صاحب علیہ الرحمۃ رمضان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالد کا نکاح مسماۃ حیات النساء بیگم عرف رضیہ بیگم پر دہ نشین بنت زید سے قرار پایاتھا حسب قاعدہ شہود واسطے حصول اجازت واذن مسماۃ کے پاس گئے اور بعد حصول اجاز ت شہود نے قاضی کے روبرو جلسہ عام میں شہادت اس صورت سے ادا کی کہ سعادت النساء بیگم عرف رضیہ بیگم بنت زید نے اپنے نکاح کا اختیار عمرو وکیل کو دیا چنانچہ قاضی نے باجازت عمرو وکیل بہ تعداد مہرمثل خالد کے ساتھ نکاح پڑھایا آیا شرعا نکاح مسماۃ مذکور کاخالد مذکو ر کے ساتھ صحیح ہوا یا نہیں کیونکہ شہود نے بجائے نام حیات النساء عرف رضیہ بیگم زید کے سعادت النساء بیگم عرف رضیہ بیگم بنت زید شہادت میں ادا کیا سعادت النساء بیگم بنت زید کوئی نہیں ہے اورنہ سعادت النساء کا عرف رضیہ بیگم ہے اس صورت کی غلطی سے نکاح منعقد ہوا یا نہیں
الجواب :
یہ طریقہ نکاح مخترع اہل ہند ہے وکیل بالنکاح مجاز توکیل نہیں شہادت کہ ان گواہوں نے دی باطل گئی نہ اس کا کچھ اعتبار ہے قاضی جس نے ایجاب کیا اگر اس نے ایجاب صحیح لفظوں سے کیا جن سے کم ازکم دو حاضران جلسہ جامعان شرائط شہادت کے نزدیك منکوحہ متمیز ہوگئی نکاح فضولی منعقد ہوگیا کہ رضیہ کی اجازت پر موقوف رہا اور اگر اس نے بھی ایجاب میں وہی لفظ سعادت عرف رضیہ بنت زید کہے تو نکاح باطل ہوا کہ ان تینوں لفظوں کی مصداق وہاں کوئی عورت نہیں عالمگیریہ میں ہے :
لرجل بنتان کبری عائشہ وصغری فاطمۃ ارادان یزوج الکبری وعقد باسم فاطمۃ ینعقد علی الصغری ولو قال زوجت ابنتی الکبری فاطمۃ
ایك شخص کی دو بیٹیاں ہیں ایك بڑی جس کا نام عائشہ ا ور دوسری چھوٹی جس کا نام فاطمہ ہے اس نے بڑی کانکاح کرتے ہوئے فاطمہ کا نام لیا تو چھوٹی کا نکاح ہوگیا اور اگرنکاح کرتے ہوئے اس نے
لاینعقد علی احدھما کذافی الظھیریۃ ۔
یوں کہا کہ میں نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کا نکاح دیا توکسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا ظہیریہ میں ایسے ہے۔ (ت)
ولوالجیہ میں ہے :
لاینعقد علی احدھما لانہ لیس لہ ابنۃ کبری بھذا الاسم اھ ونحوہ فی الفتح عن الخانیہ ولاتنفع النیۃ ھھنا ولامعرفۃ الشہود بعد صرف اللفظ عن المراد۔ واﷲ تعالی اعلم
کسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا کیونکہ اس کی بیٹی کی کوئی بڑی بیٹی اس نام کی نہیں ہے اھ اور فتح میں خانیہ سے بھی یہی مروی ہے اور یہاں نیت اورگواہوں کا فہم کارآمد نہ ہوگا جبکہ اس نے مراد کے خلاف صریح لفظ استعمال کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۵۱ ۵۲ : از شہر میرٹھ اندر کوٹ مرسلہ عبدالرحمان صاحب عرف ننھے ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) اہل تسنن واہل تشیع میں باہم عقد ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی لڑکا فرقہ شیعہ کا ہو اور لڑکی اہلسنت وجماعت کی ہو ان دونوں میں باہمی نکاح مذہب اہل سنت کے عقائد کے موافق صحیح ہوگا یا نہیں
(۲) اگر کچھ عرصہ بعد لڑکی اہل تشیع ہوجائے تو نکاح رہے گا یا نہیں
الجواب :
(۱) عوام ان تبرائی روافض کواہل تشیع کہتے ہیں ان سے مناکحت حرام قطعی وباطل محض اور قربت زنائے خالص ہے اگرچہ مرد سنی اور عورت ان میں کی ہو نہ کہ عکس کہ اشد غضب الله کا موجب ہے والعیاذبالله تعالی۔
(۲) اگر وقت نکاح سنی تھے پھر مرد معاذالله ان میں کا ہوگیا تونکاح فورا فسخ ہوگیا خواہ عورت نے بھی وہی مذہب اختیار کرلیا ہو یا نہیں۔
لان ردۃ الرجل فسخ فی الحال بالاجماع ولانکاح لمر تد مع احد ولو مرتدۃ مثلہ ۔
کیونکہ خاوند کے ارتداد سے فورا نکاح فسخ ہوجاتا ہے بالاجماع اور مرتد کا کسی سے بھی حتی کہ اس جیسی
یوں کہا کہ میں نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کا نکاح دیا توکسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا ظہیریہ میں ایسے ہے۔ (ت)
ولوالجیہ میں ہے :
لاینعقد علی احدھما لانہ لیس لہ ابنۃ کبری بھذا الاسم اھ ونحوہ فی الفتح عن الخانیہ ولاتنفع النیۃ ھھنا ولامعرفۃ الشہود بعد صرف اللفظ عن المراد۔ واﷲ تعالی اعلم
کسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا کیونکہ اس کی بیٹی کی کوئی بڑی بیٹی اس نام کی نہیں ہے اھ اور فتح میں خانیہ سے بھی یہی مروی ہے اور یہاں نیت اورگواہوں کا فہم کارآمد نہ ہوگا جبکہ اس نے مراد کے خلاف صریح لفظ استعمال کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۵۱ ۵۲ : از شہر میرٹھ اندر کوٹ مرسلہ عبدالرحمان صاحب عرف ننھے ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) اہل تسنن واہل تشیع میں باہم عقد ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی لڑکا فرقہ شیعہ کا ہو اور لڑکی اہلسنت وجماعت کی ہو ان دونوں میں باہمی نکاح مذہب اہل سنت کے عقائد کے موافق صحیح ہوگا یا نہیں
(۲) اگر کچھ عرصہ بعد لڑکی اہل تشیع ہوجائے تو نکاح رہے گا یا نہیں
الجواب :
(۱) عوام ان تبرائی روافض کواہل تشیع کہتے ہیں ان سے مناکحت حرام قطعی وباطل محض اور قربت زنائے خالص ہے اگرچہ مرد سنی اور عورت ان میں کی ہو نہ کہ عکس کہ اشد غضب الله کا موجب ہے والعیاذبالله تعالی۔
(۲) اگر وقت نکاح سنی تھے پھر مرد معاذالله ان میں کا ہوگیا تونکاح فورا فسخ ہوگیا خواہ عورت نے بھی وہی مذہب اختیار کرلیا ہو یا نہیں۔
لان ردۃ الرجل فسخ فی الحال بالاجماع ولانکاح لمر تد مع احد ولو مرتدۃ مثلہ ۔
کیونکہ خاوند کے ارتداد سے فورا نکاح فسخ ہوجاتا ہے بالاجماع اور مرتد کا کسی سے بھی حتی کہ اس جیسی
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۰
ولوالجیہ
فتح القدیر کتاب النکاح نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۴
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
ولوالجیہ
فتح القدیر کتاب النکاح نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۴
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
کما فی الدرالمختار والفتاوی العالمگیریۃ وغیرھما۔
مرتدہ سے بھی نکاح جائز نہیں جیسا کہ درمختار اور فتاوی عالمگیری وغیرہما میں ہے۔ (ت)
اگرعورت سنیہ رہی اور ہنوز خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی اور ہو چکی تھی تو بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اگر شوہر اسلام لے بھی آئے اس پر کچھ اختیا رنہیں رکھتا لان المنفسخ لایعود (کیونکہ فسخ شدہ نکاح بحال نہیں ہوسکتا۔ ت) اگر عورت معاذالله ان میں کی ہوگئی اور مرد سنی رہا تو نکاح تو فسخ نہ ہوا علی مافی النوادر وحققنا الافتاء بہ فی ھذا الزمان فی فتاونا(نوادر کی روایت کے مطابق اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے کہ اس زمانہ میں فتوی یہی ہے۔ ت) مگر مرد کو اس سے قربت حرام ہوگئی جب تك اسلام نہ لائے لان المرتد لیست باھل ان یطأھا مسلم اوکافر او احد(کیونکہ مرتد عورت ا س قابل نہیں رہی کہ کوئی بھی اس سے وطی کرے خواہ مسلمان مرد ہو یا کافر یا کوئی بھی ہو۔ ت)ان مسائل کی تحقیق رسالہ ردالرفضہ میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳ : از نگینہ مرسلہ عبدالرشید صاحب سوداگر سب ایجنٹ برہما آئل کمپنی
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی عورت کا نکاح کسی ایسے شـخص سے ہو جس کی ایك عورت اور بچے ہوں اور وہ شخص معاش اس قدرکافی رکھتا ہو کہ ان سب کی پرورش کے لیے نہایت کافی ہو مرد میں کسی قسم کا نقص نہ ہو عورت بوقت نکاح بالغ ہو مہر ایك ہزار روپیہ ہو نکاح مکان منکوحہ پر ہو جس کو عرصہ تین سال پانچ ماہ ہوئے ہوں شوہر نے بعد عقد پندرہ بیس مرتبہ مختلف اوقات میں کئی کئی یوم قیام کیا کیا عورت منکوحہ کو تنسیخ نکاح کا دعوی کرنے کا حق ہے بیان منکوحہ حسب ذیل ہے : میری پیدائش ایك ماہ بعدا نتقال والدہوئی میں نے آغوش مادر میں پرورش پائی اور ہنوز والدہ کے پاس رہی میری والدہ نے ا س شخص کے ساتھ عقد کردیا شخص مذکور نے یہ دھوکا دیاکہ نہ میری بیوی ہے نہ بچے میری والدہ کے انتقال کو دو ماہ کاعرصہ ہوا میں والدہ کی وجہ سے مجبور تھی اب میں خودمختار ہوں بیان شوہر میں نے بیوی بچے ہونے کا اقرار کیا اور چھپایا نہیں اس کا علم منکوحہ اور ان کے جملہ رشتہ داران کو ہے جس کی بابت تحریریں شوہر کے پاس ہیں ایسی حالت میں منکوحہ عورت کے صرف بیان پرکہ میرے شوہر کے پاس اور بیوی بچے موجود ہیں اور شوہر نے دھوکا دیا نکاح میری لاعلمی میں ہوا کیا حکم شرع شریف ہے
الجواب :
عورت کے عذرات باطل ہیں برسوں سکوت ومعاملہ زن و شوئی کے بعد یہ مہملات پیش کرتی ہے ماں کی زندگی کیا باعث مجبوری تھی نہ بی بی بچوں کا عذر قابل سماعت۔ نہ مجبوری مانع جواز نکاح اس پر فرض ہے کہ شوہر کی اطاعت کرے اس شیطانی خیال سے باز آئے والله تعالی اعلم۔
مرتدہ سے بھی نکاح جائز نہیں جیسا کہ درمختار اور فتاوی عالمگیری وغیرہما میں ہے۔ (ت)
اگرعورت سنیہ رہی اور ہنوز خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی اور ہو چکی تھی تو بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اگر شوہر اسلام لے بھی آئے اس پر کچھ اختیا رنہیں رکھتا لان المنفسخ لایعود (کیونکہ فسخ شدہ نکاح بحال نہیں ہوسکتا۔ ت) اگر عورت معاذالله ان میں کی ہوگئی اور مرد سنی رہا تو نکاح تو فسخ نہ ہوا علی مافی النوادر وحققنا الافتاء بہ فی ھذا الزمان فی فتاونا(نوادر کی روایت کے مطابق اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے کہ اس زمانہ میں فتوی یہی ہے۔ ت) مگر مرد کو اس سے قربت حرام ہوگئی جب تك اسلام نہ لائے لان المرتد لیست باھل ان یطأھا مسلم اوکافر او احد(کیونکہ مرتد عورت ا س قابل نہیں رہی کہ کوئی بھی اس سے وطی کرے خواہ مسلمان مرد ہو یا کافر یا کوئی بھی ہو۔ ت)ان مسائل کی تحقیق رسالہ ردالرفضہ میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳ : از نگینہ مرسلہ عبدالرشید صاحب سوداگر سب ایجنٹ برہما آئل کمپنی
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی عورت کا نکاح کسی ایسے شـخص سے ہو جس کی ایك عورت اور بچے ہوں اور وہ شخص معاش اس قدرکافی رکھتا ہو کہ ان سب کی پرورش کے لیے نہایت کافی ہو مرد میں کسی قسم کا نقص نہ ہو عورت بوقت نکاح بالغ ہو مہر ایك ہزار روپیہ ہو نکاح مکان منکوحہ پر ہو جس کو عرصہ تین سال پانچ ماہ ہوئے ہوں شوہر نے بعد عقد پندرہ بیس مرتبہ مختلف اوقات میں کئی کئی یوم قیام کیا کیا عورت منکوحہ کو تنسیخ نکاح کا دعوی کرنے کا حق ہے بیان منکوحہ حسب ذیل ہے : میری پیدائش ایك ماہ بعدا نتقال والدہوئی میں نے آغوش مادر میں پرورش پائی اور ہنوز والدہ کے پاس رہی میری والدہ نے ا س شخص کے ساتھ عقد کردیا شخص مذکور نے یہ دھوکا دیاکہ نہ میری بیوی ہے نہ بچے میری والدہ کے انتقال کو دو ماہ کاعرصہ ہوا میں والدہ کی وجہ سے مجبور تھی اب میں خودمختار ہوں بیان شوہر میں نے بیوی بچے ہونے کا اقرار کیا اور چھپایا نہیں اس کا علم منکوحہ اور ان کے جملہ رشتہ داران کو ہے جس کی بابت تحریریں شوہر کے پاس ہیں ایسی حالت میں منکوحہ عورت کے صرف بیان پرکہ میرے شوہر کے پاس اور بیوی بچے موجود ہیں اور شوہر نے دھوکا دیا نکاح میری لاعلمی میں ہوا کیا حکم شرع شریف ہے
الجواب :
عورت کے عذرات باطل ہیں برسوں سکوت ومعاملہ زن و شوئی کے بعد یہ مہملات پیش کرتی ہے ماں کی زندگی کیا باعث مجبوری تھی نہ بی بی بچوں کا عذر قابل سماعت۔ نہ مجبوری مانع جواز نکاح اس پر فرض ہے کہ شوہر کی اطاعت کرے اس شیطانی خیال سے باز آئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۴ : از شہر بریلی محلہ کٹرا گلی حکیم وزیرعلی مسئولہ ولایت احمد صاحب ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ولایت احمد کا عقد قریشی بانو جس کی عمر قریب بیس سال سے زائد ہے اس کے ساتھ ہوا لیکن مسماۃ مذکورہ کی اجازت لینے کے لیے نہ وکیل صاحب گئے اور نہ گواہان گئے اور نہ مسماۃ مذکورہ سے اجازت باقاعدہ طورپر لی گئی صرف مسماۃ کے والد کی اجازت سے عقد پڑھا دیا گیا ایسی صورت میں عقد ہوا یا نہیں اور مسماۃ مذکورہ ولایت احمد کی زوجیت میں رہتی ہے اور قریب ایك ماہ کے حمل بھی ہے حالانکہ والد مسماۃ سے کہا گیا کہ مسماۃ سے اجاز ت لینا چاہئے انھوں نے جواب دیاہمارے یہاں ضلع بدایوں میں یہی قاعدہ ہے۔
الجواب :
بالغہ کا عقد کے بے اس کے اذن کے ہو بالغہ کی اجازت پر موقوف رہتاہے اگر جائز کردے جائز ہوجاتا ہے رد کرے باطل ہوجاتاہے رخصت ہو کر شوہر کے یہاں جانا بھی اجازت ہے اذاکان غیر مسبوق بالرد (جبکہ پہلے بالغہ کی طرف سے اس کو رد نہ کیا گیا ہو۔ ت) خصوصا یہاں توحمل موجود ہے لہذا عقد نافذ ہوچکا اب اعتراض کی گنجائش نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۵۵ : از ریاست رام پور محلہ زیارت حلقہ والی مرسلہ اکرام الله خاں صاحب عرف چندامیاں ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکا نکاح اپنی برادری میں ایك عورت سے بایں صورت ہو اکہ گواہان نے مسماۃ مذکورہ کا نام ہندہ عرف خویلہ بنت عمر و جلسہ نکاح میں لے کر ادائے شہادت کی اس سے عورت مذکورہ کی تعریف وتعیین کما حقہ نزد جلسہ ہوگئی اور کوئی شبہ واشتراك نزد زید وقرابت داران زید جو موجود تھے باقی نہیں رہا اور ایجاب وقبول ہوکر نکاح ہوگیاا ور گواہان نکاح عورت مذکورہ کے قریبی رشتہ دار تھے جن کی گودوں میں عورت مذکورہ نے پرورش پائی ہے۔ اب والدہ مسماۃ کہتی ہیں کہ نکاح صحیح منعقد نہیں ہوا اس لیے کہ نام عورت کا جلسہ نکاح میں غلط لیا گیاہے اس کا نام کلثوم ہے چنانچہ مہر میں اس کا نام کلثوم کندہ ہے حالانکہ سوائے مہر کے ہرجگہ ا س کانام ہندہ ہے حتی کہ تنخواہ جو مقررہ گورنمنٹ ہے اس کی وصول یابی کی رسید وں میں بھی یہی نام ہندہ لکھاجاتا ہے اور نیز گورنمنٹی چٹھی میں بھی یہی نام درج ہوتا ہے اور جو عرائض گورنمنٹ میں قبل اس سے دی گئی ہیں ان میں بھی یہی نام تحریر ہے اور عمرو کے انتقال کے بعد جو درخواست باستحقاق وراثت دی گئی ہیں ان میں بھی یہی نام ہے غرضیکہ عورت مذکورہ کے دونوں نام ہیں ایسی حالت میں یہ نام غلط قرار دے کر نکاح کو غیر صحیح شرعا مانا جائے گا یا یہ کہ عورت کے نام دونوں اور چونکہ ان دونوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ولایت احمد کا عقد قریشی بانو جس کی عمر قریب بیس سال سے زائد ہے اس کے ساتھ ہوا لیکن مسماۃ مذکورہ کی اجازت لینے کے لیے نہ وکیل صاحب گئے اور نہ گواہان گئے اور نہ مسماۃ مذکورہ سے اجازت باقاعدہ طورپر لی گئی صرف مسماۃ کے والد کی اجازت سے عقد پڑھا دیا گیا ایسی صورت میں عقد ہوا یا نہیں اور مسماۃ مذکورہ ولایت احمد کی زوجیت میں رہتی ہے اور قریب ایك ماہ کے حمل بھی ہے حالانکہ والد مسماۃ سے کہا گیا کہ مسماۃ سے اجاز ت لینا چاہئے انھوں نے جواب دیاہمارے یہاں ضلع بدایوں میں یہی قاعدہ ہے۔
الجواب :
بالغہ کا عقد کے بے اس کے اذن کے ہو بالغہ کی اجازت پر موقوف رہتاہے اگر جائز کردے جائز ہوجاتا ہے رد کرے باطل ہوجاتاہے رخصت ہو کر شوہر کے یہاں جانا بھی اجازت ہے اذاکان غیر مسبوق بالرد (جبکہ پہلے بالغہ کی طرف سے اس کو رد نہ کیا گیا ہو۔ ت) خصوصا یہاں توحمل موجود ہے لہذا عقد نافذ ہوچکا اب اعتراض کی گنجائش نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۵۵ : از ریاست رام پور محلہ زیارت حلقہ والی مرسلہ اکرام الله خاں صاحب عرف چندامیاں ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکا نکاح اپنی برادری میں ایك عورت سے بایں صورت ہو اکہ گواہان نے مسماۃ مذکورہ کا نام ہندہ عرف خویلہ بنت عمر و جلسہ نکاح میں لے کر ادائے شہادت کی اس سے عورت مذکورہ کی تعریف وتعیین کما حقہ نزد جلسہ ہوگئی اور کوئی شبہ واشتراك نزد زید وقرابت داران زید جو موجود تھے باقی نہیں رہا اور ایجاب وقبول ہوکر نکاح ہوگیاا ور گواہان نکاح عورت مذکورہ کے قریبی رشتہ دار تھے جن کی گودوں میں عورت مذکورہ نے پرورش پائی ہے۔ اب والدہ مسماۃ کہتی ہیں کہ نکاح صحیح منعقد نہیں ہوا اس لیے کہ نام عورت کا جلسہ نکاح میں غلط لیا گیاہے اس کا نام کلثوم ہے چنانچہ مہر میں اس کا نام کلثوم کندہ ہے حالانکہ سوائے مہر کے ہرجگہ ا س کانام ہندہ ہے حتی کہ تنخواہ جو مقررہ گورنمنٹ ہے اس کی وصول یابی کی رسید وں میں بھی یہی نام ہندہ لکھاجاتا ہے اور نیز گورنمنٹی چٹھی میں بھی یہی نام درج ہوتا ہے اور جو عرائض گورنمنٹ میں قبل اس سے دی گئی ہیں ان میں بھی یہی نام تحریر ہے اور عمرو کے انتقال کے بعد جو درخواست باستحقاق وراثت دی گئی ہیں ان میں بھی یہی نام ہے غرضیکہ عورت مذکورہ کے دونوں نام ہیں ایسی حالت میں یہ نام غلط قرار دے کر نکاح کو غیر صحیح شرعا مانا جائے گا یا یہ کہ عورت کے نام دونوں اور چونکہ ان دونوں
میں سے ہندہ بہ نسبت کلثوم کے زیادہ مشہورہے اس لیےاس سے کافی طریق سے تعریف وتعیین عور ت مذکورہ کی بوقت نکاح سمجھی گئی اس بنیا د پرنکاح صحیح شرعی منعقد ہوگیا۔ امید کہ جوا ب صاف مرحمت فرمائیے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر ہندہ ا س عورت کا نام ہے (نہ جس طرح عورتوں کو ہندہ سلمی مردوں کو زید عمرو سے تعبیر کرتے ہیں)اور اس نام اور صرف ذکر پدر بے ذکر جد سے حاضرین میں دو گواہان صالح شہادت نکاح مسلمہ نے اسے پہچان لیا تو نکاح صحیح ہوگیا اس کے دس نام اور بھی ہونا کچھ مضر نہیں لان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف (کیونکہ مقصود پہچان ہے الفاظ کی کثرت مقصد نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶ : از پچھم گاؤں ضلع پٹرا بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر صاحب ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معتمد و معتبر ایك گواہ مذکورسے بالغہ عورت کا نکاح درست ہوگا یا نہیں یعنی ایك گواہ سے نکاح درست ہوگا یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح ایك گواہ سے نہیں ہوسکتا جب تك دو مرد یا ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ مسلم نہ ہوں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از گوپال ناگر پرگنہ پیلی بھیت مسئولہ نثار احمد صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے بھائی مرحوم عمر کی بی بی ہندہ سے بعد انقضائے میعاد عدت نکاح کی درخواست کی اس نے انکار کیا اور نہایت ناخوشی ظاہر کی تو زید کے رشتہ داران نے جبرا اذن لینا چاہا ہندہ نے رونا شروع کیا اور کہاکہ میں ہرگز رضامند نہیں تم جبر کرتے ہو اس وجہ سے کہ میرا کوئی عزیز ہمدرد یہاں موجود نہیں ان لوگوں نے کہا کہ رونا بھی اذن میں شامل نکاح پڑھا کر مٹھائی تقسیم کردی بعد ایك ماہ کے ہندہ اپنے والدین کے یہاں کسی حیلہ سے چلی آئی اور جانے سے انکار ہے کہ میں نے اذن نہیں دیا فرضی نکاح پڑھا لیا میں ہر گز نہیں جاؤں گی تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر اس نکاح کے بعد ہندہ نے زید کے ساتھ خلوت وصحبت بلاجبر واکراہ کی تونکاح جب نافذ نہ تھا اب نافذ ہوگیا اور اگر خلوت نہ کرنے دی یاوہ بھی بالجبر ہوئی تو ہندہ کی ناراضی سے وہ نکاح باطل محض ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۸ : از موضع میراں پور مسئولہ سید عاشق حسین ولد محمد حسین ۱۲ شعبان ۱۳۳۸ھ
علمائے دین ونائب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ وقت نکاح کے وکیل کس طرف
الجواب :
اگر ہندہ ا س عورت کا نام ہے (نہ جس طرح عورتوں کو ہندہ سلمی مردوں کو زید عمرو سے تعبیر کرتے ہیں)اور اس نام اور صرف ذکر پدر بے ذکر جد سے حاضرین میں دو گواہان صالح شہادت نکاح مسلمہ نے اسے پہچان لیا تو نکاح صحیح ہوگیا اس کے دس نام اور بھی ہونا کچھ مضر نہیں لان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف (کیونکہ مقصود پہچان ہے الفاظ کی کثرت مقصد نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶ : از پچھم گاؤں ضلع پٹرا بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر صاحب ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معتمد و معتبر ایك گواہ مذکورسے بالغہ عورت کا نکاح درست ہوگا یا نہیں یعنی ایك گواہ سے نکاح درست ہوگا یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
نکاح ایك گواہ سے نہیں ہوسکتا جب تك دو مرد یا ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ مسلم نہ ہوں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از گوپال ناگر پرگنہ پیلی بھیت مسئولہ نثار احمد صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے بھائی مرحوم عمر کی بی بی ہندہ سے بعد انقضائے میعاد عدت نکاح کی درخواست کی اس نے انکار کیا اور نہایت ناخوشی ظاہر کی تو زید کے رشتہ داران نے جبرا اذن لینا چاہا ہندہ نے رونا شروع کیا اور کہاکہ میں ہرگز رضامند نہیں تم جبر کرتے ہو اس وجہ سے کہ میرا کوئی عزیز ہمدرد یہاں موجود نہیں ان لوگوں نے کہا کہ رونا بھی اذن میں شامل نکاح پڑھا کر مٹھائی تقسیم کردی بعد ایك ماہ کے ہندہ اپنے والدین کے یہاں کسی حیلہ سے چلی آئی اور جانے سے انکار ہے کہ میں نے اذن نہیں دیا فرضی نکاح پڑھا لیا میں ہر گز نہیں جاؤں گی تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر اس نکاح کے بعد ہندہ نے زید کے ساتھ خلوت وصحبت بلاجبر واکراہ کی تونکاح جب نافذ نہ تھا اب نافذ ہوگیا اور اگر خلوت نہ کرنے دی یاوہ بھی بالجبر ہوئی تو ہندہ کی ناراضی سے وہ نکاح باطل محض ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۸ : از موضع میراں پور مسئولہ سید عاشق حسین ولد محمد حسین ۱۲ شعبان ۱۳۳۸ھ
علمائے دین ونائب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ وقت نکاح کے وکیل کس طرف
کا ہونا چاہئے اور شاہد کس طر ف کے ہوں اور ایك دینارسرخ سلطانی کس قدر روپیہ کاہوتا ہے اور کے دوجون پرمنقسم ہے اور تعداد کیا کیا ہے
الجواب :
وکیل کسی طرف کا ضرور نہیں اور دونوں طرف سے ہوسکتے ہیں خواہ ایك طرف سے ہو جدھر سے چاہیں اور شاہد وہ دو مرد یا ایك مرد دوعورت عاقل بالغ آزاد مسلم ہیں کہ ایجاب وقبول معا سنیں اور نکاح ہونا سمجھیں وہ کسی کی طر ف کے نہیں ہوتے یہ جو رسم ہے کہ دو گواہ معین کرتے ہیں بے اصل ہے جتنے حاضران جلسہ ا س صفت کے ہیں سب خود ہی شاہد ہیں کوئی انھیں مقرر کرے یا نہ کرے۔ دینار شرعی ساڑھے چار ماشہ بھر سونے کاتھاا ور سلاطین کے دینار کوئی معین نہیں مختلف تھے دینار شرعی دس درہم تھا کہ یہاں کے دو روپے پونے تیرہ آنے اور کچھ کوڑیاں ہوا غالبا نکاح کے درجوں سے سائل کی مراد مہر کے درجے ہیں مہر کا اقل درجہ وہی دس درہم بھرچاندی ہے اور اکثر کے لیے حدنہیں جتنا بندھے اورمہر حضرت بتول زہرا چار سو مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے ایك سوساٹھ روپے بھر ہوئی اور مہر اکثر ازواج مطہرات پانسو درم کہ یہاں کے ایك سو چالیس روپے ہوئے اور مہر حضرت ام حبیبہ رضی الله تعالی عنہاوعنہن جمیعا میں دو روایتیں ہیں چار ہزار درہم کہ گیارہ
سو بیس روپے ہوئے یاچار ہزار دینار کہ گیارہزاردو سوروپے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : از فتحپور محلہ قاضیانہ مکان میرخیرات علی تحصیلدار مسئولہ محمد صادق ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ بازاری عورت ہے ا ور وہ زید کے پاس بلانکاح مدت تك رہی زید نے بلاعلم واطلاع ہندہ کے قاضی کے سیاہہ میں اپنا ہندہ کے ساتھ نکاح درج کردیا ا س کے بعد ہندہ کی ماں وہیں لینے کی غرض سے آئی تو اس وقت زیدنے ہندہ سے کہا کہ تونہیں جاسکتی تیرے ساتھ میرا نکاح ہوگیا تب ہندہ کی ماں نے ہندہ سے کہا کہ ہمارا زیور اورکپڑا ہم کو دے دے تو مجھ سے حیلہ کر رہی ہے تیرا نکاح ہوگیا ہے اس پر ہندہ نے جواب دیا کہ زیور اور کپڑا نہ دوں گی اگرتم کہتی ہوکہ نکاح ہوگیا تو جوکچھ ہوناتھا ہوگیا اگرچہ واقعی نکاح نہیں ہوا اس کے کچھ عرصہ بعد ہندہ زید کے پاس سے فرار ہوگئی تب زیدنے کچہری فوجداری میں عورت کے بھگالے جانے کا دعوی کیا خارج ہوگیا اس کے بعد طلب زوجہ کا دارالقضاء میں دعوی کیا قاضی صاحب نے بعد لینے ثبوت وتردید کے دعوی ڈگر ی کیا جس کو آٹھ برس کاعرصہ ہوا توآیا یہ نکاح درست ہوا یانہیں جبکہ واقعی عورت سے اجازت نہیں لی گئی اور دوسرے کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور عورت بعد مفروری عرصہ دس بارہ سال سے زید کے ساتھ حرام کررہی ہے۔
الجواب :
وکیل کسی طرف کا ضرور نہیں اور دونوں طرف سے ہوسکتے ہیں خواہ ایك طرف سے ہو جدھر سے چاہیں اور شاہد وہ دو مرد یا ایك مرد دوعورت عاقل بالغ آزاد مسلم ہیں کہ ایجاب وقبول معا سنیں اور نکاح ہونا سمجھیں وہ کسی کی طر ف کے نہیں ہوتے یہ جو رسم ہے کہ دو گواہ معین کرتے ہیں بے اصل ہے جتنے حاضران جلسہ ا س صفت کے ہیں سب خود ہی شاہد ہیں کوئی انھیں مقرر کرے یا نہ کرے۔ دینار شرعی ساڑھے چار ماشہ بھر سونے کاتھاا ور سلاطین کے دینار کوئی معین نہیں مختلف تھے دینار شرعی دس درہم تھا کہ یہاں کے دو روپے پونے تیرہ آنے اور کچھ کوڑیاں ہوا غالبا نکاح کے درجوں سے سائل کی مراد مہر کے درجے ہیں مہر کا اقل درجہ وہی دس درہم بھرچاندی ہے اور اکثر کے لیے حدنہیں جتنا بندھے اورمہر حضرت بتول زہرا چار سو مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے ایك سوساٹھ روپے بھر ہوئی اور مہر اکثر ازواج مطہرات پانسو درم کہ یہاں کے ایك سو چالیس روپے ہوئے اور مہر حضرت ام حبیبہ رضی الله تعالی عنہاوعنہن جمیعا میں دو روایتیں ہیں چار ہزار درہم کہ گیارہ
سو بیس روپے ہوئے یاچار ہزار دینار کہ گیارہزاردو سوروپے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹ : از فتحپور محلہ قاضیانہ مکان میرخیرات علی تحصیلدار مسئولہ محمد صادق ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ بازاری عورت ہے ا ور وہ زید کے پاس بلانکاح مدت تك رہی زید نے بلاعلم واطلاع ہندہ کے قاضی کے سیاہہ میں اپنا ہندہ کے ساتھ نکاح درج کردیا ا س کے بعد ہندہ کی ماں وہیں لینے کی غرض سے آئی تو اس وقت زیدنے ہندہ سے کہا کہ تونہیں جاسکتی تیرے ساتھ میرا نکاح ہوگیا تب ہندہ کی ماں نے ہندہ سے کہا کہ ہمارا زیور اورکپڑا ہم کو دے دے تو مجھ سے حیلہ کر رہی ہے تیرا نکاح ہوگیا ہے اس پر ہندہ نے جواب دیا کہ زیور اور کپڑا نہ دوں گی اگرتم کہتی ہوکہ نکاح ہوگیا تو جوکچھ ہوناتھا ہوگیا اگرچہ واقعی نکاح نہیں ہوا اس کے کچھ عرصہ بعد ہندہ زید کے پاس سے فرار ہوگئی تب زیدنے کچہری فوجداری میں عورت کے بھگالے جانے کا دعوی کیا خارج ہوگیا اس کے بعد طلب زوجہ کا دارالقضاء میں دعوی کیا قاضی صاحب نے بعد لینے ثبوت وتردید کے دعوی ڈگر ی کیا جس کو آٹھ برس کاعرصہ ہوا توآیا یہ نکاح درست ہوا یانہیں جبکہ واقعی عورت سے اجازت نہیں لی گئی اور دوسرے کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور عورت بعد مفروری عرصہ دس بارہ سال سے زید کے ساتھ حرام کررہی ہے۔
الجواب :
زید کا بے اطلاع ہندہ سیاہہ میں اس کے ساتھ اپنانکاح ہونا درج کرادینا نکاح نہیں نہ ہندہ کاکہناکہ اگر تم کہتی ہو کہ نکاح ہوگیا تو جو کچھ ہوناتھا ہوگیا کسی طرح حد نکاح میں آسکتاہے توہندہ ضرور بے نکاحی تھی رہی دارالقضا کی ڈگری اس کی تفصیل معلوم ہونی ضرور دعوی کہ اس میں ہوا شرائط شرعیہ پر صحیح تھا یا نہیں ثبوت کیا گزرا اور وہ قوانین شرعیہ پر صحیح تھایا نہیں حکم کس نے دیا اور وہ قاضی عند الشرع تھا یا نہیں اگر ان میں سے ایك بات بھی کم ہے ہندہ بدستور بے نکاحی ہے زید کو اس پرکوئی دعوی نہیں پہنچتا۔ والله تعالی اعلم۔
(اس کے بعد پھر وہیں سے سوال آیا جو مع جواب منقول ہے)
یہ واقعہ حیدر آباد دکن کا ہے وہاں حکومت کی طرف سے عدالت قضا قائم ہے جس میں طلاق خلع ترکہ مہر طلب زوجہ کے مقدمات حسب قانون شرع شریف دائر ہوتے اور فیصل ہوتے ہیں مگر قاضی صاحب جنھوں نے اس مقدمہ کوفیصل کیا ہے غیر متشرع تھے یعنی داڑھی منڈی ہوئی لباس کوٹ پتلون مگر ساتھ ہی اس کے سفارش رشوت سے قطعی اجتناب رکھتے تھے اور گواہان جیسے فی زماننا حالت ہے اور ناکح صاحب بھی بہت معمولی طور پر پڑھے ہوئے ہیں لہذا اس صورت واقعہ پرمسئلہ بالا کا کیا جواب ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ وہ قاضی منجانب سلطنت اسلامیہ فصل قضا پر مقررہے اگر اس کے یہاں دعوی بروجہ صحیح شرعی ہوا اور ثبوت بروجہ شرعی گزرا اور قاضی نے ثبوت نکاح کا حکم دیا تونکاح ثابت ہوگیا ہندہ بغیر موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
کما فی الھدایۃ وتنویر الابصار وغیرھا من معتمدات الاسفار ورجحہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد قال امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم شاھداك زوجاک ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ ہدایہ تنویر الابصار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے اورفتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کو ترجیح دی ہے اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ تجھے تیرے گواہوں نے بیاہ دیا ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰ : ازر یاست جاورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں اہل کار حساب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی صحیح ولدیت زید ہے اور بوقت نکاح بکر قائم کرکے
زید کا بے اطلاع ہندہ سیاہہ میں اس کے ساتھ اپنانکاح ہونا درج کرادینا نکاح نہیں نہ ہندہ کاکہناکہ اگر تم کہتی ہو کہ نکاح ہوگیا تو جو کچھ ہوناتھا ہوگیا کسی طرح حد نکاح میں آسکتاہے توہندہ ضرور بے نکاحی تھی رہی دارالقضا کی ڈگری اس کی تفصیل معلوم ہونی ضرور دعوی کہ اس میں ہوا شرائط شرعیہ پر صحیح تھا یا نہیں ثبوت کیا گزرا اور وہ قوانین شرعیہ پر صحیح تھایا نہیں حکم کس نے دیا اور وہ قاضی عند الشرع تھا یا نہیں اگر ان میں سے ایك بات بھی کم ہے ہندہ بدستور بے نکاحی ہے زید کو اس پرکوئی دعوی نہیں پہنچتا۔ والله تعالی اعلم۔
(اس کے بعد پھر وہیں سے سوال آیا جو مع جواب منقول ہے)
یہ واقعہ حیدر آباد دکن کا ہے وہاں حکومت کی طرف سے عدالت قضا قائم ہے جس میں طلاق خلع ترکہ مہر طلب زوجہ کے مقدمات حسب قانون شرع شریف دائر ہوتے اور فیصل ہوتے ہیں مگر قاضی صاحب جنھوں نے اس مقدمہ کوفیصل کیا ہے غیر متشرع تھے یعنی داڑھی منڈی ہوئی لباس کوٹ پتلون مگر ساتھ ہی اس کے سفارش رشوت سے قطعی اجتناب رکھتے تھے اور گواہان جیسے فی زماننا حالت ہے اور ناکح صاحب بھی بہت معمولی طور پر پڑھے ہوئے ہیں لہذا اس صورت واقعہ پرمسئلہ بالا کا کیا جواب ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ وہ قاضی منجانب سلطنت اسلامیہ فصل قضا پر مقررہے اگر اس کے یہاں دعوی بروجہ صحیح شرعی ہوا اور ثبوت بروجہ شرعی گزرا اور قاضی نے ثبوت نکاح کا حکم دیا تونکاح ثابت ہوگیا ہندہ بغیر موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
کما فی الھدایۃ وتنویر الابصار وغیرھا من معتمدات الاسفار ورجحہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد قال امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم شاھداك زوجاک ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ ہدایہ تنویر الابصار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے اورفتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کو ترجیح دی ہے اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ تجھے تیرے گواہوں نے بیاہ دیا ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰ : ازر یاست جاورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں اہل کار حساب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی صحیح ولدیت زید ہے اور بوقت نکاح بکر قائم کرکے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۹
فتح القدیر باب المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۵۶
فتح القدیر باب المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۵۶
ایجاب وقبول ہوا ہے توایسانکاح درست ہوا یا نہیں نیز اس کا اصل باپ یعنی زید جو زندہ موجود ہے بروقت نکاح نہ اس سے اجازت لی گئی نہ اسے اطلاع دی صورت مسؤلہ میں اگر نکاح نہیں ہوا تو کیا ہندہ اپنی منشا کے موافق اپنے کفو میں نکاح ثانی کرسکتی ہے ایام عدت کی قید ہے یا نہیں ہندہ بـالغہ ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر ہندہ اس جلسہ نکاح میں حاضر نہ تھی اورا س کی طرف اشارہ کرکے نہ کہا گیا کہ اس ہندہ بنت بکر کا نکاح تیرے ساتھ کیا بلکہ ہندہ کی غیبت میں یہ الفاظ کہے گئے توہندہ کانکاح نہ ہوا۔ نہ اسے طلاق کی حاجت نہ عد ت کی ضرورت جس سے چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے کہ نکاح تو ہندہ بنت بکر کا ہوا اور یہ ہندہ بنت بکر نہیں ہاں اگر بکرنے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیااب بغیرطلاق ہندہ کو مخلص نہیں۔ درمختار میں ہے :
غلط وکیلھا بالنکاح فی اسم ابیھا بغیر حضور ھا لم یصح ۔
لڑکی کی غیر موجود گی میں اس کے وکیل نے لڑکی کے باپ کا نام غلط کہہ دیا تونکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
قال امرأتہ عمرۃ بنت صبیح طالق وامرأتہ عمرۃ بنت حفص ولانیۃ لہ لاتطلق امرأتہ فان کان صبیح زوج ام امرأتہ وکانت تنسب الیہ وھی فی حجرہ فقال ذلك وھو یعلم نسب امرأتہ اولایعلم طلقت امرأتہ ۔
کسی شخص نے طلاق دیتے وقت اپنی بیوی کا نام عمرہ بنت صبیح کو طلاق کہا جبکہ اسکی بیوی کا نام عمرہ بنت حفص ہے توطلاق کے وقت ا س شخص نے کوئی نیت نہ کی تو اس کی بیوی کوطلاق نہ ہوگی اور اگر اس کی بیوی عمرہ کی ماں کے دوسرے خاوند کا نام صبیح تھا اور یہ عمرہ اپنی ماں کے ساتھ صبیح کی پرورش میں رہی اس وجہ سے عمرہ صبیح کی طرف منسوب ہوتی ہے اور خاوند کو عمرہ کے اصل نسب کا علم ہے دونوں صورتوں میں اس کی بیوی عمرہ کوطلاق ہوجائیگی۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱ : از میرٹھ بازار محلہ سوتی گنج مرسلہ مولوی محمد افضل صاحب کا بلی تعلیم یافتہ مدرسہ منظر اسلام بریلی امام مسجد سوتی گنج ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
چہ مے فرمایند دریں مسئلہ کہ در ملك ہند علماء فتوی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے
الجواب :
اگر ہندہ اس جلسہ نکاح میں حاضر نہ تھی اورا س کی طرف اشارہ کرکے نہ کہا گیا کہ اس ہندہ بنت بکر کا نکاح تیرے ساتھ کیا بلکہ ہندہ کی غیبت میں یہ الفاظ کہے گئے توہندہ کانکاح نہ ہوا۔ نہ اسے طلاق کی حاجت نہ عد ت کی ضرورت جس سے چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے کہ نکاح تو ہندہ بنت بکر کا ہوا اور یہ ہندہ بنت بکر نہیں ہاں اگر بکرنے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیااب بغیرطلاق ہندہ کو مخلص نہیں۔ درمختار میں ہے :
غلط وکیلھا بالنکاح فی اسم ابیھا بغیر حضور ھا لم یصح ۔
لڑکی کی غیر موجود گی میں اس کے وکیل نے لڑکی کے باپ کا نام غلط کہہ دیا تونکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
قال امرأتہ عمرۃ بنت صبیح طالق وامرأتہ عمرۃ بنت حفص ولانیۃ لہ لاتطلق امرأتہ فان کان صبیح زوج ام امرأتہ وکانت تنسب الیہ وھی فی حجرہ فقال ذلك وھو یعلم نسب امرأتہ اولایعلم طلقت امرأتہ ۔
کسی شخص نے طلاق دیتے وقت اپنی بیوی کا نام عمرہ بنت صبیح کو طلاق کہا جبکہ اسکی بیوی کا نام عمرہ بنت حفص ہے توطلاق کے وقت ا س شخص نے کوئی نیت نہ کی تو اس کی بیوی کوطلاق نہ ہوگی اور اگر اس کی بیوی عمرہ کی ماں کے دوسرے خاوند کا نام صبیح تھا اور یہ عمرہ اپنی ماں کے ساتھ صبیح کی پرورش میں رہی اس وجہ سے عمرہ صبیح کی طرف منسوب ہوتی ہے اور خاوند کو عمرہ کے اصل نسب کا علم ہے دونوں صورتوں میں اس کی بیوی عمرہ کوطلاق ہوجائیگی۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱ : از میرٹھ بازار محلہ سوتی گنج مرسلہ مولوی محمد افضل صاحب کا بلی تعلیم یافتہ مدرسہ منظر اسلام بریلی امام مسجد سوتی گنج ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
چہ مے فرمایند دریں مسئلہ کہ در ملك ہند علماء فتوی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی ایقاع الطلاق الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵۸
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی ایقاع الطلاق الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵۸
دادند کہ بعد منگنی دختر دیگر جائے نکاح کردن مے تواند حقیر ناجائر پندارد چراکہ ایجاب وقبول از جانبین ثبوت شود از جانب بچہ گویند کہ “ دے دو “ از جانب دختر گویند “ دے دیا ودے چکا یاسگائی کرچکا “ ایں الفاظ برائے وضع عقدست اگرایں طور گویند کہ “ دیں گے “ تو خیر جنا ب مولایم عجیب افسوس کہ دیوبندی خذلہم الله دین اوخراب ومسلمان رانیز بیخ کنی کردند اگر ایں فتوی غلط باشد از ایشاں ہزاراں نطفہ زنا درعالم منتشر شدہ تدارك ایں عمل بفرمایند۔
علماء فتوی دیتے ہیں کہ منگنی کے بعد لڑکی کا دوسری جگہ نکاح جائز ہے لیکن یہ ناچیز ا س کو ناجائز سمجھتاہے کیونکہ ایجاب وقبول جانبین سے ثابت ہوجاتا ہے لڑکے والے “ دے دو “ کہتے ہیں اور لڑکی والے “ دے دی “ یا “ دے چکا “ کہتے ہیں یا “ سگائی کرچکا “ کہتے ہیں یہ الفاظ عقد نکاح کے لیے وضع ہیں ہاں اگر لڑکی والے “ دیں گے “ کہیں توخیر ہے جناب میرے آقا عجیب افسوس ہے کہ دیوبندی جن کا دین خود خراب ہے وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کر رہے ہیں اگر علماء کا یہ فتوی غلط ہو تو ان کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں نطفہ زنا پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اس عمل کا تدارك فرمادیں(ت)
الجواب :
وعیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ لفظ “ سگائی کرچکا “ خود ظاہر است سگائی نسبت و وعدہ عقد راگویند نہ عقدرا “ دے دیا “ یا “ دے چکا “ از انجا کہ مجلس مجلس وعدمی باشد نہ مجلس عقد ہمیں بر وعد محمول می شود نہ بر عقد درشرح امام طحاوی وفتح و در مختار و ردالمحتار ست لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقدفنکاح وچہ گونہ نکاح شود حالانکہ شرط او حضور دو گواہ ست کہ فہمند کہ ایں نکاح ست فی التنویر والدر وشرط حضور شاہدین فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر واینجا
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ “ سگائی کرچکا “ کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ “ سگائی “ نسبت اور وعدہ نکاح کو کہتے ہیں نہ کہ نکاح کو لڑکی والوں کا دے دیا یا دے چکا کہنامجلس وعد میں وعدہ پر محمول ہوگانہ کہ عقد نکاح پر امام طحاوی کی شرح فتح درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر مر د نے کسی کو کہاکہ تو نے مجھے لڑکی دی توا س نے جواب میں کہاکہ میں نے دی تو اگر یہ مجلس وعدہ اور منگنی ہو تو وعدہ اور منگنی ہے اور اگر مجلس عقد ہے تو نکاح ہے پھر مسئولہ صورت میں نکاح کیسے ہوسکتا ہے جبکہ نکاح کے لیے دوگواہوں کی موجودگی بایں طور پر شرط ہے کہ وہ اس کو نکاح سجھیں۔ تنویر اور در
علماء فتوی دیتے ہیں کہ منگنی کے بعد لڑکی کا دوسری جگہ نکاح جائز ہے لیکن یہ ناچیز ا س کو ناجائز سمجھتاہے کیونکہ ایجاب وقبول جانبین سے ثابت ہوجاتا ہے لڑکے والے “ دے دو “ کہتے ہیں اور لڑکی والے “ دے دی “ یا “ دے چکا “ کہتے ہیں یا “ سگائی کرچکا “ کہتے ہیں یہ الفاظ عقد نکاح کے لیے وضع ہیں ہاں اگر لڑکی والے “ دیں گے “ کہیں توخیر ہے جناب میرے آقا عجیب افسوس ہے کہ دیوبندی جن کا دین خود خراب ہے وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کر رہے ہیں اگر علماء کا یہ فتوی غلط ہو تو ان کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں نطفہ زنا پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اس عمل کا تدارك فرمادیں(ت)
الجواب :
وعیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ لفظ “ سگائی کرچکا “ خود ظاہر است سگائی نسبت و وعدہ عقد راگویند نہ عقدرا “ دے دیا “ یا “ دے چکا “ از انجا کہ مجلس مجلس وعدمی باشد نہ مجلس عقد ہمیں بر وعد محمول می شود نہ بر عقد درشرح امام طحاوی وفتح و در مختار و ردالمحتار ست لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقدفنکاح وچہ گونہ نکاح شود حالانکہ شرط او حضور دو گواہ ست کہ فہمند کہ ایں نکاح ست فی التنویر والدر وشرط حضور شاہدین فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر واینجا
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ “ سگائی کرچکا “ کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ “ سگائی “ نسبت اور وعدہ نکاح کو کہتے ہیں نہ کہ نکاح کو لڑکی والوں کا دے دیا یا دے چکا کہنامجلس وعد میں وعدہ پر محمول ہوگانہ کہ عقد نکاح پر امام طحاوی کی شرح فتح درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر مر د نے کسی کو کہاکہ تو نے مجھے لڑکی دی توا س نے جواب میں کہاکہ میں نے دی تو اگر یہ مجلس وعدہ اور منگنی ہو تو وعدہ اور منگنی ہے اور اگر مجلس عقد ہے تو نکاح ہے پھر مسئولہ صورت میں نکاح کیسے ہوسکتا ہے جبکہ نکاح کے لیے دوگواہوں کی موجودگی بایں طور پر شرط ہے کہ وہ اس کو نکاح سجھیں۔ تنویر اور در
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب النکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۰۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۶
اگر ہزار حاضر باشند ہیچ کس نکاح نہ فہمد کہ منگنی نزد ایشاں چیزے ازمقدمات نکاح ست نہ نکاح والله تعالی اعلم۔
میں ہے نکاح میں دوگواہوں کا ہونا جویہ سمجھیں کہ یہ نکاح ہے شرط قرار دیا گیا یہ مذہب ہے بحر۔ ا ور یہاں مذکور ہ صورت میں مجلس میں ہزار بھی ہوں تو کوئی بھی اس کو نکاح نہ سمجھیں گے کیونکہ منگنی کو وہ نکاح نہیں بلکہ اس کے مقدمات میں سے سمجھتے ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۲ : ا زچونیاں ضلع لاہور مسئولہ ضیاء الدین انچارج اصطبل گورنمنٹی ۸ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے حسب ہدایت والد خو د جس نے اس کی ہدایت کی تھی کہ اپنی فلاں دختر کاناطہ اپنے فلاں برادر حقیقی کو دینا تب سے راضی ہوگیا چنانچہ اپنے والد کی موجودگی اور چند مسلمانوں کی مجلس میں اپنے برادر حقیقی کو مخاطب کرکے کہا میں نے اپنی فلاں نام والی دختر بالغہ کا ناطہ تمھارے فلاں بالغ کو دے دیا والد پسر نے قبول کرلیا آیا ہر دو ولیوں کے ایجاب وقبول سے یہ نکاح منعقدہو گیایا نہیں اگر ہوگیا تو اب والد دختر اس کا اور جگہ نکاح کرسکتا ہے بغیرطلاق کے اور ولی اور گواہان ونکاح خوان نکاح ثانی کے واسطے حکم شرع کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
ناتا دینا عرف میں منگنی کرنے کو کہتے ہیں اور منگنی نکاح نہیں اس صورت میں جب تك عقد نکاح نہ ہو والد دختر دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتا ہے اور نکاح خواں وغیرہ پر کوئی الزا م نہیں اور اگرکہیں کے عرف میں ناتا کرنا نکاح کردینے کو بھی کہتے ہیں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ وہ مجلس جس میں یہ الفاظ ادا ہوئے عقد نکاح کے لیے تھی یامنگنی کے لیے اگر منگنی کے لیے تھی تو وہی حکم ہے کہ نکاح نہ ہوا اور والد دختر کو اختیار ہے اور اگر نکاح کے لیے تھی اور حاضرین میں سے کم از کم دو شخصوں نے اس نکاح کے گواہ ہوسکتے ہوں وہ ایجاب و قبول سنے اور سمجھے کہ یہ نکاح ہورہا ہے تو نکاح ہوگیا اب دوسری جگہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا والد دختر اور نکاح خواں اور گواہان نکاح ثانی جن کو معلوم تھاکہ اس کا نکاح پہلے ہوچکا ہے سب مبتلائے حرام ہوں گے درمختار میں ہے :
ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر ایك نے دوسرے کو کہا کیا تونے مجھے دی دوسرے نے جواب میں “ دی “ کہا تواگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور اگر مجلس وعدہ ہے تو منگنی ہوگی والله تعالی اعلم۔ (ت)
میں ہے نکاح میں دوگواہوں کا ہونا جویہ سمجھیں کہ یہ نکاح ہے شرط قرار دیا گیا یہ مذہب ہے بحر۔ ا ور یہاں مذکور ہ صورت میں مجلس میں ہزار بھی ہوں تو کوئی بھی اس کو نکاح نہ سمجھیں گے کیونکہ منگنی کو وہ نکاح نہیں بلکہ اس کے مقدمات میں سے سمجھتے ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۶۲ : ا زچونیاں ضلع لاہور مسئولہ ضیاء الدین انچارج اصطبل گورنمنٹی ۸ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے حسب ہدایت والد خو د جس نے اس کی ہدایت کی تھی کہ اپنی فلاں دختر کاناطہ اپنے فلاں برادر حقیقی کو دینا تب سے راضی ہوگیا چنانچہ اپنے والد کی موجودگی اور چند مسلمانوں کی مجلس میں اپنے برادر حقیقی کو مخاطب کرکے کہا میں نے اپنی فلاں نام والی دختر بالغہ کا ناطہ تمھارے فلاں بالغ کو دے دیا والد پسر نے قبول کرلیا آیا ہر دو ولیوں کے ایجاب وقبول سے یہ نکاح منعقدہو گیایا نہیں اگر ہوگیا تو اب والد دختر اس کا اور جگہ نکاح کرسکتا ہے بغیرطلاق کے اور ولی اور گواہان ونکاح خوان نکاح ثانی کے واسطے حکم شرع کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
ناتا دینا عرف میں منگنی کرنے کو کہتے ہیں اور منگنی نکاح نہیں اس صورت میں جب تك عقد نکاح نہ ہو والد دختر دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتا ہے اور نکاح خواں وغیرہ پر کوئی الزا م نہیں اور اگرکہیں کے عرف میں ناتا کرنا نکاح کردینے کو بھی کہتے ہیں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ وہ مجلس جس میں یہ الفاظ ادا ہوئے عقد نکاح کے لیے تھی یامنگنی کے لیے اگر منگنی کے لیے تھی تو وہی حکم ہے کہ نکاح نہ ہوا اور والد دختر کو اختیار ہے اور اگر نکاح کے لیے تھی اور حاضرین میں سے کم از کم دو شخصوں نے اس نکاح کے گواہ ہوسکتے ہوں وہ ایجاب و قبول سنے اور سمجھے کہ یہ نکاح ہورہا ہے تو نکاح ہوگیا اب دوسری جگہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا والد دختر اور نکاح خواں اور گواہان نکاح ثانی جن کو معلوم تھاکہ اس کا نکاح پہلے ہوچکا ہے سب مبتلائے حرام ہوں گے درمختار میں ہے :
ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر ایك نے دوسرے کو کہا کیا تونے مجھے دی دوسرے نے جواب میں “ دی “ کہا تواگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا اور اگر مجلس وعدہ ہے تو منگنی ہوگی والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
مسئلہ ۶۳ : از دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مسئولہ سید عبدالکریم صاحب قادری رضوی ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
بخدمت جناب قبلہ حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب نائب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دامت برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شریف زادہ نے ایك عورت کو جو قوم کی چماری تھی مسلمان باقاعدہ کیاا ور اس سے نکاح کیاا ور اپنے مکان میں لے گیا جب اہل برادری کو معلوم ہوا کہ اس نے خاندان قادریہ اور سادات کے بٹالگادیا کہ چماری کو مسلمان کرکے نکاح پڑھ لیا اور پردہ میں بٹھالیا وہ عورت د و سال سے بیوہ تھی تمام اہل برادری اور تمام مسلمانوں اور ہندؤوں نے اس عورت کو بے پردہ کیا اور بے عزتی کی اور غیر محرموں نے مارپیٹ بھی کی اوراسے تھانہ میں پہنچادیا اب سوال یہ کہ اس عورت نومسلمہ کے ساتھ ایسا کرنے کی الله و رسول جل وتعالی و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اجازت دیتے ہیں یا نہیں اور جو لوگ ا س میں شریك ہوئے وہ کس گناہ کے مرتکب ہیں یا جس نے مسلمان کرکے اسے اپنے نکاح میں لایا وہ گنہگارہے اوراس سے ترك موالات کرنا برادری سے خارج کرنا اس کاحقہ پانی بند کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور وہ عورت کفو میں کب آسکتی ہے بینوا توجروا
الجواب :
مسلمان کرنا باعث اجر عظیم ہے اور اس سے نکاح کرنا پردہ میں بٹھانا بھی کارخیر ہے اور ا س بنا پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم ہے ا ور اس مسلمہ عورت کے ساتھ جو زیادتی اور مار پیٹ اور بے پردگی کی گئی سب حرام اور سخت حرام اور ظلم شدید تھا ایساکرنے والے حق العبد میں گرفتار ہیں اورالله و رسول ان سے ناراض ہیں جل وعلاو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ بالغ مرد کے لیے کفاءت کچھ شرط نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴ : از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدعی کے تین شاہد شہادت دیتے ہیں کہ والد دختر نابالغہ نے سفرسے ایك خط اپنے بھائی کو لکھا کہ میری دختر نابالغہ فرحان بی بی کاناتا یا نکاح جس جگہ تمھاری مرضی ہو کردو ہم لوگ اس کاغذ کے سامعین ہیں بعدہ اس وکیل والد کے ایك لڑکے نابالغ مسمی کہٹرکہ جس کا کوئی عصبہ زندہ نہیں ہے کنایہ نکاح کے طور پر کردیا تھا اور لڑکے معلوم کی طرف سے اس کے ماموں نے اس کے لیے قبول کرلیا ہے اورہم نے یہ نکاح ہی سمجھا ہے یہ تقریر شاہدین مدعی کی بتمامہ ہے اب والد دختر معلومہ کا سفر سے بالکل منکر ہے اور گواہ اس کے بھی منکر ہیں تقریر بالا سے یا کہتے ہیں کہ ناتا ہوا ہے نہ نکاح حالانکہ وکیل فوت ہوگیا اور کاغذ بھی گم ہوگیا ہے۔ قیمت کاغذ دی جائے گی بینوا توجروا۔
بخدمت جناب قبلہ حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب نائب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دامت برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شریف زادہ نے ایك عورت کو جو قوم کی چماری تھی مسلمان باقاعدہ کیاا ور اس سے نکاح کیاا ور اپنے مکان میں لے گیا جب اہل برادری کو معلوم ہوا کہ اس نے خاندان قادریہ اور سادات کے بٹالگادیا کہ چماری کو مسلمان کرکے نکاح پڑھ لیا اور پردہ میں بٹھالیا وہ عورت د و سال سے بیوہ تھی تمام اہل برادری اور تمام مسلمانوں اور ہندؤوں نے اس عورت کو بے پردہ کیا اور بے عزتی کی اور غیر محرموں نے مارپیٹ بھی کی اوراسے تھانہ میں پہنچادیا اب سوال یہ کہ اس عورت نومسلمہ کے ساتھ ایسا کرنے کی الله و رسول جل وتعالی و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اجازت دیتے ہیں یا نہیں اور جو لوگ ا س میں شریك ہوئے وہ کس گناہ کے مرتکب ہیں یا جس نے مسلمان کرکے اسے اپنے نکاح میں لایا وہ گنہگارہے اوراس سے ترك موالات کرنا برادری سے خارج کرنا اس کاحقہ پانی بند کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور وہ عورت کفو میں کب آسکتی ہے بینوا توجروا
الجواب :
مسلمان کرنا باعث اجر عظیم ہے اور اس سے نکاح کرنا پردہ میں بٹھانا بھی کارخیر ہے اور ا س بنا پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم ہے ا ور اس مسلمہ عورت کے ساتھ جو زیادتی اور مار پیٹ اور بے پردگی کی گئی سب حرام اور سخت حرام اور ظلم شدید تھا ایساکرنے والے حق العبد میں گرفتار ہیں اورالله و رسول ان سے ناراض ہیں جل وعلاو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ بالغ مرد کے لیے کفاءت کچھ شرط نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴ : از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدعی کے تین شاہد شہادت دیتے ہیں کہ والد دختر نابالغہ نے سفرسے ایك خط اپنے بھائی کو لکھا کہ میری دختر نابالغہ فرحان بی بی کاناتا یا نکاح جس جگہ تمھاری مرضی ہو کردو ہم لوگ اس کاغذ کے سامعین ہیں بعدہ اس وکیل والد کے ایك لڑکے نابالغ مسمی کہٹرکہ جس کا کوئی عصبہ زندہ نہیں ہے کنایہ نکاح کے طور پر کردیا تھا اور لڑکے معلوم کی طرف سے اس کے ماموں نے اس کے لیے قبول کرلیا ہے اورہم نے یہ نکاح ہی سمجھا ہے یہ تقریر شاہدین مدعی کی بتمامہ ہے اب والد دختر معلومہ کا سفر سے بالکل منکر ہے اور گواہ اس کے بھی منکر ہیں تقریر بالا سے یا کہتے ہیں کہ ناتا ہوا ہے نہ نکاح حالانکہ وکیل فوت ہوگیا اور کاغذ بھی گم ہوگیا ہے۔ قیمت کاغذ دی جائے گی بینوا توجروا۔
الجواب :
بات صاف لکھئے ایجاب کس نے کیا قبول کس نے کیا ایجاب کے کیا لفظ تھے قبول کے کیا لفظ تھے لڑکی کا چچا جس کو اس کے باپ نے وکیل کیا تھا اس نے خود پڑھایا تھایا کسی سے پڑھوا یا تھا کسی نے بطور خود پڑھادیاتھا اور وہ وکیل والد اس جلسے میں موجود تھا یا نہ تھا اور جب والد لڑکے کا موجود تھا تو لڑکے کی طرف سے ماموں نے قبول کیوں کیا والد پسر کے کہنے سے یابطور خود اور والد پسر نے اس پر کیا کہا اورجب وہ الفاظ کنایہ تھے تو ان لوگوں نے کس قرینہ سے نکاح ہونا سمجھا اور دختر کا والد کس بات سے منکر ہے اس وکیل کرنے سے یا نکاح ہونے سے اوروہ خط ڈاك میں آیا تھا یاآدمی کے ہاتھ اور یہ جو مدعی کے تین گواہ ہیں ان کے سامنے پڑھا گیا یا ان کے سامنے والد دختر نے لکھا تھا اوریہ گواہ ثقہ پرہیز گار ہیں یا کیسے ان سب باتوں کے مفصل جواب آنے پر جواب ہوسکے گا قیمت کاغذ کی نسبت پہلے آپ کولکھ دیا گیا کہ فتوی الله کے لیے دیاجاتا ہے بیچا نہیں جاتا۔ آئندہ کبھی یہ لفظ نہ لکھئے۔ فقط
مسئلہ ۶۵ : ا زرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع روالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مرسلہ محمد جی صاحب ۱۸ ذی قعدہ ۱۳۳۹ھ
باپ نے برادر کو خط لکھا کہ میری دختر نابالغہ کا ناتا یا نکاح جہاں تمھاری مرضی ہو کردو مکتوب الیہ نے باجازت باپ کے ایك جگہ اس نابالغہ کا نکاح کردیا ایجاب کے لفظ یہ ہیں “ دختر معلومہ فلاں لڑکے کو میں نے دی ہے “ اور نابالغ لڑکے کی جانب سے قبول اس کے ماموں نے کیا ہے اور تین گواہ کہتے ہیں کہ وہ خط ہم نے خود سنا ہے کہ باپ نے برادر کو اجازت نکاح دختر نابالغہ معلومہ دی ہے اور ہم نے مجلس میں ذکر نکاح کا سنا ہے اور نکاح کے وقت باپ سفر میں تھا اور خط بھی گم ہوگیا ہے اور بعد نکاح چند روز بعدمکتوب الیہ فوت ہوگیا اب باپ سفر سے آیا وہ کہتاہے میں نے برادر کو کوئی اجازت نہیں دی اوراس کے گواہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل نہیں ہوئی لیکن یہ گواہ باپ کے بہت فاسق ہیں اورتین گواہ جو بالا مذکورہیں وہ فاسق نہیں ہیں
الجواب :
جبکہ باپ ا س خط کے لکھنے سے منکر ہے تو اسے کسی شہادت کی حاجت نہیں شہادت ا س کی ہوناچاہئے تھی کہ ہمارے سامنے اس نے یہ خط لکھا ہے اس پر کوئی شہادت نہیں گواہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خط سنا یہ شہادت کچھ معتبرنہیں لہذا اجازت دینا ثابت نہیں باپ کے انکار سے وہ نکاح باطل ہوگیا جبکہ وہ حلف سے کہہ دے کہ وہ خط میں نے نہ لکھاتھا نہ میں نے بھائی کو اجازت دی تھی لان الخط یشبہ الخط ولا حجۃ الاالبینۃ اوالا قرار اوالنکول(کیونکہ خط خط کے مشابہ ہوتاہے گواہی اقرار اور قسم سے انکار کے علاوہ کوئی حجت نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
بات صاف لکھئے ایجاب کس نے کیا قبول کس نے کیا ایجاب کے کیا لفظ تھے قبول کے کیا لفظ تھے لڑکی کا چچا جس کو اس کے باپ نے وکیل کیا تھا اس نے خود پڑھایا تھایا کسی سے پڑھوا یا تھا کسی نے بطور خود پڑھادیاتھا اور وہ وکیل والد اس جلسے میں موجود تھا یا نہ تھا اور جب والد لڑکے کا موجود تھا تو لڑکے کی طرف سے ماموں نے قبول کیوں کیا والد پسر کے کہنے سے یابطور خود اور والد پسر نے اس پر کیا کہا اورجب وہ الفاظ کنایہ تھے تو ان لوگوں نے کس قرینہ سے نکاح ہونا سمجھا اور دختر کا والد کس بات سے منکر ہے اس وکیل کرنے سے یا نکاح ہونے سے اوروہ خط ڈاك میں آیا تھا یاآدمی کے ہاتھ اور یہ جو مدعی کے تین گواہ ہیں ان کے سامنے پڑھا گیا یا ان کے سامنے والد دختر نے لکھا تھا اوریہ گواہ ثقہ پرہیز گار ہیں یا کیسے ان سب باتوں کے مفصل جواب آنے پر جواب ہوسکے گا قیمت کاغذ کی نسبت پہلے آپ کولکھ دیا گیا کہ فتوی الله کے لیے دیاجاتا ہے بیچا نہیں جاتا۔ آئندہ کبھی یہ لفظ نہ لکھئے۔ فقط
مسئلہ ۶۵ : ا زرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع روالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مرسلہ محمد جی صاحب ۱۸ ذی قعدہ ۱۳۳۹ھ
باپ نے برادر کو خط لکھا کہ میری دختر نابالغہ کا ناتا یا نکاح جہاں تمھاری مرضی ہو کردو مکتوب الیہ نے باجازت باپ کے ایك جگہ اس نابالغہ کا نکاح کردیا ایجاب کے لفظ یہ ہیں “ دختر معلومہ فلاں لڑکے کو میں نے دی ہے “ اور نابالغ لڑکے کی جانب سے قبول اس کے ماموں نے کیا ہے اور تین گواہ کہتے ہیں کہ وہ خط ہم نے خود سنا ہے کہ باپ نے برادر کو اجازت نکاح دختر نابالغہ معلومہ دی ہے اور ہم نے مجلس میں ذکر نکاح کا سنا ہے اور نکاح کے وقت باپ سفر میں تھا اور خط بھی گم ہوگیا ہے اور بعد نکاح چند روز بعدمکتوب الیہ فوت ہوگیا اب باپ سفر سے آیا وہ کہتاہے میں نے برادر کو کوئی اجازت نہیں دی اوراس کے گواہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل نہیں ہوئی لیکن یہ گواہ باپ کے بہت فاسق ہیں اورتین گواہ جو بالا مذکورہیں وہ فاسق نہیں ہیں
الجواب :
جبکہ باپ ا س خط کے لکھنے سے منکر ہے تو اسے کسی شہادت کی حاجت نہیں شہادت ا س کی ہوناچاہئے تھی کہ ہمارے سامنے اس نے یہ خط لکھا ہے اس پر کوئی شہادت نہیں گواہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خط سنا یہ شہادت کچھ معتبرنہیں لہذا اجازت دینا ثابت نہیں باپ کے انکار سے وہ نکاح باطل ہوگیا جبکہ وہ حلف سے کہہ دے کہ وہ خط میں نے نہ لکھاتھا نہ میں نے بھائی کو اجازت دی تھی لان الخط یشبہ الخط ولا حجۃ الاالبینۃ اوالا قرار اوالنکول(کیونکہ خط خط کے مشابہ ہوتاہے گواہی اقرار اور قسم سے انکار کے علاوہ کوئی حجت نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶ تا ۷۲ : از بنارس محلہ پتر کندہ مرسلہ جناب مولانا مولوی عبدالحمید صاحب پانی پتی زید کرمہ ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ
علمائے دین ان مسائل میں کیا فرماتے ہیں :
(۱)نابالغ لڑکے اور لڑکی سے ایجاب وقبول کرانے سے نکاح صحیح ہوتا ہے یا نہیں
(۲)یہاں دستور ہے کہ نکاح خواں نابالغ کے باپ یا کسی اورولی سے اجازت لے کر دو گواہوں کے ساتھ نابالغہ دلھن کے پاس آتے ہیں اور اس کو کلمہ شہادت وآمنت بالله پڑھا کر کہتے ہیں کہ تمھارا نکاح بعوض عہ / ۸ مہر کے فلاں لڑکے مسمی فلاں سے ہوتا ہے تم نے قبول کیا کہو ہاں قبول کیا اسی طرح تین بار کہلاتے ہیں اس کے بعد نابالغ دولھا کے پاس آتے ہیں اور وہی سب کلمات پڑھا کر کہتے ہیں کہ فلاں کی لڑکی مسماۃ فلاں بعوض عہ / ۸ مہر کے تمھارے نکاح میں آتی ہے تم نے قبول کیا کہو ہاں قبول کیا۔ اسی طرح تین بار کہتے ہیں غرض دونوں جانب قبولیت ہوتی ہے ایجاب کا پتا نہیں شرعا یہ نکاح صحیح ہوجاتاہے اور اس مجلس میں بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ دلھن یا دولھا نابالغان کے وہ سب یا اور ولی موجو دنہیں رہتے بلکہ وہ اپنے اور کاموں میں مشغول رہتے ہیں اس طریقہ میں شرعا جو خرابی اورنقص ہو اس کی تصریح فرمائیں اور شرعا جو طریقہ نکاح مسنون ہو ارشاد فرمائیں۔
(۳)اگر ولی خطبہ مسنون نہ پڑھنے یاصرف ایجاب وقبول کرنے پر قادر ہو توغیر سے ایجاب وقبول کرانا کیسا ہے
(۴)نکاح خواں کو اجرت لینا اور دینا کیسا ہے
(۵)اگر اجرت نکاح اپنے مصر ف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں
(۶)نوشہ کے سرپر پگڑی رکھنے کے واسطے اس کے پھوپھا یا بہنوئی کوبلاتے ہیں جب تك یہ نہیں آتے دوسرا پگڑی نہیں رکھ سکتے جب یہ آتے ہیں تو بغیر دس پانچ روپے لیے نہیں رکھتے جب کم ہو تا ہے تولینے پر انکار اور زیادتی پر اصرارکرتے ہیں جب حسب مرضی پالیتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں اور بعض پھوپھا داماد قبل لینے کے رکھ دیتے ہیں اس کے بعد جو ملالے لیا اور بعض کچھ اصرار کرکے اور زیادہ لیتے ہیں آیا شرعا یہ لینا دینا کیسا ہے اور اس کو ضروری حق سمجھنا اور اس پر اہتمام واصرار کرنا کیسا ہے
(۷)شرعا ولیمہ کی تعریف کیا ہے اور اس کی مدت کے روز تك ہے
(الف)پہلے دعوت کرناپھر بارات اور رخصتی کرکے دلھن لانا یہ ولیمہ ہے یانہیں
(ب)نابالغ کی رخصتی کے بعد چونکہ زفاف نہیں ہوتا تو بعد دلھن لانے کے دعوت کرنا ولیمہ مسنون ہے
علمائے دین ان مسائل میں کیا فرماتے ہیں :
(۱)نابالغ لڑکے اور لڑکی سے ایجاب وقبول کرانے سے نکاح صحیح ہوتا ہے یا نہیں
(۲)یہاں دستور ہے کہ نکاح خواں نابالغ کے باپ یا کسی اورولی سے اجازت لے کر دو گواہوں کے ساتھ نابالغہ دلھن کے پاس آتے ہیں اور اس کو کلمہ شہادت وآمنت بالله پڑھا کر کہتے ہیں کہ تمھارا نکاح بعوض عہ / ۸ مہر کے فلاں لڑکے مسمی فلاں سے ہوتا ہے تم نے قبول کیا کہو ہاں قبول کیا اسی طرح تین بار کہلاتے ہیں اس کے بعد نابالغ دولھا کے پاس آتے ہیں اور وہی سب کلمات پڑھا کر کہتے ہیں کہ فلاں کی لڑکی مسماۃ فلاں بعوض عہ / ۸ مہر کے تمھارے نکاح میں آتی ہے تم نے قبول کیا کہو ہاں قبول کیا۔ اسی طرح تین بار کہتے ہیں غرض دونوں جانب قبولیت ہوتی ہے ایجاب کا پتا نہیں شرعا یہ نکاح صحیح ہوجاتاہے اور اس مجلس میں بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ دلھن یا دولھا نابالغان کے وہ سب یا اور ولی موجو دنہیں رہتے بلکہ وہ اپنے اور کاموں میں مشغول رہتے ہیں اس طریقہ میں شرعا جو خرابی اورنقص ہو اس کی تصریح فرمائیں اور شرعا جو طریقہ نکاح مسنون ہو ارشاد فرمائیں۔
(۳)اگر ولی خطبہ مسنون نہ پڑھنے یاصرف ایجاب وقبول کرنے پر قادر ہو توغیر سے ایجاب وقبول کرانا کیسا ہے
(۴)نکاح خواں کو اجرت لینا اور دینا کیسا ہے
(۵)اگر اجرت نکاح اپنے مصر ف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں
(۶)نوشہ کے سرپر پگڑی رکھنے کے واسطے اس کے پھوپھا یا بہنوئی کوبلاتے ہیں جب تك یہ نہیں آتے دوسرا پگڑی نہیں رکھ سکتے جب یہ آتے ہیں تو بغیر دس پانچ روپے لیے نہیں رکھتے جب کم ہو تا ہے تولینے پر انکار اور زیادتی پر اصرارکرتے ہیں جب حسب مرضی پالیتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں اور بعض پھوپھا داماد قبل لینے کے رکھ دیتے ہیں اس کے بعد جو ملالے لیا اور بعض کچھ اصرار کرکے اور زیادہ لیتے ہیں آیا شرعا یہ لینا دینا کیسا ہے اور اس کو ضروری حق سمجھنا اور اس پر اہتمام واصرار کرنا کیسا ہے
(۷)شرعا ولیمہ کی تعریف کیا ہے اور اس کی مدت کے روز تك ہے
(الف)پہلے دعوت کرناپھر بارات اور رخصتی کرکے دلھن لانا یہ ولیمہ ہے یانہیں
(ب)نابالغ کی رخصتی کے بعد چونکہ زفاف نہیں ہوتا تو بعد دلھن لانے کے دعوت کرنا ولیمہ مسنون ہے
یا نہیں
(ج)اگر ولیمہ بارادہ سنت نہ کرے بلکہ خیال نام آوری وبرادری سے سرخ روئی مقصود ہواور یہ کہتا رہے کہ چونکہ دس دفعہ بھائی لوگ کے یہاں کھاآئے ہیں لہذا برادری کو کھلانا ضرورہے چاہے ہمارے پاس ہو یا نہ ہو یہ دعوت کیسی ہے اور مستطیع غیر مستطیع دونوں کاحکم فرمائے۔
الجواب :
(۱)نابالغ لڑکے اور لڑ کی جن کاتلفظ کلام سمجھاجائے اور وہ الفاظ ومعنی کا قصد کرسکیں ان کا ایجاب و قبول خود ہو یا دوسرے کی تلقین سے صحیح ہے پھر اگر باجازت ولی ہے نافذ بھی ہے ورنہ اجازت ولی پر موقوف جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو والله تعالی اعلم
(۲)ا س کا جواب جواب سوال اول میں آگیا اور ان عقود میں جو کلام پہلے ہے وہ ایجاب ہے اگرچہ بلفظ قبول ہو اورجو بعد کو ہو وہ قبول اور جب باذن ولی ہو تو ولی کا وہاں موجودہونا ضروری نہیں اور بلااذن ہو تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولیاء خود ایجاب وقبول کریں یا ان کی اجازت سے ان کے وکیل نابالغوں سے کہلوانے کی کوئی حاجت نہیں۔
(۳)کوئی حرج نہیں۔ والله تعالی اعلم
(۴)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم
(۵)جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۶)یہ ایك مخترع رسم ہے اسے ضروری سمجھنا ناجائز اور اگر اصرار حدناگواری تك ہو توحرام ورنہ آپس کے معاملات ہیں جن پر شرع سے منع وارد نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۷)شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت ولیمہ ہے رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں یونہی بعد رخصت قبل زفاف اور ریا وناموری کے قصد سے جو کچھ ہو حرام ہے۔ اور جہاں اسے قرض سمجھتے ہیں وہاں قرض اتارنے کی نیت میں حرج نہیں اگرچہ ابتداء یہ نیت محمود نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳ : از سلطان پورہ ہکراسٹیٹ مسئولہ مرتضی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس آفس ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قاضی ہے مگر وکالت کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
وکالت کا پیشہ جس طرح آج کل رائج ہے شرعا حرام ہے۔ ایسے شخص کوقاضی کرنے کی اجازت نہیں والله تعالی اعلم۔
(ج)اگر ولیمہ بارادہ سنت نہ کرے بلکہ خیال نام آوری وبرادری سے سرخ روئی مقصود ہواور یہ کہتا رہے کہ چونکہ دس دفعہ بھائی لوگ کے یہاں کھاآئے ہیں لہذا برادری کو کھلانا ضرورہے چاہے ہمارے پاس ہو یا نہ ہو یہ دعوت کیسی ہے اور مستطیع غیر مستطیع دونوں کاحکم فرمائے۔
الجواب :
(۱)نابالغ لڑکے اور لڑ کی جن کاتلفظ کلام سمجھاجائے اور وہ الفاظ ومعنی کا قصد کرسکیں ان کا ایجاب و قبول خود ہو یا دوسرے کی تلقین سے صحیح ہے پھر اگر باجازت ولی ہے نافذ بھی ہے ورنہ اجازت ولی پر موقوف جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو والله تعالی اعلم
(۲)ا س کا جواب جواب سوال اول میں آگیا اور ان عقود میں جو کلام پہلے ہے وہ ایجاب ہے اگرچہ بلفظ قبول ہو اورجو بعد کو ہو وہ قبول اور جب باذن ولی ہو تو ولی کا وہاں موجودہونا ضروری نہیں اور بلااذن ہو تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولیاء خود ایجاب وقبول کریں یا ان کی اجازت سے ان کے وکیل نابالغوں سے کہلوانے کی کوئی حاجت نہیں۔
(۳)کوئی حرج نہیں۔ والله تعالی اعلم
(۴)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم
(۵)جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۶)یہ ایك مخترع رسم ہے اسے ضروری سمجھنا ناجائز اور اگر اصرار حدناگواری تك ہو توحرام ورنہ آپس کے معاملات ہیں جن پر شرع سے منع وارد نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۷)شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت ولیمہ ہے رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں یونہی بعد رخصت قبل زفاف اور ریا وناموری کے قصد سے جو کچھ ہو حرام ہے۔ اور جہاں اسے قرض سمجھتے ہیں وہاں قرض اتارنے کی نیت میں حرج نہیں اگرچہ ابتداء یہ نیت محمود نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳ : از سلطان پورہ ہکراسٹیٹ مسئولہ مرتضی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس آفس ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قاضی ہے مگر وکالت کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
وکالت کا پیشہ جس طرح آج کل رائج ہے شرعا حرام ہے۔ ایسے شخص کوقاضی کرنے کی اجازت نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴ : از سلطان پور(اودھ)محلہ پرتاب گنج مرسلہ حافظ عبدالغنی صاحب ۱۴ رمضان المبارك ۱۳۳۸ھ
زیدنے پسر بکر سے اپنی لڑکی کا نکاح بموجودگی خود کیاا و ر ہندہ کئی بار اپنی سسرال بھی گئی پھر مخاصمت کی وجہ سے رخصتی تین سال سے بند کردی ہندہ اپنے والد زید کی وجہ سے مجبور ہے اب زید نے ایك دعوی فسخ نکاح کا اپنی لڑکی کے نام دائر کیا ہے کہ میرانکاح نابالغی کی حالت میں ہوا زید کا بیان ہے کہ لڑکی کا نکاح میری عدم موجودگی میں ہوا ہے کیونکہ میں شادی کا سامان مہیا کرکے کسی ضرورت سے ہفتہ عشرہ کے لیے کسی دوسرے شہر کو چلا گیا تھا بی بی نے میری بے اجازت نکاح کردیا اس کچہری میں زید نیز اہل محلہ نے حلف اٹھایا حالانکہ دعوی ا س بنا پر خارج ہوگیا کہ بکرکے وکلانے اس بات کو ثابت کردیا کہ زید خود موجودتھا اور زید کی اجازت سے قاضی نے نکاح پڑھایا لہذا زید و معین زید کا شرعا کیاحکم ہے اور ایسے جھوٹے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
الجواب :
حدیث میں ہے :
شاھد الزور لاتزول قدماہ حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔
جھوٹا گواہ وہاں سے اپنے پاؤں ہٹا نے نہیں پاتاکہ الله تعالی اس کے لیے جہنم واجب کردیتا ہے۔
گواہوں کا تویہ حال ہے اور زید پر ان سب کے برابر وبال ہے کہ وہی ان کو جھوٹی شہادت پر باعث ہوا پھر انھوں نے عورت کو شوہر سے جدا کرنا ا ور غیر منکوحہ ٹھہرانا چاہا یہ دوسرا کبیرہ ہے غرض یہ سب لوگ فاسق معلن ہیں ان کو امام بنا نا گناہ اور ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ۔ اور پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵ : مسئولہ سید ایوب علی صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور کسگران
جوشخص وہابیہ سے میل جول اور باہمی شادی بیاہ رکھتا ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہابی ہے اس کے یہاں شادی بیاہ کرسکتے ہیں جبکہ یہ معلوم ہے کہ وہابیہ سے اس کا میل جو ل ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
وہابیہ سے میل جول رکھنے والا ضرور وہابی ہے کہ وہابیہ کو گمراہ بد دین نہیں جانتا تو خود گمراہ بد دین ہے ا ور اس کے ساتھ مناکحت ہو ہی نہیں سکتی اور اگر ان کو گمراہ بد بدین جانتا اور کہتا ہے پھر بھی ان سے میل جول رکھتا ہے توسخت فاسق بیباك ہے اس کی مناکحت سے احتراز چاہئے۔ والله تعالی اعلم
زیدنے پسر بکر سے اپنی لڑکی کا نکاح بموجودگی خود کیاا و ر ہندہ کئی بار اپنی سسرال بھی گئی پھر مخاصمت کی وجہ سے رخصتی تین سال سے بند کردی ہندہ اپنے والد زید کی وجہ سے مجبور ہے اب زید نے ایك دعوی فسخ نکاح کا اپنی لڑکی کے نام دائر کیا ہے کہ میرانکاح نابالغی کی حالت میں ہوا زید کا بیان ہے کہ لڑکی کا نکاح میری عدم موجودگی میں ہوا ہے کیونکہ میں شادی کا سامان مہیا کرکے کسی ضرورت سے ہفتہ عشرہ کے لیے کسی دوسرے شہر کو چلا گیا تھا بی بی نے میری بے اجازت نکاح کردیا اس کچہری میں زید نیز اہل محلہ نے حلف اٹھایا حالانکہ دعوی ا س بنا پر خارج ہوگیا کہ بکرکے وکلانے اس بات کو ثابت کردیا کہ زید خود موجودتھا اور زید کی اجازت سے قاضی نے نکاح پڑھایا لہذا زید و معین زید کا شرعا کیاحکم ہے اور ایسے جھوٹے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
الجواب :
حدیث میں ہے :
شاھد الزور لاتزول قدماہ حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔
جھوٹا گواہ وہاں سے اپنے پاؤں ہٹا نے نہیں پاتاکہ الله تعالی اس کے لیے جہنم واجب کردیتا ہے۔
گواہوں کا تویہ حال ہے اور زید پر ان سب کے برابر وبال ہے کہ وہی ان کو جھوٹی شہادت پر باعث ہوا پھر انھوں نے عورت کو شوہر سے جدا کرنا ا ور غیر منکوحہ ٹھہرانا چاہا یہ دوسرا کبیرہ ہے غرض یہ سب لوگ فاسق معلن ہیں ان کو امام بنا نا گناہ اور ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ۔ اور پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵ : مسئولہ سید ایوب علی صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور کسگران
جوشخص وہابیہ سے میل جول اور باہمی شادی بیاہ رکھتا ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہابی ہے اس کے یہاں شادی بیاہ کرسکتے ہیں جبکہ یہ معلوم ہے کہ وہابیہ سے اس کا میل جو ل ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
وہابیہ سے میل جول رکھنے والا ضرور وہابی ہے کہ وہابیہ کو گمراہ بد دین نہیں جانتا تو خود گمراہ بد دین ہے ا ور اس کے ساتھ مناکحت ہو ہی نہیں سکتی اور اگر ان کو گمراہ بد بدین جانتا اور کہتا ہے پھر بھی ان سے میل جول رکھتا ہے توسخت فاسق بیباك ہے اس کی مناکحت سے احتراز چاہئے۔ والله تعالی اعلم
حوالہ / References
تاریخ بغداد محمد بن عیسٰی دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ۴۰۳ ، سنن ابن ماجہ باب شہادت الزور ص ۱۷۳ ، تاریخ کبیر باب ف ۱ / ۲۰۸
مسئلہ ۷۶ : از موضع میرکلی پور ڈاکخانہ لاہور پور ضلع سیتا پور مسئولہ محمدحسین طالب علم ۱۱محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے شادی کا پیام دیااور اس میں یہ اظہار کیا کہ لڑکالہر پورکا ہے وہ لڑکا قصبہ ہر گام پور کا نکلا مزیدبریں نوشہ کے تعین علم میں اختلاف رہا۔ لڑکی تو کہتی ہے کہ میرا نکاح عبدالرحمن بن کلو کے ساتھ پڑھاگیا اور قاضی کا بھی یہی قول ہے مگر گواہ لعل محمد بن منوں بتلاتے ہیں اور وکیل لعل محمدبن کلو کا مدعی ہے اور وہ لڑکا جو نوشہ بن کر آیا تھاد راصل ہر گام کاتھا اور اس کا نام لعل محمد بن منوں تھا۔ اس صورت میں نکاح کس کے ساتھ ہوا اور اس میں شرعی حکم کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
رائج یوں ہے کہ عورت اس کے ولی سے اذن لے کر دولھا سے خطاب کرتے ہیں کہ فلاں کی فلاں لڑکی اتنے مہرپر تیرے نکاح میں دی وہ کہتاہے میں نے قبول کی اس صورت میں جس سے خطاب کیا گیا اور اس نے قبول کیا اسی کے ساتھ نکاح ہوا کہیں کا رہنے والا ہو اورا س کا کچھ بھی نام ہو۔ پھر اگر بالغہ عورت یا نابالغہ کے ولی نے اسی کے لیے اجازت دی تھی جب تو یہ نکاح نافذ ہوگیا اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ورنہ فضولی کانکاح ہوا عورت یااس کے ولی کی اجازت پرموقوف رہا اگر جائز کیا جائے جائز ہوگیا رد کیاجائے باطل ہوگیا یہ تو نکاح ہونے نہ ہونے کا حکم ہے رہایہ کہ نکاح ہوا اور مرد نے دعوی کیا کہ میرے ساتھ اس کا نکاح ہوا ا ور اس عورت کے وکیل اور گواہوں کے بیان میں اختلاف ہوا کسی نے کسی کے ساتھ نکاح ہونا بیان کیااور دوسرے نے کسی کے ساتھ اگر دو گواہ شرعی عادل قابل قبول دعوی مدعی کے مطابق گواہی دے دیں ڈگری کردیا جائے گا عورت و وکیل کچھ کہا کریں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۷ : از نوشہرہ تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
ایك شخص کہتا ہے کہ میری اپنی عورت کے ساتھ تن بخشی ہے۔ آیا شرعا تن بخشی کوئی چیز معتبر ہے یا نکاح بینوا توجروا
الجواب :
تن بخشی پر قناعت صریح زنا ہے اگر اسے حلال جانے تو کافر
انما کان ذلك من خصائصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال تعالی خالصة لك من دون المؤمنین- ۔ و اﷲ تعالی اعلم
یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے الله تعالی نے فرمایا : یہ خاص آپ کے لیے ہے مومنین کے لیے نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے شادی کا پیام دیااور اس میں یہ اظہار کیا کہ لڑکالہر پورکا ہے وہ لڑکا قصبہ ہر گام پور کا نکلا مزیدبریں نوشہ کے تعین علم میں اختلاف رہا۔ لڑکی تو کہتی ہے کہ میرا نکاح عبدالرحمن بن کلو کے ساتھ پڑھاگیا اور قاضی کا بھی یہی قول ہے مگر گواہ لعل محمد بن منوں بتلاتے ہیں اور وکیل لعل محمدبن کلو کا مدعی ہے اور وہ لڑکا جو نوشہ بن کر آیا تھاد راصل ہر گام کاتھا اور اس کا نام لعل محمد بن منوں تھا۔ اس صورت میں نکاح کس کے ساتھ ہوا اور اس میں شرعی حکم کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
رائج یوں ہے کہ عورت اس کے ولی سے اذن لے کر دولھا سے خطاب کرتے ہیں کہ فلاں کی فلاں لڑکی اتنے مہرپر تیرے نکاح میں دی وہ کہتاہے میں نے قبول کی اس صورت میں جس سے خطاب کیا گیا اور اس نے قبول کیا اسی کے ساتھ نکاح ہوا کہیں کا رہنے والا ہو اورا س کا کچھ بھی نام ہو۔ پھر اگر بالغہ عورت یا نابالغہ کے ولی نے اسی کے لیے اجازت دی تھی جب تو یہ نکاح نافذ ہوگیا اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ورنہ فضولی کانکاح ہوا عورت یااس کے ولی کی اجازت پرموقوف رہا اگر جائز کیا جائے جائز ہوگیا رد کیاجائے باطل ہوگیا یہ تو نکاح ہونے نہ ہونے کا حکم ہے رہایہ کہ نکاح ہوا اور مرد نے دعوی کیا کہ میرے ساتھ اس کا نکاح ہوا ا ور اس عورت کے وکیل اور گواہوں کے بیان میں اختلاف ہوا کسی نے کسی کے ساتھ نکاح ہونا بیان کیااور دوسرے نے کسی کے ساتھ اگر دو گواہ شرعی عادل قابل قبول دعوی مدعی کے مطابق گواہی دے دیں ڈگری کردیا جائے گا عورت و وکیل کچھ کہا کریں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۷ : از نوشہرہ تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
ایك شخص کہتا ہے کہ میری اپنی عورت کے ساتھ تن بخشی ہے۔ آیا شرعا تن بخشی کوئی چیز معتبر ہے یا نکاح بینوا توجروا
الجواب :
تن بخشی پر قناعت صریح زنا ہے اگر اسے حلال جانے تو کافر
انما کان ذلك من خصائصہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال تعالی خالصة لك من دون المؤمنین- ۔ و اﷲ تعالی اعلم
یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے الله تعالی نے فرمایا : یہ خاص آپ کے لیے ہے مومنین کے لیے نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن ۳۳ / ۵۰
دوسرا مسئلہ ۷۸ :
ایك شخص نے دعائے خیر جلسہ میں کہہ دی کہ میں نے لڑکی اپنی اس شخص مثلا زید کودی بعدہ وہ یعنی باپ لڑکی کا مرگیا اس کے وارثان نے اس لڑکی کا عقد نکاح دوسرے شخص کو کردیا آیا دعاء خیر جائز ہے یا وارثان کانکاح جائز ہے
الجواب :
دعائے خیر سے اگر وعدہ سمجھا جاتاہے تو وارثو ں نے جو یہ نکاح کیا جائز ہے۔ اور اگر ا سی و قت نکاح کردینا مقصود ہوتاہے اور زید نے اس جلسہ میں قبول کیا اور دوگواہوں نے معا سنا اور نکاح ہونا سمجھا تونکاح ہوگیا تھا دوسرا نکاح باطل ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹ تا ۸۰ : ا ز رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ تاج محمود صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین زید کے بارے میں تین افراد شہادت دیتے ہیں کہ مدعی علیہ نے والد لڑکے کو بولا ہے کہ میں نے اپنی دختر نابالغہ فلانی تمھارے فلا نے لڑکے کو دے دی ہے اس نے قبول لڑکے معلوم کے لیے کرلی ہے اور اس مجلس میں نہ نکاح کا ذکر ہوا نہ خطبہ پڑھا گیا نہ ذکر مہر کاہوا اس کے علاوہ مدعی علیہ بھی کہتاہے کہ میں نے ارادہ ناطہ کا کیا ہے نہ نکاح کا اب یہ نکاح ہوگا یا خطبہ یا ناطہ
(۲)قرینہ نکاح کاخطبہ اور ذکر مہر کا ہر دو ہوویں گے یافہم شہود نکاح کا فقط کافی ہوگا یانیت ولی دختر پر ہے
الجواب :
(۱)خطبہ پڑھا جانا یاذکر مہر ہونا کچھ شرط نکاح نہیں وہ مجلس اگر عقد کے لیے تھی عقد ہوگیا اوراگر مجلس وعدہ تھی اور حاضرین نے اسے وعدہ ہی سمجھا تووعدہ ہوا نکاح نہ ہوا۔
فی الدر المختار ان المجلس للوعد فوعد وللعقد فعقد ۔ واﷲ تعالی اعلم
درمختا ر میں ہے کہ اگر یہ مجلس وعدہ(منگنی)کے لیے ہے منگنی ہے اور مجلس نکاح ہے تو نکاح ہوگا۔ (ت)
(۲)نکاح بالفاظ صریحہ میں نیت شرط نہیں الفاظ ایجاب وقبول ہونا اور دوشاہدوں کا سمجھنا کہ یہ نکاح ہورہا ہے کافی ہے۔ ذکر مہر نہ ضرور نہ قرینہ اور خطبہ اگرچہ ضروری نہیں مگر قرینہ نکاح ہے۔ والله تعالی اعلم
ایك شخص نے دعائے خیر جلسہ میں کہہ دی کہ میں نے لڑکی اپنی اس شخص مثلا زید کودی بعدہ وہ یعنی باپ لڑکی کا مرگیا اس کے وارثان نے اس لڑکی کا عقد نکاح دوسرے شخص کو کردیا آیا دعاء خیر جائز ہے یا وارثان کانکاح جائز ہے
الجواب :
دعائے خیر سے اگر وعدہ سمجھا جاتاہے تو وارثو ں نے جو یہ نکاح کیا جائز ہے۔ اور اگر ا سی و قت نکاح کردینا مقصود ہوتاہے اور زید نے اس جلسہ میں قبول کیا اور دوگواہوں نے معا سنا اور نکاح ہونا سمجھا تونکاح ہوگیا تھا دوسرا نکاح باطل ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹ تا ۸۰ : ا ز رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ تاج محمود صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین زید کے بارے میں تین افراد شہادت دیتے ہیں کہ مدعی علیہ نے والد لڑکے کو بولا ہے کہ میں نے اپنی دختر نابالغہ فلانی تمھارے فلا نے لڑکے کو دے دی ہے اس نے قبول لڑکے معلوم کے لیے کرلی ہے اور اس مجلس میں نہ نکاح کا ذکر ہوا نہ خطبہ پڑھا گیا نہ ذکر مہر کاہوا اس کے علاوہ مدعی علیہ بھی کہتاہے کہ میں نے ارادہ ناطہ کا کیا ہے نہ نکاح کا اب یہ نکاح ہوگا یا خطبہ یا ناطہ
(۲)قرینہ نکاح کاخطبہ اور ذکر مہر کا ہر دو ہوویں گے یافہم شہود نکاح کا فقط کافی ہوگا یانیت ولی دختر پر ہے
الجواب :
(۱)خطبہ پڑھا جانا یاذکر مہر ہونا کچھ شرط نکاح نہیں وہ مجلس اگر عقد کے لیے تھی عقد ہوگیا اوراگر مجلس وعدہ تھی اور حاضرین نے اسے وعدہ ہی سمجھا تووعدہ ہوا نکاح نہ ہوا۔
فی الدر المختار ان المجلس للوعد فوعد وللعقد فعقد ۔ واﷲ تعالی اعلم
درمختا ر میں ہے کہ اگر یہ مجلس وعدہ(منگنی)کے لیے ہے منگنی ہے اور مجلس نکاح ہے تو نکاح ہوگا۔ (ت)
(۲)نکاح بالفاظ صریحہ میں نیت شرط نہیں الفاظ ایجاب وقبول ہونا اور دوشاہدوں کا سمجھنا کہ یہ نکاح ہورہا ہے کافی ہے۔ ذکر مہر نہ ضرور نہ قرینہ اور خطبہ اگرچہ ضروری نہیں مگر قرینہ نکاح ہے۔ والله تعالی اعلم
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
مسئلہ ۸۱ : ا زپنڈی گھیب ڈاك خانہ خاص ضلع اٹك مسئولہ مولوی غلام محی الدین امام ومدرس جامع مسجد ۲۰محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك عورت عاقلہ بالغہ بعض غیر تعلقد اروں یاکہ ان ذوی الارحاموں(جن کا ولایت نکاح میں کوئی حق نہیں)کے ورغلانے بہکانے پرکچہری میں جاکر درخواست پیش کرے کہ میں جوان ہوں اور اپنے حسب منشاء نکاح کرنا چاہتی ہوں اور میرے والی مثلا باپ یا کہ بھائی یا کہ دیگر عصبو ں سے مجھے روکتے ہیں سرکارکو اطلاع دیتی ہوں کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں جہاں طبیعت ہو نکاح کرالوں والیوں کی رکاوٹ مجھے نہ ہو اور کچہری گورنمنٹ اسے اجازت دے دے اور وہ جہاں چاہے نکاح کرالیوے والی خوش ہوں یا ناراض اگر اسی موقعہ پر ان ورغلانے والوں اور ذوی الارحاموں کوکوئی مولوی لکھے میاں! یہ تمھارا نکاح اچھا نہ ہوگا باپ یا دیگر والی کو تم ضرور مجلس نکاح میں بلاؤ تو وہ کہیں کہ لڑکی عاقلہ بالغہ جوانہ خود مختارہے کسی والی کا کوئی ایك ذرہ تك تعلق نہیں ہم ابھی کرتے ہیں پھر جس مولوی نے توڑا تو دیکھا جائے گا مولوی کیا کرے گا جب کچہری نے اجازت دے دی۔
الجواب :
یہ حالت غالبا اس صورت میں ہوتی ہے کہ عورت جس سے نکاح کرنا چاہتی ہے وہ غیر کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایساکم کہ اس سے اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو ایسا نہ ہو تو اس درجہ بے حیائی کیوں اختیار کرے اور اس صورت میں نکاح باطل محض ہے جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دے۔ درمختار میں ہے :
(ویفتی)فی غیر الکفو(بعدم جوازہ اصلا)وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے عدم جوا ز کافتوی دیا جائے گا اور یہی فتوی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد برپا ہوچکا ہے۔ (ت)
اولیاء پر لازم ہے کہ جب کفو پائیں تزویج میں جلدی کریں کہ ایسے وقائع سے ننگ وبے حیائی کادروازہ نہ کھلے۔ حدیث میں ہے :
یا علی! لاتؤخر ثلثۃ الصلوۃ اذاحانت و الجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت
اے علی( رضی اللہ تعالی عنہ )!تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نماز میں جب وقت ہو جائے جنازہ میں جب حاضر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك عورت عاقلہ بالغہ بعض غیر تعلقد اروں یاکہ ان ذوی الارحاموں(جن کا ولایت نکاح میں کوئی حق نہیں)کے ورغلانے بہکانے پرکچہری میں جاکر درخواست پیش کرے کہ میں جوان ہوں اور اپنے حسب منشاء نکاح کرنا چاہتی ہوں اور میرے والی مثلا باپ یا کہ بھائی یا کہ دیگر عصبو ں سے مجھے روکتے ہیں سرکارکو اطلاع دیتی ہوں کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں جہاں طبیعت ہو نکاح کرالوں والیوں کی رکاوٹ مجھے نہ ہو اور کچہری گورنمنٹ اسے اجازت دے دے اور وہ جہاں چاہے نکاح کرالیوے والی خوش ہوں یا ناراض اگر اسی موقعہ پر ان ورغلانے والوں اور ذوی الارحاموں کوکوئی مولوی لکھے میاں! یہ تمھارا نکاح اچھا نہ ہوگا باپ یا دیگر والی کو تم ضرور مجلس نکاح میں بلاؤ تو وہ کہیں کہ لڑکی عاقلہ بالغہ جوانہ خود مختارہے کسی والی کا کوئی ایك ذرہ تك تعلق نہیں ہم ابھی کرتے ہیں پھر جس مولوی نے توڑا تو دیکھا جائے گا مولوی کیا کرے گا جب کچہری نے اجازت دے دی۔
الجواب :
یہ حالت غالبا اس صورت میں ہوتی ہے کہ عورت جس سے نکاح کرنا چاہتی ہے وہ غیر کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایساکم کہ اس سے اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو ایسا نہ ہو تو اس درجہ بے حیائی کیوں اختیار کرے اور اس صورت میں نکاح باطل محض ہے جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دے۔ درمختار میں ہے :
(ویفتی)فی غیر الکفو(بعدم جوازہ اصلا)وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے عدم جوا ز کافتوی دیا جائے گا اور یہی فتوی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد برپا ہوچکا ہے۔ (ت)
اولیاء پر لازم ہے کہ جب کفو پائیں تزویج میں جلدی کریں کہ ایسے وقائع سے ننگ وبے حیائی کادروازہ نہ کھلے۔ حدیث میں ہے :
یا علی! لاتؤخر ثلثۃ الصلوۃ اذاحانت و الجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت
اے علی( رضی اللہ تعالی عنہ )!تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نماز میں جب وقت ہو جائے جنازہ میں جب حاضر
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
لھا کفوا ۔
ہوجائے اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو مل جائے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۲ : شیخ سلامت الله قصبہ تلہر محلہ عمر پور ضلع شاہجہان پو رپارچہ فروش ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی کی کتنی عمر تك نکاح ناجائز ہوتا ہے اور کتنی عمر ہو تو جائز ہوتاہے
الجواب :
نکاح کسی عمر میں ناجائزنہیں اگر اسی وقت کے پیدا ہوئے بچے کا نکاح اس کا ولی کردے گا نکاح ہوجائے گا ہاں پیٹ کے بچے کا نکاح نہیں ہوسکتا۔
اذلاولایۃ علی الجنین لاحد کمافی غمزالعیون۔
کیونکہ پیٹ میں بچے پرکسی کو ولایت نہیں جیساکہ غمز العیون میں ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۳ : مسئولہ عبدالعزیز صاحب ازشہر محلہ کٹکوئیاں ۲۹ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکیاں توام اس صورت سے پیدا ہوئیں کہ دونوں کے کولھوں کی ہڈیاں جڑی ہوئی تھیں اگر وہ ہڈی کا ٹ دی جائے تو ان کے مرجانے کا خوف تھا اب دونوں جوان ہوئیں ان کی شادی کس طرح کی جاسکتی ہے بینوا توجروا
الجواب :
جھوٹ اور بے اصل بات قائم کرکے شریعت کو تکلیف دینی سخت بیہودگی ہوتی ہے کیا سائل ان لڑکیوں کو پیش کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۸۴ : از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مضمون نکاح خوانی جائزہے یا نہیں واجد علی خاں کی لڑکی نام اس کا تم کو معلوم ہے بالعوض مہر موجل مبلغ دو سو روپیہ سکہ انگریزی کے بوکالت فلاں اور شہادت فلاں فلاں علاوہ نان نفقہ کے بیچ عقد نکاح تمھارے کے دی گئی تم کو قبول ہے قبول کیا میں نے۔
الجواب :
جائز ہے جبکہ واجد علی خاں معروف ہو یعنی حاضرین سے دو گواہ پہچانیں کہ فلاں شخص ہے ورنہ ا س کے
ہوجائے اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو مل جائے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۲ : شیخ سلامت الله قصبہ تلہر محلہ عمر پور ضلع شاہجہان پو رپارچہ فروش ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی کی کتنی عمر تك نکاح ناجائز ہوتا ہے اور کتنی عمر ہو تو جائز ہوتاہے
الجواب :
نکاح کسی عمر میں ناجائزنہیں اگر اسی وقت کے پیدا ہوئے بچے کا نکاح اس کا ولی کردے گا نکاح ہوجائے گا ہاں پیٹ کے بچے کا نکاح نہیں ہوسکتا۔
اذلاولایۃ علی الجنین لاحد کمافی غمزالعیون۔
کیونکہ پیٹ میں بچے پرکسی کو ولایت نہیں جیساکہ غمز العیون میں ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۳ : مسئولہ عبدالعزیز صاحب ازشہر محلہ کٹکوئیاں ۲۹ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکیاں توام اس صورت سے پیدا ہوئیں کہ دونوں کے کولھوں کی ہڈیاں جڑی ہوئی تھیں اگر وہ ہڈی کا ٹ دی جائے تو ان کے مرجانے کا خوف تھا اب دونوں جوان ہوئیں ان کی شادی کس طرح کی جاسکتی ہے بینوا توجروا
الجواب :
جھوٹ اور بے اصل بات قائم کرکے شریعت کو تکلیف دینی سخت بیہودگی ہوتی ہے کیا سائل ان لڑکیوں کو پیش کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۸۴ : از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مضمون نکاح خوانی جائزہے یا نہیں واجد علی خاں کی لڑکی نام اس کا تم کو معلوم ہے بالعوض مہر موجل مبلغ دو سو روپیہ سکہ انگریزی کے بوکالت فلاں اور شہادت فلاں فلاں علاوہ نان نفقہ کے بیچ عقد نکاح تمھارے کے دی گئی تم کو قبول ہے قبول کیا میں نے۔
الجواب :
جائز ہے جبکہ واجد علی خاں معروف ہو یعنی حاضرین سے دو گواہ پہچانیں کہ فلاں شخص ہے ورنہ ا س کے
حوالہ / References
السنن الکبرٰی للبیہقی باب اعتبار الکفاءۃ دارصادر بیروت ۷ / ۱۳۳
غمز عیون البصائر للحموی علی الاشباہ والنظائر اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶۰۴
غمز عیون البصائر للحموی علی الاشباہ والنظائر اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶۰۴
باپ دادا کا بھی نام لیا جائے اور بوکالت فلاں وشہادت اور علاوہ نان ونفقہ کے کہنا ایك زائد بات ہے جس کی حاجت نہیں اور “ دی گئی “ کی جگہ “ دی میں نے “ کہے اور وہ کہے جو نابالغہ کا ولی یا ولی کا وکیل یا بالغہ کا وکیل۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۵ تا ۸۶ : مسئولہ جناب مولوی انوار الحق صاحب تحصیل چونیاں ضلع لاہور بروز یك شنبہ بتاریخ ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ہندہ کے باپ کے چچاکا بیٹا جوہندہ مذکورہ کا ولی تھا وہ چونیاں میں رہتا تھا اور اس کی والدہ نے ا س مقام سے سات کوس کے فاصلہ پر ولی مذکور کی عدم موجودگی میں ہندہ کا نکاح پڑھادیا اب جب ولی مذکور نے اپنی ناراضگی ظاہر کی تو نکاح والدہ کی اجازت سے جوہوا تھا و ہ کس واسطے باطل ٹھہرا حالانکہ درمختار کی اختیار کردہ عبارت کے بعد لکھا تھا کہ :
واختار فی الملتقی مالم ینظر الکفو الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان الفتوی علیہ ۔
ولی ابعد کا نکاح جائز ہوگا جب کفو والا رشتہ ولی اقرب کے جواب کاانتظار کرے یہ صاحب ملتقی کا مختار اس پر باقانی نے اعتماد کیا ہے ابن الکمال نے نقل کیا کہ فتوی اس پر ہے۔ (ت)
اورصاحب بزازیہ نے اسی قول کو اقرب الی الفقہ کہا ہے اور ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے کہ :
ھوالاصح فی البحر عن المجتبی والمبسوط انہ الاصح فی النھایۃ واختارہ اکثر المشائخ وصححہ ابن الفضل انتھی۔
یہی اصح ہے اور بحر میں مجتبی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اس کو اپنایا ہے اور ابن الفضل نے اس کی تصحیح کی ہے۔ انتہی۔ (ت)
اتنی عبارتوں سے جب معلوم ہوتا ہے کہ ولی عصبہ اقرب کی غیبت میں ولی بعید کو نکاح پڑھانے کا اختیار ہے تووالدہ کا نکاح کیا ہوا کس واسطے سے باطل کیا گیا فقط
(۲)مجلس خطبہ میں ناکح نے رو برو گواہان کے ہندہ کے باپ عمرو کو کہا کہ تونے اپنی لڑکی بکرکے لڑکے
مسئلہ ۸۵ تا ۸۶ : مسئولہ جناب مولوی انوار الحق صاحب تحصیل چونیاں ضلع لاہور بروز یك شنبہ بتاریخ ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ہندہ کے باپ کے چچاکا بیٹا جوہندہ مذکورہ کا ولی تھا وہ چونیاں میں رہتا تھا اور اس کی والدہ نے ا س مقام سے سات کوس کے فاصلہ پر ولی مذکور کی عدم موجودگی میں ہندہ کا نکاح پڑھادیا اب جب ولی مذکور نے اپنی ناراضگی ظاہر کی تو نکاح والدہ کی اجازت سے جوہوا تھا و ہ کس واسطے باطل ٹھہرا حالانکہ درمختار کی اختیار کردہ عبارت کے بعد لکھا تھا کہ :
واختار فی الملتقی مالم ینظر الکفو الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان الفتوی علیہ ۔
ولی ابعد کا نکاح جائز ہوگا جب کفو والا رشتہ ولی اقرب کے جواب کاانتظار کرے یہ صاحب ملتقی کا مختار اس پر باقانی نے اعتماد کیا ہے ابن الکمال نے نقل کیا کہ فتوی اس پر ہے۔ (ت)
اورصاحب بزازیہ نے اسی قول کو اقرب الی الفقہ کہا ہے اور ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے کہ :
ھوالاصح فی البحر عن المجتبی والمبسوط انہ الاصح فی النھایۃ واختارہ اکثر المشائخ وصححہ ابن الفضل انتھی۔
یہی اصح ہے اور بحر میں مجتبی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اس کو اپنایا ہے اور ابن الفضل نے اس کی تصحیح کی ہے۔ انتہی۔ (ت)
اتنی عبارتوں سے جب معلوم ہوتا ہے کہ ولی عصبہ اقرب کی غیبت میں ولی بعید کو نکاح پڑھانے کا اختیار ہے تووالدہ کا نکاح کیا ہوا کس واسطے سے باطل کیا گیا فقط
(۲)مجلس خطبہ میں ناکح نے رو برو گواہان کے ہندہ کے باپ عمرو کو کہا کہ تونے اپنی لڑکی بکرکے لڑکے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
زید کودی اس نے کہا “ دی “ پھر بکر کوکہا کہ تونے عمرو کی لڑکی ہندہ اپنے لڑکے زید کے واسطے قبول کی ا س نے کہا “ قبول کی “ یا حضرت اس ایجاب اورقبول سے ہندہ کا نکاح ہوایا کہ نکاح کا وعدہ ہوا
الجواب
(۱)فی الواقع اقوال اس میں مختلف ہیں اور تصحیحیں بھی مختلف اور اصح التصحیحین یہی ہے جودرمختار میں ہے مگر درمختار کا یہ مطلب نہیں کہ سات کوس کے فاصلہ پر مالم ینظر الکفو الخاطب صادق آجائے تفقہ فقط کتاب سے عبارت دیکھ لینے اور لفظی ترجمہ سمجھ لینے کا نام نہیں بلکہ مقصد شرع کا ادراك اور احوال بلاد وعباد پر نظر رکن اعظم تفقہ ہے اسی درمختار میں ہے :
من لم یکن عالما اھل زمانہ فھو جاھل ۔
جو اپنے زمانہ والوں کے حالات نہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ (ت)
ہمارے بلاد میں نکاح ابکار کی حالت معلوم ہے مہینوں پیام سلام رہتے ہیں اگر بیٹی والوں کی مرضی بھی ہو تو جلد قبول کردینے کو عیب جانتے ہیں یہ ان کے یہاں مثل دائرو سائر ہے کہ بیٹی کا معاملہ کچھ بازار کاسودا نہیں ابھی نہ جوتیاں ٹوٹیں نہ چادریں پھٹیں ابھی سے اقبال کردیا جائے اور ایسا تو کوئی بھی کفو خاطب نہیں کہ ولی اقرب سات کوس پر بیٹھا ہے اور وہ اس سے اجازت لینے تك کا انتظار نہ کرے ہاں یہ وہی کرے گا جسے معلوم ہوگا کہ ولی اقرب اس پر رضانہ دے گا ایسی تعجیل معتبر کرلینے میں ولایت قربے کا ابطال اور حکم شرع کانقض ہے بلکہ عندالانصاف یہ روایت مفتی بہاتو روایت مسافت قصرسے بھی تنگ تر ہے ریل نے مسافت قصر کو گھنٹے کی مسافت کردیا کون سا خاطب ہے کہ اتنی دیر کا انتظار نہ کرے گا وبقیۃ التفصیل فی فتاوی الفقیر(باقی تفصیل فقیر کے فتاوی میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
(۲)اگر وہ مجلس وعدہ کی تھی اور و عدہ ہی مفہوم ہو اتو وعدہ ہی ہو ا نہ کہ نکاح ورنہ نکاح۔
قال ھل اعطیتنیھا قال نعم ان المجلس للوعد فوعدوان للعقد فعقد درمختار وغیرہ۔
اگرکہا کہ تونے مجھے لڑکی دی تو جواب میں ہاں کہا تو یہ بات مجلس وعدہ میں وعدہ اور مجلس نکاح میں نکاح ہوگی درمختار وغیرہ(ت)
اس کی بناوہاں کے رواج ومتفاہم عرف پر ہے کما اشرنا الیہ(جیسا کہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
الجواب
(۱)فی الواقع اقوال اس میں مختلف ہیں اور تصحیحیں بھی مختلف اور اصح التصحیحین یہی ہے جودرمختار میں ہے مگر درمختار کا یہ مطلب نہیں کہ سات کوس کے فاصلہ پر مالم ینظر الکفو الخاطب صادق آجائے تفقہ فقط کتاب سے عبارت دیکھ لینے اور لفظی ترجمہ سمجھ لینے کا نام نہیں بلکہ مقصد شرع کا ادراك اور احوال بلاد وعباد پر نظر رکن اعظم تفقہ ہے اسی درمختار میں ہے :
من لم یکن عالما اھل زمانہ فھو جاھل ۔
جو اپنے زمانہ والوں کے حالات نہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ (ت)
ہمارے بلاد میں نکاح ابکار کی حالت معلوم ہے مہینوں پیام سلام رہتے ہیں اگر بیٹی والوں کی مرضی بھی ہو تو جلد قبول کردینے کو عیب جانتے ہیں یہ ان کے یہاں مثل دائرو سائر ہے کہ بیٹی کا معاملہ کچھ بازار کاسودا نہیں ابھی نہ جوتیاں ٹوٹیں نہ چادریں پھٹیں ابھی سے اقبال کردیا جائے اور ایسا تو کوئی بھی کفو خاطب نہیں کہ ولی اقرب سات کوس پر بیٹھا ہے اور وہ اس سے اجازت لینے تك کا انتظار نہ کرے ہاں یہ وہی کرے گا جسے معلوم ہوگا کہ ولی اقرب اس پر رضانہ دے گا ایسی تعجیل معتبر کرلینے میں ولایت قربے کا ابطال اور حکم شرع کانقض ہے بلکہ عندالانصاف یہ روایت مفتی بہاتو روایت مسافت قصرسے بھی تنگ تر ہے ریل نے مسافت قصر کو گھنٹے کی مسافت کردیا کون سا خاطب ہے کہ اتنی دیر کا انتظار نہ کرے گا وبقیۃ التفصیل فی فتاوی الفقیر(باقی تفصیل فقیر کے فتاوی میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
(۲)اگر وہ مجلس وعدہ کی تھی اور و عدہ ہی مفہوم ہو اتو وعدہ ہی ہو ا نہ کہ نکاح ورنہ نکاح۔
قال ھل اعطیتنیھا قال نعم ان المجلس للوعد فوعدوان للعقد فعقد درمختار وغیرہ۔
اگرکہا کہ تونے مجھے لڑکی دی تو جواب میں ہاں کہا تو یہ بات مجلس وعدہ میں وعدہ اور مجلس نکاح میں نکاح ہوگی درمختار وغیرہ(ت)
اس کی بناوہاں کے رواج ومتفاہم عرف پر ہے کما اشرنا الیہ(جیسا کہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
حوالہ / References
درمختار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱۵
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
مسئلہ ۸۷ : مسئولہ لال محمد خیاط از پھپھوند اٹاوہ بروز دوشنبہ بتاریخ ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت کے ساتھ زنا کیا۔ پھر اسی مرد نے اسی عورت کے ساتھ بحالت حمل نکاح کیا بعد نکاح ا س کے ساتھ مباشرت کی اس صورت میں نکاح رہایا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر وہ عورت بے شوہر تھی یا شوہر مرگیا یا طلاق دے دی تھی اور یہ حمل شوہر کا شرعا نہیں قرار پاسکتا تھا یعنی اس کی موت اور طلاق دوبرس کے بعد بچہ پیدا ہوا تو ان سب صورتوں میں نکاح صحیح ہوگیا پھر اگر وہ حمل اسی زانی کا تھا تو اسے بعد نکاح پاس جانا بھی جائز تھا اوردوسرے کا تھا تو نہیں بہر حال اس مباشرت سے نکاح میں کوئی خلل نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸ : از ضلع چھپرہ سارن ڈاکخانہ حدائی باغ بازار موضع چکدارہ مسئولہ شاہ حبیب احمد صاحب بروز دوشنبہ بتاریخ ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کو مع دوشاہد کے وکیل معین چند اشخاص کے مقابلہ اجازت دی کہ میری لڑکی جو فلاں نام کی ہے اس کانکاح ولید سے دس ہزار روپیہ اور دو دینار سرخ پرکردو اب وکیل معین وقت ایجاب بجائے دس ہزار روپیہ کے دس ہزا ردرہم کا الفاظ زبان پر لایا۔ شاہد نے روکا کہ چھوڑو روپیہ کہو۔ وکیل معین نے یہ کہا کہ درہم روپے کو کہتے ہیں اور دینار اشرفی یہاں پر درہم ودینار دونوں جمع ہے لہذا اہل زبان کے نزدیك مستعمل روپیہ واشرفی ہے اس پر شاہدان واہل مجلس تمام ساکت رہے اور وکیل معین نے بایں الفاظ ایجاب وقبول کرایا کہ بنت فلاں بعوض مہر دس ہزار درہم سکہ رائج الوقت اور دو دینار سرخ تمھاری زوجیت میں دیاتم نے قبول کیا تین مرتبہ ایجاب وقبول کراکے زبان سے کہہ دیا کہ تم کو کمی بیشی کرنے کی مجاز وحق نہیں ہے۔ درہم سے دس ہزار روپیہ مراد ہے اور سکہ کی دوسری قید ہے جواس وقت کا روپیہ ہے جو رائج ہے اگر اس کے خلاف وکیل معین کرے گا تو اس کے نزدیك نکاح باطل ہوگا اب فریق ثانی دوسرے روز معہ نوشہ وہم جلیس اس کے وفریق اول میں یہ قصہ ہے کہ کتاب دیکھی جاتی ہے کہ لغت میں درہم کے معنی پیسہ ہے لہذا دوسو روپے سے بھی کم پرنکاح ہوا اور کوئی جہلافریقین یہ کہتا ہے کہ نکاح باطل ہوا بیان فرمائیے اجر و ثواب پائیے فقط۔
الجواب :
نکاح صحیح ہوگیا اوردس ہزار روپیہ اور دو دینار مہر ہوا درہم پیسہ کو نہیں کہتے روپیہ ہی کو کہتے ہیں ہاں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت کے ساتھ زنا کیا۔ پھر اسی مرد نے اسی عورت کے ساتھ بحالت حمل نکاح کیا بعد نکاح ا س کے ساتھ مباشرت کی اس صورت میں نکاح رہایا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر وہ عورت بے شوہر تھی یا شوہر مرگیا یا طلاق دے دی تھی اور یہ حمل شوہر کا شرعا نہیں قرار پاسکتا تھا یعنی اس کی موت اور طلاق دوبرس کے بعد بچہ پیدا ہوا تو ان سب صورتوں میں نکاح صحیح ہوگیا پھر اگر وہ حمل اسی زانی کا تھا تو اسے بعد نکاح پاس جانا بھی جائز تھا اوردوسرے کا تھا تو نہیں بہر حال اس مباشرت سے نکاح میں کوئی خلل نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸ : از ضلع چھپرہ سارن ڈاکخانہ حدائی باغ بازار موضع چکدارہ مسئولہ شاہ حبیب احمد صاحب بروز دوشنبہ بتاریخ ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کو مع دوشاہد کے وکیل معین چند اشخاص کے مقابلہ اجازت دی کہ میری لڑکی جو فلاں نام کی ہے اس کانکاح ولید سے دس ہزار روپیہ اور دو دینار سرخ پرکردو اب وکیل معین وقت ایجاب بجائے دس ہزار روپیہ کے دس ہزا ردرہم کا الفاظ زبان پر لایا۔ شاہد نے روکا کہ چھوڑو روپیہ کہو۔ وکیل معین نے یہ کہا کہ درہم روپے کو کہتے ہیں اور دینار اشرفی یہاں پر درہم ودینار دونوں جمع ہے لہذا اہل زبان کے نزدیك مستعمل روپیہ واشرفی ہے اس پر شاہدان واہل مجلس تمام ساکت رہے اور وکیل معین نے بایں الفاظ ایجاب وقبول کرایا کہ بنت فلاں بعوض مہر دس ہزار درہم سکہ رائج الوقت اور دو دینار سرخ تمھاری زوجیت میں دیاتم نے قبول کیا تین مرتبہ ایجاب وقبول کراکے زبان سے کہہ دیا کہ تم کو کمی بیشی کرنے کی مجاز وحق نہیں ہے۔ درہم سے دس ہزار روپیہ مراد ہے اور سکہ کی دوسری قید ہے جواس وقت کا روپیہ ہے جو رائج ہے اگر اس کے خلاف وکیل معین کرے گا تو اس کے نزدیك نکاح باطل ہوگا اب فریق ثانی دوسرے روز معہ نوشہ وہم جلیس اس کے وفریق اول میں یہ قصہ ہے کہ کتاب دیکھی جاتی ہے کہ لغت میں درہم کے معنی پیسہ ہے لہذا دوسو روپے سے بھی کم پرنکاح ہوا اور کوئی جہلافریقین یہ کہتا ہے کہ نکاح باطل ہوا بیان فرمائیے اجر و ثواب پائیے فقط۔
الجواب :
نکاح صحیح ہوگیا اوردس ہزار روپیہ اور دو دینار مہر ہوا درہم پیسہ کو نہیں کہتے روپیہ ہی کو کہتے ہیں ہاں
اگر اسے مطلق رکھتا تو درہم شرعی کا احتمال ہوتا جس کا وزن ۳ ماشے ایك رتی ۱ / ۵ رتی کا ہے اب کہ اس نے سکہ رائج الوقت کہہ دیا احتمال قطع ہوگیاا ور یقینا یہی روپیہ مراد رہا جو سو اگیارہ ماشہ کاہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹ : ازمقام سیپری علاقہ راجہ ضلع بریلی تحصیل آنولہ تھا نہ سرولی روز چہار شنبہ ۲۰ ربیع لاول ۱۳۳۴ھ مسئولہ ننھے خاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس باب میں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت خواہ باہر کی پھرنے والی یا طوائف سے نکاح کرلے تو وہ جائز یا ناجائز اور بعد نکاح کے بے پردہ عورت باہر جاوے تو نکاح رہایا نہیں یا اس فعل پر اس کو طلاق دے دے اور مہر ادا کردے تو پھر کوئی حق اس کا ذمہ زوج کے رہا یا نہیں اور نکاح میں ایجاب وقبول باہم کرلے اور گواہ وکیل نہ ہو تو نکاح جائز یا ناجائز اگر بعد نکاح اس عورت کا فعل ناجائز عرصہ ایك یا دو یوم کے معلوم ہو توزوج اس کو طلاق دے دے اور مہر ادا کرے تو طلاق ہوجاوے گی یا نہیں اور بر وقت نکاح تعداد مہر کم از کم کتنی ہونی چاہئے
الجواب :
نکاح زن بے پردہ وبازاری سے بھی جائز ہے اورعورت کے بے پردہ نکلنے سے نکاح نہیں جاتا اور بعد طلاق مہر دینا لازم ہوتاہے اور عدت تك کا نفقہ پھر عورت کاکوئی حق مرد پر نہیں رہتا۔ نکاح میں وکیل کی ضرورت نہیں۔ نہ ایسے دو شخصوں کی ضرورت ہے جن کو گواہ سے نامزد کیاجائے ہاں یہ ضرورہے کہ دو مرد عاقل بالغ یا ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ(اور مسلمان عورت کے نکاح میں ان دونوں تینوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے)معا ایجاب وقبول سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہاہے وہی لوگ شرعا گواہ ہیں اگرچہ وہ لو گ گواہی کے لیے نامزد نہ کئے جائیں بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتا طلاق اس دن دیں خواہ جب دیں واقع ہوجائے گی مہر کم از کم د س درہم بھر چاندی ہے یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے بھر یا یہاں کے روپے سے دو ر
وپے پونے تیرہ آنے اور ایك پیسہ کے پانچویں حصے کے برابر۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰ تا ۹۱ : مسئولہ مولوی محمد اسمعیل صاحب محمود آباد ی امام رسالہ پلٹن بریلی چھاؤنی ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱)ماہ محرم الحرام وصفر المظفر میں نکاح کرنا منع ہے یا نہیں اگر ہے تو کیوں
(۲)زیدکی لڑکی(لے پالک)ربیبہ کانکاح زیدکے سگے بھائی بکرسے جائز ہے یا نہیں
الجواب :
(۱)نکاح کسی مہینے میں منع نہیں۔ والله تعالی اعلم
(۲)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹ : ازمقام سیپری علاقہ راجہ ضلع بریلی تحصیل آنولہ تھا نہ سرولی روز چہار شنبہ ۲۰ ربیع لاول ۱۳۳۴ھ مسئولہ ننھے خاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس باب میں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت خواہ باہر کی پھرنے والی یا طوائف سے نکاح کرلے تو وہ جائز یا ناجائز اور بعد نکاح کے بے پردہ عورت باہر جاوے تو نکاح رہایا نہیں یا اس فعل پر اس کو طلاق دے دے اور مہر ادا کردے تو پھر کوئی حق اس کا ذمہ زوج کے رہا یا نہیں اور نکاح میں ایجاب وقبول باہم کرلے اور گواہ وکیل نہ ہو تو نکاح جائز یا ناجائز اگر بعد نکاح اس عورت کا فعل ناجائز عرصہ ایك یا دو یوم کے معلوم ہو توزوج اس کو طلاق دے دے اور مہر ادا کرے تو طلاق ہوجاوے گی یا نہیں اور بر وقت نکاح تعداد مہر کم از کم کتنی ہونی چاہئے
الجواب :
نکاح زن بے پردہ وبازاری سے بھی جائز ہے اورعورت کے بے پردہ نکلنے سے نکاح نہیں جاتا اور بعد طلاق مہر دینا لازم ہوتاہے اور عدت تك کا نفقہ پھر عورت کاکوئی حق مرد پر نہیں رہتا۔ نکاح میں وکیل کی ضرورت نہیں۔ نہ ایسے دو شخصوں کی ضرورت ہے جن کو گواہ سے نامزد کیاجائے ہاں یہ ضرورہے کہ دو مرد عاقل بالغ یا ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ(اور مسلمان عورت کے نکاح میں ان دونوں تینوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے)معا ایجاب وقبول سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہاہے وہی لوگ شرعا گواہ ہیں اگرچہ وہ لو گ گواہی کے لیے نامزد نہ کئے جائیں بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتا طلاق اس دن دیں خواہ جب دیں واقع ہوجائے گی مہر کم از کم د س درہم بھر چاندی ہے یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے بھر یا یہاں کے روپے سے دو ر
وپے پونے تیرہ آنے اور ایك پیسہ کے پانچویں حصے کے برابر۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰ تا ۹۱ : مسئولہ مولوی محمد اسمعیل صاحب محمود آباد ی امام رسالہ پلٹن بریلی چھاؤنی ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱)ماہ محرم الحرام وصفر المظفر میں نکاح کرنا منع ہے یا نہیں اگر ہے تو کیوں
(۲)زیدکی لڑکی(لے پالک)ربیبہ کانکاح زیدکے سگے بھائی بکرسے جائز ہے یا نہیں
الجواب :
(۱)نکاح کسی مہینے میں منع نہیں۔ والله تعالی اعلم
(۲)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۲ : بروز شنبہ ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
ایك عورت کا مرد فوت ہوگیا ہے مگر اس کی عدت پوری نہیں ہوئی اس کا نکاح پڑھناجائز ہے اگر کوئی پیش امام یا قاضی عد ت کے اندرنکاح پڑھاوے تو وہ نکاح ہوگا یا نہیں اور اس نکاح پڑھانے والے کے نکاح میں کچھ فساد ہوگا یا نہیں یا اس کا نکاح پڑھانے والے پیش امام کے لیے کچھ کفارہ آتا ہے یا نہیں اور اس کی امامت جائز ہے یا نہیں صورت دیگر یعنی پیش امام نے ایك عورت کانکاح عدت کے اندر پڑھادیا اور پھر دوسرے روز اس نے دومسلمان کے روبرو اقرار کیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی خدا کے لیے معاف کرو۔ انھوں نے اس کو کہا کہ پیش امام صاحب! آپ کا خودنکاح باطل ہوگیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ اچھا میں نکاح دوبارہ چوری سے پڑھالوں گا مگر برائے خدا مجھ کو معاف کروآئندہ کو ایسا نہ کروں گا مگر پھرا س کوکسی دوسرے مولوی صاحب نے کہہ دیاکہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی میں نے بے خبری میں نکاح پڑھادیا تو اس کے لیے شرع شریف کا کیا حکم ہے تو ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائز ہے یا نہیں اور جس نے اس کو ایسا جھوٹ کہنا سکھلایا کہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی تو اس سکھانے والے کے واسطے کیا حکم ہے اور جولوگ مجلس نکاح میں حاضر تھے ان کا نکاح درست ہے یا کچھ خلل ہوا اور ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائزہے یا نہیں اور ایسے نکاح پڑھانے والے کو کچھ کفارہ دینا چاہئے یا نہیں
الجواب :
عدت میں نکاح تو نکاح نکاح کا پیغام دینا حرام ہے۔ جس نے دانستہ عدت میں نکاح پڑھایا اگر حرام جان کر پڑھایا سخت فاسق اور زنا کار کا دلال ہوا مگر اس کا اپنا نکاح نہ گیا اور اگر عدت میں نکاح کو حلال جانا تو خود اس کا نکاح جاتا رہا اور وہ اسلام سے خارج ہوگیا بہر حال ا س کو امام بنانا جائز نہیں جب تك توبہ نہ کرے یہی حال شریك ہونے والوں کا ہے جو نہ جانتا تھاکہ نکاح پس از عدت ہو رہا ہے اس پر کچھ الزام نہیں اور جو دانستہ شریك ہوا اگر حرام جان کر تو سخت گنہ گار ہوا۔ اور حلال جانا تو اسلام بھی گیا اور جس شخص نے امام کو جھوٹ بولنے کی تعلیم دی وہ سخت گناہ گار ہوا اس پر توبہ فرض ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳ : مسئولہ نور احمد ٹھیکدار از مقام پیلی بھیت چنددی لہکڑ ہ پار روز شنبہ ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی دو تین روز کے بعد دوسرے شخص نے نکاح کرلیا ابھی عدت گزری نہیں ہے۔ آیا ا س کا نکاح ہوا یا نہیں اگر نکاح نہیں ہوا تو تیس برس تك اس نے حرام کیااور حرام کا مرتکب ہوا اب ہم برادری والے اس پر جرمانہ ڈالنا چاہتے ہیں شریعت اس میں کیا حکم لگاتی ہے اور ہم لوگ کون سی اس کو سزادیں جو حکم شریعت کرے اس کوہم سزادے دیں
ایك عورت کا مرد فوت ہوگیا ہے مگر اس کی عدت پوری نہیں ہوئی اس کا نکاح پڑھناجائز ہے اگر کوئی پیش امام یا قاضی عد ت کے اندرنکاح پڑھاوے تو وہ نکاح ہوگا یا نہیں اور اس نکاح پڑھانے والے کے نکاح میں کچھ فساد ہوگا یا نہیں یا اس کا نکاح پڑھانے والے پیش امام کے لیے کچھ کفارہ آتا ہے یا نہیں اور اس کی امامت جائز ہے یا نہیں صورت دیگر یعنی پیش امام نے ایك عورت کانکاح عدت کے اندر پڑھادیا اور پھر دوسرے روز اس نے دومسلمان کے روبرو اقرار کیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی خدا کے لیے معاف کرو۔ انھوں نے اس کو کہا کہ پیش امام صاحب! آپ کا خودنکاح باطل ہوگیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ اچھا میں نکاح دوبارہ چوری سے پڑھالوں گا مگر برائے خدا مجھ کو معاف کروآئندہ کو ایسا نہ کروں گا مگر پھرا س کوکسی دوسرے مولوی صاحب نے کہہ دیاکہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی میں نے بے خبری میں نکاح پڑھادیا تو اس کے لیے شرع شریف کا کیا حکم ہے تو ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائز ہے یا نہیں اور جس نے اس کو ایسا جھوٹ کہنا سکھلایا کہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی تو اس سکھانے والے کے واسطے کیا حکم ہے اور جولوگ مجلس نکاح میں حاضر تھے ان کا نکاح درست ہے یا کچھ خلل ہوا اور ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائزہے یا نہیں اور ایسے نکاح پڑھانے والے کو کچھ کفارہ دینا چاہئے یا نہیں
الجواب :
عدت میں نکاح تو نکاح نکاح کا پیغام دینا حرام ہے۔ جس نے دانستہ عدت میں نکاح پڑھایا اگر حرام جان کر پڑھایا سخت فاسق اور زنا کار کا دلال ہوا مگر اس کا اپنا نکاح نہ گیا اور اگر عدت میں نکاح کو حلال جانا تو خود اس کا نکاح جاتا رہا اور وہ اسلام سے خارج ہوگیا بہر حال ا س کو امام بنانا جائز نہیں جب تك توبہ نہ کرے یہی حال شریك ہونے والوں کا ہے جو نہ جانتا تھاکہ نکاح پس از عدت ہو رہا ہے اس پر کچھ الزام نہیں اور جو دانستہ شریك ہوا اگر حرام جان کر تو سخت گنہ گار ہوا۔ اور حلال جانا تو اسلام بھی گیا اور جس شخص نے امام کو جھوٹ بولنے کی تعلیم دی وہ سخت گناہ گار ہوا اس پر توبہ فرض ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳ : مسئولہ نور احمد ٹھیکدار از مقام پیلی بھیت چنددی لہکڑ ہ پار روز شنبہ ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی دو تین روز کے بعد دوسرے شخص نے نکاح کرلیا ابھی عدت گزری نہیں ہے۔ آیا ا س کا نکاح ہوا یا نہیں اگر نکاح نہیں ہوا تو تیس برس تك اس نے حرام کیااور حرام کا مرتکب ہوا اب ہم برادری والے اس پر جرمانہ ڈالنا چاہتے ہیں شریعت اس میں کیا حکم لگاتی ہے اور ہم لوگ کون سی اس کو سزادیں جو حکم شریعت کرے اس کوہم سزادے دیں
ایا اس کو برادری سے علیحدہ کردیں یا کچھ لوگوں کو کھانا کھلوادیں اس کا حکم حضور جلد روانہ فرمادیجئے کیونکہ یہاں پر جھگڑا پڑا ہوا ہے۔ فقط
الجواب :
وہ نکاح نہیں ہوا حرام محض ہوا ان مرد وعورت پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں نہ ہوں تو برادری والے ان دونوں کو قطعا برادری سے خارج کردیں ان سے بول چال میل جول۔ نشست وبرخاست سب یك لخت ترك کردیں اس کے سوایہاں کیا سزا ہوسکتی ہے۔ اور جبرا کھا نا ڈالنا جائز نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴ : مسئولہ عبداللطیف خاں دکاندار پیلی بھیت محلہ ڈوری لال بروز یکشنبہ ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ جس کا ایك لڑکا تھا اس نے اپنا نکاح زید سے کیا اور جو لڑکا عورت بیوہ یعنی اب زوجہ زید اپنے ہمراہی لے کرآئی تھی ا س کانام بکر ہے زوجہ زید فوت ہوگئی اور کوئی اولاد زید سے نہیں ہوئی اورنہ کوئی اولاد زید کی تھی بکر مذکور نے اپنا نکاح کسی عورت کے ساتھ کیا جب بکر سے کوئی اولاد نہیں ہوئی بکر نے اپنی زوجہ کو نکال دیا اور طلاق دے دی بعد انقضائے مدت عدت کے زید نے اس کے ساتھ نکاح کیا آیا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے۔ وہ اس کی بہو نہیں کہ بکر اس کا بیٹانہیں اس کی زوجہ کا بیٹا ہے۔
قال تعالی و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- و قال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا : اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی بننے والیوں سے نکاح حرام ہے۔ اور الله تعالی نے فرمایا : ان مذکور ہ محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵ : از شاہجہاں پور بروز شنبہ بتاریخ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ماقولکم فی ھذہ الصورۃ ایہا العلماء الکرام اول ہندہ کی نسبت اس کی رضا ورغبت سے زید کے ساتھ ہوئی پھرہندہ کی والدہ نے اس کا نکاح بکر کے ساتھ ہندہ کو اطلاع دئے بغیر کردیا اور ہندہ سے یہ کہہ دیا کہ اگر تجھ سے کوئی نکاح کے متعلق دریافت کرے تویہ کہہ دیناکہ میری ماں کو اختیار ہے۔ جب ہندہ کواپنے
الجواب :
وہ نکاح نہیں ہوا حرام محض ہوا ان مرد وعورت پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں نہ ہوں تو برادری والے ان دونوں کو قطعا برادری سے خارج کردیں ان سے بول چال میل جول۔ نشست وبرخاست سب یك لخت ترك کردیں اس کے سوایہاں کیا سزا ہوسکتی ہے۔ اور جبرا کھا نا ڈالنا جائز نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴ : مسئولہ عبداللطیف خاں دکاندار پیلی بھیت محلہ ڈوری لال بروز یکشنبہ ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ جس کا ایك لڑکا تھا اس نے اپنا نکاح زید سے کیا اور جو لڑکا عورت بیوہ یعنی اب زوجہ زید اپنے ہمراہی لے کرآئی تھی ا س کانام بکر ہے زوجہ زید فوت ہوگئی اور کوئی اولاد زید سے نہیں ہوئی اورنہ کوئی اولاد زید کی تھی بکر مذکور نے اپنا نکاح کسی عورت کے ساتھ کیا جب بکر سے کوئی اولاد نہیں ہوئی بکر نے اپنی زوجہ کو نکال دیا اور طلاق دے دی بعد انقضائے مدت عدت کے زید نے اس کے ساتھ نکاح کیا آیا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے۔ وہ اس کی بہو نہیں کہ بکر اس کا بیٹانہیں اس کی زوجہ کا بیٹا ہے۔
قال تعالی و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- و قال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا : اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی بننے والیوں سے نکاح حرام ہے۔ اور الله تعالی نے فرمایا : ان مذکور ہ محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵ : از شاہجہاں پور بروز شنبہ بتاریخ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
بسم الله الرحمن الرحیم ماقولکم فی ھذہ الصورۃ ایہا العلماء الکرام اول ہندہ کی نسبت اس کی رضا ورغبت سے زید کے ساتھ ہوئی پھرہندہ کی والدہ نے اس کا نکاح بکر کے ساتھ ہندہ کو اطلاع دئے بغیر کردیا اور ہندہ سے یہ کہہ دیا کہ اگر تجھ سے کوئی نکاح کے متعلق دریافت کرے تویہ کہہ دیناکہ میری ماں کو اختیار ہے۔ جب ہندہ کواپنے
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
نکاح کی اطلاع ہوئی جو بکر کے ساتھ کیا گیا تھا تو اس نے اس کو قبول نہیں کیا اور اپنی رضامندی سے اپنا نکاح زید کے ساتھ پڑھوالیا(اور اس لڑکی کے سوائے ماں اور بہنوں کے اور کوئی نہ تھا اور عمر لڑکی کی سترہ سال کی تھی)یعنی بالغ تھی سوال یہ ہے ان صورتوں میں ہندہ کانکاح بکر کے ساتھ صحیح ہوایا زید کے ساتھ فقط
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ ہندہ وقت نکاح بکر بالغہ تھی اور ماں نے بے اس کی اجازت کے اس کا نکاح کیا جس کی خبر پاکر اس نے قبول نہ کیا اور اپنا نکاح زید سےکرلیا تو نکاح بکر باطل ہوگیا اور اگر ہندہ کے کوئی مرد دادا پردادا کی اولاد کا کہ ولی نکاح ہوسکے نہیں یاز ید جس سے ہندہ بالغہ نے برضا ئے خود نکاح کرلیا ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے وغیرہ کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ ہندہ کااس سے نکاح ولی ہندہ کے لیے باعث ننگ وعار ہو یا اگر وہ کفو نہیں توولی نے پیش ا ز نکاح اسے ایسا جان کر اس سے نکاح ہندہ کی صریح اجازت دے دی تو ان صورتوں میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح اور لازم ہوگیا اور اگر زید مذکور کفونہیں اورہندہ کے ولی نے پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر صریح اجازت نہ دی تو ہندہ کا نکاح زید سے بھی باطل محض ہوا والمسائل کلھا منصوص علیہا فی الدر وغیرہ من الاسفاروالغر(یہ تمام مسائل در وغیر ہ کتب میں صراحۃ مذکور ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ : از ڈاك خانہ سندیلہ حاجی محلہ متھوا ضلع ہردوئی مرسلہ محمد عبدالوکیل صاحب بروز شنبہ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ احدالفریقین سنی المذہب ہے اور دوسرا فریق شیعہ امامیہ طریقہ رکھتا ہے کیا ان دو اشخاص کے باہم عقدمناکحت شرعا جائز ہے اوریہ کہ ان سے پیدا شدہ اولاد ثابت النسب ہے یا نہیں
الجواب :
نکاح اصلا نہ ہوگا والمسألۃ فی الھندیۃ وغیرھا وقد فصلناھاغیر مرۃ فی فتاونا(یہ مسئلہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ہم نے کئی بار اسے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۷ : از گونا ریاست گوالیار مقصود علی گردآور بروز شنبہ بتاریخ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
بحضور واقفان طریقت وعالمان نکات شریعت پیشوائے دین احمدی و رہنمائے احکامات محمدی مدظلہ بعد آداب نیاز دست بستہ گزارش ہے کہ میں عقد تزویج سلطان احمد خاں میں عرصہ ایك سال کا ہوا آئی اس کا بھائی سلیمان خاں ۷ ماہ تك میرے والدین کے پاس رہا اس کی بدچلنی واوباشی سے میرے والدین نے اس سے
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ ہندہ وقت نکاح بکر بالغہ تھی اور ماں نے بے اس کی اجازت کے اس کا نکاح کیا جس کی خبر پاکر اس نے قبول نہ کیا اور اپنا نکاح زید سےکرلیا تو نکاح بکر باطل ہوگیا اور اگر ہندہ کے کوئی مرد دادا پردادا کی اولاد کا کہ ولی نکاح ہوسکے نہیں یاز ید جس سے ہندہ بالغہ نے برضا ئے خود نکاح کرلیا ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے وغیرہ کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ ہندہ کااس سے نکاح ولی ہندہ کے لیے باعث ننگ وعار ہو یا اگر وہ کفو نہیں توولی نے پیش ا ز نکاح اسے ایسا جان کر اس سے نکاح ہندہ کی صریح اجازت دے دی تو ان صورتوں میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح اور لازم ہوگیا اور اگر زید مذکور کفونہیں اورہندہ کے ولی نے پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر صریح اجازت نہ دی تو ہندہ کا نکاح زید سے بھی باطل محض ہوا والمسائل کلھا منصوص علیہا فی الدر وغیرہ من الاسفاروالغر(یہ تمام مسائل در وغیر ہ کتب میں صراحۃ مذکور ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ : از ڈاك خانہ سندیلہ حاجی محلہ متھوا ضلع ہردوئی مرسلہ محمد عبدالوکیل صاحب بروز شنبہ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ احدالفریقین سنی المذہب ہے اور دوسرا فریق شیعہ امامیہ طریقہ رکھتا ہے کیا ان دو اشخاص کے باہم عقدمناکحت شرعا جائز ہے اوریہ کہ ان سے پیدا شدہ اولاد ثابت النسب ہے یا نہیں
الجواب :
نکاح اصلا نہ ہوگا والمسألۃ فی الھندیۃ وغیرھا وقد فصلناھاغیر مرۃ فی فتاونا(یہ مسئلہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ہم نے کئی بار اسے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۹۷ : از گونا ریاست گوالیار مقصود علی گردآور بروز شنبہ بتاریخ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
بحضور واقفان طریقت وعالمان نکات شریعت پیشوائے دین احمدی و رہنمائے احکامات محمدی مدظلہ بعد آداب نیاز دست بستہ گزارش ہے کہ میں عقد تزویج سلطان احمد خاں میں عرصہ ایك سال کا ہوا آئی اس کا بھائی سلیمان خاں ۷ ماہ تك میرے والدین کے پاس رہا اس کی بدچلنی واوباشی سے میرے والدین نے اس سے
کہاکہ چلن اپنا سنبھالو کاش میں ایساچلن تمھارا خیال کرتا اپنی عورت کو تمھارے سامنے آنے کی اجاز ت نہ دیتا اس نے کہا میں ابھی جاؤں والد نے کہا جاؤسلام وہ چلاگیا میری والدہ کو والد نے یہ حکم دیاکہ آج سے تم جس وقت ا س کا منہ دیکھو گی نکاح سے خارج سمجھنا میرا شوہر ا س کو لایا میری والدہ نے پردہ کیا میرے شوہر نے مجھ سے کہا میرے بھائی کو تمھارے والدین نے علیحدہ کیامیں آج سے تم کو علیحدہ کرتاہوں تمھارا مجھ سے کچھ واسطہ نہیں میں روتی ہوئی اندر آئی وہ چلے گئے صبح کو کریم خاں کو شوہر کے پاس بھیجا بلایا توکہا میں چھوڑ چکا اب کیا واسطہ اب اگر کعبہ بھی اس طرف ہو توسر نہ جھکاؤں گا گواہوں کے روبرو کہہ دیا اس دن سے قریب چھ ماہ کے منقضی ہوئے بالکل میں متروکہ پڑی رہی اب اس کی ہمشیرہ نے آکراول یہ تجویز کیا کہ کسی صور ت سے گھر میں لائے پھر کہا طلاق کا قصور ہوگیا ہے اس کی تجویز اچھی طرح کرلیں گے کہ ہم اپنے دوسرے بھائی سے نکاح کر اکر طلاق دلاکر تیسرا نکاح پڑھالیویں گے کسی کو کچھ معلوم نہ ہوگا۔ یہ میں نے منظور نہیں کیا اور نو ٹس زر مہر کا دیا تو اب دعوی رخصت کا کرتا ہے لہذا دست بستہ ملتجی ہوں کہ میرا عقد سلطان احمد خاں سے قائم رہا یا ساقط ہوا زر مہر موجل کی میں حقدار ہوں یا نہیں ایام عدت میرے ختم ہوچکے ہیں یا باقی ہیں میں شوہر سابقہ سے اب تعلق ازدواج سابقہ رکھوں تو جائز ہے یا نہیں عند الله جواب باصواب سےآگاہی بخشی جائے کہ جس سے دین محمد ی کے احکام میں کوئی قصور اس عاصیہ سے نہ سرزد ہو اس کا اجر حضور کو الله تعالی دے گا یہ ریاست ہندوستانی ہے کوئی اس قدر لیاقت نہیں رکھتا جو شرعا حکم دے ویسراج کا برتاؤ ہے۔
الجواب :
بیان مذکور اگرواقعی ہے تو عورت پر بائن طلاق ہوگئی ا ور نکاح سے نکل گئی اور تین طلاقیں نہ ہوئیں کہ حلالہ کی حاجت ہو جس کے واسطے سلیمان خاں سے نکاح ہوکر طلاق لی جائے زن وشوہر کی اگر ایك مکان تنہا میں یك جائی ہوچکی ہے توکل مہر واجب الادا ہوگیا اور عورت پر روز طلاق سے تین حیض کی عدت لازم ہوئی تین حیض اگر شروع ہوکر ختم ہوگئے تو عدت سے نکل گئی ورنہ ابھی نہیں اور اگر ابھی صرف نکاح ہوا ہے اور ایك مکان میں زن وشوہر کی تنہائی نہ ہوئی تو نصف مہر ساقط ہوگیا ارو نصف واجب الادا اور عدت اصلانہیں اس طلاق کے بعد عورت اگر چاہے تو سلطان احمدخاں سے دوبارہ نکاح ہوسکتا تھا مگر وہ کلمہ جو اس نے کہا کہ اگر ادھر کعبہ بھی ہو تو سر نہ جھکاؤں گا اسے علماء نے کلمہ کفر لکھا ہے۔ لہذا اگر وہ اب توبہ کرے اور تجدید اسلام تو اس کا اس سے نکاح ہوسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸ : از جناب عثمان ایوب حاجی آدم جی حاجی یعقوب صاحبان ضلع بلاسپور سی پی ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
ماقولکم ایہا العلماء الحنفیون رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ اگر زید نے ایك جماعت کثیرہ کے روبرو
الجواب :
بیان مذکور اگرواقعی ہے تو عورت پر بائن طلاق ہوگئی ا ور نکاح سے نکل گئی اور تین طلاقیں نہ ہوئیں کہ حلالہ کی حاجت ہو جس کے واسطے سلیمان خاں سے نکاح ہوکر طلاق لی جائے زن وشوہر کی اگر ایك مکان تنہا میں یك جائی ہوچکی ہے توکل مہر واجب الادا ہوگیا اور عورت پر روز طلاق سے تین حیض کی عدت لازم ہوئی تین حیض اگر شروع ہوکر ختم ہوگئے تو عدت سے نکل گئی ورنہ ابھی نہیں اور اگر ابھی صرف نکاح ہوا ہے اور ایك مکان میں زن وشوہر کی تنہائی نہ ہوئی تو نصف مہر ساقط ہوگیا ارو نصف واجب الادا اور عدت اصلانہیں اس طلاق کے بعد عورت اگر چاہے تو سلطان احمدخاں سے دوبارہ نکاح ہوسکتا تھا مگر وہ کلمہ جو اس نے کہا کہ اگر ادھر کعبہ بھی ہو تو سر نہ جھکاؤں گا اسے علماء نے کلمہ کفر لکھا ہے۔ لہذا اگر وہ اب توبہ کرے اور تجدید اسلام تو اس کا اس سے نکاح ہوسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸ : از جناب عثمان ایوب حاجی آدم جی حاجی یعقوب صاحبان ضلع بلاسپور سی پی ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
ماقولکم ایہا العلماء الحنفیون رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ اگر زید نے ایك جماعت کثیرہ کے روبرو
بکر سے اس کی دختر کو مانگا اور کہا کہ میں آپ کی دختر کو اپنے پسر کے واسطے مانگنے والا آیا ہوں اوربکر نے بھی بسمع وطاعت قبول کرلیا اور کپڑے وزیورات زیدنے حاضر کئے اورقبول وتقسیم شیرینی وغیر ہ کے دختر کا بھیجنا بھجانا بھی خاطب کے یہاں برابر ہوتا رہا درمیان میں کسی قدر شکر رنجی کے باعث بکر دختر موصوفہ کو دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ ہے پس سائل سوال کرتا ہے کہ صورت مذکورۃ الصدر میں ایقاع نکاح ہوا کہ نہیں کیا صورت بالا میں بکر دختر موصوفہ کو کسی دوسرے کے نکاح میں دے سکتا ہے یا نہیں بینوا بالدلیل وتوجروا بالا جرالجزیل۔
الجواب :
جبکہ وہ جلسہ منگنی کاتھا نہ کہ نکاح کا تو صرف اتنے الفاظ سے کہ سوال میں مذکور ہوئے نکاح منعقد نہ ہوا اسے دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹ : از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پر گنہ سہسوان ضلع بدایوں بھوانی پور خورد ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
ایك شخص ہمارے یہاں بھوانی پور خورد میں پیش امام تھا اس کی بیوی انتقال کرگئی اور اس کی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا ہے جو کہ ا س کی سوتیلی ساس تھی یعنی اس کی بیوی کی سگی ماں نہ تھی اب اس کی بابت ہم کو فتوی کی ضرورت ہے حضور کوتکلیف دیتے ہیں کہ ا س مسئلہ کو خوب صحیح طور سے ہم کو آگاہ کیجئے گا نکاح درست ہے کہ نادرست ہے وہ کو ن آیت کلام پاك میں ہے کہ جس سے ناجائز ہے اور وہ کون آیت ہے کہ جس سے جائز ہے اور کون کون پارہ میں ہیں اور وہ کون کون رکوع میں ہیں
الجواب
زوجہ کی سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے کہ سوتیلی ماں ماں نہیں ہوتی۔
قال اﷲ تعالی ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- وقال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی نے فرمایا : ان کی مائیں صرف وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے اور الله تعالی نے فرمایا : ان کے ماسوا تمھارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں(ت)والله تعالی اعلم
الجواب :
جبکہ وہ جلسہ منگنی کاتھا نہ کہ نکاح کا تو صرف اتنے الفاظ سے کہ سوال میں مذکور ہوئے نکاح منعقد نہ ہوا اسے دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹ : از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پر گنہ سہسوان ضلع بدایوں بھوانی پور خورد ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
ایك شخص ہمارے یہاں بھوانی پور خورد میں پیش امام تھا اس کی بیوی انتقال کرگئی اور اس کی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا ہے جو کہ ا س کی سوتیلی ساس تھی یعنی اس کی بیوی کی سگی ماں نہ تھی اب اس کی بابت ہم کو فتوی کی ضرورت ہے حضور کوتکلیف دیتے ہیں کہ ا س مسئلہ کو خوب صحیح طور سے ہم کو آگاہ کیجئے گا نکاح درست ہے کہ نادرست ہے وہ کو ن آیت کلام پاك میں ہے کہ جس سے ناجائز ہے اور وہ کون آیت ہے کہ جس سے جائز ہے اور کون کون پارہ میں ہیں اور وہ کون کون رکوع میں ہیں
الجواب
زوجہ کی سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے کہ سوتیلی ماں ماں نہیں ہوتی۔
قال اﷲ تعالی ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- وقال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی نے فرمایا : ان کی مائیں صرف وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے اور الله تعالی نے فرمایا : ان کے ماسوا تمھارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں(ت)والله تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن ۵۸ / ۲
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
مسئلہ ۱۰۰ : مسئولہ منشی محمد حسین صاحب جے پوری از شاہجہاں پور ۳ ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ بتوسط کنور جگندر پال سنگھ بی اے ایل ایل بی ڈپٹی کلکٹر
کیا فرماتے ہیں اس میں کہ زید کی نانی دوبہنیں ہیں اصلی نانی کی لڑکی تو زید کی اصلی خالہ ہوئی اس سے تونکاح ہو ہی نہیں سکتا لیکن نانی کی دوسری بہن کی لڑکی سے جو زید کی رشتہ میں خالہ ہے کا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
ماں کی خالہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہے قال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم (الله تعالی نے فرمایا : (ان کے سوا تمھارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱ : از گیا فرحت باغ کوٹھی ایسری پرشاد سنگھ رئیس گیا مسئولہ مظہر الحق صاحب ۲۹ جمادی الاخری ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اپنے حقیقی ساڑھو(سانڈھوں)کی لڑکی سے عقد ومناکحت جائزہے یانہیں
الجواب :
ساڑھو(سانڈھو)کی لڑکی اگر سالی کے بطن سے نہیں توا س سے نکاح مطلقا جائزہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اور اگر سالی سے ہے یعنی اپنی زوجہ کی بھانجی تو جب تك زوجہ اس کے نکاح میں ہے ا س کی بھانجی سے نکاح حرام ہے ہاں عورت کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے یا عورت مرجائے اس کی بھانجی سے نکاح جائز ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲ : مسئولہ مولوی عزیز الحسن صاحب قادری رضوی برکاتی پھپھوند ضلع اٹاوہ بتاریخ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے جماع بین الاختین کیا اور اولادیں دونوں سے ہیں پس ازروئے شرع اقدس یہ اولادیں اور بیویاں جائز قرار پائیں گی یا نہیں اور پانے ترکہ زید کی مستحق ہوں گی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر دونوں سے ایك ساتھ نکاح کیا دونوں حرام اور اگر آگے پیچھے کیا توپہلی کا نکاح بے خلل دوسری کا
کیا فرماتے ہیں اس میں کہ زید کی نانی دوبہنیں ہیں اصلی نانی کی لڑکی تو زید کی اصلی خالہ ہوئی اس سے تونکاح ہو ہی نہیں سکتا لیکن نانی کی دوسری بہن کی لڑکی سے جو زید کی رشتہ میں خالہ ہے کا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
ماں کی خالہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہے قال تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم (الله تعالی نے فرمایا : (ان کے سوا تمھارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱ : از گیا فرحت باغ کوٹھی ایسری پرشاد سنگھ رئیس گیا مسئولہ مظہر الحق صاحب ۲۹ جمادی الاخری ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اپنے حقیقی ساڑھو(سانڈھوں)کی لڑکی سے عقد ومناکحت جائزہے یانہیں
الجواب :
ساڑھو(سانڈھو)کی لڑکی اگر سالی کے بطن سے نہیں توا س سے نکاح مطلقا جائزہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اور اگر سالی سے ہے یعنی اپنی زوجہ کی بھانجی تو جب تك زوجہ اس کے نکاح میں ہے ا س کی بھانجی سے نکاح حرام ہے ہاں عورت کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے یا عورت مرجائے اس کی بھانجی سے نکاح جائز ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲ : مسئولہ مولوی عزیز الحسن صاحب قادری رضوی برکاتی پھپھوند ضلع اٹاوہ بتاریخ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے جماع بین الاختین کیا اور اولادیں دونوں سے ہیں پس ازروئے شرع اقدس یہ اولادیں اور بیویاں جائز قرار پائیں گی یا نہیں اور پانے ترکہ زید کی مستحق ہوں گی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر دونوں سے ایك ساتھ نکاح کیا دونوں حرام اور اگر آگے پیچھے کیا توپہلی کا نکاح بے خلل دوسری کا
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
حرام پھر جب دوسری سے قربت کی پہلی سے قربت بھی حرام ہوگئی جب تك اسے جدا کرکے عدت نہ گزر جائے اولادیں بہر حال عــــہ ولد الحرام ہیں جیسے وہ نطفہ جو حالت حیض میں ٹھہرا مگر ولد الزنا نہیں زیدکا ترکہ ان سب اولاد کو ملے گا۔ ہاں دونوں سے معا نکاح کیا دونوں زوجہ ورنہ پچھلی ترکہ نہ پائے گی یہ سب اس صورت میں ہے کہ دونوں سے نکاح کیاہو اور اگر زوجہ نکاح میں ہے اور سالی سے زنا کیا تو زوجہ سے قربت بھی حرام نہ ہوگی نہ اس کی اولاد ولد الحرام ہوگی سالی سے جو بچے ہوں گے ولد الزنا ہوں گے اور زید کا ترکہ نہ پائیں گے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳ : مرسلہ میاں محمد غوث صاحب ضلع اٹك ڈاکخانہ خود بتاریخ ۵ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا والمرأۃ علی خالتھا نسائی وغیرہ۔ بینوا توجروا
نسائی وغیرہ میں ہے پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
جواب : صریحا نص سے پایا جاتا ہے و احل لكم ما ورآء ذلكم الایۃ(ان مذکورہ محرمات کے ماسوا حلال ہیں۔ ت) تو حل ثابت ہوگئی۔ اور حدیث “ کلامی لاینسخ کلام اﷲ وکلام اﷲ ینسخ کلامی “ (میرا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا اور الله کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ ت)تو تطبیق کی کچھ حاجت نہ رہی جب ناسخ ٹھہری تو حرمت اٹھ گئی حل پر حکم پایا گیا۔
الجواب :
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا ۔
پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
حدیث صحیح مشہو رہے مع ھذا وہ مخالف قرآن نہیں بلکہ آیہ کریمہ وان تجموا بین الاختین (حرام ہے
عــــہ : یعنی اگر ایك ساتھ نکاح کیا ہو یا آگے پیچھے مگر سب اولاد بعد جمع ہوئی ہو ورنہ وہ اولاد جو دوسری کے نکاح اور قربت سے پہلے ہوئی ولد الحرام نہیں۔ ۱۲ مصطفی رضا قادری غفرلہ
مسئلہ ۱۰۳ : مرسلہ میاں محمد غوث صاحب ضلع اٹك ڈاکخانہ خود بتاریخ ۵ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا والمرأۃ علی خالتھا نسائی وغیرہ۔ بینوا توجروا
نسائی وغیرہ میں ہے پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
جواب : صریحا نص سے پایا جاتا ہے و احل لكم ما ورآء ذلكم الایۃ(ان مذکورہ محرمات کے ماسوا حلال ہیں۔ ت) تو حل ثابت ہوگئی۔ اور حدیث “ کلامی لاینسخ کلام اﷲ وکلام اﷲ ینسخ کلامی “ (میرا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا اور الله کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ ت)تو تطبیق کی کچھ حاجت نہ رہی جب ناسخ ٹھہری تو حرمت اٹھ گئی حل پر حکم پایا گیا۔
الجواب :
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا ۔
پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
حدیث صحیح مشہو رہے مع ھذا وہ مخالف قرآن نہیں بلکہ آیہ کریمہ وان تجموا بین الاختین (حرام ہے
عــــہ : یعنی اگر ایك ساتھ نکاح کیا ہو یا آگے پیچھے مگر سب اولاد بعد جمع ہوئی ہو ورنہ وہ اولاد جو دوسری کے نکاح اور قربت سے پہلے ہوئی ولد الحرام نہیں۔ ۱۲ مصطفی رضا قادری غفرلہ
حوالہ / References
صحیح بخاری با ب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۶۶
القرآن ۴ / ۲۴
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۶۰۲
صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۳
القرآن ۴ / ۲۴
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۶۰۲
صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۳
کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت)کی تفسیر ہے کہ اختیت سے ہر علاقہ محرمیت مراد ہے علاوہ بریں کریمہ “ و احل لكم ما ورآء ذلكم “ (ا ن کے سوا حلال ہیں۔ ت)عام مخصوص منہ البعض ہے۔ قال الله تعالی :
و لا تنكحوا المشركت حتى یؤمن-و لامة مؤمنة خیر من مشركة و لو اعجبتكم- ۔
مشرك عورتوں سے نکاح نہ کرو تاوقتیکہ وہ ایمان لائیں اور مومن لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ مشرکہ تمھیں پسند ہو۔ (ت)
حدیث کلامی لاینسخ کلام اﷲ (میر ا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا۔ ت)محض بے اصل ہے۔ خود صحاح احادیث کثیر ہ میں ہے کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : دیکھو ایسا نہ ہوکہ کوئی پیٹ بھر ا بے فکر اپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ کہے ہم نہیں جانتے جو قرآن میں حلال پائیں گے اسے حلال کہیں گے اور جو قرآن میں حرام پائیں گے اسے حرام کہیں گے ۔ الاانی اوتیت القران ومثلہ معہ سن لو میں قرآن دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل اور الاوان ماحرم رسول اﷲ مثل ما حرم اﷲ سنو بیشك جسے رسول الله نے حرام کیا وہ ایساہی حرام ہے جسے الله نے حرام کیا۔ خود رب العزت تبارك وتعالی قرآن عظیم میں کافروں کی حالت بیان فرماتاہے :
و لا یحرمون ما حرم الله و رسوله ۔
کافر حرام نہیں جانتے ان چیزوں کو جنھیں الله اور اس کے رسول نے حرام کیا۔
اور مسلمانوں سے فرماتا ہے :
و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا- ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو کچھ رسول تم کو عطافرمائیں اس کو لو اورجس سے منع فرمائیں بازرہو۔
و لا تنكحوا المشركت حتى یؤمن-و لامة مؤمنة خیر من مشركة و لو اعجبتكم- ۔
مشرك عورتوں سے نکاح نہ کرو تاوقتیکہ وہ ایمان لائیں اور مومن لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ مشرکہ تمھیں پسند ہو۔ (ت)
حدیث کلامی لاینسخ کلام اﷲ (میر ا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا۔ ت)محض بے اصل ہے۔ خود صحاح احادیث کثیر ہ میں ہے کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : دیکھو ایسا نہ ہوکہ کوئی پیٹ بھر ا بے فکر اپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ کہے ہم نہیں جانتے جو قرآن میں حلال پائیں گے اسے حلال کہیں گے اور جو قرآن میں حرام پائیں گے اسے حرام کہیں گے ۔ الاانی اوتیت القران ومثلہ معہ سن لو میں قرآن دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل اور الاوان ماحرم رسول اﷲ مثل ما حرم اﷲ سنو بیشك جسے رسول الله نے حرام کیا وہ ایساہی حرام ہے جسے الله نے حرام کیا۔ خود رب العزت تبارك وتعالی قرآن عظیم میں کافروں کی حالت بیان فرماتاہے :
و لا یحرمون ما حرم الله و رسوله ۔
کافر حرام نہیں جانتے ان چیزوں کو جنھیں الله اور اس کے رسول نے حرام کیا۔
اور مسلمانوں سے فرماتا ہے :
و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا- ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو کچھ رسول تم کو عطافرمائیں اس کو لو اورجس سے منع فرمائیں بازرہو۔
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۲ / ۲۲۱
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد دارالفکر بیروت ۲ / ۶۰۲
سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳
سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۶
سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳
القرآن ۹ / ۲۹
القرآن ۵۹ / ۷
القرآن ۲ / ۲۲۱
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد دارالفکر بیروت ۲ / ۶۰۲
سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳
سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۶
سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳
القرآن ۹ / ۲۹
القرآن ۵۹ / ۷
مسئلہ ۱۰۴ : مرسلہ عنایت الله خاں صاحب موضع سسونہ ضلع رامپور ۷ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغ کے والدین نے اپنی برادری میں ایك نابالغ لڑکے سے نبست یعنی منگنی کردی کچھ عرصہ کے بعد لڑکی کا باپ فوت ہوگیا اس کی ماں نے بوجہ تنگی معاش بلا نکاح اس لڑکے نابالغ کے باپ کو بلاکررخصت کردیا جس کے ساتھ نسبت ہوچکی ہے۔ اس نے اپنے مکان پر لے جاکر نکاح اپنے پسر نابالغ کے ساتھ پڑھوالیا اب کچھ عرصہ بعد اس کی ماں لڑکی کو رخصت کرالائی اوردوسری جگہ نکاح کردیا جس کو اب پانچ یا چھ سال ہوچکے ہیں اب وہ شخص جس سے پہلے نکاح ہوا تھا دعویدار ہے کہ میرے ساتھ رخصت کرائی جاوے میری منکوحہ ہے۔ ماں لڑکی کی پہلے نکاح سے انکار کرتی ہے اورلڑکی بھی پہلے نکاح سے بے خبری بیان کرتی ہے۔ رخصت کرنے کا اور ا س کی منگنی کا ماں اقرار کرتی ہے جس سے اس وقت اجازت نکاح قرینہ سے پائی جاتی ہے گو کہ اب انکار کرتی ہے لہذا ایسی صورت میں بموجب شرع شریف جو حکم صادر ہو فرمائے کہ نکاح اول کاصحیح رہایا دوسرے کا کیونکہ بموجودگی ولی صرف رخصت کردینا اجازت نکاح ولی کی جانب سے کسی فضولی کو نکاح کرنے کے لیے کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ وہ نکاح یعنی نابالغی میں ہوا تھا اور دوسرا نکاح بالغ ہونے پر۔ اس پر عورت بھی راضی ہے۔
الجواب :
جس نابالغ کا کوئی عصبہ ہو یعنی اس کے دادا پرداد ا کی اولاد کا قریب تر مرد ہو وہ اس کے نکاح کا ولی ہے۔ اس کے ہوتے ماں کو بھی اختیار نہیں وہ نکاح کہ لڑکے کے باپ نے پڑھوالیا اجازت ولی پر موقوف تھا عصبہ ہو تو وہ ورنہ ماں۔ اگر ولی کی اجازت ہوگئی تھی اورلڑکا اس کا کفو تھا یعنی مذہب یا نسب یاپیشہ یا چال چلن میں کسی بات میں کم نہ تھا کہ ا س سے نکاح ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو نکاح پہلاصحیح ہوگیا اور دوسراباطل ہے۔ ورنہ دوسرا صحیح ہوگیا اور پہلا باطل ہے لان البات اذاطرء علی موقوف ابطلہ(کیونکہ قطعی حکم جب موقوف حکم پر آجائے تو وہ موقوف کو باطل کردیتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۴ : مرسلہ عبدالسلام صاحب پوسٹ ماسٹر ڈاکخانہ دوسہ راج جے پور ۹ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورہائے مندرجہ ذیل میں :
(۱) لڑکی کے بر س کی عمر میں بالغ شمارہوتی ہے اگر بالغہ برضائے خود کسی کے ساتھ نکاح کرے تو وہ شرعا درست ہے یا نہیں
(۲) زید نابالغ العمر ۱۱ سال جو ہندہ اور خالد کے حقیقی تایا کالڑکا ہے وہ بولایت بکرکے جو زید کا چارپشت کے فاصلہ سے چچا ہوتا ہے ہندہ بعمر ۱۸ سال اور حقیقی برادر ہندہ سے خالد بعمر ۱۵ سال کے ولایت کا بمقابلہ ہندہ خالد کے حقیقی نانی کے مدعی ہے۔ شرعا زیدکا یہ دعوی صحیح ہے یانہیں یعنی ہندہ اور خالد کی ولایت اس صورت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغ کے والدین نے اپنی برادری میں ایك نابالغ لڑکے سے نبست یعنی منگنی کردی کچھ عرصہ کے بعد لڑکی کا باپ فوت ہوگیا اس کی ماں نے بوجہ تنگی معاش بلا نکاح اس لڑکے نابالغ کے باپ کو بلاکررخصت کردیا جس کے ساتھ نسبت ہوچکی ہے۔ اس نے اپنے مکان پر لے جاکر نکاح اپنے پسر نابالغ کے ساتھ پڑھوالیا اب کچھ عرصہ بعد اس کی ماں لڑکی کو رخصت کرالائی اوردوسری جگہ نکاح کردیا جس کو اب پانچ یا چھ سال ہوچکے ہیں اب وہ شخص جس سے پہلے نکاح ہوا تھا دعویدار ہے کہ میرے ساتھ رخصت کرائی جاوے میری منکوحہ ہے۔ ماں لڑکی کی پہلے نکاح سے انکار کرتی ہے اورلڑکی بھی پہلے نکاح سے بے خبری بیان کرتی ہے۔ رخصت کرنے کا اور ا س کی منگنی کا ماں اقرار کرتی ہے جس سے اس وقت اجازت نکاح قرینہ سے پائی جاتی ہے گو کہ اب انکار کرتی ہے لہذا ایسی صورت میں بموجب شرع شریف جو حکم صادر ہو فرمائے کہ نکاح اول کاصحیح رہایا دوسرے کا کیونکہ بموجودگی ولی صرف رخصت کردینا اجازت نکاح ولی کی جانب سے کسی فضولی کو نکاح کرنے کے لیے کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ وہ نکاح یعنی نابالغی میں ہوا تھا اور دوسرا نکاح بالغ ہونے پر۔ اس پر عورت بھی راضی ہے۔
الجواب :
جس نابالغ کا کوئی عصبہ ہو یعنی اس کے دادا پرداد ا کی اولاد کا قریب تر مرد ہو وہ اس کے نکاح کا ولی ہے۔ اس کے ہوتے ماں کو بھی اختیار نہیں وہ نکاح کہ لڑکے کے باپ نے پڑھوالیا اجازت ولی پر موقوف تھا عصبہ ہو تو وہ ورنہ ماں۔ اگر ولی کی اجازت ہوگئی تھی اورلڑکا اس کا کفو تھا یعنی مذہب یا نسب یاپیشہ یا چال چلن میں کسی بات میں کم نہ تھا کہ ا س سے نکاح ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو نکاح پہلاصحیح ہوگیا اور دوسراباطل ہے۔ ورنہ دوسرا صحیح ہوگیا اور پہلا باطل ہے لان البات اذاطرء علی موقوف ابطلہ(کیونکہ قطعی حکم جب موقوف حکم پر آجائے تو وہ موقوف کو باطل کردیتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۴ : مرسلہ عبدالسلام صاحب پوسٹ ماسٹر ڈاکخانہ دوسہ راج جے پور ۹ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورہائے مندرجہ ذیل میں :
(۱) لڑکی کے بر س کی عمر میں بالغ شمارہوتی ہے اگر بالغہ برضائے خود کسی کے ساتھ نکاح کرے تو وہ شرعا درست ہے یا نہیں
(۲) زید نابالغ العمر ۱۱ سال جو ہندہ اور خالد کے حقیقی تایا کالڑکا ہے وہ بولایت بکرکے جو زید کا چارپشت کے فاصلہ سے چچا ہوتا ہے ہندہ بعمر ۱۸ سال اور حقیقی برادر ہندہ سے خالد بعمر ۱۵ سال کے ولایت کا بمقابلہ ہندہ خالد کے حقیقی نانی کے مدعی ہے۔ شرعا زیدکا یہ دعوی صحیح ہے یانہیں یعنی ہندہ اور خالد کی ولایت اس صورت
حقیقی نانی کو پہنچتی ہے یا زید نابالغ تایا زاد بھائی کویا بکر کو جو چارپشت کے فاصلہ سے چچا ہوتا ہے
الجواب :
(۱)لڑکی کم از کم نو بر س میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ بر س کی عمرمیں بالغہ ہوتی ہے اس بیچ میں جب آثار بلوغ ظاہرہوں بالغہ ہے ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر حکم بلوغ دیا جائے گا اگرچہ آثار بلوغ کچھ نہ ظاہر ہوں بالغہ بے اذن ولی خود اپنا نکاح کرسکتی ہے مگر کفو میں یعنی جس سے نکاح کرے وہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں اس سے ایسا کم نہ ہو کہ ا س کے ساتھ نکاح ہونا اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو اگر غیر کفو سے برضا ئے خود نکاح کرے گی او رولی رکھتی ہے اور اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دی تو نکاح اصلا نہ ہوگا ہاں اگر کوئی ولی نہیں رکھتی یا ولی نے پیش از نکاح شوہر کو غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت دی تو اس سے بھی نکاح صحیح ہوجائے گا۔
(۲)خالد کی جب عمر پندرہ سال کامل ہے تووہ شرعا بالغ ہے اور اپنے نفس کا خود ولی ہے کسی ولی کا محتاج نہیں اور ہندہ کہ اٹھارہ سال عمر رکھتی ہے اس پر ولایت جبر کسی کو نہیں کہ خود بالغہ ہے اور ولایت غیر مجبرہ اس کے بھائی کو ہے اس کے ہوتے نانی یابکر کوئی چیزنہیں اور زید نابالغ کو دوسرے کا ولی بنانا جنون ہے نابالغ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ : مرسلہ جناب ولی محمد صاحب بیتاب مدرس سرشتہ تعلیم ریاست ہلکراندور بمبئی بازار
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ ہندہ ایك کمسن لڑکی کا نکاح اس کے دادا نے ایك نہایت ہی کمسن لڑکے زید سے کردیا ہندہ اس وقت بالکل بالغہ ہے مگرزید نابالغ کم از کم پانچ بر س اس کی بلوغت کو درکار ہیں ہندہ اور زید میں زن وشوہر کا تعلق ہونا کیامعنی بلکہ ہندہ کی آج تك اپنے میکہ سے رخصتی ہی نہیں ہوئی زید کے یہاں زید کے والد کی حین حیات سے جس کا انتقال یکایك ہوگیا اور گومشتبہ مگر اب تك نامعلوم کسی نہ کسی وجہ سے اس سانحہ کی خبر زید کے چچاتك کونہ دی گئی تھی ایك پردیسی نوجوان ملازم چلا آتا ہے زید کے والدمشتبہ جوانا مر گ کے بعد اس ملازم نے زیدکے مکان میں وہ رسوخ حاصل کیا کہ ہر سیاہ وسفید وہی کرتاہے اورا س کے چوبیس گھنٹہ اس مکان میں رہنے سے جہاں کوئی دوسرا بالغ مرد بطور رکن خاندان کے نہیں رہتاہے زید کے خاندان کو ایك زمانہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور درپردہ مورد اتہام ہے۔ زید کے چچا نے سانحہ مذکورہ بالا سے متعجب ہوکر اس ملازم کے گز شتہ چال چلن کی نسبت جو تحقیقات کی تومعلوم ہو اکہ ابتداء سے یہ ایك آوارہ چلن شخص ہے حتی کہ ا سے والدین نے بھی اس کو مکان سے نکال دیاتھا اس کے بعد وہ عرصہ تك ناٹکوں میں ناچتا رہا گاتا رہابجاتا رہا اس تحقیق کے بعدمتاثر ہو کر زید کے چچا نے جو زید کاجائز طور سے سرپرست ہے زیدکی والدہ سے درخواست کی کہ اس
الجواب :
(۱)لڑکی کم از کم نو بر س میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ بر س کی عمرمیں بالغہ ہوتی ہے اس بیچ میں جب آثار بلوغ ظاہرہوں بالغہ ہے ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر حکم بلوغ دیا جائے گا اگرچہ آثار بلوغ کچھ نہ ظاہر ہوں بالغہ بے اذن ولی خود اپنا نکاح کرسکتی ہے مگر کفو میں یعنی جس سے نکاح کرے وہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں اس سے ایسا کم نہ ہو کہ ا س کے ساتھ نکاح ہونا اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو اگر غیر کفو سے برضا ئے خود نکاح کرے گی او رولی رکھتی ہے اور اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دی تو نکاح اصلا نہ ہوگا ہاں اگر کوئی ولی نہیں رکھتی یا ولی نے پیش از نکاح شوہر کو غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت دی تو اس سے بھی نکاح صحیح ہوجائے گا۔
(۲)خالد کی جب عمر پندرہ سال کامل ہے تووہ شرعا بالغ ہے اور اپنے نفس کا خود ولی ہے کسی ولی کا محتاج نہیں اور ہندہ کہ اٹھارہ سال عمر رکھتی ہے اس پر ولایت جبر کسی کو نہیں کہ خود بالغہ ہے اور ولایت غیر مجبرہ اس کے بھائی کو ہے اس کے ہوتے نانی یابکر کوئی چیزنہیں اور زید نابالغ کو دوسرے کا ولی بنانا جنون ہے نابالغ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ : مرسلہ جناب ولی محمد صاحب بیتاب مدرس سرشتہ تعلیم ریاست ہلکراندور بمبئی بازار
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ ہندہ ایك کمسن لڑکی کا نکاح اس کے دادا نے ایك نہایت ہی کمسن لڑکے زید سے کردیا ہندہ اس وقت بالکل بالغہ ہے مگرزید نابالغ کم از کم پانچ بر س اس کی بلوغت کو درکار ہیں ہندہ اور زید میں زن وشوہر کا تعلق ہونا کیامعنی بلکہ ہندہ کی آج تك اپنے میکہ سے رخصتی ہی نہیں ہوئی زید کے یہاں زید کے والد کی حین حیات سے جس کا انتقال یکایك ہوگیا اور گومشتبہ مگر اب تك نامعلوم کسی نہ کسی وجہ سے اس سانحہ کی خبر زید کے چچاتك کونہ دی گئی تھی ایك پردیسی نوجوان ملازم چلا آتا ہے زید کے والدمشتبہ جوانا مر گ کے بعد اس ملازم نے زیدکے مکان میں وہ رسوخ حاصل کیا کہ ہر سیاہ وسفید وہی کرتاہے اورا س کے چوبیس گھنٹہ اس مکان میں رہنے سے جہاں کوئی دوسرا بالغ مرد بطور رکن خاندان کے نہیں رہتاہے زید کے خاندان کو ایك زمانہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور درپردہ مورد اتہام ہے۔ زید کے چچا نے سانحہ مذکورہ بالا سے متعجب ہوکر اس ملازم کے گز شتہ چال چلن کی نسبت جو تحقیقات کی تومعلوم ہو اکہ ابتداء سے یہ ایك آوارہ چلن شخص ہے حتی کہ ا سے والدین نے بھی اس کو مکان سے نکال دیاتھا اس کے بعد وہ عرصہ تك ناٹکوں میں ناچتا رہا گاتا رہابجاتا رہا اس تحقیق کے بعدمتاثر ہو کر زید کے چچا نے جو زید کاجائز طور سے سرپرست ہے زیدکی والدہ سے درخواست کی کہ اس
ملازم کو مکان سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مگر زید کی والدہ نے یہ جواب دیا کہ ہرگزنہیں ہوسکتا چاہے کچھ بھی ہو نہ ملازم مجھ سے نہ میں ملازم سے جدا ہوسکتی ہوں ان تمام وقوعات سے ہندہ بخوبی واقف ہے وہ سسرال جانے سے خودکی عصمت دری اورآبرو ریزی کے خوف کے علاوہ اپنی جان معرض خطرہ میں سمجھتی ہے اس لیے سسرال ہرگز نہیں جانا چاہتی بلکہ اپنے خاندان کے حفظ آبرو کے لحاظ سے تفریق کے بعد دوسرا نکاح کرلینا چاہتی ہے۔ اس صورت میں ہندہ کے لیے کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
ہندہ کا باپ اگر نہیں اوردادا نے نکاح کردیا اور ہندہ وقت نکاح نابالغہ تھی گوا ب بالغہ ہے یا بالغہ تھی اس سے اذن لے کرنکاح کیا یا بے اس کی اجازت کے نکاح کیا مگر بعد وصول خبراس نے اجازت دی یا دادا آپ اذن لینے آیا تھا اور ہندہ نے سکوت کیا تو ان سب صورتوں میں نکاح منجانب ہندہ لازم ہوگیا اس کافسخ ناممکن ہے۔ تفریق ہوتو موت یا طلاق سے اور نابالغ کی طلاق باطل ہے۔ نہ اس کی طرف سے اس کا کوئی ولی طلاق دے سکے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متن اس مسئلہ میں کہ بارہ برس ہوئے کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہوا لیکن ہندہ نے بوقت نکاح زبان سے ایجاب نہیں کیا تھا نہ انکار کیا بلکہ سکوت اختیار کیا ایك دوسری عورت نے جو عروس کے پاس موجود تھی وکیل سے یہ کہہ دیاتھا کہ ہندہ منظور کرتی ہے۔ ہندہ کا بیان ہے کہ اس وقت میں بالکل خالی الذہن تھی نہ میرے دل میں اقرار تھا نہ انکار کا خیال بلکہ دوسرے خیالات رنج وغم ونئی زندگی شروع ہونے کے ترددات میں مبتلا تھی دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ نکاح شرعا درست ہو ا یا نہیں تو زید وہندہ کو مواخذہ و عقبی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئےبینوا توجروا مزید عرض ہے کہ جواب جلد مرحمت ہو کیونکہ ہندہ مواخذہ عقبی کے خیال سے نہایت خائف وترساں ہے۔ فقط
الجواب :
ہندہ سے اذن لینے کون آیا تھا وہ سب سے قریب تر ہندہ کا ولی یا اس ولی کا بھیجا ہوا یا کون تھا ہندہ کی رخصت ہوئی یا نہیں قبل رخصت ہندہ کے کسی قول یافعل سے اس نکاح کی خبر سن کر اظہار ر غبت یانفرت ہوا یا نہیں ان تمام باتوں کی تفصیل پر جواب دیاجائے گا ان شاء الله تعالی۔
جوابات امور مستفسرہ
ہندہ کے والد کے چچا زاد بھائی یعنی ہندہ کے رشتہ کے تایا اذن لینے گئے تھے یہ یاد نہیں کہ اس وقت کس نے
الجواب :
ہندہ کا باپ اگر نہیں اوردادا نے نکاح کردیا اور ہندہ وقت نکاح نابالغہ تھی گوا ب بالغہ ہے یا بالغہ تھی اس سے اذن لے کرنکاح کیا یا بے اس کی اجازت کے نکاح کیا مگر بعد وصول خبراس نے اجازت دی یا دادا آپ اذن لینے آیا تھا اور ہندہ نے سکوت کیا تو ان سب صورتوں میں نکاح منجانب ہندہ لازم ہوگیا اس کافسخ ناممکن ہے۔ تفریق ہوتو موت یا طلاق سے اور نابالغ کی طلاق باطل ہے۔ نہ اس کی طرف سے اس کا کوئی ولی طلاق دے سکے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متن اس مسئلہ میں کہ بارہ برس ہوئے کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہوا لیکن ہندہ نے بوقت نکاح زبان سے ایجاب نہیں کیا تھا نہ انکار کیا بلکہ سکوت اختیار کیا ایك دوسری عورت نے جو عروس کے پاس موجود تھی وکیل سے یہ کہہ دیاتھا کہ ہندہ منظور کرتی ہے۔ ہندہ کا بیان ہے کہ اس وقت میں بالکل خالی الذہن تھی نہ میرے دل میں اقرار تھا نہ انکار کا خیال بلکہ دوسرے خیالات رنج وغم ونئی زندگی شروع ہونے کے ترددات میں مبتلا تھی دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ نکاح شرعا درست ہو ا یا نہیں تو زید وہندہ کو مواخذہ و عقبی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئےبینوا توجروا مزید عرض ہے کہ جواب جلد مرحمت ہو کیونکہ ہندہ مواخذہ عقبی کے خیال سے نہایت خائف وترساں ہے۔ فقط
الجواب :
ہندہ سے اذن لینے کون آیا تھا وہ سب سے قریب تر ہندہ کا ولی یا اس ولی کا بھیجا ہوا یا کون تھا ہندہ کی رخصت ہوئی یا نہیں قبل رخصت ہندہ کے کسی قول یافعل سے اس نکاح کی خبر سن کر اظہار ر غبت یانفرت ہوا یا نہیں ان تمام باتوں کی تفصیل پر جواب دیاجائے گا ان شاء الله تعالی۔
جوابات امور مستفسرہ
ہندہ کے والد کے چچا زاد بھائی یعنی ہندہ کے رشتہ کے تایا اذن لینے گئے تھے یہ یاد نہیں کہ اس وقت کس نے
انھیں اس کام پر متعین کیا تھا بالعموم ایسے بزرگ خاندان جن سے لڑکی پر دہ نہ کرتی ہو بھیجے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہندہ کاباپ ا س شہر میں موجود نہ تھا اس نے ہندہ کے ماموں کو اس نکاح کے مراسم وتقریبات ادا کرنے کے لیے بذریعہ خط مامور کیاتھا یہ کہا جاسکتا ہے اذن لینے کے لیے ہندہ کے ماموں ہی نے وکیل کو متعین کیا ہوگا درحقیقت یہ یاد نہیں رخصت اس ہفتہ میں ہوگئی کوئی امر ہندہ کی رغبت ورضامندی کے خلاف نہ اس وقت نہ آج تك بارہ برس گزرنے کے بعد تك کوئی امر ایسا ظہور پذیر نہ ہوا جس سے ہندہ کی نارضامندی ظاہر ہو بلکہ ایسا کمال اتحاد سے زن وشوبسر کرتے ہیں یہ سوال صرف ہندہ کے اس توہم کی بناپر پیداہوتاہے کہ مباد انکاح صحیح نہ ہوا ہو اور عندالله مواخذہ باقی رہے اس کا اطمینان مقصود ہے۔
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ اگر چہ ازانجاکہ اذن لینے والا ولی اقرب نہ تھا ہندہ کا سکوت اذن نہ ٹھہرے اور وہ نکاح نکاح فضولی ہوااور ہندہ کی اجازت پرموقوف رہا مگر جبکہ پیش از رخصت ہندہ سے کوئی قول وفعل ایسا واقع نہ ہوا جس سے ہندہ کا اس نکاح سے ناراض ہونا سمجھا جاتا اور ہندہ برضا ورغبت ہو کر شوہر کے یہاں آتی تووہ نکاح موقوف نافذ و تام ہوگیا ا س میں کوئی اندیشہ مواخذہ کا نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹ تا ۱۱۱ : از گونڈل کاٹھیاواڑ مسئولہ جناب سیٹھ عبدالستار بن اسمعیل رضوی تاریخ ۷ ۱ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ روز شنبہ
(۱)یہاں پر یہ رواج ہو چلا ہے کہ وقت نکاح وکیل کے ہمراہ دو گواہ نہیں جاتے ہیں اور قاضی وکیل کی وکالت اور حاضرین کی شہادت سے نکاح پڑھادیتا ہے آیا یہ امر عند الشرع محمود ہے یا مردود نیز اس ترکیب سے مذہب حنفی میں نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں وکیل کو اپنے ساتھ دو گواہ کا رکھنا اور ان شاہدوں کو عورت کی اجازت سننا ضروری ہے یا نہیں : اگر اس طرح نہ کرکے برطریق ان مروجہ پر مدام عمل کرنے پر سب گنہ گار ہیں یا نہیں
الجواب
وکیل کے ساتھ شاہدوں کی حاجت کچھ نہیں اگر واقع میں عورت نے وکیل کو اذن دیااور اس نے پڑھادیا نکاح ہوگیا ہاں اگر عورت انکار کرے گی میں نے اذن نہ دیاتھا تو حاکم کے یہاں گواہوں کی حاجت ہوگی یہ تو کوئی غلطی نہیں۔ ہاں یہ ضرور غلطی ہے کہ وکیل ہوتا ہے کوئی اور۔ نکاح پڑھاتا ہے دوسرا مذہب صحیح وظاہر الروایہ میں وکیل بالنکاح دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا اس میں بہت دقتیں ہیں جن کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ لہذا یہ چاہئے کہ جس سے نکاح پڑھوانامنظور ہے اس کے نام کی اجازت لی جائے یا اذن مطلق لے لیا جائے والله تعالی اعلم
(۲)نوشہ کا وقت نکاح سہرا باندھنا نیز باجے گاجے سے جلوس کے ساتھ نکاح کوجانا شرعا کیا
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ اگر چہ ازانجاکہ اذن لینے والا ولی اقرب نہ تھا ہندہ کا سکوت اذن نہ ٹھہرے اور وہ نکاح نکاح فضولی ہوااور ہندہ کی اجازت پرموقوف رہا مگر جبکہ پیش از رخصت ہندہ سے کوئی قول وفعل ایسا واقع نہ ہوا جس سے ہندہ کا اس نکاح سے ناراض ہونا سمجھا جاتا اور ہندہ برضا ورغبت ہو کر شوہر کے یہاں آتی تووہ نکاح موقوف نافذ و تام ہوگیا ا س میں کوئی اندیشہ مواخذہ کا نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹ تا ۱۱۱ : از گونڈل کاٹھیاواڑ مسئولہ جناب سیٹھ عبدالستار بن اسمعیل رضوی تاریخ ۷ ۱ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ روز شنبہ
(۱)یہاں پر یہ رواج ہو چلا ہے کہ وقت نکاح وکیل کے ہمراہ دو گواہ نہیں جاتے ہیں اور قاضی وکیل کی وکالت اور حاضرین کی شہادت سے نکاح پڑھادیتا ہے آیا یہ امر عند الشرع محمود ہے یا مردود نیز اس ترکیب سے مذہب حنفی میں نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں وکیل کو اپنے ساتھ دو گواہ کا رکھنا اور ان شاہدوں کو عورت کی اجازت سننا ضروری ہے یا نہیں : اگر اس طرح نہ کرکے برطریق ان مروجہ پر مدام عمل کرنے پر سب گنہ گار ہیں یا نہیں
الجواب
وکیل کے ساتھ شاہدوں کی حاجت کچھ نہیں اگر واقع میں عورت نے وکیل کو اذن دیااور اس نے پڑھادیا نکاح ہوگیا ہاں اگر عورت انکار کرے گی میں نے اذن نہ دیاتھا تو حاکم کے یہاں گواہوں کی حاجت ہوگی یہ تو کوئی غلطی نہیں۔ ہاں یہ ضرور غلطی ہے کہ وکیل ہوتا ہے کوئی اور۔ نکاح پڑھاتا ہے دوسرا مذہب صحیح وظاہر الروایہ میں وکیل بالنکاح دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا اس میں بہت دقتیں ہیں جن کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ لہذا یہ چاہئے کہ جس سے نکاح پڑھوانامنظور ہے اس کے نام کی اجازت لی جائے یا اذن مطلق لے لیا جائے والله تعالی اعلم
(۲)نوشہ کا وقت نکاح سہرا باندھنا نیز باجے گاجے سے جلوس کے ساتھ نکاح کوجانا شرعا کیا
حکم رکھتا ہے
الجواب :
خالی پھولوں کا سہرا جائزہے اور یہ باجے جو شادی میں رائج ومعمول ہیں سب ناجائز وحرام۔ والله تعالی اعلم
(۳)ولیمہ شریف کا کھانا کھلانا شریعت مطہر ہ کے کس حکم میں داخل ہے۔ اس کا تارك کیسا ہے نیز جس شہر کے لوگوں میں سے کوئی بھی بعد نکاح ولیمہ نہ کرتا ہو بلکہ پہلے نکاح کے اول روز جس طرح کہ رواج ہے کھلادیتا ہو تو ان سب لوگوں کے لیے شریعت نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاحکم شریف کیا ہے
الجواب :
ولیمہ بعدنکاح سنت ہے اس صورت میں صیغہ امر بھی وارد ہے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اولم ولو بشاۃ ولیمہ کر اگرچہ ایك ہی دنبہ یا اگرچہ ایك دنبہ دونوں معنی محتمل ہیں اور اول اظہر تارکان سنت ہیں۔ مگر یہ سنن مستحبہ سے ہے۔ تارك گناہ گار نہ ہوگا اگر اسے حق جانے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲ : ا ز ضلع ھزاری باغ ڈاکخانہ چترپور مقام چتر پور مسئولہ محمد عبدالرب صاحب روز پنجشنبہ ۲۲ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین رحمہم اللہ تعالی اجمعین اس مسئلہ میں کہ زید کی بی بی نے بحالت شیرخوارگی اپنے بیٹے عمرو کے اندر مدت رضاعت کے بکر کو دودھ پلایا بعدہ زید کی بی بی سے تین لڑکے مسمیان محمد سعید و محمد فاضل ومحمد سلیم تولد ہوئے تو اب بکر کی لڑکی سے محمد سلیم جو برادر حقیقی عمر وکا ہے نکاح جائز ہے یا نہیں بحوالہ وبدرج عبارات کتب معتبرہ حنفیہ ار شاد ہو۔
الجواب :
بکر کی لڑکی زوجہ زید کی اگلی پچھلی سب اولاد کی حقیقی بھتیجی ہے اور باہم مناکحت حرام قطعی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳ : مسئولہ جناب عبدالستار بن اسمعیل صاحب از شہر گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ یك شنبہ ۹ شعبان ۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اپنی لڑکیاں اس ملك میں ہزار دوہزار روپیہ لے کر کفو یا غیر کفو سے نکاح کردیتے ہیں اس میں بعض وقت عمر کا بھی خیال نہیں رکھتے یعنی جو شخص زائد رقم دے اس سے نکاح کردتیے ہیں آیا ایسی رقم کا لینا والدین کے حق میں مباح ہے یانہیں اگرچہ والدین غریب ہوں اور اس طرح یہ رقم لے کرغیر کفو یا
الجواب :
خالی پھولوں کا سہرا جائزہے اور یہ باجے جو شادی میں رائج ومعمول ہیں سب ناجائز وحرام۔ والله تعالی اعلم
(۳)ولیمہ شریف کا کھانا کھلانا شریعت مطہر ہ کے کس حکم میں داخل ہے۔ اس کا تارك کیسا ہے نیز جس شہر کے لوگوں میں سے کوئی بھی بعد نکاح ولیمہ نہ کرتا ہو بلکہ پہلے نکاح کے اول روز جس طرح کہ رواج ہے کھلادیتا ہو تو ان سب لوگوں کے لیے شریعت نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاحکم شریف کیا ہے
الجواب :
ولیمہ بعدنکاح سنت ہے اس صورت میں صیغہ امر بھی وارد ہے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اولم ولو بشاۃ ولیمہ کر اگرچہ ایك ہی دنبہ یا اگرچہ ایك دنبہ دونوں معنی محتمل ہیں اور اول اظہر تارکان سنت ہیں۔ مگر یہ سنن مستحبہ سے ہے۔ تارك گناہ گار نہ ہوگا اگر اسے حق جانے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲ : ا ز ضلع ھزاری باغ ڈاکخانہ چترپور مقام چتر پور مسئولہ محمد عبدالرب صاحب روز پنجشنبہ ۲۲ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین رحمہم اللہ تعالی اجمعین اس مسئلہ میں کہ زید کی بی بی نے بحالت شیرخوارگی اپنے بیٹے عمرو کے اندر مدت رضاعت کے بکر کو دودھ پلایا بعدہ زید کی بی بی سے تین لڑکے مسمیان محمد سعید و محمد فاضل ومحمد سلیم تولد ہوئے تو اب بکر کی لڑکی سے محمد سلیم جو برادر حقیقی عمر وکا ہے نکاح جائز ہے یا نہیں بحوالہ وبدرج عبارات کتب معتبرہ حنفیہ ار شاد ہو۔
الجواب :
بکر کی لڑکی زوجہ زید کی اگلی پچھلی سب اولاد کی حقیقی بھتیجی ہے اور باہم مناکحت حرام قطعی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳ : مسئولہ جناب عبدالستار بن اسمعیل صاحب از شہر گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ یك شنبہ ۹ شعبان ۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اپنی لڑکیاں اس ملك میں ہزار دوہزار روپیہ لے کر کفو یا غیر کفو سے نکاح کردیتے ہیں اس میں بعض وقت عمر کا بھی خیال نہیں رکھتے یعنی جو شخص زائد رقم دے اس سے نکاح کردتیے ہیں آیا ایسی رقم کا لینا والدین کے حق میں مباح ہے یانہیں اگرچہ والدین غریب ہوں اور اس طرح یہ رقم لے کرغیر کفو یا
حوالہ / References
صحیح بخاری باب الصفرۃ للمتزوج قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۔ ۷۷۴
بڑی عمروالے کے ساتھ نکاح کردینا درست ہے یا نہیں
الجواب :
مال کے سبب اپنی اولاد کانکاح غیر کفو سے اس کے حق میں بد خواہی ہے اور یہ روپیہ رشوت میں داخل ہے۔ فتاوی خیریہ میں اس جزئیہ پر بحث فرمائی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴ : مسئولہ عابدخاں معرفت منشی خدا بخش صاحب ٹھیکدار صدر بازار بریلی دوشنبہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارے میں کہ زید بکر کا چچا زاد بھائی ہے اور رضاعی بھی زید کے صرف ایك حقیقی چھوٹا بھائی ہے اور بکر کے ایك چھوٹا بھائی اورایك بڑی بہن جو کہ حقیقی ہیں اور بکر کی بہن دونوں بھائیوں سے چھوٹی ہے تو زید کے چھوٹے بھائی کا نکاح بکر کی چھوٹی بہن سے جائز ہے یانہیں چونکہ زید اور بکر آپس میں رضاعی بھائی ہیں۔
الجواب :
بکرنے اگر زید کی ماں کا دودھ پیا ہے تو زید اور اس کا بھائی بکر کے بھائی ہوئے نہ کہ خواہر بکر کے اور اگر زید نے بکر کی ماں کا دودھ پیا ہے تو یہ خواہر بکر کا بھائی ہو ا نہ کہ زید کا بھائی بہرحال زیدکے بھائی اوربکر کی بہن میں نکاح جائز ہے لقولھم تحل اخت اخیہ رضاعا(فقہاء کے قول کے مطابق بھائی کی رضاعی بہن حلال ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۱۵ : مسئولہ عنایت حسین خاں محرر تھانہ دوسہ علاقہ ریاست جے پور ملك راجپوتانہ ۱۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)کیا نابالغ لڑکی برضامندی خود اور خلاف مرضی ولی جائز کے اپنا نکاح کرسکتی ہے یا نہیں
(۲)بالغہ برضامندی خود اور خلاف مرضی ولی جائز کے اپنا نکاح غیر کفو میں کرے تو وہ نکاح درست ہے یا نہیں اور اگر ولی نے قبل از نکاح غیر کفو میں نکاح کرنے سے منع کردیا ہو اور پھر بھی کسی طرح پوشیدہ یا زبردستی کسی غیر کفو کے ساتھ لڑکی نے نکاح کرلیا ہو تو اس کے ولی کو اس نکاح کے تنسیخ کا اختیار ہے یا نہیں
الجواب :
(۱)ہرگز نہیں ہاں ولی کے اذن سے کرسکتی ہے جبکہ سمجھ وال ہو یابطور خود کرے اور ولی بعد اطلاع اسے جائز کردے تو جائز ہوجائے گا رد کردے تو باطل ہوجائے گا درمختار میں ہے :
الولی شرط صحۃ نکاح صغیر ا لخ اقول :
نابالغ کے صحت نکاح کے لیے ولی شرط ہے الخ اقول :
الجواب :
مال کے سبب اپنی اولاد کانکاح غیر کفو سے اس کے حق میں بد خواہی ہے اور یہ روپیہ رشوت میں داخل ہے۔ فتاوی خیریہ میں اس جزئیہ پر بحث فرمائی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴ : مسئولہ عابدخاں معرفت منشی خدا بخش صاحب ٹھیکدار صدر بازار بریلی دوشنبہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارے میں کہ زید بکر کا چچا زاد بھائی ہے اور رضاعی بھی زید کے صرف ایك حقیقی چھوٹا بھائی ہے اور بکر کے ایك چھوٹا بھائی اورایك بڑی بہن جو کہ حقیقی ہیں اور بکر کی بہن دونوں بھائیوں سے چھوٹی ہے تو زید کے چھوٹے بھائی کا نکاح بکر کی چھوٹی بہن سے جائز ہے یانہیں چونکہ زید اور بکر آپس میں رضاعی بھائی ہیں۔
الجواب :
بکرنے اگر زید کی ماں کا دودھ پیا ہے تو زید اور اس کا بھائی بکر کے بھائی ہوئے نہ کہ خواہر بکر کے اور اگر زید نے بکر کی ماں کا دودھ پیا ہے تو یہ خواہر بکر کا بھائی ہو ا نہ کہ زید کا بھائی بہرحال زیدکے بھائی اوربکر کی بہن میں نکاح جائز ہے لقولھم تحل اخت اخیہ رضاعا(فقہاء کے قول کے مطابق بھائی کی رضاعی بہن حلال ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۱۵ : مسئولہ عنایت حسین خاں محرر تھانہ دوسہ علاقہ ریاست جے پور ملك راجپوتانہ ۱۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)کیا نابالغ لڑکی برضامندی خود اور خلاف مرضی ولی جائز کے اپنا نکاح کرسکتی ہے یا نہیں
(۲)بالغہ برضامندی خود اور خلاف مرضی ولی جائز کے اپنا نکاح غیر کفو میں کرے تو وہ نکاح درست ہے یا نہیں اور اگر ولی نے قبل از نکاح غیر کفو میں نکاح کرنے سے منع کردیا ہو اور پھر بھی کسی طرح پوشیدہ یا زبردستی کسی غیر کفو کے ساتھ لڑکی نے نکاح کرلیا ہو تو اس کے ولی کو اس نکاح کے تنسیخ کا اختیار ہے یا نہیں
الجواب :
(۱)ہرگز نہیں ہاں ولی کے اذن سے کرسکتی ہے جبکہ سمجھ وال ہو یابطور خود کرے اور ولی بعد اطلاع اسے جائز کردے تو جائز ہوجائے گا رد کردے تو باطل ہوجائے گا درمختار میں ہے :
الولی شرط صحۃ نکاح صغیر ا لخ اقول :
نابالغ کے صحت نکاح کے لیے ولی شرط ہے الخ اقول :
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
الوجہ تقدیر النفاذ فان الموقوف من الصحیح غیر انہ اراد بالصحۃ النفاذ علی التبادر۔ واﷲ تعالی اعلم
اس کو درست کرنے کے لیے لفظ “ نفاذ “ مقدر ہے کیونکہ ولی کے بغیر نکاح موقوف ہوتا ہے جو کہ صحیح نکاح ہے مگر یہاں صحت سے مراد نفاذ ہے کیونکہ یہی متبادر ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم
(۲)شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔ یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃ بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو ان میں سے ایك شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں۔ درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا ۔ واﷲ تعالی اعلم
غیر کفو میں اصلا نکاح کے ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)والله تعالی اعلم
ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔ درمختار میں ہے :
نفذنکاح حرۃ مکلفۃ بلار ضی ولی واﷲ تعالی اعلم
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوتا ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ۱۱۷ : آگر ہ چھاؤنی انجن گودام جی آئی پی ریلوے بابو محمد نیاز خاں اسٹورس کلرك روز چہار شنبہ ۳ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
جنا ب مولوی احمد رضا خاں صاحب کو بعد سلام سنت اسلام ومحبت مشام آن کہ معلوم ہو کہ حضور کو میں تکلیف دیتا ہوں کہ اس مسئلہ میں علماء کیا فرماتے ہیں میرے ایك عزیز کا عقد ایك مسماۃ کے ساتھ ہوا اور اس مسماۃ کے والدین نے لڑکی کی رخصت ۵ ماہ کے بعد کی مگر اس درمیان میں ایك نقص مسماۃ کے بعد ۳ ماہ کے خفیہ ظاہر ہوا ہے کہ مسماۃ کو سفید کوڑھ و برص کہتے ہیں وہ ہے۔ اور اس مسماۃ کے والدین سے دریافت
اس کو درست کرنے کے لیے لفظ “ نفاذ “ مقدر ہے کیونکہ ولی کے بغیر نکاح موقوف ہوتا ہے جو کہ صحیح نکاح ہے مگر یہاں صحت سے مراد نفاذ ہے کیونکہ یہی متبادر ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم
(۲)شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔ یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃ بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو ان میں سے ایك شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں۔ درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا ۔ واﷲ تعالی اعلم
غیر کفو میں اصلا نکاح کے ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)والله تعالی اعلم
ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔ درمختار میں ہے :
نفذنکاح حرۃ مکلفۃ بلار ضی ولی واﷲ تعالی اعلم
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوتا ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ۱۱۷ : آگر ہ چھاؤنی انجن گودام جی آئی پی ریلوے بابو محمد نیاز خاں اسٹورس کلرك روز چہار شنبہ ۳ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
جنا ب مولوی احمد رضا خاں صاحب کو بعد سلام سنت اسلام ومحبت مشام آن کہ معلوم ہو کہ حضور کو میں تکلیف دیتا ہوں کہ اس مسئلہ میں علماء کیا فرماتے ہیں میرے ایك عزیز کا عقد ایك مسماۃ کے ساتھ ہوا اور اس مسماۃ کے والدین نے لڑکی کی رخصت ۵ ماہ کے بعد کی مگر اس درمیان میں ایك نقص مسماۃ کے بعد ۳ ماہ کے خفیہ ظاہر ہوا ہے کہ مسماۃ کو سفید کوڑھ و برص کہتے ہیں وہ ہے۔ اور اس مسماۃ کے والدین سے دریافت
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
کرنے پر اب ظاہر کیا ہے کہ کچھ شکم کا داغ ہے۔ اول نکاح کے ظاہر نہ کیا اگر مسماۃ کو رخصت کرکے نہ لایا جائے اپنے گھر پر تو وہ مہر کی مستحق ہوسکتی ہے یا نہیں اور لڑکا اپنا خرچہ اس کے والدین سے لے سکتا ہے یا نہیں فقط
الجواب :
نکاح صحیح وتام ہوگیا دو باتوں سے ایك فرض ہے یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا اچھی طرح چھوڑدینا اگر قبل خلوت طلاق دی جائے گی آدھا مہر ساقط ہوجائے گا نصف واجب الادا ہوگا شادی میں جو اٹھادیا خرچ کردیا اس کا تاوان کسی پرنہیں۔ ہاں جو زیور اور کپڑے چڑھاوے میں دئے ہوں اور عورت کو ان کا مالك کردینے کی وہاں رسم نہ ہو یہ تملیك نہ سمجھی جاتی ہو نہ تملیك کی ہو تو ان اشیاء کے واپس لینے کا شوہر کو اختیار ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸ : از جبلپور پریس انجمن محمد یوسف یکشنبہ ۱۹ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص حنفی المذہب نے اپنا نکاح قاضی شافعی المذہب یا اہلحدیث غیر مقلد سے بموجب قاعدہ احناف پڑھوایا پس اس کا نکاح جائز ہوا یا نہیں اور بصورت ناجائز ہونے نکاح حسب خیال مؤلف فتح المبین تجدید نکاح کی ضرورت ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر کوئی واقعی شافعی المذہب ہے تو شافعیہ مثل ہمارے اہلسنت ہیں اس میں توکوئی حرج ہی نہیں جبکہ اس نے نکاح ایسے طور پر نہ پڑھا یا ہو کہ وہ مذہب حنفی میں صحیح نہیں اور غیر مقلدین صرف تارك تقلید نہیں بلکہ ان کا مذہب بہت عقائد کفریہ پرمشتمل ہے جس کی قدرے تفصیل الکوکبۃ الشھابیۃ میں ہے۔ نکاح پڑھوانا ایك تو بطور رسم ہوتا ہے جیسے نکاح خواں قاضی مقرر ہوتے ہیں یوں پڑھوایا اور اس نے حنفی مذہب کے طورپر صحیح پڑھایا تو تجدید نکاح کی حاجت نہیں۔ اورایك نکاح پڑھوانا بطور تعظیم ہوتا ہے کہ اس کو معظم اور متبرك سمجھ کر اس سے پڑھواتے ہیں اگر یوں پڑھوایا اور اس کو غیرمقلد نہ جانتا تھا کہ وہابیہ میں تقیہ بکثرت ہے تو یوں بھی تجدیدنکاح کی ضرورت نہیں جبکہ اس نے صحیح طورپر پڑھایا ہو اور اگر غیر مقلد جان کراسے معظم ومتبرك سمجھا اور اس سے نکاح پڑھوایا تو نہ فقط تجدید نکاح بلکہ تجدید اسلام کی بھی حاجت ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۹ : از راجپوتانہ کوٹہ محلہ رامپور متصل مسجد مومناں عبدالصمد ملازم بینڈباجہ دو شنبہ شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں غیر مقلد شافعی ہیں یا نہیں اور ہندہ بالغہ نو ماہ سے بیوہ ہے اور دو بچے بھی رکھتی ہے اپنے والدین کی بلا رضامندی وعدم موجودگی کے برضامندی ورغبت خود بلا خوف وترغیب کے زید حنفی سے خود قاضی کے مکان پر جا کر بہمراہی چند آدمی نکاح پڑھ لیا پھول وشیرنی و نئے کپڑے وغیرہ پہنے نہیں گئے دو گواہوں اور ایك وکیل اور قاضی نے ایجاب وقبول ارکان نکاح پورے طور پر ادا کردئے
الجواب :
نکاح صحیح وتام ہوگیا دو باتوں سے ایك فرض ہے یا بھلائی کے ساتھ رکھنا یا اچھی طرح چھوڑدینا اگر قبل خلوت طلاق دی جائے گی آدھا مہر ساقط ہوجائے گا نصف واجب الادا ہوگا شادی میں جو اٹھادیا خرچ کردیا اس کا تاوان کسی پرنہیں۔ ہاں جو زیور اور کپڑے چڑھاوے میں دئے ہوں اور عورت کو ان کا مالك کردینے کی وہاں رسم نہ ہو یہ تملیك نہ سمجھی جاتی ہو نہ تملیك کی ہو تو ان اشیاء کے واپس لینے کا شوہر کو اختیار ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸ : از جبلپور پریس انجمن محمد یوسف یکشنبہ ۱۹ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص حنفی المذہب نے اپنا نکاح قاضی شافعی المذہب یا اہلحدیث غیر مقلد سے بموجب قاعدہ احناف پڑھوایا پس اس کا نکاح جائز ہوا یا نہیں اور بصورت ناجائز ہونے نکاح حسب خیال مؤلف فتح المبین تجدید نکاح کی ضرورت ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر کوئی واقعی شافعی المذہب ہے تو شافعیہ مثل ہمارے اہلسنت ہیں اس میں توکوئی حرج ہی نہیں جبکہ اس نے نکاح ایسے طور پر نہ پڑھا یا ہو کہ وہ مذہب حنفی میں صحیح نہیں اور غیر مقلدین صرف تارك تقلید نہیں بلکہ ان کا مذہب بہت عقائد کفریہ پرمشتمل ہے جس کی قدرے تفصیل الکوکبۃ الشھابیۃ میں ہے۔ نکاح پڑھوانا ایك تو بطور رسم ہوتا ہے جیسے نکاح خواں قاضی مقرر ہوتے ہیں یوں پڑھوایا اور اس نے حنفی مذہب کے طورپر صحیح پڑھایا تو تجدید نکاح کی حاجت نہیں۔ اورایك نکاح پڑھوانا بطور تعظیم ہوتا ہے کہ اس کو معظم اور متبرك سمجھ کر اس سے پڑھواتے ہیں اگر یوں پڑھوایا اور اس کو غیرمقلد نہ جانتا تھا کہ وہابیہ میں تقیہ بکثرت ہے تو یوں بھی تجدیدنکاح کی ضرورت نہیں جبکہ اس نے صحیح طورپر پڑھایا ہو اور اگر غیر مقلد جان کراسے معظم ومتبرك سمجھا اور اس سے نکاح پڑھوایا تو نہ فقط تجدید نکاح بلکہ تجدید اسلام کی بھی حاجت ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۹ : از راجپوتانہ کوٹہ محلہ رامپور متصل مسجد مومناں عبدالصمد ملازم بینڈباجہ دو شنبہ شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں غیر مقلد شافعی ہیں یا نہیں اور ہندہ بالغہ نو ماہ سے بیوہ ہے اور دو بچے بھی رکھتی ہے اپنے والدین کی بلا رضامندی وعدم موجودگی کے برضامندی ورغبت خود بلا خوف وترغیب کے زید حنفی سے خود قاضی کے مکان پر جا کر بہمراہی چند آدمی نکاح پڑھ لیا پھول وشیرنی و نئے کپڑے وغیرہ پہنے نہیں گئے دو گواہوں اور ایك وکیل اور قاضی نے ایجاب وقبول ارکان نکاح پورے طور پر ادا کردئے
کیا یہ نکاح ناجائز ہے اور بعد نکاح زید ہندہ نے مثل زن وشوہر کے ہمبستری کی اور صرف تین دن ہندہ زید کے پاس رہی اور اب ہندہ نکاح سے منکر ہے اور اپنے بچاوے کے لیے کہتی ہے کہ غیر مقلد ہوں۔ اور شافعی المذہب میں بغیر ولی کے نکاح ناجائز ہے اس کے برخلاف قاضی ودوگواہ وکیل حلفیہ نکاح ہونا بیان کرتے ہیں قاضی حلف سے یہ بیان کرتے ہیں کہ ہندہ نے نکاح کے پیشتر اس کے دریافت کرنے پر کہا تھا کہ میں سنت جماعت یعنی حنفی ہوں اس کا یقین ہونے پر قاضی نے نکاح پڑھایا۔ کیا ہندہ کا کہنا نکاح کے ناجوازی کے لیے صحیح ہے بینوا توجروا
الجواب :
غیر مقلد شافعی نہیں بلکہ اہل بدعت واہو ا واہل نارہیں طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
فمن کان خارجا من ھؤلاء الا ربعۃ فی ھذہ الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
جو ان چاروں مذاہب سے خارج ہے اس دور میں تو وہ بدعتی اور جہنمی ہے(ت)
ہندہ نے جس سے نکاح کیا اگر وہ ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ اس سے ہندہ کا نکاح اولیائے ہندہ کے لیے باعث ننگ و عار ہو تو بیشك نکاح صحیح ولازم ہوگیا ہندہ کے انکار سے اب مٹ نہیں سکتا اگرچہ ہندہ واقع میں شافعیہ ہوتی خلاصہ ودرمختار میں ہے :
اذا سئل ماقول الشافعی فی کذاوجب ان یقول قال ابو حنیفہ کذا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جب حنفی سے سوال کیا جائے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا اس مسئلہ میں قول کیا ہے توا سکو چاہئے کہ وہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول بتائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۰ : نوضلع پرتاب گڑھ مانك پور ظہور حام چہار شنبہ ۲۲ شوال ۱۳۳۴ھ
زید محض غریب آدمی ہے جائداد وغیر ہ کچھ نہیں رکھتا صرف پیشہ طبابت وغیر ہ سے کام چلتا ہے اپنی لڑکی کی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مہرسوالاکھ روپے سے کم نہ ہوگا۔ عمر و جس کو لڑکی منسوب ہے و ہ اس سے بھی زیادہ غریب ہے غربت کی وجہ سے عمرو اس قدر دین منظور نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میں محض غریب آدمی ہوں سوالاکھ روپیہ میں نے دیکھا بھی نہیں ہے۔ اس قدر مہر میں ہر گز قبول نہ کروں گا غرضیکہ دریافت طلب یہ امر ہے کہ زیادتی اگرچہ غیر مستحسن ہے لیکن حیثیت کا کچھ لحاظ رکھنا ضروری ہے یا نہیں شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے حیثیت زوج کا کچھ لحاظ کیا ہے ایسی صورت میں کہ عمرو کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہے نکاح سوالاکھ مہر پرکیسا ہوگا اور اگر ہوگیا تو حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ اگر مہر ادا کرنے کی نیت نہ ہوئی تو زنا ہوگا اور لڑکے حرامی۔ اس کے خلاف ہوگا یانہیں اور نکاح جائز ہوگا یا نہیں فقط
الجواب :
غیر مقلد شافعی نہیں بلکہ اہل بدعت واہو ا واہل نارہیں طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
فمن کان خارجا من ھؤلاء الا ربعۃ فی ھذہ الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
جو ان چاروں مذاہب سے خارج ہے اس دور میں تو وہ بدعتی اور جہنمی ہے(ت)
ہندہ نے جس سے نکاح کیا اگر وہ ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ اس سے ہندہ کا نکاح اولیائے ہندہ کے لیے باعث ننگ و عار ہو تو بیشك نکاح صحیح ولازم ہوگیا ہندہ کے انکار سے اب مٹ نہیں سکتا اگرچہ ہندہ واقع میں شافعیہ ہوتی خلاصہ ودرمختار میں ہے :
اذا سئل ماقول الشافعی فی کذاوجب ان یقول قال ابو حنیفہ کذا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جب حنفی سے سوال کیا جائے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا اس مسئلہ میں قول کیا ہے توا سکو چاہئے کہ وہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول بتائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۰ : نوضلع پرتاب گڑھ مانك پور ظہور حام چہار شنبہ ۲۲ شوال ۱۳۳۴ھ
زید محض غریب آدمی ہے جائداد وغیر ہ کچھ نہیں رکھتا صرف پیشہ طبابت وغیر ہ سے کام چلتا ہے اپنی لڑکی کی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مہرسوالاکھ روپے سے کم نہ ہوگا۔ عمر و جس کو لڑکی منسوب ہے و ہ اس سے بھی زیادہ غریب ہے غربت کی وجہ سے عمرو اس قدر دین منظور نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میں محض غریب آدمی ہوں سوالاکھ روپیہ میں نے دیکھا بھی نہیں ہے۔ اس قدر مہر میں ہر گز قبول نہ کروں گا غرضیکہ دریافت طلب یہ امر ہے کہ زیادتی اگرچہ غیر مستحسن ہے لیکن حیثیت کا کچھ لحاظ رکھنا ضروری ہے یا نہیں شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے حیثیت زوج کا کچھ لحاظ کیا ہے ایسی صورت میں کہ عمرو کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہے نکاح سوالاکھ مہر پرکیسا ہوگا اور اگر ہوگیا تو حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ اگر مہر ادا کرنے کی نیت نہ ہوئی تو زنا ہوگا اور لڑکے حرامی۔ اس کے خلاف ہوگا یانہیں اور نکاح جائز ہوگا یا نہیں فقط
حوالہ / References
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۶
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۶
الجواب :
حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مگر نکاح ہرطرح ہوجائے گا اگرچہ نان شبینہ کے محتاج پر تمام خزائن دنیا کے بر ابر مہر باندھا جائے مہر نکاح میں اصل نہیں ولہذا نفی مہرکے ساتھ بھی نکاح صحیح ہے مہر مثل لازم ہوگا اور جب رقم معین کردی اگرچہ کسی قدر کثیر تووہ ضرور ذمہ پر لازم ہوگی انسان اگرچہ بادشاہ ہفت اقلیم ہو اس کی حیثیت محدود ہے ذمہ کی وسعت محدود نہیں اگر محتاج محض ہو حدیث میں فرمایا : المال غاد ورائح(مال صبح وشام آنے جانے والی چیز ہے۔ ت)وہ کہ جنھیں روٹی نصیب نہ تھی آنکھوں دیکھتے والی ملك ہوگئے البتہ یہ ضرورہے کہ طرفین اسے دین سمجھیں اور شوہر نیت ادا رکھے ایك صحابی رضی اللہ تعالی عنہ محض مفلس تھے نکاح کیا مہر کثیر کی درخواست کی گئی قبول فرمالی اور فرمایا : علی اﷲ وعلی رسولہ المعال اﷲ اورا س کے رسول پر بھروسہ ہے یعنی وہ عطافرمادیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خود قرآن عظیم فرماتا ہے :
و لو انهم رضوا ما اتىهم الله و رسوله-و قالوا حسبنا الله سیؤتینا الله من فضله و رسوله-انا الى الله رغبون(۵۹) ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہوتے الله ورسول کے دئے پر اور کہتے ہمیں کافی ہے اب ہمیں دیتے ہیں الله ورسول اپنے فضل سے بیشك ہم الله ہی کی طرف روئے نیاز لاتے ہیں۔
ایسی حالت میں کوئی الزام بھی نہیں بلکہ نکاح نیت صحیحہ اور حاجت صادقہ کے ساتھ کیا گیا ہے تو حسب وعدہ صادقہ حدیث صحیح الله عزوجل اس دین کا ضامن ہے۔ امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك بار خطبہ میں مغالاۃ فی المھور یعنی حیثیت سے زیادہ مہر باندھنے پر انکار شدید فرمایا حاضرین میں سے ایك بی بی اٹھیں آیہ کریمہ “ و اتیتم احدىهن قنطارا “ (تم ان عورتوں کوڈھیر مال دیتے ہو۔ ت) تلاوت کی جس میں سونے کا ڈھیر عورت کے مہر میں مقرر کرنا جائز فرمایا گیا فورا امیر المومنین نے انکار سے رجوع فرمائی اور بکمال تواضع فرمایا :
اللھم کل احد افقہ من عمر حتی المخدرات فی المحال ۔
اے اللہ! عمر سے ہر ایك زیادہ فقیہ ہے حتی کہ پردہ دار عورتیں بھی۔ (ت)
ہاں یہ ناجائز ہے کہ مہرباندھے اور ادا کی نیت نہ ہو اگرچہ اس کی حیثیت سے کتنا ہی کم ہو اس کو حدیث میں
حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مگر نکاح ہرطرح ہوجائے گا اگرچہ نان شبینہ کے محتاج پر تمام خزائن دنیا کے بر ابر مہر باندھا جائے مہر نکاح میں اصل نہیں ولہذا نفی مہرکے ساتھ بھی نکاح صحیح ہے مہر مثل لازم ہوگا اور جب رقم معین کردی اگرچہ کسی قدر کثیر تووہ ضرور ذمہ پر لازم ہوگی انسان اگرچہ بادشاہ ہفت اقلیم ہو اس کی حیثیت محدود ہے ذمہ کی وسعت محدود نہیں اگر محتاج محض ہو حدیث میں فرمایا : المال غاد ورائح(مال صبح وشام آنے جانے والی چیز ہے۔ ت)وہ کہ جنھیں روٹی نصیب نہ تھی آنکھوں دیکھتے والی ملك ہوگئے البتہ یہ ضرورہے کہ طرفین اسے دین سمجھیں اور شوہر نیت ادا رکھے ایك صحابی رضی اللہ تعالی عنہ محض مفلس تھے نکاح کیا مہر کثیر کی درخواست کی گئی قبول فرمالی اور فرمایا : علی اﷲ وعلی رسولہ المعال اﷲ اورا س کے رسول پر بھروسہ ہے یعنی وہ عطافرمادیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خود قرآن عظیم فرماتا ہے :
و لو انهم رضوا ما اتىهم الله و رسوله-و قالوا حسبنا الله سیؤتینا الله من فضله و رسوله-انا الى الله رغبون(۵۹) ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہوتے الله ورسول کے دئے پر اور کہتے ہمیں کافی ہے اب ہمیں دیتے ہیں الله ورسول اپنے فضل سے بیشك ہم الله ہی کی طرف روئے نیاز لاتے ہیں۔
ایسی حالت میں کوئی الزام بھی نہیں بلکہ نکاح نیت صحیحہ اور حاجت صادقہ کے ساتھ کیا گیا ہے تو حسب وعدہ صادقہ حدیث صحیح الله عزوجل اس دین کا ضامن ہے۔ امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك بار خطبہ میں مغالاۃ فی المھور یعنی حیثیت سے زیادہ مہر باندھنے پر انکار شدید فرمایا حاضرین میں سے ایك بی بی اٹھیں آیہ کریمہ “ و اتیتم احدىهن قنطارا “ (تم ان عورتوں کوڈھیر مال دیتے ہو۔ ت) تلاوت کی جس میں سونے کا ڈھیر عورت کے مہر میں مقرر کرنا جائز فرمایا گیا فورا امیر المومنین نے انکار سے رجوع فرمائی اور بکمال تواضع فرمایا :
اللھم کل احد افقہ من عمر حتی المخدرات فی المحال ۔
اے اللہ! عمر سے ہر ایك زیادہ فقیہ ہے حتی کہ پردہ دار عورتیں بھی۔ (ت)
ہاں یہ ناجائز ہے کہ مہرباندھے اور ادا کی نیت نہ ہو اگرچہ اس کی حیثیت سے کتنا ہی کم ہو اس کو حدیث میں
حوالہ / References
القرآن ۹ / ۵۹
القرآن ۴ / ۲۰
سنن الکبرٰی للبیہقی باب لاوقت فی الصداق الخ دارصادر بیروت ۷ / ۲۳۳
القرآن ۴ / ۲۰
سنن الکبرٰی للبیہقی باب لاوقت فی الصداق الخ دارصادر بیروت ۷ / ۲۳۳
فرمایا ہے کہ وہ حشر میں زانی وزانیہ اٹھائے جائیں گے یہ اس حدیث میں بھی نہیں کہ وہ شرعا زانی زانیہ ہیں اور اولاد حرامی۔
والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۱ : از بریلی محلہ ذخیرہ چہار شنبہ ۲۲ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو آپس میں حقیقی بھائی ہیں زید کے لڑکے نے زوجہ عمر کی چھاتی اتفاقیہ درآنحالیکہ وہ سورہی تھی اور چار پانچ ماہ کی نوحاملہ بھی تھی یعنی پہلا حمل تھا اپنے منہ میں لے لی زوجہ عمرو کا بیان ہے کہ جس وقت میری آنکھ کھلی تو میں نے لڑکے کو دیکھا کہ میری چھاتی اپنے منہ میں لئے ہوئے اس طرح منہ چلا رہا ہے جیسے بچے دودھ پیتے ہیں مجھ کونہیں معلوم کہ میرے اس وقت دودھ تھا یا نہیں۔ یا مجھ کو کوئی اثر دودھ کا معلوم ہوا یانہیں میں نے لڑکے کو فورا اپنی چھاتی سے علیحدہ کردیا اس واقعہ کو عرصہ قریبا سترہ اٹھا رہ سال کا ہوا اس صورت میں ازروئے شرع زید کے لڑکے مذکور کا عمرو کی کسی لڑکی کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں اور نیز یہ کہ یہ مدت قلیل حمل کی عورت حاملہ کے اترآنے دودھ کی ہے یا نہیں زوجہ عمرو کی عمر اس وقت چود ہ سال اور زید کے لڑکے کی عمر ایك سال کی تھی۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب تك دودھ کا کوئی قطرہ جوف میں جانا معلوم وثابت نہ ہو حرمت ثابت نہ ہوگی درمختار میں ہے :
یثبت بہ ان علم وصولہ بجوفہ من فمہ او انفہ لاغیر فلو التقم الحلمۃ ولم یدر دخل اللبن فی حلقہ ام لالم یحرم لان فی المانع شکا ولوالجیۃ ۔
اس سے ثابت ہو اکہ دودھ کا حلق یاناك کے ذریعہ پیٹ میں پہنچنے کا علم ہو اس کے بغیر نہیں اور اگر بچے نے پستان کا سرمنہ میں ڈالا اوریہ معلوم نہ ہوسکا کہ بچے کے حلق سے دودھ اتر ایا نہیں تو حرمت ثابت نہ ہوگی کیونکہ نکاح سے مانع میں شك پایا گیا ولوالجیہ(ت)
دودھ اتر آنے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں عورت کے مزاج کی قوت اور خون کی کثرت پر ہے۔ کبھی بعد ولادت بھی نہیں اترتا اور کبھی کنواری کے اتر آتاہے درمختار میں ہے :
الرضاع المص من ثدی ادمیۃ ولوبکرا ۔
عورت خواہ باکرہ ہو کے پستان کو چوسنا رضاع کہلاتا ہے۔ (ت)
والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۱ : از بریلی محلہ ذخیرہ چہار شنبہ ۲۲ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو آپس میں حقیقی بھائی ہیں زید کے لڑکے نے زوجہ عمر کی چھاتی اتفاقیہ درآنحالیکہ وہ سورہی تھی اور چار پانچ ماہ کی نوحاملہ بھی تھی یعنی پہلا حمل تھا اپنے منہ میں لے لی زوجہ عمرو کا بیان ہے کہ جس وقت میری آنکھ کھلی تو میں نے لڑکے کو دیکھا کہ میری چھاتی اپنے منہ میں لئے ہوئے اس طرح منہ چلا رہا ہے جیسے بچے دودھ پیتے ہیں مجھ کونہیں معلوم کہ میرے اس وقت دودھ تھا یا نہیں۔ یا مجھ کو کوئی اثر دودھ کا معلوم ہوا یانہیں میں نے لڑکے کو فورا اپنی چھاتی سے علیحدہ کردیا اس واقعہ کو عرصہ قریبا سترہ اٹھا رہ سال کا ہوا اس صورت میں ازروئے شرع زید کے لڑکے مذکور کا عمرو کی کسی لڑکی کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں اور نیز یہ کہ یہ مدت قلیل حمل کی عورت حاملہ کے اترآنے دودھ کی ہے یا نہیں زوجہ عمرو کی عمر اس وقت چود ہ سال اور زید کے لڑکے کی عمر ایك سال کی تھی۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب تك دودھ کا کوئی قطرہ جوف میں جانا معلوم وثابت نہ ہو حرمت ثابت نہ ہوگی درمختار میں ہے :
یثبت بہ ان علم وصولہ بجوفہ من فمہ او انفہ لاغیر فلو التقم الحلمۃ ولم یدر دخل اللبن فی حلقہ ام لالم یحرم لان فی المانع شکا ولوالجیۃ ۔
اس سے ثابت ہو اکہ دودھ کا حلق یاناك کے ذریعہ پیٹ میں پہنچنے کا علم ہو اس کے بغیر نہیں اور اگر بچے نے پستان کا سرمنہ میں ڈالا اوریہ معلوم نہ ہوسکا کہ بچے کے حلق سے دودھ اتر ایا نہیں تو حرمت ثابت نہ ہوگی کیونکہ نکاح سے مانع میں شك پایا گیا ولوالجیہ(ت)
دودھ اتر آنے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں عورت کے مزاج کی قوت اور خون کی کثرت پر ہے۔ کبھی بعد ولادت بھی نہیں اترتا اور کبھی کنواری کے اتر آتاہے درمختار میں ہے :
الرضاع المص من ثدی ادمیۃ ولوبکرا ۔
عورت خواہ باکرہ ہو کے پستان کو چوسنا رضاع کہلاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۲
درمختار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۲
درمختار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۲
یہ معاملہ عمر بھرکے حلال اور اولاد کے حلالی اور حرامی ہونے کا ہے۔ عورت پر فرض ہے کہ جو بات واقعی ہو ظاہر کردے اخفاء نہ کرے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۲ تا ۱۲۷ : مسئولہ محمد اسحاق صاحب برمکان قادر بخش دفعدار محلہ شاگرد پیشہ ریاست جاورہ ملك مالوہ چہار شنبہ ۲۹ شوال ۱۳۳۴ھ
مخدوم ومکرم جنا ب مولنا مفتی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ التماس ہے کہ میں حضور عالی کو امور ذیل کے لیے تکلیف دیتا ہوں امید ہے کہ معاف فرماویں گے۔ مسماۃ ہندہ کا نکاح بعمر گیارہ سال سوتیلے والد کی اجازت سے زید کے ہمراہ ہوا بعد نکاح ہندہ چند یوم زید کے گھر رہ کر والدین کے گھر چلی آئی اور وہاں سے بغیر اجازت زید ہندہ والدین کے ہمراہ چالیس کو س دور جاکر سکونت اختیار کی اور قریبا ایك سال ہندہ کو اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے ہوگیا زید نے اب آن کر رخصت زوجہ کا دعوی کیا چونکہ اب ہندہ تیرھویں سال میں ہے اور اپنا بالغہ ہونا کہتی ہے اور بوقت نکاح نابالغہ تھی نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے کہ میں نابالغہ تھی اورمیرا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہو ا میں فسخ کراؤں گی ایسی صورت میں شرع شریف کیا حکم دیتی ہے
الجواب :
سائل کو چند امور کا جواب دینا چاہئے :
(۱)ہندہ کا کوئی ولی ہے یا نہیں مثلا جوان بھائی یا چچا یا چچا کابیٹا یا دادا پردادا کی اولاد میں کوئی مرد
(۲)اگر ہے تو وہ وقت پر موجود تھا یا نہ تھا اگر تھا تو خبر نکاح سن کر کچھ بات کی یا نہیں اور اگر کی تو کیا کہا
(۳)ہندہ کس مہینے اور وقت میں بالغہ ہوئی کیا گھنٹہ منٹ تھا
(۴)وہ کب سے دعوی فسخ کرتی ہے۔ اس کو کتنے دن ہوئے کس مہینے تاریخ وقت میں اس دعوی کا لفظ منہ سے نکلا
(۵)جس سے نکاح ہوا وہ مذہب نسل چال چلن پیشہ میں موافق ہے یا کم وبیش ہے تو کیا اور کس قدر
(۶)ہندہ کا نکاح یا رخصت اس کی ماں کی مرضی سے ہوئی یا بلا مرضی
ان سوالوں کا جواب آنے پرجوا ب دیا جائے گا۔
جواب سوالات
(۱)ہندہ کا کوئی ولی مرد جیسا ارشاد ہوا زندہ نہیں۔ ازواج میں ماں ہندہ کی حیات ہے۔
مسئلہ ۱۲۲ تا ۱۲۷ : مسئولہ محمد اسحاق صاحب برمکان قادر بخش دفعدار محلہ شاگرد پیشہ ریاست جاورہ ملك مالوہ چہار شنبہ ۲۹ شوال ۱۳۳۴ھ
مخدوم ومکرم جنا ب مولنا مفتی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ التماس ہے کہ میں حضور عالی کو امور ذیل کے لیے تکلیف دیتا ہوں امید ہے کہ معاف فرماویں گے۔ مسماۃ ہندہ کا نکاح بعمر گیارہ سال سوتیلے والد کی اجازت سے زید کے ہمراہ ہوا بعد نکاح ہندہ چند یوم زید کے گھر رہ کر والدین کے گھر چلی آئی اور وہاں سے بغیر اجازت زید ہندہ والدین کے ہمراہ چالیس کو س دور جاکر سکونت اختیار کی اور قریبا ایك سال ہندہ کو اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے ہوگیا زید نے اب آن کر رخصت زوجہ کا دعوی کیا چونکہ اب ہندہ تیرھویں سال میں ہے اور اپنا بالغہ ہونا کہتی ہے اور بوقت نکاح نابالغہ تھی نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے کہ میں نابالغہ تھی اورمیرا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہو ا میں فسخ کراؤں گی ایسی صورت میں شرع شریف کیا حکم دیتی ہے
الجواب :
سائل کو چند امور کا جواب دینا چاہئے :
(۱)ہندہ کا کوئی ولی ہے یا نہیں مثلا جوان بھائی یا چچا یا چچا کابیٹا یا دادا پردادا کی اولاد میں کوئی مرد
(۲)اگر ہے تو وہ وقت پر موجود تھا یا نہ تھا اگر تھا تو خبر نکاح سن کر کچھ بات کی یا نہیں اور اگر کی تو کیا کہا
(۳)ہندہ کس مہینے اور وقت میں بالغہ ہوئی کیا گھنٹہ منٹ تھا
(۴)وہ کب سے دعوی فسخ کرتی ہے۔ اس کو کتنے دن ہوئے کس مہینے تاریخ وقت میں اس دعوی کا لفظ منہ سے نکلا
(۵)جس سے نکاح ہوا وہ مذہب نسل چال چلن پیشہ میں موافق ہے یا کم وبیش ہے تو کیا اور کس قدر
(۶)ہندہ کا نکاح یا رخصت اس کی ماں کی مرضی سے ہوئی یا بلا مرضی
ان سوالوں کا جواب آنے پرجوا ب دیا جائے گا۔
جواب سوالات
(۱)ہندہ کا کوئی ولی مرد جیسا ارشاد ہوا زندہ نہیں۔ ازواج میں ماں ہندہ کی حیات ہے۔
(۲)اس وقت کوئی زندہ نہ تھا۔
(۳)ہندہ یکم شوال ۱۳۳۴ھ روزشنبہ کو بالغہ ہوئی بوقت ظہر قریب ڈھائی بجے کے گھڑی نہ تھی منٹ دیکھے جاتے۔
(۴)بالغہ ہونے کے دن یعنی یکم شوال ۱۳۳۴ھ روز شنبہ تین بجے دعوے کا لفظ منہ سے نکلا۔
(۵)زید مذہب میں اہل سنت حنفی مسلمان ہے۔ نسب اچھا ہے پٹھان اور چال چلن اور پیشہ میں بھی موافق۔
(۶)ہندہ کا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہوا ونیز رخصت حالانکہ ماں کی مرضی نہ تھی مگر خاوند کے کہنے سے اور زبردستی سے۔
الجواب :
اگر یہ بیانات واقعی ہیں اور ہندہ کی ماں نے کہ صورت مذکورہ میں وہی ولی شرعی ہے اس کے نکاح کی اجازت نہ دی نہ بعد کو جائز کرنے کا کوئی لفظ کہا نہ کوئی فعل ایسا کیا کہ دلیل اجازت ہو تو یہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور والدہ ہندہ کی اجازت پر موقوف تھا اگرقبل بلوغ ہندہ ا س کی والدہ نے اس نکاح سے ناراضی اور اس پر انکار ظاہر کردیا توجبھی وہ نکاح باطل ہوگیا اب ہندہ کو طلب فسخ کی حاجت نہیں اور اگر والدہ ہندہ اب تك ساکت رہی تھی انکار نہ کیاتھا اگرچہ ناراض تھی تو ہندہ کے بالغہ ہوتے ہی وہ نکاح موقوف اب خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا جب اس نے اس پر ناراضی ظاہر کی باطل ہوگیا اور کسی دعوے کی ہندہ کو حاجت نہیں اوراگروالدہ ہندہ قبل بلوغ ہندہ اسے قولا یا فعلا جائز کرچکی تھی اور وہ جائز کرنا شوہر کے جبر واکراہ شرعی سے تھا جب بھی ظاہر یہی حکم ہے کہ وہ اجازت اجاز ت نہ ہوئی اور اگر بخاطر شوہر تھا اگرچہ وہ ناراض تھی تو اجازت یقینا صحیح ہوگئی او رنکاح نافذہوگیا اب ہندہ کو صرف خیار بلوغ رہا اس لیے کہ حسب بیان سائل شوہر ہندہ ہندہ کا کفو ہے اس صورت میں ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورا دعوی فسخ کرناتھا اس نے بالغہ ہونے کے آدھے گھنٹہ بعد دعوی کیا تو یہ دعوی نامسموع ہے اور نکاح لازم ہوچکا۔ اب ہندہ کے لیے اس میں کوئی چارہ کار نہیں “ وبعیدغایۃ البعد انھا لم تعلم بالنکاح الابعد البلوغ حین ادعت الفسخ “ (یہ انتہائی بعید ہے کہ کسی لڑکی کو بلو غ ہونے کے بعد دعوی فسخ کے وقت ہی نکاح کا علم ہوا ہو۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸ : مسئولہ عبدالعزیز صاحب جمعدار انجینئری کوٹہ راجپوتانہ نیاپورہ چہار شنبہ ۱۹ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
قاضی شہر کے علاوہ ا گر کوئی دوسرا شخص پابندشریعت شرع شریف کے مطابق نکاح پڑھاوے یا دیگر مسلمان نکاح پڑھاوے اور اس کا اندراج رجسٹر قاضی شہر میں نہ ہو تو کیا وہ ناجائز ہے اس کا جواب بھی دیجئے۔ فقط
(۳)ہندہ یکم شوال ۱۳۳۴ھ روزشنبہ کو بالغہ ہوئی بوقت ظہر قریب ڈھائی بجے کے گھڑی نہ تھی منٹ دیکھے جاتے۔
(۴)بالغہ ہونے کے دن یعنی یکم شوال ۱۳۳۴ھ روز شنبہ تین بجے دعوے کا لفظ منہ سے نکلا۔
(۵)زید مذہب میں اہل سنت حنفی مسلمان ہے۔ نسب اچھا ہے پٹھان اور چال چلن اور پیشہ میں بھی موافق۔
(۶)ہندہ کا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہوا ونیز رخصت حالانکہ ماں کی مرضی نہ تھی مگر خاوند کے کہنے سے اور زبردستی سے۔
الجواب :
اگر یہ بیانات واقعی ہیں اور ہندہ کی ماں نے کہ صورت مذکورہ میں وہی ولی شرعی ہے اس کے نکاح کی اجازت نہ دی نہ بعد کو جائز کرنے کا کوئی لفظ کہا نہ کوئی فعل ایسا کیا کہ دلیل اجازت ہو تو یہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور والدہ ہندہ کی اجازت پر موقوف تھا اگرقبل بلوغ ہندہ ا س کی والدہ نے اس نکاح سے ناراضی اور اس پر انکار ظاہر کردیا توجبھی وہ نکاح باطل ہوگیا اب ہندہ کو طلب فسخ کی حاجت نہیں اور اگر والدہ ہندہ اب تك ساکت رہی تھی انکار نہ کیاتھا اگرچہ ناراض تھی تو ہندہ کے بالغہ ہوتے ہی وہ نکاح موقوف اب خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا جب اس نے اس پر ناراضی ظاہر کی باطل ہوگیا اور کسی دعوے کی ہندہ کو حاجت نہیں اوراگروالدہ ہندہ قبل بلوغ ہندہ اسے قولا یا فعلا جائز کرچکی تھی اور وہ جائز کرنا شوہر کے جبر واکراہ شرعی سے تھا جب بھی ظاہر یہی حکم ہے کہ وہ اجازت اجاز ت نہ ہوئی اور اگر بخاطر شوہر تھا اگرچہ وہ ناراض تھی تو اجازت یقینا صحیح ہوگئی او رنکاح نافذہوگیا اب ہندہ کو صرف خیار بلوغ رہا اس لیے کہ حسب بیان سائل شوہر ہندہ ہندہ کا کفو ہے اس صورت میں ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورا دعوی فسخ کرناتھا اس نے بالغہ ہونے کے آدھے گھنٹہ بعد دعوی کیا تو یہ دعوی نامسموع ہے اور نکاح لازم ہوچکا۔ اب ہندہ کے لیے اس میں کوئی چارہ کار نہیں “ وبعیدغایۃ البعد انھا لم تعلم بالنکاح الابعد البلوغ حین ادعت الفسخ “ (یہ انتہائی بعید ہے کہ کسی لڑکی کو بلو غ ہونے کے بعد دعوی فسخ کے وقت ہی نکاح کا علم ہوا ہو۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸ : مسئولہ عبدالعزیز صاحب جمعدار انجینئری کوٹہ راجپوتانہ نیاپورہ چہار شنبہ ۱۹ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
قاضی شہر کے علاوہ ا گر کوئی دوسرا شخص پابندشریعت شرع شریف کے مطابق نکاح پڑھاوے یا دیگر مسلمان نکاح پڑھاوے اور اس کا اندراج رجسٹر قاضی شہر میں نہ ہو تو کیا وہ ناجائز ہے اس کا جواب بھی دیجئے۔ فقط
الجواب
یہ نکاح خواں قاضی نہ شرعا ضرور ہیں نہ ان کے رجسٹرکی شرعا حاجت۔ ہاں اندراج میں مصلحت ہے۔ باقی جس سے چاہیں پڑھوائیں کوئی روك نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۹ : ا زکوہ شملہ ولیر نگل لاج مرسلہ کفایت حسین صاحب روز یك شنبہ ۱ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
مخزن علوم معدن فنون علمائے دین شرع متین جناب مولوی صاحب قبلہ دام ظلکم یہ مسئلہ حضور کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے کہ خالہ زاد دوبھائی ہیں ایك کی بی بی دوسرے بھائی کے لڑکے سے یعنی اپنے بھتیجے سے فعل ناجائز کرتی تھی سامنے شوہر کے جبکہ شوہرفوت ہوگیا تو اسی بھتیجے کے ساتھ عقد کرلیا تو وہ عقد جائزہے یا ناجائز
الجواب :
شوہر کے بھتیجے سے بعد وفات شوہر وانقضائے عدت نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰ : از کاٹھیا واڑ مقام اڑتیاں مرسلہ امین احمدصاحب پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
ایك شخص نے نکاح کیا اس کا ارادہ یہ ہے کہ تھوڑی یا زیادہ مدت بعد اس کو طلاق دے دے گا۔ یہ نکاح ہوتاہے یا نہیں
الجواب :
اگر نکاح میں کسی مد ت کی قید نہ لگائے صرف دل میں ارادہ ہو کہ سال بھریا ایك مہینے یا ایك ہی دن کے بعد طلاق دے دوں گا تونکاح میں کوئی حرج نہیں ہاں بلا وجہ بے سبب محض طلاق دینا منع ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۱ : مرسلہ حاجی سید نعیم الدین صاحب مقام امام گنج ڈاك خانہ سندر گنج ضلع رنگپور بنگال ۲ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا ارشا دفرماتے ہیں علما ئے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی یتیمہ مظلومہ مسماۃ بہ الف بعمر صغیرہ نابالغہ ۱۱ یا ۱۲ سال کی اس کے چچا حقیقی کی عین موجودگی میں قہرا وجبرا اہل قریہ بطمع رشوت ایك عمررسیدہ شخص سے یتیمہ الف کا عقدونکاح کردیا اور چچا حقیقی یتیمہ کابخیال فتنہ منع کرنے سے قاصر رہا اور لڑکی یتیمہ سے بھی جبرااذن لیا اورلڑکی قبل سے انکار کرتی تھی اور بوقت اذن انکار کرتی رہی لہذا آج تك انکار کرتی ہے بعد عقد نکاح پرچھ ماہ کے درمیان کئی بار مصنوعی شوہر کے مکان پر آمدورفت کیا لیکن جبرا۔ لہذا ایك وقت کچھ کھا کر مر نے پر آمادہ ہوگئی تھی اس وجہ سے وارثان مظلومہ رخصتی کراکے ا س کے نانا کے مکان مقیم کیا ہے عرصہ چار سال سے زیادہ ہوا اور اس وقت عمر لڑکی کی قریبا ۱ یا ۱۷ سال کی ہے اور ایك سال سے بالغ کامل ہے اب
یہ نکاح خواں قاضی نہ شرعا ضرور ہیں نہ ان کے رجسٹرکی شرعا حاجت۔ ہاں اندراج میں مصلحت ہے۔ باقی جس سے چاہیں پڑھوائیں کوئی روك نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۹ : ا زکوہ شملہ ولیر نگل لاج مرسلہ کفایت حسین صاحب روز یك شنبہ ۱ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
مخزن علوم معدن فنون علمائے دین شرع متین جناب مولوی صاحب قبلہ دام ظلکم یہ مسئلہ حضور کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے کہ خالہ زاد دوبھائی ہیں ایك کی بی بی دوسرے بھائی کے لڑکے سے یعنی اپنے بھتیجے سے فعل ناجائز کرتی تھی سامنے شوہر کے جبکہ شوہرفوت ہوگیا تو اسی بھتیجے کے ساتھ عقد کرلیا تو وہ عقد جائزہے یا ناجائز
الجواب :
شوہر کے بھتیجے سے بعد وفات شوہر وانقضائے عدت نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰ : از کاٹھیا واڑ مقام اڑتیاں مرسلہ امین احمدصاحب پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
ایك شخص نے نکاح کیا اس کا ارادہ یہ ہے کہ تھوڑی یا زیادہ مدت بعد اس کو طلاق دے دے گا۔ یہ نکاح ہوتاہے یا نہیں
الجواب :
اگر نکاح میں کسی مد ت کی قید نہ لگائے صرف دل میں ارادہ ہو کہ سال بھریا ایك مہینے یا ایك ہی دن کے بعد طلاق دے دوں گا تونکاح میں کوئی حرج نہیں ہاں بلا وجہ بے سبب محض طلاق دینا منع ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۱ : مرسلہ حاجی سید نعیم الدین صاحب مقام امام گنج ڈاك خانہ سندر گنج ضلع رنگپور بنگال ۲ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا ارشا دفرماتے ہیں علما ئے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی یتیمہ مظلومہ مسماۃ بہ الف بعمر صغیرہ نابالغہ ۱۱ یا ۱۲ سال کی اس کے چچا حقیقی کی عین موجودگی میں قہرا وجبرا اہل قریہ بطمع رشوت ایك عمررسیدہ شخص سے یتیمہ الف کا عقدونکاح کردیا اور چچا حقیقی یتیمہ کابخیال فتنہ منع کرنے سے قاصر رہا اور لڑکی یتیمہ سے بھی جبرااذن لیا اورلڑکی قبل سے انکار کرتی تھی اور بوقت اذن انکار کرتی رہی لہذا آج تك انکار کرتی ہے بعد عقد نکاح پرچھ ماہ کے درمیان کئی بار مصنوعی شوہر کے مکان پر آمدورفت کیا لیکن جبرا۔ لہذا ایك وقت کچھ کھا کر مر نے پر آمادہ ہوگئی تھی اس وجہ سے وارثان مظلومہ رخصتی کراکے ا س کے نانا کے مکان مقیم کیا ہے عرصہ چار سال سے زیادہ ہوا اور اس وقت عمر لڑکی کی قریبا ۱ یا ۱۷ سال کی ہے اور ایك سال سے بالغ کامل ہے اب
شخص عاقد وعقد وہندہ وارثان الف پر مستعد شرہے اور رخصتی چاہتا ہے۔ لڑکی جانے سے انکار کرتی ہے۔ احتمال ہے رخصتی کرنے سے لڑکی جان بہلا ك ہو اس لیے دست بستہ عرض ہے کہ یہ ولایت واذن یتیمہ کا صحیح ہوایا نہیں اور عقد ونکاح صحیح ہوسکتاہے یا نہیں اور ایسے عاقد و عقد وہندہ وعقد پڑھانے والوں پر کچھ حد شرع ہوسکتا ہے یا نہیں امیدکہ فی سبیل الله یتیمہ مظلومہ پر رحم فرمایا جائے اور ان سب امور کی بشرط توفیق رفیق تحقیق حقیقی خلاصہ بیان قابل اطمینان جواب باصواب صاف صاف مفصل بعبارت اردو مدلل بدلائل شرعیہ احمدیہ حنفیہ مزین بمہر ودستخط تحریر صحیح عنایت فرماکر ممنون ومشکور فرمایا جائے اور کار خیر وثواب عظیم میں داخل ہوجائیے اور مجھ کو معصیت سے نجات دلائیے۔ بینوا توجروا
الجواب :
حقیقت کا علم الله عزوجل کو ہے۔ اگر یہ بیان واقعی ہے کہ الف اس وقت نابالغہ تھی اور اس کے چچا نے نہ اس وقت اجازت دی نہ اس سے پہلے۔ نہ خبر نکاح سن کر کوئی قول وفعل دلیل اجازت اس سے صادر ہواا ور الف کی رخصت اور چند بار شوہر کے یہاں جانا یہ بھی اس کی بلا اجازت کے ہو اور اس وقت تك اس نے کوئی کلمہ اس نکاح کے رد کا بھی نہیں کہا نہ الف کے ہنوز کوئی اولاد ہوئی تو ان سب شرائط کے ساتھ وہ نکاح الف کے بالغہ ہونے تك چچا کی اجازت پر موقوف تھا اور بعد بلوغ الف خود الف کی اجازت پر موقوف ہوا ا ب اگر یہ بیان واقعی ہے کہ بعد بلوغ الف سے کوئی قول وفعل مثبت اجازت صادر نہ ہو ابلکہ اسے نکاح پر انکار ہے تو ناراضی ظاہرکرتے ہی وہ نکاح کہ موقوف تھا رد ہوگیا الف کو اختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اگر خلوت صحیحہ واقع ہوچکی ہو جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اور اگر خالی جانا آنا ہوا اور ایك مکان میں تنہا تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ہوئے توعدت کی بھی حاجت نہیں اور عاقد اسے اگر اپنے تصرف میں لایا تو شرائط مذکورہ کے ساتھ مرتکب حرام ہوا کہ نکاح موقوف میں قبل اجازت وطی حرام ہے اور وطی کہ الف کی نابالغی میں واقع ہوئی دلیل اجازت نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی اجازت سے ہو عقد پڑھانے والا اگر اس بدنیتی میں شریك تھا تو وہ بھی گناہگار ہے ورنہ عقد موقوف فی نفسہ جرم نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۲ : مرسلہ حاجی ولد میاں صاحب از ضلع گونڈا ریاست بلرام پور بازار چوك ۸صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا زید نے ہندہ سے جوزنا سے حاملہ تھی دیدہ ودانستہ حالت حمل میں نکاح کیا بعد اس کے چند آدمیوں نے مجبور کرکے ایك جلسہ میں تین طلاقیں دلوادیں یہ نکاح اور طلاق جائز ودرست ہوایا نہیں بر تقدیر اول وضع حمل کے بعد جدید نکاح ہوسکتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
حقیقت کا علم الله عزوجل کو ہے۔ اگر یہ بیان واقعی ہے کہ الف اس وقت نابالغہ تھی اور اس کے چچا نے نہ اس وقت اجازت دی نہ اس سے پہلے۔ نہ خبر نکاح سن کر کوئی قول وفعل دلیل اجازت اس سے صادر ہواا ور الف کی رخصت اور چند بار شوہر کے یہاں جانا یہ بھی اس کی بلا اجازت کے ہو اور اس وقت تك اس نے کوئی کلمہ اس نکاح کے رد کا بھی نہیں کہا نہ الف کے ہنوز کوئی اولاد ہوئی تو ان سب شرائط کے ساتھ وہ نکاح الف کے بالغہ ہونے تك چچا کی اجازت پر موقوف تھا اور بعد بلوغ الف خود الف کی اجازت پر موقوف ہوا ا ب اگر یہ بیان واقعی ہے کہ بعد بلوغ الف سے کوئی قول وفعل مثبت اجازت صادر نہ ہو ابلکہ اسے نکاح پر انکار ہے تو ناراضی ظاہرکرتے ہی وہ نکاح کہ موقوف تھا رد ہوگیا الف کو اختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اگر خلوت صحیحہ واقع ہوچکی ہو جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اور اگر خالی جانا آنا ہوا اور ایك مکان میں تنہا تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ہوئے توعدت کی بھی حاجت نہیں اور عاقد اسے اگر اپنے تصرف میں لایا تو شرائط مذکورہ کے ساتھ مرتکب حرام ہوا کہ نکاح موقوف میں قبل اجازت وطی حرام ہے اور وطی کہ الف کی نابالغی میں واقع ہوئی دلیل اجازت نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی اجازت سے ہو عقد پڑھانے والا اگر اس بدنیتی میں شریك تھا تو وہ بھی گناہگار ہے ورنہ عقد موقوف فی نفسہ جرم نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۲ : مرسلہ حاجی ولد میاں صاحب از ضلع گونڈا ریاست بلرام پور بازار چوك ۸صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا زید نے ہندہ سے جوزنا سے حاملہ تھی دیدہ ودانستہ حالت حمل میں نکاح کیا بعد اس کے چند آدمیوں نے مجبور کرکے ایك جلسہ میں تین طلاقیں دلوادیں یہ نکاح اور طلاق جائز ودرست ہوایا نہیں بر تقدیر اول وضع حمل کے بعد جدید نکاح ہوسکتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جو عورت معاذا لله زنا سے حاملہ ہو اس سے نکاح صحیح ہے خواہ اس زانی سے ہو یا اس کے غیر سے فرق اتنا ہے کہ زانی جس کا حمل ہے وہ اس سے قربت بھی کرسکتاہے اور غیر زانی اگر نکاح کرے تو تاوضع حمل قربت نہیں کرسکتا۔
لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ درمختار وصحح نکاح حبلی من زنا تنویر الابصار۔
تاکہ دوسرے کی کھیتی کو اپنے پانی سے سے سیراب نہ کرے۔ درمختار زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے۔ تنویر الابصار (ت)
عدت زن شوہر دارپر ہوتی ہے جب شوہر مرے طلاق دے اور ذات زوج کا حمل زوج ہی کا ٹھہرتا ہے قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : الولد للفراش وللعاھر الحجر (بچے کا نسب نکاح والے کے لیے ہے زانی کو محرومی ہے۔ ت)آیہ کریمہ میں “ اولات الاحمال “ سے یہی مراد ہے صدر کلام خاص صورت طلاق ارشاد ہوئی ہے اور اسی کی تفصیل فرمائی گئی۔
یایها النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوهن لعدتهن و احصوا العدة- ۔
اے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عورتو ں کو طلاق دیتے وقت ان کی عدت کا پا س کر و اور عدت کا شمار کرو۔ (ت)
حدیث مذکورہ بطلان نکاح حبلی من زنا پر ہر گز دلیل نہیں بلکہ اگر دلیل ہے تو صحت نکاح پر کہ فرمایا “ فرق بینھما “ معہذا ممکن ہے کہ وہ تفریق ارشادی ہو یعنی ایسی عورت رکھنے کے قابل نہیں غرض صورت مستفسرہ میں عورت کا نکاح بیشك صحیح تھا اب اگریہ شخص اس سے قربت کرچکا ا س کے بعد طلاق دی یاقربت نہ کی تھی تو ایك لفظ میں تین طلاقیں دیں مثلا یہ کہ تو تین طلاق سے مطلقہ ہے تو ان دو نوں صورتوں میں طلاق مغلظہ ہوگئی اور بغیر حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اور اگر ہنوز قربت نہ کی تھی اور متفرق لفظوں میں تین طلاقیں دیں مثلا تجھ پر طلاق ہے طلاق ہے تو طلاق بائن ہوئی مغلظہ نہ ہوئی بے حلالہ اس سے دوبارہ نکاح کرسکتاہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۳ تا ۱۳۴ : مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگو ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۳ صفر ۱۳۳۵ھ
(۱)یہ کہ بیوگان کا عقد مابین ایام عدت سہوا ہوجائے تو یہ درست ہے کہ نہیں یا بعد گزرجانے ایام مذکورہ
جو عورت معاذا لله زنا سے حاملہ ہو اس سے نکاح صحیح ہے خواہ اس زانی سے ہو یا اس کے غیر سے فرق اتنا ہے کہ زانی جس کا حمل ہے وہ اس سے قربت بھی کرسکتاہے اور غیر زانی اگر نکاح کرے تو تاوضع حمل قربت نہیں کرسکتا۔
لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ درمختار وصحح نکاح حبلی من زنا تنویر الابصار۔
تاکہ دوسرے کی کھیتی کو اپنے پانی سے سے سیراب نہ کرے۔ درمختار زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے۔ تنویر الابصار (ت)
عدت زن شوہر دارپر ہوتی ہے جب شوہر مرے طلاق دے اور ذات زوج کا حمل زوج ہی کا ٹھہرتا ہے قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : الولد للفراش وللعاھر الحجر (بچے کا نسب نکاح والے کے لیے ہے زانی کو محرومی ہے۔ ت)آیہ کریمہ میں “ اولات الاحمال “ سے یہی مراد ہے صدر کلام خاص صورت طلاق ارشاد ہوئی ہے اور اسی کی تفصیل فرمائی گئی۔
یایها النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوهن لعدتهن و احصوا العدة- ۔
اے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عورتو ں کو طلاق دیتے وقت ان کی عدت کا پا س کر و اور عدت کا شمار کرو۔ (ت)
حدیث مذکورہ بطلان نکاح حبلی من زنا پر ہر گز دلیل نہیں بلکہ اگر دلیل ہے تو صحت نکاح پر کہ فرمایا “ فرق بینھما “ معہذا ممکن ہے کہ وہ تفریق ارشادی ہو یعنی ایسی عورت رکھنے کے قابل نہیں غرض صورت مستفسرہ میں عورت کا نکاح بیشك صحیح تھا اب اگریہ شخص اس سے قربت کرچکا ا س کے بعد طلاق دی یاقربت نہ کی تھی تو ایك لفظ میں تین طلاقیں دیں مثلا یہ کہ تو تین طلاق سے مطلقہ ہے تو ان دو نوں صورتوں میں طلاق مغلظہ ہوگئی اور بغیر حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اور اگر ہنوز قربت نہ کی تھی اور متفرق لفظوں میں تین طلاقیں دیں مثلا تجھ پر طلاق ہے طلاق ہے تو طلاق بائن ہوئی مغلظہ نہ ہوئی بے حلالہ اس سے دوبارہ نکاح کرسکتاہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۳ تا ۱۳۴ : مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگو ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۳ صفر ۱۳۳۵ھ
(۱)یہ کہ بیوگان کا عقد مابین ایام عدت سہوا ہوجائے تو یہ درست ہے کہ نہیں یا بعد گزرجانے ایام مذکورہ
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرا لابصار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
درمختار شرح تنویرا لابصار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
صحیح مسلم باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۰
القرآن ۶۵ / ۱
درمختار شرح تنویرا لابصار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
صحیح مسلم باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۰
القرآن ۶۵ / ۱
نکاح کیا جائے توا س میں کسی کی اجازت درکارہوگی عورت خود اپنے اختیار سے نکاح پڑھ سکتی ہے یااس کے رشتہ دار یا کسی اور شخص موجودہ کی اجازت درکار ہوگی
(۲)ایسی عورت جس کا خاوند مرجائے اس کا نکاح اس کے جیٹھ سے ہوسکتاہے یا نہیں اور وہ کیسی حالت میں اور کس وقت کن شرائط پر۔
الجواب :
عدت میں نکاح باطل وحرام محض ہے سہوا ہو خواہ اقصدا رہا بعد عدت اگرعورت نابالغہ ہے تو اجازت ولی مطلقا درکار ہے۔ اور اگر بالغہ ہے تو دو صورتیں ہیں جس سے نکاح کیا چاہتی ہے اگر وہ اس کاکفو ہے یعنی مذہب نسب وچال چلن پیشہ کسی با ت میں ایسا کم نہیں کہ اس سے اس کا نکاح اس کے اولیاء کے لیےباعث ننگ و عار ہو جب تو یہ خود اختیار رکھتی ہے اجازت ولی کی حاجت نہیں اور اگر غیر کفو ہے اور عورت کا کوئی ولی شرعی نہیں جب بھی اپنے نفس کااختیار ہے اور اگرولی شرعی ہے مثلا بیٹا یاباپ یا دادا پردادا کی اولاد کا کوئی مر د بترتیب فرائض تو جب تك وہ پیش ازنکاح اسے غیر کفو جان کر اس نکاح کی اجازت صراحۃ نہ دے گا عورت کے کئے نکاح نہ ہوسکے گا باطل محض ہوگا۔
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان درمختار۔
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا۔ درمختار(ت)
(۲)بعدعدت جیٹھ سے نکاح جائز ہے جبکہ کوئی مانع مثل رضاعت یا مصاہرت یا جمع محارم نہ ہو اور نکاح کی وہی شرطیں ہیں جوابتدائے نکاح میں ہوتی ہیں کوئی نئی شرط نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵ : از بلاسپور سی پی مرسلہ جناب حاجی آدم جی حاجی یعقوب صاحبان ۱ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں اگر جلسہ منگنی میں ایجاب وقبول ہوں تو بھی نکاح ہوگا اور شرط نکاح پائی گئی تو وہی جلسہ جلسہ نکاح ہوگا جیساکہ درمختا ر عــــہ و غایۃ الاوطار میں ہے اور بعض مولوی کہتے ہیں وہ جلسہ جلسہ نکاح نہ ٹھہرے گا
عــــہ : درمختار میں ہے : کذاانا متزوجك اوجئتك خاطبا (یوں ہی اگرکہا میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں یا میں تجھے نکاح کا پیغام دینے آیاہوں۔ ت) غایۃ الاوطار میں ہے : “ اس واسطے نکاح صحیح ہوجائے گاکہ مول چکانا نکاح میں رائج نہیں “ ۱۲(م)
(۲)ایسی عورت جس کا خاوند مرجائے اس کا نکاح اس کے جیٹھ سے ہوسکتاہے یا نہیں اور وہ کیسی حالت میں اور کس وقت کن شرائط پر۔
الجواب :
عدت میں نکاح باطل وحرام محض ہے سہوا ہو خواہ اقصدا رہا بعد عدت اگرعورت نابالغہ ہے تو اجازت ولی مطلقا درکار ہے۔ اور اگر بالغہ ہے تو دو صورتیں ہیں جس سے نکاح کیا چاہتی ہے اگر وہ اس کاکفو ہے یعنی مذہب نسب وچال چلن پیشہ کسی با ت میں ایسا کم نہیں کہ اس سے اس کا نکاح اس کے اولیاء کے لیےباعث ننگ و عار ہو جب تو یہ خود اختیار رکھتی ہے اجازت ولی کی حاجت نہیں اور اگر غیر کفو ہے اور عورت کا کوئی ولی شرعی نہیں جب بھی اپنے نفس کااختیار ہے اور اگرولی شرعی ہے مثلا بیٹا یاباپ یا دادا پردادا کی اولاد کا کوئی مر د بترتیب فرائض تو جب تك وہ پیش ازنکاح اسے غیر کفو جان کر اس نکاح کی اجازت صراحۃ نہ دے گا عورت کے کئے نکاح نہ ہوسکے گا باطل محض ہوگا۔
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان درمختار۔
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا۔ درمختار(ت)
(۲)بعدعدت جیٹھ سے نکاح جائز ہے جبکہ کوئی مانع مثل رضاعت یا مصاہرت یا جمع محارم نہ ہو اور نکاح کی وہی شرطیں ہیں جوابتدائے نکاح میں ہوتی ہیں کوئی نئی شرط نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵ : از بلاسپور سی پی مرسلہ جناب حاجی آدم جی حاجی یعقوب صاحبان ۱ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں اگر جلسہ منگنی میں ایجاب وقبول ہوں تو بھی نکاح ہوگا اور شرط نکاح پائی گئی تو وہی جلسہ جلسہ نکاح ہوگا جیساکہ درمختا ر عــــہ و غایۃ الاوطار میں ہے اور بعض مولوی کہتے ہیں وہ جلسہ جلسہ نکاح نہ ٹھہرے گا
عــــہ : درمختار میں ہے : کذاانا متزوجك اوجئتك خاطبا (یوں ہی اگرکہا میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں یا میں تجھے نکاح کا پیغام دینے آیاہوں۔ ت) غایۃ الاوطار میں ہے : “ اس واسطے نکاح صحیح ہوجائے گاکہ مول چکانا نکاح میں رائج نہیں “ ۱۲(م)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۴
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۴
اورالفاظ ایجاب وقبول وشواہد اس جلسہ منگنی میں غیر معتبرہوگا کون فریق حق پر ہے اور بر تقدیر قول بعض مولوی صاحب اس عبارت عــــہ خلاصہ کے کیا معنی ہوں گے۔
الجواب :
عبارت خلاصہ کو اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں وہ اس امر میں ہے کہ ایجاب اگر نا متعین کے لیے واقع ہوا تو وہ نکاح صحیح نہیں اور متعین کے لیے واقع ہوا تو صحیح۔ اور اس مسئلہ میں حکم یہ ہے کہ ان الفاظ کودیکھا جائے اگر وہ ایجاب قبول کے لیے متعین ہیں تو نکاح ہوجائے گا اگرچہ جلسہ منگنی کا ہو اورا گر خطبہ وعقد میں متردد ہیں تو جلسہ کا اعتبار رہے گا۔ جلسہ منگنی کا ہے تو منگنی ٹھہرائیں گے اور نکاح کاہے تو نکاح۔ درمختارمیں ہے :
وکذا ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یوں ہی کہا “ کیا تونے اپنی لڑکی مجھے دی “ نکاح کی مجلس میں نکاح اور وعدہ کی مجلس میں وعدہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۳۶ : مرسلہ محمد اقبال و نور محمد صاحبان امام مسجد تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ۹ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اللہ تعالی مفصلہ ذیل میں ایك لڑکے کی ایك جگہ منگنی ہوئی تھی نکاح سے پیشتر کچھ عرصہ کے بعد لڑکے اورلڑکی کے والدین کے درمیان کسی خانگی امر کی وجہ سے ناموافقت پیدا ہوگئی جس سے لڑکی والے نکاح دینے سے منکر ہوگئے لڑکے کے والد نے کسی طرح لڑکی کو ورغلا کر چوری بوقت رات لڑکی کو میکے سے
عــــہ : عبارت خلاصہ کی یہ ہے :
ابوالصغیر اذا قال زوجت بنتی فلانۃ من ابن فلان بکذا وقال فلان قبلت لابنی ولم یسم الابن ان کان لہ ابنان اواکثر لایجوز وان کان لہ ابن واحد صح (م)
نابالغہ کے باپ نے جب کہا میں نے اپنی بیٹی فلانی فلاں کے بیٹے کو اتنے مہر میں دی اس کے جوا ب میں دوسرے نے کہا میں نے اپنے بیٹے کے لیے قبول کی اور بیٹے کانام ذکر نہ کیا تو اگر اسکے بیٹے زیادہ ہوں تو نکاح نہ ہوگا اور اگر ایك ہی بیٹا ہو تو نکاح صحیح ہوگا ۱۲(ت)
الجواب :
عبارت خلاصہ کو اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں وہ اس امر میں ہے کہ ایجاب اگر نا متعین کے لیے واقع ہوا تو وہ نکاح صحیح نہیں اور متعین کے لیے واقع ہوا تو صحیح۔ اور اس مسئلہ میں حکم یہ ہے کہ ان الفاظ کودیکھا جائے اگر وہ ایجاب قبول کے لیے متعین ہیں تو نکاح ہوجائے گا اگرچہ جلسہ منگنی کا ہو اورا گر خطبہ وعقد میں متردد ہیں تو جلسہ کا اعتبار رہے گا۔ جلسہ منگنی کا ہے تو منگنی ٹھہرائیں گے اور نکاح کاہے تو نکاح۔ درمختارمیں ہے :
وکذا ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یوں ہی کہا “ کیا تونے اپنی لڑکی مجھے دی “ نکاح کی مجلس میں نکاح اور وعدہ کی مجلس میں وعدہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۳۶ : مرسلہ محمد اقبال و نور محمد صاحبان امام مسجد تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ۹ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اللہ تعالی مفصلہ ذیل میں ایك لڑکے کی ایك جگہ منگنی ہوئی تھی نکاح سے پیشتر کچھ عرصہ کے بعد لڑکے اورلڑکی کے والدین کے درمیان کسی خانگی امر کی وجہ سے ناموافقت پیدا ہوگئی جس سے لڑکی والے نکاح دینے سے منکر ہوگئے لڑکے کے والد نے کسی طرح لڑکی کو ورغلا کر چوری بوقت رات لڑکی کو میکے سے
عــــہ : عبارت خلاصہ کی یہ ہے :
ابوالصغیر اذا قال زوجت بنتی فلانۃ من ابن فلان بکذا وقال فلان قبلت لابنی ولم یسم الابن ان کان لہ ابنان اواکثر لایجوز وان کان لہ ابن واحد صح (م)
نابالغہ کے باپ نے جب کہا میں نے اپنی بیٹی فلانی فلاں کے بیٹے کو اتنے مہر میں دی اس کے جوا ب میں دوسرے نے کہا میں نے اپنے بیٹے کے لیے قبول کی اور بیٹے کانام ذکر نہ کیا تو اگر اسکے بیٹے زیادہ ہوں تو نکاح نہ ہوگا اور اگر ایك ہی بیٹا ہو تو نکاح صحیح ہوگا ۱۲(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۵
نکال لیا اور فرار کرکے لے آیا۔ لڑکی چونکہ بالغ ہے اس نے خود بخود شہر گوجرانوالے جاکر باوجود لڑکی کے والدین کی نارضامند ی اور عدم موجودگی کے اپنے لڑکے سے نکاح کرالیا اس سے طرفین میں بہت سافساد برپا ہوگیا جس کی نوبت کچہری تك پہنچی یہ امر دینی مصلحت کے برخلاف ہوتاہے۔ امید ہوسکتی ہے کہ ایسی دست درازی آئندہ بھی ایسی کارروائیوں اور فتنوں کی بانی ہو جس کا انسداد واجب امر ہے۔ کیا ایسے رخنہ انداز آدمیوں کے لیے شریعت میں کوئی سزا مقرر ہے مفصل حال سے آگاہی فرمائیں۔ فقط۔
الجواب :
بلا شبہ ایسے لوگ مفسد وفتنہ پرداز اورآبرو ریز فتنہ انگیز مستحق عذاب شدید و وبال مدید ہیں معاذالله اگرایسی جرأتیں روا رکھی جائیں تو ننگ وناموس کوبہت صدمہ پہنچے گا کم سے کم اس میں شناعت یہ ہے کہ بلاوجہ شرعی ایذا ء مسلم ہے۔ اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذا دی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی۔
یہ نکاح جس سے ہوا اگر وہ عورت کا کفو نہیں یعنی مذہب یانسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہے جب تویہ نکاح کہ زن بالغہ نے بے رضائے ولی خود کیا سرے سے ہوا ہی نہیں باطل محض ہے درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفوبعدم جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان ۔
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)
اور اگر کفو ہے تووالدین کو ناراض کرکے عورت کا بطور خود نکاح کرلینا خصوصا وہ بھی اس طورپر جا کر عور ت کے لیے سخت محرومی وناراضی الہی کا باعث ہے۔ اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك تو اب بھی نکاح نہ ہوا کہ ان کے نزدیك بغیر ولی کے نکاح باطل ہے۔ یہ کیا تھوڑی شناعت ہے کہ ایك امام بر حق کے نزدیك عورت بے نکاح ہے۔ والله تعالی اعلم
الجواب :
بلا شبہ ایسے لوگ مفسد وفتنہ پرداز اورآبرو ریز فتنہ انگیز مستحق عذاب شدید و وبال مدید ہیں معاذالله اگرایسی جرأتیں روا رکھی جائیں تو ننگ وناموس کوبہت صدمہ پہنچے گا کم سے کم اس میں شناعت یہ ہے کہ بلاوجہ شرعی ایذا ء مسلم ہے۔ اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذا دی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی۔
یہ نکاح جس سے ہوا اگر وہ عورت کا کفو نہیں یعنی مذہب یانسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہے جب تویہ نکاح کہ زن بالغہ نے بے رضائے ولی خود کیا سرے سے ہوا ہی نہیں باطل محض ہے درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفوبعدم جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان ۔
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)
اور اگر کفو ہے تووالدین کو ناراض کرکے عورت کا بطور خود نکاح کرلینا خصوصا وہ بھی اس طورپر جا کر عور ت کے لیے سخت محرومی وناراضی الہی کا باعث ہے۔ اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك تو اب بھی نکاح نہ ہوا کہ ان کے نزدیك بغیر ولی کے نکاح باطل ہے۔ یہ کیا تھوڑی شناعت ہے کہ ایك امام بر حق کے نزدیك عورت بے نکاح ہے۔ والله تعالی اعلم
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ / ۳۷۳
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
مسئلہ ۱۳۷ : بریلی خوجی محلہ مرسلہ عظیم الله صاحب ۴ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ بجبر کرایا گیا حالانکہ زید کی منشاء ہر گز نہ تھی جس کے چند شاہد موجود ہیں بوقت ایجاب قبول کرنے کے زید نے “ ہوں “ مثل عورات کے کہا اور رخصت نہ ہونے پائی کہ زید اپنے مکان کو چلا گیا اور اس سے قبل بھی تاریخ مقرر پر زید اپنے گھر سے فرار ہوگیا تھا تو اس صورت میں نکاح زید کا ہندہ کے ساتھ ہوا یا نہیں مہر سے مزین فرمایا جائے۔
الجواب :
نکاح ہوگیا اگرچہ قبول میں صرف “ ہوں “ جبرا کہا ہو
فان الا کراہ ان تحقق لم یعمل فیما یستوی فیہ الجد والھزل کالنکاح والطلاق والعتاق فکیف مالیس باکراہ۔
جبر واکراہ اگر پایا گیا تو ان امور میں موثر(عذر)نہیں بنے گا جن میں قصد ومذاق مساوی ہے مثلا نکاح طلاق اور عتاق اور اگر ان امور میں جبر نہ ہو پھر کیا کہا جائے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۸ : محمد رحیم بخش عبدالحمید صاحبان ازقصبہ فتر انگر ضلع گوڑگانوہ ۱۱ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جبکہ بے ریش تھا اس کی نسبت(یعنی سگائی)ہندہ سے ہوئی تھی اور زید ہندہ کے مکان پر کسی وجہ سے رہتا تھا یا پرانی رشتتہ داری کی وجہ سے رہتا تھا۔ ہندہ کی پھوپھی نے ہندہ کو گود لیا ہوا تھا یعنی ہندہ کی پھوپھی لاولد یابانجھ تھی ہندہ کے گھر میں سوائے ہندہ کے پردہ نہیں کرتا تھا ہندہ کی پھوپھی نے زید کے ساتھ اس قدر محبت بڑھائی جوکہ شفقت مادری سے زیادہ تر نظر آتی تھی آخر کار زیدسے سوال ہم بستری کا کیا چونکہ اس زمانے میں زید بالکل بے خبر تھا یعنی خدا و رسول اور نماز و روزہ سے بالکل بے خبر تھا۔ غرض دونوں کے باہم ناجائز دوستی کئی سال تك رہی یہاں تك کہ زید اور ہندہ کے والدین نے شادی کردی چونکہ میاں بیوی میں کمال درجہ الفت اور محبت ہوئی اور ہندہ کی پھوپھی سے کچھ تعلق نہ رہا۔ اب چونکہ شادی کو تقریبا اٹھارہ سال گزرگئے اور تین بچے بھی ہوگئے۔ آج تك زید کو اس بات کا خیال تك نہ آیا اب زید ایك بزرگ سے شرف بیعت ہوکرخدا اور رسول کی اطاعت میں کمربستہ ہے اور اسی طرح ہندہ بھی پابند شرع ہے اور وہ بھی شرف بیعت ہو چکی ہے باوجود زید کو ہمیشہ کتب احادیث وفقہ سے کام رہتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تك اسکی نظر سے نہیں گزرا اور نہ کسی سے ذکر سنا نہ اس بات کا خیال تھا اب زید کہتا ہے کہ اکسیر ہدایت کا مطالعہ کر رہاتھا اس میں باب النکاح پر نظر پڑی اس میں یہ عبارت لکھی پائی کہ پھوپھی بھتیجی یك جانکاح میں حرام ہیں جب سے زید نے یہ عبارت پڑھی دیوانہ اور پاگل سا ہوگیا ہے کیونکہ نہ عورت یعنی بیوی کو چھوڑنے کا یاراہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ بجبر کرایا گیا حالانکہ زید کی منشاء ہر گز نہ تھی جس کے چند شاہد موجود ہیں بوقت ایجاب قبول کرنے کے زید نے “ ہوں “ مثل عورات کے کہا اور رخصت نہ ہونے پائی کہ زید اپنے مکان کو چلا گیا اور اس سے قبل بھی تاریخ مقرر پر زید اپنے گھر سے فرار ہوگیا تھا تو اس صورت میں نکاح زید کا ہندہ کے ساتھ ہوا یا نہیں مہر سے مزین فرمایا جائے۔
الجواب :
نکاح ہوگیا اگرچہ قبول میں صرف “ ہوں “ جبرا کہا ہو
فان الا کراہ ان تحقق لم یعمل فیما یستوی فیہ الجد والھزل کالنکاح والطلاق والعتاق فکیف مالیس باکراہ۔
جبر واکراہ اگر پایا گیا تو ان امور میں موثر(عذر)نہیں بنے گا جن میں قصد ومذاق مساوی ہے مثلا نکاح طلاق اور عتاق اور اگر ان امور میں جبر نہ ہو پھر کیا کہا جائے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۸ : محمد رحیم بخش عبدالحمید صاحبان ازقصبہ فتر انگر ضلع گوڑگانوہ ۱۱ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جبکہ بے ریش تھا اس کی نسبت(یعنی سگائی)ہندہ سے ہوئی تھی اور زید ہندہ کے مکان پر کسی وجہ سے رہتا تھا یا پرانی رشتتہ داری کی وجہ سے رہتا تھا۔ ہندہ کی پھوپھی نے ہندہ کو گود لیا ہوا تھا یعنی ہندہ کی پھوپھی لاولد یابانجھ تھی ہندہ کے گھر میں سوائے ہندہ کے پردہ نہیں کرتا تھا ہندہ کی پھوپھی نے زید کے ساتھ اس قدر محبت بڑھائی جوکہ شفقت مادری سے زیادہ تر نظر آتی تھی آخر کار زیدسے سوال ہم بستری کا کیا چونکہ اس زمانے میں زید بالکل بے خبر تھا یعنی خدا و رسول اور نماز و روزہ سے بالکل بے خبر تھا۔ غرض دونوں کے باہم ناجائز دوستی کئی سال تك رہی یہاں تك کہ زید اور ہندہ کے والدین نے شادی کردی چونکہ میاں بیوی میں کمال درجہ الفت اور محبت ہوئی اور ہندہ کی پھوپھی سے کچھ تعلق نہ رہا۔ اب چونکہ شادی کو تقریبا اٹھارہ سال گزرگئے اور تین بچے بھی ہوگئے۔ آج تك زید کو اس بات کا خیال تك نہ آیا اب زید ایك بزرگ سے شرف بیعت ہوکرخدا اور رسول کی اطاعت میں کمربستہ ہے اور اسی طرح ہندہ بھی پابند شرع ہے اور وہ بھی شرف بیعت ہو چکی ہے باوجود زید کو ہمیشہ کتب احادیث وفقہ سے کام رہتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تك اسکی نظر سے نہیں گزرا اور نہ کسی سے ذکر سنا نہ اس بات کا خیال تھا اب زید کہتا ہے کہ اکسیر ہدایت کا مطالعہ کر رہاتھا اس میں باب النکاح پر نظر پڑی اس میں یہ عبارت لکھی پائی کہ پھوپھی بھتیجی یك جانکاح میں حرام ہیں جب سے زید نے یہ عبارت پڑھی دیوانہ اور پاگل سا ہوگیا ہے کیونکہ نہ عورت یعنی بیوی کو چھوڑنے کا یاراہے۔
اور نہ خدا ورسول کے حکم کے برخلاف ہوکر رہنے کی طاقت ہے اگراس کو چھوڑ نا چاہتا ہے یا طلاق دینا چاہے تو اس کے والدین یہ دریافت کریں گے کہ ہماری لڑکی کی کیا خطا ہے۔ اور جدائی بھی نہایت شاق گزرے گی مبادا کوئی اور آفت پیدا ہو زیدکی بدکرداریوں کی آج تك کسی کو خبر نہ ہوئی اب یہ رسوائی کیونکر لی جاوے اب تمام کیفیت زید و ہندہ کی آنجناب میں ظاہر کردی ا مید وارہوں کہ آپ حکم شریعت سے بلا کسی لحاظ ومروت کے حکم فرماویں اور اگر اس گناہ کا کفارہ ہوسکتا ہے تو وہ بھی بتلایا جائے۔ اوراگر زید وہندہ میں جدائی کرانے کا حکم ہو تو تین لڑکیاں جو پیدا ہوچکی ہیں ان کوکیا کیا جاوے اور مہر ہندہ کا مبلغ ما ہ بندھا وہ ادا کرنا ہوگایا نہیں حالانکہ ہندہ نے شب عروس کو اپنا مہر معاف کردیا تھا۔
الجواب :
و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیات ۔
الله ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمین جو گناہ ہواس سے توبہ کرے استغفار کرے باقی جو توہمات دربارہ منکوحہ پیش آئے محض بے معنی ہیں کسی عورت سے زنا کرنا اس کی بھتیجی بھانجی کو حرام نہیں کرتا نہ ان کے نکاح میں کوئی خلل آتا ہے۔ خلاصہ ودرمختار وغیرھما میں ہے :
وطی اخت امرأتہ لاتحرم علی امرأتہ ۔
سالی سے زنا کرنے کی وجہ سے بیوی حرام نہیں ہوگی۔ (ت)
اکسیر ہدایت میں جولکھا اس کا مطلب ہے کہ پھوپھی بھتیجی دونوں ایك شخص کے نکاح میں ہونا یہ حرام ہے مثلا بھتیجی نکاح میں ہے تو جب تك وہ نکاح میں رہے یا اگر اسے طلاق دے دے تو طلاق کی عدت جب تك نہ گزرے اس وقت تك اس کی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۹ : مرسلہ سید عبدالله صاحب ڈاکخانہ پچھم گاؤں پڑہ بنگال ۱۵ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مرد گواہ کے مقابل بالغہ نو مسلمان عورت کو نکاح کیا تو درست ہے یا نہیں ازروئے مہربانی جواب عنایت فرماکر عندالله ماجور وعندالناس مشکور ہوویں اور مجھ کو سرفراز فرماویں۔
الجواب :
نکاح کے لیے دومردوں یا ایك مرد دو عورتیں گواہ ہونالازم ہے۔ صرف ایك مرد کے سامنے ایجاب و
الجواب :
و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیات ۔
الله ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔
والحمد ﷲ رب العلمین جو گناہ ہواس سے توبہ کرے استغفار کرے باقی جو توہمات دربارہ منکوحہ پیش آئے محض بے معنی ہیں کسی عورت سے زنا کرنا اس کی بھتیجی بھانجی کو حرام نہیں کرتا نہ ان کے نکاح میں کوئی خلل آتا ہے۔ خلاصہ ودرمختار وغیرھما میں ہے :
وطی اخت امرأتہ لاتحرم علی امرأتہ ۔
سالی سے زنا کرنے کی وجہ سے بیوی حرام نہیں ہوگی۔ (ت)
اکسیر ہدایت میں جولکھا اس کا مطلب ہے کہ پھوپھی بھتیجی دونوں ایك شخص کے نکاح میں ہونا یہ حرام ہے مثلا بھتیجی نکاح میں ہے تو جب تك وہ نکاح میں رہے یا اگر اسے طلاق دے دے تو طلاق کی عدت جب تك نہ گزرے اس وقت تك اس کی پھوپھی سے نکاح حرام ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۹ : مرسلہ سید عبدالله صاحب ڈاکخانہ پچھم گاؤں پڑہ بنگال ۱۵ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مرد گواہ کے مقابل بالغہ نو مسلمان عورت کو نکاح کیا تو درست ہے یا نہیں ازروئے مہربانی جواب عنایت فرماکر عندالله ماجور وعندالناس مشکور ہوویں اور مجھ کو سرفراز فرماویں۔
الجواب :
نکاح کے لیے دومردوں یا ایك مرد دو عورتیں گواہ ہونالازم ہے۔ صرف ایك مرد کے سامنے ایجاب و
حوالہ / References
القرآن ۴۲ / ۲۵
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مجتائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مجتائی دہلی ۱ / ۱۸۸
قبول کرلینے سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ وھو تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۰ : مسئولہ ببراکلو از موضع کرن پورہ ڈاکخانہ سیوان ڈویژن ضلع سارن چھپرا ۱۵ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں
image
شادی گولاوٹ یعنی بدلین شرط پر میاں سجاد مذکور نے اپنا نکاح مسماۃ زیتون مذکور دختر غنی خاں سے کیا اور سجاد مذکور اپنے ہمشیرہ مسماۃ مولودن کا نکاح ساتھ غفار پسر غنی خاں سے کیا اور تاریخ شادی روانگی وآمد وبارات کابعدنکاح مذکورین کے تاریخ دوسرا مقرر تھا کہ اس درمیان میں جب تین روز سجا د کے کہنے سے بارات جانے کو باقی تھے تب ہی مسماۃ زیتون اپنے باپ کے گھر سے باہر نکل گئی تب بعدہ غفارمذکور کی بارات بھی سجاد کے نہیں آئی۔ اب درمیان اس گھرانے اور اس گھرانے کے تکرار رنجارنجی تطویل کلامی پیش ہوگیا سجا د کا مقولہ ہے کہ جب زیتون میرے گھر میں نہیں آئی تھی تب الحال بوجہ نقص شرط نکاح بد لین کے رہی اس خاندان کی بدچلنی وغیر ہ ظاہر ہوجانے سے ہرگز ہم اپنی ہمشیرہ مولودن کواس خاندان میں نہیں جانے دیا نہ اب آنے دیں گے اورنکاح مذکورین بوجہ شرط شکنی وعہد شکنی کے باطل ہوگیا خدانخواستہ مسماۃ مولودن کی جان کوکوئی نقصان پہنچ جاوے تو عجب نہیں ہے۔ عرض ہے صاف صاف فتوی اس کاحضور ارقام فرماویں والسلام سجاد میاں برادر مولودن ہمشیرہ ان لوگ کے والدین فوت کرگئے
الجواب :
نکاح میں کوئی شرط بدل کی نہ تھی اور ہوتی بھی تو نکاح شرط فاسد سے فاسد نہ ہوتا اور یہ بھی نہ سہی توشرط نکاح زیتون تھا وہ ہوگیا بہرحال مولودن غفار خاں کی منکوحہ ہے اور سجاد کو اس کے روکنے کا کوئی حق نہیں سجاد اپنی منکوحہ زیتون کو تلاش کرکے اپنے قبضہ میں رکھے اورنہ رکھنا چاہے تو طلاق دے مولودن کے نکاح پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۱ : از بدایوں مولوی محلہ کونچہ مولوی انوار حسین صدر اعلی مکان بخش والا مرسلہ حبیب الله صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۵ھ
مسماۃ ہندہ دختر مسماۃ خالدہ بیوہ ہے۔ اس کے دو بچے نابالغ ہیں زید پدر شوہر متوفی ہندہ کا
مسئلہ ۱۴۰ : مسئولہ ببراکلو از موضع کرن پورہ ڈاکخانہ سیوان ڈویژن ضلع سارن چھپرا ۱۵ شعبان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں
image
شادی گولاوٹ یعنی بدلین شرط پر میاں سجاد مذکور نے اپنا نکاح مسماۃ زیتون مذکور دختر غنی خاں سے کیا اور سجاد مذکور اپنے ہمشیرہ مسماۃ مولودن کا نکاح ساتھ غفار پسر غنی خاں سے کیا اور تاریخ شادی روانگی وآمد وبارات کابعدنکاح مذکورین کے تاریخ دوسرا مقرر تھا کہ اس درمیان میں جب تین روز سجا د کے کہنے سے بارات جانے کو باقی تھے تب ہی مسماۃ زیتون اپنے باپ کے گھر سے باہر نکل گئی تب بعدہ غفارمذکور کی بارات بھی سجاد کے نہیں آئی۔ اب درمیان اس گھرانے اور اس گھرانے کے تکرار رنجارنجی تطویل کلامی پیش ہوگیا سجا د کا مقولہ ہے کہ جب زیتون میرے گھر میں نہیں آئی تھی تب الحال بوجہ نقص شرط نکاح بد لین کے رہی اس خاندان کی بدچلنی وغیر ہ ظاہر ہوجانے سے ہرگز ہم اپنی ہمشیرہ مولودن کواس خاندان میں نہیں جانے دیا نہ اب آنے دیں گے اورنکاح مذکورین بوجہ شرط شکنی وعہد شکنی کے باطل ہوگیا خدانخواستہ مسماۃ مولودن کی جان کوکوئی نقصان پہنچ جاوے تو عجب نہیں ہے۔ عرض ہے صاف صاف فتوی اس کاحضور ارقام فرماویں والسلام سجاد میاں برادر مولودن ہمشیرہ ان لوگ کے والدین فوت کرگئے
الجواب :
نکاح میں کوئی شرط بدل کی نہ تھی اور ہوتی بھی تو نکاح شرط فاسد سے فاسد نہ ہوتا اور یہ بھی نہ سہی توشرط نکاح زیتون تھا وہ ہوگیا بہرحال مولودن غفار خاں کی منکوحہ ہے اور سجاد کو اس کے روکنے کا کوئی حق نہیں سجاد اپنی منکوحہ زیتون کو تلاش کرکے اپنے قبضہ میں رکھے اورنہ رکھنا چاہے تو طلاق دے مولودن کے نکاح پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۱ : از بدایوں مولوی محلہ کونچہ مولوی انوار حسین صدر اعلی مکان بخش والا مرسلہ حبیب الله صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۵ھ
مسماۃ ہندہ دختر مسماۃ خالدہ بیوہ ہے۔ اس کے دو بچے نابالغ ہیں زید پدر شوہر متوفی ہندہ کا
بچوں کو کھانے کو دیتا ہے مگر غیر کافی ہندہ و خالدہ اپنی محنت کرکے بشمول زید بسرکرتے ہیں زید چاہتا ہے کہ ہندہ اس کے دوسرے لڑکے سے جس کی بیوی واولاد موجود ہے عقدنکاح باندھنے پر رضامند ہوجائے مگر ہندہ وخالدہ رضامند نہیں دیگر اعزائے ہند ہ عقد ثانی کو براخیال کرتے ہیں۔ اور اگر ہندہ کی جوانی پر خیال کرکے رائے عقد کی دیتے ہیں توایسے شخص سے جس سے ہندہ وخالدہ کو اطمینان ہوتاہے اب خالدہ ایك شخص ثالث سے جس سے ہندہ بھی رضامند ہے اور ایك جگہ رہتے ہیں اس طرح عقدکرنا چاہتی ہے کہ دو ایك شخص عزیزتیسرے آدمی جس سے عقد کرنا چاہتی ہے واقف ہوں اور خود واقف ہو تا کہ ہندہ برے خیال وافعال سے بچی رہے اور اولاد کی بابت نزاع پیدا نہ ہو تو اس طرح عقد ہوسکتا ہے یا نہیں بخیال مزید احتیاط شخص ثالث جس سے عقد نکاح پر رضامند ہے ہندہ کو خطبہ نکاح پڑھ کر ایجاب وقبول ہندہ سے کراسکتا ہے یا عقد نکاح باندھنے کے واسطے شخص غیر کی ضرورت ہے
الجواب :
نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے شخص کی حاجت نہیں صرف مردوزن ہوں اور ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ مسلم کہ معا دونوں مرد و زن کاایجاب وقبول سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہور ہا ہے۔ مگر ہندہ اگر ولی نہیں رکھتی یعنی دادا پر دادا کی اولاد میں کوئی مرد عاقل بالغ جب تو اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ ورنہ اگریہ شخص جس سے نکاح کیا چاہتا ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ اس سے نکاح ہو ناولی ہندہ کے لیے باعث ننگ و عار ہوجب بھی ہندہ مختار ہے۔ اور اگر کفو نہیں تو جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر صراحۃ اجازت نکاح نہ دے گانکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ ہزار اعلان کیا جائے علیہ الفتوی درمختار وغیرہ(فتوی اسی پر ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۲ : از بہاری پور بریلی مسئولہ جناب مولوی نواب سلطان احمدخاں صاحب مورخہ ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۳۵ھ
عرض درخدمت والیان شریعت محمدی وحامیاں دین متین احمدی علمائے مقلدین مذہب حنفی یہ ہے کہ ایك شخص میرا مام الدین نامی اپنی دختر عاقلہ بالغہ کا نکاح عبدالقدوس نامی کے ساتھ کردیا نکاح کا ایجاب وقبول ایك لئیق شخص نے کرایا۔ بستی کے سب لوگ حاضر تھے مگر قاضی صاحب جلسہ میں موجود نہ تھے تو یہ نکاح جو غیر قاضی سے پڑھایا جائز ہوا یا نہیں اور ان دونوں قاضیوں کو کیا اختیارات ہیں اور اگر کسی شخص نے کسی خاص وجہ سے قاضی کو شادی میں دعوت نہیں دی تو اس پر کیا الزام آتا ہے اور قاضی کا حق نکاح خوانی اس کو دینا چاہئے یا نہیں جبکہ قاضی سے پڑھوایا بینوا بیانا وافیااجر کم الله اجرا کافیا۔
الجواب :
قاضی کوئی شرط نکاح نہیں آدمی جس سے چاہے پڑھوائے چاہے مرد وزن دوگواہوں کے سامنے
الجواب :
نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے شخص کی حاجت نہیں صرف مردوزن ہوں اور ایك مرد دوعورتیں عاقل بالغ مسلم کہ معا دونوں مرد و زن کاایجاب وقبول سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہور ہا ہے۔ مگر ہندہ اگر ولی نہیں رکھتی یعنی دادا پر دادا کی اولاد میں کوئی مرد عاقل بالغ جب تو اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ ورنہ اگریہ شخص جس سے نکاح کیا چاہتا ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے کسی بات میں ایسا کم نہیں کہ اس سے نکاح ہو ناولی ہندہ کے لیے باعث ننگ و عار ہوجب بھی ہندہ مختار ہے۔ اور اگر کفو نہیں تو جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر صراحۃ اجازت نکاح نہ دے گانکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ ہزار اعلان کیا جائے علیہ الفتوی درمختار وغیرہ(فتوی اسی پر ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۲ : از بہاری پور بریلی مسئولہ جناب مولوی نواب سلطان احمدخاں صاحب مورخہ ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۳۵ھ
عرض درخدمت والیان شریعت محمدی وحامیاں دین متین احمدی علمائے مقلدین مذہب حنفی یہ ہے کہ ایك شخص میرا مام الدین نامی اپنی دختر عاقلہ بالغہ کا نکاح عبدالقدوس نامی کے ساتھ کردیا نکاح کا ایجاب وقبول ایك لئیق شخص نے کرایا۔ بستی کے سب لوگ حاضر تھے مگر قاضی صاحب جلسہ میں موجود نہ تھے تو یہ نکاح جو غیر قاضی سے پڑھایا جائز ہوا یا نہیں اور ان دونوں قاضیوں کو کیا اختیارات ہیں اور اگر کسی شخص نے کسی خاص وجہ سے قاضی کو شادی میں دعوت نہیں دی تو اس پر کیا الزام آتا ہے اور قاضی کا حق نکاح خوانی اس کو دینا چاہئے یا نہیں جبکہ قاضی سے پڑھوایا بینوا بیانا وافیااجر کم الله اجرا کافیا۔
الجواب :
قاضی کوئی شرط نکاح نہیں آدمی جس سے چاہے پڑھوائے چاہے مرد وزن دوگواہوں کے سامنے
خود ایجاب وقبول کرلیں اس نام کے قاضی کے لیے شرعا کچھ اختیارات نہیں نہ وہ اجرت کا مستحق جبکہ نکاح دوسرے نے پڑھایا نہ قاضی کو دعوت نہ دینے میں کوئی الزام یہ نکاح خوانی کے قاضی اسمآء سمیتموها انتم و ابآؤكم ما نزل الله بها من سلطن- (یہ اپنے بنائے نام ہیں شرعی طور ان پر کوئی دلیل نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۳ : از بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ حکیم ریاض الدین صاحب رضوی ۲۳ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت بیوہ جو کہ ا س کے چھوٹے بھائی کی زوجہ تھی اس سے نکاح کیا اور اب اس کے ساتھ میں ایك دختر نابالغ تھی اس دخترکانکاح اس کے سوتیلے باپ جو اس کا پہلے تایا تھا اس نےاپنی ولایت سے نابالغہ کا نکاح ایك لڑکے کے ساتھ کردیا لیکن لڑکی نکاح سے تاہنوز اپنے شوہر کے یہاں نہیں گئی اب ناکحین بالغ ہوئے تو ناکح اپنی منکوحہ کو اپنے گھر بلاتا ہے اورمنکوحہ اس کے گھر جانے سے انکار کررہی ہے اور کہتی ہے کہ تیرا چال چلن ٹھیك نہیں ہے میں تجھ سے نکاح توڑ دوں گی تو اس صورت میں لڑکی اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا لڑکے کو مجاز ہے کہ زبردستی اسے لے جائے اور ولایت ا س کے سوتیلے باپ کی درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
سوتیلا باپ ہونا توکوئی وجہ ولایت نہیں۔ ہاں چچا ہونا سبب ولایت ہے۔ اگر اس سے مقدم اور کوئی ولی نہ تھا اوریہ لڑکا جس سے اس نے ا س لڑکی کا نکاح کیا مذہب نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایساکم نہ تھا کہ اس سے اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو تونکاح ہوگیا مگرا س لڑکی کو اختیار تھا کہ بالغہ ہوتے ہی فورا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے جب تو اسے فسخ کرنے کا اختیار ہے اور اگر ذرا دیر لگائی تو اب نکاح لازم ہوگیا اختیار فسخ نہ رہا اور اگر وقت نکاح ہی اس لڑکے میں امور مذکورہ میں کوئی کمی تھی جس کے سبب اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو جب نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت! والله تعالی اعلم
مسئلہ۱۴۴ تا ۱۴۷ : از دلیل گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ منشی محب الله صاحب ضلعدار پنشنر ۲۳ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
وقت نکاح جو ایجاب وقبول کرائے جاتے ہیں ا س میں اکثر اشخاص ایك دوسرے کے خلاف اعتراض کرتے ہیں۔
(۱)زید کی لڑکی کہ نام ا س کا تم کو معلوم ہے اور بالفعل اس نام کی کوئی لڑکی اس گھرمیں موجود نہیں ہے بعوض مہر شرعی ا س قدر روپے اور اس قدر دینار سرخ سلطانی سکہ رائج الوقت سوائے نان نفقہ کے بیچ نکاح
مسئلہ ۱۴۳ : از بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ حکیم ریاض الدین صاحب رضوی ۲۳ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت بیوہ جو کہ ا س کے چھوٹے بھائی کی زوجہ تھی اس سے نکاح کیا اور اب اس کے ساتھ میں ایك دختر نابالغ تھی اس دخترکانکاح اس کے سوتیلے باپ جو اس کا پہلے تایا تھا اس نےاپنی ولایت سے نابالغہ کا نکاح ایك لڑکے کے ساتھ کردیا لیکن لڑکی نکاح سے تاہنوز اپنے شوہر کے یہاں نہیں گئی اب ناکحین بالغ ہوئے تو ناکح اپنی منکوحہ کو اپنے گھر بلاتا ہے اورمنکوحہ اس کے گھر جانے سے انکار کررہی ہے اور کہتی ہے کہ تیرا چال چلن ٹھیك نہیں ہے میں تجھ سے نکاح توڑ دوں گی تو اس صورت میں لڑکی اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا لڑکے کو مجاز ہے کہ زبردستی اسے لے جائے اور ولایت ا س کے سوتیلے باپ کی درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
سوتیلا باپ ہونا توکوئی وجہ ولایت نہیں۔ ہاں چچا ہونا سبب ولایت ہے۔ اگر اس سے مقدم اور کوئی ولی نہ تھا اوریہ لڑکا جس سے اس نے ا س لڑکی کا نکاح کیا مذہب نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایساکم نہ تھا کہ اس سے اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو تونکاح ہوگیا مگرا س لڑکی کو اختیار تھا کہ بالغہ ہوتے ہی فورا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے جب تو اسے فسخ کرنے کا اختیار ہے اور اگر ذرا دیر لگائی تو اب نکاح لازم ہوگیا اختیار فسخ نہ رہا اور اگر وقت نکاح ہی اس لڑکے میں امور مذکورہ میں کوئی کمی تھی جس کے سبب اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو جب نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت! والله تعالی اعلم
مسئلہ۱۴۴ تا ۱۴۷ : از دلیل گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ منشی محب الله صاحب ضلعدار پنشنر ۲۳ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
وقت نکاح جو ایجاب وقبول کرائے جاتے ہیں ا س میں اکثر اشخاص ایك دوسرے کے خلاف اعتراض کرتے ہیں۔
(۱)زید کی لڑکی کہ نام ا س کا تم کو معلوم ہے اور بالفعل اس نام کی کوئی لڑکی اس گھرمیں موجود نہیں ہے بعوض مہر شرعی ا س قدر روپے اور اس قدر دینار سرخ سلطانی سکہ رائج الوقت سوائے نان نفقہ کے بیچ نکاح
حوالہ / References
القرآن ۷ / ۷۱
تمھارے کے آئی اور دی میں نے قبول کی تم نے۔
(۲)باقی عبارت سب وہی ہے صرف بجائے لفظ “ سوائے “ کے علاوہ استعمال کرتے ہیں۔
(۳)میں سب عبارت وہی ہے بجائے “ سوائے “ یا “ علاوہ “ کے لفظ “ مع “ استعمال کرتے ہیں
(۴)بعض شخص صر ف یہ کہتے ہیں کہ بیچ نکاح تمھارے کے آئی اور دی میں نے اور بعض صرف لفظ “ آئی “ کہتے ہیں اور بعض شخص صرف لفظ “ دی “ کہتے ہیں اس میں کون سا لفظ استعمال کرناچاہئے اب اعتراض اس لفظ پر ہے کہ جب لفظ سوائے نان نفقہ کہا گیا تو نان ونفقہ دولھا کے ذمہ عائد نہ ہوا بلکہ صرف روپیہ مہر کا عائد ہو ا جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں فلاں شے فلاں شخص کو دی گئی سوائے پگڑی کے یعنی پگڑی نہیں دی گئی اس طرح لڑکی بالعوض اس قدر مہر کے نکاح میں دی گئی سوائے نان ونفقہ کے یعنی اس لڑکی کانان ونفقہ دولھا کے نکاح میں نہیں آیا یہی اعتراض لفظ علاوہ کے کہنے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اور جب لفظ مع نان ونفقہ کہاجاتا ہے تو معترض لوگ رجوع کرتے ہیں تعداد مہر کی طرف اور کہتے ہیں کہ بالعوض اس قدر مہر شرعی مع نان ونفقہ کے کہنے سے نان ونفقہ مہر میں شامل ہوگیا یعنی جب عورت نان ونفقہ پائے تو وہ مہر مجرادیا جائے اور تعین مہر کاروپیہ اس نان ونفقہ کے حساب سے جب سب پاچکے تو پھر عورت نہ نان ونفقہ پانے کی مستحق رہی اور نہ زر مہر کی گویا وہ بے نان ونفقہ اورمہر کے نکاح میں رہی اپنے کھانے پینے کا انتظام عورت خود کرے معزز فرمائے کہ ہر سہ الفاظ سوائے علاوہ مع کے استعمال کے نکاح درست ہوگااور نان نفقہ بذمہ مرد عائد رہے گایانہیں اور کون سے لفظ کے استعمال سے نان نفقہ عائد ہوگااور کون سے نہیں
الجواب :
یہ سب اوہام ہیں اوران کی بحث فضول بھی اوہام تویوں ہیں کہ جو رقم ذکر کی جاتی صرف مہرکے لیے مقصود ہوتی ہے اورعلاوہ اور ماسوائے اور مع یہ سب مہرکی صفتیں ہوتی ہیں یعنی وہ مہر کہ نان نفقہ سے علاوہ یا ان کے سوا یا ان کے ساتھ ہے علاوہ اور سوائے کے یہ معنی کہ اس کا وجوب ا ن کے وجوب پر زائد ہے اور مع کے یہ معنی کہ یہ اور وہ وجوب میں شریك ہیں یہی مراد ہوتی ہے اوریہ مفہوم اوران سے بحث فضول یوں کہ نان ونفقہ ومہر ایسی چیز نہیں کہ اگر بالقصد ان کی نفی بھی کی جائے تو منتفی ہوجائیں یا نکاح میں کچھ خلل آئے نکاح شروط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتابلکہ وہ خود شرطیں ہی باطل ہوجاتی ہیں اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ مہر کچھ نہ ہوگا جب بھی مہرلازم شرعا ہوگا مہر مثل دینا آئے گا۔ اور اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ نان ونفقہ کچھ واجب نہ ہوگا جب بھی اپنی صورت وجو ب میں ضرور واجب ہوگا کہ قبل وجوب اسقاط مہمل ہے۔ حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مابال اقوام یشترطون بشروط لیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ
ایسی قوم کا کیا حال ہو جوایسی شرطیں لگا تے ہیں جن کی اجازت کتاب الله میں کسی طرح نہیں ایسی شرطیں
(۲)باقی عبارت سب وہی ہے صرف بجائے لفظ “ سوائے “ کے علاوہ استعمال کرتے ہیں۔
(۳)میں سب عبارت وہی ہے بجائے “ سوائے “ یا “ علاوہ “ کے لفظ “ مع “ استعمال کرتے ہیں
(۴)بعض شخص صر ف یہ کہتے ہیں کہ بیچ نکاح تمھارے کے آئی اور دی میں نے اور بعض صرف لفظ “ آئی “ کہتے ہیں اور بعض شخص صرف لفظ “ دی “ کہتے ہیں اس میں کون سا لفظ استعمال کرناچاہئے اب اعتراض اس لفظ پر ہے کہ جب لفظ سوائے نان نفقہ کہا گیا تو نان ونفقہ دولھا کے ذمہ عائد نہ ہوا بلکہ صرف روپیہ مہر کا عائد ہو ا جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں فلاں شے فلاں شخص کو دی گئی سوائے پگڑی کے یعنی پگڑی نہیں دی گئی اس طرح لڑکی بالعوض اس قدر مہر کے نکاح میں دی گئی سوائے نان ونفقہ کے یعنی اس لڑکی کانان ونفقہ دولھا کے نکاح میں نہیں آیا یہی اعتراض لفظ علاوہ کے کہنے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اور جب لفظ مع نان ونفقہ کہاجاتا ہے تو معترض لوگ رجوع کرتے ہیں تعداد مہر کی طرف اور کہتے ہیں کہ بالعوض اس قدر مہر شرعی مع نان ونفقہ کے کہنے سے نان ونفقہ مہر میں شامل ہوگیا یعنی جب عورت نان ونفقہ پائے تو وہ مہر مجرادیا جائے اور تعین مہر کاروپیہ اس نان ونفقہ کے حساب سے جب سب پاچکے تو پھر عورت نہ نان ونفقہ پانے کی مستحق رہی اور نہ زر مہر کی گویا وہ بے نان ونفقہ اورمہر کے نکاح میں رہی اپنے کھانے پینے کا انتظام عورت خود کرے معزز فرمائے کہ ہر سہ الفاظ سوائے علاوہ مع کے استعمال کے نکاح درست ہوگااور نان نفقہ بذمہ مرد عائد رہے گایانہیں اور کون سے لفظ کے استعمال سے نان نفقہ عائد ہوگااور کون سے نہیں
الجواب :
یہ سب اوہام ہیں اوران کی بحث فضول بھی اوہام تویوں ہیں کہ جو رقم ذکر کی جاتی صرف مہرکے لیے مقصود ہوتی ہے اورعلاوہ اور ماسوائے اور مع یہ سب مہرکی صفتیں ہوتی ہیں یعنی وہ مہر کہ نان نفقہ سے علاوہ یا ان کے سوا یا ان کے ساتھ ہے علاوہ اور سوائے کے یہ معنی کہ اس کا وجوب ا ن کے وجوب پر زائد ہے اور مع کے یہ معنی کہ یہ اور وہ وجوب میں شریك ہیں یہی مراد ہوتی ہے اوریہ مفہوم اوران سے بحث فضول یوں کہ نان ونفقہ ومہر ایسی چیز نہیں کہ اگر بالقصد ان کی نفی بھی کی جائے تو منتفی ہوجائیں یا نکاح میں کچھ خلل آئے نکاح شروط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتابلکہ وہ خود شرطیں ہی باطل ہوجاتی ہیں اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ مہر کچھ نہ ہوگا جب بھی مہرلازم شرعا ہوگا مہر مثل دینا آئے گا۔ اور اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ نان ونفقہ کچھ واجب نہ ہوگا جب بھی اپنی صورت وجو ب میں ضرور واجب ہوگا کہ قبل وجوب اسقاط مہمل ہے۔ حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مابال اقوام یشترطون بشروط لیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ
ایسی قوم کا کیا حال ہو جوایسی شرطیں لگا تے ہیں جن کی اجازت کتاب الله میں کسی طرح نہیں ایسی شرطیں
فہو رد وان کانت مائۃ شرط شرط اﷲ احق واوثق ۔
سو بھی ہوں تو وہ مردود ہوں گی الله تعالی کی طرف سے جائز شرط زیادہ ثابت مضبوط ہے۔ (ت)
بااینہمہ اگرایسی عبارت چاہیں جس میں یہ اوہام پیدا نہ ہوں تو یوں کہیں بعوض اتنے مہر کے کہ نان ونفقہ کا وجوب اس کے علاوہ ہے تیرے نکاح میں دی اور “ آئی “ سے “ دی “ بہتر ہے کہ یہ انشامیں صریح ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸ : از مقام ہنگن گھاٹ محلہ نشان پورہ ضلع وردھا مرسلہ محمد اسمعیل صاحب مورخہ ۲۵ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
جناب مولانا صاحب مدظلہ السلام علیکم۔ مندرجہ ذیل میں شرع شریف کا کیا حکم ہے تحریر فرمائیں الله آپ کو اجرنیك عطا کرے زید نے عمرو کی لڑکی سے نکاح کیا نکاح کے وقت کسی قسم کی شرط وغیرہ نہ تھی لڑکی رخصت ہوکر گھر آئی چندر وز کے بعد لڑکی کا والد لڑکی کو اپنے مکان میں لے گیا اور اب زید سے اس بات کا طالب ہے کہ وہ ایك اسٹامپ اس مضمون کاتحریر کردے کہ میں لڑکی کو اپنے وطن میں نہیں لے جاؤں گا یہیں اس کے والدین کے پاس اس شہر میں رکھوں گا اگر زید اسٹامپ نہ لکھے گا تولڑکی کی طرف سے میراجواب ہے کہ اب میں لڑکی کو رخصت نہ کروں گا دریافت طلب امور یہ ہیں کہ کیا عمرو کا یعنی لڑکی کے باپ کا یہ عذر معقول ہے اور وہ ایسی حالت میں لڑکی کو روك سکتا ہے
الجواب :
اگرمہر کل یا بعض پیشگی دینا قرار نہ پایا تھا یا قرار پایا تھا اور وہ ادا ہوگیا تو لڑکی کے باپ کا یہ عذر بیجا ہے اوروہ اسے نہیں روك سکتا۔
قال اﷲ تعالی اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی نے فرمایا : بیویوں کو اپنے ساتھ سکونت دو گنجائش کے مطابق۔ (ت)والله تعالی اعلم
ہاں اگر کوئی صورت خاص ہوکہ سفر بہت طویل ہے اور وہاں تنہائی میں لڑکی کو ضرر رسانی کا ظن غالب ہے تو اس کے ثبوت پر بے بند وبست کافی وہاں لے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
قال اﷲ تعالی ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن ۔ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ
الله تعالی نے فرمایا : ان کو تنگی دینے کے لیے ضرر مت دو اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
سو بھی ہوں تو وہ مردود ہوں گی الله تعالی کی طرف سے جائز شرط زیادہ ثابت مضبوط ہے۔ (ت)
بااینہمہ اگرایسی عبارت چاہیں جس میں یہ اوہام پیدا نہ ہوں تو یوں کہیں بعوض اتنے مہر کے کہ نان ونفقہ کا وجوب اس کے علاوہ ہے تیرے نکاح میں دی اور “ آئی “ سے “ دی “ بہتر ہے کہ یہ انشامیں صریح ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸ : از مقام ہنگن گھاٹ محلہ نشان پورہ ضلع وردھا مرسلہ محمد اسمعیل صاحب مورخہ ۲۵ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
جناب مولانا صاحب مدظلہ السلام علیکم۔ مندرجہ ذیل میں شرع شریف کا کیا حکم ہے تحریر فرمائیں الله آپ کو اجرنیك عطا کرے زید نے عمرو کی لڑکی سے نکاح کیا نکاح کے وقت کسی قسم کی شرط وغیرہ نہ تھی لڑکی رخصت ہوکر گھر آئی چندر وز کے بعد لڑکی کا والد لڑکی کو اپنے مکان میں لے گیا اور اب زید سے اس بات کا طالب ہے کہ وہ ایك اسٹامپ اس مضمون کاتحریر کردے کہ میں لڑکی کو اپنے وطن میں نہیں لے جاؤں گا یہیں اس کے والدین کے پاس اس شہر میں رکھوں گا اگر زید اسٹامپ نہ لکھے گا تولڑکی کی طرف سے میراجواب ہے کہ اب میں لڑکی کو رخصت نہ کروں گا دریافت طلب امور یہ ہیں کہ کیا عمرو کا یعنی لڑکی کے باپ کا یہ عذر معقول ہے اور وہ ایسی حالت میں لڑکی کو روك سکتا ہے
الجواب :
اگرمہر کل یا بعض پیشگی دینا قرار نہ پایا تھا یا قرار پایا تھا اور وہ ادا ہوگیا تو لڑکی کے باپ کا یہ عذر بیجا ہے اوروہ اسے نہیں روك سکتا۔
قال اﷲ تعالی اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی نے فرمایا : بیویوں کو اپنے ساتھ سکونت دو گنجائش کے مطابق۔ (ت)والله تعالی اعلم
ہاں اگر کوئی صورت خاص ہوکہ سفر بہت طویل ہے اور وہاں تنہائی میں لڑکی کو ضرر رسانی کا ظن غالب ہے تو اس کے ثبوت پر بے بند وبست کافی وہاں لے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
قال اﷲ تعالی ولاتضاروھن لتضیقوا علیھن ۔ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ
الله تعالی نے فرمایا : ان کو تنگی دینے کے لیے ضرر مت دو اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۷
القرآن ۶۵ / ۶
القرآن ۶۵ / ۶
القرآن ۶۵ / ۶
القرآن ۶۵ / ۶
وسلم لا ضرر ولاضرا ر فی الاسلام ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نے فرمایا : اسلام ضرر اور نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۹ : مرسلہ شیخ فضل احمد صاحب درزی بازار کٹرہ متصل کارخانہ میز کرسی یعقوب خاں مورخہ ۱ محرم الحرام ۱۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے شوہر نے اپنی زوجہ کو طلاق دی عدت گزرنے نہ پائی کہ عورت نے دوسرے شخص کے پاس جا کرکہا کہ تم میرے ساتھ نکاح کرلو ورنہ میں حرام کرنے پر تیار ہوں اس نے یہ خیال کرکے کہ عورت حرام کرنے سے خراب ہوجائیگی اور اس عورت کو سمجھایا کہ تیری عدت گزرجائے بعدہ نکاح کرلینا مگر عورت نے کسی طرح نہ مانا لہذا اس شخص نے مجبورا اس عورت سے نکاح کرلیا تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں دیگر یہ کہ عرصہ آٹھ ماہ سے یہ عورت اسی شخص کے پاس ہے جس کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا بایں وجہ شفقت ومحبت دونوں میں حداعتدال زیادہ ہوگئی کہ تھوڑی دیرکے واسطے بھی نگاہ سے اوجھل ہوناایك کا دوسرے کو ناگوار خاطر ہوتا ہے۔ لہذا دوسرا نکاح اگر اس عورت کے ساتھ ناجائز ہو تو کس صورت سے جائز ہو اور خود بھی زوج وزوجہ پریشان ہیں کہ کیونکر نکاح ہو اوراکثر اوقات ہمبستر بھی ہوئے ہیں بینوا توجروا
الجواب :
وہ نکاح نہ ہوا زنائے خالص ہوا ان مرد و زن پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں مرد اسے چھوڑ دے پھر اگر پہلے کی طلاق کے بعد ابھی تین حیض نہ آئے ہوں تو انتظارفرض ہے یہاں تك کہ تین حیض شروع ہو کر ختم ہوجائیں ا وراگر ختم ہوگئے ہیں اور یہ دوسرا اس سے نکاح چاہتا ہے تو چھوڑنے کے بعد فورا کر سکتا ہے اور اگر عورت کسی تیسرے سے نکاح چاہے تو یہ دوسرا جس دن چھوڑے ا س کے بعد تین حیض شروع ہو کر ختم ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلے تیسرے سے نکاح نہیں کرسکتی در ر میں ہے :
المطلقۃ اذا تزوجت فی عدتھا فوطئھا الثانی فرق بینھما وتداخلتا عند نا ویکون ماتراہ من الحیض محتسبا منھما جمیعا واذا ا نقضت العدۃ الاولی ولم تکمل الثانیۃ فعلیہا اتمام العدۃ الثانیۃ ۔
مطلقہ عورت نے اگر عدت میں کسی دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اس سے جما ع کرلیا تو دونوں میں تفریق کی جائے گی اور دونوں عدتیں متداخل ہوجائیں گی اور آنے والا حیض دونوں کا مشترکہ ہوگا اور جب پہلی عدت پوری ہوجائے اور دوسری عدت پوری نہ ہو تو دوسری کو تام کرے۔ (ت)
نے فرمایا : اسلام ضرر اور نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۹ : مرسلہ شیخ فضل احمد صاحب درزی بازار کٹرہ متصل کارخانہ میز کرسی یعقوب خاں مورخہ ۱ محرم الحرام ۱۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے شوہر نے اپنی زوجہ کو طلاق دی عدت گزرنے نہ پائی کہ عورت نے دوسرے شخص کے پاس جا کرکہا کہ تم میرے ساتھ نکاح کرلو ورنہ میں حرام کرنے پر تیار ہوں اس نے یہ خیال کرکے کہ عورت حرام کرنے سے خراب ہوجائیگی اور اس عورت کو سمجھایا کہ تیری عدت گزرجائے بعدہ نکاح کرلینا مگر عورت نے کسی طرح نہ مانا لہذا اس شخص نے مجبورا اس عورت سے نکاح کرلیا تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں دیگر یہ کہ عرصہ آٹھ ماہ سے یہ عورت اسی شخص کے پاس ہے جس کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا بایں وجہ شفقت ومحبت دونوں میں حداعتدال زیادہ ہوگئی کہ تھوڑی دیرکے واسطے بھی نگاہ سے اوجھل ہوناایك کا دوسرے کو ناگوار خاطر ہوتا ہے۔ لہذا دوسرا نکاح اگر اس عورت کے ساتھ ناجائز ہو تو کس صورت سے جائز ہو اور خود بھی زوج وزوجہ پریشان ہیں کہ کیونکر نکاح ہو اوراکثر اوقات ہمبستر بھی ہوئے ہیں بینوا توجروا
الجواب :
وہ نکاح نہ ہوا زنائے خالص ہوا ان مرد و زن پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں مرد اسے چھوڑ دے پھر اگر پہلے کی طلاق کے بعد ابھی تین حیض نہ آئے ہوں تو انتظارفرض ہے یہاں تك کہ تین حیض شروع ہو کر ختم ہوجائیں ا وراگر ختم ہوگئے ہیں اور یہ دوسرا اس سے نکاح چاہتا ہے تو چھوڑنے کے بعد فورا کر سکتا ہے اور اگر عورت کسی تیسرے سے نکاح چاہے تو یہ دوسرا جس دن چھوڑے ا س کے بعد تین حیض شروع ہو کر ختم ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلے تیسرے سے نکاح نہیں کرسکتی در ر میں ہے :
المطلقۃ اذا تزوجت فی عدتھا فوطئھا الثانی فرق بینھما وتداخلتا عند نا ویکون ماتراہ من الحیض محتسبا منھما جمیعا واذا ا نقضت العدۃ الاولی ولم تکمل الثانیۃ فعلیہا اتمام العدۃ الثانیۃ ۔
مطلقہ عورت نے اگر عدت میں کسی دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اس سے جما ع کرلیا تو دونوں میں تفریق کی جائے گی اور دونوں عدتیں متداخل ہوجائیں گی اور آنے والا حیض دونوں کا مشترکہ ہوگا اور جب پہلی عدت پوری ہوجائے اور دوسری عدت پوری نہ ہو تو دوسری کو تام کرے۔ (ت)
حوالہ / References
المجعم الاوسط حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف الریاض ۶ / ۹۱
درر شرح غرر باب العدۃ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ۱ / ۴۰۳
درر شرح غرر باب العدۃ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ۱ / ۴۰۳
خانیہ وبحر وردالمحتار میں ہے :
اذاتمت عدۃ الاول حل للثانی ان یتزوجھا لالغیرہ مالم تتم عدۃ الثانی بثلاث حیض من حین التفریق ۔
جب پہلی عدت پوری ہوجائے تو دوسرے خاوند کو اس سے نکاح حلال ہوگا تفریق کے بعد جب تك دوسری عدت کے تین حیض مکمل ہوجائیں اس وقت تك کسی غیر کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۰ : ا ز موضع بھوٹا بھوئی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ جناب حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر میاں صدیقی حنفی قادری
(۱)زید سوال کرتا ہے کہ خدانے مر دکو حکم دیا دو دو تین تین چار چار اور عورت کو کیوں نہیں ملا کہ تم دو دو تین تین چار چار مرد کرو۔
(۲)ایك شخص زانی عوت کا فرہ کو اسلام قبول کرواکے نکاح کیا اب وہ عورت حاملہ ہے مگر اسی مرد سے جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے۔ آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں زید کہتا ہے کہ اگرچہ حاملہ اسی سے ہو جب بھی نکاح جائز نہیں اور شاہد وحاضرین کا ٹوٹ جاتاہے۔ مجموعہ خانی جلد ثانی ص ۳۹ :
در ہدایہ وکافی آوردہ ست عورتے حربیہ در دارالاسلام آمد برآں عورت عدت لازم نشود خواہ اسلام در دارحرب آورد ہ باشد خواہ نیاوردہ باشد وایں قول امام اعظم ست رحمۃ الله علیہ۔ ونزدیك امام ابویوسف وامام محمد رحمہم اللہ تعالی عدت لازم شود وباتفاق علماء برکنیز کہ درتاخت گیر ند عدت لازم نیست فاما استبراء لازم ست واگر حربیہ کہ درداراسلام آمدہ ست وحاملہ تاآں زمان کہ
ہدایہ وکافی میں ہے کہ اگر کوئی عورت دارالاسلام آجائے تو اس پر عدت لازم نہیں خواہ دارالحرب میں مسلمان ہوئی یا نہ ہوئی یہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے امام ابویوسف اورامام محمد کے نزدیك اس پر عدت لازم ہے اور جنگ میں گرفتار شدہ لونڈی پر عدت لازم نہیں ہے۔ یہ سب کاا تفاق ہے اس پر صرف استبراء لازم ہے اگر کوئی حاملہ عورت دارالحرب سے دارالاسلام آئی تو وہ بچہ کی پیدائش سے قبل نکاح نہیں کرسکتی امام صاحب نے ایك دوسری روایت میں فرمایا کہ وہ نکاح کرسکتی ہے لیکن بچے کی پرورش سے قبل اس سے جما ع جائز نہیں ہے جس طرح زنا سے
اذاتمت عدۃ الاول حل للثانی ان یتزوجھا لالغیرہ مالم تتم عدۃ الثانی بثلاث حیض من حین التفریق ۔
جب پہلی عدت پوری ہوجائے تو دوسرے خاوند کو اس سے نکاح حلال ہوگا تفریق کے بعد جب تك دوسری عدت کے تین حیض مکمل ہوجائیں اس وقت تك کسی غیر کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۰ : ا ز موضع بھوٹا بھوئی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ جناب حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر میاں صدیقی حنفی قادری
(۱)زید سوال کرتا ہے کہ خدانے مر دکو حکم دیا دو دو تین تین چار چار اور عورت کو کیوں نہیں ملا کہ تم دو دو تین تین چار چار مرد کرو۔
(۲)ایك شخص زانی عوت کا فرہ کو اسلام قبول کرواکے نکاح کیا اب وہ عورت حاملہ ہے مگر اسی مرد سے جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے۔ آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں زید کہتا ہے کہ اگرچہ حاملہ اسی سے ہو جب بھی نکاح جائز نہیں اور شاہد وحاضرین کا ٹوٹ جاتاہے۔ مجموعہ خانی جلد ثانی ص ۳۹ :
در ہدایہ وکافی آوردہ ست عورتے حربیہ در دارالاسلام آمد برآں عورت عدت لازم نشود خواہ اسلام در دارحرب آورد ہ باشد خواہ نیاوردہ باشد وایں قول امام اعظم ست رحمۃ الله علیہ۔ ونزدیك امام ابویوسف وامام محمد رحمہم اللہ تعالی عدت لازم شود وباتفاق علماء برکنیز کہ درتاخت گیر ند عدت لازم نیست فاما استبراء لازم ست واگر حربیہ کہ درداراسلام آمدہ ست وحاملہ تاآں زمان کہ
ہدایہ وکافی میں ہے کہ اگر کوئی عورت دارالاسلام آجائے تو اس پر عدت لازم نہیں خواہ دارالحرب میں مسلمان ہوئی یا نہ ہوئی یہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے امام ابویوسف اورامام محمد کے نزدیك اس پر عدت لازم ہے اور جنگ میں گرفتار شدہ لونڈی پر عدت لازم نہیں ہے۔ یہ سب کاا تفاق ہے اس پر صرف استبراء لازم ہے اگر کوئی حاملہ عورت دارالحرب سے دارالاسلام آئی تو وہ بچہ کی پیدائش سے قبل نکاح نہیں کرسکتی امام صاحب نے ایك دوسری روایت میں فرمایا کہ وہ نکاح کرسکتی ہے لیکن بچے کی پرورش سے قبل اس سے جما ع جائز نہیں ہے جس طرح زنا سے
حوالہ / References
رد المحتار باب العدۃ مطلب فی وطی المعتدۃ بشبہۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۰۹
فرزند نزاید نکاح نہ کند دیگر روایت از امام آنست کہ نکاح درست ست اگر حاملہ باشد فامانزدیکی بآں عورت شوہر نہ کند تاآں زمان کہ فرزند نزاید چنانچہ عورت را از ز نا حمل ماندہ ست خواستن اور واست ونزدیکی کردن روانیست تا آں زمان کہ فرزند نزاید واگر یکے ا ز میان زن وشوہر مرتد شد فرقت میا ں ایشاں واقع شود فاما طلاق واقع نشود ایں امام اعظم امام اابویوسف رحمہم اللہ تعالی ونزدیك امام محمد اگر مرتد شدہ است فرقت واقع شدہ است بے طلاق پس اگر مرد مرتد شدہ است وبازن نزدیکی کردہ باشد تمام مہر بر او لازم شود اگر نزدیکی نہ کردہ است چیزے از مہر لازم نشود ونفقہ نیز لازم نشود اگر خودازخانہ مرد بیروں آمدہ باشد واگر خودازخانہ مرد بیروں نیا مدہ باشد نفقہ برمرد لازم شود ۔
حاملہ سے نکاح جائز مگر بچے کی پیدائش سے قبل اس سے جماع جائز نہیں ہے۔ اگر خاوند بیوی سے کوئی ایك مرتد ہوجائے تو دونوں کی فرقت ہوگی لیکن طلاق نہ ہوگی یہ قول امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہم اللہ تعالی علیہ کاہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك اگر صر ف خاوند مرتدہوجائے تو فرقت ہوجائے گی طلاق نہ ہوگی تو خاوند کے مرتدہونے کے بعد اگر اس نے بیوی سے جماع کیا تو مکمل مہر لازم ہوگا اور مرتدہونے کے بعد جماع نہ کیا تو مہر اور نفقہ لازم نہ ہوگا بشرطیکہ عورت خودا س کے گھر سے علیحدہ ہوچکی ہواور اگر اس کے گھر میں ہو تو نفقہ مرد پر لازم ہوگا (ت)
الجواب :
(۱)الله عزوجل فرماتاہے : ان الله لا یامر بالفحشآء- بیشك الله عزوجل بے حیائی کا حکم نہیں فرماتا۔ ایك عورت پر دو مردو ں کااجتما ع صریح بے حیائی ہے جسے انسان تو انسان جانوروں میں بھی جو سب سے خبیث تر ہے یعنی خنزیر وہی روا رکھتا ہے۔ حرمت زنا کی حکمت نسب کا محفوظ رکھنا ہے ورنہ پتا نہ چلے کہ بچہ کس کا ہے۔ اگر عورت سے د ومردوں کا نکاح جائز ہو تو وہی قباحت کہ زنا میں تھی یہاں بھی عائد ہو معلوم نہ ہوسکے کہ بچہ کس کا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جسے زنا کا حمل ہو والعیا ذبالله تعالی اور وہ شوہر دار نہ ہو اس سے زانی وغیرزانی ہر شخص کا نکاح جائزہے فرق اتنا ہے کہ غیر زانی کو اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں جب تك وضع حمل نہ ہولے اور جس کا حمل ہے وہ نکاح کرے تو اسے قربت بھی جائز درمختارمیں ہے :
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا و دواعیہ حتی تضع لئلا
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے اگر چہ اس سے وطی اور اس سے متعلقہ امور حرام ہیں جب تك وہ بچے کو جنم نہ دے
حاملہ سے نکاح جائز مگر بچے کی پیدائش سے قبل اس سے جماع جائز نہیں ہے۔ اگر خاوند بیوی سے کوئی ایك مرتد ہوجائے تو دونوں کی فرقت ہوگی لیکن طلاق نہ ہوگی یہ قول امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہم اللہ تعالی علیہ کاہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك اگر صر ف خاوند مرتدہوجائے تو فرقت ہوجائے گی طلاق نہ ہوگی تو خاوند کے مرتدہونے کے بعد اگر اس نے بیوی سے جماع کیا تو مکمل مہر لازم ہوگا اور مرتدہونے کے بعد جماع نہ کیا تو مہر اور نفقہ لازم نہ ہوگا بشرطیکہ عورت خودا س کے گھر سے علیحدہ ہوچکی ہواور اگر اس کے گھر میں ہو تو نفقہ مرد پر لازم ہوگا (ت)
الجواب :
(۱)الله عزوجل فرماتاہے : ان الله لا یامر بالفحشآء- بیشك الله عزوجل بے حیائی کا حکم نہیں فرماتا۔ ایك عورت پر دو مردو ں کااجتما ع صریح بے حیائی ہے جسے انسان تو انسان جانوروں میں بھی جو سب سے خبیث تر ہے یعنی خنزیر وہی روا رکھتا ہے۔ حرمت زنا کی حکمت نسب کا محفوظ رکھنا ہے ورنہ پتا نہ چلے کہ بچہ کس کا ہے۔ اگر عورت سے د ومردوں کا نکاح جائز ہو تو وہی قباحت کہ زنا میں تھی یہاں بھی عائد ہو معلوم نہ ہوسکے کہ بچہ کس کا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جسے زنا کا حمل ہو والعیا ذبالله تعالی اور وہ شوہر دار نہ ہو اس سے زانی وغیرزانی ہر شخص کا نکاح جائزہے فرق اتنا ہے کہ غیر زانی کو اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں جب تك وضع حمل نہ ہولے اور جس کا حمل ہے وہ نکاح کرے تو اسے قربت بھی جائز درمختارمیں ہے :
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا و دواعیہ حتی تضع لئلا
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے اگر چہ اس سے وطی اور اس سے متعلقہ امور حرام ہیں جب تك وہ بچے کو جنم نہ دے
حوالہ / References
مجموعہ خانی
القرآن ۷ / ۲۸
القرآن ۷ / ۲۸
یسقی ماءہ زرع غیرہ اذ الشعر ینبت منہ ولونکح الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا ۔
تاکہ اس کا پانی غیرکی کھیتی کو سیراب نہ کرے یہ اس لیے کہ جماع سے حاملہ کے بچے کو بال اگتے ہیں اور اس سے خود زانی نے نکاح کیا تو اس کو جماع بھی جائز ہے۔ (ت)
زید کا قول محض غلط ہے اور اس کا کہنااگرچہ حاملہ اسی مردسے ہے جب بھی نکاح جائز نہیں شریعت پر افترا ہے بلکہ صحیح ومفتی بہ یہ ہے کہ اگر چہ حمل دوسرے کا ہو جب بھی نکاح جائز ہے اوراس کا کہنا کہ شاہد وحاضران محفل کے ٹوٹ جاتے ہیں افتراء برافتراء ہے مجموعہ خانی سے جو عبار ت اس نےنقل کی ہے صراحۃ اس کے خلاف ہے۔
اگر عورت را از زنا حمل ماندہ است خواستن اورواست ونزدیکی کردن روانیست تاآنکہ نزاید۔
اگر عورت زنا سے حاملہ ہوجائے تو اس سے نکاح جائز اور جماع جائز نہیں جب تك بچے کو جنم نہ دے دے۔ (ت)
اور وہ جو اسی سے نقل کیا کہ :
حربیہ کہ داراالاسلام آمدہ است وحاملہ تا نزاید نکاح نہ کند ۔
حربی عورت اگر دارالاسلام آجائے اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تك وہ نکاح نہ کرے۔ (ت)
یہ اس میں ہے کہ حربی کافر کی حاملہ عورت دارالاسلام میں آکر مسلمان ہوگئی نہ کہ حمل زنا میں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۲ : از(برہما)ڈاك خانہ چیگانگ محلہ میذنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمد عمر صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی الفتاوی قاضی خاں وان ترك الجمعۃ ثلاث مرات یصیر فاسقا کذا ذکر فی بعض المواضع و بہ اخذ شمس الائمہ السرخسی رحمہ اﷲ تعالی وذکر فی بعض المواضع انہ یبطل العدالۃ انتھی وان ترك الصلوۃ بالجماعۃ ولم یستعظم ذلك کمایفعل بہ العوام بطلت عدالتہ
حضرات علمائے کرام الله تعالی تم پر رحم فرمائے آپ کا کیا حکم ہے کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر کسی نے تین جمعے ترك کردئے تو وہ فاسق ہوگا یوں ہی بعض مقامات پر مذکور ہے جس کو شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لیا ہے اور بعض مقامات پر انھوں نے ذکرکیا کہ اس کی عدالت ختم ہوجائے گی اھ اور اگر کسی نے نما ز باجماعت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ترك کیا جیسا کہ عوام کرتے ہیں تو اس کی عدالت باطل
تاکہ اس کا پانی غیرکی کھیتی کو سیراب نہ کرے یہ اس لیے کہ جماع سے حاملہ کے بچے کو بال اگتے ہیں اور اس سے خود زانی نے نکاح کیا تو اس کو جماع بھی جائز ہے۔ (ت)
زید کا قول محض غلط ہے اور اس کا کہنااگرچہ حاملہ اسی مردسے ہے جب بھی نکاح جائز نہیں شریعت پر افترا ہے بلکہ صحیح ومفتی بہ یہ ہے کہ اگر چہ حمل دوسرے کا ہو جب بھی نکاح جائز ہے اوراس کا کہنا کہ شاہد وحاضران محفل کے ٹوٹ جاتے ہیں افتراء برافتراء ہے مجموعہ خانی سے جو عبار ت اس نےنقل کی ہے صراحۃ اس کے خلاف ہے۔
اگر عورت را از زنا حمل ماندہ است خواستن اورواست ونزدیکی کردن روانیست تاآنکہ نزاید۔
اگر عورت زنا سے حاملہ ہوجائے تو اس سے نکاح جائز اور جماع جائز نہیں جب تك بچے کو جنم نہ دے دے۔ (ت)
اور وہ جو اسی سے نقل کیا کہ :
حربیہ کہ داراالاسلام آمدہ است وحاملہ تا نزاید نکاح نہ کند ۔
حربی عورت اگر دارالاسلام آجائے اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تك وہ نکاح نہ کرے۔ (ت)
یہ اس میں ہے کہ حربی کافر کی حاملہ عورت دارالاسلام میں آکر مسلمان ہوگئی نہ کہ حمل زنا میں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۲ : از(برہما)ڈاك خانہ چیگانگ محلہ میذنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمد عمر صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی الفتاوی قاضی خاں وان ترك الجمعۃ ثلاث مرات یصیر فاسقا کذا ذکر فی بعض المواضع و بہ اخذ شمس الائمہ السرخسی رحمہ اﷲ تعالی وذکر فی بعض المواضع انہ یبطل العدالۃ انتھی وان ترك الصلوۃ بالجماعۃ ولم یستعظم ذلك کمایفعل بہ العوام بطلت عدالتہ
حضرات علمائے کرام الله تعالی تم پر رحم فرمائے آپ کا کیا حکم ہے کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر کسی نے تین جمعے ترك کردئے تو وہ فاسق ہوگا یوں ہی بعض مقامات پر مذکور ہے جس کو شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لیا ہے اور بعض مقامات پر انھوں نے ذکرکیا کہ اس کی عدالت ختم ہوجائے گی اھ اور اگر کسی نے نما ز باجماعت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ترك کیا جیسا کہ عوام کرتے ہیں تو اس کی عدالت باطل
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
مجموعہ خانی
مجموعہ خانی
وان ترکھا متاؤ لابان کان یضلل او یفسق لایبطل عدالتہ ولایقبل شہادۃ من کان معروفا بالکذب انتھی
وفی الدرالمختار لاتقبل شہادتہ الابتاویل بدعۃ الامام او عدم مراعاتہ اھ۔
ہوجائے گی اور اگراس نے اہمیت کے باوجود کسی تاویل وعذر کی بناپر مثلا امام کو گمراہ یا فاسق قرار دیتے ہوئے جماعت ترك کردی تو اس کی عدالت باطل نہ ہوگی اور جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہوجائے توا س کی شہادت مقبول نہیں اھ اور درمختارمیں ہے کہ ایسے شخص کی شہادت مقبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ تاویل اور عذر مثلاامام کے بدعتی ہونے یاشرعی امور کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے جماعت ترك کرے۔ اھ(ت)
جب ان لوگوں کی عدالت باطل ہو گئی تو بوقت نکاح وطلاق شہود بنانے سے نکاح وطلاق صحیح ہوگا یانہیں چونکہ درمختارمیں ہے شہود عادل عند الشافعی (امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاں عادل گواہ ہوں۔ ت)شہود عادل شرط ہے اور رجعت کرنے کے بارے میں الله تعالی فرماتا ہے : و اشهدوا ذوی عدل منكم (دو عادل گواہ بناؤ۔ ت)اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لانکاح الا بولی وشاھدی عدل (ولی کے بغیر نکاح نہیں اور دو عادل گواہوں کے بغیر بھی۔ ت)اس عبارت مرقومہ اور بعض کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ فاسق کو نکاح وغیرہ میں مشہود بنانا معتبر نہیں جب معتبر نہیں ہے تو ثانیۃ تجدید نکاح کرنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
بلاشبہ بلاعذر ترك جمعہ اورترك جماعت کی عادت موجب فسق ومسقط عدالت و وجہ ردشہادت ہے مگر نکاح میں جو شاہدین کی شرط ہے یہ وقت ادائے شہادت نہیں کہ عدالت کی حاجت ہو بلکہ وقت تحمل شہادت ہے اور اس میں عدالت کچھ ضرور نہیں حنفی مذہب میں تصریح ہے کہ شاہدین نکاح اگر فاسق بھی ہوں حرج نہیں درمختارمیں ہے : ولو فاسقین او محدودین فی قذف (اگرچہ دوگواہ فاسق ہوں یاقذف کی حد لگائے گئے ہوں۔ ت)
وفی الدرالمختار لاتقبل شہادتہ الابتاویل بدعۃ الامام او عدم مراعاتہ اھ۔
ہوجائے گی اور اگراس نے اہمیت کے باوجود کسی تاویل وعذر کی بناپر مثلا امام کو گمراہ یا فاسق قرار دیتے ہوئے جماعت ترك کردی تو اس کی عدالت باطل نہ ہوگی اور جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہوجائے توا س کی شہادت مقبول نہیں اھ اور درمختارمیں ہے کہ ایسے شخص کی شہادت مقبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ تاویل اور عذر مثلاامام کے بدعتی ہونے یاشرعی امور کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے جماعت ترك کرے۔ اھ(ت)
جب ان لوگوں کی عدالت باطل ہو گئی تو بوقت نکاح وطلاق شہود بنانے سے نکاح وطلاق صحیح ہوگا یانہیں چونکہ درمختارمیں ہے شہود عادل عند الشافعی (امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاں عادل گواہ ہوں۔ ت)شہود عادل شرط ہے اور رجعت کرنے کے بارے میں الله تعالی فرماتا ہے : و اشهدوا ذوی عدل منكم (دو عادل گواہ بناؤ۔ ت)اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لانکاح الا بولی وشاھدی عدل (ولی کے بغیر نکاح نہیں اور دو عادل گواہوں کے بغیر بھی۔ ت)اس عبارت مرقومہ اور بعض کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ فاسق کو نکاح وغیرہ میں مشہود بنانا معتبر نہیں جب معتبر نہیں ہے تو ثانیۃ تجدید نکاح کرنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
بلاشبہ بلاعذر ترك جمعہ اورترك جماعت کی عادت موجب فسق ومسقط عدالت و وجہ ردشہادت ہے مگر نکاح میں جو شاہدین کی شرط ہے یہ وقت ادائے شہادت نہیں کہ عدالت کی حاجت ہو بلکہ وقت تحمل شہادت ہے اور اس میں عدالت کچھ ضرور نہیں حنفی مذہب میں تصریح ہے کہ شاہدین نکاح اگر فاسق بھی ہوں حرج نہیں درمختارمیں ہے : ولو فاسقین او محدودین فی قذف (اگرچہ دوگواہ فاسق ہوں یاقذف کی حد لگائے گئے ہوں۔ ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الشہادات نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۳۲
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
ردالمحتا ر مع درمختار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۲
القرآن ۶۵ / ۲
السنن الکبرٰی للبیہقی لانکاح الابشاہدین وعادلین دارصادر بیروت ۷ / ۱۲۵
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
ردالمحتا ر مع درمختار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۶۲
القرآن ۶۵ / ۲
السنن الکبرٰی للبیہقی لانکاح الابشاہدین وعادلین دارصادر بیروت ۷ / ۱۲۵
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
حدیث میں ارشاد ہوا : لانکاح الابو لی وشاھدی عدل (ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں۔ ت)نفی بمعنی نہی ہے اور منافی صحت نہیں بلکہ ہمارے نزدیك یہ نہی ارشادی ہے کہ بالغہ کے نکاح میں ولی بھی شرط نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۳ : از شمس آباد ضلع کیمل پور علاقہ اٹك مرسلہ مولوی قاضی گیلانی صاحب ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بحضور لامع النور موفورالسرور قاطع الشرور والفسق والفجور حضرت عالم اہل السنۃ والجماعۃ مجددمائۃ حاضرہ زید مجد ہم! بعد نیاز بے آغاز حضور نے فرمایا تھا کہ کتب خانہ فیض نشانہ میں عینی ہدایہ نہیں ولہذا دو ورق بقدر حاجت ارسال خدمت فیض درجت ہیں مسئلہ خطبہ ونکاح بغیر کفو میں اس ملك کے علماء سخت مخالف ہیں بعض کتب عربیہ وفارسیہ قلمی غیر مشہور میں لکھا ہے کہ تقسیم فواکہ وشکر بافاتحہ خوانی بلاایجاب وقبول کے یا وعدہ کہ میں تم کو اپنی بیٹی دوں گا یا اس ارادہ پر کوئی تحفہ خوردنی یا پوشیدنی لیا تو بھی مثل ایجاب وقبول کے موجب انعقاد نکاح ہوگیا اور حدیث تحرم الخطبہ علی خطبۃ اخیہ (بھائی کی منگنی پر منگنی حرام ہے۔ ت)سے ان عبارتوں کو اوربھی تاکید دیتے ہیں اور عینی شرح ہدایہ کی عبارت کتاب النکاح میں لان الخطبۃ التزوج (کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے۔ ت)ان کے مدعاکی پوری مثبت ہے ان کے نزدیك ایجاب وقبول لفظی یا کوئی قول وفعل اس پر دال ہو موجب نکاح ہے اگرچہ فتاوی مہدیہ وغیرہ کتب کی عبارتیں ان کو بارہا دکھائی گئیں مگر وہ لوگ قاصر الفہم اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے اور اس کا نام احتیاط فی الفروج رکھا ہے۔ حضورنے ایك بارفرمایا تھا کہ قلم ناسخ کی غلطی معلوم ہوتی ہے اور صحیح عبارت “ لان الخطبۃ للتزوج “ معلوم ہوتی ہے حضور کی یہ در فشانی نہایت اوفق واوجہ ہے مگر عرض یہ ہے کہ اس مسئلہ خطبہ کے متعلق کل ما لہا وما علیہا مع ازالہ اوہام وابانۃ مرام ابحاث کے ساتھ بقدر چار پانچ ورق کے بزبان عربی حضور ارشاد فرمائیں۔ دوسری عبارت عینی کی :
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب او ھوحائك یفرق بینھما وفی البسیط ذھبت الشیعۃ الی ان نکاح العلویات ممتنع علی غیرھم مع التراضی قال السروجی وھما قولان باطلان انتھی۔
عینی سے روایت ہے کہ جو شراب کا عادی یا جولاہا ہے تو دونوں کی تفریق کر دی جائے گی اور بسیط میں ہے کہ شیعہ کا مذہب ہے کہ علویات(سیدزادیوں)کا نکاح ا ن کے اولیاء کی رضامندی کے باوجود بھی غیر سے ممنوع ہے سروجی نے کہا : یہ دونوں قول باطل ہیں انتھی۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۳ : از شمس آباد ضلع کیمل پور علاقہ اٹك مرسلہ مولوی قاضی گیلانی صاحب ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بحضور لامع النور موفورالسرور قاطع الشرور والفسق والفجور حضرت عالم اہل السنۃ والجماعۃ مجددمائۃ حاضرہ زید مجد ہم! بعد نیاز بے آغاز حضور نے فرمایا تھا کہ کتب خانہ فیض نشانہ میں عینی ہدایہ نہیں ولہذا دو ورق بقدر حاجت ارسال خدمت فیض درجت ہیں مسئلہ خطبہ ونکاح بغیر کفو میں اس ملك کے علماء سخت مخالف ہیں بعض کتب عربیہ وفارسیہ قلمی غیر مشہور میں لکھا ہے کہ تقسیم فواکہ وشکر بافاتحہ خوانی بلاایجاب وقبول کے یا وعدہ کہ میں تم کو اپنی بیٹی دوں گا یا اس ارادہ پر کوئی تحفہ خوردنی یا پوشیدنی لیا تو بھی مثل ایجاب وقبول کے موجب انعقاد نکاح ہوگیا اور حدیث تحرم الخطبہ علی خطبۃ اخیہ (بھائی کی منگنی پر منگنی حرام ہے۔ ت)سے ان عبارتوں کو اوربھی تاکید دیتے ہیں اور عینی شرح ہدایہ کی عبارت کتاب النکاح میں لان الخطبۃ التزوج (کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے۔ ت)ان کے مدعاکی پوری مثبت ہے ان کے نزدیك ایجاب وقبول لفظی یا کوئی قول وفعل اس پر دال ہو موجب نکاح ہے اگرچہ فتاوی مہدیہ وغیرہ کتب کی عبارتیں ان کو بارہا دکھائی گئیں مگر وہ لوگ قاصر الفہم اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے اور اس کا نام احتیاط فی الفروج رکھا ہے۔ حضورنے ایك بارفرمایا تھا کہ قلم ناسخ کی غلطی معلوم ہوتی ہے اور صحیح عبارت “ لان الخطبۃ للتزوج “ معلوم ہوتی ہے حضور کی یہ در فشانی نہایت اوفق واوجہ ہے مگر عرض یہ ہے کہ اس مسئلہ خطبہ کے متعلق کل ما لہا وما علیہا مع ازالہ اوہام وابانۃ مرام ابحاث کے ساتھ بقدر چار پانچ ورق کے بزبان عربی حضور ارشاد فرمائیں۔ دوسری عبارت عینی کی :
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب او ھوحائك یفرق بینھما وفی البسیط ذھبت الشیعۃ الی ان نکاح العلویات ممتنع علی غیرھم مع التراضی قال السروجی وھما قولان باطلان انتھی۔
عینی سے روایت ہے کہ جو شراب کا عادی یا جولاہا ہے تو دونوں کی تفریق کر دی جائے گی اور بسیط میں ہے کہ شیعہ کا مذہب ہے کہ علویات(سیدزادیوں)کا نکاح ا ن کے اولیاء کی رضامندی کے باوجود بھی غیر سے ممنوع ہے سروجی نے کہا : یہ دونوں قول باطل ہیں انتھی۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۴
عینی شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۳۴
عینی شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۱۰۲
عینی شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۳۴
عینی شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۱۰۲
اور عبارت تو اس سے پہلے صاف ہے ھما کے مرجع ہی میں شبہہ ہے۔ اگر اس قاعدہ اکثریہ پر کہ اصل مرجع میں مذکور قریب ہے قریب کے دو قول لیے جائیں جو کہ ایك شارب وحائك کا دوسرا شیعہ والاہے۔ تو اگرچہ شیعہ کے قول کا بطلان ظاہر ہے کہ ظاہر روایت میں بغیر تراضی اولیاء بھی نکاح درست ہے باوجود ثبوت اعتراض للولی اور بروایت نوادر نا درست ہے لفسادالزمان فلم یکن ممتنعا(اس کی وجہ زمانے کا فساد ہے لہذا اصلا ممنوع نہ ہوا۔ ت)مگر شارب الشراب یا حائك سے اگر اعلی قوم کی عورت نے بغیر تراضی اولیاء کے نکاح کرلیا تو ظاہر روایت ہی کی رو سے تو تفریق کی جائے گی جیسا کہ کل متون وشروح وفتاوی میں مذکور ہے پس اس کے بطلان کی وجہ کیا ہے سروجی حنفی مذہب کا ہے یاکہ غیر اور کس طبقہ کا ہے اور اس کی عبارت کا صاف مطلب کیا ہے ملك خراساں کے اکثر حصص میں اکثر علمائے احناف اس کے قائل ہیں کہ سید زادی کا نکاح ہر شخص شریف و رذیل کے ساتھ درست ہے ولی راضی ہو یا خفا۔ اور فقہ کی کل کتابوں سے اغماض کرکے صرف دو عبارتوں پر مصرہیں ایك آیت سورہ احزاب کے اول رکوع میں
النبی اولى بالمؤمنین من انفسهم و ازواجه امهتهم- الخ
نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مومنین کی جانوں سے بھی ان کے لیے قریب تر ہیں اور آپ کی ازواج پاك مومنین کی مائیں ہیں الخ(ت)
کہ تحریم ازواج مطہرات کی رسول الله وازواج کی بنات واخوات وخالات کی طرف متعدی نہیں جیسا کہ مدارك و خازن واحمدی وروح البیان وغیر ہ میں ہے۔ اور دوسری عبارت قال السروجی الخ جو کہ ابھی عینی سے نقل ہوئی ان کو جواب دیا گیا ہے کہ ظاہر روایت و نوادر سے یہ عبارت مخالف نہیں کیونکہ ظاہر روایت میں بھی درست ہے مع اعتراض ولی اور نوادر میں جو نادرست ہے تو وہ بوجہ فساد زمانہ ہے فلاتعارض ولاتصادم(ظاہر اور نادرروایت میں تعارض وتصادم نہیں ہے۔ ت)اس کے متعلق بھی حضورلامع النور کچھ تحریر فرمائیں
الجواب :
بملاحظہ شریفہ مولنا المبجل المکرم ذی ا لمجد والفضل والکرم مولنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب دامت معالیہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ عبارت بنایہ صفحہ ۱۰۲ بہت صاف ہے۔ اوپر کی روایت سے موازنہ کرکے اس روایت کا مطلب واضح ہوتا ہے امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے دو روایتیں ذکرکیں اول
النبی اولى بالمؤمنین من انفسهم و ازواجه امهتهم- الخ
نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مومنین کی جانوں سے بھی ان کے لیے قریب تر ہیں اور آپ کی ازواج پاك مومنین کی مائیں ہیں الخ(ت)
کہ تحریم ازواج مطہرات کی رسول الله وازواج کی بنات واخوات وخالات کی طرف متعدی نہیں جیسا کہ مدارك و خازن واحمدی وروح البیان وغیر ہ میں ہے۔ اور دوسری عبارت قال السروجی الخ جو کہ ابھی عینی سے نقل ہوئی ان کو جواب دیا گیا ہے کہ ظاہر روایت و نوادر سے یہ عبارت مخالف نہیں کیونکہ ظاہر روایت میں بھی درست ہے مع اعتراض ولی اور نوادر میں جو نادرست ہے تو وہ بوجہ فساد زمانہ ہے فلاتعارض ولاتصادم(ظاہر اور نادرروایت میں تعارض وتصادم نہیں ہے۔ ت)اس کے متعلق بھی حضورلامع النور کچھ تحریر فرمائیں
الجواب :
بملاحظہ شریفہ مولنا المبجل المکرم ذی ا لمجد والفضل والکرم مولنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب دامت معالیہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ عبارت بنایہ صفحہ ۱۰۲ بہت صاف ہے۔ اوپر کی روایت سے موازنہ کرکے اس روایت کا مطلب واضح ہوتا ہے امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے دو روایتیں ذکرکیں اول
حوالہ / References
القرآن ۳۳ / ۶
لابد من اعتبار الکفاءۃ ولایسقط الابتراضی الولی والمرأۃ ۔
کفو کا اعتبار ضروری ہے صر ف ولی اور خود لڑکی کی رضاسے اس کا اعتبار ساقط ہوسکتاہے۔ (ت)
یہ ہمارے مذہب کے موافق ہے حتی کہ روایت حسن مفتی بہاکے بھی کہ اس میں بھی اگر بالغہ برضائے ولی قبل النکاح عالما بعدم الکفاءۃ غیر کفو سے نکاح کرے گی صحیح ونافذہوگا اور حق اعتراض بھی نہ رہے گا۔ دوسری :
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب اوھو حائك یفرق بینھما ۔
انہی سے مروی کہ شراب کا عادی یا جولاہا ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ (ت)
یہ مطلق ہے وہ استثنائے تراضی یہاں نہیں یہاں بھی وہ استثناء ہو تو دونوں روایتیں ایك ہوجائیں لاجرم اس کے اطلاق کا یہ حاصل کہ لحاظ کفاءت حقاللشرع لازم تراضی زن و ولی سے بھی ساقط نہ ہوگا اور گوسب کی رضا سے ایسا نکاح ہو قاضی جبرا علیہم تفریق کردے گا جیسے ہمارے یہاں بنت ممسوسہ بشہوت سے برضائے زن و اولیاء نکاح کرے یفرق بینھما(دونوں میں تفریق کردی جائے گی ت)یہی حکم روافض نے دربارہ علویات دیا کہ دوسرے سے اگرچہ قرشی ہو علویہ کانکاح اگرچہ برضائے کل ہو ممتنع ہے۔ ان دونوں قولوں کو امام سروجی فرماتے ہیں باطلان(دونوں باطل ہیں ت)اور وہ بیشك باطل ہیں اگر بالغہ برضائے ولی حائك سے نکاح کرلے لایفرق بینھما(دونوں میں تفریق نہیں کی جائے گی ت)اور علویہ بالغہ قرشی غیر علوی سے نکاح کرے اگرچہ بے رضائے ولی یاغیر قرشی سے برضائے ولی لایمتنع(منع نہیں کیا جائے گا۔ ت)امام سروجی ابوالعباس احمد قاضی مصر متوفی ۷۱۰ صاحب غایہ شرح ہدایہ اجلہ علمائے حنفیہ سے ہیں اس وقت تو فقیر نے قیاس سے گزارش کیا تھا کہ الخطبۃ للتزوج(منگنی نکاح کے لیے۔ ت)ہوگا اب کتاب کا ورق کہ جناب نے بھیجا دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ بیشك لام ہی ہے۔ کاتب نے اس کتاب کو نسخ نہ کیا مسخ کیا ہے اسی لیے میں نے نہ خریدی خطبہ کا غیر نکاح ہونا ایسا روشن ہے جیسے صبح کا غیر شمس ہونا حاشایہ احتیاط فی الفروج نہیں بلکہ احتیال فی الفروج ہے کہ منگنی ہوتے ہی منکوحہ بنالیں ولایقول بہ جاھل فضلاعن فاضل(کوئی جاہل بھی یہ بات نہ کہے گا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے۔ ت)کس قدر کثرت وافرہ سے نصوص ملیں گے جو خطبہ وتزوج کی مباینت ثابت کریں گے
ولیس یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النھار الی دلیل
(دن کی موجودگی بھی اگر کسی دلیل کی محتاج ہو تو پھر دنیامیں کوئی چیز ثابت نہیں قرار پائے گی۔ ت)
کفو کا اعتبار ضروری ہے صر ف ولی اور خود لڑکی کی رضاسے اس کا اعتبار ساقط ہوسکتاہے۔ (ت)
یہ ہمارے مذہب کے موافق ہے حتی کہ روایت حسن مفتی بہاکے بھی کہ اس میں بھی اگر بالغہ برضائے ولی قبل النکاح عالما بعدم الکفاءۃ غیر کفو سے نکاح کرے گی صحیح ونافذہوگا اور حق اعتراض بھی نہ رہے گا۔ دوسری :
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب اوھو حائك یفرق بینھما ۔
انہی سے مروی کہ شراب کا عادی یا جولاہا ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ (ت)
یہ مطلق ہے وہ استثنائے تراضی یہاں نہیں یہاں بھی وہ استثناء ہو تو دونوں روایتیں ایك ہوجائیں لاجرم اس کے اطلاق کا یہ حاصل کہ لحاظ کفاءت حقاللشرع لازم تراضی زن و ولی سے بھی ساقط نہ ہوگا اور گوسب کی رضا سے ایسا نکاح ہو قاضی جبرا علیہم تفریق کردے گا جیسے ہمارے یہاں بنت ممسوسہ بشہوت سے برضائے زن و اولیاء نکاح کرے یفرق بینھما(دونوں میں تفریق کردی جائے گی ت)یہی حکم روافض نے دربارہ علویات دیا کہ دوسرے سے اگرچہ قرشی ہو علویہ کانکاح اگرچہ برضائے کل ہو ممتنع ہے۔ ان دونوں قولوں کو امام سروجی فرماتے ہیں باطلان(دونوں باطل ہیں ت)اور وہ بیشك باطل ہیں اگر بالغہ برضائے ولی حائك سے نکاح کرلے لایفرق بینھما(دونوں میں تفریق نہیں کی جائے گی ت)اور علویہ بالغہ قرشی غیر علوی سے نکاح کرے اگرچہ بے رضائے ولی یاغیر قرشی سے برضائے ولی لایمتنع(منع نہیں کیا جائے گا۔ ت)امام سروجی ابوالعباس احمد قاضی مصر متوفی ۷۱۰ صاحب غایہ شرح ہدایہ اجلہ علمائے حنفیہ سے ہیں اس وقت تو فقیر نے قیاس سے گزارش کیا تھا کہ الخطبۃ للتزوج(منگنی نکاح کے لیے۔ ت)ہوگا اب کتاب کا ورق کہ جناب نے بھیجا دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ بیشك لام ہی ہے۔ کاتب نے اس کتاب کو نسخ نہ کیا مسخ کیا ہے اسی لیے میں نے نہ خریدی خطبہ کا غیر نکاح ہونا ایسا روشن ہے جیسے صبح کا غیر شمس ہونا حاشایہ احتیاط فی الفروج نہیں بلکہ احتیال فی الفروج ہے کہ منگنی ہوتے ہی منکوحہ بنالیں ولایقول بہ جاھل فضلاعن فاضل(کوئی جاہل بھی یہ بات نہ کہے گا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے۔ ت)کس قدر کثرت وافرہ سے نصوص ملیں گے جو خطبہ وتزوج کی مباینت ثابت کریں گے
ولیس یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النھار الی دلیل
(دن کی موجودگی بھی اگر کسی دلیل کی محتاج ہو تو پھر دنیامیں کوئی چیز ثابت نہیں قرار پائے گی۔ ت)
حوالہ / References
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۱۰۲
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۱۰۲
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الکفاءۃ مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۱۰۲
حدیث تحرم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ (بھائی کی منگنی پرمنگنی حرام ہے۔ ت)ا س کی تائید جہل شدید ورنہ حدیث یحرم السوم علی سوم اخیہ (بھائی کے لگائے ہوئے بھاؤ پر بھاؤ لگانا حرام ہے۔ ت)سے نفس سوم کو عقد بیع کرلیں گے۔ بنایہ کی پہلی عبارت لاینبغی ان تخطب المعتدۃ ش لان الخطبۃ للتزوج ونکاح المعتدۃ لایجوز (عدت والی عورت کو منگنی کاپیغام دینا مناسب نہیں شرح میں ہے۔ کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے جبکہ عدت والی کونکاح جائز نہیں۔ ت)تو ظاہر ہے کیا نکاح معتدہ کو “ لاینبغی “ کہا جاتا اس کی تحریم تو محرمات میں گزری یہاں کاتب نے “ لان “ چھوڑدیا ہے متن نے دو مسئلے بیان فرمائے ایك خطبہ صریحہ اسے منع فرمایا شارح اس کی دلیل بتاتے ہیں کہ خطبہ تو بغرض تزوج ہی ہے اورتزوج معتدہ حرام دوسرا خطبہ بالکنایہ اسے جائز فرمایا کہ لاباس بالتعریض فی الخطبۃ (عدت والی کو کنایہ کے طور پر منگنی کے پیغام میں کوئی ممانعت نہیں۔ ت) یعنی خطبہ ہو مگر نہ الفاظ صریحہ میں بلکہ کنایہ تو حرج نہیں۔ کیا کوئی مسلم بلکہ کوئی عاقل اس کے یہ معنی لے سکتا ہے کہ معتدہ سے نکاح بالکنایہ جائز ہے حاش للہ! دوسری عبارت :
ای لایجوز ان یقول صریحا اریدان انکحك اواخطبك لان الخطبۃ للتزوج کما ذکرنا ۔
یعنی صراحۃ یہ کہناکہ میں تجھ سے نکاح کرناچاہتاہوں۔ یا میں تجھے پیام نکاح دیتاہوں ناجائز ہے کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا(ت)
جس میں کاتب نے “ ای “ کا “ ان “ اور للتزوج کا التزوج لکھا ہے اس میں ان صاحبوں کو غالبا یہ دھوکا لگا کہ اخطب کہ منصوب پڑھا اور انکح پر معطوف اور “ ارید “ کے تحت میں داخل مانا کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے خطبہ کرنا چاہتا ہوں یوں سمجھ لیا خطبہ تزوج ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اخطب مرفوع حکائی اورا س کا عطف “ ارید “ پر ہے یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے نکاح کیا چاہتا ہوں نہ یہ کہنا جائز ہے کہ میں تجھے خطبہ کرتا یعنی پیام نکاح دیتاہوں پھر اس کے صریح ہونے کی وجہ فرماتے ہیں کہ خطبہ تزوج ہی کے لیے ہوتا ہے تو “ اخطبک “ کے معنی بعینہ وہی ہوئے کہ “ ارید ان انکحک “ آیہ کریمہ کی مثل امہات تحریم ابدی عام کے لیے ہے یہ بیشك ازواج مطہرات سے خاص ہے ورنہ ختنین کریمین سے تزویج بنات مکرمات نہ ہوسکتی اس سے یہ لازم سمجھناکہ غیر ازواج مطہرات
ای لایجوز ان یقول صریحا اریدان انکحك اواخطبك لان الخطبۃ للتزوج کما ذکرنا ۔
یعنی صراحۃ یہ کہناکہ میں تجھ سے نکاح کرناچاہتاہوں۔ یا میں تجھے پیام نکاح دیتاہوں ناجائز ہے کیونکہ منگنی نکاح کے لیے ہوتی ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا(ت)
جس میں کاتب نے “ ای “ کا “ ان “ اور للتزوج کا التزوج لکھا ہے اس میں ان صاحبوں کو غالبا یہ دھوکا لگا کہ اخطب کہ منصوب پڑھا اور انکح پر معطوف اور “ ارید “ کے تحت میں داخل مانا کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے خطبہ کرنا چاہتا ہوں یوں سمجھ لیا خطبہ تزوج ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اخطب مرفوع حکائی اورا س کا عطف “ ارید “ پر ہے یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ میں تجھ سے نکاح کیا چاہتا ہوں نہ یہ کہنا جائز ہے کہ میں تجھے خطبہ کرتا یعنی پیام نکاح دیتاہوں پھر اس کے صریح ہونے کی وجہ فرماتے ہیں کہ خطبہ تزوج ہی کے لیے ہوتا ہے تو “ اخطبک “ کے معنی بعینہ وہی ہوئے کہ “ ارید ان انکحک “ آیہ کریمہ کی مثل امہات تحریم ابدی عام کے لیے ہے یہ بیشك ازواج مطہرات سے خاص ہے ورنہ ختنین کریمین سے تزویج بنات مکرمات نہ ہوسکتی اس سے یہ لازم سمجھناکہ غیر ازواج مطہرات
حوالہ / References
صحیح مسلم باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۴
صحیح مسلم باب تحریم البیع علی بیع اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
صحیح مسلم باب تحریم البیع علی بیع اخیہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
البنایہ شرح ہدایہ فصل فی الحداد مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۴۳۴
میں حل مطلق ہے سخت جہل ہے کہاں تحریم مطلق کی نفی کہاں حل مطلق کا اثبات یعنی سالبہ کلیہ کا نقیض موجبہ کلیہ ولا حول ولا قوۃ الابالله۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴ : از موضع بین ضلع پٹنہ مرسلہ جناب سید مظفر حسین صاحب مورخہ ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بالغہ لڑکی ہندہ کی نسبت عمرو سے مقرر کی اور بکر کو وکیل بالنکاح اور ناکح مقرر کرکے خط لکھ بھیجا کہ ہندہ کانکاح عمر و سے اکیس ہزار روپے دین مہر پر کردو ان تمام باتوں کی اطلاع ہندہ کو ہے اگرچہ اجازت ہندہ سے موافق دستور ہندستان نہیں مانگا گیاا ور ہندہ کی کسی حرکات وسکنات سے عدم رضامندی اور ناراضگی بھی ظہور میں نہ آئی بکرنے اکیس ہزار دین مہر پر عمرو سے ہندہ کا نکاح کرکے زید کے پاس خط لکھ بھیجا کہ فلاں تاریخ عمرو سے ہندہ کا نکاح اکیس ہزار پر کردیا آپ لڑکی کو خبر کردیجئے زید نے اپنی لڑکی کو اطلاع دلوا یا تو لڑکی نے قبول کرلیا نکاح ایسی صورت میں قبول ہوا اور تجدید کی ضرورت تونہیں ہے بینوا توجروا
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ اگرصورت واقعہ یہ ہے تو نکاح صحیح وتام و نافذ ولازم ہوگیا اگر کوئی مانع شرعی مثل فساد مذہب وغیرہ نہ ہو تجدید کی حاجت نہیں فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالہ السابقۃ کما فی الخیریہ وغیرھا(کیونکہ بعد کی اجازت پہلی وکالت کی طرح ہے۔ جیساکہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
___________________
مسئلہ ۱۵۴ : از موضع بین ضلع پٹنہ مرسلہ جناب سید مظفر حسین صاحب مورخہ ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی بالغہ لڑکی ہندہ کی نسبت عمرو سے مقرر کی اور بکر کو وکیل بالنکاح اور ناکح مقرر کرکے خط لکھ بھیجا کہ ہندہ کانکاح عمر و سے اکیس ہزار روپے دین مہر پر کردو ان تمام باتوں کی اطلاع ہندہ کو ہے اگرچہ اجازت ہندہ سے موافق دستور ہندستان نہیں مانگا گیاا ور ہندہ کی کسی حرکات وسکنات سے عدم رضامندی اور ناراضگی بھی ظہور میں نہ آئی بکرنے اکیس ہزار دین مہر پر عمرو سے ہندہ کا نکاح کرکے زید کے پاس خط لکھ بھیجا کہ فلاں تاریخ عمرو سے ہندہ کا نکاح اکیس ہزار پر کردیا آپ لڑکی کو خبر کردیجئے زید نے اپنی لڑکی کو اطلاع دلوا یا تو لڑکی نے قبول کرلیا نکاح ایسی صورت میں قبول ہوا اور تجدید کی ضرورت تونہیں ہے بینوا توجروا
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ اگرصورت واقعہ یہ ہے تو نکاح صحیح وتام و نافذ ولازم ہوگیا اگر کوئی مانع شرعی مثل فساد مذہب وغیرہ نہ ہو تجدید کی حاجت نہیں فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالہ السابقۃ کما فی الخیریہ وغیرھا(کیونکہ بعد کی اجازت پہلی وکالت کی طرح ہے۔ جیساکہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ فصل فی نکاح الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۷
باب المحرمات
(محرمات کا بیان)
مسئلہ ۱۵۵ : ۱۹ رجب ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے ابن الابن زید کو دودھ پلایا اب زید کا نکاح اپنی نواسی لیلی بنت سلمی سے کیا چاہتی ہے آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہر گز جائز نہیں کہ جب زیدنے اپنی دادی کا دودھ پیا تووہ اس کی ماں ہوئی اور جب وہ اس کی ماں ہوئی تو اس کی ساری اولاد خواہ اس دودھ سے پہلے پیداہوئی ہو یابعد سب اس کے بھائی بہن ہوئے اور جب وہ سب بہن بھائی ہیں تو ان کی بیٹیاں اس کی بھتیجیاں بھانجیاں ہیں بس لیلی بھی کہ سلمی بنت ہندہ کی دختر ہے زید کی بھانجی ہے اور زید اس کا ماموں ہے۔ اور ماموں بھانجی کا نکاح کہیں حلال نہیں۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما وفرو عھما حتی المرضعۃ لو ولدت قبل ھذا الارضاع اوبعدہ وارضعت رضیعھا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاداخوتہ واخواتہ اھ ملخصا۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ اگر وہ دودھ پلانے سے قبل یا بعد اس نے کوئی بچہ جنا ہو یا کسی کو دودھ پلایاہو تو وہ سب اس کے بھائی بہن ہوں گے اور ان کی اولاد اس کے بھتیجے اور بھتیجیاں اور بھانجے اور بھانجیاں ہوں گی۔ اھ
ملخصا(ت)
(محرمات کا بیان)
مسئلہ ۱۵۵ : ۱۹ رجب ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے ابن الابن زید کو دودھ پلایا اب زید کا نکاح اپنی نواسی لیلی بنت سلمی سے کیا چاہتی ہے آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہر گز جائز نہیں کہ جب زیدنے اپنی دادی کا دودھ پیا تووہ اس کی ماں ہوئی اور جب وہ اس کی ماں ہوئی تو اس کی ساری اولاد خواہ اس دودھ سے پہلے پیداہوئی ہو یابعد سب اس کے بھائی بہن ہوئے اور جب وہ سب بہن بھائی ہیں تو ان کی بیٹیاں اس کی بھتیجیاں بھانجیاں ہیں بس لیلی بھی کہ سلمی بنت ہندہ کی دختر ہے زید کی بھانجی ہے اور زید اس کا ماموں ہے۔ اور ماموں بھانجی کا نکاح کہیں حلال نہیں۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما وفرو عھما حتی المرضعۃ لو ولدت قبل ھذا الارضاع اوبعدہ وارضعت رضیعھا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاداخوتہ واخواتہ اھ ملخصا۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ اگر وہ دودھ پلانے سے قبل یا بعد اس نے کوئی بچہ جنا ہو یا کسی کو دودھ پلایاہو تو وہ سب اس کے بھائی بہن ہوں گے اور ان کی اولاد اس کے بھتیجے اور بھتیجیاں اور بھانجے اور بھانجیاں ہوں گی۔ اھ
ملخصا(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۳
اور یہیں سے ظاہر ہوگیاکہ بعض مدعیان علم کا یہ خیال کہ سلمی اور لیلی زید سے پہلے پیدا ہوئی تھی تو دودھ میں شرکت نہ ہوئی نہ سلمی اس کی بہن نہ لیلی اس کی بھانجی ٹھہری محض جہالت فاحشہ ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۶ : از خیرآباد مرسلہ حسین بخش صاحب رضوی یکم ربیع الاول ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بکر کی بیٹی بیاہی ہے اور بکر نے دوسری عورت سے نکاح کیا بعدہ بکر مرگیا اب زید چاہتا ہے کہ اپنی سوتیلی خوشدامن سے نکاح کرے یہ نکاح موافق حاشیہ عینی کے جائز ہے یانہیں اور زن مذکورہ قولہ تعالی “ و امهت نسآىكم “ میں داخل ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح مذکور بیشك جائز ہے۔ قال الله عزوجل : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) علماء قاطبۃ متون وشروح وفتاوی میں محرمات صہریہ زوجات اصول وفروع اصول و فروع زوجات بتاتے ہیں نہ زوجہ اصول زوجہ و عدم الذکر فی امثال المقام ذکر العدم کما لایخفی(ایسے مقام میں ذکر نہ ہونا گویا نہ ہونے کاذکر ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)اورسوتیلی ماں لفظ امہات میں ہرگز داخل نہیں ورنہ آیۃ تحریم میں حرمت علیكم امهتكم (تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت)کے بعد و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم (جن سے تمھارے آباء نے نکاح کیا تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت) کیونکر فرمایا جاتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ سوتیلی ماں کی ماں اورا س کی بیٹی اورا س کی بہن سب حلال ہیں اگر سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی تویہ عورتیں اس کی نانی بہن خالہ قرارپاتیں۔ علامہ خیرالدین رملی فرماتے ہیں :
لاتحرم بنت زوج الام ولاامہ ولاام زوجۃ الاب ولابنتھا ۔
ماں کے خاوند کی بیٹی اور اس کی ماں اور باپ کی دوسری بیوی کی ماں اور بیٹی حرام نہیں۔ (ت)
اصل یہ ہے کہ ساس کی حرمت اس وجہ سے نہیں کہ وہ خسر کی زوجہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ زوجہ کی ماں ہے سوتیلی ساس میں یہ وجہ نہیں لہذا اس کی حلت میں کوئی شبہ نہیں مسئلہ واضح ہے اور حکم ظاہر والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۷ : از نرسنگھ پور کندیلی متصل جامع مسجد مرسلہ مولوی یقین الدین صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۰ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ نصیبن اپنے خاوند
مسئلہ ۱۵۶ : از خیرآباد مرسلہ حسین بخش صاحب رضوی یکم ربیع الاول ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بکر کی بیٹی بیاہی ہے اور بکر نے دوسری عورت سے نکاح کیا بعدہ بکر مرگیا اب زید چاہتا ہے کہ اپنی سوتیلی خوشدامن سے نکاح کرے یہ نکاح موافق حاشیہ عینی کے جائز ہے یانہیں اور زن مذکورہ قولہ تعالی “ و امهت نسآىكم “ میں داخل ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح مذکور بیشك جائز ہے۔ قال الله عزوجل : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) علماء قاطبۃ متون وشروح وفتاوی میں محرمات صہریہ زوجات اصول وفروع اصول و فروع زوجات بتاتے ہیں نہ زوجہ اصول زوجہ و عدم الذکر فی امثال المقام ذکر العدم کما لایخفی(ایسے مقام میں ذکر نہ ہونا گویا نہ ہونے کاذکر ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)اورسوتیلی ماں لفظ امہات میں ہرگز داخل نہیں ورنہ آیۃ تحریم میں حرمت علیكم امهتكم (تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت)کے بعد و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم (جن سے تمھارے آباء نے نکاح کیا تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت) کیونکر فرمایا جاتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ سوتیلی ماں کی ماں اورا س کی بیٹی اورا س کی بہن سب حلال ہیں اگر سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی تویہ عورتیں اس کی نانی بہن خالہ قرارپاتیں۔ علامہ خیرالدین رملی فرماتے ہیں :
لاتحرم بنت زوج الام ولاامہ ولاام زوجۃ الاب ولابنتھا ۔
ماں کے خاوند کی بیٹی اور اس کی ماں اور باپ کی دوسری بیوی کی ماں اور بیٹی حرام نہیں۔ (ت)
اصل یہ ہے کہ ساس کی حرمت اس وجہ سے نہیں کہ وہ خسر کی زوجہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ زوجہ کی ماں ہے سوتیلی ساس میں یہ وجہ نہیں لہذا اس کی حلت میں کوئی شبہ نہیں مسئلہ واضح ہے اور حکم ظاہر والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۷ : از نرسنگھ پور کندیلی متصل جامع مسجد مرسلہ مولوی یقین الدین صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۰ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ نصیبن اپنے خاوند
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۲
فتاوٰی خیریہ فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۲
فتاوٰی خیریہ فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۳
زید کی موجودگی میں بکر سے پھنسی ہوئی تھی زید اپنے روزگار کی وجہ سے دوسرے شہرمیں رہتاہے مگر اپنی زوجہ نصیبن کو دو برس تك کچھ خرچہ نہ بھیجا چنانچہ نصیبن علانیہ بکر کے گھر میں آگئی اس کے ایك لڑکابھی زید سے ہے۔ طلاق نہیں دی ہے مگر ہاں زید کی مرضی ہے کہ مسماۃ کچھ دے تو طلاق دے دوں بکر در صورت طلاق نہ دینے زید کے نصیبن سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ عورت بے اذن شوہر کے گھر سے نکل جائے تونکاح سے نکل جائے محض غلط ہے۔
قال تعالی : و التی تخافون نشوزهن فعظوهن ۔ الایۃ۔ تخافون تعلمون ومن النشوز الخروج بلااذن۔
جن عورتوں کی نافرمانی کا احساس کرتے ہو ان کو نصیحت کرو الآیۃ یہاں تخافون بمعنی تعلمون اور نشوز سے مراد اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا ہے۔ (ت)
معاذ الله اگرایسا ہو تو نکاح کی گرہ زنان ناقصات العقل والدین کے ہاتھ میں ہوجائے جو عورت چاہے بے ارادہ شوہر سہل طور پر نکاح سے آزادی حاصل کرلے حالانکہ الله عزوجل نے نکاح کی گرہ مردکےہاتھ میں رکھی ہے۔ قال عزوجل :
بیده عقدة النكاح- یعنی الزوج فی قول علی وسعید بن المسیب وسعید بن جبیر وغیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم۔
اسی(خاوند)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سعیدبن مسیب اور سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہم نے خاوند مراد لیا ہے۔ (ت)
اسی طرح عیاذا بالله عورت کے فسق وفجور سے بھی نکاح نہیں جاتا۔ قال الله تعالی :
و التی یاتین الفاحشة من نسآىكم ۔ سماھن مع ذلك نسائھم وقال جل وعلا و الذین یرمون ازواجهم الآیۃ الی قول تبارك وتعالی و یدرؤا عنها
تمھاری بیویوں میں سے جو فحش کاری کی مرتکب ہو اس میں ا س کے باوجود ان کو بیویاں فرمایا گیا ہے۔
الله عزوجل نے فرمایا : وہ لوگ جواپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں الآیۃ اس عورت سے حد کو ساقط
الجواب :
یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ عورت بے اذن شوہر کے گھر سے نکل جائے تونکاح سے نکل جائے محض غلط ہے۔
قال تعالی : و التی تخافون نشوزهن فعظوهن ۔ الایۃ۔ تخافون تعلمون ومن النشوز الخروج بلااذن۔
جن عورتوں کی نافرمانی کا احساس کرتے ہو ان کو نصیحت کرو الآیۃ یہاں تخافون بمعنی تعلمون اور نشوز سے مراد اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا ہے۔ (ت)
معاذ الله اگرایسا ہو تو نکاح کی گرہ زنان ناقصات العقل والدین کے ہاتھ میں ہوجائے جو عورت چاہے بے ارادہ شوہر سہل طور پر نکاح سے آزادی حاصل کرلے حالانکہ الله عزوجل نے نکاح کی گرہ مردکےہاتھ میں رکھی ہے۔ قال عزوجل :
بیده عقدة النكاح- یعنی الزوج فی قول علی وسعید بن المسیب وسعید بن جبیر وغیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم۔
اسی(خاوند)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سعیدبن مسیب اور سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہم نے خاوند مراد لیا ہے۔ (ت)
اسی طرح عیاذا بالله عورت کے فسق وفجور سے بھی نکاح نہیں جاتا۔ قال الله تعالی :
و التی یاتین الفاحشة من نسآىكم ۔ سماھن مع ذلك نسائھم وقال جل وعلا و الذین یرمون ازواجهم الآیۃ الی قول تبارك وتعالی و یدرؤا عنها
تمھاری بیویوں میں سے جو فحش کاری کی مرتکب ہو اس میں ا س کے باوجود ان کو بیویاں فرمایا گیا ہے۔
الله عزوجل نے فرمایا : وہ لوگ جواپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں الآیۃ اس عورت سے حد کو ساقط
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۳۴
القرآن ۲ / ۲۳۷
القرآن ۴ / ۱۵
القرآن ۲۴ / ۶
القرآن ۲ / ۲۳۷
القرآن ۴ / ۱۵
القرآن ۲۴ / ۶
العذاب ۔ الآیۃ
کرو الآیۃ تک۔ (ت)
پس جبکہ زید نے ہنوز طلاق نہ دی نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے اور بکر خواہ کسی کو ہر گزا س سے نکاح حلال نہیں اگر کر بھی لیا تاہم جیسے اب تك وہ دونوں مبتلائے زنا رہے یوں ہی اس نکاح بے معنی کے بعد بھی زانی وزانیہ رہیں گے اور یہ جھوٹا نام نکاح کا کچھ مفیدنہ ہوگا قال تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ پاکیزہ عورتیں۔ ت) پس چارہ کاریہی ہے کہ بکر نصیبن فورا جدا ہوجائے اور الله عزوجل کے غضب سے ڈرکر اپنے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں پھر نصیبن زید کے پاس نہ رہنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ زید کی طلاق کے بدلے مال دے کر خواہ بغیر مال دئے طلاق حاصل کرے قال المولی سبحانہ وتعالی :
فان خفتم الا یقیما حدود الله-فلا جناح علیهما فیما افتدت به- ۔
اگر تمھیں ڈر ہے کہ عدل کے طور پر وہ دونوں حدود الله کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو(خلع کے طورپر عورت کی طرف سے)فدیہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ت)
جب زید طلاق دے دے تو تین حیض کامل گزرنے کے بعد نصیبن کو حلال ہوگا کہ بکر خواہ غیر بکر جس سے چاہے نکاح کرلے قال سبحنہ وتعالی :
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء- ۔
طلاق شدہ عورتیں اپنے کو تین حیض تك پابند رکھیں (ت)
بکر ونصیبن اگر اس حکم الہی پر گردن رکھیں فبہا اور اگر نہ مانیں اوراسی حالت پر رہیں یا بے طلاق حاصل کئے آپس میں نکاح کرلیں تو ایمان والے مرد اور ایمان والی بیبیاں انھیں یك لخت چھوڑدیں نہ اپنے پاس بیٹھنے دیں نہ خود ان کے پاس بیٹھیں قال عزوجل :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم
اور کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عالم حیات زوجہ میں حقیقی سالی یا رشتہ کی سالی سے نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
تاحیات زوجہ جب تك اسے طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے اس کی بہن سے جو اس کے باپ کے نطفے
کرو الآیۃ تک۔ (ت)
پس جبکہ زید نے ہنوز طلاق نہ دی نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے اور بکر خواہ کسی کو ہر گزا س سے نکاح حلال نہیں اگر کر بھی لیا تاہم جیسے اب تك وہ دونوں مبتلائے زنا رہے یوں ہی اس نکاح بے معنی کے بعد بھی زانی وزانیہ رہیں گے اور یہ جھوٹا نام نکاح کا کچھ مفیدنہ ہوگا قال تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ پاکیزہ عورتیں۔ ت) پس چارہ کاریہی ہے کہ بکر نصیبن فورا جدا ہوجائے اور الله عزوجل کے غضب سے ڈرکر اپنے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں پھر نصیبن زید کے پاس نہ رہنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ زید کی طلاق کے بدلے مال دے کر خواہ بغیر مال دئے طلاق حاصل کرے قال المولی سبحانہ وتعالی :
فان خفتم الا یقیما حدود الله-فلا جناح علیهما فیما افتدت به- ۔
اگر تمھیں ڈر ہے کہ عدل کے طور پر وہ دونوں حدود الله کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو(خلع کے طورپر عورت کی طرف سے)فدیہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ت)
جب زید طلاق دے دے تو تین حیض کامل گزرنے کے بعد نصیبن کو حلال ہوگا کہ بکر خواہ غیر بکر جس سے چاہے نکاح کرلے قال سبحنہ وتعالی :
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء- ۔
طلاق شدہ عورتیں اپنے کو تین حیض تك پابند رکھیں (ت)
بکر ونصیبن اگر اس حکم الہی پر گردن رکھیں فبہا اور اگر نہ مانیں اوراسی حالت پر رہیں یا بے طلاق حاصل کئے آپس میں نکاح کرلیں تو ایمان والے مرد اور ایمان والی بیبیاں انھیں یك لخت چھوڑدیں نہ اپنے پاس بیٹھنے دیں نہ خود ان کے پاس بیٹھیں قال عزوجل :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم
اور کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عالم حیات زوجہ میں حقیقی سالی یا رشتہ کی سالی سے نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
تاحیات زوجہ جب تك اسے طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے اس کی بہن سے جو اس کے باپ کے نطفے
حوالہ / References
القرآن ۲۴ / ۸
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۲ / ۲۲۹
القرآن ۲ / ۲۲۸
القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۲ / ۲۲۹
القرآن ۲ / ۲۲۸
القرآن ۶ / ۶۸
یا ماں کے پیٹ سے یا دودھ شریك ہے نکاح حرام ہے۔ قال الله تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (منع ہے کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت) اورا ن کے سوا زوجہ کی رشتہ کی بہنیں مثلا چچا ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں اس کے شوہر پر ہر وقت حلال ہیں کل ذلك مصرح بہ فی کتب الفقہ(ان تمام مسائل کی تصریح کتب فقہ میں موجود ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بھتیجی بہو اور بھانج بہو سے نکاح درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
دونوں سے درست ہے قال اﷲ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ : ۵ ذی الحجہ ۱۳۰ از لکھنؤ محلہ علی گنج مرسلہ حافظ عبدالله صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین جواب اس مسئلہ کا کہ ایك شخص نے اپنی سالی کی لڑکی کو واسطے اپنے لڑکے کے نکاح کے پرورش کیا تقدیر ربی سے لڑکا انتقال کرگیا بعدہ خود پرورش کنندہ کی بی بی فوت ہوگئی اب پرورش کنندہ نے اپنی شادی اس لڑکی پرورش کردہ شدہ سے کرلی یہ نکاح جائزہوا یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
قطعا جائز ہے۔ قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) ظاہر ہے کہ بیٹے کے لیے نیت نکاح ہونے سے وہ بیٹے کی منکوحہ نہ ہوگئی جو حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- (تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال شدہ عورتیں تم پر حرام ہیں۔ ت)میں داخل ہوسکے۔ حلائل جمع حلیلہ ہے یعنی وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جوبذریعہ نکاح تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال ہوچکیں یہاں نہ ابھی بیٹے سے نکاح ہوا نہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہوئی باپ پر کیونکر حرام ہوسکتی ہے اور اگر پرورش کے خیال سے ایسا کہا جائے تو بھی محض غلط قرآن عظیم نے یوں فرمایا ہے :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن
تمھاری گود کی پالیاں تمھاری ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم ہم بستر ہوچکے اگر تم نے ان عورتوں سے ہم بستری
مسئلہ ۱۵۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بھتیجی بہو اور بھانج بہو سے نکاح درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
دونوں سے درست ہے قال اﷲ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ : ۵ ذی الحجہ ۱۳۰ از لکھنؤ محلہ علی گنج مرسلہ حافظ عبدالله صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین جواب اس مسئلہ کا کہ ایك شخص نے اپنی سالی کی لڑکی کو واسطے اپنے لڑکے کے نکاح کے پرورش کیا تقدیر ربی سے لڑکا انتقال کرگیا بعدہ خود پرورش کنندہ کی بی بی فوت ہوگئی اب پرورش کنندہ نے اپنی شادی اس لڑکی پرورش کردہ شدہ سے کرلی یہ نکاح جائزہوا یانہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
قطعا جائز ہے۔ قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور مذکورہ محرمات کے علاوہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) ظاہر ہے کہ بیٹے کے لیے نیت نکاح ہونے سے وہ بیٹے کی منکوحہ نہ ہوگئی جو حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- (تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال شدہ عورتیں تم پر حرام ہیں۔ ت)میں داخل ہوسکے۔ حلائل جمع حلیلہ ہے یعنی وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جوبذریعہ نکاح تمھارے صلبی بیٹوں کے لیے حلال ہوچکیں یہاں نہ ابھی بیٹے سے نکاح ہوا نہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہوئی باپ پر کیونکر حرام ہوسکتی ہے اور اگر پرورش کے خیال سے ایسا کہا جائے تو بھی محض غلط قرآن عظیم نے یوں فرمایا ہے :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن
تمھاری گود کی پالیاں تمھاری ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم ہم بستر ہوچکے اگر تم نے ان عورتوں سے ہم بستری
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۳
فلا جناح علیكم-
نہ کی ہو تو ان کے ساتھ نکاح میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔
دیکھو قرآن مجید تصریح فرماتا ہے کہ اپنی منکوحہ کی دختر اپنی گودکی پالی بھی حلال ہے جب تك منکوحہ سے خلوت نہ کی ہو اختیار رکھتا ہے کہ منکوحہ کوچھوڑ کریا اس کے مرے پراس سے نکاح کرلے تو سالی کی بیٹی پرورش کرنے سے کیوں حرام ہونے لگی یہ محض ہندوانہ خیالات ہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۱ : ۲۱ رجب ۱۳۰۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو کے ساتھ کردیا عمرونے طلاق نہیں دی زید نے کچھ روپیہ بکر سے لے کر نکاح بکر کے ساتھ کردیا اور بکر نے بھی طلاق نہیں دی۔ زید نے اورشخص ثالث کے ساتھ کچھ روپیہ لے کر نکاح کردیا اس صوررت میں یہ نکاح جائز ہوگئے یا نہیںبینوا توجروا۔
الجواب :
یہ نکاح نہ ہوئے محض زناہوئے قال الله تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عورتیں حرام ہیں ت) عورت اب جس کے پاس ہے اس پرقطعی فرض ہے کہ عورت کوا پنے پاس سے الگ کردے اور نکال دے۔ اور عورت پر فرض قطعی ہے کہ اس سے جدا ہوجائے اپنے خاوند عمرو کے پاس آئے اور یہ روپیہ کہ زید نے بکر اور اس شخص ثالث سے لیا بالکل حرام قطعی اور رشوت بلکہ زنا کی خرچی تھا زید پر فرض ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا ہے اسے واپس کرے زید اور شخص ثالث اور وہ عورت تینوں میں سے جو شخص ان احکام کی تعمیل نہ کرے مسلمان اسے اپنی صحبت سے نکال دیں اوراس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترك کریں قال الله تعالی :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈالے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۲ : ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاایك بیٹا ہے اور ہندہ کی ایك بیٹی۔ زید کا بیٹا ہندہ سے نکاح کیا چاہتاہے اور زید ہندہ کی بیٹی سے اس صورت میں یہ دونوں نکاح ہوسکتے ہیں یا نہیں کتاب الله سے فرمائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
یہ دونوں نکاح حلال ہیں قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے
نہ کی ہو تو ان کے ساتھ نکاح میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔
دیکھو قرآن مجید تصریح فرماتا ہے کہ اپنی منکوحہ کی دختر اپنی گودکی پالی بھی حلال ہے جب تك منکوحہ سے خلوت نہ کی ہو اختیار رکھتا ہے کہ منکوحہ کوچھوڑ کریا اس کے مرے پراس سے نکاح کرلے تو سالی کی بیٹی پرورش کرنے سے کیوں حرام ہونے لگی یہ محض ہندوانہ خیالات ہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۱ : ۲۱ رجب ۱۳۰۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو کے ساتھ کردیا عمرونے طلاق نہیں دی زید نے کچھ روپیہ بکر سے لے کر نکاح بکر کے ساتھ کردیا اور بکر نے بھی طلاق نہیں دی۔ زید نے اورشخص ثالث کے ساتھ کچھ روپیہ لے کر نکاح کردیا اس صوررت میں یہ نکاح جائز ہوگئے یا نہیںبینوا توجروا۔
الجواب :
یہ نکاح نہ ہوئے محض زناہوئے قال الله تعالی : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عورتیں حرام ہیں ت) عورت اب جس کے پاس ہے اس پرقطعی فرض ہے کہ عورت کوا پنے پاس سے الگ کردے اور نکال دے۔ اور عورت پر فرض قطعی ہے کہ اس سے جدا ہوجائے اپنے خاوند عمرو کے پاس آئے اور یہ روپیہ کہ زید نے بکر اور اس شخص ثالث سے لیا بالکل حرام قطعی اور رشوت بلکہ زنا کی خرچی تھا زید پر فرض ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا ہے اسے واپس کرے زید اور شخص ثالث اور وہ عورت تینوں میں سے جو شخص ان احکام کی تعمیل نہ کرے مسلمان اسے اپنی صحبت سے نکال دیں اوراس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترك کریں قال الله تعالی :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈالے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۲ : ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاایك بیٹا ہے اور ہندہ کی ایك بیٹی۔ زید کا بیٹا ہندہ سے نکاح کیا چاہتاہے اور زید ہندہ کی بیٹی سے اس صورت میں یہ دونوں نکاح ہوسکتے ہیں یا نہیں کتاب الله سے فرمائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
یہ دونوں نکاح حلال ہیں قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۴ / ۲۴
حلال کی گئی ہیں۔ ت) ظاہر ہے کہ پسر زید کے لیے ہندہ اگر ہوگی تو باپ کی ساس ہوگی ذلك اذا تقدم نکاح زید(اور یہ جب ہے کہ زید کا نکاح پہلے ہوا ہو۔ ت)اور باپ کی ساس حلال ہے جبکہ وہ اپنی نانی نہ ہو۔
فی ردالمحتار قال الخیر الرملی لاتحرم ام زوجہ الاب ۔
ردالمحتار میں ہے کہ خیرالدین رملی نے فرمایا کہ باپ کی ساس حلال ہے۔ (ت)
ا ور زید کے لیے ہندہ کی بیٹی اگر ہوگی توبہو یعنی زوجہ پسر کی بیٹی ہوگی وھذ ا اذا سبق نکاح ابن زید(یہ جب ہے کہ زید کے بیٹے کا نکاح پہلے ہوا ہو۔ ت)اور بہو کی بیٹی حلال ہے جبکہ وہ اپنی پوتی نہ ہو۔
فی ردالمحتار اما بنت زوجۃ ابنہ فحلال ۔
ردالمحتارمیں ہے بیٹے کی بیوی کی بیٹی حلال ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳ : از اوجین مرسلہ میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ ۲۹ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے سالی حقیقی سے صحبت کی اور عمرو نے سالی کے ساتھ نکاح توزید وعمرو کی اولین عورتوں پر طلاق عائد ہوتی ہے یانہیں کیونکہ قرآن مجید وفرقان حمید میں و ان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف- (منع ہے کہ تم دوبہنوں کونکاح میں جمع کرو مگر جوہو گزرا۔ ت)وارد ہے اس مسئلہ میں جوحکم شرعا ہو جدا گانہ مع التشریح بحوالہ کتب بیان فرمائیں۔
الجواب :
بموجودی زوجہ سالی سے نکاح حرام ہے۔ اور اس پرفرض ہے کہ اسے ہاتھ نہ لگائے اور فورا چھوڑدے اور زنا تو ہرحال حرام ہی ہے مگر سالی سے نکاح یازنا کرنے سے زوجہ مطلقہ نہیں ہوتی نہ آیت کایہ مطلب ہے نہ سالی سے زنا کے سبب زوجہ سے جماع حرام ہو درمختارمیں ہے :
فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۔
خلاصہ میں ہے کہ سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی حرام نہ ہوگی۔ (ت)
نہ سالی کے ساتھ فقط نکاح کرنے سے جماع زوجہ ممنوع ہوجائے۔ جب تك سالی سے جماع واقع نہ ہو ہاں اگر بعد نکاح سالی سے جماع کرلیا تو اب زوجہ سے جماع حرام ہوگیا یہاں تك کہ سالی کو چھوڑ دے اور اس کی عدت گزر جائے اس وقت زوجہ سے جماع جائز ہوگا یوں ہی اگر بے نکاح سالی سے جماع کیا مگر دیدہ دانستہ
فی ردالمحتار قال الخیر الرملی لاتحرم ام زوجہ الاب ۔
ردالمحتار میں ہے کہ خیرالدین رملی نے فرمایا کہ باپ کی ساس حلال ہے۔ (ت)
ا ور زید کے لیے ہندہ کی بیٹی اگر ہوگی توبہو یعنی زوجہ پسر کی بیٹی ہوگی وھذ ا اذا سبق نکاح ابن زید(یہ جب ہے کہ زید کے بیٹے کا نکاح پہلے ہوا ہو۔ ت)اور بہو کی بیٹی حلال ہے جبکہ وہ اپنی پوتی نہ ہو۔
فی ردالمحتار اما بنت زوجۃ ابنہ فحلال ۔
ردالمحتارمیں ہے بیٹے کی بیوی کی بیٹی حلال ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳ : از اوجین مرسلہ میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ ۲۹ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے سالی حقیقی سے صحبت کی اور عمرو نے سالی کے ساتھ نکاح توزید وعمرو کی اولین عورتوں پر طلاق عائد ہوتی ہے یانہیں کیونکہ قرآن مجید وفرقان حمید میں و ان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف- (منع ہے کہ تم دوبہنوں کونکاح میں جمع کرو مگر جوہو گزرا۔ ت)وارد ہے اس مسئلہ میں جوحکم شرعا ہو جدا گانہ مع التشریح بحوالہ کتب بیان فرمائیں۔
الجواب :
بموجودی زوجہ سالی سے نکاح حرام ہے۔ اور اس پرفرض ہے کہ اسے ہاتھ نہ لگائے اور فورا چھوڑدے اور زنا تو ہرحال حرام ہی ہے مگر سالی سے نکاح یازنا کرنے سے زوجہ مطلقہ نہیں ہوتی نہ آیت کایہ مطلب ہے نہ سالی سے زنا کے سبب زوجہ سے جماع حرام ہو درمختارمیں ہے :
فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۔
خلاصہ میں ہے کہ سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی حرام نہ ہوگی۔ (ت)
نہ سالی کے ساتھ فقط نکاح کرنے سے جماع زوجہ ممنوع ہوجائے۔ جب تك سالی سے جماع واقع نہ ہو ہاں اگر بعد نکاح سالی سے جماع کرلیا تو اب زوجہ سے جماع حرام ہوگیا یہاں تك کہ سالی کو چھوڑ دے اور اس کی عدت گزر جائے اس وقت زوجہ سے جماع جائز ہوگا یوں ہی اگر بے نکاح سالی سے جماع کیا مگر دیدہ دانستہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۳
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
زنانہ کیا بلکہ بلاشبہہ اور دھوکے سے جماع واقع ہو تو بھی زوجہ سے جماع حرام ہوگیا جب تك اس جماع شبہہ کے سبب سالی پر جو عدت لازم آئی ہے ختم ہوجائے۔
فی ردالمحتار فی مسئلۃ نکاح المرأۃ علی اختھا الثانی باطل ولہ وطی الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطئ اخت امرأتہ بشبھۃ حیث تحرم امرأۃ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ح عن البحر ۔
ردالمحتا ر میں بہن کی موجودگی میں سالی سے نکاح کے مسئلہ میں فرمایا کہ دوسرا نکاح باطل ہے اور جب تك دوسری سے وطی نہ کی ہو پہلی سے جماع جائز ہے۔ اگردوسری سے وطی کرلی ہوتو پہلی سے جماع ا س وقت تك حرام ہے جب تك دوسری کی عدت نہ گزرجائے۔
جس طرح شبہہ کی بناء پر بیوی کی بہن سے جماع ہوجائے توبیوی سے جماع حرام ہوتا ہے۔ تاوقتیکہ شبہہ والی کی عدت پوری نہ ہوجائے یہ بحر سے منقول ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۶۴ : از مارھرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب قبلہ پنجم شوال ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا عقد بولایت اپنے ہمراہ بکرکردیا کہ جس کوعرصہ ایك سال کاگزرا زیدکی زوجہ کوسفر درپیش آیا واسطے حفاظت ونگرانی بکر کوہمراہ کردیا زوجہ زید نے بہمراہی اپنے داماد بکر کے مع ایك خادمہ سفر گاڑی پر کیا شب کوسرائے میں بکر نے باارادہ فاسدہ ونیت خراب اپنی خوشدامن کی چارپائی پرآکر زبردستی کہاکہ میں پاؤں دابوں ہر چند منع کیالیکن زبردستی پاؤں دبانے شروع کردئے اور شکم پر ہاتھ پھیر کر قریب تھا کہ کمر بند کھول ڈالے اور اپنا ازار بند اول کھول لیاتھا نہایت مشکل وزبردستی سے بکر کوچارپائی سے علیحدہ کیاگیا دوبارہ پھر قریب تین بجے شب کے بکر نے آکر چارپائی پر بیٹھ کر ارادہ دست درازی کاکیا زوجہ زید کی آنکھ کھلی گئی اور وہ چیخ کر غل مچانے لگی جس سے گاڑی بان اور خادمہ نے چونك کر چراغ سے دیکھا توبکرتھا عذر بدتر از گناہ کرنے لگا کہ میں کتا مارنے آیا تھا یہ بات زوجہ زید یقین اور خوب مضبوطی سے از روئے مباہلہ وقسم شرعی کہتی ہے کہ بکر نے اول مرتبہ میرے شکم پر ہاتھ پھیر کر میرے ازاربند کھولنے کی نیت سے دست درازی کی تھی اور اپنا ازار بند کھول رکھا تھا اور اس وقت بکر کے دست وپا میں رعشہ سخت تھا اگر میں ناراض ہوکر زبردستی بکر کوچار پائی سے علیحدہ نہ کرتی توبیشك میری عصمت بکر خراب کرڈالتا اورا سی ارادہ سے دوبارہ پھر بکر آکر میری چارپائی پر بیٹھا اگر گاڑی بان وخادمہ چراغ لے کر نہ آتے اور نہ دیکھتے
فی ردالمحتار فی مسئلۃ نکاح المرأۃ علی اختھا الثانی باطل ولہ وطی الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطئ اخت امرأتہ بشبھۃ حیث تحرم امرأۃ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ح عن البحر ۔
ردالمحتا ر میں بہن کی موجودگی میں سالی سے نکاح کے مسئلہ میں فرمایا کہ دوسرا نکاح باطل ہے اور جب تك دوسری سے وطی نہ کی ہو پہلی سے جماع جائز ہے۔ اگردوسری سے وطی کرلی ہوتو پہلی سے جماع ا س وقت تك حرام ہے جب تك دوسری کی عدت نہ گزرجائے۔
جس طرح شبہہ کی بناء پر بیوی کی بہن سے جماع ہوجائے توبیوی سے جماع حرام ہوتا ہے۔ تاوقتیکہ شبہہ والی کی عدت پوری نہ ہوجائے یہ بحر سے منقول ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۶۴ : از مارھرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب قبلہ پنجم شوال ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا عقد بولایت اپنے ہمراہ بکرکردیا کہ جس کوعرصہ ایك سال کاگزرا زیدکی زوجہ کوسفر درپیش آیا واسطے حفاظت ونگرانی بکر کوہمراہ کردیا زوجہ زید نے بہمراہی اپنے داماد بکر کے مع ایك خادمہ سفر گاڑی پر کیا شب کوسرائے میں بکر نے باارادہ فاسدہ ونیت خراب اپنی خوشدامن کی چارپائی پرآکر زبردستی کہاکہ میں پاؤں دابوں ہر چند منع کیالیکن زبردستی پاؤں دبانے شروع کردئے اور شکم پر ہاتھ پھیر کر قریب تھا کہ کمر بند کھول ڈالے اور اپنا ازار بند اول کھول لیاتھا نہایت مشکل وزبردستی سے بکر کوچارپائی سے علیحدہ کیاگیا دوبارہ پھر قریب تین بجے شب کے بکر نے آکر چارپائی پر بیٹھ کر ارادہ دست درازی کاکیا زوجہ زید کی آنکھ کھلی گئی اور وہ چیخ کر غل مچانے لگی جس سے گاڑی بان اور خادمہ نے چونك کر چراغ سے دیکھا توبکرتھا عذر بدتر از گناہ کرنے لگا کہ میں کتا مارنے آیا تھا یہ بات زوجہ زید یقین اور خوب مضبوطی سے از روئے مباہلہ وقسم شرعی کہتی ہے کہ بکر نے اول مرتبہ میرے شکم پر ہاتھ پھیر کر میرے ازاربند کھولنے کی نیت سے دست درازی کی تھی اور اپنا ازار بند کھول رکھا تھا اور اس وقت بکر کے دست وپا میں رعشہ سخت تھا اگر میں ناراض ہوکر زبردستی بکر کوچار پائی سے علیحدہ نہ کرتی توبیشك میری عصمت بکر خراب کرڈالتا اورا سی ارادہ سے دوبارہ پھر بکر آکر میری چارپائی پر بیٹھا اگر گاڑی بان وخادمہ چراغ لے کر نہ آتے اور نہ دیکھتے
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۶
توبکر ہر گز اپنے ارادہ سے باز نہ آتا زید کوبعد دریافت اس حالت کے اپنی دختر ہندہ کے عقد میں شك پڑگیا اور کہا کہ میں اب رخصت نہ کروں گا تو اب جس حالت میں دونوں ولی اصلی یعنی والدین ہندہ زید مع زوجہ بکر سےباعث اس حرکت کے ناراض ہیں تونکاح ہندہ کا بکر سے باقی رہ گیا یا ٹوٹ گیا اور اگر ٹوٹ گیا تو عقد ثانی اس کا خواہ بکر سے یا اورجگہ ہوسکتا ہے یانہیں کیونکردختر زیدیعنی ہندہ نابالغہ ہے اور ولی یعنی والدین اس کے بکر سے ناراض ہیں تو ایسی حالت میں مسئلہ شریعت کیا ہے۔ اور اب معاملہ ہندہ وبکر کیا ہونا چاہئے اور زوجہ زید جوان ہے جس سے یہ حرکت بکرنے کی فقط بینوا توجروا
الجواب :
اس میں شك نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔ اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ(یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا)پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار العبرۃ للشھوۃ عند المس والنظر لابعدھما وحد ھا فیما تحرك التہ او زیادتہ بہ یفتی ۔ وفی ردالمحتار قولہ او زیادتہ ای زیادۃ التحرك ان کان موجود ا قبلھما قولہ بہ یفتی قال فی الفتح وفرع علیہ مالوانتشر وطلب امرأتہ فاولج بین فخذی بنتھا خطاء لاتحرم امھا مالم یزد الانتشار ۔
درمختار میں ہے کہ دیکھنے اور چھونے کے وقت شہوت کا اعتبار ہے اس کے بعد والی شہوت معتبر نہیں اور اس وقت معتبر شہوت کی حد یہ ہے کہ چھونے اور دیکھنے پرآلہ تناسل حرکت کرے یا اس وقت حرکت میں زیادتی پیدا ہو۔ اسی پر فتوی ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے : اس کا قول “ زیادتہ “ اس سے مراد حرکت کی زیادتی ہے جبکہ پہلے حرکت موجود ہو اس کا قول بہ یفتی فتح میں کہا اورا س پر تفریع بیان کی کہ کسی کو انتشار ہوا اپنی بیوی کی طلب کی تو بیوی کی بجائے(بیوی کے پہلے خاوند سے)بیٹی کی رانوں کو غلطی اور خطا سے استعمال کیا تو اس لڑکی کی ماں(بیوی)اس پر حرام
الجواب :
اس میں شك نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔ اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ(یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا)پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار العبرۃ للشھوۃ عند المس والنظر لابعدھما وحد ھا فیما تحرك التہ او زیادتہ بہ یفتی ۔ وفی ردالمحتار قولہ او زیادتہ ای زیادۃ التحرك ان کان موجود ا قبلھما قولہ بہ یفتی قال فی الفتح وفرع علیہ مالوانتشر وطلب امرأتہ فاولج بین فخذی بنتھا خطاء لاتحرم امھا مالم یزد الانتشار ۔
درمختار میں ہے کہ دیکھنے اور چھونے کے وقت شہوت کا اعتبار ہے اس کے بعد والی شہوت معتبر نہیں اور اس وقت معتبر شہوت کی حد یہ ہے کہ چھونے اور دیکھنے پرآلہ تناسل حرکت کرے یا اس وقت حرکت میں زیادتی پیدا ہو۔ اسی پر فتوی ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے : اس کا قول “ زیادتہ “ اس سے مراد حرکت کی زیادتی ہے جبکہ پہلے حرکت موجود ہو اس کا قول بہ یفتی فتح میں کہا اورا س پر تفریع بیان کی کہ کسی کو انتشار ہوا اپنی بیوی کی طلب کی تو بیوی کی بجائے(بیوی کے پہلے خاوند سے)بیٹی کی رانوں کو غلطی اور خطا سے استعمال کیا تو اس لڑکی کی ماں(بیوی)اس پر حرام
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۰
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۰
نہ ہوگی کیونکہ اس وقت انتشار زائد نہ ہوا(بلکہ وہ انتشار موجود رہا جو پہلے بیوی کے لیے ہواتھا)(ت)اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ مس برہنہ جسم پر ہو یا کسی ایسے باریك کپڑے پرسے کہ عورت کے جسم کی حرارت اس کے ہاتھ کو پہنچنے سے مانع نہ ہو جیسے اس زمانے میں جالی یا تنزیب کی کرتیاں ورنہ اگر ایسا سنگین کپڑا حائل تھا کہ جسم زن کی گرمی ہاتھ کو محسوس نہ ہونے دے توحرمت نہیں اگرچہ مس بہزار شہورت واقع ہواہو۔
فی الدرالمختار واصل ممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ فی ردالمحتار فلوکان مانعا لاتثبت الحرمۃ کذا فی اکثر الکتب وکذا لوجامعھا بخرقۃ علی ذکرہ ۔
درمختار میں ہے شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت خواہ یہ مس عورت کے سر کے بالوں کا کسی ایسے پردہ اور کپڑے کے حائل ہونے کے باجود ہو جو بدن کی حرارت پہنچنے کے لیے مانع نہ ہو توبھی اس عورت کے اصول حرام ہوجائیں گے ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ کپڑا بدن کی حرارت کے لیے مانع ہو تو حرمت ثابت نہ ہوگی اکثر کتب میں ایسے ہی ہے۔ اور یوں ہی اگر کسی عورت سے جماع کے وقت ذکر پرموٹا کپڑا لپیٹ لیا(جس سے آپس میں دونوں کے بدن کی حرارت نہ محسوس ہو سکے اور عورت کے باقی تمام بدن پرموٹا کپڑا ہو کہ کوئی حصہ بدن برہنہ مس نہ ہو)(ت)
نیز ایك شرط حرمت یہ ہے کہ یہ حرکت انزال کی طرف مودی نہ ہو اگر انزال ہوگیا حرمت نہ ہوئی۔
فی الدرالمختار ھذا اذالم ینزل فلو انزل مع مس اونظر فلاحرمۃ بہ یفتی ابن کمال ۔
درمختار میں ہے کہ حرمت تب ثابت ہوگی جب اس انتشار میں انزال نہ ہوا ہو اور اگر مس یا نظر کے وقت شہوت سے انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی اس پرفتوی ہے۔ ابن کمال (ت)
غرض مس یا نظر کے سبب حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں یہ شرطیں ہیں زوجہ زید کا بیان جس قدر سوال میں مذکور اس سے کچھ نہیں کھلتا کہ صورت واقعہ میں یہ متحقق تھیں یا نہیں۔ تین بجے شب کے واقعہ میں بکر کاصرف اس کی چارپائی پر آکر بیٹھنا اور دست درازی کا ارادہ کرنا بیان کرتی ہے کہ مجرد ارادہ کوئی چیز نہیں اور واقعہ اول شب میں بھی کچھ نہیں کہتی کہ بکر کا پاؤں دبانا کپڑے پر سے تھا یا برہنہ پاؤں پر
فی الدرالمختار واصل ممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ فی ردالمحتار فلوکان مانعا لاتثبت الحرمۃ کذا فی اکثر الکتب وکذا لوجامعھا بخرقۃ علی ذکرہ ۔
درمختار میں ہے شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت خواہ یہ مس عورت کے سر کے بالوں کا کسی ایسے پردہ اور کپڑے کے حائل ہونے کے باجود ہو جو بدن کی حرارت پہنچنے کے لیے مانع نہ ہو توبھی اس عورت کے اصول حرام ہوجائیں گے ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ کپڑا بدن کی حرارت کے لیے مانع ہو تو حرمت ثابت نہ ہوگی اکثر کتب میں ایسے ہی ہے۔ اور یوں ہی اگر کسی عورت سے جماع کے وقت ذکر پرموٹا کپڑا لپیٹ لیا(جس سے آپس میں دونوں کے بدن کی حرارت نہ محسوس ہو سکے اور عورت کے باقی تمام بدن پرموٹا کپڑا ہو کہ کوئی حصہ بدن برہنہ مس نہ ہو)(ت)
نیز ایك شرط حرمت یہ ہے کہ یہ حرکت انزال کی طرف مودی نہ ہو اگر انزال ہوگیا حرمت نہ ہوئی۔
فی الدرالمختار ھذا اذالم ینزل فلو انزل مع مس اونظر فلاحرمۃ بہ یفتی ابن کمال ۔
درمختار میں ہے کہ حرمت تب ثابت ہوگی جب اس انتشار میں انزال نہ ہوا ہو اور اگر مس یا نظر کے وقت شہوت سے انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی اس پرفتوی ہے۔ ابن کمال (ت)
غرض مس یا نظر کے سبب حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں یہ شرطیں ہیں زوجہ زید کا بیان جس قدر سوال میں مذکور اس سے کچھ نہیں کھلتا کہ صورت واقعہ میں یہ متحقق تھیں یا نہیں۔ تین بجے شب کے واقعہ میں بکر کاصرف اس کی چارپائی پر آکر بیٹھنا اور دست درازی کا ارادہ کرنا بیان کرتی ہے کہ مجرد ارادہ کوئی چیز نہیں اور واقعہ اول شب میں بھی کچھ نہیں کہتی کہ بکر کا پاؤں دبانا کپڑے پر سے تھا یا برہنہ پاؤں پر
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۰
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۰
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
اور شکم پر ہاتھ پھیر نا بھی کچھ خواہی نخواہی اس میں نص نہیں کہ برہنہ پیٹ پر ہاتھ پھیرا نہ یہ معلوم کہ اس وقت زوجہ زید کی کرتی کیسے کپڑے کی تھی تواس کے فقط اتنے بیان پر حکم حرمت نہیں ہوسکتا جب تك صاف صاف تمام شرائط کا متحقق ہونانہ ظاہر ہو۔ لہذا فقیر اس مسئلہ کے جواب میں صرف اس قدر حکم دے سکتا ہے کہ اگر بکر نے زوجہ زید کے پاؤں یا پیٹ خواہ کسی جسم پر برہنہ یا حائل نرم کے ساتھ بطور شہوت ہاتھ لگایا کہ اس حرکت کی حالت ہی میں اسے نعوظ پید ہوا یا پہلے سے تھا تو اسی حالت میں بڑھ گیا اور انزال واقع نہ ہوا تو بیشك ہندہ ہمیشہ ہمیشہ بکرپرحرام ہوگئی کہ کبھی کسی طریقہ سے اسے ہاتھ نہیں لگاسکتا ہے اورا گران شرائط میں کچھ کمی تھی تو ہندہ بدستور اس کے لیے حلال ہے پھر جس حالت میں حکم حرمت دیا جائے گا اس کا بھی یہ حاصل ہر گز نہیں کہ نکاح بالفعل ٹوٹ گیا یہ محض خطا ہے بلکہ اس وقت حکم صرف ا س قدرہوگا کہ ہندہ بکر پر حرام ابدی ہوگئی بکر پر فرض کہ اسے چھوڑ دے اگر نہ چھوڑ ے گا سخت گناہ گارہوگا اور ہندہ کے حق میں بھی گرفتارہوگا۔ قال الله تعالی :
فامساك بمعروف او تسریح باحسان- واذ قد فاتہ الامساك بالمعروف لزمہ التسریح باحسان۔
بھلائی سے پاس رکھو یا اچھے انداز میں اس کوآزاد کردو اس صورت میں پاس رکھنا ممکن نہیں رہا لہذا اس کو چاہئے کہ چھوڑ دے۔ (ت)
مگر جب عــــہ تك وہ ترك نہ کرے یاحاکم شرع تفریق نہ کردے نکاح بیشك باقی ہے۔ دوسری جگہ ہرگز ہندہ کا نکاح جائز
عــــہ : انظھر ھھنا فان الدرخص المتارکۃ بالزوج و حقق الشامی انھاتکون من المرأۃ ایضا وان لافرق بینھا وبین الفسخ وقد تقرر ان حرمۃ المصاھرۃ تفسدالنکاح وان فی النکاح الفاسد لکل منہما فسخہ ولو بغیر محضرمن صاحبہ دخل بھا اولا وانظر ان غیرالبالغۃ ھل لہا او لو لیھا فسخ نکاحھا الفاسد تحرزا عن المعصیۃ ام ینتظر بلوغھا اذلامعصیہ منھا قبلہ والظاھر الاول فلیحرر (م)
یہاں غور کرنا چاہئے کیونکہ در نے متار کہ کاحق خاوند کے لیے خاص کیا ہے جبکہ علامہ شامی نے کہا کہ عورت کو بھی متارکہ کا حق ہے کیونکہ اس میں اور فسخ میں کوئی فرق نہیں اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو فاسد کردیتی ہے۔ جبکہ نکاح فاسد میں خاوند وبیوی دونوں کوایك دوسرے کی موجود گی ہو یا نہ ہو دخول کیا ہونہ کیا ہو فسخ کاحق ہے اور یہ بھی قابل غور ہے کہ کیا نا بالغہ کے فاسد نکاح میں نابالغہ یااس کے ولی کو فسخ کا اختیار ہے تاکہ گناہ سے بچایا جاسکے یا اس کے بالغ ہونے کاا نتظار کیا جائے گا اس بناپر کہ اس سے قبل گناہ مقصود نہیں اور ظاہر پہلااحتمال ہے۔ اس کوواضح کرنا چاہئے۔ (ت)
فامساك بمعروف او تسریح باحسان- واذ قد فاتہ الامساك بالمعروف لزمہ التسریح باحسان۔
بھلائی سے پاس رکھو یا اچھے انداز میں اس کوآزاد کردو اس صورت میں پاس رکھنا ممکن نہیں رہا لہذا اس کو چاہئے کہ چھوڑ دے۔ (ت)
مگر جب عــــہ تك وہ ترك نہ کرے یاحاکم شرع تفریق نہ کردے نکاح بیشك باقی ہے۔ دوسری جگہ ہرگز ہندہ کا نکاح جائز
عــــہ : انظھر ھھنا فان الدرخص المتارکۃ بالزوج و حقق الشامی انھاتکون من المرأۃ ایضا وان لافرق بینھا وبین الفسخ وقد تقرر ان حرمۃ المصاھرۃ تفسدالنکاح وان فی النکاح الفاسد لکل منہما فسخہ ولو بغیر محضرمن صاحبہ دخل بھا اولا وانظر ان غیرالبالغۃ ھل لہا او لو لیھا فسخ نکاحھا الفاسد تحرزا عن المعصیۃ ام ینتظر بلوغھا اذلامعصیہ منھا قبلہ والظاھر الاول فلیحرر (م)
یہاں غور کرنا چاہئے کیونکہ در نے متار کہ کاحق خاوند کے لیے خاص کیا ہے جبکہ علامہ شامی نے کہا کہ عورت کو بھی متارکہ کا حق ہے کیونکہ اس میں اور فسخ میں کوئی فرق نہیں اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو فاسد کردیتی ہے۔ جبکہ نکاح فاسد میں خاوند وبیوی دونوں کوایك دوسرے کی موجود گی ہو یا نہ ہو دخول کیا ہونہ کیا ہو فسخ کاحق ہے اور یہ بھی قابل غور ہے کہ کیا نا بالغہ کے فاسد نکاح میں نابالغہ یااس کے ولی کو فسخ کا اختیار ہے تاکہ گناہ سے بچایا جاسکے یا اس کے بالغ ہونے کاا نتظار کیا جائے گا اس بناپر کہ اس سے قبل گناہ مقصود نہیں اور ظاہر پہلااحتمال ہے۔ اس کوواضح کرنا چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۲۹
نہیں۔ ہاں بعد متارکہ یا تفریق حاکم شرع پدر ہندہ کو اختیار ہوگا کہ بکر کے سوا جس سے چاہے نکاح کردے۔
فی الدرالمختار بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا ۔ وفی ردالمحتار ای وان مضی علیھا سنون کما فی البزازیۃ وعبارۃ الحاوی الابعد تفریق القاضی اوبعد المتارکۃ اھ۔
درمختار میں ہے حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ متارکہ اور عدت گزرجانے کے بعدا س کا کسی دوسرے شخص سے نکاح اور وطی جائز ہوگی اس سے قبل جائز نہیں (حرمت مصاہرہ کے بعد متارکہ سے قبل)خاوند کی وطی کو زنا نہ کہا جائے گا ردالمحتار میں ہے کہ اگرچہ کئی سال گزرجائیں اور حاوی کی عبارت کے مطابق قاضی کی تفریق یامتارکہ کے بعد ہی وہ نکاح کرسکے گی۔ (ت)والله سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۶۵ : از مارہرہ مطہرہ مرسلہ جناب سید امیر حیدر صاحب قبلہ ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح بولایت خود وشوئے خود بکر سے کیا بعدہ بوجہ نااتفاقی باہمی یہ خیال ہو اکہ یہ نکاح کسی شکل سے توڑنا چاہئے کہ دوسری جگہ نکاح ہوسکے ہندہ سفر کو گئی ہمراہی میں بکر اور ایك خادمہ اور ایك نابالغہ چھ آدمی اور گاڑی بان جس سے پردہ نہ تھا گئے سرائے میں کھانا کھاکر جو بچا ہندہ نے اپنے سرہانے رکھوالیا چارپائی پر ہندہ اور نیچے فرش پر خادمہ بکر وچھوکری سوئے ۲ ۱بجے شب کے خادمہ مع چھوکری پیشاب کو گئی بکر غافل سوتا تھا ہندہ نے بآواز سخت پکاراکہ جلد ہوشیار ہو مجھے خوف معلوم ہوتاہے۔ بکر پاس گیا اور فرش پر بیٹھنے کا ارادہ کیا کہا میری چارپائی پربیٹھ جاؤ وہ ایك گوشہ میں بیٹھ گیااتنے میں خادمہ آگئی تو بکر سے بہ سہولت کہا اب تو جا کر سو رہ بکر اپنی جگہ پر سورہا ۲ بجے شب کے بکر حقہ پینے اٹھا مکان میں کتا جاتا معلوم ہوا حقہ گاڑی بان کو دے کر اندر آگیا اندھیرا تھا چارپائی کو ٹھوکر لگی ہندہ نے خادمہ اور گاڑی بان کو پکارا بکر نے فورا کہا میں ہوں کتا مارنے آیاہوں کہ کھانا خراب نہ کرے سب سو رہے۔ صبح کو ہندہ نے خادمہ سے کہا بکر نے میرے ساتھ بد نیتی کا اردہ کیا کہاکب کہا جب تو پیشاب کو گئی تھی کہا مجھے ایسی کیا دیرہوئی تھی اور تم نے جبھی کیوں نہ کہا میں بکر سے پوچھتی ہوں اسے سخت قسم دے دی پھرہفتہ بھر ساتھ رہے کچھ ظاہرنہ ہوا مکان پرآکر ہندہ نے بہتان باندھا خادمہ اور گاڑی بان بقسم محض لاعلمی بیان کرتے ہیں اوربکر بھی اپنی بے قصوری کی صدہا قسمیں کھا تاہے۔ آیا تنہا بیان ہندہ قابل وثوق ہے اور نکاح بکر قائم رہا یا کیا بینواتوجروا
فی الدرالمختار بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا ۔ وفی ردالمحتار ای وان مضی علیھا سنون کما فی البزازیۃ وعبارۃ الحاوی الابعد تفریق القاضی اوبعد المتارکۃ اھ۔
درمختار میں ہے حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ متارکہ اور عدت گزرجانے کے بعدا س کا کسی دوسرے شخص سے نکاح اور وطی جائز ہوگی اس سے قبل جائز نہیں (حرمت مصاہرہ کے بعد متارکہ سے قبل)خاوند کی وطی کو زنا نہ کہا جائے گا ردالمحتار میں ہے کہ اگرچہ کئی سال گزرجائیں اور حاوی کی عبارت کے مطابق قاضی کی تفریق یامتارکہ کے بعد ہی وہ نکاح کرسکے گی۔ (ت)والله سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۶۵ : از مارہرہ مطہرہ مرسلہ جناب سید امیر حیدر صاحب قبلہ ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح بولایت خود وشوئے خود بکر سے کیا بعدہ بوجہ نااتفاقی باہمی یہ خیال ہو اکہ یہ نکاح کسی شکل سے توڑنا چاہئے کہ دوسری جگہ نکاح ہوسکے ہندہ سفر کو گئی ہمراہی میں بکر اور ایك خادمہ اور ایك نابالغہ چھ آدمی اور گاڑی بان جس سے پردہ نہ تھا گئے سرائے میں کھانا کھاکر جو بچا ہندہ نے اپنے سرہانے رکھوالیا چارپائی پر ہندہ اور نیچے فرش پر خادمہ بکر وچھوکری سوئے ۲ ۱بجے شب کے خادمہ مع چھوکری پیشاب کو گئی بکر غافل سوتا تھا ہندہ نے بآواز سخت پکاراکہ جلد ہوشیار ہو مجھے خوف معلوم ہوتاہے۔ بکر پاس گیا اور فرش پر بیٹھنے کا ارادہ کیا کہا میری چارپائی پربیٹھ جاؤ وہ ایك گوشہ میں بیٹھ گیااتنے میں خادمہ آگئی تو بکر سے بہ سہولت کہا اب تو جا کر سو رہ بکر اپنی جگہ پر سورہا ۲ بجے شب کے بکر حقہ پینے اٹھا مکان میں کتا جاتا معلوم ہوا حقہ گاڑی بان کو دے کر اندر آگیا اندھیرا تھا چارپائی کو ٹھوکر لگی ہندہ نے خادمہ اور گاڑی بان کو پکارا بکر نے فورا کہا میں ہوں کتا مارنے آیاہوں کہ کھانا خراب نہ کرے سب سو رہے۔ صبح کو ہندہ نے خادمہ سے کہا بکر نے میرے ساتھ بد نیتی کا اردہ کیا کہاکب کہا جب تو پیشاب کو گئی تھی کہا مجھے ایسی کیا دیرہوئی تھی اور تم نے جبھی کیوں نہ کہا میں بکر سے پوچھتی ہوں اسے سخت قسم دے دی پھرہفتہ بھر ساتھ رہے کچھ ظاہرنہ ہوا مکان پرآکر ہندہ نے بہتان باندھا خادمہ اور گاڑی بان بقسم محض لاعلمی بیان کرتے ہیں اوربکر بھی اپنی بے قصوری کی صدہا قسمیں کھا تاہے۔ آیا تنہا بیان ہندہ قابل وثوق ہے اور نکاح بکر قائم رہا یا کیا بینواتوجروا
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
الجواب :
تنہا ایك عورت کا بیان اصلاقابل سماعت نہیں قال الله تعالی : و اشهدوا ذوی عدل منكم (اپنے دو عادل گواہ بناؤ۔ ت) نکاح بکر یقینا قائم ہے
حتی علی فرض صدقھا ایضا لان المذھب عندنا ان حرمۃ المصاھرۃ لاترفع النکاح وانما تفسدہ فلا بدمن متارکۃ من زوج اوتفریق من قاض ۔ کما فی رد المحتار عن النھر عن الزیلعی(مفھوما) واﷲ تعالی اعلم
حتی کہ عورت کو سچا بھی تسلیم کیا جائے اس لیے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کو فاسدہ کرتی ہے۔ لہذا خاوند کا متار کہ یا قاضی کی تفریق ضروری ہے۔ جیساکہ ردالمحتار میں زیلعی کے حوالے سے نہر سے منقول ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۶ : ا ز رائپور علاقہ جے پور ڈاکخانہ نڈاون مرسلہ منشی فرزند حسن صاحب ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو جس شخص کا حمل ہو قبل وضع حمل اسی سے یا غیر سے نکاح کرنا اسے جائز ہے یا نہیںـ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب :
حمل اگر حلال کا ہے(یعنی وہ جس میں شرعا نسب ثابت ہو)تو قبل ازوضع اس کا نکاح کسی غیر سے نہیں ہوسکتا۔ قال الله تعالی :
و اولات الاحمال اجلهن ان یضعن حملهن- ۔
حاملہ عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تك ہے۔ (ت)
ہاں شوہر سے جس کا حمل ہے نکاح جائز اس کی صورت یہ کہ بعد حمل رہنے کے شوہر نے طلاق دے دی تو اگرچہ ہنوز وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ طلاق مغلظہ نہ ہو جس میں حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔
فی الدرالمختار ینکح مبا ینتہ بمادون الثلاث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع لامطلقۃ بالثلث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ (ملتقطا)
درمختار میں ہے کہ اپنی مطلقہ بائنہ سے عد ت پوری ہونے سے قبل یا بعد نکاح کرسکتا ہے بالاجماع تین طلاق والی سے نکاح نہیں کرسکتا جب تك کسی غیر شخص سے اس کا نکاح اور وطی نہ ہوجائے۔ (ملتقطا)(ت)
تنہا ایك عورت کا بیان اصلاقابل سماعت نہیں قال الله تعالی : و اشهدوا ذوی عدل منكم (اپنے دو عادل گواہ بناؤ۔ ت) نکاح بکر یقینا قائم ہے
حتی علی فرض صدقھا ایضا لان المذھب عندنا ان حرمۃ المصاھرۃ لاترفع النکاح وانما تفسدہ فلا بدمن متارکۃ من زوج اوتفریق من قاض ۔ کما فی رد المحتار عن النھر عن الزیلعی(مفھوما) واﷲ تعالی اعلم
حتی کہ عورت کو سچا بھی تسلیم کیا جائے اس لیے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کو فاسدہ کرتی ہے۔ لہذا خاوند کا متار کہ یا قاضی کی تفریق ضروری ہے۔ جیساکہ ردالمحتار میں زیلعی کے حوالے سے نہر سے منقول ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۶ : ا ز رائپور علاقہ جے پور ڈاکخانہ نڈاون مرسلہ منشی فرزند حسن صاحب ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو جس شخص کا حمل ہو قبل وضع حمل اسی سے یا غیر سے نکاح کرنا اسے جائز ہے یا نہیںـ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب :
حمل اگر حلال کا ہے(یعنی وہ جس میں شرعا نسب ثابت ہو)تو قبل ازوضع اس کا نکاح کسی غیر سے نہیں ہوسکتا۔ قال الله تعالی :
و اولات الاحمال اجلهن ان یضعن حملهن- ۔
حاملہ عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تك ہے۔ (ت)
ہاں شوہر سے جس کا حمل ہے نکاح جائز اس کی صورت یہ کہ بعد حمل رہنے کے شوہر نے طلاق دے دی تو اگرچہ ہنوز وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ طلاق مغلظہ نہ ہو جس میں حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔
فی الدرالمختار ینکح مبا ینتہ بمادون الثلاث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع لامطلقۃ بالثلث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ (ملتقطا)
درمختار میں ہے کہ اپنی مطلقہ بائنہ سے عد ت پوری ہونے سے قبل یا بعد نکاح کرسکتا ہے بالاجماع تین طلاق والی سے نکاح نہیں کرسکتا جب تك کسی غیر شخص سے اس کا نکاح اور وطی نہ ہوجائے۔ (ملتقطا)(ت)
حوالہ / References
القرآن ۶۵ / ۲
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
القرآن ۶۵ / ۴
درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۰
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
القرآن ۶۵ / ۴
درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴۰
اور اگر زنا کا حمل ہے(جس میں بچہ شرعا مجہول النسب ٹھہرتا ہے)تو زانی وغیرزانی جس سے چاہے بے وضع حمل نکاح کرسکتی ہے کہ زنا کے پانی کی شرع میں اصلا حرمت و عزت نہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ اگر خود زانی سے نکاح جس کا حمل رہاتھا تو اسے صحبت کرنی بھی جائز ہوجائے گی اور غیرسے نکاح ہوا جب تك وضع حمل نہ ہولے وہ ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
فی الدرالمختار صح نکاح حبلی من زنا لاحبلی من غیرہ وان حرم وطؤھا ودوا عیہ حتی تضع ولو نکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
درمختار میں ہے : زنا سے حاملہ کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ کہ غیر زنا کی حاملہ سے جبکہ اس سے وطی اور متعلقہ امور بچے کی پیدائش تك حرام ہیں اورا س سے خود زانی نے نکاح کیاہو تو وطی بھی بالاتفاق جائز ہے اھ ملخصا(ت)
مسئلہ ۱۶۷ : از آنولہ ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں ناجائز طور کی ملاقات تھی زیداس سے ارادہ نکاح رکھتا تھا ہندہ کی بیٹی سلمہ نابالغہ کو جس کی عمر نو برس کی ہے اس کے چچا نے اپنی بیٹی ظاہر کرکے زید سے نکاح کردیا مگر ہنوز رخصت واقع نہ ہوئی اب زید کو معلوم ہوا کہ یہ اسی ہندہ کی بیٹی ہے جس سے قبل اس نکاح کے زید کا ناجائز تعلق رہ چکا ہے اس حالت میں اس نکاح کی نسبت کیا حکم ہے اور زید بعد اس نکاح کے ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو اور بعد اس کے وہ ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
فان نکاح البنات وان کان یحرم الامھات لکن اذا کان صحیحا ولایصح النکاح مع بنت ممسوسۃ لحرمۃ المصاھرۃ۔
بیٹی سے نکاح کی وجہ سے ماں اگرچہ حرام ہوجاتی ہے مگر اس وقت جب بیٹی سے صحیح نکاح ہو اور حرمت مصاہرہ کی بناپر شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت کی بیٹی سے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ (ت)
فی الدرالمختار صح نکاح حبلی من زنا لاحبلی من غیرہ وان حرم وطؤھا ودوا عیہ حتی تضع ولو نکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
درمختار میں ہے : زنا سے حاملہ کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ کہ غیر زنا کی حاملہ سے جبکہ اس سے وطی اور متعلقہ امور بچے کی پیدائش تك حرام ہیں اورا س سے خود زانی نے نکاح کیاہو تو وطی بھی بالاتفاق جائز ہے اھ ملخصا(ت)
مسئلہ ۱۶۷ : از آنولہ ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں ناجائز طور کی ملاقات تھی زیداس سے ارادہ نکاح رکھتا تھا ہندہ کی بیٹی سلمہ نابالغہ کو جس کی عمر نو برس کی ہے اس کے چچا نے اپنی بیٹی ظاہر کرکے زید سے نکاح کردیا مگر ہنوز رخصت واقع نہ ہوئی اب زید کو معلوم ہوا کہ یہ اسی ہندہ کی بیٹی ہے جس سے قبل اس نکاح کے زید کا ناجائز تعلق رہ چکا ہے اس حالت میں اس نکاح کی نسبت کیا حکم ہے اور زید بعد اس نکاح کے ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو اور بعد اس کے وہ ہندہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
فان نکاح البنات وان کان یحرم الامھات لکن اذا کان صحیحا ولایصح النکاح مع بنت ممسوسۃ لحرمۃ المصاھرۃ۔
بیٹی سے نکاح کی وجہ سے ماں اگرچہ حرام ہوجاتی ہے مگر اس وقت جب بیٹی سے صحیح نکاح ہو اور حرمت مصاہرہ کی بناپر شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت کی بیٹی سے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
درمختار میں ہے :
حرم بالمصاھرۃ بنت زوجۃ الموطوئۃ و ام زوجتہ وجداتھا مطلقا بمجرد العقد الصحیح ۔
بیوی سے وطی کرنے پرا س کی بیٹی حرمت مصاہرہ کی بنا پر حرام ہوجاتی ہے اور بیوی کی ماں اور دادیاں بھی اس پر محض صحیح نکاح کی بنا پر حرام ہوجاتی ہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے :
احتراز عن النکاح الفاسد فانہ لایوجب بمجردہ حرمۃ المصاھرۃ بل بالوطء اوما یقوم مقامہ من المس بشھوۃ والنظر بشھوۃ الخ۔
صحیح نکاح کا یہ حکم ہے رہا فاسد نکاح تو صرف نکاح سے حرمت مصاہرہ ماں اور دادیوں کی نہ ہوگی بلکہ وطی سے ہوگی یا وطی کے قائم مقام امور شہوت سے دیکھنے اور چھونے سے ہوگی الخ(ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۸ : از موضع د ربھنگہ ڈاکخانہ روسٹرا بازار مقام موتی پور مرسلہ ملا شیر علی صاحب ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت مریدہ ازروئے شرع پیر پر حرام ہے یا حلال اور ازواج مطہرات حضرت خدیجہ وحضرت عائشہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مریدہ تھیں یا نہیں اس نکاح کی حرمت وحلت جو کچھ ہو بحوالہ حدیث وفقہ صاف تحریر کریں۔ بینوا توجروا
الجواب :
پیر کو اپنی مریدہ سے نکاح قطعا حلال عــــہ ہے اسے ممنوع جاننا کتاب وسنت اجماع امت وقیاس
عــــہ : اس سے صاف ظاہر ہے کہ مریدہ کو اپنے پیر کے سامنے بے پردہ آنا ناجائز ہے غضب تویہ ہے کہ اس زمانے کے بعض جاہل بےباك متصوف اس جھوٹے مسئلہ کو کہ مریدہ بیٹی ہے دستاویز بنالیتے ہیں اور تمام عورتوں کو جو ان کی مریدی کے جال میں پھنسی ہوتی ہیں حکم قطعی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے بے پردہ حجاب آیا کرو بلکہ تنہائیوں میں انھیں لے کر بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ باتیں حرام قطعی ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے زیادہ کوئی پیر نہیں وہ خود اپنے سامنے عورتوں کو بے باکانہ آنے سے منع فرماتے اور کبھی حضور پرنور نے نامحرم عورت کو ہاتھ نہ لگایا جو بیبیاں کہ حاضر خدمت ہوکر بیعت چاہتیں آپ ان سے
(باقی برصفحہ ائندہ)
حرم بالمصاھرۃ بنت زوجۃ الموطوئۃ و ام زوجتہ وجداتھا مطلقا بمجرد العقد الصحیح ۔
بیوی سے وطی کرنے پرا س کی بیٹی حرمت مصاہرہ کی بنا پر حرام ہوجاتی ہے اور بیوی کی ماں اور دادیاں بھی اس پر محض صحیح نکاح کی بنا پر حرام ہوجاتی ہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے :
احتراز عن النکاح الفاسد فانہ لایوجب بمجردہ حرمۃ المصاھرۃ بل بالوطء اوما یقوم مقامہ من المس بشھوۃ والنظر بشھوۃ الخ۔
صحیح نکاح کا یہ حکم ہے رہا فاسد نکاح تو صرف نکاح سے حرمت مصاہرہ ماں اور دادیوں کی نہ ہوگی بلکہ وطی سے ہوگی یا وطی کے قائم مقام امور شہوت سے دیکھنے اور چھونے سے ہوگی الخ(ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۸ : از موضع د ربھنگہ ڈاکخانہ روسٹرا بازار مقام موتی پور مرسلہ ملا شیر علی صاحب ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت مریدہ ازروئے شرع پیر پر حرام ہے یا حلال اور ازواج مطہرات حضرت خدیجہ وحضرت عائشہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مریدہ تھیں یا نہیں اس نکاح کی حرمت وحلت جو کچھ ہو بحوالہ حدیث وفقہ صاف تحریر کریں۔ بینوا توجروا
الجواب :
پیر کو اپنی مریدہ سے نکاح قطعا حلال عــــہ ہے اسے ممنوع جاننا کتاب وسنت اجماع امت وقیاس
عــــہ : اس سے صاف ظاہر ہے کہ مریدہ کو اپنے پیر کے سامنے بے پردہ آنا ناجائز ہے غضب تویہ ہے کہ اس زمانے کے بعض جاہل بےباك متصوف اس جھوٹے مسئلہ کو کہ مریدہ بیٹی ہے دستاویز بنالیتے ہیں اور تمام عورتوں کو جو ان کی مریدی کے جال میں پھنسی ہوتی ہیں حکم قطعی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے بے پردہ حجاب آیا کرو بلکہ تنہائیوں میں انھیں لے کر بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ باتیں حرام قطعی ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے زیادہ کوئی پیر نہیں وہ خود اپنے سامنے عورتوں کو بے باکانہ آنے سے منع فرماتے اور کبھی حضور پرنور نے نامحرم عورت کو ہاتھ نہ لگایا جو بیبیاں کہ حاضر خدمت ہوکر بیعت چاہتیں آپ ان سے
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۸
چاروں دلائل شرع سے محض باطل وبے اصل ہے قرآن عظیم سے یوں کہ مولی عزوجل نے حرام عورتیں گنا کر فرمایا : و احل لكم ما ورآء ذلكم ان کے سوا سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں لاجرم مریدہ بھی کہ ان محرمات میں ذکر نہ فرمائی اس حکم حلت میں داخل رہی سنت سے یوں کہ نبی سے زیادہ پیر ومرشد کون ہے خصوصا ہمارے حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین و بارك وسلم کہ حضور تو تمام جہانوں کے پیر ہیں پھر حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ نے اپنی امتی بیبیوں ہی سے نکاح فرمایا جن میں حضرت ام المومنین خدیجہ الکبری وحضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما اعلی درجہ کی مریدہ اور اعلی درجہ کی بیبیاں ہیں باتفاق علماء ثابت کہ جب الله عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت عامہ کو ظاہر فرمایا سب سے پہلے حضرت ام المومنین خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا شرف ارادت سے مشرف ہوئیں بعض جاہلوں کی سمجھ میں یوں نہ آئے تویہ مانیں گے کہ حضرات شیخین حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سب سے افضل واکمل ریدتھے اولیاء کرام فرماتے ہیں :
تاجہاں ست نہ ہمچو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پیرے بودنہ ہمچو ابو بکر صدیق مریدے۔
پوری کا ئنات میں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جیسا نہ کوئی پیر ہے اور نہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جیسا کوئی مرید ہے۔ (ت)
وہ جاہلانہ خیال کہ پیری ومریدی کا رشتہ بعینہ مثل رشتہ نسب کے ہے اگر سچا ہوتا تو مریدہ اپنی بیٹی ہوتی مریدوں کی بیٹیاں پوتیاں ہوتیں یونہی ختنین عثمان غنی وعلی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہما کا نکاح بنات مطہرات حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کیونکر ہوسکتا اس تقدیر پر صاحبزادیاں بہنیں ہوتیں مگر جہل وسفاہت کے مفاسد اس سے بھی زائد ہیں اجماع سے یوں کہ آج تك تمام عالم میں کوئی عالم اس نکاح کی حرمت کا قائل نہ ہوا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
زبانی بیعت لیتے اور فرماتے تمھاری بیعت ہوگئی کبھی ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت نہ لی شیطان کے مکر سے الله سبحانہ محفوظ رکھے اور بعض جاہل مردوں کو ابلیس باتلبیس نے یوں ورغلایا اور ان کے ذہن میں یہ سمایا کہ جب ہمارے حالات ہمارے مرشد پر پوشیدہ نہیں تو ہم کیوں اپنی عورتوں کا پیرجی سے پردہ کرائیں پس بے غل وغش پیر صاحب بحالت موجوگی وعدم موجودگی صاحب خانہ کے زنا نے میں جاتے اور وہیں آرام کرتے ہیں یہ راقم آثم کا چشم دیدتھا جوبیان میں آیا والعیاذ بالله تعالی (مولوی نواب)سلطان احمد خاں بریلوی)
تاجہاں ست نہ ہمچو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پیرے بودنہ ہمچو ابو بکر صدیق مریدے۔
پوری کا ئنات میں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جیسا نہ کوئی پیر ہے اور نہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جیسا کوئی مرید ہے۔ (ت)
وہ جاہلانہ خیال کہ پیری ومریدی کا رشتہ بعینہ مثل رشتہ نسب کے ہے اگر سچا ہوتا تو مریدہ اپنی بیٹی ہوتی مریدوں کی بیٹیاں پوتیاں ہوتیں یونہی ختنین عثمان غنی وعلی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہما کا نکاح بنات مطہرات حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کیونکر ہوسکتا اس تقدیر پر صاحبزادیاں بہنیں ہوتیں مگر جہل وسفاہت کے مفاسد اس سے بھی زائد ہیں اجماع سے یوں کہ آج تك تمام عالم میں کوئی عالم اس نکاح کی حرمت کا قائل نہ ہوا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
زبانی بیعت لیتے اور فرماتے تمھاری بیعت ہوگئی کبھی ہاتھ میں ہاتھ لے کر بیعت نہ لی شیطان کے مکر سے الله سبحانہ محفوظ رکھے اور بعض جاہل مردوں کو ابلیس باتلبیس نے یوں ورغلایا اور ان کے ذہن میں یہ سمایا کہ جب ہمارے حالات ہمارے مرشد پر پوشیدہ نہیں تو ہم کیوں اپنی عورتوں کا پیرجی سے پردہ کرائیں پس بے غل وغش پیر صاحب بحالت موجوگی وعدم موجودگی صاحب خانہ کے زنا نے میں جاتے اور وہیں آرام کرتے ہیں یہ راقم آثم کا چشم دیدتھا جوبیان میں آیا والعیاذ بالله تعالی (مولوی نواب)سلطان احمد خاں بریلوی)
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
فقہائے جملہ مذاہب کی کتابیں موجود کسی نے مرید ہ کو محرمات سے نہ گنا قیاس سے یوں کہ رشتہ استاذی وشاگردی بھی تو مثل رشتہ پیری ومریدی ہے۔ پیر واستاذ دونوں بجائے باپ کے مانے جاتے ہیں خود حدیث میں فرمایا :
انما انالکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم ۔ رواہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
میں تمھارے لیے بمنزلہ والد ہوں تمھیں تعلیم دیتاہوں اس کو احمد ابوداؤد نسائی اور ابن حبان نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بذریعہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کیا ہے۔ (ت)
بلکہ پیری ومریدی بھی خود استاذی وشاگردی ہے۔ اگر یہ خیال باطل ٹھیك ہوتا تو اپنی شاگرد عورت سے بھی نکاح حرام ہوتا اور عورت کو علم سکھانا نکاح جاتے رہنے کا باعث ہوتا کہ اب وہ اس کی بیٹی ہوگئی حالانکہ قرآن و حدیث سے زوجہ کو شاگرد کرنا اور اپنی شاگرد عورت کو نکاح میں لانا دونوں باتیں ثابت۔
قال الله تعالی : یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا ۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کودوزخ سے بچاؤ۔
ظاہر ہے کہ گھر والوں کو دوزخ سے بچانا بغیر مسائل سکھا ئے متصور نہیں کہ بچنا بے عمل اور عمل بے علم میسر نہیں تو قرآن مجید صاف حکم فرماتا ہے کہ اپنی عورتوں کو علم دین سکھاؤ اورا س پر عمل کی ہدایت کرو سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
رجل کانت لہ امۃ فغذاھا فاحسن غذاء ھا ثم ادبھا فاحسن تادیبھا وعلمھا فاحسن تعلیمھا ثم اعتقھا وتزوجھا فلہ اجران ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
یعنی جوکوئی کنیز رکھتا ہے اسے کھلائے اور اچھا کھلائے پھر ادب سکھائے اور بہتر سکھائے اور علم پڑھائے اور خوب پڑھائے پھر اسے آزاد کرکے اپنے نکاح میں لائے وہ شخص دوہرا ثواب پائے(اس کو احمد بخاری مسلم ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
انما انالکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم ۔ رواہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
میں تمھارے لیے بمنزلہ والد ہوں تمھیں تعلیم دیتاہوں اس کو احمد ابوداؤد نسائی اور ابن حبان نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بذریعہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کیا ہے۔ (ت)
بلکہ پیری ومریدی بھی خود استاذی وشاگردی ہے۔ اگر یہ خیال باطل ٹھیك ہوتا تو اپنی شاگرد عورت سے بھی نکاح حرام ہوتا اور عورت کو علم سکھانا نکاح جاتے رہنے کا باعث ہوتا کہ اب وہ اس کی بیٹی ہوگئی حالانکہ قرآن و حدیث سے زوجہ کو شاگرد کرنا اور اپنی شاگرد عورت کو نکاح میں لانا دونوں باتیں ثابت۔
قال الله تعالی : یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا ۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کودوزخ سے بچاؤ۔
ظاہر ہے کہ گھر والوں کو دوزخ سے بچانا بغیر مسائل سکھا ئے متصور نہیں کہ بچنا بے عمل اور عمل بے علم میسر نہیں تو قرآن مجید صاف حکم فرماتا ہے کہ اپنی عورتوں کو علم دین سکھاؤ اورا س پر عمل کی ہدایت کرو سول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
رجل کانت لہ امۃ فغذاھا فاحسن غذاء ھا ثم ادبھا فاحسن تادیبھا وعلمھا فاحسن تعلیمھا ثم اعتقھا وتزوجھا فلہ اجران ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
یعنی جوکوئی کنیز رکھتا ہے اسے کھلائے اور اچھا کھلائے پھر ادب سکھائے اور بہتر سکھائے اور علم پڑھائے اور خوب پڑھائے پھر اسے آزاد کرکے اپنے نکاح میں لائے وہ شخص دوہرا ثواب پائے(اس کو احمد بخاری مسلم ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
حوالہ / References
سنن ابو داؤد باب کراھیۃ استقبال القبلۃ عند قضاء الحاجۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳
القرآن ۶۶ / ۶
صحیح بخاری باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰
القرآن ۶۶ / ۶
صحیح بخاری باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰
جاہلوں کی جہالت کہ مریدہ سے نکاح ناجائز بتاتیں اور زن وشودونوں کوبے تکلف مرید بنائیں وہ دونوں اگر باپ بیٹی تھے یہ دونوں سگے بہن بھائی ہوئے اس نکاح کو ممنوع جاننے والا شریعت مطہرہ پر کھلا ہوا افترا کرتااور حلال خدا کو حرام ٹھہراتا ہے۔ ا س پر توبہ فرض ہے الله تعالی ہدایت بخشے آمین!والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ : ۱۳ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا جو عقیدہ مروجہ شیعہ رکھتے ہیں علی الخصوص شیعہ لکھنو کے ان کی دختر سے نکاح سنی کا درست ہے یا نہیں اور اولاد اس کی مستحق ترکہ پدری کی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
آج کل عام روافض تبرائی خذلہم الله تعالی عقائد کفریہ رکھتے ہیں ان میں کوئی کم ایسا نکلے گا جو قرآن مجید میں سے کچھ گھٹ جانانہ مانتا اور حضرت امیرا لمومنین مولی المسلمین علی مرتضی وباقی ائمہ اطہار کرم الله تعالی وجو ھھم کو حضرات علیہ انبیاء سابقین علی نبینا الکریم وعلیہم افضل الصلوۃ والتسلیم سے افضل نہ جانتا ہو اور یہ دونوں عقیدے کفر خالص ہیں مجتہد لکھنو نے اپنے مہری فتوے میں ان دونوں ملعون عقیدوں کی صاف تصریح کی جو ان میں خود یہ اعتقاد (بالفرض)نہ بھی رکھتا ہو تاہم اس سے یہ امید نہیں کہ مجتہد کا فتوی دیکھ کر اسے کافر جاننا درکنار خود بھی اس پر اعتقاد نہ لے آئے اور ایسے عقیدے والے کواس کے عقیدے پر مطلع ہوکر جو کافر نہ جانے خود کافر ہے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ ت)توآج کل تبرائی رافضیوں میں کسی ایسے شخص کاملنا جسے ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں شاید ایسا ہی دشوار ہوگا جیسے حبشیوں زنگیوں میں چمپئی رنگت کا آدمی یا سپید رنگ کا کوا ایسے رافضیوں کا حکم بالکل مثل حکم مرتدین ہے کما صرح بہ فی الظھیریۃ والھندیۃ والحدیقۃ الندیۃ وغیرھا من الکتب الفقہیۃ(جیسا کہ ظہیریہ ہندیہ اور حدیقہ وغیرہا کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت)پس دختر رافضیان جو ایسے ہی عقائد کفریہ رکھتی ہو اس سے سنی یا غیر سنی کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا کہ مرتدہ اصلا محل نکاح نہیں کما نص علیہ فی الدرالمختار والعالمگیریۃ وعامۃ الاسفار
مسئلہ ۱۶۹ : ۱۳ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا جو عقیدہ مروجہ شیعہ رکھتے ہیں علی الخصوص شیعہ لکھنو کے ان کی دختر سے نکاح سنی کا درست ہے یا نہیں اور اولاد اس کی مستحق ترکہ پدری کی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
آج کل عام روافض تبرائی خذلہم الله تعالی عقائد کفریہ رکھتے ہیں ان میں کوئی کم ایسا نکلے گا جو قرآن مجید میں سے کچھ گھٹ جانانہ مانتا اور حضرت امیرا لمومنین مولی المسلمین علی مرتضی وباقی ائمہ اطہار کرم الله تعالی وجو ھھم کو حضرات علیہ انبیاء سابقین علی نبینا الکریم وعلیہم افضل الصلوۃ والتسلیم سے افضل نہ جانتا ہو اور یہ دونوں عقیدے کفر خالص ہیں مجتہد لکھنو نے اپنے مہری فتوے میں ان دونوں ملعون عقیدوں کی صاف تصریح کی جو ان میں خود یہ اعتقاد (بالفرض)نہ بھی رکھتا ہو تاہم اس سے یہ امید نہیں کہ مجتہد کا فتوی دیکھ کر اسے کافر جاننا درکنار خود بھی اس پر اعتقاد نہ لے آئے اور ایسے عقیدے والے کواس کے عقیدے پر مطلع ہوکر جو کافر نہ جانے خود کافر ہے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ ت)توآج کل تبرائی رافضیوں میں کسی ایسے شخص کاملنا جسے ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں شاید ایسا ہی دشوار ہوگا جیسے حبشیوں زنگیوں میں چمپئی رنگت کا آدمی یا سپید رنگ کا کوا ایسے رافضیوں کا حکم بالکل مثل حکم مرتدین ہے کما صرح بہ فی الظھیریۃ والھندیۃ والحدیقۃ الندیۃ وغیرھا من الکتب الفقہیۃ(جیسا کہ ظہیریہ ہندیہ اور حدیقہ وغیرہا کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت)پس دختر رافضیان جو ایسے ہی عقائد کفریہ رکھتی ہو اس سے سنی یا غیر سنی کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا کہ مرتدہ اصلا محل نکاح نہیں کما نص علیہ فی الدرالمختار والعالمگیریۃ وعامۃ الاسفار
حوالہ / References
درمختار با ب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
فتاوٰی ہندیہ باب فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوٰی ہندیہ باب فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
(جیسا کہ درمختار عالمگیریہ اور عام کتب میں اس پر نص ہے۔ ت)اس سے جو اولاد ہوگی قطعا ولدالزنا ہوگی اور ترکہ پدری سے مطلقا محروم کہ ولد الزنا کے لیے شرعا کوئی باپ ہی نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للعاھر الحجر ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : زانی کے لیے محرومی ہے۔ (ت)
اور اگردختر مذکورہ ایسے عقائد نہیں رکھتی بلکہ مسلمان ہے تو مسلمان کا نکاح اس سے ہوسکتا ہے اولاد صحیح النسب ہوگی اور ترکہ پدری کی مستحق۔ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۰ : ۱۳شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعان مروجہ کی اولاد حرامی ہے یا حلالی اگر حرامی ہے تو عندالله حرامی عورت کا نکاح سنی مرد سے ہوجائےگا یا نہیں او اس کی اولاد بطنی میں کچھ نقصان واقع ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ان میں مرد یا عورت جس کا عقیدہ کفریہ ہو اولاد حرامی ہے
اذلانکاح لمرتد ولالمر تدۃ اصلا حتی مع مثلہ فی الارتداد کما نص علیہ فی الائمۃ الامجاد۔
مرتد مرد اور عورت کابالکل کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا حتی کہ ان جیسے مرتدسے بھی جیساکہ ا س پر ائمہ بزرگوار نے تصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگرزن وشوہر دونوں عقائد کفریہ سے پاك ہیں تو اولاد حلالی ہے۔ اور حرامی عورت رافضیہ کا نکاح سنی سے ہوسکتا ہے جبکہ وہ خود عقیدہ کفر یہ نہ رکھتی ہو اس صورت میں اس کی اولاد بطنی میں کوئی نقصان نہیں اور اگر وہ خود بھی اپنے ماں باپ کی مثل کوئی عقیدہ کفریہ رکھتی ہے تو خودبھی نطفہ حرام ہے اور اس کی اولاد بھی حرامی خواہ رافضی سے ہو یا سنی سے۔ اور اس سے کسی کانکاح اصلا ممکن نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۱ : ایك شخص کا حمل ایك عورت کورہا اور بعد معلوم ہونے حمل کے وہ عورت چاہتی ہے کہ راز فاش نہ ہو مابین حمل عقد درست ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
درست ہے اگرچہ غیر زانی سے ہو مگر وطی ودواعی اسے روا نہیں جب تك وضع نہ ہو او رجو زانی سے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للعاھر الحجر ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : زانی کے لیے محرومی ہے۔ (ت)
اور اگردختر مذکورہ ایسے عقائد نہیں رکھتی بلکہ مسلمان ہے تو مسلمان کا نکاح اس سے ہوسکتا ہے اولاد صحیح النسب ہوگی اور ترکہ پدری کی مستحق۔ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۰ : ۱۳شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعان مروجہ کی اولاد حرامی ہے یا حلالی اگر حرامی ہے تو عندالله حرامی عورت کا نکاح سنی مرد سے ہوجائےگا یا نہیں او اس کی اولاد بطنی میں کچھ نقصان واقع ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ان میں مرد یا عورت جس کا عقیدہ کفریہ ہو اولاد حرامی ہے
اذلانکاح لمرتد ولالمر تدۃ اصلا حتی مع مثلہ فی الارتداد کما نص علیہ فی الائمۃ الامجاد۔
مرتد مرد اور عورت کابالکل کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا حتی کہ ان جیسے مرتدسے بھی جیساکہ ا س پر ائمہ بزرگوار نے تصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگرزن وشوہر دونوں عقائد کفریہ سے پاك ہیں تو اولاد حلالی ہے۔ اور حرامی عورت رافضیہ کا نکاح سنی سے ہوسکتا ہے جبکہ وہ خود عقیدہ کفر یہ نہ رکھتی ہو اس صورت میں اس کی اولاد بطنی میں کوئی نقصان نہیں اور اگر وہ خود بھی اپنے ماں باپ کی مثل کوئی عقیدہ کفریہ رکھتی ہے تو خودبھی نطفہ حرام ہے اور اس کی اولاد بھی حرامی خواہ رافضی سے ہو یا سنی سے۔ اور اس سے کسی کانکاح اصلا ممکن نہیں۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۱ : ایك شخص کا حمل ایك عورت کورہا اور بعد معلوم ہونے حمل کے وہ عورت چاہتی ہے کہ راز فاش نہ ہو مابین حمل عقد درست ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
درست ہے اگرچہ غیر زانی سے ہو مگر وطی ودواعی اسے روا نہیں جب تك وضع نہ ہو او رجو زانی سے
حوالہ / References
صحیح مسلم باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۷۰
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
نکاح کرے تویہ بھی روا ہاں تاوقت وضع اصلا نکاح ناروا اسی صورت میں ہے کہ حمل زنا سے نہ ہو کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۲ : از نینی تال تحصیل کھٹیما تھانہ مجھولا موضع جمور مرسلہ سکندر شاہ ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید نے ہندہ کے ساتھ نکاح کیا ہنوز ہندہ اس کے گھر میں موجود ہے کہ ہندہ کی دوسری بہن سے بھی زید نے نکاح کرلیا اور دونوں عورتیں اس کے گھر میں موجود ہیں کسی کو طلاق نہیں دی ہے وہ دوبہنیں زید پرحلال ہیں یا حرام دونوں بہنیں ایك بطن سے ہیں اور باپ ہر ایك کا جداگانہ تھا بینوا توجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید کا اپنی سالی سے نکاح حرام
قال اﷲ تعالی و ان تجمعوا بین الاختین ۔
الله تعالی نے فرمایا : منع ہے کہ تم نکاح میں دوبہنوں کو جمع کرو۔ (ت)
اس پر فرض ہے کہ فورا اسے چھوڑ دے پھر اگر ابھی سالی سے صحبت نہیں کی جب تو ہندہ اس کے لیے حلال ہے اور اگر اس سے صحبت کرلی تو اب اپنی منکوحہ ہندہ کے پاس بھی جانا حرام ہوگیا جب تك سالی کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے جب اسے چھوڑے گا اوراس کی عدت گزر جائے گی اس وقت ہندہ کو ہاتھ لگانا جائز ہوگا ہندیہ میں ہے :
ان تزوجھما فی عقدتین فنکاح الاخیرۃ فاسد و یجب علیہ ان یفارقھا ولوعلم القاضی بذلك یفرق بینھما فان فارقھا قبل الدخول لایثبت شیئ من الاحکام وان فارقھا بعدالدخول فلھا المھر ویجب الاقل من المسمی ومن مھر المثل وعلیھا العدۃ ویثبت النسب ویعتزل عن امرأتہ حتی تنقضی عدۃ اختھا کذافی
اگر دوبہنوں سے علیحدہ علیحدہ نکاح کیا تو دوسری کانکاح فاسد ہے اور اس پر مفارقت لازم ہے اور اگر قاضی کویہ معلوم ہو تو وہ دونوں میں تفریق کردے اگر دوسری کو دخول سے قبل علیحدہ کردیا تو نکاح کاکوئی حکم نہ ثابت ہوگا اور اگر اس کو دخول کے بعد جدا کیا تو پھر ا س کو مہر دینا ہوگا مہر مثل اور مقررہ سے جو کم ہو وہ واجب ہوگا اورا س پر عدت ہوگی اور نسب ثابت ہوسکے گا اورپہلی سے اس وقت تك علیحدگی اختیار کرے
مسئلہ ۱۷۲ : از نینی تال تحصیل کھٹیما تھانہ مجھولا موضع جمور مرسلہ سکندر شاہ ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید نے ہندہ کے ساتھ نکاح کیا ہنوز ہندہ اس کے گھر میں موجود ہے کہ ہندہ کی دوسری بہن سے بھی زید نے نکاح کرلیا اور دونوں عورتیں اس کے گھر میں موجود ہیں کسی کو طلاق نہیں دی ہے وہ دوبہنیں زید پرحلال ہیں یا حرام دونوں بہنیں ایك بطن سے ہیں اور باپ ہر ایك کا جداگانہ تھا بینوا توجروا
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید کا اپنی سالی سے نکاح حرام
قال اﷲ تعالی و ان تجمعوا بین الاختین ۔
الله تعالی نے فرمایا : منع ہے کہ تم نکاح میں دوبہنوں کو جمع کرو۔ (ت)
اس پر فرض ہے کہ فورا اسے چھوڑ دے پھر اگر ابھی سالی سے صحبت نہیں کی جب تو ہندہ اس کے لیے حلال ہے اور اگر اس سے صحبت کرلی تو اب اپنی منکوحہ ہندہ کے پاس بھی جانا حرام ہوگیا جب تك سالی کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے جب اسے چھوڑے گا اوراس کی عدت گزر جائے گی اس وقت ہندہ کو ہاتھ لگانا جائز ہوگا ہندیہ میں ہے :
ان تزوجھما فی عقدتین فنکاح الاخیرۃ فاسد و یجب علیہ ان یفارقھا ولوعلم القاضی بذلك یفرق بینھما فان فارقھا قبل الدخول لایثبت شیئ من الاحکام وان فارقھا بعدالدخول فلھا المھر ویجب الاقل من المسمی ومن مھر المثل وعلیھا العدۃ ویثبت النسب ویعتزل عن امرأتہ حتی تنقضی عدۃ اختھا کذافی
اگر دوبہنوں سے علیحدہ علیحدہ نکاح کیا تو دوسری کانکاح فاسد ہے اور اس پر مفارقت لازم ہے اور اگر قاضی کویہ معلوم ہو تو وہ دونوں میں تفریق کردے اگر دوسری کو دخول سے قبل علیحدہ کردیا تو نکاح کاکوئی حکم نہ ثابت ہوگا اور اگر اس کو دخول کے بعد جدا کیا تو پھر ا س کو مہر دینا ہوگا مہر مثل اور مقررہ سے جو کم ہو وہ واجب ہوگا اورا س پر عدت ہوگی اور نسب ثابت ہوسکے گا اورپہلی سے اس وقت تك علیحدگی اختیار کرے
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
محیط السرخسی ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جب تك دوسری بہن کی عدت نہ گزر جائے محیط سرخسی میں یونہی ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۳ : ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
جس عورت کا شوہر مفقود الخبر ہو اور مرد وعورت ہر دو حنفی مذہب کے ہیں تو عورت دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا کس قدر مدت تك انتظار کرےعلماء مذہب حنفیہ کے اس میں کیا حکم دیتے ہیں
الجواب :
اتنی مدت کہ مردکی عمر سے ستر برس گزرجا ئیں یعنی اگر اب تك زندہ ہو توستر برس کاہو مثلا تیس سال کی عمر میں مفقود ہوا تو عورت چالیس بر س تك انتظار کرے اس مدت گزرنے پر قاضی اس کی موت کا حکم کرے۔ بعد حکم عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے عدت گزار کر جس سے چاہے نکاح کرے فتح القدیر میں ہے :
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی السبعین فکانت المنتھی غالبا ۔
میرے نزدیك ستر بہتر ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہے۔ “ تو آخری حد غالبا معتبرہوگا۔ (ت)
جواہر اخلاطی میں ہے : انہ احوط واقیس (یہی احتیاط اور قیاس کے زیادہ موافق ہے۔ ت)اسی میں ہے : وعلیہ الفتوی (اسی پر فتوی ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
فی واقعات المفتین لقدروی آفندی معزیا للقنیۃ انہ انما یحکم بموتہ بقضاء لانہ امر محتمل فمالم ینضم الیہ القضاء لایکون حجۃ ۔
واقعات المفیتن میں ہے کہ قنیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے آفندی نے کہاکہ موت کا حکم قاضی کے ذریعہ ہوگا کیونکہ احتمالی معاملہ ہے تو جب تك قاضی کا فیصلہ نہ مل جائے اس وقت تك محض مدت کا گزرنا حجت نہ ہوگا۔ (ت)
جب تك دوسری بہن کی عدت نہ گزر جائے محیط سرخسی میں یونہی ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۳ : ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
جس عورت کا شوہر مفقود الخبر ہو اور مرد وعورت ہر دو حنفی مذہب کے ہیں تو عورت دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا کس قدر مدت تك انتظار کرےعلماء مذہب حنفیہ کے اس میں کیا حکم دیتے ہیں
الجواب :
اتنی مدت کہ مردکی عمر سے ستر برس گزرجا ئیں یعنی اگر اب تك زندہ ہو توستر برس کاہو مثلا تیس سال کی عمر میں مفقود ہوا تو عورت چالیس بر س تك انتظار کرے اس مدت گزرنے پر قاضی اس کی موت کا حکم کرے۔ بعد حکم عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے عدت گزار کر جس سے چاہے نکاح کرے فتح القدیر میں ہے :
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی السبعین فکانت المنتھی غالبا ۔
میرے نزدیك ستر بہتر ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہے۔ “ تو آخری حد غالبا معتبرہوگا۔ (ت)
جواہر اخلاطی میں ہے : انہ احوط واقیس (یہی احتیاط اور قیاس کے زیادہ موافق ہے۔ ت)اسی میں ہے : وعلیہ الفتوی (اسی پر فتوی ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
فی واقعات المفتین لقدروی آفندی معزیا للقنیۃ انہ انما یحکم بموتہ بقضاء لانہ امر محتمل فمالم ینضم الیہ القضاء لایکون حجۃ ۔
واقعات المفیتن میں ہے کہ قنیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے آفندی نے کہاکہ موت کا حکم قاضی کے ذریعہ ہوگا کیونکہ احتمالی معاملہ ہے تو جب تك قاضی کا فیصلہ نہ مل جائے اس وقت تك محض مدت کا گزرنا حجت نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح القسم الرابع المحرمات بالجمع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۸۔ ۲۷۷
فتح القدیر کتاب المفقود نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۲۷۴
جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
درمختار کتاب المفقود مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶۹
فتح القدیر کتاب المفقود نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۲۷۴
جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
درمختار کتاب المفقود مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶۹
تنویر میں ہے :
بعدہ یحکم بموتہ فتعتد عرسہ للموت (ملخصا)
مدت گزرنے کے بعد خاوند کی موت کا حکم دیاجائے گا لہذا یہ عورت موت والی عدت پوری کرے گی ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے : ای عدۃ الوفاۃ (یعنی وفات والی عدت مراد ہے۔ ت) بہت سن رسیدہ مرد نو عمر عورتوں سے نکاح کرتے ہیں وہاں ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں کہ مرد ستر برس کا اور عورت جوان ہو مثلا پچاس پچپن بر س کی عمر میں پندرہ برس کی عورت سے نکاح کیا او رمفقود ہوگیا تو جب اس کی عمر سے ستر برس گزریں گے عورت تیس پنتیس برس کی ہوگی اس عمر کی عورت بیشك نکاح کے قابل ہے اور نہ ہوتو حکم شرع کے لیے ہے نہ کہ اپنی خواہش نفس کے لیے۔ قرآن عظیم صاف فرمارہا ہے : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عورتوں میں سے۔ ت)پھراس کے خلاف کی طرف راہ کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴ : ا زکلکتہ امام باغ لین نمبر ۴۱ مسجد مرسلہ حافظ عزیز الرحمن صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد چچا مرنے کے چچی سے نکاح درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیا دلیل ہے بینوا توجروا
الجواب
درست ہے۔ دلیل اس کی قول الله عزوجل ہے : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)کہ حرام عورتوں کو شمار فرماکر ار شاد ہوا ان کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں حرام عورتوں میں چچی کو نہ شمار فرمایا نہ شرح میں کہیں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں سے ہے۔ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۵ : از آمود ضلع بہڑوئچ گجرات کلاں مرسلہ سید غلام سرور ۲ رجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کانام مسمی عبدالله ہے اس کی ہمشیرہ کا نام نورن تھا مسماۃ نورن کا نکاح مسمی ہدایت الله کے ساتھ ہوا مسمی ہدایت الله کے نطفہ و
بعدہ یحکم بموتہ فتعتد عرسہ للموت (ملخصا)
مدت گزرنے کے بعد خاوند کی موت کا حکم دیاجائے گا لہذا یہ عورت موت والی عدت پوری کرے گی ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے : ای عدۃ الوفاۃ (یعنی وفات والی عدت مراد ہے۔ ت) بہت سن رسیدہ مرد نو عمر عورتوں سے نکاح کرتے ہیں وہاں ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں کہ مرد ستر برس کا اور عورت جوان ہو مثلا پچاس پچپن بر س کی عمر میں پندرہ برس کی عورت سے نکاح کیا او رمفقود ہوگیا تو جب اس کی عمر سے ستر برس گزریں گے عورت تیس پنتیس برس کی ہوگی اس عمر کی عورت بیشك نکاح کے قابل ہے اور نہ ہوتو حکم شرع کے لیے ہے نہ کہ اپنی خواہش نفس کے لیے۔ قرآن عظیم صاف فرمارہا ہے : و المحصنت من النسآء (شادی شدہ عورتوں میں سے۔ ت)پھراس کے خلاف کی طرف راہ کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴ : ا زکلکتہ امام باغ لین نمبر ۴۱ مسجد مرسلہ حافظ عزیز الرحمن صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد چچا مرنے کے چچی سے نکاح درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیا دلیل ہے بینوا توجروا
الجواب
درست ہے۔ دلیل اس کی قول الله عزوجل ہے : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)کہ حرام عورتوں کو شمار فرماکر ار شاد ہوا ان کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں حرام عورتوں میں چچی کو نہ شمار فرمایا نہ شرح میں کہیں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں سے ہے۔ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۵ : از آمود ضلع بہڑوئچ گجرات کلاں مرسلہ سید غلام سرور ۲ رجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کانام مسمی عبدالله ہے اس کی ہمشیرہ کا نام نورن تھا مسماۃ نورن کا نکاح مسمی ہدایت الله کے ساتھ ہوا مسمی ہدایت الله کے نطفہ و
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب المفقود مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶۹
ردالمحتار کتاب المفقود داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۳۲
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
ردالمحتار کتاب المفقود داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۳۲
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
شکم مسماۃ نورن سے دو فرزند پیداہوئے مسماۃ نورن مرگئی بڑے فرزند کا بھی انتقال ہوگیا چھوٹا فرزند زندہ ہے مسمی عبدالله مذکور کے دو دختر ہیں بعد مرنے اپنی بہن مسماۃ نورن کے اپنی بڑی دختر کا نکاح ہدایت الله موصوف سے کردیا دوسری دختر جو چھوٹی مسمی عبدالله کی ہے۔ ہدایت الله کے فرزند سے نکاح پڑھادیا جاتا ہے اول تو ہدایت الله کا عبدالله سالاہوا اور فرزند کاماموں ہوا عبدالله کا ہدایت الله بہنوئی ہوا اور لڑکا ہدایت الله کا عبدالله بھانجا ہوا۔ جب عبدالله کی دختر نکاح میں آئی فرزند سوتیلی والدہ ہوئی سوتیلی ماں کی بہن حقیقی خالہ ہوئی اور ہدایت الله کا عبدالله سسر ہوا وزید یا عبدالله نانا ہوا نکاح جائز ہے یا نہیں مع مہر نام کتب عبارت عربی ترجمہ اردو خلاصہ تحریرفرمائیے اس کا اجر الله آپ کو عطاکرے گا۔ بینوا تو جروا
الجواب :
فرزند ہدایت الله کا نکاح دختر عبدالله سے جائز ہے عبدالله اس کاماموں ہے نانا نہیں سوتیلی ماں کا باپ نہ اپنا نانا نہ سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ۔ سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یا بہن یا بیٹی سب سے نکاح جائز ہے اگرچہ وہ اپنے باپ کی ساس یا سالی یا دختر زن ہے ردالمحتار میں ہے : لاتحرم ام زوجۃ الاب ولابنتھا (باپ کی منکوحہ کی ماں اوربیٹی حرام نہیں ہوتیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷ : از الہ آباد محلہ دوندے پور مکان صوبیدار صاحب مرحوم مرسلہ مولوی عبیدالله صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۱۲ھ
بگرامی خدمت سامی منزلت جامع الکمالات العلمیہ والعملیہ حاوی الفنون الاصلیہ والفرعیہ۔ مخدوم معظم مطاع مفخم نیاز کیشاں جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت فیوضہم ازنیاز مند عبیدالله سلام مسنون خشوع وخضوع مشحون در قطعہ استفتاء ابلاغ خدمت والا میں دو باتوں کےلیے بکمال ادب گزارش کرکے توجہ وجیہ کا امیدوار ہوں ایك یہ کہ یہ دونوں مسئلے معرکۃ الآرا ہو رہے ہیں فتوی بکمال تحقیق وتدقیق مبرہن مدلل خوب بسط وتفصیل سے لکھے جائیں دو م یہ کہ ان کی ضرورت اشد ہے دوسرے فتووں پر انھیں کومقدم فرمایا جائے صورت سوال یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے مسماۃ ہندہ زوجہ اولی کو اپنے گھر سے نکال دیا اور دوسری عورت سے نکاح کیا چندشخصوں نے سبب نکال دینے کا زید سے پوچھا زیدنے کہا میں نے اس کی ماں سے زنا کیا تھا اب معلوم ہوا کہ وہ مجھ پر حرام ہے۔ اس لیے اس کو نکال دیا بعدہ زوجہ ثانیہ کو طلاق دے کر زوجہ اولی ہندہ کو اپنے مکان میں لاکر رکھا اور اقرار زنا سے انکار کیا قاضی بلدہ کے سامنے شہادت اقرار زنا کی پیش ہوئی تو صورت مذکورہ میں اس کی شہادت اقرار زنا سے حرمت
الجواب :
فرزند ہدایت الله کا نکاح دختر عبدالله سے جائز ہے عبدالله اس کاماموں ہے نانا نہیں سوتیلی ماں کا باپ نہ اپنا نانا نہ سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ۔ سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یا بہن یا بیٹی سب سے نکاح جائز ہے اگرچہ وہ اپنے باپ کی ساس یا سالی یا دختر زن ہے ردالمحتار میں ہے : لاتحرم ام زوجۃ الاب ولابنتھا (باپ کی منکوحہ کی ماں اوربیٹی حرام نہیں ہوتیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷ : از الہ آباد محلہ دوندے پور مکان صوبیدار صاحب مرحوم مرسلہ مولوی عبیدالله صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۱۲ھ
بگرامی خدمت سامی منزلت جامع الکمالات العلمیہ والعملیہ حاوی الفنون الاصلیہ والفرعیہ۔ مخدوم معظم مطاع مفخم نیاز کیشاں جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت فیوضہم ازنیاز مند عبیدالله سلام مسنون خشوع وخضوع مشحون در قطعہ استفتاء ابلاغ خدمت والا میں دو باتوں کےلیے بکمال ادب گزارش کرکے توجہ وجیہ کا امیدوار ہوں ایك یہ کہ یہ دونوں مسئلے معرکۃ الآرا ہو رہے ہیں فتوی بکمال تحقیق وتدقیق مبرہن مدلل خوب بسط وتفصیل سے لکھے جائیں دو م یہ کہ ان کی ضرورت اشد ہے دوسرے فتووں پر انھیں کومقدم فرمایا جائے صورت سوال یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے مسماۃ ہندہ زوجہ اولی کو اپنے گھر سے نکال دیا اور دوسری عورت سے نکاح کیا چندشخصوں نے سبب نکال دینے کا زید سے پوچھا زیدنے کہا میں نے اس کی ماں سے زنا کیا تھا اب معلوم ہوا کہ وہ مجھ پر حرام ہے۔ اس لیے اس کو نکال دیا بعدہ زوجہ ثانیہ کو طلاق دے کر زوجہ اولی ہندہ کو اپنے مکان میں لاکر رکھا اور اقرار زنا سے انکار کیا قاضی بلدہ کے سامنے شہادت اقرار زنا کی پیش ہوئی تو صورت مذکورہ میں اس کی شہادت اقرار زنا سے حرمت
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
مصاہرت شرعا ثابت ہوگی یا نہیں اور ہندہ زید پر حرام ہوگئی یا کیا ایك عالم صاحب نے فرمایا کہ اقرار زنا پر شہادت معتبر نہیں ہے اس شہادت سے زنا ثابت نہیں ہوتا تو حرمت مصا ہرت کیسے ثابت ہوگی تحریر میں جلدی فرمائی جائے کہ مسئلہ میں بہت سے علماء مختلف ہیں۔
سوال دوم : اگر اقرار یہ کیا ہو کہ میں نے اس کی ماں سے قبل اس کے نکاح کے زنا کیاتھا تو کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
بلاشبہہ صورت مستفسرہ میں حکم شرع میں حرمت مصاہرت ہوگئی ہندہ زید پر حرام ابدی سمجھی جائیگی فان البینۃ کاسمھا مبینۃ(بینہ اپنے نام کی طرح واضح کرنے والا ہے۔ ت)جب شہادت شرعیہ سے زید کااقرار بالزنا ثابت ہوا تو اس کے ردکی طرف کیا سبیل کہ ثابت بشہادت بمنزلہ ثابت بمشاہدہ ہے۔ اس گواہی سے ثبوت زنا نہ ہونا مطلقا ابطال شہادت یا تکذیب شہودیا رد مشہود کی بناپر نہیں کہ اس سے نفس اقرار بھی ثابت نہ مانئے۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیرمیں پھر علامہ زین مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
ان شھد رجلان اورجل وامرأتان علی اقرار المقذوف بالزنا یدرؤعن القاذف الحد و عن الثلثۃ ای الرجل والمرأتین لان الثلث بالبینۃ کالثابت بالمعاینۃ فکانا سمعنا اقرارہ بالزنا ۔
زنا سے متہم شخص کے اقرار زناپر مردوں یا ایك مرد دو عورتوں نے شہادت دی تو اس سے فقہاء نے تہمت لگانے والے اور گواہ ایك مرد دو عورتوں سے حدقذف کو ساقط قراردیا ہے کیونکہ گواہی سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے دیکھی ہوئی ہو تو گواہوں کے بیان سے ثابت شدہ زنا کا اقرار ایسے ہے جیسے ہم نے خود سنا ہے۔ (ت)
ثابت ہوا کہ شہادت اقرار اگرچہ مثبت زنا ہونے کی اصلاصلاحیت نہ رکھے کہ اثبات زنا میں شہادت زنان وشہادت دو مرد زنہا ر مسموع نہیں مگر مثبت اقرار بیشك ہے کہ اس کے لیے نصاب کامل ہے۔ نیز بحر میں ہے :
لو شھد رجلان انہ زنی واخران انہ اقربالزنا فانہ لایحد قال فی الظھیریۃ ولایحد الشھود
دومردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے زنا کا اقرار کیا ہے۔ توا یسی صورت میں اس کو زنا کی حد نہیں
سوال دوم : اگر اقرار یہ کیا ہو کہ میں نے اس کی ماں سے قبل اس کے نکاح کے زنا کیاتھا تو کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
بلاشبہہ صورت مستفسرہ میں حکم شرع میں حرمت مصاہرت ہوگئی ہندہ زید پر حرام ابدی سمجھی جائیگی فان البینۃ کاسمھا مبینۃ(بینہ اپنے نام کی طرح واضح کرنے والا ہے۔ ت)جب شہادت شرعیہ سے زید کااقرار بالزنا ثابت ہوا تو اس کے ردکی طرف کیا سبیل کہ ثابت بشہادت بمنزلہ ثابت بمشاہدہ ہے۔ اس گواہی سے ثبوت زنا نہ ہونا مطلقا ابطال شہادت یا تکذیب شہودیا رد مشہود کی بناپر نہیں کہ اس سے نفس اقرار بھی ثابت نہ مانئے۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیرمیں پھر علامہ زین مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
ان شھد رجلان اورجل وامرأتان علی اقرار المقذوف بالزنا یدرؤعن القاذف الحد و عن الثلثۃ ای الرجل والمرأتین لان الثلث بالبینۃ کالثابت بالمعاینۃ فکانا سمعنا اقرارہ بالزنا ۔
زنا سے متہم شخص کے اقرار زناپر مردوں یا ایك مرد دو عورتوں نے شہادت دی تو اس سے فقہاء نے تہمت لگانے والے اور گواہ ایك مرد دو عورتوں سے حدقذف کو ساقط قراردیا ہے کیونکہ گواہی سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے دیکھی ہوئی ہو تو گواہوں کے بیان سے ثابت شدہ زنا کا اقرار ایسے ہے جیسے ہم نے خود سنا ہے۔ (ت)
ثابت ہوا کہ شہادت اقرار اگرچہ مثبت زنا ہونے کی اصلاصلاحیت نہ رکھے کہ اثبات زنا میں شہادت زنان وشہادت دو مرد زنہا ر مسموع نہیں مگر مثبت اقرار بیشك ہے کہ اس کے لیے نصاب کامل ہے۔ نیز بحر میں ہے :
لو شھد رجلان انہ زنی واخران انہ اقربالزنا فانہ لایحد قال فی الظھیریۃ ولایحد الشھود
دومردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے زنا کا اقرار کیا ہے۔ توا یسی صورت میں اس کو زنا کی حد نہیں
حوالہ / References
فتح القدیر باب حد القذف نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۱۱۱
ایضا وان شھد ثلثۃ بالزنا وشھد رابع علی الاقرار بالزنا فعلی الثلثۃ الحد۔ اھ لان شھادۃ الواحد علی الاقرار لاتعتبر فبقی کلام الثلثۃ قذفا ۔
لگائی جائیگی او رظہیریہ میں کہا کہ گواہوں کو بھی حد نہ ہوگی اور اگر تین مردوں نے زنا کی شہادت دی اور چوتھے نے زنا کے اقرار پر شہادت دی توتین پر حد قذف ہوگی کیونکہ اقرار کے ایك گواہ کی شہادت معتبر نہیں توتین گواہوں کی بات تہمت ہوجائیگی۔ (ت)
دیکھو شہادت واحد وشہادت رجلین میں تفرقہ فرمایا کہ اول باطل وبیکار اور ثانی معتبر ومثبت اقرار حالانکہ اثبات زناسے دونوں برکنار بلکہ اس شہادت سے ثبوت زنا ہونے کی اور دو وجہیں ہیں : اولا وہ اقرار جوا ن سے ثابت ہوا بیرون مجلس قضا تھا اور دارالقضا سے باہر کا اقرار مثبت زنا نہیں ہوتا شرح نقایہ علامہ شمس قہستانی میں ہے :
الاقرار لم یعتبر عند غیر الامام حتی لو شھد وا بذلك لم تقبل ۔
قاضی یاحاکم کی موجودگی کے بغیر اقرار معتبرنہیں حتی کہ اگر گواہ مجلس سے باہر کے اقرار کی شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
ثانیا مشہود علیہ اگر مقرہے تو شہادت کی کیا حاجت
فانھا انما تقام علی المنکر کما فی الدر وغیرہ ولاتجا مع الاقرار الافی بضع صورمذکورۃ فی الاشباہ لیست ھذہ منھا۔
شہادت تو منکر کے خلاف ہوتی ہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اشباہ میں مذکور ہے چند صورتوں کے علاوہ شہادت اقرار کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اوریہ صورت ان چند میں سے نہیں ہے۔ (ت)
اور منکر ہے تو اقرار سابق سے رجوع کرچکا اور اقرار بالزنا بعد رجوع مثبت زنا نہیں رہتا تحفۃ الفقہاء و بدائع و تبیین الحقائق اور معین الحکام وجامع الرموز وبحرالرائق وغنیہ ذوی الاحکام و ردالمحتار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للعلامۃ الشرنبلالی عن الامام ملك العلماء الکاشانی لو اقربالزنا اربع مرات فی غیرمجلس القاضی وشھد الشہود علی
ملك العلماء امام کاشانی سے منقول کے بارے میں علامہ شرنبلالی کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر اپنے زنا پر مجلس قضاء سے باہر چار مرتبہ اقرار کرے اوراس
لگائی جائیگی او رظہیریہ میں کہا کہ گواہوں کو بھی حد نہ ہوگی اور اگر تین مردوں نے زنا کی شہادت دی اور چوتھے نے زنا کے اقرار پر شہادت دی توتین پر حد قذف ہوگی کیونکہ اقرار کے ایك گواہ کی شہادت معتبر نہیں توتین گواہوں کی بات تہمت ہوجائیگی۔ (ت)
دیکھو شہادت واحد وشہادت رجلین میں تفرقہ فرمایا کہ اول باطل وبیکار اور ثانی معتبر ومثبت اقرار حالانکہ اثبات زناسے دونوں برکنار بلکہ اس شہادت سے ثبوت زنا ہونے کی اور دو وجہیں ہیں : اولا وہ اقرار جوا ن سے ثابت ہوا بیرون مجلس قضا تھا اور دارالقضا سے باہر کا اقرار مثبت زنا نہیں ہوتا شرح نقایہ علامہ شمس قہستانی میں ہے :
الاقرار لم یعتبر عند غیر الامام حتی لو شھد وا بذلك لم تقبل ۔
قاضی یاحاکم کی موجودگی کے بغیر اقرار معتبرنہیں حتی کہ اگر گواہ مجلس سے باہر کے اقرار کی شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
ثانیا مشہود علیہ اگر مقرہے تو شہادت کی کیا حاجت
فانھا انما تقام علی المنکر کما فی الدر وغیرہ ولاتجا مع الاقرار الافی بضع صورمذکورۃ فی الاشباہ لیست ھذہ منھا۔
شہادت تو منکر کے خلاف ہوتی ہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اشباہ میں مذکور ہے چند صورتوں کے علاوہ شہادت اقرار کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اوریہ صورت ان چند میں سے نہیں ہے۔ (ت)
اور منکر ہے تو اقرار سابق سے رجوع کرچکا اور اقرار بالزنا بعد رجوع مثبت زنا نہیں رہتا تحفۃ الفقہاء و بدائع و تبیین الحقائق اور معین الحکام وجامع الرموز وبحرالرائق وغنیہ ذوی الاحکام و ردالمحتار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للعلامۃ الشرنبلالی عن الامام ملك العلماء الکاشانی لو اقربالزنا اربع مرات فی غیرمجلس القاضی وشھد الشہود علی
ملك العلماء امام کاشانی سے منقول کے بارے میں علامہ شرنبلالی کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر اپنے زنا پر مجلس قضاء سے باہر چار مرتبہ اقرار کرے اوراس
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الحدود ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۵
جامع الرموز کتاب الحدود مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ / ۵۱۵
جامع الرموز کتاب الحدود مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ / ۵۱۵
اقرارہ لاتقبل شہادتھم لانہ ان کان مقر افالشھادۃ لغو لان الحکم للاقرار لاللشہادۃ وان کان منکرا فالانکار منہ رجوع والرجوع عن الاقرار فی الحدود الخالصۃ حقا ﷲ تعالی صحیح ۔
اقر ارپر گواہ شہادت دیں تو قبول نہ ہوگی کیونکہ اگر وہ شخص اقراری ہے تو حکم اس کے اقرار پر ہوگا اور گواہی کی وجہ سے نہ ہوگا ا س لیے کہ شہادت لغو ہوگی او راگر وہ مجلس قضا میں منکر ہوجائے تو اسکا یہ انکار اپنے اقرار سے رجوع ہوگا اور حدود جو کہ خالص الله تعالی کاحق ہیں ان میں رجوع صحیح ہے۔ (ت)
علماء کی یہ تعلیلیں جیسے کہ ثبوت زنا کی نفی فرماتی ہیں یونہی ثبوت اقرار کی تقریر فرمارہی ہیں تو اتنا ضرور ماننا پڑے گا کہ شہادت مذکورہ سے زید کا اقرار مزبور ثابت ہوگیا اب یہ دیکھنا رہا کہ اثبات مصاہرت کو خاص نامسموع کلمات علماء باعلی نداء منادی کہ یہاں ثبوت زنا کی اصلا حاجت نہیں مجرد اقرار وہ بھی ایك بار بس ہے۔ یہاں تك کہ اگر ہزل ومزاح ہی میں کہہ دیا کہ اس شخص نے اپنی ساس کے ساتھ جماع کیا حرمت مصاہرت ثابت کردیں گے پھر ہزار بارکہا کرے میں نے جھوٹ کہاتھا ہر گز نہ سنیں گے محیط ہندیہ وخلاصہ و بحرالرائق وجامع الرموز و مجموعہ انقروی ودرمختار وغیرہا معتمدا ت الاسفار میں ہے :
والنظم للدر فی الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتك فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھا زلا اھ۔
در کی عبارت ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ ایك شخص سے کہا گیا کہ تونے اپنی ساس سے کیا کیا تواس نے جواب میں کہا کہ میں نے اس سے جماع کیا تو اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی اور اب اگر یہ کہے کہ میں نے تو مذاق میں جھوٹ بولا تھا توبھی نہیں مانا جائے گا اھ(ت)
خلاصہ وبحر وانقروی وغیرہامیں ہے :
والاصرار لیس بشرط فی الاقرار بحرمۃ المصاہرۃ ۔
حرمت مصاہرت سے متعلق اقرار میں اصرار شرط نہیں ہے۔ (ت)
یو نہی اگر عورت سے بشر ط دوشیزگی نکاح کیا تووقت ارادہ جماع غیر دوشیزہ پایا عورت نے کہا تیرے
اقر ارپر گواہ شہادت دیں تو قبول نہ ہوگی کیونکہ اگر وہ شخص اقراری ہے تو حکم اس کے اقرار پر ہوگا اور گواہی کی وجہ سے نہ ہوگا ا س لیے کہ شہادت لغو ہوگی او راگر وہ مجلس قضا میں منکر ہوجائے تو اسکا یہ انکار اپنے اقرار سے رجوع ہوگا اور حدود جو کہ خالص الله تعالی کاحق ہیں ان میں رجوع صحیح ہے۔ (ت)
علماء کی یہ تعلیلیں جیسے کہ ثبوت زنا کی نفی فرماتی ہیں یونہی ثبوت اقرار کی تقریر فرمارہی ہیں تو اتنا ضرور ماننا پڑے گا کہ شہادت مذکورہ سے زید کا اقرار مزبور ثابت ہوگیا اب یہ دیکھنا رہا کہ اثبات مصاہرت کو خاص نامسموع کلمات علماء باعلی نداء منادی کہ یہاں ثبوت زنا کی اصلا حاجت نہیں مجرد اقرار وہ بھی ایك بار بس ہے۔ یہاں تك کہ اگر ہزل ومزاح ہی میں کہہ دیا کہ اس شخص نے اپنی ساس کے ساتھ جماع کیا حرمت مصاہرت ثابت کردیں گے پھر ہزار بارکہا کرے میں نے جھوٹ کہاتھا ہر گز نہ سنیں گے محیط ہندیہ وخلاصہ و بحرالرائق وجامع الرموز و مجموعہ انقروی ودرمختار وغیرہا معتمدا ت الاسفار میں ہے :
والنظم للدر فی الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتك فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھا زلا اھ۔
در کی عبارت ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ ایك شخص سے کہا گیا کہ تونے اپنی ساس سے کیا کیا تواس نے جواب میں کہا کہ میں نے اس سے جماع کیا تو اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی اور اب اگر یہ کہے کہ میں نے تو مذاق میں جھوٹ بولا تھا توبھی نہیں مانا جائے گا اھ(ت)
خلاصہ وبحر وانقروی وغیرہامیں ہے :
والاصرار لیس بشرط فی الاقرار بحرمۃ المصاہرۃ ۔
حرمت مصاہرت سے متعلق اقرار میں اصرار شرط نہیں ہے۔ (ت)
یو نہی اگر عورت سے بشر ط دوشیزگی نکاح کیا تووقت ارادہ جماع غیر دوشیزہ پایا عورت نے کہا تیرے
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الحدود ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۵۰ ، غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر غرر باب حدالقذف مطبعۃ احمد کامل الکائنۃ بیروت ۲ / ۷۴
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
خلاصۃ الفتاوی الفصل الثالث فی حرمۃ المصاہرۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۰
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
خلاصۃ الفتاوی الفصل الثالث فی حرمۃ المصاہرۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۰
باپ نے ازالہ کیا اس نے تصدیق کردی حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ظہیریہ وہندیہ وشمنی ودرمختار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للدر تزوج بکرا فوجدھا ثیبا(ولفظ الاولین تزوج امرأۃ علی انھا عذراء فلما اراد و قاعھا وجد ھا قد افتضت)وقالت ابوك فضنی ان صدقھا بانت بلامھر و الالا شمنی ۔
درکے الفاظ میں ہے کہ باکرہ سے نکاح کیا تو ا س کو ثیبہ پایا اورپہلی دونوں کتب کے الفاظ یہ ہیں کہ ایك عورت سے باکرہ ہونے کی شرط پر نکاح کیا تو جما ع کے وقت اس کی بکارت ٹوٹی ہوئی پائی اور عورت نے کہا کہ تیرے باپ نے میری بکارت توڑی(یعنی دخول کیا)توا گراس نے بیوی کی بات کو سچ تسلیم کرلیا تو بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گاا ور مہرنہ ہوگا ورنہ نکاح ختم نہ ہوگا شمنی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ ان صورتوں سے ثبوت زنا محض ناممکن اخیرہ میں تو عورت کا بیان اور اس کی تصدیق کیا بکار آمد ہوسکتی ہے جہاں چار مردوں سے کم کی شہادت مردود ہو اولی میں بار اقرار وہ بھی بیرون دارالقضاء وہ بھی ہزل ومزاح کے موقع پر کیا قابلیت اثبات زنا رکھتا ہے بااینہمہ مجر د اقرار و تصدیق پر حرمت مصاہرت کا حکم ہوگیا اور بعد اقرار انکار بیکار رہا اسی قدر تقریر ایضاح مقام وازاحت اوہام کو بس ہے بلکہ غور کیجئے تو فرع اول صورت مستفسرہ کا خاص نص ہے کہ جب اس کے صرف اس قول کو مثبت حرمت مانتے اور رجوع وانکار کونامسموع جانتے ہیں اور پر ظاہر کہ یہ اثبات اثبات فی القضاء ہی ہے کما اشرنا الیہ وفی ردالمحتار وغیرھا نصوا علیہ(جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے اور ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)اور عندالقاضی بعد انکار طریقہ اثبات وہی بینہ توصاف ثابت ہوا کہ شوہر اگر بعد اقرار بالزنا انکارکر جائے اور بینہ عادلہ سے اس کا اقرار ثابت ہو قاضی فورا حکم حرمت دے گا وھو المقصود۔ انہی بیانوں سے یہ بھی واضح ہوگیاکہ زنا بمادرزن پیش ازنکاح زن اوراس کا عکس دونوں کا اقراراس حکم حرمت میں یکساں کہ حرمت ابدیہ دونوں طرح حاصل اگرچہ ایك صورت میں سابقہ ہو دوسری میں طاریہ توہر طرح یہ اقرار اقرار بالمحرم ہے والرجل مواخذ باقرارہ(اور مرد اپنے اقرار کی بناپر ماخوذ ہے۔ ت)ہاں اتنا تفاوت ہوگاکہ اقرار زناقبل النکاح میں شوہر حق زن میں اس دعوی اسناد الی ماقبل النکاح میں مصدق نہ ہوگا کہ بر تقدیر عدم دخول ابطال مہر یا بحالت دخول افساد تسمیہ مجرد اس کے کہنے سے مان لیں صرف اپنے حق
واللفظ للدر تزوج بکرا فوجدھا ثیبا(ولفظ الاولین تزوج امرأۃ علی انھا عذراء فلما اراد و قاعھا وجد ھا قد افتضت)وقالت ابوك فضنی ان صدقھا بانت بلامھر و الالا شمنی ۔
درکے الفاظ میں ہے کہ باکرہ سے نکاح کیا تو ا س کو ثیبہ پایا اورپہلی دونوں کتب کے الفاظ یہ ہیں کہ ایك عورت سے باکرہ ہونے کی شرط پر نکاح کیا تو جما ع کے وقت اس کی بکارت ٹوٹی ہوئی پائی اور عورت نے کہا کہ تیرے باپ نے میری بکارت توڑی(یعنی دخول کیا)توا گراس نے بیوی کی بات کو سچ تسلیم کرلیا تو بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گاا ور مہرنہ ہوگا ورنہ نکاح ختم نہ ہوگا شمنی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ ان صورتوں سے ثبوت زنا محض ناممکن اخیرہ میں تو عورت کا بیان اور اس کی تصدیق کیا بکار آمد ہوسکتی ہے جہاں چار مردوں سے کم کی شہادت مردود ہو اولی میں بار اقرار وہ بھی بیرون دارالقضاء وہ بھی ہزل ومزاح کے موقع پر کیا قابلیت اثبات زنا رکھتا ہے بااینہمہ مجر د اقرار و تصدیق پر حرمت مصاہرت کا حکم ہوگیا اور بعد اقرار انکار بیکار رہا اسی قدر تقریر ایضاح مقام وازاحت اوہام کو بس ہے بلکہ غور کیجئے تو فرع اول صورت مستفسرہ کا خاص نص ہے کہ جب اس کے صرف اس قول کو مثبت حرمت مانتے اور رجوع وانکار کونامسموع جانتے ہیں اور پر ظاہر کہ یہ اثبات اثبات فی القضاء ہی ہے کما اشرنا الیہ وفی ردالمحتار وغیرھا نصوا علیہ(جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے اور ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)اور عندالقاضی بعد انکار طریقہ اثبات وہی بینہ توصاف ثابت ہوا کہ شوہر اگر بعد اقرار بالزنا انکارکر جائے اور بینہ عادلہ سے اس کا اقرار ثابت ہو قاضی فورا حکم حرمت دے گا وھو المقصود۔ انہی بیانوں سے یہ بھی واضح ہوگیاکہ زنا بمادرزن پیش ازنکاح زن اوراس کا عکس دونوں کا اقراراس حکم حرمت میں یکساں کہ حرمت ابدیہ دونوں طرح حاصل اگرچہ ایك صورت میں سابقہ ہو دوسری میں طاریہ توہر طرح یہ اقرار اقرار بالمحرم ہے والرجل مواخذ باقرارہ(اور مرد اپنے اقرار کی بناپر ماخوذ ہے۔ ت)ہاں اتنا تفاوت ہوگاکہ اقرار زناقبل النکاح میں شوہر حق زن میں اس دعوی اسناد الی ماقبل النکاح میں مصدق نہ ہوگا کہ بر تقدیر عدم دخول ابطال مہر یا بحالت دخول افساد تسمیہ مجرد اس کے کہنے سے مان لیں صرف اپنے حق
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
یعنی بطلان حل وفساد وعصمت واخذبالمتارکہ میں مصدق ہوگا لہذا حرمت غیر مستندہ ثابت کرکے نصف مسمی یاکل علی التقدیرین لازم کردیں گے۔ بحرالرائق وردالمحتار میں ہے :
اذا اقربجماع امھا قبل التزوج لایصدق فی حقھا فیجب کمال المھر المسمی ان کان بعدالدخول ونصفہ ان کان قبلہ کما فی التجنیس ۔
اگر نکاح سے قبل کے ساس سے زنا کاا قرار کرتاہے تو ا س اقرار کو بیوی کے حق مہر کے بارے میں سچ نہیں ماناجائے گا لہذا مقررہ مہر پورا دینا ہوگا بشرطیکہ یہ اقرار بیوی سے دخول کے بعد کیا ہو اور اگردخول سے قبل یہ اقرار کیا تونصف مہر واجب ہوگا جیساکہ تجنیس میں ہے۔ (ت)
اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اقرار واحد من جہۃ مقبول او رمن جہۃ مردود ہو اقرار جحت قاصرہ ہے ہمیشہ اس کی یہی شان ہوتی ہے کہ جہاں تك مقر پر اس کا ضرر ہے۔ ماخوذ اور جتنا دوسرے پرلازم ہے منبوذ ولہذا گر کسی کی کنیز سے نکاح کیا اس نے پیش از دخول اس کے پسر کا بوسہ لیا شوہر کہتا ہے بشہوت تھا حرمت ثابت ہوگئی مگر حق اسقاط مہر میں مسموع نہ ہوگا نصف مہر دینا آئے گا جبکہ مولی شہوت کنیز وقصد افساد کو نہ مانتا ہو ہندیہ میں ہے :
تزوج بامۃ رجل ثم ان الامۃ قبلت ابن زوجھا قبل الدخول بھا فادعی الزوج انھا قبلت بشھوۃ وکذبہ المولی فانھا تبین من زوجھا لاقرارالزوج انھا قبلت بشھوۃ ویلزمہ نصف المھر بتکذیب المولی ایاہ انھا قبلتہ بشھوۃ ولایقبل قول الامۃ فی ذلك لوقالت قبلتہ بشھوۃ کذافی المحیط اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
ایك شخص نے کسی کی لونڈی سے نکاح کیا تولونڈی نے قبل از دخول خاوند کے بیٹے کا بوسہ لیا تو خاوند نے دعوی کیا کہ اس نے یہ بوسہ شہوت کے ساتھ لیا ہے جبکہ لونڈی کا مالك خاوند کو جھٹلارہا ہے تو وہ لونڈی نکاح سے خارج ہوجائے گی کیونکہ خاوند نے شہوت کے ساتھ بوسے کا اقرار کیا ہے۔ اور مالك کی تکذیب کی وجہ سے خاوند پر نصف مہر لازم ہوگا اوریہاں لونڈی کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کہ میں نے شہوت سے بوسہ لیا ہے۔ یونہی محیط میں ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کے مرنے پر سالی سے نکاح کیا
اذا اقربجماع امھا قبل التزوج لایصدق فی حقھا فیجب کمال المھر المسمی ان کان بعدالدخول ونصفہ ان کان قبلہ کما فی التجنیس ۔
اگر نکاح سے قبل کے ساس سے زنا کاا قرار کرتاہے تو ا س اقرار کو بیوی کے حق مہر کے بارے میں سچ نہیں ماناجائے گا لہذا مقررہ مہر پورا دینا ہوگا بشرطیکہ یہ اقرار بیوی سے دخول کے بعد کیا ہو اور اگردخول سے قبل یہ اقرار کیا تونصف مہر واجب ہوگا جیساکہ تجنیس میں ہے۔ (ت)
اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اقرار واحد من جہۃ مقبول او رمن جہۃ مردود ہو اقرار جحت قاصرہ ہے ہمیشہ اس کی یہی شان ہوتی ہے کہ جہاں تك مقر پر اس کا ضرر ہے۔ ماخوذ اور جتنا دوسرے پرلازم ہے منبوذ ولہذا گر کسی کی کنیز سے نکاح کیا اس نے پیش از دخول اس کے پسر کا بوسہ لیا شوہر کہتا ہے بشہوت تھا حرمت ثابت ہوگئی مگر حق اسقاط مہر میں مسموع نہ ہوگا نصف مہر دینا آئے گا جبکہ مولی شہوت کنیز وقصد افساد کو نہ مانتا ہو ہندیہ میں ہے :
تزوج بامۃ رجل ثم ان الامۃ قبلت ابن زوجھا قبل الدخول بھا فادعی الزوج انھا قبلت بشھوۃ وکذبہ المولی فانھا تبین من زوجھا لاقرارالزوج انھا قبلت بشھوۃ ویلزمہ نصف المھر بتکذیب المولی ایاہ انھا قبلتہ بشھوۃ ولایقبل قول الامۃ فی ذلك لوقالت قبلتہ بشھوۃ کذافی المحیط اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
ایك شخص نے کسی کی لونڈی سے نکاح کیا تولونڈی نے قبل از دخول خاوند کے بیٹے کا بوسہ لیا تو خاوند نے دعوی کیا کہ اس نے یہ بوسہ شہوت کے ساتھ لیا ہے جبکہ لونڈی کا مالك خاوند کو جھٹلارہا ہے تو وہ لونڈی نکاح سے خارج ہوجائے گی کیونکہ خاوند نے شہوت کے ساتھ بوسے کا اقرار کیا ہے۔ اور مالك کی تکذیب کی وجہ سے خاوند پر نصف مہر لازم ہوگا اوریہاں لونڈی کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کہ میں نے شہوت سے بوسہ لیا ہے۔ یونہی محیط میں ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کے مرنے پر سالی سے نکاح کیا
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
فتاوٰی ہندیہ القسم الثانی المحرمات بالصہریۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۶
فتاوٰی ہندیہ القسم الثانی المحرمات بالصہریۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۶
اور پہلی عورت سے ایك دختر تھی اب یہ شخص مرگیا اور سالی منکوحہ بے اولاد نے دوسرے سے نکاح کیا اور مرگئی اب وہ جو دختر اس شخص کی ہے جس نے اپنی سالی سے نکاح کیا تھا اور مرگیا تھا سالی کے دوسرے شوہر کو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب : جائز ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹ ہندہ نے زینب کاد ودھ پیا ہندہ کے بیٹے کو زینب کی دختر جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ناجائز ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۰ : ایك شخص نے اپنی زوجہ کے دھوکے میں سہو سے اپنی ہمشیرہ یا خوشدامن کا ہاتھ ازروئے شہوت کے پکڑا اس کے نکاح میں کچھ خلل واقع ہوا یانہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ہمشیرہ کاہاتھ پکڑنے سے نکاح میں کچھ خلل واقع نہ آیا اور خوشدامن کاہاتھ پکڑنے سے نکاح فاسد ہوگیا اس سے شہوت پیدا ہوئی یا پہلے سے تھی تو زائد ہوگئی اور انزال نہ ہوا عورت ہمیشہ کو اس پر حرام ہوگئی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر زینب کا بکر کے ساتھ نکاح کیا اور بعد نکاح قبل رخصت بکر کو بلاتحقیق زبانی باتوں پر نامرد ٹھہرا کر بے طلاق دلوائے بحالت حیات بکر کے زینب کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اور اس سے اولاد پیدا ہوئی پس ایسی صور ت میں یہ نکاح ثانی جائزہوا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قطع نظرا س سے کہ تفریق بوجہ عنت کے لیے جو امور شرعا درکارہیں ان میں سے یہاں ایك بھی نہیں نہ پایا گیا راسا بکر کا ایسا عنین ہونا ہی ثابت نہیں جس کی بناء پر زینب کو اختیار مخاصمہ ومطالبہ تفریق حاصل ہو اس لیے ممکن تھا کہ وہ بالخصوص ا س عورت سے نزدیکی پر قادر ہوتا جس صورت میں کہ زینب کی رخصت ہی نہ ہونے پائی اس کے حق میں بکر کانامر دہونا کیسے ثابت ہوا۔
فی العالمگیریۃ وان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالی بعض النساء دون البعض وذلك لمرض بہ اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ اوسحر
عالمگیریہ میں ہے جو شخص ثیبہ سے جماع کی طاقت رکھتاہو باکرہ سے نہیں یا بعض عورتوں سے جماع کی طاقت رکھتاہو اور دیگر بعض سے نہیں اور اس کی کمزوری مرض کی وجہ سے یا پیدائشی یا بڑھاپے یا جادو کی وجہ سے ہو
الجواب : جائز ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹ ہندہ نے زینب کاد ودھ پیا ہندہ کے بیٹے کو زینب کی دختر جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ناجائز ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۰ : ایك شخص نے اپنی زوجہ کے دھوکے میں سہو سے اپنی ہمشیرہ یا خوشدامن کا ہاتھ ازروئے شہوت کے پکڑا اس کے نکاح میں کچھ خلل واقع ہوا یانہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ہمشیرہ کاہاتھ پکڑنے سے نکاح میں کچھ خلل واقع نہ آیا اور خوشدامن کاہاتھ پکڑنے سے نکاح فاسد ہوگیا اس سے شہوت پیدا ہوئی یا پہلے سے تھی تو زائد ہوگئی اور انزال نہ ہوا عورت ہمیشہ کو اس پر حرام ہوگئی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر زینب کا بکر کے ساتھ نکاح کیا اور بعد نکاح قبل رخصت بکر کو بلاتحقیق زبانی باتوں پر نامرد ٹھہرا کر بے طلاق دلوائے بحالت حیات بکر کے زینب کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اور اس سے اولاد پیدا ہوئی پس ایسی صور ت میں یہ نکاح ثانی جائزہوا یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قطع نظرا س سے کہ تفریق بوجہ عنت کے لیے جو امور شرعا درکارہیں ان میں سے یہاں ایك بھی نہیں نہ پایا گیا راسا بکر کا ایسا عنین ہونا ہی ثابت نہیں جس کی بناء پر زینب کو اختیار مخاصمہ ومطالبہ تفریق حاصل ہو اس لیے ممکن تھا کہ وہ بالخصوص ا س عورت سے نزدیکی پر قادر ہوتا جس صورت میں کہ زینب کی رخصت ہی نہ ہونے پائی اس کے حق میں بکر کانامر دہونا کیسے ثابت ہوا۔
فی العالمگیریۃ وان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالی بعض النساء دون البعض وذلك لمرض بہ اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ اوسحر
عالمگیریہ میں ہے جو شخص ثیبہ سے جماع کی طاقت رکھتاہو باکرہ سے نہیں یا بعض عورتوں سے جماع کی طاقت رکھتاہو اور دیگر بعض سے نہیں اور اس کی کمزوری مرض کی وجہ سے یا پیدائشی یا بڑھاپے یا جادو کی وجہ سے ہو
فھو عنین فی حق من لایصل الیھا کذا فی النھایۃ ۔
تو ان عورتوں کے حق میں اس کو نا مرد تصورکیا جائے گا جن سے جماع کی طاقت نہ رکھتا ہو نہایہ میں یوں ہے۔ (ت)
پس بلاشبہہ نکاح ثانی زینب کا محض ناجائز وباطل ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۲ : از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ۲۵ ذی قعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلی وسلمی دو رضاعی بہنیں ہیں لیلی سے زید نے نکاح کیا اب سلمی سے اس کے پسر عمرو بن جمیلہ کا نکاح ہوسکتا ہے یا وہ عمرو کی سوتیلی خالہ یعنی سوتیلی ماں کی رضاعی بہن سمجھ کر حرام مانی جائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عمرو وسلمی کا نکاح جائز ہے کہ باپ کی سالی جبکہ اپنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی یا سوتیلی یا مادری یا رضاعی بہن نہ ہو حلال ہے خواہ نسبی ہو خواہ رضاعی۔ قال الله تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے سوا تم کے لیے حلال ہیں۔ ت)سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے نکاح میں ایك عورت حرہ تھی دوسرا نکاح اس نے ایك کنیز سے کیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں اور کنیز کا مہر اس کے ذمہ کس قدر لازم ہوگا اس کنیز سے اس کی اولاد بھی ہوئی اب زید نے انتقال کیا تو کنیز اور اس کی اولاد ترکہ پائیں گے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
زن حرہ پر لونڈی سے نکاح کرنا فاسد ہے
فی الدرالمختار وصح نکاح حرۃ علی امۃ و لایصح عکسہ انتھی ملخصا۔
درمختار میں ہے لونڈی پر حرہ عورت سے نکاح صحیح ہے اورا س کا عکس یعنی حرہ پر لونڈی سے نکاح صحیح نہیں ہے۔ انتہی ملخصا(ت)
تو ان عورتوں کے حق میں اس کو نا مرد تصورکیا جائے گا جن سے جماع کی طاقت نہ رکھتا ہو نہایہ میں یوں ہے۔ (ت)
پس بلاشبہہ نکاح ثانی زینب کا محض ناجائز وباطل ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۲ : از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ۲۵ ذی قعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلی وسلمی دو رضاعی بہنیں ہیں لیلی سے زید نے نکاح کیا اب سلمی سے اس کے پسر عمرو بن جمیلہ کا نکاح ہوسکتا ہے یا وہ عمرو کی سوتیلی خالہ یعنی سوتیلی ماں کی رضاعی بہن سمجھ کر حرام مانی جائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں عمرو وسلمی کا نکاح جائز ہے کہ باپ کی سالی جبکہ اپنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی یا سوتیلی یا مادری یا رضاعی بہن نہ ہو حلال ہے خواہ نسبی ہو خواہ رضاعی۔ قال الله تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے سوا تم کے لیے حلال ہیں۔ ت)سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے نکاح میں ایك عورت حرہ تھی دوسرا نکاح اس نے ایك کنیز سے کیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں اور کنیز کا مہر اس کے ذمہ کس قدر لازم ہوگا اس کنیز سے اس کی اولاد بھی ہوئی اب زید نے انتقال کیا تو کنیز اور اس کی اولاد ترکہ پائیں گے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
زن حرہ پر لونڈی سے نکاح کرنا فاسد ہے
فی الدرالمختار وصح نکاح حرۃ علی امۃ و لایصح عکسہ انتھی ملخصا۔
درمختار میں ہے لونڈی پر حرہ عورت سے نکاح صحیح ہے اورا س کا عکس یعنی حرہ پر لونڈی سے نکاح صحیح نہیں ہے۔ انتہی ملخصا(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۲
القرآن ۴ / ۲۴
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
القرآن ۴ / ۲۴
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
اور زن منکوحہ بنکاح فاسد مستحق ارث نہیں۔
فی الدرالمختار من باب نکاح الکافر واجمعوا انھم لایتوارثون لان الارث انما ثبت بالنص علی خلاف القیاس فی النکاح الصحیح مطلقا فیقتصر علیہ ابن ملك ۔ وفیہ من کتاب الفرائض ویستحق الارث باحد ثلثۃ برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولا باطل اجماعا اھ۔
درمختار کے “ باب نکاح کافر “ میں ہے کہ ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ یہ آپس میں وارث نہ بنیں گے کیونکہ وراثت کا ثبوت نص میں قیاس کے خلاف ہے اور یہ صرف نکاح میں ہے اور اس میں منحصر رہے گا۔ ابن ملک۔ اور اسی درمختار کے کتاب الفرائض میں ہے کہ وارث کا استحقاق تین وجہ سے ہوتاہے۔ رشتہ رحم اور صحیح نکاح کی بنا پر نکاح فاسد یاباطل سے باجماع استحقاق وارثت نہیں اھ(ت)
ہاں اگر وطی واقع ہوگئی تو مہر مسمی ومہر مثل سے جو کم ہوگا لازم آئے گا مثلا اگر عقد پانسو روپے مہر پر بندھاہے اورمہر مثل سور وپے ہے تو مہر مثل اور در صورت عکس مہر مسمی یعنی جوعقد میں بندھا ہے واجب الاداہوگا اور جو عقد میں کچھ نہ بندھا یا بندھا معلوم نہیں ہوسکتا تومہرمثل جس قدر ہو قرار پائے گا۔
فی الخلاصۃ الواجب فی النکاح الفاسد الاقل من المسمی ومن مھر المثل ان کان ھناك تسمیۃ ۔ فی الدرالمختار ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزدمھر المثل علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل ولو لم یسم اوجھل لزم بالغا مابلغ انتھی مع التلخیص۔
خلاصہ میں ہے اگرمہر مقررہ ہوتو فاسد نکاح سے مہر مثل اور مقررہ سے جوکم ہو وہ واجب ہوگا۔ درمختار میں ہے کہ فاسد نکاح میں مہر مثل وطی سے واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر مہر مثل واجب نہیں ہوتا اور مہر مثل مقررہ مہر سے زیادہ بھی نہیں کیا جائیگا اگرچہ مقررہ مہرسے مہر مثل کم ہو اور اگر مقرر نہ ہو یا مقررمعلوم نہ ہو تواس صورت میں مہر مثل لازم ہوگا جتنا بھی ہو اھ ملخصا(ت)
اور اولاد کہ نکاح فاسد میں وقت وطی سے چھ مہینے بعد پیدا ہوئی بالاجماع ثابت النسب ومستحق الارث ہے
فی الدرالمختار ویثبت النسب احتیاطا بلادعوۃ
درمختامیں ہے کہ نکاح فاسد میں بغیر دعوی احتیاطا نسب
فی الدرالمختار من باب نکاح الکافر واجمعوا انھم لایتوارثون لان الارث انما ثبت بالنص علی خلاف القیاس فی النکاح الصحیح مطلقا فیقتصر علیہ ابن ملك ۔ وفیہ من کتاب الفرائض ویستحق الارث باحد ثلثۃ برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولا باطل اجماعا اھ۔
درمختار کے “ باب نکاح کافر “ میں ہے کہ ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ یہ آپس میں وارث نہ بنیں گے کیونکہ وراثت کا ثبوت نص میں قیاس کے خلاف ہے اور یہ صرف نکاح میں ہے اور اس میں منحصر رہے گا۔ ابن ملک۔ اور اسی درمختار کے کتاب الفرائض میں ہے کہ وارث کا استحقاق تین وجہ سے ہوتاہے۔ رشتہ رحم اور صحیح نکاح کی بنا پر نکاح فاسد یاباطل سے باجماع استحقاق وارثت نہیں اھ(ت)
ہاں اگر وطی واقع ہوگئی تو مہر مسمی ومہر مثل سے جو کم ہوگا لازم آئے گا مثلا اگر عقد پانسو روپے مہر پر بندھاہے اورمہر مثل سور وپے ہے تو مہر مثل اور در صورت عکس مہر مسمی یعنی جوعقد میں بندھا ہے واجب الاداہوگا اور جو عقد میں کچھ نہ بندھا یا بندھا معلوم نہیں ہوسکتا تومہرمثل جس قدر ہو قرار پائے گا۔
فی الخلاصۃ الواجب فی النکاح الفاسد الاقل من المسمی ومن مھر المثل ان کان ھناك تسمیۃ ۔ فی الدرالمختار ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزدمھر المثل علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل ولو لم یسم اوجھل لزم بالغا مابلغ انتھی مع التلخیص۔
خلاصہ میں ہے اگرمہر مقررہ ہوتو فاسد نکاح سے مہر مثل اور مقررہ سے جوکم ہو وہ واجب ہوگا۔ درمختار میں ہے کہ فاسد نکاح میں مہر مثل وطی سے واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر مہر مثل واجب نہیں ہوتا اور مہر مثل مقررہ مہر سے زیادہ بھی نہیں کیا جائیگا اگرچہ مقررہ مہرسے مہر مثل کم ہو اور اگر مقرر نہ ہو یا مقررمعلوم نہ ہو تواس صورت میں مہر مثل لازم ہوگا جتنا بھی ہو اھ ملخصا(ت)
اور اولاد کہ نکاح فاسد میں وقت وطی سے چھ مہینے بعد پیدا ہوئی بالاجماع ثابت النسب ومستحق الارث ہے
فی الدرالمختار ویثبت النسب احتیاطا بلادعوۃ
درمختامیں ہے کہ نکاح فاسد میں بغیر دعوی احتیاطا نسب
حوالہ / References
درمختار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۸
درمختار کتاب الفرائض باب نکاح الکافر ۲ / ۳۵۲
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث عشر فی النکاح الفاسد مکتب حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴۱
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
درمختار کتاب الفرائض باب نکاح الکافر ۲ / ۳۵۲
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث عشر فی النکاح الفاسد مکتب حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴۱
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
وتعتبر مدتہ وھی ستۃ اشھر من الوطی والالایثبت وھذا قول محمد وبہ یفتی وقالا ابتداء المدۃ من وقت العقد کالصحیح و رجحہ فی النھر بانہ احوط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ثابت ہوگا جبکہ مدت کا اعتبار ہوگا جو کہ وطی سے چھ ماہ تك ہے ورنہ نہیں یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہماالله تعالی کے قول پر مدت کا اعتبار وقت نکاح سے چھ ماہ ہے جیسا کہ صحیح نکاح میں ہوتا ہے نہر میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں زیادہ احتیاط ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۴ : چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ ت)کہ ہندہ زوجہ بکر کسی تقریب خانگی میں بہت سی مستورات کے ہمراہ ایك مقام پر جہاں دروازہ پر پردہ لگاتھا موجود تھی اورا س جلسہ میں زوجہ زید بھی تھی زوجہ بکر دوپٹہ یا چادر زوجہ زیدکا اتفاق سے اوڑھے تھی وقت شب تھا روشنی کافی جیسا کہ تقریبات میں قاعدہ ہے موجود تھی دریں اثناء زید وہاں آیا اور ہندہ زوجہ بکر مذکورہ بالا اپنا منہ جو کھلا تھا باہر پردہ کے لائی کہ زید مذکور نے اس کا بوسہ رخسا ر پر لیا ہندہ نے و دیگرعورات نے اس کا مواخذہ زید سے کیا اس وقت زید نے رو برو جملہ اور پانچ سات ذکورعادل کے یہ عذر کیا کہ میں نے اپنی زوجہ کے دھوکامیں بوسہ لیاتھا بوجہ اس کے کہ زوجہ بکر یعنی ہندہ مذکور میری زوجہ کا چادر اوڑھے تھی اس دھوکا اور شبہہ سے بوسہ لیا تھا ہر گز دانستہ یہ فعل نہیں کیا پس اب ہندہ مذکورہ کی لڑکی کا نکاح زید کے ساتھ ازروئے شرع شریف کے درست ہے یا نادرست اس امرپر حکم فرماکر دستخط خاص سے جواب تحریر فرمایا جائے عندالله ماجور ہوں گے۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ثابت ہے کہ زید نے زوجہ بکر کا بوسہ بنظر شہوت لیا تو اس پر عورت کی سب اولاد ہمیشہ کے لیے زیدپر حرام ہوگئی کسی طرح اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا اور اگر نادانستہ نکاح کرلیا ہے فریقین پر واجب ہے کہ اسے فسخ کردیں ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔ اور اگر شوہر فسخ پر راضی نہ ہو توعورت بذات خود فسخ کرسکتی ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار(جیساکہ ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص ہے۔ ت)بلکہ امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام قدس سرہ العزیز نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں تصریح فرمائی ہے کہ جس طرح لبوں کا بوسہ لینا خواہی نخواہی بنظر شہوت قرار پائے گا یہاں تك کہ اگروہ شخص ادعا کرے کہ یہ فعل مجھ سے بنظر شہوت نہ ہوا توہرگز قبول نہ کریں گے اور حکم حرمت ابدی دیں گے یہی حال بوسہ رخسار کا ہونا چاہئے کہ یہ بھی بشہوت ہی ٹھہرے گا اور
ثابت ہوگا جبکہ مدت کا اعتبار ہوگا جو کہ وطی سے چھ ماہ تك ہے ورنہ نہیں یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہماالله تعالی کے قول پر مدت کا اعتبار وقت نکاح سے چھ ماہ ہے جیسا کہ صحیح نکاح میں ہوتا ہے نہر میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں زیادہ احتیاط ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۴ : چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ ت)کہ ہندہ زوجہ بکر کسی تقریب خانگی میں بہت سی مستورات کے ہمراہ ایك مقام پر جہاں دروازہ پر پردہ لگاتھا موجود تھی اورا س جلسہ میں زوجہ زید بھی تھی زوجہ بکر دوپٹہ یا چادر زوجہ زیدکا اتفاق سے اوڑھے تھی وقت شب تھا روشنی کافی جیسا کہ تقریبات میں قاعدہ ہے موجود تھی دریں اثناء زید وہاں آیا اور ہندہ زوجہ بکر مذکورہ بالا اپنا منہ جو کھلا تھا باہر پردہ کے لائی کہ زید مذکور نے اس کا بوسہ رخسا ر پر لیا ہندہ نے و دیگرعورات نے اس کا مواخذہ زید سے کیا اس وقت زید نے رو برو جملہ اور پانچ سات ذکورعادل کے یہ عذر کیا کہ میں نے اپنی زوجہ کے دھوکامیں بوسہ لیاتھا بوجہ اس کے کہ زوجہ بکر یعنی ہندہ مذکور میری زوجہ کا چادر اوڑھے تھی اس دھوکا اور شبہہ سے بوسہ لیا تھا ہر گز دانستہ یہ فعل نہیں کیا پس اب ہندہ مذکورہ کی لڑکی کا نکاح زید کے ساتھ ازروئے شرع شریف کے درست ہے یا نادرست اس امرپر حکم فرماکر دستخط خاص سے جواب تحریر فرمایا جائے عندالله ماجور ہوں گے۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ثابت ہے کہ زید نے زوجہ بکر کا بوسہ بنظر شہوت لیا تو اس پر عورت کی سب اولاد ہمیشہ کے لیے زیدپر حرام ہوگئی کسی طرح اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا اور اگر نادانستہ نکاح کرلیا ہے فریقین پر واجب ہے کہ اسے فسخ کردیں ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔ اور اگر شوہر فسخ پر راضی نہ ہو توعورت بذات خود فسخ کرسکتی ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار(جیساکہ ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص ہے۔ ت)بلکہ امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام قدس سرہ العزیز نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں تصریح فرمائی ہے کہ جس طرح لبوں کا بوسہ لینا خواہی نخواہی بنظر شہوت قرار پائے گا یہاں تك کہ اگروہ شخص ادعا کرے کہ یہ فعل مجھ سے بنظر شہوت نہ ہوا توہرگز قبول نہ کریں گے اور حکم حرمت ابدی دیں گے یہی حال بوسہ رخسار کا ہونا چاہئے کہ یہ بھی بشہوت ہی ٹھہرے گا اور
حوالہ / References
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
بوسہ لینے والیے کا انکار مسموع نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے :
وفی الفتح یترأ ای الحاق الخدین بالفم ۔
فتح میں ہے کہ رخسار بھی منہ سے ملحق قرار پائیں گے۔ (ت)
اس طور پر صورت مستفسرہ میں مطلقا حکم حرمت ہے اور اگر زید انکار شہوت کرے مسموع نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ نواب پور مرسلہ نیاز الله خاں ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے زنا کیا مدت تک اور پھر اس کی زندگی میں ا س کی بیٹی سے بھی حرام کیا یہاں تك کہ دس بر س تك اسے گھر میں ڈال کر پردہ میں رکھ کر حرام کرتا رہا۔ اب زنا سے توبہ کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
کسی وقت کسی حال اس سے نکاح نہیں ہوسکتا کہ ماں کے ساتھ حلال خواہ حرام کسی طرح صحبت کرنے بلکہ صرف بشہوت ہاتھ لگانے یابوسہ لینے سے بیٹی ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوجاتی ہے اور بیٹی کے ساتھ ان معاملات سے ماں۔ درمختار میں ہے :
حرم ایضا بالصھریۃ اصل مزنیۃ اراد بالزناء الوط الحرام واصل ممسوستہ بشھوۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مزنیہ کی اصل بھی مصاہرۃ کے طورپر حرام ہوگئی زنا سے مراد حرام وطی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت اور جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظرپڑی ہو کی اصل اور ان کی فرع حرام ہوگی اھ ملخصا(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶ تا ۱۸۸ : از ٹاہ نگریا مرسلہ نیاز محمد خان ۱۲ رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
(۱)استاد کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)شاگرد اناث سے استاد کا نکاح جائز ہے یا نہیں
(۳)بھتیجے کا نکاح چچاکی بی بی سے درحا لیکہ محارم سے نہ ہوجائز ہے یا نہیںبینوا تو جروا
وفی الفتح یترأ ای الحاق الخدین بالفم ۔
فتح میں ہے کہ رخسار بھی منہ سے ملحق قرار پائیں گے۔ (ت)
اس طور پر صورت مستفسرہ میں مطلقا حکم حرمت ہے اور اگر زید انکار شہوت کرے مسموع نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ نواب پور مرسلہ نیاز الله خاں ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك عورت سے زنا کیا مدت تک اور پھر اس کی زندگی میں ا س کی بیٹی سے بھی حرام کیا یہاں تك کہ دس بر س تك اسے گھر میں ڈال کر پردہ میں رکھ کر حرام کرتا رہا۔ اب زنا سے توبہ کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
کسی وقت کسی حال اس سے نکاح نہیں ہوسکتا کہ ماں کے ساتھ حلال خواہ حرام کسی طرح صحبت کرنے بلکہ صرف بشہوت ہاتھ لگانے یابوسہ لینے سے بیٹی ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوجاتی ہے اور بیٹی کے ساتھ ان معاملات سے ماں۔ درمختار میں ہے :
حرم ایضا بالصھریۃ اصل مزنیۃ اراد بالزناء الوط الحرام واصل ممسوستہ بشھوۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مزنیہ کی اصل بھی مصاہرۃ کے طورپر حرام ہوگئی زنا سے مراد حرام وطی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت اور جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظرپڑی ہو کی اصل اور ان کی فرع حرام ہوگی اھ ملخصا(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶ تا ۱۸۸ : از ٹاہ نگریا مرسلہ نیاز محمد خان ۱۲ رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
(۱)استاد کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)شاگرد اناث سے استاد کا نکاح جائز ہے یا نہیں
(۳)بھتیجے کا نکاح چچاکی بی بی سے درحا لیکہ محارم سے نہ ہوجائز ہے یا نہیںبینوا تو جروا
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
الجواب :
ان سب سے نکاح جائز ہے جبکہ محارم نہ ہوں۔ قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹ : از اٹاوہ مکان قاضی مظفرعلی صاحب ڈگری نویس منصفی مرسلہ شیخ دیدار بخش صاحب ۲۳ صفر ۱۳۱۴ھ
ہندہ کا نکاح نو برس کی عمر میں ہواتھا اس کا شوہر جو بالغ تھا تین ماہ بعد نکاح کے نینی تال کو چلا گیا وہاں اس نے اپنا نکاح کیااور زوجہ ثانیہ سے اولاد ہوئی۔ ہندہ شوہر سے نان ونفقہ کی طالب ہوئی ا س نے کچھ التفات نہ کی تب خواہان طلاق ہوئی طلاق بھی نہ دی بلکہ ایك عرصہ کے بعد زوجہ ثانیہ اور اولاد کو بھی چھوڑ کر کہیں چلا گیا پانچ چارسال سے مفقود الخبر ہے ہندہ اب اپنا دوسرا نکاح کیاچاہتی ہے اس معاملہ میں بنظر حالات جو مسئلہ شرعی ہو فرمائیے اب عمر ہندہ پچیس سال کی ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
ہر گزیوں نکاح نہیں کرسکتی قال الله تعالی : والمحصنت من النساء (شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ ت)اس پر لازم ہے کہ صبر وانتظارکرے یہاں تك کہ اس کے شوہر کی ولادت کو ستربرس گزر جائیں اس کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے فی جواہر الاخلاطی یحکم بموتہ بعد سبعین سنۃ وعلیہ الفتوی (جواہر الاخلاطی میں ہے : گم شدہ کی عمر کے ستر سال پورے ہونے کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے گا۔ اسی پر فتوی ہے۔ ت)ادعائے ضرورت وعذرجوانی حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ بہت کمسن لڑکیا ں کہ بیوہ ہوجاتی ہیں باتباع رسم ہنود عمر بھر نام نکاح نہیں لیتیں۔ اس وقت ضرورت وجوانی کدھر جاتی ہے۔ ہزاروں وہ ہیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں مگر ان کی طرف سے قطعا برگشتہ و روگرداں وہ اپنی عمر کیونکر کاٹتی ہیں! یہ جو بعض کا زعم ہے کہ چار سال گزرنے پر عورت کو نکاح ثانی کا اختیار امام مالك کے مذہب میں حاصل ہوجاتا ہے محض جہل۔ اور امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب سے نا واقفی ہے ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور مستغیثہ ہو وہ بعد ثبوت مفقودی روز مرافعہ سے چار سال کی مہلت دے۔ اس کے گزرنے پر قاضی تفریق کرے۔ اب عورت عدت پوری کرکے نکاح کرسکتی ہے
ان سب سے نکاح جائز ہے جبکہ محارم نہ ہوں۔ قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹ : از اٹاوہ مکان قاضی مظفرعلی صاحب ڈگری نویس منصفی مرسلہ شیخ دیدار بخش صاحب ۲۳ صفر ۱۳۱۴ھ
ہندہ کا نکاح نو برس کی عمر میں ہواتھا اس کا شوہر جو بالغ تھا تین ماہ بعد نکاح کے نینی تال کو چلا گیا وہاں اس نے اپنا نکاح کیااور زوجہ ثانیہ سے اولاد ہوئی۔ ہندہ شوہر سے نان ونفقہ کی طالب ہوئی ا س نے کچھ التفات نہ کی تب خواہان طلاق ہوئی طلاق بھی نہ دی بلکہ ایك عرصہ کے بعد زوجہ ثانیہ اور اولاد کو بھی چھوڑ کر کہیں چلا گیا پانچ چارسال سے مفقود الخبر ہے ہندہ اب اپنا دوسرا نکاح کیاچاہتی ہے اس معاملہ میں بنظر حالات جو مسئلہ شرعی ہو فرمائیے اب عمر ہندہ پچیس سال کی ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
ہر گزیوں نکاح نہیں کرسکتی قال الله تعالی : والمحصنت من النساء (شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ ت)اس پر لازم ہے کہ صبر وانتظارکرے یہاں تك کہ اس کے شوہر کی ولادت کو ستربرس گزر جائیں اس کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے فی جواہر الاخلاطی یحکم بموتہ بعد سبعین سنۃ وعلیہ الفتوی (جواہر الاخلاطی میں ہے : گم شدہ کی عمر کے ستر سال پورے ہونے کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے گا۔ اسی پر فتوی ہے۔ ت)ادعائے ضرورت وعذرجوانی حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ بہت کمسن لڑکیا ں کہ بیوہ ہوجاتی ہیں باتباع رسم ہنود عمر بھر نام نکاح نہیں لیتیں۔ اس وقت ضرورت وجوانی کدھر جاتی ہے۔ ہزاروں وہ ہیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں مگر ان کی طرف سے قطعا برگشتہ و روگرداں وہ اپنی عمر کیونکر کاٹتی ہیں! یہ جو بعض کا زعم ہے کہ چار سال گزرنے پر عورت کو نکاح ثانی کا اختیار امام مالك کے مذہب میں حاصل ہوجاتا ہے محض جہل۔ اور امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب سے نا واقفی ہے ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور مستغیثہ ہو وہ بعد ثبوت مفقودی روز مرافعہ سے چار سال کی مہلت دے۔ اس کے گزرنے پر قاضی تفریق کرے۔ اب عورت عدت پوری کرکے نکاح کرسکتی ہے
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
جواہر الاخلاطی مسائل مفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
القرآن ۴ / ۲۴
جواہر الاخلاطی مسائل مفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲
پیش از حکم قاضی شرع اگر بیس برس گزر گئے تو وہ معتبر نہیں صرح بہ علماء المالکیۃ فی کتبھم(مالکی علماء نے اپنی کتب میں اس کی تصریح کی۔ ت)اس مسئلہ کی تفصیل جلیل فتاوائے فقیر کتاب المفقود میں ہے۔ ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۰ : از پٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالوحید غلام صدیق صاحب بہاری ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
حضرت مولانا اعزکم الله فی الدارین تسلیم ایك شیعہ عورت سے سنی نے نکاح کیا آیا درست ہوگا یا نہیں جلد فتوی مرتب فرماکر روانہ کیجئے ضرورت شدیدہ ہے۔ میری خاص رائے عدم مناکحت پر ہے۔ منکرین ضروریات دین کافر ہیں اورکفر کے سبب نکاح مسلمان سے کب درست ہے والسلام!
الجواب :
شیعہ تین قسم ہیں :
اول غالی کہ منکر ضروریات دین ہوں مثلا ۱قرآن مجید کوناقص بتائیں بیاض عثمانی کہیں یا امیر المومنین مولاعلی کرم الله وجہہ خواہ دیگر ائمہ اطہار کوانبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم خواہ کسی ایك نبی سے افضل جانیں یار ب العزت جل وعلا پر بدع یعنی ۲حکم دے کرپشیمان ہونا پچتا کر بدل دینا یا پہلے مصلحت کا علم نہ ہونا بعد کو مطلع ہوکر تبدیل کرنا مانیں یا حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر تبلیغ دین متین میں تقیہ کی تہمت رکھیں الی غیر ذلك من الکفریات(ا س کے علاوہ دیگر کفریات۔ ت)یہ لوگ یقینا قطعا اجماعا کافر مطلق ہیں اور ان کے احکام مثل مرتد فتاوی ظہیریہ وفتاوی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے : احکامھم احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)آج کل کے اکثر بلکہ تمام رفاض تبرائی اسی قسم کے ہیں کہ وہ عقیدہ کفریہ سابقہ میں ان کے عالم جاہل مرد عورت سب شریك ہیں الا ماشاء اﷲ(مگر جو الله تعالی چاہے۔ ت) جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔
دوم تبرائی کہ عقاید کفریہ اجماعیہ سے اجتناب اور صرف سب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا ارتکاب کرتاہو ان میں سے منکران خلافت شیخین رضی اللہ تعالی عنہما اور انھیں برا کہنے والے فقہائے کرام کے نزدیك کافر و مرتد ہیں نص علیہ فی الخلاصۃ والھندیۃ وغیرھما(خلاصہ اور ہندیہ میں اس پر نص ہے۔ ت)مگر مسلك محقق قول متکلمین ہے کہ یہ بدعتی ناری جہنمی کلاب النار ہیں مگر کافر نہیں ایسی عورت سے نکاح اگرچہ
مسئلہ ۱۹۰ : از پٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالوحید غلام صدیق صاحب بہاری ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
حضرت مولانا اعزکم الله فی الدارین تسلیم ایك شیعہ عورت سے سنی نے نکاح کیا آیا درست ہوگا یا نہیں جلد فتوی مرتب فرماکر روانہ کیجئے ضرورت شدیدہ ہے۔ میری خاص رائے عدم مناکحت پر ہے۔ منکرین ضروریات دین کافر ہیں اورکفر کے سبب نکاح مسلمان سے کب درست ہے والسلام!
الجواب :
شیعہ تین قسم ہیں :
اول غالی کہ منکر ضروریات دین ہوں مثلا ۱قرآن مجید کوناقص بتائیں بیاض عثمانی کہیں یا امیر المومنین مولاعلی کرم الله وجہہ خواہ دیگر ائمہ اطہار کوانبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم خواہ کسی ایك نبی سے افضل جانیں یار ب العزت جل وعلا پر بدع یعنی ۲حکم دے کرپشیمان ہونا پچتا کر بدل دینا یا پہلے مصلحت کا علم نہ ہونا بعد کو مطلع ہوکر تبدیل کرنا مانیں یا حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر تبلیغ دین متین میں تقیہ کی تہمت رکھیں الی غیر ذلك من الکفریات(ا س کے علاوہ دیگر کفریات۔ ت)یہ لوگ یقینا قطعا اجماعا کافر مطلق ہیں اور ان کے احکام مثل مرتد فتاوی ظہیریہ وفتاوی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے : احکامھم احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)آج کل کے اکثر بلکہ تمام رفاض تبرائی اسی قسم کے ہیں کہ وہ عقیدہ کفریہ سابقہ میں ان کے عالم جاہل مرد عورت سب شریك ہیں الا ماشاء اﷲ(مگر جو الله تعالی چاہے۔ ت) جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔
دوم تبرائی کہ عقاید کفریہ اجماعیہ سے اجتناب اور صرف سب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا ارتکاب کرتاہو ان میں سے منکران خلافت شیخین رضی اللہ تعالی عنہما اور انھیں برا کہنے والے فقہائے کرام کے نزدیك کافر و مرتد ہیں نص علیہ فی الخلاصۃ والھندیۃ وغیرھما(خلاصہ اور ہندیہ میں اس پر نص ہے۔ ت)مگر مسلك محقق قول متکلمین ہے کہ یہ بدعتی ناری جہنمی کلاب النار ہیں مگر کافر نہیں ایسی عورت سے نکاح اگرچہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۱
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۱
صحیح ہے مگر سخت کراہت شدیدہ سے مکروہ ہے۔
لما فی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتناکحوھم ۔
کیونکہ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ ان سے نکاح نہ کرو۔ (ت)
صحیح حدیث میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے ناقہ کو لعنت کی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے چھڑوادیا کہ ملعونہ ناقہ پر ہمارے ساتھ نہ رہ۔ پھر کسی نے اس ناقہ کو نہ چھوا حالانکہ ناقہ فی نفسہا مستحق لعنت نہیں۔ حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر لعنت کرنے والے بلاشبہہ لعنت الہی کے مورد ہیں :
اولىك یلعنهم الله و یلعنهم اللعنون(۱۵۹) ۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر الله تعالی لعنت فرماتا ہے اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ (ت)
احادیث صحیحہ کثیرہ ا س معنی پر ناطق ہیں توایك ملعونہ سے صحبت رکھنا کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوگا والله الھادی۔
سوم تفضیلی کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو خیرسے یادکرتاہو خلفائے اربعہ رضوان الله تعالی علیہم کی امامت بر حق جانتا ہو صرف امیرالمومنین مولی علی کو شیخین رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل مانتا ہو انھیں کفر سے کچھ علاقہ نہیں بد مذہب ضرورہیں ایسی عورت سے بالاتفاق نکاح جائز ہے ہاں کراہت سے خالی نہیں کہ مبتدعہ ہے اگرچہ ہلکے درجہ کی بدعت ہے خصوصا اگرا س کی محبت میں اپنے مذہب پر اثر پڑنے کا احتمال ہو تو کراہت شدید ہوجائے گی اور ظن غالب تواشد بالغ بدرجہ تحریم والله سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : از احمد آباد گجرات محلہ کالپور متصل پور گلیان مرسلہ عبدالکریم صاحب ولد عبدالغنی صاحب ۱۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی اس مسئلہ میں کہ ایك مرد نے ایك عورت سے نکاح کیا ابھی وہ عورت زندہ سلامت اس مرد کے نکاح میں موجود ہے اب وہی مرد اس عورت کے بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا یہ جمع کرنا درمیان عورت اوراس کی بھتیجی کی بیٹی کے حلال ہے یا حرام بینوا بیانا شافیا توجروا اجراوافیا۔
الجواب :
حرام ہے اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو دوعورتیں آپس میں محرم ہوں یعنی ان میں سے جس کو مرد فرض کیا جائے دوسری پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو ایسی دو عورتوں کو جمع کرناجائز نہیں۔ یہاں ایساہی ہے کہ
لما فی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتناکحوھم ۔
کیونکہ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ ان سے نکاح نہ کرو۔ (ت)
صحیح حدیث میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے ناقہ کو لعنت کی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے چھڑوادیا کہ ملعونہ ناقہ پر ہمارے ساتھ نہ رہ۔ پھر کسی نے اس ناقہ کو نہ چھوا حالانکہ ناقہ فی نفسہا مستحق لعنت نہیں۔ حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر لعنت کرنے والے بلاشبہہ لعنت الہی کے مورد ہیں :
اولىك یلعنهم الله و یلعنهم اللعنون(۱۵۹) ۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر الله تعالی لعنت فرماتا ہے اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ (ت)
احادیث صحیحہ کثیرہ ا س معنی پر ناطق ہیں توایك ملعونہ سے صحبت رکھنا کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوگا والله الھادی۔
سوم تفضیلی کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو خیرسے یادکرتاہو خلفائے اربعہ رضوان الله تعالی علیہم کی امامت بر حق جانتا ہو صرف امیرالمومنین مولی علی کو شیخین رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل مانتا ہو انھیں کفر سے کچھ علاقہ نہیں بد مذہب ضرورہیں ایسی عورت سے بالاتفاق نکاح جائز ہے ہاں کراہت سے خالی نہیں کہ مبتدعہ ہے اگرچہ ہلکے درجہ کی بدعت ہے خصوصا اگرا س کی محبت میں اپنے مذہب پر اثر پڑنے کا احتمال ہو تو کراہت شدید ہوجائے گی اور ظن غالب تواشد بالغ بدرجہ تحریم والله سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : از احمد آباد گجرات محلہ کالپور متصل پور گلیان مرسلہ عبدالکریم صاحب ولد عبدالغنی صاحب ۱۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی اس مسئلہ میں کہ ایك مرد نے ایك عورت سے نکاح کیا ابھی وہ عورت زندہ سلامت اس مرد کے نکاح میں موجود ہے اب وہی مرد اس عورت کے بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا یہ جمع کرنا درمیان عورت اوراس کی بھتیجی کی بیٹی کے حلال ہے یا حرام بینوا بیانا شافیا توجروا اجراوافیا۔
الجواب :
حرام ہے اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو دوعورتیں آپس میں محرم ہوں یعنی ان میں سے جس کو مرد فرض کیا جائے دوسری پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو ایسی دو عورتوں کو جمع کرناجائز نہیں۔ یہاں ایساہی ہے کہ
حوالہ / References
کنز العمال حدیث ۳۲۴۹۸ و ۳۲۵۴۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۵۲۹ و ۵۴۲
صحیح مسلم باب النہی عن لعن الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۳
القرآن ۲ / ۱۵۹
صحیح مسلم باب النہی عن لعن الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۳
القرآن ۲ / ۱۵۹
اگر منکوحہ اولی کو مرد فرض کرتے ہیں تووہ دوسری اس کے بھتیجے کی بیٹی۔ ا ور جس طرح بھتیجی حرام ہے یونہی بھتیجے کی بیٹی اور اگر اس دوسری کو مرد فرض کرتے ہیں تووہ پہلی اس کی ماں کی پھوپھی ہے اور جس طرح اپنی پھوپھی حرام ہے یونہی ماں کی بحرالرائق میں ہے :
الاصل ان کل امرأتین لو کانت احداھما ذکرا والا خری انثی لم یجز للذکر ان یتزوج الانثی فانہ یحرم الجمع بینھما بالقیاس علی حرمۃ الجمع بین الاختین ۔
قاعدہ یہ ہے کہ ایسی دو عورتیں جن میں سے ایك کو مرد فرض کیا جائے تو ان کا آپس میں نکاح جائز نہ ہو کیونکہ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت دوبہنوں کو جمع کرنے کی حرمت پر قیاس ہے۔ (ت)
نقایہ اور اس کی شرح جامع الرموز میں ہے :
وحرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفروع اصلہ القریب من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنا تھن وبنات الاخوۃ وان بعدت وصلبیۃ اصلہ البعید من عماتہ وخالاتہ لاب وام اولاحدھما وعما تھما اوعمات احدھما و ان علت وخالاتھما او خالات احدھما و ان علت ۔ واﷲ تعالی اعلم
مرد کی اصل او راس کی اپنی اولاد اور اس کے ماں باپ کی اولاد یعنی بہنیں صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے یادونوں کی طرف سے ہوں اور ان بھائیوں اوربہنوں کی اولاد خواہ نیچے تك ہو اور اوپروالے ماں باپ یعنی دادا دادی اورنا نا نانی اوپر تك کی صلبی اولاد اس کی پھوپھیاں اور خالائیں ماں باپ دونوں کی طرف سے یا ایك طرف سے ہوں اور ماں باپ کی حقیقی پھوپھیاں اور خالائیں ہوں یا صرف ماں یا باپ کی طرف سے ہوں خواہ اوپر تك ہوں سب اس پر حرام ہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۲ : از ضلع صاحب گنج گیا موضع کہرا ڈاکخانہ مخدوم پور مرسلہ شیخ نجم الدین حیدر صاحب ۳ ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے دو بیٹے حسن وحسین پیداہوئے بعد وفات ہندہ کے زید نے حفصہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے چند اولاد پیدا ہوئی اور حفصہ نے اپنی بیٹی زبیدہ کے ساتھ حسین کے بیٹے بکر کو دودھ پلایا پس اس صورت میں بکر کا نکاح حسن کی بیٹی زاہد ہ سے موافق شرع محمدی ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا
الاصل ان کل امرأتین لو کانت احداھما ذکرا والا خری انثی لم یجز للذکر ان یتزوج الانثی فانہ یحرم الجمع بینھما بالقیاس علی حرمۃ الجمع بین الاختین ۔
قاعدہ یہ ہے کہ ایسی دو عورتیں جن میں سے ایك کو مرد فرض کیا جائے تو ان کا آپس میں نکاح جائز نہ ہو کیونکہ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت دوبہنوں کو جمع کرنے کی حرمت پر قیاس ہے۔ (ت)
نقایہ اور اس کی شرح جامع الرموز میں ہے :
وحرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفروع اصلہ القریب من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنا تھن وبنات الاخوۃ وان بعدت وصلبیۃ اصلہ البعید من عماتہ وخالاتہ لاب وام اولاحدھما وعما تھما اوعمات احدھما و ان علت وخالاتھما او خالات احدھما و ان علت ۔ واﷲ تعالی اعلم
مرد کی اصل او راس کی اپنی اولاد اور اس کے ماں باپ کی اولاد یعنی بہنیں صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے یادونوں کی طرف سے ہوں اور ان بھائیوں اوربہنوں کی اولاد خواہ نیچے تك ہو اور اوپروالے ماں باپ یعنی دادا دادی اورنا نا نانی اوپر تك کی صلبی اولاد اس کی پھوپھیاں اور خالائیں ماں باپ دونوں کی طرف سے یا ایك طرف سے ہوں اور ماں باپ کی حقیقی پھوپھیاں اور خالائیں ہوں یا صرف ماں یا باپ کی طرف سے ہوں خواہ اوپر تك ہوں سب اس پر حرام ہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۲ : از ضلع صاحب گنج گیا موضع کہرا ڈاکخانہ مخدوم پور مرسلہ شیخ نجم الدین حیدر صاحب ۳ ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے دو بیٹے حسن وحسین پیداہوئے بعد وفات ہندہ کے زید نے حفصہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے چند اولاد پیدا ہوئی اور حفصہ نے اپنی بیٹی زبیدہ کے ساتھ حسین کے بیٹے بکر کو دودھ پلایا پس اس صورت میں بکر کا نکاح حسن کی بیٹی زاہد ہ سے موافق شرع محمدی ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۹۵
جامع الرموز شرح نقایہ کتاب النکاح مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۸ تا ۴۵۰
جامع الرموز شرح نقایہ کتاب النکاح مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۸ تا ۴۵۰
الجواب :
تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زبیدہ دختر زید ہے اور یہ شیر حفصہ کہ بکر نے پیا زید ہی سے تھا اگر صورت واقعہ یہی ہے تو بکر و زاہد ہ میں نکاح حرام محض ہے کہ اس تقدیر پربکر اپنے دادا زید کابیٹا ہو ااور اس کا بیٹا حسن اس کا سوتیلا بھائی اور حسن کی بیٹی بکر کی سوتیلی بھتیجی اوربھتیجی اگرچہ سوتیلی ہو چچا پر حرام قطعی ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ ۔ رواہ الجماعۃ الا ابن ماجۃ عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا۔
رضاعت سے سب رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو پیدائش (نسب)سے حرام ہیں اس کو ابن ماجہ کے بغیر محدثین نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما و فروعھما من النسب والرضاع جمیعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من ھذا الرجل اوغیرہ قبل ھذہ الارضاع اوبعدہ اوارضعت رضیعا او ولد الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذہ الارضاع او بعدہ اوارضعت امرأۃ من لبنہ رضیعا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاد اخوتہ واخواتہ کذافی التھذیب ۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع نسبی ہوں یا رضاعی سب حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ دودھ پلانے والی عورت کا موجود ہ خاوند سے یا کسی دوسرے سے دودھ پلانے سے پہلے یا بعد کا بچہ ہو یا اس نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہو یا اس عورت کے خاوند کی کوئی اولاد اس عورت سے ہو یا کسی اور سے ہو۔ دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعد کی ہو یا کسی عورت نے اس مرد سے اتر ے ہوئے دودھ کوکسی بچے کو پلایا ہو تویہ تمام دودھ پینے والے بچے کے بہن بھائی ہوں گے _______ اور ان کی اولاد اس بچے کے بھتیجے اور بھانجے ہوں گے تہذیب میں یوں ہے۔ (ت)
تفسیر نیشاپوری میں ہے :
تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زبیدہ دختر زید ہے اور یہ شیر حفصہ کہ بکر نے پیا زید ہی سے تھا اگر صورت واقعہ یہی ہے تو بکر و زاہد ہ میں نکاح حرام محض ہے کہ اس تقدیر پربکر اپنے دادا زید کابیٹا ہو ااور اس کا بیٹا حسن اس کا سوتیلا بھائی اور حسن کی بیٹی بکر کی سوتیلی بھتیجی اوربھتیجی اگرچہ سوتیلی ہو چچا پر حرام قطعی ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ ۔ رواہ الجماعۃ الا ابن ماجۃ عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا۔
رضاعت سے سب رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو پیدائش (نسب)سے حرام ہیں اس کو ابن ماجہ کے بغیر محدثین نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما و فروعھما من النسب والرضاع جمیعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من ھذا الرجل اوغیرہ قبل ھذہ الارضاع اوبعدہ اوارضعت رضیعا او ولد الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذہ الارضاع او بعدہ اوارضعت امرأۃ من لبنہ رضیعا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاد اخوتہ واخواتہ کذافی التھذیب ۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع نسبی ہوں یا رضاعی سب حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ دودھ پلانے والی عورت کا موجود ہ خاوند سے یا کسی دوسرے سے دودھ پلانے سے پہلے یا بعد کا بچہ ہو یا اس نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہو یا اس عورت کے خاوند کی کوئی اولاد اس عورت سے ہو یا کسی اور سے ہو۔ دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعد کی ہو یا کسی عورت نے اس مرد سے اتر ے ہوئے دودھ کوکسی بچے کو پلایا ہو تویہ تمام دودھ پینے والے بچے کے بہن بھائی ہوں گے _______ اور ان کی اولاد اس بچے کے بھتیجے اور بھانجے ہوں گے تہذیب میں یوں ہے۔ (ت)
تفسیر نیشاپوری میں ہے :
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۴۳
بنات الاخوۃ من الرضاع کل انثی ولدھا ابن الفحل الذی منہ اللبن اھ ملخصا
رضاعی بھتیجیاں یہ تمام وہ لڑکیاں ہیں جو دودھ پلانے والی عورت کے اس خاوند کے بیٹے کی اولاد ہوں جس سے اس عورت کو دودھ اتر ا ہے۔ اھ ملخصا(ت)
ہاں اگر حفصہ کے یہ دودھ زید سے نہ ہوتا توبکر کی یہ رضاعت زاہدہ کو اس پر حرام نہ کرتی۔
لان الحسن وبکرا ح لم یشتر کافی ام ولااب فلم یکن الحسن الاعمہ وبنت العم یحل مالم یوجد مایمنع الحل۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کیونکہ حسن اور بکر اس صورت میں ماں میں اور نہ ہی باپ میں شریك ہوئے تو حسن بکر کے لیے صرف چچا ہوا۔ اور چچا کی لڑکی اگرکوئی اور مانع نہ ہو تو حلال ہوتی ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳ : ا زشہر کہنہ مسئولہ امیر حیدر صاحب ۹ رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ متعہ کی حرمت کس آیت وحدیث سے اہل سنت کے یہاں ثابت ہے بینوا تو جروا
الجواب :
الله عزوجل فرماتا ہے :
و الذین هم لفروجهم حفظون(۵) الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم فانهم غیر ملومین(۶) فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷)
وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کو بچائے ہوئے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا اپنی شرعی کنیزوں پر کہ ان پر کچھ ملامت نہیں تو جو اس کے سواکوئی اور راہ طلب کرے تو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
ظاہر ہے کہ زن ممتوعہ نہ اس کی بی بی ہے نہ کنیز شرعی تویہ وہی تیسری راہ ہے جو خدا کی باندھی ہوئی حد سے جدا اور حرام وگناہ ہے۔ رب تبارك وتعالی مردوں سے فرماتا ہے :
محصنین غیر مسفحین و لا متخذی اخدان- ۔
نکاح کرو بی بی بناکر قیدمیں رکھنے کو نہ پانی گرانے نہ آشنا بنانے کو۔
عورتوں سے فرماتا ہے : محصنت غیر مسفحت و لا متخذت اخدان- قید میں آتیاں نہ مستی نکالتیاں نہ یاربناتیاں
رضاعی بھتیجیاں یہ تمام وہ لڑکیاں ہیں جو دودھ پلانے والی عورت کے اس خاوند کے بیٹے کی اولاد ہوں جس سے اس عورت کو دودھ اتر ا ہے۔ اھ ملخصا(ت)
ہاں اگر حفصہ کے یہ دودھ زید سے نہ ہوتا توبکر کی یہ رضاعت زاہدہ کو اس پر حرام نہ کرتی۔
لان الحسن وبکرا ح لم یشتر کافی ام ولااب فلم یکن الحسن الاعمہ وبنت العم یحل مالم یوجد مایمنع الحل۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کیونکہ حسن اور بکر اس صورت میں ماں میں اور نہ ہی باپ میں شریك ہوئے تو حسن بکر کے لیے صرف چچا ہوا۔ اور چچا کی لڑکی اگرکوئی اور مانع نہ ہو تو حلال ہوتی ہے۔ (ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳ : ا زشہر کہنہ مسئولہ امیر حیدر صاحب ۹ رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ متعہ کی حرمت کس آیت وحدیث سے اہل سنت کے یہاں ثابت ہے بینوا تو جروا
الجواب :
الله عزوجل فرماتا ہے :
و الذین هم لفروجهم حفظون(۵) الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم فانهم غیر ملومین(۶) فمن ابتغى ورآء ذلك فاولىك هم العدون(۷)
وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کو بچائے ہوئے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا اپنی شرعی کنیزوں پر کہ ان پر کچھ ملامت نہیں تو جو اس کے سواکوئی اور راہ طلب کرے تو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
ظاہر ہے کہ زن ممتوعہ نہ اس کی بی بی ہے نہ کنیز شرعی تویہ وہی تیسری راہ ہے جو خدا کی باندھی ہوئی حد سے جدا اور حرام وگناہ ہے۔ رب تبارك وتعالی مردوں سے فرماتا ہے :
محصنین غیر مسفحین و لا متخذی اخدان- ۔
نکاح کرو بی بی بناکر قیدمیں رکھنے کو نہ پانی گرانے نہ آشنا بنانے کو۔
عورتوں سے فرماتا ہے : محصنت غیر مسفحت و لا متخذت اخدان- قید میں آتیاں نہ مستی نکالتیاں نہ یاربناتیاں
حوالہ / References
غرائب القرآن(تفیسر نیشاپوری) بیان ان نکاح الامہات والبنات الخ مصطفی البابی مصر ۵ / ۸
القرآن ۲۳ / ۷۔ ۶۔ ۵
القرآن ۵ / ۵
القرآن ۴ / ۲۵
القرآن ۲۳ / ۷۔ ۶۔ ۵
القرآن ۵ / ۵
القرآن ۴ / ۲۵
ظاہر ہے کہ متعہ بھی مستی نکالنے پانی گرانے کا صیغہ ہے۔ نہ قید رکھنے بی بی بنانے کا صحیح مسلم شریف میں حدیث حضرت سبرہ بن معبدہ جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسو ل الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
یاایھاالناس انی کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اﷲ عزوجل قد حرم ذلك الی یوم القیامۃ ۔
اے لوگوں! میں نے پہلے تمھیں اجازت دی تھی عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اور اب بیشك الله عزوجل نے اسے حرام کردیا قیامت تک۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن متعۃ النساء یوم خیبر وعن لحوم الحمر الانسیۃ ۔
بیشك رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور گدھے کا گوشت حرام فرمادیا۔
جامع الترمذی شریف میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
قال انما کانت فی اول الاسلام کان الرجل یقدم البلدۃ لیس لہ معرفۃ فیتزوج المرأۃ بقدر مایری انہ یقیم فتحفظ لہ متاعہ وتصلح لہ شانہ حتی اذا نزلت الآیۃ الاعلی ازواجھم اوماملکت ایمانھم قال ابن عباس فکل فرج سواھما فھو حرام ۔
متعہ ابتدائے اسلام میں تھا مرد کسی شہر میں جاتا جہاں کسی سے جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اتنے دنوں کے لیے عقد کرلیتا جتنے روز اس کے خیال میں وہاں ٹھہرنا ہوتا وہ عورت اس کے اسباب کی حفاظت اس کے کاموں کی درستی کرتی جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی کہ سب سے اپنی شرمگاہیں محفوظ رکھو سوا بیبیوں اور کنیزوں کے اس دن سے ان دو کے سوا جو فرج ہے وہ حرام ہوگئی۔
حازمی کتاب الناسخ والمنسوخ میں حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی غزوہ تبوك میں ہم نے کچھ عورتوں سے متعہ کیا۔
فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے
یاایھاالناس انی کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اﷲ عزوجل قد حرم ذلك الی یوم القیامۃ ۔
اے لوگوں! میں نے پہلے تمھیں اجازت دی تھی عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اور اب بیشك الله عزوجل نے اسے حرام کردیا قیامت تک۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن متعۃ النساء یوم خیبر وعن لحوم الحمر الانسیۃ ۔
بیشك رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور گدھے کا گوشت حرام فرمادیا۔
جامع الترمذی شریف میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
قال انما کانت فی اول الاسلام کان الرجل یقدم البلدۃ لیس لہ معرفۃ فیتزوج المرأۃ بقدر مایری انہ یقیم فتحفظ لہ متاعہ وتصلح لہ شانہ حتی اذا نزلت الآیۃ الاعلی ازواجھم اوماملکت ایمانھم قال ابن عباس فکل فرج سواھما فھو حرام ۔
متعہ ابتدائے اسلام میں تھا مرد کسی شہر میں جاتا جہاں کسی سے جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اتنے دنوں کے لیے عقد کرلیتا جتنے روز اس کے خیال میں وہاں ٹھہرنا ہوتا وہ عورت اس کے اسباب کی حفاظت اس کے کاموں کی درستی کرتی جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی کہ سب سے اپنی شرمگاہیں محفوظ رکھو سوا بیبیوں اور کنیزوں کے اس دن سے ان دو کے سوا جو فرج ہے وہ حرام ہوگئی۔
حازمی کتاب الناسخ والمنسوخ میں حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی غزوہ تبوك میں ہم نے کچھ عورتوں سے متعہ کیا۔
فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے
حوالہ / References
صحیح مسلم باب نکاح المتعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۱
صحیح بخاری باب النہی عن نکاح المتعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۶۷
جامع الترمذی باب ماجاء فی نکاح المتعہ نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۸۱
صحیح بخاری باب النہی عن نکاح المتعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۶۷
جامع الترمذی باب ماجاء فی نکاح المتعہ نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۸۱
فنظر الیھن وقال من ھؤلاء النسوۃ قلنا یارسول اﷲ نسوۃ تمتعنا منھن قال فغضب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حتی احمرت وجنتاہ وتمعر وجھہ وقام فینا خطیبا فحمد اﷲ واثنی علیہ ثم نھی عن المتعۃ ۔
انھیں دیکھا اور فرمایا یہ عورتیں کون ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ! ان سے ہم نے متعہ کیا ہے یہ سن کر حضور اقد س صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غضب فرمایا یہاں تك کہ دونوں رخسارہ مبارك سرخ ہوگئے اور چہر ہ انور کار نگ بدل گیا خطبہ فرمایا الله تعالی کی حمد وثناء بیان کی پھر متعہ کا حرام ہونا بیان فرمایا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴ : ا زملك بنگالہ شہر چاٹگام کاکس بازار مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۳ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اند رینکہ نکاح کردن زوجہ برادر حقیقی صغیرخود جائز ست یا نہ بینوا تو جروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چھوٹے سگے بھائی کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب
جائز ست بالاتفاق بعد افتراق بموت یا طلاق برادر اصغر باشد یا اکبر۔ قال الله عزوجل و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔ والله تعالی اعلم
چھوٹے یا بڑے بھائی کے طلاق دینے یافوتیدگی کے سبب جدائی کے بعد بالاتفاق جائز ہے۔
الله تعالی نے فرمایا محرمات مذکورہ کے سوا تمہارے لیے حلال ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
انھیں دیکھا اور فرمایا یہ عورتیں کون ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ! ان سے ہم نے متعہ کیا ہے یہ سن کر حضور اقد س صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غضب فرمایا یہاں تك کہ دونوں رخسارہ مبارك سرخ ہوگئے اور چہر ہ انور کار نگ بدل گیا خطبہ فرمایا الله تعالی کی حمد وثناء بیان کی پھر متعہ کا حرام ہونا بیان فرمایا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴ : ا زملك بنگالہ شہر چاٹگام کاکس بازار مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۳ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اند رینکہ نکاح کردن زوجہ برادر حقیقی صغیرخود جائز ست یا نہ بینوا تو جروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چھوٹے سگے بھائی کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب
جائز ست بالاتفاق بعد افتراق بموت یا طلاق برادر اصغر باشد یا اکبر۔ قال الله عزوجل و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔ والله تعالی اعلم
چھوٹے یا بڑے بھائی کے طلاق دینے یافوتیدگی کے سبب جدائی کے بعد بالاتفاق جائز ہے۔
الله تعالی نے فرمایا محرمات مذکورہ کے سوا تمہارے لیے حلال ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
حوالہ / References
نصب الرایہ بحوالہ الحازمی کتاب النکاح المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض الشیخ ۳ / ۱۷۹
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
ھبۃ النساء فی تحقق المصاھرۃ بالزنا ۱۳۱۵ھ
(زناسے حرمت مصاہرہ کے ثبوت میں تحقیق جلیل)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۱۹۵ : از بہار محلہ محلی پر مرسلہ سید محمد عبدالسبحان صاحب حنفی دو م شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
وبار دوم از ملک بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ امیرآباد موضع بیرکاندب مرسلہ محمد زینت علی صاحب ۱۰ شوال مکرم ۱۳۲۵ھ
حضرت اقد س قبلہ وکعبہ دامت برکاتہم آداب وتسلیم عرض ہے ایک بات کا جھگڑا بہار شریف میں حضرات حنفیہ سلمہم اﷲ ووہابیہ خذلہم اﷲ کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اس کا جواب جلد تر روانہ فرمائیے زید نے اپنی ساس سے زنا کیا اور اس کی بی بی کواس کا علم تھا توا ب زید پر وہ بی بی حرام ہوئی یا نہیں اورا گر حرام ہوئی تو ضرورت طلاق دینے کی ہے یا نہیں دوسرے وہ بی بی باوجود علم کے اپنے شوہرزید کے ساتھ رہی اور زید بھی وطی حسب دستور کرتارہا اور بی بی سے اولاد بھی ہوئی تو وہ اولاد بعد فوت زید یا بی بی زید کے ترکہ کی مستحق ہیں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی خلق من الطین بشرا
تما م تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے مٹی سے بشر کو
(زناسے حرمت مصاہرہ کے ثبوت میں تحقیق جلیل)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۱۹۵ : از بہار محلہ محلی پر مرسلہ سید محمد عبدالسبحان صاحب حنفی دو م شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
وبار دوم از ملک بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ امیرآباد موضع بیرکاندب مرسلہ محمد زینت علی صاحب ۱۰ شوال مکرم ۱۳۲۵ھ
حضرت اقد س قبلہ وکعبہ دامت برکاتہم آداب وتسلیم عرض ہے ایک بات کا جھگڑا بہار شریف میں حضرات حنفیہ سلمہم اﷲ ووہابیہ خذلہم اﷲ کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اس کا جواب جلد تر روانہ فرمائیے زید نے اپنی ساس سے زنا کیا اور اس کی بی بی کواس کا علم تھا توا ب زید پر وہ بی بی حرام ہوئی یا نہیں اورا گر حرام ہوئی تو ضرورت طلاق دینے کی ہے یا نہیں دوسرے وہ بی بی باوجود علم کے اپنے شوہرزید کے ساتھ رہی اور زید بھی وطی حسب دستور کرتارہا اور بی بی سے اولاد بھی ہوئی تو وہ اولاد بعد فوت زید یا بی بی زید کے ترکہ کی مستحق ہیں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی خلق من الطین بشرا
تما م تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے مٹی سے بشر کو
وجعل لہ نسبا وصھرا وافضل الصلوۃ والسلام علی سیدنا الانام والہ الکرام وصحبہ العظام علی الدوام۔
پیدا فرمایا اور اس کے لیے نسب اور رشتہ ازدواج بنایا بہترین صلوۃ وسلام کائنات کے آقا اور اس کی برگزیدہ آل اور اس کے صحابہ عظام پر دائمی ہو (ت)
زوجہ زید اس پر حرام ہوگئی اگرچہ اسے اس واقعہ شنیعہ کا علم بھی نہ ہوتا اقول : وباﷲ التوفیق اس کی دلیل جلیل قول مولی عزوجل وتبارک وتعالی ہے :
نسآىكم و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم- ۔
تم پر حرام کی گئیں تمھاری گود کی پالیاں ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم نے صحبت کی پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو توتم پر کچھ گناہ نہیں۔
اس آیہ کریمہ میں زن مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی اور جس طرح وصف التی فی حجوركم یعنی اس کی گود میں پلنا بالاجماع شر ط حرمت نہیں۔ مثلازید کسی پچیس سال والی عورت سے نکاح کرے او راس کے پہلے شوہرسے اس کی ایک بیٹی چار دہ سالہ ہو جسے گود میں پالنا درکنار زیدنے آج سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو تو کیا زیدکو حلال ہوسکتاہے کہ اس کی لڑکی سے بھی نکاح کرلے اور مادر دختر دونوں کو تصرف میں لائے لاالہ الا اﷲ یہ ہر گز شریعت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہیں۔ اسی طرح وصف نسآىكم یعنی ان مدخولات کا زوجہ ومنکوحہ ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں کیا لیلی وسلمی ماں بیٹی دونوں جس کی کنیز شرعی ہوں اسے حلال ہے کہ دونوں سے جماع کیا کرے مادر و دختر دونوں ایک پلنگ پر عیاذاباللہ یہ شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کس درجہ بعید ہے۔ حالانکہ ہر گز کنیزیں نسآىكم میں داخل نہیں نہ ان کی بیٹیوں پر ربآىبكم صادق غالبا ان حراموں کو حلال بتاتے ہوئے غیر مقلد صاحب بھی شرم کریں توثابت ہواکہ نکاح جس طرح بحکم تتمہ آیت فان لم تكونوا دخلتم بهن تحریم دختر کے لیے کافی نہیں یونہی شرط وضروری بھی نہیں یعنی نہ وہ علت ہے نہ جزء علت اب آیہ کریمہ میں نہ رہا مگر التی دخلتم بهن- یعنی ان عورتوں کی بیٹیاں جن کے ساتھ تم نے صحبت کی معلوم ہوا صرف اس قدر علت تحریم ہے اور یہ قطعا مزنیہ میں بھی ثابت کہ وہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس نے صحبت کی لاجرم بحکم آیت ا س کی بیٹی اس پر حرام ہوگئی نظیر اس کی اسی بیان محرمات میں ہے قولہ عز شانہ ہے۔ و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- حرام کی گئیں تم پر تمھارے ان بیٹوں کی جوروئیں جو تمھاری پشت سے ہیں کہ جس طرح الذین من اصلابكم یعنی بیٹے کا اس کی پشت سے ہونا اخراج متبنی کے لیے ہے نہ کہ اخراج وغیرہ و
پیدا فرمایا اور اس کے لیے نسب اور رشتہ ازدواج بنایا بہترین صلوۃ وسلام کائنات کے آقا اور اس کی برگزیدہ آل اور اس کے صحابہ عظام پر دائمی ہو (ت)
زوجہ زید اس پر حرام ہوگئی اگرچہ اسے اس واقعہ شنیعہ کا علم بھی نہ ہوتا اقول : وباﷲ التوفیق اس کی دلیل جلیل قول مولی عزوجل وتبارک وتعالی ہے :
نسآىكم و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم- ۔
تم پر حرام کی گئیں تمھاری گود کی پالیاں ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم نے صحبت کی پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو توتم پر کچھ گناہ نہیں۔
اس آیہ کریمہ میں زن مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی اور جس طرح وصف التی فی حجوركم یعنی اس کی گود میں پلنا بالاجماع شر ط حرمت نہیں۔ مثلازید کسی پچیس سال والی عورت سے نکاح کرے او راس کے پہلے شوہرسے اس کی ایک بیٹی چار دہ سالہ ہو جسے گود میں پالنا درکنار زیدنے آج سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو تو کیا زیدکو حلال ہوسکتاہے کہ اس کی لڑکی سے بھی نکاح کرلے اور مادر دختر دونوں کو تصرف میں لائے لاالہ الا اﷲ یہ ہر گز شریعت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہیں۔ اسی طرح وصف نسآىكم یعنی ان مدخولات کا زوجہ ومنکوحہ ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں کیا لیلی وسلمی ماں بیٹی دونوں جس کی کنیز شرعی ہوں اسے حلال ہے کہ دونوں سے جماع کیا کرے مادر و دختر دونوں ایک پلنگ پر عیاذاباللہ یہ شریعت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کس درجہ بعید ہے۔ حالانکہ ہر گز کنیزیں نسآىكم میں داخل نہیں نہ ان کی بیٹیوں پر ربآىبكم صادق غالبا ان حراموں کو حلال بتاتے ہوئے غیر مقلد صاحب بھی شرم کریں توثابت ہواکہ نکاح جس طرح بحکم تتمہ آیت فان لم تكونوا دخلتم بهن تحریم دختر کے لیے کافی نہیں یونہی شرط وضروری بھی نہیں یعنی نہ وہ علت ہے نہ جزء علت اب آیہ کریمہ میں نہ رہا مگر التی دخلتم بهن- یعنی ان عورتوں کی بیٹیاں جن کے ساتھ تم نے صحبت کی معلوم ہوا صرف اس قدر علت تحریم ہے اور یہ قطعا مزنیہ میں بھی ثابت کہ وہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس نے صحبت کی لاجرم بحکم آیت ا س کی بیٹی اس پر حرام ہوگئی نظیر اس کی اسی بیان محرمات میں ہے قولہ عز شانہ ہے۔ و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- حرام کی گئیں تم پر تمھارے ان بیٹوں کی جوروئیں جو تمھاری پشت سے ہیں کہ جس طرح الذین من اصلابكم یعنی بیٹے کا اس کی پشت سے ہونا اخراج متبنی کے لیے ہے نہ کہ اخراج وغیرہ و
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۳
بنسہ کے واسطے یونہی وصف حلائل یعنی بیٹے کی جور وہونا بھی ملحوظ نہیں بیٹے کی کنیز مدخولہ بھی ضرور حرام ہے اور وہ لفظ حلیلہ میں داخل نہیں اور اگر اشتقاقی معنی لیجئے جو بیٹے پر حلال ہے تو اب عموم تحریم صحیح نہ رہے گا کہ بیٹے کی کنیز مطلقا حرام نہیں جب تک مدخولہ نہ ہو یہی حال و امهت نسآىكم کا ہے کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری عورتوں کی مائیں یہاں پر بھی وصف زوجیت قید نہیں کہ کنیز مدخولہ کی ماں بھی بدلیل مذکور بالاتفاق حرام بعینہ اسی دلیل سے ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء (اپنے باپوں کی منکوحہ بیویوں سے نکاح نہ کرو۔ ت)میں اگر نکاح بہ معنی عقد لیجئے تو عقد غیر قیداور بمعنی وطی لیجئےتووہ ہمارا عین مذہب بالجملہ ان سب مواضع میں مطمع نظر صرف مدخولہ ہونا ہے اگرچہ بلانکاح وبس اب دخلتم بھن میں مولی عزوجل نے دخول حلال وحرام کی کوئی قیدذکر نہ فرمائی اور اس کے اطلاق میں دونوں داخل تو جو مدعی تخصیص ہودلیل پیش کرے اور دلیل کہا ں بلکہ دلیل اس کے خلاف پر قائم کیا جس نے اپنی منکوحہ سے صرف حالت حیض یا نفاس یا صوم یااعتکاف یا احرام میں صحبت کی اس کی بیٹی اس پر قطعا اجماعا حرام نہ ہوئی حالانکہ یہ دخول حرام تھا بلکہ علمائے کرام نے بہت وہ صورتیں ذکر فرمائیں جن میں دخول تو دخول عورت ہی کو اس کے لیے حلال نہیں کہہ سکتے اور اس سے وطی بالاتفاق موجب تحریم دختر موطؤہ ہوجاتی ہے مثلا ایک کنیز دو مولی میں مشترک ہے ان میں سے جو اس سے مقاربت کرے گا دختر کنیز ا س پر حرام ہوجائے گی یونہی اپنے پسر کی کنیز یااپنی کنیز کافرہ غیر کتابیہ یا اپنی اس عورت سے مجامعت جس سے ظہار کیا اور کفارہ نہ دیا یہ سب بالاتفاق ان عورتوں کی بنات کو حرام کردیتی ہے حالانکہ یہ عورات سرے سے خودہی حلال نہ تھیں۔
اقول : ان مسائل سے زن مظاہرہ تو استناد بالاتفاق کا بھی محتاج نہیں کہ اس پر خود قرآن عظیم دلیل شافی ظہاربنص قرآن مزیل نکاح نہیں تو زن مظاہر بلاشبہہنسائکممیں داخل اور بعد وطی دخلتم بھنبھی حاصل توقطعا اس کی دختر کو حکم حرمت شامل زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور قبل صحبت ظہار کرلیا بعدہ مشغول بجماع ہوا اور کفارہ نہ دیا کیا اس صورت میں اسے روا ہے کہ ہندہ کی بیٹی سے بھی نکاح کرلے حاش للہ یہ شریعت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہیں حالانکہ بعد ظہار عورت بنص قرآن ا س پر حرام ہوگئی اور جب تک کفارہ نہ دے اسے ہاتھ لگانا جائز نہ تھا تو ثابت ہواکہ نہ نکاح شرط نہ وطی کا بروجہ حلال ہونا لازم بلکہ مناط حرمت صرف وطی ہے اور حاصل آیت کریمہ یہ کہ جس عورت سے تم نے کسی طرح صحبت کی اگرچہ بلانکاح اگرچہ بروجہ حرام اس کی بیٹی تم پر حرام ہوگئی یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب اوریہی اکابر صحابہ کرام مثل حضرت امیر المومنین عمر فاروق وحضرت علامہ صحابہ عبداﷲ بن مسعود وحضرت عالم القرآن عبداﷲ بن عباس وحضرت اقر ؤ الصحابہ
اقول : ان مسائل سے زن مظاہرہ تو استناد بالاتفاق کا بھی محتاج نہیں کہ اس پر خود قرآن عظیم دلیل شافی ظہاربنص قرآن مزیل نکاح نہیں تو زن مظاہر بلاشبہہنسائکممیں داخل اور بعد وطی دخلتم بھنبھی حاصل توقطعا اس کی دختر کو حکم حرمت شامل زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور قبل صحبت ظہار کرلیا بعدہ مشغول بجماع ہوا اور کفارہ نہ دیا کیا اس صورت میں اسے روا ہے کہ ہندہ کی بیٹی سے بھی نکاح کرلے حاش للہ یہ شریعت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہیں حالانکہ بعد ظہار عورت بنص قرآن ا س پر حرام ہوگئی اور جب تک کفارہ نہ دے اسے ہاتھ لگانا جائز نہ تھا تو ثابت ہواکہ نہ نکاح شرط نہ وطی کا بروجہ حلال ہونا لازم بلکہ مناط حرمت صرف وطی ہے اور حاصل آیت کریمہ یہ کہ جس عورت سے تم نے کسی طرح صحبت کی اگرچہ بلانکاح اگرچہ بروجہ حرام اس کی بیٹی تم پر حرام ہوگئی یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب اوریہی اکابر صحابہ کرام مثل حضرت امیر المومنین عمر فاروق وحضرت علامہ صحابہ عبداﷲ بن مسعود وحضرت عالم القرآن عبداﷲ بن عباس وحضرت اقر ؤ الصحابہ
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۲۳
القرآن ۴ / ۲۴
القرآن ۴ / ۲۴
ابی بن کعب وحضرت عمران بن حصین وحضرت جابر بن عبداﷲ وحضرت مفتیہ چار خلافت صدیقہ بنت الصدیق محبوبہ رب العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین وجماہیر ائمہ تابعین مثل حضرات امام حسن بصری و افضل التابعین سعید بن المسیب وامام اجل ابراہیم نخعی وامام عامر شعبی وامام طاؤس وامام عطا بن ابی رباح وامام مجاہد وامام سلیمن بن یسار وامام حماداور اکابرمجتہدین مثل امام عبدالرحمان اوزاعی وامام احمد بن حنبل و امام اسحق بن راہویہ اور ایک روایت میں امام مالک بن انس کا ہے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
اقول معہذا نکاح معنی وطی میں حقیقت ہے یا مجاز متعارف قال قائلہم(شاعر نے کہا)
التارکین علی طھر نساء ھم والناکحین بشطے دجلۃ البقرا
(بیویوں کو طہر کی حالت میں چھوڑنے والے دجلہ کے کنارے گائے سے وطی کرتے ہیں۔ ت)
وقال آخر(ایک دوسرے شاعر نے کہا)
کبکر تحب لذیذ النکاح وتھرب من صولۃ الناکح
(باکرہ کی طرح کہ وہ جماع کی لذت کو پسند کرتی ہے اور خاوند کے حملہ سے فرار کرتی ہے۔ ت)
تو کریمہ “ لاتنکحوا مانکح آباؤکم “ (اپنے باپوں کی منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ ت)میں لااقل محتمل تو ضرور اور امرفرج میں احتیاط وا جب تو جانب تحریم ہی غالب بلکہ اصل فرج میں حرمت ہے۔ تو جب تک حل ثابت نہ ہو حرمت ہی پر حکم ہو گا پھر مصاہرت مصاہرت میں فرق نہیں تو نفس جماع ہی اگرچہ بروجہ حرام بلانکاح ہو علت تحریم رہے گا۔
ولعلک ان رجعت کلما تھم دریت ان تقریر الدلیل علی ھذا الوجہ احسن مماقیل اذلایرد علیہ ماافادہ فی الفتح بل ھو اصح عندی من کلام الاول ایضا کما یرشدک الیہ ماذکرتہ ھھنا علی ھامشہ وباﷲ التوفیق۔
ہوسکتا ہے کہ جب آپ فقہاء کرام کے کلام کی طرف رجوع کریں تو سمجھ جائیں کہ دوسرے قول کے مقابلہ میں دلیل کی یہ تقریر زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس پر فتح کا بیان کردہ اعتراض نہ ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک یہ پہلے کلام سے بھی اصح ہے جیسا کہ اس کے حاشیہ پر یہاں میرا ذکر کردہ بیان تیری رہنمائی کرے گا۔ اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے۔ (ت)
مخالف کے پاس اس کی حلت پر کوئی دلیل نہیں مگر حدیث لایحرم الحرام الحلال حرام حلال کو حرام
اقول معہذا نکاح معنی وطی میں حقیقت ہے یا مجاز متعارف قال قائلہم(شاعر نے کہا)
التارکین علی طھر نساء ھم والناکحین بشطے دجلۃ البقرا
(بیویوں کو طہر کی حالت میں چھوڑنے والے دجلہ کے کنارے گائے سے وطی کرتے ہیں۔ ت)
وقال آخر(ایک دوسرے شاعر نے کہا)
کبکر تحب لذیذ النکاح وتھرب من صولۃ الناکح
(باکرہ کی طرح کہ وہ جماع کی لذت کو پسند کرتی ہے اور خاوند کے حملہ سے فرار کرتی ہے۔ ت)
تو کریمہ “ لاتنکحوا مانکح آباؤکم “ (اپنے باپوں کی منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ ت)میں لااقل محتمل تو ضرور اور امرفرج میں احتیاط وا جب تو جانب تحریم ہی غالب بلکہ اصل فرج میں حرمت ہے۔ تو جب تک حل ثابت نہ ہو حرمت ہی پر حکم ہو گا پھر مصاہرت مصاہرت میں فرق نہیں تو نفس جماع ہی اگرچہ بروجہ حرام بلانکاح ہو علت تحریم رہے گا۔
ولعلک ان رجعت کلما تھم دریت ان تقریر الدلیل علی ھذا الوجہ احسن مماقیل اذلایرد علیہ ماافادہ فی الفتح بل ھو اصح عندی من کلام الاول ایضا کما یرشدک الیہ ماذکرتہ ھھنا علی ھامشہ وباﷲ التوفیق۔
ہوسکتا ہے کہ جب آپ فقہاء کرام کے کلام کی طرف رجوع کریں تو سمجھ جائیں کہ دوسرے قول کے مقابلہ میں دلیل کی یہ تقریر زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس پر فتح کا بیان کردہ اعتراض نہ ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک یہ پہلے کلام سے بھی اصح ہے جیسا کہ اس کے حاشیہ پر یہاں میرا ذکر کردہ بیان تیری رہنمائی کرے گا۔ اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے۔ (ت)
مخالف کے پاس اس کی حلت پر کوئی دلیل نہیں مگر حدیث لایحرم الحرام الحلال حرام حلال کو حرام
حوالہ / References
سنن الکبرٰی للبیہقی باب الزنا لایحرم الحلال دارصادر بیروت ۷ / ۱۶۹
نہیں کرتامگر یہ حدیث کس طرح مخالف کی دلیل ہوسکے جبکہ سخت ضعیف وساقط وناقابل احتجاج ہے۔ بیہقی بآنکہ انتصار شافعیت میں اہتمام شدید رکھتے ہیں اسے حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرکے تضعیف کردی کما فی التیسیر شرح الجامع الصغیر (جیسا کہ جامع صغیر کی شرح تیسیر میں ہے۔ ت)
اقول : دلیل ضعف کو یہی کافی کہ ام المومنین خود قائل حرمت کما تقدم(جیسا کہ گزرا۔ ت)اگر اس با ب میں خود ارشاد اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنے ہوتے تو خلاف کے کیا معنی تھے لاجرم امام احمد نے فرمایا نہ وہ ارشاد اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے نہ اثرام المومنین بلکہ عراق کے کسی قاضی کا قول ہے کما فی الفتح (جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت)روایت حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما میں عثمن بن عبدالرحمن وقاصی ہے جو سید نا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتل عمرو بن سعد کا پوتا ہے۔ امام بخاری نے فرمایا ترکوہ محدثین نے اسے متروک کردیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا لیس بشیئ کوئی چیز نہیں۔ امام علی بن مدینی نے سخت ضعیف فرمایا۔ نسائی ودارقطنی نے کہا متروک ہے۔ حتی کہ امام یحیی بن معین نے فرمایا یکذب جھوٹ بولتا ہے۔
اقول : یہی عثمن حدیث ام المومنین صدیقہ کا بھی راوی ہے۔ روایت ابن حبان کتاب الضعفاء میں یو ں ہے :
حدثنا الحسن بن سفین نا اسحق بن بھلول نا عبداﷲ بن نافع نا المغیرہ بن اسمعیل بن ایوب بن سلمۃ عن عثمان بن عبدالرحمن عن
ہمیں حدیث بیان کی حسن بن سفیان نے انھوں نے اسحاق بن بہلول سے انھوں نے عبداﷲ بن نافع سے انھوں نے مغیرہ بن اسمعیل بن ایوب بن سلمہ سے انھوں نے عثمان بن عبدالرحمان سے انھوں نے امام ابن شہاب زھری سے انھوں نے
اقول : دلیل ضعف کو یہی کافی کہ ام المومنین خود قائل حرمت کما تقدم(جیسا کہ گزرا۔ ت)اگر اس با ب میں خود ارشاد اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنے ہوتے تو خلاف کے کیا معنی تھے لاجرم امام احمد نے فرمایا نہ وہ ارشاد اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے نہ اثرام المومنین بلکہ عراق کے کسی قاضی کا قول ہے کما فی الفتح (جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت)روایت حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما میں عثمن بن عبدالرحمن وقاصی ہے جو سید نا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتل عمرو بن سعد کا پوتا ہے۔ امام بخاری نے فرمایا ترکوہ محدثین نے اسے متروک کردیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا لیس بشیئ کوئی چیز نہیں۔ امام علی بن مدینی نے سخت ضعیف فرمایا۔ نسائی ودارقطنی نے کہا متروک ہے۔ حتی کہ امام یحیی بن معین نے فرمایا یکذب جھوٹ بولتا ہے۔
اقول : یہی عثمن حدیث ام المومنین صدیقہ کا بھی راوی ہے۔ روایت ابن حبان کتاب الضعفاء میں یو ں ہے :
حدثنا الحسن بن سفین نا اسحق بن بھلول نا عبداﷲ بن نافع نا المغیرہ بن اسمعیل بن ایوب بن سلمۃ عن عثمان بن عبدالرحمن عن
ہمیں حدیث بیان کی حسن بن سفیان نے انھوں نے اسحاق بن بہلول سے انھوں نے عبداﷲ بن نافع سے انھوں نے مغیرہ بن اسمعیل بن ایوب بن سلمہ سے انھوں نے عثمان بن عبدالرحمان سے انھوں نے امام ابن شہاب زھری سے انھوں نے
حوالہ / References
التیسیرشرح الجامع الصغیر حرف لا مکتبہ امام شافعی ریاض سعودیہ ۲ / ۵۰۴
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
کتاب الضعفاء الصغیر مع التاریخ الصغیر باب العین مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص۲۷۰ ، میزان الاعتدال حرف العین ترجمہ۵۵۳۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۳
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
کتاب الضعفاء الصغیر مع التاریخ الصغیر باب العین مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص۲۷۰ ، میزان الاعتدال حرف العین ترجمہ۵۵۳۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۳
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
میزا ن الاعتدال حرف العین ترجمہ ۵۵۳۱ دارالمعرفہ بیروت ۳ / ۴۳
ابن شہاب الزھری عن عروہ عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الرجل یتبع المرأۃ حراما اینکح ابنتھا اویتبع الابنۃ حراما اینکح امھا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحرم الحرام الحلال انما یحرم ماکان بنکاح حلال۔
عروہ سے۔ انھوں نے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے انھوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص کسی عورت سے حرامکاری کرے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی یا ماں سےنکاح کرسکتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا حرام حلال کو حرام نہیں بناتا۔ حلال نکاح ہی حرام بناتا ہے۔ (ت)
ابن حبان نے اسے روایت کرکے کہا :
عثمان بن عبدالرحمان ھو الوقاصی یروی عن الثقات الاشیاء الموضوعات لایجوز الاحتجاج بہ
عثمان بن عبدالرحمان وہی و قاصی ہے ثقات سے موضوع خبریں روایت کردیتا ہے اس سے سند لانا حلال نہیں۔
ہاں سنن ابن ماجہ میں روایت حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما یوں آئی :
حدثنا یحیی بن معلی بن منصور ثنا اسحق بن محمد الفروی ثنا عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لایحرم الحرام الحلال ۔
ہمیں حدیث بیان کی یحیی بن معلی بن عثمان بن منصور نے انھوں نے اسحق بن محمد فروی سے انھوں نےنافع سے انھوں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : حرام حلال کو حرام نہیں بناتا(ت)
اولا ا س میں اسحق بن ابی فروہ متکلم فیہ ہیں اما م عبدالحق نے احکام میں حدیث کو ذکر کرکے فرمایا : فی اسنادہ اسحق بن ابی فروہ وھو متروک (اس کی سند میں اسحاق بن ابی فروہ ہے اور وہ متروک ہے نقلہ عنہ المحقق فی الفتح(اسے فتح میں شیخ محقق نے اس سے نقل کیا ہے۔ ت)امام ابو الفرج نے
عروہ سے۔ انھوں نے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے انھوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص کسی عورت سے حرامکاری کرے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی یا ماں سےنکاح کرسکتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا حرام حلال کو حرام نہیں بناتا۔ حلال نکاح ہی حرام بناتا ہے۔ (ت)
ابن حبان نے اسے روایت کرکے کہا :
عثمان بن عبدالرحمان ھو الوقاصی یروی عن الثقات الاشیاء الموضوعات لایجوز الاحتجاج بہ
عثمان بن عبدالرحمان وہی و قاصی ہے ثقات سے موضوع خبریں روایت کردیتا ہے اس سے سند لانا حلال نہیں۔
ہاں سنن ابن ماجہ میں روایت حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما یوں آئی :
حدثنا یحیی بن معلی بن منصور ثنا اسحق بن محمد الفروی ثنا عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لایحرم الحرام الحلال ۔
ہمیں حدیث بیان کی یحیی بن معلی بن عثمان بن منصور نے انھوں نے اسحق بن محمد فروی سے انھوں نےنافع سے انھوں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : حرام حلال کو حرام نہیں بناتا(ت)
اولا ا س میں اسحق بن ابی فروہ متکلم فیہ ہیں اما م عبدالحق نے احکام میں حدیث کو ذکر کرکے فرمایا : فی اسنادہ اسحق بن ابی فروہ وھو متروک (اس کی سند میں اسحاق بن ابی فروہ ہے اور وہ متروک ہے نقلہ عنہ المحقق فی الفتح(اسے فتح میں شیخ محقق نے اس سے نقل کیا ہے۔ ت)امام ابو الفرج نے
حوالہ / References
العلل المتناہیہ بحوالہ ابن حبان حدیث ۱۰۳۱ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۲ / ۱۳۶
سنن ابن ماجہ باب لایحرم الحرام الحلال ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۶
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
سنن ابن ماجہ باب لایحرم الحرام الحلال ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۶
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۸
علل متناہیہ میں فرمایا :
قد رواہ اسحق بن محمد الفروی عن عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحرم الحرام الحلال قال یحیی الفروی کذاب وقال البخاری ترکوہ ۔ انتہی۔
یعنی یہ حدیث اسحق بن محمد فروی نے بسند خود حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : حرام حلال کو حرام نہیں کرتا امام یحیی بن معین نے فرمایا : فروی کذاب ہے۔ امام بخاری نے فرمایا محدثین کے نزدیک متروک ہے۔ انتہی
وانا اقول : وباﷲ التوفیق سبحن من لاینسی(اور میں کہتا ہوں اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے پاک ہے وہ ذات جو بھولتی نہیں۔ ت)حافظین جلیلین عبدالحق وابی الفرج کو التباس واقع ہوا اسحق بن ابی فروہ خواہ اسحق فروی۔ دو ہیں : ایک اسحق بن عبداﷲ بن ابی فروہ تابعی معاصر وتلمیذ امام زہری رجال ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ ہے۔ یہی متروک ہے اسی کو امام بخاری نے ترکوہ فرمایا کما فی تھذیب التھذیب و میزان الاعتدال وغیرھما(جیسا کہ تہذیب التہذیب اور میزان الاعتدال وغیرہما میں ہے۔ ت)تہذیب التہذیب میں ہے : قال ابو زرعۃ وجماعۃ متروک ابو زرعہ اور ایک جماعت ائمہ نے فرمایا : متروک ہے۔ ت)میزان میں ہے
لم اراحدامشاہ وقال ابن معین وغیرہ لایکتب حدیثہ ۔
میں نے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے رواں کیا یعنی ا س کی روایت کو کچھ بھی معتبر سمجھاہو۔ امام ابن معین وغیرہ نے فرمایا اس کی حدیث لکھی تک نہ جا ئے۔
دونوں کتابوں میں ہے :
نھی احمد بن حنبل عن حدیثہ وقال ابراھیم الجوزجانی سمعت احمد بن حنبل یقول لاتحل الروایۃ عندی عن اسحق
امام احمد بن حنبل نے اس کی حدیث نقل کرنے سے منع فرمایا : ابراہیم جوزجانی نے کہا میں نے امام احمدبن حنبل کو فرماتے سنا کہ میرے نزدیک اسحق بن ابی فروہ
قد رواہ اسحق بن محمد الفروی عن عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحرم الحرام الحلال قال یحیی الفروی کذاب وقال البخاری ترکوہ ۔ انتہی۔
یعنی یہ حدیث اسحق بن محمد فروی نے بسند خود حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : حرام حلال کو حرام نہیں کرتا امام یحیی بن معین نے فرمایا : فروی کذاب ہے۔ امام بخاری نے فرمایا محدثین کے نزدیک متروک ہے۔ انتہی
وانا اقول : وباﷲ التوفیق سبحن من لاینسی(اور میں کہتا ہوں اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے پاک ہے وہ ذات جو بھولتی نہیں۔ ت)حافظین جلیلین عبدالحق وابی الفرج کو التباس واقع ہوا اسحق بن ابی فروہ خواہ اسحق فروی۔ دو ہیں : ایک اسحق بن عبداﷲ بن ابی فروہ تابعی معاصر وتلمیذ امام زہری رجال ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ ہے۔ یہی متروک ہے اسی کو امام بخاری نے ترکوہ فرمایا کما فی تھذیب التھذیب و میزان الاعتدال وغیرھما(جیسا کہ تہذیب التہذیب اور میزان الاعتدال وغیرہما میں ہے۔ ت)تہذیب التہذیب میں ہے : قال ابو زرعۃ وجماعۃ متروک ابو زرعہ اور ایک جماعت ائمہ نے فرمایا : متروک ہے۔ ت)میزان میں ہے
لم اراحدامشاہ وقال ابن معین وغیرہ لایکتب حدیثہ ۔
میں نے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے رواں کیا یعنی ا س کی روایت کو کچھ بھی معتبر سمجھاہو۔ امام ابن معین وغیرہ نے فرمایا اس کی حدیث لکھی تک نہ جا ئے۔
دونوں کتابوں میں ہے :
نھی احمد بن حنبل عن حدیثہ وقال ابراھیم الجوزجانی سمعت احمد بن حنبل یقول لاتحل الروایۃ عندی عن اسحق
امام احمد بن حنبل نے اس کی حدیث نقل کرنے سے منع فرمایا : ابراہیم جوزجانی نے کہا میں نے امام احمدبن حنبل کو فرماتے سنا کہ میرے نزدیک اسحق بن ابی فروہ
حوالہ / References
العلل المتناہیہ حدیث ۱۰۳۱ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۲ / ۱۳۶
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ۱ / ۲۴۱
میزان الاعتدال حرف الالف ترجمہ ۷۶۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۳
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ۱ / ۲۴۱
میزان الاعتدال حرف الالف ترجمہ ۷۶۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۳
بن ابی فروہ ۔
سے روایت حلال نہیں۔
امام ترمذی نے ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل میں حدیث :
القاتل لایرث بطریق اسحق بن عبداﷲ عن الزھری عن حمید بن عبدالرحمن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کرکے فرمایا ھذا حدیث لا یصح واسحق بن عبداﷲ بن ابی فروۃ قد ترکہ بعض اھل العلم منھم احمد بن حنبل ۔
قاتل وارث نہیں ہوگا اس حدیث کو اسحق بن عبداللہ انھوں نے زہری انھوں نے حمید بن عبدالرحمن انھوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے فرمایا یہ حدیث صحیح نہیں کہ اسحق بن عبداﷲ بن ابو فروہ کو بہت سے اہل علم نے متروک قرار دیا ہے ان میں سے امام احمد بن حنبل ہیں۔ (ت)
ابوالفرج نے موضوعات میں حدیث :
الصبحۃ تمنع الزرق بطریق اسمعیل بن ابی عیاش عن ابی فروۃ عن محمد بن یوسف عن عمر وبن عثمن بن عفان عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کرکے کہا ھذا حدیث لایصح وابن ابی فروۃ متروک (ملخصا)
الصبحۃ تمنع الزرق(صبح کو سونا زرق کی(برکت)کے لیے مانع ہے)والی حدیث کو اسماعیل بن عیاش انھوں نے ابن ابی فروہ انھوں نے محمد بن یوسف انھوں نے عمرو بن عثمان بن عفان انھوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے کہا یہ صحیح نہیں کیونکہ ابن ابی فروہ متروک ہے ملخصا(ت)
امام خاتم الحفاظ نے لآلی میں اس پر تقریر فرمائی اورتعقبات میں بھی اس جرح پر جرح کی غرض یہ بالاتفاق متروک ہے مگریہ قدیم ہے ۱۳ھ میں ا نتقال کیا قالہ ابن ابی فدیک (یہ ابن ابی فدیک نے کہا ہے۔ ت) یا ۱۴۴ھ میں کماقالہ ابن سعد وغیرہ واحمد وھذا ھوالصحیح کمافی تہذیب
سے روایت حلال نہیں۔
امام ترمذی نے ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل میں حدیث :
القاتل لایرث بطریق اسحق بن عبداﷲ عن الزھری عن حمید بن عبدالرحمن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کرکے فرمایا ھذا حدیث لا یصح واسحق بن عبداﷲ بن ابی فروۃ قد ترکہ بعض اھل العلم منھم احمد بن حنبل ۔
قاتل وارث نہیں ہوگا اس حدیث کو اسحق بن عبداللہ انھوں نے زہری انھوں نے حمید بن عبدالرحمن انھوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے فرمایا یہ حدیث صحیح نہیں کہ اسحق بن عبداﷲ بن ابو فروہ کو بہت سے اہل علم نے متروک قرار دیا ہے ان میں سے امام احمد بن حنبل ہیں۔ (ت)
ابوالفرج نے موضوعات میں حدیث :
الصبحۃ تمنع الزرق بطریق اسمعیل بن ابی عیاش عن ابی فروۃ عن محمد بن یوسف عن عمر وبن عثمن بن عفان عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کرکے کہا ھذا حدیث لایصح وابن ابی فروۃ متروک (ملخصا)
الصبحۃ تمنع الزرق(صبح کو سونا زرق کی(برکت)کے لیے مانع ہے)والی حدیث کو اسماعیل بن عیاش انھوں نے ابن ابی فروہ انھوں نے محمد بن یوسف انھوں نے عمرو بن عثمان بن عفان انھوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے کہا یہ صحیح نہیں کیونکہ ابن ابی فروہ متروک ہے ملخصا(ت)
امام خاتم الحفاظ نے لآلی میں اس پر تقریر فرمائی اورتعقبات میں بھی اس جرح پر جرح کی غرض یہ بالاتفاق متروک ہے مگریہ قدیم ہے ۱۳ھ میں ا نتقال کیا قالہ ابن ابی فدیک (یہ ابن ابی فدیک نے کہا ہے۔ ت) یا ۱۴۴ھ میں کماقالہ ابن سعد وغیرہ واحمد وھذا ھوالصحیح کمافی تہذیب
حوالہ / References
میزان الاعتدال حرف الالف ترجمہ ۷۶۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۳ ، تہذیب التہذیب ترجمہ ۴۴۹ حیدرآباددکن ۱ / ۲۴۱
جامع الترمذی باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۳۲
جامع ترمذی ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۳۲
موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸
موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دارئرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱ / ۲۴۲
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱ / ۲۴۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۳۲
جامع ترمذی ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۳۲
موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸
موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دارئرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱ / ۲۴۲
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱ / ۲۴۲
التہذیب(جیسا کہ اس کو ابن سعداور بہت سے حضرات نے بیا ن کیا ہے یہی صحیح ہے جیساکہ تہذیب التہذیب میں ہے۔ ت)یحیی بن معلی نے کہ طبقہ حادیہ عشرہ سے ہیں ا سے کہاں پایا۔
دوم اس کے بھائی کے پوتے اسحق بن محمد بن اسمعیل بن عبداﷲ بن ابی فروہ یہ تبع تابعین سے بھی نہیں ان کے تلامذہ سے ہیں رجال بخاری وترمذی وابن ماجہ سے امام بخاری کے استاذ ہیں ۳۲ھ میں انتقال کیایہ ہرگز متروک نہیں امام بخاری نے خود جامع صحیح میں ان سے روایت کی تووہ ان کی نسبت “ ترکوہ “ کیونکر فرماتے ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکرکیا اور ابو حاتم وغیرہ نے صدوق کہا البتہ کلام سے خالی یہ بھی نہیں امام نسائی نے کہا ثقہ نہیں امام دارقطنی نے کہا ضعیف ہیں ائمہ مجتہدین امام بخاری پر ان سے روایت کرنے میں معترض ہیں امام ابو حاتم نے کہا مضطرب الحدیث ہیں آنکھیں جانے کے بعد بارہا ہوتا کہ جیساکوئی سکھادیتا ویسے ہی روایت کرنے لگتے۔ عقیلی نے کہا امام مالک سے بکثرت وہ حدیثیں روایت کیں جن پر ان کا کوئی متابع نہیں امام ابوداؤد نے سخت ضعیف کہا امام الشان نے فرمایا آنکھیں جاکر حفظ خراب ہوگیاتھا امام حافظ عبدالعظیم منذری کی ترغیب میں ہے :
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق روی عنہ البخاری فی صحیحہ وقال ابوحاتم وغیرہ صدوق وذکرہ ابن حبان فی الثقات و وھاہ ابوداؤد وقال النسائی لیس بثقۃ ۔
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق ہے اس سے بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور ابوحاتم وغیرہ نے کہا یہ صدوق ہے اس کو ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اور ابوداؤد نے اس کو کمزور بتایا ہے اور نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہے۔ (ت)
میزان الاعتدال میں ہے :
ھو صدوق فی الجملۃ صاحب حدیث قال ا بوحاتم صدوق ذھب بصرہ فربما لقن وکتبہ صحیحۃ وقال مرۃ مضطرب وقال العقیلی جاء عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع علیھا وذکرہ ابن حبان فی
وہ مجموعی طور پر صدوق ہے اور صاحب حدیث ہے ابوحاتم نے کہا یہ صدوق ہے اور اس کی نظر ضائع ہوگئی تھی اور بعض اوقات دوسرے کی بات مان لیتا تھا اور اس کی کتب حدیث صحیح ہیں اور انھوں نے کبھی ا س کو مضطرب قرار دیا ہے اور عقیلی نے کہا کہ اس نے امام مالک سے کثیر روایات ذکرکیں لیکن ان کی
دوم اس کے بھائی کے پوتے اسحق بن محمد بن اسمعیل بن عبداﷲ بن ابی فروہ یہ تبع تابعین سے بھی نہیں ان کے تلامذہ سے ہیں رجال بخاری وترمذی وابن ماجہ سے امام بخاری کے استاذ ہیں ۳۲ھ میں انتقال کیایہ ہرگز متروک نہیں امام بخاری نے خود جامع صحیح میں ان سے روایت کی تووہ ان کی نسبت “ ترکوہ “ کیونکر فرماتے ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکرکیا اور ابو حاتم وغیرہ نے صدوق کہا البتہ کلام سے خالی یہ بھی نہیں امام نسائی نے کہا ثقہ نہیں امام دارقطنی نے کہا ضعیف ہیں ائمہ مجتہدین امام بخاری پر ان سے روایت کرنے میں معترض ہیں امام ابو حاتم نے کہا مضطرب الحدیث ہیں آنکھیں جانے کے بعد بارہا ہوتا کہ جیساکوئی سکھادیتا ویسے ہی روایت کرنے لگتے۔ عقیلی نے کہا امام مالک سے بکثرت وہ حدیثیں روایت کیں جن پر ان کا کوئی متابع نہیں امام ابوداؤد نے سخت ضعیف کہا امام الشان نے فرمایا آنکھیں جاکر حفظ خراب ہوگیاتھا امام حافظ عبدالعظیم منذری کی ترغیب میں ہے :
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق روی عنہ البخاری فی صحیحہ وقال ابوحاتم وغیرہ صدوق وذکرہ ابن حبان فی الثقات و وھاہ ابوداؤد وقال النسائی لیس بثقۃ ۔
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق ہے اس سے بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور ابوحاتم وغیرہ نے کہا یہ صدوق ہے اس کو ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اور ابوداؤد نے اس کو کمزور بتایا ہے اور نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہے۔ (ت)
میزان الاعتدال میں ہے :
ھو صدوق فی الجملۃ صاحب حدیث قال ا بوحاتم صدوق ذھب بصرہ فربما لقن وکتبہ صحیحۃ وقال مرۃ مضطرب وقال العقیلی جاء عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع علیھا وذکرہ ابن حبان فی
وہ مجموعی طور پر صدوق ہے اور صاحب حدیث ہے ابوحاتم نے کہا یہ صدوق ہے اور اس کی نظر ضائع ہوگئی تھی اور بعض اوقات دوسرے کی بات مان لیتا تھا اور اس کی کتب حدیث صحیح ہیں اور انھوں نے کبھی ا س کو مضطرب قرار دیا ہے اور عقیلی نے کہا کہ اس نے امام مالک سے کثیر روایات ذکرکیں لیکن ان کی
حوالہ / References
الترغیب والترھیب باب ذکر الرواۃ المختلف فیہم الخ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۶۷
الثقات وقال النسائی لیس بثقہ وقال الدارقطنی لا یترک وقال ایضا ضعیف قدروی عنہ البخاری و یوبخونہ علی ھذا وکذا ذکرہ ابوداؤد ووھاہ جدا ۔
تائیدنہ ہوئی اور اس کو ابن حبان نے ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے اور نسائی نے کہا کہ ثقہ نہیں ہے اور دارقطنی نے کہا کہ یہ متروک نہیں اور ضعیف بھی کہا ہے اور بخاری نے اس سے روایت کیا ہے اس وجہ سے امام بخاری پر طعن بھی ہوا ہے ابوداؤد نے یوں ہی کہا اور اس کو بہت کمزور قرار دیا۔ (ت)
تقریب میں ہے : صدوق کف فساء حفظہ (صدوق ہے۔ اس کا حفظ کمزور ہوگیا تھا۔ ت)تہذیب التہذیب میں ہے : قال البخاری مات ۲۳ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : وہ ۲۳ میں فوت ہوا۔ ت)پر ظاہر کہ اس حدیث کے راوی یہی اسحق بن محمد فروی متکلم فیہ ہیں نہ کہ وہ اسحق بن عبداﷲ فروی متروک بہر حال ایک موضع کلام تو ا س کی سند میں یہ ہے۔
ثانیا اقول : دوسرا محل کلام اسحق مذکور کے شیخ عبداﷲ میں ہے ائمہ محدثین کا ان میں کلام معروف ہے امام ترمذی نے باب فیمن یستیقظ بللاولایذکر احتلاما(با ب جو نیند سے بیدار ہوکر کپڑے پر رطوبت پائے مگر احتلام یاد نہ ہو۔ ت) میں ایک حدیث ان سے روایت کرکے فرمایا :
عبداﷲ ضعفہ یحیی بن سعید من قبل حفظہ فی الحدیث ۔
عبداﷲ کو امام یحیی بن سعید قطان نے نقصان حافظہ کی رو سے حدیث میں ضعیف بتایا۔
اسی کے ابواب الصلوۃ باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل(ابواب الصلوۃ باب اول وقت کی فضیلت کے بیان میں۔ ت)میں ہے :
عبداﷲ بن عمرالعمری لیس ھو بالقوی عنداھل الحدیث ۔
عبداﷲ بن عمر العمری محدثین کے نزدیک چنداں قوی نہیں۔
امام نسائی نے کہا قوی نہیں امام علی بن مدینی نے کہا ضعیف ہیں ابن حبان نے کہا :
کان ممن غلب علیہ الصلاح والعبادۃ حتی
صلاح وعبادت نے ان پر یہاں تک غلبہ کیا کہ حفظ
تائیدنہ ہوئی اور اس کو ابن حبان نے ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے اور نسائی نے کہا کہ ثقہ نہیں ہے اور دارقطنی نے کہا کہ یہ متروک نہیں اور ضعیف بھی کہا ہے اور بخاری نے اس سے روایت کیا ہے اس وجہ سے امام بخاری پر طعن بھی ہوا ہے ابوداؤد نے یوں ہی کہا اور اس کو بہت کمزور قرار دیا۔ (ت)
تقریب میں ہے : صدوق کف فساء حفظہ (صدوق ہے۔ اس کا حفظ کمزور ہوگیا تھا۔ ت)تہذیب التہذیب میں ہے : قال البخاری مات ۲۳ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : وہ ۲۳ میں فوت ہوا۔ ت)پر ظاہر کہ اس حدیث کے راوی یہی اسحق بن محمد فروی متکلم فیہ ہیں نہ کہ وہ اسحق بن عبداﷲ فروی متروک بہر حال ایک موضع کلام تو ا س کی سند میں یہ ہے۔
ثانیا اقول : دوسرا محل کلام اسحق مذکور کے شیخ عبداﷲ میں ہے ائمہ محدثین کا ان میں کلام معروف ہے امام ترمذی نے باب فیمن یستیقظ بللاولایذکر احتلاما(با ب جو نیند سے بیدار ہوکر کپڑے پر رطوبت پائے مگر احتلام یاد نہ ہو۔ ت) میں ایک حدیث ان سے روایت کرکے فرمایا :
عبداﷲ ضعفہ یحیی بن سعید من قبل حفظہ فی الحدیث ۔
عبداﷲ کو امام یحیی بن سعید قطان نے نقصان حافظہ کی رو سے حدیث میں ضعیف بتایا۔
اسی کے ابواب الصلوۃ باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل(ابواب الصلوۃ باب اول وقت کی فضیلت کے بیان میں۔ ت)میں ہے :
عبداﷲ بن عمرالعمری لیس ھو بالقوی عنداھل الحدیث ۔
عبداﷲ بن عمر العمری محدثین کے نزدیک چنداں قوی نہیں۔
امام نسائی نے کہا قوی نہیں امام علی بن مدینی نے کہا ضعیف ہیں ابن حبان نے کہا :
کان ممن غلب علیہ الصلاح والعبادۃ حتی
صلاح وعبادت نے ان پر یہاں تک غلبہ کیا کہ حفظ
حوالہ / References
میزان الاعتدال حرف الالف ترجمہ ۷۸۵ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۹
تقریب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۳۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۸۴
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۶۶ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد بھارت ۱ / ۲۴۸
جامع الترمذی ابواب الطہارۃ باب فیمن یستیقظ ویری بللاالخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۶
جامع الترمذی باب ماجاء فی الوقت الاول الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۴
تقریب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۳۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۸۴
تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۶۶ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد بھارت ۱ / ۲۴۸
جامع الترمذی ابواب الطہارۃ باب فیمن یستیقظ ویری بللاالخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۶
جامع الترمذی باب ماجاء فی الوقت الاول الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۴
غفل عن حفظ الاخبار وجودۃ الحفظ للآثار فلما فحش خطؤہ استحق الترک ۔
احادیث سے غافل ہوئے حدیثیں خوب یاد نہ رہیں جب خطا بکثرت واقع ہوئی ترک کے مستحق ہوگئے۔
امام احمد ویحیی سے ان کی توثیق کے اقوال بھی ہیں مگر قول فیصل یہ قرارپایا کہ حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا : ضعیف عابد (کمزور عابد ہے۔ ت)
ثالثا اقول اس حدیث سے جواب کو وہی آیہ کریمہ ومسئلہ زن مظاہرہ کافی ظہار میں جماع حرام تھا پھر اس نے مظاہرہ کی دختر حلال کو کیونکر حرام کردیا۔
رابعا یہ حدیث جس طرح ابن ماجہ نے روایت کی کہ اگرکچھ قابل ذکر ہے تو یہی۔ اگر اس کے ضعف سند سے قطع نظر بھی کی جائے تو اس میں کوئی قصہ سوال اس حدیث متروک وساقط کی طرح نہیں صرف اتنا بیان ہے کہ حرام حلال کو حرام نہیں کرتا یہ اپنے ظاہر پر تویقینا صحیح نہیں کیا اگر قلیل پانی یا گلاب میں شراب یا پیشاب ڈال دیں تو اسے حرام نہ کردیں گے!
اقول کیا کونی اگر زنا سے جنب ہو تو اسے نمازوقرأت ودخول مسجد وطواف کعبہ کہ حلال تھے حرام نہ ہوجائیں گے! کیا اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کی بکری کا گلا گھونٹ کر مار ڈالے تو اس کا یہ فعل کہ اگر اپنے مال کے ساتھ ہوتا جب بھی بوجہ اضاعت مال حرام تھا اور مال غیر کے ساتھ ظلما حرام د رحرام اس حلال جانور کو حرام نہ کردے گا! کیا اگر کوئی شخص اپنی عورت کو ایک ہفتہ میں تین طلاقیں دے خصوصا ایام حیض میں تو اس فعل حرام درحرام سے وہ زن حلال اس پر حرام نہ ہوجائے گی! صدہا صورتیں ہیں جن میں حرام حلال کو حرام کردیتا ہے تویہ اطلاق کیونکرمراد ہوسکتا ہے لاجرم تاویل سے چارہ نہیں کہ حرام من حیث ہو حرام حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اقول یعنی بول وشراب نے جو آب وگلاب کو حرام کیا نہ بوجہ اپنی حرمت کے بلکہ اس جہت سے کہ یہ نجس تھے اس سے مل کر اسے بھی نجس کر دیا اب اس کی نجاست باعث حرمت ہوئی اور اگر کوئی شئی طاہر حرام کسی حلال میں ایسی مل جائے کہ تمیز ناممکن ہو تو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حلال خود حرام ہوگیا بلکہ حلال اپنی حلت پر باقی ہے اور مخلوط کا تناول اس لیے ناجائز کہ بوجہ اختلاط اس کا تناول تناول حرام سے خالی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر جدا ہوسکے اور جدا کرلیں تو حلال بدستور اپنی حلت پر ہو کما لایخفی(جیساکہ مخفی نہیں۔ ت)یونہی زنا سے نماز وغیرہ کو اس حیثیت سے حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں کیا دخل بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ
احادیث سے غافل ہوئے حدیثیں خوب یاد نہ رہیں جب خطا بکثرت واقع ہوئی ترک کے مستحق ہوگئے۔
امام احمد ویحیی سے ان کی توثیق کے اقوال بھی ہیں مگر قول فیصل یہ قرارپایا کہ حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا : ضعیف عابد (کمزور عابد ہے۔ ت)
ثالثا اقول اس حدیث سے جواب کو وہی آیہ کریمہ ومسئلہ زن مظاہرہ کافی ظہار میں جماع حرام تھا پھر اس نے مظاہرہ کی دختر حلال کو کیونکر حرام کردیا۔
رابعا یہ حدیث جس طرح ابن ماجہ نے روایت کی کہ اگرکچھ قابل ذکر ہے تو یہی۔ اگر اس کے ضعف سند سے قطع نظر بھی کی جائے تو اس میں کوئی قصہ سوال اس حدیث متروک وساقط کی طرح نہیں صرف اتنا بیان ہے کہ حرام حلال کو حرام نہیں کرتا یہ اپنے ظاہر پر تویقینا صحیح نہیں کیا اگر قلیل پانی یا گلاب میں شراب یا پیشاب ڈال دیں تو اسے حرام نہ کردیں گے!
اقول کیا کونی اگر زنا سے جنب ہو تو اسے نمازوقرأت ودخول مسجد وطواف کعبہ کہ حلال تھے حرام نہ ہوجائیں گے! کیا اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کی بکری کا گلا گھونٹ کر مار ڈالے تو اس کا یہ فعل کہ اگر اپنے مال کے ساتھ ہوتا جب بھی بوجہ اضاعت مال حرام تھا اور مال غیر کے ساتھ ظلما حرام د رحرام اس حلال جانور کو حرام نہ کردے گا! کیا اگر کوئی شخص اپنی عورت کو ایک ہفتہ میں تین طلاقیں دے خصوصا ایام حیض میں تو اس فعل حرام درحرام سے وہ زن حلال اس پر حرام نہ ہوجائے گی! صدہا صورتیں ہیں جن میں حرام حلال کو حرام کردیتا ہے تویہ اطلاق کیونکرمراد ہوسکتا ہے لاجرم تاویل سے چارہ نہیں کہ حرام من حیث ہو حرام حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اقول یعنی بول وشراب نے جو آب وگلاب کو حرام کیا نہ بوجہ اپنی حرمت کے بلکہ اس جہت سے کہ یہ نجس تھے اس سے مل کر اسے بھی نجس کر دیا اب اس کی نجاست باعث حرمت ہوئی اور اگر کوئی شئی طاہر حرام کسی حلال میں ایسی مل جائے کہ تمیز ناممکن ہو تو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حلال خود حرام ہوگیا بلکہ حلال اپنی حلت پر باقی ہے اور مخلوط کا تناول اس لیے ناجائز کہ بوجہ اختلاط اس کا تناول تناول حرام سے خالی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر جدا ہوسکے اور جدا کرلیں تو حلال بدستور اپنی حلت پر ہو کما لایخفی(جیساکہ مخفی نہیں۔ ت)یونہی زنا سے نماز وغیرہ کو اس حیثیت سے حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں کیا دخل بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ
حوالہ / References
میزان الاعتدال حرف العین ترجمہ ۴۴۷۲ دارالمعرفہ بیروت ۲ / ۴۶۵
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ ۳۵۰۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۵۱۶
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ ۳۵۰۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۵۱۶
فرج مشتہی میں ایلاج مشتہی ہے وقس علی ذلک البواقی(باقی کو اس پر قیاس کرو۔ ت)اب ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور حدیث ہم پر وارد نہیں یہاں بھی عورت سے زنا کرنے نے دختر زن کو اس بنا پر حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں بھی دخل نہیں بلکہ اسی حیثیت سے حرام کیا کہ وہ وطی وادخال ہے تو “ دخلتم بھن “ صادق آیا اور دختر موطوہ کی حرمت لایاتو اس حدیث ضعیف میں بھی مخالف کے لیے اصلا حجت نہیں وللہ الحمد۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں یہاں بعض احادیث اپنے مذہب کی مؤیدات ذکر فرمائیں ازانجملہ
قال رجل یا رسول اﷲ انی زنیت بامرأۃ فی الجاھلیۃ افانکح ابنتھا قال لااری ذلک ولایصح ان تنکح امرأۃ تطلع من ابنتھا علی ماتطلع علیہ منھا ۔
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کیاتھا اس کی بیٹی سے نکاح کرلوں فرمایا : میری رائے نہیں اور نہ ایسا نکاح جائز ہے کہ تو بیٹی کی اس چیز پر مطلع ہو جس چیز پر اس کی ماں کی مطلع تھا۔
اقول نیز اس کے مؤید ہے وہ حدیث کہ غایہ سمعانیہ میں حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من نظر الی فرج امرأۃ بشھوۃ حرمت علیہ امھا وبنتھا ۔
جو کسی عورت کی فرج کو شہوت سے دیکھے اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائیں
دوسری حدیث میں ہے :
ملعون من نظر الی فرج امرأۃ وبنتھا ۔
ملعون ہے وہ جوکسی عورت اور اس کی بیٹی دونوں کی فرج دیکھے۔
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
نظر الی فرج امرأۃ وبنتھا لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیامۃ ۔
جو کسی عورت اور اس کی دختر دونوں کی فرج دیکھے اﷲ تعالی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ کرے۔
قال رجل یا رسول اﷲ انی زنیت بامرأۃ فی الجاھلیۃ افانکح ابنتھا قال لااری ذلک ولایصح ان تنکح امرأۃ تطلع من ابنتھا علی ماتطلع علیہ منھا ۔
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کیاتھا اس کی بیٹی سے نکاح کرلوں فرمایا : میری رائے نہیں اور نہ ایسا نکاح جائز ہے کہ تو بیٹی کی اس چیز پر مطلع ہو جس چیز پر اس کی ماں کی مطلع تھا۔
اقول نیز اس کے مؤید ہے وہ حدیث کہ غایہ سمعانیہ میں حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من نظر الی فرج امرأۃ بشھوۃ حرمت علیہ امھا وبنتھا ۔
جو کسی عورت کی فرج کو شہوت سے دیکھے اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائیں
دوسری حدیث میں ہے :
ملعون من نظر الی فرج امرأۃ وبنتھا ۔
ملعون ہے وہ جوکسی عورت اور اس کی بیٹی دونوں کی فرج دیکھے۔
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
نظر الی فرج امرأۃ وبنتھا لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیامۃ ۔
جو کسی عورت اور اس کی دختر دونوں کی فرج دیکھے اﷲ تعالی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ کرے۔
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۲۹
البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۱
البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۱
کنز العمال بحوالہ مصنف عبدالرزاق حدیث ۴۵۷۰۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۵۱۷
البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۱
البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲ / ۴۱
کنز العمال بحوالہ مصنف عبدالرزاق حدیث ۴۵۷۰۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۵۱۷
نیز مصنف عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
فی الذی یزنی بام امرأتہ قال حرمتا علیہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یعنی اپنی ساس سے زنا کرنے والے کی نسبت فرمایا کہ اس پر ساس اور عورت دونوں حرام ہوگئیں۔
اس حرمت کے پیدا ہونے سے مرد وزن کو جدا ہوجانااورا س نکاح فاسد شدہ کا فسخ کردینا فرض ہوجاتا ہے مگرخود بخود نکاح زائل نہیں ہوجاتا یہاں تک کہ شوہر جب تک متارکہ نہ کرے اور بعد متارکہ عدت نہ گزرے عورت کو روا نہیں کہ دوسرے سے نکاح کرے اور قبل متارکہ شوہر کا اس سے وطی کرنا حرام ہوتا ہے مگر زنا نہیں کہ نکاح باقی ہے ولہذا اس وطی سے جو اولاد پیدا ہو صحیح النسب ہے ایسے نکاح کے ازالہ کو جو الفاظ کہے جائیں طلاق نہیں بلکہ متارکہ کہلاتے ہیں اگرچہ بلفط طلاق ہوں یہاں تک کہ ان سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج بآخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطئ بھا لایکون زنا ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا لہذا دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک خاوند متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزر جائے اس دوران اگر خاوند نے وطی کی تو وہ زنا نہیں ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی الذخیرۃ ذکر محمد فی نکاح الاصل ان النکاح لایرفع بحرمۃ المصاہرۃ والرضاع بل یفسد حتی لووطئھا الزوج قبل التفریق لایجب علیہ الحد اشتبہ علیہ اولم یشتبہ ۔
ذخیرہ میں ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل یعنی مبسوط کی بحث نکاح میں ذکر فرمایا کہ حرمت مصاہرت اور حرمت رضاعت کی بنا پر نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ فاسد ہوتاہے لہذا اگر خاوند نے تفریق سے قبل وطی کرلی تو اس پر زنا کی حد نہیں ہوگی۔ اس کو کوئی اشتباہ ہویا نہ ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال فی الحاوی والوطئی فیھا لایکون زنا
حاوی میں ہے کہ اس مدت میں وطی کو زنا نہ کہا جائے گا
فی الذی یزنی بام امرأتہ قال حرمتا علیہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یعنی اپنی ساس سے زنا کرنے والے کی نسبت فرمایا کہ اس پر ساس اور عورت دونوں حرام ہوگئیں۔
اس حرمت کے پیدا ہونے سے مرد وزن کو جدا ہوجانااورا س نکاح فاسد شدہ کا فسخ کردینا فرض ہوجاتا ہے مگرخود بخود نکاح زائل نہیں ہوجاتا یہاں تک کہ شوہر جب تک متارکہ نہ کرے اور بعد متارکہ عدت نہ گزرے عورت کو روا نہیں کہ دوسرے سے نکاح کرے اور قبل متارکہ شوہر کا اس سے وطی کرنا حرام ہوتا ہے مگر زنا نہیں کہ نکاح باقی ہے ولہذا اس وطی سے جو اولاد پیدا ہو صحیح النسب ہے ایسے نکاح کے ازالہ کو جو الفاظ کہے جائیں طلاق نہیں بلکہ متارکہ کہلاتے ہیں اگرچہ بلفط طلاق ہوں یہاں تک کہ ان سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج بآخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطئ بھا لایکون زنا ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا لہذا دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک خاوند متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزر جائے اس دوران اگر خاوند نے وطی کی تو وہ زنا نہیں ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی الذخیرۃ ذکر محمد فی نکاح الاصل ان النکاح لایرفع بحرمۃ المصاہرۃ والرضاع بل یفسد حتی لووطئھا الزوج قبل التفریق لایجب علیہ الحد اشتبہ علیہ اولم یشتبہ ۔
ذخیرہ میں ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اصل یعنی مبسوط کی بحث نکاح میں ذکر فرمایا کہ حرمت مصاہرت اور حرمت رضاعت کی بنا پر نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ فاسد ہوتاہے لہذا اگر خاوند نے تفریق سے قبل وطی کرلی تو اس پر زنا کی حد نہیں ہوگی۔ اس کو کوئی اشتباہ ہویا نہ ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال فی الحاوی والوطئی فیھا لایکون زنا
حاوی میں ہے کہ اس مدت میں وطی کو زنا نہ کہا جائے گا
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ مصنف عبدالرزاق حدیث ۴۵۶۹۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۵۱۶
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
لانہ مختلف فیہ وعلیہ مھرالمثل بوطئھا بعد الحرمۃ ولاحد علیہ ویثبت النسب ۔
کیونکہ یہ بات مختلف فیہ ہے جبکہ بیوی کے حرام ہونے کے بعد وطی کرنے سے مہر مثل لازم ہوگا اور بچہ ہو تو اس کا نسب ثابت ہوگا اور اس پر حد زنا نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی البزازیہ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابقول کخلیت سبیلک اوترکتک ومجرد انکار النکاح لایکون متارکۃ اما لو انکر وقال ایضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ والطلاق فیہ متارکۃ لکن لاینقص بہ عدد الطلاق ۔
بزازیہ میں ہے کہ فاسد نکاح میں دخول کے بعد متارکہ صرف زبانی ہوسکتا ہے مثلا یہ کہے میں نے تجھے نکاح سے آزاد کیا یا یوں کہے میں نے تجھے چھوڑدیا اور صرف سابقہ نکاح سے انکار کو متارکہ نہ کہا جائے گا ہاں اگر نکاح کے ساتھ یہ بھی کہے کہ جا نکاح کر تو متارکہ ہوجائے گا۔ اور اس موقعہ پر طلاق دینے سے متارکہ ہوجائے گا لیکن اس سے عدد طلاق کم نہ ہوگا۔ (ت)
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اگر شوہر نے نہ چھوڑا اور ناجائز طور پر ہندہ سے وطی کرتا رہا اور اولاد ہوئی تو وہ اولاد اپنے ماں باپ دونوں کی وارث ہے ماں کی وراثت تو ظاہر کہ اولاد زنا بھی اپنی ماں کی میراث پاتی ہے کما نصوا علیہ والمسألۃ فی الدر وغیرہ(جیسا کہ فقہاء کرام نے اس پر نص کی ہے اور یہ مسئلہ در وغیرہ میں ہے۔ ت)او رباپ کی وراثت یوں کہ ابھی منقول ہوچکا کہ ایسی حالت کی اولاد ولدالزنا نہیں صحیح النسب ہے ہاں زن وشوہر ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ وا ﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۹۶ : از ریاست رامپور مرسلہ جناب نوشہ میاں صاحب ۲۰ محرم ۱۳۱ھ
جناب کا یہ فتوی جس کی نقل حاضرکی جاتی ہے علمائے رامپور کے حضور بغرض مہر پیش ہوا جناب مفتی محمد لطف اﷲ صاحب نے فرمایا یہ نقل ہے اورا س میں جو لکھا ہے کہ جو عورت ایسے عقیدہ کی ہو وہ مرتدہ ہے اس کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتدسے نہ اس کی ہم مذہب سے مجھے اس میں تامل ہے اس کے ہم مذہب سے نہ ہونے کی سند کیا ہے مولوی صاحب(یعنی جناب)اس کی
کیونکہ یہ بات مختلف فیہ ہے جبکہ بیوی کے حرام ہونے کے بعد وطی کرنے سے مہر مثل لازم ہوگا اور بچہ ہو تو اس کا نسب ثابت ہوگا اور اس پر حد زنا نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی البزازیہ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابقول کخلیت سبیلک اوترکتک ومجرد انکار النکاح لایکون متارکۃ اما لو انکر وقال ایضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ والطلاق فیہ متارکۃ لکن لاینقص بہ عدد الطلاق ۔
بزازیہ میں ہے کہ فاسد نکاح میں دخول کے بعد متارکہ صرف زبانی ہوسکتا ہے مثلا یہ کہے میں نے تجھے نکاح سے آزاد کیا یا یوں کہے میں نے تجھے چھوڑدیا اور صرف سابقہ نکاح سے انکار کو متارکہ نہ کہا جائے گا ہاں اگر نکاح کے ساتھ یہ بھی کہے کہ جا نکاح کر تو متارکہ ہوجائے گا۔ اور اس موقعہ پر طلاق دینے سے متارکہ ہوجائے گا لیکن اس سے عدد طلاق کم نہ ہوگا۔ (ت)
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اگر شوہر نے نہ چھوڑا اور ناجائز طور پر ہندہ سے وطی کرتا رہا اور اولاد ہوئی تو وہ اولاد اپنے ماں باپ دونوں کی وارث ہے ماں کی وراثت تو ظاہر کہ اولاد زنا بھی اپنی ماں کی میراث پاتی ہے کما نصوا علیہ والمسألۃ فی الدر وغیرہ(جیسا کہ فقہاء کرام نے اس پر نص کی ہے اور یہ مسئلہ در وغیرہ میں ہے۔ ت)او رباپ کی وراثت یوں کہ ابھی منقول ہوچکا کہ ایسی حالت کی اولاد ولدالزنا نہیں صحیح النسب ہے ہاں زن وشوہر ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ وا ﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۹۶ : از ریاست رامپور مرسلہ جناب نوشہ میاں صاحب ۲۰ محرم ۱۳۱ھ
جناب کا یہ فتوی جس کی نقل حاضرکی جاتی ہے علمائے رامپور کے حضور بغرض مہر پیش ہوا جناب مفتی محمد لطف اﷲ صاحب نے فرمایا یہ نقل ہے اورا س میں جو لکھا ہے کہ جو عورت ایسے عقیدہ کی ہو وہ مرتدہ ہے اس کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتدسے نہ اس کی ہم مذہب سے مجھے اس میں تامل ہے اس کے ہم مذہب سے نہ ہونے کی سند کیا ہے مولوی صاحب(یعنی جناب)اس کی
حوالہ / References
ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۳
ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۲۔ ۲۵۱
ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۲۔ ۲۵۱
سند لکھ کر مہر فرمادیں تو مجھے مہر کرنے میں عذر نہیں لہذا نقل فتوی مرسل خدمت ہے۔ یہ فتوی جناب کا تحریر فرمایا ہوا ہے یا نہیں اگر ہے تو اس حکم کی سند کیا ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
فی الواقع یہ فتوی فقیر ہی کا لکھا ہوا ہے اور دربارہ مرتد ومرتدہ حکم شرعی یہی ہے کہ ان کا نکاح نہ کسی مسلم و مسلمہ سے ہوسکتا ہے نہ کافر وکافرہ سے۔ نہ مرتد ومرتدہ سے ان کے ہم مذہب خواہ مخالف مذہب سے غرض تمام جہاں میں کہیں نہیں ہوسکتا۔ مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی پھرفتاوی ہندیہ میں ہے :
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدہ ولامسلمۃ لاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المر تدۃ مع احد ۔
مرتد شخص کو مرتدہ مسلمان ہو یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں یوں ہی مرتدہ عورت کسی مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
لایجوز نکاح المرتدۃ لاحد والمجوسیۃ لاتحل للمسلم وتحل لکل کافر الالمرتد ۔
مرتدہ کا نکاح کسی کے ساتھ جائز نہیں۔ مجوسیہ مسلمان کو حلال نہیں وہ ہر اصلی کافر کے لیے حلال ہے اور مرتد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
اسی میں ہے :
المبیض اذاتزوج مبیضۃ بشھود و ولی ان کانا یظھران الکفر اواحدھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
منافق نے اگر منافقہ عورت سے اس کے ولی اورگواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور اپنے کفر کو ان دونوں نے یا ان میں سے ایک نے ظاہر کردیا تو ان کا حکم بھی مرتدوں والا ہوگا اور ان کا نکاح صحیح نہ ہوگا اھ مختصرا۔
واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۷ : از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ وغیرہ بد مذہبوں کے ساتھ شادی کرنا کیسا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
فی الواقع یہ فتوی فقیر ہی کا لکھا ہوا ہے اور دربارہ مرتد ومرتدہ حکم شرعی یہی ہے کہ ان کا نکاح نہ کسی مسلم و مسلمہ سے ہوسکتا ہے نہ کافر وکافرہ سے۔ نہ مرتد ومرتدہ سے ان کے ہم مذہب خواہ مخالف مذہب سے غرض تمام جہاں میں کہیں نہیں ہوسکتا۔ مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی پھرفتاوی ہندیہ میں ہے :
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدہ ولامسلمۃ لاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المر تدۃ مع احد ۔
مرتد شخص کو مرتدہ مسلمان ہو یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں یوں ہی مرتدہ عورت کسی مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
لایجوز نکاح المرتدۃ لاحد والمجوسیۃ لاتحل للمسلم وتحل لکل کافر الالمرتد ۔
مرتدہ کا نکاح کسی کے ساتھ جائز نہیں۔ مجوسیہ مسلمان کو حلال نہیں وہ ہر اصلی کافر کے لیے حلال ہے اور مرتد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
اسی میں ہے :
المبیض اذاتزوج مبیضۃ بشھود و ولی ان کانا یظھران الکفر اواحدھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
منافق نے اگر منافقہ عورت سے اس کے ولی اورگواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور اپنے کفر کو ان دونوں نے یا ان میں سے ایک نے ظاہر کردیا تو ان کا حکم بھی مرتدوں والا ہوگا اور ان کا نکاح صحیح نہ ہوگا اھ مختصرا۔
واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۷ : از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ وغیرہ بد مذہبوں کے ساتھ شادی کرنا کیسا ہے بینوا تو جروا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح القسم السابع المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۷
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۷
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۷
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۷
الجواب :
جو ان میں کوئی عقید ہ کفر رکھتا ہے جیسے آج کل کے عام رافضی اس کے ساتھ کسی کا نکاح ہوہی نہیں سکتا یہاں تک کہ خود اس کے ہم مذہب کابھی اور جو بد مذہب عقائد کفر سے بچا ہو اس کے ساتھ نکاح اگر چہ بایں معنی درست کہ کرلیں تو درست ہوجائے گا زنا نہ ہوگا مگر بد مذہبوں کے ساتھ ایسا بڑا علاقہ پیدا کرنے سے دور بھاگنا لازم زوجیت وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت والفت پیدا کرتا ہے قال اﷲ تعالی :
و من ایته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا الیها و جعل بینكم مودة و رحمة-ان فی ذلك لایت لقوم یتفكرون(۲۱) ۔
اﷲ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے بنائیں تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جو روئیں کہ تم ان کی طرف رغبت کرو ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی اور مہر رکھی بیشک اس میں ٹھیک نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے
اور بد مذہب سے دوستی پیدا ہونی اس کی محبت دل میں آنی دین کو سخت نقصان دیتی ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : المرء مع من احب آدمی کا حشراس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتاہے۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن۔
آدمی اپنے خاص دوست کے دین پر ہوتا ہے تو غور کرے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (ا س کو ابوداؤد اور ترمذی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
انہی آیات واحادیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ بدمذہب عورت کو نکاح میں لاتے وقت یہ خیال کرلینا کہ ہم اس پر غالب ہیں اس کی بدمذہبی ہمیں کیا نقصان دے گی بلکہ اسے سنی کریں گے محض حماقت ہے یہ رشتہ تو دوستی میل رغبت میل محبت مہر پیدا کرتاہے اور محبت میں آدمی اندھا بہرا ہوجاتا ہے حدیث میں فرمایا :
حبک الشیئ یعمی ویصم ۔ رواہ احمد والبخاری
شیئ کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔ اس کو احمد
جو ان میں کوئی عقید ہ کفر رکھتا ہے جیسے آج کل کے عام رافضی اس کے ساتھ کسی کا نکاح ہوہی نہیں سکتا یہاں تک کہ خود اس کے ہم مذہب کابھی اور جو بد مذہب عقائد کفر سے بچا ہو اس کے ساتھ نکاح اگر چہ بایں معنی درست کہ کرلیں تو درست ہوجائے گا زنا نہ ہوگا مگر بد مذہبوں کے ساتھ ایسا بڑا علاقہ پیدا کرنے سے دور بھاگنا لازم زوجیت وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت والفت پیدا کرتا ہے قال اﷲ تعالی :
و من ایته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا الیها و جعل بینكم مودة و رحمة-ان فی ذلك لایت لقوم یتفكرون(۲۱) ۔
اﷲ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے بنائیں تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جو روئیں کہ تم ان کی طرف رغبت کرو ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی اور مہر رکھی بیشک اس میں ٹھیک نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے
اور بد مذہب سے دوستی پیدا ہونی اس کی محبت دل میں آنی دین کو سخت نقصان دیتی ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : المرء مع من احب آدمی کا حشراس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتاہے۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن۔
آدمی اپنے خاص دوست کے دین پر ہوتا ہے تو غور کرے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (ا س کو ابوداؤد اور ترمذی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
انہی آیات واحادیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ بدمذہب عورت کو نکاح میں لاتے وقت یہ خیال کرلینا کہ ہم اس پر غالب ہیں اس کی بدمذہبی ہمیں کیا نقصان دے گی بلکہ اسے سنی کریں گے محض حماقت ہے یہ رشتہ تو دوستی میل رغبت میل محبت مہر پیدا کرتاہے اور محبت میں آدمی اندھا بہرا ہوجاتا ہے حدیث میں فرمایا :
حبک الشیئ یعمی ویصم ۔ رواہ احمد والبخاری
شیئ کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔ اس کو احمد
حوالہ / References
القرآن ۳۰ / ۲۱
صحیح مسلم باب المرء مع من قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۳۲
سنن ابو داؤد با ب من یؤمر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
مسند احمد بن حنبل مرویات ابوالدرداء دارالفکر بیروت ۶ / ۴۵۰
صحیح مسلم باب المرء مع من قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۳۲
سنن ابو داؤد با ب من یؤمر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
مسند احمد بن حنبل مرویات ابوالدرداء دارالفکر بیروت ۶ / ۴۵۰
فی التاریخ وابوداؤد عن ابی الدرداء وابن عساکر بسند حسن عن عبداﷲ بن انیس والخرا ئطی فی الاعتلال عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہم۔
بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابو داؤد نے ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ابن عساکرنے اس کو عبداﷲ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ سے اور خرائطی نے اعتلال میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ (ت)
دل پلٹتے خیال بدلتے کچھ دیر نہیں لگتی اﷲ عزوجل اپنے حفظ وامان ہی میں رکھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان القلوب بین اصبعین من اصابع اﷲ یقلبھا کیف یشاء ۔ رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ورجالہ رجال مسلم۔
دل اﷲ تعالی کے خاص تصرف میں ہیں جس طرح چاہتا ہے ان کو پھیرتا ہے۔ اس کو حاکم نے احمد اور ترمذی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس سند کے راوی رجال امام مسلم ہیں۔ (ت)
اور اپنی بیٹی دینا تو سخت قہر قاتل زہر ہے کہ عورتیں مغلوب ومحکوم ہوتی ہیں قال اﷲ تعالی : الرجال قومون على النسآء (مرد عورتوں کے منتظم ہیں۔ ت) پھر انھیں شوہر کی محبت بھی ماں سے باپ سے تمام دنیا سے زیادہ ہوتی ہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشیئ ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالی عنہ۔
خاوند کے لیے بیوی کو خاص محبت ہوتی ہے جو کسی دوسرے سے نہیں۔ اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
پھر وہ نرم دل بھی زائد ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
رویدک یا انجشۃ بالقواریر ۔
اے انجشہ( رضی اللہ تعالی عنہ )نرم ونازک عورتوں کا پاس کر۔ (ت)
بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابو داؤد نے ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ابن عساکرنے اس کو عبداﷲ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ سے اور خرائطی نے اعتلال میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ (ت)
دل پلٹتے خیال بدلتے کچھ دیر نہیں لگتی اﷲ عزوجل اپنے حفظ وامان ہی میں رکھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان القلوب بین اصبعین من اصابع اﷲ یقلبھا کیف یشاء ۔ رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ورجالہ رجال مسلم۔
دل اﷲ تعالی کے خاص تصرف میں ہیں جس طرح چاہتا ہے ان کو پھیرتا ہے۔ اس کو حاکم نے احمد اور ترمذی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس سند کے راوی رجال امام مسلم ہیں۔ (ت)
اور اپنی بیٹی دینا تو سخت قہر قاتل زہر ہے کہ عورتیں مغلوب ومحکوم ہوتی ہیں قال اﷲ تعالی : الرجال قومون على النسآء (مرد عورتوں کے منتظم ہیں۔ ت) پھر انھیں شوہر کی محبت بھی ماں سے باپ سے تمام دنیا سے زیادہ ہوتی ہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشیئ ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالی عنہ۔
خاوند کے لیے بیوی کو خاص محبت ہوتی ہے جو کسی دوسرے سے نہیں۔ اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
پھر وہ نرم دل بھی زائد ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
رویدک یا انجشۃ بالقواریر ۔
اے انجشہ( رضی اللہ تعالی عنہ )نرم ونازک عورتوں کا پاس کر۔ (ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداللہ بن عمر دارالفکربیروت ۲ / ۱۶۸
القرآن ۴ / ۳۴
مستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۴ / ۶۲
صحیح بخاری باب المعاریض ، مندوحۃ عن الکرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۱۷
القرآن ۴ / ۳۴
مستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۴ / ۶۲
صحیح بخاری باب المعاریض ، مندوحۃ عن الکرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۱۷
ناقصات العقل والدین بھی ہیں قالہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کمافی الصحیح یہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاا رشاد ہے جیساکہ صحیح حدیث میں ہے۔ ت)پھر یہ سب اس صورت میں ہے جہاں شوہر کا کفو عورت نہ ہونا مانع صحت نہ ہو ورنہ نکاح محض باطل ہوگا۔ کما فصلناہ فی فتاونا(جیسے ہم نے اسے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کیا ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۸ : از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ سید شاہ محمد کمال صاحب ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱ھ
حضرت مولانا صاحب قبلہ! اگر کسی مرد نے اپنی رضاعی ساس اور رضاعی سالی کے ساتھ ایک دفعہ یا دودفعہ زنا کیا ہو سہوا یا عمدا تو اس حالت میں بی بی کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں اور اگر نکاح نہیں رہا تو پھر اس بی بی سے کسی طرح نکاح یا وہی بی بی اپنے شوہر پر پھر حلال ہوسکتی ہے یا نہیں مگر قبل اس فعل کے اس مرد کوا س مسئلے سے واقفیت نہ تھی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
سالی اگرچہ خاص نسبتی حقیقی ہو اس سے معاذاﷲ زنا اگرچہ بارہا ہو عورت کو اصلا حرام نہیں کرتا۔
فی الدرالمختار فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۔
درمختار میں ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ سالی سے وطی بیوی کو حرام نہیں کرتی۔ (ت)
ہاں اگر سالی سے شبہہ اور دھوکے میں وطی ہوجائے تو جب تک سالی اس وطی بالشبہہ کی عدت سے نہ نکلے مرد اپنی منکوحہ کو ہاتھ نہیں لگاسکتا کیلا یلزم الجمع بین المحارم عدۃ(تاکہ عدت میں دو محرم عورتیں ایک کے لیے جمع نہ ہوں۔ ت)یہ حرمت اتنے ہی دنوں کے لیے ہوگی بعد اختتام عدت عورت بدستور حلال ہوجائیگی
فی رد المحتار قولہ لاتحرم ای لا تثبت حرمۃ المصاھرۃ فالمعنی لاتحرم حرمۃ مؤبدۃ والافتحرم الی انقضاء عدۃ الموطؤۃ لو بشبھۃ قال فی البحر لو وطی اخت امرأۃ بشبھۃ تحرم علیہ امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ۔
ردالمحتار میں ہے اس کے قول ''حرام نہیں'' کا مطلب مصاہرت کی حرمت ابدی نہیں ہے ورنہ سالی کے ساتھ شبہہ میں وطی سے اس کی بیوی عدت پوری ہونے تک حرام رہتی ہے۔ بحر میں کہاہے اگر سالی سے شبہہ کی بناپر وطی ہوجائے تو بیوی حرام رہتی ہے جب تک شبہہ والی وطی کی عدت پوری نہ گزرجائے۔ (ت)
مسئلہ۱۹۸ : از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ سید شاہ محمد کمال صاحب ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱ھ
حضرت مولانا صاحب قبلہ! اگر کسی مرد نے اپنی رضاعی ساس اور رضاعی سالی کے ساتھ ایک دفعہ یا دودفعہ زنا کیا ہو سہوا یا عمدا تو اس حالت میں بی بی کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں اور اگر نکاح نہیں رہا تو پھر اس بی بی سے کسی طرح نکاح یا وہی بی بی اپنے شوہر پر پھر حلال ہوسکتی ہے یا نہیں مگر قبل اس فعل کے اس مرد کوا س مسئلے سے واقفیت نہ تھی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
سالی اگرچہ خاص نسبتی حقیقی ہو اس سے معاذاﷲ زنا اگرچہ بارہا ہو عورت کو اصلا حرام نہیں کرتا۔
فی الدرالمختار فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۔
درمختار میں ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ سالی سے وطی بیوی کو حرام نہیں کرتی۔ (ت)
ہاں اگر سالی سے شبہہ اور دھوکے میں وطی ہوجائے تو جب تک سالی اس وطی بالشبہہ کی عدت سے نہ نکلے مرد اپنی منکوحہ کو ہاتھ نہیں لگاسکتا کیلا یلزم الجمع بین المحارم عدۃ(تاکہ عدت میں دو محرم عورتیں ایک کے لیے جمع نہ ہوں۔ ت)یہ حرمت اتنے ہی دنوں کے لیے ہوگی بعد اختتام عدت عورت بدستور حلال ہوجائیگی
فی رد المحتار قولہ لاتحرم ای لا تثبت حرمۃ المصاھرۃ فالمعنی لاتحرم حرمۃ مؤبدۃ والافتحرم الی انقضاء عدۃ الموطؤۃ لو بشبھۃ قال فی البحر لو وطی اخت امرأۃ بشبھۃ تحرم علیہ امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ۔
ردالمحتار میں ہے اس کے قول ''حرام نہیں'' کا مطلب مصاہرت کی حرمت ابدی نہیں ہے ورنہ سالی کے ساتھ شبہہ میں وطی سے اس کی بیوی عدت پوری ہونے تک حرام رہتی ہے۔ بحر میں کہاہے اگر سالی سے شبہہ کی بناپر وطی ہوجائے تو بیوی حرام رہتی ہے جب تک شبہہ والی وطی کی عدت پوری نہ گزرجائے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۱
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۱
اور ساس اگرچہ رضاعی ہو یعنی زوجہ کی رضاعی ماں یا رضاعی نانی دادی عیاذا باﷲ اس سے زنا بلکہ دواعی وطی بھی یعنی بشہوت اس کے کسی جز وبدن کو چھوجانا اگرچہ ایسے حائل کے ساتھ کہ اس کے جسم کی گرمی اسے محسوس ہونے سے منع نہ کرے یا بشہوت اس کی فرج داخل پر نظر پڑجانا جبکہ یہ دواعی دواعی رہیں یعنی ان سے انزال واقع نہ ہو اگرچہ وہ زنا یا داعی زنادانستہ ہو یا بھول کر یا دھوکے سے یا کسی کے جبر واکراہ سے بہرحال زوجہ کو حرام ابدی اور نکاح کو فاسد کردیتا ہے عورت کو فورا چھوڑدینا اور اس نکاح فاسد شدہ کو فسخ کرنا واجب ہوجاتا ہے اب زوجہ کبھی اس کے لیے حلال نہ ہوگی نہ کبھی اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ یہی مذہب ہمارے جمیع ائمہ اور امام احمد اورا مام مالک فی احد الروایتین(دو روایتوں میں سے ایک روایت میں۔ ت)اور اکابر صحابہ مثل امیر المومنین عمرفاروق اعظم وحضرت عبداﷲ بن مسعود وحضرت عبداﷲ بن عباس فی الاصح عنہ(ان سے اصح روایت میں۔ ت)اور حضرت ام المومنین صدیقہ وابی بن کعب وجابر بن عبداﷲ وعمران بن حصین اور جمہور تابعین مثل امام حسن بصری وامام ابراہیم نخعی وامام طاؤس وامام عطا بن ابی رباح وامام مجاہد وامام سعید بن المسیب وامام سلیمن بن یسار وامام حماد بن ابی سلیمن وغیرہم ائمہ دین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین کا ہے۔
کما ذکر ہ فی الفتح وغیرہ وفی الدرالمختار حرم اصل مزنیۃ وممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن مطلقا اذا لم ینزل فلو انزل مع مس او نظر فلاحرمۃ ولافرق فیما ذکربین عمدو نسیان و خطاء واکراہ اھ ملتقطا وفی ردالمحتار قال فی البحرار ادبحرمۃ المصاہرۃ الحرمات الاربع حرمۃ المرأۃ علی اصول الزانی وفروعہ نسباورضاعاوحرمۃ اصولھا وفرو عھا علی الزانی نسبا ورضاعا کمافی الوطی الحلال ۔ واﷲ تعالی اعلم
جیساکہ اس کو فتح وغیرہ میں ذکر کیا ہے اور درمختار میں ہے کہ مزنیہ اور وہ عورت جس کو حرارت بدنیہ سے مانع چیز کے بغیر شہوت کے ساتھ مس کیا ہو خواہ سرکے بالوں کو مس کیا ہو اور وہ عورت جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظر پڑی ہو تو ان عورتوں کے اصول و فروع اس مرد پر مطلقا حرام ہوجاتے ہیں بشرطیکہ اس وقت اس کو انزال نہ ہوا ہو او رنظر یا مس کے وقت انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی اس میں فرق نہیں خواہ قصدا ہو یا بھول کر یا خطاء یا جبرا ہو اھ ملتقطا اور ردالمحتار میں ہے بحر میں کہا ہے کہ حرمت مصاہرت سے چار حرام مرادہیں۔ مرد پر عورت کے اصول و فرو ع نسبی ورضاعی اور عورت پر مردکے اصول فروع نسبی ورضاعی جیسا کہ وطی حلال میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
_______________
کما ذکر ہ فی الفتح وغیرہ وفی الدرالمختار حرم اصل مزنیۃ وممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن مطلقا اذا لم ینزل فلو انزل مع مس او نظر فلاحرمۃ ولافرق فیما ذکربین عمدو نسیان و خطاء واکراہ اھ ملتقطا وفی ردالمحتار قال فی البحرار ادبحرمۃ المصاہرۃ الحرمات الاربع حرمۃ المرأۃ علی اصول الزانی وفروعہ نسباورضاعاوحرمۃ اصولھا وفرو عھا علی الزانی نسبا ورضاعا کمافی الوطی الحلال ۔ واﷲ تعالی اعلم
جیساکہ اس کو فتح وغیرہ میں ذکر کیا ہے اور درمختار میں ہے کہ مزنیہ اور وہ عورت جس کو حرارت بدنیہ سے مانع چیز کے بغیر شہوت کے ساتھ مس کیا ہو خواہ سرکے بالوں کو مس کیا ہو اور وہ عورت جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظر پڑی ہو تو ان عورتوں کے اصول و فروع اس مرد پر مطلقا حرام ہوجاتے ہیں بشرطیکہ اس وقت اس کو انزال نہ ہوا ہو او رنظر یا مس کے وقت انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی اس میں فرق نہیں خواہ قصدا ہو یا بھول کر یا خطاء یا جبرا ہو اھ ملتقطا اور ردالمحتار میں ہے بحر میں کہا ہے کہ حرمت مصاہرت سے چار حرام مرادہیں۔ مرد پر عورت کے اصول و فرو ع نسبی ورضاعی اور عورت پر مردکے اصول فروع نسبی ورضاعی جیسا کہ وطی حلال میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
_______________
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۷۹
ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار ۱۳۱ھ
(معز زخواتین کو جہنم کے کتوں کے نکاح میں نہ دیتے ہوئے انھیں رسوائی سے بچانا)
مسئلہ ۱۹۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك عورت سنیہ حنفیہ جس کا باپ بھی سنی حنفی ہے اس کا نکاح ایك غیرمقلد وہابی سے کردینا جائز ہے یا ممنوع اس میں شرعا گناہ ہوگایا نہیں بینوا توجروا
مستفتی محمد خلیل الله خاں از ریاست رامپور دولت خانہ حکیم اجمل خاں صاحب
الجواب : از دفتر تحفہ حنفیہ پٹنہ محلہ لودی کٹرہ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
نکاح مذکورہ ممنوع وناجائز وگناہ ہے۔ غیر مقلدین زماں کے بہت عقائدکفر یہ وضلالیہ کتاب “ جامع الشواہد فی اخراج الوہابین عن المساجد “ میں ان کی تصانیف سے نقل کئے اور ان کا گمراہ وبد مذہب ہونا بروجہ احسن ثابت کیا اور حدیث ذکرکی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بد مذہبوں کی نسبت فرمایا :
ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم
یعنی ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو
(معز زخواتین کو جہنم کے کتوں کے نکاح میں نہ دیتے ہوئے انھیں رسوائی سے بچانا)
مسئلہ ۱۹۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك عورت سنیہ حنفیہ جس کا باپ بھی سنی حنفی ہے اس کا نکاح ایك غیرمقلد وہابی سے کردینا جائز ہے یا ممنوع اس میں شرعا گناہ ہوگایا نہیں بینوا توجروا
مستفتی محمد خلیل الله خاں از ریاست رامپور دولت خانہ حکیم اجمل خاں صاحب
الجواب : از دفتر تحفہ حنفیہ پٹنہ محلہ لودی کٹرہ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
نکاح مذکورہ ممنوع وناجائز وگناہ ہے۔ غیر مقلدین زماں کے بہت عقائدکفر یہ وضلالیہ کتاب “ جامع الشواہد فی اخراج الوہابین عن المساجد “ میں ان کی تصانیف سے نقل کئے اور ان کا گمراہ وبد مذہب ہونا بروجہ احسن ثابت کیا اور حدیث ذکرکی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بد مذہبوں کی نسبت فرمایا :
ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم
یعنی ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو
ولاتناکحوھم ۔
اور بیاہ شادی نہ کرو۔
او رمولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کی تفسیر سے نقل کیا ہے کہ :
ہر کہ با بدعتیان انس ودوستی پیدا کند نورایمان و حلاوت آں ازوے برگیرند ۔
جو شخص بد عقیدہ لوگوں سے دوستی اورپیار کرتاہے اس سے نورایمان سلب ہوجاتا ہے۔ (ت)
اور طحطاوی حاشیہ درمختار سے نقل کیا :
من کان خارجا من ھذہ المذاھب الاربعۃ فی ذلك الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
جو اس زمانے میں ان چاروں مذہب سے خارج ہو وہ بدعتی اور دوزخی ہے۔
کثرت سے علمائے مشاہیر کی اس پر مہریں ہیں بالجملہ اگر غیر مقلد عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو اس سے نکاح محض باطل وزنا ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح اصلا صحیح نہیں اور اگر عقیدیہ کفریہ نہ بھی رکھتا ہو تو بدمذہب سے مناکحت بحکم آیت وحدیث منع ہے حدیث اوپر گزری اور آیت یہ ہے قال الله تعالی :
و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار- ۔
نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے گی آگ دوزخ کی۔
ناظم ندوہ نے اپنے فتوی عدم جواز نکاح سنیہ وشیعہ مطبوعہ مطبع نظامی میں اسی آیت سے استدلال کیا ہے والله اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔
الساطر الوازر المعتصم بذیل سیدہ ومولاہ امیر المومنین سیدن الصدیق العتیق التقی عبدالوحید غلام صدیق الحنفی الفردوسی العظیم آبادی عفاعنہ ربہ ذوالایادی۔
فتوائے علمائے پٹنہ
(۱)اصاب من اجاب(جو جواب دیا گیا ہے درست ہے۔ ت)حافظ محمد فتح الدین پنجابی(صدر مجلس اہلسنت پٹنہ مقیم مرشد آباد)
اور بیاہ شادی نہ کرو۔
او رمولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کی تفسیر سے نقل کیا ہے کہ :
ہر کہ با بدعتیان انس ودوستی پیدا کند نورایمان و حلاوت آں ازوے برگیرند ۔
جو شخص بد عقیدہ لوگوں سے دوستی اورپیار کرتاہے اس سے نورایمان سلب ہوجاتا ہے۔ (ت)
اور طحطاوی حاشیہ درمختار سے نقل کیا :
من کان خارجا من ھذہ المذاھب الاربعۃ فی ذلك الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
جو اس زمانے میں ان چاروں مذہب سے خارج ہو وہ بدعتی اور دوزخی ہے۔
کثرت سے علمائے مشاہیر کی اس پر مہریں ہیں بالجملہ اگر غیر مقلد عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو اس سے نکاح محض باطل وزنا ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح اصلا صحیح نہیں اور اگر عقیدیہ کفریہ نہ بھی رکھتا ہو تو بدمذہب سے مناکحت بحکم آیت وحدیث منع ہے حدیث اوپر گزری اور آیت یہ ہے قال الله تعالی :
و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار- ۔
نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے گی آگ دوزخ کی۔
ناظم ندوہ نے اپنے فتوی عدم جواز نکاح سنیہ وشیعہ مطبوعہ مطبع نظامی میں اسی آیت سے استدلال کیا ہے والله اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔
الساطر الوازر المعتصم بذیل سیدہ ومولاہ امیر المومنین سیدن الصدیق العتیق التقی عبدالوحید غلام صدیق الحنفی الفردوسی العظیم آبادی عفاعنہ ربہ ذوالایادی۔
فتوائے علمائے پٹنہ
(۱)اصاب من اجاب(جو جواب دیا گیا ہے درست ہے۔ ت)حافظ محمد فتح الدین پنجابی(صدر مجلس اہلسنت پٹنہ مقیم مرشد آباد)
حوالہ / References
الضعفاء الکبیر ترجمہ ١٥٣ احمد بن عمران دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۶ ، کنزالعمال حدیث نمبر ۳۲۴۶۸ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۵۲۹
تفسیرعزیزی پارہ ۲۹ آیۃ ودوالوتد ھن فید ھنون کے تحت افغانی دارالکتب لال کنواں دہلی ص۵۶
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
القرآن ۱۱ / ۱۱۳
تفسیرعزیزی پارہ ۲۹ آیۃ ودوالوتد ھن فید ھنون کے تحت افغانی دارالکتب لال کنواں دہلی ص۵۶
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
القرآن ۱۱ / ۱۱۳
(۲)ھذا ھوالحق الصریح وماسواہ باطل قبیح(یہ جواب صریح ہے اور اس کے سوا باطل قبیح ہے۔ ت)محمد امیر علی(مرحوم)سابق ہیڈ مولوی نارمل اسکول پٹنہ۔
فتوائے علمائے بہار
(۱)مبسلا ومحمد او مصلیا اما بعد ماقالہ العلامہ وافادہ الفھامہ حق صریح ومحقق صحیح جدیر بالاعتماد و حقیق بالاستناد ودونہ خرط القتاد ولاینکرہ الااھل الغی والعناد والبغی والفساد۔
بسملہ تحمید اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود کے بعد جو کچھ حضرت علامہ وفہامہ نے کہا وہ واضح حق مثبت وصحیح لائق اعتماد واستناد ہے اور اس کا خلاف مشکل ہے اور سوائے گمراہ ہٹ دھرم باغی اور فسادی کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ (ت)
کتبہ خویدم الطلبہ ابوالاصفیا محمد عبدالواحدخاں رامپوری بہاری عفاعنہ
(۲)من کان من زمرۃ محمد بن عبدالوھاب ممن یتھمون عامۃ امۃ مرحومۃ با لشرك والکفر علی زعمھم الفاسد وفھمھم الکاسد فھو من الزنادقۃ والملاحدۃ ولایجوز بہ المناکحۃ والمخالطۃ وکذلك من کان من الغیر المقلدین من یرکن الی المجسمیۃ والمشبھیۃ والرافضیۃ فی السوء۔
تمام امت مرحومہ کو اپنے زعم فاسد اور فہم کا سد کی بناء پر شرك وکفر کے ساتھ متہم کرنے والے محمد بن عبدالوہاب کے گروہ سے تعلق رکھنے والاشخص زندیق وملحد ہے اور اس کے ساتھ نکاح اور میل جول ناجائز ہے اور یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو غیر مقلدین میں سے اور مجسمیہ مشبہیہ اور روافض کی طرف میلان رکھتا ہو۔ (ت)
حررہ محمد یوسف بہاری
(۳)اصاب من اجاب جزی اﷲ المحقق المدقق وحامی السنۃ وماحی البدعۃ مولانا متنظم التحفۃ خیر
مجیب نے درست جواب دیا محقق مدقق سنت کے حامی بدعت کو مٹانے والے ہمارے سردار اور تحفہ حنفیہ کے منتظمہ کو الله تعالی
فتوائے علمائے بہار
(۱)مبسلا ومحمد او مصلیا اما بعد ماقالہ العلامہ وافادہ الفھامہ حق صریح ومحقق صحیح جدیر بالاعتماد و حقیق بالاستناد ودونہ خرط القتاد ولاینکرہ الااھل الغی والعناد والبغی والفساد۔
بسملہ تحمید اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود کے بعد جو کچھ حضرت علامہ وفہامہ نے کہا وہ واضح حق مثبت وصحیح لائق اعتماد واستناد ہے اور اس کا خلاف مشکل ہے اور سوائے گمراہ ہٹ دھرم باغی اور فسادی کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ (ت)
کتبہ خویدم الطلبہ ابوالاصفیا محمد عبدالواحدخاں رامپوری بہاری عفاعنہ
(۲)من کان من زمرۃ محمد بن عبدالوھاب ممن یتھمون عامۃ امۃ مرحومۃ با لشرك والکفر علی زعمھم الفاسد وفھمھم الکاسد فھو من الزنادقۃ والملاحدۃ ولایجوز بہ المناکحۃ والمخالطۃ وکذلك من کان من الغیر المقلدین من یرکن الی المجسمیۃ والمشبھیۃ والرافضیۃ فی السوء۔
تمام امت مرحومہ کو اپنے زعم فاسد اور فہم کا سد کی بناء پر شرك وکفر کے ساتھ متہم کرنے والے محمد بن عبدالوہاب کے گروہ سے تعلق رکھنے والاشخص زندیق وملحد ہے اور اس کے ساتھ نکاح اور میل جول ناجائز ہے اور یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو غیر مقلدین میں سے اور مجسمیہ مشبہیہ اور روافض کی طرف میلان رکھتا ہو۔ (ت)
حررہ محمد یوسف بہاری
(۳)اصاب من اجاب جزی اﷲ المحقق المدقق وحامی السنۃ وماحی البدعۃ مولانا متنظم التحفۃ خیر
مجیب نے درست جواب دیا محقق مدقق سنت کے حامی بدعت کو مٹانے والے ہمارے سردار اور تحفہ حنفیہ کے منتظمہ کو الله تعالی
الجزاء۔ واﷲ اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔
بہترین جز ا عطا فرمائے الله تعالی خوب جانتا ہے اورا س کی طرف ہی لوٹنا ہے۔ (ت)
جنا ب مولانا حکیم(ابوالبرکات)استھانوی بہاری
(۴)حامدا ومصلیا قد صح ما فی ھذہ الفتوی کیف لاوھی مملوۃ من الروایات الفقھیۃ المعتبرۃ والاحادیث الصحیحۃ فالمجیب مصیب بلاامتراء جزاہ اﷲ سبحنہ بفضلہ الاوفی خیر الجزاء حیث صرف ھمۃ العلیا و بذل جھدہ بالنھج الاعلی فی رد الکلمات السفلی من اجاب فقد اصاب ودونہ خرط القتاد واﷲ اعلم بالصواب فقط
الله تعالی کی حمدکرتے اور نبی کریم پر درود بھیجتے ہوئے کہتاہوں کہ جوکچھ اس فتوی میں ہے درست ہے کیسے نہ ہو جبکہ یہ فتوی معتبر فقہی روایات اور صحیح احادیث سے لبریز ہے اور مجیب بلاشبہ مصیب ہے۔ الله تعالی اپنے بے انتہا فضل سے مجیب کو جزائے خیر عطا فرمائے جس نے کلمات سفلی کے رد میں اپنی بلند ہمتی اور سعی بلیغ کو کامل طریقے سے بروئے کار لایا۔ مجیب نے درست کہا جس کے خلاف کہنا مشکل وناممکن ہے والله تعالی اعلم بالصواب فقط(ت)
حررہ خویدم الطلبۃ الراجی الی رحمۃ ربہ المنان السید محمد سلیمان اشرف البہاری المرداوی عفی عنہ۔
(۵)حامد اومصلیا الجواب حق فما ذا بعد الحق الاالضلال۔
الله تعالی کی حمد کرتے ہوئے اور نبی اقدس پر درود بھیجتے ہوئے کہتا ہوں کہ جواب حق ہے اور حق کے بعد سوائے گمراہی کے کچھ نہیں۔ (ت)
کتبہ خادم الطلبہ خاکسار سید ناظر حسین بہاری المرداوی
فتوائے علمائے بدایوں
(۱)المجیب مصیب(جواب درست ہے۔ ت)
محب الرسول عبدالقادر قادری
(۲)لاریب فیہ(اس میں کوئی شك نہیں۔ ت)
مطیع الرسول محمد بن عبدالمقتدر قادری
(۳)الجواب صحیح(جواب صحیح ہے۔ ت)
محمد عبدالقیوم قادری
بہترین جز ا عطا فرمائے الله تعالی خوب جانتا ہے اورا س کی طرف ہی لوٹنا ہے۔ (ت)
جنا ب مولانا حکیم(ابوالبرکات)استھانوی بہاری
(۴)حامدا ومصلیا قد صح ما فی ھذہ الفتوی کیف لاوھی مملوۃ من الروایات الفقھیۃ المعتبرۃ والاحادیث الصحیحۃ فالمجیب مصیب بلاامتراء جزاہ اﷲ سبحنہ بفضلہ الاوفی خیر الجزاء حیث صرف ھمۃ العلیا و بذل جھدہ بالنھج الاعلی فی رد الکلمات السفلی من اجاب فقد اصاب ودونہ خرط القتاد واﷲ اعلم بالصواب فقط
الله تعالی کی حمدکرتے اور نبی کریم پر درود بھیجتے ہوئے کہتاہوں کہ جوکچھ اس فتوی میں ہے درست ہے کیسے نہ ہو جبکہ یہ فتوی معتبر فقہی روایات اور صحیح احادیث سے لبریز ہے اور مجیب بلاشبہ مصیب ہے۔ الله تعالی اپنے بے انتہا فضل سے مجیب کو جزائے خیر عطا فرمائے جس نے کلمات سفلی کے رد میں اپنی بلند ہمتی اور سعی بلیغ کو کامل طریقے سے بروئے کار لایا۔ مجیب نے درست کہا جس کے خلاف کہنا مشکل وناممکن ہے والله تعالی اعلم بالصواب فقط(ت)
حررہ خویدم الطلبۃ الراجی الی رحمۃ ربہ المنان السید محمد سلیمان اشرف البہاری المرداوی عفی عنہ۔
(۵)حامد اومصلیا الجواب حق فما ذا بعد الحق الاالضلال۔
الله تعالی کی حمد کرتے ہوئے اور نبی اقدس پر درود بھیجتے ہوئے کہتا ہوں کہ جواب حق ہے اور حق کے بعد سوائے گمراہی کے کچھ نہیں۔ (ت)
کتبہ خادم الطلبہ خاکسار سید ناظر حسین بہاری المرداوی
فتوائے علمائے بدایوں
(۱)المجیب مصیب(جواب درست ہے۔ ت)
محب الرسول عبدالقادر قادری
(۲)لاریب فیہ(اس میں کوئی شك نہیں۔ ت)
مطیع الرسول محمد بن عبدالمقتدر قادری
(۳)الجواب صحیح(جواب صحیح ہے۔ ت)
محمد عبدالقیوم قادری
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الحمد ﷲ الذی لم یرتض الطیبات الاللطیبین الاخیار وترك الخبیثین للخبیثات الاقذا ر والصلوۃ والسلام علی من امرنا بالتجنب عن کلاب النار وعلی الہ وصحبہ الشاھر ین سیوفھم علی رؤوس المبتدعین الفجار۔
اس الله تعالی کے لیے حمدہے جس نے طیبات کو صرف طیب لوگوں کے لیے منتخب فرمایا اور خبیث خبیث لوگوں کے لیے چھوڑ دیا گیا اور صلوۃ وسلام اس پر جس نے ہمیں جہنم کے کتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور آپ کے آل و اصحاب پر جو بدعتی فاجر لوگوں پر اپنی تلواریں لہرا رہے ہیں۔ (ت)
فی الواقع صورت مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعا محض باطل و زنا ہے یا ممنوع وگناہ سائل سنی صاحب معاملہ سنی وسنیہ۔ برادران سنت ہی سے خطاب ہے اور انھیں کو حکم شرع سے اطلاع دینی مقصود کہ ایك ذرا بنگاہ غور ملاحظہ فرمائیں اگر دلیل شرعی سے یہ احکام ظاہر ہوجائیں تو سنی بھائیوں سے توقع کہ نہ صرف زبانی قبول بلکہ ہمیشہ اسی پر عمل فرمائیں گے اور اپنی کریمہ عزیزہ بنات واخوات کو ہلاك وابتلا اور دین وناموس میں گرفتاری بلاسے بچائیں گے وبالله التوفیق وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے اگرچہ صورت صورت سوال کا عکس ہویعنی سنی مردایسی عورت کونکاح میں لانا چاہے کہ مدعیان اسلام میں جو عقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتد ہے کما حققنا فی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ(جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ “ المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ “ میں تحقیق کی ہے۔ ت)ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے : احکامھم مثل احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت) اور مرتدمرد خواہ عورت کا نکاح تمام عالم میں کسی عورت ومرد مسلم یا کافر مرتدیااصلی کسی سے نہیں ہوسکتا خانیہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے :
واللفظ للاخیرۃ لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔
دوسری کے الفاظ یہ ہیں مرتد کے لیے کسی عورت مسلمان کافرہ یا مرتدہ سے نکاح جائز نہیں اور یونہی مرتدہ عورت کا کسی بھی شخص سے نکاح جائز نہیں۔ جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الحمد ﷲ الذی لم یرتض الطیبات الاللطیبین الاخیار وترك الخبیثین للخبیثات الاقذا ر والصلوۃ والسلام علی من امرنا بالتجنب عن کلاب النار وعلی الہ وصحبہ الشاھر ین سیوفھم علی رؤوس المبتدعین الفجار۔
اس الله تعالی کے لیے حمدہے جس نے طیبات کو صرف طیب لوگوں کے لیے منتخب فرمایا اور خبیث خبیث لوگوں کے لیے چھوڑ دیا گیا اور صلوۃ وسلام اس پر جس نے ہمیں جہنم کے کتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور آپ کے آل و اصحاب پر جو بدعتی فاجر لوگوں پر اپنی تلواریں لہرا رہے ہیں۔ (ت)
فی الواقع صورت مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعا محض باطل و زنا ہے یا ممنوع وگناہ سائل سنی صاحب معاملہ سنی وسنیہ۔ برادران سنت ہی سے خطاب ہے اور انھیں کو حکم شرع سے اطلاع دینی مقصود کہ ایك ذرا بنگاہ غور ملاحظہ فرمائیں اگر دلیل شرعی سے یہ احکام ظاہر ہوجائیں تو سنی بھائیوں سے توقع کہ نہ صرف زبانی قبول بلکہ ہمیشہ اسی پر عمل فرمائیں گے اور اپنی کریمہ عزیزہ بنات واخوات کو ہلاك وابتلا اور دین وناموس میں گرفتاری بلاسے بچائیں گے وبالله التوفیق وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے اگرچہ صورت صورت سوال کا عکس ہویعنی سنی مردایسی عورت کونکاح میں لانا چاہے کہ مدعیان اسلام میں جو عقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتد ہے کما حققنا فی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ(جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ “ المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ “ میں تحقیق کی ہے۔ ت)ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے : احکامھم مثل احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت) اور مرتدمرد خواہ عورت کا نکاح تمام عالم میں کسی عورت ومرد مسلم یا کافر مرتدیااصلی کسی سے نہیں ہوسکتا خانیہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے :
واللفظ للاخیرۃ لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔
دوسری کے الفاظ یہ ہیں مرتد کے لیے کسی عورت مسلمان کافرہ یا مرتدہ سے نکاح جائز نہیں اور یونہی مرتدہ عورت کا کسی بھی شخص سے نکاح جائز نہیں۔ جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
حدیقہ ندیہ الاستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۰۵
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرك کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا مگر کبرائے وہابیہ یامجتہدین روافض خذلہم الله تعالی کہ وہ عقائد رکھتے ہیں انھیں امام وپیشوا یامسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقینا اجماعا خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے وجیز امام کردری ودرمختار وشفائے امام قاضی عیاض وغیرہا میں ہے :
واللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔
شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں علما کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ کافرہے۔ (ت)
اور اگرا س سے بھی خالی ہے ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایان طائفہ ہوں صاف صاف کافر مانتا ہے(اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہد قوی ہے)تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا کہ ان طوائف ضالہ کے عقائد باطلہ میں بکثرت ہیں جن کا شافی ووافی بیان فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ(۱۳۱۲ھ)میں ہے اور بقدر کافی رسالہ سل السیوف الھندیہ علی کفریات باباالنجدیۃ (۱۳۱۲ھ)میں مذکور۔ اور اگرچہ نہ ہو تو تقلید ائمہ کو شرك اور مقلدین کو مشرك کہنا ان حضرات کا مشہور ومعروف عقیدہ ضلالت ہے یونہی معاملات انبیاء واولیاء واموات واحیأ کے متعلق صدہا باتوں میں ادنی ادنی بات ممنوع یا مکروہ بلکہ مباحات ومستحبات پر جا بجا حکم شرك لگادینا خاص اصل الاصول وہابیت ہے جن سے ان کے دفاتر بھرے پڑے ہیں کیا یہ امور مخفی ومستور ہیں کیا ان کی کتابوں زبانوں رسالوں بیانوں میں کچھ کمی کے ساتھ مذکور ہیں کیا ہر سنی عالم وعامی اس سے آگاہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موحد اور مسلمانوں کو معاذالله مشرك کہتے ہیں آج سے نہیں شروع سے ان کا خلاصہ اعتقاد یہی ہے کہ جو وہابی نہ ہو سب مشرک ردالمحتار میں اسی گروہ وہابیہ کے بیان میں ہے :
اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون ۔
ان کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی مسلمان ہیں او ر جو عقیدہ میں ان کے خلاف ہو وہ مشرك ہے(ت)
فقیر نے رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید(۱۳۰۵ھ)میں واضح کیا کہ خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین وعلما ئے کاملین واولیائے عارفین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین معاذالله سب مشرکین قرار پاتے ہیں خصوصا وہ جماہیر ائمہ کرام وسادات اسلام وعلمائے اعلام جو تقلید شخصی پر سخت شدید تاکید فرماتے اورا س کے خلاف کو منکر وشنیع وباطل وفظیع
واللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔
شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں علما کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ کافرہے۔ (ت)
اور اگرا س سے بھی خالی ہے ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایان طائفہ ہوں صاف صاف کافر مانتا ہے(اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہد قوی ہے)تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا کہ ان طوائف ضالہ کے عقائد باطلہ میں بکثرت ہیں جن کا شافی ووافی بیان فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ(۱۳۱۲ھ)میں ہے اور بقدر کافی رسالہ سل السیوف الھندیہ علی کفریات باباالنجدیۃ (۱۳۱۲ھ)میں مذکور۔ اور اگرچہ نہ ہو تو تقلید ائمہ کو شرك اور مقلدین کو مشرك کہنا ان حضرات کا مشہور ومعروف عقیدہ ضلالت ہے یونہی معاملات انبیاء واولیاء واموات واحیأ کے متعلق صدہا باتوں میں ادنی ادنی بات ممنوع یا مکروہ بلکہ مباحات ومستحبات پر جا بجا حکم شرك لگادینا خاص اصل الاصول وہابیت ہے جن سے ان کے دفاتر بھرے پڑے ہیں کیا یہ امور مخفی ومستور ہیں کیا ان کی کتابوں زبانوں رسالوں بیانوں میں کچھ کمی کے ساتھ مذکور ہیں کیا ہر سنی عالم وعامی اس سے آگاہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موحد اور مسلمانوں کو معاذالله مشرك کہتے ہیں آج سے نہیں شروع سے ان کا خلاصہ اعتقاد یہی ہے کہ جو وہابی نہ ہو سب مشرک ردالمحتار میں اسی گروہ وہابیہ کے بیان میں ہے :
اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون ۔
ان کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی مسلمان ہیں او ر جو عقیدہ میں ان کے خلاف ہو وہ مشرك ہے(ت)
فقیر نے رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید(۱۳۰۵ھ)میں واضح کیا کہ خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین وعلما ئے کاملین واولیائے عارفین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین معاذالله سب مشرکین قرار پاتے ہیں خصوصا وہ جماہیر ائمہ کرام وسادات اسلام وعلمائے اعلام جو تقلید شخصی پر سخت شدید تاکید فرماتے اورا س کے خلاف کو منکر وشنیع وباطل وفظیع
حوالہ / References
کتاب الشفاء القسم الرابع الباب الاول دارسعادت بیروت ۲ / ۲۰۸ ، درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۱
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۱
بتاتے رہے جیسے امام حجۃ الاسلام محمد غزالی وامام برہان الدین صاحب ہدایہ و امام احمد ابوبکر جوزجانی وامام کیاہر اسی وامام ابن سمعانی وامام اجل امام الحرمین وصاحبان خلاصہ وایضاح وجامع الرموز وبحرالرائق و نہر الفائق وتنویرالابصار ودرمختار وفتاوی خیریہ وغمزالعیون وجواہر الاخلاطی ومنیہ وسراجیہ ومصفی و جواھر و تتارخانیہ ومجمع وکشف وعالمگیریہ ومولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی وجناب شیخ مجد دالف ثانی وغیرہم ہزاروں اکابر کے ایمان کا توکہیں پتا ہی نہیں رہتا اور مسلمان تو نرے مشرك بنتے ہیں یہ حضرات مشرك ٹھہرتے ہیں والعیاذ بالله سبحنہ وتعالی اور جمہور ائمہ کرام فقہائے اعلام کا مذہب صحیح ومعتمدومفتی بہ یہی ہے کہ جو کسی ایك مسلمان کوبھی کافر اعتقاد کرے خود کافر ہے ذخیرہ وبزازیہ وفصول عمادی وفتاوی قاضی خاں وجامع الفصولین وخزانۃ المفتین و جامع الرموز وشرح نقایہ برجندی وشرح وہبانیہ ونہرا لفائق ودرمختار ومجمع الانہر واحکام علی الدرر وحدیقہ ندیہ و عالمگیری وردالمحتار وغیرہا عامہ کتب میں اس کی تصریحات واضحہ کتب کثیرہ میں اسے فرمایا : المختار للفتوی (فتوی کے لیے مختار ہے۔ ت)شرح تنویر میں فرمایا : بہ یفتی (اس پر فتوی دیا جاتا ہے۔ ت) یہ افتاءو تصحیحات اس قول اطلاق کے مقابل ہیں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے والا مطلقاکافر اگرچہ محض بطور دشنام کہے نہ از راہ اعتقاد جامع الفصولین میں ہے :
قال لغیرہ یا کافر قال الفقیہ الاعمش البلخی کفر القائل وقال غیرہ من مشائخ بلخ لایکفر فاتفقت ھذہ المسألۃ ببخاری اذاجاب بعض ائمہ بخاری انہ کفر فرجع الجواب الی بلخ فمن افتی بخلاف الفقیہ الاعمش رجع الی قولہ وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخاری والمختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان قائل ھذہ المقالات لو ارادالشتم ولایعتقد کافرا لایکفر ولو
کسی نے غیر کوکہا “ اے کافر “ امام اعمش فقیہ بلخی نے فرمایا وہ کافر ہوگیا اورا ن کے علاوہ دیگر مشائخ نے فرمایا : وہ کافر نہ ہوگا اوریہی مسئلہ بخاری میں پیش آیا تو بخاری کے بعض ائمہ نے فرمایا : وہ کافرہوگیا۔ جب یہ جواب بلخ پہنچا تو جن لوگوں نے امام اعمش فقیہ کے خلاف فتوی دیا تھا انھوں نے رجوع کرکے اعمش کے قول سے اتفاق کرلیا اور ابولیث اور بخاری کے بعض ائمہ کے نزدیك کافر نہ کہنا مناسب ہے جبکہ اس قسم کے مسائل میں فتوی یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کہنے والے نے اگرگالی مراد لی ہو اور کفرمراد نہ لیا تو کافر نہ ہوگا۔ اوراگر اس نے
قال لغیرہ یا کافر قال الفقیہ الاعمش البلخی کفر القائل وقال غیرہ من مشائخ بلخ لایکفر فاتفقت ھذہ المسألۃ ببخاری اذاجاب بعض ائمہ بخاری انہ کفر فرجع الجواب الی بلخ فمن افتی بخلاف الفقیہ الاعمش رجع الی قولہ وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخاری والمختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان قائل ھذہ المقالات لو ارادالشتم ولایعتقد کافرا لایکفر ولو
کسی نے غیر کوکہا “ اے کافر “ امام اعمش فقیہ بلخی نے فرمایا وہ کافر ہوگیا اورا ن کے علاوہ دیگر مشائخ نے فرمایا : وہ کافر نہ ہوگا اوریہی مسئلہ بخاری میں پیش آیا تو بخاری کے بعض ائمہ نے فرمایا : وہ کافرہوگیا۔ جب یہ جواب بلخ پہنچا تو جن لوگوں نے امام اعمش فقیہ کے خلاف فتوی دیا تھا انھوں نے رجوع کرکے اعمش کے قول سے اتفاق کرلیا اور ابولیث اور بخاری کے بعض ائمہ کے نزدیك کافر نہ کہنا مناسب ہے جبکہ اس قسم کے مسائل میں فتوی یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کہنے والے نے اگرگالی مراد لی ہو اور کفرمراد نہ لیا تو کافر نہ ہوگا۔ اوراگر اس نے
حوالہ / References
جامع الفصولین فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۱
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
اعتقد کافر ا کفر اھ اختصارا
کفر کا اعتقاد کیا تو وہ کا فر ہے اھ اختصارا
تو فقہائے کرام کے قول کے مطلق و حکم مفتی بہ دونوں کے رو سے بالاتفاق ان پر حکم کفر ثابت اور یہی حکم ظواہر احادیث صحیحہ سے مستفاد صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہا میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث سے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرما تے ہیں :
ایما امرئ قال لاخیہ کافرا فقد باء بھا احدھما زاد مسلم ان کا ن کما قال والا رجعت الیہ
جو کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایك پر یہ بلا ضرور پڑے گی اگر جسے کہا وہ فی الحقیقۃ کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کفر کا حکم اسی قائل پر پلٹ آئے گا۔ (ت)
نیز صحیحین وغیرھما میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے ہے :
لیس من دعا رجلا با لکفر او قال عدو الله و لیس کذلك الا حا ر علیہ۔
جو کسی کو کفر پر پکارے یا خدا کا دشمن بتائے اور وہ ایسا نہ ہو تو اس کا یہ قول اسی پر پلٹ آئے۔
طرفہ یہ کہ ان حضرات کو ظواہر احادیث ہی پر عمل کرنے کا بڑا دعوی ہے تو ثابت ہوا کہ حدیث وفقہ دونوں کے حکم سے مسلمان کی تکفیر پرحکم کفر لازم نہ کہ لاکھوں کروڑوں ائمہ واولیا ء وعلماء کی معاذالله تکفیر ان صاحبوں کا خلاصہ مذہب ابھی ردالمحتار سے منقول ہوا کہ جو وہابی نہیں سب کو مشرك مانتے ہیں اسی بنا پر علامہ شامی رحمۃ الله تعالی نے انھیں خوارج میں داخل فرمایا اور وجیز کردری میں ارشاد ہے :
یجب اکفار الخوارج فی اکفارھم جمیع الا مۃ سواھم۔
خوارج کو کافر کہنا واجب ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے ہم مذہب کے سوا سب کو کا فر کہتے ہیں۔
لا جرم الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃمیں فرمایا :
ھؤلاء الملا حدۃ المکفرۃ للمسلمین
یعنی یہ وہا بی ملحد بے دین کہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔
کفر کا اعتقاد کیا تو وہ کا فر ہے اھ اختصارا
تو فقہائے کرام کے قول کے مطلق و حکم مفتی بہ دونوں کے رو سے بالاتفاق ان پر حکم کفر ثابت اور یہی حکم ظواہر احادیث صحیحہ سے مستفاد صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہا میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث سے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرما تے ہیں :
ایما امرئ قال لاخیہ کافرا فقد باء بھا احدھما زاد مسلم ان کا ن کما قال والا رجعت الیہ
جو کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایك پر یہ بلا ضرور پڑے گی اگر جسے کہا وہ فی الحقیقۃ کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کفر کا حکم اسی قائل پر پلٹ آئے گا۔ (ت)
نیز صحیحین وغیرھما میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے ہے :
لیس من دعا رجلا با لکفر او قال عدو الله و لیس کذلك الا حا ر علیہ۔
جو کسی کو کفر پر پکارے یا خدا کا دشمن بتائے اور وہ ایسا نہ ہو تو اس کا یہ قول اسی پر پلٹ آئے۔
طرفہ یہ کہ ان حضرات کو ظواہر احادیث ہی پر عمل کرنے کا بڑا دعوی ہے تو ثابت ہوا کہ حدیث وفقہ دونوں کے حکم سے مسلمان کی تکفیر پرحکم کفر لازم نہ کہ لاکھوں کروڑوں ائمہ واولیا ء وعلماء کی معاذالله تکفیر ان صاحبوں کا خلاصہ مذہب ابھی ردالمحتار سے منقول ہوا کہ جو وہابی نہیں سب کو مشرك مانتے ہیں اسی بنا پر علامہ شامی رحمۃ الله تعالی نے انھیں خوارج میں داخل فرمایا اور وجیز کردری میں ارشاد ہے :
یجب اکفار الخوارج فی اکفارھم جمیع الا مۃ سواھم۔
خوارج کو کافر کہنا واجب ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے ہم مذہب کے سوا سب کو کا فر کہتے ہیں۔
لا جرم الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃمیں فرمایا :
ھؤلاء الملا حدۃ المکفرۃ للمسلمین
یعنی یہ وہا بی ملحد بے دین کہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔
حوالہ / References
جامع الفصولین فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۱
صحیح البخاری باب من اکفر اخا ہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۱
صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
فتاوی بزازیہ علی ہامش ہندیہ نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۱۸
الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃ المکتبہ الحقیقۃ استنبول ترکی ص ۳۸
صحیح البخاری باب من اکفر اخا ہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۱
صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۷
فتاوی بزازیہ علی ہامش ہندیہ نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۱۸
الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃ المکتبہ الحقیقۃ استنبول ترکی ص ۳۸
پھر یہ بھی ان کے صرف ایك مسئلہ ترك تقلید کی رو سے ہے باقی مسائل متعلقہ انبیا ء واولیا ء وغیرھم میں ان کے شرك کی اونچی اڑانیں دیکھئے۔ فقیر نے رسالہ اکمال الطامۃ علی شرك سوی بالامور العامۃ میں کلام الہی کی ساٹھ آیتوں اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تین سو۳۰۰ حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ ان کے مذہب نامہذب پر نہ صرف امت مرحومہ بلکہ انبیائے کرام وملائکہ عظام وخود حضور پر نور سید الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام حتی کہ خود رب العزۃ جل وعلا تك کوئی بھی شرك سے محفوظ نہیں ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم پھر ایسے مذہب ناپاك کےکفریات واضحہ ہونے میں کون مسلما ن تامل کر سکتا ہے پھر یہ عقائد باطلہ و مقالات زائغہ جب ان حضرات کے اصول مذہب ہیں تو کسی وہابی صاحب کا ان سے خالی ہونا کیونکر معقول یہ ایسا ہو گا جس طرح کچھ روافض کو کہا جائے تبرا وتفضیل سے پاك ہیں اور بالفرض تسلیم بھی کر لیں کہ کوئی وہابی صاحب کسی جگہ کسی مصلحت سے ان تمام عقائد مردودہ و اقوال مطرودہ سے تحاشی بھی کریں یا بفرض غلط فی الواقع ان سے خالی ہوں تو یہ کیونکر متصور کہ ان کے اگلے پچھلے چھوٹے بڑے مصنف مؤلف واعظ مکلب نجدی دہلوی بنگالی بھوپالی وغیرھم جن کے کلام میں ان اباطیل کی تصریحات ہیں یہ صاحب ان سب کے کفر یا اقل درجہ لزوم کفر کا اقرار کریں کیا دنیا میں کوئی وہابی ایسا نکلے گا کہ اپنے اگلے پچھلوں پیشواؤں ہم مذہبوں سب کے کفر و لزوم کفر کا مقر ہو او ر جتنے احکا م باطلہ سے کتاب التوحید و تقویۃ الایمان و صراط مستقیم و تنویر العینین و تصانیف بھوپالی و سورج گڑھی و بٹالوی وغیرھم میں مسلمانوں پر حکم شرك لگا یا جو معاذ الله خدا و رسول وانبیا ء و ملائکہ سب تك پہنچا ان سب کو کفر کہہ دے حاش لله ہر گز نہیں بلکہ قطعا انھیں اچھا جانتے امام وپیشوا وصلحائے علما مانتے اور ان کے کلمات و اقوال کو یا معنی و مقبول سمجھتے اور ان پر رضا رکھتے ہیں اور خودکفریا ت بکنا یا کفریا ت پر راضی ہونا برا نہ جاننا ان کے لیے معنی صحیح ماننا سب کا ایك ہی حکم ہے اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام سے ان امور کے بیان میں جو بالاتفاق کفر ہیں نقل فرمایا :
من تلفظ بلفظ کفر یکفر و کذا کل من ضحك او استحسنہ او رضی بہ یکفر
جس نے کلمہ کفر یہ بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی یا اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا ا س کو بھی کافر قرار دیا جائے گا(ت)
من تلفظ بلفظ کفر یکفر و کذا کل من ضحك او استحسنہ او رضی بہ یکفر
جس نے کلمہ کفر یہ بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی یا اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا ا س کو بھی کافر قرار دیا جائے گا(ت)
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام ملحق بسبل النجاۃ مطبعہ حقیقہ استانبول ترکی ص۳۶۶
بحرالرائق میں ہے :
من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔
جس نے بے دینی کی بات کو سراہا یا بامقصد قرار دیا یااس کے معنی کو صحیح قرار دیا تو اگر یہ کلمہ کفر ہو تو اس کاقائل کافر ہوگا اورا س کی تحسین کرنے والا بھی(ت)
تو دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو او رنکاح کا جواز عدم جواز نہیں مگر ایك مسئلہ فقہی تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلا جائز نہیں خواہ مرد وہابی ہو یاعورت وہابیہ اور مرد سنی ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم نہیں توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں لله انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں تکفیر سے سکوت زبان کے لیے احتیاط تھی اور اس نکاح سے احتراز فرج کے واسطے احتیاط ہے یہ کونسی شرع کہ ز بان کے باب میں احتیاط کیجئے اور فرج کے بارے میں بے احتیاطی انصاف کیجئے تو بنظر واقع حکم اسی قدر سے منقح ہولیا کہ نفس الامر میں کوئی وہابی ان خرافات سے خالی نہ نکلے گا اور احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے نہ احتمالات غیرواقعیہ کا
بل صرحوا ان احکام الفقۃ تجری علی الغالب من دون نظر الی النادر۔
بلکہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ فقہی احکام کا مدار غالب امور بنتے ہیں نادر امور پیش نظرنہیں ہوتے۔ (ت)
اور اگراس سے تجاوز کرکے کوئی وہابی ایسا فرض کیجئے جوخود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین ولاحقین سب کو گمراہ وبدمذہب مانتا بلکہ بالفرض قائلان کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہواس کی وہابیت صرف اس قدر ہو کہ باوصف عامیت تقلید ضروری نہ جانے اور بے صلاحیت اجتہاد پیروی مجتہدین چھوڑ کر خود قرآن وحدیث سے اخذ احکام روا مانے تو اس قدرمیں شك نہیں کہ یہ فرضی شخص بھی آیہ کریمہ قطعیہ فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳) (اگر یہ نہیں جانتے تو اہل ذکر(علماء)سے پوچھو۔ ت)
من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلك کفرا من القائل کفر المحسن ۔
جس نے بے دینی کی بات کو سراہا یا بامقصد قرار دیا یااس کے معنی کو صحیح قرار دیا تو اگر یہ کلمہ کفر ہو تو اس کاقائل کافر ہوگا اورا س کی تحسین کرنے والا بھی(ت)
تو دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو او رنکاح کا جواز عدم جواز نہیں مگر ایك مسئلہ فقہی تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلا جائز نہیں خواہ مرد وہابی ہو یاعورت وہابیہ اور مرد سنی ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم نہیں توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں لله انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں تکفیر سے سکوت زبان کے لیے احتیاط تھی اور اس نکاح سے احتراز فرج کے واسطے احتیاط ہے یہ کونسی شرع کہ ز بان کے باب میں احتیاط کیجئے اور فرج کے بارے میں بے احتیاطی انصاف کیجئے تو بنظر واقع حکم اسی قدر سے منقح ہولیا کہ نفس الامر میں کوئی وہابی ان خرافات سے خالی نہ نکلے گا اور احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے نہ احتمالات غیرواقعیہ کا
بل صرحوا ان احکام الفقۃ تجری علی الغالب من دون نظر الی النادر۔
بلکہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ فقہی احکام کا مدار غالب امور بنتے ہیں نادر امور پیش نظرنہیں ہوتے۔ (ت)
اور اگراس سے تجاوز کرکے کوئی وہابی ایسا فرض کیجئے جوخود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین ولاحقین سب کو گمراہ وبدمذہب مانتا بلکہ بالفرض قائلان کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہواس کی وہابیت صرف اس قدر ہو کہ باوصف عامیت تقلید ضروری نہ جانے اور بے صلاحیت اجتہاد پیروی مجتہدین چھوڑ کر خود قرآن وحدیث سے اخذ احکام روا مانے تو اس قدرمیں شك نہیں کہ یہ فرضی شخص بھی آیہ کریمہ قطعیہ فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳) (اگر یہ نہیں جانتے تو اہل ذکر(علماء)سے پوچھو۔ ت)
حوالہ / References
بحرالرائق باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ / ۱۲۴
القرآن ۱۶ / ۴۳
القرآن ۱۶ / ۴۳
اور اجماع قطعی تمام ائمہ سلف کا مخالف ہے یہ اگر بطور فقہاء لزوم کفر سے بچ بھی گیا تو خارق اجماع ومتبع غیر سبیل المومنین وگمراہ وبددین ہونے میں کلام نہیں ہوسکتا جس طرح متکلمین کے نزدیك دو قسم پیشین کافر بالیقین کے سوا باقی جمیع اقسام کے وہابیہ اب اگر عورت سنیہ بالغہ اپنا نکاح کسی ایسے شخص سے کرے اورا س کا ولی پیش از نکاح اس شخص کی بدمذہبی پر آگاہ ہو کہ صراحۃ اس سے نکاح کئے جانے کی رضامندی ظاہر نہ کرے خواہ یوں کہ اسے اس کی بد مذہبی پراطلاع ہی نہ ہو یا نکاح سے پہلے اس قصد کی خبرنہ ہوئی یا بد مذہب جانا اور اس ارادہ پر مطلع بھی ہو ا مگرسکوت کیا صاف رضا کا مظہر نہ ہوا یا عورت نابالغہ ہو اور ولی مزوج اب وجد کے سوا یا اب وجد ایسے جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی تزوج کسی غیر کفو سے کرچکے ہوں یا وقت تزویج نشے میں ہوں ان سب صورتوں میں یہ بھی نکاح باطل وزنائے خالص ہوگا کہ بد مذہب کسی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو کے ساتھ تزویج میں یہی احکام مذکورہ ہیں درمختار میں ہے :
الکفاءۃ تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ نھر ۔
عربی اور عجمی لوگوں کے کفو میں دیانت اور تقوی کا اعتبار ہے تو فاسق شخص نیك عورت کا کفو نہ ہوگا نہر(ت)
غنیہ میں ہے :
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۔
اعتقاد فاسق عمل فاسق سے زیادہ برا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار وشرح علائی میں ہے :
لزم النکاح بغیر کفو ان المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لوسکران بحر وان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفواصلا ۔
اگر باپ یا دادا نے نکاح کیا تو غیر کفومیں بھی یہ نکاح لازم ہوگا بشرطیکہ باپ اور دادا نے اس سے قبل اختیار کو غلط استعمال نہ کیا ہو اورا گر وہ غلط اختیار استعمال کرچکا ہو تو بالاتفاق یہ نکاح صحیح نہ ہوگا اوراگر باپ یا دادا نشے میں ہو تب بھی بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا(بحر)اور نکاح والد اور دادا نے نہ کیا تو غیر کفو میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
الکفاءۃ تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ نھر ۔
عربی اور عجمی لوگوں کے کفو میں دیانت اور تقوی کا اعتبار ہے تو فاسق شخص نیك عورت کا کفو نہ ہوگا نہر(ت)
غنیہ میں ہے :
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۔
اعتقاد فاسق عمل فاسق سے زیادہ برا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار وشرح علائی میں ہے :
لزم النکاح بغیر کفو ان المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لوسکران بحر وان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفواصلا ۔
اگر باپ یا دادا نے نکاح کیا تو غیر کفومیں بھی یہ نکاح لازم ہوگا بشرطیکہ باپ اور دادا نے اس سے قبل اختیار کو غلط استعمال نہ کیا ہو اورا گر وہ غلط اختیار استعمال کرچکا ہو تو بالاتفاق یہ نکاح صحیح نہ ہوگا اوراگر باپ یا دادا نشے میں ہو تب بھی بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا(بحر)اور نکاح والد اور دادا نے نہ کیا تو غیر کفو میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
درمختار شرح تنویرالابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
درمختار شرح تنویرالابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
انہی میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی و بہ یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلاوھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
عاقلہ بالغہ نے ولی کی رضا کے بغیر نکاح کیا تو نکاح نافذہوگا اور غیر کفو میں عدم جوازکا فتوی دیا جائیگا اور یہی فتوی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد آگیا ہے تو مطلقہ ثلاثہ بھی اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرے تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو یہ معلوم ہو کہ وہ غیر کفو ہے یا د رکھو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
لایلزم التصریح بعدم الرضا بل السکوت منہ لایکون رضی وقولہ بلارضی یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ و بعدمھا و بوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ ح ا ھ الکل مختصر۔
ولی کو اپنی عدم رضا مندی کے اظہار کے لیے تصریح ضروری نہیں ہے بلکہ اس بارے میں اس کا خاموش رہنا ہی عدم رضا ہے اس کے قول “ بغیر رضا “ کا مصداق کفو غیر کفو کے علم کے بعد اور اسی طرح علم کے بغیر رضاکی نفی اور غیر کفو کا علم نہ ہونے پر رضامندی ان تین صورتوں میں حلال نہ ہوگی صرف چوتھی صورت میں حلال ہے اور وہ یہ ہے کہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو اور اس کے باوجود وہ نکاح پر راضی ہو اھ ح تمام اختصارا(ت)
اس تقریر منیر سے اس شبہہ کا ایك جواب حاصل ہوا جویہاں بعض اذہان میں گزرتا ہے کہ جب اہل کتاب سے مناکحت جائز ہے تو مبتدعین ان سے بھی گئے گزرے غیر مقلد مسلم ہے پھر نکاح مسلم ومسلمہ میں کیا توقف اہل کتاب سے مناکحت کے کیا معنی آیا یہ کہ مسلمان مرد کا کتابیہ کافرہ کو اپنے نکاح میں لانا اس کے جواز وعدم جواز سے ہم ان شاء الله تعالی عنقریب بحث کریں گے یہاں اسی قدر کافی ہے کہ مسئلہ دائرہ میں عورت سنیہ اور مرد وہابیہ کے نکاح سے بحث ہے عورت کا مرد پرقیاس کیونکر صحیح آخر وہ کیا فرق تھا جس کے لیے شرع مطہر نے کتابی سے مسلمہ کا نکاح زنا مانااور مسلم کا کتابیہ سے صحیح جانا اگر مسلمان مرد کسی کافرہ کو اپنے تصرف میں لاسکے تو کیا ضرور ہے
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی و بہ یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلاوھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
عاقلہ بالغہ نے ولی کی رضا کے بغیر نکاح کیا تو نکاح نافذہوگا اور غیر کفو میں عدم جوازکا فتوی دیا جائیگا اور یہی فتوی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد آگیا ہے تو مطلقہ ثلاثہ بھی اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرے تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو یہ معلوم ہو کہ وہ غیر کفو ہے یا د رکھو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
لایلزم التصریح بعدم الرضا بل السکوت منہ لایکون رضی وقولہ بلارضی یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ و بعدمھا و بوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ ح ا ھ الکل مختصر۔
ولی کو اپنی عدم رضا مندی کے اظہار کے لیے تصریح ضروری نہیں ہے بلکہ اس بارے میں اس کا خاموش رہنا ہی عدم رضا ہے اس کے قول “ بغیر رضا “ کا مصداق کفو غیر کفو کے علم کے بعد اور اسی طرح علم کے بغیر رضاکی نفی اور غیر کفو کا علم نہ ہونے پر رضامندی ان تین صورتوں میں حلال نہ ہوگی صرف چوتھی صورت میں حلال ہے اور وہ یہ ہے کہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو اور اس کے باوجود وہ نکاح پر راضی ہو اھ ح تمام اختصارا(ت)
اس تقریر منیر سے اس شبہہ کا ایك جواب حاصل ہوا جویہاں بعض اذہان میں گزرتا ہے کہ جب اہل کتاب سے مناکحت جائز ہے تو مبتدعین ان سے بھی گئے گزرے غیر مقلد مسلم ہے پھر نکاح مسلم ومسلمہ میں کیا توقف اہل کتاب سے مناکحت کے کیا معنی آیا یہ کہ مسلمان مرد کا کتابیہ کافرہ کو اپنے نکاح میں لانا اس کے جواز وعدم جواز سے ہم ان شاء الله تعالی عنقریب بحث کریں گے یہاں اسی قدر کافی ہے کہ مسئلہ دائرہ میں عورت سنیہ اور مرد وہابیہ کے نکاح سے بحث ہے عورت کا مرد پرقیاس کیونکر صحیح آخر وہ کیا فرق تھا جس کے لیے شرع مطہر نے کتابی سے مسلمہ کا نکاح زنا مانااور مسلم کا کتابیہ سے صحیح جانا اگر مسلمان مرد کسی کافرہ کو اپنے تصرف میں لاسکے تو کیا ضرور ہے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
کہ سنیہ عورت بھی بد مذہب کے تصرف میں جاسکے عورت کے لیے کفاءت مرد بالاجماع ملحوظ جس کی بنا پراحکام مذکورہ متفرع ہوئے اورمرد بالغ کے حق میں کفاءت زن کا کچھ اعتبار نہیں کہ دناءت فراش وجہ غیظ مستفرش نہیں ہوتی۔
فی الدرالمختار الکفاءۃ معتبرۃ من جانب الرجل لان الشریفۃ تأبی ان تکون فراشا للدنی ولاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دناءۃ الفراش ۔ ملخصا
درمختار میں ہے کہ کفو مرد کی طرف سے معتبر ہے کیونکہ شریف عورت حقیر مرد کی بیوی بننے سے انکاری ہوتی ہے اور عورت کی طرف سے مرد کے لیے ہم کفو ہونا معتبر نہیں ہے کیونکہ خاوند تو بیوی بنالیتا ہے خواہ عورت ادنی ہو وہ اس وجہ سے عار نہیں پاتا۔ ملخصا(ت)
وہابی توبد مذہب گمراہ ہے اگر کوئی زن شریفہ بے رضائے صریح ولی بروجہ مذکور کسی سنی صحیح العقیدہ صالح حائك سے نکاح کرلے یا غیر ولی غیرا ب وجد اپنی صغیرہ کو کسی ایسے سے بیاہ دے تو ناجائز وباطل ہوگا یا نہیں ضرورباطل ہے پھر یہ سنی صالح کیا ان سے بھی گیا گزرا اور نکاح مسلم ومسلمہ میں کیوں بطلان کا حکم ہوا ھذا ولنرجع الی ماکنا فیہ(اس کو محفوظ کرو اور ہمیں اپنی بحث کی طرف لوٹنا چاہئے۔ ت)یہ صورتیں بطلان نکاح بوجہ عدم کفاءت کی تھیں اوراگر ان کے سوا وہ صورت ہو جہاں عدم کفاءت مانع صحت نہیں تو پہلے اتنا سمجھ لیجئے کہ عرف فقہ میں جواز دومعنی پر مستعمل ایك بمعنی صحت اور عقود میں یہی زیادہ متعارف یہ عقد جائز ہے یعنی صحیح مثمرثمرات مثل افادہ ملك متعہ یا ملك یمین یا ملك منافع ہے اگرچہ ممنوع وگناہ ہو جیسے بیع وقت اذان جمعہ دوسرے بمعنی حلت اور افعال میں یہی ز یادہ مروج یہ کام جائز ہے یعنی حلال ہے حرام نہیں گناہ نہیں ممانعت شرعیہ نہیں بحرالرائق کتاب الطہارۃ بیان میاہ میں ہے :
المشائخ تارۃ یطلقون الجواز بمعنی الحل وتارۃ بمعنی الصحۃ وھی لازمۃ للاول من غیر عکس والغالب ارادۃ الاول فی الافعال والثانی فی العقود ۔
مشائخ لفظ “ جواز “ کو کبھی حلال ہونے کے معنی میں اور کبھی صحیح ہونے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ صحیح ہو نا حلال ہونے کو لازم ہے غالب طورپر افعال میں حلال ہونے اور عقود میں صحیح ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے(ت)
اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ در میں نقل کیا اور مقرر رکھا درمختار میں ہے :
فی الدرالمختار الکفاءۃ معتبرۃ من جانب الرجل لان الشریفۃ تأبی ان تکون فراشا للدنی ولاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دناءۃ الفراش ۔ ملخصا
درمختار میں ہے کہ کفو مرد کی طرف سے معتبر ہے کیونکہ شریف عورت حقیر مرد کی بیوی بننے سے انکاری ہوتی ہے اور عورت کی طرف سے مرد کے لیے ہم کفو ہونا معتبر نہیں ہے کیونکہ خاوند تو بیوی بنالیتا ہے خواہ عورت ادنی ہو وہ اس وجہ سے عار نہیں پاتا۔ ملخصا(ت)
وہابی توبد مذہب گمراہ ہے اگر کوئی زن شریفہ بے رضائے صریح ولی بروجہ مذکور کسی سنی صحیح العقیدہ صالح حائك سے نکاح کرلے یا غیر ولی غیرا ب وجد اپنی صغیرہ کو کسی ایسے سے بیاہ دے تو ناجائز وباطل ہوگا یا نہیں ضرورباطل ہے پھر یہ سنی صالح کیا ان سے بھی گیا گزرا اور نکاح مسلم ومسلمہ میں کیوں بطلان کا حکم ہوا ھذا ولنرجع الی ماکنا فیہ(اس کو محفوظ کرو اور ہمیں اپنی بحث کی طرف لوٹنا چاہئے۔ ت)یہ صورتیں بطلان نکاح بوجہ عدم کفاءت کی تھیں اوراگر ان کے سوا وہ صورت ہو جہاں عدم کفاءت مانع صحت نہیں تو پہلے اتنا سمجھ لیجئے کہ عرف فقہ میں جواز دومعنی پر مستعمل ایك بمعنی صحت اور عقود میں یہی زیادہ متعارف یہ عقد جائز ہے یعنی صحیح مثمرثمرات مثل افادہ ملك متعہ یا ملك یمین یا ملك منافع ہے اگرچہ ممنوع وگناہ ہو جیسے بیع وقت اذان جمعہ دوسرے بمعنی حلت اور افعال میں یہی ز یادہ مروج یہ کام جائز ہے یعنی حلال ہے حرام نہیں گناہ نہیں ممانعت شرعیہ نہیں بحرالرائق کتاب الطہارۃ بیان میاہ میں ہے :
المشائخ تارۃ یطلقون الجواز بمعنی الحل وتارۃ بمعنی الصحۃ وھی لازمۃ للاول من غیر عکس والغالب ارادۃ الاول فی الافعال والثانی فی العقود ۔
مشائخ لفظ “ جواز “ کو کبھی حلال ہونے کے معنی میں اور کبھی صحیح ہونے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ صحیح ہو نا حلال ہونے کو لازم ہے غالب طورپر افعال میں حلال ہونے اور عقود میں صحیح ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے(ت)
اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ در میں نقل کیا اور مقرر رکھا درمختار میں ہے :
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
یجوز رفع الحدث بما ذکر الخ(مذکور چیز کے ساتھ حدث کو ختم کرنا جائز ہے الخ۔ ت)اسی پر ردالمحتار میں کہا :
یجوز ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغصوب وھو اولی من ارادۃ الحل وان کان الغالب ارادۃ الاول فی العقود و الثانی فی الافعال ۔
یجوز یعنی یصح اگرچہ حلال نہ ہو مثلا غصب شدہ پانی کے ساتھ اور یہی معنی یہاں بہتر ہے بجائیکہ حلال و الا معنی مراد لیا جائے اگرچہ صحیح غالب طورپر عقود میں اور حلال افعال میں استعمال ہوتا ہے۔ (ت)
درمختار کتاب الاشربہ میں ہے :
صح بیع غیر الخمر مامر و مفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والا فیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز فکتب لایجوز فیحمل علی ان مرادہ بعدم الجواز عدم الحل ۔
مذکورہ چیزوں میں سے غیر خمر کی بیع صحیح ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ حشیش اور افیون کی بیع صحیح ہے میں کہتاہوں کہ ابن نجیم سے حشیش کی بیع کے متعلق پوچھاگیا کہ وہ جائز ہے تو انھوں نے جواب میں لکھا لایجوز۔ ان کا مقصد عدم جواز سے عدم حل ہے۔(ت)
بالجملہ جواز کے یہ دونوں اطلاق شائع وذائع ہیں اور ان کے سوا اور اطلاقات عــــہ بھی ہیں جن کی تفصیل سے
عــــہ : فقد یطلق بمعنی النفاذ کماقال فی کفاءۃ التنویر امرہ بتزویج امرأۃ فزوجہ امۃ جاز ای نفذ لان الکلام ثمہ فی النفاذ لافی الجواز افادہ السادات الثلثۃ المحشون ح ط ش
اور کبھی جواز کا اطلاق “ نفاذ “ پر بھی ہوتا ہے جیساکہ تنویر کے کفاءۃ کے باب میں ہے اگر کسی نے دوسرے کو کہا کسی عورت سے میرا نکاح کردے تو اس نے لونڈی سے نکاح کردیا تو جائز ہے یعنی نافذ ہے کیونکہ یہاں نفاذ میں بات ہورہی ہے جواز میں بحث نہیں (باقی اگلے صفحہ پر)
یجوز ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغصوب وھو اولی من ارادۃ الحل وان کان الغالب ارادۃ الاول فی العقود و الثانی فی الافعال ۔
یجوز یعنی یصح اگرچہ حلال نہ ہو مثلا غصب شدہ پانی کے ساتھ اور یہی معنی یہاں بہتر ہے بجائیکہ حلال و الا معنی مراد لیا جائے اگرچہ صحیح غالب طورپر عقود میں اور حلال افعال میں استعمال ہوتا ہے۔ (ت)
درمختار کتاب الاشربہ میں ہے :
صح بیع غیر الخمر مامر و مفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والا فیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز فکتب لایجوز فیحمل علی ان مرادہ بعدم الجواز عدم الحل ۔
مذکورہ چیزوں میں سے غیر خمر کی بیع صحیح ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ حشیش اور افیون کی بیع صحیح ہے میں کہتاہوں کہ ابن نجیم سے حشیش کی بیع کے متعلق پوچھاگیا کہ وہ جائز ہے تو انھوں نے جواب میں لکھا لایجوز۔ ان کا مقصد عدم جواز سے عدم حل ہے۔(ت)
بالجملہ جواز کے یہ دونوں اطلاق شائع وذائع ہیں اور ان کے سوا اور اطلاقات عــــہ بھی ہیں جن کی تفصیل سے
عــــہ : فقد یطلق بمعنی النفاذ کماقال فی کفاءۃ التنویر امرہ بتزویج امرأۃ فزوجہ امۃ جاز ای نفذ لان الکلام ثمہ فی النفاذ لافی الجواز افادہ السادات الثلثۃ المحشون ح ط ش
اور کبھی جواز کا اطلاق “ نفاذ “ پر بھی ہوتا ہے جیساکہ تنویر کے کفاءۃ کے باب میں ہے اگر کسی نے دوسرے کو کہا کسی عورت سے میرا نکاح کردے تو اس نے لونڈی سے نکاح کردیا تو جائز ہے یعنی نافذ ہے کیونکہ یہاں نفاذ میں بات ہورہی ہے جواز میں بحث نہیں (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۳
درمختار کتاب ا لاشربہ مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۲۶۰
درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۳
درمختار کتاب ا لاشربہ مطبع مجتبائی دہلی ۳ / ۲۶۰
درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۵
یہاں بحث نہیں۔ اب اس صورت خاصہ میں جواز بمعنی صحت ضرور ہے یعنی نکاح کردیں تو ہوجائے گا اور حل بمعنی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وھو اخص من وجہ من الصحۃ والحل جمیعا فقد ینفذ عقد ولایصح ولایحل کالبیع عند اذان الجمعۃ الی اجل مجھول وقد یصح ویحل ولاینفذ کبیع فضولی مستجمعا شرائط الصحۃ والحل قال فی ردالمحتار ظاھرہ ان الموقوف من قسم الصحیح وھو احد طریقین للمشائخ وھو الحق الخ وقد یطلق بمعنی اللزوم قال فی رھن الدر القبض شرط اللزوم کما فی الھبۃ اھ قال الشامی قال فی العنایۃ ھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الامقبوضا اھ وفی السعدیہ انہ علیہ الصلوۃ والسلام قال لاتجوز الھبۃ الامقبوضۃ والقبض لیس بشرط الجواز فی الھبۃ فلیکن ھنا کذلك اھ وحاصلہ ان یفسرھنا ایضا الجواز
اس فائدے کوتین بزرگوار محشی حضرات ____ یعنی حلبی طحطاوی اور شامی نے بیان کیا اور یہ معنی پہلے دو معنی صحیح اور حلال ہونے سے خاص من وجہ ہے کیونکہ کبھی عقد صحیح اور حلال نہ ہونے کے باوجود نافذہوتا ہے جیسے جمعہ کی اذان کے بعد بیع مجہول مدت کے ادھار پر ہو اور کبھی عقدحلال اور صحیح ہوتا ہے لیکن نافذ نہیں ہوتا جیساکہ فضولی کی وہ بیع جو حلال اور صحیح ہونے کی شرائط کی جامع ہو ردالمحتار میں کہا کہ موقوف بیع صحیح کی قسم ہے اور یہ مشائخ کے استعمال کے دو طریقوں میں سے ایك ہے اور یہی حق ہے الخ اور جواز بمعنی لزوم بھی استعمال ہوتا ہے درمختار کے مسئلہ رہن میں ہے کہ قبضہ لزوم کے لیے شرط ہے جیساکہ ہبہ میں ہوتا ہے اھ اس پر علامہ شامی نے کہا کہ عنایہ میں کہا ہے کہ یہ عام روایت کے خلاف ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ رہن قبضہ کے بغیر صحیح نہیں اھ اور سعدیہ میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہبہ قبضہ کے بغیر جائز نہیں جبکہ ہبہ کے جواز کے لیے قبضہ شرط نہیں ہے مناسب ہے کہ یہاں بھی یونہی ہو ا س کا حاصل یہ ہے کہ یہاں رہن کے معاملہ میں بھی امام محمد کے قول میں جواز کی تفسیر لزوم کے ساتھ کی جائے نہ کہ صحت کے ساتھ جیساکہ فقہاء نے ہبہ میں کیا یعنی لایجوز کا معنی یہی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وھو اخص من وجہ من الصحۃ والحل جمیعا فقد ینفذ عقد ولایصح ولایحل کالبیع عند اذان الجمعۃ الی اجل مجھول وقد یصح ویحل ولاینفذ کبیع فضولی مستجمعا شرائط الصحۃ والحل قال فی ردالمحتار ظاھرہ ان الموقوف من قسم الصحیح وھو احد طریقین للمشائخ وھو الحق الخ وقد یطلق بمعنی اللزوم قال فی رھن الدر القبض شرط اللزوم کما فی الھبۃ اھ قال الشامی قال فی العنایۃ ھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الامقبوضا اھ وفی السعدیہ انہ علیہ الصلوۃ والسلام قال لاتجوز الھبۃ الامقبوضۃ والقبض لیس بشرط الجواز فی الھبۃ فلیکن ھنا کذلك اھ وحاصلہ ان یفسرھنا ایضا الجواز
اس فائدے کوتین بزرگوار محشی حضرات ____ یعنی حلبی طحطاوی اور شامی نے بیان کیا اور یہ معنی پہلے دو معنی صحیح اور حلال ہونے سے خاص من وجہ ہے کیونکہ کبھی عقد صحیح اور حلال نہ ہونے کے باوجود نافذہوتا ہے جیسے جمعہ کی اذان کے بعد بیع مجہول مدت کے ادھار پر ہو اور کبھی عقدحلال اور صحیح ہوتا ہے لیکن نافذ نہیں ہوتا جیساکہ فضولی کی وہ بیع جو حلال اور صحیح ہونے کی شرائط کی جامع ہو ردالمحتار میں کہا کہ موقوف بیع صحیح کی قسم ہے اور یہ مشائخ کے استعمال کے دو طریقوں میں سے ایك ہے اور یہی حق ہے الخ اور جواز بمعنی لزوم بھی استعمال ہوتا ہے درمختار کے مسئلہ رہن میں ہے کہ قبضہ لزوم کے لیے شرط ہے جیساکہ ہبہ میں ہوتا ہے اھ اس پر علامہ شامی نے کہا کہ عنایہ میں کہا ہے کہ یہ عام روایت کے خلاف ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ رہن قبضہ کے بغیر صحیح نہیں اھ اور سعدیہ میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہبہ قبضہ کے بغیر جائز نہیں جبکہ ہبہ کے جواز کے لیے قبضہ شرط نہیں ہے مناسب ہے کہ یہاں بھی یونہی ہو ا س کا حاصل یہ ہے کہ یہاں رہن کے معاملہ میں بھی امام محمد کے قول میں جواز کی تفسیر لزوم کے ساتھ کی جائے نہ کہ صحت کے ساتھ جیساکہ فقہاء نے ہبہ میں کیا یعنی لایجوز کا معنی یہی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳
درمختار کتاب الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۶۵
درمختار کتاب الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۶۵
عدم حرمت وطی بھی حاصل یعنی اس میں جماع زنا نہ ہوگا وطی حرام نہ کہلائے گا۔
وذلك کقولہ عز وجل و احل لکم ما وراء ذلکم مع ان فیھن من یکرہ نکاحھن تحریما کالکتابیۃ کما سیأتی فعلم ان الحل بھذا المعنی لاینافی الاثم فی الاقدام علی فعل النکاح فافھم واحفظ کیلا تزل واﷲ الموفق۔
اوریہ ایسا ہی ہے جیسا کہ الله تعالی کا ارشاد “ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں محرمات کے سوا “ حالانکہ غیر محرمات میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جن سے نکاح مکروہ تحریمہ ہے جیساکہ کتابیہ عورت کے بارے میں آئندہ بیان ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ اس معنی میں حلال نکاح کرنے کے اقدام پر گناہ کے منافی نہیں ہے اس کو سمجھو اور یاد رکھو تاکہ غلط فہمی نہ ہوا ور توفیق الله تعالی سے ہی ہے۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
باللزوم لابالصحۃ کما فعلوا فی الھبۃ اھ مختصرا وفی مداینات غمز العیون لوجاز ای لزوم تاجیلہ لزم ان یمنع المقرض عن مطالبۃ قبل الاجل ولاجبر علی المتبرع اھ وھو اخص مطلقا من الصحۃ والنفاذ فقد یصح الشیئ وینفذ ولالزوم کتزویج العم من کفو بمھر المثل ولالزوم لموقوف فھو ظاہر ولالفاسد لانہ واجب الفسخ ومن وجہ من الحل فقد یلزم ولایحل کالبیاعات المکروھۃ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
لایلزم ہو(یعنی قبضہ کے بغیر رہن جائز تو ہے لازم نہیں)اھ مختصرا۔ اور غمزالعیون کے مداینات میں ہے لوجاز یعنی مہلت لازم ہوگی تو لازم ہے کہ قرضخواہ کو مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ سے منع کیا جائے جبکہ قرض کی نیکی کرنے والے پر جبر نہیں ہوسکتا اھ اور جواز بمعنی لزوم نفاذ اورصحت کے معنی سے خاص مطلق ہے کیونکہ کبھی چیز صحیح اور نافذ ہوتی ہے اور لازم نہیں ہوتی جیساکہ چچازاد کا مہر مثل کے ساتھ کفو میں لڑکی کا نکاح کرنا صحیح اور نافذ ہے مگر لازم نہیں کیونکہ یہ موقوف ہے اور موقوف چیز لازم نہیں ہوتی اور یہ ظاہر ہے اور فاسد بھی لازم نہیں کیونکہ وہ واجب الفسخ ہے اور جواز بمعنی لزوم جواز بمعنی حل سے خاص من وجہ ہے کیونکہ کبھی چیز لازم ہوتی ہے مگر حلال نہیں ہوتی جیساکہ مکروہ بیع کا حکم ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
وذلك کقولہ عز وجل و احل لکم ما وراء ذلکم مع ان فیھن من یکرہ نکاحھن تحریما کالکتابیۃ کما سیأتی فعلم ان الحل بھذا المعنی لاینافی الاثم فی الاقدام علی فعل النکاح فافھم واحفظ کیلا تزل واﷲ الموفق۔
اوریہ ایسا ہی ہے جیسا کہ الله تعالی کا ارشاد “ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں محرمات کے سوا “ حالانکہ غیر محرمات میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جن سے نکاح مکروہ تحریمہ ہے جیساکہ کتابیہ عورت کے بارے میں آئندہ بیان ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ اس معنی میں حلال نکاح کرنے کے اقدام پر گناہ کے منافی نہیں ہے اس کو سمجھو اور یاد رکھو تاکہ غلط فہمی نہ ہوا ور توفیق الله تعالی سے ہی ہے۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
باللزوم لابالصحۃ کما فعلوا فی الھبۃ اھ مختصرا وفی مداینات غمز العیون لوجاز ای لزوم تاجیلہ لزم ان یمنع المقرض عن مطالبۃ قبل الاجل ولاجبر علی المتبرع اھ وھو اخص مطلقا من الصحۃ والنفاذ فقد یصح الشیئ وینفذ ولالزوم کتزویج العم من کفو بمھر المثل ولالزوم لموقوف فھو ظاہر ولالفاسد لانہ واجب الفسخ ومن وجہ من الحل فقد یلزم ولایحل کالبیاعات المکروھۃ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
لایلزم ہو(یعنی قبضہ کے بغیر رہن جائز تو ہے لازم نہیں)اھ مختصرا۔ اور غمزالعیون کے مداینات میں ہے لوجاز یعنی مہلت لازم ہوگی تو لازم ہے کہ قرضخواہ کو مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ سے منع کیا جائے جبکہ قرض کی نیکی کرنے والے پر جبر نہیں ہوسکتا اھ اور جواز بمعنی لزوم نفاذ اورصحت کے معنی سے خاص مطلق ہے کیونکہ کبھی چیز صحیح اور نافذ ہوتی ہے اور لازم نہیں ہوتی جیساکہ چچازاد کا مہر مثل کے ساتھ کفو میں لڑکی کا نکاح کرنا صحیح اور نافذ ہے مگر لازم نہیں کیونکہ یہ موقوف ہے اور موقوف چیز لازم نہیں ہوتی اور یہ ظاہر ہے اور فاسد بھی لازم نہیں کیونکہ وہ واجب الفسخ ہے اور جواز بمعنی لزوم جواز بمعنی حل سے خاص من وجہ ہے کیونکہ کبھی چیز لازم ہوتی ہے مگر حلال نہیں ہوتی جیساکہ مکروہ بیع کا حکم ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۳۰۸
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۷۔ ۴۴۶
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۷۔ ۴۴۶
عبارات درمختار وغیرہ تجوز منا کحۃ المعتزلۃ لانا لانکفر احدا من اھل القبلۃ وان وقع الزامالہم فی المباحث (معتزلہ سے نکاح جائز ہے ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے اگرچہ بحث کے طورپر ان پر کفر کاالزام ثابت ہے۔ ت)کے یہی معنی ہیں پر ظاہر کہ نکاح عقد ہے اور ابھی بحرالرائق وطحطاوی وردالمحتار سے گزرا کہ عقود میں غالب وشائع جواز بمعنی صحت ہے مگروہ عدم جواز بمعنی ممانعت واثم کے منافی نہیں فتح القدیر وغنیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے :
یراد بعدم الجواز عدم الحل ای عدم حل ان یفعل وھولاینافی الصحۃ ۔
عدم جواز سے عدم حل مراد لیا جاتا ہے یعنی اس کا کرنا حلال نہیں اور یہ صحیح کے منافی نہیں۔ (ت)
رہا جواز فعل بمعنی عدم ممانعت شرعیہ بد مذہبوں سے سنیہ عورت کا نکاح کردینا روا ومباح ہو جس میں کچھ گناہ ومخالفت احکام شرع نہ ہو یہ ہر گز نہیں۔ ارشاد مشائخ کرام المناکحۃ بین اھل السنۃ و اھل الاعتزال لاتجوز کے یہی معنی ہیں یعنی سنیوں اورمعتزلیوں میں مناکحت مباح نہیں فتاوی خلاصہ میں فرمایا : المسألۃ فی مجموع النوازل ۔ یہ مسئلہ مجموع النوازل امام فقیہ احمد بن موسی کشنی تلمیذ امام مفتی الجن والانس عارف بالله سیدنا نجم الدین عمر النسفی میں ہےاسی میں فرمایا : کذا اجاب الامام الرستغفنی امام رستغفنی نے ایسا ہی جواب ارشاد فرمایا۔ ردالمحتار میں نہایہ امام سغناقی سے ہے انھوں نے اپنے شیخ سے نقل کیاوہ فرماتے تھے :
الرستغفنی امام معتمد فی القول والعمل ولواخذنا یوم القیمۃ للعمل بروایتہ ناخذہ کما اخذنا ۔
یعنی رستغفنی امام معتمد ہیں قول وفعل میں اگر روز قیامت ان کی روایت پر عمل میں ہم سے گرفت ہوئی توہم ان کا دامن پکڑیں گے کہ ہم نے ان کے ارشاد پر عمل کیا۔
یراد بعدم الجواز عدم الحل ای عدم حل ان یفعل وھولاینافی الصحۃ ۔
عدم جواز سے عدم حل مراد لیا جاتا ہے یعنی اس کا کرنا حلال نہیں اور یہ صحیح کے منافی نہیں۔ (ت)
رہا جواز فعل بمعنی عدم ممانعت شرعیہ بد مذہبوں سے سنیہ عورت کا نکاح کردینا روا ومباح ہو جس میں کچھ گناہ ومخالفت احکام شرع نہ ہو یہ ہر گز نہیں۔ ارشاد مشائخ کرام المناکحۃ بین اھل السنۃ و اھل الاعتزال لاتجوز کے یہی معنی ہیں یعنی سنیوں اورمعتزلیوں میں مناکحت مباح نہیں فتاوی خلاصہ میں فرمایا : المسألۃ فی مجموع النوازل ۔ یہ مسئلہ مجموع النوازل امام فقیہ احمد بن موسی کشنی تلمیذ امام مفتی الجن والانس عارف بالله سیدنا نجم الدین عمر النسفی میں ہےاسی میں فرمایا : کذا اجاب الامام الرستغفنی امام رستغفنی نے ایسا ہی جواب ارشاد فرمایا۔ ردالمحتار میں نہایہ امام سغناقی سے ہے انھوں نے اپنے شیخ سے نقل کیاوہ فرماتے تھے :
الرستغفنی امام معتمد فی القول والعمل ولواخذنا یوم القیمۃ للعمل بروایتہ ناخذہ کما اخذنا ۔
یعنی رستغفنی امام معتمد ہیں قول وفعل میں اگر روز قیامت ان کی روایت پر عمل میں ہم سے گرفت ہوئی توہم ان کا دامن پکڑیں گے کہ ہم نے ان کے ارشاد پر عمل کیا۔
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۰۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۶
ردالمحتار
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۰۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح جنس آخرفی الاجازۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۶
ردالمحتار
وجیز امام کردری میں ہے :
سمعت عن ائمۃ خوارزم انہ یتزوج من المعتزلی ولایزوج منھم کما یتزوج من الکتابی ولایزوج منھم ولعلہ اخذ ھذا التفصیل من کلام ابی حفص السفکردری ۔
میں نے بعض ائمہ خوارزم سے سناکہ معتزلی کی بیٹی تو بیاہ لے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہ دے۔ جس طرح یہودی نصرانی کی بیٹی بیاہ لیتاہے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہیں دیتا اور ممکن ہے کہ ان امام نے یہ تفصیل امام ابوحفص سفکردری کے قول سے اخذ کی۔
یہ دوسرا جواب ہے اس شبہہ کا کہ مبتدعین کتابیوں سے بھی گئے گزرے ثم اقول : وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتا ہوں اورتوفیق الله تعالی ہی سے ہے۔ ت)اگر نظر تحقیق کو رخصت جولاں دیجیئے تو بد مذہب سے سنیہ کی تزویج ممنوع ہونے پر شرع مطہر سے دلائل کثیرہ قائم ہیں مثلا :
دلیل اول : قال عزوجل
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
بد مذہب سے زیادہ ظالم کون ہے اور نکاح کی صحبت دائمہ سے بڑھ کر کون سی صحبت جب ہر وقت کاساتھ ہے اور وہ بدمذہب تو ضرور اس سے نادیدنی دیکھے گی ناشنیدنی سنے گی اور انکار پر قدرت نہ ہوگی اور اپنے اختیار سے ایسی جگہ جانا حرام ہے جہاں منکر ہو اور انکار نہ ہوسکے نہ کہ عمر بھر کے لیے اپنے یا اپنی قاصرہ مقسورہ عاجز مقہورہ کے واسطے اس فضیحہ شنیعہ کا سامان پیدا کرنا۔
دلیل دوم : قال تبارك وتعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و من ایته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا الیها و جعل بینكم مودة و رحمة ۔
الله کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمھیں میں سے تمھارے جوڑے بنائے کہ ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی ومہر رکھی۔
اور حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
سمعت عن ائمۃ خوارزم انہ یتزوج من المعتزلی ولایزوج منھم کما یتزوج من الکتابی ولایزوج منھم ولعلہ اخذ ھذا التفصیل من کلام ابی حفص السفکردری ۔
میں نے بعض ائمہ خوارزم سے سناکہ معتزلی کی بیٹی تو بیاہ لے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہ دے۔ جس طرح یہودی نصرانی کی بیٹی بیاہ لیتاہے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہیں دیتا اور ممکن ہے کہ ان امام نے یہ تفصیل امام ابوحفص سفکردری کے قول سے اخذ کی۔
یہ دوسرا جواب ہے اس شبہہ کا کہ مبتدعین کتابیوں سے بھی گئے گزرے ثم اقول : وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتا ہوں اورتوفیق الله تعالی ہی سے ہے۔ ت)اگر نظر تحقیق کو رخصت جولاں دیجیئے تو بد مذہب سے سنیہ کی تزویج ممنوع ہونے پر شرع مطہر سے دلائل کثیرہ قائم ہیں مثلا :
دلیل اول : قال عزوجل
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
بد مذہب سے زیادہ ظالم کون ہے اور نکاح کی صحبت دائمہ سے بڑھ کر کون سی صحبت جب ہر وقت کاساتھ ہے اور وہ بدمذہب تو ضرور اس سے نادیدنی دیکھے گی ناشنیدنی سنے گی اور انکار پر قدرت نہ ہوگی اور اپنے اختیار سے ایسی جگہ جانا حرام ہے جہاں منکر ہو اور انکار نہ ہوسکے نہ کہ عمر بھر کے لیے اپنے یا اپنی قاصرہ مقسورہ عاجز مقہورہ کے واسطے اس فضیحہ شنیعہ کا سامان پیدا کرنا۔
دلیل دوم : قال تبارك وتعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و من ایته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا الیها و جعل بینكم مودة و رحمة ۔
الله کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمھیں میں سے تمھارے جوڑے بنائے کہ ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی ومہر رکھی۔
اور حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
فتاوی بزازیہ علٰی ہامش فتاوی ہندیہ کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۲
القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۳۰ / ۲۱
القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۳۰ / ۲۱
ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشئی ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالی عنہ۔
عورت کے دل میں شوہر کے لیے جو راہ ہے کسی کے لیے نہیں(اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبدالله بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
آیت گواہ ہے کہ زن وشوئی وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت الفت ورافت پیدا کرتا ہے اور حدیث شاہدہے کہ عورت کے دل میں جو بات شوہرکی ہوتی ہے کسی کی نہیں ہوتی اور بد مذہب کی محبت سم قاتل ہے الله عزوجل فرماتا ہے : و من یتولهم منكم فانه منهم- تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
المرء مع من احب ۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاابن ماجہ عن انس والشیخان عن ابن مسعود واحمد ومسلم عن جابر وابوداؤد عن ابی ذر والترمذی عن صفوان بن عسال وفی الباب عن علی وابی ھریرۃ وابی موسی وغیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم۔
آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے(اس کو امام محمد نے اور ابن ماجہ کے ماسوا صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیاہے حضرت انس سے اور بخاری ومسلم نے ابن مسعود سے احمد ومسلم نے جابر سے ابوداؤد نے ابوذر سے اور رترمذی نے صفوان بن عباس سے اور اس باب میں علی ابو ھریرہ ابوموسی وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایت ہے۔ ت)
دلیل سوم : قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و لا تلقوا بایدیكم الى التهلكة ﳝ- ۔
اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بد مذہبی ہلاك حقیقی ہے۔
قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) : و لا تتبـع الهوى فیضلك عن سبیل الله- (اور خواہش کے
عورت کے دل میں شوہر کے لیے جو راہ ہے کسی کے لیے نہیں(اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبدالله بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
آیت گواہ ہے کہ زن وشوئی وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت الفت ورافت پیدا کرتا ہے اور حدیث شاہدہے کہ عورت کے دل میں جو بات شوہرکی ہوتی ہے کسی کی نہیں ہوتی اور بد مذہب کی محبت سم قاتل ہے الله عزوجل فرماتا ہے : و من یتولهم منكم فانه منهم- تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
المرء مع من احب ۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاابن ماجہ عن انس والشیخان عن ابن مسعود واحمد ومسلم عن جابر وابوداؤد عن ابی ذر والترمذی عن صفوان بن عسال وفی الباب عن علی وابی ھریرۃ وابی موسی وغیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم۔
آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے(اس کو امام محمد نے اور ابن ماجہ کے ماسوا صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیاہے حضرت انس سے اور بخاری ومسلم نے ابن مسعود سے احمد ومسلم نے جابر سے ابوداؤد نے ابوذر سے اور رترمذی نے صفوان بن عباس سے اور اس باب میں علی ابو ھریرہ ابوموسی وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایت ہے۔ ت)
دلیل سوم : قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و لا تلقوا بایدیكم الى التهلكة ﳝ- ۔
اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بد مذہبی ہلاك حقیقی ہے۔
قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) : و لا تتبـع الهوى فیضلك عن سبیل الله- (اور خواہش کے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۴ / ۶۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵
القرآن ۵ / ۵۱
سنن ابوداؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۴۳
القرآن ۲ / ۱۹۵
القرآن ۳۸ / ۲۶
القرآن ۵ / ۵۱
سنن ابوداؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۴۳
القرآن ۲ / ۱۹۵
القرآن ۳۸ / ۲۶
پیچھے نہ جانا کہ تجھے الله کی راہ سے بہکا دے گی۔ ت)اور صحبت خصوصا بدکا اثر پڑجانا احادیث وتجارب صحیحہ سے ثابت۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسك ونافخ الکیر فحامل المسك اما ان یحذیك واماان تبتاع منہ واما ان تجد منہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اماان یحرق ثیابك واماان تجد منہ ریحا خبیثۃ ۔ رواہ الشیخان عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اچھے اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایك کے پاس مشك ہے اور دوسرا دھونکنی پھونکتا وہ مشك والایا تجھے مفت دے گا یا تو اس سے مول لے گا۔ اور کچھ نہیں تو خوشبو ضرور آئے گی اور دھونکنی والا تیرے کپڑے جلادے گا یا تجھے اس سے بد بو آئے گی (اسے شیخین(امام بخاری و مسلم)نے ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیران لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہ ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
برا ہمنشین دھونکنے والے کی مانند ہے تجھے اس کی سیاہی نہ پہنچے تو دھواں تو پہنچے گا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
تیسری حدیث صریح میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ رواہ مسلم۔
گمراہوں سے دور بھاگو۔ انھیں اپنے سے دور کرو۔ کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں۔ کہیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ت)
چوتھی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعتبروا الصاحب بالصاحب ۔ رواہ ابن عدی
مصاحب کو مصاحب پر قیاس کرو(اس کو ابن عدی
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسك ونافخ الکیر فحامل المسك اما ان یحذیك واماان تبتاع منہ واما ان تجد منہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اماان یحرق ثیابك واماان تجد منہ ریحا خبیثۃ ۔ رواہ الشیخان عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اچھے اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایك کے پاس مشك ہے اور دوسرا دھونکنی پھونکتا وہ مشك والایا تجھے مفت دے گا یا تو اس سے مول لے گا۔ اور کچھ نہیں تو خوشبو ضرور آئے گی اور دھونکنی والا تیرے کپڑے جلادے گا یا تجھے اس سے بد بو آئے گی (اسے شیخین(امام بخاری و مسلم)نے ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیران لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہ ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
برا ہمنشین دھونکنے والے کی مانند ہے تجھے اس کی سیاہی نہ پہنچے تو دھواں تو پہنچے گا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
تیسری حدیث صریح میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ رواہ مسلم۔
گمراہوں سے دور بھاگو۔ انھیں اپنے سے دور کرو۔ کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں۔ کہیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ت)
چوتھی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعتبروا الصاحب بالصاحب ۔ رواہ ابن عدی
مصاحب کو مصاحب پر قیاس کرو(اس کو ابن عدی
حوالہ / References
صحیح بخاری باب المسك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۰
سنن ابوداؤد باب من یومران یجالس آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
کنز العمال بحوالہ عبدالله بن مسعود حدیث ۳۰۷۳۴ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب ۱۱ / ۸۹
سنن ابوداؤد باب من یومران یجالس آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
کنز العمال بحوالہ عبدالله بن مسعود حدیث ۳۰۷۳۴ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب ۱۱ / ۸۹
عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ حسن لشواھدہ ۔
نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیااور اس کے شواہد کی بناپر اس حدیث کو انھوں نے حسن قرار دیا۔ ت)
پانچویں حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاك وقرین السوء فانك بہ تعرف ۔ رواہ ابن عساکر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
برے ہمنشین سے دور بھاگ کہ تو اسی کے ساتھ مشہور ہوگا(اس کو ابن عساکر نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
مولی علی کرم الله وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
ماشئی ادل علی الشئی ولاالدخان علی النار من الصاحب علی الصاحب ۔ ذکرہ التیسیر۔
کوئی چیز دوسری پر اور نہ دھواں آگ پر اس سے زیادہ دلالت کرتا ہے جس قدر ایك ہمنشین دوسرے پر(اس کو تیسیر میں ذکر کیا گیا۔ ت)
عقلاء کہتے ہیں گوش زدہ اثر ے دارد نہ کہ عمر بھر کان بھرے جانا۔ پھر اس کے ساتھ دوسرا مؤید شوہر کا اس پر حاکم ہونا مجربین کہتے ہیں : الناس علی دین ملوکھم (لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ ت)
تیسرا مؤید عورت میں مادہ قبول وانفعال کی کثرت وہ بہت نرم دل ہیں جلد اثر پذیر ہیں یہاں تك کہ اہل تجربہ میں موم کی ناك مشہور ہیں۔ خود رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : رویدك یاانجشہ بالقواریر (اے انجشہ! آبگینوں کو بچا کر رکھو۔ ت) چوتھا مؤید ان کاناقصات العقل والدین ہونا یہ بھی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کما فی الصحیحین(جیسا کہ صحیحین میں ہے۔ ت)پانچواں مؤید شوہر کی محبت جس کا بیان آیت وحدیث سے گزرا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حبك الشئی یعمی ویصم ۔ رواہ احمد والبخاری
محبت اندھا بہرا کردیتی ہے(اسے احمد وبخاری
نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیااور اس کے شواہد کی بناپر اس حدیث کو انھوں نے حسن قرار دیا۔ ت)
پانچویں حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاك وقرین السوء فانك بہ تعرف ۔ رواہ ابن عساکر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
برے ہمنشین سے دور بھاگ کہ تو اسی کے ساتھ مشہور ہوگا(اس کو ابن عساکر نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
مولی علی کرم الله وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
ماشئی ادل علی الشئی ولاالدخان علی النار من الصاحب علی الصاحب ۔ ذکرہ التیسیر۔
کوئی چیز دوسری پر اور نہ دھواں آگ پر اس سے زیادہ دلالت کرتا ہے جس قدر ایك ہمنشین دوسرے پر(اس کو تیسیر میں ذکر کیا گیا۔ ت)
عقلاء کہتے ہیں گوش زدہ اثر ے دارد نہ کہ عمر بھر کان بھرے جانا۔ پھر اس کے ساتھ دوسرا مؤید شوہر کا اس پر حاکم ہونا مجربین کہتے ہیں : الناس علی دین ملوکھم (لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ ت)
تیسرا مؤید عورت میں مادہ قبول وانفعال کی کثرت وہ بہت نرم دل ہیں جلد اثر پذیر ہیں یہاں تك کہ اہل تجربہ میں موم کی ناك مشہور ہیں۔ خود رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : رویدك یاانجشہ بالقواریر (اے انجشہ! آبگینوں کو بچا کر رکھو۔ ت) چوتھا مؤید ان کاناقصات العقل والدین ہونا یہ بھی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کما فی الصحیحین(جیسا کہ صحیحین میں ہے۔ ت)پانچواں مؤید شوہر کی محبت جس کا بیان آیت وحدیث سے گزرا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حبك الشئی یعمی ویصم ۔ رواہ احمد والبخاری
محبت اندھا بہرا کردیتی ہے(اسے احمد وبخاری
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر حدیث۲۴۸۴۴ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب ۹ / ۴۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ماقبل کے تحت مکتبۃ امام شافعی الریاض السعودیہ ۱ / ۴۰۲
المقاصد الحسنہ حرف النون حدیث ۱۲۳۹۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۴۱
صحیح بخاری با ب المعاریض مندوحۃ عن الکذب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۱۷
سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۴۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ماقبل کے تحت مکتبۃ امام شافعی الریاض السعودیہ ۱ / ۴۰۲
المقاصد الحسنہ حرف النون حدیث ۱۲۳۹۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۴۱
صحیح بخاری با ب المعاریض مندوحۃ عن الکذب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۱۷
سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۴۳
فی التاریخ وابوداؤد عن ابی الدرداء وابن عساکر بسند حسن عن عبداﷲ بن انیس والخرائطی فی الاعتلال عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہم۔
نے اپنی تاریخ میں اور ابوداؤد نے ابودرداء سے ا ور ابن عساکر نے سند حسن کے ساتھ عبدالله بن انیس سے اور خرائطی نے اعتلال میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
آدمی اپنے محبوب کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھ بھال کر کسی سے دوستی کرو(اسے ابوداؤد اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
مسلمانو! الله عزوجل عافیت بخشے دل پلٹتے خیال بدلتے کیا کچھ دیر لگتی ہے قلب کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ منقلب ہوتاہے۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مثل القلب مثل الریشۃ تقلبھا الریاح بفلاۃ ۔ رواہ ابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
دل کی حالت اس پر کی طرح ہے کہ میدان میں پڑاہو اور ہوائیں اسے پلٹے دے رہی ہوں۔ (اس کو ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
نہ کہ عورتوں کا سانرم نازك دل اور اس پر یہ صحبت وسماع متصل پھرواسطہ حاکمی محکومی کااور اس کے ساتھ مہرو محبت کا غضب جذبہ باعثوں داعیوں کا یہ متواتر وفور اور مانع کہ عقل ودین تھے ان میں نقصان وقصور تو اس تزویج میں قطعا یقینا عورت کی گمراہی وتبدیل مذہب کا مظنہ قویہ ہے اور یہ خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہے کہ بنص قطعی ممنوع وناروا ہے شرع مطہرجس چیزکو حرام فرماتی ہے کہ مقدمہ وداعی کو بھی حرام بتاتی ہے مقدمۃ الحرام حرام(حرام کا پیش خیمہ بھی حرام ہوتا ہے۔ ت)مقدمہ مسلمہ ہے قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و لا تقربوا الزنى انه كان فاحشة-
زنا کے پاس نہ جاؤ بیشك وہ بے حیائی ہے اور
نے اپنی تاریخ میں اور ابوداؤد نے ابودرداء سے ا ور ابن عساکر نے سند حسن کے ساتھ عبدالله بن انیس سے اور خرائطی نے اعتلال میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
آدمی اپنے محبوب کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھ بھال کر کسی سے دوستی کرو(اسے ابوداؤد اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
مسلمانو! الله عزوجل عافیت بخشے دل پلٹتے خیال بدلتے کیا کچھ دیر لگتی ہے قلب کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ منقلب ہوتاہے۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مثل القلب مثل الریشۃ تقلبھا الریاح بفلاۃ ۔ رواہ ابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
دل کی حالت اس پر کی طرح ہے کہ میدان میں پڑاہو اور ہوائیں اسے پلٹے دے رہی ہوں۔ (اس کو ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
نہ کہ عورتوں کا سانرم نازك دل اور اس پر یہ صحبت وسماع متصل پھرواسطہ حاکمی محکومی کااور اس کے ساتھ مہرو محبت کا غضب جذبہ باعثوں داعیوں کا یہ متواتر وفور اور مانع کہ عقل ودین تھے ان میں نقصان وقصور تو اس تزویج میں قطعا یقینا عورت کی گمراہی وتبدیل مذہب کا مظنہ قویہ ہے اور یہ خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہے کہ بنص قطعی ممنوع وناروا ہے شرع مطہرجس چیزکو حرام فرماتی ہے کہ مقدمہ وداعی کو بھی حرام بتاتی ہے مقدمۃ الحرام حرام(حرام کا پیش خیمہ بھی حرام ہوتا ہے۔ ت)مقدمہ مسلمہ ہے قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
و لا تقربوا الزنى انه كان فاحشة-
زنا کے پاس نہ جاؤ بیشك وہ بے حیائی ہے اور
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الادب باب من یومران یجالس آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰
سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰
و سآء سبیلا(۳۲)
بہت بری راہ۔
جس طرح زنا حرام ہوا زنا کے پاس جانا بھی حرام ہوا اور یہ خیال کہ ممکن ہے اثر نہ ہو محض نافہمی اور عقل و نقل دونوں سے بیگانگی ہے داعی کے لیے مفضی بالدوام ہونا ضرور نہیں آخر بوس وکنارومس ونظر دواعی وطی داعی ہی ہونے کے باعث حرام ہوئے مگر ہرگز مستلزم ومفضی دائم نہیں۔
دلیل چہارم : قال المو لی تبارك وتعالی(مولی تبارك وتعالی نے فرمایا) :
الرجال قومون على النسآء بما فضل الله بعضهم على بعض ۔
مرد حاکم و مسلط ہیں عورتوں پر بسبب اس فضیلت کے جو الله نے ایك دوسرے پر دی۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعظم الناس حقا علی المرأۃ زوجھا ۔ رواہ الحاکم وصححہ عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
عورت پر سب سے بڑھ کر حق اس کے شوہر کا ہے(اسے حاکم نے روایت کیا اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کی تصحیح کی۔ ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لوکنت امر احدا ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من الحق ۔ ولوکان من قدمہ الی مفرق رأسہ قرحۃ تنجس بالقیح والصدید ثم استقبلتہ فلحستہ ماادت حقہ ۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن قیس بن سعد بن عبادۃ واحمد
اگرمیں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کو سجدہ کرے تو البتہ عورتوں کو حکم کرتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں بسبب اس حق کے کہ الله عزوجل نے ان کے لیے ان پر رکھا ہے۔ اور اگر شوہر کی ایڑی سے مانگ تك سارا جسم پھوڑا ہو جس سے پیپ اور گندا پانی جوش مارتا ہو عورت آکر اپنی زبان سے اسے چاٹ کر صاف کرے تو خاوند کا حق ادا نہ کیا(اس کو ابوداؤد
بہت بری راہ۔
جس طرح زنا حرام ہوا زنا کے پاس جانا بھی حرام ہوا اور یہ خیال کہ ممکن ہے اثر نہ ہو محض نافہمی اور عقل و نقل دونوں سے بیگانگی ہے داعی کے لیے مفضی بالدوام ہونا ضرور نہیں آخر بوس وکنارومس ونظر دواعی وطی داعی ہی ہونے کے باعث حرام ہوئے مگر ہرگز مستلزم ومفضی دائم نہیں۔
دلیل چہارم : قال المو لی تبارك وتعالی(مولی تبارك وتعالی نے فرمایا) :
الرجال قومون على النسآء بما فضل الله بعضهم على بعض ۔
مرد حاکم و مسلط ہیں عورتوں پر بسبب اس فضیلت کے جو الله نے ایك دوسرے پر دی۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعظم الناس حقا علی المرأۃ زوجھا ۔ رواہ الحاکم وصححہ عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
عورت پر سب سے بڑھ کر حق اس کے شوہر کا ہے(اسے حاکم نے روایت کیا اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کی تصحیح کی۔ ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لوکنت امر احدا ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من الحق ۔ ولوکان من قدمہ الی مفرق رأسہ قرحۃ تنجس بالقیح والصدید ثم استقبلتہ فلحستہ ماادت حقہ ۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن قیس بن سعد بن عبادۃ واحمد
اگرمیں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کو سجدہ کرے تو البتہ عورتوں کو حکم کرتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں بسبب اس حق کے کہ الله عزوجل نے ان کے لیے ان پر رکھا ہے۔ اور اگر شوہر کی ایڑی سے مانگ تك سارا جسم پھوڑا ہو جس سے پیپ اور گندا پانی جوش مارتا ہو عورت آکر اپنی زبان سے اسے چاٹ کر صاف کرے تو خاوند کا حق ادا نہ کیا(اس کو ابوداؤد
حوالہ / References
القرآن ۱۷ / ۳۲
القرآن ۴ / ۳۴
مستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۵۰
سنن ابی داؤد باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۱ ، المستدرك للحاکم کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ / ۱۸۷
مسند احمد بن حنبل مروی از مسند انس بن مالك دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۹
القرآن ۴ / ۳۴
مستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۵۰
سنن ابی داؤد باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۱ ، المستدرك للحاکم کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ / ۱۸۷
مسند احمد بن حنبل مروی از مسند انس بن مالك دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۹
والترمذی عن انس بن مالك وفصل السجود احمد وابن ماجۃ وابن حبان عن عبداﷲ بن ابی اوفی والترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ واحمد عن معاذبن جبل و الحاکم عن بریدۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ قیس بن سعد بن عبادہ اور احمد اورترمذی نے انس بن مالك سے اور احمد ابن ماجہ اور ابن حبان نے عبدالعزیز بن ابی اوفی سے سجدہ کی فصل میں اور ترمذی اور ابن ماجہ نے ابو ھریرہ سے اور احمد نے معاذ بن جبل اورحاکم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
الغرض شوہر کے لیے سخت واجب التعظیم ہے اور بد مذہب کی تعظیم حرام متعدد حدیثوں میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ رواہ ابن عدی وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقہ والحسن بن سفیان فی مسندہ وابونعیم فی الحلیۃ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بسر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابراھیم بن میسرۃ التابعی المکی الثقۃ مرسلا فالصواب ان الحدیث حسن بطرقہ۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد کی(اس کوابن عدی اور ابن عساکر نے ام المومنین عائشہ صدیقہ اور حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں معاذ بن جبل سے اور سجزی نے ابانۃ میں ابن عمر سے اور ابن عدی نے ابن عباس سے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابونعیم نے حلیہ میں عبدالله بن بسر اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ تابعی مکی سے مرسل طورپر روایت کیاہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ اپنے طرق پر یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ مبتدع تو مبتدع فاسق بھی شرعا واجب الاہانۃ ہے اور اس کی تعظیم ناجائز علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
الفاسق العالم تجب اھانتہ شرعا فلایعظم۔
فاسق عالم کی شرعا توہین ضروری ہے اس لیے ا س کی تعظیم نہ کی جائے۔ (ت)
اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ قیس بن سعد بن عبادہ اور احمد اورترمذی نے انس بن مالك سے اور احمد ابن ماجہ اور ابن حبان نے عبدالعزیز بن ابی اوفی سے سجدہ کی فصل میں اور ترمذی اور ابن ماجہ نے ابو ھریرہ سے اور احمد نے معاذ بن جبل اورحاکم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
الغرض شوہر کے لیے سخت واجب التعظیم ہے اور بد مذہب کی تعظیم حرام متعدد حدیثوں میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ رواہ ابن عدی وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقہ والحسن بن سفیان فی مسندہ وابونعیم فی الحلیۃ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بسر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابراھیم بن میسرۃ التابعی المکی الثقۃ مرسلا فالصواب ان الحدیث حسن بطرقہ۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد کی(اس کوابن عدی اور ابن عساکر نے ام المومنین عائشہ صدیقہ اور حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں معاذ بن جبل سے اور سجزی نے ابانۃ میں ابن عمر سے اور ابن عدی نے ابن عباس سے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابونعیم نے حلیہ میں عبدالله بن بسر اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ تابعی مکی سے مرسل طورپر روایت کیاہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ اپنے طرق پر یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ مبتدع تو مبتدع فاسق بھی شرعا واجب الاہانۃ ہے اور اس کی تعظیم ناجائز علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
الفاسق العالم تجب اھانتہ شرعا فلایعظم۔
فاسق عالم کی شرعا توہین ضروری ہے اس لیے ا س کی تعظیم نہ کی جائے۔ (ت)
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث نمبر ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ / ۶۱
مراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
مراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
امام علامہ فخر الدین زیلعی تبیین الحقائق پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح المعین پھر علامہ سید احمد مصری حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
قد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
ان پر اس کی اہانت ضروری ہے۔ (ت)
علامہ محقق سعد الملۃ والدین تفتازانی مقاصد وشرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
حکم المبتدع البغض والعداوۃ والاعراض عنہ والاھانۃ والطعن واللعن ۔
بد مذہب کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ اس سے بغض و عداوت رکھیں روگردانی کریں اس کی تذلیل وتحقیر بجالائیں۔ اس سے طعن کے ساتھ پیش آئیں۔
لاجرم ثابت ہوا کہ بد مذہب کو سنیہ کاشوہر بنانا گناہ وناجائز ہے۔
دلیل پنجم : قال العلی الاعلی جل وجلا(الله بلند واعلی نے فرمایا) : و الفیا سیدها لدا الباب- ان دونوں نے زلیخا کے سید وسردار یعنی شوہر کو پایا دروازے کے پاس ردالمحتار باب الکفاءۃ میں ہے : النکاح رق للمرأۃ و الزوج مالك نکاح سے عورت کنیز ہوجاتی ہے اور شوہر مالک۔ اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتقولوا للمنافق یاسید فانہ ان یکن سیدا فقدا سخطتم ربکم عزوجل ۔ رواہ ابوداؤد و النسائی بسند صحیح عن بریدۃ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ۔
منافق کو “ اے سردار “ کہہ کر نہ پکارو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہو تو بیشك تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کیا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حاکم نے صحیح مستدرك میں بافادہ تصحیح اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان لفظوں سے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
قد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
ان پر اس کی اہانت ضروری ہے۔ (ت)
علامہ محقق سعد الملۃ والدین تفتازانی مقاصد وشرح مقاصد میں فرماتے ہیں :
حکم المبتدع البغض والعداوۃ والاعراض عنہ والاھانۃ والطعن واللعن ۔
بد مذہب کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ اس سے بغض و عداوت رکھیں روگردانی کریں اس کی تذلیل وتحقیر بجالائیں۔ اس سے طعن کے ساتھ پیش آئیں۔
لاجرم ثابت ہوا کہ بد مذہب کو سنیہ کاشوہر بنانا گناہ وناجائز ہے۔
دلیل پنجم : قال العلی الاعلی جل وجلا(الله بلند واعلی نے فرمایا) : و الفیا سیدها لدا الباب- ان دونوں نے زلیخا کے سید وسردار یعنی شوہر کو پایا دروازے کے پاس ردالمحتار باب الکفاءۃ میں ہے : النکاح رق للمرأۃ و الزوج مالك نکاح سے عورت کنیز ہوجاتی ہے اور شوہر مالک۔ اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتقولوا للمنافق یاسید فانہ ان یکن سیدا فقدا سخطتم ربکم عزوجل ۔ رواہ ابوداؤد و النسائی بسند صحیح عن بریدۃ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ۔
منافق کو “ اے سردار “ کہہ کر نہ پکارو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہو تو بیشك تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کیا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حاکم نے صحیح مستدرك میں بافادہ تصحیح اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان لفظوں سے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References
طحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴۳
شرح مقاصد المبحث الثامن حکم المومن دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۷۰
ا لقرآن ۱۲ / ۲۵
ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۲۴
شرح مقاصد المبحث الثامن حکم المومن دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲ / ۲۷۰
ا لقرآن ۱۲ / ۲۵
ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۲۴
اذا قال الرجل للمنافق یاسید فقد اغضب ربہ ۔
جو شخص کسی منافق کو “ سردار “ کہہ کر پکارے وہ اپنے رب عزوجل کے غضب میں پڑے۔
امام حافظ الحدیث عبدالعظیم زکی الدین نے کتاب الترغیب والترھیب میں ایك باب وضع کیا :
الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی او نحوھا من الکلمات الدالۃ علی التعظیم ۔
یعنی ان حدیثوں کا بیان جن میں کسی فاسق یابدمذہب کو “ اے میرے سردار “ یا کوئی کلمہ تعظیم کہنے سے ڈرانا۔
اوراس باب میں یہی حدیث انھیں روایات ابی داؤد ونسائی سے ذکر فرمائی۔ جب صرف زبان سے “ اے میرے سردار “ کہہ دینا باعث غضب رب جل جلالہ ہے تو حقیقۃ سردار مالك بنالینا کس قدر سخت موجب غضب ہوگا والعیاذباﷲ رب العالمین۔
دلیل ششم : یایها الناس ضرب مثل فاستمعوا له-
و الله لا یستحی من الحق- ۔
ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔ اے لوگوں! ایك مثل کہی گئی اسے کان لگا کر سنو بیشك الله عزوجل حق بات فرمانے میں نہیں شرماتا۔
کیا تم میں کسی کوپسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے تم اسے بہت برا جانوگے۔
رب جل وعلا نے غیبت کو حرام ہونا اسی طرز بلیغ سے ادافرمایا :
ایحب احدكم ان یاكل لحم اخیه میتا فكرهتموه- ۔
کیا تم میں سے کوئی پسند رکھتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے تویہ تمھیں برا لگا۔
جو شخص کسی منافق کو “ سردار “ کہہ کر پکارے وہ اپنے رب عزوجل کے غضب میں پڑے۔
امام حافظ الحدیث عبدالعظیم زکی الدین نے کتاب الترغیب والترھیب میں ایك باب وضع کیا :
الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی او نحوھا من الکلمات الدالۃ علی التعظیم ۔
یعنی ان حدیثوں کا بیان جن میں کسی فاسق یابدمذہب کو “ اے میرے سردار “ یا کوئی کلمہ تعظیم کہنے سے ڈرانا۔
اوراس باب میں یہی حدیث انھیں روایات ابی داؤد ونسائی سے ذکر فرمائی۔ جب صرف زبان سے “ اے میرے سردار “ کہہ دینا باعث غضب رب جل جلالہ ہے تو حقیقۃ سردار مالك بنالینا کس قدر سخت موجب غضب ہوگا والعیاذباﷲ رب العالمین۔
دلیل ششم : یایها الناس ضرب مثل فاستمعوا له-
و الله لا یستحی من الحق- ۔
ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔ اے لوگوں! ایك مثل کہی گئی اسے کان لگا کر سنو بیشك الله عزوجل حق بات فرمانے میں نہیں شرماتا۔
کیا تم میں کسی کوپسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے تم اسے بہت برا جانوگے۔
رب جل وعلا نے غیبت کو حرام ہونا اسی طرز بلیغ سے ادافرمایا :
ایحب احدكم ان یاكل لحم اخیه میتا فكرهتموه- ۔
کیا تم میں سے کوئی پسند رکھتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے تویہ تمھیں برا لگا۔
حوالہ / References
مستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکربیروت ۴ / ۳۱۱ ، شعب الایمان حدیث ۴۸۸۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۳۰
الترغیب والترھیب الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی الخ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۳۳ /۵۳
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۹ ، مسند احمد بن حنبل مروی از مسند علی رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۱ / ۸۶
القرآن ۴۹ / ۱۲
الترغیب والترھیب الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی الخ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
القرآن الکریم ۲۲ /۷۳
القرآن الکریم ۳۳ /۵۳
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۹ ، مسند احمد بن حنبل مروی از مسند علی رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۱ / ۸۶
القرآن ۴۹ / ۱۲
سنیو سنیو اگر سنی ہو تو بگوش سنو لیس لنا مثل السوء التی صارت فراش مبتدع کالتی کانت فراشا لکلب ہمارے لیے بری مثل نہیں جو عورت کسی بدمذہب کی جوروبنی وہ ایسی ہی ہے جیسے کسی کتے کے تصرف میں آئی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کوئی چیز دے کر پھیرلینے کا ناجائز ہونا اس وجہ انیق سے بیان فرمایا :
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء ۔
اپنی دی ہوئی چیز پھیرنے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کرکے اسے پھر کھالیتا ہے۔ ہمارے لیے بری مثل نہیں
اب اتنا معلوم کرنا رہا کہ بد مذہب کتا ہے یا نہیں ہاں ضرور ہے بلکہ کتے سے بھی بدتر وناپاك تر کتا فاسق نہیں اوریہ اصل دین ومذہب میں فاسق ہے کتے پرعذاب نہیں اور یہ عذاب شدید کا مستحق ہے میری نہ مانو سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث مانو ابو حازم خزاعی اپنے جزء حدیثی میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔ بدمذہبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں امام دارقطنی کی روایت یوں ہے :
حدثنا القاضی الحسین بن اسمعیل نامحمد بن عبداﷲ المخرمی نا اسمعیل بن ابان نا حفص بن غیاث عن الاعمش عن ابی غالب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھل البدع کلاب اھل النار ۔
(قاضی حسین بن اسمعیل نے محمد بن عبدالله مخرمی سے انھوں نے اسمعیل بن ابان سے انھوں نے حفص بن غیاث سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابو غالب سے انھوں نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا)بد مذہب لوگ دوزخیوں کے کتے ہیں
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء ۔
اپنی دی ہوئی چیز پھیرنے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کرکے اسے پھر کھالیتا ہے۔ ہمارے لیے بری مثل نہیں
اب اتنا معلوم کرنا رہا کہ بد مذہب کتا ہے یا نہیں ہاں ضرور ہے بلکہ کتے سے بھی بدتر وناپاك تر کتا فاسق نہیں اوریہ اصل دین ومذہب میں فاسق ہے کتے پرعذاب نہیں اور یہ عذاب شدید کا مستحق ہے میری نہ مانو سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث مانو ابو حازم خزاعی اپنے جزء حدیثی میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔ بدمذہبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں امام دارقطنی کی روایت یوں ہے :
حدثنا القاضی الحسین بن اسمعیل نامحمد بن عبداﷲ المخرمی نا اسمعیل بن ابان نا حفص بن غیاث عن الاعمش عن ابی غالب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھل البدع کلاب اھل النار ۔
(قاضی حسین بن اسمعیل نے محمد بن عبدالله مخرمی سے انھوں نے اسمعیل بن ابان سے انھوں نے حفص بن غیاث سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابو غالب سے انھوں نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا)بد مذہب لوگ دوزخیوں کے کتے ہیں
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی از مسند عبدالله ابن عباس رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۱۷
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۱۰۸۰ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۲۸ ، کنز العمال بحوالہ ابی حاتم الخزاعی حدیث ۱۰۹۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
کنزا لعمال بحوالہ قط فی الافراد عن ابی امامہ حدیث۱۱۲۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۲۳
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۱۰۸۰ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۲۸ ، کنز العمال بحوالہ ابی حاتم الخزاعی حدیث ۱۰۹۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
کنزا لعمال بحوالہ قط فی الافراد عن ابی امامہ حدیث۱۱۲۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۲۳
ابو نعیم حلیہ میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ ۔
بدمذہب لوگ سب آدمیوں سے بدتر اورسب جانوروں سے بدتر ہیں۔
علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا :
الخلق الناس والخلیقۃ البھائم ۔
خلق سے مراد لو گ اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں۔ (ت)
لاجر م حدیث میں ان کی مناکحت سے ممانعت فرمائی عقیلی وابن حبان حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم ۔
بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو ان کے ساتھ پانی نہ پیو نہ کھانا کھاؤ ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔
دلیل ہفتم : کتابیہ سے نکاح کا جواز عدم ممانعت وعدم گناہ صرف کتابیہ ذمیہ میں ہے جو مطیع الاسلام ہوکر دارالاسلام میں مسلمانوں کے زیر حکومت رہتی ہو وہ بھی خالی از کراہت نہیں بلکہ بے ضرر مکروہ ہے فتح القدیر وغیرہ میں فرمایا :
الاولی ان لایفعل ولایأکل ذیبحتھم الاللضرورۃ ۔
بہتر یہ ہے کہ بلاضرورت ان سے نکاح نہ کرے اور نہ ذبیحہ کھائے۔ (ت)
مگر کتابیہ حربیہ سے نکاح یعنی مذکورہ جائز نہیں بلکہ عند التحقیق ممنوع وگناہ ہے علمائے کرام وجہ ممانعت اندیشہ فتنہ قرار دیتے ہیں کہ ممکن کہ اس سے ایسا تعلق قلب پیدا ہو جس کے باعث آدمی دارالحرب میں وطن کرلے نیز بچے پر اندیشہ ہے کہ کفار کی عادتیں سیکھے نیز احتمال ہے کہ عورت بحالت حمل قید کی جائے تو بچہ غلام بنے محیط میں ہے :
یکرہ تزوج الکتابیۃ الحربیۃ لان الانسان لایأمن ان یکون بینھا ولد فینشأ علی طبائع اھل الحرب ویتخلق باخلاقھم فلا
حربیہ کتابیہ عورت سے نکاح مکروہ ہے کیونکہ انسان اس بات سے بے فکر نہیں ہوسکتا کہ اس سے بچہ پیدا ہو تو وہ اہل حرب میں پرورش پائیگا اور انکے طور طریقے اپنالے گا اور پھر مسلمان اس بچے سے
اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ ۔
بدمذہب لوگ سب آدمیوں سے بدتر اورسب جانوروں سے بدتر ہیں۔
علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا :
الخلق الناس والخلیقۃ البھائم ۔
خلق سے مراد لو گ اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں۔ (ت)
لاجر م حدیث میں ان کی مناکحت سے ممانعت فرمائی عقیلی وابن حبان حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم ۔
بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو ان کے ساتھ پانی نہ پیو نہ کھانا کھاؤ ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔
دلیل ہفتم : کتابیہ سے نکاح کا جواز عدم ممانعت وعدم گناہ صرف کتابیہ ذمیہ میں ہے جو مطیع الاسلام ہوکر دارالاسلام میں مسلمانوں کے زیر حکومت رہتی ہو وہ بھی خالی از کراہت نہیں بلکہ بے ضرر مکروہ ہے فتح القدیر وغیرہ میں فرمایا :
الاولی ان لایفعل ولایأکل ذیبحتھم الاللضرورۃ ۔
بہتر یہ ہے کہ بلاضرورت ان سے نکاح نہ کرے اور نہ ذبیحہ کھائے۔ (ت)
مگر کتابیہ حربیہ سے نکاح یعنی مذکورہ جائز نہیں بلکہ عند التحقیق ممنوع وگناہ ہے علمائے کرام وجہ ممانعت اندیشہ فتنہ قرار دیتے ہیں کہ ممکن کہ اس سے ایسا تعلق قلب پیدا ہو جس کے باعث آدمی دارالحرب میں وطن کرلے نیز بچے پر اندیشہ ہے کہ کفار کی عادتیں سیکھے نیز احتمال ہے کہ عورت بحالت حمل قید کی جائے تو بچہ غلام بنے محیط میں ہے :
یکرہ تزوج الکتابیۃ الحربیۃ لان الانسان لایأمن ان یکون بینھا ولد فینشأ علی طبائع اھل الحرب ویتخلق باخلاقھم فلا
حربیہ کتابیہ عورت سے نکاح مکروہ ہے کیونکہ انسان اس بات سے بے فکر نہیں ہوسکتا کہ اس سے بچہ پیدا ہو تو وہ اہل حرب میں پرورش پائیگا اور انکے طور طریقے اپنالے گا اور پھر مسلمان اس بچے سے
حوالہ / References
حلیۃ الاولیا ترجمہ ابومسعود موصلی دارالکتاب العربی بیروت ۸ / ۲۹۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماقبل مکتبہ امام شافعی الریاض سعودیہ ۱ / ۳۸۳
الضعفاء الکبیر للعقیلی حدیث ۱۵۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۶
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۳۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماقبل مکتبہ امام شافعی الریاض سعودیہ ۱ / ۳۸۳
الضعفاء الکبیر للعقیلی حدیث ۱۵۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۶
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۳۵
یستطیع المسلم قلعہ عن تلك العادۃ ۔
ان کی عادات کو چھوڑنے پر قادر نہ ہوگا۔ (ت)
فتح الله المعین میں علامہ سید احمد حموی سے ہے :
عم مالوکانت حربیۃ ولکن مکروہ بالاجماع لانہ ربما یختار المقام فی دارالحرب ولانہ فیہ تعریض ولدہ للرق فربما تحبل وتسبی معہ فیصیر ولدہ رقیقا وان کان مسلما وربما یتخلق الولد باخلاق الکفار ۔
جواز نکاح کاحکم کتابیہ حربیہ کو بھی شامل ہے لیکن یہ مکروہ ہے بالاجماع کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کی وجہ سے دارالحرب میں قیام پسند کرلے اور اس لیے بھی کہ اس میں بچے کوغلامی میں مبتلا کرنے کی سبیل ہوسکتی ہے کہ اس کی وہ حاملہ بیوی مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے قیدی ہوکر غلام بن جائے اگرچہ وہ مسلمان ہے نیز وہ بچہ دارالحرب میں کفار کی عادات کو اپنا سکتا ہے۔ (ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بعد عبارت مذکورہ فرمایا :
وتکرہ الکتابیۃ الحریبۃ اجماعا لانفتاح باب الفتنۃ من امکان التعلق المستدعی للمقام معہا فی دارالحرب وتعریض الولد علی التخلق باخلاق اھل الکفر وعلی الرق بان تسبی وھی حبلی فیولد رقیقا وان کان مسلما ۔
حربیہ کتابیہ بالاجماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے وہ یہ کہ بیوی سے تعلق مسلمان مرد کو دارالحرب میں رہنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور بچے کو کفار کی عادات کا عادی بنانے کا راستہ ہے نیز بچے کی غلامی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ بیوی حاملہ ہو کر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے غلام بنے اگرچہ وہ مسلمان ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ والاولی ان لایفعل یفید کراھۃ التنزیہ فی غیر الحربیۃ وما بعدہ یفید کراھۃ التحریم فی الحربیۃ ۔
اس کے قول کہ “ بہتر ہے نہ کرے “ سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ کتابیہ غیر حربیہ سے نکاح مکروہ تنزیہہ ہے جبکہ اس کا مابعد میں حربیہ کے بارے میں مکروہ تحریمہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ (ت)
ان کی عادات کو چھوڑنے پر قادر نہ ہوگا۔ (ت)
فتح الله المعین میں علامہ سید احمد حموی سے ہے :
عم مالوکانت حربیۃ ولکن مکروہ بالاجماع لانہ ربما یختار المقام فی دارالحرب ولانہ فیہ تعریض ولدہ للرق فربما تحبل وتسبی معہ فیصیر ولدہ رقیقا وان کان مسلما وربما یتخلق الولد باخلاق الکفار ۔
جواز نکاح کاحکم کتابیہ حربیہ کو بھی شامل ہے لیکن یہ مکروہ ہے بالاجماع کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کی وجہ سے دارالحرب میں قیام پسند کرلے اور اس لیے بھی کہ اس میں بچے کوغلامی میں مبتلا کرنے کی سبیل ہوسکتی ہے کہ اس کی وہ حاملہ بیوی مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے قیدی ہوکر غلام بن جائے اگرچہ وہ مسلمان ہے نیز وہ بچہ دارالحرب میں کفار کی عادات کو اپنا سکتا ہے۔ (ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بعد عبارت مذکورہ فرمایا :
وتکرہ الکتابیۃ الحریبۃ اجماعا لانفتاح باب الفتنۃ من امکان التعلق المستدعی للمقام معہا فی دارالحرب وتعریض الولد علی التخلق باخلاق اھل الکفر وعلی الرق بان تسبی وھی حبلی فیولد رقیقا وان کان مسلما ۔
حربیہ کتابیہ بالاجماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے وہ یہ کہ بیوی سے تعلق مسلمان مرد کو دارالحرب میں رہنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور بچے کو کفار کی عادات کا عادی بنانے کا راستہ ہے نیز بچے کی غلامی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ بیوی حاملہ ہو کر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے غلام بنے اگرچہ وہ مسلمان ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ والاولی ان لایفعل یفید کراھۃ التنزیہ فی غیر الحربیۃ وما بعدہ یفید کراھۃ التحریم فی الحربیۃ ۔
اس کے قول کہ “ بہتر ہے نہ کرے “ سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ کتابیہ غیر حربیہ سے نکاح مکروہ تنزیہہ ہے جبکہ اس کا مابعد میں حربیہ کے بارے میں مکروہ تحریمہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
بحرالرائق بحوالہ المحیط فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۰۳
فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
فتح القدیر فصل فی المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۳۵
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۹
فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
فتح القدیر فصل فی المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۳۵
ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۹
اہل انصاف ملاحظہ کریں کہ جواندیشے ائمہ کرام نے وہاں مرد اور اولاد کے لیے پیدا کئے وہ زائدہیں یا یہ جو یہاں عورت واولاد کے لیے ہیں وہاں مرد کا معاملہ ہے یہاں عورت کا وہ حاکم ہوتاہے یہ محکوم وہ مستقل ہوتاہے یہ متلونہ وہ موثر ہوتا ہے یہ متاثر وہ عقل ودین میں کامل ہو تا ہے یہ ناقصہ وہ اگر دارالحرب میں متوطن ہوگیا تو گنہ گارہوا دین نہ گیا یہ اگر اس کی صحبت میں مبتدعہ ہوگئی تو دین ہی رخصت ہوا بچہ بعد شعور اپنے ماں باپ کی تربیت میں رہتاہے وہاں باپ مسلم ہے یہاں بدمذہب وہاں کافروں کی عادتیں ہی سیکھنے کا احتمال ہے یہاں خود مذہب کے بد ل جانے کا قوی مظنہ وہاں اگر غلام بنا تو ایك دنیوی ذلت ہے آخرت میں ہزاروں غلام کروڑوں آزادوں سے اعز واعلی ہوں گے یہاں اگر رافضی وہابی ہوگیا تو اخروی ذلت دینی فضیحت ہے۔ وہاں غلامی ایك احتمال ہی احتمال تھی اور یہاں یہ بدانجامی مظنون قوی تووہاں وہ اندیشے اگر کراہت تنزیہہ لاتے یہاں یہ ظنون کراہت تحریمیہ تك پہنچ جاتے ہم اوپر گزارش کرچکے ہیں کہ شرعا جو چیز حرام ہے اس کے مقدمات ودواعی بھی حرام ہوتے ہیں اور جب کہ وہاں ان کے سبب کراہت تحریم مانیں تو یہاں ان کے باعث کھلی تحریم رکھی ہے یہ تیسرا جوا ب ہے اس شبہہ کا کہ یہ ان سے بھی گئے گزرے مع ہذا شرع مطہر میں اگرچہ وہ مبتدع جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی آخرت میں کفار سے ہلکا رہے گا ان کا عذاب ابدی ہے اور اس کا منقطع اور بعد موت دنیوی احکام میں بھی خفت ہوگی مگرا س کے جیتے جی ا س کے ساتھ برتاؤ کافر ذمی کے برتاؤ سے اشد ہے اور اس کی وجہ ذی عقل پر روشن کافر ذمی سے ہرگز وہ اندیشہ نہیں جو اس دشمن دین مدعی اسلام وخیرخواہ مسلمین سے ہے وہ کھلا دشمن ہے اور یہ مار آستین اس کی بات کسی جاہل سے جاہل کے دل پر نہ جمے گی کہ سب جانتے ہیں یہ مردود کافر ہے خدا ورسول کا صریح منکر ہے اور یہ جب قرآن وحدیث ہی کے حیلے سے بہکائے گا تو ضرور اسرع واظہر ہے والعیاذ بالله رب العالمین امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
ان کانت البدعۃ بحیث یکفربھا فامرہ اشد من الذمی لانہ لایقر بجزیۃ ولایسامع بعقد ذمۃ وان کان مما لایکفربہ فامرہ بینہ و بین اﷲ اخف من امر الکافر لامحالۃ ۔ ولکن الامرفی الانکار علیہ اشدمنہ علی الکافر لان شرالکافر غیر متعد
وہ بدعت جو مسلمان کو کفر میں مبتلا کردے تو ایسا کافر بدعتی دارالاسلام میں ذمی کافر سے بدتر ہے کیونکہ وہ جزیہ کاپابند نہیں بنتا اور نہ ہی وہ عقد ذمہ کی پروا کرتاہے اوراگر بدعت ایسی ہو جس کی وجہ سے بدعتی کو کافر نہیں کہا جاسکتا تو ایسے بدعتی کا معاملہ کافر کی نسبت سے الله تعالی کے ہاں ضرور خفیف ہے لیکن اس کی تردید کا معاملہ کافر کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے کیونکہ کافر کاشر مسلمانوں کے لیے اتنا نقصان دہ
ان کانت البدعۃ بحیث یکفربھا فامرہ اشد من الذمی لانہ لایقر بجزیۃ ولایسامع بعقد ذمۃ وان کان مما لایکفربہ فامرہ بینہ و بین اﷲ اخف من امر الکافر لامحالۃ ۔ ولکن الامرفی الانکار علیہ اشدمنہ علی الکافر لان شرالکافر غیر متعد
وہ بدعت جو مسلمان کو کفر میں مبتلا کردے تو ایسا کافر بدعتی دارالاسلام میں ذمی کافر سے بدتر ہے کیونکہ وہ جزیہ کاپابند نہیں بنتا اور نہ ہی وہ عقد ذمہ کی پروا کرتاہے اوراگر بدعت ایسی ہو جس کی وجہ سے بدعتی کو کافر نہیں کہا جاسکتا تو ایسے بدعتی کا معاملہ کافر کی نسبت سے الله تعالی کے ہاں ضرور خفیف ہے لیکن اس کی تردید کا معاملہ کافر کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے کیونکہ کافر کاشر مسلمانوں کے لیے اتنا نقصان دہ
فان المسلمین اعتقد وا کفرہ فلایلتفتون الی قولہ اذلایدعی الاسلام واعتقاد الحق اما المبتدع الذی یدعوالی البدعۃ ویزعم ان مایدعو الیہ حق فھو سبب لغو ایۃ الخلق فشرہ متعدفالاستحباب فی اظھار بغضہ ومعاداتہ والانقطاع عنہ وتحقیرہ والتشنیع علیہ ببدعتہ وتنفیر الناس عنہ اشد ۔
نہیں کیونکہ مسلمان اس کے کافر ہونے کی وجہ سے اس کی بات کو قابل التفات نہیں سمجھتے کیونکہ وہ اسلام اور حق کا مدعی نہیں بنتا لیکن گمراہ بدعتی اپنی بدعت کو حق قرار دے کر لوگوں کو اس کی طر ف دعوت دیتاہے اس لیے وہ عوام الناس کو گمراہ کرنے کا سبب بنتاہے لہذا اس کا شر زیادہ موثرہے ایسے شخص کو برا جاننا اس کی مخالفت کرنا اس سے قطع تعلق کرنا اس کی تحقیر کرنا اس کار د کرنا اور لوگوں کو اس سے متنفر کرنا زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔ (ت)
یہ چوتھا جواب ہے اس شبہ کا الحمد ﷲ آفتاب حق بے حجاب سحاب متجلی ہوا اور دلائل واضحہ سے نہ صرف وہابی بلکہ ہر بدمذہب کے ساتھ سنیہ کی تزویج کا باطل محض یا اقل درجہ ممنوع وگناہ ہونا ظاہر ہوگیا ہاں ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہلسنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیونکر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہلسنت ہیں عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے یافلاں نصرانی مومن ہے جب سنیت وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیونکر ممکن ہے ہاں یوں کہتے تو ایك بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں وہابی نہیں اہلسنت ہیں بہت اچھا چشم ماروشن دل ماشاد خدا ایسا ہی کرے اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر اورا س فتوی پر اس سے کیا اثر فتوی میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا فلاں اگر وہابی نہیں سنی ہے اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے فتوی کی صحت میں کیا شك پروری ہے پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں گنتی کے لفظ ہیں کچھ بھاری نہیں
الم(۱) احسب الناس ان یتركوا ان یقولوا امنا
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پر
نہیں کیونکہ مسلمان اس کے کافر ہونے کی وجہ سے اس کی بات کو قابل التفات نہیں سمجھتے کیونکہ وہ اسلام اور حق کا مدعی نہیں بنتا لیکن گمراہ بدعتی اپنی بدعت کو حق قرار دے کر لوگوں کو اس کی طر ف دعوت دیتاہے اس لیے وہ عوام الناس کو گمراہ کرنے کا سبب بنتاہے لہذا اس کا شر زیادہ موثرہے ایسے شخص کو برا جاننا اس کی مخالفت کرنا اس سے قطع تعلق کرنا اس کی تحقیر کرنا اس کار د کرنا اور لوگوں کو اس سے متنفر کرنا زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔ (ت)
یہ چوتھا جواب ہے اس شبہ کا الحمد ﷲ آفتاب حق بے حجاب سحاب متجلی ہوا اور دلائل واضحہ سے نہ صرف وہابی بلکہ ہر بدمذہب کے ساتھ سنیہ کی تزویج کا باطل محض یا اقل درجہ ممنوع وگناہ ہونا ظاہر ہوگیا ہاں ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہلسنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیونکر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہلسنت ہیں عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے یافلاں نصرانی مومن ہے جب سنیت وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیونکر ممکن ہے ہاں یوں کہتے تو ایك بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں وہابی نہیں اہلسنت ہیں بہت اچھا چشم ماروشن دل ماشاد خدا ایسا ہی کرے اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر اورا س فتوی پر اس سے کیا اثر فتوی میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا فلاں اگر وہابی نہیں سنی ہے اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے فتوی کی صحت میں کیا شك پروری ہے پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں گنتی کے لفظ ہیں کچھ بھاری نہیں
الم(۱) احسب الناس ان یتركوا ان یقولوا امنا
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پر
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب الالفۃ والاخوۃ بیان مراتب الذین یبغضون فی الله مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر ۲ / ۱۶۹
و هم لا یفتنون(۲) ۔
لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
چھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔
الله کے سوا کوئی معبود نہیں ا ورحضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الله کے رسول ہیں الله تعالی ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے کوئی حرکت اور کوئی قوت الله تعالی عظیم وبلند کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ (ت)
بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
(۱)مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔
(۲)پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی بٹالی پنجابی بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔
(۳)تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۴)تقلید ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارك تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترك تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(۵)مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراط مسقیم پرہے اس پرشرعا الزام نہیں ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے تقلید شخصی کو شرك یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔
(۶)متعلقات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نےجو احکام شرك گھڑے اور
لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
چھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔
الله کے سوا کوئی معبود نہیں ا ورحضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الله کے رسول ہیں الله تعالی ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے کوئی حرکت اور کوئی قوت الله تعالی عظیم وبلند کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ (ت)
بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
(۱)مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔
(۲)پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی بٹالی پنجابی بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔
(۳)تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۴)تقلید ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارك تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترك تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(۵)مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراط مسقیم پرہے اس پرشرعا الزام نہیں ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے تقلید شخصی کو شرك یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔
(۶)متعلقات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نےجو احکام شرك گھڑے اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۹ /۲
عامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاك حکم جڑے یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔
(۷)زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں امر محمود جب واقع ہو محمود ہے اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔
(۸)علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں جو صاحب بے پھیرپھار بے حیلہ انکار بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائیگا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا اس کے کیا معنی
منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن
(منکر ہونا اور مستیوں کے رنگ میں جینا۔ ت)
و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) (الله تعالی جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ت)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر بیان تصدیق مظہر حق وحقیق اوائل عشرہ اخیرہ ماہ مبارك ربیع الاول شریف سے چند جلسوں میں بدرسمائے تمام اوربلحاظ تاریخ “ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار “ نام ہوا و صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ واصحابہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمین۔
مسئلہ ۲۰۰ : غرہ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور ہندہ زوجہ شیعی مذہب رکھتی ہے اور باہم کسی طریقہ پر عقد بھی ہوگیاہے ایسی حالت میں شرعا ہمبستری یعنی مجامعت جائز ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ہوگی وہ نطفہ صحیح ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
آج کل کے روافض تبرائی علی العموم کافر مرتد ہیں شاید شاذو نادر ان میں کوئی مسلمان نکل سکے
(۷)زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں امر محمود جب واقع ہو محمود ہے اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔
(۸)علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں جو صاحب بے پھیرپھار بے حیلہ انکار بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائیگا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا اس کے کیا معنی
منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن
(منکر ہونا اور مستیوں کے رنگ میں جینا۔ ت)
و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) (الله تعالی جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ت)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر بیان تصدیق مظہر حق وحقیق اوائل عشرہ اخیرہ ماہ مبارك ربیع الاول شریف سے چند جلسوں میں بدرسمائے تمام اوربلحاظ تاریخ “ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار “ نام ہوا و صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ واصحابہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمین۔
مسئلہ ۲۰۰ : غرہ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور ہندہ زوجہ شیعی مذہب رکھتی ہے اور باہم کسی طریقہ پر عقد بھی ہوگیاہے ایسی حالت میں شرعا ہمبستری یعنی مجامعت جائز ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ہوگی وہ نطفہ صحیح ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
آج کل کے روافض تبرائی علی العموم کافر مرتد ہیں شاید شاذو نادر ان میں کوئی مسلمان نکل سکے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
جیسے کووں میں سپید رنگ کا کوا ایسی عورت سے نکاح محض باطل ہے اور قربت صریح زنا اور اولاد یقینا ولدالزنا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱ : از کلکتہ سند ریاپٹی ۱۰۹ متصل مسجد ناخدا دکان کتب شیخ فخرالدین مرسلہ نظیر حسن صاحب ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
بعالی خدمت جناب مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب دام افضالہ پس از سلام مسنون الاسلام آن کہ زید نے اپنی سگی یعنی حقیقی بہن کی لڑکی کی لڑکی سے بحکم ایك عالم عقد کیا یہ ازروئے شرع شریف کے عندالاحناف جائز ہے یا ناجائز ہے مفصل تحریر فرمائیے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
عقد مذکور زنائے محض ہے حرام قطعی ہے سخت عظیم شدید گناہ کبیرہ ہے نہ فقط حنفیہ بلکہ شافعیہ مالکیہ حنبلیہ تمام امت مرحومہ کے اجماع سے حرام ہے نص قرآن عظیم سے حرام ہے قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
حرمت علیکم امھاتکم وبنتکم واخواتکم وعمتکم وخالتکم وبنت الاخ وبنت الاخت ۔
تم پر تمھاری مائیں بیٹیاں بہنیں پھوپھیاں خالائیں بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
اس آیہ کریمہ میں رب عزوجل نے بنات کا لفظ تین جگہ ارشاد فرمایا کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری بیٹیاں بھائی کی بیٹیاں بہن کی بیٹیاں اگربنات یعنی بیٹیاں پوتی نواسی کوبھی شامل تو ضرور بھائی بہن کی پوتی نواسی بھی اسی حکم میں داخل اور اگر شامل نہیں تو خوداپنی پوتی نواسی بھی حکم آیت میں داخل نہیں تواس جاہل بیباك کے طورپر وہ حلال ٹھہرے گی لقولہ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال قرار دی گئی ہیں ت) لاجرم کتب تفسیر میں اسی آیت کریمہ سے بھائی بہن کی پوتی نواسی کا حرام ابدی ہونا ثابت فرمایا اور کتب فقہ میں انھیں بھتیجی بھانجی میں داخل مان کر محارم ابدیہ میں گنایا معالم التنزیل میں ہے :
یدخل فیھن بنات اولادالاخ والاخت وان سفلن ۔
ان محرمات ابدیہ میں بھائی اور بہن کی اولاد کی بیٹیاں خواہ نیچے تك ہوں داخل ہیں۔ (ت)
مسئلہ ۲۰۱ : از کلکتہ سند ریاپٹی ۱۰۹ متصل مسجد ناخدا دکان کتب شیخ فخرالدین مرسلہ نظیر حسن صاحب ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
بعالی خدمت جناب مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب دام افضالہ پس از سلام مسنون الاسلام آن کہ زید نے اپنی سگی یعنی حقیقی بہن کی لڑکی کی لڑکی سے بحکم ایك عالم عقد کیا یہ ازروئے شرع شریف کے عندالاحناف جائز ہے یا ناجائز ہے مفصل تحریر فرمائیے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
عقد مذکور زنائے محض ہے حرام قطعی ہے سخت عظیم شدید گناہ کبیرہ ہے نہ فقط حنفیہ بلکہ شافعیہ مالکیہ حنبلیہ تمام امت مرحومہ کے اجماع سے حرام ہے نص قرآن عظیم سے حرام ہے قال اﷲ تعالی(الله تعالی نے فرمایا) :
حرمت علیکم امھاتکم وبنتکم واخواتکم وعمتکم وخالتکم وبنت الاخ وبنت الاخت ۔
تم پر تمھاری مائیں بیٹیاں بہنیں پھوپھیاں خالائیں بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
اس آیہ کریمہ میں رب عزوجل نے بنات کا لفظ تین جگہ ارشاد فرمایا کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری بیٹیاں بھائی کی بیٹیاں بہن کی بیٹیاں اگربنات یعنی بیٹیاں پوتی نواسی کوبھی شامل تو ضرور بھائی بہن کی پوتی نواسی بھی اسی حکم میں داخل اور اگر شامل نہیں تو خوداپنی پوتی نواسی بھی حکم آیت میں داخل نہیں تواس جاہل بیباك کے طورپر وہ حلال ٹھہرے گی لقولہ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال قرار دی گئی ہیں ت) لاجرم کتب تفسیر میں اسی آیت کریمہ سے بھائی بہن کی پوتی نواسی کا حرام ابدی ہونا ثابت فرمایا اور کتب فقہ میں انھیں بھتیجی بھانجی میں داخل مان کر محارم ابدیہ میں گنایا معالم التنزیل میں ہے :
یدخل فیھن بنات اولادالاخ والاخت وان سفلن ۔
ان محرمات ابدیہ میں بھائی اور بہن کی اولاد کی بیٹیاں خواہ نیچے تك ہوں داخل ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۴
معالم التنزیل حرمت علیکم امہتکم الخ کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۱
القرآن الکریم ۴ /۲۴
معالم التنزیل حرمت علیکم امہتکم الخ کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۱
تفسیر کبیرمیں ہے :
النوع الثانی من المحرمات البنات کل انثی یرجع نسبھا الیك بالولادۃ بدرجۃ بدرجۃ اوبدرجات باناث اوبذکر فھی بنتك النوع السادس والسابع بنات الاخ وبنات الاخت والقول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب والارحام اھ ملتقطا۔
محرمات کی دوسری قسم بیٹیاں ہیں وہ تمام لڑکیاں جن کا نسب ایك درجہ یا کئی درجوں کے مرد اور عورتوں کے واسطہ سے تیری طرف بطور ولادت لوٹنا ہے وہ سب کی سب تیری بیٹیاں ہیں ا ور چھٹی اور ساتویں قسم بھائی اور بہن کی بیٹیاں ہیں اور بھائی بہن کی بیٹیوں کا حکم بھی اپنی صلبی بیٹیوں کی طرح ہے تو یہ سات اقسام نسب اور ارحام کی وجہ سے قرآنی نص سے حرام ہیں اھ ملتقطا(ت)
تفسیر بیضاوی وتفسیر ارشاد العقل میں ہے :
بنات الاخ وبنات الاخت تتناول القربی والبعدی ۔
محرمات میں بھائی اور بہن کی بیٹیاں قریب ہوں یا بعید ہوں سب شامل ہیں۔ (ت)
تفسیر جلالین میں ہے :
وبنت الاخ وبنت الاخت وتدخل فیھن اولادھن ۔
بھائی اوربہن کی بیٹیوں میں ان بیٹیوں کی اولاد بھی داخل ہے۔ (ت)
فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین میں ہے :
فشملت العبارۃ بنت ابن الاخ وان سفل وبنت ابن الاخت وان سفل ۔
یہ عبارت بھتیجوں اور بھانجی کی بیٹیوں کو بھی اگرچہ نیچے تك ہو شامل ہے۔ (ت)
ملتقی الابحر میں ہے :
تحرم علی الرجل اختہ وبنتھا وبنت اخیہ
مردپر اس کی بہن اور اس کی بھانجی اور بھتیجی اور ان
النوع الثانی من المحرمات البنات کل انثی یرجع نسبھا الیك بالولادۃ بدرجۃ بدرجۃ اوبدرجات باناث اوبذکر فھی بنتك النوع السادس والسابع بنات الاخ وبنات الاخت والقول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب والارحام اھ ملتقطا۔
محرمات کی دوسری قسم بیٹیاں ہیں وہ تمام لڑکیاں جن کا نسب ایك درجہ یا کئی درجوں کے مرد اور عورتوں کے واسطہ سے تیری طرف بطور ولادت لوٹنا ہے وہ سب کی سب تیری بیٹیاں ہیں ا ور چھٹی اور ساتویں قسم بھائی اور بہن کی بیٹیاں ہیں اور بھائی بہن کی بیٹیوں کا حکم بھی اپنی صلبی بیٹیوں کی طرح ہے تو یہ سات اقسام نسب اور ارحام کی وجہ سے قرآنی نص سے حرام ہیں اھ ملتقطا(ت)
تفسیر بیضاوی وتفسیر ارشاد العقل میں ہے :
بنات الاخ وبنات الاخت تتناول القربی والبعدی ۔
محرمات میں بھائی اور بہن کی بیٹیاں قریب ہوں یا بعید ہوں سب شامل ہیں۔ (ت)
تفسیر جلالین میں ہے :
وبنت الاخ وبنت الاخت وتدخل فیھن اولادھن ۔
بھائی اوربہن کی بیٹیوں میں ان بیٹیوں کی اولاد بھی داخل ہے۔ (ت)
فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین میں ہے :
فشملت العبارۃ بنت ابن الاخ وان سفل وبنت ابن الاخت وان سفل ۔
یہ عبارت بھتیجوں اور بھانجی کی بیٹیوں کو بھی اگرچہ نیچے تك ہو شامل ہے۔ (ت)
ملتقی الابحر میں ہے :
تحرم علی الرجل اختہ وبنتھا وبنت اخیہ
مردپر اس کی بہن اور اس کی بھانجی اور بھتیجی اور ان
حوالہ / References
تفسیر کبیر تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم مطبعۃالبھیۃ مصر ۱۰ / ۲۹۔ ۲۸
تفسیر بیضاوی تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم مصطفی البابی مصر ۱ / ۸۳
تفسیر جلالین تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم اصح المطابع دہلی ص۸۷۳
فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۰
تفسیر بیضاوی تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم مصطفی البابی مصر ۱ / ۸۳
تفسیر جلالین تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم اصح المطابع دہلی ص۸۷۳
فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۰
وان سفلتا ۔
کی اولاد نیچے تك حرام ہے۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
حرم اصلہ وفرعہ اصلہ القریب ۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب(باپ اور ماں)کے فروع حرام ہیں۔ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت فیحرم جمیع ھؤلاء ۔
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تك سب حرام ہیں۔ (ت)
اصلاح میں ہے :
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ واختہ وفرعھا وفرع اخیہ ۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اس کی بہن اوربھائیوں کی اولاد حرام ہے۔ (ت)
درر میں ہے :
واختہ وبنتھا وان سفلت ۔
بہن اور اس کی بیٹیاں نیچے تك حرام ہیں۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
تدخل فی بنات الاخ والاخت بناتھن وان سفلن ۔
بھتیجیوں اور بھانجیوں میں ان کی بیٹیاں بھی نیچے تك داخل ہیں۔ (ت)
اختیار شرح مختار وخزانہ المفتین میں ہے :
وبنات الاخ وبنات الاخوات وان سفلن فھن محرمات بنص الکتاب نکاحا
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تك محرمات ہیں جن سے نکاح وطی اور اس کے دواعی کی ابدی حرمت
کی اولاد نیچے تك حرام ہے۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
حرم اصلہ وفرعہ اصلہ القریب ۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب(باپ اور ماں)کے فروع حرام ہیں۔ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت فیحرم جمیع ھؤلاء ۔
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تك سب حرام ہیں۔ (ت)
اصلاح میں ہے :
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ واختہ وفرعھا وفرع اخیہ ۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اس کی بہن اوربھائیوں کی اولاد حرام ہے۔ (ت)
درر میں ہے :
واختہ وبنتھا وان سفلت ۔
بہن اور اس کی بیٹیاں نیچے تك حرام ہیں۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
تدخل فی بنات الاخ والاخت بناتھن وان سفلن ۔
بھتیجیوں اور بھانجیوں میں ان کی بیٹیاں بھی نیچے تك داخل ہیں۔ (ت)
اختیار شرح مختار وخزانہ المفتین میں ہے :
وبنات الاخ وبنات الاخوات وان سفلن فھن محرمات بنص الکتاب نکاحا
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تك محرمات ہیں جن سے نکاح وطی اور اس کے دواعی کی ابدی حرمت
حوالہ / References
ملتقی الابحر باب المحرمات موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۳۹
النقایۃمختصرالوقایۃ کتاب النکاح نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
شرح وقایہ المحرمات من النساء مجتبائی دہلی ۲ / ۱۱
اصلاح
دررالحکام کتاب النکاح احمدکامل الکائنہ دارالسعادت بیروت۱ / ۳۰۔ ۳۲۹
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۱۸
النقایۃمختصرالوقایۃ کتاب النکاح نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
شرح وقایہ المحرمات من النساء مجتبائی دہلی ۲ / ۱۱
اصلاح
دررالحکام کتاب النکاح احمدکامل الکائنہ دارالسعادت بیروت۱ / ۳۰۔ ۳۲۹
فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۱۸
و وطأ ودواعیہ علی التابید ۔
کتاب الله کی نص سے ثابت ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خان وغیرہا میں ہے :
وبنات الاخوات وان سفلن ۔
بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
محیط سرخسی وفتاوی علمگیری میں ہے :
وکذا بنات الاخ والاخت وان سفلن ۔
یونہی بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
انوار اما م یوسف اردبیلی شافعی میں ہے :
المحرمات علی التابید بالنسب الامھات وان علت والبنات وان سفلت وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت ۔
نسبی طورپرابدی محرمات مائیں اوپرتک بیٹیاں نیچے تک بھانجیاں اور بھتیجیاں نیچے تك ہیں۔ (ت)
اس جاہل احمق نکاح کرنے والے پر فرض ہے کہ فورا فورا اس اپنی سگی بیٹی سے جدا ہوجائے اور اس اجہل اضل عالم پر الزام کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اپنے اس ناپاك ملعون فتوی سے توبہ کرے اپنی عورت سے نکاح از سر نو کرے۔ “ اعلام بقواطع الاسلام “ میں ہے :
ومن ذلک(ای من المکفرات)ان یستحل محرما بالاجماع کالخمر واللواط ولوفی مملوکہ الخ ۔
کافر بنانے والی چیزوں میں سے کسی ایسی چیز کو حلال بنالینا جس کی حرمت پر اجماع ہے مثلا شراب لواطت خواہ اپنے مملوك سے ہو الخ(ت)
خلاصہ وہندیہ میں ہے :
من اعتقد الحرام حلالااوعلی القلب یکفر ۔
جو شخص حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے پر عقیدہ رکھے وہ کافرہے۔ (ت)
الہی! اس زمانہ پر فتن کے ہرفتنے وشر سے تیر ی پناہ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
کتاب الله کی نص سے ثابت ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خان وغیرہا میں ہے :
وبنات الاخوات وان سفلن ۔
بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
محیط سرخسی وفتاوی علمگیری میں ہے :
وکذا بنات الاخ والاخت وان سفلن ۔
یونہی بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
انوار اما م یوسف اردبیلی شافعی میں ہے :
المحرمات علی التابید بالنسب الامھات وان علت والبنات وان سفلت وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت ۔
نسبی طورپرابدی محرمات مائیں اوپرتک بیٹیاں نیچے تک بھانجیاں اور بھتیجیاں نیچے تك ہیں۔ (ت)
اس جاہل احمق نکاح کرنے والے پر فرض ہے کہ فورا فورا اس اپنی سگی بیٹی سے جدا ہوجائے اور اس اجہل اضل عالم پر الزام کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اپنے اس ناپاك ملعون فتوی سے توبہ کرے اپنی عورت سے نکاح از سر نو کرے۔ “ اعلام بقواطع الاسلام “ میں ہے :
ومن ذلک(ای من المکفرات)ان یستحل محرما بالاجماع کالخمر واللواط ولوفی مملوکہ الخ ۔
کافر بنانے والی چیزوں میں سے کسی ایسی چیز کو حلال بنالینا جس کی حرمت پر اجماع ہے مثلا شراب لواطت خواہ اپنے مملوك سے ہو الخ(ت)
خلاصہ وہندیہ میں ہے :
من اعتقد الحرام حلالااوعلی القلب یکفر ۔
جو شخص حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے پر عقیدہ رکھے وہ کافرہے۔ (ت)
الہی! اس زمانہ پر فتن کے ہرفتنے وشر سے تیر ی پناہ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
حوالہ / References
الاختیار لتعلیل الاختیار فصل فی المحرمات دارفراس للنشروالتوزیع بیروت ۳ / ۸۵
فتاوٰی قاضٰی خاں باب فی المحرمات نولکشور لکھنو ۱ / ۱۶۵
فتاوی ہندیہ فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۳
انوار الاعمال الابرار
الاعلام بقواطع الاسلام ملحق بسبل النجاۃ مکتبہ حقیقۃ دارالشفقت استنبول ترکی ص۳۵۳
فتاوٰی ہندیہ احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۲
فتاوٰی قاضٰی خاں باب فی المحرمات نولکشور لکھنو ۱ / ۱۶۵
فتاوی ہندیہ فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۳
انوار الاعمال الابرار
الاعلام بقواطع الاسلام ملحق بسبل النجاۃ مکتبہ حقیقۃ دارالشفقت استنبول ترکی ص۳۵۳
فتاوٰی ہندیہ احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۲
مسئلہ ۲۰۲ : ازنواب گنج ضلع بریلی مکان تحصیلدار ظہور الاسلام صاحب مرسلہ حضرت سیدنور عالم میاں صاحب مارہروی ۵ رجب ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع شریف اساطین فرقہ اہل سنت وجماعت متبعین ملت حنفیہ اس باب میں کہ ایك شخص نے اپنی بی بی کی زندگی میں اس کی خواہر حقیقی سے نکاح کیا اوربعد نکاح خواہر زن مگر قبل خلوت صحیحہ یااس سے خلوت صحیحہ کے بعد پہلی بی بی کو طلاق دے دی ان دونوں صورتوں میں یہ نکاح عندالشرع درست وجائز ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جب ایك بہن نکاح میں ہو دوسری سے نکاح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ تعالی و ان تجمعوا بین الاختین ۔
الله تعالی کا ارشاد ہے : حرام ہے دونو ں بہنوں کو جمع کرنا۔ (ت)
تو یہ نکاح ضرور حرام وناجائز ہوا اور پہلی زوجہ کو اس نکاح فاسد کے بعد پیش از خلوت خواہ بعد خلوت طلاق دے دینا اس حرام کو حلال اس فاسد کوصحیح اس ناجائز کو جائز نہیں کرسکتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر اولا زوجہ کو طلاق دے اور ہنوز ا س کی عدت نہ گزری ہو کہ ا س کی بہن سے نکاح کرلے تو یہ نکاح حرام ہوگا تویہاں کہ پہلے ا س کی خواہر سے نکاح کرلیا بعد کو طلاق دی کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ درمختارمیں ہے :
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ولومن طلاق بائن ۔
وہ عورتیں جو آپس میں محرم ہوں ان کو نکاح اور عدت خواہ طلاق بائن کی عدت ہو میں جمع کرنا حرام ہے۔ (ت)
شخص مذکور پر فرض ہے کہ فورا فورا اس دوسری کو چھوڑدے پھر اگر پہلی کی عدت گزرچکی ہے توا سے اختیار ہوگا کہ اس دوسری کو چھوڑکر ابھی معا اس سے نکاح کرلے ورنہ ااتنا انتظار فرض ہے کہ اس پہلی کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس دوسری سے نکاح صحیح بروجہ شرعی کرے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۳ : ۵ رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاذالله ساس سے زنا کے باعث جب منکوحہ حرام ہوجائے تو اس سے پردہ بھی فرض ہوجاتا ہے یا وہ مثل محارم کے ہوجاتی ہے کہ دیکھنا چھونا تنہا مکان میں رہنا جائز ہے۔ بینوا توجروا
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع شریف اساطین فرقہ اہل سنت وجماعت متبعین ملت حنفیہ اس باب میں کہ ایك شخص نے اپنی بی بی کی زندگی میں اس کی خواہر حقیقی سے نکاح کیا اوربعد نکاح خواہر زن مگر قبل خلوت صحیحہ یااس سے خلوت صحیحہ کے بعد پہلی بی بی کو طلاق دے دی ان دونوں صورتوں میں یہ نکاح عندالشرع درست وجائز ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جب ایك بہن نکاح میں ہو دوسری سے نکاح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ تعالی و ان تجمعوا بین الاختین ۔
الله تعالی کا ارشاد ہے : حرام ہے دونو ں بہنوں کو جمع کرنا۔ (ت)
تو یہ نکاح ضرور حرام وناجائز ہوا اور پہلی زوجہ کو اس نکاح فاسد کے بعد پیش از خلوت خواہ بعد خلوت طلاق دے دینا اس حرام کو حلال اس فاسد کوصحیح اس ناجائز کو جائز نہیں کرسکتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر اولا زوجہ کو طلاق دے اور ہنوز ا س کی عدت نہ گزری ہو کہ ا س کی بہن سے نکاح کرلے تو یہ نکاح حرام ہوگا تویہاں کہ پہلے ا س کی خواہر سے نکاح کرلیا بعد کو طلاق دی کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ درمختارمیں ہے :
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ولومن طلاق بائن ۔
وہ عورتیں جو آپس میں محرم ہوں ان کو نکاح اور عدت خواہ طلاق بائن کی عدت ہو میں جمع کرنا حرام ہے۔ (ت)
شخص مذکور پر فرض ہے کہ فورا فورا اس دوسری کو چھوڑدے پھر اگر پہلی کی عدت گزرچکی ہے توا سے اختیار ہوگا کہ اس دوسری کو چھوڑکر ابھی معا اس سے نکاح کرلے ورنہ ااتنا انتظار فرض ہے کہ اس پہلی کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس دوسری سے نکاح صحیح بروجہ شرعی کرے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۳ : ۵ رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاذالله ساس سے زنا کے باعث جب منکوحہ حرام ہوجائے تو اس سے پردہ بھی فرض ہوجاتا ہے یا وہ مثل محارم کے ہوجاتی ہے کہ دیکھنا چھونا تنہا مکان میں رہنا جائز ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
مذہب اصح یہی ہے کہ حرمت مصاہرت اگرچہ معاذالله زنا سے ناشی ہوئی ہو عورت کو مثل محارم کے کردیتی ہے تو نظر ومس بہ شہوت تو قطعا حرام ہوگئے اور بلاشہوت میں حرج نہیں جبکہ اپنے یا عورت کے لیے حدوث شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ بحالت اندیشہ بلاشہوت بھی دیکھنا چھونا حرام ہوگا بلکہ اگر شك بھی ہو کہ شاید مجھے یا عورت کو شہوت پیدا ہو نہ ہو جب بھی حکم حرمت ہے تنہا ایك مکان میں جانے کی تواصلا اجازت نہیں کہ یہ خواہی نخواہی مظنہ شہوت ہے خصوصا منکوحہ میں جو ایك زمانے تك ا س کے نکاح میں رہ چکی اور باہم حجاب وتکلف مرتفع رہاتھا تو عندالانصاف جبکہ منکوحہ سے معاذالله حرمت مصاہرت پیداہو اسے مثل اجنبیہ تصور کرنے ہی میں احتیاط ہے وبالله العصمۃ درمختارمیں ہے :
ینظر الرجل من محرمہ ھی من لایحل لہ نکاحہا ابدابنسب اوبسبب ولوبزنا الی الراس والوجہ والصدروالساق والعضدان أمن شہوتہ وشھوتہا وان لم یأمن اوشاھی لایحل النظر والمس کشف الحقائق لابن سلطان والمجتبی اھ ملتقطا۔
محرمہ وہ عورت ہے جس سے ابدی طورپر نکاح حرام ہو نسب کی وجہ سے محرمہ ہو یا کسی سبب کی وجہ سے وہ سبب زنا ہی کیوں نہ ہو شہوت کا خد شہ نہ ہو تو ایسی محرم عورتوں کے سر چہرہ سینہ پنڈلی اور بازو کو دیکھنا مردکے لیے جائز ہے اور اگر مرد یا عورت کو شہوت کا خدشہ ہو یا کوئی ان میں سے حالت شہوت میں ہو تو پھر محرمہ کو چھونا اور دیکھنا جائز نہیں۔ کشف الحقائق ابن سلطان اور مجتبی اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولوبزنا ای ولوکان عدم حل نکاحھالہ بسبب زناہ باصولھا او فروعھا قال الزیلعی وقیل انھا کالاجنبیۃ والاول اصح اعتبارا للحقیقۃ لانھا محرمۃ علیہ علی التابید ۔
اس کاقول “ اگرچہ زنا سے ہو “ یعنی اس سےنکاح حلال نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اصول یا فروع سے زنا ہو زیلعی نے کہا کہ ایسی عورت کاچھونے اور دیکھنے میں اجنبی عورت جیسا حکم ہے جبکہ پہلا قول اصح ہے کیونکہ اس کے ابدی ہونے کی حقیقت کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
قولہ اوشك معناہ استواء الامرین اس کاقول “ اوشک “ اس کا معنی یہ ہے کہ شہوت اور
مذہب اصح یہی ہے کہ حرمت مصاہرت اگرچہ معاذالله زنا سے ناشی ہوئی ہو عورت کو مثل محارم کے کردیتی ہے تو نظر ومس بہ شہوت تو قطعا حرام ہوگئے اور بلاشہوت میں حرج نہیں جبکہ اپنے یا عورت کے لیے حدوث شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ بحالت اندیشہ بلاشہوت بھی دیکھنا چھونا حرام ہوگا بلکہ اگر شك بھی ہو کہ شاید مجھے یا عورت کو شہوت پیدا ہو نہ ہو جب بھی حکم حرمت ہے تنہا ایك مکان میں جانے کی تواصلا اجازت نہیں کہ یہ خواہی نخواہی مظنہ شہوت ہے خصوصا منکوحہ میں جو ایك زمانے تك ا س کے نکاح میں رہ چکی اور باہم حجاب وتکلف مرتفع رہاتھا تو عندالانصاف جبکہ منکوحہ سے معاذالله حرمت مصاہرت پیداہو اسے مثل اجنبیہ تصور کرنے ہی میں احتیاط ہے وبالله العصمۃ درمختارمیں ہے :
ینظر الرجل من محرمہ ھی من لایحل لہ نکاحہا ابدابنسب اوبسبب ولوبزنا الی الراس والوجہ والصدروالساق والعضدان أمن شہوتہ وشھوتہا وان لم یأمن اوشاھی لایحل النظر والمس کشف الحقائق لابن سلطان والمجتبی اھ ملتقطا۔
محرمہ وہ عورت ہے جس سے ابدی طورپر نکاح حرام ہو نسب کی وجہ سے محرمہ ہو یا کسی سبب کی وجہ سے وہ سبب زنا ہی کیوں نہ ہو شہوت کا خد شہ نہ ہو تو ایسی محرم عورتوں کے سر چہرہ سینہ پنڈلی اور بازو کو دیکھنا مردکے لیے جائز ہے اور اگر مرد یا عورت کو شہوت کا خدشہ ہو یا کوئی ان میں سے حالت شہوت میں ہو تو پھر محرمہ کو چھونا اور دیکھنا جائز نہیں۔ کشف الحقائق ابن سلطان اور مجتبی اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولوبزنا ای ولوکان عدم حل نکاحھالہ بسبب زناہ باصولھا او فروعھا قال الزیلعی وقیل انھا کالاجنبیۃ والاول اصح اعتبارا للحقیقۃ لانھا محرمۃ علیہ علی التابید ۔
اس کاقول “ اگرچہ زنا سے ہو “ یعنی اس سےنکاح حلال نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اصول یا فروع سے زنا ہو زیلعی نے کہا کہ ایسی عورت کاچھونے اور دیکھنے میں اجنبی عورت جیسا حکم ہے جبکہ پہلا قول اصح ہے کیونکہ اس کے ابدی ہونے کی حقیقت کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
قولہ اوشك معناہ استواء الامرین اس کاقول “ اوشک “ اس کا معنی یہ ہے کہ شہوت اور
حوالہ / References
درمختار فصل فی النظروالمس مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۱
ردالمحتار فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۵
ردالمحتار فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۵
تاتارخانیہ ۔
عدم شہوت دونوں کا احتمال مساوی ہو۔ تاتارخانیہ(ت)
درمختار میں ہے :
والخلوۃ بالمحرم مباحۃ الاالاخت رضاعا والصھرۃ الشابۃ ۔
محرم عورتوں سے خلوت مباح ہے مگر رضاعی بہن اور جوان ساس سے جائز نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی القنیۃ وفی استحسان القاضی الصدر الشہید وینبغی للاخ من الرضاع ان لایخلو باختہ من الرضاع لان الغالب ھنالك الوقوع فی الجماع اھ وافادالعلامۃ البیری ان ینبغی معناہ الوجوب ھنا اھ مافی ردالمحتار قلت فاذاکان الغالب ذلك فی الاخت رضاعا فماظنك فی التی کانت تحتہ زمانا وقد ذاق کل عسیلۃ صاحب نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
قنیہ اور قاضی الصدر الشہید کے استحسان میں ہے کہ رضاعی بھائی کو رضاعی بہن کے ساتھ تخلیہ مناسب نہیں کیونکہ تخلیہ جماع کا موجب ہوتاہے غالب یہی ہے۔ اھ اور علامہ بیری نے مفید بات کی ہے کہ یہاں ینبغی کا معنی وجوب ہے ردالمحتار کابیان ختم ہوا قلت(میں کہتا ہوں کہ۔ ت) جب رضاعی بہن کے متعلق غالب امریہ ہے تو اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جومدت بھر اس کی بیوی رہی ہو اور یہ مرد عورت دونوں ایك دوسرے سے لطف اندوز ہوتے رہے ہوں ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۴ : از مارہرہ مطہرہ مدرسہ درگاہ معلی مرسلہ مولوی رحمت الله صاحب ز۱۷ رجب المرجب ۱۳۱۷ھ
زید نے ہندہ کے ساتھ عرصہ پندرہ برس کا ہوا نکاح کیا لڑکا بھی پیدا ہوا پھر زید چلاگیا اور اب تك اس کی خبر نہ لی نہ نان نفقہ دیا چند بار اس کو واسطے دینے طلاق کے تحریر کیا جواب نہ دیا اب ہندہ دوسرا عقد کرنا چاہتی ہے بخیال حالات کہ زمانہ نامعلوم کیا امر نا مناسب آئندہ پیش آئے اس وقت بجز ندامت اہل دنیا و الزام شرع کچھ سود نہ ہوگا پس یہ ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
عدم شہوت دونوں کا احتمال مساوی ہو۔ تاتارخانیہ(ت)
درمختار میں ہے :
والخلوۃ بالمحرم مباحۃ الاالاخت رضاعا والصھرۃ الشابۃ ۔
محرم عورتوں سے خلوت مباح ہے مگر رضاعی بہن اور جوان ساس سے جائز نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی القنیۃ وفی استحسان القاضی الصدر الشہید وینبغی للاخ من الرضاع ان لایخلو باختہ من الرضاع لان الغالب ھنالك الوقوع فی الجماع اھ وافادالعلامۃ البیری ان ینبغی معناہ الوجوب ھنا اھ مافی ردالمحتار قلت فاذاکان الغالب ذلك فی الاخت رضاعا فماظنك فی التی کانت تحتہ زمانا وقد ذاق کل عسیلۃ صاحب نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
قنیہ اور قاضی الصدر الشہید کے استحسان میں ہے کہ رضاعی بھائی کو رضاعی بہن کے ساتھ تخلیہ مناسب نہیں کیونکہ تخلیہ جماع کا موجب ہوتاہے غالب یہی ہے۔ اھ اور علامہ بیری نے مفید بات کی ہے کہ یہاں ینبغی کا معنی وجوب ہے ردالمحتار کابیان ختم ہوا قلت(میں کہتا ہوں کہ۔ ت) جب رضاعی بہن کے متعلق غالب امریہ ہے تو اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جومدت بھر اس کی بیوی رہی ہو اور یہ مرد عورت دونوں ایك دوسرے سے لطف اندوز ہوتے رہے ہوں ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۴ : از مارہرہ مطہرہ مدرسہ درگاہ معلی مرسلہ مولوی رحمت الله صاحب ز۱۷ رجب المرجب ۱۳۱۷ھ
زید نے ہندہ کے ساتھ عرصہ پندرہ برس کا ہوا نکاح کیا لڑکا بھی پیدا ہوا پھر زید چلاگیا اور اب تك اس کی خبر نہ لی نہ نان نفقہ دیا چند بار اس کو واسطے دینے طلاق کے تحریر کیا جواب نہ دیا اب ہندہ دوسرا عقد کرنا چاہتی ہے بخیال حالات کہ زمانہ نامعلوم کیا امر نا مناسب آئندہ پیش آئے اس وقت بجز ندامت اہل دنیا و الزام شرع کچھ سود نہ ہوگا پس یہ ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۵
درمختار فصل فی النظر والمس مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۱
ردالمحتار فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۶
درمختار فصل فی النظر والمس مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۱
ردالمحتار فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۶
الجواب
جب تك موت یا طلاق نہ ہو حرام ہے
قال اﷲ تعالی و المحصنت من النسآء ۔
الله تعالی کاارشاد ہے : شادی شدہ عورتیں۔ (ت)
چارہ کار نالش ہے ورنہ صبر ورنہ یہ نکاح خود کیا حرام نہ ہوگا تووہم آئندہ سے بچنے کے لیے قصدا حرام کاری کے کیا معنی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸ : از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاك خانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)سید سید شیخ شیخ پٹھان پٹھان آیا ان قوموں میں بڑے بھائی کی لڑکی اور چھوٹے بھائی کا لڑکا اس صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں(۲)زید وعمر و حقیقی چچازاد بھائی ہیں اب عمرو کی دختر کے ساتھ نکاح کرناچاہتا ہے جائزہے یا نہیں اور غیر حقیقی میں کیا حکم ہے(۳)آپس میں بھائی اور بہنوں سوائے نسبی اور رضاعی کے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۴)زید کا دادا غیر حقیقی ہے اب زید اس غیر حقیقی دادا کی دختر سے نکاح کرنا چاہتاہے جائز ہے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
ان سب صورتوں میں یعنی اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یاغیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی داداکا حقیقی بھائی ہو اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایك نہ باپ میں شریك نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں یہ سب عورتیں شرعا حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت ومصاہرت قائم نہ ہو۔
قال اﷲ تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔
الله تعالی نے فرمایا : محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
حرم اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب(ماں باپ)
جب تك موت یا طلاق نہ ہو حرام ہے
قال اﷲ تعالی و المحصنت من النسآء ۔
الله تعالی کاارشاد ہے : شادی شدہ عورتیں۔ (ت)
چارہ کار نالش ہے ورنہ صبر ورنہ یہ نکاح خود کیا حرام نہ ہوگا تووہم آئندہ سے بچنے کے لیے قصدا حرام کاری کے کیا معنی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸ : از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاك خانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)سید سید شیخ شیخ پٹھان پٹھان آیا ان قوموں میں بڑے بھائی کی لڑکی اور چھوٹے بھائی کا لڑکا اس صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں(۲)زید وعمر و حقیقی چچازاد بھائی ہیں اب عمرو کی دختر کے ساتھ نکاح کرناچاہتا ہے جائزہے یا نہیں اور غیر حقیقی میں کیا حکم ہے(۳)آپس میں بھائی اور بہنوں سوائے نسبی اور رضاعی کے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۴)زید کا دادا غیر حقیقی ہے اب زید اس غیر حقیقی دادا کی دختر سے نکاح کرنا چاہتاہے جائز ہے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
ان سب صورتوں میں یعنی اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یاغیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی داداکا حقیقی بھائی ہو اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایك نہ باپ میں شریك نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں یہ سب عورتیں شرعا حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت ومصاہرت قائم نہ ہو۔
قال اﷲ تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم ۔
الله تعالی نے فرمایا : محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
حرم اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب(ماں باپ)
وصلبیۃ اصلہ للبعید ۔
کے فروع(بہن بھائی)اور اصل بعید(دادا اور اوپر والے)باپوں کے صلبی رشتے حرام ہیں۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
حلال بنت عمہ وعمتہ وخالہ وخالتہ لقولہ تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم اھ
قلت ویدخل فیھم اعمام ابیہ وجدہ وان علا وامہ وجدتہ وان علت وعماتھم واخوالھم وخالاتھم کمادخلن فی قولہ تعالی و عمتكم و خلتكم کمافی التبیین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
چچا پھوپھی ماموں اور خالہ کی لڑکیاں حلال ہیں کیونکہ الله تعالی نے فرمایا کہ محرمات کے ماسوا سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں قلت(میں کہتاہوں۔ ت)ان میں ماں باپ دادا اور دادی کے چچوں اور ان کے ماموں خالاؤں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں بھی حلال ہونے میں داخل ہیں جیساکہ تبیین میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۰۹ : مرسلہ مولوی عبدالحمیدصاحب محرم ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدکی دو بہنیں اور ایك بیٹی ہے اور ان کا نکاح بھی ہوگیا ہے اب آیا زید کی بیٹی کو زید کی دونوں بہنوں کے شوہر سے پردہ کرنا واجب ہے یا نہیں اور بعد مرنے کے ایك ہمشیرہ کے اس کے شوہر سے زید کی لڑکی کانکاح ہوسکتا ہے یا نہیں اور اس سے بھی پردہ اس حالت میں ہے یا نہیں اور جس بہن کا شوہر زندہ ہے اس سے بھی نکاح درست ہے یا نہیں بینوا بالدلیل توجروا باجرالجزیل۔
الجواب :
پھوپھی یا خالہ یا بہن اور اسی طرح جتنی عورت کی محارم ہیں ان کی زندگی میں ان کے شوہروں سے عورت کا نکاح اگرچہ حرام۔
واصلہ قولہ عزوجل وان تجمعوا بین الاختین ۔
وفی الحدیث لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی
اور اس کا اصل ___ الله تعالی کا یہ ارشاد “ حرام ہے دو بہنوں کو جمع کرنا “ اور حدیث میں ہے کہ پھوپھی اور
کے فروع(بہن بھائی)اور اصل بعید(دادا اور اوپر والے)باپوں کے صلبی رشتے حرام ہیں۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
حلال بنت عمہ وعمتہ وخالہ وخالتہ لقولہ تعالی و احل لكم ما ورآء ذلكم اھ
قلت ویدخل فیھم اعمام ابیہ وجدہ وان علا وامہ وجدتہ وان علت وعماتھم واخوالھم وخالاتھم کمادخلن فی قولہ تعالی و عمتكم و خلتكم کمافی التبیین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
چچا پھوپھی ماموں اور خالہ کی لڑکیاں حلال ہیں کیونکہ الله تعالی نے فرمایا کہ محرمات کے ماسوا سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں قلت(میں کہتاہوں۔ ت)ان میں ماں باپ دادا اور دادی کے چچوں اور ان کے ماموں خالاؤں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں بھی حلال ہونے میں داخل ہیں جیساکہ تبیین میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۰۹ : مرسلہ مولوی عبدالحمیدصاحب محرم ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدکی دو بہنیں اور ایك بیٹی ہے اور ان کا نکاح بھی ہوگیا ہے اب آیا زید کی بیٹی کو زید کی دونوں بہنوں کے شوہر سے پردہ کرنا واجب ہے یا نہیں اور بعد مرنے کے ایك ہمشیرہ کے اس کے شوہر سے زید کی لڑکی کانکاح ہوسکتا ہے یا نہیں اور اس سے بھی پردہ اس حالت میں ہے یا نہیں اور جس بہن کا شوہر زندہ ہے اس سے بھی نکاح درست ہے یا نہیں بینوا بالدلیل توجروا باجرالجزیل۔
الجواب :
پھوپھی یا خالہ یا بہن اور اسی طرح جتنی عورت کی محارم ہیں ان کی زندگی میں ان کے شوہروں سے عورت کا نکاح اگرچہ حرام۔
واصلہ قولہ عزوجل وان تجمعوا بین الاختین ۔
وفی الحدیث لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی
اور اس کا اصل ___ الله تعالی کا یہ ارشاد “ حرام ہے دو بہنوں کو جمع کرنا “ اور حدیث میں ہے کہ پھوپھی اور
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
القرآن الکریم ۴ /۲۳
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
القرآن الکریم ۴ /۲۳
خالتھا ۔
خالہ کے ہوتے ہوئے ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
مگر وہ عورت کے محارم نہیں ہوجاتے کہ ان سے نکاح صرف اس حالت تك حرام جب تك اس کی پھوپھی یا خالہ یا بہن یاکوئی محرم عورت ان کے نکاح میں ہے بعد افتراق بموت یا طلاق ان کے شوہروں سے عورت کانکاح حلال ہے اور محرم وہ ہوتا ہے جس سے کبھی کسی حال میں نکاح نہ ہوسکے اس کی حرمت ابدیہ ہو جیسے باپ بیٹا بھائی بھتیجا بھانجا وغیرہم اور جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔ اگر حرمت فی الحال عدم پردہ کے لیے کافی ہوتو چاہئے کہ زن شوہر کا تمام جہان میں سے کسی سے پردہ نہ ہو کہ جب تك وہ اپنے شوہر کے عقد عصمت میں ہے کسی کو اس سے نکاح روا نہیں۔ قال اﷲ تعالی : و المحصنت من النسآء (منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ ت) اس طرح جس مردکے نکاح میں چار عورتیں موجود ہوں چاہئے کہ اس سے کسی عورت شوہر دار خواہ بے شوہر کا پردہ نہ ہو کہ جب تك ان چار میں سے کسی سے بذریعہ موت یا طلاق جدائی نہ ہو پانچواں نکاح اسے حلال نہیں غرض یہ سب ہندی ہوسیں اور جاہلانہ رسمیں ہیں شرع مطہر میں پھوپھا اور خالو اور بہنوئی اور جیٹھ اور دیور اور چچا پھوپھی خالہ ماموں کے بیٹوں اور راہ چلتے اجنبی سب کا ایك حکم ہے نہ وہ بے تکلف گھر میں آسکتا ہے بخلاف ان کے ولہذا حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی گئی یا رسول اﷲ ارأیت الحمو یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کا حکم ارشاد ہو فرمایا : الحمو موت یہ تو موت ہیں والعیاذ بالله تعالی اس بیان سے تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہوگیا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰ : از عثمان پور ڈاك خانہ کوٹھی ضلع بارہ بنکی مرسلہ محمد حسن یار خان صاحب ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی سنی المذہب کو اپنی دختر شیعی تبرائی وقاذف حضرت
خالہ کے ہوتے ہوئے ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
مگر وہ عورت کے محارم نہیں ہوجاتے کہ ان سے نکاح صرف اس حالت تك حرام جب تك اس کی پھوپھی یا خالہ یا بہن یاکوئی محرم عورت ان کے نکاح میں ہے بعد افتراق بموت یا طلاق ان کے شوہروں سے عورت کانکاح حلال ہے اور محرم وہ ہوتا ہے جس سے کبھی کسی حال میں نکاح نہ ہوسکے اس کی حرمت ابدیہ ہو جیسے باپ بیٹا بھائی بھتیجا بھانجا وغیرہم اور جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔ اگر حرمت فی الحال عدم پردہ کے لیے کافی ہوتو چاہئے کہ زن شوہر کا تمام جہان میں سے کسی سے پردہ نہ ہو کہ جب تك وہ اپنے شوہر کے عقد عصمت میں ہے کسی کو اس سے نکاح روا نہیں۔ قال اﷲ تعالی : و المحصنت من النسآء (منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ ت) اس طرح جس مردکے نکاح میں چار عورتیں موجود ہوں چاہئے کہ اس سے کسی عورت شوہر دار خواہ بے شوہر کا پردہ نہ ہو کہ جب تك ان چار میں سے کسی سے بذریعہ موت یا طلاق جدائی نہ ہو پانچواں نکاح اسے حلال نہیں غرض یہ سب ہندی ہوسیں اور جاہلانہ رسمیں ہیں شرع مطہر میں پھوپھا اور خالو اور بہنوئی اور جیٹھ اور دیور اور چچا پھوپھی خالہ ماموں کے بیٹوں اور راہ چلتے اجنبی سب کا ایك حکم ہے نہ وہ بے تکلف گھر میں آسکتا ہے بخلاف ان کے ولہذا حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی گئی یا رسول اﷲ ارأیت الحمو یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کا حکم ارشاد ہو فرمایا : الحمو موت یہ تو موت ہیں والعیاذ بالله تعالی اس بیان سے تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہوگیا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰ : از عثمان پور ڈاك خانہ کوٹھی ضلع بارہ بنکی مرسلہ محمد حسن یار خان صاحب ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی سنی المذہب کو اپنی دختر شیعی تبرائی وقاذف حضرت
حوالہ / References
صحیح مسلم باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۳ ، صحیح بخاری باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۶۶
القرآن الکریم ۴ /۲۴
مسنداحمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر الجہنی رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۴۹
القرآن الکریم ۴ /۲۴
مسنداحمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر الجہنی رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۴۹
صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے عقدنکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے بھی ایسا کرے تواس کی بابت شرعا کیاحکم ہے جواب مختصر ومدلل مرحمت فرمایا جائے بینوا تو جروا
الجواب :
معاذالله رافضی قاذف باجماع مسلمین کافر ملعون ہے یہاں تك کہ جو اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے ردالمحتار میں ہے :
لاشك فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا الخ ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگانے والے کے کفرمیں کوئی شك نہیں الخ(ت)
اسی کے باب البغاوۃ میں ہے :
لان ذلك تکذیب صریح القران ۔
کیونکہ یہ صریح قرآن کی تکذیب ہے۔ (ت)
جو شخص اپنی دختر یا خواہر ایسے کے نکاح میں دے وہ یقینا دیوث ہے۔ وہ اپنی بہن بیٹی کو صریح زنا کے لیے دینے والاہے حدیث ارشاد فرماتی ہے کہ اس پر جنت حرام ہے الله تعالی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ فرمائےگا۔
احمد والنسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثلثۃ لاینظر اﷲ الیھم یوم القیامۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال والدیوث ۔ وروی الحاکم والبیھقی فی الشعب بسند صحیح عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ
(احمد نسائی اور حاکم نے عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے سند حسن کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا۔ ت)تین شخصوں پر الله تعالی روزقیامت نظر نہ کرے گا ماں باپ کو آزار دینے والا اور مردانی عورت یعنی مردوں کی وضع بنانے والی اور دیوث۔ (حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صحیح روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ ت)تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کانافرمان اور
الجواب :
معاذالله رافضی قاذف باجماع مسلمین کافر ملعون ہے یہاں تك کہ جو اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے ردالمحتار میں ہے :
لاشك فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا الخ ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگانے والے کے کفرمیں کوئی شك نہیں الخ(ت)
اسی کے باب البغاوۃ میں ہے :
لان ذلك تکذیب صریح القران ۔
کیونکہ یہ صریح قرآن کی تکذیب ہے۔ (ت)
جو شخص اپنی دختر یا خواہر ایسے کے نکاح میں دے وہ یقینا دیوث ہے۔ وہ اپنی بہن بیٹی کو صریح زنا کے لیے دینے والاہے حدیث ارشاد فرماتی ہے کہ اس پر جنت حرام ہے الله تعالی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ فرمائےگا۔
احمد والنسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثلثۃ لاینظر اﷲ الیھم یوم القیامۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال والدیوث ۔ وروی الحاکم والبیھقی فی الشعب بسند صحیح عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ
(احمد نسائی اور حاکم نے عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے سند حسن کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا۔ ت)تین شخصوں پر الله تعالی روزقیامت نظر نہ کرے گا ماں باپ کو آزار دینے والا اور مردانی عورت یعنی مردوں کی وضع بنانے والی اور دیوث۔ (حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صحیح روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ ت)تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کانافرمان اور
حوالہ / References
ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹۴
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۱۰
مسند احمد بن حنبل مروی از مسند عبدالله بن عمر دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۴ ، سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۳۵۷
ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۱۰
مسند احمد بن حنبل مروی از مسند عبدالله بن عمر دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۴ ، سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۳۵۷
والدیوث ورجلۃ النساء ۔
الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما ثلثہ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر ۔
دیوث اور مردانی وضع کی عورت۔
(طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے : دیوث اور مردانی وضع کی عورت اور شرابی۔ والعیاذبالله تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱ تا ۲۱۲ : از موضع مذکور بوساطت نواب نثار احمد خاں صاحب بریلوی ۱۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)زید باوجود علم ہونے کے حقیقی دو بہنوں کو اپنے عقدمیں لایا اور دونوں کے ساتھ اوقات بسر کرتا ہے اہل اسلام اس حرکت سے مانع ہوئے لیکن زید نے کچھ خیال نہ کیا نہ دونوں میں سے کسی کوجدا کیا مسلمانوں نے مجبور ہوکر زید سے اجتناب اختیار کیا مگر بعض اشخاص نے زید کا ساتھ دیا تو ازروئے شرع شریف مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے یا نہیں اور زید و نیز اس کے ہمراہیوں کے یہاں خوردو نوش اور سلام علیك جائز ہے یا نہیں اور زید پر کون سی عورت جائز ہے اولی یا ثانیہ یادونوں ناجائز ہیں جواب مدلل مرحمت فرمائیے بینوا تو جروا۔
(۲)سنی کو اپنی دختر شیعی کے نکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے ایسا کرے تو اس بابت شرعا کیا حکم ہے اور جو سنی وشیعہ کی قرابت زمانہ سلف سے اس وقت تك جاری ہے اس کا کیا باعث ہے آیا اس وقت میں علمائے دین نے اس طرف کچھ توجہ نہیں فرمائی یا اس وقت کے شیعہ سے اس وقت کے شیعہ میں کچھ فرق ہے اس کی وجہ مدلل زیب قلم فرمایئے کہ سائل کی خلش ومعترضین کا اعتراض دفع ہو جوا ب مختصر مدلل مرحمت فرمایا جائے بینواتوجروا۔
الجواب :
(۱) اولی وثانیہ کہنے سے واضح ہوا کہ دونوں سے معانکاح نہ کیا تھا اس صورت میں ثانیہ سے نکاح
الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما ثلثہ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر ۔
دیوث اور مردانی وضع کی عورت۔
(طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے : دیوث اور مردانی وضع کی عورت اور شرابی۔ والعیاذبالله تعالی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱ تا ۲۱۲ : از موضع مذکور بوساطت نواب نثار احمد خاں صاحب بریلوی ۱۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)زید باوجود علم ہونے کے حقیقی دو بہنوں کو اپنے عقدمیں لایا اور دونوں کے ساتھ اوقات بسر کرتا ہے اہل اسلام اس حرکت سے مانع ہوئے لیکن زید نے کچھ خیال نہ کیا نہ دونوں میں سے کسی کوجدا کیا مسلمانوں نے مجبور ہوکر زید سے اجتناب اختیار کیا مگر بعض اشخاص نے زید کا ساتھ دیا تو ازروئے شرع شریف مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے یا نہیں اور زید و نیز اس کے ہمراہیوں کے یہاں خوردو نوش اور سلام علیك جائز ہے یا نہیں اور زید پر کون سی عورت جائز ہے اولی یا ثانیہ یادونوں ناجائز ہیں جواب مدلل مرحمت فرمائیے بینوا تو جروا۔
(۲)سنی کو اپنی دختر شیعی کے نکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے ایسا کرے تو اس بابت شرعا کیا حکم ہے اور جو سنی وشیعہ کی قرابت زمانہ سلف سے اس وقت تك جاری ہے اس کا کیا باعث ہے آیا اس وقت میں علمائے دین نے اس طرف کچھ توجہ نہیں فرمائی یا اس وقت کے شیعہ سے اس وقت کے شیعہ میں کچھ فرق ہے اس کی وجہ مدلل زیب قلم فرمایئے کہ سائل کی خلش ومعترضین کا اعتراض دفع ہو جوا ب مختصر مدلل مرحمت فرمایا جائے بینواتوجروا۔
الجواب :
(۱) اولی وثانیہ کہنے سے واضح ہوا کہ دونوں سے معانکاح نہ کیا تھا اس صورت میں ثانیہ سے نکاح
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب الایمان ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ الخ دارالفکر بیروت ۱ / ۷۲ ، شعب الایمان باب فی الغیرۃ والمذاء الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ / ۴۱۲
مجمع الزوائد باب فیمن لایرضی لاھلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ۴ / ۳۲۷
مجمع الزوائد باب فیمن لایرضی لاھلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ۴ / ۳۲۷
حرام ہوا لقولہ تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (حرام ہے دو بہنوں کو جمع کرنا۔ ت) اور جب تك اسے ہاتھ نہ لگایا تھا زوجہ حلال تھی اسے ہاتھ لگاتے ہی وہ بھی حرام ہوگئی اب جب تك اس دوسری کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے زوجہ کو بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں زید پر فرض ہے کہ اسے ترك کردے جب اس کی عدت بعد متارکہ گزرجائے گی اس وقت زوجہ اس کے لیے حلال ہوگی۔
فی ردالمحتار الثانی باطل ولہ وطء الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطی اخت امرأ تہ بشبھۃ حیث تحرم امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ عن البحر ۔
ردالمحتارمیں ہے : دوسرا نکاح باطل ہے اس کی پہلی سے وطی جائز ہے لیکن اگر دوسری سے وطی کرلی تو پہلی دوسری کی عدت گزر جانے تك حرام ہوگی جیساکہ اگر شبہ کے طور پر بیوی کی بہن سے وطی ہوجائے توبیوی اس وقت تك حرام رہتی ہے جب تك شبہ والی کی عدت نہ گزرجائے حلبی بحوالہ بحر۔ (ت)
مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے۔ قال الله تعالی :
فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر مت بیٹھو۔ (ت)
زید سے جب تك تائب نہ ہو ابتدابسلام ممنوع ہے کہ وہ فاسق معلن ہے اور گناہ کبیرہ پر مصر ہے۔
فی الدرالمختار یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا الخ وفی ردالمحتار عن فصول العلامی لایسلم علی الشیخ المازح الکذاب واللاغی ولاعلی من یسب الناس اوینظر وجوہ الاجنبیات ولاعلی الفاسق المعلن ولاعلی من یغنی اویطیر الحمام مالم تعرف توبتھم ۔
درمختارمیں ہے کہ فاسق کوسلام کرنا مکروہ ہے بشرطیکہ وہ اعلانیہ فسق کرتا ہو الخ اور ردالمحتار میں ہے فصول علامی سے مروی ہے کہ جھوٹے اور مذاق کرنے والے بوڑھے لغویات بولنے والے لوگوں کو گالی گلوچ کرنے والے اجنبی عورتوں کو دیکھنے والے اعلانیہ فسق کرنے والے گانے والے اور کبوتر بازی کرنیوالے کو اس وقت تك سلام نہ کیا جائے جب تك اس کی توبہ کا علم نہ ہوجائے۔(ت)
فی ردالمحتار الثانی باطل ولہ وطء الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطی اخت امرأ تہ بشبھۃ حیث تحرم امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ عن البحر ۔
ردالمحتارمیں ہے : دوسرا نکاح باطل ہے اس کی پہلی سے وطی جائز ہے لیکن اگر دوسری سے وطی کرلی تو پہلی دوسری کی عدت گزر جانے تك حرام ہوگی جیساکہ اگر شبہ کے طور پر بیوی کی بہن سے وطی ہوجائے توبیوی اس وقت تك حرام رہتی ہے جب تك شبہ والی کی عدت نہ گزرجائے حلبی بحوالہ بحر۔ (ت)
مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے۔ قال الله تعالی :
فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر مت بیٹھو۔ (ت)
زید سے جب تك تائب نہ ہو ابتدابسلام ممنوع ہے کہ وہ فاسق معلن ہے اور گناہ کبیرہ پر مصر ہے۔
فی الدرالمختار یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا الخ وفی ردالمحتار عن فصول العلامی لایسلم علی الشیخ المازح الکذاب واللاغی ولاعلی من یسب الناس اوینظر وجوہ الاجنبیات ولاعلی الفاسق المعلن ولاعلی من یغنی اویطیر الحمام مالم تعرف توبتھم ۔
درمختارمیں ہے کہ فاسق کوسلام کرنا مکروہ ہے بشرطیکہ وہ اعلانیہ فسق کرتا ہو الخ اور ردالمحتار میں ہے فصول علامی سے مروی ہے کہ جھوٹے اور مذاق کرنے والے بوڑھے لغویات بولنے والے لوگوں کو گالی گلوچ کرنے والے اجنبی عورتوں کو دیکھنے والے اعلانیہ فسق کرنے والے گانے والے اور کبوتر بازی کرنیوالے کو اس وقت تك سلام نہ کیا جائے جب تك اس کی توبہ کا علم نہ ہوجائے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
درمختار فصل البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۶۷
ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
درمختار فصل البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۶۷
اورا س کے ساتھ کھانے پینے سے بھی احتراز کرنا چاہئے سنن ابی داؤد وجامع الترمذی میں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لما وقعت بنو اسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسو ھم فی مجالسھم واکلوھم وشاربو ھم فضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علی لسان داؤد وعیسی بن مریم ۔ الحدیث۔
جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے مولوی مانع آئے انھوں نے نہ مانا اب وہ مولوی ان کے پاس بیٹھے ساتھ کھانا کھایا پانی پیا تو اﷲ تعالی نے ان میں ایك کے دل میں دوسرے پر مارے اور ان سب کو ملعون کردیا داؤد اور عیسی بن مریم علیہم الصلوۃوالسلام کی زبا ن پر۔ (الحدیث)
زید کا ساتھ دینے والے اگرخاص اس گناہ میں اس کے ممدومعاون ہوئے جب تو ظاہر کہ وہ بھی زید کے مثل بلکہ اس سے بدتر ہیں قال الله تعالی : و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- (گناہ اور دشمنی پر ایك دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ ت)حدیث میں ہے :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی ظالم کے ساتھ مدد دینے کو چلے اور وہ جانتاہو کہ یہ ظالم ہے وہ اسلام سے نکل جائے(اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور ضیاء نے مختارہ میں اوس بن شرحبیل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور اگر اسی قدر ہوکہ زید سے باوصف اس حرکت کے راضی ہیں جب بھی بدلیل حدیث مذکور بنی اسرائیل شریك گناہ ومستحق توہین وتذلیل ہیں حدیث میں ہے :
الذنب شؤم علی غیر فاعلہ(الی قولہ)وان رضی بہ شارکہ ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم
یعنی گنا ہ کرتا ایك ہے اور اس کا وبال اوروں پر بھی پڑتاہے کہ جو اس پر راضی ہو وہ بھی شریك گناہ ہے (اس کو مسند فردوس میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
لما وقعت بنو اسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسو ھم فی مجالسھم واکلوھم وشاربو ھم فضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علی لسان داؤد وعیسی بن مریم ۔ الحدیث۔
جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے مولوی مانع آئے انھوں نے نہ مانا اب وہ مولوی ان کے پاس بیٹھے ساتھ کھانا کھایا پانی پیا تو اﷲ تعالی نے ان میں ایك کے دل میں دوسرے پر مارے اور ان سب کو ملعون کردیا داؤد اور عیسی بن مریم علیہم الصلوۃوالسلام کی زبا ن پر۔ (الحدیث)
زید کا ساتھ دینے والے اگرخاص اس گناہ میں اس کے ممدومعاون ہوئے جب تو ظاہر کہ وہ بھی زید کے مثل بلکہ اس سے بدتر ہیں قال الله تعالی : و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- (گناہ اور دشمنی پر ایك دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ ت)حدیث میں ہے :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی ظالم کے ساتھ مدد دینے کو چلے اور وہ جانتاہو کہ یہ ظالم ہے وہ اسلام سے نکل جائے(اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور ضیاء نے مختارہ میں اوس بن شرحبیل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور اگر اسی قدر ہوکہ زید سے باوصف اس حرکت کے راضی ہیں جب بھی بدلیل حدیث مذکور بنی اسرائیل شریك گناہ ومستحق توہین وتذلیل ہیں حدیث میں ہے :
الذنب شؤم علی غیر فاعلہ(الی قولہ)وان رضی بہ شارکہ ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم
یعنی گنا ہ کرتا ایك ہے اور اس کا وبال اوروں پر بھی پڑتاہے کہ جو اس پر راضی ہو وہ بھی شریك گناہ ہے (اس کو مسند فردوس میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب التفسیر سورۃ المائدۃ امین کمپنی کراچی ۲ / ۱۳۰
القرآن ۵ / ۲
المعجم الکبیر حدیث اوس بن شرحبیل حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱ / ۲۲۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۱۶۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۴۹
القرآن ۵ / ۲
المعجم الکبیر حدیث اوس بن شرحبیل حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱ / ۲۲۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۱۶۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۴۹
(۲)آج کل عام رافضی منکران ضروریات دین اور باجماع امت کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی فتاونا وفی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ(جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں اور اپنے رسالہ “ المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ “ میں کردی ہے۔ ت)علاوہ اور کفریات کے دو کفر تو ان کے عالم وجاہل مرد عورت سب کو شامل ہیں مولی علی کرم الله وجہہ الکیرم کو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ماننا اور جوکسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل کہے کافر ہے اور قرآن عظیم سے معاذالله صحابہ کرام وغیرہم اہلسنت کا چند پارے یا سورتیں آیتیں گھٹانا کچھ الفاظ تغیر و تبدیل کردینا اور جو قرآن عظیم کے ایك حرف ایك نقطے کی نسبت ایسا گما ن کرے کافر ہے قال الله تعالی : انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحفظون(۹) (ہم نے ذکر نازل کیا اورہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ ت)ان کے مجتہد حال نے یہ عقائد باطلہ اور دیگر عقیدہ کفریہ صاف صاف لکھ کر اپنی مہر کردی ان میں جو کوئی خود ان عقائد کا معتقد نہ بھی ہو تو مجتہد کو کافر ہر گز نہ کہے گا بلکہ جناب قبلہ وکعبہ ہی مانے گا اور جو منکر ضروریات دین کو معظم دینی جانے یا کافر ہی نہ کہے خود کافر ہے بزازیہ ودرمختار وغیرہما میں ہے : من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔ ت)لہذا جز م کیا جاتا ہے کہ آج کل رافضیوں میں کوئی مسلمان ملنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کووں میں سپید رنگ والا ایسوں کے ساتھ مناکحت تو حرام قطعی وزنائے خالص ہے جو اپنی بہن بیٹی ان کو دے دیوث ہے اس عقد باطل کے ذریعہ سے جو نام اس کی بہن بیٹی کو ملنے والے ہیں ان میں ہلکے نام یہ ہیں : زانیہ فاجر قحبہ فاحشہ روسی رنڈی بدکار جواسے پسند کرتا ہو اس کبیرہ فاحشہ پر اقدام کرے ورنہ الله عزوجل کے غضب سے ڈرے اور اگر بالفرض کوئی رافضی ایسا ملے جسے مسلمان کہہ سکیں تو حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر صرف تبرا بھی فقہائے کرام کے نزدیك مطلقا کفر ہے کما نص علیہ فی الخلاصۃ و الفتح والدر وغیرہا من الاسفار الغر(جیساکہ خلاصہ فتح در وغیرہا مشہور کتب میں اس پر تصریح ہے۔ ت)تو فقہاء کے طور پر ہر تبرائی کے ساتھ مناکحت میں وہی احکام ہوں گے اور بغرض غلط اس سے بھی محفوظ ملے تو آخر گمراہ بددین ہونے میں شبہ نہیں اور ایسے کو بیٹی دینا شرعا گناہ وممنوع ہے۔
کما بیناہ فی رسالۃ مفردۃ فی ھذا الباب سمینا ھاازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار۔
جیساکہ ہم نے اس کو علیحدہ ایك رسالہ میں بیان کیا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہے جس کا نام ہم نے “ ازالۃ العار بحجرالکرائم عن کلاب النار “ رکھا ہے۔ (ت)
ائمہ معتمدین سلف صالحین سے ہر گز یہ امر ثابت نہیں اوراگر نادرا شاہد کہیں وقوع ہوا ہو تواس کا منشا اس کے رفض پر اطلاع نہ پانا اور رافضی کے دین میں تقیہ ہونا وامثال ذلك من الاعذار(اوراس قسم کے
کما بیناہ فی رسالۃ مفردۃ فی ھذا الباب سمینا ھاازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار۔
جیساکہ ہم نے اس کو علیحدہ ایك رسالہ میں بیان کیا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہے جس کا نام ہم نے “ ازالۃ العار بحجرالکرائم عن کلاب النار “ رکھا ہے۔ (ت)
ائمہ معتمدین سلف صالحین سے ہر گز یہ امر ثابت نہیں اوراگر نادرا شاہد کہیں وقوع ہوا ہو تواس کا منشا اس کے رفض پر اطلاع نہ پانا اور رافضی کے دین میں تقیہ ہونا وامثال ذلك من الاعذار(اوراس قسم کے
دیگر عذر۔ ت)ہوگا اس وقت اور پہلے کے روافض میں اتنا فرق بھی ہے کہ اول اتنی آزادی نہ تھی عام طور پر انکار ضروریات دین کی جرأت وتمادی نہ تھی رافضی تواب پیدا ہوئے زنا کاری وحرام خواری توا ن سے بھی ہزاروں برس پہلے رائج ہے کیا علمائے دین نے اس طرف کچھ توجہ نہ فرمائی یا اس وقت کے زناواکل حرام سے اس وقت کے زنا وحرام کو کچھ فرق ہے حاشا علمائے دیندار ہر قرن وطبقہ وزمانہ میں منع فرماتے آئے ماننا نہ ماننا عوام کا فعل ہے اور ہدایت کرنا نہ کرنا الله عزوجل کے اختیار یہی حال گمراہوں سے میل جول کا ہے کہ علمائے اہل حق صحابہ وتابعین وائمہ دین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین قرنا فقرنا منع فرماتے آئے رسائل رد ند وہ خصوصا فتوائے جدیدہ فقیر مسمی بہ “ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین “ ملاحظہ ہوں۔ پھر اگر عوام نہ مانیں یا دنیا پر ست مولوی ضلالت کی طرف بلائیں تو اس کا کیا علاج اور علمائے اہل حق پر کیا الزام والی اﷲ المشتکی من ضعف الاسلام(لوگوں کے ضعف اسلام کی شکایت الله تعالی ہی کے دربار میں ہے۔ ت)ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳ : ۸ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر نے طلاق بائن دی درمیان عدت کے ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا بعد نکاح کم وبیش ایك سال کے شوہر ثانی ہندہ کا باہر چلاگیا اور کچھ خبر گیراں نہ ہوا اب کچھ کم ایك سال کے بعد بتحریك ورثہ ہندہ ونیز بخواہش خود ہندہ کو اپنے پاس بلانا چاہتا ہے لیکن اب ہندہ و ورثہ ہندہ اس کے یہاں بھیجنے پر رضامند نہیں اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نکاح درمیان عدت کے جائز نہیں تھا اب نکاح ثالث کسی شخص دیگر سے کرنا چاہتی ہے آیا یہ نکاح بلاطلاق جائز ہے یا نہیں بینو ا توجروا
الجواب :
اگر اس دوسرے شخص کو وقت نکاح معلوم تھا کہ عورت ہنوزعدت میں ہے یہ جان کر اس سے نکاح کرلیا جب تو وہ زنائے محض تھا عدت کی کچھ حاجت نہیں نہ طلاق کی ضرورت بلکہ ابھی جس سے چاہے نکاح کرے جبکہ شوہر اول کی عدت گزر چکی ہو اور اگر اسے عورت کا عدت میں ہونا معلوم نہ تھا توطلاق کی اب حاجت نہیں مگر متارکہ ضرو ر ہے یعنی شوہرکا عورت سے کہنا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا عورت کا اس سے کہہ دینا کہ میں تجھ سے جداہوگئی اس کے بعد عدت بیٹھے عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرے۔ درمختارمیں ہے :
لاعدۃ لوتزوج امرأۃ الغیرعا لما بذلك ودخل بھا وبہ یفتی ۔
دوسرے کی منکوحہ عورت سے یہ جانتے ہوئے کہ منکوحہ ہے نکاح اور دخول کرنے سے عدت نہ ہوگی اسی پر فتوی ہے (ت)
مسئلہ ۲۱۳ : ۸ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر نے طلاق بائن دی درمیان عدت کے ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا بعد نکاح کم وبیش ایك سال کے شوہر ثانی ہندہ کا باہر چلاگیا اور کچھ خبر گیراں نہ ہوا اب کچھ کم ایك سال کے بعد بتحریك ورثہ ہندہ ونیز بخواہش خود ہندہ کو اپنے پاس بلانا چاہتا ہے لیکن اب ہندہ و ورثہ ہندہ اس کے یہاں بھیجنے پر رضامند نہیں اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نکاح درمیان عدت کے جائز نہیں تھا اب نکاح ثالث کسی شخص دیگر سے کرنا چاہتی ہے آیا یہ نکاح بلاطلاق جائز ہے یا نہیں بینو ا توجروا
الجواب :
اگر اس دوسرے شخص کو وقت نکاح معلوم تھا کہ عورت ہنوزعدت میں ہے یہ جان کر اس سے نکاح کرلیا جب تو وہ زنائے محض تھا عدت کی کچھ حاجت نہیں نہ طلاق کی ضرورت بلکہ ابھی جس سے چاہے نکاح کرے جبکہ شوہر اول کی عدت گزر چکی ہو اور اگر اسے عورت کا عدت میں ہونا معلوم نہ تھا توطلاق کی اب حاجت نہیں مگر متارکہ ضرو ر ہے یعنی شوہرکا عورت سے کہنا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا عورت کا اس سے کہہ دینا کہ میں تجھ سے جداہوگئی اس کے بعد عدت بیٹھے عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرے۔ درمختارمیں ہے :
لاعدۃ لوتزوج امرأۃ الغیرعا لما بذلك ودخل بھا وبہ یفتی ۔
دوسرے کی منکوحہ عورت سے یہ جانتے ہوئے کہ منکوحہ ہے نکاح اور دخول کرنے سے عدت نہ ہوگی اسی پر فتوی ہے (ت)
حوالہ / References
درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۹
ردالمحتارمیں ہے :
اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر ۔
غیرمنکوحہ اور معتدہ کو جانتے ہوئے بھی اس سے نکاح اور دخول کی وجہ سے عدت واجب نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخراتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذافی البحر ۔
ان مرد وعورت میں سے ہر ایك کی طر ف سے اس نکاح کا فسخ باتفاق دوسرے کی موجودگی میں متارکہ سے صحیح ہوجاتاہے کیونکہ متارکہ اور فسخ میں یہاں فرق بعید ہے جیسا کہ بحرمیں ہے۔ (ت)
اسی میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے : الحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی (فرق نہ ہونا ہی حق ہے اسی لیے مقدسی نے اس پر جزم کیاہے۔ ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : از شہر کہنہ لاڈلے میاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی حقیقی بہن کی رضاعی بہن زید کے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
حقیقی بہن کی رضاعی بہن ہونا خود یہ رشتہ موجب حرمت نہیں جبکہ اس کے ساتھ کوئی مروجہ حرمت نہ پائی جائے مثلا اگر حقیقی بہن کی رضاعی بہن یوں ہے کہ اس نے اس کی ماں یا باپ کا دودھ پیا ہے تووہ خود اس کی بھی رضاعی بہن ہوئی اور اس پر حرام ہے اور اگریوں ہے کہ زید کی بہن نے اس لڑکی کی ماں کا دودھ پیایا دونوں نے تیسری عورت کا دودھ پیا جس سے زیدکوکوئی علاقہ نہیں تو اس صورت میں وہ لڑکی زید پر حرام نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ : از مقام بیادرہ ایجنٹی بھوپال ملك مالوہ مرسلہ محمد عاشق صاحب اہلکار نظامت ۲۹ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سائلہ اپنی حیات میں بخواہش اولاد چاہتی ہے کہ میرا
اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر ۔
غیرمنکوحہ اور معتدہ کو جانتے ہوئے بھی اس سے نکاح اور دخول کی وجہ سے عدت واجب نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخراتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذافی البحر ۔
ان مرد وعورت میں سے ہر ایك کی طر ف سے اس نکاح کا فسخ باتفاق دوسرے کی موجودگی میں متارکہ سے صحیح ہوجاتاہے کیونکہ متارکہ اور فسخ میں یہاں فرق بعید ہے جیسا کہ بحرمیں ہے۔ (ت)
اسی میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے : الحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی (فرق نہ ہونا ہی حق ہے اسی لیے مقدسی نے اس پر جزم کیاہے۔ ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : از شہر کہنہ لاڈلے میاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی حقیقی بہن کی رضاعی بہن زید کے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
حقیقی بہن کی رضاعی بہن ہونا خود یہ رشتہ موجب حرمت نہیں جبکہ اس کے ساتھ کوئی مروجہ حرمت نہ پائی جائے مثلا اگر حقیقی بہن کی رضاعی بہن یوں ہے کہ اس نے اس کی ماں یا باپ کا دودھ پیا ہے تووہ خود اس کی بھی رضاعی بہن ہوئی اور اس پر حرام ہے اور اگریوں ہے کہ زید کی بہن نے اس لڑکی کی ماں کا دودھ پیایا دونوں نے تیسری عورت کا دودھ پیا جس سے زیدکوکوئی علاقہ نہیں تو اس صورت میں وہ لڑکی زید پر حرام نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ : از مقام بیادرہ ایجنٹی بھوپال ملك مالوہ مرسلہ محمد عاشق صاحب اہلکار نظامت ۲۹ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سائلہ اپنی حیات میں بخواہش اولاد چاہتی ہے کہ میرا
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۰
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
شوہر میری ہمشیرہ حقیقی بیوہ کے ساتھ اپنا عقد کرلیوے اور شوہر اس کا رضامند ہے جو کچھ کہ حکم شرع شریف میں سے ہو آگہی بخشی جائے۔
الجواب :
جب زوجہ مرجائے یا اسے طلاق دے اورعدت گزرجائے تواس وقت زوجہ کی بہن سے نکاح جائزہوتا ہے بغیر اس کے حرام قطعی اور مثل زنا ہے الله تعالی فرماتاہے و ان تجمعوا بین الاختین (حرام ہے جمع کرنا دو بہنوں کو۔ ت) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
فلاتعرضن علی بناتکن ولااخواتکن ۔
اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو(اے میری ازواج !)مجھ پر مت پیش کرو۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۶ : ۱۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کانکاح سالی کی لڑکی سے بعد فوت بی بی کے درست ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فورا اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے
لعدم الجمع نکاحا ولاعدۃ اذلاعدۃ علی الرجل کما حققہ فی العقود الدریۃ۔
بوجہ عدم اجتماع کے نکاح اور عدت میں کیونکر مردپر عدت نہیں ہوتی جیساکہ عقود الدریہ میں تحقیق فرمائی۔ (ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۷ : مسئولہ ثناء الله صاحب متصل سرائے خام ۵جمادی الاولی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کانکاح کیا بعد نکاح کے چھ مہینے کے واسطے سفرکو گیاداماد کو اور اپنی بیٹی کو مع لڑکی کے مکان پر چھوڑگیا بعد واپس آنے سفر کے دیکھا کہ بیوی منکوحہ اپنی کو حاملہ پایا بعد تحقیقات کے معلوم ہوا کہ حاملہ داماد سے ہوئی تھی آیا لڑکی اس کی داماد کے نکاح سے علیحدہ ہوگئی یا نہیں او رطلاق کی ضرورت ہے یا نہیں اور مہر اس لڑکی کا بذمہ داماد رہا یا نہیں اور زوجہ اس کی بعد وضع حمل کے اس کی رہی یا نہیں اور داماد کے نکاح میں اس کی زوجہ
الجواب :
جب زوجہ مرجائے یا اسے طلاق دے اورعدت گزرجائے تواس وقت زوجہ کی بہن سے نکاح جائزہوتا ہے بغیر اس کے حرام قطعی اور مثل زنا ہے الله تعالی فرماتاہے و ان تجمعوا بین الاختین (حرام ہے جمع کرنا دو بہنوں کو۔ ت) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
فلاتعرضن علی بناتکن ولااخواتکن ۔
اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو(اے میری ازواج !)مجھ پر مت پیش کرو۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۶ : ۱۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کانکاح سالی کی لڑکی سے بعد فوت بی بی کے درست ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فورا اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے
لعدم الجمع نکاحا ولاعدۃ اذلاعدۃ علی الرجل کما حققہ فی العقود الدریۃ۔
بوجہ عدم اجتماع کے نکاح اور عدت میں کیونکر مردپر عدت نہیں ہوتی جیساکہ عقود الدریہ میں تحقیق فرمائی۔ (ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۷ : مسئولہ ثناء الله صاحب متصل سرائے خام ۵جمادی الاولی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کانکاح کیا بعد نکاح کے چھ مہینے کے واسطے سفرکو گیاداماد کو اور اپنی بیٹی کو مع لڑکی کے مکان پر چھوڑگیا بعد واپس آنے سفر کے دیکھا کہ بیوی منکوحہ اپنی کو حاملہ پایا بعد تحقیقات کے معلوم ہوا کہ حاملہ داماد سے ہوئی تھی آیا لڑکی اس کی داماد کے نکاح سے علیحدہ ہوگئی یا نہیں او رطلاق کی ضرورت ہے یا نہیں اور مہر اس لڑکی کا بذمہ داماد رہا یا نہیں اور زوجہ اس کی بعد وضع حمل کے اس کی رہی یا نہیں اور داماد کے نکاح میں اس کی زوجہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
مسند احمد بن حنبل خطب علی رضی الله عنہ ومواعظہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۰۹
مسند احمد بن حنبل خطب علی رضی الله عنہ ومواعظہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۰۹
آسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
چھ مہینے بلکہ دوسال سے ایك دن کم کے بعد واپس آکر عورت کو حاملہ پانے سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ وہ حمل دوسرے کا ہے اور بدگمانی قطعی حرام ہے اورتحقیقات اگر بذریعہ شہود یعنی لوگوں نے گواہی دی کہ اس کی زوجہ نے داماد سے زنا کیا تو یہ قریب بہ ناممکن ہے شہادت کے لیے عدالت درکار ہے جو یہاں گویا عنقاہے پھر ثبوت زنا کے لیے چار مرد عادل کامشاہدہ ضرور کہ انھوں نے اپنی آنکھ سے اس کا اندام اس کے بدن میں سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا یہ کہاں متصور! لوگ محض قرائن وقیاسات پر اڑادیتے ہیں اس پر اعتبار نہیں اور وہ سب شرعا اسی اسی کوڑے کے مستحق ہوتے ہیں۔
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷)
الله تعالی انھیں فاسق فرماتا ہے اور حکم دیتاہے کہ ایمان رکھتے ہو تو پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالنا۔
تحقیقات کا تو یہ حال ہے یہ تو تہمت زنا رکھنے کا حکم تھا ہاں ثبوت مصاہرت کے لیے دو گواہ بھی کافی ہیں اگرچہ صرف مس بہ شہوت کی گواہی دیں اور اگر کوئی گواہ نہ ہو تو عورت اور داماد اپنے حال سے خوب آگاہ ہیں اوران کا رب ان سے زیادہ ان کا حال جانتا ہے اگر واقعی اس نے بشہوت اس عورت کے بدن کو صرف ہاتھ لگایا تو جب بھی اس کی منکوحہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوگئی وہ اس کی بیٹی ہوگئی اور ساس تواس کی ماں تھی اب وہ دونوں ماں بیٹیاں اس پر ابدالآباد تك حرام ہیں۔ کسی طرح کبھی ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کو چھوڑدے اور اس کا مہر ادا کردے زوجہ زید بدستور نکاح میں ہے زنا کے سبب اس کے نکاح میں خلل نہ آیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸ : ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے نکاح ثانی کیا اس کے ایك لڑکی شوہر اول سے ہے اب اس کا نکاح شوہر ثانی کے بھائی سے کرنا چاہتی ہے جواس لڑکی کا سوتیلا چچا ہے یہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ماں کا شوہر ثانی نہ اپنا باپ ہے نہ ا س کا بھائی اپنا چچا نہ سگا نہ سوتیلا سوتیلا چچا وہ ہے کہ اپنے
الجواب :
چھ مہینے بلکہ دوسال سے ایك دن کم کے بعد واپس آکر عورت کو حاملہ پانے سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ وہ حمل دوسرے کا ہے اور بدگمانی قطعی حرام ہے اورتحقیقات اگر بذریعہ شہود یعنی لوگوں نے گواہی دی کہ اس کی زوجہ نے داماد سے زنا کیا تو یہ قریب بہ ناممکن ہے شہادت کے لیے عدالت درکار ہے جو یہاں گویا عنقاہے پھر ثبوت زنا کے لیے چار مرد عادل کامشاہدہ ضرور کہ انھوں نے اپنی آنکھ سے اس کا اندام اس کے بدن میں سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا یہ کہاں متصور! لوگ محض قرائن وقیاسات پر اڑادیتے ہیں اس پر اعتبار نہیں اور وہ سب شرعا اسی اسی کوڑے کے مستحق ہوتے ہیں۔
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷)
الله تعالی انھیں فاسق فرماتا ہے اور حکم دیتاہے کہ ایمان رکھتے ہو تو پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالنا۔
تحقیقات کا تو یہ حال ہے یہ تو تہمت زنا رکھنے کا حکم تھا ہاں ثبوت مصاہرت کے لیے دو گواہ بھی کافی ہیں اگرچہ صرف مس بہ شہوت کی گواہی دیں اور اگر کوئی گواہ نہ ہو تو عورت اور داماد اپنے حال سے خوب آگاہ ہیں اوران کا رب ان سے زیادہ ان کا حال جانتا ہے اگر واقعی اس نے بشہوت اس عورت کے بدن کو صرف ہاتھ لگایا تو جب بھی اس کی منکوحہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوگئی وہ اس کی بیٹی ہوگئی اور ساس تواس کی ماں تھی اب وہ دونوں ماں بیٹیاں اس پر ابدالآباد تك حرام ہیں۔ کسی طرح کبھی ان سے نکاح نہیں ہوسکتا اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کو چھوڑدے اور اس کا مہر ادا کردے زوجہ زید بدستور نکاح میں ہے زنا کے سبب اس کے نکاح میں خلل نہ آیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸ : ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے نکاح ثانی کیا اس کے ایك لڑکی شوہر اول سے ہے اب اس کا نکاح شوہر ثانی کے بھائی سے کرنا چاہتی ہے جواس لڑکی کا سوتیلا چچا ہے یہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
ماں کا شوہر ثانی نہ اپنا باپ ہے نہ ا س کا بھائی اپنا چچا نہ سگا نہ سوتیلا سوتیلا چچا وہ ہے کہ اپنے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۴ /۱۷
باپ کا سوتیلا بھائی ہو۔ نہ وہ کہ سوتیلے باپ کا بھائی ہو یہ نکاح حلال ہے قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات کے ما سوا عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۹ : ۲۰ رجب المرجب ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ زید کے پدر ومادر سے خسر او رخوشدامن کو بوجوہ ناروا ناراضی پیدا ہوئی لہذا زید کی زوجہ کو خسر خوشدامن نے طلب کیا زید اور پدر ومادر زید نے کہا کہ ناراضی فیما بین کی دور ہوجائے تو زوجہ کو بھیجیں گے۔ اس پر بکر کے مکان سے کہ وہاں بتقریب دنیاوی زوجہ زید کی گئی تھی زبردستی جاکے خسر کے بھیجے ہوئے آدمی اور خوشدامن زوجہ کو لے گئے اب جب زید نے چاہا کہ میری زوجہ میرے گھر آئے تو خسر اور خوشدامن مجیب ہوئے کہ زید نے تو طلاق دے دی اور جھوٹے گواہ بھی بنائے اور خود ارادہ دوسرے شخص سے نکاح کا خسر وخوشدامن رکھتے ہیں پس یہ نکاح ثانی بدون طلاق زوج اول کے جائز ہوگا یا ناجائز اوروطی زوج ثانی سے حرام ہوگی یا حلال بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح ثانی محض باطل ہوگا اور زوج ثانی سے وطی نری زنا ہوگی جتنے لوگ اس سخت شدید کبیرہ عظیمہ میں اس حال سے آگاہ ہو کر شریك ہوں گے سب سخت گنہ گار ومستحق عذاب نارہوں گے اور ان میں پہلے عذاب دوزخ کا استحقاق جھوٹے گواہوں کو ہو گا جن کی ناپاك گواہی ایسے ناپاك فاحشہ بات کی تمہید ہوگی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ الامام احمد وابن حبان والبزار والحاکم وقال صحیح و اقروہ عن بریرۃ وابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ وابویعلی بسند جید والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس و فی الصغیر ونحوہ فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں(اسے امام احمد ابن حبان بزار اور حاکم نے صحیح کہہ کر اور دوسرے نے ثابت مان کر حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ابوداؤد اور حاکم بسند صحیح ابوہریرہ سے ابو یعلی نے سند جید سے اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس سے اور طبرانی صغیر میں اوسط کی مثل عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۱۹ : ۲۰ رجب المرجب ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ زید کے پدر ومادر سے خسر او رخوشدامن کو بوجوہ ناروا ناراضی پیدا ہوئی لہذا زید کی زوجہ کو خسر خوشدامن نے طلب کیا زید اور پدر ومادر زید نے کہا کہ ناراضی فیما بین کی دور ہوجائے تو زوجہ کو بھیجیں گے۔ اس پر بکر کے مکان سے کہ وہاں بتقریب دنیاوی زوجہ زید کی گئی تھی زبردستی جاکے خسر کے بھیجے ہوئے آدمی اور خوشدامن زوجہ کو لے گئے اب جب زید نے چاہا کہ میری زوجہ میرے گھر آئے تو خسر اور خوشدامن مجیب ہوئے کہ زید نے تو طلاق دے دی اور جھوٹے گواہ بھی بنائے اور خود ارادہ دوسرے شخص سے نکاح کا خسر وخوشدامن رکھتے ہیں پس یہ نکاح ثانی بدون طلاق زوج اول کے جائز ہوگا یا ناجائز اوروطی زوج ثانی سے حرام ہوگی یا حلال بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح ثانی محض باطل ہوگا اور زوج ثانی سے وطی نری زنا ہوگی جتنے لوگ اس سخت شدید کبیرہ عظیمہ میں اس حال سے آگاہ ہو کر شریك ہوں گے سب سخت گنہ گار ومستحق عذاب نارہوں گے اور ان میں پہلے عذاب دوزخ کا استحقاق جھوٹے گواہوں کو ہو گا جن کی ناپاك گواہی ایسے ناپاك فاحشہ بات کی تمہید ہوگی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ الامام احمد وابن حبان والبزار والحاکم وقال صحیح و اقروہ عن بریرۃ وابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ وابویعلی بسند جید والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس و فی الصغیر ونحوہ فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں(اسے امام احمد ابن حبان بزار اور حاکم نے صحیح کہہ کر اور دوسرے نے ثابت مان کر حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ابوداؤد اور حاکم بسند صحیح ابوہریرہ سے ابو یعلی نے سند جید سے اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس سے اور طبرانی صغیر میں اوسط کی مثل عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۴
سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب فیمن خبب امرأۃ علی زوجہا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب فیمن خبب امرأۃ علی زوجہا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
جب کسی عورت کو شوہر سے بگاڑدینے پر یہ حکم ہے تو معاذالله عورت کو شوہر سے توڑ کر دوسرے کے نکاح میں کرادینا کیسا اشد ظلم ہے حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ ثم قرأ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خزیم بن فاتك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی (تین بار اسے فرماکر)حضور نے یہ آیت اس کی سند میں پڑھی کہ الله تعالی فرماتا ہے بچو ناپاکی سے کہ وہ بت ہیں اور بچو جھوٹی گواہی سے۔ (اس کو ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے خزیم بن فاتك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
نیز حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لن تزول قدماشاھد الزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ رواہ ابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ہر گز جھوٹے گواہ کے پاؤں جگہ سے ہٹنے نہ پائیں گے کہ الله تعالی اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابن ماجہ اور حاکم نے سند کو صحیح قرار دے کر عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
جب مطلق جھوٹی شہادت کا یہ وبال ہے جس میں پیسہ دو پیسہ مال پر جھوٹی گواہی بھی داخل تو شہادت کذب سے کسی کے ناموس کو برباد کردینا کس قدر موجب غضب الہی ہوگا والعیاذباﷲ تعالی الله تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے۔ آمین! والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ : از بدایوں مولوی ٹولہ مرسلہ شیخ نذر الله صاحب ۳۰ شوال ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مسجد کا امام ہے ایك عورت اس کے نکاح میں تھی بعدہ اس کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا اب وہ دونوں سگی بہن اس کے پاس ہیں جب ساس سے کہا جاتا ہے
عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ عدلت شھادۃ الزور بالاشراك باﷲ ثم قرأ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خزیم بن فاتك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی (تین بار اسے فرماکر)حضور نے یہ آیت اس کی سند میں پڑھی کہ الله تعالی فرماتا ہے بچو ناپاکی سے کہ وہ بت ہیں اور بچو جھوٹی گواہی سے۔ (اس کو ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے خزیم بن فاتك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
نیز حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لن تزول قدماشاھد الزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۔ رواہ ابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ہر گز جھوٹے گواہ کے پاؤں جگہ سے ہٹنے نہ پائیں گے کہ الله تعالی اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابن ماجہ اور حاکم نے سند کو صحیح قرار دے کر عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
جب مطلق جھوٹی شہادت کا یہ وبال ہے جس میں پیسہ دو پیسہ مال پر جھوٹی گواہی بھی داخل تو شہادت کذب سے کسی کے ناموس کو برباد کردینا کس قدر موجب غضب الہی ہوگا والعیاذباﷲ تعالی الله تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے۔ آمین! والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ : از بدایوں مولوی ٹولہ مرسلہ شیخ نذر الله صاحب ۳۰ شوال ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مسجد کا امام ہے ایك عورت اس کے نکاح میں تھی بعدہ اس کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا اب وہ دونوں سگی بہن اس کے پاس ہیں جب ساس سے کہا جاتا ہے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد با ب فی شہادۃ الزور آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۵۱۔ ۱۵۰ ، سنن ابن ماجہ با ب فی شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷۳
سنن ابن ماجہ با ب فی شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷۳
سنن ابن ماجہ با ب فی شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷۳
تو کہتا ہے یہ امام شافعی کے مذہب میں جائز ہے۔ اس صورت میں اسے امام بنانا اورا س کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
دو بہنوں کا ایك شخص کے نکاح میں ہونا حرام قطعی ہے اس کی حرمت ایسی نہیں کہ کسی امام نے اپنے اجتہاد سے نکالی ہو جس میں دوسرے اما م کو خلاف کی گنجائش ہو نہ اس کی حرمت کسی حدیث احا د سے ہے کہ جسے وہ حدیث نہ پہنچے یا اس کی صحت اسے ثابت نہ ہوئی وہ انکار کر سکے بلکہ اس کی حرمت قرآن عظیم نے خاص اپنی نص واضح صریح سے ارشاد فرمائی ہے کہ :
حرمت علیكم امهتكم و بنتكم و اخوتكم (الی قولہ عزوجل) و ان تجمعوا بین الاختین ۔ الآیۃ۔
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں (الله عزوجل کے اس قول تک)اوریہ کہ اکٹھی کرو دو بہنیں۔ الآیۃ
دیکھو جس طرح آدمی پر اس کی ماں بہن بیٹی حرام ہے اسی طرح دو بہنوں کو جمع کرنا اس پر حرام ہے زیدنے امام شافعی پر سخت جھوٹا افترا کیا اوراب تك تو وہ اس ناپاك فعل سے فقط حرام کار ومرتکب کبیرہ ومستحق عذاب نار تھا اب مسلمانوں کے اماموں میں مختلف فیہ مان کر ا س کی حرمت کا منکر ہوا اور اس کا کام سرحد کفر تك پہنچا اس کا معاملہ بہت سخت ہوگیا اسے امام بنانا حرام ہے اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ جب تك وہ اپنے اس ناپاك فعل سے باز نہ آئے اس دوسری کو الگ کرکے جدا نہ کردے اپنے اس نجس تر قول سے توبہ نہ کرے نئے سرے سے تجدید اسلام نہ کرے جب تك اس کے پاس نہ بیٹھیں اس سے میل جول نہ کریں ورنہ خوف کریں کہ اس کی آگ انھیں بھی نہ پھونك دے قال الله تعالی :
و اتقوا فتنة لا تصیبن الذین ظلموا منكم خآصة- ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایسے فتنے سے بچو جو صرف ظالموں تك محدود نہ رہے گا (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۱ : مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ساکن امرتسر کٹرہ حکیماں نزیل بریلی ۵ محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو زوجہ تھیں زوجہ اولی سے ایك بیٹا عمرو اور ثانیہ سے تین بیٹے بکر خالد ولید ہوئے عمر و کا بیٹا سعیدہوا سعید کی دختر لیلی تھی لیلی دختر سلمی ہے یہ سلمی
الجواب :
دو بہنوں کا ایك شخص کے نکاح میں ہونا حرام قطعی ہے اس کی حرمت ایسی نہیں کہ کسی امام نے اپنے اجتہاد سے نکالی ہو جس میں دوسرے اما م کو خلاف کی گنجائش ہو نہ اس کی حرمت کسی حدیث احا د سے ہے کہ جسے وہ حدیث نہ پہنچے یا اس کی صحت اسے ثابت نہ ہوئی وہ انکار کر سکے بلکہ اس کی حرمت قرآن عظیم نے خاص اپنی نص واضح صریح سے ارشاد فرمائی ہے کہ :
حرمت علیكم امهتكم و بنتكم و اخوتكم (الی قولہ عزوجل) و ان تجمعوا بین الاختین ۔ الآیۃ۔
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں (الله عزوجل کے اس قول تک)اوریہ کہ اکٹھی کرو دو بہنیں۔ الآیۃ
دیکھو جس طرح آدمی پر اس کی ماں بہن بیٹی حرام ہے اسی طرح دو بہنوں کو جمع کرنا اس پر حرام ہے زیدنے امام شافعی پر سخت جھوٹا افترا کیا اوراب تك تو وہ اس ناپاك فعل سے فقط حرام کار ومرتکب کبیرہ ومستحق عذاب نار تھا اب مسلمانوں کے اماموں میں مختلف فیہ مان کر ا س کی حرمت کا منکر ہوا اور اس کا کام سرحد کفر تك پہنچا اس کا معاملہ بہت سخت ہوگیا اسے امام بنانا حرام ہے اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ جب تك وہ اپنے اس ناپاك فعل سے باز نہ آئے اس دوسری کو الگ کرکے جدا نہ کردے اپنے اس نجس تر قول سے توبہ نہ کرے نئے سرے سے تجدید اسلام نہ کرے جب تك اس کے پاس نہ بیٹھیں اس سے میل جول نہ کریں ورنہ خوف کریں کہ اس کی آگ انھیں بھی نہ پھونك دے قال الله تعالی :
و اتقوا فتنة لا تصیبن الذین ظلموا منكم خآصة- ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایسے فتنے سے بچو جو صرف ظالموں تك محدود نہ رہے گا (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۱ : مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ساکن امرتسر کٹرہ حکیماں نزیل بریلی ۵ محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو زوجہ تھیں زوجہ اولی سے ایك بیٹا عمرو اور ثانیہ سے تین بیٹے بکر خالد ولید ہوئے عمر و کا بیٹا سعیدہوا سعید کی دختر لیلی تھی لیلی دختر سلمی ہے یہ سلمی
عمرو کے بیٹے سعید کی نواسی عمرو کے سوتیلے بھائیوں بکر وخالد و ولید پر حرام ہے یا حلال بینوا توجروا۔
الجواب
سلمی اپنی ماں لیلی کے ان سب سوتیلے داداؤں پر ایسے ہی حرام ہے جیسے اس کے سگے دادا عمروپر وہ ان سب کی بیٹی ہے اسے ان میں سے کسی کے لیے حلال جاننا نص قطعی واجماع امت کا انکار اور موجب کفر ہے قال الله تعالی :
حرمت علیكم امهتكم و بنتكم و اخوتكم و عمتكم و خلتكم و بنت الاخ و بنت الاخت ۔
تمھاری مائیں بیٹیاں بہنیں پھوپھیاں خالائیں بھتیجیاں اور بھانجیاں تم پر حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
الله تعالی بھائی کی بیٹیوں کو حرام فرماتا ہے اور بھائی عام ہے سگا ہو خواہ سوتیلا ماں جد اہو خواہ باپ جدا اور بیٹیاں عام ہیں خواہ بھائی کی اپنی بیٹی ہو یا پوتی یا نواسی یا اس کے بیٹے کی بیٹی پوتی نواسی آخرتک عالمگیریہ میں ہے :
اماالاخوات فالاخت لاب وام والاخت لاب والاخت لام وکذابنات الاخ والاخت وان سفلن ۔
بہنوں کاحرام ہونا تینوں قسم سگی باپ یا ماں کی طرف سے بہن کو شامل ہے اور اسی طرح بھائی اور بہن کی بیٹیوں کے بارے میں نیچے تک(ت)
تفسیر کبیر میں بیان بنت صلبی میں ہے :
کل انثی یرجع نسبھا الیك بالولادۃ بدرجۃ اوبدرجات باناث اوبذکور فھی بنتك ۔
ہر وہ عورت جس کا صلبی نسب ایك درجہ یا کئی درجات سے مرد وعورت کے ذریعہ تیری طرف پلٹے وہ تیری بیٹی ہے(ت)
اسی میں ہے :
القول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب ۔ واﷲ تعالی اعلم
بھتیجیوں اور بھانجیوں کا حکم صلبی بیٹی کی طرح ہے تو سات قسم کی یہ عورتیں نسب کی بناپر قرآنی نص سے حرام ہیں (ت)والله تعالی اعلم
الجواب
سلمی اپنی ماں لیلی کے ان سب سوتیلے داداؤں پر ایسے ہی حرام ہے جیسے اس کے سگے دادا عمروپر وہ ان سب کی بیٹی ہے اسے ان میں سے کسی کے لیے حلال جاننا نص قطعی واجماع امت کا انکار اور موجب کفر ہے قال الله تعالی :
حرمت علیكم امهتكم و بنتكم و اخوتكم و عمتكم و خلتكم و بنت الاخ و بنت الاخت ۔
تمھاری مائیں بیٹیاں بہنیں پھوپھیاں خالائیں بھتیجیاں اور بھانجیاں تم پر حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
الله تعالی بھائی کی بیٹیوں کو حرام فرماتا ہے اور بھائی عام ہے سگا ہو خواہ سوتیلا ماں جد اہو خواہ باپ جدا اور بیٹیاں عام ہیں خواہ بھائی کی اپنی بیٹی ہو یا پوتی یا نواسی یا اس کے بیٹے کی بیٹی پوتی نواسی آخرتک عالمگیریہ میں ہے :
اماالاخوات فالاخت لاب وام والاخت لاب والاخت لام وکذابنات الاخ والاخت وان سفلن ۔
بہنوں کاحرام ہونا تینوں قسم سگی باپ یا ماں کی طرف سے بہن کو شامل ہے اور اسی طرح بھائی اور بہن کی بیٹیوں کے بارے میں نیچے تک(ت)
تفسیر کبیر میں بیان بنت صلبی میں ہے :
کل انثی یرجع نسبھا الیك بالولادۃ بدرجۃ اوبدرجات باناث اوبذکور فھی بنتك ۔
ہر وہ عورت جس کا صلبی نسب ایك درجہ یا کئی درجات سے مرد وعورت کے ذریعہ تیری طرف پلٹے وہ تیری بیٹی ہے(ت)
اسی میں ہے :
القول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب ۔ واﷲ تعالی اعلم
بھتیجیوں اور بھانجیوں کا حکم صلبی بیٹی کی طرح ہے تو سات قسم کی یہ عورتیں نسب کی بناپر قرآنی نص سے حرام ہیں (ت)والله تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
فتاوی ہندیہ باب فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۳
تفسیر کبیر تحت آیت حرمت علیکم امھاتکم الخ مطبع بالمطبعۃ البہیۃ المصریۃ ۱۰ / ۲۸
تفسیر کبیر تحت آیت امھاتکم الذی ارضعنکم الخ مطبع بالمطبعۃ البہیۃ المصریۃ ۱۰ / ۲۹
فتاوی ہندیہ باب فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۳
تفسیر کبیر تحت آیت حرمت علیکم امھاتکم الخ مطبع بالمطبعۃ البہیۃ المصریۃ ۱۰ / ۲۸
تفسیر کبیر تحت آیت امھاتکم الذی ارضعنکم الخ مطبع بالمطبعۃ البہیۃ المصریۃ ۱۰ / ۲۹
مسئلہ ۲۲۲ : از پورن پور ضلع پیلی بھیت ۱۴ صفر ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں زید اپنی عورت چھوڑکر مرگیا عورت بیوہ اندر ایام عدت کے عمرو سے مرتکب زنا کی ہوئی حاملہ حمل زنا کا قرار پاگیا عدت کے ایام اب گزرگئے عمرو مستدعی نکاح کا اسی عورت سے ہے اب نکاح جائز ہے اور وطی کرنا قبل استبرا کے بھی جائز ہے یا نہیں اور کفارہ ذمہ زانی وزانیہ کے عائد ہوتا ہے یا نہیں جواب سے مشرف فرماکر داخل اجرو حسنات ہوں۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ وفات شوہر کی عدت گزرگئی تو اب عورت کو نکاح جائزہوگیاا ور وضع حمل کا انتظار زانی خواہ غیر زانی کسی کو ضرور نہیں کہ حمل جو اثنائے عدت وفات میں حادث ہو اس سے عدت موت کہ چار مہینے دس دن ہے نہیں بدلتی ردالمحتار میں ہے :
فی النھران المعتدۃ لو حملت فی عدتھا ذکر الکرخی ان عدتھا وضع الحمل ولم یفصل و الذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح کذافی البدائع ۔
نہر میں ہے کہ اگر عدت کے دوران معتدہ کو حمل ہوجائے تو کرخی نے کہا کہ اس کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تك ہوگی اس کی تفصیل بیان نہ کی کہ کون سی عدت میں یہ حکم ہے اورا مام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جو ذکر فرمایا وہ یہ ہے کہ مذکور ہ حکم طلاق کی عدت کاہے لیکن عدت وفات ہو تو اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا یہی صحیح ہے جسا کہ بدائع میں ہے۔ (ت)
فرق اتنا ہے کہ خود عمرو جس کے زنا سے یہ حمل رہا ہے وہ اب اگر نکاح کرے تو اسے فی الحال وطی جائز اور دوسرے شخص سے نکاح صحیح ہے مگر اسے تا وضع حمل زنا عورت کو ہاتھ لگانا ناجائز ہوگا۔ درمختار میں ہے :
صح نکاح حبلی من زناوان حرم وطؤھا ودواعیہ حتی تضع لونکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا ۔
زنا سے حاملہ عورت سے نکاح جائز ہے اگر اس سے وطی اورا س کے دواعی بچے کی پیدائش تك حرام ہے لیکن اگر زانیہ حاملہ سے خود اس کا زانی نکاح کرے تو اس کو وطی بالاتفاق حلال ہے(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں زید اپنی عورت چھوڑکر مرگیا عورت بیوہ اندر ایام عدت کے عمرو سے مرتکب زنا کی ہوئی حاملہ حمل زنا کا قرار پاگیا عدت کے ایام اب گزرگئے عمرو مستدعی نکاح کا اسی عورت سے ہے اب نکاح جائز ہے اور وطی کرنا قبل استبرا کے بھی جائز ہے یا نہیں اور کفارہ ذمہ زانی وزانیہ کے عائد ہوتا ہے یا نہیں جواب سے مشرف فرماکر داخل اجرو حسنات ہوں۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ وفات شوہر کی عدت گزرگئی تو اب عورت کو نکاح جائزہوگیاا ور وضع حمل کا انتظار زانی خواہ غیر زانی کسی کو ضرور نہیں کہ حمل جو اثنائے عدت وفات میں حادث ہو اس سے عدت موت کہ چار مہینے دس دن ہے نہیں بدلتی ردالمحتار میں ہے :
فی النھران المعتدۃ لو حملت فی عدتھا ذکر الکرخی ان عدتھا وضع الحمل ولم یفصل و الذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح کذافی البدائع ۔
نہر میں ہے کہ اگر عدت کے دوران معتدہ کو حمل ہوجائے تو کرخی نے کہا کہ اس کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تك ہوگی اس کی تفصیل بیان نہ کی کہ کون سی عدت میں یہ حکم ہے اورا مام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جو ذکر فرمایا وہ یہ ہے کہ مذکور ہ حکم طلاق کی عدت کاہے لیکن عدت وفات ہو تو اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا یہی صحیح ہے جسا کہ بدائع میں ہے۔ (ت)
فرق اتنا ہے کہ خود عمرو جس کے زنا سے یہ حمل رہا ہے وہ اب اگر نکاح کرے تو اسے فی الحال وطی جائز اور دوسرے شخص سے نکاح صحیح ہے مگر اسے تا وضع حمل زنا عورت کو ہاتھ لگانا ناجائز ہوگا۔ درمختار میں ہے :
صح نکاح حبلی من زناوان حرم وطؤھا ودواعیہ حتی تضع لونکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا ۔
زنا سے حاملہ عورت سے نکاح جائز ہے اگر اس سے وطی اورا س کے دواعی بچے کی پیدائش تك حرام ہے لیکن اگر زانیہ حاملہ سے خود اس کا زانی نکاح کرے تو اس کو وطی بالاتفاق حلال ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۰۴
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
زانی و زانیہ پر جو حد شرع مطہر نے لازم فرمائی ہے وہ یہاں کہاں مگر توبہ فرض ہے اورالله عزوجل کا عذاب سخت ہے والعیاذ بالله تعالی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۳ تا ۲۲۶ : ازاکبر آباد مرسلہ محمد عبدالرزاق صاحب پانی پتی اڈیٹررسالہ ہمدرد اسلام آگرہ ۹ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص نے اپنے لڑکے کی شادی اپنے حقیقی بھائی کی بیٹی سے کردی یا تایا چچا زاد دو بھائیوں نے آپس میں اپنے لڑکے اور دوسرے بھائی کی بیٹی سے نکاح کردیا ازروئے شرع شریف یہ نکاح جائزہوا یا نہیں اور چچا زاد بہن تایازاد بھائی پر اور تایا زاد بھائی کی دختر چچازاد بھائی کے پسر پر حلال ہے یا نہیں
(۲)اگر جائز اور حلال ہے تو جو شخص اس حکم کو نہ مانے اور یہ کہے کہ گویہ مسئلہ شرع شریف کاہے لیکن ہم اس پر عمل نہیں کرتے کہ ہماری برادری اور باپ داداؤں سے کبھی ایسا نہیں ہوا تو ایسے لوگوں سے ملنا جلنا اور برادرانہ برتاؤ رکھنا کیساہے اورنیز ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائزہے یا نہیں
(۳)اگر کوئی گروہ ایسے نکاح کرنے والے کا حقہ پانی میل جول برادرانہ بند کردیں اور اس نکاح کو ننگ وناموس قومی تصور کریں توان سے میل جول رکھنا چاہئے یا نہیں
(۴)اگر ایسے لوگوں کی مخالفت سے ماں باپ ناراض ہوں تو باطاعت والدین گو مخالفت شرع شریف ہوجائے ان سے میل جول رکھنا چاہئے یا اطاعت شریعت مقدم رکھے گو والدین ناراض ہوجائیں بینوا تو جروا
الجواب :
دو بھائی حقیقی ہوں خواہ عم زادہ ان میں ہر ایك کی اولاد دوسرے کی اولاد پر قطعا یقینا باجماع امت جائز و حلال ہے چچاما موں خالہ پھوپھی کی اولاد کو بہن بھائی کہنا ایك مجازی بات ہے جسے ہر گز آیہ کریمہ محارم کے کلمات اخواتکم یا بنت الاخ وبنت الاخت(تمھاری بہنیں یا تمھاری بھتیجیاں اور بھانجیاں۔ ت)کسی اسلامی مذہب میں شامل نہیں بلکہ نص قطعی قرآن عظیم گواہ ہے کہ یہ عورتیں ہر گز بہنوں میں داخل نہیں۔ الله تعالی فرماتا ہے :
یایها النبی انا احللنا لك ازواجك التی اتیت اجورهن و ما ملكت یمینك مما افآء الله علیك و بنت عمك
اے نبی! بیشك ہم نے حلال کیں تمھارے لیے تمھاری زوجات جن کے مہر تم نے دئے اور تمھاری کنیز یں جو الله نے تمھیں غنیمت میں دیں اورتمھارے چچا کی
مسئلہ ۲۲۳ تا ۲۲۶ : ازاکبر آباد مرسلہ محمد عبدالرزاق صاحب پانی پتی اڈیٹررسالہ ہمدرد اسلام آگرہ ۹ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص نے اپنے لڑکے کی شادی اپنے حقیقی بھائی کی بیٹی سے کردی یا تایا چچا زاد دو بھائیوں نے آپس میں اپنے لڑکے اور دوسرے بھائی کی بیٹی سے نکاح کردیا ازروئے شرع شریف یہ نکاح جائزہوا یا نہیں اور چچا زاد بہن تایازاد بھائی پر اور تایا زاد بھائی کی دختر چچازاد بھائی کے پسر پر حلال ہے یا نہیں
(۲)اگر جائز اور حلال ہے تو جو شخص اس حکم کو نہ مانے اور یہ کہے کہ گویہ مسئلہ شرع شریف کاہے لیکن ہم اس پر عمل نہیں کرتے کہ ہماری برادری اور باپ داداؤں سے کبھی ایسا نہیں ہوا تو ایسے لوگوں سے ملنا جلنا اور برادرانہ برتاؤ رکھنا کیساہے اورنیز ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائزہے یا نہیں
(۳)اگر کوئی گروہ ایسے نکاح کرنے والے کا حقہ پانی میل جول برادرانہ بند کردیں اور اس نکاح کو ننگ وناموس قومی تصور کریں توان سے میل جول رکھنا چاہئے یا نہیں
(۴)اگر ایسے لوگوں کی مخالفت سے ماں باپ ناراض ہوں تو باطاعت والدین گو مخالفت شرع شریف ہوجائے ان سے میل جول رکھنا چاہئے یا اطاعت شریعت مقدم رکھے گو والدین ناراض ہوجائیں بینوا تو جروا
الجواب :
دو بھائی حقیقی ہوں خواہ عم زادہ ان میں ہر ایك کی اولاد دوسرے کی اولاد پر قطعا یقینا باجماع امت جائز و حلال ہے چچاما موں خالہ پھوپھی کی اولاد کو بہن بھائی کہنا ایك مجازی بات ہے جسے ہر گز آیہ کریمہ محارم کے کلمات اخواتکم یا بنت الاخ وبنت الاخت(تمھاری بہنیں یا تمھاری بھتیجیاں اور بھانجیاں۔ ت)کسی اسلامی مذہب میں شامل نہیں بلکہ نص قطعی قرآن عظیم گواہ ہے کہ یہ عورتیں ہر گز بہنوں میں داخل نہیں۔ الله تعالی فرماتا ہے :
یایها النبی انا احللنا لك ازواجك التی اتیت اجورهن و ما ملكت یمینك مما افآء الله علیك و بنت عمك
اے نبی! بیشك ہم نے حلال کیں تمھارے لیے تمھاری زوجات جن کے مہر تم نے دئے اور تمھاری کنیز یں جو الله نے تمھیں غنیمت میں دیں اورتمھارے چچا کی
و بنت عمتك و بنت خالك و بنت خلتك الآیۃ۔
بیٹیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور ماموؤں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں۔ الآیۃ۔
ہاں ہنود عنود نے انھیں حقیقی بہن کی طرح سمجھا ہے جیسے متبنی کو بزعم باطل بیٹا اور اس کی زوجہ کو حقیقی بہو کے مثل جانتے ہیں مشرکان عرب اس پچھلے مسئلے میں مشرکان ہند کے ہم خیال تھے جس پر ان سفہا نے نکاح حضرت ام المومنین زینب رضی اللہ تعالی عنہا پر طعن واعتراض کئے اور قرآن عظیم نے ان کے شیطانی خیال ان کے منہ پر ماردئے
قال الله تعالی : فلما قضى زید منها وطرا زوجنكها لكی لا یكون على المؤمنین حرج فی ازواج ادعیآىهم اذا قضوا منهن وطرا- ۔
جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو اس کو ہم نے آپ سے بیاہ دیا تاکہ مومنین کواپنے منہ بولے بیٹوں کی مدخولہ مطلقہ بیویوں سے نکاح کے بارے حرج نہ ہو۔ (ت)
مگر عم و عمہ وخال وخالہ کی بیٹیوں کو مشرکین عرب بھی بہن نہ جانتے تھے ان سے مناکحت ان میں بھی رائج تھی اور مسلمانوں میں بھی ہمیشہ رائج تھی اور اب تمام ممالك اسلامیہ میں شائع وذائع ہے اس کی سب سے اعلی نظیر حضرت ام حسن مثنی وحضرت فاطمہ صغری رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح ہے کون نہیں جانتا کہ حضرت حسن مثنی حضرت امام حسن مجتبی کے صاحبزادے ہیں اور حضرت فاطمہ صغری حضرت امام حسین شہید کربلا کی صاحبزادی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پھر یہ ان کے نکاح میں تھیں حضرت امام عبدالله محض رضی اللہ تعالی عنہ انہی دونوں پاك مبارك والدین سے پیدا ہوئے انھیں محض اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا میں پہلے شخص تھے جن کے ماں باپ دونوں بتول زہرا صلی الله تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وسلم کی اولاد امجاد ہیں باپ حضرت خاتون جنت کے پوتے اور ماں ان کی پوتی صحیح بخاری شریف میں ہے :
لمامات الحسن بن الحسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم ضربت امرأتہ القبۃ علی قبرہ سنۃ ۔
جب حسن بن حسن بن علی( رضی اللہ تعالی عنہم )فوت ہوئے تو ان کی بیوی نے ایك سال تك ان کی قبر پر خیمہ لگایا۔ (ت)
بیٹیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور ماموؤں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں۔ الآیۃ۔
ہاں ہنود عنود نے انھیں حقیقی بہن کی طرح سمجھا ہے جیسے متبنی کو بزعم باطل بیٹا اور اس کی زوجہ کو حقیقی بہو کے مثل جانتے ہیں مشرکان عرب اس پچھلے مسئلے میں مشرکان ہند کے ہم خیال تھے جس پر ان سفہا نے نکاح حضرت ام المومنین زینب رضی اللہ تعالی عنہا پر طعن واعتراض کئے اور قرآن عظیم نے ان کے شیطانی خیال ان کے منہ پر ماردئے
قال الله تعالی : فلما قضى زید منها وطرا زوجنكها لكی لا یكون على المؤمنین حرج فی ازواج ادعیآىهم اذا قضوا منهن وطرا- ۔
جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو اس کو ہم نے آپ سے بیاہ دیا تاکہ مومنین کواپنے منہ بولے بیٹوں کی مدخولہ مطلقہ بیویوں سے نکاح کے بارے حرج نہ ہو۔ (ت)
مگر عم و عمہ وخال وخالہ کی بیٹیوں کو مشرکین عرب بھی بہن نہ جانتے تھے ان سے مناکحت ان میں بھی رائج تھی اور مسلمانوں میں بھی ہمیشہ رائج تھی اور اب تمام ممالك اسلامیہ میں شائع وذائع ہے اس کی سب سے اعلی نظیر حضرت ام حسن مثنی وحضرت فاطمہ صغری رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح ہے کون نہیں جانتا کہ حضرت حسن مثنی حضرت امام حسن مجتبی کے صاحبزادے ہیں اور حضرت فاطمہ صغری حضرت امام حسین شہید کربلا کی صاحبزادی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پھر یہ ان کے نکاح میں تھیں حضرت امام عبدالله محض رضی اللہ تعالی عنہ انہی دونوں پاك مبارك والدین سے پیدا ہوئے انھیں محض اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا میں پہلے شخص تھے جن کے ماں باپ دونوں بتول زہرا صلی الله تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وسلم کی اولاد امجاد ہیں باپ حضرت خاتون جنت کے پوتے اور ماں ان کی پوتی صحیح بخاری شریف میں ہے :
لمامات الحسن بن الحسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم ضربت امرأتہ القبۃ علی قبرہ سنۃ ۔
جب حسن بن حسن بن علی( رضی اللہ تعالی عنہم )فوت ہوئے تو ان کی بیوی نے ایك سال تك ان کی قبر پر خیمہ لگایا۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۵۰
القرآن الکریم ۳۳ /۳۷
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۷
القرآن الکریم ۳۳ /۳۷
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۷
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے :
(امرأتہ)فاطمۃ بنت الحسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم وھی ابنۃ عمھم ۔
بیوی سے مراد فاطمہ بنت حسن بن علی( رضی اللہ تعالی عنہم )ہے جو ان کی چچازاد ہیں(ت)
یہ نیا مسئلہ خاص مشرکین ہندکی گھڑت ہے وہ بھی ہندوستان کے بعض شہروں کے لیے دیگر مثل دکن کے سکان کو شاید وہ بھی حلال مانتے ہیں۔ ہنود عنود کو تو آسان ہے کہ ان کا امام ہوائے نفس وشیطان ہے عجب اس سے جو دعوی اسلام رکھے قرآن عظیم کو اپنا امام جانے اور پھر خلاف قرآن مسائل شیطان مانے والعیاذبالله رب العالمین غالبا یہ ایسے ہی لوگوں کے ناپاك اوہام ہوسکتے ہیں جن کے باپ دادا ہندو تھے اسلام لائے تھوڑا زمانہ گزرا ہواا و ر رہے جاہل بے شعور اور صحبت اہل علم سے دور دل میں وہی خیالات بے معنی جمے ہوئے ہیں اور موروث ہونے کے باعث گویا طبیعت ثانیہ ہوگئے ہیں اب کہ حکم قرآن عظیم معلوم ہوا طبعی گھن کہ اس سے چڑھی ہوئی ہے اس کے امتثال سے مانع آتی ہے جیسے کوئی پرانا پجاری برہمچاری خوبی قسمت سے مشرف بہ اسلام ہوجائے اور اس کے سامنے نوجوان گہتی کا نفیس عمدہ فربہ تازہ سرخ بریاں خوشبو خوشنما نرم چکنا چپٹا سلونا گوشت پیش کیا جائے تو عادت قدیمہ کے باعث یکایك اس کی ہمت اس لذیذنوالے کے لیے یاری نہ دے گی بلکہ دیکھتے ہی آنکھ بند ہوجائے گی اگر فی الواقع ان لوگوں کے انکار کا صرف اسی قدر منشا ہے خوب جانتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ یہ نکاح حلال ہیں ان میں کوئی قباحت نہیں اورہنود کہ انھیں حرام سمجھتے ہیں یہ ان کا شنیع وقبیح زعم ہے باایں ہمہ اس عادت قدیمہ کے سبب اس سے جھجکتے بچتے ہیں جب توکفر نہیں مگر یہ خیال ناپاك رسوم کفر کا بقیہ ہے ان پر فرض ہے کہ اسے دل سے دور کریں اور پورے پورے اسلام میں داخل ہوں ورنہ عذاب الہی کے منتظر رہیں الله عزوجل فرماتاہے :
یایها الذین امنوا ادخلوا فی السلم كآفة۪-و لا تتبعوا خطوت الشیطن-انه لكم عدو مبین(۲۰۸) فان زللتم من بعد ما جآءتكم البینت فاعلموا ان الله عزیز حكیم(۲۰۹) هل ینظرون الا ان یاتیهم الله فی ظلل من الغمام و الملىكة و قضی الامر-و الى الله
اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشك وہ تمھارا صریح دشمن ہے پھر اگر لغزش کرو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں روشن آیتیں تو جان رکھو کہ الله زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہی کہ آئے ان پر الله کا عذاب بادل کی گھٹاؤں میں
(امرأتہ)فاطمۃ بنت الحسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم وھی ابنۃ عمھم ۔
بیوی سے مراد فاطمہ بنت حسن بن علی( رضی اللہ تعالی عنہم )ہے جو ان کی چچازاد ہیں(ت)
یہ نیا مسئلہ خاص مشرکین ہندکی گھڑت ہے وہ بھی ہندوستان کے بعض شہروں کے لیے دیگر مثل دکن کے سکان کو شاید وہ بھی حلال مانتے ہیں۔ ہنود عنود کو تو آسان ہے کہ ان کا امام ہوائے نفس وشیطان ہے عجب اس سے جو دعوی اسلام رکھے قرآن عظیم کو اپنا امام جانے اور پھر خلاف قرآن مسائل شیطان مانے والعیاذبالله رب العالمین غالبا یہ ایسے ہی لوگوں کے ناپاك اوہام ہوسکتے ہیں جن کے باپ دادا ہندو تھے اسلام لائے تھوڑا زمانہ گزرا ہواا و ر رہے جاہل بے شعور اور صحبت اہل علم سے دور دل میں وہی خیالات بے معنی جمے ہوئے ہیں اور موروث ہونے کے باعث گویا طبیعت ثانیہ ہوگئے ہیں اب کہ حکم قرآن عظیم معلوم ہوا طبعی گھن کہ اس سے چڑھی ہوئی ہے اس کے امتثال سے مانع آتی ہے جیسے کوئی پرانا پجاری برہمچاری خوبی قسمت سے مشرف بہ اسلام ہوجائے اور اس کے سامنے نوجوان گہتی کا نفیس عمدہ فربہ تازہ سرخ بریاں خوشبو خوشنما نرم چکنا چپٹا سلونا گوشت پیش کیا جائے تو عادت قدیمہ کے باعث یکایك اس کی ہمت اس لذیذنوالے کے لیے یاری نہ دے گی بلکہ دیکھتے ہی آنکھ بند ہوجائے گی اگر فی الواقع ان لوگوں کے انکار کا صرف اسی قدر منشا ہے خوب جانتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ یہ نکاح حلال ہیں ان میں کوئی قباحت نہیں اورہنود کہ انھیں حرام سمجھتے ہیں یہ ان کا شنیع وقبیح زعم ہے باایں ہمہ اس عادت قدیمہ کے سبب اس سے جھجکتے بچتے ہیں جب توکفر نہیں مگر یہ خیال ناپاك رسوم کفر کا بقیہ ہے ان پر فرض ہے کہ اسے دل سے دور کریں اور پورے پورے اسلام میں داخل ہوں ورنہ عذاب الہی کے منتظر رہیں الله عزوجل فرماتاہے :
یایها الذین امنوا ادخلوا فی السلم كآفة۪-و لا تتبعوا خطوت الشیطن-انه لكم عدو مبین(۲۰۸) فان زللتم من بعد ما جآءتكم البینت فاعلموا ان الله عزیز حكیم(۲۰۹) هل ینظرون الا ان یاتیهم الله فی ظلل من الغمام و الملىكة و قضی الامر-و الى الله
اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشك وہ تمھارا صریح دشمن ہے پھر اگر لغزش کرو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں روشن آیتیں تو جان رکھو کہ الله زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہی کہ آئے ان پر الله کا عذاب بادل کی گھٹاؤں میں
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۴۲۹
ترجع الامور(۲۱۰)
اور فرشتے اور ہوچکے ہونے والی اور الله ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
جلالین شریف میں ہے :
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت عــــہ وکرھوا الابل بعد الاسلام ادخلوا فی السلم ای الاسلام کافۃ ای جمیع شرائعہ (ملخصا)
جب عبدالله بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے ہفتہ کا دن منانا چاہا اور سابقہ دین کے پیش نظر اونٹ کے گوشت کو ناپسند کیا تو آیہ کریمہ “ ادخلوا فی السلم كآفة۪- “ نازل ہوئی یعنی داخل ہوجاؤ سلم میں سلم سے مراد اسلام ہے یعنی یہ کہ پوری شریعت اسلامیہ کو اپناؤ۔ (ملخصا)(ت)
یعنی جب علمائے یہود مشرف باسلام ہوئے عادت قدیمہ کے باعث اونٹ کے گوشت سے کراہت کی کہ یہود کے یہاں اونٹ حرام تھا اور تعظیم شنبہ کا عزم کیا کہ یہود میں ہفتہ معظم تھا اس پر حق سبحنہ وتعالی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اس کے سب احکام مانو ورنہ عذاب الہی کے منتظر رہو والعیاذ بالله تعالی۔ اگریہ لوگ نہ مانیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے میل جول نہ کریں خصوصا جن سفہانے وہ ناپاك کلمہ کہا کہ “ گویہ مسئلہ شرع کا ہے مگر ہم الخ “ اور جنھوں نے ایسے نکاح کرنے والے کو برادری سے خارج کردیا وہ سخت ظالم اورشدید مجرم ہیں مسلمانوں کو ان سے احتراز ضرورہے۔
قال الله تعالی : و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار- ۔
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں چھوئے دوزخ کی آگ۔
ان کے پیچھے نماز ممنوع ہے کہ وہ اس تعصب وتشدد کے باعث فاسق معلن ہوئے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ کما نص فی الغنیۃ وغیرھا وحققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ اس پر غنیہ وغیرہا میں نص کی ہے اور ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ النہی الاکید میں کی ہے۔ ت
عــــہ : مصدر منہ قولہ تعالی ویوم لایسبتون لا تاتیھم والمعنی تعظیم السبت ۱۲ منہ غفرلہ(م)
یہ مصدر ہے اسی سے ہے الله تعالی کا قول “ یوم لایسبتون لاتأتیھم “ روز ہفتہ کے علاوہ دنوں میں مچھلیاں انکے پاس نہ آتیں اور اس سے مراد روز ہفتہ کی تعظیم ہے۔ (ت)
اور فرشتے اور ہوچکے ہونے والی اور الله ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
جلالین شریف میں ہے :
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت عــــہ وکرھوا الابل بعد الاسلام ادخلوا فی السلم ای الاسلام کافۃ ای جمیع شرائعہ (ملخصا)
جب عبدالله بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے ہفتہ کا دن منانا چاہا اور سابقہ دین کے پیش نظر اونٹ کے گوشت کو ناپسند کیا تو آیہ کریمہ “ ادخلوا فی السلم كآفة۪- “ نازل ہوئی یعنی داخل ہوجاؤ سلم میں سلم سے مراد اسلام ہے یعنی یہ کہ پوری شریعت اسلامیہ کو اپناؤ۔ (ملخصا)(ت)
یعنی جب علمائے یہود مشرف باسلام ہوئے عادت قدیمہ کے باعث اونٹ کے گوشت سے کراہت کی کہ یہود کے یہاں اونٹ حرام تھا اور تعظیم شنبہ کا عزم کیا کہ یہود میں ہفتہ معظم تھا اس پر حق سبحنہ وتعالی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اس کے سب احکام مانو ورنہ عذاب الہی کے منتظر رہو والعیاذ بالله تعالی۔ اگریہ لوگ نہ مانیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے میل جول نہ کریں خصوصا جن سفہانے وہ ناپاك کلمہ کہا کہ “ گویہ مسئلہ شرع کا ہے مگر ہم الخ “ اور جنھوں نے ایسے نکاح کرنے والے کو برادری سے خارج کردیا وہ سخت ظالم اورشدید مجرم ہیں مسلمانوں کو ان سے احتراز ضرورہے۔
قال الله تعالی : و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار- ۔
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں چھوئے دوزخ کی آگ۔
ان کے پیچھے نماز ممنوع ہے کہ وہ اس تعصب وتشدد کے باعث فاسق معلن ہوئے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ کما نص فی الغنیۃ وغیرھا وحققناہ فی النھی الاکید(جیسا کہ اس پر غنیہ وغیرہا میں نص کی ہے اور ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ النہی الاکید میں کی ہے۔ ت
عــــہ : مصدر منہ قولہ تعالی ویوم لایسبتون لا تاتیھم والمعنی تعظیم السبت ۱۲ منہ غفرلہ(م)
یہ مصدر ہے اسی سے ہے الله تعالی کا قول “ یوم لایسبتون لاتأتیھم “ روز ہفتہ کے علاوہ دنوں میں مچھلیاں انکے پاس نہ آتیں اور اس سے مراد روز ہفتہ کی تعظیم ہے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۰۸ تا ۲۱۰
تفسیر جلالین زیر آیۃ ادخلوا فی السلم کافۃ اصح المطابع کراچی ص۳۱
القرآن الکریم ۱۱ /۱۳
تفسیر جلالین زیر آیۃ ادخلوا فی السلم کافۃ اصح المطابع کراچی ص۳۱
القرآن الکریم ۱۱ /۱۳
اسی صورت میں حتی الوسع کوشش کرے کہ والدین راضی رہیں اور ان کی مرضی کی مخالفت سے بھی نجات ملے ورنہ ظاہری مخالفت اس قدر کہ منجربہ معصیت نہ ہو مجبورانہ محض والدین کے دکھانے تك بجالائے۔
فان ایذاء ھما من اشدالکبائر ولیست مخالفتھم علی ماوصفنا فی السوء والشناعۃ مثل العقوق ومن ابتلی بلیتین اختار اھونہما وقد کان سیدنا عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما حامل لواء صفین مع ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ طاعۃ لہ من دون قتال مع علمہ ان الحق مع امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ وکان یعتذر عن ذلك بان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرہ بطاعۃ ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
والدین کو اذیت دینا گناہ کبیرہ ہے اور بری باتوں اور غلط امورمیں ان کی مخالفت والدین کی نافرمانی جیسی بات نہیں ہے اور جو شخص دو مصیبتوں میں مبتلا ہو وہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرے حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حکم پر جنگ صفین میں علم بردار تھے اور جنگ میں شرکت نہ چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس جنگ میں حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم حق پر ہیں انھوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے والد کی اطاعت کی پابندی کے حکم کے عذر سے والد کی موافقت کی۔ (ت)
اور اگر معاذالله اس انکارکی وجہ یہ ہو کہ اس نکاح کو واقع میں حرام جانتے اور حکم شرع کو باطل مانتے مسئلہ کفار کو صحیح وحسن سمجھتے ہیں جب تو صریح کفار مرتدین ہیں ان سے میل جول قطعی حرام اب اس صورت میں ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں ان سے ہمبستری زنا ہوگی ا ولاد ولد الزنا ہوگی ان کے پیچھے نماز باطل محض ان سے میل جول میں والدین کی اطاعت ناجائز ان سے مخالفت وجدائی لازم اگرچہ ماں باپ ناراض ہوں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ رواہ البخاری ف ومسلم وابوداؤد والنسائی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
الله تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ (اس کو بخاری مسلم ابوداؤد اورنسائی نے حضرت امیر المومنین علی کرم الله وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
فان ایذاء ھما من اشدالکبائر ولیست مخالفتھم علی ماوصفنا فی السوء والشناعۃ مثل العقوق ومن ابتلی بلیتین اختار اھونہما وقد کان سیدنا عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما حامل لواء صفین مع ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ طاعۃ لہ من دون قتال مع علمہ ان الحق مع امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ وکان یعتذر عن ذلك بان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرہ بطاعۃ ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
والدین کو اذیت دینا گناہ کبیرہ ہے اور بری باتوں اور غلط امورمیں ان کی مخالفت والدین کی نافرمانی جیسی بات نہیں ہے اور جو شخص دو مصیبتوں میں مبتلا ہو وہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرے حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حکم پر جنگ صفین میں علم بردار تھے اور جنگ میں شرکت نہ چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس جنگ میں حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم حق پر ہیں انھوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے والد کی اطاعت کی پابندی کے حکم کے عذر سے والد کی موافقت کی۔ (ت)
اور اگر معاذالله اس انکارکی وجہ یہ ہو کہ اس نکاح کو واقع میں حرام جانتے اور حکم شرع کو باطل مانتے مسئلہ کفار کو صحیح وحسن سمجھتے ہیں جب تو صریح کفار مرتدین ہیں ان سے میل جول قطعی حرام اب اس صورت میں ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں ان سے ہمبستری زنا ہوگی ا ولاد ولد الزنا ہوگی ان کے پیچھے نماز باطل محض ان سے میل جول میں والدین کی اطاعت ناجائز ان سے مخالفت وجدائی لازم اگرچہ ماں باپ ناراض ہوں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ رواہ البخاری ف ومسلم وابوداؤد والنسائی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
الله تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ (اس کو بخاری مسلم ابوداؤد اورنسائی نے حضرت امیر المومنین علی کرم الله وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث الحاکم بن عمر والغفاری رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۵ / ۶۶
ف : بخاری۲ / ۱۰۷۸ ، مسلم ۲ / ۱۲۵ ، سنن ابی داؤد ۱ / ۳۵۳ اور سنن النسائی ۲ / ۱۸۶ سب کے الفاظ یوں ہیں :
لاطاعۃ فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف۔ نذیر احمد سعیدی
ف : بخاری۲ / ۱۰۷۸ ، مسلم ۲ / ۱۲۵ ، سنن ابی داؤد ۱ / ۳۵۳ اور سنن النسائی ۲ / ۱۸۶ سب کے الفاظ یوں ہیں :
لاطاعۃ فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف۔ نذیر احمد سعیدی
غمز العیون میں ہے :
اتفق مشائخنا من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فھو کافر۔
ہمارے مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کفار کے شعائر کو پسند کرنے والا کافر ہے حتی کہ انھوں نے فرمایا کہ جو شخص مجوسیوں کے شعار کھانا کھاتے وقت بات چیت کے ترک کو اچھا کہے یا حالت حیض میں بیوی کے ساتھ ایك بسترمیں لیٹنے کے ترک کو مجوسیوں کی وجہ سے اچھا کہے وہ کافر ہے(ت)
اور اتنا حکم تو پہلی صورت میں بھی ہے کہ جس نے وہ الفاظ انکار کہے احتیاطا تجدید اسلام وتجدید نکاح کرے جامع الفصولین میں ہے :
قال لخصمہ حکم الشرع کذا فقال خصمہ من برسم کارمی کنم بشرع نے قیل کفر وقیل لا ۔
جس نے اپنے مقابل کوکہا کہ حکم شرع یوں ہے اور مقابل کہے میں مروجہ رسم پر عمل پیراہوں شرع پر نہیں تو بعض نے فرمایا وہ کافر ہوگیا اور بعض نے فرمایا نہ ہوا(ت)
درمختار میں ہے :
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبہ وتجدید النکاح . واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
شرح وھبانیہ شرنبلالی میں ہے کہ متفق علیہ کفر سے عمل اور نکاح باطل ہوجاتا ہے حالت کفر کی اولاد اولاد زنا ہوگی او رجس کے کفر ہونے میں اختلاف ہو اس میں توبہ و استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا____والله سبحانہ وتعالی اعلم اور اس جل مجدہ کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۷ : از ملك بنگال ضلع پٹنہ ڈاکخانہ بنگا شی موضع مختار گاتی مرسلہ مصلح الدین صاحب ۱۲ شوال المکرم ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حقیقی بھانجا کی بیٹی سے نکاح جائز
اتفق مشائخنا من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فھو کافر۔
ہمارے مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کفار کے شعائر کو پسند کرنے والا کافر ہے حتی کہ انھوں نے فرمایا کہ جو شخص مجوسیوں کے شعار کھانا کھاتے وقت بات چیت کے ترک کو اچھا کہے یا حالت حیض میں بیوی کے ساتھ ایك بسترمیں لیٹنے کے ترک کو مجوسیوں کی وجہ سے اچھا کہے وہ کافر ہے(ت)
اور اتنا حکم تو پہلی صورت میں بھی ہے کہ جس نے وہ الفاظ انکار کہے احتیاطا تجدید اسلام وتجدید نکاح کرے جامع الفصولین میں ہے :
قال لخصمہ حکم الشرع کذا فقال خصمہ من برسم کارمی کنم بشرع نے قیل کفر وقیل لا ۔
جس نے اپنے مقابل کوکہا کہ حکم شرع یوں ہے اور مقابل کہے میں مروجہ رسم پر عمل پیراہوں شرع پر نہیں تو بعض نے فرمایا وہ کافر ہوگیا اور بعض نے فرمایا نہ ہوا(ت)
درمختار میں ہے :
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبہ وتجدید النکاح . واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
شرح وھبانیہ شرنبلالی میں ہے کہ متفق علیہ کفر سے عمل اور نکاح باطل ہوجاتا ہے حالت کفر کی اولاد اولاد زنا ہوگی او رجس کے کفر ہونے میں اختلاف ہو اس میں توبہ و استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا____والله سبحانہ وتعالی اعلم اور اس جل مجدہ کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۷ : از ملك بنگال ضلع پٹنہ ڈاکخانہ بنگا شی موضع مختار گاتی مرسلہ مصلح الدین صاحب ۱۲ شوال المکرم ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حقیقی بھانجا کی بیٹی سے نکاح جائز
حوالہ / References
غمز العیون مع الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۹۵
جامع الفصولین فصل فی تنفیذ الوصیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۰
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
جامع الفصولین فصل فی تنفیذ الوصیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۰
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
ہے یا نہیں بادلیل عنایت ہو بینوا توجروا
الجواب :
حرام قطعی ہے وہ خود اسی کی بیٹی ہے
قال اﷲ تعالی و بنت الاخت وھن یشملن بناتھا من بطنھا ومن ابنھا ومن بنتھا وان سفلن۔ واﷲ تعالی اعلم
الله تعالی نے فرمایا : اور بھانجیاں جبکہ یہ لفظ بھانجی کی بیٹیوں پوتیوں اور نواسیوں کو نیچے تك شامل ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۸ :
چہ مے فرمایند علمائے دین وحامی شرع متین دریں مسئلہ کہ اگر مردے از طریق اہل سنت وجماعت وزنے از طریق اہل شیعہ وباہم مرد وزن صیغہ نکاح مروجہ بطریق اہل سنت وجماعت خواندہ باشد و ہنوز خلوت صحیحہ بلکہ رسم رخصت مروجہ ہندوستان نہ شدہ باشد وحالا باہم رضامندی نہ چہ حکم دارد آیا نکاح صحیح ست یا نہ بینوا توجروا
علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مرد اہل سنت وجماعت ہو اور عورت اہل شیعہ میں سے ان دونوں کا نکاح اہل سنت و جماعت کے طریقہ پر ہوا اور ابھی خلوت صحیحہ بلکہ رخصتی نہ بھی ہوئی جیسا کہ ہندوستا ن کا طریقہ ہے جبکہ ابھی رضامندبھی نہ ہوں توایسا نکاح صحیح ہے یا نہیں بیان کرو اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
آں زن اگر بسلامت قلب خود از عقائد مکفرہ بری ست نکاح صحیح شد وبعد نکاح عدم رضائے اعتبارے نے وحکما سپرد شوہر کردہ شود اگر در رنگ عامہ روافض زمانہ عقیدہ مکفرہ دارد نکاح باوباطل محض ست نہ سنی رارسد نہ رافضی نہ یہودی نہ مجوسی ہیچ کس را لان المکفر من اھل الھوی کالمرتد حکمہ والمرتدۃ لاینکحھا مسلم ولاکافر اصلی ولامرتد
اگر وہ عورت خود دل سے عقائد کفریہ سے توبہ کرچکی ہے اور بری ہوچکی ہے تو نکاح صحیح ہے اور نکاح کے بعدعدم رضامندی کا کوئی اعتبارنہیں ایسی عورت کو حکما شوہر کے سپرد کیا جائے گا ا ور اگر وہ عورت موجودہ عام روافض جیسے کفریہ عقیدے رکھتی ہو تو اس سے نکاح باطل محض ہے سنی رافضی اور مجوسی کسی کے لیے بھی وہ حلال نہیں کیونکہ اہل ہوی میں سے جن کو کافر قرار دیا گیا ہو وہ مرتد کی طرح ہیں
الجواب :
حرام قطعی ہے وہ خود اسی کی بیٹی ہے
قال اﷲ تعالی و بنت الاخت وھن یشملن بناتھا من بطنھا ومن ابنھا ومن بنتھا وان سفلن۔ واﷲ تعالی اعلم
الله تعالی نے فرمایا : اور بھانجیاں جبکہ یہ لفظ بھانجی کی بیٹیوں پوتیوں اور نواسیوں کو نیچے تك شامل ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۸ :
چہ مے فرمایند علمائے دین وحامی شرع متین دریں مسئلہ کہ اگر مردے از طریق اہل سنت وجماعت وزنے از طریق اہل شیعہ وباہم مرد وزن صیغہ نکاح مروجہ بطریق اہل سنت وجماعت خواندہ باشد و ہنوز خلوت صحیحہ بلکہ رسم رخصت مروجہ ہندوستان نہ شدہ باشد وحالا باہم رضامندی نہ چہ حکم دارد آیا نکاح صحیح ست یا نہ بینوا توجروا
علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مرد اہل سنت وجماعت ہو اور عورت اہل شیعہ میں سے ان دونوں کا نکاح اہل سنت و جماعت کے طریقہ پر ہوا اور ابھی خلوت صحیحہ بلکہ رخصتی نہ بھی ہوئی جیسا کہ ہندوستا ن کا طریقہ ہے جبکہ ابھی رضامندبھی نہ ہوں توایسا نکاح صحیح ہے یا نہیں بیان کرو اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
آں زن اگر بسلامت قلب خود از عقائد مکفرہ بری ست نکاح صحیح شد وبعد نکاح عدم رضائے اعتبارے نے وحکما سپرد شوہر کردہ شود اگر در رنگ عامہ روافض زمانہ عقیدہ مکفرہ دارد نکاح باوباطل محض ست نہ سنی رارسد نہ رافضی نہ یہودی نہ مجوسی ہیچ کس را لان المکفر من اھل الھوی کالمرتد حکمہ والمرتدۃ لاینکحھا مسلم ولاکافر اصلی ولامرتد
اگر وہ عورت خود دل سے عقائد کفریہ سے توبہ کرچکی ہے اور بری ہوچکی ہے تو نکاح صحیح ہے اور نکاح کے بعدعدم رضامندی کا کوئی اعتبارنہیں ایسی عورت کو حکما شوہر کے سپرد کیا جائے گا ا ور اگر وہ عورت موجودہ عام روافض جیسے کفریہ عقیدے رکھتی ہو تو اس سے نکاح باطل محض ہے سنی رافضی اور مجوسی کسی کے لیے بھی وہ حلال نہیں کیونکہ اہل ہوی میں سے جن کو کافر قرار دیا گیا ہو وہ مرتد کی طرح ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
مثلھا کما نصوا علیہ آرے اگروقت نکاح ا ز کفربری بود تاآنکہ نکاح صحیح شدہ وحالا ارتکاب او کند تاازحبالہ نکاح بدرآید ایں حیلت ومکیدہ فاسدہ اش ہم بروئے زن زنند وحکم ببقائے نکاح ووجوب تسلیم نفس کنند کما ھوالمختار الان للفتوی علی ما حققنا ہ فی فتاونا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور مرتد والاحکم رکھتے ہیں اور مرتدہ سے کسی مسلمان اصلی کافر یا اس جیسے مرتد کو نکاح جائز نہیں جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے ہاں اگر نکاح کے وقت کفر سے بری تھی تو نکاح صحیح ہوا مگر اس کے بعد اب وہ عقائد کفریہ کا اظہار بطور حیلہ ومکر اس لیے کرتی تاکہ نکاح سے خلاصی حاصل کرے تواس حیلہ ومکرو فریب کو اس کے منہ پر دے ماراجا ئے اور نکاح کاحکم باقی رکھا جائے اور اس کو خاوند کے سپردکرنا ضروری ہے جیساکہ آج کل فتوی میں مختار ہے جس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۹تا ۲۳۱ : مسئولہ جناب مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی مدرس اول مدرسہ منظر اسلام بریلی ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)سوتیلی خالہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)کوئی شخص اگر ساس سے آشنائی اور صحبت کرے تو عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اور اس کی عدت ہے یا نہیں بینوا توجروا
(۳)ایسی دو عورتوں کاایك وقت میں نکاح میں لانا کہ اگر ایك کو مرد اور ایك کو عورت قرار دیا جائے تو صورت محرمات میں آجائیں تو درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱)خالہ سگی ہو یا سوتیلی مثل ماں کے حرام قطعی ہے قال الله تعالی : و خلتكم (اور تمھاری خالائیں۔ ت)درمختارمیں ہے : الاشقاء وغیرھن (سوتیلی وغیرہ۔ ت) ہاں منکوحہ پدر کہ اس کی ماں نہیں تو اس کی سگی بہن بھی حلال ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (تمھارے لیے ان محرمات کے ماسوا حلال کی گئی ہیں۔ ت) مگر وہ ا س کی خالہ نہیں کہ جس کی بہن ہے وہ اس کی ماں نہیں ہے مجازا اور ادعائے مجاز بے قرینہ مدفوع ونا مسموع۔ اور بفرض غلط اگرسوتیلی ماں کی بہن
اور مرتد والاحکم رکھتے ہیں اور مرتدہ سے کسی مسلمان اصلی کافر یا اس جیسے مرتد کو نکاح جائز نہیں جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے ہاں اگر نکاح کے وقت کفر سے بری تھی تو نکاح صحیح ہوا مگر اس کے بعد اب وہ عقائد کفریہ کا اظہار بطور حیلہ ومکر اس لیے کرتی تاکہ نکاح سے خلاصی حاصل کرے تواس حیلہ ومکرو فریب کو اس کے منہ پر دے ماراجا ئے اور نکاح کاحکم باقی رکھا جائے اور اس کو خاوند کے سپردکرنا ضروری ہے جیساکہ آج کل فتوی میں مختار ہے جس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۹تا ۲۳۱ : مسئولہ جناب مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی مدرس اول مدرسہ منظر اسلام بریلی ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)سوتیلی خالہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)کوئی شخص اگر ساس سے آشنائی اور صحبت کرے تو عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اور اس کی عدت ہے یا نہیں بینوا توجروا
(۳)ایسی دو عورتوں کاایك وقت میں نکاح میں لانا کہ اگر ایك کو مرد اور ایك کو عورت قرار دیا جائے تو صورت محرمات میں آجائیں تو درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱)خالہ سگی ہو یا سوتیلی مثل ماں کے حرام قطعی ہے قال الله تعالی : و خلتكم (اور تمھاری خالائیں۔ ت)درمختارمیں ہے : الاشقاء وغیرھن (سوتیلی وغیرہ۔ ت) ہاں منکوحہ پدر کہ اس کی ماں نہیں تو اس کی سگی بہن بھی حلال ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (تمھارے لیے ان محرمات کے ماسوا حلال کی گئی ہیں۔ ت) مگر وہ ا س کی خالہ نہیں کہ جس کی بہن ہے وہ اس کی ماں نہیں ہے مجازا اور ادعائے مجاز بے قرینہ مدفوع ونا مسموع۔ اور بفرض غلط اگرسوتیلی ماں کی بہن
بھی سوتیلی خالہ ہو تو ماں کی سوتیلی بہن یقینا سوتیلی خالہ ہے بلکہ وہی اطلاقا اکثر اور فہمااظہر توبعض عمائد غیرمقلدین سے تحلیل حرام وتضلیل عوام کے دونوں الزام مدفوع نہیں ہوسکتے والله تعالی اعلم۔
(۲)سالی سے زنا عورت کو حرام نہیں کرتا ساس کو بشہوت ہاتھ لگانے ہی سے عورت ہمیشہ کو حرام ہو جاتی ہے کہ کسی طرح اس کے لیے حلا ل نہیں ہو سکتی مگر نکاح نہیں جاتا بلکہ متارکہ ضرور ہے مثلا عورت سے کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا یا ترك کردیا متارکہ کے بعد عدت واجب ہو گی جبکہ عورت سے خلوت کر چکا ہو۔ والله تعالی اعلم
(۳)دو عورتیں کہ ان میں جس کو مرد فرض کریں دوسری اس پر ہمیشہ حرام ہو ایك شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں خواہ ایك وقت میں خواہ مختلف اوقات میں۔ جیسے ماں بیٹی کہ بعد فرض ماں بیٹا یا باپ بیٹی ہوں گی اور اگر ایك کو مرد فرض کئے سے دوسری اس پر حرام ابدی ہو مگر دوسری کو مرد ٹھہرانے سے وہ پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں جیسے ساس بہو کہ ساس مرد ہو تو وہ خسر اور بہو ہیں بہو خسر پر ہمیشہ حرام ہے اور اگر بہو مرد ہو تو اب ساس سے کوئی رشتہ نہیں وہ اس کے لیے حلال ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲تا ۲۳۳ : از تحصیل ستار گنج ڈاك خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ الہی بخش صاحب کاریگر
ہادی دین شرع متین جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم بعد سلام دست بستہ کے التماس ہے آپ کی ذات مجمع کمالات ہم عاصیوں کے لیے باعث افتخار ہے اور ہر مشکل مسئلہ میں آپ سے عقدہ کشائی ہوکر کار ثواب میں داخل ہوکر کارنیك کے پابند ہوسکتے ہیں۔
(۱)ایك عورت بیوہ نے اپنی لڑکی نابالغ کو لڑکے کی زوجیت میں دیا بعد تھوڑی مدت میں وہ لڑکی نابالغ مرگئی بعد تھوڑی مدت کے اس عورت نے جو بیوہ پہلے سے تھی اب اس نے اپنے داماد سے نکاح کرلیا ہے اوراس نکاح سے اب ایك بچہ موجود ہے آیا یہ نکاح درست ہے یا حرام ہے
(۲)ایك شخص نے ایك عورت بیوہ سے نکاح کرلیا اس عورت بیوہ کا جو پہلا خاوند تھا اس سے ایك لڑکاتھا جواب عورت کے دوسرے نکاح کرنے پر ہمراہ آیاتھا وہ لڑکا جوان ہوکر مرگیا اور اس کی ماں بھی مرگئی اب اس جوان لڑکے کی بیوی بیوہ ہے اوراب اس لڑکے کا باپ یعنی اب سوتیلا ہے اور یہ سوتیلا باپ اس سوتیلے لڑکے کی بیوہ بیوی کو یعنی اب اپنی سوتیلی بہو کو یعنی اب سوتیلے بیٹے کی بیوی بیوہ کو نکاح میں لایا چاہتا ہے اور حرام بھی کیاہے اور اسی وجہ سے وہ بیوہ بہو حاملہ ہے اور اس کا حمل قریبا چار ماہ کا ہے اوراسی قدر عرصہ اس کے خاوند کو مرے ہوئے گزرا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعدمرنے اپنے سوتیلے بیٹے کے وہ شخص اپنی
(۲)سالی سے زنا عورت کو حرام نہیں کرتا ساس کو بشہوت ہاتھ لگانے ہی سے عورت ہمیشہ کو حرام ہو جاتی ہے کہ کسی طرح اس کے لیے حلا ل نہیں ہو سکتی مگر نکاح نہیں جاتا بلکہ متارکہ ضرور ہے مثلا عورت سے کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا یا ترك کردیا متارکہ کے بعد عدت واجب ہو گی جبکہ عورت سے خلوت کر چکا ہو۔ والله تعالی اعلم
(۳)دو عورتیں کہ ان میں جس کو مرد فرض کریں دوسری اس پر ہمیشہ حرام ہو ایك شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں خواہ ایك وقت میں خواہ مختلف اوقات میں۔ جیسے ماں بیٹی کہ بعد فرض ماں بیٹا یا باپ بیٹی ہوں گی اور اگر ایك کو مرد فرض کئے سے دوسری اس پر حرام ابدی ہو مگر دوسری کو مرد ٹھہرانے سے وہ پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں جیسے ساس بہو کہ ساس مرد ہو تو وہ خسر اور بہو ہیں بہو خسر پر ہمیشہ حرام ہے اور اگر بہو مرد ہو تو اب ساس سے کوئی رشتہ نہیں وہ اس کے لیے حلال ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲تا ۲۳۳ : از تحصیل ستار گنج ڈاك خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ الہی بخش صاحب کاریگر
ہادی دین شرع متین جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم بعد سلام دست بستہ کے التماس ہے آپ کی ذات مجمع کمالات ہم عاصیوں کے لیے باعث افتخار ہے اور ہر مشکل مسئلہ میں آپ سے عقدہ کشائی ہوکر کار ثواب میں داخل ہوکر کارنیك کے پابند ہوسکتے ہیں۔
(۱)ایك عورت بیوہ نے اپنی لڑکی نابالغ کو لڑکے کی زوجیت میں دیا بعد تھوڑی مدت میں وہ لڑکی نابالغ مرگئی بعد تھوڑی مدت کے اس عورت نے جو بیوہ پہلے سے تھی اب اس نے اپنے داماد سے نکاح کرلیا ہے اوراس نکاح سے اب ایك بچہ موجود ہے آیا یہ نکاح درست ہے یا حرام ہے
(۲)ایك شخص نے ایك عورت بیوہ سے نکاح کرلیا اس عورت بیوہ کا جو پہلا خاوند تھا اس سے ایك لڑکاتھا جواب عورت کے دوسرے نکاح کرنے پر ہمراہ آیاتھا وہ لڑکا جوان ہوکر مرگیا اور اس کی ماں بھی مرگئی اب اس جوان لڑکے کی بیوی بیوہ ہے اوراب اس لڑکے کا باپ یعنی اب سوتیلا ہے اور یہ سوتیلا باپ اس سوتیلے لڑکے کی بیوہ بیوی کو یعنی اب اپنی سوتیلی بہو کو یعنی اب سوتیلے بیٹے کی بیوی بیوہ کو نکاح میں لایا چاہتا ہے اور حرام بھی کیاہے اور اسی وجہ سے وہ بیوہ بہو حاملہ ہے اور اس کا حمل قریبا چار ماہ کا ہے اوراسی قدر عرصہ اس کے خاوند کو مرے ہوئے گزرا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعدمرنے اپنے سوتیلے بیٹے کے وہ شخص اپنی
سوتیلی بہو کے ساتھ فعل کرتا رہا اب یہ نہیں معلوم کہ حمل بیٹے کا ہے یا باپ کا البتہ قرین قیاس یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کا یعنی اس کے شوہر کا ہے کیونکہ اس کے شوہر کومرے ہوئے بھی عرصہ چار ماہ کا گزرا ہے آیا بعد وضع حمل کے نکاح ہونا یعنی سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی سے خسر سوتیلے کا جائز ہے یا ناجائز والسلام دوسرے مسئلہ کا اصل قصہ مختصر یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی کو سوتیلا خسر اپنے نکاح میں لاسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)ساس پر داماد مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کی بیٹی کی رخصت نہ ہوئی ہو اور قبل رخصت مرگئی ہو قال الله تعالی : و امهت نسآىكم (اور تمھاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں) یہ نکاح حرام محض ہوا وہ بچہ ولدالحرام ہوا ان دونوں پر کہ حقیقۃ ماں بیٹے ہیں فرض ہے کہ فورا جد اہوجائیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس بیوہ کا یہ حمل اپنے شوہر کا ہو تو جب تك وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح قطعی حرام ہے بعدوضع حمل نکاح کرسکتا ہے لقولہ تعالی : و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- (اور تمھارے نسبی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں ت)مع قولہ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (الله تعالی کے اس قول کے پیش نظر : اور تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۴ : مسئولہ مولوی محمد امانت الرسول صاحب از رام پور محلہ پیلاتالاب
سوتیلی ماں کو اگر باپ تین طلاقیں دے دے لڑکا اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں مدلل تحریرہو والسلام۔ بینوا توجروا
الجواب :
اﷲ لاالہ الااﷲ سوتیلی ماں حقیقی ماں کے برابر حرام قطعی ہے۔ الله عزوجل نے قرآن عظیم میں ماں کی حرمت سے پہلے سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرمائی ہے اذ قال اﷲ تعالی(جبکہ الله تعالی نے فرمایا۔ ت) :
و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم الی قولہ تعالی
انه كان فاحشة و مقتا-و سآء سبیلا(۲۲) ۔
نہ نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمھارے باپ نکاح کرچکے بیشك وہ بے حیائی اور خدا کو دشمن اور نہایت بری راہ ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۵ : ازشہر مسئولہ مولوی حافظ امیر الله صاحب ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عدت میں نکاح پڑھوادیتاہے اور “ یتربصن “ کو صرف
الجواب :
(۱)ساس پر داماد مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کی بیٹی کی رخصت نہ ہوئی ہو اور قبل رخصت مرگئی ہو قال الله تعالی : و امهت نسآىكم (اور تمھاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں) یہ نکاح حرام محض ہوا وہ بچہ ولدالحرام ہوا ان دونوں پر کہ حقیقۃ ماں بیٹے ہیں فرض ہے کہ فورا جد اہوجائیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس بیوہ کا یہ حمل اپنے شوہر کا ہو تو جب تك وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح قطعی حرام ہے بعدوضع حمل نکاح کرسکتا ہے لقولہ تعالی : و حلآىل ابنآىكم الذین من اصلابكم- (اور تمھارے نسبی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں ت)مع قولہ تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (الله تعالی کے اس قول کے پیش نظر : اور تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۴ : مسئولہ مولوی محمد امانت الرسول صاحب از رام پور محلہ پیلاتالاب
سوتیلی ماں کو اگر باپ تین طلاقیں دے دے لڑکا اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں مدلل تحریرہو والسلام۔ بینوا توجروا
الجواب :
اﷲ لاالہ الااﷲ سوتیلی ماں حقیقی ماں کے برابر حرام قطعی ہے۔ الله عزوجل نے قرآن عظیم میں ماں کی حرمت سے پہلے سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرمائی ہے اذ قال اﷲ تعالی(جبکہ الله تعالی نے فرمایا۔ ت) :
و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم الی قولہ تعالی
انه كان فاحشة و مقتا-و سآء سبیلا(۲۲) ۔
نہ نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمھارے باپ نکاح کرچکے بیشك وہ بے حیائی اور خدا کو دشمن اور نہایت بری راہ ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۵ : ازشہر مسئولہ مولوی حافظ امیر الله صاحب ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عدت میں نکاح پڑھوادیتاہے اور “ یتربصن “ کو صرف
جما ع سے بچنے پر حمل کرتا ہے صحیح ہے یا غلط اوراس شخص کا کیا حکم ہے بینو تو جروا۔
الجواب :
عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح تو بڑی چیز ہے۔ قرآن عظیم نے عدت میں نکاح کے صریح پیام کو بھی حرام فرمایا۔ نکاح بعد عدت کرلینے کے وعدہ کو بھی حرام فرمایا صرف ا س کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلو داربات ایسی کہو جس سے بعد عدت ارادہ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو۔ صاف صاف یہ ذکرنہ ہو کہ میں بعد عدت تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں یہاں تك کہنا بھی حرام ہے تو خود نکاح کرلینا کیونکر حلال ہوگا پھر پہلو دار بات بھی عدت وفات والی سے کہنا جائزہے عدت طلاق والی سے باجماع امت وہ بھی جائزنہیں قال اﷲ عزوجل(الله عزوجل نے فرمایا۔ ت) :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا-فاذا بلغن اجلهن فلا جناح علیكم فیما فعلن فی انفسهن بالمعروف-و الله بما تعملون خبیر(۲۳۴) و لا جناح علیكم فیما عرضتم به من خطبة النسآء او اكننتم فی انفسكم-علم الله انكم ستذكرونهن و لكن لا تواعدوهن سرا الا ان تقولوا قولا معروفا۬-و لا تعزموا عقدة النكاح حتى یبلغ الكتب اجله-و اعلموا ان الله یعلم ما فی انفسكم فاحذروه-و اعلموا ان الله غفور حلیم(۲۳۵)
یعنی تم میں جولوگ مریں اور عورتیں چھوڑیں وہ عورتیں چارمہینے دس دن اپنی جانوں کو روکے رہیں۔ جب عدت پوری ہوجائے پھر جو کچھ اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اس کا تم پر الزام نہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ تمھیں ان سے نکاح کاخیال گزرے گا مگر باہم نکاح کاوعدہ خفیہ بھی نہ کر رکھو۔ ہاں اس طریقہ معلوم پر کنایۃ کچھ کہہ سکتے ہو اور جب تك عدت پوری نہ ہو نکاح کا قصد بھی نہ کرو۔ اور جان لو کہ الله تمھارے دلوں کی بات جانتاہے تو اس سے ڈرو۔ اورجان لو کہ الله بخشنے والاحلم والاہے یعنی عذاب نہ آنے پر مغرورنہ ہو کہ وہ حلیم ہے۔
فتح القدیر میں ہے :
قولہ لاباس بالتعریض فی الخطبۃ اراد المتوفی عنہا زوجھا اذالتعریض لایجوز فی المطلقۃ بالاجماع ۔
خاص وفات کی عدت والی عورت سے کنایہ کے طورپر پیام نکاح میں کوئی حرج نہیں کیونکہ طلاق کی عدت والی سے بالاجماع کنایہ بھی جائز نہیں(ت)
الجواب :
عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح تو بڑی چیز ہے۔ قرآن عظیم نے عدت میں نکاح کے صریح پیام کو بھی حرام فرمایا۔ نکاح بعد عدت کرلینے کے وعدہ کو بھی حرام فرمایا صرف ا س کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلو داربات ایسی کہو جس سے بعد عدت ارادہ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو۔ صاف صاف یہ ذکرنہ ہو کہ میں بعد عدت تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں یہاں تك کہنا بھی حرام ہے تو خود نکاح کرلینا کیونکر حلال ہوگا پھر پہلو دار بات بھی عدت وفات والی سے کہنا جائزہے عدت طلاق والی سے باجماع امت وہ بھی جائزنہیں قال اﷲ عزوجل(الله عزوجل نے فرمایا۔ ت) :
و الذین یتوفون منكم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسهن اربعة اشهر و عشرا-فاذا بلغن اجلهن فلا جناح علیكم فیما فعلن فی انفسهن بالمعروف-و الله بما تعملون خبیر(۲۳۴) و لا جناح علیكم فیما عرضتم به من خطبة النسآء او اكننتم فی انفسكم-علم الله انكم ستذكرونهن و لكن لا تواعدوهن سرا الا ان تقولوا قولا معروفا۬-و لا تعزموا عقدة النكاح حتى یبلغ الكتب اجله-و اعلموا ان الله یعلم ما فی انفسكم فاحذروه-و اعلموا ان الله غفور حلیم(۲۳۵)
یعنی تم میں جولوگ مریں اور عورتیں چھوڑیں وہ عورتیں چارمہینے دس دن اپنی جانوں کو روکے رہیں۔ جب عدت پوری ہوجائے پھر جو کچھ اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اس کا تم پر الزام نہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ تمھیں ان سے نکاح کاخیال گزرے گا مگر باہم نکاح کاوعدہ خفیہ بھی نہ کر رکھو۔ ہاں اس طریقہ معلوم پر کنایۃ کچھ کہہ سکتے ہو اور جب تك عدت پوری نہ ہو نکاح کا قصد بھی نہ کرو۔ اور جان لو کہ الله تمھارے دلوں کی بات جانتاہے تو اس سے ڈرو۔ اورجان لو کہ الله بخشنے والاحلم والاہے یعنی عذاب نہ آنے پر مغرورنہ ہو کہ وہ حلیم ہے۔
فتح القدیر میں ہے :
قولہ لاباس بالتعریض فی الخطبۃ اراد المتوفی عنہا زوجھا اذالتعریض لایجوز فی المطلقۃ بالاجماع ۔
خاص وفات کی عدت والی عورت سے کنایہ کے طورپر پیام نکاح میں کوئی حرج نہیں کیونکہ طلاق کی عدت والی سے بالاجماع کنایہ بھی جائز نہیں(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۵۔ ۲۳۴
فتح القدیر باب فی العدۃ المکتبۃ النوریہ رضویہ سکھر ۴ / ۱۶۵
فتح القدیر باب فی العدۃ المکتبۃ النوریہ رضویہ سکھر ۴ / ۱۶۵
اگر کوئی شخص عدت میں نکاح پڑھادیا کرتا اورا سے حرام وزنا جانتا تو اتنا ہوتا کہ وہ سخت مرتکب کبائر اورزانی و زانیہ کا دلال ہوتا مگر وہ جواسے جائز بتاتا ہے اورقرآن عظیم میں تحریف کرکے “ یتربصن “ کو فقط منع جماع پر حمل کرتا ہے وہ ضرور منکر قرآن مجید ہے اورا س پر یقینا کفرلازم۔ اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور اپنے اس قول ناپاك کو جھٹلائے اور نئے سرے سے اسلام لائے۔ اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶ : از سلون شریف ضلع رائے پور بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرسہ اسلامیہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ زن فاحشہ رنڈی سے نکاح جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو بعد توبہ یا بغیر توبہ بھی اگر بعد توبہ بھی جائز ہے تو توبہ کی قید کیوں ہے کتابیہ سے تو بلاکراہت جائز ہو اوراس سے بلاتوبہ جائز نہ ہو۔ عقل سلیم خلاف حکم کرتی ہے۔ اوراگر ناجائزہے تو کیوں والسلام ! بینوا تو جروا
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پر قائم رہے اور یہ تاقدر قدرت انسداد نہ کرے تو دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب مگر یہ حکم اس کی اس بے غیرتی پرہے نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں حق سبحانہ وتعالی نے محرمات گناکر فرمایا : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور تمھارے لیے محرمات کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت) رہی آیہ کریمہ :
و الزانیة لا ینكحها الا زان او مشرك-و حرم ذلك على المؤمنین(۳) ۔
زانیہ سے صرف زانی مردیا مشرك نکاح کرے اور یہ مومنین کے لیے حرام ہے۔ (ت)
اس میں چار تاویلیں ماثور ہیں۔ ان میں سے اول کی دو فقیر کے نزدیك اصح واحسن ہیں۔
تاویل اول : نکاح سے عقد ہی مراد ہے۔ پہلے زانیہ سے نکاح حرام تھا یہ حکم منسوخ ہوگیا یہ قول سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہما کاہے اور بغوی نے اسے ایك جماعت کی طرف منسوب کیا۔ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی تصحیح کی کتاب الام میں فرماتے ہیں :
اختلف اھل التفسیر فی ھذہ الایۃ اختلافا
اہل تفسیر نے اس آیہ کریمہ میں واضح اختلاف کیا ہے
مسئلہ ۲۳۶ : از سلون شریف ضلع رائے پور بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرسہ اسلامیہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ زن فاحشہ رنڈی سے نکاح جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو بعد توبہ یا بغیر توبہ بھی اگر بعد توبہ بھی جائز ہے تو توبہ کی قید کیوں ہے کتابیہ سے تو بلاکراہت جائز ہو اوراس سے بلاتوبہ جائز نہ ہو۔ عقل سلیم خلاف حکم کرتی ہے۔ اوراگر ناجائزہے تو کیوں والسلام ! بینوا تو جروا
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پر قائم رہے اور یہ تاقدر قدرت انسداد نہ کرے تو دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب مگر یہ حکم اس کی اس بے غیرتی پرہے نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں حق سبحانہ وتعالی نے محرمات گناکر فرمایا : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور تمھارے لیے محرمات کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت) رہی آیہ کریمہ :
و الزانیة لا ینكحها الا زان او مشرك-و حرم ذلك على المؤمنین(۳) ۔
زانیہ سے صرف زانی مردیا مشرك نکاح کرے اور یہ مومنین کے لیے حرام ہے۔ (ت)
اس میں چار تاویلیں ماثور ہیں۔ ان میں سے اول کی دو فقیر کے نزدیك اصح واحسن ہیں۔
تاویل اول : نکاح سے عقد ہی مراد ہے۔ پہلے زانیہ سے نکاح حرام تھا یہ حکم منسوخ ہوگیا یہ قول سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہما کاہے اور بغوی نے اسے ایك جماعت کی طرف منسوب کیا۔ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی تصحیح کی کتاب الام میں فرماتے ہیں :
اختلف اھل التفسیر فی ھذہ الایۃ اختلافا
اہل تفسیر نے اس آیہ کریمہ میں واضح اختلاف کیا ہے
متبائنا فقیل ھی عامۃ ولکن نسخت بقولہ تعالی و انكحوا الایامى الخ وقدرویناہ عن سعید بن المسیب وھو کما قال وعلیہ دلائل من الکتاب والسنۃ فلاعبرۃ بما خالفہ اھ بمحصولہ۔ نقلہ فی عنایۃ القاضی ۔
بعض نے کہا کہ یہ عام ہے لیکن الله تعالی کے قول وانکحوا الایامی الخ کے نازل ہونے پر منسوخ ہوگئی ہے اور اس قول کو ہم نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے اور وہ ان کے قول کے مطابق درست ہے اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل ہیں۔ تو اس کے مخالف قول کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس کا خلاصہ ختم ہوا جس کو عنایۃ القاضی میں نقل کیا ہے۔ (ت)
تفسیرات احمدیہ میں ہے :
ھذا ھوالذی اختارہ الفقیہ ابواللیث و قال ان الایۃ منسوخۃ اومعناھا الزانی لاینکح الازانیۃ اومثلھا اھ۔
اقول : الذی رأیت من لفظ الفقیہ فی بستانہ قال سعید بن جبیر والضحاك معناہا الزانی لایزنی الا بزانیۃ مثلہ وھکذا روی عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما وقد قیل ان الآیۃ منسوخۃ لان رجلاسأل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاترد ید لامس فقال طلقھا فقال انی احبھا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فامسکھا اھ فقولہ معنا ھا الزانی لاینکح صوابہ لایزنی وجزمہ بان الفقیہ جزم بالنسخ غیرظاھر
اسی کو فقیہ ابواللیث نے مختار قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے یا اس کا معنی یہ ہے کہ زانی زانیہ یااس جیسی عورتوں سے نکاح کرے۔ اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)میں نے جو کچھ فقیہ مذکور کی کتاب “ بستان “ دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ سعید بن جبیر اور ضحاك نے فرمایا کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ زانی صرف اپنے جیسی زانیہ سے زناکرتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ اوربعض نے کہا کہ آیہ کریمہ منسوخ ہے کیونکہ ایك شخص نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : اس کو طلاق دے تو اس شخص نے کہا کہ مجھے اس سے محبت ہے تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تو پھر طلاق نہ دے اھ تواس کا قول کہ
بعض نے کہا کہ یہ عام ہے لیکن الله تعالی کے قول وانکحوا الایامی الخ کے نازل ہونے پر منسوخ ہوگئی ہے اور اس قول کو ہم نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے اور وہ ان کے قول کے مطابق درست ہے اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل ہیں۔ تو اس کے مخالف قول کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس کا خلاصہ ختم ہوا جس کو عنایۃ القاضی میں نقل کیا ہے۔ (ت)
تفسیرات احمدیہ میں ہے :
ھذا ھوالذی اختارہ الفقیہ ابواللیث و قال ان الایۃ منسوخۃ اومعناھا الزانی لاینکح الازانیۃ اومثلھا اھ۔
اقول : الذی رأیت من لفظ الفقیہ فی بستانہ قال سعید بن جبیر والضحاك معناہا الزانی لایزنی الا بزانیۃ مثلہ وھکذا روی عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما وقد قیل ان الآیۃ منسوخۃ لان رجلاسأل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاترد ید لامس فقال طلقھا فقال انی احبھا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فامسکھا اھ فقولہ معنا ھا الزانی لاینکح صوابہ لایزنی وجزمہ بان الفقیہ جزم بالنسخ غیرظاھر
اسی کو فقیہ ابواللیث نے مختار قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے یا اس کا معنی یہ ہے کہ زانی زانیہ یااس جیسی عورتوں سے نکاح کرے۔ اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)میں نے جو کچھ فقیہ مذکور کی کتاب “ بستان “ دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ سعید بن جبیر اور ضحاك نے فرمایا کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ زانی صرف اپنے جیسی زانیہ سے زناکرتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ اوربعض نے کہا کہ آیہ کریمہ منسوخ ہے کیونکہ ایك شخص نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : اس کو طلاق دے تو اس شخص نے کہا کہ مجھے اس سے محبت ہے تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : تو پھر طلاق نہ دے اھ تواس کا قول کہ
حوالہ / References
عنایۃ القاضی حاشیہ البیضاوی زیرآیۃ ماقبل دارصادر بیروت ۶ / ۳۵۷
تفسیرات احمدیہ زیرایۃ ماقبل مطبعہ کریمیہ بمبئی ص۵۴۵
بستان العارفین علی ہامش تنبیہ الغافلین الباب الحادی والسبعون تزویج الزانیۃ دارالزہراء للطباعۃ والنشر ص۴۔ ۱۰۳
تفسیرات احمدیہ زیرایۃ ماقبل مطبعہ کریمیہ بمبئی ص۵۴۵
بستان العارفین علی ہامش تنبیہ الغافلین الباب الحادی والسبعون تزویج الزانیۃ دارالزہراء للطباعۃ والنشر ص۴۔ ۱۰۳
من کلام الفقیہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ابواللیث نے کہا اس کا معنی “ لاینکح “ درست نہیں۔ مگر میرے حوالے کے مطابق صحیح یہ ہے کہ انھوں نے معنی “ لایزنی “ بتایا ہے اور انھوں نے بطور اعتماد کہاکہ ابواللیث نے نسخ کو مختار قرار دیا۔ یہ بات ابواللیث کے کلام سے ظاہرنہیں ہوتی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
رغائب الفرقان میں ہے :
قیل انہ صار منسوخا امابالاجماع وھو قول سعید بن المسیب وزیف بان الاجماع لاینسخ ولاینسخ بہ واما بعموم قولہ تعالی “ وانکحوا لایامی فانکحوا ماطاب لکم “ وھو قول الجبائی وضعف بان ذلك العام مشروط بعدم الموانع السببیۃ والنسبیۃ ولیکن ھذاالمانع ایضا من جملتھا اھ اقول مانسب الی الجبائی فھو عــــہ
بعض نے کہا کہ منسوخ ہے یا اجماع کے ساتھ یہ قول سعید بن مسیب کا ہے یہ موقف کمزور ہے کیونکہ اجماع نہ منسوخ ہوتا اور نہ ناسخ ہوتاہے۔ یا منسوخ ہے الله تعالی کے ارشاد “ وانکحوا لایامی فانکحوا ماطاب لکم “ کے ساتھ اور یہ جبائی کا قول ہے اوریہ بھی ضعیف قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس آیت میں بیان کردہ اباحت سببی یا نسبی مانع نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے اور زنا بھی ان موانع میں سے ایك مانع ہے اھ اقول جو جبائی کی طرف منسوب ہے تو وہ(اس سے آگے عبارت دستیاب نہیں ہوسکی)۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۷ : از فرید آباد ڈاك خانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ مولوی نور احمد صاحب فریدی دواز دہم محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
شرعا قبل متارکہ وتفریق بین المحارم غیر مدخولہ سے کسی دوسرے کا نکاح درست ہے یا نہیں اور قاضی شرعا کون ہے بوقت ضرورت فسخ وتفریق اس ملك ریاست بہاولپور اسلامیہ میں جو تحت قبضہ نصاری ہے کون حق فسخ وتفریق بالا رکھتا ہے علما کا ہے یا گرد آور قاضیان سرکار کا یا محض حکام کا اورحکام بعض صاحب اسلام ہیں بعض اہل ہنود ان میں کوئی امتیاز ہے یا سب اس کا حق رکھتے ہیں اس
عــــہ : افسوس کہ یہ فتوی اس قدر منقول ملا آگے دستیاب نہ ہوسکا جتنا ملا اتنا چھاپ دیا باقی اگر کبھی آئندہ کہیں مل سکا تو وہ بھی ان شاء الله تعالی علیحدہ یا بطور تبرك چھاپ دیا جائے گا یا کسی حصہ آئندہ میں۔ (مرتب)
ابواللیث نے کہا اس کا معنی “ لاینکح “ درست نہیں۔ مگر میرے حوالے کے مطابق صحیح یہ ہے کہ انھوں نے معنی “ لایزنی “ بتایا ہے اور انھوں نے بطور اعتماد کہاکہ ابواللیث نے نسخ کو مختار قرار دیا۔ یہ بات ابواللیث کے کلام سے ظاہرنہیں ہوتی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
رغائب الفرقان میں ہے :
قیل انہ صار منسوخا امابالاجماع وھو قول سعید بن المسیب وزیف بان الاجماع لاینسخ ولاینسخ بہ واما بعموم قولہ تعالی “ وانکحوا لایامی فانکحوا ماطاب لکم “ وھو قول الجبائی وضعف بان ذلك العام مشروط بعدم الموانع السببیۃ والنسبیۃ ولیکن ھذاالمانع ایضا من جملتھا اھ اقول مانسب الی الجبائی فھو عــــہ
بعض نے کہا کہ منسوخ ہے یا اجماع کے ساتھ یہ قول سعید بن مسیب کا ہے یہ موقف کمزور ہے کیونکہ اجماع نہ منسوخ ہوتا اور نہ ناسخ ہوتاہے۔ یا منسوخ ہے الله تعالی کے ارشاد “ وانکحوا لایامی فانکحوا ماطاب لکم “ کے ساتھ اور یہ جبائی کا قول ہے اوریہ بھی ضعیف قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس آیت میں بیان کردہ اباحت سببی یا نسبی مانع نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے اور زنا بھی ان موانع میں سے ایك مانع ہے اھ اقول جو جبائی کی طرف منسوب ہے تو وہ(اس سے آگے عبارت دستیاب نہیں ہوسکی)۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۷ : از فرید آباد ڈاك خانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ مولوی نور احمد صاحب فریدی دواز دہم محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
شرعا قبل متارکہ وتفریق بین المحارم غیر مدخولہ سے کسی دوسرے کا نکاح درست ہے یا نہیں اور قاضی شرعا کون ہے بوقت ضرورت فسخ وتفریق اس ملك ریاست بہاولپور اسلامیہ میں جو تحت قبضہ نصاری ہے کون حق فسخ وتفریق بالا رکھتا ہے علما کا ہے یا گرد آور قاضیان سرکار کا یا محض حکام کا اورحکام بعض صاحب اسلام ہیں بعض اہل ہنود ان میں کوئی امتیاز ہے یا سب اس کا حق رکھتے ہیں اس
عــــہ : افسوس کہ یہ فتوی اس قدر منقول ملا آگے دستیاب نہ ہوسکا جتنا ملا اتنا چھاپ دیا باقی اگر کبھی آئندہ کہیں مل سکا تو وہ بھی ان شاء الله تعالی علیحدہ یا بطور تبرك چھاپ دیا جائے گا یا کسی حصہ آئندہ میں۔ (مرتب)
حوالہ / References
رغائب الفرقان(تفیسر نیشاپوری) زیر آیہ ماقبل مصطفی البابی مصر ۱۲ / ۵۸
ریاست اسلامی میں دو عورات ایك شخص سے یکے بعد دیگرے نکاح کرچکی ہیں اور بحکم شرعی وان تزوجھما علی التعاقب صح الاول وبطل الثانی(آپس میں دو محرم عورتوں سے اگریکے بعد دیگرے نکاح کیا تو پہلا صیح ہوا دوسرا باطل ہے۔ ت)متارکہ یا تفریق ثانیہ کی ضرور ہے لیکن ناکح متارکہ نہیں کرتا۔ تفریق لازمی ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے بینوا توجروا
الجواب :
اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم کہ وہابی رافضی قادیانی نیچری وامثالہم سے نہ ہو نائب شرعی ہے مگر یہاں نہ قاضی کی حاجت نہ متارکہ شوہر کی ضرورت کہ نکاح راسا فاسد واقع ہوا عورت تنہا اس کے فسخ کا اختیار رکھتی ہے شوہر سے کہہ دے میں نے اس حرام کو چھوڑا پھر اگر مجامعت نہ ہوئی تو ابھی ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۔
مرد وعورت دونوں کو فسخ کا حق ہے اگرچہ دونوں میں ایك غیر حاضر ہو۔ دخول ہوچکا ہو یا نہیں اصح قول یہی ہے تاکہ گناہ سے علیحدگی ہوجائے تو یہ متارکہ قاضی کی تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ قاضی پر الگ کرنا ان دونوں کو واجب ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الاصح وقیل بعد الدخول لیس لاحدھما فسخہ الابحضرۃ الاخر قولہ یجب علی القاضی ای ان لم یتفرقا ۔
ا س کا قول “ فی الاصح “ او ربعض نے کہا کہ دخول کے بعد ایك کی تفریق دوسرے کی موجودگی کے بغیر جائز نہیں ا ور اس کا قول کہ قاضی پر واجب ہے یعنی ا س وقت جب دونوں نے آپس میں تفریق نہ کی ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
فسخ ھذہ النکاح من کل منھما بمحضر الاخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید
اس نکاح کافسخ دونوں ایك دوسرے کی موجودگی میں کریں۔ یہ متفقہ مسئلہ ہے اور یہاں متارکہ اور
الجواب :
اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم کہ وہابی رافضی قادیانی نیچری وامثالہم سے نہ ہو نائب شرعی ہے مگر یہاں نہ قاضی کی حاجت نہ متارکہ شوہر کی ضرورت کہ نکاح راسا فاسد واقع ہوا عورت تنہا اس کے فسخ کا اختیار رکھتی ہے شوہر سے کہہ دے میں نے اس حرام کو چھوڑا پھر اگر مجامعت نہ ہوئی تو ابھی ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۔
مرد وعورت دونوں کو فسخ کا حق ہے اگرچہ دونوں میں ایك غیر حاضر ہو۔ دخول ہوچکا ہو یا نہیں اصح قول یہی ہے تاکہ گناہ سے علیحدگی ہوجائے تو یہ متارکہ قاضی کی تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ قاضی پر الگ کرنا ان دونوں کو واجب ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الاصح وقیل بعد الدخول لیس لاحدھما فسخہ الابحضرۃ الاخر قولہ یجب علی القاضی ای ان لم یتفرقا ۔
ا س کا قول “ فی الاصح “ او ربعض نے کہا کہ دخول کے بعد ایك کی تفریق دوسرے کی موجودگی کے بغیر جائز نہیں ا ور اس کا قول کہ قاضی پر واجب ہے یعنی ا س وقت جب دونوں نے آپس میں تفریق نہ کی ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
فسخ ھذہ النکاح من کل منھما بمحضر الاخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید
اس نکاح کافسخ دونوں ایك دوسرے کی موجودگی میں کریں۔ یہ متفقہ مسئلہ ہے اور یہاں متارکہ اور
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۱
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۱
کذافی البحر ۔
فسخ کا فرق بعید ہے بحرمیں ایسے ہی ہےـ۔ (ت)
اسی میں خیریہ سے ہے :
الحق عدم الفرق ولذا جزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز ۔
حق یہی ہے کہ دونوں میں فرق نہیں ہے اسی لیے مقدسی نے اس پر نظم الکنز کی شرح میں جزم کیا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
رجحنا(فی باب المھر)الثانی انھا تکون من المرأۃ ایضا ولذا ذکر مسکین من صورھا ان تقول لہ ترکتك ۔
ہم نے باب المھر میں ثانی کو ترجیح دی ہے یہ کہ عورت کو بھی حق ہے۔ اسی لیے مسکین نے اس کی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے تجھ سے علیحدگی کرلی ہے۔ (ت)
اسی مسئلہ کی تمام تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں کہ عورت کے فسخ کو متارکہ کہیں یا نہیں اسے فسخ کا اختیار بلاشبہہ بالاتفاق ہے دفعا للمعصیۃ(گناہ کوختم کرنے کے لیے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۸ : از متن پوری محلہ زیر قلعہ راجہ مرسلہ سعد الله صاحب معمار ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ
ہندہ بیوہ نے زید سے تعلق ناجائز پیدا کیا اور سناہے کہ چند حمل بھی ساقط ہوئے اور ہندہ نے اپنی دختر کا کہ وہ بھی صغر سنی میں بیوہ ہوگئی تھی زید کے ساتھ جس سے خود تعلق ناجائز رکھتی تھی بلارضامندی دختر خود بجبر عقد کرلیا تو یہ نکاح درست ہوایا نہیں اور اب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ بلاطلاق ہوسکتاہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے یہ نکاح حرام محض ہے۔ زیدپر فرض ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے زید کے چھوڑنے کے بعد عدت کے دن پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹ : از جے پور راجپوتانہ چاندپول بازار متصل دکان گوبند رام فوٹو گرافر مرسلہ حافظ رحیم بخش صاحب خرادی ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حرمت مصاہرت کے لیے عورت کا مشتہاۃ ہونا ضروری ہے
فسخ کا فرق بعید ہے بحرمیں ایسے ہی ہےـ۔ (ت)
اسی میں خیریہ سے ہے :
الحق عدم الفرق ولذا جزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز ۔
حق یہی ہے کہ دونوں میں فرق نہیں ہے اسی لیے مقدسی نے اس پر نظم الکنز کی شرح میں جزم کیا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
رجحنا(فی باب المھر)الثانی انھا تکون من المرأۃ ایضا ولذا ذکر مسکین من صورھا ان تقول لہ ترکتك ۔
ہم نے باب المھر میں ثانی کو ترجیح دی ہے یہ کہ عورت کو بھی حق ہے۔ اسی لیے مسکین نے اس کی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے تجھ سے علیحدگی کرلی ہے۔ (ت)
اسی مسئلہ کی تمام تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں کہ عورت کے فسخ کو متارکہ کہیں یا نہیں اسے فسخ کا اختیار بلاشبہہ بالاتفاق ہے دفعا للمعصیۃ(گناہ کوختم کرنے کے لیے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۸ : از متن پوری محلہ زیر قلعہ راجہ مرسلہ سعد الله صاحب معمار ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ
ہندہ بیوہ نے زید سے تعلق ناجائز پیدا کیا اور سناہے کہ چند حمل بھی ساقط ہوئے اور ہندہ نے اپنی دختر کا کہ وہ بھی صغر سنی میں بیوہ ہوگئی تھی زید کے ساتھ جس سے خود تعلق ناجائز رکھتی تھی بلارضامندی دختر خود بجبر عقد کرلیا تو یہ نکاح درست ہوایا نہیں اور اب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ بلاطلاق ہوسکتاہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے یہ نکاح حرام محض ہے۔ زیدپر فرض ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے زید کے چھوڑنے کے بعد عدت کے دن پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹ : از جے پور راجپوتانہ چاندپول بازار متصل دکان گوبند رام فوٹو گرافر مرسلہ حافظ رحیم بخش صاحب خرادی ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حرمت مصاہرت کے لیے عورت کا مشتہاۃ ہونا ضروری ہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
بحرالرائق باب العدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۴۶
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
بحرالرائق باب العدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۴۶
ھذا اذاکانت حیۃ مشتھاۃ اما غیرھا یعنی المیتۃ وصغیرۃ لم تشتہ(فلا)تثبت الحرمۃ بھا اصلا درمختار ۔
حرمت مصاہرت تب ہوگی جب عورت زندہ اورشہوت والی ہو لیکن اگر مردہ ہو یا صغیرہ غیر شہوت والی ہو تو حرمت مصاہرت ہر گز ثابت نہ ہوگی۔ درمختار۔ (ت)
اور مشتہاۃ کم سے کم نوسال کی لڑکی ہوسکتی ہے تو عبارت ذیل بھی :
اویزداد انتشارا ای ان تکون منتشرۃ قبلہ حتی قیل من انتشرت التہ وطلب امرأتہ لو طیھا فاولجھا بین فخذی بنتھا لاتحرم علیہا امھا مالم یزداد انتشارا و وجود الشہوۃ من احدھما یکفی ۔
یا اتنشار زیادہ ہوجائے یعنی آلہ تناسل پہلے منتشر تھا اس پر یہاں تك کہا گیا کہ اگر اس نے آلہ تناسل کے انتشار کے بعد بیوی کو طلب کیا ہو۔ یا طلب کرتے ہوئے غلطی سے بیوی کی بیٹی کی ران پر مل دیا تو اس لڑکی کی ماں حرام نہ ہوگی جب تك لڑکی کو چھوتے ہوئے انتشار زیادہ نہ ہوا ہو اور چھوتے وقت مردیا عورت میں سے ایك کا شہوت میں ہونا حرمت کے لیے کافی ہے۔ (ت)
جو شرح چلپی کے صفحہ ۹۳ کے متعلقہ حاشیہ پر درج ہے نوسال یااس سے زائد کی لڑکی کے واسطے معلوم ہوتی ہے بآنکہ دہ۱۰سال کی لڑکی پر بھی یہ مسئلہ عائدہوسکتا ہے یعنی حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی یا کیا
الجواب :
ثبوت حرمت مصاہرت کے لیے مشتہاۃہونا ضروری ہے جیساکہ درمختار وغیرہ عامہ کتب میں تصریح ہے اور وجود الشہوۃ من احدھما یکفی (دونوں میں سے ایك کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت)کے یہ معنی نہیں کہ صرف یہ مشتہی اوردختر غیر مشتہاۃ یا عورت مشتہاۃ ہو اور لڑکا غیر مشتہی تو حرمت ثابت ہوجائے یہ کسی کا بھی قول نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ مشتہی ہو اور وہ مشتہاۃ اور بالفعل شہوت ایك کی طرف سے ہو مثلا اس کے سوتے میں مس بشہوۃ کیا کہ اسے اطلاع بھی نہ ہوئی تو حرمت ہوگئی کہ وجود من احدھما کافی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۰ : از ماہم ڈاك خانہ نمبر ۱ بمبئی مرسلہ حاجی محمد سلیمان ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
زید کا نکاح زید کی بھتیجی کی دختر سے حلال ہے یا حرام یعنی زید وبکر حقیقی دونوں بھائی ایك باپ مادر کی پشت سے ہیں اب زید کا نکاح بکر کی نواسی سے حلال ہے یا نہیں جیسا خدا ورسول کا حکم ہو قرآن مجید
حرمت مصاہرت تب ہوگی جب عورت زندہ اورشہوت والی ہو لیکن اگر مردہ ہو یا صغیرہ غیر شہوت والی ہو تو حرمت مصاہرت ہر گز ثابت نہ ہوگی۔ درمختار۔ (ت)
اور مشتہاۃ کم سے کم نوسال کی لڑکی ہوسکتی ہے تو عبارت ذیل بھی :
اویزداد انتشارا ای ان تکون منتشرۃ قبلہ حتی قیل من انتشرت التہ وطلب امرأتہ لو طیھا فاولجھا بین فخذی بنتھا لاتحرم علیہا امھا مالم یزداد انتشارا و وجود الشہوۃ من احدھما یکفی ۔
یا اتنشار زیادہ ہوجائے یعنی آلہ تناسل پہلے منتشر تھا اس پر یہاں تك کہا گیا کہ اگر اس نے آلہ تناسل کے انتشار کے بعد بیوی کو طلب کیا ہو۔ یا طلب کرتے ہوئے غلطی سے بیوی کی بیٹی کی ران پر مل دیا تو اس لڑکی کی ماں حرام نہ ہوگی جب تك لڑکی کو چھوتے ہوئے انتشار زیادہ نہ ہوا ہو اور چھوتے وقت مردیا عورت میں سے ایك کا شہوت میں ہونا حرمت کے لیے کافی ہے۔ (ت)
جو شرح چلپی کے صفحہ ۹۳ کے متعلقہ حاشیہ پر درج ہے نوسال یااس سے زائد کی لڑکی کے واسطے معلوم ہوتی ہے بآنکہ دہ۱۰سال کی لڑکی پر بھی یہ مسئلہ عائدہوسکتا ہے یعنی حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی یا کیا
الجواب :
ثبوت حرمت مصاہرت کے لیے مشتہاۃہونا ضروری ہے جیساکہ درمختار وغیرہ عامہ کتب میں تصریح ہے اور وجود الشہوۃ من احدھما یکفی (دونوں میں سے ایك کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت)کے یہ معنی نہیں کہ صرف یہ مشتہی اوردختر غیر مشتہاۃ یا عورت مشتہاۃ ہو اور لڑکا غیر مشتہی تو حرمت ثابت ہوجائے یہ کسی کا بھی قول نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ مشتہی ہو اور وہ مشتہاۃ اور بالفعل شہوت ایك کی طرف سے ہو مثلا اس کے سوتے میں مس بشہوۃ کیا کہ اسے اطلاع بھی نہ ہوئی تو حرمت ہوگئی کہ وجود من احدھما کافی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۰ : از ماہم ڈاك خانہ نمبر ۱ بمبئی مرسلہ حاجی محمد سلیمان ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
زید کا نکاح زید کی بھتیجی کی دختر سے حلال ہے یا حرام یعنی زید وبکر حقیقی دونوں بھائی ایك باپ مادر کی پشت سے ہیں اب زید کا نکاح بکر کی نواسی سے حلال ہے یا نہیں جیسا خدا ورسول کا حکم ہو قرآن مجید
حوالہ / References
درمختار باب فی المحرمات مطبع مجتبائین دہلی ۱ / ۱۸۸
ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ کتاب النکاح منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۷۹
ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ کتاب النکاح منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۷۹
ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ کتاب النکاح منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۷۹
ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ کتاب النکاح منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۷۹
حدیث فقہ سے حکم صادر فرمائیں بھتیجی کی لڑکی سے اور بھانجی کی لڑکی سے اور بھتیجے کی بیٹی سے اور بھانجے کی لڑکی سے نکاح درست ہے اور بھتیجی وبھانجی سے تو حرام ہے مگر ان کی اولادآل سے جائز ہے یا حرام
الجواب :
حرام قطعی ہے یہ سب اس کی بیٹیاں ہیں جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں بنات پوتیوں نواسیوں دور تك کے سلسلے سب کوشامل ہے۔ جس طرح فرمایا گیا۔ حرمت علیكم امهتكم و بنتكم تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور ماؤں میں دادی نانی پر دادی پرنانی جتنی اوپرہوں سب داخل ہیں اوربیٹیوں میں پوتی نواسی پرپوتی پرنواسی جتنی ہوں نیچے سب داخل ہیں یوں فرمایا : و بنت الاخ و بنت الاخت تم پر حرام کی گئیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں۔ ان میں بھی بھائی بہن کی پوتی نواسی پرپوتی پر نواسی جتنی دورہوں سب داخل ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱ : از ضلع بہڑائچ محلہ ناظرہ پورہ بمکان سید منصب علی صاحب عرضی نویس مرسلہ سید نصیر الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
زید مذہب اہل سنت والجماعت نے ایك عورت شیعہ کے مطابق مذہب شیعہ صیغہ پڑھایا اور نکاح بطریق اہلسنت نہیں کیا اور مدۃ العمر دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے ایسی حالت میں جو اولاد ہوئی وہ جائز یا ناجائز بینو ا تو جروا
الجواب :
آج کل تبرائی رافضی علی العموم مرتدین ہیں اور مرتدخواہ مرد خواہ عورت سے دنیابھر میں کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ جو کچھ اولاد ہوگی ولد الحلال نہیں ہوسکتی عالمگیر ی میں فتاوی ظہیریہ سے ہے :
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا ان قال واحکامھم احکام المرتدین ۔
رافضیوں کے اس قول پر کہ “ فوت شدہ لوگ دنیا میں پھر واپس آئیں گے “ ان کی تکفیر واجب ہے اور یہاں تك کہ انھوں نے فرمایا کہ ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت)
اسی میں مبسوط سے ہے :
الجواب :
حرام قطعی ہے یہ سب اس کی بیٹیاں ہیں جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں بنات پوتیوں نواسیوں دور تك کے سلسلے سب کوشامل ہے۔ جس طرح فرمایا گیا۔ حرمت علیكم امهتكم و بنتكم تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور ماؤں میں دادی نانی پر دادی پرنانی جتنی اوپرہوں سب داخل ہیں اوربیٹیوں میں پوتی نواسی پرپوتی پرنواسی جتنی ہوں نیچے سب داخل ہیں یوں فرمایا : و بنت الاخ و بنت الاخت تم پر حرام کی گئیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں۔ ان میں بھی بھائی بہن کی پوتی نواسی پرپوتی پر نواسی جتنی دورہوں سب داخل ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱ : از ضلع بہڑائچ محلہ ناظرہ پورہ بمکان سید منصب علی صاحب عرضی نویس مرسلہ سید نصیر الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
زید مذہب اہل سنت والجماعت نے ایك عورت شیعہ کے مطابق مذہب شیعہ صیغہ پڑھایا اور نکاح بطریق اہلسنت نہیں کیا اور مدۃ العمر دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے ایسی حالت میں جو اولاد ہوئی وہ جائز یا ناجائز بینو ا تو جروا
الجواب :
آج کل تبرائی رافضی علی العموم مرتدین ہیں اور مرتدخواہ مرد خواہ عورت سے دنیابھر میں کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ جو کچھ اولاد ہوگی ولد الحلال نہیں ہوسکتی عالمگیر ی میں فتاوی ظہیریہ سے ہے :
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا ان قال واحکامھم احکام المرتدین ۔
رافضیوں کے اس قول پر کہ “ فوت شدہ لوگ دنیا میں پھر واپس آئیں گے “ ان کی تکفیر واجب ہے اور یہاں تك کہ انھوں نے فرمایا کہ ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت)
اسی میں مبسوط سے ہے :
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۳
فتاوٰی ہندیہ باب فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
القرآن الکریم ۴ /۲۳
فتاوٰی ہندیہ باب فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۔
مرتد کو کسی مرتدہ عورت یا مسلمان یا اصلی کافرعورت سے نکاح کرنا جائزنہیں اور یوں ہی مرتدہ عورت کابھی کسی ایك سے نکاح جائزنہیں۔ (ت)
اس کے بعد صیغہ ونکاح کی بحث کی کچھ حاجت نہیں سنیوں کے طورپر نکاح ہوتا تو کب ہوسکتا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲ : از میران پورکٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہان پور متصل چوکی مرسلہ قاضی تفضل حسین صاحب نائب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حاملہ عورت کا نکاح جائزہے یا نہیں نیزیہ بھی تحریر فرمائیے کہ بورے آدمیوں کے نکاحوں کا کیا حال ہے
الجواب :
عورت جسے حلال سے حمل ہو دوسرے شخص سے اس کا نکاح باطل محض ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے۔ اور اگر بے شوہر عورت اورحمل زنا کا ہے تو اس سے نکاح ہوسکتا ہے پھر اگر وہ ہی نکاح کرے جس کایہ حمل ہے تو وہ پاس بھی جاسکتاہے اور اگر یہ دوسرا شخص نکاح کرے تو جب تك بچہ پیدا نہ ہولے ہاتھ نہیں لگا سکتا کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت)بورہ نابالغ کے حکم میں ہے اس کا نکاح ولی کی اجازت سے ہوگا والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۴۳ : زید نہایت بد چلن تھا اب وہ مفقود الخبر ہے اور زید کی عورت کو گزر اوقات کرنادشوار ہے اور زید کے باپ نے اس عورت کو نظر بدسے دیکھا اور زنا کیا اس صورت میں وہ عورت اپنا نکاح کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی گزر اوقات کرے اور اس حرام سے بچے اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
معاذالله اگر یہ زنا ثابت ہو اور اس کاثابت ہونا بہت دشوار ہے تو عورت اپنے شوہر پر ضرور ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوگئی مگر نکاح سے نہ نکلی جب تك شوہر اپنی زبان سے اسے چھوڑنے کا کوئی لفظ نہ کہے۔ درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اور عورت دوسرے کو اس وقت تك حلال نہ ہوگی جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے اس دوران وطی کو زنا نہیں قرار دیا جائے گا۔ (ت)
مرتد کو کسی مرتدہ عورت یا مسلمان یا اصلی کافرعورت سے نکاح کرنا جائزنہیں اور یوں ہی مرتدہ عورت کابھی کسی ایك سے نکاح جائزنہیں۔ (ت)
اس کے بعد صیغہ ونکاح کی بحث کی کچھ حاجت نہیں سنیوں کے طورپر نکاح ہوتا تو کب ہوسکتا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲ : از میران پورکٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہان پور متصل چوکی مرسلہ قاضی تفضل حسین صاحب نائب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حاملہ عورت کا نکاح جائزہے یا نہیں نیزیہ بھی تحریر فرمائیے کہ بورے آدمیوں کے نکاحوں کا کیا حال ہے
الجواب :
عورت جسے حلال سے حمل ہو دوسرے شخص سے اس کا نکاح باطل محض ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے۔ اور اگر بے شوہر عورت اورحمل زنا کا ہے تو اس سے نکاح ہوسکتا ہے پھر اگر وہ ہی نکاح کرے جس کایہ حمل ہے تو وہ پاس بھی جاسکتاہے اور اگر یہ دوسرا شخص نکاح کرے تو جب تك بچہ پیدا نہ ہولے ہاتھ نہیں لگا سکتا کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت)بورہ نابالغ کے حکم میں ہے اس کا نکاح ولی کی اجازت سے ہوگا والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۴۳ : زید نہایت بد چلن تھا اب وہ مفقود الخبر ہے اور زید کی عورت کو گزر اوقات کرنادشوار ہے اور زید کے باپ نے اس عورت کو نظر بدسے دیکھا اور زنا کیا اس صورت میں وہ عورت اپنا نکاح کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی گزر اوقات کرے اور اس حرام سے بچے اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
معاذالله اگر یہ زنا ثابت ہو اور اس کاثابت ہونا بہت دشوار ہے تو عورت اپنے شوہر پر ضرور ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوگئی مگر نکاح سے نہ نکلی جب تك شوہر اپنی زبان سے اسے چھوڑنے کا کوئی لفظ نہ کہے۔ درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اور عورت دوسرے کو اس وقت تك حلال نہ ہوگی جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے اس دوران وطی کو زنا نہیں قرار دیا جائے گا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ فصل فی المحرمات بالشرك نورانی کتب پشاور ۱ / ۲۸۲
درمختار باب فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار باب فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
اسی میں ہے :
تجب العدۃ بعد الوطء لاالخلوۃ للطلاق لاللموت من وقت التفریق اومتارکۃ الزوج وان لم تعلم المرأۃ بالمتارکۃ فی الاصح اھ قال الشامی خص الشارح المتارکۃ بالزوج کمافعل الزیلعی لان ظاھر کلامھم انھا لاتکون من المرأۃ اصلامع ان فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذا فی البحر وفرق فی النھر بان المتارکۃ فی معنی الطلاق فیختص بہ الزوج اما الفسخ فرفع العقد فلایختص بہ وان کان فی معنی المتارکۃ ورد الخیر الرملی بان الطلاق لایتحقق فی الفاسد فکیف یقال ان المتارکۃ فی معنی الطلاق فالحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز الخ وتمامہ فیما علقناہ علی البحر اھ
ذکر فیہ استناد الرملی بمالیس لہ بل علیہ کما
نکاح فاسد میں وقت تفریق یا متارکہ سے عورت پر وطی سے طلاق والی عدت ہوگی محض خلوت سے یہ عدت واجب نہ ہوگی اور نہ ہی خاوند کی موت سے موت کی عدت ہوگی عورت کو متارکہ کا علم نہ بھی ہو تب بھی خاوند کے متارکہ سے عدت لازم ہوگی اھ شامی نے کہا کہ شارح نے متارکہ کو خاوند کے ساتھ مختص کیا جیسا کہ امام زیلعی نے کیا ہے کیونکہ ظاہر کلام سے یہی معلوم ہوتاہے کہ متارکہ کا حق عورت کونہیں ہے حالانکہ اس نکاح کا فسخ مرد اور عورت دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی میں بالاتفاق جائز ہے اور متارکہ اور فسخ میں فرق بعید ہے بحر میں یوں ہی ہے جبکہ نہرمیں فرق بتایا گیا کہ متارکہ طلاق کی طرح ہے اس لیے طلاق کی طرح خاوند ہی متارکہ کرسکتا ہے اور فسخ نکاح کو کالعدم قرار دینے کا نام ہے اس لیے یہ خاوند سے مختص نہ ہوگا۔ اگرچہ متارکہ کا معنی پایا جاتاہے اس کو خیر الدین رملی نے رد کردیا اور کہا کہ فاسد نکاح میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہاں متارکہ طلاق کے معنی میں کیسے کہا جاسکتا ہے لہذا حق یہی ہے کہ متارکہ اور فسخ میں کوئی فرق نہیں اس لیے مقدسی نے نظم الکنزکی شرح میں اس پر جزم کااظہار کیا ہے اور یہ تمام بحث بحر پر ہمارے حاشیہ میں ہے اھ وہاں شامی نے
تجب العدۃ بعد الوطء لاالخلوۃ للطلاق لاللموت من وقت التفریق اومتارکۃ الزوج وان لم تعلم المرأۃ بالمتارکۃ فی الاصح اھ قال الشامی خص الشارح المتارکۃ بالزوج کمافعل الزیلعی لان ظاھر کلامھم انھا لاتکون من المرأۃ اصلامع ان فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذا فی البحر وفرق فی النھر بان المتارکۃ فی معنی الطلاق فیختص بہ الزوج اما الفسخ فرفع العقد فلایختص بہ وان کان فی معنی المتارکۃ ورد الخیر الرملی بان الطلاق لایتحقق فی الفاسد فکیف یقال ان المتارکۃ فی معنی الطلاق فالحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز الخ وتمامہ فیما علقناہ علی البحر اھ
ذکر فیہ استناد الرملی بمالیس لہ بل علیہ کما
نکاح فاسد میں وقت تفریق یا متارکہ سے عورت پر وطی سے طلاق والی عدت ہوگی محض خلوت سے یہ عدت واجب نہ ہوگی اور نہ ہی خاوند کی موت سے موت کی عدت ہوگی عورت کو متارکہ کا علم نہ بھی ہو تب بھی خاوند کے متارکہ سے عدت لازم ہوگی اھ شامی نے کہا کہ شارح نے متارکہ کو خاوند کے ساتھ مختص کیا جیسا کہ امام زیلعی نے کیا ہے کیونکہ ظاہر کلام سے یہی معلوم ہوتاہے کہ متارکہ کا حق عورت کونہیں ہے حالانکہ اس نکاح کا فسخ مرد اور عورت دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی میں بالاتفاق جائز ہے اور متارکہ اور فسخ میں فرق بعید ہے بحر میں یوں ہی ہے جبکہ نہرمیں فرق بتایا گیا کہ متارکہ طلاق کی طرح ہے اس لیے طلاق کی طرح خاوند ہی متارکہ کرسکتا ہے اور فسخ نکاح کو کالعدم قرار دینے کا نام ہے اس لیے یہ خاوند سے مختص نہ ہوگا۔ اگرچہ متارکہ کا معنی پایا جاتاہے اس کو خیر الدین رملی نے رد کردیا اور کہا کہ فاسد نکاح میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہاں متارکہ طلاق کے معنی میں کیسے کہا جاسکتا ہے لہذا حق یہی ہے کہ متارکہ اور فسخ میں کوئی فرق نہیں اس لیے مقدسی نے نظم الکنزکی شرح میں اس پر جزم کااظہار کیا ہے اور یہ تمام بحث بحر پر ہمارے حاشیہ میں ہے اھ وہاں شامی نے
حوالہ / References
درمختار باب فی المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۳۰۱
ردالمحتار باب فی المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
ردالمحتار باب فی المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۵۲
بینہ فی منحۃ الخالق وبالجملۃ فلایثبت من کلامھم الا اختصاص الزوج بالمتارکۃ ثم لایشم خلافہ اصلا اقول وقول النھران المتارکۃ فی معنی الطلاق معناہ ان المتارکۃ فی الفاسد فی معنی الطلاق فی الصحیح فلایمسہ ماذکر الرملی وایدہ الشامی واما الاستشکال بقولھم کما فی الدر یثبت لکل واحد منھا فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما اھ
فاقول : یترا أی لی واﷲ تعالی اعلم ان ھذا فبما اذاوقع فاسدا کما اذا انکحھا بلاشھود اوبعد مامس امھا وذلك لانہ لم یثبت لہ الید الشرعیہ علیھا اصلاوکان لکل منھما فسخہ ازالۃ للمعصیۃ وماذکروا ھھنا من تخصیص المتارکۃ بالزوج فھو
خیرالدین رملی کی جو دلیل ذکر کی وہ ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے جیسا کہ انھوں نے منحۃ الخالق میں اس کو ذکر کیا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ فقہاء کرام کے کلام سے متارکہ کاخاوند کے ساتھ خاص ہونا ہی ثابت ہوتاہے اوراس کے خلاف کی بو تك محسوس نہیں ہوتی۔ اقول نہر کے قول میں کہ متارکہ طلاق کے معنی میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسد نکاح میں متارکہ طلاق کے قائم مقام ہے صحیح قول میں لہذا رملی کا اعتراض بے جا ہے اس کی تائید علامہ شامی نے کی ہے باقی رہاوہ اشکال جو فقہاء کی اس عبارت سے پیدا ہوتاہے جس کو در میں اختیار کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اگرچہ ایك دوسرے کی غیر حاضری میں ہو دخول ہو ا یا نہ تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے اوریہ آپس کا متارکہ قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے بلکہ قاضی دونوں پر تفریق کا حکم دے گا اھ
فاقول : والله تعالی اعلم مجھے جو معلوم ہوتاہے وہ یہ کہ مرد اور عورت دونوں کو بہر صورت فسخ کا اختیار اس صورت میں ہے جبکہ نکاح ابتداء ہی فاسد منعقد ہوا ہو جیسے بغیر گواہوں کے نکاح یا منکوحہ کی ماں کو پہلے شہوت سے چھوچکا ہو کیونکہ اس صورت میں خاوند کا بیوی پر شرعی حق ثابت ہی نہیں ہوتا اس لیے دونوں کو ایك دوسرے سے متارکہ کا حق ہے تاکہ گناہ کا ازالہ ہوجائے اور فقہاء کرام نے جو یہ کہا کہ متارکہ خاوند کا ہی حق ہے وہ
فاقول : یترا أی لی واﷲ تعالی اعلم ان ھذا فبما اذاوقع فاسدا کما اذا انکحھا بلاشھود اوبعد مامس امھا وذلك لانہ لم یثبت لہ الید الشرعیہ علیھا اصلاوکان لکل منھما فسخہ ازالۃ للمعصیۃ وماذکروا ھھنا من تخصیص المتارکۃ بالزوج فھو
خیرالدین رملی کی جو دلیل ذکر کی وہ ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے جیسا کہ انھوں نے منحۃ الخالق میں اس کو ذکر کیا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ فقہاء کرام کے کلام سے متارکہ کاخاوند کے ساتھ خاص ہونا ہی ثابت ہوتاہے اوراس کے خلاف کی بو تك محسوس نہیں ہوتی۔ اقول نہر کے قول میں کہ متارکہ طلاق کے معنی میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسد نکاح میں متارکہ طلاق کے قائم مقام ہے صحیح قول میں لہذا رملی کا اعتراض بے جا ہے اس کی تائید علامہ شامی نے کی ہے باقی رہاوہ اشکال جو فقہاء کی اس عبارت سے پیدا ہوتاہے جس کو در میں اختیار کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اگرچہ ایك دوسرے کی غیر حاضری میں ہو دخول ہو ا یا نہ تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے اوریہ آپس کا متارکہ قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے بلکہ قاضی دونوں پر تفریق کا حکم دے گا اھ
فاقول : والله تعالی اعلم مجھے جو معلوم ہوتاہے وہ یہ کہ مرد اور عورت دونوں کو بہر صورت فسخ کا اختیار اس صورت میں ہے جبکہ نکاح ابتداء ہی فاسد منعقد ہوا ہو جیسے بغیر گواہوں کے نکاح یا منکوحہ کی ماں کو پہلے شہوت سے چھوچکا ہو کیونکہ اس صورت میں خاوند کا بیوی پر شرعی حق ثابت ہی نہیں ہوتا اس لیے دونوں کو ایك دوسرے سے متارکہ کا حق ہے تاکہ گناہ کا ازالہ ہوجائے اور فقہاء کرام نے جو یہ کہا کہ متارکہ خاوند کا ہی حق ہے وہ
حوالہ / References
درمختار باب فی المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
فیما اذاطرأ الفساد فح لاتتفرد بالفسخ لانہ لیس دفعا بل رفع لید شرعیۃ ثبتت للزوج فلا بد من متارکتہ والحکمۃ فیہ ان لوجوزنا تفردھافیہ بالفسخ لشاعت الفتن فکل امرأۃ ترید ان تفارق زوجھا تقبل ابنہ مثلا بشھوۃ فیفسد النکاح فتفسخہ مبتدءۃ وتنکح من شاءت وھذا باب یجب سدہ۔
اس صورت میں ہے جبکہ ابتداء نکاح صحیح ہوا ہو اور بعد میں فساد اس پر طاری ہواہو تو اس صورت میں اکیلی عورت کو فسخ کا حق نہیں کیونکہ یہ گناہ کادفاع نہیں بلکہ ثابت شدہ شرعی حق کا خاتمہ ہے اس لیے خاوند کی طرف سے متارکہ ضروری ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر اس صورت میں عورت کو مستقل طورپر فسخ کا حق دیا جائے تو فتنہ برپا ہوگا کہ جب بھی عورت اپنے خاوند سے علیحدگی چاہے تو وہ مثلا خاوند کے بیٹے کا شہوت سے بوسہ لے لے اور خود نکاح کو فاسد کرکے جہاں چاہے نکاح کرتی پھرے تو اس فتنہ کا سد باب ضروری ہے۔ (ت)
یہاں شوہر مفقود ہے اور حرمت موجود ہے عورت پر لازم کہ حا کم شرع کے حضور مرافعہ کرے اور وہ ثبوت لے اگر وہ گواہان عادل سے پدر زید کا زوجہ زید کے ساتھ فعل بدکا ارتکاب ثابت ہو لان ھذا ھو نصاب ثبوت حرمۃ المصاہرۃ وان لم یثبت بہ الزنافی حق الحد(کیونکہ یہ حرمت مصاہرہ کے ثبوت کے لیے نصاب ہے اگرچہ اس سے حد کے معیار پر زنا ثابت نہیں ہوتا۔ ت)تو ان دونوں مرد وزن میں تفریق کردے روز تفریق سےعورت تین حیض کی عدت کرے اور اس کے بعد نکاح ثانی جائز ہوسکتاہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴ : از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل صاحب طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ا ور بکر آپس میں حقیقی برادر ہیں زید عمر میں بکر سے بڑاہے اور بکر عمر میں چھوٹا ہے زید سے زید کے پاس ایك لڑکی ہے اورا س سے زید کو ایك نواسی بھی ہے بکر کے پاس ایك لڑکا ہے اس صورت میں زید اگر اپنی نواسی سے اپنے برادر حقیقی کے لڑکے کے ساتھ نکاح کردے تو نکاح جائزہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
چچا کی نواسی سے نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵ : از رنگون مرسلہ جناب سیٹھ عبدالستار ابن اسمعیل صاحب قادری برکاتی رضوی ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی سوتیلی والدہ کی سگی ہمشیرہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
اس صورت میں ہے جبکہ ابتداء نکاح صحیح ہوا ہو اور بعد میں فساد اس پر طاری ہواہو تو اس صورت میں اکیلی عورت کو فسخ کا حق نہیں کیونکہ یہ گناہ کادفاع نہیں بلکہ ثابت شدہ شرعی حق کا خاتمہ ہے اس لیے خاوند کی طرف سے متارکہ ضروری ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر اس صورت میں عورت کو مستقل طورپر فسخ کا حق دیا جائے تو فتنہ برپا ہوگا کہ جب بھی عورت اپنے خاوند سے علیحدگی چاہے تو وہ مثلا خاوند کے بیٹے کا شہوت سے بوسہ لے لے اور خود نکاح کو فاسد کرکے جہاں چاہے نکاح کرتی پھرے تو اس فتنہ کا سد باب ضروری ہے۔ (ت)
یہاں شوہر مفقود ہے اور حرمت موجود ہے عورت پر لازم کہ حا کم شرع کے حضور مرافعہ کرے اور وہ ثبوت لے اگر وہ گواہان عادل سے پدر زید کا زوجہ زید کے ساتھ فعل بدکا ارتکاب ثابت ہو لان ھذا ھو نصاب ثبوت حرمۃ المصاہرۃ وان لم یثبت بہ الزنافی حق الحد(کیونکہ یہ حرمت مصاہرہ کے ثبوت کے لیے نصاب ہے اگرچہ اس سے حد کے معیار پر زنا ثابت نہیں ہوتا۔ ت)تو ان دونوں مرد وزن میں تفریق کردے روز تفریق سےعورت تین حیض کی عدت کرے اور اس کے بعد نکاح ثانی جائز ہوسکتاہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴ : از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل صاحب طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ا ور بکر آپس میں حقیقی برادر ہیں زید عمر میں بکر سے بڑاہے اور بکر عمر میں چھوٹا ہے زید سے زید کے پاس ایك لڑکی ہے اورا س سے زید کو ایك نواسی بھی ہے بکر کے پاس ایك لڑکا ہے اس صورت میں زید اگر اپنی نواسی سے اپنے برادر حقیقی کے لڑکے کے ساتھ نکاح کردے تو نکاح جائزہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
چچا کی نواسی سے نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵ : از رنگون مرسلہ جناب سیٹھ عبدالستار ابن اسمعیل صاحب قادری برکاتی رضوی ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی سوتیلی والدہ کی سگی ہمشیرہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
سوتیلی ماں ماں نہیں قال الله تعالی : ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- (تمھاری مائیں وہی ہیں جنھوں نے تمھیں جنم دیاہے۔ ت)اس کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۶ : از رامپور مرسلہ فاروق حسن صاحب ایڈیٹر اخبار دبدبہ سکندری ۱ جمادی الآخرہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ نادرۃالوقوع میں کہ زید اپنے بیٹے عمرو کی زوجہ ہندہ سے فعل حرام کا مرتکب ہوا اب مابین عمرو وہندہ کے نکاح باقی ہے یا نہیں اوراگر عورت خود اقرار کرے کہ زید جو میرے شوہر کا باپ ہے وہ مجھ سے بالجبر وطی کیاہے اور زید منکر ہے تو کیا حکم اور اگرزید وہندہ دونوں اقرار کریں وقوع وطی کا جب کیا حکم پھر اگر وقوع وطی کو شہادت سے ثابت کیا جاوے تو شاہدوں کی شہادت کی صورت کیسی ہونی چاہئے بینو ا توجروا
الجواب :
اس فعل سے عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے مگر نکاح زائل نہیں ہوتا۔ نہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے جب تك شوہرمتارکہ نہ کرے مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑا اور عدت گزرے اس کے بعد نکاح دوسرے سے کرسکے گی درمختار میں ہے :
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لہا التزوج باخرالابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اسی لیے دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔ (ت)
عورت کا بیان کوئی چیز نہیں جب تك شوہر اس کی تصدیق نہ کرے۔ درمختار میں ہے :
لان الحرمۃ لیست الیھا قالو اوبہ یفتی فی جمیع الوجوہ بزازیہ ۔
کیونکہ حرمت کا فیصلہ عورت کے ہاتھ نہیں ہے اور فقہاء کرام نے فرمایا تمام صورتوں میں اسی پر فتوی ہے۔ بزازیہ (ت)
سوتیلی ماں ماں نہیں قال الله تعالی : ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- (تمھاری مائیں وہی ہیں جنھوں نے تمھیں جنم دیاہے۔ ت)اس کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۶ : از رامپور مرسلہ فاروق حسن صاحب ایڈیٹر اخبار دبدبہ سکندری ۱ جمادی الآخرہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ نادرۃالوقوع میں کہ زید اپنے بیٹے عمرو کی زوجہ ہندہ سے فعل حرام کا مرتکب ہوا اب مابین عمرو وہندہ کے نکاح باقی ہے یا نہیں اوراگر عورت خود اقرار کرے کہ زید جو میرے شوہر کا باپ ہے وہ مجھ سے بالجبر وطی کیاہے اور زید منکر ہے تو کیا حکم اور اگرزید وہندہ دونوں اقرار کریں وقوع وطی کا جب کیا حکم پھر اگر وقوع وطی کو شہادت سے ثابت کیا جاوے تو شاہدوں کی شہادت کی صورت کیسی ہونی چاہئے بینو ا توجروا
الجواب :
اس فعل سے عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے مگر نکاح زائل نہیں ہوتا۔ نہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے جب تك شوہرمتارکہ نہ کرے مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑا اور عدت گزرے اس کے بعد نکاح دوسرے سے کرسکے گی درمختار میں ہے :
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لہا التزوج باخرالابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اسی لیے دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔ (ت)
عورت کا بیان کوئی چیز نہیں جب تك شوہر اس کی تصدیق نہ کرے۔ درمختار میں ہے :
لان الحرمۃ لیست الیھا قالو اوبہ یفتی فی جمیع الوجوہ بزازیہ ۔
کیونکہ حرمت کا فیصلہ عورت کے ہاتھ نہیں ہے اور فقہاء کرام نے فرمایا تمام صورتوں میں اسی پر فتوی ہے۔ بزازیہ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۸ /۲
القرآن الکریم ۴ /۲۴
درمختار باب فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار با ب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۴
القرآن الکریم ۴ /۲۴
درمختار باب فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار با ب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۴
اور اگر پدر شوہر بھی اقرار کرے جب بھی شوہر پر حجت نہیں۔
لانہ یرید ازالۃ ملك ثابت بشھادۃ واحد لاسیما وھی علی نفسہ وشہادۃ المرء علی فعل نفسہ لاتقبل کما نصوا علیہ قاطبۃ۔
کیونکہ ثابت شدہ ملکیت کو وہ ایك گواہی سے ختم کرنا چاہتا ہے خصوصا جبکہ اس ایك گواہ کی شہادت اپنے فعل پر ہو جبکہ اپنے فعل پر کسی شخص کی شہادت مقبول نہیں جیساکہ اس پر تمام فقہاء کرام نے تصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگرشوہر کے قلب میں اس کا صدق واقع ہو تواس پر واجب ہے کہ عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور متارکہ کردے
بزازیہ پھر ہندیہ میں ہے :
فان وقع عندہ صدقہ وجب قبولہ ۔
تو اگرا س کے دل میں اس کا صدق واقع ہو تو اسے قبول کرنااس پر واجب ہے۔ (ت)
یا دو شاہدعادل کی گواہی سے یہ امر ثابت ہو اگرچہ اسی قدرکہ اس کے باپ نے اسے بشہوت مس کیا یا بشہوت بوسہ لیا کہ حرمت کواسی قدر بس ہے تنویر الابصار میں ہے :
تقبل الشہادۃ علی اللمس والتقبیل عن شہوۃ فی المختار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ لینے پر شہادت قبول کی جائے گی مختار قول میں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ : از بنڈیل اسٹیشن وڈاك خانہ ہوگلی مرسلہ حقاخاں صاحب رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنے خاص دادا کی پر نتنی اور جو کہ اپنے خاص دادا کی بھانجی کی لڑکی ہوتی ہے اور ایك رشتہ سے اپنی چچیری چچی ہوتی ہے ان سے عقد کرنا جائزہے یا نہیں
الجواب
پرداد کی پرنواسی دادا کی بھانجی کی بیٹی چچیری خواہ حقیقی چچی اس میں کوئی رشتہ ممانعت نکاح کا نہیں۔ اس سے نکاح جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کا کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۸ : از ضلع پورینہ ڈاکخانہ فارس گنج از دکان بخشی شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی خوش دامن سے قصدا وطی کی اب اس کی بی بی کا نکاح اس کے ساتھ قائم رہا یا نہیں یا پھر ا س کے ساتھ دوبارہ نکاح کرے
لانہ یرید ازالۃ ملك ثابت بشھادۃ واحد لاسیما وھی علی نفسہ وشہادۃ المرء علی فعل نفسہ لاتقبل کما نصوا علیہ قاطبۃ۔
کیونکہ ثابت شدہ ملکیت کو وہ ایك گواہی سے ختم کرنا چاہتا ہے خصوصا جبکہ اس ایك گواہ کی شہادت اپنے فعل پر ہو جبکہ اپنے فعل پر کسی شخص کی شہادت مقبول نہیں جیساکہ اس پر تمام فقہاء کرام نے تصریح کی ہے۔ (ت)
ہاں اگرشوہر کے قلب میں اس کا صدق واقع ہو تواس پر واجب ہے کہ عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور متارکہ کردے
بزازیہ پھر ہندیہ میں ہے :
فان وقع عندہ صدقہ وجب قبولہ ۔
تو اگرا س کے دل میں اس کا صدق واقع ہو تو اسے قبول کرنااس پر واجب ہے۔ (ت)
یا دو شاہدعادل کی گواہی سے یہ امر ثابت ہو اگرچہ اسی قدرکہ اس کے باپ نے اسے بشہوت مس کیا یا بشہوت بوسہ لیا کہ حرمت کواسی قدر بس ہے تنویر الابصار میں ہے :
تقبل الشہادۃ علی اللمس والتقبیل عن شہوۃ فی المختار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ لینے پر شہادت قبول کی جائے گی مختار قول میں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ : از بنڈیل اسٹیشن وڈاك خانہ ہوگلی مرسلہ حقاخاں صاحب رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنے خاص دادا کی پر نتنی اور جو کہ اپنے خاص دادا کی بھانجی کی لڑکی ہوتی ہے اور ایك رشتہ سے اپنی چچیری چچی ہوتی ہے ان سے عقد کرنا جائزہے یا نہیں
الجواب
پرداد کی پرنواسی دادا کی بھانجی کی بیٹی چچیری خواہ حقیقی چچی اس میں کوئی رشتہ ممانعت نکاح کا نہیں۔ اس سے نکاح جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کا کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۸ : از ضلع پورینہ ڈاکخانہ فارس گنج از دکان بخشی شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی خوش دامن سے قصدا وطی کی اب اس کی بی بی کا نکاح اس کے ساتھ قائم رہا یا نہیں یا پھر ا س کے ساتھ دوبارہ نکاح کرے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الفصل الثانی فی العمل بخبر الواحد فی المعاملات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۲
درمختار باب المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار باب المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
یانہیں بینوا تو جروا
الجواب :
جس نے اپنی منکوحہ کی حقیقی ماں سے وطی کی یااسے قصدا خواہ کسی طرح بشہوت ہاتھ لگایا اس کی عورت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی کبھی نہ اسے رکھ سکتاہے نہ کسی حال میں اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے اس پر فرض ہے کہ عورت کو فورا چھوڑ دے تاکہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہوجائے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۹ : از ٹانڈہ چھنگا ڈاك خانہ درؤ ضلع بریلی مرسلہ ہدایت الله صاحب پارچہ فروش ۸ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مریم ومسماۃ سکینہ کی والدہ ایك ہے لیکن باپ دونوں کے علیحدہ علیحدہ ہیں اب مسماۃ مریم کی ایك دختر ہے جس کا نکاح مسماۃ مریم نے بکر کے ساتھ کردیا ہے اب بکر اپنی زوجہ کی خالہ کوجس کانام سکینہ ہے نکاح میں لانا چاہتا ہے نزدیك الله ورسول کے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سکینہ سے اس کا نکاح حرام ہے ہاں جب اس کی یہ عورت مرجائے یا یہ اس کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے اس وقت سکینہ سے نکاح کرسکے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰ : از موضع لال پور ڈاك خانہ موہن پور ملك بنگال مرسلہ منیر الدین احمد کرلوی لال پوری ۸ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اخت علاتی کی لڑکی کی لڑکی کے ساتھ نکاح حلال ہے یا حرام بینوا تو جروا
الجواب :
اپنی علاتی بہن کی پوتی سے نکاح حرام قطعی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ : از موضع میونڈی ڈاك خانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا نکاح کسی عورت سے کیا اور اس عورت کی ایك دختر بھی پہلے شوہر کی اس کے ساتھ تھی بعد چند مدت کے اس عورت کا انتقال ہوگیا اب زید یہ چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کے ساتھ اپنا نکاح کرلوں تو یہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں اگرچہ بی بی گھر میں ہو یا نہ ہو اور اگر ایسا کرلیا ہو تو کیا حکم شریعت ہے ایسے لوگوں کے لیے بینوا تو جروا۔
الجواب :
جس نے اپنی منکوحہ کی حقیقی ماں سے وطی کی یااسے قصدا خواہ کسی طرح بشہوت ہاتھ لگایا اس کی عورت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی کبھی نہ اسے رکھ سکتاہے نہ کسی حال میں اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے اس پر فرض ہے کہ عورت کو فورا چھوڑ دے تاکہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہوجائے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۹ : از ٹانڈہ چھنگا ڈاك خانہ درؤ ضلع بریلی مرسلہ ہدایت الله صاحب پارچہ فروش ۸ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مریم ومسماۃ سکینہ کی والدہ ایك ہے لیکن باپ دونوں کے علیحدہ علیحدہ ہیں اب مسماۃ مریم کی ایك دختر ہے جس کا نکاح مسماۃ مریم نے بکر کے ساتھ کردیا ہے اب بکر اپنی زوجہ کی خالہ کوجس کانام سکینہ ہے نکاح میں لانا چاہتا ہے نزدیك الله ورسول کے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سکینہ سے اس کا نکاح حرام ہے ہاں جب اس کی یہ عورت مرجائے یا یہ اس کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے اس وقت سکینہ سے نکاح کرسکے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰ : از موضع لال پور ڈاك خانہ موہن پور ملك بنگال مرسلہ منیر الدین احمد کرلوی لال پوری ۸ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اخت علاتی کی لڑکی کی لڑکی کے ساتھ نکاح حلال ہے یا حرام بینوا تو جروا
الجواب :
اپنی علاتی بہن کی پوتی سے نکاح حرام قطعی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ : از موضع میونڈی ڈاك خانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا نکاح کسی عورت سے کیا اور اس عورت کی ایك دختر بھی پہلے شوہر کی اس کے ساتھ تھی بعد چند مدت کے اس عورت کا انتقال ہوگیا اب زید یہ چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کے ساتھ اپنا نکاح کرلوں تو یہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں اگرچہ بی بی گھر میں ہو یا نہ ہو اور اگر ایسا کرلیا ہو تو کیا حکم شریعت ہے ایسے لوگوں کے لیے بینوا تو جروا۔
الجواب
اگر اس عورت سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اس کے بعد ا س کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام اور اگر کرلیا تو جدا کردینا اور جداہونا فرض قطعی قال الله تعالی :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم-
واﷲ تعالی اعلم
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جوتمھارے پاس زیرپرورش ہیں اور اگر بیویوں سے دخول نہ کیا ہو تو تمھیں ممانعت نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲ : از موضع بھونی ڈاك خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد نور صاحب ۲۷ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی عبدالرزاق نے ایك مسماۃ محمودہ عرف نورجہان کے ساتھ نکاح کیااور اس کے بعد اسکی بہن جو ایك ماں سے پیداہوئی ہیں مگر باپ دونوں کا دو ہیں ا س کانام مسماۃ نجبن ہے نکاح کرلیا عرصہ تقریبا چھ ماہ سے زائد ہوگیا مسلمانوں نے یہاں کے اس کو بہت برا سمجھا اور اس سے کہا کہ ایك عورت کو دونوں میں سے طلاق دے دو مگر نہیں سمجھا اس پر مسلمانوں نے اپنار سم ترك کردیا تو وہ مجبور ہوگیا مسماۃ نورجہاں زوجہ اول سخت بیمار ہوگئی کہ اس کے پاس لوگوں کا بیٹھنا دشوارہوگیا اس نے خواہش کی میری طلاق ہوجائے تو افضل ہے اور مسماۃ نورجہاں اب عرصہ ایك ہفتہ سے کسی جگہ بلااجازت شوہر گھر سے چلی گئی ہے اور ہنوز مفقود الخبر ہے اب عبدالرزاق ونورجہاں مفقود الخبر کی خواہش یہ تھی کہ ہم میں باہمی طلاق ہوجائے اور مسماۃ نجبن سے نکاح ہوجاوے تو مناسب ہو ایسی صورت میں مسماۃ نورجہاں کو طلاق دے سکتا ہے یا نہیں اور نجبن سے دوبارہ نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
نورجہاں کو طلاق دینے کے بعد اس کی عدت گزر جائے یعنی اسے تین حیض آکر ختم ہوجائیں اس کے بعد نجبن سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام حرام حرام والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۳ : از ہوڑہ محلہ بینا پاڑہ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ میراحسان علی صاحب مدرس ۵ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جس نے اپنی عورت کو طلاق دے دیا ایك ہفتہ ہوا طلاق دے کر اور جس شخص سے اب نکاح ہوگا وہ عورت اسی شخص کے گھرہے مگر وہ شخص باہر رہتا ہے
اگر اس عورت سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اس کے بعد ا س کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام اور اگر کرلیا تو جدا کردینا اور جداہونا فرض قطعی قال الله تعالی :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم-
واﷲ تعالی اعلم
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جوتمھارے پاس زیرپرورش ہیں اور اگر بیویوں سے دخول نہ کیا ہو تو تمھیں ممانعت نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲ : از موضع بھونی ڈاك خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد نور صاحب ۲۷ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی عبدالرزاق نے ایك مسماۃ محمودہ عرف نورجہان کے ساتھ نکاح کیااور اس کے بعد اسکی بہن جو ایك ماں سے پیداہوئی ہیں مگر باپ دونوں کا دو ہیں ا س کانام مسماۃ نجبن ہے نکاح کرلیا عرصہ تقریبا چھ ماہ سے زائد ہوگیا مسلمانوں نے یہاں کے اس کو بہت برا سمجھا اور اس سے کہا کہ ایك عورت کو دونوں میں سے طلاق دے دو مگر نہیں سمجھا اس پر مسلمانوں نے اپنار سم ترك کردیا تو وہ مجبور ہوگیا مسماۃ نورجہاں زوجہ اول سخت بیمار ہوگئی کہ اس کے پاس لوگوں کا بیٹھنا دشوارہوگیا اس نے خواہش کی میری طلاق ہوجائے تو افضل ہے اور مسماۃ نورجہاں اب عرصہ ایك ہفتہ سے کسی جگہ بلااجازت شوہر گھر سے چلی گئی ہے اور ہنوز مفقود الخبر ہے اب عبدالرزاق ونورجہاں مفقود الخبر کی خواہش یہ تھی کہ ہم میں باہمی طلاق ہوجائے اور مسماۃ نجبن سے نکاح ہوجاوے تو مناسب ہو ایسی صورت میں مسماۃ نورجہاں کو طلاق دے سکتا ہے یا نہیں اور نجبن سے دوبارہ نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
نورجہاں کو طلاق دینے کے بعد اس کی عدت گزر جائے یعنی اسے تین حیض آکر ختم ہوجائیں اس کے بعد نجبن سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام حرام حرام والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۳ : از ہوڑہ محلہ بینا پاڑہ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ میراحسان علی صاحب مدرس ۵ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جس نے اپنی عورت کو طلاق دے دیا ایك ہفتہ ہوا طلاق دے کر اور جس شخص سے اب نکاح ہوگا وہ عورت اسی شخص کے گھرہے مگر وہ شخص باہر رہتا ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
اندر مکان کے نہیں جاتا۔ کہتا ہے کہ جب تك نکاح نہ ہوگا اندر نہ جاؤں گا او رعورت کی دایہ وغیرہ سے جانچ کرایا گیا کہ حمل تو نہیں ہے معلوم ہو اکہ حمل نہیں ہے اس صورت میں اگر نکاح کردیا جائے تو گناہ تو نہیں ہوسکتا جلدی اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ شیطان ہر وقت بہکاتا ہے اگر اس صورت میں جلد نکاح کردیا جائے اس پر کیا حکم ہے صرف گناہ کا خیال کرکے ایسا ہو کہ عدت کے اندر نکاح کردیا جاوے حمل نہیں ہے۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
عدت کے نکاح حرام حرام حرام نکاح تو نکاح نکاح کا پیام دینا حرام اگر نکاح ہو اور قربت ہو نرازنا ہوگا۔ اس سے زیادہ یہاں شیطان کا بہکانا اور کیا ہے جسے خود چاہ رہے ہو عورت کو ایام عدت شوہر ہی کے مکان پر پورے کرنے فرض ہیں وہاں سے نکلنا حرام ہے اب کہ نکل آئی ہے فرض ہے کہ فورا شوہر کے یہاں چلی جائے اور وہیں عدت کے دن پورے کرے اگر یہاں سے وہاں تك تین دن کی راہ نہ ہو ورنہ اطمینان کی جگہ رہے اس شخص کے یہاں جب تك ہر گز نہ رہے جس سے اندیشہ ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۴ : از مقام ٹانڈہ چھنگا ڈاك خانہ درؤ تحصیل کچھار مرسلہ عبدالله صاحب منیب بنجارہ ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مریم وسکینہ ہمشیر حقیقی ہیں لیکن باپ دونوں کے جدا ہیں ایك خیاط دوسرا نداف۔ اب مریم کی ایك دختر ہے جس کانام فاطمہ ہے اور فاطمہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوگیا ہے اب زید اپنی زوجہ کی حقیقی خالہ کو نکاح میں لاکر دونوں سے ہمبستر ہورہا ہے اس صورت میں الله ورسول کا کیا حکم ہے عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا دونوں نکاح جائز ہیں بینوا تو جروا
الجواب :
حرام حرام حرام قطعی حرام اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کی خالہ کو چھوڑ دے اور جب تك ا س کی عدت گزرے زوجہ کوہاتھ لگانا بھی اس پر حرام ہے جب اس کی خالہ عدت سے نکل جائے اس وقت اسے اپنی زوجہ کے پاس جانا حلال ہوگا وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ : از سلطان پور ملك اودھ مرسلہ عبدالخالق صاحب عرائض نویس کچہری دیوانی ۱۸ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی تین شادیا ں ہوئیں زوجہ اول سے ایك لڑکی پید ا ہوئی اور اس کی شادی زید کے حقیقی بھتیجے کے ساتھ ہوئی اور اس سے ایك لڑکی پیدا ہوئی جو زید کی حقیقی نواسی ہوئی اور زید کی تیسری شادی جوہوئی اس سے تین لڑکے ہیں اب زید اس ا پنے لڑکے یعنی نرینہ کی شادی اپنے حقیقی بھتیجے کی لڑکی کے ساتھ کرنا چاہتا ہے پس ایسی حالت میں جائز ہے یا نا جائز بینوا تو جروا
الجواب :
عدت کے نکاح حرام حرام حرام نکاح تو نکاح نکاح کا پیام دینا حرام اگر نکاح ہو اور قربت ہو نرازنا ہوگا۔ اس سے زیادہ یہاں شیطان کا بہکانا اور کیا ہے جسے خود چاہ رہے ہو عورت کو ایام عدت شوہر ہی کے مکان پر پورے کرنے فرض ہیں وہاں سے نکلنا حرام ہے اب کہ نکل آئی ہے فرض ہے کہ فورا شوہر کے یہاں چلی جائے اور وہیں عدت کے دن پورے کرے اگر یہاں سے وہاں تك تین دن کی راہ نہ ہو ورنہ اطمینان کی جگہ رہے اس شخص کے یہاں جب تك ہر گز نہ رہے جس سے اندیشہ ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۴ : از مقام ٹانڈہ چھنگا ڈاك خانہ درؤ تحصیل کچھار مرسلہ عبدالله صاحب منیب بنجارہ ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مریم وسکینہ ہمشیر حقیقی ہیں لیکن باپ دونوں کے جدا ہیں ایك خیاط دوسرا نداف۔ اب مریم کی ایك دختر ہے جس کانام فاطمہ ہے اور فاطمہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوگیا ہے اب زید اپنی زوجہ کی حقیقی خالہ کو نکاح میں لاکر دونوں سے ہمبستر ہورہا ہے اس صورت میں الله ورسول کا کیا حکم ہے عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا دونوں نکاح جائز ہیں بینوا تو جروا
الجواب :
حرام حرام حرام قطعی حرام اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کی خالہ کو چھوڑ دے اور جب تك ا س کی عدت گزرے زوجہ کوہاتھ لگانا بھی اس پر حرام ہے جب اس کی خالہ عدت سے نکل جائے اس وقت اسے اپنی زوجہ کے پاس جانا حلال ہوگا وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ : از سلطان پور ملك اودھ مرسلہ عبدالخالق صاحب عرائض نویس کچہری دیوانی ۱۸ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی تین شادیا ں ہوئیں زوجہ اول سے ایك لڑکی پید ا ہوئی اور اس کی شادی زید کے حقیقی بھتیجے کے ساتھ ہوئی اور اس سے ایك لڑکی پیدا ہوئی جو زید کی حقیقی نواسی ہوئی اور زید کی تیسری شادی جوہوئی اس سے تین لڑکے ہیں اب زید اس ا پنے لڑکے یعنی نرینہ کی شادی اپنے حقیقی بھتیجے کی لڑکی کے ساتھ کرنا چاہتا ہے پس ایسی حالت میں جائز ہے یا نا جائز بینوا تو جروا
الجواب :
حرام حرام حرام وہ صرف اس کے بھائی کی پوتی نہیں جو اس کے بیٹے کو حلال ہوخود اس کی نواسی بھی ہے تو اس کے بیٹے کی بھانجی ہے اگرچہ بیٹا اور زوجہ سے ہے اور وہ بیٹی اور سے تھی بہرحال بھانجی ہے اور بھانجی حرام قال الله تعالی : وبنت الاخت (اور تمھاری بھانجیاں حرام ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ : از شہر آگرہ کلو گلی نائی منڈی مرسلہ رحیم بخش صاحب مالك کارخانہ رحیم شو فیکٹری ۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جو پابند مذہب اہل سنت وجماعت تھا اس نے اپنا عقد نکاح مسماۃ ہندہ کے ساتھ کیا جو مذہب اہل شیعہ رکھتی تھی زید نے اپنے بیٹے عمرو کانکاح جو بطن ہندہ سے پیدا ہوا تھا بحالت نابالغی بکر کی لڑکی حلیمہ نابالغہ کے ساتھ کردیا اور بوجہ نابالغی منکوحہ حلیمہ کی وداع نہیں ہوئی حلیمہ نجیب الطرفین اہلسنت والجماعت ہے زید بقضائے الہی فوت ہوگیا زید کی بیوہ ہندہ نیز اس کی تمام اولاد ہر طریقہ سے پابند اہل تشیع ہے عمرو اب بالغ ہوکر چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو رخصت کراکے لے جائے حلیمہ بھی اب چونکہ بالغہ ہے وہ اپنے عقدمیں غیر مذہب کے آدمی شیعہ کو منظور نہیں کرتی اور اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی نیز والدین حلیمہ بھی اب وداع سے انکاری ہیں اندریں صورت یہ نکاح حلیمہ کا جو بحالت نابالغی ایك شیعہ کے ساتھ ہوا تھا ازروئے شرع شریف جائز رہا یا باطل اور حلیمہ اپنا عقد کسی دوسری جگہ کرسکتی ہے یا نہیں بینواتو جروا
الجواب :
آج کل جو لوگ شیعہ کہلاتے ہیں یعنی تبرائی رافضی ان کے ساتھ نکاح باطل محض ہے اگر حلیمہ اور اس کے اولیا سب راضی ہیں تو الله ورسول راضی نہیں حلیمہ کو حرام ہے کہ اپنے آپ کو اس کی زوجیت میں سمجھے فتاوی ظہیریہ و حدیقہ ندیہ و عالمگیریہ میں مثال روافض کے لیے ہے احکامھم احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)نیز عالمگیری میں ہے :
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرتد کا مرتدہ مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی سے نکاح جائز نہیں۔ (ت) والله تعالی اعلم
حرام حرام حرام وہ صرف اس کے بھائی کی پوتی نہیں جو اس کے بیٹے کو حلال ہوخود اس کی نواسی بھی ہے تو اس کے بیٹے کی بھانجی ہے اگرچہ بیٹا اور زوجہ سے ہے اور وہ بیٹی اور سے تھی بہرحال بھانجی ہے اور بھانجی حرام قال الله تعالی : وبنت الاخت (اور تمھاری بھانجیاں حرام ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ : از شہر آگرہ کلو گلی نائی منڈی مرسلہ رحیم بخش صاحب مالك کارخانہ رحیم شو فیکٹری ۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جو پابند مذہب اہل سنت وجماعت تھا اس نے اپنا عقد نکاح مسماۃ ہندہ کے ساتھ کیا جو مذہب اہل شیعہ رکھتی تھی زید نے اپنے بیٹے عمرو کانکاح جو بطن ہندہ سے پیدا ہوا تھا بحالت نابالغی بکر کی لڑکی حلیمہ نابالغہ کے ساتھ کردیا اور بوجہ نابالغی منکوحہ حلیمہ کی وداع نہیں ہوئی حلیمہ نجیب الطرفین اہلسنت والجماعت ہے زید بقضائے الہی فوت ہوگیا زید کی بیوہ ہندہ نیز اس کی تمام اولاد ہر طریقہ سے پابند اہل تشیع ہے عمرو اب بالغ ہوکر چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو رخصت کراکے لے جائے حلیمہ بھی اب چونکہ بالغہ ہے وہ اپنے عقدمیں غیر مذہب کے آدمی شیعہ کو منظور نہیں کرتی اور اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی نیز والدین حلیمہ بھی اب وداع سے انکاری ہیں اندریں صورت یہ نکاح حلیمہ کا جو بحالت نابالغی ایك شیعہ کے ساتھ ہوا تھا ازروئے شرع شریف جائز رہا یا باطل اور حلیمہ اپنا عقد کسی دوسری جگہ کرسکتی ہے یا نہیں بینواتو جروا
الجواب :
آج کل جو لوگ شیعہ کہلاتے ہیں یعنی تبرائی رافضی ان کے ساتھ نکاح باطل محض ہے اگر حلیمہ اور اس کے اولیا سب راضی ہیں تو الله ورسول راضی نہیں حلیمہ کو حرام ہے کہ اپنے آپ کو اس کی زوجیت میں سمجھے فتاوی ظہیریہ و حدیقہ ندیہ و عالمگیریہ میں مثال روافض کے لیے ہے احکامھم احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)نیز عالمگیری میں ہے :
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرتد کا مرتدہ مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی سے نکاح جائز نہیں۔ (ت) والله تعالی اعلم
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ والاستخفاف بالشریعۃ کفرای ردہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۰۵
فتاوٰی ہندیہ فصل فی المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوٰی ہندیہ فصل فی المحرمات بالشرك نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
مسئلہ ۲۵۷ : ازشمس آباد ضلع کیمل پور مرسلہ مولانا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید خود عرصہ تیرہ برس سے ملك افریقہ میں رہتاہے اس کی خوشدامن کہتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ فعل بد کیا ہے اس پر دو گواہ اس امر کے معائنہ کے ہیں کہ ایك کہتا ہے کہ میں نے بوقت دوپہر کے فلاں مقام میں دونوں کو عین مشغولی میں دیکھا دوسرا کہتا ہے کہ دونوں کو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے اس موضع کے کل لوگ ہر ایك مکان کے ایك دو آدمی جن کا مجموعہ ۵۰ نفر ہوتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ قرائن قاطعہ سے ہم لوگ جانتے ہیں کہ زید اور اس کی خوشدامن باہم بد معاش تھے اور ان کے ناجائز تعلق میں کوئی شك نہ تھا برابر دو برس تك دونوں کا باہم اختلاط اور انبساط رہا جب ان دو گواہوں نے ان کو ایسی کریہہ صورت میں دیکھا تب سے زید فرار کرگیا اور ایك دوسرے سے کہہ گیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ جو کہ اس خوشدامن کی دختر ہے میرے اوپر حرام ہے جس کوا س کا دل چاہے دے دے اس کی عورت اب عرصہ آٹھ دس برس سے جوان ہے اور خوردونوش وسکونت کی اس کو بہت تکلیف ہے اور غالب گمان ہے کہ کہیں حرامکاری میں مبتلا ہوجائے پس اگر کوئی عالم افقہ واورع ا س علاقہ کا بموجب عبارت حدیقہ ندیہ :
واذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور کلھا مفوضۃ الی العلماء یصیرون ولاۃ ۔
جب زمانہ موثر حکمران سے خالی ہوتو تمام فیصلہ طلب امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہ والی قرار پائیں گے۔ (ت)
کے اس غائب کے باپ کے روبرو یااس کی طرف سے کسی کو وکیل کرکے اس پر سمع دعوی وشہادت کرکے تفریق کا حکم دے دے تو درست ہوگا یا نہیں اور اگر درست ہے تو چونکہ غائب ولایت قاضی میں نہیں لہذا اس کی طرف سے مسخر پکڑنے کی کیا صورت ہوسکتی ہےشامی جلد ۴ ص ۳۵۳ میں باب القضاء میں وفی البحر والمعتمدان القضاء علی المسخر الخ(بحر میں ہے مسخر کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے متعلق قول الخ۔ ت)کے متعلق ہے :
وتفسیر المسخران ینصب القاضی وکیلا عن الغائب یسمع الخصومۃ علیہ وشرطہ عندالقائل بہ ان یکون الغائب فی ولایۃالقاضی ۔
اور مسخر کی تفسیر یہ ہے کہ قاضی کسی غائب شخص کی طرف سے کسی کو وکیل بنائے تاکہ وہ غائب کے خلاف الزامات کو سن سکے لیکن اس کے جواز کے قائل کے ہاں یہ شرط ہے کہ وہ غائب شخص اس قاضی کے علاقہ میں ہو۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید خود عرصہ تیرہ برس سے ملك افریقہ میں رہتاہے اس کی خوشدامن کہتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ فعل بد کیا ہے اس پر دو گواہ اس امر کے معائنہ کے ہیں کہ ایك کہتا ہے کہ میں نے بوقت دوپہر کے فلاں مقام میں دونوں کو عین مشغولی میں دیکھا دوسرا کہتا ہے کہ دونوں کو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے اس موضع کے کل لوگ ہر ایك مکان کے ایك دو آدمی جن کا مجموعہ ۵۰ نفر ہوتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ قرائن قاطعہ سے ہم لوگ جانتے ہیں کہ زید اور اس کی خوشدامن باہم بد معاش تھے اور ان کے ناجائز تعلق میں کوئی شك نہ تھا برابر دو برس تك دونوں کا باہم اختلاط اور انبساط رہا جب ان دو گواہوں نے ان کو ایسی کریہہ صورت میں دیکھا تب سے زید فرار کرگیا اور ایك دوسرے سے کہہ گیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ جو کہ اس خوشدامن کی دختر ہے میرے اوپر حرام ہے جس کوا س کا دل چاہے دے دے اس کی عورت اب عرصہ آٹھ دس برس سے جوان ہے اور خوردونوش وسکونت کی اس کو بہت تکلیف ہے اور غالب گمان ہے کہ کہیں حرامکاری میں مبتلا ہوجائے پس اگر کوئی عالم افقہ واورع ا س علاقہ کا بموجب عبارت حدیقہ ندیہ :
واذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور کلھا مفوضۃ الی العلماء یصیرون ولاۃ ۔
جب زمانہ موثر حکمران سے خالی ہوتو تمام فیصلہ طلب امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہ والی قرار پائیں گے۔ (ت)
کے اس غائب کے باپ کے روبرو یااس کی طرف سے کسی کو وکیل کرکے اس پر سمع دعوی وشہادت کرکے تفریق کا حکم دے دے تو درست ہوگا یا نہیں اور اگر درست ہے تو چونکہ غائب ولایت قاضی میں نہیں لہذا اس کی طرف سے مسخر پکڑنے کی کیا صورت ہوسکتی ہےشامی جلد ۴ ص ۳۵۳ میں باب القضاء میں وفی البحر والمعتمدان القضاء علی المسخر الخ(بحر میں ہے مسخر کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے متعلق قول الخ۔ ت)کے متعلق ہے :
وتفسیر المسخران ینصب القاضی وکیلا عن الغائب یسمع الخصومۃ علیہ وشرطہ عندالقائل بہ ان یکون الغائب فی ولایۃالقاضی ۔
اور مسخر کی تفسیر یہ ہے کہ قاضی کسی غائب شخص کی طرف سے کسی کو وکیل بنائے تاکہ وہ غائب کے خلاف الزامات کو سن سکے لیکن اس کے جواز کے قائل کے ہاں یہ شرط ہے کہ وہ غائب شخص اس قاضی کے علاقہ میں ہو۔ (ت)
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ الخ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۵۱
ردالمحتار فصل فی الحبس مطلب فی القضاء علی المسخر داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳۹
ردالمحتار فصل فی الحبس مطلب فی القضاء علی المسخر داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳۹
الجواب :
صورت مسطورہ اگر واقعی ہے تو اصلا نہ کسی قضا کی حاجت نہ تفریق کی ضرورت نہ مسخر درکار نہ قضا علی الغائب عورت کو اختیار ہے کہ فی الحال جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے یہ دو حال سے خالی نہیں۔ یہ حرمت مصاہرت یا تو نکاح دختر سے پہلے ہوئی یا بعد اگر پہلے ہوئی تونکاح سرے سے فاسد ومردود واقع ہوا عورت بذات خود اسے فسخ کرسکتی ہے اگر چہ شوہر کی غیبت میں کہ وہ معصیت ہے اور اعدام معصیت سب پر واجب کما حققنا ہ فیما علی ردالمحتار علقناہ(جیسا کہ ردالمحتار کے حاشیہ میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
(و)یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا من المعصیۃ فلاینافی وجوبہ ۔
اور دونوں مرد اور عورت کے لیے اس نکاح کو ایك دوسرے کی موجودگی کے بغیربھی فسخ کرنا جائزہے دخول کیاہو یا نہ کیا ہو اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے اور یہ بات قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ (ت)
اور اگر وہ حرمت مصاہرت بعد نکاح واقع ہوئی تو نکاح فاسد ہوگیا مگر بلا متارکہ فسخ نہ ہوگاا ور عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہ ہوگا اور یہ متارکہ صرف شوہر ہی کرسکتا ہے کما بینا وبہ وفقنا علی ابن عابدین علقنا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اور ردالمحتار کے حاشیہ میں ہمیں اس کی توفیق دی گئی۔ ت)درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخرا لابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطی بھالایکون زنا ۔
حرمت مصاہرت سے نکاح ختم نہیں ہوتا اس لیے عورت کو دوسرے شخص سے نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ کے بعد عدت نہ گزر جائے اس دوران خاوند کی اس سے وطی کو زنا کاحکم نہ دیا جائیگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
مبدؤھا(ای العدۃ)فی النکاح الفاسد بعد التفریق من القاضی بینھما اوالمتارکۃ
عدت کی ابتداء متارکہ یا قاضی کی تفریق کے بعد ہوگی متارکہ سے مراد خاوند کا مدخولہ بیوی سے علیحدگی کا اعلان
صورت مسطورہ اگر واقعی ہے تو اصلا نہ کسی قضا کی حاجت نہ تفریق کی ضرورت نہ مسخر درکار نہ قضا علی الغائب عورت کو اختیار ہے کہ فی الحال جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے یہ دو حال سے خالی نہیں۔ یہ حرمت مصاہرت یا تو نکاح دختر سے پہلے ہوئی یا بعد اگر پہلے ہوئی تونکاح سرے سے فاسد ومردود واقع ہوا عورت بذات خود اسے فسخ کرسکتی ہے اگر چہ شوہر کی غیبت میں کہ وہ معصیت ہے اور اعدام معصیت سب پر واجب کما حققنا ہ فیما علی ردالمحتار علقناہ(جیسا کہ ردالمحتار کے حاشیہ میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
(و)یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا من المعصیۃ فلاینافی وجوبہ ۔
اور دونوں مرد اور عورت کے لیے اس نکاح کو ایك دوسرے کی موجودگی کے بغیربھی فسخ کرنا جائزہے دخول کیاہو یا نہ کیا ہو اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے اور یہ بات قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ (ت)
اور اگر وہ حرمت مصاہرت بعد نکاح واقع ہوئی تو نکاح فاسد ہوگیا مگر بلا متارکہ فسخ نہ ہوگاا ور عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہ ہوگا اور یہ متارکہ صرف شوہر ہی کرسکتا ہے کما بینا وبہ وفقنا علی ابن عابدین علقنا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اور ردالمحتار کے حاشیہ میں ہمیں اس کی توفیق دی گئی۔ ت)درمختار میں ہے :
بحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخرا لابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطی بھالایکون زنا ۔
حرمت مصاہرت سے نکاح ختم نہیں ہوتا اس لیے عورت کو دوسرے شخص سے نکاح اس وقت تك جائز نہیں جب تك متارکہ کے بعد عدت نہ گزر جائے اس دوران خاوند کی اس سے وطی کو زنا کاحکم نہ دیا جائیگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
مبدؤھا(ای العدۃ)فی النکاح الفاسد بعد التفریق من القاضی بینھما اوالمتارکۃ
عدت کی ابتداء متارکہ یا قاضی کی تفریق کے بعد ہوگی متارکہ سے مراد خاوند کا مدخولہ بیوی سے علیحدگی کا اعلان
حوالہ / References
درمختار باب فی المہر مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ای اظہار العزم من الزوج علی ترك وطئھا لامجرد العزم لومدخولہ ۔
ہے صرف وطی کے ترك کا عزم کافی نہیں ہے۔ (ت)
یہاں تك کہ زید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ میرے اوپر حرام ہے جس کواس کا دل چاہے دے دے بالاتفاق متارکہ ہوگیا اور نکاح فسخ ہوگیا قضاء قاضی کی کچھ حاجت نہیں۔ نہ غیر مدخولہ کو عدت کی حاجت اس وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ : از قصبہ ایرانواں محلہ سادات ضلع فتحپور مرسلہ محمد رفیع صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فقیرے نے مسماۃ ببیا کا(جبکہ ا س کی گود میں مسماۃ حفیظن اس کی لڑکی دودھ پیتی تھی)اندر ایام رضاعت کے دودھ پیا اسی مسماۃ ببیا کے دوسری لڑکی مسماۃ فہیمن پیدا ہوئی اب فقیرے مذکور کا نکاح مسماۃ فہیمن کے ساتھ کیا گیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز اگر ناجائز ہے تو مسماۃ فہیمن کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور فہیمن کو فقیرے سے طلاق حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
ببیا کی اگلی پچھلی سب لڑکیاں فقیرے کی حقیقی بہنیں ہیں اور ان میں کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا حرام محض ہے اس پرفرض ہے فہیمن کو فوراچھوڑ دے اور وہ نہ چھوڑدے تو فہیمن پر فرض ہے کہ فورا اس فاسد نکاح کو فسخ کردے اور عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے درمختار میں ہے :
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرد وعورت ہر ایك کوفسخ کا حق حاصل ہے خواہ دوسرے کی موجودگی ہو یا نہ ہو دخول کیا ہو یا نہ اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے اور یہ بات قاضی پر وجوب تفریق کے منافی نہیں ہے(ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۹ : از موضع خورد مؤ ڈاك خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد فوت ہونے بیوی کے بیوی کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز
ہے صرف وطی کے ترك کا عزم کافی نہیں ہے۔ (ت)
یہاں تك کہ زید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ میرے اوپر حرام ہے جس کواس کا دل چاہے دے دے بالاتفاق متارکہ ہوگیا اور نکاح فسخ ہوگیا قضاء قاضی کی کچھ حاجت نہیں۔ نہ غیر مدخولہ کو عدت کی حاجت اس وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ : از قصبہ ایرانواں محلہ سادات ضلع فتحپور مرسلہ محمد رفیع صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فقیرے نے مسماۃ ببیا کا(جبکہ ا س کی گود میں مسماۃ حفیظن اس کی لڑکی دودھ پیتی تھی)اندر ایام رضاعت کے دودھ پیا اسی مسماۃ ببیا کے دوسری لڑکی مسماۃ فہیمن پیدا ہوئی اب فقیرے مذکور کا نکاح مسماۃ فہیمن کے ساتھ کیا گیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز اگر ناجائز ہے تو مسماۃ فہیمن کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور فہیمن کو فقیرے سے طلاق حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
ببیا کی اگلی پچھلی سب لڑکیاں فقیرے کی حقیقی بہنیں ہیں اور ان میں کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا حرام محض ہے اس پرفرض ہے فہیمن کو فوراچھوڑ دے اور وہ نہ چھوڑدے تو فہیمن پر فرض ہے کہ فورا اس فاسد نکاح کو فسخ کردے اور عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے درمختار میں ہے :
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرد وعورت ہر ایك کوفسخ کا حق حاصل ہے خواہ دوسرے کی موجودگی ہو یا نہ ہو دخول کیا ہو یا نہ اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے اور یہ بات قاضی پر وجوب تفریق کے منافی نہیں ہے(ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۹ : از موضع خورد مؤ ڈاك خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد فوت ہونے بیوی کے بیوی کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز
حوالہ / References
درمختار باب فی العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۸
درمختار باب فی المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
درمختار باب فی المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ہے یاناجائز اور لڑکے کے طلاق دینے پر لڑکے کے مرجانے پر بہو کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں
الجواب :
زوجہ کے مرنے پر اس کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز ہے قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور محرمات کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)اور بیٹا مرجائے خواہ طلاق دے دے اس کی زوجہ سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے قال تعالی : و حلآىل ابنآىكم اور تمھارے بیٹوں کی بیویاں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۰ : از پرسونہ پرگنہ بریلی مرسلہ شیخ کریم الله ومنشی الہ دین ومعین الدین وسعدی وشیخ مسیت زمیندار وبندو خاں وواحد مکھیا وغلامی ۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
جناب عالی! گزار ش ہے کہ مسمی میڈو نور باف نے نکاح کیاتھا اس کی بی بی کے ساتھ ایك لڑکی آئی تھی اس کے ساتھ مسمی میڈو مذکور نے حرکت ناشائستہ کی اور ایك لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اب اس کو علیحدہ کردیا ہے وہ اپنی خطا معاف کرانا چاہتاہے حضور پرنور اس امر میں کیا فتوی فرماتے ہیں فقط
الجواب :
اس کی عورت اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی اس پر فرض ہے کہ فورا اسے چھوڑ دے اور اب کبھی اس سے کسی طرح نکاح نہیں کرسکتا نہ کبھی کسی طرح اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہے اور بی بی ماں کی جگہ ہوگئی دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئیں دونوں کو فورا جدا کردے اور سچے دل سے تائب ہو اور نماز کی پوری پابندی کرے تو اسے ملالیں ورنہ ہمیشہ برادری سے خارج رکھیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱ : از پیران پٹن معرفت اسٹیشن میانہ محلہ قصاب واڑہ مرسلہ کمال بھائی یارو بھائی ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلا بکر کے دو فرزند ہیں ایك کانام زید ہے اور دوسرے کانام عمرو زید کا نکاح ہونے سے ایك دختر پیداہوئی جس کانام فاطمہ ہے اب فاطمہ کی شادی ہونے سے فاطمہ کے ایك دختر پیدا ہوئی جس کانام مریم ہے اب مریم کا نکاح عمرو کے ساتھ ازروئے شرع جائز ہے یا نہیں اور اس میں دودھ کا تعلق کس طرف سے اور کسی ذریعہ سے کسی کا بھی نہیں اور یہ جو دونوں فرزند
الجواب :
زوجہ کے مرنے پر اس کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز ہے قال الله تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اور محرمات کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)اور بیٹا مرجائے خواہ طلاق دے دے اس کی زوجہ سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے قال تعالی : و حلآىل ابنآىكم اور تمھارے بیٹوں کی بیویاں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۰ : از پرسونہ پرگنہ بریلی مرسلہ شیخ کریم الله ومنشی الہ دین ومعین الدین وسعدی وشیخ مسیت زمیندار وبندو خاں وواحد مکھیا وغلامی ۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
جناب عالی! گزار ش ہے کہ مسمی میڈو نور باف نے نکاح کیاتھا اس کی بی بی کے ساتھ ایك لڑکی آئی تھی اس کے ساتھ مسمی میڈو مذکور نے حرکت ناشائستہ کی اور ایك لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اب اس کو علیحدہ کردیا ہے وہ اپنی خطا معاف کرانا چاہتاہے حضور پرنور اس امر میں کیا فتوی فرماتے ہیں فقط
الجواب :
اس کی عورت اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی اس پر فرض ہے کہ فورا اسے چھوڑ دے اور اب کبھی اس سے کسی طرح نکاح نہیں کرسکتا نہ کبھی کسی طرح اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہے اور بی بی ماں کی جگہ ہوگئی دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئیں دونوں کو فورا جدا کردے اور سچے دل سے تائب ہو اور نماز کی پوری پابندی کرے تو اسے ملالیں ورنہ ہمیشہ برادری سے خارج رکھیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱ : از پیران پٹن معرفت اسٹیشن میانہ محلہ قصاب واڑہ مرسلہ کمال بھائی یارو بھائی ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلا بکر کے دو فرزند ہیں ایك کانام زید ہے اور دوسرے کانام عمرو زید کا نکاح ہونے سے ایك دختر پیداہوئی جس کانام فاطمہ ہے اب فاطمہ کی شادی ہونے سے فاطمہ کے ایك دختر پیدا ہوئی جس کانام مریم ہے اب مریم کا نکاح عمرو کے ساتھ ازروئے شرع جائز ہے یا نہیں اور اس میں دودھ کا تعلق کس طرف سے اور کسی ذریعہ سے کسی کا بھی نہیں اور یہ جو دونوں فرزند
بکر کے ہیں یعنی زید وعمرو ان دونوں کی والدہ الگ الگ ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
زید عمرو کا بھائی ہے۔ فاطمہ عمرو کی بھتیجی ہے مریم عمرو کی بھتیجی کی بیٹی ہے جیسے بھتیجی حرام ہے یونہی بھتیجی کی بیٹی حرام ہے بھتیجی بیٹی ہے اور بھتیجی کی بیٹی نواسی عمرو مریم کا نانا ہے نانا کے لیے نواسی کیسے حلال ہوسکتی ہے قال الله تعالی :
و بنت الاخ تم پر بھائی کی بیٹیاں حرام ہیں۔ بیٹیوں میں نواسیاں پوتیاں بھی داخل ہیں جیسے فرمایا : حرمت علیكم امهتكم و بنتكم تم پر حرام ہیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں۔ بیٹیوں میں نواسی پوتی داخل نہ ہوں
توآدمی پر خود اس کی پوتی نواسی کہاں سے حرام ہوگی کہ قرآن مجید میں تو بیٹیاں حرام فرمائیں اور یہ محرمات گنا کر فرمایا :
و احل لكم ما ورآء ذلكم
ان کے سوا اور جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں۔
بالجملہ بھائی کی نواسی حرام ہونے سے انکار قرآن واسلام سے انکار ہے نقایہ میں ہے :
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرعہ اصلہ القریب الخ۔
مردپر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب یعنی ماں باپ کے فروع حرام ہیں۔ الخ(ت)
جامع الرموز میں ہے :
من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنات الاخوۃ وان بعدت ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
سگی بہنیں یا ماں یاباپ کی طرف سے بہنیں اور بھتیجیاں نیچے تک۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲ : از شہر بریلی سبزی منڈی مسئولہ کبیر احمد میاں ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی نواسی زوجہ اول سے اور زید کا لڑکا زوجہ ثانیہ سے جس کو ایك شخص غیر نے پالا ہے کیا پسر زید زید کی نواسی کی لڑکی سے عقد کرسکتا ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
حرام ہے وہ اس کی بھانجی کی بیٹی ہے اس کی نواسی کی جگہ ہے والله تعالی اعلم۔
الجواب :
زید عمرو کا بھائی ہے۔ فاطمہ عمرو کی بھتیجی ہے مریم عمرو کی بھتیجی کی بیٹی ہے جیسے بھتیجی حرام ہے یونہی بھتیجی کی بیٹی حرام ہے بھتیجی بیٹی ہے اور بھتیجی کی بیٹی نواسی عمرو مریم کا نانا ہے نانا کے لیے نواسی کیسے حلال ہوسکتی ہے قال الله تعالی :
و بنت الاخ تم پر بھائی کی بیٹیاں حرام ہیں۔ بیٹیوں میں نواسیاں پوتیاں بھی داخل ہیں جیسے فرمایا : حرمت علیكم امهتكم و بنتكم تم پر حرام ہیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں۔ بیٹیوں میں نواسی پوتی داخل نہ ہوں
توآدمی پر خود اس کی پوتی نواسی کہاں سے حرام ہوگی کہ قرآن مجید میں تو بیٹیاں حرام فرمائیں اور یہ محرمات گنا کر فرمایا :
و احل لكم ما ورآء ذلكم
ان کے سوا اور جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں۔
بالجملہ بھائی کی نواسی حرام ہونے سے انکار قرآن واسلام سے انکار ہے نقایہ میں ہے :
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرعہ اصلہ القریب الخ۔
مردپر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب یعنی ماں باپ کے فروع حرام ہیں۔ الخ(ت)
جامع الرموز میں ہے :
من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنات الاخوۃ وان بعدت ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
سگی بہنیں یا ماں یاباپ کی طرف سے بہنیں اور بھتیجیاں نیچے تک۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲ : از شہر بریلی سبزی منڈی مسئولہ کبیر احمد میاں ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی نواسی زوجہ اول سے اور زید کا لڑکا زوجہ ثانیہ سے جس کو ایك شخص غیر نے پالا ہے کیا پسر زید زید کی نواسی کی لڑکی سے عقد کرسکتا ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
حرام ہے وہ اس کی بھانجی کی بیٹی ہے اس کی نواسی کی جگہ ہے والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۴
مختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایہ کتاب النکاح نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
جامع الرموز کتاب النکاح مکتبۃ الاسلام گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۹
القرآن الکریم ۴ /۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۴
مختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایہ کتاب النکاح نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
جامع الرموز کتاب النکاح مکتبۃ الاسلام گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۴۹
مسئلہ ۲۶۳ : از فتح پور محلہ سید واڑہ مرسلہ نور خاں محرر محمد یار خاں وکیل ہائی کورٹ ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور بکر دونوں کی عورتیں رشتہ میں سگی بہنیں تھیں زید کی بی بی کے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں منجملہ ان کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی مر گئی اور ایك لڑکی بیوہ موجود ہے اور بکر کی بی بی کا ایك لڑکا بن بیاہا موجود ہے اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ جب زید کا پہلا لڑکا پیدا ہواہے تو بکر کے اس لڑکے نے اپنی خالہ یعنی زید کی بی بی کا دودھ پیا تھا بعدا س کے تین اولاد کے بعد زید کی یہ لڑکی پیدا ہوئی جواس وقت بیوہ موجود ہے اس سے بکر کے کنوارے لڑکے کا نکاح درست ہے یا ہوسکتا ہے جبکہ بکر کے بیٹے نے زید کی بی بی کادودھ پیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ زید کی بی بی کا دودھ بکر کے بیٹے نے پیاہے اور زید کی بیٹی یہ اس دودھ شریکی بھائی کی تیسری اولاد کے بعد پیدا ہوئی ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
ان دونوں کا نکاح حرام قطعی ہے وہ آپس میں سگے بھائی بہن ہیں تین یا تیس اولاد کے بعد اس لڑکی کا پیدا ہونا زید کی بی بی کو بکر کے بیٹے کے ماں باپ ہونے سے خارج نہ کرے گا۔ نہ ان کی کسی اولاد کو پسر بکرکے بھائی بہن ہونے سے قال الله تعالی : و اخوتكم من الرضاعة (اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۴ : از نواب گنج بریلی مرسلہ سید نثار حسین صاحب ۱۵ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
زید کی زوجہ ہندہ کی ہمشیرہ زاہدہ ہے زاہدہ کے زید سے بلا نکاح لڑکا پیداہوا ہندہ کے ساتھ زید کا نکاح رہایا نہیںاور زاہدہ کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب
ہندہ بدستور اس کے نکاح میں ہے سالی کے ساتھ زنا حرام مگر عورت کو حرام نہیں کرتا زاہدہ سے جب تك ہندہ اس کے نکاح میں ہے نکاح نہیں کرسکتا اگر ہندہ مرجائے توا سی وقت یا یہ اسے طلاق دے دے تو عدت گزرنے پر زاہدہ سے نکاح کرسکے گا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۵ : از لاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ مولوی احمد الدین صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
زید نے ہندہ سے نکاح کیا بحالت نابالغی ہندہ زید نے اس سے وطی کی بعد وطی ہندہ کو طلاق دے دی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور بکر دونوں کی عورتیں رشتہ میں سگی بہنیں تھیں زید کی بی بی کے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں منجملہ ان کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی مر گئی اور ایك لڑکی بیوہ موجود ہے اور بکر کی بی بی کا ایك لڑکا بن بیاہا موجود ہے اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ جب زید کا پہلا لڑکا پیدا ہواہے تو بکر کے اس لڑکے نے اپنی خالہ یعنی زید کی بی بی کا دودھ پیا تھا بعدا س کے تین اولاد کے بعد زید کی یہ لڑکی پیدا ہوئی جواس وقت بیوہ موجود ہے اس سے بکر کے کنوارے لڑکے کا نکاح درست ہے یا ہوسکتا ہے جبکہ بکر کے بیٹے نے زید کی بی بی کادودھ پیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ زید کی بی بی کا دودھ بکر کے بیٹے نے پیاہے اور زید کی بیٹی یہ اس دودھ شریکی بھائی کی تیسری اولاد کے بعد پیدا ہوئی ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
ان دونوں کا نکاح حرام قطعی ہے وہ آپس میں سگے بھائی بہن ہیں تین یا تیس اولاد کے بعد اس لڑکی کا پیدا ہونا زید کی بی بی کو بکر کے بیٹے کے ماں باپ ہونے سے خارج نہ کرے گا۔ نہ ان کی کسی اولاد کو پسر بکرکے بھائی بہن ہونے سے قال الله تعالی : و اخوتكم من الرضاعة (اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۴ : از نواب گنج بریلی مرسلہ سید نثار حسین صاحب ۱۵ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
زید کی زوجہ ہندہ کی ہمشیرہ زاہدہ ہے زاہدہ کے زید سے بلا نکاح لڑکا پیداہوا ہندہ کے ساتھ زید کا نکاح رہایا نہیںاور زاہدہ کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب
ہندہ بدستور اس کے نکاح میں ہے سالی کے ساتھ زنا حرام مگر عورت کو حرام نہیں کرتا زاہدہ سے جب تك ہندہ اس کے نکاح میں ہے نکاح نہیں کرسکتا اگر ہندہ مرجائے توا سی وقت یا یہ اسے طلاق دے دے تو عدت گزرنے پر زاہدہ سے نکاح کرسکے گا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۵ : از لاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ مولوی احمد الدین صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
زید نے ہندہ سے نکاح کیا بحالت نابالغی ہندہ زید نے اس سے وطی کی بعد وطی ہندہ کو طلاق دے دی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۳
اس نے عمرو سے نکاح کیا عمرو سے ہندہ کے لڑکی پیداہوئی تویہ لڑکی زید پر حرام ہے یا نہیں ماں سے محض نکاح بیٹی کو حرام کرتا ہے یا نہیں یونہی بیٹی سے نکاح ماں کو دونوں میں وطی شرط حرمت ہے یا نہیں اور وطی کے لیے کیا بلوغ مدخولہ شرط ہے بینوا تو جروا
الجواب :
شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ بیٹی سے مجرد نکاح ماں کو حرام ابدی کرتا ہے وطی کی شرط نہیں قال تعالی : و امهت نسآىكم (تمھاری بیویوں کی مائیں۔ ت) اور وطی ہو تو بدرجہ اولی نکاحا ہوتو بالاجماع اوربلانکاح ہو تو ہمارے نزدیك اور ماں سے مجر د نکاح بیٹی کو حرام نہیں کرتا جب تك وطی نہ ہو قال تعالی :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم-
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمھاری پرورش میں ہیں ا ور اگر تم نے بیویوں سے دخول نہ کیا تو تم پر ممانعت نہیں۔ (ت)
ہاں اگر وطی ہو تو تحریم لائے گی اسی تفصیل پر کہ نکاح میں بالاجماع اور بلا نکاح ہمارے نزدیك تو وہ صغیرہ نابالغہ جس سے زید نے صحبت کی پھر طلاق دے دی اور اس نے دوسرے سے نکاح کیا اور اس سے اس عورت کے بیٹی پیدا ہوئی یہ بیٹی قطعا شوہر اول پر حرام ہے کہ جب صحبت کی “ دخلتم بھن “ صادق آگیا بلوغ کی شرط نہیں۔ ہاں اگر صغیرہ چارپانچ برس کی ہو جہاں ایلاج حشفہ ممکن نہ ہو تو البتہ حرمت نہ ہوگی کہ صحبت نہ ہوگی اور مدخولہ کی ماں مطلقا حرام ہے خواہ مدخولہ بالحلال ہویا بالحرام اور زوجہ کی والدہ ابدا اپنی ماں کی طرح ہے زوجہ کے مرنے یا طلاق ہوکر عدت گزرنے کے بعد بھی کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۶ : از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ علاوہ چچی وپھوپھی وممانی ودادی ونانی و والدہ وغیر ہ کے رشتہ داروں میں کسی عورت سے نکاح جائز ہے بینوا تو جروا
الجواب :
چچی اور ممانی سے بھی نکاح جائز ہے نسبی رشتوں میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں
ایك وہ کہ یہ جن کی اولاد سے ہے جیسے ماں دادی نانی کتنے ہی اوپر کی ہوں۔
دوسری وہ جو اس کی اولاد ہیں جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنے ہی نیچے کی ہوں۔
تیسری وہ جو اس کے ماں یاباپ کی اولاد خواہ اولاد در اولاد جیسے بہن بھانجی بھتیجی اور ان کی
الجواب :
شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ بیٹی سے مجرد نکاح ماں کو حرام ابدی کرتا ہے وطی کی شرط نہیں قال تعالی : و امهت نسآىكم (تمھاری بیویوں کی مائیں۔ ت) اور وطی ہو تو بدرجہ اولی نکاحا ہوتو بالاجماع اوربلانکاح ہو تو ہمارے نزدیك اور ماں سے مجر د نکاح بیٹی کو حرام نہیں کرتا جب تك وطی نہ ہو قال تعالی :
و ربآىبكم التی فی حجوركم من نسآىكم التی دخلتم بهن-فان لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح علیكم-
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمھاری پرورش میں ہیں ا ور اگر تم نے بیویوں سے دخول نہ کیا تو تم پر ممانعت نہیں۔ (ت)
ہاں اگر وطی ہو تو تحریم لائے گی اسی تفصیل پر کہ نکاح میں بالاجماع اور بلا نکاح ہمارے نزدیك تو وہ صغیرہ نابالغہ جس سے زید نے صحبت کی پھر طلاق دے دی اور اس نے دوسرے سے نکاح کیا اور اس سے اس عورت کے بیٹی پیدا ہوئی یہ بیٹی قطعا شوہر اول پر حرام ہے کہ جب صحبت کی “ دخلتم بھن “ صادق آگیا بلوغ کی شرط نہیں۔ ہاں اگر صغیرہ چارپانچ برس کی ہو جہاں ایلاج حشفہ ممکن نہ ہو تو البتہ حرمت نہ ہوگی کہ صحبت نہ ہوگی اور مدخولہ کی ماں مطلقا حرام ہے خواہ مدخولہ بالحلال ہویا بالحرام اور زوجہ کی والدہ ابدا اپنی ماں کی طرح ہے زوجہ کے مرنے یا طلاق ہوکر عدت گزرنے کے بعد بھی کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۶ : از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ علاوہ چچی وپھوپھی وممانی ودادی ونانی و والدہ وغیر ہ کے رشتہ داروں میں کسی عورت سے نکاح جائز ہے بینوا تو جروا
الجواب :
چچی اور ممانی سے بھی نکاح جائز ہے نسبی رشتوں میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں
ایك وہ کہ یہ جن کی اولاد سے ہے جیسے ماں دادی نانی کتنے ہی اوپر کی ہوں۔
دوسری وہ جو اس کی اولاد ہیں جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنے ہی نیچے کی ہوں۔
تیسری وہ جو اس کے ماں یاباپ کی اولاد خواہ اولاد در اولاد جیسے بہن بھانجی بھتیجی اور ان کی
اور بھائیوں بھتیجوں کی اولاد کتنی ہی دور ہوں۔
چوتھی وہ کہ ماں باپ کے سوا اور جن کی اولاد سے یہ شخص ہے جیسے دادا دادی نانا نانی کتنے ہی اوپرکے ہوں ان کی خاص اپنی اولاد جیسے اپنی پھوپھی خالہ یا اپنے ماں یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی کی پھوپھی خالہ ان لوگوں کی اولاد کی اولاد حرام نہیں جیسے پھوپھی کی بیٹی یا خالہ کی بیٹی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷ : از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواری لڑکی کا حمل زید سے رہ گیا اس کے والدین نے عمرو کے ساتھ نکاح کردیا اب علمائے دین کی خدمت بابرکت میں استغاثہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ جس کا نطفہ ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عمرو کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔
الجواب :
نکاح عمرو سے بھی جائز ہے مگر عمروکو اس کے پاس جانا منع ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے یہ اس صورت میں ہے کہ حمل زنا کا ہو اور اگر زنا نہ ہوابلکہ شبہہ اور دھوکے سے زید اس کے ساتھ ہمبستر ہوا تو بیشك جب تك بچہ نہ ہولے دوسرے سے نکاح جائز نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا پھر اس کی بہن کو بھی گھر میں ڈال لیا اب زید کا ہندہ سے وطی کرنا کیسا ہے اور دونوں بہنوں کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر دوسری کو بلانکاح گھرمیں ڈال لیا تو پہلی سے وطی بدستور جائز ہے اس سے جو اولاد ہوگی اولاد حلال ہے اور اس دوسری سے صحبت حرام وزنا ہے اس سے جو اولاد ہوگی ولدالزنا ہوگی اور اگر دوسری سے بھی نکاح کرلیا تو جب تك اسے ہاتھ نہ لگایا پہلی سے وطی حلال ہے۔ لیکن جس وقت اس دوسری کو ہاتھ لگائے گا پہلی سے قربت بھی حرام ہوجائے گی جب تك اس دوسری کو چھوڑے اورا س کی عدت گزرے اس وقت تك پہلی حرام ہے اس صورت میں دونوں عورتوں سے اس کے بعد جو اولاد ہوگی اگرچہ اسی کی ٹھہرے گی ولدالزنا نہ ہوگی مگر ولدالحرام ہوگی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹ : ۳ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
زید کے والد نے زید کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا عورت نے زید سے کہہ دیا اس پر زید نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جس کو عرصہ تین ماہ کا ہوگیا اس کے بعد زید سے عورت نے کہا کہ تم نے مجھ پر تہمت رکھا تھا اس لیے
چوتھی وہ کہ ماں باپ کے سوا اور جن کی اولاد سے یہ شخص ہے جیسے دادا دادی نانا نانی کتنے ہی اوپرکے ہوں ان کی خاص اپنی اولاد جیسے اپنی پھوپھی خالہ یا اپنے ماں یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی کی پھوپھی خالہ ان لوگوں کی اولاد کی اولاد حرام نہیں جیسے پھوپھی کی بیٹی یا خالہ کی بیٹی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷ : از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواری لڑکی کا حمل زید سے رہ گیا اس کے والدین نے عمرو کے ساتھ نکاح کردیا اب علمائے دین کی خدمت بابرکت میں استغاثہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ جس کا نطفہ ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عمرو کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔
الجواب :
نکاح عمرو سے بھی جائز ہے مگر عمروکو اس کے پاس جانا منع ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہولے یہ اس صورت میں ہے کہ حمل زنا کا ہو اور اگر زنا نہ ہوابلکہ شبہہ اور دھوکے سے زید اس کے ساتھ ہمبستر ہوا تو بیشك جب تك بچہ نہ ہولے دوسرے سے نکاح جائز نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا پھر اس کی بہن کو بھی گھر میں ڈال لیا اب زید کا ہندہ سے وطی کرنا کیسا ہے اور دونوں بہنوں کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر دوسری کو بلانکاح گھرمیں ڈال لیا تو پہلی سے وطی بدستور جائز ہے اس سے جو اولاد ہوگی اولاد حلال ہے اور اس دوسری سے صحبت حرام وزنا ہے اس سے جو اولاد ہوگی ولدالزنا ہوگی اور اگر دوسری سے بھی نکاح کرلیا تو جب تك اسے ہاتھ نہ لگایا پہلی سے وطی حلال ہے۔ لیکن جس وقت اس دوسری کو ہاتھ لگائے گا پہلی سے قربت بھی حرام ہوجائے گی جب تك اس دوسری کو چھوڑے اورا س کی عدت گزرے اس وقت تك پہلی حرام ہے اس صورت میں دونوں عورتوں سے اس کے بعد جو اولاد ہوگی اگرچہ اسی کی ٹھہرے گی ولدالزنا نہ ہوگی مگر ولدالحرام ہوگی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹ : ۳ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
زید کے والد نے زید کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا عورت نے زید سے کہہ دیا اس پر زید نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جس کو عرصہ تین ماہ کا ہوگیا اس کے بعد زید سے عورت نے کہا کہ تم نے مجھ پر تہمت رکھا تھا اس لیے
میں نے یہ غلط بات بیان کی زید نے عورت کو طلاق دی اب وہ اپنی اس عورت کو نکاح میں رکھ سکتا ہے
الجواب :
اگر زید نے صرف عورت کے بیان پر اس کو طلاق دے دی تو طلاق ہوگئی مگر ہمیشہ کے لیے اس کا زید پر حرام ہونا ثابت نہ ہوا۔ جب تك زید خود اس کی تصدیق نہ کرے لیکن سائل نے بیان کیا کہ زید نے تین طلاقیں دیں زید گنہ گار ہوا اور عورت سے اب بغیر حلالہ کے نکاح نہیں کرسکتا یوں اسے رکھے گا تو حرام ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ : مرسلہ قاضی محمد ابراہیم وقاضی نیاز الدین صاحبان صدیقی صابون فروش سنیہ دروازہ اندر جھانسی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : ایسی عورتیں جو آوارہ ہیں بے پردہ رہتی ہیں کھلے بندوں چلتی پھرتی ہیں۔ زنا بھی ان سے ثابت ہو اور حمل بھی گرائے گئے ہوں یا طوائف وغیرہ۔ تو ایسی عورتوں کا نکاح بلااستبراء رحم جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا خدا آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
الجواب :
اگر وہ کسی کی منکوحہ نہیں تو بلااستبراء رحم بلکہ خاص حالت زنا میں اس سے نکاح جائز ہے مگر حمل خودا س ناکح کا نہ ہو تو اسے قربت جائزنہیں جب تك وضع حمل نہ ہوجائے لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ درمختار (تاکہ اس کا پانی دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ درمختار۔ ت)
مسئلہ ۲۷۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں :
ایك شخص نے اپنے حقیقی بیٹے کی بی بی سے زنا کیا اور عورت اس کی مقر ہے مرد یعنی جس نے زنا کیا اس کو تمام برادری کے لوگوں نے علیحدہ کردیا اس سے بات چیت سب بندہے سلام وغیرہ سب لوگ نہیں کرتے اور مرد زانی نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار بلکہ جب لوگ کہتے ہیں کہ تونے بڑا بھاری گناہ کیا تو کہتا ہے کہ خطا ہوئی کیا کریں دریافت طلب یہ امر ہے کہ عورت کیا اب خاوند اصلی کے پاس رہ سکتی ہے اور اس کے لیے حلال ہے یا کہ دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور کیا اس عورت کو خاوند سے طلاق لینے کی بھی ضرورت ہے اور کیا جب تك وہ طلاق نہ دے اس وقت تك غیر سے نکاح نہیں کرسکتی اور بعض مولوی صاحب کہتے ہیں کہ بلاطلاق دئیے غیر سے نکاح نہیں کرسکتی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ طلاق کی ضرورت نہیں وہ عورت اپنے خاوند اصلی کے لیے حرام ہوگئی اور کیا یہ عورت مہر لے سکتی ہے
الجواب :
اگر زید نے صرف عورت کے بیان پر اس کو طلاق دے دی تو طلاق ہوگئی مگر ہمیشہ کے لیے اس کا زید پر حرام ہونا ثابت نہ ہوا۔ جب تك زید خود اس کی تصدیق نہ کرے لیکن سائل نے بیان کیا کہ زید نے تین طلاقیں دیں زید گنہ گار ہوا اور عورت سے اب بغیر حلالہ کے نکاح نہیں کرسکتا یوں اسے رکھے گا تو حرام ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ : مرسلہ قاضی محمد ابراہیم وقاضی نیاز الدین صاحبان صدیقی صابون فروش سنیہ دروازہ اندر جھانسی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : ایسی عورتیں جو آوارہ ہیں بے پردہ رہتی ہیں کھلے بندوں چلتی پھرتی ہیں۔ زنا بھی ان سے ثابت ہو اور حمل بھی گرائے گئے ہوں یا طوائف وغیرہ۔ تو ایسی عورتوں کا نکاح بلااستبراء رحم جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا خدا آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
الجواب :
اگر وہ کسی کی منکوحہ نہیں تو بلااستبراء رحم بلکہ خاص حالت زنا میں اس سے نکاح جائز ہے مگر حمل خودا س ناکح کا نہ ہو تو اسے قربت جائزنہیں جب تك وضع حمل نہ ہوجائے لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ درمختار (تاکہ اس کا پانی دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ درمختار۔ ت)
مسئلہ ۲۷۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں :
ایك شخص نے اپنے حقیقی بیٹے کی بی بی سے زنا کیا اور عورت اس کی مقر ہے مرد یعنی جس نے زنا کیا اس کو تمام برادری کے لوگوں نے علیحدہ کردیا اس سے بات چیت سب بندہے سلام وغیرہ سب لوگ نہیں کرتے اور مرد زانی نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار بلکہ جب لوگ کہتے ہیں کہ تونے بڑا بھاری گناہ کیا تو کہتا ہے کہ خطا ہوئی کیا کریں دریافت طلب یہ امر ہے کہ عورت کیا اب خاوند اصلی کے پاس رہ سکتی ہے اور اس کے لیے حلال ہے یا کہ دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور کیا اس عورت کو خاوند سے طلاق لینے کی بھی ضرورت ہے اور کیا جب تك وہ طلاق نہ دے اس وقت تك غیر سے نکاح نہیں کرسکتی اور بعض مولوی صاحب کہتے ہیں کہ بلاطلاق دئیے غیر سے نکاح نہیں کرسکتی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ طلاق کی ضرورت نہیں وہ عورت اپنے خاوند اصلی کے لیے حرام ہوگئی اور کیا یہ عورت مہر لے سکتی ہے
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۹
الجواب :
شوہر اگرمانتا ہے کہ ایسا ہوا تو عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی کسی حیلہ سے اس کی زوجیت میں نہیں آسکتی اس پر فرض ہے کہ اسے فورا جدا کردے متارکہ کرے مثلا کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا بے اس کے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی اس لیے زیادہ طلاق کی بھی حاجت نہیں اور اگر شوہر کو امر مذکور کا وقوع تسلیم نہیں تو صرف عورت کے کہنے سے ثبوت نہیں ہوسکتا اگر شوہر نے طلاق نہ دی وہ اس کی عورت ہے اور دی تو جیسی طلاق دی ویسا حکم اگر تین طلاقیں دیں تو بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ رہا مہر وہ تمام صورتوں میں مطلقا لازم ہے مہر متاخر میں عورت کو لینے کا اختیاربعد متارکہ یا طلاق یا موت ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۲ : از مقام اکلترہ ضلع بلاسپور مسئولہ حامد علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے زنا کیا اب کیا یہ بیوی اپنے اصلی شوہر جو کہ زانی کا لڑکا ہے پاس رہ سکتی ہے اور اگر نہیں رہ سکتی تو دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور شوہر اول سے مہر لینے کی مستحق ہے کہ نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
یہ کہ زنا کیا جھوٹ بك دینے سے ثابت نہیں ہوسکتا اس کے لیے چار شاہد چاہئیں بغیر اس کے زید کا باپ اگر اقرار بھی کرے اور زید باور نہ کرے تو اس کا اقرار زید پرحجت نہیں۔ ہاں اگر شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے یا زید اس کی تصدیق کرے تو عورت زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی مگر ابھی نکاح سے نہ نکلی دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی جب تك زید اسے نہ چھوڑے اورا س صورت میں زید پر فرض ہوگا کہ فورا اسے چھوڑ دے اس کے بعد عورت عدت کرے بعد عدت سوائے زید کے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے زید پر اس کامہر بہرحال لازم ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳ : از کولمبوسیلون مسئولہ عبدالقادر صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشتہ داروں کی کن کن عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور کن کن سے ناجائز مفصل تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
وہ شخص جن کی اولاد میں ہے جیسے باپ دادا نانا جو اس کی اولاد میں ہو جیسے بیٹا پوتا نواسا ان کی بیبیوں سے نکاح حرام ہے اور خسر کی بی بی سے بھی حرام ہے جبکہ وہ اپنی زوجہ کی حقیقی ماں ہو باقی رشتہ داروں کی بیبیوں سے ان کی موت یا طلاق وانقضائے عدت کے بعد نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
شوہر اگرمانتا ہے کہ ایسا ہوا تو عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی کسی حیلہ سے اس کی زوجیت میں نہیں آسکتی اس پر فرض ہے کہ اسے فورا جدا کردے متارکہ کرے مثلا کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا بے اس کے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی اس لیے زیادہ طلاق کی بھی حاجت نہیں اور اگر شوہر کو امر مذکور کا وقوع تسلیم نہیں تو صرف عورت کے کہنے سے ثبوت نہیں ہوسکتا اگر شوہر نے طلاق نہ دی وہ اس کی عورت ہے اور دی تو جیسی طلاق دی ویسا حکم اگر تین طلاقیں دیں تو بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ رہا مہر وہ تمام صورتوں میں مطلقا لازم ہے مہر متاخر میں عورت کو لینے کا اختیاربعد متارکہ یا طلاق یا موت ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۲ : از مقام اکلترہ ضلع بلاسپور مسئولہ حامد علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے زنا کیا اب کیا یہ بیوی اپنے اصلی شوہر جو کہ زانی کا لڑکا ہے پاس رہ سکتی ہے اور اگر نہیں رہ سکتی تو دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور شوہر اول سے مہر لینے کی مستحق ہے کہ نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
یہ کہ زنا کیا جھوٹ بك دینے سے ثابت نہیں ہوسکتا اس کے لیے چار شاہد چاہئیں بغیر اس کے زید کا باپ اگر اقرار بھی کرے اور زید باور نہ کرے تو اس کا اقرار زید پرحجت نہیں۔ ہاں اگر شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے یا زید اس کی تصدیق کرے تو عورت زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی مگر ابھی نکاح سے نہ نکلی دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی جب تك زید اسے نہ چھوڑے اورا س صورت میں زید پر فرض ہوگا کہ فورا اسے چھوڑ دے اس کے بعد عورت عدت کرے بعد عدت سوائے زید کے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے زید پر اس کامہر بہرحال لازم ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳ : از کولمبوسیلون مسئولہ عبدالقادر صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشتہ داروں کی کن کن عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور کن کن سے ناجائز مفصل تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
وہ شخص جن کی اولاد میں ہے جیسے باپ دادا نانا جو اس کی اولاد میں ہو جیسے بیٹا پوتا نواسا ان کی بیبیوں سے نکاح حرام ہے اور خسر کی بی بی سے بھی حرام ہے جبکہ وہ اپنی زوجہ کی حقیقی ماں ہو باقی رشتہ داروں کی بیبیوں سے ان کی موت یا طلاق وانقضائے عدت کے بعد نکاح جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴ تا ۲۷۶ : از کوہ رانی کھیت کوٹھی انجینئر اسپیل مرسلہ غلام محمد صاحب ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
(۱)شیعہ مذہب کا نکاح سنی مذہب کی لڑکی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں لڑکا اور اس کا باپ شہادت دلاتے ہیں کہ ہم سنی مذہب ہیں اور اگر تم شیعہ سمجھتے ہو تو اپنے دل کے اطمینان کے واسطے ہمیں سنی مذہب کرلو اور جوا ن کے ہم وطن ہیں وہ کہتے ہیں ہم لوگ شیعہ ہیں اور ان کے گاؤں میں سنی مذہب رہتے ہیں اور ان کے خاندان سے واقف ہیں کہ یہ سنی مذہب ہیں اس پر یہاں کے مسلمان کہتے ہیں کہ انھیں ہم نے ہمیشہ شیعہ مذہب کا برتاوکرتے دیکھا اور بعض مسلمان کہتے ہیں کہ ہم اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ لڑکے شیعہ مذہب میں نہیں ہیں اور ان کے والد کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔
(۲)اور دو شخص نے یہ کہا کہ لڑکی کا باپ اور لڑکے کی ماں کچھ تعلق رکھتے ہیں اس پر لڑکی کے باپ نے قرآن شریف لاکر کہا کہ اس کو اٹھاؤ وہ انکار کیا اور چلا گیا اور کوئی ثبوت نہ ہوا۔
(۳)جب برات گئی اور لڑکی کا بھائی مولانا صاحب کے پاس گیا کہ نکاح پڑھانے کو آئیں گے یا نہیں تو انھوں نے کہا میں نہیں جاؤں گا تو کون آئے گا نکاح کے وقت وہ نہیں آئے اور کہا کہ جو کوئی ان کا نکاح پڑھائے گا اس کی عورت کو طلاق ہوجائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)رافضیوں میں تقیہ ہے بے حاجت بھی تقیہ کرتے ہیں۔ حاجت کے وقت کا کیا اعتبار اور اشتباہ مٹانے کی کیا صورت کہ تقیہ وہ ملعون چیزہے جس کا کرنے والا سب کچھ کہہ لے گا۔ خالص اسلام بولے اور دل میں کفر بھرا ہوگا۔ رافضیوں کی شہادت کہ یہ سنی ہے کیا معتبرہوسکتی ہے رافضی کی گواہی کچھ معتبرنہیں لاایمان لھم(ان کا ایمان ہی نہیں۔ ت)بعض مسلمانوں کی گواہی کہ یہ شیعہ نہیں اور مسلمانوں کی شہادت کہ انھیں شیعی برتاؤ کرتے دیکھا یہ شہادت اثبات ہے اور وہ شہادت نفی جو مقبول نہیں۔ لہذایہ نکاح ہر گز نہ کیا جائے۔ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل (حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
(۲)ایسے خیالی بیانوں سے ناجائز تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ والله تعالی اعلم۔
(۳)اس کے رافضی ہونے کے سبب جس نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا بہت اچھا کیا اور وہ حکم
(۱)شیعہ مذہب کا نکاح سنی مذہب کی لڑکی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں لڑکا اور اس کا باپ شہادت دلاتے ہیں کہ ہم سنی مذہب ہیں اور اگر تم شیعہ سمجھتے ہو تو اپنے دل کے اطمینان کے واسطے ہمیں سنی مذہب کرلو اور جوا ن کے ہم وطن ہیں وہ کہتے ہیں ہم لوگ شیعہ ہیں اور ان کے گاؤں میں سنی مذہب رہتے ہیں اور ان کے خاندان سے واقف ہیں کہ یہ سنی مذہب ہیں اس پر یہاں کے مسلمان کہتے ہیں کہ انھیں ہم نے ہمیشہ شیعہ مذہب کا برتاوکرتے دیکھا اور بعض مسلمان کہتے ہیں کہ ہم اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ لڑکے شیعہ مذہب میں نہیں ہیں اور ان کے والد کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔
(۲)اور دو شخص نے یہ کہا کہ لڑکی کا باپ اور لڑکے کی ماں کچھ تعلق رکھتے ہیں اس پر لڑکی کے باپ نے قرآن شریف لاکر کہا کہ اس کو اٹھاؤ وہ انکار کیا اور چلا گیا اور کوئی ثبوت نہ ہوا۔
(۳)جب برات گئی اور لڑکی کا بھائی مولانا صاحب کے پاس گیا کہ نکاح پڑھانے کو آئیں گے یا نہیں تو انھوں نے کہا میں نہیں جاؤں گا تو کون آئے گا نکاح کے وقت وہ نہیں آئے اور کہا کہ جو کوئی ان کا نکاح پڑھائے گا اس کی عورت کو طلاق ہوجائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)رافضیوں میں تقیہ ہے بے حاجت بھی تقیہ کرتے ہیں۔ حاجت کے وقت کا کیا اعتبار اور اشتباہ مٹانے کی کیا صورت کہ تقیہ وہ ملعون چیزہے جس کا کرنے والا سب کچھ کہہ لے گا۔ خالص اسلام بولے اور دل میں کفر بھرا ہوگا۔ رافضیوں کی شہادت کہ یہ سنی ہے کیا معتبرہوسکتی ہے رافضی کی گواہی کچھ معتبرنہیں لاایمان لھم(ان کا ایمان ہی نہیں۔ ت)بعض مسلمانوں کی گواہی کہ یہ شیعہ نہیں اور مسلمانوں کی شہادت کہ انھیں شیعی برتاؤ کرتے دیکھا یہ شہادت اثبات ہے اور وہ شہادت نفی جو مقبول نہیں۔ لہذایہ نکاح ہر گز نہ کیا جائے۔ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل (حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
(۲)ایسے خیالی بیانوں سے ناجائز تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ والله تعالی اعلم۔
(۳)اس کے رافضی ہونے کے سبب جس نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا بہت اچھا کیا اور وہ حکم
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
جو اس نے بیان کیا اگرچہ مطلق نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ جب رافضی کے ساتھ سنیہ کا نکاح جائز و حلال جانا تو خود اس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۷ : از رانی کھیت صدربازار مسئولہ محمد ابراہیم خان صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خان تبت کا اورا س کا لڑکا اپنے آپ کو سنت جماعت بتاتے ہیں اور قرآن شریف کے رو سے اپنا طریقہ سنت وجماعت بتاتے ہیں اور قریب ۳۰ ۳۵ سال سے رانی کھیت میں رہتے ہیں اب سب لوگ ان کو رافضی مذہب کا کہتے ہیں اب دریافت یہ کرنا کہ سنی کی لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے ہوسکتاہے یا نہیں یہ شخص غریب ہے سب لوگ عداوت سے رافضی کہنے لگے ہیں ان کے سب طریقے روزے زکوۃ نماز کے اہل سنت وجماعت کی طرح ہیں رانی کھیت کی مسجد کے مولانا نے جن کا نام عبدالرحمن ہے نکاح نہیں پڑھایا کہ رافضی کا نکاح سنی سے نہیں ہوسکتا عداوت سے سب مسلمان ایك ہوگئے ہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
بلاوجہ عداوت سے سب مسلمانوں کا ایك ہوجانا معقول نہیں اور رافضیوں کا تقیہ معلوم ہے اور نکاح امر عظیم ہے احتیاط لازم ہے حدیث میں فرمایا : کیف وقد قیل (کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت)ھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸ : از لکھنؤ بنگال بنك ڈاکخانہ حضرت گنج مسئولہ عبدالرحیم صاحب
مسئلہ ذیل میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کی سسرال کے رشتہ کے ماموں کا لڑکا اور زید کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
اپنے حقیقی ماموں کے بیٹے سے بیٹی کا نکاح جائز ہے۔ سسرال کے رشتہ کا ماموں تو بہت دور ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو مثل رضاعت وغیرہ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹ : از شہراکیاب تھانہ کیوکتو موضع کاؤنچی بازار مرسلہ مولوی سکندر علی صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ نیازیہ خیرآباد ضلع سیتاپور ۱۴ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ماقولکم ماحکم اﷲ تعالی فی ھذہ
تمھاری کیا رائے ہے کہ الله تعالی کا کیا حکم ہے اس
مسئلہ ۲۷۷ : از رانی کھیت صدربازار مسئولہ محمد ابراہیم خان صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خان تبت کا اورا س کا لڑکا اپنے آپ کو سنت جماعت بتاتے ہیں اور قرآن شریف کے رو سے اپنا طریقہ سنت وجماعت بتاتے ہیں اور قریب ۳۰ ۳۵ سال سے رانی کھیت میں رہتے ہیں اب سب لوگ ان کو رافضی مذہب کا کہتے ہیں اب دریافت یہ کرنا کہ سنی کی لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے ہوسکتاہے یا نہیں یہ شخص غریب ہے سب لوگ عداوت سے رافضی کہنے لگے ہیں ان کے سب طریقے روزے زکوۃ نماز کے اہل سنت وجماعت کی طرح ہیں رانی کھیت کی مسجد کے مولانا نے جن کا نام عبدالرحمن ہے نکاح نہیں پڑھایا کہ رافضی کا نکاح سنی سے نہیں ہوسکتا عداوت سے سب مسلمان ایك ہوگئے ہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
بلاوجہ عداوت سے سب مسلمانوں کا ایك ہوجانا معقول نہیں اور رافضیوں کا تقیہ معلوم ہے اور نکاح امر عظیم ہے احتیاط لازم ہے حدیث میں فرمایا : کیف وقد قیل (کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت)ھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸ : از لکھنؤ بنگال بنك ڈاکخانہ حضرت گنج مسئولہ عبدالرحیم صاحب
مسئلہ ذیل میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کی سسرال کے رشتہ کے ماموں کا لڑکا اور زید کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
اپنے حقیقی ماموں کے بیٹے سے بیٹی کا نکاح جائز ہے۔ سسرال کے رشتہ کا ماموں تو بہت دور ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو مثل رضاعت وغیرہ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹ : از شہراکیاب تھانہ کیوکتو موضع کاؤنچی بازار مرسلہ مولوی سکندر علی صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ نیازیہ خیرآباد ضلع سیتاپور ۱۴ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ماقولکم ماحکم اﷲ تعالی فی ھذہ
تمھاری کیا رائے ہے کہ الله تعالی کا کیا حکم ہے اس
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب العلم باب فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
المسألۃشخصے قاسم زنے راکہ درقرابتش بنت بنت رضاعی مربرادر حقیقی قاسم باشد بحبالہ نکاحش آورد وظن اوچنان بود کہ موافق مذہب خود جائز ست از علما ہم استفتا نمودہ بود ایشاں بصحت نکاحش قضا نمودند پس از چندے علمائے احناف بعدم جواز نکاحش فتوی می دادند وجماعت مسلمین راباومجالست وامواکلتش منع می کنند مادامیکہ تفریق نکاحش نکند۔ مسئلہ میں کہ قاسم نامی ایك شخص نے اپنے قریبیوں میں سے ایك عورت جو کہ قاسم کی حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی ہے سے نکاح کیا اور اس کا خیال تھا کہ اپنے مذہب میں یہ جائز ہے اور اس نے علماء سے بھی پوچھا تو انھوں نے بھی اسے جائز کہا اس کے بعد چند حنفی علماء نے اس نکاح کے ناجائز ہونے کا فتوی دیا اور مسلمانوں کو نکاح کرنے والوں کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے سے منع کردیا تاوقتیکہ وہ اس نکاح کو ختم کرکے علیحدگی اختیار نہ کرلیں۔ (ت)
جواب بنگالیاں
بر تقدیر صدق مسئولہ عنہا علمائے شریعت غرا وفضلائے طریقت بیضا بالخاصہ فقہائے مذہب حنیف وعلمائے ملت منیف می نگارند کہ چوں علمائے مذہب مستمرہ شاں مجتہد باشد یا مقلد ظنا یا سہوا عملے کنند وحکمے بکارے صادر نمایند وقضا برآں تنفیذ فرمایند پس آں دانستند ووقوف یافتند کہ ہماں عمل وفعل زیشاں بظہور پیوستہ بطبق مذہب شاں نپرداختہ وبمشرب یکے از ائمہ ودیگرے کہ معدود ومحدود بہ سنت جماعت ست در پیوستہ پس باردیگر تنقیض وتردید آنہا کردن روا وجائز نباشد بل بہمیں مسلك تقلید نمودہ کہ ہم خالی از تلفیق دارد ہماں عمل وفعل رالا محالہ
مسئولہ صورت کے صدق پرعلمائے شریعت اور طریق حق کے ناقلین خصوصا فقہائے مذہب حنیف اور علمائے ملت لکھتے ہیں کہ جب مروجہ مذاہب کے مجتہد یا مقلدین میں سے کوئی اپنے ظن سے یا غلطی سے کسی کام کا حکم صادر کریں اور اس پر فیصلہ بطور قضاء نافذ کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ عمل یا کام ان کے مذہب کے خلاف ہے اور کسی دوسرے اہلسنت کے امام کے مسلك میں جائز ہے تو اس عمل اور کام کو کالعدم کرنا جائز نہیں بلکہ دوسرے جائز قرار دینے والے مسلك کی تقلید میں اس کو جائز اور نافذ رکھنا چاہئے اس سے اپنے مروجہ مذہب سے خروج اور دوسرے مذہب کو اختیار کرنا لازم نہ آئے گا۔ پس قاسم مذکور کا مذکور ہ نکاح اگرچہ حنفی مذہب کے خلاف ہے مگر اہل ظواہر کے مسلك مثلا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جو کہ
جواب بنگالیاں
بر تقدیر صدق مسئولہ عنہا علمائے شریعت غرا وفضلائے طریقت بیضا بالخاصہ فقہائے مذہب حنیف وعلمائے ملت منیف می نگارند کہ چوں علمائے مذہب مستمرہ شاں مجتہد باشد یا مقلد ظنا یا سہوا عملے کنند وحکمے بکارے صادر نمایند وقضا برآں تنفیذ فرمایند پس آں دانستند ووقوف یافتند کہ ہماں عمل وفعل زیشاں بظہور پیوستہ بطبق مذہب شاں نپرداختہ وبمشرب یکے از ائمہ ودیگرے کہ معدود ومحدود بہ سنت جماعت ست در پیوستہ پس باردیگر تنقیض وتردید آنہا کردن روا وجائز نباشد بل بہمیں مسلك تقلید نمودہ کہ ہم خالی از تلفیق دارد ہماں عمل وفعل رالا محالہ
مسئولہ صورت کے صدق پرعلمائے شریعت اور طریق حق کے ناقلین خصوصا فقہائے مذہب حنیف اور علمائے ملت لکھتے ہیں کہ جب مروجہ مذاہب کے مجتہد یا مقلدین میں سے کوئی اپنے ظن سے یا غلطی سے کسی کام کا حکم صادر کریں اور اس پر فیصلہ بطور قضاء نافذ کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ عمل یا کام ان کے مذہب کے خلاف ہے اور کسی دوسرے اہلسنت کے امام کے مسلك میں جائز ہے تو اس عمل اور کام کو کالعدم کرنا جائز نہیں بلکہ دوسرے جائز قرار دینے والے مسلك کی تقلید میں اس کو جائز اور نافذ رکھنا چاہئے اس سے اپنے مروجہ مذہب سے خروج اور دوسرے مذہب کو اختیار کرنا لازم نہ آئے گا۔ پس قاسم مذکور کا مذکور ہ نکاح اگرچہ حنفی مذہب کے خلاف ہے مگر اہل ظواہر کے مسلك مثلا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جو کہ
صحیح ودرست دارند ونیز ازیں تقلید ظنی از مذہب مستمرہ خود خارج نہ شوند ومنسوب بداں مذہب دیگر نگردند پس مناکحت قاسم بدیں منوال بہمیں مقال صادق ست کہ لاریب ولا محالہ صحیح ونافذ گردیدہ است اگرچہ بالفرض والتقدیر مخالف مذہب حنفی آمدہ لیکن بمسلك اہل ظواہر کمثل امام ہمام شافعی علیہ رضوان الباری وغیرہ کہ مسلوك ومشمول بسنت جماعت ست بپرداختہ در پیوستہ کہ علمائے احناف بظن جواز مذہب شان مظنون شدہ بنت بنت رضاعی رامر برادر حقیقی قاسم مذکور بود حکم نکاحش دادہ بودند بحالتیکہ درتحت حجاب ممنوعات کلیہ حنفیہ محجوب ومستور بودہ ودرضمن ضاطبہ مامور بہا محللات اہل ظواہر کہ ہمچوں شافعی وغیرہ ہستند مکشوف ومظہر ماندہ پس ہر گز علماء احناف را نمی رسد کہ تفریق وافساد درنکاحش کنند کہ آں مستلزم تحقیر تنکیر سنت جماعت کردد وحقارت یکے را از سنت عند الله بموجب ضلالت دارد کما قال العلامۃ ابن عابدین الشامی الحنفی فی ردالمحتار ناقلا عن العلامۃ الشرنبلالی فی عقد الفرید ان لہ التقلید بعد العمل کما اذاصلی ظانا صحتھا علی مذھبہ ثم تبین بطلانھا فی مذھبہ وصحتھا علی مذھب غیرہ فلہ تقلیدہ ویتحری بتلك الصلوۃ علی ماقال فی البزازیۃ انہ روی عن ابی یوسف انہ صلی الجمعۃ مغتسلا من الحمام ثم اخبر بفارۃ فی بئرالحمام فقال ناخذ بقول اخواننا من اھل المدینۃ اذابلغ الماء قلتین لم یحمل خبثا اھ
اہلسنت وجماعت ہیں کے ہاں نکاح درست ہوا نیز علمائے احناف نے جب غلطی سے اس نکاح مـذکورہ کو جائز گمان کیا تو ان کے گمان میں جائز ٹھہرا کہ حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی سے قاسم کا نکاح درست قرار دے کر کردیا اور ان کی نظر میں امام شافعی جیسے اہل ظواہر کے مسلك پر اس کا جواز معلوم ہوا تو اب علمائے احناف کو ہر گز جائز نہیں کہ وہ اس نکاح کو فاسد کریں اور تفریق کریں کیونکہ جماعت کی اور ایك سنت اور مسلك کی تحقیر لازم آئے گی جو کہ عندالله گمراہی کا موجب ہے جیساکہ علامہ شامی نے علامہ شرنبلالی سے ردالمحتار میں عقدالفرید سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو عمل کے بعد بھی دوسرے کی تقلید جائز ہے جیساکہ اپنے مذہب کے مطابق نماز کو صحیح سمجھ کر ادا کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے مذہب صحیح میں نہیں ہوئی مگر دوسرے امام کے مذہب میں صحیح ہوگئی تو اب دوسرے امام کی تقلید کرتے ہوئے نماز کو صحیح قرار دینا جائز بشرطیکہ نماز پڑھتے وقت اسی نے تحری کی ہو جیسا کہ بزازیہ میں فرمایا کہ امام ابو یوسف رحمۃ الله تعالی سے مروی ہے کہ انھوں نے ایك مرتبہ حمام کے پانی سے جمعہ کا غسل کیا پھر بعدمیں بتایا گیا کہ حمام میں چوہا مرا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے بھائی اہل مدینہ کے مسلك کو اپناتے ہوئے کہ جب پانی دو۲ قلے ہو تو ناپاك نہیں ہوتا اس پر عمل پیرا ہیں اھ اور نیز انھوں نے درمختار کے قول
اہلسنت وجماعت ہیں کے ہاں نکاح درست ہوا نیز علمائے احناف نے جب غلطی سے اس نکاح مـذکورہ کو جائز گمان کیا تو ان کے گمان میں جائز ٹھہرا کہ حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی سے قاسم کا نکاح درست قرار دے کر کردیا اور ان کی نظر میں امام شافعی جیسے اہل ظواہر کے مسلك پر اس کا جواز معلوم ہوا تو اب علمائے احناف کو ہر گز جائز نہیں کہ وہ اس نکاح کو فاسد کریں اور تفریق کریں کیونکہ جماعت کی اور ایك سنت اور مسلك کی تحقیر لازم آئے گی جو کہ عندالله گمراہی کا موجب ہے جیساکہ علامہ شامی نے علامہ شرنبلالی سے ردالمحتار میں عقدالفرید سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو عمل کے بعد بھی دوسرے کی تقلید جائز ہے جیساکہ اپنے مذہب کے مطابق نماز کو صحیح سمجھ کر ادا کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے مذہب صحیح میں نہیں ہوئی مگر دوسرے امام کے مذہب میں صحیح ہوگئی تو اب دوسرے امام کی تقلید کرتے ہوئے نماز کو صحیح قرار دینا جائز بشرطیکہ نماز پڑھتے وقت اسی نے تحری کی ہو جیسا کہ بزازیہ میں فرمایا کہ امام ابو یوسف رحمۃ الله تعالی سے مروی ہے کہ انھوں نے ایك مرتبہ حمام کے پانی سے جمعہ کا غسل کیا پھر بعدمیں بتایا گیا کہ حمام میں چوہا مرا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے بھائی اہل مدینہ کے مسلك کو اپناتے ہوئے کہ جب پانی دو۲ قلے ہو تو ناپاك نہیں ہوتا اس پر عمل پیرا ہیں اھ اور نیز انھوں نے درمختار کے قول
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱
وایضا فیہ تحت قول الدرالمختار واما المقلد الخ نقلہ فی القنیۃ عن المحیط وغیرہ وجزم بہ المحقق فی فتح القدیر وتلمیذہ العلامہ قاسم وادعی فی البحران المقلد اذا قضی بمذھب غیرہ وبروایۃ ضعیفۃ اوبقول ضعیف نفذ۔ اقوی ماتمسك بہ مافی البزازیہ عن شرح الطحاوی اذالم یکن القاضی مجتہدا وقضی بالفتوی ثم تبین ان علی خلاف مذھبہ نفذ ولیس لغیرہ نقضہ ولہ ان ینقضہ کذا عن محمد وقال الثانی لیس لہ ان ینقضہ ایضا ۔ لان امضاء الفعل کامضاء القاضی لاینقض و دلیل مذہب الظاھر کہ ملصق بہ سنت جماعت ست ومخالف فرعی درباب رضاعت باحناف می دارند ہمچوں امام ہمام شافعی وغیرہ ہستند ہمیں ست چنانچہ شارح مسلم امام نووی درشرح آں مے نگارند ولم یخالف فی ھذا الااھل الظاھر وابن علیۃ فقالوا لاتثبت حرمۃ الرضاع بین الرجل والرضیع ونقلہ المازری
“ امام المقلد “ کے تحت فرمایا کہ قنیہ نے محیط وغیرہ سے نقل کیا اور اس پر فتح القدیر میں محقق اور ان کے شاگرد علامہ قاسم نے جزم کیا ہے اور بحر میں دعوی کے طورپر کہا کہ قاضی مقلد نے اگر غیر کے مذہب یا ضعیف قول یا روایت پر فیصلہ دے دیا تو وہ نافذ ہوگا اور اس سلسلہ میں بہترین استدلال بزازیہ کی شرح طحاوی سے منقول عبارت ہے کہ جب قاضی مجتہد نہ ہو اور کسی کے فتوی پر فیصلہ کردیا ہو تو بعد میں اگر معلوم ہوا کہ اس نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیاہے تو فیصلہ نافذ رہے گا اور دوسرا قاضی اس کو رد نہیں کرسکتا ہاں وہ خود کالعدم کرسکتا ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یوں منقول ہے اور دوسرے امام یعنی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ خود اس قاضی کو بھی کالعدم کرنے کا حق نہیں کیونکہ عمل نافذ ہوجانے پر گویا کہ قاضی نے نافذ کردیا ہے اور نافذ شدہ کو کالعدم نہیں کہا جاسکتا اور اہل ظواہر کا مذہب بھی اہلسنت میں شامل ہے او راس کا صرف فروعی اختلاف رضاعت کے بارے میں احناف سے ہے یہ بھی امام شافعی کی طرح ہیں۔ چنانچہ شارح مسلم شریف امام نووی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ اس میں صرف اہل ظاہر اور ابن علیہ کا خلاف ہے کہ وہ کہتے ہیں دودھ پینے والی لڑکی اور مرد کے درمیان رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اور اس کو مازری نے
“ امام المقلد “ کے تحت فرمایا کہ قنیہ نے محیط وغیرہ سے نقل کیا اور اس پر فتح القدیر میں محقق اور ان کے شاگرد علامہ قاسم نے جزم کیا ہے اور بحر میں دعوی کے طورپر کہا کہ قاضی مقلد نے اگر غیر کے مذہب یا ضعیف قول یا روایت پر فیصلہ دے دیا تو وہ نافذ ہوگا اور اس سلسلہ میں بہترین استدلال بزازیہ کی شرح طحاوی سے منقول عبارت ہے کہ جب قاضی مجتہد نہ ہو اور کسی کے فتوی پر فیصلہ کردیا ہو تو بعد میں اگر معلوم ہوا کہ اس نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیاہے تو فیصلہ نافذ رہے گا اور دوسرا قاضی اس کو رد نہیں کرسکتا ہاں وہ خود کالعدم کرسکتا ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یوں منقول ہے اور دوسرے امام یعنی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ خود اس قاضی کو بھی کالعدم کرنے کا حق نہیں کیونکہ عمل نافذ ہوجانے پر گویا کہ قاضی نے نافذ کردیا ہے اور نافذ شدہ کو کالعدم نہیں کہا جاسکتا اور اہل ظواہر کا مذہب بھی اہلسنت میں شامل ہے او راس کا صرف فروعی اختلاف رضاعت کے بارے میں احناف سے ہے یہ بھی امام شافعی کی طرح ہیں۔ چنانچہ شارح مسلم شریف امام نووی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ اس میں صرف اہل ظاہر اور ابن علیہ کا خلاف ہے کہ وہ کہتے ہیں دودھ پینے والی لڑکی اور مرد کے درمیان رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اور اس کو مازری نے
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۲
ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱
ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱
عن ابن عمر وعائشہ(رضی اﷲ تعالی عنہما)واحتجوا بقولہ تعالی وامھتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ولم یذکر البنت والعمۃ کما ذکرھما فی النسب وامام ابو عیسی ترمذی درجامع ترمذی شان می آرند حدثنا الحسن بن علی اخبرنا ابن نمیر عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشہ قالت جاء عمی من الرضاعۃ یستأذن علی فابیت ان اذن لہ حتی استأمر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلیلج علیك فانہ عمك قالت انما ارضعتنی المرأۃ ولم یرضعنی الرجل قال فانہ عمك فلیلج علیك ھذاحدیث حسن صحیح والعمل علی ھذہ عند بعض اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وغیرھم کرھوالبن الفحل والاصل فی ھذا حدیث عائشۃ وقد رخص بعض اھل العلم فی لبن الفحل والقول الاول اصح رواہ الترمذی
عبدالله بن عمر اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم سے نقل کیا ہے اور اصحاب ظواہر نے اپنی دلیل میں کہا کہ الله تعالی نے دودھ پلانے والی تمھاری ماؤں اور تمھارے رضاعی بھائیوں کو ذکر کیا ہے اور بیٹی اور پھوپھی کو ذکر نہیں کیا جس طرح ان کو نسب میں بیان فرمایا ہے اور امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں بیان کیا ہے کہ ہمیں حدیث بیا ن کی حسن بن علی انھوں نے ابن نمیر انھوں نے ہشام انھوں نے اپنے باپ عروہ انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے انھوں نے فرمایا میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے میرے ہاں آنے کی اجازت چاہی تو میں نے انکار کیا حتی کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا وہ تیرے ہاں داخل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا کہ مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۔ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے وہ داخل ہوسکتا ہے۔ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے اور اس پر عمل ہے بعض صحابہ کرام کا اور ان کے غیر نے دودھ والے خاوند یعنی رضاعی باپ کو داخل ہونامکروہ کہا ہے اور اصل ثبوت حضرت عائشہ کی حدیث ہے اور بعض اہل علم نے دودھ والے باپ(رضاعی باپ)کو داخل ہونے کی اجازت دی ہے ا ور پہلا قول صحیح ہے اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے
عبدالله بن عمر اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم سے نقل کیا ہے اور اصحاب ظواہر نے اپنی دلیل میں کہا کہ الله تعالی نے دودھ پلانے والی تمھاری ماؤں اور تمھارے رضاعی بھائیوں کو ذکر کیا ہے اور بیٹی اور پھوپھی کو ذکر نہیں کیا جس طرح ان کو نسب میں بیان فرمایا ہے اور امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں بیان کیا ہے کہ ہمیں حدیث بیا ن کی حسن بن علی انھوں نے ابن نمیر انھوں نے ہشام انھوں نے اپنے باپ عروہ انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے انھوں نے فرمایا میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے میرے ہاں آنے کی اجازت چاہی تو میں نے انکار کیا حتی کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا وہ تیرے ہاں داخل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا کہ مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۔ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے وہ داخل ہوسکتا ہے۔ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے اور اس پر عمل ہے بعض صحابہ کرام کا اور ان کے غیر نے دودھ والے خاوند یعنی رضاعی باپ کو داخل ہونامکروہ کہا ہے اور اصل ثبوت حضرت عائشہ کی حدیث ہے اور بعض اہل علم نے دودھ والے باپ(رضاعی باپ)کو داخل ہونے کی اجازت دی ہے ا ور پہلا قول صحیح ہے اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی لبن الفحل امین کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۷
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی لبن الفحل امین کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۷
وقال الشامی ونظیر ھذہ مانقلہ العلامۃ بیری فی اول شرحہ علی الاشباہ عن شرح الھدایہ لابن شحنہ ونصہ اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذلك مذھبہ ولایخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عن ابی حنیفۃ امام الاعظم انہ قال اذاصح الحدیث فھو مذھبی وقدحکی ذلك ابن عبدالبر عن ابی حنیفۃ وغیرہ من الائمۃ الخ وقاضی خان وصاحب ہدایہ ہماں مذہب اہل ظاہر نقل بالتصریح فرمودہ اند کما قال فی فتاوی قاضی خاں وقال الامام الھمام الشافعی الحرمۃ لاتثبت فی جانب الاب والفقہاء یسمون ھذہ المسألۃ لبن الفحل وقال فی الھدایۃ وفی احد قول الشافعی لبن الفحل لایحرم لان الحرمۃ لشبھۃ البعضیۃ واللبن بعضھا لابعضہ ہر گاہ از دلائل کتب فقہائے حنفیہ مبین ومبرہن گردید کہ تزویج قاسم نامی نزد علمائے حنفی رواودرست گردیدہ وازاں مذہب حنفی بیروں
اور شامی نے کہا کہ اور اس کی نظیر وہ ہے جس کو علامہ بیری نے اشباہ پر اپنی شرح کے ابتداء میں ہدایہ کی شرح سے نقل کیا یہ شرح ابن شحنہ کی ہے جس کی عبارت یہ ہے کہ جب حدیث صحیح ہے جوکہ مذہب کے مخالف ہے تو عمل حدیث پر ہوگا ______ اور یہی امام کا مذہب ہوگا اور اس حدیث پر عمل سے مقلد امام صاحب کی تقلید سے خارج نہ ہوگا کیونکہ امام ابو حنیفہ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : جب حدیث صحیح ہو تو وہ میرا مذہب ہے اس کو ابن عبدالبر نے امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ سے نقل کیا ہے الخ
قاضی خاں اور صاحب ہدایہ نے اہل ظواہر کا مذہب صراحۃ یہی ذکر کیا ہے جیساکہ فتاوی قاضی خاں میں کہا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ باپ کی جانب سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتے اور فقہاء کرام نے اس مسئلہ کو “ لبن الفحل “ (خاوند کا دودھ)کا عنوان دیا ہے اور ہدایہ میں کہا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ایك قول میں رضاعی باپ حرام نہیں ہوتا کیونکہ رضاعت میں حرمت جزئیت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ دودھ عورت کا جز ہے مرد کا نہیں بہر حال حنفی فقہ کی کتب میں مذکور دلائل سے ثابت ہے کہ قاسم نامی شخص کا مذکورہ نکاح درست ہوجاتا ہے اور اس کودرست ماننے سے حنفی مذہب
اور شامی نے کہا کہ اور اس کی نظیر وہ ہے جس کو علامہ بیری نے اشباہ پر اپنی شرح کے ابتداء میں ہدایہ کی شرح سے نقل کیا یہ شرح ابن شحنہ کی ہے جس کی عبارت یہ ہے کہ جب حدیث صحیح ہے جوکہ مذہب کے مخالف ہے تو عمل حدیث پر ہوگا ______ اور یہی امام کا مذہب ہوگا اور اس حدیث پر عمل سے مقلد امام صاحب کی تقلید سے خارج نہ ہوگا کیونکہ امام ابو حنیفہ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : جب حدیث صحیح ہو تو وہ میرا مذہب ہے اس کو ابن عبدالبر نے امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ سے نقل کیا ہے الخ
قاضی خاں اور صاحب ہدایہ نے اہل ظواہر کا مذہب صراحۃ یہی ذکر کیا ہے جیساکہ فتاوی قاضی خاں میں کہا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ باپ کی جانب سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتے اور فقہاء کرام نے اس مسئلہ کو “ لبن الفحل “ (خاوند کا دودھ)کا عنوان دیا ہے اور ہدایہ میں کہا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ایك قول میں رضاعی باپ حرام نہیں ہوتا کیونکہ رضاعت میں حرمت جزئیت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ دودھ عورت کا جز ہے مرد کا نہیں بہر حال حنفی فقہ کی کتب میں مذکور دلائل سے ثابت ہے کہ قاسم نامی شخص کا مذکورہ نکاح درست ہوجاتا ہے اور اس کودرست ماننے سے حنفی مذہب
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب صح عن الامام انہ قال اذصح الحدیث فہومذہبی احیاء التراث بیروت ۱ / ۴۶
فتاوٰی قاضی خاں باب الرضاع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۹
الہدایہ باب الرضاع مکتبہ عربیہ کرا چی ۲ / ۳۳۱
فتاوٰی قاضی خاں باب الرضاع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۹
الہدایہ باب الرضاع مکتبہ عربیہ کرا چی ۲ / ۳۳۱
نہ آمدہ باوجود آں اگر جماعت مسلمین بروے زبان طعن ولعن بہ کشایند پس عندالله ماخوذ شوند عند الناس مستحق سزا کما ھو فی کتب الفقہ من اذی مسلما بقول اوبفعل ولوبغمز العین عزر پس ایشاں مادامیکہ تائب وآئب نہ شوند ازمواکلت ومشاربت جماعت مسلمین خارج کردہ شوند چنانچہ واردشدہ کہ ایاك و مجالسۃ الشریرفقط واﷲ تعالی اعلم وعلمہ احکم وآخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔
سے خارج ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اس پر لعن طعن کریں گے تو عندالله مجرم ہوں گے اور قانون میں سزا کے مستحق ہوں گے جیسا کہ کتب فقہ میں ہے کہ اگر کسی نے مسلمان کو اپنے قول فعل یا اشارہ سے اذیت دی تو وہ قابل سزا ہے پس ایسے لوگ جب تك توبہ اور رجوع نہ کریں تو ان سے مل کر کھانا پینا منع ہیے جیساکہ وارد ہے کہ “ شریر کی مجلس سے بچو “ فقط والله تعالی اعلم۔ اس جل مجدہ کا علم کامل ہے۔ ہماری آخری بات یہ ہے کہ الحمدلله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدالمرسلین وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔ (ت)
الراقم احقر الحقیر محمد عظیم الدین کیوکتوی بہاریاروی خلف الہدی شیخ اکبر علی سلمہ بانی مسجد مہتمم مدرسہ اسلامیہ محلہ وی۔
تحریر دیگر تائیداں
آرے مذاہب ائمہ اربعہ جملگی درحق ست وحق بہماں دائرست اگرچہ مجتہد مطلق یا مقلد محض بہ مذہب شان عملے وفعلے قضا کند بعدہ دانستہ کہ مخالف مذہب شان وموافق مذہب دیگرے کہ معدود بسنت جماعت ست بخطائے ظن شاں ملصق گشتہ فقہا احناف روانمی دارند کہ بار دیگر آں را ابطال وافساد کنند تا موجب تحقیر وتنفیر بمذاہب ائمہ سنت جماعت
ہاں چاروں مذہب حق ہیں اور حق انہی میں دائر ہے اگر کوئی مجتہد مطلق یا مقلد محض ان کے مذہب پر کوئی عمل یا فعل کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ اس کے مذہب کے مخالف ہے اور دوسرے کے مذہب کے موافق ہے اور یہ دوسرا مذہب اہل سنت میں شمار ہو تو اس فیصلہ کو فقہائے احناف باطل وفاسد کرناجائز نہیں کرتے تاکہ اہل سنت وجماعت کے ائمہ کرام کی تحقیر وتنفیر
سے خارج ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اس پر لعن طعن کریں گے تو عندالله مجرم ہوں گے اور قانون میں سزا کے مستحق ہوں گے جیسا کہ کتب فقہ میں ہے کہ اگر کسی نے مسلمان کو اپنے قول فعل یا اشارہ سے اذیت دی تو وہ قابل سزا ہے پس ایسے لوگ جب تك توبہ اور رجوع نہ کریں تو ان سے مل کر کھانا پینا منع ہیے جیساکہ وارد ہے کہ “ شریر کی مجلس سے بچو “ فقط والله تعالی اعلم۔ اس جل مجدہ کا علم کامل ہے۔ ہماری آخری بات یہ ہے کہ الحمدلله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدالمرسلین وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔ (ت)
الراقم احقر الحقیر محمد عظیم الدین کیوکتوی بہاریاروی خلف الہدی شیخ اکبر علی سلمہ بانی مسجد مہتمم مدرسہ اسلامیہ محلہ وی۔
تحریر دیگر تائیداں
آرے مذاہب ائمہ اربعہ جملگی درحق ست وحق بہماں دائرست اگرچہ مجتہد مطلق یا مقلد محض بہ مذہب شان عملے وفعلے قضا کند بعدہ دانستہ کہ مخالف مذہب شان وموافق مذہب دیگرے کہ معدود بسنت جماعت ست بخطائے ظن شاں ملصق گشتہ فقہا احناف روانمی دارند کہ بار دیگر آں را ابطال وافساد کنند تا موجب تحقیر وتنفیر بمذاہب ائمہ سنت جماعت
ہاں چاروں مذہب حق ہیں اور حق انہی میں دائر ہے اگر کوئی مجتہد مطلق یا مقلد محض ان کے مذہب پر کوئی عمل یا فعل کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ اس کے مذہب کے مخالف ہے اور دوسرے کے مذہب کے موافق ہے اور یہ دوسرا مذہب اہل سنت میں شمار ہو تو اس فیصلہ کو فقہائے احناف باطل وفاسد کرناجائز نہیں کرتے تاکہ اہل سنت وجماعت کے ائمہ کرام کی تحقیر وتنفیر
حوالہ / References
درمختار باب التعزیر مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۷
لازم نیاید آں خطائے عظیم وسخط جسیم باشد عندالله تعالی لہذا علماء زاں اباو انکار فرمودند ودرتواریخ بروایت صحیح مروی شدہ کہ بارے درمجلس شریف حضرت پیران پیر غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ الله تعالی علیہ از کسے مذکور شدہ بود کہ امام احمد حنبل دراجتہاد پایہ چنداں ندارند لہذا درمذہب شان جماعت قلیل دارند بمجرد استماع آں حضرت پیران پیر رضی اللہ تعالی عنہ چیں بر جبیں آوردہ وغضبناك شدہ فرمودند کہ ازیں تاریخ عبدالقادر بمذہب احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ تقلید نمودہ پیش ازیں بمذہب امام مالك بودند سبحان الله ما اعظم شانہ ومااکبر شانہم وفخر عالم صلی الله علیہ وسلم درشان ائمہ اربعہ رحمۃ من الله ووسعۃ من الله فرمودند ونقل السیوطی عن عمر بن عبدالعزیز اختلاف ائمۃ الھدی رحمۃ من اﷲ تعالی علی ھذہ الامۃ کل یتبع ماصح عندہ وکلھم علی ھدی وکل یرید اﷲ وتمامہ فی کشف الخفاء پس تزویج قاسم نزد فقہائے حنفی بہ صحیح آوردہ اگرچہ بالفرض مخالف مذہبی روے دادہ واز حنفیت نیز بیروں نیامدہ کما حررہ المجیب ﷲ درہ واجرہ ولقد نظرت ھذا الفتوی بامعان النظر وتصفحت ھذہ المسألۃ بصفحات الکتب الفقھیۃ الحنفیۃ فوجدت صحیحا
لازم نہ آئے اور اس فیصلہ کو غلط کہنا عندالله بڑا گناہ ہے اس لیے علمائے کرام اس سے پرہیز کرتے ہیں تاریخ میں صحیح روایت موجود ہے کہ حضرت پیر پیران غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی مجلس میں ایك شخص نے ذکر کیا کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ کا اجتہاد میں کوئی اہم مقام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مقلدین کی تعداد بہت کم ہے حضرت پیر پیران سنتے ہی جلال میں آگئے اور فرمایا کہ میں(عبدالقادر)آج سے امام احمد بن حنبل کا مقلد ہورہا ہوں جبکہ آپ پہلے امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے مقلد تھے سبحان اللہ! اس کی شان اعظم واکبر ہے فخر عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ائمہ اربعہ(الله تعالی کی رحمت ووسعت ہو ان پر)کی شان میں فرمایا جس کو امام سیوطی نے نقل فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ ہدایت کے اماموں کا اختلاف الله تعالی کی رحمت ہے اس امت کے لیے ہر ایك نے جس کو صحیح سمجھا وہی اس نے اپنایا اور تمام ائمہ ہدایت پر ہیں اور تمام الله تعالی کی رضا کے طالب ہیں اس کا تمام بیان کشف الخفاء میں ہے۔ لہذا قاسم مذکور کا نکاح حنفی فقہاء کے نزدیك درست ہے اگرچہ بالفرض مذہب کے مخالف ہے اور حنفیت سے بھی خارج نہیں ہوتا جیسا کہ مجیب نے تحریر کیا ہے اس کا اجر ونفع الله تعالی اس کو عطا فرمائے میں نے اس فتوی کو گہری نظر سے دیکھا اور فقہ کی کتب میں اس کی میں نے چھان بین کی تو میں نے اس کو صحیح مطابق قرآن اور موافق ثواب پایا ہے
لازم نہ آئے اور اس فیصلہ کو غلط کہنا عندالله بڑا گناہ ہے اس لیے علمائے کرام اس سے پرہیز کرتے ہیں تاریخ میں صحیح روایت موجود ہے کہ حضرت پیر پیران غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی مجلس میں ایك شخص نے ذکر کیا کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ کا اجتہاد میں کوئی اہم مقام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مقلدین کی تعداد بہت کم ہے حضرت پیر پیران سنتے ہی جلال میں آگئے اور فرمایا کہ میں(عبدالقادر)آج سے امام احمد بن حنبل کا مقلد ہورہا ہوں جبکہ آپ پہلے امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے مقلد تھے سبحان اللہ! اس کی شان اعظم واکبر ہے فخر عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ائمہ اربعہ(الله تعالی کی رحمت ووسعت ہو ان پر)کی شان میں فرمایا جس کو امام سیوطی نے نقل فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ ہدایت کے اماموں کا اختلاف الله تعالی کی رحمت ہے اس امت کے لیے ہر ایك نے جس کو صحیح سمجھا وہی اس نے اپنایا اور تمام ائمہ ہدایت پر ہیں اور تمام الله تعالی کی رضا کے طالب ہیں اس کا تمام بیان کشف الخفاء میں ہے۔ لہذا قاسم مذکور کا نکاح حنفی فقہاء کے نزدیك درست ہے اگرچہ بالفرض مذہب کے مخالف ہے اور حنفیت سے بھی خارج نہیں ہوتا جیسا کہ مجیب نے تحریر کیا ہے اس کا اجر ونفع الله تعالی اس کو عطا فرمائے میں نے اس فتوی کو گہری نظر سے دیکھا اور فقہ کی کتب میں اس کی میں نے چھان بین کی تو میں نے اس کو صحیح مطابق قرآن اور موافق ثواب پایا ہے
مطابقا بالکتاب وموافقا للصواب واﷲ اعلم بحقیقۃ الحال والیہ المرجع والمآل۔ کتب الحقیر الراجی الی رحمۃ ربہ الخلاق عبدالرزاق الکیوکتوی غفرلہ۔
اور الله تعالی ہی حقیقت زیادہ جانتا ہے اور اس کی طرف رجوع ہے اس کو الله تعالی کی رحمت کے امید وار عبدالخالق کیوکتوی غفرلہ نے لکھا ہے۔ (ت)
الجواب :
ایں ہمہ جہل شدید وضلال بعید وافترا برشرع مجید ست نکاح بابنت بنت الاخ بعینہ ہمچو نکاح بادختر خود ست نسبا باشد یارضاعا وحرام قطعی ست باجماع ائمہ دین ونص قرآن مبین و صحاح احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اجمعین نسبت جواز ش بامام شافعی خواہ بامام دیگر از ائمہ مسلمین خطائے محض ست وایں بنگالیاں کہ فتوی بجوازش دادہ بودند علما نہ بودند بہ ہزاران درجہ بدتر از جہلا بودند واینان کہ فتوی ملعونہ ایشاں رانا فذمی کنند ہمہ ہاحرام خدا راحلال می نمایند ہمچو کسان راحرام وسخت حرام ست کہ تصدی بافتاکنند درحدیث فرمود من افتی بغیر علم لعنۃ ملئکۃ السماء والارض ہرکہ بے علم فتوی دہد ملائکہ آسما ن وزمین براولعنت وبر آن حاکمان وایں فتوائے نفاذ ہر دو ملعون ست وبر حاکماں وایں مفتیان توبہ فرض ست ورنہ مسلمان از مجالست ایشان احتراز درزند درہیچ امر فتوی ازایشاں خواستن حرام ست قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتخذ الناس رؤوسا جہالا فسئلوا
یہ تمام شدید جہالت اور انتہائی گمراہی ہے اور شریعت پر افتراء ہے بھائی کی نواسی سے نکاح ایسے ہے جیساکہ اپنی بیٹی سے نواسی نسبی ہو یا رضاعی اور قرآن وحدیث اور اجماع سے یہ حرام قطعی ہے اس کے جواز کی نسبت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ یا کسی اور امام المسلمین کی طرف کرنا خطائے محض ہے اور جن بنگالیوں نے اس کے جواز کا فتوی دیاہے وہ عالم نہیں بلکہ ہزار درجہ جاہلوں سے بھی بدتر ہیں جنھوں نے بھی یہ ملعون فتوی نافذ کیا انھوں نے الله تعالی کے حرام کو حلال کیا اوراسی طرح وہ حضرات جنھوں نے اس کی تصدیق کی انھوں نے حرام ترین کی تصدیق کی حدیث شریف میں ہے کہ جس نے علم کے بغیر فتوی دیا اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں لہذا جنھوں نے یہ فتوی دیا اور جنھوں نے اس کو نافذ کیا دونوں ملعون ہیں نافذکرنے والے حاکم اور مفتیوں پر توبہ فرض ہے ورنہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان سے بائیکاٹ کریں اور آئندہ ان سے کوئی فتوی طلب کرنا حرام ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاہے کہ لوگ جاہلوں کو رہنما بنائیں گے تو جب ان سے سوال
اور الله تعالی ہی حقیقت زیادہ جانتا ہے اور اس کی طرف رجوع ہے اس کو الله تعالی کی رحمت کے امید وار عبدالخالق کیوکتوی غفرلہ نے لکھا ہے۔ (ت)
الجواب :
ایں ہمہ جہل شدید وضلال بعید وافترا برشرع مجید ست نکاح بابنت بنت الاخ بعینہ ہمچو نکاح بادختر خود ست نسبا باشد یارضاعا وحرام قطعی ست باجماع ائمہ دین ونص قرآن مبین و صحاح احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اجمعین نسبت جواز ش بامام شافعی خواہ بامام دیگر از ائمہ مسلمین خطائے محض ست وایں بنگالیاں کہ فتوی بجوازش دادہ بودند علما نہ بودند بہ ہزاران درجہ بدتر از جہلا بودند واینان کہ فتوی ملعونہ ایشاں رانا فذمی کنند ہمہ ہاحرام خدا راحلال می نمایند ہمچو کسان راحرام وسخت حرام ست کہ تصدی بافتاکنند درحدیث فرمود من افتی بغیر علم لعنۃ ملئکۃ السماء والارض ہرکہ بے علم فتوی دہد ملائکہ آسما ن وزمین براولعنت وبر آن حاکمان وایں فتوائے نفاذ ہر دو ملعون ست وبر حاکماں وایں مفتیان توبہ فرض ست ورنہ مسلمان از مجالست ایشان احتراز درزند درہیچ امر فتوی ازایشاں خواستن حرام ست قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتخذ الناس رؤوسا جہالا فسئلوا
یہ تمام شدید جہالت اور انتہائی گمراہی ہے اور شریعت پر افتراء ہے بھائی کی نواسی سے نکاح ایسے ہے جیساکہ اپنی بیٹی سے نواسی نسبی ہو یا رضاعی اور قرآن وحدیث اور اجماع سے یہ حرام قطعی ہے اس کے جواز کی نسبت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ یا کسی اور امام المسلمین کی طرف کرنا خطائے محض ہے اور جن بنگالیوں نے اس کے جواز کا فتوی دیاہے وہ عالم نہیں بلکہ ہزار درجہ جاہلوں سے بھی بدتر ہیں جنھوں نے بھی یہ ملعون فتوی نافذ کیا انھوں نے الله تعالی کے حرام کو حلال کیا اوراسی طرح وہ حضرات جنھوں نے اس کی تصدیق کی انھوں نے حرام ترین کی تصدیق کی حدیث شریف میں ہے کہ جس نے علم کے بغیر فتوی دیا اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں لہذا جنھوں نے یہ فتوی دیا اور جنھوں نے اس کو نافذ کیا دونوں ملعون ہیں نافذکرنے والے حاکم اور مفتیوں پر توبہ فرض ہے ورنہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان سے بائیکاٹ کریں اور آئندہ ان سے کوئی فتوی طلب کرنا حرام ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاہے کہ لوگ جاہلوں کو رہنما بنائیں گے تو جب ان سے سوال
حوالہ / References
کنزالعمال ابن عساکر عن علی حدیث ۲۹۰۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۱۹۳
فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا
مفتیان خشم نہ کنند اینکہ گفتہ شد خیرخواہی ایشاں بود حرام خدا راحلال گرفتن وزنائے پدر بادخترش روا داشتن نہ سہل کارے ست۔ ہرکہ ہمچو ضلالت فظیعہ تنبیہ کرد مستوجب شکراست نہ مستحق شکایت و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) وبرآں نا کح زانی فرض ست کہ دختر رااز تصرف خود واگزارد وبرآں منکوحہ مزنیہ فرض ست کہ بپائے کہ دارد از زنائے پدرش بگریزد فورا فورا ورنہ آناں ومزوجان آناں ومجوزاں اینہا ھمہ عذاب شدید الہی منتظر باشند نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
امام اجل ابو زکریا نووی کہ احد الشیخین مذہب امام شافعی ست ونص اوہمچو نص امام شافعی ست رضی الله تعالی عنہم در شرح صحیح مسلم فرماید اما رجل المنسوب ذلك اللبن الیہ لکونہ زوج المرأۃ اووطئھا بملك اوشبھۃ فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع
کیا جائے گا تو بغیر علم فتوی دینگے خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے ان مفتیوں کویہ کہتے ہوئے خوف خدا نہیں کہ یہ خیر خواہی ہے الله تعالی کے حرام کردہ کو حلال بنانا اور باپ بیٹی سے زنا کو جائز کرنا کوئی آسان کام ہے ہرگزنہیں اور جس شخص نے ان کی اس گمراہی پر تنبیہ کی وہ شکریہ کا مسحق ہے نہ کہ شکایت کا اور الله تعالی جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے اس نکاح کرنے والے زانی پر فرض ہے کہ وہ فورا لڑکی کو آزاد کردے اور جدائی اختیار کرے اور منکوحہ مزنیہ پر لازم ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق رضاعی باپ کے زنا سے فورا بچے اور جدائی اختیار کرے ورنہ یہ دونوں اور نکاح کو نافذ کرنے والے اور جائز کرنے والے سب الله تعالی کے شدید عذاب کا انتظار کریں ہم الله تعالی سے عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ولا حول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ شافعی مسلك کے شیخین میں سے ایك برگزیدہ امام ابو زکریا نووی جن کی نص امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے منصوص کی طرح ہے انھوں نے شرح مسلم شریف میں فرمایا ہے کہ وہ شخص جس کی طرف یہ دودھ منسوب ہے کیونکہ یہ عورت کا خاوند ہے یا لونڈی کا مالك یا شبہ کی بناپر وطی کی ہے تو اس کے متعلق ہمارا اور تمام علماء کا مذہب ہے کہ اس کے اور دودھ پینے والے بچے کے درمیان
مفتیان خشم نہ کنند اینکہ گفتہ شد خیرخواہی ایشاں بود حرام خدا راحلال گرفتن وزنائے پدر بادخترش روا داشتن نہ سہل کارے ست۔ ہرکہ ہمچو ضلالت فظیعہ تنبیہ کرد مستوجب شکراست نہ مستحق شکایت و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) وبرآں نا کح زانی فرض ست کہ دختر رااز تصرف خود واگزارد وبرآں منکوحہ مزنیہ فرض ست کہ بپائے کہ دارد از زنائے پدرش بگریزد فورا فورا ورنہ آناں ومزوجان آناں ومجوزاں اینہا ھمہ عذاب شدید الہی منتظر باشند نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
امام اجل ابو زکریا نووی کہ احد الشیخین مذہب امام شافعی ست ونص اوہمچو نص امام شافعی ست رضی الله تعالی عنہم در شرح صحیح مسلم فرماید اما رجل المنسوب ذلك اللبن الیہ لکونہ زوج المرأۃ اووطئھا بملك اوشبھۃ فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع
کیا جائے گا تو بغیر علم فتوی دینگے خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے ان مفتیوں کویہ کہتے ہوئے خوف خدا نہیں کہ یہ خیر خواہی ہے الله تعالی کے حرام کردہ کو حلال بنانا اور باپ بیٹی سے زنا کو جائز کرنا کوئی آسان کام ہے ہرگزنہیں اور جس شخص نے ان کی اس گمراہی پر تنبیہ کی وہ شکریہ کا مسحق ہے نہ کہ شکایت کا اور الله تعالی جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے اس نکاح کرنے والے زانی پر فرض ہے کہ وہ فورا لڑکی کو آزاد کردے اور جدائی اختیار کرے اور منکوحہ مزنیہ پر لازم ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق رضاعی باپ کے زنا سے فورا بچے اور جدائی اختیار کرے ورنہ یہ دونوں اور نکاح کو نافذ کرنے والے اور جائز کرنے والے سب الله تعالی کے شدید عذاب کا انتظار کریں ہم الله تعالی سے عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ولا حول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ شافعی مسلك کے شیخین میں سے ایك برگزیدہ امام ابو زکریا نووی جن کی نص امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے منصوص کی طرح ہے انھوں نے شرح مسلم شریف میں فرمایا ہے کہ وہ شخص جس کی طرف یہ دودھ منسوب ہے کیونکہ یہ عورت کا خاوند ہے یا لونڈی کا مالك یا شبہ کی بناپر وطی کی ہے تو اس کے متعلق ہمارا اور تمام علماء کا مذہب ہے کہ اس کے اور دودھ پینے والے بچے کے درمیان
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
ویصیر ولدالہ واولاد الرجل اخوۃ الرضیع واخواتہ ویکون اخوۃ الرجل اعمام الرضیع واخواتہ عماتہ ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ولم یخالف فی ھذہ الااھل الظاھر وابن علیۃ
ایں تصریح صریح ایں امام شافعیہ ببیں کہ مذہب ماوجملہ علماء تحریم ست ودروخلاف نہ کرد ندجزء فرقہ ظاہریہ وابن علیہ طرفہ آنکہ مجیب عبارت مذکورہ نووی از ینجا نقل کرد کہ لم یخالف فی ھذہ الخ وصد رکلام کہ فرمودہ بودند کہ مذہب ماو مذہب جملہ علماء تحریم ست در پردہ اخفا داشت وامام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ راظلما ازاہل ظاھر شمرد حالانکہ ظاہر یہ طائفہ ایست مخالف ائمہ اربعہ وسائر مجتہدین شاہ عبدالعزیز صاحب گفتہ اندا داؤد ظاھری ومتبعانش را از اہل سنت وجماعت شمردن درچہ مرتبہ از جہل وسفاہت ست رافضیاں کہ ظاھریہ راسنی گرفتہ باقوال ایشاں بر اہلسنت اعتراض می کردند شاہ صاحب جوابش دادند کہ فرقہ ظاھریہ ہر گز از اہلسنت نیست ایں جہل وسفاہت شماست کہ ایشاں راسنی گرفتہ برسنیان طعن مے کنید امام ابن حجر مکی شافعی درکف الرعاع فرماید واعلم
حرمت رضاع ہوگی اوریہ اس بچے کا باپ ہوگا اور اس کی دوسری اولاد اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے اور اس شخص کے اپنے بھائی بہن اس بچے کے لیے چچا اور پھوپھی ہوں گے اور اس بچے کی اولاد اس شخص کی اولاد قرار پائے گی اس میں اہل ظاہر وابن علیہ کے بغیر کسی کو اختلاف نہیں۔ شافعی حضرات کے امام کی صاف تصریح ہے کہ ہم اور تمام علماء اس تحریر پر متفق ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے اس میں فرقہ ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہ کیا تعجب ہے کہ مجیب نے امام نووی کی صرف اتنی عبارت کہ “ مخالفت نہیں کی “ کو نقل کیا اور اس سے پہلی عبارت کہ “ ہمارا تمام علماء کا مذہب تحریم ہے “ کو چھپالیا اور پھر امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو غلط طورپر اہل ظواہر میں شمار کردیا حالانکہ ظاہریہ فرقہ تمام ائمہ مجتہدین کے خلاف ہے شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے فرمایا ہے کہ داؤ د ظاہری اوراس کے پیروکار کو اہلسنت سے شمار کرنا انتہائی جہالت ہے رافضیوں نے ظاہریہ فرقہ کو اہلسنت کہہ کر ان کی باتوں کی وجہ سے اہلسنت پر اعتراض کئے ہیں شاہ صاحب نے جواب میں رافضیوں کو فرمایا کہ ظاہری فرقہ ہر گز اہلسنت نہیں ہے ان کو اہلسنت کہنا تمھاری انتہائی جہالت ہے جس کی وجہ سے تم سنیوں پر اعتراض کرتے ہو امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب کف الرعاع میں فرماتے ہیں : جاننا
ایں تصریح صریح ایں امام شافعیہ ببیں کہ مذہب ماوجملہ علماء تحریم ست ودروخلاف نہ کرد ندجزء فرقہ ظاہریہ وابن علیہ طرفہ آنکہ مجیب عبارت مذکورہ نووی از ینجا نقل کرد کہ لم یخالف فی ھذہ الخ وصد رکلام کہ فرمودہ بودند کہ مذہب ماو مذہب جملہ علماء تحریم ست در پردہ اخفا داشت وامام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ راظلما ازاہل ظاھر شمرد حالانکہ ظاہر یہ طائفہ ایست مخالف ائمہ اربعہ وسائر مجتہدین شاہ عبدالعزیز صاحب گفتہ اندا داؤد ظاھری ومتبعانش را از اہل سنت وجماعت شمردن درچہ مرتبہ از جہل وسفاہت ست رافضیاں کہ ظاھریہ راسنی گرفتہ باقوال ایشاں بر اہلسنت اعتراض می کردند شاہ صاحب جوابش دادند کہ فرقہ ظاھریہ ہر گز از اہلسنت نیست ایں جہل وسفاہت شماست کہ ایشاں راسنی گرفتہ برسنیان طعن مے کنید امام ابن حجر مکی شافعی درکف الرعاع فرماید واعلم
حرمت رضاع ہوگی اوریہ اس بچے کا باپ ہوگا اور اس کی دوسری اولاد اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے اور اس شخص کے اپنے بھائی بہن اس بچے کے لیے چچا اور پھوپھی ہوں گے اور اس بچے کی اولاد اس شخص کی اولاد قرار پائے گی اس میں اہل ظاہر وابن علیہ کے بغیر کسی کو اختلاف نہیں۔ شافعی حضرات کے امام کی صاف تصریح ہے کہ ہم اور تمام علماء اس تحریر پر متفق ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے اس میں فرقہ ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہ کیا تعجب ہے کہ مجیب نے امام نووی کی صرف اتنی عبارت کہ “ مخالفت نہیں کی “ کو نقل کیا اور اس سے پہلی عبارت کہ “ ہمارا تمام علماء کا مذہب تحریم ہے “ کو چھپالیا اور پھر امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو غلط طورپر اہل ظواہر میں شمار کردیا حالانکہ ظاہریہ فرقہ تمام ائمہ مجتہدین کے خلاف ہے شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے فرمایا ہے کہ داؤ د ظاہری اوراس کے پیروکار کو اہلسنت سے شمار کرنا انتہائی جہالت ہے رافضیوں نے ظاہریہ فرقہ کو اہلسنت کہہ کر ان کی باتوں کی وجہ سے اہلسنت پر اعتراض کئے ہیں شاہ صاحب نے جواب میں رافضیوں کو فرمایا کہ ظاہری فرقہ ہر گز اہلسنت نہیں ہے ان کو اہلسنت کہنا تمھاری انتہائی جہالت ہے جس کی وجہ سے تم سنیوں پر اعتراض کرتے ہو امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب کف الرعاع میں فرماتے ہیں : جاننا
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
ان الائمۃ صرحوابان الظاھریۃ لایعتد بخلافھم ولایجوز تقلید احد منھم لانھم سلبوا العقول حتی انکرو االقیاس الجلی ۔ نیز فرمود لانھم اصحاب ظاہریۃ محضۃ تکاد عقولھم ان تکون مسخت ومن وصل الی انہ یقول ان بال الشخص فی الماء تنجس او فی اناء ثم صبہ فی الماء یتنجس کیف یقام لہ وزن ویعد من العقلاء فضلاء عن العلماء ۔
ہمچناں دیگر اکابر شافعیہ تصریح بلبن فحل کردہ اندو درمذہب خود بوئے از خلاف نہ دادہ اند واجلہ اورامذہب ائمہ اربعہ واصحاب ایشاں وفقہائے امصار گفتہ اند امام احمد عسقلانی شافعی درا رشاد الساری فرمود فیہ دلیل علی ان لبن الفحل یحرم حتی تثبت الحرمۃ فی جھۃ صاحب اللبن کما تثبت فی جانب المرضعۃ فان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اثبت عمومۃ الرضاع والحقھا بالنسب وھذا مذھب الشافعی
چاہئے کہ ائمہ کرام نے تصریح کی ہے کہ ظاہر یہ فرقہ کے مخالف ہونے کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی تقلید جائز ہے کیونکہ وہ مسلوب العقل لوگ ہیں حتی کہ وہ قیاس جلی کا بھی انکار کرتے ہیں نیز انھوں نے فرمایا کہ یہ لوگ محض ظاہری ہیں تقریبا بے عقل ہیں اوریہاں تك کہہ گئے اگر کوئی شخص پانی میں پشاب کرے تو پانی ناپاك ہے اور اگر کسی برتن میں پیشاب کرکے پانی میں ڈال دے تو پانی پاك ہے ناپاك نہ ہوگا۔ تو ایسے لوگ کس شمار میں ہیں ان کو اہل عقل میں شمار کرنا کیسے مناسب ہے چہ جائیکہ ان کو علماء میں شمار کیا جائے۔ اسی طرح دیگر شوافع حضرات نے بھی اس کے بارے میں واضح تصریحات کی ہیں اور انھوں نے اس مسئلہ میں کہیں بھی اختلاف ظاہر نہیں کیااور بڑے بڑے ائمہ شوافع نے اس مسئلہ کو متفقہ علیہ اور چاروں اماموں کا مسلك قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ ائمہ کے اصحاب اور علاقوں کے تمام فقہاء کا یہی مسلك ہے چنانچہ امام احمد عسقلانی شافعی نے اپنی کتاب ارشاد الساری میں فرمایا : اس میں یہ دلیل ہے کہ جس مرد کا دودھ ہے وہ حرمت پیدا کرتاہے چنانچہ جس طرح دودھ والی عورت کی طرف سے حرمت ثابت اسی طرح اس کے مرد کی طرف سے بھی حرمت ثابت ہوگی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے رضاعی چچا کا اثبات
ہمچناں دیگر اکابر شافعیہ تصریح بلبن فحل کردہ اندو درمذہب خود بوئے از خلاف نہ دادہ اند واجلہ اورامذہب ائمہ اربعہ واصحاب ایشاں وفقہائے امصار گفتہ اند امام احمد عسقلانی شافعی درا رشاد الساری فرمود فیہ دلیل علی ان لبن الفحل یحرم حتی تثبت الحرمۃ فی جھۃ صاحب اللبن کما تثبت فی جانب المرضعۃ فان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اثبت عمومۃ الرضاع والحقھا بالنسب وھذا مذھب الشافعی
چاہئے کہ ائمہ کرام نے تصریح کی ہے کہ ظاہر یہ فرقہ کے مخالف ہونے کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی تقلید جائز ہے کیونکہ وہ مسلوب العقل لوگ ہیں حتی کہ وہ قیاس جلی کا بھی انکار کرتے ہیں نیز انھوں نے فرمایا کہ یہ لوگ محض ظاہری ہیں تقریبا بے عقل ہیں اوریہاں تك کہہ گئے اگر کوئی شخص پانی میں پشاب کرے تو پانی ناپاك ہے اور اگر کسی برتن میں پیشاب کرکے پانی میں ڈال دے تو پانی پاك ہے ناپاك نہ ہوگا۔ تو ایسے لوگ کس شمار میں ہیں ان کو اہل عقل میں شمار کرنا کیسے مناسب ہے چہ جائیکہ ان کو علماء میں شمار کیا جائے۔ اسی طرح دیگر شوافع حضرات نے بھی اس کے بارے میں واضح تصریحات کی ہیں اور انھوں نے اس مسئلہ میں کہیں بھی اختلاف ظاہر نہیں کیااور بڑے بڑے ائمہ شوافع نے اس مسئلہ کو متفقہ علیہ اور چاروں اماموں کا مسلك قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ ائمہ کے اصحاب اور علاقوں کے تمام فقہاء کا یہی مسلك ہے چنانچہ امام احمد عسقلانی شافعی نے اپنی کتاب ارشاد الساری میں فرمایا : اس میں یہ دلیل ہے کہ جس مرد کا دودھ ہے وہ حرمت پیدا کرتاہے چنانچہ جس طرح دودھ والی عورت کی طرف سے حرمت ثابت اسی طرح اس کے مرد کی طرف سے بھی حرمت ثابت ہوگی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے رضاعی چچا کا اثبات
حوالہ / References
کف الرعاع القسم الرابع عشر باب فی بیان ان مامرہ صغیرۃ اورکبیرۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۴۴
کف الرعاع تنبیہ ادلۃ التحلیل والردعلیہا دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۲۸
کف الرعاع تنبیہ ادلۃ التحلیل والردعلیہا دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۲۸
وابی حنیفہ وصاحبیہ ومالك واحمد کجمھور الصحابۃ و التابعین وفقہاء الامصار امام حافظ قسطلانی شافعی در فتح الباری فرماید ذھب الجمہور من الصحابۃ والتابعین وفقہاء الامصار کابی حنیفۃ وصاحبیہ ومالك والشافعی و احمد واتباعھم الی ان لبن الفحل یحرم امام ابو یوسف اردبیلی شافعی در کتاب الانوار فرماید والفحل الذی منہ اللبن ابوہ واولادہ من المرضعۃ وغیرھا اخوتہ واخواتہ علامہ زین الدین شافعی تلمیذ ابن حجر مکی در قرۃ العین فرماید تصیر المرضعۃ امہ وذواللبن اباہ وتسری الحرمۃ من الرضیع الی اصولھما وفروعھما وحواشیھما نسبا ورضاعا تاایں جاہمہ نصوص کبرائے شافعیہ است وصاحب البیت ابصربما فی البیت وصاحب الدار ادری امام اجل قاضی عیاض مالکی درشرح صحیح مسلم فرماید لم یقل احد من ائمۃ الفقھاء واھل الفتوی باسقاط حرمۃ لبن الفحل
فرمایا اور نسب کی طرح قرار دیا ہے اور یہی مذہب امام شافعی ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین امام مالك اور امام احمد بن حنبل کا ہے جس طرح کہ صحابہ اور تابعین اور تمام علاقوں کے علماء کا یہی مذہب ہے اور امام قسطلانی شافعی نے فتح الباری میں فرمایاکہ تمام صحابہ تابعین اور فقہاء ابوحنیفہ ان کے صاحبین مالک شافعی اور احمد اور ان کے تمام متبعین کا مذہب یہ ہے کہ دودھ والا مرد بھی حرام ہوتا ہے امام ابو یوسف اردبیلی شافعی نے کتاب الانوار میں فرمایا کہ جس مرد سے عورت کو دودھ اترا وہ دودھ پینے والے بچے کا باپ ہے اور اس کی تمام اولاد خواہ اس مرضعہ سے ہو یا کسی دوسری عورت سے وہ سب اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے علامہ زین الدین شافعی ابن حجر مکی کے شاگرد قرۃ العین میں فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی ماں اور دودھ والا مرد باپ ہوگا اور پھر یہ حرمت بڑھ کر بچے سے مرد و عورت کے اصول وفروع اور ان کے نسبی اور رضاعی متعلقین تك سرایت کرجاتی ہے تمام نصوص شافعی حضرات کی اس مسئلہ میں یہی ہیں جبکہ گھر والا گھر کی باتوں کو زیادہ جانتا ہے برگزیدہ امام قاضی عیاض مالکی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ فقہاء اور اصحاب فتوی میں سے کسی نے بھی دودھ والے خاوند کی حرمت کو
فرمایا اور نسب کی طرح قرار دیا ہے اور یہی مذہب امام شافعی ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین امام مالك اور امام احمد بن حنبل کا ہے جس طرح کہ صحابہ اور تابعین اور تمام علاقوں کے علماء کا یہی مذہب ہے اور امام قسطلانی شافعی نے فتح الباری میں فرمایاکہ تمام صحابہ تابعین اور فقہاء ابوحنیفہ ان کے صاحبین مالک شافعی اور احمد اور ان کے تمام متبعین کا مذہب یہ ہے کہ دودھ والا مرد بھی حرام ہوتا ہے امام ابو یوسف اردبیلی شافعی نے کتاب الانوار میں فرمایا کہ جس مرد سے عورت کو دودھ اترا وہ دودھ پینے والے بچے کا باپ ہے اور اس کی تمام اولاد خواہ اس مرضعہ سے ہو یا کسی دوسری عورت سے وہ سب اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے علامہ زین الدین شافعی ابن حجر مکی کے شاگرد قرۃ العین میں فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی ماں اور دودھ والا مرد باپ ہوگا اور پھر یہ حرمت بڑھ کر بچے سے مرد و عورت کے اصول وفروع اور ان کے نسبی اور رضاعی متعلقین تك سرایت کرجاتی ہے تمام نصوص شافعی حضرات کی اس مسئلہ میں یہی ہیں جبکہ گھر والا گھر کی باتوں کو زیادہ جانتا ہے برگزیدہ امام قاضی عیاض مالکی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ فقہاء اور اصحاب فتوی میں سے کسی نے بھی دودھ والے خاوند کی حرمت کو
حوالہ / References
ار شاد الساری کتاب الرضاع باب لبن الفحل دارالکتب العربی بیروت ۸ / ۳۳
فتح الباری کتاب النکاح باب لبن الفحل دارالمعرفۃ بیروت ۹ / ۳۱۔ ۱۳۰
الانوارلاعمال الابرار
قرۃ العین مع شرح فتح العین ارکان النکاح مطبعۃ عامرا لاسلام تروز نگاڈی کیرلہ ص۳۹۰
فتح الباری کتاب النکاح باب لبن الفحل دارالمعرفۃ بیروت ۹ / ۳۱۔ ۱۳۰
الانوارلاعمال الابرار
قرۃ العین مع شرح فتح العین ارکان النکاح مطبعۃ عامرا لاسلام تروز نگاڈی کیرلہ ص۳۹۰
الااھل الظاھر وابن علیۃ والمعروف عن داؤد موافقۃ الائمۃ الاربعۃ امام جلیل بدرالدین محمود عینی درعمدۃ القاری فرمایند لبن الفحل یحرم وھو قول ابی حنیفۃ ومالك والشافعی واحمد واصحابھم وقال القاضی عیاض لم یقل احد من الائمۃ الخ(ملخصا)این ست نقول ونصوص ائمہ اجلہ ثقات اثبات ونسبتے کہ درخانیہ وہدایہ واقع شدہ معارضش نتواں بود در نقل مذہب غیربارہا زلت روی نماید
یکے از اکابر شافعیہ تحلیل زنا بحربیہ در دارالحرب ودیگرے اجلہ شافعیہ حلت غراب بحضرت امام اعظم نسبت کرد وہردوباطل است درہمیں ہدایہ حلت متعہ بامام مالك رضی اللہ تعالی عنہ نسبت نمود حالانکہ بامام مالك بروے حد زنا مے زنند کما ھو قول عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما اذقال جرب علی نفسك لان فعلتھا لارجمنك باحجارك بخلاف حنفیہ ودیگر ائمہ کہ حرام دانند وتاحدنرسانند بالجملہ جوازایں نکاح باطل است ہرگز نہ مذہب امام شافعی است نہ مذہب ہیچکس ازائمہ مجتہدین متبوعین رضی الله تعالی عنہم اجمعین ابن علیہ مردے از محدثین است
ساقط نہیں کیا ماسوائے ابن علیہ اور اہل ظاہر حضرات کے اور داؤد ظاہر ی سے نقل مشہور ہے کہ وہ بھی ائمہ اربعہ کے موافق ہے برگزیدہ امام بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے کہ د ودھ والے خاوند کی حرمت تمام ائمہ ابوحنیفہ شافعی مالك اور احمد اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ کسی امام نے اس حرمت کے اسقاط کا قول نہیں کیا یہ ہیں تمام ثقہ ائمہ کی نصوص جو ان سے منقول ہیں اور وہ جو خانیہ اور ہدایہ میں اس کے خلاف ان ائمہ کی طرف منسوب ہے وہ ان نصوص کے معارض نہیں ہوسکتا کیونکہ بارہا دوسروں کے مذہب کو نقل کرنے میں اکثر لغزش ہوجاتی ہے شافعی مسلك کے اکابرین میں سے ایك نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی طرف منسوب کردیا کہ ان کے نزدیك دارالحرب میں حربی عورت سے زنا جائزہے اور دوسرے نے امام ابو حنیفہ کی طرف کوے کے حلال ہونے کی نسبت کردی جبکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور اسی ہدایہ میں امام مالك کی طرف متعہ کے حلال ہونے کی نسبت کردی گئی حالانکہ امام مالك ایسے شخص پر حد زنالگاتے ہیں جیساکہ حضرت عبدالله بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ یہ تجربہ کرکے دیکھ اگر تو کریگا تومیں تجھے تیرے ہی پتھروں سے رجم کروں گا بخلاف حنفیہ اور دیگر ائمہ کہ وہ متعہ کو حرام کہتے ہیں مگر حد نہیں لگاتے
یکے از اکابر شافعیہ تحلیل زنا بحربیہ در دارالحرب ودیگرے اجلہ شافعیہ حلت غراب بحضرت امام اعظم نسبت کرد وہردوباطل است درہمیں ہدایہ حلت متعہ بامام مالك رضی اللہ تعالی عنہ نسبت نمود حالانکہ بامام مالك بروے حد زنا مے زنند کما ھو قول عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما اذقال جرب علی نفسك لان فعلتھا لارجمنك باحجارك بخلاف حنفیہ ودیگر ائمہ کہ حرام دانند وتاحدنرسانند بالجملہ جوازایں نکاح باطل است ہرگز نہ مذہب امام شافعی است نہ مذہب ہیچکس ازائمہ مجتہدین متبوعین رضی الله تعالی عنہم اجمعین ابن علیہ مردے از محدثین است
ساقط نہیں کیا ماسوائے ابن علیہ اور اہل ظاہر حضرات کے اور داؤد ظاہر ی سے نقل مشہور ہے کہ وہ بھی ائمہ اربعہ کے موافق ہے برگزیدہ امام بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے کہ د ودھ والے خاوند کی حرمت تمام ائمہ ابوحنیفہ شافعی مالك اور احمد اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ کسی امام نے اس حرمت کے اسقاط کا قول نہیں کیا یہ ہیں تمام ثقہ ائمہ کی نصوص جو ان سے منقول ہیں اور وہ جو خانیہ اور ہدایہ میں اس کے خلاف ان ائمہ کی طرف منسوب ہے وہ ان نصوص کے معارض نہیں ہوسکتا کیونکہ بارہا دوسروں کے مذہب کو نقل کرنے میں اکثر لغزش ہوجاتی ہے شافعی مسلك کے اکابرین میں سے ایك نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی طرف منسوب کردیا کہ ان کے نزدیك دارالحرب میں حربی عورت سے زنا جائزہے اور دوسرے نے امام ابو حنیفہ کی طرف کوے کے حلال ہونے کی نسبت کردی جبکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور اسی ہدایہ میں امام مالك کی طرف متعہ کے حلال ہونے کی نسبت کردی گئی حالانکہ امام مالك ایسے شخص پر حد زنالگاتے ہیں جیساکہ حضرت عبدالله بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ یہ تجربہ کرکے دیکھ اگر تو کریگا تومیں تجھے تیرے ہی پتھروں سے رجم کروں گا بخلاف حنفیہ اور دیگر ائمہ کہ وہ متعہ کو حرام کہتے ہیں مگر حد نہیں لگاتے
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض مالکی
عمدۃ القاری باب لبن الفحل اداراۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۲۰ / ۹۷
صحیح مسلم باب نکاح المتعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۲
عمدۃ القاری باب لبن الفحل اداراۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۲۰ / ۹۷
صحیح مسلم باب نکاح المتعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۲
عداد درمجتہدین ائمہ نسیت واگر باشد متفرد است وظاھر یہ خود مبتدعا نند ومبتدع را دراجماع اعتبارے نیست ووفاقش ملحوظ نشود وبخلافش خلل نہ پزیرند لانھم لیسوا من الائمۃ علی الاطلاق کمافی التوضیع وغیرہ لیسوا من امۃ الاجابۃ وانما ھم من امۃ الدعوۃ کمافی مرقاۃ المفاتیح وغیرھا وخود درخصوص ظاھریہ از امام ابن حجر مکی گزشت کہ مخالفت ایشاں اصلا قابل التفات نیست پس دریں مسئلہ حکم بخلاف رازنہار مساغ نیست اولا خلاف سنت مشہورہ است کہ ان اﷲ حرم من الرضاع ماحرم من النسب ۔
ایں حدیث بالفاظ متنوعہ وروایات متظافرہ در دواوین اسلام مروی ومنقول است واز صدر اسلام تاحال میان علماء متلقی بالقبول ہمیں امام ترمذی در ہماں جامع فرماید والعمل علی ھذا عندعامۃ اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
خلاصہ یہ کہ نکاح باطل ہے اور کسی بھی امام خواہ شافعی ہویا کوئی اور مجتہدین میں سے کسی کے مذہب میں جائز نہیں ہے رضی اللہ تعالی عنہم ابن علیہ کا شمار محدثین میں تو ہوتا ہے مگر مجتہدین میں نہیں اور اگر بالفرض ہو بھی تو وہ دوسرے ائمہ سے الگ تھلگ ہے رہا ظاہریہ فرقہ تو وہ بدعتی فرقہ ہے جبکہ اجماع کے معاملہ میں بدعتی کا اعتبار نہیں ہوتا اس کی موافقت اور مخالفت کا کوئی اثر اجماع پر نہیں پڑتا کیونکہ یہ ائمہ میں سے نہیں ہیں جیسا کہ توضیح وغیرہ میں ہے اور امت اجابہ میں سے نہیں بلکہ وہ امت دعوت میں سے ہیں جیساکہ مرقاۃ المفاتیح وغیرہ میں ہے اور خود ظاہریہ فرقہ کے بارے میں امام ابن حجر مکی کا قول گزرا کہ ان کی مخالفت قابل التفات نہیں ہے لہذا اس مسئلہ میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اولا اس لیے کہ اس کا خلاف سنت مشہورہ کے خلاف ہے جو کہ یہ ہے جو نسب کی بناء پر حرام فرمایا ہے وہ رضاعت کی بناء پر بھی الله تعالی نے حرام فرمایا ہے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر روایات میں ہے اور اسلام کی قانونی کتب میں مروی ومنقول ہے اور ابتداء اسلام سے آج تك علماء کے درمیان مقبول ہے امام ترمذی نے اپنی جامع میں فرمایا کہ اس پر عام صحابہ اوربعد والوں کا عمل ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے
ایں حدیث بالفاظ متنوعہ وروایات متظافرہ در دواوین اسلام مروی ومنقول است واز صدر اسلام تاحال میان علماء متلقی بالقبول ہمیں امام ترمذی در ہماں جامع فرماید والعمل علی ھذا عندعامۃ اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
خلاصہ یہ کہ نکاح باطل ہے اور کسی بھی امام خواہ شافعی ہویا کوئی اور مجتہدین میں سے کسی کے مذہب میں جائز نہیں ہے رضی اللہ تعالی عنہم ابن علیہ کا شمار محدثین میں تو ہوتا ہے مگر مجتہدین میں نہیں اور اگر بالفرض ہو بھی تو وہ دوسرے ائمہ سے الگ تھلگ ہے رہا ظاہریہ فرقہ تو وہ بدعتی فرقہ ہے جبکہ اجماع کے معاملہ میں بدعتی کا اعتبار نہیں ہوتا اس کی موافقت اور مخالفت کا کوئی اثر اجماع پر نہیں پڑتا کیونکہ یہ ائمہ میں سے نہیں ہیں جیسا کہ توضیح وغیرہ میں ہے اور امت اجابہ میں سے نہیں بلکہ وہ امت دعوت میں سے ہیں جیساکہ مرقاۃ المفاتیح وغیرہ میں ہے اور خود ظاہریہ فرقہ کے بارے میں امام ابن حجر مکی کا قول گزرا کہ ان کی مخالفت قابل التفات نہیں ہے لہذا اس مسئلہ میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اولا اس لیے کہ اس کا خلاف سنت مشہورہ کے خلاف ہے جو کہ یہ ہے جو نسب کی بناء پر حرام فرمایا ہے وہ رضاعت کی بناء پر بھی الله تعالی نے حرام فرمایا ہے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر روایات میں ہے اور اسلام کی قانونی کتب میں مروی ومنقول ہے اور ابتداء اسلام سے آج تك علماء کے درمیان مقبول ہے امام ترمذی نے اپنی جامع میں فرمایا کہ اس پر عام صحابہ اوربعد والوں کا عمل ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الرضاع امین کمپنی کتب خانہ رشدیہ دہلی ۱ / ۱۳۶
وغیرھم لانعلم بینھم فی ذلك اختلافا وحکم برخلاف سنت مشہورہ نافذ نہ شود در تنویر الابصار است اذا رفع الیہ حکم قاض آخر نفذہ الاماخالف کتابا اوسنۃ مشہورۃ اواجماعا ثانیا مخالف اجماع من یعتد باجماعہم افتادہ ست کما تقدم بیانہ وامام شعرانی شافعی درمیزان الشریعۃ الکبری فرمود اتفق الائمۃ علی انہ یحرم من الرضاع مایحرم من النسب وحکم برخلاف اجماع نفاذنیست ائمہ ثقات اثبات از حکایات شاذہ غافل نبودند بلکہ خود ذکر نمودہ اند بازتصریح فرمودہ کہ دریں مسئلہ جز ظاھریہ وابن علیہ کسے راخلاف نیست چنانکہ از امام قاضی عیاض مالکی وامام ابو زکریا نووی شافعی وامام محمود عینی حنفی گزشت فمن الغریب نسبۃ الغراب الیھم علی ماوقع فی فتح المغیث واگر بالفرض اینجا قولے ضعیف محکی بود کما اول بہ فی الفتح الفقھی پس حکم وفتوے بر قول ضعیف ومرجوح خود جہل وخرق اجماع است کما فی تصحیح القدوری
اور سنت مشہورہ کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا اور تنویر الابصار میں ہے کہ جب ایك قاضی کے پاس دوسرے قاضی کا حکم پہنچے تو ا س کو نافذ کرے بشرطیکہ کتاب اللہ سنت رسول الله اوراجماع کے خلاف نہ ہو ثانیا اس لیے کہ جن لوگوں کا اجماع معتبر ہے ان کے اجماع کے بھی خلاف ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہے وہ رضاع کی وجہ سے بھی حرام ہے اور اجماع کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا اور کسی مسئلہ کو ثابت قرار دینے والے ائمہ ثقات خود بھی شاذ حکایات سے غافل نہیں ہوتے بلکہ خود ان کوذکر کردیتے ہیں نیز انھوں نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ اس مسئلہ کا ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہیں کیا جیساکہ امام قاضی عیاض ابو زکریا نووی شافعی اورامام محمود عینی حنفی سے گزرا فتح المغیث میں ان حضرات کی طرف شاذ امور کو منسوب کرناتعجب کی بات ہے اگر بالفرض یہاں کوئی ضعیف قول نقل کیا گیا ہو جیساکہ فتح القدیر میں تاویل کی گئی ہے تو بھی ضعیف قول او رمرجوع قو ل پر فتوی دینا خود جہالت اور اجماع کے خلاف ہے جیسا کہ علامہ قاسم
اور سنت مشہورہ کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا اور تنویر الابصار میں ہے کہ جب ایك قاضی کے پاس دوسرے قاضی کا حکم پہنچے تو ا س کو نافذ کرے بشرطیکہ کتاب اللہ سنت رسول الله اوراجماع کے خلاف نہ ہو ثانیا اس لیے کہ جن لوگوں کا اجماع معتبر ہے ان کے اجماع کے بھی خلاف ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہے وہ رضاع کی وجہ سے بھی حرام ہے اور اجماع کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا اور کسی مسئلہ کو ثابت قرار دینے والے ائمہ ثقات خود بھی شاذ حکایات سے غافل نہیں ہوتے بلکہ خود ان کوذکر کردیتے ہیں نیز انھوں نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ اس مسئلہ کا ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہیں کیا جیساکہ امام قاضی عیاض ابو زکریا نووی شافعی اورامام محمود عینی حنفی سے گزرا فتح المغیث میں ان حضرات کی طرف شاذ امور کو منسوب کرناتعجب کی بات ہے اگر بالفرض یہاں کوئی ضعیف قول نقل کیا گیا ہو جیساکہ فتح القدیر میں تاویل کی گئی ہے تو بھی ضعیف قول او رمرجوع قو ل پر فتوی دینا خود جہالت اور اجماع کے خلاف ہے جیسا کہ علامہ قاسم
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوٰۃ باب فی الحبس مجتبائی دہلی ۲ / ۷۹۔ ۷۸
میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الرضاع مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳۸
میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الرضاع مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳۸
میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الرضاع مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳۸
میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الرضاع مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳۸
للعلامۃ قاسم والدرالمختار ثالثا حکم بخلاف قاضی مجتہد راست مقلدرا روانبود بر خلاف امام خود حکم کردن تنویر الابصار ست قضی فی مجتھد فیہ بخلاف رأیہ لاینفذ مطلقا وبہ یفتی
ودرمختار است
ولوحکم القاضی بحکم مخالف
لمذھبہ ماصح اصلایسطر
در ردالمحتار آورد اما المقلد فلایملك المخالفۃ
مجیب عبارتش از سابق ولاحق قطع کردہ آورد و خود درقدر منقول خود لفظ ادعی ندید رابعا اگر از ہمہ گزرند قضاء شرعی چیز یست کہ رفع خلاف مے کند نہ کہ دو حروف خوانند وخود رابرمند افتاء نشانند ہرچہ خواہند برزبان رانند و خلاف مرتفع شود ومذہب مردود ومندفع
حاشا ﷲ لا یقول بہ جاھل فضلا عن فاضل نسأل اﷲ العفو والعافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔
فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ کی تصحیح القدوری میں اور درمختار میں ہے ثالثا مخالف کے قول پر فیصلہ کا اختیار صرف مجتہد قاضی کو ہے مقلد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے امام کے قول کے خلاف فیصلہ کرے تنویر الابصار میں ہے کہ قاضی کا مجتہد فیہ میں اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ مطلقا نافذ نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے اور درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا اور یہ صحیح نہ ہوگا۔ اور ردالمحتار میں کہا : لیکن مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا مجیب نے ان کی عبارت سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کی اور خود اس نے جوان کی عبارت نقل کی اس میں لفظ ادعی کو نہ دیکھا رابعا یہ کہ اگر مذکورہ امور کو نظر انداز بھی کردیں تو قضا شرعی طور پر ایسا اہم عہدہ ہے کہ جس میں جمہور کے خلاف کو ختم کیا جاتا ہے نہ کہ چند حرف پڑھ لیے اور مسند قضا پر بیٹھ کر جو کچھ چاہے اس کو زبان پر جاری کردے اور یہ خیال نہ کر ے کہ میرے فیصلہ سے خلاف قوی اور مذہب کمزور ہوگا الله تعالی کا خوف ہو تو خلاف والا قول جاہل بھی نہ کرے چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے الله تعالی سے عافیت اور معانی کی درخواست ہے والله تعالی اعلم۔
فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ
ودرمختار است
ولوحکم القاضی بحکم مخالف
لمذھبہ ماصح اصلایسطر
در ردالمحتار آورد اما المقلد فلایملك المخالفۃ
مجیب عبارتش از سابق ولاحق قطع کردہ آورد و خود درقدر منقول خود لفظ ادعی ندید رابعا اگر از ہمہ گزرند قضاء شرعی چیز یست کہ رفع خلاف مے کند نہ کہ دو حروف خوانند وخود رابرمند افتاء نشانند ہرچہ خواہند برزبان رانند و خلاف مرتفع شود ومذہب مردود ومندفع
حاشا ﷲ لا یقول بہ جاھل فضلا عن فاضل نسأل اﷲ العفو والعافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔
فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ کی تصحیح القدوری میں اور درمختار میں ہے ثالثا مخالف کے قول پر فیصلہ کا اختیار صرف مجتہد قاضی کو ہے مقلد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے امام کے قول کے خلاف فیصلہ کرے تنویر الابصار میں ہے کہ قاضی کا مجتہد فیہ میں اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ مطلقا نافذ نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے اور درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا اور یہ صحیح نہ ہوگا۔ اور ردالمحتار میں کہا : لیکن مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا مجیب نے ان کی عبارت سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کی اور خود اس نے جوان کی عبارت نقل کی اس میں لفظ ادعی کو نہ دیکھا رابعا یہ کہ اگر مذکورہ امور کو نظر انداز بھی کردیں تو قضا شرعی طور پر ایسا اہم عہدہ ہے کہ جس میں جمہور کے خلاف کو ختم کیا جاتا ہے نہ کہ چند حرف پڑھ لیے اور مسند قضا پر بیٹھ کر جو کچھ چاہے اس کو زبان پر جاری کردے اور یہ خیال نہ کر ے کہ میرے فیصلہ سے خلاف قوی اور مذہب کمزور ہوگا الله تعالی کا خوف ہو تو خلاف والا قول جاہل بھی نہ کرے چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے الله تعالی سے عافیت اور معانی کی درخواست ہے والله تعالی اعلم۔
فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ
حوالہ / References
درمختار متن تنویر الابصار باب القضاۃ فصل فی الحبس مجتبائی دہلی ۲ / ۸۰
درمختار متن تنویر الابصار باب القضاۃ فصل فی الحبس مجتبائی دہلی ۲ / ۸۰
ردالمحتار باب القضاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳۵
درمختار متن تنویر الابصار باب القضاۃ فصل فی الحبس مجتبائی دہلی ۲ / ۸۰
ردالمحتار باب القضاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳۵
فی الواقع نکاح مذکور باطل وحرام محض ست و برآں کس از دختر برادر خودش فورا فورا جدا شدن فرض است تزویج ایناں جہل وتنفیذ اوظلم شدید والله تعالی اعلم۔
فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ فی الواقع نکاح مذکور باطل او رمحض حرام ہے اس شخص پر لازم ہے کہ فورا فورا اپنے بھائی کی نواسی سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرے اس نکاح کو نافذ کرنا اور جائز کہنا جہالت اور ظلم شدید والله تعالی اعلم۔
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
_________________
فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ فی الواقع نکاح مذکور باطل او رمحض حرام ہے اس شخص پر لازم ہے کہ فورا فورا اپنے بھائی کی نواسی سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرے اس نکاح کو نافذ کرنا اور جائز کہنا جہالت اور ظلم شدید والله تعالی اعلم۔
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
_________________
رسالہ : الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن ۱۳۳۰ھ
(اولاد رضیع اور اولاد مرضعہ کے درمیان حرمت نکاح کا عمدہ اور روشن بیان)
کسی کم علم نے ایك غلط فتوی درباب جوازنکاح مابین اولاد رضیع ومرضعہ لکھ دیاتھا وہ فتوی بذریعہ مولوی اکرام الدین صاحب امام وخطیب مسجد وزیر خاں اعلیحضرت امام احمد رضاخان بریلوی تك پہنچا توآپ نے اس کے رد میں مندرجہ ذیل المسمی بہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن مستند بنصوص صحیحہ و مبرہن بہ براہین شرعیہ تحریر فرمایا
وھــــــــو ھـــــــــــذا
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی خلق الانسان فجعلہ نسبا وصھرا وجعل الرضاع کالنسب فوھب بہ محرمیۃ اخری والصلوۃ والسلام علی من ھدانا للصواب
الله تعالی کے لیے سب تعریفیں جس نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کو نسب اور سسرالی رشتہ سے نواز اور رضاعت کو نسب کی مثل بنایا تو اس کے سبب ایك اور محرمیۃ عطاکی صلوۃ وسلام اس ذات پر جس نے ہمیں درستگی
(اولاد رضیع اور اولاد مرضعہ کے درمیان حرمت نکاح کا عمدہ اور روشن بیان)
کسی کم علم نے ایك غلط فتوی درباب جوازنکاح مابین اولاد رضیع ومرضعہ لکھ دیاتھا وہ فتوی بذریعہ مولوی اکرام الدین صاحب امام وخطیب مسجد وزیر خاں اعلیحضرت امام احمد رضاخان بریلوی تك پہنچا توآپ نے اس کے رد میں مندرجہ ذیل المسمی بہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن مستند بنصوص صحیحہ و مبرہن بہ براہین شرعیہ تحریر فرمایا
وھــــــــو ھـــــــــــذا
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی خلق الانسان فجعلہ نسبا وصھرا وجعل الرضاع کالنسب فوھب بہ محرمیۃ اخری والصلوۃ والسلام علی من ھدانا للصواب
الله تعالی کے لیے سب تعریفیں جس نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کو نسب اور سسرالی رشتہ سے نواز اور رضاعت کو نسب کی مثل بنایا تو اس کے سبب ایك اور محرمیۃ عطاکی صلوۃ وسلام اس ذات پر جس نے ہمیں درستگی
ووعد علیہ جزیل الثواب فاعظم البشری واوجب التثبت فی الافتاء وحرم الاجتراء فاوعد علیہ وعید انکرا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والہ وصحبہ والمنتمین الیہ الدنیا واخری امین!
کی رہنمائی فرمائی اوراس پر بھاری ثواب کا وعدہ فرمایا تو بشارت عظیم فرمائی اور جس نے فتوی دینے میں مضبوطی کو واجب اور جسارت کو حرام فرمایا تو جسارت پر سخت وعید فرمائی الله تعالی کی رحمت اور سلام ہو آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر اور ان سب پر جو آپ کی طرف دنیا وآخرت میں منسوب ہوں آمین(ت)
مسئلہ ۲۸۰ : از لاہور مرسلہ مولوی اکرام الدین صاحب بخاری وامام وخطیب مسجد وزیرخان مرحوم ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۰ ہجری المقدس
جناب مستطاب محمدت مآب قدوۃ الابرار واسوۃ الاخیار زین الصالحین وزبدۃ العارفین علامۃ العصرو فریدالدہر عالم اہل السنۃ مجد دمائۃ حاضرہ استاذزمان ومقتدائے جہان لازوال نتیجہ خاطرہ درۃ تاج الفیضان وثمرۃ شجرۃ ضمیرہ باکورۃ بستان العرفان السلام علیکم ورحمۃ الله برکاتہ
بعد اتحاف اساس تسلیمات حورا صورت کہ رخسارہ صفا اماراتش ازتکلف حلل عبارت مستغنی ست درنظر آن سلیمان ملك عرفان معروض دارم التجاء مخلصانہ بخدمت والا مرتبت انیست کہ فتوی بہ ہمراہی مکتوب ارسال داشتہ شد موافق رائے مبارك عالی سطرے نوشتہ بنام نیازمند ارسال نمایند الہی سلامت باشند ثم السلام کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری
نورانی اور روشن تسلیمات کے تحائف جن کا رخ زیبا لباس الفاظ کے تکلف کا محتاج نہیں سلطنت عرفان کے بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد مخلصانہ التجا ہے اپنی رائے عالی کے موافق چند سطریں تحریر فرماکر اس نیاز مند کے نام روانہ فرمادیں الله تعالی سلامت رکھے والسلام کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی حقیقی بہن کا دودھ پیا ہے اس شخص اور اس کی بہن سے اولاد پیدا ہوئی یہ بھائی بہن اپنی اولادکا آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں ان کی اولاد کا نکاح شرعا آپس میں درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
شخص مذکور کی اولاد کا نکاح اس کی بہن مرضعہ کی اولاد کے ساتھ جائز ہے کیونکہ حرمت رضاعت خاص رضیع کے لیے ثابت ہوتی ہے رضیع کے اصول وفروع کے لیے حرمت مذکورہ ثابت نہیں ہوتی پس دودھ پینے والی بمعہ جمیع فروع کے حرام ہے فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہرگز حرام
کی رہنمائی فرمائی اوراس پر بھاری ثواب کا وعدہ فرمایا تو بشارت عظیم فرمائی اور جس نے فتوی دینے میں مضبوطی کو واجب اور جسارت کو حرام فرمایا تو جسارت پر سخت وعید فرمائی الله تعالی کی رحمت اور سلام ہو آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر اور ان سب پر جو آپ کی طرف دنیا وآخرت میں منسوب ہوں آمین(ت)
مسئلہ ۲۸۰ : از لاہور مرسلہ مولوی اکرام الدین صاحب بخاری وامام وخطیب مسجد وزیرخان مرحوم ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۳۰ ہجری المقدس
جناب مستطاب محمدت مآب قدوۃ الابرار واسوۃ الاخیار زین الصالحین وزبدۃ العارفین علامۃ العصرو فریدالدہر عالم اہل السنۃ مجد دمائۃ حاضرہ استاذزمان ومقتدائے جہان لازوال نتیجہ خاطرہ درۃ تاج الفیضان وثمرۃ شجرۃ ضمیرہ باکورۃ بستان العرفان السلام علیکم ورحمۃ الله برکاتہ
بعد اتحاف اساس تسلیمات حورا صورت کہ رخسارہ صفا اماراتش ازتکلف حلل عبارت مستغنی ست درنظر آن سلیمان ملك عرفان معروض دارم التجاء مخلصانہ بخدمت والا مرتبت انیست کہ فتوی بہ ہمراہی مکتوب ارسال داشتہ شد موافق رائے مبارك عالی سطرے نوشتہ بنام نیازمند ارسال نمایند الہی سلامت باشند ثم السلام کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری
نورانی اور روشن تسلیمات کے تحائف جن کا رخ زیبا لباس الفاظ کے تکلف کا محتاج نہیں سلطنت عرفان کے بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد مخلصانہ التجا ہے اپنی رائے عالی کے موافق چند سطریں تحریر فرماکر اس نیاز مند کے نام روانہ فرمادیں الله تعالی سلامت رکھے والسلام کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی حقیقی بہن کا دودھ پیا ہے اس شخص اور اس کی بہن سے اولاد پیدا ہوئی یہ بھائی بہن اپنی اولادکا آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں ان کی اولاد کا نکاح شرعا آپس میں درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
شخص مذکور کی اولاد کا نکاح اس کی بہن مرضعہ کی اولاد کے ساتھ جائز ہے کیونکہ حرمت رضاعت خاص رضیع کے لیے ثابت ہوتی ہے رضیع کے اصول وفروع کے لیے حرمت مذکورہ ثابت نہیں ہوتی پس دودھ پینے والی بمعہ جمیع فروع کے حرام ہے فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہرگز حرام
نہیں ہوسکتا چنانچہ شرح وقایہ وغیرہ میں محرمات بالرضاع کو اس شعر میں درج کیا ہے :
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند
وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اور اس کا زوج یا زوجہ اورا س کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
تحرم المرضعۃ وزوجھا علی الرضیع ویحرم قومھا علی الرضیع کما فی النسب وتحرم فروع الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا ویحرم زوجا الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا کذافی شرح الوقایۃ ص۳۔
دودھ پلانے والی خود اس کا خاوند اور اس کی قوم دودھ پلانے والے پر حرام ہوگی جیسے نسب میں حرام ہیں اور دوھ پینے والے کے فروع دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند پر حرام ہیں اور خود دودھ پینے والا اور اس کا زوج یا زوجہ دودھ پلانے والی اوراس کے زوج پر حرام ہیں شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے ص ۳(ت)
اس عبارت سے واضح ہوا کہ حرمت رضاعت رضیع کے لیے ثابت ہے رضیع کی اولاد پر مرضعہ کی اولاد جائز ہے بنا بریں شخص مذکور کی اولاد اپنی ہمشیرہ کی اولاد پر حلال ہے آپس میں ان کا نکاح درست ہے
الجواب :
انا ﷲ وانا الیہ راجعون انا ﷲ وانا الیہ راجعون انا ﷲ وانا الیہ راجعون حرام قطعی حلال کردیا گیا محارم سے زنا حلال کردیاگیا چچا بھتیجی کا نکاح حلال کردیا گیا پھوپھی بھتیجے کا نکاح حلال کردیا گیا ماموں بھانجی کا عقد حلال کردیاگیا خالہ بھانجی کا زنا حلال کردیا گیا خلاصہ یہ ہے کہ گویا ماں بیٹے کا نکاح حلال کردیا گیا باپ بیٹے کا زنا حلال کردیا گیا لاالہ الا اﷲ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ۔ اول یہ قیامت مراد آباد میں ایك وہابی خیال مولوی عالم صاحب نے اٹھائی اور غیر مقلدوں کے پیشوا نذیرحسین مع ذریات نے اس پر مہر لگائی یہاں سے ا س کا رد ہوکر گیا وہ پرانا سیانا رجوع کرگیا اور دوسرا فتوی اس کی حرمت میں لکھا اور پہلے کا یہ عذر بد تر گناہ پیش کیا کہ :
قبل ازیں بر فتوائے مولوی عالم صاحب کہ درحلت آن نوشتہ بودند براعتماد ایشان بر نظر سرسری
اس سے پہلے مولوی صاحب کے فتوی پر جو کہ اس کے حلال ہونے میں انھوں نے لکھا تھا
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند
وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اور اس کا زوج یا زوجہ اورا س کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
تحرم المرضعۃ وزوجھا علی الرضیع ویحرم قومھا علی الرضیع کما فی النسب وتحرم فروع الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا ویحرم زوجا الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا کذافی شرح الوقایۃ ص۳۔
دودھ پلانے والی خود اس کا خاوند اور اس کی قوم دودھ پلانے والے پر حرام ہوگی جیسے نسب میں حرام ہیں اور دوھ پینے والے کے فروع دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند پر حرام ہیں اور خود دودھ پینے والا اور اس کا زوج یا زوجہ دودھ پلانے والی اوراس کے زوج پر حرام ہیں شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے ص ۳(ت)
اس عبارت سے واضح ہوا کہ حرمت رضاعت رضیع کے لیے ثابت ہے رضیع کی اولاد پر مرضعہ کی اولاد جائز ہے بنا بریں شخص مذکور کی اولاد اپنی ہمشیرہ کی اولاد پر حلال ہے آپس میں ان کا نکاح درست ہے
الجواب :
انا ﷲ وانا الیہ راجعون انا ﷲ وانا الیہ راجعون انا ﷲ وانا الیہ راجعون حرام قطعی حلال کردیا گیا محارم سے زنا حلال کردیاگیا چچا بھتیجی کا نکاح حلال کردیا گیا پھوپھی بھتیجے کا نکاح حلال کردیا گیا ماموں بھانجی کا عقد حلال کردیاگیا خالہ بھانجی کا زنا حلال کردیا گیا خلاصہ یہ ہے کہ گویا ماں بیٹے کا نکاح حلال کردیا گیا باپ بیٹے کا زنا حلال کردیا گیا لاالہ الا اﷲ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ۔ اول یہ قیامت مراد آباد میں ایك وہابی خیال مولوی عالم صاحب نے اٹھائی اور غیر مقلدوں کے پیشوا نذیرحسین مع ذریات نے اس پر مہر لگائی یہاں سے ا س کا رد ہوکر گیا وہ پرانا سیانا رجوع کرگیا اور دوسرا فتوی اس کی حرمت میں لکھا اور پہلے کا یہ عذر بد تر گناہ پیش کیا کہ :
قبل ازیں بر فتوائے مولوی عالم صاحب کہ درحلت آن نوشتہ بودند براعتماد ایشان بر نظر سرسری
اس سے پہلے مولوی صاحب کے فتوی پر جو کہ اس کے حلال ہونے میں انھوں نے لکھا تھا
حوالہ / References
شرح وقایہ کتاب الرضاع مجتبائی دہلی ۲ / ۶۷
مہر من کردہ شد
ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے میری مہر لگادی گئی۔ (ت)
حلال وحرام خصوصا معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بددیانتی اورآتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۔
تم میں سے جو فتووں پر زیادہ جرأت کرتاہے وہ آگ پر زیادہ جرأت کرتا ہے۔ (ت)
خیر یہ تو غیر مقلد کے لازم بین ہے مگر “ براعتماد زایشاں “ نے انکے اجتہاد کی جان پر پوری قیامت توڑ دی اے سبحان اللہ! مجتہدی کا دعوی اورایك ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا اور اس “ کردہ شد “ کے لطف کو تو دیکھئے کیا شرمایا ہوا صیغہ مجہول ہے گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا الله یوں اپنی نشانیاں دکھا دیتا ہے اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اﷲ العفو والعافیہ(ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں ت)اسکی تفصیل اسی زمانہ میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا میں لکھی گئی دوبارہ اسی زنائے محارم کو حلال کرنے کی سخت اشد آفت کلکتہ سے اٹھی کوئی صاحب مولوی لطف الرحمن بردوانی ہیں انھوں نے جہان بھر کے تمام علماء کو مخاطب کرکے ایك عربی طویل سوال چھپوایا اور یہاں بھیجا بفضلہ تعالی اس کے جواب میں یہاں سے عربی رسالہ نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان اعلی مباحث ودلائل فقہ ونصوص پر مشتمل تصنیف ہوکر بھیج دیا گیا جس نے بحمد الله تعالی سارا ابال بیٹھا کر جآء الحق و زهق الباطل-ان الباطل كان زهوقا(۸۱) (حق آیا اور باطل زائل ہوا بیشك باطل زوال پذیر ہے۔ ت)کا نقشہ کھینچ دیا اب سہ بارہ یہ بلائے عظیم لاہور سے اٹھنے کورہ گئی تھی گویا ہر سولھویں سال اس وبال میں ابال آتا ہے پہلے ۱۲۹۸ھ میں اٹھا پھر ۱۳۱۴ھ میں اب ۱۳۳۰ھ میں وہابیت کو ایسے فتوے زیب دیتے تھے کہ ان کے قلوب اوندھے کردئے جاتے ہیں مگر اس بار صدمہ سخت تر ہے کہ ہمارے بعض سنی علماء نے اس میں شرکت کی انا ﷲ وانا الیہ راجعون ابھی چندہی مہینے تو ہوئے کہ فقیر نے اس واقعہ ہائلہ نذیر حسین دہلوی کو اپنا رسالہ تازہ کا سرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدارھم میں ذکر کیا اور وہ چھپ کر شائع ہوگیا احباب نے یا تو اس ضروری تصنیف کو براہ بے پرواہی ملاحظہ نہ فرمایا یا اس قدر بھول گئے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ فقیر از انجا کہ “ نقد البیان “ میں بہ تقریب
ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے میری مہر لگادی گئی۔ (ت)
حلال وحرام خصوصا معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بددیانتی اورآتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۔
تم میں سے جو فتووں پر زیادہ جرأت کرتاہے وہ آگ پر زیادہ جرأت کرتا ہے۔ (ت)
خیر یہ تو غیر مقلد کے لازم بین ہے مگر “ براعتماد زایشاں “ نے انکے اجتہاد کی جان پر پوری قیامت توڑ دی اے سبحان اللہ! مجتہدی کا دعوی اورایك ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا اور اس “ کردہ شد “ کے لطف کو تو دیکھئے کیا شرمایا ہوا صیغہ مجہول ہے گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا الله یوں اپنی نشانیاں دکھا دیتا ہے اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اﷲ العفو والعافیہ(ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں ت)اسکی تفصیل اسی زمانہ میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا میں لکھی گئی دوبارہ اسی زنائے محارم کو حلال کرنے کی سخت اشد آفت کلکتہ سے اٹھی کوئی صاحب مولوی لطف الرحمن بردوانی ہیں انھوں نے جہان بھر کے تمام علماء کو مخاطب کرکے ایك عربی طویل سوال چھپوایا اور یہاں بھیجا بفضلہ تعالی اس کے جواب میں یہاں سے عربی رسالہ نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان اعلی مباحث ودلائل فقہ ونصوص پر مشتمل تصنیف ہوکر بھیج دیا گیا جس نے بحمد الله تعالی سارا ابال بیٹھا کر جآء الحق و زهق الباطل-ان الباطل كان زهوقا(۸۱) (حق آیا اور باطل زائل ہوا بیشك باطل زوال پذیر ہے۔ ت)کا نقشہ کھینچ دیا اب سہ بارہ یہ بلائے عظیم لاہور سے اٹھنے کورہ گئی تھی گویا ہر سولھویں سال اس وبال میں ابال آتا ہے پہلے ۱۲۹۸ھ میں اٹھا پھر ۱۳۱۴ھ میں اب ۱۳۳۰ھ میں وہابیت کو ایسے فتوے زیب دیتے تھے کہ ان کے قلوب اوندھے کردئے جاتے ہیں مگر اس بار صدمہ سخت تر ہے کہ ہمارے بعض سنی علماء نے اس میں شرکت کی انا ﷲ وانا الیہ راجعون ابھی چندہی مہینے تو ہوئے کہ فقیر نے اس واقعہ ہائلہ نذیر حسین دہلوی کو اپنا رسالہ تازہ کا سرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدارھم میں ذکر کیا اور وہ چھپ کر شائع ہوگیا احباب نے یا تو اس ضروری تصنیف کو براہ بے پرواہی ملاحظہ نہ فرمایا یا اس قدر بھول گئے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ فقیر از انجا کہ “ نقد البیان “ میں بہ تقریب
از ہاق اوہام بردوانی اس مسئلہ کی تحقیق بازغ کر چکا ہے یہاں صرف چند نصوص ہندی کی چندی کرکے عرض کرے کہ کسی طرح اس دھوکے کا سدباب توہو آخریہ فتنہ کتنی بار اٹھے گا!
نص ا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجہ عن ام المومنین الصدیقۃ واحمد ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم۔
جو کچھ نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے (اس کو ائمہ کرام احمد بخاری مسلم ابوادؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور امام احمد مسلم نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
بھانجا بھانجی بھتیجا بھتیجی نسب سے حرام ہیں یا نہیں ضرور ہیں تو دودھ سے بھی قطعا حرام ہیں اور شك نہیں کہ اپنی نسبتی ماں کی رضاعی اولاد بہن بھائی ہے تو اس اولاد کی نسبتی اولاد اپنے سے یہی رشتے رکھتی ہے اسے یوں سمجھئے مثلا زید کی ماں ہندہ کا دودھ عمرو نے پیا تو عمرو اور زید رضاعی بھائی ہوئے اگر کہے نہ ہوئے تو ہندہ مرضعہ کی بیٹی لیلی بھی عمرو رضیع کی بہن نہ ہوگی کہ جب ہندہ کا بیٹا زید عمرو کا بھائی نہ ہوا تو ہندہ کی بیٹی لیلی کس رشتہ سے عمرو کی بہن ہوجائے گی حالانکہ وہ بہ نص قرآن عمرو کی بہن ہے۔
قال اﷲ تعالی :
و امهتكم التی ارضعنكم و اخوتكم من الرضاعة ۔
الله تعالی نے فرمایا : تمھاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ (ت)
وعلی ھذا القیاس باقی صورتیں اور جب مرضعہ کی سب اولاد رضیع کے بہن بھائی ہوگئے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کے لیے یقینا اپنے بہن بھائی کی اولاد ہے اور اپنے بہن بھائی کی اولاد یقینا اجماعا حرام ہے تو پھوپھی بھتیجے یا چچا بھتیجی یا خالہ بھانجے یاماموں بھانجی کا زنا کیونکر حلال ہوسکتاہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
نص ۲ : صحیحین میں عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور صحیح مسلم میں امیرا لمومنین مولا علی کرم الله تعالی وجہہ سے ہے انھوں نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ! حضور کے چچا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی قریش میں سب سے زائد خوبصورت نوجوان ہیں حضور چاہیں تو ان سے
نص ا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجہ عن ام المومنین الصدیقۃ واحمد ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم۔
جو کچھ نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے (اس کو ائمہ کرام احمد بخاری مسلم ابوادؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور امام احمد مسلم نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
بھانجا بھانجی بھتیجا بھتیجی نسب سے حرام ہیں یا نہیں ضرور ہیں تو دودھ سے بھی قطعا حرام ہیں اور شك نہیں کہ اپنی نسبتی ماں کی رضاعی اولاد بہن بھائی ہے تو اس اولاد کی نسبتی اولاد اپنے سے یہی رشتے رکھتی ہے اسے یوں سمجھئے مثلا زید کی ماں ہندہ کا دودھ عمرو نے پیا تو عمرو اور زید رضاعی بھائی ہوئے اگر کہے نہ ہوئے تو ہندہ مرضعہ کی بیٹی لیلی بھی عمرو رضیع کی بہن نہ ہوگی کہ جب ہندہ کا بیٹا زید عمرو کا بھائی نہ ہوا تو ہندہ کی بیٹی لیلی کس رشتہ سے عمرو کی بہن ہوجائے گی حالانکہ وہ بہ نص قرآن عمرو کی بہن ہے۔
قال اﷲ تعالی :
و امهتكم التی ارضعنكم و اخوتكم من الرضاعة ۔
الله تعالی نے فرمایا : تمھاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ (ت)
وعلی ھذا القیاس باقی صورتیں اور جب مرضعہ کی سب اولاد رضیع کے بہن بھائی ہوگئے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کے لیے یقینا اپنے بہن بھائی کی اولاد ہے اور اپنے بہن بھائی کی اولاد یقینا اجماعا حرام ہے تو پھوپھی بھتیجے یا چچا بھتیجی یا خالہ بھانجے یاماموں بھانجی کا زنا کیونکر حلال ہوسکتاہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
نص ۲ : صحیحین میں عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور صحیح مسلم میں امیرا لمومنین مولا علی کرم الله تعالی وجہہ سے ہے انھوں نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ! حضور کے چچا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی قریش میں سب سے زائد خوبصورت نوجوان ہیں حضور چاہیں تو ان سے
نکاح فرمالیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
انھا لاتحل لی انھا ابنۃ اخی من الرضاعۃ ویحرم من الرضاعۃ مایحرم من الرحم ۔
وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور جو کچھ نسبی رشتہ سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے
دوسری حدیث کے لفظ یہ ہیں :
اما علمت ان حمزۃ اخی من الرضاعۃ وان اﷲ حرم من الرضاعۃ ماحرم من النسب ۔
تمھیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ شریك بھائی ہیں اور الله نے جو رشتے نسب سے حرام فرمائے وہ دودھ سے بھی حرام فرمائے ہیں۔
صاف اشارہ ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے جب بھائی نے اپنی بہن کا دودھ پیا تو وہ اپنی بہن کے بیٹے کا رضاعی بھائی ہوگیا تو اس کی بیٹی بہن کے بیٹے کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے!
نص ۳ : نیز صحیحین میں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے درہ بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں فرمایا :
لولم تکن ربیبتی ماحلت لی ارضعتنی واباھا ثویبۃ ۔
یعنی اول تو میری ربیبہ ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بیٹی ہے اور اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی کہ اس کے باپ ابو سلمہ میرے رضاعی بھائی تھے مجھے اور ان کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم۔
یہ بھی اس طرح نص صریح ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔
نص ۴ و ۵ : مرقاۃ شرح مشکوۃ میں شرح السنۃ امام بغوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے شرح حدیث اول میں ہے :
فی الحدیث دلیل علی ان حرمۃ الرضاعۃ کحرمۃ النسب فی المناکح فاذا ارضعت المرأۃ رضیعا یحرم علی الرضیع و اولادہ من
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایك سی ہے تو جب کوئی عورت کسی بچہ کا دودھ پلائے تو اس رضیع اور
انھا لاتحل لی انھا ابنۃ اخی من الرضاعۃ ویحرم من الرضاعۃ مایحرم من الرحم ۔
وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور جو کچھ نسبی رشتہ سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے
دوسری حدیث کے لفظ یہ ہیں :
اما علمت ان حمزۃ اخی من الرضاعۃ وان اﷲ حرم من الرضاعۃ ماحرم من النسب ۔
تمھیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ شریك بھائی ہیں اور الله نے جو رشتے نسب سے حرام فرمائے وہ دودھ سے بھی حرام فرمائے ہیں۔
صاف اشارہ ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے جب بھائی نے اپنی بہن کا دودھ پیا تو وہ اپنی بہن کے بیٹے کا رضاعی بھائی ہوگیا تو اس کی بیٹی بہن کے بیٹے کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے!
نص ۳ : نیز صحیحین میں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے درہ بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں فرمایا :
لولم تکن ربیبتی ماحلت لی ارضعتنی واباھا ثویبۃ ۔
یعنی اول تو میری ربیبہ ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بیٹی ہے اور اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی کہ اس کے باپ ابو سلمہ میرے رضاعی بھائی تھے مجھے اور ان کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم۔
یہ بھی اس طرح نص صریح ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔
نص ۴ و ۵ : مرقاۃ شرح مشکوۃ میں شرح السنۃ امام بغوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے شرح حدیث اول میں ہے :
فی الحدیث دلیل علی ان حرمۃ الرضاعۃ کحرمۃ النسب فی المناکح فاذا ارضعت المرأۃ رضیعا یحرم علی الرضیع و اولادہ من
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایك سی ہے تو جب کوئی عورت کسی بچہ کا دودھ پلائے تو اس رضیع اور
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۷
مسند امام احمد کتاب الرضاع دارالفکر بیروت ۱ / ۲۷۵
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶۸
مسند امام احمد کتاب الرضاع دارالفکر بیروت ۱ / ۲۷۵
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶۸
اقارب المرضعۃ کل من یحرم علی ولدھا من النسب ۔
رضیع کی اولاد پر مرضعہ کے وہ سب رشتہ دارحرام ہوجائیں گے جو مرضعہ کی نسبی اولاد پر حرام ہیں
یہ عام نص صریح ہے کہ رضیع کی تمام اولا دپر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے
نص ۶ : تفسیر نیشاپور میں دودھ کی بھتیجیوں بھانجیوں کے بیان میں ہے :
کذلك بنات من ارضعت امك ۔
یعنی اسی طرح جس کو تیری ماں نے دودھ پلایا۔
وہ مرد تھا اس کی بیٹیاں تیری بھتیجیاں ہوگئیں اور عورت تھی تو اس کی بیٹیاں تیری بھانجیاں ہوگئیں اور یہ سب بنت الاخ وبنت الاخت میں داخل اور حرام ہیں۔
نص ۷ : مستخلص شرح کنز میں ہے :
تحرم زوجۃ الرضیع علی زوج المرضعۃ و کذابنات بناتہ علی زوج المرضعۃ وابنائہ کذا فھم من شرح الوقایۃ ۔
یعنی رضیع کی بی بی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے یو نہی رضیع کی بیٹیاں نواسیاں مرضعہ کے شوہر اورا س کے بیٹوں پر حرام ہیں شرح وقایہ کا مفاد یہی ہے۔
نص ۸ : ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کہ صحیحین بخاری ومسلم میں ہے :
جاء عمی من الرضاعۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ عمك فلیلج علیك ھذا مختصر۔
میرے رضاعی چچا آئے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دودھ کا چچا بھی چچا ہے ان سے پردہ کی حاجت نہیں۔ (مختصرا)
شیخ محقق نے لمعات میں رضاعی چچا کی یہ تفسیر فرمائی :
بان ام ابیھا ارضعتہ اوامہ ارضعت اباھا ۔
یعنی دودھ کے چچا یوں کہ یا تو ام المومنین کی دادی نے انھیں دودھ پلایا یا ان کی ماں نے ام المومنین کے باپ کو دودھ پلایا۔
یہ صورت دوم تصریح صریح ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس کی بیٹی اپنی بھتیجی اور محرم ہے
رضیع کی اولاد پر مرضعہ کے وہ سب رشتہ دارحرام ہوجائیں گے جو مرضعہ کی نسبی اولاد پر حرام ہیں
یہ عام نص صریح ہے کہ رضیع کی تمام اولا دپر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے
نص ۶ : تفسیر نیشاپور میں دودھ کی بھتیجیوں بھانجیوں کے بیان میں ہے :
کذلك بنات من ارضعت امك ۔
یعنی اسی طرح جس کو تیری ماں نے دودھ پلایا۔
وہ مرد تھا اس کی بیٹیاں تیری بھتیجیاں ہوگئیں اور عورت تھی تو اس کی بیٹیاں تیری بھانجیاں ہوگئیں اور یہ سب بنت الاخ وبنت الاخت میں داخل اور حرام ہیں۔
نص ۷ : مستخلص شرح کنز میں ہے :
تحرم زوجۃ الرضیع علی زوج المرضعۃ و کذابنات بناتہ علی زوج المرضعۃ وابنائہ کذا فھم من شرح الوقایۃ ۔
یعنی رضیع کی بی بی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے یو نہی رضیع کی بیٹیاں نواسیاں مرضعہ کے شوہر اورا س کے بیٹوں پر حرام ہیں شرح وقایہ کا مفاد یہی ہے۔
نص ۸ : ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کہ صحیحین بخاری ومسلم میں ہے :
جاء عمی من الرضاعۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ عمك فلیلج علیك ھذا مختصر۔
میرے رضاعی چچا آئے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دودھ کا چچا بھی چچا ہے ان سے پردہ کی حاجت نہیں۔ (مختصرا)
شیخ محقق نے لمعات میں رضاعی چچا کی یہ تفسیر فرمائی :
بان ام ابیھا ارضعتہ اوامہ ارضعت اباھا ۔
یعنی دودھ کے چچا یوں کہ یا تو ام المومنین کی دادی نے انھیں دودھ پلایا یا ان کی ماں نے ام المومنین کے باپ کو دودھ پلایا۔
یہ صورت دوم تصریح صریح ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس کی بیٹی اپنی بھتیجی اور محرم ہے
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المحرمات مکتبۃ امدایہ ملتان ۶ / ۲۳۔ ۲۲۲
غرائب القرآن(نیشاپوری)حرمت علیکم امھاتکم کے تحت مصطفی البابی مصر ۵ / ۸
مستخلص الحقائق کتاب الرضاع دلی پرنٹنگ ورکس دہلی ۲ / ۹۹
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
لمعات التنقیح
غرائب القرآن(نیشاپوری)حرمت علیکم امھاتکم کے تحت مصطفی البابی مصر ۵ / ۸
مستخلص الحقائق کتاب الرضاع دلی پرنٹنگ ورکس دہلی ۲ / ۹۹
صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
لمعات التنقیح
نص ۹ و ۱۰ : امام اجل ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں شوہر مرضعہ کی نسبت فرماتے ہیں :
واللفظ للنووی فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع ویصیر ولدالہ ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ۔ (ملخصا)
امام نووی کے الفاظ میں ہمارا اور تمام علماء کا مذہب یہ ہے کہ رضیع اور شوہر مرضعہ میں حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے رضیع اس کا بچہ ہوجاتاہے اور رضیع کی اولاد اس شخص کی اولاد ہوجاتی ہے
یعنی اولاد رضیع جس طرح مرضعہ کی پوتا پوتی نواسا نواسی باجماع قطعی ہے یونہی باجماع مذاہب اربعہ وجملہ ائمہ وفقہاوہ شوہر مرضعہ کے بھی پوتے نواسے ہیں اور باجماع امت مرحومہ اپنے ماں باپ کے پوتا پوتی نواسا نواسی اپنے لیے حرام قطعی اور اپنے بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہیں۔
نص ۱۱ و ۱۲ و ۱۳ و ۱۴ : فتح القدیر بحرالرائق طحطاوی مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا میں ہے :
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبر عنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہے دودھ سے بھی حرام ہے اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ لفظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں۔
ظاہر ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس پر بہن یابھائی کالفظ صادق ہے اور اس لیے وہ اپنے اوپر حرام ہے تو اس کی اولاد پر اپنے بھائی یا بہن کے بیٹے کالفظ صادق ہے لاجرم وہ بھی قطعا حرام ہیں
نص ۱۵ : فتاوی بزازیہ میں ہے :
الاصل الکلی فی الرضاع ان کل امرأۃ
یعنی دودھ کے رشتوں میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس
واللفظ للنووی فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع ویصیر ولدالہ ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ۔ (ملخصا)
امام نووی کے الفاظ میں ہمارا اور تمام علماء کا مذہب یہ ہے کہ رضیع اور شوہر مرضعہ میں حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے رضیع اس کا بچہ ہوجاتاہے اور رضیع کی اولاد اس شخص کی اولاد ہوجاتی ہے
یعنی اولاد رضیع جس طرح مرضعہ کی پوتا پوتی نواسا نواسی باجماع قطعی ہے یونہی باجماع مذاہب اربعہ وجملہ ائمہ وفقہاوہ شوہر مرضعہ کے بھی پوتے نواسے ہیں اور باجماع امت مرحومہ اپنے ماں باپ کے پوتا پوتی نواسا نواسی اپنے لیے حرام قطعی اور اپنے بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہیں۔
نص ۱۱ و ۱۲ و ۱۳ و ۱۴ : فتح القدیر بحرالرائق طحطاوی مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا میں ہے :
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبر عنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہے دودھ سے بھی حرام ہے اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ لفظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں۔
ظاہر ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس پر بہن یابھائی کالفظ صادق ہے اور اس لیے وہ اپنے اوپر حرام ہے تو اس کی اولاد پر اپنے بھائی یا بہن کے بیٹے کالفظ صادق ہے لاجرم وہ بھی قطعا حرام ہیں
نص ۱۵ : فتاوی بزازیہ میں ہے :
الاصل الکلی فی الرضاع ان کل امرأۃ
یعنی دودھ کے رشتوں میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶۶
بحرالرائق کتاب الرضاع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۶۔ ۲۲۵
بحرالرائق کتاب الرضاع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۲۶۔ ۲۲۵
انتسبت الیك اوانتسبت الیھا بالرضاع او انتسبتما الی شخص واحد بلا واسطۃ اواحد کما بلا واسطۃ والاخربواسطۃ فھی حرام ۔
سے چار قسم کی عورتیں حرام ہیں اول وہ جو دودھ کے سبب تیری طرف منسوب ہو یعنی تیری بیٹی پوتی نواسی کہلائے یہ رضاعی بیٹی ہوئی دوسری وہ کہ دودھ کے سبب تو اس کی طرف منسوب ہو یعنی اس کا بیٹا پوتا نواسا ٹھہرے یہ رضاعی ماں ہوئی تیسرے وہ کہ تو اور وہ دونوں ایك شخص کے بیٹا بیٹی قرارپائیں یہ رضاعی بہن بھائی ہوئے چوتھے وہ کہ تم میں ایك تو اس شخص کا بیٹا یا بیٹی ٹھہرے اور دوسرا اس شخص کا پوتا پوتی نواسا نواسی یہ رضاعی خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی ہوئے اوراگر تو پوتا نواساہے اوروہ بیٹی تو وہ تیری پھوپھی یا خالہ ہوئے شك نہیں کہ صورت مسئولہ میں دودھ پلانے والی بہن کی اولاد بلاواسطہ اس کے بیٹا بیٹی ہے اور دودھ پینے والے بھائی کی اولاد اس مرضعہ بہن کی پوتا پوتی تو یہ تحریم کی خاص چوتھی صورت ہے۔
نص ۱۶ : برجندی شرح نقایہ میں ہے :
بنت الاخ تشتمل البنت النسبیۃ للاخ الرضاعی ۔
رضاعی بھائی کی بیٹی بھی بھتیجی میں داخل ہے۔
نص ۱۷ و ۱۸ : شرح وقایہ ودرر شرح غرر میں ہے :
بنت الاخت تشتمل البنت النسبیہ للاخت الرضاعیۃ ۔
رضاعی بہن کی بیٹی بھی بھانجی میں داخل ہے۔
نص ۱۹ و ۲۰ و ۲۱ و ۲۲ و ۲۳ و ۲۴ و ۲۵ : متون معتمدہ مذہب کنز الدقائق وقایہ نقایہ اصلاح غرر ملتقی تنویر میں ہے :
واللفظ للغرر حرم تزوج اصلہ وفرعہ واختہ وبنتھا وبنت اخیہ والکل رضاعا۔ (ملخصا)
(غرر کے الفاظ میں)یعنی آدمی پر اس کے اصول وفروع اور بہن اور بہن کی بیٹی اور بھائی کی بیٹی سے نکاح حرام ہے اور یہ سب دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں۔
نص ۲۶ : یونہی متن وافی میں لایحل للرجل ان یتزوج بامہ وبنتہ واختہ وبنات اختہ وبنات اخیہ فرماکر شرح کافی میں فرمایا :
اعلم ان من ذکرنا من المحرمات من اول الفصل الی ھناتحرم من الرضاع ایضا۔
یعنی ماں اور بیٹی اور بہن اور بھانجی اور بھتیجی حرام ہیں اور یہ جتنی محرمات شروع سے یہاں تك ہم نے ذکرکیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں۔
سے چار قسم کی عورتیں حرام ہیں اول وہ جو دودھ کے سبب تیری طرف منسوب ہو یعنی تیری بیٹی پوتی نواسی کہلائے یہ رضاعی بیٹی ہوئی دوسری وہ کہ دودھ کے سبب تو اس کی طرف منسوب ہو یعنی اس کا بیٹا پوتا نواسا ٹھہرے یہ رضاعی ماں ہوئی تیسرے وہ کہ تو اور وہ دونوں ایك شخص کے بیٹا بیٹی قرارپائیں یہ رضاعی بہن بھائی ہوئے چوتھے وہ کہ تم میں ایك تو اس شخص کا بیٹا یا بیٹی ٹھہرے اور دوسرا اس شخص کا پوتا پوتی نواسا نواسی یہ رضاعی خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی ہوئے اوراگر تو پوتا نواساہے اوروہ بیٹی تو وہ تیری پھوپھی یا خالہ ہوئے شك نہیں کہ صورت مسئولہ میں دودھ پلانے والی بہن کی اولاد بلاواسطہ اس کے بیٹا بیٹی ہے اور دودھ پینے والے بھائی کی اولاد اس مرضعہ بہن کی پوتا پوتی تو یہ تحریم کی خاص چوتھی صورت ہے۔
نص ۱۶ : برجندی شرح نقایہ میں ہے :
بنت الاخ تشتمل البنت النسبیۃ للاخ الرضاعی ۔
رضاعی بھائی کی بیٹی بھی بھتیجی میں داخل ہے۔
نص ۱۷ و ۱۸ : شرح وقایہ ودرر شرح غرر میں ہے :
بنت الاخت تشتمل البنت النسبیہ للاخت الرضاعیۃ ۔
رضاعی بہن کی بیٹی بھی بھانجی میں داخل ہے۔
نص ۱۹ و ۲۰ و ۲۱ و ۲۲ و ۲۳ و ۲۴ و ۲۵ : متون معتمدہ مذہب کنز الدقائق وقایہ نقایہ اصلاح غرر ملتقی تنویر میں ہے :
واللفظ للغرر حرم تزوج اصلہ وفرعہ واختہ وبنتھا وبنت اخیہ والکل رضاعا۔ (ملخصا)
(غرر کے الفاظ میں)یعنی آدمی پر اس کے اصول وفروع اور بہن اور بہن کی بیٹی اور بھائی کی بیٹی سے نکاح حرام ہے اور یہ سب دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں۔
نص ۲۶ : یونہی متن وافی میں لایحل للرجل ان یتزوج بامہ وبنتہ واختہ وبنات اختہ وبنات اخیہ فرماکر شرح کافی میں فرمایا :
اعلم ان من ذکرنا من المحرمات من اول الفصل الی ھناتحرم من الرضاع ایضا۔
یعنی ماں اور بیٹی اور بہن اور بھانجی اور بھتیجی حرام ہیں اور یہ جتنی محرمات شروع سے یہاں تك ہم نے ذکرکیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں۔
حوالہ / References
فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ الرابع فی الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۵
شرح نقایہ للبرجندی کتاب النکاح مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۶
شرح وقایہ کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۲ ، درر شرح غرر کتاب النکاح احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت بیروت ۱ / ۳۳۰
الدررالحکام شرح غرر الحکام کتاب النکاح احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت بیروت ۱ / ۳۰۔ ۳۲۹
کافی شرح وافی
شرح نقایہ للبرجندی کتاب النکاح مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۶
شرح وقایہ کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۲ ، درر شرح غرر کتاب النکاح احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت بیروت ۱ / ۳۳۰
الدررالحکام شرح غرر الحکام کتاب النکاح احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت بیروت ۱ / ۳۰۔ ۳۲۹
کافی شرح وافی
نص ۲۷ : تبیین الحقائق میں ہے :
یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھی امہ واختہ وبنات اخوتہ الخ۔
یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں اور بیٹی اور بہن اور رضاعی بہن اور بھائی کی بیٹیاں۔
نص ۲۸ : درمختار میں ہے :
حرم علی المتزوج ذکرا اوانثی اصلہ وفرعہ وبنت اخیہ واختہ وبنتھا والکل رضاعا ۔
یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ دادا دادی نانا نانی بیٹا بیٹی پوتاپوتی نواسا نواسی بھتیجا بھتیجی بہن اور بھائی کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے حرام ہیں۔
نص ۲۹ : جوہر نیرہ میں ہے :
کذلك بنات اخیہ وبنات اختہ من الرضاعۃ لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحرم من الرضاع مایحرم من النسب ۔
یعنی نسبی کی طرح رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔
ان تمام نصوص جلیلہ میں بالاتفاق بلا خلاف صاف صاف واشگاف تصریحیں فرمائیں کہ رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھانجی بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں اور شك نہیں کہ اخوت رشتہ متکررہ ہے کہ دونوں
یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھی امہ واختہ وبنات اخوتہ الخ۔
یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں اور بیٹی اور بہن اور رضاعی بہن اور بھائی کی بیٹیاں۔
نص ۲۸ : درمختار میں ہے :
حرم علی المتزوج ذکرا اوانثی اصلہ وفرعہ وبنت اخیہ واختہ وبنتھا والکل رضاعا ۔
یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ دادا دادی نانا نانی بیٹا بیٹی پوتاپوتی نواسا نواسی بھتیجا بھتیجی بہن اور بھائی کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے حرام ہیں۔
نص ۲۹ : جوہر نیرہ میں ہے :
کذلك بنات اخیہ وبنات اختہ من الرضاعۃ لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحرم من الرضاع مایحرم من النسب ۔
یعنی نسبی کی طرح رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔
ان تمام نصوص جلیلہ میں بالاتفاق بلا خلاف صاف صاف واشگاف تصریحیں فرمائیں کہ رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھانجی بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں اور شك نہیں کہ اخوت رشتہ متکررہ ہے کہ دونوں
حوالہ / References
تبیین الحقائق فصل فی المحرمات مطبع الکبری الامیریہ مصر ۲ / ۱۰۳
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
الجوہرۃ النیرہ کتاب النکاح مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۶۸
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
الجوہرۃ النیرہ کتاب النکاح مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۶۸
طرف سے یکساں قائم ہوتا ہے جس طرح مرضعہ کا بیٹا رضیع کابھائی ہوا واجب کہ یوں ہی رضیع پسر مرضعہ کا بھائی ہو یہ محال ہے کہ زید تو عمرو کا بھائی ہو اور عمرو زید کابھائی نہ ہو اور جب رضیع اولادمرضعہ کایقینا اجماعا بھائی ہے جس سے انکار کسی ذی عقل بلکہ فہیم بچہ کو بھی متصور نہیں۔ اورجملہ ائمہ ونصوص مذہب صریح قطعی تصریحیں فرمارہے ہیں کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کی اولاد کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے یہ یقینا نصوص قطعیہ واجماع امت کے خلاف ہے ائمہ نے صاف ارشاد فرمایا ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے اور رضیع اور پسر مرضعہ دونوں یقینا آپس میں رضاعی بھائی ہیں۔ توان میں ہر ایك کی بیٹی دوسرے پر حرام قطعی ہے کیا کوئی عاقل یہ بھی گمان کرسکتا ہے کہ ایك بھائی کی بیٹی دوسرے پر حرام ہو اور اس دوسرے بھائی کی بیٹی اس بھائی کے لیے حلال ہو شرع عرف عقل نقل کسی میں بھی اس لغو وبیہودہ فرق کی گنجائش ہوسکتی ہے حاشا ہر گزنہیں۔
نص ۳۰ : شرح وقایہ میں فرمایا :
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اورا س کا زوج یا زوجہ اور اس کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
یہ شعر نقایہ و شرح الکنز للملامسکین میں بھی مذکور ہے۔ فاضل چلپی وفاضل قرہ باغی محشیان شرح وقایہ و علامہ برجندی شارح نقایہ نے توا س پر ایك حرف بھی نہ لکھااور علامہ قہستانی نے دو سطریں فارسی میں لکھ دیں جن سے ظاہری الفاظ کے سوا مغز مطلب کی کچھ تو ضیح نہ ہوئی عــــہ۱ ۔ اور علامہ سید ابوالسعود ازہری نے فتح الله المیعن میں آدھی سطراس کے ترجمہ عربی کی لکھی جو شعر کے صرف ایك مصرع کا بھی آدھا ہی ترجمہ ہے عــــہ۲ سب سے
عــــہ۱ : حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں خویش خوارہ شوند وشیر خوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ و شوہرش شوند ۱۲ ۔ (م)
عــــہ۲ : حیث قال معنی البیت ان زوجات الرضیع و فروعہ یحرمن علی ابیہ ۱۲(م)
یوں کہا یعنی دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند ان کی اولاد والدین بھائی اور ان کی بہنیں شیرخوار کے رشتہ دار ہوں گے اور دودھ پینے والا اس کی بیوی یا خاوند اولاد سمیت دودھ پلانے والی اورا س کے خاوند کے رشتہ دار ہوں گے ۱۲(ت)
یوں کہا شعر کا معنی یہ ہے کہ دودھ پلانے والے کی بیویاں اور اس کی اولاد اپنے رضاعی باپ پر حرام ہیں ۱۲(ت)
نص ۳۰ : شرح وقایہ میں فرمایا :
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اورا س کا زوج یا زوجہ اور اس کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
یہ شعر نقایہ و شرح الکنز للملامسکین میں بھی مذکور ہے۔ فاضل چلپی وفاضل قرہ باغی محشیان شرح وقایہ و علامہ برجندی شارح نقایہ نے توا س پر ایك حرف بھی نہ لکھااور علامہ قہستانی نے دو سطریں فارسی میں لکھ دیں جن سے ظاہری الفاظ کے سوا مغز مطلب کی کچھ تو ضیح نہ ہوئی عــــہ۱ ۔ اور علامہ سید ابوالسعود ازہری نے فتح الله المیعن میں آدھی سطراس کے ترجمہ عربی کی لکھی جو شعر کے صرف ایك مصرع کا بھی آدھا ہی ترجمہ ہے عــــہ۲ سب سے
عــــہ۱ : حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں خویش خوارہ شوند وشیر خوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ و شوہرش شوند ۱۲ ۔ (م)
عــــہ۲ : حیث قال معنی البیت ان زوجات الرضیع و فروعہ یحرمن علی ابیہ ۱۲(م)
یوں کہا یعنی دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند ان کی اولاد والدین بھائی اور ان کی بہنیں شیرخوار کے رشتہ دار ہوں گے اور دودھ پینے والا اس کی بیوی یا خاوند اولاد سمیت دودھ پلانے والی اورا س کے خاوند کے رشتہ دار ہوں گے ۱۲(ت)
یوں کہا شعر کا معنی یہ ہے کہ دودھ پلانے والے کی بیویاں اور اس کی اولاد اپنے رضاعی باپ پر حرام ہیں ۱۲(ت)
حوالہ / References
شرح وقایہ کتاب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۶۷
جامع الرموز للقہستانی کتاب الرضاع مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۵۰۱
فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۳
جامع الرموز للقہستانی کتاب الرضاع مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۵۰۱
فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۳
متاخر لکھنوی صاحب نے بھی عمدۃ الرعایہ میں نرے ترجمہ پر قناعت کی فقط ایك حرف زائد کیا وہ بھی غلط۔
حیث قال مفادالمصرع الاول ان من جانب المرضعۃ وکذا زوجھا یکون الکل ذاقرابۃ من الرضیع ای الذین لھم قرابۃ محرمۃ من النسب فیدخل فیہ المرضعۃ وزوجھا واقرباؤھما ومفاد المصرع الثانی ان من جانب الرضیع انما یثبت القرابۃ للمرضعۃ وزوجھا من فروعہ واحد زوجیۃ انتھی۔
انھوں نے یوں کہا پہلے مصرع کا مفادیہ ہے کہ دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند کی جانب سے تمام رشتے دودھ پینے والے کے قریبی ہوں گے یعنی ان کے وہ رشتے جو نسبی طورپر حرام ہوتے ہیں تو اس میں دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند اوران دونوں کے اقرباء داخل ہوں گے اور دوسرے مصرع کا مفاد یہ ہے کہ دودھ پینے والے کی جانب سے دودھ پلانے والی اور اس کے زوج پر تمام فروع اوراس کے زوج یا زوجہ کی قرابت ثابت ہوگی انتہی(ت)
ظاہر ہے یہ محض ترجمہ ہے صرف اتنا زائد ہے کہ ہمہ سے مراد محارم نسبی ہیں یہ غلط ہے کہ ماں باپ کے جتنے علاقہ والے اولاد پر حرام ہوتے ہیں نسبی ہوں خواہ رضاعی صہری وہ خود ماں باپ کے محارم ہوں یا نہ ہوں۔ جہاں جہاں معنی محرم فی النسب موجود ہو سب مراد ہیں مثلا رضاعی ماں باپ کے رضاعی ماں باپ بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم رضاعی ہیں نہ کہ نسبی یوں ہی رضاعی ماں باپ کے سوتیلے ماں باپ رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ رضیع کے رضاعی نانا دادا کی بیبیاں ہیں اور رضیعہ کے رضاعی نانی دادی کے شوہر حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم صہری ہیں نہ کہ نسبی یونہی رضاعی باپ کے دوسری بی بی رضاعی ماں کا دوسرا شوہر رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ ان کے سوتیلے ماں باپ ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم ہی نہیں بلکہ حلیل وحلیلہ ہیں تو قرابت محرمہ اور نسبیہ دونوں قیدیں غلط ہیں بلکہ سرے سے لفظ قرابت ہی ٹھیك نہیں کہ مصرع اول میں لفظ ھمہ مرضع کے زوجین کو بھی یقینا شامل اور زوجیت داخل قرابت نہیں تفسیر نیشاپوری میں ہے :
امك من الرضاع کل انثی ارضعتك اوارضعت من ارضعتك ۔
تیری رضاعی ماں سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ عورت جس نے تجھے یا تیری رضاعی ماں کو دودھ پلایا ہو(ت)
ہندیہ میں ہے :
المحرمات بالصھریۃ اربع فرق الرابعۃ
نکاح کی وجہ سے محرمات کے چار گروہ ہیں چوتھا
حیث قال مفادالمصرع الاول ان من جانب المرضعۃ وکذا زوجھا یکون الکل ذاقرابۃ من الرضیع ای الذین لھم قرابۃ محرمۃ من النسب فیدخل فیہ المرضعۃ وزوجھا واقرباؤھما ومفاد المصرع الثانی ان من جانب الرضیع انما یثبت القرابۃ للمرضعۃ وزوجھا من فروعہ واحد زوجیۃ انتھی۔
انھوں نے یوں کہا پہلے مصرع کا مفادیہ ہے کہ دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند کی جانب سے تمام رشتے دودھ پینے والے کے قریبی ہوں گے یعنی ان کے وہ رشتے جو نسبی طورپر حرام ہوتے ہیں تو اس میں دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند اوران دونوں کے اقرباء داخل ہوں گے اور دوسرے مصرع کا مفاد یہ ہے کہ دودھ پینے والے کی جانب سے دودھ پلانے والی اور اس کے زوج پر تمام فروع اوراس کے زوج یا زوجہ کی قرابت ثابت ہوگی انتہی(ت)
ظاہر ہے یہ محض ترجمہ ہے صرف اتنا زائد ہے کہ ہمہ سے مراد محارم نسبی ہیں یہ غلط ہے کہ ماں باپ کے جتنے علاقہ والے اولاد پر حرام ہوتے ہیں نسبی ہوں خواہ رضاعی صہری وہ خود ماں باپ کے محارم ہوں یا نہ ہوں۔ جہاں جہاں معنی محرم فی النسب موجود ہو سب مراد ہیں مثلا رضاعی ماں باپ کے رضاعی ماں باپ بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم رضاعی ہیں نہ کہ نسبی یوں ہی رضاعی ماں باپ کے سوتیلے ماں باپ رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ رضیع کے رضاعی نانا دادا کی بیبیاں ہیں اور رضیعہ کے رضاعی نانی دادی کے شوہر حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم صہری ہیں نہ کہ نسبی یونہی رضاعی باپ کے دوسری بی بی رضاعی ماں کا دوسرا شوہر رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ ان کے سوتیلے ماں باپ ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم ہی نہیں بلکہ حلیل وحلیلہ ہیں تو قرابت محرمہ اور نسبیہ دونوں قیدیں غلط ہیں بلکہ سرے سے لفظ قرابت ہی ٹھیك نہیں کہ مصرع اول میں لفظ ھمہ مرضع کے زوجین کو بھی یقینا شامل اور زوجیت داخل قرابت نہیں تفسیر نیشاپوری میں ہے :
امك من الرضاع کل انثی ارضعتك اوارضعت من ارضعتك ۔
تیری رضاعی ماں سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ عورت جس نے تجھے یا تیری رضاعی ماں کو دودھ پلایا ہو(ت)
ہندیہ میں ہے :
المحرمات بالصھریۃ اربع فرق الرابعۃ
نکاح کی وجہ سے محرمات کے چار گروہ ہیں چوتھا
حوالہ / References
عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ کتاب الرضاع مجتبائی دہلی ۲ / ۶۷
غرائب القرآن(نیشاپوری)تحت آیت حرمت علیکم امھاتکم الخ مصطفی البابی مصر ۵ / ۸
غرائب القرآن(نیشاپوری)تحت آیت حرمت علیکم امھاتکم الخ مصطفی البابی مصر ۵ / ۸
نساء الآباء والاجداد من جہۃ الاب والام وان علوا کذافی الحاوی القدسی ۔
ماں باپ کی طرف سے سگے باپ دادوں کی بیویاں اگرچہ یہ باپ دادے اوپرتك ہوں حاوی القدسی میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
پھر لکھا :
المحرمات بالرضاع کل من تحرم بالقرابۃ و الصھریہ کذافی محیط للسرخسی ۔
رضاعی محرمات وہ تمام جو قرابت اور نکاح سے حرام ہوتے ہیں۔ محیط سرخسی میں یوں ہی ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لایجوز لہ ان یتزوج بامہ ولابموطوۃ ابیہ ولاببنت امرأتہ کل ذلك من الرضاع ۔
اس کو یہ جائز نہیں کہ وہ ماں باپ کی وطی کردہ(بیوی)اور اپنی بیوی کی بیٹی ان رضاعی رشتوں سے نکاح کرے۔ (ت)
غرض فقیر نے نہ دیکھا کہ اس شعر کا ایضاح کسی نے کیا ہو۔ اور اہل زمانہ کو اس کی فہم میں دقتیں بلکہ سخت لغزشیں ہوتی ہیں لہذا بقدرحاجت اس کی شرح کردینی مناسب۔
فاقول : وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)اصل علت حرمت جزئیت ہے کہ نسب میں ظاہر اور رضاع میں کراہت انسان کے لیے شرع کریم نے معتبر فرمائی اور عرف میں بھی معروف ومشتہر ہوئی جس کے لحاظ سے “ و امهتكم التی ارضعنكم “ فرمایا اور زوجیت کا مرجع بھی جانب جزئیت ہے کما حققہ فی الھدایہ والکافی والتبیین وغیرھا(جیساکہ ہدایہ کافی اور تبیین وغیرہ میں تحقیق ہے۔ ت)مگر زوجیت میں اس کا تحقق نہایت غموض میں ہے کہ مدارك عامہ اس تك وصول سے قاصر لہذا صاحب ضابطہ نے شعر میں دو علاقے رکھے ایك زوجیت دوسرا جزئیت عام ازیں کہ یہ نسبا ہو یا رضاعا پھر دو۲ شخصوں میں علاقہ جزئیت کی دوصورتیں ہیں : ایك یہ کہ ان میں ایك دوسرے کا جز ہو دوسرے یہ کہ دونوں تیسرے کے جزہوں صورت اولی میں دو قسمیں پیدا ہوئیں اصول جن کا تو جز ہے یعنی باپ دادا نانا ماں دادی نانی جہاں تك بلند ہوں نسبا خواہ رضاعا اور فروع جو تیرے جز میں ہیں یعنی بیٹا پوتا نواسا بیٹی پوتی نواسی جہاں تك نیچے جائیں اور صورت ثانیہ میں تین صورتیں ہیں :
ماں باپ کی طرف سے سگے باپ دادوں کی بیویاں اگرچہ یہ باپ دادے اوپرتك ہوں حاوی القدسی میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
پھر لکھا :
المحرمات بالرضاع کل من تحرم بالقرابۃ و الصھریہ کذافی محیط للسرخسی ۔
رضاعی محرمات وہ تمام جو قرابت اور نکاح سے حرام ہوتے ہیں۔ محیط سرخسی میں یوں ہی ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لایجوز لہ ان یتزوج بامہ ولابموطوۃ ابیہ ولاببنت امرأتہ کل ذلك من الرضاع ۔
اس کو یہ جائز نہیں کہ وہ ماں باپ کی وطی کردہ(بیوی)اور اپنی بیوی کی بیٹی ان رضاعی رشتوں سے نکاح کرے۔ (ت)
غرض فقیر نے نہ دیکھا کہ اس شعر کا ایضاح کسی نے کیا ہو۔ اور اہل زمانہ کو اس کی فہم میں دقتیں بلکہ سخت لغزشیں ہوتی ہیں لہذا بقدرحاجت اس کی شرح کردینی مناسب۔
فاقول : وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ ت)اصل علت حرمت جزئیت ہے کہ نسب میں ظاہر اور رضاع میں کراہت انسان کے لیے شرع کریم نے معتبر فرمائی اور عرف میں بھی معروف ومشتہر ہوئی جس کے لحاظ سے “ و امهتكم التی ارضعنكم “ فرمایا اور زوجیت کا مرجع بھی جانب جزئیت ہے کما حققہ فی الھدایہ والکافی والتبیین وغیرھا(جیساکہ ہدایہ کافی اور تبیین وغیرہ میں تحقیق ہے۔ ت)مگر زوجیت میں اس کا تحقق نہایت غموض میں ہے کہ مدارك عامہ اس تك وصول سے قاصر لہذا صاحب ضابطہ نے شعر میں دو علاقے رکھے ایك زوجیت دوسرا جزئیت عام ازیں کہ یہ نسبا ہو یا رضاعا پھر دو۲ شخصوں میں علاقہ جزئیت کی دوصورتیں ہیں : ایك یہ کہ ان میں ایك دوسرے کا جز ہو دوسرے یہ کہ دونوں تیسرے کے جزہوں صورت اولی میں دو قسمیں پیدا ہوئیں اصول جن کا تو جز ہے یعنی باپ دادا نانا ماں دادی نانی جہاں تك بلند ہوں نسبا خواہ رضاعا اور فروع جو تیرے جز میں ہیں یعنی بیٹا پوتا نواسا بیٹی پوتی نواسی جہاں تك نیچے جائیں اور صورت ثانیہ میں تین صورتیں ہیں :
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۷
تبیین الحقائق کتاب الرضاع مطبع الکبری الامیریہ مصر ۲ / ۱۸۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح فی بیان المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۷
تبیین الحقائق کتاب الرضاع مطبع الکبری الامیریہ مصر ۲ / ۱۸۳
(۱)دونوں ثالث کے جز قریب ہوں یہ عینی یا علاتی یااخیافی بھائی یابہنیں یا بہن بھائی ہوئے عام ازیں کہ دونوں اس کے جز نسبی ہوں یا دونوں رضاعی یا ایك نسبی ایك رضاعی۔
(۲)ان میں ایك توثالث کا جز قریب ہو اور دوسرا بعید یہ انہی تعمیموں کے ساتھ عمومت اور خولت کا رشتہ ہوا جزء قریب اپنے یا اپنے ماں یا باپ یا دادا یا دادی یا نانا نانی کے چچا ماموں خالہ پھوپھی اورجزء بعید انہی نسبتوں پر ان کے مقابل بھتیجا بھانجا بھتیجی بھانجی
(۳)دونوں ثالث کے جز بعید ہوں جیسے ایك شخص کا پوتا اور نواسی یہ تیسری صورت تحریم سے ساقط ہے خالص نسب میں بھی حلال ہے تو حرمت میں چار صورتیں ہیں :
اول اصل دوم فرع یہ دونوں کتنے ہی نزدیك یا دور ہوں تو فروع میں فروع الفروع اور فروع فروع الفروع لاالی نہایہ سب داخل ہیں۔ یونہی اصول میں اصول الاصول اور اصول اصول الاصول الی غایۃ المنتہی سوم اصل قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو جیسے ماں یاباپ کی پوتی نواسی اور ان کی اولاد و اولاد اوالاد۔ چہارم اصل بعید کی فرع قریب جیسے پھوپھی کہ دادا کی بیٹی ہے یا خالہ کے نانا کی یا دادا کی پھوپھی کہ پر دادا کے باپ کی بیٹی ہے یااس کی خالہ کہ داداکے نانا کی بیٹی ہے وقس علیہ(اور قیاس اسی پر ہے۔ ت)چار یہ اور پانچواں علاقہ زوجیت انھیں شیردہ اور شیرخوارہ ہر ایك کی طرف نسبت کرنے سے دس ہوئے پھر اصل تعلق رضیع اور مرضعہ میں پیدا ہوتاہے رضیع اس کا جزء ہوتا ہے اور مرضعہ اس کی اصل اور جب وہ ماں ہوئی تو جس مرد کا دودھ تھا وہ ضرور باپ ہوگیا اور ان کے فروع قریبہ اس کے اصل قریب کے فروع قریب اور فروع بعیدہ اس کے اصل قریب کے فرع بعید اور ان کے اصول اس کے اصول کہ اصل کی اصل اصل ہے لاجرم جانب شیردہ سے سب علاقے متحقق وموجب تحریم ہوئے مگر فرع کی اصل نہ اپنی اصل ہونا لازم نہ فرع تو شیرخوارہ کے اصول کو شیردہ سے کچھ تعلق نہ ہوا اور جب خود اصول غیر متعلق رہے تو اصول کے فروع قریبہ یا بعیدہ اس حیثیت سے کہ ان اصول کے فروع میں کیا علاقہ رکھیں گے کہ ان کا علاقہ تو بواسطہ اصول ہوتا۔ وہ خود بے تعلق ہیں ہاں فرع کی فرع ضرور فرع ہوتی ہے تو جانب شیرخوارہ سے صرف دو علاقے ثابت وباعث حرمت ہوئے۔
زوجیت وفرعیت __ اب ان کی تفصیل اور ہر ایك میں معنی خویش شوند سمجھئے(از جانب شیردہ)
اول زوجین یعنی مرضعہ کا شوہر کہ یہ دودھ جو رضعیہ نے پیا اس کا نہ تھا دوسرے شوہر کاتھا یا مرضع کی زوجہ کہ رضیع نے اس کا دودھ نہ پیا بلکہ دوسری زوجہ کا یا مرضع ومرضعہ کے اصول میں نزدیك ودور کسی کے زوج وزوجہ کہ سلسلہ شیران سے نہ ہوئے یہ سب رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں اور یہاں خویش شوند کے معنی یہ ہیں کہ وہ رضیعین کے سوتیلے ماں باپ یا سوتیلے دادا دادی نانا نانی ہوگئے۔
دوم اصل کہ خود مرضع ومرضعہ ہیں یعنی وہ عورت جس نے دودھ پلایا اور وہ مرد جس کا یہ دودھ تھا اور ان کے
(۲)ان میں ایك توثالث کا جز قریب ہو اور دوسرا بعید یہ انہی تعمیموں کے ساتھ عمومت اور خولت کا رشتہ ہوا جزء قریب اپنے یا اپنے ماں یا باپ یا دادا یا دادی یا نانا نانی کے چچا ماموں خالہ پھوپھی اورجزء بعید انہی نسبتوں پر ان کے مقابل بھتیجا بھانجا بھتیجی بھانجی
(۳)دونوں ثالث کے جز بعید ہوں جیسے ایك شخص کا پوتا اور نواسی یہ تیسری صورت تحریم سے ساقط ہے خالص نسب میں بھی حلال ہے تو حرمت میں چار صورتیں ہیں :
اول اصل دوم فرع یہ دونوں کتنے ہی نزدیك یا دور ہوں تو فروع میں فروع الفروع اور فروع فروع الفروع لاالی نہایہ سب داخل ہیں۔ یونہی اصول میں اصول الاصول اور اصول اصول الاصول الی غایۃ المنتہی سوم اصل قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو جیسے ماں یاباپ کی پوتی نواسی اور ان کی اولاد و اولاد اوالاد۔ چہارم اصل بعید کی فرع قریب جیسے پھوپھی کہ دادا کی بیٹی ہے یا خالہ کے نانا کی یا دادا کی پھوپھی کہ پر دادا کے باپ کی بیٹی ہے یااس کی خالہ کہ داداکے نانا کی بیٹی ہے وقس علیہ(اور قیاس اسی پر ہے۔ ت)چار یہ اور پانچواں علاقہ زوجیت انھیں شیردہ اور شیرخوارہ ہر ایك کی طرف نسبت کرنے سے دس ہوئے پھر اصل تعلق رضیع اور مرضعہ میں پیدا ہوتاہے رضیع اس کا جزء ہوتا ہے اور مرضعہ اس کی اصل اور جب وہ ماں ہوئی تو جس مرد کا دودھ تھا وہ ضرور باپ ہوگیا اور ان کے فروع قریبہ اس کے اصل قریب کے فروع قریب اور فروع بعیدہ اس کے اصل قریب کے فرع بعید اور ان کے اصول اس کے اصول کہ اصل کی اصل اصل ہے لاجرم جانب شیردہ سے سب علاقے متحقق وموجب تحریم ہوئے مگر فرع کی اصل نہ اپنی اصل ہونا لازم نہ فرع تو شیرخوارہ کے اصول کو شیردہ سے کچھ تعلق نہ ہوا اور جب خود اصول غیر متعلق رہے تو اصول کے فروع قریبہ یا بعیدہ اس حیثیت سے کہ ان اصول کے فروع میں کیا علاقہ رکھیں گے کہ ان کا علاقہ تو بواسطہ اصول ہوتا۔ وہ خود بے تعلق ہیں ہاں فرع کی فرع ضرور فرع ہوتی ہے تو جانب شیرخوارہ سے صرف دو علاقے ثابت وباعث حرمت ہوئے۔
زوجیت وفرعیت __ اب ان کی تفصیل اور ہر ایك میں معنی خویش شوند سمجھئے(از جانب شیردہ)
اول زوجین یعنی مرضعہ کا شوہر کہ یہ دودھ جو رضعیہ نے پیا اس کا نہ تھا دوسرے شوہر کاتھا یا مرضع کی زوجہ کہ رضیع نے اس کا دودھ نہ پیا بلکہ دوسری زوجہ کا یا مرضع ومرضعہ کے اصول میں نزدیك ودور کسی کے زوج وزوجہ کہ سلسلہ شیران سے نہ ہوئے یہ سب رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں اور یہاں خویش شوند کے معنی یہ ہیں کہ وہ رضیعین کے سوتیلے ماں باپ یا سوتیلے دادا دادی نانا نانی ہوگئے۔
دوم اصل کہ خود مرضع ومرضعہ ہیں یعنی وہ عورت جس نے دودھ پلایا اور وہ مرد جس کا یہ دودھ تھا اور ان کے
اصول نسبی ورضاعی پدری مادری منتہی تك اور یہاں خویش کے یہ معنی ہیں کہ مرضع ومرضعہ رضیعین کے ماں باپ ہوگئے اور ان کے اصول ان کے سگے دادا دادی نانا نانی۔
سوم فرع کہ خود رضیعین ہیں اور رضیعین کے جملہ فروع نسبی ورضاعی پسری ودختری انتہاتک اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب مرضع ومرضعہ کے بیٹا بیٹی پو تا پوتی نواسا نواسی ہوگئے۔
چہارم اصل قریب کی فرع یعنی مرضعین کے نسبی رضاعی فروع وفروع الفروع آخرتك اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین کے بہن بھائی بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہوگئے پھر وہ اگر مرضع ومرضعہ دونوں کی فرع الفرع ہیں تو عینی اور صرف مرضع کے فروع ہیں تو علاتی اور صرف مرضعہ کے تواخیافی۔
پنجم اصل بعید کی فرع قریب یعنی مرضعین کے اصول واصول الاصول نسبی ورضاعی کے فروع قریب نسبی خواہ رضاعی اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین یا رضیعین کے اصول رضاعی چچا ماموں پھوپھی خالہ ہوگئے۔
(ازجانب شیرخوارہ)اول زوجین یعنی رضیع کی زوجہ اور رضیعہ کا شوہر یا رضیع ورضیعہ کے فروع نسبی رضاعی میں کسی کے زوج وزوجہ کہ یہ سب مرضعین پر حرام ہوگئے اور یہاں یہ معنی کہ وہ مرضعین کے دور یا نزدیك کے داماد اور بہو ہوگئے۔
دوم فرع کہ رضیعین کی تمام اولاد واولاد اولاد جہاں تك جائے نسبی ہو یا رضاعی سب مرضعین کی اولاد اولاد ہوگئے مگر رضیعین کے اصول یا فروع قریبہ وبعیدہ اصول کومرضعین سے کچھ علاقہ نہ ہوا۔ الحمدلله شعرکے یہ معنی ہیں ان تمام تاصیلات وتفریعات پر کہ ہم نے ذکرکیں اگر نصوص لائیں موجب اطالت ہو اور حاجت نہیں کہ اول بحمدالله تعالی یہ سب مسائل خادم فقہ پر خود ظاہر ثانیا ان پر نصوص کتب مذہب میں دائر وسائر۔ والحمدﷲ فی الاول والاخر مسئلہ نے بحمد الله تعالی وضوح تام پایا۔ اب فتوائے خلاف کی طرف چلئے اگرچہ حاجت نہ رہی :
اولا اس تشریح سے کھل گیا کہ یہ شعر تحریم صورت مسئولہ میں نص صریح تھا جسے برعکس دلیل گمان کیا گیا کاش اتنا ہی خیال کرلیا جاتا کہ جانب شیرخوارہ سے فروع کا خویش مرضعین ہوجانا کیا معنی دے رہا ہے فروع شیرخوارہ شیردہ کے خویش ہوجانے میں کوئی معنی ہی نہیں سوااس کے کہ شیرخوارہ کی اولاد شیردہ کی اولاد اولاد ہوگئی پھر وہ اولاد شیردہ پر کیونکر حلال ہوسکتی ہے کون سی شریعت میں ہے کہ اپنے ماں باپ کی پوتی نواسی اپنے لیے حلال ہو جس بچہ سے چاہے پوچھ دیکھئے کہ ماں باپ کی پوتی اپنی بھتیجی ہوتی ہے اور نواسی اپنی بھانجی اور تمام جہان جانتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بھتیجی اور بھانجی حرام قطعی ہے۔ سوئے اتفاق سے یہ گمان ہوا کہ فروع شیرخوارہ کو شیردہ کے خویش بتایا ہے نہ کہ اولاد شیردہ کے اور نہ جانا کہ یہاں شیردہ کے خویش ہونے کواولاد شیردہ کے لیے خویش ہونا قطعا لازم بین ہے یہ کیونکر متصور کہ آدمی کی ماں باپ کی اولاد
سوم فرع کہ خود رضیعین ہیں اور رضیعین کے جملہ فروع نسبی ورضاعی پسری ودختری انتہاتک اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب مرضع ومرضعہ کے بیٹا بیٹی پو تا پوتی نواسا نواسی ہوگئے۔
چہارم اصل قریب کی فرع یعنی مرضعین کے نسبی رضاعی فروع وفروع الفروع آخرتك اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین کے بہن بھائی بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہوگئے پھر وہ اگر مرضع ومرضعہ دونوں کی فرع الفرع ہیں تو عینی اور صرف مرضع کے فروع ہیں تو علاتی اور صرف مرضعہ کے تواخیافی۔
پنجم اصل بعید کی فرع قریب یعنی مرضعین کے اصول واصول الاصول نسبی ورضاعی کے فروع قریب نسبی خواہ رضاعی اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین یا رضیعین کے اصول رضاعی چچا ماموں پھوپھی خالہ ہوگئے۔
(ازجانب شیرخوارہ)اول زوجین یعنی رضیع کی زوجہ اور رضیعہ کا شوہر یا رضیع ورضیعہ کے فروع نسبی رضاعی میں کسی کے زوج وزوجہ کہ یہ سب مرضعین پر حرام ہوگئے اور یہاں یہ معنی کہ وہ مرضعین کے دور یا نزدیك کے داماد اور بہو ہوگئے۔
دوم فرع کہ رضیعین کی تمام اولاد واولاد اولاد جہاں تك جائے نسبی ہو یا رضاعی سب مرضعین کی اولاد اولاد ہوگئے مگر رضیعین کے اصول یا فروع قریبہ وبعیدہ اصول کومرضعین سے کچھ علاقہ نہ ہوا۔ الحمدلله شعرکے یہ معنی ہیں ان تمام تاصیلات وتفریعات پر کہ ہم نے ذکرکیں اگر نصوص لائیں موجب اطالت ہو اور حاجت نہیں کہ اول بحمدالله تعالی یہ سب مسائل خادم فقہ پر خود ظاہر ثانیا ان پر نصوص کتب مذہب میں دائر وسائر۔ والحمدﷲ فی الاول والاخر مسئلہ نے بحمد الله تعالی وضوح تام پایا۔ اب فتوائے خلاف کی طرف چلئے اگرچہ حاجت نہ رہی :
اولا اس تشریح سے کھل گیا کہ یہ شعر تحریم صورت مسئولہ میں نص صریح تھا جسے برعکس دلیل گمان کیا گیا کاش اتنا ہی خیال کرلیا جاتا کہ جانب شیرخوارہ سے فروع کا خویش مرضعین ہوجانا کیا معنی دے رہا ہے فروع شیرخوارہ شیردہ کے خویش ہوجانے میں کوئی معنی ہی نہیں سوااس کے کہ شیرخوارہ کی اولاد شیردہ کی اولاد اولاد ہوگئی پھر وہ اولاد شیردہ پر کیونکر حلال ہوسکتی ہے کون سی شریعت میں ہے کہ اپنے ماں باپ کی پوتی نواسی اپنے لیے حلال ہو جس بچہ سے چاہے پوچھ دیکھئے کہ ماں باپ کی پوتی اپنی بھتیجی ہوتی ہے اور نواسی اپنی بھانجی اور تمام جہان جانتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بھتیجی اور بھانجی حرام قطعی ہے۔ سوئے اتفاق سے یہ گمان ہوا کہ فروع شیرخوارہ کو شیردہ کے خویش بتایا ہے نہ کہ اولاد شیردہ کے اور نہ جانا کہ یہاں شیردہ کے خویش ہونے کواولاد شیردہ کے لیے خویش ہونا قطعا لازم بین ہے یہ کیونکر متصور کہ آدمی کی ماں باپ کی اولاد
اپنی کوئی نہ ہو شیردہ کی طرف اضافت بوجہ اصالت ہے کہ اول اسی کے لیے ثابت ہو کہ باقیوں کی طرف سرایت کرتی ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا :
حقیقۃ الحال ان حقیقۃ البعضیۃ تثبت بین المرضعۃ والرضیع فثبتت حرمۃ الابنیۃ ثم انتشرت لوازم تحریم الولد ۔
حقیقت حال یہ ہے کہ دودھ پلانے اور دودھ پینے والوں کے درمیان جزئیت حقیقیہ پائی جاتی ہے جو ابنیت کی حرمت کوثابت کرتی ہوئی بچے کی تحریم کے تمام لوازمات میں پھیل جاتی ہے۔ (ت)
ثانیا کاش مفتی نے اپنی ہی عبارت کو شعر سے ملاکر دیکھا ہوتاتوبہ نگاہ اولین کھل جاتا کہ دونوں طرفین نقیض پر ہیں۔ شعر توصاف بتارہاہے کہ حرمت رضاعت رضیع کی طرف زوجین وفروع رضیع کو شامل ہوتی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خاص رضیع کے لیے ہوتی ہے رضیع کے فروع کے لیے نہیں ہوتی صاف صاف نفی واثبات کا خلاف ہے اس کی نظیر اس سے بہتر کیا ہوسکتی ہے کہ زید کہے بیٹے کے لیے ماں حلال ہے اس لیے کہ الله تعالی فرماتا ہے : حرمت علیكم امهتكم (تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت)
ثالثا آگے تفریع میں فرماتے ہیں : “ پس فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہر گز حرام نہیں “ آپ کی اس اصل بے اصل کی یہ پوری تفریع نہ ہوئی جب آپ کے نزدیك حرمت رضاعت جانب رضیع میں صرف رضیع کی ذات پر مقصور ہے اس کے اصول کی طرح فروع کوبھی شامل نہیں۔ تو تفریع یوں کیجئے کہ فروع رضیع خود مرضع ومرضعہ پر بھی حرام نہیں جس طرح اصول رضیع ان پر حرام نہیں۔ وہاں تك تو بھانجی بھتیجی حلال ہوئی تھی اب پوتی نواسی حلال ہوگئی۔
رابعا عبارت شرح وقایہ کا جو مفاد ٹھہرایا کاش اتناہی ہوتا کہ عبارت اس سے بے علاقہ محض ہوتی مگر زنہار ایسا نہیں بلکہ عبارت یقینا قطعا اس کا رد کررہی ہے عبارت جس شے کی خاص حرمت بیان کرنے کولکھی گئی اس اختراع مفاد نے وہی حلال کردی جیساکہ بحمد الله تعالی آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا آخرنہ دیکھاکہ نص ہفتم میں مستخلص نے عبارت شرح وقایہ کا کیا مطلب ٹھہرایا۔
خامسا بلکہ نص ۱۷ و ۲۱ میں دیکھئے کہ خود امام شارح وقایہ نے کیا فرمایا اور اپنا مطلب کیا بتایا۔ الحمد لله اس روشن مسئلہ کا روشن ترکرنا جس طرح مقصود فقیر تھاکہ ہر بات ہجے کرکے پڑھادی جائے بروجہ اتم
حقیقۃ الحال ان حقیقۃ البعضیۃ تثبت بین المرضعۃ والرضیع فثبتت حرمۃ الابنیۃ ثم انتشرت لوازم تحریم الولد ۔
حقیقت حال یہ ہے کہ دودھ پلانے اور دودھ پینے والوں کے درمیان جزئیت حقیقیہ پائی جاتی ہے جو ابنیت کی حرمت کوثابت کرتی ہوئی بچے کی تحریم کے تمام لوازمات میں پھیل جاتی ہے۔ (ت)
ثانیا کاش مفتی نے اپنی ہی عبارت کو شعر سے ملاکر دیکھا ہوتاتوبہ نگاہ اولین کھل جاتا کہ دونوں طرفین نقیض پر ہیں۔ شعر توصاف بتارہاہے کہ حرمت رضاعت رضیع کی طرف زوجین وفروع رضیع کو شامل ہوتی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خاص رضیع کے لیے ہوتی ہے رضیع کے فروع کے لیے نہیں ہوتی صاف صاف نفی واثبات کا خلاف ہے اس کی نظیر اس سے بہتر کیا ہوسکتی ہے کہ زید کہے بیٹے کے لیے ماں حلال ہے اس لیے کہ الله تعالی فرماتا ہے : حرمت علیكم امهتكم (تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت)
ثالثا آگے تفریع میں فرماتے ہیں : “ پس فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہر گز حرام نہیں “ آپ کی اس اصل بے اصل کی یہ پوری تفریع نہ ہوئی جب آپ کے نزدیك حرمت رضاعت جانب رضیع میں صرف رضیع کی ذات پر مقصور ہے اس کے اصول کی طرح فروع کوبھی شامل نہیں۔ تو تفریع یوں کیجئے کہ فروع رضیع خود مرضع ومرضعہ پر بھی حرام نہیں جس طرح اصول رضیع ان پر حرام نہیں۔ وہاں تك تو بھانجی بھتیجی حلال ہوئی تھی اب پوتی نواسی حلال ہوگئی۔
رابعا عبارت شرح وقایہ کا جو مفاد ٹھہرایا کاش اتناہی ہوتا کہ عبارت اس سے بے علاقہ محض ہوتی مگر زنہار ایسا نہیں بلکہ عبارت یقینا قطعا اس کا رد کررہی ہے عبارت جس شے کی خاص حرمت بیان کرنے کولکھی گئی اس اختراع مفاد نے وہی حلال کردی جیساکہ بحمد الله تعالی آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا آخرنہ دیکھاکہ نص ہفتم میں مستخلص نے عبارت شرح وقایہ کا کیا مطلب ٹھہرایا۔
خامسا بلکہ نص ۱۷ و ۲۱ میں دیکھئے کہ خود امام شارح وقایہ نے کیا فرمایا اور اپنا مطلب کیا بتایا۔ الحمد لله اس روشن مسئلہ کا روشن ترکرنا جس طرح مقصود فقیر تھاکہ ہر بات ہجے کرکے پڑھادی جائے بروجہ اتم
حاصل ہوگیا احباب پر تو یہ سخت شدید عظیم فرض ہے۔ السر بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ(پوشیدہ کی پوشیدہ اور علانیہ کی علانیہ۔ ت)معاملہ حرام قطعی کا ہے جس سے اغماض ناممکن تھا رجوع الی الحق میں عار نہیں بلکہ تمادی علی الباطل میں۔ اور معاذ الله اس باطل ومہمل فتوی پر عمل ہو کر اگرنکاح ہوگیا تو یہ زنا اور زنا بھی کیسا زنائے محارم۔ اس کا عظیم وبال تمام فتوی دہندوں پر رہے گا۔ اور ہر حرکت ہر بوسہ ہر مس کے وقت روزانہ رات دن میں خدا جانے کتنے کتنے بار یہ کبائر وجرائم ان سب کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتے رہیں گے۔ حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ ۔ رواہ ابوداؤد والدارمی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جسے بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی والے پر ہے۔ اس کو ابوداؤد دارمی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا الله تعالی زیادہ علم والاہے اور اس جل مجدہ کا علم کامل ومحکم ہے۔ (ت)
کتبــــــــــــــــــــــــہ
العبد المذنب احمد رضاالبریلوی عفی بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
* الجواب صحیح والمجیب نجیح۔
مصطفی رضاخاں قادری عرف ابوالبرکات محی الدین
* الجواب صحیح۔
نواب مرزا عبدالغنی قادری سنی حنفی بریلوی
* الجواب صحیح۔ واﷲ اعلم
محمد عبدالرب عرف محمد رضاخان قادری
* الجواب صحیح۔
محمد امجد علی اعظمی
من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ ۔ رواہ ابوداؤد والدارمی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جسے بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی والے پر ہے۔ اس کو ابوداؤد دارمی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا الله تعالی زیادہ علم والاہے اور اس جل مجدہ کا علم کامل ومحکم ہے۔ (ت)
کتبــــــــــــــــــــــــہ
العبد المذنب احمد رضاالبریلوی عفی بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
* الجواب صحیح والمجیب نجیح۔
مصطفی رضاخاں قادری عرف ابوالبرکات محی الدین
* الجواب صحیح۔
نواب مرزا عبدالغنی قادری سنی حنفی بریلوی
* الجواب صحیح۔ واﷲ اعلم
محمد عبدالرب عرف محمد رضاخان قادری
* الجواب صحیح۔
محمد امجد علی اعظمی
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۵۹ ، المستدر ک کتاب العلم دارالفکر بیروت ۱ / ۱۲۶
* فقیر غفرالله القدیر نے مجدد مائۃ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ علامہ رحلہ امام المسلمین اعلیحضرت مولانا وسیدنا ومفیدنا ومفیضنا مولوی محمد احمد رضاخان صاحب متع الله الناس بافاداتہ الی یوم الدین کے جواب کے بنظر غائر حرفا حرفا دیکھا عین صواب پایا جزاہ اﷲ خیر الجزا وکالہ بالمکیال الاوفی فقط۔
فقیر قادری وصی احمد حنفی
الجواب صحیح وموثق بنصوص الصحیح وروایات المستند جزاہ اﷲ خیر الجزا فی الدارین لراقم الفاضل الجلیل وعلامۃ النبیل ایۃ من ایات اﷲ۔
جواب صحیح اور صحیح نصوص اور مستندروایات سے مضبوط کیا ہوا ہے الله تعالی دونوں جہان میں جواب لکھنے والے عالم جلیل علامہ نبیل الله تعالی کی نشانیوں میں سے نشانی کو بہتر جزا عطافرمائے۔ (ت)
حکیم مفتی سلیم الله ناظم انجمن نعمانیہ لاہور
* ماحققہ عمدۃ العلماء الاعلام زبدۃ الفقہاء الکرام قدوۃ الفضلاء العظام امام النبلاء الفخام قاطع ورید المروۃ اللئام مظھر الکلمات العرفانیۃ کاشف الآیات الربانیۃ حامی السنۃ واھل السنۃ ماحی آثار الکفر والبدعۃ وحید العصر فرید الدھر مجدد الزمان سیدنا العریف الماھر مولانا المولوی محمد احمد رضاخان سلمہ اﷲ المنان فھو حق صراح وصدق قراح والحق احق بالاتباع وفقنا اﷲ تعالی وسائر المسلمین والصلوۃ والسلام علی ختم المرسلین والہ وصحبہ حماۃ الدین۔
کتب العبد المفتقر الی ربہ الاکبر محمد عمرالمراد آبادی۔
بلند علماء میں عمدہ فقہاء کرام میں منتخب بڑے فضلاء کے مقتداء بڑے ماہرین کا امام سرکش ملعونوں کی رگ کاٹنے والے عرفانی کلمات کو ظاہر کرنے والے سنت اور اہلسنت کی حمایت کرنے والے کفر وبدعت کے آثار کو مٹانے والے اپنے زمانہ کے بے مثل ماہر مولانا مولوی احمد رضا خان الله تعالی منان ان کو سلامت فرمائے نے جو تحقیق فرمائی وہ خالص حق صاف سچ جبکہ حق ہی اتباع کے قابل ہے الله تعالی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس کی توفیق دے صلوۃ وسلام ہو خاتم المرسلین اور ان کی آل پر اور دین کی حمایت کرنے والے صحابہ پر۔ (ت)
* بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ الله تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے میری آنکھوں کو اس پاکیزہ تحقیق کے انوار سے روشن کیا۔ الله تعالی جزا عطافرمائے حضرت مجیب کو جن کی تحقیق کا ایك ایك حرف صدق وصواب ہے ومن اعرض فھو من الجاھلین (جس نے اس سے
فقیر قادری وصی احمد حنفی
الجواب صحیح وموثق بنصوص الصحیح وروایات المستند جزاہ اﷲ خیر الجزا فی الدارین لراقم الفاضل الجلیل وعلامۃ النبیل ایۃ من ایات اﷲ۔
جواب صحیح اور صحیح نصوص اور مستندروایات سے مضبوط کیا ہوا ہے الله تعالی دونوں جہان میں جواب لکھنے والے عالم جلیل علامہ نبیل الله تعالی کی نشانیوں میں سے نشانی کو بہتر جزا عطافرمائے۔ (ت)
حکیم مفتی سلیم الله ناظم انجمن نعمانیہ لاہور
* ماحققہ عمدۃ العلماء الاعلام زبدۃ الفقہاء الکرام قدوۃ الفضلاء العظام امام النبلاء الفخام قاطع ورید المروۃ اللئام مظھر الکلمات العرفانیۃ کاشف الآیات الربانیۃ حامی السنۃ واھل السنۃ ماحی آثار الکفر والبدعۃ وحید العصر فرید الدھر مجدد الزمان سیدنا العریف الماھر مولانا المولوی محمد احمد رضاخان سلمہ اﷲ المنان فھو حق صراح وصدق قراح والحق احق بالاتباع وفقنا اﷲ تعالی وسائر المسلمین والصلوۃ والسلام علی ختم المرسلین والہ وصحبہ حماۃ الدین۔
کتب العبد المفتقر الی ربہ الاکبر محمد عمرالمراد آبادی۔
بلند علماء میں عمدہ فقہاء کرام میں منتخب بڑے فضلاء کے مقتداء بڑے ماہرین کا امام سرکش ملعونوں کی رگ کاٹنے والے عرفانی کلمات کو ظاہر کرنے والے سنت اور اہلسنت کی حمایت کرنے والے کفر وبدعت کے آثار کو مٹانے والے اپنے زمانہ کے بے مثل ماہر مولانا مولوی احمد رضا خان الله تعالی منان ان کو سلامت فرمائے نے جو تحقیق فرمائی وہ خالص حق صاف سچ جبکہ حق ہی اتباع کے قابل ہے الله تعالی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس کی توفیق دے صلوۃ وسلام ہو خاتم المرسلین اور ان کی آل پر اور دین کی حمایت کرنے والے صحابہ پر۔ (ت)
* بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ الله تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے میری آنکھوں کو اس پاکیزہ تحقیق کے انوار سے روشن کیا۔ الله تعالی جزا عطافرمائے حضرت مجیب کو جن کی تحقیق کا ایك ایك حرف صدق وصواب ہے ومن اعرض فھو من الجاھلین (جس نے اس سے
روگردانی کی وہ جاہلوں میں سے ہے۔ ت)فی الواقع حضرت مجدد صاحب دامت برکاتہم کی ذات والاصفات حضرت حق کی ایك شان رحمت ہے اور بے شمار برکات کا مجموعہ کتنے اندھوں کی آنکھیں کھول دیں۔ اور ہزارہا نابیناؤ ں کو بینابنادیا الله تعالی ایسے فاضل جلیل کو مدت ہائے دراز تك بایں فیض رسانی سلامت رکھے آمین بحرمت المرسلین صلوۃ الله تعالی علیہ وسلامہ بیشك اس مسئلہ کے ایضاح میں تحقیق کے خزانے کھول دئے ہیں اور نادان مفتی کی غلطی کو خوب آشکار کرکے سمجھا دیا ہے الله تعالی اپنے بندوں کو سیدھی راہ چلائے۔ آمین!
العبدا لمعتصم بحبل الله المتین محمد نعیم الدین خصہ الله بمزید العلم والیقین
مسئلہ ۲۸۱ : از موضع بہار ضلع بریلی مسئولہ عبدالرحمن خان صاحب ۳ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکے نے سنا کہ میرے والد نے میری بی بی کے ساتھ زنا کیا ہے اس پر اس کو غصہ آیا اور اپنی بی بی کو مارا اور طلاق دے کر مکان سے علیحدہ کردیا یعنی نکال دی۔ لڑکی نے اپنی مہر کی نالش کردی مہر اس کا جو کچھ تھا اس کی ڈگری ہوگئی۔ لڑکے کا وکیل کہتا ہے کہ طلاق ا س نے غصہ میں دی اس وجہ سے طلاق نہیں ہوئی او رلڑکی کا وکیل کہتاہے کہ طلاق ہوگئی اس صورت میں کون سچا ہے کون سے وکیل کی بات مانی جائے یعنی طلاق ہوئی کہ نہیں ہوئی بینوا تو جروا۔
الجواب :
اگر یہ صحیح ہے اور ثبوت شرعی سے ثابت ہے کہ اس کے باپ نے اس کی بی بی سے زنا کیا جب تو وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ اس پر فرض تھا کہ اسے فورا جدا کردے جو طلاق دی یہ جدا کرنا ہی ہوا اور اب وہ اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا۔ اور اگر مذکور ثبوت شرع سے ثابت نہ ہو نہ لڑکے نے اس کی تصدیق کی ہو تو یہ طلاق طلاق ہوئی اور مجرد غصہ کا عذر مسموع نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۲ تا ۲۸۴ : ازغازی پور محلہ بر برہنہ برمکان منشی واجد علی صاحب مسئولہ محمد ادریس صاحب ۲۴ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں(۱) کہ زید عمر ۱ سال بی بی عمر ۲۵ سال سے جو کہ رشتہ میں زید کی ممانی ہوتی ہے ہمیشہ مذاق وتفریح کرتا رہا ہو کسی وقت میں زید نے جمیلہ کا ہاتھ یا پیر پکڑ لیا ہو اور ایك مرتبہ بوسہ بھی لے لیاہو ازروئے شہوت مذاق کے۔ کچھ عرصہ کے بعد بکر جو کہ رشتہ میں زید کا باپ ہے صغری سے جوکہ جمیلہ کی لڑکی ہے نکاح کرنا چاہتا ہے اور زید ازروئے شرم وحیا کے اس بات کو ظاہرنہیں کرسکتا ہے تو ایسی حرکت میں نکاح ہوگا یا نہیں اگر نہ ہو تو او رکوئی صورت جواز کی نکل سکتی ہے ازروئے کفارہ کے
العبدا لمعتصم بحبل الله المتین محمد نعیم الدین خصہ الله بمزید العلم والیقین
مسئلہ ۲۸۱ : از موضع بہار ضلع بریلی مسئولہ عبدالرحمن خان صاحب ۳ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکے نے سنا کہ میرے والد نے میری بی بی کے ساتھ زنا کیا ہے اس پر اس کو غصہ آیا اور اپنی بی بی کو مارا اور طلاق دے کر مکان سے علیحدہ کردیا یعنی نکال دی۔ لڑکی نے اپنی مہر کی نالش کردی مہر اس کا جو کچھ تھا اس کی ڈگری ہوگئی۔ لڑکے کا وکیل کہتا ہے کہ طلاق ا س نے غصہ میں دی اس وجہ سے طلاق نہیں ہوئی او رلڑکی کا وکیل کہتاہے کہ طلاق ہوگئی اس صورت میں کون سچا ہے کون سے وکیل کی بات مانی جائے یعنی طلاق ہوئی کہ نہیں ہوئی بینوا تو جروا۔
الجواب :
اگر یہ صحیح ہے اور ثبوت شرعی سے ثابت ہے کہ اس کے باپ نے اس کی بی بی سے زنا کیا جب تو وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ اس پر فرض تھا کہ اسے فورا جدا کردے جو طلاق دی یہ جدا کرنا ہی ہوا اور اب وہ اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا۔ اور اگر مذکور ثبوت شرع سے ثابت نہ ہو نہ لڑکے نے اس کی تصدیق کی ہو تو یہ طلاق طلاق ہوئی اور مجرد غصہ کا عذر مسموع نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۲ تا ۲۸۴ : ازغازی پور محلہ بر برہنہ برمکان منشی واجد علی صاحب مسئولہ محمد ادریس صاحب ۲۴ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں(۱) کہ زید عمر ۱ سال بی بی عمر ۲۵ سال سے جو کہ رشتہ میں زید کی ممانی ہوتی ہے ہمیشہ مذاق وتفریح کرتا رہا ہو کسی وقت میں زید نے جمیلہ کا ہاتھ یا پیر پکڑ لیا ہو اور ایك مرتبہ بوسہ بھی لے لیاہو ازروئے شہوت مذاق کے۔ کچھ عرصہ کے بعد بکر جو کہ رشتہ میں زید کا باپ ہے صغری سے جوکہ جمیلہ کی لڑکی ہے نکاح کرنا چاہتا ہے اور زید ازروئے شرم وحیا کے اس بات کو ظاہرنہیں کرسکتا ہے تو ایسی حرکت میں نکاح ہوگا یا نہیں اگر نہ ہو تو او رکوئی صورت جواز کی نکل سکتی ہے ازروئے کفارہ کے
یا نہیں
(۲)اور اگر نکاح کردیا ہو اس وقت میں کیا صورت ہوسکتی ہے
(۳)اور ہماری طر ف ممانی اور بھاوج سے مذاق اور تفریح کرنا کچھ عیب میں داخل نہیں
الجواب :
بھاوج یا ممانی سے ایسا مذاق حرام قطعی ہے اور کرنے والا اور وہ عورت دونوں فاسق اور ان کے شوہر باپ بھائی اگر اس پر راضی ہوں دیوث ہیں۔ اور دیوث پر جنت حرام اورصغری سے بکر کا نکاح حلال ہے درمختار میں ہے : اما بنت زوجۃ ابیہ وابنہ فحلال (اور اپنے باپ کی زوجہ یعنی سوتیلی ماں کی بیٹی جو باپ کے نطفے سے نہیں اور اپنے بیٹے کی زوجہ کی بیٹی جو بیٹے کے نطفہ سے نہیں وہ حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ۲۸۵ تا ۲۸۶ : از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك بہن کا لڑکا ہے اور دوسری بہن کی دختر لڑکی ہے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)سالی حقیقی سے نکاح اس وقت میں جائز ہے کہ اپنے بیٹے کا نکاح بھی سالی کی دختر سے کیا جائے اور برتقدیر جائز بھی ہے تو پہلے کس کا نکاح ہو بینوا تو جروا۔
الجواب :
(۱)ہاں جائزہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جب عورت مرجائے یا اسے طلاق دے اور عدت گزرجائے تو سالی سے نکاح جائزہے۔ اور سالی کی بیٹی سے اپنے بیٹے کانکاح مطلقا جائز ہے خواہ پہلے اس کا نکاح کرے یا اپنا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷ : از مدرسہ رحمانیہ رائے بریلی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۲۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ زید کی دوسری زوجہ ہے اور زید کی زوجہ اولی کے چند لڑکے ہیں ان میں سے ایك لڑکے نے ہندہ سے کئی بار اظہار تعشق کیاا ور کہا کہ ہم تم بھاگ چلیں۔ اور کئی باراپنا آلہ منتشر ہند ہ کے ہاتھ میں بلا حجاب کسی کپڑے کے پکڑادیا۔ کئی بار بوسہ لے لیا۔ اور دو مرتبہ آمادہ زنا ہوگیا یہاں تك کہ ازار کھول دیا اور پوری کوشش کی کہ دخول کرے۔ مگر ایك مرتبہ کسی نے آواز دے کر برا بھلا کہا اور ایك مرتبہ ہندہ پوری کوشش کرکے بھاگ نکلی ان وجوہ سے ہندہ کا پردہ عصمت
(۲)اور اگر نکاح کردیا ہو اس وقت میں کیا صورت ہوسکتی ہے
(۳)اور ہماری طر ف ممانی اور بھاوج سے مذاق اور تفریح کرنا کچھ عیب میں داخل نہیں
الجواب :
بھاوج یا ممانی سے ایسا مذاق حرام قطعی ہے اور کرنے والا اور وہ عورت دونوں فاسق اور ان کے شوہر باپ بھائی اگر اس پر راضی ہوں دیوث ہیں۔ اور دیوث پر جنت حرام اورصغری سے بکر کا نکاح حلال ہے درمختار میں ہے : اما بنت زوجۃ ابیہ وابنہ فحلال (اور اپنے باپ کی زوجہ یعنی سوتیلی ماں کی بیٹی جو باپ کے نطفے سے نہیں اور اپنے بیٹے کی زوجہ کی بیٹی جو بیٹے کے نطفہ سے نہیں وہ حلال ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ۲۸۵ تا ۲۸۶ : از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك بہن کا لڑکا ہے اور دوسری بہن کی دختر لڑکی ہے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں
(۲)سالی حقیقی سے نکاح اس وقت میں جائز ہے کہ اپنے بیٹے کا نکاح بھی سالی کی دختر سے کیا جائے اور برتقدیر جائز بھی ہے تو پہلے کس کا نکاح ہو بینوا تو جروا۔
الجواب :
(۱)ہاں جائزہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)جب عورت مرجائے یا اسے طلاق دے اور عدت گزرجائے تو سالی سے نکاح جائزہے۔ اور سالی کی بیٹی سے اپنے بیٹے کانکاح مطلقا جائز ہے خواہ پہلے اس کا نکاح کرے یا اپنا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷ : از مدرسہ رحمانیہ رائے بریلی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۲۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ زید کی دوسری زوجہ ہے اور زید کی زوجہ اولی کے چند لڑکے ہیں ان میں سے ایك لڑکے نے ہندہ سے کئی بار اظہار تعشق کیاا ور کہا کہ ہم تم بھاگ چلیں۔ اور کئی باراپنا آلہ منتشر ہند ہ کے ہاتھ میں بلا حجاب کسی کپڑے کے پکڑادیا۔ کئی بار بوسہ لے لیا۔ اور دو مرتبہ آمادہ زنا ہوگیا یہاں تك کہ ازار کھول دیا اور پوری کوشش کی کہ دخول کرے۔ مگر ایك مرتبہ کسی نے آواز دے کر برا بھلا کہا اور ایك مرتبہ ہندہ پوری کوشش کرکے بھاگ نکلی ان وجوہ سے ہندہ کا پردہ عصمت
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۷
چاك نہیں ہوا مگر ان سب صورتوں میں ہندہ متنفر تھی اور اس کو کبھی شہوت نہیں ہوئی اور ہر مرتبہ ہندہ نے اپنے شوہر زید کو خبر دی مگراس نے سمجھا دیا کہ لڑکے کا معاملہ ہے بدنامی بہت ہوگی اس کا اظہار نہ کرو۔ مگر لڑکے کو بہت برا بھلا کہا اور ساتھ کھانا چھوڑ دیا اور مارا بھی مگر لڑکا اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہیں آیا۔ اب ایسی صورت میں ہندہ زید پر حرام ہوگی یا نہیں اور اگر حرام ہوگئی تو وہ اپنا نکاح دوسرا بلا طلاق زید کرسکتی ہے یا نہیں اور اگرنکاح کرسکتی ہے تو عدت بیٹھنا ہوگایا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب
جبکہ پسر زیدنے زن زید سے یہ افعال خبیثہ کئے کہ قطعا بہ شہوت تھے تو زن زید زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی اگرچہ زن زید کی طرف سے شہوت نہ ہونا تسلیم کرلیا جائے کہ مس میں ایك طرف سے شہوت کافی ہے درمختار میں ہے : تکفی الشھوۃ من احدھما (دونوں میں سے ایك کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت)مگر نکاح زائل نہ ہوا زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑ ا اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے زید یاپسر زید سے کبھی نہیں کرسکتی زیدکی بیٹی کی جگہ ہوگئی اور پسر زید کی ماں کی جگہ تھی ہی جب تك زید متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزرے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ درمختار میں ہے :
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا تاوقتیکہ بعد متارکہ عدت نہ گزر جائے دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸ : از روضہ حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف مسئولہ عبدالقادر صاحب مدرس درگاہ شریف ۳۰ رمضان شریف ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرزائی مذہب شخص کی دختر نابالغہ سے جو عقد نکاح ہوگیا ہے وہ شرعا جائز ہے یاناجائز دختر مذکورہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے۔ والد اس کا انتقال کرچکا ہے صرف اس کی والدہ نے نکاح ایك حنفی مذہب سے کردیا ہے ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے اس کو علیحدہ کردیا جائے یا تاوقت بلوغ رکھا جائے۔ بینو ا توجروا
الجواب
جبکہ پسر زیدنے زن زید سے یہ افعال خبیثہ کئے کہ قطعا بہ شہوت تھے تو زن زید زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی اگرچہ زن زید کی طرف سے شہوت نہ ہونا تسلیم کرلیا جائے کہ مس میں ایك طرف سے شہوت کافی ہے درمختار میں ہے : تکفی الشھوۃ من احدھما (دونوں میں سے ایك کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت)مگر نکاح زائل نہ ہوا زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑ ا اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے زید یاپسر زید سے کبھی نہیں کرسکتی زیدکی بیٹی کی جگہ ہوگئی اور پسر زید کی ماں کی جگہ تھی ہی جب تك زید متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزرے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ درمختار میں ہے :
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا تاوقتیکہ بعد متارکہ عدت نہ گزر جائے دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸ : از روضہ حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف مسئولہ عبدالقادر صاحب مدرس درگاہ شریف ۳۰ رمضان شریف ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرزائی مذہب شخص کی دختر نابالغہ سے جو عقد نکاح ہوگیا ہے وہ شرعا جائز ہے یاناجائز دختر مذکورہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے۔ والد اس کا انتقال کرچکا ہے صرف اس کی والدہ نے نکاح ایك حنفی مذہب سے کردیا ہے ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے اس کو علیحدہ کردیا جائے یا تاوقت بلوغ رکھا جائے۔ بینو ا توجروا
حوالہ / References
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
الجواب :
مرزائی مرتد ہیں کما ھو مبین فی حسام الحرمین(جیساکہ حسام الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔ ت)اور مرتد مردہو یاعورت اس کا نکاح کسی مسلمان یا کافر اصلی یا مرتد غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا۔ جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا۔ عالمگیری میں ہے :
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط ۔
مرتد کے لیے مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور اس طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
عورت اگرچہ نابالغہ ہے سال دوسال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل وتمیز کے بعد اسلام وارتداد صحیح ہیں۔
تنویر الابصار میں ہے :
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ ۔
بچہ اگر مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔ (ت)
سمجھ وال ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتناہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا تو اسی قدر اس کے مرتدہ ہونے کو بس ہے تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائد کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے بعید از قیاس ہے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابت قریبہ رکھنا بارہا منجربہ فتنہ وفساد مذہب ہوتاہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو فورا جدا کردیا جائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ : از ریاست فرید کوٹ کوٹھی ملیر گنج مسئولہ علیم الدین صاحب فراش ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ غیر مقلدوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ان کے ساتھ رشتہ ناتا اپنے لڑکے لڑکی کا جائز ہے یا حرام اور اگر حرام ہے تو حنفی المذہب اپنی لڑکی کو کسی طور سے واپس لے سکتا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
غیر مقلدوں سے میل جول حرام ہے اور ان سے مناکحت ناجائز کما بیناہ فی رسالتنا ازالۃ العار
مرزائی مرتد ہیں کما ھو مبین فی حسام الحرمین(جیساکہ حسام الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔ ت)اور مرتد مردہو یاعورت اس کا نکاح کسی مسلمان یا کافر اصلی یا مرتد غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا۔ جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا۔ عالمگیری میں ہے :
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط ۔
مرتد کے لیے مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور اس طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
عورت اگرچہ نابالغہ ہے سال دوسال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل وتمیز کے بعد اسلام وارتداد صحیح ہیں۔
تنویر الابصار میں ہے :
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ ۔
بچہ اگر مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔ (ت)
سمجھ وال ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتناہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا تو اسی قدر اس کے مرتدہ ہونے کو بس ہے تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائد کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے بعید از قیاس ہے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابت قریبہ رکھنا بارہا منجربہ فتنہ وفساد مذہب ہوتاہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو فورا جدا کردیا جائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ : از ریاست فرید کوٹ کوٹھی ملیر گنج مسئولہ علیم الدین صاحب فراش ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ غیر مقلدوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ان کے ساتھ رشتہ ناتا اپنے لڑکے لڑکی کا جائز ہے یا حرام اور اگر حرام ہے تو حنفی المذہب اپنی لڑکی کو کسی طور سے واپس لے سکتا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
غیر مقلدوں سے میل جول حرام ہے اور ان سے مناکحت ناجائز کما بیناہ فی رسالتنا ازالۃ العار
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ باب فی المحرما ت بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶۱
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶۱
بحجر الکرائم عن کلاب النار(جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار میں بیان کیا ہے۔ ت)وہابیت ارتداد ہے اور مرتد مرد ہو یا عورت اس کا نکاح تمام جہان میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ مسلمان سے نہ انسان سے نہ حیوان سے جس سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔
مرتد کو مرتدہ مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں۔ مبسوط میں ایسی ہی ہے۔ (ت)
حنفی اگر اس میں مبتلاہوا ہو تو اپنی لڑکی اسی دعوے سے واپس لے کہ نکاح ہو اہی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰ : از مند سورہ مالوہ اے وی ایم سکول ریاست گوالیار مسئولہ محمد عبدالحمید صاحب مدرس ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ایك بیوہ عورت حاملہ ہوگئی اوربروقت تحقیقات پولیس مسماۃ مذکورہ نے بیان کیاکہ یہ حمل خاص میرے داماد کا ہے۔ ایسی حالت میں منکوحہ داماد مسماۃ مذکورہ کی حرام ہوئی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب
فقط اس عورت کے کہنے سے داماد پر اس کی منکوحہ حرام نہیں ہوسکتی۔ یا توثبوت شرعی ہو یا داماد اقرار کرے۔ اس وقت اس کی منکوحہ پر حرام ابدی ہونے کا حکم دیا جائے گاورنہ نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۱ : از بستی محلہ دکھن دروازہ دھنیا ٹولہ مسئولہ بقر عیدن صاحب ضلعدار محکمہ افیون ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ دو برس سے مفرور ہوگئی ہے اور نہ طلاق دی نہ اس کا کچھ پتاہے کہ زندہ ہے یا مرگئی زید اپنی بی بی کی حقیقی بہن سے چاہتا ہے کہ نکاح کروں تو یہ جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ناجائز قال تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ ت)
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔
مرتد کو مرتدہ مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں۔ مبسوط میں ایسی ہی ہے۔ (ت)
حنفی اگر اس میں مبتلاہوا ہو تو اپنی لڑکی اسی دعوے سے واپس لے کہ نکاح ہو اہی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰ : از مند سورہ مالوہ اے وی ایم سکول ریاست گوالیار مسئولہ محمد عبدالحمید صاحب مدرس ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ایك بیوہ عورت حاملہ ہوگئی اوربروقت تحقیقات پولیس مسماۃ مذکورہ نے بیان کیاکہ یہ حمل خاص میرے داماد کا ہے۔ ایسی حالت میں منکوحہ داماد مسماۃ مذکورہ کی حرام ہوئی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب
فقط اس عورت کے کہنے سے داماد پر اس کی منکوحہ حرام نہیں ہوسکتی۔ یا توثبوت شرعی ہو یا داماد اقرار کرے۔ اس وقت اس کی منکوحہ پر حرام ابدی ہونے کا حکم دیا جائے گاورنہ نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۱ : از بستی محلہ دکھن دروازہ دھنیا ٹولہ مسئولہ بقر عیدن صاحب ضلعدار محکمہ افیون ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ دو برس سے مفرور ہوگئی ہے اور نہ طلاق دی نہ اس کا کچھ پتاہے کہ زندہ ہے یا مرگئی زید اپنی بی بی کی حقیقی بہن سے چاہتا ہے کہ نکاح کروں تو یہ جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ناجائز قال تعالی : و ان تجمعوا بین الاختین (دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ ت)
زید اگر چاہتا ہے تو زوجہ کو طلاق دے اورتا انقضائے عدت انتظار کرے اس کے بعداس کی بہن سے نکاح کرسکتاہے انقضائے عدت یہاں ظن غالب سے لیا جائے گا فانہ ملتحق فی الفقھیات بالیقین(فقہ میں یہ یقین سے ملحق ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲ تا ۲۹۳ : از احمد نگر دکن گنج بازار متصل مسجد شاہی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب خطیب حنفی قادری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱)زید وعمرو حقیقی بھائی ہیں عمرو اپنے پوتے کے ساتھ زیدکی لڑکی کا نکاح کراناچاہتا ہے جائزہے یانہیں
(۲)زید نے چھ ماہ کی عمرمیں زینب کا دودھ ہندہ کے ساتھ پیا اور ہندہ کی عمر چار سال کی تھی کیا زینب کی تیسری لڑکی سے زید کانکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)یہ نکاح جائز ہے کہ حقیقی پھوپھی نہیں رشتہ کی پھوپھی ہے۔ قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اوران کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت)یعنی بھتیجی سے بیٹے کا نکاح جائز ہے حالانکہ وہ رشتہ میں اس کی بہن ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)زینب زید کی ماں ہوگئی اور زینب کی جتنی اگلی پچھلی اولاد ہے سب زید کی بہن بھائی زینب کی کسی لڑکی سے زید کا نکاح جائز نہیں۔ قال تعالی : و اخوتكم من الرضاعة (اور تمھاری رضاعی بہنیں حرام ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۴ : مولوی عبدالله صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۹ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو حقیقی بہنیں ان کا نکاح زیدو اس کے حقیقی لڑکے کے ساتھ جائز ہے یا نہیں اور جن لوگوں میں ایسا جائزہے ان کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب
شرعا جائز ہے کہ ایك بہن کا نکاح باپ اور دوسری کا بیٹے سے ہو اس میں کچھ حرج نہیں جبکہ کوئی مانع شرعی اور وجہ سے نہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۵ : از شاہجہاں پور مسئولہ خان بہادر فصیح الدین صاحب ڈپٹی کلکٹر ۲۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان عورت یا مرد کسی دوسرے مذہب کے مرد یا عورت
مسئلہ ۲۹۲ تا ۲۹۳ : از احمد نگر دکن گنج بازار متصل مسجد شاہی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب خطیب حنفی قادری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱)زید وعمرو حقیقی بھائی ہیں عمرو اپنے پوتے کے ساتھ زیدکی لڑکی کا نکاح کراناچاہتا ہے جائزہے یانہیں
(۲)زید نے چھ ماہ کی عمرمیں زینب کا دودھ ہندہ کے ساتھ پیا اور ہندہ کی عمر چار سال کی تھی کیا زینب کی تیسری لڑکی سے زید کانکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)یہ نکاح جائز ہے کہ حقیقی پھوپھی نہیں رشتہ کی پھوپھی ہے۔ قال تعالی : و احل لكم ما ورآء ذلكم (اوران کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت)یعنی بھتیجی سے بیٹے کا نکاح جائز ہے حالانکہ وہ رشتہ میں اس کی بہن ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)زینب زید کی ماں ہوگئی اور زینب کی جتنی اگلی پچھلی اولاد ہے سب زید کی بہن بھائی زینب کی کسی لڑکی سے زید کا نکاح جائز نہیں۔ قال تعالی : و اخوتكم من الرضاعة (اور تمھاری رضاعی بہنیں حرام ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۴ : مولوی عبدالله صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۹ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو حقیقی بہنیں ان کا نکاح زیدو اس کے حقیقی لڑکے کے ساتھ جائز ہے یا نہیں اور جن لوگوں میں ایسا جائزہے ان کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب
شرعا جائز ہے کہ ایك بہن کا نکاح باپ اور دوسری کا بیٹے سے ہو اس میں کچھ حرج نہیں جبکہ کوئی مانع شرعی اور وجہ سے نہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۵ : از شاہجہاں پور مسئولہ خان بہادر فصیح الدین صاحب ڈپٹی کلکٹر ۲۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان عورت یا مرد کسی دوسرے مذہب کے مرد یا عورت
سے مثلا بدھ جین ہندو دہریہ وغیرہ سے مناکحت کرسکتا ہے یا نہیں ایسی صورت میں کہ وہ غیر مذہب والا مرد یا عورت اسلام قبول نہ کرے اور اپنے مذہب پر قائم رہے اگر نہیں کرسکتا ہے تو اس بارہ میں احکام کلام مجید کیا ہیں براہ مہربانی ان آیات کو درج فرمایاجائے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
مسلمان عورت کا نکاح مطلقا کسی کافر سے نہیں ہوسکتا۔ کتابی ہو یا مشرك یا دہریہ یہاں تك کہ ان کی عورتیں جو مسلمان ہوں انھیں واپس دینا حرام ہے۔
قال تعالی : یایها الذین امنوا اذا جآءكم المؤمنت مهجرت فامتحنوهن-الله اعلم بایمانهن-فان علمتموهن مؤمنت فلا ترجعوهن الى الكفار-لا هن حل لهم و لا هم یحلون لهن- ۔
اے ایمان والو! جب تمھارے پاس اسلام لانے والی عورتیں کافروں کا دیا ر چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرو الله خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو پھر اگر تمھیں آزمائش سے ان کا ایمان ثابت ہو تو انھیں کافروں کو واپس نہ دو نہ مسلمان عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔
مسلمان مرد کافرہ کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
قال تعالی : الیوم احل لكم الطیبت-و طعام الذین اوتوا الكتب حل لكم۪-و طعامكم حل لهم-و المحصنت من المؤمنت و المحصنت من الذین اوتوا الكتب من قبلكم اذا اتیتموهن اجورهن ۔
آج کے دن ستھری چیزیں تمھارے لیے حلال کی گئیں اور کتابیوں کا ذبیحہ تمھارے لیے حلال ہے اور تمھاراذبیحہ ان کے لیے حلال ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئیں پارسا مسلمان عورتیں اور عفت والی کتابیہ عورتیں جب تم انھیں ان کے مہر دو۔
لیکن غیر کتابیہ سے مسلمان مرد کو نکاح حرام ہے۔
قال تعالی و لا تنكحوا المشركت حتى یؤمن-و لامة مؤمنة خیر من مشركة و لو اعجبتكم- ۔
مشرکہ یعنی غیر کتابیہ سے نکاح نہ کرو جب تك ایمان نہ لائیں اور بیشك ایك مسلمان باندی کافرہ غیر کتابیہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ کافرہ تمھیں پسند آئے۔
یہ حکم کافران اصلی کا ہے مرتد ومرتدہ کانکاح تمام عالم میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ مسلم سے نہ کافر سے نہ اصلی
الجواب :
مسلمان عورت کا نکاح مطلقا کسی کافر سے نہیں ہوسکتا۔ کتابی ہو یا مشرك یا دہریہ یہاں تك کہ ان کی عورتیں جو مسلمان ہوں انھیں واپس دینا حرام ہے۔
قال تعالی : یایها الذین امنوا اذا جآءكم المؤمنت مهجرت فامتحنوهن-الله اعلم بایمانهن-فان علمتموهن مؤمنت فلا ترجعوهن الى الكفار-لا هن حل لهم و لا هم یحلون لهن- ۔
اے ایمان والو! جب تمھارے پاس اسلام لانے والی عورتیں کافروں کا دیا ر چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرو الله خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو پھر اگر تمھیں آزمائش سے ان کا ایمان ثابت ہو تو انھیں کافروں کو واپس نہ دو نہ مسلمان عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔
مسلمان مرد کافرہ کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
قال تعالی : الیوم احل لكم الطیبت-و طعام الذین اوتوا الكتب حل لكم۪-و طعامكم حل لهم-و المحصنت من المؤمنت و المحصنت من الذین اوتوا الكتب من قبلكم اذا اتیتموهن اجورهن ۔
آج کے دن ستھری چیزیں تمھارے لیے حلال کی گئیں اور کتابیوں کا ذبیحہ تمھارے لیے حلال ہے اور تمھاراذبیحہ ان کے لیے حلال ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئیں پارسا مسلمان عورتیں اور عفت والی کتابیہ عورتیں جب تم انھیں ان کے مہر دو۔
لیکن غیر کتابیہ سے مسلمان مرد کو نکاح حرام ہے۔
قال تعالی و لا تنكحوا المشركت حتى یؤمن-و لامة مؤمنة خیر من مشركة و لو اعجبتكم- ۔
مشرکہ یعنی غیر کتابیہ سے نکاح نہ کرو جب تك ایمان نہ لائیں اور بیشك ایك مسلمان باندی کافرہ غیر کتابیہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ کافرہ تمھیں پسند آئے۔
یہ حکم کافران اصلی کا ہے مرتد ومرتدہ کانکاح تمام عالم میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ مسلم سے نہ کافر سے نہ اصلی
سے نہ مرتد سے۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرتد کو کسی مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں مبسوط میں یونہی ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۶ : از بنگالہ مدرسہ معین الاسلام ڈاك خانہ جنگل آباد اہل موضع کادکا کسی ضلع جسر مسئولہ عبدالصمد صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بی بی یعنی اپنی بہو سے زنا کیا اب وہ بی بی مذکورہ کواپنے شوہر کے لیے حلال رہے گی یا نہیں اور وہ دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا یا طلاق ہوگئی اگر طلاق ہوگئی تو کس قسم کی اور علت طلاق ہونے کی کیا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
لوگ اپنی طرف سے خیالات باطلہ باندھ لیتے یا فقط دو ایك شخصوں یا صرف عورت کے کہنے پر اتہام لگاتے ہیں اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ شہادت عادلہ شرعیہ ہو یا شوہر تصدیق کرے اس وقت حرمت کا حکم دیا جائے گا۔ عورت ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی کہ اس کے باپ کی مدخولہ ہوگئی اور باپ کی مدخولہ بیٹے پر حرام ابدی ہے قال تعالی : و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم (جن سے تمھارے باپ نکاح کرلیں تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت) مگر طلاق نہ ہوئی نہ نکاح سے خارج ہوئی جب تك شوہر متارکہ نہ کرے مثلا اس سے کہے میں نے تجھے چھوڑ دیا یا جدا کیا جب یہ کہے گا اور عدت گزر جائے گی اس وقت عورت کسی تیسرے شخص سے نکاح کرسکے گی ان دونوں باپ بیٹوں پر تو ہمیشہ کے لیے حرام ہے شوہر پر فرض ہے کہ اسے متارکہ کردے کہ اب اسے رکھ نہیں سکتا تو چھوڑ نا لازم۔ قال تعالی : فامساك بمعروف او تسریح باحسان- (تو ہمدردی سے پاس رکھو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ ت) درمختار میں ہے :
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا حتی کہ
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مرتد کو کسی مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں مبسوط میں یونہی ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۶ : از بنگالہ مدرسہ معین الاسلام ڈاك خانہ جنگل آباد اہل موضع کادکا کسی ضلع جسر مسئولہ عبدالصمد صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بی بی یعنی اپنی بہو سے زنا کیا اب وہ بی بی مذکورہ کواپنے شوہر کے لیے حلال رہے گی یا نہیں اور وہ دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا یا طلاق ہوگئی اگر طلاق ہوگئی تو کس قسم کی اور علت طلاق ہونے کی کیا ہے بینوا تو جروا
الجواب :
لوگ اپنی طرف سے خیالات باطلہ باندھ لیتے یا فقط دو ایك شخصوں یا صرف عورت کے کہنے پر اتہام لگاتے ہیں اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ شہادت عادلہ شرعیہ ہو یا شوہر تصدیق کرے اس وقت حرمت کا حکم دیا جائے گا۔ عورت ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی کہ اس کے باپ کی مدخولہ ہوگئی اور باپ کی مدخولہ بیٹے پر حرام ابدی ہے قال تعالی : و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم (جن سے تمھارے باپ نکاح کرلیں تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت) مگر طلاق نہ ہوئی نہ نکاح سے خارج ہوئی جب تك شوہر متارکہ نہ کرے مثلا اس سے کہے میں نے تجھے چھوڑ دیا یا جدا کیا جب یہ کہے گا اور عدت گزر جائے گی اس وقت عورت کسی تیسرے شخص سے نکاح کرسکے گی ان دونوں باپ بیٹوں پر تو ہمیشہ کے لیے حرام ہے شوہر پر فرض ہے کہ اسے متارکہ کردے کہ اب اسے رکھ نہیں سکتا تو چھوڑ نا لازم۔ قال تعالی : فامساك بمعروف او تسریح باحسان- (تو ہمدردی سے پاس رکھو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ ت) درمختار میں ہے :
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا حتی کہ
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ باب فی المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
القرآن الکریم ۴ /۲۲
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
القرآن الکریم ۴ /۲۲
القرآن الکریم ۲ /۲۲۹
لایحل لہا التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب تك متارکہ اور عدت پوری نہ ہوجائے کسی دوسرے کے لیے حلال نہ ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۷ : از سواوالہ ڈاك خانہ ریڑھ ضلع بجنور مسئولہ حکیم عبدالرحمان ۵ شوال ۱۳۳۹ھ
ما قولکم رحمکم اﷲ(الله آپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ ت)کہ زید نے اپنے لڑکے عمرو کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا یا زنا کی نیت کی جس کا اقرار دونوں کرتے ہیں اس صور ت میں یہ عورت عمرو کی مطلقہ ہوگئی یانہیں اور کون سی طلاق واقع ہوئی عدت بھی ہوگی یا نہیں عمروکے لیے یہ عورت کسی طرح پھر بھی حلال ہوسکتی ہے یا نہیں وقوع زنا نیت زنا دواعی زنا تینوں میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
یہی استفتاء اس سے قبل مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند کی خدمت میں ارسال کیاتھا جس کے جواب میں بوجہ انتقال مولانا محمود الحسن صاحب نورالله مرقدہ انھوں نے یہ مختصر جواب دیا تھا کہ : “ اگرعمرو اس کا مقر نہیں ہے تو اس کے حق میں اس کی عورت حرام نہیں ہوئی “ انتہی چونکہ یہ فیصلہ بروئے پنچایت برادری طے ہونے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کل مسئول عنہا امور کا جواب دیکھنے پر اگر حکم ہو تو برادری میں ان سے انقطاع یا حقہ پانی بند کی سزائے مروج دے سکتے ہیں یا نہیں یا محض ان سے جرمانہ وصول کرکے غربا ومساکین کی دعوت کرائی جائے اور وہ جرمانہ مسجدیا اور کسی نیك کام میں صرف کیا جاسکتاہے یا نہیں
الجواب :
محض نیت زنا سے کچھ نہیں ہوتا او ربیٹے پر اس کی زوجہ حرام ابدی ہونے کے لیے صرف دواعی بھی کافی ہیں۔ اگر عمرو کے قلب پر ان کا صدق جمتا ہے تو لازم ہے کہ وہ عورت کو اپنے اوپر حرام سمجھے
فان التحری من دلائل الشرع وقول فاسق معتبراذا وقع التحری علی صدقہ۔
کیونکہ تحری(سوچ کے بعدفیصلہ)شرعی دلائل میں سے ہے اور فاسق کا قول تحری سے تصدیق کے بعد معتبر قرار پاتا ہے۔ (ت)
یونہی اگر عمرو نے ان کی تصدیق کی توعورت کی حرمت ابدی کا حکم ہے لان الاقرار حجۃ ملزمۃ(کیونکہ اقرار اپنے اوپر لازم کرنے کے لیے دلیل ہے۔ ت)اور اگر نہ اس نے ان کی تصدیق کی نہ اس کے قلب پر ان کا صدق
جب تك متارکہ اور عدت پوری نہ ہوجائے کسی دوسرے کے لیے حلال نہ ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۷ : از سواوالہ ڈاك خانہ ریڑھ ضلع بجنور مسئولہ حکیم عبدالرحمان ۵ شوال ۱۳۳۹ھ
ما قولکم رحمکم اﷲ(الله آپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ ت)کہ زید نے اپنے لڑکے عمرو کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا یا زنا کی نیت کی جس کا اقرار دونوں کرتے ہیں اس صور ت میں یہ عورت عمرو کی مطلقہ ہوگئی یانہیں اور کون سی طلاق واقع ہوئی عدت بھی ہوگی یا نہیں عمروکے لیے یہ عورت کسی طرح پھر بھی حلال ہوسکتی ہے یا نہیں وقوع زنا نیت زنا دواعی زنا تینوں میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
یہی استفتاء اس سے قبل مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند کی خدمت میں ارسال کیاتھا جس کے جواب میں بوجہ انتقال مولانا محمود الحسن صاحب نورالله مرقدہ انھوں نے یہ مختصر جواب دیا تھا کہ : “ اگرعمرو اس کا مقر نہیں ہے تو اس کے حق میں اس کی عورت حرام نہیں ہوئی “ انتہی چونکہ یہ فیصلہ بروئے پنچایت برادری طے ہونے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کل مسئول عنہا امور کا جواب دیکھنے پر اگر حکم ہو تو برادری میں ان سے انقطاع یا حقہ پانی بند کی سزائے مروج دے سکتے ہیں یا نہیں یا محض ان سے جرمانہ وصول کرکے غربا ومساکین کی دعوت کرائی جائے اور وہ جرمانہ مسجدیا اور کسی نیك کام میں صرف کیا جاسکتاہے یا نہیں
الجواب :
محض نیت زنا سے کچھ نہیں ہوتا او ربیٹے پر اس کی زوجہ حرام ابدی ہونے کے لیے صرف دواعی بھی کافی ہیں۔ اگر عمرو کے قلب پر ان کا صدق جمتا ہے تو لازم ہے کہ وہ عورت کو اپنے اوپر حرام سمجھے
فان التحری من دلائل الشرع وقول فاسق معتبراذا وقع التحری علی صدقہ۔
کیونکہ تحری(سوچ کے بعدفیصلہ)شرعی دلائل میں سے ہے اور فاسق کا قول تحری سے تصدیق کے بعد معتبر قرار پاتا ہے۔ (ت)
یونہی اگر عمرو نے ان کی تصدیق کی توعورت کی حرمت ابدی کا حکم ہے لان الاقرار حجۃ ملزمۃ(کیونکہ اقرار اپنے اوپر لازم کرنے کے لیے دلیل ہے۔ ت)اور اگر نہ اس نے ان کی تصدیق کی نہ اس کے قلب پر ان کا صدق
حوالہ / References
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
جمتا ہے تو عورت اس پر حرام نہ ہوئی لان الاقرار حجۃ قاصرۃ لاتعد والمقر(کیونکہ اقرار کمزور دلیل ہے اس لیے مقر کا غیر اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ ت)پھر جن صورتوں میں عورت اس پر حرام مانی جائے گی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگی کسی طرح ان باپ بیٹوں کے لیے حلال نہیں ہوسکتی مگر ہنوز طلاق نہ ہوئی عمرو پرفرض ہوگا کہ اسے چھوڑدے اور اس کے چھوڑنے کے بعد عورت پر عدت لازم ہوگی بعد عدت کسی تیسرے سے نکاح کرسکے گی درمختار میں ہے :
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔
حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ دوسرے شخص سے نکاح متارکہ اوراس کے بعد عدت گزرجانے کے بغیر جائز نہیں۔ (ت)
اگر بصورت حرمت عمرو عورت کو رکھے تو مسلمان اس سے میل جول چھوڑ دیں مگر جرمانہ لینا حرام ہے اور اسے مسجد میں صرف کرنا اور دیوبندیوں سے فتوی پوچھنا حرام اوران کے فتوی پرعمل کرنا حرام اور انھیں مولنا یا نورالله مرقدہ کہنا حرام تمام علماء کرام حرمین شریفین نے شان الوہیت وشان رسالت میں ان کی سخت گستاخیوں کے سبب ان کی تکفیر پر اتفاق کیا اور حسام الحرمین میں فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر یعنی جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ بھی کافر۔ والعیاذ باﷲ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۸ تا ۳۰۰ : مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
(۱)ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت)مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مہدی مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلمان ہیں یا خارج ازاسلام اور مرتد۔
(۲)بہ شکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں
(۳)بہ صورت ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لیے اور بلاعدت کسی مرد مسلم سے نکاح کرلیں۔ بینوا آجرکم الله تعالی
الجواب :
(۱)لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج باخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۔
حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ دوسرے شخص سے نکاح متارکہ اوراس کے بعد عدت گزرجانے کے بغیر جائز نہیں۔ (ت)
اگر بصورت حرمت عمرو عورت کو رکھے تو مسلمان اس سے میل جول چھوڑ دیں مگر جرمانہ لینا حرام ہے اور اسے مسجد میں صرف کرنا اور دیوبندیوں سے فتوی پوچھنا حرام اوران کے فتوی پرعمل کرنا حرام اور انھیں مولنا یا نورالله مرقدہ کہنا حرام تمام علماء کرام حرمین شریفین نے شان الوہیت وشان رسالت میں ان کی سخت گستاخیوں کے سبب ان کی تکفیر پر اتفاق کیا اور حسام الحرمین میں فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر یعنی جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ بھی کافر۔ والعیاذ باﷲ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۸ تا ۳۰۰ : مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
(۱)ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت)مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مہدی مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلمان ہیں یا خارج ازاسلام اور مرتد۔
(۲)بہ شکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں
(۳)بہ صورت ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لیے اور بلاعدت کسی مرد مسلم سے نکاح کرلیں۔ بینوا آجرکم الله تعالی
الجواب :
(۱)لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو
حوالہ / References
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ ، گنج بخش روڈ ، لاہور ص۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ ، گنج بخش روڈ ، لاہور ص۱۳
وہ تو مطلقا کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے قال الله تعالی :
و لكن رسول الله و خاتم النبین- ۔ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم : انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔
لیکن الله تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (ت)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں(ت)
لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر میں شك کیا ہو کافرہوگیا۔ ت)اسے معاذالله مسیح موعود کیا مہدی یا مجدد یا ایك ادنی درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکراس کے کافر ہونے میں ادنی شك کرے وہ خود کافر مرتد ہے والله تعالی اعلم۔
(۲)قادیانی عقیدے والے قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کانکاح اصلا ہرگز زنہار کسی مسلم کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالف العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیاطین کسی سے نہیں ہوسکتا جن سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔ فتاوی علمگیریہ میں ہے :
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی مبسوط ۔
مرتد کو کسی مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں ایسے ہی مرتدہ کو کسی مرد سے نکاح جائز نہیں جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
اسی میں دربارہ تصرفات مرتد ہے :
منھا ماھو باطل بالاتفاق نحوالنکاح فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولاذمیۃ ولاحربیۃ ولامملوکۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بعض وہ چیزیں جو بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح تو اس کے لیے کسی مسلمہ مرتدہ اور اصلی کافرہ اور ذمی عورت حربیہ اور لونڈی سے نکاح باطل ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
و لكن رسول الله و خاتم النبین- ۔ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم : انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔
لیکن الله تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (ت)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں(ت)
لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ من شك فی کفرہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر میں شك کیا ہو کافرہوگیا۔ ت)اسے معاذالله مسیح موعود کیا مہدی یا مجدد یا ایك ادنی درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکراس کے کافر ہونے میں ادنی شك کرے وہ خود کافر مرتد ہے والله تعالی اعلم۔
(۲)قادیانی عقیدے والے قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کانکاح اصلا ہرگز زنہار کسی مسلم کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالف العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیاطین کسی سے نہیں ہوسکتا جن سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔ فتاوی علمگیریہ میں ہے :
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی مبسوط ۔
مرتد کو کسی مرتدہ مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں ایسے ہی مرتدہ کو کسی مرد سے نکاح جائز نہیں جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
اسی میں دربارہ تصرفات مرتد ہے :
منھا ماھو باطل بالاتفاق نحوالنکاح فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولاذمیۃ ولاحربیۃ ولامملوکۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بعض وہ چیزیں جو بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح تو اس کے لیے کسی مسلمہ مرتدہ اور اصلی کافرہ اور ذمی عورت حربیہ اور لونڈی سے نکاح باطل ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
جامع الترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ الخ امین کمپنی دہلی ۲ / ۴۵
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
فتاوی ہندیہ باب فی المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۵
جامع الترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ الخ امین کمپنی دہلی ۲ / ۴۵
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
فتاوی ہندیہ باب فی المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۲
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۵
جس مسلمان عورت کا غلطی خواہ جہالت سے کسی کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فورا فورا اس سے جدا ہوجائے کہ زنا سے بچے اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں بلکہ طلاق کاکوئی محل ہی نہیں طلاق تو جب ہو کہ نکاح ہوا ہو نکاح ہی سرے سے نہ ہوا نہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنا کے لیے عدت نہیں بلاطلاق بلاعدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے درمختار میں ہے :
نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لایثبت النسب منہ ولاتجب العدۃ لانہ نکاح باطل ۔
کافرنے مسلمان عورت سے نکاح کیا جس سے اولاد ہوئی تو اس سے نسب ثابت نہ ہوگا عورت پر عدت واجب نہ ہوگی کیونکہ یہ نکاح باطل ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای فالوطء فیہ زنا لایثبت بہ النسب ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یعنی اس میں وطی زنا ہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۱ : از قصبہ نہٹور ضلع بجنور محلہ میاں صاحب سادات اول مرسلہ سید محمد مختار احمد صاحب ۵ شعبان ۱۳۳۴ روز چہارشنبہ
مکرم معظم جناب قبلہ مولانا صاحب زاد ظلکم۔ السلام علیکم مزاج شریف! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع نائب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ زید کی دو زوجہ زوجہ اول کا انتقال ہوگیا اس سے اس کے ایك نواسہ زوجہ دوم کے ایك لڑکی اب زوجہ دوم کی لڑکی سے زوجہ اول کے نواسہ کا نکاح درست ہے یا نہیں گویا سوتیلی خالہ سے یعنی اپنی ماں کی سوتیلی بہن سے جو دوسری ماں سے پیدا ہو کوئی شخص اپنا نکاح کرسکتاہے سبب یہ ہے کہ ناکح کا باپ اور منکوحہ کا باپ اور ماں دونوں علیحدہ ہیں کیونکہ بعض شخص کچھ ایسی حجت پیداکرتے ہیں کہ چچا زاد یا تائی زاد یا خالہ زاد بہن بھائی حقیقی کانکاح جائزہے جبکہ ناکح اور منکوحہ کے ماں اور باپ کا ایك باپ اور ایك ماں ہیں جزئیت کس طرف سے شمار ہوتی ہے کسی ایسی عام فہم صورت میں جواب صاف اور کسی مستقل حوالہ کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
زوجہ دوم کی وہ لڑکی اگر زیدہی کے نطفہ سے ہے بلا شبہہ زید کے نواسے پر حرام قطعی ہے اور اگر کسی دوسرے شوہر سے ہے تو جائز ہے جزئیت کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقا حرام ہے اور اپنی اصل
نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لایثبت النسب منہ ولاتجب العدۃ لانہ نکاح باطل ۔
کافرنے مسلمان عورت سے نکاح کیا جس سے اولاد ہوئی تو اس سے نسب ثابت نہ ہوگا عورت پر عدت واجب نہ ہوگی کیونکہ یہ نکاح باطل ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای فالوطء فیہ زنا لایثبت بہ النسب ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یعنی اس میں وطی زنا ہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۱ : از قصبہ نہٹور ضلع بجنور محلہ میاں صاحب سادات اول مرسلہ سید محمد مختار احمد صاحب ۵ شعبان ۱۳۳۴ روز چہارشنبہ
مکرم معظم جناب قبلہ مولانا صاحب زاد ظلکم۔ السلام علیکم مزاج شریف! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع نائب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ زید کی دو زوجہ زوجہ اول کا انتقال ہوگیا اس سے اس کے ایك نواسہ زوجہ دوم کے ایك لڑکی اب زوجہ دوم کی لڑکی سے زوجہ اول کے نواسہ کا نکاح درست ہے یا نہیں گویا سوتیلی خالہ سے یعنی اپنی ماں کی سوتیلی بہن سے جو دوسری ماں سے پیدا ہو کوئی شخص اپنا نکاح کرسکتاہے سبب یہ ہے کہ ناکح کا باپ اور منکوحہ کا باپ اور ماں دونوں علیحدہ ہیں کیونکہ بعض شخص کچھ ایسی حجت پیداکرتے ہیں کہ چچا زاد یا تائی زاد یا خالہ زاد بہن بھائی حقیقی کانکاح جائزہے جبکہ ناکح اور منکوحہ کے ماں اور باپ کا ایك باپ اور ایك ماں ہیں جزئیت کس طرف سے شمار ہوتی ہے کسی ایسی عام فہم صورت میں جواب صاف اور کسی مستقل حوالہ کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
زوجہ دوم کی وہ لڑکی اگر زیدہی کے نطفہ سے ہے بلا شبہہ زید کے نواسے پر حرام قطعی ہے اور اگر کسی دوسرے شوہر سے ہے تو جائز ہے جزئیت کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقا حرام ہے اور اپنی اصل
حوالہ / References
درمختار فصل فی ثبوت النسب مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۳
ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۳۳
ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۳۳
قریب کی فرع اگرچہ بعیدہو حرام ہے اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال اپنی فرع جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنی ہی دور ہو اور اصل ماں دادی نانی کتنی ہی بلند ہو اور اصل قریب کی فرع یعنی اپنی ماں اور باپ کی اولاد یا اولادکی اولاد کتنی ہی بعید ہو اوراصل بعید کی فرع قریب جیسے اپنے دادا پردادا نانا دادی پردادی نانی پرنانی کی بیٹیاں یہ سب حرام ہیں اور اصل بعید کی فرع بعید جیسے انہی اشخاص مذکورہ آخر کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب کی نوع نہ ہوں حلال ہیں۔ صورت مذکورہ میں جبکہ زوجہ دوم کی لڑکی زید کے نطفہ کی ہو تو وہ اس کے اصل بعید کی فرع بعید قریب ہوئی زید اس کا نانا ہے وہ اس کی اصل بعید ہوا اور یہ لڑکی اس کی بیٹی یہ اس کی فرع قریب ہوئی لہذا حرام ہوئی۔ اورا گر دوسرے شوہر سے ہے تو اس سے کوئی تعلق نہ ہوا لہذا حلال ہوئی چچا خالہ ماموں پھوپھی کی بیٹیاں اس لیے حلال ہیں کہ وہ اس کی اصل بعید کی فرع بعید ہیں یعنی دادا نانا کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب سے نہیں۔ نقایہ میں ہے :
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب وصلبیۃ اصلہ البعید ۔ وھو تعالی اعلم۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبیہ عورتیں حرام ہیں۔ (ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۲ : مسئولہ حافظ محمد علاؤ الدین صاحب پیش امام مسجد مقام بلرام پور ڈاك خانہ انگہ ڈیرہ ضلع مان بھوم
(۱)جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ کون کون ہیں عام فہم ہو خصوصا میرے سمجھنے کے قابل۔
(۲)جو عورت زیدکے بڑے بھائی کے نکاح میں آچکی ہو بعد مرنے بڑے بھائی کے اس عورت یعنی اپنی بھاوج سے زید عقد کرسکتا ہے یا نہیں اس کا جھگڑا پڑا ہوا ہے اس کا خلاصہ تحریر فرمائیں فقط۔
الجواب :
(۱)حرمت کے اسباب متعدد ہیں :
اول نسب جیسے ماں بیٹی بہن خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی۔
دوم رضاعت دودھ کے رشتہ سے یہ عورتیں دودھ پلانے والی ماں اور اس کی بیٹی بہن اور جس نے اس کا دودھ پیا بیٹی اور جن مرد و عورت کا دودھ پیا ان کی بہنیں خالہ پھوپھی اور اپنے رضاعی بھائی بہن کی اولاد یا اپنے بھائی بہن کی رضاعی اولاد بھتیجی بھتیجیاں وقس علیہ۔
سوم مصاہرت کہ اپنے اصول مثلا باپ دادا نانا اپنی فروع مثلا بیٹا پوتا نواسہ ان کی بیبیاں یا
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب وصلبیۃ اصلہ البعید ۔ وھو تعالی اعلم۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبیہ عورتیں حرام ہیں۔ (ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۲ : مسئولہ حافظ محمد علاؤ الدین صاحب پیش امام مسجد مقام بلرام پور ڈاك خانہ انگہ ڈیرہ ضلع مان بھوم
(۱)جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ کون کون ہیں عام فہم ہو خصوصا میرے سمجھنے کے قابل۔
(۲)جو عورت زیدکے بڑے بھائی کے نکاح میں آچکی ہو بعد مرنے بڑے بھائی کے اس عورت یعنی اپنی بھاوج سے زید عقد کرسکتا ہے یا نہیں اس کا جھگڑا پڑا ہوا ہے اس کا خلاصہ تحریر فرمائیں فقط۔
الجواب :
(۱)حرمت کے اسباب متعدد ہیں :
اول نسب جیسے ماں بیٹی بہن خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی۔
دوم رضاعت دودھ کے رشتہ سے یہ عورتیں دودھ پلانے والی ماں اور اس کی بیٹی بہن اور جس نے اس کا دودھ پیا بیٹی اور جن مرد و عورت کا دودھ پیا ان کی بہنیں خالہ پھوپھی اور اپنے رضاعی بھائی بہن کی اولاد یا اپنے بھائی بہن کی رضاعی اولاد بھتیجی بھتیجیاں وقس علیہ۔
سوم مصاہرت کہ اپنے اصول مثلا باپ دادا نانا اپنی فروع مثلا بیٹا پوتا نواسہ ان کی بیبیاں یا
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ کتاب النکاح نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲
جن عورتوں کو انھوں نے بشہوت ہاتھ لگایاہو یونہی اپنی بی بی یا مدخولہ کی ماں دادی نانی۔
چہارم شرك یعنی غیر کتابی کافرہ عورت مسلمان پر حرام ہے۔
پنجم ارتداد جو عورت مسلمان ہوکر اسلام سے نکل جائے اس سے نکاح حرام ہے اگرچہ وہ کتابیوں ہی کا دین اختیار کرے۔
ششم پانچویں یعنی چارعورتیں نکاح میں موجود ہوں تو پانچویں حرام ہے۔
ہفتم دو محارم میں جمع کرنا مثلا ایك عورت نکاح میں ہے تو جب تك وہ نکاح میں رہے اس کی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی سے نکاح حرام ہے۔
ہشتم جب کوئی آزاد عورت نکاح میں ہو اس کے ہوتے ہوئے کنیز سے نکاح جائز نہیں۔
نہم جس عورت کو تین طلاقیں دے چکا جب تك حلالہ نہ ہو اس سے نکاح حرام ہے۔
دہم جس عورت سے لعان کرچکا جب تك اپنے نفس کو تکذیب نہ کرے اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔
یازدہم وہ عورت کہ دوسرے کے نکاح میں ہے۔
دواز دہم وہ عورت کہ دوسرے کے عدت میں ہے۔ جزئیات بہت کثیر ہیں تفصیل کواجزا درکار ہیں یہ چند اجمالی باتیں ہیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)عدت گزرنے کے بعد کرسکتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۴ : از دوارکا اوکھاکاٹھیا وار مرسلہ نائیك حبیب خان ۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۵ھ
مصدر بوارق معانی مظہر شوارق فیض رسانی ادام الله عنایتکم السلام علیکم دست بستہ آداب ۔ خیریت طرفین کا خواستگار ہوں وہ لڑکی کہ جس نے بچپن میں میری اس ہمشیرہ کا دودھ ایك یاد ودفعہ نیند کی حالت میں پیاہو کہ اس کی اور میری والدہ ایك ہے اور والد جدا۔ آیا وہ لڑکی میرے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں اور اگر وہ لڑکی میرے نکاح میں آچکی ہو اور دودھ پلانے کی واردات پیچھےظاہر ہوئی اس کے لیے کیا فتوی ہے براہ نوازش جلد مطلع فرماکر فخر بخشیں۔
الجواب :
جس لڑکی نے سائل کی بہن کا دودھ پیا اگرچہ اس کے سوتے میں۔ اگرچہ ایك ہی بار اگرچہ ایك ہی قطرہ اگرچہ وہ بہن سائل سے صرف ماں میں شریك اور باپ میں جدا تھی وہ لڑکی سائل کی بھانجی ہوگئی اور اس سے اس کا نکاح حرام قطعی ہے اور اگر نادانستگی میں ہوگیا اور اب بہ ثبوت شرعی رضاعت ثابت ہوئی تو سائل پر فرض ہے کہ فورا فورا اسے جدا کردے کہ وہ اس کی بھانجی اور مثل حقیقی دختر کے ہے پھر اگر جماع واقع ہوا
چہارم شرك یعنی غیر کتابی کافرہ عورت مسلمان پر حرام ہے۔
پنجم ارتداد جو عورت مسلمان ہوکر اسلام سے نکل جائے اس سے نکاح حرام ہے اگرچہ وہ کتابیوں ہی کا دین اختیار کرے۔
ششم پانچویں یعنی چارعورتیں نکاح میں موجود ہوں تو پانچویں حرام ہے۔
ہفتم دو محارم میں جمع کرنا مثلا ایك عورت نکاح میں ہے تو جب تك وہ نکاح میں رہے اس کی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی سے نکاح حرام ہے۔
ہشتم جب کوئی آزاد عورت نکاح میں ہو اس کے ہوتے ہوئے کنیز سے نکاح جائز نہیں۔
نہم جس عورت کو تین طلاقیں دے چکا جب تك حلالہ نہ ہو اس سے نکاح حرام ہے۔
دہم جس عورت سے لعان کرچکا جب تك اپنے نفس کو تکذیب نہ کرے اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔
یازدہم وہ عورت کہ دوسرے کے نکاح میں ہے۔
دواز دہم وہ عورت کہ دوسرے کے عدت میں ہے۔ جزئیات بہت کثیر ہیں تفصیل کواجزا درکار ہیں یہ چند اجمالی باتیں ہیں۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)عدت گزرنے کے بعد کرسکتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۴ : از دوارکا اوکھاکاٹھیا وار مرسلہ نائیك حبیب خان ۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۵ھ
مصدر بوارق معانی مظہر شوارق فیض رسانی ادام الله عنایتکم السلام علیکم دست بستہ آداب ۔ خیریت طرفین کا خواستگار ہوں وہ لڑکی کہ جس نے بچپن میں میری اس ہمشیرہ کا دودھ ایك یاد ودفعہ نیند کی حالت میں پیاہو کہ اس کی اور میری والدہ ایك ہے اور والد جدا۔ آیا وہ لڑکی میرے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں اور اگر وہ لڑکی میرے نکاح میں آچکی ہو اور دودھ پلانے کی واردات پیچھےظاہر ہوئی اس کے لیے کیا فتوی ہے براہ نوازش جلد مطلع فرماکر فخر بخشیں۔
الجواب :
جس لڑکی نے سائل کی بہن کا دودھ پیا اگرچہ اس کے سوتے میں۔ اگرچہ ایك ہی بار اگرچہ ایك ہی قطرہ اگرچہ وہ بہن سائل سے صرف ماں میں شریك اور باپ میں جدا تھی وہ لڑکی سائل کی بھانجی ہوگئی اور اس سے اس کا نکاح حرام قطعی ہے اور اگر نادانستگی میں ہوگیا اور اب بہ ثبوت شرعی رضاعت ثابت ہوئی تو سائل پر فرض ہے کہ فورا فورا اسے جدا کردے کہ وہ اس کی بھانجی اور مثل حقیقی دختر کے ہے پھر اگر جماع واقع ہوا
تو مہردینا آئے گا جو مہر مثل ومہر مسمی میں کم ہو اور عورت اس کے چھوڑنے کے بعد تین حیض عدت کرے گی پھر جس سے چاہے نکاح کرے گی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۵ : مسئولہ میاں قدرت الله صاحب چشتی از مقام پٹن ضلع گجرات ریاست بڑودہ ۲۰ رجب ۱۳۳۵ھ
image
علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ لڑکا کمال اور لڑکی کریما دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اس شجرہ سے واضح ہے کہ کمال اور ولی دونوں آپس میں سوتیلے بھائی ہیں۔ باپ ایك اور ماں جدا۔ اور کریمہ ولی کی نواسی یعنی بیٹی ہے تو وہ کمال پر حرام ہے نکاح نہیں ہوسکتا قال تعالی : و بنت الاخ (اور بھائی کی بیٹیاں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۶ : از مارہرہ شریف مرسلہ محمد نعیم صاحب ۱ محرم الحرام ۱۳۳ھ
ایك شخص نے اپنے لڑکپن میں جبکہ اس کی عمر صرف دس گیارہ سال تھی ایك چودہ سالہ عورت سے جس کی شادی اسی ماہ میں ہوئی تھی عورت کے رغبت کرنے اور سکھانے سے زنا کیا لیکن لڑکا نابالغ تھا اب اس عورت سے ایك لڑکی ہے اس کا نکاح لڑکے مذکور سے جس نے اپنی نابالغی کی حالت میں اس کی ماں سے زنا کیاتھا جائز اور درست ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس وقت لڑکے کی عمر ۱۲ برس سے کم تھی تو حرمت ثابت نہ ہوئی وہ لڑکا اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے درمختار میں ہے :
لوجامع غیر مراھق زوجۃ ابیہ لم تحرم فتح۔
اگر غیر مراہق نے اپنے باپ کی زوجہ سے جماع کیاتو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ فتح(ت)
مسئلہ ۳۰۵ : مسئولہ میاں قدرت الله صاحب چشتی از مقام پٹن ضلع گجرات ریاست بڑودہ ۲۰ رجب ۱۳۳۵ھ
image
علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ لڑکا کمال اور لڑکی کریما دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اس شجرہ سے واضح ہے کہ کمال اور ولی دونوں آپس میں سوتیلے بھائی ہیں۔ باپ ایك اور ماں جدا۔ اور کریمہ ولی کی نواسی یعنی بیٹی ہے تو وہ کمال پر حرام ہے نکاح نہیں ہوسکتا قال تعالی : و بنت الاخ (اور بھائی کی بیٹیاں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۶ : از مارہرہ شریف مرسلہ محمد نعیم صاحب ۱ محرم الحرام ۱۳۳ھ
ایك شخص نے اپنے لڑکپن میں جبکہ اس کی عمر صرف دس گیارہ سال تھی ایك چودہ سالہ عورت سے جس کی شادی اسی ماہ میں ہوئی تھی عورت کے رغبت کرنے اور سکھانے سے زنا کیا لیکن لڑکا نابالغ تھا اب اس عورت سے ایك لڑکی ہے اس کا نکاح لڑکے مذکور سے جس نے اپنی نابالغی کی حالت میں اس کی ماں سے زنا کیاتھا جائز اور درست ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس وقت لڑکے کی عمر ۱۲ برس سے کم تھی تو حرمت ثابت نہ ہوئی وہ لڑکا اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے درمختار میں ہے :
لوجامع غیر مراھق زوجۃ ابیہ لم تحرم فتح۔
اگر غیر مراہق نے اپنے باپ کی زوجہ سے جماع کیاتو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ فتح(ت)
حوالہ / References
القرآن لکریم ۴ / ۲۳
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۸
ردالمحتار میں ہے :
لابد فی کل منھما من سن المراھقۃ واقلہ للاثنی تسع وللذکر اثنا عشر لان ذلك اقل مدۃ یمکن فیھا البلوغ کماصرحوا بہ فی باب بلوغ الغلام وھذا یوافق مامران العلۃ ھی الوطء الذی یکون سببا للولد والمس الذی یکون سببا لھذا الوطء ولایخفی ان غیر المراھق منھما لایتأتی منہ الولد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مردو عورت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کم از کم مراہق کی عمر میں ہوں اور مراہق کی عمر لڑکی کے لیے کم از کم نو سال اور لڑکے کے لیے بارہ سال کیونکہ یہ وہ کم از کم عمر ہے جس میں بلوغ ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے لڑکے کے بلوغ کے متعلق تصریح فرمائی ہے اور یہ بیان گزشتہ اس بیان کے موافق ہے کہ حرمت مصاہرہ کی علت وہ وطی ہے جو بچے کا سبب بن سکے اور وہ مس جو اس وطی کا سبب بن سکے اور یہ ظاہر ہے کہ مراہق سے کم عمروالے کی وطی بچے کا سبب نہیں ہوتی (ت)والله تعالی اعلم۔
_____________________
لابد فی کل منھما من سن المراھقۃ واقلہ للاثنی تسع وللذکر اثنا عشر لان ذلك اقل مدۃ یمکن فیھا البلوغ کماصرحوا بہ فی باب بلوغ الغلام وھذا یوافق مامران العلۃ ھی الوطء الذی یکون سببا للولد والمس الذی یکون سببا لھذا الوطء ولایخفی ان غیر المراھق منھما لایتأتی منہ الولد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مردو عورت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کم از کم مراہق کی عمر میں ہوں اور مراہق کی عمر لڑکی کے لیے کم از کم نو سال اور لڑکے کے لیے بارہ سال کیونکہ یہ وہ کم از کم عمر ہے جس میں بلوغ ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے لڑکے کے بلوغ کے متعلق تصریح فرمائی ہے اور یہ بیان گزشتہ اس بیان کے موافق ہے کہ حرمت مصاہرہ کی علت وہ وطی ہے جو بچے کا سبب بن سکے اور وہ مس جو اس وطی کا سبب بن سکے اور یہ ظاہر ہے کہ مراہق سے کم عمروالے کی وطی بچے کا سبب نہیں ہوتی (ت)والله تعالی اعلم۔
_____________________
حوالہ / References
ردالمحتار باب فی المحرمات دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۸۲
باب الولی
(ولی کا بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۳۰۶ : از کھنڈوا ضلع نماڑ ۱ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ جس کی عمر آٹھ برس کی ہے باپ اس کا اس کی شیرخوارگی میں انتقال کرگیا پرورش ا س کی ماں نے کی اور وہی اس کی وارث وکفیل ہے ایك چچا اس کا ہے وہ لڑکی کے باپ مرحوم سے تخمینا چالیس سال سے بالکل علیحدہ ہے کسی نوع کا واسطہ وتعلق باہمی نہیں۔ اس لڑکی کا نکاح بے اجازت والدہ وعم کے ایسے مقام پر لے جاکر پڑھادیا جہاں ماں موجود نہ تھی پس یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
تقریرسوال سے واضح کہ اس لڑکی کا دادا یا کوئی جوان بھائی نہیں۔ پس صورت مستفسرہ میں اس کا چچا ہی ا س کا ولی ہے جس کے ہوتے ماں کو بھی اختیار نہیں۔ اور چچا کا باپ سے جداوبے علاقہ ہونا اس کی ولایت شرعیہ کو ساقط نہیں کرتا غایت درجہ قطع رحم ہوگا اس کی نہایت گناہ اور گناہ مسقط ولایت نہیں۔ تنویر الابصار میں ہے :
(ولی کا بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۳۰۶ : از کھنڈوا ضلع نماڑ ۱ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ جس کی عمر آٹھ برس کی ہے باپ اس کا اس کی شیرخوارگی میں انتقال کرگیا پرورش ا س کی ماں نے کی اور وہی اس کی وارث وکفیل ہے ایك چچا اس کا ہے وہ لڑکی کے باپ مرحوم سے تخمینا چالیس سال سے بالکل علیحدہ ہے کسی نوع کا واسطہ وتعلق باہمی نہیں۔ اس لڑکی کا نکاح بے اجازت والدہ وعم کے ایسے مقام پر لے جاکر پڑھادیا جہاں ماں موجود نہ تھی پس یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
تقریرسوال سے واضح کہ اس لڑکی کا دادا یا کوئی جوان بھائی نہیں۔ پس صورت مستفسرہ میں اس کا چچا ہی ا س کا ولی ہے جس کے ہوتے ماں کو بھی اختیار نہیں۔ اور چچا کا باپ سے جداوبے علاقہ ہونا اس کی ولایت شرعیہ کو ساقط نہیں کرتا غایت درجہ قطع رحم ہوگا اس کی نہایت گناہ اور گناہ مسقط ولایت نہیں۔ تنویر الابصار میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ ۔
نکاح میں ولی عصبہ بنفسہ ہوتاہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فان لم یکن عصبۃ فالولا یۃ للام ۔
اگر عصبہ موجود نہ ہو تو پھر ماں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
الام لاتملك تزویج ابنھا مع العم ۔
والدہ کی بیٹی کے چچا کی موجودگی میں ولایت نہیں۔ (ت)
فتاوی خانیہ میں ہے :
الفسق لایمنع الولایۃ ۔
فسق ولایت کے لیے مانع نہیں ہے۔ (ت)
پس وہ نکاح کہ بے اجازت چچاکے ہوا اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اگر رد کردے باطل ہوجائے گا۔ مجمع الانہرمیں ہے :
وقف تزویج فضولی وھو من لم یکن ولیا ولااصیلا ولاوکیلا علی اجازۃ من لہ العقد فان اجاز ینعقد والالا ۔
جو شخص ولی اصیل اور وکیل نہ ہو وہ فضولی ہوتاہے جس کا کیاہوا نکاح ولایت والے کی اجاز ت پر موقوف رہتا ہے اگر وہ جائز کردے تو جائز ورنہ ناجائز ہوگا۔ (ت)
اور اجازت دے تو نافذ ہوجائے گا بشرطیکہ جس شخص کے ساتھ نکاح ہوا وہ اس دختر کا کفو ہو اورا س کے مہر میں کمی فاحش نہ کی گئی ہو۔ ورنہ اگر کفو نہیں یا مہر میں ایسی کمی ہے تو نکاح اصلا وجہ صحت نہیں رکھتا۔ نہ چچا وغیرہ ان اولیاء کی اجازت سے نافذہوسکے کہ ایسا نکاح اگر خود چچا کے ہاتھوں کا کیاہو تا تاہم باطل ہوتا پھر اس کے جائز کئے نفاذ کیونکر پاسکتا ہے۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا اھ ملخصا
نکاح کرنے والا باپ یا دادا نہ ہو اگرچہ ماں ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
نکاح میں ولی عصبہ بنفسہ ہوتاہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فان لم یکن عصبۃ فالولا یۃ للام ۔
اگر عصبہ موجود نہ ہو تو پھر ماں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
الام لاتملك تزویج ابنھا مع العم ۔
والدہ کی بیٹی کے چچا کی موجودگی میں ولایت نہیں۔ (ت)
فتاوی خانیہ میں ہے :
الفسق لایمنع الولایۃ ۔
فسق ولایت کے لیے مانع نہیں ہے۔ (ت)
پس وہ نکاح کہ بے اجازت چچاکے ہوا اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اگر رد کردے باطل ہوجائے گا۔ مجمع الانہرمیں ہے :
وقف تزویج فضولی وھو من لم یکن ولیا ولااصیلا ولاوکیلا علی اجازۃ من لہ العقد فان اجاز ینعقد والالا ۔
جو شخص ولی اصیل اور وکیل نہ ہو وہ فضولی ہوتاہے جس کا کیاہوا نکاح ولایت والے کی اجاز ت پر موقوف رہتا ہے اگر وہ جائز کردے تو جائز ورنہ ناجائز ہوگا۔ (ت)
اور اجازت دے تو نافذ ہوجائے گا بشرطیکہ جس شخص کے ساتھ نکاح ہوا وہ اس دختر کا کفو ہو اورا س کے مہر میں کمی فاحش نہ کی گئی ہو۔ ورنہ اگر کفو نہیں یا مہر میں ایسی کمی ہے تو نکاح اصلا وجہ صحت نہیں رکھتا۔ نہ چچا وغیرہ ان اولیاء کی اجازت سے نافذہوسکے کہ ایسا نکاح اگر خود چچا کے ہاتھوں کا کیاہو تا تاہم باطل ہوتا پھر اس کے جائز کئے نفاذ کیونکر پاسکتا ہے۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا اھ ملخصا
نکاح کرنے والا باپ یا دادا نہ ہو اگرچہ ماں ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
فتاوی خیریہ کتاب النکاح باب الاولیاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنو ۱ / ۱۶۳
مجمع الانہر فصل فی تزویج الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۴۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
فتاوی خیریہ کتاب النکاح باب الاولیاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنو ۱ / ۱۶۳
مجمع الانہر فصل فی تزویج الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۴۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار میں ہے :
اصلا ای لالازما ولاموقوفا علی الرضا بعد البلوغ ۔
بالکل نہ ہوگا۔ نہ اب نافذ ہوگا اور نہ بعد بلوغ رضاپر موقوف ہوگا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
العم ونحوہ لایصح منھم التزویج بغیر الکفو ۔
چچا وغیرہ کا غیرکفو میں نکاح کردینا صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
او رکفو کے یہ معنی کہ اس کی قوم یا مذہب یا اعمال یا پیشے میں بہ نسبت خاندان دختر کے کوئی ایسا قصور وعیب نہ ہو جس کے سبب اولیائے دختر کو عار لاحق ہو نہ ایسا محتاج ہوکہ اگر یہ دختر بالفعل قابل جماع ہے تو نفقہ نہیں دے سکتا یا کسی قدرمہر کل یا بعض ازروئے شرط یاحسب رواج معجل ہے تو فی الحال ا س کے ادا پرقادر نہیں۔ تنویر میں ہے :
تعتبر(یعنی الکفاءۃ)نسبا وحریۃ واسلاما ودیانہ ومالا وحرفۃ ۔
کفو ہونے میں نسب حریت اسلام دیانت مال اور حرفت کا اعتبارہے۔ (ت)
ملتقی الابحر میں ہے :
وتعتبر مالافالعا جز عن المھر المعجل والنفقۃ غیر کفو الخ ۔
مال کا اعتبار ہے تو جوشخص مہر معجل اور نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہو تو کفو نہیں بنے گا۔ (ت)
شامی میں ذخیرہ وفتح القدیر میں ہے :
قولہ لوتطیق الجماع فلو صغیرۃ لاتطیقہ فھو کفو وان لم یقدر علی النفقۃ لانہ لانفقۃ لھا ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ سبحنہ احکم۔
اس کا قول کہ بیوی جماع کے قابل ہو تو اگرایسی کم عمر ہو کہ وہ جماع کے قابل نہیں تو کفو ثابت ہوگی اگرچہ خاوند نفقہ پر قادرنہ ہو کیونکہ ایسی عمر کے لیے خاوند پر نفقہ لازم نہیں۔ والله تعالی اعلم الله جل مجدہ کا علم کامل و اکمل اور اس کا حکم نافذ مضبوط ہے۔ (ت)
اصلا ای لالازما ولاموقوفا علی الرضا بعد البلوغ ۔
بالکل نہ ہوگا۔ نہ اب نافذ ہوگا اور نہ بعد بلوغ رضاپر موقوف ہوگا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
العم ونحوہ لایصح منھم التزویج بغیر الکفو ۔
چچا وغیرہ کا غیرکفو میں نکاح کردینا صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
او رکفو کے یہ معنی کہ اس کی قوم یا مذہب یا اعمال یا پیشے میں بہ نسبت خاندان دختر کے کوئی ایسا قصور وعیب نہ ہو جس کے سبب اولیائے دختر کو عار لاحق ہو نہ ایسا محتاج ہوکہ اگر یہ دختر بالفعل قابل جماع ہے تو نفقہ نہیں دے سکتا یا کسی قدرمہر کل یا بعض ازروئے شرط یاحسب رواج معجل ہے تو فی الحال ا س کے ادا پرقادر نہیں۔ تنویر میں ہے :
تعتبر(یعنی الکفاءۃ)نسبا وحریۃ واسلاما ودیانہ ومالا وحرفۃ ۔
کفو ہونے میں نسب حریت اسلام دیانت مال اور حرفت کا اعتبارہے۔ (ت)
ملتقی الابحر میں ہے :
وتعتبر مالافالعا جز عن المھر المعجل والنفقۃ غیر کفو الخ ۔
مال کا اعتبار ہے تو جوشخص مہر معجل اور نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہو تو کفو نہیں بنے گا۔ (ت)
شامی میں ذخیرہ وفتح القدیر میں ہے :
قولہ لوتطیق الجماع فلو صغیرۃ لاتطیقہ فھو کفو وان لم یقدر علی النفقۃ لانہ لانفقۃ لھا ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ سبحنہ احکم۔
اس کا قول کہ بیوی جماع کے قابل ہو تو اگرایسی کم عمر ہو کہ وہ جماع کے قابل نہیں تو کفو ثابت ہوگی اگرچہ خاوند نفقہ پر قادرنہ ہو کیونکہ ایسی عمر کے لیے خاوند پر نفقہ لازم نہیں۔ والله تعالی اعلم الله جل مجدہ کا علم کامل و اکمل اور اس کا حکم نافذ مضبوط ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۶
درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۵۔ ۱۹۴
ملتقی الابحر الکفاءۃ فی النکاح مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۴۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۱
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۶
درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۵۔ ۱۹۴
ملتقی الابحر الکفاءۃ فی النکاح مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۴۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۱
مسئلہ ۳۰۷ : ۱۲جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ ہجری قدسی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرہ کا باپ اس کے نکاح کی زید کے ساتھ اپنے پسر جوان کو اجازت دے کر اپنی نوکری کے مقام پر کہ وہاں سے سات آٹھ کوس ہے چلا گیا اس کے پیچھے وہ نکاح ہوا رخصت کے بعد باپ آیا چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور برسوں آئی گئی اب سات برس کے بعد باپ کہتا ہے میں اس نکاح سے راضی نہیں اس صورت میں باپ یا اس صغیرہ کو بلوغ حق فسخ نکاح پہنچتا ہے یا نہیں اور وہ نکاح کہ بھائی نے کیا صحیح ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ ثابت ہو کہ پدر صغیرہ نے اپنے پسر جوان کو دختر نابالغہ کے نکاح کی زید کے ساتھ اجازت دی اور وہ نکاح حسب اجازت واقع ہوا تو اب اسے نہ پدر صغیرہ خود فسخ کرسکے نہ صغیرہ بعد بلوغ اس کا اختیار فسخ رکھے بلکہ وہ نکاح قطعا صحیح ونافذ ولازم ہوگیا۔
فان الاذن توکیل وفعل الوکیل کفعل المؤکل ومن سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
وکیل کو اجازت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فعل کو مؤکل کا فعل قرار دیا جائے گا لہذا وکیل کی طرف سے تمام شدہ کارروائی کو کالعدم قرار دینے والے کی کوشش کو ردکردیا جائے گا۔ (ت)
تنویر میں ہے :
لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا الخ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اگر باپ یا دادا نکاح کرنے والا ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کے باوجود نکاح لازم ونافذ ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۸ : ۳ رجب المرجب ۱۳۰۵ ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلی کا باپ بکر اس کا نکاح عمرو کفو کے ساتھ کردینے کی اجازت اپنے جوان بیٹے خالد کو دے کر بریلی سے اپنی نوکری پر بیسل پور کہ یہاں سے بیس کوس ہے چلا گیا خالد برادر وہندہ مادر لیلی کو عمرو سے نکاح منظور نہ تھا ان کی مرضی زید کے ساتھ نکاح میں تھی کہ وہ بھی مثل عمروآپس اوربرادری ہی کاہے لہذا برخلاف اجازت بکر مادر وبرادر لیلی نے جلدی کرکے لیلی نابالغہ دہ سالہ کا نکاح زید نابالغ ہفت سالہ سے کردیا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرہ کا باپ اس کے نکاح کی زید کے ساتھ اپنے پسر جوان کو اجازت دے کر اپنی نوکری کے مقام پر کہ وہاں سے سات آٹھ کوس ہے چلا گیا اس کے پیچھے وہ نکاح ہوا رخصت کے بعد باپ آیا چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور برسوں آئی گئی اب سات برس کے بعد باپ کہتا ہے میں اس نکاح سے راضی نہیں اس صورت میں باپ یا اس صغیرہ کو بلوغ حق فسخ نکاح پہنچتا ہے یا نہیں اور وہ نکاح کہ بھائی نے کیا صحیح ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
جبکہ ثابت ہو کہ پدر صغیرہ نے اپنے پسر جوان کو دختر نابالغہ کے نکاح کی زید کے ساتھ اجازت دی اور وہ نکاح حسب اجازت واقع ہوا تو اب اسے نہ پدر صغیرہ خود فسخ کرسکے نہ صغیرہ بعد بلوغ اس کا اختیار فسخ رکھے بلکہ وہ نکاح قطعا صحیح ونافذ ولازم ہوگیا۔
فان الاذن توکیل وفعل الوکیل کفعل المؤکل ومن سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
وکیل کو اجازت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فعل کو مؤکل کا فعل قرار دیا جائے گا لہذا وکیل کی طرف سے تمام شدہ کارروائی کو کالعدم قرار دینے والے کی کوشش کو ردکردیا جائے گا۔ (ت)
تنویر میں ہے :
لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا الخ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اگر باپ یا دادا نکاح کرنے والا ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کے باوجود نکاح لازم ونافذ ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۸ : ۳ رجب المرجب ۱۳۰۵ ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلی کا باپ بکر اس کا نکاح عمرو کفو کے ساتھ کردینے کی اجازت اپنے جوان بیٹے خالد کو دے کر بریلی سے اپنی نوکری پر بیسل پور کہ یہاں سے بیس کوس ہے چلا گیا خالد برادر وہندہ مادر لیلی کو عمرو سے نکاح منظور نہ تھا ان کی مرضی زید کے ساتھ نکاح میں تھی کہ وہ بھی مثل عمروآپس اوربرادری ہی کاہے لہذا برخلاف اجازت بکر مادر وبرادر لیلی نے جلدی کرکے لیلی نابالغہ دہ سالہ کا نکاح زید نابالغ ہفت سالہ سے کردیا
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
جب پدر لیلی آیا خبر سن کر سخت ناراض ہوا اور دختر کو سسرال سے بلا لیا اور پھر نہ جانے دیا اس پر سات برس کا زمانہ گزرا کہ لیلی بالغہ ہوگئی مگر زید ہنوز نابالغ ہے لیلی نے بالغہ ہوتے ہی فورا اس نکاح سے انکار کردیا اور دوسری جگہ اپنانکاح کیا چاہتی ہے اس صورت میں نکاح اول فسخ ہو ا اور لیلی کو نکاح ثانی کا اختیار ملا یا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اور اجر پائیے۔ ت)
الجواب :
چند روز ہوئے کہ یہ مسئلہ سائل کی طرف مقابل یعنی پدر زیدنے فقیر سے دریافت کیا اور اس میں صورت سوال بالکل اس کے خلاف تھی اس نے ظاہر کیا تھاکہ پدر لیلی اس کے نکاح کی اجازت خالد پسر جوان کو اسی زید کے ساتھ دے گیا تھا اور چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور لیلی برسوں آئی گئی ان سات برس کے بعد کہتاہے میں راضی نہیں۔ اس پر فقیر نے لکھا تھا کہ مضمون مذکور ثابت ہو تو بیشك نکاح صحیح ولازم ہوگیا جسے کوئی فسخ نہیں کرسکتا اب پدر لیلی یہ شکل اختیار کرتاہے اور اس کے ساتھ چند کسان برادری جو اپنے آپ کو فریقین کا رشتہ دار قریب بتاتے ہیں بقسم اس بیان بکر کی تائید کرتے ہیں۔ غرض علم واقع حق وعلا کو ہے اگر یہ لوگ سچے ہیں اور صورت سوال یونہی ہے جویہ کہتے ہیں کہ نکاح برخلاف اجازت پدر ہوا تو اگر اس نے ناراضی میں اس نکاح کے رد کرنے کا کوئی لفظ کہا تونکاح اسی وقت فسخ ہوگیا اور اگر کوئی ایسالفظ نہ کہا اور نہ اس پر راضی ہوا نہ ا س نے کبھی رخصت کی اور لیلی نے بالغہ ہوکر انکار کردیا تو اب نکاح فسخ ہوگیا کہ برادر لیلی کو جب پدر لیلی نے خاص عمرو کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی تھی تو اسے بتوکیل پدر اس قدر کا اختیار تھا کہ اب اس نے مخالفت کرکے زید سے نکاح کردیا۔ یہ نکاح نکاح فضولی ٹھہرا درمختارمیں ہے :
اجمعوا انہ لم یجز کمالو امرہ بمعینۃ فخالف اھ ملخصا یعنی الوکیل بالنکاح۔
فقہاء کا اجماع ہے کہ اگر معینہ عورت سے نکاح کا کہاا ور وکیل نے اس کے خلاف کیا تو یہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے : فی
کل موضع لاینفذ فعل الوکیل فالعقد موقوف علی اجازۃ المؤکل ۔
جہاں پر وکیل کا عمل نافذنہ ہوگا وہاں وہ عمل موکل کی اجازت پرموقوف ہوگا۔ (ت)
الجواب :
چند روز ہوئے کہ یہ مسئلہ سائل کی طرف مقابل یعنی پدر زیدنے فقیر سے دریافت کیا اور اس میں صورت سوال بالکل اس کے خلاف تھی اس نے ظاہر کیا تھاکہ پدر لیلی اس کے نکاح کی اجازت خالد پسر جوان کو اسی زید کے ساتھ دے گیا تھا اور چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور لیلی برسوں آئی گئی ان سات برس کے بعد کہتاہے میں راضی نہیں۔ اس پر فقیر نے لکھا تھا کہ مضمون مذکور ثابت ہو تو بیشك نکاح صحیح ولازم ہوگیا جسے کوئی فسخ نہیں کرسکتا اب پدر لیلی یہ شکل اختیار کرتاہے اور اس کے ساتھ چند کسان برادری جو اپنے آپ کو فریقین کا رشتہ دار قریب بتاتے ہیں بقسم اس بیان بکر کی تائید کرتے ہیں۔ غرض علم واقع حق وعلا کو ہے اگر یہ لوگ سچے ہیں اور صورت سوال یونہی ہے جویہ کہتے ہیں کہ نکاح برخلاف اجازت پدر ہوا تو اگر اس نے ناراضی میں اس نکاح کے رد کرنے کا کوئی لفظ کہا تونکاح اسی وقت فسخ ہوگیا اور اگر کوئی ایسالفظ نہ کہا اور نہ اس پر راضی ہوا نہ ا س نے کبھی رخصت کی اور لیلی نے بالغہ ہوکر انکار کردیا تو اب نکاح فسخ ہوگیا کہ برادر لیلی کو جب پدر لیلی نے خاص عمرو کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی تھی تو اسے بتوکیل پدر اس قدر کا اختیار تھا کہ اب اس نے مخالفت کرکے زید سے نکاح کردیا۔ یہ نکاح نکاح فضولی ٹھہرا درمختارمیں ہے :
اجمعوا انہ لم یجز کمالو امرہ بمعینۃ فخالف اھ ملخصا یعنی الوکیل بالنکاح۔
فقہاء کا اجماع ہے کہ اگر معینہ عورت سے نکاح کا کہاا ور وکیل نے اس کے خلاف کیا تو یہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے : فی
کل موضع لاینفذ فعل الوکیل فالعقد موقوف علی اجازۃ المؤکل ۔
جہاں پر وکیل کا عمل نافذنہ ہوگا وہاں وہ عمل موکل کی اجازت پرموقوف ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
الدرالمختار باب الکفاءۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۵
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۵
اور نکاح فضولی بے اجازت نافذ نہیں ہوتا۔ پس اگر لیلی کے باپ نے ردکیا تو جبھی رد ہوگیا اور اگر نہ رد کیا نہ اجازت دی اور لیلی نے بالغہ ہوکر فسخ کردیا تو اب فسخ ہوگیا۔
فی ردالمحتار فی فصل الفضولی عن جامع الفصولین یتوقف علی اجازۃ ولیہ مادام صبیا ولو بلغ قبل اجازۃ ولیہ فاجازبنفسہ جاز ولم یجز بنفس البلوغ بلااجازۃ ۔
ردالمحتار میں ہے فضولی کے بیان میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ جب تك نابالغ ہے اس کانکاح اس کے ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اگر ولی کی اجازت سے قبل وہ بالغ ہوگیا تو اس نے اپنے نکاح کوجائز قرار دیا تو جائز ہوجائے گا اس کے جائز کئے بغیر محض بالغ ہونے پر جائز نہ ہوگا۔ (ت)
پس لیلی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
واعلم ان غیبۃ بکر لم تکن منقطعۃ حتی تنتقل الولایۃ الی الاخ فیکون تزویجہ ایاھا صحیحا نافذا ولو غیر لا زم فلا ینفسخ بمجرد فسخھا بل تحتاج فیہ الی حکم القاضی کما فی الھدایۃ والدر وغیرھما من الاسفار الغراء علی ما اختارہ واکثر المتاخرین وجزم بہ فی التنویر وغیرہ وقال فی التبیین ان علیہ الفتوی وھو التقدیر بمسافۃ القصر فالامرواضح واما علی مااختارہ اکثر المشائخ وقال السرخسی ومحمد بن الفضل واصحاب الذخیرۃ والمجتبی والبحر انہ الاصح وصاحب
واضح رہے کہ یہاں بکر کا غائب ہونا ایسا نہیں جس سے اس کی ولایت منقطع ہوکر لڑکی کے بھائی کو منتقل ہوجائے کہ اس کاکیا ہوا نکاح صحیح اور نافذ ہوتا اگرچہ لازم نہ ہوتا۔ محض لڑکی کے فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوتا بلکہ قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہوتی جیساکہ ہدایہ در وغیرہما معتبر کتب میں ہے لیکن جس کو اکثر متاخرین نے اختیار کیا ہے اور اس پر تنویر وغیرہ میں جز م کیا ہے ور تبیین میں کہا کہ اس پرفتوی ہے وہ یہ کہ نماز کو قصر کرنے کی مسافت یعنی مسافت سفرپر دور ہو تو اس قول پر معاملہ واضح ہے اور وہ جس کو اکثر مشائخ نے جس کے متعلق سرخسی اور محمد بن فضل ذخیرہ مجتبی اور بحر کے مصنفین نے فرمایا کہ یہ اصح ہے اور صاحب ہدایہ
فی ردالمحتار فی فصل الفضولی عن جامع الفصولین یتوقف علی اجازۃ ولیہ مادام صبیا ولو بلغ قبل اجازۃ ولیہ فاجازبنفسہ جاز ولم یجز بنفس البلوغ بلااجازۃ ۔
ردالمحتار میں ہے فضولی کے بیان میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ جب تك نابالغ ہے اس کانکاح اس کے ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اگر ولی کی اجازت سے قبل وہ بالغ ہوگیا تو اس نے اپنے نکاح کوجائز قرار دیا تو جائز ہوجائے گا اس کے جائز کئے بغیر محض بالغ ہونے پر جائز نہ ہوگا۔ (ت)
پس لیلی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ والله تعالی اعلم۔
واعلم ان غیبۃ بکر لم تکن منقطعۃ حتی تنتقل الولایۃ الی الاخ فیکون تزویجہ ایاھا صحیحا نافذا ولو غیر لا زم فلا ینفسخ بمجرد فسخھا بل تحتاج فیہ الی حکم القاضی کما فی الھدایۃ والدر وغیرھما من الاسفار الغراء علی ما اختارہ واکثر المتاخرین وجزم بہ فی التنویر وغیرہ وقال فی التبیین ان علیہ الفتوی وھو التقدیر بمسافۃ القصر فالامرواضح واما علی مااختارہ اکثر المشائخ وقال السرخسی ومحمد بن الفضل واصحاب الذخیرۃ والمجتبی والبحر انہ الاصح وصاحب
واضح رہے کہ یہاں بکر کا غائب ہونا ایسا نہیں جس سے اس کی ولایت منقطع ہوکر لڑکی کے بھائی کو منتقل ہوجائے کہ اس کاکیا ہوا نکاح صحیح اور نافذ ہوتا اگرچہ لازم نہ ہوتا۔ محض لڑکی کے فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوتا بلکہ قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہوتی جیساکہ ہدایہ در وغیرہما معتبر کتب میں ہے لیکن جس کو اکثر متاخرین نے اختیار کیا ہے اور اس پر تنویر وغیرہ میں جز م کیا ہے ور تبیین میں کہا کہ اس پرفتوی ہے وہ یہ کہ نماز کو قصر کرنے کی مسافت یعنی مسافت سفرپر دور ہو تو اس قول پر معاملہ واضح ہے اور وہ جس کو اکثر مشائخ نے جس کے متعلق سرخسی اور محمد بن فضل ذخیرہ مجتبی اور بحر کے مصنفین نے فرمایا کہ یہ اصح ہے اور صاحب ہدایہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۳۵
درمختار فصل فی الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۲ / ۱۲۷
البحرالرائق باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
درمختار فصل فی الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۲ / ۱۲۷
البحرالرائق باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
الھدایۃ انہ اقرب الی الفقہ والامام قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر انہ حسن لانہ النظر و الزیلعی فی التبیین انہ احسن والمحقق فی الفتح انہ الاشبہ بالفقہ وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایہ الملتقی والباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی وفی شرح الملتقی عن الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی ویشیر کلام النھر الی اختیارہ وفی البحران الاحسن الافتاء بہ وبالجملۃ کان ارجح التصحیحین وھوکونہ بحیث لوانتظر حضورہ او استطلاع رأیہ فات الکفو الذی حضروان کان مختفیا فی نفس البلد فلان المبنی عندھم الحاجۃ الی استطلاع مفوت للکفو الحاضر لما فیہ ضرر والولایۃ للنظر فواجب اسقاطھا وھھنا کلا الامرین منتفی
نے کہا کہ یہ اقرب الفقہ ہے اور امام قاضی خاں نے جامع الصغیرکی شرح میں کہا کہ شفقت کی وجہ سے اچھا ہے اور زیلعی نے تبیین میں اچھا محقق نے فتح میں اشبہ بالفقہ کہا اور یہی موقوف اختیار نقائی ملتقی اور باقلانی کا ہے اور ابن کمال نے اس پر فتوی کہا ہے اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول کہ اقوال میں یہ اصح اور اس پر فتوی ہے اور نہر کا کلام ابھی اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں کہا کہ اس پرفتوی بہتر ہے غرضیکہ دونوں تصحیحوں میں یہ قول زیادہ راجح ہے کہ اگر ولی اتنی مسافت پر ہے کہ اس سے رابطہ مشورہ اور اجازت حاصل کرنے میں موجود رشتہ جوکہ کفو ہے چھوٹ جائے گا۔ تویہ ولایت کے ختم ہونے اور دوسرے کو منتقل ہونے کا معیار ہے اگرچہ وہ ولی شہر میں چھپا ہواہی کیوں نہ ہو کیونکہ غائب ولی کی ولایت کے انقطاع کا سبب کفو والے رشتہ کے چھوٹ جانے کاخدشہ قرار دیا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اجازت حاصل کرنے
نے کہا کہ یہ اقرب الفقہ ہے اور امام قاضی خاں نے جامع الصغیرکی شرح میں کہا کہ شفقت کی وجہ سے اچھا ہے اور زیلعی نے تبیین میں اچھا محقق نے فتح میں اشبہ بالفقہ کہا اور یہی موقوف اختیار نقائی ملتقی اور باقلانی کا ہے اور ابن کمال نے اس پر فتوی کہا ہے اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول کہ اقوال میں یہ اصح اور اس پر فتوی ہے اور نہر کا کلام ابھی اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں کہا کہ اس پرفتوی بہتر ہے غرضیکہ دونوں تصحیحوں میں یہ قول زیادہ راجح ہے کہ اگر ولی اتنی مسافت پر ہے کہ اس سے رابطہ مشورہ اور اجازت حاصل کرنے میں موجود رشتہ جوکہ کفو ہے چھوٹ جائے گا۔ تویہ ولایت کے ختم ہونے اور دوسرے کو منتقل ہونے کا معیار ہے اگرچہ وہ ولی شہر میں چھپا ہواہی کیوں نہ ہو کیونکہ غائب ولی کی ولایت کے انقطاع کا سبب کفو والے رشتہ کے چھوٹ جانے کاخدشہ قرار دیا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اجازت حاصل کرنے
حوالہ / References
الہدایۃ باب فی الاولیاء والاکفاء المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۲۹۹
البحرالرائق بحوالہ شرح جامع الصغیر باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء المطبعۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۲۷
فتح القدیر باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۵
الدرالمختار فصل فی الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
الدرالمنتقی علی حاشیہ مجمع الانہر باب الاولیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
البحرالرائق باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
البحرالرائق بحوالہ شرح جامع الصغیر باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء المطبعۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۲۷
فتح القدیر باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۵
الدرالمختار فصل فی الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
الدرالمنتقی علی حاشیہ مجمع الانہر باب الاولیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
البحرالرائق باب فی الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
الحاجۃ الی الاستطلاع لحصول الاطلاع فانہ قداذن فی التزویج لعمر ووفوات الکفو لوجود عمرو بل لقائل ان یقول ان لاغیبۃ اصلا لوجودالتوکیل ووجود الوکیل کوجود الموکل فظن انہ تزویج نافذ صدر عن ولایۃ ظن باطل واﷲ تعالی اعلم۔
میں ولایت کا مقصد فوت ہوجاتاہے اس لئےا تنی مسافت یا شہر میں تلاش کی بجائے اس کی ولایت کو منقطع قرار دیا جائے گا جبکہ موجودہ مسئلہ میں ولایت کو منقطع قرار دینے کی متاخرین اور مشائخ والی دونوں صورتیں نہیں پائی جاتیں کہ اس سے اجازت حاصل کی جائے کیونکہ بکر نے خود عمرو سے نکاح کردینے کی اجازت دی نہ ہی کفو کے فوت ہونے کا خدشہ رہا کیونکہ عمرو وہاں موجود ہے بلکہ یوں کہا جاسکتاہے کہ ولی کے غیب ہونے والی صورت یہاں نہیں پائی جاتی کیونکہ ولی کا وکیل یعنی خالد موجود ہے جبکہ وکیل کا موجود ہونا خود موکل کی موجودگی کی طرح ہے پس مسئولہ صورت میں یہ خیال کرنا کہ زید سے کیا ہوا نکاح ولی سے صادر شدہ ہے یہ خیال باطل ہے(کیونکہ بکر نے عمرو سے نکاح کی اجازت دی تھی)والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۰۹ : ۱۹ ربیع الآخرہ ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نابالغ کا نکاح ہندہ نابالغہ کے ساتھ ان کے وارثوں نے کیا یہ نکاح جائزہے یا نہیں اور زید یا ہندہ بعد بلوغ اسے فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ زید کا نکاح اس کے باپ نے کیا اور باپ کا کیا ہوا نکاح لازم ہوتاہے یعنی اولاد کو اس کے فسخ کا اختیار نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا ولم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ (ملخصا)
درمختار میں ہے جب باپ یا دادا نے اپنی ولایت میں نکاح کیا ہو تو اگرچہ فحش کمی مہر کی ہو یا غیر کفومیں کیا ہو تو و ہ نکاح لازم ونافذ ہوگا بشرطیکہ باپ اور داداکی اس سے پہلے غلط روی مشہور نہ ہو(ملخصا)۔ (ت)
اور ہندہ کا نکاح اس کے چچا نے کیا کہ پدر ہندہ مرچکا تھا اس حالت میں اگر زید ہندہ کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یاپیشہ وغیرہا امور معتبرہ میں ایسا گھٹا ہوا ہے جس کے ساتھ نکاح ہونا باعث عار وبدنامی ہو یا یہ کہ ہندہ کا جس قدر مہر مثل تھا اس سے بہت کم مہر باندھا گیا تو ان صورتوں میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوا یہاں تک
میں ولایت کا مقصد فوت ہوجاتاہے اس لئےا تنی مسافت یا شہر میں تلاش کی بجائے اس کی ولایت کو منقطع قرار دیا جائے گا جبکہ موجودہ مسئلہ میں ولایت کو منقطع قرار دینے کی متاخرین اور مشائخ والی دونوں صورتیں نہیں پائی جاتیں کہ اس سے اجازت حاصل کی جائے کیونکہ بکر نے خود عمرو سے نکاح کردینے کی اجازت دی نہ ہی کفو کے فوت ہونے کا خدشہ رہا کیونکہ عمرو وہاں موجود ہے بلکہ یوں کہا جاسکتاہے کہ ولی کے غیب ہونے والی صورت یہاں نہیں پائی جاتی کیونکہ ولی کا وکیل یعنی خالد موجود ہے جبکہ وکیل کا موجود ہونا خود موکل کی موجودگی کی طرح ہے پس مسئولہ صورت میں یہ خیال کرنا کہ زید سے کیا ہوا نکاح ولی سے صادر شدہ ہے یہ خیال باطل ہے(کیونکہ بکر نے عمرو سے نکاح کی اجازت دی تھی)والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۰۹ : ۱۹ ربیع الآخرہ ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نابالغ کا نکاح ہندہ نابالغہ کے ساتھ ان کے وارثوں نے کیا یہ نکاح جائزہے یا نہیں اور زید یا ہندہ بعد بلوغ اسے فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ زید کا نکاح اس کے باپ نے کیا اور باپ کا کیا ہوا نکاح لازم ہوتاہے یعنی اولاد کو اس کے فسخ کا اختیار نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا ولم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ (ملخصا)
درمختار میں ہے جب باپ یا دادا نے اپنی ولایت میں نکاح کیا ہو تو اگرچہ فحش کمی مہر کی ہو یا غیر کفومیں کیا ہو تو و ہ نکاح لازم ونافذ ہوگا بشرطیکہ باپ اور داداکی اس سے پہلے غلط روی مشہور نہ ہو(ملخصا)۔ (ت)
اور ہندہ کا نکاح اس کے چچا نے کیا کہ پدر ہندہ مرچکا تھا اس حالت میں اگر زید ہندہ کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یاپیشہ وغیرہا امور معتبرہ میں ایسا گھٹا ہوا ہے جس کے ساتھ نکاح ہونا باعث عار وبدنامی ہو یا یہ کہ ہندہ کا جس قدر مہر مثل تھا اس سے بہت کم مہر باندھا گیا تو ان صورتوں میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوا یہاں تک
حوالہ / References
الدرالمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
کہ اگر ہندہ بالغہ ہوکر اسے ناجائز رکھے تب بھی جائز نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومافی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم (ملخصا)
درمختار میں ہے اگر باپ یادادا کے غیر نے نکاح کیا ہو توغیر کفو اور فحش کمی مہر کے ساتھ بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور جو صدرالشریعہ میں کہا گیا کہ وہ نکاح صحیح ہے اور باپ اورداداکو بعدمیں فسخ کا اختیار ہے یہ محض وہم ہے(ملخصا) ۔ (ت)
اوراگر یہ بات نہیں بلکہ زید کفو ہے اور مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کوا ختیار ہے کہ بعد بلوغ فورااس سے نکاح کو ردکردے اور حاکم شرع کے حضور دعوی کرکے فسخ کرائے۔
فی الدرالمختار وان کان من الکفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ لقصور الشفقۃ بشرط القضاء للفسخ (ملخصا)
درمختار میں ہے اگر مہر مثل اور کفو میں نکاح کیا ہو تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس کے فسخ کا اختیار ہے اگرچہ دخول کے بعد بلوغ ہوا ہو یا بلوغ کے بعد نکاح کا علم ہوا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اوردادا کے غیر میں شفقت کمزور ہوتی ہے تاہم فسخ کے لئے قاضی کا حکم شرط ہے۔ (ملخصا)۔ (ت)
مگر از انجا کہ ہندہ بکر ہے تو بحالت بلوغ جس وقت نکاح پر مطلع ہو فورا اور پہلے سے مطلع تھی تو بالغ ہوتے ہی معا نکاح کور د کردے اگر ذرا بھی دیر کی تو نکاح لازم ہوجائے گا اور اسے فسخ کرانے کا اختیار نہ رہے گا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باھل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔ (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اطلاع ملنے پر باکرہ کا سکوت اس کے فسخ کے اختیار کو باطل کردیتاہے بشرطیکہ اپنے نکاح کے بارے میں اس کو علم ہوا ہو اور وہ بالغہ ہو تاہم فسخ کاا ختیار اس مجلس تك محدود رہےگا جس میں اس کو علم ہوا ہو (ملخصا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۰ : ۱۹ ذی قعدہ ۱۳۰ھ از چھاؤنی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ بعد بیوہ ہوجانے کے اپنا نکاح ایسے شخص سے
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومافی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم (ملخصا)
درمختار میں ہے اگر باپ یادادا کے غیر نے نکاح کیا ہو توغیر کفو اور فحش کمی مہر کے ساتھ بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور جو صدرالشریعہ میں کہا گیا کہ وہ نکاح صحیح ہے اور باپ اورداداکو بعدمیں فسخ کا اختیار ہے یہ محض وہم ہے(ملخصا) ۔ (ت)
اوراگر یہ بات نہیں بلکہ زید کفو ہے اور مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کوا ختیار ہے کہ بعد بلوغ فورااس سے نکاح کو ردکردے اور حاکم شرع کے حضور دعوی کرکے فسخ کرائے۔
فی الدرالمختار وان کان من الکفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ لقصور الشفقۃ بشرط القضاء للفسخ (ملخصا)
درمختار میں ہے اگر مہر مثل اور کفو میں نکاح کیا ہو تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس کے فسخ کا اختیار ہے اگرچہ دخول کے بعد بلوغ ہوا ہو یا بلوغ کے بعد نکاح کا علم ہوا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اوردادا کے غیر میں شفقت کمزور ہوتی ہے تاہم فسخ کے لئے قاضی کا حکم شرط ہے۔ (ملخصا)۔ (ت)
مگر از انجا کہ ہندہ بکر ہے تو بحالت بلوغ جس وقت نکاح پر مطلع ہو فورا اور پہلے سے مطلع تھی تو بالغ ہوتے ہی معا نکاح کور د کردے اگر ذرا بھی دیر کی تو نکاح لازم ہوجائے گا اور اسے فسخ کرانے کا اختیار نہ رہے گا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باھل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔ (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اطلاع ملنے پر باکرہ کا سکوت اس کے فسخ کے اختیار کو باطل کردیتاہے بشرطیکہ اپنے نکاح کے بارے میں اس کو علم ہوا ہو اور وہ بالغہ ہو تاہم فسخ کاا ختیار اس مجلس تك محدود رہےگا جس میں اس کو علم ہوا ہو (ملخصا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۰ : ۱۹ ذی قعدہ ۱۳۰ھ از چھاؤنی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ بعد بیوہ ہوجانے کے اپنا نکاح ایسے شخص سے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
چاہتی ہے جس سے اس کے ماں باپ ہندہ سے اس امر پر راضی نہیں اب اگر ہندہ ناراضی والدین گوارا کرکے اپنا نکاح کرلے تو آیا یہ نکاح شرعا درست ہوگا یا نادرست بینوا تو جروا
الجواب :
اگر وہ شخص جس سے ہندہ بہ ناراضی پدر اپنا نکاح بطور خود کیاچاہتی ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہا میں بہ نسبت ہندہ کے کوئی ایسا قصور وعیب نہیں جس کی وجہ سے ہندہ کا اس کی مناکحت میں آنا پدرہندہ کے لئے موجب عار ہو تو بلاشبہ نکاح صحیح ودرست ہوجائے گا اور والدین کی ناراضی اگرچہ ہندہ کو نقصان کرے مگر جواز نکاح میں خلل نہ آئے گا۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیھا رواہ الائمۃ مالك واحمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے بارے میں فیصلہ کی زیادہ حقدار ہے اس کو امام احمد مالک مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا اپنا نکاح ولی کی رضامندی کے بغیر بھی جائز ہے اور غیر کفو میں کیا تو بالکل ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۱ : ۵ ذی الحجہ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور زید کی اہلیہ نے انتقال کیا دوبیٹیاں چھوڑیں اورلڑکیوں کا کوئی وارث سوا ایك ماموں حقیقی کے کوئی نہ تھا ماموں نے ایك لڑکی جس کی عمر تخمینا سات برس کی تھی اس کانکاح اپنے بیٹے کے ساتھ کردیا جس کو اب عرصہ آٹھ برس کا ہوا اور دوسری بڑی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا اب بڑی دختر باغوا اپنے شوہر کے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو بہکاتی ہے کہ تو کہہ دے کہ میری نابالغی
الجواب :
اگر وہ شخص جس سے ہندہ بہ ناراضی پدر اپنا نکاح بطور خود کیاچاہتی ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہا میں بہ نسبت ہندہ کے کوئی ایسا قصور وعیب نہیں جس کی وجہ سے ہندہ کا اس کی مناکحت میں آنا پدرہندہ کے لئے موجب عار ہو تو بلاشبہ نکاح صحیح ودرست ہوجائے گا اور والدین کی ناراضی اگرچہ ہندہ کو نقصان کرے مگر جواز نکاح میں خلل نہ آئے گا۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیھا رواہ الائمۃ مالك واحمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے بارے میں فیصلہ کی زیادہ حقدار ہے اس کو امام احمد مالک مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا اپنا نکاح ولی کی رضامندی کے بغیر بھی جائز ہے اور غیر کفو میں کیا تو بالکل ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۱ : ۵ ذی الحجہ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور زید کی اہلیہ نے انتقال کیا دوبیٹیاں چھوڑیں اورلڑکیوں کا کوئی وارث سوا ایك ماموں حقیقی کے کوئی نہ تھا ماموں نے ایك لڑکی جس کی عمر تخمینا سات برس کی تھی اس کانکاح اپنے بیٹے کے ساتھ کردیا جس کو اب عرصہ آٹھ برس کا ہوا اور دوسری بڑی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا اب بڑی دختر باغوا اپنے شوہر کے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو بہکاتی ہے کہ تو کہہ دے کہ میری نابالغی
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۵ ، سنن ابی داؤد فصل فی الثیب آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۸۶
الدرالمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
الدرالمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
میں نکاح ہواہے میں راضی نہیں ہوں تو میں تیرا نکاح اپنے دیور سے کرادوں گی چنانچہ چھوٹی لڑکی اب اپنے ماموں سے کلمات ناراضی بیان کرتی ہے اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
سائل اظہار کرتاہے کہ اس چھوٹی لڑکی کو بالغہ ہوئے سال بھر گزرا اور اسے نکاح کی خبر کئی برس سے ہے اور یہ کلمات ناراضی اس نے کوئی دومہینے سے کہنے شروع کئے ہیں اگر یہ بیان واقعی ہے تو وہ نکاح لازم ہوگیا اور عورت کو حق اعتراض اصلا نہ رہا جبکہ اسے پہلے سے نکاح پر اطلاع تھی تو جس آن میں بالغہ ہوئی فورا اسی آن میں اگر ناراضی ظاہر کردیتی تو اسے حق اعتراض رہتا یہاں تك کہ اگر بالغہ ہوکر ایك لمحہ کو بھی دوسرے کام یا دوسری بات میں مصروف رہی تو اب اعتراض کا اختیار نہیں رکھتی یہاں توجوان ہونے پر کئی مہینے بعد اس نے اعتراض شروع کیا ہے یہ اصلا قابل قبول نہیں۔ عورت پر فرض ہے کہ اس جہالت سے باز آئے اور اس کی بہن پر فرض کہ پرائی زوجہ کو اغوانہ کرے ورنہ سوا گناہ کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لوعالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ باکرہ لڑکی کی اپنے نکاح کے علم پر خاموشی اس اختیار فسخ کو ختم کردیتی ہے اور اختیار بھی صرف اس مجلس تك محدود ہوگا جس میں اسے علم ہوا ہے اس کے بعد اسے اختیار نہ ہوگا اھ ملخصا۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منامن خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم باسناد صحیح عن ابی ھریرۃ ونحوہ احمد وابن حبان وللبزار والحاکم بسندصحیح عن بریدۃ وابویعلی والطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑ دے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ (اس کو ابوداؤد نسائی ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ایسے ہی احمد ابن حبان بزار اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ابو یعلی اور طبرانی نے اپنی اوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ
الجواب :
سائل اظہار کرتاہے کہ اس چھوٹی لڑکی کو بالغہ ہوئے سال بھر گزرا اور اسے نکاح کی خبر کئی برس سے ہے اور یہ کلمات ناراضی اس نے کوئی دومہینے سے کہنے شروع کئے ہیں اگر یہ بیان واقعی ہے تو وہ نکاح لازم ہوگیا اور عورت کو حق اعتراض اصلا نہ رہا جبکہ اسے پہلے سے نکاح پر اطلاع تھی تو جس آن میں بالغہ ہوئی فورا اسی آن میں اگر ناراضی ظاہر کردیتی تو اسے حق اعتراض رہتا یہاں تك کہ اگر بالغہ ہوکر ایك لمحہ کو بھی دوسرے کام یا دوسری بات میں مصروف رہی تو اب اعتراض کا اختیار نہیں رکھتی یہاں توجوان ہونے پر کئی مہینے بعد اس نے اعتراض شروع کیا ہے یہ اصلا قابل قبول نہیں۔ عورت پر فرض ہے کہ اس جہالت سے باز آئے اور اس کی بہن پر فرض کہ پرائی زوجہ کو اغوانہ کرے ورنہ سوا گناہ کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لوعالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ باکرہ لڑکی کی اپنے نکاح کے علم پر خاموشی اس اختیار فسخ کو ختم کردیتی ہے اور اختیار بھی صرف اس مجلس تك محدود ہوگا جس میں اسے علم ہوا ہے اس کے بعد اسے اختیار نہ ہوگا اھ ملخصا۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس منامن خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم باسناد صحیح عن ابی ھریرۃ ونحوہ احمد وابن حبان وللبزار والحاکم بسندصحیح عن بریدۃ وابویعلی والطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑ دے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ (اس کو ابوداؤد نسائی ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ایسے ہی احمد ابن حبان بزار اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ابو یعلی اور طبرانی نے اپنی اوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ
حوالہ / References
الدرالمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
سنن ابو داؤد اول کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
سنن ابو داؤد اول کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۶
والصغیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم اجمیعن ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ما نیز طبرانی نے اوسط اور صغیر میں اس کو حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
مسئلہ ۳۱۲ : ۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایك لڑکی نابالغہ کہ جس کی عمر گیارہ برس کی ہے اورا س کی ماں مرچکی ہے اور باپ اس کا گوالیار میں نوکرہے نانا اس لڑکی کاباپ کی غیبت میں لڑکی کو اپنے یہاں لے گیا اور بلا مشورہ باپ کے اس کا نکاح ایك رافضی سے کردینا چاہتاہے جب باپ کو اطلاع ہوئی آیا اور نانا کو ممانعت کی کہ میں ایسی تقریب ہرگز روا نہیں رکھتا بلکہ اس مضمون کا اس نے نوٹس بھی دے دیا ہے مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہیں رہتا ہے لڑکی کو روك رکھا ہے اور لڑکی اوراس کا باپ سب سنی ہیں اس صور ت میں اگر نانا اس نابالغہ کا نکاح باوجود ممانعت پدر کے اس رافضی سے کردے گا تو صحیح ہو گا یا نہیں اور نانا کو لڑکی کے اپنے پاس بٹھارکھنے اورباپ سے روکنے کا اختیار ہے یا نہیں
الجواب :
باپ کے ہوتے نانا کوئی چیز نہیں نہ بے اس کی اجازت کے وہ نکاح کردینے کا مختار یہاں تك کہ اگر نانا بے اجازت پدر اس نابالغہ کا کسی سنی سے نکاح کردے گا اور باپ روانہ رکھے گا تووہ نکاح باطل ہے نہ کہ رافضی کہ آج کل عموما مرتدین ہیں اور ان سے سنیہ عورت کا نکاح اصلا صحیح نہیں علاوہ بریں اس قدر میں تو شك نہیں کہ رافضی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے جو نکاح باپ دادا کے سوا دوسرا کردے گا ہر گز صحیح نہ ہوگا نہ کہ باپ کی صریح ممانعت کی حالت میں یہ نکاح کیا جائے یہ کیونکر وجہ صحت رکھے گا پس یقینا یہ نا نا کا محض ظلم ہے۔ اگر وہ ایساکرے گا تو ہر گز نکاح نافذ نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اورلڑکی نو برس کی عمر سے باپ ہی کے پاس رہے گی اگر ماں ہوتی تو وہ بھی نوبرس کے بعد اپنے پاس نہ رکھ سکتی نہ کہ نانا یہ سب ظلم وتعدی ہے ____ تنویر الابصار میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب ۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ یعنی وہ مرد شخص جس کی نسبت میں عورت کا واسطہ نہ ہو یہ ولی وراثت کی ترتیب اور ایك دوسرے کے لیے مانع ہونے کی ترتیب سے ہوں گے۔ (ت)
ما نیز طبرانی نے اوسط اور صغیر میں اس کو حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
مسئلہ ۳۱۲ : ۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایك لڑکی نابالغہ کہ جس کی عمر گیارہ برس کی ہے اورا س کی ماں مرچکی ہے اور باپ اس کا گوالیار میں نوکرہے نانا اس لڑکی کاباپ کی غیبت میں لڑکی کو اپنے یہاں لے گیا اور بلا مشورہ باپ کے اس کا نکاح ایك رافضی سے کردینا چاہتاہے جب باپ کو اطلاع ہوئی آیا اور نانا کو ممانعت کی کہ میں ایسی تقریب ہرگز روا نہیں رکھتا بلکہ اس مضمون کا اس نے نوٹس بھی دے دیا ہے مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہیں رہتا ہے لڑکی کو روك رکھا ہے اور لڑکی اوراس کا باپ سب سنی ہیں اس صور ت میں اگر نانا اس نابالغہ کا نکاح باوجود ممانعت پدر کے اس رافضی سے کردے گا تو صحیح ہو گا یا نہیں اور نانا کو لڑکی کے اپنے پاس بٹھارکھنے اورباپ سے روکنے کا اختیار ہے یا نہیں
الجواب :
باپ کے ہوتے نانا کوئی چیز نہیں نہ بے اس کی اجازت کے وہ نکاح کردینے کا مختار یہاں تك کہ اگر نانا بے اجازت پدر اس نابالغہ کا کسی سنی سے نکاح کردے گا اور باپ روانہ رکھے گا تووہ نکاح باطل ہے نہ کہ رافضی کہ آج کل عموما مرتدین ہیں اور ان سے سنیہ عورت کا نکاح اصلا صحیح نہیں علاوہ بریں اس قدر میں تو شك نہیں کہ رافضی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے جو نکاح باپ دادا کے سوا دوسرا کردے گا ہر گز صحیح نہ ہوگا نہ کہ باپ کی صریح ممانعت کی حالت میں یہ نکاح کیا جائے یہ کیونکر وجہ صحت رکھے گا پس یقینا یہ نا نا کا محض ظلم ہے۔ اگر وہ ایساکرے گا تو ہر گز نکاح نافذ نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اورلڑکی نو برس کی عمر سے باپ ہی کے پاس رہے گی اگر ماں ہوتی تو وہ بھی نوبرس کے بعد اپنے پاس نہ رکھ سکتی نہ کہ نانا یہ سب ظلم وتعدی ہے ____ تنویر الابصار میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب ۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ یعنی وہ مرد شخص جس کی نسبت میں عورت کا واسطہ نہ ہو یہ ولی وراثت کی ترتیب اور ایك دوسرے کے لیے مانع ہونے کی ترتیب سے ہوں گے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
اگر قریب ولی کی موجودگی میں بعید ولی نے نکاح کردیا تو وہ نکاح قریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
ان کان المزوج غیرھما ای الاب وابیہ ولو الام لایصح من غیر کفو اصلا ۔ (ملخصا)
اگر باپ اور دادا کے غیر نے خواہ والدہ ہی ہونکاح کیا تو غیر کفو میں بالکل جائز نہ ہوگا(ملخصا)۔ (ت)
اسی میں ہے :
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح نھر انتہی ملخصا۔
صالحہ لڑکی یا صالح مرد کی فاسقہ لڑکی کے لیے فاسق شخص کفو نہیں ہے۔ نہر اھ ملخصا(ت)
ردالمحتامیں ہے :
قولہ اصلا ای لالازما ولا موقوفا علی الرضاع بعد البلوغ ۔
اس کا قول اصلا یعنی وہ نکاح نہ لازم اور نہ موقوف ہوتا ہے کہ بلوغ کے بعد رضاپر صحیح ہوجائے۔ (ت)
درمختا رمیں ہے :
الام والجدۃ احق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی (ملخصا)
والدہ اور دادی / نانی لڑکی کو پرورش میں لینے کی زیادہ حقدار ہیں یہ حق لڑکی کے بلوغ تك ہے اور بعض نے نو سال تك کہا یہی مفتی بہ ہے(ملخصا)۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۳ : یکم شعبان ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین او رمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ باکرہ تھی اس کے ولی نے اپنی اجازت سے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا ہندہ کو معلوم تھاکہ میرا نکاح زید کے ساتھ ہوگا لیکن اس نے خاص اجازت اپنی زبان سے نہیں دی اور نہ انکار کیا اس صورت میں ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ جائز ہوگیا
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
اگر قریب ولی کی موجودگی میں بعید ولی نے نکاح کردیا تو وہ نکاح قریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
ان کان المزوج غیرھما ای الاب وابیہ ولو الام لایصح من غیر کفو اصلا ۔ (ملخصا)
اگر باپ اور دادا کے غیر نے خواہ والدہ ہی ہونکاح کیا تو غیر کفو میں بالکل جائز نہ ہوگا(ملخصا)۔ (ت)
اسی میں ہے :
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح نھر انتہی ملخصا۔
صالحہ لڑکی یا صالح مرد کی فاسقہ لڑکی کے لیے فاسق شخص کفو نہیں ہے۔ نہر اھ ملخصا(ت)
ردالمحتامیں ہے :
قولہ اصلا ای لالازما ولا موقوفا علی الرضاع بعد البلوغ ۔
اس کا قول اصلا یعنی وہ نکاح نہ لازم اور نہ موقوف ہوتا ہے کہ بلوغ کے بعد رضاپر صحیح ہوجائے۔ (ت)
درمختا رمیں ہے :
الام والجدۃ احق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی (ملخصا)
والدہ اور دادی / نانی لڑکی کو پرورش میں لینے کی زیادہ حقدار ہیں یہ حق لڑکی کے بلوغ تك ہے اور بعض نے نو سال تك کہا یہی مفتی بہ ہے(ملخصا)۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۳ : یکم شعبان ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین او رمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ باکرہ تھی اس کے ولی نے اپنی اجازت سے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا ہندہ کو معلوم تھاکہ میرا نکاح زید کے ساتھ ہوگا لیکن اس نے خاص اجازت اپنی زبان سے نہیں دی اور نہ انکار کیا اس صورت میں ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ جائز ہوگیا
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
ردالمحتار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۵
درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
ردالمحتار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۵
یانہیں اگر نہیں ہوا تو ولی اور نکاح پڑھانے والے پر کیا کفارہ ہوگا۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
اصل یہ ہے کہ زن بالغہ پر کسی کی ولایت جبریہ نہیں اور اس سے پیش از نکاح اذن لینا مسنون ہے اگر بے اذن لئے نکاح کیا جائے تو وہ نکاح نکاح فضولی ہے کہ اجازت زن پر موقوف رہے گا۔ اگر جائز رکھے جائز ہوجائے اور رد کردے تو باطل ۔ مگر زن دوشیزہ کا سکوت بھی اذن ہوتاہے جبکہ خود ولی اقرب یا اس کا وکیل یا فرستادہ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے بشرطیکہ جس کے ساتھ نکاح کا اذن لیا گیا عورت اسے پہچانتی بھی ہو اور بغیر استیذان ولی کے مجرد اس جاننے پر کہ میرا نکاح فلاں کے ساتھ کیاجائے گا خاموش رہنا اذن نہیں کہ اذن وعلم میں زمین وآسمان کافرق ہے یہاں تك کہ اگر ولی اقرب کے ہوتے ولی ابعد اذن لے اوردوشیزہ سکوت کرے تاہم یہ سکوت اذن نہ ٹھہرے گا توجہاں اصلا استیذان نہ ہومجرد واقفیت پر خاموشی کیونکر اذن ہوسکتی ہے درمختارمیں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ فان استاذنھا ھو ای الولی وھو السنۃ اووکیلہ اورسولہ فسکتت عن ردہ مختارۃ فھو اذن ای توکیل ان علمت بالزوج لتظھر الرغبۃ فیہ اوعنہ ولوفی ضمن العام کجیرانی اوبنی عمی لویحصون والا لا فان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی او ولی بعید فلا عبرۃ بسکوتھا اھ ملخصا وفی ردالمحتار عن البحر عن المحیط ان زوجھا بغیر استئمار فقد اخطأ السنۃ وتوقف علی
باکرہ بالغہ کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر کسی کی ولایت نہیں رہی تو اگر اس سے اس کا ولی اجازت طلب کرے اوریہ سنت ہے یا ولی کا وکیل یا اس کاقاصد اجازت طلب کرے اور لڑکی اپنے اختیار کے باوجود خاموش رہے تو یہ وکالت کی منظوری تصور ہوگی بشرطیکہ اس کے ہونے والے خاوند کا اس کو علم ہو تا کہ پسند یاناپسند کرسکے خاوند کا علم شخصی طورپر ضروری نہیں عمومی طور پر بھی مثلا یہ کہ پڑوسی ہے یا چچا زادوں میں سے ہے کافی ہے جن کو وہ جانتی ہو اگر خاوند کا علم بالکل نہ ہوسکے تو پھر یہ سکوت رضامندی نہ قرار پائیگا اگر ولی اقرب کی بجائے ولی بعید یا اجنبی نے بالغہ سے اجازت طلب کی تواس وقت سکوت کو اجازت نہ قرار دیا جائے گا اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں بحر اور اس
الجواب :
اصل یہ ہے کہ زن بالغہ پر کسی کی ولایت جبریہ نہیں اور اس سے پیش از نکاح اذن لینا مسنون ہے اگر بے اذن لئے نکاح کیا جائے تو وہ نکاح نکاح فضولی ہے کہ اجازت زن پر موقوف رہے گا۔ اگر جائز رکھے جائز ہوجائے اور رد کردے تو باطل ۔ مگر زن دوشیزہ کا سکوت بھی اذن ہوتاہے جبکہ خود ولی اقرب یا اس کا وکیل یا فرستادہ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے بشرطیکہ جس کے ساتھ نکاح کا اذن لیا گیا عورت اسے پہچانتی بھی ہو اور بغیر استیذان ولی کے مجرد اس جاننے پر کہ میرا نکاح فلاں کے ساتھ کیاجائے گا خاموش رہنا اذن نہیں کہ اذن وعلم میں زمین وآسمان کافرق ہے یہاں تك کہ اگر ولی اقرب کے ہوتے ولی ابعد اذن لے اوردوشیزہ سکوت کرے تاہم یہ سکوت اذن نہ ٹھہرے گا توجہاں اصلا استیذان نہ ہومجرد واقفیت پر خاموشی کیونکر اذن ہوسکتی ہے درمختارمیں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ فان استاذنھا ھو ای الولی وھو السنۃ اووکیلہ اورسولہ فسکتت عن ردہ مختارۃ فھو اذن ای توکیل ان علمت بالزوج لتظھر الرغبۃ فیہ اوعنہ ولوفی ضمن العام کجیرانی اوبنی عمی لویحصون والا لا فان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی او ولی بعید فلا عبرۃ بسکوتھا اھ ملخصا وفی ردالمحتار عن البحر عن المحیط ان زوجھا بغیر استئمار فقد اخطأ السنۃ وتوقف علی
باکرہ بالغہ کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر کسی کی ولایت نہیں رہی تو اگر اس سے اس کا ولی اجازت طلب کرے اوریہ سنت ہے یا ولی کا وکیل یا اس کاقاصد اجازت طلب کرے اور لڑکی اپنے اختیار کے باوجود خاموش رہے تو یہ وکالت کی منظوری تصور ہوگی بشرطیکہ اس کے ہونے والے خاوند کا اس کو علم ہو تا کہ پسند یاناپسند کرسکے خاوند کا علم شخصی طورپر ضروری نہیں عمومی طور پر بھی مثلا یہ کہ پڑوسی ہے یا چچا زادوں میں سے ہے کافی ہے جن کو وہ جانتی ہو اگر خاوند کا علم بالکل نہ ہوسکے تو پھر یہ سکوت رضامندی نہ قرار پائیگا اگر ولی اقرب کی بجائے ولی بعید یا اجنبی نے بالغہ سے اجازت طلب کی تواس وقت سکوت کو اجازت نہ قرار دیا جائے گا اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں بحر اور اس
حوالہ / References
درمختار باب فی الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲۔ ۱۹۱
رضاھا اھ وفیہ(قولہ لایحصون)عبارۃ الفتح وھم محصورون معروفون لہا اھ۔
میں محیط کے حوالے سے کہ اگر ولی نے بالغہ کے مشورہ اوراجازت کے بغیر نکاح کردیا تو لڑکی کی رضا مندی پر موقوف ہوگا اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ درمختار کا قول “ لا یحصون “ کا مطلب فتح کی عبارت میں یہ ہے کہ لڑکی کے ہاں معروف ومحدود ہوں اھ۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر ولی اقرب نے بروجہ مذکور ہندہ سے اذن لیااور اس نے سکوت کیا تھا جب تو یہ نکاح خودہی جائز و نافذ ہوا کہ کنواریوں کا زبان سے صراحۃ اذن دینا ضرور نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واذنھا صماتھا ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (ت)
ورنہ نکاح فضولی ہوا کہ قولا یا فعلا ردکردے تو رد ہوجائے اور قولا یا فعلا یا سکوتا اجازت دے تو جائز ہوجائے رد قولی یہ کہ خبر نکاح سن کر صاف کہے میں نے ردکیا یا مجھے منظورنہیں یا میں نکاح کرنا ہی نہیں چاہتی یا اور کوئی کلمہ ان کے مثل اور رد فعلی یہ کہ مثلا ہاتھ ہلا دے کہ میں راضی نہیں یا اور کوئی حرکت ایسی کرے جس سے اس نکاح سے حقیقۃ نفرت وناراضی ظاہر ہو اور اجازت قولی یہ کہ میں راضی ہوئی یا مجھے پسند ہے یاخدا مبارك کرے یا بہتر ہوا یا اس کی مثل اور الفاظ اور اجازت فعلی مثلا بلاجبر واکراہ شوہر کے یہاں رخصت ہوکر جانا یا خلوت میں اپنے پاس اسے آنے دینا یا اس سے مہر یا نفقہ طلب کرنا یا اور کوئی فعل کہ دلیل رضامندی ہو اور اجازت سکوتی یہ کہ خود ولی یا اس کا رسول یا ایك ثقہ پر ہیز گار یعنی جس کی عدالت وو ثاقت معلوم ہو یا دومستور الحال یعنی جن کا کوئی فسق نہ معلوم ہو نکاح ہوجانے کی عورت کو خبر دیں اوروہ شوہر کو پہچانتی ہو اور غیر اب وجد نے نکاح کیا ہو مہر میں کمی فاحش نہ کی ہو اور شوہر اس کا کفو بھی ہویعنی اس کے دین یا نسب یا پیشہ وغیرہا میں کوئی بات ایسی نہ ہوجس کے باعث اس سے نکاح اس کے اولیاء کے حق میں عارہو اس صورت میں عورت خبر سن کر خاموش رہے تویہ خاموشی بھی اجازت تصور کی جائے گی غرض یہ پانچ صورتیں ہیں دو رد کی کہ ان کے وقوع سے نکاح باطل ہوجائے گا اور تین اجازت کی کہ ان کے وقوع سے نفاذ پائے گا اور جب تك ان پانچ میں سے کوئی صورت واقع نہ ہو بدستور
میں محیط کے حوالے سے کہ اگر ولی نے بالغہ کے مشورہ اوراجازت کے بغیر نکاح کردیا تو لڑکی کی رضا مندی پر موقوف ہوگا اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ درمختار کا قول “ لا یحصون “ کا مطلب فتح کی عبارت میں یہ ہے کہ لڑکی کے ہاں معروف ومحدود ہوں اھ۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر ولی اقرب نے بروجہ مذکور ہندہ سے اذن لیااور اس نے سکوت کیا تھا جب تو یہ نکاح خودہی جائز و نافذ ہوا کہ کنواریوں کا زبان سے صراحۃ اذن دینا ضرور نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واذنھا صماتھا ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (ت)
ورنہ نکاح فضولی ہوا کہ قولا یا فعلا ردکردے تو رد ہوجائے اور قولا یا فعلا یا سکوتا اجازت دے تو جائز ہوجائے رد قولی یہ کہ خبر نکاح سن کر صاف کہے میں نے ردکیا یا مجھے منظورنہیں یا میں نکاح کرنا ہی نہیں چاہتی یا اور کوئی کلمہ ان کے مثل اور رد فعلی یہ کہ مثلا ہاتھ ہلا دے کہ میں راضی نہیں یا اور کوئی حرکت ایسی کرے جس سے اس نکاح سے حقیقۃ نفرت وناراضی ظاہر ہو اور اجازت قولی یہ کہ میں راضی ہوئی یا مجھے پسند ہے یاخدا مبارك کرے یا بہتر ہوا یا اس کی مثل اور الفاظ اور اجازت فعلی مثلا بلاجبر واکراہ شوہر کے یہاں رخصت ہوکر جانا یا خلوت میں اپنے پاس اسے آنے دینا یا اس سے مہر یا نفقہ طلب کرنا یا اور کوئی فعل کہ دلیل رضامندی ہو اور اجازت سکوتی یہ کہ خود ولی یا اس کا رسول یا ایك ثقہ پر ہیز گار یعنی جس کی عدالت وو ثاقت معلوم ہو یا دومستور الحال یعنی جن کا کوئی فسق نہ معلوم ہو نکاح ہوجانے کی عورت کو خبر دیں اوروہ شوہر کو پہچانتی ہو اور غیر اب وجد نے نکاح کیا ہو مہر میں کمی فاحش نہ کی ہو اور شوہر اس کا کفو بھی ہویعنی اس کے دین یا نسب یا پیشہ وغیرہا میں کوئی بات ایسی نہ ہوجس کے باعث اس سے نکاح اس کے اولیاء کے حق میں عارہو اس صورت میں عورت خبر سن کر خاموش رہے تویہ خاموشی بھی اجازت تصور کی جائے گی غرض یہ پانچ صورتیں ہیں دو رد کی کہ ان کے وقوع سے نکاح باطل ہوجائے گا اور تین اجازت کی کہ ان کے وقوع سے نفاذ پائے گا اور جب تك ان پانچ میں سے کوئی صورت واقع نہ ہو بدستور
حوالہ / References
درمختار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۹۹۔ ۲۹۸
درمختار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۷۴۶ ۱۰ / ۳۷۳
درمختار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۷۴۶ ۱۰ / ۳۷۳
موقوف رہے گا جب تك کہ ان میں سے ایك واقع ہو مثلا ہنوز عورت کو نکاح کی خبر ہی نہ ہوئی یا خبر دواجنبی فاسقوں یا ایك اجنبی مستورالحال نے دی اور عورت خاموش رہی یا خود ولی خواہ اس کے فرستادہ نے اطلاع دی مگر عورت شوہر کو نہ پہچانتی تھی مگر جس سے اب وجد کے سوا اور ولی نے نکاح کردیا وہ کفو تھا یامہر مثل سےکمی فاحش کی تھی توان سب صورتوں میں یہ خاموشی نہ اجازت ہوگی نہ رد بلکہ عورت کو اختیار ہے گا چاہے جائز کردے خواہ باطل۔
اتقن ھذا التحریر فانك لاتجدہ بھذا التحبیر فی غیر ھذا التقریر والحمد ﷲ الھادی القدیر۔
اس تقریر کومحفوظ کرلو کہ اس مہارت سے کسی دوسری تقریر میں نہ پاؤگے تمام محامد الله تعالی ہادی اکمل کے لئے ہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لو بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ولذا استحسنوا التجدید عندالزفاف لان الغالب اظھار النفرۃ عند فجأۃ السماع اھ قال ط ای فیحتمل انھا نفرت من النکاح عند اعلامھا بہ فیبطل العقد ولایلحقہ الرضا اھ قلت فاذا تبین ذلك کان ردا محققا کمالا یخفی وفی الدر ایضا زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او فضولی عدل فسکتت فھو
اگر لڑکی کو نکاح کی خبر پہنچی تو اسے رد کردیا پھر کہتی ہے میں راضی ہوں تو اس سے وہ نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ رد کردینے پر وہ باطل ہوچکا ہے اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ(جب لڑکی سے پہلے اجازت لئے بغیر نکاح کیا ہو جس کو وہ بعد میں جائز قرار دے)ایسی صورت میں بہتر ہے کہ زفاف کے وقت نکاح کی تجدید کرلی جائے کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں اچانك نکاح کے متعلق سن کر لڑکی نفرت کا اظہار کردیتی ہے اھ طحطاوی نے فرمایا کہ اس احتمال کی بناپر کہ نکاح باطل کی خبر پاکر لڑکی نے بطور نفرت ردکردیا ہو تو نکاح باطل ہوجائے گا جو بعد میں اظہار رضامندی سے جائز نہ ہوگا اھ قلت : اگریہ بات ثابت ہوجائے تو پھر یقینی طورپر وہ نکاح مردود ہوگا جیسا کہ واضح ہے۔
اتقن ھذا التحریر فانك لاتجدہ بھذا التحبیر فی غیر ھذا التقریر والحمد ﷲ الھادی القدیر۔
اس تقریر کومحفوظ کرلو کہ اس مہارت سے کسی دوسری تقریر میں نہ پاؤگے تمام محامد الله تعالی ہادی اکمل کے لئے ہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لو بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ولذا استحسنوا التجدید عندالزفاف لان الغالب اظھار النفرۃ عند فجأۃ السماع اھ قال ط ای فیحتمل انھا نفرت من النکاح عند اعلامھا بہ فیبطل العقد ولایلحقہ الرضا اھ قلت فاذا تبین ذلك کان ردا محققا کمالا یخفی وفی الدر ایضا زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او فضولی عدل فسکتت فھو
اگر لڑکی کو نکاح کی خبر پہنچی تو اسے رد کردیا پھر کہتی ہے میں راضی ہوں تو اس سے وہ نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ رد کردینے پر وہ باطل ہوچکا ہے اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ(جب لڑکی سے پہلے اجازت لئے بغیر نکاح کیا ہو جس کو وہ بعد میں جائز قرار دے)ایسی صورت میں بہتر ہے کہ زفاف کے وقت نکاح کی تجدید کرلی جائے کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں اچانك نکاح کے متعلق سن کر لڑکی نفرت کا اظہار کردیتی ہے اھ طحطاوی نے فرمایا کہ اس احتمال کی بناپر کہ نکاح باطل کی خبر پاکر لڑکی نے بطور نفرت ردکردیا ہو تو نکاح باطل ہوجائے گا جو بعد میں اظہار رضامندی سے جائز نہ ہوگا اھ قلت : اگریہ بات ثابت ہوجائے تو پھر یقینی طورپر وہ نکاح مردود ہوگا جیسا کہ واضح ہے۔
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۹
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۹
اذن ای اجازۃ ان علمت بالزوج اھ(ملخصا) قال الشامی الشرط فی الفضولی العدالۃ اوالعدد فیکفی اخبار واحد عدل او مستورین الخ قال فی الدر فان استأذنھا غیر الاقرب فلا بد من القول کالثیب او ماھو فی معناہ من فعل یدل علی الرضا کطلب مھرھا ونفقتھا ودخولہ بھا برضاھا وقبول التھنئۃ ونحو ذلك اھ ملخصا۔ وفی ردالمحتار عن البحر عن الظھیریۃ لوخلابھا برضاھا عندی ان ھذا اجازۃ اھ وفی البزازیہ الظاھرانہ اجازۃ اھ قلت وتمام الکلام علی الافعال التی تدل علی الرضا فی فتاونا ثم فی الشامیۃ فی البحر اختلف
اور در میں یہ بھی ہے کہ ولی نے لڑکی کا نکاح کیا جس کی اطلاع ولی کے قاصد یا کسی اجنبی عادل شخص نے لڑکی کودی تو لڑکی نے خاموشی اختیار کی تویہ اجازت ہوگی بشرطیکہ اس کو خاوند کا علم ہوچکا ہو اھ شامی نے کہا کہ فضولی کی خبر میں عدالت یا عدد(دو ۲)ہونا شرط ہے اس لئے ایك عادل یا دومستورالحال حضرات کافی ہیں۔ در میں فرمایا کہ بالغہ لڑکی سے ولی اقرب کے غیر نے اجازت طلب کی ہو تو ضروری ہے کہ لڑکی قولی یا فعلی طورپر جواب دے جس سے اس کی رضا معلوم ہوسکے مثلا مہر طلب کرے یا نفقہ طلب کرے یا مبارکباد قبول کرے یاخاوند کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دے وغیرہ جیساکہ ثیبہ یا اس جیسی عورت کے لئے ضروری ہوتاہے اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے ظہیریہ سے منقول ہے اگرلڑکی نے رضامندی سے خاوند کے ساتھ خلوت کرلی تو میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ اور بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے قلت : ان تمام افعال جو رضامندی پر دلالت کرتے ہیں کوہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے پھر شامی میں ہے کہ بحر میں ہے اگر ولی نے بالغہ
اور در میں یہ بھی ہے کہ ولی نے لڑکی کا نکاح کیا جس کی اطلاع ولی کے قاصد یا کسی اجنبی عادل شخص نے لڑکی کودی تو لڑکی نے خاموشی اختیار کی تویہ اجازت ہوگی بشرطیکہ اس کو خاوند کا علم ہوچکا ہو اھ شامی نے کہا کہ فضولی کی خبر میں عدالت یا عدد(دو ۲)ہونا شرط ہے اس لئے ایك عادل یا دومستورالحال حضرات کافی ہیں۔ در میں فرمایا کہ بالغہ لڑکی سے ولی اقرب کے غیر نے اجازت طلب کی ہو تو ضروری ہے کہ لڑکی قولی یا فعلی طورپر جواب دے جس سے اس کی رضا معلوم ہوسکے مثلا مہر طلب کرے یا نفقہ طلب کرے یا مبارکباد قبول کرے یاخاوند کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دے وغیرہ جیساکہ ثیبہ یا اس جیسی عورت کے لئے ضروری ہوتاہے اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے ظہیریہ سے منقول ہے اگرلڑکی نے رضامندی سے خاوند کے ساتھ خلوت کرلی تو میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ اور بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے قلت : ان تمام افعال جو رضامندی پر دلالت کرتے ہیں کوہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے پھر شامی میں ہے کہ بحر میں ہے اگر ولی نے بالغہ
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
فیما اذا زوجہا غیر کفو فبلغھا فسکتت فقال لایکون رضا وقیل فی قول ابی حنیفۃ یکون رضا ان کان المزوج ابااوجدا وان کان غیرھما فلاکما فی الخانیہ اخذا من مسئلۃ الصغیرۃ المزوجۃ من غیر کفو اھ قال فی النھر وجزم فی الدرایۃ بالاول بلفظ قالوا اھ مافی الشامی قلت وقدمہ فی الخانیۃ وھولا یقدم الا الاظھر الاشعر لکن قالوا یؤتی بہ للتبری وقد علل فی الخانیۃ للقول الثانی بتعلیل جلیل والتعلیل دلیل التعویل ونص فی المحیط والمبسوط وجامع قاضی خاں ثم الکافی شرح الھدایۃ ثم الشلبی علی التبیین انہ قول الامام وقد صحح فی الکفایۃ والکافی و الدرایۃ والدر التفرقۃ بین الاب والجد وغیرھما بناء علی مذہب الامام رضی اﷲ تعالی۔
عاقلہ کو غیر کفو میں نکاح کردیا تو اس وقت اجازت طلب کرنے پر یا معلوم ہونے پر لڑکی خاموش رہے تو کیا یہ اجازت ہوگی یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے بحر نے کہا کہ رضانہ ہوگی بعض نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ایك قول کے مطابق اگر نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا ہو تو سکوت اجازت قرار پائیگی ورنہ نہیں جیساکہ خانیہ میں اس مسئلہ کو نابالغہ کو غیرکفو میں نکاح کردینے کے مسئلہ سے اخذ کیا ہے اھ نہر میں کہا کہ درایہ میں اس پر “ قالوا “ کے لفظ کہہ کر پہلے قول پر جزم کیا ہے شامی کی عبارت ختم ہوئی قلت : خانیہ میں اس کو مقدم ذکر کیا ہے اور وہ زیادہ ظاہر اور مشہور قول کو مقدم ذکر کرتے ہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ یہاں خانیہ کا اس کو مقدم ذکر کرنا اس سے فراغت کے طور پر ہے ورنہ انھوں نے دوسرے قول کی مضبوط دلیل ذکرکی ہے جبکہ دلیل کو ذکرکرنا اعتماد کی دلیل ہے محیط مبسوط جامع قاضی خاں پھر کافی شرح ہدایہ میں پھر تبیین کے حاشیہ میں اس کو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا قول بتایا ہے اور کفایہ کافی درایہ درر میں اس دوسرے قول کی تصحیح کی گئی ہے کیونکہ امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں باپ دادا اور غیر کے اقدام میں فرق ہے۔ (ت)
اور بے اذن لیے ولی کا نکاح کردینا اگرچہ خلاف سنت ہے مگر گناہ نہیں یوں ہی نکاح پڑھانے والے پر کوئی الزام نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۱۴ : ۷ صفر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نکاح لڑکی نابالغ کا جس کی عمر قریب
عاقلہ کو غیر کفو میں نکاح کردیا تو اس وقت اجازت طلب کرنے پر یا معلوم ہونے پر لڑکی خاموش رہے تو کیا یہ اجازت ہوگی یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے بحر نے کہا کہ رضانہ ہوگی بعض نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ایك قول کے مطابق اگر نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا ہو تو سکوت اجازت قرار پائیگی ورنہ نہیں جیساکہ خانیہ میں اس مسئلہ کو نابالغہ کو غیرکفو میں نکاح کردینے کے مسئلہ سے اخذ کیا ہے اھ نہر میں کہا کہ درایہ میں اس پر “ قالوا “ کے لفظ کہہ کر پہلے قول پر جزم کیا ہے شامی کی عبارت ختم ہوئی قلت : خانیہ میں اس کو مقدم ذکر کیا ہے اور وہ زیادہ ظاہر اور مشہور قول کو مقدم ذکر کرتے ہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ یہاں خانیہ کا اس کو مقدم ذکر کرنا اس سے فراغت کے طور پر ہے ورنہ انھوں نے دوسرے قول کی مضبوط دلیل ذکرکی ہے جبکہ دلیل کو ذکرکرنا اعتماد کی دلیل ہے محیط مبسوط جامع قاضی خاں پھر کافی شرح ہدایہ میں پھر تبیین کے حاشیہ میں اس کو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا قول بتایا ہے اور کفایہ کافی درایہ درر میں اس دوسرے قول کی تصحیح کی گئی ہے کیونکہ امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں باپ دادا اور غیر کے اقدام میں فرق ہے۔ (ت)
اور بے اذن لیے ولی کا نکاح کردینا اگرچہ خلاف سنت ہے مگر گناہ نہیں یوں ہی نکاح پڑھانے والے پر کوئی الزام نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۱۴ : ۷ صفر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نکاح لڑکی نابالغ کا جس کی عمر قریب
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۹
تین سال کے ہے ساتھ عمرو نابالغ کے جس کی عمر قریب چار سال کے ہے ولایت مادر لڑکی کے جائزہے یا نہیں درحالیکہ باپ کے چار پانچ پشت کے لوگ چچا تاؤ وغیرہ موجود ہوں اور اب بعد بالغ ہونے کے وہ لڑکی اس نکاح سے ناراض بھی ہے۔
الجواب :
اگر وہ لڑکی جس سے اس نابالغہ کا نکاح ہو ا اس کا کفو نہ تھا یعنی قوم وروش ومذہب وغیرہا امور معتبرہ سے کسی بات میں بہ نسبت دختر ایسا نقص رکھتا تھا کہ اس دختر کا اس کے نکاح میں دیا جانا اولیاء دخترکے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ نکاح سرے سے باطل واقع ہوا یونہی اگر دختر کے مہرمثل میں کمی فاحش کردی گئی مثلا مہر مثل پچاس ہزار تھا اس نکاح میں پچیس ہزار بندھا تو بھی نکاح باطل محض ہوا ان دونوں صورتوں میں بعد بلوغ اگر خود اجازت دے اور نکاح نہ صرف ماں بلکہ ان سب اولیاء نے مل کر کیا ہو جب بھی صحیح نہیں ہوسکتا کہ نابالغہ کے ایسے نکاح کرنے کا باپ دادا کے سوا کسی کو اختیارنہیں۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام والقاضی لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا (ملخصا)
اگر غیر باپ اور دادا نے غیر کفو یا مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح کیا تو بالکل نکاح جائزہوگا خواہ وہ غیروالدہ ہو یا قاضی ہو۔ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی الفتح القدیر لوکبرت واجازت لایصح لانہ لم یکن عقد اموقوفا اذلامجیزلہ ۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر وہ نابالغہ لڑکی بالغ ہو اس غیرکے نکاح مذکورہ کو جائز بھی کردے تو جائزنہ ہوگا کیونکہ وہ نکاح کی اجازت دینے والے کی اجازت پر موقوف نہ تھا۔ (ت)
اور اگر نہ لڑکا ایسا تھا نہ مہر مثل میں اس طرح کی کمی تو صحیح ہوگیا مگر از انجا کہ یك جدی مردوں میں سے جب تك کوئی موجود ہو ماں کو ولایت نکاح نہیں ہوتی بلکہ ان میں جو درباب وراثت مقدم ہو وہی ولی ہوتاہے
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
درمختار میں ہے نکاح کا ولی وراثت کے استحقاق وحجب کی ترتیب پر عصبات ہیں اوراگر عصبہ بنفسہ نہ ہو تو پھر والدہ کو ولایت ہوگی۔ (ت)
الجواب :
اگر وہ لڑکی جس سے اس نابالغہ کا نکاح ہو ا اس کا کفو نہ تھا یعنی قوم وروش ومذہب وغیرہا امور معتبرہ سے کسی بات میں بہ نسبت دختر ایسا نقص رکھتا تھا کہ اس دختر کا اس کے نکاح میں دیا جانا اولیاء دخترکے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ نکاح سرے سے باطل واقع ہوا یونہی اگر دختر کے مہرمثل میں کمی فاحش کردی گئی مثلا مہر مثل پچاس ہزار تھا اس نکاح میں پچیس ہزار بندھا تو بھی نکاح باطل محض ہوا ان دونوں صورتوں میں بعد بلوغ اگر خود اجازت دے اور نکاح نہ صرف ماں بلکہ ان سب اولیاء نے مل کر کیا ہو جب بھی صحیح نہیں ہوسکتا کہ نابالغہ کے ایسے نکاح کرنے کا باپ دادا کے سوا کسی کو اختیارنہیں۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام والقاضی لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا (ملخصا)
اگر غیر باپ اور دادا نے غیر کفو یا مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح کیا تو بالکل نکاح جائزہوگا خواہ وہ غیروالدہ ہو یا قاضی ہو۔ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی الفتح القدیر لوکبرت واجازت لایصح لانہ لم یکن عقد اموقوفا اذلامجیزلہ ۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر وہ نابالغہ لڑکی بالغ ہو اس غیرکے نکاح مذکورہ کو جائز بھی کردے تو جائزنہ ہوگا کیونکہ وہ نکاح کی اجازت دینے والے کی اجازت پر موقوف نہ تھا۔ (ت)
اور اگر نہ لڑکا ایسا تھا نہ مہر مثل میں اس طرح کی کمی تو صحیح ہوگیا مگر از انجا کہ یك جدی مردوں میں سے جب تك کوئی موجود ہو ماں کو ولایت نکاح نہیں ہوتی بلکہ ان میں جو درباب وراثت مقدم ہو وہی ولی ہوتاہے
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
درمختار میں ہے نکاح کا ولی وراثت کے استحقاق وحجب کی ترتیب پر عصبات ہیں اوراگر عصبہ بنفسہ نہ ہو تو پھر والدہ کو ولایت ہوگی۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
لہذا یہ نکاح اس ولی کی بے اجازت صرف ماں نے کردیا تو نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا اگر اس نے خبر سن کر رد کردیا مثلا کہا کہ میں اس نکاح کو جائز نہیں رکھتا یا رد کرتاہوں یا میں راضی نہیں یاا س کے مثل اور الفاظ تو رد ہوگیا اب دختر کی رضامندی وناراضی کا بھی اعتبار نہیں کہ سرے سے نکاح باقی ہی نہ رہا اور اگر ابتداء باجازت ولی واقع ہوا یا تزویج مادر کے بعد ولی نے اجازت دے دی تھی مثلا کہا بہتر ہوا یا میں نے پسند کیا یا مجھے منظور یا ان کے مانند اور کلمات تونکاح نافذ ہوگیا۔
فی الدرالمختار لو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
درمختار میں ہے اگر بعید ولی نے اقرب ولی کے ہوتے ہو ئے نکاح کردیا تو یہ نکاح ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
پھر بھی ازانجا کہ مزوج غیر اب وجد اور دختر دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار دیا جائے گا کہ پہلے سے نکاح کی خبر رکھتی ہو تو اپنے بالغ ہوتے ہی اور بعد بلوغ اطلاع پائے تو خبر سنتے ہی فورا بے وقفہ کہہ سکتی ہے کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں یا میں نے ا سے فسخ کردیا یا مجھے ناپسند ہے یااس کے مثل اور کوئی امر کہ دلیل ناراضی ہو۔ پس اگر بلوغ یا اطلاع پر فی الفور ا س نے یہ ناراضی ظاہر کی تو اسے اجازت دی جائے گی کہ قاضی کے حضور دعوی کرکے فسخ کرالے اور اگر ایك لمحہ بھی بے عذر سکوت کیا یا کسی دوسرے کام یا کلام میں مشغول ہوئی تو اب وہ نکاح لازم ہوگیا اس کے بعد اظہار ناراضی کچھ بکارآمد نہیں۔ درمختارمیں ہے :
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لھما ای لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس (ملخصا)
اگر کفو اور مہر مثل کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بلوغ پر یابلوغ کے بعدجب علم نکاح ہو فسخ کا اختیار ہوگا لیکن فسخ قاضی کے حکم سے ہوگا۔ اگر باکرہ بالغہ اپنے نکاح کا علم ہونے پر خاموش رہی تو اس کو فسخ کا اختیار نہ رہے گا اور نکاح کے علم والی مجلس کے آخر تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا(ملخصا)۔ (ت)
اور اگر وہ نکاح نہ ابتداء اجازت ولی سے ہوا نہ زمانہ نابالغی دختر میں ولی نے اجازت دی نہ ردکیا بلکہ اسے خبر
فی الدرالمختار لو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
درمختار میں ہے اگر بعید ولی نے اقرب ولی کے ہوتے ہو ئے نکاح کردیا تو یہ نکاح ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
پھر بھی ازانجا کہ مزوج غیر اب وجد اور دختر دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار دیا جائے گا کہ پہلے سے نکاح کی خبر رکھتی ہو تو اپنے بالغ ہوتے ہی اور بعد بلوغ اطلاع پائے تو خبر سنتے ہی فورا بے وقفہ کہہ سکتی ہے کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں یا میں نے ا سے فسخ کردیا یا مجھے ناپسند ہے یااس کے مثل اور کوئی امر کہ دلیل ناراضی ہو۔ پس اگر بلوغ یا اطلاع پر فی الفور ا س نے یہ ناراضی ظاہر کی تو اسے اجازت دی جائے گی کہ قاضی کے حضور دعوی کرکے فسخ کرالے اور اگر ایك لمحہ بھی بے عذر سکوت کیا یا کسی دوسرے کام یا کلام میں مشغول ہوئی تو اب وہ نکاح لازم ہوگیا اس کے بعد اظہار ناراضی کچھ بکارآمد نہیں۔ درمختارمیں ہے :
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لھما ای لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس (ملخصا)
اگر کفو اور مہر مثل کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بلوغ پر یابلوغ کے بعدجب علم نکاح ہو فسخ کا اختیار ہوگا لیکن فسخ قاضی کے حکم سے ہوگا۔ اگر باکرہ بالغہ اپنے نکاح کا علم ہونے پر خاموش رہی تو اس کو فسخ کا اختیار نہ رہے گا اور نکاح کے علم والی مجلس کے آخر تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا(ملخصا)۔ (ت)
اور اگر وہ نکاح نہ ابتداء اجازت ولی سے ہوا نہ زمانہ نابالغی دختر میں ولی نے اجازت دی نہ ردکیا بلکہ اسے خبر
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
ہی نہ ہوئی یا بعد خبر سکوت محض کیا یہاں تك کہ دختر بالغہ ہوئی تو اب وہ خود اجازت دختر پر موقوف ہوا پس اگر دختر نے اس اظہار ناراضی سے پہلے بعد بلوغ کوئی کلمہ اجازت کہا یا دلالۃ اس کے کسی فعل یا حال سے رضامندی ثابت ہوئی تھی مثلا بالغ ہونے پر شوہر کے پاس گئی یا اس سے کوئی برتاؤ زن وشوئی کا کیا یا کسی نے فلان کی دلہن کہہ کرپکار ا اس نے جواب دیا تو نکاح لازم ہوگیا اب ناراضی محض بے سود ہے اور اگر ہنوزقول یا فعل یا حال سے رضا ثابت نہ ہونے پائی تھی کہ اس نے ایسی ناراضی ظاہر کی جس سے ردنکاح مفہوم ہو اتو بے شك نکاح باطل ہوگیا۔
فی فتح القدیر یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلوبلغ قبل ان یخبرہ الولی فاجازہ بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ولاینفذ بمجرد بلوغہ ۔
فتح القدیر میں ہے نابالغ کے نکاح کا جواز ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اور اگر ولی کی طرف سے اطلاع سے قبل خود بالغ ہوگیا اوراس نے اپنے نکاح کو جائز کردیا تو جائز اور نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجازت پر موقوف تھا اور اجازت کے بغیر محض بلوغ سے نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
مستفتی ان سب صورتوں کو سمجھ کر جو صورت واقعہ ہو اس کے حکم پر عمل کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۵ : از رائے پور علاقہ جے پور ڈاك خانہ ہنڈون مرسلہ منشی محمد فرزند حسن صاحب ۲۰ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف قوم مسلمان نے جس کی عمر تخمینا ۲۸ یا ۲۹ سال ہوگی زناکاری سے توبہ کرکے ایك شریف مسلمان سے اپنا نکاح کرلیا اب اس کی نائکہ کہتی ہے کہ میں ولی ہوں بے میری اجازت کے نکاح جائز نہیں اور زید کہتاہے کہ طوائف خود فعل مختار بالغہ ہے تیری اجازت کی حاجت نہیں اور ولی واسطے ہدایت کار نیك کے ہوتاہے زناکے لیے ولی نہیں نابالغ کو ولی بھی فعل بد کرانے کا مختار نہیں ایسی ولایت شرعا باطل ہے نائکہ کسی طرح ولی نہیں ہوسکتی جو لونڈی اس نے حرام کی کمائی سے حرام کاری کے لیے خریدی وہ شرعا لونڈی نہیں ہوسکتی بلکہ جو شرعا ایسی ولایت کادعوی کرے وہ قابل سزا ہے۔ پس صحیح قول زید کا ہے یا نائکہ کا بینوا تو جروا
الجواب :
قول زید کا صحیح ہے اور نائکہ کا محض دعوی باطل وقبیح۔ ہندوستا ن میں جو بعض خدا ترس محتاج اپنی اولاد قحط وغیرہ میں بیچ ڈالتے ہیں شرعا یہ بیع کسی حالت میں جائز نہیں بلکہ باطل ومحض مہمل وبے معنی ہے وہ ہر گز لونڈی
فی فتح القدیر یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلوبلغ قبل ان یخبرہ الولی فاجازہ بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ولاینفذ بمجرد بلوغہ ۔
فتح القدیر میں ہے نابالغ کے نکاح کا جواز ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اور اگر ولی کی طرف سے اطلاع سے قبل خود بالغ ہوگیا اوراس نے اپنے نکاح کو جائز کردیا تو جائز اور نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجازت پر موقوف تھا اور اجازت کے بغیر محض بلوغ سے نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
مستفتی ان سب صورتوں کو سمجھ کر جو صورت واقعہ ہو اس کے حکم پر عمل کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۵ : از رائے پور علاقہ جے پور ڈاك خانہ ہنڈون مرسلہ منشی محمد فرزند حسن صاحب ۲۰ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف قوم مسلمان نے جس کی عمر تخمینا ۲۸ یا ۲۹ سال ہوگی زناکاری سے توبہ کرکے ایك شریف مسلمان سے اپنا نکاح کرلیا اب اس کی نائکہ کہتی ہے کہ میں ولی ہوں بے میری اجازت کے نکاح جائز نہیں اور زید کہتاہے کہ طوائف خود فعل مختار بالغہ ہے تیری اجازت کی حاجت نہیں اور ولی واسطے ہدایت کار نیك کے ہوتاہے زناکے لیے ولی نہیں نابالغ کو ولی بھی فعل بد کرانے کا مختار نہیں ایسی ولایت شرعا باطل ہے نائکہ کسی طرح ولی نہیں ہوسکتی جو لونڈی اس نے حرام کی کمائی سے حرام کاری کے لیے خریدی وہ شرعا لونڈی نہیں ہوسکتی بلکہ جو شرعا ایسی ولایت کادعوی کرے وہ قابل سزا ہے۔ پس صحیح قول زید کا ہے یا نائکہ کا بینوا تو جروا
الجواب :
قول زید کا صحیح ہے اور نائکہ کا محض دعوی باطل وقبیح۔ ہندوستا ن میں جو بعض خدا ترس محتاج اپنی اولاد قحط وغیرہ میں بیچ ڈالتے ہیں شرعا یہ بیع کسی حالت میں جائز نہیں بلکہ باطل ومحض مہمل وبے معنی ہے وہ ہر گز لونڈی
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۸
غلام نہیں ہوسکتی نہ خریدنے والا ان کا مالك ہوسکتاہے نہ کسی وجہ سے استحقاق ان میں رکھتا ہے کہ حر کی بیع محض باطل ہے ہدایہ میں ہے :
بیع المیتۃ والدم والحر باطل لانہا لیست اموالا فلاتکون محلا للبیع ۔
مردار خون اور آزاد کی خرید وفروخت باطل ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہیں اس لئے یہ بیع کا محل نہیں۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
الباطل لایفید ملك التصرف ۔
بیع باطل ملك تصرف کا فائدہ نہیں دیتی۔ (ت)
اورجبکہ وہ عورت بالغہ ہے تو اپنی جان کا آپ اختیار رکھتی ہے نکاح کہ اس نے بہ ہدایت الہی زناسے تائب ہوکر ایك شریف مسلمان سے کرلیا قطعا صحیح ولازم ہے جو کسی کے روکے رد نہیں ہوسکتا فتاوی عالمگیری میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلاولی ۔
حرہ عاقلہ بالغہ کا ولی کے بغیر اپنا نکاح صحیح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
سئل شیخ الاسلام عطاء بن حمزۃ عن امرأۃ شافعیۃ بکر بالغۃ زوجت نفسھا من حنفی بغیر اذن ابیھا والاب لایرضی وردہ ھل یصح ھذا النکاح قال نعم ۔
شیخ الاسلام عطاء بن حمزہ سے ایك باکرہ بالغہ شافعی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنا نکاح بغیر ولی ایك حنفی مرد سے خود کیا والد کی اجازت اور مرضی نہ تھی اوروالد نے اس کے نکاح کو ردکردیا تو یہ نکاح صحیح ہوگا تو انھوں نے جواب فرمایا : ہاں صحیح ہے۔ (ت)
جب خود باپ کی نسبت یہ حکم ہے تو نائکہ کا دعوی کیا قابل التفات ہوسکتا ہے یہ محض جہل ناسزا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۶ : از پیلی بھیت محلہ ملك احمد خاں مرسلہ حافظ بشیر احمد خاں صاحب ۱۵ رجب ۱۳۱۰ھ
جناب عالی ! گزار ش یہ ہے کہ ایك لڑکی کا نکاح نابالغی میں باپ کی ولایت سے ہوا اب وہ لڑکی
بیع المیتۃ والدم والحر باطل لانہا لیست اموالا فلاتکون محلا للبیع ۔
مردار خون اور آزاد کی خرید وفروخت باطل ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہیں اس لئے یہ بیع کا محل نہیں۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
الباطل لایفید ملك التصرف ۔
بیع باطل ملك تصرف کا فائدہ نہیں دیتی۔ (ت)
اورجبکہ وہ عورت بالغہ ہے تو اپنی جان کا آپ اختیار رکھتی ہے نکاح کہ اس نے بہ ہدایت الہی زناسے تائب ہوکر ایك شریف مسلمان سے کرلیا قطعا صحیح ولازم ہے جو کسی کے روکے رد نہیں ہوسکتا فتاوی عالمگیری میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلاولی ۔
حرہ عاقلہ بالغہ کا ولی کے بغیر اپنا نکاح صحیح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
سئل شیخ الاسلام عطاء بن حمزۃ عن امرأۃ شافعیۃ بکر بالغۃ زوجت نفسھا من حنفی بغیر اذن ابیھا والاب لایرضی وردہ ھل یصح ھذا النکاح قال نعم ۔
شیخ الاسلام عطاء بن حمزہ سے ایك باکرہ بالغہ شافعی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنا نکاح بغیر ولی ایك حنفی مرد سے خود کیا والد کی اجازت اور مرضی نہ تھی اوروالد نے اس کے نکاح کو ردکردیا تو یہ نکاح صحیح ہوگا تو انھوں نے جواب فرمایا : ہاں صحیح ہے۔ (ت)
جب خود باپ کی نسبت یہ حکم ہے تو نائکہ کا دعوی کیا قابل التفات ہوسکتا ہے یہ محض جہل ناسزا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۶ : از پیلی بھیت محلہ ملك احمد خاں مرسلہ حافظ بشیر احمد خاں صاحب ۱۵ رجب ۱۳۱۰ھ
جناب عالی ! گزار ش یہ ہے کہ ایك لڑکی کا نکاح نابالغی میں باپ کی ولایت سے ہوا اب وہ لڑکی
حوالہ / References
ہدایہ با ب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۳
ہدایہ با ب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۳
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
ہدایہ با ب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۳
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
بالغ ہوئی وہ اپنے باپ کے فعل کو ناپسند کرتی ہے باپ کی ولایت سے نکاح جائز ہے یا ناجائز ہے فقط
الجواب :
صورت مسئولہ میں حق جواب یہ ہے کہ باپ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح جس شخص سے کیا اگر وہ کفو یعنی دین و نسب وپیشہ ومال وغیرہ میں کوئی امرایسا نہیں رکھتا کہ اس سے تزویج باعث عارہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو تو وہ نکاح مطلقا صحیح نافذ ولازم ہے اگرچہ ناپسند کرے اگرچہ باپ اس سے پہلے معروف بسوئے اختیار ہوکہ اس نکاح میں اس کا حسن اختیار ظاہر تو پہلے کے سوء اختیار اس کی صحت میں مخل نہیں ہو سکتے یوں ہی اگر باپ وقت تزویج نشہ میں نہ تھا نہ اس سے پیشتر اپنی کسی قاصرہ کا نکاح غیر کفو سے اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش پر کرکے معروف بسوء اختیار ہوچکا تو بھی یہ نکاح صحیح ولازم اگرچہ غیر کفو سے ہو اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو ہاں اگر دونوں امر مجتمع ہیں یعنی اس نکاح میں کفاءت بمعنی مذکور نہیں یا مہر میں کمی فاحش ہے اور ہنگام تزویج نشہ میں یا پہلے سے معروف بسوء اختیار تھا تو اس صورت میں نابالغہ کا نکاح اگرچہ بولایت پدری ہے اصلا صحیح نہیں۔ درمختار میں بعدعبارت مذکورہ ہے :
وکذا لوکان سکران فزوجھا من فاسق او شریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیۃ الظھور سوء اختیارہ فلاتعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر ۔
اور ایسے ہی اگرولی نے نشہ کی حالت میں فاسق یا شریر یا فقیر سے یا باعث ہتك کام والے سے نکاح کردے کیونکہ اس صورت میں اس ولی کا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنا ثابت ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں اس کی شفقت جوکہ ظنی ہے معارض نہیں بن سکتی بحر(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قلت ویقتضی التعلیل ان السکران او المعروف بسوء الاختیار لوزوجھا من کفوء بمھر المثل صح لعدم الضرر المحض(الی قولہ)وھذا مفقود فی السکران وسیئ الاختیار اذا خالف لظھور عدم رایہ وسوء اختیارہ
میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت تفصیل کو چاہتی ہے کہ اگر نشے والایا غلط اختیار کی شہرت والا اگر لڑکی کا نکاح کفو میں اور مہر مثل کے ساتھ کرے تو یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ اس میں لڑکی کے لیے کوئی ضرر نہیں ہے(ان کاکلام یہاں تك ہوا) کہ عدم ضرر کی صورت میں اس نشے والے اور غلط اختیار والے
الجواب :
صورت مسئولہ میں حق جواب یہ ہے کہ باپ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح جس شخص سے کیا اگر وہ کفو یعنی دین و نسب وپیشہ ومال وغیرہ میں کوئی امرایسا نہیں رکھتا کہ اس سے تزویج باعث عارہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو تو وہ نکاح مطلقا صحیح نافذ ولازم ہے اگرچہ ناپسند کرے اگرچہ باپ اس سے پہلے معروف بسوئے اختیار ہوکہ اس نکاح میں اس کا حسن اختیار ظاہر تو پہلے کے سوء اختیار اس کی صحت میں مخل نہیں ہو سکتے یوں ہی اگر باپ وقت تزویج نشہ میں نہ تھا نہ اس سے پیشتر اپنی کسی قاصرہ کا نکاح غیر کفو سے اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش پر کرکے معروف بسوء اختیار ہوچکا تو بھی یہ نکاح صحیح ولازم اگرچہ غیر کفو سے ہو اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو ہاں اگر دونوں امر مجتمع ہیں یعنی اس نکاح میں کفاءت بمعنی مذکور نہیں یا مہر میں کمی فاحش ہے اور ہنگام تزویج نشہ میں یا پہلے سے معروف بسوء اختیار تھا تو اس صورت میں نابالغہ کا نکاح اگرچہ بولایت پدری ہے اصلا صحیح نہیں۔ درمختار میں بعدعبارت مذکورہ ہے :
وکذا لوکان سکران فزوجھا من فاسق او شریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیۃ الظھور سوء اختیارہ فلاتعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر ۔
اور ایسے ہی اگرولی نے نشہ کی حالت میں فاسق یا شریر یا فقیر سے یا باعث ہتك کام والے سے نکاح کردے کیونکہ اس صورت میں اس ولی کا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنا ثابت ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں اس کی شفقت جوکہ ظنی ہے معارض نہیں بن سکتی بحر(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قلت ویقتضی التعلیل ان السکران او المعروف بسوء الاختیار لوزوجھا من کفوء بمھر المثل صح لعدم الضرر المحض(الی قولہ)وھذا مفقود فی السکران وسیئ الاختیار اذا خالف لظھور عدم رایہ وسوء اختیارہ
میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت تفصیل کو چاہتی ہے کہ اگر نشے والایا غلط اختیار کی شہرت والا اگر لڑکی کا نکاح کفو میں اور مہر مثل کے ساتھ کرے تو یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ اس میں لڑکی کے لیے کوئی ضرر نہیں ہے(ان کاکلام یہاں تك ہوا) کہ عدم ضرر کی صورت میں اس نشے والے اور غلط اختیار والے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
فی ذلك انتھی ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جنھوں نے غیر کفومیں نکاح کیا ہے میں نہیں پائی جاتی کیونکہ نشے والے کی رائے ظاہر نہ ہوئی اوردوسرے کا غلط اختیار اس معاملہ میں ظاہر ہوچکا ہے انتہی۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ : از پیلی بھیت ایضا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا نکاح عمرو سے اس حالت میں کہ اوضاع واطوار عمرو موصوف کے درست تھے اپنی ولایت سے کردیا جب ہندہ مذکورہ رخصت کے زمانہ تك خود بلوغ کو پہنچی تو اس نے اپنے شوہر عمرو کو محرمات وممنوعات شرعیہ کا مرتکب اورمامورات و مشروعات کا محترز پاکر اپنے باپ زید کے فعل کو قبیح سمجھا اس تزویج کو ناجائز رکھا پس صورت مسئولہ میں ہندہ کا عمرو سے عقد نکاح منعقد رہا یا فسخ ہوا بینوا توجروا
الجواب :
جب ہنگام تزویج عمرو میں کوئی امران بد اطواریوں سے نہ تھا بلکہ یہ باتیں اس نے بعد میں اختیار کیں تو عدم کفایت بعد نکاح حادث ہوئی اور ایسی عدم کفاءت اصلا مانع صحت نکاح نہیں خصوصا تزویج پدر میں کہ آئندہ کا علم بندہ کی قدرت سے باہر ہے لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (الله تعالی کسی کو وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت)پس اس بناپر ہندہ کا ا س نکاح کو جائز رکھنا اصلا قابل سماعت نہیں۔ درمختار میں ہے :
والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلایضر زوالھا بعدہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ابتداء نکاح کے وقت کفو کا اعتبار ہوتاہے لہذا بعد میں کفو کا زوال مضر نہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۸ : ۲۳ رجب ۱۳۱۰ھ
بالغہ کا نکاح باپ خود کسی کفو سے کرے استیذان بالغہ ضرور ہے یا نہیں نہیں تو مستحب و مسنون یامباح یاکوئی حاجت نہیں
جنھوں نے غیر کفومیں نکاح کیا ہے میں نہیں پائی جاتی کیونکہ نشے والے کی رائے ظاہر نہ ہوئی اوردوسرے کا غلط اختیار اس معاملہ میں ظاہر ہوچکا ہے انتہی۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ : از پیلی بھیت ایضا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا نکاح عمرو سے اس حالت میں کہ اوضاع واطوار عمرو موصوف کے درست تھے اپنی ولایت سے کردیا جب ہندہ مذکورہ رخصت کے زمانہ تك خود بلوغ کو پہنچی تو اس نے اپنے شوہر عمرو کو محرمات وممنوعات شرعیہ کا مرتکب اورمامورات و مشروعات کا محترز پاکر اپنے باپ زید کے فعل کو قبیح سمجھا اس تزویج کو ناجائز رکھا پس صورت مسئولہ میں ہندہ کا عمرو سے عقد نکاح منعقد رہا یا فسخ ہوا بینوا توجروا
الجواب :
جب ہنگام تزویج عمرو میں کوئی امران بد اطواریوں سے نہ تھا بلکہ یہ باتیں اس نے بعد میں اختیار کیں تو عدم کفایت بعد نکاح حادث ہوئی اور ایسی عدم کفاءت اصلا مانع صحت نکاح نہیں خصوصا تزویج پدر میں کہ آئندہ کا علم بندہ کی قدرت سے باہر ہے لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (الله تعالی کسی کو وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت)پس اس بناپر ہندہ کا ا س نکاح کو جائز رکھنا اصلا قابل سماعت نہیں۔ درمختار میں ہے :
والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلایضر زوالھا بعدہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ابتداء نکاح کے وقت کفو کا اعتبار ہوتاہے لہذا بعد میں کفو کا زوال مضر نہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۱۸ : ۲۳ رجب ۱۳۱۰ھ
بالغہ کا نکاح باپ خود کسی کفو سے کرے استیذان بالغہ ضرور ہے یا نہیں نہیں تو مستحب و مسنون یامباح یاکوئی حاجت نہیں
حوالہ / References
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
القرآن ۲ / ۲۸۶
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
القرآن ۲ / ۲۸۶
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
الجواب :
بالغہ پر ولایت نہیں استیذان نفاذ نکاح کے لیے ضرورہے اگر بے استیذان نکاح کردے گا نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت بالغہ پرموقوف رہے گا۔ اگرجائز کرے گی جائز ہوجائے گا۔ ردکرے گی ردہوجائے گا کماصرحوا بہ قاطبۃ(جیساکہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت)باقی واجب نہیں کہ ترك پر گناہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۹ : ۱۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کاباپ مفقود الخبر ہے اور اس کا کچھ پتا نہیں اورہندہ کا ایك بھائی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ برس کی ہے اور سبزہ آغاز ہندہ کا نکاح اس کی ماں اور اس کے بھائی نے کردیا اس صورت میں یہ نکاح ہوایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صو رت مسئولہ میں جبکہ ہندہ نابالغہ ہے اوراس کا باپ مفقود الخبر ہے اورہندہ کے جوان بھائی نے اس کا نکاح کیا تو وہ نکاح ہوگیا بشرطیکہ جس شخص سے نکاح کیا ہو وہ اس کا کفو ہو اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہ میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ اس کے نکاح سے ہندہ کے اولیاء کو ننگ وعار آئے اور بشرطیکہ مہر میں ایسی کمی نہ کی گئی ہو جس کا تحمل لوگ نہ کرتے ہوں اور اگر ان باتوں میں سے ایك بات ہوگی یعنی اس شخص کے قوم یا مذہب یاپیشہ وغیرہ میں کوئی امر موجب ننگ وعار ہوگا یا مہر میں ایسی سخت کمی کی گئی ہو مثلا ہندہ کامہر مثل دس ہزار تھا اوربھائی نے پانچ ہزار پر نکاح کردیا تو ان صورتوں میں وہ نکاح اصلا نہ ہوا والمسائل منصوص علیھا فی الدرالمختار وغیرہ(یہ مسائل درمختار وغیرہ میں منصوص ہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰ : ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ نکاح دختر نابالغہ کا باوجود انکار دختر نابالغہ اور حیات ہوتے اس کے باپ کے بے اجازت اس کے باپ کے اس کی ماں نے زید کے ساتھ کردیا آیا شرعا یہ نکاح ہوا یا نہیں بینواتو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ یہ نکاح مادر وبرادر بالغ نے بریلی میں کیا اور اس کا باپ کان پور میں موجود ہے جسے ہنوز اس نکاح کی اطلاع نہ ہوئی اور جس لڑکے سے نکاح ہوا وہ اس کا کفو ہے اگر یہ سب بیان
بالغہ پر ولایت نہیں استیذان نفاذ نکاح کے لیے ضرورہے اگر بے استیذان نکاح کردے گا نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت بالغہ پرموقوف رہے گا۔ اگرجائز کرے گی جائز ہوجائے گا۔ ردکرے گی ردہوجائے گا کماصرحوا بہ قاطبۃ(جیساکہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت)باقی واجب نہیں کہ ترك پر گناہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۹ : ۱۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کاباپ مفقود الخبر ہے اور اس کا کچھ پتا نہیں اورہندہ کا ایك بھائی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ برس کی ہے اور سبزہ آغاز ہندہ کا نکاح اس کی ماں اور اس کے بھائی نے کردیا اس صورت میں یہ نکاح ہوایا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صو رت مسئولہ میں جبکہ ہندہ نابالغہ ہے اوراس کا باپ مفقود الخبر ہے اورہندہ کے جوان بھائی نے اس کا نکاح کیا تو وہ نکاح ہوگیا بشرطیکہ جس شخص سے نکاح کیا ہو وہ اس کا کفو ہو اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہ میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ اس کے نکاح سے ہندہ کے اولیاء کو ننگ وعار آئے اور بشرطیکہ مہر میں ایسی کمی نہ کی گئی ہو جس کا تحمل لوگ نہ کرتے ہوں اور اگر ان باتوں میں سے ایك بات ہوگی یعنی اس شخص کے قوم یا مذہب یاپیشہ وغیرہ میں کوئی امر موجب ننگ وعار ہوگا یا مہر میں ایسی سخت کمی کی گئی ہو مثلا ہندہ کامہر مثل دس ہزار تھا اوربھائی نے پانچ ہزار پر نکاح کردیا تو ان صورتوں میں وہ نکاح اصلا نہ ہوا والمسائل منصوص علیھا فی الدرالمختار وغیرہ(یہ مسائل درمختار وغیرہ میں منصوص ہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰ : ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ نکاح دختر نابالغہ کا باوجود انکار دختر نابالغہ اور حیات ہوتے اس کے باپ کے بے اجازت اس کے باپ کے اس کی ماں نے زید کے ساتھ کردیا آیا شرعا یہ نکاح ہوا یا نہیں بینواتو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ یہ نکاح مادر وبرادر بالغ نے بریلی میں کیا اور اس کا باپ کان پور میں موجود ہے جسے ہنوز اس نکاح کی اطلاع نہ ہوئی اور جس لڑکے سے نکاح ہوا وہ اس کا کفو ہے اگر یہ سب بیان
واقعی ہیں تو دیکھا جائے گاکہ ناکح کفواس قدر انتظام پر راضی ہوسکتا تھا کہ باپ کو خط لکھا جائے اوراس کی اجازت منگائی جائے یا وہ اس پر راضی نہ ہوتا بلکہ اتنے انتظار پر نکاح ہی نہ کرتا اگر یہ پچھلی صورت فرض کی جائے جس کے وقوع کی امید بہت ہی ضعیف بلکہ کالمعدوم ہے کہ انتظار جواب میں یہ بات ہاتھ سے جاتی تھی تو نکاح نافذہوگیا بشرطیکہ مہر مثل میں کمی فاحش نہ کی گئی بہو او راگر ایسا نہ تھا بلکہ انتظار جواب کرلیتا اور غالب ایسا ہی ہے تو یہ نکاح بشرط مذکور اجازت پر موقوف ہے اگر جائز رکھے گا جائز ہوجائے گا اور باطل کردے گا تو باطل ہوجائے گا۔
فی الدرالمختار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب واختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفو الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی ا ھ مختصرا وفی ردالمحتار قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذا کان فی موضع لو انتظر حضورہ اواستطلاع رأیہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب وفی البحر المجتبی عن المبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ اختارہ اکثرالمشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایۃ انہ اقرب الی الفقہ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقۃ وفی شرح الملتقی من الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر
درمختار میں ہے اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہے کہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب کا انتظار نہ کرتا تو ولی ابعد کو نکاح جائز ہے اس پر باقانی نے اعتماد کیا اور ابن کمال نے نقل کیا ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصرا
اور ردالمحتار میں ہے ذخیرہ میں کہا اصح یہی ہے کہ اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہوکہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب یا اس کی رائے حاصل کرنے کا انتظارنہیں کرتا تو غیبت منقطعہ قرارپائی گئی اور کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں مجتبی کے حوالے سے مبسوط سے منقول ہے کہ یہ اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اسے پسند کیاہے اور ابن فضل نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب الی الفقہ ہے اور فتح میں ہے کہ حق کے قریب ہے اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ یہ تمام اقوال میں اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اور اختیاراور نقایہ میں اس کو قائم رکھا ہے اور نہر کا کلام بھی
فی الدرالمختار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب واختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفو الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی ا ھ مختصرا وفی ردالمحتار قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذا کان فی موضع لو انتظر حضورہ اواستطلاع رأیہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب وفی البحر المجتبی عن المبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ اختارہ اکثرالمشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایۃ انہ اقرب الی الفقہ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقۃ وفی شرح الملتقی من الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر
درمختار میں ہے اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہے کہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب کا انتظار نہ کرتا تو ولی ابعد کو نکاح جائز ہے اس پر باقانی نے اعتماد کیا اور ابن کمال نے نقل کیا ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصرا
اور ردالمحتار میں ہے ذخیرہ میں کہا اصح یہی ہے کہ اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہوکہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب یا اس کی رائے حاصل کرنے کا انتظارنہیں کرتا تو غیبت منقطعہ قرارپائی گئی اور کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں مجتبی کے حوالے سے مبسوط سے منقول ہے کہ یہ اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اسے پسند کیاہے اور ابن فضل نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب الی الفقہ ہے اور فتح میں ہے کہ حق کے قریب ہے اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ یہ تمام اقوال میں اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اور اختیاراور نقایہ میں اس کو قائم رکھا ہے اور نہر کا کلام بھی
حوالہ / References
درمختار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بماعلیہ اکثر المشائخ اھ مافی ردالمحتار قلت لاسیما فی ھذا الزمان فان العجلۃ الدخانیۃ قد جعلت مسافۃ القصر کمسافۃ ساعۃ واحدۃ بل اقل فوجب التعویل علی ما افتی بہ اکثرالمشائخ۔
اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں ہے کہ جس پر مشائخ کا اعتمادہو اس پر فتوی باعث اطمینا ن ہے درمختارکی عبارت ختم ہوئی قلت خصوصا موجودہ زمانہ میں کہ جب ریل گاڑی نے مسافت قصر کوایك گھنٹہ کی مسافت بنادیا ہے بلکہ اس سے بھی کم کردیاہے لہذا جس پر اکثر مشائخ نے فتوی دیاہے یہی قابل اعتماد ہے۔ (ت)
یہ سب اس صورت میں کہ عورت کے مہرمثل میں کمی فاحش نہ ہوئی ہو مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا ا س نکاح میں پچاس کا باندھا تو سر ے سے نکاح ہی نہ ہوا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح بغبن فاحش ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگر نکاح کرنے والا باپ دادا کا غیر کفو ہو خواہ ماں ہی کیوں نہ ہو مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح صحیح نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۱ : از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۵ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے اہل سنت وجماعت دریں مسئلہ کہ مسماۃ ہندہ ورثہ شرعیہ ندارد ونہ ازنطفہ زید مگر زید بسعی تام از ایام طفلی پرروش کردہ تابعمر دہ سالہ دررسیدہ و بہ سبب اطلاق پرورش زید ولی ہندہ ظاہر بعد زید منکوحہ زید نکاح ہندہ بہمراہ خیراتی خاں کردہ فرارشد وقتیکہ زید آمد برنکاحش وقوف یافتہ راضی نہ گشت درین صورت بدون اجازت
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نامی لڑکی جو زید کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شرعی وارث ہے لیکن زید نے اس کی بچپن سے دس سال کی عمر تك پرورش کی۔ اس پرورش کی وجہ سے زید ہندہ کا ولی معلوم ہوتا ہے تو زید کی عدم موجودگی میں زید کی بیوی نے ہندہ کا نکاح خیراتی خاں سے کردیا اور خیراتی خاں اس کے بعد بھاگ گیا اب جب زید واپس آیا تو اس نے ہندہ
اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بحر میں ہے کہ جس پر مشائخ کا اعتمادہو اس پر فتوی باعث اطمینا ن ہے درمختارکی عبارت ختم ہوئی قلت خصوصا موجودہ زمانہ میں کہ جب ریل گاڑی نے مسافت قصر کوایك گھنٹہ کی مسافت بنادیا ہے بلکہ اس سے بھی کم کردیاہے لہذا جس پر اکثر مشائخ نے فتوی دیاہے یہی قابل اعتماد ہے۔ (ت)
یہ سب اس صورت میں کہ عورت کے مہرمثل میں کمی فاحش نہ ہوئی ہو مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا ا س نکاح میں پچاس کا باندھا تو سر ے سے نکاح ہی نہ ہوا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح بغبن فاحش ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگر نکاح کرنے والا باپ دادا کا غیر کفو ہو خواہ ماں ہی کیوں نہ ہو مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح صحیح نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۱ : از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۵ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے اہل سنت وجماعت دریں مسئلہ کہ مسماۃ ہندہ ورثہ شرعیہ ندارد ونہ ازنطفہ زید مگر زید بسعی تام از ایام طفلی پرروش کردہ تابعمر دہ سالہ دررسیدہ و بہ سبب اطلاق پرورش زید ولی ہندہ ظاہر بعد زید منکوحہ زید نکاح ہندہ بہمراہ خیراتی خاں کردہ فرارشد وقتیکہ زید آمد برنکاحش وقوف یافتہ راضی نہ گشت درین صورت بدون اجازت
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نامی لڑکی جو زید کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شرعی وارث ہے لیکن زید نے اس کی بچپن سے دس سال کی عمر تك پرورش کی۔ اس پرورش کی وجہ سے زید ہندہ کا ولی معلوم ہوتا ہے تو زید کی عدم موجودگی میں زید کی بیوی نے ہندہ کا نکاح خیراتی خاں سے کردیا اور خیراتی خاں اس کے بعد بھاگ گیا اب جب زید واپس آیا تو اس نے ہندہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
زید نکاح ہندہ خورد سالہ درست ست یا نہ بیان فرمایند بعبارت کتب ورحمۃ الله علیکم اجمعین۔
کے نکاح کو ناپسند کیا اور راضی نہ ہوا تو کیا مـذکورہ صورت میں ہندہ نابالغہ کا نکاح زید کی مرضی کے خلاف درست ہو ا یا نہیں کتب کے حوالہ سے جواب دیا جائے۔ الله تعالی تم پر رحم فرمائے۔ (ت)
الجواب :
اولا دیدہ باید کہ شخصے کہ زن زید ہندہ رابحبالہ نکاحش داد باہندہ کفایت دارد یانے اگر ندارد مثلا در نسب یا حرفہ یاروش یا مذہب قصورے دارد کہ ہندہ رادرنکاحش آمدن نزد اہل عرف موجب عار باشد آنگاہ ایں نکاح باطل محض افتد کہ باجازت ہیچ کس روئے نفاذ نہ بیند تاآنکہ ہندہ اگر خویشتن بعد رسیدن اجازت کند ہم روئے نیابد زیرا کہ تزویج باغیر کفو جز پدر یا پدر پدر کہ دریں کاربسوء اختیار معروف نباشد ہیچ کس رانمی رسد کما نصوا علیہ قاطبۃ وفی جامع الصغار ولی غیر الاب والجدزوج الصغیرۃ من غیر کفوء فادرکت الصبیۃ فاجازت لایجوز ۔ واگر کفاءت داردآنگاہ دیدنی ست کہ ہندہ ہنگام نکاح ہیچ قریبے قریب یا بعید مردیازن از جانب پدریا مادر اگرچہ درغایت بعد ودوری می داشت یا نے اگر می داشت پس ہماں کس ولی نکاح اوست نکاح مذکور براجازت آں ولی موقوف ست خودایں زید باشد یادیگرے اگر اجازت دہد جائز شود اگرردکند باطل پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ زید کی بیوی نے جس شخص سے ہندہ کانکاح کیا ہے وہ ہندہ کا ہم کفو ہے یا نہیں۔ اگر نہیں مثلا نسب کردار حرفہ یا مذہب میں ایسی کمی والا ہے کہ عرف میں اس کوعار سمجھا جاتاہے تو اس صورت میں یہ نکاح محض باطل ہے اور کسی کی اجازت حتی کہ ہندہ خود بالغ ہونے پر اس کو جائزنہیں کرسکتی کیونکہ غیرکفو میں نابالغہ کانکاح کرنے کی ایسے باپ دادا جو سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہے جیسا کہ تمام فقہائے تصریح کی ہے جامع صغار میں ہے باپ دادا کے غیر کسی ولی نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں کردیا ہو تو لڑکی بالغ ہوکر خود بھی اس نکاح جائز نہیں کرسکتی اوراگر وہ شخص ہندہ کا ہم کفو تھا پھریہ دیکھنا ہوگا کہ ہندہ کا کوئی رشتہ دار مردیا عورت قریب یا بعید جو کہ کسی کی ولایت رکھتا ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا۔ وہ ولی زید ہو یا کوئی اورہو اور اگر ہندہ کا کوئی بھی
کے نکاح کو ناپسند کیا اور راضی نہ ہوا تو کیا مـذکورہ صورت میں ہندہ نابالغہ کا نکاح زید کی مرضی کے خلاف درست ہو ا یا نہیں کتب کے حوالہ سے جواب دیا جائے۔ الله تعالی تم پر رحم فرمائے۔ (ت)
الجواب :
اولا دیدہ باید کہ شخصے کہ زن زید ہندہ رابحبالہ نکاحش داد باہندہ کفایت دارد یانے اگر ندارد مثلا در نسب یا حرفہ یاروش یا مذہب قصورے دارد کہ ہندہ رادرنکاحش آمدن نزد اہل عرف موجب عار باشد آنگاہ ایں نکاح باطل محض افتد کہ باجازت ہیچ کس روئے نفاذ نہ بیند تاآنکہ ہندہ اگر خویشتن بعد رسیدن اجازت کند ہم روئے نیابد زیرا کہ تزویج باغیر کفو جز پدر یا پدر پدر کہ دریں کاربسوء اختیار معروف نباشد ہیچ کس رانمی رسد کما نصوا علیہ قاطبۃ وفی جامع الصغار ولی غیر الاب والجدزوج الصغیرۃ من غیر کفوء فادرکت الصبیۃ فاجازت لایجوز ۔ واگر کفاءت داردآنگاہ دیدنی ست کہ ہندہ ہنگام نکاح ہیچ قریبے قریب یا بعید مردیازن از جانب پدریا مادر اگرچہ درغایت بعد ودوری می داشت یا نے اگر می داشت پس ہماں کس ولی نکاح اوست نکاح مذکور براجازت آں ولی موقوف ست خودایں زید باشد یادیگرے اگر اجازت دہد جائز شود اگرردکند باطل پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ زید کی بیوی نے جس شخص سے ہندہ کانکاح کیا ہے وہ ہندہ کا ہم کفو ہے یا نہیں۔ اگر نہیں مثلا نسب کردار حرفہ یا مذہب میں ایسی کمی والا ہے کہ عرف میں اس کوعار سمجھا جاتاہے تو اس صورت میں یہ نکاح محض باطل ہے اور کسی کی اجازت حتی کہ ہندہ خود بالغ ہونے پر اس کو جائزنہیں کرسکتی کیونکہ غیرکفو میں نابالغہ کانکاح کرنے کی ایسے باپ دادا جو سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہے جیسا کہ تمام فقہائے تصریح کی ہے جامع صغار میں ہے باپ دادا کے غیر کسی ولی نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں کردیا ہو تو لڑکی بالغ ہوکر خود بھی اس نکاح جائز نہیں کرسکتی اوراگر وہ شخص ہندہ کا ہم کفو تھا پھریہ دیکھنا ہوگا کہ ہندہ کا کوئی رشتہ دار مردیا عورت قریب یا بعید جو کہ کسی کی ولایت رکھتا ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا۔ وہ ولی زید ہو یا کوئی اورہو اور اگر ہندہ کا کوئی بھی
حوالہ / References
جامع احکام الصغار علٰی ہامش حاشیہ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹
گردد واگر باہندہ ہیچ کس را از زندگان وقت نکاح قرابت نسبی نبودند زید نہ غیر اوراآنگاہ دردیار ماکہ زیرولایت ہیچ قاضی شرع وحاکم اسلام نیست نظرکردن ست اگر دراں شہر عالمے از علمائے دین کہ فقیہ وصاحب فتوی واعلم علمائے بلدباشد موجودست پس نکاح مذکور براجازت اوموقوف ست اگر اجازت دہد نافذ شود واگرردکند باطل کردد۔
فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم واگر آنجا ہمچو عالمے نیز نباشد آنگاہ ایں نکاح اصلا انعقاد نہ یافت خود باطل محض ست لکونہ عقد فضولی صدر ولامجیز فی جامع الصغار ان کان فی موضع لایکون تحت ولایۃ قاض فانہ لاینعقد اھوفی ردالمحتار عن الفتح ما لامجیز لہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل کما اذا زوجہ الفضولی مجیزہ یتیمۃ فی دارالحرب اواذالم یکن
زندہ لوگوں میں سے نسبی ولی نہیں نہ زید ہے نہ کوئی اور ہے تو ایسی صورت میں جبکہ ہمارے ملك میں کوئی قاضی یا شرعی حاکم سرکاری طورپر مقرر نہیں ہے اگر اس شہر میں کوئی ایسا عالم جو مفتی فقیہ اور علاقہ کا بڑا عالم ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگاکہ وہ اگر جائز کردے تو جائز اور اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی طورپر امور کو سرانجام دینے والے حاکم وقاضی سے خالی ہوتو یہ امور علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہوگا کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کریں اور یہ علماء والی بن جائیں گے اور اگر ایك عالم کی طرف سب کو رجوع مشکل ہو توہر علاقہ کے لوگ اپنے علاقہ کے عالم کی طرف رجوع کریں گے اور کسی علاقہ میں ایسے علماء کی تعداد زیادہ ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں گے اور اگر وہاں کوئی ایساعالم نہ ہو توپھر یہ نکاح اصلا منعقد نہ ہوگا اور خود بخود باطل ہوجائے گا کیونکہ یہ فضولی کا ایسا نکاح ہوگا جسے کوئی بھی جائز کرنے والا نہ ہے جامع الصغار میں ہے کہ اگر ایسی جگہ ہو کہ وہاں کوئی سرکاری شرعی حاکم نہ ہو تونکاح منعقدنہ ہوگا اھ اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ جہاں کوئی ایسا حاکم مجاز نہ ہوجو نکاح جائز کرسکے تو نکاح باطل ہوگا۔
فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم واگر آنجا ہمچو عالمے نیز نباشد آنگاہ ایں نکاح اصلا انعقاد نہ یافت خود باطل محض ست لکونہ عقد فضولی صدر ولامجیز فی جامع الصغار ان کان فی موضع لایکون تحت ولایۃ قاض فانہ لاینعقد اھوفی ردالمحتار عن الفتح ما لامجیز لہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل کما اذا زوجہ الفضولی مجیزہ یتیمۃ فی دارالحرب اواذالم یکن
زندہ لوگوں میں سے نسبی ولی نہیں نہ زید ہے نہ کوئی اور ہے تو ایسی صورت میں جبکہ ہمارے ملك میں کوئی قاضی یا شرعی حاکم سرکاری طورپر مقرر نہیں ہے اگر اس شہر میں کوئی ایسا عالم جو مفتی فقیہ اور علاقہ کا بڑا عالم ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگاکہ وہ اگر جائز کردے تو جائز اور اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی طورپر امور کو سرانجام دینے والے حاکم وقاضی سے خالی ہوتو یہ امور علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہوگا کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کریں اور یہ علماء والی بن جائیں گے اور اگر ایك عالم کی طرف سب کو رجوع مشکل ہو توہر علاقہ کے لوگ اپنے علاقہ کے عالم کی طرف رجوع کریں گے اور کسی علاقہ میں ایسے علماء کی تعداد زیادہ ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں گے اور اگر وہاں کوئی ایساعالم نہ ہو توپھر یہ نکاح اصلا منعقد نہ ہوگا اور خود بخود باطل ہوجائے گا کیونکہ یہ فضولی کا ایسا نکاح ہوگا جسے کوئی بھی جائز کرنے والا نہ ہے جامع الصغار میں ہے کہ اگر ایسی جگہ ہو کہ وہاں کوئی سرکاری شرعی حاکم نہ ہو تونکاح منعقدنہ ہوگا اھ اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ جہاں کوئی ایسا حاکم مجاز نہ ہوجو نکاح جائز کرسکے تو نکاح باطل ہوگا۔
حوالہ / References
الحدیقہ الندیۃ النوع الثانی من الانواع الثلاثۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۵۱
جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹
جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹
سلطان ولاقاض لعدم من یقدر علی الامضاء حالۃ العقدفوقع باطلا اھ ملخصا بے قرابت بمجرد پرورش ولایت نکاح ثابت نہ شود فی جامع الصغار من یتولی صغیرا اوصغیرۃ لایملك تزویجھما ۔ پس دریں صورت اجازت و عدم اجازت زید چیزے نیست واﷲ تعالی اعلم۔
جیساکہ کسی فضولی نے نابالغہ یتیم لڑکی کا نکاح دارالحرب میں کردیا یا وہاں کہ جہاں کوئی سلطان وقاضی نہ ہو توایسی صورت میں نکاح باطل ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی جائز کرنے والا نہیں ہے اھ ملخصا زید کو محض پرورش کی وجہ سے ولایت حاصل نہ ہوگی جامع الصغار میں ہے کہ کسی بچے یا بچی کی کفالت کرنے والا اس کے نکاح کا ولی نہیں بن سکتا لہذا مذکورہ صورت میں زید کی اجازت وعدم اجازت کوئی معنی نہیں رکھتی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۲ : از قاضی باڑی ضلع ہردوئی ڈاکخانہ شاہ آباد مرسلہ حضرت سید امیر حیدر صاحب ۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ سید سجاد حسین مرحوم نے چار لڑکیاں اور ایك زوجہ چھوڑکر انتقال کیا بعد چند عرصہ کے ایك لڑکی فوت ہوگئی بعدا س کے زوجہ نےانتقال کیا تین لڑکیاں دو منسوبہ اور ایك نابالغہ چھوڑی بعد دو سہ ماہ کے دختر کلاں نے بھی انتقال کیا اب لڑکی نابالغ کے نکاح کی اجازت بموجب شرع شریف کے فوقیت ہمشیرہ حقیقی کوہے یا نانی ناناکو حاصل ہے فقط۔
الجواب :
اس نابالغہ کے دادا پر دادا یا ان کے باپ دادا پردادا کی اولاد پسری میں کوئی مسلمان عاقل بالغ مرد باقی ہے تو اس کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے اس کے ہوتے نانا نانی بہن بلکہ ماں بھی کوئی چیز نہیں اورا س طرح کے مرد متعدد ہیں تو ان میں جو قریب تر ہوگا یعنی جوا س نابالغہ کے نسب میں بہ نسبت دوسروں کے کم واسطوں سے ملے گا وہی ولایت پائے گا اور جو برابر درجے کے ہیں وہ ہر ایك ولی ٹھہرے گا مثلا ہندہ بنت زیدبن خالد ہے اور سعید ورشید پسران حمید بن حامد بن خالد اور باقرابن جعفر بن احمد بن حامد اور کبیر صغیر منیر پسران طاہرین مطہر بن حامد مذکور ہیں توولایت نکاح ہندہ سعید ورشید دونوں کویکساں ہے اور ان کے ہوتے باقر وکبیر ومنیر کو استحقاق نہیں ہاں اگر ددھیال میں کوئی مرد
جیساکہ کسی فضولی نے نابالغہ یتیم لڑکی کا نکاح دارالحرب میں کردیا یا وہاں کہ جہاں کوئی سلطان وقاضی نہ ہو توایسی صورت میں نکاح باطل ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی جائز کرنے والا نہیں ہے اھ ملخصا زید کو محض پرورش کی وجہ سے ولایت حاصل نہ ہوگی جامع الصغار میں ہے کہ کسی بچے یا بچی کی کفالت کرنے والا اس کے نکاح کا ولی نہیں بن سکتا لہذا مذکورہ صورت میں زید کی اجازت وعدم اجازت کوئی معنی نہیں رکھتی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۲ : از قاضی باڑی ضلع ہردوئی ڈاکخانہ شاہ آباد مرسلہ حضرت سید امیر حیدر صاحب ۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ سید سجاد حسین مرحوم نے چار لڑکیاں اور ایك زوجہ چھوڑکر انتقال کیا بعد چند عرصہ کے ایك لڑکی فوت ہوگئی بعدا س کے زوجہ نےانتقال کیا تین لڑکیاں دو منسوبہ اور ایك نابالغہ چھوڑی بعد دو سہ ماہ کے دختر کلاں نے بھی انتقال کیا اب لڑکی نابالغ کے نکاح کی اجازت بموجب شرع شریف کے فوقیت ہمشیرہ حقیقی کوہے یا نانی ناناکو حاصل ہے فقط۔
الجواب :
اس نابالغہ کے دادا پر دادا یا ان کے باپ دادا پردادا کی اولاد پسری میں کوئی مسلمان عاقل بالغ مرد باقی ہے تو اس کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے اس کے ہوتے نانا نانی بہن بلکہ ماں بھی کوئی چیز نہیں اورا س طرح کے مرد متعدد ہیں تو ان میں جو قریب تر ہوگا یعنی جوا س نابالغہ کے نسب میں بہ نسبت دوسروں کے کم واسطوں سے ملے گا وہی ولایت پائے گا اور جو برابر درجے کے ہیں وہ ہر ایك ولی ٹھہرے گا مثلا ہندہ بنت زیدبن خالد ہے اور سعید ورشید پسران حمید بن حامد بن خالد اور باقرابن جعفر بن احمد بن حامد اور کبیر صغیر منیر پسران طاہرین مطہر بن حامد مذکور ہیں توولایت نکاح ہندہ سعید ورشید دونوں کویکساں ہے اور ان کے ہوتے باقر وکبیر ومنیر کو استحقاق نہیں ہاں اگر ددھیال میں کوئی مرد
حوالہ / References
ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۷
جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲
جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲
ایسا نہیں خواہ یوں کہ سرے سے کوئی مرد رہا ہی نہیں یا جو ہے وہ مجنون یا رفض وغیرہ بدمذہبوں میں حد کفر تك پہنچا ہوا ہے تو اس وقت اشخاص مذکورین سوال میں ولایت نکاح نانی کو ہے وہ نہ رہے تو نانا کو وہ نہ رہے تو بہن کو اور ان سب میں بھی عقل واسلام کی شرط ضرور ہوگی یعنی اگر مذہب میں فساد ہو تو حد کفر تك نہ پہنچا ہو ورنہ مرتد کو کسی پر ولایت نہیں اگرچہ دعوی اسلام رکھتا ہو
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف واسلام فی حق مسلمۃ وولد مسلم فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم لام الاب ثم للجد الفاسد ثم للاخت الخ اھ ملخصا
وفی ردالمحتار صرح فی الجوھرۃ بتقدیم الجدۃ علی الاخت ونقل ذلك الشرنبلالی عن شرح النقایۃ للعلامۃ قاسم قال ولم یقید الجدۃ بکونھا لام اولاب اھ وفیہ عن الخیریۃ ان الجدۃ لاب اولی من الجدۃ لام قولا واحد افتحصل بعد الام ام الاب ثم ام الام ثم الجد الفاسد تامل اھ قال وما جزم بہ الرملی افتی بہ فی الحامدیۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے نکاح میں عصبہ بنفسہ یعنی وہ مرد جس کی نسبت میں عورت واسطہ نہ بنے وراثت وحجب کی ترتیب پر ولی بنتے ہیں بشرطیکہ یہ حر مکلف اور مسلمان ہوں جبکہ ان کی ولایت مسلمان لڑکی یا لڑکے کے لئے ہو اوراگر عصبات بنفسہا نہ ہوں پھر والدہ کو پھر دادی کو پھر نانے کو پھر اخت کو ولایت ہوگی الخ اھ ملخصا اور ر دالمحتار میں ہے کہ جوہرہ میں جدہ کو بہن پر متقدم کرنے کی صراحت کی ہے شرنبلالی نے اس کو علامہ قاسم کی شرح نقایہ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ جدہ کو سگی کی قید سے مقید نہیں کرسکتے اھ اوراسی میں فتاوی خیریہ سے منقول ہے کہ دادی کا نانی سے مقدم ہونا ایك ہی قول ہے تو حاصل یہ ہوا کہ والدہ کے بعد دادی اور پھر نانی پھر نانا غورکرو اھ اورکہا کہ جس پر رملی نے خیریہ میں جزم کیا ہے اسی پر حامدیہ میں فتوی دیا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۳ : از کلکتہ اسٹریٹ ۱۲ دھرم تلا مرسلہ حافظ عزیزالرحمن صاحب ۴ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کے ماموں نے درصورت نہ ہونے والدہ اور چچا اور برادر اور دادا اس لڑکی کے بہ موجودگی والدہ کے کردیا تھا اب اس نے بحالت بلوغ
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف واسلام فی حق مسلمۃ وولد مسلم فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم لام الاب ثم للجد الفاسد ثم للاخت الخ اھ ملخصا
وفی ردالمحتار صرح فی الجوھرۃ بتقدیم الجدۃ علی الاخت ونقل ذلك الشرنبلالی عن شرح النقایۃ للعلامۃ قاسم قال ولم یقید الجدۃ بکونھا لام اولاب اھ وفیہ عن الخیریۃ ان الجدۃ لاب اولی من الجدۃ لام قولا واحد افتحصل بعد الام ام الاب ثم ام الام ثم الجد الفاسد تامل اھ قال وما جزم بہ الرملی افتی بہ فی الحامدیۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے نکاح میں عصبہ بنفسہ یعنی وہ مرد جس کی نسبت میں عورت واسطہ نہ بنے وراثت وحجب کی ترتیب پر ولی بنتے ہیں بشرطیکہ یہ حر مکلف اور مسلمان ہوں جبکہ ان کی ولایت مسلمان لڑکی یا لڑکے کے لئے ہو اوراگر عصبات بنفسہا نہ ہوں پھر والدہ کو پھر دادی کو پھر نانے کو پھر اخت کو ولایت ہوگی الخ اھ ملخصا اور ر دالمحتار میں ہے کہ جوہرہ میں جدہ کو بہن پر متقدم کرنے کی صراحت کی ہے شرنبلالی نے اس کو علامہ قاسم کی شرح نقایہ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ جدہ کو سگی کی قید سے مقید نہیں کرسکتے اھ اوراسی میں فتاوی خیریہ سے منقول ہے کہ دادی کا نانی سے مقدم ہونا ایك ہی قول ہے تو حاصل یہ ہوا کہ والدہ کے بعد دادی اور پھر نانی پھر نانا غورکرو اھ اورکہا کہ جس پر رملی نے خیریہ میں جزم کیا ہے اسی پر حامدیہ میں فتوی دیا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۳ : از کلکتہ اسٹریٹ ۱۲ دھرم تلا مرسلہ حافظ عزیزالرحمن صاحب ۴ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کے ماموں نے درصورت نہ ہونے والدہ اور چچا اور برادر اور دادا اس لڑکی کے بہ موجودگی والدہ کے کردیا تھا اب اس نے بحالت بلوغ
حوالہ / References
درمختار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۳۔ ۳۱۲
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۳۔ ۳۱۲
اس نکاح کو منظور نہ کیا تو وہ نکاح باقی رہے گا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر عورت کی نامنظوری اس بناپر ہے کہ ماموں نے جس کے ساتھ اس کا نکاح کیا وہ اس کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یا پیشہ وغیرہ امور معتبرہ میں ایسا گھٹاہوا جس سے نکاح اس کے لیے باعث ننگ وعار ہے یااس بناپر کہ ماموں نے اس کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے جب تو وہ نکاح خود ہی باطل محض ہوا جسے خود شرع مطہر نکاح نہیں ٹھہراتی عورت کو منظوری ونامنظوری کو کچھ دخل نہیں اور اگر یہ دونوں وجہیں نہیں بلکہ کسی اور سبب سے نامنظور کرتی ہے تو اس صورت میں اگر عورت نے کہ بکر تھی بعدبلوغ خبرنکاح سنتے ہی یا پہلے سے معلوم تھا تو بالغہ ہوتے ہی فورا بلا توقف اختیاری نامنظوری ظاہر نہ کی تو نکاح لازم ہوگیا اب عورت کو اصلا کوئی چارہ نہیں اور اگر فی الفور آن بلوغ میں یا بعد بلوغ نکاح معلوم ہوا تو آن استماع خبر میں معا اپنی نامنظوری ظاہر کی توازانجا کہ نکاح غیر اب وجد کا کیا ہوا ہے عورت کو اختیار فسخ حاصل ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ بطور خود فسخ کردے اور اس کے حبالہ زوجیت سے باہر ہوجائے بلکہ یہ کہ حاکم شرع کے یہاں دعوی رجوع کرے حاکم بعد تحقیقات امورمذکورہ نکاح فسخ کردے درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومن کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وشرط للکل القضاء وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس وان جھلت اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر نابالغہ کا نکاح باپ اور دادا کے غیر نے کیا تو غیر کفو میں یا بہت کم مہر کے ساتھ کیا تونکاح بالکل نہ ہوگا۔ اور اگر کفو یامہر مثل سے کیا تو نکاح صحیح ہوگا اور نابالغ لڑکی اور لڑکے کو نکاح کے فسخ کا اختیار ہوگا خواہ دخول کے بعد بلوغ یا نکاح کا علم ہوا ہو اس وقت فسخ کرسکتے ہیں فسخ کی ان تمام صورتوں میں قضاء شرط ہے اور باکرہ بالغہ لڑکی کا سکوت اس کے خیار فسخ کو ختم کردیتا ہے جبکہ وہ اپنے نکاح سے باخبرہو اور اس سے اس کی اجازت طلب کی گئی ہو اگرچہ اس کو اپنے اختیار کے بارے میں علم نہ بھی ہو اور مجلس کے خاتمہ تك یہ اختیار باقی رہے گا اھ ملتقطا والله سبحانہ وتعالی زیادہ علم والا ہے اوراس کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
الجواب :
اگر عورت کی نامنظوری اس بناپر ہے کہ ماموں نے جس کے ساتھ اس کا نکاح کیا وہ اس کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یا پیشہ وغیرہ امور معتبرہ میں ایسا گھٹاہوا جس سے نکاح اس کے لیے باعث ننگ وعار ہے یااس بناپر کہ ماموں نے اس کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے جب تو وہ نکاح خود ہی باطل محض ہوا جسے خود شرع مطہر نکاح نہیں ٹھہراتی عورت کو منظوری ونامنظوری کو کچھ دخل نہیں اور اگر یہ دونوں وجہیں نہیں بلکہ کسی اور سبب سے نامنظور کرتی ہے تو اس صورت میں اگر عورت نے کہ بکر تھی بعدبلوغ خبرنکاح سنتے ہی یا پہلے سے معلوم تھا تو بالغہ ہوتے ہی فورا بلا توقف اختیاری نامنظوری ظاہر نہ کی تو نکاح لازم ہوگیا اب عورت کو اصلا کوئی چارہ نہیں اور اگر فی الفور آن بلوغ میں یا بعد بلوغ نکاح معلوم ہوا تو آن استماع خبر میں معا اپنی نامنظوری ظاہر کی توازانجا کہ نکاح غیر اب وجد کا کیا ہوا ہے عورت کو اختیار فسخ حاصل ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ بطور خود فسخ کردے اور اس کے حبالہ زوجیت سے باہر ہوجائے بلکہ یہ کہ حاکم شرع کے یہاں دعوی رجوع کرے حاکم بعد تحقیقات امورمذکورہ نکاح فسخ کردے درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومن کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وشرط للکل القضاء وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس وان جھلت اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر نابالغہ کا نکاح باپ اور دادا کے غیر نے کیا تو غیر کفو میں یا بہت کم مہر کے ساتھ کیا تونکاح بالکل نہ ہوگا۔ اور اگر کفو یامہر مثل سے کیا تو نکاح صحیح ہوگا اور نابالغ لڑکی اور لڑکے کو نکاح کے فسخ کا اختیار ہوگا خواہ دخول کے بعد بلوغ یا نکاح کا علم ہوا ہو اس وقت فسخ کرسکتے ہیں فسخ کی ان تمام صورتوں میں قضاء شرط ہے اور باکرہ بالغہ لڑکی کا سکوت اس کے خیار فسخ کو ختم کردیتا ہے جبکہ وہ اپنے نکاح سے باخبرہو اور اس سے اس کی اجازت طلب کی گئی ہو اگرچہ اس کو اپنے اختیار کے بارے میں علم نہ بھی ہو اور مجلس کے خاتمہ تك یہ اختیار باقی رہے گا اھ ملتقطا والله سبحانہ وتعالی زیادہ علم والا ہے اوراس کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
مسئلہ ۳۲۴ : از شہر کہنہ ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے انتقال کیا اور دو لڑکی ایك قریب ایك سال اور دوسری قریب تین سال اور بیوی اور والدہ تین بھائی چھوڑے ان لڑکیوں نے تامدت سات سال زیر سایہ اپنی والدہ اور چچاؤں کے پرورش پائی قضائے الہی بعد سات سال والدہ نے بھی انتقال کیا چونکہ چچا اپنے اپنے تعلقوں پر تھے یہاں موجود نہ تھے خالائیں آئیں اور حیلہ وفریب کرکے لڑکیوں کو لے گئیں کہ تاآنے چچاؤں کے یہ لڑکیاں ہمارے پاس ہیں جب چچا آئیں گے فورا روانہ کردیں گے یہاں سے لے جاکر دونوں لڑکیوں کے نکاح عدم موجودگی چچاؤں میں باختیار خود اپنے لڑکوں کے ساتھ کرلئے اس صورت میں یہ نکاح ہوئے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
آٹھ سال کی لڑکی ضرور نابالغہ ہے یونہی دس سال کی بھی جب تك حیض نہ آئے یا پندرہ سال کامل کی عمر نہ ہوجائے اور نابالغ کا اختیار عصبہ کو ہے عصبہ کے ہوتے ذوی الارحام کوئی چیز نہیں۔ ہدایہ میں ہے :
لغیر العصبات من الاقارب ولایۃ التزویج عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی معناہ عند عدم العصبات ۔
نابالغہ کے نکاح کی ولایت عصبات کی غیر موجودگی میں دیگر اقارب کو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك حاصل ہے۔ (ت)
چچا عصبہ ہے اور خالہ ذوات الارحام سے خالہ سگے چچا سے چھتیسویں درجے میں ہے کہ ۱حقیقی چچا نہ ہو تو ۲سوتیلے چچا کو نکاح کی ولایت ہے پھر ۳حقیقی چچا کے بیٹے کو پھر ۴سوتیلے چچا کے بٹیے کو پھر ۵باپ کا حقیقی چچا پھر ۶سوتیلا پھر ۷باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا پھر۸سوتیلا کا پھر۹دادا کا حقیقی چچا پھر۱۰سوتیلا پھر ۱۱دادا کے حقیقی چچا کا بیٹا پھر۱۲سوتیلے کا پھر ۱۳اور دور کا سگا چچا ۱۴پھرسوتیلا ۱۵پھر اس کا بیٹا ۱۶پھر اس کا ۱۷پھر آزاد کرنے والا ۱۸پھر اس کا عصبہ یہ سب عصبات ہیں ۱۹جب ان میں کوئی نہ ہو تو ماں ولی ہے ۲۰پھر دادی ۲۱پھر نانی ۲۲پھر بیٹی ۲۳پھر پوتی ۲۴پھر نواسی ۲۵پھر پسر کی پوتی نواسی ۲۶پھر دختر کی ۲۷پھر نانا ۲۸پھر سگی بہن ۲۹پھر سوتیلی ۳۰پھر ماں کی اولاد جو باپ میں شریك نہیں ۳۱پھر سگی بہن کی اولاد ۳۲پھر سوتیلی کی ۳۳پھر اولاد مادر کی ۳۴پھر پھوپھی ۳۵پھر ماموں ۳۶اور جب ان سب میں کوئی نہ ہو تو خالہ ان تمام درجات کی تفصیل عالمگیری ودرمختار وغیرہا سے ظاہر فتاوی قاضی خاں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے انتقال کیا اور دو لڑکی ایك قریب ایك سال اور دوسری قریب تین سال اور بیوی اور والدہ تین بھائی چھوڑے ان لڑکیوں نے تامدت سات سال زیر سایہ اپنی والدہ اور چچاؤں کے پرورش پائی قضائے الہی بعد سات سال والدہ نے بھی انتقال کیا چونکہ چچا اپنے اپنے تعلقوں پر تھے یہاں موجود نہ تھے خالائیں آئیں اور حیلہ وفریب کرکے لڑکیوں کو لے گئیں کہ تاآنے چچاؤں کے یہ لڑکیاں ہمارے پاس ہیں جب چچا آئیں گے فورا روانہ کردیں گے یہاں سے لے جاکر دونوں لڑکیوں کے نکاح عدم موجودگی چچاؤں میں باختیار خود اپنے لڑکوں کے ساتھ کرلئے اس صورت میں یہ نکاح ہوئے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
آٹھ سال کی لڑکی ضرور نابالغہ ہے یونہی دس سال کی بھی جب تك حیض نہ آئے یا پندرہ سال کامل کی عمر نہ ہوجائے اور نابالغ کا اختیار عصبہ کو ہے عصبہ کے ہوتے ذوی الارحام کوئی چیز نہیں۔ ہدایہ میں ہے :
لغیر العصبات من الاقارب ولایۃ التزویج عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی معناہ عند عدم العصبات ۔
نابالغہ کے نکاح کی ولایت عصبات کی غیر موجودگی میں دیگر اقارب کو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك حاصل ہے۔ (ت)
چچا عصبہ ہے اور خالہ ذوات الارحام سے خالہ سگے چچا سے چھتیسویں درجے میں ہے کہ ۱حقیقی چچا نہ ہو تو ۲سوتیلے چچا کو نکاح کی ولایت ہے پھر ۳حقیقی چچا کے بیٹے کو پھر ۴سوتیلے چچا کے بٹیے کو پھر ۵باپ کا حقیقی چچا پھر ۶سوتیلا پھر ۷باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا پھر۸سوتیلا کا پھر۹دادا کا حقیقی چچا پھر۱۰سوتیلا پھر ۱۱دادا کے حقیقی چچا کا بیٹا پھر۱۲سوتیلے کا پھر ۱۳اور دور کا سگا چچا ۱۴پھرسوتیلا ۱۵پھر اس کا بیٹا ۱۶پھر اس کا ۱۷پھر آزاد کرنے والا ۱۸پھر اس کا عصبہ یہ سب عصبات ہیں ۱۹جب ان میں کوئی نہ ہو تو ماں ولی ہے ۲۰پھر دادی ۲۱پھر نانی ۲۲پھر بیٹی ۲۳پھر پوتی ۲۴پھر نواسی ۲۵پھر پسر کی پوتی نواسی ۲۶پھر دختر کی ۲۷پھر نانا ۲۸پھر سگی بہن ۲۹پھر سوتیلی ۳۰پھر ماں کی اولاد جو باپ میں شریك نہیں ۳۱پھر سگی بہن کی اولاد ۳۲پھر سوتیلی کی ۳۳پھر اولاد مادر کی ۳۴پھر پھوپھی ۳۵پھر ماموں ۳۶اور جب ان سب میں کوئی نہ ہو تو خالہ ان تمام درجات کی تفصیل عالمگیری ودرمختار وغیرہا سے ظاہر فتاوی قاضی خاں
حوالہ / References
ہدایہ باب فی الاولیاء والاکفاء المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ / ۲۹۸
میں ہے :
ولایۃ النکاح الی العصبات اقرب الی الصغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما علی ھذا الترتیب وان سفلوا ثم العم لاب وام اھ ملخصا۔
نکاح کی ولایت عصبات کو ہے اور نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبات والد پھر دادا حقیقی بھائی پھر باپ کی طرف سے بھائی پھر ان دونوں کے لڑکوں کو اس ترتیب سے نیچے تک پھر حقیقی چچا کو اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے :
فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(وعد درجات الی ان قال)ثم الخالات ۔
اگر عصبہ نہ ہوتو ماں کو ولایت ہے اور ولایت کے درجات متعددہ کو بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا پھر خالاؤں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
پس چچا کے ہوتے جو نکاح خالہ کردے چچا کی اجازت پر موقوف ہے اگر جائز رکھے جائز اور اگر رد کردے تو باطل ہوجائے درمختار میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اگر قریبی ولی کے ہوتے ہوئے بعید ولی نے نکاح کردیا تو قریب ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ الله تعالی اعلم ہے اور اس کا علم اتم اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۵ : از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملك زادگان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نوجوان بالغ لڑکی ناکتخدا کا نکاح ا س کی ماں نے عدم موجودگی پدر میں اپنے عزیز واقارب کو جمع کرکے اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا باپ بھی اس لڑکے کو جانتا ہے اوراس پر راضی بھی تھا مگر یہ کہتا تھاکہ جب تك یہ نوکر نہ ہو مت کرنا اس صورت میں نکاح شرعا درست ہوا یا نہیں اور ماں کوبہ موجودگی باپ کے اولاد پر ایسا اختیارہے یا نہیں
الجواب :
نابالغ اولاد باپ کے ہوتے ماں کے لئے ایسا اختیار اصلا نہیں۔ اور بالغ اولاد پر ماں باپ کسی کے لئے
ولایۃ النکاح الی العصبات اقرب الی الصغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما علی ھذا الترتیب وان سفلوا ثم العم لاب وام اھ ملخصا۔
نکاح کی ولایت عصبات کو ہے اور نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبات والد پھر دادا حقیقی بھائی پھر باپ کی طرف سے بھائی پھر ان دونوں کے لڑکوں کو اس ترتیب سے نیچے تک پھر حقیقی چچا کو اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے :
فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(وعد درجات الی ان قال)ثم الخالات ۔
اگر عصبہ نہ ہوتو ماں کو ولایت ہے اور ولایت کے درجات متعددہ کو بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا پھر خالاؤں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
پس چچا کے ہوتے جو نکاح خالہ کردے چچا کی اجازت پر موقوف ہے اگر جائز رکھے جائز اور اگر رد کردے تو باطل ہوجائے درمختار میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اگر قریبی ولی کے ہوتے ہوئے بعید ولی نے نکاح کردیا تو قریب ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ الله تعالی اعلم ہے اور اس کا علم اتم اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۵ : از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملك زادگان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نوجوان بالغ لڑکی ناکتخدا کا نکاح ا س کی ماں نے عدم موجودگی پدر میں اپنے عزیز واقارب کو جمع کرکے اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا باپ بھی اس لڑکے کو جانتا ہے اوراس پر راضی بھی تھا مگر یہ کہتا تھاکہ جب تك یہ نوکر نہ ہو مت کرنا اس صورت میں نکاح شرعا درست ہوا یا نہیں اور ماں کوبہ موجودگی باپ کے اولاد پر ایسا اختیارہے یا نہیں
الجواب :
نابالغ اولاد باپ کے ہوتے ماں کے لئے ایسا اختیار اصلا نہیں۔ اور بالغ اولاد پر ماں باپ کسی کے لئے
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ولایت جبری نہیں۔ حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الایم احق بنفسھا من ولیھا رواہ الستۃ الا البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
بالغہ عورت ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اس کو امام بخاری کے سوا ائمہ ستہ نے بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ذکر کیا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔
بالغہ باکرہ لڑکی کونکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر جبر کی ولایت کسی کو حاصل نہ رہی (ت)
صورت مذکورہ میں جبکہ لڑکی بالغہ ہے تو اس کا نکاح بے اس کے اپنے اذن کے نہ ماں کے کئے نافذ ہوسکے نہ باپ کے ہاں جس عورت بالغہ کا ولی موجود ہو وہ غیر کفو سے اپنانکاح نہ خود کرسکتی ہے نہ دوسرے کو اذن دے سکتی ہے جب تك ولی اس شخص کے غیر کفو ہونے پر مطلع ہوکر پیش از نکاح بالتصریح اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے ورنہ نکاح محض باطل ہوگا کہ پھر رضائے ولی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ اھ ملخصا۔
ولی کی رضا کے بغیر حرہ عاقلہ بالغہ کا اپنی مرضی سے نکاح نافذ ہوتا ہے اور غیر کفو میں ولی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح جائز ہونے پر فتوی ہے جبکہ ولی غیر کفو میں ہونے کا علم حاصل کرچکا ہو اھ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ بحر ۔
یہ اس صورت میں ہے جب لڑکی کا کوئی ولی ہو اور نکاح سے قبل وہ اس پر راضی نہ ہو تو نکاح کے بعد ولی کی رضا مفید نہ ہوگی بحر۔ (ت)
الایم احق بنفسھا من ولیھا رواہ الستۃ الا البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
بالغہ عورت ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اس کو امام بخاری کے سوا ائمہ ستہ نے بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ذکر کیا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔
بالغہ باکرہ لڑکی کونکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر جبر کی ولایت کسی کو حاصل نہ رہی (ت)
صورت مذکورہ میں جبکہ لڑکی بالغہ ہے تو اس کا نکاح بے اس کے اپنے اذن کے نہ ماں کے کئے نافذ ہوسکے نہ باپ کے ہاں جس عورت بالغہ کا ولی موجود ہو وہ غیر کفو سے اپنانکاح نہ خود کرسکتی ہے نہ دوسرے کو اذن دے سکتی ہے جب تك ولی اس شخص کے غیر کفو ہونے پر مطلع ہوکر پیش از نکاح بالتصریح اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے ورنہ نکاح محض باطل ہوگا کہ پھر رضائے ولی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ اھ ملخصا۔
ولی کی رضا کے بغیر حرہ عاقلہ بالغہ کا اپنی مرضی سے نکاح نافذ ہوتا ہے اور غیر کفو میں ولی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح جائز ہونے پر فتوی ہے جبکہ ولی غیر کفو میں ہونے کا علم حاصل کرچکا ہو اھ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ بحر ۔
یہ اس صورت میں ہے جب لڑکی کا کوئی ولی ہو اور نکاح سے قبل وہ اس پر راضی نہ ہو تو نکاح کے بعد ولی کی رضا مفید نہ ہوگی بحر۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۵ ، سنن ابوداؤد فصل فی الثیب آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۸۶
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
اور کفو وہ ہے جس کے قوم مذہب چلن پیشے وغیرہ میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جس کے سبب اس کے ساتھ نکاح اولیائے دختر کے لئے اہل عرف کے نزدیك موجب ننگ وعار وبدنامی ہو نہ ایسی حالت محتاجی ناداری بے حرفگی و بے سامانی میں ہو کہ عورت کا نفقہ واجبہ نہ چل سکے یا جس قدر مہر شرعا یا عرفا پیشگی دینا ٹھہرا ہے نہ دے سکے۔ درمختار میں ہے :
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ومالا بان یقدر علی المعجل ونفقۃ شھر لو غیر محترف والافان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع وحرفۃ اھ ملخصا۔
عرب وعجم میں کفوکے لئے دینداری اور مال کا اعتبار ہوگا کہ وہ مہر معجل دینے پر قادرہو اور وہ کاروبار والا نہ ہو تو ایك ماہ کا خرچہ اداکرنے پر قادر ہو ورنہ اگر وہ کاروبار والا ہے تو روزانہ بیوی کو کفایت کے لئے نفقہ کی قدرت رکھتا ہو اگر عورت کو جماع کی برداشت ہو ورنہ مہر معجل کی قدرت کافی ہے اور برابری معتبرہے پیشہ میں اھ ملخصا(ت)
پس اگر شخص مذکور ان سب نقائص سے خالی تھا اور نکاح باذن دختر ہوا تو بلا شبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا جس میں ناموجودی وناراضی پدر کچھ خلل انداز نہیں۔ نہ اس کا نوکرنہ ہونا مخل ہوسکتاہے جبکہ وہ اور مال رکھتاہو یا کسی دستکاری سے اپنے اور زوجہ کے کھانے پینے کے قابل ہوسکتا ہے یا حسب عادت بلد اس کے ماں باپ بہو بیٹے کی کافی خبر گیری رکھیں اور کچھ مہر پیشگی دینا ہو تو اس کے ادا پر بھی قادر ہو درمختار میں ہے :
الصبی کفو بغنی ابیہ وامہ بالنسبۃ الی المھر المعجل لاالنفقۃ لان العادۃ ان الاباء یتحملون عن الابناء المھر لا النفقۃ ذخیرۃ اھ ملخصا۔
لڑکا باپ یا ماں کے غنی ہونے کی وجہ سے مہرکے بارے میں کفو ہوسکتا ہے کیونکہ عادۃ والدین لڑکوں کے مہر کو خود برداشت کرتے ہیں نفقہ کے معاملہ میں والدین کا غنا کارآمد نہیں کیونکہ والدین نفقہ کی کفالت نہیں لیتے ذخیرہ اھ ملخصا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مقتضاہ انہ لوجرت العادۃ بتحمل النفقۃ ایضا عن الابن الصغیر کما فی
اس سے حاصل ہو ا کہ اگر نابالغ بیٹے کی طرف سے نفقہ کو اپنے ذمے لئے جانا عاد ت ہو جیساہمارے زمانہ میں ہے تو بھی کفو
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ومالا بان یقدر علی المعجل ونفقۃ شھر لو غیر محترف والافان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع وحرفۃ اھ ملخصا۔
عرب وعجم میں کفوکے لئے دینداری اور مال کا اعتبار ہوگا کہ وہ مہر معجل دینے پر قادرہو اور وہ کاروبار والا نہ ہو تو ایك ماہ کا خرچہ اداکرنے پر قادر ہو ورنہ اگر وہ کاروبار والا ہے تو روزانہ بیوی کو کفایت کے لئے نفقہ کی قدرت رکھتا ہو اگر عورت کو جماع کی برداشت ہو ورنہ مہر معجل کی قدرت کافی ہے اور برابری معتبرہے پیشہ میں اھ ملخصا(ت)
پس اگر شخص مذکور ان سب نقائص سے خالی تھا اور نکاح باذن دختر ہوا تو بلا شبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا جس میں ناموجودی وناراضی پدر کچھ خلل انداز نہیں۔ نہ اس کا نوکرنہ ہونا مخل ہوسکتاہے جبکہ وہ اور مال رکھتاہو یا کسی دستکاری سے اپنے اور زوجہ کے کھانے پینے کے قابل ہوسکتا ہے یا حسب عادت بلد اس کے ماں باپ بہو بیٹے کی کافی خبر گیری رکھیں اور کچھ مہر پیشگی دینا ہو تو اس کے ادا پر بھی قادر ہو درمختار میں ہے :
الصبی کفو بغنی ابیہ وامہ بالنسبۃ الی المھر المعجل لاالنفقۃ لان العادۃ ان الاباء یتحملون عن الابناء المھر لا النفقۃ ذخیرۃ اھ ملخصا۔
لڑکا باپ یا ماں کے غنی ہونے کی وجہ سے مہرکے بارے میں کفو ہوسکتا ہے کیونکہ عادۃ والدین لڑکوں کے مہر کو خود برداشت کرتے ہیں نفقہ کے معاملہ میں والدین کا غنا کارآمد نہیں کیونکہ والدین نفقہ کی کفالت نہیں لیتے ذخیرہ اھ ملخصا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مقتضاہ انہ لوجرت العادۃ بتحمل النفقۃ ایضا عن الابن الصغیر کما فی
اس سے حاصل ہو ا کہ اگر نابالغ بیٹے کی طرف سے نفقہ کو اپنے ذمے لئے جانا عاد ت ہو جیساہمارے زمانہ میں ہے تو بھی کفو
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
زماننا انہ یکون کفوا بل فی زماننا یتحملھا عن ابنہ الکبیر الذی فی حجرہ والظاھر انہ یکون کفوا بذلك لان المقصود حصول النفقۃ من جھۃ الزوج بملك اوکسب او غیرہ ویؤیدہ ان المتبادر من کلام الھدایۃ وغیرھاان الکلام فی مطلق الزوج صغیرا کان اوکبیرا الخ۔
ہوسکے گا ہمارے زمانے میں تو لوگ اپنے اس رہنے والے بالغ بیٹے کی طرف سے بھی نفقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں کفو ہونا ظاہر ہے کیونکہ مقصد تو لڑکے کی طرف سے بیوی کے لئے نفقہ کا حصول ہے مالك ہونے یا کا سب یا کسی اورطریقہ سے نفقہ حاصل ہو اور اس بات کی تائید ہدایہ کے کلام سے متبادر ہوتی ہے کہ انھوں نے مطلق خاوند کی بات کی ہے خواہ نابالغ ہو یابالغ ہو الخ (ت)
ہاں اگر دخترکے مہر مثل میں کمی فاحش کی گئی ہے تو باپ کو اس پر اعتراض پہنچتا ہے جس کا حاصل اس قدر کہ مہر مثل پور اکرالیا جائے اورپورا نہ کرے تو قاضی نکاح فسخ کردے نہ یہ کہ خواہ مخواہ نکاح رد ہوجائے درمختار میں ہے :
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار ۔
اگر بالغہ نے اپنے نکاح میں مہر مثل سے کم مہر منظور کیا تو ولی عصبہ کو اعتراض کا حق ہے تا وقتیکہ لڑکی اپنا مہر مثل پورا کرائے یا پھر قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح فسخ کرے۔ (ت)
البتہ اگر امور مذکورہ بالاسے کسی امر میں ایسا بھی ہے جس کے باعث وہ شرعا کفو نہ ٹھہرے اور باپ نے اس پر مطلع ہوکر اپنی رضامندی ظاہر نہ کردی تھی تو بیشک یہ نکاح سرے سے باطل ہوا کہ اب باپ کی رضامندی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا اس تقدیر پر فرض ہے کہ مرد عورت فورا جدا ہوجائیں اور اس نکاح کو ترك کردیں پھر اگر چاہیں تو بعد اجازت صریحہ پدر از سرنو نکاح کرلیں والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۶ : ۲۸ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ ا س کے باپ دادا بھائی بھتیجا کوئی نہیں حقیقی چچا ہیں چچا کا نابالغ لڑکا ہے اگر یہ ولی جائز اپنی بھتیجی نابالغہ کا اپنے پسر نابالغ سے بولایت
ہوسکے گا ہمارے زمانے میں تو لوگ اپنے اس رہنے والے بالغ بیٹے کی طرف سے بھی نفقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں کفو ہونا ظاہر ہے کیونکہ مقصد تو لڑکے کی طرف سے بیوی کے لئے نفقہ کا حصول ہے مالك ہونے یا کا سب یا کسی اورطریقہ سے نفقہ حاصل ہو اور اس بات کی تائید ہدایہ کے کلام سے متبادر ہوتی ہے کہ انھوں نے مطلق خاوند کی بات کی ہے خواہ نابالغ ہو یابالغ ہو الخ (ت)
ہاں اگر دخترکے مہر مثل میں کمی فاحش کی گئی ہے تو باپ کو اس پر اعتراض پہنچتا ہے جس کا حاصل اس قدر کہ مہر مثل پور اکرالیا جائے اورپورا نہ کرے تو قاضی نکاح فسخ کردے نہ یہ کہ خواہ مخواہ نکاح رد ہوجائے درمختار میں ہے :
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار ۔
اگر بالغہ نے اپنے نکاح میں مہر مثل سے کم مہر منظور کیا تو ولی عصبہ کو اعتراض کا حق ہے تا وقتیکہ لڑکی اپنا مہر مثل پورا کرائے یا پھر قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح فسخ کرے۔ (ت)
البتہ اگر امور مذکورہ بالاسے کسی امر میں ایسا بھی ہے جس کے باعث وہ شرعا کفو نہ ٹھہرے اور باپ نے اس پر مطلع ہوکر اپنی رضامندی ظاہر نہ کردی تھی تو بیشک یہ نکاح سرے سے باطل ہوا کہ اب باپ کی رضامندی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا اس تقدیر پر فرض ہے کہ مرد عورت فورا جدا ہوجائیں اور اس نکاح کو ترك کردیں پھر اگر چاہیں تو بعد اجازت صریحہ پدر از سرنو نکاح کرلیں والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۶ : ۲۸ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ ا س کے باپ دادا بھائی بھتیجا کوئی نہیں حقیقی چچا ہیں چچا کا نابالغ لڑکا ہے اگر یہ ولی جائز اپنی بھتیجی نابالغہ کا اپنے پسر نابالغ سے بولایت
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۴
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
خود ایسی حالت میں نکاح کردے کہ لڑکی زیر پرورش نانی کے ہو اس کے پاس موجود ہو تو یہ نکاح صحیح وجائز ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صحیح وجائز ہے جبکہ وہ لڑکا اس نابالغہ کا کفو ہو اور نابالغہ کے مہر مثل میں صریح کمی نہ کی جائے۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرہ ای غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح الخ اھ ملخصا۔
اگر نکاح دینے والا باپ اور دادا نہ ہو تو غیر کفو یا مہر مثل سے صریح کم کی صورت میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور کفو اور مہر مثل ہو تو نکاح صحیح ہوگا الخ اھ ملخصا۔ (ت)
جبکہ یہ شخص لڑکے لڑکی دونوں کا ولی ہے تو دو گواہوں کے سامنے اس کا صرف اتنا کہہ دینا کہ “ میں نے اپنی فلاں بھتیجی اپنے فلاں بیٹے کے نکاح میں اتنے مہر پر دی “ کفایت کرتا ہے کچھ لڑکے یا لڑکی کا حاضر ہونا ضرور نہیں۔
نعم یجب ان لایکون غائبا غیبۃ منقطعۃ فانہ لایبقی ولیاح علی ماصححوہ کما نقحہ فی ردالمحتار
ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ چچا اس حد تك غائب نہ ہو کہ وہاں تك رسائی مشکل ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ ولی نہ قرار پائے گا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصحیح کی ہے جس کی تنقیح ردالمحتار میں کی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یتولی طرفی النکاح واحد بایجاب یقوم مقام القبول کأن کان ولیا من الجانبین اھ ملخصا وفی ردالمحتار کزوجت ابنی بنت اخی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایك شخص نکاح میں دونوں جانب سے ولی ہوتے ہوئے ایجاب کردے تو وہ قبول کے قائم مقام بھی ہو جائیگا مثلا جب وہ دونوں جانب سے خود ولی ہو اھ ملخصا اور ردالمحتار میں ہے مثلا یوں کہے : “ میں نے اپنی بیٹی کا اپنے بھتیجے سے نکاح کردیا “ والله تعالی اعلم۔ (ت)
الجواب :
صحیح وجائز ہے جبکہ وہ لڑکا اس نابالغہ کا کفو ہو اور نابالغہ کے مہر مثل میں صریح کمی نہ کی جائے۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرہ ای غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح الخ اھ ملخصا۔
اگر نکاح دینے والا باپ اور دادا نہ ہو تو غیر کفو یا مہر مثل سے صریح کم کی صورت میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور کفو اور مہر مثل ہو تو نکاح صحیح ہوگا الخ اھ ملخصا۔ (ت)
جبکہ یہ شخص لڑکے لڑکی دونوں کا ولی ہے تو دو گواہوں کے سامنے اس کا صرف اتنا کہہ دینا کہ “ میں نے اپنی فلاں بھتیجی اپنے فلاں بیٹے کے نکاح میں اتنے مہر پر دی “ کفایت کرتا ہے کچھ لڑکے یا لڑکی کا حاضر ہونا ضرور نہیں۔
نعم یجب ان لایکون غائبا غیبۃ منقطعۃ فانہ لایبقی ولیاح علی ماصححوہ کما نقحہ فی ردالمحتار
ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ چچا اس حد تك غائب نہ ہو کہ وہاں تك رسائی مشکل ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ ولی نہ قرار پائے گا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصحیح کی ہے جس کی تنقیح ردالمحتار میں کی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یتولی طرفی النکاح واحد بایجاب یقوم مقام القبول کأن کان ولیا من الجانبین اھ ملخصا وفی ردالمحتار کزوجت ابنی بنت اخی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایك شخص نکاح میں دونوں جانب سے ولی ہوتے ہوئے ایجاب کردے تو وہ قبول کے قائم مقام بھی ہو جائیگا مثلا جب وہ دونوں جانب سے خود ولی ہو اھ ملخصا اور ردالمحتار میں ہے مثلا یوں کہے : “ میں نے اپنی بیٹی کا اپنے بھتیجے سے نکاح کردیا “ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۶
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۶
مسئلہ ۳۲۷ : عمرو اور زید د وحقیقی بھائی ہیں ان میں زید ایك لڑکی نابالغ چھوڑ کر مرگیا عمرو اپنی بھاوج بیوہ زوجہ زید سے لڑکی نابالغ کو حیلہ کرکے اپنے مکان پر لے گیا اس لڑکی نابالغ کا نکاح بلا اجازت اس کی والدہ کسی شخص بیمار کے ساتھ اپنی اجازت سے کردیا اب عمرو اپنی بھاوج سے متقاضی ہے کہ لڑکی کا نکاح ہم نے اپنی اجازت سے کردیا اور رخصت نہیں کیا اب رخصت کردوورنہ عدالت ہوگی ا س صورت میں بیوہ پوچھتی ہے کہ علمائے دین و مولویان شرع متین کیا فتوی دیتے ہیں کہ یہ نکاح درست ہے یانہیں فتوی لکھ کر مہر ودستخط سے مزین فرمائیں۔
الجواب
نابالغہ کی ولایت اس کے چچا کو ہے(بشرطیکہ کوئی جوان بھائی بھتیجا حاضر نہ ہو)چچا کے ہوتے ماں کو اختیار نہیں اور شوہر کی بیماری سے بھی درستی نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا پس اگر وہ شخص جس سے عمرو نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا اس کا کفو ہے(یعنی قوم مذہب پیشہ وغیرہ میں ا س کی بہ نسبت ایسا کم نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اس صغیرہ کے اولیاء کو باعث عار ہو)اور مہر مثل میں فاحش کمی بھی نہ کی تو نکاح بے شك صحیح ہوگیا جس پر ماں کو کسی طرح اعتراض نہیں پہنچتا ہاں لڑکی جوان ہو کر اگر خود ناراضی ظاہر کرے تو حاکم شرع کے حضور نالشی ہو کر فسخ کراسکتی ہے اور اگر وہ شخص کفو نہیں یا چچا نے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا اس نے پچاس روپے باندھے تو یہ نکاح سرے سے ہواہی نہیں۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولا الام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے اگرنکاح دینے والا باپ اور دادا کا غیر ہو خواہ وہ ماں ہو غیر کفو یا مہر مثل صریح کم ہو تو نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اور کفو اور مہر مثل ہو تو صحیح ہوگا اور نابالغ لڑکے یا لڑکی کو بلوغ پر فسخ کا اختیار ہوگا یا اگر ان کو بلوغ کے بعد علم ہوا ہو تو اس وقت بھی فسخ کا اختیار ہوگا اھ مختصرا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نابالغ کا نکاح بہ اجازت ہندہ اس کی پھوپھی کے محمودہ بالغہ کے ساتھ ہوا وقت نکاح عمر زید کی چودہ سال کی اور عمر محمودہ کی سولہ سال کی تھی زید نکاح سے چار مہینے بعد فوت
الجواب
نابالغہ کی ولایت اس کے چچا کو ہے(بشرطیکہ کوئی جوان بھائی بھتیجا حاضر نہ ہو)چچا کے ہوتے ماں کو اختیار نہیں اور شوہر کی بیماری سے بھی درستی نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا پس اگر وہ شخص جس سے عمرو نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا اس کا کفو ہے(یعنی قوم مذہب پیشہ وغیرہ میں ا س کی بہ نسبت ایسا کم نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اس صغیرہ کے اولیاء کو باعث عار ہو)اور مہر مثل میں فاحش کمی بھی نہ کی تو نکاح بے شك صحیح ہوگیا جس پر ماں کو کسی طرح اعتراض نہیں پہنچتا ہاں لڑکی جوان ہو کر اگر خود ناراضی ظاہر کرے تو حاکم شرع کے حضور نالشی ہو کر فسخ کراسکتی ہے اور اگر وہ شخص کفو نہیں یا چچا نے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا اس نے پچاس روپے باندھے تو یہ نکاح سرے سے ہواہی نہیں۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولا الام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے اگرنکاح دینے والا باپ اور دادا کا غیر ہو خواہ وہ ماں ہو غیر کفو یا مہر مثل صریح کم ہو تو نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اور کفو اور مہر مثل ہو تو صحیح ہوگا اور نابالغ لڑکے یا لڑکی کو بلوغ پر فسخ کا اختیار ہوگا یا اگر ان کو بلوغ کے بعد علم ہوا ہو تو اس وقت بھی فسخ کا اختیار ہوگا اھ مختصرا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نابالغ کا نکاح بہ اجازت ہندہ اس کی پھوپھی کے محمودہ بالغہ کے ساتھ ہوا وقت نکاح عمر زید کی چودہ سال کی اور عمر محمودہ کی سولہ سال کی تھی زید نکاح سے چار مہینے بعد فوت
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ہوگیا آیا یہ نکاح صحیح اور دین مہر محمودہ کا واجب الادا ہے یا نہیں اور ہے تو کس قدر اور زید محمودہ دونوں سنی المذہب ہیں بحوالہ کتاب جواب تحریر فرمایا جائے۔
الجواب :
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زید کا ایك جوان بھائی موجود ہے پس صورت مذکورہ میں اولا اس قدرمعلوم ہوجانا ضروری ہے کہ شرعا بلوغ کا دارومدار خواہی نخواہی عمرہی پر نہیں رکھا گیا جب تك آدمی اتنے سال کا نہ ہو بالغ نہ کہا جائے گا اگرچہ تمام آثار جوانی واضح وآشکار ہوں عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ حقیقۃ لڑکوں میں مدار کار انزال واحتلام لڑکیوں میں حیض وغیرہ پر ہے اس لئے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ لڑکاکم سے کم بارہ سال اور لڑکی نو برس میں بالغ ہوسکتی ہے ہاں جب یہ امور ظاہر نہ ہو ں تو اس وقت عمر پر فیصلہ کیا گیا۔
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والاصل ھوالانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فیھما شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی لقصر اعمار اھل زماننا وادنی مدتہ لہ اثنا عشرۃ سنۃ ولہا تسع سنین ھوا لمختار اھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے لڑکے کا بلوغ احتلام انزال اور بیوی کو حاملہ کرنے سے ثابت ہوگا جبکہ انزال اصل ثبوت ہے اور لڑکی کا بلوغ احتلام حیض اور حمل سے ثابت ہوگا اگر ان علامات میں سے کوئی چیز دونوں میں نہ پائی جائے تو پھر دونوں کی عمر پندرہ سال تك ہونا ان کا بلوغ ہوگا۔ اس پر فتوی دیا جائے گا کیونکہ ہمارے زمانہ والوں کی عمریں کم ہوتی ہیں اور لڑکے کے لئے کم از کم حد بلوغ بارہ سال اورلڑکی کے لئے نو سال ہے یہی مختار قول ہے اھ ملخصا۔ (ت)
پس ممکن کہ زید چہاردہ سالہ وقت نکاح بالغ ہوجب تو صحت نکاح ووجوب تمامی مہر میں کچھ نزاع ہی نہیں۔ اس طرح اگر نابالغ تھا اور نکاح باجازت برادر واقع ہوا یا اس وقت معمولی اجازت صرف پھوپھی سے لی گئی ہو اور بھائی نے جبھی یا کسی اور وقت صراحۃ خواہ دلالۃ اس نکاح کو جائز رکھا اور پسند کیا یا یہ بھی نہ ہوا مگر چند مدت بعد زید بالغ ہوگیا اور خود اس نے نکاح جائزرکھا ان سب صورتوں میں نکاح بھی نافذ اور مہر بھی کامل واجب ہے۔
فی الدرالمختار للولی الاتی بیانہ انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرا اھ
درمختار میں ہے کہ ولی کو اختیار ہے جس کا بیان آگے آرہا ہے کہ نابالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح اپنی مرضی سے کردے اھ
الجواب :
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زید کا ایك جوان بھائی موجود ہے پس صورت مذکورہ میں اولا اس قدرمعلوم ہوجانا ضروری ہے کہ شرعا بلوغ کا دارومدار خواہی نخواہی عمرہی پر نہیں رکھا گیا جب تك آدمی اتنے سال کا نہ ہو بالغ نہ کہا جائے گا اگرچہ تمام آثار جوانی واضح وآشکار ہوں عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ حقیقۃ لڑکوں میں مدار کار انزال واحتلام لڑکیوں میں حیض وغیرہ پر ہے اس لئے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ لڑکاکم سے کم بارہ سال اور لڑکی نو برس میں بالغ ہوسکتی ہے ہاں جب یہ امور ظاہر نہ ہو ں تو اس وقت عمر پر فیصلہ کیا گیا۔
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والاصل ھوالانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فیھما شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی لقصر اعمار اھل زماننا وادنی مدتہ لہ اثنا عشرۃ سنۃ ولہا تسع سنین ھوا لمختار اھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے لڑکے کا بلوغ احتلام انزال اور بیوی کو حاملہ کرنے سے ثابت ہوگا جبکہ انزال اصل ثبوت ہے اور لڑکی کا بلوغ احتلام حیض اور حمل سے ثابت ہوگا اگر ان علامات میں سے کوئی چیز دونوں میں نہ پائی جائے تو پھر دونوں کی عمر پندرہ سال تك ہونا ان کا بلوغ ہوگا۔ اس پر فتوی دیا جائے گا کیونکہ ہمارے زمانہ والوں کی عمریں کم ہوتی ہیں اور لڑکے کے لئے کم از کم حد بلوغ بارہ سال اورلڑکی کے لئے نو سال ہے یہی مختار قول ہے اھ ملخصا۔ (ت)
پس ممکن کہ زید چہاردہ سالہ وقت نکاح بالغ ہوجب تو صحت نکاح ووجوب تمامی مہر میں کچھ نزاع ہی نہیں۔ اس طرح اگر نابالغ تھا اور نکاح باجازت برادر واقع ہوا یا اس وقت معمولی اجازت صرف پھوپھی سے لی گئی ہو اور بھائی نے جبھی یا کسی اور وقت صراحۃ خواہ دلالۃ اس نکاح کو جائز رکھا اور پسند کیا یا یہ بھی نہ ہوا مگر چند مدت بعد زید بالغ ہوگیا اور خود اس نے نکاح جائزرکھا ان سب صورتوں میں نکاح بھی نافذ اور مہر بھی کامل واجب ہے۔
فی الدرالمختار للولی الاتی بیانہ انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرا اھ
درمختار میں ہے کہ ولی کو اختیار ہے جس کا بیان آگے آرہا ہے کہ نابالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح اپنی مرضی سے کردے اھ
حوالہ / References
درمختار کتاب الحجر مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
وفی تنویر الابصار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ اھ
وفی الدرالمختار لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ اھ وفی الخانیہ نفذباجازۃ الصبی بعد بلوغ اھ وفی الدرالمختار المھر یتاکد عند وطء اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما اھ۔
اور تنویر الابصار میں ہے کہ نکاح میں عصبہ بنفسہ ولی ہوتا ہے اھ اور درمختار میں ہے اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح کردیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ اور خانیہ میں ہے کہ بچے کے بالغ ہوکر اجازت دینے سے نکاح نافذہوجائے گا۔ اور درمختار میں ہے کہ وطی خلوت صحیحہ اور خاوند بیوی میں سے کسی ایك کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اھ(ت)
ہاں اگر ان امور میں سے کچھ نہ واقع ہوا یعنی نہ زید بالغ تھا نہ نکاح بہ تجویز ولی واقع ہوا نہ ولی نے کسی وقت صریحا یا دلالۃ اس کی اجازت دی نہ زید خود لائق اجازت ہوا یہاں تك کہ مرگیا تو بے شك نکاح باطل ہوگیا۔
لان الموقوف یبطل بالموت قبل الاجازۃ کما لایخفی علی احد۔
کیونکہ موقوف نکاح اجازت سے قبل موت سے باطل ہوجاتاہے جیسا کہ سب پر واضح ہے۔ (ت)
اور جلسہ نکاح میں ولی کا مجرد خاموش بیٹھا رہنا اجازت وپسندی پر یقین نہیں دلاسکتا بلکہ اس کا کوئی فعل ایسا ہونا چاہئے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلا دلہن کو رونمائی دینا یا دولھا کی سلامی کے روپے لینا یا مبارك باد لینا دینا۔
وغیر ذلك عما یدل علی الرضا وفی ردالمحتار تقدم ان البالغۃ لوزوجت نفسھا غیر کفو فللو لی الاعتراض مالم یرض صریحا او دلالۃ کقبض المھر ونحوہ فلم یجعلوا سکوتہ
ان کے علاوہ دیگر امور جو رضاکی دلیل ہوسکتے ہیں اور ردالمحتار میں ہے کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اگر بالغہ لڑکی نے اپنا نکاح خود غیر کفو میں کرلیا اور ولی صراحۃ یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کرے مثلا مہر وصول کرنا وغیرہ عمل
وفی الدرالمختار لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ اھ وفی الخانیہ نفذباجازۃ الصبی بعد بلوغ اھ وفی الدرالمختار المھر یتاکد عند وطء اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما اھ۔
اور تنویر الابصار میں ہے کہ نکاح میں عصبہ بنفسہ ولی ہوتا ہے اھ اور درمختار میں ہے اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح کردیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ اور خانیہ میں ہے کہ بچے کے بالغ ہوکر اجازت دینے سے نکاح نافذہوجائے گا۔ اور درمختار میں ہے کہ وطی خلوت صحیحہ اور خاوند بیوی میں سے کسی ایك کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اھ(ت)
ہاں اگر ان امور میں سے کچھ نہ واقع ہوا یعنی نہ زید بالغ تھا نہ نکاح بہ تجویز ولی واقع ہوا نہ ولی نے کسی وقت صریحا یا دلالۃ اس کی اجازت دی نہ زید خود لائق اجازت ہوا یہاں تك کہ مرگیا تو بے شك نکاح باطل ہوگیا۔
لان الموقوف یبطل بالموت قبل الاجازۃ کما لایخفی علی احد۔
کیونکہ موقوف نکاح اجازت سے قبل موت سے باطل ہوجاتاہے جیسا کہ سب پر واضح ہے۔ (ت)
اور جلسہ نکاح میں ولی کا مجرد خاموش بیٹھا رہنا اجازت وپسندی پر یقین نہیں دلاسکتا بلکہ اس کا کوئی فعل ایسا ہونا چاہئے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلا دلہن کو رونمائی دینا یا دولھا کی سلامی کے روپے لینا یا مبارك باد لینا دینا۔
وغیر ذلك عما یدل علی الرضا وفی ردالمحتار تقدم ان البالغۃ لوزوجت نفسھا غیر کفو فللو لی الاعتراض مالم یرض صریحا او دلالۃ کقبض المھر ونحوہ فلم یجعلوا سکوتہ
ان کے علاوہ دیگر امور جو رضاکی دلیل ہوسکتے ہیں اور ردالمحتار میں ہے کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اگر بالغہ لڑکی نے اپنا نکاح خود غیر کفو میں کرلیا اور ولی صراحۃ یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کرے مثلا مہر وصول کرنا وغیرہ عمل
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
الدرالمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
فتاوی قاضی خاں فصل فی شرائط النکاح نولکشور لکھنو ۱ / ۱۵۷
الدرالمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
الدرالمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
فتاوی قاضی خاں فصل فی شرائط النکاح نولکشور لکھنو ۱ / ۱۵۷
الدرالمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۷
اجازۃ والظاہر ان سکوتہ ھنا کذلك فلویکون سکوتہ اجازۃ لنکاح الابعد وان کان حاضرا فی مجلس العقد مالم یرض صریحا اودلالۃ تامل ۔
نہ کرے تو ولی کو ا س نکاح پر اعتراض کا حق ہے تو فقہاء نے ا س کے سکوت کو اجازت نہیں قرار دیا اور ظاہر یہی ہے کہ اس کا یہاں موقعہ پر سکوت کا یہی مطلب ہے تو اس کا سکوت ابعد ولی کے نکاح کی اجازت قرار نہیں پائے گا اگرچہ یہ اقرب مجلس نکاح میں موجود ہو جب تك صریحا یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کردے غور کرو(ت)
اور اس صورت میں مہر بھی لازم آئے گا
لان النکاح باطل والباطل معدوم والمعدوم لایفید۔
کیونکہ یہ نکاح باطل ہے اور باطل کا لعدم ہوتاہے اور معدوم چیز مفید نہیں۔ (ت)
البتہ اگرایسی صورت میں یہ ثابت ہوکہ زید نابالغ نے بعد اس عقد نافذ کے محمودہ سے بالجبر قربت کی اورمحمودہ اس وقت حقیقۃ حالت جبر واضطرار میں تھی نہ وہ حالت جو ابتداء بوجہ شرم وحجاب عموما انکار کی باعث ہوتی ہے بلکہ وہ حالت جو زن عفیفہ کو مرد اجنبی کے ساتھ ہوتی ہے تو اس تقدیر پر ہندہ کا مہر مثل ذمہ زیدلازم ہونا چاہئے۔
وذلك لان الموقوف قبل الاجازۃ لایحل الوطی بل ولا النظر کما صرح بہ فی احکام الخلوۃ من باب المھر من ردالمحتار عن النھر عن النھایۃ وقد تبین بالموت انھا لم تکن زوجتہ ولاحد للشبھۃ و للصبی فیجب العقرا لا ان تکون مطاوعۃ فلایوجب لعدم الفائدۃ اذلولزم لرجع بہ الولی علیھا لانھا مکلفۃ وقد وقع ماوقع بامرھا لکونھا طائعۃ کمافی ردالمحتار عن الشرنبلالی عن الفتح۔ واﷲ
یہ اس لئے کہ اجازت سے قبل موقوف نکاح میں وطی حلال نہیں بلکہ اس کو دیکھنا بھی حلال نہیں جیساکہ مہر کے باب میں خلوت کے احکام میں ردالمحتار نے نہر سے انھوں نے نہایہ سے نقل کیا ہے اور اجازت سے قبل موت سے ظاہر ہوگیا کہ یہ اس کی بیوی نہ تھی اگر قبل از اجازت ولی اقرب وطی یا خلوت ہوجائے تو حلال نہ ہونے کے بعد زنا کی حد نہ ہوگی کیونکہ مقام شبہ ہے نیز لڑکا نابالغ ہے تاہم عقریعنی جوڑا خرچہ واجب ہوجائے گا بشرطیکہ لڑکی کی خواہش پر یہ عمل نہ ہوا ہو ورنہ عقر واجب نہ ہوگا کیونکہ اس میں فائدہ نہیں ہے۔
نہ کرے تو ولی کو ا س نکاح پر اعتراض کا حق ہے تو فقہاء نے ا س کے سکوت کو اجازت نہیں قرار دیا اور ظاہر یہی ہے کہ اس کا یہاں موقعہ پر سکوت کا یہی مطلب ہے تو اس کا سکوت ابعد ولی کے نکاح کی اجازت قرار نہیں پائے گا اگرچہ یہ اقرب مجلس نکاح میں موجود ہو جب تك صریحا یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کردے غور کرو(ت)
اور اس صورت میں مہر بھی لازم آئے گا
لان النکاح باطل والباطل معدوم والمعدوم لایفید۔
کیونکہ یہ نکاح باطل ہے اور باطل کا لعدم ہوتاہے اور معدوم چیز مفید نہیں۔ (ت)
البتہ اگرایسی صورت میں یہ ثابت ہوکہ زید نابالغ نے بعد اس عقد نافذ کے محمودہ سے بالجبر قربت کی اورمحمودہ اس وقت حقیقۃ حالت جبر واضطرار میں تھی نہ وہ حالت جو ابتداء بوجہ شرم وحجاب عموما انکار کی باعث ہوتی ہے بلکہ وہ حالت جو زن عفیفہ کو مرد اجنبی کے ساتھ ہوتی ہے تو اس تقدیر پر ہندہ کا مہر مثل ذمہ زیدلازم ہونا چاہئے۔
وذلك لان الموقوف قبل الاجازۃ لایحل الوطی بل ولا النظر کما صرح بہ فی احکام الخلوۃ من باب المھر من ردالمحتار عن النھر عن النھایۃ وقد تبین بالموت انھا لم تکن زوجتہ ولاحد للشبھۃ و للصبی فیجب العقرا لا ان تکون مطاوعۃ فلایوجب لعدم الفائدۃ اذلولزم لرجع بہ الولی علیھا لانھا مکلفۃ وقد وقع ماوقع بامرھا لکونھا طائعۃ کمافی ردالمحتار عن الشرنبلالی عن الفتح۔ واﷲ
یہ اس لئے کہ اجازت سے قبل موقوف نکاح میں وطی حلال نہیں بلکہ اس کو دیکھنا بھی حلال نہیں جیساکہ مہر کے باب میں خلوت کے احکام میں ردالمحتار نے نہر سے انھوں نے نہایہ سے نقل کیا ہے اور اجازت سے قبل موت سے ظاہر ہوگیا کہ یہ اس کی بیوی نہ تھی اگر قبل از اجازت ولی اقرب وطی یا خلوت ہوجائے تو حلال نہ ہونے کے بعد زنا کی حد نہ ہوگی کیونکہ مقام شبہ ہے نیز لڑکا نابالغ ہے تاہم عقریعنی جوڑا خرچہ واجب ہوجائے گا بشرطیکہ لڑکی کی خواہش پر یہ عمل نہ ہوا ہو ورنہ عقر واجب نہ ہوگا کیونکہ اس میں فائدہ نہیں ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۱
ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۴۱
تعالی اعلم۔
اس لئے کہ اگر واجب قرار دیا جائے تو لڑکے کا ولی لڑکی سے تعرض کرے گا۔ کیونکہ جو واقعہ ہوا ہے وہ لڑکی کی مرضی اور کہنے سے ہوا اس لئے کہ لڑکی بالغ ہے جس کی خواہش پر یہ کچھ ہوا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں شربنلالی سے اورا س نے فتح سے نقل کیاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۹ : از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۰۲ مرسلہ حافظ عزیز الرحمان صاحب ۱ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح بسبب نہ رہنے باپ دادا کے اس کے ماموں نے اپنی ولایت سے کردیا تھا اب بحالت بلوغ لڑکی نے اس نکاح کو منظور نہ کیا اور بعین حالت بلوغ دو چار آدمیوں کو بلا کر اظہار کیاکہ میں اس وقت بالغ ہوئی اپنے ولی کے نکاح کو نامنظور کرکے فسخ کیا آپ لوگ اس امر کے شاہد رہیں۔ اور اس فسخ کی خبر اس کے ناکح کو ہوئی اور دین مہر بھی معاف کردیتی ہے تاہم صفائی نہیں کرتا قریب سال کے گزر ااور دربارہ مسئلہ فسخ درمختار وغیرہ میں ہے کہ فسخ کی خبر قاضی کو کرے۔ قاضی تفریق کردے اور اس سلطنت انگریزی میں قضا یا نہیں حکم قضا یا حکام ہائی کورٹ کے متعلق ہے اور ہائیکورٹ میں خبرکے واسطے وکیل اور بیرسٹر مبلغ ایك ہزار طلب کرتے ہیں اور لڑکی مذکورہ نان ونفقہ کو محتاج اور عالم شباب رکھتی ہے خوف شیطانی غالب رہے پس ایسی صورت میں کیا کرے بیان فرمایئے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
فی الواقع اس فسخ کے لئے قضائے قاضی شرط ہے کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ ت)اور حاضری شوہر وقت تفریق بھی ضرور۔
فی ردالمحتار الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر قلت وبہ صرح الاستروشنی فی جامعہ ۔
ردالمحتارمیں ہے جب تك خاوند حاضر نہ ہو قاضی تفریق نہ کرے ورنہ اس کی غیرموجودگی میں تفریق قضاء علی الغیب ہوگی نہر میں کہتاہوں استروشنی نے اپنی جامع میں یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
اور ہائی کورٹ وغیرہ انگریزی کچہریاں دارالقضاء شرعی نہیں۔ نہ وہ حکام حکام وقضاۃ شرع تو ایسے مسائل میں ان کی طرف رجوع اگر آسان بھی ہو تو اصلا مفید نہیں کہ ان کے فسخ کئے یہ نکاح فسخ نہ ہوگا اور عورت بدستور زوجہ شوہر رہے گی بلکہ وہاں جو عالم فقیہ سنی تمام اہل شہر سے علم فقہ میں زائد ہو اس قسم کے خاص دینی کاموں میں اس کی طرف رجوع لازم ہے اوراگر وہاں یہ بھی نہ ہو تو چارہ کار یہ ہے کہ زن وشوہر
اس لئے کہ اگر واجب قرار دیا جائے تو لڑکے کا ولی لڑکی سے تعرض کرے گا۔ کیونکہ جو واقعہ ہوا ہے وہ لڑکی کی مرضی اور کہنے سے ہوا اس لئے کہ لڑکی بالغ ہے جس کی خواہش پر یہ کچھ ہوا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں شربنلالی سے اورا س نے فتح سے نقل کیاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۹ : از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۰۲ مرسلہ حافظ عزیز الرحمان صاحب ۱ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی نابالغہ کا نکاح بسبب نہ رہنے باپ دادا کے اس کے ماموں نے اپنی ولایت سے کردیا تھا اب بحالت بلوغ لڑکی نے اس نکاح کو منظور نہ کیا اور بعین حالت بلوغ دو چار آدمیوں کو بلا کر اظہار کیاکہ میں اس وقت بالغ ہوئی اپنے ولی کے نکاح کو نامنظور کرکے فسخ کیا آپ لوگ اس امر کے شاہد رہیں۔ اور اس فسخ کی خبر اس کے ناکح کو ہوئی اور دین مہر بھی معاف کردیتی ہے تاہم صفائی نہیں کرتا قریب سال کے گزر ااور دربارہ مسئلہ فسخ درمختار وغیرہ میں ہے کہ فسخ کی خبر قاضی کو کرے۔ قاضی تفریق کردے اور اس سلطنت انگریزی میں قضا یا نہیں حکم قضا یا حکام ہائی کورٹ کے متعلق ہے اور ہائیکورٹ میں خبرکے واسطے وکیل اور بیرسٹر مبلغ ایك ہزار طلب کرتے ہیں اور لڑکی مذکورہ نان ونفقہ کو محتاج اور عالم شباب رکھتی ہے خوف شیطانی غالب رہے پس ایسی صورت میں کیا کرے بیان فرمایئے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
فی الواقع اس فسخ کے لئے قضائے قاضی شرط ہے کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ ت)اور حاضری شوہر وقت تفریق بھی ضرور۔
فی ردالمحتار الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر قلت وبہ صرح الاستروشنی فی جامعہ ۔
ردالمحتارمیں ہے جب تك خاوند حاضر نہ ہو قاضی تفریق نہ کرے ورنہ اس کی غیرموجودگی میں تفریق قضاء علی الغیب ہوگی نہر میں کہتاہوں استروشنی نے اپنی جامع میں یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
اور ہائی کورٹ وغیرہ انگریزی کچہریاں دارالقضاء شرعی نہیں۔ نہ وہ حکام حکام وقضاۃ شرع تو ایسے مسائل میں ان کی طرف رجوع اگر آسان بھی ہو تو اصلا مفید نہیں کہ ان کے فسخ کئے یہ نکاح فسخ نہ ہوگا اور عورت بدستور زوجہ شوہر رہے گی بلکہ وہاں جو عالم فقیہ سنی تمام اہل شہر سے علم فقہ میں زائد ہو اس قسم کے خاص دینی کاموں میں اس کی طرف رجوع لازم ہے اوراگر وہاں یہ بھی نہ ہو تو چارہ کار یہ ہے کہ زن وشوہر
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
اس معاملہ کوپنچایت پر رکھیں مسلمان پنچ بعد ثبوت بمواجہہ شوہر تفریق کردے نکاح فسخ ہوجائے گا۔
فان الحکم کالقاضی فی کل مالیس بحد ولاقود ولادیۃ علی عاقلۃ کما نصوا علیہ۔
حکم یعنی ثالث قصاص حدا ور عاقلہ پر دیت کے سواباقی امور میں قاضی کی طرح ہے جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
اور اگر شوہر پنچایت پر راضی نہ ہو تو عورت کسی اسلامی ریاست کے شہر میں جائے جس طرح یہاں ریاست رام پور وغیرہ اور وہاں قاضی شرع کے حضور(جس کی قضا کو نواب والی ملك مسلمان نے نہ اس شہر والوں سے خاص کردیا ہو نہ سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر حکم کے لئے مقید کیا ہو)استغاثہ کرے وہ بلحاظ قواعد شرعیہ تفریق کرسکتاہے اور اگر شوہر بھی وہاں جانے پر راضی ہویا قاضی کی طلبی پر اسے جانا ضرور ہو جب تو امر آسان ہے اب اس قاضی میں صرف اتنی شرط ہوگی کہ والی نے صرف اہل شہرکے ساتھ اسی کی قضاء کو خاص کردیا ہو جیساکہ اکثر یہی ہے کہ تخصیص نہیں کرتے۔
وذلك لما عرف ان القضاء یتخصص بکل ماخصص بہ المقلد کما فی الاشباہ والدر وغیرھما واذالم یخصص باھل البلد لم یشترط ان یکون المتدا عیان من اھل البلد کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ و اﷲ تعالی اعلم۔
یہ اس لئے کہ قضاء کا دائرہ قاضی کو مقرر کرنے والے کی تخصیص سے خاص ہوتاہے جیساکہ اشباہ درمختار وغیر ہ کتب میں مذکور ہے اور جب قاضی کا دائرہ کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہ ہو تو دعوی کے فریقین کااہل بلد سے ہونا شرط نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۰ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ کے باہم شادی بولایت پدارن عالم نابالغی زوجین میں ہوئی بعد ایك عرصہ کے زید نابینا ہوگیا اور ہنوز وہ دونوں نابالغ ہیں اور پدر ہندہ نے وفات پائی اب مادروعم ہندہ اسے رخصت کرنا نہیں چاہتے اور کہتے ہیں ہم اپنی بیٹی زید کو نہیں دیں گے اس صورت میں ماں کے انکار سے اس نکاح میں خلل آیا یا نہیں اور ماں اور چچا کو فسخ کا اختیارحاصل ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نکاح مذکور بحالہ باقی ہے اورا م وعم ہندہ بلکہ کسی کے انکار سے اس میں خلل نہیں
فان الحکم کالقاضی فی کل مالیس بحد ولاقود ولادیۃ علی عاقلۃ کما نصوا علیہ۔
حکم یعنی ثالث قصاص حدا ور عاقلہ پر دیت کے سواباقی امور میں قاضی کی طرح ہے جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
اور اگر شوہر پنچایت پر راضی نہ ہو تو عورت کسی اسلامی ریاست کے شہر میں جائے جس طرح یہاں ریاست رام پور وغیرہ اور وہاں قاضی شرع کے حضور(جس کی قضا کو نواب والی ملك مسلمان نے نہ اس شہر والوں سے خاص کردیا ہو نہ سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر حکم کے لئے مقید کیا ہو)استغاثہ کرے وہ بلحاظ قواعد شرعیہ تفریق کرسکتاہے اور اگر شوہر بھی وہاں جانے پر راضی ہویا قاضی کی طلبی پر اسے جانا ضرور ہو جب تو امر آسان ہے اب اس قاضی میں صرف اتنی شرط ہوگی کہ والی نے صرف اہل شہرکے ساتھ اسی کی قضاء کو خاص کردیا ہو جیساکہ اکثر یہی ہے کہ تخصیص نہیں کرتے۔
وذلك لما عرف ان القضاء یتخصص بکل ماخصص بہ المقلد کما فی الاشباہ والدر وغیرھما واذالم یخصص باھل البلد لم یشترط ان یکون المتدا عیان من اھل البلد کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ و اﷲ تعالی اعلم۔
یہ اس لئے کہ قضاء کا دائرہ قاضی کو مقرر کرنے والے کی تخصیص سے خاص ہوتاہے جیساکہ اشباہ درمختار وغیر ہ کتب میں مذکور ہے اور جب قاضی کا دائرہ کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہ ہو تو دعوی کے فریقین کااہل بلد سے ہونا شرط نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۰ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ کے باہم شادی بولایت پدارن عالم نابالغی زوجین میں ہوئی بعد ایك عرصہ کے زید نابینا ہوگیا اور ہنوز وہ دونوں نابالغ ہیں اور پدر ہندہ نے وفات پائی اب مادروعم ہندہ اسے رخصت کرنا نہیں چاہتے اور کہتے ہیں ہم اپنی بیٹی زید کو نہیں دیں گے اس صورت میں ماں کے انکار سے اس نکاح میں خلل آیا یا نہیں اور ماں اور چچا کو فسخ کا اختیارحاصل ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں نکاح مذکور بحالہ باقی ہے اورا م وعم ہندہ بلکہ کسی کے انکار سے اس میں خلل نہیں
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۷
آتا نہ انھیں اختیار فسخ حاصل یہاں تك کہ اگرخود ہندہ بعد بلوغ فسخ نکاح چاہے تاہم منفسخ نہ ہوگا۔
فی تنویر الابصار لزم النکاح ولوبغبن فاحش ان کان الولی ابااوجدا الخ فی فتاوی قاضی خاں اذا بلغ الصغیر اوالصغیرۃ قد زوجھما الاب والجد لاخیار لھما انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تنویر الابصارمیں ہے کہ ولی باپ یادادا ہوتوبہت کم مہر سے بھی نکاح لازم ہوتاہے الخ۔ اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ لڑکا یا لڑکی کو بالغ ہونے پر اختیار نہ ہوگا انتہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۱ : ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر مرگیا اور دو لڑکی ایك کی عمر تین برس کی اور ایك کی چھ برس کی چھ برس کی عمرکی لڑکی کو اس کی پھوپھی چور سے لے گئی اپنے گھر کو جب ہندہ کو معلوم ہوا تو وہ اس فکر میں رہی کہ جب موقع پاوے اپنی لڑکی کو لے آئے اوراپنے عزیزوں سے بھی کہہ رکھا کہ جب موقع ملے تو میری لڑکی میرے پاس لے آؤ حسب اتفاق وہ لڑکی ہندہ کی کسی دکان پر گوشت لے رہی تھی اور ہندہ کا بھانجا اس طرف سے آرہا تھا اسے گودی میں اٹھا لایا اور ہندہ کو دے دیا جب وہ لڑکی ہندہ کے پاس آگئی تو چھ سات روز بعد اس کی پھوپھی آئی اورہندہ سے کہا میں نے اس کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کردیا ہے اب اس کو بھیج دو ہندہ نے کہا میں ماں تھی میری بلاجازت تم نے کیوں نکاح کیا میں اس لڑکی کو نہیں دوں گی اور اس کے نکاح کا مجھے اختیار ہے اور وہ لڑکی ایك برس اپنی پھوپھی کے رہی اور چھ برس کی عمر میں گئی تھی اور ا س کو ماں کے پاس آئے ہوئے چارپانچ برس کا عرصہ ہوااس حساب سے اب گیارہ بارہ برس کی عمر ہے تو اس صور ت میں وہ نکاح فاسد رہا یا قائم رہا اور ہندہ اس کا اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے آیا بموجب شرع شریف کے کرسکتی ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگرا ن لڑکیوں کا کوئی جوان بھائی بھتیجا چچا چچا کابیٹا پوتا غرض دادا پردادا کی اولاد سے کوئی عاقل بالغ مرد نہ تھا تو ان کے نکاح کی ولایت ان کی ماں ہی کو تھی پھوپھی کو ماں کے ہوتے کچھ اختیار نہ تھا جو نکاح پھوپھی نے بے اجازت ماں کے کیا جبکہ ماں نے اسے رد کردیا کہ تم نے کیوں کیا میں اس کو نہ دوں گی
فی تنویر الابصار لزم النکاح ولوبغبن فاحش ان کان الولی ابااوجدا الخ فی فتاوی قاضی خاں اذا بلغ الصغیر اوالصغیرۃ قد زوجھما الاب والجد لاخیار لھما انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تنویر الابصارمیں ہے کہ ولی باپ یادادا ہوتوبہت کم مہر سے بھی نکاح لازم ہوتاہے الخ۔ اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ لڑکا یا لڑکی کو بالغ ہونے پر اختیار نہ ہوگا انتہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۱ : ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر مرگیا اور دو لڑکی ایك کی عمر تین برس کی اور ایك کی چھ برس کی چھ برس کی عمرکی لڑکی کو اس کی پھوپھی چور سے لے گئی اپنے گھر کو جب ہندہ کو معلوم ہوا تو وہ اس فکر میں رہی کہ جب موقع پاوے اپنی لڑکی کو لے آئے اوراپنے عزیزوں سے بھی کہہ رکھا کہ جب موقع ملے تو میری لڑکی میرے پاس لے آؤ حسب اتفاق وہ لڑکی ہندہ کی کسی دکان پر گوشت لے رہی تھی اور ہندہ کا بھانجا اس طرف سے آرہا تھا اسے گودی میں اٹھا لایا اور ہندہ کو دے دیا جب وہ لڑکی ہندہ کے پاس آگئی تو چھ سات روز بعد اس کی پھوپھی آئی اورہندہ سے کہا میں نے اس کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کردیا ہے اب اس کو بھیج دو ہندہ نے کہا میں ماں تھی میری بلاجازت تم نے کیوں نکاح کیا میں اس لڑکی کو نہیں دوں گی اور اس کے نکاح کا مجھے اختیار ہے اور وہ لڑکی ایك برس اپنی پھوپھی کے رہی اور چھ برس کی عمر میں گئی تھی اور ا س کو ماں کے پاس آئے ہوئے چارپانچ برس کا عرصہ ہوااس حساب سے اب گیارہ بارہ برس کی عمر ہے تو اس صور ت میں وہ نکاح فاسد رہا یا قائم رہا اور ہندہ اس کا اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے آیا بموجب شرع شریف کے کرسکتی ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگرا ن لڑکیوں کا کوئی جوان بھائی بھتیجا چچا چچا کابیٹا پوتا غرض دادا پردادا کی اولاد سے کوئی عاقل بالغ مرد نہ تھا تو ان کے نکاح کی ولایت ان کی ماں ہی کو تھی پھوپھی کو ماں کے ہوتے کچھ اختیار نہ تھا جو نکاح پھوپھی نے بے اجازت ماں کے کیا جبکہ ماں نے اسے رد کردیا کہ تم نے کیوں کیا میں اس کو نہ دوں گی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۴
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۴
اس کا مجھے اختیار ہے وہ نکاح باطل ہوگیا اب ہندہ کو اختیا ر ہے جہاں مناسب دیکھے لڑکی کا نکاح کردے۔
فی الدرالمختار ان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب الیہ المرجع والمآب۔
درمختار میں ہے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہے والله تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب(ت)
مسئلہ ۳۳۲ : ازشہر اعظم گڑھ مرسلہ عنایت الله خاں صاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ محمودہ کا نکاح حامدایك شخص ہم کفو کے ساتھ مندرجہ ذیل صورت میں ہوا ہے صرف پدر محمودہ کو یہ نکاح حامد کے ساتھ کرنا منظور نہیں تھا مگر مادر محمودہ ونیز تمام خاندان کو بہر صورت منظور تھا اس لئے یہ نکاح بہ تحریك مادر محمودہ ودیگربزرگان خاندان بغیبت پدر محمودہ کے جبکہ وہ اپنے علاقہ پر بہ فاصلہ بارہ تیرہ کو س کے تھا باعلان عام منعقد کیا گیا چونکہ محمودہ عاقلہ بالغہ تھی اس لئے ایك روز قبل از انعقاد نکاح اس کی ہم عمر ایك کتخدا لڑکی واسطے استمزاج محمودہ کے بھیجی گئی اس سے محمودہ نے کہا کہ یہ نکاح مجھ کو بدل منظور ہے یہ بھی کہا کہ اس میں یہ خوبی ہے کہ میں تم اور نیز تمام اعزہ سے جد ا نہ ہوں گی اور ایك ہی جگہ رہوں گی دوسرے روز بروز جمعہ اس کا عقد قرار پایا ایك وکیل اور دو گواہ جس کمرہ میں محمودہ تھی واسطے دریافت رضامندی کے گئے و حسب رواج اس ملك کے سوال جواب کرکے واسطے پڑھانے نکاح کے باغ حامد میں جہاں نکاح پڑھانے والا اعزہ اور نیز شہر کے معزز وممتاز لوگ موجود تھے واپس آئے واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وکیل وگواہان نے محض مادر محمودہ سے رضامندی حاصل کی ہے اس پر حاضران کی یہ رائے ہوئی کہ مسماۃ محمودہ عاقلہ بالغہ ہے اس سے پوچھنا ضروری امر ہے لہذا پھر وکیل وگواہان گھرمیں جائیں اور خاص محمودہ سے دریافت کریں چنانچہ وکیل وگواہان ونیز چند اعزہ محمودہ کے گھر میں گئے معلوم ہوا کہ مسماۃمحمودہ نماز صلوۃ التسبیح پڑھ رہی ہے وکیل نے یہ کہا کہ محمودہ جب نماز سے فارغ ہولے تو دریافت کیا جائے تھوڑی دیر کے بعد محمودہ نماز پڑھ چکی ایك گواہ نے محمودہ کو بایاں سلام اور ایك عزیز نے دونوں سلام پھیرتے دیکھا اور اس جگہ قریب محمودہ کے مادر محمودہ و بہن حامد بیٹھی ہوئی تھیں بعد فراغت نما زحسب احکام شرعیہ ایجاب وقبول کے الفاظ محمودہ سے بغرض حصول رضامندی کہے گئے تو مادر محمودہ نے حسب رواج اس ملك کے وموافق رسم شرفائے اس دیار کے کہا کہ ہاں منظور ہے اور محمودہ ساکت رہی مگر وکیل نے کہا کہ محمودہ خود عاقلہ بالغہ ہے اس کو اپنی زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہئے اس بات پر محمودہ نے ونیز اور لوگوں نے کہا کہ ہندوستان میں شریفوں کی کوئی لڑکی
فی الدرالمختار ان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب الیہ المرجع والمآب۔
درمختار میں ہے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہے والله تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب(ت)
مسئلہ ۳۳۲ : ازشہر اعظم گڑھ مرسلہ عنایت الله خاں صاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ محمودہ کا نکاح حامدایك شخص ہم کفو کے ساتھ مندرجہ ذیل صورت میں ہوا ہے صرف پدر محمودہ کو یہ نکاح حامد کے ساتھ کرنا منظور نہیں تھا مگر مادر محمودہ ونیز تمام خاندان کو بہر صورت منظور تھا اس لئے یہ نکاح بہ تحریك مادر محمودہ ودیگربزرگان خاندان بغیبت پدر محمودہ کے جبکہ وہ اپنے علاقہ پر بہ فاصلہ بارہ تیرہ کو س کے تھا باعلان عام منعقد کیا گیا چونکہ محمودہ عاقلہ بالغہ تھی اس لئے ایك روز قبل از انعقاد نکاح اس کی ہم عمر ایك کتخدا لڑکی واسطے استمزاج محمودہ کے بھیجی گئی اس سے محمودہ نے کہا کہ یہ نکاح مجھ کو بدل منظور ہے یہ بھی کہا کہ اس میں یہ خوبی ہے کہ میں تم اور نیز تمام اعزہ سے جد ا نہ ہوں گی اور ایك ہی جگہ رہوں گی دوسرے روز بروز جمعہ اس کا عقد قرار پایا ایك وکیل اور دو گواہ جس کمرہ میں محمودہ تھی واسطے دریافت رضامندی کے گئے و حسب رواج اس ملك کے سوال جواب کرکے واسطے پڑھانے نکاح کے باغ حامد میں جہاں نکاح پڑھانے والا اعزہ اور نیز شہر کے معزز وممتاز لوگ موجود تھے واپس آئے واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وکیل وگواہان نے محض مادر محمودہ سے رضامندی حاصل کی ہے اس پر حاضران کی یہ رائے ہوئی کہ مسماۃ محمودہ عاقلہ بالغہ ہے اس سے پوچھنا ضروری امر ہے لہذا پھر وکیل وگواہان گھرمیں جائیں اور خاص محمودہ سے دریافت کریں چنانچہ وکیل وگواہان ونیز چند اعزہ محمودہ کے گھر میں گئے معلوم ہوا کہ مسماۃمحمودہ نماز صلوۃ التسبیح پڑھ رہی ہے وکیل نے یہ کہا کہ محمودہ جب نماز سے فارغ ہولے تو دریافت کیا جائے تھوڑی دیر کے بعد محمودہ نماز پڑھ چکی ایك گواہ نے محمودہ کو بایاں سلام اور ایك عزیز نے دونوں سلام پھیرتے دیکھا اور اس جگہ قریب محمودہ کے مادر محمودہ و بہن حامد بیٹھی ہوئی تھیں بعد فراغت نما زحسب احکام شرعیہ ایجاب وقبول کے الفاظ محمودہ سے بغرض حصول رضامندی کہے گئے تو مادر محمودہ نے حسب رواج اس ملك کے وموافق رسم شرفائے اس دیار کے کہا کہ ہاں منظور ہے اور محمودہ ساکت رہی مگر وکیل نے کہا کہ محمودہ خود عاقلہ بالغہ ہے اس کو اپنی زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہئے اس بات پر محمودہ نے ونیز اور لوگوں نے کہا کہ ہندوستان میں شریفوں کی کوئی لڑکی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
کنواری آج تك کبھی بولی ہے کہ یہ بولے گی بلکہ بالعموم سکوت علامت رضامندی ہوتی ہے مگر بااینہمہ وکیل نے بمقابلہ گواہان کے محمودہ کا نام لے کر کلمات ایجاب وقبول کو پوچھا کہ محمودہ تم کو منظورہےـ محمودہ اس وقت محض ساکت رہی اور کچھ سرنگوں ہوگئی اس طور پر دوبارہ باصرار دریافت کیا گیا تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اور زیادہ جھکی تیسری دفعہ وکیل نے اسی طرح تقریر کی محمودہ کی حالت وہی حالت سکوت وخاموش کی رہی بعد اس کے وکیل گواہان باغ حامد میں آئے اور حسب اصول شرعیہ ودستور مروجہ نکاح محمودہ کا حامد کے ساتھ جماعت کثیرہ کے رو برو ہوگیا اور نکاح مکان محمودہ میں حسب دستور سب اعزہ آئے وباہم مبارك وسلامت ہوئی اور رسوم شربت نوشی کی عمل میں آئی جس پر مادروبہن ونانی محمودہ نے شادمانی کا اظہار کیا اور یہ واقعہ قبل از نماز جمعہ کے تھا اور شب میں آٹھ بجے والد محمودہ کا علاقہ سے مکان پر آگیا اور اس نے ایك شور وغل برپا کیا صبح کو تمام اعزہ کو بلاکر یہ کہا کہ یہ نکاح درست نہیں ہوا اور کہنے لگا کہ مادر محمودہ یہ کہتی ہے کہ محمودہ کو یہ نکاح منظور نہ تھا اور وقت اعادہ الفاظ نکاح بغرض حصول رضامندی کے محمودہ نماز میں تھی او رجب وہ سجدہ سہو میں جانے لگی تو حامد نے اس کا سر پکڑلیا آپ لوگ چلیں اور گھر میں دریافت کرلیں اعزہ گھر میں آئے ان کے رو برو پدر محمودہ نے مادرمحمودہ سے یہ پوچھا کہ آیا محمودہ کو یہ عقد منظور تھا یا نہیں۔ وہ نماز میں تھی یا نہیں۔ بجواب اس کے مادر محمودہ نے یہ کہا کہ مجھ کو منظور ہے اور سجدہ سہو کی بابت مادر محمودہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتی اگرچہ مکررسہ کرر والد محمودہ مادر محمودہ سے دیر تك سجدہ سہو کی نسبت پوچھتا رہا مگر وہ انکار کرتی رہی اگرچہ بیان والد محمودہ کا بالکل خلاف واقعہ کے تھا اور صریح بے اصل تھا دوپہر تك والد محمودہ اس امر پر غلو کرتا رہا کہ بوجہ مشغولی نمازکے یہ نکاح نہیں ہوا جب یہ امر بے اصل کسی طرح سے ثابت نہ ہوا کہ وقت نکاح کے محمودہ نماز میں تھی تو اس نے بعد دوپہر کے اعزہ کو جمع کرکے یہ خواہش ظاہر کی کہ علیحدہ ہوجائے جس علیحدگی کا مطلب یہ تھا کہ طلاق ہوجائے حامد اور اعزہ حامد نے اس علیحدگی کو منظورنہیں کیا اگرچہ عرصہ تك والد محمودہ کا اس پر اصرار تھا محمودہ خواندہ ہے اس عرصہ میں محمودہ نے ایك رقعہ دستخطی اپنے والد کو لکھا کہ مجھے آپ کی خوشی منظور ہے مجھے سوائے نماز وروزہ کے اور کوئی چیز نہیں چاہئے مگر لفظ طلاق کا ہرگز درمیان میں نہ آنے پائے اور انہی الفاظ کا اعادہ محمودہ نے اپنی چند ہم عمروں سے بھی کیا صورت استمزاج ماقبل نکاح وسکوت بوقت نکاح وتحریر رقعہ بعد نکاح واظہار خیال از ہم عمران سے منظوری ورضامندی محمودہ کی اس نکاح کی نسبت بخوبی ثابت ہے اور اس وقت تك یہ نکاح محمودہ کو منظور ہے چونکہ یہ نکاح باپ محمودہ کی غیبت میں برضامندی محمودہ ومادر محمودہ ونیز تمام خاندان فریقین ہوا ہے تو ایسی صورت میں یہ نکاح از روئے فقہ جائز ہوا یا نہیں بینوا بالکتاب توجروا بالثواب۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر حامد محمودہ کا کفو شرعی ہے یعنی اس کے نسب ومذہب وروش وپیشہ وغیر ہ میں کوئی بات ایسی نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے محمودہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تونکاح مذکورہ منعقد ہوجانے میں اصلا شبہہ نہیں اگرچہ وقت طلب اجازت نماز ہی پڑھتی ہو بلکہ اگرچہ اس سے اصلا اجازت نہ لی گئی ہو والد محمودہ کا ادعا کہ نکاح نہ ہوا محض باطل وبے معنی ہے عقد بے اجازت غایت یہ کہ عقد فضولی ہو پھر عقد فضولی صحیح ومنعقد ہوتا اور اجازت صاحب اجازت پر اس کا نفاذ موقوف رہتاہے نہ کہ اصلا باطل ٹھہرے۔
فی الدرالمختار الفضولی من یتصرف فی حق غیرہ بغیر اذن شرعی کل تصرف صدر منہ تملیکاکان کبیع وتزویج اواسقاطا کطلاق وعتاق ولہ من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ۔
درمختار میں ہے فضولی وہ ہوتاہے جو شرعی اجازت کے بغیر غیر کے حق میں خود بخود تصرف کرے فضولی کا کوئی تصرف خواہ مالك بنانے کے لئے ہو جیسا کہ بیع ونکاح یا ملکیت کو ساقط کرنے کے لئے ہو جیساکہ طلاق وعتاق تو اس کے تصرف کے وقت اگر کوئی اس کو جائز کرنے والاہو تو فضولی کایہ تصرف موقوف ہوگا۔ (ت)
نظر بوقائع مذکور سوال عقد محمودہ ایسا ہی واقع ہوا نکاح سے ایك دن پہلے ہم عمر لڑکی سے جو گفتگوآئی اورمحمودہ نے پسند ظاہرکی وہ صرف رائے تھی نہ کسی شخص کو نکاح کرنے کی توکیل وقت تزویج اذن لینے پر جو سکوت محمودہ نے کیا وہ بھی توکیل کے لئے ناکافی تھا کہ ولی اقرب یعنی پدر چند ہی کوس پر تھا اور اذن لینے والا جب نہ خود ولی اقرب نہ اس کاوکیل نہ اس کا رسول تو دوشیزہ کا سکوت بھی معتبر نہیں اذن صاف درکار ہے۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار و ردالمحتار ان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی(المراد بہ من لیس لہ ولایۃ لکن رسول الولی قائم مقامہ فیکون سکوتھا رضاعند استیذانہ کما فی الفتح والوکیل کذلك کما فی البحر عن القنیۃ)اوولی بعید(کالاخ مع الاب اذالم یکن الاب غائبا
تنویر الابصار درمختار ردالمحتار میں ہے اگرلڑکی سے نکاح کی اجازت چاہنے والا ولی اقرب کاغیر مثلا اجبنی یعنی غیر ولی ہو یا ولی ابعد ہو مثلا والد کی موجودگی میں بھائی جبکہ والد لمبے سفر پر نہ ہو(جیساکہ خانیہ میں ہے)تو لڑکی کی اجازت کے لئے اس کا سکوت معتبر نہ ہوگا بلکہ اس موقعہ پر اس کا بولنا ثیبہ عورت کی طرح ضروری ہے یا کوئی ایسا فعل ضروری ہے جو بولنے کے قائم مقام
صورت مستفسرہ میں اگر حامد محمودہ کا کفو شرعی ہے یعنی اس کے نسب ومذہب وروش وپیشہ وغیر ہ میں کوئی بات ایسی نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے محمودہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تونکاح مذکورہ منعقد ہوجانے میں اصلا شبہہ نہیں اگرچہ وقت طلب اجازت نماز ہی پڑھتی ہو بلکہ اگرچہ اس سے اصلا اجازت نہ لی گئی ہو والد محمودہ کا ادعا کہ نکاح نہ ہوا محض باطل وبے معنی ہے عقد بے اجازت غایت یہ کہ عقد فضولی ہو پھر عقد فضولی صحیح ومنعقد ہوتا اور اجازت صاحب اجازت پر اس کا نفاذ موقوف رہتاہے نہ کہ اصلا باطل ٹھہرے۔
فی الدرالمختار الفضولی من یتصرف فی حق غیرہ بغیر اذن شرعی کل تصرف صدر منہ تملیکاکان کبیع وتزویج اواسقاطا کطلاق وعتاق ولہ من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ۔
درمختار میں ہے فضولی وہ ہوتاہے جو شرعی اجازت کے بغیر غیر کے حق میں خود بخود تصرف کرے فضولی کا کوئی تصرف خواہ مالك بنانے کے لئے ہو جیسا کہ بیع ونکاح یا ملکیت کو ساقط کرنے کے لئے ہو جیساکہ طلاق وعتاق تو اس کے تصرف کے وقت اگر کوئی اس کو جائز کرنے والاہو تو فضولی کایہ تصرف موقوف ہوگا۔ (ت)
نظر بوقائع مذکور سوال عقد محمودہ ایسا ہی واقع ہوا نکاح سے ایك دن پہلے ہم عمر لڑکی سے جو گفتگوآئی اورمحمودہ نے پسند ظاہرکی وہ صرف رائے تھی نہ کسی شخص کو نکاح کرنے کی توکیل وقت تزویج اذن لینے پر جو سکوت محمودہ نے کیا وہ بھی توکیل کے لئے ناکافی تھا کہ ولی اقرب یعنی پدر چند ہی کوس پر تھا اور اذن لینے والا جب نہ خود ولی اقرب نہ اس کاوکیل نہ اس کا رسول تو دوشیزہ کا سکوت بھی معتبر نہیں اذن صاف درکار ہے۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار و ردالمحتار ان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی(المراد بہ من لیس لہ ولایۃ لکن رسول الولی قائم مقامہ فیکون سکوتھا رضاعند استیذانہ کما فی الفتح والوکیل کذلك کما فی البحر عن القنیۃ)اوولی بعید(کالاخ مع الاب اذالم یکن الاب غائبا
تنویر الابصار درمختار ردالمحتار میں ہے اگرلڑکی سے نکاح کی اجازت چاہنے والا ولی اقرب کاغیر مثلا اجبنی یعنی غیر ولی ہو یا ولی ابعد ہو مثلا والد کی موجودگی میں بھائی جبکہ والد لمبے سفر پر نہ ہو(جیساکہ خانیہ میں ہے)تو لڑکی کی اجازت کے لئے اس کا سکوت معتبر نہ ہوگا بلکہ اس موقعہ پر اس کا بولنا ثیبہ عورت کی طرح ضروری ہے یا کوئی ایسا فعل ضروری ہے جو بولنے کے قائم مقام
حوالہ / References
درمختار فصل فی الفضولی مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
غیبۃ منقطعۃ کما فی الخانیۃ)فلا عبرۃ لسکوتھا بل لا بدمن القول کالثیب البالغۃ اوماھو فی معناہ من فعل یدل علی الرضا ۔
رضا پر دلالت کرسکے لیکن ولی اقرب کا قاصد یا وکیل ہو تو وہ ولی کے قائم مقام ہوتاہے لہذا ان کے اجازت طلب کرنے پر لڑکی کی خاموشی کو رضا قرار دیا جائے گا۔ جیساکہ فتح میں ہے اور وکیل کے بارے بحر میں قنیہ سے منقول ہے۔ (ت)
معہذا رسم اکثر دیار ہندیہ یوں ہے کہ وکالت واذن زید کے نام لیتے ہیں اور پڑھانے والا عمرو ہوتاہے یوں باوصف اذن صریح بھی عقد عقد فضولی رہتاہے کہ جسے اذن تھا اس نے نہ پڑھایا
فی ردالمحتار عن الرحمتی عن الحموی عن کلام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمباشرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع اھ وفی وکالۃ غمز العیون عن الو لوالجیۃ ھوالصحیح ۔
ردالمحتار نے رحمتی اور انھوں نے حموی کے واسطہ سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مبسوط میں بیان کردہ کلام نقل کیاہے کہ وکیل کا وکیل نکاح کے معاملہ میں اصل وکیل کی موجودگی میں وکیل والاحکم نہیں پاتا بیع کا معاملہ اس کے خلاف ہے اھ اور غمز العیون کے باب وکالت میں ولوالجیہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔ (ت)
بہر حال یہ نکاح نکاح فضولی ہوا او راجازت محمودہ پر موقوف رہا اب بعد نکاح محمودہ کا واقعہ اگرچہ بنظر بعض تدقیقات علمیہ کہ عوام خصوصا عورات کی بات ان پر محمول ہونی مستبعد ونامقبول مدارك فقہ ہے رد واجازت کا قطعی فیصلہ نہ کرے تاہم شك نہیں کہ اس سے ظاہر و متبادر یہی ہے کہ محمودہ نے اس نکاح کو جائز رکھا اگرچہ رضائے پدر کے لئے شوہر سے علیحدہ اور عمر بھر نماز روزے پرقانع رہنا قبول کرتی ہے مگر طلاق پر ہرگز راضی نہیں اور طلاق بآنکہ مزیل نکاح ہے خود ہی سبقت نکاح چاہتی ہے نہ کہ اس کی ناپسندی کہ بقائے نکاح کی رضامندی ہے اوراسی قدر نفاذ نکاح موقوف کے لئے کافی ہے :
لما مر من الدرالمختار من قولہ اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا ۔
درمختار میں اس کے قول “ اور جو فعل رضاپر دلالت کرنے میں کلام جیسا ہو “ کی وجہ سے(ت)
رضا پر دلالت کرسکے لیکن ولی اقرب کا قاصد یا وکیل ہو تو وہ ولی کے قائم مقام ہوتاہے لہذا ان کے اجازت طلب کرنے پر لڑکی کی خاموشی کو رضا قرار دیا جائے گا۔ جیساکہ فتح میں ہے اور وکیل کے بارے بحر میں قنیہ سے منقول ہے۔ (ت)
معہذا رسم اکثر دیار ہندیہ یوں ہے کہ وکالت واذن زید کے نام لیتے ہیں اور پڑھانے والا عمرو ہوتاہے یوں باوصف اذن صریح بھی عقد عقد فضولی رہتاہے کہ جسے اذن تھا اس نے نہ پڑھایا
فی ردالمحتار عن الرحمتی عن الحموی عن کلام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمباشرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع اھ وفی وکالۃ غمز العیون عن الو لوالجیۃ ھوالصحیح ۔
ردالمحتار نے رحمتی اور انھوں نے حموی کے واسطہ سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مبسوط میں بیان کردہ کلام نقل کیاہے کہ وکیل کا وکیل نکاح کے معاملہ میں اصل وکیل کی موجودگی میں وکیل والاحکم نہیں پاتا بیع کا معاملہ اس کے خلاف ہے اھ اور غمز العیون کے باب وکالت میں ولوالجیہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔ (ت)
بہر حال یہ نکاح نکاح فضولی ہوا او راجازت محمودہ پر موقوف رہا اب بعد نکاح محمودہ کا واقعہ اگرچہ بنظر بعض تدقیقات علمیہ کہ عوام خصوصا عورات کی بات ان پر محمول ہونی مستبعد ونامقبول مدارك فقہ ہے رد واجازت کا قطعی فیصلہ نہ کرے تاہم شك نہیں کہ اس سے ظاہر و متبادر یہی ہے کہ محمودہ نے اس نکاح کو جائز رکھا اگرچہ رضائے پدر کے لئے شوہر سے علیحدہ اور عمر بھر نماز روزے پرقانع رہنا قبول کرتی ہے مگر طلاق پر ہرگز راضی نہیں اور طلاق بآنکہ مزیل نکاح ہے خود ہی سبقت نکاح چاہتی ہے نہ کہ اس کی ناپسندی کہ بقائے نکاح کی رضامندی ہے اوراسی قدر نفاذ نکاح موقوف کے لئے کافی ہے :
لما مر من الدرالمختار من قولہ اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا ۔
درمختار میں اس کے قول “ اور جو فعل رضاپر دلالت کرنے میں کلام جیسا ہو “ کی وجہ سے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار حاشیہ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار حاشیہ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
الاشباہ والنظائر معہ غمز العیون کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار حاشیہ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
الاشباہ والنظائر معہ غمز العیون کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
پس صورت مستفسرہ میں بشرط کفاءت مذکورہ نکاح محمودہ جائز وتام ونافذ ولازم ہے جس پر پدر وغیرہ کسی کو حق اعتراض نہیں۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳ : از بھوند پوری ضلع ترائیں نینی تال ۲۰ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا نکاح خالد نابالغ سے ہوا ہندہ اس وقت نوبرس کی تھی ہندہ کا باپ بھائی چچا وغیرہ کوئی ولی سوا ماں کے نہیں۔ یہ نکاح ماں کی رضامندی سے ہوا مگر اذن ہندہ نابالغہ سے لیا اور خالد کا نکاح اس کے باپ نے کیا مگر قبول خود خالد سے کرایا گیا بعد نکاح ہندہ نے خالد کے یہاں جانا نہ چاہا اس بنا پر اس کے ماموں نے روك رکھا مگر پیشکار کی تنبیہ سے جو یہاں دیہات میں مثل حاکم سمجھا جاتا ہے ہندہ پندرہ سال یا اس سے کم کی عمر میں رخصت ہوکر خالد کے یہاں گئی اور چار برس وہیں رہی وقت نکاح ہندہ وخالد دونوں نابالغ سمجھ وال تھے نہ تو بالغ تھے نہ ناسمجھ بچے ہندہ پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہوئی اب پھر اس نے اپنی ناراضی ظاہر کی اور دوسری جگہ اپنا نکاح کیا چاہتی ہے اس صو رت میں یہ اختیار اسے ہے یا نہیں ہندہ کا بیان ہے کہ آج تك ہمبستری نہ ہوئی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بوجہ نقصان آب وہوا کے ضعیف وکمزوربہت ہوتے ہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل مظہر کہ خالد ہندہ کا نسب ومذہب وغیرہما میں ہرطرف کفو ہے اور مہر اس کے یہاں رواج سے زیادہ باندھا گیا لہذا نکاح صحیح ہوگیا ہاں اس وجہ سے کہ ہندہ کا نکاح کرنے والا اس کا باپ دادا نہیں۔ ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورا فورا اختیار فسخ تھا اگر اس نے حیض آتے ہی معا ناراضی اور فسخ کی طلب گاری ظاہر کی تو نکاح فسخ کیا جائے گا۔ اور اگر ذرا بھی دیر کردی تو اب نکاح لازم ہوگیا کہ ہرگز فسخ نہیں ہوسکتا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان من کفو وبمھر المثل صح ولہما خیار الفسخ بالبلوغ وبطل خیار البکربالسکوت اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے جب نکاح کرکے دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو اگرچہ وہ ماں ہی کیوں نہ ہو غیر کفو اور انتہائی قلیل مہر سے اصلا نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر کفو اور مہر مثل ہے توصحیح ہوگا لیکن لڑکے اورلڑکی کو بالغ ہونے پر فسخ کا اختیار ہوگا اور باکرہ بالغہ کی خاموشی اس فسخ کے اختیار کو ختم کردے گی اھ ملتقطا(ت)
اسے بہت کا مل تحقیق کرنی ضرور ہے کہ معا حیض آتے ہی عورت کا مطالبہ فسخ کرنا بہت نادر ہے خصوصا
مسئلہ ۳۳۳ : از بھوند پوری ضلع ترائیں نینی تال ۲۰ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا نکاح خالد نابالغ سے ہوا ہندہ اس وقت نوبرس کی تھی ہندہ کا باپ بھائی چچا وغیرہ کوئی ولی سوا ماں کے نہیں۔ یہ نکاح ماں کی رضامندی سے ہوا مگر اذن ہندہ نابالغہ سے لیا اور خالد کا نکاح اس کے باپ نے کیا مگر قبول خود خالد سے کرایا گیا بعد نکاح ہندہ نے خالد کے یہاں جانا نہ چاہا اس بنا پر اس کے ماموں نے روك رکھا مگر پیشکار کی تنبیہ سے جو یہاں دیہات میں مثل حاکم سمجھا جاتا ہے ہندہ پندرہ سال یا اس سے کم کی عمر میں رخصت ہوکر خالد کے یہاں گئی اور چار برس وہیں رہی وقت نکاح ہندہ وخالد دونوں نابالغ سمجھ وال تھے نہ تو بالغ تھے نہ ناسمجھ بچے ہندہ پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہوئی اب پھر اس نے اپنی ناراضی ظاہر کی اور دوسری جگہ اپنا نکاح کیا چاہتی ہے اس صو رت میں یہ اختیار اسے ہے یا نہیں ہندہ کا بیان ہے کہ آج تك ہمبستری نہ ہوئی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بوجہ نقصان آب وہوا کے ضعیف وکمزوربہت ہوتے ہیں بینواتوجروا
الجواب :
سائل مظہر کہ خالد ہندہ کا نسب ومذہب وغیرہما میں ہرطرف کفو ہے اور مہر اس کے یہاں رواج سے زیادہ باندھا گیا لہذا نکاح صحیح ہوگیا ہاں اس وجہ سے کہ ہندہ کا نکاح کرنے والا اس کا باپ دادا نہیں۔ ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورا فورا اختیار فسخ تھا اگر اس نے حیض آتے ہی معا ناراضی اور فسخ کی طلب گاری ظاہر کی تو نکاح فسخ کیا جائے گا۔ اور اگر ذرا بھی دیر کردی تو اب نکاح لازم ہوگیا کہ ہرگز فسخ نہیں ہوسکتا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان من کفو وبمھر المثل صح ولہما خیار الفسخ بالبلوغ وبطل خیار البکربالسکوت اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے جب نکاح کرکے دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو اگرچہ وہ ماں ہی کیوں نہ ہو غیر کفو اور انتہائی قلیل مہر سے اصلا نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر کفو اور مہر مثل ہے توصحیح ہوگا لیکن لڑکے اورلڑکی کو بالغ ہونے پر فسخ کا اختیار ہوگا اور باکرہ بالغہ کی خاموشی اس فسخ کے اختیار کو ختم کردے گی اھ ملتقطا(ت)
اسے بہت کا مل تحقیق کرنی ضرور ہے کہ معا حیض آتے ہی عورت کا مطالبہ فسخ کرنا بہت نادر ہے خصوصا
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
جبکہ جاہلہ ہو اور تقریر سوال سے ظاہر اس کا خلاف ہے اور پیش ازبلوغ اظہار ناراضی کوئی چیز نہیں عورت اگرا س میں فریب کرے گی اور بعد بلوغ ایك ذرا دیر بھی خاموش رہی یاکوئی اور بات کی تھی اور اب ظاہر کرے گی کہ میں نے فورا فورا بالغ ہوتے ہی بلاتاخیر سب میں پہلے یہی لفظ کہا تھا اور اس بنا پر فسخ کا حکم لے کر دوسرے سے نکاح کرلے گی تو ہمیشہ ہمیشہ زنا کاری کی بلا میں گرفتار رہے گی اتنا اور بھی معلوم رہے کہ مدت کے بعد اس کا یہ دعوی کہ میں نے حیض کے آتے ہی فورا نکاح فسخ کردیا تھا بے گواہان عادل شرعی کے ہر گز قبول نہ ہوگا کما بینہ فی ردالمحتار(جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان کیا ہے۔ ت)والله سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴ : از اعظم گڑھ مرسلہ خواجہ عنایت الله خاں صاحب ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو اہل کفو ہندہ سے تھا ہندہ بالغہ باکرہ کانکاح بغیبت اس کے باپ کے جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقے پر تھا برضامندی مادر ونانی وبہ سکوت وگریہ ہندہ اپنے ساتھ بوکالت وشہادت تین اقربا خاص ہونا ظاہر کیا زید اب کہتا ہے کہ ہندہ نے خود اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ میرے نکاح کوقبول کیا تھا۔ وکیل گواہان زید حسب بیان زید شہادت دیں ہندہ کہتی ہے میں نے ہر گز ہرگز نہ زبان سے اقرار ونہ کسی طرح منظوری اپنی ظاہرکی تھی وبلا رضامندی اپنے باپ کے مجھ کو یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے باپ ہندہ کا نہ پہلے راضی تھا نہ اب راضی ہے پس ایسا نکاح وشخص عندالله والرسول کیسا اور ہوایا نہیں اور سوال یہ ہے کہ زید وگواہان زید ووکیل کو ترجیح ہے یا کیاصورت کس کے مقابلہ میں کس کو ترجیح دوسرا سوال یہ ہے کہ نکاح مذکورہ بالا حسب اظہار ہندہ اگر بحالت سکوت وگریہ ہندہ بغیبت اس کے باپ کے حسب کیفیت نارضامندی وفاصلہ مرقومہ اس کے ہوا ہو تو ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
تقریر سوال سے واضح ہے کہ یہ نکاح بغیبت پدر ہندہ بوجہ ناراضی پدر ہندہ عمل میں آیا ایسی حالت میں ۱۲ کوس کا فاصلہ کسی قول پر غیبت منقطعہ نہیں ہوسکتا مسافت قصر نہ ہونا ظاہر اوریہاں ولی ابعد کی تعجیل(بحالیکہ ماں یہاں ولی ابعد ہو بھی)اس وجہ سے نہیں کہ ولی اقرب سے مشورہ لینے میں دیر لگے گی اور اتنی دیر میں کفو حاضر ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ اس لئے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے ارادہ کے خلاف معلوم ہے اور اس کے خلاف کام کرنا منظور توہرگز یہ صورت ناقابل ولایت بولی ابعد نہیں والاتکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض(ورنہ زمین پر فتنہ او روسیع فسادبرپا ہوگا۔ ت)ایسا ہو تو شرع مطہر نے جس حکمت سے ترتیب رکھی ہے رأسا باطل ہوجائے ہر ولی ابعد سے ابعد ہرزن بے عقل وبے خرد کو اختیار حاصل ہوکہ پدر مہربان یا برادر شفیق ولی قریب کو دہ کوس بلکہ گھر سے باہر مسجد یا بازار ہی تك جائے اور وہ اس کے خلاف رائے جس سے چاہے نکاح کردے یہ مقاصد شرع
مسئلہ ۳۳۴ : از اعظم گڑھ مرسلہ خواجہ عنایت الله خاں صاحب ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو اہل کفو ہندہ سے تھا ہندہ بالغہ باکرہ کانکاح بغیبت اس کے باپ کے جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقے پر تھا برضامندی مادر ونانی وبہ سکوت وگریہ ہندہ اپنے ساتھ بوکالت وشہادت تین اقربا خاص ہونا ظاہر کیا زید اب کہتا ہے کہ ہندہ نے خود اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ میرے نکاح کوقبول کیا تھا۔ وکیل گواہان زید حسب بیان زید شہادت دیں ہندہ کہتی ہے میں نے ہر گز ہرگز نہ زبان سے اقرار ونہ کسی طرح منظوری اپنی ظاہرکی تھی وبلا رضامندی اپنے باپ کے مجھ کو یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے باپ ہندہ کا نہ پہلے راضی تھا نہ اب راضی ہے پس ایسا نکاح وشخص عندالله والرسول کیسا اور ہوایا نہیں اور سوال یہ ہے کہ زید وگواہان زید ووکیل کو ترجیح ہے یا کیاصورت کس کے مقابلہ میں کس کو ترجیح دوسرا سوال یہ ہے کہ نکاح مذکورہ بالا حسب اظہار ہندہ اگر بحالت سکوت وگریہ ہندہ بغیبت اس کے باپ کے حسب کیفیت نارضامندی وفاصلہ مرقومہ اس کے ہوا ہو تو ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
تقریر سوال سے واضح ہے کہ یہ نکاح بغیبت پدر ہندہ بوجہ ناراضی پدر ہندہ عمل میں آیا ایسی حالت میں ۱۲ کوس کا فاصلہ کسی قول پر غیبت منقطعہ نہیں ہوسکتا مسافت قصر نہ ہونا ظاہر اوریہاں ولی ابعد کی تعجیل(بحالیکہ ماں یہاں ولی ابعد ہو بھی)اس وجہ سے نہیں کہ ولی اقرب سے مشورہ لینے میں دیر لگے گی اور اتنی دیر میں کفو حاضر ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ اس لئے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے ارادہ کے خلاف معلوم ہے اور اس کے خلاف کام کرنا منظور توہرگز یہ صورت ناقابل ولایت بولی ابعد نہیں والاتکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض(ورنہ زمین پر فتنہ او روسیع فسادبرپا ہوگا۔ ت)ایسا ہو تو شرع مطہر نے جس حکمت سے ترتیب رکھی ہے رأسا باطل ہوجائے ہر ولی ابعد سے ابعد ہرزن بے عقل وبے خرد کو اختیار حاصل ہوکہ پدر مہربان یا برادر شفیق ولی قریب کو دہ کوس بلکہ گھر سے باہر مسجد یا بازار ہی تك جائے اور وہ اس کے خلاف رائے جس سے چاہے نکاح کردے یہ مقاصد شرع
سےمنزلوں دور ہے بالجملہ قول آخر میں انتقال ولایت ہے کہ انتظارکی دیر باعث کفو ہو نہ یہ کہ بوجہ علم ناراضی قصدا انتظار نہ کیا جائے۔
فی ردالمحتار اختلف فی حدالغیبۃ واختار المصنف تبعا للکنز انھا مسافۃ القصر ونسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی اھ وقال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ اواستطلاع رایہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب اھ وفی النھایۃ واختارہ اکثرالمشائخ وفی شرح الملتقی عن الحقائق علیہ الفتوی اھ مختصرا۔ فی الدر المختار وثمرۃ الخلاف فیمن اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ غیبۃ منقطعہ کی حد کے متعلق اختلاف ہے تو مصنف نے کنز کی اتباع میں فرمایا وہ مسافت قصر کا سفر ہے اور اس کوہدایہ نے بعض متاخرین اور زیلعی نے اکثر متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے او رزیلعی نے فرمایا اسی پر فتوی ہے اھ اور ذخیرہ میں کہا ہے اصح یہ ہے کہ وہ اتنا دور ہو کہ اگر اس کی واپسی کاانتظار یا اس سے مشورہ حاصل کرنے سے موجودہ رشتہ کفو فوت ہوجائے تو یہ “ غیبت منقطعہ “ ہوگی اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے اھ اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اس کو پسند کیاہے اور منیہ کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصرا اور درمختار میں اس اختلاف کا ثمرہ بیان کیا کہ شہر میں ہی کوئی ولی چھپا ہوا ہو تو کیا وہ غیبۃ منقطعہ ہوگی یا نہیں۔ (ت)
اور ولی ابعد بحالت عدم انتقال ولایت یا کوئی اجنبی کہ ولی اقرب کا وکیل ورسول نہ ہوجب بکربالغہ سے اذن نکاح مانگے تو اس کا سکوت معتبر نہیں بلکہ قولا یا فعلا صاف اظہار رضا ضرورہے بحال سکوت نکاح فضولی ہوگا اور اجازت عروس پرموقوف رہے گا۔ اسی طرح اگر غیر ولی اقرب نے بلا اذن بکر بالغہ نکاح کردیا پھر اسے خبرہوئی تو اجازت صریحہ سے نافذہوگا سکوت کافی نہیں۔
فی الدرالمختار ان استاذنھا الولی اووکیلہ اورسولہ اوزوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او
درمختارمیں ہے کہ اگر بالغہ سے ولی نے اجازت طلب کی یا ولی کے قاصد یا وکیل نے اجازت طلب کی یاولی نے اس کا نکاح کردیا اور قاصد نے
فی ردالمحتار اختلف فی حدالغیبۃ واختار المصنف تبعا للکنز انھا مسافۃ القصر ونسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی اھ وقال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ اواستطلاع رایہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب اھ وفی النھایۃ واختارہ اکثرالمشائخ وفی شرح الملتقی عن الحقائق علیہ الفتوی اھ مختصرا۔ فی الدر المختار وثمرۃ الخلاف فیمن اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ غیبۃ منقطعہ کی حد کے متعلق اختلاف ہے تو مصنف نے کنز کی اتباع میں فرمایا وہ مسافت قصر کا سفر ہے اور اس کوہدایہ نے بعض متاخرین اور زیلعی نے اکثر متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے او رزیلعی نے فرمایا اسی پر فتوی ہے اھ اور ذخیرہ میں کہا ہے اصح یہ ہے کہ وہ اتنا دور ہو کہ اگر اس کی واپسی کاانتظار یا اس سے مشورہ حاصل کرنے سے موجودہ رشتہ کفو فوت ہوجائے تو یہ “ غیبت منقطعہ “ ہوگی اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے اھ اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اس کو پسند کیاہے اور منیہ کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصرا اور درمختار میں اس اختلاف کا ثمرہ بیان کیا کہ شہر میں ہی کوئی ولی چھپا ہوا ہو تو کیا وہ غیبۃ منقطعہ ہوگی یا نہیں۔ (ت)
اور ولی ابعد بحالت عدم انتقال ولایت یا کوئی اجنبی کہ ولی اقرب کا وکیل ورسول نہ ہوجب بکربالغہ سے اذن نکاح مانگے تو اس کا سکوت معتبر نہیں بلکہ قولا یا فعلا صاف اظہار رضا ضرورہے بحال سکوت نکاح فضولی ہوگا اور اجازت عروس پرموقوف رہے گا۔ اسی طرح اگر غیر ولی اقرب نے بلا اذن بکر بالغہ نکاح کردیا پھر اسے خبرہوئی تو اجازت صریحہ سے نافذہوگا سکوت کافی نہیں۔
فی الدرالمختار ان استاذنھا الولی اووکیلہ اورسولہ اوزوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او
درمختارمیں ہے کہ اگر بالغہ سے ولی نے اجازت طلب کی یا ولی کے قاصد یا وکیل نے اجازت طلب کی یاولی نے اس کا نکاح کردیا اور قاصد نے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
فضولی عدل فسکتت عن ردہ مختارۃ او ضحکت غیر مستھزیۃ اوتبسمت او بکت بلاصوت فھو اذن فان استأذنھا غیر الاقرب کاجنبی او ولی بعید فلا عبرۃ بسکوتہا بل لابدلھا من القول کالثیب البالغۃ اورمن فعل یدل علی الرضا کطلب مھرھا ونفقتھا وتمکینھا من الوطی اھ مختصرا۔ وفی الھندیۃ عن جامع المضمرات ان کان لھا ولی اقرب من المزوج لایکون السکوت منھا رضا ولھا الخیاران شاءت رضیت وان شاءت ردت ۔
یا اجنبی عادل شخص نے اس بالغہ کو نکاح کی اطلاع دی تو وہ خاموش رہی اور نکاح کورد نہ کیا۔ یا سنجیدگی سے ہنس پڑی یاآواز کے بغیر روپڑی تو اجازت قرارپائے گی۔ اور اگر کسی غیر اقرب مثلا اجنبی یا ولی بعید کے اجازت طلب کرنے پر بالغہ نے خاموشی اختیار کی تووہ رضا معتبر نہ ہوگی بلکہ ثیبہ بالغہ کی طرح صریح قول یا فعل کرے جو اس کی اجازت واضح کرسکے مثلا اس موقعہ پر مہر دے اھ مختصرا اور ہندیہ میں جامع المضرات سے منقول ہے کہ اگر نکاح دینے والے کی نسبت کوئی اقرب دوسراہے تو یہ اس کا سکوت رضا نہ قرار پائے گا اور اس کو اختیارہوگا کہ نکاح کور دکردے یا راضی ہوکر جائز قرار دے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں کہ زید نے اولا اجازت نکاح بسکوت وگریہ ہندہ ظاہر کی اور بعد کو اجازت بلفظ صریح مدعی ہوا اگر یہ دونوں بیان وقت واحد کی نسبت ہیں مثلا پہلے کہتا تھاکہ ہندہ سے جب اذن لیا گیا تو اس نے سکوت وگریہ کیا اب کہتاہے صریح اذن دیا تو اگرچہ پھر یہاں بیان سابق کے خلاف اور صاف صورت تناقض ہے
لانہ اقر ا ولا بعد م ثبوت الملك لہ علیھا اذلا ملك حیث لانفاذ ولذالایحل الوطء فی الموقوف۔
کیونکہ پہلے لڑکی پر اپنے حق نہ ہونے کا اقرار کرچکا ہے اورجب ملکیت نہ ہوئی تو نکاح کا نفاذ نہ ہوا تو نکاح موقوف رہا جس میں وطی حلال نہیں ہوتی۔ (ت)
مگر یہ تناقض محمل خفامیں ہے کہ زوج وقت استیذان دلھن کی مجلس میں حاضر نہیں ہوتا اور یہ فعل خاص دلھن کاہے جس پر زوج کو اطلاع بذریعہ حکایت ہی ہوتی ہے ممکن کہ پہلے کسی نے غلط طورپر صرف سکوت وگریہ بیان کیا اور اس نے اس کے اعتبار پر یہی ظاہرکیا بعدہ تحقیق ہواکہ اذن بالفاظ صریحہ تھا بلکہ دلھنوں
یا اجنبی عادل شخص نے اس بالغہ کو نکاح کی اطلاع دی تو وہ خاموش رہی اور نکاح کورد نہ کیا۔ یا سنجیدگی سے ہنس پڑی یاآواز کے بغیر روپڑی تو اجازت قرارپائے گی۔ اور اگر کسی غیر اقرب مثلا اجنبی یا ولی بعید کے اجازت طلب کرنے پر بالغہ نے خاموشی اختیار کی تووہ رضا معتبر نہ ہوگی بلکہ ثیبہ بالغہ کی طرح صریح قول یا فعل کرے جو اس کی اجازت واضح کرسکے مثلا اس موقعہ پر مہر دے اھ مختصرا اور ہندیہ میں جامع المضرات سے منقول ہے کہ اگر نکاح دینے والے کی نسبت کوئی اقرب دوسراہے تو یہ اس کا سکوت رضا نہ قرار پائے گا اور اس کو اختیارہوگا کہ نکاح کور دکردے یا راضی ہوکر جائز قرار دے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں کہ زید نے اولا اجازت نکاح بسکوت وگریہ ہندہ ظاہر کی اور بعد کو اجازت بلفظ صریح مدعی ہوا اگر یہ دونوں بیان وقت واحد کی نسبت ہیں مثلا پہلے کہتا تھاکہ ہندہ سے جب اذن لیا گیا تو اس نے سکوت وگریہ کیا اب کہتاہے صریح اذن دیا تو اگرچہ پھر یہاں بیان سابق کے خلاف اور صاف صورت تناقض ہے
لانہ اقر ا ولا بعد م ثبوت الملك لہ علیھا اذلا ملك حیث لانفاذ ولذالایحل الوطء فی الموقوف۔
کیونکہ پہلے لڑکی پر اپنے حق نہ ہونے کا اقرار کرچکا ہے اورجب ملکیت نہ ہوئی تو نکاح کا نفاذ نہ ہوا تو نکاح موقوف رہا جس میں وطی حلال نہیں ہوتی۔ (ت)
مگر یہ تناقض محمل خفامیں ہے کہ زوج وقت استیذان دلھن کی مجلس میں حاضر نہیں ہوتا اور یہ فعل خاص دلھن کاہے جس پر زوج کو اطلاع بذریعہ حکایت ہی ہوتی ہے ممکن کہ پہلے کسی نے غلط طورپر صرف سکوت وگریہ بیان کیا اور اس نے اس کے اعتبار پر یہی ظاہرکیا بعدہ تحقیق ہواکہ اذن بالفاظ صریحہ تھا بلکہ دلھنوں
حوالہ / References
درمختار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲۔ ۱۹۱
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
سے استیذان میں دیر لگتی ہے ممکن ہو جس وقت ناقل اول وہاں موجودتھا سکوت وگریہ ہی کیا ہو اس کے اٹھ جانے کے بعد مثلا “ ہوں “ کہا زوج کو اول حکایت اولی ہی پہنچی تھی بعد کو دوسری تحقیق ہوئی ایسا تناقض شرعا عفو ہے اشباہ میں ہے :
التناقض غیر مقبول الافیما کان محل الخفاء ۔
بیان میں تناقض مقبول نہیں ہے مگرایسے مقام میں جہاں خفاء ہو۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے :
فی الفواکہ البدریۃ قد اغتفروا التناقض فی کثیر من المسائل التی یظھر فیھا عذر منھا لوقال ھذہ رضیعتی ثم اعترف بالخطاء یصدق ولہ ان یتزوجھا بعد ذلك اذالم یثبت علی اقرار والعذرانہ ممایخفی علیہ فقد یظھر بعد اقرارہ علی خطاء الناقل اھ مختصرا۔ )
فواکہ بدریہ میں ہے کہ بہت سے ایسے مقامات میں جہاں عذر واضح ہوتو تناقض کو فقہاء نے نظر انداز کیا ہے ایسے مقامات میں سے ایك یہ ہے ایك شخص نے پہلے کہا یہ لڑکی رضاعی بیٹی ہے پھر اس بات کے بارے میں خطاء کا اعتراف کرتا تو اس اعتراف خطاء کو تسلیم کرلیا جائے گا اور اس لڑکی سے اس کانکاح جائز قرار دیا جائے گا کیونکہ رضاعت کا معاملہ اس پر مخفی ہوسکتاہے کہ پہلے ناقل کی غلطی پر اقرار رضاعت کرنے کے بعد اس کی حقیقت معلوم ہوئی اور اپنے اقرار کو خطاء پر مبنی قرار دیا اھ مختصرا(ت)
تواس صورت کا حاصل یہ قرار پایاکہ مرد نکاح نافذ کا دعوی کرتاہے اور عورت انکار اور اگر یہ بیان دو وقت مختلف کی نسبت ہیں یعنی سکوت وگریہ استیذان پیش از نکاح یا بلوغ خبر نکاح کے وقت بیان کیاتھا ا ور اب مدعی ہے کہ اس کے بعد دلھن نے بلفظ صریح نکاح جائز کردیا تویہ رد واجازت نکاح موقوف میں اختلاف زوجین کی صورت ہے بہرحال صو رت مسئولہ میں اگر جانب شوہر شہادت عادلہ کافیہ نہ ہو تو قول عورت کا قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر قسم کھالے گی نکاح باطل ٹھہرے گا اور جبکہ د عوی شوہر اجازت بالفاظ صریحہ ہے تو یہاں ہرصورت میں بینہ شوہر کو ترجیح ہے اگر گواہان عادل شرعی سے اپنا دعوی ثابت کردے گا نکاح ثابت و نافذ قرار پائے گا۔ یونہی بحالت عدم گواہان اگر دلھن قسم کھانے سے انکار کرے گی دعوی شوہر ثابت ہوجائیگا
التناقض غیر مقبول الافیما کان محل الخفاء ۔
بیان میں تناقض مقبول نہیں ہے مگرایسے مقام میں جہاں خفاء ہو۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے :
فی الفواکہ البدریۃ قد اغتفروا التناقض فی کثیر من المسائل التی یظھر فیھا عذر منھا لوقال ھذہ رضیعتی ثم اعترف بالخطاء یصدق ولہ ان یتزوجھا بعد ذلك اذالم یثبت علی اقرار والعذرانہ ممایخفی علیہ فقد یظھر بعد اقرارہ علی خطاء الناقل اھ مختصرا۔ )
فواکہ بدریہ میں ہے کہ بہت سے ایسے مقامات میں جہاں عذر واضح ہوتو تناقض کو فقہاء نے نظر انداز کیا ہے ایسے مقامات میں سے ایك یہ ہے ایك شخص نے پہلے کہا یہ لڑکی رضاعی بیٹی ہے پھر اس بات کے بارے میں خطاء کا اعتراف کرتا تو اس اعتراف خطاء کو تسلیم کرلیا جائے گا اور اس لڑکی سے اس کانکاح جائز قرار دیا جائے گا کیونکہ رضاعت کا معاملہ اس پر مخفی ہوسکتاہے کہ پہلے ناقل کی غلطی پر اقرار رضاعت کرنے کے بعد اس کی حقیقت معلوم ہوئی اور اپنے اقرار کو خطاء پر مبنی قرار دیا اھ مختصرا(ت)
تواس صورت کا حاصل یہ قرار پایاکہ مرد نکاح نافذ کا دعوی کرتاہے اور عورت انکار اور اگر یہ بیان دو وقت مختلف کی نسبت ہیں یعنی سکوت وگریہ استیذان پیش از نکاح یا بلوغ خبر نکاح کے وقت بیان کیاتھا ا ور اب مدعی ہے کہ اس کے بعد دلھن نے بلفظ صریح نکاح جائز کردیا تویہ رد واجازت نکاح موقوف میں اختلاف زوجین کی صورت ہے بہرحال صو رت مسئولہ میں اگر جانب شوہر شہادت عادلہ کافیہ نہ ہو تو قول عورت کا قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر قسم کھالے گی نکاح باطل ٹھہرے گا اور جبکہ د عوی شوہر اجازت بالفاظ صریحہ ہے تو یہاں ہرصورت میں بینہ شوہر کو ترجیح ہے اگر گواہان عادل شرعی سے اپنا دعوی ثابت کردے گا نکاح ثابت و نافذ قرار پائے گا۔ یونہی بحالت عدم گواہان اگر دلھن قسم کھانے سے انکار کرے گی دعوی شوہر ثابت ہوجائیگا
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۵۰
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب القضاء ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۵۰
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب القضاء ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۵۰
یہ سب حکم قضا ہے رہا واقع کا حال وہ رب العزت کے علم میں ہے اور دونوں اہل معاملہ اوران کے شرکاء واقف جو جھوٹا ہوگا عند الله عذاب الیم شدید کا سزا وار ہوگا۔ والعیاذ بالله تعالی :
فی الدرالمختار قال الزوج للبکرا لبالغۃ بلغك النکاح فسکت وقالت رددت النکاح ولابینۃ لھما علی ذلك ولم یکن دخل بھا طوعا فی الاصح فالقول قولھما بیمینھا علی المفتی بہ وتقبل بینتہ علی سکوتھا لانہ وجودی بضم الشفتین ولو برھنا فبینتھا اولی الا ان یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ۔
قلت فرض المسألۃ فی تزویج الاقرب فقولہ سکت بمعنی اجزت وقولہ یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ای صریحا کما بینہ فی ردالمحتار ولنذکر طرفا من کلامہ لاتضاح المقام قال رحمہ اﷲ تعالی قولہ فالقول قولھا لانہ یدعی لزوم
درمختار میں ہے : خاوند نے باکرہ بالغہ کوکہا کہ تونکاح کی اطلاع پر خاموش رہی لڑکی نے جواب میں کہا میں خاموش نہ رہی بلکہ میں نے نکاح رد کردیا تھا جبکہ دونوں کے پاس گواہ نہیں اورنہ ہی لڑکی نے ابھی تك خاوندکو اطلاع کا موقع دیا تو اس صورت میں لڑکی کی بات قسم کے ساتھ قبول کرلی جائے گی یہ مفتی بہ قول کے مطابق ہے اوراگر خاوند نے گواہوں کے ذریعہ لڑکی کی خاموشی پیش کی اور لڑکی کے گواہ نہیں تو اس صورت میں سکوت پر گواہی قبول کرلی جائے گی کیونکہ سکوت وجودی امر ہے اور اگر دونوں نے اپنے اپنے موقف پر گواہ پیش کردئے تو لڑکی کے گواہوں کو ترجیح ہوگی ہاں اگر خاوند نے سکوت پر گواہی کے بجائے لڑکی کی رضایا اجازت پر گواہی پیش کی توپھر خاوند کی طرف سے شہادت کو ترجیح ہوگی۔ قلت(میں کہتاہوں کہ)مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ نکاح ولی اقرب نے کرایاہو توخاوند کا کہنا کہ “ خاموش رہی “ کا مطلب یہ ہے کہ تونے اجازت دی تھی اور مصنف کا قول کہ “ رضا یا اجازت پر گواہ پیش کئے “ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند صریحا اجازت کا مدعی ہو جیساکہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے ہم یہاں ردالمحتار کے کلام کا کچھ حصہ
فی الدرالمختار قال الزوج للبکرا لبالغۃ بلغك النکاح فسکت وقالت رددت النکاح ولابینۃ لھما علی ذلك ولم یکن دخل بھا طوعا فی الاصح فالقول قولھما بیمینھا علی المفتی بہ وتقبل بینتہ علی سکوتھا لانہ وجودی بضم الشفتین ولو برھنا فبینتھا اولی الا ان یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ۔
قلت فرض المسألۃ فی تزویج الاقرب فقولہ سکت بمعنی اجزت وقولہ یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ای صریحا کما بینہ فی ردالمحتار ولنذکر طرفا من کلامہ لاتضاح المقام قال رحمہ اﷲ تعالی قولہ فالقول قولھا لانہ یدعی لزوم
درمختار میں ہے : خاوند نے باکرہ بالغہ کوکہا کہ تونکاح کی اطلاع پر خاموش رہی لڑکی نے جواب میں کہا میں خاموش نہ رہی بلکہ میں نے نکاح رد کردیا تھا جبکہ دونوں کے پاس گواہ نہیں اورنہ ہی لڑکی نے ابھی تك خاوندکو اطلاع کا موقع دیا تو اس صورت میں لڑکی کی بات قسم کے ساتھ قبول کرلی جائے گی یہ مفتی بہ قول کے مطابق ہے اوراگر خاوند نے گواہوں کے ذریعہ لڑکی کی خاموشی پیش کی اور لڑکی کے گواہ نہیں تو اس صورت میں سکوت پر گواہی قبول کرلی جائے گی کیونکہ سکوت وجودی امر ہے اور اگر دونوں نے اپنے اپنے موقف پر گواہ پیش کردئے تو لڑکی کے گواہوں کو ترجیح ہوگی ہاں اگر خاوند نے سکوت پر گواہی کے بجائے لڑکی کی رضایا اجازت پر گواہی پیش کی توپھر خاوند کی طرف سے شہادت کو ترجیح ہوگی۔ قلت(میں کہتاہوں کہ)مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ نکاح ولی اقرب نے کرایاہو توخاوند کا کہنا کہ “ خاموش رہی “ کا مطلب یہ ہے کہ تونے اجازت دی تھی اور مصنف کا قول کہ “ رضا یا اجازت پر گواہ پیش کئے “ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند صریحا اجازت کا مدعی ہو جیساکہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے ہم یہاں ردالمحتار کے کلام کا کچھ حصہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
العقد وملك البضع والمرأۃ تدفعہ فکانت منکرۃ ۔
ثم ذکر فی البحر ذکر الحاکم الشھید فی الکافی لو ادعی احدھما ان النکاح کان فی صغرہ فالقول قولہ ولانکاح بینھما اھ قلت عللھا فی الذخیرۃ بقولہ لان النکاح فی حالۃ الصغر قبل اجازۃ الولی لیس نکاحا معنا وذکر قبلہ ان الاختلاف لوفی الصحۃ والفساد فالقول لمدعی الصحہ بشھادۃ الظاھرولوفی اصل وجود العقد فالقول لمنکر الوجود ۔ ثم ان الظاھران مانحن فیہ من قبیل الاختلاف فی اصل وجود العقد لان الرد صیر الایجاب بلا قبول قولہ الا ان یبرھن ای فتترجح بینتہ لاستوائھما فی الاثبات
ذکر کرتے ہیں تاکہ مقام واضح ہوسکے انھوں نے کہا قولہ کہ “ لڑکی کی بات کو ترجیح ہوگی “ کیونکہ خاوند لڑکی پرنکاح کے لزوم اور اپنے لئے ملك بضعہ یعنی جماع کے حق کا دعوی کرتاہے جبکہ لڑکی دفاع کرتے ہوئے انکار کرتی ہے اور وہ منکر ہے پھر بحر میں کہا کہ حاکم شہید نے کافی میں ذکرکیا ہے کہ اگر اختلاف یہ ہے کہ لڑکے کی نابالغی میں ہوا یا نہیں تو جس نے نابالغی میں نکاح کا دعوی کیا اس کا قول معتبر ہوگا اور نکاح ثابت نہ ہوگا اھ ____قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ بچپن میں ولی کی اجازت سے قبل نکاح معنی درست نہیں اور اس سے قبل ذخیرہ میں ذکر ہے کہ اگر اختلاف نکاح صحیح یافاسد ہونے میں ہوتو صحت کے مدعی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح صحیح ہوتا ہے اور اختلاف اگر نکاح کے ہونے نہ ہونے میں ہو تو وجودنکاح کے انکار والے کی بات معتبر ہوگی پھر بلا شبہہ ظاہر ہے ہماری بحث اصل نکاح کے وجودمیں ہے تو لڑکی کا انکار اور رد ایجاب بغیر قبول ہوگا لہذا لڑکی کی بات معتبر ہوگی قولہ “ مگر یہ کہ خاوند گواہ پیش کرے “ یعنی اس کی گواہی کو ترجیح ہوگی کیونکہ خاوند اورلڑکی دونوں کے گواہ اثبات میں
ثم ذکر فی البحر ذکر الحاکم الشھید فی الکافی لو ادعی احدھما ان النکاح کان فی صغرہ فالقول قولہ ولانکاح بینھما اھ قلت عللھا فی الذخیرۃ بقولہ لان النکاح فی حالۃ الصغر قبل اجازۃ الولی لیس نکاحا معنا وذکر قبلہ ان الاختلاف لوفی الصحۃ والفساد فالقول لمدعی الصحہ بشھادۃ الظاھرولوفی اصل وجود العقد فالقول لمنکر الوجود ۔ ثم ان الظاھران مانحن فیہ من قبیل الاختلاف فی اصل وجود العقد لان الرد صیر الایجاب بلا قبول قولہ الا ان یبرھن ای فتترجح بینتہ لاستوائھما فی الاثبات
ذکر کرتے ہیں تاکہ مقام واضح ہوسکے انھوں نے کہا قولہ کہ “ لڑکی کی بات کو ترجیح ہوگی “ کیونکہ خاوند لڑکی پرنکاح کے لزوم اور اپنے لئے ملك بضعہ یعنی جماع کے حق کا دعوی کرتاہے جبکہ لڑکی دفاع کرتے ہوئے انکار کرتی ہے اور وہ منکر ہے پھر بحر میں کہا کہ حاکم شہید نے کافی میں ذکرکیا ہے کہ اگر اختلاف یہ ہے کہ لڑکے کی نابالغی میں ہوا یا نہیں تو جس نے نابالغی میں نکاح کا دعوی کیا اس کا قول معتبر ہوگا اور نکاح ثابت نہ ہوگا اھ ____قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ بچپن میں ولی کی اجازت سے قبل نکاح معنی درست نہیں اور اس سے قبل ذخیرہ میں ذکر ہے کہ اگر اختلاف نکاح صحیح یافاسد ہونے میں ہوتو صحت کے مدعی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح صحیح ہوتا ہے اور اختلاف اگر نکاح کے ہونے نہ ہونے میں ہو تو وجودنکاح کے انکار والے کی بات معتبر ہوگی پھر بلا شبہہ ظاہر ہے ہماری بحث اصل نکاح کے وجودمیں ہے تو لڑکی کا انکار اور رد ایجاب بغیر قبول ہوگا لہذا لڑکی کی بات معتبر ہوگی قولہ “ مگر یہ کہ خاوند گواہ پیش کرے “ یعنی اس کی گواہی کو ترجیح ہوگی کیونکہ خاوند اورلڑکی دونوں کے گواہ اثبات میں
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳
وزیادۃ بینۃ باثبات اللزوم کذا فی الشروح وعزاہ فی النھایۃ للتمرتاشی وکذا ھوفی غیر کتاب من الفقہ لکن فی الخلاصۃ عن ادب القاضی للخصاف ان بینتھا اولی ففی ھذہ الصورۃ اختلاف المشائخ ولعل وجھہ ان السکوت لما کان مماتحقق الاجازۃ بہ لم یلزم من الشھادۃ بالاجازۃ کونھا بامرزائد علی السکوت مالم یصرحوا بذلك کذا فی الفتح وتبعہ فی البحر واستفید منہ التوفیق بین القولین بحمل الاول علی مااذا صرح الشھود بانھا قالت اجزت اورضیت وحمل الثانی علی مااذا اشھد وا بانھا اجازت اورضیت باحتمال اجازتھا بالسکوت فافھم اھ ملتقطا
وفی الھندیۃ لو اقام الزوج البینۃ انھا اجازت العقد حین اخبرت واقامت البینۃ انھا ردت
مساوی ہیں لیکن خاوند کی طرف سے گواہی میں نکاح کے ثبوت کے ساتھ لزوم نکاح بھی ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ترجیح ہوگی شروح میں ایسے ہی بیان ہے اوراس کو نہایہ میں تمرتاشی کی طرف منسوب کیا ہے بہت سی کتب فقہ میں ایسے ہی ہے لیکن خلاصہ میں خصاف کی ادب القاضی سے منقول ہے کہ لڑکی کی طرف کی گواہی کو ترجیح ہوگی تو اس طرح اس مسئلہ میں مشائخ کا اختلاف سامنے آیا ہے ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہو کہ سکوت پر لڑکی کی شہادت سے لزوم نکاح متحقق نہ ہوتا ہو لہذا یوں خاوند کی طرف سے شہادت زیادہ اثبات نہ کرسکتی ہو جب تك کہ گواہ صراحۃ اجازت کی بات نہ کریں یوں ہی فتح میں ہے اورا س کی اتباع بحر نے کی ہے اس سے حاصل یہ ہوا کہ دونوں قولوں میں موافقت یوں ہوگی کہ پہلے یعنی خاوند کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں کہ جب گواہوں نے تصریح کی ہو کہ لڑکی نے کہا ہے “ میں اجازت دیتی ہوں __ یا راضی ہوں “ اور دوسرے قول یعنی لڑکی کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں گے کہ گواہوں نے شہادت میں کہا ہو کہ “ اس نے اجازت دی یا راضی ہوئی تھی “ جس میں گواہوں کے سکوت کو رضا قرار دیا ہو اس میں غور کرو اھ ملتقطا اور ہندیہ میں ہے اگر خاوند یہ شہادت پیش کرے کہ لڑکی کو جب نکاح
وفی الھندیۃ لو اقام الزوج البینۃ انھا اجازت العقد حین اخبرت واقامت البینۃ انھا ردت
مساوی ہیں لیکن خاوند کی طرف سے گواہی میں نکاح کے ثبوت کے ساتھ لزوم نکاح بھی ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ترجیح ہوگی شروح میں ایسے ہی بیان ہے اوراس کو نہایہ میں تمرتاشی کی طرف منسوب کیا ہے بہت سی کتب فقہ میں ایسے ہی ہے لیکن خلاصہ میں خصاف کی ادب القاضی سے منقول ہے کہ لڑکی کی طرف کی گواہی کو ترجیح ہوگی تو اس طرح اس مسئلہ میں مشائخ کا اختلاف سامنے آیا ہے ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہو کہ سکوت پر لڑکی کی شہادت سے لزوم نکاح متحقق نہ ہوتا ہو لہذا یوں خاوند کی طرف سے شہادت زیادہ اثبات نہ کرسکتی ہو جب تك کہ گواہ صراحۃ اجازت کی بات نہ کریں یوں ہی فتح میں ہے اورا س کی اتباع بحر نے کی ہے اس سے حاصل یہ ہوا کہ دونوں قولوں میں موافقت یوں ہوگی کہ پہلے یعنی خاوند کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں کہ جب گواہوں نے تصریح کی ہو کہ لڑکی نے کہا ہے “ میں اجازت دیتی ہوں __ یا راضی ہوں “ اور دوسرے قول یعنی لڑکی کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں گے کہ گواہوں نے شہادت میں کہا ہو کہ “ اس نے اجازت دی یا راضی ہوئی تھی “ جس میں گواہوں کے سکوت کو رضا قرار دیا ہو اس میں غور کرو اھ ملتقطا اور ہندیہ میں ہے اگر خاوند یہ شہادت پیش کرے کہ لڑکی کو جب نکاح
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳
حین اخبرت کانت البینۃ بینۃ الزوج کذا فی السراج الوھاج ۔
کی خبر ملی تو اس نے نکاح کو جائز قرار دیا اور لڑکی یہ شہادت پیش کرے جب مجھے خبرملی تو رد کردیا تھا تو اس صورت میں خاوند کی شہادت معتبر ہوگی یونہی سراج وہاج میں ہے۔ (ت)
رہی باپ کی ناراضی وہ صحت ونفاذ میں خلل انداز نہیں جبکہ عورت حرہ عاقلہ بالغلہ اور شوہر کفو ہے
فی الدرالمختار نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا اھ ملخصا وفیہ لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ اھ۔
درمختار میں ہے : آزاد عاقلہ بالغہ کا اپنا نکاح ولی کی رضاکے بغیر صحیح ہے اوریہ نکاح غیر کفو سے ہوا تو ناجائز ہونے کا فتوی ہوگا اھ ملخصا اور اسی میں ہے کہ باکرہ بالغہ پر نکاح کے بارے میں جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ بلوغ کی وجہ سے اس پر جبر کی ولایت ختم ہوجاتی ہے اھ(ت)
ہاں اگر مہر مثل میں کمی فاحش واقع ہوئی تو باپ کو حق اعتراض حاصل ہے یہاں تك کہ مہر مثل پورا کردیا جائے یا قاضی زن وشوہر میں تفریق کردے
فی الدرالمختار لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار اھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : اگر عاقلہ بالغہ نے قلیل مہرپر نکاح کیا تو ولی عصبہ کو مہر تام کرنے تك اعتراض کا حق ہے مہر مثل تام کرے یا پھر قاضی خاوند بیوی میں تفریق کردے تاکہ ولی کی عار ختم ہوسکے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۵ : از مہدپور علاقہ اندور مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پدر ہندہ نے نکاح اپنی دختر کا بعمر چہار سالہ کیا تھا جب وہ ایام شعور پر فائز ہوئی تو اس شوہر کوپسند وقبول نہیں کرتی اس صورت میں نکاح اس کا جائز ہے یا
کی خبر ملی تو اس نے نکاح کو جائز قرار دیا اور لڑکی یہ شہادت پیش کرے جب مجھے خبرملی تو رد کردیا تھا تو اس صورت میں خاوند کی شہادت معتبر ہوگی یونہی سراج وہاج میں ہے۔ (ت)
رہی باپ کی ناراضی وہ صحت ونفاذ میں خلل انداز نہیں جبکہ عورت حرہ عاقلہ بالغلہ اور شوہر کفو ہے
فی الدرالمختار نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا اھ ملخصا وفیہ لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ اھ۔
درمختار میں ہے : آزاد عاقلہ بالغہ کا اپنا نکاح ولی کی رضاکے بغیر صحیح ہے اوریہ نکاح غیر کفو سے ہوا تو ناجائز ہونے کا فتوی ہوگا اھ ملخصا اور اسی میں ہے کہ باکرہ بالغہ پر نکاح کے بارے میں جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ بلوغ کی وجہ سے اس پر جبر کی ولایت ختم ہوجاتی ہے اھ(ت)
ہاں اگر مہر مثل میں کمی فاحش واقع ہوئی تو باپ کو حق اعتراض حاصل ہے یہاں تك کہ مہر مثل پورا کردیا جائے یا قاضی زن وشوہر میں تفریق کردے
فی الدرالمختار لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار اھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : اگر عاقلہ بالغہ نے قلیل مہرپر نکاح کیا تو ولی عصبہ کو مہر تام کرنے تك اعتراض کا حق ہے مہر مثل تام کرے یا پھر قاضی خاوند بیوی میں تفریق کردے تاکہ ولی کی عار ختم ہوسکے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۵ : از مہدپور علاقہ اندور مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پدر ہندہ نے نکاح اپنی دختر کا بعمر چہار سالہ کیا تھا جب وہ ایام شعور پر فائز ہوئی تو اس شوہر کوپسند وقبول نہیں کرتی اس صورت میں نکاح اس کا جائز ہے یا
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ باب الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
منسوخ اور بعد جدائی زوجین مہر اس کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یانہیں بینوا تو جروا
الجواب :
باب جو اپنے نابالغ بچے کانکاح کردے وہ مطلقا لازم ہوتاہے کہ نابالغ کو بعد بلوغ بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں ہوتا اگرچہ نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کردے مثلا دختر کو کسی رذیل قوم یا کسی ذلیل پیشے والے یا غلام فاسق کے نکاح میں دے یا اس کا مہر مثل ہزار روپے ہو پانسو یا سو پر نکاح کردے یا پسر کا نکاح کسی کنیز یا ذلیل قوم یا فاسقہ فاجرہ سے کرے لازم وناقابل فسخ ہے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ ایسا نکاح خلاف شفقت پدری کرتے وقت باپ نشے میں ہو دوسرے یہ کہ اس سے پہلے بھی اپنے کسی بچے کے نکاح میں ایسی ہی بے شفقتی برت چکا ہو تو البتہ یہ نکاح ناجائز ہوگا
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا وزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران فزوجھا من فاسق اوشریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیئۃ لظھور سوء اختیارہ فلا تعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر اھ وفی ردالمحتار زوج بنتہ من فاسق صح وان تحقق بذلك انہ سیئ الاختیار واشتھربہ عندا لناس فلو
درمختار میں ہے : اگرنکاح کرنے والا ولی خود باپ یا دادا ہو تو اس کا کیا ہوا نکاح لازم ہوجائے گا خواہ لڑکی کا مہر انتہائی قلیل ہو یا لڑکے پرمہر بہت زیادہ مان لیا ہو یا نکاح غیر کفو میں ہو بشرطیکہ پہلے باپ دادا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے میں معروف نہ ہوں اور اگر وہ غلط اختیار میں معروف ہوں تو پھر بالاتفاق مذکورہ صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اور اگر یونہی باپ یادادا نے نشے میں ہوتے ہوئے لڑکی کا نکاح فاسق یا شرپسند یافقیر یا کسی کمینے کسبی سے کردیا تو یہ اختیار کا غلط استعمال ہوگا تو اس صورت میں باپ دادا کی منظونہ شفقت اس اقدام کو غلط قرار دینے میں آڑے نہ آئے گی اور یہ سوء اختیار کہلائے گا بحر اھ اور ردالمحتارمیں ہے کہ فاسق سے بیٹی کانکاح کیا توصحیح ہوگا اگرچہ
الجواب :
باب جو اپنے نابالغ بچے کانکاح کردے وہ مطلقا لازم ہوتاہے کہ نابالغ کو بعد بلوغ بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں ہوتا اگرچہ نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کردے مثلا دختر کو کسی رذیل قوم یا کسی ذلیل پیشے والے یا غلام فاسق کے نکاح میں دے یا اس کا مہر مثل ہزار روپے ہو پانسو یا سو پر نکاح کردے یا پسر کا نکاح کسی کنیز یا ذلیل قوم یا فاسقہ فاجرہ سے کرے لازم وناقابل فسخ ہے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ ایسا نکاح خلاف شفقت پدری کرتے وقت باپ نشے میں ہو دوسرے یہ کہ اس سے پہلے بھی اپنے کسی بچے کے نکاح میں ایسی ہی بے شفقتی برت چکا ہو تو البتہ یہ نکاح ناجائز ہوگا
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا وزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران فزوجھا من فاسق اوشریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیئۃ لظھور سوء اختیارہ فلا تعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر اھ وفی ردالمحتار زوج بنتہ من فاسق صح وان تحقق بذلك انہ سیئ الاختیار واشتھربہ عندا لناس فلو
درمختار میں ہے : اگرنکاح کرنے والا ولی خود باپ یا دادا ہو تو اس کا کیا ہوا نکاح لازم ہوجائے گا خواہ لڑکی کا مہر انتہائی قلیل ہو یا لڑکے پرمہر بہت زیادہ مان لیا ہو یا نکاح غیر کفو میں ہو بشرطیکہ پہلے باپ دادا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے میں معروف نہ ہوں اور اگر وہ غلط اختیار میں معروف ہوں تو پھر بالاتفاق مذکورہ صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اور اگر یونہی باپ یادادا نے نشے میں ہوتے ہوئے لڑکی کا نکاح فاسق یا شرپسند یافقیر یا کسی کمینے کسبی سے کردیا تو یہ اختیار کا غلط استعمال ہوگا تو اس صورت میں باپ دادا کی منظونہ شفقت اس اقدام کو غلط قرار دینے میں آڑے نہ آئے گی اور یہ سوء اختیار کہلائے گا بحر اھ اور ردالمحتارمیں ہے کہ فاسق سے بیٹی کانکاح کیا توصحیح ہوگا اگرچہ
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
زوج بنتا اخری من فاسق لم یصح الثانی لانہ کان مشہورا بسوء الاختیار قبلہ بخلاف العقد الاول الخ وفیہ قولہ فزوجھا من فاسق وکذا لو زوجھا بغبن فاحش فی المھر لایجوز اجماعا والصاحی یجوز بحر عن الذخیرۃ ثم قال وکذا السکران لوزوج من غیر الکفوء کما فی الخانیۃ وبہ علم ان المراد بالاب من لیس بسکران ولاعرف بسوء الاختیار اھ وفی الخانیۃ اذا زوج الرجل ابنہ امرأۃ باکثر من مھر مثلھا اوزوج بنتہ الصغیرۃ باقل من مھر مثلھا اووضعھا فی غیر کفوء او زوج ابنہ الصغیرامۃ اوامرأۃ لیست بکفولہ جازفی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وقال صاحباہ رحمہما اﷲ تعالی لایجوز ان فحش واجمعوا علی انہ لایجوز ذلك من غیر الاب والجد ولامن القاضی اھ
یہ سوء اختیار ہے جس کی بنا پر باپ اختیار کے غلط استعمال میں لوگوں کے ہاں معروف ہوجائے گا تو اس نے اگر دوسری بیٹی کا نکاح کسی فاسق سے کیا تویہ دوسرا نکاح صحیح نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں وہ اختیار کے غلط استعمال(سوء اختیار) میں مشہور ہوچکا ہے جبکہ پہلی لڑکی کے نکاح کے وقت ایسا معروف نہ تھا یوں ہی اگر اس نے دوسری بیٹی کے نکاح میں انتہائی قلیل مہر قبول کیا تو یہ مہر جائز نہ ہوگا یہ اجماع ہے بحر میں ذخیرہ سے منقول کہ اس کے بعد ردالمحتار میں کہا یونہی اگر نشے کی حالت میں باپ نے غیر کفو سے کیا تو نکاح نہ ہوگا جیساکہ خانیہ میں ہے اس سے معلوم ہو ا کہ باپ سے مراد وہ ہے جو نشہ میں نہ ہو اور سوء اختیار میں مشہور نہ ہو اھ اور خانیہ میں ہے : اگر کسی نے اپنے لڑکے کاکسی ایسی عورت سے مہر مثل سے زائد پر کردیا یا نابالغہ بیٹی کا نکاح انتہائی کم مہر یا غیرکفو میں کردیا یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی یا غیر کفو والی عورت سے کردیا تو امام ابو حنیفہ رضی الله عنہ کے قول پر نکاح صحیح ہے اور ان کے صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر نکاح ناجائز ہے اور اس بات پر اجماع ہے کہ غیر باپ اور دادا اور قاضی کا کیا ہوا یہ نکاح جائز نہ ہوگا اھ اور بحر الرائق
یہ سوء اختیار ہے جس کی بنا پر باپ اختیار کے غلط استعمال میں لوگوں کے ہاں معروف ہوجائے گا تو اس نے اگر دوسری بیٹی کا نکاح کسی فاسق سے کیا تویہ دوسرا نکاح صحیح نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں وہ اختیار کے غلط استعمال(سوء اختیار) میں مشہور ہوچکا ہے جبکہ پہلی لڑکی کے نکاح کے وقت ایسا معروف نہ تھا یوں ہی اگر اس نے دوسری بیٹی کے نکاح میں انتہائی قلیل مہر قبول کیا تو یہ مہر جائز نہ ہوگا یہ اجماع ہے بحر میں ذخیرہ سے منقول کہ اس کے بعد ردالمحتار میں کہا یونہی اگر نشے کی حالت میں باپ نے غیر کفو سے کیا تو نکاح نہ ہوگا جیساکہ خانیہ میں ہے اس سے معلوم ہو ا کہ باپ سے مراد وہ ہے جو نشہ میں نہ ہو اور سوء اختیار میں مشہور نہ ہو اھ اور خانیہ میں ہے : اگر کسی نے اپنے لڑکے کاکسی ایسی عورت سے مہر مثل سے زائد پر کردیا یا نابالغہ بیٹی کا نکاح انتہائی کم مہر یا غیرکفو میں کردیا یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی یا غیر کفو والی عورت سے کردیا تو امام ابو حنیفہ رضی الله عنہ کے قول پر نکاح صحیح ہے اور ان کے صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر نکاح ناجائز ہے اور اس بات پر اجماع ہے کہ غیر باپ اور دادا اور قاضی کا کیا ہوا یہ نکاح جائز نہ ہوگا اھ اور بحر الرائق
حوالہ / References
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۔ ۳۰۴
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۴
ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۴
وفی البحر الرائق ثم الخیریۃ ظاھر کلامھم ان الاب اذاکان معروفا بسوء الاختیار لم یصح عقدہ باقل من مھر المثل ولاباکثر فی الصغیر بغبن فاحش ولامن غیر الکفوء فیھما سواء کان عدم الکفاءۃ بسبب الفسق اولا الخ۔
پھر خیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام کا ظاہر کلام یہ ہے کہ باپ جب سوء اختیار میں مشہور ہوجائے تو لڑکی کا مہر مثل سے کم اور لڑکے کا مہر مثل سے زیادہ جبکہ یہ کمی اور زیادتی انتہائی ہو اور غیر کفو میں لڑکی اور لڑکے کا کیا ہوا باپ کا نکاح صحیح نہ ہوگا خواہ غیر کفو فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو الخ(ت)
واقع اگر یہ صورتیں ہوں جن میں نکاح شرعا جائز نہیں تو اگر ہنوز ہمبستری یعنی جماع حقیقی کا وقوع نہ ہوامہر اصلا لازم نہیں ورنہ مہر مثل دینا ہوگا۔
فان الوطء فی دارالاسلام لایخلو عن حد اوعقر کما نصوا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ دارالاسلام میں وطی پر حد یا مہر بصورت خرچہ ضروری ہے اس کے بغیر کوئی صورت نہیں ہے جیساکہ فقہاءکرام کی اس پر نص ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۶ : از امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ سعید الدین خاں صاحب رئیس امریا ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
عرض بخدمت علمائے دین کہ ایك لڑکی نابالغ صغیر سن کہ والد اس کا فوت ہوگیا اور دادا اور بھائی اس کاکوئی نہیں تھا اور اس کے سگے چچا نے اپنے بھائی مرحوم کی زوجہ یعنی اس لڑکی نابالغہ کی والدہ سے بغیر رضامندی والدہ اس لڑکی کا نکاح ایك شخص سے کردیا اب وہ لڑکی بالغ ہوئی تو وہ کہتی ہے کہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ نہیں اور نہ کروں گی عرض پرداز ہوں کہ نزد خدا اور رسول مقبول نکاح فسخ ہوگیا یا وہی نکاح قائم رہا اگر فسخ ہوگیا تو اس کانکاح دوسرے کے ساتھ کیا جائے ورنہ جیسا حکم ہو بینوا تو جروا
الجواب :
فی الواقع جبکہ دختر نابالغہ کا نہ باپ ہو نہ دادا نہ جوان بھائی نہ جوان بھتیجا تو چچا ہی اس کا ولی اقرب ہے اس کے کئے ہوئے نکاح میں ماں کی رضامندی ونارضامندی کا لحاظ نہ ہوگا تنویر الابصار
پھر خیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام کا ظاہر کلام یہ ہے کہ باپ جب سوء اختیار میں مشہور ہوجائے تو لڑکی کا مہر مثل سے کم اور لڑکے کا مہر مثل سے زیادہ جبکہ یہ کمی اور زیادتی انتہائی ہو اور غیر کفو میں لڑکی اور لڑکے کا کیا ہوا باپ کا نکاح صحیح نہ ہوگا خواہ غیر کفو فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو الخ(ت)
واقع اگر یہ صورتیں ہوں جن میں نکاح شرعا جائز نہیں تو اگر ہنوز ہمبستری یعنی جماع حقیقی کا وقوع نہ ہوامہر اصلا لازم نہیں ورنہ مہر مثل دینا ہوگا۔
فان الوطء فی دارالاسلام لایخلو عن حد اوعقر کما نصوا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ دارالاسلام میں وطی پر حد یا مہر بصورت خرچہ ضروری ہے اس کے بغیر کوئی صورت نہیں ہے جیساکہ فقہاءکرام کی اس پر نص ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ ۳۳۶ : از امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ سعید الدین خاں صاحب رئیس امریا ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
عرض بخدمت علمائے دین کہ ایك لڑکی نابالغ صغیر سن کہ والد اس کا فوت ہوگیا اور دادا اور بھائی اس کاکوئی نہیں تھا اور اس کے سگے چچا نے اپنے بھائی مرحوم کی زوجہ یعنی اس لڑکی نابالغہ کی والدہ سے بغیر رضامندی والدہ اس لڑکی کا نکاح ایك شخص سے کردیا اب وہ لڑکی بالغ ہوئی تو وہ کہتی ہے کہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ نہیں اور نہ کروں گی عرض پرداز ہوں کہ نزد خدا اور رسول مقبول نکاح فسخ ہوگیا یا وہی نکاح قائم رہا اگر فسخ ہوگیا تو اس کانکاح دوسرے کے ساتھ کیا جائے ورنہ جیسا حکم ہو بینوا تو جروا
الجواب :
فی الواقع جبکہ دختر نابالغہ کا نہ باپ ہو نہ دادا نہ جوان بھائی نہ جوان بھتیجا تو چچا ہی اس کا ولی اقرب ہے اس کے کئے ہوئے نکاح میں ماں کی رضامندی ونارضامندی کا لحاظ نہ ہوگا تنویر الابصار
حوالہ / References
بحرالرائق فصل فی الاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۳۵
میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلاتوسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف فان لم تکن عصبۃ فالو لا یۃ للام الخ ملخصا۔
نکاح میں ولی وہ عصبہ بنفسہ ہوتاہے یعنی وہ عصبہ جو لڑکے اور لڑکی کی طرف کسی عورت کے واسطہ میں منسوب نہ ہو ان کی ولایت وراثت اور حجب کی ترتیب پر ہوتی ہے بشرطیکہ یہ عصبہ لو گ آزاد اور بالغ عاقل ہوں اور اگر عصبہ نہ ہوتو پھرماں کو ولایت حاصل ہوگی الخ ملخصا۔ (ت)
ہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جس سے چچا نے نکاح کردیا اگر اس دختر کا کفو نہیں یعنی اس سے کم قوم ہے جس کے ساتھ اس کے نکاح میں ننگ وعا رہے یا ذلیل پیشہ یا محتاج یا بد مذہب یا بد رویہ ہے غرض کسی وجہ سے وہ صورت ہے کہ اس کے ساتھ نکاح میں دختر واقرابائے دختر کی مطعونی وذلت ہے یا مہر جو چچا نے باندھا اس میں دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کردی ہے کہ لوگ اپنے جو نرم گرم کرلیا کرتے ہیں ان میں یہاں تك کمی نہیں پہنچتی مثلا ہزار روپیہ مہر مثل پانسو باندھ دیا ہو تو ان صورتوں میں وہ چچا کا کیا ہوا نکاح محض باطل ہوا دختر سچ کہتی ہے کہ میرانکاح نہ ہوا درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو مہر کی انتہائی کمی بیشی سے اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
اور اگر ان دونوں خللو ں میں سے خالی ہے یعنی جس سے نکاح کیا وہ وقت نکاح دختر کا کفو بمعنی مذکور تھا اور مہرمثل میں بھی ویسی کمی نہ کی گئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کو اختیار دیا جائے گا کہ چاہے بالغہ ہو نے پر اس نکاح کو پسند نہ کرے اور دعوی کرکے فسخ کرالے تنویر میں ہے :
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھا خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ ۔
اور مہر مثل اور کفو میں کیا ہوا نکاح صحیح ہوگا اور لڑکی کو بالغ ہونے یا بلوغ کے بعد اطلاع ملنے پر فسخ کااختیار ہوگا۔ (ت)
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلاتوسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف فان لم تکن عصبۃ فالو لا یۃ للام الخ ملخصا۔
نکاح میں ولی وہ عصبہ بنفسہ ہوتاہے یعنی وہ عصبہ جو لڑکے اور لڑکی کی طرف کسی عورت کے واسطہ میں منسوب نہ ہو ان کی ولایت وراثت اور حجب کی ترتیب پر ہوتی ہے بشرطیکہ یہ عصبہ لو گ آزاد اور بالغ عاقل ہوں اور اگر عصبہ نہ ہوتو پھرماں کو ولایت حاصل ہوگی الخ ملخصا۔ (ت)
ہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جس سے چچا نے نکاح کردیا اگر اس دختر کا کفو نہیں یعنی اس سے کم قوم ہے جس کے ساتھ اس کے نکاح میں ننگ وعا رہے یا ذلیل پیشہ یا محتاج یا بد مذہب یا بد رویہ ہے غرض کسی وجہ سے وہ صورت ہے کہ اس کے ساتھ نکاح میں دختر واقرابائے دختر کی مطعونی وذلت ہے یا مہر جو چچا نے باندھا اس میں دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کردی ہے کہ لوگ اپنے جو نرم گرم کرلیا کرتے ہیں ان میں یہاں تك کمی نہیں پہنچتی مثلا ہزار روپیہ مہر مثل پانسو باندھ دیا ہو تو ان صورتوں میں وہ چچا کا کیا ہوا نکاح محض باطل ہوا دختر سچ کہتی ہے کہ میرانکاح نہ ہوا درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو مہر کی انتہائی کمی بیشی سے اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
اور اگر ان دونوں خللو ں میں سے خالی ہے یعنی جس سے نکاح کیا وہ وقت نکاح دختر کا کفو بمعنی مذکور تھا اور مہرمثل میں بھی ویسی کمی نہ کی گئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کو اختیار دیا جائے گا کہ چاہے بالغہ ہو نے پر اس نکاح کو پسند نہ کرے اور دعوی کرکے فسخ کرالے تنویر میں ہے :
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھا خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ ۔
اور مہر مثل اور کفو میں کیا ہوا نکاح صحیح ہوگا اور لڑکی کو بالغ ہونے یا بلوغ کے بعد اطلاع ملنے پر فسخ کااختیار ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمیں ہے : بشرط القضاء للفسخ (اس فسخ کے لئے قضا ضروری ہے۔ ت) لیکن کنواری لڑکی کو یہ اختیار اسی قدر ملتا ہے کہ اگر پہلے سے نکاح کی خبر ہے تو بالغہ ہوتے ہی یعنی جس وقت علامت بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر ہو یا پندرہ برس کامل کی عمر ہوجائے فورا بلا توقف اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے اور اگر نکاح کی خبر بالغہ ہونے کے بعد ملی تو جس وقت خبر ہوئی فورا اس وقت ناپسندی جتادے اور اگر ذرادیر لگائی یا اس سے جدا کوئی آدھی بات کی یا کچھ چپ رہی یا بیٹھی تھی کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی ایك قدم اٹھالیا اس کے بعد ناراضی کا اظہار کیا تو ہر گز نہ سنا جائے گا اور نکاح لازم ہوجائے گا۔ تنویر الابصارمیں ہے :
خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔
بالغہ باکرہ لڑکی کی خاموشی اس کے اختیار کو ختم کردیتی ہے جبکہ وہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك بھی اختیار نہیں رہتا بلکہ خاموش ہوجانے پر ختم ہوجاتاہے۔ (ت)
اس نابالغہ کے بارے میں اس کا دیکھ لینا ضرور ہے کہ اس نے بالغہ ہوتے ہی فورا ناراضی ظاہر کی ہے یا ایك لمحہ دیر بھی لگائی تھی تواب اسے نکاح سے انکار حرام ہے وہ ضرور اس کی زوجہ ہے ورنہ اختیار دعوی رکھتی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۷ : از مراد آباد محلہ بازار دیوان متصل مکان نواب تفضل علی خاں مرسلہ حکیم برہان الحق صاحب ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح کردیا اس وقت عمر اس کی تخمینا سات یا آٹھ برس کی ہوگی اور پیشتر نکاح سے لڑکی کا باپ اور چچا اور تایا قضا کرگئے تھے مگر ایك بھائی یا تایا زاد حقیقی جس کی عمر تخمینا ۲ ۲۷ برس اس وقت تھی اب موجود ہے مگر بوقت نکاح والدہ دختر نے اپنی ولایت سے نکاح اس لڑکی کا کردیا شرعا یہ جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
جس نابالغہ کے باپ دادا جوان بھائی بھتیجا چچا نہ ہو تو جوان بھائی چچا زاد ہی اس کے نکاح کا ولی ہے اس کے ہوتے ماں کو اپنی دختر کے نکاح کردینے کا اختیار نہیں فتاوی قاضی خاں میں ہے :
خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔
بالغہ باکرہ لڑکی کی خاموشی اس کے اختیار کو ختم کردیتی ہے جبکہ وہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك بھی اختیار نہیں رہتا بلکہ خاموش ہوجانے پر ختم ہوجاتاہے۔ (ت)
اس نابالغہ کے بارے میں اس کا دیکھ لینا ضرور ہے کہ اس نے بالغہ ہوتے ہی فورا ناراضی ظاہر کی ہے یا ایك لمحہ دیر بھی لگائی تھی تواب اسے نکاح سے انکار حرام ہے وہ ضرور اس کی زوجہ ہے ورنہ اختیار دعوی رکھتی ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۷ : از مراد آباد محلہ بازار دیوان متصل مکان نواب تفضل علی خاں مرسلہ حکیم برہان الحق صاحب ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح کردیا اس وقت عمر اس کی تخمینا سات یا آٹھ برس کی ہوگی اور پیشتر نکاح سے لڑکی کا باپ اور چچا اور تایا قضا کرگئے تھے مگر ایك بھائی یا تایا زاد حقیقی جس کی عمر تخمینا ۲ ۲۷ برس اس وقت تھی اب موجود ہے مگر بوقت نکاح والدہ دختر نے اپنی ولایت سے نکاح اس لڑکی کا کردیا شرعا یہ جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
جس نابالغہ کے باپ دادا جوان بھائی بھتیجا چچا نہ ہو تو جوان بھائی چچا زاد ہی اس کے نکاح کا ولی ہے اس کے ہوتے ماں کو اپنی دختر کے نکاح کردینے کا اختیار نہیں فتاوی قاضی خاں میں ہے :
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
اقرب العصبات الی صغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما ثم العم لاب وام ثم العم لاب ثم بنوھما وعند عم العصبۃ الاقرب الام اھ مختصرا۔
نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبہ باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر ان کے لڑکے پھر حقیقی چچا پھر اس کے لڑکے پھر صرف باپ کی طرف چچا پھر اس کے لڑکے اور عصبات نہ ہونے کی صورت میں ماں کو ولایت ہے اھ مختصرا(ت)
پس صورت مذکورہ میں ماں کا کیاہوا نکاح اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر یہ رد کردے گا رد ہوجائے گا یا جائز کردے گا جائز ہوجائے گا بشرطیکہ وہ نکاح کسی غیر کفو یعنی ایسے شخص سے نہ ہوا ہوجو اس دختر سے قوم یا پیشے یامذہب وغیرہ میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا باعث ننگ وعار ہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو ورنہ نکاح سرے سے باطل ہے بھائی بھی اسے جائز نہیں کرسکتا درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو او غبن فاحش واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو خواہ ماں بھی ہو تو غیر کفو میں اور انتہائی کمی کے مہر سے نکاح صحیح نہ ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
____________________
نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبہ باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر ان کے لڑکے پھر حقیقی چچا پھر اس کے لڑکے پھر صرف باپ کی طرف چچا پھر اس کے لڑکے اور عصبات نہ ہونے کی صورت میں ماں کو ولایت ہے اھ مختصرا(ت)
پس صورت مذکورہ میں ماں کا کیاہوا نکاح اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر یہ رد کردے گا رد ہوجائے گا یا جائز کردے گا جائز ہوجائے گا بشرطیکہ وہ نکاح کسی غیر کفو یعنی ایسے شخص سے نہ ہوا ہوجو اس دختر سے قوم یا پیشے یامذہب وغیرہ میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا باعث ننگ وعار ہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو ورنہ نکاح سرے سے باطل ہے بھائی بھی اسے جائز نہیں کرسکتا درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو او غبن فاحش واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو خواہ ماں بھی ہو تو غیر کفو میں اور انتہائی کمی کے مہر سے نکاح صحیح نہ ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
____________________
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
تجویز الرد عن تزویج الابعد ۱۳۱۵ھ
(ولی اقرب کی غیبت میں ولی ابعد کے نکاح پڑھانے کا حکم)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۳۳۸ تا ۳۴۲ : از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مرسلہ حضرت مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ الله علیہ ۱۰ رجب ۱۳۱۵ھ
سوال اول
ولی ابعد ولی اقرب کی غیبت میں اگر نکاح کردے تو ولی اقرب در صورت خلاف مرضی اس کے فسخ کرسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں جبکہ غیبت منقطعہ نہ ہو
فی الدرالمختار فلو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگر بعید ولی نے قریب ولی کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نکاح کیا توقریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم(ت)
(ولی اقرب کی غیبت میں ولی ابعد کے نکاح پڑھانے کا حکم)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۳۳۸ تا ۳۴۲ : از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مرسلہ حضرت مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ الله علیہ ۱۰ رجب ۱۳۱۵ھ
سوال اول
ولی ابعد ولی اقرب کی غیبت میں اگر نکاح کردے تو ولی اقرب در صورت خلاف مرضی اس کے فسخ کرسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں جبکہ غیبت منقطعہ نہ ہو
فی الدرالمختار فلو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگر بعید ولی نے قریب ولی کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نکاح کیا توقریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
سوال دوم
غیبت کی تفاسیر میں سے کہ مدت قصر یا دشواری استطلاع رائے یا ا س بلد میں قافلہ سال بھر میں ایك مرتبہ جاتا ہو میں کون سی تفسیر معتمد علیہ ہے
الجواب :
اول پر بھی فتوی دیا گیا اور ثالث اختیار امام قدوری ہے اور کتاب التجنیس والمزید میں یك ماہہ راہ کو اختیار اکثر مشائخ واعدل الاقاویل فرمایا کما فی مجمع الانھر (جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت) اور امام سغدی نے مفقود الخبری اختیار فرمائی امام محمد سے ایك روایت بیس۲۰ ایك پچیس۲۵ منزل کی آئی کما فی جامع الرموز (جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت) تویہ سات قول ہیں جن میں اقوی واوثق ومذیل بآکد الفاظ فتیا صرف اول ودوم ہیں مگراصح التصحیحین وارجح الترجیحین وماخوذ ومعتمد علیہ یہی ہے کہ جب اس کی رائے لینے تك کفو حاضر انتظار نہ کرے اورا س پر اٹھا رکھنے میں یہ موقع ہاتھ سے جاتا ہے تو غیبت غیبت منقطعہ ہے یہاں تك کہ اگر ولی اقرب شہرہی میں روپوش ہو اور پتا نامعلوم یا رسائی نہیں اور انتظار باعث فوت کفو ہو توغیبت منقطعہ سمجھی جائے گی اور ولی بعید کو جو مراتب ولایت میں اس اقرب کے متصل ہے ولایت ہاتھ آئے گی اور اگر اقرب ہزار کوس دور ہے اور کفو حاضر نہیں یا انتظار پر راضی تو یہ غیبت منقطعہ نہیں ولی بعید نکاح کرے گا تو نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت اقرب پر موقوف رہے گا۔
فی تنویر الابصار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر اھ فی رد المحتار نسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی اھ ۶قلت وکذا قال علیہ الفتوی فی الولو الجیۃ
تنویر الابصار میں ہے ولی اقرب سفر کی مسافت پر غائب ہو تو ولی ابعد کو نکاح کردینا جائز ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ میں اس کو بعض متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے اور زیلعی میں اس کو اکثر کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اس پر فتوی ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)یوں ہی ولوالجیہ میں کہا اس پر
غیبت کی تفاسیر میں سے کہ مدت قصر یا دشواری استطلاع رائے یا ا س بلد میں قافلہ سال بھر میں ایك مرتبہ جاتا ہو میں کون سی تفسیر معتمد علیہ ہے
الجواب :
اول پر بھی فتوی دیا گیا اور ثالث اختیار امام قدوری ہے اور کتاب التجنیس والمزید میں یك ماہہ راہ کو اختیار اکثر مشائخ واعدل الاقاویل فرمایا کما فی مجمع الانھر (جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت) اور امام سغدی نے مفقود الخبری اختیار فرمائی امام محمد سے ایك روایت بیس۲۰ ایك پچیس۲۵ منزل کی آئی کما فی جامع الرموز (جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت) تویہ سات قول ہیں جن میں اقوی واوثق ومذیل بآکد الفاظ فتیا صرف اول ودوم ہیں مگراصح التصحیحین وارجح الترجیحین وماخوذ ومعتمد علیہ یہی ہے کہ جب اس کی رائے لینے تك کفو حاضر انتظار نہ کرے اورا س پر اٹھا رکھنے میں یہ موقع ہاتھ سے جاتا ہے تو غیبت غیبت منقطعہ ہے یہاں تك کہ اگر ولی اقرب شہرہی میں روپوش ہو اور پتا نامعلوم یا رسائی نہیں اور انتظار باعث فوت کفو ہو توغیبت منقطعہ سمجھی جائے گی اور ولی بعید کو جو مراتب ولایت میں اس اقرب کے متصل ہے ولایت ہاتھ آئے گی اور اگر اقرب ہزار کوس دور ہے اور کفو حاضر نہیں یا انتظار پر راضی تو یہ غیبت منقطعہ نہیں ولی بعید نکاح کرے گا تو نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت اقرب پر موقوف رہے گا۔
فی تنویر الابصار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر اھ فی رد المحتار نسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی اھ ۶قلت وکذا قال علیہ الفتوی فی الولو الجیۃ
تنویر الابصار میں ہے ولی اقرب سفر کی مسافت پر غائب ہو تو ولی ابعد کو نکاح کردینا جائز ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ ہدایہ میں اس کو بعض متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے اور زیلعی میں اس کو اکثر کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اس پر فتوی ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)یوں ہی ولوالجیہ میں کہا اس پر
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الاولیاء والاکفاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲۹
جامع الرموز باب الولی والکفو مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۶۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیار التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
جامع الرموز باب الولی والکفو مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۶۹
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیار التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
کما فی مجمع الانھر قال القھستانی فی جامع الرموز ھو الصحیح وبہ یفتی اھ فی الدرواختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفؤ الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی وثمرۃ الخلاف فی من اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ اھ قال الشامی قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ واستطلاع رأیہ فات الکفؤ الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشارفی الکتاب اھ وفی البحر عن المجتبی والمبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ واختارہ اکثر المشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایہ انہ اقرب الی الفقۃ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقہ وانہ لاتعارض بین اکثر المتاخرین واکثر المشائخ ای لان المراد من المشائخ المتقدمون وفی شرح الملتقی عن الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی اھ وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر
فتوی ہے جیساکہ مجمع الانہر میں قہستانی نے جامع الرموز میں کہا : یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ درمیں ہے : اور اس کو ملتقی میں پسندیدہ قرار دیا ہے منگنی کرنے والاکفو کے جواب کا انتظار نہ کرے اور باقانی نے اس کو معتمد قرار دیا اور ابن کمال نے اس پر فتوی کو نقل کیا اور ثمرہ اختلاف اس شخص کے متعلق ظاہر ہوگا جو شہر میں چھپ گیا ہو توکیا اس صورت میں غیبت منقطعہ ہوگی اھ شامی نے کہا کہ ذخیرہ میں کہا ہے کہ اصح یہ ہے کہ اگرایسی صورت ہو کہ حاضر کفو اس کی انتظار اور اس کی رائے معلوم کرنے تک ضائع اورفوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو یہ غیبۃ منقطعہ ہوگی اور کتاب میں اسی صورت کی طرف اشارہ ہے اھ بحر میں مجتبی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اس کواکثر مشائخ نے اختیار کیاہے اور ابن فضل نے اس کی تصحیح کی ہے اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب فقہ ہے اور فتح میں کہا کہ یہ فقہ کے اشبہ ہے اور یہ کہ اکثر متاخرین اور اکثر مشائخ میں کوئی تعارض نہیں ہے یعنی اکثر مشائخ سے مراد متقدمین ہیں اور شرح ملتقی میں حقائق سے منقول ہے کہ اقوال میں سے یہی اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اھ اور اختیار اور نقایہ میں اسی پر رجحان ہے اور نہر کی کلام میں ا س کے
فتوی ہے جیساکہ مجمع الانہر میں قہستانی نے جامع الرموز میں کہا : یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے اھ درمیں ہے : اور اس کو ملتقی میں پسندیدہ قرار دیا ہے منگنی کرنے والاکفو کے جواب کا انتظار نہ کرے اور باقانی نے اس کو معتمد قرار دیا اور ابن کمال نے اس پر فتوی کو نقل کیا اور ثمرہ اختلاف اس شخص کے متعلق ظاہر ہوگا جو شہر میں چھپ گیا ہو توکیا اس صورت میں غیبت منقطعہ ہوگی اھ شامی نے کہا کہ ذخیرہ میں کہا ہے کہ اصح یہ ہے کہ اگرایسی صورت ہو کہ حاضر کفو اس کی انتظار اور اس کی رائے معلوم کرنے تک ضائع اورفوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو یہ غیبۃ منقطعہ ہوگی اور کتاب میں اسی صورت کی طرف اشارہ ہے اھ بحر میں مجتبی اور مبسوط سے منقول ہے کہ یہی اصح ہے اور نہایہ میں ہے کہ اس کواکثر مشائخ نے اختیار کیاہے اور ابن فضل نے اس کی تصحیح کی ہے اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب فقہ ہے اور فتح میں کہا کہ یہ فقہ کے اشبہ ہے اور یہ کہ اکثر متاخرین اور اکثر مشائخ میں کوئی تعارض نہیں ہے یعنی اکثر مشائخ سے مراد متقدمین ہیں اور شرح ملتقی میں حقائق سے منقول ہے کہ اقوال میں سے یہی اصح ہے اور اس پر فتوی ہے اھ اور اختیار اور نقایہ میں اسی پر رجحان ہے اور نہر کی کلام میں ا س کے
حوالہ / References
جامع الرموز باب الولی والکفاءۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۶۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بما علیہ اکثر المشائخ اھ کلام الشامی قلت والزیلعی مع قولہ للاول علیہ الفتوی ذکر تصحیح الثانی عن شمس الائمۃ السرخسی ومحمد بن الفضل ثم قال وھذا احسن اھ وقال فی جواہر الاخلاطی وعلیہ الفتوی کمافی الھندیۃ ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش ردالمحتار علی قول البحر الاحسن الافتاء الخ مانصہ قلت لاسیمافی ھذا الزمان فان العجلۃ الدخانیۃ قدردت مسافۃ القصر الی اکثر من مسافۃ ساعتین فکیف یبنی الامر علیھا بل وجب التعویل علی ماافتی بہ اکثر المشائخ رحمہم اﷲ تعالی اھ ماکتبت اقول : وشیئ اخر وھو ان القول الثانی بنی الامر علی الحاجۃ والتضررولاشك ان الولایۃ انما ھی للنظر ودفع الضرر فکان من الفقہ اثبات الولایۃ للذی یلی الاقرب عند کونہ بحیث لووقت الامر علی رأیہ لتضررت بہ القاصرۃ وعدمہ
مختار ہونے کا اشارہ ہے اور بحر میں کہا کہ جس پر اکثر مشائخ ہوں اس پر فتوی بہتر ہے شامی کا کلام ختم ہوا
قلت(میں کہتاہوں)زیلعی نے پہلے قول پر فتوی کہا اس کے باوجود انھوں نے شمس الائمہ سرخسی اور محمد بن فضل کی دوسرے قول پر تصحیح نقل کی پھر کہا یہ احسن ہے اھ اور جواہر اخلاطی میں کہا کہ اس پر فتوی ہے جیسا کہ ہندیہ میں ہے مجھے یہاں پر ردالمحتار پر اپنا حاشیہ یاد ہے جب انھوں نے بحر کے قول کہ “ اس پر فتوی ہے “ الخ کو بیان کیا حاشیہ کی عبارت یہ ہے : میں کہتا ہوں کہ خصوصا اس زمانہ میں جبکہ ریل گاڑی نے سفر کی مسافت کو ایك دوگھنٹہ کی مسافت میں تبدیل کردیا ہے تو مسافت کو بنیاد بنانا کیسے درست ہوگا بلکہ اکثر مشائخ کے فتوی پر اعتماد ضروری ہے میرا حاشیہ ختم ہوا اقول ایك اور چیز ہے وہ یہ کہ دوسرے قول کی بنیاد حاجت اور نقصان پر ہے اور اس میں شك نہیں کہ ولایت کا اثبات شفقت اور دفع ضرر پر مبنی ہے تو فقہ یہ ہوگی کہ اقرب ولی کے بعد والے کو ولایت تب ہی ہوسکتی ہے جب ولی اقرب ایسے مقام پر ہو کہ اگر اس کی رائے اور اجازت حاصل کی جائے تو نابالغہ کو نقصان ہو اور اگر نقصان
مختار ہونے کا اشارہ ہے اور بحر میں کہا کہ جس پر اکثر مشائخ ہوں اس پر فتوی بہتر ہے شامی کا کلام ختم ہوا
قلت(میں کہتاہوں)زیلعی نے پہلے قول پر فتوی کہا اس کے باوجود انھوں نے شمس الائمہ سرخسی اور محمد بن فضل کی دوسرے قول پر تصحیح نقل کی پھر کہا یہ احسن ہے اھ اور جواہر اخلاطی میں کہا کہ اس پر فتوی ہے جیسا کہ ہندیہ میں ہے مجھے یہاں پر ردالمحتار پر اپنا حاشیہ یاد ہے جب انھوں نے بحر کے قول کہ “ اس پر فتوی ہے “ الخ کو بیان کیا حاشیہ کی عبارت یہ ہے : میں کہتا ہوں کہ خصوصا اس زمانہ میں جبکہ ریل گاڑی نے سفر کی مسافت کو ایك دوگھنٹہ کی مسافت میں تبدیل کردیا ہے تو مسافت کو بنیاد بنانا کیسے درست ہوگا بلکہ اکثر مشائخ کے فتوی پر اعتماد ضروری ہے میرا حاشیہ ختم ہوا اقول ایك اور چیز ہے وہ یہ کہ دوسرے قول کی بنیاد حاجت اور نقصان پر ہے اور اس میں شك نہیں کہ ولایت کا اثبات شفقت اور دفع ضرر پر مبنی ہے تو فقہ یہ ہوگی کہ اقرب ولی کے بعد والے کو ولایت تب ہی ہوسکتی ہے جب ولی اقرب ایسے مقام پر ہو کہ اگر اس کی رائے اور اجازت حاصل کی جائے تو نابالغہ کو نقصان ہو اور اگر نقصان
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۵
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۲۷
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۵
جدالممتار باب الولی قول ۶۱۴ المجمع الاسلامی مبارکپور ، بھارت ۲ / ۳۸۴
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۲۷
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۵
جدالممتار باب الولی قول ۶۱۴ المجمع الاسلامی مبارکپور ، بھارت ۲ / ۳۸۴
عند عدمہ کما اذا کانت صغیرۃ جد ا ولاکفو یستعجل ولاحرج فی الانتظار ففیم یفتات علی الاب الشفیق ویوکل الامر الی بعید سحیق وربما لایومن ان یترك النظر لھا لمصلحۃ نفسہ اولجلب حطام فظھران فی القول الاول سلب الولایۃ حیث یحتاج الیھا کالمختفی فی البلد واثباتھا حیث لاحاجۃ الیھا کما فی ھذہ الصورۃ ھذا ورأیتنی کتبت علی قول الدر وثمرۃ الخلاف الخ مانصہ اقول وحیث المدار عند اھل القول الثانی علی فوات الکفو فکما لم یعتبر مسافۃ القصر شرطا للانتقال کذلك لانظر الیھا فـــــــ عند عدم الفوات والاستعجال فلو وجدت ولم یفت الکفؤ بانتظارہ اواستطلاع رأیہ لم یجزتزویج الا بعد علی الثانی خلافا للاول فالثمرۃ غیر محصورۃ فیما قال ھذاما ظھرلی
نہ ہو تو پھر بعد والے کو ولایت نہ ہوگی مثلا ایك چھوٹی بچی ہو جس کے لئے کفو کی کوئی عجلت نہیں اور نہ ہی اس کے نکاح کے لئے ولی اقرب کے انتظار میں کوئی حرج ہے تو پھر کیونکر ولی اقرب شفیق باپ کی ولایت کوختم کر کے دوسرے بعید غیر شفیق کو ولایت سونپی جائے جبکہ یہ ممکن ہے کہ وہ بعید اپنے ذاتی فائد ہ اور اپنی مصلحت کی خاطر بچی کے فائدہ کو نظر انداز کردے تو ظاہر ہو ا کہ پہلے قول میں اقرب کی ولایت کے سلب ہونے کی بات وہاں ہوگی جہاں حاجت اور ضرورت ہوگی جیساکہ کوئی شہر میں گم ہوجائے اور حاجت پیدا ہوجائے اور جہاں حاجت نہیں وہاں ولایت ثابت رہے گی جیسا کہ مذکورہ صورت ہے مجھے در کے قول “ ثمرۃ الخلاف “ پر اپنا حاشیہ یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتاہوں)جب دوسرے قول والوں کے ہاں مدار کفوکا فوت ہونا ہے اس بنیاد پر ولایت کے منتقل ہونے کے لئے جیسے مسافت سفر(قصر)شرط نہیں ہے ایسے ہی یہ مسافت سفر کفو فوت نہ ہونے کے باوجود عجلت کے لئے بھی پیش نظر نہیں ہے تو مسافت سفر ہونے کے باوجود اقرب کی انتظار اور اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت نہ ہو تو ولی ابعد کا نکاح کرنا درست نہ ہوگا یہ دوسرے قول کا ماحصل ہے جبکہ پہلا قول اس کے خلاف ہے تو ثمرہ اختلاف ان کے بیان میں محصورنہ رہا یہ ہے
فـــــــ : جدالممتار میں خط کشیدہ عبارت یوں ہے : لاتعتبر علۃ تامۃ لہ بل ان وجدت المسافۃ الخ۔ نذیر احمد
نہ ہو تو پھر بعد والے کو ولایت نہ ہوگی مثلا ایك چھوٹی بچی ہو جس کے لئے کفو کی کوئی عجلت نہیں اور نہ ہی اس کے نکاح کے لئے ولی اقرب کے انتظار میں کوئی حرج ہے تو پھر کیونکر ولی اقرب شفیق باپ کی ولایت کوختم کر کے دوسرے بعید غیر شفیق کو ولایت سونپی جائے جبکہ یہ ممکن ہے کہ وہ بعید اپنے ذاتی فائد ہ اور اپنی مصلحت کی خاطر بچی کے فائدہ کو نظر انداز کردے تو ظاہر ہو ا کہ پہلے قول میں اقرب کی ولایت کے سلب ہونے کی بات وہاں ہوگی جہاں حاجت اور ضرورت ہوگی جیساکہ کوئی شہر میں گم ہوجائے اور حاجت پیدا ہوجائے اور جہاں حاجت نہیں وہاں ولایت ثابت رہے گی جیسا کہ مذکورہ صورت ہے مجھے در کے قول “ ثمرۃ الخلاف “ پر اپنا حاشیہ یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتاہوں)جب دوسرے قول والوں کے ہاں مدار کفوکا فوت ہونا ہے اس بنیاد پر ولایت کے منتقل ہونے کے لئے جیسے مسافت سفر(قصر)شرط نہیں ہے ایسے ہی یہ مسافت سفر کفو فوت نہ ہونے کے باوجود عجلت کے لئے بھی پیش نظر نہیں ہے تو مسافت سفر ہونے کے باوجود اقرب کی انتظار اور اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت نہ ہو تو ولی ابعد کا نکاح کرنا درست نہ ہوگا یہ دوسرے قول کا ماحصل ہے جبکہ پہلا قول اس کے خلاف ہے تو ثمرہ اختلاف ان کے بیان میں محصورنہ رہا یہ ہے
فـــــــ : جدالممتار میں خط کشیدہ عبارت یوں ہے : لاتعتبر علۃ تامۃ لہ بل ان وجدت المسافۃ الخ۔ نذیر احمد
فلیحرر اھ وھو کما تری ظاھر محرر لما علمت
ولما مرمن عبارات الملتقی و الذخیرۃ وغیرھما فان مفاھیم الخلاف معتبرۃ فی عبارات العلماء بالوفاق کما نصوا علیہ بالاطباق ثم رأیت فی مجمع الانھر فلوانتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد فھذا عین ما فھمت وﷲ الحمد واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جو مجھے ظاہر ہوا تو تحقیق چاہئے اھ تو یہ بیان ظاہر ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں اور ملتقی ذخیرہ وغیرہما کی عبارات سے گزرا کیونکہ بالاتفاق علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبرہے جیساکہ اس پر سب کی نص موجود ہے اس کے بعد میں نے مجمع الانہر میں دیکھا کہ اگر منگنی والاانتظار کرے تو ولی ابعد نکاح نہ کر دے یہی میرا مؤقف ہے ولله الحمد والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
سوال سوم
یہ جو فقہاء لکھتے ہیں کہ ولی ابعد غیبت میں اقرب کے نکاح کراسکتا ہے یہاں ولی ابعدسے کیا مراد ہے عصبہ یا مطلق وارث گوذوی الارحام میں سے ہو اگر مراد عصبہ ہے تو حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جو موطائے امام محمد کے باب الرجل بجعل امرامرأتہ بیدہا میں مخرج ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی بھتیجی عبدالرحمن بن ابی بکر کی بیٹی کا نکاح عبدالله بن زبیر سے کرادیا باوجود یکہ عبدالرحمن شام میں تھے کیا جواب ہے کہ عمہ ذوی الارحام سے ہے۔
الجواب :
ابعد میں افعل التفضیل اپنے باب پر نہیں بلکہ اس سے ہر ولی بعید مراد ہے مگر نہ مطلقا بلکہ وہی جو اس ولی اقرب کے متصل ہو یعنی باقی تمام اولیاء میں کوئی اس سے اقرب نہ ہو سب اس سے نیچے ہوں یا برا بر مثلا باپ غائب اور جد وبرادران وعم موجود ہیں تو ولایت جد کے لئے ہے نہ برادران وعم کے واسطے اور جد نہ ہو تو سب برادران ہمسر کو نہ عم کو
فی ردالمحتار المراد بالابعد من یلی الغائب فی القرب کماعبربہ فی کافی الحاکم وعلیہ فلو کان الغائب اباھا ولھا جدوعم فالولایۃ
ردالمحتارمیں ہے کہ ابعد سے مراد ولی اقرب کے بعد دوسرے مرتبے والا ہے جیسا کہ اس کی تعبیر امام حاکم کی کافی میں ہے اس بناپر اگر والد غائب کے بعد لڑکی کا دادا اور چچا دونوں موجود ہوں تو ولایت داداکو
ولما مرمن عبارات الملتقی و الذخیرۃ وغیرھما فان مفاھیم الخلاف معتبرۃ فی عبارات العلماء بالوفاق کما نصوا علیہ بالاطباق ثم رأیت فی مجمع الانھر فلوانتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد فھذا عین ما فھمت وﷲ الحمد واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جو مجھے ظاہر ہوا تو تحقیق چاہئے اھ تو یہ بیان ظاہر ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں اور ملتقی ذخیرہ وغیرہما کی عبارات سے گزرا کیونکہ بالاتفاق علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبرہے جیساکہ اس پر سب کی نص موجود ہے اس کے بعد میں نے مجمع الانہر میں دیکھا کہ اگر منگنی والاانتظار کرے تو ولی ابعد نکاح نہ کر دے یہی میرا مؤقف ہے ولله الحمد والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
سوال سوم
یہ جو فقہاء لکھتے ہیں کہ ولی ابعد غیبت میں اقرب کے نکاح کراسکتا ہے یہاں ولی ابعدسے کیا مراد ہے عصبہ یا مطلق وارث گوذوی الارحام میں سے ہو اگر مراد عصبہ ہے تو حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جو موطائے امام محمد کے باب الرجل بجعل امرامرأتہ بیدہا میں مخرج ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی بھتیجی عبدالرحمن بن ابی بکر کی بیٹی کا نکاح عبدالله بن زبیر سے کرادیا باوجود یکہ عبدالرحمن شام میں تھے کیا جواب ہے کہ عمہ ذوی الارحام سے ہے۔
الجواب :
ابعد میں افعل التفضیل اپنے باب پر نہیں بلکہ اس سے ہر ولی بعید مراد ہے مگر نہ مطلقا بلکہ وہی جو اس ولی اقرب کے متصل ہو یعنی باقی تمام اولیاء میں کوئی اس سے اقرب نہ ہو سب اس سے نیچے ہوں یا برا بر مثلا باپ غائب اور جد وبرادران وعم موجود ہیں تو ولایت جد کے لئے ہے نہ برادران وعم کے واسطے اور جد نہ ہو تو سب برادران ہمسر کو نہ عم کو
فی ردالمحتار المراد بالابعد من یلی الغائب فی القرب کماعبربہ فی کافی الحاکم وعلیہ فلو کان الغائب اباھا ولھا جدوعم فالولایۃ
ردالمحتارمیں ہے کہ ابعد سے مراد ولی اقرب کے بعد دوسرے مرتبے والا ہے جیسا کہ اس کی تعبیر امام حاکم کی کافی میں ہے اس بناپر اگر والد غائب کے بعد لڑکی کا دادا اور چچا دونوں موجود ہوں تو ولایت داداکو
حوالہ / References
جدالممتار باب الولی قول ۶۱۶ المجمع الاسلامی مبارکپور بھارت ۲ / ۳۸۴
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی الاولیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی الاولیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
للجد لاللعم
ہوگی چچا کو نہ ہوگی۔ (ت)
اور جبکہ ذوی الارحام بلکہ مولی الموالاۃ بھی ہمارے نزدیك سلسلہ اولیاء میں داخل تو من یلی الغائب فی القرب(جو قرب میں بعد والے مرتبہ پر ہو۔ ت)انھیں بھی شامل مثلا والد ولی اقرب غائب ہے تو اس کے من یلی فی القرب یہی ذوی الارحام ہیں اور ذوی الارحام اقرب الاولیاء الموجودین ہوں تو ان کی غیبت میں من الموالاۃ من یلی ہے کما ھو قضیۃ الترتیب وھو ظاھر جدا(جیسا کہ ترتیب کا تقاضا ہے یہ بالکل ظاہر ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
ثم لولدالام ثم لذوی الارحام ثم مولی الموالاۃ ثم للسلطان الخ۔
پھر والدہ کے بیٹے اور پھر ذوی الارحام کو پھر معاہدہ والے کو پھر سلطان کو حق ولایت ہے الخ(ت)
اور ردالمحتار میں اختیار سے ہے :
ولاتنتقل الی السلطان لان السلطان ولی من لاولی لہ وھذہ لھا اولیاء ۔
سلطان کو ولایت منتقل نہ ہوگی کیونکہ سلطان اس وقت ولی بنتا ہے جب دوسرا کوئی ولی نہ ہو جبکہ ا س کے اولیاء موجود ہیں۔ (ت)
جب ہمارے نزدیك ذوی الارحام ومولی الموالاۃ بھی سلطان پر مقدم تو بحکم ھذہ لھا اولیاء(یہ اس کے اولیاء ہیں۔ ت) یہاں بھی لاتنتقل الی السلطان(سلطان یعنی حکم کو منتقل نہ ہوگی۔ ت)کا حکم محکم مگر صرف اس قدر کہ ذوی الارحام بھی کبھی بحالت غیبت اقرب ولایت پاتے ہیں حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے رفع شبہہ مذکورہ نہ کرے گا۔ اوپر معلوم ہوچکا کہ مطلقا ہر بعید ولی نہیں ہوجاتا بلکہ وہی جو اس اقرب کے بعد سب سے اقرب ہے پدر وعمہ کے درمیان تمام عصبات وتمام اصحاب فروض وبعض ذوی الارحام بکثرت اولیاء ہیں حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن بن الصدیق رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے بحالت غیبت پدر ان میں کسی کااصلا موجود نہ ہونا یہاں تك کہ ولایت حضر ت عمہ رضی الله تعالی عنھا کے لیے ثابت ہو بہت مستبعد ہے بلکہ جواب یہ ہے کہ واقعۃ عین لا عموم لھا(یہ خاص واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے۔ ت)وقائع عین ہر گز نہ احتمال کے محل ہوتے ہیں ممکن کہ حضرت حفصہ
ہوگی چچا کو نہ ہوگی۔ (ت)
اور جبکہ ذوی الارحام بلکہ مولی الموالاۃ بھی ہمارے نزدیك سلسلہ اولیاء میں داخل تو من یلی الغائب فی القرب(جو قرب میں بعد والے مرتبہ پر ہو۔ ت)انھیں بھی شامل مثلا والد ولی اقرب غائب ہے تو اس کے من یلی فی القرب یہی ذوی الارحام ہیں اور ذوی الارحام اقرب الاولیاء الموجودین ہوں تو ان کی غیبت میں من الموالاۃ من یلی ہے کما ھو قضیۃ الترتیب وھو ظاھر جدا(جیسا کہ ترتیب کا تقاضا ہے یہ بالکل ظاہر ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
ثم لولدالام ثم لذوی الارحام ثم مولی الموالاۃ ثم للسلطان الخ۔
پھر والدہ کے بیٹے اور پھر ذوی الارحام کو پھر معاہدہ والے کو پھر سلطان کو حق ولایت ہے الخ(ت)
اور ردالمحتار میں اختیار سے ہے :
ولاتنتقل الی السلطان لان السلطان ولی من لاولی لہ وھذہ لھا اولیاء ۔
سلطان کو ولایت منتقل نہ ہوگی کیونکہ سلطان اس وقت ولی بنتا ہے جب دوسرا کوئی ولی نہ ہو جبکہ ا س کے اولیاء موجود ہیں۔ (ت)
جب ہمارے نزدیك ذوی الارحام ومولی الموالاۃ بھی سلطان پر مقدم تو بحکم ھذہ لھا اولیاء(یہ اس کے اولیاء ہیں۔ ت) یہاں بھی لاتنتقل الی السلطان(سلطان یعنی حکم کو منتقل نہ ہوگی۔ ت)کا حکم محکم مگر صرف اس قدر کہ ذوی الارحام بھی کبھی بحالت غیبت اقرب ولایت پاتے ہیں حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے رفع شبہہ مذکورہ نہ کرے گا۔ اوپر معلوم ہوچکا کہ مطلقا ہر بعید ولی نہیں ہوجاتا بلکہ وہی جو اس اقرب کے بعد سب سے اقرب ہے پدر وعمہ کے درمیان تمام عصبات وتمام اصحاب فروض وبعض ذوی الارحام بکثرت اولیاء ہیں حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن بن الصدیق رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے بحالت غیبت پدر ان میں کسی کااصلا موجود نہ ہونا یہاں تك کہ ولایت حضر ت عمہ رضی الله تعالی عنھا کے لیے ثابت ہو بہت مستبعد ہے بلکہ جواب یہ ہے کہ واقعۃ عین لا عموم لھا(یہ خاص واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے۔ ت)وقائع عین ہر گز نہ احتمال کے محل ہوتے ہیں ممکن کہ حضرت حفصہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
وقت نکاح بالغہ ہوں توان پر ولایت مجبرہ کسی کو نہیں۔ ممکن کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما کی تزویج کے لئے تجویز وپسند فرمایا اور اقرب الاولیاء الحاضرین کو ان سے نکاح کردینے کا حکم کیا اور انھوں نے حسب حکم والا نکاح کردیا ہو تو نکاح ہوا تو ولی مستحق ہی کی ولایت سے مگر حضرت کے حکم حضرت کی رائے حضرت کی تجویز سے ہونے کے باعث حضرت کی طرف منسوب ہوا ایسی نسبتیں شائع وذائع ہیں جیسے :
فتح الامیر الحصن وقطع السلطان اللص وغسل علی فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
امیرنے قلع فتح کیا سلطان نے چور کا ہاتھ کاٹا علی نے فاطمہ کوغسل دیا رضی اللہ تعالی عنہما (ت)
جب منذر بن زبیر نے حضرت عبدالرحمن کی ناراضی پاکر انھیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو تفریق کردیں حضرت عبدالرحمن نے اس پر اپنی خواہر مطہر ہ سے عرض کی ماکنت لااردامرا قضیتہ مجھے نہیں پہنچتا کہ اس بات کو رد کروں جس کاآپ نے حکم فرمایا اور اگر “ انھا زوجت حفصۃ “ کے معنی یہی رکھے جائیں کہ ام المومنین نے بنفس نفیس تزویج فرمائی تو ممکن کہ ولی مستحق سے ذکر فرماکر اجازت لے لی ہو اب یہ صورت تو کیل کی ہوجائیگی بہر حال کوئی مقام شبہہ واشکال نہیں۔ یہ وہ وجوہ ہیں کہ خاطر فقیر میں آئیں او رامام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ عنہ نے ام المومنین کے خصائص سے شمار فرماکر بوجہ اس قرب کے جو حضرت قدسی منزلت کو حضرت پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تھا ان کی یہ تزویج جائز رہی زرقانی علی مؤطا للامام مالك میں ہے :
قال مالك فی الموازیۃ انما کان ذلك لمثل عائشۃ لمکانہا من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
امام مالك نے موازیہ میں فرمایا : یہ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حق تھا کیونکہ ان کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے خاص تعلق تھا الخ۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال چہارم
اس مسئلہ میں اگر ولی ابعد نے غیر برادری میں نکاح کردیا توکیا حکم ہوگا
الجواب :
ولی اقرب کہ غائب ہے پدر یا جد صحیح ہے ہر ایك غیر معروف بسوء اختیار یا معروف کہ اس سے
فتح الامیر الحصن وقطع السلطان اللص وغسل علی فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
امیرنے قلع فتح کیا سلطان نے چور کا ہاتھ کاٹا علی نے فاطمہ کوغسل دیا رضی اللہ تعالی عنہما (ت)
جب منذر بن زبیر نے حضرت عبدالرحمن کی ناراضی پاکر انھیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو تفریق کردیں حضرت عبدالرحمن نے اس پر اپنی خواہر مطہر ہ سے عرض کی ماکنت لااردامرا قضیتہ مجھے نہیں پہنچتا کہ اس بات کو رد کروں جس کاآپ نے حکم فرمایا اور اگر “ انھا زوجت حفصۃ “ کے معنی یہی رکھے جائیں کہ ام المومنین نے بنفس نفیس تزویج فرمائی تو ممکن کہ ولی مستحق سے ذکر فرماکر اجازت لے لی ہو اب یہ صورت تو کیل کی ہوجائیگی بہر حال کوئی مقام شبہہ واشکال نہیں۔ یہ وہ وجوہ ہیں کہ خاطر فقیر میں آئیں او رامام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ عنہ نے ام المومنین کے خصائص سے شمار فرماکر بوجہ اس قرب کے جو حضرت قدسی منزلت کو حضرت پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تھا ان کی یہ تزویج جائز رہی زرقانی علی مؤطا للامام مالك میں ہے :
قال مالك فی الموازیۃ انما کان ذلك لمثل عائشۃ لمکانہا من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
امام مالك نے موازیہ میں فرمایا : یہ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حق تھا کیونکہ ان کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے خاص تعلق تھا الخ۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال چہارم
اس مسئلہ میں اگر ولی ابعد نے غیر برادری میں نکاح کردیا توکیا حکم ہوگا
الجواب :
ولی اقرب کہ غائب ہے پدر یا جد صحیح ہے ہر ایك غیر معروف بسوء اختیار یا معروف کہ اس سے
حوالہ / References
مؤطا الامام مالک کتاب الطلاق مالایبین من التملیک میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۵۱۳
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک کتاب الطلاق مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ۳ / ۱۷۲
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک کتاب الطلاق مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ۳ / ۱۷۲
پہلے اپنی اولاد سے کسی بچے کا نکاح غیر کفو سے یامہر مثل میں غبن فاحش کے ساتھ کرچکا ہو یا ان دونوں کا غیر اور جبکہ غائب پدر ہوتو ولی ابعد جد معروف بسوء اختیار یا غیر معروف یا کوئی اور یہ نوصورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر غیبت منقطعہ ہے یا غیر وہ غیربرادری والاکفو ہے یا غیر یعنی نسب یا مذہب یا حرفت یا روش یا مال غرض کسی بات میں اس سے ایسی کمی رکھتاہے کہ اس سے نکاح اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہے نکاح مہر مثل میں غبن فاحش کے ساتھ ہوا مثلا دختر کا مہر مثل ہزار تھا پانسو باندھے یا زوجہ پسر کا پانسو تھا ہزار باندھے یا غیر یہ جملہ بہتر ۷۲ صورتیں ہوئیں ان کے حکم کا ضابطہ بتوفیق الله تعالی یہ ہے کہ اگر غیبت غیر منقطعہ تھی اورولی غائب پدر یا جد غیر معروفین بسوء اختیار ہیں تو یہ نکاح مطلقا ان کی اجازت پر موقوف ہے اگرچہ غیر کفو غبن فاحش سے ہو اور اگر غائب مذکور معروف بسوء اختیار تو نکاح مطلقا باطل محض اگرچہ غیبت پدر میں جد صحیح غیر معروف بسوء اختیار نے کیا ہو۔
والوجہ فی ذلك ان الغیبۃ اذالم یکن منقطعۃ لا تکون الولایۃ لغیرہ کما قدمنا فی مسئلۃ الاولی و الاب والجد لھما التزویج بغیر الکفو وبالغبن الفاحش اذالم یعرفا بسوء الاختیار لااذا عرفا بہ کما فی الدرالمختار وغیر ہ من الاسفار وقد قال فیہ وفی متنہ تنویرالابصار فی فصل الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقد اھ فاذالم یعرفا بہ اس میں وجہ یہ ہے کہ جب تك غیبت منقطعہ نہ ہو تو غیر کو ولایت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے مسئلہ میں ہم نے ذکرکیا ہے اور باپ اور دادا کو اس وقت غیر کفو اور گراں مہر یا انتہائی کم مہر کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے جب وہ سوء اختیار میں معروف نہ ہوں اس میں معروف ہونے کی صورت میں جائز نہیں جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے جبکہ درمختار اور اس کے متن تنویر الابصار میں فضولی کی بحث میں مذکور ہے کہ تمام وہ تصرفات جن کے صادر ہونے پر وہ کسی کی اجازت پر موقوف ہوں تو اجازت دینے والے کی موجودگی میں وہ تصرفات موقوف قرار پائیں گے اور اگرایسے تصرفات کی اجازت دینے والاموجود نہ ہو تو پھریہ تصرفات منعقد ہی نہ ہوں گے اھ تو جب
والوجہ فی ذلك ان الغیبۃ اذالم یکن منقطعۃ لا تکون الولایۃ لغیرہ کما قدمنا فی مسئلۃ الاولی و الاب والجد لھما التزویج بغیر الکفو وبالغبن الفاحش اذالم یعرفا بسوء الاختیار لااذا عرفا بہ کما فی الدرالمختار وغیر ہ من الاسفار وقد قال فیہ وفی متنہ تنویرالابصار فی فصل الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقد اھ فاذالم یعرفا بہ اس میں وجہ یہ ہے کہ جب تك غیبت منقطعہ نہ ہو تو غیر کو ولایت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے مسئلہ میں ہم نے ذکرکیا ہے اور باپ اور دادا کو اس وقت غیر کفو اور گراں مہر یا انتہائی کم مہر کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے جب وہ سوء اختیار میں معروف نہ ہوں اس میں معروف ہونے کی صورت میں جائز نہیں جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے جبکہ درمختار اور اس کے متن تنویر الابصار میں فضولی کی بحث میں مذکور ہے کہ تمام وہ تصرفات جن کے صادر ہونے پر وہ کسی کی اجازت پر موقوف ہوں تو اجازت دینے والے کی موجودگی میں وہ تصرفات موقوف قرار پائیں گے اور اگرایسے تصرفات کی اجازت دینے والاموجود نہ ہو تو پھریہ تصرفات منعقد ہی نہ ہوں گے اھ تو جب
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
فھذا عقد وقع ولہ من یملك تنفیذہ فوقف وان عرفا فلا فلا عــــہ فلا توقف بتزویج جد لم یعرف بہ بغیبۃ اب معروف بہ وان کان الجدیملکہ اذالم یعرف بہ فان ھذا انما ھو حین قیام ولایتہ وھو عند غیبۃ للاب غیبۃ غیر منقطعۃ لایلی اصلا ولومن کفو فضلاعن غیرہ۔
با پ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو یہ عقد درست ہوکر اجازت پر موقوف رہے گا کیونکہ اس عقد کو جائز کرنے والا خود موجود ہے اور اگر سوء اختیار میں معروف ہوں تو منعقد نہ ہوگا اور نہ موقوف ہوگا تو اس صورت میں سوء اختیار میں غیر معروف دادا اگر اس باپ کی غیبت غیر منقطعہ میں جو سوء اختیارمیں معروف ہو نکاح کردے تو یہ نکاح موقوف نہ رہے گا اگرچہ دادا غیر معروف بسوء اختیار خود نکاح کر دینے کا مالك ہوتاہے مگریہاں اس لئے نہیں کہ باپ غیبت منقطعہ میں غائب نہیں بلکہ وہ غیر منقطعہ غیبت میں غائب ہے تو ایسی صورت میں دادا کو ولایت منتقل نہیں ہوتی اگر چہ دادا کفو میں بھی کرے چہ جائیکہ غیر کفو میں کرے۔ (ت)
اور اگر ولی غائب غیر اب وجد ہے تو کفو سے بے غبن فاحش اجازت غائب پر موقوف لقیام ولایتہ بعدم الانقطاع (عدم انقطاع کی بناپر ولایت باقی رہنے کی وجہ سے۔ ت)او رغیر کفو یاغبن فاحش سے مطلقا باطل لعدم المجیز(جائز کرنے والا نہ ہونے کی وجہ سے مطلقا باطل ہے۔ ت)اگرچہ اس ولی غائب بغیبت غیر منقطعہ کے سوا صغیرو صغیرہ کا باپ یا دادا غیر معروف بسوئے اختیار غائب بغیبت منقطعہ زندہ موجود ہوں کہ غیبت منقطعہ مثل موت ہے۔
بناء علی ماصحح فی البدائع انھا تنقل الولایۃ عن الاقرب الی من یلیہ فی القرب حتی لوزوجھا حیث ھو لم یجز والیہ یمیل کلام المبسوط و الھدایۃ والفتح بل ھما مصرحان
بدائع میں مذکورہ تصحیح کی بناپر کہ ولایت اقرب سے منتقل ہوکر اس کے بعد والے قریبی کو حاصل ہوگی حتی کہ اگراقرب نے جہاں پر وہ ہے وہاں نکاح کردیا ہو تو نافذ نہ ہوگا اسی کی طرف مبسوط ہدایہ اور فتح کا کلام مائل ہے بلکہ آخری دونوں نے اس کی تصریح
عــــہ : ای ان عرفا بسوء الاختیار فلامجیز فلاتوقف بل یبطل ثم فرع علیہ فقال فلاتوقف بتزویج جد الخ ۱۲ منہ(م)
یعنی اگر وہ معروف بسوء اختیار ہیں تو یہ نکاح موقوف نہیں بلکہ باطل ہوگا پھر اس پر تفریعا کہا فلاتوقف بتزویج جدا لخ ۱۲ منہ(ت)
با پ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو یہ عقد درست ہوکر اجازت پر موقوف رہے گا کیونکہ اس عقد کو جائز کرنے والا خود موجود ہے اور اگر سوء اختیار میں معروف ہوں تو منعقد نہ ہوگا اور نہ موقوف ہوگا تو اس صورت میں سوء اختیار میں غیر معروف دادا اگر اس باپ کی غیبت غیر منقطعہ میں جو سوء اختیارمیں معروف ہو نکاح کردے تو یہ نکاح موقوف نہ رہے گا اگرچہ دادا غیر معروف بسوء اختیار خود نکاح کر دینے کا مالك ہوتاہے مگریہاں اس لئے نہیں کہ باپ غیبت منقطعہ میں غائب نہیں بلکہ وہ غیر منقطعہ غیبت میں غائب ہے تو ایسی صورت میں دادا کو ولایت منتقل نہیں ہوتی اگر چہ دادا کفو میں بھی کرے چہ جائیکہ غیر کفو میں کرے۔ (ت)
اور اگر ولی غائب غیر اب وجد ہے تو کفو سے بے غبن فاحش اجازت غائب پر موقوف لقیام ولایتہ بعدم الانقطاع (عدم انقطاع کی بناپر ولایت باقی رہنے کی وجہ سے۔ ت)او رغیر کفو یاغبن فاحش سے مطلقا باطل لعدم المجیز(جائز کرنے والا نہ ہونے کی وجہ سے مطلقا باطل ہے۔ ت)اگرچہ اس ولی غائب بغیبت غیر منقطعہ کے سوا صغیرو صغیرہ کا باپ یا دادا غیر معروف بسوئے اختیار غائب بغیبت منقطعہ زندہ موجود ہوں کہ غیبت منقطعہ مثل موت ہے۔
بناء علی ماصحح فی البدائع انھا تنقل الولایۃ عن الاقرب الی من یلیہ فی القرب حتی لوزوجھا حیث ھو لم یجز والیہ یمیل کلام المبسوط و الھدایۃ والفتح بل ھما مصرحان
بدائع میں مذکورہ تصحیح کی بناپر کہ ولایت اقرب سے منتقل ہوکر اس کے بعد والے قریبی کو حاصل ہوگی حتی کہ اگراقرب نے جہاں پر وہ ہے وہاں نکاح کردیا ہو تو نافذ نہ ہوگا اسی کی طرف مبسوط ہدایہ اور فتح کا کلام مائل ہے بلکہ آخری دونوں نے اس کی تصریح
عــــہ : ای ان عرفا بسوء الاختیار فلامجیز فلاتوقف بل یبطل ثم فرع علیہ فقال فلاتوقف بتزویج جد الخ ۱۲ منہ(م)
یعنی اگر وہ معروف بسوء اختیار ہیں تو یہ نکاح موقوف نہیں بلکہ باطل ہوگا پھر اس پر تفریعا کہا فلاتوقف بتزویج جدا لخ ۱۲ منہ(ت)
بہ وسیأتی نصوصھما فی جواب الخامس وقواہ الزیلعی روایۃ ودرایۃ و علیہ فرع فی محیط السرخسی وذکر الشامی انہ الذی فی اکثر الکتب وقد قال فی الھدایہ والبحر ففوضناہ الی الابعد کما اذامات الاقرب اھ
اما علی ما استظھر فی الخانیہ والظھیریۃ والتنویر و الدر وعلیہ فرع الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی وعلیہ مشی فی البحر من انھا لاتنفی ولایتہ وانما تحدثھا لمن یلیہ فیکون کان ھنا ولیین مستویین کاخوین اوعمین فایھما عقد نفذ فالظاھر فیما ذکرنا التوقف اذالم یکن الاب اوالجد معروفا بسوء الاختیار لانہ وقع وھو مجیز فافھم۔
کی ہے ا ور ان کی بعض نصوص پانچویں سوال کے جواب میں آئیں گی اور اس کو زیلعی نے قوی قرار دیا درایۃ و روایۃ اور اس پر محیط سرخسی میں تفریع قائم کی اور شامی نے کہا کہ یہی اکثر کتب میں ہے جبکہ ہدایہ اور بحر میں کہا کہ ہم یہ ولایت ہمیشہ کے لئے دوسرے مرتبہ والے کو سونپ دیں گے جیساکہ اقرب کے فوت ہوجانے پر ہوتاہے اھ لیکن خانیہ ظہیریہ تنویر اور در نے جس کو ظاہر قرار دیااور شرح مختصر الطحاوی میں اسبیجابی نے جس پرتفریع قائم کی ہے اور بحر نے اس کو اپنایا وہ یہ ہے کہ اقرب غائب کی ولایت ختم نہ ہوگی ہاں قربت میں دوسرے مرتبہ والے کے لئے بھی ولایت ثابت ہوجائے گی گویا یوں دو مساوی قرار پائیں گے جیسے دو بھائی یا دو چچے برابر ہوں تو دونوں کو ولایت نفاذحاصل ہوتی ہے جو بھی عقد کرے گانافذہوگا تو ظاہر وہی ہے جو ہم نے ذکرکیا کہ باپ یا دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو نکاح موقوف رہے گا کیونکہ یہ حضرات نکاح کو جائز کرنیوالے موجود ہیں۔ غور کرو۔ (ت)
اور اگر غیبت منقطعہ تھی تو غیر کفویا غبن فاحش سے مطلقا بالکل مگر اس صورت میں کہ غائب پدرہو اور مزوج جد صحیح کہ نہ معروف بہ سوء اختیار ہو نہ اس تزویج کے وقت نشے میں کہ اس تقدیر پر یہ عقد نہ صرف صحیح ونافذبلکہ لازم ہوگا جو کسی طرح رد نہیں ہوسکتااو راگر نکاح کفو سے بے غبن فاحش ہے تو مطلقا تام ونافذ مگر ولی مزوج اگر جد ہے تو لازم بھی ہوگیا ورنہ غیر لازم کہ قاصروقاصرہ کو اگر پیش از بلوغ نکاح کی خبر ہے تو بلوغ ہوتے ہی ورنہ بعد جب خبر پائیں اختیار ملے گا کہ اس پر معترض ہو کر قاضی شرع سے نکاح فسخ کرالیں۔
والمسائل ظاھرۃ وفی کتب المذھب
یہ مسائل واضح اور مذہب کی کتب میں مذکور ہیں جبکہ
اما علی ما استظھر فی الخانیہ والظھیریۃ والتنویر و الدر وعلیہ فرع الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی وعلیہ مشی فی البحر من انھا لاتنفی ولایتہ وانما تحدثھا لمن یلیہ فیکون کان ھنا ولیین مستویین کاخوین اوعمین فایھما عقد نفذ فالظاھر فیما ذکرنا التوقف اذالم یکن الاب اوالجد معروفا بسوء الاختیار لانہ وقع وھو مجیز فافھم۔
کی ہے ا ور ان کی بعض نصوص پانچویں سوال کے جواب میں آئیں گی اور اس کو زیلعی نے قوی قرار دیا درایۃ و روایۃ اور اس پر محیط سرخسی میں تفریع قائم کی اور شامی نے کہا کہ یہی اکثر کتب میں ہے جبکہ ہدایہ اور بحر میں کہا کہ ہم یہ ولایت ہمیشہ کے لئے دوسرے مرتبہ والے کو سونپ دیں گے جیساکہ اقرب کے فوت ہوجانے پر ہوتاہے اھ لیکن خانیہ ظہیریہ تنویر اور در نے جس کو ظاہر قرار دیااور شرح مختصر الطحاوی میں اسبیجابی نے جس پرتفریع قائم کی ہے اور بحر نے اس کو اپنایا وہ یہ ہے کہ اقرب غائب کی ولایت ختم نہ ہوگی ہاں قربت میں دوسرے مرتبہ والے کے لئے بھی ولایت ثابت ہوجائے گی گویا یوں دو مساوی قرار پائیں گے جیسے دو بھائی یا دو چچے برابر ہوں تو دونوں کو ولایت نفاذحاصل ہوتی ہے جو بھی عقد کرے گانافذہوگا تو ظاہر وہی ہے جو ہم نے ذکرکیا کہ باپ یا دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو نکاح موقوف رہے گا کیونکہ یہ حضرات نکاح کو جائز کرنیوالے موجود ہیں۔ غور کرو۔ (ت)
اور اگر غیبت منقطعہ تھی تو غیر کفویا غبن فاحش سے مطلقا بالکل مگر اس صورت میں کہ غائب پدرہو اور مزوج جد صحیح کہ نہ معروف بہ سوء اختیار ہو نہ اس تزویج کے وقت نشے میں کہ اس تقدیر پر یہ عقد نہ صرف صحیح ونافذبلکہ لازم ہوگا جو کسی طرح رد نہیں ہوسکتااو راگر نکاح کفو سے بے غبن فاحش ہے تو مطلقا تام ونافذ مگر ولی مزوج اگر جد ہے تو لازم بھی ہوگیا ورنہ غیر لازم کہ قاصروقاصرہ کو اگر پیش از بلوغ نکاح کی خبر ہے تو بلوغ ہوتے ہی ورنہ بعد جب خبر پائیں اختیار ملے گا کہ اس پر معترض ہو کر قاضی شرع سے نکاح فسخ کرالیں۔
والمسائل ظاھرۃ وفی کتب المذھب
یہ مسائل واضح اور مذہب کی کتب میں مذکور ہیں جبکہ
حوالہ / References
الہدایہ باب الاولیاء والاکفاء مکتبہ عربیہ کراچی ۲ / ۲۹۹ ، بحر الرائق باب الاولیاء والاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
دائرۃ وقد قال فی الخیریۃ قد نصوا علی ان غیر الاب والجد اذا زوج الصغیر او الصغیرۃ مع وجود احد ھما ان کان بغیبۃ وثبوت الولایۃ لہ بالغیبۃ المجوزۃ لذلك فلھما خیار البلوغ لانہ زوج بالولایۃ اھ
تنبیہ : کتبت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ وانظر ھل اذا عادالاب اوالجد حتی عادت ولایتہ کما نصوا علیہ ھل یکون لہ ایضا الاعتراض قبل بلوغ الصغیرین ام ھو لھما خاصۃ حتی یبلغا والظاھر ھوالاول لانہ لدفع ضرر خفی کما فی الھدایۃ اوضرر غیر متحقق کما فی الفتح فینبغی ثبوتہ لمن لہ النظر وانما النظر لدفع الضرر فلم ذایؤخر مع امکان الدفع قبل ان یتقرر ثم ان قلنا بحصول ذلك للاب والجد ولم یعارضا حتی بلغ الصغیران فھل یکون ھذا الاعتراض عن الاعتراض مبطلا لخیار الصغیرین کما لوزوج الابوان بانفسھما الظاھر لالان النکاح اذا وقع لغیبتھما فقد نفذ غیر موقوف علی
خیریہ میں کہا کہ فقہا نے تصریح کی ہے کہ باپ اور دادا کی غیر موجودگی میں اگر کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کردیا تو اگر باپ اور دادا ایسے غائب ہیں جس کی بنا پر ا س غیر کو ولایت اور اجازت ہوسکتی ہے تو لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوگا کیونکہ غیر نے یہ نکاح اپنی ولایت سے کیا ہے اھ۔
تنبیہ : میں نے یہاں ردالمحتار کے حاشیہ پرلکھا ہے جس کی عبارت یوں ہے کہ غور کرنا ہوگاکہ کیا باپ یا دادا واپس آگئے تو لڑکے یا لڑکی کے بالغ ہونے سے قبل ان کو دوبارہ ولایت لوٹ آئیگی جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی کے کئے ہوئے نکاح پر ان کو اعتراض کا حق ہوگا یا اب ان کو اعتراض کاحق نہیں بلکہ لڑکے یا لڑکی کو ہی اپنے بلوغ پر اختیار رہے گا جیساکہ عام فقہاء نے تصریح کی ہے جبکہ ظاہر پہلی صورت ہے کیونکہ کسی مخفی ضرر کی بناء پر جیساکہ ہدایہ میں ہے یا احتمال ضرر کی بنا پر جیساکہ فتح میں ہے صاحب شفقت کو اختیارولایت ثابت ہے جبکہ ولایت شفقت دفع ضرر کے لئے ہوتی ہے تو بچوں کے بـلوغ کی انتظا رتك کیوں مؤخر کی جائے جبکہ ضرر واقع ہوجانے سے قبل اس کے دفاع کا امکان موجود ہے پھر قابل غور یہ ہے کہ جب ہم تسلیم کرلیں کہ باپ دادا کو ولایت دوبارہ مل گئی ہے اب وہ نابالغ کے نکاح پر تعرض نہ کریں حتی کہ وہ بچے بالغ ہوجائیں تو کیا باپ دادا کا تعرض نہ کرنا بچوں کے خیا ر بلوغ کو ختم کردے گا جیساکہ خو د باپ دادا نے نکاح کیا ہو تو بالغ کا خیار بلوغ باطل ہوتاہے
تنبیہ : کتبت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ وانظر ھل اذا عادالاب اوالجد حتی عادت ولایتہ کما نصوا علیہ ھل یکون لہ ایضا الاعتراض قبل بلوغ الصغیرین ام ھو لھما خاصۃ حتی یبلغا والظاھر ھوالاول لانہ لدفع ضرر خفی کما فی الھدایۃ اوضرر غیر متحقق کما فی الفتح فینبغی ثبوتہ لمن لہ النظر وانما النظر لدفع الضرر فلم ذایؤخر مع امکان الدفع قبل ان یتقرر ثم ان قلنا بحصول ذلك للاب والجد ولم یعارضا حتی بلغ الصغیران فھل یکون ھذا الاعتراض عن الاعتراض مبطلا لخیار الصغیرین کما لوزوج الابوان بانفسھما الظاھر لالان النکاح اذا وقع لغیبتھما فقد نفذ غیر موقوف علی
خیریہ میں کہا کہ فقہا نے تصریح کی ہے کہ باپ اور دادا کی غیر موجودگی میں اگر کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کردیا تو اگر باپ اور دادا ایسے غائب ہیں جس کی بنا پر ا س غیر کو ولایت اور اجازت ہوسکتی ہے تو لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوگا کیونکہ غیر نے یہ نکاح اپنی ولایت سے کیا ہے اھ۔
تنبیہ : میں نے یہاں ردالمحتار کے حاشیہ پرلکھا ہے جس کی عبارت یوں ہے کہ غور کرنا ہوگاکہ کیا باپ یا دادا واپس آگئے تو لڑکے یا لڑکی کے بالغ ہونے سے قبل ان کو دوبارہ ولایت لوٹ آئیگی جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی کے کئے ہوئے نکاح پر ان کو اعتراض کا حق ہوگا یا اب ان کو اعتراض کاحق نہیں بلکہ لڑکے یا لڑکی کو ہی اپنے بلوغ پر اختیار رہے گا جیساکہ عام فقہاء نے تصریح کی ہے جبکہ ظاہر پہلی صورت ہے کیونکہ کسی مخفی ضرر کی بناء پر جیساکہ ہدایہ میں ہے یا احتمال ضرر کی بنا پر جیساکہ فتح میں ہے صاحب شفقت کو اختیارولایت ثابت ہے جبکہ ولایت شفقت دفع ضرر کے لئے ہوتی ہے تو بچوں کے بـلوغ کی انتظا رتك کیوں مؤخر کی جائے جبکہ ضرر واقع ہوجانے سے قبل اس کے دفاع کا امکان موجود ہے پھر قابل غور یہ ہے کہ جب ہم تسلیم کرلیں کہ باپ دادا کو ولایت دوبارہ مل گئی ہے اب وہ نابالغ کے نکاح پر تعرض نہ کریں حتی کہ وہ بچے بالغ ہوجائیں تو کیا باپ دادا کا تعرض نہ کرنا بچوں کے خیا ر بلوغ کو ختم کردے گا جیساکہ خو د باپ دادا نے نکاح کیا ہو تو بالغ کا خیار بلوغ باطل ہوتاہے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ باب الاولیاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
اجازتھما فلم ینسب الیھما ایقاعا ولانفاذ ا و اعراضھما عن اعتراضھما لایوجب ابطال حق الصغیرین کما اذالم یزاحما ظالما یتصرف فی مالھما فلیتأ مل ولیحرر ھ ماکتبت۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تو ظاہر یہی ہے کہ والدین کے عدم تعرض سے خیار بلوغ ختم نہ ہوگا کیونکہ نکاح کے وقت ان کے غائب ہونے کی بناپر ان کی اجازت پر موقوف نہ تھا تو نکاح کا نفاذ ان کی طرف منسوب نہ رہا تو اب عدم تعرض او راعتراض نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کو حاصل شدہ اختیار باطل نہ ہوگا جیساکہ ظالم نے بچوں کے مال میں تصرف کیا اور باپ دادا نے تعرض نہ کیا ہو اس میں غور چاہئے اور واضح کرنا چاہئے والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال پنجم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سو کوس سے زائد سفر میں گیا ہے اس کے مکان پر ا س کی والدہ اور اس کی دختر زینب نامی اور اس کا پھوپھی زاد بھائی خالد موجودہیں زید نےاپنی والدہ کو لکھا کہ زینب کانکاح بغیر میری اجازت کے نہ کرنا میں خود سفر سے آکر اپنے برادر کے پسر کے ساتھ کروں گا مگر اس کی والدہ نے بغیر دریافت کئے زید کے اور بغیر دریافت کئے خالد کے جوموجود تھا اپنی رائے سے اپنی پوتی زینب نابالغہ کا نکاح بہت دور کے عزیزوں میں کردیا اس صورت میں زید سفر سے آنے کے بعد فسخ نکاح کراسکتا ہے یا نہیں اور خالد جو بحالت عقد اپنے مکان پر موجود تھا اور اس کی رائے کے خلاف نکاح ہوگیا توآیا یہ بھی زینب نابالغہ کا نکاح فسخ کراسکتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
خالد تو یہاں کوئی چیز نہیں۔ نہ اسے کچھ اختیار ہے کہ ابن عمۃ الاب ذوی الارحام سے ہے۔ اور دادی بالاتفاق ان پر مقدم۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم لام الاب الی قولہ ثم ذوی الارحام ۔
درمختار میں ہے : نکاح میں ولی وراثت وحجب کی ترتیب پر عصبات بنفسہ ہوتے ہیں اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو پھر داد ی کو ہوتی ہے ان کا بیان ذوالارحام تك ہوا۔ (ت)
تو ظاہر یہی ہے کہ والدین کے عدم تعرض سے خیار بلوغ ختم نہ ہوگا کیونکہ نکاح کے وقت ان کے غائب ہونے کی بناپر ان کی اجازت پر موقوف نہ تھا تو نکاح کا نفاذ ان کی طرف منسوب نہ رہا تو اب عدم تعرض او راعتراض نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کو حاصل شدہ اختیار باطل نہ ہوگا جیساکہ ظالم نے بچوں کے مال میں تصرف کیا اور باپ دادا نے تعرض نہ کیا ہو اس میں غور چاہئے اور واضح کرنا چاہئے والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال پنجم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سو کوس سے زائد سفر میں گیا ہے اس کے مکان پر ا س کی والدہ اور اس کی دختر زینب نامی اور اس کا پھوپھی زاد بھائی خالد موجودہیں زید نےاپنی والدہ کو لکھا کہ زینب کانکاح بغیر میری اجازت کے نہ کرنا میں خود سفر سے آکر اپنے برادر کے پسر کے ساتھ کروں گا مگر اس کی والدہ نے بغیر دریافت کئے زید کے اور بغیر دریافت کئے خالد کے جوموجود تھا اپنی رائے سے اپنی پوتی زینب نابالغہ کا نکاح بہت دور کے عزیزوں میں کردیا اس صورت میں زید سفر سے آنے کے بعد فسخ نکاح کراسکتا ہے یا نہیں اور خالد جو بحالت عقد اپنے مکان پر موجود تھا اور اس کی رائے کے خلاف نکاح ہوگیا توآیا یہ بھی زینب نابالغہ کا نکاح فسخ کراسکتاہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
خالد تو یہاں کوئی چیز نہیں۔ نہ اسے کچھ اختیار ہے کہ ابن عمۃ الاب ذوی الارحام سے ہے۔ اور دادی بالاتفاق ان پر مقدم۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم لام الاب الی قولہ ثم ذوی الارحام ۔
درمختار میں ہے : نکاح میں ولی وراثت وحجب کی ترتیب پر عصبات بنفسہ ہوتے ہیں اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو پھر داد ی کو ہوتی ہے ان کا بیان ذوالارحام تك ہوا۔ (ت)
حوالہ / References
جدالممتار باب الولی قول ۵۶۹ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲ / ۳۶۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
مگر تقریر سوال سے جو صورت ظاہر ہو وہ صاف شہادت دے رہی ہے کہ یہ نکاح اس وجہ پر واقع نہ ہوا جو شرع مطہر نے غیبت ولی اقرب میں ولی ابعد کے لئے رکھی ہے قطع نظر اس سے یہاں دادی ولی ابعد ہے بھی یا نہیں۔ (کہ ابعد وہ جو اقرب کے بعد مرتبہ ولایت میں ہو غیبت پدر میں دادی اس وقت ولی ابعد ہوسکتی ہے کہ دادا بھائی بھتیجا چچا چچا کا بیٹا سگے سوتیلے غرض داداپردادا کی اولاد کو کوئی مرد عاقل بالغ کتنے ہی دور کے رشتے کا اصلا موجود نہ ہوں نہ زینب کی ماں حاضر ہو کہ یہ سب مراتب ولایت میں دادی پر مقدم کماتقدم وقد حققنا تقدم الام علی ام الاب فیما علقنا علی ردالمحتار) (جیساکہ پہلے گزر چکااور ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں تحقیق کی ہے کہ ماں کو دادی پر تقدم حاصل ہے۔ ت)مذہب معتمد میں بحالت غیبت اقرب ولی ابعد کو بے اجازت اپنی رائے سے صغیر ہ کانکاح کردینے کا اختیار صرف اس ضرورت سے دیا جاتاہے کہ سردست صغیرہ کے لئے کوئی کفو خواستگار حاضر وموجود ہے اور اسے اتنی مہلت منظور نہیں کہ ولی اقرب واپس آئے یا اس کا جواب لیاجائے۔ اگر اتنا انتظار کرتے ہیں تو اس دیرکے باعث کفو موجود نکاح پر راضی نہ ہوگا اور موقع ہاتھ سے نکل جائے گا فوات کفوکے سبب صغیرہ کو نقصان پہنچے گا کہ کفو ہر وقت میسر نہیں آتا کیامعلوم پھر ہاتھ نہ لگے لہذا بضرورت اس ولی اقرب کے بعد کے درجے کا جو ولی حاضر ہے شرع مطہر اسے اجازت دیتی ہے کہ تو کردے وجہ یہ کہ احراز کفو شرع مطہر میں سخت مہم ومہتم بالشان ہے اور کفو حاضر کاہاتھ سے کھودینا ضرور نقصان بلکہ سرے سے نابالغ پر ولایت تزویج کی تشریع اگرچہ باپ ہی کی ہو اسی حکمت کے لئے واقع ہوئی ورنہ بچپن میں نکاح کی کیا ضرورت
فتح القدیرمیں ہے :
النکاح یراد لمقاصدہ ولاتتوفر الابین المتکافئین عادۃ ولایتفق الکفؤ فی کل زمان فاثبات ولایۃ الاب بالنص بعلۃ احراز الکفؤ اذا ظفر بہ لحاجۃ الیہ اذ قد لایظفر بمثلہ اذا فات بعد حصولہ
نکاح بعض مقاصد کے لئے ہوتاہے جو عادتا دوہم مثل حضرات سے پورے ہوتے ہیں اور یہ مماثلت اورکفؤ ہر وقت میسر نہیں ہوتی اور باپ کو ولایت نص سے ثابت ہوئی ہے تاکہ وہ ضرورت کے وقت کفؤکو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے کیونکہ ہر وقت کفو میسر آنے کے بعد ضائع ہوجانے پر حاصل نہیں ہوتی۔ (ت)
حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
یاعلی ثلاث لاتؤخرھا الصلوۃ اذا
اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرنا نماز جب اس کا
فتح القدیرمیں ہے :
النکاح یراد لمقاصدہ ولاتتوفر الابین المتکافئین عادۃ ولایتفق الکفؤ فی کل زمان فاثبات ولایۃ الاب بالنص بعلۃ احراز الکفؤ اذا ظفر بہ لحاجۃ الیہ اذ قد لایظفر بمثلہ اذا فات بعد حصولہ
نکاح بعض مقاصد کے لئے ہوتاہے جو عادتا دوہم مثل حضرات سے پورے ہوتے ہیں اور یہ مماثلت اورکفؤ ہر وقت میسر نہیں ہوتی اور باپ کو ولایت نص سے ثابت ہوئی ہے تاکہ وہ ضرورت کے وقت کفؤکو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے کیونکہ ہر وقت کفو میسر آنے کے بعد ضائع ہوجانے پر حاصل نہیں ہوتی۔ (ت)
حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
یاعلی ثلاث لاتؤخرھا الصلوۃ اذا
اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرنا نماز جب اس کا
حوالہ / References
فتح القدیر باب الاولیاء المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ سکھر ۳ / ۱۷۳
انت والجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا ۔ رواہ الترمذی والحاکم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
وقت آئے اور جنازہ جب حاضر ہو او رزن بے شوہر جب ا س کے لئے کفو پائے(اس کو ترمذی اور حاکم نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاجاء کم الاکفاء فانکحوھن ولاتربصوا بھن الحدثان ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
جب تمھارے پاس کفو آئیں تو لڑکیاں بیاہ دو اور ان کے لئے حادثوں کا انتظار نہ کرو(اس کو مسند فردوس میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ ت)
یعنی دیر میں شاید کوئی حادثہ پیش آئے کہ فی التاخیر افات(تاخیر میں کئی آفتیں ہیں۔ ت)چند حدیثوں میں ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا اتاکم من ترضون خلقہ ودینہ فزوجوہ الاتفعلوا تکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض ۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ھریرۃ وابن عمر والترمذی والبیھقی فی السنن عن ابی حاتم المزنی رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جب تمھارے پاس وہ شخص آئے جس کا چال چلن اور دین تمھیں پسند ہو تو اس سے نکاح کردو ا یسا نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ (اسے ترمذی ابن ماجہ اورحاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اورابن عدی نے ابن عمر اور ترمذی اوربیہقی نے سنن میں ابوحاتم المزنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
ذخیرہ و ردالمحتارمیں ہے :
الاصح ا نہ اذاکان فی موضع لو انتظر حضورہ او استطلاع
اصح یہ ہے کہ اگرا یسے مقام پر ہو کہ اس کی واپسی کے انتظار اوراس کی رائے حاصل کرنے سے موجودہ
وقت آئے اور جنازہ جب حاضر ہو او رزن بے شوہر جب ا س کے لئے کفو پائے(اس کو ترمذی اور حاکم نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاجاء کم الاکفاء فانکحوھن ولاتربصوا بھن الحدثان ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
جب تمھارے پاس کفو آئیں تو لڑکیاں بیاہ دو اور ان کے لئے حادثوں کا انتظار نہ کرو(اس کو مسند فردوس میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ ت)
یعنی دیر میں شاید کوئی حادثہ پیش آئے کہ فی التاخیر افات(تاخیر میں کئی آفتیں ہیں۔ ت)چند حدیثوں میں ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا اتاکم من ترضون خلقہ ودینہ فزوجوہ الاتفعلوا تکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض ۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ھریرۃ وابن عمر والترمذی والبیھقی فی السنن عن ابی حاتم المزنی رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جب تمھارے پاس وہ شخص آئے جس کا چال چلن اور دین تمھیں پسند ہو تو اس سے نکاح کردو ا یسا نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ (اسے ترمذی ابن ماجہ اورحاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اورابن عدی نے ابن عمر اور ترمذی اوربیہقی نے سنن میں ابوحاتم المزنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
ذخیرہ و ردالمحتارمیں ہے :
الاصح ا نہ اذاکان فی موضع لو انتظر حضورہ او استطلاع
اصح یہ ہے کہ اگرا یسے مقام پر ہو کہ اس کی واپسی کے انتظار اوراس کی رائے حاصل کرنے سے موجودہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ ص۲۴ ، ابواب الجنائز ص ، ۱۲۷ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ج ۱ ، المستدرک للحاکم کتاب النکاح باب تزوجواالودود والولود دارالفکر بیروت ۲ / ۶۳۔ ۱۶۲
کنزالعمال بحوالہ فر عن ابن عمر حدیث ۴۴۹۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۳۱۷
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء من ترضون دینہ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۲۸ ، المستدرک کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ / ۱۶۵
کنزالعمال بحوالہ فر عن ابن عمر حدیث ۴۴۹۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۳۱۷
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء من ترضون دینہ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۲۸ ، المستدرک کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ / ۱۶۵
رأیہ فات الکفؤ الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشارفی الکتاب ۔
کفو فوت ہوجائے گا تو ایسے مقام پر ولی اقرب کی غیبت منقطعہ ہوگی اوراسی کی طرف کتاب میں اشارہ ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
اذا بقینا ولایۃ الاقرب ابطلنا حقھا وفاتت مصلحتھا ۔
ولی اقرب کی(باوجود غائب ہونے کے)ولایت کوباقی رکھیں تو لڑکی کا حق باطل اور اس کی بھلائی فوت ہوجائے گی۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
ھذا اقرب الی الفقہ لانہ لانظر فی ابقاء ولایتہ حینئذ ۔
یہ بات فقہ سے اقرب ہے کیونکہ یہاں اقرب کی ولایت کو باقی رکھنے میں بچی پر شفقت نہیں ہے۔ (ت)
تو ابعد کے لئے حصول ولایت تین شرط پر مشروط :
اول یہ ابعد بغیبت اقرب جس کے نکاح میں دے صغیرہ کا کفو ہو
فانہ ان لم یکن کفوا فای شئی یفوت بفوتہ والام تمس الحاجۃ۔
اگر وہ کفو نہ ہو تو پھر کس چیز کے فوت ہونے کا خطرہ اور ماں کو کس کی حاجت محسوس ہوئی۔ (ت)
دوم ہو کفو ولی اقرب کا جواب آنے تك نہ رکے ورنہ ہرگز ابعد کو اختیار نہ ہوگا جامع الرموز ومجمع الانہر میں ہے :
لو انتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد ۔
اگر منگنی طلب کرنے والا ولی اقرب کا انتظار کرتاہے تو پھرولی ابعد نکاح نہ کرے۔ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
ان رضی الخاطب ان ینتظر الی استیذان الولی الاقرب لم یصح للابعد العقد ۔
اگر منگنی والا ولی اقرب سے اجازت حاصل کرنے پر راضی ہے تو ابعد کا نکاح درست نہ ہوگا۔ (ت)
کفو فوت ہوجائے گا تو ایسے مقام پر ولی اقرب کی غیبت منقطعہ ہوگی اوراسی کی طرف کتاب میں اشارہ ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
اذا بقینا ولایۃ الاقرب ابطلنا حقھا وفاتت مصلحتھا ۔
ولی اقرب کی(باوجود غائب ہونے کے)ولایت کوباقی رکھیں تو لڑکی کا حق باطل اور اس کی بھلائی فوت ہوجائے گی۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
ھذا اقرب الی الفقہ لانہ لانظر فی ابقاء ولایتہ حینئذ ۔
یہ بات فقہ سے اقرب ہے کیونکہ یہاں اقرب کی ولایت کو باقی رکھنے میں بچی پر شفقت نہیں ہے۔ (ت)
تو ابعد کے لئے حصول ولایت تین شرط پر مشروط :
اول یہ ابعد بغیبت اقرب جس کے نکاح میں دے صغیرہ کا کفو ہو
فانہ ان لم یکن کفوا فای شئی یفوت بفوتہ والام تمس الحاجۃ۔
اگر وہ کفو نہ ہو تو پھر کس چیز کے فوت ہونے کا خطرہ اور ماں کو کس کی حاجت محسوس ہوئی۔ (ت)
دوم ہو کفو ولی اقرب کا جواب آنے تك نہ رکے ورنہ ہرگز ابعد کو اختیار نہ ہوگا جامع الرموز ومجمع الانہر میں ہے :
لو انتظرہ الخاطب لم ینکح الابعد ۔
اگر منگنی طلب کرنے والا ولی اقرب کا انتظار کرتاہے تو پھرولی ابعد نکاح نہ کرے۔ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
ان رضی الخاطب ان ینتظر الی استیذان الولی الاقرب لم یصح للابعد العقد ۔
اگر منگنی والا ولی اقرب سے اجازت حاصل کرنے پر راضی ہے تو ابعد کا نکاح درست نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۵
فتح القدیر باب فی الاولیاء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۴
الہدایہ باب فی الاولیاء والاکفاء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۲۹۹
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب فی الاولیاء والاکفاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق باب الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
فتح القدیر باب فی الاولیاء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۴
الہدایہ باب فی الاولیاء والاکفاء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ / ۲۹۹
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب فی الاولیاء والاکفاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۹
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق باب الاولیاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
سوم اس جاری کرنے والے کفو کے سوااورکوئی کفو خواستگار نکاح ایسا حاضر نہ ہو جو جواب آنے تك انتظار پر راضی ہو۔
فانہ حینئذ لایفوتھا الکفوالخاطب بالفعل انما یفوت ان فات احد ھما ولیس فی ذلك ابطال حقھا ولاتفویت مصلحتھا حتی تسلب الولایہ من قریب شفیق الی بعید سحیق وھذا ظاھر لاسترۃ علیہ۔
کیونکہ اس صوت میں لڑکی کے لئے کفووالا رشتہ فوت نہ ہوگا۔ ہاں دونوں میں سے کوئی ایك فوت ہوا مگر اس سے لڑکی کا حق باطل ہوا نہ اس کی مصلحت فوت ہوئی جس کی بناپر اقرب ولی کی ولایت سلب کی جائے جو کہ نہایت شفیق ہے اور بعید غیر شفیق کو دی جائے یہ بالکل ظاہر بات ہے۔ (ت)
یہاں اولا زیدکا بھتیجا جس کے ساتھ تزویج زینب کا ارادہ وہ اپنے خط میں لکھ چکا ظاہرا صریح کفو خواستگار موجودہے یہ دوسرا جس کے ساتھ نکاح کیا گیا اگر کفو بھی تھا اور اتنی دیر میں ہاتھ سے نکل جاتا تو دوسرا توموجود تھا تو وہ ضرورت جس کے لئے ولی ابعد کو اختیار ملنا متحقق نہ ہوئی ولہذا علامہ خیر الدین رملی حاشیہ بحرالرائق مسئلہ عضل ولی اقرب میں فرماتے ہیں :
الولایۃ بالعضل نیابۃ انما انتقلت للقاضی لدفع الاضرار بھا ولایوجد مع ارادۃ التزویج بکفؤ غیرہ ۔
رکاوٹ کی وجہ سے ولایت قاضی کو بطور نیابت منتقل ہوتی ہے تاکہ وہ لڑکی کےضرررسانی کا دفاع کرسکے جبکہ ایك کفو کی بجائے دوسرے کفو کو نکاح دینا لڑکی کے لئے ضرر نہیں ہے۔ (ت)
علامہ شامی حاشیہ بحر میں لکھتے ہیں :
ان کان الکفو الاخر حاضرا وامتنع الاب من تزویجھا من الاول واراد تزویجھا من الثانی لایکون عاضلا لان شفقتہ دلیل علی انہ اختار لھا الانفع ۔
اگر دوسرا کفوموجود ہے اور باپ پہلے کو نکاح نہ دے اور وہ دوسرے کو دینا چاہتاہے تو اس کو باپ کی رکاوٹ نہ کہا جائے گا کیونکہ اس کی شفقت پدری اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بچی کے لئے زیاد مفید کوپسند کرتاہے۔ (ت)
فانہ حینئذ لایفوتھا الکفوالخاطب بالفعل انما یفوت ان فات احد ھما ولیس فی ذلك ابطال حقھا ولاتفویت مصلحتھا حتی تسلب الولایہ من قریب شفیق الی بعید سحیق وھذا ظاھر لاسترۃ علیہ۔
کیونکہ اس صوت میں لڑکی کے لئے کفووالا رشتہ فوت نہ ہوگا۔ ہاں دونوں میں سے کوئی ایك فوت ہوا مگر اس سے لڑکی کا حق باطل ہوا نہ اس کی مصلحت فوت ہوئی جس کی بناپر اقرب ولی کی ولایت سلب کی جائے جو کہ نہایت شفیق ہے اور بعید غیر شفیق کو دی جائے یہ بالکل ظاہر بات ہے۔ (ت)
یہاں اولا زیدکا بھتیجا جس کے ساتھ تزویج زینب کا ارادہ وہ اپنے خط میں لکھ چکا ظاہرا صریح کفو خواستگار موجودہے یہ دوسرا جس کے ساتھ نکاح کیا گیا اگر کفو بھی تھا اور اتنی دیر میں ہاتھ سے نکل جاتا تو دوسرا توموجود تھا تو وہ ضرورت جس کے لئے ولی ابعد کو اختیار ملنا متحقق نہ ہوئی ولہذا علامہ خیر الدین رملی حاشیہ بحرالرائق مسئلہ عضل ولی اقرب میں فرماتے ہیں :
الولایۃ بالعضل نیابۃ انما انتقلت للقاضی لدفع الاضرار بھا ولایوجد مع ارادۃ التزویج بکفؤ غیرہ ۔
رکاوٹ کی وجہ سے ولایت قاضی کو بطور نیابت منتقل ہوتی ہے تاکہ وہ لڑکی کےضرررسانی کا دفاع کرسکے جبکہ ایك کفو کی بجائے دوسرے کفو کو نکاح دینا لڑکی کے لئے ضرر نہیں ہے۔ (ت)
علامہ شامی حاشیہ بحر میں لکھتے ہیں :
ان کان الکفو الاخر حاضرا وامتنع الاب من تزویجھا من الاول واراد تزویجھا من الثانی لایکون عاضلا لان شفقتہ دلیل علی انہ اختار لھا الانفع ۔
اگر دوسرا کفوموجود ہے اور باپ پہلے کو نکاح نہ دے اور وہ دوسرے کو دینا چاہتاہے تو اس کو باپ کی رکاوٹ نہ کہا جائے گا کیونکہ اس کی شفقت پدری اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بچی کے لئے زیاد مفید کوپسند کرتاہے۔ (ت)
حوالہ / References
منحۃ الخالق بحوالہ الرملی فصل فی الاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۷
منحۃ الخالق حاشیہ علی البحرالرائق فصل فی الاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۷
منحۃ الخالق حاشیہ علی البحرالرائق فصل فی الاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۲۷
ثانیا جب خط مذکور آنے اورارادہ زید ظاہر ہوجانے کے بعد یہ نکاح واقع ہوا تو ظاہر کہ یہ جلدی اس لئے نہ تھی کہ کفؤ حاضر کو اتنی مہلت نہیں زیدکا جواب آنے تك بیٹھا نہ رہے گا بلکہ قصدا اس کی رائے کے خلاف جان کر بالا کارروائی کرلی گئی کہ وہ نہ آنے پائے اور اپنامطلب ہوجائے یہ ہر گز نہ ضرورت نہ مصلحت نہ مراد شرع سے اسے مناسبت بلکہ مقصود شرع سے صاف مناقضت شرع مطہر نے مراتب ولایت کی ترتیب اسی دن کے لئے رکھی تھی کہ جس کی عقل کامل صغیر السن پر شفقت وافران بے چاروں کے کام آرام کا انتظام اہتمام اس کے ہاتھ میں دیا جائے نہ کسی کم شفقت یا ناقص العقل کے قبضے میں اگر ترك انتظار اسی کا نام رکھا جائے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے خلاف معلوم ہے لہذا اس سے دریافت کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ پوچھے سے منع کردے گا تو ایسی غیبت توہروقت نقد وقت ہوسکتی ہے آخر مذہب معتمد پر غیبت منقطعہ میں سفر درکنار شہر سے باہر ہونابھی شرط نہیں کما فی الخانیۃ والبحر والدرر وغیرھا(جیساکہ خانیہ بحر اور درر وغیرہ میں ہے۔ ت)صغیرہ کا مہربان باپ اس کی مصلحت کاخواہاں اس کی مضرت سے ترساں جب مسجد میں نماز کو جائے گھر میں کوئی عورت ناقصۃ العقل والدین اپنی خواہش کے مطابق جس کفو کو چاہے بیٹی دے دے اگرچہ باپ جانتا ہو کہ اس سے رشتہ میں صغیرہ کی شامت ہے توشرع مطہر میں باپ کی تقدیم اور اس کی رائے وشفقت پر اس قدر اعتماد عظیم(کہ اگر وہ ایك بارکفو کے ہوتے غیر کفو سے بیاہ دے تو تمام جہان میں کسی کو اختیار اعتراض نہیں کہ اس نے کفاءت سے بڑھ کر کوئی مصلحت سوچ لی ہوگی۔
فی ردالمحتار انہ لوفور شفقتہ بالابوۃ لایزوج بنتہ من غیر کفو اوبغبن فاحش الالمصلحۃ تزید علی ھذا الضرر کعلمہ بحسن العشرۃ معھا وقلۃ الاذی ونحو ذلك
ردالمحتار میں ہے کہ وہ پدری شفقت کی بنا پر اپنی بیٹی کا نکاح غیر کفو اور انتہائی کم مہر سے نہیں کریگا مگر جبکہ اس ضرر کی نسبت سے زیادہ فائدہ اور مصلحت پیش نظر ہو مثلا لڑکی کے لئے اچھی معاشرت اور لڑکی کو اذیت سے تحفظ وغیرہ مقصود ہو(ت)
سب بیکار ومعطل ہوکر رہ گئے ان ھذا البعید من الفقہ ای بعید(یہ فقہ سے بہت بعید ہے۔ ت)بلکہ ایسی باگ چھوڑنے میں سخت فتنوں کا احتمال قوی ہے مثلا زن بے خرد اپنے کسی عزیز کے ساتھ بوجہ قرابت خواہ کسی طمع سے یادلالہ خبائث کی باتوں میں آکر کسی شخص سے دختر کا نکاح چاہتی ہو پدر شفیق ہو آگاہ ہو کہ یہ بد مذہب یاکم نسب ہے اورکسی وجہ سے کفو نہیں وہ منع کردے اس کے جاتے ہی یہ ناقصۃ العقل اس بری جگہ
فی ردالمحتار انہ لوفور شفقتہ بالابوۃ لایزوج بنتہ من غیر کفو اوبغبن فاحش الالمصلحۃ تزید علی ھذا الضرر کعلمہ بحسن العشرۃ معھا وقلۃ الاذی ونحو ذلك
ردالمحتار میں ہے کہ وہ پدری شفقت کی بنا پر اپنی بیٹی کا نکاح غیر کفو اور انتہائی کم مہر سے نہیں کریگا مگر جبکہ اس ضرر کی نسبت سے زیادہ فائدہ اور مصلحت پیش نظر ہو مثلا لڑکی کے لئے اچھی معاشرت اور لڑکی کو اذیت سے تحفظ وغیرہ مقصود ہو(ت)
سب بیکار ومعطل ہوکر رہ گئے ان ھذا البعید من الفقہ ای بعید(یہ فقہ سے بہت بعید ہے۔ ت)بلکہ ایسی باگ چھوڑنے میں سخت فتنوں کا احتمال قوی ہے مثلا زن بے خرد اپنے کسی عزیز کے ساتھ بوجہ قرابت خواہ کسی طمع سے یادلالہ خبائث کی باتوں میں آکر کسی شخص سے دختر کا نکاح چاہتی ہو پدر شفیق ہو آگاہ ہو کہ یہ بد مذہب یاکم نسب ہے اورکسی وجہ سے کفو نہیں وہ منع کردے اس کے جاتے ہی یہ ناقصۃ العقل اس بری جگہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
لڑکی اٹھادے اوردعوی کرے کہ یہ کفو تھا انتظار میں فوت ہوجاتا لہذا مجھے ولایت ملی اب کہیں یہ ہوگا کہ ذی عزت آدمی معاذالله ایسے معاملات کچہری تك لے جاتے غیرت کرے اور قہر درویش برجان درویش کہہ کر خاموش رہے تو نابالغہ کو کیسا ضرر عظیم پہنچا اگر دعوی کرے توعدم کفاءت کا ثبوت دینا دشوارہو خصوصا مثل مذہب میں کہ بہت بد مذہب خصوصا روافض ایسی جگہ تقیہ کی بڑی ڈھال رکھتے ہیں توایسی اجازتوں میں کیسی آفتوں کا فتح باب ہے والعیاذ باﷲ العزیز الحکیم(عزت وحکمت والے الله کی پناہ۔ ت)۔
ثالثامذہب معتمدہ بلکہ قول مقابل پر بھی ولی اقرب کی غیبت منقطعہ میں ابعد کو ولایت دینے کا منشا صرف یہ کہ ولایت اس لئے رکھی ہے کہ اس کی رائے سے نابالغ کو نفع پہنچے اور جب وہ ایسا غائب ہے تو اس کی رائے سے نفع معدوم۔ لہذا جو اس کے بعد درجہ رکھتا ہے اس کی رائے پر رکھیں گے ہدایہ میں ہے :
ان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد والغیبۃ المنقطعۃ ان یکون بحال یفوت الکفؤ باستطلاع رأیہ اھ ملتقطا۔
یہ نکاح کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جس کی رائے سے انتفاع نہ ہوسکے ایسے کو ولایت سونپنا شفقت نہ کہلائے گی لہذا ہم یہ ولایت اس کے بعد والے ولی کو سونپتے ہیں اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ وہ اقرب ایسی جگہ ہو کہ اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت ہوجائے۔ اھ ملتقطا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
لانظر فی التفویض الی من لاینتفع برأیہ لان التفویض الی اقرب لیس لکونہ اقرب بل لان فی الاقربیۃ زیادۃ مظنۃ للحکمۃ وھی الشفقۃ الباعثۃ علی زیادۃ اتفاق الرائی للمولیۃ فحیث لاینتفع برأیہ اصلاسلبت الی الابعد ۔
جس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو اس کوولایت سونپنا شفقت نہیں ہے کیونکہ اقرب کو ولایت اس لئے نہیں کہ وہ اقرب ہے بلکہ اس لئے کہ اقرب ہونے میں زیادہ شفقت کا پہلو ہے جو کہ لڑکی کے لئے فوائد سے اتفاق ہے تو جہاں اس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو وہاں اسے ابعد کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ (ت)
ثالثامذہب معتمدہ بلکہ قول مقابل پر بھی ولی اقرب کی غیبت منقطعہ میں ابعد کو ولایت دینے کا منشا صرف یہ کہ ولایت اس لئے رکھی ہے کہ اس کی رائے سے نابالغ کو نفع پہنچے اور جب وہ ایسا غائب ہے تو اس کی رائے سے نفع معدوم۔ لہذا جو اس کے بعد درجہ رکھتا ہے اس کی رائے پر رکھیں گے ہدایہ میں ہے :
ان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد والغیبۃ المنقطعۃ ان یکون بحال یفوت الکفؤ باستطلاع رأیہ اھ ملتقطا۔
یہ نکاح کی ولایت شفقت پر مبنی ہے تو جس کی رائے سے انتفاع نہ ہوسکے ایسے کو ولایت سونپنا شفقت نہ کہلائے گی لہذا ہم یہ ولایت اس کے بعد والے ولی کو سونپتے ہیں اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ وہ اقرب ایسی جگہ ہو کہ اس کی رائے حاصل کرنے میں کفو فوت ہوجائے۔ اھ ملتقطا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
لانظر فی التفویض الی من لاینتفع برأیہ لان التفویض الی اقرب لیس لکونہ اقرب بل لان فی الاقربیۃ زیادۃ مظنۃ للحکمۃ وھی الشفقۃ الباعثۃ علی زیادۃ اتفاق الرائی للمولیۃ فحیث لاینتفع برأیہ اصلاسلبت الی الابعد ۔
جس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو اس کوولایت سونپنا شفقت نہیں ہے کیونکہ اقرب کو ولایت اس لئے نہیں کہ وہ اقرب ہے بلکہ اس لئے کہ اقرب ہونے میں زیادہ شفقت کا پہلو ہے جو کہ لڑکی کے لئے فوائد سے اتفاق ہے تو جہاں اس کی رائے سے انتفاع ممکن نہ ہو وہاں اسے ابعد کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ (ت)
حوالہ / References
الھدایہ با ب الاولیاء والاکفاء المکتبہ العربیۃ کراچی ۲ / ۲۹۹
فتح القدیر باب الاولیاء المکتبۃ النوریہ الرضویہ سکھر ۳ / ۱۸۳
فتح القدیر باب الاولیاء المکتبۃ النوریہ الرضویہ سکھر ۳ / ۱۸۳
بحرالرائق میں ہے :
قولہ وللابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر ای ثلثۃ ایام فصا عدالان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد ۔
ماتن کاقول کہ “ ابعد کو نکاح کردینے کی ولایت ہے جبکہ اقرب اتنی مسافت پر ہوجس سے قصر لازم ہو “ یعنی تین دن یا زیادہ مسافت کیونکہ یہ ولایت شفقت پر مبنی ہے تو ایسے کو ولایت سونپنا جس کی رائے قابل انتفاع نہ ہو تو وہ شفقت نہ ہوگی اس لئے ہم نے یہ ولایت ابعد کو سونپی ہے۔ (ت)
یہاں کہ ولی اقرب کی رائے سے انتفاع بالفعل حاصل وہ خط لکھ چکا اپنی رائے ظاہر کرچکا تو اب ابعدکی رائے پررکھنے کا کیا منشا ا س کی رائے تو اس لئے لی جاتی ہے کہ اقرب کی رائے سے انتفاع معدوم نہ اس لئے کہ اس کی رائے سے جو نفع حاصل ہے اس کے ردو ابطال کے واسطے یہ سراسر عکس مقصود ہے تو بنظر بحالات واقعہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اس صورت سے بہت ابعد ہے جس میں شرع مطہر اقرب سے ابعد کی طرف ولایت نقل فرمائے لاجرم غیبت زیدغیبت منقطعہ نہیں اور وہی اقرب ہے اس کے سوا دادی وغیرہا کسی کا کیا نکاح نکاح فضولی ہے کہ زید کی اجازت پر موقوف توفسخ کراسکتا کیا معنی زید خود اپنے قول سے فسخ کرسکتا ہے زبان سے کہہ دے “ میں نے یہ نکاح رد کیا “ فورا رد وباطل ہوجائے گا۔ محیط وہندیہ وشرح تنویر وغیرہا میں ہے :
واللفظ للاخیر لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
عبارت آخر ی کتا ب کی ہے کہ اگر ابعد نے اقرب کی موجودگی میں نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا (ت)
یہ سب کلام اس حالت میں ہے کہ جس سے زینب کا نکاح ہو ا زینب کا کفو ہو اور اگر کفو نہیں یعنی نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا مال غرض کسی بات میں ایسا کم ہے کہ اس سے اس کا نکاح ہونا زید کے لئے باعث عار ہو جب تو حکم بلادقت ظاہر کہ مذہب معتمدہ پریہاں سرے سے غیبت منقطعہ کی پہلی ہی شرط متحقق نہ ہوئی تو ایسا نکاح قطعا اجازت پر موقوف ہے اگرچہ ہزار کوس پر ہو وہ بھی جبکہ زید اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو ورنہ نکاح زینب اس کی اجازت پر بھی موقوف نہ رہا سرے سے خود ہی باطل محض ہوا لصدورہ من فضولی ولامجیز(فضولی سے صادر ہونے اور اس کو جائز کرنے والانہ ہونے کی بنا پر۔ ت)
قولہ وللابعد التزویج بغیبۃ الاقرب مسافۃ القصر ای ثلثۃ ایام فصا عدالان ھذہ ولایۃ نظریۃ ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برأیہ ففوضناہ الی الابعد ۔
ماتن کاقول کہ “ ابعد کو نکاح کردینے کی ولایت ہے جبکہ اقرب اتنی مسافت پر ہوجس سے قصر لازم ہو “ یعنی تین دن یا زیادہ مسافت کیونکہ یہ ولایت شفقت پر مبنی ہے تو ایسے کو ولایت سونپنا جس کی رائے قابل انتفاع نہ ہو تو وہ شفقت نہ ہوگی اس لئے ہم نے یہ ولایت ابعد کو سونپی ہے۔ (ت)
یہاں کہ ولی اقرب کی رائے سے انتفاع بالفعل حاصل وہ خط لکھ چکا اپنی رائے ظاہر کرچکا تو اب ابعدکی رائے پررکھنے کا کیا منشا ا س کی رائے تو اس لئے لی جاتی ہے کہ اقرب کی رائے سے انتفاع معدوم نہ اس لئے کہ اس کی رائے سے جو نفع حاصل ہے اس کے ردو ابطال کے واسطے یہ سراسر عکس مقصود ہے تو بنظر بحالات واقعہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اس صورت سے بہت ابعد ہے جس میں شرع مطہر اقرب سے ابعد کی طرف ولایت نقل فرمائے لاجرم غیبت زیدغیبت منقطعہ نہیں اور وہی اقرب ہے اس کے سوا دادی وغیرہا کسی کا کیا نکاح نکاح فضولی ہے کہ زید کی اجازت پر موقوف توفسخ کراسکتا کیا معنی زید خود اپنے قول سے فسخ کرسکتا ہے زبان سے کہہ دے “ میں نے یہ نکاح رد کیا “ فورا رد وباطل ہوجائے گا۔ محیط وہندیہ وشرح تنویر وغیرہا میں ہے :
واللفظ للاخیر لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
عبارت آخر ی کتا ب کی ہے کہ اگر ابعد نے اقرب کی موجودگی میں نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا (ت)
یہ سب کلام اس حالت میں ہے کہ جس سے زینب کا نکاح ہو ا زینب کا کفو ہو اور اگر کفو نہیں یعنی نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا مال غرض کسی بات میں ایسا کم ہے کہ اس سے اس کا نکاح ہونا زید کے لئے باعث عار ہو جب تو حکم بلادقت ظاہر کہ مذہب معتمدہ پریہاں سرے سے غیبت منقطعہ کی پہلی ہی شرط متحقق نہ ہوئی تو ایسا نکاح قطعا اجازت پر موقوف ہے اگرچہ ہزار کوس پر ہو وہ بھی جبکہ زید اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو ورنہ نکاح زینب اس کی اجازت پر بھی موقوف نہ رہا سرے سے خود ہی باطل محض ہوا لصدورہ من فضولی ولامجیز(فضولی سے صادر ہونے اور اس کو جائز کرنے والانہ ہونے کی بنا پر۔ ت)
حوالہ / References
بحرالرائق باب الاولیاء ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۱۲۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب الاولیاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب الاولیاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ظاہر حال صورت سوال تویہ ہے اور اگرفرض کیجئے کہ جدہ زینب کی یہ جلدی اور جس سے نکاح ہوا اس کی بے انتظاری اس بناپر نہ تھی بلکہ واقعی ہی امر تھا کہ صرف یہی کفو خواستگار ہے بھتیجا وغیرہ یا تو خواستگار ہی نہیں یا ہیں تو کفو نہیں اور یہ کفو اپنی کسی ضرورت کے باعث اس درجہ مستعجل ہے زید نے کہ خط لکھا اس وقت کوئی کفو خواستگار نہ تھا اب اگر اسے اطلاع ہوکہ یہ موقع ہاتھ آیا اورایسا خواستگار پایا عجب نہیں کہ وہ بھی رضامندہو مگر بے مہلتی کے باعث خط یاآدمی بھیج کر دریافت کرنے کا وقت کہاں انتظار میں کفو فوت ہوگا زینب کو ضرر پہنچے گا فی الواقع اگر حالت یہ تھی تو بیشك زید کی غیبت پر غیبت منقطعہ کی تعریف مذکور صادق نظرآئے گی اور کہا جائے گا کہ اب جو ولی حاضردرجات ولایت میں ا س کے بعد ہے اس نے ولایت پائی اب اول تو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نکاح میں زینب کے مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی مثلا اس کامہر مثل پچاس ہزار تھا پچیس ہزار بندھے اگرایسا ہے تو یہ نکاح مطلقا باطل محض ہوا کہ اب باپ بھی جائز کرے تو جائز نہ ہوگا مگریہ کہ باپ کی غیبت منقطعہ میں زینب کا جد صحیح ولی حاضر ہو جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنے کسی زیر ولایت کاایسی بے شفقتی کا نہ کرچکا ہو اور یہ نکاح دادی نے اس کی اجازت سے کیا یا بعد وقوع اس نے جائز رکھا اور نافذ کردیا اوراس اجازت سابقہ یا لاحقہ کے وقت نشے میں نہ تھا البتہ جائز بلکہ لازم ہوگا کہ پھرکسی طرح رد نہیں ہوسکتا مگر تقریر سوال سے زینب کا دادا موجود ہونا مفہوم نہیں۔ درمختارمیں ہے :
لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا اوبغبن کفو ان الولی المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار اتفاقا وکذالو کان سکران اھ وفی الخیریۃ و مثل الوکالۃ السابقۃ الاجازۃ اللاحقۃ ۔
اگر باپ یادادا نکاح دینے والاہو جس کے بارے میں سوء اختیار معروف نہ ہو تو ا س کا غیر کفو اور انتہائی کم مہرسے کیا ہو نکاح بھی لازم ہوگا اور اگر وہ سوء اختیار سے معروف ہوں تو بالاتفاق یہ نکاح نہ ہوگا۔ یوں ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو بھی صحیح نہ ہوگا اھ اور خیریہ میں ہے پہلی وکالت کی طرح ہی بعد والی اجازت کا حکم ہے۔ (ت)
اور اگر یہ نکاح اس عیب سے بھی خالی ہے یعنی مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو اب دیکھنا ضروریہ ہے کہ باپ اور جدہ کے درمیان جس قدر اولیاء ہیں جن کا ذکر ہم اوپر کر آئے ان میں سے کوئی موجود تھا یا نہیں اگر تھا تو دادی نے
لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا اوبغبن کفو ان الولی المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار اتفاقا وکذالو کان سکران اھ وفی الخیریۃ و مثل الوکالۃ السابقۃ الاجازۃ اللاحقۃ ۔
اگر باپ یادادا نکاح دینے والاہو جس کے بارے میں سوء اختیار معروف نہ ہو تو ا س کا غیر کفو اور انتہائی کم مہرسے کیا ہو نکاح بھی لازم ہوگا اور اگر وہ سوء اختیار سے معروف ہوں تو بالاتفاق یہ نکاح نہ ہوگا۔ یوں ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو بھی صحیح نہ ہوگا اھ اور خیریہ میں ہے پہلی وکالت کی طرح ہی بعد والی اجازت کا حکم ہے۔ (ت)
اور اگر یہ نکاح اس عیب سے بھی خالی ہے یعنی مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو اب دیکھنا ضروریہ ہے کہ باپ اور جدہ کے درمیان جس قدر اولیاء ہیں جن کا ذکر ہم اوپر کر آئے ان میں سے کوئی موجود تھا یا نہیں اگر تھا تو دادی نے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۹۲
فتاوٰی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارارلمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
فتاوٰی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارارلمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
اس سے اجازت لے لی تھی یا نہیں۔ اگر نہ لی تھی تو بعد وقوع نکاح قبل واپسی پدر اس نے اجازت دے دی تو بیشك یہ نکاح صحیح وتام ونافذ ہوگا کہ باپ اسے رد نہیں کرسکتا۔
فی الفتح القدیر لوحضر الاقرب بعد عقد الابعد لایرد عقدہ وان عادت ولایتہ بعودہ ۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر ابعد کے نکاح کردینے کے بعد اقرب آجائے تو ابعد کے نکاح کو رد نہ کرسکے گا اگرچہ اقرب کے واپس آنے پر اس کی ولایت لوٹ آئی ہے۔ (ت)
مگر یہ ولی جس نے اول یا بعد اجازت دی اگر زینب کا دادا نہیں جیسا کہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے تویہ نکاح اس کی اجازت سے نافذ سہی لازم اب بھی نہ ہوا زینب کو بعد بلوغ اختیار ملے گااگر پہلے سے نکاح کی خبرہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا فورا ورنہ بلوغ کے بعد جس وقت خبر ملے اسی وقت معا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے کہ اس صورت میں حاکم اس نکاح کو فسخ کردے گا اگرچہ پیش ازبلوغ زینب ہمبستری بھی واقع ہولی ہو مگر ازانجا کہ زینب دوشیزہ ہے دیر لگانے کا اختیار نہ ہوگا اگر پہلے سے خبرہے تو بالغہ ہونے پر ورنہ خبر پانے پر بلاعذر ضرورت ایك لمحہ کی دیر کرے گی تو اختیار ساقط اور نکاح لازم ہوجائے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے ناواقف ہو اور انجانی کے سبب فورا مبادرت نہ کی ہو درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتدالی اخر المجلس وان جھلت بہ اھ ملتقطا۔
اگر باپ دادا کے غیر نے نکاح دیا خواہ ماں ہو بشرطیکہ کفو میں اور مہر مثل سے کیا ہو تو وہ نکاح صحیح ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو بالغ ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا فسخ کا اختیار لڑکی کو دخول کےباوجود بلوغ پر یا بلو غ کے بعد نکاح کے علم پر بھی ہوگا اور فسخ کے لئے قضاشرط ہے اور باکرہ کا اس موقعہ پر خاموش رہنا اس کے اختیار کو باطل کردے گا بشرطیکہ وہ اپنے نکاح کاعلم رکھتی ہو اور عاقلہ ہو اس کا یہ اختیار مجلس علم کے آخرتك باقی رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے جاہل ہو اھ ملتقطا(ت)
اور اگر دادی سے بالاتر جوولی موجود تھا باپ کے آنے سے پہلے اس نے رد کردیا تو باطل ہوگیا باپ کو فسخ
فی الفتح القدیر لوحضر الاقرب بعد عقد الابعد لایرد عقدہ وان عادت ولایتہ بعودہ ۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر ابعد کے نکاح کردینے کے بعد اقرب آجائے تو ابعد کے نکاح کو رد نہ کرسکے گا اگرچہ اقرب کے واپس آنے پر اس کی ولایت لوٹ آئی ہے۔ (ت)
مگر یہ ولی جس نے اول یا بعد اجازت دی اگر زینب کا دادا نہیں جیسا کہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے تویہ نکاح اس کی اجازت سے نافذ سہی لازم اب بھی نہ ہوا زینب کو بعد بلوغ اختیار ملے گااگر پہلے سے نکاح کی خبرہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا فورا ورنہ بلوغ کے بعد جس وقت خبر ملے اسی وقت معا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے کہ اس صورت میں حاکم اس نکاح کو فسخ کردے گا اگرچہ پیش ازبلوغ زینب ہمبستری بھی واقع ہولی ہو مگر ازانجا کہ زینب دوشیزہ ہے دیر لگانے کا اختیار نہ ہوگا اگر پہلے سے خبرہے تو بالغہ ہونے پر ورنہ خبر پانے پر بلاعذر ضرورت ایك لمحہ کی دیر کرے گی تو اختیار ساقط اور نکاح لازم ہوجائے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے ناواقف ہو اور انجانی کے سبب فورا مبادرت نہ کی ہو درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتدالی اخر المجلس وان جھلت بہ اھ ملتقطا۔
اگر باپ دادا کے غیر نے نکاح دیا خواہ ماں ہو بشرطیکہ کفو میں اور مہر مثل سے کیا ہو تو وہ نکاح صحیح ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو بالغ ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا فسخ کا اختیار لڑکی کو دخول کےباوجود بلوغ پر یا بلو غ کے بعد نکاح کے علم پر بھی ہوگا اور فسخ کے لئے قضاشرط ہے اور باکرہ کا اس موقعہ پر خاموش رہنا اس کے اختیار کو باطل کردے گا بشرطیکہ وہ اپنے نکاح کاعلم رکھتی ہو اور عاقلہ ہو اس کا یہ اختیار مجلس علم کے آخرتك باقی رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ سے جاہل ہو اھ ملتقطا(ت)
اور اگر دادی سے بالاتر جوولی موجود تھا باپ کے آنے سے پہلے اس نے رد کردیا تو باطل ہوگیا باپ کو فسخ
حوالہ / References
فتح القدیرباب الاولیاء والاکفاءالمکتبۃ النوریہ الرضویہ سکھر ۳ / ۱۸۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
کی کیا حاجت اور اگر ہنوز نہ اس ولی نے اجازت دی نہ رد کیا تھاکہ زید آگیا تو اب وہ توقف اس ولی سے منتقل ہوکر خود زید کی اجازت پر رہے گا اگر رد کردے گا اسی وقت باطل ہوجائے گا۔
فی الدرالمختار وتبیین الحقائق للامام الزیلعی واللفظ لہ وعنہ فی الھندیۃ تبطل ولایۃ الابعد بمجی الاقرب لاماعقد لانہ حصل بولایۃ تامۃ ۔
درمختار اورتبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے زیلعی کی عبارت میں اورہندیہ میں زیلعی سے منقول کہ اقرب کے واپس آنے پر ابعدکی ولایت باطل ہوجائے گی اور ابعد کا کیاہوا نکاح باطل نہ ہوگا کیونکہ یہ اس کی کامل ولایت میں حاصل ہے۔ (ت)
تنبیہ نفیس : اقول : وبالله التوفیق یہ تمام کلام فقیر غفرالله تعالی لہ نے کلمات علمائے کرام کے اس ظاہری مفاد پر مبتنی کیا کہ بادی النظر میں اذہان عامہ اس طرف جائیں اور اگرحق تحقیق وعین تدقیق چاہئے تو نگاہ مقصود وشناس جزم وقطع کے ساتھ اسی ابتدائی بات پر حکم کرے گی جسے ہم نے اولا ظاہر صورت سوال بناکر دوبارہ فرضا اس سے تنزل کیا تھا یعنی اس غیبت کا غیبت منقطعہ نہ ہونا اور ولایت پدرکا بدستور باقی رہنا اور اگر یہ نکاح منعقد واقع ہوا تو مطلقا بلااستثناء ہر حال وہر صورت میں اجازت ولی اقرب پر توقف پانا اورا س کے رد کئے سے فورا ردہوجانا جب مذہب معتمد میں بناء کار اس پرٹھہری کہ ولی اقرب کے ایاب وجواب کے انتظار میں کفو فوت ہوتا اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہو کیا معلوم پھر کفو ملے یا نہیں تو یہ بات ہمارے اعصار وامصار میں کنواری لڑکیوں کے حق میں جبکہ ولی اقرب کا پتا معلوم اور وہاں تك ڈاك کی آمد ورفت بے وقت مرسوم ہو متصور نہیں ادھر توازمنہ سابقہ میں نہ راہیں ایسی آسان تھیں نہ ڈاك کے ایسے انتظام مدتوں میں منزلیں طے ہوتیں خط جاتاتوآدمی لے جاتا پھر تنہا کی گزر دشوار نہ ہر وقت قافلے میسر نہ ہر شخص قاصد بھیجنے پر قادر ادھر ان بلاد طیبہ میں نکاح کی یہ رسم کہ آج خطبہ ہوا کل نکاح ہوگیا وہ ایك روز کی دیر لگی تودوسری جگہ موجود یہاں یہ رواج کہ مہینے کی آمد ورفت پیام سلام میں کسی کا نکاح ہوگیا تو لوگ تعجب کر تے ہیں کہ ہیں جھٹ منگنی پٹ بیاہ پھر خطوط کی آمدورفت وہ کہ تیسرے دن کلکتہ خط پہنچے چوتھے دن بمبئی وہ کون سا جلد باز ہوگا کہ آج پیام دے او رآج ہی نکاح چاہے ایك ہفتہ کا انتظار ہو تو نکاح ہی نہ کرے یا صبح وشام دوسری جگہ نکاح ہوجائے۔ ہندوستان کی لڑکیاں سہل نہیں ملتیں ایك ایك بڑھیا کے منہ سے سن لیجئے کہ میاں لڑکیاں آندھی کی بیر تو نہیں۔ نہ جوتیاں
فی الدرالمختار وتبیین الحقائق للامام الزیلعی واللفظ لہ وعنہ فی الھندیۃ تبطل ولایۃ الابعد بمجی الاقرب لاماعقد لانہ حصل بولایۃ تامۃ ۔
درمختار اورتبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے زیلعی کی عبارت میں اورہندیہ میں زیلعی سے منقول کہ اقرب کے واپس آنے پر ابعدکی ولایت باطل ہوجائے گی اور ابعد کا کیاہوا نکاح باطل نہ ہوگا کیونکہ یہ اس کی کامل ولایت میں حاصل ہے۔ (ت)
تنبیہ نفیس : اقول : وبالله التوفیق یہ تمام کلام فقیر غفرالله تعالی لہ نے کلمات علمائے کرام کے اس ظاہری مفاد پر مبتنی کیا کہ بادی النظر میں اذہان عامہ اس طرف جائیں اور اگرحق تحقیق وعین تدقیق چاہئے تو نگاہ مقصود وشناس جزم وقطع کے ساتھ اسی ابتدائی بات پر حکم کرے گی جسے ہم نے اولا ظاہر صورت سوال بناکر دوبارہ فرضا اس سے تنزل کیا تھا یعنی اس غیبت کا غیبت منقطعہ نہ ہونا اور ولایت پدرکا بدستور باقی رہنا اور اگر یہ نکاح منعقد واقع ہوا تو مطلقا بلااستثناء ہر حال وہر صورت میں اجازت ولی اقرب پر توقف پانا اورا س کے رد کئے سے فورا ردہوجانا جب مذہب معتمد میں بناء کار اس پرٹھہری کہ ولی اقرب کے ایاب وجواب کے انتظار میں کفو فوت ہوتا اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہو کیا معلوم پھر کفو ملے یا نہیں تو یہ بات ہمارے اعصار وامصار میں کنواری لڑکیوں کے حق میں جبکہ ولی اقرب کا پتا معلوم اور وہاں تك ڈاك کی آمد ورفت بے وقت مرسوم ہو متصور نہیں ادھر توازمنہ سابقہ میں نہ راہیں ایسی آسان تھیں نہ ڈاك کے ایسے انتظام مدتوں میں منزلیں طے ہوتیں خط جاتاتوآدمی لے جاتا پھر تنہا کی گزر دشوار نہ ہر وقت قافلے میسر نہ ہر شخص قاصد بھیجنے پر قادر ادھر ان بلاد طیبہ میں نکاح کی یہ رسم کہ آج خطبہ ہوا کل نکاح ہوگیا وہ ایك روز کی دیر لگی تودوسری جگہ موجود یہاں یہ رواج کہ مہینے کی آمد ورفت پیام سلام میں کسی کا نکاح ہوگیا تو لوگ تعجب کر تے ہیں کہ ہیں جھٹ منگنی پٹ بیاہ پھر خطوط کی آمدورفت وہ کہ تیسرے دن کلکتہ خط پہنچے چوتھے دن بمبئی وہ کون سا جلد باز ہوگا کہ آج پیام دے او رآج ہی نکاح چاہے ایك ہفتہ کا انتظار ہو تو نکاح ہی نہ کرے یا صبح وشام دوسری جگہ نکاح ہوجائے۔ ہندوستان کی لڑکیاں سہل نہیں ملتیں ایك ایك بڑھیا کے منہ سے سن لیجئے کہ میاں لڑکیاں آندھی کی بیر تو نہیں۔ نہ جوتیاں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۵ ، تبیین الحقائق باب الاولیاء والاکفاء مطبعہ امیریہ کبرٰی مصر ۲ / ۱۲۷
ٹوٹیں نہ چادریں پھٹیں کیا کوئی پھٹ سے ہاں کہہ دیتاہے تومقاصد علماء پر نظر شاہد عدل کہ یہاں غیبت منقطعہ وہی کہی جاسکتی ہے کہ یاتو ولی اقرب کا پتا نہ معلوم ہو آخر بے نشان کا کب تك کوئی انتظار کرے یاکسی ایسے دور دراز ملك غیر میں جہاں ڈاك پر اطمینان نہ ہو خطوط جائیں اورپتا نہ چلے آدمی بھیجو تو صرف کثیر دو ایسی صورتوں میں کفو کا یہ عذر ہوسکتاہے کہ کب تك بیٹھیں اور ممکن کہ زبان نہ دو توانتظار میں وہ مد تیں گزریں کہ دوسری جگہ اس کی ٹھیك ٹھاك ہوجائے ورنہ ہندوستان بلکہ آج کل برہما میں بھی جو موجود اور پتا معلوم ہے اس کی نسبت عادۃ کوئی کفو یہ تقاضانہ کرے گا کہ ہم آٹھ دس رو زکا انتظار ہر گز نہ کریں گے کرناہے تو آج کردو اور بالفرض کوئی زبان دینے میں جلدی بھی کرے تو یہاں کفو کی روك تھام کے لئے منگنی وہ عمدہ صیغہ ہے جس سے اس کا اطیمنان ہوجائے اور رائے ولی اقرب فوت نہ ہونے پائے۔ منگنی کے بعد مدتوں دونوں طرف ساز وسامان کی درستی میں گزرتے ہیں بلکہ یہاں کے رواج سے اپنی منگیتر کو بھی من وجہ گویا اپنی ناموس جانتے اور دوسری جگہ اس کے نکاح سے برا مانتے اور اس کے انتظار میں سال گزارتے ہیں منگنی کے بعد خدا جانے کتنی بار ولی اقرب کی رائے لے سکتے ہیں اس کے جواب ملنے تك انتظار نہ ہونا کیا معنی یہ عذر مصنوع وہیں پیش ہوگا جہاں اپنی اغراض فاسدہ سے ولی اقرب کے خلاف رائے بالا بالا کارروائی کرنی ہوگی جو شرع مطہر کے بالکل نقیض مراد ہے اور اس کی توسیعوں میں انھیں آفات کا دروازہ کھلنا جوابھی ہم ذکر کرآئے شاید شاذ ونادر برخلاف عادت ملك اگر کہیں ایسی جلدی پائی جائے توا مور نادرہ مبنائے احکام فقہیہ نہیں ہوسکتے بلکہ عادت شائعہ پر حکم دینا واجب
کما نصوا علیہ فی غیر مامسئلۃ منھا مسألۃ دخول النساء الحمام فی الدرالمختار وغیرہ ومنھما مسألۃ جوار الحرمین فی فتح القدیر ومنھا مسألتنا ھذہ بناء علی ماکان معتادا عندھم علی خلاف ماھو العادۃ عندنا فیہ ایضا الی غیر ذلك ممالایخفی علی من خدم کلماتھم الطیبۃ۔
جیسا کہ انھوں نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے ان میں سے ایك مسئلہ حمام میں عورتوں کے داخلہ کا ہے جس کو درمختار وغیرہ میں بیان کیاہے انہی مسائل میں سے فتح القدیر میں حرمین شریفین میں رہائش کا مسئلہ ہے ان مسائل میں سے ایك ہمارا مسئلہ جو ان کی عادت کے مطابق تھا اور ہماری عادت کے خلاف ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو کہ فقہاء کے کلمات طیبات پر اطلاع رکھنے والا جانتا ہے۔ (ت)
بلکہ انصافا وہ علماء بھی جنھوں نے مسافت قصر اختیار فرمائی اگر ریل اور ڈاك اور یہاں کے عادات ملاحظہ فرماتے ہر گز حکم نہ دیتے بریلی کا ساکن مراد آباد تك گیا اور اس کی ولایت اپنی اولاد پر سے سلب ہوئی جس کے دن میں دو پھیرے ہوسکتے ہیں بالجملہ جب مدار کا انتظار کے سبب فوت کفو پر ٹھہرا تو اس مناط کو تحقق ضروری
کما نصوا علیہ فی غیر مامسئلۃ منھا مسألۃ دخول النساء الحمام فی الدرالمختار وغیرہ ومنھما مسألۃ جوار الحرمین فی فتح القدیر ومنھا مسألتنا ھذہ بناء علی ماکان معتادا عندھم علی خلاف ماھو العادۃ عندنا فیہ ایضا الی غیر ذلك ممالایخفی علی من خدم کلماتھم الطیبۃ۔
جیسا کہ انھوں نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے ان میں سے ایك مسئلہ حمام میں عورتوں کے داخلہ کا ہے جس کو درمختار وغیرہ میں بیان کیاہے انہی مسائل میں سے فتح القدیر میں حرمین شریفین میں رہائش کا مسئلہ ہے ان مسائل میں سے ایك ہمارا مسئلہ جو ان کی عادت کے مطابق تھا اور ہماری عادت کے خلاف ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو کہ فقہاء کے کلمات طیبات پر اطلاع رکھنے والا جانتا ہے۔ (ت)
بلکہ انصافا وہ علماء بھی جنھوں نے مسافت قصر اختیار فرمائی اگر ریل اور ڈاك اور یہاں کے عادات ملاحظہ فرماتے ہر گز حکم نہ دیتے بریلی کا ساکن مراد آباد تك گیا اور اس کی ولایت اپنی اولاد پر سے سلب ہوئی جس کے دن میں دو پھیرے ہوسکتے ہیں بالجملہ جب مدار کا انتظار کے سبب فوت کفو پر ٹھہرا تو اس مناط کو تحقق ضروری
جب تك یہ حالت نہ ہو غیبت منقطعہ ہر گز نہیں اس پر نظر کا مل رکھنا اور اصحاب اغراض کے فریبوں سے بچنا لازم ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل(جو اپنے زمانہ کے عرف سے ناواقف ہو وہ جاہل ہے۔ ت)ہاں کوئی بیوہ سن رسیدہ باختیار خود کسی سے شرعی نکاح خالی از رسوم کرلینا چاہے تو وہاں جلدی متصور وہ اول تو ہندیوں کی عادت نہیں اور ہو بھی تو ہماری بحث سے خارج کہ یہاں کلام قاصرہ میں ہے اور قواصر کے باب میں ضرور وہی عادت لہذا فقیر ان صور مذکورہ بالا کے سوا یہاں غیبت منقطعہ کے حکم پر زنہار جسارت روانہیں رکھتا یہ بعونہ تعالی فقہ انیق وحق تحقیق ہے
وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق والحمد ﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ و صحبہ اجمعین امین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
الله تعالی کی مدد سے توفیق اور راستہ کی راہنمائی ہے۔
الحمدلله رب العالمین وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجعمین آمین والله تعالی سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۳ : کلکتہ دھرم تالہ اسٹریٹ ٹیپوسلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی ایك لڑکی بعمر سہ سال تھی زید نے اس کی منگنی عمرو سے کردی بعدہ زیدکا انتقال ہوگیا جب لڑکی تیرہ۱۳ برس کی ہوئی کوئی علامت بلوغ کی اس سے ظاہر نہیں۔ زید کے پدر خاص نے لڑکی کی عدم موجودگی میں اس کا نکاح عمرو سے کردیا چار مہینے کے بعد زید متوفی کے چچا نے لڑکی کی موجودگی میں اس کا نکاح عقد بکر سے کردیا بخیال اس کو بالغہ ٹھہرانے کے مگر کوئی نشانی بلوغ کی آج تك لڑکی سے ظاہر نہیں اس صورت میں شرعا کون سا نکاح معتبر ہے بینوا توجروا
الجواب :
یتیمہ بالغہ کا سب سے زیادہ ولی اقرب واقدم اس کا حقیقی دادا یعنی اس کے باپ کا باپ ہے اس کے ہوتے باپ کے چچا خواہ کسی کو کچھ اختیار نہیں ہے اس کے دادا کا کیا ہوا نکاح کسی کے ردکئے رد نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ اگر وہ خود بالغہ ہوکر نکاح کو رد کرے ہر گز رد نہ ہوگا نہ ولی کے نکاح کرتے وقت نابالغہ کا موجود ہونا درکا رہے کہ نابالغ پر ولایت جد جبری ہے اور اس کاحاضر ہونانہ ہونا سب یکساں تو اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ نابالغہ اس چار مہینے میں بالغہ ہوگئی اور باپ کے چچا نے اس کی موجودگی میں ا س کی رضا سے اس کے بالغہ ہونے پر اس کا نکاح بکر سے کردیا جب بھی یہ نکاح محض باطل ونامعتبر ہے وہ لڑکی عمرو کی زوجہ ہے جب تك موت یا طلاق نہ ہو دوسرے سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا قال اﷲ تعالی و المحصنت من النسآء (الله تعالی نے فرمایا : اورآزاد پاکیزہ عورتیں۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق والحمد ﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ و صحبہ اجمعین امین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
الله تعالی کی مدد سے توفیق اور راستہ کی راہنمائی ہے۔
الحمدلله رب العالمین وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجعمین آمین والله تعالی سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۳ : کلکتہ دھرم تالہ اسٹریٹ ٹیپوسلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی ایك لڑکی بعمر سہ سال تھی زید نے اس کی منگنی عمرو سے کردی بعدہ زیدکا انتقال ہوگیا جب لڑکی تیرہ۱۳ برس کی ہوئی کوئی علامت بلوغ کی اس سے ظاہر نہیں۔ زید کے پدر خاص نے لڑکی کی عدم موجودگی میں اس کا نکاح عمرو سے کردیا چار مہینے کے بعد زید متوفی کے چچا نے لڑکی کی موجودگی میں اس کا نکاح عقد بکر سے کردیا بخیال اس کو بالغہ ٹھہرانے کے مگر کوئی نشانی بلوغ کی آج تك لڑکی سے ظاہر نہیں اس صورت میں شرعا کون سا نکاح معتبر ہے بینوا توجروا
الجواب :
یتیمہ بالغہ کا سب سے زیادہ ولی اقرب واقدم اس کا حقیقی دادا یعنی اس کے باپ کا باپ ہے اس کے ہوتے باپ کے چچا خواہ کسی کو کچھ اختیار نہیں ہے اس کے دادا کا کیا ہوا نکاح کسی کے ردکئے رد نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ اگر وہ خود بالغہ ہوکر نکاح کو رد کرے ہر گز رد نہ ہوگا نہ ولی کے نکاح کرتے وقت نابالغہ کا موجود ہونا درکا رہے کہ نابالغ پر ولایت جد جبری ہے اور اس کاحاضر ہونانہ ہونا سب یکساں تو اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ نابالغہ اس چار مہینے میں بالغہ ہوگئی اور باپ کے چچا نے اس کی موجودگی میں ا س کی رضا سے اس کے بالغہ ہونے پر اس کا نکاح بکر سے کردیا جب بھی یہ نکاح محض باطل ونامعتبر ہے وہ لڑکی عمرو کی زوجہ ہے جب تك موت یا طلاق نہ ہو دوسرے سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا قال اﷲ تعالی و المحصنت من النسآء (الله تعالی نے فرمایا : اورآزاد پاکیزہ عورتیں۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
لزم النکاح بلاتوقف علی اجازۃ احد وبلاثبوت خیار فی تزویج الاب والجد الخ۔
باپ یا دادا کے دئیے نکاح کسی کی اجازت پر موقوف ہوئے بغیر اور ثبوت خیار بلوغ بغیر فورا نافذ اور لازم ہوجاتے ہیں۔ (ت)
والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۴۴ : از اوجین حویلی میر صاحب مرسلہ مرزا مختار علی بیگ صاحب وکیل ۱۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی الله بیلی حجام نے اپنی دختر زیتون کا نکاح ۱۳۰ھ میں مسمی احمد قوم حجام سے کہ الله بیلی کا ہم قوم ورشتہ دار ہے کیا وقت نکاح زیتون چار پانچ سال کی تھی اب ۱۳۱۵ھ میں جبکہ زیتون قریب ۱۳ یا ۱۴ سال کے ہوئی احمد نے رخصت چاہی الله بیلی نے انکار کیا احمد نے فوجداری میں نالش کی الله بیلی نے عذر کیا کہ داماد میرا نامرد ہے ہیجڑوں میں گاتا بجاتا ہے اگرڈاکٹر ا س کا مرد ہونا تحریر کردیں تو رخصت میں عذر نہیں ڈاکٹر نے بعد معائنہ ظاہر کیا کہ احمد کے اعضائے تناسل کو حالت تندرستی میں پایا ہنوز فوجداری سے حکم اخیر نہ ہوا تھا کہ الله بیلی نے دیوانی میں دعوی فسخ نکاح ان وجوہ پر کیا کہ وہ نامرد ہے ہیجڑوں کے افعال قبول کرکے حالت شرمناك اختیار کرلی ہے میری برابری کا نہ رہا زیتون کا نکاح نابالغی میں ہوا ہے فسخ قرار دیا جائے احمد کو ان الزاموں سے قطعی انکار ہے جانبین سے شہادتیں اپنے اپنے موافق گزریں اگر بالفرض الزامات نامردی وغیرہ تسلیم بھی کرلئے جائیں تو ایسی صورت میں حسب استغاثہ پدر زیتون یا زیتون کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یا خود بخود بوجوہات مظہرہ پدر زیتون نکاح فسخ ہے اور دعوی منجانب پدرزیتون بوجہ اس کے کہ عمر زیتون ۱۳ ۱۴ سال کی ہے جائز ہے یا نہیں یا ایك سال قمری کی مہلت تاریخ یکجا ہونے زن وشو سے دی جائے گی اور زوجہ رخصت پر مجبور کی جائے گی یا نہیں اور ہمبستری احمد وزیتون کی کرائی جائے گی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں پدر زیتون کا دعوی اصلا قابل سماعت نہیں زنانوں کے افعال کرلینا اگرچہ مسقط کفاءت ہے مگر کفاءت وقت نکاح درکار ہے بعد نکاح شوہر کیسے ہی شرمناك افعال اختیار کرے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
الکفاءۃ اعتبارھا عندابتداء العقد
نکاح کے ابتداء میں کفو کا اعتبار ہوتاہے اس کے
باپ یا دادا کے دئیے نکاح کسی کی اجازت پر موقوف ہوئے بغیر اور ثبوت خیار بلوغ بغیر فورا نافذ اور لازم ہوجاتے ہیں۔ (ت)
والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۴۴ : از اوجین حویلی میر صاحب مرسلہ مرزا مختار علی بیگ صاحب وکیل ۱۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی الله بیلی حجام نے اپنی دختر زیتون کا نکاح ۱۳۰ھ میں مسمی احمد قوم حجام سے کہ الله بیلی کا ہم قوم ورشتہ دار ہے کیا وقت نکاح زیتون چار پانچ سال کی تھی اب ۱۳۱۵ھ میں جبکہ زیتون قریب ۱۳ یا ۱۴ سال کے ہوئی احمد نے رخصت چاہی الله بیلی نے انکار کیا احمد نے فوجداری میں نالش کی الله بیلی نے عذر کیا کہ داماد میرا نامرد ہے ہیجڑوں میں گاتا بجاتا ہے اگرڈاکٹر ا س کا مرد ہونا تحریر کردیں تو رخصت میں عذر نہیں ڈاکٹر نے بعد معائنہ ظاہر کیا کہ احمد کے اعضائے تناسل کو حالت تندرستی میں پایا ہنوز فوجداری سے حکم اخیر نہ ہوا تھا کہ الله بیلی نے دیوانی میں دعوی فسخ نکاح ان وجوہ پر کیا کہ وہ نامرد ہے ہیجڑوں کے افعال قبول کرکے حالت شرمناك اختیار کرلی ہے میری برابری کا نہ رہا زیتون کا نکاح نابالغی میں ہوا ہے فسخ قرار دیا جائے احمد کو ان الزاموں سے قطعی انکار ہے جانبین سے شہادتیں اپنے اپنے موافق گزریں اگر بالفرض الزامات نامردی وغیرہ تسلیم بھی کرلئے جائیں تو ایسی صورت میں حسب استغاثہ پدر زیتون یا زیتون کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یا خود بخود بوجوہات مظہرہ پدر زیتون نکاح فسخ ہے اور دعوی منجانب پدرزیتون بوجہ اس کے کہ عمر زیتون ۱۳ ۱۴ سال کی ہے جائز ہے یا نہیں یا ایك سال قمری کی مہلت تاریخ یکجا ہونے زن وشو سے دی جائے گی اور زوجہ رخصت پر مجبور کی جائے گی یا نہیں اور ہمبستری احمد وزیتون کی کرائی جائے گی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں پدر زیتون کا دعوی اصلا قابل سماعت نہیں زنانوں کے افعال کرلینا اگرچہ مسقط کفاءت ہے مگر کفاءت وقت نکاح درکار ہے بعد نکاح شوہر کیسے ہی شرمناك افعال اختیار کرے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
الکفاءۃ اعتبارھا عندابتداء العقد
نکاح کے ابتداء میں کفو کا اعتبار ہوتاہے اس کے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۴
فلایضر زوا لھا بعد ہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ ۔
بعد کفو کے زائل ہونے سے کوئی ضرر نہیں اگر نکاح کے وقت کفو تھا پھر فاسق وفاجر ہوگیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
رہا دعوی نامردی وہ بھی منجانب پدر زیتون اصلا مسموع نہیں کہ اگر زیتون ہنوز نابالغہ ہے جب تو یہ دعوی دائر ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے عورت کا بالغہ ہونا شرط ہے اور اگربالغہ ہے تو خودزیتون کا مدعیہ ہونا درکار باپ کو دعوی کا کوئی حق نہیں درمختار میں ہے :
فرق الحاکم بطلبھا لوحرۃ بالغۃ .
اگر حرہ بالغہ ہو تو اس کے مطالبہ پر حاکم تفریق کردے گا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلو صغیرۃ انتظر بلوغھا فی المجبوب والعنین لاحتمال ان ترضی بھما بحر وغیرہ ۔
اگر نابالغہ ہو تو اس کے بلوغ تك نامرد اورشرمگاہ کٹے ہوئے خاوند کے معاملہ میں انتظار کیا جائیگا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بالغہ ہونے کے بعد ا س پر راضی ہو جائے۔ بحر وغیرہ۔ (ت)
نیز درمختار وردالمحتار میں ہے :
طلبھا یتعلق بالجمیع ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت ح عن النھر ۔
عورت کے مطالبہ کا تعلق تما م افعال یعنی تفریق اور مہلت سے ہے اس پر وہ بائنہ ہوجائے گی نہر سے منقول ہے۔ (ت)
اور اگر فرض کیا جائے کہ زیتون نے خود ہی بعد بلوغ دعوی کیا پدر زیتون وکیل ہے جب بھی ہنوز کہ رخصت تك نہ ہوئی زن وشومیں ہمبستری واقع نہ ہوئی طلب فسخ کا کوئی محل نہیں حکم شرعی یہ ہے کہ عورت شوہر سے ہمبستر ہو اگر شوہر اس پرقدرت نہ پائے تو اس وقت دعوی کرے جب حاکم کو ثابت ہو کہ فی الواقع اس نے قدرت نہ پائی اس کے بعد حاکم شرع شوہر کو ایك سال کامل کی مہلت دے اور اس مدت میں عورت کو اس سے جدا
بعد کفو کے زائل ہونے سے کوئی ضرر نہیں اگر نکاح کے وقت کفو تھا پھر فاسق وفاجر ہوگیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
رہا دعوی نامردی وہ بھی منجانب پدر زیتون اصلا مسموع نہیں کہ اگر زیتون ہنوز نابالغہ ہے جب تو یہ دعوی دائر ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے عورت کا بالغہ ہونا شرط ہے اور اگربالغہ ہے تو خودزیتون کا مدعیہ ہونا درکار باپ کو دعوی کا کوئی حق نہیں درمختار میں ہے :
فرق الحاکم بطلبھا لوحرۃ بالغۃ .
اگر حرہ بالغہ ہو تو اس کے مطالبہ پر حاکم تفریق کردے گا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلو صغیرۃ انتظر بلوغھا فی المجبوب والعنین لاحتمال ان ترضی بھما بحر وغیرہ ۔
اگر نابالغہ ہو تو اس کے بلوغ تك نامرد اورشرمگاہ کٹے ہوئے خاوند کے معاملہ میں انتظار کیا جائیگا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بالغہ ہونے کے بعد ا س پر راضی ہو جائے۔ بحر وغیرہ۔ (ت)
نیز درمختار وردالمحتار میں ہے :
طلبھا یتعلق بالجمیع ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت ح عن النھر ۔
عورت کے مطالبہ کا تعلق تما م افعال یعنی تفریق اور مہلت سے ہے اس پر وہ بائنہ ہوجائے گی نہر سے منقول ہے۔ (ت)
اور اگر فرض کیا جائے کہ زیتون نے خود ہی بعد بلوغ دعوی کیا پدر زیتون وکیل ہے جب بھی ہنوز کہ رخصت تك نہ ہوئی زن وشومیں ہمبستری واقع نہ ہوئی طلب فسخ کا کوئی محل نہیں حکم شرعی یہ ہے کہ عورت شوہر سے ہمبستر ہو اگر شوہر اس پرقدرت نہ پائے تو اس وقت دعوی کرے جب حاکم کو ثابت ہو کہ فی الواقع اس نے قدرت نہ پائی اس کے بعد حاکم شرع شوہر کو ایك سال کامل کی مہلت دے اور اس مدت میں عورت کو اس سے جدا
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
ردالمحتار باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۳
ردالمحتار باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۶
درمختار باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
ردالمحتار باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۳
ردالمحتار باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۹۶
رہنے کو کوئی حق نہیں جتنےدنوں خود اس سے جدا رہے گی مدت میں مجرانہ ہوں گے سال گزرنے پر بھی اگر قدرت نہ پائے تو عورت پھر دعوی کرے اور حاکم پھر ثبوت قدرت نہ پانے کالے اگر ثابت ہوجائے تو عورت کو اختیار دے کہ خواہ شوہر کے پاس رہنا پسند کرے یا اس کے نکاح سے جد اہونا اگر عورت فورا فورا بلا توقف جد اپسند کرلے تو حاکم شوہر کو طلاق کا حکم دے وہ نہ دے تو آپ تفریق کردے اور اگر عورت ذرا بھی اختیار جدائی کے اظہار میں تاخیر کرے تو دعوی باطل اور اختیار زائل درمختار میں ہے :
وجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ ورمضان وایام حیضھا منھا لامدۃ غیبتھا ومرضہ ومرضھا فان وطئی مرۃ فبھا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا وبطل حقھا لووجد منھا دلیل اعراض بان قامت من مجلسھا او اقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار شیئا لامکانہ مع القیام اھ مختصرا۔
بیوی مرد کو نامرد پائے تو ایك سال بحساب قمری سے مہلت دی جائے گی رمضان اور حیض کے دن بھی اس میں شمار ہوں گے اور عورت کے غیر حاضر ہونے اور مرد یا بیوی کے مرض کے دن گنتی میں شامل نہ ہوں گے ا س مدت میں خاوند نے ایك دفعہ بھی وطی کرلی تو بہتر و رنہ سال کے بعد تفریق پر بیوی بائنہ ہوجائیگی تفریق قاضی کرے گا جب خاوند بیوی کے مطالبہ پر طلاق دینے سے انکار کردے اور بیوی کا مطالبہ تفریق باطل ہوجائے گا جب اس سے کوئی بھی ایسی دلیل پائی جائے جس سے مطالبہ سے اعراض سمجھا جائے جیساکہ بیوی مطالبے کی مجلس سے اٹھ کر چلی جائے یا قاضی کا عملہ اس کوقائم رہنے پر مجبور کردے یا قاضی کی موجودگی میں وہ فیصلہ کرسکتی تھی اس کے باوجود وہ فیصلہ نہ کرپائی تھی کہ قاضی اٹھ گیا اھ مختصرا (ت)
پس صورت مستفسرہ میں پدر زیتون رخصت کردینے اورزیتون ہم بستری پر مجبور کی جائے گی اس کے بعد اگر نامردی پائے تو طریقہ مذکورہ عمل میں لائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۵ : ۲۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بالغ ہے اور اس کا باپ دادا چچا بھائی وغیرہ نہیں ایك ماموں ہے اس نے عورت سے اذن نکاح کا نہ لیا باہر سے باہر دو گواہ کرکے نکاح کردیا یہ نکاح ہوا یا نہیں دوسری ایك عورت بالغ ہے اس کی ماں موجو دہے نہ عورت نے اذن دیا نہ اس کی ماں نے بلکہ سوتیلے باپ نے نکاح کاا ذن دیا یہ نکاح ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
وجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ ورمضان وایام حیضھا منھا لامدۃ غیبتھا ومرضہ ومرضھا فان وطئی مرۃ فبھا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا وبطل حقھا لووجد منھا دلیل اعراض بان قامت من مجلسھا او اقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار شیئا لامکانہ مع القیام اھ مختصرا۔
بیوی مرد کو نامرد پائے تو ایك سال بحساب قمری سے مہلت دی جائے گی رمضان اور حیض کے دن بھی اس میں شمار ہوں گے اور عورت کے غیر حاضر ہونے اور مرد یا بیوی کے مرض کے دن گنتی میں شامل نہ ہوں گے ا س مدت میں خاوند نے ایك دفعہ بھی وطی کرلی تو بہتر و رنہ سال کے بعد تفریق پر بیوی بائنہ ہوجائیگی تفریق قاضی کرے گا جب خاوند بیوی کے مطالبہ پر طلاق دینے سے انکار کردے اور بیوی کا مطالبہ تفریق باطل ہوجائے گا جب اس سے کوئی بھی ایسی دلیل پائی جائے جس سے مطالبہ سے اعراض سمجھا جائے جیساکہ بیوی مطالبے کی مجلس سے اٹھ کر چلی جائے یا قاضی کا عملہ اس کوقائم رہنے پر مجبور کردے یا قاضی کی موجودگی میں وہ فیصلہ کرسکتی تھی اس کے باوجود وہ فیصلہ نہ کرپائی تھی کہ قاضی اٹھ گیا اھ مختصرا (ت)
پس صورت مستفسرہ میں پدر زیتون رخصت کردینے اورزیتون ہم بستری پر مجبور کی جائے گی اس کے بعد اگر نامردی پائے تو طریقہ مذکورہ عمل میں لائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۵ : ۲۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بالغ ہے اور اس کا باپ دادا چچا بھائی وغیرہ نہیں ایك ماموں ہے اس نے عورت سے اذن نکاح کا نہ لیا باہر سے باہر دو گواہ کرکے نکاح کردیا یہ نکاح ہوا یا نہیں دوسری ایك عورت بالغ ہے اس کی ماں موجو دہے نہ عورت نے اذن دیا نہ اس کی ماں نے بلکہ سوتیلے باپ نے نکاح کاا ذن دیا یہ نکاح ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
الجواب :
دونوں صورتوں میں جبکہ عورتیں بالغہ ہیں او ران سے بغیر اذن لئے نکاح کردئے گئے تو وہ نکاح ان عورتوں کی اجازت پر موقوف رہے اگر انھوں نے خبر سن کر جائز رکھے جائز ہوگئے اور اگرر د کردئے رد ہوگئے اور اگر اب تك ساکت ہیں نہ رد کئے نہ جائز رکھے تو اب انھیں اختیار ہے چاہے جائز کردیں چاہے باطل۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۶ : از کان پور مدرسہ احسن المدارس مرسلہ محمد عبدالحلیم صاحب ۱۳ رجب ۱۳۱ھ
چہ می فرمایند علمائے محققین وفضلائے مدققین اندریں مسئلہ کہ باوجود برادر حقیقی مخطوبہ عم حقیقی مخطوبہ استیذان نکاح از مخطوبہ کرد ومخطوبہ بالغہ باکرہ است صامت ماندہ آں صموت رااذن دانستہ عم حقیقی بہ وکالۃ نکاح او رامنعقد کرد و بااوخلوت صحیحہ ھم گردید دریں صورت نکاح باطل خواہد شد یا چہ بینوا تو جروا کیا فرماتے ہیں علمائے محققین اور فضلائے مدققین ا س مسئلہ میں کہ حقیقی بھائی موجود ہونے کے باوجود حقیقی چچا نے لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جبکہ لڑکی باکرہ بالغہ ہے اور اجازت کے وقت خاموش رہی اس خاموشی کو چچا نے اجازت سمجھ کر بطور وکالت ا س کانکاح کردیا خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے تویہ نکاح باطل ہوگیا یاکیا صورت ہوگی بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
سکوت بکر کہ بجائے اذن داشتہ انددران صورت ست کہ استیذان خود ولی اقرب یا وکیل یا رسول اوکردہ باشد کما فی الدر وغیرہ اینجا کہ استیذان ولی ابعد قیام اقرب کردہ است اگرنہ بروجہ وکالت ورسالت از اقرب بود بسکوت زن اصلاکارے نکشود نکاح نکاح فضولی شدہ براجازتے دیگر قولا یا فعلا یا سکوتا چنانکہ درفتاوائے خود وجہ آنہا روشن کردہ ایم از زن قولے یا فعلے مظہر رد نکاح بمیان نیامدہ بود واین خلوت برضائے او باکرہ کی خاموشی وہاں اجازت قرار دی جاتی ہے جب اجازت طلب کرنے والا خود یا ولی اقرب ہو یا اس کا وکیل یا قاصد ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہاں کی صورت میں ولی ابعد نے اجازت ولی اقرب کی موجودگی میں طلب کی ہے تو اگر اس نے ولی اقرب کی وکالت یا قاصد ہونے کی حیثیت سے اجازت نہ طلب کی ہو تو اس صو رت میں باکرہ کی خاموشی رضا کے لئے کارآمد نہیں ہے یہ نکاح نکاح فضولی ہوا جو کہ عورت کی اجازت پر موقو ف تھا اگر باکرہ نے خلوت سے قبل قولا یا فعلا یا خاموش رہ کر کسی قول یا
دونوں صورتوں میں جبکہ عورتیں بالغہ ہیں او ران سے بغیر اذن لئے نکاح کردئے گئے تو وہ نکاح ان عورتوں کی اجازت پر موقوف رہے اگر انھوں نے خبر سن کر جائز رکھے جائز ہوگئے اور اگرر د کردئے رد ہوگئے اور اگر اب تك ساکت ہیں نہ رد کئے نہ جائز رکھے تو اب انھیں اختیار ہے چاہے جائز کردیں چاہے باطل۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۶ : از کان پور مدرسہ احسن المدارس مرسلہ محمد عبدالحلیم صاحب ۱۳ رجب ۱۳۱ھ
چہ می فرمایند علمائے محققین وفضلائے مدققین اندریں مسئلہ کہ باوجود برادر حقیقی مخطوبہ عم حقیقی مخطوبہ استیذان نکاح از مخطوبہ کرد ومخطوبہ بالغہ باکرہ است صامت ماندہ آں صموت رااذن دانستہ عم حقیقی بہ وکالۃ نکاح او رامنعقد کرد و بااوخلوت صحیحہ ھم گردید دریں صورت نکاح باطل خواہد شد یا چہ بینوا تو جروا کیا فرماتے ہیں علمائے محققین اور فضلائے مدققین ا س مسئلہ میں کہ حقیقی بھائی موجود ہونے کے باوجود حقیقی چچا نے لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جبکہ لڑکی باکرہ بالغہ ہے اور اجازت کے وقت خاموش رہی اس خاموشی کو چچا نے اجازت سمجھ کر بطور وکالت ا س کانکاح کردیا خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے تویہ نکاح باطل ہوگیا یاکیا صورت ہوگی بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
سکوت بکر کہ بجائے اذن داشتہ انددران صورت ست کہ استیذان خود ولی اقرب یا وکیل یا رسول اوکردہ باشد کما فی الدر وغیرہ اینجا کہ استیذان ولی ابعد قیام اقرب کردہ است اگرنہ بروجہ وکالت ورسالت از اقرب بود بسکوت زن اصلاکارے نکشود نکاح نکاح فضولی شدہ براجازتے دیگر قولا یا فعلا یا سکوتا چنانکہ درفتاوائے خود وجہ آنہا روشن کردہ ایم از زن قولے یا فعلے مظہر رد نکاح بمیان نیامدہ بود واین خلوت برضائے او باکرہ کی خاموشی وہاں اجازت قرار دی جاتی ہے جب اجازت طلب کرنے والا خود یا ولی اقرب ہو یا اس کا وکیل یا قاصد ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہاں کی صورت میں ولی ابعد نے اجازت ولی اقرب کی موجودگی میں طلب کی ہے تو اگر اس نے ولی اقرب کی وکالت یا قاصد ہونے کی حیثیت سے اجازت نہ طلب کی ہو تو اس صو رت میں باکرہ کی خاموشی رضا کے لئے کارآمد نہیں ہے یہ نکاح نکاح فضولی ہوا جو کہ عورت کی اجازت پر موقو ف تھا اگر باکرہ نے خلوت سے قبل قولا یا فعلا یا خاموش رہ کر کسی قول یا
روئے نمود نکاح موقوف نفاذ یا فت فی الدرالمختار ان استأذنھا غیر الاقرب کولی بعیدفلاعبرۃ لسکوتھا بل لابد من القول اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا کتمکینھا من الوطئ (ملخصا) وفی ردالمحتار عن الظھیر یۃ لوخلابھا برضاھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسألۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ قال البزازیۃ الظاھرانہ اجازۃ اھ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
فعل کے ذریعے نکاح کو رد نہ کیا ہو(جیسا کہ رد کے وجوہ ہم نے اپنے فتاوی میں واضح کئے ہیں)تو یہ خلوت جوباکرہ کی رضامندی سے ہوئی ہے اجازت قرار پائے گی اور موقوف نکاح نافذ ہوجائیگا درمختارمیں ہے کہ اگر لڑکی سے غیر اقرب مثلا ولی ابعد نے اجازت طلب کی ہو تو لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ لڑکی کی طرف سے صراحۃ قول یا اس کے قائم مقام کسی اپنے فعل جو رضا پر دلالت کرتاہو کا اظہار ضروری ہے مثلا وہ خاوند کو وطی کی جازت دے دے۔ اور ردالمحتار میں جو بحر سے منقول انھوں نے ظہیریہ سے نقل کیا کہ اگر لڑکی کی رضامندی سے خلوت کی ہوتو کیا یہ رضا ہوگی تو اس مسئلہ میں روایت نہیں ہے جبکہ میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ اور فرمایا کہ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۴۷ : از عظیم آبادپٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ جناب مولنا مولوی قاضی عبدالوحید صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سلخ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
عمرو نامی ایك شخص نے بوقت انتقال اپنے ایك لڑکی ہندہ نامی ایك بی بی زبیدہ ایك بھائی حقیقی خالد ایك بھائی علاتی بکر چھوڑا ہندہ ہمراہی اپنی مادر اور نانی کے پرورش پاتی رہی اب وہ بالغ ہے سن اس کا زائد چودہ سال سے ہے ہندہ کی ولایت کا سارٹیفیکیٹ گورنمنٹ سے ہندہ کی ماں کو ملاہے اس وقت تك ہندہ نے مادر ونانی کے مکان میں ابتدائے پیدائش سے رہ کر پرورش وتعلیم پائی ہے خالد نے یعنی چچا حقیقی ہندہ کے براہ چالاکی وبخیال نفع معاش بلاعلم ورضامندی ہندہ وچچا علاتی ومادر ونانی وغیرہ کے ایك شخص غیر کے مکان میں اپنے بیٹا سے بولایت اپنے ایك شخص کووکیل مقرر کرکے ہندہ کا عقد کردیا ہے اور کوئی خبر ہندہ کو نہیں دی گئی جس وقت ہندہ کو افواہا خبر نکاح کی پہنچی اس وقت اس نے نکاح کو نامنظور کیا اور بہت بیزار ہوئی علماء بدلائل کتاب جواب سے سرفراز فرمائیں فقط
الجواب :
شرعا عورت کے بالغہ ہونے کے لئے پندرہ سال کامل عمر ضرور ہے یااس سے پہلے حیض وغیرہ
فعل کے ذریعے نکاح کو رد نہ کیا ہو(جیسا کہ رد کے وجوہ ہم نے اپنے فتاوی میں واضح کئے ہیں)تو یہ خلوت جوباکرہ کی رضامندی سے ہوئی ہے اجازت قرار پائے گی اور موقوف نکاح نافذ ہوجائیگا درمختارمیں ہے کہ اگر لڑکی سے غیر اقرب مثلا ولی ابعد نے اجازت طلب کی ہو تو لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ لڑکی کی طرف سے صراحۃ قول یا اس کے قائم مقام کسی اپنے فعل جو رضا پر دلالت کرتاہو کا اظہار ضروری ہے مثلا وہ خاوند کو وطی کی جازت دے دے۔ اور ردالمحتار میں جو بحر سے منقول انھوں نے ظہیریہ سے نقل کیا کہ اگر لڑکی کی رضامندی سے خلوت کی ہوتو کیا یہ رضا ہوگی تو اس مسئلہ میں روایت نہیں ہے جبکہ میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ اور فرمایا کہ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۴۷ : از عظیم آبادپٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ جناب مولنا مولوی قاضی عبدالوحید صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سلخ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
عمرو نامی ایك شخص نے بوقت انتقال اپنے ایك لڑکی ہندہ نامی ایك بی بی زبیدہ ایك بھائی حقیقی خالد ایك بھائی علاتی بکر چھوڑا ہندہ ہمراہی اپنی مادر اور نانی کے پرورش پاتی رہی اب وہ بالغ ہے سن اس کا زائد چودہ سال سے ہے ہندہ کی ولایت کا سارٹیفیکیٹ گورنمنٹ سے ہندہ کی ماں کو ملاہے اس وقت تك ہندہ نے مادر ونانی کے مکان میں ابتدائے پیدائش سے رہ کر پرورش وتعلیم پائی ہے خالد نے یعنی چچا حقیقی ہندہ کے براہ چالاکی وبخیال نفع معاش بلاعلم ورضامندی ہندہ وچچا علاتی ومادر ونانی وغیرہ کے ایك شخص غیر کے مکان میں اپنے بیٹا سے بولایت اپنے ایك شخص کووکیل مقرر کرکے ہندہ کا عقد کردیا ہے اور کوئی خبر ہندہ کو نہیں دی گئی جس وقت ہندہ کو افواہا خبر نکاح کی پہنچی اس وقت اس نے نکاح کو نامنظور کیا اور بہت بیزار ہوئی علماء بدلائل کتاب جواب سے سرفراز فرمائیں فقط
الجواب :
شرعا عورت کے بالغہ ہونے کے لئے پندرہ سال کامل عمر ضرور ہے یااس سے پہلے حیض وغیرہ
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۱
علامات کا ہونا بغیر اس کے صرف چودہ سال سے زیادہ عمر کا ہونا کافی نہیں۔ ہاں نو سال کے بعد سے پندرہ سال کے قبل تك جو عورت کے لئے امکان واحتمال بلوغ کی عمر ہے اگر عورت اپنا بالغہ ہونا ظاہر کرے تو بے حاجت شہادت بغیر قسم لئے اس کا قول مان لیا جائے گا جبکہ اس کے جسم وقوی کی حالت اس دعوی کی تکذیب نہ کرتی ہو اور وہ بالغہ ہونے کی وجہ بھی بیان کردے یعنی مثلا کہے مجھے حیض آیا خواب میں احتلام ہوا اس سے میں نے اپنا بلوغ جانا۔ خالی دعوی بے بیان معنی بلوغ مقبول نہیں اور اگر بدن وقوی کی حالت ظاہر وقابلیت بلوغ نہ بتاتی ہو تو اس کا دعوی اصلا مسموع نہ ہوگا جب تك دلیل شرعی سے بلوغ ثابت نہ ہو یہی احکام بارہ سال کے بعد سے پندرہ سال کے قبل تك پسر کے لئے ہیں۔
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین ھو المختار فان بلغنا بلغا ھذا السن فقالابلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر وھوان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وفی الشرنبلالیۃ یقبل مع تفسیر کل بماذا بلغ بلایمین اھ مختصرا وفی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن الفتاوی النسفی عن القاضی محمود السمر قندی
درمختار میں ہے کہ لڑکے کا بلوغ احتلام حاملہ کردینا اور انزال ہے اورلڑکی کا بلوغ احتلام حیض اور اس کا حاملہ ہونا ہے اگر دونوں کے لئے مذکورہ علامات میں سے کوئی نہ پائی جائے تو بلوغ ہر ایك کی عمر کے پندرہ سال پورے ہونا ہے اسی پر فتوی ہے اورلڑکے کے بلوغ کے لئے کم از کم بارہ سال اورلڑکی کے لئے کم از کم نو سال کی عمر ہے یہی مختارہے اگریہ عمر پوری ہوجائے تو ان کا کہنا کہ ہم بالغ ہیں تسلیم کیا جائے گا بشرطیکہ کوئی ظاہر امران کی بات کو نہ جھٹلائے مثلا یہ کہ ان جیسے عمروالوں کو احتلام ہوسکتا ہو ورنہ ان کی بات قبول نہ کی جائے گی شرح وہبانیہ وشرنبلالیہ میں ہے کہ ان کی بات بلوغ کی علامت کی وضاحت کرنے پر تسلیم کی جائے گی اور قسم نہ لی جائے گی اھ مختصرا اور ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالے سے فتاوی نسفی سے منقول قاضی محمود سمرقندی کے بارے
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین ھو المختار فان بلغنا بلغا ھذا السن فقالابلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر وھوان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وفی الشرنبلالیۃ یقبل مع تفسیر کل بماذا بلغ بلایمین اھ مختصرا وفی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن الفتاوی النسفی عن القاضی محمود السمر قندی
درمختار میں ہے کہ لڑکے کا بلوغ احتلام حاملہ کردینا اور انزال ہے اورلڑکی کا بلوغ احتلام حیض اور اس کا حاملہ ہونا ہے اگر دونوں کے لئے مذکورہ علامات میں سے کوئی نہ پائی جائے تو بلوغ ہر ایك کی عمر کے پندرہ سال پورے ہونا ہے اسی پر فتوی ہے اورلڑکے کے بلوغ کے لئے کم از کم بارہ سال اورلڑکی کے لئے کم از کم نو سال کی عمر ہے یہی مختارہے اگریہ عمر پوری ہوجائے تو ان کا کہنا کہ ہم بالغ ہیں تسلیم کیا جائے گا بشرطیکہ کوئی ظاہر امران کی بات کو نہ جھٹلائے مثلا یہ کہ ان جیسے عمروالوں کو احتلام ہوسکتا ہو ورنہ ان کی بات قبول نہ کی جائے گی شرح وہبانیہ وشرنبلالیہ میں ہے کہ ان کی بات بلوغ کی علامت کی وضاحت کرنے پر تسلیم کی جائے گی اور قسم نہ لی جائے گی اھ مختصرا اور ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالے سے فتاوی نسفی سے منقول قاضی محمود سمرقندی کے بارے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحجر فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
ان مراھقا اقرفی مجلسہ بلوغہ فقال بما ذابلغت قال باحتلام قال فماذا رأیت بعد ماانتبھت قال الماء قال ای ماء فان الماء مختلف قال المنی قال ماالمنی قال ماء الرجل الذی یکون منہ الولد قال علی ماذا احتلمت علی ابن اوبنت اواتان قال علی ابن فقال القاضی لابد من الاستقصاء فقد یلقن الاقرار بالبلوغ کذبا قال شیخ الاسلام ھذا من باب الاحتلام وانما یقبل قول مع التفسیر وکذا جاریۃ اقرت یحیض اھ۔
میں حکایت کی ایك قریب البلوغ نے ان کی مجلس میں اپنے بالغ ہونے کا اقرار کیا تو قاضی نے پوچھا تو کیونکر بالغ ہوا ا س نے جواب میں احتلام کا ذکر کیا تواس پر قاضی نے پوچھا کہ تو نے نیند سے بیدار ہوکر کیا دیکھا تو جواب میں کہا کہ تری دیکھی تو پھر سوال کیا کہ رطوبت تو کئی قسم کی ہوتی ہے تو نے کون سی دیکھی ہے تو اس نے کہا منی دیکھی ہے پھر سوال کیاکہ منی کیا ہوتی ہے تو جواب میں کہا کہ مرد کا وہ پانی جس سے بچہ پیدا ہوتاہے تو سوال کیا کہ تجھے احتلام میں کیا شکل نظر آئی جس پر تجھے احتلام ہوا لڑکی لڑکا گدھی وغیرہ کیا تھا جواب میں کہاکہ لڑکا تھا توقاضی محمود سمرقندی نے کہا کہ یوں پورے سوال کرنے ضروری ہیں کیونکہ کبھی کسی کے سکھانے پر جھوٹا اقرار کردیتے ہیں شیخ الاسلام نے کہا یہ احتلام کے بارے میں تفسیر ہے اگر لڑکی حیض کے ذریعہ بلوغ کا اقرارکرے تو پھر بھی ایسے ہی اس سے تفسیر کرائی جائے اھ(ت)
پس صور ت مستفسرہ میں اگر وقت نکاح ہندہ کا بلوغ ثابت ہو خواہ شہادت شرعیہ خواہ ہندہ کا بیان مفصل سے جسے ظاہر حال ہندہ تکذیب نہ کرتا ہو نہ صرف اتنی بات سے کہ اس کی عمر چودہ سال سے زائد ہے بیشك اس پر چچا خواہ ماں کسی کی ولایت جبر یہ نہ تھی اس کا نکاح بے اس کی اجات کے نافذ نہیں ہوسکتا جب اس نے خبر پا کر نامنظور کیارد وباطل ہوگیا
فی الدرالمختار الولایہ نوعان ولایۃ ندب علی المکلفۃ ولوبکرا و ولایۃ اجبار علی الصغیرۃ ولوثیبا وفیہ بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۔
درمختار میں ہے کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں ایك محض فضیلت کے طورپر جو کہ بالغہ پر ہوتی ہے اگرچہ باکرہ ہو اور دوسری ولایت اجبار جوکہ نابالغہ پر ولی کو حاصل ہوتی ہے اگرچہ نابالغہ ثیبہ ہو اسی میں ہے کہ اگربالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے نکاح کو رد کردیا بعد میں اس نے کہا کہ میں راضی ہوں تو
میں حکایت کی ایك قریب البلوغ نے ان کی مجلس میں اپنے بالغ ہونے کا اقرار کیا تو قاضی نے پوچھا تو کیونکر بالغ ہوا ا س نے جواب میں احتلام کا ذکر کیا تواس پر قاضی نے پوچھا کہ تو نے نیند سے بیدار ہوکر کیا دیکھا تو جواب میں کہا کہ تری دیکھی تو پھر سوال کیا کہ رطوبت تو کئی قسم کی ہوتی ہے تو نے کون سی دیکھی ہے تو اس نے کہا منی دیکھی ہے پھر سوال کیاکہ منی کیا ہوتی ہے تو جواب میں کہا کہ مرد کا وہ پانی جس سے بچہ پیدا ہوتاہے تو سوال کیا کہ تجھے احتلام میں کیا شکل نظر آئی جس پر تجھے احتلام ہوا لڑکی لڑکا گدھی وغیرہ کیا تھا جواب میں کہاکہ لڑکا تھا توقاضی محمود سمرقندی نے کہا کہ یوں پورے سوال کرنے ضروری ہیں کیونکہ کبھی کسی کے سکھانے پر جھوٹا اقرار کردیتے ہیں شیخ الاسلام نے کہا یہ احتلام کے بارے میں تفسیر ہے اگر لڑکی حیض کے ذریعہ بلوغ کا اقرارکرے تو پھر بھی ایسے ہی اس سے تفسیر کرائی جائے اھ(ت)
پس صور ت مستفسرہ میں اگر وقت نکاح ہندہ کا بلوغ ثابت ہو خواہ شہادت شرعیہ خواہ ہندہ کا بیان مفصل سے جسے ظاہر حال ہندہ تکذیب نہ کرتا ہو نہ صرف اتنی بات سے کہ اس کی عمر چودہ سال سے زائد ہے بیشك اس پر چچا خواہ ماں کسی کی ولایت جبر یہ نہ تھی اس کا نکاح بے اس کی اجات کے نافذ نہیں ہوسکتا جب اس نے خبر پا کر نامنظور کیارد وباطل ہوگیا
فی الدرالمختار الولایہ نوعان ولایۃ ندب علی المکلفۃ ولوبکرا و ولایۃ اجبار علی الصغیرۃ ولوثیبا وفیہ بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۔
درمختار میں ہے کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں ایك محض فضیلت کے طورپر جو کہ بالغہ پر ہوتی ہے اگرچہ باکرہ ہو اور دوسری ولایت اجبار جوکہ نابالغہ پر ولی کو حاصل ہوتی ہے اگرچہ نابالغہ ثیبہ ہو اسی میں ہے کہ اگربالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے نکاح کو رد کردیا بعد میں اس نے کہا کہ میں راضی ہوں تو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحجر فصل فی البلوغ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۹۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ پہلے رد کرچکی جس کی وجہ سے نکاح باطل ہوچکا ہے۔ (ت)اور اگر اس وقت ہندہ بالغہ نہ تھی اگرچہ بعد نکاح معا بلوغ ہوگیا ہو تو بلاشبہ اس کا ولی شرعی وہی عم حقیقی تھا اس کے ہوتے ماں یا علاتی چچا کوئی چیز نہیں نہ سارٹیفیکیٹ شرعا کچھ اثر رکھتاہے۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
درمختار میں ہے کہ نکاح کا ولی عصبہ وراثت اورحجب کی ترتیب پر بنتے ہیں اگر عصبہ نہ ہو تو پھر ماں ولی ہے۔ (ت)
اس حالت میں یہ چچاکابیٹا جس کے ساتھ چچا نے اس نابالغہ کا نکاح کردیا اگر مذہب یا اطوار یا پیشے وغیرہ کی رو سے ایسا نقص رکھتا ہو جس کے سبب اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا عرفا موجب عار ہو یاچچا نے ہندہ کے مہر مثل میں کمی فاحش کی مثلامہر مثل ہزار روپے کا تھا پانسو باندھا تو ان صورتوں میں وہ نکاح سرے سے مردود وباطل محض ہوا اور ان نقائص سے پاك تھا تو بیشك نکاح صحیح ونافذ ہوگیا جسے نہ ماں یا علاتی چچا کی ناراضی سے ضرر نہ قبل بلوغ ہندہ کی نامنظوری وبیزاری کا اثر ہاں بعدبلوغ اسے اختیار ملے گا کہ نکاح سے ناراضی ظاہر کرکے حاکم شرع سے بحضور شوہر نکاح فسخ کرالے۔
فی الدرالمختاران کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ اھ مختصرا وفی ردالمحتار فیہ ایماء الی ان الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر باپ دادا نہ ہو تو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صور ت میں غیر کا دیا ہوا نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اور اگر کفو میں اورمہر مثل سے ہو تو پھر نکاح صحیح ہوگا اورلڑکے لڑکی نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد جب نکاح کا علم ہو فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ فسخ قاضی کی نگرانی میں ہو اھ مختصرا ۔ ردالمحتار میں ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند غائب ہو تو قاضی فسخ کی کارروائی نہ کرے کیونکہ اس سے قضا علی الغیب لازم آتی ہے نہر والله تعالی اعلم ۔ (ت)
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
درمختار میں ہے کہ نکاح کا ولی عصبہ وراثت اورحجب کی ترتیب پر بنتے ہیں اگر عصبہ نہ ہو تو پھر ماں ولی ہے۔ (ت)
اس حالت میں یہ چچاکابیٹا جس کے ساتھ چچا نے اس نابالغہ کا نکاح کردیا اگر مذہب یا اطوار یا پیشے وغیرہ کی رو سے ایسا نقص رکھتا ہو جس کے سبب اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا عرفا موجب عار ہو یاچچا نے ہندہ کے مہر مثل میں کمی فاحش کی مثلامہر مثل ہزار روپے کا تھا پانسو باندھا تو ان صورتوں میں وہ نکاح سرے سے مردود وباطل محض ہوا اور ان نقائص سے پاك تھا تو بیشك نکاح صحیح ونافذ ہوگیا جسے نہ ماں یا علاتی چچا کی ناراضی سے ضرر نہ قبل بلوغ ہندہ کی نامنظوری وبیزاری کا اثر ہاں بعدبلوغ اسے اختیار ملے گا کہ نکاح سے ناراضی ظاہر کرکے حاکم شرع سے بحضور شوہر نکاح فسخ کرالے۔
فی الدرالمختاران کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ اھ مختصرا وفی ردالمحتار فیہ ایماء الی ان الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر باپ دادا نہ ہو تو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صور ت میں غیر کا دیا ہوا نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اور اگر کفو میں اورمہر مثل سے ہو تو پھر نکاح صحیح ہوگا اورلڑکے لڑکی نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد جب نکاح کا علم ہو فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ فسخ قاضی کی نگرانی میں ہو اھ مختصرا ۔ ردالمحتار میں ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند غائب ہو تو قاضی فسخ کی کارروائی نہ کرے کیونکہ اس سے قضا علی الغیب لازم آتی ہے نہر والله تعالی اعلم ۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
مسئلہ ۳۴۷ : ۲ محرم الحرام ۱۳۱۸ ھ
زید کانکاح عمرو کی لڑکی کے ساتھ قرار پایا تھا او رشرائط یہ تھیں کہ شرع پیمبری میں نکاح ومہر باندھا جائے ہنگام نکاح پڑھانے کے کچھ حجت زیادتی مہر پر زید وعمرو کے مابین ہوئی جس پر زید مجلس سے اٹھ کر مکان کو چلا گیا عمرو نے بحالت غصہ ورنج کے اس وقت ایك موذن سے کہا کہ تم میری لڑکی کا نکاح بکر کے ساتھ کردو چنانچہ بکر اس وقت مجلس میں موجود تھا موذن صاحب نے جو کہ قاضی یامولوی نہیں ہیں صرف تین کلمے پڑھائے او رایجاب وقبول کرادیا کوئی وکیل وگواہ نہیں تھا اور نہ مہر کی تعداد بکر کوبتائی صرف یہ کہہ دیا کہ مثل لڑکی کی ماں کے مہر باندھا جائے عمر و کی لڑکی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ سال ہے۔ لڑکی کی ماں نے اور نہ خود لڑکی نے اجازت نکاح کی دی تھی صرف لڑکی کے والد نے اجازت نکاح کی بحالت رنج وغصہ کے دی تھی تو ایسی صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سائل مظہر کہ اس جلسہ میں بہت آدمی تھے تووہی سننے والے گواہ کافی تھے نکاح ہوگیا مگر عورت جبکہ بالغہ ہے تو اگر باپ نے اس سے اجازت خاص بکرکے ساتھ نکاح کردینے کی یا مطلق نکاح کی نہ لی تھی تونکاح عورت کی اجازت پر موقوف رہا مگر وہ جائز کردے گی جائز ہوجائے گا اور رد کردے گی رد ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۹ : از کان پور نئی سڑك متصل گرجاگھر متصل مکان احسان الله وکیل ڈاکٹر الله یارخاں مرسلہ خداد ادخاں صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
جناب مولانا صاحب زیدت معالیکم فی الدارین اسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجھے تعجب ہے کہ آج کل ندوہ کی ایسی خراب حالت کیوں ہوگئی میں نے وہاں کے مفتی صاحب کے نام سے ٹکٹ رکھ کر ایك استفتا بھیجا مگرمطلقا جواب نہیں دیا ان سے اگر اس کا جواب نہیں ہوسکتا تھا تو واپس کردینا چاہئے تھا نہ کہ دبا بیٹھا افسوس علماؤں کانام بدنام کرنے کو جلسہ قائم کیا گیا ہے بے شك
بدنام کنندہ نکونامی چند
(نیك نامی کو بدنام کرنے والا)
میرا تو پہلے ہی سے ارادہ تھا کہ آپ کے پاس بھیجوں مگر غلطی ہوئی کہ وہاں بھیج دیا خیر اب بعینہ آپ کی خدمت میں روانہ کرتاہوں کہ آپ براہ نوازش جواب سے مشرف فرمائیے جواب کے لئے ٹکٹ پیش خدمت ہے زیادہ حد ادب۔
زید کانکاح عمرو کی لڑکی کے ساتھ قرار پایا تھا او رشرائط یہ تھیں کہ شرع پیمبری میں نکاح ومہر باندھا جائے ہنگام نکاح پڑھانے کے کچھ حجت زیادتی مہر پر زید وعمرو کے مابین ہوئی جس پر زید مجلس سے اٹھ کر مکان کو چلا گیا عمرو نے بحالت غصہ ورنج کے اس وقت ایك موذن سے کہا کہ تم میری لڑکی کا نکاح بکر کے ساتھ کردو چنانچہ بکر اس وقت مجلس میں موجود تھا موذن صاحب نے جو کہ قاضی یامولوی نہیں ہیں صرف تین کلمے پڑھائے او رایجاب وقبول کرادیا کوئی وکیل وگواہ نہیں تھا اور نہ مہر کی تعداد بکر کوبتائی صرف یہ کہہ دیا کہ مثل لڑکی کی ماں کے مہر باندھا جائے عمر و کی لڑکی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ سال ہے۔ لڑکی کی ماں نے اور نہ خود لڑکی نے اجازت نکاح کی دی تھی صرف لڑکی کے والد نے اجازت نکاح کی بحالت رنج وغصہ کے دی تھی تو ایسی صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سائل مظہر کہ اس جلسہ میں بہت آدمی تھے تووہی سننے والے گواہ کافی تھے نکاح ہوگیا مگر عورت جبکہ بالغہ ہے تو اگر باپ نے اس سے اجازت خاص بکرکے ساتھ نکاح کردینے کی یا مطلق نکاح کی نہ لی تھی تونکاح عورت کی اجازت پر موقوف رہا مگر وہ جائز کردے گی جائز ہوجائے گا اور رد کردے گی رد ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۹ : از کان پور نئی سڑك متصل گرجاگھر متصل مکان احسان الله وکیل ڈاکٹر الله یارخاں مرسلہ خداد ادخاں صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
جناب مولانا صاحب زیدت معالیکم فی الدارین اسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجھے تعجب ہے کہ آج کل ندوہ کی ایسی خراب حالت کیوں ہوگئی میں نے وہاں کے مفتی صاحب کے نام سے ٹکٹ رکھ کر ایك استفتا بھیجا مگرمطلقا جواب نہیں دیا ان سے اگر اس کا جواب نہیں ہوسکتا تھا تو واپس کردینا چاہئے تھا نہ کہ دبا بیٹھا افسوس علماؤں کانام بدنام کرنے کو جلسہ قائم کیا گیا ہے بے شك
بدنام کنندہ نکونامی چند
(نیك نامی کو بدنام کرنے والا)
میرا تو پہلے ہی سے ارادہ تھا کہ آپ کے پاس بھیجوں مگر غلطی ہوئی کہ وہاں بھیج دیا خیر اب بعینہ آپ کی خدمت میں روانہ کرتاہوں کہ آپ براہ نوازش جواب سے مشرف فرمائیے جواب کے لئے ٹکٹ پیش خدمت ہے زیادہ حد ادب۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا علاتی بھائی اس کی عینی ماں اور ماموں کے مقابلہ میں ولی جائز ہے یا نہیں وبر تقدیرولی جائز ہونے کے اس کی عدم موجودگی میں بلااطلاع ورضا لڑکی بالغہ کا غیر کفو کے ساتھ ماموں اور اس کی ماں کا عقد کردینا کیسا ہے اور نیز لڑکی کی ماں اپنے شوہر کا متروکہ دین مہر میں پاچکی ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس لڑکی کا ولی نکاح اس کا علاتی بھائی ہے ماں یا ماموں اس کے ہوتے کچھ استحقاق نہیں رکھتے۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(الی قولہ)ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال الخ اھ ملتقطا۔
درمختارمیں ہے : نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ ہوتاہے اگر وہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہوتی ہے انھوں نے ذوی الارحام پھوپھیاں پھر ماموں تك بیان کیا الخ ملتقطا(ت)
شرع مطہر میں غیر کفو وہ ہے جس کے نسب یا مذہب یاپیشے یا چال چلن وغیرہ میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے باعث اس عورت کا اس سے نکاح ہونا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو اور یہاں عوام غیر قوم کو غیر کفو کہتے ہیں اگرچہ شرافت میں اپنا ہمسر ہو بلکہ بعض تو یہاں تك توسیع کرتے ہیں کہ اگر اپنے سے برتر ہو شرع میں اس میں نظر نہیں مغل پٹھان کفو ہیں شیخ قریشی وسادات کرام کفو ہیں اپنا ہم قوم بد مذہب کفو نہیں یہاں اگر عدم کفاءت یہی محاورہ عامیہ کے طور پر تھا یعنی وہ شخص اس دختر کا ہم قوم نہ تھا مگر اس طرح کا کوئی نقص نہ رکھتا تھا کہ شرعا غیر کفو ہو جب تو یہ نکاح مطلقا صحیح ومنعقد ہوگیا رضا واطلاع برادر کی حاجت نہیں دختر کہ بالغہ ہے اگر اس سے اذن لے کر ہوا تو نافذ ہوگیا ورنہ دختر ہی کی اجازت پرموقوف رہا اگر جائز کرے گی نافذ ہوگا رد کردے گی باطل ہوجائے گا برادر وغیرہ کسی ولی سے کوئی تعلق نہیں لانقطاع الولایۃ بالبلوغ کما نصوا علیہ(کیونکہ بالغ ہونے پر ولایت منقطع ہوگئی جیساکہ انھوں نے اس پر نص کی۔ ت)اور اگر عدم کفاءت بہ معنی مذکور شرعی تھا تویہ نکاح کہ بے رضائے ولی عصبہ ہوا اصلا نہ ہوا کہ اگر باجازت دختر تھا تو عورت جو نکاح غیر کفو سے بے رضا عصبہ کرے باطل ہے او راگر ماں یا ماموں نے بطور خود بے اذن دختر کیا تو یہ وہ عقد فضولی ہوگا جسے نافذکرنے والا کوئی نہیں کہ اختیار تنفیذ عورت کو ہوتا ہے وہ خود ایسے نکاح پر
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس لڑکی کا ولی نکاح اس کا علاتی بھائی ہے ماں یا ماموں اس کے ہوتے کچھ استحقاق نہیں رکھتے۔
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(الی قولہ)ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال الخ اھ ملتقطا۔
درمختارمیں ہے : نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ ہوتاہے اگر وہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہوتی ہے انھوں نے ذوی الارحام پھوپھیاں پھر ماموں تك بیان کیا الخ ملتقطا(ت)
شرع مطہر میں غیر کفو وہ ہے جس کے نسب یا مذہب یاپیشے یا چال چلن وغیرہ میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے باعث اس عورت کا اس سے نکاح ہونا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو اور یہاں عوام غیر قوم کو غیر کفو کہتے ہیں اگرچہ شرافت میں اپنا ہمسر ہو بلکہ بعض تو یہاں تك توسیع کرتے ہیں کہ اگر اپنے سے برتر ہو شرع میں اس میں نظر نہیں مغل پٹھان کفو ہیں شیخ قریشی وسادات کرام کفو ہیں اپنا ہم قوم بد مذہب کفو نہیں یہاں اگر عدم کفاءت یہی محاورہ عامیہ کے طور پر تھا یعنی وہ شخص اس دختر کا ہم قوم نہ تھا مگر اس طرح کا کوئی نقص نہ رکھتا تھا کہ شرعا غیر کفو ہو جب تو یہ نکاح مطلقا صحیح ومنعقد ہوگیا رضا واطلاع برادر کی حاجت نہیں دختر کہ بالغہ ہے اگر اس سے اذن لے کر ہوا تو نافذ ہوگیا ورنہ دختر ہی کی اجازت پرموقوف رہا اگر جائز کرے گی نافذ ہوگا رد کردے گی باطل ہوجائے گا برادر وغیرہ کسی ولی سے کوئی تعلق نہیں لانقطاع الولایۃ بالبلوغ کما نصوا علیہ(کیونکہ بالغ ہونے پر ولایت منقطع ہوگئی جیساکہ انھوں نے اس پر نص کی۔ ت)اور اگر عدم کفاءت بہ معنی مذکور شرعی تھا تویہ نکاح کہ بے رضائے ولی عصبہ ہوا اصلا نہ ہوا کہ اگر باجازت دختر تھا تو عورت جو نکاح غیر کفو سے بے رضا عصبہ کرے باطل ہے او راگر ماں یا ماموں نے بطور خود بے اذن دختر کیا تو یہ وہ عقد فضولی ہوگا جسے نافذکرنے والا کوئی نہیں کہ اختیار تنفیذ عورت کو ہوتا ہے وہ خود ایسے نکاح پر
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
قادر نہیں اور ہر عقد فضولی کہ وقت وقوع جس کا کوئی منفذ نہ ہو باطل ہے ولی عصبہ بھی اپنی رضاشامل کرکے اسے صحیح نہیں کرسکتا یہاں رضائے ولی قبل عقد لازم ہے بعدعقدلغو وبیکار ہے
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔ فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ بحر فی الدر من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقداصلا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونے کا فتوی ہے زمانہ فساد کی وجہ سے یہی مختارہے ردالمحتار میں ہے کہ اگر لڑکی کا ولی نکاح سے قبل اس نکاح پر راضی نہ تھا تو بعد کی رضا مفید نہیں بحر۔ درمیں فضولی کی فصل میں ہے کہ فضولی کاہر ایسا تصرف کہ اس کے صدور کے وقت کوئی اس کو جائز کرنے پر قدرت رکھنے والا موجود ہو توفضولی کا وہ تصرف موقوف ہونے کی حد تك جائز ہوگا جیساکہ بیع نکاح دینا طلاق وغیرہ اور اگر کوئی اس وقت جائز کرنے والا موجود نہ ہو تو یہ تصرف قطعا منعقد نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۰ : از ستار گنج ۲ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی دختر کی منگنی کرکے زوجہ اور دختر چھوڑ کر فوت ہوا ایك دن والدہ کی غیبت میں اس لڑکی بالغہ کو چند شخصوں نے زبردستی ایك گھر میں کردیا والدہ نے کچہری میں دعوی کیا ادھر کا جواب یہ ہے کہ متوفی کا ایك بھائی جودوسرے باپ سے تھا اس نے بلااجازت دختر ووالدہ دختر کے نکاح کردیا پس اس صورت میں ولایت نکاح ماں کو ہے یا نہیں اور کس کس رشتے دار کو ماں کے سامنے اجازت ولایت ہے جس نے زبردستی اس لڑکی کو گھر میں رکھا ہے اس نے لڑکی کی والدہ کا دودھ پیاہے بینوا تو جروا
الجواب :
بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں ولی نکاح ہر عصبہ ہے یعنی نزدیك یادور کے دادا پرداد کے اولاد میں
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔ فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ بحر فی الدر من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقداصلا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونے کا فتوی ہے زمانہ فساد کی وجہ سے یہی مختارہے ردالمحتار میں ہے کہ اگر لڑکی کا ولی نکاح سے قبل اس نکاح پر راضی نہ تھا تو بعد کی رضا مفید نہیں بحر۔ درمیں فضولی کی فصل میں ہے کہ فضولی کاہر ایسا تصرف کہ اس کے صدور کے وقت کوئی اس کو جائز کرنے پر قدرت رکھنے والا موجود ہو توفضولی کا وہ تصرف موقوف ہونے کی حد تك جائز ہوگا جیساکہ بیع نکاح دینا طلاق وغیرہ اور اگر کوئی اس وقت جائز کرنے والا موجود نہ ہو تو یہ تصرف قطعا منعقد نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۰ : از ستار گنج ۲ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی دختر کی منگنی کرکے زوجہ اور دختر چھوڑ کر فوت ہوا ایك دن والدہ کی غیبت میں اس لڑکی بالغہ کو چند شخصوں نے زبردستی ایك گھر میں کردیا والدہ نے کچہری میں دعوی کیا ادھر کا جواب یہ ہے کہ متوفی کا ایك بھائی جودوسرے باپ سے تھا اس نے بلااجازت دختر ووالدہ دختر کے نکاح کردیا پس اس صورت میں ولایت نکاح ماں کو ہے یا نہیں اور کس کس رشتے دار کو ماں کے سامنے اجازت ولایت ہے جس نے زبردستی اس لڑکی کو گھر میں رکھا ہے اس نے لڑکی کی والدہ کا دودھ پیاہے بینوا تو جروا
الجواب :
بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں ولی نکاح ہر عصبہ ہے یعنی نزدیك یادور کے دادا پرداد کے اولاد میں
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۱
جو مرد عاقل بالغ ہو رشتے میں سگا ہو یا سوتیلا مثلا عورت کے پردادا کے سوتیلے پردادا کی نسل میں پر پوتے کا پوتا جب تك ان میں سے کوئی شخص عاقل بالغ موجود ہو ماں کو اصلا ولایت نہیں اور بعد بلوغ تو ماں کو ولایت سے کوئی تعلق ہی نہیں خواہ عصبہ موجود ہو یا نہ ہو
لان حق الاولیاء بعد ذلك انما ھو فی الاعتراض ان نکحت غیر کفو اوبغبن فاحش فی مھر المثل وابطال النکاح بغیر الکفو اذالم یرض الولی بہ قبل العقد صریحا مع العلم بعدم الکفائۃ وذلك انما ھو فی حق العصبۃ لاغیر کما نص علیہ فی الدر وغیرہ۔
کیونکہ اس کے بعد اولیاء کا حق اعتراض صر ف اس صور ت میں ہے جب لڑکی نے غیر کفو اور انتہائی کم مہر پر نکاح کیا ہو یا جب نکاح سے قبل ولی کو غیر کفو ہونے کا علم ہوا تو صراحتا اس نے اپنی عدم رضا کا اظہار کردیا ہو تو اس کا نکاح باطل کرنے کا حق ہے اورحق اعتراض بھی صرف اولیاء عصبہ کو حاصل ہے کسی دوسرے کونہیں جیساکہ در وغیرہ میں اس پر تصریح ہے(ت)
دودھ شریك بھائی سے نکاح نہ ہوسکنا خود ظاہر ہے مگر الزام اس حالت میں ہے جب انھیں دودھ شریك ہونامعلوم ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۱ : از کانپور محلہ فراش خانہ عقب آبکاری سڑك جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن عطار مرسلہ سعید الحسن صاحب ۱۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے ایك بیٹی مسماۃ رضیہ شوہر متوفی سے ہے جب رضیہ کی عمر آٹھ برس دو مہینے کی تھی ہندہ نے رضیہ کا عقد بزمانہ نابالغی ساتھ خالد کے کردیا لیکن بوجہ نابالغی رضیہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رخصت ہوئی بدستور اپنی ماں کے ساتھ رہی اب زمانہ عقد کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزرا اور رضیہ بھی اب ہوشیار وبالغ ہوئی اس درمیان خالد نے ایك دوسری عور ت کو رکھ لیا جس سے اطفال بھی پیدا ہوئے خالد کی وضع اور اطوار وچال چلن ہندہ ورضیہ کو تمام تر ناگوار ہیں اور تعلق ہونا خالد سے نہیں چاہتی کمال درجہ نفرت وانکار رکھتی ہے اور خلع چاہتی ہے بحکم شرع شریف مسماۃرضیہ کو کیا کرنا چاہئے جس سے اس کو خالد سے قطع تعلق ہوجائے اور عقد فضولی یہ عقد نابالغی کا قرار پائے گا یا نہیں اور تعمیل حکم خلع کا کس طریقہ سے کیا جائے گااور مدت نابالغی ازروئے شرع شریف ہندوستان میں علی الخصوص ممالك مغرب شمال کے لئے کس سنہ وسال کی مقدار سے ہے بینوا تو جروا
لان حق الاولیاء بعد ذلك انما ھو فی الاعتراض ان نکحت غیر کفو اوبغبن فاحش فی مھر المثل وابطال النکاح بغیر الکفو اذالم یرض الولی بہ قبل العقد صریحا مع العلم بعدم الکفائۃ وذلك انما ھو فی حق العصبۃ لاغیر کما نص علیہ فی الدر وغیرہ۔
کیونکہ اس کے بعد اولیاء کا حق اعتراض صر ف اس صور ت میں ہے جب لڑکی نے غیر کفو اور انتہائی کم مہر پر نکاح کیا ہو یا جب نکاح سے قبل ولی کو غیر کفو ہونے کا علم ہوا تو صراحتا اس نے اپنی عدم رضا کا اظہار کردیا ہو تو اس کا نکاح باطل کرنے کا حق ہے اورحق اعتراض بھی صرف اولیاء عصبہ کو حاصل ہے کسی دوسرے کونہیں جیساکہ در وغیرہ میں اس پر تصریح ہے(ت)
دودھ شریك بھائی سے نکاح نہ ہوسکنا خود ظاہر ہے مگر الزام اس حالت میں ہے جب انھیں دودھ شریك ہونامعلوم ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۱ : از کانپور محلہ فراش خانہ عقب آبکاری سڑك جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن عطار مرسلہ سعید الحسن صاحب ۱۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے ایك بیٹی مسماۃ رضیہ شوہر متوفی سے ہے جب رضیہ کی عمر آٹھ برس دو مہینے کی تھی ہندہ نے رضیہ کا عقد بزمانہ نابالغی ساتھ خالد کے کردیا لیکن بوجہ نابالغی رضیہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رخصت ہوئی بدستور اپنی ماں کے ساتھ رہی اب زمانہ عقد کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزرا اور رضیہ بھی اب ہوشیار وبالغ ہوئی اس درمیان خالد نے ایك دوسری عور ت کو رکھ لیا جس سے اطفال بھی پیدا ہوئے خالد کی وضع اور اطوار وچال چلن ہندہ ورضیہ کو تمام تر ناگوار ہیں اور تعلق ہونا خالد سے نہیں چاہتی کمال درجہ نفرت وانکار رکھتی ہے اور خلع چاہتی ہے بحکم شرع شریف مسماۃرضیہ کو کیا کرنا چاہئے جس سے اس کو خالد سے قطع تعلق ہوجائے اور عقد فضولی یہ عقد نابالغی کا قرار پائے گا یا نہیں اور تعمیل حکم خلع کا کس طریقہ سے کیا جائے گااور مدت نابالغی ازروئے شرع شریف ہندوستان میں علی الخصوص ممالك مغرب شمال کے لئے کس سنہ وسال کی مقدار سے ہے بینوا تو جروا
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲۔ ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲۔ ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲۔ ۱۹۱
الجواب :
صورت مسئولہ میں اگر خالد رضیہ کا کفو نہیں یعنی مذہب یا نسب یاپیشے وغیرہ میں ایسا کم ہے کہ اس کے ساتھ رضیہ کا عقد ہونا اولیائے رضیہ کے لئے موجب ننگ وعار ہو جب تویہ نکاح سرے سے نہ ہوا مگر یہ نکاح کرنے والا رضیہ کا داداہو جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کسی نابالغ کا نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو یہ نکاح ا س کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح اس نے اپنی ولایت کی حالت میں نافذ کردیا جائزرکھا تو نکاح صحیح ولازم ہے کہ بعد بلوغ رضیہ کی ناراضی بھی اسے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتی اور اگر خالدرضیہ کا کفو بمعنی مذکور ہے مگر رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ مثلا عاقل بالغ بھائی یا بھتیجا یا چچا یا چچا کا بیٹا غرض دادا کی اولاد سے کوئی مرد موجود تھا اور ماں نے بغیر اس کے اذن کے نکاح کردیا تو تین صورتیں ہیں اگر اس ولی نے نکاح کی اطلاع پاکر اپنی حالت ولایت میں رد کردیا تھا تو اس صور ت میں بھی وہ نکاح باطل ہوگیا کہ اب رضیہ کی رضابھی اسے نافذ نہیں کر سکتی اور اگر سن کر اب تك ساکت رہا نہ رد کیا نہ جائز رکھا تو وہ نکاح نکاح فضولی اور اجازت ولی پر موقوف تھا جب رضیہ بالغ ہوئی وہ اجازت خو د اس کی طرف منتقل ہوآئی اب اسے اختیارہے چاہے جائز کردے جائز ہوجائے گا چاہے رد کردے مثلا کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کردیا میں اس نکاح پر راضی نہیں یا مجھے یہ نکاح نا منظورہے صر ف اتنے کہنے سے رد ہوجائے گا زیادہ کسی امر کی حاجت نہیں اوریہ اختیار رضیہ کو ہمیشہ رہے گا جب تك نکاح کوجائز نہ کردے کہ اس کے بعد پھر اختیار رد نہیں ر ہتا اور اگر نکاح مذکور ولی غیر جد نے سن کر جائز کردیا یا ابتداء نکاح ماں نے بے اذن ولی مذکور کیایا رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ تھا ہی نہیں خود ماں ولی تھی جس نے نکاح کردیا ان سب صورتوں میں وہ نکاح صحیح ونافذ ہوگیا مگر از انجا کہ نکاح کنندہ غیر اب وجد اوررضیہ دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار ملا کہ معا بالغ ہوتے ہی فورا فورا اس نکاح کو فسخ چاہے توفسخ کردیا جائے گا اگر بعد بلوغ ذرادیر گزری اور اس نے فسخ کا ارادہ ظاہر نہ کیا تو نکاح تام ولازم ہوگیا کہ اب اس کی رضاو عدم رضا کچھ دخل نہ رہا ا س صورت اخیرہ اور نیز ا س صورت سابقہ میں جبکہ نکاح دادا کے کردینے سے لازم ہوچکا ہو رضیہ اگر جدائی چاہے تو اس کے ہاتھ کوئی ذریعہ سواخلع چاہنے کے نہیں بہ عوض مہر خواہ اور مال کے جس پر شوہر راضی ہو شوہر سے طلاق مانگے اگر وہ دے دے گا قطع تعلق ہوجائے گا ورنہ صبر لازم ہے فتح القدیر میں ہے :
الصبی اذاباع اواشتری اوتزوج یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلو بلغ قبل ان یجیزہ الولی فاجاز بنفسہ نفذ لانھا کانت
بچے نے جب خرید وفروخت یا نکاح کرلیا تو یہ امور ولی کی اجازت پر موقوف ہوں گے اور اگر اس ولی نے بچے کے بلوغ سے قبل اجازت نہ دی ہو تولڑکا اپنے بلوغ کے بعد ان امور کو نافذ کرسکتاہے کیونکہ
صورت مسئولہ میں اگر خالد رضیہ کا کفو نہیں یعنی مذہب یا نسب یاپیشے وغیرہ میں ایسا کم ہے کہ اس کے ساتھ رضیہ کا عقد ہونا اولیائے رضیہ کے لئے موجب ننگ وعار ہو جب تویہ نکاح سرے سے نہ ہوا مگر یہ نکاح کرنے والا رضیہ کا داداہو جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کسی نابالغ کا نکاح غیر کفو سے نہ کرچکا ہو یہ نکاح ا س کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح اس نے اپنی ولایت کی حالت میں نافذ کردیا جائزرکھا تو نکاح صحیح ولازم ہے کہ بعد بلوغ رضیہ کی ناراضی بھی اسے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتی اور اگر خالدرضیہ کا کفو بمعنی مذکور ہے مگر رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ مثلا عاقل بالغ بھائی یا بھتیجا یا چچا یا چچا کا بیٹا غرض دادا کی اولاد سے کوئی مرد موجود تھا اور ماں نے بغیر اس کے اذن کے نکاح کردیا تو تین صورتیں ہیں اگر اس ولی نے نکاح کی اطلاع پاکر اپنی حالت ولایت میں رد کردیا تھا تو اس صور ت میں بھی وہ نکاح باطل ہوگیا کہ اب رضیہ کی رضابھی اسے نافذ نہیں کر سکتی اور اگر سن کر اب تك ساکت رہا نہ رد کیا نہ جائز رکھا تو وہ نکاح نکاح فضولی اور اجازت ولی پر موقوف تھا جب رضیہ بالغ ہوئی وہ اجازت خو د اس کی طرف منتقل ہوآئی اب اسے اختیارہے چاہے جائز کردے جائز ہوجائے گا چاہے رد کردے مثلا کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کردیا میں اس نکاح پر راضی نہیں یا مجھے یہ نکاح نا منظورہے صر ف اتنے کہنے سے رد ہوجائے گا زیادہ کسی امر کی حاجت نہیں اوریہ اختیار رضیہ کو ہمیشہ رہے گا جب تك نکاح کوجائز نہ کردے کہ اس کے بعد پھر اختیار رد نہیں ر ہتا اور اگر نکاح مذکور ولی غیر جد نے سن کر جائز کردیا یا ابتداء نکاح ماں نے بے اذن ولی مذکور کیایا رضیہ کے لئے کوئی ولی عصبہ تھا ہی نہیں خود ماں ولی تھی جس نے نکاح کردیا ان سب صورتوں میں وہ نکاح صحیح ونافذ ہوگیا مگر از انجا کہ نکاح کنندہ غیر اب وجد اوررضیہ دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار ملا کہ معا بالغ ہوتے ہی فورا فورا اس نکاح کو فسخ چاہے توفسخ کردیا جائے گا اگر بعد بلوغ ذرادیر گزری اور اس نے فسخ کا ارادہ ظاہر نہ کیا تو نکاح تام ولازم ہوگیا کہ اب اس کی رضاو عدم رضا کچھ دخل نہ رہا ا س صورت اخیرہ اور نیز ا س صورت سابقہ میں جبکہ نکاح دادا کے کردینے سے لازم ہوچکا ہو رضیہ اگر جدائی چاہے تو اس کے ہاتھ کوئی ذریعہ سواخلع چاہنے کے نہیں بہ عوض مہر خواہ اور مال کے جس پر شوہر راضی ہو شوہر سے طلاق مانگے اگر وہ دے دے گا قطع تعلق ہوجائے گا ورنہ صبر لازم ہے فتح القدیر میں ہے :
الصبی اذاباع اواشتری اوتزوج یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلو بلغ قبل ان یجیزہ الولی فاجاز بنفسہ نفذ لانھا کانت
بچے نے جب خرید وفروخت یا نکاح کرلیا تو یہ امور ولی کی اجازت پر موقوف ہوں گے اور اگر اس ولی نے بچے کے بلوغ سے قبل اجازت نہ دی ہو تولڑکا اپنے بلوغ کے بعد ان امور کو نافذ کرسکتاہے کیونکہ
متوقفۃ ولاتنفذ بمجرد بلوغہ اھ مختصرا وفی تنویر الابصار بطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی المجلس وان جہلت بہ وباقی المسائل مشہورۃ وفی الکتب مذکورۃ۔
موقوف تھے اس لئے صرف لڑکے کے بلوغ سے نافذنہ ہوں گے اھ مختصرا۔ اور تنویر الابصار میں ہے باکرہ بالغہ اگر اپنے نکاح کا علم ہوجانے پر خاموش رہے تو ا سکا حق فسخ باطل ہوجاتاہے او رجس مجلس میں علم ہوا اس مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ میں جاہل ہو باقی مسائل مشہور اور کتب میں مذکور ہیں (ت)
نابالغی کی حد پندرہ سال کی عمر تك ہے اس مدت سے پہلے اگر دختر کو نو بر س یاپسر کو بارہ برس کی عمر کے بعد آثار بلوغ مثل احتلام و حیض ظاہر ہوگئے تو اس وقت سے حکم بلوغ ہوجائے گا ورنہ پندرہ برس کی عمر پوری ہونے پرلڑکا لڑکی دونوں مطلقابالغ سمجھےجائیں گے اگرچہ کوئی علامت بلوغ ظاہر نہ ہو بہ یفتی کما فی الدرالمختار وغیرہ لقصر زماننا(اور اس پر فتوی ہے جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے کیونکہ ہمارے زمانے کی عمریں کم ہیں ت)
مسئلہ ۳۵۲ : ا زاحمد آباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ۱ربیع الاول ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کی منگنی کرنے کے لئے سفر سے دوسرے شخص پرلکھا کہ میری لڑکی کی منگنی فلاں لڑکے کے ہمراہ کرنا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں یہاں اس شخص نے جس کوفقط منگنی کی اجازت دی گئی تھی خود ولی ہوکر بعد منگنی کے نکاح بھی کردیا اس کے والد کو خبر ہوئی کہ لڑکی کا نکاح جس کو منگنی کا اختیار دیا تھا کردیااس سے یہ شخص خوش ہوا اور اس کے پڑھائے ہوئے نکاح پر انکار نہ کیا اب یہ نکاح عند الشرع منعقد ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
منگنی کی اجازت نکاح کی اجازت نہ تھی
فان ھذا عقد وذاك وعد وقد یفعل الوعد لینتظر لخاطب ثم ینظر
کیونکہ نکاح عقد ہے اور منگنی صرف وعدہ ہے جبکہ وعدہ کبھی اس لئے کرلیا جاتا تاکہ منگنی کرنے والے کا
موقوف تھے اس لئے صرف لڑکے کے بلوغ سے نافذنہ ہوں گے اھ مختصرا۔ اور تنویر الابصار میں ہے باکرہ بالغہ اگر اپنے نکاح کا علم ہوجانے پر خاموش رہے تو ا سکا حق فسخ باطل ہوجاتاہے او رجس مجلس میں علم ہوا اس مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ میں جاہل ہو باقی مسائل مشہور اور کتب میں مذکور ہیں (ت)
نابالغی کی حد پندرہ سال کی عمر تك ہے اس مدت سے پہلے اگر دختر کو نو بر س یاپسر کو بارہ برس کی عمر کے بعد آثار بلوغ مثل احتلام و حیض ظاہر ہوگئے تو اس وقت سے حکم بلوغ ہوجائے گا ورنہ پندرہ برس کی عمر پوری ہونے پرلڑکا لڑکی دونوں مطلقابالغ سمجھےجائیں گے اگرچہ کوئی علامت بلوغ ظاہر نہ ہو بہ یفتی کما فی الدرالمختار وغیرہ لقصر زماننا(اور اس پر فتوی ہے جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے کیونکہ ہمارے زمانے کی عمریں کم ہیں ت)
مسئلہ ۳۵۲ : ا زاحمد آباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ۱ربیع الاول ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کی منگنی کرنے کے لئے سفر سے دوسرے شخص پرلکھا کہ میری لڑکی کی منگنی فلاں لڑکے کے ہمراہ کرنا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں یہاں اس شخص نے جس کوفقط منگنی کی اجازت دی گئی تھی خود ولی ہوکر بعد منگنی کے نکاح بھی کردیا اس کے والد کو خبر ہوئی کہ لڑکی کا نکاح جس کو منگنی کا اختیار دیا تھا کردیااس سے یہ شخص خوش ہوا اور اس کے پڑھائے ہوئے نکاح پر انکار نہ کیا اب یہ نکاح عند الشرع منعقد ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
منگنی کی اجازت نکاح کی اجازت نہ تھی
فان ھذا عقد وذاك وعد وقد یفعل الوعد لینتظر لخاطب ثم ینظر
کیونکہ نکاح عقد ہے اور منگنی صرف وعدہ ہے جبکہ وعدہ کبھی اس لئے کرلیا جاتا تاکہ منگنی کرنے والے کا
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۸
درمختار شرح تنویر الابصار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار کتاب الحج فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
درمختار شرح تنویر الابصار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
درمختار کتاب الحج فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
ویتأتی فیہ فان وافق اجیب والامنع فلایکون الرضا بالوعد رضا بالعقد وھذا ظاھر جدا۔
جائز ہ لیا جائے اور غور کیا جائے اور تاخیر کی جاتی ہے تاکہ وہ موافق ہو تو منگنی قبول کی جائے ورنہ انکار کیا جائے لہذا وعدہ پر رضا کو عقد نکاح پر رضا مندی نہیں قرار دیاجا سکتا یہ معاملہ ظاہر ہے۔ (ت)
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا بعد سماع خبر اگر ولی نے قولا یا فعلا اس کی تنفیذ ظاہر کی نافذ ہوگیا صرف دل میں خوش ہونا اور زبان سے انکار کافی نہیں لانہ سکوت والساکت لاینسب الیہ قول(کیونکہ یہ سکوت ہے اور ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوسکتا۔ ت) درمختارمیں ہے :
قبض ولی لہ الاعتراض المھر ونحوہ مما یدل علی الرضی دلالۃ لاسکوتہ مالم تلد اھ مختصرا۔
لڑکی کے ولی کو مہر پر اعتراض تھا اس کے باوجود اس نے مہر وصول کیا اور ایسا کام کیا جس کورضا پر دال قرار دیا جاسکتا ہے تو دلالۃ رضا ہوگی محض سکوت رضانہ قرار پائے گا جب تك لڑکی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوجائے اھ مختصرا۔ (ت)
پس اگر واقع اسی قدر ہے تونکاح بدستور ا س کی اجازت پر موقوف ہے باطل کردے خواہ نافذ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۳ : ۲۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ نے اپنا عقد ایك شریف اپنےخاندانی سے کرلیا ا س پر عمر وبکر وخالد نے اسے اور اس کی ماں اور شوہر کو برادری سے نکال دیا اور ایذادی اس میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
اگر ہندہ نے عقد ثانی بعد عدت گزرنے کے کیااور شوہر دوم بد مذہب نہیں جس سے نکاح باطل یا گناہ ہو اور ہندہ اگر کوئی عصبہ اپنا ولی رکھتی ہے تو شوہر دوم اس کا کفو ہوگا یاا گر کفو نہیں اور ولی نے دیدہ ودانستہ پیش از نکاح صریح اجازت دے دی ہو تو ان صورتوں میں ہندہ اور اس کی ماں اور شوہر پر کچھ الزام نہیں خالد وعمر وبکر صرف بوجہ نکاح ثانی انھیں ایذا دیتے ہیں ظالم وگنہگار اور حق العبد میں گرفتار ہیں ان پر توبہ فرض ہے اگر نہ کریں تو خود یہی لوگ برادری سے نکال دینے کے قابل ہیں جو لوگ ان خالد وعمر وبکر کا ساتھ دیں گے وہ بھی مستحق عذاب ہوں گے الله تعالی فرماتا ہے
جائز ہ لیا جائے اور غور کیا جائے اور تاخیر کی جاتی ہے تاکہ وہ موافق ہو تو منگنی قبول کی جائے ورنہ انکار کیا جائے لہذا وعدہ پر رضا کو عقد نکاح پر رضا مندی نہیں قرار دیاجا سکتا یہ معاملہ ظاہر ہے۔ (ت)
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا بعد سماع خبر اگر ولی نے قولا یا فعلا اس کی تنفیذ ظاہر کی نافذ ہوگیا صرف دل میں خوش ہونا اور زبان سے انکار کافی نہیں لانہ سکوت والساکت لاینسب الیہ قول(کیونکہ یہ سکوت ہے اور ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوسکتا۔ ت) درمختارمیں ہے :
قبض ولی لہ الاعتراض المھر ونحوہ مما یدل علی الرضی دلالۃ لاسکوتہ مالم تلد اھ مختصرا۔
لڑکی کے ولی کو مہر پر اعتراض تھا اس کے باوجود اس نے مہر وصول کیا اور ایسا کام کیا جس کورضا پر دال قرار دیا جاسکتا ہے تو دلالۃ رضا ہوگی محض سکوت رضانہ قرار پائے گا جب تك لڑکی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوجائے اھ مختصرا۔ (ت)
پس اگر واقع اسی قدر ہے تونکاح بدستور ا س کی اجازت پر موقوف ہے باطل کردے خواہ نافذ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۳ : ۲۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ نے اپنا عقد ایك شریف اپنےخاندانی سے کرلیا ا س پر عمر وبکر وخالد نے اسے اور اس کی ماں اور شوہر کو برادری سے نکال دیا اور ایذادی اس میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
اگر ہندہ نے عقد ثانی بعد عدت گزرنے کے کیااور شوہر دوم بد مذہب نہیں جس سے نکاح باطل یا گناہ ہو اور ہندہ اگر کوئی عصبہ اپنا ولی رکھتی ہے تو شوہر دوم اس کا کفو ہوگا یاا گر کفو نہیں اور ولی نے دیدہ ودانستہ پیش از نکاح صریح اجازت دے دی ہو تو ان صورتوں میں ہندہ اور اس کی ماں اور شوہر پر کچھ الزام نہیں خالد وعمر وبکر صرف بوجہ نکاح ثانی انھیں ایذا دیتے ہیں ظالم وگنہگار اور حق العبد میں گرفتار ہیں ان پر توبہ فرض ہے اگر نہ کریں تو خود یہی لوگ برادری سے نکال دینے کے قابل ہیں جو لوگ ان خالد وعمر وبکر کا ساتھ دیں گے وہ بھی مستحق عذاب ہوں گے الله تعالی فرماتا ہے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪-
گناہ اور زیادتی میں باہم مدد نہ کرو۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ستایا اس نے مجھے ایذا دی ا ور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله تعالی کو ایذا دی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۴ : ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی دس برس کی ہے ماں نانی چچا میں سے کس کو اس کے نکاح کا اختیار ہے اور دختر کا ایك بھائی بھی دوازدہ سالہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
چچا کو ہے اگر بھائی نابالغ ہو ورنہ بھائی کو بار ہ برس کی عمر میں بلوغ ممکن ہے اگر وہ دعوی بلوغ کرے مانا جائے گا کما فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۵ : مسئولہ کرم الدین صاحب ساکن جلالپور جٹاں محلہ ساہدوان ضلع گجرات ملك پنجاب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے اسلام مبین اس صورت میں کہ خالد نے اپنی لڑکی نابالغہ جس کی عمر اندازی دس یاگیارہ برس کی تھی رحیم بخش بالغ کے ساتھ نکاح پڑھادیا اب بوجہ کوئی فساد کے دختر بالغہ مذکور چاہتی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے آیا شرعا ممکن ہے کہ عقد مذکور باختیار دختر موصوفہ فسخ ہوجائے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
باپ دادا جو نکاح نابالغہ کا کردیں وہ لازم ہوجاتاہے۔ لڑکی بعد بلوغ کے خواہ کوئی اور اسے فسخ نہیں کرسکتا مگر صرف دو تین صورتیں ہیں کہ جس کی اس وقت تفصیل کی حاجت نہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل(جو اپنے زمانے کے عرف سے ناواقف ہے وہ جاہل ہے۔ ت)مستفتی صاحب کو چاہئے کہ مفصل کیفیت سے مطلع کریں کہ وہ کیا فساد ہے جس کے سبب اب عورت فسخ چاہتی ہے اور اس فساد پر
گناہ اور زیادتی میں باہم مدد نہ کرو۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ستایا اس نے مجھے ایذا دی ا ور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله تعالی کو ایذا دی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۴ : ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی دس برس کی ہے ماں نانی چچا میں سے کس کو اس کے نکاح کا اختیار ہے اور دختر کا ایك بھائی بھی دوازدہ سالہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
چچا کو ہے اگر بھائی نابالغ ہو ورنہ بھائی کو بار ہ برس کی عمر میں بلوغ ممکن ہے اگر وہ دعوی بلوغ کرے مانا جائے گا کما فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۵ : مسئولہ کرم الدین صاحب ساکن جلالپور جٹاں محلہ ساہدوان ضلع گجرات ملك پنجاب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے اسلام مبین اس صورت میں کہ خالد نے اپنی لڑکی نابالغہ جس کی عمر اندازی دس یاگیارہ برس کی تھی رحیم بخش بالغ کے ساتھ نکاح پڑھادیا اب بوجہ کوئی فساد کے دختر بالغہ مذکور چاہتی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے آیا شرعا ممکن ہے کہ عقد مذکور باختیار دختر موصوفہ فسخ ہوجائے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
باپ دادا جو نکاح نابالغہ کا کردیں وہ لازم ہوجاتاہے۔ لڑکی بعد بلوغ کے خواہ کوئی اور اسے فسخ نہیں کرسکتا مگر صرف دو تین صورتیں ہیں کہ جس کی اس وقت تفصیل کی حاجت نہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل(جو اپنے زمانے کے عرف سے ناواقف ہے وہ جاہل ہے۔ ت)مستفتی صاحب کو چاہئے کہ مفصل کیفیت سے مطلع کریں کہ وہ کیا فساد ہے جس کے سبب اب عورت فسخ چاہتی ہے اور اس فساد پر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲
کنزالعمال بحوالہ طب عن انس حدیث ۴۳۷۰۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۱۰ ، الترغیب والترھیب الترھیب من تخطی الرقاب یوم الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۴
کنزالعمال بحوالہ طب عن انس حدیث ۴۳۷۰۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ / ۱۰ ، الترغیب والترھیب الترھیب من تخطی الرقاب یوم الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۴
کب اطلاع ہوئی اورباپ بھی وقت نکاح اس پر مطلع تھا یا نہیں وہ فساد بعد نکاح حادث ہوا یا پہلے سے تھا غرض سب حال بتفصیل تام بیان کیا جائے تو جواب دیا جائے درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولوبغبن اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابااوجدا الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح لازم ہوجائے گا جب نکاح دینے والا خود باپ یادادا ہواگرچہ انتہائی کم مہر سے یا غیر کفو میں ہو الخ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۵۶ : مسئولہ شاہ معین احمد صاحب از ڈاك خانہ نگر اسٹیشن فتوحہ ضلع پٹنہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زینب کی کل ایك اولاد ہے یعنی ہندہ دختر بالغہ ہے ہندہ کے باپ نے قضا کیا زید ہندہ کا بھائی ہے زینب ہندہ کی ماں اور زید برادر علاتی نے ہندہ کی نسبت خالد بن بکر ساکن فلاں جگہ سے مقرر وپختہ پزکیا اس کی خبر ہندہ کو بخوبی ہوگئی اس طرح سے کہ ہندہ اسی مکان میں رہتی تھی اور اس کے سامنے نسبت کی گفتگو ہوئی اور اس پر ثابت ہوگیا کہ میری نسبت فلاں جگہ فلاں شخص سے ہے گو اس سے خاص کر کسی نے نہ کہا اور پوچھا نہیں اس کے بعد رقعہ تقرری تاریخ آمد برات کا خالد بن بکر کے یہاں سے آیا اس کی اطلاع بھی ہندہ کوہوئی چنانچہ اس روز وہ سنواری بھی گئی اور جومراسم کہ قبل نکاح اس طرف رائج ہیں مثلا مانجہ وغیرہ میں بیٹھنا اس سب کو اس نے انجام دیااور کسی طرح کی نارضامندی نہیں ظاہر کیا یہاں تك کہ تاریخ مقررہ پر برات آئی اوراحباب واقر با اندر باہر جمع ہوئے اس کی اطلاع بھی ہندہ کو ہوئی اس وقت بھی ہندہ نے کسی طرح نارضامندی ظاہر نہیں کی زید اور برادر علاتی نے چند شخصوں کے سامنے عمرو کو وکیل بالنکاح مقرر کیا اور عمرو نے جہاں برات کا قیام تھا وہاں جاکر سب لوگوں کے سامنے خالد بن بکر سے ہندہ کا نکاح مہر مثل پر کرادیا مگر اس کی اطلاع ہندہ کو عمرو وکیل نے یازید برادر علاتی نے نہیں دیا بلکہ عورتوں میں کہہ دیا گیا کہ نکاح ہوگیا ____ اور یہ بات مشتہر ہوگئی کہ نکاح ہوگیا اس کے بعد جو جومراسم شادی اس طرف رائج ہیں ان سب کو ہندہ نے بخوبی ادا کیا اور کسی طرح کی ناراضامندی نہیں ظاہرکیا یہاں تك کہ رخصتی بھی ہوئی او رنوبت استراحت کی بھی آئی ان تمام متذکرہ بالا زمانہ میں کبھی ہندہ نے اپنی نارضامندی ظاہر نہیں کی اور نہ اس وقت تك کسی طرح کی نارضامندی ظاہر کرتی ہے تویہ نکاح صحیح ہوا یا کسی طرح کا شبہہ یا نقص رہ گیا یہ شبہہ صرف اس وجہ سے پید ا ہے کہ ہندہ بکر بالغہ تھی اس سے قبل نکاح زید برادر علاتی یا کسی شخص نے صراحۃ استمزاج نہیں لیا اورنہ بعد نکاح صراحۃ اس کو خبر دیا گو اس کو خارجی طریقہ سے سب باتیں معلوم تھیں او ر معلوم ہوئی اور نہ اس وقت تك اپنی رضامندی ظاہر کرتی ہے
لزم النکاح ولوبغبن اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابااوجدا الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح لازم ہوجائے گا جب نکاح دینے والا خود باپ یادادا ہواگرچہ انتہائی کم مہر سے یا غیر کفو میں ہو الخ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۵۶ : مسئولہ شاہ معین احمد صاحب از ڈاك خانہ نگر اسٹیشن فتوحہ ضلع پٹنہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زینب کی کل ایك اولاد ہے یعنی ہندہ دختر بالغہ ہے ہندہ کے باپ نے قضا کیا زید ہندہ کا بھائی ہے زینب ہندہ کی ماں اور زید برادر علاتی نے ہندہ کی نسبت خالد بن بکر ساکن فلاں جگہ سے مقرر وپختہ پزکیا اس کی خبر ہندہ کو بخوبی ہوگئی اس طرح سے کہ ہندہ اسی مکان میں رہتی تھی اور اس کے سامنے نسبت کی گفتگو ہوئی اور اس پر ثابت ہوگیا کہ میری نسبت فلاں جگہ فلاں شخص سے ہے گو اس سے خاص کر کسی نے نہ کہا اور پوچھا نہیں اس کے بعد رقعہ تقرری تاریخ آمد برات کا خالد بن بکر کے یہاں سے آیا اس کی اطلاع بھی ہندہ کوہوئی چنانچہ اس روز وہ سنواری بھی گئی اور جومراسم کہ قبل نکاح اس طرف رائج ہیں مثلا مانجہ وغیرہ میں بیٹھنا اس سب کو اس نے انجام دیااور کسی طرح کی نارضامندی نہیں ظاہر کیا یہاں تك کہ تاریخ مقررہ پر برات آئی اوراحباب واقر با اندر باہر جمع ہوئے اس کی اطلاع بھی ہندہ کو ہوئی اس وقت بھی ہندہ نے کسی طرح نارضامندی ظاہر نہیں کی زید اور برادر علاتی نے چند شخصوں کے سامنے عمرو کو وکیل بالنکاح مقرر کیا اور عمرو نے جہاں برات کا قیام تھا وہاں جاکر سب لوگوں کے سامنے خالد بن بکر سے ہندہ کا نکاح مہر مثل پر کرادیا مگر اس کی اطلاع ہندہ کو عمرو وکیل نے یازید برادر علاتی نے نہیں دیا بلکہ عورتوں میں کہہ دیا گیا کہ نکاح ہوگیا ____ اور یہ بات مشتہر ہوگئی کہ نکاح ہوگیا اس کے بعد جو جومراسم شادی اس طرف رائج ہیں ان سب کو ہندہ نے بخوبی ادا کیا اور کسی طرح کی ناراضامندی نہیں ظاہرکیا یہاں تك کہ رخصتی بھی ہوئی او رنوبت استراحت کی بھی آئی ان تمام متذکرہ بالا زمانہ میں کبھی ہندہ نے اپنی نارضامندی ظاہر نہیں کی اور نہ اس وقت تك کسی طرح کی نارضامندی ظاہر کرتی ہے تویہ نکاح صحیح ہوا یا کسی طرح کا شبہہ یا نقص رہ گیا یہ شبہہ صرف اس وجہ سے پید ا ہے کہ ہندہ بکر بالغہ تھی اس سے قبل نکاح زید برادر علاتی یا کسی شخص نے صراحۃ استمزاج نہیں لیا اورنہ بعد نکاح صراحۃ اس کو خبر دیا گو اس کو خارجی طریقہ سے سب باتیں معلوم تھیں او ر معلوم ہوئی اور نہ اس وقت تك اپنی رضامندی ظاہر کرتی ہے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
بلکہ ظاہرا خوش معلوم ہوتی ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
ا س صورت میں یہ نکاح فضولی تھا اگر خبر نکاح سن کر ہندہ نے کوئی قول یا فعل اظہار ناراضی کا نہ کیا بلکہ عادل ثقہ سے نکاح کی خبر سن کر خاموش ہی ہورہی یا خبر کسی عادل سے نہ سنی نہ ولی نے اسے اطلاع کرابھیجی تو ساکت رہی یہاں تك کہ شوہر سے برضا ہم خواب ہوئی تو نکاح نافذ وتام ہوگیا۔
فی الھندیۃ اذا مکنت الزوج من نفسھا بعد مازوجھا الولی فہورضا وفی الدرالمختار زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ اوفضولی عدل فسکتت فھواذن ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ جب بالغہ نے خاوند کو جماع کا موقعہ دے دیا تو یہ ولی کے نکاح پر اس کی رضامندی ہوگی درمختار میں ہے کہ اگر ولی نے نکاح دیا تو ولی کے قاصد نے یا کسی عادل اجنبی نے بالغہ کو اطلاع دی اور وہ اس پر خاموش رہی تو یہ رضامندی ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۵۷ : از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۴ شعبان ۱۳۲۴ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید اور اس کی زوجہ ہندہ میں جنگ باغوائے مفسدان بدکاران پیدا ہوا اور ہندہ کے بطن سے ایك لڑکی زید کی جس کا نام سعیدہ تھا اور عمر گیارہ برس گیارہ مہینے کی تھی بکر نے اپنے لڑکے خالد کی منسوب سعیدہ سے چاہا زید کو منظور نہ ہوا تب بکر نے ہندہ زوجہ کو برہم کرایا اور ہندہ نے اس قدر فساد مچایا کہ زید کو مجبوری ہوئی بمجبوری وتاکید وبخوف حکام ضلع بخیال اس کے کہ رفع جملہ فساد وقصہ ہوجائے گا اور یہ ثابت بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ عقد ہوگا تو قصہ سب دفع ہوگا صلح سے زمانہ گزرے گا اس منسوب کو منظور کیا اور سعیدہ نے اپنی لڑکی کا نکاح خالد سے بلااذن کردیا لیکن خالد و سعیدہ سے آج تك ملاقات نہ ہوئی اور نہ سعیدہ سے کسی قسم کی رضامندی لی گئی نہ سعیدہ کو سمجھا یا گیا کہ کیا ہوتاہے اور بعد نکاح کے خالد لندن چلا گیا اور بحیلہ تحصیل انگریزی وہاں فسق وفجور ولہو ولعب میں مبتلا ہوا چھ برس ہوا کہ خالد لندن میں ہے نہ پڑھتا ہے نہ آتاہے اورنہ کسی قسم کی خبر گیری یا پرسش سعیدہ کی کرتاہے زید نے بکر کو وخالد کو یعنی دونوں پدر وپسر کو لکھا کہ شادی کرلی جائے او رخالد آئے اور اپنی منکوحہ کو لے جائے مگر نہ خالد آتا ہے نہ کسی قسم کی کفالت خرچہ کی سعیدہ کی خالد یا بکر اس کے باپ کی طرف سے ہوتی ہے اور بلکہ زید سے
الجواب :
ا س صورت میں یہ نکاح فضولی تھا اگر خبر نکاح سن کر ہندہ نے کوئی قول یا فعل اظہار ناراضی کا نہ کیا بلکہ عادل ثقہ سے نکاح کی خبر سن کر خاموش ہی ہورہی یا خبر کسی عادل سے نہ سنی نہ ولی نے اسے اطلاع کرابھیجی تو ساکت رہی یہاں تك کہ شوہر سے برضا ہم خواب ہوئی تو نکاح نافذ وتام ہوگیا۔
فی الھندیۃ اذا مکنت الزوج من نفسھا بعد مازوجھا الولی فہورضا وفی الدرالمختار زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ اوفضولی عدل فسکتت فھواذن ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ جب بالغہ نے خاوند کو جماع کا موقعہ دے دیا تو یہ ولی کے نکاح پر اس کی رضامندی ہوگی درمختار میں ہے کہ اگر ولی نے نکاح دیا تو ولی کے قاصد نے یا کسی عادل اجنبی نے بالغہ کو اطلاع دی اور وہ اس پر خاموش رہی تو یہ رضامندی ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۵۷ : از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۴ شعبان ۱۳۲۴ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید اور اس کی زوجہ ہندہ میں جنگ باغوائے مفسدان بدکاران پیدا ہوا اور ہندہ کے بطن سے ایك لڑکی زید کی جس کا نام سعیدہ تھا اور عمر گیارہ برس گیارہ مہینے کی تھی بکر نے اپنے لڑکے خالد کی منسوب سعیدہ سے چاہا زید کو منظور نہ ہوا تب بکر نے ہندہ زوجہ کو برہم کرایا اور ہندہ نے اس قدر فساد مچایا کہ زید کو مجبوری ہوئی بمجبوری وتاکید وبخوف حکام ضلع بخیال اس کے کہ رفع جملہ فساد وقصہ ہوجائے گا اور یہ ثابت بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ عقد ہوگا تو قصہ سب دفع ہوگا صلح سے زمانہ گزرے گا اس منسوب کو منظور کیا اور سعیدہ نے اپنی لڑکی کا نکاح خالد سے بلااذن کردیا لیکن خالد و سعیدہ سے آج تك ملاقات نہ ہوئی اور نہ سعیدہ سے کسی قسم کی رضامندی لی گئی نہ سعیدہ کو سمجھا یا گیا کہ کیا ہوتاہے اور بعد نکاح کے خالد لندن چلا گیا اور بحیلہ تحصیل انگریزی وہاں فسق وفجور ولہو ولعب میں مبتلا ہوا چھ برس ہوا کہ خالد لندن میں ہے نہ پڑھتا ہے نہ آتاہے اورنہ کسی قسم کی خبر گیری یا پرسش سعیدہ کی کرتاہے زید نے بکر کو وخالد کو یعنی دونوں پدر وپسر کو لکھا کہ شادی کرلی جائے او رخالد آئے اور اپنی منکوحہ کو لے جائے مگر نہ خالد آتا ہے نہ کسی قسم کی کفالت خرچہ کی سعیدہ کی خالد یا بکر اس کے باپ کی طرف سے ہوتی ہے اور بلکہ زید سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
خرچہ لندن کے قیام کا طلب کیا جاتاہے ان حالتوں سے فسخ ہوگایا نہیں اور سعیدہ مجاز ہے کہ اپنے باپ کے نکاح کو جو بخوشی نہیں بلکہ محض بمجبوری وبخوف حکام وقت وتوقع رفع خر خشہ کیا تھا اور رفع بھی نہ ہوا بلکہ بعد از بسیاری جنگ کے خلع وجدائی درمیان زید وہندہ کے ہوگئی تو ایسے نکاح کو سعیدہ توڑسکتی ہے یا نہیں او رخالد کا کب تك انتظار کیا جائے گا نہ وہ آتا ہے اور نہ کسی قسم کی خبرگیری اخراجات کی بھی سعیدہ کی کرتاہے بدستور سعیدہ اپنے باپ کے گھر ماں سے بھی جدا پڑی ہے اور زید کو یہ بھی خیال ہے کہ خالد ہرگز نہیں آئے گا او رآئے گا تو بوجہ طرز معاشرت بدل جانے وصحبت غیر مذاہب کے حقوق کی تعمیل پوری پوری خالد سے ادا نہ ہوگی ایسی حالت میں شریعت کیونکر سعیدہ کو مجبور کرے گی اور باپ کے ایك لغو ومجبوری سے عمل کے باعث وہ غریب بدقسمت سعیدہ پریشانی میں مبتلا رہے گی
الجواب :
باہمی جھگڑے قصے نہ حد اکراہ تك پہنچتے ہیں نہ نکاح میں اکراہ کو دخل ہے اگر ولی کسی کے جبر واکراہ ہی سے نکاح کردے نکاح ہوجائے گا
فی الھندیۃ من الاکراہ زوجھا اولیاؤھا مکرھین فالنکاح جائز ۔
ہندیہ میں ہے کہ اگر اولیاء نے کسی جبر کی بناپر نابالغہ کا نکاح دیا تو نکاح جائز ہوگا۔ (ت)
نہ نا بالغہ سے اجازت لینے کی حاجت نہ باپ کے کئے ہوئے نکاح پر عورت کا بعد بلوغ حق اعتراض مگر اس حالت میں کہ شوہر وقت نکاح کفو نہ تھا اور باپ اس سے پہلے بھی کبھی اپنی ولایت سے کسی لڑکی کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو غیر کفو وہ جس سے نکاح ہونا عرفا اولیائے ہندہ کے لئے وجہ ننگ وعار ہو کہ وہ نسب یا پیشے یا مذہب یا چال چلن میں رذیل وذلیل وبدنام ہو یہاں جب یہ صورتیں نہیں نکاح بے شك نافذ وتام ولازم ہوگیا جو کسی کے رد کئے رد نہیں ہوسکتا یہ اس حالت میں ہے کہ سعیدہ وقت نکاح نابالغہ ہو جیسا کہ بظاہر اس کی عمر مذکور سے مترشح ہوتاہے کہ ہندوستان میں اس عمر پر بلوغ نادرہے اگر نابالغہ تھی کہ لڑکی نو برس کی عمر میں بالغہ ہو سکتی ہے تو وہ نکاح کہ باپ نے اس کے لئے بے اذن کیا نکاح فضولی تھا اسے خبر پہنچنے پر اختیار تھا کہ رد کردیتی مگر یہ رد اسی جلسہ خبر میں ہو سکتا تھا اگر جلسہ بدل کر ردکرے تو مقبول نہ ہوگا۔ اور تقریر سوال سے سعیدہ کا رد کرنا اصلا ظاہر نہیں بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ساکت رہی اور بکر کا سکوت بھی اذن ہے تو نکاح یوں بھی لازم ہوگیا جس کے رد کی طر ف سبیل نہیں مگر صورت
الجواب :
باہمی جھگڑے قصے نہ حد اکراہ تك پہنچتے ہیں نہ نکاح میں اکراہ کو دخل ہے اگر ولی کسی کے جبر واکراہ ہی سے نکاح کردے نکاح ہوجائے گا
فی الھندیۃ من الاکراہ زوجھا اولیاؤھا مکرھین فالنکاح جائز ۔
ہندیہ میں ہے کہ اگر اولیاء نے کسی جبر کی بناپر نابالغہ کا نکاح دیا تو نکاح جائز ہوگا۔ (ت)
نہ نا بالغہ سے اجازت لینے کی حاجت نہ باپ کے کئے ہوئے نکاح پر عورت کا بعد بلوغ حق اعتراض مگر اس حالت میں کہ شوہر وقت نکاح کفو نہ تھا اور باپ اس سے پہلے بھی کبھی اپنی ولایت سے کسی لڑکی کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو غیر کفو وہ جس سے نکاح ہونا عرفا اولیائے ہندہ کے لئے وجہ ننگ وعار ہو کہ وہ نسب یا پیشے یا مذہب یا چال چلن میں رذیل وذلیل وبدنام ہو یہاں جب یہ صورتیں نہیں نکاح بے شك نافذ وتام ولازم ہوگیا جو کسی کے رد کئے رد نہیں ہوسکتا یہ اس حالت میں ہے کہ سعیدہ وقت نکاح نابالغہ ہو جیسا کہ بظاہر اس کی عمر مذکور سے مترشح ہوتاہے کہ ہندوستان میں اس عمر پر بلوغ نادرہے اگر نابالغہ تھی کہ لڑکی نو برس کی عمر میں بالغہ ہو سکتی ہے تو وہ نکاح کہ باپ نے اس کے لئے بے اذن کیا نکاح فضولی تھا اسے خبر پہنچنے پر اختیار تھا کہ رد کردیتی مگر یہ رد اسی جلسہ خبر میں ہو سکتا تھا اگر جلسہ بدل کر ردکرے تو مقبول نہ ہوگا۔ اور تقریر سوال سے سعیدہ کا رد کرنا اصلا ظاہر نہیں بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ساکت رہی اور بکر کا سکوت بھی اذن ہے تو نکاح یوں بھی لازم ہوگیا جس کے رد کی طر ف سبیل نہیں مگر صورت
حوالہ / References
فتاٰی ہندیہ کتاب الاکراہ باب الثانی فیما یحل للمکرہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۴۵
مذکو ر میں عورت کاضرر صریح ہے اور الله عزوجل فرماتا ہے :
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪-
عورتوں کو یا تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑ دو۔
اور فرماتا ہے :
و عاشروهن بالمعروف-
(عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو۔ ت)
اور فرماتا ہے :
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن- ۔
جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھو اپنے مقدور کے قابل اور انھیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔
اور فرماتاہے :
فلا تمیلوا كل المیل فتذروها كالمعلقة- ۔
پورے ایك طرف نہ جھك جاؤ کہ عورت کو یوں چھوڑو جیسے ادھر میں لٹکتی۔
اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرار فی الاسلام ۔
دین اسلام میں نہ ضرر ہے نہ مضرت پہنچانا۔
لہذا حاکم پرواجب ہے کہ خالد پر جبرکرے کہ یا تو ہندہ کو رخصت کرائے یا طلاق دے ا ور اگر وہاں کی صحبت سے خالد کا دین فاسدہوگیا کہ نیچریوں کی طرح ضروریات دین پر ہنسنے لگا توآپ ہی نکاح جاتا رہے گا والعیاذ بالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۸ : مرسلہ حاجی احمد الله خان صاحب مرحوم از پیلی بھیت ۱ جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك عورت ہندہ جس کی عمر ۱۳ برس کی تھی باپ اس کا فوت ہوگیا اب ہندہ کے نکاح کی اجازت اس کی ماں نے ہندہ کی سوتیلی بہن جس کی عمر تخمینا قریب چالیس کے ہوگی ا س بہن نے ہندہ کو بچپن سے مثل اولاد کے پالا تھا اجازت دی تھی بلکہ ہندہ نے خود ہی اقرار کیا تھا ہندہ کی بہن نے سوتیلی بہن سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ تم کو اختیار ہے جہاں چاہو اس کا نکاح کردو ہندہ کی بڑی بہن اور بہنوئی نے اپنے کفو میں ایك شریف خاندان کے لڑکے کے ساتھ بلکہ رشتہ داری میں نکاح کردیا اب بعد دو برس کے کچھ جھگڑا عورات میں باہم کسی بات پر ہوا یعنی ہندہ کی ساس اور ہندہ کی بڑی بہن میں اس پر مسماۃ ہندہ کی ماں اور بہن دونوں اب یہ کہتی ہیں کہ ہندہ کا نکاح اس وجہ سے کہ اس عمر تك بالغ نہیں ہوئی تھی
فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ۪-
عورتوں کو یا تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑ دو۔
اور فرماتا ہے :
و عاشروهن بالمعروف-
(عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو۔ ت)
اور فرماتا ہے :
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن- ۔
جہاں آپ رہو وہاں عورتوں کو رکھو اپنے مقدور کے قابل اور انھیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ ان پر تنگی لاؤ۔
اور فرماتاہے :
فلا تمیلوا كل المیل فتذروها كالمعلقة- ۔
پورے ایك طرف نہ جھك جاؤ کہ عورت کو یوں چھوڑو جیسے ادھر میں لٹکتی۔
اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرار فی الاسلام ۔
دین اسلام میں نہ ضرر ہے نہ مضرت پہنچانا۔
لہذا حاکم پرواجب ہے کہ خالد پر جبرکرے کہ یا تو ہندہ کو رخصت کرائے یا طلاق دے ا ور اگر وہاں کی صحبت سے خالد کا دین فاسدہوگیا کہ نیچریوں کی طرح ضروریات دین پر ہنسنے لگا توآپ ہی نکاح جاتا رہے گا والعیاذ بالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵۸ : مرسلہ حاجی احمد الله خان صاحب مرحوم از پیلی بھیت ۱ جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك عورت ہندہ جس کی عمر ۱۳ برس کی تھی باپ اس کا فوت ہوگیا اب ہندہ کے نکاح کی اجازت اس کی ماں نے ہندہ کی سوتیلی بہن جس کی عمر تخمینا قریب چالیس کے ہوگی ا س بہن نے ہندہ کو بچپن سے مثل اولاد کے پالا تھا اجازت دی تھی بلکہ ہندہ نے خود ہی اقرار کیا تھا ہندہ کی بہن نے سوتیلی بہن سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ تم کو اختیار ہے جہاں چاہو اس کا نکاح کردو ہندہ کی بڑی بہن اور بہنوئی نے اپنے کفو میں ایك شریف خاندان کے لڑکے کے ساتھ بلکہ رشتہ داری میں نکاح کردیا اب بعد دو برس کے کچھ جھگڑا عورات میں باہم کسی بات پر ہوا یعنی ہندہ کی ساس اور ہندہ کی بڑی بہن میں اس پر مسماۃ ہندہ کی ماں اور بہن دونوں اب یہ کہتی ہیں کہ ہندہ کا نکاح اس وجہ سے کہ اس عمر تك بالغ نہیں ہوئی تھی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۳۱
القرآن الکریم ۴ /۱۹
القرآن الکریم ۶۵ /۶
القرآن الکریم ۴ /۱۲۹
المعجم الکبیر حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف الریاض ۶ / ۹۱
القرآن الکریم ۴ /۱۹
القرآن الکریم ۶۵ /۶
القرآن الکریم ۴ /۱۲۹
المعجم الکبیر حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف الریاض ۶ / ۹۱
وقت نکاح کے ہندہ کے چچا اور بھائی نہیں موجود تھے مگر ان کو علم تھا اور ہندہ کی ماں اور بہن میں ایك مدت سے رنج تھا آمد ورفت نہیں تھی جس پر ہندہ کی ہمشیرہ نے اس کی والدہ سے اجازت چاہی تھی قبل از مہینہ بیس روز آگے دونوں میں صلح ہوگئی اور والدہ کی لڑکی کو دو چار روز آگے اپنے مکان میں لے گئی تھی جب تاریخ نکاح قریب آئی توپھر ہندہ کو اس کی بڑی بہن جس نے کہ اس کوپالا تھا اس کے مکان پر بھیج دیا واسطے نکاح کے اب ہندہ کی والدہ اپنے مکان پر ہندہ کو لے گئی بڑی بہن کے مکان سے بخوشی۔ ہندہ کی بڑی بہن کے خاوند اب ہندہ کے بہنوئی ہندہ کے نکاح میں گواہ تھے اور بہنوئی کے بڑے بھائی وکیل نکاح کے تھے نکاح خواں نابینا تھے توایسی صورت میں نکاح ہندہ صحیح قرار پائے گا یا باطل بینوا تو جروا
الجواب :
اگرہندہ وقت نکاح فی الواقع نابالغہ تھی اوراس کے نکاح کی اجازت اس کے جوان بھائی نے نہ دی تھی تو جو نکاح بڑی بہن نے ماں کی اجازت سے کیا بھائی کی اجازت پر موقوف رہا اگر بھائی نے نکاح کی اطلاع پاکر انکار کردیا تو وہ نکاح باطل ہوگیا اور اگر پسند کیا اجازت دی تو نافذہوگیا اور اگرہنوز کچھ نہ کہا اور ہندہ اب بھی نابالغہ ہے توا ب بھی بھائی کی اجازت پر موقوف ہے اگرجائز کردے گا تو جائز ہوجائیگا رد کردے گا تو باطل ہوجائے گا۔ اور اگر ہندہ کے بالغہ ہونے تك بھائی نے نہ رد کیا نہ اجازت دی اور اب ہندہ بالغ ہوگئی یعنی اس کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوگئی یا اسے حیض آنے لگا تو اب وہ نکاح خود ہندہ کی اجازت پر موقوف ہے اگر جائز کردے گی جائزہوجائے گا اور اگر رد کردے گی باطل ہوجائے گا اور اگر نکاح بھائی کی اجازت سے ہوا تھا یا بعد نکاح بھائی نے قبل بلوغ ہندہ اجازت دے دی تو نکاح نافذہوگیا مگر ہندہ کو خیار بلوغ ملے گا یعنی بالغہ ہوتے ہی فورا فورا اگر اس نکاح سے اس نے انکار کردیا ایك لفظ کی دیر نہ لگائی تو دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۹ تا ۳۶۶ : مرسلہ حکیم محمد علی حسین خان صاحب جاگیر دار ریاست گوالیار صدر لشکر نیابازار ۱۸ ذی القعدہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین سوالات مندرجہ ذیل کی نسبت :
(۱)لڑکی کے والد نے مظہر کو دہلی سے واسطے عقد لڑکی اپنی کے بہ مقام بھوپال طلب کیا او ربعد پہنچنے برات کے سرکار عالیہ میں ایك درخواست تحریر کرکے پیش کی کہ میں نے لڑکے کو بلایا ہے سرکار عالیہ خداوندی فرماکر اس کار خیر کو اپنے روبکاری سے اہتمام فرمائیں میں نے تاریخ عقد ۴ رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ یوم دوشنبہ مقرر کردی ہے
الجواب :
اگرہندہ وقت نکاح فی الواقع نابالغہ تھی اوراس کے نکاح کی اجازت اس کے جوان بھائی نے نہ دی تھی تو جو نکاح بڑی بہن نے ماں کی اجازت سے کیا بھائی کی اجازت پر موقوف رہا اگر بھائی نے نکاح کی اطلاع پاکر انکار کردیا تو وہ نکاح باطل ہوگیا اور اگر پسند کیا اجازت دی تو نافذہوگیا اور اگرہنوز کچھ نہ کہا اور ہندہ اب بھی نابالغہ ہے توا ب بھی بھائی کی اجازت پر موقوف ہے اگرجائز کردے گا تو جائز ہوجائیگا رد کردے گا تو باطل ہوجائے گا۔ اور اگر ہندہ کے بالغہ ہونے تك بھائی نے نہ رد کیا نہ اجازت دی اور اب ہندہ بالغ ہوگئی یعنی اس کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوگئی یا اسے حیض آنے لگا تو اب وہ نکاح خود ہندہ کی اجازت پر موقوف ہے اگر جائز کردے گی جائزہوجائے گا اور اگر رد کردے گی باطل ہوجائے گا اور اگر نکاح بھائی کی اجازت سے ہوا تھا یا بعد نکاح بھائی نے قبل بلوغ ہندہ اجازت دے دی تو نکاح نافذہوگیا مگر ہندہ کو خیار بلوغ ملے گا یعنی بالغہ ہوتے ہی فورا فورا اگر اس نکاح سے اس نے انکار کردیا ایك لفظ کی دیر نہ لگائی تو دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۹ تا ۳۶۶ : مرسلہ حکیم محمد علی حسین خان صاحب جاگیر دار ریاست گوالیار صدر لشکر نیابازار ۱۸ ذی القعدہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین سوالات مندرجہ ذیل کی نسبت :
(۱)لڑکی کے والد نے مظہر کو دہلی سے واسطے عقد لڑکی اپنی کے بہ مقام بھوپال طلب کیا او ربعد پہنچنے برات کے سرکار عالیہ میں ایك درخواست تحریر کرکے پیش کی کہ میں نے لڑکے کو بلایا ہے سرکار عالیہ خداوندی فرماکر اس کار خیر کو اپنے روبکاری سے اہتمام فرمائیں میں نے تاریخ عقد ۴ رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ یوم دوشنبہ مقرر کردی ہے
(۲)سرکار عالیہ نے یہ درخواست منظور فرماکر جملہ انتظامات ضرورری کیا تب حکم نافذ فرمادیا اور صاحبزادگان دام اقبالہ اور قاضی صاحب وغیر ہ کوبلاوا بھی پہنچ گیا۔
(۳)لڑکی اپنے ماموں کے یہاں تھی لڑکے کے والد عقد کے دن لڑکی کو لانے کی غرض سے ماموں کے مکان پرگئے ماموں نے عین وقت پر بھیجنے لڑکی سے قطعی انکار کیا بیچارے شریف باپ نے اس غیرت کی وجہ سے زہر کھاکر اپنی جان کوہلاك کیا۔
(۴)باپ ولی جائزکی اجازت تحریری بعد فوتی اس کے یہ عقد کیا تب کچھ وقعت اور اثر رکھتی ہے یا نہیں
(۵)اب ماموں لڑکی کا بوجہ نفسانیت مظہر کے ساتھ عقد کرنے سے انکاری ہے اور اسی کے قبضہ میں لڑکی ہے۔
(۶)لڑکی کا سن گیارہ سال کچھ ماہ کا ہے۔
(۷)ورثاء میں لڑکی کے ایك چچا حقیقی اور ایك ماموں حقیقی ایك بھائی حقیقی نابالغ اور والدہ ومطلقہ یہ شخص غیر کے نکاح میں ہیں۔
(۸)لڑکی کے چچا صاحب اس لڑکی کے مظہر سے عقد کرنے پر رضامند ہیں ان کی یعنی چچا صاحب موصوف کی محض اجازت سے عدم موجودگی اور بغیر اطلاع لڑکی کے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں یا کہ لڑکی کا موجود ہونا وقت نکاح لازمی ہے فقط۔
الجواب
صورت مذکورہ میں جب تك لڑکی نابالغ ہے(یعنی)اسے حیض شروع نہ ہوایا پندرہ سال کا مل کی عمر نہ ہوئی اس وقت تك اس کا ولی نکاح اس کا چچا ہے اور لڑکی کے بلوغ سے پہلے اس کا بھائی بالغ ہوجائے تو ولایت چچا سے بھائی کی طرف منتقل ہوجائے گی بہر حال ماموں یا ماں کو اس کے نکاح کا کچھ اختیار نہیں تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم للاخت ثم لولدالام ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال ۔
نکاح کا ولی وراثت اور مانع ہونے کی ترتیب کے مطابق عصبات بنفسہ ہوتے ہیں اگر یہ نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی پھر بہن کو پھر والدہ کی طرف سے بھائی پھر ذوی الارحام میں پھوپھی پھر ماموں کو حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
(۳)لڑکی اپنے ماموں کے یہاں تھی لڑکے کے والد عقد کے دن لڑکی کو لانے کی غرض سے ماموں کے مکان پرگئے ماموں نے عین وقت پر بھیجنے لڑکی سے قطعی انکار کیا بیچارے شریف باپ نے اس غیرت کی وجہ سے زہر کھاکر اپنی جان کوہلاك کیا۔
(۴)باپ ولی جائزکی اجازت تحریری بعد فوتی اس کے یہ عقد کیا تب کچھ وقعت اور اثر رکھتی ہے یا نہیں
(۵)اب ماموں لڑکی کا بوجہ نفسانیت مظہر کے ساتھ عقد کرنے سے انکاری ہے اور اسی کے قبضہ میں لڑکی ہے۔
(۶)لڑکی کا سن گیارہ سال کچھ ماہ کا ہے۔
(۷)ورثاء میں لڑکی کے ایك چچا حقیقی اور ایك ماموں حقیقی ایك بھائی حقیقی نابالغ اور والدہ ومطلقہ یہ شخص غیر کے نکاح میں ہیں۔
(۸)لڑکی کے چچا صاحب اس لڑکی کے مظہر سے عقد کرنے پر رضامند ہیں ان کی یعنی چچا صاحب موصوف کی محض اجازت سے عدم موجودگی اور بغیر اطلاع لڑکی کے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں یا کہ لڑکی کا موجود ہونا وقت نکاح لازمی ہے فقط۔
الجواب
صورت مذکورہ میں جب تك لڑکی نابالغ ہے(یعنی)اسے حیض شروع نہ ہوایا پندرہ سال کا مل کی عمر نہ ہوئی اس وقت تك اس کا ولی نکاح اس کا چچا ہے اور لڑکی کے بلوغ سے پہلے اس کا بھائی بالغ ہوجائے تو ولایت چچا سے بھائی کی طرف منتقل ہوجائے گی بہر حال ماموں یا ماں کو اس کے نکاح کا کچھ اختیار نہیں تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم للاخت ثم لولدالام ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال ۔
نکاح کا ولی وراثت اور مانع ہونے کی ترتیب کے مطابق عصبات بنفسہ ہوتے ہیں اگر یہ نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی پھر بہن کو پھر والدہ کی طرف سے بھائی پھر ذوی الارحام میں پھوپھی پھر ماموں کو حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
دختر کی نابالغی میں چچا یا بالغ ہوکر بھائی ا گر اس کانکاح ایسے شخص سے کردے گا جو اس لڑکی کا کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس دختر کا نکاح باعث ننگ وعار ہو نہ دختر کے مہرمثل میں کمی فاحش کرے مثلا لاکھ روپیہ مہر مثل ہو یہ پچاس ہزار باندھ دیں جب ان دونوں نقصانوں سے خالی ہو تو چچا یا بھائی کا وہ کیا ہوا نکاح نافذ ہوگا نہ لڑکی سے اذن لینے کی ان کو حاجت نہ اطلاع دینے کی نہ وقت نکاح لڑکی کے وہاں موجود ہونے کی یہ سب بے ضرورت امورہیں۔ درمختار میں ہے :
للولی انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرا ۔
باپ دادا کو نابالغہ پر جبری نکاح کی ولایت ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوزوجھا الاقرب حیث ھو جاز النکاح ۔
اقرب جہاں بھی نکاح کرے جائز ہوگا۔ (ت)
ماں یا ماموں کو اس نکاح پر اصلا اعتراض نہیں پہنچ سکتا ہاں لڑکی کہ دوشیزہ ہے اگر بالغہ ہوتے ہی معا کہہ دے گی کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں یا اول سے اسے اطلاع نکاح نہ تھی تو بعد بلوغ جس وقت خبر پائی فورا نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو اس صورت میں البتہ خود اس کو اختیار ہوگا کہ حاکم شرع کے حضور رجوع کرکے چچا یا بھائی کا کیاہوا نکاح فسخ کرالے درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما ای لصغیر وصغیرۃ خیا ر الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکربالسکوت لو عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو تو کفواورمہر مثل کی صورت میں نکاح صحیح ہے لیکن نابالغ اور نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد علم ہونے پر بشرط قضاء فسخ کا اختیار ہوگا اور بالغہ باکرہ کا اختیار اس کو علم ہوجانے پر سکوت کی وجہ سے باطل ہوجائے گا اور مجلس کے اختتام تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا (ت)
ہاں چچا یا بھائی جس سے نکاح کردیں اگر وہ بمعنی مذکور دختر کا کفو نہ ہو اگرچہ ہم قوم ہو یا مہر مثل میں کمی فاحش کریں تو سرے سے نکاح ہوگا ہی نہیں۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح
اگر غیر باپ دادا نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں یا انتہائی
للولی انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرا ۔
باپ دادا کو نابالغہ پر جبری نکاح کی ولایت ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوزوجھا الاقرب حیث ھو جاز النکاح ۔
اقرب جہاں بھی نکاح کرے جائز ہوگا۔ (ت)
ماں یا ماموں کو اس نکاح پر اصلا اعتراض نہیں پہنچ سکتا ہاں لڑکی کہ دوشیزہ ہے اگر بالغہ ہوتے ہی معا کہہ دے گی کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں یا اول سے اسے اطلاع نکاح نہ تھی تو بعد بلوغ جس وقت خبر پائی فورا نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو اس صورت میں البتہ خود اس کو اختیار ہوگا کہ حاکم شرع کے حضور رجوع کرکے چچا یا بھائی کا کیاہوا نکاح فسخ کرالے درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما ای لصغیر وصغیرۃ خیا ر الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکربالسکوت لو عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اخر المجلس ۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو تو کفواورمہر مثل کی صورت میں نکاح صحیح ہے لیکن نابالغ اور نابالغہ کو بلوغ پر یا بلوغ کے بعد علم ہونے پر بشرط قضاء فسخ کا اختیار ہوگا اور بالغہ باکرہ کا اختیار اس کو علم ہوجانے پر سکوت کی وجہ سے باطل ہوجائے گا اور مجلس کے اختتام تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا (ت)
ہاں چچا یا بھائی جس سے نکاح کردیں اگر وہ بمعنی مذکور دختر کا کفو نہ ہو اگرچہ ہم قوم ہو یا مہر مثل میں کمی فاحش کریں تو سرے سے نکاح ہوگا ہی نہیں۔ درمختار میں ہے :
ان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح
اگر غیر باپ دادا نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں یا انتہائی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
من غیرکفو او بغبن فاحش اصلا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کم مہر سے دیا تو بالکل جائز نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
باپ کی اجازت تحریری کی عبارت محتاج نظرہے دیکھا جائے گا اور اب اس کا کیا اثر ہے اور اس کی چنداں حاجت بھی نہیں کہ ولی شرعی موجود ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۷ : مسئولہ محمد صبور صاحب ولد منشی محمد ظہور صاحب مرحوم مغفور ساکن بریلی محلہ پل قاضی ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ نے ایسے رنڈوے شخص کے ساتھ نکاح کیا کہ جس کے دولڑکے زوجہ اولی سے تھے اب زن وشو سے ایك دختر پیدا ہوئی بعدہ اس شوہر ثانی کا انتقال ہوگیا ازاں بعد اس بیوہ عورت نے پھر اپنا نکاح کرلیا اب وہ لڑکی جو شوہر ثانی سے پیدا ہوئی تھی نابالغ ہے کہ جس کانکاح اس عورت اورحال کے تیسرے شوہر نے ایك نابالغ لڑکے کے ساتھ بموجودگی اس کے والدین کے کردیا جس کے اندر ابتداء قرارداد ونسبت میں قبل از نکاح دوسرے شوہر کے دونوں لڑکوں کا بھی مشورہ رضامندی تھا لیکن وقت نکاح کے یہ دونوں لڑکے موجود نہ تھے اب یہ دونوں لڑکے اس نکاح سے نارضامند ہیں۔ آیا یہ نکاح جائز طریقہ سے ہوا یا ناجائز طورپر اور اب قابل رہنے کے ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
شوہر دوم یعنی پدر دختر کے دونوں لڑکے کہ زوجہ اولی سے ہیں اگر بالغ ہیں اس دختر کے ولی ہیں اگر ان دونوں یا ان میں سے ایك نے پیش ازنکاح عورت کے شوہر سوم یا خود عورت کواس دختر کا نکاح اس نابالغ کے ساتھ کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ نابالغ اس دختر کا کفو تھایعنی نسب وغیرہ میں ایسا کم نہ تھا جس کے سبب اس سے نکاح اس دختر کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو یہ نکاح صحیح وجائز ونافذ واقع ہوا اور بلا وجہ صحیح شرعی اب ان لڑکوں کی ناراضی معتبر نہیں۔
فان من سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
جوا پنے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ کوشش مردود ہے۔ (ت)
ہاں دختر کو اختیار ہوگا کہ اگر پسند نہ کرے تو بالغہ ہوتے ہی معا انکار کردے نکاح فسخ کرادیا جائے گا “ لانہ غیراب وجد “ (کیونکہ یہ غیر باپ دادا ہیں۔ ت)اور اگر لڑکوں نے ان کو نکاح کرنے کی اجازت نہ دی تھی اگرچہ وقت مشورہ اپنی رضامندی ظاہر کی تھی تویہ نکاح کہ دختر کی ماں اور اس کے شوہر سوم نے بے اجازت اولیاء کیا اجازت اولیا ء پر موقوف رہا ان لڑکوں نے خبر نکاح سن کر اگر کوئی کلمہ رضا کہہ دیا یاکوئی فعل
کم مہر سے دیا تو بالکل جائز نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
باپ کی اجازت تحریری کی عبارت محتاج نظرہے دیکھا جائے گا اور اب اس کا کیا اثر ہے اور اس کی چنداں حاجت بھی نہیں کہ ولی شرعی موجود ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۷ : مسئولہ محمد صبور صاحب ولد منشی محمد ظہور صاحب مرحوم مغفور ساکن بریلی محلہ پل قاضی ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ نے ایسے رنڈوے شخص کے ساتھ نکاح کیا کہ جس کے دولڑکے زوجہ اولی سے تھے اب زن وشو سے ایك دختر پیدا ہوئی بعدہ اس شوہر ثانی کا انتقال ہوگیا ازاں بعد اس بیوہ عورت نے پھر اپنا نکاح کرلیا اب وہ لڑکی جو شوہر ثانی سے پیدا ہوئی تھی نابالغ ہے کہ جس کانکاح اس عورت اورحال کے تیسرے شوہر نے ایك نابالغ لڑکے کے ساتھ بموجودگی اس کے والدین کے کردیا جس کے اندر ابتداء قرارداد ونسبت میں قبل از نکاح دوسرے شوہر کے دونوں لڑکوں کا بھی مشورہ رضامندی تھا لیکن وقت نکاح کے یہ دونوں لڑکے موجود نہ تھے اب یہ دونوں لڑکے اس نکاح سے نارضامند ہیں۔ آیا یہ نکاح جائز طریقہ سے ہوا یا ناجائز طورپر اور اب قابل رہنے کے ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
شوہر دوم یعنی پدر دختر کے دونوں لڑکے کہ زوجہ اولی سے ہیں اگر بالغ ہیں اس دختر کے ولی ہیں اگر ان دونوں یا ان میں سے ایك نے پیش ازنکاح عورت کے شوہر سوم یا خود عورت کواس دختر کا نکاح اس نابالغ کے ساتھ کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ نابالغ اس دختر کا کفو تھایعنی نسب وغیرہ میں ایسا کم نہ تھا جس کے سبب اس سے نکاح اس دختر کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو یہ نکاح صحیح وجائز ونافذ واقع ہوا اور بلا وجہ صحیح شرعی اب ان لڑکوں کی ناراضی معتبر نہیں۔
فان من سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
جوا پنے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ کوشش مردود ہے۔ (ت)
ہاں دختر کو اختیار ہوگا کہ اگر پسند نہ کرے تو بالغہ ہوتے ہی معا انکار کردے نکاح فسخ کرادیا جائے گا “ لانہ غیراب وجد “ (کیونکہ یہ غیر باپ دادا ہیں۔ ت)اور اگر لڑکوں نے ان کو نکاح کرنے کی اجازت نہ دی تھی اگرچہ وقت مشورہ اپنی رضامندی ظاہر کی تھی تویہ نکاح کہ دختر کی ماں اور اس کے شوہر سوم نے بے اجازت اولیاء کیا اجازت اولیا ء پر موقوف رہا ان لڑکوں نے خبر نکاح سن کر اگر کوئی کلمہ رضا کہہ دیا یاکوئی فعل
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
کہ رضاپر دال ہوکیا تونکاح نافذ ہوگیا اور اب ان کی نارضامندی بلاوجہ صحیح شرعی معتبر نہیں بلکہ وہی بحال بلوغ دختر کواختیار انکار تو دعوی فسخ ہوگا اور اگر کوئی قول وفعل رضاکا بعد نکاح ان سے صادر نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے اسے رد کردیا تو نکاح رد ہوگیا اور اب یہ دختر اس سے محض اجنبیہ ہے اور اگر وہ لڑکا اس عورت کاکفو نہیں یعنی کوئی ایسی کمی رکھتا ہے جس سے اس کے ساتھ نکاح اولیائے دختر کے لئے باعث بدنامی ومطعونی ہو تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں اگرچہ خود لڑکوں نے کیا ہوتا اگرچہ دختر بعد بلوغ اس پر راضی ہوتی۔
لانہ یفتی فی غیر الکفو بعدم الصحۃ اصلا لفساد الزمان ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ زمانہ کے فساد کی وجہ سے غیر باپ دادا کادیا ہوا نکاح غیر کفو اور غیر مہر مثل میں بالکل صحیح نہ ہوگا اسی پر فتوی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۶۸ : ازبدایوں براہم پور مرسلہ عظیم الله خاں صاحب ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پدر ہندہ نابالغہ کو بکر نے ازراہ فریب یہ یقین دلایا کہ خالد اس کا ہم قوم اور شریف الخاندان ہے اور اس طرح زیدکواس امر کی ترغیب دی کہ وہ اپنی نابالغہ دختر ہندہ کا نکاح نابالغ سے کرے چنانچہ خالد کے ساتھ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا عقدکرادیا ہندہ بعد عقد خالد کے ماموں زاد ہمشیر کے گھر جس کے زیر پرورش خالد بیان کیا گیا تھار ہی صغیرہ ہندہ کو اب علم اس بات کا ہوا کہ خالد اس کا ہم قوم وکفو نہیں ہے بلکہ ولدالحرام وذلیل قوم ہے تو ہندہ نے خالد کو اپنا شوہر نہیں جانا اور نہ اس کے پاس آئی گئی اور معاہدہ نکاح جو مرتب ہواتھا بوقت بلوغ فسخ کردیا یہ انفساخ مطابق شرع محمدی ہوسکتاہے یا نہیں
الجواب :
ہاں صورت مستفسرہ میں نکاح فسخ کیا جائے گا یعنی ہندہ کو اختیار دعوی اور بعد دعوی حکما فسخ ہوگا قاضیخاں و فتح القدیر وبزازیہ وردالمحتار وغیرہ میں ہے :
زوج بنتہ من رجل ظنہ مصلحا لایشرب مسکرافاذا ھو مدمن فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح ان لم یکن ابوھا یشرب المسکر
کسی شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے متعلق باپ کو گمان تھاکہ صالح ہے اور شراب نہیں پیتا تو بعد کو معلوم ہوا کہ وہ شراب کاعادی ہے بیٹی نے بلوغ پر باپ کے کئے ہوئے نکاح کے بارے میں کہا کہ میں راضی
لانہ یفتی فی غیر الکفو بعدم الصحۃ اصلا لفساد الزمان ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ زمانہ کے فساد کی وجہ سے غیر باپ دادا کادیا ہوا نکاح غیر کفو اور غیر مہر مثل میں بالکل صحیح نہ ہوگا اسی پر فتوی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۶۸ : ازبدایوں براہم پور مرسلہ عظیم الله خاں صاحب ۲۲ جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پدر ہندہ نابالغہ کو بکر نے ازراہ فریب یہ یقین دلایا کہ خالد اس کا ہم قوم اور شریف الخاندان ہے اور اس طرح زیدکواس امر کی ترغیب دی کہ وہ اپنی نابالغہ دختر ہندہ کا نکاح نابالغ سے کرے چنانچہ خالد کے ساتھ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا عقدکرادیا ہندہ بعد عقد خالد کے ماموں زاد ہمشیر کے گھر جس کے زیر پرورش خالد بیان کیا گیا تھار ہی صغیرہ ہندہ کو اب علم اس بات کا ہوا کہ خالد اس کا ہم قوم وکفو نہیں ہے بلکہ ولدالحرام وذلیل قوم ہے تو ہندہ نے خالد کو اپنا شوہر نہیں جانا اور نہ اس کے پاس آئی گئی اور معاہدہ نکاح جو مرتب ہواتھا بوقت بلوغ فسخ کردیا یہ انفساخ مطابق شرع محمدی ہوسکتاہے یا نہیں
الجواب :
ہاں صورت مستفسرہ میں نکاح فسخ کیا جائے گا یعنی ہندہ کو اختیار دعوی اور بعد دعوی حکما فسخ ہوگا قاضیخاں و فتح القدیر وبزازیہ وردالمحتار وغیرہ میں ہے :
زوج بنتہ من رجل ظنہ مصلحا لایشرب مسکرافاذا ھو مدمن فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح ان لم یکن ابوھا یشرب المسکر
کسی شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے متعلق باپ کو گمان تھاکہ صالح ہے اور شراب نہیں پیتا تو بعد کو معلوم ہوا کہ وہ شراب کاعادی ہے بیٹی نے بلوغ پر باپ کے کئے ہوئے نکاح کے بارے میں کہا کہ میں راضی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ولاعرف بہ وغلبۃ اھل بیتھا مصلحون فالنکاح باطل بالاتفاق اھ۔
نہیں ہوں تو اگر باپ شرابی نہیں اور لڑکی کاخاندان غالب طورپر صالح لوگ ہیں تو بالاتفاق یہ نکاح باطل ہے اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسألۃ مفروضۃ فیما اذالم ترض البنت بعد ماکبرت کما صرح بہ فی الخانیہ والذخیرۃ وغیرھما وعلیہ یحمل مافی القنیۃ زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ حر الاصل وکان معتقافھو باطل بالاتفاق اھ وعلم من عبارۃ القنیۃ بسبب الفسق انہ لافرق فی عدم الکفاءۃ بسبب الفسق اوغیرہ حتی لوزوجھا من فقیر اوذی حرفۃ ولم یکن کفوالھا لم یصح افادہ فی البحر ۔
اس کا معنی یہ ہے کہ وہ باطل کیا جاسکتاہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے کیونکہ مسئلہ کی صورت اس مفروضہ پرہے کہ لڑکی نے بالغ ہونے کے بعد عدم رضا کا اظہار کیا ہو جیساکہ ذخیرہ اور خانیہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی ہے اور قنیہ کے اس مسئلہ کو کسی نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے بارے میں اسے گمان تھاکہ یہ اصلی آزاد ہے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی کا آزاد کردہ ہے تو یہ نکاح بالاتفاق باطل ہے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا اھ اور قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر کفو فسق یا کسی اور وجہ سے ہو دونوں میں فرق نہیں۔ حتی کہ کسی نے نابالغہ کا نکاح فقیر یا کسی کسبی سے کردیا اور یہ کفو نہ تھا تو بھی نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اس کا افادہ بحر میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الفرقۃ ان من قبلھا ففسخ وان من قبلہ فطلاق وشرط للکل القضاء الاثمانیۃ .
اگر لڑکی کی طرف سے تفریق کی وجہ ہے تو فسخ ہوگا اورا گر خاوند کی طرف سے ہو تو وہ طلاق ہے اور ہر صورت میں قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے۔ (ت)
نہیں ہوں تو اگر باپ شرابی نہیں اور لڑکی کاخاندان غالب طورپر صالح لوگ ہیں تو بالاتفاق یہ نکاح باطل ہے اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسألۃ مفروضۃ فیما اذالم ترض البنت بعد ماکبرت کما صرح بہ فی الخانیہ والذخیرۃ وغیرھما وعلیہ یحمل مافی القنیۃ زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ حر الاصل وکان معتقافھو باطل بالاتفاق اھ وعلم من عبارۃ القنیۃ بسبب الفسق انہ لافرق فی عدم الکفاءۃ بسبب الفسق اوغیرہ حتی لوزوجھا من فقیر اوذی حرفۃ ولم یکن کفوالھا لم یصح افادہ فی البحر ۔
اس کا معنی یہ ہے کہ وہ باطل کیا جاسکتاہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے کیونکہ مسئلہ کی صورت اس مفروضہ پرہے کہ لڑکی نے بالغ ہونے کے بعد عدم رضا کا اظہار کیا ہو جیساکہ ذخیرہ اور خانیہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی ہے اور قنیہ کے اس مسئلہ کو کسی نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جس کے بارے میں اسے گمان تھاکہ یہ اصلی آزاد ہے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی کا آزاد کردہ ہے تو یہ نکاح بالاتفاق باطل ہے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا اھ اور قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر کفو فسق یا کسی اور وجہ سے ہو دونوں میں فرق نہیں۔ حتی کہ کسی نے نابالغہ کا نکاح فقیر یا کسی کسبی سے کردیا اور یہ کفو نہ تھا تو بھی نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اس کا افادہ بحر میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الفرقۃ ان من قبلھا ففسخ وان من قبلہ فطلاق وشرط للکل القضاء الاثمانیۃ .
اگر لڑکی کی طرف سے تفریق کی وجہ ہے تو فسخ ہوگا اورا گر خاوند کی طرف سے ہو تو وہ طلاق ہے اور ہر صورت میں قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۱ ، فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۲ ، فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۵
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
خانیہ میں ہے :
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ اھ۔
کفونہ ہونے کی بناپر فسخ صرف قاضی کے ہاں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔ اھ(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۹ : مسئولہ خان بہادر مولوی محمد خلیل الله خان ڈاك خانہ گولہ ضلع کھیری
مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور اولاد دختری سے دو لڑکیاں چھوڑیں وقت انتقال میں مسماۃ مذکورہ کی لڑکیوں نے اپنے حقیقی نانا کی پرورش ہرقسم کی اس وقت تك پائی دختران کی عمرسن بلوغت کو پہنچی ہے والد لڑکیوں کا اپنے وطن میں موجود ہے او رکسی قسم کی امداد پرورش دختران مذکور نہیں کرتا والد والدہ دختران مذکور کا شادی کا انتظام کرتاہے تو والد منع آتاہے والد شریك شادی دختران مذکور بوجہ اس کے کہ صرفہ شادی سے علیحدہ رہے نہیں ہوتا ہے توایسی حالت میں حقیقی نانا بحیثیت ولی کے نکاح کرسکتا ہے اگر نکاح دختران مذکور کا حقیقی نانا ایسی حالت مذکور میں کردے تو کیا مناسب ہے بینوا تو جروا
الجواب :
لڑکیاں جبکہ بالغ ہوگئیں ان پر ولایت جبریہ کسی کی نہ رہی ان کی رضاسے جو نکاح ان کا ہو صرف دو حالت میں ولی یعنی ان کے باپ کو ان پر اعتراض کا حق ہوگا اول یہ کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس دختر کا کفو یعنی نسب یا مذہب یا چال چلن یا پیشہ وغیرہ کسی بات میں اس سے اتنا کم ہو کہ اس سے نکاح ہونا پدر دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہو اس صورت میں توجب تك باپ پیش از نکاح اس شخص کوغیر کفو جان کر صراحۃ اجازت نہ دے نکاح ہوگا ہی نہیں محض باطل ہوگا۔ دوم یہ کہ دختروں کے مہر میں کمی فاحش کی جائے مثلا اس کا مہر مثل ہزارروپے ہو اور پانسو باندھا جائے اس صورت میں باپ کو اعتراض کا حق ہوگا یہاں تك کہ شوہر مہر پورا کردے اور جب ان صورتوں سے پاك ہویعنی جس سے نکاح کیا جائے وہ نسب ومذہب وغیرہ میں دختر سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہوناپدر دختر کے لئے باعث مطعونی وبدنامی ہو اور مہر مثل میں بھی کمی فاحش نہ کی جائے تو لڑکیوں کی اجازت سے نانا کا ایسا کیا ہوا نکاح صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگا جس پر پدر دختران کو کوئی اعتراض نہیں پہنچتا درمختار میں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔
باکرہ بالغہ پر ولایت اجبار نہیں کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر ولایت ختم ہوچکی ہے۔ (ت)
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ اھ۔
کفونہ ہونے کی بناپر فسخ صرف قاضی کے ہاں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔ اھ(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۹ : مسئولہ خان بہادر مولوی محمد خلیل الله خان ڈاك خانہ گولہ ضلع کھیری
مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور اولاد دختری سے دو لڑکیاں چھوڑیں وقت انتقال میں مسماۃ مذکورہ کی لڑکیوں نے اپنے حقیقی نانا کی پرورش ہرقسم کی اس وقت تك پائی دختران کی عمرسن بلوغت کو پہنچی ہے والد لڑکیوں کا اپنے وطن میں موجود ہے او رکسی قسم کی امداد پرورش دختران مذکور نہیں کرتا والد والدہ دختران مذکور کا شادی کا انتظام کرتاہے تو والد منع آتاہے والد شریك شادی دختران مذکور بوجہ اس کے کہ صرفہ شادی سے علیحدہ رہے نہیں ہوتا ہے توایسی حالت میں حقیقی نانا بحیثیت ولی کے نکاح کرسکتا ہے اگر نکاح دختران مذکور کا حقیقی نانا ایسی حالت مذکور میں کردے تو کیا مناسب ہے بینوا تو جروا
الجواب :
لڑکیاں جبکہ بالغ ہوگئیں ان پر ولایت جبریہ کسی کی نہ رہی ان کی رضاسے جو نکاح ان کا ہو صرف دو حالت میں ولی یعنی ان کے باپ کو ان پر اعتراض کا حق ہوگا اول یہ کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس دختر کا کفو یعنی نسب یا مذہب یا چال چلن یا پیشہ وغیرہ کسی بات میں اس سے اتنا کم ہو کہ اس سے نکاح ہونا پدر دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہو اس صورت میں توجب تك باپ پیش از نکاح اس شخص کوغیر کفو جان کر صراحۃ اجازت نہ دے نکاح ہوگا ہی نہیں محض باطل ہوگا۔ دوم یہ کہ دختروں کے مہر میں کمی فاحش کی جائے مثلا اس کا مہر مثل ہزارروپے ہو اور پانسو باندھا جائے اس صورت میں باپ کو اعتراض کا حق ہوگا یہاں تك کہ شوہر مہر پورا کردے اور جب ان صورتوں سے پاك ہویعنی جس سے نکاح کیا جائے وہ نسب ومذہب وغیرہ میں دختر سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہوناپدر دختر کے لئے باعث مطعونی وبدنامی ہو اور مہر مثل میں بھی کمی فاحش نہ کی جائے تو لڑکیوں کی اجازت سے نانا کا ایسا کیا ہوا نکاح صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگا جس پر پدر دختران کو کوئی اعتراض نہیں پہنچتا درمختار میں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔
باکرہ بالغہ پر ولایت اجبار نہیں کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر ولایت ختم ہوچکی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
اسی میں ہے :
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ولہ اذاکان عصبۃ الاعتراض فی غیر الکفو ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا اپنا کیا ہوا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوگا ولی اگر عصبہ ہو تو اس کو غیر کفو کی صورت میں اعتراض کا حق ہے اور غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)
اسی میں ہے :
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مہر مثلھا ویفرق القاضی بینھما دفعاللعار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر لڑکی نے انتہائی کم مہر پر اپنا نکاح کیا تو ولی عصبہ کو حق اعتراض ہے حتی کہ مہر مثل پور ا کریں اور قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح کو فسخ کرسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۰ : از موضع ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
والد ہندہ نابالغہ کے فوت ہونے پر ہندہ کے شرعی وارث موجود ہیں مگر ولی بننے سے انکار کرتے ہیں ہندہ کی ماں حقیقی جس نے اب عقد ثانی کرلیا ہے وہ یا اس کا شوہر ثانی ولی بن سکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
ولی بننا نہ بننا اختیاری نہیں۔ جس کو شرع مطہر نے ولی کیا وہ ولی ہے اس کے انکار سے کچھ نہیں ہوتا ہاں اگر صورت یہ ہے کہ کفو موجود ہے اور ولی بلاوجہ شرعی اس کے نکاح کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس انکار میں کفو کے فوت ہونے کا اندیشہ صحیح ہے تو جوولی ابعد ہے اگرچہ ماں ہو اگرچہ نکاح کرچکی ہو وہ وہاں کے عالم دین سنی صحیح العقیدہ کے صوابدید سے نابالغ کا نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۱ : از افضل گڑھ ضلع بجنور محلہ قاضی سرائے مرسلہ راغب الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
زید نے ہندہ سے نکاح کیا ایك دختر پیدا ہوئی جب عمر دختر کی تین سال کی ہوئی زید نے ہندہ کو طلاق دی وہ دختر بھی ہندہ کے پاس رہی بعد ختم ہونے عدت کے ہندہ نے اپنا نکاح بکر سے کیا جب دختر کی عمر قریب نو سال کے ہوئی تب اس کا نکاح ہندہ نے اور بکر نے ایك سے کردیا وہ شخص بالکل اسلام سے
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ولہ اذاکان عصبۃ الاعتراض فی غیر الکفو ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا اپنا کیا ہوا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوگا ولی اگر عصبہ ہو تو اس کو غیر کفو کی صورت میں اعتراض کا حق ہے اور غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا۔ (ت)
اسی میں ہے :
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مہر مثلھا ویفرق القاضی بینھما دفعاللعار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر لڑکی نے انتہائی کم مہر پر اپنا نکاح کیا تو ولی عصبہ کو حق اعتراض ہے حتی کہ مہر مثل پور ا کریں اور قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح کو فسخ کرسکتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۰ : از موضع ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
والد ہندہ نابالغہ کے فوت ہونے پر ہندہ کے شرعی وارث موجود ہیں مگر ولی بننے سے انکار کرتے ہیں ہندہ کی ماں حقیقی جس نے اب عقد ثانی کرلیا ہے وہ یا اس کا شوہر ثانی ولی بن سکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
ولی بننا نہ بننا اختیاری نہیں۔ جس کو شرع مطہر نے ولی کیا وہ ولی ہے اس کے انکار سے کچھ نہیں ہوتا ہاں اگر صورت یہ ہے کہ کفو موجود ہے اور ولی بلاوجہ شرعی اس کے نکاح کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس انکار میں کفو کے فوت ہونے کا اندیشہ صحیح ہے تو جوولی ابعد ہے اگرچہ ماں ہو اگرچہ نکاح کرچکی ہو وہ وہاں کے عالم دین سنی صحیح العقیدہ کے صوابدید سے نابالغ کا نکاح کرے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۱ : از افضل گڑھ ضلع بجنور محلہ قاضی سرائے مرسلہ راغب الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
زید نے ہندہ سے نکاح کیا ایك دختر پیدا ہوئی جب عمر دختر کی تین سال کی ہوئی زید نے ہندہ کو طلاق دی وہ دختر بھی ہندہ کے پاس رہی بعد ختم ہونے عدت کے ہندہ نے اپنا نکاح بکر سے کیا جب دختر کی عمر قریب نو سال کے ہوئی تب اس کا نکاح ہندہ نے اور بکر نے ایك سے کردیا وہ شخص بالکل اسلام سے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختارباب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۹۵
درمختارباب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۹۵
واقف نہیں نہ روزہ رمضان شریف نہ نماز کبھی ادا کرتا ہے اب عمر دختر کی پندرہ سال ہے وہ پابند صوم وصلوۃ ہے اور کلام مجید اور دو چار کتاب مسائل کی جانتی ہے وہ اس کے یہاں رہنا نہیں چاہتی اور ولی اصلی زندہ ہے اس نے اجازت نکاح نہیں دی یہ نکاح عندالشرع درست ہے یا نہیں
الجواب :
اتنے گول سوال کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا نکاح بکر وہندہ نے کیا اس وقت لڑکی کی عمر نو برس کی تھی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ بالغہ تھی یا نابالغہ نو برس کی لڑکی بھی بالغہ ہوسکتی ہے اس نکاح کی خبر زید کو کب پہنچی اور اس نے اس وقت یا اس کے بعد کیا کہا وہ لفظ لکھے جائیں رخصت کس کے اختیار سے ہوئی شوہر کے یہاں سے باپ کے یہاں بھی آنا جانا رہا یانہیں۔ لڑکی اگر اس وقت نابالغہ تھی تو کب بالغہ ہوئی اس کو کتنا زمانہ گزرا پھر وہ جو شوہر کے یہاں نہیں رہنا چاہتی یہ کتنے زمانہ سے ہے او ریہ کراہت صرف قلب سے ہے یا زبان سے بھی کچھ کہا کہا تو کیالفظ کہے اورکب کہے شوہر سے اس کے کوئی اولاد بھی ہوئی یا نہیں ان سب باتوں کا مفصل جواب لکھنے پر حکم لکھا جاسکتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۲ : از چھاؤنی ملتان مرسلہ کریم بخش صاحب خانساماں ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حسین بخش خانساماں کی دختر کی شادی پیر بخش خانساماں ازکوہ سپاٹو ضلع شملہ عرصہ گیارہ بارہ برس کا ہوا کہ جس وقت برخورداری کی نسبت پیر بخش خانساماں کے ساتھ بندوبست کیا گیا تھا تو اس وقت پیربخش خانساماں کی پہلی زوجہ جوکہ شادی کی ہے سبب نہ اولاد ہونے کے دوسری شادی کا انتظام کیا دختر حسین بخش کے ساتھ پیر بخش اقرار گھر دامادی کا کیا جو رجسٹر مسجدکوہ سپاٹو ضلع شملہ میں موجود ہے او رپیش امام مسجد کے جنھوں نے نکاح پڑھایا تھا وہ بھی اسی وقت موجود ہیں جس وقت نکاح وغیرہ سے فارغ ہوئے تو دوسرے دن پیر بخش نے جھگڑنا شروع کیا کہ میری زوجہ میرے ہمراہ بھیج دو لڑکی کے والدین نے پنچ کی رو سے انکار کیا کہ چند عرصہ تم ہمارے ہمراہ رہو جب تمھاری بی بی کی رضا تمھارے ساتھ جانے کی ہوجائے لے جاؤ اس شخص نے اصرار کیا کہ میرے ہمراہ ابھی بھیج دو یعنی شروع سے جھگڑا یہاں کئی ایك ماہ ان کا جھگڑا رہا چند عرصہ کے بعد جوکہ زوجہ پیر بخش کا چھوٹا بھائی تھا اس نے فیصلہ کیا کہ پیربخش کی زوجہ کو پیر بخش کے ہمراہ کردیا بعد عرصہ کے لڑکی حمل سے ہوئی تواپنی ماں کے پاس آئی لڑکی پیدا ہوئی جو اس وقت تیرہ چودہ برس کی ہے جس وقت لڑکی دو ماہ کی ہوئی تو زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئی بہ سبب نااتفاقی ان دونوں عورتوں میں جھگڑا رہا چھ ماہ کے بعد زوجہ پیربخش پھر اپنے والدین کے پاس آگئی پھر ان کا اتفاق کردیا گیا پھر زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ہمراہ چلی گئی عرصہ تین ماہ بعد پھر واپس بھیج دی پیر بخش کے پھر بعدکو لڑکا پیدا ہواجوکہ عمر گیارہ بارہ برس کا ہے نہ تو اس شخص
الجواب :
اتنے گول سوال کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا نکاح بکر وہندہ نے کیا اس وقت لڑکی کی عمر نو برس کی تھی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ بالغہ تھی یا نابالغہ نو برس کی لڑکی بھی بالغہ ہوسکتی ہے اس نکاح کی خبر زید کو کب پہنچی اور اس نے اس وقت یا اس کے بعد کیا کہا وہ لفظ لکھے جائیں رخصت کس کے اختیار سے ہوئی شوہر کے یہاں سے باپ کے یہاں بھی آنا جانا رہا یانہیں۔ لڑکی اگر اس وقت نابالغہ تھی تو کب بالغہ ہوئی اس کو کتنا زمانہ گزرا پھر وہ جو شوہر کے یہاں نہیں رہنا چاہتی یہ کتنے زمانہ سے ہے او ریہ کراہت صرف قلب سے ہے یا زبان سے بھی کچھ کہا کہا تو کیالفظ کہے اورکب کہے شوہر سے اس کے کوئی اولاد بھی ہوئی یا نہیں ان سب باتوں کا مفصل جواب لکھنے پر حکم لکھا جاسکتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۲ : از چھاؤنی ملتان مرسلہ کریم بخش صاحب خانساماں ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳ھ
حسین بخش خانساماں کی دختر کی شادی پیر بخش خانساماں ازکوہ سپاٹو ضلع شملہ عرصہ گیارہ بارہ برس کا ہوا کہ جس وقت برخورداری کی نسبت پیر بخش خانساماں کے ساتھ بندوبست کیا گیا تھا تو اس وقت پیربخش خانساماں کی پہلی زوجہ جوکہ شادی کی ہے سبب نہ اولاد ہونے کے دوسری شادی کا انتظام کیا دختر حسین بخش کے ساتھ پیر بخش اقرار گھر دامادی کا کیا جو رجسٹر مسجدکوہ سپاٹو ضلع شملہ میں موجود ہے او رپیش امام مسجد کے جنھوں نے نکاح پڑھایا تھا وہ بھی اسی وقت موجود ہیں جس وقت نکاح وغیرہ سے فارغ ہوئے تو دوسرے دن پیر بخش نے جھگڑنا شروع کیا کہ میری زوجہ میرے ہمراہ بھیج دو لڑکی کے والدین نے پنچ کی رو سے انکار کیا کہ چند عرصہ تم ہمارے ہمراہ رہو جب تمھاری بی بی کی رضا تمھارے ساتھ جانے کی ہوجائے لے جاؤ اس شخص نے اصرار کیا کہ میرے ہمراہ ابھی بھیج دو یعنی شروع سے جھگڑا یہاں کئی ایك ماہ ان کا جھگڑا رہا چند عرصہ کے بعد جوکہ زوجہ پیر بخش کا چھوٹا بھائی تھا اس نے فیصلہ کیا کہ پیربخش کی زوجہ کو پیر بخش کے ہمراہ کردیا بعد عرصہ کے لڑکی حمل سے ہوئی تواپنی ماں کے پاس آئی لڑکی پیدا ہوئی جو اس وقت تیرہ چودہ برس کی ہے جس وقت لڑکی دو ماہ کی ہوئی تو زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئی بہ سبب نااتفاقی ان دونوں عورتوں میں جھگڑا رہا چھ ماہ کے بعد زوجہ پیربخش پھر اپنے والدین کے پاس آگئی پھر ان کا اتفاق کردیا گیا پھر زوجہ پیر بخش اپنے خاوند کے ہمراہ چلی گئی عرصہ تین ماہ بعد پھر واپس بھیج دی پیر بخش کے پھر بعدکو لڑکا پیدا ہواجوکہ عمر گیارہ بارہ برس کا ہے نہ تو اس شخص
نے کھانا کپڑا دیا نہ اپنے بچوں کو لے گیا چار دفعہ پنچایت میں فیصلہ ہوا کہ جو کچھ زربچوں کی پرورش کرنے میں ہوا وہ ادا کردو اور اپنے بال بچوں کو لے جاؤ مگریہ شخص پنچوں میں بھی اقرار کرگیا وہ پورا نہ کیا نہ جوا ب دیا یعنی بہتیرا کچھ اس شخص کو سمجھا یا گیا لیکن اس عرصہ گیارہ بارہ برس میں کوئی خیال نہ کیا پچھلے سال اس لڑکی کے ماموں نے منگنی بھی کردی اس وقت بھی کوئی خیال نہ کیا بلکہ خود جاکر لڑکی کے ماموں نے کہا کہ یا تو تم لڑکی کی شادی کرو اگر تم لڑکی کی شادی نہیں کرسکتے تو تم لادعوی ہو کوئی جواب نہیں دیا اب لڑکی کے ماموں نے چاہا کہ شادی کردی جائے توپیر بخش نے اپنے خسر کے نام نوٹس دی کہ تم لڑکی کی شادی نہ کرنا ورنہ ہم کچہری میں دعوی کریں گے آپ کی زیرباری ہوگی اس لڑکی کا ماموں ملتان گیا پیچھے نوٹس دی ا س گیارہ بارہ برس کے اندر ایك پیسہ اپنے بال بچوں کو نہیں دیا گواہ موجود ہیں یہ فیصلہ آپ کے پاس بھیجا جاتا ہے کہ آپ شریعت کی رو سے فتوی عنایت فرمائیں۔
الجواب :
لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آتاہے جب تو نکاح میں خود لڑکی کی اجازت کافی ہے بشرطیکہ کسی غیر کفو سے نکاح نہ ہو یعنی ایسے نہ ہو جو مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں اتنا کم ہو جس سے نکاح اس دختر کا پیر بخش کے لئے باعث ننگ وعار ہو اور اگر لڑکی نابالغہ ہے تو ضرور اس کے باپ کی اجازت درکار ہے بے اس کی اجازت کے اگر ماں یاماموں یاکوئی نکاح کردے گا توپیربخش کی اجازت پرموقوف رہے گا وہ جائز کردے گا جائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا ہاں اگر کفو کے ملتے ہوئے پیر بخش نکاح میں تاخیر کثیر کرے جس سے ضرر کا اندیشہ ہو نہ آپ نکاح کرے نہ دوسرے کو اجازت دے تو اس وقت پیر بخش سے اترکرنابالغہ کاجوولی ہوگا مثلا دادا پھر سگا بھائی پھر سوتیلا پھر سگا بھتیجا پھر سوتیلا پھر سگا چچا پھر سوتیلا پھر سگے چچاکا بیٹا پھر سوتیلے کا غرض دادا کی اولاد میں کوئی مرد عاقل بالغ کہ باپ کے بعد اس سے قریب تر کوئی نہ ہواسے اختیار ہوگا کہ لڑکی کا نکاح کسی کفو بمعنی مذکور سے کردے اور اس وقت باپ کو اعترض کا کوئی حق نہ ہوگا اگر دادا پردادا دور ونزدیك کی اولاد قریب وبعید میں کوئی ایسا مرد نہ ہو اس وقت ماں کو اختیار ملے گا درمختار میں ہے :
ان لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
اگر عصبات نہ ہوں تو ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
یثبت للابعد التزویج بعضل الاقرب
اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو نکاح دینے کا
الجواب :
لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آتاہے جب تو نکاح میں خود لڑکی کی اجازت کافی ہے بشرطیکہ کسی غیر کفو سے نکاح نہ ہو یعنی ایسے نہ ہو جو مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں اتنا کم ہو جس سے نکاح اس دختر کا پیر بخش کے لئے باعث ننگ وعار ہو اور اگر لڑکی نابالغہ ہے تو ضرور اس کے باپ کی اجازت درکار ہے بے اس کی اجازت کے اگر ماں یاماموں یاکوئی نکاح کردے گا توپیربخش کی اجازت پرموقوف رہے گا وہ جائز کردے گا جائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا ہاں اگر کفو کے ملتے ہوئے پیر بخش نکاح میں تاخیر کثیر کرے جس سے ضرر کا اندیشہ ہو نہ آپ نکاح کرے نہ دوسرے کو اجازت دے تو اس وقت پیر بخش سے اترکرنابالغہ کاجوولی ہوگا مثلا دادا پھر سگا بھائی پھر سوتیلا پھر سگا بھتیجا پھر سوتیلا پھر سگا چچا پھر سوتیلا پھر سگے چچاکا بیٹا پھر سوتیلے کا غرض دادا کی اولاد میں کوئی مرد عاقل بالغ کہ باپ کے بعد اس سے قریب تر کوئی نہ ہواسے اختیار ہوگا کہ لڑکی کا نکاح کسی کفو بمعنی مذکور سے کردے اور اس وقت باپ کو اعترض کا کوئی حق نہ ہوگا اگر دادا پردادا دور ونزدیك کی اولاد قریب وبعید میں کوئی ایسا مرد نہ ہو اس وقت ماں کو اختیار ملے گا درمختار میں ہے :
ان لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ۔
اگر عصبات نہ ہوں تو ولایت ماں کو حاصل ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
یثبت للابعد التزویج بعضل الاقرب
اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو نکاح دینے کا
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ای بامتناعہ عن التزویج اجماعا خلاصۃ ۔
بالاجماع اختیار ثابت ہے۔ خلاصہ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بامتناعہ عن التزویج من کفو بمھر المثل امالو امتنع عن غیر الکفو اولکون المھر اقل من مھر المثل فلیس بعاضل ۔
مہر مثل اور کفو میں اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو اختیار ہے ورنہ اگر اقرب کم مہر اور غیر کفو میں نکاح سے انکار کرے تو پھر اس کومانع قرار دینا درست نہیں ہے۔ (ت)
یہاں ضرر سے مرادیہ ہے کہ کفو ملتا ہو اوراس کے ساتھ اس نابالغہ کا نکاح کسی وجہ سے خلاف مصلحت نہ ہو مہر مثل بھی پورا دینے کا کہتا ہو اور بلاوجہ باپ نہ مانے اور نکاح نہ کرے نہ کوئی دوسرا کفو موجود ہو جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہو توا س حالت میں اور جو اولیا ہم نے شمارکئے ان میں سے جو قریب تر ہو اس سنی دیندار عالم کی رائے سے جو وہاں سب سے زیادہ فقیہ ہو اس کفو موجود سے مہر مثل یا اس سے زائد پر نکاح کردے۔
وذلك لانھم اختلفوا فی المراد بالا بعد الذی یثبت لہ التزویج بعضل الاقرب فذھب فی شرح الوھبانیۃ ان المراد لابعد من اولیاء النسب وبہ جزم فی البحر ونقلہ فی الدرثم استدرك علیہ بما فی القھستانی عن الغیاثی لو لم یزوج الاقرب زوج القاضی عند فوت الکفو اھ قال ش ای خوف فوتہ ثم نقل عن رسالۃ العلامۃ الشرنبلالی کشف المعضل فیمن عزل نصوصا وافرۃ متظافرۃ علی
یہ اس لئے کہ اس ابعد کے بارے جن کو اقرب کے انکار پر نکاح دینے کا جواز ہے میں فقہاء کا اختلاف ہے تو وہبانیہ میں اس طرف رجحان ہے کہ ابعد اولیاء سے مراد نسبی اولیاء ہیں اور بحر میں اسی پر جزم کیا ہے اور در میں اس کو نقل کیا اور پھر اس پر استدراك کرتے ہوئے قہستانی میں غیاثی کے حوالے سے کہا کہ اگر اقرب نکاح نہ کرے تو کفو کے فوت ہونے کی صورت میں قاضی نکاح کردے اھ شارح نے کہا کہ کفو کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو قاضی نکاح کردے پھر انھوں نے علامہ شرنبلالی کے رسالہ کشف المعضل فیمن عزل
بالاجماع اختیار ثابت ہے۔ خلاصہ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بامتناعہ عن التزویج من کفو بمھر المثل امالو امتنع عن غیر الکفو اولکون المھر اقل من مھر المثل فلیس بعاضل ۔
مہر مثل اور کفو میں اقرب کے نکاح نہ کرنے پر ابعد کو اختیار ہے ورنہ اگر اقرب کم مہر اور غیر کفو میں نکاح سے انکار کرے تو پھر اس کومانع قرار دینا درست نہیں ہے۔ (ت)
یہاں ضرر سے مرادیہ ہے کہ کفو ملتا ہو اوراس کے ساتھ اس نابالغہ کا نکاح کسی وجہ سے خلاف مصلحت نہ ہو مہر مثل بھی پورا دینے کا کہتا ہو اور بلاوجہ باپ نہ مانے اور نکاح نہ کرے نہ کوئی دوسرا کفو موجود ہو جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہو توا س حالت میں اور جو اولیا ہم نے شمارکئے ان میں سے جو قریب تر ہو اس سنی دیندار عالم کی رائے سے جو وہاں سب سے زیادہ فقیہ ہو اس کفو موجود سے مہر مثل یا اس سے زائد پر نکاح کردے۔
وذلك لانھم اختلفوا فی المراد بالا بعد الذی یثبت لہ التزویج بعضل الاقرب فذھب فی شرح الوھبانیۃ ان المراد لابعد من اولیاء النسب وبہ جزم فی البحر ونقلہ فی الدرثم استدرك علیہ بما فی القھستانی عن الغیاثی لو لم یزوج الاقرب زوج القاضی عند فوت الکفو اھ قال ش ای خوف فوتہ ثم نقل عن رسالۃ العلامۃ الشرنبلالی کشف المعضل فیمن عزل نصوصا وافرۃ متظافرۃ علی
یہ اس لئے کہ اس ابعد کے بارے جن کو اقرب کے انکار پر نکاح دینے کا جواز ہے میں فقہاء کا اختلاف ہے تو وہبانیہ میں اس طرف رجحان ہے کہ ابعد اولیاء سے مراد نسبی اولیاء ہیں اور بحر میں اسی پر جزم کیا ہے اور در میں اس کو نقل کیا اور پھر اس پر استدراك کرتے ہوئے قہستانی میں غیاثی کے حوالے سے کہا کہ اگر اقرب نکاح نہ کرے تو کفو کے فوت ہونے کی صورت میں قاضی نکاح کردے اھ شارح نے کہا کہ کفو کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو قاضی نکاح کردے پھر انھوں نے علامہ شرنبلالی کے رسالہ کشف المعضل فیمن عزل
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۶
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۶
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۶
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۶
ان المراد بالابعد القاضی ولاقاضی ھھنا فقد تدارکنا بماذکرنا من جمیع النظرین واﷲ المستعان واﷲ تعالی اعلم۔
سے بہت سی نصوص نقل کیں کہ ابعد سے مراد قاضی ہے اور یہاں قاضی نہیں ہے اس لئے ہم نے نقصان کا تدارك کرتے ہوئے مذکور اولیاء کو ذکر کیا ہے تاکہ دونوں مصلحتیں جمع ہوجائیں اور الله تعالی سے ہی امداد طلب کی جاتی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۳ : از موضع پکریا ڈاك خانہ بانکی ضلع ڈالٹن گنج مرسلہ سید منہاج الحق صاحب احراری ۸ جمادی الاولی ۱۳۳ھ
ہندہ کے شوہر نے قضاء کیا اور عمرو سے بیوہ کا ناجائز تعلق ہوا بعد خبر پانے کے بکر نے جو ہندہ کا چچا ہے بساسرزنش گھر میں بند رکھا اور کچھ دنوں باہر نکلنے نہ دیا اور بزور اپنے لڑکے زید سے جس کی بی بی موجود ہے بے رضامندی جو بخوف ہلاکت ہندہ نے قبول کیانکاح کردیا وکیل نکاح واقعہ معلومہ نے بمقابلہ شاہدین اجہل جو چچازاد بھائی بیوہ کے ہیں برضامندی اجازت عقد نکاح چاہی بخوف جان ہندہ نے قبول کیااو راذن دیا بعد دوچار ماہ کے موقع وقت پاکر عمرو کے یہاں چلی آئی اور ہنوز اس کے مکان میں موجود ہے۔ ہندہ سے بمقابلہ چند گواہاں پوچھا گیا حلفا بیان کیا کہ ہم کو ہرگز ہر گز منظور نہ تھا جبر سے بکر وغیرہ کے جو دھمکی ہلاکت دیا تھا اقبال کیا بعدہ ہم دونوں کو یعنی ناکحین کو لوگوں نے ایك مکان میں بند کردیا چنانچہ خلوت صحیحہ بھی اسی قاعدہ مسطورہ صدر سے ہوا پس صورت مستفسرہ میں امید وار جواب باصواب کاہوں ایسا نکاح جائز ہوسکتا ہے یا نہیں کیونکہ ہندہ نے اقرار زبانی کیا دلی حالت کسی کو معلوم نہیں صورت مذکورہ بالا میں طلاق کی بھی ضرورت ہوگی یا نہیں حسب بیان وخواہش ہندہ بغیرطلاق عمرو سے نکاح یا بعد طلاق وعدت بینوا تو جروا
الجواب :
اگر واقعی اکراہ ومجبوری کی صورت نہ تھی صرف دھمکی تھی اور اسے بھی صحیح طورپر اندیشہ جان نہ تھا جب تو وہ اذن صحیح ہوگیا اور اگر اس وقت واقعی اکراہ تھا اور شوہر کے پاس جانا بلااکراہ ہوا تو اگر پہلے نہ بھی تھی اب ہوگئی ان دونوں صورتوں میں نکاح ہوگیا اور بغیر موت یا طلاق شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح نہیں ہوسکتا او ر جانا بھی باکراہ تھا اور جیسا کہ ہندہ کا بیان ہے خلوت بھی باکراہ ہوئی تو یہ مسئلہ شدید الاشکال ہے کتابوں میں اس کا جزئیہ کہیں نہیں علامہ خیرالدین رملی کی نظر حاشیہ بحرالرائق میں صحت توکیل کی طرف گئی اور حاشیہ منح الغفار میں عدم جواز کی طرف علامہ شامی نے کتاب الاکراہ میں اول کی طرف میل فرمایا اور آخر میں بھی لکھاکہ :
الحاصل ان المحل محتاج الی زیادۃ
حاصل یہ کہ یہ مقام زیادہ تحریر وتحقیق کا محتاج ہے
سے بہت سی نصوص نقل کیں کہ ابعد سے مراد قاضی ہے اور یہاں قاضی نہیں ہے اس لئے ہم نے نقصان کا تدارك کرتے ہوئے مذکور اولیاء کو ذکر کیا ہے تاکہ دونوں مصلحتیں جمع ہوجائیں اور الله تعالی سے ہی امداد طلب کی جاتی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۳ : از موضع پکریا ڈاك خانہ بانکی ضلع ڈالٹن گنج مرسلہ سید منہاج الحق صاحب احراری ۸ جمادی الاولی ۱۳۳ھ
ہندہ کے شوہر نے قضاء کیا اور عمرو سے بیوہ کا ناجائز تعلق ہوا بعد خبر پانے کے بکر نے جو ہندہ کا چچا ہے بساسرزنش گھر میں بند رکھا اور کچھ دنوں باہر نکلنے نہ دیا اور بزور اپنے لڑکے زید سے جس کی بی بی موجود ہے بے رضامندی جو بخوف ہلاکت ہندہ نے قبول کیانکاح کردیا وکیل نکاح واقعہ معلومہ نے بمقابلہ شاہدین اجہل جو چچازاد بھائی بیوہ کے ہیں برضامندی اجازت عقد نکاح چاہی بخوف جان ہندہ نے قبول کیااو راذن دیا بعد دوچار ماہ کے موقع وقت پاکر عمرو کے یہاں چلی آئی اور ہنوز اس کے مکان میں موجود ہے۔ ہندہ سے بمقابلہ چند گواہاں پوچھا گیا حلفا بیان کیا کہ ہم کو ہرگز ہر گز منظور نہ تھا جبر سے بکر وغیرہ کے جو دھمکی ہلاکت دیا تھا اقبال کیا بعدہ ہم دونوں کو یعنی ناکحین کو لوگوں نے ایك مکان میں بند کردیا چنانچہ خلوت صحیحہ بھی اسی قاعدہ مسطورہ صدر سے ہوا پس صورت مستفسرہ میں امید وار جواب باصواب کاہوں ایسا نکاح جائز ہوسکتا ہے یا نہیں کیونکہ ہندہ نے اقرار زبانی کیا دلی حالت کسی کو معلوم نہیں صورت مذکورہ بالا میں طلاق کی بھی ضرورت ہوگی یا نہیں حسب بیان وخواہش ہندہ بغیرطلاق عمرو سے نکاح یا بعد طلاق وعدت بینوا تو جروا
الجواب :
اگر واقعی اکراہ ومجبوری کی صورت نہ تھی صرف دھمکی تھی اور اسے بھی صحیح طورپر اندیشہ جان نہ تھا جب تو وہ اذن صحیح ہوگیا اور اگر اس وقت واقعی اکراہ تھا اور شوہر کے پاس جانا بلااکراہ ہوا تو اگر پہلے نہ بھی تھی اب ہوگئی ان دونوں صورتوں میں نکاح ہوگیا اور بغیر موت یا طلاق شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح نہیں ہوسکتا او ر جانا بھی باکراہ تھا اور جیسا کہ ہندہ کا بیان ہے خلوت بھی باکراہ ہوئی تو یہ مسئلہ شدید الاشکال ہے کتابوں میں اس کا جزئیہ کہیں نہیں علامہ خیرالدین رملی کی نظر حاشیہ بحرالرائق میں صحت توکیل کی طرف گئی اور حاشیہ منح الغفار میں عدم جواز کی طرف علامہ شامی نے کتاب الاکراہ میں اول کی طرف میل فرمایا اور آخر میں بھی لکھاکہ :
الحاصل ان المحل محتاج الی زیادۃ
حاصل یہ کہ یہ مقام زیادہ تحریر وتحقیق کا محتاج ہے
التحریر وھذا غایۃ ماوصل الیہ فھمنا القاصر واﷲ تعالی اعلم۔
اور جہاں ہمارا قاصر فہم پہنچاوہ یہی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
فقیر نے اس پر تعلیقات میں ان کی ابحاث سے جواب دئے اور تعلیقات کتاب الطلاق میں اولا وجوہ جواز لکھ کر انھیں رد کیااور عدم جواز کی ترجیح بیان کی اور آخر میں یہی لکھا کہ :
بالجملۃ محل اشتباہ ولابد من تحریر فوق ذلک و اﷲ تعالی اعلم۔
غرض یہ کہ محل اشتباہ ہے تو اس کی صفائی کے لئے اس سے زائد تحقیق کی ضرورت ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ایسی شدید مشتبہ حالت میں بھی احتیاط یہی ہے کہ بلاطلاق ومرور عدت نکاح ثانی کی جرأت نہ کی جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۴ : ا زسہسرام ضلع گیا مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳ جمادی الآخر ۱۳۳ھ
نابالغ کے نکاح میں اس کے ولی سے ایجاب کے کرانے کی نوبت پہنچے گی تب تعین مہر بحیثیت ولی کے ہوگی پس بعد بلوغ اقبا ل سے وہ نابالغ مہر کے ناراض ہو اور نکاح کرے تو کیا حکم ہوگا بینوا تو جروا
الجواب :
وہ ولی جس نے نابالغ کا نکاح کیا اس کا باپ نہ ہونے کی حالت میں دادا ہے ایسا جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنی ولایت سے مہر میں ایسے فرق کثیر پر یا غیر کفو سے نہ کرچکاہو نہ اس نکاح کے وقت نشہ میں ہو جب تو نکاح صحیح اور مہرلازم ہوگیا نابالغ کو کسی وقت کوئی حق اعتراض نہیں اور اگر نکاح کرنے والا اب وجد کے سوا اور کوئی ولی ہے یا اب وجد ہیں اور اس وقت نشہ میں تھے یا اس سے پہلے بھی کوئی نکاح اپنی ولایت سے ایسا کرچکے تھے اورمہر مثل سے فرق کثیر ہے مثلا پسر کا نکاح ہے اور عورت کا مہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پندرہ ہزاربندھوایا یا دختر کا نکاح ہے او رمہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پانچ ہزار بندھوایا تو اس صورت میں نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت ہے اور اگر فرق فاحش نہیں مثلا پسرکے نکاح میں دس ہزار کا گیارہ ہزار یا دختر کے نکاح میں دس ہزار کا نوہزار تو نکاح ہوگیا پھر اگر وہ ولی جس نے نکاح کیا غیر اب وجد ہے تو صغیر وصغیرہ کو خیار بلوغ ملے گا جو غیر اب وجد کے نکاح کرنے میں مطلقا ملتا ہے اگرچہ مہر مثل میں کوئی کمی بیشی نہ ہوئی ہو صغیرہ اگر بکر ہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا یا اس کے بعد علم نکاح ہو تو علم پاتے ہی معا اگر اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے گی تو دعوی کرکے قاضی سے فسخ کراسکے گی اور صغیرہ اگر ثیب ہے یاصغیرہ کا نکاح ہے تو انھیں بعد بلوغ مطلقا اختیار اعتراض رہے گا جب تك صراحۃ
اور جہاں ہمارا قاصر فہم پہنچاوہ یہی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
فقیر نے اس پر تعلیقات میں ان کی ابحاث سے جواب دئے اور تعلیقات کتاب الطلاق میں اولا وجوہ جواز لکھ کر انھیں رد کیااور عدم جواز کی ترجیح بیان کی اور آخر میں یہی لکھا کہ :
بالجملۃ محل اشتباہ ولابد من تحریر فوق ذلک و اﷲ تعالی اعلم۔
غرض یہ کہ محل اشتباہ ہے تو اس کی صفائی کے لئے اس سے زائد تحقیق کی ضرورت ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ایسی شدید مشتبہ حالت میں بھی احتیاط یہی ہے کہ بلاطلاق ومرور عدت نکاح ثانی کی جرأت نہ کی جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۴ : ا زسہسرام ضلع گیا مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳ جمادی الآخر ۱۳۳ھ
نابالغ کے نکاح میں اس کے ولی سے ایجاب کے کرانے کی نوبت پہنچے گی تب تعین مہر بحیثیت ولی کے ہوگی پس بعد بلوغ اقبا ل سے وہ نابالغ مہر کے ناراض ہو اور نکاح کرے تو کیا حکم ہوگا بینوا تو جروا
الجواب :
وہ ولی جس نے نابالغ کا نکاح کیا اس کا باپ نہ ہونے کی حالت میں دادا ہے ایسا جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنی ولایت سے مہر میں ایسے فرق کثیر پر یا غیر کفو سے نہ کرچکاہو نہ اس نکاح کے وقت نشہ میں ہو جب تو نکاح صحیح اور مہرلازم ہوگیا نابالغ کو کسی وقت کوئی حق اعتراض نہیں اور اگر نکاح کرنے والا اب وجد کے سوا اور کوئی ولی ہے یا اب وجد ہیں اور اس وقت نشہ میں تھے یا اس سے پہلے بھی کوئی نکاح اپنی ولایت سے ایسا کرچکے تھے اورمہر مثل سے فرق کثیر ہے مثلا پسر کا نکاح ہے اور عورت کا مہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پندرہ ہزاربندھوایا یا دختر کا نکاح ہے او رمہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پانچ ہزار بندھوایا تو اس صورت میں نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت ہے اور اگر فرق فاحش نہیں مثلا پسرکے نکاح میں دس ہزار کا گیارہ ہزار یا دختر کے نکاح میں دس ہزار کا نوہزار تو نکاح ہوگیا پھر اگر وہ ولی جس نے نکاح کیا غیر اب وجد ہے تو صغیر وصغیرہ کو خیار بلوغ ملے گا جو غیر اب وجد کے نکاح کرنے میں مطلقا ملتا ہے اگرچہ مہر مثل میں کوئی کمی بیشی نہ ہوئی ہو صغیرہ اگر بکر ہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا یا اس کے بعد علم نکاح ہو تو علم پاتے ہی معا اگر اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے گی تو دعوی کرکے قاضی سے فسخ کراسکے گی اور صغیرہ اگر ثیب ہے یاصغیرہ کا نکاح ہے تو انھیں بعد بلوغ مطلقا اختیار اعتراض رہے گا جب تك صراحۃ
اپنی رضا ظاہر نہ کریں یا کوئی فعل ایسا نہ کریں مثلا بوسہ وکنار جو رضا پر دلیل ہو درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مہرھا و زیادۃ مہر ہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران وان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وبطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد اخر المجلس وخیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلا صریح رضا اودلالۃ کقبلۃ ولمس ولابقیامھا عن المجلس لان وقتہ العمر فیبقی حتی یوجد الرضا اھ ملتقطا۔
اگر نکاح دینے والا باپ یا دادا ہو تو انتہائی کم یا زیادہ مہر یا غیر کفو میں نکاح لازم ہوجائے گا بشرطیکہ یہ باپ یا دادا سوء اختیار میں معروف نہ ہوں اور اگر وہ اس میں معروف ہو ں تو کم مہر اورغیر کفو میں ان کا دیا ہوا نکاح بالاتفاق صحیح نہ ہوگا اور ایسے ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو صحیح نہ ہوگا اور باپ دادا کا غیر نکاح دے تو غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اورا گر انھوں نے مہر مثل اور کفو میں کیا ہو تو صحیح ہوگا لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے پر یا بلوغ کے بعد نکاح کے علم پر فسخ کا اختیار ہوگا اور اگر لڑکی باکرہ بالغہ ہو تو غیر کے کئے ہوئے نکاح پر خاموشی سے اس کا خیار فسخ ختم ہوجائے گا بشرطیکہ ا س کو اپنے نکاح کا علم ہو اور خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا اور نابالغ لڑکے اور ثیبہ کا اختیار محض خاموشی پر ختم نہ ہوگا جب تك بالغ ہونے پر صراحۃ اظہار رضامندی نہ کردیں یا دلالۃ مثلا بوس وکنار وغیرہ سے رضاظاہر نہ ہوجائے اور ان دونوں کے اختیار والی مجلس سے اٹھ جانے سے بھی ان کا اختیار باطل نہ ہوگا کیونکہ اظہار رضا کے لئے ان دونوں کو عمر بھر اختیار باقی رہتا ہے جب تك کہ راضی نہ ہوجائیں یا رد نہ کردیں اھ ملتقطا(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
اذا زوج الرجل ابنہ بامرأۃ باکثر من مھر مثلھا او زوج ابنتہ الصغیرۃ باقل من مھر مثلھا اووضعھا فی غیر کفو
جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا مہر مثل سے زائد مہر پر یا نابالغہ لڑکی کا مہر مثل سے کم مہر پر یاغیر کفو میں نکاح دے یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی سے یا غیر کفو والی
لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مہرھا و زیادۃ مہر ہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران وان کان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھما خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وبطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد اخر المجلس وخیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلا صریح رضا اودلالۃ کقبلۃ ولمس ولابقیامھا عن المجلس لان وقتہ العمر فیبقی حتی یوجد الرضا اھ ملتقطا۔
اگر نکاح دینے والا باپ یا دادا ہو تو انتہائی کم یا زیادہ مہر یا غیر کفو میں نکاح لازم ہوجائے گا بشرطیکہ یہ باپ یا دادا سوء اختیار میں معروف نہ ہوں اور اگر وہ اس میں معروف ہو ں تو کم مہر اورغیر کفو میں ان کا دیا ہوا نکاح بالاتفاق صحیح نہ ہوگا اور ایسے ہی اگر وہ نشہ میں ہوں تو صحیح نہ ہوگا اور باپ دادا کا غیر نکاح دے تو غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اورا گر انھوں نے مہر مثل اور کفو میں کیا ہو تو صحیح ہوگا لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے پر یا بلوغ کے بعد نکاح کے علم پر فسخ کا اختیار ہوگا اور اگر لڑکی باکرہ بالغہ ہو تو غیر کے کئے ہوئے نکاح پر خاموشی سے اس کا خیار فسخ ختم ہوجائے گا بشرطیکہ ا س کو اپنے نکاح کا علم ہو اور خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك یہ اختیار باقی نہ رہے گا اور نابالغ لڑکے اور ثیبہ کا اختیار محض خاموشی پر ختم نہ ہوگا جب تك بالغ ہونے پر صراحۃ اظہار رضامندی نہ کردیں یا دلالۃ مثلا بوس وکنار وغیرہ سے رضاظاہر نہ ہوجائے اور ان دونوں کے اختیار والی مجلس سے اٹھ جانے سے بھی ان کا اختیار باطل نہ ہوگا کیونکہ اظہار رضا کے لئے ان دونوں کو عمر بھر اختیار باقی رہتا ہے جب تك کہ راضی نہ ہوجائیں یا رد نہ کردیں اھ ملتقطا(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
اذا زوج الرجل ابنہ بامرأۃ باکثر من مھر مثلھا او زوج ابنتہ الصغیرۃ باقل من مھر مثلھا اووضعھا فی غیر کفو
جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا مہر مثل سے زائد مہر پر یا نابالغہ لڑکی کا مہر مثل سے کم مہر پر یاغیر کفو میں نکاح دے یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی سے یا غیر کفو والی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۲
او زوج ابنہ الصغیر امۃ اوامرأۃ لیست بکفولہ جاز فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی وقال صاحباہ رحمہما اﷲ تعالی لایجوز ان فاحش واجمعوا علی انہ لایجوز ذلك من غیرالاب والجد ولامن القاضی ۔
عورت سے کردے تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول کے مطابق یہ نکاح جائزہونگے اور صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر جائز ہوگا جبکہ باپ داد ا کے غیر حتی کہ قاضی کے دئے ہوئے یہ نکاح ناجائز ہونے پر اجماع ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
لو زوج ولدہ من غیر کفو بان زوج ابنہ امۃ او ابنتہ عبدا اوزوج بغبن فاحش بان زوج البنت ونقص من مھرھا اوزوج ابنہ وزاد علی مھرا مراتہ جاز عند ابی حنیفۃ تبیین وعندھما لاتجوز الزیادۃ والحط الابما یتغابن الناس فیہ قال بعضھم فاما اصل النکاح فصحیح والاصح ان النکاح باطل عندھما کافی والخلاف فیما اذالم یعرف سوء الاختیار الاب امااذا عرف فالنکاح باطل اجماعا وکذا اذا کان سکران السراج الوھاج اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر اپنے بیٹے کا نکاح غیر کفو مثلا لونڈی سے یا نابالغہ بیٹی کا نکاح غلا م سے کردیا یاا س کا نکاح انتہائی کم مہرپر کردیا یا بیٹے کا نکاح کرکے اس کی بیوی کا مہر زائد کردیا تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول پر جائزہوگا تبیین اور صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر اتنی زیادتی یا کمی پر نکاح کیا جو مروج کے مطابق نہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے بعض کے نزدیك صاحبین کے قول پر اصل نکاح صحیح ہوجاتا ہے کافی یہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ باپ سوء اختیار سے معروف نہ ہو اور اس میں مشہور ہو تو بالاجماع باطل ہے اور یو ں ہی اگر وہ نشہ میں ہو تو بھی باطل ہے سراج الوہاج اھ ملتقطا والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۵ : از مندیا ہو ضلع جونپور محلہ قضیانہ مرسلہ حافظ کریم بخش صاحب ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۲ھ
زید نے قضا کی اس کاایك حقیقی بھائی جو مدت دراز سے علیحدہ رہتاہے اور مرحوم سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتا تھا زندہ ہے زید کی ایك لڑکی جواب قریب بلوغ ہے اور اس کی شادی برادری میں دس ۱۰ رجب المرجب کو
عورت سے کردے تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول کے مطابق یہ نکاح جائزہونگے اور صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر جائز ہوگا جبکہ باپ داد ا کے غیر حتی کہ قاضی کے دئے ہوئے یہ نکاح ناجائز ہونے پر اجماع ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
لو زوج ولدہ من غیر کفو بان زوج ابنہ امۃ او ابنتہ عبدا اوزوج بغبن فاحش بان زوج البنت ونقص من مھرھا اوزوج ابنہ وزاد علی مھرا مراتہ جاز عند ابی حنیفۃ تبیین وعندھما لاتجوز الزیادۃ والحط الابما یتغابن الناس فیہ قال بعضھم فاما اصل النکاح فصحیح والاصح ان النکاح باطل عندھما کافی والخلاف فیما اذالم یعرف سوء الاختیار الاب امااذا عرف فالنکاح باطل اجماعا وکذا اذا کان سکران السراج الوھاج اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر اپنے بیٹے کا نکاح غیر کفو مثلا لونڈی سے یا نابالغہ بیٹی کا نکاح غلا م سے کردیا یاا س کا نکاح انتہائی کم مہرپر کردیا یا بیٹے کا نکاح کرکے اس کی بیوی کا مہر زائد کردیا تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول پر جائزہوگا تبیین اور صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے قول پر اتنی زیادتی یا کمی پر نکاح کیا جو مروج کے مطابق نہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے بعض کے نزدیك صاحبین کے قول پر اصل نکاح صحیح ہوجاتا ہے کافی یہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ باپ سوء اختیار سے معروف نہ ہو اور اس میں مشہور ہو تو بالاجماع باطل ہے اور یو ں ہی اگر وہ نشہ میں ہو تو بھی باطل ہے سراج الوہاج اھ ملتقطا والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۵ : از مندیا ہو ضلع جونپور محلہ قضیانہ مرسلہ حافظ کریم بخش صاحب ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۲ھ
زید نے قضا کی اس کاایك حقیقی بھائی جو مدت دراز سے علیحدہ رہتاہے اور مرحوم سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتا تھا زندہ ہے زید کی ایك لڑکی جواب قریب بلوغ ہے اور اس کی شادی برادری میں دس ۱۰ رجب المرجب کو
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۴
فتاوی ہندیہ الباب الخامس فی الاکفاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹۴
فتاوی ہندیہ الباب الخامس فی الاکفاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹۴
ہونے والی ہے اس لڑکی کی ایك سوتیلی ماں ہے جس نے اس کی پرورش کی اور شادی بھی کرتی ہے زید کے حقیقی بھائی سے اس نے اس کی شادی کے متعلق مدد چاہی کہ تمام اہل برادری کے سامنے اس نے انکار کیا کہ میں نہ اس شادی میں شریك ہوں گا نہ مجھ سے کسی قسم کا واسطہ ہے جہاں چاہیں شادی کریں مجھ سے کوئی واسطہ نہیں اس لئے سخت پریشانی ہے کہ اس کی بیوہ سوتیلی ماں نے کل انتظام شادی کا کرلیا ہے خدانخواستہ اگر وہ عین وقت مخل ہو تواس کا سخت نقصان ہوگا گو امید نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ اس نے سب اہل برادری کے سامنے اپنی بے تعلقی بیان کیا ہے مگر احتیاطا ضرورت ہے کہ علماء کی بھی سند موجود ہو لڑکی کاولی اس کی بڑی بہن کا شوہر ہوسکتاہے اس کی بڑی بہن کا انتقال ہوچکا ہے او ردوسری بہن مع شوہر موجود ہے اور سوتیلی ماں کے چار لڑکے اس کے باپ کے نطفہ سے موجود ہیں جن میں سے دو کی عمر ۱ ۱۴ سال کی ہے اور ایك سوتیلی ماں ہے اور تمام اہل برادری ہیں ان میں اس کا ولی کون ہوسکتاہے بینوا تو جروا
الجواب :
اس صورت میں اس نابالغہ کے نکاح کا ولی نہ اس کا حقیقی چچاہوسکتاہے نہ بہن نہ بہنوئی نہ ماں بلکہ لڑکی کا سوتیلا بھائی کہ سولہ سال کاہے اس کے نکاح کا ولی ہے اور دوسرا کہ چودہ سال کاہے اگر وہ بالغ ہے تووہ بھی ہے درمختار وغیرہ میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث اوالحجب ۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ وراثت اورمانع ہونے کی ترتیب پر ہوتے ہیں۔ (ت)
لہذا لڑکی کا نکاح کفو میں مہر مثل یا زائد پر جو ان سوتیلے بھائی کی اجازت سے ہونا چاہئے اگر ماں حقیقی بھی ہوتی تو اس کا کیا ہوا نکاح بھی اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہتا اور جبکہ اس کا بھائی کی اجازت سے ہو یابعد نکاح قبل رد یہ اسے جائز کردے اور نکاح میں مہر مثل سے کمی فاحش نہ کی گئی ہو او رجس سے نکاح ہوا وہ کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے نکاح ان بھائیوں کے لئے وجہ عار وبدنامی ہو تو وہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور چچا اس میں کسی طرح خلل انداز نہیں ہوسکتا ہاں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ بالغہ ہوتے ہی اگر فورا ا س نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو دعوی کرکے فسخ کراسکے گی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۶ ۳۷۷ : از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ۲ صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی عمر چارپانچ سال کی تھی کہ اس کے
الجواب :
اس صورت میں اس نابالغہ کے نکاح کا ولی نہ اس کا حقیقی چچاہوسکتاہے نہ بہن نہ بہنوئی نہ ماں بلکہ لڑکی کا سوتیلا بھائی کہ سولہ سال کاہے اس کے نکاح کا ولی ہے اور دوسرا کہ چودہ سال کاہے اگر وہ بالغ ہے تووہ بھی ہے درمختار وغیرہ میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث اوالحجب ۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ وراثت اورمانع ہونے کی ترتیب پر ہوتے ہیں۔ (ت)
لہذا لڑکی کا نکاح کفو میں مہر مثل یا زائد پر جو ان سوتیلے بھائی کی اجازت سے ہونا چاہئے اگر ماں حقیقی بھی ہوتی تو اس کا کیا ہوا نکاح بھی اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہتا اور جبکہ اس کا بھائی کی اجازت سے ہو یابعد نکاح قبل رد یہ اسے جائز کردے اور نکاح میں مہر مثل سے کمی فاحش نہ کی گئی ہو او رجس سے نکاح ہوا وہ کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے نکاح ان بھائیوں کے لئے وجہ عار وبدنامی ہو تو وہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور چچا اس میں کسی طرح خلل انداز نہیں ہوسکتا ہاں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ بالغہ ہوتے ہی اگر فورا ا س نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو دعوی کرکے فسخ کراسکے گی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۶ ۳۷۷ : از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ۲ صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی عمر چارپانچ سال کی تھی کہ اس کے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ماں باپ نے قضا کی اور ہندہ کو اس کی حقیقی نانی نے پرورش کیا جبکہ ہندہ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو اس کی حقیقی نانی نے ہندہ کا عقد اپنے دوسرے نواسے کے ساتھ کردیا گو ہندہ کے بھائی حقیقی تھے مگر اس موقع پر موجود نہ تھے جبکہ اس کا عقد اس کی نانی نے کیا تھا لہذا شادی ہونے کے بعد سے پانچ چھ برس کامل تك ہندہ کو نہ ا س کے شوہر نے روٹی کپڑا دیا اور نہ اس کے ساس سسر نے بدستور سابق ہندہ اپنی نانی کے پاس رہی اس نے اس کو روٹی کپڑا دیا جبکہ ہندہ کی عمر چودہ سال کچھ ماہ کی ہوئی اور اس کو پہلا ایام ہوا اس وقت ہندہ مع اپنی نانی کے اپنے محلہ کے ایك گھرمیں آئی اور اس نے دومرد او ر تین عورتوں کے روبرو کہا کہ میری شادی میری نانی نے جس کے ساتھ کی تھی اس سے میں رضامند نہیں ہوں اور میں اس کے ساتھ اپنی عمر کسی طرح بسر نہیں کرسکتی ایسی حالت میں وہ نکاح ہندہ کا رہا یا ٹوٹ گیا
(۱)اس کے پانچ ماہ بعد ہندہ کادوسرا نکاح ہندہ کی رضامندی سے دوسرے شخص کے ساتھ کردیا گیا جبکہ وہ بالغ ہوچکی تھی اس صورت میں یہ نکاح جائزسمجھا جائے گا یا نہیں اگر ہندہ کا پہلا شوہر عدالتی لڑائی فساد سے اپنی عورت کو لینا چاہے تو ان تمام امورات کو مدنظر رکھ کر ہندہ کو لے سکتا ہے یا نہیں
الجواب :
جس سے ہندہ کا پہلا نکاح ہوا اگروہ ہندہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم تھا کہ اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا برادران ہندہ کے لئے باعث ننگ وعاروبدنامی ہو تو وہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
یفتی بعدم الصحۃ فی غیر الکفو لفساد الزمان در مختار وغیرہ۔
فتوی یہ ہے کہ غیر کفو میں زمانہ کے فساد کی بناپر اصلا نکاح نہ ہوگا درمختار وغیرہ(ت)
اور اگرایسا نہ تھا وہ نکاح صحیح ومنعقد ہوگیا لصدورہ من فضولی ولہ مجیز(فضولی سے صادر اور اس کو جائز کرنے والا موجود ہونے کی وجہ سے۔ ت)ہندہ اگر بالغ ہوتے ہی ناراضی ظاہر کرتی اس نکاح کو فسخ کراسکتی اب کہ دیرلگائی وہاں سے دوسری جگہ جاکر وہ الفاظ کہے اب نکاح لازم ہوگیا بے موت یا طلاق شوہر اول اس سے جدا نہیں ہوسکتی
(۲)دوسرا نکاح جو کیا باطل محض ہے اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے جدا ہوجائے درمختار میں ہے :
(۱)اس کے پانچ ماہ بعد ہندہ کادوسرا نکاح ہندہ کی رضامندی سے دوسرے شخص کے ساتھ کردیا گیا جبکہ وہ بالغ ہوچکی تھی اس صورت میں یہ نکاح جائزسمجھا جائے گا یا نہیں اگر ہندہ کا پہلا شوہر عدالتی لڑائی فساد سے اپنی عورت کو لینا چاہے تو ان تمام امورات کو مدنظر رکھ کر ہندہ کو لے سکتا ہے یا نہیں
الجواب :
جس سے ہندہ کا پہلا نکاح ہوا اگروہ ہندہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم تھا کہ اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا برادران ہندہ کے لئے باعث ننگ وعاروبدنامی ہو تو وہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
یفتی بعدم الصحۃ فی غیر الکفو لفساد الزمان در مختار وغیرہ۔
فتوی یہ ہے کہ غیر کفو میں زمانہ کے فساد کی بناپر اصلا نکاح نہ ہوگا درمختار وغیرہ(ت)
اور اگرایسا نہ تھا وہ نکاح صحیح ومنعقد ہوگیا لصدورہ من فضولی ولہ مجیز(فضولی سے صادر اور اس کو جائز کرنے والا موجود ہونے کی وجہ سے۔ ت)ہندہ اگر بالغ ہوتے ہی ناراضی ظاہر کرتی اس نکاح کو فسخ کراسکتی اب کہ دیرلگائی وہاں سے دوسری جگہ جاکر وہ الفاظ کہے اب نکاح لازم ہوگیا بے موت یا طلاق شوہر اول اس سے جدا نہیں ہوسکتی
(۲)دوسرا نکاح جو کیا باطل محض ہے اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے جدا ہوجائے درمختار میں ہے :
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
بطل خیار البکر بالسکوت مختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتدالی اخر المجلس ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
باکرہ بالغہ کو جب علم ہوجائے تو خاموشی پر اس کا اختیار فسخ ختم ہوجاتاہے او رخاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۸ : از موضع سموال ڈاکخانہ سیگتر ریاست جموں ضلع میر پور ملك پنجاب براستہ جہلم مرسلہ حافظ مطیع الله صاحب ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صو رت میں مثلا زید کی لڑکی نابالغہ کا بعد وفات زید لڑکی کی والدہ نے کسی جگہ ناتا یعنی ساك کردیا اور ان نے لڑکی مذکورہ کو کسی قدر زیور اور کپڑا دیا اپنے زعم میں انھوں نے لڑکی اپنی منکوحہ سمجھ لی بعد گزرنے دوتین سال کے والدہ لڑکی کے پاس گئے تاکہ شادی کردیوے اس نے کہا مجھے فرصت نہیں پھر چلے گئے دوبارہ جس کے ذریعہ سے منگنی کی تھی بھیج کر سوال کیا پھر والدہ لڑکی نے انکار کردیا منگنی والوں نے کہا زیور وغیرہ واپس کردو ہم اس سے رہے غرض وہ اپنے زیورات وغیرہ لے کر واپس چلے آئے اور دعوی ناتا چھوڑ دیا اب لڑکی بالغ ہے اور اس کی والدہ مرگئی ہے دوبارہ ناتے والے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم نے ناتا نہیں چھوڑا اور نہ ہم نے زیورلیا وکیل نے لیا ہوگا آیا بروقت منگنی نابالغ کا اس کی والدہ یا چچایا برادر نے کردیا اس کو بموجب شریعت اختیار فسخ ہے بحکم ولھما الخیار فی غیر الاب والجد(نابالغ اور بالغہ کو غیر باپ دادا کے دئے ہوئے نکاح میں اختیار ہوتا ہے ت)لیکن بروقت بلوغ قاضی کے نزدیك بیان دیوے اور قاضی حکم فسخ کرے چونکہ اس ولایت میں کوئی قاضی نہیں تو کیا اس ملك میں اعلم علماء فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
محض منگنی کوئی چیزنہیں اور ان کا منکوحہ سمجھ لینا باطل ہے جبکہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو اس صورت میں فسخ کی کیا حاجت کہ نکاح ہی نہ تھا جسے فسخ کیا جائے ہاں اگر ایجاب وقبول ہوگیا تو بے شك صورت مذکورہ میں نابالغہ کو خیار فسخ ہے اگر بالغہ ہوتے ہی فورا ا سی مجلس میں انکار واعتراض کرے تو دعوی فسخ کرسکتی ہے اعلم وافقہ اہل بلد بحضور زوج فسخ کرے او راس کی تنفیذ بذریعہ کچہری کرالے اور اگر مجلس بلوغ میں سکوت کیا تو اب دعوی فسخ نہیں کرسکتی نکاح لازم ہوگیا جبکہ کفو سے ہوا ہو یعنی زوج زوجہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس کا نکاح اولیاء کے لئے عرفا باعث ننگ وعار ہو کہ اس صور ت میں غیر اب وجد کاکیا ہوا نکاح باطل محض ہوتاہے جب سرے سے ہواہی نہیں فسخ کی کیا حاجت
باکرہ بالغہ کو جب علم ہوجائے تو خاموشی پر اس کا اختیار فسخ ختم ہوجاتاہے او رخاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷۸ : از موضع سموال ڈاکخانہ سیگتر ریاست جموں ضلع میر پور ملك پنجاب براستہ جہلم مرسلہ حافظ مطیع الله صاحب ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صو رت میں مثلا زید کی لڑکی نابالغہ کا بعد وفات زید لڑکی کی والدہ نے کسی جگہ ناتا یعنی ساك کردیا اور ان نے لڑکی مذکورہ کو کسی قدر زیور اور کپڑا دیا اپنے زعم میں انھوں نے لڑکی اپنی منکوحہ سمجھ لی بعد گزرنے دوتین سال کے والدہ لڑکی کے پاس گئے تاکہ شادی کردیوے اس نے کہا مجھے فرصت نہیں پھر چلے گئے دوبارہ جس کے ذریعہ سے منگنی کی تھی بھیج کر سوال کیا پھر والدہ لڑکی نے انکار کردیا منگنی والوں نے کہا زیور وغیرہ واپس کردو ہم اس سے رہے غرض وہ اپنے زیورات وغیرہ لے کر واپس چلے آئے اور دعوی ناتا چھوڑ دیا اب لڑکی بالغ ہے اور اس کی والدہ مرگئی ہے دوبارہ ناتے والے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم نے ناتا نہیں چھوڑا اور نہ ہم نے زیورلیا وکیل نے لیا ہوگا آیا بروقت منگنی نابالغ کا اس کی والدہ یا چچایا برادر نے کردیا اس کو بموجب شریعت اختیار فسخ ہے بحکم ولھما الخیار فی غیر الاب والجد(نابالغ اور بالغہ کو غیر باپ دادا کے دئے ہوئے نکاح میں اختیار ہوتا ہے ت)لیکن بروقت بلوغ قاضی کے نزدیك بیان دیوے اور قاضی حکم فسخ کرے چونکہ اس ولایت میں کوئی قاضی نہیں تو کیا اس ملك میں اعلم علماء فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
محض منگنی کوئی چیزنہیں اور ان کا منکوحہ سمجھ لینا باطل ہے جبکہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو اس صورت میں فسخ کی کیا حاجت کہ نکاح ہی نہ تھا جسے فسخ کیا جائے ہاں اگر ایجاب وقبول ہوگیا تو بے شك صورت مذکورہ میں نابالغہ کو خیار فسخ ہے اگر بالغہ ہوتے ہی فورا ا سی مجلس میں انکار واعتراض کرے تو دعوی فسخ کرسکتی ہے اعلم وافقہ اہل بلد بحضور زوج فسخ کرے او راس کی تنفیذ بذریعہ کچہری کرالے اور اگر مجلس بلوغ میں سکوت کیا تو اب دعوی فسخ نہیں کرسکتی نکاح لازم ہوگیا جبکہ کفو سے ہوا ہو یعنی زوج زوجہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس کا نکاح اولیاء کے لئے عرفا باعث ننگ وعار ہو کہ اس صور ت میں غیر اب وجد کاکیا ہوا نکاح باطل محض ہوتاہے جب سرے سے ہواہی نہیں فسخ کی کیا حاجت
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
والمسائل کلھا مصرحۃ بھا فی عامۃ زبر المذھب کالدرالمختار وغیرہ ومسألۃ العالم فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی وقد فصلنا الکل فی فتاونا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یہ تمام مسائل مذہب کی عام کتب میں تصریح شدہ ہیں جیسے درمختار وغیرہ۔ اور عالم فقہیہ والامسئلہ حدیقہ ندیہ میں امام عتابی سے منقول ہے ہم نے ان تمام کی تفصیل اپنے فتاوی میں ذکر کی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۷۹ : از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ حمید الله صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی کی عمر ۱۴ سال کی ہے اور اس کے والد نے خط اپنی بیوی کے نام اس مضمون کا بھیجا ہے کہ جس طرح چاہو کرو تمھیں اختیار ہے ماں نکاح کرنا چاہتی ہے اور والد اس کے یہاں موجود نہیں ہیں عدم موجودگی میں والدکے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر ثالث ہوکہ خط اس کا ہے تو ماں کو اختیار ہے اگر لڑکی نابالغہ ہو اور بالغہ کی خود اپنی اجازت معتبر ہوتی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۰ : از کوٹیلی ڈاك خانہ خاص ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالعلیم شاہ صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کو تین شادی محل اولی(مرحوم)سے دولڑکے ایك لڑکی او رمحل ثانی لاولد مرحوم محل سوم(قائم)سے دولڑکے او ر ایك لڑکی زید نے محل اولی کی اولاد کو اپنی حیات میں علیحدہ کردیا جوکہ زید کو بدرمیاں اولاد محل اولی کے کوئی سروکار نہیں بلکہ سننے میں آتا ہے کہ زیدنے محل اولی والی اولاد کو عاق کیاتھا او رزید محل سوم کے ساتھ مع اولاد کے رہتے تھے زید نے اپنی حیات میں محل سوم کی لڑکی کی نسبت بکر کے لڑکے سے کی تھی یعنی نسبت شادی کی مقرر ہوئی تھی چونکہ عمر لڑکی کی دس بر س کی تھی بعدمقرر کرنے نسبت مذکور کے زید نے قضا کیا بعد قضا کرنے زید کے ایك سال بعدمسماۃ محل سوم نے اپنی لڑکی کی شادی بولایت خاص بکر کے لڑکے کے ساتھ کردی اس درمیان میں محل اولی والی اولاد سے جوکہ عاق شدہ ہے اس سے معاملہ حقداری کا ساتھ محل سوم مسماۃ کے تھا بعد شادی ہونے تھوڑے زمانہ کے اور اٹھ جانے معاملہ کے محل اولی والی اولاد نے محل سوم والی مسماۃ کواپنی رائے میں یعنی میل میں لے آئے اب محل اولی والی اولاد کی جانب سے یہ کہا جاتاہے کہ عقد ناجائزہوگا کیونکہ اس لڑکی کا وارث میں ہوسکتاہوں یعنی اس کا ولی میں ہوں گا بلکہ اس لڑکی کو اپنی سسرال سے لاکر اپنے گھرمیں رکھ لیا ہے اور دوسری شادی کرنے پر لڑکی آمادہ ہے آیا یہ عقد جوکہ مسماۃ محل سوم والی نے بولایت اپنے کیا ہے کیا جائز ہے یا نہیں
یہ تمام مسائل مذہب کی عام کتب میں تصریح شدہ ہیں جیسے درمختار وغیرہ۔ اور عالم فقہیہ والامسئلہ حدیقہ ندیہ میں امام عتابی سے منقول ہے ہم نے ان تمام کی تفصیل اپنے فتاوی میں ذکر کی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۳۷۹ : از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ حمید الله صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی کی عمر ۱۴ سال کی ہے اور اس کے والد نے خط اپنی بیوی کے نام اس مضمون کا بھیجا ہے کہ جس طرح چاہو کرو تمھیں اختیار ہے ماں نکاح کرنا چاہتی ہے اور والد اس کے یہاں موجود نہیں ہیں عدم موجودگی میں والدکے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر ثالث ہوکہ خط اس کا ہے تو ماں کو اختیار ہے اگر لڑکی نابالغہ ہو اور بالغہ کی خود اپنی اجازت معتبر ہوتی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۰ : از کوٹیلی ڈاك خانہ خاص ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالعلیم شاہ صاحب ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کو تین شادی محل اولی(مرحوم)سے دولڑکے ایك لڑکی او رمحل ثانی لاولد مرحوم محل سوم(قائم)سے دولڑکے او ر ایك لڑکی زید نے محل اولی کی اولاد کو اپنی حیات میں علیحدہ کردیا جوکہ زید کو بدرمیاں اولاد محل اولی کے کوئی سروکار نہیں بلکہ سننے میں آتا ہے کہ زیدنے محل اولی والی اولاد کو عاق کیاتھا او رزید محل سوم کے ساتھ مع اولاد کے رہتے تھے زید نے اپنی حیات میں محل سوم کی لڑکی کی نسبت بکر کے لڑکے سے کی تھی یعنی نسبت شادی کی مقرر ہوئی تھی چونکہ عمر لڑکی کی دس بر س کی تھی بعدمقرر کرنے نسبت مذکور کے زید نے قضا کیا بعد قضا کرنے زید کے ایك سال بعدمسماۃ محل سوم نے اپنی لڑکی کی شادی بولایت خاص بکر کے لڑکے کے ساتھ کردی اس درمیان میں محل اولی والی اولاد سے جوکہ عاق شدہ ہے اس سے معاملہ حقداری کا ساتھ محل سوم مسماۃ کے تھا بعد شادی ہونے تھوڑے زمانہ کے اور اٹھ جانے معاملہ کے محل اولی والی اولاد نے محل سوم والی مسماۃ کواپنی رائے میں یعنی میل میں لے آئے اب محل اولی والی اولاد کی جانب سے یہ کہا جاتاہے کہ عقد ناجائزہوگا کیونکہ اس لڑکی کا وارث میں ہوسکتاہوں یعنی اس کا ولی میں ہوں گا بلکہ اس لڑکی کو اپنی سسرال سے لاکر اپنے گھرمیں رکھ لیا ہے اور دوسری شادی کرنے پر لڑکی آمادہ ہے آیا یہ عقد جوکہ مسماۃ محل سوم والی نے بولایت اپنے کیا ہے کیا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
فی الواقع بھائی اگرچہ سوتیلا ہو اس کے ہوتے ماں کو ولایت نہیں جو نکاح ماں نے کیا او رکسی جوان بھائی کاا ذن نہ تھا نہ بعد نکاح کسی جوان بھائی نے جائز کیا اسے جو جوان بھائی فسخ کرے فسخ ہوجائے گا اور عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں نہ اس سے ولایت زائل ہو درمختارمیں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ولی ابعد ولی اقرب کی موجودگی میں نکاح کردے تویہ نکاح اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۸۱ : از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ محمد ایوب حسن صاحب سلمہ ولد قاضی محمد یوسف صاحب ۲۱ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہاجرہ خاتون عرف بنو دختر راحت حسین مرحوم کا جس کی عمر اس وقت پندرہ برس چھ ماہ ہے اس کی ماں بساز اپنے بھائی اولاد حسین اور بھانجے قطب الحسن(قطب الحسن کو ہاجرہ کی بڑی بہن بیاہی ہے)جبکہ مکان پرکوئی شخص از ذکور موجود نہ تھا اپنی بہن کے لڑکے عزیز الحسن سے جوقطب الحسن مذکور سے چھوٹے ہیں بوکالت اپنے بھائی حقیقی اولاد حسین مذکور وبگواہی بندہ حسن جو قطب الحسن وعزیزالحسن مذکورکے عم زاد ہیں وبگواہی احمد حسین جو قطب الحسن کے قریبی رشتہ دار ہیں نکاح پڑھوادیا بیان ہاجرہ خاتون جو کہ بموجودگی ممتاز حسین وفرحت حسین وصولت حسین کلام پاك پر ہاتھ رکھ کر بیان کیا میرے سامنے قبل نکاح کے واقع کے چند مرتبہ میری بہن زوجہ قطب الحسن نے عزیز الحسن سے میرا نکاح کئے جانے کا تذکرہ کیا مگر میں نے قطعی انکار کیا اور میرے اس انکار کی خبر قطب الحسن وعزیز الحسن اور ان کی والدہ اورمیری ماں اور بہنوئی کو کماحقہ ہوچکی تھی اب بوقت نکاح جب مجھ سے اذن طلب کیا گیا میں بوجہ لحاظ شرم بآواز بلند اس مجمع میں انکار نہ کرسکی مگر انکاری سرہلایا اور اوں ہونھ جو انکار تھا کیا تھا میری آواز نکلتے ہی میری بہنوں اور خالہ وماں نے غل وشور مچادیا کہ ہوگیا ہوگیا میں عزیز الحسن کے ساتھ نکاح کئے جانے کہ نہ قبل اس واقعہ کے نہ اس وقت اورنہ اب رضامند ہوں مجھ پر خدا اور اس کے رسول کی پھٹکارہو جو اس وقت ایك لفظ بھی غلط کہتی ہوں بیان گواہ بندہ احسن جو تحریر کرالیاگیاہے بتاریخ ۲۹ دسمبر ۱۹۱۸ء بوقت ۵ بجے شام قطب الحسن مجھ کو قاضی ٹولہ بغرض نکاح عزیز الحسن کے لئے گئے وہاں پر جاکر مجھ کو معلوم ہو اکہ تم گواہ ہو کہ مسماۃ بنو
فی الواقع بھائی اگرچہ سوتیلا ہو اس کے ہوتے ماں کو ولایت نہیں جو نکاح ماں نے کیا او رکسی جوان بھائی کاا ذن نہ تھا نہ بعد نکاح کسی جوان بھائی نے جائز کیا اسے جو جوان بھائی فسخ کرے فسخ ہوجائے گا اور عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں نہ اس سے ولایت زائل ہو درمختارمیں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ولی ابعد ولی اقرب کی موجودگی میں نکاح کردے تویہ نکاح اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۸۱ : از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ محمد ایوب حسن صاحب سلمہ ولد قاضی محمد یوسف صاحب ۲۱ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہاجرہ خاتون عرف بنو دختر راحت حسین مرحوم کا جس کی عمر اس وقت پندرہ برس چھ ماہ ہے اس کی ماں بساز اپنے بھائی اولاد حسین اور بھانجے قطب الحسن(قطب الحسن کو ہاجرہ کی بڑی بہن بیاہی ہے)جبکہ مکان پرکوئی شخص از ذکور موجود نہ تھا اپنی بہن کے لڑکے عزیز الحسن سے جوقطب الحسن مذکور سے چھوٹے ہیں بوکالت اپنے بھائی حقیقی اولاد حسین مذکور وبگواہی بندہ حسن جو قطب الحسن وعزیزالحسن مذکورکے عم زاد ہیں وبگواہی احمد حسین جو قطب الحسن کے قریبی رشتہ دار ہیں نکاح پڑھوادیا بیان ہاجرہ خاتون جو کہ بموجودگی ممتاز حسین وفرحت حسین وصولت حسین کلام پاك پر ہاتھ رکھ کر بیان کیا میرے سامنے قبل نکاح کے واقع کے چند مرتبہ میری بہن زوجہ قطب الحسن نے عزیز الحسن سے میرا نکاح کئے جانے کا تذکرہ کیا مگر میں نے قطعی انکار کیا اور میرے اس انکار کی خبر قطب الحسن وعزیز الحسن اور ان کی والدہ اورمیری ماں اور بہنوئی کو کماحقہ ہوچکی تھی اب بوقت نکاح جب مجھ سے اذن طلب کیا گیا میں بوجہ لحاظ شرم بآواز بلند اس مجمع میں انکار نہ کرسکی مگر انکاری سرہلایا اور اوں ہونھ جو انکار تھا کیا تھا میری آواز نکلتے ہی میری بہنوں اور خالہ وماں نے غل وشور مچادیا کہ ہوگیا ہوگیا میں عزیز الحسن کے ساتھ نکاح کئے جانے کہ نہ قبل اس واقعہ کے نہ اس وقت اورنہ اب رضامند ہوں مجھ پر خدا اور اس کے رسول کی پھٹکارہو جو اس وقت ایك لفظ بھی غلط کہتی ہوں بیان گواہ بندہ احسن جو تحریر کرالیاگیاہے بتاریخ ۲۹ دسمبر ۱۹۱۸ء بوقت ۵ بجے شام قطب الحسن مجھ کو قاضی ٹولہ بغرض نکاح عزیز الحسن کے لئے گئے وہاں پر جاکر مجھ کو معلوم ہو اکہ تم گواہ ہو کہ مسماۃ بنو
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
دختر راحت حسین کے گیاتھا وہاں جاکر مجھ کو گواہ بنایا گیا میں نے اندر جاکر اس کی والدہ سے دریافت کیا اس نے اقرار کیا اور اجازت نکاح کی دی پھر میں نے لڑکی سے اذن طلب کیا وہ پردہ میں تھی اندر سے اوں کی آواز آئی پھر نکاح پڑھوادیا گیا فرحت حسین بوقت نکاح موجود نہ تھے دستخط احمد حسین وکیل صاحب مسمی قاضی اولاد حسین علیل تھے اور اس کے بعد زیادہ علیل ہوگئے اور انتقال ہوگیا کوئی بیان تحریری حاصل نہ ہوسکا قاضی صاحب نے جنھوں نے کہ نکاح پڑھایا ہے مکان پر یا اس موقع پر قسم ذکور سے کسی کو نہ پاکر قطب الحسن سے کہا گیا کہ ایسانکاح پڑھوا کر مجھ کو کسی مقدمہ میں ماخوذ تو نہ کراؤ گے جوکوئی مرد مکان پرموجود نہیں ہے جس کا جواب قطب الحسن نے یہ دیاکہ کسی مرد کی کچھ ضرورت نہیں ہے لڑکی خود بالغ ہے قاضی صاحب نے لڑکی سے ایجاب قبول کرادیا اندر کا کچھ حال اس وقت قاضی صاحب کو گواہان او ر وکیل صاحب کے بیانات سے طرح طرح کے شکوك عدم جواز نکاح کے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ضرورت فتوی لینے کی ہوئی معروضہ احقر اب وہ لوگ طرح طرح کے دباؤ رخصت کے ڈالتے ہیں اورلڑکی بالکل قطعی انکار کرتی ہے حتی کہ جان دینے پر آمادہ مگر وہاں رخصت کئے جانے کو منکر ہے معاملہ مذکور بالا کو غور فرماکر حکم شرع شریف سے سرفراز فرمائیں۔
الجواب :
الله واحد قہار عالم الغیب والشہادہ ہے۔ یہ معاملہ حلال حرام او ر وہ بھی خاص شرمگاہ کاہے جس کی حرمت سخت اشد ہے اگر واقع میں ہاجرہ بالغہ نے اذن دے دیاتھا اگرچہ دباؤ سے اگرچہ جبرا تو نکاح صحیح ہوگیا اور اب اسے انکار کا کچھ اختیار نہیں اگر نہ مانے گی اور دوسری جگہ نکاح کرے گی تو زنا ہوگا زنا زنا اور اگر واقع میں اس نے انکار کیا تھا اور اسے اذن بناکر ہوگیا ہوگیا اڑایا تو حرام حرام سخت حرام ہے کہ اسے عزیزالحسن کی زوجہ سمجھا جائے پہلی صورت میں ہاجرہ اور دوسری میں عزیزالحسن وغیرہ اس کے ساعی مستحق لعنت الہی و عذاب شدید ہوں گے باقی جوشہادتیں مذکورہوئیں ثبوت اذن کے لئے محض ناکافی ہیں ان کی بناپر ہاجرہ کہ اذن سے منکر ہے مجبور نہیں کی جاسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۲ : ا زپیلی بھیت محلہ شیخ چاند متصل سرائے پختہ مرسلہ حافظ ولایت احمد صاحب ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح چچا حقیقی کی ولایت سے جو اس کے علم میں نابالغہ تھی بعدم موجودگی ہندہ ومادر ہندہ زید نابالغ کے ساتھ بولایت دادا حقیقی زید عرصہ پانچ سال کا گزرا ہواتھا دوسال سے زید بالغ ہے اب رخصت کرانا چاہتاہے تو مادر ہندہ سے معلوم ہواکہ ہندہ وقت نکاح کے بالغہ تھی ماں ہندہ کی رخصت نہیں کرتی ہے اور کہتی ہے کہ نکاح صحیح نہیں اور مادر ہندہ کے بیان کی تصدیق کرلی گئی کہ صحیح ہے
الجواب :
الله واحد قہار عالم الغیب والشہادہ ہے۔ یہ معاملہ حلال حرام او ر وہ بھی خاص شرمگاہ کاہے جس کی حرمت سخت اشد ہے اگر واقع میں ہاجرہ بالغہ نے اذن دے دیاتھا اگرچہ دباؤ سے اگرچہ جبرا تو نکاح صحیح ہوگیا اور اب اسے انکار کا کچھ اختیار نہیں اگر نہ مانے گی اور دوسری جگہ نکاح کرے گی تو زنا ہوگا زنا زنا اور اگر واقع میں اس نے انکار کیا تھا اور اسے اذن بناکر ہوگیا ہوگیا اڑایا تو حرام حرام سخت حرام ہے کہ اسے عزیزالحسن کی زوجہ سمجھا جائے پہلی صورت میں ہاجرہ اور دوسری میں عزیزالحسن وغیرہ اس کے ساعی مستحق لعنت الہی و عذاب شدید ہوں گے باقی جوشہادتیں مذکورہوئیں ثبوت اذن کے لئے محض ناکافی ہیں ان کی بناپر ہاجرہ کہ اذن سے منکر ہے مجبور نہیں کی جاسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۲ : ا زپیلی بھیت محلہ شیخ چاند متصل سرائے پختہ مرسلہ حافظ ولایت احمد صاحب ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح چچا حقیقی کی ولایت سے جو اس کے علم میں نابالغہ تھی بعدم موجودگی ہندہ ومادر ہندہ زید نابالغ کے ساتھ بولایت دادا حقیقی زید عرصہ پانچ سال کا گزرا ہواتھا دوسال سے زید بالغ ہے اب رخصت کرانا چاہتاہے تو مادر ہندہ سے معلوم ہواکہ ہندہ وقت نکاح کے بالغہ تھی ماں ہندہ کی رخصت نہیں کرتی ہے اور کہتی ہے کہ نکاح صحیح نہیں اور مادر ہندہ کے بیان کی تصدیق کرلی گئی کہ صحیح ہے
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے کہ ہندہ بالغہ تھی اورا س سے اذن نہ لیا گیا اور چچا نے نابالغہ سمجھ کر بے اذن لئے خود پڑھادیا تو یہ نکاح اجازت ہندہ پر موقوف رہا اس پانچ برس کے عرصہ میں اگر اس نے اگرچہ اپنی ہم عمر لڑکیوں میں کوئی کلمہ ا س کی اجازت کا کہا ہے جائز ہوگیا رد کہا رد ہوگیا اب تك کچھ نہیں کہا ہے تو اب اگر رد کردے گی رد ہوجائے گا جائز کردے گی جائز ہوجائے گا یہ خوب یادر رہے کہ اعتبار سب میں پہلی بارکا ہے نکاح کی اطلاع کے بعد سب میں اول اگرکلمہ ردکہا ہے رد ہوگیا اس کے بعد ہزار بار اجازت دے بیکار ہے اور سب میں اول اگر کلمہ اجازت کہا ہے جائز ہوگیا اس کے بعد لاکھ بار ردکردے بے اثر ہے الله واحد قہار سے ڈرے یہ معاملہ حلال حرام ونکاح و زنا کاہے جو بات واقعی ہو ظاہر کردے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۳ تا ۳۹۰ : از قصبہ اوریا ضلع اوٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زید کی بیوی معہ بیٹی ہندہ کے اپنے والد کے گھرزیدکی رضامندی سے گئی زید کا خسر جو چچا بھی ہوتاہے اس نے اپنے خاندان کے لڑکے بکر کے ساتھ زید مذکور کی لڑکی ہندہ سے عقد کردیا بلااطلاع زیدا ور ہندہ ابھی نابالغ ہے وہ عقد جائز ہوایانہیں اس عقد کو کون اور کتنے عرصہ تك فسخ کرسکتاہے
(۲)اگر ہندہ بالغ ہے او روہ اپنے شوہر کے گھر پر رہی اور اس کے ہمراہ اپنے والد زید کے گھر آئی اور چندے قیام بکر یعنی ہندہ کے شوہرکا رہا اس کے بعد وہ ملازمت پر چلا گیا اس صورت میں یہ عقد درست ہوا یا نہیں جبکہ ہندہ بالغ ہے۔
(۳)زیدکے جائے قیام سے زید کی سسرال فاصلہ پر ہے جہاں پر ہندہ کا عقد بکر کے ساتھ ہواتھا جس وقت زید کے ملنے والوں نے زید سے یہ سوال کیا کہ تم یہاں پر موجودرہے اور وہاں پر عقد بلااجازت جبکہ ہندہ نابالغ تسلیم کیا جاوے کیونکر ہوا اس وقت زید مذکور نے یہ جواب دیاکہ ہم اجازت دے آئے تھے کہ آپ عقد کردیں اور ہم کو صرف اطلاع دیں تاکہ ہم اس خوشی میں میلاد شریف کریں ایسی صورت میں اجازت صحیح ہوئی یا نہیں اور عقد جائز ہوایا نہیں
(۴)کچھ واقعات ایسے ہیں جس سے زید کی رضامندی کا پتا چلتاہے مثلا زید کے مکان پر تنہا آیا بکر شوہر ہندہ کا اور قیام کیا او ر زید اس کو یعنی داماد کو اکثر مجالس وبازار میں ہمراہ لے گیا دریافت کرنے پر بھی کہا کہ یہ داماد ہے اس کے چند یوم کے بعد وہ داماد اپنی ملازمت پر چلا گیا جس کو عرصہ ۴ یا ۵سال کا ہوا اسی قدر عرصہ عقدکو جس وقت وہ ملازمت پر گیا تھااول تو خط کتابت کی بھی رہی سناگیا ہے اب زیدکی زبانی معلوم ہوا کہ وہ نہیں
اگر یہ بیان واقعی ہے کہ ہندہ بالغہ تھی اورا س سے اذن نہ لیا گیا اور چچا نے نابالغہ سمجھ کر بے اذن لئے خود پڑھادیا تو یہ نکاح اجازت ہندہ پر موقوف رہا اس پانچ برس کے عرصہ میں اگر اس نے اگرچہ اپنی ہم عمر لڑکیوں میں کوئی کلمہ ا س کی اجازت کا کہا ہے جائز ہوگیا رد کہا رد ہوگیا اب تك کچھ نہیں کہا ہے تو اب اگر رد کردے گی رد ہوجائے گا جائز کردے گی جائز ہوجائے گا یہ خوب یادر رہے کہ اعتبار سب میں پہلی بارکا ہے نکاح کی اطلاع کے بعد سب میں اول اگرکلمہ ردکہا ہے رد ہوگیا اس کے بعد ہزار بار اجازت دے بیکار ہے اور سب میں اول اگر کلمہ اجازت کہا ہے جائز ہوگیا اس کے بعد لاکھ بار ردکردے بے اثر ہے الله واحد قہار سے ڈرے یہ معاملہ حلال حرام ونکاح و زنا کاہے جو بات واقعی ہو ظاہر کردے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۳ تا ۳۹۰ : از قصبہ اوریا ضلع اوٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)زید کی بیوی معہ بیٹی ہندہ کے اپنے والد کے گھرزیدکی رضامندی سے گئی زید کا خسر جو چچا بھی ہوتاہے اس نے اپنے خاندان کے لڑکے بکر کے ساتھ زید مذکور کی لڑکی ہندہ سے عقد کردیا بلااطلاع زیدا ور ہندہ ابھی نابالغ ہے وہ عقد جائز ہوایانہیں اس عقد کو کون اور کتنے عرصہ تك فسخ کرسکتاہے
(۲)اگر ہندہ بالغ ہے او روہ اپنے شوہر کے گھر پر رہی اور اس کے ہمراہ اپنے والد زید کے گھر آئی اور چندے قیام بکر یعنی ہندہ کے شوہرکا رہا اس کے بعد وہ ملازمت پر چلا گیا اس صورت میں یہ عقد درست ہوا یا نہیں جبکہ ہندہ بالغ ہے۔
(۳)زیدکے جائے قیام سے زید کی سسرال فاصلہ پر ہے جہاں پر ہندہ کا عقد بکر کے ساتھ ہواتھا جس وقت زید کے ملنے والوں نے زید سے یہ سوال کیا کہ تم یہاں پر موجودرہے اور وہاں پر عقد بلااجازت جبکہ ہندہ نابالغ تسلیم کیا جاوے کیونکر ہوا اس وقت زید مذکور نے یہ جواب دیاکہ ہم اجازت دے آئے تھے کہ آپ عقد کردیں اور ہم کو صرف اطلاع دیں تاکہ ہم اس خوشی میں میلاد شریف کریں ایسی صورت میں اجازت صحیح ہوئی یا نہیں اور عقد جائز ہوایا نہیں
(۴)کچھ واقعات ایسے ہیں جس سے زید کی رضامندی کا پتا چلتاہے مثلا زید کے مکان پر تنہا آیا بکر شوہر ہندہ کا اور قیام کیا او ر زید اس کو یعنی داماد کو اکثر مجالس وبازار میں ہمراہ لے گیا دریافت کرنے پر بھی کہا کہ یہ داماد ہے اس کے چند یوم کے بعد وہ داماد اپنی ملازمت پر چلا گیا جس کو عرصہ ۴ یا ۵سال کا ہوا اسی قدر عرصہ عقدکو جس وقت وہ ملازمت پر گیا تھااول تو خط کتابت کی بھی رہی سناگیا ہے اب زیدکی زبانی معلوم ہوا کہ وہ نہیں
معلوم کہاں پر ہے نہ خط آتاہے اورنہ کچھ خرچ کی خبر لیتاہے اول توہم کو یعنی زید کو اس لڑکے بکر کے ساتھ عقد اپنی لڑکی ہندہ کا منظور نہیں تھا خیر اگر ہوبھی گیا تھا تو جبرا قہرا منظور کیا اب تك اس کا راستہ دیکھا یعنی داماد کا جس کو عرصہ ۴ یا ۵ سال کا ہوگیا ان واقعات سے یہ عقد صحیح ہوا یا نہیں جبکہ ہندہ نابالغ تھی
(۵)بعض کا یہ قیاس ہے کہ ہندہ اس وقت بالغ تھی جب عقد ہوا اور یہ واقعات جو اوپر مذکور ہیں زید یعنی ہندہ کا جائز ولی باپ کے ساتھ پیش آئے وہ عقد جائز ہوایا نہیں
(۶)اب زید کی نیت میں خلل آیااور وہ اب نمبر ۳ کے مضمون سے انکار کرتاہے کہ میں نے ہر گز نہیں کہا کہ اجازت دے دی تھی لیکن نمبر ۴ کے مضمون سے نہیں انکار کرسکتا کیونکہ چشم دیدواقعات ہیں نمبر ا کی عبارت کو تسلیم کرکے سناگیا ہے کہ فتوی منگایا مگر کسی کو دکھلا یا نہیں ہے کہ اس میں کیا سوال کیاہے محض اس بناء پر کہ وہ جائزولی نہیں تھے میں ولی جائز ہوں مجھ کو اختیار ہے اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ۵ سال تك تو خاموش رہا زید اور نمبر ۴ کے واقعات اس داماد بکر کے ساتھ پیش آئے کیا ایسی حالت میں یہ عقد اب ۵ سال کے بعدفسخ ہوسکتاتھا یا نہیں اور عقد ثانی ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کیا یہ حرام ہے اور اولاد بھی حرامی ہوگی
(۷)ہم لوگ زیدکے ساتھ ربط ضبط رکھیں یا نہیں اگر میل جول قائم رکھیں تو گناہگارہوں گے یا نہیں جبکہ اس نے شرع کے خلاف کیا
(۸)بعد میں تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ ہندہ کی رخصت نہیں ہوئی اور نہ وہ اپنے شوہر کے گھر گئی اور نہ اس کے ہمراہ شوہر مذکور آیا لیکن شوہر ہندہ کا مکان پر زید کے آیا او رقیام کیا اور زید مذکور نے اپنے ملنے والوں سے کہا یہ داماد ہے اور سب کو دکھلایا نمبر ۳ کو اس معاملہ سے علیحدہ تصور کرکے بقیہ کل نمبروں کا جواب دیجئے اور نمبر۲ کا جواب بھی علیحدہ سے دیجئے دوسرا واقعہ خیال فرماکر۔
الجواب :
(۱)جبکہ ہندہ نابالغہ ہے یہ نکاح اجازت زید پرموقوف رہا اگر جائز کردے گاجائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا زید اگر سکوت محض کرے کوئی قول یا فعل ایسا نہ کرے جس سے اس نکاح کا جائز یار دکرنا ثابت ہو یہاں تك کہ ہندہ بالغہ ہوجائے تو اس وقت اس کا ردیا جائز کرنا خودہندہ کے اختیار ہوجائے گا۔
(۲)درست ہوگیا اگر بکر ہندہ کا کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ ہندہ کا
(۵)بعض کا یہ قیاس ہے کہ ہندہ اس وقت بالغ تھی جب عقد ہوا اور یہ واقعات جو اوپر مذکور ہیں زید یعنی ہندہ کا جائز ولی باپ کے ساتھ پیش آئے وہ عقد جائز ہوایا نہیں
(۶)اب زید کی نیت میں خلل آیااور وہ اب نمبر ۳ کے مضمون سے انکار کرتاہے کہ میں نے ہر گز نہیں کہا کہ اجازت دے دی تھی لیکن نمبر ۴ کے مضمون سے نہیں انکار کرسکتا کیونکہ چشم دیدواقعات ہیں نمبر ا کی عبارت کو تسلیم کرکے سناگیا ہے کہ فتوی منگایا مگر کسی کو دکھلا یا نہیں ہے کہ اس میں کیا سوال کیاہے محض اس بناء پر کہ وہ جائزولی نہیں تھے میں ولی جائز ہوں مجھ کو اختیار ہے اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ۵ سال تك تو خاموش رہا زید اور نمبر ۴ کے واقعات اس داماد بکر کے ساتھ پیش آئے کیا ایسی حالت میں یہ عقد اب ۵ سال کے بعدفسخ ہوسکتاتھا یا نہیں اور عقد ثانی ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کیا یہ حرام ہے اور اولاد بھی حرامی ہوگی
(۷)ہم لوگ زیدکے ساتھ ربط ضبط رکھیں یا نہیں اگر میل جول قائم رکھیں تو گناہگارہوں گے یا نہیں جبکہ اس نے شرع کے خلاف کیا
(۸)بعد میں تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ ہندہ کی رخصت نہیں ہوئی اور نہ وہ اپنے شوہر کے گھر گئی اور نہ اس کے ہمراہ شوہر مذکور آیا لیکن شوہر ہندہ کا مکان پر زید کے آیا او رقیام کیا اور زید مذکور نے اپنے ملنے والوں سے کہا یہ داماد ہے اور سب کو دکھلایا نمبر ۳ کو اس معاملہ سے علیحدہ تصور کرکے بقیہ کل نمبروں کا جواب دیجئے اور نمبر۲ کا جواب بھی علیحدہ سے دیجئے دوسرا واقعہ خیال فرماکر۔
الجواب :
(۱)جبکہ ہندہ نابالغہ ہے یہ نکاح اجازت زید پرموقوف رہا اگر جائز کردے گاجائز ہوجائے گا ردکردے گا باطل ہوجائے گا زید اگر سکوت محض کرے کوئی قول یا فعل ایسا نہ کرے جس سے اس نکاح کا جائز یار دکرنا ثابت ہو یہاں تك کہ ہندہ بالغہ ہوجائے تو اس وقت اس کا ردیا جائز کرنا خودہندہ کے اختیار ہوجائے گا۔
(۲)درست ہوگیا اگر بکر ہندہ کا کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ ہندہ کا
اس سے نکاح زید پدرہندہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو۔
(۳)اجازت صحیح ہے عقدجائز ہوگیا۔
(۴)جبکہ ہندہ نابالغہ تھی اور باپ نے اسے منظور کیا اور بکر کواپنا داماد کہا نکاح نافذ ہوگیا۔
(۵)ہندہ اگر بالغہ تھی اور نکاح اس کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح ا س نے قولا یا فعلا جائز کردیا مثلا بغیر رد کے بخوشی رخصت ہوکر گئی تونکاح نافذہوگیا جبکہ بکر ہندہ کا کفو ہوا اور اگر ہندہ سے کوئی قول وفعل اجازت کااب تك صادر نہ ہوا تو نافذ نہ ہوا اگرچہ اس کے باپ سے کچھ واقعات پیش آئے ہوں۔
(۶)اگر ہندہ نابالغہ تھی اور نمبر ۴ کا مضمون ثابت ہو تو وہ نکاح تام و لازم ہوگیا زید کوکوئی اختیار اس کے فسخ کانہ رہا یہ نکاح ثانی باطل ہوا ا س میں قربت حرام ہوگی اور اولاد ولدالحرام اور اگر ہندہ بالغہ تھی اور وہ کسی قول یا فعل سے نافذ کرچکی تھی جب بھی وہی جواب بکر ہندہ کا کفوہو اور اگر نافذ نہ کرچکی تھی اور رد کرکے نکاح ثانی کیا تو حرج نہیں اگرچہ بکر اس کا کفو ہو اور اگر ہندہ نے نافذ کیا لیکن بکر اس کا کفو نہ تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا اگرچہ بعدکو زید بھی راضی ہو لان شرط صحتہ رضا الولی قبل النکاح صریحا مع العلم بانہ غیر کفو کما اوضحہ فی ردالمحتار(کیونکہ اس کی صحت کے لئے نکاح سے قبل اس بات کا علم ہوتے ہوئے صراحۃ ولی کی رضامندی شرط ہے کہ یہ نکاح غیر کفومیں ہوگا جیساکہ ردالمحتارمیں اس کی وضاحت کی ہے۔ ت)اس صورت میں اس غیر صحیح نکاح کوچھوڑ کر اگر نکاح ثانی کرلیا حرج نہ ہوا او ریہی نکاح ثانی صحیح ہوا اگرشرائط کا جامع ہو اور اولاد ولد الحلال۔ والله تعالی اعلم۔
(۷)اوپر کے جوابوں سے معلوم ہواکہ زید کس صورت میں گنہگارہے اور کس میں نہیں۔ اگر صورت وہ ثابت ہو جس میں اس نے ایسے حرام کا ارتکاب کیا تو اس سے میل جول ترك کرنے میں گناہ نہیں بلکہ مناسب ہے اور نہ ترك کریں اور گناہ کو گناہ جانیں اوراس کے سبب اسے برا سمجھیں جب بھی حرج نہیں ہاں جو سمجھے کہ میرے ترك کے سبب زید کوتوبہ کرنی ہوگی وہ ضرور ترك کرے۔
(۸)صورت واقعہ میں استفتاء کایہ طریقہ نہیں ہوتا بات پوری تحقیق شدہ پر فتوی لینا چاہئے بہر حال جواب ہر نمبر کا ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۱ : از شہر سلطان پور محلہ پرتاب گنج مرسلہ حافظ عبدالغنی وعبدالحمید صاحبان ۱۳ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے خالد کے ساتھ اپنے کفومیں اور مہر میں بلحاظ اپنے کفو کے کردیا اور زید نے کئی مرتبہ ہندہ کور خصت بھی کیا اوربکر نے زید سے اقرار بھی لے لیا تھا کہ اگر ہندہ بالغہ ہے تب میں اس کا نکاح اپنے لڑکے خالد سے کردوں گا ورنہ نہیں۔ لہذا زید نے اقرار کیا
(۳)اجازت صحیح ہے عقدجائز ہوگیا۔
(۴)جبکہ ہندہ نابالغہ تھی اور باپ نے اسے منظور کیا اور بکر کواپنا داماد کہا نکاح نافذ ہوگیا۔
(۵)ہندہ اگر بالغہ تھی اور نکاح اس کے اذن سے ہوا یا بعد نکاح ا س نے قولا یا فعلا جائز کردیا مثلا بغیر رد کے بخوشی رخصت ہوکر گئی تونکاح نافذہوگیا جبکہ بکر ہندہ کا کفو ہوا اور اگر ہندہ سے کوئی قول وفعل اجازت کااب تك صادر نہ ہوا تو نافذ نہ ہوا اگرچہ اس کے باپ سے کچھ واقعات پیش آئے ہوں۔
(۶)اگر ہندہ نابالغہ تھی اور نمبر ۴ کا مضمون ثابت ہو تو وہ نکاح تام و لازم ہوگیا زید کوکوئی اختیار اس کے فسخ کانہ رہا یہ نکاح ثانی باطل ہوا ا س میں قربت حرام ہوگی اور اولاد ولدالحرام اور اگر ہندہ بالغہ تھی اور وہ کسی قول یا فعل سے نافذ کرچکی تھی جب بھی وہی جواب بکر ہندہ کا کفوہو اور اگر نافذ نہ کرچکی تھی اور رد کرکے نکاح ثانی کیا تو حرج نہیں اگرچہ بکر اس کا کفو ہو اور اگر ہندہ نے نافذ کیا لیکن بکر اس کا کفو نہ تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا اگرچہ بعدکو زید بھی راضی ہو لان شرط صحتہ رضا الولی قبل النکاح صریحا مع العلم بانہ غیر کفو کما اوضحہ فی ردالمحتار(کیونکہ اس کی صحت کے لئے نکاح سے قبل اس بات کا علم ہوتے ہوئے صراحۃ ولی کی رضامندی شرط ہے کہ یہ نکاح غیر کفومیں ہوگا جیساکہ ردالمحتارمیں اس کی وضاحت کی ہے۔ ت)اس صورت میں اس غیر صحیح نکاح کوچھوڑ کر اگر نکاح ثانی کرلیا حرج نہ ہوا او ریہی نکاح ثانی صحیح ہوا اگرشرائط کا جامع ہو اور اولاد ولد الحلال۔ والله تعالی اعلم۔
(۷)اوپر کے جوابوں سے معلوم ہواکہ زید کس صورت میں گنہگارہے اور کس میں نہیں۔ اگر صورت وہ ثابت ہو جس میں اس نے ایسے حرام کا ارتکاب کیا تو اس سے میل جول ترك کرنے میں گناہ نہیں بلکہ مناسب ہے اور نہ ترك کریں اور گناہ کو گناہ جانیں اوراس کے سبب اسے برا سمجھیں جب بھی حرج نہیں ہاں جو سمجھے کہ میرے ترك کے سبب زید کوتوبہ کرنی ہوگی وہ ضرور ترك کرے۔
(۸)صورت واقعہ میں استفتاء کایہ طریقہ نہیں ہوتا بات پوری تحقیق شدہ پر فتوی لینا چاہئے بہر حال جواب ہر نمبر کا ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۱ : از شہر سلطان پور محلہ پرتاب گنج مرسلہ حافظ عبدالغنی وعبدالحمید صاحبان ۱۳ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح بکر کے لڑکے خالد کے ساتھ اپنے کفومیں اور مہر میں بلحاظ اپنے کفو کے کردیا اور زید نے کئی مرتبہ ہندہ کور خصت بھی کیا اوربکر نے زید سے اقرار بھی لے لیا تھا کہ اگر ہندہ بالغہ ہے تب میں اس کا نکاح اپنے لڑکے خالد سے کردوں گا ورنہ نہیں۔ لہذا زید نے اقرار کیا
کہ میر ا نکاح حالت نابالغی میں ہوا تھا اب میں حد بلوغیت اور خود مختاری کو پہنچ گئی ہوں مجھ کو والدین کے کئے ہوئے نکاح کے فسخ کا حق حاصل ہے لہذا دریافت طلب یہ امرہے کہ مسماۃ مذکورہ کو حق فسخ حاصل ہے یا نہیں اوراس کے فسخ کرنے سے یہ نکاح جو باپ نے کیا ہے فسخ ہوگا یا نہیں
الجواب :
ہندہ کو اصلا نکاح مذکور کے فسخ کا اختیارنہیں نہ اس پر کچھ اعتراض کرسکتی ہے اگر وہ نابالغہ ہی تھی جیساکہ اس کا بیان ہے توباپ کے کئے ہوئے نکاح پر نابالغہ بعد بلوغ معترض نہیں ہوسکتی۔ درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی المزوج ابااوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر نکاح دینے والے باپ داداہوں اور و ہ سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو انتہائی کم مہر اور غیر کفومیں نابالغہ کا نکاح لازم ہوجاتاہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۹۲ : از پیلی بھیت مرسلہ واحد الله صاحب ۲۷ ذی قعدہ ۱۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شدت مرض میں تھا اس حالت میں اس کے حقیقی بھائی نے اس سے اس کی کم سن لڑکی کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کرنے کی اجازت لے لی اور نکاح کردیا زید تین روز کے بعد انتقال کرگیا اب لڑکی کی عمر سات برس کی اور لڑکے کی چوبیس سال بر س کی ہے تو یہ نکاح ہوگیا یا نہیں مکرر عرض یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کاکفو نہیں کہ وہ ذلیل عورت کی نسل سے ہے۔ لڑکی کے باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔
الجواب :
شدت مرض صحت اجازت کو مانع نہیں
ھذا القدر ماذکرہ السائل فتجیب علیہ ولانزید مایکون تعلمیا۔
یہ سائل کے ذکر کردہ پر ہم جواب دے رہے ہیں اورتعلیم کے طورپر ہم زیادہ بات نہیں کرتے۔ (ت)
ماں کا غیر کفو ہونا اولاد کوغیر کفو نہیں کردیتا کہ نسب باپ سے ہے نہ کہ ماں سے قال اﷲ تعالی : و على المولود له رزقهن
الجواب :
ہندہ کو اصلا نکاح مذکور کے فسخ کا اختیارنہیں نہ اس پر کچھ اعتراض کرسکتی ہے اگر وہ نابالغہ ہی تھی جیساکہ اس کا بیان ہے توباپ کے کئے ہوئے نکاح پر نابالغہ بعد بلوغ معترض نہیں ہوسکتی۔ درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی المزوج ابااوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر نکاح دینے والے باپ داداہوں اور و ہ سوء اختیار سے معروف نہ ہوں تو انتہائی کم مہر اور غیر کفومیں نابالغہ کا نکاح لازم ہوجاتاہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۹۲ : از پیلی بھیت مرسلہ واحد الله صاحب ۲۷ ذی قعدہ ۱۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شدت مرض میں تھا اس حالت میں اس کے حقیقی بھائی نے اس سے اس کی کم سن لڑکی کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کرنے کی اجازت لے لی اور نکاح کردیا زید تین روز کے بعد انتقال کرگیا اب لڑکی کی عمر سات برس کی اور لڑکے کی چوبیس سال بر س کی ہے تو یہ نکاح ہوگیا یا نہیں مکرر عرض یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کاکفو نہیں کہ وہ ذلیل عورت کی نسل سے ہے۔ لڑکی کے باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔
الجواب :
شدت مرض صحت اجازت کو مانع نہیں
ھذا القدر ماذکرہ السائل فتجیب علیہ ولانزید مایکون تعلمیا۔
یہ سائل کے ذکر کردہ پر ہم جواب دے رہے ہیں اورتعلیم کے طورپر ہم زیادہ بات نہیں کرتے۔ (ت)
ماں کا غیر کفو ہونا اولاد کوغیر کفو نہیں کردیتا کہ نسب باپ سے ہے نہ کہ ماں سے قال اﷲ تعالی : و على المولود له رزقهن
(الله تعالی کا ارشاد ہے : اورجس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا ہے۔ ت) اور بالفرض کفاءت نہ بھی ہو تو باپ ایك بارغیر کفو سے بھی نکاح کرسکتاہے لہذا صور ت مستفسرہ میں وہ نکاح صحیح ولازم ہوگیا جس کے فسخ کا کسی کوبھی اختیار نہیں والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۳ : از ریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مدرسہ عزیزیہ مرسلہ محمد سفیر الرحمان صاحب بنگالی ۳ ذیقعد ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ایك لڑکی بالغہ او رسن بھی چودہ برس کاہے اس کے باپ نے جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی مقرر کردی ہے وہ ہونے والا شوہر نہ کہ باپ کے ذکر کرنے سے بلکہ اور کسی طریقہ سے لڑکی کو معلوم ہے کہ میری شادی اس شخص کے ساتھ مقرر کرادی ہے اور وہ دوسرے شہر میں رہتا ہے جب باپ عقد پڑھانے کو لڑکی کے مکان کو چلا نہ اس وقت لڑکی سے اجازت لی اورنہ کچھ کہا بلکہ ویسے ہی وہاں جاکر مجلس میں کہہ دیا میں نے اپنی لڑکی تمھارے نکاح میں دے دی یہ نکاح نافذ ہوا یا نہ بینوا تو جروا
الجواب :
اگر بالغہ نے پہلے اجازت نہ دی تھی نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہا جائز کردے گی جائز ہوجائیگا جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو رد کردے گی باطل ہوجائے گا اگرچہ کوئی مانع شرعی نہ ہو درمختارمیں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بالغہ باکرہ لڑکی کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب اس پر کسی کی کوئی ولایت نہ رہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۹۴ : ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں دین اس مسئلہ میں کہ زید کا دادا جمال الدین شاہ مرحوم ایك درویش شخص تھا چنانچہ اس نے اپنی عمر زہد وعزلت میں ایك جگہ میں بسر کردی اور زید کا باپ فرید الدین مرحوم ایك متورع اور عالم شخص تھا اور زید خود بھی بحمدہ تعالی ایك متقی اور عالم اور صوفی اہل وعیال کے تین چار برس کے نفقے کا مالك شخص ہے اور مکان مملوك رکھتا ہے اور زید کی بیوی ہندہ ایك پا بند صوم وصلوۃ اور تالیہ قرآن پاك اور قاریہ اور اد و وظائف عورت ہے اور زید کی لڑکی زینب بھی ایك صوم وصلوۃ کی شائق اور اوراد ووظائف کی جانب
مسئلہ ۳۹۳ : از ریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مدرسہ عزیزیہ مرسلہ محمد سفیر الرحمان صاحب بنگالی ۳ ذیقعد ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ایك لڑکی بالغہ او رسن بھی چودہ برس کاہے اس کے باپ نے جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی مقرر کردی ہے وہ ہونے والا شوہر نہ کہ باپ کے ذکر کرنے سے بلکہ اور کسی طریقہ سے لڑکی کو معلوم ہے کہ میری شادی اس شخص کے ساتھ مقرر کرادی ہے اور وہ دوسرے شہر میں رہتا ہے جب باپ عقد پڑھانے کو لڑکی کے مکان کو چلا نہ اس وقت لڑکی سے اجازت لی اورنہ کچھ کہا بلکہ ویسے ہی وہاں جاکر مجلس میں کہہ دیا میں نے اپنی لڑکی تمھارے نکاح میں دے دی یہ نکاح نافذ ہوا یا نہ بینوا تو جروا
الجواب :
اگر بالغہ نے پہلے اجازت نہ دی تھی نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہا جائز کردے گی جائز ہوجائیگا جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو رد کردے گی باطل ہوجائے گا اگرچہ کوئی مانع شرعی نہ ہو درمختارمیں ہے :
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بالغہ باکرہ لڑکی کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب اس پر کسی کی کوئی ولایت نہ رہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۹۴ : ۱۳ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں دین اس مسئلہ میں کہ زید کا دادا جمال الدین شاہ مرحوم ایك درویش شخص تھا چنانچہ اس نے اپنی عمر زہد وعزلت میں ایك جگہ میں بسر کردی اور زید کا باپ فرید الدین مرحوم ایك متورع اور عالم شخص تھا اور زید خود بھی بحمدہ تعالی ایك متقی اور عالم اور صوفی اہل وعیال کے تین چار برس کے نفقے کا مالك شخص ہے اور مکان مملوك رکھتا ہے اور زید کی بیوی ہندہ ایك پا بند صوم وصلوۃ اور تالیہ قرآن پاك اور قاریہ اور اد و وظائف عورت ہے اور زید کی لڑکی زینب بھی ایك صوم وصلوۃ کی شائق اور اوراد ووظائف کی جانب
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
راغب اور کذب وغیرہ امورنا مشروع سے محترز بہت نیك اور سیدھی لڑکی ہے اسی وجہ سے زید باوجود زینب کی نسبتیں متعدد جگہ سے آنے کے زینب کے بلوغ کے بھی سات آٹھ بلکہ اور زیادہ سال بعد تك کسی شریف عالم متقی شخص کی تلاش میں تھا اور ان نسبتوں کو بوجہ ان میں سے کسی کے موافق مرضی نہ ہونے کے منظور نہیں کیا تھا کہ یکایك عمرو(کہ جس کی بابت چار پانچ سال پیشتر خالد نے اس کا بہت متقی ہونا ظاہر کیا تھا چنانچہ کہا تھا کہ میں نے ایك حلقہ مسمی حلقہ حبیب جاری کرر کھا ہے جس میں ایك خاص طریقے سے درود شریف پڑھا جاتا ہے اس کا عمرو سر حلقہ ہے)آگیا اور اس نے زید وہندہ کو یہ دھوکا دے کر کہ میں اخبار شائع کرتا ہوں اس میں دو سو روپیہ ماہوار نفع ہے اس میں سے پچاس روپیہ ماہوار اپنی والدہ کو ان کے خرچ کے لئے دیتاہوں حالانکہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ جس مقام میں اخبار شائع کرتا تھا وہاں کئی سو روپیہ کا قرضدار تھا اور کرایہ ریل تك پاس نہ تھا دوسرے شخص کے کرایہ سے زید کے شہرتك آیا تھا اور اپنی والدہ کو ایك حبہ بھی ماہوار نہ دیتاتھا او راب جو زید کے شہر سے اپنے وطن میں جاکے رہا ہے کسی طرح کچھ نہیں کماتا کمال عسرت میں ہے ایك مہینہ توکیسا ایك ہفتہ کی بھی قوت کامالك نہیں اورنیز یہ فریب دے کر کہ میرے رہنے کی موروثی پختہ حویلی ہے حالانکہ کرایہ کے مکان میں رہتاہے اور وہ کرایہ بھی اس کی والدہ اپنی محنت مزدوری سے اداکرتی ہے اور نیز یہ فریب دے کرکہ میں عالم ہوں میں نے حدیث شریف کی سند فلاں عالم سے حاصل کی حالانکہ یہ بالکل غلط کہ فارسی عربی کی ابتدائی کتابوں کی بھی لیاقت نہیں رکھتا اور نیز اپنے تقوی و ورع کا فریب دے کرکہ میں مشائخ وقت میں سے فلاں کا خلیفہ طریقت ہوں حالانکہ نماز پنجگانہ کا بھی پابند نہیں بلکہ لونڈے بازی وغیرہ امور شنیعہ کا عادی اور اشد فاسق ہے چنانچہ عقد کے پانچویں روز شب کے وقت ایك لونڈے سے پکڑا گیا پس اس کی صبح ہی کو جوگیا تو آج عرصہ قریب ڈیڑھ سال کے ہوتاہے نہ ایك پیسہ خرچ بھیجا اور ایك ہفتہ کے وعدہ پر ما / ص ۱۵۰ روپیہ قرض لے گیا تھا نہ ایك پائی اس کا دیا زید کی لڑکی زینب بالغہ کے ساتھ عقد کرلیا پس عقد کے بعد جب سے حالات معلوم ہوئے تب سے زینب اور زید اور ہندہ عمرو سے سخت متنفرہیں اور زینب ا س کے یہاں جانا اور زیدوہندہ اس کے یہاں جانے دینا ہرگز منظور نہیں کرتے تویہ ظاہر ہے کہ عمرو مالا اور دیانۃ زینب کا کفو ہر گزنہیں اور درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا یہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا یہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
پس دریافت طلب یہ بات ہے کہ صور ت مرقومہ میں عام اس سے کہ خلوت صحیحہ ہوئی یا نہ ہوئی ہو درمختار کی اس عبارت کے بموجب بطلان نکاح کا حکم دیا جاسکتا ہے یا نہیں اور اگر اس عبارت کے بموجب حکم بطلان نہیں دیاجاسکتا تو کسی اور عبارت کے مطابق زینب ا ور اس کے اولیاء کو حق فسخ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو فسخ کی کیا صورت ہے
الجواب :
نکاح مذکورہ اصلامحتاج فسخ نہیں فسخ تو وہ ہوجو منعقد ہوا ہو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں باطل محض ہے ظاہر ہے کہ زینب عاقلہ بالغہ ہے اس کا نکاح بے اس کے اذن کے نفاذ نہیں پاسکتا لانقطاع الولایۃ بالبلوغ درمختار (بالغ ہوجانے کی وجہ سے ا س پرولایت منقطع ہوجانے پر درمختار۔ ت) اگر یہ نکاح بے اس کی اجازت کے ہوا اور اس نے خبر پاکر رد کردیا تو اگر کفو ہوتا جب بھی رد وباطل ہوجاتا لانہ نکاح فضولی(کیونکہ یہ نکاح فضولی ہے۔ ت)عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکر اکانت اوثیبا فان فعل ذلك فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج ۔
عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف کسی کا نکاح کرنا صحیح نہیں۔ یہ باپ ہو یا حاکم اوراگر کسی نے ایسا کیا تو یہ نکاح عاقلہ کی اجازت پر موقوف ہوگا اس کی مرضی ہے کہ جائز کرے تو جائزہوگا اگر رد کردے تو باطل ہو جائے گا۔ سراج الوہاج میں یونہی ہے۔ (ت)
اور اگر اس کے اذن سے ہوا تو خود زینب کا کیا ہوا ہے کہ غیر کفو سے کیا فتاوی خیریہ میں ہے :
تزویجہ لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو ۔
بالغہ کی اجازت سے نکاح ایسا ہے جیساکہ اس نے خود کیا ہو یہ مسئلہ غیر کفو میں اس کے نکاح کرنے کا ہے۔ (ت)
اور اگر بلااذن کیا تھا اس نے بعد کو اجازت دی جائز رکھا تو اب بھی زینب ہی کا کیاہوا ہے۔
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ خیریۃ و غیرھما عامۃ الکتب۔
بعد کی اجازت ایسے ہی ہے جیسے پہلے اجازت دے رکھی ہو خیریہ وغیرہ کتب۔ (ت)
الجواب :
نکاح مذکورہ اصلامحتاج فسخ نہیں فسخ تو وہ ہوجو منعقد ہوا ہو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں باطل محض ہے ظاہر ہے کہ زینب عاقلہ بالغہ ہے اس کا نکاح بے اس کے اذن کے نفاذ نہیں پاسکتا لانقطاع الولایۃ بالبلوغ درمختار (بالغ ہوجانے کی وجہ سے ا س پرولایت منقطع ہوجانے پر درمختار۔ ت) اگر یہ نکاح بے اس کی اجازت کے ہوا اور اس نے خبر پاکر رد کردیا تو اگر کفو ہوتا جب بھی رد وباطل ہوجاتا لانہ نکاح فضولی(کیونکہ یہ نکاح فضولی ہے۔ ت)عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکر اکانت اوثیبا فان فعل ذلك فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج ۔
عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف کسی کا نکاح کرنا صحیح نہیں۔ یہ باپ ہو یا حاکم اوراگر کسی نے ایسا کیا تو یہ نکاح عاقلہ کی اجازت پر موقوف ہوگا اس کی مرضی ہے کہ جائز کرے تو جائزہوگا اگر رد کردے تو باطل ہو جائے گا۔ سراج الوہاج میں یونہی ہے۔ (ت)
اور اگر اس کے اذن سے ہوا تو خود زینب کا کیا ہوا ہے کہ غیر کفو سے کیا فتاوی خیریہ میں ہے :
تزویجہ لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو ۔
بالغہ کی اجازت سے نکاح ایسا ہے جیساکہ اس نے خود کیا ہو یہ مسئلہ غیر کفو میں اس کے نکاح کرنے کا ہے۔ (ت)
اور اگر بلااذن کیا تھا اس نے بعد کو اجازت دی جائز رکھا تو اب بھی زینب ہی کا کیاہوا ہے۔
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ خیریۃ و غیرھما عامۃ الکتب۔
بعد کی اجازت ایسے ہی ہے جیسے پہلے اجازت دے رکھی ہو خیریہ وغیرہ کتب۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۲۵
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۲۵
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۲۵
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۲۵
بہر حال یہ وہ نکاح ہے کہ زن عاقلہ بالغہ نے غیر کفو سے کیا کہ فاسق ہر گز صالحہ بنت صالح کا کفونہیں۔ درمختار میں ہے :
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولاعلی الظاھر نھر ۔
فاسق صالحہ لڑکی ایسی فاسقہ جو صالح کی بیٹی ہو کا کفو نہیں ہے وہ فاسق اعلانیہ فسق کرتاہو یا مخفی طورپر ظاہرروایت پر یہی حکم ہے نہر۔ (ت)
عامہ شروح میں ہے :
لایکون الفاسق کفوا لبنت الصالحین ۔
فاسق نیك لوگوں کی بیٹی کا کفو نہیں۔ (ت)
متن مجمع میں ہے :
لایکون الفاسق کفوا للصالحۃ ۔
فاسق صالحہ کا کفو نہیں ہے۔ (ت)
فتاوی امام فقیہ النفس میں ہے :
قال بعض المشائخ رحمہم اﷲ تعالی الفاسق لایکون کفوا لبنت الصالحین معلنا کان اولم یکن وھو اختیار الشیخ الامام ابی بکر محمد بن الفضل ۔
بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا : فاسق معلن ہویا غیر معلن وہ صالحین کی بیٹی کا کفو نہیں ہے یہی امام شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل کا مختار ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لایکون الفاسق کفو البنت الصالحین ۔
فاسق صالحین کی بیٹی کے لئے کفو نہیں ہے۔ (ت)
نیز ایسا معسر کہ نہ روز انہ کماتاہو نہ ایك مہینے کے اپنے ہی قوت کا مالك ہو نفقہ درکنار کفو نہیں ہوسکتا اگرچہ عورت بھی فقیرہ ہو درمختارمیں ہے :
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی
کفومیں جس چیز کا عرب وعجم میں اعتبار کیا جاتا ہے وہ دیانت
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولاعلی الظاھر نھر ۔
فاسق صالحہ لڑکی ایسی فاسقہ جو صالح کی بیٹی ہو کا کفو نہیں ہے وہ فاسق اعلانیہ فسق کرتاہو یا مخفی طورپر ظاہرروایت پر یہی حکم ہے نہر۔ (ت)
عامہ شروح میں ہے :
لایکون الفاسق کفوا لبنت الصالحین ۔
فاسق نیك لوگوں کی بیٹی کا کفو نہیں۔ (ت)
متن مجمع میں ہے :
لایکون الفاسق کفوا للصالحۃ ۔
فاسق صالحہ کا کفو نہیں ہے۔ (ت)
فتاوی امام فقیہ النفس میں ہے :
قال بعض المشائخ رحمہم اﷲ تعالی الفاسق لایکون کفوا لبنت الصالحین معلنا کان اولم یکن وھو اختیار الشیخ الامام ابی بکر محمد بن الفضل ۔
بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا : فاسق معلن ہویا غیر معلن وہ صالحین کی بیٹی کا کفو نہیں ہے یہی امام شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل کا مختار ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لایکون الفاسق کفو البنت الصالحین ۔
فاسق صالحین کی بیٹی کے لئے کفو نہیں ہے۔ (ت)
نیز ایسا معسر کہ نہ روز انہ کماتاہو نہ ایك مہینے کے اپنے ہی قوت کا مالك ہو نفقہ درکنار کفو نہیں ہوسکتا اگرچہ عورت بھی فقیرہ ہو درمختارمیں ہے :
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی
کفومیں جس چیز کا عرب وعجم میں اعتبار کیا جاتا ہے وہ دیانت
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
ردالمحتار بحوالہ المجمع باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۱
ردالمحتار بحوالہ خانیۃ باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
ردالمحتار بحوالہ المجمع باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
فتاوی قاضی خاں فصل فی الکفاءۃ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۱
ردالمحتار بحوالہ خانیۃ باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
ومالابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شھر لوغیر محترف ۔
یعنی تقوی اور مال جس سے مہر معجل اور ایك ماہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو اگر کاریگر نہ ہو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
شمل مالوکانت فقیرۃ بنت فقراء کما صرح بہ فی الواقعات معللا بان المھر والنفقۃ علیہ فیعتبرھذا الوصف فی حقہ ۔
یہ فقیر کی بیٹی کو شامل ہے جیساکہ واقعات میں تصریح کی گئی ہے کہ وجہ یہ ہے کہ مہر اور نفقہ خاوند پر ہی ہوتا ہے لہذا اس کا مالدار ہونا معتبر ہوگا۔ (ت)
اور بالغہ کہ اپنا نکاح غیر کفو سے کرے باطل محض ہے جبکہ ولی رکھتی ہو مگر اس صورت میں کہ ولی نے پیش از نکاح اسے غیر کفوجان کر صراحۃ اجازت دے دی ہو ان میں تین شرطوں سے ایك بھی کم ہوگی نکاح اصلا نہ ہوگا درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفۃ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا لہذا تین طلاق والی نے اگر اپنے ولی کی مرضی کے خلاف غیرکفومیں نکاح کیا جبکہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اس کو محفوظ کرو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یصدق بنفی الرضا بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجوہ الرضا مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلاث لاتحل وانما تحل فی الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ ح۔
ولی اگر کہے کہ معلوم ہونے پر میں راضی نہ ہوا یا مجھے معلوم نہ ہوا یا معلوم ہونے کی وجہ سے میں راضی ہواتھا تو ان تینوں صورتوں میں ولی کی تصدیق کی جائے گی اور وہ مطلقہ ثلاثہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی ہاں چوتھی صورت میں حلال ہوجائے گی وہ یہ کہ ولی کہے کہ غیر کفو کا علم ہونے کے باوجود میں راضی ہوں اھ ح۔ (ت)
یعنی تقوی اور مال جس سے مہر معجل اور ایك ماہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو اگر کاریگر نہ ہو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
شمل مالوکانت فقیرۃ بنت فقراء کما صرح بہ فی الواقعات معللا بان المھر والنفقۃ علیہ فیعتبرھذا الوصف فی حقہ ۔
یہ فقیر کی بیٹی کو شامل ہے جیساکہ واقعات میں تصریح کی گئی ہے کہ وجہ یہ ہے کہ مہر اور نفقہ خاوند پر ہی ہوتا ہے لہذا اس کا مالدار ہونا معتبر ہوگا۔ (ت)
اور بالغہ کہ اپنا نکاح غیر کفو سے کرے باطل محض ہے جبکہ ولی رکھتی ہو مگر اس صورت میں کہ ولی نے پیش از نکاح اسے غیر کفوجان کر صراحۃ اجازت دے دی ہو ان میں تین شرطوں سے ایك بھی کم ہوگی نکاح اصلا نہ ہوگا درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفۃ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائے گا لہذا تین طلاق والی نے اگر اپنے ولی کی مرضی کے خلاف غیرکفومیں نکاح کیا جبکہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اس کو محفوظ کرو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یصدق بنفی الرضا بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجوہ الرضا مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلاث لاتحل وانما تحل فی الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ ح۔
ولی اگر کہے کہ معلوم ہونے پر میں راضی نہ ہوا یا مجھے معلوم نہ ہوا یا معلوم ہونے کی وجہ سے میں راضی ہواتھا تو ان تینوں صورتوں میں ولی کی تصدیق کی جائے گی اور وہ مطلقہ ثلاثہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی ہاں چوتھی صورت میں حلال ہوجائے گی وہ یہ کہ ولی کہے کہ غیر کفو کا علم ہونے کے باوجود میں راضی ہوں اھ ح۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکفاۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۳۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۳۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
اسی میں ہے :
لابد حینئذ لصحہ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لایفید فلیتا مل اھ وکتبت علیہ جزم بہ فی الخیریۃ تبعاللبحر والوجہ فی ماسنذکرہ الخ۔
اس لئے ا س عقد کی صحت کے لئے ولی کا صراحۃ اظہار رضامندی کرنا ضروری ہے او راسی بناپر اگر پہلے وہ خاموش رہااور بعد میں راضی ہوا تو نکاح کے بعد کی رضا معتبر نہیں ہے غور چاہئے اھ اس پر میں نے حاشیہ لکھا خیریہ میں اس پر جزم بحر کی اتباع میں کیا ہے او ر وجہ وہی ہے جو ہم ذکرکریں گے الخ۔ (ت)
یہاں رضا ئے ولی غیر کفو جا ن کر نہ تھی بلکہ کفو سمجھ کر لہذا اصلا معتبر نہیں۔ شرط انعقاد نہ پائی گئی اور نکاح بالکل محض ہوا زینب پر فرض ہے کہ اس سے فورا جدا ہوجائے اگرچہ خلوت ہوچکی ہو اور زید وہندہ پر حرام ہے کہ اسے عمرو کے یہاں بھیجیں کہ وہ نرا اجنبی بلکہ اس سے بدتر ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ا لله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۵ : از کلکتہ بھوانی پور ڈاکخانہ بھوانی پور رسہ روڈ نمبر ۱۰۹ مرسلہ شیخ حاجی نادر علی صاحب بقر قصاب ۱۵ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کی شادی چھ مہینے کی عمر میں ہوئی اور لڑکے کی عمر اس وقت پانچ برس کی تھی تب دونوں کی شادی ہوگئی اور اب لڑکی کی عمر اس وقت چودہ برس کی ہے اور لڑکا یا لڑکے کاکوئی وارث ابھی تك کسی طرح لڑکی کی خبر نہیں لینے گئے اور لڑکی خدا کے فضل سے تین قسم کے علم سے بھی واقف اچھی طرح سے ہے اور لڑکا بالکل جاہل ہے کچھ علم سے تعلق نہیں ا ورنہ لڑکے کی طرف سے کوئی شخص لڑکی کا پرسان حال ہوا انہی سب وجوہات سے اب لڑکی کہتی ہے کہ ہم اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کریں گے لڑکی اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کرسکتی ہے یا نہیں اور طلاق ا س پر واجب ہوگی یا نہیں اس مسئلے کو حضور ارشاد فرمائیں تاکہ لڑکی اگر نکاح ثانی کرے اور لڑکے کی طرف سے کوئی کارروائی مقدمہ وغیرہ کا کرے تو ہم کو ا س مسئلہ کو پیش کرنا ہوگا خوب کوشش کرکے بلکہ جوفرماویں خرچ وغیرہ کے لئے تو غلام خدمت کے لئے حاضر ہے۔
الجواب :
یہاں فتوی پرکوئی خرچ نہیں لیا جاتا نہ اس کو اپنے حق میں روا رکھا جاتاہے طلاق دینا عورت کے
لابد حینئذ لصحہ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لایفید فلیتا مل اھ وکتبت علیہ جزم بہ فی الخیریۃ تبعاللبحر والوجہ فی ماسنذکرہ الخ۔
اس لئے ا س عقد کی صحت کے لئے ولی کا صراحۃ اظہار رضامندی کرنا ضروری ہے او راسی بناپر اگر پہلے وہ خاموش رہااور بعد میں راضی ہوا تو نکاح کے بعد کی رضا معتبر نہیں ہے غور چاہئے اھ اس پر میں نے حاشیہ لکھا خیریہ میں اس پر جزم بحر کی اتباع میں کیا ہے او ر وجہ وہی ہے جو ہم ذکرکریں گے الخ۔ (ت)
یہاں رضا ئے ولی غیر کفو جا ن کر نہ تھی بلکہ کفو سمجھ کر لہذا اصلا معتبر نہیں۔ شرط انعقاد نہ پائی گئی اور نکاح بالکل محض ہوا زینب پر فرض ہے کہ اس سے فورا جدا ہوجائے اگرچہ خلوت ہوچکی ہو اور زید وہندہ پر حرام ہے کہ اسے عمرو کے یہاں بھیجیں کہ وہ نرا اجنبی بلکہ اس سے بدتر ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ا لله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۵ : از کلکتہ بھوانی پور ڈاکخانہ بھوانی پور رسہ روڈ نمبر ۱۰۹ مرسلہ شیخ حاجی نادر علی صاحب بقر قصاب ۱۵ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کی شادی چھ مہینے کی عمر میں ہوئی اور لڑکے کی عمر اس وقت پانچ برس کی تھی تب دونوں کی شادی ہوگئی اور اب لڑکی کی عمر اس وقت چودہ برس کی ہے اور لڑکا یا لڑکے کاکوئی وارث ابھی تك کسی طرح لڑکی کی خبر نہیں لینے گئے اور لڑکی خدا کے فضل سے تین قسم کے علم سے بھی واقف اچھی طرح سے ہے اور لڑکا بالکل جاہل ہے کچھ علم سے تعلق نہیں ا ورنہ لڑکے کی طرف سے کوئی شخص لڑکی کا پرسان حال ہوا انہی سب وجوہات سے اب لڑکی کہتی ہے کہ ہم اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کریں گے لڑکی اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کرسکتی ہے یا نہیں اور طلاق ا س پر واجب ہوگی یا نہیں اس مسئلے کو حضور ارشاد فرمائیں تاکہ لڑکی اگر نکاح ثانی کرے اور لڑکے کی طرف سے کوئی کارروائی مقدمہ وغیرہ کا کرے تو ہم کو ا س مسئلہ کو پیش کرنا ہوگا خوب کوشش کرکے بلکہ جوفرماویں خرچ وغیرہ کے لئے تو غلام خدمت کے لئے حاضر ہے۔
الجواب :
یہاں فتوی پرکوئی خرچ نہیں لیا جاتا نہ اس کو اپنے حق میں روا رکھا جاتاہے طلاق دینا عورت کے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
جد الممتار حاشیہ ردالمحتار باب الولی حاشیہ ۵۰۲ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲ / ۳۴۵
جد الممتار حاشیہ ردالمحتار باب الولی حاشیہ ۵۰۲ المجمع الاسلامی مبارکپور ۲ / ۳۴۵
اختیار نہیں نہ وہ شوہر کو طلاق دے سکتی ہے نہ ا س کے دئے طلاق پڑسکتی ہے قرآن عظیم میں فرمایا : بیده عقدة النكاح- (اسی(خاوند)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ ت) حدیث شریف میں ہے : الطلاق لمن اخذ الساق (یہ جماع سے کنایہ ہے یعنی طلاق وہی دے سکتاہے جو جماع کامالك ہے۔ ت) ا س کی تفصیل معلوم ہونی چاہئے کہ لڑکی کا نکاح چھ مہینے کی عمر میں اس کے باپ نے کیا یادادا نے یا اور کسی نے اور باپ کے سوا جس نے کیا ا س سے قریب تر کوئی ولی تھا یا نہیں تھا تو کون تھا اور اس نے قبل نکاح یا بعد نکاح خبر سن کر کیا کہا لڑکی کو پہلا عارضہ ماہواری کس سال کس مہینے کون تاریخ کے کس منٹ پر آیا اور اس نکاح سے ناراضی کا اظہار اس نے کس سال کس مہینے کس دن تاریخ کے کس منٹ پر کیا لڑکی کی قوم کیاہے اورلڑکے کی کیا لڑکا مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں بہتریابرابر یاکتنا کمتر ہے یہ سب باتیں ایمانا سچی سچی بتائی جائیں تو جو صورت واقعہ ہو اس کا جواب دیا جائے گا۔ فقط
مسئلہ ۳۹۶ : از جاورہ مرسلہ مولوی مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیان ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا والد زید قریبا ایك ہزار میل کی مسافت پر تھا والدہ اور چچا بکرنے رضامندہوکر ہندہ کے والد کی تحریر ی اجازت حاصل کرکے مفتی شہر کو بتاکر خود نکاح خالد کے ساتھ کردیا نکاح کے ڈھائی مہینے بعد زید اپنے مکان پر آیا چنانچہ خالد نے اپنے خسر کی دعوت دی اور زید نے جلسہ دعوت میں نکاح کی رضا مندی ظاہر کی ساڑھے چار ماہ تك رسومات عیدی و دیگر رسومات دامادی خسری خالد کے ساتھ رکھے اب باہمی رنجش ہونے پرخالد نے زید سے اپنی زوجہ رخصت کرنے کو کہا زید کہتاہے میں نے خط نہیں لکھا تھا یعنی نکاح کرنے کی اجازت اپنے بھائی کو نہیں دی تھی اور نکاح فسخ کرنا چاہتا ہے تو کیا ا س خط کے انکار سے باوجود یکہ بعد آجانے کے ساڑھے چار ماہ تك رسومات مذکورہ برتے گئے نکاح فسخ ہوسکتاہے ہندہ کی عمر وقت نکاح بارہ برس کی تھی اور اب ساڑھے بارہ برس ہے۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں انکار خط اسے کچھ مفید نہیں انکار خط سے اتنا ہواکہ اجازت سابقہ ثابت نہ ہوگی اور غایت درجہ نکاح نکاح فضولی ٹھہرے گا اگر یہ صورت غیبت منقطعہ کی نہ لی جائے علی مافصلناہ فی فتاونا(جس طرح ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں کی ہے۔ ت)مگر نکاح فضولی بعد اجازت نافذ ولازم ہے اور اجازت لاحقہ مثل وکالت سابقہ کما فی الفتاوی الخیریۃ وغیرہا(جیساکہ فتاوی خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۶ : از جاورہ مرسلہ مولوی مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیان ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا والد زید قریبا ایك ہزار میل کی مسافت پر تھا والدہ اور چچا بکرنے رضامندہوکر ہندہ کے والد کی تحریر ی اجازت حاصل کرکے مفتی شہر کو بتاکر خود نکاح خالد کے ساتھ کردیا نکاح کے ڈھائی مہینے بعد زید اپنے مکان پر آیا چنانچہ خالد نے اپنے خسر کی دعوت دی اور زید نے جلسہ دعوت میں نکاح کی رضا مندی ظاہر کی ساڑھے چار ماہ تك رسومات عیدی و دیگر رسومات دامادی خسری خالد کے ساتھ رکھے اب باہمی رنجش ہونے پرخالد نے زید سے اپنی زوجہ رخصت کرنے کو کہا زید کہتاہے میں نے خط نہیں لکھا تھا یعنی نکاح کرنے کی اجازت اپنے بھائی کو نہیں دی تھی اور نکاح فسخ کرنا چاہتا ہے تو کیا ا س خط کے انکار سے باوجود یکہ بعد آجانے کے ساڑھے چار ماہ تك رسومات مذکورہ برتے گئے نکاح فسخ ہوسکتاہے ہندہ کی عمر وقت نکاح بارہ برس کی تھی اور اب ساڑھے بارہ برس ہے۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں انکار خط اسے کچھ مفید نہیں انکار خط سے اتنا ہواکہ اجازت سابقہ ثابت نہ ہوگی اور غایت درجہ نکاح نکاح فضولی ٹھہرے گا اگر یہ صورت غیبت منقطعہ کی نہ لی جائے علی مافصلناہ فی فتاونا(جس طرح ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں کی ہے۔ ت)مگر نکاح فضولی بعد اجازت نافذ ولازم ہے اور اجازت لاحقہ مثل وکالت سابقہ کما فی الفتاوی الخیریۃ وغیرہا(جیساکہ فتاوی خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۳۳۷
سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق العبد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۲
سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق العبد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۲
مسئلہ ۳۹۷ : از علی گڑھ محلہ بیرم بیگ مدرسہ عربی عائشہ خاتون مرسلہ محمد صدیق حسین صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بھتیجی کا نکاح اس کی نابالغی میں کردیا۔ جس وقت وہ بالغ ہوئی اس وقت اس لڑکی نے اس نکاح اور شوہر کے مکان جانے سے انکار کیا اب اس لڑکی کا نکاح باقی ہے رہا یا نہیں اور دوسری جگہ اس کانکاح ہوسکتاہے یا نہیں اور مہر لازم آوے گا بینوا تو جروا
الجواب :
یہ معاملہ حلال وحرام بلکہ نکاح وزنا کا ہے الله سے ڈریں اور جو واقعی بات ہو ا س کے حکم پر عمل کریں غلط بیان پر فتوی لینا حشرمیں نفع دے گا نہ زنا کو حلال کردے گا غیر اب وجد نے جو نکاح کفو سے کیا ہو اس کا حکم یہ ہے کہ نابالغہ بفور بلوغ معا بلاتاخیر انکار کرسکتی ہے اور ذرا بھی دیر لگائی تو نکاح لازم ہوگیا انکار کا اصلا اختیار نہیں اور یہاں فور محض بلاتاخیر بہت نادرہے الله واحد قہار سے ڈر کر زنا کو نہایت بدتر خبیث سمجھ کر دیکھیں اگر بالغہ نے جس گھنٹے منٹ سیکنڈ میں اسے پہلا حیض آیا تو فورا فورا معا معا اسی وقت اس نکاح سے انکار کیا تو البتہ وہ دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے بشرطیکہ کفو سے ہوا ہو اور اگر چچا نے غیر کفو سے کیا جومذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں وقت نکاح ایسا کم تھاکہ اس سے نکاح اس کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۸ : یکم ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سعیدہ بی بی کا عقد اول موضع گورا میں بشیر الدین کے ساتھ ہوا ایك لڑکی پیداہوئی جب لڑکی قریب ڈیڑھ سال کے ہوئی سایہ پدری سرسے جدا ہوا اب بیوہ اپنی لڑکی کو لے کر باپ اور بھائیوں کے یہاں آرہی سوا چار برس کے بعد نکاح ثانی موضع کرگہنا میں عبدالصمد سے ہوا خاوند دیگر کا ایك لڑکا جس کی عمر چھ سا ل کی تھی بیوی سابق سے تھا بصد سختی وتشدد وبہزار زجر وتوبیخ بی بی سے اذن لے کر اپنے لڑکے کا عقد بیوی ثانی کے ہمراہ جولڑکی آئی تھی جس کی عمر چھ سال کی تھی جبریہ کرادیاگیا لڑکی کا نہ کوئی چچا نہ بھائی صرف چچا اور چچازاد بھائی اور دو پھوپھیاں حقیقی اور نا نا اور ماموں حقیقی ہیں اور وہاں موجودنہ تھے اور نہ اطلاع جب لڑکی سن بلوغ کو پہنچی اور اس کا اظہار ہوا فورا پکار اٹھی یعنی منٹ بھی پورا نہ ہونے دیا کہ مجھ کو شوہر کے یہاں کسی نوع جانا منظورنہیں اور ہر گز نہ جاؤں گی دن کے سات یا آٹھ بجے کا واقعہ ہے معزز اشخاص شاہد ہیں۔
الجواب :
سوال میں یہ فقرہ کہ فورا پکار اٹھی حکم شرعی سننے کا نتیجہ ہے اور آگے اس کی تفسیر نے کہ یعنی منٹ بھی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بھتیجی کا نکاح اس کی نابالغی میں کردیا۔ جس وقت وہ بالغ ہوئی اس وقت اس لڑکی نے اس نکاح اور شوہر کے مکان جانے سے انکار کیا اب اس لڑکی کا نکاح باقی ہے رہا یا نہیں اور دوسری جگہ اس کانکاح ہوسکتاہے یا نہیں اور مہر لازم آوے گا بینوا تو جروا
الجواب :
یہ معاملہ حلال وحرام بلکہ نکاح وزنا کا ہے الله سے ڈریں اور جو واقعی بات ہو ا س کے حکم پر عمل کریں غلط بیان پر فتوی لینا حشرمیں نفع دے گا نہ زنا کو حلال کردے گا غیر اب وجد نے جو نکاح کفو سے کیا ہو اس کا حکم یہ ہے کہ نابالغہ بفور بلوغ معا بلاتاخیر انکار کرسکتی ہے اور ذرا بھی دیر لگائی تو نکاح لازم ہوگیا انکار کا اصلا اختیار نہیں اور یہاں فور محض بلاتاخیر بہت نادرہے الله واحد قہار سے ڈر کر زنا کو نہایت بدتر خبیث سمجھ کر دیکھیں اگر بالغہ نے جس گھنٹے منٹ سیکنڈ میں اسے پہلا حیض آیا تو فورا فورا معا معا اسی وقت اس نکاح سے انکار کیا تو البتہ وہ دعوی کرکے اس کو فسخ کراسکتی ہے بشرطیکہ کفو سے ہوا ہو اور اگر چچا نے غیر کفو سے کیا جومذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں وقت نکاح ایسا کم تھاکہ اس سے نکاح اس کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۸ : یکم ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سعیدہ بی بی کا عقد اول موضع گورا میں بشیر الدین کے ساتھ ہوا ایك لڑکی پیداہوئی جب لڑکی قریب ڈیڑھ سال کے ہوئی سایہ پدری سرسے جدا ہوا اب بیوہ اپنی لڑکی کو لے کر باپ اور بھائیوں کے یہاں آرہی سوا چار برس کے بعد نکاح ثانی موضع کرگہنا میں عبدالصمد سے ہوا خاوند دیگر کا ایك لڑکا جس کی عمر چھ سا ل کی تھی بیوی سابق سے تھا بصد سختی وتشدد وبہزار زجر وتوبیخ بی بی سے اذن لے کر اپنے لڑکے کا عقد بیوی ثانی کے ہمراہ جولڑکی آئی تھی جس کی عمر چھ سال کی تھی جبریہ کرادیاگیا لڑکی کا نہ کوئی چچا نہ بھائی صرف چچا اور چچازاد بھائی اور دو پھوپھیاں حقیقی اور نا نا اور ماموں حقیقی ہیں اور وہاں موجودنہ تھے اور نہ اطلاع جب لڑکی سن بلوغ کو پہنچی اور اس کا اظہار ہوا فورا پکار اٹھی یعنی منٹ بھی پورا نہ ہونے دیا کہ مجھ کو شوہر کے یہاں کسی نوع جانا منظورنہیں اور ہر گز نہ جاؤں گی دن کے سات یا آٹھ بجے کا واقعہ ہے معزز اشخاص شاہد ہیں۔
الجواب :
سوال میں یہ فقرہ کہ فورا پکار اٹھی حکم شرعی سننے کا نتیجہ ہے اور آگے اس کی تفسیر نے کہ یعنی منٹ بھی
پورا نہ ہونے دیاکہ اسے پھر بگاڑ دیا۔
فانہ ان بقی تمام الدقیقۃ ثانیۃ اوثانیتین صدق انھا لم تتم ولکن این الفور۔
کیونکہ اگر منٹ میں سے ایك سیکنڈ یا دو سیکنڈ رہتے تو کہا جاسکتاہے کہ منٹ پورا نہ ہو لیکن یہ فورا نہیں ہے۔ (ت)
یہ معاملہ حلال وحرام نکاح وزنا کاہے بات بناکر کچھ حکم لے لینا زنا سے نہ بچا لے گا پھر اگر تمام شرائط شرعیہ متحقق ہو بھی لیں تو عورت کے کہے سے نکاح فسخ نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو دعوی کا اختیار ملتاہے حاکم مجاز کے یہاں دعوی کرے وہ تحقیق شرعیہ کا گواہان عادل سے ثبوت لے جب ثبوت ہوجائے تو حاکم نکاح فسخ کرے ویسے نہیں ہوسکتا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۹ : از لاہور سٹی بازار انار کلی مدرسہ تعلیم القرآن معرفت مولوی احمد الدین صاحب مرسلہ جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
بجنا ب مستطاب حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدد مائۃ حاضرہ زید فضلہم بعدنیاز مندی عقیدت مندانہ درمختار باب الولی میں ہے :
وللولی الاعتراض فی غیر الکفو مالم یلد لئلا یضیع الولد ۔
ولی کو غیر کفومیں اعتراض کا حق ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہو(اس کے بعد نہیں)تاکہ بچے کا نسب ضائع نہ ہو (ت)
طحطاوی وابوالمکارم حاشیہ شرح وقایۃ وبنایہ علی الہدایہ وحاشیہ شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں لکھا کہ بعدولادت بھی بناء بر ظاہر الروایات ولی کو اعتراض ہے فسخ کے لئے اور امام حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی روایت مفتی بہا پر ابتداء ہی سے بطلان نکاح کا حکم باقی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ ولادت حق اولیا کی مسقطہ نہیں اور یہی خادم الاقدام کامقصود بھی ہے اس بارہ میں حضور کو تکلیف تو ہوگی مگر حضور کے توکل اوقات ہی اس کام کے لئے وقف ہیں ثبوت تفریق واعتراض بعد الولادۃ کے لئے حضور سے جہاں تك توثیق ہوسکے بہتر ہے بشرطیکہ خادم کا اعتقاد خدام عالی شان کے اعتقاد سے مطابق ہو ورنہ خیر خادم نے ثبوت تفریق کا دعوی کیا ہے وان ولدت(اور اگر بچہ پیدا ہوجائے۔ ت)اور دوسری جانب کے مولوی لوگ اس کے عدم پر ہیں آج ۲ اس مہینے انگریزی اورآئندہ دسمبر مہینے کی ۸ لاہور میں جج کے پاس مقرر ہے فقیر کو بھی جاناہوگا سید زادی
فانہ ان بقی تمام الدقیقۃ ثانیۃ اوثانیتین صدق انھا لم تتم ولکن این الفور۔
کیونکہ اگر منٹ میں سے ایك سیکنڈ یا دو سیکنڈ رہتے تو کہا جاسکتاہے کہ منٹ پورا نہ ہو لیکن یہ فورا نہیں ہے۔ (ت)
یہ معاملہ حلال وحرام نکاح وزنا کاہے بات بناکر کچھ حکم لے لینا زنا سے نہ بچا لے گا پھر اگر تمام شرائط شرعیہ متحقق ہو بھی لیں تو عورت کے کہے سے نکاح فسخ نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو دعوی کا اختیار ملتاہے حاکم مجاز کے یہاں دعوی کرے وہ تحقیق شرعیہ کا گواہان عادل سے ثبوت لے جب ثبوت ہوجائے تو حاکم نکاح فسخ کرے ویسے نہیں ہوسکتا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۹ : از لاہور سٹی بازار انار کلی مدرسہ تعلیم القرآن معرفت مولوی احمد الدین صاحب مرسلہ جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
بجنا ب مستطاب حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدد مائۃ حاضرہ زید فضلہم بعدنیاز مندی عقیدت مندانہ درمختار باب الولی میں ہے :
وللولی الاعتراض فی غیر الکفو مالم یلد لئلا یضیع الولد ۔
ولی کو غیر کفومیں اعتراض کا حق ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہو(اس کے بعد نہیں)تاکہ بچے کا نسب ضائع نہ ہو (ت)
طحطاوی وابوالمکارم حاشیہ شرح وقایۃ وبنایہ علی الہدایہ وحاشیہ شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں لکھا کہ بعدولادت بھی بناء بر ظاہر الروایات ولی کو اعتراض ہے فسخ کے لئے اور امام حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی روایت مفتی بہا پر ابتداء ہی سے بطلان نکاح کا حکم باقی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ ولادت حق اولیا کی مسقطہ نہیں اور یہی خادم الاقدام کامقصود بھی ہے اس بارہ میں حضور کو تکلیف تو ہوگی مگر حضور کے توکل اوقات ہی اس کام کے لئے وقف ہیں ثبوت تفریق واعتراض بعد الولادۃ کے لئے حضور سے جہاں تك توثیق ہوسکے بہتر ہے بشرطیکہ خادم کا اعتقاد خدام عالی شان کے اعتقاد سے مطابق ہو ورنہ خیر خادم نے ثبوت تفریق کا دعوی کیا ہے وان ولدت(اور اگر بچہ پیدا ہوجائے۔ ت)اور دوسری جانب کے مولوی لوگ اس کے عدم پر ہیں آج ۲ اس مہینے انگریزی اورآئندہ دسمبر مہینے کی ۸ لاہور میں جج کے پاس مقرر ہے فقیر کو بھی جاناہوگا سید زادی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
کہ ایك مردغیر سید غیر قریشی نے نکاح کرلیا ہے اور مقدمہ بازی میں اس کا بچہ بھی ہوگیا ہے دوسری جانب کے مولوی کہتے ہیں کہ علویات کا نکاح مع تراضی اولیا ء یا بلاتراضی باطل کہنا شیعہ کا مذہب ہے اور بنایہ کی عبارت سے مستند ہے :
وفی البسیط ذھب الشیعۃ الی ان نکاح العلویات ممتنع علی غیر ھم مع التراضی قال السروجی وھما قولان باطلان ۔
بسیط میں ہے کہ رضامندی کے باوجود علویات(سید زادیوں)کاغیر سے نکاح شیعہ لوگوں کے ہاں ناجائز ہے سروجی نے کہا کہ دونوں قول باطل ہیں۔ (ت)
اس قولان باطلان سے کون سے دو قول مرادہیں یہ عبارت تفسیر طلب ہے حضور فیض النورا س عریضہ کا جواب اس پتہ پر ارشاد فرمائیں ۸ تاریخ سے اگرایك دو روز اول جواب پہنچے تو فقیر اس تحریر منیر کا جلسہ علماء میں پیش کردے امید تو پختہ ہے کہ علماء بھی مان لیں گے ورنہ حاکم فیصلہ تسلیم کرلے گا ایسی حالت میں کہ مقدمہ ہوتے ہوتے اولادپیدا ہوگئی اور چند روز میں مرگئی تو اب بھی حق اعتراض للاولیاء ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بملاحظہ مولانا المکرم ذی المجد والکرام والفضل اتم مولانا قاضی غلام گیلانی صاحب اکرم الله تعالی وتکرم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجھے ۲۷ محرم سے یکم ربیع الاول شریف تك بخار کے دورے ہوئے جن میں بعض بہت شدید تھے اب تین روز سے ببرکت دعاء جناب بخار تو نہیں آیا مگر ضعف بدرجہ غایت ہے اسی حالت حمی میں پہلے سوال سامی کا جواب حاضر کردیا تھا اور رسالہ دربارہ ذبیحہ پہلے جبل پور جانے اور اب اس بخار کے دوروں کے سبب مکمل نہ ہوسکا طالب عفو و دعاہے بنایہ او رابوالمکارم میرے پاس نہیں شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں بعد ولادت بھی بقاء حق اعتراض صرف شیخ الاسلام سے نقل کی ہے اور اس کی طرف سے کوئی میل ان کی عبارت سے نہیں پایا جاتا اکابر ومشاہیر کا جزم اسی پر ہے کہ مالم تلد(جب تك بچہ پیدا نہ ہو۔ ت) زیلعی میں تھا :
الااذا سکت الی ان تلد فیکون رضادلالۃ ۔
مگر جب ولی خاموش رہا حتی کہ لڑکی نے بچہ کو جنم دیا تو یہ دلالۃ رضامندی ہوگی۔ (ت)
اسی پرشلبی نے کہا :
وفی البسیط ذھب الشیعۃ الی ان نکاح العلویات ممتنع علی غیر ھم مع التراضی قال السروجی وھما قولان باطلان ۔
بسیط میں ہے کہ رضامندی کے باوجود علویات(سید زادیوں)کاغیر سے نکاح شیعہ لوگوں کے ہاں ناجائز ہے سروجی نے کہا کہ دونوں قول باطل ہیں۔ (ت)
اس قولان باطلان سے کون سے دو قول مرادہیں یہ عبارت تفسیر طلب ہے حضور فیض النورا س عریضہ کا جواب اس پتہ پر ارشاد فرمائیں ۸ تاریخ سے اگرایك دو روز اول جواب پہنچے تو فقیر اس تحریر منیر کا جلسہ علماء میں پیش کردے امید تو پختہ ہے کہ علماء بھی مان لیں گے ورنہ حاکم فیصلہ تسلیم کرلے گا ایسی حالت میں کہ مقدمہ ہوتے ہوتے اولادپیدا ہوگئی اور چند روز میں مرگئی تو اب بھی حق اعتراض للاولیاء ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بملاحظہ مولانا المکرم ذی المجد والکرام والفضل اتم مولانا قاضی غلام گیلانی صاحب اکرم الله تعالی وتکرم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجھے ۲۷ محرم سے یکم ربیع الاول شریف تك بخار کے دورے ہوئے جن میں بعض بہت شدید تھے اب تین روز سے ببرکت دعاء جناب بخار تو نہیں آیا مگر ضعف بدرجہ غایت ہے اسی حالت حمی میں پہلے سوال سامی کا جواب حاضر کردیا تھا اور رسالہ دربارہ ذبیحہ پہلے جبل پور جانے اور اب اس بخار کے دوروں کے سبب مکمل نہ ہوسکا طالب عفو و دعاہے بنایہ او رابوالمکارم میرے پاس نہیں شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں بعد ولادت بھی بقاء حق اعتراض صرف شیخ الاسلام سے نقل کی ہے اور اس کی طرف سے کوئی میل ان کی عبارت سے نہیں پایا جاتا اکابر ومشاہیر کا جزم اسی پر ہے کہ مالم تلد(جب تك بچہ پیدا نہ ہو۔ ت) زیلعی میں تھا :
الااذا سکت الی ان تلد فیکون رضادلالۃ ۔
مگر جب ولی خاموش رہا حتی کہ لڑکی نے بچہ کو جنم دیا تو یہ دلالۃ رضامندی ہوگی۔ (ت)
اسی پرشلبی نے کہا :
حوالہ / References
البنایۃ فی شرح الہدایۃ فصل فی الکفاءۃ المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۲ / ۱۰۲
تبیین الحقائق فصل فی الکفاءۃ مطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۲ / ۱۲۸
تبیین الحقائق فصل فی الکفاءۃ مطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۲ / ۱۲۸
وعن شیخ الاسلام ان لہ التفریق بعد الولادۃ ایضا اھ کمال منقول عنہ ۔
شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد بھی تفریق کا حق ہے اھ کمال سے منقول ہے۔ (ت)
کمال کی عبارت یہ ہے :
لایکون سکوت الولی رضا الاان سکت الی ان ولدت فلیس لہ ح التفریق وعن شیخ الاسلام ان لہ التفریق بعدالولادۃ ایضا ۔
ولی کا سکوت رضا نہیں ہوگا مگر جبکہ سکوت لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش تك جاری رہا تو اب ولی کو اختیار تفریق نہیں اور شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ اس کو ولادت کے بعد بھی تفریق کا اختیار ہے۔ (ت)
ہندیہ میں پہلے شرح جامع صغیر قاضی خاں سے نقل کیا :
لایبطل حقہ فی الفسخ وان طال الزمان حتی تلد ۔
اس کا حق فسخ باطل نہ ہوگا اگرچہ مدت تك وہ فسخ نہ کرے حتی کہ لڑکی بچہ کو جنم دے۔ (ت)
پھر نہایہ سے نقل کیا :
اذا ولدت منہ فلیس للاولیاء حق الفسخ ۔
جب لڑکی نے اپنے خاوند سے بچہ جنم دیا پھر اولیاء کو حق فسخ نہیں۔ (ت)
حکم اس میں بھی یہ ہی لکھا ہے آگے استدراکا قول شیخ الاسلام ذکر کیا اور طحطاوی میں تو اس قول کا ذکر تك نظرنہ آیا ایك عبارت شارح سے ابہام ہوتا تھا کہ اگر ولی کو خبر نکاح نہ ہو تو بعد ولادت بھی معترض ہوسکتا ہے اس پر اعتراض کردیا متن میں تھا : لہ الاعتراض مالم تلد (بچہ جننے تك اس کو اختیار ہے۔ ت)اسے شارح نے یوں بنایا : مالم یسکت حتی تلد (بچے کے جنم تك خاموش نہ رہے۔ ت) اسی پر محشی نے فرمایا :
الاولی حذف مافی الشرح لانہ یفھم منہ
جو کچھ شرح میں ہے اس کو حذف کرنا بہتر ہے کیونکہ اس سے یہ
شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد بھی تفریق کا حق ہے اھ کمال سے منقول ہے۔ (ت)
کمال کی عبارت یہ ہے :
لایکون سکوت الولی رضا الاان سکت الی ان ولدت فلیس لہ ح التفریق وعن شیخ الاسلام ان لہ التفریق بعدالولادۃ ایضا ۔
ولی کا سکوت رضا نہیں ہوگا مگر جبکہ سکوت لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش تك جاری رہا تو اب ولی کو اختیار تفریق نہیں اور شیخ الاسلام سے منقول ہے کہ اس کو ولادت کے بعد بھی تفریق کا اختیار ہے۔ (ت)
ہندیہ میں پہلے شرح جامع صغیر قاضی خاں سے نقل کیا :
لایبطل حقہ فی الفسخ وان طال الزمان حتی تلد ۔
اس کا حق فسخ باطل نہ ہوگا اگرچہ مدت تك وہ فسخ نہ کرے حتی کہ لڑکی بچہ کو جنم دے۔ (ت)
پھر نہایہ سے نقل کیا :
اذا ولدت منہ فلیس للاولیاء حق الفسخ ۔
جب لڑکی نے اپنے خاوند سے بچہ جنم دیا پھر اولیاء کو حق فسخ نہیں۔ (ت)
حکم اس میں بھی یہ ہی لکھا ہے آگے استدراکا قول شیخ الاسلام ذکر کیا اور طحطاوی میں تو اس قول کا ذکر تك نظرنہ آیا ایك عبارت شارح سے ابہام ہوتا تھا کہ اگر ولی کو خبر نکاح نہ ہو تو بعد ولادت بھی معترض ہوسکتا ہے اس پر اعتراض کردیا متن میں تھا : لہ الاعتراض مالم تلد (بچہ جننے تك اس کو اختیار ہے۔ ت)اسے شارح نے یوں بنایا : مالم یسکت حتی تلد (بچے کے جنم تك خاموش نہ رہے۔ ت) اسی پر محشی نے فرمایا :
الاولی حذف مافی الشرح لانہ یفھم منہ
جو کچھ شرح میں ہے اس کو حذف کرنا بہتر ہے کیونکہ اس سے یہ
حوالہ / References
حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق فصل فی الکفاءۃ مطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۲ / ۱۲۸
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۷
فتاوی ہندیہ بحوالہ شرح جامع الصغیر قاضیخاں باب الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۳۔ ۲۹۲
فتاوی ہندیہ بحوالہ النہایۃ باب الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۷
فتاوی ہندیہ بحوالہ شرح جامع الصغیر قاضیخاں باب الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۳۔ ۲۹۲
فتاوی ہندیہ بحوالہ النہایۃ باب الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹۳
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ان ذلك عن علم فلو کان عن غیر علم یکون لہ اعتراض وان ولدت والعلۃ تنفی ذلك فالاولی ابقاء المصنف علی ظاھرہ فتامل ۔
سمجھا جارہاہے کہ علم کے باوجود ایسا ہے اگر علم کے بغیر ہو توا سے اعتراض کا حق ہے اگرچہ اس نے بچے کو جنم دیا ہو حالانکہ علت اس کی نفی کرتی ہے لہذا بہتر ہے کہ مصنف کی عبارت کو ظاہر پر باقی رکھا جائے غور کرو۔ (ت)
روافض کے نزدیك کوئی قرشی غیر علوی علویہ کا کفو نہیں اور ہمارے نزدیك “ قریش بعضہم اکفاء بعض “ میرے پاس بنایہ نہیں کہ دوسرا قول معلوم ہو یہ صورت کہ یہاں واقع ہوئی کہ ولی دعوی تفریق کرچکا اس کے بعد ولادت ہوئی اختلاف سے برکراں ہے مسقط حق تفریق سکوت حتی تلد تھا وہ نہ پایا گیا قبل ولادت دعوی دائر ہوچکا پھر ان تکلفات کی ضرورت کیاہے جبکہ مفتی بہ مطلقا فساد وعدم انعقاد ہے والسلام۔
مسئلہ ۴۰۰ : از شہسرام ضلع شاہ آباد محلہ شاہ جمعہ مرسلہ شیخ عبدالواحد صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اور ایك زوجہ زینب اور دو دختر نابالغہ ہندہ وکلثوم ایك باپ خالہ کو چھوڑا تو ان دونوں دختران نابالغہ کا ولی کون شخص ہوگا
الجواب :
ان دختران کے مال ونکاح سب کا ولی ان کا دادا خالد ہے اگر ان کا باپ کسی کوا پنی اولاد یا جائداد کی غورپرداخت نگہداشت سپرد نہ کرگیا ہو ورنہ وہ وصی ولی مال دختران ہوگا اور نکاح کا ولی بہر حال خالد درمختار میں ہے :
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہ ثم وصی وصیہ ثم بعدھم جدہ الصحیح وان علا الخ۔
اس کا ولی ا س کا باپ ہے پھر باپ نے جس کواپنا وصی بنایا پھر وصی کا وصی پھر دادا ترتیب وار اوپر تک۔ (ت)
اسی میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث ولیس للوصی ان یزوج الیتیم مطلقا وان اوصی الیہ الاب بذلك علی المذھب (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ وراثت کی ترتیب پر اور وصی کو مطلقا یتیم کے نکاح کی ولایت نہیں ہے اگرچہ باپ نے اسے وصیت بھی کی ہو مذہب یہی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
سمجھا جارہاہے کہ علم کے باوجود ایسا ہے اگر علم کے بغیر ہو توا سے اعتراض کا حق ہے اگرچہ اس نے بچے کو جنم دیا ہو حالانکہ علت اس کی نفی کرتی ہے لہذا بہتر ہے کہ مصنف کی عبارت کو ظاہر پر باقی رکھا جائے غور کرو۔ (ت)
روافض کے نزدیك کوئی قرشی غیر علوی علویہ کا کفو نہیں اور ہمارے نزدیك “ قریش بعضہم اکفاء بعض “ میرے پاس بنایہ نہیں کہ دوسرا قول معلوم ہو یہ صورت کہ یہاں واقع ہوئی کہ ولی دعوی تفریق کرچکا اس کے بعد ولادت ہوئی اختلاف سے برکراں ہے مسقط حق تفریق سکوت حتی تلد تھا وہ نہ پایا گیا قبل ولادت دعوی دائر ہوچکا پھر ان تکلفات کی ضرورت کیاہے جبکہ مفتی بہ مطلقا فساد وعدم انعقاد ہے والسلام۔
مسئلہ ۴۰۰ : از شہسرام ضلع شاہ آباد محلہ شاہ جمعہ مرسلہ شیخ عبدالواحد صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اور ایك زوجہ زینب اور دو دختر نابالغہ ہندہ وکلثوم ایك باپ خالہ کو چھوڑا تو ان دونوں دختران نابالغہ کا ولی کون شخص ہوگا
الجواب :
ان دختران کے مال ونکاح سب کا ولی ان کا دادا خالد ہے اگر ان کا باپ کسی کوا پنی اولاد یا جائداد کی غورپرداخت نگہداشت سپرد نہ کرگیا ہو ورنہ وہ وصی ولی مال دختران ہوگا اور نکاح کا ولی بہر حال خالد درمختار میں ہے :
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہ ثم وصی وصیہ ثم بعدھم جدہ الصحیح وان علا الخ۔
اس کا ولی ا س کا باپ ہے پھر باپ نے جس کواپنا وصی بنایا پھر وصی کا وصی پھر دادا ترتیب وار اوپر تک۔ (ت)
اسی میں ہے :
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث ولیس للوصی ان یزوج الیتیم مطلقا وان اوصی الیہ الاب بذلك علی المذھب (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ وراثت کی ترتیب پر اور وصی کو مطلقا یتیم کے نکاح کی ولایت نہیں ہے اگرچہ باپ نے اسے وصیت بھی کی ہو مذہب یہی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الولی دارالمعرفۃبیروت ۲ / ۲۶ و ۲۷
درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۰۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴۔ ۱۹۳
درمختار کتاب المأذون مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۰۳
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴۔ ۱۹۳
مسئلہ ۴۰۱ تا۴۰۴ : ا زبریلی محلہ پھوٹادروازہ مسئولہ فخر الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص رنڈوا ہے اس نے نکاح ثانی کیا بعدہ اس شخص کے پہلے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا جو اس کی سوتیلی خالہ ہے یہ جائز ہے یا نہیں
(۲)وہ لڑکی عرصہ دو سال سے دوسرے لڑکے کو والدین نے دی ہوئی ہے موافق رواج کے روبرو گواہوں کے والدین نے دی ہے مگر جو رخصتی کے وقت نکاح ثانی ہوتاہے وہ باقی ہے۔
(۳)جبکہ لڑکی کے والدین زندہ ہیں اور لڑکی کنواری ہے تو بغیر رضامندی والدین کے کیا وہ غیر شخصوں کو ولی بناسکتی ہے اپنے نکاح میں
(۴)قاضی جس کو پورا علم ہو کہ اس لڑکی کے والدین حقیقی زندہ ہیں اور موجود ہیں تو وہ بلادریافت اس کے والدین ان کی بے علمی میں غیر شخص کو ولی مقرر کرکے لڑکی کا نکاح کرسکتا ہے اگر نہیں تو ایسے قاضی کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب :
(۱)سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے کچھ حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
(۲)دو نکاح کہیں نہیں ہوتے پہلی منگنی ہوتی ہے وہ نکاح نہیں ہوتا بات زبان پھیر کر کہنا کچھ مفید نہیں۔ دو سال سے دی ہوئی ہے وہ جلسہ نکاح کرنے کے لئے تھا یا منگنی کا اور کیا لفظ طرفین نے کہے تھے پوری بات بیان کی جائے۔
(۳)لڑکی اگر بالغہ ہے تو اسے خود اپنے نکاح کا اختیار ہے او رنابالغہ ہے تووہ باپ کے ہوتے کسی کو ولی نہیں بناسکتی والله تعالی اعلم۔
(۴)بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے پڑھا جاسکتاہے اگرچہ والدین کو علم نہ ہو ہاں ہاں یہ ضرور ہے کہ جس سے یہ نکاح ہو وہ بالغہ کا کفو ہو یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو ورنہ نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر نابالغہ ہے تو یہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا قاضی نے بد نیتی نہ کی تو الزام نہیں ورنہ الزام ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۵ تا ۴۰۶ : از شہر محلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈرصاحب ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)بالغ لڑکی اگر نکاح کے وقت بوجہ شرم وحجاب اپنی زبان سے ایجا ب وقبول کے الفاظ ادا نہ کرے صرف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص رنڈوا ہے اس نے نکاح ثانی کیا بعدہ اس شخص کے پہلے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا جو اس کی سوتیلی خالہ ہے یہ جائز ہے یا نہیں
(۲)وہ لڑکی عرصہ دو سال سے دوسرے لڑکے کو والدین نے دی ہوئی ہے موافق رواج کے روبرو گواہوں کے والدین نے دی ہے مگر جو رخصتی کے وقت نکاح ثانی ہوتاہے وہ باقی ہے۔
(۳)جبکہ لڑکی کے والدین زندہ ہیں اور لڑکی کنواری ہے تو بغیر رضامندی والدین کے کیا وہ غیر شخصوں کو ولی بناسکتی ہے اپنے نکاح میں
(۴)قاضی جس کو پورا علم ہو کہ اس لڑکی کے والدین حقیقی زندہ ہیں اور موجود ہیں تو وہ بلادریافت اس کے والدین ان کی بے علمی میں غیر شخص کو ولی مقرر کرکے لڑکی کا نکاح کرسکتا ہے اگر نہیں تو ایسے قاضی کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب :
(۱)سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے کچھ حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
(۲)دو نکاح کہیں نہیں ہوتے پہلی منگنی ہوتی ہے وہ نکاح نہیں ہوتا بات زبان پھیر کر کہنا کچھ مفید نہیں۔ دو سال سے دی ہوئی ہے وہ جلسہ نکاح کرنے کے لئے تھا یا منگنی کا اور کیا لفظ طرفین نے کہے تھے پوری بات بیان کی جائے۔
(۳)لڑکی اگر بالغہ ہے تو اسے خود اپنے نکاح کا اختیار ہے او رنابالغہ ہے تووہ باپ کے ہوتے کسی کو ولی نہیں بناسکتی والله تعالی اعلم۔
(۴)بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے پڑھا جاسکتاہے اگرچہ والدین کو علم نہ ہو ہاں ہاں یہ ضرور ہے کہ جس سے یہ نکاح ہو وہ بالغہ کا کفو ہو یعنی مذہب نسب چال چلن پیشے کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو ورنہ نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر نابالغہ ہے تو یہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا قاضی نے بد نیتی نہ کی تو الزام نہیں ورنہ الزام ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۵ تا ۴۰۶ : از شہر محلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈرصاحب ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)بالغ لڑکی اگر نکاح کے وقت بوجہ شرم وحجاب اپنی زبان سے ایجا ب وقبول کے الفاظ ادا نہ کرے صرف
یہ ہوکہ اس کے عزیز وقریب مستورات جو اس کے گردوپیش موجود ہیں وہ کہہ دیں کہ ہاں لڑکی کومنظور ہے اور بالعموم اکثرنکاحوں میں اسی طرح کی صورت واقع ہوا کرتی ہے لڑکیاں بوجہ شرم وحجاب خود نہیں بولتی ہیں ایسی صورت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں اور اس کا اقرار سکوتی ایجاب وقبول کے قائمقام سمجھا جائے گا یا نہیں
(۲)لڑکی بالغ ہے مگر یتیم ہے اس کی ماں نے اس کا نکاح کیا متوفی باپ کے بھائی یعنی چچا تائے موجود نہ تھے آیا ان کی عدم موجودگی نکاح کے جواز پر شرعا کچھ مؤثر ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)اگر ولی اقرب مثلا باپ وہ نہ ہو تو دادا وہ نہ ہو تو بھائی وہ نہ ہو تو بھتیجا وہ نہ ہو تو چچا وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اگرخود جاکر بالغہ دوشیزہ سے اذن لے یا اپنی طرف سے کسی کو اذن لینے کے لئے اس کے پاس بھیجے اور وہ طلب اذن پر سکوت کرے تویہی اذن ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصماتھا اذنھا ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : باکرہ کی خاموشی ہی اذن ہے۔ (ت)
اور اگر نہ ولی اقرب خود گیا نہ اپنی طر ف سے کسی کو اذن لینے کے لئے بھیجا بلکہ اور شخص بے اس کے بھیجے بطور خود اس سے اذن لینے گیا تو اس کا سکوت اذن نہ ہوگا اگرچہ یہ اذن لینے والاکیسا ہی قریب رشتہ دار ہو جبکہ ولی اقرب نہ ہو مثلا باپ کے ہوتے ہوئے دادا یا حقیقی بھائی اپنی طرف سے اذن لینے جائیں تو ضرور ہوگا کہ عورت خود ہاں کہے اپنی زبان سے اذن دے پاس بیٹھنے والیوں کایہ ظلم ہوتاہے کہ وہ دھوکا دینے کو ہوں یا ہاں کردیتی ہیں اس صورت میں نکاح فضولی ہوگا جبکہ کفو کے ساتھ ہو دختر کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر خبر سن کر اس وقت یا بعد کو بے اظہار نفرت جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے رد ہوجائے گا اگر اپنے کسی قول یافعل سے صراحۃ دلالۃ اب تك ردنہ کیا ہو توبخو شی رخصت ہوکر جانا اذن ہے اس وقت نکاح نافذ ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
(۲)چچا کے ہوتے ہوئے ماں اگر یتیمہ بالغہ کا نکاح یتیمہ سے اذن لے کر دے یا بعد نکاح وہ دختر اذن قولا یا فعلا دے دے تو نکاح صحیح ونافذ ولازم ہے چچا تھا یا بھائی کسی کو گنجائش اعتراض نہیں جبکہ نکاح کفو میں سے کیا ہو یعنی وہ شخص مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہیں جس کے ساتھ اس دختر کا نکاح اس کے ولی کے لئے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو اگر ایسا ہے تو نکاح ہوگا ہی نہیں اور اگر یتیمہ نابالغہ ہے
(۲)لڑکی بالغ ہے مگر یتیم ہے اس کی ماں نے اس کا نکاح کیا متوفی باپ کے بھائی یعنی چچا تائے موجود نہ تھے آیا ان کی عدم موجودگی نکاح کے جواز پر شرعا کچھ مؤثر ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)اگر ولی اقرب مثلا باپ وہ نہ ہو تو دادا وہ نہ ہو تو بھائی وہ نہ ہو تو بھتیجا وہ نہ ہو تو چچا وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اگرخود جاکر بالغہ دوشیزہ سے اذن لے یا اپنی طرف سے کسی کو اذن لینے کے لئے اس کے پاس بھیجے اور وہ طلب اذن پر سکوت کرے تویہی اذن ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصماتھا اذنھا ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : باکرہ کی خاموشی ہی اذن ہے۔ (ت)
اور اگر نہ ولی اقرب خود گیا نہ اپنی طر ف سے کسی کو اذن لینے کے لئے بھیجا بلکہ اور شخص بے اس کے بھیجے بطور خود اس سے اذن لینے گیا تو اس کا سکوت اذن نہ ہوگا اگرچہ یہ اذن لینے والاکیسا ہی قریب رشتہ دار ہو جبکہ ولی اقرب نہ ہو مثلا باپ کے ہوتے ہوئے دادا یا حقیقی بھائی اپنی طرف سے اذن لینے جائیں تو ضرور ہوگا کہ عورت خود ہاں کہے اپنی زبان سے اذن دے پاس بیٹھنے والیوں کایہ ظلم ہوتاہے کہ وہ دھوکا دینے کو ہوں یا ہاں کردیتی ہیں اس صورت میں نکاح فضولی ہوگا جبکہ کفو کے ساتھ ہو دختر کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر خبر سن کر اس وقت یا بعد کو بے اظہار نفرت جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے رد ہوجائے گا اگر اپنے کسی قول یافعل سے صراحۃ دلالۃ اب تك ردنہ کیا ہو توبخو شی رخصت ہوکر جانا اذن ہے اس وقت نکاح نافذ ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
(۲)چچا کے ہوتے ہوئے ماں اگر یتیمہ بالغہ کا نکاح یتیمہ سے اذن لے کر دے یا بعد نکاح وہ دختر اذن قولا یا فعلا دے دے تو نکاح صحیح ونافذ ولازم ہے چچا تھا یا بھائی کسی کو گنجائش اعتراض نہیں جبکہ نکاح کفو میں سے کیا ہو یعنی وہ شخص مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہیں جس کے ساتھ اس دختر کا نکاح اس کے ولی کے لئے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو اگر ایسا ہے تو نکاح ہوگا ہی نہیں اور اگر یتیمہ نابالغہ ہے
حوالہ / References
مؤطا امام مالک کتاب النکاح مطبع میر محمد کتب خانہ کراچی ص۴۹۸
کہ حقیقۃ یتیمہ وہی ہوتی ہے تو اگر ماں نے غیر کفو بہ معنی مذکور سے نکاح کردیا تو ہوا ہی نہیں او رکفو سے کیا تو چچا وغیرہ جو ولی اقرب ہو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا رد کردے گا رد ہوجائے گا جائز کردے گا جائز والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۷ : از شہرمحلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈر صاحب ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی واید کم بنصرہ فی یتیمۃ بلغت من عمرھا خمسۃ عشرسنین زوجتھا امھا برضاھا باحد من الاقارب ولکن لم یحضروا مجلس النکاح اولیاء الیتیمۃ المذکورۃ کالاعمام وغیرہم وما استشیروا فی ھذا الباب وتولت فی امر النکاح امھا وحدھا لانھا کانت وحدھا کفیلۃ لبنتھا الی الان ھل جاز النکاح ام لا۔
علماء کرام آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك پندرہ سالہ لڑکی کا نکاح اس کی والدہ نے لڑکی کی رضامندی سے رشتہ داروں میں کردیا جبکہ لڑکی کے اولیاء چچاوغیرہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوئے اور نہ ہی ا س نکاح سے متعلق ان سے مشورہ لیا گیا صرف والدہ نے ہی نکاح کی تولیت کی کیونکہ لڑکی کی کفیل اس وقت والدہ ہی تھی کیا یہ نکاح جائز ہوایا نہ
الجواب :
ان بلغت قبل ھذ ابعلامۃ کحیض او تمت لھا قبل اذنھا بالنکاح خمس عشرۃ سنۃ کوامل وکان النکاح من کفولیس فی دینہ ولانسبہ ولاخلقہ ولاحرفتہ مایتعیربہ اولیاؤھا عرفا جاز النکاح فان وقع بعد اذنھا او رضیت بہ بعد وقوعہ قبل ردہ تم ولزم ولیس لھاولالاحدمن کان من غیر کفو بالمعنی المذکور فھو باطل رأساوان اذنت و اجازت اوبنفسھا تولت وان کان من کفو ولم تبلغ بعد توقف علی اجازۃ الولی ان اجاز جاز وان ابطل
اگر لڑکی نکاح سے قبل بالغ ہوچکی تھی جس پر حیض یا کوئی اور علامت بلوغ ظاہر ہوچکی تھی یا وہ نکاح سے قبل پورے پندرہ سال کی ہوچکی تھی تو اس نے نکاح کی اجازت دی اور نکاح بھی کفو میں ہواکہ لڑکے کے دین نسب اخلاق اور اس کے کسب پر عرفا لڑکی کے اولیاء کو اعتراض نہ ہو یعنی اس سے عار محسوس نہیں کرتے تو نکاح جائز ہے پس اگر نکاح عورت کے اذن کے بعد واقع ہویا وہ رضامندی ظاہر کر چکی ہو تو یہ نکاح نافذ ولازم ہوگا ہے اب اس کویا اس کے ولی کو نکاح پر اعتراض کا حق نہیں رہا اگر یہ نکاح غیر کفو میں معنی مذکور میں ہوا تو وہ نکاح بالکل باطل ہے اگرچہ اجازت اور رضامندی ظاہر کرچکی ہو یا اس نے خود اپنا نکاح کیا ہو اگر نکاح کفو میں ہوالیکن ابھی بالغ نہ تھی تو پھر ولی کی اجازت پر موقوف رہا اگر ولی جائزکردے تو جائز اگر باطل کردے
مسئلہ ۴۰۷ : از شہرمحلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈر صاحب ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی واید کم بنصرہ فی یتیمۃ بلغت من عمرھا خمسۃ عشرسنین زوجتھا امھا برضاھا باحد من الاقارب ولکن لم یحضروا مجلس النکاح اولیاء الیتیمۃ المذکورۃ کالاعمام وغیرہم وما استشیروا فی ھذا الباب وتولت فی امر النکاح امھا وحدھا لانھا کانت وحدھا کفیلۃ لبنتھا الی الان ھل جاز النکاح ام لا۔
علماء کرام آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك پندرہ سالہ لڑکی کا نکاح اس کی والدہ نے لڑکی کی رضامندی سے رشتہ داروں میں کردیا جبکہ لڑکی کے اولیاء چچاوغیرہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوئے اور نہ ہی ا س نکاح سے متعلق ان سے مشورہ لیا گیا صرف والدہ نے ہی نکاح کی تولیت کی کیونکہ لڑکی کی کفیل اس وقت والدہ ہی تھی کیا یہ نکاح جائز ہوایا نہ
الجواب :
ان بلغت قبل ھذ ابعلامۃ کحیض او تمت لھا قبل اذنھا بالنکاح خمس عشرۃ سنۃ کوامل وکان النکاح من کفولیس فی دینہ ولانسبہ ولاخلقہ ولاحرفتہ مایتعیربہ اولیاؤھا عرفا جاز النکاح فان وقع بعد اذنھا او رضیت بہ بعد وقوعہ قبل ردہ تم ولزم ولیس لھاولالاحدمن کان من غیر کفو بالمعنی المذکور فھو باطل رأساوان اذنت و اجازت اوبنفسھا تولت وان کان من کفو ولم تبلغ بعد توقف علی اجازۃ الولی ان اجاز جاز وان ابطل
اگر لڑکی نکاح سے قبل بالغ ہوچکی تھی جس پر حیض یا کوئی اور علامت بلوغ ظاہر ہوچکی تھی یا وہ نکاح سے قبل پورے پندرہ سال کی ہوچکی تھی تو اس نے نکاح کی اجازت دی اور نکاح بھی کفو میں ہواکہ لڑکے کے دین نسب اخلاق اور اس کے کسب پر عرفا لڑکی کے اولیاء کو اعتراض نہ ہو یعنی اس سے عار محسوس نہیں کرتے تو نکاح جائز ہے پس اگر نکاح عورت کے اذن کے بعد واقع ہویا وہ رضامندی ظاہر کر چکی ہو تو یہ نکاح نافذ ولازم ہوگا ہے اب اس کویا اس کے ولی کو نکاح پر اعتراض کا حق نہیں رہا اگر یہ نکاح غیر کفو میں معنی مذکور میں ہوا تو وہ نکاح بالکل باطل ہے اگرچہ اجازت اور رضامندی ظاہر کرچکی ہو یا اس نے خود اپنا نکاح کیا ہو اگر نکاح کفو میں ہوالیکن ابھی بالغ نہ تھی تو پھر ولی کی اجازت پر موقوف رہا اگر ولی جائزکردے تو جائز اگر باطل کردے
بطل وان سکت الاولیاء حتی بلغت ال الامر الیھا فلتمض اولترد و المسائل ظاھرۃ وفی الکتب دائرۃ واﷲ تعالی اعلم۔
تو باطل ہوجائے گا اور اگر لڑکی کے بلوغ تك ولی خاموش رہے حتی کہ لڑکی خود بالغ ہوگئی تو اب اجازت لڑکی کی طرف سے ہوگی چاہے راضی ہوجائے یا نکاح کو رد کردے یہ مسائل ظاہر ہیں اور کتب میں مذکور ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۰۸ : از اجمیرشریف محلہ لاکھن کوٹھری مرسلہ مولانا مولوی مشتاق احمد صاحب صدر مدرس مدرسہ معینیہ اجمیر معلی یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك بالغہ لڑکی کی والدہ اور بھائیوں نے ایك میراثی کو رشتہ کے واسطے بھیجا کہ فلاں قبیلہ میں رشتہ کرآؤ اس قبیلہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ نہ جانا میراثی نے کچھ روپیہ رشورت کالے کر دوسری جگہ رشتہ کردیا بعد ازیں لڑکی اور والدہ اور بھائیوں کو اطلاع ہوئی انھوں نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ رشتہ والوں سے کہہ دے کہ ہم نہیں رشتہ کرتے اور پھر لڑکی کے بھائی بھی گئے منع کرنے کے واسطے آخر کار وہ باز نہ آئے اور میراثی نے چندایام اپنی طرف سے مقرر کرکے برات منگوائی برات آنے پر لڑکی اور والدہ بھائی نکاح سے سراسر انکار کرتے رہے حتی کہ پانچ چھ ایام اسی طرح گزر گئے چونکہ برات کے ساتھ چند رؤسا تھے انھوں نے گر د ونواح کے سب رؤسا جمع کئے اور کہا کہ جس صورت سے ہوسکتاہے ہمیں نکاح دلادو سب رؤسا نے جمع ہوکر لڑکی کے بھائیوں کو ایك مقدمہ جعلسازی میں پھانس دیا وہ بیچارے غریب عاجز ہوکر کہنے لگے کہ اچھا نکاح ٹھہرادو جب لڑکی سے اذن لینے کے واسطے گئے تو انکار کردیا پھر ایك شخص نے لڑکی کو جبرا خاموش کردیا اور بہلی میں بٹھا کر لے گئے بوقت وداع لڑکی کے بھائیوں نے لڑکی سے پوچھا تجھ کو کپڑا وغیرہ دیں لڑکی نے انکار کیا اور کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے تم کس واسطے دیتے ہو بعدآنے کے وہ اب تك انکار پر مصر ہے عرصہ پانچ سال کا ہوا یہ نکاح عندالشرع ہوا یا نہیں
الجواب :
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور اس نے اذن نہ دیا جبکہ صاف انکار کردیا ور بالجبر رخصت کے وقت بھی تصریحا کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے اور جب سے اب تك انکار پر مصر ہے تو نکاح مذکور باطل ومردود محض اورا ن جبر کرنے والوں کا ظلم خالص ہے بھائیوں نے یہ بجبر نہ سہی بخوشی اجازت دی ہوتی یا خود نکاح کردیا ہو تابالغہ کے انکار سے وہ بھی فورا باطل ہوجاتا نہ کہ ان کی اجازت بھی جبر سے یونہی اگر بعد نکاح انکار کے بعد بالغہ خود بھی راضی ہو جاتی مفید نہ ہوتا کہ باطل شدہ نکاح رضاسے صحیح نہ ہوسکے گا نہ کہ وہ اب تك انکار پر مصرہے غرض اس باطل نکاح کو نکاح سمجھنا جہل بعید وظلم شدید ہے عالمگیریہ میں ہے :
تو باطل ہوجائے گا اور اگر لڑکی کے بلوغ تك ولی خاموش رہے حتی کہ لڑکی خود بالغ ہوگئی تو اب اجازت لڑکی کی طرف سے ہوگی چاہے راضی ہوجائے یا نکاح کو رد کردے یہ مسائل ظاہر ہیں اور کتب میں مذکور ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۰۸ : از اجمیرشریف محلہ لاکھن کوٹھری مرسلہ مولانا مولوی مشتاق احمد صاحب صدر مدرس مدرسہ معینیہ اجمیر معلی یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك بالغہ لڑکی کی والدہ اور بھائیوں نے ایك میراثی کو رشتہ کے واسطے بھیجا کہ فلاں قبیلہ میں رشتہ کرآؤ اس قبیلہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ نہ جانا میراثی نے کچھ روپیہ رشورت کالے کر دوسری جگہ رشتہ کردیا بعد ازیں لڑکی اور والدہ اور بھائیوں کو اطلاع ہوئی انھوں نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ رشتہ والوں سے کہہ دے کہ ہم نہیں رشتہ کرتے اور پھر لڑکی کے بھائی بھی گئے منع کرنے کے واسطے آخر کار وہ باز نہ آئے اور میراثی نے چندایام اپنی طرف سے مقرر کرکے برات منگوائی برات آنے پر لڑکی اور والدہ بھائی نکاح سے سراسر انکار کرتے رہے حتی کہ پانچ چھ ایام اسی طرح گزر گئے چونکہ برات کے ساتھ چند رؤسا تھے انھوں نے گر د ونواح کے سب رؤسا جمع کئے اور کہا کہ جس صورت سے ہوسکتاہے ہمیں نکاح دلادو سب رؤسا نے جمع ہوکر لڑکی کے بھائیوں کو ایك مقدمہ جعلسازی میں پھانس دیا وہ بیچارے غریب عاجز ہوکر کہنے لگے کہ اچھا نکاح ٹھہرادو جب لڑکی سے اذن لینے کے واسطے گئے تو انکار کردیا پھر ایك شخص نے لڑکی کو جبرا خاموش کردیا اور بہلی میں بٹھا کر لے گئے بوقت وداع لڑکی کے بھائیوں نے لڑکی سے پوچھا تجھ کو کپڑا وغیرہ دیں لڑکی نے انکار کیا اور کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے تم کس واسطے دیتے ہو بعدآنے کے وہ اب تك انکار پر مصر ہے عرصہ پانچ سال کا ہوا یہ نکاح عندالشرع ہوا یا نہیں
الجواب :
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور اس نے اذن نہ دیا جبکہ صاف انکار کردیا ور بالجبر رخصت کے وقت بھی تصریحا کہا کہ میرا نکاح ہی نہیں ہے اور جب سے اب تك انکار پر مصر ہے تو نکاح مذکور باطل ومردود محض اورا ن جبر کرنے والوں کا ظلم خالص ہے بھائیوں نے یہ بجبر نہ سہی بخوشی اجازت دی ہوتی یا خود نکاح کردیا ہو تابالغہ کے انکار سے وہ بھی فورا باطل ہوجاتا نہ کہ ان کی اجازت بھی جبر سے یونہی اگر بعد نکاح انکار کے بعد بالغہ خود بھی راضی ہو جاتی مفید نہ ہوتا کہ باطل شدہ نکاح رضاسے صحیح نہ ہوسکے گا نہ کہ وہ اب تك انکار پر مصرہے غرض اس باطل نکاح کو نکاح سمجھنا جہل بعید وظلم شدید ہے عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراکانت اوثیبا فان فعل ذلك فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتھا جازوان ردتہ بطل کذافی السراج الوھاج ۔
عاقلہ بالغہ باکرہ ہویا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کسی کو بھی اس کے نکاح کا اختیار نہیں اگر کسی نے ایسا نکاح کیا یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا اگر وہ جائز کردے تو جائزاور رد کر دے تو رد ہوجائے گا۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب بالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے رد کردیا ہو پھر بعدمیں اس نے کہامیں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں رد کرنے سے نکاح باطل ہوچکاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۰۹ : از بمبئی جیل روڈ پوسٹ نمبر ۹ معرفت خلیفہ احمد الله صاحب مرسلہ جمیل محمد خان صاحب دہلوی ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ
ایك بالغہ شیعہ لڑکی نے برضا ورغبت خود بلااجازت والدین ایك سنی المذہب افغانی النسب سے چار گواہ اور ایك وکیل کی موجودگی میں قاضی کے سامنے بمعرفت قاضی نکاح کردیا۔ منکوحہ کے والدین بوجہ شیعہ ہونے کے اس کایہ نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ خلوت صحیحہ نہیں ہوئی اس لئے نکاح کے فسخ کرانے کا استحقاق ہمیں حاصل ہے دوسرے یہ کہتے ہیں کہ چونکہ نکاح ہم کفو سے نہیں ہوا لہذا ہمیں فسخ کا اختیارہے وکیل جومجلس نکاح میں لڑکی کی جانب سے مقرر ہواتھا وہ اس بات کا اقرار کرتاہے کہ نکاح ہوا میں وکیل بھی بنا مگر لڑکی کے ایجاب وقبول کی آواز نہیں سنی قبل از نکاح لڑکی نے گواہان کے سامنے اقرار کیا ہے کہ میں اہلسنت و جماعت حنفی مذہب اختیار کرچکی ہوں نکاح کے گواہ موجود ہیں وہ مقر ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا ایجاب وقبول کی آواز ہمارے کانوں تك آئی اور قبل از نکاح لڑکی نے کہا کہ میں اہلسنت وجماعت ہو چکی ہوں۔
الجواب :
بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کی نہیں خصوصا اس حالت میں کہ وہ سنیہ ہے اور باپ رافضی عدم کفاءت کی وجہ کوئی سائل نے نہیں لکھی اگر صرف بربنائے تخالف مذہب ایسا کہا جاتاہے تو سنی لاکھوں درجے رافضی سے
عاقلہ بالغہ باکرہ ہویا ثیبہ اس کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کسی کو بھی اس کے نکاح کا اختیار نہیں اگر کسی نے ایسا نکاح کیا یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا اگر وہ جائز کردے تو جائزاور رد کر دے تو رد ہوجائے گا۔ سراج الوہاج میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب بالغہ کو نکاح کی اطلاع ملی تو اس نے رد کردیا ہو پھر بعدمیں اس نے کہامیں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں رد کرنے سے نکاح باطل ہوچکاہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۰۹ : از بمبئی جیل روڈ پوسٹ نمبر ۹ معرفت خلیفہ احمد الله صاحب مرسلہ جمیل محمد خان صاحب دہلوی ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ
ایك بالغہ شیعہ لڑکی نے برضا ورغبت خود بلااجازت والدین ایك سنی المذہب افغانی النسب سے چار گواہ اور ایك وکیل کی موجودگی میں قاضی کے سامنے بمعرفت قاضی نکاح کردیا۔ منکوحہ کے والدین بوجہ شیعہ ہونے کے اس کایہ نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ خلوت صحیحہ نہیں ہوئی اس لئے نکاح کے فسخ کرانے کا استحقاق ہمیں حاصل ہے دوسرے یہ کہتے ہیں کہ چونکہ نکاح ہم کفو سے نہیں ہوا لہذا ہمیں فسخ کا اختیارہے وکیل جومجلس نکاح میں لڑکی کی جانب سے مقرر ہواتھا وہ اس بات کا اقرار کرتاہے کہ نکاح ہوا میں وکیل بھی بنا مگر لڑکی کے ایجاب وقبول کی آواز نہیں سنی قبل از نکاح لڑکی نے گواہان کے سامنے اقرار کیا ہے کہ میں اہلسنت و جماعت حنفی مذہب اختیار کرچکی ہوں نکاح کے گواہ موجود ہیں وہ مقر ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا ایجاب وقبول کی آواز ہمارے کانوں تك آئی اور قبل از نکاح لڑکی نے کہا کہ میں اہلسنت وجماعت ہو چکی ہوں۔
الجواب :
بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کی نہیں خصوصا اس حالت میں کہ وہ سنیہ ہے اور باپ رافضی عدم کفاءت کی وجہ کوئی سائل نے نہیں لکھی اگر صرف بربنائے تخالف مذہب ایسا کہا جاتاہے تو سنی لاکھوں درجے رافضی سے
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
اعلی ہیں اور مغل پٹھان باعتبار قوم ہم کفو ہیں اس کے باپ کا اعتراض باطل ہے اور اسے کوئی اختیار فسخ نہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : الایم احق بنفسھا (بے نکاح عاقلہ بالغہ کو اپنے نفس پر زیادہ اختیار ہے۔ ت)الله عزوجل فرماتا ہے :
و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی کافروں کو مومنوں پر ہر گز ولایت نہیں دے گا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۱۰ : کوہ رانی کھیت متصل جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمان صاحب خانساماں ۹ محرم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص اہلسنت وجماعت نے ایك رافضی کی بیوی سے کہا کہ تو مجھ سے مل تو اس رافضی کی عورت نے کہا کہ اس شرط پر ملوں گی اگر تو اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرے اس شخص مذکور نے اس شرط کو قبول کیا اورمدت دراز تك زناکاری رہی اور ابھی تك موجود ہے اب وہ لڑکی اہلسنت کی جوان ہوگئی ہے اور شخص مذکور اس کی شادی اس رافضی سے کرنے کو تیار ہے اور اس لڑکی سنیہ کا نانا موجود ہے وہ بھی منع کرتا ہے اور تمام اہلسنت وجماعت منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں مگر شخص مذکور کہتا ہے کہ جائز ہے اب اس صورت میں یہ لڑکی اپنے نانا کو مل سکتی ہے یا نہیں اور یہ نکاح جائز ہے یا ممنوع شرعا اس میں گناہ ہوگا یا نہیں
الجواب :
یہ نکاح حرام قطعی اور زنائے خالص ہے عالمگیری میں ہے :
لایجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولا ذمیۃ لاحرۃ ولامملوکۃ ۔
مرتد کو کسی مسلمان عورت مرتدہ ذمیہ آزاد یا لونڈی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔ (ت)
جبکہ وہ لڑکی جوان ہے اور باپ اسے معاذالله زنا کے لئے دینا چاہتاہے تو نانا وغیرہ دیگر اولیاء پر لازم ہے کہ لڑکی کو اس کے قبضہ تصرف سے نکال کر فورا لڑکی کی رضاسے کسی سنی صحیح العقیدہ کفو کے ساتھ اس کا نکاح کردیں والله تعالی اعلم۔
و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
الله تعالی کافروں کو مومنوں پر ہر گز ولایت نہیں دے گا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۱۰ : کوہ رانی کھیت متصل جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمان صاحب خانساماں ۹ محرم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص اہلسنت وجماعت نے ایك رافضی کی بیوی سے کہا کہ تو مجھ سے مل تو اس رافضی کی عورت نے کہا کہ اس شرط پر ملوں گی اگر تو اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرے اس شخص مذکور نے اس شرط کو قبول کیا اورمدت دراز تك زناکاری رہی اور ابھی تك موجود ہے اب وہ لڑکی اہلسنت کی جوان ہوگئی ہے اور شخص مذکور اس کی شادی اس رافضی سے کرنے کو تیار ہے اور اس لڑکی سنیہ کا نانا موجود ہے وہ بھی منع کرتا ہے اور تمام اہلسنت وجماعت منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں مگر شخص مذکور کہتا ہے کہ جائز ہے اب اس صورت میں یہ لڑکی اپنے نانا کو مل سکتی ہے یا نہیں اور یہ نکاح جائز ہے یا ممنوع شرعا اس میں گناہ ہوگا یا نہیں
الجواب :
یہ نکاح حرام قطعی اور زنائے خالص ہے عالمگیری میں ہے :
لایجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولا ذمیۃ لاحرۃ ولامملوکۃ ۔
مرتد کو کسی مسلمان عورت مرتدہ ذمیہ آزاد یا لونڈی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔ (ت)
جبکہ وہ لڑکی جوان ہے اور باپ اسے معاذالله زنا کے لئے دینا چاہتاہے تو نانا وغیرہ دیگر اولیاء پر لازم ہے کہ لڑکی کو اس کے قبضہ تصرف سے نکال کر فورا لڑکی کی رضاسے کسی سنی صحیح العقیدہ کفو کے ساتھ اس کا نکاح کردیں والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مؤطا امام مالک کتاب النکاح میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۴۹۸
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۵
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۵۵
مسئلہ ۴۱۱ تا ۴۱۲ : از مقام بلیا ڈاکخانہ رسٹرا مسئولہ مولوی حکیم عبدالشکور صاحب ۲۸ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جس کی عمر تخمینا دس برس کی تھی بعد انتقال اپنے والدین کے اپنے حقیقی چچا زید سے خفا ہوکر اپنے حقیقی ماموں کے گھر چلی گئی اوروہاں رہنے لگی کچھ عرصہ کے بعد اس کے ماموں نے ہندہ کا عقد قبل بلوغ مسمی بکرسے بلااجازت حقیقی چچا کے اس شرط پر کیا کہ تم جب میری بستی میں آکر مکان بناؤ گے اس وقت ہم لڑکی رخصت کریں گے اب بکر اس بستی میں مکان نہیں بناتا ہے اورلڑکی رخصت کراکر لے جانا چاہتا ہے اور لڑکی وہاں جانے پر راضی نہیں کیا حقیقی چچا کے موجود ہوتے ہوئے اس کے ماموں نے عقد کردیا تو یہ عقد شرعا درست ہوا یا نہیں
دوم جب بکرنے اس بستی میں مکان نہیں بنایا تو عقد فسخ ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بے اجازت چچا کے ماموں نے جو نکاح کیا جائزوصحیح ہوا مگر چچا کی اجازت پر موقوف تھا اگر وہ رد کردیتا رد ہوجاتا مگر عبارت سوال سے ظاہر کہ اس نے رد نہ کیا نکاح پر راضی ہوا دوسری جگہ لے جانے پر راضی نہیں جب صورت یہ ہے تو وہ نکاح نافذ بھی ہوگیا لڑکی کو خیار بلوغ ملا عبارت سوال سے ظاہر ہے کہ لڑکی نے جسے بالغہ ہوئے کئی سال گزرے اس خیار کا استعمال نہ کیا وہ بھی نفس نکاح سے ناراض نہیں بلکہ دوسری جگہ جانے سے۔ پس صورت مذکورہ میں نکاح لازم ہوگیا اور کسی کو اس پر اعتراض کا اختیار نہ رہا۔ اس گاؤں میں مکان بنانے کی شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے اسے اختیار ہے کہ عورت کو اپنے گھر لے جائے قال الله تعالی :
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم ۔
بیویوں کو اپنی سکونت کے ساتھ سکونت گنجائش کے مطابق دو۔ (ت)
ہاں اگر ظاہر ہو کہ شوہر عورت کو ضرور ایذا دینے کے لئے دوسری جگہ لے جانا چاہتا ہے اوریہاں رکھنا نہیں چاہتا تولے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن- ۔ ھذا حاصل ماحط علیہ کلام المحققین وعلیك برد المحتار۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے ضرر مت دو محققین کے کلام کا مصداق یہی ہے آپ پر ردالمحتار کی طرف رجوع ضروری ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جس کی عمر تخمینا دس برس کی تھی بعد انتقال اپنے والدین کے اپنے حقیقی چچا زید سے خفا ہوکر اپنے حقیقی ماموں کے گھر چلی گئی اوروہاں رہنے لگی کچھ عرصہ کے بعد اس کے ماموں نے ہندہ کا عقد قبل بلوغ مسمی بکرسے بلااجازت حقیقی چچا کے اس شرط پر کیا کہ تم جب میری بستی میں آکر مکان بناؤ گے اس وقت ہم لڑکی رخصت کریں گے اب بکر اس بستی میں مکان نہیں بناتا ہے اورلڑکی رخصت کراکر لے جانا چاہتا ہے اور لڑکی وہاں جانے پر راضی نہیں کیا حقیقی چچا کے موجود ہوتے ہوئے اس کے ماموں نے عقد کردیا تو یہ عقد شرعا درست ہوا یا نہیں
دوم جب بکرنے اس بستی میں مکان نہیں بنایا تو عقد فسخ ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
بے اجازت چچا کے ماموں نے جو نکاح کیا جائزوصحیح ہوا مگر چچا کی اجازت پر موقوف تھا اگر وہ رد کردیتا رد ہوجاتا مگر عبارت سوال سے ظاہر کہ اس نے رد نہ کیا نکاح پر راضی ہوا دوسری جگہ لے جانے پر راضی نہیں جب صورت یہ ہے تو وہ نکاح نافذ بھی ہوگیا لڑکی کو خیار بلوغ ملا عبارت سوال سے ظاہر ہے کہ لڑکی نے جسے بالغہ ہوئے کئی سال گزرے اس خیار کا استعمال نہ کیا وہ بھی نفس نکاح سے ناراض نہیں بلکہ دوسری جگہ جانے سے۔ پس صورت مذکورہ میں نکاح لازم ہوگیا اور کسی کو اس پر اعتراض کا اختیار نہ رہا۔ اس گاؤں میں مکان بنانے کی شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے اسے اختیار ہے کہ عورت کو اپنے گھر لے جائے قال الله تعالی :
اسكنوهن من حیث سكنتم من وجدكم ۔
بیویوں کو اپنی سکونت کے ساتھ سکونت گنجائش کے مطابق دو۔ (ت)
ہاں اگر ظاہر ہو کہ شوہر عورت کو ضرور ایذا دینے کے لئے دوسری جگہ لے جانا چاہتا ہے اوریہاں رکھنا نہیں چاہتا تولے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
و لا تضآروهن لتضیقوا علیهن- ۔ ھذا حاصل ماحط علیہ کلام المحققین وعلیك برد المحتار۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے ضرر مت دو محققین کے کلام کا مصداق یہی ہے آپ پر ردالمحتار کی طرف رجوع ضروری ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۱۳ : از مقام گھو گھو ڈاك خانہ اسٹیٹ ضلع دینا جپور ڈاکخانہ خاص مسئولہ حاجی سیدنورالحسن صاحب بہاری ۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك لڑکی نابالغہ جس کے دو نابالغ بھائی حقیقی ہیں اور ایك حقیقی ماں اور ایك حقیقی چچا اور اور ایك حقیقی ماموں ہیں لڑکی نابالغہ اور دونوں بھائی اور اس کی ماں یعنی ان چاروں کی کفالت بعد فوت باپ وشوہر بھائی شوہرکا وبھائی ماموں کا یعنی ماموں حقیقی وچچا حقیقی کر رہاہے ماموں وچچا حقیقی اور دو بھائی نابالغ حقیقی پردیس میں چچا وماموں کے ساتھ ہیں ماموں وچچا وبھائی کی عدم موجودگی میں غیر اقربا اورلڑکے کی ماں نے بہکا کر لڑکی کی ماں کو راضی کرکے چچیرے چچا کی اجازت سے نکاح کردیا اس نکاح سے ماموں اور چچا دونوں سخت ناراض ہیں اور کفالت کرنے سے دست بردار ہیں لڑکی ہمیشہ سے جب سے اپنی ماں کے ساتھ اپنے حقیقی چچا کے مکان میں رہتی ہے شوہر مجازی سے کوئی تعلق نہیں ہوا صرف عقد ہوا ہے رسم بارات وغیر ہ باقی ہے نکاح جائز ہوا یا نہیں اگر ناجائز ہوا تو دوسرے کے ساتھ یا شوہر اول کے ساتھ دوبارہ جائز ہوگا یا نہیں
الجواب :
یہ شخص جس سے نکاح ہوا اگر لڑکی کا کفونہیں یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہے تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔ نہ جب تك لڑکی نابالغہ ہے کسی ایسے شخص سے کوئی اس کا نکاح کرسکتاہے اور اگر جس سے نکاح ہوا وہ کفو ہے یعنی کسی بات میں ویسا کم نہیں تو یہ نکاح لڑکی کے حقیقی چچا کی اجازت پر موقوف رہا اگر اس نے جائز کردیا اگرچہ ناراضی کے ساتھ مثلا کہے “ خیر نکاح تو ہوگیا مگر ہم کفالت سے دست بردارہیں “ تو نکاح نافذ ہوگیا چچا یا ماموں کسی کو اختیار نہیں کہ وہ دوسری جگہ نکاح کردے ہاں لڑکی کو اس پر اعتراض کا حق ہوگا اگر بالغ ہوتے ہی فورا فورا اپنی ناراضی کا اظہار کرے اور اگر چچا نے خبر سن کر رد کیا تو رد ہوگیا چچا کو اختیارہے جس کفو سے چاہے نکاح کردے اگرچہ اسی شوہر سے غرض ان الفاظ پر مدار ہے جو چچا نے خبر سننے پر پہلی پہل کہے ایمانا وہ پورے الفاظ بے کم وبیش تبدیلی معلوم ہونا ضروری ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۴ : از موضع آچورہ ڈاکخانہ بیجاری ضلع فریدپور ملك بنگال مسئولہ حاجی عبدالغنی صاحب ۲۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زیدکی لڑکی بالغہ ہندہ نے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك لڑکی نابالغہ جس کے دو نابالغ بھائی حقیقی ہیں اور ایك حقیقی ماں اور ایك حقیقی چچا اور اور ایك حقیقی ماموں ہیں لڑکی نابالغہ اور دونوں بھائی اور اس کی ماں یعنی ان چاروں کی کفالت بعد فوت باپ وشوہر بھائی شوہرکا وبھائی ماموں کا یعنی ماموں حقیقی وچچا حقیقی کر رہاہے ماموں وچچا حقیقی اور دو بھائی نابالغ حقیقی پردیس میں چچا وماموں کے ساتھ ہیں ماموں وچچا وبھائی کی عدم موجودگی میں غیر اقربا اورلڑکے کی ماں نے بہکا کر لڑکی کی ماں کو راضی کرکے چچیرے چچا کی اجازت سے نکاح کردیا اس نکاح سے ماموں اور چچا دونوں سخت ناراض ہیں اور کفالت کرنے سے دست بردار ہیں لڑکی ہمیشہ سے جب سے اپنی ماں کے ساتھ اپنے حقیقی چچا کے مکان میں رہتی ہے شوہر مجازی سے کوئی تعلق نہیں ہوا صرف عقد ہوا ہے رسم بارات وغیر ہ باقی ہے نکاح جائز ہوا یا نہیں اگر ناجائز ہوا تو دوسرے کے ساتھ یا شوہر اول کے ساتھ دوبارہ جائز ہوگا یا نہیں
الجواب :
یہ شخص جس سے نکاح ہوا اگر لڑکی کا کفونہیں یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہے تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔ نہ جب تك لڑکی نابالغہ ہے کسی ایسے شخص سے کوئی اس کا نکاح کرسکتاہے اور اگر جس سے نکاح ہوا وہ کفو ہے یعنی کسی بات میں ویسا کم نہیں تو یہ نکاح لڑکی کے حقیقی چچا کی اجازت پر موقوف رہا اگر اس نے جائز کردیا اگرچہ ناراضی کے ساتھ مثلا کہے “ خیر نکاح تو ہوگیا مگر ہم کفالت سے دست بردارہیں “ تو نکاح نافذ ہوگیا چچا یا ماموں کسی کو اختیار نہیں کہ وہ دوسری جگہ نکاح کردے ہاں لڑکی کو اس پر اعتراض کا حق ہوگا اگر بالغ ہوتے ہی فورا فورا اپنی ناراضی کا اظہار کرے اور اگر چچا نے خبر سن کر رد کیا تو رد ہوگیا چچا کو اختیارہے جس کفو سے چاہے نکاح کردے اگرچہ اسی شوہر سے غرض ان الفاظ پر مدار ہے جو چچا نے خبر سننے پر پہلی پہل کہے ایمانا وہ پورے الفاظ بے کم وبیش تبدیلی معلوم ہونا ضروری ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۴ : از موضع آچورہ ڈاکخانہ بیجاری ضلع فریدپور ملك بنگال مسئولہ حاجی عبدالغنی صاحب ۲۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زیدکی لڑکی بالغہ ہندہ نے
بلااجازت زید کے اپنے کفو بکر کے ساتھ نکاح کیا زید سن کر نہایت ناخوش ہوکر بکر کے مکان سے حیلہ وبہانہ کرکے ہندہ کو اپنے مکان میں لے آیا پھر ہندہ سے کہا کہ یہ نکاح جائز نہیں ہوا اس لئے کہ میں تیرا باپ ہوں بلااجازت باپ کے نکاح صحیح نہیں۔ اس حال میں ایك سال سے زیادہ گزرگیا پھر زید نے ہندہ کانکاح عمرو کے ساتھ کیا اب دریافت طلب امریہ ہے کہ نکاح ثانی صحیح ہے یا نہیں اگر نہیں تو جو اولاد عمرو سے ہوئی اس کا اور زید کے شرع شریف میں کیا حکم ہے زید امام ہوسکتاہے یا نہیں اور اگر نکاح ثانی صحیح ہے تو بکر پر مہر مثل لازم ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا تھا اگر وہ کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھاکہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح ہونا عورت کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ پہلا نکاح ہوگیا اور یہ دوسرا نکاح باطل ہوا عورت کا باپ اور یہ دوسرا شوہر دونوں سخت کبیرہ کے مرتکب ہیں اور بچہ جو پیدا ہوا وہ پہلے شوہر کا ہے اس صورت میں زید کو امام کرنا گناہ ہے جب تك توبہ کرے اور اگر پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا وہ بمعنی مذکور کفو شرعی نہ تھا تو وہ پہلا نکاح باطل ہوا دوسرا نکاح صحیح ہوا بچہ اس دوسرے شوہر کا ہے زید وعمرو پر کوئی الز ام نہیں ان کے پیچھے نماز اس وجہ سے ممنوع نہیں پہلا نکاح جس سے ہوا تھا اگر وہ قربت کرچکا ہے تو اسے مہر مثل دینا آئے گا یعنی ایسی عورت کا جتنا مہر ہو جو مہر بندھا تھا اس کا لحاظ نہ کیا جائے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۵ : از موضع اٹریا ضلع بریلی مسئولہ قمرالدین صاحب یکم صفر المظفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ تھی اور بالغہ تھی کیونکہ اس کے ایك لڑکا پیدا ہوچکا تھا اس رانڈ نے عقد ثانی کے واسطے ایك شخص کو جو اسی کی ذات کا تھا اور جوان بھی تھا اور علم دار بھی تھا اورر وٹی کپڑے سے خوش تھا تجویز کی مگر اس جوان کے واسطے اس رانڈ کا والد نکاح کرنے کو راضی نہ تھا زیدنے کچھ لالچ پاکر اس شخص کی طرف سے جس کے ساتھ رانڈ کا والد راضی بریلی سے تعویز اور مٹھائی لے جاکر کھلایا تاکہ اس کا خیال اس جوان کی طرف ہو جس سے اس کا والد راضی تھا اور زید نے مٹھائی کھلاتے وقت اس شخص کا نام لیا کہ وہ رانڈ جس سے راضی تھی کہ تم کو میں اس شخص کی طرف سے مٹھائی کھلاتاہوں جس سے کہ تم راضی ہو اس کے بعد میں اس رانڈ کا نکاح اس شخص کے ساتھ زبردستی کرادیا جس سے وہ رانڈ ناراض تھی اور زبردستی چندآدمی پکڑکر اس شخص کے یہاں پہنچا آئے یہ نکاح درست ہے یا نہیں اور زید کو انجمن کی طرف سے صدربنایا ہے اب زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں کیونکہ انجمن والوں نے زید کو صدر ممبر بنایا تو ان کو یہ قصہ معلوم نہیں تھا اور یہ نکاح زبردستی زید ہی کی کوشش سے ہواتھا بینوا تو جروا
الجواب :
پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا تھا اگر وہ کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھاکہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح ہونا عورت کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ پہلا نکاح ہوگیا اور یہ دوسرا نکاح باطل ہوا عورت کا باپ اور یہ دوسرا شوہر دونوں سخت کبیرہ کے مرتکب ہیں اور بچہ جو پیدا ہوا وہ پہلے شوہر کا ہے اس صورت میں زید کو امام کرنا گناہ ہے جب تك توبہ کرے اور اگر پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا وہ بمعنی مذکور کفو شرعی نہ تھا تو وہ پہلا نکاح باطل ہوا دوسرا نکاح صحیح ہوا بچہ اس دوسرے شوہر کا ہے زید وعمرو پر کوئی الز ام نہیں ان کے پیچھے نماز اس وجہ سے ممنوع نہیں پہلا نکاح جس سے ہوا تھا اگر وہ قربت کرچکا ہے تو اسے مہر مثل دینا آئے گا یعنی ایسی عورت کا جتنا مہر ہو جو مہر بندھا تھا اس کا لحاظ نہ کیا جائے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۵ : از موضع اٹریا ضلع بریلی مسئولہ قمرالدین صاحب یکم صفر المظفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ تھی اور بالغہ تھی کیونکہ اس کے ایك لڑکا پیدا ہوچکا تھا اس رانڈ نے عقد ثانی کے واسطے ایك شخص کو جو اسی کی ذات کا تھا اور جوان بھی تھا اور علم دار بھی تھا اورر وٹی کپڑے سے خوش تھا تجویز کی مگر اس جوان کے واسطے اس رانڈ کا والد نکاح کرنے کو راضی نہ تھا زیدنے کچھ لالچ پاکر اس شخص کی طرف سے جس کے ساتھ رانڈ کا والد راضی بریلی سے تعویز اور مٹھائی لے جاکر کھلایا تاکہ اس کا خیال اس جوان کی طرف ہو جس سے اس کا والد راضی تھا اور زید نے مٹھائی کھلاتے وقت اس شخص کا نام لیا کہ وہ رانڈ جس سے راضی تھی کہ تم کو میں اس شخص کی طرف سے مٹھائی کھلاتاہوں جس سے کہ تم راضی ہو اس کے بعد میں اس رانڈ کا نکاح اس شخص کے ساتھ زبردستی کرادیا جس سے وہ رانڈ ناراض تھی اور زبردستی چندآدمی پکڑکر اس شخص کے یہاں پہنچا آئے یہ نکاح درست ہے یا نہیں اور زید کو انجمن کی طرف سے صدربنایا ہے اب زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں کیونکہ انجمن والوں نے زید کو صدر ممبر بنایا تو ان کو یہ قصہ معلوم نہیں تھا اور یہ نکاح زبردستی زید ہی کی کوشش سے ہواتھا بینوا تو جروا
الجواب :
سائل نے بیان : کیا کہ عورت کو اذن دیتے وقت بتایا گیاتھا کہ یہ نکاح دوسرے سے ہوتاہے جس سے وہ راضی نہیں لیکن کسی نے ہاتھ پکڑے کسی نے پاؤں اور اس سے جبرا اذن دلوایا صورت مذکورہ میں نکاح صحیح ہوگیا کہ نکاح وطلاق میں اکراہ کو دخل نہیں جس طرح خوشی سے ہوجاتے ہیں یونہی جبر سے بھی حدیث میں ارشاد ہوا :
ثلاث جدھن جدو ھزلھن جدا لنکاح والطلاق والعتاق ۔
تین چیزیں جن میں سنجیدگی اور مذاق سنجیدگی ہے نکاح طلاق اور عتاق۔ (ت)
باقی رہا کہ مجبور کرنا شرعاکوئی وجہ الزام رکھتاہے یا نہیں۔ ممکن نہ رکھتا ہو بلکہ عورت کی خیر خواہی ہو عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں اور باپ سے زیادہ اولادپر کون مہربان ہے سوا الله ورسول کے ظاہریہی ہے کہ جہاں وہ چاہتی تھی اس میں شرتھا اور جہاں باپ نے چاہا ا س میں خیر تو ایسے احتمال قوی کی حالت میں اس جبر کو بوجہ الزام نہیں ٹھہرا سکتے جیسے مریض کو بالجبر دوا پلانا لہذا اس وجہ سے امامت زید میں کوئی خلل نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۶ : از شہر کہنہ محلہ صوفی ٹولہ مسئولہ طفیل احمد صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا نکاح اس کے والدین نے ایك لڑکے کے ہمراہ جوکہ ایك بیوی معہ دو بچوں کے چھوڑ چکاہے اور لڑکی کا خالہ زاد بھائی ہوتا ہے لڑکی کے اقربا(تایا پھوپھا بھائی وغیرہ)کو بغیر جمع کئے محلہ میں دھوکہ سے لے جاکر سرائے خام کے ایك طالب علم سے اس طرح پڑھوایا کہ ماموں جوکہ دونوں (لڑکے اور لڑکی)کا ہوتاہے وکیل بنایا(اور گواہ اول دونوں کا خالو ہے اور گواہ دوم لڑکے کاتایا زاد بھائی ہوتا ہے)جب ماموں اذن لینے گیا تو اس نے جواب نہ دیا مگر اصرار کرنے پر بھی جواب نہ دیا توماموں نے اس کے ایك طمانچہ مارا کہ جس کے سبب سے وہ رونے لگی اور ماموں نے باہر آکر نکاح پڑھوادیا
سائل نے بیان : کیا کہ عورت کو اذن دیتے وقت بتایا گیاتھا کہ یہ نکاح دوسرے سے ہوتاہے جس سے وہ راضی نہیں لیکن کسی نے ہاتھ پکڑے کسی نے پاؤں اور اس سے جبرا اذن دلوایا صورت مذکورہ میں نکاح صحیح ہوگیا کہ نکاح وطلاق میں اکراہ کو دخل نہیں جس طرح خوشی سے ہوجاتے ہیں یونہی جبر سے بھی حدیث میں ارشاد ہوا :
ثلاث جدھن جدو ھزلھن جدا لنکاح والطلاق والعتاق ۔
تین چیزیں جن میں سنجیدگی اور مذاق سنجیدگی ہے نکاح طلاق اور عتاق۔ (ت)
باقی رہا کہ مجبور کرنا شرعاکوئی وجہ الزام رکھتاہے یا نہیں۔ ممکن نہ رکھتا ہو بلکہ عورت کی خیر خواہی ہو عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں اور باپ سے زیادہ اولادپر کون مہربان ہے سوا الله ورسول کے ظاہریہی ہے کہ جہاں وہ چاہتی تھی اس میں شرتھا اور جہاں باپ نے چاہا ا س میں خیر تو ایسے احتمال قوی کی حالت میں اس جبر کو بوجہ الزام نہیں ٹھہرا سکتے جیسے مریض کو بالجبر دوا پلانا لہذا اس وجہ سے امامت زید میں کوئی خلل نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۶ : از شہر کہنہ محلہ صوفی ٹولہ مسئولہ طفیل احمد صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا نکاح اس کے والدین نے ایك لڑکے کے ہمراہ جوکہ ایك بیوی معہ دو بچوں کے چھوڑ چکاہے اور لڑکی کا خالہ زاد بھائی ہوتا ہے لڑکی کے اقربا(تایا پھوپھا بھائی وغیرہ)کو بغیر جمع کئے محلہ میں دھوکہ سے لے جاکر سرائے خام کے ایك طالب علم سے اس طرح پڑھوایا کہ ماموں جوکہ دونوں (لڑکے اور لڑکی)کا ہوتاہے وکیل بنایا(اور گواہ اول دونوں کا خالو ہے اور گواہ دوم لڑکے کاتایا زاد بھائی ہوتا ہے)جب ماموں اذن لینے گیا تو اس نے جواب نہ دیا مگر اصرار کرنے پر بھی جواب نہ دیا توماموں نے اس کے ایك طمانچہ مارا کہ جس کے سبب سے وہ رونے لگی اور ماموں نے باہر آکر نکاح پڑھوادیا
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الطلاق باب ماجاء فی الھزل والجد فی الطلاق امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۴۲ ، سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب الطلاق فی الھزل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹۸ ، الدرالمنثور زیرآیۃ ولاتتخذوا آیات اللہ ھزوا مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۱ / ۲۸۶
ف : درمنثور کے الفاظ یہ ہیں : ثلاث من قالھن لاعبا اوغیر لاعب فھن جائزات علیہ الطلاق والعتاق والنکاح۔ اور جامع الترمذی اور سنن ابی داؤد میں العتاق کے بجائے الرجعۃ کا ذکر ہے ، نصب الرایۃ میں ان دونوں لفظوں سے متعلق تفصیلی بحث کی ہے مطالعہ کے لئے جلد سوم کتاب ایمان صفحہ ۲۹۳ و ۲۹۴ ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد
ف : درمنثور کے الفاظ یہ ہیں : ثلاث من قالھن لاعبا اوغیر لاعب فھن جائزات علیہ الطلاق والعتاق والنکاح۔ اور جامع الترمذی اور سنن ابی داؤد میں العتاق کے بجائے الرجعۃ کا ذکر ہے ، نصب الرایۃ میں ان دونوں لفظوں سے متعلق تفصیلی بحث کی ہے مطالعہ کے لئے جلد سوم کتاب ایمان صفحہ ۲۹۳ و ۲۹۴ ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد
لڑکی جانے پر رضامندنہیں ہے کیونکہ وہ اگلی بیوی کا حال دیکھ چکی ہے تو یہ نکاح جائزہے یا نہیں
الجواب :
سائل نے بیان کیا کہ لڑکی کی عمر وقت نکاح دو مہینے اوپر پندرہ سال کی تھی اگر یہ بیان اورصورت سوال واقعی ہے تو وہ نکاح فضولی ہوا اجازت لینے والے اور گواہوں کا رشتہ دار ہونا تو کوئی مخل نہیں اور بکر کا رونا بھی اذن میں شامل کیا جاتاہے مگر نہ وہ رونا کہ طمانچہ مارنے سے ہو وہ ہر گز دلیل اجازت نہیں ہوسکتا تو عقد نہ ہوا مگر عقد فضولی اورلڑکی کی اجازت پر موقوف رہا اگر اس نے اظہار اجازت سے پہلے اظہار ناراضی کیا نکاح رد ہوگیا اور شوہر کو اس پر کوئی دعوی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۷ : از حیدر آباد دکن قصبہ نارائن پینٹھ جی آئی پی ریلوے کرشنا مسئولہ سید اکرم علی عرف مطلوب شاہ صاحب
مدرس فارسی مدرسہ سلطانیہ درجہ اول ۱۳ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ عاقلہ بالغہ حرہ مکلفہ باکرہ نے بلااجازت ولی جائز اپنا عقد دوگواہان شرعی کے رو برو اپنے ایك ہم کفو سے کرلیا پس یہ نکاح ازروئے مذہب حنفی ہوا یا نہیں اگر ہوا تو کیا ولی جائز فسخ کرکے بلا طلاق وخلع ہندہ کا عقد کسی مالدار سے جبرا کرنا چاہتاہے اگر کردے تو اس کاوبال کس پر ہوگا اور یہ فعل اس کا کس حد تك جائز ہے کیا رواج عرف عام قانون شرع شریف پر کسی حالت میں مرجح ہوسکتاہے اور ولی جائز کا جھوٹا حلف ہندہ کے مقابلہ میں معتبر ہوگا یا ہندہ کا قول بینوا تو جروا
الجواب :
شرعا کفوکے معنی یہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اولیائے زن کے لئے باعث ننگ وعار ہو اگر وہ اس معنی پر کفو ہے تو حرہ مکلفہ کا برضائے خود بے اجازت ولی اس سے نکاح نافذ ولازم ہے ولی اسے ہر گز فسخ نہیں کرسکتے اگر بلا طلاق اس کا نکاح دوسری جگہ کردیں گے باطل محض ہوگا اوراس میں قربت زنائے خالص جس کا وبال مرتکب تزویج پر ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
نفذ نکاح حرۃمکلفۃ بلاولی ۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا نکاح بغیر ولی نافذ ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے : نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضی ولی (ولی کی رضا کے بغیر بھی حرہ عاقلہ بالغہ کا
الجواب :
سائل نے بیان کیا کہ لڑکی کی عمر وقت نکاح دو مہینے اوپر پندرہ سال کی تھی اگر یہ بیان اورصورت سوال واقعی ہے تو وہ نکاح فضولی ہوا اجازت لینے والے اور گواہوں کا رشتہ دار ہونا تو کوئی مخل نہیں اور بکر کا رونا بھی اذن میں شامل کیا جاتاہے مگر نہ وہ رونا کہ طمانچہ مارنے سے ہو وہ ہر گز دلیل اجازت نہیں ہوسکتا تو عقد نہ ہوا مگر عقد فضولی اورلڑکی کی اجازت پر موقوف رہا اگر اس نے اظہار اجازت سے پہلے اظہار ناراضی کیا نکاح رد ہوگیا اور شوہر کو اس پر کوئی دعوی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۷ : از حیدر آباد دکن قصبہ نارائن پینٹھ جی آئی پی ریلوے کرشنا مسئولہ سید اکرم علی عرف مطلوب شاہ صاحب
مدرس فارسی مدرسہ سلطانیہ درجہ اول ۱۳ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ عاقلہ بالغہ حرہ مکلفہ باکرہ نے بلااجازت ولی جائز اپنا عقد دوگواہان شرعی کے رو برو اپنے ایك ہم کفو سے کرلیا پس یہ نکاح ازروئے مذہب حنفی ہوا یا نہیں اگر ہوا تو کیا ولی جائز فسخ کرکے بلا طلاق وخلع ہندہ کا عقد کسی مالدار سے جبرا کرنا چاہتاہے اگر کردے تو اس کاوبال کس پر ہوگا اور یہ فعل اس کا کس حد تك جائز ہے کیا رواج عرف عام قانون شرع شریف پر کسی حالت میں مرجح ہوسکتاہے اور ولی جائز کا جھوٹا حلف ہندہ کے مقابلہ میں معتبر ہوگا یا ہندہ کا قول بینوا تو جروا
الجواب :
شرعا کفوکے معنی یہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اولیائے زن کے لئے باعث ننگ وعار ہو اگر وہ اس معنی پر کفو ہے تو حرہ مکلفہ کا برضائے خود بے اجازت ولی اس سے نکاح نافذ ولازم ہے ولی اسے ہر گز فسخ نہیں کرسکتے اگر بلا طلاق اس کا نکاح دوسری جگہ کردیں گے باطل محض ہوگا اوراس میں قربت زنائے خالص جس کا وبال مرتکب تزویج پر ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے :
نفذ نکاح حرۃمکلفۃ بلاولی ۔
آزاد عاقلہ بالغہ کا نکاح بغیر ولی نافذ ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے : نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضی ولی (ولی کی رضا کے بغیر بھی حرہ عاقلہ بالغہ کا
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
نکاح نافذ ہے۔ ت)اور اگرا س معنی شرعی پر کفو نہیں اگرچہ ہم قوم ہو جسے عوام میں کفو کہتے ہیں مثلا مذہب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس عورت کا اس سے نکاح ولی زن کے لئے باعث عار و بدنامی ہے تو زن مکلفہ کا بے اجازت ولی اس سے نکاح باطل ومردودمحض ہے درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۔
غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کافتوی ہے۔ (ت)
رواج عرف وقانون کوئی چیز شرع مطہر پر مرجح نہیں۔
قال اﷲ تعالی : ان الحكم الا لله- وقال اﷲ :
و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الفسقون(۴۷) ۔
الله تعالی نے فرمایا : حکم صرف الله تعالی کا ہے۔
اور فرمایا : جو الله تعالی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ دے وہ فاسق ہے۔ (ت)
سائل نے کچھ نہیں لکھا کہ عورت اور اس کے ولی میں کس بات کا اختلاف ہے جس کا جواب دیا جائے کہ ان میں کس کا قول معتبر ہے کہیں اس کا قول معتبر ہوگا کہیں اس کا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۸ : ضلع ہوگلی ڈاك خانہ تیلن پاڑہ باڑی عجب میاں مسئولہ سلطان احمد خاں صاحب مرزا پوری ۴ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی بعمر بارہ برس کی ہے اس کا عقد کرنے کو اس کا باپ ایك مرد نابالغ سے کرنے کو وعدہ کیا کہ ہم تمھارے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کریں گے اور رسم دنیاوی بھی کردیا گیا کہ لڑکا لڑکی کے واسطے کپڑا اور مٹھائی وغیرہ اور دس پانچ برادری کے لوگوں کو ساتھ لے کر گیا لڑکی کے باپ نے برادری کے روبرو سب سامان لیا اور اقرار کیا کہ فلاں تاریخ میں نکاح کردوں گا کہ درمیان میں لڑکی کا باپ بیمار ہوگیا اور زیادہ علیل ہوگیا سو وہ مکان پر چلا گیا جس کو عرصہ چھ ماہ کا ہوگیا لڑکی اور اس کی ماں یہیں پر رہ گئیں ا ور اب بھی وہ موجود ہیں جب سے لڑکی کا باپ مکان گیا وہی لڑکا برابر خرچ وغیرہ کا بھی بار اٹھاتاہے اب وہ لڑکا لڑکی کی ماں سے بہت زور کرتاہے کہ میرا نکاح کردو۔ عورت نے کئی مرتبہ خط بھی مکان پر لکھا مگر کچھ جواب نہیں آیا کہ زندہ ہے یا مرگیا لڑکی کی ماں پہلے راضی نہ تھی مگر جب لڑکے نے کہا کہ اگر تم نکاح نہیں کرتی ہو تو جو کچھ روپیہ میرا اتنے عرصہ میں خرچ ہوا اس کو دو ورنہ ہم
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۔
غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کافتوی ہے۔ (ت)
رواج عرف وقانون کوئی چیز شرع مطہر پر مرجح نہیں۔
قال اﷲ تعالی : ان الحكم الا لله- وقال اﷲ :
و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الفسقون(۴۷) ۔
الله تعالی نے فرمایا : حکم صرف الله تعالی کا ہے۔
اور فرمایا : جو الله تعالی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ دے وہ فاسق ہے۔ (ت)
سائل نے کچھ نہیں لکھا کہ عورت اور اس کے ولی میں کس بات کا اختلاف ہے جس کا جواب دیا جائے کہ ان میں کس کا قول معتبر ہے کہیں اس کا قول معتبر ہوگا کہیں اس کا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۸ : ضلع ہوگلی ڈاك خانہ تیلن پاڑہ باڑی عجب میاں مسئولہ سلطان احمد خاں صاحب مرزا پوری ۴ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی بعمر بارہ برس کی ہے اس کا عقد کرنے کو اس کا باپ ایك مرد نابالغ سے کرنے کو وعدہ کیا کہ ہم تمھارے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کریں گے اور رسم دنیاوی بھی کردیا گیا کہ لڑکا لڑکی کے واسطے کپڑا اور مٹھائی وغیرہ اور دس پانچ برادری کے لوگوں کو ساتھ لے کر گیا لڑکی کے باپ نے برادری کے روبرو سب سامان لیا اور اقرار کیا کہ فلاں تاریخ میں نکاح کردوں گا کہ درمیان میں لڑکی کا باپ بیمار ہوگیا اور زیادہ علیل ہوگیا سو وہ مکان پر چلا گیا جس کو عرصہ چھ ماہ کا ہوگیا لڑکی اور اس کی ماں یہیں پر رہ گئیں ا ور اب بھی وہ موجود ہیں جب سے لڑکی کا باپ مکان گیا وہی لڑکا برابر خرچ وغیرہ کا بھی بار اٹھاتاہے اب وہ لڑکا لڑکی کی ماں سے بہت زور کرتاہے کہ میرا نکاح کردو۔ عورت نے کئی مرتبہ خط بھی مکان پر لکھا مگر کچھ جواب نہیں آیا کہ زندہ ہے یا مرگیا لڑکی کی ماں پہلے راضی نہ تھی مگر جب لڑکے نے کہا کہ اگر تم نکاح نہیں کرتی ہو تو جو کچھ روپیہ میرا اتنے عرصہ میں خرچ ہوا اس کو دو ورنہ ہم
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
القرآن الکریم ۶ /۵۷
القرآن الکریم ۵ /۴۷
القرآن الکریم ۶ /۵۷
القرآن الکریم ۵ /۴۷
نالش کریں گے سواب لڑکی کی ماں نکاح لڑکی کا کرنے پر راضی ہے اور کہتی ہے کہ ہم راضی ہیں نکاح پڑھوالو اور یہ کہا کہ شوہر میرا کہہ گیا تھا کہ ہم مکان سے واپس آکر شادی کریں گے اس وجہ سے ہم نہیں راضی ہوئے تھے سو اب ان کا کچھ پتہ نہیں ہے میں خوشی سے کہتی ہوں کہ قاضی کو بلاکر ایجاب وقبول کرکرالو اور لڑکی بھی اپنے برے بھلے کو پہچانتی ہے سو وہ بھی رضامند ہے اور عرصہ چھ ماہ سے اسی مرد کے ہمراہ گویا رہتی ہے جو باتیں حق حق تھیں ان کو لکھ کر علمائے دین کے حضور میں پیش کردیا جو کچھ حکم شریعت مطہرہ کاہوبیان فرمائیں اورذیل میں جو علامات انگوٹھا ہے وہ ان برادریوں کاہے جن کے سامنے لڑکی کے والد نے اقرار کیا اورکپڑا وغیرہ لیا ان لوگوں کے سامنے یہ سوال لکھاگیا اور دستخط لیا گیا لہذا عدم موجودگی اس کے والد کے نکاح ہونے یا نہ ہونے سے یا جس طرح اور جس قاعدہ سے نکاح ہو اس مسئلہ کو حضور تحریر کریں۔ بینوا توجروا
الجواب :
لڑکی اگر نابالغہ ہے تو اس کے نکاح کے لئے ولی کی ضرورت ہے۔ ولی اس کا باپ ہے بے اجازت پدر کسی کو لڑکی کے نکاح کرنے کااختیار نہیں اورپہلے اس کا راضی ہونا اور وعدہ کرنا اجازت کے لئے کافی نہیں کہ اس نے کسی کو وکیل نہیں کیا اب اس سے اجازت لی جائے۔ اگر اس کا پتہ نہ چلے تو لڑکی کا جوان بھائی ا س کا ولی ہے وہ نہ ہو تو بھتیجا وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اس طرح جو عصبہ ہو اگر عصبات میں کوئی نہ رہا ہو تو البتہ ا س وقت ماں کو ولایت ہوگی اور اس کی اجازت سے نکاح ہوسکے گا ۔ اور اگر لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آچکاہے تو خود اس کی اپنی اجازت کافی ہے۔ مگر بہر حال باپ کے سوا جو دوسرا شخص اس کا نکاح کرے یا بالغہ ہوکر خود کرے یہ ضرور ہوگا کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس لڑکی سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو ورنہ نکاح ہوگاہی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۹ : از پیلی بھیت محلہ غفار خان مسئولہ حکیم سعید الرحمن خاں صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رفیق بیگم کا نکاح اس کی نابالغی میں جبکہ اس کا باپ دادا زندہ نہ تھے اس کے چچا نے اپنے پسر کے ساتھ کردیا نابالغہ مذکورہ نے بالغ ہوتے ہی اعلان کردیا کہ اس نے نکاح مذکور کو نامنظور وناپسند کرکے فسخ کردیا اور بذریعہ نوٹس رجسٹری شدہ شوہر کو جو ہنوز نابالغ ہے اور اس کے والد کو بھی اطلاع دے دی نوٹس یہ لکھ کر واپس آیا بعدا زاں رفیق بیگم نے دیوانی میں نالش کی اور حسب ذیل استدعائے داد رسی کی : “ استقرار اس امرکا فرمادیا جائے کہ جو نکاح مدعیہ کا اس کی نابالغی میں ہوا تھا اور جس کو مدعیہ نے بعد بلوغ شرعی کے مسترد کردیا ہے مدعیہ
الجواب :
لڑکی اگر نابالغہ ہے تو اس کے نکاح کے لئے ولی کی ضرورت ہے۔ ولی اس کا باپ ہے بے اجازت پدر کسی کو لڑکی کے نکاح کرنے کااختیار نہیں اورپہلے اس کا راضی ہونا اور وعدہ کرنا اجازت کے لئے کافی نہیں کہ اس نے کسی کو وکیل نہیں کیا اب اس سے اجازت لی جائے۔ اگر اس کا پتہ نہ چلے تو لڑکی کا جوان بھائی ا س کا ولی ہے وہ نہ ہو تو بھتیجا وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اس طرح جو عصبہ ہو اگر عصبات میں کوئی نہ رہا ہو تو البتہ ا س وقت ماں کو ولایت ہوگی اور اس کی اجازت سے نکاح ہوسکے گا ۔ اور اگر لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آچکاہے تو خود اس کی اپنی اجازت کافی ہے۔ مگر بہر حال باپ کے سوا جو دوسرا شخص اس کا نکاح کرے یا بالغہ ہوکر خود کرے یہ ضرور ہوگا کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس لڑکی سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو ورنہ نکاح ہوگاہی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۹ : از پیلی بھیت محلہ غفار خان مسئولہ حکیم سعید الرحمن خاں صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رفیق بیگم کا نکاح اس کی نابالغی میں جبکہ اس کا باپ دادا زندہ نہ تھے اس کے چچا نے اپنے پسر کے ساتھ کردیا نابالغہ مذکورہ نے بالغ ہوتے ہی اعلان کردیا کہ اس نے نکاح مذکور کو نامنظور وناپسند کرکے فسخ کردیا اور بذریعہ نوٹس رجسٹری شدہ شوہر کو جو ہنوز نابالغ ہے اور اس کے والد کو بھی اطلاع دے دی نوٹس یہ لکھ کر واپس آیا بعدا زاں رفیق بیگم نے دیوانی میں نالش کی اور حسب ذیل استدعائے داد رسی کی : “ استقرار اس امرکا فرمادیا جائے کہ جو نکاح مدعیہ کا اس کی نابالغی میں ہوا تھا اور جس کو مدعیہ نے بعد بلوغ شرعی کے مسترد کردیا ہے مدعیہ
بوجہ مصرحہ عرضی نالش نکاح مذکور کی فسخ اور کالعدم ہوجانے کی وجہ سے پابند نہیں ہے اوراب مدعیہ زوجہ مدعاعلیہ کی نہیں ہے۔ “ ہنوز اس نالش کا فیصلہ نہ ہونے پایا تھا کہ رفیق بیگم فوت ہوگئی ایسی حالت میں نکاح مذکور وقت وفات رفیق بیگم کے قائم وبرقرار متصور ہوگا یا فسخ ومسترد اور شوہر کو ترکہ رفیق بیگم کا پہنچے گا یا نہیں
الجواب :
رفیق بیگم کی اخیر سانس تك نکاح برقرار تھا وہ اپنے شوہر کی زوجیت ہی میں مری شوہر اس کے نصف ترکہ کا وارث ہوگا اور نصف مہربھی ساقط ہوگیا نصف مہر بحق دیگر ورثادے گا خیار بلوغ سے عورت کو یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنا نکاح خود فسخ کرلے نہ اس کے فسخ کئے فسخ ہوسکتاہے بلکہ اسے صرف دعوی فسخ کا اختیار ملتاہے بعد دعوی قاضی شرع کے فسخ کئے سے فسخ ہوگا اگرقبل فسخ مرجائے تو زوجیت ہی میں مرے گی ردالمحتار میں ہے :
قولہ فیفسخہ القاضی فلایثبت ھذہ الفرق الا بالقضاء لانہ مجتھد فیہ وکل من الخصمین یثبت بدلیل فلا ینقطع النکاح الابفعل القاضی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ماتن کا قول کہ “ قاضی اس کو فسخ کرے “ تو فرقت قضاء کے بغیر ثابت نہ ہوگی کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور ہر فریق اس میں دلیل کا سہارا لیتا ہے اس لئے نکاح قاضی کی کارروائی کے بغیرفسخ نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۰ : ضلع سکھر سندھ اسٹیشن ڈھرکی ڈاکخانہ خیرپور ڈھرکی خاص دربار معلی قادریہ پر چونڈی شریف از طرف ابوالنصر فقیر سردار شاہ ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی شخصے بحین حیات پدر خود بلارضامندی وشمولیت وے نکاح خواہر صغیرہ بمعاوضہ بازوبجائے کردہ پدرش بعد خبریافتن انکار کرد وبعد چند مدت راضی شدہ باز معاوضہ رادر نکاح پسر خود گرفت وبازانکار کرد آیا از انکا راول نکاح باطل شد یا نہ
علماء کرام الله تعالی تم پر رحم فرمائے آپ کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ باپ کی زندگی میں باپ کی رضامندی اور شمولیت کے بغیر بھائی نے اپنی نابالغہ بہن کانکاح بدلے کی شرط پر کردیا اور کچھ مدت بعد باپ ا س نکاح پر راضی ہوگیا اور بدلہ میں لڑکے کے لئے رشتہ لے لیا اور دوبارہ
الجواب :
رفیق بیگم کی اخیر سانس تك نکاح برقرار تھا وہ اپنے شوہر کی زوجیت ہی میں مری شوہر اس کے نصف ترکہ کا وارث ہوگا اور نصف مہربھی ساقط ہوگیا نصف مہر بحق دیگر ورثادے گا خیار بلوغ سے عورت کو یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنا نکاح خود فسخ کرلے نہ اس کے فسخ کئے فسخ ہوسکتاہے بلکہ اسے صرف دعوی فسخ کا اختیار ملتاہے بعد دعوی قاضی شرع کے فسخ کئے سے فسخ ہوگا اگرقبل فسخ مرجائے تو زوجیت ہی میں مرے گی ردالمحتار میں ہے :
قولہ فیفسخہ القاضی فلایثبت ھذہ الفرق الا بالقضاء لانہ مجتھد فیہ وکل من الخصمین یثبت بدلیل فلا ینقطع النکاح الابفعل القاضی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ماتن کا قول کہ “ قاضی اس کو فسخ کرے “ تو فرقت قضاء کے بغیر ثابت نہ ہوگی کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور ہر فریق اس میں دلیل کا سہارا لیتا ہے اس لئے نکاح قاضی کی کارروائی کے بغیرفسخ نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۰ : ضلع سکھر سندھ اسٹیشن ڈھرکی ڈاکخانہ خیرپور ڈھرکی خاص دربار معلی قادریہ پر چونڈی شریف از طرف ابوالنصر فقیر سردار شاہ ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی شخصے بحین حیات پدر خود بلارضامندی وشمولیت وے نکاح خواہر صغیرہ بمعاوضہ بازوبجائے کردہ پدرش بعد خبریافتن انکار کرد وبعد چند مدت راضی شدہ باز معاوضہ رادر نکاح پسر خود گرفت وبازانکار کرد آیا از انکا راول نکاح باطل شد یا نہ
علماء کرام الله تعالی تم پر رحم فرمائے آپ کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ باپ کی زندگی میں باپ کی رضامندی اور شمولیت کے بغیر بھائی نے اپنی نابالغہ بہن کانکاح بدلے کی شرط پر کردیا اور کچھ مدت بعد باپ ا س نکاح پر راضی ہوگیا اور بدلہ میں لڑکے کے لئے رشتہ لے لیا اور دوبارہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
محض اقبال بعد انکار تجدید ایجاب وقبول فائدہ دارد یا نہ بینواتوجروا
پھر انکار کردیا کیا پہلے انکار پر نکاح باطل ہوا یا نہ انکار کے بعد صرف ایجاب وقبول سے نکاح ہوگا یا نہیں بیان کرو اجرپاؤ۔ (ت)
الجواب :
نکاح بالغہ کہ برادرش بے اجازت پدر کر د نکاح فضولی بود براجازت پدر موقوف چوں پدر باستماع خبر انکار کرد فورا باطل شدوباطل راعود نیست باز راضی شدن پدر بکار نیاید تااز سرنو ایجاب وقبول پیش شہود نہ کنند در درمختار است بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد در ردالمحتار ست لان نفاذ التزویج کان موقوفا علی الاجازۃ وقد بطل بالرد در بحر الرائق ست الاجازۃ شرطھا قیام العقد ۔ والله تعالی اعلم۔
بھائی نے باپ کی اجازت کے بغیر نابالغہ کا جو نکاح کیا وہ فضولی کا نکاح ہے اور باپ کی اجازت پر موقوف ہے جب باپ نے خبر سنتے ہی انکار کردیا تو نکاح فورا باطل ہوگیا اور باطل شدہ دوبارہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے اس کے بعد باپ کا راضی ہونا بے فائدہ ہے جب تك دوبارہ گواہوں کی موجود گی میں نیا ایجاب وقبول نہ کریں صحیح نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی نے خبر ملنے پر نکاح رد کردیا پھر کہاکہ میں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ردکی وجہ سے پہلے باطل ہوچکاہے ردالمحتار میں ہے کیونکہ نکاح کا نفاذ اجازت پر موقو ف تھا جبکہ رد کرنے سے باطل ہوچکاہے بحرالرائق میں ہے اجازت کے لئے عقد نکاح کاباقی ہونا شرط ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۲ : از ضلع بلاسپور امام مسجد اکلترا
ایك بڑھیا کی لڑکی تھی اس کی برادری والے بلارضامندی شادی کرنے لگے بڑھیا مذکور نکاح کے وقت نامناسب رہنے پر دوسری کوٹھری پر روتی تھی اور یہ خبر نہیں کہ میری لڑکی کا کیا ہو رہا ہے لڑکی کی عمر پانچ یا چھ سات سال کی تھی اس لڑکی کو یہ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہایا کیا ہوا اس لڑکی مذکور کے
پھر انکار کردیا کیا پہلے انکار پر نکاح باطل ہوا یا نہ انکار کے بعد صرف ایجاب وقبول سے نکاح ہوگا یا نہیں بیان کرو اجرپاؤ۔ (ت)
الجواب :
نکاح بالغہ کہ برادرش بے اجازت پدر کر د نکاح فضولی بود براجازت پدر موقوف چوں پدر باستماع خبر انکار کرد فورا باطل شدوباطل راعود نیست باز راضی شدن پدر بکار نیاید تااز سرنو ایجاب وقبول پیش شہود نہ کنند در درمختار است بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد در ردالمحتار ست لان نفاذ التزویج کان موقوفا علی الاجازۃ وقد بطل بالرد در بحر الرائق ست الاجازۃ شرطھا قیام العقد ۔ والله تعالی اعلم۔
بھائی نے باپ کی اجازت کے بغیر نابالغہ کا جو نکاح کیا وہ فضولی کا نکاح ہے اور باپ کی اجازت پر موقوف ہے جب باپ نے خبر سنتے ہی انکار کردیا تو نکاح فورا باطل ہوگیا اور باطل شدہ دوبارہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے اس کے بعد باپ کا راضی ہونا بے فائدہ ہے جب تك دوبارہ گواہوں کی موجود گی میں نیا ایجاب وقبول نہ کریں صحیح نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی نے خبر ملنے پر نکاح رد کردیا پھر کہاکہ میں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ردکی وجہ سے پہلے باطل ہوچکاہے ردالمحتار میں ہے کیونکہ نکاح کا نفاذ اجازت پر موقو ف تھا جبکہ رد کرنے سے باطل ہوچکاہے بحرالرائق میں ہے اجازت کے لئے عقد نکاح کاباقی ہونا شرط ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۲ : از ضلع بلاسپور امام مسجد اکلترا
ایك بڑھیا کی لڑکی تھی اس کی برادری والے بلارضامندی شادی کرنے لگے بڑھیا مذکور نکاح کے وقت نامناسب رہنے پر دوسری کوٹھری پر روتی تھی اور یہ خبر نہیں کہ میری لڑکی کا کیا ہو رہا ہے لڑکی کی عمر پانچ یا چھ سات سال کی تھی اس لڑکی کو یہ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہایا کیا ہوا اس لڑکی مذکور کے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
بحرالرائق باب فی الاولیاء والاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۱۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۰
بحرالرائق باب فی الاولیاء والاکفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۱۴
وارث سوائے بڑھیا ماں کے کوئی اس کے باپ دادا کی شاخ میں بھی نہ تھے بلکہ بلاوارث والوں نے نکاح طفلیت میں پڑھایا تو کیا یہ نکاح صحیح ہوسکتا ہے یا نہیں سوائے اس کے جولوگ نامناسب نکاح بنایا ہو ا داماد نکاح بے کئے تو بڑھیا مذکور غریب بیوہ منہاری بیچنے والی بچی کو کوئی گزر کرتی تھی بعض وقت یہ بنایا ہوا داماد دو تین بار گیا تو بڑھیا بطورمہماں نوازی کے کھلاتی پلاتی بطور برادرانہ لیکن کچھ بڑھیا کی بچی سے سروکار بات چیت دیگر حرکات سے پاك رکھتی تھی جاتے وقت بڑھیا جب روکتی تھی تو بناہوا داماد برائے نام کھلے الفاظ میں یہ صاف صاف کہتا تھاکہ مجھ کوکیوں روکتی ہے میں نہ رہوں گا اور نہ کسی کو چاہتاہوں اور یاد نہ رکھوں گا پس یہ نمبر۲ کے متعلق ایك تو نکاح ہی درست نہیں ہوا اور جو بنائے ہوئے داماد والوں کی طرف سے نکاح بھی مغالطا ثابت کریں تو جب دو ایسا الفاظ کھلا ہوا سے کہے کہ نہ رکھوں گا نہ چاہتا ہوں توبھی نکاح والے کا نکاح ساقط ہوجاتاہے تو اب لڑکی کا نکاح بڑھیا بالغی میں پڑھاوے تواولاد بھی ہوتی تو جو اولاد مسلمان ہوں۔ فقط
الجواب :
دوسرا سوال مہمل ہے اتنی باتوں کا جواب لکھاجائے تو اس کا جواب ہو :
(۱)اس لڑکی کے دادا پردادا نزدیك دور کی اولاد میں کوئی مرد اس نکاح کے وقت تھا یا نہیں۔ بے تحقیق کوئی نہ تھا نہ کہہ دیا جائے کہ تحقیق کے بعد نکلتے ہیں۔
(۲)اگر ایسا کوئی مرد تھا تو اس نے نکاح کی خبر سن کر کیالفظ کہے۔
(۳)اگر ایسا کوئی مرد نہ تھا تو ماں نے نکاح ہوجانے پر کیالفظ کہے اور اس کے بعد کیا لفظ کہے یا کچھ نہ کہا۔
(۴)جب وہ شخص آتا تھا تو ماں اس کی خاطر داماد کی سی کرتی تھی یا عام مہمانوں کی سی۔
(۵)لڑکی کو اب ماہواری عارضہ آتا ہے یا نہیں۔ اس کی عمر اب کیا ہے عارضہ ماہواری آتاہے تو کب سے آتاہے۔
(۶)ماں کو اس نکاح سے وجہ ناراضی کیا تھی۔
(۷)لڑکی کو اگر عارضہ ماہواری آیا تو فورا ا س کے آتے وقت اس نکاح کے بارے میں کچھ کہا یا کتنی دیر بعد کچھ کہا یا کچھ نہ کہا اور اگر عارضہ ماہواری اب تك نہ آیا اور لڑکی کی عمر پندرہ برس کی ہوگئی توجس وقت عمر پندرہ برس کی ہوئی تھی اس وقت یااس کے دیر کے بعد لڑکی نے اس نکاح کے بارے میں کیا کہا تھا یاکچھ نہ کہا۔
(۸)یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جس سے نکاح ہوا اس کی قوم کیاہے اور لڑکی کی کیا قوم ہے اور اس کا چال چلن کیساہے اور اس کا مذہب کیاہے کیاپیشہ کرتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
الجواب :
دوسرا سوال مہمل ہے اتنی باتوں کا جواب لکھاجائے تو اس کا جواب ہو :
(۱)اس لڑکی کے دادا پردادا نزدیك دور کی اولاد میں کوئی مرد اس نکاح کے وقت تھا یا نہیں۔ بے تحقیق کوئی نہ تھا نہ کہہ دیا جائے کہ تحقیق کے بعد نکلتے ہیں۔
(۲)اگر ایسا کوئی مرد تھا تو اس نے نکاح کی خبر سن کر کیالفظ کہے۔
(۳)اگر ایسا کوئی مرد نہ تھا تو ماں نے نکاح ہوجانے پر کیالفظ کہے اور اس کے بعد کیا لفظ کہے یا کچھ نہ کہا۔
(۴)جب وہ شخص آتا تھا تو ماں اس کی خاطر داماد کی سی کرتی تھی یا عام مہمانوں کی سی۔
(۵)لڑکی کو اب ماہواری عارضہ آتا ہے یا نہیں۔ اس کی عمر اب کیا ہے عارضہ ماہواری آتاہے تو کب سے آتاہے۔
(۶)ماں کو اس نکاح سے وجہ ناراضی کیا تھی۔
(۷)لڑکی کو اگر عارضہ ماہواری آیا تو فورا ا س کے آتے وقت اس نکاح کے بارے میں کچھ کہا یا کتنی دیر بعد کچھ کہا یا کچھ نہ کہا اور اگر عارضہ ماہواری اب تك نہ آیا اور لڑکی کی عمر پندرہ برس کی ہوگئی توجس وقت عمر پندرہ برس کی ہوئی تھی اس وقت یااس کے دیر کے بعد لڑکی نے اس نکاح کے بارے میں کیا کہا تھا یاکچھ نہ کہا۔
(۸)یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جس سے نکاح ہوا اس کی قوم کیاہے اور لڑکی کی کیا قوم ہے اور اس کا چال چلن کیساہے اور اس کا مذہب کیاہے کیاپیشہ کرتاہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۲ : ازلکھنؤ چھتر منزل کلب مسئولہ عبدالرحیم خان صاحب قادری رضوی رجب ۱۳۳۹ھ پنجشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کسی وجہ سے اپنا نکاح پڑھانے نہیں جاسکتا تو اپنے پیر بھائی کو اپنا ولی بنالیا تو ولی نکاح پڑھاکر لاسکتاہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اسے ولی نہیں وکیل کہتے ہیں کسی کو اپنا وکیل کردے کہ میری طرف سے ایجاب وقبول کرآؤ نکاح پڑھانے والا اس سے کہے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی سب سے بڑی یا سب سے چھوٹی لڑکی(یا جس طرح تعیین ہو)میں نے تیرے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں اتنے مہر پردی وکیل کہے کہ میں نے اپنے موکل مذکور کی طرف سے اس کے لئے قبول کی یاوکیل خود عورت یا اس کے وکیل یا نابالغہ ہے تو اس کے وکیل سے کہے کہ میں نے تجھے یا فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو تیری موکلہ ہے یا جس کا تو ولی ہے اپنے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں لیا عورت یا اس کا وکیل یا ولی کہے میں نے قبول کیا نکاح ہوجائے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۳ : از تلہر ضلع شاہجہان پور محلہ عمر پور مسئولہ شیخ سلامت الله صاحب پارچہ فروش ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کتنی عمر میں لڑکی کا نکاح جائز اور کتنی عمر کا ہو تو ناجائز یعنی لڑکا سن بلوغ بحکم شرع کتنی عمر میں ہوتاہے کتنی عمر مدت سال کی ہوتو نکاح جائز ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی حقیقی شخص وکیل مطلق نہ ہو بینوا تو جروا
الجواب :
جب آثار بلوغ ظاہر ہوں لڑکے کو احتلام لڑکی کو حیض اس وقت سن بلوغ ہوتاہے اوراگر آثار نہ ہوں تو پندرہ برس پوری عمر ہونے پر حکم دیا جائے گا اگر لڑکی نو برس کامل یا لڑکا بارہ برس کامل کاہوچکاہے اور وہ دعوی بلوغ کریں اوران کی ظاہری حالت اس دعوے کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کا قول مان لیا جائے گا جب تك ان صورتوں میں سے کسی صورت پر بلوغ ثابت نہ ہو وہ بغیر اذن ولی کے اپنا نکاح نہیں کرسکتے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۴ : از لصرات پر گنہ پڑادہ ریاست علاقہ ٹونك محلہ سلطانپورہ مسئولہ ابراہیم صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی بیوی سے ۱۴سال سے علیحدہ رہتا ہو عورت حاملہ تین ماہ کی ہواسی حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی نے چودہ سال تك اپنی ماں کے پاس پرورش پائی باپ نے کسی قسم کی امدا د نہیں دی نہ کبھی لڑکی کو بلواکر دیکھا ایسی صورت میں جوان لڑکی ۱۴ سال کی بالغ ہوگئی ہے لڑکی نے اپنی خوشی اور اس کی والدہ نے اپنی اجازت سے لڑکی کا نکاح کردیا باپ موجود نہ تھانکاح بھی ہم قوم سے ہوا یعنی غیر قبیلہ میں نہیں ہوا یہ نکاح جائز رہا یا نہیں۔ بینوا تو جروا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کسی وجہ سے اپنا نکاح پڑھانے نہیں جاسکتا تو اپنے پیر بھائی کو اپنا ولی بنالیا تو ولی نکاح پڑھاکر لاسکتاہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اسے ولی نہیں وکیل کہتے ہیں کسی کو اپنا وکیل کردے کہ میری طرف سے ایجاب وقبول کرآؤ نکاح پڑھانے والا اس سے کہے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی سب سے بڑی یا سب سے چھوٹی لڑکی(یا جس طرح تعیین ہو)میں نے تیرے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں اتنے مہر پردی وکیل کہے کہ میں نے اپنے موکل مذکور کی طرف سے اس کے لئے قبول کی یاوکیل خود عورت یا اس کے وکیل یا نابالغہ ہے تو اس کے وکیل سے کہے کہ میں نے تجھے یا فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو تیری موکلہ ہے یا جس کا تو ولی ہے اپنے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں لیا عورت یا اس کا وکیل یا ولی کہے میں نے قبول کیا نکاح ہوجائے گا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۳ : از تلہر ضلع شاہجہان پور محلہ عمر پور مسئولہ شیخ سلامت الله صاحب پارچہ فروش ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کتنی عمر میں لڑکی کا نکاح جائز اور کتنی عمر کا ہو تو ناجائز یعنی لڑکا سن بلوغ بحکم شرع کتنی عمر میں ہوتاہے کتنی عمر مدت سال کی ہوتو نکاح جائز ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی حقیقی شخص وکیل مطلق نہ ہو بینوا تو جروا
الجواب :
جب آثار بلوغ ظاہر ہوں لڑکے کو احتلام لڑکی کو حیض اس وقت سن بلوغ ہوتاہے اوراگر آثار نہ ہوں تو پندرہ برس پوری عمر ہونے پر حکم دیا جائے گا اگر لڑکی نو برس کامل یا لڑکا بارہ برس کامل کاہوچکاہے اور وہ دعوی بلوغ کریں اوران کی ظاہری حالت اس دعوے کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کا قول مان لیا جائے گا جب تك ان صورتوں میں سے کسی صورت پر بلوغ ثابت نہ ہو وہ بغیر اذن ولی کے اپنا نکاح نہیں کرسکتے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۴ : از لصرات پر گنہ پڑادہ ریاست علاقہ ٹونك محلہ سلطانپورہ مسئولہ ابراہیم صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی بیوی سے ۱۴سال سے علیحدہ رہتا ہو عورت حاملہ تین ماہ کی ہواسی حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی نے چودہ سال تك اپنی ماں کے پاس پرورش پائی باپ نے کسی قسم کی امدا د نہیں دی نہ کبھی لڑکی کو بلواکر دیکھا ایسی صورت میں جوان لڑکی ۱۴ سال کی بالغ ہوگئی ہے لڑکی نے اپنی خوشی اور اس کی والدہ نے اپنی اجازت سے لڑکی کا نکاح کردیا باپ موجود نہ تھانکاح بھی ہم قوم سے ہوا یعنی غیر قبیلہ میں نہیں ہوا یہ نکاح جائز رہا یا نہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب :
شرعا وہ لڑکی اسی کی ہے اگرچہ کتنے ہی برسوں سے عورت سے علیحدہ ہو فقط چودہ برس کی عمرہونا بلوغ کے لئے کافی نہیں۔ اگر حیض نہ آیا ہو نا بالغہ ہے نکاح کےلئے اس کی اجازت کوئی چیز نہیں اور ماں کا کیا ہوا نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا رد کردے گا باطل ہوجائے گا اور اگر لڑکی واقعی بالغہ ہوگئی تھی حیض آچکا تھا تو وہ کفو میں اپنے نکاح کی مختار ہے غیر کفو میں بغیر اجازت باپ کے کہ اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر صراحۃ اجازت دی ہو لڑکی کا نکاح اس کی اجازت سے باطل ہے غیر کفو ہونے کے لئے یہی ضروری نہیں کہ کم قوم ہو بلکہ مذہب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا لڑکی کے لئے باعث بدنامی ہو یہ بھی غیر کفو ہونا ہے اگرچہ خاص اسی خاندان کا ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۵ : از سمیتہ ڈاکخانہ دراپختہ تحصیل ڈیرہ غازی خان مسئولہ الله بخش صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك عورت زینب پر عاشق ہوا باوجود اہل وعیال کے اس کے عشق میں مغلوب ہو کر اپنی دختر صغیرہ چارسالہ کا نکاح حق مہر زینب پر برادر زینب عمرو زوجہ سے کردیا بعداس کے زیدنے زینب سے عقد کرکے سرمیل کیا اور اس وقت بیمار ہوا بعد ہفتہ کے فوت ہوگیا اب وہ لڑکی بالغہ ہوکر کہتی ہے کہ میرے باپ نے مرض عشق میں جو میرا نکاح نااہل غیر پردہ دار سے کردیاہے مجھے منظور نہیں آیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صغیرہ کا نکاح کہ اس کے باپ نے کیالازم ہے صغیرہ کو بعد بلوغ اس کے فسخ کا کوئی حق نہیں اور عذرات کہ سوال میں لکھے مہمل وبے معنی ہیں شرع میں ان کی کوئی اصل نہیں۔ درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولوبغبن فاحش او من غیر کفو ان کان المزوج ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح کردینے والا باپ یا دادا ہو اگرچہ یہ نکاح غیر کفو یا انتہائی کم مہر پر کیا ہو تو بھی لازم ہوجائے گا بشرطیکہ باپ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۶ : از شہر مین پوری دریبہ مکان مولوی حکیم محمد عباس مسئولہ نثار احمد صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ زید نے چند لڑکے چھوڑ کر انتقال کیا زید نے اپنا عقد ثانی
شرعا وہ لڑکی اسی کی ہے اگرچہ کتنے ہی برسوں سے عورت سے علیحدہ ہو فقط چودہ برس کی عمرہونا بلوغ کے لئے کافی نہیں۔ اگر حیض نہ آیا ہو نا بالغہ ہے نکاح کےلئے اس کی اجازت کوئی چیز نہیں اور ماں کا کیا ہوا نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا رد کردے گا باطل ہوجائے گا اور اگر لڑکی واقعی بالغہ ہوگئی تھی حیض آچکا تھا تو وہ کفو میں اپنے نکاح کی مختار ہے غیر کفو میں بغیر اجازت باپ کے کہ اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر صراحۃ اجازت دی ہو لڑکی کا نکاح اس کی اجازت سے باطل ہے غیر کفو ہونے کے لئے یہی ضروری نہیں کہ کم قوم ہو بلکہ مذہب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا لڑکی کے لئے باعث بدنامی ہو یہ بھی غیر کفو ہونا ہے اگرچہ خاص اسی خاندان کا ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۵ : از سمیتہ ڈاکخانہ دراپختہ تحصیل ڈیرہ غازی خان مسئولہ الله بخش صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك عورت زینب پر عاشق ہوا باوجود اہل وعیال کے اس کے عشق میں مغلوب ہو کر اپنی دختر صغیرہ چارسالہ کا نکاح حق مہر زینب پر برادر زینب عمرو زوجہ سے کردیا بعداس کے زیدنے زینب سے عقد کرکے سرمیل کیا اور اس وقت بیمار ہوا بعد ہفتہ کے فوت ہوگیا اب وہ لڑکی بالغہ ہوکر کہتی ہے کہ میرے باپ نے مرض عشق میں جو میرا نکاح نااہل غیر پردہ دار سے کردیاہے مجھے منظور نہیں آیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صغیرہ کا نکاح کہ اس کے باپ نے کیالازم ہے صغیرہ کو بعد بلوغ اس کے فسخ کا کوئی حق نہیں اور عذرات کہ سوال میں لکھے مہمل وبے معنی ہیں شرع میں ان کی کوئی اصل نہیں۔ درمختار میں ہے :
لزم النکاح ولوبغبن فاحش او من غیر کفو ان کان المزوج ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نکاح کردینے والا باپ یا دادا ہو اگرچہ یہ نکاح غیر کفو یا انتہائی کم مہر پر کیا ہو تو بھی لازم ہوجائے گا بشرطیکہ باپ دادا سوء اختیار سے معروف نہ ہوں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۶ : از شہر مین پوری دریبہ مکان مولوی حکیم محمد عباس مسئولہ نثار احمد صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ زید نے چند لڑکے چھوڑ کر انتقال کیا زید نے اپنا عقد ثانی
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
ہندہ سے کیا ہندہ سے بھی چند لڑکے اور ایك لڑکی پیدا ہوئی پھر زید نے بھی انتقال کیا ہندہ اپنی اولاد کو لے کر اپنے میکے چلی گئی اس کے سوتیلے لڑکے اس کو اپنے حسب مقدرت ماہانہ خرچ خوردونوش پہنچاتے رہے پھر ہندہ بھی مرگئی اور اس کا بھائی ان بھانجی بھانجوں پر قابض ہوگیا اور اپنی بھانجی کا عقد خالد سے بلا صلاح ومشورہ اس کے علاتی بھائیوں کے پوشیدہ طورپر کردیا۔ جب یہ خبر عالم آشکار ہوئی تو بالا بالا اس کے علاتی بھائیوں کو بھی خبر پہنچی تو کسی ترکیب سے اپنی سوتیلی بہن کو خالد کے مکان سے بلوالیاا ور اب یہ چاہتے ہیں کہ اپنی سوتیلی بہن کا کسی معزز سے نکاح کردیں اوروہ لڑکی بھی اپنے شوہر خالد سے نہایت بدظن ہے بوقت عقد اس کی عمر آٹھ سال کی تھی اب گیارہ سال سے زائدنہیں اس صورت میں کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جبکہ دختر ہندہ نابالغہ کا کوئی حقیقی بھائی بالغ نہ ہو تو ا س کے علاتی بھائیوں میں جو بالغ ہوں اس کے ولی نکاح ہیں وہ نکاح کہ اس کے ماموں نے ان بھائیوں سے چھپاکر دیا فسخ ہوگیا ان بھائیوں کو اختیار ہے کہ حسب اجازت شرع کسی کفو شرعی سے بغیر مہر مثل میں کمی فاحش کئے ہوئے اس کا نکاح کردیں اگر وہ اب بھی نابالغہ ہے اور اگر اب بالغہ ہوگئی یعنی عارضہ ماہواری آنے لگا تو کسی کفو شرعی سے نکاح کرلینے کا اسے خود اختیار ہے بہر حال طلاق کی کچھ حاجت نہیں کہ بھائیوں کے رد کئے سے ماموں کا کیا ہوا نکاح سرے سے فسخ ہوگیا اور خالد کو اس دختر سے کچھ تعلق نہ رہا پھر طلاق سے کیا علاقہ! درمختار میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ولی ابعدنے اقرب کی موجودگی کے باوجود نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۷ : مرسلہ سید امداد علی صاحب مختار عالم ساہوان ٹھاکر دروازہ محلہ پیرزاد گان ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ا س مسئلہ میں ایك شخص کی لڑکی اپنے نانا کی زیر پرورش ابتداء سے ہے باپ نے روز اول سے اس سے تعلق قطع کررکھا ہے اور مطلق کسی بات کی خبر نہیں لیتا ہے مرض دکھ درد ورنج راحت وغیرہ کونہیں پوچھتا ایسی حالت میں ان لڑکیوں کا نانا عقدکردے تو جائز ہوگا یا نہیں حال یہ ہے کہ وہ لڑکی جس کا عقد کرنا چاہتاہے تیرھویں سال میں ہے اگر کوئی صورت جواز ہو تو بیان فرمائیے کیونکہ جب باپ کسی حالت کا شریك نہیں تو لڑکی کے عقد کی کیا سبیل کی جائے اور یہ بیان فرمائیے کہ لڑکی کس سن پربالغ ہوئی اور بروئے فقہ اس کی کیا کیا شرائط اور نشانیاں ہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جبکہ دختر ہندہ نابالغہ کا کوئی حقیقی بھائی بالغ نہ ہو تو ا س کے علاتی بھائیوں میں جو بالغ ہوں اس کے ولی نکاح ہیں وہ نکاح کہ اس کے ماموں نے ان بھائیوں سے چھپاکر دیا فسخ ہوگیا ان بھائیوں کو اختیار ہے کہ حسب اجازت شرع کسی کفو شرعی سے بغیر مہر مثل میں کمی فاحش کئے ہوئے اس کا نکاح کردیں اگر وہ اب بھی نابالغہ ہے اور اگر اب بالغہ ہوگئی یعنی عارضہ ماہواری آنے لگا تو کسی کفو شرعی سے نکاح کرلینے کا اسے خود اختیار ہے بہر حال طلاق کی کچھ حاجت نہیں کہ بھائیوں کے رد کئے سے ماموں کا کیا ہوا نکاح سرے سے فسخ ہوگیا اور خالد کو اس دختر سے کچھ تعلق نہ رہا پھر طلاق سے کیا علاقہ! درمختار میں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ولی ابعدنے اقرب کی موجودگی کے باوجود نکاح دیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۷ : مرسلہ سید امداد علی صاحب مختار عالم ساہوان ٹھاکر دروازہ محلہ پیرزاد گان ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ا س مسئلہ میں ایك شخص کی لڑکی اپنے نانا کی زیر پرورش ابتداء سے ہے باپ نے روز اول سے اس سے تعلق قطع کررکھا ہے اور مطلق کسی بات کی خبر نہیں لیتا ہے مرض دکھ درد ورنج راحت وغیرہ کونہیں پوچھتا ایسی حالت میں ان لڑکیوں کا نانا عقدکردے تو جائز ہوگا یا نہیں حال یہ ہے کہ وہ لڑکی جس کا عقد کرنا چاہتاہے تیرھویں سال میں ہے اگر کوئی صورت جواز ہو تو بیان فرمائیے کیونکہ جب باپ کسی حالت کا شریك نہیں تو لڑکی کے عقد کی کیا سبیل کی جائے اور یہ بیان فرمائیے کہ لڑکی کس سن پربالغ ہوئی اور بروئے فقہ اس کی کیا کیا شرائط اور نشانیاں ہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
الجواب
باپ کے ہوتے ہوئے نانا کو ولایت نہیں ہوسکتی باپ کا بے علاقہ رہنا اس کی ابوت کو زائل نہیں کرتا
ولم یذکر فی السؤال صورۃ العضل وفیھا الولایۃ للقاضی دون اب الام کما حققہ المولی الشرنبلالی فی کشف المعضل۔
سوال میں لا تعلقی کی صورت بیان نہیں کی جبکہ اس میں ولایت قاضی کو ہے نا نا کونہیں ہے جیساکہ مولنا شرنبلالی نے اپنی کتاب “ کشف المعضل “ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
لڑکی کم سے کم نو برس کامل اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال کامل کی عمر میں بالغہ ہوتی ہے۔ اس بیچ میں آثار بلوغ پیدا ہوں تو بالغہ ہے ورنہ نہیں۔ آثار بلوغ تین ہیں : حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا باقی بغل میں یا زیر ناف بال جمنا یا پستان کا ابھار معتبر نہیں تنویر میں ہے :
بلوغ الجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ وادنی مدتہ لھا تسع سنین (ملخصا)
لڑکی کا بلوغ احتلام حیض یا حمل سے ثابت ہوتاہے اگر ان میں کوئی علامت نہ ہو تو جب عمر پورے پندرہ سال کو پہنچ جائے اور اس کے بلوغ کی کم از کم مدت نو سال ہے (ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے :
لااعتبار لنبات العانۃ ونھود الثدی فذکر الحموی انہ لا یحکم بہ فی ظاھر الروایۃ وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الھاملی ابوالسعود وکذا شعر الساق والابط والشارب (ملخصا)وھو تعالی اعلم۔
لڑکی کے بلوغ کے لئے زیر ناف بال اگنے اور پستان کے ابھار کا اعتبار نہیں ہے تو حموی نے ذکر کیا کہ اس پر حکم نہیں کیا جاسکتا ظاہر روایت کے مطابق اور یوں ہی آواز کا بھاری ہونا بھی معتبر نہیں جیساکہ ابوالسعود ہاملی کے منظوم کی شرح میں ہے اوریوں ہی پنڈلی بغل مونچھوں کے بالوں کا بھی اعتبار نہیں۔ (ملخصا)وھو تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۸ : ازمبارکپور ڈاکخانہ خاص محلہ رانی پورہ ضلع اعظم گڑھ مرسلہ نثار احمد صاحب درزی
زید بیمار ہوا اپنی حالت بیماری میں اپنی لڑکی کو ا س کے ماموں کے سپرد کیا لڑکی کا سن پندرہ برس کا تھا
باپ کے ہوتے ہوئے نانا کو ولایت نہیں ہوسکتی باپ کا بے علاقہ رہنا اس کی ابوت کو زائل نہیں کرتا
ولم یذکر فی السؤال صورۃ العضل وفیھا الولایۃ للقاضی دون اب الام کما حققہ المولی الشرنبلالی فی کشف المعضل۔
سوال میں لا تعلقی کی صورت بیان نہیں کی جبکہ اس میں ولایت قاضی کو ہے نا نا کونہیں ہے جیساکہ مولنا شرنبلالی نے اپنی کتاب “ کشف المعضل “ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
لڑکی کم سے کم نو برس کامل اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال کامل کی عمر میں بالغہ ہوتی ہے۔ اس بیچ میں آثار بلوغ پیدا ہوں تو بالغہ ہے ورنہ نہیں۔ آثار بلوغ تین ہیں : حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا باقی بغل میں یا زیر ناف بال جمنا یا پستان کا ابھار معتبر نہیں تنویر میں ہے :
بلوغ الجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ وادنی مدتہ لھا تسع سنین (ملخصا)
لڑکی کا بلوغ احتلام حیض یا حمل سے ثابت ہوتاہے اگر ان میں کوئی علامت نہ ہو تو جب عمر پورے پندرہ سال کو پہنچ جائے اور اس کے بلوغ کی کم از کم مدت نو سال ہے (ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے :
لااعتبار لنبات العانۃ ونھود الثدی فذکر الحموی انہ لا یحکم بہ فی ظاھر الروایۃ وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الھاملی ابوالسعود وکذا شعر الساق والابط والشارب (ملخصا)وھو تعالی اعلم۔
لڑکی کے بلوغ کے لئے زیر ناف بال اگنے اور پستان کے ابھار کا اعتبار نہیں ہے تو حموی نے ذکر کیا کہ اس پر حکم نہیں کیا جاسکتا ظاہر روایت کے مطابق اور یوں ہی آواز کا بھاری ہونا بھی معتبر نہیں جیساکہ ابوالسعود ہاملی کے منظوم کی شرح میں ہے اوریوں ہی پنڈلی بغل مونچھوں کے بالوں کا بھی اعتبار نہیں۔ (ملخصا)وھو تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۲۸ : ازمبارکپور ڈاکخانہ خاص محلہ رانی پورہ ضلع اعظم گڑھ مرسلہ نثار احمد صاحب درزی
زید بیمار ہوا اپنی حالت بیماری میں اپنی لڑکی کو ا س کے ماموں کے سپرد کیا لڑکی کا سن پندرہ برس کا تھا
حوالہ / References
درمختارشرح تنویر الابصار فصل فی البلوغ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
ردالمحتار فصل فی البلوغ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۹۷
ردالمحتار فصل فی البلوغ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۹۷
پھر لڑکی کا والد قضا کر گیا اور دادا بھی موجود ہے اور لڑکی کی اب تك اپنے ماموں کے یہاں پرورش پاتی ہے بعد کچھ روز کے لڑکی کے دادا نے کہیں نکاح کردیا یعنی کفو میں اس نکاح کو نہ تو اس کا ماموں جانتاہے نہ لڑکی جانتی ہے بعد کچھ روز کے لڑکی نے سنا تو کہا ہم کو نکاح منظور نہیں اور لڑکی کا ایك چچابھی موجود ہے وہ بھی نکاح میں شریك نہیں وہ بھی نہیں جانتا اور نہ اس کی رائے سے نکاح ہوا صرف دادا نے اپنی خودی سے نکاح کیا تھا اس نکاح کو کوئی نہیں جانتا نہ ماموں نہ لڑکی کا چچا آیا وہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
غیب کاعلم الله عزوجل پھر اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ہے اگر فی الواقع جس وقت دادا نے اس کانکاح کیا اس کی عمر کامل پندرہ برس کی یا اس سے زائد تھی یا آثار بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر تھے تو دادا نے جو نکاح کیا عورت کی اجازت پر موقوف رہا اگر عورت نے خبر سن کر نامنظور کیا رد ہوگیا اور اگر وقت نکاح عورت کی عمر پوری پندرہ سال کی نہ تھی نہ آثار بلوغ ظاہر تھے اور دادا نے نکاح کردیا تولازم ہوگیا اب رد نہیں ہوسکتا عورت اگر دوسرا نکاح بحیات شوہر کرے گی زنا ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
___________________
الجواب :
غیب کاعلم الله عزوجل پھر اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ہے اگر فی الواقع جس وقت دادا نے اس کانکاح کیا اس کی عمر کامل پندرہ برس کی یا اس سے زائد تھی یا آثار بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر تھے تو دادا نے جو نکاح کیا عورت کی اجازت پر موقوف رہا اگر عورت نے خبر سن کر نامنظور کیا رد ہوگیا اور اگر وقت نکاح عورت کی عمر پوری پندرہ سال کی نہ تھی نہ آثار بلوغ ظاہر تھے اور دادا نے نکاح کردیا تولازم ہوگیا اب رد نہیں ہوسکتا عورت اگر دوسرا نکاح بحیات شوہر کرے گی زنا ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
___________________
باب الکفائۃ فی النکاح
(نکاح کے سلسلہ میں کفو کا بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۴۲۹ : از مرا د آباد محلہ قانونگویاں مرسلہ محمد نبی خاں صاحب رئیس اوائل جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ شریف زادی جس کے باپ نے انتقال کیا اور بھائی کوئی نہیں صرف عمرو اس کا حقیقی چچا ولی شرعی ہے مادرہندہ نے غیبت عمرو میں باذن ہندہ بے اطلاع عمرو اس کا نکاح زید کم قوم غیر کفو یعنی قصاب مالدار سے کردیا جب عمرو آیا اور مطلع ہوا اس خیال سے کہ نکاح تو ہوہی گیا مصلحۃ منظور کرلیا اور ہندہ کی رخصتی کردی برضائے ہندہ وطی بھی واقع ہوئی اب ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تا ادائے مہر معجل زید کے یہاں جانا یا اسے اپنے نفس پر قدرت دینا نہیں چاہتی اس صورت میں شرعا کیا حکم ہے اورہندہ کوناشزہ کہا جائے گا یا نہیں اور اسے زید کے یہاں نہ جانے اور اپنے نفس کے بچانے کا اختیار ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نہ ہندہ ناشزہ اور نہ زید کو اس پر دسترس نہ زنہار اسے قدرت دیں گے کہ ہندہ کو اپنے یہاں بلائے نہ ہر گز ہندہ کو اجازت دیں گے کہ بطور زوجیت اس کے یہاں جائے بلکہ شرعا دونوں پر واجب ہے کہ اس نکاح فاسد وواجب الفسخ سے دست برداری کریں اور زید نہ مانے تو ہندہ پر لازم ہے کہ بطور خود
(نکاح کے سلسلہ میں کفو کا بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۴۲۹ : از مرا د آباد محلہ قانونگویاں مرسلہ محمد نبی خاں صاحب رئیس اوائل جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ شریف زادی جس کے باپ نے انتقال کیا اور بھائی کوئی نہیں صرف عمرو اس کا حقیقی چچا ولی شرعی ہے مادرہندہ نے غیبت عمرو میں باذن ہندہ بے اطلاع عمرو اس کا نکاح زید کم قوم غیر کفو یعنی قصاب مالدار سے کردیا جب عمرو آیا اور مطلع ہوا اس خیال سے کہ نکاح تو ہوہی گیا مصلحۃ منظور کرلیا اور ہندہ کی رخصتی کردی برضائے ہندہ وطی بھی واقع ہوئی اب ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تا ادائے مہر معجل زید کے یہاں جانا یا اسے اپنے نفس پر قدرت دینا نہیں چاہتی اس صورت میں شرعا کیا حکم ہے اورہندہ کوناشزہ کہا جائے گا یا نہیں اور اسے زید کے یہاں نہ جانے اور اپنے نفس کے بچانے کا اختیار ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں نہ ہندہ ناشزہ اور نہ زید کو اس پر دسترس نہ زنہار اسے قدرت دیں گے کہ ہندہ کو اپنے یہاں بلائے نہ ہر گز ہندہ کو اجازت دیں گے کہ بطور زوجیت اس کے یہاں جائے بلکہ شرعا دونوں پر واجب ہے کہ اس نکاح فاسد وواجب الفسخ سے دست برداری کریں اور زید نہ مانے تو ہندہ پر لازم ہے کہ بطور خود
فسخ کردے صرف اسی کے فسخ کئے سے فسخ ہوجائے گا اور یہ بھی نہ کرے تو حاکم پر واجب ہے کہ ان میں تفریق کردے اور ہندہ کے لئے مہر مثل اتنا کہ مہر مسمی پر زیادہ نہ ہو زید پر لازم آئے گا وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ نکاح غیر ولی یعنی ماں نے چچا کے ہوتے اسے ولایت نہیں بے رضائے ولی باذن ہندہ کیا تو درحقیقت یہ زن بالغہ کا بطورخود نکاح کرناہوا کہ بسبب اذن ولایت متحقق ہوئی اور فعل وکیل بعینہ فعل موکل ہے۔
فی الخیریۃ سئل فی بکربالغۃ زوجھا اخوھا لامھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجھا لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا اھ ملخصا۔
فتاوی خیریہ میں ہے سوال ہوا کہ ایك بالغہ باکرہ کا نکاح اس کی اجازت سے اس کی والدہ کی طرف سے بھائی نے غیر کفو میں کیا جواب میں فرمایا کہ مذکورہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہی ہے جیسے اس نے بذات خود نکاح کیا ہو تویہ مسئلہ لڑکی کا خود کوغیر کفو میں اپنے اولیاء کی مرضی کے بغیر نکاح کرنیکا ہوا اھ ملخصا(ت)
اور روایت مفتی بہا مختار للفتوی یہ ہے کہ بالغہ ذات الاولیاء جو اپنا نکاح غیر کفو سے کرے وہ اس وقت صحیح ہوسکتاہے کہ ولی شرعی پیش ازنکاح صراحۃ اپنی رضامندی ظاہرکرے اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ شخص کفو نہیں ورنہ اگر عدم کفاءت پر مطلع نہ تھا یا تھا مگر پیش از نکاح اس نے تصریحات اظہار پسند ورضانہ کیا تو ہر گز نکاح صحیح نہیں اگرچہ ولی مذکور نکاح کے وقت ساکت بھی رہا ہو اگرچہ باوجود اطلاع اصلا انکار نہ کیا ہو اگرچہ بعد وقوع نکاح صاف صاف تصریح رضامندی بھی کردی ہو اگرچہ اس کی رخصت وغیرہ خود ہی کی ہو یہ سب باتیں بیکارہیں اور اس نکاح کی کہ شرعا صحیح نہ ہوا اصلا ح نکاح نہیں کرسکتیں
فان الرضی الاحق انماینفع فی الموقوف دون الفاسد۔
بعد کی رضا موقوف نکاح کے لئے تو مفیدہے مگر فاسد نکاح کے لئے مفید نہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھوالمختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں نکاح اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختار ہے تو مطلقہ ثلاثہ اگر غیر کفو میں نکاح کر ے گی تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوسکے گی بشرطیکہ اس کے اولیاء اس غیر کفو پر مطلع ہونے پر رضامند نہ ہوں ا س کو محفوظ کرلو۔ (ت)
فی الخیریۃ سئل فی بکربالغۃ زوجھا اخوھا لامھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجھا لھا باذنھا کتزویجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا اھ ملخصا۔
فتاوی خیریہ میں ہے سوال ہوا کہ ایك بالغہ باکرہ کا نکاح اس کی اجازت سے اس کی والدہ کی طرف سے بھائی نے غیر کفو میں کیا جواب میں فرمایا کہ مذکورہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہی ہے جیسے اس نے بذات خود نکاح کیا ہو تویہ مسئلہ لڑکی کا خود کوغیر کفو میں اپنے اولیاء کی مرضی کے بغیر نکاح کرنیکا ہوا اھ ملخصا(ت)
اور روایت مفتی بہا مختار للفتوی یہ ہے کہ بالغہ ذات الاولیاء جو اپنا نکاح غیر کفو سے کرے وہ اس وقت صحیح ہوسکتاہے کہ ولی شرعی پیش ازنکاح صراحۃ اپنی رضامندی ظاہرکرے اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ شخص کفو نہیں ورنہ اگر عدم کفاءت پر مطلع نہ تھا یا تھا مگر پیش از نکاح اس نے تصریحات اظہار پسند ورضانہ کیا تو ہر گز نکاح صحیح نہیں اگرچہ ولی مذکور نکاح کے وقت ساکت بھی رہا ہو اگرچہ باوجود اطلاع اصلا انکار نہ کیا ہو اگرچہ بعد وقوع نکاح صاف صاف تصریح رضامندی بھی کردی ہو اگرچہ اس کی رخصت وغیرہ خود ہی کی ہو یہ سب باتیں بیکارہیں اور اس نکاح کی کہ شرعا صحیح نہ ہوا اصلا ح نکاح نہیں کرسکتیں
فان الرضی الاحق انماینفع فی الموقوف دون الفاسد۔
بعد کی رضا موقوف نکاح کے لئے تو مفیدہے مگر فاسد نکاح کے لئے مفید نہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھوالمختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں نکاح اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختار ہے تو مطلقہ ثلاثہ اگر غیر کفو میں نکاح کر ے گی تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوسکے گی بشرطیکہ اس کے اولیاء اس غیر کفو پر مطلع ہونے پر رضامند نہ ہوں ا س کو محفوظ کرلو۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوی خیریۃ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
اسی طرح فتح القدیر و فتاوی خیریہ ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر وغیرہا میں ہے :
وفی ردالمحتار ھذہ روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ وھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ ۔
اور ردالمحتارمیں ہے یہ امام ابوحنیفہ سے امام حسن کی روایت ہے یہ جب ہے کہ اس کے ولی ہوں اور وہ نکاح سے قبل راضی نہ ہوچکے ہوں تو بعد کی رضا مندی مفید نہیں ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا ۔
اس موقع پر ولی کی خاموشی رضا نہ قرار پائے گی جیساکہ ہم نے ذکر کیاہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطء فی القبل لابغیرہ کا لخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینا فی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
نکاح فاسد میں وطی فی القبل ہوجانے پر مہر مثل لازم ہو جائے گا اور کسی عمل مثلا خلوت وغیرہ سے لازم نہ ہوگا کیونکہ یہاں وطی حرام ہے اور یہ مہر مثل مقرر شدہ سے زائد نہ ہوگا اور خاوند بیوی دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی نکاح کو فسخ کرنیکاحق حاصل ہوگا خواہ وطی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو تاکہ گناہ سے بری ہوسکیں اسی لئے مہر کاوجوب فسخ کے منافی نہیں ہوگا بلکہ بہرصورت قاضی پر واجب ہے کہ وہ اس نکاح سے دونوں کی تفریق کرے اھ ملخصا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۰ : از سہسوان ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے غیر شہر سے سہسوان میں آکر اپنے آپ کو سنی اور قوم کا سید ظاہر کیا عمرو نے کہ شیخ انصاری ہے اپنی لڑکی لیلی جس کی عمر وقت نکاح بارہ تیرہ برس کی تھی بیان زید سے دھوکا کھاکر اسے بیاہ دی وہ لڑکی اور اس کا باپ اہلسنت وجماعت ہیں ہنوز رخصت بھی نہ ہوئی تھی نہ لیلی
وفی ردالمحتار ھذہ روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ وھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ ۔
اور ردالمحتارمیں ہے یہ امام ابوحنیفہ سے امام حسن کی روایت ہے یہ جب ہے کہ اس کے ولی ہوں اور وہ نکاح سے قبل راضی نہ ہوچکے ہوں تو بعد کی رضا مندی مفید نہیں ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا ۔
اس موقع پر ولی کی خاموشی رضا نہ قرار پائے گی جیساکہ ہم نے ذکر کیاہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطء فی القبل لابغیرہ کا لخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینا فی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما اھ ملخصا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
نکاح فاسد میں وطی فی القبل ہوجانے پر مہر مثل لازم ہو جائے گا اور کسی عمل مثلا خلوت وغیرہ سے لازم نہ ہوگا کیونکہ یہاں وطی حرام ہے اور یہ مہر مثل مقرر شدہ سے زائد نہ ہوگا اور خاوند بیوی دونوں کو ایك دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی نکاح کو فسخ کرنیکاحق حاصل ہوگا خواہ وطی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو تاکہ گناہ سے بری ہوسکیں اسی لئے مہر کاوجوب فسخ کے منافی نہیں ہوگا بلکہ بہرصورت قاضی پر واجب ہے کہ وہ اس نکاح سے دونوں کی تفریق کرے اھ ملخصا۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۰ : از سہسوان ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے غیر شہر سے سہسوان میں آکر اپنے آپ کو سنی اور قوم کا سید ظاہر کیا عمرو نے کہ شیخ انصاری ہے اپنی لڑکی لیلی جس کی عمر وقت نکاح بارہ تیرہ برس کی تھی بیان زید سے دھوکا کھاکر اسے بیاہ دی وہ لڑکی اور اس کا باپ اہلسنت وجماعت ہیں ہنوز رخصت بھی نہ ہوئی تھی نہ لیلی
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۹۷
درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۱
نے زید کی صورت دیکھی تھی کہ زید چلا گیا اورجب سے اصلا خبر نہیں کہ زندہ ہے یا مرگیا اسے کوئی دو برس کا زمانہ ہوا اب جو اس کا حال دریافت ہو ا وہ رافضی نکلا اور شراب خوری وقمار بازی اس کے علاوہ ہے جب سے یہ کیفیت معلوم ہوئی تو لیلی اور اس کا باپ عمرو اور اس کی ماں سب ناراض ہیں اور لیلی جس کی عمر خود پندرہ برس کی ہے اپنا نکاح اور شخص سے کیا چاہتی ہے جو مذہب کا سنی اور اعمال کا نیك ہو اس صورت میں شرع شریف لیلی کے حق میں کیا حکم دیتی ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
اللھم العفو والعافیۃ(اے الله تجھ سے معافی اور عافیت کی درخواست ہے۔ ت)روافض میں جو ضروریات دین سے کسی امر کا منکر ہو مثلاقرآن عظیم کو بیاض عثمانی کہے اس کے ایك لفظ ایك حرف ایك نقطے کی نسبت گمان کرے کہ معاذالله صحابہ کرام یا ہم اہلسنت خواہ شخص نے گھٹادیا بڑھادیا بدل دیا یاحضرت جناب امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار رضوان الله تعالی علیہم اجمعین سے کسی کو انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم کل یا بعض سے افضل بتائے قطعا کافرہے اور اس کا حکم مثل مرتدین کے ہے والعیاذ بالله سبحانہ وتعالی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا(الی ان قال)وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذافی الظہیریۃ ۔
رافضیوں کے اس قول پرکہ “ مردے دنیا پر واپس آتے ہیں “ ان کی تکفیر ضروری ہے(عالمگیری نے یہاں تك کہا کہ)یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہیں ظہیریہ میں یونہی ہے۔ (ت)
آج کل عامہ روافض اسی قسم کے ہیں ان کے عالم جاہل چھوٹے بڑے تحریر اتقریرا علی الاعلان ان کفریات کااعتراف کرتے اور ان کے معتقد کو مومن کامل جانتے ہیں اوراپنا پیشوا ومجتہد مانتے ہیں تو اگر ان میں بعض بالفرض خود معتقد نہ تھے تو یوں کافر ہوئے شفاء شریف میں ہے :
نکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین او وقف فیھم او شك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ الخ واقرہ علیہ العلامۃ الخفاجی فی
جس نے ملت اسلامیہ کے علاوہ کسی دین کو اپنایا ان میں شك یا توقف رہا یا ان کے مذہب کو صحیح کہا توایسے لوگوں کی ہم تکفیر کریں گے اگرچہ یہ لوگ اسلام اور
الجواب :
اللھم العفو والعافیۃ(اے الله تجھ سے معافی اور عافیت کی درخواست ہے۔ ت)روافض میں جو ضروریات دین سے کسی امر کا منکر ہو مثلاقرآن عظیم کو بیاض عثمانی کہے اس کے ایك لفظ ایك حرف ایك نقطے کی نسبت گمان کرے کہ معاذالله صحابہ کرام یا ہم اہلسنت خواہ شخص نے گھٹادیا بڑھادیا بدل دیا یاحضرت جناب امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار رضوان الله تعالی علیہم اجمعین سے کسی کو انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم کل یا بعض سے افضل بتائے قطعا کافرہے اور اس کا حکم مثل مرتدین کے ہے والعیاذ بالله سبحانہ وتعالی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا(الی ان قال)وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذافی الظہیریۃ ۔
رافضیوں کے اس قول پرکہ “ مردے دنیا پر واپس آتے ہیں “ ان کی تکفیر ضروری ہے(عالمگیری نے یہاں تك کہا کہ)یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہیں ظہیریہ میں یونہی ہے۔ (ت)
آج کل عامہ روافض اسی قسم کے ہیں ان کے عالم جاہل چھوٹے بڑے تحریر اتقریرا علی الاعلان ان کفریات کااعتراف کرتے اور ان کے معتقد کو مومن کامل جانتے ہیں اوراپنا پیشوا ومجتہد مانتے ہیں تو اگر ان میں بعض بالفرض خود معتقد نہ تھے تو یوں کافر ہوئے شفاء شریف میں ہے :
نکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین او وقف فیھم او شك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ الخ واقرہ علیہ العلامۃ الخفاجی فی
جس نے ملت اسلامیہ کے علاوہ کسی دین کو اپنایا ان میں شك یا توقف رہا یا ان کے مذہب کو صحیح کہا توایسے لوگوں کی ہم تکفیر کریں گے اگرچہ یہ لوگ اسلام اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھوا لمقالات مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی بلاد العثمانیۃ ۲ / ۲۷۱
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی بیان ماھوا لمقالات مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی بلاد العثمانیۃ ۲ / ۲۷۱
نسیم الریاض۔
اس کے اعتقاد کا اظہار کریں ا لخ اور علامہ خفا جی نے اسے نسیم الریاض میں مضبوط قرار دیا۔ (ت)
اس لئے کہا جاتاہے کہ روافض زمانہ میں کسی ایسے کا ملنا جسے ایك ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں کبریت احمر کے ملنے سے کچھ زیادہ ہی دشوار ہے فقیر غفرالله تعالی نے یہ مسئلہ اپنے فتاوی میں مشرحا بیان کیا اور بارہا ان لوگوں سے بطلان مناکحت پر فتوی دیا اکابرمشاہیر علمائے عصر اس افتاءمیں فقیر سے موافق ہیں ہاں جو اس درجہ کا نہ ہو اور ضروریات اسلام سے کسی شے کا انکار نہ کرتاہو نہ اس کے منکروں کومسلمان جانتا ہو اگرچہ اپنی خباثت سے تبرائے ملعونہ شیعہ مغضوبہ تك پہنچے صحیح مذہب مشرب پر بدعتی فاجر ہے نہ مرتد کا فر کما حققہ ابی وسیدی مقدام المحققین قدس سرہ المکین فی فتاواہ(جیساکہ میرے والد ماجد مقدام المحققین قدس سرہ نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی۔ ت)پس اگر زید مذکور جس کے ساتھ لیلی کا نکاح ہوا درجہ اول کا رافضی تھا جب تو وہ نکاح یقینا جزما باطل محض ہے جیسے کسی ہندو نصرانی یہودی مجوسی کے ساتھ بلکہ ان سے بھی بدتر مرتد اخبث اقسام کفارہے والعیاذ بالله سبحنہ وتعالی اس صورت میں لیلی کو ایك آن کا انتظار بھی ضرور نہیں بے دغدغہ جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر اس کا رافضی درجہ دوم سے متجاوز نہ تھا تو صورت مسئولہ میں کہ نکاح باپ نے کیااور تقریر سوال سے واضح کہ جب تك فریب زید نہ کھلا تھا لیلی و والدین لیلی سب راضی تھے پس عام ازیں کہ لیلی وقت نکاح بالغہ تھی یا نہیں ہر طرح نکاح منعقد ہوگیا مگر از انجا کہ رافضی مردوزن سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور زید نے اپنے آپ کو سنی بتاکر فریب ومغالطہ دیا لہذا شرع مطہر اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار دے گی اگرلیلی ہنگام نکاح صغیرہ تھی تو بعدبلوغ اسے اعتراض وانکار کا اختیار ہوا یا ہوگا اور بالغہ تو جس وقت فریب زید کھلا اسے اور اس کے اولیاء سب کو اخیتار دعوی فسخ ملا ردالمحتار میں ہے :
فی النوازل لوزوج بنتہ الصغیرۃ ممن ینکرانہ یشرب المسکر فاذا ھو مدمن لہ وقالت لاارضی بالنکاح ای بعدماکبرت ان لم یکن یعرف الاب بشربہ وکان غلبۃ اھل بیتہ صالحین فالنکاح باطل لانہ انمازوجہ علی ظن انہ کفو اھ ثم معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ
نوازل میں ہے اگر اپنی نابالغہ بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جو شراب نوشی کا انکار کرتاتھا حالانکہ وہ شراب کا عادی تھا تولڑکی نے بالغ ہونے پر کہا میں اس نکاح سے راضی نہیں اگر والدکو شراب نوشی کا علم نہ تھا اورو الد کا غالب خاندان صالحین لوگ ہیں تو یہ نکاح باطل قرار پائے گا کیونکہ والد نے کفو سمجھتے ہوئے نکاح دیا تھا اھ پھر اس باطل کا
اس کے اعتقاد کا اظہار کریں ا لخ اور علامہ خفا جی نے اسے نسیم الریاض میں مضبوط قرار دیا۔ (ت)
اس لئے کہا جاتاہے کہ روافض زمانہ میں کسی ایسے کا ملنا جسے ایك ضعیف طورپر بھی مسلمان کہہ سکیں کبریت احمر کے ملنے سے کچھ زیادہ ہی دشوار ہے فقیر غفرالله تعالی نے یہ مسئلہ اپنے فتاوی میں مشرحا بیان کیا اور بارہا ان لوگوں سے بطلان مناکحت پر فتوی دیا اکابرمشاہیر علمائے عصر اس افتاءمیں فقیر سے موافق ہیں ہاں جو اس درجہ کا نہ ہو اور ضروریات اسلام سے کسی شے کا انکار نہ کرتاہو نہ اس کے منکروں کومسلمان جانتا ہو اگرچہ اپنی خباثت سے تبرائے ملعونہ شیعہ مغضوبہ تك پہنچے صحیح مذہب مشرب پر بدعتی فاجر ہے نہ مرتد کا فر کما حققہ ابی وسیدی مقدام المحققین قدس سرہ المکین فی فتاواہ(جیساکہ میرے والد ماجد مقدام المحققین قدس سرہ نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی۔ ت)پس اگر زید مذکور جس کے ساتھ لیلی کا نکاح ہوا درجہ اول کا رافضی تھا جب تو وہ نکاح یقینا جزما باطل محض ہے جیسے کسی ہندو نصرانی یہودی مجوسی کے ساتھ بلکہ ان سے بھی بدتر مرتد اخبث اقسام کفارہے والعیاذ بالله سبحنہ وتعالی اس صورت میں لیلی کو ایك آن کا انتظار بھی ضرور نہیں بے دغدغہ جس سے چاہے نکاح کرلے اور اگر اس کا رافضی درجہ دوم سے متجاوز نہ تھا تو صورت مسئولہ میں کہ نکاح باپ نے کیااور تقریر سوال سے واضح کہ جب تك فریب زید نہ کھلا تھا لیلی و والدین لیلی سب راضی تھے پس عام ازیں کہ لیلی وقت نکاح بالغہ تھی یا نہیں ہر طرح نکاح منعقد ہوگیا مگر از انجا کہ رافضی مردوزن سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور زید نے اپنے آپ کو سنی بتاکر فریب ومغالطہ دیا لہذا شرع مطہر اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار دے گی اگرلیلی ہنگام نکاح صغیرہ تھی تو بعدبلوغ اسے اعتراض وانکار کا اختیار ہوا یا ہوگا اور بالغہ تو جس وقت فریب زید کھلا اسے اور اس کے اولیاء سب کو اخیتار دعوی فسخ ملا ردالمحتار میں ہے :
فی النوازل لوزوج بنتہ الصغیرۃ ممن ینکرانہ یشرب المسکر فاذا ھو مدمن لہ وقالت لاارضی بالنکاح ای بعدماکبرت ان لم یکن یعرف الاب بشربہ وکان غلبۃ اھل بیتہ صالحین فالنکاح باطل لانہ انمازوجہ علی ظن انہ کفو اھ ثم معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ
نوازل میں ہے اگر اپنی نابالغہ بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کردیا جو شراب نوشی کا انکار کرتاتھا حالانکہ وہ شراب کا عادی تھا تولڑکی نے بالغ ہونے پر کہا میں اس نکاح سے راضی نہیں اگر والدکو شراب نوشی کا علم نہ تھا اورو الد کا غالب خاندان صالحین لوگ ہیں تو یہ نکاح باطل قرار پائے گا کیونکہ والد نے کفو سمجھتے ہوئے نکاح دیا تھا اھ پھر اس باطل کا
لان المسئلۃ مفروضۃ فیما اذ الم ترض البنت بعدما کبرت کما صرح بہ فی الخانیۃ والذخیرۃ وغیرھما ولا فرق فی عدم الکفاءۃ بین کونہ بسبب الفسق اوغیرہ اھ ملتقطا۔
مطلب یہ ہے کہ اس نکاح کو باطل کیا جائے گا جیساکہ ذخیرہ میں ہے کیونکہ مسئلے کا تعلق اس صورت سے ہے کہ لڑکی نے بالغ ہوجانے پر عدم رضا کااظہار کیا ہو جیساکہ خانیہ میں ہے ذخیرہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ اورعدم کفاءت میں فرق نہیں خواہ فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو اھ ملتقطا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لوزوجوھا برضاھا ولم یعلموا بعدم الکفاءۃ ثم علموا لاخیار لاحد الا اذاشرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذلك ثم ظہر انہ غیر کفو لھم الخیار ولولوالجیۃ فلیحفظ ۔
جب اولیاء نے لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی سے غیرکفو میں لاعلمی کی بناپر کردیا اور بعد میں کفو نہ ہونا معلوم ہوا تو اب کسی کو فسخ کا اختیار نہیں۔ مگر جب نکاح کے وقت اولیاء نے کفو ہونے کی شرط پر نکاح دیا ہو یا خاوند نے نکاح کے وقت اپنے کفو ہونے کا اظہار کیا ہو تو اس کے اظہار پر انھوں نے نکاح کردیا ہو پھر بعدمیں معلوم ہوا ہو کہ یہ غیر کفو ہے تو اب ان کو فسخ کا اختیار ہے ولوالجیہ پس اسے یاد کرلو۔ (ت)
شامی میں ہے :
فی البحر عن الظھیریۃ لو انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھردونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت للکل ۔
بحر میں ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے نکاح کے وقت لڑکی پر اپنے نسب کو بدل کر کسی اور کی طرف منسوب کیا تو بعد میں اگر اس کا نسب گھٹیا جو کہ کفو نہیں ہے معلوم ہوا تواب سب کو فسخ کاحق ہے۔ (ت)
مگر اس اختیار کے یہ معنی نہیں کہ عورت یا اولیاء خود ہی فسخ کرلیں کہ یہ تو ہر گز جائزنہیں اور اس پر قناعت کرکے نکاح ثانی کرلیں گے تو زنہار نہ ہوگا بلکہ اس کے یہ معنی کہ قاضی شرع کے یہاں رجوع لائیں جب اس کے نزدیك آفتاب روشن کی طرح ثابت ہوجائے کہ واقعی زید رافضی تھااور اس نے ان لوگوں کو
مطلب یہ ہے کہ اس نکاح کو باطل کیا جائے گا جیساکہ ذخیرہ میں ہے کیونکہ مسئلے کا تعلق اس صورت سے ہے کہ لڑکی نے بالغ ہوجانے پر عدم رضا کااظہار کیا ہو جیساکہ خانیہ میں ہے ذخیرہ وغیرہما میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ اورعدم کفاءت میں فرق نہیں خواہ فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو اھ ملتقطا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لوزوجوھا برضاھا ولم یعلموا بعدم الکفاءۃ ثم علموا لاخیار لاحد الا اذاشرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذلك ثم ظہر انہ غیر کفو لھم الخیار ولولوالجیۃ فلیحفظ ۔
جب اولیاء نے لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی سے غیرکفو میں لاعلمی کی بناپر کردیا اور بعد میں کفو نہ ہونا معلوم ہوا تو اب کسی کو فسخ کا اختیار نہیں۔ مگر جب نکاح کے وقت اولیاء نے کفو ہونے کی شرط پر نکاح دیا ہو یا خاوند نے نکاح کے وقت اپنے کفو ہونے کا اظہار کیا ہو تو اس کے اظہار پر انھوں نے نکاح کردیا ہو پھر بعدمیں معلوم ہوا ہو کہ یہ غیر کفو ہے تو اب ان کو فسخ کا اختیار ہے ولوالجیہ پس اسے یاد کرلو۔ (ت)
شامی میں ہے :
فی البحر عن الظھیریۃ لو انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھردونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت للکل ۔
بحر میں ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے نکاح کے وقت لڑکی پر اپنے نسب کو بدل کر کسی اور کی طرف منسوب کیا تو بعد میں اگر اس کا نسب گھٹیا جو کہ کفو نہیں ہے معلوم ہوا تواب سب کو فسخ کاحق ہے۔ (ت)
مگر اس اختیار کے یہ معنی نہیں کہ عورت یا اولیاء خود ہی فسخ کرلیں کہ یہ تو ہر گز جائزنہیں اور اس پر قناعت کرکے نکاح ثانی کرلیں گے تو زنہار نہ ہوگا بلکہ اس کے یہ معنی کہ قاضی شرع کے یہاں رجوع لائیں جب اس کے نزدیك آفتاب روشن کی طرح ثابت ہوجائے کہ واقعی زید رافضی تھااور اس نے ان لوگوں کو
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۴
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۷
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۷
دھوکا بھی دیا یہ اس وقت تك کہ اس کے احوال سے آگاہ نہ تھے۔ نہ اب زید کاپتاہے(کہ اسے بلا کر اس کے حضور مقدمہ سنا جائے)یا پتا معلوم ہے تو وہ ایسی جگہ ہے جہاں قاضی نہیں(کہ مقدمہ ترتیب دے کر گواہ سن کر بلحاظ شرائط کتاب القاضی الی القاضی وہاں بھیج دیں کہ وہ قاضی اسے دارالقضا میں حاضر کرکے بمواجہہ فریقین حکم فسخ سنادے)اور زید کو یہاں بلاتے ہیں توآتا نہیں اور اس پر جبرکا کوئی طریقہ نہیں غرض ہر طرح قاضی مذکور ضرورت ومجبوری ملاحظہ کرلے اس وقت زید کے عزیزوں یادوستوں سے کسی کو اور وہ نہ ملیں تو اور کسی بے لگاؤ متدین آدمی کو زید کانائب ووکیل قرار دے کر اس کے حضور مقدمہ سنے اور بعد ثبوت کامل نکاح فسخ کردے اور از انجا کہ حسب تصریح سوال ہنوز زید ولیلی میں خلوت نہ ہوئی تھی اصلا انتظار و عدت کی حاجت نہیں حکم قاضی ہوتے ہی فورا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے فتاوی قاضی خان میں ہے :
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ الخ۔
کفو نہ ہونے کی وجہ سے فسخ صرف قاضی کی موجودگی میں ہوسکتاہے کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔ الخ(ت)
درمختار میں ہے :
شرط للکل القضاء لا ثمانیۃ الخ۔
ہر فسخ کے لئے قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے الخ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فیہ ایماء الی ان الزوج لو کان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۔
اسی میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند حاضر نہ ہو تو اس کی حاضری تك تفریق نہ کی جائے گی تاکہ قضاء علی الغائب لازم نہ آئے۔ نہر(ت)
اور اسی میں ہے :
قال فی جامع الفصولین الظاھر عندی ان یتأمل فی الوقائع ویحتاج ویلا حظ الحرج والضرورات فیفتی
جامع الفصولین میں کہاہے کہ میرے نزدیك ظاہر یہ ہے کہ واقعہ پر غور کیا جائے اور احتیاط کی جائے اور حرج اور ضروریات کا اندازہ کیا جائے تاکہ اس
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ الخ۔
کفو نہ ہونے کی وجہ سے فسخ صرف قاضی کی موجودگی میں ہوسکتاہے کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔ الخ(ت)
درمختار میں ہے :
شرط للکل القضاء لا ثمانیۃ الخ۔
ہر فسخ کے لئے قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے الخ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فیہ ایماء الی ان الزوج لو کان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر ۔
اسی میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند حاضر نہ ہو تو اس کی حاضری تك تفریق نہ کی جائے گی تاکہ قضاء علی الغائب لازم نہ آئے۔ نہر(ت)
اور اسی میں ہے :
قال فی جامع الفصولین الظاھر عندی ان یتأمل فی الوقائع ویحتاج ویلا حظ الحرج والضرورات فیفتی
جامع الفصولین میں کہاہے کہ میرے نزدیك ظاہر یہ ہے کہ واقعہ پر غور کیا جائے اور احتیاط کی جائے اور حرج اور ضروریات کا اندازہ کیا جائے تاکہ اس
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں فصل فی الاکفاء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۷
بحسبھا جوازا اوفسادا مثلا لو طلق امرأتہ عند العدل فغاب عن البلد ولایعرف مکانہ او یعرف ولکن یعجز عن احضارہ اوعن تسافر الیہ ھی اووکیلھا لبعدہ اولمانع اخرففی مثل ھذا لوبرھن علی الغائب وغلب علی ظن القاضی انہ حق لا تزویر ولا حیلۃ فیہ فینبغی ان یحکم علیہ ولہ وکذا للمفتی ان یفتی بجوازہ دفعا للحرج والضرورات مع انہ مجتھد فیہ ذھب الیہ الائمۃ الثلثۃ وفیہ روایتان عن اصحابنا وینبغی ان ینصب عن الغائب وکیل یعرف انہ یراعی جانب الغائب ولایفرط فی حقہ اھ واقرہ فی نورالعین قلت ویؤیدہ مافی الفتح من باب المفقود لایجوز القضاء علی الغائب الا اذارأی القاضی مصلحۃ فی الحکم لہ وعلیہ فحکم فانہ ینفذ لانہ مجتھد فیہ اھ ملخصا۔
لحاظ سے صحت وفساد کا فتوی دیا جائے مثلا اگرکسی نے عادل شخص کی موجودگی میں بیوی کو طلاق دی او رشہر سے چلا گیا اس کی جگہ معلوم نہ ہو یا علم ہو لیکن وہاں سے اس کو یہاں حاضر کرنا یا وہاں خود پہنچنا دشوار ہو اور خود بیوی یا اس کے وکیل کا دوری کی وجہ سے سفرکرنا مشکل ہو یا کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں اس غائب خاوند کے خلاف شہادت گزرے اور قاضی کو اس کے حق ہونے کا ظن غالب ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ اس میں کوئی حیلہ اورفریب نہیں ہے تو وہ خاوند کے حق میں یا اس کے خلاف فیصلہ دے دے یونہی مفتی کو چاہئے کہ اس غائب کے بارے میں فیصلے کا فتوی دے دے تاکہ حرج اور ضرورت ختم ہوسکے جبکہ یہ مسئلہ بھی اجتہادی ہے اور ائمہ ثلاثہ امام مالک شافعی اور احمد رحمہم الله اس کے جواز کے قائل ہیں او رہمارے ائمہ کے اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کردیا جائے جس کے متعلق معلوم ہوکہ یہ غائب کی رعایت کرتے ہوئے کوتاہی نہیں کرے گا اھ اس کو نورالعین میں ثابت رکھا ہے میں کہتاہوں اوراس کی تائید فتح میں باب المفقود کے اس جزئیہ سے ہوتی ہے کہ قضاء علی الغائب ناجائز ہے مگر جب قاضی غائب کے حق یا خلاف فیصلہ دینے میں کوئی مصلحت سمجھے تو فیصلہ دے دے تونافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے اھ ملخصا(ت)
تنویر میں ہے :
العدۃ سبب وجوبھا النکاح المتاکد
عدت کے وجوب کاسبب وہ نکاح ہے جس میں رخصتی
لحاظ سے صحت وفساد کا فتوی دیا جائے مثلا اگرکسی نے عادل شخص کی موجودگی میں بیوی کو طلاق دی او رشہر سے چلا گیا اس کی جگہ معلوم نہ ہو یا علم ہو لیکن وہاں سے اس کو یہاں حاضر کرنا یا وہاں خود پہنچنا دشوار ہو اور خود بیوی یا اس کے وکیل کا دوری کی وجہ سے سفرکرنا مشکل ہو یا کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں اس غائب خاوند کے خلاف شہادت گزرے اور قاضی کو اس کے حق ہونے کا ظن غالب ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ اس میں کوئی حیلہ اورفریب نہیں ہے تو وہ خاوند کے حق میں یا اس کے خلاف فیصلہ دے دے یونہی مفتی کو چاہئے کہ اس غائب کے بارے میں فیصلے کا فتوی دے دے تاکہ حرج اور ضرورت ختم ہوسکے جبکہ یہ مسئلہ بھی اجتہادی ہے اور ائمہ ثلاثہ امام مالک شافعی اور احمد رحمہم الله اس کے جواز کے قائل ہیں او رہمارے ائمہ کے اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کردیا جائے جس کے متعلق معلوم ہوکہ یہ غائب کی رعایت کرتے ہوئے کوتاہی نہیں کرے گا اھ اس کو نورالعین میں ثابت رکھا ہے میں کہتاہوں اوراس کی تائید فتح میں باب المفقود کے اس جزئیہ سے ہوتی ہے کہ قضاء علی الغائب ناجائز ہے مگر جب قاضی غائب کے حق یا خلاف فیصلہ دینے میں کوئی مصلحت سمجھے تو فیصلہ دے دے تونافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے اھ ملخصا(ت)
تنویر میں ہے :
العدۃ سبب وجوبھا النکاح المتاکد
عدت کے وجوب کاسبب وہ نکاح ہے جس میں رخصتی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء مطلب المسائل التی یکون القضاء فیہا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳۹
بالتسلیم وماجری مجراہ ۔
ہوچکی ہو یا اس کے قائم مقام کوئی معاملہ ہو۔ (ت)
اور اگر لیلی کے شہر میں کوئی قاضی نہ ہو تو اس کی تدبیر ہم مسئلہ مفقود میں لکھ چکے ہیں واﷲ اعلم بالصواب والیہ سبحانہ وتعالی المرجع والماب(الله تعالی ہی درستی کو جانتا ہے اور اس کی پاك ذات کی طرف ہی پناہ اور لوٹنا ہے۔ ت)
مسئلہ ۴۳۱ : ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زن بازاری کے لڑکا پیدا ہوا جب وہ لڑکا سن بلوغ کو پہنچا تب اس نے دین اسلام قبول کیا اب جو شخص کہ پہلے سے اہل اسلام تھا اسے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کردینا جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
جائزہے قال الله عزجلالہ : و لا تنكحوا المشركین حتى یؤمنوا- الآیۃ مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تك وہ مومن نہ ہوجائیں۔ ت) مگر یہ نکاح غیر کفو کے ساتھ ہے دو وجہ سے :
اولا عورت قدیمی مسلمان ہے اور یہ شخص نو مسلم اور نو مسلم مسلمان قدیم کا کفو نہیں
فی الدرالمختار مسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ۔
درمختار میں ہے : خود مسلمان ہونے والا ایسی لڑکی کا کفونہیں ہے جس کا باپ مسلمان ہوا ہو۔ (ت)
ثانیا اس کی ماں زنا ن بازاری سے تھی اور ان بلاد کا عرف عام ہے کہ ایسے شخص سے نکاح کردینا اولیائے زنان کے لئے قطعا موجب عارہوتا ہے اوریہی مبنائے عدم کفاءت ہے۔
فی الفتح القدیر الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ورمعہ ۔
فتح القدیر میں ہے : اس کا سبب اہل عرف کا ناقص سمجھنا ہے لہذا حکم کا مدار یہی بنے گا(ت)
لہذا اس میں ان سب شرائط کالحاظ واجب ہوگا جو غیر کفو سے نکاح کرنے میں ہیں مثلا جبکہ دختر نابالغہ ہے اور باپ برضائے خود اس شخص کے نکاح میں دینا چاہتاہے تولازم ہے کہ اس سے پہلے اپنی
ہوچکی ہو یا اس کے قائم مقام کوئی معاملہ ہو۔ (ت)
اور اگر لیلی کے شہر میں کوئی قاضی نہ ہو تو اس کی تدبیر ہم مسئلہ مفقود میں لکھ چکے ہیں واﷲ اعلم بالصواب والیہ سبحانہ وتعالی المرجع والماب(الله تعالی ہی درستی کو جانتا ہے اور اس کی پاك ذات کی طرف ہی پناہ اور لوٹنا ہے۔ ت)
مسئلہ ۴۳۱ : ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زن بازاری کے لڑکا پیدا ہوا جب وہ لڑکا سن بلوغ کو پہنچا تب اس نے دین اسلام قبول کیا اب جو شخص کہ پہلے سے اہل اسلام تھا اسے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کردینا جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
جائزہے قال الله عزجلالہ : و لا تنكحوا المشركین حتى یؤمنوا- الآیۃ مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تك وہ مومن نہ ہوجائیں۔ ت) مگر یہ نکاح غیر کفو کے ساتھ ہے دو وجہ سے :
اولا عورت قدیمی مسلمان ہے اور یہ شخص نو مسلم اور نو مسلم مسلمان قدیم کا کفو نہیں
فی الدرالمختار مسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ۔
درمختار میں ہے : خود مسلمان ہونے والا ایسی لڑکی کا کفونہیں ہے جس کا باپ مسلمان ہوا ہو۔ (ت)
ثانیا اس کی ماں زنا ن بازاری سے تھی اور ان بلاد کا عرف عام ہے کہ ایسے شخص سے نکاح کردینا اولیائے زنان کے لئے قطعا موجب عارہوتا ہے اوریہی مبنائے عدم کفاءت ہے۔
فی الفتح القدیر الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ورمعہ ۔
فتح القدیر میں ہے : اس کا سبب اہل عرف کا ناقص سمجھنا ہے لہذا حکم کا مدار یہی بنے گا(ت)
لہذا اس میں ان سب شرائط کالحاظ واجب ہوگا جو غیر کفو سے نکاح کرنے میں ہیں مثلا جبکہ دختر نابالغہ ہے اور باپ برضائے خود اس شخص کے نکاح میں دینا چاہتاہے تولازم ہے کہ اس سے پہلے اپنی
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۵
القرآن الکریم ۲ /۲۲۱
درمختار باب الکفاءۃ مطبع متجبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
فتح القدیر باب الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۳
القرآن الکریم ۲ /۲۲۱
درمختار باب الکفاءۃ مطبع متجبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
فتح القدیر باب الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۳
کسی بیٹی کا نکاح غیرکفو سے نہ کرچکاہو ورنہ ناجائز ہوگا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح بغیر کفو ان کان الولی ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ یہ نکاح غیر کفو میں تب صحیح ہوگا جب نکاح کا ولی باپ یا دادا ہوبشرطیکہ وہ سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں۔ اور اگر ہوں تو پھر صحیح نہیں ہوگا اس مسئلہ میں سب کا اتفاق ہے اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۲ : از شہر کہنہ ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ عاقلہ بالغہ کا نکاح عمرو کے ساتھ کیا عمرو کی نسبت اس وقت شبہہ ہوا تھا کہ شاید رافضی ہو اس پر اس سے پوچھا گیا اس نے صاف انکار کیا اوراپنے آپ کو سنی بتایا اور بہت صفائی کے ساتھ اپنے سنی ہونے کا اطمینان دلایا یہاں تك کہ ہندہ کے معمولی اذن ورضا سے نکاح ہوگیا ہندہ رخصت ہوکر عمرو کے یہاں گئی کچھ عرصہ بعد جب ماہ محرم آیا اور زید نے ہندہ کو اپنے یہاں بلایا اس وقت عمرو کا رافضی ہونا ظاہر ہوا اس نے ہندہ کا زیور وغیرہ سب اتار کر ایك نیلا چیتھڑا رافضیوں کا سااڑھا کر ہندہ کو بھیج دیا اور تحقیق ہواکہ عمرو رافضی ہے جب سے زید نے ہندہ کو اس کے یہاں جانے نہ دیا اب علماء اہل سنت سے فتوی طلب ہے کہ اس صورت میں عمرو رافضی اور ہندہ سنیہ کا نکاح صحیح ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
قطع نظر اس سے کہ آج کل عام رافضی ضروریات دین کے منکر اوردائرہ اسلام سے قطعا خارج ہیں جن سے کسی کا نکاح اصلا کسی طرح نہیں ہوسکتا بفرض باطل اگریہ شخص اس حد کا نہ بھی ہونہ ان کا منکران ضروریات دین اور ان کے مجتہدین کو مسلمان جانتاہو تاہم اس قدرمیں شك نہیں کہ رافضی سنی کا کفو نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
وتعتبر یعنی الکفاءۃ فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفو الصالحۃ الخ۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری کی یعنی پرہیز گاری کی معتبر ہے لہذا فاسق شخص صالحہ لڑکی کا کفو نہ ہوگا الخ(ت)
فی الدرالمختار لزم النکاح بغیر کفو ان کان الولی ابااوجد الم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ یہ نکاح غیر کفو میں تب صحیح ہوگا جب نکاح کا ولی باپ یا دادا ہوبشرطیکہ وہ سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں۔ اور اگر ہوں تو پھر صحیح نہیں ہوگا اس مسئلہ میں سب کا اتفاق ہے اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۲ : از شہر کہنہ ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ عاقلہ بالغہ کا نکاح عمرو کے ساتھ کیا عمرو کی نسبت اس وقت شبہہ ہوا تھا کہ شاید رافضی ہو اس پر اس سے پوچھا گیا اس نے صاف انکار کیا اوراپنے آپ کو سنی بتایا اور بہت صفائی کے ساتھ اپنے سنی ہونے کا اطمینان دلایا یہاں تك کہ ہندہ کے معمولی اذن ورضا سے نکاح ہوگیا ہندہ رخصت ہوکر عمرو کے یہاں گئی کچھ عرصہ بعد جب ماہ محرم آیا اور زید نے ہندہ کو اپنے یہاں بلایا اس وقت عمرو کا رافضی ہونا ظاہر ہوا اس نے ہندہ کا زیور وغیرہ سب اتار کر ایك نیلا چیتھڑا رافضیوں کا سااڑھا کر ہندہ کو بھیج دیا اور تحقیق ہواکہ عمرو رافضی ہے جب سے زید نے ہندہ کو اس کے یہاں جانے نہ دیا اب علماء اہل سنت سے فتوی طلب ہے کہ اس صورت میں عمرو رافضی اور ہندہ سنیہ کا نکاح صحیح ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
قطع نظر اس سے کہ آج کل عام رافضی ضروریات دین کے منکر اوردائرہ اسلام سے قطعا خارج ہیں جن سے کسی کا نکاح اصلا کسی طرح نہیں ہوسکتا بفرض باطل اگریہ شخص اس حد کا نہ بھی ہونہ ان کا منکران ضروریات دین اور ان کے مجتہدین کو مسلمان جانتاہو تاہم اس قدرمیں شك نہیں کہ رافضی سنی کا کفو نہیں ہوسکتا درمختار میں ہے :
وتعتبر یعنی الکفاءۃ فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفو الصالحۃ الخ۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری کی یعنی پرہیز گاری کی معتبر ہے لہذا فاسق شخص صالحہ لڑکی کا کفو نہ ہوگا الخ(ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھوا شد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من یعتقد شیئا علی خلاف مایعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ ۔
بدعتی شخص اعتقادی لحاظ سے فاسق ہے اوریہ عمل فسق سے زیادہ براہے کیونکہ عملی فاسق اپنے گناہ کا اعتراف کرتاہے اس لئے وہ ڈرتاہے اور استغفار کرتاہے بخلاف بدعتی کے اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلسنت وجماعت کے اعتقاد کے خلاف اعتقادبنائے۔ (ت)
طحطاوی حاشیہ درمختار میں زیر قول شرح تزوجتہ علی انہ حر اوسنی اوقادر علی المھر والنفقۃ فبان بخلافہ (جب نکاح دینے ولاکہے میں نے آزاد سنی اور مہر ونفقہ دینے پر قادر سمجھ کرنکاح کیاہے تو بعد کو اس کے خلاف ظاہر ہوا۔ ت) فرمایا :
لفقد الکفاءۃ بالرق فی الاول وفی الدین فی الثانی وفی المال فی الثالث ۔
پہلی صورت(آزاد)میں غلامی کی وجہ سے دوسری میں دین کی وجہ سے اورتیسری میں مال کی وجہ سے کفو نہ ہوئی (ت)
اور جبکہ ہندہ عاقلہ بالغہ تھی او رنکاح اس کے اذن سے واقع ہوا تو حقیقۃ وہ ہندہ کا خود اپنا نکاح کرنا تھا کہ بالغہ پر سے ولایت منقطع اور فعل وکیل فعل مؤکل ہے خصوصا نکاح میں کہ یہاں تووکیل سفیر ومعبر محض ہوتا ہے اور تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زید ولی ہندہ کو اس وقت تك عمرو کا رافضی ہونا معلوم نہ تھا عمرو نے براہ فریب اسے مغالطہ دیااور وہ اسے سنی سمجھ کر نکاح پر راضی ہوا تو حاصل ا س صورت کا یہ ٹھہرا کہ عورت نے اپنا نکاح غیر کفو سے کیا اور ولی کو پیش از نکاح اس کے غیر کفو ورافضی ہونے پر اطلاع نہ تھی ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ تو یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی دونوں کو اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیا رہے درمختار میں ہے :
تزوجتہ علی انہ سنی فبان بخلافہ کان لھا الخیار فلیحفظ انتھی ملخصا۔
عورت نے سنی ہونے کی وجہ سے نکاح کیا اور اس کے خلاف پایا تو اسے فسخ کا اختیار ہے اسے محفوظ کرلو انتہی ملخصا(ت)
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھوا شد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من یعتقد شیئا علی خلاف مایعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ ۔
بدعتی شخص اعتقادی لحاظ سے فاسق ہے اوریہ عمل فسق سے زیادہ براہے کیونکہ عملی فاسق اپنے گناہ کا اعتراف کرتاہے اس لئے وہ ڈرتاہے اور استغفار کرتاہے بخلاف بدعتی کے اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلسنت وجماعت کے اعتقاد کے خلاف اعتقادبنائے۔ (ت)
طحطاوی حاشیہ درمختار میں زیر قول شرح تزوجتہ علی انہ حر اوسنی اوقادر علی المھر والنفقۃ فبان بخلافہ (جب نکاح دینے ولاکہے میں نے آزاد سنی اور مہر ونفقہ دینے پر قادر سمجھ کرنکاح کیاہے تو بعد کو اس کے خلاف ظاہر ہوا۔ ت) فرمایا :
لفقد الکفاءۃ بالرق فی الاول وفی الدین فی الثانی وفی المال فی الثالث ۔
پہلی صورت(آزاد)میں غلامی کی وجہ سے دوسری میں دین کی وجہ سے اورتیسری میں مال کی وجہ سے کفو نہ ہوئی (ت)
اور جبکہ ہندہ عاقلہ بالغہ تھی او رنکاح اس کے اذن سے واقع ہوا تو حقیقۃ وہ ہندہ کا خود اپنا نکاح کرنا تھا کہ بالغہ پر سے ولایت منقطع اور فعل وکیل فعل مؤکل ہے خصوصا نکاح میں کہ یہاں تووکیل سفیر ومعبر محض ہوتا ہے اور تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زید ولی ہندہ کو اس وقت تك عمرو کا رافضی ہونا معلوم نہ تھا عمرو نے براہ فریب اسے مغالطہ دیااور وہ اسے سنی سمجھ کر نکاح پر راضی ہوا تو حاصل ا س صورت کا یہ ٹھہرا کہ عورت نے اپنا نکاح غیر کفو سے کیا اور ولی کو پیش از نکاح اس کے غیر کفو ورافضی ہونے پر اطلاع نہ تھی ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ تو یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی دونوں کو اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیا رہے درمختار میں ہے :
تزوجتہ علی انہ سنی فبان بخلافہ کان لھا الخیار فلیحفظ انتھی ملخصا۔
عورت نے سنی ہونے کی وجہ سے نکاح کیا اور اس کے خلاف پایا تو اسے فسخ کا اختیار ہے اسے محفوظ کرلو انتہی ملخصا(ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۵
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب العنین وغیرہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۱۳
درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۵
درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۵
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب العنین وغیرہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۱۳
درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۵
اسی میں ہے :
اذا شرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلك ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار ولو لو الجیۃ فلیحفظ ۔
اگر کفو ہونے کی شرط پرولیوں نے نکاح دیا یا نکاح کے وقت انھیں کفو کی خبر دی گئی تواس بناپر انھوں نے نکاح کردیا پھر ظاہر ہواکہ وہ ایسا نہیں یعنی غیر کفو ہے تو اولیاء کو فسخ کااختیار ہے ولوالجیہ اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
مگر روایت صحیحہ ومفتی بہاپر نکاح اصلا نہ ہوا فتاوی خیریہ میں ہے :
سئل فی بکر بالغۃ زوجھا اخوھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجہ لھا باذنھا کتزوجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا افتی کثیر بعدم انعقادہ اصلا وھی روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ ففی المعراج معزیا الی قاضی خاں وغیرہ والمختار للفتوی فی زماننا روایۃ الحسن اھ ملخصا۔
باکرہ بالغہ کا اس کے بھائی نے غیر کفو میں نکاح کردیا جبکہ لڑکی نے اجازت دی ہو سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا کہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہے جیسے لڑکی نے خود نکاح کیا ہو یہ مسئلہ لڑکی کا خود غیر کفو میں اپنے اولیاء کی رضا کے بغیر نکاح کرنے کا ہے بہت فقہاء نے اس نکاح کے اصلا منعقد نہ ہونے پر فتوی دیا ہے اور یہ امام حسن کی امام ابوحنیفہ سے روایت ہے تو معراج میں اس کو قاضی خاں وغیرہ کی طرف سے منسوب کرکے کہا کہ ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے یہی مختار ہے جو امام حسن نے روایت کی ہے اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختارہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرلیا تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو اور وہ اس نکاح ثانی پر راضی نہ ہوا ہو اس کو محفوظ کرلو۔ (ت)
اذا شرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلك ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار ولو لو الجیۃ فلیحفظ ۔
اگر کفو ہونے کی شرط پرولیوں نے نکاح دیا یا نکاح کے وقت انھیں کفو کی خبر دی گئی تواس بناپر انھوں نے نکاح کردیا پھر ظاہر ہواکہ وہ ایسا نہیں یعنی غیر کفو ہے تو اولیاء کو فسخ کااختیار ہے ولوالجیہ اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
مگر روایت صحیحہ ومفتی بہاپر نکاح اصلا نہ ہوا فتاوی خیریہ میں ہے :
سئل فی بکر بالغۃ زوجھا اخوھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجہ لھا باذنھا کتزوجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا افتی کثیر بعدم انعقادہ اصلا وھی روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ ففی المعراج معزیا الی قاضی خاں وغیرہ والمختار للفتوی فی زماننا روایۃ الحسن اھ ملخصا۔
باکرہ بالغہ کا اس کے بھائی نے غیر کفو میں نکاح کردیا جبکہ لڑکی نے اجازت دی ہو سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا کہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہے جیسے لڑکی نے خود نکاح کیا ہو یہ مسئلہ لڑکی کا خود غیر کفو میں اپنے اولیاء کی رضا کے بغیر نکاح کرنے کا ہے بہت فقہاء نے اس نکاح کے اصلا منعقد نہ ہونے پر فتوی دیا ہے اور یہ امام حسن کی امام ابوحنیفہ سے روایت ہے تو معراج میں اس کو قاضی خاں وغیرہ کی طرف سے منسوب کرکے کہا کہ ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے یہی مختار ہے جو امام حسن نے روایت کی ہے اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۔
غیر کفو میں اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختارہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرلیا تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو اور وہ اس نکاح ثانی پر راضی نہ ہوا ہو اس کو محفوظ کرلو۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بلارضی نفی منصب علی المقید الذی ھو رضی الولی والقید الذی ھو بعد معرفتہ ایاہ فیصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیرالکفو مع علمہ بانہ کذلک اھ ح۔
ماتن کا قول “ بغیررضا “ یہ مقید کی نفی ہے اور وہ ولی کی رضا ہے اور اس کی قید “ جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو “ ہے تو اس کا مصداق یہ تمام صورتیں ہوں گی غیر کفو ہونے کے علم کے بعد رضا نہ ہو یا علم غیر کفو او ر رضادونوں نہ ہوں یا رضا ہو مگر غیر کفو کا علم نہ ہو تو ان تینوں صورتوں میں وہ حلال نہ ہوگی صرف ایك چوتھی صورت حلال ہوگی کہ غیر کفو ہونے کا علم ہونے کے باوجود رضا ہو اھ ح(ت)
پس صورت مستفسرہ میں حکم یہ ہے کہ عمرو وہندہ کا نکاح اصلا منعقد نہ ہوا نہ وہ اس کا شوہر ہے نہ یہ اس کی زوجہ نہ اسے اس کے یہاں بھیجنا یا جانا روا نہ اس کو اس پر کسی قسم کا اختیار یا دعوی والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۳ : از دیورنیا مسئولہ عنایت حسین صاحب ۸ شوال ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صور ت میں کہ ایك شخص نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے سالے کے ساتھ میں کردیا اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ شخص جملہ منہیات میں مبتلا ہے جیسے شراب خوری اور جوابازی اور زناکاری اور چوری کرتاہے تمام اور عارضہ سوزاك اورآتشك وغیرہ کا موجودہے او رعلاوہ اس کے غیر کفو بھی ہے اور تارك الصلوۃ ہے ا ور خوش دامن وغیرہ اس کی صالحین میں سے ہیں اور ان کو اس تقریب سے نہایت خفت اور ذلت اور عارمعلوم ہوتی ہے آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
سائل مظہر کہ یہ لڑکی وقت نکاح نابالغہ ویتیمہ تھی اور اس کا کوئی بھائی بھی نہیں چچا نے جس سے نکاح کیا وہ پیش از نکاح بھی ایسا ہی بد رویہ وبد اطوار تھا اگریہ بیان واقعی ہے تو نکاح مذکور اصلا نہ ہوا
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرھما
اگر نکاح کردینے ولا باپ دادا کا غیر ہو تو غیر کفو سے
قولہ بلارضی نفی منصب علی المقید الذی ھو رضی الولی والقید الذی ھو بعد معرفتہ ایاہ فیصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیرالکفو مع علمہ بانہ کذلک اھ ح۔
ماتن کا قول “ بغیررضا “ یہ مقید کی نفی ہے اور وہ ولی کی رضا ہے اور اس کی قید “ جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو “ ہے تو اس کا مصداق یہ تمام صورتیں ہوں گی غیر کفو ہونے کے علم کے بعد رضا نہ ہو یا علم غیر کفو او ر رضادونوں نہ ہوں یا رضا ہو مگر غیر کفو کا علم نہ ہو تو ان تینوں صورتوں میں وہ حلال نہ ہوگی صرف ایك چوتھی صورت حلال ہوگی کہ غیر کفو ہونے کا علم ہونے کے باوجود رضا ہو اھ ح(ت)
پس صورت مستفسرہ میں حکم یہ ہے کہ عمرو وہندہ کا نکاح اصلا منعقد نہ ہوا نہ وہ اس کا شوہر ہے نہ یہ اس کی زوجہ نہ اسے اس کے یہاں بھیجنا یا جانا روا نہ اس کو اس پر کسی قسم کا اختیار یا دعوی والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۳ : از دیورنیا مسئولہ عنایت حسین صاحب ۸ شوال ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صور ت میں کہ ایك شخص نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے سالے کے ساتھ میں کردیا اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ شخص جملہ منہیات میں مبتلا ہے جیسے شراب خوری اور جوابازی اور زناکاری اور چوری کرتاہے تمام اور عارضہ سوزاك اورآتشك وغیرہ کا موجودہے او رعلاوہ اس کے غیر کفو بھی ہے اور تارك الصلوۃ ہے ا ور خوش دامن وغیرہ اس کی صالحین میں سے ہیں اور ان کو اس تقریب سے نہایت خفت اور ذلت اور عارمعلوم ہوتی ہے آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
سائل مظہر کہ یہ لڑکی وقت نکاح نابالغہ ویتیمہ تھی اور اس کا کوئی بھائی بھی نہیں چچا نے جس سے نکاح کیا وہ پیش از نکاح بھی ایسا ہی بد رویہ وبد اطوار تھا اگریہ بیان واقعی ہے تو نکاح مذکور اصلا نہ ہوا
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیرھما
اگر نکاح کردینے ولا باپ دادا کا غیر ہو تو غیر کفو سے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ای غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر الکفو اصلا ومافی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۔ (ملخصا)
اصلا نکاح نہ ہوگا۔ او رجو صدرالشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح اور باپ دادا کو اس کے فسخ کا اختیار ہے یہ صرف وہم ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وتعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ او فاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولا علی الظاھر نھر ۔ انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری یعنی پرہیزگاری کی معتبر ہے دیانت سے مراد تقوی ہے لہذا کوئی فاسق کسی صالحہ یا فاسقہ بنت صالح کے لئے کفو نہیں بن سکتا فسق اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ یہ ظاہر الروایت ہے نہر انتہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سید زادی کا نکاح اس کے چچا نے گیارہ برس کی عمر میں بے اطلاع باپ کے ان کی غیبت میں زید پٹھان سے کردیا آیایہ نکاح جائز ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب
پٹھان سیدزادی کا کفو نہیں ہوسکتا تو یہ نکاح کہ بے اطلاع پدر تھا عام از انکہ ہندہ اس وقت بالغہ ہو خواہ نابالغہ اس نکاح پر راضی تھی خواہ ناراض مطلقا محض باطل واقع ہوا یہاں تك کہ اب اگر اس کا باپ بھی جائز رکھے تو درست نہیں ہوسکتا زید وہندہ کو باہم قربت ناروا اور ہندہ اب اگر بالغہ ہو توا سے ورنہ اس کے ولی کو اختیارہے کہ بے طلاق لئے جس سے چاہے نکاح کردے زید ہرگز مزاحم نہیں ہوسکتا کہ مذہب مفتی بہ پر وہ محض اجنبی ہے
فی ردالمحتار عن کافی الامام الحاکم الشہید قریش بعضھا اکفاء لبعض والعرب بعضھم اکفاء لبعض ولیسوا باکفاء لقریش ومن کان لہ من الموالی ابوان اوثلثۃ فی
ردالمحتار میں ہے کہ امام حاکم شہید کی کافی میں ہے کہ قریش ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں اور عرب ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں مگر قریش کے لئے کفو نہیں اسلام میں اگر کسی کے دو باپ یعنی باپ دادا یا تین۳
اصلا نکاح نہ ہوگا۔ او رجو صدرالشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح اور باپ دادا کو اس کے فسخ کا اختیار ہے یہ صرف وہم ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وتعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ او فاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولا علی الظاھر نھر ۔ انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عرب وعجم میں کفاءت دینداری یعنی پرہیزگاری کی معتبر ہے دیانت سے مراد تقوی ہے لہذا کوئی فاسق کسی صالحہ یا فاسقہ بنت صالح کے لئے کفو نہیں بن سکتا فسق اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ یہ ظاہر الروایت ہے نہر انتہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سید زادی کا نکاح اس کے چچا نے گیارہ برس کی عمر میں بے اطلاع باپ کے ان کی غیبت میں زید پٹھان سے کردیا آیایہ نکاح جائز ہوا یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب
پٹھان سیدزادی کا کفو نہیں ہوسکتا تو یہ نکاح کہ بے اطلاع پدر تھا عام از انکہ ہندہ اس وقت بالغہ ہو خواہ نابالغہ اس نکاح پر راضی تھی خواہ ناراض مطلقا محض باطل واقع ہوا یہاں تك کہ اب اگر اس کا باپ بھی جائز رکھے تو درست نہیں ہوسکتا زید وہندہ کو باہم قربت ناروا اور ہندہ اب اگر بالغہ ہو توا سے ورنہ اس کے ولی کو اختیارہے کہ بے طلاق لئے جس سے چاہے نکاح کردے زید ہرگز مزاحم نہیں ہوسکتا کہ مذہب مفتی بہ پر وہ محض اجنبی ہے
فی ردالمحتار عن کافی الامام الحاکم الشہید قریش بعضھا اکفاء لبعض والعرب بعضھم اکفاء لبعض ولیسوا باکفاء لقریش ومن کان لہ من الموالی ابوان اوثلثۃ فی
ردالمحتار میں ہے کہ امام حاکم شہید کی کافی میں ہے کہ قریش ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں اور عرب ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں مگر قریش کے لئے کفو نہیں اسلام میں اگر کسی کے دو باپ یعنی باپ دادا یا تین۳
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
الاسلام فبعضھم اکفاء لبعض ولیسو ا باکفاء للعرب اھوفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفوبعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلث نکحت غیر کفو بلا رضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ اھ وفی ردالمحتار عن البحر الرائق اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔
باپ آزاد ی میں ہو گزرے ہوں وہ ایك دوسرے کے کفو ہوں گے لیکن عربوں کے کفو نہیں ہوں گے اھ اور درمختار میں ہے کہ ولی کی رضاکے بغیر غیر کفو میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوگا اورفساد زمان کی بناپر اسی پر فتوی ہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر غیر کفومیں ولی کی عدم رضا کے باوجود نکاح کرلیا جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اس کو محفوظ کرلو اھ اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جب لڑکی کا ولی نکاح سے قبل راضی نہ ہو تو بعد کی اجازت کارآمد نہ ہوگی اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ولیہ ہندہ کو کہ سید زادی ہے دھوکہ دے کر اپنی قوم اوراپنا اور اپنے باپ کا مشہور نام اور اپنی ماں کا کنیز غیر شرعی ہونا چھپا کر بذریعہ تحریر وتقریر اپنے آپ کو شیخ یا سیداور ڈھائی بسوہ حقیت کا مالك ظاہر کرکے ہندہ سے نکاح کرلیا اور اس ملك فرضی کو مہر ہندہ قرار دیا بعد خلوت صحیحہ ہندہ کو معلوم ہوا کہ نہ زید کا وہ نام نہ قوم نہ زمین بلکہ وہ کنیز ك غیر شرعی سے پیدا ہوا ہے اب ہندہ نارضامند ہوکر فسخ نکاح چاہتی ہے آیا صورت مستفسرہ میں نکاح کو خود فسخ یا اس کے فسخ کا دعوی کرسکتی ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نابالغہ ہے اور یہ نکاح اب وجد نے نہ کیا یا انھیں نے کیا مگر اس بارہ میں ان کی بے احتیاطی ہوئی تھی یعنی کبھی اور بھی کسی بیٹی پوتی کا غیر کفو دنی القوم یا محتاج سے نکاح کرچکے ہوں تو یہ نکاح اصلا صحیح نہ ہوا اگر ہندہ کے لئے دور ونزدیك کہیں کوئی ولی مرد عصبہ عاقل بالغ حرمسلم مثلا باپ دادا بھائی بھتیجا اپنا چچا یا اپنے باپ دادا کا چچا یا ان میں کسی کی اولاد ذکور عام ازاں اب وجد کے سوا یہ سب سگے ہوں یا سوتیلے موجود ہے اوریہ نکاح اس کے بے اطلاع ہوا یا مطلع تھا
باپ آزاد ی میں ہو گزرے ہوں وہ ایك دوسرے کے کفو ہوں گے لیکن عربوں کے کفو نہیں ہوں گے اھ اور درمختار میں ہے کہ ولی کی رضاکے بغیر غیر کفو میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوگا اورفساد زمان کی بناپر اسی پر فتوی ہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر غیر کفومیں ولی کی عدم رضا کے باوجود نکاح کرلیا جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اس کو محفوظ کرلو اھ اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جب لڑکی کا ولی نکاح سے قبل راضی نہ ہو تو بعد کی اجازت کارآمد نہ ہوگی اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ولیہ ہندہ کو کہ سید زادی ہے دھوکہ دے کر اپنی قوم اوراپنا اور اپنے باپ کا مشہور نام اور اپنی ماں کا کنیز غیر شرعی ہونا چھپا کر بذریعہ تحریر وتقریر اپنے آپ کو شیخ یا سیداور ڈھائی بسوہ حقیت کا مالك ظاہر کرکے ہندہ سے نکاح کرلیا اور اس ملك فرضی کو مہر ہندہ قرار دیا بعد خلوت صحیحہ ہندہ کو معلوم ہوا کہ نہ زید کا وہ نام نہ قوم نہ زمین بلکہ وہ کنیز ك غیر شرعی سے پیدا ہوا ہے اب ہندہ نارضامند ہوکر فسخ نکاح چاہتی ہے آیا صورت مستفسرہ میں نکاح کو خود فسخ یا اس کے فسخ کا دعوی کرسکتی ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نابالغہ ہے اور یہ نکاح اب وجد نے نہ کیا یا انھیں نے کیا مگر اس بارہ میں ان کی بے احتیاطی ہوئی تھی یعنی کبھی اور بھی کسی بیٹی پوتی کا غیر کفو دنی القوم یا محتاج سے نکاح کرچکے ہوں تو یہ نکاح اصلا صحیح نہ ہوا اگر ہندہ کے لئے دور ونزدیك کہیں کوئی ولی مرد عصبہ عاقل بالغ حرمسلم مثلا باپ دادا بھائی بھتیجا اپنا چچا یا اپنے باپ دادا کا چچا یا ان میں کسی کی اولاد ذکور عام ازاں اب وجد کے سوا یہ سب سگے ہوں یا سوتیلے موجود ہے اوریہ نکاح اس کے بے اطلاع ہوا یا مطلع تھا
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
مگر اس نے صراحۃ نکاح کی اجازت نہ دی اگرچہ سکوت کیا ہو اگرچہ مجلس عقدمیں موجود رہا ہو یاصراحۃ اجازت ورضا مندی بھی ظاہر کی بلکہ خودمتولی نکاح ہوا مگر وہ ان حالات باطنہ زید پروقوف نہ رکھتاتھا تو ان سب صورتوں میں مذہب مفتی بہ پر وہ نکاح محض باطل وکالعدم بلکہ شرعا فی الحقیقت منعدم ہے اگرچہ بعد وقوع نکاح وعلم بحالات زید ولی ہندہ صراحۃ کہہ دے کہ میں ایسی حالت پر بھی اس نکاح پر راضی اور اسے جائز رکھتا ہوں تا ہم کچھ حاصل نہیں کہ جو شرعا باطل ہے کسی کی رضامندی سے صحیح نہیں ہوسکتا اس تقدیر پر تو فسخ کی خود کیا حاجت کہ جب عقد ہوا ہی نہیں تو فسخ کیا کیا جائے۔
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ اھ فی ردالمحتارلایلزم التصریح بعدم الرضی بل السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا فلا بد لصحۃ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لا یفید فلیتامل اھ وفیہ یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ۔
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے پر فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے یہی مختار ہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کوعلم کے باوجود اس کی رضا کے بغیر غیر کفو میں نکاح کردیا تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی۔ اس کو محفوظ کرلو اھ ردالمحتار میں ہے کہ ولی کا اپنی عدم رضا کو صراحۃ بیان کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا سکوت ہی عدم رضا ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے لہذا صحت نکاح کے لئے صراحۃ رضامندی کا اظہارضروری ہے اسی بناپر اگر پہلے خاموش رہا اور نکاح کے بعد راضی ہوگیا تو کارآمد نہیں غور کرو اھ۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان صورتوں میں عدم رضاہوگی علم ہو رضانہ ہو یا علم نہ ہو رضا ہو یا غیر کفو کا علم اور رضا دونوں نہ ہوں ان تینوں صورتوں میں وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اور صرف ایك صورت میں حلال ہوگی وہ یہ کہ اس کو غیر کفو ہونے کا علم ہو اور راضی ہو اھ۔ (ت)
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ اھ فی ردالمحتارلایلزم التصریح بعدم الرضی بل السکوت منہ لایکون رضی کما ذکرنا فلا بد لصحۃ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لا یفید فلیتامل اھ وفیہ یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلك اھ۔
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے پر فتوی دیا جائے گا فساد زمان کی وجہ سے یہی مختار ہے لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کوعلم کے باوجود اس کی رضا کے بغیر غیر کفو میں نکاح کردیا تو وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی۔ اس کو محفوظ کرلو اھ ردالمحتار میں ہے کہ ولی کا اپنی عدم رضا کو صراحۃ بیان کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا سکوت ہی عدم رضا ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے لہذا صحت نکاح کے لئے صراحۃ رضامندی کا اظہارضروری ہے اسی بناپر اگر پہلے خاموش رہا اور نکاح کے بعد راضی ہوگیا تو کارآمد نہیں غور کرو اھ۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان صورتوں میں عدم رضاہوگی علم ہو رضانہ ہو یا علم نہ ہو رضا ہو یا غیر کفو کا علم اور رضا دونوں نہ ہوں ان تینوں صورتوں میں وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی اور صرف ایك صورت میں حلال ہوگی وہ یہ کہ اس کو غیر کفو ہونے کا علم ہو اور راضی ہو اھ۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
اوراگر ہندہ کے لئے اس قسم کا کوئی ولی نہیں یا جو ہیں وہ کل یا بعض یا دو صورت تفاوت درجہ صرف ولی اقرب پیش از نکاح باوجود وقوف بحالات زید صراحۃ اپنی رضامندی ظاہر کرچکا ہو تو بشرطیکہ ہندہ بالغہ ہو صحت نکاح میں کچھ شبہہ نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۶ : از شہر کہنہ ۴ رمضان مبارك ۱۳۱۳ھ
ماقولہم رحمہم اللہ تعالی اس مسئلہ میں کہ پٹھان کے لڑکے کا سید کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ لڑکی جوان ہے اور اس کا باپ زندہ دونوں کو معلوم ہے کہ یہ پٹھان ہے اور دونوں اس عقد پر راضی ہیں باپ خود اس کے سامان میں ہے جب صورت یہ ہے تو اس نکاح کے جواز میں اصلا شبہہ نہیں کما نص علیہ فی رد المحتار وغیرہ من الاسفار(جیساکہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں اس پر نص ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۷ : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ہندہ بعمر چار سالہ ہوا تھا اور اس وقت عمر اس کے زوج بکر کی پانچ سال تھی جب بکر سن تمیز کو پہنچا تو مردی سے خارج ہے اور اور بہمراہی ہیز رقص کرتا ہے تو نامردی او ران حرکات زشت کے باعث والد ہندہ عار وکسر شان سمجھ کر دختر کے بھیجنے میں منکر ہے اور اب دختر کی عمر چودہ سال ہے شوہر کو پسند وقبول نہیں کرتی تو اس صورت میں دربارہ جواز وعدم جواز نکاح کا کیا حکم ہے اور بعد تفریق دین ومہر ا س کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگرچہ مخنثوں کے ساتھ رقص کرنا بیشك زوال کفاءت کاباعث ہے کہ ایسے شخص سے رشتہ ضرور موجب ننگ وعار ہے مگر کفاءت کا اعتبار ابتدائے نکاح کے وقت ہے اگر اس وقت کفو ہو پھر کفاءت جاتی رہے تو اس کا لحاظ نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلا یضرزوالھا بعدہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ ۔
درمختار میں ہے کہ کفو کا اعتبار ابتداء نکاح کے وقت ہے لہذا نکاح کے بعد اگر کفو ختم ہوجائے تو مضر نہیں جیساکہ نکاح کے وقت صالح ہونے کی وجہ سے کفو تھا اور بعدمیں وہ فاسق بن گیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۶ : از شہر کہنہ ۴ رمضان مبارك ۱۳۱۳ھ
ماقولہم رحمہم اللہ تعالی اس مسئلہ میں کہ پٹھان کے لڑکے کا سید کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر کہ لڑکی جوان ہے اور اس کا باپ زندہ دونوں کو معلوم ہے کہ یہ پٹھان ہے اور دونوں اس عقد پر راضی ہیں باپ خود اس کے سامان میں ہے جب صورت یہ ہے تو اس نکاح کے جواز میں اصلا شبہہ نہیں کما نص علیہ فی رد المحتار وغیرہ من الاسفار(جیساکہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں اس پر نص ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۷ : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ہندہ بعمر چار سالہ ہوا تھا اور اس وقت عمر اس کے زوج بکر کی پانچ سال تھی جب بکر سن تمیز کو پہنچا تو مردی سے خارج ہے اور اور بہمراہی ہیز رقص کرتا ہے تو نامردی او ران حرکات زشت کے باعث والد ہندہ عار وکسر شان سمجھ کر دختر کے بھیجنے میں منکر ہے اور اب دختر کی عمر چودہ سال ہے شوہر کو پسند وقبول نہیں کرتی تو اس صورت میں دربارہ جواز وعدم جواز نکاح کا کیا حکم ہے اور بعد تفریق دین ومہر ا س کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگرچہ مخنثوں کے ساتھ رقص کرنا بیشك زوال کفاءت کاباعث ہے کہ ایسے شخص سے رشتہ ضرور موجب ننگ وعار ہے مگر کفاءت کا اعتبار ابتدائے نکاح کے وقت ہے اگر اس وقت کفو ہو پھر کفاءت جاتی رہے تو اس کا لحاظ نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلا یضرزوالھا بعدہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ ۔
درمختار میں ہے کہ کفو کا اعتبار ابتداء نکاح کے وقت ہے لہذا نکاح کے بعد اگر کفو ختم ہوجائے تو مضر نہیں جیساکہ نکاح کے وقت صالح ہونے کی وجہ سے کفو تھا اور بعدمیں وہ فاسق بن گیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
ظاہر ہے کہ خصلت شنیعہ بکر میں بعد نکاح پیدا ہوئی تو اس وجہ سے ابتداء اس کے نکاح پر اعتراض نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ آیا جس وقت نکاح ہوا اس وقت بھی بکر کفو ہندہ تھا یا نہیں اورمہر ہندہ میں اس کے مہر مثل سے کمی فاحش ہوئی یا نہیں اور نکاح ہندہ کے باپ یا اس کی عدم ولایت کی حالت میں دادا نے کیا یا ان کے غیر کے مثلا ماں بھائی چچا وغیرہم نے اور ان میں سے کسی نے کیا تو بحالت ولایت خود کیا مثلا باپ وغیرہ جو اس سے اقرب تھے شرعا قابل ولایت نہ تھے خوا ہ ان کی ولایت نہ رہی تھی یا بحال عدم ولایت کیاتھا کہ دوسرا ولی اقرب موجود تھا پھر اس تقدیر پر ولی اقرب نے سن کر جائز کر رکھا یا رد کردیا ہنوز ساکت ہے غرض صورتیں بہت ہیں اور ان سب کا حکم شرعی یہ کہ صغیرہ کا نکاح جب غیر اب وجد نے کیا ہو اگر مہر مثل میں کمی فاحش کی یازوج اسی وقت مثلا بوجہ کم قوم ہونے کے کفو نہ تھا تو وہ نکاح سرے سے صحیح ہی نہیں ہوتا۔ اگرچہ غیر ہی اسی وقت ولی اقرب ہو اور اگر اس وقت کفاءت تھی اور مہر میں بھی کمی فاحش نہ ہوئی تو بحال عدم ولایت نکاح اجازت ولی اقرب پر موقوف رہتاہے اگر اس نے جائز کر دیا نافذ ہوگیا رد کردیا باطل ہوگیا ساکت ہے تو ابھی اسے اختیار ہے کہ ردکردے خواہ نافذ اور اگر وہ ساکت ہی رہے یہاں تك کہ صغیرہ سن بلبوغ کو پہنچی تو اب اسے اختیار ہوگا کہ ا س نکاح موقوف کو رد کردے یا نافذ کردے اور بحال ولایت نکاح منعقد ونافذ ہوتا مگر صغیرہ کو خیار بلوغ ملتا ہے یعنی اختیار دیا جاتا ہے کہ اگر نکاح کا حال اسے پہلے سے معلوم ہے تو جس وقت بالغہ ہو یعنی علامت بلوغ مثل حیض ظاہر ہو یاپندرہ برس کی عمر ہوجائے اور اگر پہلے سے معلوم نہیں تو بعد بلوغ جس وقت نکاح کی خبر ہو کہہ دے کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں۔ اس صورت میں حاکم مطلقا نکاح فسخ کردے گا اگرچہ شوہر نامرد ومخنث نہ بھی ہو مگر اس خیار میں کنواری لڑکی کو حکم ہے کہ بالغہ ہوتے ہی یا بعد بلوغ خبر پاتے ہی فورا فورا بلا توقف اپنی ناراضی ظاہر کرے اگر ذرا دیر لگائے گی یہ خیار جاتا رہے گا اگرچہ شوہر نامرد ومخنث سہی اور جو لڑکی شوہررسیدہ ہو اسے اختیار وسیع ملتا ہے کہ بعد بلوغ یا بالغہ ہونے پر اطلاع کے بعد جب چاہے ناراضی ظاہر کرے نکاح فسخ کردیا جائے گا جب تك کہ وہ صراحۃ زبان یا کسی فعل مثل بوسہ لینے یا نان ونفقہ مانگنے سے رضامندی ظاہرنہ کرے اور جب باپ دادا نکاح کریں تو صغیرہ کو اس راہ سے اصلا اختیار فسخ نہیں ہوتا اگرچہ کفاءت نہ ہو یا مہر مثل میں کمی فاحش ہو بشرطیکہ نکاح خود باپ دادا نے پڑھایا یا شوہر ومقدار مہر معین کرکے کسی کو وکیل کیا یا جس نے چاہا بلا اجازت پڑھادیا مگر جب باپ یا دادا ولی اقرب کو خبر ہوئی تو باوصف علم عدم کفاءت وغبن فاحش اسے نافذ کردیا کہ ان صورتوں میں بھی وہ نکاح باپ دادا کا بذات خود ہی کیا ہوا ٹھہرے گا اور صغیرہ کو اصلا اختیار اعتراض نہ ملے گا مگر یہ کہ باپ دادا اس تزویج یا توکیل یا تنفیذ کے وقت نشے میں ہوں یااس سے پہلے بھی اپنے بچے کا نکاح غیر کفو یا
مہر میں غبن فاحش کے ساتھ کرچکے ہوں تو یہ نکاح ان کا کیا ہوا بھی صحیح نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لا یصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران وان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوا لام لایصح النکاح من غیر کفواو بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس وان جھلت بہ خیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلاصریح رضا او دلالۃ علیہ کقبلۃ ولمس اھ ملتقطا وفیہ عن النھر بحثا لو عین(ای الاب او الجد)لو کیلہ القدر(ای قدر المھر)صح اھ موضحا وفی ردالمحتار وکذا لوعین لہ
درمختار میں ہے کہ جب نکاح دینے والا باپ دادا ہوتو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صورت میں بھی نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ وہ باپ دادا سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں اور اگر وہ اس میں مشہور ہوں تو بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا اور یہی حکم ہے جب وہ نشہ میں ہوں اور اگر نکاح دینے والے باپ دادا کا غیر ہوں خواہ ماں ہو تب بھی غیر کفو اور غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ ہاں اگر مہر مثل اور کفو میں یہ نکاح ہو تو صحیح ہوگا لیکن لڑکی کو بلوغ یا بلوغ کے بعد علم پر فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ قاضی فسخ کرے مذکورہ صورت میں اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہو اور غیر کفو کا کیاہوا نکاح سن کر خاموش رہے بشرطیکہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو اس کا اختیار باطل ہوجائے گا اور اس کا اختیار مجلس کے آخر تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اپنے اختیار کاعلم نہ رکھتی ہو اور اگر نابالغ لڑکا ہو یا لڑکی ثیبہ ہو تو بلوغ پر محض سکوت سے اختیار ختم نہ ہوگاجب تك صریح رضا یا ا س کے قائم مقام کوئی عمل مثلا بوس وکنار نہ کرے اھ ملتقطا اسی میں نہر سے منقول ایك بحث ہے کہ اگر باپ دادا نے پورے مہر کی شرط پر غیر کو وکیل بنایا تو نکاح صحیح ہوگا اھ وضاحت ہے ا ور ردالمحتار میں ہے کہ ایسے ہی ہوگا جب انھوں نے کفو کی شرط
فی الدرالمختار لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لا یصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران وان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوا لام لایصح النکاح من غیر کفواو بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الی اخر المجلس وان جھلت بہ خیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلاصریح رضا او دلالۃ علیہ کقبلۃ ولمس اھ ملتقطا وفیہ عن النھر بحثا لو عین(ای الاب او الجد)لو کیلہ القدر(ای قدر المھر)صح اھ موضحا وفی ردالمحتار وکذا لوعین لہ
درمختار میں ہے کہ جب نکاح دینے والا باپ دادا ہوتو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صورت میں بھی نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ وہ باپ دادا سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں اور اگر وہ اس میں مشہور ہوں تو بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا اور یہی حکم ہے جب وہ نشہ میں ہوں اور اگر نکاح دینے والے باپ دادا کا غیر ہوں خواہ ماں ہو تب بھی غیر کفو اور غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ ہاں اگر مہر مثل اور کفو میں یہ نکاح ہو تو صحیح ہوگا لیکن لڑکی کو بلوغ یا بلوغ کے بعد علم پر فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ قاضی فسخ کرے مذکورہ صورت میں اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہو اور غیر کفو کا کیاہوا نکاح سن کر خاموش رہے بشرطیکہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو اس کا اختیار باطل ہوجائے گا اور اس کا اختیار مجلس کے آخر تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اپنے اختیار کاعلم نہ رکھتی ہو اور اگر نابالغ لڑکا ہو یا لڑکی ثیبہ ہو تو بلوغ پر محض سکوت سے اختیار ختم نہ ہوگاجب تك صریح رضا یا ا س کے قائم مقام کوئی عمل مثلا بوس وکنار نہ کرے اھ ملتقطا اسی میں نہر سے منقول ایك بحث ہے کہ اگر باپ دادا نے پورے مہر کی شرط پر غیر کو وکیل بنایا تو نکاح صحیح ہوگا اھ وضاحت ہے ا ور ردالمحتار میں ہے کہ ایسے ہی ہوگا جب انھوں نے کفو کی شرط
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳۔ ۱۹۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱۹۲
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱۹۲
رجلا غیر کفو کما بحثہ العلامۃ المقدسی اھ وفیہ بعیدہ عن البحر عن المحیط ان الجواز ثبت باجازۃ الولی فالحق بنکاح باشرہ اھ وفی التنویر والدر (للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب)فلو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ مسافۃ القصر واختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفو الخاطب جوابہ وعلیہ الفتوی اھ مختصرا وفی فتح القدیر لو بلغ قبل ان یجیزہ الولی فاجاز بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ الخ۔
پر کسی کو وکیل بنادیا ہو جیساکہ یہ بحث علامہ مقدسی نے کی ہے اھ اور اسی میں اس کے تھوڑا سا بعد بحر سے منقول ہے اور انھوں نے محیط سے کہ ولی کی اجازت سے کسی کا نکاح دینا یہ بھی ولی کے اپنے دئے ہوئے نکاح سے ملحق ہوگا اھ تنویر اور در میں ہے ولی اقرب کی غیر حاضری میں ولی ابعد کو نکاح کا اختیار ہے تو اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح دیا تو یہ ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا غیر حاضری یہ ہے کہ سفر کی مدت پر یا اتنے بعد پر ہو کہ منگنی والا واپسی اس کے جواب واجازت کا انتظارہ نہ کرتاہو اور اسی پر فتوی ہے اھ مختصرا اور فتح القدیر میں ہے کہ اگر نابالغ ولی کی اجازت دینے سے قبل بالغ ہوجائے تو پھر خود اس کو اختیار ہوگا تو اس کی رضا پر نکاح نافذ ہو جائے گا کیونکہ یہ نکاح موقوف تھا الخ(ت)
پس اگر ہندہ میں صورت واقعہ وہ تھی جس میں نکاح سرے سے صحیح ہی نہ ہوا یا صحیح ہو کر بسبب رد ولی اقرب باطل ہوگیا جب تو ظاہر ہے کہ بکر کو ہندہ پر کوئی دعوی نہیں پہنچتا نہ وہ اس کی زوجہ نہ یہ اس کا شوہر اور جب کہ ہنوز رخصت نہیں ہوئی جیساکہ سوال سے ظاہر ہے مہر اصلا لازم نہیں بلکہ ایسی حالت میں اگر فی الواقع مرد نامرد ہو تواس صورت میں مہر لازم ہونے کی کوئی شکل نہیں کہ نکاح غیر صحیح ہو تو مہر جماع سے لازم ہوتا ہے اور نامرد قابل جماع نہیں اور اگر صورت وہ ہو جس میں نکاح ہنوز اجازت صاحب اجازت پر موقوف ہو تو اگر پدر ہندہ کی جانب سے قبل اس نکاح کے اجازت ورضا متحقق نہ ہوئی تھی تو اب اس انکار سے رد ہوگیا اور اگر یہ انکار اس طورپر ہے کہ نکاح کو تو رد نہیں کرتا مگر رخصت کرنا نہیں چاہتا تو اب یہ ولی ہندہ
پر کسی کو وکیل بنادیا ہو جیساکہ یہ بحث علامہ مقدسی نے کی ہے اھ اور اسی میں اس کے تھوڑا سا بعد بحر سے منقول ہے اور انھوں نے محیط سے کہ ولی کی اجازت سے کسی کا نکاح دینا یہ بھی ولی کے اپنے دئے ہوئے نکاح سے ملحق ہوگا اھ تنویر اور در میں ہے ولی اقرب کی غیر حاضری میں ولی ابعد کو نکاح کا اختیار ہے تو اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح دیا تو یہ ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا غیر حاضری یہ ہے کہ سفر کی مدت پر یا اتنے بعد پر ہو کہ منگنی والا واپسی اس کے جواب واجازت کا انتظارہ نہ کرتاہو اور اسی پر فتوی ہے اھ مختصرا اور فتح القدیر میں ہے کہ اگر نابالغ ولی کی اجازت دینے سے قبل بالغ ہوجائے تو پھر خود اس کو اختیار ہوگا تو اس کی رضا پر نکاح نافذ ہو جائے گا کیونکہ یہ نکاح موقوف تھا الخ(ت)
پس اگر ہندہ میں صورت واقعہ وہ تھی جس میں نکاح سرے سے صحیح ہی نہ ہوا یا صحیح ہو کر بسبب رد ولی اقرب باطل ہوگیا جب تو ظاہر ہے کہ بکر کو ہندہ پر کوئی دعوی نہیں پہنچتا نہ وہ اس کی زوجہ نہ یہ اس کا شوہر اور جب کہ ہنوز رخصت نہیں ہوئی جیساکہ سوال سے ظاہر ہے مہر اصلا لازم نہیں بلکہ ایسی حالت میں اگر فی الواقع مرد نامرد ہو تواس صورت میں مہر لازم ہونے کی کوئی شکل نہیں کہ نکاح غیر صحیح ہو تو مہر جماع سے لازم ہوتا ہے اور نامرد قابل جماع نہیں اور اگر صورت وہ ہو جس میں نکاح ہنوز اجازت صاحب اجازت پر موقوف ہو تو اگر پدر ہندہ کی جانب سے قبل اس نکاح کے اجازت ورضا متحقق نہ ہوئی تھی تو اب اس انکار سے رد ہوگیا اور اگر یہ انکار اس طورپر ہے کہ نکاح کو تو رد نہیں کرتا مگر رخصت کرنا نہیں چاہتا تو اب یہ ولی ہندہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳۰۵
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳۰۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۱۹۴
فتح القدیر فصل فی الاولیاء نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۱۹۸
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳۰۶
درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۱۹۴
فتح القدیر فصل فی الاولیاء نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۱۹۸
یا بحال بلوغ خود ہندہ کے ہاتھ کی بات ہے رد کردیں رد ہوجائے گا اورجب کہ جماع نہ ہوا مہر کچھ نہیں کما یا تی لکونہ فسخا(جیسا کہ آئندہ آئیگا کیونکہ یہ فسخ کی صورت ہے۔ ت)اور اگرصورت وہ تھی جس میں ہندہ کو خیار بلوغ ملے اور وہ اس خیار کو حسب شرائط مذکورہ استعمال میں لاچکی یا ہنوز اس کا وقت نہیں آیا کہ ہندہ ابھی نابالغہ ہے تو جب تك وقت آئے استعمال میں لائے تو بھی ہندہ کو نجات کامل بے دقت حاصل کہ فقط اس کا یہ اظہار ناراضی کرنا ہی حکم فسخ کا منشا ہوجائے گا ا ور حاکم مجرد اسی بناء پر نکاح فسخ کردے گا اور اب بھی مہر اصلا عائد نہ ہوگا کہ نکاح فسخ سے گویا کالعدم(یعنی بے ہوا)ہوجاتا ہے۔
فی ردالمحتار المھر کما یلزم جمیعہ بالدخول کذا بموت احدھماقبل الدخول اما بدون ذلك فیسقط ولو الخیار منہ لان الفرقۃ بالخیار فسخ للعقد والعقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن کمافی النھر ۔
ردالمحتارمیں ہے : جس طرح دخول وجماع سے مہر لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل خاوند یا بیوی کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اوردخول کے بغیر موت اور موت کے بغیر ساقط ہوجائے گا اگرچہ لڑکے کو اختیار ہو تب بھی فسخ کرنے سے مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فسخ نکاح کو کالعدم کردیتا ہے جیساکہ نہر میں ہے(ت)
ہاں اگر صورت وہ تھی جس میں ہندہ کو خیار بلوغ سرے سے نہ ملا یا ملاتھا او رازانجا کہ ہندہ کنواری ہے جسے خیار وسیع نہیں ملتا بوجہ سکوت ساقط ہوگیا تو اب بالفعل ہندہ خواہ اس کے باپ کو اصلا کوئی حق اعتراض و انکار حاصل نہیں نکاح صحیح وتام ہوچکا اور ان حرکات شنیعہ کا بکر میں پیدا ہوجانا مبطل یا وجہ ابطال نکاح نہیں اور ابھی کہ ہندہ کی رخصت نہ ہوئی نامردی بکر کا دعوی قابل سماعت نہیں کہ عور ت کے حق میں نامرد وہ ہوتا ہے جو خاص اس عورت کے فرج داخل کے اندر ذکر حشفہ تك غائب کرنے پر قادر نہ ہو اوریہ باختلاف زمان مختلف ہوسکتاہے ممکن کہ کوئی شخص ایك عورت کی فرج میں ادخال نہ کرسکے اور دوسری پر قادرہوجائے تو اس دوسری کے حق میں نامرد نہ ہوگا۔
فی الھندیۃ عن النھایۃ ان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالی بعض النساء دون البعض وذلك لمرض اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ
ہندیہ میں نہایہ سے ہے : اگر کوئی مرد ثیبہ عورت سے وطی کرسکتا ہے باکرہ سے نہیں کرسکتا یابعض قسم کی عورتوں سے کرسکتاہے اور بعض سے نہیں کرسکتا اس کی وجہ مرض ہے یا پیدائشی کمزوری یا بڑھاپاہے
فی ردالمحتار المھر کما یلزم جمیعہ بالدخول کذا بموت احدھماقبل الدخول اما بدون ذلك فیسقط ولو الخیار منہ لان الفرقۃ بالخیار فسخ للعقد والعقد اذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن کمافی النھر ۔
ردالمحتارمیں ہے : جس طرح دخول وجماع سے مہر لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل خاوند یا بیوی کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اوردخول کے بغیر موت اور موت کے بغیر ساقط ہوجائے گا اگرچہ لڑکے کو اختیار ہو تب بھی فسخ کرنے سے مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فسخ نکاح کو کالعدم کردیتا ہے جیساکہ نہر میں ہے(ت)
ہاں اگر صورت وہ تھی جس میں ہندہ کو خیار بلوغ سرے سے نہ ملا یا ملاتھا او رازانجا کہ ہندہ کنواری ہے جسے خیار وسیع نہیں ملتا بوجہ سکوت ساقط ہوگیا تو اب بالفعل ہندہ خواہ اس کے باپ کو اصلا کوئی حق اعتراض و انکار حاصل نہیں نکاح صحیح وتام ہوچکا اور ان حرکات شنیعہ کا بکر میں پیدا ہوجانا مبطل یا وجہ ابطال نکاح نہیں اور ابھی کہ ہندہ کی رخصت نہ ہوئی نامردی بکر کا دعوی قابل سماعت نہیں کہ عور ت کے حق میں نامرد وہ ہوتا ہے جو خاص اس عورت کے فرج داخل کے اندر ذکر حشفہ تك غائب کرنے پر قادر نہ ہو اوریہ باختلاف زمان مختلف ہوسکتاہے ممکن کہ کوئی شخص ایك عورت کی فرج میں ادخال نہ کرسکے اور دوسری پر قادرہوجائے تو اس دوسری کے حق میں نامرد نہ ہوگا۔
فی الھندیۃ عن النھایۃ ان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالی بعض النساء دون البعض وذلك لمرض اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ
ہندیہ میں نہایہ سے ہے : اگر کوئی مرد ثیبہ عورت سے وطی کرسکتا ہے باکرہ سے نہیں کرسکتا یابعض قسم کی عورتوں سے کرسکتاہے اور بعض سے نہیں کرسکتا اس کی وجہ مرض ہے یا پیدائشی کمزوری یا بڑھاپاہے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۳۰۷
او سحر فھو عنین فی حق من لایصل الیھا ۔
یا جادو ہے تو وہ ایسی عورتوں کے حق میں نامرد قرار دیا جائیگا جن سے وطی نہیں کرسکتا۔ (ت)
بلکہ اگر تسلیم ہی کرلیں کہ بکر ہندہ کے حق میں بھی نامرد ہے تاہم ا س بناپر رخصت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ نامرد ی مبطل نکاح نہیں ہوتی بلکہ بعد دعوی وثبوت عدم مجامعت مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جاتی ہے اور عورت ہر گز اختیار نہیں رکھتی کہ ان دنوں کو اس سے جدا رہ کر گزاردے جتنے دن خود جدا رہے گی مدت میں اتنے روز اور بڑھادئے جائیں گے۔
فی الدرالمختار وجدتہ عنینا اجل سنۃ ورمضان وایام حیضھا منھا وکذا حجۃ وغیبتہ لامدۃ حجھا وغیبتھا ۔
درمختار میں ہے کہ کسی بیوی نے خاوند کے متعلق کہا کہ میں نے اسے نامرد پایا ہے تومرد کو ایك سال کی مہلت دی جائے گی جس میں رمضان اورایام حیض بھی شمار ہوں گے یونہی حج اور مرد کی غیر حاضری کے دن بھی شمارہوں گے لیکن عورت کے حج اور غیر حاضری کے ایام شمار نہ ہوں گے۔ (ت)
جب زوجہ کے حق میں نامردی بثبوت شرعی ثابت ہونے کے بعد بھی ہنوز خود مختار نہیں ہوتی جب تك مد ت ایك سال گزرنے پر بھی عدم جماع ثابت ہو کہ تفریق نہ ہوجائے تو پیش از رخصت ایسے خیالات کی بناپر خود مختاری ہر گز صحیح نہیں بلکہ چارہ کار وہی حاکم شرع کے حضور دعوی نامردی اور بعد ثبوت بکارت ا س کے حکم سے مہلت یکسالہ ملنی اور بعد مرور میعادحاکم شرع کو بقائے بکارت ثابت ہونے پر ہندہ کے فورا تفریق مانگنے پر خود بکر یا وہ نہ مانے تو حاکم شرع کا تفریق کردینا کافی ہے اس وقت طلاق بائن ہوجائے گی اوراگر بکر نے ہندہ سے خلوت ہی نہ کی تو نصف مہر اور خلوت کی اور ادخال ذکر پر قدرت نہ پائی تو کل مہر لازم آئے گا
فی الھندیۃ ان اختارت الفرقۃ امرہ القاضی ان یطلقھا طلقۃ بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالی فی الاصل کذا فی التبیین والفرقۃ
ہندیہ میں ہے(کہ مدت ختم ہونے پر)اگر عورت تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی خاوند کو کہے گاکہ ا س کو بائنہ طلاق دے دے اگر خاوند انکار کرے تو قاضی خود تفریق کردے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مبسوط میں یونہی ذکر فرمایا جیساکہ تبیین میں ہے۔ اور تفریق
یا جادو ہے تو وہ ایسی عورتوں کے حق میں نامرد قرار دیا جائیگا جن سے وطی نہیں کرسکتا۔ (ت)
بلکہ اگر تسلیم ہی کرلیں کہ بکر ہندہ کے حق میں بھی نامرد ہے تاہم ا س بناپر رخصت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ نامرد ی مبطل نکاح نہیں ہوتی بلکہ بعد دعوی وثبوت عدم مجامعت مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جاتی ہے اور عورت ہر گز اختیار نہیں رکھتی کہ ان دنوں کو اس سے جدا رہ کر گزاردے جتنے دن خود جدا رہے گی مدت میں اتنے روز اور بڑھادئے جائیں گے۔
فی الدرالمختار وجدتہ عنینا اجل سنۃ ورمضان وایام حیضھا منھا وکذا حجۃ وغیبتہ لامدۃ حجھا وغیبتھا ۔
درمختار میں ہے کہ کسی بیوی نے خاوند کے متعلق کہا کہ میں نے اسے نامرد پایا ہے تومرد کو ایك سال کی مہلت دی جائے گی جس میں رمضان اورایام حیض بھی شمار ہوں گے یونہی حج اور مرد کی غیر حاضری کے دن بھی شمارہوں گے لیکن عورت کے حج اور غیر حاضری کے ایام شمار نہ ہوں گے۔ (ت)
جب زوجہ کے حق میں نامردی بثبوت شرعی ثابت ہونے کے بعد بھی ہنوز خود مختار نہیں ہوتی جب تك مد ت ایك سال گزرنے پر بھی عدم جماع ثابت ہو کہ تفریق نہ ہوجائے تو پیش از رخصت ایسے خیالات کی بناپر خود مختاری ہر گز صحیح نہیں بلکہ چارہ کار وہی حاکم شرع کے حضور دعوی نامردی اور بعد ثبوت بکارت ا س کے حکم سے مہلت یکسالہ ملنی اور بعد مرور میعادحاکم شرع کو بقائے بکارت ثابت ہونے پر ہندہ کے فورا تفریق مانگنے پر خود بکر یا وہ نہ مانے تو حاکم شرع کا تفریق کردینا کافی ہے اس وقت طلاق بائن ہوجائے گی اوراگر بکر نے ہندہ سے خلوت ہی نہ کی تو نصف مہر اور خلوت کی اور ادخال ذکر پر قدرت نہ پائی تو کل مہر لازم آئے گا
فی الھندیۃ ان اختارت الفرقۃ امرہ القاضی ان یطلقھا طلقۃ بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالی فی الاصل کذا فی التبیین والفرقۃ
ہندیہ میں ہے(کہ مدت ختم ہونے پر)اگر عورت تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی خاوند کو کہے گاکہ ا س کو بائنہ طلاق دے دے اگر خاوند انکار کرے تو قاضی خود تفریق کردے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مبسوط میں یونہی ذکر فرمایا جیساکہ تبیین میں ہے۔ اور تفریق
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی عشرفی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۵۲۲
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴۲۵۴
درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴۲۵۴
تطلیقۃ بائنۃ کذافی الکافی ولھا المھر کاملاوعلیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا والا فلا عدۃ علیھا ولھا نصف المھر ان کان مسمی و المتعۃ ان لم یکن کذافی البدائع واﷲ تعالی اعلم۔
طلاق بائنہ ہوگی جیساکہ نہر میں ہے اور اسے پور ا مہر دیاجائے گا اور بالاجماع اس پر عدت ہوگی بشرطیکہ خاوند اس سے خلوت کرچکا ہو ورنہ عدت نہ ہوگی اورمہر بھی نصف دیاجائیگا جب مقرر ہو اور اگر مقرر نہ ہو تو پھر جوڑا وغیرہ دیا جائے گا جیساکہ بدائع میں ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۸ : ۲۲شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك شخص اجنبی عمرو کے مکان پر رہتا ہے عمرو نے وارثان ہندہ کے بہکاکر اور دھوکا دے کر زید کا نسب سید بتایا اور نکاح کرادیا بعد کچھ مدت کے معلوم ہواکہ وہ سید نہیں نور باف ہے اب وارثان ہندہ کو شرم معلوم ہوتی ہے اور بہت اہانت ہے کہ سید اور نورباف کا نکاح بہت عار ہے لہذا وارثان ہندہ کو فسخ کرنافی زماننا جائز ہے یا نہیں زید بعد ظاہر ہونے حال کے وہاں سے چلا گیا وقت رخصت زوجہ سے قسم کھا کر کہامیں اس قریہ میں تاحیات نہ آؤں گا پھر اس مضمون کا خط لکھ کر بھیجا اب اس کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں کچھ حاجت فسخ نہیں کہ وہ نکاح سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کے لئے کفاءت شرط صحت نکاح ہے یا ولی اقرب پیش از عقد عدم کفاءت پر دانستہ اپنی رضا ظاہر کردے بعد عقد راضی ہوجانا بھی نفع نہیں دیتا۔
فی ردالمحتار تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختار للفتوی اھ وفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا
ردالمحتار میں ہے کہ کفو کا اعتبار نکاح لازم کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ظاہر روایت ہے اورا مام حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت پر صحت نکاح کے لئے ہے اور یہی فتوی کے لئے مختار ہے اھ درمختارمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے کا فتوی
طلاق بائنہ ہوگی جیساکہ نہر میں ہے اور اسے پور ا مہر دیاجائے گا اور بالاجماع اس پر عدت ہوگی بشرطیکہ خاوند اس سے خلوت کرچکا ہو ورنہ عدت نہ ہوگی اورمہر بھی نصف دیاجائیگا جب مقرر ہو اور اگر مقرر نہ ہو تو پھر جوڑا وغیرہ دیا جائے گا جیساکہ بدائع میں ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳۸ : ۲۲شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك شخص اجنبی عمرو کے مکان پر رہتا ہے عمرو نے وارثان ہندہ کے بہکاکر اور دھوکا دے کر زید کا نسب سید بتایا اور نکاح کرادیا بعد کچھ مدت کے معلوم ہواکہ وہ سید نہیں نور باف ہے اب وارثان ہندہ کو شرم معلوم ہوتی ہے اور بہت اہانت ہے کہ سید اور نورباف کا نکاح بہت عار ہے لہذا وارثان ہندہ کو فسخ کرنافی زماننا جائز ہے یا نہیں زید بعد ظاہر ہونے حال کے وہاں سے چلا گیا وقت رخصت زوجہ سے قسم کھا کر کہامیں اس قریہ میں تاحیات نہ آؤں گا پھر اس مضمون کا خط لکھ کر بھیجا اب اس کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں کچھ حاجت فسخ نہیں کہ وہ نکاح سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کے لئے کفاءت شرط صحت نکاح ہے یا ولی اقرب پیش از عقد عدم کفاءت پر دانستہ اپنی رضا ظاہر کردے بعد عقد راضی ہوجانا بھی نفع نہیں دیتا۔
فی ردالمحتار تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختار للفتوی اھ وفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا
ردالمحتار میں ہے کہ کفو کا اعتبار نکاح لازم کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ظاہر روایت ہے اورا مام حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت پر صحت نکاح کے لئے ہے اور یہی فتوی کے لئے مختار ہے اھ درمختارمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے کا فتوی
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب النکاح الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۲۴
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۱۸
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۱۸
وھو المختار للفتوی فلا تحل بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ اھ مختصرا۔ فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھاولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ بحر ۔
دیا جائیگا یہی فتوی کے لئے مختار ہے تو ولی کی رضا کے بغیر بیوی حلال نہ ہوگی بشرطیکہ ولی کو غیر کفو کاعلم ہو اسے محفوظ کرلو اھ مختصرا ردالمحتار میں ہے : یہ جب ہے کہ اس کا ولی ہو او رنکاح سے قبل راضی نہ ہوا ہو اور نکاح کے بعد کی رضا کا رآمد نہ ہوگی بحر(ت)
یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہ ہوا اور نکاح باطل محض رہا بعد ظہور حال زید کی وہ قسم وتحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کے لئے حکم حرمت مترتب نہیں ہوسکتا۔
اما مسألۃ الھندیۃ انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھر دونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت لکل ومسألۃ الدرعن الولوالجیۃ نکحت رجلا ولم تعلم حالہ فاذا ھو عبد لا خیار لھا بل للاولیاء ولو زوجوھا برضا ھا وشرطوا الکفاءۃ او اخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلك ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار (ملخصا) فظاھران کل ذلك مبنی علی الظاھر وھو صحۃ العقد و ثبوت الاعتراض کیف وقد نقل المسألۃ فی الخانیۃ عن الاصل اما علی المختارۃ للفتوی فلا صحۃ اصلا کما لایخفی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
لیکن ہندیہ کا مسئلہ کہ اگر مرد نے عورت کو اپنا نسب تبدیل کرکے بتایا تو بعد میں اس کانسب اس کے بیان کردہ نسب سے کم درجہ ظاہر ہوا تو یہ کفو نسبی ہے لہذا اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا اور در کا مسئلہ یہ ہے کہ جو بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ اگر لڑکی نے خود کسی شخص سے لاعلمی میں نکاح کرلیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غلام ہے تو لڑکی کو خود اختیار نہ ہوگا بلکہ اس کے اولیاء کو حق فسخ ہوگا اور اگر اولیاء نے خود نکاح کیا لڑکی کی رضامندی سے اور اولیاء نے کفاءت شرط کرلی یا نکاح کے وقت زوج نے وقت نکاح اولیاء کو کفو ہونے کی خبر دی اس شرط پر اولیاء نے نکاح کردیا بعد میں لڑکے کا غیر کفو ہونا ظاہر ہوا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا تو ظاہر ہے کہ یہ صحت نکاح اور ثبوت اعتراض پر مبنی ہے اور ظاہر کیسے نہ ہو جبکہ خانیہ میں یہ مسئلہ مبسوط سے منقول ہے لیکن جو چیز فتوی کے لئے مختار قراردی گئی ہے اس پر یہ نکاح کا قول صحیح نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
دیا جائیگا یہی فتوی کے لئے مختار ہے تو ولی کی رضا کے بغیر بیوی حلال نہ ہوگی بشرطیکہ ولی کو غیر کفو کاعلم ہو اسے محفوظ کرلو اھ مختصرا ردالمحتار میں ہے : یہ جب ہے کہ اس کا ولی ہو او رنکاح سے قبل راضی نہ ہوا ہو اور نکاح کے بعد کی رضا کا رآمد نہ ہوگی بحر(ت)
یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہ ہوا اور نکاح باطل محض رہا بعد ظہور حال زید کی وہ قسم وتحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کے لئے حکم حرمت مترتب نہیں ہوسکتا۔
اما مسألۃ الھندیۃ انتسب الزوج لھا نسبا غیر نسبہ فان ظھر دونہ وھو لیس بکفو فحق الفسخ ثابت لکل ومسألۃ الدرعن الولوالجیۃ نکحت رجلا ولم تعلم حالہ فاذا ھو عبد لا خیار لھا بل للاولیاء ولو زوجوھا برضا ھا وشرطوا الکفاءۃ او اخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلك ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار (ملخصا) فظاھران کل ذلك مبنی علی الظاھر وھو صحۃ العقد و ثبوت الاعتراض کیف وقد نقل المسألۃ فی الخانیۃ عن الاصل اما علی المختارۃ للفتوی فلا صحۃ اصلا کما لایخفی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
لیکن ہندیہ کا مسئلہ کہ اگر مرد نے عورت کو اپنا نسب تبدیل کرکے بتایا تو بعد میں اس کانسب اس کے بیان کردہ نسب سے کم درجہ ظاہر ہوا تو یہ کفو نسبی ہے لہذا اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا اور در کا مسئلہ یہ ہے کہ جو بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ اگر لڑکی نے خود کسی شخص سے لاعلمی میں نکاح کرلیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غلام ہے تو لڑکی کو خود اختیار نہ ہوگا بلکہ اس کے اولیاء کو حق فسخ ہوگا اور اگر اولیاء نے خود نکاح کیا لڑکی کی رضامندی سے اور اولیاء نے کفاءت شرط کرلی یا نکاح کے وقت زوج نے وقت نکاح اولیاء کو کفو ہونے کی خبر دی اس شرط پر اولیاء نے نکاح کردیا بعد میں لڑکے کا غیر کفو ہونا ظاہر ہوا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوگا تو ظاہر ہے کہ یہ صحت نکاح اور ثبوت اعتراض پر مبنی ہے اور ظاہر کیسے نہ ہو جبکہ خانیہ میں یہ مسئلہ مبسوط سے منقول ہے لیکن جو چیز فتوی کے لئے مختار قراردی گئی ہے اس پر یہ نکاح کا قول صحیح نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۹۷
فتاوی ہندیہ باب فی الاکفاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۹۳
درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۹۷
فتاوی ہندیہ باب فی الاکفاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۹۳
درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۴
مسئلہ ۴۳۹ : از الہ آباد چوك مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب سوداگر ۲۳ صفر ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی ان العالم العجمی کفو للسیدۃ ام لابینوا بسند الکتاب توجروا یوم الحساب۔
آپ(رحمکم الله تعالی)کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ عجمی عالم سید زادی کا کفو ہے یا نہیں کتاب کے حوالے سے بیان فرمائیں قیامت کے روز اجر پائیں۔
الجواب :
نعم اذاکان دینا متدینا لان فضل العلم فوق فضل النسب قال اﷲ تعالی
یرفع الله الذین امنوا منكم-و الذین اوتوا العلم درجت- ۔ وقال تعالی قل هل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون- فی وجیزالامام الکردری العجمی العالم کفو للعربی الجاھل لان شرف العلم اقوی وارفع وکذا العالم الفقیر لغنی الجاھل وکذا العالم الذی لیس بقرشی کفو للجاھل القرشی والعلوی اھ وفی الفتح والنھر وغیرھما عن جامع الامام قاضی خان العالم العجمی یکون کفوا لجاھل العربی والعلویۃ لان شرف العلم فوق شرف النسب اھ وفی النھر والدر جزم بہ
ہاں جب عجمی عالم دیندار عامل ہو کیونکہ علم کی فضیلت نسب کی فضیلت سے فائق ہے الله تعالی نے فرمایا : تم میں سے ایمان والوں کو الله تعالی نے بلندی دی اور ان لوگوں کو جو علم دئے گئے ان کو کئی درجات دئے گئے اور الله تعالی نے فرمایا : کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں امام کردری کی وجیز میں ہے کہ عجمی عالم جاہل عربی کا کفو ہوگا کیونکہ علمی شرافت اقوی وارفع ہے اور یوں ہی عالم فقیر ہو تووہ جاہل غنی کا کفو ہوگا اور یوں ہی غیر قرشی عالم جاہل علوی اور جاہل قرشی کا کفو بنے گا اھ فتح اور نہر وغیرہمامیں جامع الامام قاضی خان سے منقول ہے کہ عجمی عالم جاہل عربی اور جاہل علوی کا کفو ہے کیونکہ علمی شرافت نسبی پر غالب ہے اھ۔ نہر اور در میں ہے کہ بزازی نے اس پر جزم کیا ہے اور
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی ان العالم العجمی کفو للسیدۃ ام لابینوا بسند الکتاب توجروا یوم الحساب۔
آپ(رحمکم الله تعالی)کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ عجمی عالم سید زادی کا کفو ہے یا نہیں کتاب کے حوالے سے بیان فرمائیں قیامت کے روز اجر پائیں۔
الجواب :
نعم اذاکان دینا متدینا لان فضل العلم فوق فضل النسب قال اﷲ تعالی
یرفع الله الذین امنوا منكم-و الذین اوتوا العلم درجت- ۔ وقال تعالی قل هل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون- فی وجیزالامام الکردری العجمی العالم کفو للعربی الجاھل لان شرف العلم اقوی وارفع وکذا العالم الفقیر لغنی الجاھل وکذا العالم الذی لیس بقرشی کفو للجاھل القرشی والعلوی اھ وفی الفتح والنھر وغیرھما عن جامع الامام قاضی خان العالم العجمی یکون کفوا لجاھل العربی والعلویۃ لان شرف العلم فوق شرف النسب اھ وفی النھر والدر جزم بہ
ہاں جب عجمی عالم دیندار عامل ہو کیونکہ علم کی فضیلت نسب کی فضیلت سے فائق ہے الله تعالی نے فرمایا : تم میں سے ایمان والوں کو الله تعالی نے بلندی دی اور ان لوگوں کو جو علم دئے گئے ان کو کئی درجات دئے گئے اور الله تعالی نے فرمایا : کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں امام کردری کی وجیز میں ہے کہ عجمی عالم جاہل عربی کا کفو ہوگا کیونکہ علمی شرافت اقوی وارفع ہے اور یوں ہی عالم فقیر ہو تووہ جاہل غنی کا کفو ہوگا اور یوں ہی غیر قرشی عالم جاہل علوی اور جاہل قرشی کا کفو بنے گا اھ فتح اور نہر وغیرہمامیں جامع الامام قاضی خان سے منقول ہے کہ عجمی عالم جاہل عربی اور جاہل علوی کا کفو ہے کیونکہ علمی شرافت نسبی پر غالب ہے اھ۔ نہر اور در میں ہے کہ بزازی نے اس پر جزم کیا ہے اور
حوالہ / References
القرآن الکریم۸ ۵/ ۱۱۱
القرآن الکریم ۳۹ /۹
وجیز الامام الکردری علٰی ھامش فتاوی ہندیہ الخامس فی الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۶
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۱۹۰
القرآن الکریم ۳۹ /۹
وجیز الامام الکردری علٰی ھامش فتاوی ہندیہ الخامس فی الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۶
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۱۹۰
البزازی وارتضاہ الکمال وغیرہ والوجہ فیہ ظاھر الخ وفی ردالمحتار عن الخیر الرملی عن مجمع الفتاوی عن المحیط العالم یکون کفو اللعلویۃ لان شرف الحسب اقوی الخ۔ قال وذکر ایضا یعنی الرملی انہ جزم بہ فی المحیط والبزازیۃ والفیض وجامع الفتاوی والدر الخ۔ وتمامہ تحقیقہ فیہ وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ قال ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما للعلماء درجات فوق المؤمنین بسبعمائۃ درجۃ مابین کل درجتین مسیرۃ خمسمائۃ عام و ھذا مجمع علیہ وکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحانہ وتعالی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون اھ ملتقطا۔ قلت وانما قید نابکونہ دینا متدینا لانہ ھو العالم حقیقۃ واما اصحاب الضلال فشرمن الجہال فان الجہل المرکب اشنع واخنع وصاحبہ فی الدارین احقر و اوضع صغارھم کالانعام بل ھم اضل وکبارھم کالکلاب لابل اذل اخرج الدارقطنی
کمال وغیرہ نے اس کو پسند فرمایا ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے الخ۔ اور ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے انھوں نے مجمع الفتاوی سے نقل کیا کہ محیط میں ہے کہ عالم علوی لڑکی کا کفو ہے کیونکہ عہدہ کی شرافت اقوی ہے الخ اور فرمایا کہ رملی نے مزیدذکرکیا کہ محیط بزازیہ فیض جامع الفتاوی اور در نے اس پر جزم کیا ہے اور اور فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : علماء کو عام مومنین پر سات سو درجات برتری ہے اور ہر دو درجوں میں پانسو سال کا سفر ہے اور اس پر اجماع ہے اور تمام علمی کتب قرشی پر عالم کے تقدم میں متفق ہیں جبکہ الله تعالی نے اپنے ارشاد “ کیا عالم اور جاہل برابر ہیں “ میں قرشی اور غیر قرشی کی کوئی تفریق نہیں فرمائی اھ ملتقطا۔
قلت(میں کہتاہوں)ہم عالم کو دین کاعالم اور دین دار عالم سے مقید کریں گے کیونکہ حقیقۃ عالم یہی ہے جبکہ گمراہ علماء تو جاہلوں سے بدتر ہیں کیونکہ جاہل مرکب انتہائی برا رسوا اور دونوں جہاں میں وہ حقیر اور ذلیل ہیں ان کے چھوٹے چوپایوں کی طرح بلکہ اس سے بھی گئے گزرے اور ان کے بڑے کتے بلکہ ذلیل ترین ہیں دار قطنی نے
کمال وغیرہ نے اس کو پسند فرمایا ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے الخ۔ اور ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے انھوں نے مجمع الفتاوی سے نقل کیا کہ محیط میں ہے کہ عالم علوی لڑکی کا کفو ہے کیونکہ عہدہ کی شرافت اقوی ہے الخ اور فرمایا کہ رملی نے مزیدذکرکیا کہ محیط بزازیہ فیض جامع الفتاوی اور در نے اس پر جزم کیا ہے اور اور فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : علماء کو عام مومنین پر سات سو درجات برتری ہے اور ہر دو درجوں میں پانسو سال کا سفر ہے اور اس پر اجماع ہے اور تمام علمی کتب قرشی پر عالم کے تقدم میں متفق ہیں جبکہ الله تعالی نے اپنے ارشاد “ کیا عالم اور جاہل برابر ہیں “ میں قرشی اور غیر قرشی کی کوئی تفریق نہیں فرمائی اھ ملتقطا۔
قلت(میں کہتاہوں)ہم عالم کو دین کاعالم اور دین دار عالم سے مقید کریں گے کیونکہ حقیقۃ عالم یہی ہے جبکہ گمراہ علماء تو جاہلوں سے بدتر ہیں کیونکہ جاہل مرکب انتہائی برا رسوا اور دونوں جہاں میں وہ حقیر اور ذلیل ہیں ان کے چھوٹے چوپایوں کی طرح بلکہ اس سے بھی گئے گزرے اور ان کے بڑے کتے بلکہ ذلیل ترین ہیں دار قطنی نے
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۳
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۳
فتاوی خیریہ مسائل شتی آخر کتاب دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۳۴
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۳
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۳
فتاوی خیریہ مسائل شتی آخر کتاب دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۳۴
قال حدثنا القاضی الحسین بن اسمعیل نا محمد بن عبداﷲ المخرمی نا اسمعیل بن ابان ثنا حفص بن غیاث عن الاعمش عن ابی غالب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھل البدع کلاب اھل النار ۔ واخرجہ عنہ ابوحاتم الخزاعی فی جزئہ الحدیثی بلفظ اصحاب البدع کلاب اھل النار ولابی نعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھل البدع شر الخلق والخلیقہ قال العلماء الخلق الناس والخلیقۃ البھائم ۔ نسأل اﷲ السلامۃ والعفو والعافیۃ۔
ثم اقول : یجب التقیید ایضا بمااذا لم یکن من المتناھین فی الدنائۃ المعروفین بھا کالحائك و الدباغ والخصاف والحلاق ونظرائھم فان المدار علی وجودالعار فی عرف الامصار کما صرح بہ العلماء الکبار۔ قال المحق علی الاطلاق فی فتح القدیر الموجب ھواستنقاص اھل العرف
تخریج کی ہے کہ ہمیں قاضی حسین بن اسمعیل ان کو محمد بن عبدالله مخرمی ان کو اسمعیل بن ابان ان کو حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی انھوں نے اعمش انھوں نے ابوغالب انھوں نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : بدعتی لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ “ اس کی تخریج ابو حاتم خزاعی نے ان سے اپنی جزءحدیثی میں ان الفاظ کے ساتھ کی کہ “ اصحاب بدعت جہنم کے کتے ہیں۔ “ ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کیا انس رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ “ اہل بدعت تمام مخلوق سے شریر ہیں۔ “ علماء نے فرمایا کہ حدیث میں خلق سے مراد لوگ اور خلیقہ سے مراد چوپائے ہیں الله تعالی سے ہم عافیت سلامتی او رمعافی کا سوال کرتے ہیں۔
ثم اقول : (میں پھر کہتاہوں کہ)وہ عالم اس قیدسے بھی مقید ہونا ضروری ہے کہ وہ انتہائی حقیر او رمشہور کمترنہ ہو جیساکہ جولاہا نائی موچی چمڑا رنگنے والا اور ان کی مثل نہ ہو کیونکہ دارومدار اس بات پر ہے کہ علاقے کے عرف میں وہ حقیر شمار نہ ہو جیساکہ اکابر علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا کہ اہل عرف کا ناقص سمجھنا سبب ہے لہذا حکم کا دارو مدار
ثم اقول : یجب التقیید ایضا بمااذا لم یکن من المتناھین فی الدنائۃ المعروفین بھا کالحائك و الدباغ والخصاف والحلاق ونظرائھم فان المدار علی وجودالعار فی عرف الامصار کما صرح بہ العلماء الکبار۔ قال المحق علی الاطلاق فی فتح القدیر الموجب ھواستنقاص اھل العرف
تخریج کی ہے کہ ہمیں قاضی حسین بن اسمعیل ان کو محمد بن عبدالله مخرمی ان کو اسمعیل بن ابان ان کو حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی انھوں نے اعمش انھوں نے ابوغالب انھوں نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : بدعتی لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ “ اس کی تخریج ابو حاتم خزاعی نے ان سے اپنی جزءحدیثی میں ان الفاظ کے ساتھ کی کہ “ اصحاب بدعت جہنم کے کتے ہیں۔ “ ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کیا انس رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ “ اہل بدعت تمام مخلوق سے شریر ہیں۔ “ علماء نے فرمایا کہ حدیث میں خلق سے مراد لوگ اور خلیقہ سے مراد چوپائے ہیں الله تعالی سے ہم عافیت سلامتی او رمعافی کا سوال کرتے ہیں۔
ثم اقول : (میں پھر کہتاہوں کہ)وہ عالم اس قیدسے بھی مقید ہونا ضروری ہے کہ وہ انتہائی حقیر او رمشہور کمترنہ ہو جیساکہ جولاہا نائی موچی چمڑا رنگنے والا اور ان کی مثل نہ ہو کیونکہ دارومدار اس بات پر ہے کہ علاقے کے عرف میں وہ حقیر شمار نہ ہو جیساکہ اکابر علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا کہ اہل عرف کا ناقص سمجھنا سبب ہے لہذا حکم کا دارو مدار
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۱۲۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۲۳
کنز العمال بحوالہ ابو حاتم الخزامی حدیث ۱۰۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
حلیۃ الاولیاء ترجمہ نمبر ۴۱۳ ابو سعود الموصلی دارالکتاب العربی بیروت ۸ / ۲۹۱
کنز العمال بحوالہ ابو حاتم الخزامی حدیث ۱۰۹۴ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
حلیۃ الاولیاء ترجمہ نمبر ۴۱۳ ابو سعود الموصلی دارالکتاب العربی بیروت ۸ / ۲۹۱
فید ورمعہ اھ وفی ردالمحتار قد علمت ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ور معہ فعلی ھذا من کان امیرا او تابعالہ وکان ذا مال ومروءۃ وحشمۃ بین الناس لاشك ان المرأۃ لاتتعیر بہ فی العرف کتعیرھا بدباغ وحائك ونحوھما وان کان الامیر اوتابعہ اکلا اموال الناس لان المدار ھنا علی النقص والرفعۃ فی الدنیا اھ مختصرا۔ ولا شك ان العلویۃ فی بلادنا لاتتعیر بالافاغنۃ والمغول المحلین بحلیۃ العلم والفضل فانھم فی انفسھم یعدون ھنا من الشرفاء الانجاب فاذا انضاف الی ذلك فضل العلم جبر نقص نسبھم بالنسبۃ الی العلوی بخلاف الحاکۃ والحلاقین وامثالھم فان التعیربھم لایزل بعلمھم اللھم الااذا تقادم العھد وتناساہ الناس وظھرلہ الوقع فی القلوب والعظم فی العیون بحیث لم یبق العار لبنات الکبار وذلك قلیل جدا فی ھذہ الامصار بل لایکاد یوجد عند الاعتبار ومن عرف المدار عرف ان
اس پر ہی ہوگا الخ ردالمحتارمیں ہے : آپ نے معلوم کرلیا کہ سبب وہ اہل عرف کا حقیر جانناہے تو اسی بات پر مدار ہوگااس لئے اگرکوئی امیر حاکم یا اس کا نائب اور مالدار اور سنجیدہ ہو اور لوگوں میں رعب والا ہو تو کوئی شك نہیں ایسے شخص سے عورت عار محسوس نہیں کرتی جیساکہ وہ دباغ اور جولاہے وغیرہ سے عار محسوس کرتی ہے اگرچہ حاکم اور اس کانائب ظلم کے طورپر لوگوں کے مال کھاتے ہوں _____ کیونکہ یہاں مدار دنیاوی حقارت و رفعت ہے اھ مختصرا اس میں شك نہیں کہ علویہ لڑکی ہمارے علاقے میں افغان اور مغل جو کہ علم کے زیور سے آراستہ ہیں اور اہل فضل ہیں جو اپنے کو منتخب لوگوں اور شرفاء میں شمار کرتے ہیں ان سے عار محسوس نہیں کرتی تو جب یہ لوگ علم وفضل کی طرف منسوب ہوں تو مزید شرافت کی بناء پرنسبی طورپر اگر علوی سے کم ہیں تو علم وفضل کی وجہ سے وہ کمی ختم ہوجاتی ہے اس کے برخلاف جولاہے دھوبی اور نائی موچی وغیرہ کی عارعلم کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی ہاں جب یہ لوگ قدیم سے یہ کام چھوڑ چکے ہوں اور لوگ معزز انداز میں ان سے مانوس ہوچکے ہوں اور لوگوں کے دلوں میں ان کا وقار اور عام نگاہوں میں ان کی وقعت قائم ہوچکی ہو کہ اب بڑے لوگوں کی لڑکیوں کے لئے عار نہیں رہے تو اور بات ہے لیکن ایسے علاقے ہیں بہت کم ہیں جن کا اعتبار
اس پر ہی ہوگا الخ ردالمحتارمیں ہے : آپ نے معلوم کرلیا کہ سبب وہ اہل عرف کا حقیر جانناہے تو اسی بات پر مدار ہوگااس لئے اگرکوئی امیر حاکم یا اس کا نائب اور مالدار اور سنجیدہ ہو اور لوگوں میں رعب والا ہو تو کوئی شك نہیں ایسے شخص سے عورت عار محسوس نہیں کرتی جیساکہ وہ دباغ اور جولاہے وغیرہ سے عار محسوس کرتی ہے اگرچہ حاکم اور اس کانائب ظلم کے طورپر لوگوں کے مال کھاتے ہوں _____ کیونکہ یہاں مدار دنیاوی حقارت و رفعت ہے اھ مختصرا اس میں شك نہیں کہ علویہ لڑکی ہمارے علاقے میں افغان اور مغل جو کہ علم کے زیور سے آراستہ ہیں اور اہل فضل ہیں جو اپنے کو منتخب لوگوں اور شرفاء میں شمار کرتے ہیں ان سے عار محسوس نہیں کرتی تو جب یہ لوگ علم وفضل کی طرف منسوب ہوں تو مزید شرافت کی بناء پرنسبی طورپر اگر علوی سے کم ہیں تو علم وفضل کی وجہ سے وہ کمی ختم ہوجاتی ہے اس کے برخلاف جولاہے دھوبی اور نائی موچی وغیرہ کی عارعلم کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی ہاں جب یہ لوگ قدیم سے یہ کام چھوڑ چکے ہوں اور لوگ معزز انداز میں ان سے مانوس ہوچکے ہوں اور لوگوں کے دلوں میں ان کا وقار اور عام نگاہوں میں ان کی وقعت قائم ہوچکی ہو کہ اب بڑے لوگوں کی لڑکیوں کے لئے عار نہیں رہے تو اور بات ہے لیکن ایسے علاقے ہیں بہت کم ہیں جن کا اعتبار
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۹۳
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۲
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۲
الحکم علیہ یدار فافھم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
نہیں کیا جاسکتا تاہم حقارت کا مدار عرف پر ہے جب مدار یہ ہے کہ تو حکم اس پر ہوگا سمجھو ____ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۴۰ : مرسلہ حاجی موسی عربی ۳ ذی قعدہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ سادات کرام بیبیوں سے غیر قوم غیرسید مثل شیخ مغل پٹھان وغیرہ کا نکاح جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سید ہر قوم کی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اور سیدانی کانکاح قریش کے ہر قبیلہ سے ہوسکتا ہے خواہ علوی ہو یا عباسی یا جعفری یا صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا اموی رہے غیر قریش جیسے انصاری یا مغل یا پٹھان ان میں جو عالم دین معظم مسلمین ہو اس سے مطلقا نکاح ہوسکتاہے ورنہ اگر سیدانی نابالغہ ہے اور اس غیر قریشی کے ساتھ اس کا نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا نہیں تو نکاح باطل ہوگا اگر چہ چچا یا سگا بھائی کرے اور اگر باپ دادا اپنی کسی لڑکی کانکاح ایسے ہی پہلے کرچکے ہیں تو اب ان کے کئے بھی نہ ہوسکے گا اور اگر بالغہ ہے اور اس کا کوئی ولی نہیں تو وہ اپنی خوشی سے اس غیر قریشی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے اور اگر اس کا کوئی ولی یعنی باپ دادا پردادا ان کی اولاد ونسل سے کوئی مرد موجود ہے او راس نے پیش از نکاح اس شخص کو غیر قرشی جان کر صراحۃ ا س نکاح کی اجازت دے دی جب بھی جائز ہوگا ورنہ بالغہ کا کیا ہوا بھی باطل محض ہوگا۔ ان تمام مسائل کی تفصیل درمختار وردالمحتار وغیرہما کتب معتمدہ مذہب اور فقیر کے فتاوی میں متعدد جگہ ہے۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۱ : از رسالہ مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۹جمادی الالی ۱۳۱۷ھ
ایك شخص کافرمان ہے کہ سید یعنی آل نبی کی دختر ہر ایك کو پہنچ سکتی ہے یعنی ہر مسلمان سے عقد جائزہے دوسرے نے جواب دیا کہ اگر جاروب کش مسلمان ہوجائے تو بھی جائز ہے تواس کا جواب دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔
الجواب :
شخص مذکور جھوٹا کذاب اور بے ادب گستاخ ہے سادات کرام کی صاحبزادیاں کسی مغل پٹھان یا غیر قریشی شیخ مثلا انصاری کو بھی نہیں پہنچتیں جب تك وہ عالم دین نہ ہوں اگرچہ یہ قومیں شریف گنی جاتی ہیں مگر سادات کا شرف اعظم واعلی ہے اورغیر قریش قریش کا کفو نہیں ہوسکتا تورذیل قوم والے معاذالله کیونکر سادات کے کفو ہوسکتے ہیں یہاں تك کہ اگر بالغہ سیدانی خود اپنا نکاح اپنی خوشی ومرضی سے کسی مغل پٹھان یا انصاری
نہیں کیا جاسکتا تاہم حقارت کا مدار عرف پر ہے جب مدار یہ ہے کہ تو حکم اس پر ہوگا سمجھو ____ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۴۰ : مرسلہ حاجی موسی عربی ۳ ذی قعدہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ سادات کرام بیبیوں سے غیر قوم غیرسید مثل شیخ مغل پٹھان وغیرہ کا نکاح جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سید ہر قوم کی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اور سیدانی کانکاح قریش کے ہر قبیلہ سے ہوسکتا ہے خواہ علوی ہو یا عباسی یا جعفری یا صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا اموی رہے غیر قریش جیسے انصاری یا مغل یا پٹھان ان میں جو عالم دین معظم مسلمین ہو اس سے مطلقا نکاح ہوسکتاہے ورنہ اگر سیدانی نابالغہ ہے اور اس غیر قریشی کے ساتھ اس کا نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا نہیں تو نکاح باطل ہوگا اگر چہ چچا یا سگا بھائی کرے اور اگر باپ دادا اپنی کسی لڑکی کانکاح ایسے ہی پہلے کرچکے ہیں تو اب ان کے کئے بھی نہ ہوسکے گا اور اگر بالغہ ہے اور اس کا کوئی ولی نہیں تو وہ اپنی خوشی سے اس غیر قریشی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے اور اگر اس کا کوئی ولی یعنی باپ دادا پردادا ان کی اولاد ونسل سے کوئی مرد موجود ہے او راس نے پیش از نکاح اس شخص کو غیر قرشی جان کر صراحۃ ا س نکاح کی اجازت دے دی جب بھی جائز ہوگا ورنہ بالغہ کا کیا ہوا بھی باطل محض ہوگا۔ ان تمام مسائل کی تفصیل درمختار وردالمحتار وغیرہما کتب معتمدہ مذہب اور فقیر کے فتاوی میں متعدد جگہ ہے۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۱ : از رسالہ مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۹جمادی الالی ۱۳۱۷ھ
ایك شخص کافرمان ہے کہ سید یعنی آل نبی کی دختر ہر ایك کو پہنچ سکتی ہے یعنی ہر مسلمان سے عقد جائزہے دوسرے نے جواب دیا کہ اگر جاروب کش مسلمان ہوجائے تو بھی جائز ہے تواس کا جواب دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔
الجواب :
شخص مذکور جھوٹا کذاب اور بے ادب گستاخ ہے سادات کرام کی صاحبزادیاں کسی مغل پٹھان یا غیر قریشی شیخ مثلا انصاری کو بھی نہیں پہنچتیں جب تك وہ عالم دین نہ ہوں اگرچہ یہ قومیں شریف گنی جاتی ہیں مگر سادات کا شرف اعظم واعلی ہے اورغیر قریش قریش کا کفو نہیں ہوسکتا تورذیل قوم والے معاذالله کیونکر سادات کے کفو ہوسکتے ہیں یہاں تك کہ اگر بالغہ سیدانی خود اپنا نکاح اپنی خوشی ومرضی سے کسی مغل پٹھان یا انصاری
شیخ غیر عالم دین سے کرے گی تو نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں جب تك اس کا ولی پیش از نکاح مرد کے نسب پر مطلع ہوکر صراحۃ اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے اور اگر نابالغہ ہے اور اس کا نکاح باپ دادا کے سوا کوئی ولی اگرچہ حقیقی بھائی یا چچا یا ماں ایسے شخص سے کردے تو وہ بھی باطل و مردود ہوگا۔ اور باپ دادا بھی ایك ہی بار ایسانکاح کرسکتے ہیں دوبارہ اگر کسی دختر کا نکاح ایسے شخص سے کریں گے تو ان کا کیا ہوا بھی باطل ہوگا۔
کل ذلك معروف فی کتب الفقۃ کالدرالمختار وغیرہ من الاسفار وقد فصلنا القول فیہ فی فتاونا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
یہ تمام کتب فقہ میں معروف ہے جیسے درمختار وغیرہ اور ہم نے تفصیل کے طورپر اپنا قول اپنے فتاوی میں بیان کردیاہے والله سبحنہ و تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۴۲: ا ز مدرسہ تحصیل نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ مدرس اول مدرسہ مذکور ۲۲شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ جوغیر کفو تھا لاعلمی میں کردیا بعد بلوغ زوجہ اور علم غیر کفو ہونے زوج کے زوجین میں نااتفاقی ہے اورہندہ بھی بعد علم کے نہایت ناراض ہے اور دخترکی مفارقت چاہتی ہے مگر خالد محض ایذا رسانی کی وجہ سے ا س کو طلاق نہیں دیتا اس صورت میں یہ نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں اور زوجہ مذکورہ کو نکاح ثانی کرنے کا اختیار ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل نے بعد استفسار اظہار کیا کہ عورت پٹھان ہے اور خالد قوم کا دھنا اور اس نے اپنے آپ کو پٹھان ظاہر کرکے براہ فریب نکاح کرلیا منکوحہ مـذکورہ کا وقت نکاح باپ دادا کوئی نہ تھا ہاں جوان بھائی موجود تھا مگر کسی وجہ سے جلسہ نکاح میں شریك نہ ہوا نہ ماں نے اس سے اجازت لی پس صورت مستفسرہ میں شرعا یہ نکاح ہوا نہیں فسخ کسے کیا جائے دختر ہندہ کو اختیارہے جس سے چاہے نکاح کرلے درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو اصلا وما فی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۔
اگر نکاح دینے والا باپ داداکاغیر ہو اگرچہ وہ ماں ہو تو نکاح غیر کفومیں اصلا نہ ہوگا اور جو صدر الشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح ہے اور باپ دادا کو فسخ کا اختیا رہے یہ محض وہم ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں زیر قول شارح تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح(کفو کا اعتبار لزوم نکاح کے لئے ہے۔ ت)
کل ذلك معروف فی کتب الفقۃ کالدرالمختار وغیرہ من الاسفار وقد فصلنا القول فیہ فی فتاونا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
یہ تمام کتب فقہ میں معروف ہے جیسے درمختار وغیرہ اور ہم نے تفصیل کے طورپر اپنا قول اپنے فتاوی میں بیان کردیاہے والله سبحنہ و تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۴۲: ا ز مدرسہ تحصیل نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ مدرس اول مدرسہ مذکور ۲۲شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ جوغیر کفو تھا لاعلمی میں کردیا بعد بلوغ زوجہ اور علم غیر کفو ہونے زوج کے زوجین میں نااتفاقی ہے اورہندہ بھی بعد علم کے نہایت ناراض ہے اور دخترکی مفارقت چاہتی ہے مگر خالد محض ایذا رسانی کی وجہ سے ا س کو طلاق نہیں دیتا اس صورت میں یہ نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں اور زوجہ مذکورہ کو نکاح ثانی کرنے کا اختیار ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
سائل نے بعد استفسار اظہار کیا کہ عورت پٹھان ہے اور خالد قوم کا دھنا اور اس نے اپنے آپ کو پٹھان ظاہر کرکے براہ فریب نکاح کرلیا منکوحہ مـذکورہ کا وقت نکاح باپ دادا کوئی نہ تھا ہاں جوان بھائی موجود تھا مگر کسی وجہ سے جلسہ نکاح میں شریك نہ ہوا نہ ماں نے اس سے اجازت لی پس صورت مستفسرہ میں شرعا یہ نکاح ہوا نہیں فسخ کسے کیا جائے دختر ہندہ کو اختیارہے جس سے چاہے نکاح کرلے درمختارمیں ہے :
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو اصلا وما فی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۔
اگر نکاح دینے والا باپ داداکاغیر ہو اگرچہ وہ ماں ہو تو نکاح غیر کفومیں اصلا نہ ہوگا اور جو صدر الشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح ہے اور باپ دادا کو فسخ کا اختیا رہے یہ محض وہم ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں زیر قول شارح تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح(کفو کا اعتبار لزوم نکاح کے لئے ہے۔ ت)
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۲
فرمایا :
ای علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختارۃ للفتوی ۔
یعنی ظاہر روایت پرا ور امام حسن کی روایت پر صحت نکاح کے لئے یہ شرط ہے اوریہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
اگر اقرب حاضر ہو تو ابعد کا دیا ہوا نکاح اس اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
ردالمحتارمیں بحرالرائق سے ہے :
انھم قال کل عقد لا مجیز لہ حال صدورہ فھو باطل لا یتوقف ۔
جس نکاح کو جائز کرنے والا کوئی بھی نکاح کے وقت نہ ہو تو وہ موقوف نہ ہوگا باطل ہوگا(ت)
فتح القدیر میں ہے :
مالامجیزلہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور جس کا کوئی جائز کرنے والا نہ ہو یعنی اجازت کا اختیار نہ رکھتاہو تو وہ باطل ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۳ تا ۴۴۶: از سنبھل ۱۵ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید پہلے ٹھاکر تھا اب اپنے والدین واطفال کو چھوڑ کر مشرف باسلام ہوگیا زیدکی خواہش ہے کہ نکاح کرے زید کا کل خاندان اس سے برعکس ہے بی بی کو مسلمان ہونا قبول نہیں پس ایسی حالت میں سوالات ذیل ازروئے شرع شریف حل طلب ہیں زید کی عمر اب ۲۲سال ہے :
(۱) زید مشر ف باسلام ہونے کے بعد کون شمار کیا جائے گا اگرچہ شیخ کیونکہ شیخ بہت قسم کے ہیں۔
(۲)کس قوم کی لڑکی کے ساتھ زیدکانکاح ہوسکتاہے فی الحال سب اقوام انکار کرتی ہیں شرع شریف کی رو سے کس قوم پر استحقاق ہے۔
ای علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختارۃ للفتوی ۔
یعنی ظاہر روایت پرا ور امام حسن کی روایت پر صحت نکاح کے لئے یہ شرط ہے اوریہی فتوی کے لئے مختارہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔
اگر اقرب حاضر ہو تو ابعد کا دیا ہوا نکاح اس اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
ردالمحتارمیں بحرالرائق سے ہے :
انھم قال کل عقد لا مجیز لہ حال صدورہ فھو باطل لا یتوقف ۔
جس نکاح کو جائز کرنے والا کوئی بھی نکاح کے وقت نہ ہو تو وہ موقوف نہ ہوگا باطل ہوگا(ت)
فتح القدیر میں ہے :
مالامجیزلہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور جس کا کوئی جائز کرنے والا نہ ہو یعنی اجازت کا اختیار نہ رکھتاہو تو وہ باطل ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۳ تا ۴۴۶: از سنبھل ۱۵ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید پہلے ٹھاکر تھا اب اپنے والدین واطفال کو چھوڑ کر مشرف باسلام ہوگیا زیدکی خواہش ہے کہ نکاح کرے زید کا کل خاندان اس سے برعکس ہے بی بی کو مسلمان ہونا قبول نہیں پس ایسی حالت میں سوالات ذیل ازروئے شرع شریف حل طلب ہیں زید کی عمر اب ۲۲سال ہے :
(۱) زید مشر ف باسلام ہونے کے بعد کون شمار کیا جائے گا اگرچہ شیخ کیونکہ شیخ بہت قسم کے ہیں۔
(۲)کس قوم کی لڑکی کے ساتھ زیدکانکاح ہوسکتاہے فی الحال سب اقوام انکار کرتی ہیں شرع شریف کی رو سے کس قوم پر استحقاق ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۱۸
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۱۴
فتح القدیر باب الولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۹۹
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۴
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۱۴
فتح القدیر باب الولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۹۹
(۳)اب زید کی اولاد ماں کی قوم پرمانی جائے گی یا باپ کی ذات پر
(۴)شرع شریف کی رو سے رذالت اور شرافت قوم پر منحصر ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزت حاصل ہوتی ہے مگر مذہب کسی قوم کانام نہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں جس قوم وقبیلہ کے لو گ اسلام لاتے بعد اسلام بھی اس قوم وقبیلہ کی طرف نسبت کئے جاتے ہندوانی قوموں میں چار قومیں شریف گنی جاتی ہیں ان میں چھتری یعنی ٹھاکر دوسرے نمبر پرہے ہندوستان میں اکثر سلطنت اسی قوم کی ہے ولہذا انھیں راجپوت کہتے ہیں تو ہندی قوموں میں ان کا معزز ہونا ظاہر ہے او ر ہماری شریعت مطہرہ نے حکم دیاہے کہ :
اذاا تاکم کریم قوم فاکرموہ ۔
جب تمھارے پاس کسی قوم کا عزت دار آدمی آئے تو اس کی خاطر کرو۔
خالی آنے پر تو یہ حکم تھااور جو بندہ خدا بہدایت الہی بالکل ٹوٹ کر ہم میں آملا ہم میں کا ہوگیا اس کا کس قدر اعزاز واکرام الله سبحنہ کو پسند ہوگا اسلام کی عزت کے برابر اور کیا عزت ہے اس نے تو اسے اور بھی چار چاند نہیں بلکہ ہزار چاند لگادئے اگر کوئی چمار بھی مسلمان ہو تو مسلمان کے دین میں اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا حرام اور سخت حرام ہے وہ ہمارا دینی بھائی ہوگیا الله تعالی فرماتا ہے : انما المؤمنون اخوة (مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔ ت)اور فرماتاہے : فاخوانكم فی الدین (تو وہ دین میں تمھارے بھائی ہیں۔ ت) پھر جو کسی معزز قوم کا اسلام لائے اسے کیونکر حقیر سمجھا جائے شیخ کسی خاص قوم کانام نہیں ہندوستان میں مسلمانوں نے تین قومیں خاص شریف قرار دیں اور انھیں سید یا میر اور خاں اور بیگ کے خطاب دئے کہ ان سب لفظوں کے معنی عربی وفارسی وترکی میں سردار ہیں باقی تمام شرفاء مثل اولاد امجاد خلفائے کرام وبنی عباس وانصار کو ایك لقب عام دیا شیخ کہ یہ بھی بمعنی بزرگ ہے ان کے سوا جوقومیں رہ گئیں کہ دنیاوی عرف میں رذیل سمجھی جاتی ہیں انھوں نے جب دیکھا کہ میر وخادم وبیگ تو خاص خاص اقوام کے لقب ہیں ان میں گنجائش نہیں اور شیخ ایك عام لفظ ہے جس میں باقی سب داخل تو اسی کو سمائی والاخطاب پاکر سب قوموں نے اپنی بھرتی اسی میں
(۴)شرع شریف کی رو سے رذالت اور شرافت قوم پر منحصر ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزت حاصل ہوتی ہے مگر مذہب کسی قوم کانام نہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں جس قوم وقبیلہ کے لو گ اسلام لاتے بعد اسلام بھی اس قوم وقبیلہ کی طرف نسبت کئے جاتے ہندوانی قوموں میں چار قومیں شریف گنی جاتی ہیں ان میں چھتری یعنی ٹھاکر دوسرے نمبر پرہے ہندوستان میں اکثر سلطنت اسی قوم کی ہے ولہذا انھیں راجپوت کہتے ہیں تو ہندی قوموں میں ان کا معزز ہونا ظاہر ہے او ر ہماری شریعت مطہرہ نے حکم دیاہے کہ :
اذاا تاکم کریم قوم فاکرموہ ۔
جب تمھارے پاس کسی قوم کا عزت دار آدمی آئے تو اس کی خاطر کرو۔
خالی آنے پر تو یہ حکم تھااور جو بندہ خدا بہدایت الہی بالکل ٹوٹ کر ہم میں آملا ہم میں کا ہوگیا اس کا کس قدر اعزاز واکرام الله سبحنہ کو پسند ہوگا اسلام کی عزت کے برابر اور کیا عزت ہے اس نے تو اسے اور بھی چار چاند نہیں بلکہ ہزار چاند لگادئے اگر کوئی چمار بھی مسلمان ہو تو مسلمان کے دین میں اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا حرام اور سخت حرام ہے وہ ہمارا دینی بھائی ہوگیا الله تعالی فرماتا ہے : انما المؤمنون اخوة (مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔ ت)اور فرماتاہے : فاخوانكم فی الدین (تو وہ دین میں تمھارے بھائی ہیں۔ ت) پھر جو کسی معزز قوم کا اسلام لائے اسے کیونکر حقیر سمجھا جائے شیخ کسی خاص قوم کانام نہیں ہندوستان میں مسلمانوں نے تین قومیں خاص شریف قرار دیں اور انھیں سید یا میر اور خاں اور بیگ کے خطاب دئے کہ ان سب لفظوں کے معنی عربی وفارسی وترکی میں سردار ہیں باقی تمام شرفاء مثل اولاد امجاد خلفائے کرام وبنی عباس وانصار کو ایك لقب عام دیا شیخ کہ یہ بھی بمعنی بزرگ ہے ان کے سوا جوقومیں رہ گئیں کہ دنیاوی عرف میں رذیل سمجھی جاتی ہیں انھوں نے جب دیکھا کہ میر وخادم وبیگ تو خاص خاص اقوام کے لقب ہیں ان میں گنجائش نہیں اور شیخ ایك عام لفظ ہے جس میں باقی سب داخل تو اسی کو سمائی والاخطاب پاکر سب قوموں نے اپنی بھرتی اسی میں
حوالہ / References
حلیۃ الاولیاء ترجمہ ٣٦٣ سعید بن ایاس الجریری دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۰۶۔۲۰۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۵
کردی دھنا جولاہا جس سے پوچھئے اپنے آ پ کو شیخ بتائے گا مگر حقیقۃ شیخ کی اصطلاح صرف انہی شریف قوموں یعنی صدیقی فاروقی عثمانی علوی جعفری عباسی انصاری وامثالہم کے لئے ہیں ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے استاذ امام رحمۃ الله تعالی علیہ کا مذہب یہ تھاکہ جو شخص جس کے ہاتھ پر مسلمان ہو اس کی اولاد اس کے لئے ہے۔
فی ردالمحتار عن البدائع عندعطاء ھومولی للذی اسلم علی یدہ ۔
ردالمحتار میں بدائع سے ہے کہ عطاء کے ہاں وہ جس کے ہاتھ پر مسلمان ہوا اس کا وہ مولی ہے۔ (ت)
اور ولاء ایك رشتہ ہے مثل رشتہ نسب کے حدیث میں ہے :
الولاء لحمۃ کلحمۃ النسب اخرجہ الحاکم و البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
ولاء نسب کی طرح ایك رشتہ ہے (اس کو حاکم اور بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مولی القوم انفسھم رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کسی قوم کا آزاد کردہ ان میں سے ہے اس کو شیخین نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
اسی مذہب کا ایك حدیث بھی پتا دیتی ہے :
من اسلم علی یدی رجل فلہ ولاءہ ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس والدارقطنی والبیھقی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے تو اس کا رشتہ ولاء اسی سے قرار پائے(اسی کو طبرانی نے کبیرمیں ابن عباس سے اور دارقطنی اور بیہقی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
فی ردالمحتار عن البدائع عندعطاء ھومولی للذی اسلم علی یدہ ۔
ردالمحتار میں بدائع سے ہے کہ عطاء کے ہاں وہ جس کے ہاتھ پر مسلمان ہوا اس کا وہ مولی ہے۔ (ت)
اور ولاء ایك رشتہ ہے مثل رشتہ نسب کے حدیث میں ہے :
الولاء لحمۃ کلحمۃ النسب اخرجہ الحاکم و البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
ولاء نسب کی طرح ایك رشتہ ہے (اس کو حاکم اور بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مولی القوم انفسھم رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کسی قوم کا آزاد کردہ ان میں سے ہے اس کو شیخین نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
اسی مذہب کا ایك حدیث بھی پتا دیتی ہے :
من اسلم علی یدی رجل فلہ ولاءہ ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس والدارقطنی والبیھقی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے تو اس کا رشتہ ولاء اسی سے قرار پائے(اسی کو طبرانی نے کبیرمیں ابن عباس سے اور دارقطنی اور بیہقی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الولاء فصل فی ولاء الموالاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۷۸
المستدرك للحاکم کتاب الفرائض دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴۱
صحیح بخاری کتاب الفرائض باب موالی القوم من انفسہم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۰۰ ، السنن الکبرٰی باب من زعم ان موالی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دار صادر بیروت ۲ / ۱۵۱
السنن الکبرٰی کتاب الولاء دار صادر بیروت ۱۰ / ۲۹۸
المستدرك للحاکم کتاب الفرائض دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴۱
صحیح بخاری کتاب الفرائض باب موالی القوم من انفسہم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۰۰ ، السنن الکبرٰی باب من زعم ان موالی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دار صادر بیروت ۲ / ۱۵۱
السنن الکبرٰی کتاب الولاء دار صادر بیروت ۱۰ / ۲۹۸
عجب نہیں کہ اس حدیث کا منشا بھی یہی ہو کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من اسلم من اھل فارس فھو قرشی ۔ رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اہل فارس سے جو اسلام لائے وہ قرشی ہے(اسے ابن نجار نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
کہ قریش نے فارس فتح کیا اس کے لوگ ان کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوئے اس مذہب کی بناپر جو شخص جس کے ہاتھ مسلمان ہوگا بطور رشتہ ولاء اسی قوم میں گنے جانے کے قابل ہوگا والله تعالی اعلم۔
(۲)زید جبکہ خود اپنی ذات سے مسلمان ہوا تو اسے دربارہ نکاح کفو و ہمسر ہونے کا حق اسی عورت پر پہنچتاہے جو خود مسلمان ہوئی ہو جس لڑکی کا باپ مسلمان ہوا اور اس کے اسلام کی حالت میں یہ لڑکی پیدا ہوئی خود مسلمان ہونے والا اس کا بھی کفو نہیں۔
فی الدرالمختار اما فی العجم فتعتبر حریۃ واسلاما فمسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ومن ابوہ مسلم غیر کفو لذات ابوین وابوان فیھما کالاباء لتمام النسب بالجد اھ مختصرا۔
درمختار میں ہے کہ عجمیوں میں آزاد مسلمان ہونا کفو ہے۔ لہذا جو شخص خود مسلمان بناوہ ایسے کےلئے کفو نہیں جس کا باپ مسلمان بنا اورجس کا باپ مسلمان ہو وہ ایسے کا نہیں جس کے دو باپ یعنی باپ اور دادا مسلمان ہوچکے ہوں اس معاملہ میں دو مسلمان باپ متعدد مسلمان آباء کی طرح ہیں کیونکہ نسب دادا پر مکمل ہوجاتاہے اھ مختصرا۔ (ت)
اور اس کے سواپانچ صورتیں اس نکاح کی اور ہیں۔
۱ایك یہ کہ عورت عاقلہ جس کا کوئی ولی نہ ہوبرضائے خود اس سے نکاح کرے۔
۲دوم ایسی عورت کا ولی بھی پیش از نکاح اسے نو مسلم جان کر اس کے ساتھ نکاح کرنے پر صراحۃ اپنی رضا ظاہر کردے۔
۳سوم نابالغہ کا باپ یا یتیمہ کا دادا اس کے ساتھ نکاح کردے جبکہ اس سے پہلے کسی نابالغہ کا نکاح اپنی ولایت سے کم قوم یا کسی طرح کے غیر کفومیں نہ کرچکا ہو۔
۴چہارم مجہول النسب لڑکی کوحاکم اسلام اپنی ولایت سے اس کے نکاح میں دے دے۔
من اسلم من اھل فارس فھو قرشی ۔ رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اہل فارس سے جو اسلام لائے وہ قرشی ہے(اسے ابن نجار نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
کہ قریش نے فارس فتح کیا اس کے لوگ ان کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوئے اس مذہب کی بناپر جو شخص جس کے ہاتھ مسلمان ہوگا بطور رشتہ ولاء اسی قوم میں گنے جانے کے قابل ہوگا والله تعالی اعلم۔
(۲)زید جبکہ خود اپنی ذات سے مسلمان ہوا تو اسے دربارہ نکاح کفو و ہمسر ہونے کا حق اسی عورت پر پہنچتاہے جو خود مسلمان ہوئی ہو جس لڑکی کا باپ مسلمان ہوا اور اس کے اسلام کی حالت میں یہ لڑکی پیدا ہوئی خود مسلمان ہونے والا اس کا بھی کفو نہیں۔
فی الدرالمختار اما فی العجم فتعتبر حریۃ واسلاما فمسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ومن ابوہ مسلم غیر کفو لذات ابوین وابوان فیھما کالاباء لتمام النسب بالجد اھ مختصرا۔
درمختار میں ہے کہ عجمیوں میں آزاد مسلمان ہونا کفو ہے۔ لہذا جو شخص خود مسلمان بناوہ ایسے کےلئے کفو نہیں جس کا باپ مسلمان بنا اورجس کا باپ مسلمان ہو وہ ایسے کا نہیں جس کے دو باپ یعنی باپ اور دادا مسلمان ہوچکے ہوں اس معاملہ میں دو مسلمان باپ متعدد مسلمان آباء کی طرح ہیں کیونکہ نسب دادا پر مکمل ہوجاتاہے اھ مختصرا۔ (ت)
اور اس کے سواپانچ صورتیں اس نکاح کی اور ہیں۔
۱ایك یہ کہ عورت عاقلہ جس کا کوئی ولی نہ ہوبرضائے خود اس سے نکاح کرے۔
۲دوم ایسی عورت کا ولی بھی پیش از نکاح اسے نو مسلم جان کر اس کے ساتھ نکاح کرنے پر صراحۃ اپنی رضا ظاہر کردے۔
۳سوم نابالغہ کا باپ یا یتیمہ کا دادا اس کے ساتھ نکاح کردے جبکہ اس سے پہلے کسی نابالغہ کا نکاح اپنی ولایت سے کم قوم یا کسی طرح کے غیر کفومیں نہ کرچکا ہو۔
۴چہارم مجہول النسب لڑکی کوحاکم اسلام اپنی ولایت سے اس کے نکاح میں دے دے۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن ابن عمر حدیث ۱۱۰۲۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۴ / ۳۸۳
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
۵پنجم یہ شخص علم دین حاصل کرلے مسلمانوں میں اس کی علمی فضلیت اوروں کی نسبی شرافت یا اسلامی قدامت کے ہم پلہ ہوجائے عار عرفی باقی نہ رہے اس وقت یہ شخص ہر قوم وقبیلہ کا کفو ہوسکتاہے۔
(۳)اولاد ہمیشہ باپ کی قوم پرہوتی ہے۔ قال تعالی : و على المولود له رزقهن (جس کا بچہ ہے عورت کا نفقہ اس پر ہے۔ ت)
(۴)شرع شریف میں شرافت قوم پر منحصر نہیں۔ الله عزوجل فرماتاہے : ان اكرمكم عند الله اتقىكم- تم میں زیادہ مرتبے والا الله کے نزدیك وہ ہے جو زیادہ تقوی رکھتاہے۔ ہاں دربارہ نکاح اس کا ضرور اعتبار رکھاہے باپ دادا کے سوا کسی ولی کواختیار نہیں کہ نابالغہ لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو سے کردےجس سے اس کی شادی عرف میں باعث ننگ وعار ہو اگر کردے گا نکاح نہ ہوگا عاقلہ بالغہ کو اجازت نہیں کہ بے رضامندی صریح اولیا اپنا نکاح کسی غیر کفو سے کرلے اگر کرلے گی نکاح نہ ہوگا والمسائل معروفۃ فی کتب المذہب جمیعا(یہ تمام مسائل مذہب کی کتابوں میں معروف ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۷ : ازکوپاگنج ڈاك خانہ کوپاگنج محلہ پورہ چندن ضلع اعظم گڑھ مکان مولوی الہی بخش صاحب مرسلہ حافظ محمد عبدالکریم صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت داشتہ رکھا یعنی ہندہ کو جو خالد کی منکوحہ تھی اورخالد نے طلاق نہیں دیا اور جس زمانہ سے زید نے ہندہ کو اپنے پاس رکھا اس کے بطن سے کئی ایك لڑکے لڑکی پیدا ہوئے زید لڑکے لڑکی کی شادی چاہتاہے لوگ کہتے ہیں حرامی ہیں پس حدیث شریف میں ایسے لڑکے لڑکیوں کے بارہ میں کوئی وعید وارد ہے یا اس فعل کا عذاب ثواب ان کے ماں باپ کو ہوگا بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر نے محاورے کے مطابق لفظ ثواب بھی لکھ دیا جس طرح کسی حکایت پرکہتے ہیں عذاب و ثواب برگردن راوی حالانکہ اس کامحل وہاں ہے کہ اس امر میں دوباتوں کا احتمال ہو حرام میں ثواب کی
(۳)اولاد ہمیشہ باپ کی قوم پرہوتی ہے۔ قال تعالی : و على المولود له رزقهن (جس کا بچہ ہے عورت کا نفقہ اس پر ہے۔ ت)
(۴)شرع شریف میں شرافت قوم پر منحصر نہیں۔ الله عزوجل فرماتاہے : ان اكرمكم عند الله اتقىكم- تم میں زیادہ مرتبے والا الله کے نزدیك وہ ہے جو زیادہ تقوی رکھتاہے۔ ہاں دربارہ نکاح اس کا ضرور اعتبار رکھاہے باپ دادا کے سوا کسی ولی کواختیار نہیں کہ نابالغہ لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو سے کردےجس سے اس کی شادی عرف میں باعث ننگ وعار ہو اگر کردے گا نکاح نہ ہوگا عاقلہ بالغہ کو اجازت نہیں کہ بے رضامندی صریح اولیا اپنا نکاح کسی غیر کفو سے کرلے اگر کرلے گی نکاح نہ ہوگا والمسائل معروفۃ فی کتب المذہب جمیعا(یہ تمام مسائل مذہب کی کتابوں میں معروف ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۷ : ازکوپاگنج ڈاك خانہ کوپاگنج محلہ پورہ چندن ضلع اعظم گڑھ مکان مولوی الہی بخش صاحب مرسلہ حافظ محمد عبدالکریم صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت داشتہ رکھا یعنی ہندہ کو جو خالد کی منکوحہ تھی اورخالد نے طلاق نہیں دیا اور جس زمانہ سے زید نے ہندہ کو اپنے پاس رکھا اس کے بطن سے کئی ایك لڑکے لڑکی پیدا ہوئے زید لڑکے لڑکی کی شادی چاہتاہے لوگ کہتے ہیں حرامی ہیں پس حدیث شریف میں ایسے لڑکے لڑکیوں کے بارہ میں کوئی وعید وارد ہے یا اس فعل کا عذاب ثواب ان کے ماں باپ کو ہوگا بینوا تو جروا
الجواب :
سائل مظہر نے محاورے کے مطابق لفظ ثواب بھی لکھ دیا جس طرح کسی حکایت پرکہتے ہیں عذاب و ثواب برگردن راوی حالانکہ اس کامحل وہاں ہے کہ اس امر میں دوباتوں کا احتمال ہو حرام میں ثواب کی
کیا گنجائش یہ لفظ خطائے شدید ہے آئندہ احترام لازم زنا کا عذاب صرف زانی وزانیہ پر ہے اولاد زناپر اس کا وبال نہیں۔ قال الله تعالی : و لا تزر وازرة وزر اخرى- (ایك کابوجھ دوسرے پر نہیں۔ ت)حدیث میں ہے :
لیس علی ولدالزنا من وزرا بویہ شیئ ۔ رواہ الحاکم عن الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
ولد زنا پر اس کے والدین کا بوجھ کچھ نہیں ہے(اس کو حاکم نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ ت)
حدیث صحیح میں اولاد زنا کی نسبت اس قدر واردہے کہ :
ولدالزنا شرالثلثۃ ۔ رواہ الامام محمد وابوداؤد والحاکم والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
حرام کا بچہ اپنے ماں باپ سے بھی بد ترہوتاہے(اس کو امام محمد ابوداؤد حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ بھی وہی حرکات اختیار کرے خود دوسری حدیث میں اس مطلب کی تصریح ارشاد ہوئی کہ :
ولدالزنا شرالثلثۃ اذا عمل بعمل ابویہ ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔
حرامی اپنے ماں باپ سے بھی بدتر ہے جبکہ ان کی طرح وہی کام کرے (اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بسند حسن روایت کیا ہے۔ ت)
یا یہ معنی کہ یہ عادتوں خصلتوں میں غالبا ان سے بھی بد تر ہوتاہے جبکہ علم وعمل اس کی اصلاح نہ کریں کہ برے تخم سے بری ہی کھیتی پیداہوتی ہے
شمشیرنیك زاہن بدچوں کند کسے
(ناقص لوہے سے اچھی تلوار کوئی کیسے بنائے۔ ت)
لیس علی ولدالزنا من وزرا بویہ شیئ ۔ رواہ الحاکم عن الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
ولد زنا پر اس کے والدین کا بوجھ کچھ نہیں ہے(اس کو حاکم نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ ت)
حدیث صحیح میں اولاد زنا کی نسبت اس قدر واردہے کہ :
ولدالزنا شرالثلثۃ ۔ رواہ الامام محمد وابوداؤد والحاکم والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
حرام کا بچہ اپنے ماں باپ سے بھی بد ترہوتاہے(اس کو امام محمد ابوداؤد حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ بھی وہی حرکات اختیار کرے خود دوسری حدیث میں اس مطلب کی تصریح ارشاد ہوئی کہ :
ولدالزنا شرالثلثۃ اذا عمل بعمل ابویہ ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔
حرامی اپنے ماں باپ سے بھی بدتر ہے جبکہ ان کی طرح وہی کام کرے (اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بسند حسن روایت کیا ہے۔ ت)
یا یہ معنی کہ یہ عادتوں خصلتوں میں غالبا ان سے بھی بد تر ہوتاہے جبکہ علم وعمل اس کی اصلاح نہ کریں کہ برے تخم سے بری ہی کھیتی پیداہوتی ہے
شمشیرنیك زاہن بدچوں کند کسے
(ناقص لوہے سے اچھی تلوار کوئی کیسے بنائے۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
مستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ / ۱۰۰
مستدرك للحاکم کتاب العتق و کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۲ / ۲۱۵ و ۴ / ۱۰۰
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الایمان دارصادر بیروت ۱۰ / ۵۷ و ۵۸ و ۵۹
مستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ / ۱۰۰
مستدرك للحاکم کتاب العتق و کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۲ / ۲۱۵ و ۴ / ۱۰۰
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الایمان دارصادر بیروت ۱۰ / ۵۷ و ۵۸ و ۵۹
اور یہی مطلب ہے اس حدیث کاکہ :
فرخ الزنا لایدخل الجنۃ ۔ رواہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند ضعیف۔
زنا کا چوزہ جنت میں نہ جائے گا۔ (اس کو ابن عدی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ت)
یعنی غالبا اس سے وہ افعال صادر ہوں گے جو سابقین کے ساتھ دخول جنت سے روکیں گے بالجملہ یہ مطلب کسی طرح نہیں کہ ان کے گناہ کا عذاب اس پر ہو یا بے گناہ وعید کامستحق ہو مگر اس امر نکاح میں شرع مطہر نے کفاءت کا بھی لحاظ فرمایا ہے دختروں کے لئے مطلقا بالغہ ہوں خواہ نابالغہ اور پسروں کے لئے جبکہ نابالغ ہوں۔
کما حررہ فی ردالمحتار مستند المافی البدائع و حققناہ فی البحروالخیریۃ والخانیۃ والتبیین والکافی والسراج الوھاج والھندیۃ کما ذکر ناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
اس کو ردالمحتارمیں بدائع کے حوالے سے بیان کیاہے اور ہم نے اس کی تحقیق بحر خیریہ خانیہ تبیین کافی سراج الوہاج اور ہندیہ کے بیانوں سے کی ہے جیسے کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پر ذکر کیاہے۔ ت)
اور شك نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدو رمعہ ۔
فتاوی علامہ شامی میں فتح سے منقول کہ اہل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہوگا(ت)
تو بحالت عار کسی عورت کانکاح ولدالحرام کے ساتھ نہیں ہوسکتا اگر کیا جائے گا نکاح اصلا نہ ہوگا مگر دوصورتوں میں ایك یہ کہ دختر نابالغہ کا نکاح باپ یا وہ نہ ہو تو دادااپنی تزویج سے کرے اور وقت نکاح نشے میں نہ ہو نہ اس سے پہلے اپنی اولاد سے کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکاہو دوسرے یہ کہ زن بالغہ برضائے خود کرے اور اس کے لئے کوئی ولی ہو تو وہ پیش ازنکاح باوصف اس اطلاع کے کہ وہ شخص ولدالحرام ہے تصریحا اپنی رضاظاہرکردے والمسائل مفصلۃ فی الدر وغیرہ (در وغیرہ میں یہ مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ ت)
فرخ الزنا لایدخل الجنۃ ۔ رواہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند ضعیف۔
زنا کا چوزہ جنت میں نہ جائے گا۔ (اس کو ابن عدی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ت)
یعنی غالبا اس سے وہ افعال صادر ہوں گے جو سابقین کے ساتھ دخول جنت سے روکیں گے بالجملہ یہ مطلب کسی طرح نہیں کہ ان کے گناہ کا عذاب اس پر ہو یا بے گناہ وعید کامستحق ہو مگر اس امر نکاح میں شرع مطہر نے کفاءت کا بھی لحاظ فرمایا ہے دختروں کے لئے مطلقا بالغہ ہوں خواہ نابالغہ اور پسروں کے لئے جبکہ نابالغ ہوں۔
کما حررہ فی ردالمحتار مستند المافی البدائع و حققناہ فی البحروالخیریۃ والخانیۃ والتبیین والکافی والسراج الوھاج والھندیۃ کما ذکر ناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
اس کو ردالمحتارمیں بدائع کے حوالے سے بیان کیاہے اور ہم نے اس کی تحقیق بحر خیریہ خانیہ تبیین کافی سراج الوہاج اور ہندیہ کے بیانوں سے کی ہے جیسے کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پر ذکر کیاہے۔ ت)
اور شك نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدو رمعہ ۔
فتاوی علامہ شامی میں فتح سے منقول کہ اہل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہوگا(ت)
تو بحالت عار کسی عورت کانکاح ولدالحرام کے ساتھ نہیں ہوسکتا اگر کیا جائے گا نکاح اصلا نہ ہوگا مگر دوصورتوں میں ایك یہ کہ دختر نابالغہ کا نکاح باپ یا وہ نہ ہو تو دادااپنی تزویج سے کرے اور وقت نکاح نشے میں نہ ہو نہ اس سے پہلے اپنی اولاد سے کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکاہو دوسرے یہ کہ زن بالغہ برضائے خود کرے اور اس کے لئے کوئی ولی ہو تو وہ پیش ازنکاح باوصف اس اطلاع کے کہ وہ شخص ولدالحرام ہے تصریحا اپنی رضاظاہرکردے والمسائل مفصلۃ فی الدر وغیرہ (در وغیرہ میں یہ مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ ت)
حوالہ / References
الکامل لابن عدی ترجمہ بن ابی صالح ذکو ان السمان مدینی دارالفکر بیروت ۳ / ۱۲۸۶
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۲
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۲
یونہی اگر پسر کے نکاح میں دختر حرام کا دینا وہاں کے عرف میں باعث بدنامی وعار ہو تونابالغ پسر کانکاح بھی ایسی دختر سے اصلا نہ ہوگا سوااسی صورت پدر وجد بشرط مذکور کے علی ماتحررفی ماتقرر(جیساکہ تقریر میں واضح کیاگیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۸ : از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالرسول محب احمد صاحب ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
زید نے کہ صدیقی شریف متقی ہے خالد اور عمرو کے کہنے سے کہ خالد تیرا کفو ہے اور شریف خاندان ہے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اب بعدنکاح معلوم ہوا کہ خالد کے یہاں ہمیشہ سے پیشہ حرامکاری چلا آتاہے اس کے خاندان کے اکثر لوگ پیشہ زناکاری کرتے ہیں اور اسی قسم کی ان کی اولادیں ہیں مگرا ب خالد نے اپنی بہنوں کا نکاح لوگوں کے کہنے سننے سے شرعی طورپر کردیا فقط اب زید ایسی حالت میں کیا کرے کہ اس نے خالد کو اس کے اخبار پر اپنا کفوسمجھ کر ہندہ نابالغہ کانکاح کردیا تھا آیا یہ نکاح شرعا جائز ولازم ہے یا نہیں اورزید کو اس وقت حق فسخ حاصل ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں زیدکو حق فسخ حاصل ہونے میں تو اصلا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ ولوالجیہ ودرمختار میں ہے :
اذا شرطوا الکفاءۃ او اخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذلك ثم ظھرانہ غیر کفو کان لھم الخیار ۔
جب اولیاء نے کفو کی شرط پر نکاح دیا یالڑکے نے وقت نکاح خود کو کفو ہونا بتایا بعد میں غیر کفو ہونا ظاہر ہوگیا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہے۔ (ت)
کلام اس میں ہے کہ فسخ کی حاجت بھی ہے یا نہیں بہت کتب میں تصریح ہے کہ ایسا نکاح محض باطل ہے اور جب باطل ہے تو سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔ فتاوی قاضی خاں و فتاوی بزازیہ و نوازل امام فقیہ ابواللیث وفتح القدیر شرح ہدایہ وردالمحتار علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للوجیز زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ مصلحا لا یشرب مسکرافاذا ھو مد من فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح ان
لفظ وجیز کے ہیں کہ ایك شخص کو نابالغ بیٹی کا نکاح اس گمان سے کردیا کہ یہ صالح ہے اور شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعد میں معلوم ہوا کہ شراب کا عادی ہے اور بیٹی نے بالغ ہونے پر کہاکہ میں اس نکاح پر راضی نہیں ہوں۔ تو
مسئلہ ۴۴۸ : از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالرسول محب احمد صاحب ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
زید نے کہ صدیقی شریف متقی ہے خالد اور عمرو کے کہنے سے کہ خالد تیرا کفو ہے اور شریف خاندان ہے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اب بعدنکاح معلوم ہوا کہ خالد کے یہاں ہمیشہ سے پیشہ حرامکاری چلا آتاہے اس کے خاندان کے اکثر لوگ پیشہ زناکاری کرتے ہیں اور اسی قسم کی ان کی اولادیں ہیں مگرا ب خالد نے اپنی بہنوں کا نکاح لوگوں کے کہنے سننے سے شرعی طورپر کردیا فقط اب زید ایسی حالت میں کیا کرے کہ اس نے خالد کو اس کے اخبار پر اپنا کفوسمجھ کر ہندہ نابالغہ کانکاح کردیا تھا آیا یہ نکاح شرعا جائز ولازم ہے یا نہیں اورزید کو اس وقت حق فسخ حاصل ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں زیدکو حق فسخ حاصل ہونے میں تو اصلا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ ولوالجیہ ودرمختار میں ہے :
اذا شرطوا الکفاءۃ او اخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذلك ثم ظھرانہ غیر کفو کان لھم الخیار ۔
جب اولیاء نے کفو کی شرط پر نکاح دیا یالڑکے نے وقت نکاح خود کو کفو ہونا بتایا بعد میں غیر کفو ہونا ظاہر ہوگیا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہے۔ (ت)
کلام اس میں ہے کہ فسخ کی حاجت بھی ہے یا نہیں بہت کتب میں تصریح ہے کہ ایسا نکاح محض باطل ہے اور جب باطل ہے تو سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔ فتاوی قاضی خاں و فتاوی بزازیہ و نوازل امام فقیہ ابواللیث وفتح القدیر شرح ہدایہ وردالمحتار علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للوجیز زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ مصلحا لا یشرب مسکرافاذا ھو مد من فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح ان
لفظ وجیز کے ہیں کہ ایك شخص کو نابالغ بیٹی کا نکاح اس گمان سے کردیا کہ یہ صالح ہے اور شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعد میں معلوم ہوا کہ شراب کا عادی ہے اور بیٹی نے بالغ ہونے پر کہاکہ میں اس نکاح پر راضی نہیں ہوں۔ تو
حوالہ / References
درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۴
لم یکن ابوھا یشرب المسکرولاعرف بہ و غلبۃ اھل بیتھا صالحون فالنکاح باطل بالاتفاق اھ وقال فی النوازل فالنکاح باطل لانہ انما زوج علی ظن انہ کفو اھ۔
اگر باپ شرب خمر نہ کرتاہو اور نہ ہی شرابی مشہور ہو اور اس کا خاندان غالب طور صالحین ہیں تویہ نکاح بالاتفاق باطل ہے اھ اور نوازل میں کہا کہ یہ نکاح باطل ہے کیونکہ والد نے کفو ہونے پر نکاح دیاہے اھ۔ (ت)
قنیہ میں ہے :
زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ حر الاصل وکان معتقا فہو باطل بالاتفاق ۔
نابالغ بیٹی کا نکاح کسی سے اس گمان پر کیا گیا کہ یہ اصلی آزاد ہے جبکہ بعدمیں آزاد شدہ معلوم ہوا تو نکاح باطل ہے بالاتفاق۔ (ت)
مگرذخیرہ میں اس بطلان کو بطلان آئندہ یعنی بطلان بعدالفسخ کے ساتھ تفسیر فرمادیا۔ ردالمحتار میں ہے :
مامر عن النوازل من ان النکاح باطل معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسألۃ مفروضۃ فیما اذالم ترض البنت بعدماکبرت کما صرح بہ فی الخانیۃ والذخیرۃ وغیرھما وعلیہ یحمل مافی القنیۃ الخ۔
نوازل سے جو گزرا کہ “ نکاح باطل ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ باطل ہوسکتاہے جیساکہ ذخیرہ میں ہے یہ اس لئے کہ مسئلہ مفروضہ یہ ہے کہ بیٹی نے بالغ ہونے کے بعد نکاح پر عدم رضامندی کی ہو جیساکہ خانیہ اور ذخیرہ وغیرہ میں تصریح کی ہے۔ اور قنیہ میں جو ذکر ہے وہ بھی اسی پر محمول ہے الخ۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
رجل زوج ابنتہ الصغیرۃ من رجل علی ظن انہ صالح لایشرب الخمر فوجدہ الاب شریبا مدمنا وکبرت الابنۃ فقالت
ایك شخص نے اپنی بیٹی نابالغہ کا کسی لڑکے سے اس گمان پر کیا کہ لڑکا صالح ہے شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعدمیں اسے شراب کا عادی پایا اور بیٹی بالغ ہوچکی ہو اور کہہ چکی ہو کہ
اگر باپ شرب خمر نہ کرتاہو اور نہ ہی شرابی مشہور ہو اور اس کا خاندان غالب طور صالحین ہیں تویہ نکاح بالاتفاق باطل ہے اھ اور نوازل میں کہا کہ یہ نکاح باطل ہے کیونکہ والد نے کفو ہونے پر نکاح دیاہے اھ۔ (ت)
قنیہ میں ہے :
زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ حر الاصل وکان معتقا فہو باطل بالاتفاق ۔
نابالغ بیٹی کا نکاح کسی سے اس گمان پر کیا گیا کہ یہ اصلی آزاد ہے جبکہ بعدمیں آزاد شدہ معلوم ہوا تو نکاح باطل ہے بالاتفاق۔ (ت)
مگرذخیرہ میں اس بطلان کو بطلان آئندہ یعنی بطلان بعدالفسخ کے ساتھ تفسیر فرمادیا۔ ردالمحتار میں ہے :
مامر عن النوازل من ان النکاح باطل معناہ انہ سیبطل کما فی الذخیرۃ لان المسألۃ مفروضۃ فیما اذالم ترض البنت بعدماکبرت کما صرح بہ فی الخانیۃ والذخیرۃ وغیرھما وعلیہ یحمل مافی القنیۃ الخ۔
نوازل سے جو گزرا کہ “ نکاح باطل ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ باطل ہوسکتاہے جیساکہ ذخیرہ میں ہے یہ اس لئے کہ مسئلہ مفروضہ یہ ہے کہ بیٹی نے بالغ ہونے کے بعد نکاح پر عدم رضامندی کی ہو جیساکہ خانیہ اور ذخیرہ وغیرہ میں تصریح کی ہے۔ اور قنیہ میں جو ذکر ہے وہ بھی اسی پر محمول ہے الخ۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
رجل زوج ابنتہ الصغیرۃ من رجل علی ظن انہ صالح لایشرب الخمر فوجدہ الاب شریبا مدمنا وکبرت الابنۃ فقالت
ایك شخص نے اپنی بیٹی نابالغہ کا کسی لڑکے سے اس گمان پر کیا کہ لڑکا صالح ہے شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعدمیں اسے شراب کا عادی پایا اور بیٹی بالغ ہوچکی ہو اور کہہ چکی ہو کہ
حوالہ / References
فتاوی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ الخامس فی الاکفاء نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱۶
ردالمحتار بحوالہ النوازل باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۴
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیہ باب فی نکاح الصغار والصغائر مطبعۃ مشتہرہ بالمہا نندیہ ص ۷۵
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
ردالمحتار بحوالہ النوازل باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۴
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیہ باب فی نکاح الصغار والصغائر مطبعۃ مشتہرہ بالمہا نندیہ ص ۷۵
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۰۵
لاارضی بالنکاح ان لم یعرف ابوھا بشر ب الخمر وغلبۃ اھل بیتہ الصالحون فالنکاح باطل ای یبطل وھذہ المسألۃ بالاتفاق کذافی الذخیرۃ وانما الخلاف بین ابی حنیفۃ وصاحبیہ رحمہم اﷲ تعالی فیما اذا زوجھا من رجل عرفہ غیر کفو فعند ابی حنیفہ رحمہ اﷲ تعالی یجوز لان الاب کامل الشفقۃ وافر الرأی فالظاھرانہ تأمل غایۃ التأمل ووجد غیر الکفو اصل من الکفو کذافی المحیط ۔
ایك شخص نے اپنی بیٹی نابالغہ کا کسی لڑکے سے اس گمان پر کیا کہ لڑکا صالح ہے شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعدمیں اسے شراب کا عادی پایا اور بیٹی بالغ ہوچکی ہو اور کہہ چکی ہو کہ میں اس نکاح پر راضی نہیں ہوں۔ اس صورت میں اگر باپ کا نکاح کے وقت شرابی ہونا معروف نہ ہوا ور اس کا غالب خاندان صالحین لوگ ہوں تو نکاح باطل ہوگا یعنی باطل ہوسکتاہے اور یہ مسئلہ متفقہ ہے جیساکہ ذخیرہ میں ہے البتہ امام اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جب نکاح کے وقت باپ کو لڑکے کا غیر کفو ہونا معلوم ہو تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ باپ کامل شفیق ہے اور مکمل صاحب الرائے ہے لہذا اس نے انتہائی سوچ وبچار کیا ہوگا کہ یہ غیر کفو کفو والوں سے بہترہے محیط میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
اور نظر بقواعد ظاہر یہی ہے کہ شوہر کی طرف سے ولی کو دھوکا دئے جانے کی صورت میں مطلقا بطلان کا حکم ہو ردالمحتارمیں ہے :
الظاھر ان یقان لایصح العقد اصلا کما فی الاب الماجن والسکران مع ان المصرح بہ ان لھا ابطالہ بعد البلوغ وھو فرع صحتہ فلیتأ مل ۔
ظاہریہی ہے کہ اصلا نکاح صحیح نہ ہونے کا قول کیا جائے جیساکہ باپ مجنون یا نشے والاہو نیز یہ بھی تصریح ہے کہ ایسی صورت میں بالغ ہونے پر بیٹی کو اختیار ہے جبکہ یہ بات نکاح کے صحیح ہونے پر متفرع ہوسکتی ہے پس غور کرو۔ (ت)
اقول : (میں کہتاہوں۔ ت)فرع مذکور کی اصل کتاب الاصل اعنی مبسوط امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے اور وہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اور ظاہر الروایۃ میں بالغہ کا غیر کفو سے بلا رضائے ولی نکاح کرلینا صحیح ہے ولی کو اختیا رفسخ ہے اور مختار للفتوی روایت حسن ہے کہ وہ نکاح ہوتاہی نہیں اور فساد زمانہ کے باعث جو وجہ علماء نے وہاں فرمائی یہاں بھی بلاتفاوت جاری ہے توحکم عبارات مذکورہ میں تاویل نہ کرنا اور دھوکے کی صورت میں نکاح کو سرے سے باطل ٹھہرانا بظاہر وجہ وجیہ رکھتاہے لااقل اختیار فسخ ہونے میں
ایك شخص نے اپنی بیٹی نابالغہ کا کسی لڑکے سے اس گمان پر کیا کہ لڑکا صالح ہے شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعدمیں اسے شراب کا عادی پایا اور بیٹی بالغ ہوچکی ہو اور کہہ چکی ہو کہ میں اس نکاح پر راضی نہیں ہوں۔ اس صورت میں اگر باپ کا نکاح کے وقت شرابی ہونا معروف نہ ہوا ور اس کا غالب خاندان صالحین لوگ ہوں تو نکاح باطل ہوگا یعنی باطل ہوسکتاہے اور یہ مسئلہ متفقہ ہے جیساکہ ذخیرہ میں ہے البتہ امام اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جب نکاح کے وقت باپ کو لڑکے کا غیر کفو ہونا معلوم ہو تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ باپ کامل شفیق ہے اور مکمل صاحب الرائے ہے لہذا اس نے انتہائی سوچ وبچار کیا ہوگا کہ یہ غیر کفو کفو والوں سے بہترہے محیط میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
اور نظر بقواعد ظاہر یہی ہے کہ شوہر کی طرف سے ولی کو دھوکا دئے جانے کی صورت میں مطلقا بطلان کا حکم ہو ردالمحتارمیں ہے :
الظاھر ان یقان لایصح العقد اصلا کما فی الاب الماجن والسکران مع ان المصرح بہ ان لھا ابطالہ بعد البلوغ وھو فرع صحتہ فلیتأ مل ۔
ظاہریہی ہے کہ اصلا نکاح صحیح نہ ہونے کا قول کیا جائے جیساکہ باپ مجنون یا نشے والاہو نیز یہ بھی تصریح ہے کہ ایسی صورت میں بالغ ہونے پر بیٹی کو اختیار ہے جبکہ یہ بات نکاح کے صحیح ہونے پر متفرع ہوسکتی ہے پس غور کرو۔ (ت)
اقول : (میں کہتاہوں۔ ت)فرع مذکور کی اصل کتاب الاصل اعنی مبسوط امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے اور وہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اور ظاہر الروایۃ میں بالغہ کا غیر کفو سے بلا رضائے ولی نکاح کرلینا صحیح ہے ولی کو اختیا رفسخ ہے اور مختار للفتوی روایت حسن ہے کہ وہ نکاح ہوتاہی نہیں اور فساد زمانہ کے باعث جو وجہ علماء نے وہاں فرمائی یہاں بھی بلاتفاوت جاری ہے توحکم عبارات مذکورہ میں تاویل نہ کرنا اور دھوکے کی صورت میں نکاح کو سرے سے باطل ٹھہرانا بظاہر وجہ وجیہ رکھتاہے لااقل اختیار فسخ ہونے میں
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ الباب الخامس فی الکفاءۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹۱
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۸
ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۸
شك نہیں۔ درمختار میں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے متعلق اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائےگا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختار ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
لانہ لیس کل ولی یحسن المرافعۃ والخصومۃ ولا کل قاضی یعدل ولواحسن الولی وعدل القاضی فقد یترك انفۃ للتردد علی ابواب الحکام واستثقالا لنفس الخصومات فیتقرر الضرر فکان منعہ دفعالہ فتح ۔
کیونکہ ہرباپ مقدمہ دائر کرنے اور بحث کرنے کاماہر نہیں ہوتا اور نہ ہر قاضی عادل ہوتاہے اور اگر باپ ماہر ہو اور قاضی عادل بھی ہو تب بھی حکام کے دروازوں کے چکر لگانے اورمقدمہ بازی کی مشقت سے نفرت تو موجود ہے جس کی وجہ سے ضرر ثابت ہے تو اس ضرر سے بچنے کے لئے وہ باز رہے گا۔ فتح۔ (ت)
اسی طرح او ر کتب میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۹ : از پکھر یرارائے پور ضلع مظفرپور محلہ نورالحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ مولوی شریف الرحمن صاحب مرحوم ۴ شعبان ۱۳۳ھ
زید حرامی ہے مگر مسلمان دیندارہے شرعا اس کے لڑکالڑکی سے نکاح والے اپنے لڑکا لڑکی کا عقد کرسکتے ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح میں کفاءت معتبر ہے اور کفاءت کامدار عرف پر ہے ان سے رشتہ عرفا باعث ننگ وعارہو تو احتراز کیا جائے خصوصا دخترمیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۰ : مسئولہ اختر حسین خان از بریلی محلہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك یتیم نابالغہ سیدزادی لے کر پالی اور اسی نابالغی میں اس کا نکاح ایك پٹھان سے کردیا اور اس کا بالغ بھائی تھا اسے اطلاع بھی نہیں دی بوجہ نابالغی رخصت نہ ہوئی اب وہ مفقود الخبر ہے اور لڑکی بالغہ ہوگئی اس صورت میں وہ اپنا نکاح دوسری جگہ کرسکتی ہے
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے متعلق اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائےگا فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختار ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
لانہ لیس کل ولی یحسن المرافعۃ والخصومۃ ولا کل قاضی یعدل ولواحسن الولی وعدل القاضی فقد یترك انفۃ للتردد علی ابواب الحکام واستثقالا لنفس الخصومات فیتقرر الضرر فکان منعہ دفعالہ فتح ۔
کیونکہ ہرباپ مقدمہ دائر کرنے اور بحث کرنے کاماہر نہیں ہوتا اور نہ ہر قاضی عادل ہوتاہے اور اگر باپ ماہر ہو اور قاضی عادل بھی ہو تب بھی حکام کے دروازوں کے چکر لگانے اورمقدمہ بازی کی مشقت سے نفرت تو موجود ہے جس کی وجہ سے ضرر ثابت ہے تو اس ضرر سے بچنے کے لئے وہ باز رہے گا۔ فتح۔ (ت)
اسی طرح او ر کتب میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴۹ : از پکھر یرارائے پور ضلع مظفرپور محلہ نورالحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ مولوی شریف الرحمن صاحب مرحوم ۴ شعبان ۱۳۳ھ
زید حرامی ہے مگر مسلمان دیندارہے شرعا اس کے لڑکالڑکی سے نکاح والے اپنے لڑکا لڑکی کا عقد کرسکتے ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
نکاح میں کفاءت معتبر ہے اور کفاءت کامدار عرف پر ہے ان سے رشتہ عرفا باعث ننگ وعارہو تو احتراز کیا جائے خصوصا دخترمیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۰ : مسئولہ اختر حسین خان از بریلی محلہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك یتیم نابالغہ سیدزادی لے کر پالی اور اسی نابالغی میں اس کا نکاح ایك پٹھان سے کردیا اور اس کا بالغ بھائی تھا اسے اطلاع بھی نہیں دی بوجہ نابالغی رخصت نہ ہوئی اب وہ مفقود الخبر ہے اور لڑکی بالغہ ہوگئی اس صورت میں وہ اپنا نکاح دوسری جگہ کرسکتی ہے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۷
یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگریہ بیانات واقعی ہیں تو وہ نکاح اصلا نہ ہوا لڑکی کو اختیارہے جس اچھی جگہ چاہے اپنا نکاح کرلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۱ : از شہر بریلی محلہ براہم پور مسئولہ محمد عرف کما ل الله شاہ صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س باب میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ سے بعد دینے طلاق کے اپنی دختر نابالغہ کو طلب کیا اس نے دینے سے انکار کیا اس وقت زید بارادہ سفردور دراز کے مجبور ہوا اور متنبہ کردیا کہ خبردار اس کا نکاح خلاف رائے میری کے نہ ہو چنانچہ مسماۃ مذکورہ نے عد م موجودگی زید کے اس دختر نابالغہ کا نکاح خلاف رائے زید کے کردیا وہ شوہر دختر مثل عورات بازاری کے رقص کرنے والاہے او رپابند صوم وصلوۃ نہیں شراب خور ہے اب دختر بفضلہ تعالی بالغہ ہے اس نے دفتر شکایات اس شوہر کا اپنے باپ زید سے بیان کیاکہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ جائز ہوا یا نا جائز بینوا توجروا
الجواب :
سائل نے بیان کیا نکاح ہوئے تین۳ برس ہوئے اور عورت کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی او رنابالغہ تھی او رمرد کی عمر پچیس۲۵ سال تھی اور جبھی سے ناچنے کا پیشہ رکھتا تھا اور اسی وجہ سے باپ نے اس کے ساتھ نکاح کرنے کو منع کردیا تھا باپ اندور چلاگیا اس کے پیچھے عورت نے نکاح کردیا اور باپ کو کوئی خبر نہ ہوئی لڑکی تین مہینے سے بالغہ ہوگئی اب کوئی ایك ہفتہ ہوا اس کا باپ اندور سے آیا تو اب لڑکی نے اس سے شکایت کی اس سے پہلے اس نے بھی کچھ نہ کہا اگر صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح مذکور باطل ہوگیا ابتداء میں جب نکاح واقع ہوا ہے پدر پر موقوف تھا
لانہ وان کان من غیر کفووالمزوج غیر اب وجد لکنہ عقد فضولی صدر ولہ مجیز وھو الاب لان التزویج من غیرکفؤ۔
کیونکہ یہ نکاح غیر کفو میں ہے اور نکاح دینے والے باپ دادا کاغیر ہیں اور یہ فضولی کا نکاح ہوا جس کو جائز کرنے والا لڑکی کا باپ ہے کیونکہ اسی کو غیر کفو میں نکاح کا اختیار ہے۔ (ت)
جبکہ اس مدت میں عورت بالغہ ہوگئی توا ب وہ نکاح خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا اور اس نے بعد بلوغ مدت سکوت کیا اس کی طرف سے اجازت ہوگئی تو اب یہ ایسا ہوا کہ بالغہ نے اپنی رائے سے ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرلیا اور ایسا شخص ضرو ر غیر کفو ہے اور اس کے ساتھ بالغہ کا اپنی رائے سے نکاح کرلینا باطل محض
الجواب :
اگریہ بیانات واقعی ہیں تو وہ نکاح اصلا نہ ہوا لڑکی کو اختیارہے جس اچھی جگہ چاہے اپنا نکاح کرلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۱ : از شہر بریلی محلہ براہم پور مسئولہ محمد عرف کما ل الله شاہ صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س باب میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ سے بعد دینے طلاق کے اپنی دختر نابالغہ کو طلب کیا اس نے دینے سے انکار کیا اس وقت زید بارادہ سفردور دراز کے مجبور ہوا اور متنبہ کردیا کہ خبردار اس کا نکاح خلاف رائے میری کے نہ ہو چنانچہ مسماۃ مذکورہ نے عد م موجودگی زید کے اس دختر نابالغہ کا نکاح خلاف رائے زید کے کردیا وہ شوہر دختر مثل عورات بازاری کے رقص کرنے والاہے او رپابند صوم وصلوۃ نہیں شراب خور ہے اب دختر بفضلہ تعالی بالغہ ہے اس نے دفتر شکایات اس شوہر کا اپنے باپ زید سے بیان کیاکہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ جائز ہوا یا نا جائز بینوا توجروا
الجواب :
سائل نے بیان کیا نکاح ہوئے تین۳ برس ہوئے اور عورت کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی او رنابالغہ تھی او رمرد کی عمر پچیس۲۵ سال تھی اور جبھی سے ناچنے کا پیشہ رکھتا تھا اور اسی وجہ سے باپ نے اس کے ساتھ نکاح کرنے کو منع کردیا تھا باپ اندور چلاگیا اس کے پیچھے عورت نے نکاح کردیا اور باپ کو کوئی خبر نہ ہوئی لڑکی تین مہینے سے بالغہ ہوگئی اب کوئی ایك ہفتہ ہوا اس کا باپ اندور سے آیا تو اب لڑکی نے اس سے شکایت کی اس سے پہلے اس نے بھی کچھ نہ کہا اگر صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح مذکور باطل ہوگیا ابتداء میں جب نکاح واقع ہوا ہے پدر پر موقوف تھا
لانہ وان کان من غیر کفووالمزوج غیر اب وجد لکنہ عقد فضولی صدر ولہ مجیز وھو الاب لان التزویج من غیرکفؤ۔
کیونکہ یہ نکاح غیر کفو میں ہے اور نکاح دینے والے باپ دادا کاغیر ہیں اور یہ فضولی کا نکاح ہوا جس کو جائز کرنے والا لڑکی کا باپ ہے کیونکہ اسی کو غیر کفو میں نکاح کا اختیار ہے۔ (ت)
جبکہ اس مدت میں عورت بالغہ ہوگئی توا ب وہ نکاح خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا اور اس نے بعد بلوغ مدت سکوت کیا اس کی طرف سے اجازت ہوگئی تو اب یہ ایسا ہوا کہ بالغہ نے اپنی رائے سے ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرلیا اور ایسا شخص ضرو ر غیر کفو ہے اور اس کے ساتھ بالغہ کا اپنی رائے سے نکاح کرلینا باطل محض
ہے درمختار میں ہے :
ویفتی بعدم الصحۃ فی غیر کفو لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائیگا فساد زمان کی وجہ سے۔ (ت)
لہذایہ نکاح باطل محض ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۲ تا ۴۵۴ : از سیرہ ضلع ہوشنگ آباد محلہ مانپورہ مسئولہ حافظ شاہ افضل خاں صاحب ۲۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں براہ کرم جواب سے مع دلائل نقلی کے مشرف وممتاز فرمائیں :
(۱)ایك عورت ہے جو نسبی سیدہ ہے اس سے کسی شخص نے جو نسبا سید نہیں ہے نکاح کیا تو اس کو لوگ کافر کہتے ہیں تو کیا شخص مذکورہ کافر ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کہنے والوں پر شریعت کا کیا حکم ہے
(۲)عورت بالغہ جو نسبا سیدہ ہے باکرہ ہو یا ثیبہ یا مطلقہ کسی شخص سے جو نسبا سید نہیں ہے نکاح کرے تو جائز ہوگا یا نہیں
(۳)مرد غیر سید نے سیدہ عورت سے نکاح کیا اور اگر وہ نکاح جائز ہوا تو جواولادکہ اس سے پیدا ہوگی وہ نسبا سید کہلائے گی یانہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
(۱)حاشا لله اسے کفر سے کیا علاقہ کافر کہنے والوں کو تجدید اسلام چاہئے کہ بلاوجہ مسلمان کو کافر کہتے ہیں امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم نے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم کہ بطن پاك حضرت بتول زہرا رضی الله عنہا سے تھیں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں دیں اور ان سے حضرت زید بن عمر پیداہوئے اورامیر المومنین نسبا سادات سے نہیں۔
(۲)سیدہ عاقلہ بالغہ اگر ولی رکھتی ہے تو جس کفو سے نکاح کرے گی ہوجائے گا اگرچہ سید نہ ہو مثلا شیخ صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا علوی یا عباسی ا وراگر غیر کفو سے بے اجازت صریحہ ولی نکاح کرے گی تو نہ ہوگا جیسے کسی شیخ انصاری یامغل پٹھان سے مگر جبکہ وہ معزز عالم دین ہو
(۳)جب باپ سید نہ ہو اولاد سیدنہیں ہوسکتی اگرچہ ماں سیدانی ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۵ : از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی صاحب طالبعلم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی بالغہ ہوگئی اورفی الحال کوئی کفو نہیں ملتا کہ جس کے
ویفتی بعدم الصحۃ فی غیر کفو لفساد الزمان ۔
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کا فتوی دیا جائیگا فساد زمان کی وجہ سے۔ (ت)
لہذایہ نکاح باطل محض ہوگیا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۲ تا ۴۵۴ : از سیرہ ضلع ہوشنگ آباد محلہ مانپورہ مسئولہ حافظ شاہ افضل خاں صاحب ۲۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں براہ کرم جواب سے مع دلائل نقلی کے مشرف وممتاز فرمائیں :
(۱)ایك عورت ہے جو نسبی سیدہ ہے اس سے کسی شخص نے جو نسبا سید نہیں ہے نکاح کیا تو اس کو لوگ کافر کہتے ہیں تو کیا شخص مذکورہ کافر ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کہنے والوں پر شریعت کا کیا حکم ہے
(۲)عورت بالغہ جو نسبا سیدہ ہے باکرہ ہو یا ثیبہ یا مطلقہ کسی شخص سے جو نسبا سید نہیں ہے نکاح کرے تو جائز ہوگا یا نہیں
(۳)مرد غیر سید نے سیدہ عورت سے نکاح کیا اور اگر وہ نکاح جائز ہوا تو جواولادکہ اس سے پیدا ہوگی وہ نسبا سید کہلائے گی یانہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
(۱)حاشا لله اسے کفر سے کیا علاقہ کافر کہنے والوں کو تجدید اسلام چاہئے کہ بلاوجہ مسلمان کو کافر کہتے ہیں امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ الکریم نے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم کہ بطن پاك حضرت بتول زہرا رضی الله عنہا سے تھیں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں دیں اور ان سے حضرت زید بن عمر پیداہوئے اورامیر المومنین نسبا سادات سے نہیں۔
(۲)سیدہ عاقلہ بالغہ اگر ولی رکھتی ہے تو جس کفو سے نکاح کرے گی ہوجائے گا اگرچہ سید نہ ہو مثلا شیخ صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا علوی یا عباسی ا وراگر غیر کفو سے بے اجازت صریحہ ولی نکاح کرے گی تو نہ ہوگا جیسے کسی شیخ انصاری یامغل پٹھان سے مگر جبکہ وہ معزز عالم دین ہو
(۳)جب باپ سید نہ ہو اولاد سیدنہیں ہوسکتی اگرچہ ماں سیدانی ہو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۵ : از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی صاحب طالبعلم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی بالغہ ہوگئی اورفی الحال کوئی کفو نہیں ملتا کہ جس کے
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
یہاں نکاح ہو غیر کفو ملتے ہیں یعنی کم حیثیت والے یا لڑکی کے والدین سے زائد حیثیت کے ملتے ہیں مگر ذاتا کامل اچھے نہیں مثلا لڑکے کے آباؤ اجداد اچھے تھے لیکن ان کی جو ر وطوائف تھی بعد نکاح اس سے یہ لڑکا ہوا تو دونوں میں کس کے یہاں کرنابہترہے یا کفو کا انتظار کرے بینوا تو جروا
الجواب :
فقط مالی حیثیت میں کم ہونا مانع کفاءت نہیں کفو وہ نہیں ہے جس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو باپ اگر شریف القوم ہے اور طوائف سے بعد توبہ اس نے نکاح کیا تو اس سے بچہ کی نسب پر حرف نہیں آتا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۶ : از ریاست جاورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہلکار محکمہ حساب ۲ شوال ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو یہ یقین دلاکر تمھارانکاح شوہر محمود جو نجیب الطرفین اور تمھارا کفو ہے کرایا گیا لیکن ہندہ کو بعد نکاح ثابت ہوا کہ شوہر یعنی محمود غیر کفوہے اب ہندہ اور اس کے عزیز واقارب اپنے کفو کا داخل ہونا عار سمجھتے ہیں او رہندہ ایسے غیر کفو کو خودبھی شوہر بنانا عار وننگ خاندان سمجھتی ہے نیز اس کا اصل باپ یعنی زید بھی اس تعلق غیر کفو سے ناراض ہے پس ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں یاغیر کفو ہونے کی حالت میں نکاح فسخ ہی مانا جائے ہندہ بالغہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
جبکہ ہندہ بالغہ ہے اور نکاح غیر کفو سے ہوا اور زید پدر ہندہ نے قبل نکاح اسے غیر کفو جان کر اس سے نکاح کی اجازت نہ دی تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت درمختارمیں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ (ملخصا)
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کافتوی دیا جائے گا جبکہ ولی نے لڑکی کے غیر کفو معلوم ہوجانے پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو۔
مگر غیرکفو کے معنی شرعایہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اسکے ساتھ اس کا نکاح اسکے اولیاء کیلئے واقعی باعث ننگ وعار ہو نہ کہ بعض جاہلانہ خیالات پر بعض عوام میں دستور ہے کہ خاص اپنے ہم قوم کو اپنا کفو سمجھتے ہیں دوسری قوم والے کو اگرچہ ان سے کسی بات میں کم نہ ہو غیر کفو کہتے ہیں اس کا شرعا لحاظ نہیں جیسے شیخ صدیقی ہو شیخ فاروقی کو اپنا کفو نہ جانے یا سید ہو اور وہ شیخ صدیقی یا فاروقی یا قریشی کو اپنا کفو نہ سمجھے حالانکہ حدیث میں ہے۔
الجواب :
فقط مالی حیثیت میں کم ہونا مانع کفاءت نہیں کفو وہ نہیں ہے جس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو باپ اگر شریف القوم ہے اور طوائف سے بعد توبہ اس نے نکاح کیا تو اس سے بچہ کی نسب پر حرف نہیں آتا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۶ : از ریاست جاورہ لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں صاحب اہلکار محکمہ حساب ۲ شوال ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو یہ یقین دلاکر تمھارانکاح شوہر محمود جو نجیب الطرفین اور تمھارا کفو ہے کرایا گیا لیکن ہندہ کو بعد نکاح ثابت ہوا کہ شوہر یعنی محمود غیر کفوہے اب ہندہ اور اس کے عزیز واقارب اپنے کفو کا داخل ہونا عار سمجھتے ہیں او رہندہ ایسے غیر کفو کو خودبھی شوہر بنانا عار وننگ خاندان سمجھتی ہے نیز اس کا اصل باپ یعنی زید بھی اس تعلق غیر کفو سے ناراض ہے پس ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوسکتاہے یا نہیں یاغیر کفو ہونے کی حالت میں نکاح فسخ ہی مانا جائے ہندہ بالغہ ہے۔ بینوا تو جروا
الجواب :
جبکہ ہندہ بالغہ ہے اور نکاح غیر کفو سے ہوا اور زید پدر ہندہ نے قبل نکاح اسے غیر کفو جان کر اس سے نکاح کی اجازت نہ دی تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت درمختارمیں ہے :
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ (ملخصا)
غیر کفو میں نکاح کے اصلا عدم جواز کافتوی دیا جائے گا جبکہ ولی نے لڑکی کے غیر کفو معلوم ہوجانے پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو۔
مگر غیرکفو کے معنی شرعایہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اسکے ساتھ اس کا نکاح اسکے اولیاء کیلئے واقعی باعث ننگ وعار ہو نہ کہ بعض جاہلانہ خیالات پر بعض عوام میں دستور ہے کہ خاص اپنے ہم قوم کو اپنا کفو سمجھتے ہیں دوسری قوم والے کو اگرچہ ان سے کسی بات میں کم نہ ہو غیر کفو کہتے ہیں اس کا شرعا لحاظ نہیں جیسے شیخ صدیقی ہو شیخ فاروقی کو اپنا کفو نہ جانے یا سید ہو اور وہ شیخ صدیقی یا فاروقی یا قریشی کو اپنا کفو نہ سمجھے حالانکہ حدیث میں ہے۔
حوالہ / References
درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۱
قریش بعضھم اکفاء بعض (بعض قریش بعض کے لئے کفو ہیں۔ ت)ردالمحتارمیں ہے :
فلو تزوجت ھاشمیۃ قرشیا غیر ھاشمی لم یرد عقدھا ۔
اگر ہاشمی لڑکی نے غیر ہاشمی قرشی سے نکاح کرلیا تو اسے رد نہیں کیا جائے گا۔ (ت)
مسئلہ ۴۵۷ : از لکھنؤ محلہ سبزی منڈی مکان بگن وبٹن عقب مکان ابراہیم صاحب عینك ساز مرحوم مرسلہ عبدالمجید صاحب ۲۸ رجب ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام رحمہم ا لله علیہم اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ کی شادی بغیر حکم یابے اجازت اس کے والد کے کسی غیر کفو شخص کے ہمراہ اس لڑکی کی ماں کردے تو جائزہے اورجبکہ اس کی ماں کو بھی دھوکا دیا گیا ہو یعنی جو شخص اس لڑکی کے ساتھ شادی کررہا ہے وہ ایسے آپ کو حلفا نہایت شریف شخص بتارہا ہے لیکن دریافت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص نہایت نیچ ذات کا شخص ہے تو ایسی حالت میں اس لڑکی کی ماں ناراض ہوکر اور باپ بھی ناراض ہوکر اس لڑکی کا نکاح فسخ کراسکتا ہے یا نہیں آیا ان دونوں یعنی لڑکے کے والدین کو شرعا یہ حق حاصل ہے کہ اپنی لڑکی کوبغیر طلاق دلوائے ہوئے دوسرے شریف النسب شخص سے نکاح کراسکتے ہیں یا طلاق دلوانے کی ضرورت ہوگی فقط بینواتو جروا
الجواب :
اگر صور ت واقعیہ یہ ہے کہ نابالغہ کی شادی اس کی ماں نے خصوصا ایسے شخص سے کردی خواہ دانستہ یا دھوکے سے اور والد کا اذن نہ اجازت تو اس صورت میں بدرجہ اولی یہ نکاح سرے سے بے ثبات محض ہوا باپ کو نکاح فسخ کرانے کی اس حالت میں بھی حاجت نہ تھی کہ نکاح کفو سے ہوا ہوتا اس کا رد کردینا ہی کافی ہوتا تو یہاں بدرجہ اولی اس کا صرف اتنا کہہ دینا بس ہے کہ “ میں اس پر راضی نہیں “ وہ نکاح ر د ہوجائے گا اور والد کو اختیار ہوگا کہ بغیر طلاق دوسری جگہ نکاح کردے۔
لان عقد فضولی صدرولہ مجیز فتوقف علی اجازتہ فیرد
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جواس حال میں صادر ہوا کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا موجود تھا تو
فلو تزوجت ھاشمیۃ قرشیا غیر ھاشمی لم یرد عقدھا ۔
اگر ہاشمی لڑکی نے غیر ہاشمی قرشی سے نکاح کرلیا تو اسے رد نہیں کیا جائے گا۔ (ت)
مسئلہ ۴۵۷ : از لکھنؤ محلہ سبزی منڈی مکان بگن وبٹن عقب مکان ابراہیم صاحب عینك ساز مرحوم مرسلہ عبدالمجید صاحب ۲۸ رجب ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام رحمہم ا لله علیہم اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ کی شادی بغیر حکم یابے اجازت اس کے والد کے کسی غیر کفو شخص کے ہمراہ اس لڑکی کی ماں کردے تو جائزہے اورجبکہ اس کی ماں کو بھی دھوکا دیا گیا ہو یعنی جو شخص اس لڑکی کے ساتھ شادی کررہا ہے وہ ایسے آپ کو حلفا نہایت شریف شخص بتارہا ہے لیکن دریافت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص نہایت نیچ ذات کا شخص ہے تو ایسی حالت میں اس لڑکی کی ماں ناراض ہوکر اور باپ بھی ناراض ہوکر اس لڑکی کا نکاح فسخ کراسکتا ہے یا نہیں آیا ان دونوں یعنی لڑکے کے والدین کو شرعا یہ حق حاصل ہے کہ اپنی لڑکی کوبغیر طلاق دلوائے ہوئے دوسرے شریف النسب شخص سے نکاح کراسکتے ہیں یا طلاق دلوانے کی ضرورت ہوگی فقط بینواتو جروا
الجواب :
اگر صور ت واقعیہ یہ ہے کہ نابالغہ کی شادی اس کی ماں نے خصوصا ایسے شخص سے کردی خواہ دانستہ یا دھوکے سے اور والد کا اذن نہ اجازت تو اس صورت میں بدرجہ اولی یہ نکاح سرے سے بے ثبات محض ہوا باپ کو نکاح فسخ کرانے کی اس حالت میں بھی حاجت نہ تھی کہ نکاح کفو سے ہوا ہوتا اس کا رد کردینا ہی کافی ہوتا تو یہاں بدرجہ اولی اس کا صرف اتنا کہہ دینا بس ہے کہ “ میں اس پر راضی نہیں “ وہ نکاح ر د ہوجائے گا اور والد کو اختیار ہوگا کہ بغیر طلاق دوسری جگہ نکاح کردے۔
لان عقد فضولی صدرولہ مجیز فتوقف علی اجازتہ فیرد
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جواس حال میں صادر ہوا کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا موجود تھا تو
حوالہ / References
فتح القدیر بحوالہ حاکم فصل فی الاکفاء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۱۸۸ ، ردالمحتار بحوالہ کافی للحاکم باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۹
ردالمحتار بحوالہ کافی للحاکم باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۸
ردالمحتار بحوالہ کافی للحاکم باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۸
بردہ۔
اسی کی اجازت پر موقوف ہوا تو اس کے رد کرنے پر رد ہوجائے گا۔ (ت)
اور اگر والد اس سے پہلے اپنی کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو تواب اس کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
لانہ عقد فضولی صدرولامجیزلہ لکون الاب عرف بسوء الاختیار فبطل رأسا کمافی الدر وغیرہ۔
واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ ایسانکاح فضولی صادر ہوا ہے کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ باپ سوء اختیار سے معروف تھا لہذا یہ باطل ہوگا جیساکہ دروغیرہ میں ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۸ : از شہر بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ عبدالحلیم صاحب ۳۰ شوال ۱۳۳۵ھ
صاحبان علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں : زید نے اپنے آپ کو قوم کا پٹھان خاندانی ظاہر کیا اور بکر سے کہا کہ تم اپنی دختر کا نکاح میرے ساتھ کردو بکر نے اپنی دختر کا نکاح زید کے ساتھ کردیا بعد نکاح ہوجانے کے بکر کو معلوم ہواکہ زید قوم کا پٹھان نہیں ہے دھوکا دے کر نکاح کیا اور وہ قوم کا فقیر تکیہ دار قبرستان ہے کہ جس سے میرے خاندان میں حقارت ہوگی او ر سبب بدنامی ہوگی بکر نے اپنی دختر کو رخصت کرنے سے انکار کیااور بعد نکاح کے رخصت نہیں کی اور بکر قوم کا سید ہے۔
الجواب :
دختر بالغہ تھی یا نابالغہ کیا عمر تھی عارضہ ماہواری آتاتھایا نہیں وقت نکاح دختر سے اذن لیا تھا یا نہیں سب مفصل لکھا جائے کہ سوال لائق جواب ہو فقط
عالی جاہ! وقت نکاح دختر کی عمر ۱۳ سال ۲ ماہ کی تھی عارضہ ماہواری آتا تھا اذن لڑکی سے لیا گیا تھا لیکن اس نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتی اس پرمجبورا اس کی چچی نے اجازت دی اجازت لڑکی کے باپ کی تھی بلکہ صرف لڑکی کا باپ اور بھائی بھی دونوں گواہ نکاح تھے فقط۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ زید کسی طرح سادات تو سادات کسی مغل پٹھان کابھی کفو نہیں ہوسکتا اور لڑکی بالغہ تھی اور اس نے اذن لینے پر لفظ یہ کہے کہ “ میں کچھ نہیں جانتی “ ظاہر ہے کہ یہ صاف اذن نہیں بلکہ اس سے معاملہ میں اپنا دخل نہ دینا بحسب منطوق مستفاد ہوتاہے او رکبھی بحسب قرینہ دوسروں کے اختیار پر چھوڑ نابھی مفہوم ہوتاہے یعنی مجھے بحث نہیں تم جیسا جانو کرو۔ بر تقدیر دوم یہ نکاح دخترکی اجازت سے قرار
اسی کی اجازت پر موقوف ہوا تو اس کے رد کرنے پر رد ہوجائے گا۔ (ت)
اور اگر والد اس سے پہلے اپنی کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو تواب اس کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
لانہ عقد فضولی صدرولامجیزلہ لکون الاب عرف بسوء الاختیار فبطل رأسا کمافی الدر وغیرہ۔
واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ ایسانکاح فضولی صادر ہوا ہے کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ باپ سوء اختیار سے معروف تھا لہذا یہ باطل ہوگا جیساکہ دروغیرہ میں ہے۔ (ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۵۸ : از شہر بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ عبدالحلیم صاحب ۳۰ شوال ۱۳۳۵ھ
صاحبان علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں : زید نے اپنے آپ کو قوم کا پٹھان خاندانی ظاہر کیا اور بکر سے کہا کہ تم اپنی دختر کا نکاح میرے ساتھ کردو بکر نے اپنی دختر کا نکاح زید کے ساتھ کردیا بعد نکاح ہوجانے کے بکر کو معلوم ہواکہ زید قوم کا پٹھان نہیں ہے دھوکا دے کر نکاح کیا اور وہ قوم کا فقیر تکیہ دار قبرستان ہے کہ جس سے میرے خاندان میں حقارت ہوگی او ر سبب بدنامی ہوگی بکر نے اپنی دختر کو رخصت کرنے سے انکار کیااور بعد نکاح کے رخصت نہیں کی اور بکر قوم کا سید ہے۔
الجواب :
دختر بالغہ تھی یا نابالغہ کیا عمر تھی عارضہ ماہواری آتاتھایا نہیں وقت نکاح دختر سے اذن لیا تھا یا نہیں سب مفصل لکھا جائے کہ سوال لائق جواب ہو فقط
عالی جاہ! وقت نکاح دختر کی عمر ۱۳ سال ۲ ماہ کی تھی عارضہ ماہواری آتا تھا اذن لڑکی سے لیا گیا تھا لیکن اس نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتی اس پرمجبورا اس کی چچی نے اجازت دی اجازت لڑکی کے باپ کی تھی بلکہ صرف لڑکی کا باپ اور بھائی بھی دونوں گواہ نکاح تھے فقط۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ زید کسی طرح سادات تو سادات کسی مغل پٹھان کابھی کفو نہیں ہوسکتا اور لڑکی بالغہ تھی اور اس نے اذن لینے پر لفظ یہ کہے کہ “ میں کچھ نہیں جانتی “ ظاہر ہے کہ یہ صاف اذن نہیں بلکہ اس سے معاملہ میں اپنا دخل نہ دینا بحسب منطوق مستفاد ہوتاہے او رکبھی بحسب قرینہ دوسروں کے اختیار پر چھوڑ نابھی مفہوم ہوتاہے یعنی مجھے بحث نہیں تم جیسا جانو کرو۔ بر تقدیر دوم یہ نکاح دخترکی اجازت سے قرار
پائے گا او ربالغہ کہ ولی رکھتی ہے اپنا جو نکاح غیر کفو سے کرے جسے پیش ازنکاح غیر کفو جان کر ولی نے صراحۃ اجازت نکاح نہ دی ہو وہ نکاح باطل محض ہوتاہے کمافی البحر والدر واوضحہ فی ردالمحتار(جیساکہ بحر اور در میں ہے اور ردالمحتار میں اس کی توضیع کی گئی ہے۔ ت)اس تقدیر پر تویہ نکاح اصلا ہوا ہی نہیں اور برتقدیر اول نکاح فضولی تھا اورضرور ہے کہ بعد نکاح دختر کو نکاح ہوجانے کی خبر عادۃ پہنچی اب دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو اس نے خبر سن کر اس نکاح فضولی کو جائز کیا اگرچہ یونہی کہ خبر سن کر مسکرائی یا خاموش رہی یا جائز نہ کیا بلکہ اپنی ناراضی کا اظہار کیا بر تقدیر دوم ظاہرہے کہ وہ نکاح کہ اجازت دختر پر موقوف تھا اس کے اظہار ناراضی سے مردود وباطل ہوگیا بر تقدیر اول پھریہ نکاح باجازت دختر ٹھہرا۔
لان الاجازۃ اللاحقۃ کالو کالۃ السابقۃ ۔ وقد صرح بہ فی الخیریۃ فی مثل الجزئیۃ۔
کیونکہ بعد کی اجازت ایسے ہے جیسے سابقہ وکالت ہو اس کی تصریح خیریہ میں اسی طرح کے جزئیہ میں کی ہے۔ (ت)
او ربالغہ ولی رکھتی ہے بے اجازت صریحہ ولی بعد علم بعدم کفاءت جو نکاح غیر کفو سے کرے باطل ہے توا س طرح باطل ہوگیا غرض صورت مذکورہ میں جس پہلوپر دیکھا جائے یہ نکاح باطل محض ہے۔ والله اعلم۔
مسئلہ ۴۵۹ : قصبہ کست ڈاکخانہ بندھیا چل ضلع مرزاپور مرسلہ محمد زکریا صاحب ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد یحیی نے انتقال کیا اور شاہ عبدالکریم والد اور اپنی والدہ اور برادر حقیقی حافظ محمد زکریا اور ہمشیرہ اور زوجہ مسماۃ احمدی بی بی اور دختر مسماۃ محمودہ بی بی زوجہ اولی اوردختر مسماۃ راضیہ بی بی زوجہ ثانیہ بااحمدی بی بی کو چھوڑا شاہ عبدالکریم نے بولایت خود مسماۃ محمودہ بی بی کا عقد مولوی محمد یحیی مرحوم کے نانہالی رشتہ دار کے فرزند سے کردیا اور شاہ عبدالکریم کا انتقال ہوگیا قبل انتقال ہونے کے شاہ عبدالکریم مرحوم مسماۃ احمدی بی بی زوجہ مولوی محمد یحیی مرحوم وحافظ محمد زکریا اپنے فرزند کو بلاکر وصیت کیا کہ مسماۃ راضیہ بی بی جس کی عمر تخمینا ڈیڑھ سال کی ہے اس کا عقد تمھارے بیٹے عبدالسلام کے ساتھ بولایت جائز اپنے کئے دیتا ہوں اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو مواخذہ عقبی تمھارے ذمہ ہوگا۔ اب اس لڑکی مسماۃ راضیہ بی بی کا عقد جس کی عمر تخمینا تیرہ۱۳ چودہ۱۴ سال کی ہے مسماۃ احمدی بی بی اور اس کے نانا شاہ عبدالعزیز ایك ایسے شخص کے ساتھ جو سب انسپکٹری اور تارك الصلوۃ داڑھی منڈواتا ہے اور رشوت خوری اور اس کے خاندان سے اور مولوی محمد یحیی مرحوم کے خاندان سے اور مسماۃ احمدی بی بی کے خاندان سے کبھی کوئی رشتہ داری اورقرابت نہیں رہی اور نہ کچھ واسطہ کرنا چاہتے ہیں۔ حافظ محمد زکریا بالغ
لان الاجازۃ اللاحقۃ کالو کالۃ السابقۃ ۔ وقد صرح بہ فی الخیریۃ فی مثل الجزئیۃ۔
کیونکہ بعد کی اجازت ایسے ہے جیسے سابقہ وکالت ہو اس کی تصریح خیریہ میں اسی طرح کے جزئیہ میں کی ہے۔ (ت)
او ربالغہ ولی رکھتی ہے بے اجازت صریحہ ولی بعد علم بعدم کفاءت جو نکاح غیر کفو سے کرے باطل ہے توا س طرح باطل ہوگیا غرض صورت مذکورہ میں جس پہلوپر دیکھا جائے یہ نکاح باطل محض ہے۔ والله اعلم۔
مسئلہ ۴۵۹ : قصبہ کست ڈاکخانہ بندھیا چل ضلع مرزاپور مرسلہ محمد زکریا صاحب ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد یحیی نے انتقال کیا اور شاہ عبدالکریم والد اور اپنی والدہ اور برادر حقیقی حافظ محمد زکریا اور ہمشیرہ اور زوجہ مسماۃ احمدی بی بی اور دختر مسماۃ محمودہ بی بی زوجہ اولی اوردختر مسماۃ راضیہ بی بی زوجہ ثانیہ بااحمدی بی بی کو چھوڑا شاہ عبدالکریم نے بولایت خود مسماۃ محمودہ بی بی کا عقد مولوی محمد یحیی مرحوم کے نانہالی رشتہ دار کے فرزند سے کردیا اور شاہ عبدالکریم کا انتقال ہوگیا قبل انتقال ہونے کے شاہ عبدالکریم مرحوم مسماۃ احمدی بی بی زوجہ مولوی محمد یحیی مرحوم وحافظ محمد زکریا اپنے فرزند کو بلاکر وصیت کیا کہ مسماۃ راضیہ بی بی جس کی عمر تخمینا ڈیڑھ سال کی ہے اس کا عقد تمھارے بیٹے عبدالسلام کے ساتھ بولایت جائز اپنے کئے دیتا ہوں اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو مواخذہ عقبی تمھارے ذمہ ہوگا۔ اب اس لڑکی مسماۃ راضیہ بی بی کا عقد جس کی عمر تخمینا تیرہ۱۳ چودہ۱۴ سال کی ہے مسماۃ احمدی بی بی اور اس کے نانا شاہ عبدالعزیز ایك ایسے شخص کے ساتھ جو سب انسپکٹری اور تارك الصلوۃ داڑھی منڈواتا ہے اور رشوت خوری اور اس کے خاندان سے اور مولوی محمد یحیی مرحوم کے خاندان سے اور مسماۃ احمدی بی بی کے خاندان سے کبھی کوئی رشتہ داری اورقرابت نہیں رہی اور نہ کچھ واسطہ کرنا چاہتے ہیں۔ حافظ محمد زکریا بالغ
حوالہ / References
فتاوی خیریہ باب الاولیاء والاکفاء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵
کہتاہے کہ حق ولایت شرعا مجھ کوحاصل ہے اور لڑکی نابالغ ہے قانونا اٹھارہ برس بلوغ کا رکھا گیا ہے اور وہ سب انسپکٹر غیر کفوہے او رخلاف شریعت محمدیہ کے اس کے افعال وحرکات ہیں اور تبرائی رافضیوں سے ا س کی رشتہ داری اور اس کی محفلوں اور مجلسوں میں وہ شریك ہوتا ہے اس لئے اس سے نکاح ناجائز اوربدون اجازت ولی یعنی مربی اس کا نکاح اس کی ماں اور نانا وغیرہ کرسکتے آیا شرعا ولی جائز کون ہے آیا شرعا کفو سے اور کفو اور غیر کفو کی تعریف شریعت محمدیہ میں کیا تعریف ہے آیا ایك مسلمہ کا نکاح ایسے شخص سے جو تارك الصلوۃ ہوا ور خلاف شریعت نبویہ کے کام کرتا ہو جائز ہے آیا وصیت پر عمل جائز ہے یا ناجائز بینوا تو جروا
الجواب :
سوال سے ظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ شاہ عبدالکریم نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی نابالغہ پوتی راضیہ کا نکاح حافظ محمد زکریا کے بیٹے سے کہ غالبا وہ بھی اس وقت نابالغ ہوگا کیا آگے سوال میں کچھ مذکور نہیں کہ محمدزکریا نے اس جلسہ میں الفاظ قبول کہے یانہیں اور اس وقت دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں جلسہ میں حاضر اورشاہ عبدالکریم وحافظ محمد زکریا کے ایجاب وقبول کو سننے والے اور اس کی گفتگوکو عقد نکاح سمجھنے والے موجود تھے یا نہیں اگر حافظ زکریا نے اسی جلسہ میں اپنے بیٹے کے لئے کہا کہ میں نے قبول کیا اور دو گواہوں نے سنا اورسمجھا تو راضیہ کا اسی وقت نکاح ہوگیا اب اگر اس کا وہ شوہر موجود ہے تو دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ اور اگر یہ صورت نہ تھی اورسوال سے ظاہر یہی ہے کہ نہ تھی محمد زکریا اپنے ولایت کے دعوی سے اس نکاح سے مانع ہے یہ نہیں کہتاکہ اس کا نکاح تو میرے بیٹے سے ہوچکا۔ تو اب دو صورتیں ہیں اگر راضیہ کے اولیاء اور گھروالے صالحین ومتبع شرع ہوں اور ایك ایسے شخص کے ساتھ کہ فاسق معلن ہے راضیہ کا نکاح ان کےلئے باعث ننگ وعار ہے یا وہ نسب وغیرہ کسی اور بات میں ایسی کمی رکھتا ہے تو راضیہ کے لئے وہ کفو نہیں شریعت مطہرہ میں بلوغ ظہور آثار پر ہے۔ عورت کم از کم نو۹ برس کی بالغہ ہوسکتی ہے جبکہ اسے عارضہ ماہواری آنا شروع ہو اوراگرآثار ظاہر نہ ہوں تو جب پندرہ برس پورے کی عمر ہوجائے بالغہ ہوجائے گی راضیہ کی عمر پندرہ برس سے کم ہے تو اگر اسے عارضہ ماہواری آتاہے بالغہ ہے ورنہ نابالغہ اگر نابالغہ ہے جب تو شخص مذکور سے کہ غیر کفو ہے ا س کا نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ محمد زکریا کہ اس کا ولی ہے اگر وہ بھی کرے گا باطل محض ہوگا نہ کہ احمدی یا شاہ عبدالعزیز کہ ولی ہی نہیں۔ اور اگر بالغہ ہے تواس پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں بے اس کی اجازت کے کفو سے بھی نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے وہ خود بھی نہیں کرسکتی جبکہ اس کا ولی اس سے نکاح پر راضی نہیں۔ اگر کرے گی تو باطل محض ہوگا غرض اس شخص کے غیر کفو بمعنی مذکور ہونے کی حالت میں بناراضی
الجواب :
سوال سے ظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ شاہ عبدالکریم نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی نابالغہ پوتی راضیہ کا نکاح حافظ محمد زکریا کے بیٹے سے کہ غالبا وہ بھی اس وقت نابالغ ہوگا کیا آگے سوال میں کچھ مذکور نہیں کہ محمدزکریا نے اس جلسہ میں الفاظ قبول کہے یانہیں اور اس وقت دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں جلسہ میں حاضر اورشاہ عبدالکریم وحافظ محمد زکریا کے ایجاب وقبول کو سننے والے اور اس کی گفتگوکو عقد نکاح سمجھنے والے موجود تھے یا نہیں اگر حافظ زکریا نے اسی جلسہ میں اپنے بیٹے کے لئے کہا کہ میں نے قبول کیا اور دو گواہوں نے سنا اورسمجھا تو راضیہ کا اسی وقت نکاح ہوگیا اب اگر اس کا وہ شوہر موجود ہے تو دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ اور اگر یہ صورت نہ تھی اورسوال سے ظاہر یہی ہے کہ نہ تھی محمد زکریا اپنے ولایت کے دعوی سے اس نکاح سے مانع ہے یہ نہیں کہتاکہ اس کا نکاح تو میرے بیٹے سے ہوچکا۔ تو اب دو صورتیں ہیں اگر راضیہ کے اولیاء اور گھروالے صالحین ومتبع شرع ہوں اور ایك ایسے شخص کے ساتھ کہ فاسق معلن ہے راضیہ کا نکاح ان کےلئے باعث ننگ وعار ہے یا وہ نسب وغیرہ کسی اور بات میں ایسی کمی رکھتا ہے تو راضیہ کے لئے وہ کفو نہیں شریعت مطہرہ میں بلوغ ظہور آثار پر ہے۔ عورت کم از کم نو۹ برس کی بالغہ ہوسکتی ہے جبکہ اسے عارضہ ماہواری آنا شروع ہو اوراگرآثار ظاہر نہ ہوں تو جب پندرہ برس پورے کی عمر ہوجائے بالغہ ہوجائے گی راضیہ کی عمر پندرہ برس سے کم ہے تو اگر اسے عارضہ ماہواری آتاہے بالغہ ہے ورنہ نابالغہ اگر نابالغہ ہے جب تو شخص مذکور سے کہ غیر کفو ہے ا س کا نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ محمد زکریا کہ اس کا ولی ہے اگر وہ بھی کرے گا باطل محض ہوگا نہ کہ احمدی یا شاہ عبدالعزیز کہ ولی ہی نہیں۔ اور اگر بالغہ ہے تواس پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں بے اس کی اجازت کے کفو سے بھی نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے وہ خود بھی نہیں کرسکتی جبکہ اس کا ولی اس سے نکاح پر راضی نہیں۔ اگر کرے گی تو باطل محض ہوگا غرض اس شخص کے غیر کفو بمعنی مذکور ہونے کی حالت میں بناراضی
محمد زکریا یہ نکاح کسی طرح نہیں ہوسکتا خواہ راضیہ بالغہ ہو یا نابالغہ اور اگر وہ اس معنی پر غیر کفو نہیں یعنی راضیہ کے خاندان والے بھی اسی قسم کے افعال رکھتے ہیں اور نسب ومذہب وغیرہ میں بھی کوئی ایسی کمی نہیں کہ یہ رشتہ اولیائے راضیہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو اس صورت میں اگرراضیہ کو عارضہ ماہواری آتاہے تو وہ خود اپنے نفس کی مختار ہے اگر اس کے ماں یا نانا نکاح کردیں گے اور وہ اجازت دے دے گی صحیح ونافذ ہوگا اور محمد زکریا کوکوئی اختیاراعتراض نہ ہوگا اور اگر راضیہ راضی نہ ہوگی تو محمد زکریا کے کئے بھی نافذ نہیں ہوسکتا نہ کہ احمدی وعبدالعزیز کے اور اگر اسے عارضہ ماہواری نہیں آتا تو اب اختیار محمد زکریا کو ہے اگر احمدی وعبدالعزیز بے اجازت محمد زکریا نکاح کردیں گے اجازت محمد زکریا پر موقوف رہے گا اگر وہ رد کردے گا باطل ہوجائے گا جائز کردے گا جائز ہوجائے گا والمسائل کلھا مشہورۃ وفی عامۃ الاسفار مذکورۃ(یہ مسائل مشہور ہیں اورعام کتب میں مذکور ہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
________________________
نوٹ : اس جلد کا آخری عنوان باب الکفائۃ ہے بارہویں جلد کا آغاز باب المہر سے ہوگا۔
__________________
________________________
نوٹ : اس جلد کا آخری عنوان باب الکفائۃ ہے بارہویں جلد کا آغاز باب المہر سے ہوگا۔
__________________







