بسم الله الرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمدلله! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کوجدید انداز میں عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے درالعلوم جامع نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جوادارہ مارچ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کوطے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ "العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ" کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت اندا ز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا گیارہ۱۱ سال کے مختصر عرصہ میں اٹھارھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود و التعزیر کتاب الزکوۃ کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ اور کتاب الکفالہ پر مشتمل سترہ۱۷ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
پیش لفظ
الحمدلله! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کوجدید انداز میں عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے درالعلوم جامع نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جوادارہ مارچ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کوطے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ "العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ" کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت اندا ز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا گیارہ۱۱ سال کے مختصر عرصہ میں اٹھارھویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود و التعزیر کتاب الزکوۃ کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ اور کتاب الکفالہ پر مشتمل سترہ۱۷ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
اٹھارھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ہفتم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ ۲۹۱ سے آخر تك ۱۵۲ سوالوں کے جوابات اور ۷۳۸ صفحات پر مشتمل ہے اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے اس سے قبل گیارھویںباھویں تیرھویںسولھویں اور سترھویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الشہادۃ اور کتاب القضاء والدعاوی
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
اٹھارھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ہفتم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ ۲۹۱ سے آخر تك ۱۵۲ سوالوں کے جوابات اور ۷۳۸ صفحات پر مشتمل ہے اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے اس سے قبل گیارھویںباھویں تیرھویںسولھویں اور سترھویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الشہادۃ اور کتاب القضاء والدعاوی
کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کردی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل دو رسالے بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱)انصح الحکومۃ فی فصل الخصومۃ (۱۳۲۱ھ)
شرکت اورمیرث کے الجھے ہوئے ایك مسئلہ کا انتہائی شاندار فیصلہ
(۲) الہبۃ الاحمدیۃ فی الولایۃ الشرعیۃ والعرفیۃ (۱۳۳۳ھ)
دینی اور دنیاوی ولایت وحکومت کی مجہتدانہ تحقیق اور اس بارے میں ایك غلط فتوے کا رد بلیغ ۔
o
ربیع الثانی ۱۴۲۱ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
جولائی ۲۰۰۰ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
(۱)انصح الحکومۃ فی فصل الخصومۃ (۱۳۲۱ھ)
شرکت اورمیرث کے الجھے ہوئے ایك مسئلہ کا انتہائی شاندار فیصلہ
(۲) الہبۃ الاحمدیۃ فی الولایۃ الشرعیۃ والعرفیۃ (۱۳۳۳ھ)
دینی اور دنیاوی ولایت وحکومت کی مجہتدانہ تحقیق اور اس بارے میں ایك غلط فتوے کا رد بلیغ ۔
o
ربیع الثانی ۱۴۲۱ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
جولائی ۲۰۰۰ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کتاب الشھادۃ
(گواہی کا بیان)
مسئلہ۱: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خان صاحب ۵شعبان ۱۳۲۹ھ
ازروئے شرع شریف کے شاہد کی کیا تعریف ہے اور کون سی شہادت شرع شریف میں مانی جاتی ہے بتفصیل ارقام فرمائیں۔
الجواب:
شاہد وہ جو مجلس قضا میں بلفظ اشھد یا گواہی میدہم (میں گواہی دیتا ہوں۔ت) یا گواہی دیتا ہوں کسی حق کے ثابت کرنے کی خبر دے اور قبول شہادت کےلئے شاہد کا عاقلبالغ صحیح یاد والا انکھیارا اور مدعا علیہ پر اپنی گواہی سے الزام قائم کرنے کی لیاقت والا ہونا لازم ہے اور یہ کہ اسی شہادت میں بوجہ قرابت ولادت یا زوجیت یا عداوت وغیرہا اس پر تہمت نہ ہو اورفاسق کی گواہی بھی مردود ہے اور قبول کرنے والا گنہگار اورتفصیل تام کتب فقہ میں ہے درمختار میں ہے:
اخبار صدق لاثبات حق بلفظ الشہادۃ فی مجلس القاضی شرطھا العقل الکامل والضبط والولایۃ فیشترط کسی حق کو ثابت کرنے کےلئے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینا(شہادت شرعی ہے) شہادت کی شرطیں یہ ہیں شاہد کا عاقل بالغ صحیح یا دداشت والا اور مدعا علیہ پر ولایت رکھنے والا
کتاب الشھادۃ
(گواہی کا بیان)
مسئلہ۱: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خان صاحب ۵شعبان ۱۳۲۹ھ
ازروئے شرع شریف کے شاہد کی کیا تعریف ہے اور کون سی شہادت شرع شریف میں مانی جاتی ہے بتفصیل ارقام فرمائیں۔
الجواب:
شاہد وہ جو مجلس قضا میں بلفظ اشھد یا گواہی میدہم (میں گواہی دیتا ہوں۔ت) یا گواہی دیتا ہوں کسی حق کے ثابت کرنے کی خبر دے اور قبول شہادت کےلئے شاہد کا عاقلبالغ صحیح یاد والا انکھیارا اور مدعا علیہ پر اپنی گواہی سے الزام قائم کرنے کی لیاقت والا ہونا لازم ہے اور یہ کہ اسی شہادت میں بوجہ قرابت ولادت یا زوجیت یا عداوت وغیرہا اس پر تہمت نہ ہو اورفاسق کی گواہی بھی مردود ہے اور قبول کرنے والا گنہگار اورتفصیل تام کتب فقہ میں ہے درمختار میں ہے:
اخبار صدق لاثبات حق بلفظ الشہادۃ فی مجلس القاضی شرطھا العقل الکامل والضبط والولایۃ فیشترط کسی حق کو ثابت کرنے کےلئے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینا(شہادت شرعی ہے) شہادت کی شرطیں یہ ہیں شاہد کا عاقل بالغ صحیح یا دداشت والا اور مدعا علیہ پر ولایت رکھنے والا
الاسلام لوالمدعی علیہ مسلما وعدم قرابۃ ولاد او زوجیۃ اوعداوۃ دنیویۃ اودفع مغرم اوجرمغنم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ہونا چنانچہ اگر مدعا علیہ مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہونا شرط ہوگا(نیز یہ بھی شرط ہے کہ) شاہد کو مشہودلہ کے ساتھ ولادت یا زوجیت کے اعتبار سے قرابت حاصل نہ ہو اور نہ ہی کوئی دنیوی عداوت ہواور شاہدکو اس گواہی سےدفع تاوان یا حصول منفعت جیسی سہولت بھی حاصل نہ ہوتی ہو۔(ت )
مسئلہ۲: ازرامپور مرسلہ مولانا ظہور الحسن صاحب ومولوی ارشد علی صاحب ۲۸ذوالقعدہ ۱۳۱۹ھ
سوال از حضرت مولونامولوی احمدرضاخان صاحب فتوی محررہ مولوی منور علی صاحب دربارہ مقدمہ فردوس بیگم مدعیہ میں جو جناب والانے یہ لفظ تحریر فرماکرمہر کی ہے: اگر شہادت شہود مندرجہ سوال جامع شرائط شہادت ہے توفیصلہ بحق مدعیہ ہونا چاہئےآیا شرائط شہادت میں سے تعیین مشہود بہ ساتھ حدود بیان کرنے کے اگر مشہود بہ اراضی یا مکان ہو ہے یا نہیںاور صرف مکان متنازعہ بول دینا بلا بیان حدودصحت شہادت کے واسطے کافی ہے یانہیںاور تعیین مشہود علیہ ومشہور لہ ساتھ ذکر اسم اب وجد کے اگر مشہورین میں سے نہ ہوں شرط شہادت ہے یانہیںاور لفظ اشھد شہادت کے لئے ضروری ہے یانہیں اگر یوں شہادت لی جاتی ہو کہ گواہ سے اول یوں حلف لیا اشھد باﷲ سچ کہوں گا بعدہ اس سے دریافت کیا فلاں مقدمہ میں کیا جانتے ہو اس نے بیان شروع کردیا اور اس بیان میں اشھد یا شہادت دیتا ہوں یا گواہی دیتا ہوں کہ ایسا ہے نہ کہا تو یہ شہادت قابل قبول ہے یانہیںاور ایسی شہادت کی بناپر اگر قاضی فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ قابل نفاذ ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان کیجئے اور اجر دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس فتوی پر اپنی تحریر جداگانہ لکھی ہے اور اس میں بحکم احتیاط جس کا لحاظ فتوی میں خصوصا اس زمانہ شیوع جہل میں اہم ضروریات سے ہے صراحۃ یہ قید ذکرکی کہ دونوں گواہان مدعیہ اگر جامع شرائط شہادت ہیں اور ان کا بیان حاکم مجوز کے سامنے حسب شرائط ہولیا ہے تو بیع بنام فردوس بیگم ضرور ثابت ہے اس میں تمام شرائط تحمل شہادت وجملہ شرائط ادائے شہادت وجمیع شرائط صحت دعوی سب کی طرف اشارہ تھا کہ حقوق العباد میں تقدم دعوی خود شرط شہادت ہے تو بے صحت دعوی شہادت ہر گز مسموع نہیں فقیرکو معلوم تھا کہ جہل شائع ہے اور اجتماع شرائط کم متوقع ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل
مسئلہ۲: ازرامپور مرسلہ مولانا ظہور الحسن صاحب ومولوی ارشد علی صاحب ۲۸ذوالقعدہ ۱۳۱۹ھ
سوال از حضرت مولونامولوی احمدرضاخان صاحب فتوی محررہ مولوی منور علی صاحب دربارہ مقدمہ فردوس بیگم مدعیہ میں جو جناب والانے یہ لفظ تحریر فرماکرمہر کی ہے: اگر شہادت شہود مندرجہ سوال جامع شرائط شہادت ہے توفیصلہ بحق مدعیہ ہونا چاہئےآیا شرائط شہادت میں سے تعیین مشہود بہ ساتھ حدود بیان کرنے کے اگر مشہود بہ اراضی یا مکان ہو ہے یا نہیںاور صرف مکان متنازعہ بول دینا بلا بیان حدودصحت شہادت کے واسطے کافی ہے یانہیںاور تعیین مشہود علیہ ومشہور لہ ساتھ ذکر اسم اب وجد کے اگر مشہورین میں سے نہ ہوں شرط شہادت ہے یانہیںاور لفظ اشھد شہادت کے لئے ضروری ہے یانہیں اگر یوں شہادت لی جاتی ہو کہ گواہ سے اول یوں حلف لیا اشھد باﷲ سچ کہوں گا بعدہ اس سے دریافت کیا فلاں مقدمہ میں کیا جانتے ہو اس نے بیان شروع کردیا اور اس بیان میں اشھد یا شہادت دیتا ہوں یا گواہی دیتا ہوں کہ ایسا ہے نہ کہا تو یہ شہادت قابل قبول ہے یانہیںاور ایسی شہادت کی بناپر اگر قاضی فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ قابل نفاذ ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان کیجئے اور اجر دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس فتوی پر اپنی تحریر جداگانہ لکھی ہے اور اس میں بحکم احتیاط جس کا لحاظ فتوی میں خصوصا اس زمانہ شیوع جہل میں اہم ضروریات سے ہے صراحۃ یہ قید ذکرکی کہ دونوں گواہان مدعیہ اگر جامع شرائط شہادت ہیں اور ان کا بیان حاکم مجوز کے سامنے حسب شرائط ہولیا ہے تو بیع بنام فردوس بیگم ضرور ثابت ہے اس میں تمام شرائط تحمل شہادت وجملہ شرائط ادائے شہادت وجمیع شرائط صحت دعوی سب کی طرف اشارہ تھا کہ حقوق العباد میں تقدم دعوی خود شرط شہادت ہے تو بے صحت دعوی شہادت ہر گز مسموع نہیں فقیرکو معلوم تھا کہ جہل شائع ہے اور اجتماع شرائط کم متوقع ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل
حوالہ / References
& درمختار کتاب الشہادات €∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
درمختار باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
درمختار باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
(اور جو اپنے زمانہ والوں کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ت)لہذا تصریحا بالقصد یہ قیود ذکر کردیں اور اس فتوی کی تصدیق وتصحیح پسند نہ کی۔ مشہود بہ جب عقار مثلا ارض یادار ہو تو شہادت میں کم از کم تین حدوں کاذکر واجب ہے اس کے بغیر شہادت ہر گز قبول نہیں مگر یہ کہ شہود دار کے پاس حاضر ہوکر بمواجہ مدعی ومدعاعلیہ خود قاضی یااس کے دو۲ امینوں کے سامنے اشارہ سے تعیین حدود کی حاجت نہیں فان تعیین الحاضر بالاشارۃ(کیونکہ حاضر شے کی تعیین اشارہ سے ہوتی ہے۔ت) یا اگر دار ایسی معروف ومشہور ہے کہ اس کا نام لینا ہی علم کو بس ہے تو صاحبین کے نزدیك تحدید ضرور نہیں امام اب بھی مانتے ہیں اور یہی صحیح ہے مگر اگر قاضی کہ خاص مذہب امام یا مذہب مصحح پرقضا کے ساتھ مقید نہ کیا گیا ہو بلکہ اسے قاضی کرنے والے نے اختیار دیا ہو وہ اگر ایسی مشہور دار میں بے تحدید قبول شہادت کرکے قضا کردے گا نافذ ہوجائے گی لوقوعہ فی مجتہدفیہ (بسبب واقع ہونے اس کے مجتہد فیہ میں۔ت) ورنہ باطل ہوگی لکونہ معزولافیہ کما فی البحر والاشباہ والدر وغیرھا (کیونکہ اس میں وہ معزول ہے جیسا کہ بحر اشباہ اور دروغیرہ میں ہے۔ت) درمختار میں ہے:
یشترط التحدید فی دعوی العقار کما یشترط فی الشھادۃ علیہ ولو کان العقار مشہورا خلافا لھما الا اذ عرف الشہود الدار بعینھا فلایحتاج الی ذکر حدودھا۔ عقار (غیر منقول جائدا د) کے دعوی میں حدود کو بیان کرناشرط ہے جیسا کہ اس پر گواہی میں بیان شرط ہے اگرچہ وہ عقار مشہو رہو بخلاف صاحبین کے مگرگواہان جب دار کو خصوصی طور پر پہچانتے ہوں تو بیان حدود کی حاجت نہیں۔ (ت)
جامع الفصولین وفتاوی ہندیہ وعقودالدریہ وغیرہامیں ہے:
شھدابداروقالانعرف حدودہ اذامشینا الیہ لکن لانعرف اسماء الحدود فان القاضی یقبل ذلك منھما اذاعدلاویبعثھمامع المدعی والمدعی علیہ وامینین لہ لیقف الشھود علی دو گواہوں نے کسی کے لئے دار کی گواہی دی اور کہا کہ ہم اگر گھر کی طرف جائیں تو اس کی حدوں کو پہچانتے ہیں مگر اس کی حدوں کے نام نہیں جانتے تو قاضی ان کی گواہی کو قبول کرے گابشرطیکہ ان دونوں گواہوں کی تعدیل ہوگئی۔ قاضی دونوں گواہوں کو مدعی مدعا علیہ اور اپنے دو امینوں کے ساتھ بھیجے گا تاکہ وہ گواہ
یشترط التحدید فی دعوی العقار کما یشترط فی الشھادۃ علیہ ولو کان العقار مشہورا خلافا لھما الا اذ عرف الشہود الدار بعینھا فلایحتاج الی ذکر حدودھا۔ عقار (غیر منقول جائدا د) کے دعوی میں حدود کو بیان کرناشرط ہے جیسا کہ اس پر گواہی میں بیان شرط ہے اگرچہ وہ عقار مشہو رہو بخلاف صاحبین کے مگرگواہان جب دار کو خصوصی طور پر پہچانتے ہوں تو بیان حدود کی حاجت نہیں۔ (ت)
جامع الفصولین وفتاوی ہندیہ وعقودالدریہ وغیرہامیں ہے:
شھدابداروقالانعرف حدودہ اذامشینا الیہ لکن لانعرف اسماء الحدود فان القاضی یقبل ذلك منھما اذاعدلاویبعثھمامع المدعی والمدعی علیہ وامینین لہ لیقف الشھود علی دو گواہوں نے کسی کے لئے دار کی گواہی دی اور کہا کہ ہم اگر گھر کی طرف جائیں تو اس کی حدوں کو پہچانتے ہیں مگر اس کی حدوں کے نام نہیں جانتے تو قاضی ان کی گواہی کو قبول کرے گابشرطیکہ ان دونوں گواہوں کی تعدیل ہوگئی۔ قاضی دونوں گواہوں کو مدعی مدعا علیہ اور اپنے دو امینوں کے ساتھ بھیجے گا تاکہ وہ گواہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۔۱۱۵€
الحدود بحضرۃ امینی القاضی فاذا وقفا علیہا فقا لا ھذہ حدود دار شہدنا بہ لہذا المدعی یرجعون الی القاضی ویشھد الامینان انھما وقفا وشھدا باسماء الحدود فحینئذ یقضی بالدار وکذاالقریۃ والحانوت وجمیع الضیاعات ۔ قاضی کے امینوں کی موجودگی میں گھر کی حدوں کی شناخت کرائیں جب وہ گواہ گھر کی حدوں پر واقف ہوئے اور کہا کہ یہی حدیں ہیں اس گھر کی جس کی گواہی ہم نے اس مدعی کےلئے دی ہے اب یہ قاضی کے پاس لوٹ آئیں گے اور دونوں امین اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان گواہوں نے گھر اور اس کی حدوں پر ہم کو واقف کیا ہے تو قاضی اس گھر کا فیصلہ مدعی کے حق میں کردے گا اور یہی حکم ہے گاؤں دکانوں اور تمام غیر منقول جائدادوں کا۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
فیہ رمز الی انہ یحدولو مشہورا وھذا عندہ خلافا لھما فلو لم یحد وقضی بصحۃ ذلك نفذ ۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مدعی کی جانب سے حدودکو بیان کیا جائے گا اگرچہ (حدود ) مشہور ہو یہ امام ابو حنیفہ کے نزدیك ہے بخلاف صاحبین کے چنانچہ اگر بیان حدود کے بغیر قاضی نے صحت دعوی کا فیصلہ دے دیا تو (صاحبین کے نزدیك ) نافذ ہوجائے گا۔(ت)
مگر صرف جامع الفصولین میں اپنی رائے یہ تحریر فرمائی کہ اگر شاہدین ملك متنازع فیہ کی شہادت دیں اور مدعی ومدعاعلیہ کا اتفاق ہو کہ جس دار کی انہوں نے شہادت دی ہے وہی متنازع فیہ ہے تو اصل دار میں شہادت قبول ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے اولا برمزف ش فتاوی امام رشید الدین سے نقل کیا شہادتھم بالملك بلا ذکر الحدود لاتقبل (حدود کو بیان کئے بغیر ملکیت پر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ت) پھر اپنی بحث ذکرکی کہ:
اقول: الغرض ھو التمیز عند القاضی فینبغی ان یصح حکمہ بحسب ماتمیز میں کہتا ہوں غرض تویہ ہے کہ وہ (دار) قاضی کے نزدیك ممتاز ہوجائے لہذا اس کا فیصلہ ممتاز شے کی حد تك صحیح ہونا چاہئے چنانچہ
جامع الرموز میں ہے:
فیہ رمز الی انہ یحدولو مشہورا وھذا عندہ خلافا لھما فلو لم یحد وقضی بصحۃ ذلك نفذ ۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مدعی کی جانب سے حدودکو بیان کیا جائے گا اگرچہ (حدود ) مشہور ہو یہ امام ابو حنیفہ کے نزدیك ہے بخلاف صاحبین کے چنانچہ اگر بیان حدود کے بغیر قاضی نے صحت دعوی کا فیصلہ دے دیا تو (صاحبین کے نزدیك ) نافذ ہوجائے گا۔(ت)
مگر صرف جامع الفصولین میں اپنی رائے یہ تحریر فرمائی کہ اگر شاہدین ملك متنازع فیہ کی شہادت دیں اور مدعی ومدعاعلیہ کا اتفاق ہو کہ جس دار کی انہوں نے شہادت دی ہے وہی متنازع فیہ ہے تو اصل دار میں شہادت قبول ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے اولا برمزف ش فتاوی امام رشید الدین سے نقل کیا شہادتھم بالملك بلا ذکر الحدود لاتقبل (حدود کو بیان کئے بغیر ملکیت پر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ت) پھر اپنی بحث ذکرکی کہ:
اقول: الغرض ھو التمیز عند القاضی فینبغی ان یصح حکمہ بحسب ماتمیز میں کہتا ہوں غرض تویہ ہے کہ وہ (دار) قاضی کے نزدیك ممتاز ہوجائے لہذا اس کا فیصلہ ممتاز شے کی حد تك صحیح ہونا چاہئے چنانچہ
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السابع فی تحدید العقارالخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۲€
جامع الرموز کتا ب الدعوٰی ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ /۴۶۷€
جامع الفصولین الفصل السابع فی تحدید العقار ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۱€
جامع الرموز کتا ب الدعوٰی ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ /۴۶۷€
جامع الفصولین الفصل السابع فی تحدید العقار ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۱€
فلو شھد ا بملك المتنازع فیہ والخصمان تصادقا علی ان المشھود بہ ھو المتنازع فیہ ینبغی ان تقبل الشہادۃ فی اصل الدار وان لم یذکرا الحدود لعدم الجہالۃ المفضیۃ الی النزاع فی اصل الدار فلو وقع النزاع فی حدودہ بعد الحکم باصلہ فذلك الامر اخر تسمع فیہ الخصومۃ براسہ کما ان الجارین لوتنازعا فی حدود داریہما لافی اصلیھما یسلم لکل منھما اصل دارہ وتسمع الخصومۃ فی الحد واﷲ تعالی اعلم۔ اگر دو گواہوں نے متنازع فیہ گھر کے بارے میں کسی کی ملکیت کی گواہی دی اور مدعی اور مدعاعلیہ دونوں نے تصدیق کردی کہ متنازع فیہ گھر وہی ہے جس کے بارے میں شہادت دی گئی تو اصل گھر کے بارے میں ان کی گواہی مقبول ہونی چاہئے اگرچہ حدود کو انہوں نے بیان نہ کیا ہو کیونکہ یہاں ایسی جہالت معدوم ہے جو اصل گھر میں جھگڑ ے کا باعث بنے اگر اصل گھرکے فیصلہ کے بعد اس کی حدوں میں نزاع واقع ہوتو یہ الگ معاملہ ہے جس میں نئے سرے سے خصومت مسموع ہوگی جیسا کہ دو پڑوسیوں میں ان کے گھروں کی حدود کے بارے میں نزاع واقع ہوا نہ کہ اصل گھروں کے بارے میں تو ہر ایك کا اصل گھر اس کے حوالے کیا جائے گا اور اس کی حدوں کے بارے میں خصومت مسموع ہوگی واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
ظاہر ہے کہ اعتبار منقول فی المذہب کا ہے نہ کہ بحث کا حتی کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ منقول کے مقابل امام ابن ہمام کی ابحاث بھی مقبول نہیں حالانکہ وہ بالغ درجہ اجتہاد مانے جاتے ہیں۔ ردالمحتارکتاب الحج میں ہے:
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر فافھم ۔ ابن ھمام کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ ان کی جو ابحاث خلاف مذہب ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا پس غور کرو۔ (ت)
طحطاوی کتاب الطلاق فصل ثبوت النسب میں ہے:
النص ھوا لمتبع فلایعول علی اتباع تو نص کی ہی کی جائے گی اس کے
ظاہر ہے کہ اعتبار منقول فی المذہب کا ہے نہ کہ بحث کا حتی کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ منقول کے مقابل امام ابن ہمام کی ابحاث بھی مقبول نہیں حالانکہ وہ بالغ درجہ اجتہاد مانے جاتے ہیں۔ ردالمحتارکتاب الحج میں ہے:
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر فافھم ۔ ابن ھمام کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ ان کی جو ابحاث خلاف مذہب ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا پس غور کرو۔ (ت)
طحطاوی کتاب الطلاق فصل ثبوت النسب میں ہے:
النص ھوا لمتبع فلایعول علی اتباع تو نص کی ہی کی جائے گی اس کے
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السابع فی تحدید العقار ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۰۲۔۱۰۱€
ردالمحتار کتاب الحج باب الجنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۰۶€
ردالمحتار کتاب الحج باب الجنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۰۶€
البحث معہ ۔ ہوتے ہوئے بحث پر اعتماد نہیں کیاجائیگا۔(ت)
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)ظاہرا ان کی نظر اس طرف گئی کہ ذکر حدود کی حاجت تمیز ذات مشہود بہ کے لئے ولہذا فرمایا کہ بعد تصادق خصمین اصل دار میں شہادت مقبول ہوجانی چاہئے حدود میں تنازع پڑے تو اس کا مقدمہ جدا ہولے گا حالانکہ ذکر حدود کی ضرورت علم مقدار مشہود بہ کے لئے ہےدرروغرروغیر ہا کتب معتمدہ میں ہے:
ان قدرھا لایصیر معلوما الا بالتحدید ۔ گھر کی مقدار کا تعین اس کی حدوں کو بیان کئے بغیر معلوم نہیں ہوسکتا۔(ت)
تواصل دار بلا تعیین مقدار کیا چیز ہے جس کا قاضی حکم کرے یہ تو ایسا ہے کہ زید عمرو پر ہزار روپے کا دعوی کرے شہود شہادت دیں کہ اس کا اس پر کچھ آتا ہے کیایہ گواہی اصل دین کے اثبات میں مقبول ہوجائے گی ہر گز نہیں
ولم یقل بہ احد وبہ ظہر الجواب عن قیاسہ علی مسالۃ الجارین فان ثمہ لم یختلفا فی اصل داریھما فالتسلیم لعدم النزاع علی جہۃ القضاء وانما یحتاج القاضی الی علم المقدار فیما یدعی بہ عندہ فیرید القضاء بہ علی المنکر۔ اس کا قائل کوئی بھی نہیں اور اسی سے مسئلہ جارین پر اس کے قیاس کا جواب ظاہر ہوگیا کیونکہ وہاں دونوں پڑوسیوں میں ان کے اصل گھروں کے بارے میں اختلاف واقع نہیں ہوا چنانچہ وہاں قضاء کی جہت سے نزاع معدوم ہونے کی وجہ سے تسلیم متحقق ہوئیبیشك قاضی اس بات کا محتاج ہے کہ اس گھر کی مقدار اسے معلوم ہو جس کا دعوی اس کے پاس کیاگیا ہے اور وہ منکر کے خلاف اس کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔(ت)
اگر ایسی شہادت مقبول ہوتو لازم کہ دعوی بھی بلا تعیین حدودقبول ہوجائے وہی وجہ وہاں بھی جاری ہے کہ اصل دین اس وقت حکم چاہتا ہے حدود میں نزاع پڑے تو یہ مقدمہ جداہولے گا حالانکہ یہ جملہ کتب مذہب کے خلاف ہےخود جامع الفصولین میں ہے:
لوادعی عقارا فلا بد من ذکر بلدۃ اگر عقار(غیر منقو ل)کا کہا تو اس شہر کا ذکر ضروری
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)ظاہرا ان کی نظر اس طرف گئی کہ ذکر حدود کی حاجت تمیز ذات مشہود بہ کے لئے ولہذا فرمایا کہ بعد تصادق خصمین اصل دار میں شہادت مقبول ہوجانی چاہئے حدود میں تنازع پڑے تو اس کا مقدمہ جدا ہولے گا حالانکہ ذکر حدود کی ضرورت علم مقدار مشہود بہ کے لئے ہےدرروغرروغیر ہا کتب معتمدہ میں ہے:
ان قدرھا لایصیر معلوما الا بالتحدید ۔ گھر کی مقدار کا تعین اس کی حدوں کو بیان کئے بغیر معلوم نہیں ہوسکتا۔(ت)
تواصل دار بلا تعیین مقدار کیا چیز ہے جس کا قاضی حکم کرے یہ تو ایسا ہے کہ زید عمرو پر ہزار روپے کا دعوی کرے شہود شہادت دیں کہ اس کا اس پر کچھ آتا ہے کیایہ گواہی اصل دین کے اثبات میں مقبول ہوجائے گی ہر گز نہیں
ولم یقل بہ احد وبہ ظہر الجواب عن قیاسہ علی مسالۃ الجارین فان ثمہ لم یختلفا فی اصل داریھما فالتسلیم لعدم النزاع علی جہۃ القضاء وانما یحتاج القاضی الی علم المقدار فیما یدعی بہ عندہ فیرید القضاء بہ علی المنکر۔ اس کا قائل کوئی بھی نہیں اور اسی سے مسئلہ جارین پر اس کے قیاس کا جواب ظاہر ہوگیا کیونکہ وہاں دونوں پڑوسیوں میں ان کے اصل گھروں کے بارے میں اختلاف واقع نہیں ہوا چنانچہ وہاں قضاء کی جہت سے نزاع معدوم ہونے کی وجہ سے تسلیم متحقق ہوئیبیشك قاضی اس بات کا محتاج ہے کہ اس گھر کی مقدار اسے معلوم ہو جس کا دعوی اس کے پاس کیاگیا ہے اور وہ منکر کے خلاف اس کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔(ت)
اگر ایسی شہادت مقبول ہوتو لازم کہ دعوی بھی بلا تعیین حدودقبول ہوجائے وہی وجہ وہاں بھی جاری ہے کہ اصل دین اس وقت حکم چاہتا ہے حدود میں نزاع پڑے تو یہ مقدمہ جداہولے گا حالانکہ یہ جملہ کتب مذہب کے خلاف ہےخود جامع الفصولین میں ہے:
لوادعی عقارا فلا بد من ذکر بلدۃ اگر عقار(غیر منقو ل)کا کہا تو اس شہر کا ذکر ضروری
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب دار المعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۴۱€
الدرر الحکام شرح غررر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞میرمحمد کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۱€
الدرر الحکام شرح غررر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞میرمحمد کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۱€
فیما المدعی ثم من ذکر المحلۃ ثم السکۃ ثم حدودہ فلو ذکر حدین لایکفی ولوذکر الثلثۃ کفی وکل جواب عرفتہ فی الدعوی فھو الجواب فی الشہادۃ اھ مختصرا۔ ہے جس میں مدعی ہے پھر محلہ گلی اور عقار کی حدوں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہےاگراس نے دو حدوں کا ذکر کیا تو کافی نہیں اور اگر تین کاذکر کیا تو کافی ہے اور جو حکم تونے دعوی میں پہچانا وہی حکم شہادت میں ہے مختصرا۔(ت)
بالجملہ نظر حاضر میں یہ بحث قابل اعتماد نہیں مشہود لہ وعلیہ کی تعیین ضرور ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ وہاں مقصود صرف رفع التباس ہے جس طرح ہو یہاں تك کہ اگر صرف نام یا تنہا لقب یا مجرد صفت ہی سے رفع اشتباہ ہوجائے بس ہے ورنہ ذکر نام و نام پدر بالا تفاق اور نام جدامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ضرور ہے اور یہی صحیح ہے ہاں اگر قاضی ماذون صرف نام و نام پدر پر قبول کرکے قضا کردے نافذ ہوجائے گی عورت کے لئے نام وزوجیت کافی ہے درمختار میں ہے:
فلو قضی بلاذکر الجد نفذ فالمعتبر التعریف لا تکثیر الحروف حتی لو عرف باسمہ فقط او بلقبہ وحدہ کفی ۔ اگر داد ا کا ذکر کئے بغیر قاضی نے قضا کردی تو نافذ ہوگی اس میں معتبر توصرف پہچان کراناہے نہ کہ گفتگو میں زیادہ الفاظ استعمال کرنا یہاں تك کہ اگر محض نام سے اس کی پہچان ہو جائے یا تنہا لقب سے شناخت ہوجائے تو کافی ہے۔(ت)
جامع الفصولینملتقط وفصول عمادیہ وہندیہ ومنح الغفار وتنقیح الحامدیہ میں ہے:
والحاصل ان المعتبر انما ھو حصول المعرفۃ وارتفاع الاشتراك ۔ خلاصہ یہ کہ اعتبار تو صرف شناخت کے حصول اور اشتراك واشتباہ کے خاتمے کا ہے(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
المعتبر ھو حصول المعرفۃ وارتفاع الالتباس بای شیئ کان ۔ اعتبار اس بات کا ہے کہ شناخت حاصل ہوجائے اور اشتباہ دور ہوجائے چاہے کسی بھی شے سے ہو۔(ت)
بالجملہ نظر حاضر میں یہ بحث قابل اعتماد نہیں مشہود لہ وعلیہ کی تعیین ضرور ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ وہاں مقصود صرف رفع التباس ہے جس طرح ہو یہاں تك کہ اگر صرف نام یا تنہا لقب یا مجرد صفت ہی سے رفع اشتباہ ہوجائے بس ہے ورنہ ذکر نام و نام پدر بالا تفاق اور نام جدامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ضرور ہے اور یہی صحیح ہے ہاں اگر قاضی ماذون صرف نام و نام پدر پر قبول کرکے قضا کردے نافذ ہوجائے گی عورت کے لئے نام وزوجیت کافی ہے درمختار میں ہے:
فلو قضی بلاذکر الجد نفذ فالمعتبر التعریف لا تکثیر الحروف حتی لو عرف باسمہ فقط او بلقبہ وحدہ کفی ۔ اگر داد ا کا ذکر کئے بغیر قاضی نے قضا کردی تو نافذ ہوگی اس میں معتبر توصرف پہچان کراناہے نہ کہ گفتگو میں زیادہ الفاظ استعمال کرنا یہاں تك کہ اگر محض نام سے اس کی پہچان ہو جائے یا تنہا لقب سے شناخت ہوجائے تو کافی ہے۔(ت)
جامع الفصولینملتقط وفصول عمادیہ وہندیہ ومنح الغفار وتنقیح الحامدیہ میں ہے:
والحاصل ان المعتبر انما ھو حصول المعرفۃ وارتفاع الاشتراك ۔ خلاصہ یہ کہ اعتبار تو صرف شناخت کے حصول اور اشتراك واشتباہ کے خاتمے کا ہے(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
المعتبر ھو حصول المعرفۃ وارتفاع الالتباس بای شیئ کان ۔ اعتبار اس بات کا ہے کہ شناخت حاصل ہوجائے اور اشتباہ دور ہوجائے چاہے کسی بھی شے سے ہو۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۳€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ کتاب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۹€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۰€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ کتاب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۹€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۰€
ردالمحتار میں ہے:
قولہ او بلقبہ وکذا بصفتہ کما افتی بہ فی الحامدیۃ فیمن یشھد ان المرأۃ التی قتلت فی سوق کذافی یوم کذا فی وقت کذا قتلھا فلان تقبل بلابیان اسمھا و اسم ابیھا حیث کانت معروفۃ لم یشار کہا فی ذلك غیرہا ۔ صاحب درمختار کا قول او بلقبہ(یا اس کے لقب سے شناخت ہوجائے)ایسا ہی حکم ہے اس کی صفت کے ساتھ شناخت کا جیسا کہ فتاوی حامدیہ میں اس پر فتوی دیا گیا ہے اس شخص کے بارے میں جو گواہی دے کہ فلاں دنفلاں وقتفلاں بازار میں جو عورت قتل کی گئی اس کو فلاں نے قتل کیا ہے تو اس عورت اور اس کے باپ کانام بیان کئے بغیر شہادت قبول کرلی جائے گی جبکہ وہ مقتولہ عورت مشہور ہو اور اس وصف میں اس کے ساتھ کوئی اور شریك نہ ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
قالوافی ثبوت ھلال رمضان شھد واانہ شھد عند قاض مصر کذا شاہد ان برؤیۃ الہلال وقضی القاضی بھاووجد استجماع شرائط الدعوی قضی القاضی بشہادتہما فانظرواحفظکم اﷲ تعالی الی قولہم قاضی بلدۃ کذاولم یذکروا اشتراط اسم ابیہ وجدہ لانہ لایلتبس بغیرہ اذ القاضی فی ذلك الوقت واحد لا اثنان کما ھوا المعلوم ہلال رمضان کے ثبوت کے بارے میں فقہاء نے کہاگواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس دو گواہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور قاضی نے ان کی شہادت پر فیصلہ دیا اور تمام شرائط دعوی پائی گئیں توقاضی ان کی گواہی پر فیصلہ کردے گا تو دیکھو اﷲ تعالی تمہاری حفاظت فرمائے ان کے اس قول کی طرف کہ انہوں نے کہا"فلاں شہر کا قاضی"اور اس کے باپ اور دادا کے نام کوذکر کرنے کی شرط کا تذکرہ انہوں نے نہیں کیا کیونکہ اس وقت شہر کا قاضی ایك ہی ہے نہ کہ دو جیسا کہ معلوم ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
تکفی النسبۃ الی الزوج لان المقصود عورت کی نسبت زوج کی طرف کرنا کافی ہے کیونکہ
قولہ او بلقبہ وکذا بصفتہ کما افتی بہ فی الحامدیۃ فیمن یشھد ان المرأۃ التی قتلت فی سوق کذافی یوم کذا فی وقت کذا قتلھا فلان تقبل بلابیان اسمھا و اسم ابیھا حیث کانت معروفۃ لم یشار کہا فی ذلك غیرہا ۔ صاحب درمختار کا قول او بلقبہ(یا اس کے لقب سے شناخت ہوجائے)ایسا ہی حکم ہے اس کی صفت کے ساتھ شناخت کا جیسا کہ فتاوی حامدیہ میں اس پر فتوی دیا گیا ہے اس شخص کے بارے میں جو گواہی دے کہ فلاں دنفلاں وقتفلاں بازار میں جو عورت قتل کی گئی اس کو فلاں نے قتل کیا ہے تو اس عورت اور اس کے باپ کانام بیان کئے بغیر شہادت قبول کرلی جائے گی جبکہ وہ مقتولہ عورت مشہور ہو اور اس وصف میں اس کے ساتھ کوئی اور شریك نہ ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
قالوافی ثبوت ھلال رمضان شھد واانہ شھد عند قاض مصر کذا شاہد ان برؤیۃ الہلال وقضی القاضی بھاووجد استجماع شرائط الدعوی قضی القاضی بشہادتہما فانظرواحفظکم اﷲ تعالی الی قولہم قاضی بلدۃ کذاولم یذکروا اشتراط اسم ابیہ وجدہ لانہ لایلتبس بغیرہ اذ القاضی فی ذلك الوقت واحد لا اثنان کما ھوا المعلوم ہلال رمضان کے ثبوت کے بارے میں فقہاء نے کہاگواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس دو گواہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور قاضی نے ان کی شہادت پر فیصلہ دیا اور تمام شرائط دعوی پائی گئیں توقاضی ان کی گواہی پر فیصلہ کردے گا تو دیکھو اﷲ تعالی تمہاری حفاظت فرمائے ان کے اس قول کی طرف کہ انہوں نے کہا"فلاں شہر کا قاضی"اور اس کے باپ اور دادا کے نام کوذکر کرنے کی شرط کا تذکرہ انہوں نے نہیں کیا کیونکہ اس وقت شہر کا قاضی ایك ہی ہے نہ کہ دو جیسا کہ معلوم ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
تکفی النسبۃ الی الزوج لان المقصود عورت کی نسبت زوج کی طرف کرنا کافی ہے کیونکہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۷۲€
العقود الدریۃ کتاب الشہادات ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۴۶€
العقود الدریۃ کتاب الشہادات ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۴۶€
الاعلام اھ۔ مقصود تو شناخت کراناہے اھ(ت)
لفظ اشھد قطعا رکن شہادت ہے بے اس کے شہادت شہادت ہی نہیں قبول وعدم قبول تو دوسرا درجہ ہے تنویرا لابصار ودرمختار میں ہے:
رکنھا لفظ اشھد لاغیر الی قولہ فتعین ۔ شہادت کارکن لفظ اشھد(میں گواہی دیتا ہوں)ہے نہ کہ اس کا غیر(ماتن کے قول فتعین تک)۔(ت)
انہیں میں ہے:
لزم فی الکل من المراتب الاربع لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع وکل مالا یشترط فیہ ھذااللفظ کطہارۃ ماء ورؤیۃ ھلال فہو اخبار لاشہادۃ ۔ چاروں مراتب میں سے ہر ایك میں لفظ اشھد بصیغہ مضارع بالاجماع لازم ہےاور جس جگہ یہ لفظ شرط نہیں جیسے پانی کی طہارت اور چاند کی رؤیت تو وہ خبردیناہے نہ کہ شہادت۔ (ت)
شروع شہادت سے پہلے یہ کہلوا لینا کہ"اشھد باﷲ"سچ کہوں گاہرگز کافی نہیں کہ وہ حلف ہے نہ کہ شہادتاور"اشھد"کلام شہادت پر داخل ہونا لازم نہ کہ حلف پرشاہدوں سے حلف لینا تو شرعا جائز بھی نہیں کما فی الدر وغیرہ لانا امرنا باکرامھم (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے کیونکہ ہمیں گواہوں کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ت)ظاہر ہے کہ حکام وشہود خصوم وتمام حضار ان الفاظ کو حلف ہی سمجھتے حلف ہی کہتے حلف ہی کی نیت کرتے ہیں اور رکن شہادت وہ اشھد ہے جو بمعنی خبر ہو نہ وہ کہ بمعنی حلف وقسم ہےتبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے:
رکنھا لفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم ۔ رکن شہادت لفظ اشھد ہے جبکہ خبر کی نیت سے ہو نہ کہ قسم کی نیت سے(ت)
اشھد باﷲ سچ کہوں گا ایك قسم ہوگئی جس کا کفارہ بہت آسان ہے کلام شہادت پر اشھد داخل نہ ہو ا جس میں غلط گوئی موجب ہلاکت ہوتی
لفظ اشھد قطعا رکن شہادت ہے بے اس کے شہادت شہادت ہی نہیں قبول وعدم قبول تو دوسرا درجہ ہے تنویرا لابصار ودرمختار میں ہے:
رکنھا لفظ اشھد لاغیر الی قولہ فتعین ۔ شہادت کارکن لفظ اشھد(میں گواہی دیتا ہوں)ہے نہ کہ اس کا غیر(ماتن کے قول فتعین تک)۔(ت)
انہیں میں ہے:
لزم فی الکل من المراتب الاربع لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع وکل مالا یشترط فیہ ھذااللفظ کطہارۃ ماء ورؤیۃ ھلال فہو اخبار لاشہادۃ ۔ چاروں مراتب میں سے ہر ایك میں لفظ اشھد بصیغہ مضارع بالاجماع لازم ہےاور جس جگہ یہ لفظ شرط نہیں جیسے پانی کی طہارت اور چاند کی رؤیت تو وہ خبردیناہے نہ کہ شہادت۔ (ت)
شروع شہادت سے پہلے یہ کہلوا لینا کہ"اشھد باﷲ"سچ کہوں گاہرگز کافی نہیں کہ وہ حلف ہے نہ کہ شہادتاور"اشھد"کلام شہادت پر داخل ہونا لازم نہ کہ حلف پرشاہدوں سے حلف لینا تو شرعا جائز بھی نہیں کما فی الدر وغیرہ لانا امرنا باکرامھم (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے کیونکہ ہمیں گواہوں کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ت)ظاہر ہے کہ حکام وشہود خصوم وتمام حضار ان الفاظ کو حلف ہی سمجھتے حلف ہی کہتے حلف ہی کی نیت کرتے ہیں اور رکن شہادت وہ اشھد ہے جو بمعنی خبر ہو نہ وہ کہ بمعنی حلف وقسم ہےتبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے:
رکنھا لفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم ۔ رکن شہادت لفظ اشھد ہے جبکہ خبر کی نیت سے ہو نہ کہ قسم کی نیت سے(ت)
اشھد باﷲ سچ کہوں گا ایك قسم ہوگئی جس کا کفارہ بہت آسان ہے کلام شہادت پر اشھد داخل نہ ہو ا جس میں غلط گوئی موجب ہلاکت ہوتی
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الشہادات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱ /۳۸۶€
درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰€
درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ تبیین الحقائق کتاب الشہادات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۰€
درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰€
درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ تبیین الحقائق کتاب الشہادات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۰€
کمانص علیہ العلماء الکرام فی حکمۃ عدم تحلیف الشاہد و وضع ھذا اللفظ عوضہ ان شاھد الزورلما اراداھلاك مال المشہود علیہ عوض باھلاك ذاتہ بخلاف مالو حلف اذکان یسیرا علیہ کفارتہ۔ جیسا کہ گواہوں سے حلف نہ لینے اور اس کے بجائے لفظ اشھد رکھنے کی حکمت کے بارے میں علماء کرام نے نص فرمائی ہے کہ جھوٹا گواہ جب مشہودعلیہ کے مال کی ہلاکت کا ارادہ کرے تو اس کا بدلہ اسے ہلاکت ذات کی صورت میں ملتا ہے بخلاف قسم کے گواہ پر اس کا کفارہ ادا کردینا آسان ہوتا ہے(ت)
غرض ایسی شہادت ہر گز شہادت نہیں اور اس پر جو قضا ہو اصلا نافذ نہیں۔
لانتفاء احداطراف القضاء وھو الطریق فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالنکول اوالاقرار فاذاانعدمت انعدم القضاء۔ اطراف قضاء میں سے ایك یعنی طریق کے منتفی ہونے کی وجہ سے کیونکہ قاضی گواہوں یا انکار مدعا علیہ یا اقرار مدعی علیہ کے ذریعے ہی فیصلہ کرتا ہے جب یہ معدوم ہوں تو قضاء بھی معدوم ہوگی(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:ومما نظمہ ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ(ابن الغرس نے فواکہ بدریہ میں نظم کیا۔ت)
اطراف کل قضیۃ حکمیۃ ست یلوح بعدھا التحقیق
حکم ومحکوم بہ ولہ ومحکوم علیہ وحاکم وطریق
(ہر قضاء کے چھ اطراف ہوتے ہیں جن کے بعد تحقیق ظاہر ہوتی ہے:۱حکم۲محکوم بہ۳محکوم لہ۴محکوم علیہ۵حاکم اور ۶طریق۔ت)
وبفقد واحد من اطراف القضیۃ یفقد الحکم وبذلك یعرف بطلان المحضر المذکور۔واﷲ تعالی اعلم۔ اطراف قضاء میں سے ایك کے مفقود ہونے کی وجہ سے حکم مفقود ہوجاتا ہے اور اسی سے مذکورہ دستاویز کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
غرض ایسی شہادت ہر گز شہادت نہیں اور اس پر جو قضا ہو اصلا نافذ نہیں۔
لانتفاء احداطراف القضاء وھو الطریق فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالنکول اوالاقرار فاذاانعدمت انعدم القضاء۔ اطراف قضاء میں سے ایك یعنی طریق کے منتفی ہونے کی وجہ سے کیونکہ قاضی گواہوں یا انکار مدعا علیہ یا اقرار مدعی علیہ کے ذریعے ہی فیصلہ کرتا ہے جب یہ معدوم ہوں تو قضاء بھی معدوم ہوگی(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:ومما نظمہ ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ(ابن الغرس نے فواکہ بدریہ میں نظم کیا۔ت)
اطراف کل قضیۃ حکمیۃ ست یلوح بعدھا التحقیق
حکم ومحکوم بہ ولہ ومحکوم علیہ وحاکم وطریق
(ہر قضاء کے چھ اطراف ہوتے ہیں جن کے بعد تحقیق ظاہر ہوتی ہے:۱حکم۲محکوم بہ۳محکوم لہ۴محکوم علیہ۵حاکم اور ۶طریق۔ت)
وبفقد واحد من اطراف القضیۃ یفقد الحکم وبذلك یعرف بطلان المحضر المذکور۔واﷲ تعالی اعلم۔ اطراف قضاء میں سے ایك کے مفقود ہونے کی وجہ سے حکم مفقود ہوجاتا ہے اور اسی سے مذکورہ دستاویز کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۹€
مسئلہ۳:۹ شوال ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو دوسرے ضلع سے اپنے مکان کو روانہ کیااثنائے راہ میں بکربہ نیت فاسد بھگا کر اپنے یہاں لے گیازید نے نالش فرار کیہندہ نے بیان کیا زید مجھے جائداد لکھ دینے کو کہتا تھا میں نےنہ لکھی اس نے تین بار کہا میں نے تجھے طلاق دی اور شہادت میں اپنا حقیقی بھائی اور رشتہ کاچچا اور ایك عورت کے روٹی پکانے پر ہندہ کے یہاں نوکر ہے پیش کرتی ہےاور یہ تینوں شخص جاہل وغیر پابند نماز ہیںاس صورت میں طلاق ثابت ہوگی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
طلاق ونکاح ہم مسلمانوں کے شرعی ودینی معاملے ہیں ان کا ثبوت اسی طور پر ہونا لازم جس طرح شریعت مطہرہ میں مقرر کیا گیا ہےشریعت مطہرہ میں پابند نماز نہ ہونا تو معاذ اﷲ حد درجہ کا فسق ہے تارك جماعت کی گواہی سے بھی طلاق ثابت نہیں ہوتی۔عالمگیری میں ہے:
کل فرض لہ وقت معین کالصلوۃ والصوم اذااخرمن غیر عذرسقطت عدالتہ ۔ جس فرض کا وقت معین ہے جیسے نماز اور روزہ اگرکوئی بلاعذر اس میں تاخیر کرے تواس کا عادل ہونا ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
اذاترك الرجل الصلوۃ استخفافا بالجماعۃ بان لا یستعظم تفویۃ الجماعۃ کما یفعلہ العوام او مجانۃ او فسقا لاتجوز شہادتہ ۔ اگر کوئی شخص بطورتحقیر باجماعت نماز نہ پڑھے بایں طور کہ جماعت کے فوت ہوجانےکو کوئی بڑی بات نہ سمجھے جیسا کہ عوام الناس کرتے ہیں یا بلاوجہ یا بطور فسق وفجور جماعت کو ترك کرے تو اسکی گواہی ناجائز ہے۔(ت)
اور ان کا جاہل ہونا دوسری وجہ ان کی ردشہادت کی ہےدرمختار میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترك مایجب تعلمہ شرعا جاہل کی گواہی عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائیگی کیونکہ جن احکام شرعیہ کا سیکھنا اس پر واجب ہے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ ہندہ کو دوسرے ضلع سے اپنے مکان کو روانہ کیااثنائے راہ میں بکربہ نیت فاسد بھگا کر اپنے یہاں لے گیازید نے نالش فرار کیہندہ نے بیان کیا زید مجھے جائداد لکھ دینے کو کہتا تھا میں نےنہ لکھی اس نے تین بار کہا میں نے تجھے طلاق دی اور شہادت میں اپنا حقیقی بھائی اور رشتہ کاچچا اور ایك عورت کے روٹی پکانے پر ہندہ کے یہاں نوکر ہے پیش کرتی ہےاور یہ تینوں شخص جاہل وغیر پابند نماز ہیںاس صورت میں طلاق ثابت ہوگی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
طلاق ونکاح ہم مسلمانوں کے شرعی ودینی معاملے ہیں ان کا ثبوت اسی طور پر ہونا لازم جس طرح شریعت مطہرہ میں مقرر کیا گیا ہےشریعت مطہرہ میں پابند نماز نہ ہونا تو معاذ اﷲ حد درجہ کا فسق ہے تارك جماعت کی گواہی سے بھی طلاق ثابت نہیں ہوتی۔عالمگیری میں ہے:
کل فرض لہ وقت معین کالصلوۃ والصوم اذااخرمن غیر عذرسقطت عدالتہ ۔ جس فرض کا وقت معین ہے جیسے نماز اور روزہ اگرکوئی بلاعذر اس میں تاخیر کرے تواس کا عادل ہونا ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
اذاترك الرجل الصلوۃ استخفافا بالجماعۃ بان لا یستعظم تفویۃ الجماعۃ کما یفعلہ العوام او مجانۃ او فسقا لاتجوز شہادتہ ۔ اگر کوئی شخص بطورتحقیر باجماعت نماز نہ پڑھے بایں طور کہ جماعت کے فوت ہوجانےکو کوئی بڑی بات نہ سمجھے جیسا کہ عوام الناس کرتے ہیں یا بلاوجہ یا بطور فسق وفجور جماعت کو ترك کرے تو اسکی گواہی ناجائز ہے۔(ت)
اور ان کا جاہل ہونا دوسری وجہ ان کی ردشہادت کی ہےدرمختار میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترك مایجب تعلمہ شرعا جاہل کی گواہی عالم کے خلاف قبول نہیں کی جائیگی کیونکہ جن احکام شرعیہ کا سیکھنا اس پر واجب ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۶€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۶€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۶€
فحینئذ لاتقبل شہادتہ علی مثلہ ولاعلی غیرہ و للحاکم تعزیرہ علی ترکہ ذلك ثم قال والعالم من یستخرج المعنی من الترکیب کما یحق و ینبغی ۔ اس کو ترك کرنے کی وجہ سے وہ فاسق ہوگیاتو اس صورت میں یعنی فاسق ہونے کی صورت میں تو اس کی گواہی نہ اپنے جیسے جاہل اور نہ ہی غیر جاہل پر قبول کی جائے گیاور اس ترك تعلم پر حاکم اس کو بطور تعزیر سزادے سکتاہےپھر کہا کہ عالم وہ ہے جو تراکیب الفاظ سے معنی کا استخراج کرسکے جیسا کہ ثابت اور مناسب ہے۔(ت)
پھر عورت میں تیسری وجہ اور ہے کہ وہ ہندہ کی نوکر ہے اور نوکر کی گواہی آقا کے حق میں مقبول نہیںدرمختار میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الاجیر الخاص لمستاجرہ مستانہۃ او مشاہرۃ اوالخادم الخ۔ اجیر خاص(مزدور یانوکر)کی گواہی اپنے مستاجر کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی چاہے اجرت سالانہ ہو یا ماہانہیا اجیر خاص سے مرادخادم(تابع یا شاگرد خاص ہے)۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں طلاق ثابت نہیں زید ہندہ بدستور زوج و زوجہ مانے جائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴: ازریاست ٹونك محلہ مئوخیل وزیر گنج مرسلہ حسن رضاخاں ۲۸/ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسماۃ ہندہ مدعیہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا اس نے خسر ضامن مہر و نیز مدعاعلیہ ثانی ضامن چڑھا وا و جہیز پر تین دعوے عدالت شریعت میں پیش کئے۔ثبوت ہر سہ دعوی میں ہشت مع قاضی شہادتین شرعیہ بمواجہہ مدعاعلیہم پیش ہوئیں کہ عدالت شرعی میں پذیراوتسلیم ہوچکیں وحصر بھی فریقین سے کرچکی تھی ونیز مدعاعلیہم کے بیانات سے بھی اقرار ثابت ہےادخال ثبوت سے بعد پانچ ماہ کے ایك مدعا علیہ نے درخواست خلاف شرع پیش کی کہ اب گواہان مدعیہ پر جرح ہے تزکیہ کرادیاجائےوکیل مدعیہ نے بھی عرض بدیں خلاصہ پیش کی کہ اب جرح کرنا مدعاعلیہ کا اور درخواست تزکیہ کی شرعا ناجائز ہےپس تزکیہ ایسے وقت میں ایسے معاملہ داد وستد میں جس کامذکورہ بالا ہو چکاہے بعد پانچ ماہ کے درست ہے یانہیںبینواتوجروا۔
پھر عورت میں تیسری وجہ اور ہے کہ وہ ہندہ کی نوکر ہے اور نوکر کی گواہی آقا کے حق میں مقبول نہیںدرمختار میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الاجیر الخاص لمستاجرہ مستانہۃ او مشاہرۃ اوالخادم الخ۔ اجیر خاص(مزدور یانوکر)کی گواہی اپنے مستاجر کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی چاہے اجرت سالانہ ہو یا ماہانہیا اجیر خاص سے مرادخادم(تابع یا شاگرد خاص ہے)۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں طلاق ثابت نہیں زید ہندہ بدستور زوج و زوجہ مانے جائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴: ازریاست ٹونك محلہ مئوخیل وزیر گنج مرسلہ حسن رضاخاں ۲۸/ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسماۃ ہندہ مدعیہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا اس نے خسر ضامن مہر و نیز مدعاعلیہ ثانی ضامن چڑھا وا و جہیز پر تین دعوے عدالت شریعت میں پیش کئے۔ثبوت ہر سہ دعوی میں ہشت مع قاضی شہادتین شرعیہ بمواجہہ مدعاعلیہم پیش ہوئیں کہ عدالت شرعی میں پذیراوتسلیم ہوچکیں وحصر بھی فریقین سے کرچکی تھی ونیز مدعاعلیہم کے بیانات سے بھی اقرار ثابت ہےادخال ثبوت سے بعد پانچ ماہ کے ایك مدعا علیہ نے درخواست خلاف شرع پیش کی کہ اب گواہان مدعیہ پر جرح ہے تزکیہ کرادیاجائےوکیل مدعیہ نے بھی عرض بدیں خلاصہ پیش کی کہ اب جرح کرنا مدعاعلیہ کا اور درخواست تزکیہ کی شرعا ناجائز ہےپس تزکیہ ایسے وقت میں ایسے معاملہ داد وستد میں جس کامذکورہ بالا ہو چکاہے بعد پانچ ماہ کے درست ہے یانہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادۃ باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵€
درمختار کتاب الشہادۃ باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵۔۹۴€
درمختار کتاب الشہادۃ باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵۔۹۴€
الجواب:
اگر بیان مدعاعلیہم سے دعوی مدعیہ کا اقرار ثابت ہولیا جیساکہ سوال سے ظاہر ہے جب تو خود واضح کہ یہ درخواست جرح گواہان اصلا قابل سماعت نہیں خود ان کا اقرار ان پرڈگری ہونے کو کافی
فانہ حجۃ شرعیۃ یکفی للقضاء علی صاحبہ فکما ان المدعی لایکلف باقامۃ بینۃ بعد اقرار المدعا علیہ و کذلك لایکلف باثبات عدالتھم اذکل ذلك صار مستغنی عنہ بعدہ۔ اس لئے کہ اقرار حجت شرعیہ ہے جو اقرار کرنیوالے پر قضاء کے لئے کافی ہےتو جس طرح مدعاعلیہ کے اقرار کے بعد مدعی گواہ پیش کرنے کا مکلف نہیں بنایا جاتا اسی طرح وہ گواہوں کی عدالت ثابت کرنے کا مکلف بھی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اقرار کے بعد ان تمام چیزوں کی حاجت نہیں رہتی۔(ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر بعد اقامت بینہ مدعا علیہ نے اقرار کردیا تو اس پر ڈگری بوجہ اقرار ہوگی نہ کہ بوجہ بینہ۔
فی ردالمحتار عن البحر الرائق لواقر بعد البینۃ یقضی بہ لابھا ۔ البحرالرائق کےحوالے سے ردالمحتار میں مذکور ہے کہ اگرمدعاعلیہ نے مدعی کی طرف سے گواہ پیش کرنے کے بعد اقرار کرلیا تو فیصلہ اقرار کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ گواہوں کی بنیاد پر۔ (ت)
تواب گواہوں کی عدالت وعدم عدالت سے کیا بحث رہی بلکہ خود بوجہ اقرار مدعا علیہم پر ڈگری ثابتاور اگر بروجہ کافی ان کے بیان سے ثابت نہ ہو تو دیکھا جائے کہ قاضی نے گواہوں کا تزکیہ کرلیا یعنی اگرخود ان کی عدالت سے آگاہ تھا تو مزکی معتمد سے ان کے عدل جائز الشہادۃ ہونے کی تنقیح کر لی تھی یا نہیںاگر کرچکا تھا تو اس حالت میں بھی یہ جرح مجرد کی درخواست ناقابل شنوائی ہے کہ بعد تزکیہ جرح مجرد پر گواہی گزری تو وہ بھی نامقبول ہے نہ کہ مدعاعلیہ کا نرابیان۔درمختارمیں ہے:
لاتقبل الشہادۃ علی جرح مجرد بعد التعدیل (ملخصا) تزکیہ کے بعد جرح مجرد پر شہادت قبول نہیں کی جائے گی (ملخصا)۔(ت)
اور اگر ہنوز تزکیہ نہ ہوا تھا کہ مدعاعلیہم نے یہ درخواست دی تو بلا شبہ قاضی پر واجب کہ یہ
اگر بیان مدعاعلیہم سے دعوی مدعیہ کا اقرار ثابت ہولیا جیساکہ سوال سے ظاہر ہے جب تو خود واضح کہ یہ درخواست جرح گواہان اصلا قابل سماعت نہیں خود ان کا اقرار ان پرڈگری ہونے کو کافی
فانہ حجۃ شرعیۃ یکفی للقضاء علی صاحبہ فکما ان المدعی لایکلف باقامۃ بینۃ بعد اقرار المدعا علیہ و کذلك لایکلف باثبات عدالتھم اذکل ذلك صار مستغنی عنہ بعدہ۔ اس لئے کہ اقرار حجت شرعیہ ہے جو اقرار کرنیوالے پر قضاء کے لئے کافی ہےتو جس طرح مدعاعلیہ کے اقرار کے بعد مدعی گواہ پیش کرنے کا مکلف نہیں بنایا جاتا اسی طرح وہ گواہوں کی عدالت ثابت کرنے کا مکلف بھی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اقرار کے بعد ان تمام چیزوں کی حاجت نہیں رہتی۔(ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر بعد اقامت بینہ مدعا علیہ نے اقرار کردیا تو اس پر ڈگری بوجہ اقرار ہوگی نہ کہ بوجہ بینہ۔
فی ردالمحتار عن البحر الرائق لواقر بعد البینۃ یقضی بہ لابھا ۔ البحرالرائق کےحوالے سے ردالمحتار میں مذکور ہے کہ اگرمدعاعلیہ نے مدعی کی طرف سے گواہ پیش کرنے کے بعد اقرار کرلیا تو فیصلہ اقرار کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ گواہوں کی بنیاد پر۔ (ت)
تواب گواہوں کی عدالت وعدم عدالت سے کیا بحث رہی بلکہ خود بوجہ اقرار مدعا علیہم پر ڈگری ثابتاور اگر بروجہ کافی ان کے بیان سے ثابت نہ ہو تو دیکھا جائے کہ قاضی نے گواہوں کا تزکیہ کرلیا یعنی اگرخود ان کی عدالت سے آگاہ تھا تو مزکی معتمد سے ان کے عدل جائز الشہادۃ ہونے کی تنقیح کر لی تھی یا نہیںاگر کرچکا تھا تو اس حالت میں بھی یہ جرح مجرد کی درخواست ناقابل شنوائی ہے کہ بعد تزکیہ جرح مجرد پر گواہی گزری تو وہ بھی نامقبول ہے نہ کہ مدعاعلیہ کا نرابیان۔درمختارمیں ہے:
لاتقبل الشہادۃ علی جرح مجرد بعد التعدیل (ملخصا) تزکیہ کے بعد جرح مجرد پر شہادت قبول نہیں کی جائے گی (ملخصا)۔(ت)
اور اگر ہنوز تزکیہ نہ ہوا تھا کہ مدعاعلیہم نے یہ درخواست دی تو بلا شبہ قاضی پر واجب کہ یہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الدعوی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۲۳€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۷€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۷€
درخواست سنے اور عدالت شہود کی تحقیقات کرے اگرچہ ادائے شہادت کو مہینے گزرچکے ہوں کہ مرور مدت مانع سوال تزکیہ نہیں اور مذہب مفتی بہ پر یہ تنقیح اس زمانہ میں مطلقا لازم اور بعد طلب و طعن مدعا علیہ تو بالاتفاق کی جائے گیدرمختارمیں ہے:
لایسأل عن شاھد بلاطعن من الخصم الافی حدوقود وعند ھما یسأل فی الکل ان جہل بحالہم بحربہ یفتی ۔ حدود وقصاص کے علاوہ دیگر مقدمات میں مدعاعلیہ کی طرف سے طعن کے بغیر قاضی گواہوں کاحال دریافت نہ کرے صاحبین کے نزدیك ہرصورت میں دریافت کرے جبکہ قاضی کو ان کا حال معلوم نہ ہوبحراسی پر فتوی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ یسأل ای وجوباقال فی البحر والحاصل انہ ان طعن الخصم سأل عنہم فی الکل والاسئل فی الحدود والقصاص وفی غیرہامحل الاختلاف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کا قول کہ"سوال کرے"یعنی قاضی پر گواہوں کا حال دریافت کرنا واجب ہے۔بحر میں فرمایا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مدعاعلیہ کی طرف سے طعن ہو تو تمام مقدمات میں گواہوں کاحال دریافت کرے ورنہ حدود وقصاص میں دریافت کرے جبکہ باقی مقدمات میں محل اختلاف ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵: ۲۰/ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نےا پنی زوجہ ہندہ کو اپنی زندگی وصحت میں بعوض دین مہر کے اپنی جائداد منقولہ وغیر منقولہ قیمتی تخمینا چارسوروپیہ کے دی اور قبضہ کرادیااب زید مرگیا ورثہ نے اپنے حصہ کا دعوی کیا اور کہا کہ یہ جائداد متروکہ ہے ہندہ نے بیان کیا میر امہر پانچسو روپیہ کا تھا اور میر اخاوند زید بعوض دین مہر کے گواہوں کے روبرو مجھے قبضہ دے گیا ہے اور شہادت معتبر سے یعنی دو گواہوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ زید نے ہمارے سامنے بعوض دین مہر کے ہندہ کو جائداد دی اور قبضہ کرادیا لیکن تعداد دین مہر کی یا د نہیں کہ کس قدر تھا تو اس صورت میں مہر ہندہ کاوہی سمجھاجائے گا جو زید اپنی زندگی میں دے مرا یا مہر مثل لازم آئے گا یا کم از کم مہر دس درہم سمجھا جائے گا اور ورثہ بھی اس جائداد میں حصہ پائیں گے یانہیں بینوا توجروا۔
لایسأل عن شاھد بلاطعن من الخصم الافی حدوقود وعند ھما یسأل فی الکل ان جہل بحالہم بحربہ یفتی ۔ حدود وقصاص کے علاوہ دیگر مقدمات میں مدعاعلیہ کی طرف سے طعن کے بغیر قاضی گواہوں کاحال دریافت نہ کرے صاحبین کے نزدیك ہرصورت میں دریافت کرے جبکہ قاضی کو ان کا حال معلوم نہ ہوبحراسی پر فتوی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ یسأل ای وجوباقال فی البحر والحاصل انہ ان طعن الخصم سأل عنہم فی الکل والاسئل فی الحدود والقصاص وفی غیرہامحل الاختلاف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ماتن کا قول کہ"سوال کرے"یعنی قاضی پر گواہوں کا حال دریافت کرنا واجب ہے۔بحر میں فرمایا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مدعاعلیہ کی طرف سے طعن ہو تو تمام مقدمات میں گواہوں کاحال دریافت کرے ورنہ حدود وقصاص میں دریافت کرے جبکہ باقی مقدمات میں محل اختلاف ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵: ۲۰/ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نےا پنی زوجہ ہندہ کو اپنی زندگی وصحت میں بعوض دین مہر کے اپنی جائداد منقولہ وغیر منقولہ قیمتی تخمینا چارسوروپیہ کے دی اور قبضہ کرادیااب زید مرگیا ورثہ نے اپنے حصہ کا دعوی کیا اور کہا کہ یہ جائداد متروکہ ہے ہندہ نے بیان کیا میر امہر پانچسو روپیہ کا تھا اور میر اخاوند زید بعوض دین مہر کے گواہوں کے روبرو مجھے قبضہ دے گیا ہے اور شہادت معتبر سے یعنی دو گواہوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ زید نے ہمارے سامنے بعوض دین مہر کے ہندہ کو جائداد دی اور قبضہ کرادیا لیکن تعداد دین مہر کی یا د نہیں کہ کس قدر تھا تو اس صورت میں مہر ہندہ کاوہی سمجھاجائے گا جو زید اپنی زندگی میں دے مرا یا مہر مثل لازم آئے گا یا کم از کم مہر دس درہم سمجھا جائے گا اور ورثہ بھی اس جائداد میں حصہ پائیں گے یانہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۲€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۲€
الجواب:
جبکہ دو گواہان عادل شرعی شہادت شرعیہ کا ملہ ادا کریں کہ ان کے سامنے یہ مال اور فلاں جائداد اس عورت کو اس کے فلاں شوہر نے بعوض دین مہر دی تو یہ گواہی کا مل ہے عورت کی ملك بذریعہ خریداری بعوض مہر اس مال وجائداد میں ثابت ہوگئی وارثوں کا دعوی ساقط ہوا گواہی میں بیان مقدار مہر کی کچھ حاجت نہ تھی کہ اس وجہ سے شہادت میں قصور سمجھا جائےنہ اب اس بحث کی کوئی ضرورت کہ مہر کتنا تھا یا کس قدر سمجھا جائے آخر وہ کتنا ہی تھا ذمہ زید سے ساقط ہوگیا اور اس کے بدلے یہ مال وجائداد ملك ہندہ میں آگیا۔ردالمحتار میں ہے:
اشارالی انھما لو شھدابالشراء ولم یبینا الثمن لم تقبل وتمامہ فی البحر وقال الخیر الرملی فی حاشیتہ علیہ المفہوم من کلامھم فی ھذا المواضع وغیرہ انہ فیما یحتاج فیہ الی القضاء بالثمن لابد من ذکرہ وذکر قدرہ وصفتہ ومالایحتاج فیہ الی القضاء بہ لاحاجۃ الی ذکرہ ۔ ماتن نے اشارہ کیا ہے اس بات کی طرف کہ گواہ اگر خریداری کی گواہی دیں اور ثمن نہ بیان کریں تو ان کی گواہی قبول نہ ہوگیاس کا مکمل بحث بحرمیں ہےامام خیر الدین رملی نے اس کے حاشیہ میں فرمایا کہ اس مقام پر اور دیگر مقامات پر فقہاء کی کلام سے یہ مفہوم حاصل ہوتا ہے کہ یہ حکم مذکورتب ہے جب ثمن کے ذریعے قضاء کی حاجت ہو اس صورت میں ثمناس کی مقدار اور اس کی صفت کاذکر ضروری ہے اور جہاں ثمن کے ذریعے قضاء کی حاجت نہیں وہاں ثمن کو ذکر کرنا ضروری نہیں۔(ت)
اسی میں مبسوط سے ہے:
وان قالا اقر عندنا انہ باعھا منہ واستوفی الثمن ولم یسمیا الثمن فھو جائز لان الحاجۃ الی القضاء بالملك للمدعی دون القضاء بالعقد فقد انتہی حکم العقد باستیفاء الثمن ۔ اور اگر گواہوں نے کہا اس نے ہمارے پاس اقرار کیا کہ اس نے فلاں شخص کے ہاتھ گھر فروخت کیا اور ثمن وصول کر لیے گواہوں نے ثمن کو بیان نہیں کیا تو یہ جائز ہے کیونکہ یہاں حاجت ملك مدعی کی قضا کی ہے نہ کہ عقد کے بارے میں قضا کی تو بلاشبہ ثمن کی وصولی سے حکم عقد انتہاء کو پہنچ گیا۔(ت)
جبکہ دو گواہان عادل شرعی شہادت شرعیہ کا ملہ ادا کریں کہ ان کے سامنے یہ مال اور فلاں جائداد اس عورت کو اس کے فلاں شوہر نے بعوض دین مہر دی تو یہ گواہی کا مل ہے عورت کی ملك بذریعہ خریداری بعوض مہر اس مال وجائداد میں ثابت ہوگئی وارثوں کا دعوی ساقط ہوا گواہی میں بیان مقدار مہر کی کچھ حاجت نہ تھی کہ اس وجہ سے شہادت میں قصور سمجھا جائےنہ اب اس بحث کی کوئی ضرورت کہ مہر کتنا تھا یا کس قدر سمجھا جائے آخر وہ کتنا ہی تھا ذمہ زید سے ساقط ہوگیا اور اس کے بدلے یہ مال وجائداد ملك ہندہ میں آگیا۔ردالمحتار میں ہے:
اشارالی انھما لو شھدابالشراء ولم یبینا الثمن لم تقبل وتمامہ فی البحر وقال الخیر الرملی فی حاشیتہ علیہ المفہوم من کلامھم فی ھذا المواضع وغیرہ انہ فیما یحتاج فیہ الی القضاء بالثمن لابد من ذکرہ وذکر قدرہ وصفتہ ومالایحتاج فیہ الی القضاء بہ لاحاجۃ الی ذکرہ ۔ ماتن نے اشارہ کیا ہے اس بات کی طرف کہ گواہ اگر خریداری کی گواہی دیں اور ثمن نہ بیان کریں تو ان کی گواہی قبول نہ ہوگیاس کا مکمل بحث بحرمیں ہےامام خیر الدین رملی نے اس کے حاشیہ میں فرمایا کہ اس مقام پر اور دیگر مقامات پر فقہاء کی کلام سے یہ مفہوم حاصل ہوتا ہے کہ یہ حکم مذکورتب ہے جب ثمن کے ذریعے قضاء کی حاجت ہو اس صورت میں ثمناس کی مقدار اور اس کی صفت کاذکر ضروری ہے اور جہاں ثمن کے ذریعے قضاء کی حاجت نہیں وہاں ثمن کو ذکر کرنا ضروری نہیں۔(ت)
اسی میں مبسوط سے ہے:
وان قالا اقر عندنا انہ باعھا منہ واستوفی الثمن ولم یسمیا الثمن فھو جائز لان الحاجۃ الی القضاء بالملك للمدعی دون القضاء بالعقد فقد انتہی حکم العقد باستیفاء الثمن ۔ اور اگر گواہوں نے کہا اس نے ہمارے پاس اقرار کیا کہ اس نے فلاں شخص کے ہاتھ گھر فروخت کیا اور ثمن وصول کر لیے گواہوں نے ثمن کو بیان نہیں کیا تو یہ جائز ہے کیونکہ یہاں حاجت ملك مدعی کی قضا کی ہے نہ کہ عقد کے بارے میں قضا کی تو بلاشبہ ثمن کی وصولی سے حکم عقد انتہاء کو پہنچ گیا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹۰€
منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں کلام مذکور کے بعدفرمایا:
ولان الجہالۃ انما تؤثر لانھاتفضی الی منازعۃ مانعۃ من التسلیم والتسلم الاتری ان مالایحتاج الی قبضہ فجہالتہ لاتضر وھو المصالح عنہ بخلاف ما یحتاج الی قبضہ وھو المصالح علیہ فاذا اقر باستیفاء الثمن فلا حاجۃ ھنا الی تسلیم الثمن فجہالتہ لا تمنع القاضی من القضاء بحکم الاقرار اھ ومن تامل ھذہ الکلمت ظھر لہ الحکم فی مسألتنا ھذہ ظہورا بینا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ بیشك جہالت یہاں مؤثر ہے کیونکہ وہ ایسے نزاع کا باعث ہے جو تسلیم وتسلم سے مانع ہےکیا تو نہیں دیکھتا کہ جہاں قبضہ کی حاجت نہ ہو اس کی جہالت مضر نہیں اور وہ مصالح عنہ ہے(جس شے پر نزاع واقع ہوا)بخلاف اس چیز کے جس پر قبضہ کی حاجت ہے اور وہ مصالح علیہ ہے(جس شے پر صلح ہوئی)۔اور جب بائع نے ثمن وصول کرلینے کا اقرار کرلیا تو یہاں تسلیم ثمن کی حاجت نہ رہی لہذا ثمن کی جہالت قاضی کو بوجہ اقرار قضاء سے مانع نہیں ہوگی اھ جو شخص ان کلمات میں غور کرے اس پر ہمارے زیر بحث مسئلہ کا حکم خوب واضح ہوجائیگا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت قوم طوائف بوجہ آشنائی کسی مرد کے پاس عرصہ دراز تك بغیرہونے نکاح کے ہمخانہ اور ہم صحبت رہی اور پھر اس مرد نے بوجہ مذکور جو ہبہ نامہ جائداد مشترك کا بنام ہذا عوض دین مہر کے اس عورت کے نام لکھ دیا اور اس میں لکھاہو کہ نکاح میراساتھ اس کے ہوگیا ہے تویہ اقرار مرد کا بمقابلہ حقدار شرعی شخص ثالث کے شرعا ثبوت ہونے نکاح کا کافی ہے یانہیںاور شہادت سماعی یا کسی شخص واحد کی کافی ہوسکتی ہے یانہیں اور شرعا شہادت کیسی اور کن آدمیوں کے واسطے ثابت ہونے نکاح کے جائز اور معتبر ہوگی اور ایسا ہبہ نامہ بھی جائداد مشترك کا شرعا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
شہادت شخص واحد کی ثبوت نکاح کے لئے کافی نہیںدو مرد یا ایك مرد و دو عورت عادل ہونا چاہئے۔
فی الدر المختار ونصابھا لغیرھا من الحقوق سواء کان الحق مالااو درمختا رمیں ہے:امور مذکورکے سوا دیگرحقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں ہے
ولان الجہالۃ انما تؤثر لانھاتفضی الی منازعۃ مانعۃ من التسلیم والتسلم الاتری ان مالایحتاج الی قبضہ فجہالتہ لاتضر وھو المصالح عنہ بخلاف ما یحتاج الی قبضہ وھو المصالح علیہ فاذا اقر باستیفاء الثمن فلا حاجۃ ھنا الی تسلیم الثمن فجہالتہ لا تمنع القاضی من القضاء بحکم الاقرار اھ ومن تامل ھذہ الکلمت ظھر لہ الحکم فی مسألتنا ھذہ ظہورا بینا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ بیشك جہالت یہاں مؤثر ہے کیونکہ وہ ایسے نزاع کا باعث ہے جو تسلیم وتسلم سے مانع ہےکیا تو نہیں دیکھتا کہ جہاں قبضہ کی حاجت نہ ہو اس کی جہالت مضر نہیں اور وہ مصالح عنہ ہے(جس شے پر نزاع واقع ہوا)بخلاف اس چیز کے جس پر قبضہ کی حاجت ہے اور وہ مصالح علیہ ہے(جس شے پر صلح ہوئی)۔اور جب بائع نے ثمن وصول کرلینے کا اقرار کرلیا تو یہاں تسلیم ثمن کی حاجت نہ رہی لہذا ثمن کی جہالت قاضی کو بوجہ اقرار قضاء سے مانع نہیں ہوگی اھ جو شخص ان کلمات میں غور کرے اس پر ہمارے زیر بحث مسئلہ کا حکم خوب واضح ہوجائیگا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت قوم طوائف بوجہ آشنائی کسی مرد کے پاس عرصہ دراز تك بغیرہونے نکاح کے ہمخانہ اور ہم صحبت رہی اور پھر اس مرد نے بوجہ مذکور جو ہبہ نامہ جائداد مشترك کا بنام ہذا عوض دین مہر کے اس عورت کے نام لکھ دیا اور اس میں لکھاہو کہ نکاح میراساتھ اس کے ہوگیا ہے تویہ اقرار مرد کا بمقابلہ حقدار شرعی شخص ثالث کے شرعا ثبوت ہونے نکاح کا کافی ہے یانہیںاور شہادت سماعی یا کسی شخص واحد کی کافی ہوسکتی ہے یانہیں اور شرعا شہادت کیسی اور کن آدمیوں کے واسطے ثابت ہونے نکاح کے جائز اور معتبر ہوگی اور ایسا ہبہ نامہ بھی جائداد مشترك کا شرعا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
شہادت شخص واحد کی ثبوت نکاح کے لئے کافی نہیںدو مرد یا ایك مرد و دو عورت عادل ہونا چاہئے۔
فی الدر المختار ونصابھا لغیرھا من الحقوق سواء کان الحق مالااو درمختا رمیں ہے:امور مذکورکے سوا دیگرحقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں ہے
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادات ∞۷/ ۱۱۶€
غیرہ کنکاح وطلاق ووکالۃ ووصیۃ واستلال صبی ولو للارث رجلان او رجل وامرأتان ولزم فی الکل لفظ اشھد لقبولہا والعدالۃ لوجوبہ اھ ملخصا۔ چاہے وہ حق مال ہو یا غیر مال جیسے نکاحطلاقوکالت وصیت اور بچے کا آواز نکالنا اگرچہ گواہی وراثت کے لئے ہو اور تمام مراتب میں قبول شہادت کے لئے لفظ اشھد(میں گواہی دیتا ہوں)لازم ہے اور وجوب قبول کے لئے شاہد کا عادل ہونا ضروری ہےاھ تلخیص(ت)
اور شہادت سماعی ثبوت نکاح کے لئے کافی ہے جب گواہ یہ کہیں کہ یہ امر ہمارے نزدیك مشہورہے۔
فیہ ایضابل فی العزمیۃ عن الخانیۃ معنی التفسیر ان یقولا شھدنا لانا سمعنا من الناس اما لو قالالم نعاین ذلکولکنہ اشتھر عندنا جازت فی الکل وصححہ شارح الوھبانیۃ وغیرہ واﷲ تعالی اعلم ۔ یہ بھی اسی میں ہے بلکہ عزمیہ(حاشیہ درر)میں خانیہ سے منقول ہے کہ تفسیر شہادت(بالتسامع)کا معنی یہ ہے کہ گواہ یوں کہیں ہم اس لئے شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے لوگوں سے سنا ہےلیکن اگر وہ یوں کہیں کہ ہم نے اس کا معائنہ نہیں کیا لیکن وہ ہمارے نزدیك مشہور ہے تو سب میں شہادت جائز ہے۔شارح وہبانیہ وغیرہ نے اس کو صحیح قرار دیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور مردوزن کا عرصہ دراز تك مثل زن و شو ہمخانہ وہم صحبت رہنا عمدہ علامات مثبتہ نکاح سے ہے۔
فی فتاوی قاضی خان ولورای رجلا وامرأۃ یسکنان فی منزل وینبسط کل واحدمنہما علی صاحبہ کما یکون بین الازواج حل لہ ان یشھد علی نکاحھما وفی الھدایۃ وکذالورای انسانا جلس مجلس القضاء یدخل علیہ الخصوم حل لہ ان یشھد فتاوی قاضیخان میں ہے اگر کسی نے ایك مرد اور عورت کو ایك گھر میں رہائش پذیر اور ایك دوسرے سے میاں بیوی کی طرح بے تکلف ہوتے دیکھا تو اس کے لئے حلال ہے کہ وہ ان دونوں کے نکاح کی گواہی دے۔اور ہدایہ میں ہے کہ یوں اگرکسی نے ایك شخص کو مسند قضاپر بیٹھے ہوئے دیکھا کہ لوگ اس کے پاس مقدمات لارہے ہیں
اور شہادت سماعی ثبوت نکاح کے لئے کافی ہے جب گواہ یہ کہیں کہ یہ امر ہمارے نزدیك مشہورہے۔
فیہ ایضابل فی العزمیۃ عن الخانیۃ معنی التفسیر ان یقولا شھدنا لانا سمعنا من الناس اما لو قالالم نعاین ذلکولکنہ اشتھر عندنا جازت فی الکل وصححہ شارح الوھبانیۃ وغیرہ واﷲ تعالی اعلم ۔ یہ بھی اسی میں ہے بلکہ عزمیہ(حاشیہ درر)میں خانیہ سے منقول ہے کہ تفسیر شہادت(بالتسامع)کا معنی یہ ہے کہ گواہ یوں کہیں ہم اس لئے شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے لوگوں سے سنا ہےلیکن اگر وہ یوں کہیں کہ ہم نے اس کا معائنہ نہیں کیا لیکن وہ ہمارے نزدیك مشہور ہے تو سب میں شہادت جائز ہے۔شارح وہبانیہ وغیرہ نے اس کو صحیح قرار دیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور مردوزن کا عرصہ دراز تك مثل زن و شو ہمخانہ وہم صحبت رہنا عمدہ علامات مثبتہ نکاح سے ہے۔
فی فتاوی قاضی خان ولورای رجلا وامرأۃ یسکنان فی منزل وینبسط کل واحدمنہما علی صاحبہ کما یکون بین الازواج حل لہ ان یشھد علی نکاحھما وفی الھدایۃ وکذالورای انسانا جلس مجلس القضاء یدخل علیہ الخصوم حل لہ ان یشھد فتاوی قاضیخان میں ہے اگر کسی نے ایك مرد اور عورت کو ایك گھر میں رہائش پذیر اور ایك دوسرے سے میاں بیوی کی طرح بے تکلف ہوتے دیکھا تو اس کے لئے حلال ہے کہ وہ ان دونوں کے نکاح کی گواہی دے۔اور ہدایہ میں ہے کہ یوں اگرکسی نے ایك شخص کو مسند قضاپر بیٹھے ہوئے دیکھا کہ لوگ اس کے پاس مقدمات لارہے ہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹€۱
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
فتاوٰی قاضیخان کتاب النکاح فصل فی دعوٰی النکاح ∞نولکشور لکھنو ۱/ ۱۸۵€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
فتاوٰی قاضیخان کتاب النکاح فصل فی دعوٰی النکاح ∞نولکشور لکھنو ۱/ ۱۸۵€
علی کونہ قاضیا وکذاذارای رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد الی الاخر انبساط الازواج ۔ تو حلال ہے کہ وہ اس کے قاضی ہونے کی گواہی دے یوں اگر مرد اور عورت کو ایك گھر میں رہائش پذیر اور ایك دوسرے سے میاں بیوی کی طرح بے تکلفی کرتے دیکھا تو ان کے نکاح کی گواہی د ے سکتا ہے(ت)
اورصرف اقرار مرد بھی ثبوت نکاح کے لئے کافی ہے بلکہ بعد اقرار کے منکر ہو اور عورت اس کی حیات میں یا بعد موت کے تصدیق نکاح کرے تاہم نکاح ثابت اور زن مستحق ارث ومہر ہے
فی العالمگیریۃ رجل اقرانہ تزوج فلانۃ بالف درہم فی صحۃ او مرض ثم جحدہ وصدقتہ فی حیاتہ او بعد موتہ فہو جائز ولہا المیراث والمھر الخ۔ عالمگیریہ میں ہے:اگر کسی مرد نے حالت مرض یا صحت میں اقرار کیا کہ اس نے فلاں عورت سے ہزار درہم کے عوض نکاح کیا ہے پھر اس اقرار سے انکار کیا حالانکہ عورت نے اس مرد کی زندگی میں یا اس کی موت کے بعد اس کی تصدیق کی تو نکاح جائز ہوگااور عورت میراث اور مہر کی مستحق ہوگی الخ(ت)
اور ہبہ بالعوض حکم بیع میں ہے مشاع ومشترك ہونا موہوب کا اس کی صحت کو مضر نہیں بلکہ حصہ واہب میں ہبہ صحیح ونافذ رہے گا
فی الدرالمختار اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتہاء وفیہ ایضا وبطل بیع قن ضم الی حربخلاف قن ضم الی قن غیرہ فیصح بحصتہ فی عبدہ اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے کہ اگر کسی نے کہا میں نے یہ چیز اتنے کے بدلے تجھے ہبہ کی تویہ ابتداء اور انتہاء بیع ہے اور یہ بھی اسی میں ہے کہ اس غلام کی بیع باطل ہے جس کو آزاد کے ساتھ ملا کر فروخت کیاجائے بخلاف اس غلام کے جس کو دوسرے کے غلام کے ساتھ ملاکر بیچا جائے کیونکہ یہاں بائع کے حصہ کی بیع اس کے غلام میں صحیح ہوگی اھ التقاطواﷲ تعالی اعلم(ت)
اورصرف اقرار مرد بھی ثبوت نکاح کے لئے کافی ہے بلکہ بعد اقرار کے منکر ہو اور عورت اس کی حیات میں یا بعد موت کے تصدیق نکاح کرے تاہم نکاح ثابت اور زن مستحق ارث ومہر ہے
فی العالمگیریۃ رجل اقرانہ تزوج فلانۃ بالف درہم فی صحۃ او مرض ثم جحدہ وصدقتہ فی حیاتہ او بعد موتہ فہو جائز ولہا المیراث والمھر الخ۔ عالمگیریہ میں ہے:اگر کسی مرد نے حالت مرض یا صحت میں اقرار کیا کہ اس نے فلاں عورت سے ہزار درہم کے عوض نکاح کیا ہے پھر اس اقرار سے انکار کیا حالانکہ عورت نے اس مرد کی زندگی میں یا اس کی موت کے بعد اس کی تصدیق کی تو نکاح جائز ہوگااور عورت میراث اور مہر کی مستحق ہوگی الخ(ت)
اور ہبہ بالعوض حکم بیع میں ہے مشاع ومشترك ہونا موہوب کا اس کی صحت کو مضر نہیں بلکہ حصہ واہب میں ہبہ صحیح ونافذ رہے گا
فی الدرالمختار اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتہاء وفیہ ایضا وبطل بیع قن ضم الی حربخلاف قن ضم الی قن غیرہ فیصح بحصتہ فی عبدہ اھ ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے کہ اگر کسی نے کہا میں نے یہ چیز اتنے کے بدلے تجھے ہبہ کی تویہ ابتداء اور انتہاء بیع ہے اور یہ بھی اسی میں ہے کہ اس غلام کی بیع باطل ہے جس کو آزاد کے ساتھ ملا کر فروخت کیاجائے بخلاف اس غلام کے جس کو دوسرے کے غلام کے ساتھ ملاکر بیچا جائے کیونکہ یہاں بائع کے حصہ کی بیع اس کے غلام میں صحیح ہوگی اھ التقاطواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الشہادت ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاقرار الباب السادس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۰۶€
درمختار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاقرار الباب السادس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۰۶€
درمختار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€
مسئلہ۷: ازبیلپور مرسلہ قاضی فراست علی صاحب ۲۳/جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
مسماۃ کا بیان ہے کہ میرے نکاح کو تخمینا اٹھارہ
برس ہوئے مسمی عبدالرحیم کے ساتھ ہواعرصہ دو ڈھائی ماہ کا ہوا کہ میرے خاوند نے یہ دو مرتبہ کہا کہ تجھ کو طلاق ہے کہ جو تو اس بات کوصحیح نہ کرادے بعد اس کے چند شخصوں نے طرفین کو سمجھا کر جھگڑا دور کرادیا پھر دوبارہ کہ عرصہ بارہ روز کاہوا صندوق مجھ سے میرے خاوند نے مانگا میں نے ان کو منع کیا وہ صندوق مجھ سے لیتے تھے اور میں نہیں دیتی تھی میرے شوہر نے یہ لفظ کہا کہ تجھ کو طلاق جو تو کچھ کر نہ گزارےپھر مجھ سے کہا کہ تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہےاس وقت میاں محمد امین اور میری والدہ موجود تھیں اور زوجہ حسین بخش کہ میرے اور ان کے درمیان میں ایك دیوار ہے اس پرکھڑی ہوئی تھیں سوائے اسکے اور کوئی موجود نہ تھا محمد امین میرے ماموں کا لڑکا ہے اور یہ جھگڑا میری والدہ کے مکان میں ہوا فقط۔
بیان مسمی عبدالرحیم شوھر مسماۃ کا یہ ہے کہ میرے نکاح کو عرصہ تخمینا سترہ اٹھارہ برس کاہوادس گیارہ ماہ سے میں اپنی خسرال میں ہوں میری خوشدامن نے کئی مرتبہ کہا کہ تم علیحدہ چلے جاؤپھر عرصہ بارہ روز کا ہوا میں نے کہا کہ میری چیز بست نکال کر باہر رکھ دومیں نے صدوق کوہاتھ لگایا تو ساس ہماری بولی کہ تجھ کو صندوق سے کیا تعلق ہے وہ تو اس کے باپ نے اس کو دیاہے میرے کوئی نہیں ہے جو تمہارا مقابلہ کرے اتنے میں محمد امین دوڑ آیا اس نے کہا ہٹ جاؤ صندوق کو مت چھوؤ اچھا نہیں ہے تمہارے لئے میں نے کہا کہ کیا تم مجھے ماروگے تو کہا پٹ کر ذلیل ہوکر یہاں سے جاؤگےپھر میں نے گھر میں اپنے کہا کہ تو ہٹ جاماں ان کی بولی تو ہٹ جا تیرے چوٹ نہ لگ جائےوہ ہٹ گئی اور چار پائی پر علیحدہ جا بیٹھیپھر میں نے امین سے کہا کہ کھایا پیا تم کو حرام ہے اور طلاق ہے کہ جو تم اب مجھ کو نہ ماروامین نے کہا کہ یہی بات ہےپھر میں نے کہا یہی بات ہے کہ تجھ کو کھایا پیاحرام ہے اور طلاق کہ تم مجھ کو نہ ماروچچی سے میں نے کہا کہ اب جو کچھ تم کو کرانا ہے کرواؤپھر انھوں نے کہا کہ ان کے بہنوئی قادر بخش کو اور بھائی محمد بخش کو اور بھائی محمد ظہور کو بلاوانہوں نے طلاق دی ہے میں کھڑا رہا اتنے میں کلن اپنے گھر میں سے آئے انہوں نے کہا کہ میں نے بھی سنا ہے یہاں تك آواز آرہا تھا کہ تم نے طلاق دی پھر میں نے کہا کہ اور کوئی الزام پکڑو کہ میں کھڑا ہوا ہوں لوگوں کو آنے دوپھر میں نے کہا کہ کس کے سامنے طلاق دی مقابلہ میرا اور تمہارا اور چچی کا ہو رہا تھا یہ طوفان باندھنا اچھا نہیں ہےاتنے میں قادر بخش پہلے آئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا واہیات مچائی ہےمیں نے کہاکچھ واہیات نہیں میں اپنی چیز علیحدہ کررہا تھاامین میرے مقابلہ کو آیا تو میں اس سے یہ لفظ کہہ رہا تھا انہوں نے اس کا طومار باندھا ہے اور لڑائی کے وقت حبوبہشتی
مسماۃ کا بیان ہے کہ میرے نکاح کو تخمینا اٹھارہ
برس ہوئے مسمی عبدالرحیم کے ساتھ ہواعرصہ دو ڈھائی ماہ کا ہوا کہ میرے خاوند نے یہ دو مرتبہ کہا کہ تجھ کو طلاق ہے کہ جو تو اس بات کوصحیح نہ کرادے بعد اس کے چند شخصوں نے طرفین کو سمجھا کر جھگڑا دور کرادیا پھر دوبارہ کہ عرصہ بارہ روز کاہوا صندوق مجھ سے میرے خاوند نے مانگا میں نے ان کو منع کیا وہ صندوق مجھ سے لیتے تھے اور میں نہیں دیتی تھی میرے شوہر نے یہ لفظ کہا کہ تجھ کو طلاق جو تو کچھ کر نہ گزارےپھر مجھ سے کہا کہ تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہےاس وقت میاں محمد امین اور میری والدہ موجود تھیں اور زوجہ حسین بخش کہ میرے اور ان کے درمیان میں ایك دیوار ہے اس پرکھڑی ہوئی تھیں سوائے اسکے اور کوئی موجود نہ تھا محمد امین میرے ماموں کا لڑکا ہے اور یہ جھگڑا میری والدہ کے مکان میں ہوا فقط۔
بیان مسمی عبدالرحیم شوھر مسماۃ کا یہ ہے کہ میرے نکاح کو عرصہ تخمینا سترہ اٹھارہ برس کاہوادس گیارہ ماہ سے میں اپنی خسرال میں ہوں میری خوشدامن نے کئی مرتبہ کہا کہ تم علیحدہ چلے جاؤپھر عرصہ بارہ روز کا ہوا میں نے کہا کہ میری چیز بست نکال کر باہر رکھ دومیں نے صدوق کوہاتھ لگایا تو ساس ہماری بولی کہ تجھ کو صندوق سے کیا تعلق ہے وہ تو اس کے باپ نے اس کو دیاہے میرے کوئی نہیں ہے جو تمہارا مقابلہ کرے اتنے میں محمد امین دوڑ آیا اس نے کہا ہٹ جاؤ صندوق کو مت چھوؤ اچھا نہیں ہے تمہارے لئے میں نے کہا کہ کیا تم مجھے ماروگے تو کہا پٹ کر ذلیل ہوکر یہاں سے جاؤگےپھر میں نے گھر میں اپنے کہا کہ تو ہٹ جاماں ان کی بولی تو ہٹ جا تیرے چوٹ نہ لگ جائےوہ ہٹ گئی اور چار پائی پر علیحدہ جا بیٹھیپھر میں نے امین سے کہا کہ کھایا پیا تم کو حرام ہے اور طلاق ہے کہ جو تم اب مجھ کو نہ ماروامین نے کہا کہ یہی بات ہےپھر میں نے کہا یہی بات ہے کہ تجھ کو کھایا پیاحرام ہے اور طلاق کہ تم مجھ کو نہ ماروچچی سے میں نے کہا کہ اب جو کچھ تم کو کرانا ہے کرواؤپھر انھوں نے کہا کہ ان کے بہنوئی قادر بخش کو اور بھائی محمد بخش کو اور بھائی محمد ظہور کو بلاوانہوں نے طلاق دی ہے میں کھڑا رہا اتنے میں کلن اپنے گھر میں سے آئے انہوں نے کہا کہ میں نے بھی سنا ہے یہاں تك آواز آرہا تھا کہ تم نے طلاق دی پھر میں نے کہا کہ اور کوئی الزام پکڑو کہ میں کھڑا ہوا ہوں لوگوں کو آنے دوپھر میں نے کہا کہ کس کے سامنے طلاق دی مقابلہ میرا اور تمہارا اور چچی کا ہو رہا تھا یہ طوفان باندھنا اچھا نہیں ہےاتنے میں قادر بخش پہلے آئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا واہیات مچائی ہےمیں نے کہاکچھ واہیات نہیں میں اپنی چیز علیحدہ کررہا تھاامین میرے مقابلہ کو آیا تو میں اس سے یہ لفظ کہہ رہا تھا انہوں نے اس کا طومار باندھا ہے اور لڑائی کے وقت حبوبہشتی
دروازہ پرکھڑے تھے اور حسین بخش مجھ کوبلانے کو گئے تھے اور حبو بھی بلاتے رہے میں نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ میری کوئی لڑائی اور جھگڑا نہیں ہے آتاہوں کلن مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اس کو چار آدمیوں سے دریافت کر لو فقط۔
بیان والدہ مسماۃ کایہ ہے کہ میں اپنا کام کرتی تھی دونوں میاں بی بی میں صندوق پر جھگڑا ہورہا تھا اس کے شوہر نے کہا کہ تجھ کو طلاق جوتو کچھ کر نگزار ےبعد اس کے اسی وقت تین مرتبہ یہ کہاکہ تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہےاس وقت یہاں محمد امین موجود تھا اور حسین بخش کی زوجہ کومیں نے دیوار پر کھڑے ہوئے نہیں دیکھا وہ کہتی تھی کہ میں دیوار پر کھڑی تھی اور میرے بھائی کلن کی زوجہ ایك لفظ سن کر آئیں فقط طلاق کا۔
بیان زوجہ حسین بخش کایہ ہے کہ ان کے گھر میں دونوں میں بہت دیر سے رنج ہورہا تھا مجھ کو یہ نہیں معلوم کہ کس بات پرہورہا تھا میں اس وقت دیوار پر کھڑی تھی صندوق دونوں کے ہاتھ میں تھا زوجہ یہ کہتی کہ صندوق نہ لے جاؤ یہیں کیونکر کھول کر دیکھ لواور خاوند اس کا یہ کہتا تھا کہ میں صندوق لیجاؤں گااسی پر اس کے خاوند نے کہا کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دیاور اس وقت محمد امین اور والدہ مسماۃ کی موجودتھی فقط بقلم محمدیعقوب علی۔
العبد قاضی فراست علی بقلم خود یہ بیان کیا اور دوبارہ پوچھا گیا تولفظ"میں"کی جگہ"تجھ"کو بیان کیامیں نے زوجہ حسین بخش کو اول ہی مرتبہ جب سوال کیا کہ بیان کرو تو بجواب اس کے کہاکہ میں نے سنا اور یہ کہا کہ میں کم سنتی ہوں بقلم خود قاضی محمدفراست علی بقلم محمد یعقوب علیتحریر تاریخ۷/ماہ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
بیان محمد امین کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہواکہ دونوں میں لڑائی ہونے لگی میں نے جاکر ان سے کہا آہستگی سے بات کرو جو تم کہو میں دلوادوں بعد اسکے صندوق پر چھینا جھپٹی ہونے لگی انہوں نے مارا اس کی ناك میں سے خون نکلا تو صندوق انکو دیدیا گیا پھر لوٹ پھیر ہونے لگی اسی صندوق پر انہوں نے یہ کہا کہ جو کچھ کر نہ گزارے تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے اس کے بعد میرے والد آگئے ان سے کہا کہ باہر جاؤوہاں پر میں تھا اور جو اس وقت کوئی موجود نہ تھا میری پھوپھی تھی اور پھوپھی کی لڑکی تھی فقط۔
بیان کلن پڑوسی کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہوا کہ میں باہر سے اپنے گھر میں سنا کہ شوروغوغا بہت سے مچا ہوا تھا میرے گھر میں ذکرکیا کہ آج عبدالرحیم نے اپنے گھر میں بہت مارا میں نے کہا اس سے مجھے کیا ہے میں روٹی کھانے کو بیٹھ گیا صندوق کے لئے دونوں میں کھینچاتانی ہورہی تھی میں نے اپنے گھر میں سنا کہ تجھے طلاق ہے کر نہ گزارے بعد کو تین مرتبہ کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق بعد کو میں گیا میں نے کہا کہ اب
بیان والدہ مسماۃ کایہ ہے کہ میں اپنا کام کرتی تھی دونوں میاں بی بی میں صندوق پر جھگڑا ہورہا تھا اس کے شوہر نے کہا کہ تجھ کو طلاق جوتو کچھ کر نگزار ےبعد اس کے اسی وقت تین مرتبہ یہ کہاکہ تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہےاس وقت یہاں محمد امین موجود تھا اور حسین بخش کی زوجہ کومیں نے دیوار پر کھڑے ہوئے نہیں دیکھا وہ کہتی تھی کہ میں دیوار پر کھڑی تھی اور میرے بھائی کلن کی زوجہ ایك لفظ سن کر آئیں فقط طلاق کا۔
بیان زوجہ حسین بخش کایہ ہے کہ ان کے گھر میں دونوں میں بہت دیر سے رنج ہورہا تھا مجھ کو یہ نہیں معلوم کہ کس بات پرہورہا تھا میں اس وقت دیوار پر کھڑی تھی صندوق دونوں کے ہاتھ میں تھا زوجہ یہ کہتی کہ صندوق نہ لے جاؤ یہیں کیونکر کھول کر دیکھ لواور خاوند اس کا یہ کہتا تھا کہ میں صندوق لیجاؤں گااسی پر اس کے خاوند نے کہا کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دیاور اس وقت محمد امین اور والدہ مسماۃ کی موجودتھی فقط بقلم محمدیعقوب علی۔
العبد قاضی فراست علی بقلم خود یہ بیان کیا اور دوبارہ پوچھا گیا تولفظ"میں"کی جگہ"تجھ"کو بیان کیامیں نے زوجہ حسین بخش کو اول ہی مرتبہ جب سوال کیا کہ بیان کرو تو بجواب اس کے کہاکہ میں نے سنا اور یہ کہا کہ میں کم سنتی ہوں بقلم خود قاضی محمدفراست علی بقلم محمد یعقوب علیتحریر تاریخ۷/ماہ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
بیان محمد امین کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہواکہ دونوں میں لڑائی ہونے لگی میں نے جاکر ان سے کہا آہستگی سے بات کرو جو تم کہو میں دلوادوں بعد اسکے صندوق پر چھینا جھپٹی ہونے لگی انہوں نے مارا اس کی ناك میں سے خون نکلا تو صندوق انکو دیدیا گیا پھر لوٹ پھیر ہونے لگی اسی صندوق پر انہوں نے یہ کہا کہ جو کچھ کر نہ گزارے تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے اس کے بعد میرے والد آگئے ان سے کہا کہ باہر جاؤوہاں پر میں تھا اور جو اس وقت کوئی موجود نہ تھا میری پھوپھی تھی اور پھوپھی کی لڑکی تھی فقط۔
بیان کلن پڑوسی کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہوا کہ میں باہر سے اپنے گھر میں سنا کہ شوروغوغا بہت سے مچا ہوا تھا میرے گھر میں ذکرکیا کہ آج عبدالرحیم نے اپنے گھر میں بہت مارا میں نے کہا اس سے مجھے کیا ہے میں روٹی کھانے کو بیٹھ گیا صندوق کے لئے دونوں میں کھینچاتانی ہورہی تھی میں نے اپنے گھر میں سنا کہ تجھے طلاق ہے کر نہ گزارے بعد کو تین مرتبہ کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق بعد کو میں گیا میں نے کہا کہ اب
نکلو باہر ہوانہوں نے کہا کہ مجھے مارو گےمیں نے کہا کہ مجھے کیا مطلب ہے۔
بیان محمد بخش میرے مکان پر امین گئے اور کہا کہ پھوپھی نے تجھ کو بلایاہے کہ عبدالرحیم نے اپنے گھر میں طلاق دی دریافت کیا آن کرکے تو زبانی محمدامین کے اور ان کی والدہ یعنی مسماۃ کےاور مسماۃ سے معلوم ہو ا کہ طلاق د ی اور کسی کی زبانی نہیں معلوم ہوا۔
بیان ظہورالدین میرے پاس پہلے پہلے واسطے بلانے کے امین آئے دوبارہ حسین بخش بلانے کو آئے بعد کو پھر امین آئے اور بیان کیا کہ وہاں سب لوگ جمع ہیں میں گیا تو یہ سب لوگ وہاں موجود تھے وہ دونوں ماں بیٹے مجھے کچھ کہنے لگے لیکن میں نے ان کوجھڑك دیا ان کا حال کچھ سنانہیں یہ کہہ دیا کہ جو کچھ ہوا وہ ہوا دوچار روز میں اورمکان لے کر جارہیں گے لیکن یہ لوگ جو اول میں مجھ کو بلانے آئے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ طلاق دی ہے۔
بیان قادر بخش میں مسماۃ کے مکان پر گیا تو وہاں پر محمد امین نے اورعبدالرحیم کی خوشدامن نے کہا کہ عبدالرحیم نے طلاق د ے دی میں وہاں خاموش بیٹھا رہا جس وقت کہ بھائی محمد بخش وظہورالدین آئے تو انہوں نے کہا طلاق کاقصہ اچھانہیں ہے تم اپنا کنارہ کرلو اور عرصہ چہار روز میں مکان لے لو یہاں سے سب چیز خوشی بخوشی اٹھالو۔
بیان شیخ ننھے یہ سب صاحب بیٹھے تھے محمد بخش وقادر بخش وظہور الدین ان کے بھائی صاحب محمد بخش کہہ رہے تھے کہ اپنا مکان لے لو اور اپنی چیز بست نکال کر لے جاؤ۔
بیان حسین بخش گواہ عبدالرحیم میں یہاں شیخ ظہور الدین کے مکان میں کام کررہا تھا حبو بہشتی نے مجھے آن کر کہا کہ عبدالرحیم نے اپنے گھرمیں مارا ہے تم جاکر بچادومیں گیا کہا بھائی!یہاں آؤ بات سن جاؤیہ نہیں آئے میں لوٹ آیااس کے تھوڑی دیر میں نے یہ سنا کہ عبدالرحیم نے طلاق دیمیں نے طلاق کا لفظ اپنے بڑے لڑکے سے سنا اور راستہ میں امین مجھ کو ملے کہا بھائی شیخ ظہور الدین کو بلانے جاتا ہوں عبدالرحیم نے اپنے گھرمیں طلاق دی ہے۔
بیان حبو بہشتی عبدالرحیم میں اور گھر میں لڑائی ہوتی تھی میں عبدالرحیم کو بلاتا رہا کہ عورتوں سے کیا لڑائی لڑتے ہو عبدالرحیم میرے بلانے سے نہیں آئے اور نہ میں نے کوئی لفظ طلاق کا سنا فقط۔
یہ بیانات میرے رو برو تحریرہوئے العبد قاضی فراست علی بقلم خود
بعد سلان مسنون التماس ہے کاغذ ہذا واسطے طلب فتوی کے ارسال خدمت ہوتا ہے تصدیع خدمت ہے کہ کل مراتب مندرجہ بالا ملاحظہ فرماکر فتوی طلاق خواہ عدم طلاق کا تحریر فرماکر ابلاغ فرمائیےعنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں گے فقط۔راقم قاضی محمد فراست علی از بیلپور
بیان محمد بخش میرے مکان پر امین گئے اور کہا کہ پھوپھی نے تجھ کو بلایاہے کہ عبدالرحیم نے اپنے گھر میں طلاق دی دریافت کیا آن کرکے تو زبانی محمدامین کے اور ان کی والدہ یعنی مسماۃ کےاور مسماۃ سے معلوم ہو ا کہ طلاق د ی اور کسی کی زبانی نہیں معلوم ہوا۔
بیان ظہورالدین میرے پاس پہلے پہلے واسطے بلانے کے امین آئے دوبارہ حسین بخش بلانے کو آئے بعد کو پھر امین آئے اور بیان کیا کہ وہاں سب لوگ جمع ہیں میں گیا تو یہ سب لوگ وہاں موجود تھے وہ دونوں ماں بیٹے مجھے کچھ کہنے لگے لیکن میں نے ان کوجھڑك دیا ان کا حال کچھ سنانہیں یہ کہہ دیا کہ جو کچھ ہوا وہ ہوا دوچار روز میں اورمکان لے کر جارہیں گے لیکن یہ لوگ جو اول میں مجھ کو بلانے آئے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ طلاق دی ہے۔
بیان قادر بخش میں مسماۃ کے مکان پر گیا تو وہاں پر محمد امین نے اورعبدالرحیم کی خوشدامن نے کہا کہ عبدالرحیم نے طلاق د ے دی میں وہاں خاموش بیٹھا رہا جس وقت کہ بھائی محمد بخش وظہورالدین آئے تو انہوں نے کہا طلاق کاقصہ اچھانہیں ہے تم اپنا کنارہ کرلو اور عرصہ چہار روز میں مکان لے لو یہاں سے سب چیز خوشی بخوشی اٹھالو۔
بیان شیخ ننھے یہ سب صاحب بیٹھے تھے محمد بخش وقادر بخش وظہور الدین ان کے بھائی صاحب محمد بخش کہہ رہے تھے کہ اپنا مکان لے لو اور اپنی چیز بست نکال کر لے جاؤ۔
بیان حسین بخش گواہ عبدالرحیم میں یہاں شیخ ظہور الدین کے مکان میں کام کررہا تھا حبو بہشتی نے مجھے آن کر کہا کہ عبدالرحیم نے اپنے گھرمیں مارا ہے تم جاکر بچادومیں گیا کہا بھائی!یہاں آؤ بات سن جاؤیہ نہیں آئے میں لوٹ آیااس کے تھوڑی دیر میں نے یہ سنا کہ عبدالرحیم نے طلاق دیمیں نے طلاق کا لفظ اپنے بڑے لڑکے سے سنا اور راستہ میں امین مجھ کو ملے کہا بھائی شیخ ظہور الدین کو بلانے جاتا ہوں عبدالرحیم نے اپنے گھرمیں طلاق دی ہے۔
بیان حبو بہشتی عبدالرحیم میں اور گھر میں لڑائی ہوتی تھی میں عبدالرحیم کو بلاتا رہا کہ عورتوں سے کیا لڑائی لڑتے ہو عبدالرحیم میرے بلانے سے نہیں آئے اور نہ میں نے کوئی لفظ طلاق کا سنا فقط۔
یہ بیانات میرے رو برو تحریرہوئے العبد قاضی فراست علی بقلم خود
بعد سلان مسنون التماس ہے کاغذ ہذا واسطے طلب فتوی کے ارسال خدمت ہوتا ہے تصدیع خدمت ہے کہ کل مراتب مندرجہ بالا ملاحظہ فرماکر فتوی طلاق خواہ عدم طلاق کا تحریر فرماکر ابلاغ فرمائیےعنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں گے فقط۔راقم قاضی محمد فراست علی از بیلپور
الجواب:
صورت مستفسرہ میں گواہیاں محض ناکافی ہیں ان سے طلاق ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی ننھے وحبو کے بیان میں تو طلاق سننے کا ذکر ہی نہیں اور محمد بخش وظہور الدین وقادر بخش وحسین بخش اوروں کی زبانی سننا بیان کرتے ہیں اور طلاق ان چیزوں سے نہیں جن میں سنی سنائی پر گواہی مقبول ہوسکے۔درمختارمیں ہے:
لایشھد احدبمالم یعاینہ بالاجماع الا فی اعشرۃ منہا العتق والولاء عند الثانی والمھر علی الاصح والنسب والموت والنکاح والدخول وولایۃ القاضی واصل الوقفوقیل وشرائطہ علی المختار کمامرفلہ الشہادۃ اذااخبرہ بھذہ الاشیاء من یثق الشاہد بہ من خبر جماعۃ لایتصور تواطؤھم علی الکذب بلا شرط عدالۃ او شہادۃ عدلین الافی الموت فیکفی العدل ولو انثی وھو المختارومن فی یدہ شیئ سوی رقیق یعبر عن نفسہ فلك ان تشھد انہ لہ ان وقع فی قلبك انہ مبلکہ والا لا (ملتقطا)۔ اور بغیر معائنہ کے کوئی شخص بالاجماع گواہی نہیں دے سکتا سوائے ان چیزوں کے عتقامام ابویوسف کے نزدیك ولاء اصح قول کے مطابق مہرنسبموتنکاحدخول ولایت قاضیاصل وقف اور کہا گیا کہ قول مختار کے مطابق شرائط وقف جیسا کہ گزرچکا ہےتوان دس اشیاء مذکورہ کی گواہی سن کردینا بھی جائزہے جبکہ شاہد کو ایساشخص خبر دے جس پر شاہد اعتماد کرتا ہویعنی ایسی جماعت کی خبر سے شاہد کو تسامع حاصل ہو جس جماعت کا جھوٹ پر متفق ہونا متصور نہیں یہاں مخبرین کی عدالت شرط نہیںیا دو عادل مردوں کی شہادت سے سوائے موت کے اس میں ایك ہی عادل کی خبر کافی ہے اگرچہ خبر دینے والی عورت ہو اور یہی مختار ہے اور جس شخص کے قبضہ میں کوئی شیئ ہو سوائے اپناحال بیان کرسکنے والے غلام کے تو تجھے اختیار ہے کہ تو قابض کے لئے اس مقبوض شیئ کی ملکیت کی گواہی دے بشرطیکہ تیرے دل میں یہ بات واقع ہو کہ یہ قابض کی ملك ہے ورنہ نہیں(ملتقطا)۔(ت)
اور والدہ مسماۃ کی گواہی یوں مردود ہے کہ وہ مدعیہ کی ماں ہے اور ماں باپدادادادینانانانی کی گواہی بیٹے بیٹیپوتے پوتی نواسے نواسی کے لئے اور ان کی ان کے لئے مقبول نہیں۔درمختار میں ہے:
صورت مستفسرہ میں گواہیاں محض ناکافی ہیں ان سے طلاق ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی ننھے وحبو کے بیان میں تو طلاق سننے کا ذکر ہی نہیں اور محمد بخش وظہور الدین وقادر بخش وحسین بخش اوروں کی زبانی سننا بیان کرتے ہیں اور طلاق ان چیزوں سے نہیں جن میں سنی سنائی پر گواہی مقبول ہوسکے۔درمختارمیں ہے:
لایشھد احدبمالم یعاینہ بالاجماع الا فی اعشرۃ منہا العتق والولاء عند الثانی والمھر علی الاصح والنسب والموت والنکاح والدخول وولایۃ القاضی واصل الوقفوقیل وشرائطہ علی المختار کمامرفلہ الشہادۃ اذااخبرہ بھذہ الاشیاء من یثق الشاہد بہ من خبر جماعۃ لایتصور تواطؤھم علی الکذب بلا شرط عدالۃ او شہادۃ عدلین الافی الموت فیکفی العدل ولو انثی وھو المختارومن فی یدہ شیئ سوی رقیق یعبر عن نفسہ فلك ان تشھد انہ لہ ان وقع فی قلبك انہ مبلکہ والا لا (ملتقطا)۔ اور بغیر معائنہ کے کوئی شخص بالاجماع گواہی نہیں دے سکتا سوائے ان چیزوں کے عتقامام ابویوسف کے نزدیك ولاء اصح قول کے مطابق مہرنسبموتنکاحدخول ولایت قاضیاصل وقف اور کہا گیا کہ قول مختار کے مطابق شرائط وقف جیسا کہ گزرچکا ہےتوان دس اشیاء مذکورہ کی گواہی سن کردینا بھی جائزہے جبکہ شاہد کو ایساشخص خبر دے جس پر شاہد اعتماد کرتا ہویعنی ایسی جماعت کی خبر سے شاہد کو تسامع حاصل ہو جس جماعت کا جھوٹ پر متفق ہونا متصور نہیں یہاں مخبرین کی عدالت شرط نہیںیا دو عادل مردوں کی شہادت سے سوائے موت کے اس میں ایك ہی عادل کی خبر کافی ہے اگرچہ خبر دینے والی عورت ہو اور یہی مختار ہے اور جس شخص کے قبضہ میں کوئی شیئ ہو سوائے اپناحال بیان کرسکنے والے غلام کے تو تجھے اختیار ہے کہ تو قابض کے لئے اس مقبوض شیئ کی ملکیت کی گواہی دے بشرطیکہ تیرے دل میں یہ بات واقع ہو کہ یہ قابض کی ملك ہے ورنہ نہیں(ملتقطا)۔(ت)
اور والدہ مسماۃ کی گواہی یوں مردود ہے کہ وہ مدعیہ کی ماں ہے اور ماں باپدادادادینانانانی کی گواہی بیٹے بیٹیپوتے پوتی نواسے نواسی کے لئے اور ان کی ان کے لئے مقبول نہیں۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
اتقبل من الفرع لاصلہ وان علاوبالعکس للتھمۃ (ملخصا) تہمت کی وجہ سے فرع کی گواہی اصل کے حق میں مقبول نہیں اگرچہ اصول اوپر تك چلے جائیں اور یونہی اس کے برعکس (یعنی اصل کی گواہی فرع کے حق میں قبول نہ ہوگی)(ملخصا)۔ (ت)
کلن کی گواہی یوں مردود ہے کہ وہ صاف کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنے گھر میں سے عبدالرحیم کو طلاق دیتے سنا اور آڑ میں سے سننے پر گواہی بعض صورتوں کے سوا ہر گز مقبول نہیں کہ آواز آواز سے مشابہ ہوتی ہے خصوصا جب گواہ بیان کردے کہ میں نے آڑ میں سے سناتو مطلقا مردود ہےدرمختارمیں ہے:
لا یشھد علی محجب بسماعہ منہ الا اذا تبین القائل بان لم یکن فی البیت غیرہ لکن لو فسر لاتقبل درر الخ۔ نہ گواہی دے اس شخص پر جو آڑ کے پیچھے پوشیدہ ہے اس کی آواز کو سن کر سوائے اس کے کہ ظاہر وواضح ہو جائے کہ اس مکان میں قائل کے علاوہ کوئی دوسراموجود نہیںلیکن اگر شاہد آڑ کی سماعت کوبیان کردے تو اس کی گواہی نہ ہوگی درر الخ(ت)
اب نہ رہے مگر محمد امین وزوجہ حسین بخش قطع نظر اس سے کہ ان کی شہادتوں میں کتنے خلل شرعی ہیں خصوصا زوجہ حسین بخش کا بیان مضطرب ہے اگر کوئی خلل نہ بھی ہوتا تو صرف ایك مرد اورایك عورت کی گواہی سے طلاق ثابت نہیں ہو سکتیدو مردعادل یا ایك مرد ودو عورتیں ثقہ درکار ہیں۔درمختار میں ہے:
نصابھا لغیرہ من الحقوق کنکاح وطلاق رجلان او رجل وامرأتان ۔(ملتقطا) امور مذکور ہ کے سوا دیگر حقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اوردو عورتیں ہے جیسے نکاح و طلاق وغیرہ میں (ملتقطا)۔ (ت)
مگر یہ ثبوت وعدم ثبوت قاضی ودیگر خلائق کے نزدیك واقع میں اگر عورت سچی ہے اس کے سامنے اسے تین طلاق دی ہیں تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اس سے جدا ہوجائے پھر اگر جدا نہ ہوسکے تو وبال مرد پر ہے یہ الزام سے بری رہے گی جب تك اس کے پاس رہے ہاتھ لگانے پر سچے دل سے ناراض ہو اور اپنی حد قدرت تك اس سے بچنے میں ہمیشہ کوشش کرتی رہے والمسئلۃ منصوص
کلن کی گواہی یوں مردود ہے کہ وہ صاف کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنے گھر میں سے عبدالرحیم کو طلاق دیتے سنا اور آڑ میں سے سننے پر گواہی بعض صورتوں کے سوا ہر گز مقبول نہیں کہ آواز آواز سے مشابہ ہوتی ہے خصوصا جب گواہ بیان کردے کہ میں نے آڑ میں سے سناتو مطلقا مردود ہےدرمختارمیں ہے:
لا یشھد علی محجب بسماعہ منہ الا اذا تبین القائل بان لم یکن فی البیت غیرہ لکن لو فسر لاتقبل درر الخ۔ نہ گواہی دے اس شخص پر جو آڑ کے پیچھے پوشیدہ ہے اس کی آواز کو سن کر سوائے اس کے کہ ظاہر وواضح ہو جائے کہ اس مکان میں قائل کے علاوہ کوئی دوسراموجود نہیںلیکن اگر شاہد آڑ کی سماعت کوبیان کردے تو اس کی گواہی نہ ہوگی درر الخ(ت)
اب نہ رہے مگر محمد امین وزوجہ حسین بخش قطع نظر اس سے کہ ان کی شہادتوں میں کتنے خلل شرعی ہیں خصوصا زوجہ حسین بخش کا بیان مضطرب ہے اگر کوئی خلل نہ بھی ہوتا تو صرف ایك مرد اورایك عورت کی گواہی سے طلاق ثابت نہیں ہو سکتیدو مردعادل یا ایك مرد ودو عورتیں ثقہ درکار ہیں۔درمختار میں ہے:
نصابھا لغیرہ من الحقوق کنکاح وطلاق رجلان او رجل وامرأتان ۔(ملتقطا) امور مذکور ہ کے سوا دیگر حقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اوردو عورتیں ہے جیسے نکاح و طلاق وغیرہ میں (ملتقطا)۔ (ت)
مگر یہ ثبوت وعدم ثبوت قاضی ودیگر خلائق کے نزدیك واقع میں اگر عورت سچی ہے اس کے سامنے اسے تین طلاق دی ہیں تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اس سے جدا ہوجائے پھر اگر جدا نہ ہوسکے تو وبال مرد پر ہے یہ الزام سے بری رہے گی جب تك اس کے پاس رہے ہاتھ لگانے پر سچے دل سے ناراض ہو اور اپنی حد قدرت تك اس سے بچنے میں ہمیشہ کوشش کرتی رہے والمسئلۃ منصوص
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹€۴
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲۔۹€۱
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲۔۹€۱
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
علیہا فی الدرالمختار وردالمحتار وغیرھما من الاسفار(اس مسئلہ پر درمختار اور ردالمحتار وغیرہ ضخیم کتابوں میں نص کی گئی ہے۔ت)اور اگرواقع میں بھی عورت جھوٹی ہے اور یہ حیلہ کرکے اس سے جدا ہوجائے گی تو عمر بھر گرفتار گناہ عظیم رہے گی اور معاذاﷲ لعنت الہی ولعنت ملائکہ کی مستحق ہوگی کما تفیدہ صحاح الاحادیث(جیسا کہ احادیث صحیحہ اس کا فائدہ دیتی ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸: ازریاست رامپور متصل زیارت شاہ ولی اﷲ صاحب مرسلہ مولوی ہدایت اﷲ خاں صاحب ۶ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور زید وعمرو میں ایك زمیں کے بابت تخالف ہےہندہ کا قول ہے کہ یہ زمیں مملوك ومقبوض ہندہ ہے۔زید وعمرو کہتے ہیں کہ یہ زمیں بکر کی تھی اس نے عرصہ تخمینا ۵۵ سال کا گزرا کہ واسطے قبرستان کے وقف کردی تھی مگر کسی کو اس کا متولی نہیں کیا تھا اور یہ زمین موروثی بکر کی ہے وقف وموروثی ہو نے کی سماعی شہادت زید وعمرو کی ہے قابل تحقیق ودریافت یہ امر ہے کہ زید وعمرو کی صرف اس قدر سماعی شہادت سے کہ یہ زمین موروثی بکر کی ہے یہ زمین ملك بکر شرعا قرار دی جائے گی یا نہیں بعدہ زید وعمرو کی سماعی اس شہادت سے کہ وہ زمین بکرنے وقف کردی ہے شرعا موقوفہ قراردی جائے گی یانہیںجواب اس کا بحوالہ کتاب ومسائل مفتی بہ درج ہوبینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر زید وعمرو شرائط شہادت کے جامع اور ان کا بیان جملہ شرائط عامہ وخاصہ کو مستجمع واقع ہوا تو زمین متنازعہ فیہا کا قبرستان کے لئے وقف ہونا ثابت ہوجائے گا کہ اصل وقف میں شہادت سماعی ضرور مقبول ہے اور صحت وقف مالکیت واقف پر موقوفتو قبل وقف زمین کا مملوك بکر ہونا ضمن ثبوت میں رنگ ثبوت پائے گا اگرچہ ابتداء اثبات ملك کے لئے شہادت سماعی کافی نہیں
وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا کاخبار مجوسی اتی بلحم ان فلانا المسلم ارسلہ الیك بھذا ھدیۃ لك فانہ یقبل قولہ فی المعاملات والھدایا منہاثم یثبت الحل ضمنا بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں قصدا ثابت نہیں ہوتیں جیسے کسی شخص کے پاس کھانا لانے والے مجوسی کا خبر دینا کہ اس کو فلاں مسلمان نے یہ کھانا تیرے لئے بطور ہدیہ دے کرتیرے پاس بھیجا ہےبیشك مجوسی کا قول معاملات میں مقبول ہوتا ہے اور تحائف بھیجنا معاملات میں سے ہےپھر اس
مسئلہ۸: ازریاست رامپور متصل زیارت شاہ ولی اﷲ صاحب مرسلہ مولوی ہدایت اﷲ خاں صاحب ۶ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور زید وعمرو میں ایك زمیں کے بابت تخالف ہےہندہ کا قول ہے کہ یہ زمیں مملوك ومقبوض ہندہ ہے۔زید وعمرو کہتے ہیں کہ یہ زمیں بکر کی تھی اس نے عرصہ تخمینا ۵۵ سال کا گزرا کہ واسطے قبرستان کے وقف کردی تھی مگر کسی کو اس کا متولی نہیں کیا تھا اور یہ زمین موروثی بکر کی ہے وقف وموروثی ہو نے کی سماعی شہادت زید وعمرو کی ہے قابل تحقیق ودریافت یہ امر ہے کہ زید وعمرو کی صرف اس قدر سماعی شہادت سے کہ یہ زمین موروثی بکر کی ہے یہ زمین ملك بکر شرعا قرار دی جائے گی یا نہیں بعدہ زید وعمرو کی سماعی اس شہادت سے کہ وہ زمین بکرنے وقف کردی ہے شرعا موقوفہ قراردی جائے گی یانہیںجواب اس کا بحوالہ کتاب ومسائل مفتی بہ درج ہوبینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر زید وعمرو شرائط شہادت کے جامع اور ان کا بیان جملہ شرائط عامہ وخاصہ کو مستجمع واقع ہوا تو زمین متنازعہ فیہا کا قبرستان کے لئے وقف ہونا ثابت ہوجائے گا کہ اصل وقف میں شہادت سماعی ضرور مقبول ہے اور صحت وقف مالکیت واقف پر موقوفتو قبل وقف زمین کا مملوك بکر ہونا ضمن ثبوت میں رنگ ثبوت پائے گا اگرچہ ابتداء اثبات ملك کے لئے شہادت سماعی کافی نہیں
وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا کاخبار مجوسی اتی بلحم ان فلانا المسلم ارسلہ الیك بھذا ھدیۃ لك فانہ یقبل قولہ فی المعاملات والھدایا منہاثم یثبت الحل ضمنا بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں قصدا ثابت نہیں ہوتیں جیسے کسی شخص کے پاس کھانا لانے والے مجوسی کا خبر دینا کہ اس کو فلاں مسلمان نے یہ کھانا تیرے لئے بطور ہدیہ دے کرتیرے پاس بھیجا ہےبیشك مجوسی کا قول معاملات میں مقبول ہوتا ہے اور تحائف بھیجنا معاملات میں سے ہےپھر اس
وان کان قول الکافر لایقبل فی الدیانات ومنھا الحل والحرمۃ اصلاثم رأیت بحمد اﷲ التعلیل بعین ھذا فی تبیین الحقائق للامام الزیلعی حیث قال رحمہ اﷲ تعالی عاین ملکا بحدودہ ینسب الی فلان بن فلان الفلانی وھو لم یعرفہ بوجھہ ونسبہ ثم جاء الذی نسب الیہ الملك وادعی ان المحدود ملکہ علی شخص حل لہ ان یشھد استحسانا لان النسب یثبت بالتسامعفصار المالك معلوما بالتسامع و الملك بالمعاینۃولولم یسمع مثل ھذا الضاع حقوق الناس لان فیہم الحجوب ومن لایبرز اصلا و لا یتصور ان یراہ متصرفا فیہ ولیس ھذا اثبات الملك بالتسامع وانما ھو اثبات النسب بالتسامع وفی ضمنہ اثبات الملك بہ وھو لایمتنع وانما یمتنع اثباتہ قصدا ۔ کھانے کا حلال ہونا ضمنا ثابت ہوجائے گا اگرچہ امور دینیہ میں کافر کا قول بالکل مقبول نہیں ہوتا اور حلال وحرام ہونا امور دینیہ میں سے ہےپھر میں نے بحمداﷲ یہی تعلیل بعینہ علامہ زیلعی کی تبیین الحقائق میں دیکھی جہاں آپ نے فرمایا کہ ایك شخص نے ملك کو اس کی حدود کے ساتھ دیکھا کہ فلاں ابن فلاں کی طرف منسوب ہوتی ہے جبکہ اس نے مالك کو نہ تو چہرے سے پہچانا اور نہ ہی اس کے نسب کو جانا پھر وہ شخص آیا جس کی طرف ملك محدود کی نسبت کی جاتی ہے اور خاص اسی ملك محدود کے مالك ہونے کا دعوی کیا تو شاہد کو اس کی ملك پر گواہی دینا بطور استحسان حلال ہے کیونکہ نسب سماع سے ثابت ہوجاتا ہے لہذا مالك لوگوں سے سن کر اور ملك دیکھ کر معلوم ہوگیااور اگر اس طرح کی گواہی مسموع نہ ہو تو لوگوں کے حقوق ضائع ہوجائیں گے کیونکہ لوگوں میں کچھ نقاب پوش ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں بالکل سامنے نہیں آتے تو ایسے شخص کو ملك میں تصرف کرتے ہوئے دیکھنا شاہد کے لئے متصور نہیںاور یہ تسامع سے ملك کو ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو تسامع سے نسب کا اثبات ہے اور اس کے ساتھ ضمن میں ملك کا اثبات ہے اور یہ ممتنع نہیںممتنع توقصدا تسامع سے ملك کا اثبات ہے۔(ت)
مسئلہ کتب میں دوار اورمتون وشروح وفتاوی میں مستفیض وآشکار ہےتنویر میں ہے:
تقبل فیہ الشہادۃ بدون الدعوی و وقف میں بلا دعوی شہادت قبول کی جاتی ہے اور
مسئلہ کتب میں دوار اورمتون وشروح وفتاوی میں مستفیض وآشکار ہےتنویر میں ہے:
تقبل فیہ الشہادۃ بدون الدعوی و وقف میں بلا دعوی شہادت قبول کی جاتی ہے اور
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الشہادۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۴/ ۲۱۷€
الشہادۃ بالشھرۃ لاثبات اصلہ وان صرحوا بہ لا لشرائطہ ۔ اصل وقف کے اثبات کے لئے شہرت کی گواہی مقبول ہے اگرچہ گواہ اس کی صراحت کردیں اور شرائط وقف کے اثبات کے لئے شہر ت کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی المنح کل مایتعلق بصحۃ الوقف ویتوقف علیہ فہو من اصلہ وما لایتوقف علیہ فہو من الشرائط ۔ منح میں ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق صحت وقف کے ساتھ ہے اور وقف کی صحت اس پر موقوف ہے وہ اصل وقف سے ہے اور جس پر صحت وقف موقوف نہیں وہ شرائط وقف سے ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
بیان الجھۃ ھو بیان المصرف ویأتی انہ من الاصل لا من الشرائط فالمراد من الشرائط مایشرطہ الواقف فی کتاب وقفہ لاالشرائط التی یتوقف علیہا صحۃ الوقف کالملك والافرازوالتسلیم عند القائل بہ و نحو ذلك مما مر اول الباب ۔ بیان جہت مصرف کا بیان ہے اورآگے آئے گا کہ وہ اصل وقف سے ہے نہ کہ شرائط سےتو وہاں شرائط سے مراد وہ شرطیں ہیں جو واقف نے اپنے وقف نامے میں ذکر کی ہیں وہ شرطیں مراد نہیں جن پر صحت وقف موقوف ہے جیسے ملکجداکرنا اور تسلیم اس کے نزدیك جو اس کے شرط ہونے کا قائل ہے اور دیگر شرائط جوباب کے شروع میں گزرچکی ہیں۔(ت)
یہاں واجب اللحاظ بات یہ ہے کہ وقف پر شہادت شہادت لوجہ اﷲہے جسے شہادت حسبہ کہتے ہیں اور شاہد حسبہ اگر بلاعذرشرعی ادائے شہادت میں تاخیر کرے مثلا وقف پر ناجائز قبضہ ناروا تصرفات دیکھا کرے اور خاموش رہے پھر کھڑا ہو اور گواہی دے کہ یہ وقف ہے تو اس کی شہادت مردود ہے کہ وہ اتنے دنوں باطل پر سکوت کرنے اور وقف پر ظلم روارکھنے سے فاسق ہوگیااور فاسق کی گواہی قبول نہیں تو اس کی شہادت کا ماننا ہی اس کی شہادت نہ ماننے کو مستلزم ہے ہاں اگر قاضی ایسی گواہی
ردالمحتار میں ہے:
فی المنح کل مایتعلق بصحۃ الوقف ویتوقف علیہ فہو من اصلہ وما لایتوقف علیہ فہو من الشرائط ۔ منح میں ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق صحت وقف کے ساتھ ہے اور وقف کی صحت اس پر موقوف ہے وہ اصل وقف سے ہے اور جس پر صحت وقف موقوف نہیں وہ شرائط وقف سے ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
بیان الجھۃ ھو بیان المصرف ویأتی انہ من الاصل لا من الشرائط فالمراد من الشرائط مایشرطہ الواقف فی کتاب وقفہ لاالشرائط التی یتوقف علیہا صحۃ الوقف کالملك والافرازوالتسلیم عند القائل بہ و نحو ذلك مما مر اول الباب ۔ بیان جہت مصرف کا بیان ہے اورآگے آئے گا کہ وہ اصل وقف سے ہے نہ کہ شرائط سےتو وہاں شرائط سے مراد وہ شرطیں ہیں جو واقف نے اپنے وقف نامے میں ذکر کی ہیں وہ شرطیں مراد نہیں جن پر صحت وقف موقوف ہے جیسے ملکجداکرنا اور تسلیم اس کے نزدیك جو اس کے شرط ہونے کا قائل ہے اور دیگر شرائط جوباب کے شروع میں گزرچکی ہیں۔(ت)
یہاں واجب اللحاظ بات یہ ہے کہ وقف پر شہادت شہادت لوجہ اﷲہے جسے شہادت حسبہ کہتے ہیں اور شاہد حسبہ اگر بلاعذرشرعی ادائے شہادت میں تاخیر کرے مثلا وقف پر ناجائز قبضہ ناروا تصرفات دیکھا کرے اور خاموش رہے پھر کھڑا ہو اور گواہی دے کہ یہ وقف ہے تو اس کی شہادت مردود ہے کہ وہ اتنے دنوں باطل پر سکوت کرنے اور وقف پر ظلم روارکھنے سے فاسق ہوگیااور فاسق کی گواہی قبول نہیں تو اس کی شہادت کا ماننا ہی اس کی شہادت نہ ماننے کو مستلزم ہے ہاں اگر قاضی ایسی گواہی
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۸۔۳۸۷€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۴€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۴€
مان کر قضاکردے تو نافذ ہوجائے گی جبکہ اسے ایسی قضا کا اختیار ہو اور اگر مقید وپابند کیاگیا ہے کہ مذہب حنفی صحیح ومفتی بہ کے موافق فیصلہ کرے تو ایسی شہادت کی بناء پرقضائے قاضی بھی مردوداور فیصلہ واجب الرد ہے کہ خلاف تقیید میں وہ قاضی نہیں بلکہ احدمن الرعایا ہے۔ردالمحتا رمیں ہے:
شاھد الحسبۃ اذااخرھا بغیر عذر لاتقبل لفسقہ اشباہ من القنیۃ وقال ابن نجیم فی رسالۃ المؤلفۃفیما تسمع فیہ الشہادۃ حسبۃ ومقتضاہ ان الشاہد فی الوقف کذالک ۔ شاہد حسبہ(لوجہ اﷲ شہادت دینے والا)اگر بلاعذر شہادت میں تاخیر کرے تو فسق کی وجہ سے اس کی شہادت مقبول نہ ہوگی(اشباہ بحوالہ قنیہ)ابن نجیم نے ان امورکے بارے میں جن میں شہادت حسبہ مسموع ہوتی ہےتالیف کردہ اپنے رسالے میں فرمایا کہ اس کا مقتضایہ ہے کہ وقف میں گواہی دینے والے کاحکم بھی ایسا ہی ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فیما اذا باع زید عقارہ المعلوم من عمرو و تصرف بہ عمر و مدۃ مدیدۃ ورجلان معاینان مشاھد ان لذلك کلہ ومطلعان علیہ ویریدان الآن ان یشھداحسبۃ بان العقار وقف کذاوقد اخرا شھادتہما بلاعذر شرعی ولاتاویل فہل حیث کان الامر کما ذکر لا تقبل شہادتھما الجواب شاہد الحسبۃ اذا اخر شہادتہ بلاعذر شرعی مع تمکنہ من ادائھا لا تقبل شہادتہ کما فی الاشباہ وغیرہا ۔ سوال: کیا گیا کہ زید نے اپنی مشہور و معروف زمین عمرو کے ہاتھ فروخت کی اور عمرو عرصہ دراز تك اس میں تصرف کرتا رہا جبکہ دو مرد اس سب کچھ کو دیکھتے رہے اور اس پر مطلع رہے اب وہ دونوں لوجہ اﷲگواہی دینا چاہتے ہیں کہ یہ زمین وقف شدہ ہے اور ان دونوں نے بغیر کسی عذر شرعی اور بغیر کسی تاویل کے گواہی میں تاخیر کی تو کیا یہاں بھی معاملہ وہی ہے جو مذکور ہوا کہ ان دونوں کی گواہی قبول نہیں کیجائیگیجواب: شاہد حسبہ اگر بلاعذر شرعی شہادت میں تاخیر کرے باوجودیکہ وہ اس کی ادائیگی پر قادر ہو تو ا س کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے:
(لوقضی بشھادۃ فاسق اگر قاضی فاسق کی شہادت پر فیصلہ کردے تو
شاھد الحسبۃ اذااخرھا بغیر عذر لاتقبل لفسقہ اشباہ من القنیۃ وقال ابن نجیم فی رسالۃ المؤلفۃفیما تسمع فیہ الشہادۃ حسبۃ ومقتضاہ ان الشاہد فی الوقف کذالک ۔ شاہد حسبہ(لوجہ اﷲ شہادت دینے والا)اگر بلاعذر شہادت میں تاخیر کرے تو فسق کی وجہ سے اس کی شہادت مقبول نہ ہوگی(اشباہ بحوالہ قنیہ)ابن نجیم نے ان امورکے بارے میں جن میں شہادت حسبہ مسموع ہوتی ہےتالیف کردہ اپنے رسالے میں فرمایا کہ اس کا مقتضایہ ہے کہ وقف میں گواہی دینے والے کاحکم بھی ایسا ہی ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فیما اذا باع زید عقارہ المعلوم من عمرو و تصرف بہ عمر و مدۃ مدیدۃ ورجلان معاینان مشاھد ان لذلك کلہ ومطلعان علیہ ویریدان الآن ان یشھداحسبۃ بان العقار وقف کذاوقد اخرا شھادتہما بلاعذر شرعی ولاتاویل فہل حیث کان الامر کما ذکر لا تقبل شہادتھما الجواب شاہد الحسبۃ اذا اخر شہادتہ بلاعذر شرعی مع تمکنہ من ادائھا لا تقبل شہادتہ کما فی الاشباہ وغیرہا ۔ سوال: کیا گیا کہ زید نے اپنی مشہور و معروف زمین عمرو کے ہاتھ فروخت کی اور عمرو عرصہ دراز تك اس میں تصرف کرتا رہا جبکہ دو مرد اس سب کچھ کو دیکھتے رہے اور اس پر مطلع رہے اب وہ دونوں لوجہ اﷲگواہی دینا چاہتے ہیں کہ یہ زمین وقف شدہ ہے اور ان دونوں نے بغیر کسی عذر شرعی اور بغیر کسی تاویل کے گواہی میں تاخیر کی تو کیا یہاں بھی معاملہ وہی ہے جو مذکور ہوا کہ ان دونوں کی گواہی قبول نہیں کیجائیگیجواب: شاہد حسبہ اگر بلاعذر شرعی شہادت میں تاخیر کرے باوجودیکہ وہ اس کی ادائیگی پر قادر ہو تو ا س کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے:
(لوقضی بشھادۃ فاسق اگر قاضی فاسق کی شہادت پر فیصلہ کردے تو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
العقود الدریۃ کتا ب الشہادۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۳۴۶€
العقود الدریۃ کتا ب الشہادۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۳۴۶€
نفذ)واثم فتح(الاان یمنع منہ)ای من القضاء بشھادۃ الفاسق(الامام فلا)ینفذ لمامرانہ یتأقت ویتقید بزمان و مکان وحادثۃ وقول معتمد حتی لاینفذ قضاؤہ باقوال ضعیفۃ ۔ نافذ ہوگا اور قاضی گنہگار ہوگا(فتح)لیکن اگر حاکم نے قاضی کو فاسق کی شہادت پر فیصلہ کرنے سے منع کیا تو نافذ نہ ہوگا کیونکہ قاضی کو مخصوص زمانے مخصوص جگہمخصوص حادثے اور معتمد قول پر فیصلہ کرنے کے ساتھ مقید کیا جاسکتا ہے یہاں تك کہ اقوال ضعیفہ کی بنیاد پر کیا ہوا اس کا فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)ان سب امور کا لحاظ ضرور ہےواﷲتعالی اعلم
مسئلہ۹تا۱۲: ازدولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خاں صاحب ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)اگر کچھ طمع ناجائزسے کوئی شخص شہادت دے تو اس کی شہادت کا اعتبار ہوگا یانہیں
(۲)جو شخص پابند صوم صلوۃ نہ ہو اور مسکرات کا پابند ہو ایسے شخص کی شہادت شرعا مانی جاسکتی ہے یانہیں
(۳)حواس سالم کے کیا علامات ہیں ازروئے شرع شریف کے
(۴)شہادت شاہد کے واسطے عمر کی قید ہے یانہیںاور اگرہے تو کس عمر سےکس عمر تك ناقابل شہادت مانا جاتا ہے
الجواب:
(۱)اظہار سائل سے معلوم ہوا کہ طمع ناجائز سے مراد رشوت ہےایسی شہادت باطل محض مردود ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الراشی والمرتشی فی النار ۔رواہ الطبرانی فی الصغیر عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما۔واﷲ تعالی اعلم۔ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنمی ہیں اس کو طبرانی نے معجم صغیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹تا۱۲: ازدولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خاں صاحب ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)اگر کچھ طمع ناجائزسے کوئی شخص شہادت دے تو اس کی شہادت کا اعتبار ہوگا یانہیں
(۲)جو شخص پابند صوم صلوۃ نہ ہو اور مسکرات کا پابند ہو ایسے شخص کی شہادت شرعا مانی جاسکتی ہے یانہیں
(۳)حواس سالم کے کیا علامات ہیں ازروئے شرع شریف کے
(۴)شہادت شاہد کے واسطے عمر کی قید ہے یانہیںاور اگرہے تو کس عمر سےکس عمر تك ناقابل شہادت مانا جاتا ہے
الجواب:
(۱)اظہار سائل سے معلوم ہوا کہ طمع ناجائز سے مراد رشوت ہےایسی شہادت باطل محض مردود ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الراشی والمرتشی فی النار ۔رواہ الطبرانی فی الصغیر عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما۔واﷲ تعالی اعلم۔ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنمی ہیں اس کو طبرانی نے معجم صغیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱،€المعجم الصغیر دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۸€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۲۰۴۷€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۳/ ۲۹€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۲۰۴۷€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۳/ ۲۹€
(۲)ہر گز نہیں کہ وہ فاسق ہے اور فاسق کی شہادت مردود ہے
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو چھان بین کرلو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)باتیں مطابق عقل کے ہوں کام عاقلانہ ہوںکبھی عاقلوں کبھی پاگل کےسے قول فعل نہ کرے یہ تصرفات کے لئے ہے اور اگر امثال شہادت وروایت وقضا وافتا کے لئے سلامت حو اس مقصود ہو تو یہ بھی ضرورہے کہ شاہد وراوی کی یاد صحیح ہو سخت بھولنے والا نہ ہوا ور قاضی ومفتی کی فہم وفکر ٹھیك ہو۔درمختار میں ہے:
الشہادۃ شرطہا العقل الکامل والضبط ۔ شہادت کے لئے کامل عقل اور یادداشت شرط ہے۔(ت)
اسی کی کتاب القضامیں ہے:
ینبغی ان یکون موثوقا بہ فی عفافہ وعقلہ وصلاحہ وفھمہ وعلمہومثلہ فیما ذکر المفتی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی معتمد علیہ ہونا چاہئے پاکدامنیعقل وصلاح فہم اور علم میں۔اور مذکورہ امور میں مفتی بھی قاضی کی مثل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۴)ادائے شہادت کے لئے بالغ ہونا شرط ہےنابالغ کی گواہی معتبر نہیںنہ اتنا بوڑھا ہو کہ بوجہ پیر انہ سالی دماغ صحیح نہ رہا بات یا د نہ رہے کچھ کا کچھ کہے۔درمختارمیں ہے:
لاتقبل من اعمی مطلقا ومرتد ومملوك وصبی و مغفل ومجنون الا ان یتحملا فی الرق والتمییز وادیا بعد الحریۃ والبلوغ ۔ اندھے کی گواہی مطلقا قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی مرتد غلامبچےغافل اور پاگل کی مگر جب غلام اور بچہ غلامی اور تمیز کی حالت میں تحمل شہادت کریں اور آزادی وبلوغ کے بعد شہادت ادا کریں تو قبول ہوگی۔(ت)
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو چھان بین کرلو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)باتیں مطابق عقل کے ہوں کام عاقلانہ ہوںکبھی عاقلوں کبھی پاگل کےسے قول فعل نہ کرے یہ تصرفات کے لئے ہے اور اگر امثال شہادت وروایت وقضا وافتا کے لئے سلامت حو اس مقصود ہو تو یہ بھی ضرورہے کہ شاہد وراوی کی یاد صحیح ہو سخت بھولنے والا نہ ہوا ور قاضی ومفتی کی فہم وفکر ٹھیك ہو۔درمختار میں ہے:
الشہادۃ شرطہا العقل الکامل والضبط ۔ شہادت کے لئے کامل عقل اور یادداشت شرط ہے۔(ت)
اسی کی کتاب القضامیں ہے:
ینبغی ان یکون موثوقا بہ فی عفافہ وعقلہ وصلاحہ وفھمہ وعلمہومثلہ فیما ذکر المفتی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی معتمد علیہ ہونا چاہئے پاکدامنیعقل وصلاح فہم اور علم میں۔اور مذکورہ امور میں مفتی بھی قاضی کی مثل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۴)ادائے شہادت کے لئے بالغ ہونا شرط ہےنابالغ کی گواہی معتبر نہیںنہ اتنا بوڑھا ہو کہ بوجہ پیر انہ سالی دماغ صحیح نہ رہا بات یا د نہ رہے کچھ کا کچھ کہے۔درمختارمیں ہے:
لاتقبل من اعمی مطلقا ومرتد ومملوك وصبی و مغفل ومجنون الا ان یتحملا فی الرق والتمییز وادیا بعد الحریۃ والبلوغ ۔ اندھے کی گواہی مطلقا قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی مرتد غلامبچےغافل اور پاگل کی مگر جب غلام اور بچہ غلامی اور تمیز کی حالت میں تحمل شہادت کریں اور آزادی وبلوغ کے بعد شہادت ادا کریں تو قبول ہوگی۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۹ / ۶€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
درمختار کتب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳۔۷۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۴€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
درمختار کتب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳۔۷۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۴€
اسی میں ہے:شرائط الاداء الضبط الخ(ادائے شہادت کی شرطوں میں سے یادداشت کا ہونا ہے الخ۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳: ازرامپور محلہ مسجد ملافقیر اخون صاحب مرسلہ نثار اﷲخان ۲۱/شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدمسلم ڈاکٹر نے ایك سرٹیفکیٹ بلوغ عمر عمرو کو اس امرکا دیا ہے کہ عمروکی اس وقت ۱۸اور ۱۹سال کے درمیان میں عمر معلوم ہوتی ہے میری رائے میں عمرو کے چہرہ وغیرہ سے اس کی عمر ایسی نہیں معلوم ہوتی اب مونچھوں کا آغاز ہوا ہے پس سرٹیفکیٹ ڈاکٹر جوبمنزلہ شہادت کے ہے ایسے زمانہ کی بابت جس میں ڈاکٹر نے مشاہدہ نہیں کیاہے محض اپنے قیاس اور رائے سے اظہار عمر کرتا ہے ہیں نسبت اپنی رائے کے ظاہر کرتا ہے کہ رائے کی غلطی ممکن ہے تو ایسی صورت میں یہ شہادت قابل قبول عدالت ہوگی یانہیں
الجواب:
اسے شہادت سے کوئی تعلق نہیںنہ اس پر شہادت کی تعریف صادق آتی ہےیہ ایك رائے اور قیاس وتخمینہ ہے جس پر اسے خود وثوق نہیں اوراس میں غلطی کا احتمال بتاتا ہے شہادت کی تو شان یہ ہے کہ اگر شاہداپنی آنکھ کی دیکھی ہوئی بات پر گواہی دے اور اس میں فیما اعلم یا فیما احسب کا لفظ ملادے یعنی میرے خیال میں ایسا ہوا تھا یا میرے علم ویقین میں ایسا ہے تو گواہی رد کردیجائیگی کہ گواہ سے اس کا مشاہدہ پوچھا جاتا ہے اس کا علم ویقین نہیں پوچھا جاتانہ کہ جہاں نہ علم نہ یقین بلکہ خود غلطی کااقراردرمختارجلد۴ص۵۷۳:
حتی لو زاد فیما اعلم بطل للشک ۔ یہاں تك کہ اگر شاہد یہ لفظ بڑھاد ے کہ میرے علم میں ایسا ہے تو شك کی بنیاد پر گواہی باطل ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
لو قال لفلان علی الف درھم فیما اعلم لایصح الاقرار ولو قال المعدل ھو عدل فیما اعلم اگر کہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں کے مجھ پر ہزار درہم ہیں تو یہ اقرار صحیح نہیں ہوگااور اگر تعدیل کرنیوالے نے کہا میرے علم کے مطابق وہ عادل
مسئلہ۱۳: ازرامپور محلہ مسجد ملافقیر اخون صاحب مرسلہ نثار اﷲخان ۲۱/شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدمسلم ڈاکٹر نے ایك سرٹیفکیٹ بلوغ عمر عمرو کو اس امرکا دیا ہے کہ عمروکی اس وقت ۱۸اور ۱۹سال کے درمیان میں عمر معلوم ہوتی ہے میری رائے میں عمرو کے چہرہ وغیرہ سے اس کی عمر ایسی نہیں معلوم ہوتی اب مونچھوں کا آغاز ہوا ہے پس سرٹیفکیٹ ڈاکٹر جوبمنزلہ شہادت کے ہے ایسے زمانہ کی بابت جس میں ڈاکٹر نے مشاہدہ نہیں کیاہے محض اپنے قیاس اور رائے سے اظہار عمر کرتا ہے ہیں نسبت اپنی رائے کے ظاہر کرتا ہے کہ رائے کی غلطی ممکن ہے تو ایسی صورت میں یہ شہادت قابل قبول عدالت ہوگی یانہیں
الجواب:
اسے شہادت سے کوئی تعلق نہیںنہ اس پر شہادت کی تعریف صادق آتی ہےیہ ایك رائے اور قیاس وتخمینہ ہے جس پر اسے خود وثوق نہیں اوراس میں غلطی کا احتمال بتاتا ہے شہادت کی تو شان یہ ہے کہ اگر شاہداپنی آنکھ کی دیکھی ہوئی بات پر گواہی دے اور اس میں فیما اعلم یا فیما احسب کا لفظ ملادے یعنی میرے خیال میں ایسا ہوا تھا یا میرے علم ویقین میں ایسا ہے تو گواہی رد کردیجائیگی کہ گواہ سے اس کا مشاہدہ پوچھا جاتا ہے اس کا علم ویقین نہیں پوچھا جاتانہ کہ جہاں نہ علم نہ یقین بلکہ خود غلطی کااقراردرمختارجلد۴ص۵۷۳:
حتی لو زاد فیما اعلم بطل للشک ۔ یہاں تك کہ اگر شاہد یہ لفظ بڑھاد ے کہ میرے علم میں ایسا ہے تو شك کی بنیاد پر گواہی باطل ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
لو قال لفلان علی الف درھم فیما اعلم لایصح الاقرار ولو قال المعدل ھو عدل فیما اعلم اگر کہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں کے مجھ پر ہزار درہم ہیں تو یہ اقرار صحیح نہیں ہوگااور اگر تعدیل کرنیوالے نے کہا میرے علم کے مطابق وہ عادل
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹€۰
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
لایکون تعدیلا ۔واﷲتعالی اعلم۔ ہے تو یہ تعدیل نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴و۱۵: مسئولہ سراج الدین جج بہاولپور(پنجاب) ۱۵/شعبان المکرم شنبہ۱۳۳۴ھ
بسم اﷲالرحمن الرحیمبعالی خدمت جناب مولوی احمد رضاخان صاحب مدفیوضکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا مسلمان مرد عورت کے نکاح اثبات میں غیر مسلم کی شہادت پر حصر کرنا
جائز ہےحسب ذیل صورتوں میں کس طرح حکم دینا چاہئے:
(ا)ایك مسلم مرد کا نکاح ایك مسلمہ عورت کے ساتھ ہواگواہان ایجاب وقبول میں ایك گواہ یا دونوں گواہ غیر مسلم ہیںآیا نکاح ثابت قرار دیا جاسکتا ہے
(ب)انعقاد نکاح کے وقت کی کئی شہادات ہیں لیکن غیر مسلم گواہ بروئے شہرت عامہ اس مسلم کا مسلمہ کے ساتھ نکاح سننا بیان کرتے ہیںآیا ایسی صورت میں نکاح ثابت قرار دیا جاسکتا ہےبینواتوجروا
الجواب:نہ پہلی صورت میں نکاح ثابت ہوسکتا ہےدرمختار میں ہے:
شرط حضورشاہدین مسلمیں لنکاح مسلمۃ ۔ مسلمان عورت کے نکاح کے لئے دو مسلمان گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے(ت)
نہ دوسری صورت میں مانا جاسکتا ہےدرمختار میں ہے:
الشہادۃ شرطہا الولایۃ فیشترط الاسلام لوالمدعی علیہ مسلما ۔ شہادت کی شرط ولایت ہے چنانچہ مدعی علیہ اگر مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہونا شرط ہوگا۔(ت)
اور قاعدہ کلیہ کہ کسی مسلمان مرد خواہ عورت پر نکاحطلاقبیعہبہاجارہوصیتجہاں بھر کے کسی معاملہ میں کافر کی شہادت اصلا کسی طرح مسموع نہیں
قال اﷲ تعالی ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲتعالی کافروں کیلئے مومنوں پر ہرگز کوئی سبیل نہ بنائیگا۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴و۱۵: مسئولہ سراج الدین جج بہاولپور(پنجاب) ۱۵/شعبان المکرم شنبہ۱۳۳۴ھ
بسم اﷲالرحمن الرحیمبعالی خدمت جناب مولوی احمد رضاخان صاحب مدفیوضکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا مسلمان مرد عورت کے نکاح اثبات میں غیر مسلم کی شہادت پر حصر کرنا
جائز ہےحسب ذیل صورتوں میں کس طرح حکم دینا چاہئے:
(ا)ایك مسلم مرد کا نکاح ایك مسلمہ عورت کے ساتھ ہواگواہان ایجاب وقبول میں ایك گواہ یا دونوں گواہ غیر مسلم ہیںآیا نکاح ثابت قرار دیا جاسکتا ہے
(ب)انعقاد نکاح کے وقت کی کئی شہادات ہیں لیکن غیر مسلم گواہ بروئے شہرت عامہ اس مسلم کا مسلمہ کے ساتھ نکاح سننا بیان کرتے ہیںآیا ایسی صورت میں نکاح ثابت قرار دیا جاسکتا ہےبینواتوجروا
الجواب:نہ پہلی صورت میں نکاح ثابت ہوسکتا ہےدرمختار میں ہے:
شرط حضورشاہدین مسلمیں لنکاح مسلمۃ ۔ مسلمان عورت کے نکاح کے لئے دو مسلمان گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے(ت)
نہ دوسری صورت میں مانا جاسکتا ہےدرمختار میں ہے:
الشہادۃ شرطہا الولایۃ فیشترط الاسلام لوالمدعی علیہ مسلما ۔ شہادت کی شرط ولایت ہے چنانچہ مدعی علیہ اگر مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہونا شرط ہوگا۔(ت)
اور قاعدہ کلیہ کہ کسی مسلمان مرد خواہ عورت پر نکاحطلاقبیعہبہاجارہوصیتجہاں بھر کے کسی معاملہ میں کافر کی شہادت اصلا کسی طرح مسموع نہیں
قال اﷲ تعالی ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲتعالی کافروں کیلئے مومنوں پر ہرگز کوئی سبیل نہ بنائیگا۔واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
درمختار کتاب النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۷۔۱۸۶€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
القرآن الکریم ∞۴ / ۱۴۱€
درمختار کتاب النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۷۔۱۸۶€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
القرآن الکریم ∞۴ / ۱۴۱€
مسئلہ۱۶: ازریاست رامپور مرسلہ جناب امداد حسین صاحب مورخہ ۳/جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بشیر نے اپنی زوجہ مسماۃ اکبری کی رخصت کا دعوی کچہری دیوانی میں مسماۃ اکبری اوراس کی دادی مسماۃ عجوبہ پر کہ جس نے مسماۃ اکبری کو روك لیا تھا کیامسماۃ اکبری نے باوجود اطلاع کچہری کے جواب دہی نہیں کی بلکہ سکوت کیا مسماۃ عجوبہ کچہری میں جوابدہ ہوئی اور منکر نکاح ہوئیبشیر سے ثبوت نکاح طلب کیا گیااس نے پانچ گواہ پیش کئے تین گواہوں نے کہ جن کے نام عبدالعزیزمیرنجیننھے ہیں اس امر کی شہادت ادا کی مسماۃ اکبری نے ہمارے سامنے جھنا چودھری کو اپنے نکاح کے واسطے وکیل کیاجھنا چودھری نے نکاح بشیر کے ساتھ پڑھوادیا نکاح ہوگیا اور چندہ میاں اور احسان ہر دو گواہوں نے یہ گواہی دی کہ جھنا چودھری نے ہمارے سامنے مسماۃ اکبری بنت علی حسین کا نکاح بشیر ولد منا کے ساتھ پڑھوایا اور بشیرنے قبول کیااب دریافت طلب امریہ ہے کہ گواہان مذکورمیں یہ اختلاف ہیں کہ ایك نے بیان کیاہے کہ مسماۃاکبری پستہ قد ہے دوسرے نے لانباقد بیان کیا ہے ایك نے دالان میں ایك نے آنگن میں جو ملے ہوئے نکاح ہونا بیان کیا ہےایك نے عمر دس بارہ سال اور باقیوں نے عمر بیس اور پچیس سال بیان کی ہےآیا ان اختلافات کی وجہ سے شہادت قابل قبول ہے یانہیںاور باوجود سکوت مسماۃ اکبری اور مسماۃ عجوبہ نسبت عمر قابل قبول شرعا ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
یہ باتیں زائد ہیں ان میں اختلاف سے شہادت پر کوئی اثر نہیں پڑتا جبکہ شہودثقات وعدول وقابل قبول ہوںاور اگر ایسے نہیں اور حاکم نے انہیں متہم سمجھا اور ایسے اختلافوں کی بنا پر ان کی شہادتیں رد کردیں تو اسے اس کا اختیار ہے۔عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
فی نوادر ابن سماعۃ عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اذااتھمت الشہود فرقت بینھم ولاالتفت الی اختلافھم فی لبس الثیاب وعددمن کان معھم من الرجال والنساء ولاالی اختلاف المواضع بعد ان تکون الشہادۃ علی الاقوال وان کان الشہادۃ نوادر ابن سماعہ میں امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے مروی ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا اگر گواہوں پر تہمت پاؤں تو ان میں تفریق کردوں گا اور ایسے اختلاف کی طرف التفات نہیں کروں گا کہ ان کا لباس کیا تھا اور ان کے ساتھ کتنے مرد اور عورتیں تھیں اور نہ ہی جگہوں کے اختلاف کی طرف التفات کروں گا بشرطیکہ شہادت اقوال پر ہواور اگر شہادت افعال پر ہو تو جگہوں کا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بشیر نے اپنی زوجہ مسماۃ اکبری کی رخصت کا دعوی کچہری دیوانی میں مسماۃ اکبری اوراس کی دادی مسماۃ عجوبہ پر کہ جس نے مسماۃ اکبری کو روك لیا تھا کیامسماۃ اکبری نے باوجود اطلاع کچہری کے جواب دہی نہیں کی بلکہ سکوت کیا مسماۃ عجوبہ کچہری میں جوابدہ ہوئی اور منکر نکاح ہوئیبشیر سے ثبوت نکاح طلب کیا گیااس نے پانچ گواہ پیش کئے تین گواہوں نے کہ جن کے نام عبدالعزیزمیرنجیننھے ہیں اس امر کی شہادت ادا کی مسماۃ اکبری نے ہمارے سامنے جھنا چودھری کو اپنے نکاح کے واسطے وکیل کیاجھنا چودھری نے نکاح بشیر کے ساتھ پڑھوادیا نکاح ہوگیا اور چندہ میاں اور احسان ہر دو گواہوں نے یہ گواہی دی کہ جھنا چودھری نے ہمارے سامنے مسماۃ اکبری بنت علی حسین کا نکاح بشیر ولد منا کے ساتھ پڑھوایا اور بشیرنے قبول کیااب دریافت طلب امریہ ہے کہ گواہان مذکورمیں یہ اختلاف ہیں کہ ایك نے بیان کیاہے کہ مسماۃاکبری پستہ قد ہے دوسرے نے لانباقد بیان کیا ہے ایك نے دالان میں ایك نے آنگن میں جو ملے ہوئے نکاح ہونا بیان کیا ہےایك نے عمر دس بارہ سال اور باقیوں نے عمر بیس اور پچیس سال بیان کی ہےآیا ان اختلافات کی وجہ سے شہادت قابل قبول ہے یانہیںاور باوجود سکوت مسماۃ اکبری اور مسماۃ عجوبہ نسبت عمر قابل قبول شرعا ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
یہ باتیں زائد ہیں ان میں اختلاف سے شہادت پر کوئی اثر نہیں پڑتا جبکہ شہودثقات وعدول وقابل قبول ہوںاور اگر ایسے نہیں اور حاکم نے انہیں متہم سمجھا اور ایسے اختلافوں کی بنا پر ان کی شہادتیں رد کردیں تو اسے اس کا اختیار ہے۔عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
فی نوادر ابن سماعۃ عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اذااتھمت الشہود فرقت بینھم ولاالتفت الی اختلافھم فی لبس الثیاب وعددمن کان معھم من الرجال والنساء ولاالی اختلاف المواضع بعد ان تکون الشہادۃ علی الاقوال وان کان الشہادۃ نوادر ابن سماعہ میں امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہ سے مروی ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا اگر گواہوں پر تہمت پاؤں تو ان میں تفریق کردوں گا اور ایسے اختلاف کی طرف التفات نہیں کروں گا کہ ان کا لباس کیا تھا اور ان کے ساتھ کتنے مرد اور عورتیں تھیں اور نہ ہی جگہوں کے اختلاف کی طرف التفات کروں گا بشرطیکہ شہادت اقوال پر ہواور اگر شہادت افعال پر ہو تو جگہوں کا
علی الافعال فالاختلاف فی المواضع اختلاف فی الشہادۃ قال ابویوسف اذااتھمتھم و رأیت الریبۃ فظننت انھم شہود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب ومن کان معھمفاذااختلفوا فی ذلك فھذاعندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ کذافی المحیط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اختلاف شہادت میں قرار پائے گا۔امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے کہا کہ اگر گواہوں کے بارے میں میرے دل میں کوئی تہمت اور شك آئے اور میرا گمان ہوکہ یہ جھوٹے گواہ ہیں تو میں ان کو جدا جدا کروں گا اور ان سے لباسجگہ اور ان کے ساتھ موجود افراد کے بارے میں پوچھوں گا اگر اس میں ان کے بیان مختلف ہوئے تو میرے نزدیك یہ گواہی میں اختلاف ہے جس کی بنیاد پر میں گواہی مسترد کردوں گامحیط۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۷: ازملك بنگال معرفت محمد شجاعت علی خان طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۲۵ربیع الاول۱۳۳۹ھ
برائے شہادت طلاق نادانستی چیست بینواتوجروا۔
شہادت طلاق میں تاخیر اور کوتاہی کا کیا حکم ہےبیان کرو اجر پاؤ گے۔(ت)
الجواب:
اگر طلاق رجعت است بتاخیر شہادت آثم نشود مگر آنکہ بدانکہ رجعت نکرد وعدت گزشت و باز بے نکاح تصرف میخواہد آنگاہ تاخیر روانیستہمچناں اگر طلاق بائن است وبے تجدید نکاح دست از تصرف ندارد یا مغلظہ استبے تحلیل بحبالہ نکاح آوردن خواہد ادائے شہادت بے دعوی ہیچ مدعی فرض ست واگر بے عذر تاخیر کند مردود الشہادۃ بوددر اشباہ است شاھد الحسبۃ اذااخر شہادتہ بلا عذر یفسق ولا تقبل شہادتہ اگر طلاق رجعی ہے تو گواہی میں تاخیر کرنے سے گنہگار نہ ہوگا مگر وہ شخص جو جانتا ہے کہ خاوند نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزرچکی ہے اور وہ بغیرنکاح جدید اس عورت کو اپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے تو اس صورت میں تاخیر شہادت جائز نہیں اسی طرح طلاق بائن کی صورت میں اگر خاوند تجدید نکاح کے بغیر تصرف سے دستبردار نہیں ہوتا یا طلاق مغلظہ دی ہے اور حلالہ کے بغیر دوبارہ اس کو نکاح میں لانا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کسی مدعی کے دعوی کے بغیر ہی شہادت کی ادائیگی فرض ہے اگر بلاعذر تاخیر کرے گا تو مردود الشہادۃ ہوجائیگا
مسئلہ۱۷: ازملك بنگال معرفت محمد شجاعت علی خان طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۲۵ربیع الاول۱۳۳۹ھ
برائے شہادت طلاق نادانستی چیست بینواتوجروا۔
شہادت طلاق میں تاخیر اور کوتاہی کا کیا حکم ہےبیان کرو اجر پاؤ گے۔(ت)
الجواب:
اگر طلاق رجعت است بتاخیر شہادت آثم نشود مگر آنکہ بدانکہ رجعت نکرد وعدت گزشت و باز بے نکاح تصرف میخواہد آنگاہ تاخیر روانیستہمچناں اگر طلاق بائن است وبے تجدید نکاح دست از تصرف ندارد یا مغلظہ استبے تحلیل بحبالہ نکاح آوردن خواہد ادائے شہادت بے دعوی ہیچ مدعی فرض ست واگر بے عذر تاخیر کند مردود الشہادۃ بوددر اشباہ است شاھد الحسبۃ اذااخر شہادتہ بلا عذر یفسق ولا تقبل شہادتہ اگر طلاق رجعی ہے تو گواہی میں تاخیر کرنے سے گنہگار نہ ہوگا مگر وہ شخص جو جانتا ہے کہ خاوند نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزرچکی ہے اور وہ بغیرنکاح جدید اس عورت کو اپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے تو اس صورت میں تاخیر شہادت جائز نہیں اسی طرح طلاق بائن کی صورت میں اگر خاوند تجدید نکاح کے بغیر تصرف سے دستبردار نہیں ہوتا یا طلاق مغلظہ دی ہے اور حلالہ کے بغیر دوبارہ اس کو نکاح میں لانا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کسی مدعی کے دعوی کے بغیر ہی شہادت کی ادائیگی فرض ہے اگر بلاعذر تاخیر کرے گا تو مردود الشہادۃ ہوجائیگا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاوالشہادات والد عاوی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۹۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاوالشہادات والد عاوی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۹۴€
کما فی القنیۃدرقنیہ قولے آوردہ است کہ مدتش پنج روز ست وصواب آنست کہ مدار بر تاخیر از وقت حاجت ست کم باش بابیش کما بینہ فی غمز العیون۔واﷲ تعالی اعلم۔ اشباہ میں ہے کہ شاہد حسبہ(لوجہ اﷲ گواہی دینے والا)اور بلاعذر گواہی میں تاخیر کرے تو فاسق ہوجانے کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائیگی جیساکہ قنیہ میں ہےور قنیہ میں یہ قول مذکور ہے کہ اس تاخیر کی مدت پانچ دن ہے۔ صحیح یہ ہے کہ حکم مذکور کا مدار بوقت ضرورت گواہی میں تاخیر پر ہے چاہے مدت کم ہو یا زیادہجیساکہ غمز العیون میں بیان کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۸: ازریاست رامپور کٹے باز خاں مسئولہ غلام حبیب خاں ۸محرم ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر ایك باغ میں نصف نصف کے شریك تھےزید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد سات سوروپے میں بیع کیا اور واسطے اتلاف حق شفعہ بکر بیعنامہ میں بجائے سات سو روپے کےدوہزار لکھا لے گئے سات سو روپے نقد روبروئے رجسٹرار بائع کو دئے گئے اور نسبت تیرہ سو روپے قیمت غیر واقعی کے یہ تحریر کیا گیا کہ میں نے مشتری کو معاف کئے جس کا ثبوت بابت سات سوروپے قیمت واقعی کے بیانات گواہان بکر سے بھی ظاہرہے۔پس ایسی صورت میں شرعا کیا ہونا چاہئےبینواتوجروا۔
الجواب:
اس میں تین شہادتیں ہیں اگر ان کے بیان شرائط کو جامع بھی ہوں تو ان میں دو باقرار خود داڑھی خشخاش کراتے ہیں اور یہ فسق ہے اور فاسق کی شہادت مقبول نہیں
قال تعالی " ذوا عدل منکم" وقال تعالی
" ممن ترضون من الشہداء" ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم میں سے دو عادل گواہ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے جنہیں گواہوں میں سے تم پسند کرتے ہواور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے(ت)
مسئلہ ۱۸تا۱۹: ازرام پور محلہ گنج مرسلہ محمد یونس صاحب ۹/ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ شرع متین میں کہ زید کی اور ہندہ کی آپس میں نااتفاقی ہوئی اس کے
مسئلہ۱۸: ازریاست رامپور کٹے باز خاں مسئولہ غلام حبیب خاں ۸محرم ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر ایك باغ میں نصف نصف کے شریك تھےزید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد سات سوروپے میں بیع کیا اور واسطے اتلاف حق شفعہ بکر بیعنامہ میں بجائے سات سو روپے کےدوہزار لکھا لے گئے سات سو روپے نقد روبروئے رجسٹرار بائع کو دئے گئے اور نسبت تیرہ سو روپے قیمت غیر واقعی کے یہ تحریر کیا گیا کہ میں نے مشتری کو معاف کئے جس کا ثبوت بابت سات سوروپے قیمت واقعی کے بیانات گواہان بکر سے بھی ظاہرہے۔پس ایسی صورت میں شرعا کیا ہونا چاہئےبینواتوجروا۔
الجواب:
اس میں تین شہادتیں ہیں اگر ان کے بیان شرائط کو جامع بھی ہوں تو ان میں دو باقرار خود داڑھی خشخاش کراتے ہیں اور یہ فسق ہے اور فاسق کی شہادت مقبول نہیں
قال تعالی " ذوا عدل منکم" وقال تعالی
" ممن ترضون من الشہداء" ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم میں سے دو عادل گواہ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے جنہیں گواہوں میں سے تم پسند کرتے ہواور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے(ت)
مسئلہ ۱۸تا۱۹: ازرام پور محلہ گنج مرسلہ محمد یونس صاحب ۹/ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ شرع متین میں کہ زید کی اور ہندہ کی آپس میں نااتفاقی ہوئی اس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۹۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۲€
دو تین روزکے بعد ہندہ نے مشہور کیا کہ مجھے طلاق ہوگئیزید نے پوچھا کیسےجواب دیا عرصہ تین ماہ کا ہوا میں بوجہ شراب خوری پردہ کرتی تھی اور کہتی تھی کہ سامنے جب آؤں گی شراب چھوڑدو گےآخر ایك روز آیا اور یہ کہا کہ سامنے کردو میں قسم کھا چکا ہوںدریافت کیا کیا قسم کھائیتو یہ کہا شراب پیوں تو جورو کو طلاق ہے اور تین مرتبہ کہااورا س تین ماہ کے عرصہ میں سیکڑوں مرتبہ شراب پی اور تین ماہ تك ہندہ زید کے پاس رہی اور روز ماں باپ کے پاس جاتی رہیاس تین ماہ کے عرصہ میں کچھ نہیں کہاجب نااتفاقی ہوئی تو یہ بات مشہور کیہندہ سے دریافت کیا گیا تم تین ماہ تك زید کے پاس رہیں جب سے تم نے کیوں نہیں کہاہندہ جواب نہ دے سکیہندہ کی ماں نے کہا کہ اسے یاد نہ رہیگواہ ایك ہندہ کی ماں اور ایك ہندہ کا بھتیجا عمر ۱۳یا۱۴برس اور ایك لڑکا خدمت گار عمر دس سال ہے اور اس حالت میں طلاق ثابت ہے یانہیںاور زید قطعی انکار کرتا ہے نہ میں نے قسم کھائی ہے نہ میں اس بات سے خبردار ہوں۔
الجواب:
اگریہی گواہ ہیں تو طلاق ثابت نہیں کہ نہ ماں کی گواہی بیٹی کے لئے معتبر نہ نابالغ کی گواہی مسموعہندہ کا بھتیجا بھی اگر نابالغ ہے جب تو ایك گواہ بھی نہ ہوا اور اگر وہ بالغ ہے تو ایك ہی گواہ ہوابہر حال ثبوت نہیںمگر اﷲ عزوجل ہر غیب کاجاننے والا ہےاگر واقع میں اس شخص نے وہ کلمات کہے اور پھر شراب پی تو اﷲ کے نزدیك ضرورعورت پر طلاق ہوگئی اور تین بار کہا تو بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اﷲ تعالی سے ڈرے اور عورت سے جدا ہوجائے اگر وہ نہ مانے اور عورت کو تحقیق صحیح طور پر معلوم ہے کہ زید نے وہ کلمات تین بار کہنے کے بعد پھر شراب پی تو عورت پر فرض ہے کہ جیسے جانے اس سے دور بھاگے اسے اپنے اوپر قابو نہ دےاگر ہندہ اپنی سی کوشش پوری کرے اور اس سے بھاگنے پر قدر ت نہ پائے تو گناہ زید پر رہے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰: ازدار جلنگ ملٹری کلب گھر مرسلہ شمس الدین بیرا ۲۵/رجب مرجب ۱۳۳۱ھ
جناب مولانا صاحب حامی دین متین دام اقبالکم بعد ادائے آداب حضور والا کی خدمت میں عرض کرتا ہوں انجمن اسلامیہ دار جلنگ نے یہ فیصلہ کیا ہے حضور کے دولت خانہ کا انصاف ہونا چاہئے انجمن نے زبردستی طلاق لکھ دیا اور میرے اوپر ڈگری کردیا نقل جو میں نے مانگی تو نقل کا مجھ سے پانچ روپیہ لیا ازروئے شرع شریف انصاف فرمائیں۔
الجواب:
فیصلہ انجمن ملاحظہ ہوااس صورت میں ہر گز طلاق ثابت نہیں انجمن نے محض غلط وباطل وخلاف شرع
الجواب:
اگریہی گواہ ہیں تو طلاق ثابت نہیں کہ نہ ماں کی گواہی بیٹی کے لئے معتبر نہ نابالغ کی گواہی مسموعہندہ کا بھتیجا بھی اگر نابالغ ہے جب تو ایك گواہ بھی نہ ہوا اور اگر وہ بالغ ہے تو ایك ہی گواہ ہوابہر حال ثبوت نہیںمگر اﷲ عزوجل ہر غیب کاجاننے والا ہےاگر واقع میں اس شخص نے وہ کلمات کہے اور پھر شراب پی تو اﷲ کے نزدیك ضرورعورت پر طلاق ہوگئی اور تین بار کہا تو بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اﷲ تعالی سے ڈرے اور عورت سے جدا ہوجائے اگر وہ نہ مانے اور عورت کو تحقیق صحیح طور پر معلوم ہے کہ زید نے وہ کلمات تین بار کہنے کے بعد پھر شراب پی تو عورت پر فرض ہے کہ جیسے جانے اس سے دور بھاگے اسے اپنے اوپر قابو نہ دےاگر ہندہ اپنی سی کوشش پوری کرے اور اس سے بھاگنے پر قدر ت نہ پائے تو گناہ زید پر رہے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰: ازدار جلنگ ملٹری کلب گھر مرسلہ شمس الدین بیرا ۲۵/رجب مرجب ۱۳۳۱ھ
جناب مولانا صاحب حامی دین متین دام اقبالکم بعد ادائے آداب حضور والا کی خدمت میں عرض کرتا ہوں انجمن اسلامیہ دار جلنگ نے یہ فیصلہ کیا ہے حضور کے دولت خانہ کا انصاف ہونا چاہئے انجمن نے زبردستی طلاق لکھ دیا اور میرے اوپر ڈگری کردیا نقل جو میں نے مانگی تو نقل کا مجھ سے پانچ روپیہ لیا ازروئے شرع شریف انصاف فرمائیں۔
الجواب:
فیصلہ انجمن ملاحظہ ہوااس صورت میں ہر گز طلاق ثابت نہیں انجمن نے محض غلط وباطل وخلاف شرع
فیصلہ کیا۔
(۱)اس نے بنائے طلاق بیان زن پرر کھی شمس الدین نے اپنی زوجہ حبیبن پر انجمن میں درخواست دی تھی کہ اس کے افعال ایسے ہیں میراانتظام کردیا جائےعورت نے جواب میں طلاق دینا بیان کیامجوزوں نے فیصلہ میں لکھا مدعا علیہا کے بیان سے ثابت ہے کہ مدعی نے اپنی بی بی مدعا علیہا کے سامنے اور اخترعلی آبدار و پیر محمد گواہان مدعا علیہا کے روبرو طلاق مختلف اوقات میں تین دفعہ دے دی ہے انجمن نے جسے مدعا علیہا کہا وہ شرع میں مدعیہ ہے کہ طلاق دئے جانے کا دعوی کرتی ہے آج تك کسی نے مدعی کے بیان کو اس کے لئے سند مانا ہےخانگی مثل مشہورہے:باطل است آنچہ مدعی گوید(باطل ہے وہ جو مدعی کہتا ہے۔ت)یہ بالکل شرع مطہر کے خلاف ہےرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لویعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ۔ اگر لوگوں کو ان کے دعوی کے مطابق دیا جائے تو البتہ کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعوی کردیں گے۔(ت)
(۲)اس بنائے باطل پر فیصلہ لکھا حکم شریعت ہے کہ جب طلاق کے متعلق ایك ذرابھی ثبوت پہنچ جائے تو پھر کسی صورت میں بھی شریعت زن وشوہر کو باہم زندگی بسرکرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ محض غلط ہے شریعت نے ایك سے دو طلاق رجعی تك بلا تکلف زن و شوہر کو زندگی بسرکرنے کی اجازت دی ہے۔ اﷲ عزوجل قرآن مجید میں فرماتاہے:
" الطلق مرتان۪ فامساک بمعروف او تسریح باحسن"
۔ طلاق دو مرتبہ ہے پھر اچھے طریقے سے روك لینا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے(ت)
بلکہ تین طلاق میں بھی یہ کہنا غلط ہے کہ اس کی اجازت کسی صورت میں نہیںصورت حلالہ میں ضروراجازت ہے
قرآن عظیم میں ہے:
" فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ" ۔ پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو اب وہ عورت اس(خاوند سابق)کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ کسی اورسے نکاح نہ کر لے۔(ت)
(۱)اس نے بنائے طلاق بیان زن پرر کھی شمس الدین نے اپنی زوجہ حبیبن پر انجمن میں درخواست دی تھی کہ اس کے افعال ایسے ہیں میراانتظام کردیا جائےعورت نے جواب میں طلاق دینا بیان کیامجوزوں نے فیصلہ میں لکھا مدعا علیہا کے بیان سے ثابت ہے کہ مدعی نے اپنی بی بی مدعا علیہا کے سامنے اور اخترعلی آبدار و پیر محمد گواہان مدعا علیہا کے روبرو طلاق مختلف اوقات میں تین دفعہ دے دی ہے انجمن نے جسے مدعا علیہا کہا وہ شرع میں مدعیہ ہے کہ طلاق دئے جانے کا دعوی کرتی ہے آج تك کسی نے مدعی کے بیان کو اس کے لئے سند مانا ہےخانگی مثل مشہورہے:باطل است آنچہ مدعی گوید(باطل ہے وہ جو مدعی کہتا ہے۔ت)یہ بالکل شرع مطہر کے خلاف ہےرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لویعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ۔ اگر لوگوں کو ان کے دعوی کے مطابق دیا جائے تو البتہ کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعوی کردیں گے۔(ت)
(۲)اس بنائے باطل پر فیصلہ لکھا حکم شریعت ہے کہ جب طلاق کے متعلق ایك ذرابھی ثبوت پہنچ جائے تو پھر کسی صورت میں بھی شریعت زن وشوہر کو باہم زندگی بسرکرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ محض غلط ہے شریعت نے ایك سے دو طلاق رجعی تك بلا تکلف زن و شوہر کو زندگی بسرکرنے کی اجازت دی ہے۔ اﷲ عزوجل قرآن مجید میں فرماتاہے:
" الطلق مرتان۪ فامساک بمعروف او تسریح باحسن"
۔ طلاق دو مرتبہ ہے پھر اچھے طریقے سے روك لینا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے(ت)
بلکہ تین طلاق میں بھی یہ کہنا غلط ہے کہ اس کی اجازت کسی صورت میں نہیںصورت حلالہ میں ضروراجازت ہے
قرآن عظیم میں ہے:
" فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ" ۔ پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو اب وہ عورت اس(خاوند سابق)کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ کسی اورسے نکاح نہ کر لے۔(ت)
پھر یہاں تین طلاقوں کا ثبوت مان لینا بھی محض ناواقفی ہے دو گواہ اگر طلاق پر گواہی دیں اور وقت مختلف بتائیں تو اگرچہ یہ اختلاف طلاق میں کہ قول ہے موجب رد شہادت نہیں مگر اس کے یہ معنی ہیں کہ دونوں کی مجموعہ شہادت سے ایك طلاق ثابت ہوگی نہ یہ کہ جداجدا دو طلاقیں ثابت ہوں گی اور تین گواہ ہوں تو تین طلاقیں ثابت ہوجائیں یہ نرابے اصل ہے کہ ان میں سے جداجدا کسی طلاق پر نصاب شہادت کامل نہ ہوئی اور کوئی طلاق تنہا ایك کی گواہی سے ثابت نہیں ہوسکتی۔درمختارمیں ہے:
نصابھا لغیرہا من الحقوق سواء کان الحق مالا اوغیرہ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان ۔ حقوق مذکورہ کے سوادیگر حقوق کے لئے نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں ہے چاہے وہ حق مال ہو یا غیر مال جیسے نکاح وطلاق(ت)
(۳)انجمن کے سامنے صرف دو گواہ گزرے ایك پیر محمد خدمتگار ہوٹل اوڈلینڈ دوسرااخترعلی اسی ہوٹل کا آبدارخدمتگار ان ہوٹل جن کے متعلق شراب وخنزیر وغیرہما حرام ونجس اشیاء کا خریدنا بنانا پکانا کھلانا رہتا ہے ہر گز عادل شرعی نہیں ہوسکتے اور اگر بالفرض یہ لوگ ثقہ بھی ہوں تو اختر علی خود حبیبین مدعیہ کا باپ ہے اور باپ کی گواہی اولاد کے حق میں مقبول نہیں تو پیر محمد اکیلا رہ گیا اور ایك کی گواہی مقبول نہیںدرمختارمیں ہے:
لاتقبل(ای الشہادۃ)من الفرع لاصلہ وبالعکس للتھمۃ ۔ تہمت کی وجہ سے فرع کی گواہی اصل اور اس کے برعکس یعنی اصل کی گواہی فرع کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی۔ (ت)
بحرالرائق میں ولوالجیہ سے ہے:
تجوز شہادۃ الابن علی ابیہ بطلاق امرأتہ اذالم تکن لامہ اولضرتھا لانھا شہادۃ علی ابیہ وان کان لامہ او لضرتھا لاتجوز لانھا شہادۃ بیٹے کی گواہی باپ کے خلاف کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے جائزہے بشرطیکہ وہ گواہی اس کے بیٹے کی ماں یا اس کی سوکن کے حق میں نہ ہو کیونکہ یہ گواہی باپ کے خلاف ہے(نہ کہ اس کے حق میں جوناجائز ہے)اور اگر وہ
نصابھا لغیرہا من الحقوق سواء کان الحق مالا اوغیرہ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان ۔ حقوق مذکورہ کے سوادیگر حقوق کے لئے نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں ہے چاہے وہ حق مال ہو یا غیر مال جیسے نکاح وطلاق(ت)
(۳)انجمن کے سامنے صرف دو گواہ گزرے ایك پیر محمد خدمتگار ہوٹل اوڈلینڈ دوسرااخترعلی اسی ہوٹل کا آبدارخدمتگار ان ہوٹل جن کے متعلق شراب وخنزیر وغیرہما حرام ونجس اشیاء کا خریدنا بنانا پکانا کھلانا رہتا ہے ہر گز عادل شرعی نہیں ہوسکتے اور اگر بالفرض یہ لوگ ثقہ بھی ہوں تو اختر علی خود حبیبین مدعیہ کا باپ ہے اور باپ کی گواہی اولاد کے حق میں مقبول نہیں تو پیر محمد اکیلا رہ گیا اور ایك کی گواہی مقبول نہیںدرمختارمیں ہے:
لاتقبل(ای الشہادۃ)من الفرع لاصلہ وبالعکس للتھمۃ ۔ تہمت کی وجہ سے فرع کی گواہی اصل اور اس کے برعکس یعنی اصل کی گواہی فرع کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی۔ (ت)
بحرالرائق میں ولوالجیہ سے ہے:
تجوز شہادۃ الابن علی ابیہ بطلاق امرأتہ اذالم تکن لامہ اولضرتھا لانھا شہادۃ علی ابیہ وان کان لامہ او لضرتھا لاتجوز لانھا شہادۃ بیٹے کی گواہی باپ کے خلاف کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے جائزہے بشرطیکہ وہ گواہی اس کے بیٹے کی ماں یا اس کی سوکن کے حق میں نہ ہو کیونکہ یہ گواہی باپ کے خلاف ہے(نہ کہ اس کے حق میں جوناجائز ہے)اور اگر وہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
درمختار کتاب الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۴€
درمختار کتاب الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۴€
لامہ الخ وقد بسط الکلام ویظہر بھذا ان ھذا ھو اصح مایعتمد علیہ لشھادۃ مسائل کثیرۃ منقولۃ عن الجامع الکبیر۔ گواہی بیٹے کی ماں یا اس کی سوکن کے حق میں ہو تو ناجائز ہے کیونکہ یہ شاہد کی شہادت اس کی ماں کے لئے ہوئی الخ۔ صاحب بحر نے اس پر مفصل کلام کیا اور اس سے ظاہر ہوا کہ یہی اصح اور شہادت کے بارے میں ان مسائل کثیرہ کے لئے معتمد علیہ ہے جو جامع کبیرسے منقول ہے۔(ت)
بالجملہ فیصلہ محض بے بنیاد ہے اور طلاق ہر گز ثابت نہ ہوگی ڈگری غلط دی گئیہاں اگر واقع میں شمس الدین نے حبیبین کو تین طلاقیں دی ہیں تو عورت اس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتااﷲ عزوجل جانتا ہے ہر ظاہر وپوشیدہ کو۔اﷲ سے ڈرے اور حق نہ چھپائےوﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ:۲۱: ازریاست رامپور کوچہ لنگر خانہ مرسلہ سراج الدین صاحب آہنگر ۱۰/رجب مرجب۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اہل اسلام بیچ اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے جو بذات خود اپنے شوہر سے ناراض نہیں ہے اس کا باپ اس کے شوہر سے ناراض ہے اور اس کاباپ چاہتا ہے کہ شوہر اول سے چھڑاکر بجائے دیگر مالدار اس کا عقد کرادے۔عورت اپنے باپ کے پاس اور اس کے قبضہ میں ہے اس کے باپ نے اس عورت کی طرف سے وکالتا دعوی باطلہ اثبات طلاق کا عدالت میں دائر کردیااس مقدمہ میں بذات خود عورت کا بیان یا اظہار نہیں ہواہےشوہر کو دینے طلاق سے قطعا انکار ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو ہر گز ہر گز طلاق نہیں دی ہےعورت کی طرف سے جو گواہان مسموع ہوئے ہیں وہ سب غیر ثقہ اور رشتہ دار اس کے باپ کے ہیں ان کی شہادت مصنوعی اورتعلیمی معلوم ہوتی ہے جس کے بابت عدالت نے جس کے روبرو ان کے اظہارات ہوئے ہیں تحریر کیا ہے کہ ان کے بیان میں وہم صدق بھی نہیں بلکہ گمان غالب کذب ہےشوہر کے طرف سے جو گواہان بطلان دعوی طلاق میں پیش ہوئے ہیں وہ آدمی نیك ونمازی اور حاجی اور معززین اپنی قوم کے چودھری ہیں انہوں نے جو بیانات گفتگوئے صلح باہمی عورت اور اس کے پدر کی زبان کا بہت عرصہ بعد طلاق مبینہ کے لکھ لیا ہے اس سے وقوعہ طلاق غلط اور بے وجود ثابت ہوتا ہے اس لحاظ سے حاکم عدالت نے وقوعہ طلاق کو غیر ثابت قرار دیا ہے اب زوجہ کی طرف سے بناراضی اس حکم کے مرافعہ کیا گیا ہے___________
بالجملہ فیصلہ محض بے بنیاد ہے اور طلاق ہر گز ثابت نہ ہوگی ڈگری غلط دی گئیہاں اگر واقع میں شمس الدین نے حبیبین کو تین طلاقیں دی ہیں تو عورت اس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتااﷲ عزوجل جانتا ہے ہر ظاہر وپوشیدہ کو۔اﷲ سے ڈرے اور حق نہ چھپائےوﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ:۲۱: ازریاست رامپور کوچہ لنگر خانہ مرسلہ سراج الدین صاحب آہنگر ۱۰/رجب مرجب۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اہل اسلام بیچ اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے جو بذات خود اپنے شوہر سے ناراض نہیں ہے اس کا باپ اس کے شوہر سے ناراض ہے اور اس کاباپ چاہتا ہے کہ شوہر اول سے چھڑاکر بجائے دیگر مالدار اس کا عقد کرادے۔عورت اپنے باپ کے پاس اور اس کے قبضہ میں ہے اس کے باپ نے اس عورت کی طرف سے وکالتا دعوی باطلہ اثبات طلاق کا عدالت میں دائر کردیااس مقدمہ میں بذات خود عورت کا بیان یا اظہار نہیں ہواہےشوہر کو دینے طلاق سے قطعا انکار ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو ہر گز ہر گز طلاق نہیں دی ہےعورت کی طرف سے جو گواہان مسموع ہوئے ہیں وہ سب غیر ثقہ اور رشتہ دار اس کے باپ کے ہیں ان کی شہادت مصنوعی اورتعلیمی معلوم ہوتی ہے جس کے بابت عدالت نے جس کے روبرو ان کے اظہارات ہوئے ہیں تحریر کیا ہے کہ ان کے بیان میں وہم صدق بھی نہیں بلکہ گمان غالب کذب ہےشوہر کے طرف سے جو گواہان بطلان دعوی طلاق میں پیش ہوئے ہیں وہ آدمی نیك ونمازی اور حاجی اور معززین اپنی قوم کے چودھری ہیں انہوں نے جو بیانات گفتگوئے صلح باہمی عورت اور اس کے پدر کی زبان کا بہت عرصہ بعد طلاق مبینہ کے لکھ لیا ہے اس سے وقوعہ طلاق غلط اور بے وجود ثابت ہوتا ہے اس لحاظ سے حاکم عدالت نے وقوعہ طلاق کو غیر ثابت قرار دیا ہے اب زوجہ کی طرف سے بناراضی اس حکم کے مرافعہ کیا گیا ہے___________
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الشہادات باب من تقبل شہادتہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۸۱۔۸۰€
___________ چونکہ یہ معاملہ نہایت نازك حلت وحرمت کاہے لہذا حاکم عدالت کو بحال رکھنا فیصلہ حاکم عدالت اول کا اولی ہے یا واقعہ طلاق کو حسب پیروکاران عورت ثابت قرار دینا اولی ہے شرعا اولویت ہر دو امر سے کس میں ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
اس مقدمہ میں نقول تجویزات ابتدائی واپیل نظر سے گزری جلیل القدر مفتی ذی علم مجوز اول نے اس بنا پر کہ گواہان طلاق عادل نہیں اور حاکم کو ان کی تحری صدق نہ ہوئی بلکہ وہم صدق بھی نہ ہوا اور ان کے کذب کاظن غالب ہوا اور ایسے گواہوں میں تاوقتیکہ تحری صدق نہ ہو ان کی شہادت پر عمل حرام ہے اگر قاضی عمل کرے خود آثم و فاسق ومستحق عزل ہوگا دعوی طلاق باطل فرمادیامحکمہ اپیل نے وہ حکم اس بنا پر منسوخ کیا کہ شہادتیں حلفیہ تھیں اور روبکار ریاست سے ثا بت ہے کہ محض اس وجہ پر کہ گواہ مستور ہیں ان کی شہادت کو مسترد نہ کیا جائے گاکہ گواہ کا تزکیہ صرف بذریعہ حلف کافی ہے نیز اس کی یہ تائید پیش کی کہ پدر مدعیہ نے قسم ایسی بحوالہ قرآن شریف لرز کر کھائی کہ مدعا علیہ کچھ بول نہ سکایہ دونوں تجویزوں کا خلاصہ ہےدارالافتاء شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت گار ہے حکم اﷲ ورسول کے لئے ہے " ان الحکم الا للہ " (نہیں ہے حکم مگر اﷲ کے لئے۔ت) کسی شخص کو جب کہ مسلمان ہورعیت ہو خواہ حاکم وافسروالی ملك ہو خواہ سلطان ہفت کشورحکم خدا ورسول کے حضور اصلا مجال دم زدن نہیںالاسلام گردن نہادن نہ کہ گردن کشیدن(اسلام گردن جھکانے کا نام ہے نہ کہ گردن کھینچنے کا۔ت)اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ " کسی مسلمان مرد یا عورت کو نہیں پہنچتا کہ جب اﷲ ورسول کوئی حکم فرمادیں تو انہیں اپنا ذاتی کوئی اختیار باقی رہے اور جس نے اﷲ ورسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑا۔
شریعت محمدیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلوۃ والتحیۃ شریعت ابدیہ غیر منسوخہ ہے قیامت تك جس کا کوئی حکم بدلا نہیں جاسکتا سلطان بلکہ سلطان سے بھی بڑھ کر خلیفہ روئے زمین کو اصلا اختیار نہیں کہ روبکار یا دستور العمل اس کے کسی حکم کے خلاف نافذ کریںنہ ہرگز حکام کو حلال ہے کہ ایسے روبکار وغیرہ پر
الجواب :
اس مقدمہ میں نقول تجویزات ابتدائی واپیل نظر سے گزری جلیل القدر مفتی ذی علم مجوز اول نے اس بنا پر کہ گواہان طلاق عادل نہیں اور حاکم کو ان کی تحری صدق نہ ہوئی بلکہ وہم صدق بھی نہ ہوا اور ان کے کذب کاظن غالب ہوا اور ایسے گواہوں میں تاوقتیکہ تحری صدق نہ ہو ان کی شہادت پر عمل حرام ہے اگر قاضی عمل کرے خود آثم و فاسق ومستحق عزل ہوگا دعوی طلاق باطل فرمادیامحکمہ اپیل نے وہ حکم اس بنا پر منسوخ کیا کہ شہادتیں حلفیہ تھیں اور روبکار ریاست سے ثا بت ہے کہ محض اس وجہ پر کہ گواہ مستور ہیں ان کی شہادت کو مسترد نہ کیا جائے گاکہ گواہ کا تزکیہ صرف بذریعہ حلف کافی ہے نیز اس کی یہ تائید پیش کی کہ پدر مدعیہ نے قسم ایسی بحوالہ قرآن شریف لرز کر کھائی کہ مدعا علیہ کچھ بول نہ سکایہ دونوں تجویزوں کا خلاصہ ہےدارالافتاء شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت گار ہے حکم اﷲ ورسول کے لئے ہے " ان الحکم الا للہ " (نہیں ہے حکم مگر اﷲ کے لئے۔ت) کسی شخص کو جب کہ مسلمان ہورعیت ہو خواہ حاکم وافسروالی ملك ہو خواہ سلطان ہفت کشورحکم خدا ورسول کے حضور اصلا مجال دم زدن نہیںالاسلام گردن نہادن نہ کہ گردن کشیدن(اسلام گردن جھکانے کا نام ہے نہ کہ گردن کھینچنے کا۔ت)اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ " کسی مسلمان مرد یا عورت کو نہیں پہنچتا کہ جب اﷲ ورسول کوئی حکم فرمادیں تو انہیں اپنا ذاتی کوئی اختیار باقی رہے اور جس نے اﷲ ورسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑا۔
شریعت محمدیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلوۃ والتحیۃ شریعت ابدیہ غیر منسوخہ ہے قیامت تك جس کا کوئی حکم بدلا نہیں جاسکتا سلطان بلکہ سلطان سے بھی بڑھ کر خلیفہ روئے زمین کو اصلا اختیار نہیں کہ روبکار یا دستور العمل اس کے کسی حکم کے خلاف نافذ کریںنہ ہرگز حکام کو حلال ہے کہ ایسے روبکار وغیرہ پر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۲ /۴۰€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۶€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۶€
عمل کریںنہ ہرگز حاکمان مرافعہ کو جائز ہوسکتا ہے کہ ایسے کسی حکم کو برقرار رکھیںمسلمان حاکم یا رئیس یا سلطان کیونکر ان سخت جانگزا وعیدوں کو سہوومحو کرسکتے ہیںجو واحد قہار عزجلالہ نے قرآن عظیم میں " ومن لم یحکم بما انزل اللہ" (جو اﷲ تعالی کے نازل کئے ہوئے پر فیصلہ نہ کرے۔ت)پر فرمائی ہیںشریعت مطہرہ کے حکم سے اولا مفتی محکمہ ابتدائی کا وہ حکم سرے سے قابل اپیل ہی نہ تھا محکمہ ججی پر لازم تھا اپیل سنتا ہی نہیں کہ وہ حکم ایك عام حاکم عالم عادل نے کیا تھا اور ایسے حکم کا مرافعہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب اس سے یقینا حکم میں خطائے بین واضح ظاہر واقع ہوئی ہو جس میں اصلا جائے تردد نہیں یہاں تك کہ اگر اس کا حکم خطا ہونا محتمل ومشکوك ہو جب بھی اپیل مسموع نہیں کہ احتمال خطا ظہور خطا نہیں نہ کہ حکم صاف صواب مطابق شرع واقع ہو پھر اپیل کی جائے ایسی اپیل زنہار قابل سماعت نہیںمعین الحکام میں ہے:
القاضی نظرہ فی احکام غیرہ مختلففاما العالم العدل فلا یعترض لاحکامہ بوجہ قال ابوحامد علی القاضی ان لایتعرض لقضیۃ امضاھا الاول الاعلی وجہ التجویز لہا ان عرض فیہا عارض بوجہ خصومۃ فاما علی وجہ الکشف لہا والتعقیب فلا وان سألہ الخصم ذلکوھذا فیما جہل حالہ من احکامہ ھل و افق الحق اوخالفہ فہذا الوجہ الذی نفی عنہ الکشف والتعقیب الا ان یظہر لہ خطابین ظاھر لم یختلف فیہ وثبت ذلك عندہ فیردہ ویفسخہ عن المحکوم بہ علیہ ۔ قاضی کا دوسرے قاضی کے فیصلوں پر نظر کرنا مختلف فیہ ہے لیکن عالم عادل قاضی کے فیصلوں میں کسی طرح تعرض نہیں کیا جائیگا۔ابوحامد نے کہا قاضی پر واجب ہے کہ وہ کسی ایسے فیصلہ کا تعرض نہ کرے جسے قاضی اول نافذ کرچکا ہے ہاں اس فیصلہ کو جائز قرار دینے کے لئے تعرض کرے گا جبکہ بطور خصومت اس فیصلہ کو کوئی عارضہ لاحق ہولیکن بطور تفتیش ومواخذہ اس کا تعرض نہیں کرسکتا اگرچہ فریق مخالف اس کا مطالبہ کرےاور یہ اس صورت میں ہے جب قاضی اول کے فیصلے کا حال مجہول ہو کہ وہ حق کے موافق ہے یا مخالف اور تفتیش ومواخذہ کی نفی کاتعلق بھی اسی صورت کے ساتھ ہے مگر جب قاضی اول کے فیصلہ میں کھلم کھلا خطا ہو جس میں کسی کو اختلاف نہ ہو اور قاضی ثانی کے ہاں وہ پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو وہ قاضی اول کے فیصلہ کو منسوخ اور محکوم بہ سے اسے رد کرسکتا ہے۔(ت)
القاضی نظرہ فی احکام غیرہ مختلففاما العالم العدل فلا یعترض لاحکامہ بوجہ قال ابوحامد علی القاضی ان لایتعرض لقضیۃ امضاھا الاول الاعلی وجہ التجویز لہا ان عرض فیہا عارض بوجہ خصومۃ فاما علی وجہ الکشف لہا والتعقیب فلا وان سألہ الخصم ذلکوھذا فیما جہل حالہ من احکامہ ھل و افق الحق اوخالفہ فہذا الوجہ الذی نفی عنہ الکشف والتعقیب الا ان یظہر لہ خطابین ظاھر لم یختلف فیہ وثبت ذلك عندہ فیردہ ویفسخہ عن المحکوم بہ علیہ ۔ قاضی کا دوسرے قاضی کے فیصلوں پر نظر کرنا مختلف فیہ ہے لیکن عالم عادل قاضی کے فیصلوں میں کسی طرح تعرض نہیں کیا جائیگا۔ابوحامد نے کہا قاضی پر واجب ہے کہ وہ کسی ایسے فیصلہ کا تعرض نہ کرے جسے قاضی اول نافذ کرچکا ہے ہاں اس فیصلہ کو جائز قرار دینے کے لئے تعرض کرے گا جبکہ بطور خصومت اس فیصلہ کو کوئی عارضہ لاحق ہولیکن بطور تفتیش ومواخذہ اس کا تعرض نہیں کرسکتا اگرچہ فریق مخالف اس کا مطالبہ کرےاور یہ اس صورت میں ہے جب قاضی اول کے فیصلے کا حال مجہول ہو کہ وہ حق کے موافق ہے یا مخالف اور تفتیش ومواخذہ کی نفی کاتعلق بھی اسی صورت کے ساتھ ہے مگر جب قاضی اول کے فیصلہ میں کھلم کھلا خطا ہو جس میں کسی کو اختلاف نہ ہو اور قاضی ثانی کے ہاں وہ پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو وہ قاضی اول کے فیصلہ کو منسوخ اور محکوم بہ سے اسے رد کرسکتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵ /۴۴€
معین الحکام کتاب القضاۃ فصل فی نقض القاضی احکام غیرہ مصطفی البابی ∞مصر ص۳۰€
معین الحکام کتاب القضاۃ فصل فی نقض القاضی احکام غیرہ مصطفی البابی ∞مصر ص۳۰€
اسی میں ہے:
قیام المحکوم علیہ بطلب الحکم عنہ ان کان قیامہ علی القاضی العالم العادل لم تسمع دعواہ ۔ محکوم علیہ اگر اپنے خلاف فیصلہ کی منسوخی کا مطالبہ کرے تو عالم عادل قاضی کے خلاف اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
فواکہ بدریہ پھر غمز العیون قاعدہ اولی نوع ثانی میں ہے:
قضاء القاضی العدل لایتعقب ویحمل حالہ علی السداد بخلاف غیرہ ۔ عادل قاضی کے فیصلہ پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے حال کو درستگی پر محمول کیا جائے گا بخلاف غیر عادل قاضی کے۔ (ت)
ثانیا: گواہوں پر حلف رکھنا اول: تو خود ہی باطل ہے یہاں تك کہ ہمارے علمائے کرام نے فرمایا اگر سلطان قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے علماء پر فرض ہے کہ اسے نصیحت کریں کہ اے بادشاہ ! وہ حکم نہ دے کہ نہ مانیں تو تیرا غضب ہو اور مانیں تو اﷲ عزوجل کا غضب۔ اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
وھذا نظم الدرامرالسلطان انما ینفذ اذا وافق الشرع والافلااشباہ من القاعدۃ الخامسۃ وفوائد شتیفلو امر قضاتہ بتحلیف الشہود وجب علی العلماء ان ینصحوہ یقولوالہ لاتکلف قضاتك الی امر یلزم منہ سخطك او سخط الخالق تعالی ۔ یہ در کی عبارت ہے کہ امر سلطان اسی وقت نافذ ہوگا جب موافق شرع ہو ورنہ نہیںاشباہ کے پانچویں قاعدے اور فوائدمتفرقہ میں ہے کہ اگر سلطان اپنے قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے تو علماء پر واجب ہے کہ اس کو نصیحت کریں اور کہیں کہ تو اپنے قاضیوں کو ایسی چیز کا مکلف مت بنا جس سے تیری(بصورت ترک)یا اﷲ تعالی کی(بصورت عمل)ناراضگی لازم آئے۔(ت)
ولہذا علامہ محقق علی مقدسی نے تہذیب کا کلام آئندہ نقل کرکے رد فرمایا۔منحۃ الخالق
قیام المحکوم علیہ بطلب الحکم عنہ ان کان قیامہ علی القاضی العالم العادل لم تسمع دعواہ ۔ محکوم علیہ اگر اپنے خلاف فیصلہ کی منسوخی کا مطالبہ کرے تو عالم عادل قاضی کے خلاف اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
فواکہ بدریہ پھر غمز العیون قاعدہ اولی نوع ثانی میں ہے:
قضاء القاضی العدل لایتعقب ویحمل حالہ علی السداد بخلاف غیرہ ۔ عادل قاضی کے فیصلہ پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے حال کو درستگی پر محمول کیا جائے گا بخلاف غیر عادل قاضی کے۔ (ت)
ثانیا: گواہوں پر حلف رکھنا اول: تو خود ہی باطل ہے یہاں تك کہ ہمارے علمائے کرام نے فرمایا اگر سلطان قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے علماء پر فرض ہے کہ اسے نصیحت کریں کہ اے بادشاہ ! وہ حکم نہ دے کہ نہ مانیں تو تیرا غضب ہو اور مانیں تو اﷲ عزوجل کا غضب۔ اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
وھذا نظم الدرامرالسلطان انما ینفذ اذا وافق الشرع والافلااشباہ من القاعدۃ الخامسۃ وفوائد شتیفلو امر قضاتہ بتحلیف الشہود وجب علی العلماء ان ینصحوہ یقولوالہ لاتکلف قضاتك الی امر یلزم منہ سخطك او سخط الخالق تعالی ۔ یہ در کی عبارت ہے کہ امر سلطان اسی وقت نافذ ہوگا جب موافق شرع ہو ورنہ نہیںاشباہ کے پانچویں قاعدے اور فوائدمتفرقہ میں ہے کہ اگر سلطان اپنے قاضیوں کو گواہوں سے حلف لینے کا حکم دے تو علماء پر واجب ہے کہ اس کو نصیحت کریں اور کہیں کہ تو اپنے قاضیوں کو ایسی چیز کا مکلف مت بنا جس سے تیری(بصورت ترک)یا اﷲ تعالی کی(بصورت عمل)ناراضگی لازم آئے۔(ت)
ولہذا علامہ محقق علی مقدسی نے تہذیب کا کلام آئندہ نقل کرکے رد فرمایا۔منحۃ الخالق
حوالہ / References
معین الحکام کتاب القضاۃ فصل فی قیام المحکوم علیہ بطلب فسخ الحکم عنہ مصطفی البابی ∞مصر ص۳۴€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۴۲€
درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۱€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۴۲€
درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۱€
میں ہے:
قال العلامۃ المقدسی بعد ذکر مافی التہذیب لا یخفی انہ مخالف لما فی الکتب المعتمدۃ ۔ علامہ مقدسی نے تہذیب کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ کتب معتمدہ کی تصریحات کے مخالف ہے۔ (ت)
دوم بعض متاخرین کہ برخلاف مذہب اس طرف گئے وہ اسے قاضی مجتہد کی رائے پر رکھتے ہیں اور اب صدہا سال سے کوئی قاضی مجتہد نہیںابوالسعود ازہری پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے:
نقل عن الصیر فیۃ جواز التحلیف وھو مقید بما اذاراہ القاضی جائزاای بان کان ذارأی اما اذالم یکن لہ رأی فلا ۔ صیرفیہ سے منقول ہے کہ گواہوں سے حلف لینا جائز ہےیہ جواز مقید ہے اس صورت کے ساتھ کہ قاضی اس کو جائز سمجھے جبکہ قاضی اہل رائے ہو اور اگر وہ اہل رائے نہ ہو تو حلف مذکور جائز نہ ہوگا۔(ت)
شامی میں ہے:
والمراد بالرأی الاجتہاد ۔ رائے سے مراد اجتہاد ہے۔(ت)
سوم اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان بعض کا بر خلاف مذہب اس طرف میل اس ضرورت سے تھا کہ حلف کے سبب حاکم کو ان کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہوبحر میں تہذیب قلانسی سے ہے:
فی زماننا لما تعذرت التزکیۃ بغلبۃ الفسق اختار القضاۃ کما اختارابن ابی لیلی استحلاف الشہود لغلبۃ الظن ۔ ہمارے زمانے میں چونکہ فسق کے غلبہ کی وجہ سے گواہوں کا تزکیہ متعذر ہوگیا ہے لہذا غلبہ ظن کے حصول کے لئے قاضیوں نے گواہوں سے حلف لینے کو اختیار کیا جیسا کہ ابن ابی لیلی کا مختار ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہ ان متاخرین کے زمانے تك تھا جب تك جھوٹے حلف سے مستور لوگ پرہیز کرتے تھے
قال العلامۃ المقدسی بعد ذکر مافی التہذیب لا یخفی انہ مخالف لما فی الکتب المعتمدۃ ۔ علامہ مقدسی نے تہذیب کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ کتب معتمدہ کی تصریحات کے مخالف ہے۔ (ت)
دوم بعض متاخرین کہ برخلاف مذہب اس طرف گئے وہ اسے قاضی مجتہد کی رائے پر رکھتے ہیں اور اب صدہا سال سے کوئی قاضی مجتہد نہیںابوالسعود ازہری پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے:
نقل عن الصیر فیۃ جواز التحلیف وھو مقید بما اذاراہ القاضی جائزاای بان کان ذارأی اما اذالم یکن لہ رأی فلا ۔ صیرفیہ سے منقول ہے کہ گواہوں سے حلف لینا جائز ہےیہ جواز مقید ہے اس صورت کے ساتھ کہ قاضی اس کو جائز سمجھے جبکہ قاضی اہل رائے ہو اور اگر وہ اہل رائے نہ ہو تو حلف مذکور جائز نہ ہوگا۔(ت)
شامی میں ہے:
والمراد بالرأی الاجتہاد ۔ رائے سے مراد اجتہاد ہے۔(ت)
سوم اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان بعض کا بر خلاف مذہب اس طرف میل اس ضرورت سے تھا کہ حلف کے سبب حاکم کو ان کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہوبحر میں تہذیب قلانسی سے ہے:
فی زماننا لما تعذرت التزکیۃ بغلبۃ الفسق اختار القضاۃ کما اختارابن ابی لیلی استحلاف الشہود لغلبۃ الظن ۔ ہمارے زمانے میں چونکہ فسق کے غلبہ کی وجہ سے گواہوں کا تزکیہ متعذر ہوگیا ہے لہذا غلبہ ظن کے حصول کے لئے قاضیوں نے گواہوں سے حلف لینے کو اختیار کیا جیسا کہ ابن ابی لیلی کا مختار ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہ ان متاخرین کے زمانے تك تھا جب تك جھوٹے حلف سے مستور لوگ پرہیز کرتے تھے
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۶۳€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
بحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۶۳€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
بحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۶۳€
خصوصا پرائے لئےاور اس زمانے میں جھوٹے حلف ایك بات ہوگئے لاکھوں کی گنتی پر ہوں گے جو روپے دو روپے بلکہ اس سے بھی کم پر بلکہ نری خاطردوستی یا فریق ثانی سے ادنی رنجش یا کسی خفیف بے معنی غرض کے لئے حلف کے پھنکے اڑاتے ہیں تو وہ ضرورت جس کے لئے مذہب سے عدول ہو تا ہو اصلا مندفع نہیںاب یہیں دیکھئے کہ یہ گواہیاں حلفی تھیں اورتجربہ کار دانا ذی علم مجوز کو غلبہ وظن صدق درکنار وہم صدق بھی نہ ہوابلکہ غلبہ ظن کذب ہی رہاہر عاقل جانتا ہے کہ اب اگر صرف حلف گواہان کو قائم مقام تزکیہ مانا جائے تو ہزاراں ہزاردروازہ ظلم کھل جائیں لوگ چار چار آنے کے دو گواہ حلفی گزار کر مخلوق کی جائدادیں لے جائیں جو روئیں چھین لیں وہ فساد اٹھے جس کا بیان ناممکن ہو تو اب اس قول مرجوح بلکہ مخالف اجماع مذہب کے طرف میل باطل محض وخرق اجماع و جہل صرف تو تھا ہی کہ درمختار میں ہے:
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ قول مرجوح پر فیصلہ اور فتوی دینا جہل اور خلاف اجماع ہے۔ (ت)
فتح ابواب ظلم وقطع گردن مظلومان بھی ہو گا ولایرضاہ من لہ عقل ودین(کوئی عاقل اوردیندار اس کو پسند نہیں کرتا۔ت) سائل اولیت پوچھتا ہے کہ فیصلہ اول بحال رکھنا اولی ہے یا طلاق ثابت قرار دینااولویت کیسیحاکم مرافعہ اولی کہ شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اطاعت چاہے اور احکم الحاکمین جل جلالہ کے دربار میں اپنی حاضری وباز پرس سے ڈرے اس پر لازم فرض ہوگا کہ حکم ججی کو منسوخ اور فیصلہ اولی کو بحال کرے۔رہی وہ تائید کہ پدرمدعیہ نے لرز کر حلف کیا اور مدعا علیہ نہ بولا ایسی بات ہے جسے نہ شرع سے تعلق نہ علم سے لگاؤ۔پدر مدعیہ یہاں خود مدعی مخاصم ہے مدعی کا حلف اگر سن لیا جائے تو ہر جھوٹا جیتے اور حق وانصاف کے گلے کا تسمہ نہ لگارہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو یعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال و اموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما۔ اگر لوگوں کو ان کے دعوی کے سبب سے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعوی کرینگے لیکن قسم مدعی علیہ پر ہے۔اس کو شیخین نے سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ قول مرجوح پر فیصلہ اور فتوی دینا جہل اور خلاف اجماع ہے۔ (ت)
فتح ابواب ظلم وقطع گردن مظلومان بھی ہو گا ولایرضاہ من لہ عقل ودین(کوئی عاقل اوردیندار اس کو پسند نہیں کرتا۔ت) سائل اولیت پوچھتا ہے کہ فیصلہ اول بحال رکھنا اولی ہے یا طلاق ثابت قرار دینااولویت کیسیحاکم مرافعہ اولی کہ شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اطاعت چاہے اور احکم الحاکمین جل جلالہ کے دربار میں اپنی حاضری وباز پرس سے ڈرے اس پر لازم فرض ہوگا کہ حکم ججی کو منسوخ اور فیصلہ اولی کو بحال کرے۔رہی وہ تائید کہ پدرمدعیہ نے لرز کر حلف کیا اور مدعا علیہ نہ بولا ایسی بات ہے جسے نہ شرع سے تعلق نہ علم سے لگاؤ۔پدر مدعیہ یہاں خود مدعی مخاصم ہے مدعی کا حلف اگر سن لیا جائے تو ہر جھوٹا جیتے اور حق وانصاف کے گلے کا تسمہ نہ لگارہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو یعطی الناس بدعواھم لادعی ناس دماء رجال و اموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما۔ اگر لوگوں کو ان کے دعوی کے سبب سے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعوی کرینگے لیکن قسم مدعی علیہ پر ہے۔اس کو شیخین نے سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵€
صحیح مسلم کتاب الاقضیہ باب الیمین علی المدعی علیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۴،€صحیح البخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالٰی ان الذین یشترون بعہداﷲ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۵۳€
صحیح مسلم کتاب الاقضیہ باب الیمین علی المدعی علیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۴،€صحیح البخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالٰی ان الذین یشترون بعہداﷲ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۵۳€
ریاست اسلامی کے حکام پر لازم ہے کہ احکام اسلام ہی کا اتباع کریں اﷲتعالی توفیق دےآمین۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲: مسئولہ ابومحمد یوسف حسین متعلم مدرسہ اسلامیہ ساپور ۲۰ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اور بھائی عمرو موجود ہیںہندہ نے جائداد کا دعوی کیا ہےعمرویہ ثابت کرتا ہے کہ نکاح نہیں ہواہندہ کی طرف سے ناکح نے شہادت دی ہے کہ میں نے نکاح پڑھا ہےاور ہندہ کی بہن فاطمہ نے بھی شہادت دی ہے کہ نکاح ہواشاہدین انکار کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عمرو کے ملازم ہیںمگر بہت سے لوگ جن سے زید نے اپنے نکاح کا اقرار کیا ہے شہادت دیتے ہیں کہ ہم سے زید نے نکاح کا اقرار کیا ہےایسی صورت میں ہندہ مستحق جائداد ہے یانہیںفتح القدیر میں ایك صورت درج ہے جو تحریر کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائی جائے اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شہادت علی اقرار الزوج معتبر ہے:
واذاجحد احد الزوجین النکاح فاما اصلہ او شرطہ ففی اصلہ لوجحد الزوج فاقامت بینۃ بہ اوعلی اقرارہ قبلت ولایکون جحودہ طلاقا ۔
فتح القدیرص۱۵س۱۳مطبوعہ نولکشورلکھنؤ۔ اگر زوجین میں سے کوئی اصل نکاح یا شرط نکاح کا انکار کردے تو اصل کی صورت میں اگر زوج منکر ہے اور زوجہ نے نکاح پر یا شوہر کے اقرار پر گواہ قائم کردئے تو ان کی گواہی قبول کرلی جائے گی اور شوہر کاانکار طلاق نہ ہوگا۔(ت)
امید کہ جوا ب براہ کرم جلد مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب:
نکاح پڑھانے والے کی گواہی مذکور معتبر نہیں لانھا شہادۃ علی فعل نفسہ وشہادۃ المرء علی فعل نفسہ لاتقبل کما فی خزانۃ وغیرہا (کیونکہ یہ اپنے ہی فعل پر گواہی ہے اورکسی شخص کی گواہی اس کے اپنے فعل سے قبول نہیں کی جاتی جیسا کہ خزانہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور بہن تنہاشاہد ہے بلکہ نصفالبتہ اقرار زوج پر اگر دو شاہد قابل قبول گواہی دیتے ہیں تو کافی ہے کہ وارثان زوج قائم مقام زوج ہیں اور اقرار زوج زوج پر حجت اور اس کے لئے عبارت مذکور فتح القدیر کفایت۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲: مسئولہ ابومحمد یوسف حسین متعلم مدرسہ اسلامیہ ساپور ۲۰ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اور بھائی عمرو موجود ہیںہندہ نے جائداد کا دعوی کیا ہےعمرویہ ثابت کرتا ہے کہ نکاح نہیں ہواہندہ کی طرف سے ناکح نے شہادت دی ہے کہ میں نے نکاح پڑھا ہےاور ہندہ کی بہن فاطمہ نے بھی شہادت دی ہے کہ نکاح ہواشاہدین انکار کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عمرو کے ملازم ہیںمگر بہت سے لوگ جن سے زید نے اپنے نکاح کا اقرار کیا ہے شہادت دیتے ہیں کہ ہم سے زید نے نکاح کا اقرار کیا ہےایسی صورت میں ہندہ مستحق جائداد ہے یانہیںفتح القدیر میں ایك صورت درج ہے جو تحریر کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائی جائے اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شہادت علی اقرار الزوج معتبر ہے:
واذاجحد احد الزوجین النکاح فاما اصلہ او شرطہ ففی اصلہ لوجحد الزوج فاقامت بینۃ بہ اوعلی اقرارہ قبلت ولایکون جحودہ طلاقا ۔
فتح القدیرص۱۵س۱۳مطبوعہ نولکشورلکھنؤ۔ اگر زوجین میں سے کوئی اصل نکاح یا شرط نکاح کا انکار کردے تو اصل کی صورت میں اگر زوج منکر ہے اور زوجہ نے نکاح پر یا شوہر کے اقرار پر گواہ قائم کردئے تو ان کی گواہی قبول کرلی جائے گی اور شوہر کاانکار طلاق نہ ہوگا۔(ت)
امید کہ جوا ب براہ کرم جلد مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب:
نکاح پڑھانے والے کی گواہی مذکور معتبر نہیں لانھا شہادۃ علی فعل نفسہ وشہادۃ المرء علی فعل نفسہ لاتقبل کما فی خزانۃ وغیرہا (کیونکہ یہ اپنے ہی فعل پر گواہی ہے اورکسی شخص کی گواہی اس کے اپنے فعل سے قبول نہیں کی جاتی جیسا کہ خزانہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور بہن تنہاشاہد ہے بلکہ نصفالبتہ اقرار زوج پر اگر دو شاہد قابل قبول گواہی دیتے ہیں تو کافی ہے کہ وارثان زوج قائم مقام زوج ہیں اور اقرار زوج زوج پر حجت اور اس کے لئے عبارت مذکور فتح القدیر کفایت۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب النکاح ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۱۱۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشہادات فصل ومن الشہادۃ الباطلۃ الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۴۳€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشہادات فصل ومن الشہادۃ الباطلۃ الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۴۳€
مسئلہ۲۳:ازاحمد آباد گجرات محلہ چھیپان پانچ پیپلی مکان چھیپان سلطان جی علی جی کوڑے والے مسئولہ پیر زادہ غلام نبی صاحب ۱۷/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں کہ ان دنوں شہر ناگور ضلع جو دھپور مارواڑ میں ایك انجمن کمیٹی مدرسہ اسلامیہ حمیدیہ کے نام سے مقرر ہوئی جس میں ممبران ومنتظمان بازار کے بیٹھنے والے مثل دکاندار کفن وخوشبوفروش برائے مردہ ودلال ہیں ان کی شہادت شرع شریف کے نزدیك مقبول یاباطلاور ایسے اشخاص قابل ممبر مدرسہ ہوسکتے ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہمارے بلاد میں کوئی پیشہ ور صرف کفن فروشی پر قناعت نہیں کرتا بزاز کپڑا بیچتا ہے اسی سے کفن بھی لیا جاتا ہے اسی سے شادی کے کپڑے اسی سے روزانہ پہننے کے۔یونہی کوئی خاص حنوط فروش بھی نہیں کافور وغیرہ عام کاموں کے لئے جن دکانوں سے ملتے ہیں انہیں سے اس کے لئے بھی حاصل کئے جاتے ہیں اس کی وجہ سے ان کی شہادت میں کوئی فرق نہیں آسکتا ہاں دلال کاکام وکلاء کی طرح جھوٹ سچ ملانا ہے اور ان کی گواہی ضرور مردوداور انہیں کسی جلسہ دینیہ کا منتظم بنانا نہ چاہئے۔اسی طرح وکلاء مختار وغیرہم تمام ان لوگوں کو جن کے پیشے یادیگر افعال علانیہ فسق ہوں جیسے داڑھی منڈانا وغیرہ۔تبیین الحقائق میں ہے:
لانہ فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے جبکہ مسلمانوں پر ان کی توہین شرعا واجب ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم
___________________
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں کہ ان دنوں شہر ناگور ضلع جو دھپور مارواڑ میں ایك انجمن کمیٹی مدرسہ اسلامیہ حمیدیہ کے نام سے مقرر ہوئی جس میں ممبران ومنتظمان بازار کے بیٹھنے والے مثل دکاندار کفن وخوشبوفروش برائے مردہ ودلال ہیں ان کی شہادت شرع شریف کے نزدیك مقبول یاباطلاور ایسے اشخاص قابل ممبر مدرسہ ہوسکتے ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہمارے بلاد میں کوئی پیشہ ور صرف کفن فروشی پر قناعت نہیں کرتا بزاز کپڑا بیچتا ہے اسی سے کفن بھی لیا جاتا ہے اسی سے شادی کے کپڑے اسی سے روزانہ پہننے کے۔یونہی کوئی خاص حنوط فروش بھی نہیں کافور وغیرہ عام کاموں کے لئے جن دکانوں سے ملتے ہیں انہیں سے اس کے لئے بھی حاصل کئے جاتے ہیں اس کی وجہ سے ان کی شہادت میں کوئی فرق نہیں آسکتا ہاں دلال کاکام وکلاء کی طرح جھوٹ سچ ملانا ہے اور ان کی گواہی ضرور مردوداور انہیں کسی جلسہ دینیہ کا منتظم بنانا نہ چاہئے۔اسی طرح وکلاء مختار وغیرہم تمام ان لوگوں کو جن کے پیشے یادیگر افعال علانیہ فسق ہوں جیسے داڑھی منڈانا وغیرہ۔تبیین الحقائق میں ہے:
لانہ فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے جبکہ مسلمانوں پر ان کی توہین شرعا واجب ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم
___________________
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدیث فی الصلوٰۃ مطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
کتاب القضاء و الدعاوی
(قضاء اور دعوی کا بیان)
مسئلہ۲۴: ازرام پور ۱۳/ربیع الاول شریف۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد فوت ہوئیبعد وفات ہندہ کے زید اجنبی اپنے آپ کو شوہر ہندہ ظاہر کرتاہے اور ثبوت دعوی میں دو مرد اور دو عورتیں پیش کرتا ہےمردوں کا یہ بیان ہے کہ ہندہ نے جو ہم سے پردہ کرتی تھی پردے کے اندر سے نکاح خواہ کو جو باہر بیٹھا تھا اجازت دی کہ میرا نکاح زید کے ساتھ پڑھادومسماۃ مکان کے اندر اور ہم سب لوگ صحن میں باہر بیٹھے تھےعورتوں کا بیان ہے کہ ہم مسماۃ ہندہ کے قریب بیٹھے تھے مسماۃمتوفیہ نے نکاح کا خود اقرار کیا تھااس صورت میں دعوی زید کا ثابت ہوا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر گواہان مذکور کا بیان صرف اسی قدر ہے جو سائل نے تحریر کیا تو وہ شہادتیں محض ناکافی و بیکار ہیں قطع نظر بہت وجوہ خلل ونقصان کے دونوں مردوں کی گواہی اثبات زوجیت سے متعلق ہی نہیںنہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا نہ یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس کی زوجہ تھی بلکہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہندہ نے فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل کیا اس سے اگر ثابت ہوگی تو اس کی وکالتاور وکالت مستلزم وقوع تزویج نہیں کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)تو دعوائے مدعی وبیان گواہان اصلا مطابق
(قضاء اور دعوی کا بیان)
مسئلہ۲۴: ازرام پور ۱۳/ربیع الاول شریف۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد فوت ہوئیبعد وفات ہندہ کے زید اجنبی اپنے آپ کو شوہر ہندہ ظاہر کرتاہے اور ثبوت دعوی میں دو مرد اور دو عورتیں پیش کرتا ہےمردوں کا یہ بیان ہے کہ ہندہ نے جو ہم سے پردہ کرتی تھی پردے کے اندر سے نکاح خواہ کو جو باہر بیٹھا تھا اجازت دی کہ میرا نکاح زید کے ساتھ پڑھادومسماۃ مکان کے اندر اور ہم سب لوگ صحن میں باہر بیٹھے تھےعورتوں کا بیان ہے کہ ہم مسماۃ ہندہ کے قریب بیٹھے تھے مسماۃمتوفیہ نے نکاح کا خود اقرار کیا تھااس صورت میں دعوی زید کا ثابت ہوا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر گواہان مذکور کا بیان صرف اسی قدر ہے جو سائل نے تحریر کیا تو وہ شہادتیں محض ناکافی و بیکار ہیں قطع نظر بہت وجوہ خلل ونقصان کے دونوں مردوں کی گواہی اثبات زوجیت سے متعلق ہی نہیںنہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا نہ یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس کی زوجہ تھی بلکہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہندہ نے فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل کیا اس سے اگر ثابت ہوگی تو اس کی وکالتاور وکالت مستلزم وقوع تزویج نہیں کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)تو دعوائے مدعی وبیان گواہان اصلا مطابق
نہیںاور قاعدہ کلیہ ہے کہ ایسی شہادت محض مہمل ہوتی ہے۔
فی الفتاوی الہندیۃ والخیریۃ وغیرہما الشہادۃ ان وافقت الدعوی قبلت والالا ۔ فتاوی ہندیہ وخیریہ وغیرہما میں ہے شہادت جب دعوی کے موافق ہو قبول ہے ورنہ نہیں۔(ت)
رہیں دونوں عورتیں ان کا بیان بھی اگر اور وجوہ سے سالم مان لیا جائے تو یوں نامقبول ہے کہ نصاب کامل نہیں تنہا عورتوں کی گواہی ہر گز مثبت نکاح نہیں ہوسکتی
فی الدرالمختار نصابہا لغیرہا من الحقوق کنکاح رجلان اورجل وامرأتان ولم تقبل شہادۃ اربع بلا رجل اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے:شہادت کا نصاب حقوق وغیرہ مثلا نکاح میں دو مرد یا ایك مرداور دو عورتیںاور مرد کے بغیر چار عورتوں کی شہادت مقبول نہیں اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۵: ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹا سا کوچہ غیر نافذہ چند قدم کی مسافت کا جس میں گنتی کے گھرہیںشارع عام سے مغرب کی طرف جاکر شمال پھر مغرب پھر شمال کو گیا اور سرستہ ہوگیا اس کوچہ کے سرے پر زید کا مکان واقع ہے جس کی شرقی دیوار میں شرق رویہ دروازہ شارع عام کے قریب ہے اور اس کے آگے چند گز کا صحن جس سے اترتے ہی شارع عام کا کنارہ ہے اس مکان کی جنوبی ومغربی دیواریں اس کوچہ غیر نافذہ میں ہیں زید نے دیوار جنوبی میں ایك جدید دروازہ کوچہ سربستہ کی طرف نکالاا ور اس کے آگے خاص اس راستے کی زمین میں ایك سیڑھی دروازہ پر جانے کو بنائی بعض ساکنان کوچہ اس فعل پر ناراض ہیں آیا یہ دروازہ نکالنا اور سیڑھی بنانا اسے جائز تھا یا ناجائزاور وہ اس فعل سے گنہگار ہوا یا نہیں اور اس نے حق غیر میں ناحق تصرف کرکے ظلم کیا یا نہیں اور اس سیڑھی کا کھودڈالنا اور دروازے کا بند کردینا شرعا اس پر واجب ہے یانہیں اور ایسے تصرف کے جائز ہونے کے لئے تمام ساکنان کوچہ کی رضامندی چاہئے یا اکثر کی رضاکافی ہے اگرچہ بعض ناراض ہوں۔ بینوا توجروا۔
فی الفتاوی الہندیۃ والخیریۃ وغیرہما الشہادۃ ان وافقت الدعوی قبلت والالا ۔ فتاوی ہندیہ وخیریہ وغیرہما میں ہے شہادت جب دعوی کے موافق ہو قبول ہے ورنہ نہیں۔(ت)
رہیں دونوں عورتیں ان کا بیان بھی اگر اور وجوہ سے سالم مان لیا جائے تو یوں نامقبول ہے کہ نصاب کامل نہیں تنہا عورتوں کی گواہی ہر گز مثبت نکاح نہیں ہوسکتی
فی الدرالمختار نصابہا لغیرہا من الحقوق کنکاح رجلان اورجل وامرأتان ولم تقبل شہادۃ اربع بلا رجل اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے:شہادت کا نصاب حقوق وغیرہ مثلا نکاح میں دو مرد یا ایك مرداور دو عورتیںاور مرد کے بغیر چار عورتوں کی شہادت مقبول نہیں اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۵: ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹا سا کوچہ غیر نافذہ چند قدم کی مسافت کا جس میں گنتی کے گھرہیںشارع عام سے مغرب کی طرف جاکر شمال پھر مغرب پھر شمال کو گیا اور سرستہ ہوگیا اس کوچہ کے سرے پر زید کا مکان واقع ہے جس کی شرقی دیوار میں شرق رویہ دروازہ شارع عام کے قریب ہے اور اس کے آگے چند گز کا صحن جس سے اترتے ہی شارع عام کا کنارہ ہے اس مکان کی جنوبی ومغربی دیواریں اس کوچہ غیر نافذہ میں ہیں زید نے دیوار جنوبی میں ایك جدید دروازہ کوچہ سربستہ کی طرف نکالاا ور اس کے آگے خاص اس راستے کی زمین میں ایك سیڑھی دروازہ پر جانے کو بنائی بعض ساکنان کوچہ اس فعل پر ناراض ہیں آیا یہ دروازہ نکالنا اور سیڑھی بنانا اسے جائز تھا یا ناجائزاور وہ اس فعل سے گنہگار ہوا یا نہیں اور اس نے حق غیر میں ناحق تصرف کرکے ظلم کیا یا نہیں اور اس سیڑھی کا کھودڈالنا اور دروازے کا بند کردینا شرعا اس پر واجب ہے یانہیں اور ایسے تصرف کے جائز ہونے کے لئے تمام ساکنان کوچہ کی رضامندی چاہئے یا اکثر کی رضاکافی ہے اگرچہ بعض ناراض ہوں۔ بینوا توجروا۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب السابع فی الاختلاف ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۹۴€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
الجواب:
بیشك صورت مستفسرہ میں زید نے ظلم کیا اور سخت گناہ میں مبتلا ہوااس کی جنوبی دیوار سے ختم کوچہ تك جو راستہ گیا ہے وہ صرف ان لوگوں کا حق خاص ہے جو اندر رہتے ہیں زید کا اس میں کچھ دعوی نہیں اس کا حق مرور فقط اس کی شرقی دیوار سے اوپر اوپر یعنی شارع عام کی طرف ہے اس کے نیچے یعنی اپنے دروازہ وصحن دروازہ کی حد سے اندر اترکرنیا دروازہ نکالنے کا اسے کوئی استحقاق نہیں۔فتاوی امام قاضیخان میں ہے:
رجل لہ دار فی سکۃ غیر نافذۃ لہا باب ارادان یفتح لہا بابا اخر اسفل من بابھا اختلفوافیہ والصحیح انہ لیس لہ ذلک ۔ کسی شخص کا بند گلی میں مکان ہو اور اس کا دروازہ بھی اس میں ہو اگر وہ دوسرا دروازہ نچلی طرف کھولنا چاہے تو فقہائے کرام نے اس میں اختلاف کیا اور صحیح یہ ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے۔ (ت)
امام خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار اپنے فتاوی خیریہ میں یہ عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں:مثلہ فی کثیر من کتب المذہب (بہت سی کتب میں حکم ایسے ہی ہے۔ت)ا سی میں ہے:
ونقل فی التتارخانیۃ عن الفتاوی العتابیۃ انہ لیس لہ ذلك وعلیہ الفتوی ۔ اور تاتارخانیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
start main image hai.
بیشك صورت مستفسرہ میں زید نے ظلم کیا اور سخت گناہ میں مبتلا ہوااس کی جنوبی دیوار سے ختم کوچہ تك جو راستہ گیا ہے وہ صرف ان لوگوں کا حق خاص ہے جو اندر رہتے ہیں زید کا اس میں کچھ دعوی نہیں اس کا حق مرور فقط اس کی شرقی دیوار سے اوپر اوپر یعنی شارع عام کی طرف ہے اس کے نیچے یعنی اپنے دروازہ وصحن دروازہ کی حد سے اندر اترکرنیا دروازہ نکالنے کا اسے کوئی استحقاق نہیں۔فتاوی امام قاضیخان میں ہے:
رجل لہ دار فی سکۃ غیر نافذۃ لہا باب ارادان یفتح لہا بابا اخر اسفل من بابھا اختلفوافیہ والصحیح انہ لیس لہ ذلک ۔ کسی شخص کا بند گلی میں مکان ہو اور اس کا دروازہ بھی اس میں ہو اگر وہ دوسرا دروازہ نچلی طرف کھولنا چاہے تو فقہائے کرام نے اس میں اختلاف کیا اور صحیح یہ ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے۔ (ت)
امام خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار اپنے فتاوی خیریہ میں یہ عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں:مثلہ فی کثیر من کتب المذہب (بہت سی کتب میں حکم ایسے ہی ہے۔ت)ا سی میں ہے:
ونقل فی التتارخانیۃ عن الفتاوی العتابیۃ انہ لیس لہ ذلك وعلیہ الفتوی ۔ اور تاتارخانیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
start main image hai.
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الصلح باب فی الحیطان ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۶۱۱€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الدیات فصل فی الحیطان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۰۳€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الدیات فصل فی الحیطان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۰۳€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الدیات فصل فی الحیطان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۰۳€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الدیات فصل فی الحیطان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۰۳€
اسی میں ہے:
المتون علی المنع وھو ظاہر الروایۃ کما صرح بہ فی جامع الفصولین فلیکن المعول علیہ ۔ متون منع پروارد ہیں اور یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں اس کی تصریح ہے اور اسی پر اعتمادچاہئے۔ (ت)
اور خاص راستے کی زمین میں سیڑھی بنانا اور زیادہ ظلم اشدوگناہ عظیم ہے جب دروازہ نکالنا ناجائز ہوا حالانکہ وہ اپنی دیوار میں ایك عمارت تھی راستے کی زمین اس میں نہ دبتی تھی تو خاص پرائے حق کی زمین میں تعمیر کیونکر حلال ہوسکتی ہے یہاں تك کہ علماء تصریح فرماتے ہیں اگر اس فعل سے اس کوچے والوں کا کوئی حرج بھی نہ ہو جب بھی ناجائز ہےہدایہ میں ہے:
لیس لاحد من اھل الدرب الذی لیس بنافذ ان یشرع کنیفا ولامیزا با الاباذنھم لانھا مملوکۃ لھم ولھذا وجبت الشفعۃ لھم علی کل حال فلا یجوز التصرف اضربھم او لم یضر الاباذنھم ۔ بندگلی والوں میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بیت الخلاء یا پرنالہ گلی والوں کی مرضی کے بغیر باہر نکالے کیونکہ یہ گلی ان سب کی مشترکہ ملکیت ہے اسی اشتراك کی بنا پر ان سب کو ہر حال میں شفعہ کا حق ہے لہذا کوئی ضرر رساں تصرف ان کی مرضی کے بغیر وہاں جائز نہیں۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فی غیرالنافذ لایجوز ان یتصرف باحداث مطلقا اضربھم اولا الاباذنھم ۔ بند کوچہ والوں میں سے کسی کو باقیوں کی اجازت کے بغیر ایسا تصرف کرنے کا مطلقا حق نہیں جوان کے لئے ضرررساں ہو یانہ ہو(ت)
اور اس قسم کا تصرف جائز ہونے کو ایك ایك ساکن کوچہ کی رضامندی درکار ہے اکثر کی رضاہر گز کافی نہیں یہاں تك کہ اگر سو میں ایك بھی ناراض ہے تو ہر گز جواز نہیں حتی کہ اگر سب نے راضی ہو کر اجازت دے دی پھر ان میں ایك نے اپنا مکان بیچ ڈالا تو اب مشتری کو اختیار ہے کہ مزاحمت کرے اور ازالہ کرادے اگرچہ پہلے سب اہل کوچہ راضی ہوچکے تھے ردالمحتار میں ہے:
المتون علی المنع وھو ظاہر الروایۃ کما صرح بہ فی جامع الفصولین فلیکن المعول علیہ ۔ متون منع پروارد ہیں اور یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں اس کی تصریح ہے اور اسی پر اعتمادچاہئے۔ (ت)
اور خاص راستے کی زمین میں سیڑھی بنانا اور زیادہ ظلم اشدوگناہ عظیم ہے جب دروازہ نکالنا ناجائز ہوا حالانکہ وہ اپنی دیوار میں ایك عمارت تھی راستے کی زمین اس میں نہ دبتی تھی تو خاص پرائے حق کی زمین میں تعمیر کیونکر حلال ہوسکتی ہے یہاں تك کہ علماء تصریح فرماتے ہیں اگر اس فعل سے اس کوچے والوں کا کوئی حرج بھی نہ ہو جب بھی ناجائز ہےہدایہ میں ہے:
لیس لاحد من اھل الدرب الذی لیس بنافذ ان یشرع کنیفا ولامیزا با الاباذنھم لانھا مملوکۃ لھم ولھذا وجبت الشفعۃ لھم علی کل حال فلا یجوز التصرف اضربھم او لم یضر الاباذنھم ۔ بندگلی والوں میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بیت الخلاء یا پرنالہ گلی والوں کی مرضی کے بغیر باہر نکالے کیونکہ یہ گلی ان سب کی مشترکہ ملکیت ہے اسی اشتراك کی بنا پر ان سب کو ہر حال میں شفعہ کا حق ہے لہذا کوئی ضرر رساں تصرف ان کی مرضی کے بغیر وہاں جائز نہیں۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فی غیرالنافذ لایجوز ان یتصرف باحداث مطلقا اضربھم اولا الاباذنھم ۔ بند کوچہ والوں میں سے کسی کو باقیوں کی اجازت کے بغیر ایسا تصرف کرنے کا مطلقا حق نہیں جوان کے لئے ضرررساں ہو یانہ ہو(ت)
اور اس قسم کا تصرف جائز ہونے کو ایك ایك ساکن کوچہ کی رضامندی درکار ہے اکثر کی رضاہر گز کافی نہیں یہاں تك کہ اگر سو میں ایك بھی ناراض ہے تو ہر گز جواز نہیں حتی کہ اگر سب نے راضی ہو کر اجازت دے دی پھر ان میں ایك نے اپنا مکان بیچ ڈالا تو اب مشتری کو اختیار ہے کہ مزاحمت کرے اور ازالہ کرادے اگرچہ پہلے سب اہل کوچہ راضی ہوچکے تھے ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدیات فصل فی الحیطان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۰۳€
الہدایۃ کتاب الدیات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۹۷€
درمختار کتاب الدیات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹۹€
الہدایۃ کتاب الدیات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۹۷€
درمختار کتاب الدیات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹۹€
قولہ الاباذنھم ای کلھم حتی المشتری من احدھم بعد الاذن لما فی الخانیۃ رجل احدث بناء او غرفۃ علی سکۃ غیر نافذۃ ورضی بھا اھل السکۃ فجاء رجل من غیر اھلھا واشتری دارا منھا کان للمشتری ان یامر صاحب الغرفۃ برفعھا اھ سائحانی ۔ ماتن کا قول"ان کی اجازت کے بغیر" یعنی سب کی اجازت حتی کہ اجازت کے بعد اگر کسی نے وہاں مکان خریدا تو اس کی اجازت بھی ضروری ہےخانیہ میں ہے کسی نے بند کوچہ میں کوئی تعمیر یا کھڑکی بنائی اور کوچہ والوں نے رضامندی ظاہر کردی ہوتو باہر سے آئے ہوئے ایك آدمی نے اس کوچہ میں کوئی مکان خریدا تو خریدار کو اب حق ہے کہ وہ کھڑکی والے کو بند کرنے پر مجبور کرےاھ سائحانی(ت)
بالجملہ زید پر شرعا واجب ہے کہ فورا اس دروازے کو بند کرکے بطور قدیم دیوار کرلے اور سیڑھی کا نام ونشان باقی نہ رکھے ورنہ سخت وعید شدید کا مستحق ہوگا صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ۔ جو کسی قدر زمین ناحق لے لے قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبقے تك دھنسا دیا جائے گا۔
حکم بن حارث سلمی رضی اﷲتعالی عنہ کی روایت میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ من طریق المسلمین شبراجاء یوم القیمۃ یحملہ من سبع ارضین۔اخرجہ الضیاء والطبرانی باسناد حسن۔ یعنی جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایك بالشت بھر دبالے قیامت کے دن وہ زمین وہاں سے لے کر ساتویں طبقے تك اٹھا کر اسکی گردن پر رکھی جائے گی اور اسی طرح خداتعالی کے حضور حاضر ہوگا والعیاذ باﷲ تعالی(اسے ضیاء اورطبرانی نے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
زید کو چاہئے من دو من ڈھیلے گردن پر چنواکر دیکھے اگر نہ اٹھ سکیں تو سمجھ لے کہ ساتوں طبقے کا اتنا بڑا ٹکڑا کیونکر اٹھا کر چلاجائے گا۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو نیك توفیق عطا فرمائے۔آمین ! واﷲ سبحانہ
بالجملہ زید پر شرعا واجب ہے کہ فورا اس دروازے کو بند کرکے بطور قدیم دیوار کرلے اور سیڑھی کا نام ونشان باقی نہ رکھے ورنہ سخت وعید شدید کا مستحق ہوگا صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ۔ جو کسی قدر زمین ناحق لے لے قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبقے تك دھنسا دیا جائے گا۔
حکم بن حارث سلمی رضی اﷲتعالی عنہ کی روایت میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ من طریق المسلمین شبراجاء یوم القیمۃ یحملہ من سبع ارضین۔اخرجہ الضیاء والطبرانی باسناد حسن۔ یعنی جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایك بالشت بھر دبالے قیامت کے دن وہ زمین وہاں سے لے کر ساتویں طبقے تك اٹھا کر اسکی گردن پر رکھی جائے گی اور اسی طرح خداتعالی کے حضور حاضر ہوگا والعیاذ باﷲ تعالی(اسے ضیاء اورطبرانی نے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
زید کو چاہئے من دو من ڈھیلے گردن پر چنواکر دیکھے اگر نہ اٹھ سکیں تو سمجھ لے کہ ساتوں طبقے کا اتنا بڑا ٹکڑا کیونکر اٹھا کر چلاجائے گا۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو نیك توفیق عطا فرمائے۔آمین ! واﷲ سبحانہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الدیات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۸۱€
صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب اثم من ظلم شیئا من الارض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۲€
المعجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث۳۱۷۲€ المتکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳ /۲۱۵€
صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب اثم من ظلم شیئا من الارض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۲€
المعجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث۳۱۷۲€ المتکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳ /۲۱۵€
وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اﷲ تعالی بڑے علم والا ہے اور اس جل مجدہ کا علم اتم واحکم ہے۔ت)
مسئلہ۲۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین متین زادھم اﷲ شرفا اس صورت میں کہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان کی میر ارشد علی کے نکاح میں اور مسماۃ مہر النساء ہمشیرہ میرارشد علی کی محمد عیوض علی خان کے نکاح میں تھی ہر دوزوج وزوجات نے بدون ادائے دین مہر کے وفات پائی اب ورثہ ہر دو زوجات دین مہر ان کا ان کے شوہر وں کے متروکہ سے طلب کرتے ہیں ورثہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان فریق مقابل سے کہتے ہیں کہ دین مہر ہماری مورثہ کا تمہارے مورث پر اور تمہاری مورثہ کا ہمارے مورثہ پر ہے اول ان دونوں مہروں کا باہم معاوضہ اور مبادلہ کرلیاجائے بعد معاوضہ اور مبادلہ کے جس فریق کے جس قدر باقی نکلے وہ نقدا ادا کی جائے اور جو نقدا ادا نہ ہوسکے تو جائداد باقی دار سے مطالبہ کیا جائےدرجواب اس کے ورثہ مسماۃ مہرالنساء ہمشیرہ میر ارشد علی کہتے ہیں کہ جو جائداد محمد عیوض علی خان پر بعوض دین مہر اپنے موروثہ کی ہم نے قبضہ کرلیا ہے ہم وہی جائداد دیں گے اور مقابلہ اور معاوضہ دین بالدین نہیں کریں گے دریں صورت از روئے شرع شریف حق بجانب کس فریق کے ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جس حالت میں مہر زر نقد ہے اور جائدا اس کی جنس سے نہیں پس ورثہ مہر النساء جائداد پر قابض ہونے سے بے رضائے ورثہ راحت النساء اس کے مالك نہ ہوگئے ہر دو مہر باہم مقاص ہوکر اگر ایك کا مہر زائد ہو مابقی کی نسبت دوسری عورت کے ورثہ کو اختیار ہے خواہ زر نقد دین یا جائداد سے اداکریں
فی بحث الدین من الاشباہ والنظائر وایفاؤہ و استیفاؤہ لایکون الابطریق المقاصۃ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ الخ وفی مبحث الملك منہ وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا قال العلامۃ حموی اشباہ ونظائر کے دین کے باب میں ہے کہ اس کا پورالین دین سوائے ادل بدل کے جائز نہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے ہاں الخاور اس پر ملك العلماء کی بحث میں ہے وارث کو حق ہے کہ وہ قرضہ ادا کرکے ترکہ کی خلاصی کرائے اگرچہ وہ تمام ترکہ قرضے میں بند ہو۔علامہ حموی نے اس پر
مسئلہ۲۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین متین زادھم اﷲ شرفا اس صورت میں کہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان کی میر ارشد علی کے نکاح میں اور مسماۃ مہر النساء ہمشیرہ میرارشد علی کی محمد عیوض علی خان کے نکاح میں تھی ہر دوزوج وزوجات نے بدون ادائے دین مہر کے وفات پائی اب ورثہ ہر دو زوجات دین مہر ان کا ان کے شوہر وں کے متروکہ سے طلب کرتے ہیں ورثہ مسماۃ راحت النساء ہمشیرہ محمد عیوض علی خان فریق مقابل سے کہتے ہیں کہ دین مہر ہماری مورثہ کا تمہارے مورث پر اور تمہاری مورثہ کا ہمارے مورثہ پر ہے اول ان دونوں مہروں کا باہم معاوضہ اور مبادلہ کرلیاجائے بعد معاوضہ اور مبادلہ کے جس فریق کے جس قدر باقی نکلے وہ نقدا ادا کی جائے اور جو نقدا ادا نہ ہوسکے تو جائداد باقی دار سے مطالبہ کیا جائےدرجواب اس کے ورثہ مسماۃ مہرالنساء ہمشیرہ میر ارشد علی کہتے ہیں کہ جو جائداد محمد عیوض علی خان پر بعوض دین مہر اپنے موروثہ کی ہم نے قبضہ کرلیا ہے ہم وہی جائداد دیں گے اور مقابلہ اور معاوضہ دین بالدین نہیں کریں گے دریں صورت از روئے شرع شریف حق بجانب کس فریق کے ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جس حالت میں مہر زر نقد ہے اور جائدا اس کی جنس سے نہیں پس ورثہ مہر النساء جائداد پر قابض ہونے سے بے رضائے ورثہ راحت النساء اس کے مالك نہ ہوگئے ہر دو مہر باہم مقاص ہوکر اگر ایك کا مہر زائد ہو مابقی کی نسبت دوسری عورت کے ورثہ کو اختیار ہے خواہ زر نقد دین یا جائداد سے اداکریں
فی بحث الدین من الاشباہ والنظائر وایفاؤہ و استیفاؤہ لایکون الابطریق المقاصۃ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ الخ وفی مبحث الملك منہ وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا قال العلامۃ حموی اشباہ ونظائر کے دین کے باب میں ہے کہ اس کا پورالین دین سوائے ادل بدل کے جائز نہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے ہاں الخاور اس پر ملك العلماء کی بحث میں ہے وارث کو حق ہے کہ وہ قرضہ ادا کرکے ترکہ کی خلاصی کرائے اگرچہ وہ تمام ترکہ قرضے میں بند ہو۔علامہ حموی نے اس پر
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۲۰۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
تحت قولہ ولاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین وانما یبیعہ القاضی اقول: ینبغی ان یکون البیع بحضرۃ الورثۃ لما لھم من حق امساکہا وقضاء الدین من مالھم الخ واﷲ تعالی اعلم بالصواب و الیہ تعالی المرجع والمآب۔ فرمایا:اور وارث کا ایسے ترکہ کو فروخت کرنا جو تمام کا تمام قرض میں بند ہے جائز نہیں اس کو صرف قاضی فروخت کرے گا۔میں کہتا ہوں وارثوں کی موجودگی میں فروخت کرنا مناسب ہوگا کیونکہ ان کو حق ہے کہ وہ ترکہ کو روك لیں اور قرض خود ادا کریں الخ واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ تعالی المرجع والمآب۔(ت)
مسئلہ۲۷:کیافرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے آپ کو بنت لیلی اوردختر زید کہا کہ اور تمام کاغذات میں اور دستاویزات میں ہمیشہ اپنا حسب یونہی لکھا اور زینب باوجود سکونت یك شہر ویك محلہ وموافقت سالہا سال ہندہ کی کہ دونوں اسی حال پر سن رسیدہ ہوگئیںاپنے آپ کو مجہول النسب کہتی اور کاغذات میں بنت نامعلوم لکھتیاس بناء پر جب زینب نے سمجھا کہ اب موت قریب آئی اور میرے کوئی وارث شرعی نہیں چہارم نومبر۱۸۶۸ء کوہندہ واولاد ہندہ کے روبرو اپنی کل جائدا دکی وصیت اپنی دختر منی اور مختار سربراہ کار کے نام کردی اور لکھ دیا کہ یہی دونوں بعد میرے میری کل جائداد کے مالك وارث ہوں گےاس وصیت وتکمیل وصیت کے چند عرصہ بعد زینب نے بتاریخ ۱۹فروری ۱۸۷۰ء قضاء کیاس کے انتقال کرتے ہی ایك شخص اجنبی نے براہ غصب اس تمام جائداد پر قبضہ کرلیا موصی لہا نے بربنائے وصیت دعوی کیا کہ بعد تنقیح تمام وہ وصیت بحکم شرع فتوائے علماء سے صحیح ونافذ وتام ولازم قرار پاکر ۱۱/جنوری ۱۸۷۲ء کو حکام وقت کے یہاں سے وہ جائداد موصی لہا کو مل گئی یہ سب واقعات ہندہ و اولاد ہندہ کے روبروہوئے لیکن کسی نے ترکہ زینب پر دعوی نہ کیا نہ اپنا کچھ استحقا ق بتایا اوراس سے پہلے ماہ جون ۱۸۷۲میں حکام وقت کی طرف سے جائداد کو لاوارثی قرار دے کر دعوی یہی ہوا کہ محکمہ بالا سے اسی بنا پر کہ پہلے سے کیوں نہ کہا تھا خارج ہوگیااس تحقیق و تنقیح اور لاوارثی ٹھہرانے اور دعوی دائر ہونے کے وقت بھی ہندہ اور اولاد ہندہ نے خبر نہ لی نہ اپنی وراثت کا ادعا کیاجب موصی لہا کو جائداد ملی انہوں نے فورا اس میں تصرفات مالکانہ شروع کردئےنصف جائداد تو اسی وقت ایك شخص کو پیروی مقدمہ کے عوض میں دی کہ اس نے اوروں کے ہاتھ بیچ کر سب برابر کردینصف باقیماندہ پر بلامنازعت منازع خود
مسئلہ۲۷:کیافرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے آپ کو بنت لیلی اوردختر زید کہا کہ اور تمام کاغذات میں اور دستاویزات میں ہمیشہ اپنا حسب یونہی لکھا اور زینب باوجود سکونت یك شہر ویك محلہ وموافقت سالہا سال ہندہ کی کہ دونوں اسی حال پر سن رسیدہ ہوگئیںاپنے آپ کو مجہول النسب کہتی اور کاغذات میں بنت نامعلوم لکھتیاس بناء پر جب زینب نے سمجھا کہ اب موت قریب آئی اور میرے کوئی وارث شرعی نہیں چہارم نومبر۱۸۶۸ء کوہندہ واولاد ہندہ کے روبرو اپنی کل جائدا دکی وصیت اپنی دختر منی اور مختار سربراہ کار کے نام کردی اور لکھ دیا کہ یہی دونوں بعد میرے میری کل جائداد کے مالك وارث ہوں گےاس وصیت وتکمیل وصیت کے چند عرصہ بعد زینب نے بتاریخ ۱۹فروری ۱۸۷۰ء قضاء کیاس کے انتقال کرتے ہی ایك شخص اجنبی نے براہ غصب اس تمام جائداد پر قبضہ کرلیا موصی لہا نے بربنائے وصیت دعوی کیا کہ بعد تنقیح تمام وہ وصیت بحکم شرع فتوائے علماء سے صحیح ونافذ وتام ولازم قرار پاکر ۱۱/جنوری ۱۸۷۲ء کو حکام وقت کے یہاں سے وہ جائداد موصی لہا کو مل گئی یہ سب واقعات ہندہ و اولاد ہندہ کے روبروہوئے لیکن کسی نے ترکہ زینب پر دعوی نہ کیا نہ اپنا کچھ استحقا ق بتایا اوراس سے پہلے ماہ جون ۱۸۷۲میں حکام وقت کی طرف سے جائداد کو لاوارثی قرار دے کر دعوی یہی ہوا کہ محکمہ بالا سے اسی بنا پر کہ پہلے سے کیوں نہ کہا تھا خارج ہوگیااس تحقیق و تنقیح اور لاوارثی ٹھہرانے اور دعوی دائر ہونے کے وقت بھی ہندہ اور اولاد ہندہ نے خبر نہ لی نہ اپنی وراثت کا ادعا کیاجب موصی لہا کو جائداد ملی انہوں نے فورا اس میں تصرفات مالکانہ شروع کردئےنصف جائداد تو اسی وقت ایك شخص کو پیروی مقدمہ کے عوض میں دی کہ اس نے اوروں کے ہاتھ بیچ کر سب برابر کردینصف باقیماندہ پر بلامنازعت منازع خود
حوالہ / References
غمز عیون البصائر الفن الثالث،القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
قابض ومتصرف رہی بلامزاحم اس کے تحصیل تشخیص کرتے اور اپنے صرف خاص میں لاتے اور ان سب امور پر بھی ہندہ واولاد ہندہ کو خوب اطلاع تھی کہ وہ سب اسی شہر میں حاضر موجود تھے نہ کہ غائب ومفقودبلکہ اسی عرصہ میں موصی لہانے اس نصب باقیماندہ سے بھی چند دیہات بیچ ڈالے کہ اب معدود باقی ہیں اور جب سے مشتریان تصرفات مالکانہ کرتے ہیں ہندہ واولاد ہندہ نے تصرف بیع وانتقال کے وقت بھی کبھی دعوی نہ کیا یہاں تك کہ ۱۳/اکتوبر ۱۸۷۹ء کو ہندہ فوت ہوگئی ورثہ ہندہ اس کے مرے پر بھی دو سال سے زیادہ تك محض ساکت رہے اب باغوائے بعض مردان ۱۹ فروری ۱۸۸۲ کو موصی لہا پر بریں بنا دعوی دائر کیا کہ زینب موصیہ اور مدعیوں کی ماں ہندہ دونوں حقیقی بہنیں تھیں ہندہ زینب کی وارث ہوئی اور ہم ہندہ کے ورثاء ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ ہندہ زینب کو اپنی بہن کہتی ہے اور شاید بعض دستاویزیں بتائیں کہ ان میں ہندہ بہن اور ہم ہمشیرزادہ لکھے گئےآیا یہ دعوی ان کا شرعاقابل سماعت ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
دعوی مدعیان ہر گز قابل سماعت نہیںنہ کوئی ٹکڑا جائداد کا موصی لہا سے انہیں دلایا جائے نہ اب اس وصیت کے نفاذ ولزوم میں کلام ہوسکےہندہ اور ورثائے ہندہ کا اس مدت مدید تك سکوت اور باوصف ان واقعات مختلفہ وگیروداد و کشمکش سالہاسال وتصرفات وبیع وانتقال کے مطلق تعرض نہ کرنا وقرینہ واضحہ ہے کہ یہ دعوی ان کا محض مکروتزویروتلبیس وفریب ہےہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح و فتاوی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرف مالکانہ کرتے رہے یا وہ بیع خواہ ہبہ خواہ اور طرح سے دوسرے کو تملیك کردے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی عاقل بالغ جو اسی شہر میں موجود اور ان حالات پر مطلع ہوا ور اب تك ارجاع دعوی سے کوئی عذر معقول قابل قبول اسے مانع نہ ہودعوی کرنے لگے یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز نہ سناجائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی جہت اور متصرف کے مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا۔
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمر تاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ مزیدۃ علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتوی میں ہے آپ سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو ا جس کا ایك حویلی میں مکان ہے وہ اس میں تین سال سے زائد مدت سے رہائش پذیر چلا آرہا ہے اور وہ پڑوس والے کے علم اور اطلاع کے
الجواب:
دعوی مدعیان ہر گز قابل سماعت نہیںنہ کوئی ٹکڑا جائداد کا موصی لہا سے انہیں دلایا جائے نہ اب اس وصیت کے نفاذ ولزوم میں کلام ہوسکےہندہ اور ورثائے ہندہ کا اس مدت مدید تك سکوت اور باوصف ان واقعات مختلفہ وگیروداد و کشمکش سالہاسال وتصرفات وبیع وانتقال کے مطلق تعرض نہ کرنا وقرینہ واضحہ ہے کہ یہ دعوی ان کا محض مکروتزویروتلبیس وفریب ہےہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح و فتاوی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرف مالکانہ کرتے رہے یا وہ بیع خواہ ہبہ خواہ اور طرح سے دوسرے کو تملیك کردے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی عاقل بالغ جو اسی شہر میں موجود اور ان حالات پر مطلع ہوا ور اب تك ارجاع دعوی سے کوئی عذر معقول قابل قبول اسے مانع نہ ہودعوی کرنے لگے یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز نہ سناجائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی جہت اور متصرف کے مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا۔
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمر تاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ مزیدۃ علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتوی میں ہے آپ سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو ا جس کا ایك حویلی میں مکان ہے وہ اس میں تین سال سے زائد مدت سے رہائش پذیر چلا آرہا ہے اور وہ پڑوس والے کے علم اور اطلاع کے
المذکور یتصرف فی البیت المزبورۃ ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ فھل اذا ادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدماوبناء فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لااجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی انتہی وفی فتاوی الفاضل المحقق خیر الملۃ و الدین الرملی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سئل فی رجل اشتری من اخر ستۃ اذرع من ارض بیدالبائع وبنی بہا بناء و تصرف فیہ ثم بعدہ ادعی رجل علی البانی المذکوران لہ ثلثۃ قراریط ونصف قیراط فی المبیع المذکور ارثا عن امہ ویریدھدمہ والحال ان امہ تنظرہ یتصرف بالبناء والا نتفاع المذکورین ھل لہ ذلك ام لا وھل تسمع دعواہ مع تصرف المشتری و رؤیۃ امہ لہ واطلاعہا علی الشراء المذکوروالتصرف المزبور مدۃ مدیدۃ ام لااجاب لاتسمع دعواہ و الحال مانص اعلاہ لان علمائنا نصوافی متونہم و شروحھم وفتاوھم ان تصرف المشتری فی المبیع مع اطلاع الخصم ولو کان اجنبیا باوجود اس مکان میں گرانے بنانے کے تصرفات مدت مذکورہ میں کرتا چلا آرہا ہےتو مدت مذکورہ میں تصرفات مذکورہ کے باوجود پڑوسی اس کے کل یا بعض مکان پر بعد میں دعوی کرے تو کیا یہ دعوی مسموع ہوگا یانہیںتو انہوں نے جواب میں فرمایا نہیں سنا جائے گااسی پرفتوی ہے اھفاضل محقق الملۃ والدین الرملی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کے فتاوی میں ہے کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے دوسرے شخص کی مقبوضہ زمین میں سے چھ گز زمین خریدی اور وہاں تعمیر کی اور تصرفات کئے پھر اس کے بعد ایك اور شخص نے اس خرید کردہ زمین میں سے ساڑھے تین قیراط پر دعوی کردیا کہ یہ حصہ مجھے میری ماں سے میراث میں ملا ہے اور وہ اس تعمیر کو گرانا چاہتا ہے حالانکہ اس کی ماں خریدار کی تعمیر اور تصرفات کو زندگی میں دیکھتی رہی ہے تو کیا اس دعوی کا اس کو حق ہے یانہیں _____________________حالانکہ ماں کو اس زمین کی خرید و فروخت اور اس پر خریدار کے تصرفات کی اطلاع مدت بھر رہیکیا یہ دعوی مسموع ہوگاتو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ یہ دعوی مسموع نہ ہوگا جب کہ مذکورہ بالاحالات تھےکیونکہ ہمارے علماء نے اپنے متون شروح اور فتاوی میں تصریح کی ہے کہ خریدار کا مبیع چیز پرفریق مخالف اگرچہ اجنبی ہو
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ فتاوٰی غزی کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
بنحوالبناء والغرس والزرع یمنعہ من سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لا تسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضی للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرار بانہ ملك البائعوقال فی جامع الفتاوی وذکر فی منیۃ الفقہاء رای غیرہ یبیع عروضا فقبضہا المشتری وھو ساکت وترك منازعۃفہو اقرارمنہ بانہ ملك البائع انتہی وفیہا سئل فی رجل تلقی بیتا عن والدہ وتصرف فیہ کما کان والدہ من غیرمنازع ولامدافع مدۃ تنوف عن خمسین سنۃ والان برزجماعۃ یدعون البیت لجدھم الاعلیفہل تسمع دعوھم مع اطلاعھم علی التصرف المذکور واطلاع ابائھم وعدم مانع یمنعھم عن الدعویاجاب لاتسمع ھذہ الدعوی کی اطلاع کی موجودگی میںتعمیرزراعت اور پودوں کی کاشت جیسے تصرفات کرنا اس فریق کے دعوی کے مسموع ہونے کے لئے مائع ہےاور صاحب منظوم نے فرمایا کہ ہمارے اساتذہ ایسے دعوی کے نامسموع ہونے پر متفق ہیں اور جھوٹلالچ حیلہ سازی اور تلبیس کے خاتمہ کے لئے مخالف فریق کے سکوت کو بیع پر رضامندی اور اس کی موجودگی اور عدم تنازع کو یہ اقرار تصور کیا جائے گا کہ زمین فروخت کرنیوالے کی ملکیت تھیاور جامع الفتاوی میں فرمایا منیۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ دوسرے کو سامان فروخت کرتے ہوئے دیکھا اور خریدار نے قبضہ کیا تو بھی خاموش رہا اور کوئی اعتراض نہ کیا تو یہ اس کا اقرار متصور ہوگا کہ یہ سامان فروخت کرنیوالے کی ملك ہے اھاور اس میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے والد سے مکان حاصل کیا اور اس میں اسی طرح تصرف کرتا رہا جس طرح اس کا والد اس میں بغیر روك ٹوك پچاس سال سے زائد تك تصرف کرتا رہااور اب ایك گروہ نے اپنا دعوی کرنا شروع کردیا کہ یہ مکان اس کے جداعلی کی ملك ہے تو کیا ان کی تصرفات مذکورہ پر اطلاع اور ان کے باپ کو اطلاع اور دعوی سے کوئی مانع نہ ہونے کی باوجود اب ان کا یہ دعوی مسموع ہوگاتو جواب میں فرمایا کہ یہ دعوی مسموع نہ ہوگا
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۸۔۸۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۵€
وفیہا عن البزازیۃ علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ وفی الولوالجیۃ ثم الخیریۃ والحامدیۃ و غیرہما رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخر رای الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ فتترك علی یدالمتصرف لان الحال شاہد انتہیوفی الخیریۃ وبہ افتی شیخ الاسلام شھاب الدین احمد الحلبی المصری وفی الدر المختار اذاسکت الجار وقت البیع التسلیم و تصرف المشتری فیہ زرعا وبناء فحینئذ لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ انتہیقال خاتمۃ المحققین مولانا السید محمد عابدین رحمۃ اﷲتعالی علیہ فی الحاشیۃ قولہ اذا سکت الجار وغیرہ من الاجانب بالاولی فتخصیص الجار بالذکر لانہ مظنۃ انہ فی حکم القریب و الزوجۃ قولہ وقت البیع والتسلیم ای اسی میں ہے بزازیہ کے حوالہ سے کہ اسی پر فتوی ہے تاکہ فاسد لالچ وغیرہ کا خاتمہ ہوسکےولوالجیہپھر خیریہ اور حامدیہ وغیرہ میں ہے کہ ایك شخص زمانہ بھر زمین میں تصرف کرتا رہا اور دوسرا شخص اس زمین اور اس میں ان تصرفات کو دیکھتا رہا اور کوئی دعوی نہ کیا اور فوت ہوگیا تو اس کے بعد اس کی اولاد کا اس زمین پر دعوی مسموع نہ ہوگا تو اس زمین کو قابض کے تصرف میں باقی رکھاجائیگا کیونکہ حال اس کاشاہد ہےاور خیریہ میں ہے کہ اسی پر شیخ الاسلام شہاب الدین احمد حلبی مصری نے فتوی دیا ہےدرمختار میں ہے جب پڑوسی خرید وفروخت اور قبضہ دینے اور خریدار کے تعمیر وزراعت کے تصرفات کو دیکھتے ہوئے خاموش رہے تو مفتی بہ قول کے مطابق اب اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا تاکہ فساد طمع کو ختم کیاجاسکے اھحاشیہ میں خاتم المحققین مولاناسیدمحمد عابدین رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:ماتن کا قول جب پڑوسی خاموش رہےتو دوسرے اجنبی لوگ بالاولیپڑوسی کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ قرب والصاق کی وجہ سے گمان دعوی کا مقام ہےاس کا قول"قبضہ اور بیع کے وقت"یعنی جب ان
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
درمختار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۵۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
درمختار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۷€
وقت علمہ بھما کما افادہ کلام الرملی السابق وقد علمت ان البیع غیر قید بل مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع من الدعویقولہ زرعا و بناء المراد بہ کل تصرف لایطلق الاللمالك فہما من قبل التمثیلقولہ لاتسمع دعواہ ای دعوی الاجنبی ولوجارارملی وفی الخیریۃ وقد کثر افتاء الحنفیۃ عن علماء مصر یتساوی الجارمع الاجنبی فی الحکم المذکور لاشتراکھا فی العلم والعلۃ الموجبۃ بعدم سماع دعوی الجار بعد تصرف المشتری زرعا وبناء علی ماعلیہ الفتوی قطع الاطماع الفاسدۃ سدباب التزویر والتلبیس وھذاالقدر مشترك بین الجارو الاجنبی الخ۔ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ ثم ان مافی الخلاصۃ والولوالجیۃ یدل علی ان البیع غیر قید بالنسبۃ الی الاجنبی ولو جارا بل مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی الخ وفیہما بعد نقل فتوی العلامۃ الغزی کما ذکرناھا فانظر کیف افتی بمنع سماعھا من غیر القریب بمجرد چیزوں کا پڑوسی کو علم ہوجائے جیساکہ رملی کے کلام سے معلوم ہواآپ کو معلوم ہے کہ بیع کاذکر بطور قید نہیں بلکہ مشتری کے تصرفات پر اطلاع سے خاموشی اس کے دعوی سے مانع ہےاس کا قول"زراعت وتعمیر"تو اس سے مراد ہر وہ تصرف جو صرف مالك ہی کرسکتا ہے ان دونوں کا ذکر بطور تمثیل ہے۔اس کا قول"اس کا دعوی غیر مسموع ہوگا"سے مراد یہ ہے ہر اجنبی خواہ پڑوسی ہوکادعوی غیر مسموع ہوگا بحوالہ رملیاور خیریہ میں ہے:مصر کے حنفی علماء کے فتاوی میں اکثرطور پر پڑوسی کو اجنبی کے مساوی حکم دیا گیا ہے کیونکہ مشتری کے زراعت وتعمیر کے تصرفات پر اطلاع کے بعد دونوں علم اور عدم سماعت دعوی کی علت میں مساوی ہیں حالانکہ فتوی کی بنیاد فاسد لالچ اور جھوٹ اور دھوکہ کو ختم کرنا اور وہ دونوں میں مشترك ہے اجنبی ہو یا پڑوسی ہوالخعقود الدریہ وتنقیح الفتاوی میں ہےکہپھرخلاصہ اور ولوالجیہ کے بیان میں اس بات پر دلالت ہے کہ بیع کا ذکر بطور قید نہیں کسی بھی اجنبی کے لئے خواہ وہ پڑوسی ہو بلکہ صرف تصرف پر اطلاع ہی دعوی سے مانع ہے الخ۔ان دونوں کتب میں علامہ غزی کے فتوی کو جسے ہم نے ذکرکیا ہے نقل کرنے کے بعد فرمایا:دیکھو انہوں نے پہلے بیع کا دعوی نہ ہونے اور پندرہ سال یا زائد
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۶۰€
العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۶۰€
العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
التصرف مع عدم سبق البیع وبدون مضی خمس عشرۃ سنۃ اواکثر وفیہا لم یقیدوہ بمدۃ ولابموت کما تری وفیہا ولیس ایضا مبنیا علی المنع السلطانی کما فی المسئلۃ الاتیۃ(قال الفقیر المجیب یعنی مسئلۃ عدم سماع الدعوی خمس عشرۃ سنۃ وھو مثال للمنفی لاللنفی)ثم قال بل ھو حکم اجتہادی نص علیہ الفقہاءکما رأیت فاغتنم تحریرھذہ المسئلۃ فانہ مفردات ھذاالکتاب والحمدﷲ المنعم الوھاب انتہیوفی ردالمحتار من مسائل شتی مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع وان لم یسبقہ بیع وفیہ من کتاب القضاء امادعوی الاجنبی ولو جارا فلابدفی منعہا من السکوت بعد الاطلاع علی تصرف المشتری ولم یقیدوہ بمدۃ الخ وفیہ من اخرکتاب الوقف لیس لہذا مدۃ محدودۃ
عرصہ کے ذکر نہ ہونے کے باوجود کسی بھی اجنبی کے دعوی کے غیر مسموع ہونے کوکیسے ذکر فرمایا ہےاس میں مذکور ہے کہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کسی مدت یا موت سے فقہاء کرام نے مقید نہیں کیااور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ کسی حاکم کے منع پر نہیں ہے جیسا کہ آئندہ مسئلہ میں آرہا ہےمجیب کہتا ہے کہ پندرہ سال کی مدت کا ذکر عدم سماع دعوی میں منفی کی مثال ہے نفی کی نہیںپھر فرمایا:بلکہ اجتہادی حکم ہے جیسے کہ تم فقہاء کرام کی اس پر تصریح کو دیکھ رہے ہوا س مسئلہ کے بیان کوغنیمت سمجھو کیونکہ یہ اس کتاب کے منفرد مسائل میں سے ہےالحمد ﷲ المنعم الوھاب اھاورردالمحتار کے مسائل مختلفہ میں ہے:مشتری کے تصرفات پر مطلقا اطلاع دعوی کے مانع ہے اگرچہ پہلے بیع کی اطلاع نہ پائی ہو اور اسی کتاب میں کتاب القضاء سے ہے کہ مشتری کے تصرفات پر اطلاع کے وقت سکوت کرنا اگرچہ بیع کا علم پہلے نہ ہو اہو اجنبی خواہ پڑوسی کے دعوی کے لئے مانع ہےاسکو انہوں نے کسی مدت سے مقیدنہیں کیا الخاور اسی میں کتاب الوقف کے آخر میں ہے کہ اس کے لئے کسی مدت کی حد نہیں ہے
عرصہ کے ذکر نہ ہونے کے باوجود کسی بھی اجنبی کے دعوی کے غیر مسموع ہونے کوکیسے ذکر فرمایا ہےاس میں مذکور ہے کہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کسی مدت یا موت سے فقہاء کرام نے مقید نہیں کیااور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ کسی حاکم کے منع پر نہیں ہے جیسا کہ آئندہ مسئلہ میں آرہا ہےمجیب کہتا ہے کہ پندرہ سال کی مدت کا ذکر عدم سماع دعوی میں منفی کی مثال ہے نفی کی نہیںپھر فرمایا:بلکہ اجتہادی حکم ہے جیسے کہ تم فقہاء کرام کی اس پر تصریح کو دیکھ رہے ہوا س مسئلہ کے بیان کوغنیمت سمجھو کیونکہ یہ اس کتاب کے منفرد مسائل میں سے ہےالحمد ﷲ المنعم الوھاب اھاورردالمحتار کے مسائل مختلفہ میں ہے:مشتری کے تصرفات پر مطلقا اطلاع دعوی کے مانع ہے اگرچہ پہلے بیع کی اطلاع نہ پائی ہو اور اسی کتاب میں کتاب القضاء سے ہے کہ مشتری کے تصرفات پر اطلاع کے وقت سکوت کرنا اگرچہ بیع کا علم پہلے نہ ہو اہو اجنبی خواہ پڑوسی کے دعوی کے لئے مانع ہےاسکو انہوں نے کسی مدت سے مقیدنہیں کیا الخاور اسی میں کتاب الوقف کے آخر میں ہے کہ اس کے لئے کسی مدت کی حد نہیں ہے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /€۴
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۳€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۳€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴€
واما عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ اذا ترکت بلا عذر فذاك فی غیر ھذہ الصورۃ الخ۔ قال الفقیر المجیب غفراﷲ تعالی لہ وانمااکثرنا من النقول فی ھذہ المسئلۃ لان منھم من وضعہا فی البیع خاصۃ کالعلائی فی الدرالمختار والزاھدی فی الفتیۃ عــــــہ وابن نجیم فی الاشباہ وآخرین فی آخر و منھم من قید تصرف المشتری بالزرع والبناء کالفاضل الدمشقی فی الدروالعلامۃ الغزی فی التنویر اوالغرس ونحوہ ایضا کالمحقق الرملی فی الفتاوی ومنھم صورھا بموت المتصرف ودعوی المدعی علی ورثۃ کما فی فتاوی الخلاصۃ ومنھم من قررھافی عکس ذلك اعنی موت غیر المتصرف ودعوی ورثتہ علی المتصرف علی مافی الولوالجیۃ ومنھم من ادرج فی التصویر سکوتہ ھذامدۃ تنوف عن کذاوکذاسنۃ کالخیریۃ وغیرہ ومنھم قصرالحکم علی الجارو
لیکن پندرہ سال کے بعد دعوی کا غیر مسموع ہونا جبکہ بلاعذر دعوی ترك کیا ہوتو اس کا تعلق اس صورت سے نہیں ہے الخ۔مجیب غفراﷲ تعالی کہتا ہے ہم نے اس مسئلہ میں کثیر نقول اس لئے پیش کی ہیں کہ بعض نے اس مسئلہ کو بیع میں خاص کیا ہے جیسا کہ علامہ علائی نے درمختار میں اور علامہ زاہدی نے قنیہ اور ابن نجیم نے الاشباہ میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتب میں بیان کیااور بعض حضرات نے مشتری کے خاص تعمیر اور زراعت کے تصرفات میں اس کو وضع کیا جیسا کہ فاضل دمشقی نے در میں اور علامہ غزی نے تنویر اور بعض نے پودے لگانے کو بھی شامل کیاہے جیسا کہ محقق رملی نے اپنے فتاوی میں اور بعض نے اسکی صورت تصرف کرنیوالے کی موت کے بعد اس کے وارثوں پر مدعی کے دعوی کو بنایا ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی میںاور بعض نے اس کی صورت بالعکس بیان کی یعنی غیر قابض کی موت کے بعد اس کے وارثوں کا قابض متصرف پر دعویجیسا کہ ولوالجیہ میں اور بعض نے اس میں اجنبی کی خاموشی اتنے یا اتنے سال سے زائد کوصورت میں شامل کیا ہے جیسا کہ علامہ خیر الدین وغیرہ نےاوربعض نے اس حکم کو صرف پڑوسی تك محدود کیا اور
عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ انہ"قنیۃ"۱۲عبد۔ اصل میں اس طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ قنیہ ہے۱۲عبد(ت)
لیکن پندرہ سال کے بعد دعوی کا غیر مسموع ہونا جبکہ بلاعذر دعوی ترك کیا ہوتو اس کا تعلق اس صورت سے نہیں ہے الخ۔مجیب غفراﷲ تعالی کہتا ہے ہم نے اس مسئلہ میں کثیر نقول اس لئے پیش کی ہیں کہ بعض نے اس مسئلہ کو بیع میں خاص کیا ہے جیسا کہ علامہ علائی نے درمختار میں اور علامہ زاہدی نے قنیہ اور ابن نجیم نے الاشباہ میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتب میں بیان کیااور بعض حضرات نے مشتری کے خاص تعمیر اور زراعت کے تصرفات میں اس کو وضع کیا جیسا کہ فاضل دمشقی نے در میں اور علامہ غزی نے تنویر اور بعض نے پودے لگانے کو بھی شامل کیاہے جیسا کہ محقق رملی نے اپنے فتاوی میں اور بعض نے اسکی صورت تصرف کرنیوالے کی موت کے بعد اس کے وارثوں پر مدعی کے دعوی کو بنایا ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی میںاور بعض نے اس کی صورت بالعکس بیان کی یعنی غیر قابض کی موت کے بعد اس کے وارثوں کا قابض متصرف پر دعویجیسا کہ ولوالجیہ میں اور بعض نے اس میں اجنبی کی خاموشی اتنے یا اتنے سال سے زائد کوصورت میں شامل کیا ہے جیسا کہ علامہ خیر الدین وغیرہ نےاوربعض نے اس حکم کو صرف پڑوسی تك محدود کیا اور
عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ انہ"قنیۃ"۱۲عبد۔ اصل میں اس طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ قنیہ ہے۱۲عبد(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳ /۴۴۶€
لم یفصح انہ فی غیرہ جارحتی اشتبہ ذلك علی بعض الفضلا کالسید الحموی والشیخ صالح بن عبداﷲ الغزی الی ان دفعہ العلامۃ الرملی فی ماسرد نامن جواھرنصوص الفتح ان کل ذلك محض تصویر للمسئلۃ وتقریر للاسئلۃ من دون حصرولاقصر وان لاتقدیر بمدۃ ولاتقیدبموت ولا تخصیص بجوار ولابتصرف دون تصرف بعد ان کان ممالایطلق الا للملاك ولا امتناع عن السماع قطعا للاطماع الا للسکوت وترك النزاع مع الوقف والاطلاع علی تصرف واختراع ولئلا یشتبہ مانحن فیہ بمسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ فانہا تعم مااذاوقع التصرف اولاحصل الاطلاع ام لا وھی مسئلۃ تلاحمت فیہا الآراء والاحلام و تشاجرت الظنون والافہام ومن قال فیہا بعدم السماع فانما بنی الامر علی النہی السلطانی ثم اضطربت کلما تہم فی مجاریہا فمن تارك لہا علی الاطلاق ومن مستثن لاشیاء ثم لم یتفقوافی المستثنیات علی کلمۃ واحدۃ ومنھم من عمم باخراج کل مافیہ عذرللمدعی وھو اجمع واصوب یہ ذکرنہ کیا کہ غیر میں بھی یہ حکم جاری ہے حتی کہ بعض فضلاء کو اشتباہ ہوگیا جیسے سید حموی اور شیخ صالح بن عبداﷲ الغزی حتی کہ علامہ رملی کو اس کا دفاع کرنا پڑااور ہم نے فتح کے نصوص کے جواہر ذکر کئے کہ یہ تمام بیانات مسئلہ کی محض صورتیں ہیں اور سوالات کی تقریر ہے اس میں کوئی حصرمدت کی تحدیدموت کی قیدپڑوسی کی تخصیص نہیں ہے اور نہ ہی کسی تصرف کا تعین ہے سوائے اس کے کہ یہ تصرف مالکانہ ہو اور مشتری کے تصرفات واختراعات پر اطلاع کے بعد سکوت ہو اور نزاع نہ پایا جائے تو فساد ولالچ کو ختم کرنے کے لئے دعوی کی سماعت ممتنع ہوگی اور اس لئے بھی کثیر نقول ذکر کی ہیں تاکہ اس مسئلہ کا پندرہ سال کے بعد عدم سماع والے مسئلہ سے اشتباہ نہ رہےکیونکہ اس مسئلہ کا دائرہ عام ہے مشتری کا تصرف ہو یانہ ہو پھر اس کی اطلاع اجنبی کو ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو اور اس مسئلہ میں آراء اور دلائلظنون اور افہام کا ٹکراؤ ہے جنہوں نے وہاں دعوی غیر مسموع کہا ہے انہوں نے سرکاری ممانعت کی بنا پر کہا ہے پھر سرکاری ممانعت کو جاری کرنے میں فقہاء کرام کے کلام میں اختلاف ہے بعض نے علی الاطلاق اس کو جاری مانا ہے اور بعض نے بعض وجوہ سے استثناء کیاہے پھر مستثنیات میں کسی ضابطہ پر اتفاق نہ کیا بعض نے جہاں مدعی کا عذر ہو وہاں سرکاری حکم سے علی العموم استثناء ماناہے یہی موقف جامع اوردرست ہے
ثم عظم الاعتراف فی دعوی المیراث فقوم یسمعون واخرون یمنعون کما فصلہ الفاضل المحقق العلامۃ سیدی امین الدین الشامی فی العقود الدریۃ ومنسوۃ عــــــہ وردامر الامارۃ مع استثنائھا واخرھی بدونہ کما ذکرہ ایضا فی ردالمحتار بخلاف مانحن فیہ فلایقدر بمدۃ ولایبتنی علی نھی وانما ھی حکم من الفقہاء الکرام قطعا لمادۃ الزور والتلبیس کما قد سمعت وھذا مما یستوی فیہ دعوی الارث وغیرہ ولذا رأیتہم مطلقین القول ھھنا من دون تخصیص ولا استثناء و لاجرم ان افتی بہ الرملی فی مسئلتین مسوقتین فی دعوی الارث کما قرأنا علیك فافھم و تثبت فان المقام مزلۃ الاقدام۔ پھر بڑی معرکہ آرائی میراث کے دعوی میں ہوئی بعض نے اس دعوی کو قابل سماعت قراردیا اور بعض نے غیر مسموع قرار دیا جیسا کہ اس کی تفصیل فاضل محقق علامہ سیدی امین الدین شامی نے عقود الدریۃ میں فرمائی اس اختلاف کا منشاء اور وجہ امیر کا حکم ہونا ہے کہ یہ حکم قابل استثناء ہے یانہیںجیسا کہ یہ بھی ردالمحتار میں مذکور ہےاس تفصیل کے برخلاف ہمارے زیر بحث مسئلہ میں تو نہ کوئی مدت مقررہ ہے اور نہ ہی یہ سرکاری حکم منع پر مبنی ہے بلکہ یہ فقہاء کرام کا اجتہادی حکم ہے جو کہ جھوٹ اور جعل سازی کے خاتمہ کے لئے ہے جیسا کہ آپ نے سنااور اس میں وراثت اورغیر وراثت کا دعوی مساوی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں فقہاء نے مطلق قول فرمایا ہے جسے تم نے دیکھا ہے کہ وہ یہاں نہ تخصیص کرتے ہیں اور نہ ہی استثناء کرتے ہیںبہرحال رملی نے دعوی وراثت کے دو مسئلوں میں یہی فتوی دیا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بیان کیا ہےسمجھو اور ثابت قدم رہو کیونکہ پھسلنے کا مقام ہے۔
پس صورت مستفسرہ میں جبکہ موصی لہما نے جائداد میں اس قدر تصرفات کئے نصف ملتے ہی دے ڈالی اور لینے والے نے اوروں کے ہاتھ بیچی ادھر وہ آئی گئی فیصل ہوئی ادھر جو باقی رہی اس میں موصی لہما تحصیل تشخیص کرتے رہے اورکچھ اس میں سے بھی جدا کی جس پر خریدار قابض متصرف ہوئے اس عرصہ تك یہ مدعی کیونکر اپنا حق چھوڑے بیٹھے رہے اور اپنی اس قدر جائداد کثیر کا زید وعمرومن و تو کے ہاتھوں میں لوٹ پھیر جبکہ دیکھااگر فی الواقع یہ صاحب حق ہوتے تو کیونکر اس قدر مدت تك صبر کرتےآخر نہ دیکھا کہ امام علامہ
عــــــہ:فی الاصل ھکذا واظنہ انہ منشؤہ ورددامرالامارۃ مع استثنائھا۱۲"عبد"۔
پس صورت مستفسرہ میں جبکہ موصی لہما نے جائداد میں اس قدر تصرفات کئے نصف ملتے ہی دے ڈالی اور لینے والے نے اوروں کے ہاتھ بیچی ادھر وہ آئی گئی فیصل ہوئی ادھر جو باقی رہی اس میں موصی لہما تحصیل تشخیص کرتے رہے اورکچھ اس میں سے بھی جدا کی جس پر خریدار قابض متصرف ہوئے اس عرصہ تك یہ مدعی کیونکر اپنا حق چھوڑے بیٹھے رہے اور اپنی اس قدر جائداد کثیر کا زید وعمرومن و تو کے ہاتھوں میں لوٹ پھیر جبکہ دیکھااگر فی الواقع یہ صاحب حق ہوتے تو کیونکر اس قدر مدت تك صبر کرتےآخر نہ دیکھا کہ امام علامہ
عــــــہ:فی الاصل ھکذا واظنہ انہ منشؤہ ورددامرالامارۃ مع استثنائھا۱۲"عبد"۔
محمد بن عبداﷲ غزی قدس سرہ الشریف نے تو کچھ اوپر تین برس گزرنے میں دعوی نامسموع ٹھہرایا یہاں تو چھ سال سے اونچے ہوچکےبالجملہ اگر ایسی حالت میں ہندہ زندہ ہوتی اور وہ خود دعوی کرتی تو اس کی بھی نہ سنی جاتی اب کہ اس کے مرنے کے بھی کئی سال بعد ان مدعیوں کو یاد آیا کہ ہندہ تو زینب کی بہن تھی اور ہم اس کے ہمشیرہ زاد اور وہ خواہر کہلائی جاتیان کی بات پر کوئی بھی التفات نہ کیاجائے گا اور جائداد بدستور موصی لہماکے قبضہ میں رکھی جائے گی
فی الفتاوی الخیریۃ فعلم بذلك ان الام لوکانت حیۃ ثم ادعت بعد ذلك لاتسمع دعوھا ومامنع المورث فی مثلہ منع الوارث بالاولی وفی الحاشیۃ الشامیۃ من لاتسمع دعواہ لما نع لاتسمع دعوی وارثہ بعدہ کما فی البزازیۃ وغیرھا انتہی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فتاوی خیریہ میں ہے:تو اس سے معلوم ہوا کہ ماں اگر زندہ ہوتی پھر بعد میں دعوی کرتی تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور جہاں مورث کا دعوی مسموع نہ ہوگاتو وہاں وارث کادعوی بطریق اولی نہ سناجائے گااور حاشیہ شامی میں ہے:جب مانع کی وجہ سے کسی کا دعوی مسموع نہ ہو تو اس کے بعد اس کے وارث کا دعوی وہاں مسموع نہ ہوگا اھ جیساکہ بزازیہ وغیرہ میں ہے انتہی۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۸: ۲۲/ربیع الثانی شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسمیان وجیہ الدین وکریم الدین پسران نظام الدین مالك مشترك بحصہ مساوی ۱۰بسوہ حقیت زمینداری موضع رچہا پر گنہ فرید پور کے تھے ۵/اپریل ۱۸۴۹ء کو وجیہ الدین احد الشریك نے وفات پائی نجم النساء زوجہ صدق النساء مادر ونظام النسا ہمشیرہ حقیقی ذوی الفروض وکریم الدین برادر علاتی عصبہجملہ چاروارث شرعی چھوڑےتاریخ ۱۵/ماہ مذکور کوصدق النساء مادر وجیہ الدین فوت ہوئی اس کی وارث مسماۃ نظام النساء دختر ہوئی اور ۱۱/ستمبر ۱۸۵۳ء کو کریم الدین نے قضا کیمسماۃ بیگم زوجہ مسماۃ کنیز شیریں دختر ذوی الفروض ومسماۃ نظام النساء ہمشیرہ علاتی عصبہ وارث فوت ہوئے مگر تمام حقیت دیہہ مذکور پر قبضہ بطور خود بعوض دین مہر بیوگان مورثان کا رہا کہ ۱۸۷۳ء میں ۶بسوہ حسب نالش نجم النساء کی تقسیما علیحدہ ہوگئے اور ۵بسوہ مسماۃ کنیز شیریں وبیگم نے بدست قربان علی
فی الفتاوی الخیریۃ فعلم بذلك ان الام لوکانت حیۃ ثم ادعت بعد ذلك لاتسمع دعوھا ومامنع المورث فی مثلہ منع الوارث بالاولی وفی الحاشیۃ الشامیۃ من لاتسمع دعواہ لما نع لاتسمع دعوی وارثہ بعدہ کما فی البزازیۃ وغیرھا انتہی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فتاوی خیریہ میں ہے:تو اس سے معلوم ہوا کہ ماں اگر زندہ ہوتی پھر بعد میں دعوی کرتی تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور جہاں مورث کا دعوی مسموع نہ ہوگاتو وہاں وارث کادعوی بطریق اولی نہ سناجائے گااور حاشیہ شامی میں ہے:جب مانع کی وجہ سے کسی کا دعوی مسموع نہ ہو تو اس کے بعد اس کے وارث کا دعوی وہاں مسموع نہ ہوگا اھ جیساکہ بزازیہ وغیرہ میں ہے انتہی۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۸: ۲۲/ربیع الثانی شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسمیان وجیہ الدین وکریم الدین پسران نظام الدین مالك مشترك بحصہ مساوی ۱۰بسوہ حقیت زمینداری موضع رچہا پر گنہ فرید پور کے تھے ۵/اپریل ۱۸۴۹ء کو وجیہ الدین احد الشریك نے وفات پائی نجم النساء زوجہ صدق النساء مادر ونظام النسا ہمشیرہ حقیقی ذوی الفروض وکریم الدین برادر علاتی عصبہجملہ چاروارث شرعی چھوڑےتاریخ ۱۵/ماہ مذکور کوصدق النساء مادر وجیہ الدین فوت ہوئی اس کی وارث مسماۃ نظام النساء دختر ہوئی اور ۱۱/ستمبر ۱۸۵۳ء کو کریم الدین نے قضا کیمسماۃ بیگم زوجہ مسماۃ کنیز شیریں دختر ذوی الفروض ومسماۃ نظام النساء ہمشیرہ علاتی عصبہ وارث فوت ہوئے مگر تمام حقیت دیہہ مذکور پر قبضہ بطور خود بعوض دین مہر بیوگان مورثان کا رہا کہ ۱۸۷۳ء میں ۶بسوہ حسب نالش نجم النساء کی تقسیما علیحدہ ہوگئے اور ۵بسوہ مسماۃ کنیز شیریں وبیگم نے بدست قربان علی
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۸€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۶€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۶€
فروخت کرڈالے اور ۱۸۷۶ء میں اول مسماۃ بیگم مریاس کی وارث صرف مسماۃ کنیز شیریں دختر ہوئیبعدہامسماۃ نظام النساء اعلی درجہ کی حصہ دار اور جو بانتظار بیبیاقی دین مہر میں بیوگان کے قبضہ جائداد سے دست کش تھی فوت ہوئیاس کے وارث محض عوض وکریم بخش نبیر گان ثناء اﷲ عم حقیقی متوفیہ بحق عصوبت ہوئے دین مہر مسماۃ نجم النساء کا ۱۸۷۸ء میں اور دین مہر مسماۃ بیگم کا ۱۸۸۲ء تك آمدنی جائداد سے اد ا ہوگیا باوجود بیباق ہوجانے دین مہر کے نجم النساء نے منجملہ ۵بسوہ بدست مسماۃ بیگم زوجہ قربان علی مذکور اور بھاگی رتھ کے فروخت کرڈالے اور ۲بسوہ تمسك موسومہ مولچندمیں مکفول کی کہ وہ بسوات مکفولہ بعلت ڈگری مطالبہ مذکور تاریخ ۲۰/مارچ۱۸۸۸ء کو بخریداری ممتاز حسین پسر قربان علی نیلام ہوگئی یکم اگست ۱۸۸۶ء کو محمد عوض وکریم بخش وارثان نظام النساء نے کل حق حقوق اپنا واقع ۱۰بسوہ مذکور بدست مسماۃ الہی بیگم بیع کیا کہ بوجہ خریداری کے مشتریہ نے نالشات دیوانی میں دائر کرکے ڈگریات اثبات حق ودخل بقدر ۰۳/بسوہ کے بمقابلہ مسماۃ نجم النساء ونیز مشتریان اس کی کے علیحدہ علیحدہ حصہ دار حاصل کیںبعد اسکے مسماۃ کنیز شیریں مہاجرہ حسب اتفاق بریلی آئیممتاز حسین مدعا علیہ نے ایك مختار نامہ عام مسماۃ کنیز شیریں سے اپنے حقیقی بھائی عاشق علی کے نام تحریر کرا لیاچنانچہ عاشق علی مذکورنے بعد چلے جانے مسماۃکنیز شیریں کے نالش منجانب کنیز شیریں بدیں بیان رجوع کی ہے کہ۰۳بسوہ ڈگری شدہ الہی بیگم پر بذریعہ وراثت وجیہ الدین کے مسماۃ کنیز شیریں کو رسدی حصہ ملےمدعاعلیہا کو یہ عذر ہے کہ ۱۰بسوہ متروکہ مورثان میں مسماۃ نجم النساء کو ابسوہ ۵بسوانسی اور مسماۃ کنیز شیریں کو مع مسماۃ بیگم کے ۳ بسوہ ۷ بسوانسی اور محمد عوض وکریم بخش مدعا علیہما کو ۵بسوہ ۷ بسوانسی پہنچے تو جملہ حصہ داران نے کل حقوق اپنے فروخت کرڈالے بقائم مقامی ان کے مشتریان مالك ہیںاور بوجہ عدم شمول مسماۃ نظام النساء کے تقسیم ونیز بیع منجانب نجم النساء ونیز مسماۃ کنیز شیریں کے جہاں تك حصہ شرعی مشتریہ مدعاعلیہا ہے کالعدم ہے اور بیع مستلزم تفریق حصص بائع ہے فقط بوجوہات معروضہ بالا کے شرعا دعوی اجرائے توریث مدعیہ نسبت ۰۳ بسوہ مقبوضہ الہی بیگم مدعا علیہا کے قابل قبول ہے یانہیں اور عذر مدعا علیہا کس قدر قابل لحاظ ہے بحوالہ کتب بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کنیز شیریں کا دعوی محض باطل وبے بنیاد ہےاس مسئلہ کی تحقیق میں چند امور تنقیح طلب کا جن کا حکم معلوم ہونے کے بعد باذن اﷲتعالی خود ہی منکشف ہوجائے گا:
(۱)پانچ پانچ بسوہ کی تقسیم کہ نجم النساء نے کرائی صحیح ہے جس کے سبب ترکہ وجیہ الدین میں حصہ کنیز شیریں صرف اسی پٹی سے متعلق ہے جو نجم النساء کے ہاتھ میں تھی یا باطل اور اس کا حق دونوں پٹیوں میں شائع۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کنیز شیریں کا دعوی محض باطل وبے بنیاد ہےاس مسئلہ کی تحقیق میں چند امور تنقیح طلب کا جن کا حکم معلوم ہونے کے بعد باذن اﷲتعالی خود ہی منکشف ہوجائے گا:
(۱)پانچ پانچ بسوہ کی تقسیم کہ نجم النساء نے کرائی صحیح ہے جس کے سبب ترکہ وجیہ الدین میں حصہ کنیز شیریں صرف اسی پٹی سے متعلق ہے جو نجم النساء کے ہاتھ میں تھی یا باطل اور اس کا حق دونوں پٹیوں میں شائع۔
(۲)بائعان وغیربائعان جملہ ورثہ کے حصص متروکات میں کس کس قدر ہیں۔
(۳)بیعین کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں ونیلام کنندگان نے کیں کہاں تك اثر رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہو کہ مشتریوں کے ہاتھ میں کتنی حقیتیں اثر بیع سے محفوظ وقابل دعوی وارثان ہیں۔
(۴)ان محفوظ حقیتوں میں رسدی حصے کے حساب سے کنیز شیریں والہی بیگم کا حق کس نسبت سے ہے۔
(۵)شرکت ملك میں ایك شریك کو دوسرے کے حق سے کتنا تعلق ہےباقی رہا یہ کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں کیاحالت رکھتی ہیں اور مشتریوں کو بوجہ تفریق صفقہ کیا کیا اختیار حاصل اور اس کے سوا اور امور متعلقہ معاملہ سے تعرض نہ کروں گا کہ یہ باتیں اس مسئلہ میں زیر بحث نہیں۔اب بتوفیق ا ﷲ تعالی ہرامر کاجواب لیجئے۔
تقسیم مذکور محض باطل وبے اثر ہےاولا:نظام النساء اس میں شریك نہ کی گئیہدایہ میں ہے:
ظہر شریك ثالث لھما والقسمۃ بدون رضاہ باطلۃ ۔ جب دو کے ساتھ تیسرا شریك ظاہرہوجائے تو پھر اس کے بغیر تقسیم باطل قرار پائے گی۔(ت)
ثانیا: ظاہر ہےکہ نظام النساء کا حق وجیہ الدین وکریم الدین دونوں کے ترکہ میں بروجہ شیوع تھا تو الہی بیگم کہ بوجہ شراء اس کے ورثہ کے قائم مقام ہوئی دونوں حصص میں استحقاق شائع رکھتی ہے اور ایسا استحقاق بالاجماع باعث انتقاض تقسیم ہوتا ہے
عالمگیری میں ہے:
ان استحق جزء شائع من النصیبین انتقضت القسمۃ ۔ اگر دو حصوں کا استحقاق شائع جز یعنی ناقابل انقسام ہوتو وہ تقسیم ختم ہوجائے گی(ت)
پس ظاہر ہوا کہ یہ پٹیاں محض نامعتبر ہیں اور ترکہ میں وراثۃ خواہ شراء جتنے حقدار ہیں سب کا حق بدستور مجموع ۱۰بسوہ میں شائع یہاں تك کہ جو ذرہ زمین لیجئے اس میں سب کا استحقاق حصہ رسد میں ہےفان ھذا ھو معنی الشیوع کما نصواعلیہ قاطبۃ(کیونکہ شیوع کا معنی یہی ہے جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ت)
تفصیل حصص:وجیہ الدین جس کا ترکہ صورت مذکورہ میں ۹۶سے منقسم ہوکریوں بٹا:
نجم النساء:۲۴نظام النساء:۶۷کنیزشیریں:۵کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہر ہے)اس کے پانچ بسوہ کی تقسیم یہ ہوئی:نجم النساء:ا بسوہ ۵بسوانسینظام النساء:۳بسوہ ۹بسوانسی ۱۵-۵/۶کچوانسی
(۳)بیعین کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں ونیلام کنندگان نے کیں کہاں تك اثر رکھتی ہیں جس سے ظاہر ہو کہ مشتریوں کے ہاتھ میں کتنی حقیتیں اثر بیع سے محفوظ وقابل دعوی وارثان ہیں۔
(۴)ان محفوظ حقیتوں میں رسدی حصے کے حساب سے کنیز شیریں والہی بیگم کا حق کس نسبت سے ہے۔
(۵)شرکت ملك میں ایك شریك کو دوسرے کے حق سے کتنا تعلق ہےباقی رہا یہ کہ نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں کیاحالت رکھتی ہیں اور مشتریوں کو بوجہ تفریق صفقہ کیا کیا اختیار حاصل اور اس کے سوا اور امور متعلقہ معاملہ سے تعرض نہ کروں گا کہ یہ باتیں اس مسئلہ میں زیر بحث نہیں۔اب بتوفیق ا ﷲ تعالی ہرامر کاجواب لیجئے۔
تقسیم مذکور محض باطل وبے اثر ہےاولا:نظام النساء اس میں شریك نہ کی گئیہدایہ میں ہے:
ظہر شریك ثالث لھما والقسمۃ بدون رضاہ باطلۃ ۔ جب دو کے ساتھ تیسرا شریك ظاہرہوجائے تو پھر اس کے بغیر تقسیم باطل قرار پائے گی۔(ت)
ثانیا: ظاہر ہےکہ نظام النساء کا حق وجیہ الدین وکریم الدین دونوں کے ترکہ میں بروجہ شیوع تھا تو الہی بیگم کہ بوجہ شراء اس کے ورثہ کے قائم مقام ہوئی دونوں حصص میں استحقاق شائع رکھتی ہے اور ایسا استحقاق بالاجماع باعث انتقاض تقسیم ہوتا ہے
عالمگیری میں ہے:
ان استحق جزء شائع من النصیبین انتقضت القسمۃ ۔ اگر دو حصوں کا استحقاق شائع جز یعنی ناقابل انقسام ہوتو وہ تقسیم ختم ہوجائے گی(ت)
پس ظاہر ہوا کہ یہ پٹیاں محض نامعتبر ہیں اور ترکہ میں وراثۃ خواہ شراء جتنے حقدار ہیں سب کا حق بدستور مجموع ۱۰بسوہ میں شائع یہاں تك کہ جو ذرہ زمین لیجئے اس میں سب کا استحقاق حصہ رسد میں ہےفان ھذا ھو معنی الشیوع کما نصواعلیہ قاطبۃ(کیونکہ شیوع کا معنی یہی ہے جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ت)
تفصیل حصص:وجیہ الدین جس کا ترکہ صورت مذکورہ میں ۹۶سے منقسم ہوکریوں بٹا:
نجم النساء:۲۴نظام النساء:۶۷کنیزشیریں:۵کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہر ہے)اس کے پانچ بسوہ کی تقسیم یہ ہوئی:نجم النساء:ا بسوہ ۵بسوانسینظام النساء:۳بسوہ ۹بسوانسی ۱۵-۵/۶کچوانسی
حوالہ / References
الہدایہ کتاب القسمۃ باب دعوی الغلط ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۱۹€
فتاوٰی ہندیۃ الباب العاشرفی القسمۃ یستحق الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۲۵€
فتاوٰی ہندیۃ الباب العاشرفی القسمۃ یستحق الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۲۵€
کنیز شیریں:۵بسوانسی ۴-۱/۶کچوانسی۔
اور کریم الدین جس کا ترکہ آٹھ سے تقسیم پاکر یوں پہنچا:بیگم:۱کنیز شیریں:۴نظام النساء:۳
اس کے پانچ بسوہ یوں منقسم ہوئے:
بیگم:۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسیکنیز شیریں:۲بسوہ ۱۰بسوانسینظام النساء:ابسوہ ۷ا بسوانسی ۱۰کچوانسی۔یہاں سے ظاہر ہے کہ ترکہ وجیہ الدین میں حصہ نظام انساءء ۳بسوہ ۱۰بسوانسی گمان کرنا غلط تھا جس میں اس کے حق شرعی سے ۴-۱/۶ کچوانسی کی زیادتی اور کنیز شیریں کے حق میں اسی قدر کی کمی کی گئی۔بیع ہر شخص کی اپنی ہی ملك میں نافذ ہوتی ہے اور بیع ملك غیر بے اذن غیراجازت پر موقوف رہتی ہے اگر نہ جائز رکھے باطل ہوجائے فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
اذاباع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک ۔ جب بغیر اجازت کسی کے مال کو فروخت کیا ہو تو ہمارے نزدیك وہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی(ت)
اور مجرد سکوت یعنی بیع کی خبر پانا اور خاموش رہنا اجازت نہیںعالمگیری میں ہے:
بلغ المالك ان فضولیا باع ملکہ فسکت لایکون اجازۃ ۔ مالك کو اطلاع ملی کہ ایك اجنبی نے اس کی ملکیت فروخت کردی ہے مالك خاموش رہا تو یہ اجازت نہ ہوگی۔(ت)
اور بعد موت مالك اس کے ورثہ جائز نہیں کرسکتےفتاوی خانیہ میں ہے:
اذامات المالك لاینفذ باجازۃ الوارث ۔ جب مالك فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کی اجازت سے بیع نافذنہ ہوگی۔
بس نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں اگر نافذ ہوئیں تو صرف انہیں کے حصوں یعنی۱ بسوہ ۵بسو انسی ۱۲نسوانسی ۱۰کچوانسی ۲بسوا۱۰بسوانسی میں ہوئیں۔ عالمگیری میں ہے:
عبدبین رجلین غصبہ احدھما ایك عبد دو مالکوں کی مشترکہ ملك تھا ان میں
اور کریم الدین جس کا ترکہ آٹھ سے تقسیم پاکر یوں پہنچا:بیگم:۱کنیز شیریں:۴نظام النساء:۳
اس کے پانچ بسوہ یوں منقسم ہوئے:
بیگم:۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسیکنیز شیریں:۲بسوہ ۱۰بسوانسینظام النساء:ابسوہ ۷ا بسوانسی ۱۰کچوانسی۔یہاں سے ظاہر ہے کہ ترکہ وجیہ الدین میں حصہ نظام انساءء ۳بسوہ ۱۰بسوانسی گمان کرنا غلط تھا جس میں اس کے حق شرعی سے ۴-۱/۶ کچوانسی کی زیادتی اور کنیز شیریں کے حق میں اسی قدر کی کمی کی گئی۔بیع ہر شخص کی اپنی ہی ملك میں نافذ ہوتی ہے اور بیع ملك غیر بے اذن غیراجازت پر موقوف رہتی ہے اگر نہ جائز رکھے باطل ہوجائے فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
اذاباع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک ۔ جب بغیر اجازت کسی کے مال کو فروخت کیا ہو تو ہمارے نزدیك وہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی(ت)
اور مجرد سکوت یعنی بیع کی خبر پانا اور خاموش رہنا اجازت نہیںعالمگیری میں ہے:
بلغ المالك ان فضولیا باع ملکہ فسکت لایکون اجازۃ ۔ مالك کو اطلاع ملی کہ ایك اجنبی نے اس کی ملکیت فروخت کردی ہے مالك خاموش رہا تو یہ اجازت نہ ہوگی۔(ت)
اور بعد موت مالك اس کے ورثہ جائز نہیں کرسکتےفتاوی خانیہ میں ہے:
اذامات المالك لاینفذ باجازۃ الوارث ۔ جب مالك فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کی اجازت سے بیع نافذنہ ہوگی۔
بس نجم النساء وبیگم وکنیز شیریں کی بیعیں اگر نافذ ہوئیں تو صرف انہیں کے حصوں یعنی۱ بسوہ ۵بسو انسی ۱۲نسوانسی ۱۰کچوانسی ۲بسوا۱۰بسوانسی میں ہوئیں۔ عالمگیری میں ہے:
عبدبین رجلین غصبہ احدھما ایك عبد دو مالکوں کی مشترکہ ملك تھا ان میں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیع فصل فی البیع الموقوف ∞نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۳€
فتاوٰی قاضیخان کتب البیع فصل فی البیع الموقوف ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۵۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۳€
فتاوٰی قاضیخان کتب البیع فصل فی البیع الموقوف ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۵۱€
من صاحبہ فباعہ بالف درہم ودفعہ الی المشتری جاز البیع فی حصتہ ۔ سے ایك نے غصب کرکے فروخت کردیا او مشتری سے ہزار درہم لے کر اس کو قبضہ دے دیا تو فروخت کرنیوالے کے اپنے حصہ میں بیع جائز ہوگی(ت)
اور بیع نیلام کا غیر نافذ ہونا تو اظہر من الشمس کہ جب نجم النساء اپنا حصہ بدست بیگم زوجہ قربان علی بیچ چکی تھی تواب جائداد میں اس کا کیا باقی تھا جو اس کے قرضہ میں نیلام کیا جاتا بہرحال نفاذ بیع انہیں تین حصوں یعنی مجموع ۱۰بسوہ سے ۴بسوہ ۷ بسوانسی ۱۰کچو انسی تك محدود ہے باقی ۵بسوہ ۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسی نفاذبیع سے محفوظ ہیںدونوں ترکوں میں حصہ نظام النساء کی محفوظی تو ظاہر خواہ بیعیں اس کی حیات میں ہوئیں یا بعد کہ برتقدیر اول اس کے بے اجازت دئے انتقال کرنے اور برتقدیر ثانی اس بیع نے جو مالکوں یعنی محمد عوض وکریم بخش نے بدست الہی بیگم کی اگلی سب بیعوں کو جہاں تك ان کے حصوں سے متعلق نہیں باطل کر دیا۔ردالمحتار میں ہے:
فی البزازیۃ من القاعدی طروالبات یبطل الموقوف اذاحدث لغیر من باشر الموقوف کما اذاباع المالك ماباعہ الفضولی من غیر الفضولی ولو ممن اشتری من الفضولی اھ ملخصا۔ بزازیہ میں قاعدی سے منقول ہے کہ قطعی فیصلے کا طاری ہونا موقوف بیع کو باطل کردیگا جب موقوف عمل کرنے والے کے غیر سے جدید بیع ہوجائے مثلا فضولی نے جس چیز کو فروخت کیا اسی کو مالك نے کسی غیر فضولی کے پاس فروخت کردیا ہو اگرچہ یہ غیروہی ہو جس کو فضولی نے فروخت کیا تھا اھ ملخصا(ت)
تو مجموع ۱۰بسوہ سے ۵بسوہ ۷ بسوانسی ۵-۵/۶ کچوانسی ملك الہی بیگم ہوئیں۔رہی کنیز شیریں اس نے اور اس کی ماں بیگم نے اگرچہ اپنی مقدار حصص سے بہت زائدیعنی ۵ بسوہ کی بیع کی مگر یہ بیع ان کے صرف انہی حصوں پر مقتصر رہی جو کہ ترکہ ذاتی کریم الدین سے انہں ملی تھی نہ بدیں سبب کہ انہوں نے بعد تقسیم یہی پانچ بسوہ سے بیع کئے جو بالتعیین ترکہ کریم الدین فرض کرلئے گئے تھے کہ یہ فرض وتعین تو شرعا محض بیہودہ وبے معنی تھی کما اسلفنا(جیساکہ ہم نے پہلے بیا ن کیا ہے۔ت)بلکہ اس وجہ سے کہ انہیں صرف انہی حصص کی بیع مقصود تھی اور اسی قدر پر عقد وارد کیا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) تو ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی کہ ترکہ وجیہ الدین سے انہیں پہنچیں ان کی بیع میں داخل نہ ہوئیں بلکہ غیر مالك یعنی نجم النساء خواہ نیلام کنندگان نے
اور بیع نیلام کا غیر نافذ ہونا تو اظہر من الشمس کہ جب نجم النساء اپنا حصہ بدست بیگم زوجہ قربان علی بیچ چکی تھی تواب جائداد میں اس کا کیا باقی تھا جو اس کے قرضہ میں نیلام کیا جاتا بہرحال نفاذ بیع انہیں تین حصوں یعنی مجموع ۱۰بسوہ سے ۴بسوہ ۷ بسوانسی ۱۰کچو انسی تك محدود ہے باقی ۵بسوہ ۱۲بسوانسی ۱۰کچوانسی نفاذبیع سے محفوظ ہیںدونوں ترکوں میں حصہ نظام النساء کی محفوظی تو ظاہر خواہ بیعیں اس کی حیات میں ہوئیں یا بعد کہ برتقدیر اول اس کے بے اجازت دئے انتقال کرنے اور برتقدیر ثانی اس بیع نے جو مالکوں یعنی محمد عوض وکریم بخش نے بدست الہی بیگم کی اگلی سب بیعوں کو جہاں تك ان کے حصوں سے متعلق نہیں باطل کر دیا۔ردالمحتار میں ہے:
فی البزازیۃ من القاعدی طروالبات یبطل الموقوف اذاحدث لغیر من باشر الموقوف کما اذاباع المالك ماباعہ الفضولی من غیر الفضولی ولو ممن اشتری من الفضولی اھ ملخصا۔ بزازیہ میں قاعدی سے منقول ہے کہ قطعی فیصلے کا طاری ہونا موقوف بیع کو باطل کردیگا جب موقوف عمل کرنے والے کے غیر سے جدید بیع ہوجائے مثلا فضولی نے جس چیز کو فروخت کیا اسی کو مالك نے کسی غیر فضولی کے پاس فروخت کردیا ہو اگرچہ یہ غیروہی ہو جس کو فضولی نے فروخت کیا تھا اھ ملخصا(ت)
تو مجموع ۱۰بسوہ سے ۵بسوہ ۷ بسوانسی ۵-۵/۶ کچوانسی ملك الہی بیگم ہوئیں۔رہی کنیز شیریں اس نے اور اس کی ماں بیگم نے اگرچہ اپنی مقدار حصص سے بہت زائدیعنی ۵ بسوہ کی بیع کی مگر یہ بیع ان کے صرف انہی حصوں پر مقتصر رہی جو کہ ترکہ ذاتی کریم الدین سے انہں ملی تھی نہ بدیں سبب کہ انہوں نے بعد تقسیم یہی پانچ بسوہ سے بیع کئے جو بالتعیین ترکہ کریم الدین فرض کرلئے گئے تھے کہ یہ فرض وتعین تو شرعا محض بیہودہ وبے معنی تھی کما اسلفنا(جیساکہ ہم نے پہلے بیا ن کیا ہے۔ت)بلکہ اس وجہ سے کہ انہیں صرف انہی حصص کی بیع مقصود تھی اور اسی قدر پر عقد وارد کیا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) تو ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی کہ ترکہ وجیہ الدین سے انہیں پہنچیں ان کی بیع میں داخل نہ ہوئیں بلکہ غیر مالك یعنی نجم النساء خواہ نیلام کنندگان نے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۴۶€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴ /۱۴۲€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴ /۱۴۲€
بے اذن مالکان بیچیں تو بیع اگر حیات بیگم میں واقع ہوئی تو بوجہ موت بلااجازت اس کے حصے یعنی ابسوانسی ۵/۶کچوانسی میں باطل محض ہوگئی جسے کنیز شیریں بھی نافذ نہیں کرسکتی کما قدمنا عن الھندیۃ(جیسا کہ ہم پہلے ہندیہ سے نقل کرچکے ہیں۔ت)اور اس کے بعد ہوئی تو مثل حصہ کنیز شیریں اجازت کنیز شیریں پر موقوف رہی جس کی تنفیذ وابطال کا اختیار کنیز شیریں کواب تك حاصل ہے۔
ولا تکون دعوھا مسقطۃ لخیارہا ومعینۃ لابطال البیع کما حققہ المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر شرح الھدایۃ۔ اس کا دعوی اس کے خیار کو ساقط کرے گا نہ بطلان بیع کےلئے معاون ہوگا جیساکہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔(ت)
بہر طور مجموع۰ابسوہ سے ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی پر کنیز شیریں کوہر طرح دعوی پہنچتا ہے۔
نسبت حصص:ہماری تقریر سے واضح ہوگیا کہ ۱۰بسوہ کس قدر حقیت کنیز شیریں والہی بیگم کےلئے محفوظاور اس میں ہر ایك کا حق کتنا ہےاب ان دونوں کے حصوں میں نسبت دریافت کرنے کے لئے بغرض تیسیر طریق سب کسور کو کسر اصغر یعنی سدس ۱/۶ کچوانسی کا ہمجنس کیجئے تو حصہ الہی بیگم(۸۷۵ء ا)ہے اور نصیب کنیز شیریں ۶۲۵یہ دونوں توافق بخمس خمس خمس بجزء من مائۃ وخمسۃ وعشرین رکھتے ہیں اول کا وفق ۱۰۳ دوم کا پانچ تو حصہ کنیز شیریں کو حق الہی بیگم سے وہی نسبت ہوئی جو پانچ کو۱۰۳ سے ہوتی ہے اسی سے ہر جز و جائدا د میں ان کا رسدی حصہ معلوم ہوجائے گا یعنی بوجہ بطلان تقسیم وبقائے شیوع جائداد محفوظ ۵بسوہ ۱۲ بسوانسی ۱۰کچوانسی کا جو ٹکڑا جوذرہ جہاں کہیں ہوگا اسکے ۱۰۸ سہام سے ۵ سہم کنیز شیریں اور ۱۰۳الہی بیگم کے ہیں۔
شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصے سے محض اجنبی ہوتا ہے۔عالمگیری میں ہے:
شرکۃ ملك ان یتملك رجلان شیئا من غیر عقد الشرکۃ بینھما نحو ان یرثا مالا اویوھب لھما اویملکا بالشراء اوالصدقۃ لایجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الاخر الابامرہ وکل واحد منھما کالاجنبی فی نصیب صاحبہ ویجوز بیع احدھما نصیبہ بغیر اذنہ اھ ملتقطا۔ شرکت ملك یہ ہے کہ دو شخص کسی ایك چیز کے عقد شرکت کے بغیر مالك ہوجائیں مثلا دونوں ایك چیز کے وارث ہیں یا ایك چیزدونوں کو ہبہ ہوئی یا خریداری یا صدقہ کے ذریعہ ایك چیز کے مالك بنےتو اس میں دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے حصہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا اور اپنے حصہ میں دونوں ایك دوسرے سے اجنبی ہیں لہذا ہرایك اپنے حصہ میں دوسرے کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتا ہے اھ ملتقطا(ت)
ولا تکون دعوھا مسقطۃ لخیارہا ومعینۃ لابطال البیع کما حققہ المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر شرح الھدایۃ۔ اس کا دعوی اس کے خیار کو ساقط کرے گا نہ بطلان بیع کےلئے معاون ہوگا جیساکہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔(ت)
بہر طور مجموع۰ابسوہ سے ۵بسوانسی ۴-۱/۶ کچوانسی پر کنیز شیریں کوہر طرح دعوی پہنچتا ہے۔
نسبت حصص:ہماری تقریر سے واضح ہوگیا کہ ۱۰بسوہ کس قدر حقیت کنیز شیریں والہی بیگم کےلئے محفوظاور اس میں ہر ایك کا حق کتنا ہےاب ان دونوں کے حصوں میں نسبت دریافت کرنے کے لئے بغرض تیسیر طریق سب کسور کو کسر اصغر یعنی سدس ۱/۶ کچوانسی کا ہمجنس کیجئے تو حصہ الہی بیگم(۸۷۵ء ا)ہے اور نصیب کنیز شیریں ۶۲۵یہ دونوں توافق بخمس خمس خمس بجزء من مائۃ وخمسۃ وعشرین رکھتے ہیں اول کا وفق ۱۰۳ دوم کا پانچ تو حصہ کنیز شیریں کو حق الہی بیگم سے وہی نسبت ہوئی جو پانچ کو۱۰۳ سے ہوتی ہے اسی سے ہر جز و جائدا د میں ان کا رسدی حصہ معلوم ہوجائے گا یعنی بوجہ بطلان تقسیم وبقائے شیوع جائداد محفوظ ۵بسوہ ۱۲ بسوانسی ۱۰کچوانسی کا جو ٹکڑا جوذرہ جہاں کہیں ہوگا اسکے ۱۰۸ سہام سے ۵ سہم کنیز شیریں اور ۱۰۳الہی بیگم کے ہیں۔
شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصے سے محض اجنبی ہوتا ہے۔عالمگیری میں ہے:
شرکۃ ملك ان یتملك رجلان شیئا من غیر عقد الشرکۃ بینھما نحو ان یرثا مالا اویوھب لھما اویملکا بالشراء اوالصدقۃ لایجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الاخر الابامرہ وکل واحد منھما کالاجنبی فی نصیب صاحبہ ویجوز بیع احدھما نصیبہ بغیر اذنہ اھ ملتقطا۔ شرکت ملك یہ ہے کہ دو شخص کسی ایك چیز کے عقد شرکت کے بغیر مالك ہوجائیں مثلا دونوں ایك چیز کے وارث ہیں یا ایك چیزدونوں کو ہبہ ہوئی یا خریداری یا صدقہ کے ذریعہ ایك چیز کے مالك بنےتو اس میں دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے حصہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا اور اپنے حصہ میں دونوں ایك دوسرے سے اجنبی ہیں لہذا ہرایك اپنے حصہ میں دوسرے کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتا ہے اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۰۱€
تنویر الابصار میں ہے:
شرکۃ ملك وھی ان یملك متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیر ھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ الخ ۔ شرکت ملك یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں وراثت یا بیع یا کسی اور طرح مشترکہ مالك ہوجائیں اور ہر ایك دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا الخ۔(ت)
تو ظاہر ہے کہ اگر ان میں ایك کسی غاصب پر دعوی کرکے اپنے مقدار حصہ میں اپنا اثبات ملك واستقرار حق کرائے تو اس ثبوت واستقراء میں دوسرے شریك کا ہر گز کوئی استحقاق نہیں آسکتا کہ جو سہام ایك کو پہنچتے ہیں دوسرے کا اس میں کیاحق ہے اس کے لئے اس کے سہام جدا ہیں پس ایك کے تقرر حق میں مزاحم ہونا گویا بعینہ یہ کہنا ہے کہ تو اپنے سہام میں مجھے شریك کرلے اور اپنے خاص حق سے مجھے کچھ دے دے اس کے کوئی معنی نہیںنہ ایسا دعوی قابل سماعتہاں اگر ایك شریك بے تقسیم شرعی ملك مشاع سے کسی معین ٹکڑے پر قبضہ کرلے تو بیشك دوسرے کا اس پر دعوی پہنچتا ہے کہ جب شیوع ہے ہر ہر ذرہ میں دونوں کا استحقاق ہے۔
فلایقبض شیئا معینا الاوقد قبض ملك صاحبہ مخلوطامع ملك نفسہ کما نص علیہ فی الکتب جمیعا۔ تو کسی معین چیز کا قبضہ دوسرے کے حصہ پر مخلوط قبضہ کے بغیر اپنے حصہ پر نہ ہوسکے گا جیسا کہ تمام کتب میں اس پر تصریح ہے۔(ت)
یا ایك شریك جھوٹا دعوی کرکے اپنے حق سے زیادہ میں اپنے لئے اثبات ملك کرالے تو بھی دوسر ے کی مزاحمت بجا ہے کہ اس نے اس کے حق میں دست اندازی کی یدل علی کل ذلك فروع جمۃ مذکورۃ فی کتب المذھب(اس پر کتب مذہب میں مذکور کثیر فروعات دال ہیں۔ت)غرض ان دو صورتوں کے سوا مجرد اثبات ملك واستقرار حق میں دوسرے شریك کی مزاحمت محض بیہودہ ونامسموع ہے۔جب یہ امور منقح ہولئے اور پر ظاہر کہ یہاں احتمال صحت دعوی کی صورت اولی یعنی قبض شے معین مفرز تو واقع نہ ہوئی کہ الہی بیگم نے ان ۳بسوہ ۱۰بسوانسی کا پٹی بانٹ کراگر کوئی مستقل قبضہ بالتعین نہ کیا تو صرف صورت ثانیہ یعنی حق سے زیادہ اثبات ملك کرالینے کا دیکھنا باقی رہا اگر یہ ۳ بسوہ ۱۰بسوانسی حق الہی بیگم سے زائد ہیں تو بیشك کنیز شیریں کو صرف قدر زائد میں اختیار مزاحمت ہے ورنہ اصلا نہیںمگر ہم تحقیق کر آئے کہ ترکہ وجیہ الدین کوکریم الدین کی جدائی جو ا س تقسیم باطل کا حاصل تھی محض غلط ہے بلکہ وہ ساری جائداد جس طرح حیات ہر دو برادر میں مختلط وغیر منقسم تھی اب تك بدستور
شرکۃ ملك وھی ان یملك متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیر ھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ الخ ۔ شرکت ملك یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں وراثت یا بیع یا کسی اور طرح مشترکہ مالك ہوجائیں اور ہر ایك دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا الخ۔(ت)
تو ظاہر ہے کہ اگر ان میں ایك کسی غاصب پر دعوی کرکے اپنے مقدار حصہ میں اپنا اثبات ملك واستقرار حق کرائے تو اس ثبوت واستقراء میں دوسرے شریك کا ہر گز کوئی استحقاق نہیں آسکتا کہ جو سہام ایك کو پہنچتے ہیں دوسرے کا اس میں کیاحق ہے اس کے لئے اس کے سہام جدا ہیں پس ایك کے تقرر حق میں مزاحم ہونا گویا بعینہ یہ کہنا ہے کہ تو اپنے سہام میں مجھے شریك کرلے اور اپنے خاص حق سے مجھے کچھ دے دے اس کے کوئی معنی نہیںنہ ایسا دعوی قابل سماعتہاں اگر ایك شریك بے تقسیم شرعی ملك مشاع سے کسی معین ٹکڑے پر قبضہ کرلے تو بیشك دوسرے کا اس پر دعوی پہنچتا ہے کہ جب شیوع ہے ہر ہر ذرہ میں دونوں کا استحقاق ہے۔
فلایقبض شیئا معینا الاوقد قبض ملك صاحبہ مخلوطامع ملك نفسہ کما نص علیہ فی الکتب جمیعا۔ تو کسی معین چیز کا قبضہ دوسرے کے حصہ پر مخلوط قبضہ کے بغیر اپنے حصہ پر نہ ہوسکے گا جیسا کہ تمام کتب میں اس پر تصریح ہے۔(ت)
یا ایك شریك جھوٹا دعوی کرکے اپنے حق سے زیادہ میں اپنے لئے اثبات ملك کرالے تو بھی دوسر ے کی مزاحمت بجا ہے کہ اس نے اس کے حق میں دست اندازی کی یدل علی کل ذلك فروع جمۃ مذکورۃ فی کتب المذھب(اس پر کتب مذہب میں مذکور کثیر فروعات دال ہیں۔ت)غرض ان دو صورتوں کے سوا مجرد اثبات ملك واستقرار حق میں دوسرے شریك کی مزاحمت محض بیہودہ ونامسموع ہے۔جب یہ امور منقح ہولئے اور پر ظاہر کہ یہاں احتمال صحت دعوی کی صورت اولی یعنی قبض شے معین مفرز تو واقع نہ ہوئی کہ الہی بیگم نے ان ۳بسوہ ۱۰بسوانسی کا پٹی بانٹ کراگر کوئی مستقل قبضہ بالتعین نہ کیا تو صرف صورت ثانیہ یعنی حق سے زیادہ اثبات ملك کرالینے کا دیکھنا باقی رہا اگر یہ ۳ بسوہ ۱۰بسوانسی حق الہی بیگم سے زائد ہیں تو بیشك کنیز شیریں کو صرف قدر زائد میں اختیار مزاحمت ہے ورنہ اصلا نہیںمگر ہم تحقیق کر آئے کہ ترکہ وجیہ الدین کوکریم الدین کی جدائی جو ا س تقسیم باطل کا حاصل تھی محض غلط ہے بلکہ وہ ساری جائداد جس طرح حیات ہر دو برادر میں مختلط وغیر منقسم تھی اب تك بدستور
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشرکۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۰€
اسی حالت پر ہے تو صرف ان ۵بسووں میں جو نجم النساء کے ہاتھ میں تھے کنیز شیریں کا حق جاننا اور دوسری پٹی میں نہ ما ننا محض غلطی ہے بلکہ حکم شیوع جو ٹکڑا جہاں کہیں ہے ہر ایك میں کنیز شیریں والہی بیگم حصہ رسد شریك ہیں اب اگر اس فرضی جدائی کو اصلا نظر سے ساقط کیجئے جب تو نہایت ظاہر کہ الہی بیگم نے اپنے حق سے بہت کم میں اثبات ملك کرایا حق اس کا ۵بسوہ ۵-۵/۶کچوانسی تھا اور ڈگری صرف ۳بسوہ ۱۰بسوانسی کی حاصل کی پھر کنیز شیریں اس کے حق خاص میں سے کس چیز کا صلہ مانگتی ہے۔اور اگر یہ خیال کیجئے کہ گو تقسیم شرعی نہیں مگر دو ٹکڑے جدا جدا ہولئے جن میں ایك پر قربان علی دوسرے پر اس کی زوجہ وپسر قابض ہوئے اور الہی بیگم نے بھی صرف ایك فریق پر دعوی کیاتو اس نظر سے بھی دعوی الہی بیگم اس کے حصہ رسد سے کم ہے کہ اس پٹی میں بعد استثنائے حصہ نجم النساء کہ بدست بیگم زوجہ قربان علی بیع ہوا ۳ بسوہ ۵بسوانسی حق الہی بیگم و کنیز شیریں ہیں انہیں بلحاظ نسبت مذکورہ۱۰۸پر تقسیم کیجئے تو حاصل قسمت ۱۳-۸/۹کچوانسی ہے جسے ۵میں ضرب دینے سے ۳ بسوانسی ۹-۴/۹کچوانسی ہوتی ہیں اسی قدر رسدی حصہ کنیز شیریں ہے اور باقی ۳بسوہ ۱۱بسوانسی ۱۰-۵/۹کچوانسی حق الہی بیگم تھے جس میں اس نے تین بسوہ دس بسوانسی میں اپنی ملك ثابت کرائی تو کنیز شرییں کے حق میں کون سی مزاحمت کے دعوی کنیز شیریں کاحاصل یہ ہے کہ اس قدر بھی تیری ملك نہیں یا اگرچہ تیری ملك ہے مگر اس میں سے کچھ مجھے واپس دے حالانکہ اس سے زائد اس کی ملك ہے کہ اور ملك غیر پر دعوی کرنا محض بے معنی اور اگر ان سب تحقیقات نفیسہ سے قطع نظر کیجئے اور خواہی نخواہی مان ہی لیجئے کہ تقسیم مذکور صحیح تھی اور یہی ۵بسوہ بالتعین ترکہ وجیہ الدین تھے اور خاص انہیں میں استحقاق کنیز شیریں ہے تاہم اس تقدیر باطل پر بھی دعوی کنیز شیریں کہ حصہ رسدی پاؤں کوئی معنی نہیں رکھتا رسدی حصہ کا تو یہ حاصل کہ جس قدر پر الہی بیگم نے ڈگری پائی یہ اور وہ ۵بسوانسی کہ باقی رہیں دونوں ٹکڑوں میں الہی بیگم و کنیز شیریں اپنے اپنے حصوں کی نسبت سے شریك ہیں بحساب اربعہ متناسبہ اس مقدار ڈگری شدہ میں جو کچھ حصہ کنیز شیریں نکلے اب ملے باقی حصہ الہی بیگم ہو اور ۵بسوانسی میں دونوں کا دعوی رہے حالانکہ اس تقدیر باطل پر الہی بیگم جس قدر ترکہ وجیہ الدین سے استحقاق رکھتی تھی اس سے ۴-۱/۶کچوانسی زیادہ کی ڈگری پاچکی کمایظھر ممااسلفنا بیانہ(جیساکہ ہمارے پہلے بیان سے ظاہر ہے۔ت)تو رسدی حصہ مانگنے کے کیا معنیبلکہ قدر زائد یعنی ۴-۱/۶کچوانسی کا دعوی کرنا تھاغرض ساری غلطی کا منشایہ ہے کہ کنیز شیریں یعنی اس کے مختار عام نے اثبات ملك واستقرار حق کرانے کو بالتعیین ایك پارہ معینہ مفرزہ منقسم پر قبضہ کرلینا سمجھتا ہے حالانکہ ان کا بدیہی فرق ایسا نہیں جو کسی پر مخفی رہےپس بہ نہایت پارہئ معینہ مفرزہ منقسم پر قبضہ کرلینا سمجھتا ہے حالانکہ ان کا بدیہی فرق ایسا نہیں جو کسی پر مخفی رہےپس بہ نہایت وضوح روشن ہوگیا کہ کنیز شیریں کا دعوی اصلا وجہ صحت وقابلیت سماعت نہیں رکھتا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارك وسلم۔
مسئلہ۲۹: ۲۳جمادی الاولی ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ذی مقدور تھا اس نے اپنی بیوی کو اپنی حیات میں زیور طلائی اور نقرئی بنادیا وہ اس کے مہر میں متصور کیا جائے گا یاکیابینواتوجروا۔
الجواب:
عرف عام و شائع ہمارے بلاد میں یہ ہے کہ عورتوں کا مالك کردینا نہیں ہوتا بلکہ شوہر ہی کی ملك سمجھا جاتا ہے جب تك صراحۃ یا دلالۃ شوہر کی جانب سے تملیك ظاہر نہ ہو۔
ومعلوم ان الدفع الیہن یحتمل التملیك والعاریۃ والعاریۃ اولی فھی الثابتۃ مالم یدل علی خلافھا۔ یہ واضح بات ہے کہ ان کو دینے میں تملیك اور عاریۃ دونوں احتمال ہیں تو جب تك عاریۃ کے خلاف دلیل موجود نہ ہو تو عاریۃ ہونا ثابت ہوگا۔(ت)
البتہ وہ استعمال میں عورتوں ہی کے رہتا ہے مگر اس سے ملك زناں ثابت نہیں ہوتی۔بحرالرائق پھر ردالمحتار وعقودالدریہ میں ہے:
لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذلك مرارا۔ خاوند کی خریدی ہوئی چیز سے فوائد حاصل کرنا اورا س پر خاوند کا راضی ہونا بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عورتیں اور عوام سمجھے ہوئے ہیںمیں نے متعدد بار اس پر فتوی دیا ہے۔(ت)
پس اگر گواہان عادل شرعی سے عورت کو اس زیور کا مالك کردینا نہ ثابت ہو تو وہ بدستور ملك شوہر پر ہے اس کا متروکہ ٹھہرکر سب ورثہ پر حسب فرائض منقسم ہوگا اور اگر ثابت ہو کہ شوہر نے عورت کو اس زیور کا مالك کردیا تھا تو بیشك وہ تنہا عورت کی ملك ہےاب اس صورت میں اگر شوہر نے تصریح کی تھی کہ یہ تیرے مہر میں دیتا ہوں تو اس قدر مہرسے مجرا ہوگا اور اگر مہر کے سوا اور کسی جہت کی تصریح کی تھی مثلا کہا یہ زیور میں نے تجھے احسانا دیا یا ہبہ کیاتو ہر گز مہر میں محسوب نہ ہوگا۔درمختار میں ہے:
بعث الی امرأتہ شیئا ولم یذکر جھۃ عندالدفع غیر جھۃ المہر کقولہ شمع او حنا ثم قال انہ من المہر خاوند نے بیوی کو کوئی چیز دیتے ہوئے مہر یا کوئی اور وجہ ذکر نہ کی مثلا اس نے چراغ یا مہندی کے لئے کہا اور پھر کہا کہ یہ مہر کے طور پر دی ہےتو
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ذی مقدور تھا اس نے اپنی بیوی کو اپنی حیات میں زیور طلائی اور نقرئی بنادیا وہ اس کے مہر میں متصور کیا جائے گا یاکیابینواتوجروا۔
الجواب:
عرف عام و شائع ہمارے بلاد میں یہ ہے کہ عورتوں کا مالك کردینا نہیں ہوتا بلکہ شوہر ہی کی ملك سمجھا جاتا ہے جب تك صراحۃ یا دلالۃ شوہر کی جانب سے تملیك ظاہر نہ ہو۔
ومعلوم ان الدفع الیہن یحتمل التملیك والعاریۃ والعاریۃ اولی فھی الثابتۃ مالم یدل علی خلافھا۔ یہ واضح بات ہے کہ ان کو دینے میں تملیك اور عاریۃ دونوں احتمال ہیں تو جب تك عاریۃ کے خلاف دلیل موجود نہ ہو تو عاریۃ ہونا ثابت ہوگا۔(ت)
البتہ وہ استعمال میں عورتوں ہی کے رہتا ہے مگر اس سے ملك زناں ثابت نہیں ہوتی۔بحرالرائق پھر ردالمحتار وعقودالدریہ میں ہے:
لایکون استمتا عھا بمشریہ ورضاہ بذلك دلیلا علی انہ ملکھا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام وقد افتیت بذلك مرارا۔ خاوند کی خریدی ہوئی چیز سے فوائد حاصل کرنا اورا س پر خاوند کا راضی ہونا بیوی کی ملکیت کی دلیل نہیں بن سکتا جیسا کہ عورتیں اور عوام سمجھے ہوئے ہیںمیں نے متعدد بار اس پر فتوی دیا ہے۔(ت)
پس اگر گواہان عادل شرعی سے عورت کو اس زیور کا مالك کردینا نہ ثابت ہو تو وہ بدستور ملك شوہر پر ہے اس کا متروکہ ٹھہرکر سب ورثہ پر حسب فرائض منقسم ہوگا اور اگر ثابت ہو کہ شوہر نے عورت کو اس زیور کا مالك کردیا تھا تو بیشك وہ تنہا عورت کی ملك ہےاب اس صورت میں اگر شوہر نے تصریح کی تھی کہ یہ تیرے مہر میں دیتا ہوں تو اس قدر مہرسے مجرا ہوگا اور اگر مہر کے سوا اور کسی جہت کی تصریح کی تھی مثلا کہا یہ زیور میں نے تجھے احسانا دیا یا ہبہ کیاتو ہر گز مہر میں محسوب نہ ہوگا۔درمختار میں ہے:
بعث الی امرأتہ شیئا ولم یذکر جھۃ عندالدفع غیر جھۃ المہر کقولہ شمع او حنا ثم قال انہ من المہر خاوند نے بیوی کو کوئی چیز دیتے ہوئے مہر یا کوئی اور وجہ ذکر نہ کی مثلا اس نے چراغ یا مہندی کے لئے کہا اور پھر کہا کہ یہ مہر کے طور پر دی ہےتو
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۵€
لم یقبل قنیۃلو قوعہ ھدیۃ فلاینقلب مھرااھ ملخصا۔ خاوند کی بات نہ مانی جائیگیقنیہکیونکہ وہ ہدیہ بن چکا ہے تو اب مہر میں تبدیل نہ ہوسکے گا اھ ملخصا(ت)
اور اگر صرف تملیك معلوم ہوئی اور یہ کچھ نہ ثابت ہوا کہ مہر میں دیا تھا یا مہر سے جدا اور زوجہ کو مہر سے الگ دینے کا دعوی ہے اور دیگر ورثہ مہر میں دینا بیان کرتے ہیں تو دیگر ورثہ کا قول ان کی قسم کے ساتھ مقبول ہوگا جب تك عورت گواہان عادل سے نہ ثابت کرادے کہ مجھے مہر سے جدا اس کا مالك کیا وہ زیور مہر ہی ٹھہرے گا۔تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
لو بعث الی امرأتہ شیئا ولم یذکر المہر ولاغیرہ فقالت ھو ھدیۃ وقال ھو من المھر او عاریۃ فالقول لہ بیمینہ والبینۃ لھا فی غیر المہیاء للاکل اھ ملخصۃ۔
جب خاوند نے بیوی کوکوئی چیز بھیجی اور مہر وغیرہ کا کوئی ذکر نہ کیا تو بیوی کہتی ہے یہ ہدیہ ہے اور خاوند کہتا ہے یہ مہر تھا یاعاریتا تھاتو خاوند کی بات قسم لے کر مان لی جائے گی اور عورت کی بات گواہی کے ساتھ مانی جائے گییہ صورت کھانے پینے والی چیزوں میں نہ ہوگی اھ ملخصا(ت)
خیریہ میں ہے:
سئل فیما اذابعث شیئا من جنس النقدین او مما لایستسارع الیہ الفسادثم اختلفا فقال الزوج انما بعثتہ لیحسب من المھر وقال ھو ھدیۃ ھل القول قولہ ام قولھا اجاب القول قولہ کما صرح بہ قاضیخان وغیرہ یعنی بیمینہ معللا بانہ المملك وھو اعرف بحھۃ التملیك اھ ملخصا۔ سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو نقددرہم ودینار یا ایسی چیزجو جلد خراب نہ ونے والی ہوبھیجیپھر دونوں کا اختلاف ہوا۔خاوند کہتا ہے کہ یہ مہر کے حساب میں تھی اور بیوی کہتی ہے کہ یہ ہدیہ ہےتو کیا خاوند کی بات مانی جائے گیا یا بیوی کیتو جواب دیا کہ خاوند کی بات قسم لے کر مانی جائے گی جیسا کہ قاضیخان نے یہ تصریح کی ہے اس وجہ سے کہ خاوند دینے والا ہے تو وہی تملیك کی وجہ بہتر جانتا ہے اھ ملخصا(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
اور اگر صرف تملیك معلوم ہوئی اور یہ کچھ نہ ثابت ہوا کہ مہر میں دیا تھا یا مہر سے جدا اور زوجہ کو مہر سے الگ دینے کا دعوی ہے اور دیگر ورثہ مہر میں دینا بیان کرتے ہیں تو دیگر ورثہ کا قول ان کی قسم کے ساتھ مقبول ہوگا جب تك عورت گواہان عادل سے نہ ثابت کرادے کہ مجھے مہر سے جدا اس کا مالك کیا وہ زیور مہر ہی ٹھہرے گا۔تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
لو بعث الی امرأتہ شیئا ولم یذکر المہر ولاغیرہ فقالت ھو ھدیۃ وقال ھو من المھر او عاریۃ فالقول لہ بیمینہ والبینۃ لھا فی غیر المہیاء للاکل اھ ملخصۃ۔
جب خاوند نے بیوی کوکوئی چیز بھیجی اور مہر وغیرہ کا کوئی ذکر نہ کیا تو بیوی کہتی ہے یہ ہدیہ ہے اور خاوند کہتا ہے یہ مہر تھا یاعاریتا تھاتو خاوند کی بات قسم لے کر مان لی جائے گی اور عورت کی بات گواہی کے ساتھ مانی جائے گییہ صورت کھانے پینے والی چیزوں میں نہ ہوگی اھ ملخصا(ت)
خیریہ میں ہے:
سئل فیما اذابعث شیئا من جنس النقدین او مما لایستسارع الیہ الفسادثم اختلفا فقال الزوج انما بعثتہ لیحسب من المھر وقال ھو ھدیۃ ھل القول قولہ ام قولھا اجاب القول قولہ کما صرح بہ قاضیخان وغیرہ یعنی بیمینہ معللا بانہ المملك وھو اعرف بحھۃ التملیك اھ ملخصا۔ سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے بیوی کو نقددرہم ودینار یا ایسی چیزجو جلد خراب نہ ونے والی ہوبھیجیپھر دونوں کا اختلاف ہوا۔خاوند کہتا ہے کہ یہ مہر کے حساب میں تھی اور بیوی کہتی ہے کہ یہ ہدیہ ہےتو کیا خاوند کی بات مانی جائے گیا یا بیوی کیتو جواب دیا کہ خاوند کی بات قسم لے کر مانی جائے گی جیسا کہ قاضیخان نے یہ تصریح کی ہے اس وجہ سے کہ خاوند دینے والا ہے تو وہی تملیك کی وجہ بہتر جانتا ہے اھ ملخصا(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۳€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳،€دالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۶۳€
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۹€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳،€دالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۶۳€
فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۹€
الوارث لقیامہ مقام مورثہ فیصدق فی جہۃ التملیک فصولینممایکون القول فیہ للمملك اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔ وارث چونکہ مورث کے قائم مقام ہے اس لئے جہت تملیك کے بیان میں اس کی تصدیق کی جائے گیجامع الفصولین وہاں جہاں مالك بنانے والے کی بات مانی جاتی ہواھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰: ۸/شعبان ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے مسماۃ ہندہ میری زوجہ نے مرتے وقت مجھے اپنا مہر بمواجہہ چار عورتوں کے معاف کردیا وارثان ہندہ نے جو ان عورتوں سے دریافت کیا ان میں سے دو نے محض انکار کیاایك کا بیان مذبذب رہاچوتھی سے ابھی پوچھنے کی نوبت نہ آئیایسی حالت میں شرع شریف ایسی گواہیوں پر معافی مہر کا حکم دیتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
نہ مذبذب بیان مسموع اذلاشھادۃ الاعن علم(کیونکہ شہادت بغیر علم نہیں ہوتی۔ت)نہ یہاں ایك کی گواہی معتبر اگرچہ مرد ہو لاشتراط العدد نصا(گواہوں کی تعداد مشروط ہونے پر نص ہے۔ت)نہ تنہا عورتوں کی شہادت مقبول اگرچہ دو چار ہوں کما نص علیہ القران العزیز(جیسا کہ اس پر قرآن عزیز نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ وارث کے لئے مرض موت کی معافی بے اجازت دیگر ورثہ نافذ ہوسکے
لانہ فی حکم الوصیۃ ولاوصیۃ لوارث الاان یجیزھا الورثۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر جہاں باقی ورثاء جائز تسلیم کرلیںکیونکہ یہ معاملہ وصیت کے حکم میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۱: ازکلانور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۵/شوال ۱۳۱۰ھ
حضرت من مولنا فیاض دارین جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب خاص مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ۔بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت قدمین شریف کے التماس ہے کہ ایك صورت مسئلہ کی عرض کیا چاہتا ہےجناب اس کے مقابلہ میں تحریر مسئلہ کی فرمائیںایك شخص کا ایك قبیلہ یعنی عورت زوجہ اور ایك اس زوجہ کافر زند ہے س کے سوااس شخص کا دوسرا زوجہ ہے اس کا بھی ایك فرزند ہے اور دو دختر ہیں اس شخص نے بخاطر زوجہ ثانی کے اول قبیلہ کے فرزند کو محروم الارث کرنا چاہتا ہے اور اس کی والدہ کو اخراجات
مسئلہ۳۰: ۸/شعبان ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے مسماۃ ہندہ میری زوجہ نے مرتے وقت مجھے اپنا مہر بمواجہہ چار عورتوں کے معاف کردیا وارثان ہندہ نے جو ان عورتوں سے دریافت کیا ان میں سے دو نے محض انکار کیاایك کا بیان مذبذب رہاچوتھی سے ابھی پوچھنے کی نوبت نہ آئیایسی حالت میں شرع شریف ایسی گواہیوں پر معافی مہر کا حکم دیتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
نہ مذبذب بیان مسموع اذلاشھادۃ الاعن علم(کیونکہ شہادت بغیر علم نہیں ہوتی۔ت)نہ یہاں ایك کی گواہی معتبر اگرچہ مرد ہو لاشتراط العدد نصا(گواہوں کی تعداد مشروط ہونے پر نص ہے۔ت)نہ تنہا عورتوں کی شہادت مقبول اگرچہ دو چار ہوں کما نص علیہ القران العزیز(جیسا کہ اس پر قرآن عزیز نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ وارث کے لئے مرض موت کی معافی بے اجازت دیگر ورثہ نافذ ہوسکے
لانہ فی حکم الوصیۃ ولاوصیۃ لوارث الاان یجیزھا الورثۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر جہاں باقی ورثاء جائز تسلیم کرلیںکیونکہ یہ معاملہ وصیت کے حکم میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۱: ازکلانور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ۲۵/شوال ۱۳۱۰ھ
حضرت من مولنا فیاض دارین جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب خاص مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ۔بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت قدمین شریف کے التماس ہے کہ ایك صورت مسئلہ کی عرض کیا چاہتا ہےجناب اس کے مقابلہ میں تحریر مسئلہ کی فرمائیںایك شخص کا ایك قبیلہ یعنی عورت زوجہ اور ایك اس زوجہ کافر زند ہے س کے سوااس شخص کا دوسرا زوجہ ہے اس کا بھی ایك فرزند ہے اور دو دختر ہیں اس شخص نے بخاطر زوجہ ثانی کے اول قبیلہ کے فرزند کو محروم الارث کرنا چاہتا ہے اور اس کی والدہ کو اخراجات
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱۸و۱۹€
دینے سے دست بردار ہے اور جس فرزنداول قبیلہ کومحروم کرنا چاہتا ہے بالغ اور جوان ہے ابتدا میں یہ اپنے باپ کے ساتھ کمانے میں بصورت تجارت کے شامل رہا اور پورا مدد گارپھر کچھ عرصہ علیحدہ ہوکر چند سال نوکری میں مصروف رہا بحالت نوکری اس کے باپ نے بہت خواہش سے نوکری سے جداکردیاوجہ اس کا یہ ہے کہ اس شخص کے باپ کے زراعت کاکام بہت ہے اور ماسوا اس کے تنازعات اس کے لوگوں کے ساتھ بہت رہتے ہیںجب وہ نوکری سے بموجب خواہش باپ کے الگ ہوا تو مقابلہ بھی لوگوں سے کرتا رہاغرض اس نے کل کارروائی باپ کی کوبخوبی انجام دیاباپ الگ ایك جگہ دوسرے شہر میں دکانداری کرتا رہاباپ نے پیداوار زمینداری سے جو زیر اہتمام اس فرزند کے تھا چہارم حصہ پیداوار کا بلاخرچہ(خرچہ اپنے ذمہ رکھ کر)دیتا گیاکچھ عرصہ تك وفا کیا اب بالکل بپاس خاطر زوجہ دوسری کے اور اس زوجہ کے فرزندان اور دختر ان کے پہلے قبیلہ اور اس کے فرزند بالغ کو جواب دے دیا اور اپنی خدمات سے الگ کردیااب اس کے پاس کوئی اثاثہ نہیں ہے اور نہ توفیق ہے کہ باہر جاکر تلاش نوکری کی کرےباپ کے قبضہ میں دو قسم کی جائداد ہے ایك وہ جو جدی ہے دوسری وہ جو بشمولیت اس فرزند بالغ کے خود پیدا کیا ہےاس کے بارہ میں شرع شریف کا کیاحکم ہے کہ آیا فرزند بالغ کچھ لے سکتا ہے کہ نہیںاور اگر باپ محروم کرنا چاہے تو ہوسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
تجارت زراعت وغیرہا جس کام میں فرزند نے اپنے باپ کی اعانت ومددگاری کے طور پر کچھ کمایا وہ صرف ملك پدر ہے یعنی جب تك اس کا خورد ونوش ذمہ پدر تھا اور اپنا کوئی ذاتی مال وکسب جداگانہ نہ رکھتاتھا بلکہ اسے حرفت وکسب پدری میں جس طرح سعید بیٹے اپنے باپ کی اعانت کرتے اور اسے کام کی تکلیف سے محفوظ رکھتے ہیں اس کا معین ومددگار تھا تو جو کچھ ایسی وجہ وحالت میں کمایا سب باپ کا ہے جس میں بیٹے کے لئے کوئی حق ملك نہیںفتاوی خیریہ پھر عقو دالدریہ میں ہے:
حیث کان من جملۃ عیالہ والمعینین لہ فی امورہ واحوالہ فجمیع ماحصلہ بکدہ وتعبہ فھو ملك خاص لابیہ لاشیئ لہ فیہ حیث لم یکن لہ مال ولو اجتمع لہ بالکسب جملۃ اموال لانہ فی ذلك لابیہ معین حتی لو غرس جب وہ والد کی عیال میں ہے اور والد کے معاونین میں سے ہے تو ایسی صورت میں والد کے امور اور احوال میں جو بھی اس کی محنت وکاوش سے حاصل ہو گا وہ خاص والد کی ملکیت ہوگا اس میں اس کے بیٹے کا مال نہ ہونے کی صورت میں کو ئی ملکیت نہ ہوگی اگرچہ اس بیٹے کی محنت سے بہت سے اموال جمع ہوئے ہوں کیونکہ وہ اس میں والد کا معاون ہے
الجواب:
تجارت زراعت وغیرہا جس کام میں فرزند نے اپنے باپ کی اعانت ومددگاری کے طور پر کچھ کمایا وہ صرف ملك پدر ہے یعنی جب تك اس کا خورد ونوش ذمہ پدر تھا اور اپنا کوئی ذاتی مال وکسب جداگانہ نہ رکھتاتھا بلکہ اسے حرفت وکسب پدری میں جس طرح سعید بیٹے اپنے باپ کی اعانت کرتے اور اسے کام کی تکلیف سے محفوظ رکھتے ہیں اس کا معین ومددگار تھا تو جو کچھ ایسی وجہ وحالت میں کمایا سب باپ کا ہے جس میں بیٹے کے لئے کوئی حق ملك نہیںفتاوی خیریہ پھر عقو دالدریہ میں ہے:
حیث کان من جملۃ عیالہ والمعینین لہ فی امورہ واحوالہ فجمیع ماحصلہ بکدہ وتعبہ فھو ملك خاص لابیہ لاشیئ لہ فیہ حیث لم یکن لہ مال ولو اجتمع لہ بالکسب جملۃ اموال لانہ فی ذلك لابیہ معین حتی لو غرس جب وہ والد کی عیال میں ہے اور والد کے معاونین میں سے ہے تو ایسی صورت میں والد کے امور اور احوال میں جو بھی اس کی محنت وکاوش سے حاصل ہو گا وہ خاص والد کی ملکیت ہوگا اس میں اس کے بیٹے کا مال نہ ہونے کی صورت میں کو ئی ملکیت نہ ہوگی اگرچہ اس بیٹے کی محنت سے بہت سے اموال جمع ہوئے ہوں کیونکہ وہ اس میں والد کا معاون ہے
شجرۃ فی ھذہ الحالۃ فھی لابیہ نص علیہ علماؤنا حمھم اﷲ تعالی ۔ حتی کہ اگر وہ کوئی پود الگائے تو اس حالت میں پوداوالد کا ہوگا اس پر ہمارے علماء کرام رحمہم اﷲتعالی نے تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے خیریہ وعقود میں ہے:
سئل فی ابن کبیرذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ھل ھی لوالدہ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل واما قول علمائنا یکون کلہ للاب فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحدمنھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوابہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدارالحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذلك اھ ملخصا۔ ایسے جوان شادی شدہ عیالدار بیٹے جس کا اپنا مستقل کاروبار ہے اور کاروبار میں اموال حاصل ہوئےکے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ اموال اس بیٹے کی ملك ہوں گے یا والد کے ہوں گےجواب دیا کہ بیٹے کی ملك ہیں جبکہ یہ بیٹے کا اپنا مستقل کاروبار ہے ہمارے علماء کرام کا یہ ارشاد کہ وہ تمام والد کا ہے ان کا یہ ارشاد چند شرطوں سے مشروط ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے معلوم ہے ان شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ باپ بیٹے کا کام ایك ہوبیٹے کا پہلے سے اپنا مال نہ ہوبیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ان شرائط میں سے جب کوئی شرط مفقود ہوتو بیٹے کی کمائی والد کے لئے نہ ہوگیمسئلہ کے بیان میں علماء کی ذکر کردہ علت پر غور کرنا چاہئے انہوں نے فرمایا:جب بیٹا باپ کی عیال میں شامل ہو اور اس کا معاون ہو تو حکم کا مدار اس پر ہے کہ وہ اس میں باپ کا معاون ہویہ معلوم ہونا ضروری ہے اھ ملخصا۔(ت)
مگر جو چہارم حصہ پیداوار میں باپ نے اسے دینا کہا تھا اس کا دعوی اسے کسی حالت میں نہیں پہنچتا کہ اگر وہ کہنا محض بطور وعدہ واحسان تھا اور غالب یہی ہے جب تو پر ظاہر کہ لاجبر فی التبرع(تبرع میں جبر نہیں۔ت)اور اگر بروجہ معاوضہ محنت وعقد اجارہ تھا تو جہالت اجروفساد اجارہ سے قطع نظر بیٹے کو
اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے خیریہ وعقود میں ہے:
سئل فی ابن کبیرذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ھل ھی لوالدہ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل واما قول علمائنا یکون کلہ للاب فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحدمنھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوابہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدارالحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذلك اھ ملخصا۔ ایسے جوان شادی شدہ عیالدار بیٹے جس کا اپنا مستقل کاروبار ہے اور کاروبار میں اموال حاصل ہوئےکے متعلق سوال ہوا کہ کیا یہ اموال اس بیٹے کی ملك ہوں گے یا والد کے ہوں گےجواب دیا کہ بیٹے کی ملك ہیں جبکہ یہ بیٹے کا اپنا مستقل کاروبار ہے ہمارے علماء کرام کا یہ ارشاد کہ وہ تمام والد کا ہے ان کا یہ ارشاد چند شرطوں سے مشروط ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے معلوم ہے ان شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ باپ بیٹے کا کام ایك ہوبیٹے کا پہلے سے اپنا مال نہ ہوبیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ان شرائط میں سے جب کوئی شرط مفقود ہوتو بیٹے کی کمائی والد کے لئے نہ ہوگیمسئلہ کے بیان میں علماء کی ذکر کردہ علت پر غور کرنا چاہئے انہوں نے فرمایا:جب بیٹا باپ کی عیال میں شامل ہو اور اس کا معاون ہو تو حکم کا مدار اس پر ہے کہ وہ اس میں باپ کا معاون ہویہ معلوم ہونا ضروری ہے اھ ملخصا۔(ت)
مگر جو چہارم حصہ پیداوار میں باپ نے اسے دینا کہا تھا اس کا دعوی اسے کسی حالت میں نہیں پہنچتا کہ اگر وہ کہنا محض بطور وعدہ واحسان تھا اور غالب یہی ہے جب تو پر ظاہر کہ لاجبر فی التبرع(تبرع میں جبر نہیں۔ت)اور اگر بروجہ معاوضہ محنت وعقد اجارہ تھا تو جہالت اجروفساد اجارہ سے قطع نظر بیٹے کو
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱€۷
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱۷€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۱۷€
اپنے کام کی اجرت باپ سے لینی جائز نہیںنہ اس کی خدمت پر اجیر بن سکتا ہے کہ خدمت پدری طاعت الہی ہے اور طاعات پر اجارہ ناجائزعلامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں کتاب الفرائض میں فرماتے ہیں:
الولد اذااجر نفسہ لوالدہ لیخدمہ وکذالمرأۃ اجرت نفسہا من زوجہا لتخدمہ لم یجز لان خدمتہا تقع صلۃ للزوج فصارت مستحقۃ فلم تجز الاجارۃ اھ ملخصا۔ جب بیٹے نے اپنے آپ کو والد کا یا بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کا مزدور بنایا تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکیں تو یہ جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ خدمت خاوند کے لئے صلہ ہے لہذا وہ اس خدمت کا حقدار ہے تو اجارہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
خزانۃ المفتین میں فتاوی امام قاضیخان سے ہے:
الاب اذا استاجر ابنہ البالغ فعمل الابن لااجرلہ ۔ باپ جب اپنے بالغ بیٹے کو اجیربنائے اور بیٹاکام کرے تو بیٹے کو اجرت نہ ملے گی۔(ت)
رہا باپ کا اسے اپنی میراث سے محروم کرنا وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے حصہ نہ دیا جائے یا خیال جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنے فلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کرجائے ایسی ہزار تدبیریں ہوں کچھ کار گر نہیں نہ ہر گز وہ ان وجوہ سے محجوب الارث ہوسکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزۃ جل وعلا ہے جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہوسکتا بلکہ جبرا دلایا جائے گا اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے مجھے اپنی وراثت منظور نہیں میں حصہ کا مالك نہیں بنتا میں نے اپنا حق ساقط کیا پھردوسرا کیونکر ساقط کرسکتا ہے
قال اﷲ تعالی" یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی تمہیں اولاد کے متعلق وصیت فرماتا ہے بیٹے کو دو بیٹیوں کا حصہ ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
الولد اذااجر نفسہ لوالدہ لیخدمہ وکذالمرأۃ اجرت نفسہا من زوجہا لتخدمہ لم یجز لان خدمتہا تقع صلۃ للزوج فصارت مستحقۃ فلم تجز الاجارۃ اھ ملخصا۔ جب بیٹے نے اپنے آپ کو والد کا یا بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کا مزدور بنایا تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکیں تو یہ جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ خدمت خاوند کے لئے صلہ ہے لہذا وہ اس خدمت کا حقدار ہے تو اجارہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا(ت)
خزانۃ المفتین میں فتاوی امام قاضیخان سے ہے:
الاب اذا استاجر ابنہ البالغ فعمل الابن لااجرلہ ۔ باپ جب اپنے بالغ بیٹے کو اجیربنائے اور بیٹاکام کرے تو بیٹے کو اجرت نہ ملے گی۔(ت)
رہا باپ کا اسے اپنی میراث سے محروم کرنا وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے حصہ نہ دیا جائے یا خیال جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنے فلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کرجائے ایسی ہزار تدبیریں ہوں کچھ کار گر نہیں نہ ہر گز وہ ان وجوہ سے محجوب الارث ہوسکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزۃ جل وعلا ہے جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہوسکتا بلکہ جبرا دلایا جائے گا اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے مجھے اپنی وراثت منظور نہیں میں حصہ کا مالك نہیں بنتا میں نے اپنا حق ساقط کیا پھردوسرا کیونکر ساقط کرسکتا ہے
قال اﷲ تعالی" یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی تمہیں اولاد کے متعلق وصیت فرماتا ہے بیٹے کو دو بیٹیوں کا حصہ ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۶۷€
خزانۃ المفتین کتاب الاجارۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۶۲€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
خزانۃ المفتین کتاب الاجارۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۶۲€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
لو قال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ ۔ اگر وارث کہے میں نے اپنا حصہ چھوڑا تو اس سے اس کا حق باطل نہ ہوگا۔(ت)
غرض بالمقصد محروم کرنے کی کوئی سبیل نہیںہاں اگر حالت صحت میں اپنا مال اپنی ملك سے زائل کردے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کا ہے میں جاری ہو مگر اس قصد ناپاك سے جو فعل کریگا عنداﷲ گنہگاروماخوذرہے گا۔
حدیث میں ہے حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃ۔رواہ ابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہنچنے سے بھاگے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(اسے ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔(ت)
یونہی ایك زوجہ کے پیچھے دوسری کی خبرگیر ی نہ کرنی دوہراگناہ اور بنص قرآن حرام قطعی ہے۔حدیث میں ہےحضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاکانت عندہ امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیمۃ وشقہ ساقط ۔رواہ الترمذی وابوداود و النسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے دو بیبیاں ہوں اور وہ انہیں برابر نہ رکھے قیامت کے دن اس حال پر آئے کہ اس کی ایك طرف کی کروٹ گری ہوئی ہو(اسے ترمذیابوداؤدنسائیابن ماجہابن حبان اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
مسئلہ۳۲ تا۳۵: ازبلگرام شریف ضلع ہر دوئی محلہ سلھڑہ مرسلہ سیدمحمد زاہد صاحب ۴جمادی الآخر۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)زید کہ ایك علاقہ کا حاکم وقت کی جانب سے مہتمم مقرر ہے بذات خود حاکم نہیں ہے کہ کوئی حکم یا فیصلہ قطعی کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں اگر بکر جو اسی علاقہ میں رہتا ہے بغیر کسی خواہش ودباؤ کے
غرض بالمقصد محروم کرنے کی کوئی سبیل نہیںہاں اگر حالت صحت میں اپنا مال اپنی ملك سے زائل کردے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کا ہے میں جاری ہو مگر اس قصد ناپاك سے جو فعل کریگا عنداﷲ گنہگاروماخوذرہے گا۔
حدیث میں ہے حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃ۔رواہ ابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہنچنے سے بھاگے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(اسے ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔(ت)
یونہی ایك زوجہ کے پیچھے دوسری کی خبرگیر ی نہ کرنی دوہراگناہ اور بنص قرآن حرام قطعی ہے۔حدیث میں ہےحضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاکانت عندہ امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیمۃ وشقہ ساقط ۔رواہ الترمذی وابوداود و النسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس کے دو بیبیاں ہوں اور وہ انہیں برابر نہ رکھے قیامت کے دن اس حال پر آئے کہ اس کی ایك طرف کی کروٹ گری ہوئی ہو(اسے ترمذیابوداؤدنسائیابن ماجہابن حبان اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
مسئلہ۳۲ تا۳۵: ازبلگرام شریف ضلع ہر دوئی محلہ سلھڑہ مرسلہ سیدمحمد زاہد صاحب ۴جمادی الآخر۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)زید کہ ایك علاقہ کا حاکم وقت کی جانب سے مہتمم مقرر ہے بذات خود حاکم نہیں ہے کہ کوئی حکم یا فیصلہ قطعی کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں اگر بکر جو اسی علاقہ میں رہتا ہے بغیر کسی خواہش ودباؤ کے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقدالخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲ /۱۶۰€
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸€
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۶€
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸€
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۶€
بموجب رواج یا اخلاق انسانی کے زید کی دعوت کرے یا کوئی تحفہ کسی قسم کا پیش کرے تو اس کا لینا داخل رشوت ہے یانہیں اور جائز ہے یاناجائز
(۲)زید بحکم حاکم وقت کے تحقیقات کے واسطے اسی علاقہ میں جس کا وہ مہتمم ہے کسی فریق کے مکان پر جائے یا بصورت نہ ہونے فریق ثانی بمقابلہ حاکم کے تحقیقات بکر کو جائے اس وقت کھانا کھلانا بکر کا یا معمولی تحفہ پیش کرنا اور زید کو اس کا قبول کرنا داخل رشوت وناجائز ہوگا یا جائز درحالیکہ بغیر خدمت گزاری بکر کے بھی زید کا طریق عمل یکساں ہے۔
(۳)بخلاف ہر دو دفعات کے اگر زید حاکم مختار وفیصلہ قطعی کرسکتا ہے تو زید کو اپنے حدود علاقہ کے اندر دعوت وتحفہ کا قبول کرنا کیسا ہےجائز یا ناجائز
(۴)جس حالت میں زید کے طریق عمل سے بکر واقف ہوجائے کہ دعوت وتحفہ سے زید میرے حق میں کچھ رعایت نہ کرے گا اپنے طریق عمل پر پورا قائم رہے گا اور باوجود اس عمل کے نمبر ۱و۲کا برتاؤ کرے تو جائز ہے یاناجائز
الجواب:
جو شخص بذات خود خواہ از جانب حاکم کسی طرح کا قہر وتسلط رکھتا ہو جس کے سبب لوگوں پر اس کا کچھ بھی دباؤ ہواگرچہ وہ فی نفسہ ان پر جبر وتعدی نہ کرے دباؤ نہ ڈالے اگرچہ وہ کسی فیصلہ قطعی بلکہ غیر قطعی کا بھی مجاز نہ ہو جیسے کو توالتھانہ دارجمعدار یا دہقانیوں کے لئے زمیندار مقدم پٹواری یہاں تك کہ پنچایتی قوموں یا پیشوں کے لئے ان کا چودھریان سب کو کسی قسم کے تحفہ لینے یا دعوت خاصہ(یعنی وہ دعوت کہ خاص اسی کی غرض سے کی گئی ہو کہ اگر یہ شریك نہ ہو تو دعوت ہی نہ ہو)قبول کرنے کی اصلا اجازت نہیں مگر تین صورتوں میںاول اپنے افسر سے جس پر اس کا دباؤ نہیںنہ وہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ ہدیہ ودعوت اپنے معاملات میں رعایت کرانے کے لئے ہو۔دوم ایسے شخص سے جو اس کے منصب سے پہلے بھی اسے ہدیہ دیتا یا دعوت کرتا تھا بشرطیکہ اب سے اسی مقدار پر ہے ورنہ زیادت روا نہ ہوگی مثلا پہلے ہدیہ ودعوت میں جس قیمت کی چیز ہوتی تھی اب اس سے گراں قیمت پر تکلف ہوتی ہے یا تعداد میں بڑھ گئی یا جلد جلد ہونے لگی کہ ان سب صورتوں میں زیادت موجود اور جواز مفقودمگر جبکہ اس شخص کا مال پہلے سے اس زیادت کے مناسب سب زائد ہوگیا ہو جس سے سمجھا جائے کہ یہ زیادت اس شخص کے منصب کے سبب نہیں بلکہ اپنی ثروت بڑھنے کے باعث ہے۔سوم اپنے قریب محارم سےجیسے ماں باپ اولاد بہن بھائی نہ چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹے کہ یہ محارم نہں اگرچہ عرفا انہیں بھی بھائی کہیں۔محارم سے مطلقا اجازت ظاہر عبارت قدوری پر ہے ورنہ امام سغناقی نے نہایہ
(۲)زید بحکم حاکم وقت کے تحقیقات کے واسطے اسی علاقہ میں جس کا وہ مہتمم ہے کسی فریق کے مکان پر جائے یا بصورت نہ ہونے فریق ثانی بمقابلہ حاکم کے تحقیقات بکر کو جائے اس وقت کھانا کھلانا بکر کا یا معمولی تحفہ پیش کرنا اور زید کو اس کا قبول کرنا داخل رشوت وناجائز ہوگا یا جائز درحالیکہ بغیر خدمت گزاری بکر کے بھی زید کا طریق عمل یکساں ہے۔
(۳)بخلاف ہر دو دفعات کے اگر زید حاکم مختار وفیصلہ قطعی کرسکتا ہے تو زید کو اپنے حدود علاقہ کے اندر دعوت وتحفہ کا قبول کرنا کیسا ہےجائز یا ناجائز
(۴)جس حالت میں زید کے طریق عمل سے بکر واقف ہوجائے کہ دعوت وتحفہ سے زید میرے حق میں کچھ رعایت نہ کرے گا اپنے طریق عمل پر پورا قائم رہے گا اور باوجود اس عمل کے نمبر ۱و۲کا برتاؤ کرے تو جائز ہے یاناجائز
الجواب:
جو شخص بذات خود خواہ از جانب حاکم کسی طرح کا قہر وتسلط رکھتا ہو جس کے سبب لوگوں پر اس کا کچھ بھی دباؤ ہواگرچہ وہ فی نفسہ ان پر جبر وتعدی نہ کرے دباؤ نہ ڈالے اگرچہ وہ کسی فیصلہ قطعی بلکہ غیر قطعی کا بھی مجاز نہ ہو جیسے کو توالتھانہ دارجمعدار یا دہقانیوں کے لئے زمیندار مقدم پٹواری یہاں تك کہ پنچایتی قوموں یا پیشوں کے لئے ان کا چودھریان سب کو کسی قسم کے تحفہ لینے یا دعوت خاصہ(یعنی وہ دعوت کہ خاص اسی کی غرض سے کی گئی ہو کہ اگر یہ شریك نہ ہو تو دعوت ہی نہ ہو)قبول کرنے کی اصلا اجازت نہیں مگر تین صورتوں میںاول اپنے افسر سے جس پر اس کا دباؤ نہیںنہ وہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ ہدیہ ودعوت اپنے معاملات میں رعایت کرانے کے لئے ہو۔دوم ایسے شخص سے جو اس کے منصب سے پہلے بھی اسے ہدیہ دیتا یا دعوت کرتا تھا بشرطیکہ اب سے اسی مقدار پر ہے ورنہ زیادت روا نہ ہوگی مثلا پہلے ہدیہ ودعوت میں جس قیمت کی چیز ہوتی تھی اب اس سے گراں قیمت پر تکلف ہوتی ہے یا تعداد میں بڑھ گئی یا جلد جلد ہونے لگی کہ ان سب صورتوں میں زیادت موجود اور جواز مفقودمگر جبکہ اس شخص کا مال پہلے سے اس زیادت کے مناسب سب زائد ہوگیا ہو جس سے سمجھا جائے کہ یہ زیادت اس شخص کے منصب کے سبب نہیں بلکہ اپنی ثروت بڑھنے کے باعث ہے۔سوم اپنے قریب محارم سےجیسے ماں باپ اولاد بہن بھائی نہ چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹے کہ یہ محارم نہں اگرچہ عرفا انہیں بھی بھائی کہیں۔محارم سے مطلقا اجازت ظاہر عبارت قدوری پر ہے ورنہ امام سغناقی نے نہایہ
پھر امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اسے بھی صورت دوم ہی میں داخل فرمایا کہ محارم سے بھی ہدیہ ودعوت کا قبول اسی شرط سے مشروط کہ پیش از حصول منصب بھی وہ اس کے ساتھ یہ برتاؤ برتتے ہوں مگر یہ کہ اسے یہ منصب ملنے سے پہلے وہ فقراتھے اب صاحب مال ہوگئے کہ اس تقدیر پر پیش ازمنصب عدم ہدیہ ودعوت بربنائے فقر سمجھاجائے گا اور فی الواقع اظہر من حیث الدلیل یہی نظر آتا ہے کہ جب باوصف قدرت پیش از منصب عدم یا قلت وبعد منصب شروع باکثرت بربنائے منصب ہی سمجھی جائے گی اس تقدیر پر صرف دو ہی صورتیں مستثنی رہیں پھر بہرحال جو صورت مستثنی ہوگی وہ اسی حال میں حکم جوا ز پاسکتی ہے جب اس وقت اس شخص کا کوئی کام اس سے متعلق نہیں ورنہ خاص کام پڑنے غرض متعلق ہونے کے وقت اصلا اجازت نہیں خواہ وہ افسر ہو یا بھائی یا پہلے سے ہدیہ وغیرہا دینے والا بلکہ ایسے وقت عام دعوت میں شریك ہونا بھی نہ چاہئے نہ کہ خاصپھر جہاں جہاں مانعت ہے اس کی بنا صرف تہمت و اندیشہ رعایت پر ہے حقیقۃ وجود رعایت ضرور نہیں کہ اس کاا پنے عمل میں کچھ تغیر نہ کرنا یا اس کا اس کی عادت بے لوثی سے آگاہ ہونا مفید جواز ہوسکے۔دنیا کے کام امید ہی پر چلتے ہیںجب یہ دعوت و ہدایا قبول کیا کرے گا تو ضرور خیال جائے گا کہ شاید اب کی بار کچھ اثر پڑے کہ مفت مال دینے کی تاثیر مجرب ومشاہد ہے اس بار نہ ہوئی اس بار ہوگیاس بار نہ ہوئی پھر کبھی ہوگیاور یہ حیلہ کہ اس کا ہدیہ و دعوت بربنائے اخلاق انسانیت ہے نہ بلحاظ منصباس کا رد حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماچکے ہیںجب ایك صاحب کو تحصیل زکوۃ پر مقرر فرما کر بھیجا تھا انہوں نے اموال زکوۃ حاضر کئے اور کچھ مال جدارکھے کہ یہ مجھے ملے ہیں فرمایا اپنی ماں کے گھر بیٹھ کر دیکھا ہوتا کہ اب کتنے تحفے ملتے ہیں یعنی یہ ہدایا صرف اسی منصب کی بنا پر ہیں اگر گھر بیٹھا ہوتا تو کون آکر دے جاتااس مسئلہ کی تفاصیل میں اگرچہ کلام بہت طویل ہے مگر یہاں جو کچھ مذکور ہوابعونہ تعالی خلاصہ تنقیح وصالح تحویل ہے
فی الدر المختارویرد ھدیۃ التنکیر للتقلیل وھی ما یعطی بلاشرط اعانۃ بخلاف الرشوۃ الامن اربع السلطان والباشا وقریبہ المحرم او ممن جرت عادتہ بذلك بقدر عادتہ ولاخصومۃ لھما ویرددعوۃ خاصۃ درمختار میں ہے وہ ہدیہ کو رد کردےہدیہ کی تنکیر قلت کے لئےاور یہ وہ ہے کہ اس کو اعانت کی شرط کے بغیر دیا جائے بخلاف رشوت کہ اس میں اعانت کی شرط ہوتی ہے۔قاضی صرف چار حضرات سے ہدیہ وصول کرسکتا ہے بادشاہگورنر اپنے قریبی محارماور جس سے پہلے وصول کی عادت جاری تھی وہ بھی عادت کے مطابقبشرطیکہ آخری دونوں کا
فی الدر المختارویرد ھدیۃ التنکیر للتقلیل وھی ما یعطی بلاشرط اعانۃ بخلاف الرشوۃ الامن اربع السلطان والباشا وقریبہ المحرم او ممن جرت عادتہ بذلك بقدر عادتہ ولاخصومۃ لھما ویرددعوۃ خاصۃ درمختار میں ہے وہ ہدیہ کو رد کردےہدیہ کی تنکیر قلت کے لئےاور یہ وہ ہے کہ اس کو اعانت کی شرط کے بغیر دیا جائے بخلاف رشوت کہ اس میں اعانت کی شرط ہوتی ہے۔قاضی صرف چار حضرات سے ہدیہ وصول کرسکتا ہے بادشاہگورنر اپنے قریبی محارماور جس سے پہلے وصول کی عادت جاری تھی وہ بھی عادت کے مطابقبشرطیکہ آخری دونوں کا
وھی التی لایتخذ ھا صاحبھا لو لاحضورالقاضی ولا یجیب دعوۃ خصم ولوعامۃ للتھمۃاھ ملخصاوفی ردالمحتار الاصل فی ذلك مافی البخاری عن ابی حمید الساعدی قال استعمل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجلا علی الصدقۃ فلما قدم قال ھذا لکم وھذا لی قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھلاجلس فی بیت ابیہ او بیت امہ فینظر ایھدی لہ ام لاوتعلیل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دلیل علی تحریم الھدیۃ التی سببھا الولایۃ فتحقال فی النھر الظاھر ان المراد بالعمل ولایۃ ناشئۃ عن الامام اونائبہ کالساعی والعاشراھ قلت ومثلھم مشائخ القری و الحرف وغیرھم ممن لہ قھروتسلط علی من دونھم فانہ یھدی الیہم خوفامن شرھم اولیروج عندھم ورأیت فی حاشیۃ شرح المنھج للعلامۃ محمد الداودی الشافعی الفقیہ قال ع ش ومن العمال مشائخ
مقدمہ اس کے ہاں نہ ہواور وہ خاص دعوت کو رد کردے خاص دعوت وہ ہے جس میں اگر قاضی نہ ہو تو دعوت نہ ہو اور مقدمہ کے کسی فریق کی دعوت قبول نہ کرے اگرچہ یہ دعوت عام ہو کیونکہ مقام تہمت ہے اھ ملخصا۔اور ردالمحتار میں ہے:اس میں اصل یہ ہے کہ بخاری شریف میں ابوحمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك شخص کو صدقہ پر عامل بنایا تو جب وہ واپس آیا تو اس نے صدقات پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ یہ مال آپ کے بیت المال کا ہے اور یہ میرا ہےتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھتا کہ اس کو ہدیہ ملتا ہے یانہیںتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان کردہ وجہ ایسے ہدیہ کی حرمت کی دلیل جو کسی عہدہ کی بناپر ملےفتح۔اور نہر میں فرمایا:ظاہر ہے کہ ولایت وعہدہ سے مراد یہ ہے کہ وہ امام یا نائب امام کی طرف سے سونپا گیا ہو جیسا کہ زکوۃ یا عشر وصول کرنے والااھ۔ میں کہتا ہوں اسی طرح دیہاتوں اور حرفتوں کے نگران وغیرہ جن کو اپنے ماتحتوں پر تسلط اور غلبہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے شرکاخوف یا ان سے طمع ہوتا ہےمیں نے علامہ محمد داؤدی شافعی فقیہ کی شرح منہج میں دیکھا ہے انہوں نے ع ش کے حوالہ سے فرمایا عاملین میں سے بازاروں شہروں کے نگران اور
مقدمہ اس کے ہاں نہ ہواور وہ خاص دعوت کو رد کردے خاص دعوت وہ ہے جس میں اگر قاضی نہ ہو تو دعوت نہ ہو اور مقدمہ کے کسی فریق کی دعوت قبول نہ کرے اگرچہ یہ دعوت عام ہو کیونکہ مقام تہمت ہے اھ ملخصا۔اور ردالمحتار میں ہے:اس میں اصل یہ ہے کہ بخاری شریف میں ابوحمید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك شخص کو صدقہ پر عامل بنایا تو جب وہ واپس آیا تو اس نے صدقات پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ یہ مال آپ کے بیت المال کا ہے اور یہ میرا ہےتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھتا کہ اس کو ہدیہ ملتا ہے یانہیںتو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان کردہ وجہ ایسے ہدیہ کی حرمت کی دلیل جو کسی عہدہ کی بناپر ملےفتح۔اور نہر میں فرمایا:ظاہر ہے کہ ولایت وعہدہ سے مراد یہ ہے کہ وہ امام یا نائب امام کی طرف سے سونپا گیا ہو جیسا کہ زکوۃ یا عشر وصول کرنے والااھ۔ میں کہتا ہوں اسی طرح دیہاتوں اور حرفتوں کے نگران وغیرہ جن کو اپنے ماتحتوں پر تسلط اور غلبہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے شرکاخوف یا ان سے طمع ہوتا ہےمیں نے علامہ محمد داؤدی شافعی فقیہ کی شرح منہج میں دیکھا ہے انہوں نے ع ش کے حوالہ سے فرمایا عاملین میں سے بازاروں شہروں کے نگران اور
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۵۔۷۴€
الاسواق والبلدان ومباشر الاوقاف وکل من یتعاطی امرایتعلق بالمسلمن انتہیوعبارۃ القلانسی ولا یقبل الھدیۃ الا من ذی رحم محرم او وال مقدم علیہ فی الرتبۃ ووجہہ ان منع قبولہا انما ھو للخوف من مراعاتہ لاجلہا وھوان راعی الملك ونائبہ لم یراعہ لاجلہا قولہ المحرم ھذاالقید لابدمنہ لیخرج ابن العم نھر قولہ ولاخصومۃ لھما قال فی البحر والحاصل ان من لہ خصومۃ لایقبلھا مطلقا ومن لاخصومۃ لہ فان کان لہ عادۃ قبل القضاء قبل المعتاد والا لااھ ای سواء کان محرما او غیرہ علی مامرعن شیخ الاسلامقال فی البحر فلوکان من عادتہ الدعوۃ فی کل شھر مرۃ فدعاہ کل اسبوع بعد القضاء لایجیبہ ولواتخذلہ طعاما اکثر من الاول لایجیبہ الاان یکون مالہ قد زادکذافی التاتارخانیۃ اھ اھ ملتقطا اوقاف کے ذمہ داراور تمام ایسے لوگ جن کو مسلمانوں کے امور سے متعلق کیا گیا ہو اھاور قلانسی کی عبارت یوں ہے کہ وہ صرف اپنے ذی رحم محرم یا اپنے سے بڑے مرتبہ والے کسی والی کا ہدیہ قبول کرسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدیہ قبول کرنے کی ممانعت صرف اس وجہ سے ہے کہ کہیں ہدیہ کی وجہ سے ہدیہ والے کی رعایت نہ کرے تو اگر وہ بادشاہ یا اس کے نائب کی رعایت کرے گا تو وہ اس کی رعایت نہ کرینگےاور اگر کرے گا تو ہدیہ کی وجہ سے نہ کرے گا۔ماتن کا قول"محرم"تو یہ قید ضروری ہے تاکہ چچا زاد اس اجازت سے خارج ہوجائےنہر۔اور اس کا قول کی خصومت نہ ہو(یعنی ان کا مقدمہ نہ ہو)تو بحر میں فرمایا حاصل یہ کہ ان کا ہدیہ مطلقا قبول نہ کرے اور جس کا مقدمہ نہ ہو تو اگر قضاء سے قبل اس سے ہدیہ وصول کرنے کی عادت تھی تو عادت سے زائد قبول کرنے کی ممانعت ہےاگر وہ ایسا نہیں تو پھر قبول نہ کرے اھ یعنی محرم ہو یا نہ ہو جیسا کہ شیخ الاسلام سے منقول گزاربحر میں فرمایا:اگر قضا سے قبل ایك ماہ پر دعوت کی عادت تھی تو اب قضاء کے بعد ہر ہفتہ دعوت شروع کردی تو قبول نہ کرے اور اگر اب کھانا زیادہ پر تکلف ہو تو قبول نہ کرےہاں دعوت قبول کرنے والا پہلے سے زیادہ مالدار ہوگیا تو قبول کرے جیسا کہ تاتارخانیہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۱۰تا۳۱۲€
وفی الھندیۃ یقبل الھدیۃ من الوالی الذی ولاہ ولوکان للخلیفۃ خصومۃ لم یقبل ھدیتہ الابعد الحکم کذافی العتابیۃ اھوفی فتح القدیر قال شیخ الاسلام قالواماذکر فی الضیافۃ فمحمول علی مااذاکان المحرم لم یجری بینھما الدعوۃ والمھاداۃ وصلۃ القرابۃ واحدث بعد القضاء ذلك فاذاکانت الحالۃ ھذہ فہو کالاجنبی سواء ومافی الھدیۃ محمول علی انہ کان جری بینھما المہاداۃ وصلۃ القرابۃ قبل القضاء فاذااھدی بعد القضاء لاباس بقبولہ انتہی فقد ال الحال الی انہ لافرق بین القریب والغریب فی الھدیۃ والضیافۃ الخ واﷲ تعالی اعلم۔ میں ہے اھ ملتقطااور ہندیہ میں ہے کہ قاضی اپنے والی کی دعوت قبول کرے جس نے اس کی تقرری کی ہے اور خلیفہ کا کوئی مقدمہ اس کے پاس ہو تو پھر فیصلہ کرنے کے بعد اس کی دعوت قبول کرےجیسا کہ عتابیہ میں ہے اھاور فتح القدیر میں فرمایا:شیخ الاسلام نے فرمایا:فقہاء کرام نے کہا ہے کہ ضیافت کے متعلق جومذکور ہے وہ اس بات پر محمول ہے کہ محرم کی عادت اگر پہلے سے ہدیہدعوت اور قرابت کا صلہ جاری نہ ہو اور اب قضاء کے بعد ہدیہ دے تو ایسی حالت میں وہ محرم اور اجنبی مساوی ہیںاورجو ہدیہ سے متعلق مذکور ہے وہ پہلے سے جاری ہدیہ اور صلہ قرابت پر محمول ہے اگر یہ قضاء کے بعد بھی ہدیہ دے تو قبول کرنے میں قباحت نہیں ہے اھ تو حال کا مآل یہ ہوا کہ ضیافت اور ہدیہ کے معاملہ میں قریبی اور غیر قریبی کا کوئی فرق نہیں الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۶: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں ۱۳/رمضان مبارك ۱۳۱۱ھ
اکمل کامل وافضل افاضل مولانا احمد رضاخان صاحب بعد ابراز مراسم سلام مصدع خدمت ہے کہ اب بادشاہی اسلام کا ہندوستان میں نشان باقی نہیں اور جو بعض بعض ملك میں نواب اسلام ہیں وہ بھی اجرائے تمام احکام شرعی کے مجاز نہیں اور عہدہ قضا تو جب سے مفقود ہے برائے نام قاضی ہیں ملبوس علم سے مبرااور ان میں بھی ثقہ چیدہ چیدہباوجود ان وجوہات کے وہ قاضی وحکام ہنود وغیرہ ولایت عامہ کا خاصہ رکھتے ہیں یانہیں اور اگر نہیں تو قاضی شرع کسے قرار دیا جائے کہ اسے ولایت صبی وصبیہ کی ہو۔زیادہ نیاز۔
الجواب:
اسلامی ریاستوں میں والیان مسلمین جن حکام کو مقدمات فیصل کرنے پر مقرر کرتے ہیں وہ شرعا قاضی ہیں
مسئلہ۳۶: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں ۱۳/رمضان مبارك ۱۳۱۱ھ
اکمل کامل وافضل افاضل مولانا احمد رضاخان صاحب بعد ابراز مراسم سلام مصدع خدمت ہے کہ اب بادشاہی اسلام کا ہندوستان میں نشان باقی نہیں اور جو بعض بعض ملك میں نواب اسلام ہیں وہ بھی اجرائے تمام احکام شرعی کے مجاز نہیں اور عہدہ قضا تو جب سے مفقود ہے برائے نام قاضی ہیں ملبوس علم سے مبرااور ان میں بھی ثقہ چیدہ چیدہباوجود ان وجوہات کے وہ قاضی وحکام ہنود وغیرہ ولایت عامہ کا خاصہ رکھتے ہیں یانہیں اور اگر نہیں تو قاضی شرع کسے قرار دیا جائے کہ اسے ولایت صبی وصبیہ کی ہو۔زیادہ نیاز۔
الجواب:
اسلامی ریاستوں میں والیان مسلمین جن حکام کو مقدمات فیصل کرنے پر مقرر کرتے ہیں وہ شرعا قاضی ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب القضاء الباب التاسع فی رزق القاضی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۳۰€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۷۲€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۷۲€
والی کی طرف سے جو اختیارات جائز انہیں سپرد ہوں گے وہ اختیار شرعی ہیں اگرچہ یہ ریاستیں زیر غلبہ کفار ہوں۔
فی جامع الفصولین کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوزفیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذالخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم واماطاعۃ الکفرۃ فھی موادعۃ ومخادعۃ الخ ویأتی تمامہ ونحوہ فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ وعن معراج الدرایۃ عن المبسوط وعن شرح مسکین عن الاصل۔ جامع الفصولین میں ہے جس شہر میں کفار کی طرف سے مقرر کردہ مسلمان والی ہو تو وہاں جمعہعیدینخراج وصول کرناقاضی حضرات کو مقرر کرنا اور یتیم لڑکیوں کا نکاح کردینا جائز ہے کیونکہ مسلمانوں کا وہاں غلبہ ہےرہا یہ کہ کفار کی اطاعت ہے تو یہ عارضی معاملہ اور دکھاوا ہے الخ اس کی مکمل بحث عنقریب آئے گیاور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ایسا ہی منقول ہے اور اس میں معراج الدرایہ بحوالہ مبسوط اور شرح مسکین بحوالہ اصلسے بھی منقول ہے۔(ت)
اور ان کا جاہل ہونا مذہب اصح پر منافی قضانہیں کہ جاہل عالم سے فتوی لے کر کام کرسکتا ہے
فی جامع الفصولین کونہ عالما او مجتہدا لیس بشرط ۔ جامع الفصولین میں ہے کہ قاضی کا عالم یا مجتہد ہونا شرط نہیں ہے۔(ت)
یونہی غیر ثقہ بلکہ فاسق ہونا بھیاگرچہ فاسق کو قاضی کرنا گناہ ہے
فی الفتح والوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذو شوکۃ وان کان جاہلا فاسقاوھو ظاہرالمذھب عندنا فیحکم بفتوی غیرہ اھ وفی الدرالمختار الفاسق اہلھا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی ۔ فتح میں ہے کہ صحیح وجہ یہ ہے کہ جس کو صاحب شوکت سلطان قاضی مقرر کردے اگرچہ وہ جاہل فاسق ہو اس کی قضاہمارے ہاں نافذ ہوجائے گی یہی ظاہر مذہب ہے اور ایسی صورت میں وہ قاضی دوسرے کے فتوے پر عمل کرے گا اھ اور درمختار میں ہے فاسق شہادت کااہل ہے تو قضاکا اہل ہوگا لیکن لازم ہے کہ ایسے کو مقرر نہ کیا جائے اور مقرر کرنے والا گنہگار ہوگا جیسا کہ ایسے کی شہادت قبول کرنے والا گنہگار ہوگااسی پر فتوی ہے۔(ت)
فی جامع الفصولین کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوزفیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذالخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم واماطاعۃ الکفرۃ فھی موادعۃ ومخادعۃ الخ ویأتی تمامہ ونحوہ فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ وعن معراج الدرایۃ عن المبسوط وعن شرح مسکین عن الاصل۔ جامع الفصولین میں ہے جس شہر میں کفار کی طرف سے مقرر کردہ مسلمان والی ہو تو وہاں جمعہعیدینخراج وصول کرناقاضی حضرات کو مقرر کرنا اور یتیم لڑکیوں کا نکاح کردینا جائز ہے کیونکہ مسلمانوں کا وہاں غلبہ ہےرہا یہ کہ کفار کی اطاعت ہے تو یہ عارضی معاملہ اور دکھاوا ہے الخ اس کی مکمل بحث عنقریب آئے گیاور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ایسا ہی منقول ہے اور اس میں معراج الدرایہ بحوالہ مبسوط اور شرح مسکین بحوالہ اصلسے بھی منقول ہے۔(ت)
اور ان کا جاہل ہونا مذہب اصح پر منافی قضانہیں کہ جاہل عالم سے فتوی لے کر کام کرسکتا ہے
فی جامع الفصولین کونہ عالما او مجتہدا لیس بشرط ۔ جامع الفصولین میں ہے کہ قاضی کا عالم یا مجتہد ہونا شرط نہیں ہے۔(ت)
یونہی غیر ثقہ بلکہ فاسق ہونا بھیاگرچہ فاسق کو قاضی کرنا گناہ ہے
فی الفتح والوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذو شوکۃ وان کان جاہلا فاسقاوھو ظاہرالمذھب عندنا فیحکم بفتوی غیرہ اھ وفی الدرالمختار الفاسق اہلھا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی ۔ فتح میں ہے کہ صحیح وجہ یہ ہے کہ جس کو صاحب شوکت سلطان قاضی مقرر کردے اگرچہ وہ جاہل فاسق ہو اس کی قضاہمارے ہاں نافذ ہوجائے گی یہی ظاہر مذہب ہے اور ایسی صورت میں وہ قاضی دوسرے کے فتوے پر عمل کرے گا اھ اور درمختار میں ہے فاسق شہادت کااہل ہے تو قضاکا اہل ہوگا لیکن لازم ہے کہ ایسے کو مقرر نہ کیا جائے اور مقرر کرنے والا گنہگار ہوگا جیسا کہ ایسے کی شہادت قبول کرنے والا گنہگار ہوگااسی پر فتوی ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ومایتصل بہ المطبعۃ الازہریہ ∞مصر ۱ /۱۴€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ومایتصل بہ المطبعۃ الازہریہ ∞مصر ۱ /۱۴€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵۷€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ومایتصل بہ المطبعۃ الازہریہ ∞مصر ۱ /۱۴€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵۷€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
اسی طرح بعض احکام مثل حدود میں اجرائے حکم شرع سے ممنوع ہونا بھی کہ اگر یہ ممانعت یوں ہے کہ وہ مد جس میں شرع سے مخالفت کرتے ہیں اس قاضی کی حد سماعت ہی سے خارج رکھی اور اسے جن مقدمات کے سننے کے اختیاردیا ان میں اتباع شرع سے منع نہ کیا جب تو ظاہر کہ قضا ہر طرح صالح تخصیص ہےکما نص علیہ فی الاشباہ وغیرہا(جیسا کہ اس پر اشباہ وغیرہ میں تصریح ہے۔ت)اور اگر یوں کہ بعض امور مفوضہ میں مطابق شرع حکم دینے سے منع کیا تاہم قضا متحقق ہے اگرچہ ایسی جگہ اس کا اختیار کرنے والا فاسق ہے
فی الدرالمختار یجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو کافراذکرہ مسکین وغیرہ الا اذا کان یمنعہ عن القضاء بالحق فیحرم ۔ درمختار میں ہے کہ سلطان عادل ہو یا ظالم اس کا قاضی مقرر کرنا جائز ہے اور اگر کافر ہو تو بھی جائز ہے اس کو مسکین وغیرہ نے ذکر کیا ہےہاں اگر کافر قاضی کو حق کے فیصلوں سے منع کرے تو پھر اس کی طرف سے تقرری حرام ہوگی۔(ت)
ہاں مسلمانوں کے معاملات اور اطفال مسلمین کے ولایات میں قاضی کا مسلمان ہونا شرط ہے ہندو وغیرہ کفار کو مسلمان پر اصلا ولایت نہیں ہوسکتی
قال اﷲ تعالی
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوراﷲ تعالی کافروں کو مسلمانوں پرکوئی ولایت نہ دے گا۔(ت)
غرض اسلامی ریاستوں میں قاضیان ذی اختیار شرعی کا موجود ہونا واضحاور جہاں اسلامی ریاست اصلانہیں وہاں اگر مسلمانوں نے باہمی مشورہ سے کسی مسلمان کو اپنے فصل مقدمات کے لئے مقرر کرلیا تو وہی قاضی شرعی ہے
فی جامع الفصولین بعدمامر عنہ اولاواما فی بلاد علیہا ولاۃکفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین الخ و نحوہ فیما مر معہ من الکتاب۔ جامع الفصولین میں اولا مذکور کے بعد ذکر کیا کہ لیکن وہ شہر جہاں کافر والی ہوں تو وہاں مسلمانوں کی رضا واتفاق سے جمعہ عیدین کا قیام اور قاضی کا تقرر جائز ہوگا الخ اور ایسا ہی اس کے ساتھ کتاب میں بھی مذکور ہے۔(ت)
فی الدرالمختار یجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو کافراذکرہ مسکین وغیرہ الا اذا کان یمنعہ عن القضاء بالحق فیحرم ۔ درمختار میں ہے کہ سلطان عادل ہو یا ظالم اس کا قاضی مقرر کرنا جائز ہے اور اگر کافر ہو تو بھی جائز ہے اس کو مسکین وغیرہ نے ذکر کیا ہےہاں اگر کافر قاضی کو حق کے فیصلوں سے منع کرے تو پھر اس کی طرف سے تقرری حرام ہوگی۔(ت)
ہاں مسلمانوں کے معاملات اور اطفال مسلمین کے ولایات میں قاضی کا مسلمان ہونا شرط ہے ہندو وغیرہ کفار کو مسلمان پر اصلا ولایت نہیں ہوسکتی
قال اﷲ تعالی
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اوراﷲ تعالی کافروں کو مسلمانوں پرکوئی ولایت نہ دے گا۔(ت)
غرض اسلامی ریاستوں میں قاضیان ذی اختیار شرعی کا موجود ہونا واضحاور جہاں اسلامی ریاست اصلانہیں وہاں اگر مسلمانوں نے باہمی مشورہ سے کسی مسلمان کو اپنے فصل مقدمات کے لئے مقرر کرلیا تو وہی قاضی شرعی ہے
فی جامع الفصولین بعدمامر عنہ اولاواما فی بلاد علیہا ولاۃکفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین الخ و نحوہ فیما مر معہ من الکتاب۔ جامع الفصولین میں اولا مذکور کے بعد ذکر کیا کہ لیکن وہ شہر جہاں کافر والی ہوں تو وہاں مسلمانوں کی رضا واتفاق سے جمعہ عیدین کا قیام اور قاضی کا تقرر جائز ہوگا الخ اور ایسا ہی اس کے ساتھ کتاب میں بھی مذکور ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€
اور اگر ایسا نہ ہو تو شہر کا عالم کہ عالم دین و فقہیہ ہو اور اگر وہاں چند علماء ہیں تو جو ان سب میں زیادہ علم دین رکھتا ہو وہی حاکم شرع ووالی دین اسلام وقاضی وذوی اختیار شرعی ہے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے کاموں میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے حکم پر چلیںیتیمان بے ولی پر وصی اس سے مقرر کرائیں نابالغان بے وصی کا نکاح اس کی رائے پر رکھیں ایسی حالت میں اس کی اطاعت من حیث العلم واجب ہونے کے علاوہ من حیث الحکم بھی واجب
فی الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ وفی العتابی اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروافالمتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم وقال السمھودی وھذامن حیث انعقاد الولایۃ الخاصۃ فلاینافی وجوب طاعۃ العلماء مطلقا الخ۔ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے کہ عتابی میں ہے کہ جب سلطان اسلام سے زمانہ خالی ہو تو پھر امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہی والی قرار پائیں گے اورامت پر لازم ہوگا کہ ان کی طرف رجوع کریں اور ایك عالم پر اجتماع سب کے لئے دشوار ہوتو ہر علاقہ اپنے اپنے علماء کی اتباع کرےاور اگر ایك علاقہ میں علماء کثیر ہوں تو بڑے عالم کی اتباع ہوگیتو اگر وہ سب مساوی ہوں تو ایك کو قرعہ اندازی کے ذریعہ متعین کریں۔سمہودی نے فرمایا:یہ بیان ولایت خاصہ کے متعلق ہے تو علماء کی مطلقا اطاعت کے وجوب کے منافی نہ ہوگا الخ۔ (ت)
رہے یہ نکاح خوانی کے قاضی جو گاؤں گاؤں مقرر ہوتے ہیں یہ کوئی چیز نہیںنہ انہیں کچھ ولایتکما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۷: یکم صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایك بھائی نے چھوٹے بھائی کی شادی کیبعد انتقال والدین کےاپنے پاس سے رسومات شادی میں مثل زیور اور پارچہ وغیرہ میں صرف کیابعدہ اولاد ہونے میں صرف کیااورجب اس بھائی کا انتقال ہوا تو صرف تجہیز و تکفین اور چہلم وغیرہ کا کیاپس اس صورت میں زوجہ اور دختر کے حصہ سے کس قدر ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ چھوٹا بھائی وقت شادی بالغ تھاقریب بیس برس کے عمر ہوگیاور اس کا اپنا کچھ
فی الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ وفی العتابی اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروافالمتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم وقال السمھودی وھذامن حیث انعقاد الولایۃ الخاصۃ فلاینافی وجوب طاعۃ العلماء مطلقا الخ۔ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے کہ عتابی میں ہے کہ جب سلطان اسلام سے زمانہ خالی ہو تو پھر امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہی والی قرار پائیں گے اورامت پر لازم ہوگا کہ ان کی طرف رجوع کریں اور ایك عالم پر اجتماع سب کے لئے دشوار ہوتو ہر علاقہ اپنے اپنے علماء کی اتباع کرےاور اگر ایك علاقہ میں علماء کثیر ہوں تو بڑے عالم کی اتباع ہوگیتو اگر وہ سب مساوی ہوں تو ایك کو قرعہ اندازی کے ذریعہ متعین کریں۔سمہودی نے فرمایا:یہ بیان ولایت خاصہ کے متعلق ہے تو علماء کی مطلقا اطاعت کے وجوب کے منافی نہ ہوگا الخ۔ (ت)
رہے یہ نکاح خوانی کے قاضی جو گاؤں گاؤں مقرر ہوتے ہیں یہ کوئی چیز نہیںنہ انہیں کچھ ولایتکما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۷: یکم صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایك بھائی نے چھوٹے بھائی کی شادی کیبعد انتقال والدین کےاپنے پاس سے رسومات شادی میں مثل زیور اور پارچہ وغیرہ میں صرف کیابعدہ اولاد ہونے میں صرف کیااورجب اس بھائی کا انتقال ہوا تو صرف تجہیز و تکفین اور چہلم وغیرہ کا کیاپس اس صورت میں زوجہ اور دختر کے حصہ سے کس قدر ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر کہ چھوٹا بھائی وقت شادی بالغ تھاقریب بیس برس کے عمر ہوگیاور اس کا اپنا کچھ
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ النوع الثالث من الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۵۱€
مال نہ تھانہ بڑے بھائی نے مال مشترك سے اس کی شادی کا صرف کیا بلکہ خاص اپنا ذاتی مال اٹھایا اور اس صرف کی نہ چھوٹے بھائی نے درخواست کی تھی نہ بڑے نے اس سے اجازت لیبلکہ بطور خود جیسے والدین اپنے بچوں اور ان کے نہ ہونے کی حالت میں بڑے بھائی اپنے چھوٹوں کی شادیاں کرتے ہیں شادی کردیپس صورت مستفسرہ میں بڑابھائی ان مصارف کوکسی سے مجرانہیں لے سکتا
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشیئ۔ کیونکہ جس نے غیر کے معاملہ میں اس کے حکم اور کسی مجبوری کے بغیر خرچ کیا تو وہ خرچہ بطور نیکی ہوگا لہذا اس خرچہ کی وصولی کے لئے رجوع نہ کرسکے گا۔(ت)
ہاں اگررسم ورواج عام ظاہر سے کسی شیئ کی نسبت ثابت ہو کہ یہ چیز سامان شادی میں اس قوم میں محض بطور عاریت دی جاتی ہے دے ڈالنا مقصود نہیں ہوتا تو صرف اس شے کا استحقاق بڑے بھائی کو ہے اگر وہ شے موجود ہے لے لے اور تلف ہوگئی تو کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتا فان العواری امانات لاتضمن الابالتوی(کہ عاریتا لی ہوئی چیزیں امانت ہوتی ہیں ضائع کئے بغیر ان کا ضمان نہ ہوگا۔ت)اور اگر چھوٹے بھائی یا اس کی زوجہ نے خود خرچ کردی تلف کرڈالی تو جس نے کی اس سے اس کا تاوان لے سکتا ہےاسی طرح بھائی کے اولاد ہونے میں جو اٹھایا اس کا بھی مطالبہ کسی سے نہیں جبکہ بنظر عرف صرف احسان وسلوك منظور ہوتا ہواور اگر عرف سے یہ ثابت ہو کہ اس تقریب میں جو کچھ بڑا بھائی چھوٹے کے یہاں دیتا ہے وہ بطور قرض ہوتا ہے کہ جب اس کے یہاں تقریب ہوتو اسے معاوضہ دینا پڑتا ہے تو اس صورت میں وہ قرض ہے اس کا عوض ترکہ برادر سے پائے گاکما یستفاد ذلك من نص الفتاوی الخیریۃ(جیسا کہ فتاوی خیریہ کی تصریح سے یہ مستفاد ہے۔ت)اور صورت مسئولہ میں جب کہ بڑابھائی چھوٹے کا وارث ہے کہ زوجہ و دختر کے ساتھ بھائی بھی حصہ پاتا ہے تو جو کچھ اس نے چھوٹے بھائی کے کفن ودفن بقدر سنت میں لگایا اسی قدر مجرالے سکتا ہے اس سے زائد جو کچھ فاتحہ وسوم وچہلم میں اٹھایا وہ بھی نرااحسان تھا جسے کسی سے مجرا نہ پائے گا کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی فی فرائض حاشیۃ علی الدرالمختار(جیسا کہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں اس پر تصریح کی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی صاحب غرہ۲ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام سابق میں قصبہ بڑوانی میں حاکم ہنود تھا اس کو بادشاہ اسلام نے مشرف باسلام کرکے عہدہ قضاء پر مقرر کیا تھا بعد معدود الایام کے وہ راہی سوئے جناں ہو ااس کی اولاد سے ورثہ مسلم نہ تھا اولاد ہنود اس کی اس کے قائم مقام ہوئی اور دفتر قضابھی اس کے قبضہ میں رہا ان ایام میں
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشیئ۔ کیونکہ جس نے غیر کے معاملہ میں اس کے حکم اور کسی مجبوری کے بغیر خرچ کیا تو وہ خرچہ بطور نیکی ہوگا لہذا اس خرچہ کی وصولی کے لئے رجوع نہ کرسکے گا۔(ت)
ہاں اگررسم ورواج عام ظاہر سے کسی شیئ کی نسبت ثابت ہو کہ یہ چیز سامان شادی میں اس قوم میں محض بطور عاریت دی جاتی ہے دے ڈالنا مقصود نہیں ہوتا تو صرف اس شے کا استحقاق بڑے بھائی کو ہے اگر وہ شے موجود ہے لے لے اور تلف ہوگئی تو کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتا فان العواری امانات لاتضمن الابالتوی(کہ عاریتا لی ہوئی چیزیں امانت ہوتی ہیں ضائع کئے بغیر ان کا ضمان نہ ہوگا۔ت)اور اگر چھوٹے بھائی یا اس کی زوجہ نے خود خرچ کردی تلف کرڈالی تو جس نے کی اس سے اس کا تاوان لے سکتا ہےاسی طرح بھائی کے اولاد ہونے میں جو اٹھایا اس کا بھی مطالبہ کسی سے نہیں جبکہ بنظر عرف صرف احسان وسلوك منظور ہوتا ہواور اگر عرف سے یہ ثابت ہو کہ اس تقریب میں جو کچھ بڑا بھائی چھوٹے کے یہاں دیتا ہے وہ بطور قرض ہوتا ہے کہ جب اس کے یہاں تقریب ہوتو اسے معاوضہ دینا پڑتا ہے تو اس صورت میں وہ قرض ہے اس کا عوض ترکہ برادر سے پائے گاکما یستفاد ذلك من نص الفتاوی الخیریۃ(جیسا کہ فتاوی خیریہ کی تصریح سے یہ مستفاد ہے۔ت)اور صورت مسئولہ میں جب کہ بڑابھائی چھوٹے کا وارث ہے کہ زوجہ و دختر کے ساتھ بھائی بھی حصہ پاتا ہے تو جو کچھ اس نے چھوٹے بھائی کے کفن ودفن بقدر سنت میں لگایا اسی قدر مجرالے سکتا ہے اس سے زائد جو کچھ فاتحہ وسوم وچہلم میں اٹھایا وہ بھی نرااحسان تھا جسے کسی سے مجرا نہ پائے گا کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی فی فرائض حاشیۃ علی الدرالمختار(جیسا کہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں اس پر تصریح کی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی صاحب غرہ۲ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام سابق میں قصبہ بڑوانی میں حاکم ہنود تھا اس کو بادشاہ اسلام نے مشرف باسلام کرکے عہدہ قضاء پر مقرر کیا تھا بعد معدود الایام کے وہ راہی سوئے جناں ہو ااس کی اولاد سے ورثہ مسلم نہ تھا اولاد ہنود اس کی اس کے قائم مقام ہوئی اور دفتر قضابھی اس کے قبضہ میں رہا ان ایام میں
مسلمان وہاں کے مذہب سے واقف نہ تھے موافق حکم حکام ہنود نکاح ہوتا رہا اب جماعت اہل اسلام اپنا قاضی مسلم مقرر کیا چاہتی ہےدرست ہے یاکہ وہی حکام ہنود عہدہ قضاء پر قائم رہے اور چند ملازم مسلم اس کے طرفدار کس سزا کے مستحق ہیںان مسائل میں جو حکم مصدق بالتصدیق ہو بیان فرمائیں بعبارت کتب رحمۃ اﷲ علیہ اجمعین۔
الجواب:
شریعت مطہرہ میں مسلمانوں پر کوئی عہدہ حکومت کسی کافر کو دینا روا نہیں
قال تعالی: ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہر گز کافروں کو مومنین پر ولایت نہ دے گا۔(ت)
نہ مسلمان کے نکاح بر طریقہ کفار کرنے روا ہیں۔
قال اﷲ تعالی " لا تتبعوا خطوت الشیطن " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:شیطانوں کے راستوں کی پیروی نہ کرو۔ (ت)
نہ مسلمانوں کو دینی کام میں کافر سے مدد لی جاسکتی ہے۔حدیث میں ہے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انالا نستعین بمشرک ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہم کسی مشرك سے مدد نہ لیں گے۔(ت)
جو مسلمان اس ہندو کے طرفداورمددگار ہیں شرعا مستحق تعزیر وگنہگار ہیں
قال اﷲ تعالی " لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین"۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:مومن کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں مومنین کے علاوہ۔(ت)
ان پر اس ناجائز طرفداری سے توبہ لازم ہے
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور عداو ت میں ایك دوسرے سے تعاون مت کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
الجواب:
شریعت مطہرہ میں مسلمانوں پر کوئی عہدہ حکومت کسی کافر کو دینا روا نہیں
قال تعالی: ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہر گز کافروں کو مومنین پر ولایت نہ دے گا۔(ت)
نہ مسلمان کے نکاح بر طریقہ کفار کرنے روا ہیں۔
قال اﷲ تعالی " لا تتبعوا خطوت الشیطن " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:شیطانوں کے راستوں کی پیروی نہ کرو۔ (ت)
نہ مسلمانوں کو دینی کام میں کافر سے مدد لی جاسکتی ہے۔حدیث میں ہے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انالا نستعین بمشرک ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہم کسی مشرك سے مدد نہ لیں گے۔(ت)
جو مسلمان اس ہندو کے طرفداورمددگار ہیں شرعا مستحق تعزیر وگنہگار ہیں
قال اﷲ تعالی " لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین"۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:مومن کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں مومنین کے علاوہ۔(ت)
ان پر اس ناجائز طرفداری سے توبہ لازم ہے
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور عداو ت میں ایك دوسرے سے تعاون مت کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۶۸€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجہاد حدیث۱۵۰۰۹ ادارۃ القرآن ∞کراچی۱۲ /۳۹۵€
القرآن الکریم ∞۳/ ۲۸€
القرآن الکریم ∞۵/۲€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۶۸€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجہاد حدیث۱۵۰۰۹ ادارۃ القرآن ∞کراچی۱۲ /۳۹۵€
القرآن الکریم ∞۳/ ۲۸€
القرآن الکریم ∞۵/۲€
مسئلہ۳۹: ازبنارس کندیگر ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب غرہ شعبان ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاندمحمد کے چار پسر تھے:تاج محمدلطف اﷲکریم اﷲعبدالواحد۔اور ایك دخترجان بی بی۔چاند محمد نے ایك مکان خام سفالہ پوش اپنے روپے سے تاج محمد کے نام نیلام میں خرید کیاکچھ روز بعد چاند محمد نے ایك مکان خام سفالہ پوش اور تھوڑی سی زمین تاج محمد مذکور اور لطف اﷲ پسر ثانی کے نام اپنے روپے سے خرید کیابوقت خرید دونوں پسر بالغ تھےچونکہ واقعہ ستر برس کا ہے لہذا یہ نہیں معلوم کہ الفاظ بیع وشراء کے کس کی جانب مضاف تھے لیکن قبالہ مکان وزمین چاند محمد نے تاج محمد ولطف اﷲکے نام کیا مگر قبضہ کسی کو نہ دیا کرایہ مکان ہمیشہ آپ لیتے رہےبعد چند سال کے تاج محمد ایك پسر فیض اﷲ کو چھوڑ کر اپنے والد وبردران وخواہر کی حیات میں قضا کیا بعدہ چاندمحمد نے دونوں مکان توڑکر مع زمین کے اس پر مکان پختہ اپنے روپے خاص سے تیار کیابعد ازاں لطف اﷲ نے انتقال کیاغرض دونوں پسر جن کے نام مکان زمین خرید کی گئی انتقال کرگئےبعدہ چاند محمد کو اتفاق سفر حج کا ہو ا بوقت سفر حج کریم اﷲ وعبدالواحد وغیرہ نے اپنے والد سے کہا کہ فیض اﷲ تو محجوب ہوگئے لیکن ان کو کچھ دینا چاہئے بوجہ کہنے پسران کے چاند محمدنے کہا کہ فلاں مکان دیا جائےچنانچہ سادہ کاغذ پر لکھ بھی دیا لیکن قبضہ نہ دیا چونکہ کاغذ گم ہوگیا لہذا مجبوری ہے ورنہ اس کے مضمون سے اطلاع دی جاتیبعد واپسی سفر حج کے چاند محمد نے فیض اﷲمحجوب اور ایك اپنے پسر عبدالواحد کو لے کر مکان تحریر میں قیام کیابعد ازاں چاند محمد کریم اﷲ وعبدالواحد وجان بی بی کو چھوڑ کر انتقال کرگیااس وقت مکان مذکور میں فیض اﷲمحجوب اور عبدالطیف مقیم ہیںخلاصہ سوال یہ ہے کہ فیض اﷲ اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یا وہ مکان پائیں گے جوان کے نام چاند محمد نے بوقت سفر حج کے لکھا تھا یا کچھ نہ پائیں گےاگر مکان متنازع فیہ میں سے حصہ پائیں گے تو اس قدرمالیت دی جائے گی جوان کے والد تاج محمد کے نام خرید ہوئی تھی یا جس قدر عمارت چاند محمدنے بعد انتقال تاج محمد کے بنوائی تھی سب فیض اﷲ کو مع اس زمین سابق کے ملے گی بینواتوجروا۔
الجواب:
مجرد قبالہ کوئی حجت شرعیہ نہیںنہ صرف اس کی بناء پر کچھ حکم ہوسکتا ہے نہ کوئی اپنا استحقاق ثابت کرسکتا ہےفتاوی امام قاضی خاں واشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ وعقود الدریہ وغیرہا میں ہے:
واللفظ للرملی اماالثبوت بمجرد اظہار الحجۃ بلا بینۃ شرعیۃ فلاقائل بہ من ائمۃ الحنفیۃ المعتمد علی رملی کے الفاظ ہیں:محض خط کو حجت ظاہر کرنا ثبوت کے لئے بغیر گواہی کےتوائمہ احناف میں سے جن کے قول پر اعتماد ہے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاندمحمد کے چار پسر تھے:تاج محمدلطف اﷲکریم اﷲعبدالواحد۔اور ایك دخترجان بی بی۔چاند محمد نے ایك مکان خام سفالہ پوش اپنے روپے سے تاج محمد کے نام نیلام میں خرید کیاکچھ روز بعد چاند محمد نے ایك مکان خام سفالہ پوش اور تھوڑی سی زمین تاج محمد مذکور اور لطف اﷲ پسر ثانی کے نام اپنے روپے سے خرید کیابوقت خرید دونوں پسر بالغ تھےچونکہ واقعہ ستر برس کا ہے لہذا یہ نہیں معلوم کہ الفاظ بیع وشراء کے کس کی جانب مضاف تھے لیکن قبالہ مکان وزمین چاند محمد نے تاج محمد ولطف اﷲکے نام کیا مگر قبضہ کسی کو نہ دیا کرایہ مکان ہمیشہ آپ لیتے رہےبعد چند سال کے تاج محمد ایك پسر فیض اﷲ کو چھوڑ کر اپنے والد وبردران وخواہر کی حیات میں قضا کیا بعدہ چاندمحمد نے دونوں مکان توڑکر مع زمین کے اس پر مکان پختہ اپنے روپے خاص سے تیار کیابعد ازاں لطف اﷲ نے انتقال کیاغرض دونوں پسر جن کے نام مکان زمین خرید کی گئی انتقال کرگئےبعدہ چاند محمد کو اتفاق سفر حج کا ہو ا بوقت سفر حج کریم اﷲ وعبدالواحد وغیرہ نے اپنے والد سے کہا کہ فیض اﷲ تو محجوب ہوگئے لیکن ان کو کچھ دینا چاہئے بوجہ کہنے پسران کے چاند محمدنے کہا کہ فلاں مکان دیا جائےچنانچہ سادہ کاغذ پر لکھ بھی دیا لیکن قبضہ نہ دیا چونکہ کاغذ گم ہوگیا لہذا مجبوری ہے ورنہ اس کے مضمون سے اطلاع دی جاتیبعد واپسی سفر حج کے چاند محمد نے فیض اﷲمحجوب اور ایك اپنے پسر عبدالواحد کو لے کر مکان تحریر میں قیام کیابعد ازاں چاند محمد کریم اﷲ وعبدالواحد وجان بی بی کو چھوڑ کر انتقال کرگیااس وقت مکان مذکور میں فیض اﷲمحجوب اور عبدالطیف مقیم ہیںخلاصہ سوال یہ ہے کہ فیض اﷲ اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یا وہ مکان پائیں گے جوان کے نام چاند محمد نے بوقت سفر حج کے لکھا تھا یا کچھ نہ پائیں گےاگر مکان متنازع فیہ میں سے حصہ پائیں گے تو اس قدرمالیت دی جائے گی جوان کے والد تاج محمد کے نام خرید ہوئی تھی یا جس قدر عمارت چاند محمدنے بعد انتقال تاج محمد کے بنوائی تھی سب فیض اﷲ کو مع اس زمین سابق کے ملے گی بینواتوجروا۔
الجواب:
مجرد قبالہ کوئی حجت شرعیہ نہیںنہ صرف اس کی بناء پر کچھ حکم ہوسکتا ہے نہ کوئی اپنا استحقاق ثابت کرسکتا ہےفتاوی امام قاضی خاں واشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ وعقود الدریہ وغیرہا میں ہے:
واللفظ للرملی اماالثبوت بمجرد اظہار الحجۃ بلا بینۃ شرعیۃ فلاقائل بہ من ائمۃ الحنفیۃ المعتمد علی رملی کے الفاظ ہیں:محض خط کو حجت ظاہر کرنا ثبوت کے لئے بغیر گواہی کےتوائمہ احناف میں سے جن کے قول پر اعتماد ہے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے
قولھم لان الخط رسم مجردخارج عن حجج الشرع الثلث التی ھی البینۃ والاقرار والنکول وھذ الاتوقف فیہ لاحد ۔ کیونکہ خط محض تحریر ہے جو شرعی تین دلائل سے خارج ہے شرعی دلائل گواہیاقراراور قسم سے انکار ہیںاس میں کسی کوتوقف نہیں ہے۔(ت)
خصوصا صورت مستفسرہ کا قبالہ تو بنظر عرف غالب بھی قابل لحاظ نہیںایسی صورت میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ باپ بطور خود خرید کر بغرض تخفیف خرچ وثقیل مسافت قبالہ اولاد کے نام کرادیتا ہے مقصود اولاد کو تملیك کرنا ہوتا ہے نہ کہ فضولی بن کر کوئی عقد از جانب اولاد کرنا جس کا نفاذ اجازت اولاد بائعین پر موقوف ہے یعلم ذلك کل من عرف العرف الشائع بینھم(جو آپس کے مشہور عرف کو جانتا ہے اسے یہ معلوم ہے۔ت)ولہذا اس عقد کے بعد بائعین کو بلاتامل تحریر قبالہ وغیرہ تکمیلات عرفیہ کرادیتے ہیں اولاد کے منتظر نہیں رہتے۔یہ قبالہ ان کے نام کرانا بحکم عرف جانب مشتری سے دلیل تملیك وہبہ ہوتا ہےچاند محمد کا بعد تحریر قبالات مکانات پر اپنا قبضہ رکھنا شکست وریخت بنائے عمارت پختہ وغیرہا تصرفات مالکانہ کرتے رہنا فیض اﷲ کو محجوب الارث مان کراس کے لئے کسی جائداد لکھنے کی ذکرکرنا یہ سب معاملات دلیل واضح ہیں کہ وہ خریداریاں چاند محمد نے اسی عرف غالب کے طور پر کی تھیں اور ازانجا کہ تاج محمد ولطف اﷲ پیش از قبضہ مکانات انتقال کر گئے وہ ہبہ عرفی باطل ہوگیا اور مکانات بدستور ملك چاند محمد پر رہے اگر بعقد شرعی اس کی ملك میں آگئے تھےورنہ اکثر یہ نیلام کہ ڈگریوں میں ہوا کرتے ہیں ہر گز بیع نافذ شرعی نہیںنہ ان کے سبب وہ شے ملك مشتری میں داخل ہو جب تك اصل مالك اس بیع کو جائز ونافذنہ کریں کما بیناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاوینا(جیسا کہ اس کو ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ت)درمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل اھ ملتقطا۔ عقد کرنے والے دونوں فریقوں میں سے ایك کی موت ہبہ میں رجوع کے لئے مانع ہے جب ہبہ پر قبضہ کے بعد موت واقع ہوئی ہو اور اگر قبضہ سے قبل موت واقع ہوئی تو ہبہ باطل ہوجائیگا اھ ملتقطا (ت)
پس فیض اﷲ کا اس مکان میں اصلا حق نہیںہاں اگر شہادت مقبولہ شرعیہ سے ثابت کرتاکہ خاص عقد بیع بنام تاج محمد واقع ہوا چاند محمد اس ایجاب وقبول میں محض فضولی تھاپھر تاج محمد نے اس شراء فضولی کو جائز
خصوصا صورت مستفسرہ کا قبالہ تو بنظر عرف غالب بھی قابل لحاظ نہیںایسی صورت میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ باپ بطور خود خرید کر بغرض تخفیف خرچ وثقیل مسافت قبالہ اولاد کے نام کرادیتا ہے مقصود اولاد کو تملیك کرنا ہوتا ہے نہ کہ فضولی بن کر کوئی عقد از جانب اولاد کرنا جس کا نفاذ اجازت اولاد بائعین پر موقوف ہے یعلم ذلك کل من عرف العرف الشائع بینھم(جو آپس کے مشہور عرف کو جانتا ہے اسے یہ معلوم ہے۔ت)ولہذا اس عقد کے بعد بائعین کو بلاتامل تحریر قبالہ وغیرہ تکمیلات عرفیہ کرادیتے ہیں اولاد کے منتظر نہیں رہتے۔یہ قبالہ ان کے نام کرانا بحکم عرف جانب مشتری سے دلیل تملیك وہبہ ہوتا ہےچاند محمد کا بعد تحریر قبالات مکانات پر اپنا قبضہ رکھنا شکست وریخت بنائے عمارت پختہ وغیرہا تصرفات مالکانہ کرتے رہنا فیض اﷲ کو محجوب الارث مان کراس کے لئے کسی جائداد لکھنے کی ذکرکرنا یہ سب معاملات دلیل واضح ہیں کہ وہ خریداریاں چاند محمد نے اسی عرف غالب کے طور پر کی تھیں اور ازانجا کہ تاج محمد ولطف اﷲ پیش از قبضہ مکانات انتقال کر گئے وہ ہبہ عرفی باطل ہوگیا اور مکانات بدستور ملك چاند محمد پر رہے اگر بعقد شرعی اس کی ملك میں آگئے تھےورنہ اکثر یہ نیلام کہ ڈگریوں میں ہوا کرتے ہیں ہر گز بیع نافذ شرعی نہیںنہ ان کے سبب وہ شے ملك مشتری میں داخل ہو جب تك اصل مالك اس بیع کو جائز ونافذنہ کریں کما بیناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاوینا(جیسا کہ اس کو ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ت)درمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل اھ ملتقطا۔ عقد کرنے والے دونوں فریقوں میں سے ایك کی موت ہبہ میں رجوع کے لئے مانع ہے جب ہبہ پر قبضہ کے بعد موت واقع ہوئی ہو اور اگر قبضہ سے قبل موت واقع ہوئی تو ہبہ باطل ہوجائیگا اھ ملتقطا (ت)
پس فیض اﷲ کا اس مکان میں اصلا حق نہیںہاں اگر شہادت مقبولہ شرعیہ سے ثابت کرتاکہ خاص عقد بیع بنام تاج محمد واقع ہوا چاند محمد اس ایجاب وقبول میں محض فضولی تھاپھر تاج محمد نے اس شراء فضولی کو جائز
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی ∞۲ /۱۲،€باب خلل المحاضر والسبحلات ∞۲ /۱۹،€کتاب الوقف ∞۱ /۲۰۳و ۲۲۸،€کتاب الدعوی ∞۲ /۴۷€ اشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ ∞۱ /۳۳۸€
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
کیا اور مالك مکان ہو ا تو البتہ جو مکان ملك تاج محمد تھا اس سے بقدر اپنے سہم شرعی کے فیض اﷲ کو ملتا اور اس کے عملہ قدیم کا تاوان بھی بقدر اپنے حصہ کے ترکہ چاند محمد سے پاتا جسے اس نے توڑڈالاتھامگر یہ عمارت پختہ کہ چاند محمد نے اپنے روپے سے بنائی اس میں فیض اﷲ کا یوں بھی حق نہ ہوتا جب تك شہادت شرعیہ سے ثابت نہ کرتا کہ یہ تعمیر چاند محمد نے بطور خود تاج محمد ہی کے لئے بنائی یا تاج محمد نے اس سے درخواست کرکے بنوائی
فی الدرعمردار زوجتہ بمالہ باذنھا فالعمارۃ لہا و النفقۃ دین علیہا ولو لنفسہ بلااذنھا فالعمارۃ لہ ولہا بلااذنھا فالعمارۃ لہاوھو متطوع فی البناءولو اختلفا فی الاذن وعدمہ ولابینۃ فالقو ل لمنکرہ بیمینہوفی ان العمارۃ لھا اولہ فالقول لہ اھ ملخصا۔ در میں ہے اگر خاوند نے اپنے مال سے بیوی کا مکان تعمیر کیا اگر بیوی کی اجازت سے کیا تو مکان بیوی کا ہوگاخرچہ بیوی پر قرض ہوگا اور اگر بیوی کی اجازت کے بغیر اپنے لئے تعمیر کیا تو عمارت خاوند کی ہوگیاگر بیوی کےلئے اس کی اجازت کے بغیر بنایا تو عمارت بیوی کی ہوگی اور تعمیر خاوند کی طرف سے مفت ہوگیاوراگر اذن اور عدم اذن دونوں کا اختلاف ہو ا ورگواہی نہ ہو تو منکر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگااور عمارت کی ملکیت میں اختلاف ہو کہ بیوی کا ہے یا خاوند کا ہے تو خاوند کا قول معتبر ہوگا اھ ملخصا(ت)
یوں ہی وہ مکان کہ وقت سفر حج چاند محمد نے فیض اﷲ کو دیا اور قبضہ دینے سے پہلے انتقال کیا اس میں بھی فیض اﷲ کا کوئی حق نہ رہا
لما علمت ان موت احدھما قبل القبض یبطل الھبۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ تجھے معلوم ہے کہ قبضہ سے قبل ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۰ تا ۴۱: ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کہتی ہے کہ میر امہر پانسو روپیہ تھا اور گواہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہمارے سامنے ہوا لیکن مہر یاد نہیں تو ہندہ کو کس قدر مہر بموجب شرع شریف کے ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
(۲)ہندہ کہتی ہے کہ مہر میرا مبلغ پانسوروپیہ کا تھا اور گواہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے مہر پانسو روپے کا باندھا گیا تھا اور ہم گواہ تھے لیکن مجوز ان گواہوں پر اطمینان نہیں کرتے ہیں تو بموجب شرع شریف کے کس قدر مہر ہونا چاہئے۔بینوا توجروا۔
فی الدرعمردار زوجتہ بمالہ باذنھا فالعمارۃ لہا و النفقۃ دین علیہا ولو لنفسہ بلااذنھا فالعمارۃ لہ ولہا بلااذنھا فالعمارۃ لہاوھو متطوع فی البناءولو اختلفا فی الاذن وعدمہ ولابینۃ فالقو ل لمنکرہ بیمینہوفی ان العمارۃ لھا اولہ فالقول لہ اھ ملخصا۔ در میں ہے اگر خاوند نے اپنے مال سے بیوی کا مکان تعمیر کیا اگر بیوی کی اجازت سے کیا تو مکان بیوی کا ہوگاخرچہ بیوی پر قرض ہوگا اور اگر بیوی کی اجازت کے بغیر اپنے لئے تعمیر کیا تو عمارت خاوند کی ہوگیاگر بیوی کےلئے اس کی اجازت کے بغیر بنایا تو عمارت بیوی کی ہوگی اور تعمیر خاوند کی طرف سے مفت ہوگیاوراگر اذن اور عدم اذن دونوں کا اختلاف ہو ا ورگواہی نہ ہو تو منکر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگااور عمارت کی ملکیت میں اختلاف ہو کہ بیوی کا ہے یا خاوند کا ہے تو خاوند کا قول معتبر ہوگا اھ ملخصا(ت)
یوں ہی وہ مکان کہ وقت سفر حج چاند محمد نے فیض اﷲ کو دیا اور قبضہ دینے سے پہلے انتقال کیا اس میں بھی فیض اﷲ کا کوئی حق نہ رہا
لما علمت ان موت احدھما قبل القبض یبطل الھبۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ تجھے معلوم ہے کہ قبضہ سے قبل ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۰ تا ۴۱: ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کہتی ہے کہ میر امہر پانسو روپیہ تھا اور گواہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہمارے سامنے ہوا لیکن مہر یاد نہیں تو ہندہ کو کس قدر مہر بموجب شرع شریف کے ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
(۲)ہندہ کہتی ہے کہ مہر میرا مبلغ پانسوروپیہ کا تھا اور گواہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے مہر پانسو روپے کا باندھا گیا تھا اور ہم گواہ تھے لیکن مجوز ان گواہوں پر اطمینان نہیں کرتے ہیں تو بموجب شرع شریف کے کس قدر مہر ہونا چاہئے۔بینوا توجروا۔
حوالہ / References
درمختار مسائل شتی ∞مطبع مجبتائی دہلی ۲ /۳۴۸€
الجواب:
(۱)اگر یہ پانسو روپے ہندہ کا مہر مثل یا مہر مثل سے کم ہے تو پورے پانسو دلائے جائیں گے گواہوں کی کچھ حاجت نہیںاور اگر زیادہ ہے تو جتنا مہر مثل ہے اس قدر ضرور دلایا جائےباقی زیادتی بے شہادت شرعی یا بے قبول زوج کے نہ دلائیں گےفتاوی قاضیخان وعالمگیری میں ہے:
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مہر مثلھا یدفع ذلك الیہا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر نکاح مشہور ومعروف ہے تو مہر مثل تك بیوی کا دعوی قبول ہوگا اور اسے دے دیا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)اگر وہ گواہ شرعا قابل اطمینان نہیں تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اس صورت میں مہر مثل تك ہندہ کی بات بے گواہ مان لی جائے گی اس سے زیادتی مقبول نہ ہوگی جب تك شوہریا اس کے وارث تسلیم نہ کریں یا عورت گواہان شرعی سے ثبوت نہ دے۔
مسئلہ۴۲ تا۴۳:ازالہ آباد محلہ دوندے پور مکان صوبہ دار مرحوم مرسلہ مولوی محمد عبیداﷲ صاحب۱۳جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
جامع الکمالات العلمیہ والعملیۃ حاوی الفنون الاصلیۃ والفرعیۃ مخدوعی المعظم ومطاع مفخم والاشان جناب مولوی کااحمد رضاخان صاحب دام مجدہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہیہ استفتاء پنجاب سے آیا ہے اصل مستفتی صاحب ذی علم کی عبارت بعینہا درج استفتاء ہے۔
سوال اول:چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے روبروئے چند اشخاص اقرار نمود کہ باوالدہ منکوحہ خود زنا نمودم بعد ازچہارپنج ماہ مثلا منکوحہ خودرا درخانہ خود آوردوآباد شد ندگرفت مرد مان طعن کردند ازاقرار سابق رجوع نمود حکومت ایں امر پیش عالم شہر برد شہود براقرار ش بحضور آں پیش قاضی شہادت ادانمودند عالم موصوف بموجب شہادت حکم بحرمت آں منکوحہ کردبراں حکم راضی شدہ ہموں وقت سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے چند اشخاص کے روبرو یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنی منکوحہ کی والدہ سے زنا کیا ہےاس کے چند ماہ بعد وہ اپنی منکوحہ کو اپنے گھر لایا اور آباد کرلیا لوگوں نے اس پر طعن کیا تو وہ اپنے سابقہ اقرار سے پھر گیایہ فیصلہ شہر کے عالم کے پاس گیا تو گواہوں نے اس کے اقرار پر قاضی کے سامنے شہادت دی تو عالم مذکور نے بموجب شہادت اس پر منکوحہ کے حرام ہونے کا حکم دیا
(۱)اگر یہ پانسو روپے ہندہ کا مہر مثل یا مہر مثل سے کم ہے تو پورے پانسو دلائے جائیں گے گواہوں کی کچھ حاجت نہیںاور اگر زیادہ ہے تو جتنا مہر مثل ہے اس قدر ضرور دلایا جائےباقی زیادتی بے شہادت شرعی یا بے قبول زوج کے نہ دلائیں گےفتاوی قاضیخان وعالمگیری میں ہے:
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مہر مثلھا یدفع ذلك الیہا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر نکاح مشہور ومعروف ہے تو مہر مثل تك بیوی کا دعوی قبول ہوگا اور اسے دے دیا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)اگر وہ گواہ شرعا قابل اطمینان نہیں تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اس صورت میں مہر مثل تك ہندہ کی بات بے گواہ مان لی جائے گی اس سے زیادتی مقبول نہ ہوگی جب تك شوہریا اس کے وارث تسلیم نہ کریں یا عورت گواہان شرعی سے ثبوت نہ دے۔
مسئلہ۴۲ تا۴۳:ازالہ آباد محلہ دوندے پور مکان صوبہ دار مرحوم مرسلہ مولوی محمد عبیداﷲ صاحب۱۳جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
جامع الکمالات العلمیہ والعملیۃ حاوی الفنون الاصلیۃ والفرعیۃ مخدوعی المعظم ومطاع مفخم والاشان جناب مولوی کااحمد رضاخان صاحب دام مجدہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہیہ استفتاء پنجاب سے آیا ہے اصل مستفتی صاحب ذی علم کی عبارت بعینہا درج استفتاء ہے۔
سوال اول:چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے روبروئے چند اشخاص اقرار نمود کہ باوالدہ منکوحہ خود زنا نمودم بعد ازچہارپنج ماہ مثلا منکوحہ خودرا درخانہ خود آوردوآباد شد ندگرفت مرد مان طعن کردند ازاقرار سابق رجوع نمود حکومت ایں امر پیش عالم شہر برد شہود براقرار ش بحضور آں پیش قاضی شہادت ادانمودند عالم موصوف بموجب شہادت حکم بحرمت آں منکوحہ کردبراں حکم راضی شدہ ہموں وقت سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے چند اشخاص کے روبرو یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنی منکوحہ کی والدہ سے زنا کیا ہےاس کے چند ماہ بعد وہ اپنی منکوحہ کو اپنے گھر لایا اور آباد کرلیا لوگوں نے اس پر طعن کیا تو وہ اپنے سابقہ اقرار سے پھر گیایہ فیصلہ شہر کے عالم کے پاس گیا تو گواہوں نے اس کے اقرار پر قاضی کے سامنے شہادت دی تو عالم مذکور نے بموجب شہادت اس پر منکوحہ کے حرام ہونے کا حکم دیا
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الوصی الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۸۵۹€
زوجہ خود را والد آں نمود واز خانہ بیروں کرد آیا در صورت مزبورہ منکوحہ برآں مقر حرام میشودیا نہ وبعد گزشتن عدت نکاحش باشخص دیگر جائز یا نہبینواتوجروا۔ تو وہ شخص اس حکم پر راضی ہوگیا اسی وقت اس نے زوجہ کو اس کے والد کے حوالے کردیا اور اپنے گھر سے نکال دیاکیا مذکورہ صورت میں اقرار کرنے والے پر اس کی بیوی حرام ہوگئی ہے یانہیںاور عدت گزارنے کے بعدوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں بینواتوجروا۔(ت)
سوال دوم:ایك اور مسئلہ بھی جناب محرر تحریر دام مجدہم نے جناب والا سے دریافت فرمایا ہے اس کے سوال کو بھی انہیں کی عبارت سے عرض کرتا ہوں:
"مسئلہ دیگر ازفاضل علامہ بریلوی دام فیضہم پرسش فرمایند کہ حاکمان وقت کہ مقدمہ برضائے فریقین حوالہ عالمے مے نمایندوازاں عالم استدعائے فیصلہ مے نمایند عالم موصوف دراں مقدمہ حکم قاضی دارد یا حکم ست واگر فریقین یا کہ یك فریق بلا امر حاکم آنرامعزول کند معزول می شود کہ بسبب حوالہ کردن حاکم وقت حکم قاضی گرفت بغیر عزل حاکم معزول نمی گردد بتفصیل جواب ایں سوالات ازعلامہ موصوف استدعا کنند"۔انتھت بالفاظھا۔ "دوسرا مسئلہ علامہ فاضل بریلوی دام فیضہم سے پوچھیں کہ حاکمان وقت نے فریقین کی رضامندی سے مقدمہ ایك عالم کے سپرد کیا اور اس سے فیصلہ طلب کیاتو عالم مذکور کو اس مقدمہ میں قاضی کی حیثیت حاصل ہوگی یا ثالث کی اور اگر دونوں یا ایك فریق حاکم کی اجازت کے بغیر اس کو معزول کردیں تو وہ معزول قرار پائے گا یا حاکم وقت کے سپرد کرنے کی وجہ سے اس کا حکم قاضی والا ہوگا کہ حاکم کے معزول کئے بغیر معزول نہ ہوگااس سوال کا جواب علامہ صاحب سے بالتفصیل حاصل کریں"۔سائل کے الفاظ ختم۔(ت)
الجواب:
(۱)سائل فاضل بعد استکشاف وانمودند کہ مراد بقاضی مذکور فی السوال ہماں عالم ست غیر او عالمے جید دراں بلدہ نیست اہالی بلدہ وقت حاجت بمرضی خود رجوع باومی نمایند آں اعلم اہل بلد گا ہے فیصلہ نزاع مے نماید وگاہے جواب می دہد قاضی شرع آنجا کسے نیست مرد مان شہر وضاحت طلب کرنے کے بعد سائل نے یہ ظاہر کیا ہے کہ سوال میں مذکور قاضی سے مراد عالم ہے جس سے بڑاکوئی عالم شہر میں نہیں ہے شہر والے لوگ اپنی ضروریات پر اپنی مرضی سے اس عالم سے رجوع کرتے ہیں تو شہر کا یہ بڑاعالم کبھی تنازع میں فیصلہ سناتا ہے اور کبھی جواب دے دیتا ہےاس شہر میں کوئی قاضی شرع
سوال دوم:ایك اور مسئلہ بھی جناب محرر تحریر دام مجدہم نے جناب والا سے دریافت فرمایا ہے اس کے سوال کو بھی انہیں کی عبارت سے عرض کرتا ہوں:
"مسئلہ دیگر ازفاضل علامہ بریلوی دام فیضہم پرسش فرمایند کہ حاکمان وقت کہ مقدمہ برضائے فریقین حوالہ عالمے مے نمایندوازاں عالم استدعائے فیصلہ مے نمایند عالم موصوف دراں مقدمہ حکم قاضی دارد یا حکم ست واگر فریقین یا کہ یك فریق بلا امر حاکم آنرامعزول کند معزول می شود کہ بسبب حوالہ کردن حاکم وقت حکم قاضی گرفت بغیر عزل حاکم معزول نمی گردد بتفصیل جواب ایں سوالات ازعلامہ موصوف استدعا کنند"۔انتھت بالفاظھا۔ "دوسرا مسئلہ علامہ فاضل بریلوی دام فیضہم سے پوچھیں کہ حاکمان وقت نے فریقین کی رضامندی سے مقدمہ ایك عالم کے سپرد کیا اور اس سے فیصلہ طلب کیاتو عالم مذکور کو اس مقدمہ میں قاضی کی حیثیت حاصل ہوگی یا ثالث کی اور اگر دونوں یا ایك فریق حاکم کی اجازت کے بغیر اس کو معزول کردیں تو وہ معزول قرار پائے گا یا حاکم وقت کے سپرد کرنے کی وجہ سے اس کا حکم قاضی والا ہوگا کہ حاکم کے معزول کئے بغیر معزول نہ ہوگااس سوال کا جواب علامہ صاحب سے بالتفصیل حاصل کریں"۔سائل کے الفاظ ختم۔(ت)
الجواب:
(۱)سائل فاضل بعد استکشاف وانمودند کہ مراد بقاضی مذکور فی السوال ہماں عالم ست غیر او عالمے جید دراں بلدہ نیست اہالی بلدہ وقت حاجت بمرضی خود رجوع باومی نمایند آں اعلم اہل بلد گا ہے فیصلہ نزاع مے نماید وگاہے جواب می دہد قاضی شرع آنجا کسے نیست مرد مان شہر وضاحت طلب کرنے کے بعد سائل نے یہ ظاہر کیا ہے کہ سوال میں مذکور قاضی سے مراد عالم ہے جس سے بڑاکوئی عالم شہر میں نہیں ہے شہر والے لوگ اپنی ضروریات پر اپنی مرضی سے اس عالم سے رجوع کرتے ہیں تو شہر کا یہ بڑاعالم کبھی تنازع میں فیصلہ سناتا ہے اور کبھی جواب دے دیتا ہےاس شہر میں کوئی قاضی شرع
کہ شخصے مذکور روبروئے ایشاں چندیں بار بمجالس متفرقہ اقرار زنا بمادر زنش کردو بازرہ انکار وجحود اقرار نورد حسب معمول ماجراپیش عالم موصوف بردند وتصفیہ ایں امر باستماع شہود خواستند آں کس نیز پیش عالم رفتہ گفت کہ ایناں برمن دروغ بستہ اند گاہے اقرار ایں کار نہ کردہ ام ازروئے شرع شریف فیصلہ ایں امر فرمایند اگر اقرار من بموجب شریعت ثابت شود زوجہ مرااز من تفریق نما یند عالم موصوف باستدعائے اہالی بلد وآں مقر شہود را طلب نمود اقرار پیش مرد مان بسیار کردہ بود مگر چار اشخاص را کہ نزد او معتبر بودند پیش خواند گواہان نزد عالم بحضورآں مقر بغیبت زنش ادائے شہادت کردندبعد ثبوت عالم بثبوت اقرار زنا حرمت زن حکم کرد مقر را فرمود کہ زن را فی الحال حوالہ والدش کن والد منکوحہ بمجلس حکم حاضر بود مقر تسلیم نمود وگفت اینك ہمچناں کنم مجلس برخاست مقر ہموں وقت زن راحوالہ پدرش نمود زوجہ را دریں باب دخلے نہ بود محض زوج واہالی بلدہ درخواست ایں فیصلہ نمودند لکن زوجہ بریں قضاوحکم راضی گشت انتہی ودرسوال افزودند کہ اگر زن را دریں صورت بشخصے دیگر نکاح رواست بسبب تفریق عالم ست یا بسبب حوالت کردن زوج ومحکم رااختیار تفریق مثل قاضی ہست یانے انتہیدرصورت مستفسرہ کہ بلادبوجہ استیلائے نامسلمانان ازقاضی شرع خالی ست اگر ہمہ از تصریح علماء کرام کہ در ہمچو مقام نہیں ہے وہ لوگ جن کے روبرو مذکور شخص نے مختلف مجلسوں میں متعدد بار اپنی منکوحہ کی والدہ سے زنا کا اقرار کیا بعد ازاں اس نے اپنے اقرار سے انکار کیا تو ان لوگوں نے حسب معمول ماجراعالم موصوف کے ہاں پیش کیا اور گواہوں کی شہادت پر اس ماجر ا کا فیصلہ طلب کیا اور وہ مذکور شخص بھی عالم کے پاس گیااور کہا کہ ان لوگوں نے مجھ پر افتراء باندھا ہے میں نے اس کام کا اقرار نہیں کیا لہذا آپ ازروئے شرع شریف اس معاملہ کا فیصلہ فرمادیں اگر بموجب شرع میرا اقرار ثابت ہوجائے تو میری بیوی کو مجھ سے جدا کردیںتو عالم موصوف نے شہر والوں اور اس اقرار کرنے کے مطالبہ پر گواہ طلب کئے اگرچہ متعدد لوگوں کے سامنے اس نے اقرار کیا ہے مگر صرف چار گواہ جو عالم مذکور کے نزدیك معتبر تھے طلب کئے اور گواہوں نے اقرارکرنے والے کی موجودگی اور اس کی بیوی کی غیر موجودگی میں گواہی دی تو عالم مذکور نے اقرار کے ثابت ہوجانے پر اس شخص پر اس کی بیوی کے حرام ہونے کا فیصلہ فرمایااور مقر کو حکم دیا کہ عورت کو فورا اس کے والد کے حوالے کردو جبکہ منکوحہ کا والد فیصلہ کی مجلس میں موجود تھامقر نے اس فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میں ایسے ہی کروں گامجلس ختم ہوگئیاور مقر نے اسی وقت عورت کو اس کے والد کے سپرد کردیاعورت کا اس میں کوئی دخل نہ ہوااور محض شہر والوں اور خاوند کی درخواست پر یہ فیصلہ ہوا لیکن بیوی نے اس فیصلہ کو راضی خوشی قبول کیاوضاحت ختم ہوئی
عالم دین کہ اعلم اہل بلد باشد قاضی و والی شرع میشودفی النوع الثالث من الفصل الثانی من الباب الثانی من الحدیقۃ الندیۃ الطریقۃ المحمدیۃ للعلامۃ العارف باﷲسیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی عن الفتاوی العتابیۃ للامام الاجل ابی نصراحمد بن محمد بن عمر البخاری العتابی المتوفی ۵۸۶ ھ اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعہم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم الخقطع نظر کنیم تا رجوع مسلمین بلد بسوئے او در خصومات وترافع باودر قضا باو رضابحکمش درفیصلہا سوال میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے اگر اس صورت میں عورت کو دوسرے شخص سے نکاح جائز ہو تو یہ جواز عالم کی تفریق سے ہوگا یا خاوند کی طرف سے بیوی کو اس کے والد کے سپرد کرنے کی وجہ سے ہوگااور کیا ثالث کو قاضی کی طرح تفریق کا اختیار ہے یا نہیں(اضافہ ختم ہوا)مسئولہ صورت میں حکم یہ ہے کہ جو علاقے کفار کے غلبے کی وجہ سے قاضی سے خالی ہوں تمام علماء کرام کی تصریح کے مطابق ایسے مقامات میں جو شہر کا بڑا عالم ہو وہ قاضی قرار پاتا ہے اور شرعا والی بن جاتا ہےطریقہ محمدیہ کی شرح حدیقہ ندیہ کی نوع ثالث کے باب ثانی کی فصل ثانی مصنفہ علامہ عارف باﷲسیدی عبدالغنی النابلسی(قدس سرہ القدسی)میں فتاوی عتابیہ مصنفہ امام اجل ابو نصر احمد بن محمد بن عمر بخاری عتابی متوفی ۵۸۶ھ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی سلطان سے خالی ہو تو امور علماء کے سپرد ہوجاتے ہیں اور امت پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کرے اور یہ علماء والی بن جاتے ہیں تو جب تمام لوگوں کا ایك عالم پر اجتماع دشوار ہے تو ہر علاقہ اپنے علماء کی اتباع کرے اور اگر علاقہ میں علماء کثیر ہوں تو پھر سب سے بڑے عالم کی اتباع ہوگی اور اگر سب برابرہوں تو قرعہ اندازی سے متعین کیاجائے الخاس سے قطع نظر شہر کے مسلمانوں کا اپنے تنازعات میں اس کی طرف رجوع کرکے فیصلے لینا اور اسکے فیصلوں کو
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ النوع الثالث من الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۵۱€
برائے قضائے شرعی او بسند ست کہ بہمچوحالت تراضی مسلمین نائب مناب تقلید وتولیہ سلطان دین ست فی جمعۃ ردالمحتار عن معراج الدرایۃ عن المبسوط لوالولاۃ کفارایجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین اھ وفی قضائہ عن التتار خانیۃ امابلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین اھ قال وعزاہ مسکین فی شرحہ الی الاصل ونحوہ فی جامع الفصولین اھ ای فی الفصل الاول منہ مثلہ بحروفہ وعنہ نقل فی البحرو اینجا شہادت شنودن وحکم نمودن را ہیچ حاجت بتقدیم دعوی از جانب زن نبود زیرا کہ حرمت فرج از حقوق رب العزۃ عزوعلااست و اثبات مصاہرت ازابواب شہادت حسبہ فی وقف ردالمحتار تحت قولہ والذی تقبل فیہ الشہادۃ حسبۃ بدون الدعوی اربعۃ عشرۃ مانصہ وھی الوقف رضامندی سے قبول کرنا یہ بھی اس عالم کی شرعی قضاء کے لئے خود سند ہے کیونکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کا متفق ہونا سرکاری ولایت اور تقرری کے قائم مقام ہوجاتا ہے۔ رد المحتار کے جمعہ کے باب میں معراج الدرایہ سے بحوالہ مبسوط منقول ہے اگر والی کافر ہوں تو مسلمانوں کو جمعہ کا قیام اور قاضی کا تقرر جائز ہے وہ مسلمانوں کی رضامندی سے قاضی ہوجاتا ہے اھاسی کے باب القضاء میں تاتارخانیہ سے منقول ہے وہ علاقے جن پر کفار والی ہیں وہاں مسلمانوں کو جمعہعیدین قائم کرنا جائز ہے اور ان کا باہمی رضامندی سے مقرر کردہ قاضیقاضی قرار پائے گافرمایا اس کو مسکین نے اپنی شرح میں مبسوط کی طرف منسوب کیاہےاور جامع الفصولین میں بھی اس طرح ہے یعنی اس کی پہلی فصل میں انہی حروف کے ساتھ ایسے مذکور ہے اور اسی سے بحر میں منقول ہےیہاں شہادت کی سماعت اور فیصلہ کرنے کے لئے عورت کی طرف سے دعوی کی حاجت نہیں ہے کیونکہ شرمگاہ کی حرمت حقوق اﷲ میں سے ہے اور حرمت مصاہرت کا اثبات شہادت حسبہ(یعنی حقو ق اﷲکے تحفظ کےلئے)کے باب سے ہےردالمحتار کے باب الوقف میں ماتن کے قول وہ مقام جہاں حسبہ شہادت بغیر دعوی قبول ہوتی ہے وہ چودہ مقام ہیںاس کی عبارت یوں ہےوہ مقام
حوالہ / References
ردالمحتار باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۱۔۵۴۰€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۸€
وطلاق الزوجۃ(الی قولہ)وحرمۃ المصاھرۃ الخ پس حکم تفریق کہ از عالم مذکور صادر شد قضائے شرعی تام ونافذ وواجب الاتباع ست از ہموں وقت مدت عدت بشمار آید واگر ازیں ہم در گزریم وحضور پدرزن نیز از جانب اوبروجہ وکالت فی الخصومۃ درخواست حکم نبودہ باشد تابترافع خصمین معنی تحکیم پدید آمدے واورااختیار تفریق ہمچوقاضی بحکم تحکیم حاصل شدے فان الحکم لہ الحکم فی کل مالیس بحد ولا قود ولادیۃ علی عاقلۃ فی التنویر حکما رجلا فحکم بینھما ببینۃ اواقراراونکول صح لوفی غیرحد وقود ودیۃ علی عاقلۃ ونیز زن را از خانہ بر آوردن وحوالت بہ پدرش کردن کہ از زوج صادر شد ایں راہم بجائے متارکہ ننہیم جائیکہ زن مدخولہ باشد وشوئے چیزے از الفاظ متارکہ برزبان نیاورد ہمچناں دستش گرفتہ بدست پدر داد بناء علی ظاہر مافی البحر وغیرہ واللفظ لہ لاتحقق للمتارکۃ الابالقول ان کانت مدخولا بھا کقولہ تارکتك اوتارکتھا اوخلیت سبیلک
وقفطلاق زوجہاسکے قولحرمت مصاہرت الختو عالم مذکور کا حکم تفریق شرعی قضا کے طور تام اور نافذ اور واجب الاتباع ہے اور اسی وقت سے عدت شمار ہوگیاگر ہم اس حیثیت کو در گز بھی کرلیں تو عورت کی طرف سے اس کے والد کا بطور وکیل مقدمہ حاضر ہونا بھی فیصلہ کا مطالبہ قرار پاکر دونوں فریقوں کی طرف سے مقدمہ کی پیشی سے عالم مذکور کےلئے ثالثی کا حکم ظاہر کرتا ہے جس سے بحیثیت ثالث قاضی کی طرح اس کو تفریق کے فیصلہ کا اختیار حاصل ہوتا ہے کیونکہ ثالث کو حدودقصاصدیت کے ماسوا فیصلہ کرنا جائز ہے۔تنویر میں ہے کہ دونوں فریقوں نے ایك شخص کو ثالث بنایا تو اس نے گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار کی بناء پر فیصلہ کیا تو صحیح ہے بشرطیکہ حدودقصاص اور عاقلہ پر دیت کا معاملہ نہ ہواھ۔نیز بیوی کوگھر سے نکال کر اس کے باپ کے سپرد کرنا خاوند کا یہ عمل متارکہ کے قائم مقام ہوسکتا ہے جہاں پر بیوی مدخولہ ہو اور خاوند نے متارکہ کا لفظ زبان سے ادا نہ کیاہواور یوں ہی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے والد کے سپرد اس کو کردیا ہوبحر وغیرہ کے ظاہر بیان کے مطابق۔بحر کے الفاظ ہیں کہ متارکہ کا تحقق خاوند کے قول کے بغیر نہ ہوگا جبکہ بیوی مدخولہ ہومثلا قول یوں ہو کہ میں نے تجھے
وقفطلاق زوجہاسکے قولحرمت مصاہرت الختو عالم مذکور کا حکم تفریق شرعی قضا کے طور تام اور نافذ اور واجب الاتباع ہے اور اسی وقت سے عدت شمار ہوگیاگر ہم اس حیثیت کو در گز بھی کرلیں تو عورت کی طرف سے اس کے والد کا بطور وکیل مقدمہ حاضر ہونا بھی فیصلہ کا مطالبہ قرار پاکر دونوں فریقوں کی طرف سے مقدمہ کی پیشی سے عالم مذکور کےلئے ثالثی کا حکم ظاہر کرتا ہے جس سے بحیثیت ثالث قاضی کی طرح اس کو تفریق کے فیصلہ کا اختیار حاصل ہوتا ہے کیونکہ ثالث کو حدودقصاصدیت کے ماسوا فیصلہ کرنا جائز ہے۔تنویر میں ہے کہ دونوں فریقوں نے ایك شخص کو ثالث بنایا تو اس نے گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار کی بناء پر فیصلہ کیا تو صحیح ہے بشرطیکہ حدودقصاص اور عاقلہ پر دیت کا معاملہ نہ ہواھ۔نیز بیوی کوگھر سے نکال کر اس کے باپ کے سپرد کرنا خاوند کا یہ عمل متارکہ کے قائم مقام ہوسکتا ہے جہاں پر بیوی مدخولہ ہو اور خاوند نے متارکہ کا لفظ زبان سے ادا نہ کیاہواور یوں ہی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے والد کے سپرد اس کو کردیا ہوبحر وغیرہ کے ظاہر بیان کے مطابق۔بحر کے الفاظ ہیں کہ متارکہ کا تحقق خاوند کے قول کے بغیر نہ ہوگا جبکہ بیوی مدخولہ ہومثلا قول یوں ہو کہ میں نے تجھے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۰۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۲€
اوخلیت سبیلہا اوخلیتہا الخ وان کان لایبعدان یقوم الفعل الدال علیہ مقام القول وانما المراد نفی التحقق بمجرد الترك علی عزم ان لایعود کما یستبین بمقابلتہ بہ تاہم گفتن زوج مر عالم را کہ اگر اقرار من ثبوت یا بد زن مرااز من جداکن توکیل بتفریق ست وتوکیل تعلیق رامے پذیرد فی بیوع ردالمحتار عن البزازیۃ تعلیق الوکالۃ بالشرط جائز پس تفریق عالم بحکم توکیل متارکہ از جانب شوئے شدو حکم فرقت وعدت وملك نفس بعد ازاں بروئے کار آمد و اگر ازیں جملہ وجوہ پنجگانہ دامن نظر بر چنیم وہمچناں گیریم کہ عالم بے قضاوبے تحکیم وبے توکیل برستم فضولی حکم تفریق نمودہ است نیز رنگ نفاذ یافت زیراکہ حکم فضولی نزد ماباطل نیست بلکہ بر تنفیذ متخاصمین موقوف اینجا کہ زن وشوہر ہر دو براں حکم راضی شدند و براں بستہ تنفیذش کردند بنفاز انجا مید وتسلیم لاحق ہمچو تحکیم سابق گردید کما نص علیہ فی ردالمحتار چھوڑایا اس کو چھوڑایا میں نے تیرا راستہ کھول دیایا اس کا راستہ کھول دیاکہےالخ۔اور اگر کوئی ایسا فعل جو قول کے قائم مقام بن سکتا ہو تو اس فعل کو قول پر دال قرار دینا بعید نہیں ہے۔بحر کے قول میں صرف دوبارہ عود نہ کرنے کے عزم کے طور پر بیوی کو ترك کرنے پر متارکہ کا عدم تحقق مراد ہے جیسا کہ مقابلہ کے طور پر اس کو ذکر کرنے سے ظاہر ہو رہا ہےتاہم خاوند کا عالم مذکور کو یہ کہنا اگر میرے اقرار کا ثبوت ہوجائے تو میری بیوی کو مجھ سے جدا کردویہ عالم کو اپنی طرف تفریق کا وکیل بنانا ہے جبکہ توکیل میں تعلیق ہوسکتی ہےردالمحتار کے بیوع کے باب میں بزازیہ سے منقو ل کہ توکیل کو کسی شرط سے معلق کرنا جائزہے پس اس صورت میں عالم کا تفریق کرنا خاوند کی طرف سے اس کو متارکہ کی توکیل کی بناء پر ہےاس تفریق پر حکم فرقتعدت اور بیوی کا خود مختار ہونامرتب ہو کر نافذ ہوا ہےاگر ہم پانچ مذکورہ وجوہ سے صرف نظر کر بھی لیں(یہ قرار دیں کہ عالم مذکور نے بغیر قضاءبغیر تحکیم(ثالثی)اور بغیر توکیل یہ تفریق کی ہے اور بطور فضولی یہ کارروائی کی ہےتب بھی یہ تفریق نافذ ہوجائے گی کیونکہ ہمارے نزدیك فضولی کا عمل باطل قرار نہیں پاتا بلکہ فریقین کی تنفیذ پر موقوف رہتا ہے جبکہ یہاں مرد اور عورت دونوں نے
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب النکاح باب المہر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۱۷۲€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۳۰€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۳۰€
عن الطحطاوی عن الھندیۃ عن المحیطوفی البحر لو حکم بغیر رضاھمالم یجز الاان یجیزا بعد الحکم اھ مختصراوفیہ عن المحیط لوامرالقاضی رجلا ان یحکم بین رجلین لم یجز اذالم یکن ماذونا بالاستخلاف الاان یجیزہ القاضی بعد الحکم او یتراضی علیہ الخصمان اھ
بالجملہ کیفما کان فرقت میان ایں زن و شو حاصل شد و درفتوائے سابقہ روشن کردہ ایم کہ اقرار زنا بمادر زن مثبت حرمت مصاہرت ست واصرار برآں نامشروط ورجوع ازاں نامقبول پس بعد عدت عناں زن ھم بدست زن باشد جزیں کس باہر کہ خواہد عقد زنا شوئی بندد۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس عالم کے عمل پر رضامندی ظاہر کردی ہے اوراس کے عمل کے نفاذ کو پختہ کردیا تو وہ عمل نافذ ہوگیا اگرچہ عالم کے عمل کے بعد راضی ہوئے لیکن بعد کا تسلیم کرنا بھی تحکیم سابق کی طرح ہے یعنی گویا انہوں نے اس کو پہلے ثالث بنایاا ور تسلیم کرلیا جسا کہ اس پر ردالمحتار میں طحطاوی سے بحوالہ ہندیہ تصریح منقول ہے کہ محیط میں ایسے ہے۔اور بحر میں ہے اگر کسی نے فریقین کی اجازت کے بغیر ثالثی فیصلہ دیا تو جائز نہ ہوگا الایہ کہ فریقین فیصلہ کے بعد اس کو تسلیم کرلیں اھ مختصرا۔اور اسی میں محیط سے منقول ہے اگر قاضی نے کسی شخص کو فریقین میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو قاضی کا حکم جائز نہ ہوگا بشرطیکہ قاضی کو اپنا خلیفہ بنانے کی اجازت نہ ہومگر اس صورت میں کہ اس شخص کے فیصلہ کے بعد قاضی اس کی توثیق کردے یا فریقین اس شخص کے فیصلہ کو باہمی رضامندی سے تسلیم کرلیںتو وہ فیصلہ نافذ ہوجائیگااھ
خلاصہ یہ کہ اس مرد و عورت کے درمیان متارکہ اور فرقت ہوچکی ہےاورپہلے ہم اپنے فتوی میں واضح کرچکے ہیں کہ اپنی بیوی کی والدہ سے زنا کے اقرار سے حرمت مصاہرہ ثابت ہوجاتی ہے اور یہ کہ حرمت کے لئے اس اقرار پر اصرار کرنا شرط نہیں ہے اور اس اقرارسے رجوع بھی صحیح نہیں ہےپس عدت گزرجانے کے بعد یہ عورت خود مختار ہے وہ اس مرد کے سوا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
بالجملہ کیفما کان فرقت میان ایں زن و شو حاصل شد و درفتوائے سابقہ روشن کردہ ایم کہ اقرار زنا بمادر زن مثبت حرمت مصاہرت ست واصرار برآں نامشروط ورجوع ازاں نامقبول پس بعد عدت عناں زن ھم بدست زن باشد جزیں کس باہر کہ خواہد عقد زنا شوئی بندد۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس عالم کے عمل پر رضامندی ظاہر کردی ہے اوراس کے عمل کے نفاذ کو پختہ کردیا تو وہ عمل نافذ ہوگیا اگرچہ عالم کے عمل کے بعد راضی ہوئے لیکن بعد کا تسلیم کرنا بھی تحکیم سابق کی طرح ہے یعنی گویا انہوں نے اس کو پہلے ثالث بنایاا ور تسلیم کرلیا جسا کہ اس پر ردالمحتار میں طحطاوی سے بحوالہ ہندیہ تصریح منقول ہے کہ محیط میں ایسے ہے۔اور بحر میں ہے اگر کسی نے فریقین کی اجازت کے بغیر ثالثی فیصلہ دیا تو جائز نہ ہوگا الایہ کہ فریقین فیصلہ کے بعد اس کو تسلیم کرلیں اھ مختصرا۔اور اسی میں محیط سے منقول ہے اگر قاضی نے کسی شخص کو فریقین میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو قاضی کا حکم جائز نہ ہوگا بشرطیکہ قاضی کو اپنا خلیفہ بنانے کی اجازت نہ ہومگر اس صورت میں کہ اس شخص کے فیصلہ کے بعد قاضی اس کی توثیق کردے یا فریقین اس شخص کے فیصلہ کو باہمی رضامندی سے تسلیم کرلیںتو وہ فیصلہ نافذ ہوجائیگااھ
خلاصہ یہ کہ اس مرد و عورت کے درمیان متارکہ اور فرقت ہوچکی ہےاورپہلے ہم اپنے فتوی میں واضح کرچکے ہیں کہ اپنی بیوی کی والدہ سے زنا کے اقرار سے حرمت مصاہرہ ثابت ہوجاتی ہے اور یہ کہ حرمت کے لئے اس اقرار پر اصرار کرنا شرط نہیں ہے اور اس اقرارسے رجوع بھی صحیح نہیں ہےپس عدت گزرجانے کے بعد یہ عورت خود مختار ہے وہ اس مرد کے سوا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء باب التحکیم ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۹€
بحرالرائق بحوالہ محیط کتاب القضاء باب التحکیم ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۵€
بحرالرائق بحوالہ محیط کتاب القضاء باب التحکیم ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۵€
(۲)والیے کہ تفویض خصومتے بعالمے مستجمع شرائط صلوح للقضاء کند اگر او خود مسلمان ست ہمچو نوابان ریاستہائے اسلامیہ اگرچہ زیر دست سلطان کافر باشد سپردنش بلاریب معتبر بود وعالم درخصوص آں خصومت مثل قاضی شدہ کہ بعزل ہیچ یك از فریقین ازقضا نرودزیرا کہ والی راچوں اختیار تقلید قضادرجملہ امورست در امرے خاص بالاولی باشد والقضاء ممایختص بکل ما خصہ المقلد کما نصوا علیہ وفی جامع الفصولین والبحر والتتارخانیۃ والمبسوط والمعراج وغیرہا کل مصرفیہ وال مسلم من جھۃ الکفار تجوز فیہ(ولفظ الاخیر من یجوز لہ )اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم اھ وفی البحر عن المحیط الامام الذی استعمل القاضی امر رجلا ممن یجوز شہادتہ ان یحکم بین رجلین وھو (۲)قضاکی اہلیت والی شرط کا جامع عالم ہو تو اس کو کسی والی نے کوئی مقدمہ سپرد کیا ہو اگر وہ والی خود مسلمان ہے جیسا کہ اسلامی ریاستوں کے نواب حضرات اگرچہ وہ کافر سلطان کے ماتحت ہیں تو یہ سپردداری بلا شك معتبر ہوگیاور اس خاص مقدمہ میں وہ عالم قاضی کی مثل ہوگا کہ فریقین میں سے کسی کے معزول کرنے سے وہ معزول نہ ہوگبا کیونکہ جب ایسے والی کو جملہ اختیار والے قاضی کی تقرری کا اختیار ہے تو خاص ایك اختیار والے قاضی کی تقرری کا اختیار بطریق اولی ہوگا اور قضاء ان امو رمیں سے ہے کہ تقرری کرنے والے کی تخصیص کی وجہ سے خاص ہوجاتی ہے جیسا کہ اس پر فقہاء نے تصریح فرمائی ہے۔جامع الفصولینبحرتاتارخانیہمبسوط اور معراج وغیرہ میں ہے وہ تمام شہر جن میں کفار کی طرف سے مسلمان والی ہوں وہاں اقامت جمعہعیدینخراج کی وصولیقاضیوں کا تقرر اور یتیم لڑکیوں کا نکاح کرنا جائز ہے آخری کے الفاظ میں(جن کو جائز ہے)کیونکہ ان پر مسلمان والی ہے اھبحر میں محیط سے منقول ہے کہ جو امام قاضی کی تقرری کرتا ہے وہ ایسے شخص کو فیصلہ کرنے کا حکم دے جو شہادت کی اہلیت رکھتا ہو تو جائز ہوگا اور وہ شخص
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۴۰€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۳ /۱۷۲،€بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۴€
جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۳ /۱۷۲،€بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۴€
بمنزلۃ القاضی المولی اھ واگر مفوض کافر ست مفوض الیہ بتفویض او برمذہب معتمد مؤید بدلائل شرعیہ وقواعد ملیہ قاضی نشود ووجہہ اقول:ان الکافر لایلی فکیف یولی قال تعالی"ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ "
المولی بالفتح انما یستفید نفاذ القول من المولی بالکسر قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح اذالم یکن سلطان ولامن یجوز التقلد منہ کما ھو فی بلاد المسلمین غلب علیہم الکفار کقرطبۃ فی بلاد المغرب الان یجب علی المسلمین ان یتفقواعلی واحد منھم اھ مختصراقال فی النھر ھذاھوالذی تطمئن النفس الیہ فلیعتمد اھ قال الشامی الاشارۃ بقولہ وھذاالی ماافادہ کلام الفتح من عدم صحۃ تقلد القضاء من کافر الخ اقول: قاضی کے قائم مقام ہوگا اھاور اگر تقرر کرنے والا خود کافر ہوتو شرعی دلائل اور دینی قواعد سے مؤید قول کے مطابق مقرر کردہ شخص قاضی نہ ہوگامیں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر خود مسلمانوں کا ولی نہیں تو دوسرے کو کیسے ولی بناسکتا ہےاﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہر گز کافروں کو مسلمانوں پر راہ نہ دے گا۔مولی(فتح کے ساتھ)کے قول کا نفاذ مولی (کسرہ کے ساتھ)سے مستفاد ہوتاہے۔محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا جب مسلمانوں کا نہ کوئی سلطان ہو نہ ہی کوئی ایسا والی جو قاضیوں کا تقرر کرسکے جیسا کہ مسلمانوں کے بعض علاقوں پرکفار کا غلبہ مغرب میں ہوا ہے مثلا قرطبہ آج کلتو مسلمانوں پر وہاں واجب ہے کہ وہ اپنے اتفاق سے کسی ایك پر راضی ہوجائیں اھ مختصرا۔ نہر میں فرمایا:اسی پر طبیعت مطمئن ہے لہذا اسی پر اعتماد چاہئے اھعلامہ شامی نے فرمایا: ھذاکے ساتھ ان کا اشارہ فتح کے اس کلام کی طرف ہے جس میں کافر کی طرف سے تقرری قضاکو نادرست کہا گیا ہے الخ۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے
المولی بالفتح انما یستفید نفاذ القول من المولی بالکسر قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح اذالم یکن سلطان ولامن یجوز التقلد منہ کما ھو فی بلاد المسلمین غلب علیہم الکفار کقرطبۃ فی بلاد المغرب الان یجب علی المسلمین ان یتفقواعلی واحد منھم اھ مختصراقال فی النھر ھذاھوالذی تطمئن النفس الیہ فلیعتمد اھ قال الشامی الاشارۃ بقولہ وھذاالی ماافادہ کلام الفتح من عدم صحۃ تقلد القضاء من کافر الخ اقول: قاضی کے قائم مقام ہوگا اھاور اگر تقرر کرنے والا خود کافر ہوتو شرعی دلائل اور دینی قواعد سے مؤید قول کے مطابق مقرر کردہ شخص قاضی نہ ہوگامیں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر خود مسلمانوں کا ولی نہیں تو دوسرے کو کیسے ولی بناسکتا ہےاﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہر گز کافروں کو مسلمانوں پر راہ نہ دے گا۔مولی(فتح کے ساتھ)کے قول کا نفاذ مولی (کسرہ کے ساتھ)سے مستفاد ہوتاہے۔محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا جب مسلمانوں کا نہ کوئی سلطان ہو نہ ہی کوئی ایسا والی جو قاضیوں کا تقرر کرسکے جیسا کہ مسلمانوں کے بعض علاقوں پرکفار کا غلبہ مغرب میں ہوا ہے مثلا قرطبہ آج کلتو مسلمانوں پر وہاں واجب ہے کہ وہ اپنے اتفاق سے کسی ایك پر راضی ہوجائیں اھ مختصرا۔ نہر میں فرمایا:اسی پر طبیعت مطمئن ہے لہذا اسی پر اعتماد چاہئے اھعلامہ شامی نے فرمایا: ھذاکے ساتھ ان کا اشارہ فتح کے اس کلام کی طرف ہے جس میں کافر کی طرف سے تقرری قضاکو نادرست کہا گیا ہے الخ۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء باب التحکیم ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۵€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۴۱€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۵€
ردالمحتار بحوالہ نہر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۴۱€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۵€
ردالمحتار بحوالہ نہر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
ویؤیدہ ماقد منافی مسألۃ الاولی عن المبسوط والمعراج وجامع الفصولین وغیرہا ثم رأیت العلامۃ البحرایدہ بہ فی البحرحیث قال بعد نقل کلام الکمال ویؤیدہ مافی جامع الفصولین الخ
وظاھرا حکم نیز نشود اگر رفتن متخاصمین پیش او ہمیں بربنائے تفویض حاکم ست قال فی ردالمحتار فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عہد نافی بلادنا مصالحون لانھم تقلدواالقضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان الرفع لیس علی وجہ التحکیم بل علی اعتقاد انہ ماضی الحکم الاتری ان البیع ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذاتقدمہ بیع باطل او فاسد وترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب اخر فکذاھنا اھ باختصار آرے اگر خصمین برضائے خود
مسئلہ میں ہم نے جو مبسوطمعراججامع الفصولین وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے پھر میں نے علامہ بحر کو اسی سے اس کی تائید بحر میں کرتے ہوئے دیکھا جہاں انہوں نے کمال کے کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ جامع الفصولین کا بیان اس کی تائید کررہا ہے الخ۔ظاہر یہ ہے کہ کافر کا مقرر کردہ قاضی ثالث بھی نہیں بن سکتا بشرطیکہ فریقین اس نظریہ سے اس کے ہاں پیش ہوں کہ یہ حاکم کا مقرر کردہ ہے ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں بزازیہ سے منقول ہے کہ ہمارے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت سے قضاء حاصل کی ہے تو قاضی نہ ہوئےتاہم اگر مقدمہ پیش ہوتو وہ ثالث کی حیثیت سے فیصلہ کرسکتے ہیںاس پر اعتراض ہوا کہ ان کے ہاں مقدمہ بطور ثالث پیش نہیں ہوا بلکہ فریقین نے اس اعتقاد پر پیش کیا کہ وہ قاضی نافذ الحکم ہےتو یہ فیصلہ درست نہ ہوگاکیا دیکھتے نہیں کہ ابتداء بیع لین دین سے منعقد ہوجاتی ہے لیکن وہی بیع پہلے باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اب لین دین کے تبادلہ سے وہ بیع منعقد نہ ہوگی کیونکہ یہ دستی لین دین کا تبادلہ اب پہلے فاسد سبب پر مرتب ہے(تو یہاں بھی اگرچہ ابتداء ثالث ہوسکتا تھا لیکن اب فاسد عمل پر مرتب ہونے کی وجہ سے وہ ثالث قرار نہ پائیگا)
وظاھرا حکم نیز نشود اگر رفتن متخاصمین پیش او ہمیں بربنائے تفویض حاکم ست قال فی ردالمحتار فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عہد نافی بلادنا مصالحون لانھم تقلدواالقضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان الرفع لیس علی وجہ التحکیم بل علی اعتقاد انہ ماضی الحکم الاتری ان البیع ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذاتقدمہ بیع باطل او فاسد وترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب اخر فکذاھنا اھ باختصار آرے اگر خصمین برضائے خود
مسئلہ میں ہم نے جو مبسوطمعراججامع الفصولین وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے پھر میں نے علامہ بحر کو اسی سے اس کی تائید بحر میں کرتے ہوئے دیکھا جہاں انہوں نے کمال کے کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ جامع الفصولین کا بیان اس کی تائید کررہا ہے الخ۔ظاہر یہ ہے کہ کافر کا مقرر کردہ قاضی ثالث بھی نہیں بن سکتا بشرطیکہ فریقین اس نظریہ سے اس کے ہاں پیش ہوں کہ یہ حاکم کا مقرر کردہ ہے ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں بزازیہ سے منقول ہے کہ ہمارے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت سے قضاء حاصل کی ہے تو قاضی نہ ہوئےتاہم اگر مقدمہ پیش ہوتو وہ ثالث کی حیثیت سے فیصلہ کرسکتے ہیںاس پر اعتراض ہوا کہ ان کے ہاں مقدمہ بطور ثالث پیش نہیں ہوا بلکہ فریقین نے اس اعتقاد پر پیش کیا کہ وہ قاضی نافذ الحکم ہےتو یہ فیصلہ درست نہ ہوگاکیا دیکھتے نہیں کہ ابتداء بیع لین دین سے منعقد ہوجاتی ہے لیکن وہی بیع پہلے باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اب لین دین کے تبادلہ سے وہ بیع منعقد نہ ہوگی کیونکہ یہ دستی لین دین کا تبادلہ اب پہلے فاسد سبب پر مرتب ہے(تو یہاں بھی اگرچہ ابتداء ثالث ہوسکتا تھا لیکن اب فاسد عمل پر مرتب ہونے کی وجہ سے وہ ثالث قرار نہ پائیگا)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۷۴€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۔۳۴۷€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۔۳۴۷€
سوئے او ترافع کنند حکم می شود وپیش از حکم بعزل ہر یکے متعزل گردد کما ھو حکم الحکم وھو ظاہرواﷲسبحانہ و تعالی اعلم۔ اھ مختصرا۔ہاں اگر فریقین اپنی مرضی سے ثالث سمجھ کر اس کے ہاں پیشی کریں تو وہ ثالث ہوسکے گا اور فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کی معزولی سے معزول قرار پائے گا جیسا کہ ثالثی کا حکم و قانون ہے اور یہ واضح بات ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیںزید نے زوجہ اول کو کل جائداد اپنی بالعوض مہر بیع کردی اور قبضہ و دخل مثل نفس خاص اپنے کے کرادیا۔اب زوجہ ثانی کہتی ہے کہ میرا بھی مہر ادا کرو ورنہ میں نالش کرکے نصف جائداد بالعوض اپنے مہر کے تقسیم کرالوں گیآیا زوجہ ثانی تقسیم کرالینے نصف جائدا کی مستحق ہے یانہیںزید کہتاہے کہ ابھی مہر تجھ کو بذریعہ نالش وصول نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ طلاق نہ ہوجائے میں محنت مزدوری کرکے ادا کروں گاآیا یہ قول زید کا درست ہے یاغلط
الجواب:
صورت مسئولہ میں جب زید نے وہ جائداد زوجہ اولی کے ہاتھ بیع کردی زوجہ ثانیہ کو اس سے نصف جائداد عوض مہر لینے کا اختیار نہیں اور دربارہ مہر جب شرط تعجیل و تاجیل سے عاری ہو اعتبار عرف کاہے ان دیار کا عرف نہیں کہ قبل از فرق مہر ادا کیا جائے پس مطالبہ زوجہ ثانیہ محض نامسموعالبتہ اس کا مہر ذمہ زید واجب الادا ہے یہ حکم قضاء صحیح ہے مگر دیانۃ اگر اس کا اس بیع سے زوجہ ثانیہ کو محروم رکھنا ہے تو اپنی اس نیت فاسد اور اس بیع پر کہ مبنی اس نیت پر ہے عنداﷲ ماخوذ ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور ترکہ زید متوفی کا عوض دین مہر زوجہ ہندہ کے مکفول تھا عمرو نے نالش انفکاك رہن بادائے ایك سوتر یسٹھ روپیہ دین مہر کے عدالت میں دائر کرکے ڈگری حاصل کی اور بحکم عدالت کل دین مہر ہندہ کو عمرو نے ادا کردیا بعدہ ہندہ نے اپنا حصہ بدست حسینی دختر اپنی کے بیع کردیا اب حسینی حصہ ہندہ کا چاہتی ہے اس صورت میں حسینی بلاادائے دین مہر اس کے جو کل عمرو نے ادا کردیا ہے حصہ ہندہ کا تقسیم کراسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر ہے کہ وہ ادا کرنا جانب عمرو سے بطریق تبرع نہ تھا اور یہ دین ترکہ سے کم ہے اور سوا اس کے میت پر اور دین نہیں پس تصرف ہندہ کا اپنے حصہ میں بیع کے ساتھ صحیح ہوا کہ دین غیر مستغرق مانع ملك ورثہ نہیں مگر باوجود اس کے بوجہ تعلق حق دائن یا مرہون کے لئے محبوس رہے گااور دائن اگر
مسئلہ۴۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیںزید نے زوجہ اول کو کل جائداد اپنی بالعوض مہر بیع کردی اور قبضہ و دخل مثل نفس خاص اپنے کے کرادیا۔اب زوجہ ثانی کہتی ہے کہ میرا بھی مہر ادا کرو ورنہ میں نالش کرکے نصف جائداد بالعوض اپنے مہر کے تقسیم کرالوں گیآیا زوجہ ثانی تقسیم کرالینے نصف جائدا کی مستحق ہے یانہیںزید کہتاہے کہ ابھی مہر تجھ کو بذریعہ نالش وصول نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ طلاق نہ ہوجائے میں محنت مزدوری کرکے ادا کروں گاآیا یہ قول زید کا درست ہے یاغلط
الجواب:
صورت مسئولہ میں جب زید نے وہ جائداد زوجہ اولی کے ہاتھ بیع کردی زوجہ ثانیہ کو اس سے نصف جائداد عوض مہر لینے کا اختیار نہیں اور دربارہ مہر جب شرط تعجیل و تاجیل سے عاری ہو اعتبار عرف کاہے ان دیار کا عرف نہیں کہ قبل از فرق مہر ادا کیا جائے پس مطالبہ زوجہ ثانیہ محض نامسموعالبتہ اس کا مہر ذمہ زید واجب الادا ہے یہ حکم قضاء صحیح ہے مگر دیانۃ اگر اس کا اس بیع سے زوجہ ثانیہ کو محروم رکھنا ہے تو اپنی اس نیت فاسد اور اس بیع پر کہ مبنی اس نیت پر ہے عنداﷲ ماخوذ ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور ترکہ زید متوفی کا عوض دین مہر زوجہ ہندہ کے مکفول تھا عمرو نے نالش انفکاك رہن بادائے ایك سوتر یسٹھ روپیہ دین مہر کے عدالت میں دائر کرکے ڈگری حاصل کی اور بحکم عدالت کل دین مہر ہندہ کو عمرو نے ادا کردیا بعدہ ہندہ نے اپنا حصہ بدست حسینی دختر اپنی کے بیع کردیا اب حسینی حصہ ہندہ کا چاہتی ہے اس صورت میں حسینی بلاادائے دین مہر اس کے جو کل عمرو نے ادا کردیا ہے حصہ ہندہ کا تقسیم کراسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہر ہے کہ وہ ادا کرنا جانب عمرو سے بطریق تبرع نہ تھا اور یہ دین ترکہ سے کم ہے اور سوا اس کے میت پر اور دین نہیں پس تصرف ہندہ کا اپنے حصہ میں بیع کے ساتھ صحیح ہوا کہ دین غیر مستغرق مانع ملك ورثہ نہیں مگر باوجود اس کے بوجہ تعلق حق دائن یا مرہون کے لئے محبوس رہے گااور دائن اگر
بیع کو جائز نہ رکھے تو بیع مذہب راجح پر نفاذ نہ پائے گی
قال العلامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدرمن کتاب الفرائض حکم الترکۃ قبل قضاء الدیون کحکم المرھون بدین علی المیت فلا تنفذ تصرفات الورثۃ فیہا ھذااذاکانت الترکۃ اقل من الدین او مساویۃ لہ واما اذا کان فیہا زیادۃ علیہ ففی نفوذ تصرفات الورثۃ وجہان احدھما النفوذ الی ان یبقی قدر الدین واظہرھما عدم النفوذ علی قیاس المرھون اھ عجم زادہ عــــــہ ۔ علامہ سید طحطاوی نے در کے حاشیہ میں کتاب الفرائض میں فرمایا:میت پر قرض کی ادائیگی سے قبل اس کا ترکہ قرض میں رہن کے حکم میں ہوگا تو اس ترکہ میں ورثاء کے تصرفات نافذ نہ ہوں گے جبکہ ترکہ قرض سے کم یا مساوی ہو لیکن اگر ترکہ قرض سے زائد ہو توا س میں دو صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زائد میں ورثا کا تصرف نافذ ہوگا یہاں تك کہ مقدار دین باقی رہ جائےدوسری یہ کہ ان کا تصرف نہ ہوگا مرہون چیز پر قیاس کی وجہ سےدونوں صورتوں میں یہ دوسری زیادہ ظاہر ہے اھ عجم زادہ۔(ت)
پس مشتریہ تاوقتیکہ ترکہ ایفا یا ابرادین سے نہ ہوجائے حصہ ہندہ پر قبضہ نہیں کرسکتی اور صرف اس کابقدر حصہ رسدی اپنے کے ادا کردینا کافی نہ ہوگا جب تك کل دین ادا نہ ہوجائے
کماذکرنامن ان الدین ولولم یکن محیطا یمنع نفاذ تصرفات الورثۃ۔ جیسے ہم نے ذکر کیا کہ دین اگرچہ وراثت کو محیط نہ ہو وہ ورثاء کے تصرفات کے نفاذ سے مانع ہے۔(ت)
ہاں اگر دائن روا رکھے اور اس امر پر راضی ہوجائے تو اسے اختیار ہے کہ حبس اس کے حق کےلئے تھا پس حسینی اس تقدیر پر قابض ہوسکتی ہے اور حصہ ہندہ کے عوض ان کے ثمن حق دائن میں محبوس رہیں گے کما ھو حکم المرھون المصرح بہ فی المتون(جیسا کہ متون میں مرہون چیز کا حکم تصریح شدہ ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۶: کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میںچالیس برس کا عرصہ ہوا
عــــــہ: لفظ عجم زادہ کے بعد اصل میں بیاض ہے۔
قال العلامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدرمن کتاب الفرائض حکم الترکۃ قبل قضاء الدیون کحکم المرھون بدین علی المیت فلا تنفذ تصرفات الورثۃ فیہا ھذااذاکانت الترکۃ اقل من الدین او مساویۃ لہ واما اذا کان فیہا زیادۃ علیہ ففی نفوذ تصرفات الورثۃ وجہان احدھما النفوذ الی ان یبقی قدر الدین واظہرھما عدم النفوذ علی قیاس المرھون اھ عجم زادہ عــــــہ ۔ علامہ سید طحطاوی نے در کے حاشیہ میں کتاب الفرائض میں فرمایا:میت پر قرض کی ادائیگی سے قبل اس کا ترکہ قرض میں رہن کے حکم میں ہوگا تو اس ترکہ میں ورثاء کے تصرفات نافذ نہ ہوں گے جبکہ ترکہ قرض سے کم یا مساوی ہو لیکن اگر ترکہ قرض سے زائد ہو توا س میں دو صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زائد میں ورثا کا تصرف نافذ ہوگا یہاں تك کہ مقدار دین باقی رہ جائےدوسری یہ کہ ان کا تصرف نہ ہوگا مرہون چیز پر قیاس کی وجہ سےدونوں صورتوں میں یہ دوسری زیادہ ظاہر ہے اھ عجم زادہ۔(ت)
پس مشتریہ تاوقتیکہ ترکہ ایفا یا ابرادین سے نہ ہوجائے حصہ ہندہ پر قبضہ نہیں کرسکتی اور صرف اس کابقدر حصہ رسدی اپنے کے ادا کردینا کافی نہ ہوگا جب تك کل دین ادا نہ ہوجائے
کماذکرنامن ان الدین ولولم یکن محیطا یمنع نفاذ تصرفات الورثۃ۔ جیسے ہم نے ذکر کیا کہ دین اگرچہ وراثت کو محیط نہ ہو وہ ورثاء کے تصرفات کے نفاذ سے مانع ہے۔(ت)
ہاں اگر دائن روا رکھے اور اس امر پر راضی ہوجائے تو اسے اختیار ہے کہ حبس اس کے حق کےلئے تھا پس حسینی اس تقدیر پر قابض ہوسکتی ہے اور حصہ ہندہ کے عوض ان کے ثمن حق دائن میں محبوس رہیں گے کما ھو حکم المرھون المصرح بہ فی المتون(جیسا کہ متون میں مرہون چیز کا حکم تصریح شدہ ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۶: کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میںچالیس برس کا عرصہ ہوا
عــــــہ: لفظ عجم زادہ کے بعد اصل میں بیاض ہے۔
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۶۷€
مسمی زید فوت ہوابعد وفات شوہر بموجودگی دیگر ورثاء شرعی کل متروکہ زید پر مسماۃ ہندہ زوجہ بعوض دین مہر قابض ودخیل ومتصرف مالکانہ ہوئی اورتین لڑکیاں بھی زید کی تھیںگودین مہر کثیر التعداد تھا اور اس قدر جائداد مورث نہ تھی کہ مکتفی دین مہر کو ہو اور منجملہ جائداد متروکہ شوہری مسماۃ نے ایك قطعہ زمین بعد وفات شوہر بعوض مبلغ(صہ/)روپیہ رہن رکھا اور اس میں یہ لفظ تحریر ہے کہ مالکانہ قابض ودخیل ومتصرف ہوں اور اس فعل مالکانہ کو ورثہ تسلیم کرتے رہے اور بھی افعال مالکانہ بلا شرکت احدے ہوتے رہےچنانچہ اس متروکہ شوہری سے اپنے بھتیجوں کو ایك مکان پختہ اراضی شوہری میں بنوایا اور بعلم وآگاہی واطلاع اور موجودگی ورثاایك مدت تك تعمیر ہوتا رہاکوئی مزاحم ومعترض نہ ہوااور یہ سب افعال ملکیتی تسلیم ہوتے رہےاور لڑکیاں جو شوہرنے چھوڑی تھیں کبھی ہارج ومزاحم نہ ہوئیںنہ تقسیم چاہی نہ ترکہ معین ہوابالکلیہ زوجہ مالك و قابض ومتصرف رہی اور جمیع افعال ملکیت پر عملدرآمد ہوتا رہا کوئی مخالفت نہ کیاور اس کے بعد بجیات مسماۃ ہندہ کے ہوتے رہے کسی لڑکی نے نہ تقسیم چاہی نہ ترکہ طلب کیامجرد اپنی والدہ ہندہ کے پاس آتی جاتی رہیں اور شفقت مادرانہ ہوتی رہی اب عرصہ پندرہ سولہ سال کا ہوا کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور اس کے ورثاء میں سے دو لڑکیا ں اور دوبھتیجے ہیں بموجب فرائض شریف کے دودو لڑکیوں کے اور ایك ایك برادر زادہ کاحصہ ہوتا ہے اور ۶ سے مسئلہ قرار پاتا ہے چونکہ اب لڑکیوں نے کہ حصہ قلیل ہوا جاتا ہے اور برادرزاد گان مستحق حصہ شرعی ہیں محض اتلاف حق کے لئے چالیس برس کے بعد یہ امر بیان ہوتا ہے کہ آج تك کبھی اس امر کا تذکرہ بھی نہیں آیا تھا کہ مسماۃ ہندہ کل ترکہ پر قابض بوجھہ ترکہ ہوگئی ہوگی اور کبھی یہ حیلہ پیش ہوتا ہے کہ جنازہ اٹھتے وقت اکثر مہرمعاف بھی ہوجاتا ہےرواجا معاف کردیا ہوگااور کبھی یہ بیان کہ معاف کردیا اس امر کا بیان کنندہ سوائے ان دو لڑکیوں متوفیہ کے کہ وہ خود اپنی کمی ترکہ کے سبب سے اور باغوائے اپنے اہل وعیال کے اس وقت بیان کرتی ہیں کبھی سابق بیان بھی نہیں کیا ابطال وکمی حق برادر زاد گان مسماۃ متوفیہ کےلئے باوجود عملدرآمد ہونے افعال ملکیت مسماۃ ہندہ کے ۲۵۳۰سال تك اوراظہار قبضہ دین مہر اور عدم اظہار معافی مہر سوائے بیان سال حال مجرد بیان خیالی دو لڑکیوں کا بغیر علم وآگاہی دیگر بزرگان خاندان کے اور نہ ہونے کسی وثیقہ تحریری کے بلکہ بر خلاف اس کے عمل در آمد ہوتا رہا اور کسی وارث نے یہ ذکرنہ کیا اور انتقالات تحریری اور زبانی مسماۃ ہندہ ہمیشہ مسلم کئے پس ایسی حالتوں میں یہ مہر معاف سمجھا جائے گا یا کیااور تقسیم ترکہ اب مسماۃ ہندہ کی ہوگی یا شوہر ہندہ کی قرار دینا چاہئے اور یہ عملدرآمد کیسا سمجھا جائے گابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی دختران ہر گز قابل سماعت نہیںنہ اب وہ ترکہ ترکہ شوہر ٹھہرسکےنہ مجردان کے بیان سے مہر کی معافی سمجھی جائے اور بیان بھی کیسا مضطرب کہ کبھی تو بربنائے رواج یہ احتمالی حکم کہ جنازہ اٹھتے وقت مہر معاف ہوجاتا ہے یہاں بھی ہوگیا ہوگاحالانکہ یہ کلیہ بھی غلط ہےکوئی معاف کردیتا ہے کوئی نہیں کرتااور سب معاف کردیا کرتے تو کیا تھاخاص ہندہ کی معافی ثابت ہونا چاہئے تھی اور کبھی کچھ سمجھ کر یہ قطعی دعوی کہ معاف کردیا اگر معاف کردیا تھا تو تم نے بربنائے مہر کل جائدا د پر ہندہ کو کیوں قبضہ کرنے دیا تھا اور چوبیس پچیس برس تك اس کے تصرفات مالکانہ دیکھ کر کیوں خاموش رہیں اور اس کے انتقال پر بھی پندرہ سولہ برس کا سکوت کس کے لئے تھا یہ خاموشی چہل سالہ شرعا قرینہ واضحہ ہے کہ دعوی بربنائے زوروتلبیس واتلاف حق برادر زادگان ہےہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح وفتاوی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرفات مالکانہ کرتا رہے یا بیع خواہ ہبہ خواہ کسی اور طرح دوسرے کو تملیك کرے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی جو اس شہر میں موجود ہو اور ان حالات پر مطلع ہو دعوی کرنے لگے کہ یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز ہرگز نہ سنا جائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی اجنبیت اور متصرف کی مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدماوعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ فھل اذاادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدما و بناء فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لااجاب لا تسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی وفتاوی الامام سیدی علامہ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتاوی میں ہے کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو اجو ایك حویلی کے کمرہ میں عرصہ زائد از تین سال سے رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے کمرہ میں توڑ پھوڑ ومرمت کرتا رہا اس کا پڑوسی اس کے یہ تصرفات دیکھتا رہا تو اب اس پڑوسی کو مذکورہ تصرفات پر اطلاع کے باوجود اس کمرہ کے کل یا بعض پر دعوی کا حق ہے اور کیا اس کا دعوی قابل سماعت ہوگا یا نہیں تو انھوں نے جواب میں فرمایا کہ اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اس پر ہی فتوی ہےاور امام علامہ
صورت مستفسرہ میں دعوی دختران ہر گز قابل سماعت نہیںنہ اب وہ ترکہ ترکہ شوہر ٹھہرسکےنہ مجردان کے بیان سے مہر کی معافی سمجھی جائے اور بیان بھی کیسا مضطرب کہ کبھی تو بربنائے رواج یہ احتمالی حکم کہ جنازہ اٹھتے وقت مہر معاف ہوجاتا ہے یہاں بھی ہوگیا ہوگاحالانکہ یہ کلیہ بھی غلط ہےکوئی معاف کردیتا ہے کوئی نہیں کرتااور سب معاف کردیا کرتے تو کیا تھاخاص ہندہ کی معافی ثابت ہونا چاہئے تھی اور کبھی کچھ سمجھ کر یہ قطعی دعوی کہ معاف کردیا اگر معاف کردیا تھا تو تم نے بربنائے مہر کل جائدا د پر ہندہ کو کیوں قبضہ کرنے دیا تھا اور چوبیس پچیس برس تك اس کے تصرفات مالکانہ دیکھ کر کیوں خاموش رہیں اور اس کے انتقال پر بھی پندرہ سولہ برس کا سکوت کس کے لئے تھا یہ خاموشی چہل سالہ شرعا قرینہ واضحہ ہے کہ دعوی بربنائے زوروتلبیس واتلاف حق برادر زادگان ہےہمارے ائمہ اصحاب متون وشروح وفتاوی تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك جائداد میں کوئی شخص ایك مدت تك خود تصرفات مالکانہ کرتا رہے یا بیع خواہ ہبہ خواہ کسی اور طرح دوسرے کو تملیك کرے اور وہ دوسرا ایك زمانہ تك اس میں متصرف رہے پھر ایك مدعی جو اس شہر میں موجود ہو اور ان حالات پر مطلع ہو دعوی کرنے لگے کہ یہ جائداد میری ملك ہے اب وہ دعوی بجہت میراث ہو خواہ کسی دوسرے سبب سے ہرگز ہرگز نہ سنا جائے گا اور اس کا ان تصرفات کے وقت خاموش رہنا اپنی اجنبیت اور متصرف کی مالکیت کا صریح اقرار قرار پائے گا
فی فتاوی العلامۃ المرحوم سیدی محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار سئل عن رجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدماوعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ فھل اذاادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدما و بناء فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لااجاب لا تسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی وفتاوی الامام سیدی علامہ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مرحوم مصنف تنویر الابصار کے فتاوی میں ہے کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہو اجو ایك حویلی کے کمرہ میں عرصہ زائد از تین سال سے رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے کمرہ میں توڑ پھوڑ ومرمت کرتا رہا اس کا پڑوسی اس کے یہ تصرفات دیکھتا رہا تو اب اس پڑوسی کو مذکورہ تصرفات پر اطلاع کے باوجود اس کمرہ کے کل یا بعض پر دعوی کا حق ہے اور کیا اس کا دعوی قابل سماعت ہوگا یا نہیں تو انھوں نے جواب میں فرمایا کہ اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اس پر ہی فتوی ہےاور امام علامہ
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ فتاوٰی غزی کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
العلامۃ خیر الملۃ والدین الرملی سئل فی رجل اشتری من اخر ستۃ اذرع من ارض بیدالبائع وبنی بھا بناء وتصرف فیہ ثم بعدہ ادعی رجل علی البانی المذکوران لہ ثلثۃ قراریط ونصف قیراط فی المبیع المذکورارثا عن امہ ویرید ھدمہ والحال ان امہ تنظرہ یتصرف بالبناء والانتفاع المذکورین ھل لہ ذلك ام لااجاب لاتسمع دعواہ لان علمائنا نصوافی متونھم وشروحھم وفتاوھم ان تصرف المشتری فی المبیع مع اطلاع الخصم ولوکان اجنبیا بنحوالبناء والغرس والزرع یمنعہ من سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضا للبیع قطعا للتزویرو الاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرارابانہ ملك البائع اھ ملخصا وفیہا ایضا سئل فی رجل تلقی بیتا عن والدہ وتصرف فیہ کما کان والدہ من غیر منازع ولا مدافع مدۃ تنوف خیرالدین رملی کے فتاوی میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے دوسرے سے چھ ذراع زمین خریدی جو کہ بائع کے قبضہ میں تھی جس کو خرید نے کے بعد خریدا رنےاس پر تعمیر کی اور دیگر تصرفات کئے پھر بعد میں ایك اور شخص نے اس خریدار مذکور پر دعوی کردیا کہ مبیع زمین میں ساڑھے تین قیراط میری ملکیت ہے جو مجھے والدہ سے وراثت میں ملی ہے اور وہ تعمیر کو گرانے کا مطالبہ کررہا ہے حالانکہ مدعی کی والدہ خریدار کو تعمیر وغیرہ تصرفات کرتے ہوئے دیکھتی رہی ہے تو اس مدعی شخص کو اس دعوی کا حق ہے یانہیںانہوں نے جواب میں فرمایا کہ اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا کیونکہ ہمارے علماء نے متونشروح اور فتاوی میں نص فرمائی ہے کہ مبیع میں خریدار کے تصرفات پر مخالف کو اطلاع ہونے کے باوجود کہ وہ تعمیرپودے اور زراعت جیسے تصرفات کررہاہے اتنی مدت خاموش رہنا اس کے دعوی کی سماعت کے لئے مانع ہے اگرچہ ایسا مدعی اجنبی کیوں نہ ہو۔صاحب منظومہ نے فرمایا کہ ہمارے اساتذہ نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اور اس کی خاموشی کو اس بیع پر رضامندی قرار دیا جائیگا تاکہ فریب لالچحیلہ سازی اور تلبیس کا دروازہ بند ہوسکے اور موجودگی کے باوجود اس کا منازعت نہ کرنا یہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ چیز بائع کی ملکیت تھی اھ ملخصااور اس میں یہ بھی ہے کہ ایك شخص نے اپنے والد سے مکان حاصل
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ / ۸۷و ۸۸€
عن خمسین سنۃ والآن برزجماعۃ یدعون ان البیت لجدھم الاعلی فہل تسمع دعوھم مع اطلاعھم علی التصرف المذکور واطلاع ابائھم وعدم مانع یمنعھم من الدعویاجاب لا تسمع ھذہ الدعوی وفیہا عن البزازیۃ علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ وفی الولوالجیۃ ثم الخیریۃ ثم الحامدیۃ وغیرہما رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخر رأی الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذلك لم تسمع بعدذلك دعوی ولدہ فتترك علی یدالمتصرف لان الحال شاھد وفی الخیریۃ وبہ افتی شیخ الاسلام شہاب الدین احمد المصری وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی و کیا اور اپنے والد کی طرح اس میں بغیر رکاوٹ و ممانعت تقریبا پچاس سال کی مدت تك تصرفات کرتا رہا اور اب ایك جماعت نے دعوی شروع کردیا کہ یہ مکان ہمارے جداعلی کا ہے تصرفات مذکورہ پر ان کو اور ان کے آباء کو اطلاع ہونے کے باوجود ان کا منع نہ کرنا حالانکہ رکاوٹ نہ تھیتو کیا اس گروہ کا دعوی قابل سماعت ہےتو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ یہ دعوی مسموع نہ ہوگا اور اس میں بزازیہ سے منقول ہے کہ اسی پر فتوی ہے تاکہ طمع فاسدکا سد باب ہوسکے۔ولوالجیہ پھر خیریہ پھر حامدیہ وغیرہا میں ہے کہ ایك شخص زمانہ بھر زمین میں تصرف کرتا ہے اور دوسراشخص زمین اور اس میں تصرفات دیکھتا رہا اور کوئی دعوی نہ کیا اسی حال میں وہ فوت ہو گیا تو اب اس کے بیٹے کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا بلکہ زمین کو قابض کے پاس رہنے دیا جائے گا کیونکہ اس پر حال شاہد ہے اور خیریہ میں ہے کہ شہاب الدین شیخ الاسلام احمد حلبی مصری نے اسی پر فتوی دیا ہے۔عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ تصرفات پر اطلاع ہونا ہی دعوی کے لئے مانع ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵€۵
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۵€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان۲ /۴€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۵€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی الولوالجی کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۹€
العقود الدریہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان۲ /۴€
فیہا لم یقیدوہ بموت ولابمدۃ کما تری وفی ردالمحتار من مسائل شتی مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع وان لم یسبقہ بیع وفی الدرالمختار باع عقارااوحیوانا اوثوبا وابنہ وامرأتہ اوغیرھما من اقاربہ حاضریعلم بہ ثم ادعی الابن مثلا انہ مبلکہ لاتسمع دعواہ کذااطلقہ فی الکنز والملتقی وجعل سکوتہ کالافصاح قطعا للتزویرو الحیل عــــــہ ۔
اس میں ہے کہ فقہاء نے اس حکم کو موت اور مدت سے مقید نہیں فرمایا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہواور ردالمحتار کے مسائل شتی میں ہے کہ اطلاع ہوجانے پر سکوت ہی دعوی کےلئے مانع ہوگا اگرچہ بیع نہ ہو___اوردرمختار میں ہے ایك شخص نے زمین یا جانور یا کپڑا فروخت کیا جبکہ اس کا بیٹا یا بیوی یا دیگر اقارب حاضر تھے اور جانتے تھے پھر مثلا بیٹے نے دعوی کردیا کہ فروخت شدہ چیز میری ہے تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔اس کو کنز اور ملتقی میں یوں ہی مطلق ذکر کیا اور اس موقعہ پر سکوت کو اقرار کی طرح قرار دیا تاکہ حیلہ سازی اور فریب کاری کا سدباب ہوسکے۔(ت)
مسئلہ۴۷: ازرامپور مرسلہ سید محمد منور علی صاحب تحصیلدار بھوپال ۲۲شعبان معظم۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنا ایك مکان جس کا جار ملا صق زید ہے غیبت زید میں جبکہ وہ اپنی نوکری پر بھوپال میں تھا عمروکے ہاتھ بیع کیا اور بیعنامہ بعبارت معمولی لکھا اس مکان کے جانب شمال جو دیوار مکان مبیع ومکان شفیع میں حد فاصل ہے اصل الفاظ بیع کے ذکر میں اس دیوار پر ایراد عقد کاکچھ تذکرہ نہیںنہ تفصیل عملہ مبیعہ میںبآنکہ ایك ایك چیز مفصلا لکھی ہے اس کا نام ہےحدود مبیع جہاں لکھے ہیں وہاں زیر حد شمالی یہ لفظ ہیں(شمالی مکان میاں منور علی و پاکھ کلاں شامل میاں منور علی ودیوار سراسر ودخل مبیعہ ہذا)زید جب بھوپال سے آیا اور بیع پر اطلاع پائی مدعی شفعہ ہوا اور عرضی میں بنائے شفعہ ثابت کرنے کو یہ الفاط لکھے(امراؤ بیگم مدعا علیہا بائعہ نے مکان مدعا بہا
عــــــہ: اصل میں ایك صفحہ کی بیاض ہے شاید جواب مکمل دستیاب نہ ہوا۔
اس میں ہے کہ فقہاء نے اس حکم کو موت اور مدت سے مقید نہیں فرمایا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہواور ردالمحتار کے مسائل شتی میں ہے کہ اطلاع ہوجانے پر سکوت ہی دعوی کےلئے مانع ہوگا اگرچہ بیع نہ ہو___اوردرمختار میں ہے ایك شخص نے زمین یا جانور یا کپڑا فروخت کیا جبکہ اس کا بیٹا یا بیوی یا دیگر اقارب حاضر تھے اور جانتے تھے پھر مثلا بیٹے نے دعوی کردیا کہ فروخت شدہ چیز میری ہے تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔اس کو کنز اور ملتقی میں یوں ہی مطلق ذکر کیا اور اس موقعہ پر سکوت کو اقرار کی طرح قرار دیا تاکہ حیلہ سازی اور فریب کاری کا سدباب ہوسکے۔(ت)
مسئلہ۴۷: ازرامپور مرسلہ سید محمد منور علی صاحب تحصیلدار بھوپال ۲۲شعبان معظم۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنا ایك مکان جس کا جار ملا صق زید ہے غیبت زید میں جبکہ وہ اپنی نوکری پر بھوپال میں تھا عمروکے ہاتھ بیع کیا اور بیعنامہ بعبارت معمولی لکھا اس مکان کے جانب شمال جو دیوار مکان مبیع ومکان شفیع میں حد فاصل ہے اصل الفاظ بیع کے ذکر میں اس دیوار پر ایراد عقد کاکچھ تذکرہ نہیںنہ تفصیل عملہ مبیعہ میںبآنکہ ایك ایك چیز مفصلا لکھی ہے اس کا نام ہےحدود مبیع جہاں لکھے ہیں وہاں زیر حد شمالی یہ لفظ ہیں(شمالی مکان میاں منور علی و پاکھ کلاں شامل میاں منور علی ودیوار سراسر ودخل مبیعہ ہذا)زید جب بھوپال سے آیا اور بیع پر اطلاع پائی مدعی شفعہ ہوا اور عرضی میں بنائے شفعہ ثابت کرنے کو یہ الفاط لکھے(امراؤ بیگم مدعا علیہا بائعہ نے مکان مدعا بہا
عــــــہ: اصل میں ایك صفحہ کی بیاض ہے شاید جواب مکمل دستیاب نہ ہوا۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۳€
درمختار مسائل شتّٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۶€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۳€
درمختار مسائل شتّٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۶€
معلومہ مقبوضہ اپنا عوض مبلغ ماصہ عہ /قیمت اصل بموجب بیعنامہ رجسٹری شدہ ۲۲/اگست ۱۸۸۹ء بغیبت مدعی بدست مدعا علیہ بیع صحیح شرعی کیا)دیوار مذکور جس پر ہمیشہ سے زید ومورث زید کا قبضہ تھا اور رہے مکان زید کی کھپر یلیں اوران کی ترکیبیں اس پر پڑی ہیں اور ہندہ وعمروکا کوئی قبضہ اس پر نہ تھانہ ہےنہ ان کے مکان کی کوئی کڑی یا ترك وغیرہ اس دیوار پر ہےاب عمرو مدعی ہوا کہ یہ دیوار مکان مبیع ہندہ کی ہے اور میں بحکم بیع اس کا مالك ہوں زید سے دلادی جائے مگر کوئی ثبوت اس دیوار میں اپنی ملك کا نہ دے سکا سوا اس کے کہ زید نے دعوی شفعہ میں بوجہ عبارت مذکورہ امراؤ بیگم نے اپنا مکان مقبوضہ بیع صحیح شرعی کیا اس بیعنامہ کو مسلم رکھا اور اس کے حوالہ دینے سے زید کا بیعنامہ دیکھناظاہر ہے اور اس میں دیوار مذکور بھی داخل بیع تھی تو زید کا بذریعہ شفعہ اسے طلب کرنا صریح اقرار ہوچکا کہ دیوار ملك عمرو مشتری ہے حالانکہ زید نے ہر گز بیعنامہ نہ دیکھا نہ اس کے سامنے لکھا گیانہ وہ اس وقت ا س شہر میں تھا اثبات بنائے شفعہ کے لئے تاریخ رجسٹری معلوم کرکے عرضی دعوی میں ذکر بیعنامہ کیا تھا۔اس صورت میں علمائے شرع مطہر سے استفسار ہے کہ زید کا وہ الفاظ لکھنا دیوار ملك عمرو ہونے کا شرعا اقرار قرار پائے گا یانہیںاور اس بناء پر عمرو کااستحقاق اس دیوار پر ثابت ہوسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی عمرو محض بے ثبوت ہےنہ اس بناء پر دیوار اسے دلائی جاسکتی ہے اولا جبکہ دیوار حسب تحریر سوال زید کے استعمال میں ہے اور عمرووہندہ کا کوئی عملہ اس پر نہیں جس سے ان کا استعمال ثابت ہو تو بحکم ظاہر دیوار ملك خاص زید ہے۔تنویرالابصار ودرمختار وغیرہما میں ہے:
الحائط لمن جذوعہ علیہ ۔ دیوار اس کی ہے جس کا اس پر شہتیر ہے۔(ت)
معین الحکام میں ہے:
ان لاحد ھما علیہ جذوع ولاشیئ علیہ للاخر یقضی بہ لرب الجذوع لانہ مستعملہ ۔ ایك فریق کا اس پر شہتیر ہے اور دوسرے کا کچھ نہیں ہے تو دیوار کا فیصلہ شہتیر والے کے حق میں ہوگا کیونکہ وہ اس کو استعمال کررہا ہے۔(ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی عمرو محض بے ثبوت ہےنہ اس بناء پر دیوار اسے دلائی جاسکتی ہے اولا جبکہ دیوار حسب تحریر سوال زید کے استعمال میں ہے اور عمرووہندہ کا کوئی عملہ اس پر نہیں جس سے ان کا استعمال ثابت ہو تو بحکم ظاہر دیوار ملك خاص زید ہے۔تنویرالابصار ودرمختار وغیرہما میں ہے:
الحائط لمن جذوعہ علیہ ۔ دیوار اس کی ہے جس کا اس پر شہتیر ہے۔(ت)
معین الحکام میں ہے:
ان لاحد ھما علیہ جذوع ولاشیئ علیہ للاخر یقضی بہ لرب الجذوع لانہ مستعملہ ۔ ایك فریق کا اس پر شہتیر ہے اور دوسرے کا کچھ نہیں ہے تو دیوار کا فیصلہ شہتیر والے کے حق میں ہوگا کیونکہ وہ اس کو استعمال کررہا ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی باب دعوی الرجلین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۲۷€
معین الحکام الباب التاسع والاربعون مصطفی البابی ∞مصر ص۱۶۳€
معین الحکام الباب التاسع والاربعون مصطفی البابی ∞مصر ص۱۶۳€
اور خود عمرو جبکہ تخلیہ دیوار کا نالشی ہوا تو اپنا خارج اور زید کا ذوالید وقابض ہونا تسلیم کرلیا بہر حال عمرو اس مقدمہ میں شرعا مدعی ہے پس تاوقتیکہ ثبوت مقبول شرعی سے اپنا دعوی ملك منور نہ کرے مقبول نہیں ہوسکتا دعوی شفعہ میں زید کا حوالہ بیعنامہ دینا کون سی دلیل شرعی ہے کہ اس نے بیعنامہ دیکھا اور اس کا لفظ لفظ تسلیم کرلیا بیان سائل کہ اثبات بنائے شفعہ کےلئے تاریخ رجسٹری معلوم کرکے ذکر بیعنامہ کیا گیا ہرگز قابل التفات نہیں۔
ثانیا اگر فرض کریں کہ بیان مذکور سائل بعید از قیاس نہ ہے تو غایت یہ کہ یہ ایك قرینہ ظاہرہ ہوگا اور ظاہر مدعی کو کام نہیں دیتانہ اس کی بناء پر ثبوت ملك ہوسکتا ہے۔درمختار وغیرہ عامہ کتب فقہیہ میں ہے:
الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق ۔ ظاہر دفع کی صلاحیت رکھتا ہے نہ کہ ثبوت استحقاق کی۔(ت)
ثالثا:تسلیم ہی کیجئے کہ اس سے نہ صرف ظاہرا بلکہ قطعا ویقینا زید کا بیعنامہ کو دیکھ کر دینا اور عبارت مذکورہ لکھنا ثابت ہے تاہم اس سے کس قدر ثبوت ہوا یہ کہ زید مکان مبیع کو مملوك ومقبوض ہندہ جانتا اور بیع کو صحیح مانتا اور بذریعہ شفعہ لینا چاہتا ہے اس سے اب کب زید کو انکار ہوا وہ اب بھی کہے گا کہ واقعی ہندہ نے اپنا ہی مکان مملوك و مقبوض بیع کیا اور یہ بیع صحیح بھی ہے اور میں بذریعہ شفعہ اس کا خواستگار بھی ہوارہی یہ دیوارنہ یہ مملوك ومقبوض ہندہ تھی نہ اس پر بیع وار د ہوئینہ میں نے شفعہ میں مانگیالفاظ عقد بیع میں مکان ہندہ کاذکر ہے مکان ہندہ جس قدر تھا وہی ایجاب وقبول میں داخل ہوااسی کو بذریعہ شفعہ طلب کیا گیا ذکر حدود عقد بیع نہیںنہ وہ حاکی ایجاب و قبول ہےتو تسلیم صحت بیع سے تسلیم صحت جملہ الفاظ زائدہ مندرجہ بیعنامہ کیونکر لازم ہوسکتی ہےعلماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بیعنامہ پر خود اپنی گواہی لکھ کر مہر کردی تاہم یہ اسکا اقرار نہ قرار پائے گا کہ شے مبیع ملك بائع ہے میری ملك نہیں وہ اس گواہی کردینے کے بعد بھی مکان مبیع پر دعوی ملك کرسکتا ہے جبکہ اس کے الفاظ سے صراحۃ اس کا خلاف نہ ثابت ہو۔درمختار میں ہے:
یؤیدہ مسألۃ کتابتہ وختمہ علی صك البیع فانہ لیس باقرار اس کی تائید اس مسئلہ سے ہوتی ہے فروختگی کی رسیدپر گواہ کے دستخط اور مہر ہونے کے باوجود
ثانیا اگر فرض کریں کہ بیان مذکور سائل بعید از قیاس نہ ہے تو غایت یہ کہ یہ ایك قرینہ ظاہرہ ہوگا اور ظاہر مدعی کو کام نہیں دیتانہ اس کی بناء پر ثبوت ملك ہوسکتا ہے۔درمختار وغیرہ عامہ کتب فقہیہ میں ہے:
الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق ۔ ظاہر دفع کی صلاحیت رکھتا ہے نہ کہ ثبوت استحقاق کی۔(ت)
ثالثا:تسلیم ہی کیجئے کہ اس سے نہ صرف ظاہرا بلکہ قطعا ویقینا زید کا بیعنامہ کو دیکھ کر دینا اور عبارت مذکورہ لکھنا ثابت ہے تاہم اس سے کس قدر ثبوت ہوا یہ کہ زید مکان مبیع کو مملوك ومقبوض ہندہ جانتا اور بیع کو صحیح مانتا اور بذریعہ شفعہ لینا چاہتا ہے اس سے اب کب زید کو انکار ہوا وہ اب بھی کہے گا کہ واقعی ہندہ نے اپنا ہی مکان مملوك و مقبوض بیع کیا اور یہ بیع صحیح بھی ہے اور میں بذریعہ شفعہ اس کا خواستگار بھی ہوارہی یہ دیوارنہ یہ مملوك ومقبوض ہندہ تھی نہ اس پر بیع وار د ہوئینہ میں نے شفعہ میں مانگیالفاظ عقد بیع میں مکان ہندہ کاذکر ہے مکان ہندہ جس قدر تھا وہی ایجاب وقبول میں داخل ہوااسی کو بذریعہ شفعہ طلب کیا گیا ذکر حدود عقد بیع نہیںنہ وہ حاکی ایجاب و قبول ہےتو تسلیم صحت بیع سے تسلیم صحت جملہ الفاظ زائدہ مندرجہ بیعنامہ کیونکر لازم ہوسکتی ہےعلماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بیعنامہ پر خود اپنی گواہی لکھ کر مہر کردی تاہم یہ اسکا اقرار نہ قرار پائے گا کہ شے مبیع ملك بائع ہے میری ملك نہیں وہ اس گواہی کردینے کے بعد بھی مکان مبیع پر دعوی ملك کرسکتا ہے جبکہ اس کے الفاظ سے صراحۃ اس کا خلاف نہ ثابت ہو۔درمختار میں ہے:
یؤیدہ مسألۃ کتابتہ وختمہ علی صك البیع فانہ لیس باقرار اس کی تائید اس مسئلہ سے ہوتی ہے فروختگی کی رسیدپر گواہ کے دستخط اور مہر ہونے کے باوجود
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۶€
بعدم ملکہ ۔ یہ اس کے مالك نہ ہونے کا اقرار نہیں
رابعا: ان سب سے قطع نظر کرکے مان ہی لیں کہ نفس عقد دیوار پر بھی وارد ہوا اور وہ بھی طلب شفعہ میں داخل تھی تاہم اس سے زید کا اس قدر اقرار حاصل ہوگا کہ یہ دیوار میری ملك نہیںنہ یہ کہ عمرو کی ملك ہے ہمارے مذہب راجح میں کہ ظاہرالروایہ ہے اور اکثر تصحیحات ائمہ اسی جانب ہیںاگر زید عمرو سے کوئی چیز مانگے کہ مجھے ہبہ کردے یا عاریۃ دے دے یا میرے ہاتھ بیچ ڈال یا اس کے مثل اور اقوالتو ان سے صرف اپنی ملك نہ ہونے کا اقرار ثابت ہوتا ہے عمرو کی ملك ہونے کا اقرار نہیں نکلتا زیادات وصغری وینابیع و عمادیہ وتتارخانیہ وسراجیہ ومنیہ ووہبانیہ وغیرہا میں اسی کی تصحیح کیامام اجل قاضیخان نے افادہ فرمایا کہ یہ اقرار ہو بھی تو بحسب ظاہر ہے اور ظاہر حجت استحقاق نہیں تو مدعی اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ردالمحتار میں منح الغفار سے ہے:
الحاصل روایۃ الجامع ان الاستیام والاستیجار والاستعارۃ ونحوھا اقرار بالملك للمساوم منہ والمستاجر منہ وروایۃ الزیادات انہ لایکون ذلك اقرار بالملکیۃ وھو الصحیح کذا فی العمادیۃ وحکی فیہا اتفاق الروایات علی انہ لاملك للمساوم ونحوہ فیہ ۔ جامع الصغیر کی روایت کے مطابق سودا لگانااجارہ پر طلب کرنا اور عاریتا مانگنا یہ قابض جس سے چیز لی یا مانگی جارہی ہےکی ملکیت کا اقرار ہے اور زیادات کی روایت کے مطابق یہ اس کی ملکیت کا اقرار نہ ہوگایہی صحیح ہے جیسا کہ عمادیہ میں ہے اور اس میں مذکورہ صورت میں ملك نہ ہونے پر روایات کا اتفاق بیان کیا گیا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال الانقروی والاکثر علی تصحیح مافی الزیادات و انہ ظاہر الروایۃ ۔ انقروی نے کہا کہ اکثریت کا مؤقف زیادات کی تصحیح ہےاور یہ ظاہرالروایۃ میں ہے۔(ت)
انقرویہ میں ہے:
فی الصغری عین فی یدرجل صغری میں ہے کہ کوئی چیز کسی شخص کے قبضہ سے
رابعا: ان سب سے قطع نظر کرکے مان ہی لیں کہ نفس عقد دیوار پر بھی وارد ہوا اور وہ بھی طلب شفعہ میں داخل تھی تاہم اس سے زید کا اس قدر اقرار حاصل ہوگا کہ یہ دیوار میری ملك نہیںنہ یہ کہ عمرو کی ملك ہے ہمارے مذہب راجح میں کہ ظاہرالروایہ ہے اور اکثر تصحیحات ائمہ اسی جانب ہیںاگر زید عمرو سے کوئی چیز مانگے کہ مجھے ہبہ کردے یا عاریۃ دے دے یا میرے ہاتھ بیچ ڈال یا اس کے مثل اور اقوالتو ان سے صرف اپنی ملك نہ ہونے کا اقرار ثابت ہوتا ہے عمرو کی ملك ہونے کا اقرار نہیں نکلتا زیادات وصغری وینابیع و عمادیہ وتتارخانیہ وسراجیہ ومنیہ ووہبانیہ وغیرہا میں اسی کی تصحیح کیامام اجل قاضیخان نے افادہ فرمایا کہ یہ اقرار ہو بھی تو بحسب ظاہر ہے اور ظاہر حجت استحقاق نہیں تو مدعی اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ردالمحتار میں منح الغفار سے ہے:
الحاصل روایۃ الجامع ان الاستیام والاستیجار والاستعارۃ ونحوھا اقرار بالملك للمساوم منہ والمستاجر منہ وروایۃ الزیادات انہ لایکون ذلك اقرار بالملکیۃ وھو الصحیح کذا فی العمادیۃ وحکی فیہا اتفاق الروایات علی انہ لاملك للمساوم ونحوہ فیہ ۔ جامع الصغیر کی روایت کے مطابق سودا لگانااجارہ پر طلب کرنا اور عاریتا مانگنا یہ قابض جس سے چیز لی یا مانگی جارہی ہےکی ملکیت کا اقرار ہے اور زیادات کی روایت کے مطابق یہ اس کی ملکیت کا اقرار نہ ہوگایہی صحیح ہے جیسا کہ عمادیہ میں ہے اور اس میں مذکورہ صورت میں ملك نہ ہونے پر روایات کا اتفاق بیان کیا گیا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال الانقروی والاکثر علی تصحیح مافی الزیادات و انہ ظاہر الروایۃ ۔ انقروی نے کہا کہ اکثریت کا مؤقف زیادات کی تصحیح ہےاور یہ ظاہرالروایۃ میں ہے۔(ت)
انقرویہ میں ہے:
فی الصغری عین فی یدرجل صغری میں ہے کہ کوئی چیز کسی شخص کے قبضہ سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۲€
ردالمحتاربحوالہ منح الغفار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۳€
ردالمحتاربحوالہ منح الغفار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۳€
ردالمحتاربحوالہ منح الغفار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۳€
ردالمحتاربحوالہ منح الغفار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۳€
اقدم اخر علی الشراء منہ یکون اقرارا بملکیۃ العین للبائع علی روایۃ الجامع وعلی روایۃ الزیادات لاوھو الصحیح اھوکذافی التاتارخانیۃ من الصغری والنا بیع وفی السراجیۃ الاقدام علی الاستیام لایکون اقرارابملکیۃ ذلك لذی الیدعلی روایۃ الزیادات وعلی روایۃ الجامع یکون اقراراوالاول اصح وکذا فی المنیۃ فظہران فیہ اختلاف التصحیح والاکثر علی تصحیح ما فی الزیادات وانہ ظاہر الروایۃ وقال قاضیخان روی ھشام عن محمد ان المساومۃ اقرارمنہ لہ بالملك والصحیح ماذکر فی ظاہر الروایۃ انہ اقرار من حیث الظاہر فلا یصلح حجۃ للاستحقاق اھ مختصرا۔ خریدنا چاہتا ہے تو یہ اس چیز پر بائع کی ملکیت کا اقرار ہے جامع کی روایت کے مطابق۔جبکہ زیادات کی روایت کے مطابق ایسا نہیں اوریہی صحیح ہے اھاور تاتارخانیہ میں صغری اور ینابیع سے ایسے منقول ہےاور سراجیہ میں ہے کہ کسی سے چیزکو خرید نے کا اقدام یہ قابض کی ملکیت کا اقرار نہیں ہے زیادات کی روایت پر جبکہ جامع کی روایت کے مطابق یہ اقرار ہے اوراول صحیح ہےاور منیہ میں بھی ایسے ہی ہے تو ظاہر ہوا کہس اس مسئلہ کی تصحیح میں اختلاف ہے اور اکثریت زیادات کی تصحیح پر ہے اور یہ کہ ظاہر الروایت ہےاور قاضی خان نے فرمایا کہ ہشام نے امام محمد سے روایت کیا ہے کہ خرید نے کا اقدام قابض کی ملکیت کا اقرار ہےاور صحیح وہ ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے کہ یہ ظاہر میں اقرار ہے تو یہ ظاہری معاملہ استحقاق کےلئے حجت نہیں بن سکتا اھ مختصرا(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر ۔ قاعدہ کے مطابق اکثریت کی رائے پر عمل ہے۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
قلت فیفتی بہ لترجحہ بکونہ ظاہر الروایۃ وان اختلف التصحیح ۔ میں کہتا ہوں کہتو اس پر فتوی دیا جائے کیونکہ اکثریت اور ظاہرالروایت کی وجہ سے یہی راجح ہے اگرچہ تصحیح میں اختلاف ہے۔ (ت)
غمز عیون البصائر میں ہے:
فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم ان مایصححہ قاضیخان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس ۔ علامہ قاسم کی قدوری میں ہے کہ اقوال میں سے جس کو قاضیخان صحیح قرار دیں وہ دوسروں کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ یہ فقیہ النفس ہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
عقودالدریہ میں ہے:
القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر ۔ قاعدہ کے مطابق اکثریت کی رائے پر عمل ہے۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
قلت فیفتی بہ لترجحہ بکونہ ظاہر الروایۃ وان اختلف التصحیح ۔ میں کہتا ہوں کہتو اس پر فتوی دیا جائے کیونکہ اکثریت اور ظاہرالروایت کی وجہ سے یہی راجح ہے اگرچہ تصحیح میں اختلاف ہے۔ (ت)
غمز عیون البصائر میں ہے:
فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم ان مایصححہ قاضیخان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس ۔ علامہ قاسم کی قدوری میں ہے کہ اقوال میں سے جس کو قاضیخان صحیح قرار دیں وہ دوسروں کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ یہ فقیہ النفس ہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ کتاب الدعوی الباب الثانی عشر دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۲ /۱۴۸€
العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان۲€ /۳۵۶،ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۱۰€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الاقرار مصطفی البابی مصر ∞۲ /۹۸€
غمزعیون البصائر کتاب الاجارات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲ /۵۵€
العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان۲€ /۳۵۶،ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۱۰€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الاقرار مصطفی البابی مصر ∞۲ /۹۸€
غمزعیون البصائر کتاب الاجارات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲ /۵۵€
کن علی ذکر مماقالوالایعدل عن تصحیح قاضیخان فانہ فقیہ النفس ۔ توفقہاء کے قول کے مطابق عمل کر جوکہتے ہیں قاضیخان کے قول سے اعراض نہ کیا جائے کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں(ت)
تو یہ اقرار حق عمرو میں کچھ نافع نہ ہوامانا کہ دیوار حسب اقرار زید ملك زید نہیں مگر ملك عمرو ہونے کا اقرار بھی تو نہیںتو مدعی بے بینہ عادلہ شرعیہ یا اقرار مدعاعلیہ یا نکول محض اپنے زعم پر کوئی چیز کسی سے کیونکر لے سکتا ہے اور قاضی کیونکر دلاسکتا ہے فتاوی خیریہ میں ہے:
القاضی انما یقضی بالینۃ اوالاقرار او النکول واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دے گا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۸: ۳ /شوال المکرم۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جبکہ کسی شخص کا گاؤں بلا قید آمدنی ہو یعنی جب پیداوار اچھا ہو آمدنی معقول ہو اور خراب تو کم اور یہ گاؤں اس کے والدین نے ایام نابالغی میں اس کے نام کیا بعد بلوغ باہم ایك پنچایت نامہ ۸۵ء میں بخیال زمانہ نازك ہو اپنچ نے والدین کے نام چھ سو روپے سالانہ اس کے گاؤں کی آمدنی سے دینا اس کے ذمہ قرار دے اور کوئی تفرق حصص والدین نہ کی بلکہ لکھا کہ یہ جملہ آمدنی بدست والد رہے گی وہ جس قدر چاہیں گے خود لیں گے اور جس قدر چاہیں گے اس کی والدہ کو دیں گے اس کا باپ ۸۶ء میں فوت ہوگیا اب اس کی ماں علیحدہ ہوکر پچاس روپے ماہوار کل بیٹے سے لینا چاہتی ہے تو شرعا چھ سوروپے سالانہ سے کس قدر والدہ کو چاہئے کس قدر لڑکے کوبینواتوجروا۔
تو یہ اقرار حق عمرو میں کچھ نافع نہ ہوامانا کہ دیوار حسب اقرار زید ملك زید نہیں مگر ملك عمرو ہونے کا اقرار بھی تو نہیںتو مدعی بے بینہ عادلہ شرعیہ یا اقرار مدعاعلیہ یا نکول محض اپنے زعم پر کوئی چیز کسی سے کیونکر لے سکتا ہے اور قاضی کیونکر دلاسکتا ہے فتاوی خیریہ میں ہے:
القاضی انما یقضی بالینۃ اوالاقرار او النکول واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دے گا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۸: ۳ /شوال المکرم۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جبکہ کسی شخص کا گاؤں بلا قید آمدنی ہو یعنی جب پیداوار اچھا ہو آمدنی معقول ہو اور خراب تو کم اور یہ گاؤں اس کے والدین نے ایام نابالغی میں اس کے نام کیا بعد بلوغ باہم ایك پنچایت نامہ ۸۵ء میں بخیال زمانہ نازك ہو اپنچ نے والدین کے نام چھ سو روپے سالانہ اس کے گاؤں کی آمدنی سے دینا اس کے ذمہ قرار دے اور کوئی تفرق حصص والدین نہ کی بلکہ لکھا کہ یہ جملہ آمدنی بدست والد رہے گی وہ جس قدر چاہیں گے خود لیں گے اور جس قدر چاہیں گے اس کی والدہ کو دیں گے اس کا باپ ۸۶ء میں فوت ہوگیا اب اس کی ماں علیحدہ ہوکر پچاس روپے ماہوار کل بیٹے سے لینا چاہتی ہے تو شرعا چھ سوروپے سالانہ سے کس قدر والدہ کو چاہئے کس قدر لڑکے کوبینواتوجروا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۳€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالفکر بیروت ∞۲ /۶۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالفکر بیروت ∞۲ /۶۷€
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ گاؤں اس کے والد کا تھا اس نے اپنی زوجہ کو مہر میں دیا پھر زوجہ سے اس پسر نابالغ کے نام ہبہ کرالیا پھر بعد بلوغ اس بناء پر کہ آمدنی جائداد کا تحفظ چاہتے ہیں یہ پنچایت نامہ ہواوالدہ صاحب مال وزیور ہے محتاج نفقہ نہیںاس صورت میں لڑکا گاؤں کا مالك مستقل ہوگیا اور یہ پنچایت محض بے معنی تھی جس کی پابندی ہر گز لازم نہیں ہوسکتی کہ شرط حکم صحت دعوی ہے اور دعوی طلب حقاور یہاں والدین کا کوئی حق جائداد وتوفیر میں نہ رہا تھا کہ ان کا دعوی صحیح ہوسکتا اور یہ پنچایت پنچایت ٹھہرتیغایت یہ کہ اس کا قبول کرلینا لڑکے کی طرف سے ایك وعدہ قرار دیا جائے گا اور وعدہ کی وفا پر جبرنہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
لایلزمہ الوفاء بالمواعید ۔ وعدوں کا ایفاء ضروری نہیں ہے۔(ت)
ہاں ماں کی خدمت دارین کی سعادت ہے جس قدر ہو بہتر ہے یہ امر دیگر ہے اور انسان کی اپنی مرضی پر ہےجب حالت یہ ہے کہ ماں محتاج نفقہ نہیں ورنہ بقدرنفقہ دینا واجب۔عالمگیری میں ہے:
یجبر الولد الموسر علی نفقۃ الابوین المعسرین مسلمین کانا او ذمیین قدرا علی الکسب اولم یقدرا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ والدین تنگ دست ہوں تو امیر بیٹے کو بہر صورت ان کے نفقہ پر مجبور کیاجائے گاوالدین مسلمان ہوں یا ذمیوہ کسب پر قادر ہوں یا نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۹: ازریاست رامپور بزریا ملا ظریف گھر منشی عبدالرحمان خاں مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان ۱۳/ذیقعدہ ۱۳۱۵ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان زید نے خریداوقت خرید کے حد رابع کوچہ تھاجب زید نے دعوی بنام عمرو کیا تو اسی حد رابع میں جو بیعنامہ میں کوچہ نافذہ لکھا تھا بموجب حد مندرج بیعنامہ کوچہ نافذہ لکھا گیا عمرو نے بھی اس کو مان لیا دوران مقدمہ میں زید کو معلوم ہواکہ قبل رجوع دعوی ہذا سے بکر نے کوچہ نافذہ کو بند کرلیا اپنا مکان بجائے حد مذکور بنالیا ہے زید نے ایك سوال پیش قاضی اسی مضمون کا باظہار اس کے کہ پہلے وقت شرا کے کوچہ تھا قبل رجوع دعوی سے بکر نے اسی حدمیں کوچہ بند کرکے اپنا مکان بنالیاہے وقت رجوع دعوی کے میں نے نہ دیکھا تھا اب دیکھا تو تبدیل حد مذکور کی ہوگئی ہے بصورت مذکورہ توفیق
سائل مظہر کہ یہ گاؤں اس کے والد کا تھا اس نے اپنی زوجہ کو مہر میں دیا پھر زوجہ سے اس پسر نابالغ کے نام ہبہ کرالیا پھر بعد بلوغ اس بناء پر کہ آمدنی جائداد کا تحفظ چاہتے ہیں یہ پنچایت نامہ ہواوالدہ صاحب مال وزیور ہے محتاج نفقہ نہیںاس صورت میں لڑکا گاؤں کا مالك مستقل ہوگیا اور یہ پنچایت محض بے معنی تھی جس کی پابندی ہر گز لازم نہیں ہوسکتی کہ شرط حکم صحت دعوی ہے اور دعوی طلب حقاور یہاں والدین کا کوئی حق جائداد وتوفیر میں نہ رہا تھا کہ ان کا دعوی صحیح ہوسکتا اور یہ پنچایت پنچایت ٹھہرتیغایت یہ کہ اس کا قبول کرلینا لڑکے کی طرف سے ایك وعدہ قرار دیا جائے گا اور وعدہ کی وفا پر جبرنہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
لایلزمہ الوفاء بالمواعید ۔ وعدوں کا ایفاء ضروری نہیں ہے۔(ت)
ہاں ماں کی خدمت دارین کی سعادت ہے جس قدر ہو بہتر ہے یہ امر دیگر ہے اور انسان کی اپنی مرضی پر ہےجب حالت یہ ہے کہ ماں محتاج نفقہ نہیں ورنہ بقدرنفقہ دینا واجب۔عالمگیری میں ہے:
یجبر الولد الموسر علی نفقۃ الابوین المعسرین مسلمین کانا او ذمیین قدرا علی الکسب اولم یقدرا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ والدین تنگ دست ہوں تو امیر بیٹے کو بہر صورت ان کے نفقہ پر مجبور کیاجائے گاوالدین مسلمان ہوں یا ذمیوہ کسب پر قادر ہوں یا نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۹: ازریاست رامپور بزریا ملا ظریف گھر منشی عبدالرحمان خاں مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان ۱۳/ذیقعدہ ۱۳۱۵ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان زید نے خریداوقت خرید کے حد رابع کوچہ تھاجب زید نے دعوی بنام عمرو کیا تو اسی حد رابع میں جو بیعنامہ میں کوچہ نافذہ لکھا تھا بموجب حد مندرج بیعنامہ کوچہ نافذہ لکھا گیا عمرو نے بھی اس کو مان لیا دوران مقدمہ میں زید کو معلوم ہواکہ قبل رجوع دعوی ہذا سے بکر نے کوچہ نافذہ کو بند کرلیا اپنا مکان بجائے حد مذکور بنالیا ہے زید نے ایك سوال پیش قاضی اسی مضمون کا باظہار اس کے کہ پہلے وقت شرا کے کوچہ تھا قبل رجوع دعوی سے بکر نے اسی حدمیں کوچہ بند کرکے اپنا مکان بنالیاہے وقت رجوع دعوی کے میں نے نہ دیکھا تھا اب دیکھا تو تبدیل حد مذکور کی ہوگئی ہے بصورت مذکورہ توفیق
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷€
کتاب الطلاق الباب السابع عشر الفصل الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۶۴€
کتاب الطلاق الباب السابع عشر الفصل الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۶۴€
ہوگی یا نہیں اور اس توفیق سے دعوی زید قابل سماعت ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان کرو اجر دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
ہاں اور دعوی میں کچھ خلل نہ رہا
فی جامع الفصولین برمزشیخ الاسلام شمس الائمۃ السرخسی ان الشاھد لواخطاء فی بعض الحدثم تدارك واعادالشہادۃ واصاب قبلت شہادتہ لو امکن التوفیق سواء تدارك فی المجلس اوفی مجلس اخر ومعنی امکان التوفیق ان یقول کان صاحب الحد فلانا الاانہ باع دارہ من فلان اخر وما علمنا بہ او یقول کان صاحب الحد بھذا الاسم الاانہ سمی بعد ذلك بھذا الاسم الاخر وما علمنا بہ وعلی ھذا القیاس فافھم ھذااذا ترك الشاہد احدالحدود او غلط فیہ ولو ترك المدعی احد الحدود او غلط فیہ فحکمہ کالشاھد جملۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع الفصولین میں شیخ الاسلام سرخسی کی علامت دے کر کہا کہ اگر حد بندی کے بیان میں گواہ خطا کرے اور پھر خطا کاازالہ کرکے شہادت دے اور درستی کردے تو یہ شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ دونوں بیانوں میں موافقت ہوسکے خطا کا ازالہ اسی مجلس میں کردے یا کسی دوسری مجلس میں کر دے موافقت کا معنی یوں کہ حد بندی والا فلاں ہےکہہ کرپھر کہےمگر اس نے اپنا مکان دوسرے کو فروخت کیا جو فلاں ہے اور اس کا مجھے علم نہیں یوں کہحدود والے کا نام یہ ہےپھر کہےبعد میں اس کا یہ دوسرا نام بتایا گیا ہے اور مجھے علم نہیں ہے علی ہذاالقیاساس کو سمجھویہ گواہ کے متعلق ہے کہ وہ حدود میں سے کسی حد کا ذکرچھوڑدے یا غلطی کرے تو اگر مدعی حد بندی کے بیان میں ایسا کرے تو اس کا حکم بعینہ گواہ کی طرح کا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۵۰: ازریاست رامپور مرسلہ منابھائی ۱۷/ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
صورت یہ ہے کہ زید کے مکان کے بالاخانوں کے ایك ہی سمت اور سلسلے میں بہت دریچے ہیں جن میں سے دو۲ دریچے جدید ہیں اور باقی تمام قدیمہندہ کا مکان زید کے مکان کے مقابل کوئی ستر قدم کے فاصلے پر ہے اور ان دونوں مکانوں کے درمیان ایك وسیع شارع عام اور ایك کھنڈر واقع ہے۔
الجواب:
ہاں اور دعوی میں کچھ خلل نہ رہا
فی جامع الفصولین برمزشیخ الاسلام شمس الائمۃ السرخسی ان الشاھد لواخطاء فی بعض الحدثم تدارك واعادالشہادۃ واصاب قبلت شہادتہ لو امکن التوفیق سواء تدارك فی المجلس اوفی مجلس اخر ومعنی امکان التوفیق ان یقول کان صاحب الحد فلانا الاانہ باع دارہ من فلان اخر وما علمنا بہ او یقول کان صاحب الحد بھذا الاسم الاانہ سمی بعد ذلك بھذا الاسم الاخر وما علمنا بہ وعلی ھذا القیاس فافھم ھذااذا ترك الشاہد احدالحدود او غلط فیہ ولو ترك المدعی احد الحدود او غلط فیہ فحکمہ کالشاھد جملۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع الفصولین میں شیخ الاسلام سرخسی کی علامت دے کر کہا کہ اگر حد بندی کے بیان میں گواہ خطا کرے اور پھر خطا کاازالہ کرکے شہادت دے اور درستی کردے تو یہ شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ دونوں بیانوں میں موافقت ہوسکے خطا کا ازالہ اسی مجلس میں کردے یا کسی دوسری مجلس میں کر دے موافقت کا معنی یوں کہ حد بندی والا فلاں ہےکہہ کرپھر کہےمگر اس نے اپنا مکان دوسرے کو فروخت کیا جو فلاں ہے اور اس کا مجھے علم نہیں یوں کہحدود والے کا نام یہ ہےپھر کہےبعد میں اس کا یہ دوسرا نام بتایا گیا ہے اور مجھے علم نہیں ہے علی ہذاالقیاساس کو سمجھویہ گواہ کے متعلق ہے کہ وہ حدود میں سے کسی حد کا ذکرچھوڑدے یا غلطی کرے تو اگر مدعی حد بندی کے بیان میں ایسا کرے تو اس کا حکم بعینہ گواہ کی طرح کا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۵۰: ازریاست رامپور مرسلہ منابھائی ۱۷/ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
صورت یہ ہے کہ زید کے مکان کے بالاخانوں کے ایك ہی سمت اور سلسلے میں بہت دریچے ہیں جن میں سے دو۲ دریچے جدید ہیں اور باقی تمام قدیمہندہ کا مکان زید کے مکان کے مقابل کوئی ستر قدم کے فاصلے پر ہے اور ان دونوں مکانوں کے درمیان ایك وسیع شارع عام اور ایك کھنڈر واقع ہے۔
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السابع فی تحدید العقار الخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۹۵€
ہندہ نے اس بناء پر کہ اس کے مکان کی بے پردگی ہوتی ہے منجملہ تمام دریچوں کے پانچ دریچے بند کرادینے یا ان کے سامنے دیوار قائم کرادینے کی نالش دائر کردی ان پانچ دریچوں میں سے دو جدید ہیں جن کا ذکر اوپر آچکا اور باقی قدیم چنانچہ فریقین کی شہادت سے یہ بات ثابت ہے اور درحقیقت اس بے پردگی کا باعث یہ ہے کہ ہندہ کاایك مکان جو مانع بے پردگی تھا باختیار ہندہ منہدم ہوگیا اور اب بے پردگی میں دریچہائے متنازع فیہا اور زید کے مکان کے دوسرے دریچے اور وہ لوگ جو بہ سواری اسپ وفیل وشتر وغیرہ شارع عام سے گزرتے ہیں سب برابر ہیں۔زید ہندہ سے کہتا ہے کہ دریچے بند ہوجانے سے میرے ہزار ہا روپے کے مکانات غارت ہوجائیں گے اور تمہارا ہر طرح سے صرف دس بارہ گرہ دیوار بلند کرلینے سے پردہ ہوسکتا ہے اور اگر تمہیں بار ہو تو صرف بھی میں ہی دوں گااس صورت میں علمائے کرام سے سوال یہ ہے کہ آیا مطابق مذہب ائمہ حنفیہ ہندہ زید کو اپنی ملك میں تصرف سے مانع ہوسکتی ہے اور ہندہ دریچے بند کرادینے کی مستحق ہے۔جواب مدلل بنقل و روایات ہو۔ واﷲ لایضیع اجر المحسنین(اﷲ تعالی نیکی والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی ہندہ باطل ونامسموع ہےائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہم کا اصل مذہب و ظاہر الروایۃ ومرجح ومصحح ومفتی بہ یہ ہے کہ انسان اپنی ملك میں تصرف کا مطلقا اختیار رکھتا ہے دوسرا اپنے کسی نفع نقصان کی وجہ سے مالك کو اپنی ملك خاص مستقل میں کسی تصرف سے منع نہیں کرسکتاخود محرر المذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ مبسوط میں کہ کتب ستہ ظاہر الروایۃ سے ہےارشاد فرماتے ہیں:
ان کف عما یوذی جارہ فہواحسنولایجبر علی ذلك ولو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابااوکوۃ لم یکن لصاحب الساحۃ منعہ ولصاحب الساحۃ ان یبنی فی مبلکہ مایستر جھتہ ۔ اپنے پڑوسی کو تکلیف دہ امور نہ کرے تو اچھا ہے جبکہ اس پر اسے مجبور نہیں کیا جاسکتااگر مکان والے نے مکان کے اوپر دروازہ یا کھڑکی کسی کے صحن کی طرف کھولی تو صحن والے کو منع کا حق نہیں ہے تاہم اس کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی ملکیت میں عمار ت بناکر اس کی کھڑکی کو بند کردے۔(ت)
وجیز امام شمس الائمہ کردری میں ہے:
الجواب:
صورت مستفسرہ میں دعوی ہندہ باطل ونامسموع ہےائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہم کا اصل مذہب و ظاہر الروایۃ ومرجح ومصحح ومفتی بہ یہ ہے کہ انسان اپنی ملك میں تصرف کا مطلقا اختیار رکھتا ہے دوسرا اپنے کسی نفع نقصان کی وجہ سے مالك کو اپنی ملك خاص مستقل میں کسی تصرف سے منع نہیں کرسکتاخود محرر المذہب سیدنا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ مبسوط میں کہ کتب ستہ ظاہر الروایۃ سے ہےارشاد فرماتے ہیں:
ان کف عما یوذی جارہ فہواحسنولایجبر علی ذلك ولو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابااوکوۃ لم یکن لصاحب الساحۃ منعہ ولصاحب الساحۃ ان یبنی فی مبلکہ مایستر جھتہ ۔ اپنے پڑوسی کو تکلیف دہ امور نہ کرے تو اچھا ہے جبکہ اس پر اسے مجبور نہیں کیا جاسکتااگر مکان والے نے مکان کے اوپر دروازہ یا کھڑکی کسی کے صحن کی طرف کھولی تو صحن والے کو منع کا حق نہیں ہے تاہم اس کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی ملکیت میں عمار ت بناکر اس کی کھڑکی کو بند کردے۔(ت)
وجیز امام شمس الائمہ کردری میں ہے:
حوالہ / References
فتح القدیر بحوالہ مبسوط لامام محمد کتاب القضاء مسائل شتی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴،€خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الحیطان ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۶۳€
الامام ظہیرالدین کان یفتی بجواب الروایۃ ۔ امام ظہیرالدین اس روایت پر فتوی دیا کرتے تھے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال فی الفتاوی عن استاذنا انہ یفتی علی قول الامام ۔ انہوں نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ ہمارے استاذ سے مروی ہے کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے اس قول پر فتوی دیا کرتے تھے۔(ت)
محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:الوجہ لظاہر الروایۃ (فتوی کی وجہ ظاہر الروایۃ ہے۔ت)شرح تنویر الابصار میں ہے:
جواب ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیر الدین وابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ ۔ ظاہر الروایۃ میں جواب کہ مطلقا منع نہیں ہےاسی پر ایك جماعت کا فتوی ہےجیسا کہ امام ظہیرالدینابن شحنہ اور ان کے والداسی کو فتح میں ترجیح دی ہےاور مجتبی کے باب القسمۃ میں ہے اور اس پر فتوی دیا جائے اور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا فتووں میں اختلاف ہے جبکہ ظاہر روایت پر اعتماد چاہئے۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
ذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن علامہ ابن شحنہ نے فرمایامجھے یاد ہے کہ ہمارے پانچوں ائمہ ابوحنیفہابویوسفمحمدزفراور حسن بن زیاد رضی اﷲ تعالی عنہم سے منقول ہے کہ اپنی ملکیت
اسی میں ہے:
قال فی الفتاوی عن استاذنا انہ یفتی علی قول الامام ۔ انہوں نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ ہمارے استاذ سے مروی ہے کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے اس قول پر فتوی دیا کرتے تھے۔(ت)
محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:الوجہ لظاہر الروایۃ (فتوی کی وجہ ظاہر الروایۃ ہے۔ت)شرح تنویر الابصار میں ہے:
جواب ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیر الدین وابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ ۔ ظاہر الروایۃ میں جواب کہ مطلقا منع نہیں ہےاسی پر ایك جماعت کا فتوی ہےجیسا کہ امام ظہیرالدینابن شحنہ اور ان کے والداسی کو فتح میں ترجیح دی ہےاور مجتبی کے باب القسمۃ میں ہے اور اس پر فتوی دیا جائے اور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا فتووں میں اختلاف ہے جبکہ ظاہر روایت پر اعتماد چاہئے۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
ذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن علامہ ابن شحنہ نے فرمایامجھے یاد ہے کہ ہمارے پانچوں ائمہ ابوحنیفہابویوسفمحمدزفراور حسن بن زیاد رضی اﷲ تعالی عنہم سے منقول ہے کہ اپنی ملکیت
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۱۴€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۱۸€
فتح القدیر کتاب القضاء مسائل شتی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۶€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۱۸€
فتح القدیر کتاب القضاء مسائل شتی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۶€
زیاد رضی اﷲ تعالی عنہم انہ لایمنع عن التصرف فی ملکہ وان اضربجارہ قال وھوالذی امیل الیہ واعتمدہ وافتی بہ تبعا لوالدی شیخ الاسلام رحمہ اﷲتعالی ۔ میں تصرف سے منع نہ کیا جائے اگرچہ پڑوسی کو اس سے تکلیف ہواور فرمایا مجھے یہی پسند ہے اسی پر اعتماد کرتا ہوں اور فتوی دیتا ہوں یہ اپنے والد شیخ الاسلام کی پیروی میں کرتا ہوں رحمۃ اﷲتعالی علیہ۔(ت)
اورفقہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ جب فتوی مختلف ہو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہے اورا س سے عدول ناجائزاور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے مرجوع عنہ ہے اور ہمارے ائمہ کا مذہب نہیں
صرح بکل ذلك فی الخیریۃ والبحر والدرورد المحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار وقد سردنا نصوصھم فی کتاب النکاح وغیرہ من فتاونا۔ اس تمام کی تصریح خیریہبحردر اور ردالمحتار وغیرہا قابل اعتماد کتب میں ہےان کی نصوص کو ہم نے اپنے فتاوی کے باب النکاح میں جمع کردیا ہے۔(ت)
متاخرین نے کہ بر خلاف مذہب جملہ ائمہ مذہب بنظر"لاضرر ولاضرار فی الاسلام "منع پر فتوی دیا صاف تصریح فرمائی کہ اس کا محل وہاں ہے کہ مالك کا وہ تصرف دوسرے کو ضرر شدید صریح پہنچاتا ہو جس کی وجہ سے اس کا مکان گرجائے یا اصلا قابل انتفاع نہ رہے ورنہ بالاجماع ممانعت نہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
لایمنع الشخص من تصرفہ فی مبلکہ الااذاکان الضرر بینا ۔ کسی شخص کو اپنی ملکیت میں تصرف سے منع نہ کیا جائیگا الایہ کہ اس سے واضح ضرر پیدا ہو۔(ت)
بحر میں ہے:
صحح النسفی فی الحمام ان الضرر ان کان فاحشا یمنع والافلاوالحاصل ان الذی علیہ غالب المشائخ من امام نسفی نے تصحیح فرمائی ہے کہ اگر حمام کی وجہ سے فحش ضرر ہو تو منع کیا جائے ورنہ نہیںحاصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں متاخرین کی غالب اکثریت
اورفقہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ جب فتوی مختلف ہو ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع ہے اورا س سے عدول ناجائزاور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے مرجوع عنہ ہے اور ہمارے ائمہ کا مذہب نہیں
صرح بکل ذلك فی الخیریۃ والبحر والدرورد المحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار وقد سردنا نصوصھم فی کتاب النکاح وغیرہ من فتاونا۔ اس تمام کی تصریح خیریہبحردر اور ردالمحتار وغیرہا قابل اعتماد کتب میں ہےان کی نصوص کو ہم نے اپنے فتاوی کے باب النکاح میں جمع کردیا ہے۔(ت)
متاخرین نے کہ بر خلاف مذہب جملہ ائمہ مذہب بنظر"لاضرر ولاضرار فی الاسلام "منع پر فتوی دیا صاف تصریح فرمائی کہ اس کا محل وہاں ہے کہ مالك کا وہ تصرف دوسرے کو ضرر شدید صریح پہنچاتا ہو جس کی وجہ سے اس کا مکان گرجائے یا اصلا قابل انتفاع نہ رہے ورنہ بالاجماع ممانعت نہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
لایمنع الشخص من تصرفہ فی مبلکہ الااذاکان الضرر بینا ۔ کسی شخص کو اپنی ملکیت میں تصرف سے منع نہ کیا جائیگا الایہ کہ اس سے واضح ضرر پیدا ہو۔(ت)
بحر میں ہے:
صحح النسفی فی الحمام ان الضرر ان کان فاحشا یمنع والافلاوالحاصل ان الذی علیہ غالب المشائخ من امام نسفی نے تصحیح فرمائی ہے کہ اگر حمام کی وجہ سے فحش ضرر ہو تو منع کیا جائے ورنہ نہیںحاصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں متاخرین کی غالب اکثریت
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۳۳€
نصب الرایۃ کتاب الجنایات باب مایحدث الرجل فی الطریق الخ مکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴ /۳۸۴€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۵€
نصب الرایۃ کتاب الجنایات باب مایحدث الرجل فی الطریق الخ مکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴ /۳۸۴€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۵€
المتاخرین الاستحسان فی اجناس ھذہ المسائل وافتی طائفۃ بجواب القیاس المروی واختار فی العمادیۃ المنع اذاکان الضرر بینا وظاہر الروایۃ خلافہ ۔ نے استحسان پر عمل کیا اور ایك گروہ نے قیاس کے مطابق جواب دیا ہے اور عمادیہ میں منع مذکور ہے جب ضرر واضح ہواورظاہر روایت اس کے خلاف ہے۔(ت)
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے:
ترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضرر افاحشا وھو المراد بالبین وھو مایکون سبباللھدم او یخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو مایمنع الحوائج الاصلیۃ کسد الضوء بالکلیۃ واختارواالفتوی علیہ فاما التوسع الی منع کل ضررما فیسد باب انتفاع الانسان بمبلکہ کماذکرناقریبا ۔ جہاں غیرکو اس کا ضرر فاحش پہنچے وہاں قیاس کو ترك کیا جائے گا اور واضح ضرر سے یہی مراد ہے کہ دوسرے کی عمارت کے انہدام کا سبب بنے یا انتفاع کلی طور پر ختم ہوجائے وہ یہ کہ حوائج اصلیہ مثلا روشنی کو مکمل ختم کردے اسی پر فتوی ہے لیکن ہر قسم کے ضرر کی وجہ سے منع کرنا وسیع ہو تو پھر انسان اپنی ملکیت میں تصرف وانتفاع سے محروم ہوجائیگا جیسا کہ قریب ذکر ہوا۔(ت)
یہاں اگر فرض کیا جائے کہ اب ہندہ کا ایسا ہی ضرر ہے جس کے سبب اس کا مکان اصلا قابل انتفاع نہ رہا تو یہ ضرر دریچوں نے نہ پہنچایا کہ وہ تو قدیم سے ہیں اب تك ہندہ نے اپنے مکان سے کیونکر انتفاع کیا بلکہ یہ نقصان اس دیوار ہندہ کے انہدام سے پیدا ہوا جو حسب بیان سائل خود باختیار ہندہ منہدم ہوئی اورکوئی شخص خود اپنے لئے سبب ضرر پیدا کرکے دوسرے کا گریبان گیر نہیں ہوسکتا ورنہ کل کو ہندہ اپنی دیوار پردہ سے گزدوگز اور اتارکر شارع عام بند کرنے کی خواستگار ہوگی لوگوں کے گزرنے سے میری بے پردگی ہےایسے مہمل دعوے اگر سن لئے جائیں تو ایك عورت کہ محلہ کے وسط میں رہتی ہواہل محلہ کی عافیت تنگ کرسکتی ہے اپنے کچے جھونپڑے کی چاروں دیواریں گراکر چار طرف کی نشست گاہوں پر دعوی کردے کہ ان سے میری بے پردگی ہے سب تیغا کرادی جائیں یا ان کے سامنے دیواریں کھنچوادی جائیں گراتے وقت کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑسکتا کہ وہ کہے گی میں اپنی ملك خاص میں تصرف کرتی ہوں تم کوناور جب
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے:
ترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضرر افاحشا وھو المراد بالبین وھو مایکون سبباللھدم او یخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو مایمنع الحوائج الاصلیۃ کسد الضوء بالکلیۃ واختارواالفتوی علیہ فاما التوسع الی منع کل ضررما فیسد باب انتفاع الانسان بمبلکہ کماذکرناقریبا ۔ جہاں غیرکو اس کا ضرر فاحش پہنچے وہاں قیاس کو ترك کیا جائے گا اور واضح ضرر سے یہی مراد ہے کہ دوسرے کی عمارت کے انہدام کا سبب بنے یا انتفاع کلی طور پر ختم ہوجائے وہ یہ کہ حوائج اصلیہ مثلا روشنی کو مکمل ختم کردے اسی پر فتوی ہے لیکن ہر قسم کے ضرر کی وجہ سے منع کرنا وسیع ہو تو پھر انسان اپنی ملکیت میں تصرف وانتفاع سے محروم ہوجائیگا جیسا کہ قریب ذکر ہوا۔(ت)
یہاں اگر فرض کیا جائے کہ اب ہندہ کا ایسا ہی ضرر ہے جس کے سبب اس کا مکان اصلا قابل انتفاع نہ رہا تو یہ ضرر دریچوں نے نہ پہنچایا کہ وہ تو قدیم سے ہیں اب تك ہندہ نے اپنے مکان سے کیونکر انتفاع کیا بلکہ یہ نقصان اس دیوار ہندہ کے انہدام سے پیدا ہوا جو حسب بیان سائل خود باختیار ہندہ منہدم ہوئی اورکوئی شخص خود اپنے لئے سبب ضرر پیدا کرکے دوسرے کا گریبان گیر نہیں ہوسکتا ورنہ کل کو ہندہ اپنی دیوار پردہ سے گزدوگز اور اتارکر شارع عام بند کرنے کی خواستگار ہوگی لوگوں کے گزرنے سے میری بے پردگی ہےایسے مہمل دعوے اگر سن لئے جائیں تو ایك عورت کہ محلہ کے وسط میں رہتی ہواہل محلہ کی عافیت تنگ کرسکتی ہے اپنے کچے جھونپڑے کی چاروں دیواریں گراکر چار طرف کی نشست گاہوں پر دعوی کردے کہ ان سے میری بے پردگی ہے سب تیغا کرادی جائیں یا ان کے سامنے دیواریں کھنچوادی جائیں گراتے وقت کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑسکتا کہ وہ کہے گی میں اپنی ملك خاص میں تصرف کرتی ہوں تم کوناور جب
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۳۳€
ردالمحتار کتاب القضاء مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۶۱€
ردالمحتار کتاب القضاء مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۶۱€
گراچکی تو اب لوگوں کی نشستگاہوں سے اس کا ضرر ظاہر ہےانصافا اس وقت مفتی کیا فتوی اور قاضی کیا حکم دے گاکیا ہندہ کے اپنے پیدا کئے ہوئے ضرر کے سبب اس کا لایعنی دعوی سن لیا جائے گا یا اسی کو اپنا پردہ بدستور درست کرلینے کا حکم کردیا جائے گا خصوصا جس حالت میں کہ زید محض تبرع واحسان یہ بھی کہتا ہے کہ میں اپنے صرف سے دیوار اونچی کردوںپھر ہندہ کا نہ ماننا سواتعنت وایذارسانی کے کس امر پر محمول ہوسکتا ہے ولاضرر ولاضرارفی الاسلام (اسلام میں ضرررسانی جائز نہیں ہے۔ ت)بالجملہ صورت مستفسرہ میں ہمارے جملہ ائمہ مذہب رضی اﷲ عنہم کے اصل مذہب مفتی بہ پر تودعوی ہندہ کی کوئی گنجائش ہی نہیںانصافا مختار متاخرین بھی اس صورت سے بیگانہ ہے کہ اضرار جانب زید سے نہیں فعلیك بترك الاعتساف والانصاف خیرالاوصاف(کج روی کو ترك کرنا لازم ہے اور انصاف بہترین خوبی ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: ازملك اپر برہمامانڈلہ زیجوبازار مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد اپنی زوجہ ہندہ کے قبضہ میں چھوڑیبعد ازیں انتقال کیااور اپنی بہن کا نواسہ عمرواور زوجہ ہندہ کو چھوڑا بعد وفات زید کے جائداد متروکہ پر ہندہ قابض رہیاب ہندہ نے وہ جائدا جو اس کے قبضہ میں تھی اس میں سے کچھ بنام خالد اپنے بھتیجے کو ہبہ کرکے دستاویز رجسٹری کرادی اور کچھ اپنی بہن زینب وفاطمہ اور کچھ کلثوم اپنی بہن متوفاۃ کی بیٹی کو اور دو بھتیجوں کو تقسیم کرکے ان کے نام رجسٹری کرادیبعد اس کے ہندہ نے انتقال کیااب عمرو جائداد مذکورہ کا دعوی کرتا ہے شرعا جائداد کس کو ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر عمروعاقل بالغ اسی شہر میں موجود ہندہ کے ان تصرفات پر مطلع تھا اور دعوی نہ کیا اب بعد انتقال ہندہ مدعی ہوا تو یہ دعوی اصلا قابل سماعت نہیں کہ ان تصرفوں پر مطلع ہوکر ساکت رہنا صریح دلیل ہے کہ عمرو کا جائداد میں کوئی حق نہ تھا خلاصہ میں ہے:
رجل تصرف فی ارض زمانا ورجل اخریری تصرفہ فیہا ثم مات المتصرف ولم یدع الرجل ایك شخص ایك زمانہ سے زمین میں تصرف کررہا ہے اور دوسرا شخص زمین میں اس کے تصرفات کو دیکھ رہاہے پھر تصرف کرنے والا فوت ہوا تو اب وفات
مسئلہ ۵۱: ازملك اپر برہمامانڈلہ زیجوبازار مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد اپنی زوجہ ہندہ کے قبضہ میں چھوڑیبعد ازیں انتقال کیااور اپنی بہن کا نواسہ عمرواور زوجہ ہندہ کو چھوڑا بعد وفات زید کے جائداد متروکہ پر ہندہ قابض رہیاب ہندہ نے وہ جائدا جو اس کے قبضہ میں تھی اس میں سے کچھ بنام خالد اپنے بھتیجے کو ہبہ کرکے دستاویز رجسٹری کرادی اور کچھ اپنی بہن زینب وفاطمہ اور کچھ کلثوم اپنی بہن متوفاۃ کی بیٹی کو اور دو بھتیجوں کو تقسیم کرکے ان کے نام رجسٹری کرادیبعد اس کے ہندہ نے انتقال کیااب عمرو جائداد مذکورہ کا دعوی کرتا ہے شرعا جائداد کس کو ملنا چاہئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر عمروعاقل بالغ اسی شہر میں موجود ہندہ کے ان تصرفات پر مطلع تھا اور دعوی نہ کیا اب بعد انتقال ہندہ مدعی ہوا تو یہ دعوی اصلا قابل سماعت نہیں کہ ان تصرفوں پر مطلع ہوکر ساکت رہنا صریح دلیل ہے کہ عمرو کا جائداد میں کوئی حق نہ تھا خلاصہ میں ہے:
رجل تصرف فی ارض زمانا ورجل اخریری تصرفہ فیہا ثم مات المتصرف ولم یدع الرجل ایك شخص ایك زمانہ سے زمین میں تصرف کررہا ہے اور دوسرا شخص زمین میں اس کے تصرفات کو دیکھ رہاہے پھر تصرف کرنے والا فوت ہوا تو اب وفات
حوالہ / References
نصب الرایۃ کتاب الجنایات باب مایحدثہ الرجل فی الطریق المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴ /۳۸۴€
حال حیاتہ لاتسمع دعواہ بعد وفاتہ ۔ کے بعد دوسرے نے زمین پر دعوی کیا تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا کیونکہ اس کی زندگی میں دوسرے نے دعوی نہ کیا۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
فی فتاوی المرحوم العلامۃ الغزی صاحب التنویر سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنواۃ ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرف فی المدۃ المذکورۃ فہل اذاادعی البیت اوبعضہ تسمع دعواہ ام لا اجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی ۔ علامہ غزی صاحب تنویر کے فتاوی میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص کا حویلی میں مکان ہے وہاں وہ تین سال سے زائد عرصہ رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے مکان میں توڑ پھوڑ اور مرمت کاکام کرتا رہا اس کے پڑوس والا شخص اس کے ان تصرفات کو دیکھتا رہا اور مدت مذکورہ میں خاموش رہنے کے باوجود اب اس مکان کے کل یا بعض پر دعوی کرے تو اس کا دعوی مسموع ہوگا یا نہیں تو جواب میں فرمایا کہ فتوی کے مطابق اب اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
اوراگراس وقت تك بچہ یا مجنون یا غائب تھا اب عاقل بالغ ہو ایا اطلاع پائی تو اگر ثابت ہو کہ زید کی جائداد قبضہ ہندہ میں بطور ہبہ یا بعوض دین مہر تھا جب بھی دعوی عمرو نامقبول ہونا خود ظاہراوراگر اس کا ثبوت نہ ہو تو دیکھیں گے کہ دین مہر ہندہ ترکہ کو مستغرق یعنی اس کی قیمت سے زائد مساوی ہے یانہیںاگر مستغرق ثابت ہو جب بھی عمرو کا اصل مبنائے دعوی عن ملك بذریعہ وراثت حاصل ہی تھا کہ دین جب ترکہ کو محیط ہو تو وارث اس کے مالك نہیں ہوتے نہ وہ اسے لے سکتے ہیں کل جائداد ادائے دین میں صرف کی جائیگیاشباہ میں ہے:
الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔ میت پر قرضہ اس کے ترکہ کے برابر یا زائد ہو تو وارث کی ملکیت کےلئے مانع ہے(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
فی فتاوی المرحوم العلامۃ الغزی صاحب التنویر سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنواۃ ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرف فی المدۃ المذکورۃ فہل اذاادعی البیت اوبعضہ تسمع دعواہ ام لا اجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی ۔ علامہ غزی صاحب تنویر کے فتاوی میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص کا حویلی میں مکان ہے وہاں وہ تین سال سے زائد عرصہ رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے مکان میں توڑ پھوڑ اور مرمت کاکام کرتا رہا اس کے پڑوس والا شخص اس کے ان تصرفات کو دیکھتا رہا اور مدت مذکورہ میں خاموش رہنے کے باوجود اب اس مکان کے کل یا بعض پر دعوی کرے تو اس کا دعوی مسموع ہوگا یا نہیں تو جواب میں فرمایا کہ فتوی کے مطابق اب اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
اوراگراس وقت تك بچہ یا مجنون یا غائب تھا اب عاقل بالغ ہو ایا اطلاع پائی تو اگر ثابت ہو کہ زید کی جائداد قبضہ ہندہ میں بطور ہبہ یا بعوض دین مہر تھا جب بھی دعوی عمرو نامقبول ہونا خود ظاہراوراگر اس کا ثبوت نہ ہو تو دیکھیں گے کہ دین مہر ہندہ ترکہ کو مستغرق یعنی اس کی قیمت سے زائد مساوی ہے یانہیںاگر مستغرق ثابت ہو جب بھی عمرو کا اصل مبنائے دعوی عن ملك بذریعہ وراثت حاصل ہی تھا کہ دین جب ترکہ کو محیط ہو تو وارث اس کے مالك نہیں ہوتے نہ وہ اسے لے سکتے ہیں کل جائداد ادائے دین میں صرف کی جائیگیاشباہ میں ہے:
الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔ میت پر قرضہ اس کے ترکہ کے برابر یا زائد ہو تو وارث کی ملکیت کےلئے مانع ہے(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ الخلاصہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
ہاں اگر عمرو کہے کہ میں تمام وکمال دین مہر اپنے پاس سے اداکئے دیتا ہوں تو بیشك اسے اختیار ہوگا کہ دین ادا کرکے ترکہ چھڑالے۔ اشباہ میں ہے:
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین و لو مستغرقا ۔ وارث کو قرضہ ادا کرکے ترکہ کو حاصل کرلینے کا حق ہے اگرچہ وہ ترکہ قرضہ میں مستغرق ہو۔(ت)
اس صورت میں اور نیز جبکہ دین مستغرق نہ ہو بعدا دائے دین جو باقی بچے اس کے ثلث میں زید کی وصیت اگر اس نے کچھ کی ہو نافذ کرکے مابقی بر تقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین چار سہم ہو کر ایك سہم ہندہ اورتین سہام عمرو کو ملیں گے ان تقدیرات پر جن میں کل جائداد مملوك ہندہ نہ ٹھہری جتنے ہبہ ہندہ نے جس جس کے نام کئے سب باطل ہوجائیں گے چہارم حصہ جو ہندہ کو پہنچا اس کے وارثان شرعی پر حسب فرائض تقسیم ہوجائیگا۔ درمختار میں ہے:
الاستحقاق شیوع مقارن لاطارئ فیفسد الکل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ غیرمنقسم حصوں کا استحقاق ابتداء سے مقارن ہو طاری نہ ہو تو تمام حصوں کو فاسد کردے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۲: ازریاست رامپور مرسلہ احمد خان صاحب ۶/جمادی الآخرہ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدعی ہوا کہ میں نے آٹھ ہزار روپے یا فتنی عمروکے میرے ذمے تھے عمرو کو پہنچادئے اور چند گواہ متفق اللفظ والمعنی حاکم کے حضور گزرائے جنہوں نے بالاتفاق رقم مذکور کی نسبت عمرو کے اقرار وصول کرنے پر شہادت دی زید نے اس رقم کی رسیدیں کبھی پیش کیں جن کی تحریرسے بھی عمرو کو اقرار ہےعمرو اس کے جواب میں کہتا ہے کہ ان میں ایك رسید تین سوکی تو میں نے دی ہی نہیں اور دو رسیدیں ایك تین سو اور ایك دو سو چالیس کی زید نے چالاکی سے بڑھالی ہیں وہ سو اوریہ صرف چالیس کی میں نے دی تھیاس مضمون پر عمرو نے چند گواہ دئے کہ یہ رسیدیں سو اور چالیس کی عمرو نے لکھی تھیںاس صورت میں دفع دعوی زید کے لئے یہ گواہ مقبول ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں نہ عمرو کا یہ جواب مقبول نہ اس میں اس مضمون کی شہادت مسموع۔شرع میں
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین و لو مستغرقا ۔ وارث کو قرضہ ادا کرکے ترکہ کو حاصل کرلینے کا حق ہے اگرچہ وہ ترکہ قرضہ میں مستغرق ہو۔(ت)
اس صورت میں اور نیز جبکہ دین مستغرق نہ ہو بعدا دائے دین جو باقی بچے اس کے ثلث میں زید کی وصیت اگر اس نے کچھ کی ہو نافذ کرکے مابقی بر تقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین چار سہم ہو کر ایك سہم ہندہ اورتین سہام عمرو کو ملیں گے ان تقدیرات پر جن میں کل جائداد مملوك ہندہ نہ ٹھہری جتنے ہبہ ہندہ نے جس جس کے نام کئے سب باطل ہوجائیں گے چہارم حصہ جو ہندہ کو پہنچا اس کے وارثان شرعی پر حسب فرائض تقسیم ہوجائیگا۔ درمختار میں ہے:
الاستحقاق شیوع مقارن لاطارئ فیفسد الکل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ غیرمنقسم حصوں کا استحقاق ابتداء سے مقارن ہو طاری نہ ہو تو تمام حصوں کو فاسد کردے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۲: ازریاست رامپور مرسلہ احمد خان صاحب ۶/جمادی الآخرہ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدعی ہوا کہ میں نے آٹھ ہزار روپے یا فتنی عمروکے میرے ذمے تھے عمرو کو پہنچادئے اور چند گواہ متفق اللفظ والمعنی حاکم کے حضور گزرائے جنہوں نے بالاتفاق رقم مذکور کی نسبت عمرو کے اقرار وصول کرنے پر شہادت دی زید نے اس رقم کی رسیدیں کبھی پیش کیں جن کی تحریرسے بھی عمرو کو اقرار ہےعمرو اس کے جواب میں کہتا ہے کہ ان میں ایك رسید تین سوکی تو میں نے دی ہی نہیں اور دو رسیدیں ایك تین سو اور ایك دو سو چالیس کی زید نے چالاکی سے بڑھالی ہیں وہ سو اوریہ صرف چالیس کی میں نے دی تھیاس مضمون پر عمرو نے چند گواہ دئے کہ یہ رسیدیں سو اور چالیس کی عمرو نے لکھی تھیںاس صورت میں دفع دعوی زید کے لئے یہ گواہ مقبول ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں نہ عمرو کا یہ جواب مقبول نہ اس میں اس مضمون کی شہادت مسموع۔شرع میں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
ایسی جگہ اقرار حجت شرعیہ ہے اور اس پر شہادت ثبوت دعوی کے لئے کافیہ وافیہجامع الفصولین فصل حادی عشر میں ہے:
لوادعی قضاء دینہ اشھداانہ اقربا ستیفائہ تقبل ۔ اگر مدعی نے قرض ادا کرنے کا دعوی کیا ہو دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ مدعی نے قرض وصول کرلینے کا اقرار کیا ہےتو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
بخلاف رسیدات کہ یہ کوئی حجت نہیں حاصل انکار عمرو یہ ہوگا کہ منجملہ آٹھ ہزار کے سات سو مجھے نہ ملے کہ اس قدر کی رسید میری لکھی ہوئی نہیںایسا فضول جواب بعد ثبوت اقرار کیا قابل التفات ہوسکتا ہےبالفرض اگر ایك رسید کو بھی عمرو نہ مانتا یا اصلا کوئی رسید ہوتی ہی نہیں تو ثبوت اقرار ثبوت ایصال کو بس تھا اور جب یہ جواب خود مہمل ہے تو اس پر شہادت بھی قطع نظر اس سے کہ معنی نفی پر شہادت ہے جس کا حاصل یہ کہ اتنے روپے نہ پہنچے خود فضول و مہمل ہے کہ یہ شہادت ایسی ہی چیز ہے جس کا وجود وعدم یکساںتو بعد ثبوت حجت شرعیہ ایك امر غیر حجت میں خلل ہو بھی توکیا۔فتاوی قاضیخان واشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ و عقود الدریہ وغیرہاکتب کثیرہ میں ہے:
واللفظ للعلامۃ الرملی فی فتاوی المقرر عندعلماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولاالتفات الیہ حجج الشرع ثلثۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما صرح بہ فی الاقرار الخانیۃ ۔ فتاوی میں علامہ رملی کے الفاظ ہیں کہ علماء احناف کے ہاں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ محض خط کا کوئی کااعتبار ہے نہ وہ قابل توجہ ہے کیونکہ شرعی دلائل تین ہیں:گواہی یا اقراریا قسم سے انکارجیسا کہ خانیہ کے باب الاقرار میں تصریح ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول کما فی اقرار الخانیۃ وقد نقلہ الشیخ زین فی اشباھہ ونظائرہ فی قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے جیساکہ خانیہ کے باب الاقرار میں ہے اور اس کو شیخ زین الدین نے اپنی اشباہ ونظائر میں کتاب القضاء کے شروع
لوادعی قضاء دینہ اشھداانہ اقربا ستیفائہ تقبل ۔ اگر مدعی نے قرض ادا کرنے کا دعوی کیا ہو دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ مدعی نے قرض وصول کرلینے کا اقرار کیا ہےتو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
بخلاف رسیدات کہ یہ کوئی حجت نہیں حاصل انکار عمرو یہ ہوگا کہ منجملہ آٹھ ہزار کے سات سو مجھے نہ ملے کہ اس قدر کی رسید میری لکھی ہوئی نہیںایسا فضول جواب بعد ثبوت اقرار کیا قابل التفات ہوسکتا ہےبالفرض اگر ایك رسید کو بھی عمرو نہ مانتا یا اصلا کوئی رسید ہوتی ہی نہیں تو ثبوت اقرار ثبوت ایصال کو بس تھا اور جب یہ جواب خود مہمل ہے تو اس پر شہادت بھی قطع نظر اس سے کہ معنی نفی پر شہادت ہے جس کا حاصل یہ کہ اتنے روپے نہ پہنچے خود فضول و مہمل ہے کہ یہ شہادت ایسی ہی چیز ہے جس کا وجود وعدم یکساںتو بعد ثبوت حجت شرعیہ ایك امر غیر حجت میں خلل ہو بھی توکیا۔فتاوی قاضیخان واشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ و عقود الدریہ وغیرہاکتب کثیرہ میں ہے:
واللفظ للعلامۃ الرملی فی فتاوی المقرر عندعلماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولاالتفات الیہ حجج الشرع ثلثۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما صرح بہ فی الاقرار الخانیۃ ۔ فتاوی میں علامہ رملی کے الفاظ ہیں کہ علماء احناف کے ہاں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ محض خط کا کوئی کااعتبار ہے نہ وہ قابل توجہ ہے کیونکہ شرعی دلائل تین ہیں:گواہی یا اقراریا قسم سے انکارجیسا کہ خانیہ کے باب الاقرار میں تصریح ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول کما فی اقرار الخانیۃ وقد نقلہ الشیخ زین فی اشباھہ ونظائرہ فی قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے جیساکہ خانیہ کے باب الاقرار میں ہے اور اس کو شیخ زین الدین نے اپنی اشباہ ونظائر میں کتاب القضاء کے شروع
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب القضاء دارالفکر بیروت ∞۲ /۱۲€
فتاوٰی خیریہ کتاب القضاء دارالفکر بیروت ∞۲ /۱۲€
اول کتاب القضاء ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ میں ذکر کیا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۳: ازریاست رامپور محلہ مدرسہ مولوی حکیم نجم الغنی خاں صاحب طبیب شفاخانہ فوجی ریاست رامپور ۱۶/رجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یعقوب علی خاں نے اپنے برادر عینی عبدالغنی خاں اور ان کی زوجہ وپسر محمدی بیگم ونجم الغنی خاں پر حاکم شرع کے حضور نسبت مکان مسکونہ مدعا علیہم دعوی دخلیابی بریں بنادائر کیا کہ یہ مکان عبدالغنی خان نے ۱۹/مئی ۱۸۹۷ء کوعلی محمد خان کے ہاتھ بیع کیا پھر یکم جون ۱۸۹۷ء کو اس سے کرایہ پر لیا بعدہ علی محمد خان مالك مشتری نے ۱۳/جولائی ۱۸۹۸ء کو میرے ہاتھ بیچا عبدالغنی خان اصالۃ اور انکی زوجہ وپسر بالتبع بذریعہ کرایہ قابض اب تخلیہ نہیں کرتے عبدالغنی خان نے دعوی مدعی قبول کیا اور علی محمد خان نے بھی اس کی تصدیق کی محمد بیگم ونجم الغنی خان نے جواب دیا کہ دعوی بہ ساز ش عبدالغنی خاں برادر حقیقی مدعی دائر ہوا ہے عبدالغنی خاں نے یہ مکان یکم جنوری ۹۷ء کو مجھ محمدی بیگم کے ہاتھ تین سو روپے کو بیچ کر بیعنامہ مہری اپنا مرتب بگواہی گواہان کرکے مجھے حوالہ کردیا اور زر ثمن میرے مہر میں مجرا کیا مجھے مالك مستقل بناکر قابض کرادیا جب مجھے معلوم ہوا کہ بیعنامہ غیر مصدقہ رجسٹری ہے تو میرے اعتراض پر رجسٹری کرادینے کا وعدہ کیا اور لطائف الحیل میں رکھا پھر کہہ دیا ہمارا تمہارا معاملہ زن وشوکا ہے تصدیق کی کیا ضرورتپھر خارجا اس بیع فرضی کی کارروائی کیمحمدی بیگم نے اپنے ثبوت میں بیعنامہ مذکور مہری عبدالغنی خان اور آٹھ مرد دو عورتیں گواہ پیش کئے حاکم مجوز نے حسب سرکلر مجریہ نواب خالد آشیاں کے جس کاغذ بے رجسٹری کے ثبوت پر وجہ وجیہہ گزرجائے تو اسے ثبوت میں لینے اور باضابطہ تحقیقات کرنے کی نسبت حکام بالا سے اجازت لے کر بعد تحقیقات فیس اسٹامپ وتاوان رجسٹری لے کر مثل کاغذات مصدقہ سمجھا جائے حاکم مجوز نے بعد سماع ثبوت اجازت تحقیقات مزید حاصل کی پھر بعد مزید تحقیقات فیس اور تاوان لے لیایہ ثبوت و تحقیقات انہیں گواہان پیش کردہ محمدی بیگم سے ہوئے ان میں سید حشمت علی ویوسف علی خاں صاحبان شہود ایجاب و قبول ہیں کہ ہمارے سامنے عبدالغنی خاں نے اپنی زوجہ محمدی بیگم سے کہا یہ مکان میں نے تمہارے ہاتھ تین سو روپے کو بیچا اور زر ثمن تمہارے مہر میں مجرا کیا بیعنامہ دو چارروز میں لکھا دوں گا محمدی بیگم نے کہا میں نے سید اشرف علی کاتب بیعنامہ اور شمس الدین خاں غلام محی الدین خاں نثار علی شاہ عبدالرزاق خان پانچوں گواہان حاشیہ بیعنامہ ہیںان میں کاتب کا بیان ہے میں نے یہ بیعنامہ عبدالغنی خان کے کہنے سے لکھاعبارت عبدالغنی خاں بتاتے گئے مہر اپنی انہوں نے اپنے ہاتھ سے لگائیعبدالرزاق خان نے کہا میں مولوی عبدالغنی خان کے بیٹے سے ملنے گیا مولوی عبدالغنی خان نے مکان متنازعہ کاکاغذ نکالا اورکہا کہ یہ مکان
مسئلہ۵۳: ازریاست رامپور محلہ مدرسہ مولوی حکیم نجم الغنی خاں صاحب طبیب شفاخانہ فوجی ریاست رامپور ۱۶/رجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یعقوب علی خاں نے اپنے برادر عینی عبدالغنی خاں اور ان کی زوجہ وپسر محمدی بیگم ونجم الغنی خاں پر حاکم شرع کے حضور نسبت مکان مسکونہ مدعا علیہم دعوی دخلیابی بریں بنادائر کیا کہ یہ مکان عبدالغنی خان نے ۱۹/مئی ۱۸۹۷ء کوعلی محمد خان کے ہاتھ بیع کیا پھر یکم جون ۱۸۹۷ء کو اس سے کرایہ پر لیا بعدہ علی محمد خان مالك مشتری نے ۱۳/جولائی ۱۸۹۸ء کو میرے ہاتھ بیچا عبدالغنی خان اصالۃ اور انکی زوجہ وپسر بالتبع بذریعہ کرایہ قابض اب تخلیہ نہیں کرتے عبدالغنی خان نے دعوی مدعی قبول کیا اور علی محمد خان نے بھی اس کی تصدیق کی محمد بیگم ونجم الغنی خان نے جواب دیا کہ دعوی بہ ساز ش عبدالغنی خاں برادر حقیقی مدعی دائر ہوا ہے عبدالغنی خاں نے یہ مکان یکم جنوری ۹۷ء کو مجھ محمدی بیگم کے ہاتھ تین سو روپے کو بیچ کر بیعنامہ مہری اپنا مرتب بگواہی گواہان کرکے مجھے حوالہ کردیا اور زر ثمن میرے مہر میں مجرا کیا مجھے مالك مستقل بناکر قابض کرادیا جب مجھے معلوم ہوا کہ بیعنامہ غیر مصدقہ رجسٹری ہے تو میرے اعتراض پر رجسٹری کرادینے کا وعدہ کیا اور لطائف الحیل میں رکھا پھر کہہ دیا ہمارا تمہارا معاملہ زن وشوکا ہے تصدیق کی کیا ضرورتپھر خارجا اس بیع فرضی کی کارروائی کیمحمدی بیگم نے اپنے ثبوت میں بیعنامہ مذکور مہری عبدالغنی خان اور آٹھ مرد دو عورتیں گواہ پیش کئے حاکم مجوز نے حسب سرکلر مجریہ نواب خالد آشیاں کے جس کاغذ بے رجسٹری کے ثبوت پر وجہ وجیہہ گزرجائے تو اسے ثبوت میں لینے اور باضابطہ تحقیقات کرنے کی نسبت حکام بالا سے اجازت لے کر بعد تحقیقات فیس اسٹامپ وتاوان رجسٹری لے کر مثل کاغذات مصدقہ سمجھا جائے حاکم مجوز نے بعد سماع ثبوت اجازت تحقیقات مزید حاصل کی پھر بعد مزید تحقیقات فیس اور تاوان لے لیایہ ثبوت و تحقیقات انہیں گواہان پیش کردہ محمدی بیگم سے ہوئے ان میں سید حشمت علی ویوسف علی خاں صاحبان شہود ایجاب و قبول ہیں کہ ہمارے سامنے عبدالغنی خاں نے اپنی زوجہ محمدی بیگم سے کہا یہ مکان میں نے تمہارے ہاتھ تین سو روپے کو بیچا اور زر ثمن تمہارے مہر میں مجرا کیا بیعنامہ دو چارروز میں لکھا دوں گا محمدی بیگم نے کہا میں نے سید اشرف علی کاتب بیعنامہ اور شمس الدین خاں غلام محی الدین خاں نثار علی شاہ عبدالرزاق خان پانچوں گواہان حاشیہ بیعنامہ ہیںان میں کاتب کا بیان ہے میں نے یہ بیعنامہ عبدالغنی خان کے کہنے سے لکھاعبارت عبدالغنی خاں بتاتے گئے مہر اپنی انہوں نے اپنے ہاتھ سے لگائیعبدالرزاق خان نے کہا میں مولوی عبدالغنی خان کے بیٹے سے ملنے گیا مولوی عبدالغنی خان نے مکان متنازعہ کاکاغذ نکالا اورکہا کہ یہ مکان
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب القضاء دارالفکر بیروت ∞۲ /۱۹€
میں نے اپنی زوجہ محمدی بیگم کے ہاتھ تین سو روپے کو بیچا ہے تم اس پر اپنی گواہی لکھ دو میں نے لکھ دی ان کے علاوہ باقر حسین ومنور بیگم وفرخندہ بیگم وفرزندہ بیگم نے شہادت دی۔حاکم مجوز نے اس پر یہ تجویز صادرفرمائی کہ بیع بنام محمدی بیگم اس بیع نامہ سادہ سے ثابت نہیںنہ شرعا نہ ضابطۃ نہ عقلا۔
شرعا بدیں وجہ کہ مدار ثبوت بیع قولی مجلس واحدمیں وجود ایجاب وقبول پر ہے عدالت نے خود اظہار محمدی بیگم لیا جس میں اس نے بیان کیا کہ یہ مکان شوہر مظہرہ نے بمعاوضہ سہ صد روپیہ منجملہ مہر مظہرہ بیع کرکے کاغذ میرے حوالہ کیا کاغذ بعد گفتگوئے بیع لکھا گیا گفتگوئے بیع یہ ہوئی تھی بائع نے کہا میں کاغذ بیعنامہ تمہیں لکھوائے دیتا ہوںمیں نے کہاآمینوقت گفتگوئے بیع اور لانے بیعنامہ کے کوئی نہ تھا صرف میرا خاوند اور میں تھیاولا صرف یہ کہنا بائع کا کہ بیعنامہ لکھوائے دیتا ہوںوعدہ ہے نہ ایجاببالفرض ایجاب بھی ہوتا تو تعیین ثمن ایجاب وقبول میں ضرور ہے وہ یہاں مفقود۔دوم گواہی یوسف علی خان وسید حشمت علی صریح زوری ومصنوعی خلاف بیان مدعا علیہاہے یہ صاف صاف اپنے سامنے ایجاب وقبول ہونا بیان کرتے ہیں اور مدعا علیہا لکھا چکی کہ وقت گفتگوئے بیع کوئی نہ تھا اور گفتگوئے بیع وہ تھیغلام محی الدین خان لکھاتا ہے بائع نے سقف مکان مبیعہ پر مجھ سے کہا تھا کہ میں نے اپنا مکان بقیمت سہ صد روپیہ بدست محمدی بیگم بیچاہے میں نے زیر سقف نزد محمدی بیگم آکر دریافت کیا تو مسماۃ نے کہامیں نے یہ مکان بقیمت سا/خریدا ہے تم گواہی کردواگر عدالت کلام بائع کو جو بالائے سقف کہا ایجاب قرار دیتی ہے تو قبول مدعا علیہا نے زیر سقف ظاہرکیا ہے مجلس مغائر ہے اودر وہ موجب بطلان وعدم انعقاد بیع ہے۔شمس الدین خاں لکھاتا ہے بائع نے بالائے سقف کہا میں نے یہ مکان بدست محمدی بیگم فروخت کیا ہے تم بھی گواہی کردوپھر مظہرمحمدی بیگم کے پاس آیا اور مبارکی دیمحمدی بیگم نے کہا ہاں پرسوں میرے زوج نے یہ مکان میرے ہاتھ بیچا ہے اگر قول بائع کو ایجاب مان لیاجائے تو قبول ندارد کہ محمدی بیگم نے اپنے خریدنے سے خبردی ہے جس سے پایا جاتا ہے کہ بیع پہلے ہوئیشرف علی کاتب نے صرف کتابت بیعنامہ یعنی اپنے فعل پر گواہی دی ہے ایسی گواہی جائز نہیں۔باقرحسین گواہ صرف اقرارکاہے بوجہ واحد ہونے کے نصاب نہیںعلاوہ برآں جملہ گواہ رجال غیر ثقہ غیرمعتمد ہیں کوئی قرینہ صداقت شہادت نہیںنہ بیعنامہ رجسٹرنہ برکاغذ اشٹامنہ محررہ بقلم بائعنہ دستخط اس کےنہ گواہی کسی اہل محلہ کی۔فرخندہ بیگم نواسی مدعا علیہا کی گواہی بحق نانی غیر مقبول کہےنثار علی شاہ صریح نامقبول الشہادۃ کہ باقرار خود داڑھی مونچھ چودہ سال سے صفارکھتا ہے۔
ضابطۃ: اس بناء پر کہ اس زمانہ فتنہ میں بلحاظ سد باب زور سرکار نے دستور العمل مرتب فرمادیا ہے جس میں پیش از تقرر کونسل زیادہ دس روپے سے ہونا رجسٹری انتقالات قطعی جائداد غیر منقول لازمی تھا
شرعا بدیں وجہ کہ مدار ثبوت بیع قولی مجلس واحدمیں وجود ایجاب وقبول پر ہے عدالت نے خود اظہار محمدی بیگم لیا جس میں اس نے بیان کیا کہ یہ مکان شوہر مظہرہ نے بمعاوضہ سہ صد روپیہ منجملہ مہر مظہرہ بیع کرکے کاغذ میرے حوالہ کیا کاغذ بعد گفتگوئے بیع لکھا گیا گفتگوئے بیع یہ ہوئی تھی بائع نے کہا میں کاغذ بیعنامہ تمہیں لکھوائے دیتا ہوںمیں نے کہاآمینوقت گفتگوئے بیع اور لانے بیعنامہ کے کوئی نہ تھا صرف میرا خاوند اور میں تھیاولا صرف یہ کہنا بائع کا کہ بیعنامہ لکھوائے دیتا ہوںوعدہ ہے نہ ایجاببالفرض ایجاب بھی ہوتا تو تعیین ثمن ایجاب وقبول میں ضرور ہے وہ یہاں مفقود۔دوم گواہی یوسف علی خان وسید حشمت علی صریح زوری ومصنوعی خلاف بیان مدعا علیہاہے یہ صاف صاف اپنے سامنے ایجاب وقبول ہونا بیان کرتے ہیں اور مدعا علیہا لکھا چکی کہ وقت گفتگوئے بیع کوئی نہ تھا اور گفتگوئے بیع وہ تھیغلام محی الدین خان لکھاتا ہے بائع نے سقف مکان مبیعہ پر مجھ سے کہا تھا کہ میں نے اپنا مکان بقیمت سہ صد روپیہ بدست محمدی بیگم بیچاہے میں نے زیر سقف نزد محمدی بیگم آکر دریافت کیا تو مسماۃ نے کہامیں نے یہ مکان بقیمت سا/خریدا ہے تم گواہی کردواگر عدالت کلام بائع کو جو بالائے سقف کہا ایجاب قرار دیتی ہے تو قبول مدعا علیہا نے زیر سقف ظاہرکیا ہے مجلس مغائر ہے اودر وہ موجب بطلان وعدم انعقاد بیع ہے۔شمس الدین خاں لکھاتا ہے بائع نے بالائے سقف کہا میں نے یہ مکان بدست محمدی بیگم فروخت کیا ہے تم بھی گواہی کردوپھر مظہرمحمدی بیگم کے پاس آیا اور مبارکی دیمحمدی بیگم نے کہا ہاں پرسوں میرے زوج نے یہ مکان میرے ہاتھ بیچا ہے اگر قول بائع کو ایجاب مان لیاجائے تو قبول ندارد کہ محمدی بیگم نے اپنے خریدنے سے خبردی ہے جس سے پایا جاتا ہے کہ بیع پہلے ہوئیشرف علی کاتب نے صرف کتابت بیعنامہ یعنی اپنے فعل پر گواہی دی ہے ایسی گواہی جائز نہیں۔باقرحسین گواہ صرف اقرارکاہے بوجہ واحد ہونے کے نصاب نہیںعلاوہ برآں جملہ گواہ رجال غیر ثقہ غیرمعتمد ہیں کوئی قرینہ صداقت شہادت نہیںنہ بیعنامہ رجسٹرنہ برکاغذ اشٹامنہ محررہ بقلم بائعنہ دستخط اس کےنہ گواہی کسی اہل محلہ کی۔فرخندہ بیگم نواسی مدعا علیہا کی گواہی بحق نانی غیر مقبول کہےنثار علی شاہ صریح نامقبول الشہادۃ کہ باقرار خود داڑھی مونچھ چودہ سال سے صفارکھتا ہے۔
ضابطۃ: اس بناء پر کہ اس زمانہ فتنہ میں بلحاظ سد باب زور سرکار نے دستور العمل مرتب فرمادیا ہے جس میں پیش از تقرر کونسل زیادہ دس روپے سے ہونا رجسٹری انتقالات قطعی جائداد غیر منقول لازمی تھا
زمانہ کونسل میں زائد ازپنجاہ روپیہ لازمی رکھ کر بہت سے قیود اسٹامپ وغیرہ بڑھادئے گئے بلحاظ پابندی دستور العمل و جدید بیعنامہ سادہ عندالعدالت ساقط الاعتبار ہے خاصۃ ایسے محل پر کہ حسب تحریرمدعاعلیہا بائع آدم فریبی وجعلساز ہےمانا کہ عدالت نے اسٹامپ وفیس لے لیا ہے مگر مقصود سوااس کے نہ تھا کہ عدالت انکشاف اصلیت معاملہ کرکے عذر کسی کا باقی نہ رکھے۔
عقلا: حالت اشتباہی بیعنامہ ظاہر ہے بائع لکھا پڑھا آدمی ہےنہ اس کے قلم کی تحریرنہ دستخطنہ اہل محلہ یا عزیز واقارب کی شہادتنہ اسٹامپنہ وثائق نویس رجسٹری کا لکھا ہواحدود جنوبی وشمالی مشکوکمہر عرفا محفوظ نہیں رہتی جس کا دستیاب ہونا اہل خانہ کو دشوار ہوجس حالت میں بیع مدعا علیہا ثبوت کو نہ پہنچی اس بناء پر اول مدعا علیہا کو کوئی منصب اعتراض کا بیعنامہ رجسٹری شدہ موسومہ مدعی وبائع مدعی پر نہیں۔دوم ہر دو بیعنامہ مدخلہ مدعی رجسٹری شدہ وباضابطہ نہیں۔سوم بائع کو ہر دو بیع مظہرہ مدعی مسلم ومقبول ہیں۔لہذا حکم ہوا کہ فیصلہ بحق مدعی ہوکر خرچہ مدعی ذمہ محمدی بیگم ونجم الغنی خاں عائد ہو فقط۔اب علمائے شرع سے استفسار ہے کہ شرعا اس صورت میں حکم کیا ہے شہادات پیش کردہ محمدی بیگم بوجوہ مذکورہ مردود ہیں یا نہیںشہود پر نہ کوئی جرح لی گئی نہ وہ مجروح ہیںایسی حالت میں انہیں بلاثبوت غیر ثقہ وغیر معتمد قرار دینا کیساہے۔عبدالرزاق خاں کا ذکر تجویز میں اصلا نہ فرمایا گیا جس کے ملاحظہ کے بعد باقر حسین تنہا گواہ اقرار نہیں ثبوت بیع کیلئے خاص ایجاب وقبول پر شہادت گزرناضرور ہے یا اقرار بائع کا ثبوت بھی کافیاور بر تقدیر ثبوت اقرار یہاں فیصلہ شرعا بحق یعقوب علی خاں ہونا چاہئے یا بحق محمدی بیگمبینواتوجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔طالب حق یہاں چند امر ملحوظ رکھے کہ باذنہ تعالی وضوح حکم میں دقت نہ رہے
اول: ثبوت بیع کے دو معنی ہیں:ثبوت فی نفسہ یعنی بیع فی الواقع کا موجود ومنعقد ہونااور ثبوت عندالقاضی یعنی حاکم کے نزدیك اس کا پایہ ثبوت کو پہنچنا۔ثبوت فی نفسہ نہ صرف بیع قولی بلکہ ہر بیع کا قولی ہو یا فعلی وجوہ ایجاب وقبول پر موقوف ہے کہ وہ ارکان عقد ہیں اور کوئی عقد بے اپنے رکن کے متحقق نہیں ہوسکتا ہاں ایجاب وقبول اس سے عام ہیں کہ قولا ہوں یا فعلاصراحۃ ہوں یا دلالۃ عبارۃ ہوں یا اقتضاءہوں خطابایا کتاباغرض کوئی قول کوئی فعل طرفین سے ایسا ہونا چاہئے جو باہم مبادلہ مال بالمال کی تراضی پر دلیل ہو کہ ان عقود میں معنی ہی اعتبار کا ہے زبانی تلفظ پر مدار نہیںولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بیع جس طرح "بعت اشتریت" کہنے سے ہوجاتی ہے یونہی تحریر سے بھی کہ قلم بھی ایك زبان ہے۔اشباہ
عقلا: حالت اشتباہی بیعنامہ ظاہر ہے بائع لکھا پڑھا آدمی ہےنہ اس کے قلم کی تحریرنہ دستخطنہ اہل محلہ یا عزیز واقارب کی شہادتنہ اسٹامپنہ وثائق نویس رجسٹری کا لکھا ہواحدود جنوبی وشمالی مشکوکمہر عرفا محفوظ نہیں رہتی جس کا دستیاب ہونا اہل خانہ کو دشوار ہوجس حالت میں بیع مدعا علیہا ثبوت کو نہ پہنچی اس بناء پر اول مدعا علیہا کو کوئی منصب اعتراض کا بیعنامہ رجسٹری شدہ موسومہ مدعی وبائع مدعی پر نہیں۔دوم ہر دو بیعنامہ مدخلہ مدعی رجسٹری شدہ وباضابطہ نہیں۔سوم بائع کو ہر دو بیع مظہرہ مدعی مسلم ومقبول ہیں۔لہذا حکم ہوا کہ فیصلہ بحق مدعی ہوکر خرچہ مدعی ذمہ محمدی بیگم ونجم الغنی خاں عائد ہو فقط۔اب علمائے شرع سے استفسار ہے کہ شرعا اس صورت میں حکم کیا ہے شہادات پیش کردہ محمدی بیگم بوجوہ مذکورہ مردود ہیں یا نہیںشہود پر نہ کوئی جرح لی گئی نہ وہ مجروح ہیںایسی حالت میں انہیں بلاثبوت غیر ثقہ وغیر معتمد قرار دینا کیساہے۔عبدالرزاق خاں کا ذکر تجویز میں اصلا نہ فرمایا گیا جس کے ملاحظہ کے بعد باقر حسین تنہا گواہ اقرار نہیں ثبوت بیع کیلئے خاص ایجاب وقبول پر شہادت گزرناضرور ہے یا اقرار بائع کا ثبوت بھی کافیاور بر تقدیر ثبوت اقرار یہاں فیصلہ شرعا بحق یعقوب علی خاں ہونا چاہئے یا بحق محمدی بیگمبینواتوجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔طالب حق یہاں چند امر ملحوظ رکھے کہ باذنہ تعالی وضوح حکم میں دقت نہ رہے
اول: ثبوت بیع کے دو معنی ہیں:ثبوت فی نفسہ یعنی بیع فی الواقع کا موجود ومنعقد ہونااور ثبوت عندالقاضی یعنی حاکم کے نزدیك اس کا پایہ ثبوت کو پہنچنا۔ثبوت فی نفسہ نہ صرف بیع قولی بلکہ ہر بیع کا قولی ہو یا فعلی وجوہ ایجاب وقبول پر موقوف ہے کہ وہ ارکان عقد ہیں اور کوئی عقد بے اپنے رکن کے متحقق نہیں ہوسکتا ہاں ایجاب وقبول اس سے عام ہیں کہ قولا ہوں یا فعلاصراحۃ ہوں یا دلالۃ عبارۃ ہوں یا اقتضاءہوں خطابایا کتاباغرض کوئی قول کوئی فعل طرفین سے ایسا ہونا چاہئے جو باہم مبادلہ مال بالمال کی تراضی پر دلیل ہو کہ ان عقود میں معنی ہی اعتبار کا ہے زبانی تلفظ پر مدار نہیںولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بیع جس طرح "بعت اشتریت" کہنے سے ہوجاتی ہے یونہی تحریر سے بھی کہ قلم بھی ایك زبان ہے۔اشباہ
میں ہے:
الکتابۃ یصح البیع بہا قال فی الھدایۃ والکتاب کالخطاب ۔ تحریری بیع صحیح ہے جس کو ہدایہ نے بیان کیااور تحریر زبانی خطاب کی طرح ہے(ت)
ولہذافرماتے ہیں تعاطی سے بھی ہوجاتی ہے جہاں نہ تقریر نہ تحریرایك تھان رکھاہے بزاز سے پوچھا قیمت کیا ہےکہا دس روپےاس نے روپے رکھ کر تھان اٹھالیااس نے روپے لے لئے بیع ہوگئی اگرچہ نہ بزاز نے فروختم کہا نہ اس نے خریدم۔ہدایہ میں ہے:
المعنی ھوالمعتبر فی ھذہ العقود لھذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ ۔ ان عقود میں معنی معتبرہوتا ہے لہذا دستی ادل بدل سے اعلی اور ادنی چیز میں بیع منعقد ہوجاتی ہے کیونکہ فریقین کی رضامندی پائی گئی ہے۔(ت)
اور شك نہیں دستاویز بیعنامہ بطور مرسوم ومعہود لکھ کر گواہیاں کراکر مشتری کو حوالہ کرنا اور اس کابخوشی لے لینا قطعا دلیل تراضی ہے۔عندالانصاف اسی قدر تحقق ایجاب وقبول کےلئے کافی ہے اگرچہ اس سے پہلے زبانی گفتگو صرف اسی قدر آئی ہو کہ اس نے کہا میں بیعنامہ تمہیں لکھواکردیتا ہوںاس نے کہاآمین کہ یہاں تك اگرچہ صرف وعدو پسند تھا مگر بیعنامہ بطور مذکور لکھواکر دینا لینا دلیل تراضی ہوکر ایجاب و قبول ہوگیا جس طرح شائع وذائع ہے کہ والدین کوئی جائداد اپنے روپے سے خرید کر بیعنامہ اپنے کسی بچے کے نام لکھواتے ہیں تمام عالم جانتا ہے کہ اس سے مقصود اس کی تملیك ہی ہوتی ہے اور وہ جائداد اسی بچے کی ٹھہرتی ہے اگرچہ زبان پر ہبہ کا حرف بھی نہ آیا۔ احکام الصغار استرو شنی میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لانہا تصیر واھبۃ والام تملك ذلك ویقع قبضھا عنہ ۔ ایك عورت نے اپنے مال سے نابالغ بیٹے کےلئے زمین خریدی یہ خریداری والدہ کی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کےلئے خریدار نہیں ہوسکتی اور یہ زمین بیٹے کی ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی کیونکہ ماں کو ہبہ کاحق ہے اور پھر بیٹے کی طرف سے قبضہ لیا ہے۔ (ت)
دوم: ثبوت عندالقاضی جس طرح شہادت اصل عقد سے ہوتا ہے یعنی گواہ کہیں ان دونوں نے ہمارے سامنے خریدم وفروختم کہایونہی شہادت اقرار سے بھی کہ گواہ کہیں ہماے سامنے اس نے اقرار بیع کیاجامع الفصولین فصل۱۱میں برمز"می "منتقی الامام الحاکم الشہید سے ہے:
ادعی بیعاو شھدا انہ اقربالبیع تقبل ۔(ملتقطا) ایك شخص نے بیع کا دعوی کیا اور دو گواہوں نے اس کے بیع کے اقرار پر شہادت دی تو شہادت قبول ہوگی۔(ملتقطا)۔(ت)
یوں ہی شہادت مختلطہ سے بھی یعنی ایك گواہ عقد بیع پر شہادت دے اور دوسرا اقرار بیع پربیع ثابت ہوجائے گیجامع الفصولین میں برمز فقظ فتاوی امام قاضی ظہیر سے ہے:
فی البیع والاجارۃ والصلح لو شھد احدھما بعقد والاخر باقرارہ بہ لایضر ۔ بیعاجارہ اورصلح کے معاملات میں ایك نے شہادت دی کہ عقد کیا ہے دوسرے نے اقرار کی شہادت دی تو یہ اختلاف مضر نہیں۔(ت)
الکتابۃ یصح البیع بہا قال فی الھدایۃ والکتاب کالخطاب ۔ تحریری بیع صحیح ہے جس کو ہدایہ نے بیان کیااور تحریر زبانی خطاب کی طرح ہے(ت)
ولہذافرماتے ہیں تعاطی سے بھی ہوجاتی ہے جہاں نہ تقریر نہ تحریرایك تھان رکھاہے بزاز سے پوچھا قیمت کیا ہےکہا دس روپےاس نے روپے رکھ کر تھان اٹھالیااس نے روپے لے لئے بیع ہوگئی اگرچہ نہ بزاز نے فروختم کہا نہ اس نے خریدم۔ہدایہ میں ہے:
المعنی ھوالمعتبر فی ھذہ العقود لھذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ ۔ ان عقود میں معنی معتبرہوتا ہے لہذا دستی ادل بدل سے اعلی اور ادنی چیز میں بیع منعقد ہوجاتی ہے کیونکہ فریقین کی رضامندی پائی گئی ہے۔(ت)
اور شك نہیں دستاویز بیعنامہ بطور مرسوم ومعہود لکھ کر گواہیاں کراکر مشتری کو حوالہ کرنا اور اس کابخوشی لے لینا قطعا دلیل تراضی ہے۔عندالانصاف اسی قدر تحقق ایجاب وقبول کےلئے کافی ہے اگرچہ اس سے پہلے زبانی گفتگو صرف اسی قدر آئی ہو کہ اس نے کہا میں بیعنامہ تمہیں لکھواکردیتا ہوںاس نے کہاآمین کہ یہاں تك اگرچہ صرف وعدو پسند تھا مگر بیعنامہ بطور مذکور لکھواکر دینا لینا دلیل تراضی ہوکر ایجاب و قبول ہوگیا جس طرح شائع وذائع ہے کہ والدین کوئی جائداد اپنے روپے سے خرید کر بیعنامہ اپنے کسی بچے کے نام لکھواتے ہیں تمام عالم جانتا ہے کہ اس سے مقصود اس کی تملیك ہی ہوتی ہے اور وہ جائداد اسی بچے کی ٹھہرتی ہے اگرچہ زبان پر ہبہ کا حرف بھی نہ آیا۔ احکام الصغار استرو شنی میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لانہا تصیر واھبۃ والام تملك ذلك ویقع قبضھا عنہ ۔ ایك عورت نے اپنے مال سے نابالغ بیٹے کےلئے زمین خریدی یہ خریداری والدہ کی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کےلئے خریدار نہیں ہوسکتی اور یہ زمین بیٹے کی ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی کیونکہ ماں کو ہبہ کاحق ہے اور پھر بیٹے کی طرف سے قبضہ لیا ہے۔ (ت)
دوم: ثبوت عندالقاضی جس طرح شہادت اصل عقد سے ہوتا ہے یعنی گواہ کہیں ان دونوں نے ہمارے سامنے خریدم وفروختم کہایونہی شہادت اقرار سے بھی کہ گواہ کہیں ہماے سامنے اس نے اقرار بیع کیاجامع الفصولین فصل۱۱میں برمز"می "منتقی الامام الحاکم الشہید سے ہے:
ادعی بیعاو شھدا انہ اقربالبیع تقبل ۔(ملتقطا) ایك شخص نے بیع کا دعوی کیا اور دو گواہوں نے اس کے بیع کے اقرار پر شہادت دی تو شہادت قبول ہوگی۔(ملتقطا)۔(ت)
یوں ہی شہادت مختلطہ سے بھی یعنی ایك گواہ عقد بیع پر شہادت دے اور دوسرا اقرار بیع پربیع ثابت ہوجائے گیجامع الفصولین میں برمز فقظ فتاوی امام قاضی ظہیر سے ہے:
فی البیع والاجارۃ والصلح لو شھد احدھما بعقد والاخر باقرارہ بہ لایضر ۔ بیعاجارہ اورصلح کے معاملات میں ایك نے شہادت دی کہ عقد کیا ہے دوسرے نے اقرار کی شہادت دی تو یہ اختلاف مضر نہیں۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹۶€
الہدایہ کتاب البیوع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۵۔۲۴€
احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین باب فی مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی۱/ ۱۸۷€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶€۴
الہدایہ کتاب البیوع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۵۔۲۴€
احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین باب فی مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی۱/ ۱۸۷€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶€۴
فی البیع والاجارۃ والصلح لو شھد احدھما بعقد والاخر باقرارہ بہ لایضر ۔ بیعاجارہ اورصلح کے معاملات میں ایك نے شہادت دی کہ عقد کیا ہے دوسرے نے اقرار کی شہادت دی تو یہ اختلاف مضر نہیں۔(ت)
اسی میں برمز لبس مبسوط سے ہے:
ادعی شراء وشھدااحدھما بہ والاخر انہ اقربہ تقبل ۔ مدعی نے خریداری کا دعوی کیاایك گواہ نے خریدنے کی اور دوسرے نے خرید کرنے کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت)
اسی میں برمزلط لطائف الاشارات سے ہے:
شھدبنحوبیع والاخر باقرارہ بہ تقبل ۔ ایك نے بیع کی اور دوسرے نے اس بیع کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
ادعی الشراء وشھداحدھما ببیع مدعی نے خریداری کا دعوی کیاایك نے فروخت
وشھدالاخر"کہ بائع ازومہ ثمنش طلب کرد"تقبل لان طلب الثمن اقرار منہ بالبیع ۔ کرنے اور دوسرے نے یہ شہادت دی کہ بائع نے اس مشتری سے قیمت طلب کی ہے شہادت مقبول ہوگی کیونکہ قیمت طلب کرنا فروخت کرنے کا اقرار ہے۔(ت)
یہاں سے ثابت ہوا کہ شہادت اقرارکے بعد شہاد ت ایجاب وقبول کی اصلا حاجت نہیں ولہذا تنہا اقرار کی گواہی کافی ہوجاتی ہے ولہذا ایك گواہ اقرار کے ساتھ ایجاب وقبول کی ایك ہی شہادت کافی ہے حالانکہ نفس عقد پر صورت اولی میں شہادت اصلا نہیںاور صورت ثانیہ میں نصاب ناتمام اور جب شہادت اقرار کے ساتھ نفس عقدکی تفتیش ہی نہ رہی تو آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ اس کے ہوتے حاکم کو اس بحث کی کچھ گنجائش نہیں کہ مشتری کے لفظ تو معلوم ہی نہ ہوئے یا بیان اس مجلس میں نہ تھا یا اس کا کلام انشائے قبول نہ تھا اخبار تھایہ تحقیقات تو نفس ایجاب وقبول سے متعلق تھی جب شہادت اقرار بائع کی نسبت ہے بیع ثابت ہوگئی الفاظ مشتری یا اتحادوتعدد مجلس سے کیا بحث رہی۔
سوم: املایعنی عبارت بتاتے جانا اور دوسرے سے لکھوانا اپنے لکھنے سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اس سے اقوی ہےعلماء فرماتے ہیں کتابت تین قسم ہے:ایك نامعلوم جیسے ہو ایاپانی پر لکھنایہ محض باطل ہے دوسری مرسوم یعنی طریقہ معہودہ معروفہ پر لکھناجس طرح خطوط میں القاب وآداب سے آغاز یا تمسکات میں منکہ فلاں بن فلاں سے شروعیہ ضرور معتبر ہے۔تیسری معلوم غیر مرسوم جیسے کاغذ پر وہ تحریر کہ طریقہ معہودہ پر نہ ہو اس کے ساتھ جب تك نیت یادلیل نیت نہ پائی جائے معتبر نہیںدلیل نیت مثلا لکھ کر گواہ کرنا یا عبارت بتابتا کر دوسرے سےلکھوانا کہ قول راجح میں اس کے بعد گواہ کرنے کی حاجت نہیں تو ثابت ہوا کہ عبارت بتاکر لکھوانا اپنے لکھنے سے قوی تر ہے کہ غیر مرسوم طور پر خود لکھے اور گواہ نہ کرے تو معتبر نہیں اور دوسرے سے لکھوائے تو بے گواہ کئے معتبر ہے۔عقود الدریہ میں ہے:
فی الزیلعی والملتقی اخر الکتاب فی مسائل شتی قالوا الکتاب علی ثلث مراتبمستبین مرسوم وھو ان یکون معنوناای مصدرابالعنوان وھو ان یکتب فی صدرہ من فلان الی فلان علی زیلعی اور ملتقی مسائل شتی کے آخر میں ہےفقہاء کرام نے فرمایا تحریر تین مراتب پر ہےایك یہ کہ واضح معنون ہو وہ یہ کہ اس کے شروع میں یہ عنوان ہو کہ فلاں سے فلاں کی طرف جیسا کہ چٹھی میں طریقہ مروجہ ہےیہ چٹھی بالکل زبانی گفتگو
اسی میں برمز لبس مبسوط سے ہے:
ادعی شراء وشھدااحدھما بہ والاخر انہ اقربہ تقبل ۔ مدعی نے خریداری کا دعوی کیاایك گواہ نے خریدنے کی اور دوسرے نے خرید کرنے کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت)
اسی میں برمزلط لطائف الاشارات سے ہے:
شھدبنحوبیع والاخر باقرارہ بہ تقبل ۔ ایك نے بیع کی اور دوسرے نے اس بیع کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
ادعی الشراء وشھداحدھما ببیع مدعی نے خریداری کا دعوی کیاایك نے فروخت
وشھدالاخر"کہ بائع ازومہ ثمنش طلب کرد"تقبل لان طلب الثمن اقرار منہ بالبیع ۔ کرنے اور دوسرے نے یہ شہادت دی کہ بائع نے اس مشتری سے قیمت طلب کی ہے شہادت مقبول ہوگی کیونکہ قیمت طلب کرنا فروخت کرنے کا اقرار ہے۔(ت)
یہاں سے ثابت ہوا کہ شہادت اقرارکے بعد شہاد ت ایجاب وقبول کی اصلا حاجت نہیں ولہذا تنہا اقرار کی گواہی کافی ہوجاتی ہے ولہذا ایك گواہ اقرار کے ساتھ ایجاب وقبول کی ایك ہی شہادت کافی ہے حالانکہ نفس عقد پر صورت اولی میں شہادت اصلا نہیںاور صورت ثانیہ میں نصاب ناتمام اور جب شہادت اقرار کے ساتھ نفس عقدکی تفتیش ہی نہ رہی تو آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ اس کے ہوتے حاکم کو اس بحث کی کچھ گنجائش نہیں کہ مشتری کے لفظ تو معلوم ہی نہ ہوئے یا بیان اس مجلس میں نہ تھا یا اس کا کلام انشائے قبول نہ تھا اخبار تھایہ تحقیقات تو نفس ایجاب وقبول سے متعلق تھی جب شہادت اقرار بائع کی نسبت ہے بیع ثابت ہوگئی الفاظ مشتری یا اتحادوتعدد مجلس سے کیا بحث رہی۔
سوم: املایعنی عبارت بتاتے جانا اور دوسرے سے لکھوانا اپنے لکھنے سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اس سے اقوی ہےعلماء فرماتے ہیں کتابت تین قسم ہے:ایك نامعلوم جیسے ہو ایاپانی پر لکھنایہ محض باطل ہے دوسری مرسوم یعنی طریقہ معہودہ معروفہ پر لکھناجس طرح خطوط میں القاب وآداب سے آغاز یا تمسکات میں منکہ فلاں بن فلاں سے شروعیہ ضرور معتبر ہے۔تیسری معلوم غیر مرسوم جیسے کاغذ پر وہ تحریر کہ طریقہ معہودہ پر نہ ہو اس کے ساتھ جب تك نیت یادلیل نیت نہ پائی جائے معتبر نہیںدلیل نیت مثلا لکھ کر گواہ کرنا یا عبارت بتابتا کر دوسرے سےلکھوانا کہ قول راجح میں اس کے بعد گواہ کرنے کی حاجت نہیں تو ثابت ہوا کہ عبارت بتاکر لکھوانا اپنے لکھنے سے قوی تر ہے کہ غیر مرسوم طور پر خود لکھے اور گواہ نہ کرے تو معتبر نہیں اور دوسرے سے لکھوائے تو بے گواہ کئے معتبر ہے۔عقود الدریہ میں ہے:
فی الزیلعی والملتقی اخر الکتاب فی مسائل شتی قالوا الکتاب علی ثلث مراتبمستبین مرسوم وھو ان یکون معنوناای مصدرابالعنوان وھو ان یکتب فی صدرہ من فلان الی فلان علی زیلعی اور ملتقی مسائل شتی کے آخر میں ہےفقہاء کرام نے فرمایا تحریر تین مراتب پر ہےایك یہ کہ واضح معنون ہو وہ یہ کہ اس کے شروع میں یہ عنوان ہو کہ فلاں سے فلاں کی طرف جیسا کہ چٹھی میں طریقہ مروجہ ہےیہ چٹھی بالکل زبانی گفتگو
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶€۳
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶€۴
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۴€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۶€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶€۴
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۴€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۶€
فی الزیلعی والملتقی اخر الکتاب فی مسائل شتی قالوا الکتاب علی ثلث مراتبمستبین مرسوم وھو ان یکون معنوناای مصدرابالعنوان وھو ان یکتب فی صدرہ من فلان الی فلان علی زیلعی اور ملتقی مسائل شتی کے آخر میں ہےفقہاء کرام نے فرمایا تحریر تین مراتب پر ہےایك یہ کہ واضح معنون ہو وہ یہ کہ اس کے شروع میں یہ عنوان ہو کہ فلاں سے فلاں کی طرف جیسا کہ چٹھی میں طریقہ مروجہ ہےیہ چٹھی بالکل زبانی گفتگو
ماجرت بہ العادۃ فھذاکالنطق فلزم حجۃومستبین غیر مرسوم کالکتابۃ علی الجدران واوراق الاشجار وعلی الکاغذ لاعلی الوجہ المعتاد فلایکون حجۃ الا بانضمام شیئ اخر الیہ کالنیۃ والاشہاد علیہ و الاملاء علی الغیر حتی یکتبہ لان الکتابۃ قد تکون للتجربۃ ونحوھا وبھذہ الاشیاء تتعین الجھۃ وقیل الاملاء بلااشھاد لایکون حجۃ والاول اظہر و غیر مستبین کالکتابۃ علی الھواء والماء وھو بمنزلۃ کلام غیر مسموع ولایثبت بہ شیئ من الاحکام وان نوی اھ ومثلہ فی الھدایۃ وفتاوی قاضی خان ۔ کی طرح حجت ہےدوسری واضح غیر معنون جیسا کہ کسی دیوار پردرخت کے پتوں یا عام کاغذ پر غیر مروجہ طریقہ پر لکھی گئی ہو یہ کسی دوسری چیز کی مدد کے بغیر حجت نہ ہوگی مثلا نیت یا گواہی یا دوسرے کو املاء کئے بغیرحجت نہ بنے گی کیونکہ ایسی تحریر کبھی تجربہ کے لئے ہوتی ہے لہذا مذکور قرائن سے اس کی وجہ متعین ہوسکے گیبعض نے کہا ہے کہ املاء کی صورت میں جب تك گواہی نہ ہو حجت نہ بنے گی لیکن اول قول درست اوراظہر ہے تیسری وہ کہ واضح نہ ہو جیساکہ ہوا اور پانی پر تحریر ہو تو اس کی حیثیت غیر مسموع کلام جیسی ہے اس سے کوئی حکم ثابت نہ ہوسکے گااگرچہ نیت بھی کی ہو اھ ھدایہ اور فتاوی قاضی خان میں بھی ایسے ہی ہے۔(ت)
چہارم:بیع نام ایجاب وقبول کا ہے اور وہ جب الفاظ میں ہو خود گفتگو ہے اور کسی شے کی گفتگو بمعنی اس چیز کی بات چیت اور مشورے اور قرار کے بھی مستعمل مثلا کسی کے نکاح کا مشہور ہوا ہو تو اس سے کہیں آج تمہارے بیاہ کی گفتگو تھی اس کے یہ معنی نہیں کہ ایجاب قبول ہوگیا بلکہ وہ مشورہ اور بات چیت مراد ہے تو لفظ گفتگوئے بیع دو معنی کو محتملاول اضافت بیانیہ یعنی وہ گفتگو کہ بیع ہےاس تقدیر پر اس سے مقصود نفس ایجاب وقبول ہوگا۔دوم اضافت لامیہ یعنی بیع کا مشورہ اور اس کی بات چیتاس تقدیر پر ہرگز اس کے معنی ایجاب وقبول نہیں بلکہ پیش از عقد اس کے باب میں مکالمہ باہمیوھذا ظاہر جدا (اوریہ خوب ظاہر ہے۔ت)
پنجم: جب کسی معاملے کے متعلق کوئی شہادت پیش ہو اور حاکم اسے ایك امر میں قبول کرلے تو اسی مقدمہ کے متعلق کسی دوسرے امر میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا سوا بعض صورت اسستثناء کے
چہارم:بیع نام ایجاب وقبول کا ہے اور وہ جب الفاظ میں ہو خود گفتگو ہے اور کسی شے کی گفتگو بمعنی اس چیز کی بات چیت اور مشورے اور قرار کے بھی مستعمل مثلا کسی کے نکاح کا مشہور ہوا ہو تو اس سے کہیں آج تمہارے بیاہ کی گفتگو تھی اس کے یہ معنی نہیں کہ ایجاب قبول ہوگیا بلکہ وہ مشورہ اور بات چیت مراد ہے تو لفظ گفتگوئے بیع دو معنی کو محتملاول اضافت بیانیہ یعنی وہ گفتگو کہ بیع ہےاس تقدیر پر اس سے مقصود نفس ایجاب وقبول ہوگا۔دوم اضافت لامیہ یعنی بیع کا مشورہ اور اس کی بات چیتاس تقدیر پر ہرگز اس کے معنی ایجاب وقبول نہیں بلکہ پیش از عقد اس کے باب میں مکالمہ باہمیوھذا ظاہر جدا (اوریہ خوب ظاہر ہے۔ت)
پنجم: جب کسی معاملے کے متعلق کوئی شہادت پیش ہو اور حاکم اسے ایك امر میں قبول کرلے تو اسی مقدمہ کے متعلق کسی دوسرے امر میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا سوا بعض صورت اسستثناء کے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۹€
نہ کہ خاص اسی امر میں کہ یہ تو حاکم کا صریح تناقض ہوگا۔درمختا رمیں ہے:
الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل الافی عبد بین مسلم ونصرانی فشہد نصرانیان علیہما بالعتق قبلت فی حق النصرانی فقط اشباہ قلت وزاد محشیہا خمسۃ اخری معزیۃ للبزازیۃ ۔ شہادت جب بعض حصہ میں باطل ہو تو کل میں باطل قرار پاتی ہے مگر ایك صورت میں کہ مسلمان اور نصرانی کا مشترکہ غلام ہو تو دو نصرانیوں نے شہادت دی کہ دونوں مالکوں نے اسے آزاد کردیا ہےیہ شہادت صرف نصرانی مالك کے حصہ میں مقبول ہے میں کہتاہوں کہ محشی نے ایسی مزید پانچ صورتوں کااضافہ کیا ہے اور یہ بزازیہ کی طرف منسوب ہیں۔(ت)
ردالمحتار وغیرہ میں ان صور استثناء کا مفصل بیان ہے جنہیں اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں
اقول:واذا ثبت ان الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل لزمہ انھا اذاقبلت فی البعض قبلت فی الکل والالبطلت فی البعض فبطلت فی الکل مع انھا قد قبلت فی البعض ھذا خلف فاحفظہ فانہ فائدۃ جلیلۃ مھمۃ۔ اقول:(میں کہتا ہوں)جب ثابت ہے کہ بعض میں باطل کل میں باطل ہوجاتی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ شہادت بعض میں مقبول ہوتو کل میں مقبول ہوجائے ورنہ بعض میں باطل ہونے سے کل میں باطل ہوجائے گی حالانکہ بعض میں مقبول ہوچکی ہے تو کل میں باطل ہونا متحقق نہ ہوایہ مفروض کے خلاف ہےاس کو محفوظ کرلوکیونکہ یہ فائدہ جلیلہ ہے۔(ت)
ششم: غیر ثقہ اہل شہادت ہے اور شہادت فاسق مقبول نہ ہونے کے یہ معنی کہ اس کی شہادت کا قبول واجب نہیںنہ یہ کہ صحیح ہی نہیںیہاں تك کہ اگر حاکم صریح فاسقوں کی شہادت قبول کرلے تو وہ بھی مقبول ہوجائے گی اگرچہ حاکم اس قبول کے باعث آثم ہو۔بحرالرائق ودرمختار میں ہے:
والنظم للدر باب القبول وعدمہ ای من یجب علی القاضی قبول شہادتہ ومن لایجب لامن یصح قبولہا اولایصح لصحۃ الفاسق مثلا کما حققہ المصنف تبعا لیعقوب باشا الفاظ در کے ہیںباب القبول وعدمہیعنی کس کی شہادت کو قبول کرنا قاضی پر واجب ہے اور کس کو قبول کرنا واجب نہیںیہ مطلب نہیں کہ کس کو قبول کرنا صحیح ہے یانہیں کیونکہ مثلا فاسق کی شہادت قبول کرنا صحیح ہے جیساکہ مصنف نے یعقوب پاشا
الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل الافی عبد بین مسلم ونصرانی فشہد نصرانیان علیہما بالعتق قبلت فی حق النصرانی فقط اشباہ قلت وزاد محشیہا خمسۃ اخری معزیۃ للبزازیۃ ۔ شہادت جب بعض حصہ میں باطل ہو تو کل میں باطل قرار پاتی ہے مگر ایك صورت میں کہ مسلمان اور نصرانی کا مشترکہ غلام ہو تو دو نصرانیوں نے شہادت دی کہ دونوں مالکوں نے اسے آزاد کردیا ہےیہ شہادت صرف نصرانی مالك کے حصہ میں مقبول ہے میں کہتاہوں کہ محشی نے ایسی مزید پانچ صورتوں کااضافہ کیا ہے اور یہ بزازیہ کی طرف منسوب ہیں۔(ت)
ردالمحتار وغیرہ میں ان صور استثناء کا مفصل بیان ہے جنہیں اس مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں
اقول:واذا ثبت ان الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل لزمہ انھا اذاقبلت فی البعض قبلت فی الکل والالبطلت فی البعض فبطلت فی الکل مع انھا قد قبلت فی البعض ھذا خلف فاحفظہ فانہ فائدۃ جلیلۃ مھمۃ۔ اقول:(میں کہتا ہوں)جب ثابت ہے کہ بعض میں باطل کل میں باطل ہوجاتی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ شہادت بعض میں مقبول ہوتو کل میں مقبول ہوجائے ورنہ بعض میں باطل ہونے سے کل میں باطل ہوجائے گی حالانکہ بعض میں مقبول ہوچکی ہے تو کل میں باطل ہونا متحقق نہ ہوایہ مفروض کے خلاف ہےاس کو محفوظ کرلوکیونکہ یہ فائدہ جلیلہ ہے۔(ت)
ششم: غیر ثقہ اہل شہادت ہے اور شہادت فاسق مقبول نہ ہونے کے یہ معنی کہ اس کی شہادت کا قبول واجب نہیںنہ یہ کہ صحیح ہی نہیںیہاں تك کہ اگر حاکم صریح فاسقوں کی شہادت قبول کرلے تو وہ بھی مقبول ہوجائے گی اگرچہ حاکم اس قبول کے باعث آثم ہو۔بحرالرائق ودرمختار میں ہے:
والنظم للدر باب القبول وعدمہ ای من یجب علی القاضی قبول شہادتہ ومن لایجب لامن یصح قبولہا اولایصح لصحۃ الفاسق مثلا کما حققہ المصنف تبعا لیعقوب باشا الفاظ در کے ہیںباب القبول وعدمہیعنی کس کی شہادت کو قبول کرنا قاضی پر واجب ہے اور کس کو قبول کرنا واجب نہیںیہ مطلب نہیں کہ کس کو قبول کرنا صحیح ہے یانہیں کیونکہ مثلا فاسق کی شہادت قبول کرنا صحیح ہے جیساکہ مصنف نے یعقوب پاشا
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادۃ باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
وغیرہ ۔ وغیرہ کی اتباع میں محقق کیا ہے۔(ت)
درروغرر میں ہے:
لو قبل القاضی وحکم بھا کان اثما لکنہ ینفذ وفی الفتاوی القاعدیۃ ھذااذا غلب علی ظنہ صدقہ وھو مما یحفظ ۔ اگر قاضی نے فاسق کی شہادت قبول کرکے فیصلہ دے دیا تو نافذ ہوجائے گا لیکن قاضی گنہگار ہوگا۔فتاوی قاعدیہ میں ہے یہ تب ہوگا جب قاضی کو ظن غالب ہو کہ فاسق سچا ہےیہ محفوظ کرنے کے قابل ہے۔(ت)
تنویر الابصار وجامع البحار وشرح علائی کتاب القضاء میں ہے:
اھلہ اھل الشہادۃ والفاسق اھلہا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہبہ یفتی وقیدہ فی القاعدیۃ بما اذاغلب علی ظنہ صدقہ فلیحفظ درر اھ ملتقطا۔ قضاء کا اہل وہی ہے جو شہادت کا اہل ہو اور فاسق شہادت کا اہل ہے لہذا وہ قضاء کا اہل ہے لیکن اس کو قضاء پر مقرر نہ کیا جائے اس کو قضاء پر مقرر کرنے والا گنہگار ہوگاجیساکہ اس کی شہادت قبول کرنے والا گنہ گار ہوگااسی پر فتوی دیا جائےاور فتاوی قاعدیہ میں اس کو قاضی کے ظن غالب سے مقید کیا ہے کہ فاسق کی شہادت صدق پر مبنی ہےاس کو محفوظ کرو درراھ ملتقطا۔(ت)
ھفتم: اگر زید مثلا کسی مکان پر دعوی کرے کہ یہ میرا ہے میں نے بکر سے خریدا ہے اور عمرو مدعا علیہ جس کے قبضے میں وہ مکان ہے جواب دے کہ بلکہ مکان میرا ہے میں نے بکر مذکور سے خریدا ہے تو اس صورت میں وہ مدعا علیہ مدعی اور یہ مقدمہ باب دعوی الرجلین سے ہوجائے گا دونوں طرف سے شہادت مسموع ہوگی اور اب یہ دیکھیں گے کہ ان میں ایك نے اپنی خریداری کی تاریخ بیان کی ہے یا دونوں نے یا کسی نے نہیںاور اگر دونوں نے بیان کی ہے تو تاریخ ذوالید کی مقدم ہے یعنی عمرو جس کے قبضے میں مکان ہے یا خارج کی یعنی زید جس کے قبضے میں نہیں ان سب صورتوں میں ڈگری صاحب قبضہ کی ہوگی مگر جبکہ خارج کی تاریخ مقدم ہوغرض یہاں اول ترجیح تقدم تاریخ سے ہے کہ اس کے بعد قبضہ ہونے نہ ہونے پر بھی لحاظ نہیں ہوتا اس کے بعد ترجیح قبضے سے ہے کہ دوسرے کی تاریخ مقدم نہ ہوتو ہر طرح اسی کو ترجیح رہتی ہے۔فتاوی
عالمگیریہ میں ہے:
ان ادعیا الشراء من واحد وکانت العین فی یداحدھما فھی لذی الیدسواء ارخ ام لم یؤرخ اذا ارخاوتاریخ الخارج اسبق فیقضی بھا للخارج کذافی الکافی اھ ملتقطا۔ اگر دو شخص ایك شخص سے کسی چیز کی خریداری کے مدعی ہوں تو جس کا قبضہ ہوگا وہی مالك قرار دیا جائے گا وہ تاریخ بیان کرے یا نہ کرے برابر ہے اور دونوں نے تاریخ بیان کی تو غیر قابض مدعی کی تاریخ پہلے ہو غیر قابض کو مالك قرار دیا جائیگاکافی میں یونہی ہے اھ ملتقطا(ت)
درروغرر میں ہے:
لو قبل القاضی وحکم بھا کان اثما لکنہ ینفذ وفی الفتاوی القاعدیۃ ھذااذا غلب علی ظنہ صدقہ وھو مما یحفظ ۔ اگر قاضی نے فاسق کی شہادت قبول کرکے فیصلہ دے دیا تو نافذ ہوجائے گا لیکن قاضی گنہگار ہوگا۔فتاوی قاعدیہ میں ہے یہ تب ہوگا جب قاضی کو ظن غالب ہو کہ فاسق سچا ہےیہ محفوظ کرنے کے قابل ہے۔(ت)
تنویر الابصار وجامع البحار وشرح علائی کتاب القضاء میں ہے:
اھلہ اھل الشہادۃ والفاسق اھلہا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہبہ یفتی وقیدہ فی القاعدیۃ بما اذاغلب علی ظنہ صدقہ فلیحفظ درر اھ ملتقطا۔ قضاء کا اہل وہی ہے جو شہادت کا اہل ہو اور فاسق شہادت کا اہل ہے لہذا وہ قضاء کا اہل ہے لیکن اس کو قضاء پر مقرر نہ کیا جائے اس کو قضاء پر مقرر کرنے والا گنہگار ہوگاجیساکہ اس کی شہادت قبول کرنے والا گنہ گار ہوگااسی پر فتوی دیا جائےاور فتاوی قاعدیہ میں اس کو قاضی کے ظن غالب سے مقید کیا ہے کہ فاسق کی شہادت صدق پر مبنی ہےاس کو محفوظ کرو درراھ ملتقطا۔(ت)
ھفتم: اگر زید مثلا کسی مکان پر دعوی کرے کہ یہ میرا ہے میں نے بکر سے خریدا ہے اور عمرو مدعا علیہ جس کے قبضے میں وہ مکان ہے جواب دے کہ بلکہ مکان میرا ہے میں نے بکر مذکور سے خریدا ہے تو اس صورت میں وہ مدعا علیہ مدعی اور یہ مقدمہ باب دعوی الرجلین سے ہوجائے گا دونوں طرف سے شہادت مسموع ہوگی اور اب یہ دیکھیں گے کہ ان میں ایك نے اپنی خریداری کی تاریخ بیان کی ہے یا دونوں نے یا کسی نے نہیںاور اگر دونوں نے بیان کی ہے تو تاریخ ذوالید کی مقدم ہے یعنی عمرو جس کے قبضے میں مکان ہے یا خارج کی یعنی زید جس کے قبضے میں نہیں ان سب صورتوں میں ڈگری صاحب قبضہ کی ہوگی مگر جبکہ خارج کی تاریخ مقدم ہوغرض یہاں اول ترجیح تقدم تاریخ سے ہے کہ اس کے بعد قبضہ ہونے نہ ہونے پر بھی لحاظ نہیں ہوتا اس کے بعد ترجیح قبضے سے ہے کہ دوسرے کی تاریخ مقدم نہ ہوتو ہر طرح اسی کو ترجیح رہتی ہے۔فتاوی
عالمگیریہ میں ہے:
ان ادعیا الشراء من واحد وکانت العین فی یداحدھما فھی لذی الیدسواء ارخ ام لم یؤرخ اذا ارخاوتاریخ الخارج اسبق فیقضی بھا للخارج کذافی الکافی اھ ملتقطا۔ اگر دو شخص ایك شخص سے کسی چیز کی خریداری کے مدعی ہوں تو جس کا قبضہ ہوگا وہی مالك قرار دیا جائے گا وہ تاریخ بیان کرے یا نہ کرے برابر ہے اور دونوں نے تاریخ بیان کی تو غیر قابض مدعی کی تاریخ پہلے ہو غیر قابض کو مالك قرار دیا جائیگاکافی میں یونہی ہے اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادۃ باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹€۳
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب القضاء ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۴۰۴€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۷۴€
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب القضاء ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۴۰۴€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۷۴€
فصول عمادی پھر فتاوی ہندیہ باب فیما تدفع بہ دعوی المدعی میں ہے:
اذاادعی عینا فی یدی رجل انی اشتریتہ من فلاں منذسبعۃ ایام وقال ذوالید لابل ھو ملکی اشتریتہ من ذلك الذی تدعی الشراء منہ منذ عشرۃ ایام وقام البینۃ یکون لاسبقھما تاریخا ۔ ایك شخص کسی چیز کے متعلق جو کہ دوسرے کے قبضہ میں ہے دعوی کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں شخص سے ایك ہفتہ قبل خریدی ہے قابض نے کہا یہ غلط ہے بلکہ یہ چیز میری ملك ہے میں نے اسی فلاں شخص سے ایك عشرہ قبل خریدی ہے اور قابض نے اپنے دعوی پر گواہی پیش کردی تو یہ چیز پہلی تاریخ والے یعنی قابض کی ملك قرار دی جائے گی(ت)
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہاں محمدی بیگم کے مدعیہ ہوجانے پر بھی بحث کی گئی ہے حالانکہ یہ تو بہت واضح بات ہے جب اس نے اپنی خریداری کا دعوی کیا مدعیہ ہوجانے میں کیا شبہ رہا کما ذکرنا(جیسا کہ ہم ذکرکرچکے ہیں۔ت)علماء تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر زید عمروپر دعوی کرے کہ یہ مال جو اس کے قبض میں ہے میرا ہےعمرو جواب دے کہ بلکہ بکر کا ہے اس نے ودیعۃ مجھے سپرد کیا ہے تو عمرو مدعی ہوگیا حالانکہ اس نے اپنی ملك کا دعوی بھی نہ کیا تو دعوی شراء میں مدعیہ نہ ہوجانے کے کیا معنیجامع الفصولین فصل ۱۰ میں برمزفش فتاوی امام رشید الدین سے ہے:
اذاطلب المدعی یمین ذی الیدانہ ودیعۃ لیس لہ ذلك لانہ جعل نفسہ مدعیا فی انہ ودیعۃ ولایمین مدعی نے قابض سے قسم کا مطالبہ کیا کہ یہ چیز اس کے قبضہ میں بطور امانت ہے تو مدعی کو قابض سے قسم لینے کا حق نہیں کیونکہ قابض نے یہ ظاہرکرکے کہ میرے
علی المدعی ۔ پاس یہ فلاں کی امانت ہے امانت کا مدعی بن گیا ہے جبکہ مدعی سے قسم کا مطالبہ درست نہیں ہے(ت)
ھشتم: فرق ہے اس میں کہ مدعی بعد صدور شہادت اپنے شہود کی نسبت اقرار کرے کہ انہوں نے جھوٹی گواہی دی یا یہ حاضر واقعہ نہ تھے کہ اس تقدیر پر وہ اپنے اقرار پر مواخذ ہوگا کما افادہ فی البحر والشامیۃ وغیرھما(جیسا کہ بحر اور فتاوی شامی میں اس کا افادہ کیا ہے۔ت)اور اس میں کہ مدعی پیش از شہادت کہے میر اکوئی گواہ نہیں یا کہے میں جو شہادت لاؤں محض جھوٹی اور جعلی ہوگی یا کہے فلاں و فلاں جو کچھ گواہی میرے لئے دیں وہ جھوٹ ہےاس کے بعد وہ گواہ پیش کرے اور فلاں فلاں اس کے واسطے شہادت دیں تو مذہب صحیح میں یہ شہادت مان لی جائے گی اور مدعی کے وہ پہلے اظہار واقرار اس کے قبول میں خلل انداز نہ ہوں گے کہ یہاں توفیق ممکن ہے انسان نسیان کے لئے ہے ممکن کہ مدعی کو اس وقت یہی یاد تھا کہ کوئی شخص حاضر واقعہ نہ تھا یا خاص فلاں و فلاں موجود نہ تھے لہذا اس وقت یہ اظہار کیا اور بعد کو یا دآیا اور گواہ حاضرلایادرمختار میں ہے:
تقبل البینۃ لو اقامھا المدعی وان قال قبل الیمین لا بینۃ لیسراجخلافا لما فی شرح المجمع عن المحیط ۔ اگر مدعی نے مدعی علیہ کی قسم سے پہلے گواہی پیش کردی تو قبول کرلی جائے گی اگرچہ وہ قبل ازیں کہہ چکا ہو کہ میرے پاس گواہ نہیں ہیںسراج۔اور وہ جو کہ محیط سے شرح المجمع میں منقول ہے یہ اس کے خلاف ہے۔(ت)
اذاادعی عینا فی یدی رجل انی اشتریتہ من فلاں منذسبعۃ ایام وقال ذوالید لابل ھو ملکی اشتریتہ من ذلك الذی تدعی الشراء منہ منذ عشرۃ ایام وقام البینۃ یکون لاسبقھما تاریخا ۔ ایك شخص کسی چیز کے متعلق جو کہ دوسرے کے قبضہ میں ہے دعوی کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں شخص سے ایك ہفتہ قبل خریدی ہے قابض نے کہا یہ غلط ہے بلکہ یہ چیز میری ملك ہے میں نے اسی فلاں شخص سے ایك عشرہ قبل خریدی ہے اور قابض نے اپنے دعوی پر گواہی پیش کردی تو یہ چیز پہلی تاریخ والے یعنی قابض کی ملك قرار دی جائے گی(ت)
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہاں محمدی بیگم کے مدعیہ ہوجانے پر بھی بحث کی گئی ہے حالانکہ یہ تو بہت واضح بات ہے جب اس نے اپنی خریداری کا دعوی کیا مدعیہ ہوجانے میں کیا شبہ رہا کما ذکرنا(جیسا کہ ہم ذکرکرچکے ہیں۔ت)علماء تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر زید عمروپر دعوی کرے کہ یہ مال جو اس کے قبض میں ہے میرا ہےعمرو جواب دے کہ بلکہ بکر کا ہے اس نے ودیعۃ مجھے سپرد کیا ہے تو عمرو مدعی ہوگیا حالانکہ اس نے اپنی ملك کا دعوی بھی نہ کیا تو دعوی شراء میں مدعیہ نہ ہوجانے کے کیا معنیجامع الفصولین فصل ۱۰ میں برمزفش فتاوی امام رشید الدین سے ہے:
اذاطلب المدعی یمین ذی الیدانہ ودیعۃ لیس لہ ذلك لانہ جعل نفسہ مدعیا فی انہ ودیعۃ ولایمین مدعی نے قابض سے قسم کا مطالبہ کیا کہ یہ چیز اس کے قبضہ میں بطور امانت ہے تو مدعی کو قابض سے قسم لینے کا حق نہیں کیونکہ قابض نے یہ ظاہرکرکے کہ میرے
علی المدعی ۔ پاس یہ فلاں کی امانت ہے امانت کا مدعی بن گیا ہے جبکہ مدعی سے قسم کا مطالبہ درست نہیں ہے(ت)
ھشتم: فرق ہے اس میں کہ مدعی بعد صدور شہادت اپنے شہود کی نسبت اقرار کرے کہ انہوں نے جھوٹی گواہی دی یا یہ حاضر واقعہ نہ تھے کہ اس تقدیر پر وہ اپنے اقرار پر مواخذ ہوگا کما افادہ فی البحر والشامیۃ وغیرھما(جیسا کہ بحر اور فتاوی شامی میں اس کا افادہ کیا ہے۔ت)اور اس میں کہ مدعی پیش از شہادت کہے میر اکوئی گواہ نہیں یا کہے میں جو شہادت لاؤں محض جھوٹی اور جعلی ہوگی یا کہے فلاں و فلاں جو کچھ گواہی میرے لئے دیں وہ جھوٹ ہےاس کے بعد وہ گواہ پیش کرے اور فلاں فلاں اس کے واسطے شہادت دیں تو مذہب صحیح میں یہ شہادت مان لی جائے گی اور مدعی کے وہ پہلے اظہار واقرار اس کے قبول میں خلل انداز نہ ہوں گے کہ یہاں توفیق ممکن ہے انسان نسیان کے لئے ہے ممکن کہ مدعی کو اس وقت یہی یاد تھا کہ کوئی شخص حاضر واقعہ نہ تھا یا خاص فلاں و فلاں موجود نہ تھے لہذا اس وقت یہ اظہار کیا اور بعد کو یا دآیا اور گواہ حاضرلایادرمختار میں ہے:
تقبل البینۃ لو اقامھا المدعی وان قال قبل الیمین لا بینۃ لیسراجخلافا لما فی شرح المجمع عن المحیط ۔ اگر مدعی نے مدعی علیہ کی قسم سے پہلے گواہی پیش کردی تو قبول کرلی جائے گی اگرچہ وہ قبل ازیں کہہ چکا ہو کہ میرے پاس گواہ نہیں ہیںسراج۔اور وہ جو کہ محیط سے شرح المجمع میں منقول ہے یہ اس کے خلاف ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوے الباب السادس فیما تدفع بہ دعوی المدعی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۵۱€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۳€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۔۱۱۷€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۳€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۔۱۱۷€
حاشیہ علامہ ابرساہیم حلبی پھر ردالمحتار میں ہے:
(قولہ خلافا لما فی شرح المجمع)لیس فیہ ماینافی ذلك بل حکی قولین ۔ اس کے قول(شرح المجمع کے خلاف)کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کے منافی ہے بلکہ انہوں نےدو قول نقل کئے ہیں۔(ت)
تنویر الابصار وشرح مدقق دمشقی میں ہے:
(قال لابینۃ لی وطلب یمینہ فحلفہ ایك نے کہا کہ میرے پاس گواہ نہیں لہذا مدعی علیہ
(قولہ خلافا لما فی شرح المجمع)لیس فیہ ماینافی ذلك بل حکی قولین ۔ اس کے قول(شرح المجمع کے خلاف)کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کے منافی ہے بلکہ انہوں نےدو قول نقل کئے ہیں۔(ت)
تنویر الابصار وشرح مدقق دمشقی میں ہے:
(قال لابینۃ لی وطلب یمینہ فحلفہ ایك نے کہا کہ میرے پاس گواہ نہیں لہذا مدعی علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الدعوٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۲۴€
القاضی ثم برھن)علی دعواہ بعد الیمین(قبل ذلک) البرھان عند الامام(منہ)وکذالو قال المدعی کل بینۃ اتی بھا فھی شہود زورثم برھن علی الحق قبل خانیۃ وبہ جزم فی السراج کما مر(وقیل لا) یقبل والاصح القبول لجواز النسیان ثم التذکرکما فی الدرواقرہ المصنف اھ مختصرا۔ سے قسم لی جائےتو قاضی نے قسم لے لیپھر مدعی نے گواہی پیش کردی تو اس کی گواہ قبول کی جائے گی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیکاور یونہی اگر مدعی نے کہا ہو کہ میں جو بھی گواہ پیش کرونگا وہ گواہ جھوٹے ہوں گےپھر بعد میں مدعی نے اپنے حق میں گواہی پیش کردی تو مقبول ہوگیخانیہاور اسی پر سراج میں جزم کیا ہے جیسا کہ گزرا ہےبعض نے کہا یہ گواہی قبول نہ ہوگیاور اصح یہ ہے کہ قبول ہوگی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بھول جانے کے بعد یاد آئی ہو یا پہلے علم نہ تھا اب گواہی کا علم ہوگیا ہوجیسا کہ درر میں ہےاور مصنف نے اسے ثابت مانا ہے اھ مختصرا۔(ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
لان الشہادۃ تتعلق بالشہود ویجب علیہم اداؤھا ویاثم کاتمہا وھذاالقول منہ لایثبت زور العدل لانہ قبل الشہادۃ الخ۔ کیونکہ گواہی کا تعلق گواہوں سے ہے اور ان پر شہادت کا ادا کرنا واجب اور گواہی چھپانے والا گنہگار ہےمدعی کے کہنے سے وہ جھوٹے نہ ہوگئے کیونکہ مدعی کی یہ بات شہادت کی ادائیگی سے قبل ہے الخ۔(ت)
غرر میں ہے: لاصح القبول (اصح قبول کرنا ہے۔ت) درر میں ہے:
لجواز ان یکون لہ بینۃ او شہادۃ فنسیھا ثم ذکرھا اوکان لایعلمھاثم علمہا ۔ ہوسکتا ہے کہ فی الواقع گواہی تھی تو وہ بھول گیا اور اب یا دآگئییا علم نہ تھا اب معلوم ہوگیا(ت)
جامع الفصولین برمزفقظ ہے:
وکذا لوقال کل بینۃ اتی بھا یونہی اگر مدعی نے کہہ دیا کہ جو بھی شہادت پیش کروں
فھی زورثم اتی اوقال کل شہادۃ یشھد لی فلان وفلان فھی کذب ثم شہدا ۔ یونہی اگر مدعی نے کہہ دیا کہ جو بھی شہادت پیش کروں وہ جھوٹی ہے یا یوں کہا فلان فلاں کی ہر شہادت میرے حق میں جھوٹ ہے اس کے گواہوں نے شہادت دی مقبول ہوگی۔(ت)
جب یہ مقدمات ثمانیہ ممہد ہولئے بفضلہ تعالی حکم مسئلہ واضح ہوگیا اور چند مفید بحثوں نے رنگ انجلا پایا:
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
لان الشہادۃ تتعلق بالشہود ویجب علیہم اداؤھا ویاثم کاتمہا وھذاالقول منہ لایثبت زور العدل لانہ قبل الشہادۃ الخ۔ کیونکہ گواہی کا تعلق گواہوں سے ہے اور ان پر شہادت کا ادا کرنا واجب اور گواہی چھپانے والا گنہگار ہےمدعی کے کہنے سے وہ جھوٹے نہ ہوگئے کیونکہ مدعی کی یہ بات شہادت کی ادائیگی سے قبل ہے الخ۔(ت)
غرر میں ہے: لاصح القبول (اصح قبول کرنا ہے۔ت) درر میں ہے:
لجواز ان یکون لہ بینۃ او شہادۃ فنسیھا ثم ذکرھا اوکان لایعلمھاثم علمہا ۔ ہوسکتا ہے کہ فی الواقع گواہی تھی تو وہ بھول گیا اور اب یا دآگئییا علم نہ تھا اب معلوم ہوگیا(ت)
جامع الفصولین برمزفقظ ہے:
وکذا لوقال کل بینۃ اتی بھا یونہی اگر مدعی نے کہہ دیا کہ جو بھی شہادت پیش کروں
فھی زورثم اتی اوقال کل شہادۃ یشھد لی فلان وفلان فھی کذب ثم شہدا ۔ یونہی اگر مدعی نے کہہ دیا کہ جو بھی شہادت پیش کروں وہ جھوٹی ہے یا یوں کہا فلان فلاں کی ہر شہادت میرے حق میں جھوٹ ہے اس کے گواہوں نے شہادت دی مقبول ہوگی۔(ت)
جب یہ مقدمات ثمانیہ ممہد ہولئے بفضلہ تعالی حکم مسئلہ واضح ہوگیا اور چند مفید بحثوں نے رنگ انجلا پایا:
حوالہ / References
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۰۰€
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۳۷€
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۳۷€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۶€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۰۰€
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۳۷€
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الدعوٰی ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۳۷€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۶€
بحث اول:سید اشرف علی شمس الدین خاںغلام محی الدین خاںعبدالرزاق خاںباقرحسین کی گواہی میں اصلا کوئی غبار نہیں وہ صاف صاف شاہد اقرار عبدالغنی خاں ہیں نہ شاہدان مجلس ایجاب وقبول تو غلام محی الدین خاں وشمس الدین خاں کے بیانات پر یہ اعتراض کہ اگر کلام بائع کو ایجاب قرار دیں تو قبول اس مجلس میں نہیں یا محمدی بیگم کا بیان قبول نہیں اخبار ہے محض بے محل ہےنہ ان شاہدوں نے دعوی کیا کہ ہم حاضر مجلس ایجاب وقبول تھے نہ ان کے بیان کئے ہوئے الفاظ حکایت ایجاب وقبول ہیں وہ صراحۃ اقرار عبدالغنی خاں بیان کررہے ہیں جن کے بعد محمدی بیگم کا کلام زیر سقف ہونا یا خبر محض ہونا یا اصلا کچھ نہ ہونا کچھ بھی مضر نہیںنہ اس پر لحاظکما بیناہ فی الامر الثانی(جیسا کہ اسے امر ثانی میں بیان کیا گیا ہے۔ت)
بحث دوم: سید اشرف علی نے صرف اپنے فعل پر شہادت ہر گز نہ دی بلکہ اس گواہی میں صراحۃ عبدالغنی خاں کا کتابت بیعنامہ کے لئے حکم کرنا اور خود عبارت بتاتے جانا اور اپنے ہاتھ سے مہر لگانا مذکور ہےیہ افعال واقوال عبدالغنی خان کے ہیں یا سید اشرف علی کےان کے ساتھ اگر اپنا لکھنا بیان ہو ا تو ان سب پر شہادت کیوں صرف اپنے فعل پر شہادت قرار پاگئی۔
فی الھندیۃ عن المحیط عن النوادر عن الامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہ اذاشھد شاھدان ان فلانا امرنا ان نبلغ فلانا انہ قد وکلہ ببیع عبدہ وقد اعلمناہ او امرنا ان نبلغ امرأتہ انہ جعل امرھا ہندیہ میں محیط سے منقول کہ نوادر روایات میں سے امام ابویوسف سے منقول ہے کہ جب دو گواہ شہادت دیں کہ فلاں شخص نے ہمیں کہا کہ ہم فلاں کو یہ اطلاع دے دیں کہ اس نے اس کو وکیل بنایا ہے کہ اس کے غلام کو فروخت کردے تو ہم نے اس فلاں کو اطلاع پہنچا دی یا گواہوں نے یہ شہادت دی کہ اس شخص
بحث دوم: سید اشرف علی نے صرف اپنے فعل پر شہادت ہر گز نہ دی بلکہ اس گواہی میں صراحۃ عبدالغنی خاں کا کتابت بیعنامہ کے لئے حکم کرنا اور خود عبارت بتاتے جانا اور اپنے ہاتھ سے مہر لگانا مذکور ہےیہ افعال واقوال عبدالغنی خان کے ہیں یا سید اشرف علی کےان کے ساتھ اگر اپنا لکھنا بیان ہو ا تو ان سب پر شہادت کیوں صرف اپنے فعل پر شہادت قرار پاگئی۔
فی الھندیۃ عن المحیط عن النوادر عن الامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہ اذاشھد شاھدان ان فلانا امرنا ان نبلغ فلانا انہ قد وکلہ ببیع عبدہ وقد اعلمناہ او امرنا ان نبلغ امرأتہ انہ جعل امرھا ہندیہ میں محیط سے منقول کہ نوادر روایات میں سے امام ابویوسف سے منقول ہے کہ جب دو گواہ شہادت دیں کہ فلاں شخص نے ہمیں کہا کہ ہم فلاں کو یہ اطلاع دے دیں کہ اس نے اس کو وکیل بنایا ہے کہ اس کے غلام کو فروخت کردے تو ہم نے اس فلاں کو اطلاع پہنچا دی یا گواہوں نے یہ شہادت دی کہ اس شخص
بیدھا فبلغنا ھاوقد طلقت نفسہا جازت شہادتھما ۔ نے ہمیں کہا کہ ہم اسکی بیوی کو مطلع کردیں کہ اس نے اسے طلا ق کا اختیار دیا ہے تو ہم نے اس کی بیوی کو مطلع کردیا ہے اور اس کی بیوی نے اپنے نفس کو طلاق دے دی ہےتو یہ شہادت جائز ہوگی۔(ت)
بحث سوم: ظاہر ہوا کہ باقر حسین تنہا گواہ اقرار نہیں بلکہ اس کے پانچ گواہ ہیں اور ایسی جگہ یہ بحث کہ ثبوت بیع ایجاب وقبول بمجلس واحد سے ہوتا ہے معنی ثبوت میں تفرقہ نہ کرنے سے ناشی وثبوت فی نفسہ ہے ثبوت عند القاضی کے لئے صرف ثبوت اقرار کافی ہے۔
بحث چہارم: اظہارمحمدی بیگم میں کہیں ایجاب وقبول کی نفی نہیںنہ اس کے بیان مذکور تجویز میں کوئی لفظ حصر ہے کہ اس کے سوازن وشو میں دربارہ بیع کوئی کلام نہ آیا نہ باوصف شہادت اقرار حاکم کے حضور تذکرہ ایجاب وقبول آنا کچھ ضرورمحمدی بیگم نے وقوع عقد والفاظ ایجاب وقبول کو ان لفظوں میں ادا کردیا کہ یہ مکان شوہر نے بیع کرکے کاغذ میرے حوالہ کیا اور وہ گفتگوئے بیع جو اس نے بیان کی کہ میں بیعنامہ تمہیں لکھوائے دیتا ہوںمیں نے کہا آمینبیان ایجاب وقبول نہ تھی بلکہ وہ گفتگو بمعنی قرار داد و مشورہ بیع تھی جیسا کہ صراحۃ اس کے لفظ سے ظاہر ہے اگر کہئے ممکن کہ اس کے مراد گفتگوئے بیع سے یہی ایجاب وقبول تو ہم کہیں گے ممکن کہ اس کی مراد وہی قرار داد ومشورہ ہو غیب پر حکم کردینا اور امر محتمل سے ایك معنی بطور خود سمجھ لینا کیونکر صحیح ہوا بلکہ جب لفظ صراحۃ مشورے ہی کے ہیں تو اسی پر حمل واضحہاں اگر اس کے کلام میں تصریح ہوتی کہ اس کے سوا بیع کو ئی بیع کا کو ئی مکالمہ عبدالغنی خاں نے مجھ سے نہ کیا تو یہ معنی ٹھیك ہوتے اور جب ایسا نہیں تو عقلا ونقلا احتمال قاطع استدلال۔
بحث پنجم:یہیں سے ظاہر ہوا کہ یوسف علی خاں وسید حشمت علی کے بیانوں کو اظہار محمدی بیگم سے اصلا تنافی نہیںوہ دووقت کسی اور کے ہونے کا انکار کرتی ہےوقت مشورہ اور وقت دادن بیعنامہ وقت ایجاب وقبول کسی کے موجود ہونے نہ ہونے کا اس کے اظہار میں کچھ ذکر نہیں اور یہ دونوں وقت ایجاب وقبول اپنا ہونا بیان کرتے ہیں وقت قرار داد ووقت عطائے بیعنامہ سے کچھ بحث نہیں تو منافات کہاں ہوئی اور ایسی محتمل بات پر مسلمانوں کی گواہی محض زوری وجعلی کیونکر ٹھہرسکی۔
بحث ششم:اگرفرض ہی کیجئے کہ گفتگوئے بیع سے محمدی بیگم کی مراد ایجاب وقبول ہی ہے جب بھی بربنائے مذہب صحیح کہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب ہے اس کے اظہار سے
بحث سوم: ظاہر ہوا کہ باقر حسین تنہا گواہ اقرار نہیں بلکہ اس کے پانچ گواہ ہیں اور ایسی جگہ یہ بحث کہ ثبوت بیع ایجاب وقبول بمجلس واحد سے ہوتا ہے معنی ثبوت میں تفرقہ نہ کرنے سے ناشی وثبوت فی نفسہ ہے ثبوت عند القاضی کے لئے صرف ثبوت اقرار کافی ہے۔
بحث چہارم: اظہارمحمدی بیگم میں کہیں ایجاب وقبول کی نفی نہیںنہ اس کے بیان مذکور تجویز میں کوئی لفظ حصر ہے کہ اس کے سوازن وشو میں دربارہ بیع کوئی کلام نہ آیا نہ باوصف شہادت اقرار حاکم کے حضور تذکرہ ایجاب وقبول آنا کچھ ضرورمحمدی بیگم نے وقوع عقد والفاظ ایجاب وقبول کو ان لفظوں میں ادا کردیا کہ یہ مکان شوہر نے بیع کرکے کاغذ میرے حوالہ کیا اور وہ گفتگوئے بیع جو اس نے بیان کی کہ میں بیعنامہ تمہیں لکھوائے دیتا ہوںمیں نے کہا آمینبیان ایجاب وقبول نہ تھی بلکہ وہ گفتگو بمعنی قرار داد و مشورہ بیع تھی جیسا کہ صراحۃ اس کے لفظ سے ظاہر ہے اگر کہئے ممکن کہ اس کے مراد گفتگوئے بیع سے یہی ایجاب وقبول تو ہم کہیں گے ممکن کہ اس کی مراد وہی قرار داد ومشورہ ہو غیب پر حکم کردینا اور امر محتمل سے ایك معنی بطور خود سمجھ لینا کیونکر صحیح ہوا بلکہ جب لفظ صراحۃ مشورے ہی کے ہیں تو اسی پر حمل واضحہاں اگر اس کے کلام میں تصریح ہوتی کہ اس کے سوا بیع کو ئی بیع کا کو ئی مکالمہ عبدالغنی خاں نے مجھ سے نہ کیا تو یہ معنی ٹھیك ہوتے اور جب ایسا نہیں تو عقلا ونقلا احتمال قاطع استدلال۔
بحث پنجم:یہیں سے ظاہر ہوا کہ یوسف علی خاں وسید حشمت علی کے بیانوں کو اظہار محمدی بیگم سے اصلا تنافی نہیںوہ دووقت کسی اور کے ہونے کا انکار کرتی ہےوقت مشورہ اور وقت دادن بیعنامہ وقت ایجاب وقبول کسی کے موجود ہونے نہ ہونے کا اس کے اظہار میں کچھ ذکر نہیں اور یہ دونوں وقت ایجاب وقبول اپنا ہونا بیان کرتے ہیں وقت قرار داد ووقت عطائے بیعنامہ سے کچھ بحث نہیں تو منافات کہاں ہوئی اور ایسی محتمل بات پر مسلمانوں کی گواہی محض زوری وجعلی کیونکر ٹھہرسکی۔
بحث ششم:اگرفرض ہی کیجئے کہ گفتگوئے بیع سے محمدی بیگم کی مراد ایجاب وقبول ہی ہے جب بھی بربنائے مذہب صحیح کہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا مذہب ہے اس کے اظہار سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۷۲€
شاہدین ایجاب وقبول کی شہادت پر اصلا آنچ نہیں آتیبیان سائل سے معلوم ہوا کہ محمدی بیگم کا اظہار سید حشمت علی ویوسف علی خاں بلکہ تمام شہود کے اظہار سے پہلے ہو ا اور امر ہشتم میں واضح ہوچکا کہ اگر محمدی بیگم صراحۃ اپنے اظہار میں یوں لکھاتی کہ ایجاب وقبول کی جو شہادت دی محض جھوٹا ہے نری بناوٹ کرتا ہے اور اس کے بعد شہادت گزرتی اظہار مدعیہ یعنی محمدی بیگم سے اسے کچھ مضرت نہ تھی جب مردوں کے حق میں یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعی بھول گیا تو عورات خصوصا اس عمرمیں زیادہ مستحق اس عذر کی ہیں خلاف مذہب مصحح امام مسلمانوں کی شہادت کو مصنوعی بتادینے کا کوئی حق نہ تھا۔
بحث ہفتم: ان ابحاث سے روشن ہوا کہ یہ سات شہادتیں فی نفسہا ہر غبار واعتراض سے پاك وصاف ہیں رہا شہود کو غیرثقہ نامعتمد بتانا قطع نظراس کہ اگر بے دلیل شرعی صرف اس بنا پر ہو کہ ان کی تحقیقات نہ کی گئی تو یہ کمی خود حاکم کی طرف سے ہے حاکم پر واجب ہے کہ احوال شہود سے خود بروجہ کافی آگاہ نہ ہو تو خفیہ تحقیقات کرے جس سے معلوم ہو کہ ان کی شہادت قابل اعتبار شرع ہے یانہیںاگر چہ فریق ثانی کی طرف سے اس کی تحریك نہ بھی ہو بے تحقیقات کے جزافاثقہ غیرثقہ کہہ دینے کے کوئی معنی نہیں درمختار میں ہے:
عندھما یسأل فی الکل اذا جھل بحالھم بہ یفتی ۔ صاحبین کے نزدیك قاضی جب گواہوں کے حالات کو نہ جانتا ہو تو اسے تمام قسم کے گواہوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق ہےاسی پر فتوی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:یسأل ای وجوبا (قاضی پر واجب ہے کہ معلومات حاصل کرے۔ت)منحۃ الخالق میں علامہ خیر رملی سے ہے:
مقتضاہ ان القاضی یاثم بترك السوال ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معلومات حاصل نہ کرنے پر قاضی گنہگارہوگا۔(ت)
بحر میں ہے:
فی السراجیۃ والفتوی علی انہ یسأل فی السر ۔ اور سراجیہ میں ہے کہ فتوی یہ ہے کہ قاضی انکے متعلق خفیہ طریقہ سے معلومات حاصل کرے(ت)
بحث ہفتم: ان ابحاث سے روشن ہوا کہ یہ سات شہادتیں فی نفسہا ہر غبار واعتراض سے پاك وصاف ہیں رہا شہود کو غیرثقہ نامعتمد بتانا قطع نظراس کہ اگر بے دلیل شرعی صرف اس بنا پر ہو کہ ان کی تحقیقات نہ کی گئی تو یہ کمی خود حاکم کی طرف سے ہے حاکم پر واجب ہے کہ احوال شہود سے خود بروجہ کافی آگاہ نہ ہو تو خفیہ تحقیقات کرے جس سے معلوم ہو کہ ان کی شہادت قابل اعتبار شرع ہے یانہیںاگر چہ فریق ثانی کی طرف سے اس کی تحریك نہ بھی ہو بے تحقیقات کے جزافاثقہ غیرثقہ کہہ دینے کے کوئی معنی نہیں درمختار میں ہے:
عندھما یسأل فی الکل اذا جھل بحالھم بہ یفتی ۔ صاحبین کے نزدیك قاضی جب گواہوں کے حالات کو نہ جانتا ہو تو اسے تمام قسم کے گواہوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق ہےاسی پر فتوی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:یسأل ای وجوبا (قاضی پر واجب ہے کہ معلومات حاصل کرے۔ت)منحۃ الخالق میں علامہ خیر رملی سے ہے:
مقتضاہ ان القاضی یاثم بترك السوال ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معلومات حاصل نہ کرنے پر قاضی گنہگارہوگا۔(ت)
بحر میں ہے:
فی السراجیۃ والفتوی علی انہ یسأل فی السر ۔ اور سراجیہ میں ہے کہ فتوی یہ ہے کہ قاضی انکے متعلق خفیہ طریقہ سے معلومات حاصل کرے(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۳۷۲€
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴/ ۶۳€
بحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۶۴€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۳۷۲€
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴/ ۶۳€
بحرالرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۶۴€
یہاں محل نظریہ ہے کہ اسی بیعنامہ محمدی بیگم کے تحقیقات میں حاکم نے انہیں شہود کی شہادت پر اعتماد کیا اور اسی کی بنا پر یہ پابندی سرکلر بیعنامہ کو ثابت مان کر فیس اسٹامپ وتاوان رجسٹری لیا تو اب انہیں شہادتوں کا اسی ثبوت میں معتبر ومردود بتانے کا کوئی محل نہ رہا جیسا کہ امر پنجم میں واضح ہوچکا وہ غیر ثقہ نہیں فرضا کھلے فساق ہوتے جب حاکم خود انہیں قبول کرکے حکم کرچکا شہادت نافذ ہوگئیامر ششم میں واضح ہوا کہ فاسق بھی اہل شہادت ہے پھر بعد قبول رد کے کیا معنیسائل نے نہ عبارت سرکار پیش کی جس کی تعمیل پر حاکم کی یہ کارروائی تھی نہ اس امر کے متعلق تجویز حاکم کی یہ کارروائی تھی نہ اس ا مر کے متعلق تجویز حاکم کی نقل نظر سے گزری کہ اس قبول و تنفیذ شہادت کا حال کما ینبغی منکشف ہوتا پھر بھی اس قدر میں شك نہیں کہ یہ امر بہت قابل لحاظ ہے اور مخالفت ضابطہ کاجواب تو اس سے بداہۃ واضح اگرچہ خدام شرع کو بحمداﷲ تعالی ضوابط شرع مطہر کے سوا کسی ضابطے سے بحث نہیںجب خود صاحبان ضابطہ ہی نے وہ سرکلر جاری کیا اور اسی کے مطابق اب بعد ظہور وجہ وجیہ واجازت وحصول تحقیقات مزید وہ کاغذ مثل کاغذات رجسٹری ٹھہرگیا تو مخالفت ضابطہ کہاں رہیفیس و تاوان رجسٹری لینے کے بعد بھی سادہ وساقط الاعتبار بتانا یعنی چہکیا سرکلر اس لئے وضع ہواتھا کہ اسٹامپ کے دام رجسٹری کا تاوان سب کچھ لے لیجئے اور پھر کہہ دیجئے کہ کاغذ سادہ ہے ساقط الاعتبار ہے یہ کہنا تو پہلے ہی حاصل فیس و تاوان کس بات کے لئے اور اس میں کون سا رفع عذر ہوا جسے مقصود عدالت بتایا جاتا ہے کیا قبل ظہو ر وجہ وجیہ وتحقیقات مزید کاغذ سادہ کو سادہ کہا جاتا تو شکایت ہوتی اب کے بعد ان تمام مراتب کے فیس وتاوان لے کر مصدقہ بناکر سادہ ساقط الاعتبار کہہ دینے سے کوئی عذرباقی نہ رہا۔
بحث ہشتم:قرائن صدق شہادات کی یوں نفی کہ نہ بیعنامے پر رجسٹرینہ کاغذ اسٹامپ کانہ بائع کے ہاتھ کا لکھانہ دستخطنہ اہل محلہ واقارب کی شہادت کہ انہیں سے بعض کے بے ثبوتی بیعنامہ کا دلیل عقلی بنایا گیا ہے اصلا قابل التفات نہیں۔
اولا:یہ اعتراض خود اپنے حکم پر ہے کہ انہیں شہادات کو ذریعہ ثبوت وجہ وجیہ مان کرفیس وتاوان لیا گیا۔
ثانیا: رجسٹری واسٹامپ نہ ہونا اگر دلیل عقلی بطلان شہادات ہوتو انہیں کی بناپر فیس و تاوان لے کر کاغذ کو مصدقہ رجسٹری واسٹامی بنانا طرفہ دور کارنگ ہوگا کہ مصدقہ ماننا تو موقوف ہوا قبول شہادات پر قبول شہادات مصدقہ ہونے پر۔
ثالثا: امر سوم میں واضح ہوچکا کہ اپنے لکھنے سے دوسرے پر املا اقوی ہے۔
رابعا: یہ سب زوائد وفضول باتیں ہیں شرع مطہر مں قبول شہادات کو وجودا وعدما ان باتوں سے
بحث ہشتم:قرائن صدق شہادات کی یوں نفی کہ نہ بیعنامے پر رجسٹرینہ کاغذ اسٹامپ کانہ بائع کے ہاتھ کا لکھانہ دستخطنہ اہل محلہ واقارب کی شہادت کہ انہیں سے بعض کے بے ثبوتی بیعنامہ کا دلیل عقلی بنایا گیا ہے اصلا قابل التفات نہیں۔
اولا:یہ اعتراض خود اپنے حکم پر ہے کہ انہیں شہادات کو ذریعہ ثبوت وجہ وجیہ مان کرفیس وتاوان لیا گیا۔
ثانیا: رجسٹری واسٹامپ نہ ہونا اگر دلیل عقلی بطلان شہادات ہوتو انہیں کی بناپر فیس و تاوان لے کر کاغذ کو مصدقہ رجسٹری واسٹامی بنانا طرفہ دور کارنگ ہوگا کہ مصدقہ ماننا تو موقوف ہوا قبول شہادات پر قبول شہادات مصدقہ ہونے پر۔
ثالثا: امر سوم میں واضح ہوچکا کہ اپنے لکھنے سے دوسرے پر املا اقوی ہے۔
رابعا: یہ سب زوائد وفضول باتیں ہیں شرع مطہر مں قبول شہادات کو وجودا وعدما ان باتوں سے
علاقہ نہیں شہوداگر معتبر شرعی ہیں ان کی شہادت کا قبول واجب اگرچہ یہ امور سب منتفی ہوں ورنہ نہیں اگرچہ یہ امور سب موجود ہوںیہ سرسری نگاہ سے اتنے ابحاث ہیںاور ہنوز بہت امور باقی ہیں کہ بخیال تطویل ترك کئے۔
بالجملہ تجویز بوجہ کثیرہ غیرصحیح ہے اور اس مسئلہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر ان سات شاہدوں میں دو گواہ بھی معتبر شرعی ہیں خواہ وہ صرف اقرار عبدالغنی خاں کے گواہ ہوں یا صرف ایجاب وقبول کے یا ایك اقرارکا ایك ایجاب وقبول کاتو از انجا کہ یہاں محمدی بیگم دونوں وجوہ ترجیح کی جامع ہے تاریخ بیع بھی اسی کی پہلی ہے اورقبضہ بھی اسی کا ہے لہذا ہر طرح فیصلہ بحق محمدی بیگم ہونا لازمواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۵۴: ازرامپور ۱۸/رمضان المبارك ۱۳۱۶ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ کا نکاح ہوا مہر مؤجل ومعجل کے ساتھ زید نے جائداد مملوکہ وموجودہ خود مہر معجل ہندہ میں مستغرق کردی اور یہ بھی اقرار کیا کہ آئندہ جوجائداد مجھ کو کسی ذریعہ سے حاصل ہوتا مقدار مہر معجل ہندہ مستغرق ومکفول سمجھی جائے اگر یہ تحریر واقرار زید شرعا صحیح ہے فہو المرادورنہ جو شرعا قابل قبول قضاء ہو وہ الفاظ بتائے جائیں جو کہ لکھے جائیں جو شرعا نافذ وجاری ہوں فقط
الجواب:
شرعا استغراق جائداد بلا قبضہ جس طرح آجکل رائج ہے محض مہمل و بے معنی ہےہاں رہن مع قبضہ مرتہن ضرور عقد شرعی ہے مگر وہ دخلی حرام اور اس سے نفع لینا حرام او زید کا وعدہ نسبت جائداد آئندہ اور بھی مہمل تر ہے معدوم کی نسبت اقرار کیا معنی مہر معجل کا دعوی عورت کو پیش از وقوع وطی ہر وقت پہنچتا ہے اور بعدو طی بھی لان کل وطائۃ معقودعلیہا(کیونکہ ہر وطی پر عقد ہے۔ت)تو جائداد موجود مہر میں دے دے یا عورت کے پاس رہن شرعی کردے اور باقی جوجائداد پیدا ہو عورت برضائے شوہر یونہی لیتی جائے نہ دے تو نالش وسوال امتناعی ونیلام سے کار برآری آج کل رائج ہے کہ جس میں دو صورتیں شرعی بھی نکل سکتی ہیںایك دیانۃ صرف مقدار دین کو خود نیلام میں لے کر زائد کو واپس دینا بناء علی ما افتی بہ الان من اخذ الحق من خلاف الجنس(اب موجودہ فتوی کی بناء پر صاحب حق اپنا حق خلاف جنس میں حاصل کرسکتا ہے۔ت)دوسرے نیلام مقدار مطالبہ سے زائد پر ہونااور مقدار زیادت کو مدیون کالے لینا فانہ یکون تنفیذ اللبیع کما نصواعلیہ ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا(تویہ بیع کو نافذ کرنا قررا پائے گا جیسا کہ فقہاء کی اس پر تصریح ہےاور جو اﷲ تعالی سے ڈرے وہ اس لئے راستہ بنادیتا ہے۔ت)
بالجملہ تجویز بوجہ کثیرہ غیرصحیح ہے اور اس مسئلہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر ان سات شاہدوں میں دو گواہ بھی معتبر شرعی ہیں خواہ وہ صرف اقرار عبدالغنی خاں کے گواہ ہوں یا صرف ایجاب وقبول کے یا ایك اقرارکا ایك ایجاب وقبول کاتو از انجا کہ یہاں محمدی بیگم دونوں وجوہ ترجیح کی جامع ہے تاریخ بیع بھی اسی کی پہلی ہے اورقبضہ بھی اسی کا ہے لہذا ہر طرح فیصلہ بحق محمدی بیگم ہونا لازمواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۵۴: ازرامپور ۱۸/رمضان المبارك ۱۳۱۶ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ کا نکاح ہوا مہر مؤجل ومعجل کے ساتھ زید نے جائداد مملوکہ وموجودہ خود مہر معجل ہندہ میں مستغرق کردی اور یہ بھی اقرار کیا کہ آئندہ جوجائداد مجھ کو کسی ذریعہ سے حاصل ہوتا مقدار مہر معجل ہندہ مستغرق ومکفول سمجھی جائے اگر یہ تحریر واقرار زید شرعا صحیح ہے فہو المرادورنہ جو شرعا قابل قبول قضاء ہو وہ الفاظ بتائے جائیں جو کہ لکھے جائیں جو شرعا نافذ وجاری ہوں فقط
الجواب:
شرعا استغراق جائداد بلا قبضہ جس طرح آجکل رائج ہے محض مہمل و بے معنی ہےہاں رہن مع قبضہ مرتہن ضرور عقد شرعی ہے مگر وہ دخلی حرام اور اس سے نفع لینا حرام او زید کا وعدہ نسبت جائداد آئندہ اور بھی مہمل تر ہے معدوم کی نسبت اقرار کیا معنی مہر معجل کا دعوی عورت کو پیش از وقوع وطی ہر وقت پہنچتا ہے اور بعدو طی بھی لان کل وطائۃ معقودعلیہا(کیونکہ ہر وطی پر عقد ہے۔ت)تو جائداد موجود مہر میں دے دے یا عورت کے پاس رہن شرعی کردے اور باقی جوجائداد پیدا ہو عورت برضائے شوہر یونہی لیتی جائے نہ دے تو نالش وسوال امتناعی ونیلام سے کار برآری آج کل رائج ہے کہ جس میں دو صورتیں شرعی بھی نکل سکتی ہیںایك دیانۃ صرف مقدار دین کو خود نیلام میں لے کر زائد کو واپس دینا بناء علی ما افتی بہ الان من اخذ الحق من خلاف الجنس(اب موجودہ فتوی کی بناء پر صاحب حق اپنا حق خلاف جنس میں حاصل کرسکتا ہے۔ت)دوسرے نیلام مقدار مطالبہ سے زائد پر ہونااور مقدار زیادت کو مدیون کالے لینا فانہ یکون تنفیذ اللبیع کما نصواعلیہ ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا(تویہ بیع کو نافذ کرنا قررا پائے گا جیسا کہ فقہاء کی اس پر تصریح ہےاور جو اﷲ تعالی سے ڈرے وہ اس لئے راستہ بنادیتا ہے۔ت)
مسئلہ۵۵:مرسلہ محمداﷲ یارخان مقیم ریاست رامپور محلہ بزریا ملا ظریف گھر منشی عبدالرحمن مرحوم۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اوپر مہر تیس ہزار تیس اشرفی رائج الوقت عقد کیا اس کے بعد زید نے دو دکانیں مملوکہ اپنی بعوض کل دین مہر ہندہ کو ہبہ کردیں اور کاغذ ہبہ نامہ رجسٹری شدہ سرکاری بھی مسماۃ ہندہ نے برضاورغبت بشہادت مرد مان ثقات کے اپنے کل دین مہر کا ادا ہوناا ور ایك حبہ زید کے ذمہ نہ رہنا قبول کرلیا یہاں تك کہ زید کی زندگی میں دس روپیہ ماہوار کرایہ دکانوں کا گیارہ برس آٹھ مہینے سے لیتی رہی اور اب زید مرگیا اب بھی لیتی ہے اور اپنی تمام عمر لے گیاب سائل سوال کرتا ہے کہ زید نے ہبہ نامہ میں تفصیل تیس ہزار تیس اشرفی کی نہیں لکھی ہے اور جو قرار پایا تھا تو اب زید نے یوں لکھا دیا کہ مسماۃ ہندہ کے کل دین مہر کے ادا ہونے کے بدلے یہ دکانیں مجھ زید نے لکھ دیں اب ایك حبہ میرے ذمہ دین مہر مسماۃ ہندہ کا دینا باقی نہ رہاپس لفظ کل کے تحریر کرنے سے زید بری الذمہ ہوگیایا نہیںاب زید مرگیامسماۃ ہندہ نے دو ہزار روپیہ کے بابت مہر کی پھر نالش کردی ہےیہ دعوی مسماۃ ہندہ کو عدالت میں پہنچتا ہے یانہیں
الجواب:
دعوی مذکورہ محض باطل ونامسموع ہےجب ہبہ کل مہر کے عوض ہندہ نے قبول کرلیا کل مہر بحکم مقاصہ ساقط ہوگیا اب اس میں سے کسی جز کا دعوی صریح ظلم ہے
فان الھبۃ بالعوض بیع ابتداء وانتھاء کما فی الدرالمختار والمشتری لایبقی لہ ملك فی شیئ من الثمن وامثال المقام لاتحتاج الی التسمیۃ بل ولاالی علم المقدار لعدم الحاجۃ الی التسلیم والتسلم فی الھندیۃ ھذابیع لایحتاج فیہ الی التسلیم وبیع ما لم یعلم البائع والمشتری مقدارہاذاکان لایحتاج فیہ تو بیشك ہبہ بالعوض ابتداء وانتہاء بیع ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے اور خریدار کی اد اکردہ ثمن میں ملکیت ختم ہوجائے گی ایسے مقامات پر مبیع و بیع کا ذکر بلکہ مقدار مبیع کا علم بھی ضروری نہیں کیونکہ یہاں لینا دینا کچھ نہیں ہوتاہندیہ میں ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں کچھ سونپنے کی ضرورت ہےنہ ہی مبیع کی مقدار کا جاننا بائع یا مشتری کو ضروری ہے تو جس بیع میں سونپنا اور قبضہ دینا نہ ہوتو وہاں مقدار
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اوپر مہر تیس ہزار تیس اشرفی رائج الوقت عقد کیا اس کے بعد زید نے دو دکانیں مملوکہ اپنی بعوض کل دین مہر ہندہ کو ہبہ کردیں اور کاغذ ہبہ نامہ رجسٹری شدہ سرکاری بھی مسماۃ ہندہ نے برضاورغبت بشہادت مرد مان ثقات کے اپنے کل دین مہر کا ادا ہوناا ور ایك حبہ زید کے ذمہ نہ رہنا قبول کرلیا یہاں تك کہ زید کی زندگی میں دس روپیہ ماہوار کرایہ دکانوں کا گیارہ برس آٹھ مہینے سے لیتی رہی اور اب زید مرگیا اب بھی لیتی ہے اور اپنی تمام عمر لے گیاب سائل سوال کرتا ہے کہ زید نے ہبہ نامہ میں تفصیل تیس ہزار تیس اشرفی کی نہیں لکھی ہے اور جو قرار پایا تھا تو اب زید نے یوں لکھا دیا کہ مسماۃ ہندہ کے کل دین مہر کے ادا ہونے کے بدلے یہ دکانیں مجھ زید نے لکھ دیں اب ایك حبہ میرے ذمہ دین مہر مسماۃ ہندہ کا دینا باقی نہ رہاپس لفظ کل کے تحریر کرنے سے زید بری الذمہ ہوگیایا نہیںاب زید مرگیامسماۃ ہندہ نے دو ہزار روپیہ کے بابت مہر کی پھر نالش کردی ہےیہ دعوی مسماۃ ہندہ کو عدالت میں پہنچتا ہے یانہیں
الجواب:
دعوی مذکورہ محض باطل ونامسموع ہےجب ہبہ کل مہر کے عوض ہندہ نے قبول کرلیا کل مہر بحکم مقاصہ ساقط ہوگیا اب اس میں سے کسی جز کا دعوی صریح ظلم ہے
فان الھبۃ بالعوض بیع ابتداء وانتھاء کما فی الدرالمختار والمشتری لایبقی لہ ملك فی شیئ من الثمن وامثال المقام لاتحتاج الی التسمیۃ بل ولاالی علم المقدار لعدم الحاجۃ الی التسلیم والتسلم فی الھندیۃ ھذابیع لایحتاج فیہ الی التسلیم وبیع ما لم یعلم البائع والمشتری مقدارہاذاکان لایحتاج فیہ تو بیشك ہبہ بالعوض ابتداء وانتہاء بیع ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے اور خریدار کی اد اکردہ ثمن میں ملکیت ختم ہوجائے گی ایسے مقامات پر مبیع و بیع کا ذکر بلکہ مقدار مبیع کا علم بھی ضروری نہیں کیونکہ یہاں لینا دینا کچھ نہیں ہوتاہندیہ میں ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں کچھ سونپنے کی ضرورت ہےنہ ہی مبیع کی مقدار کا جاننا بائع یا مشتری کو ضروری ہے تو جس بیع میں سونپنا اور قبضہ دینا نہ ہوتو وہاں مقدار
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
الی التسلیم جائز الایری ان من اقرانہ غصب من فلان شیئا اواقر ان فلانا اودعہ شیئا ثم ان المقر اشتری ذلك الشیئ من المقرلہ جاز وان کان لا یعرفان مقدارہ۔واﷲ اعلم۔ کے علم کے بغیر بیع جائز ہےکیا دیکھا نہیں کہ کوئی شخص اقرارکرے کہ میں نے فلاں کی چیز غصب کی ہے یا یہ اقرار کرے اس نے میرے پاس امانت رکھی پھر اقرار کرنیوالا مقرلہ سے وہ چیز خریدلے تو جائز ہے اگرچہ دونوں کو چیز کی مقدار کا علم نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۵۶: ازلشکر گوالیار محلہ یکہ مرسلہ محمد بخش ۲۱ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس معاملے میں کہ مسماۃ حرہ نے اپنے شوہر پر اس بیان سے طلاق کا دعوی پیش کیا ہے کہ میرے شوہر نے بموجودگی چار عورتوں کے ایك جلسہ میں مجھ کو تین بار طلاق دی اور اس کو عرصہ دو مہینے کا ہوا اب ان چارعورتوں میں ایك عورت زمانہ طلاق کا تخمینا ڈیڑھ سال بیان کرتی ہے اور دوسری عورت سوایاڈیڑ ھ سال کہتی ہے اور باقی دوعورتوں کی نسبت مسماۃ کا یہ بیان ہے کہ مجھ کو ان کی شہادت دلانا منظور نہیںعلاوہ ان کے دو مرد مسلمان اور تین مرد ہندو جن کی نسبت مسماۃ سننے نہ سننے کی لاعلمی بیان کرتی ہےان میں ایك گواہ زمانہ طلاق کا چودہ پندرہ ماہ کا بیان کرتا ہے اور دوسرا قریب دو سال بیان کرتا ہے اور تین ہندو کوئی سوابرس کوئی ڈیڑھ برس اور مسماۃ زمانہ طلاق کا دو مہینے کا بتاتی ہے اور شوہر کو طلاق دینے سے انکار ہےپس اس صورت میں مسماۃکا دعوی طلاق کا شہادت مذکور سے شرعا کیا حکم رکھتا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
مسلمانوں پر کسی معاملے میں ہنود کی گواہی اصلا معتبر نہیںنہ تنہا عورتوں کی گواہی سے طلاق ثابت ہوسکے کم سے کم دو مسلمان مرد عاقل بالغ متقی پرہیزگار یا ایك مرددو عورتیں سب مسلمان عاقل بالغ متقی پرہیز گار درکار ہیںاگر ایسے گواہ نہیں تو شوہر سے قسم لی جائے اگروہ قسم کھاکر طلاق ہونے سے انکار کردے دعوی حرہ رد ہوجائے گا اور اگر شوہر قسم نہ کھائے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور اگر ویسے گواہ شرعی موجود ہیں تو دعوی طلاق آپ ہی ثابت ہے اور مدعیہ وگواہان اور نیز باہم گواہوں کا زمانہ طلاق میں اختلاف کچھ مضرشہادت نہیںدرمختار میں ہے:
یشترط الاسلام لو المدعی علیہ مسلما ۔ اگر مدعی علیہ مسلمان ہوتو گواہوں کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ (ت)
مسئلہ۵۶: ازلشکر گوالیار محلہ یکہ مرسلہ محمد بخش ۲۱ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس معاملے میں کہ مسماۃ حرہ نے اپنے شوہر پر اس بیان سے طلاق کا دعوی پیش کیا ہے کہ میرے شوہر نے بموجودگی چار عورتوں کے ایك جلسہ میں مجھ کو تین بار طلاق دی اور اس کو عرصہ دو مہینے کا ہوا اب ان چارعورتوں میں ایك عورت زمانہ طلاق کا تخمینا ڈیڑھ سال بیان کرتی ہے اور دوسری عورت سوایاڈیڑ ھ سال کہتی ہے اور باقی دوعورتوں کی نسبت مسماۃ کا یہ بیان ہے کہ مجھ کو ان کی شہادت دلانا منظور نہیںعلاوہ ان کے دو مرد مسلمان اور تین مرد ہندو جن کی نسبت مسماۃ سننے نہ سننے کی لاعلمی بیان کرتی ہےان میں ایك گواہ زمانہ طلاق کا چودہ پندرہ ماہ کا بیان کرتا ہے اور دوسرا قریب دو سال بیان کرتا ہے اور تین ہندو کوئی سوابرس کوئی ڈیڑھ برس اور مسماۃ زمانہ طلاق کا دو مہینے کا بتاتی ہے اور شوہر کو طلاق دینے سے انکار ہےپس اس صورت میں مسماۃکا دعوی طلاق کا شہادت مذکور سے شرعا کیا حکم رکھتا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
مسلمانوں پر کسی معاملے میں ہنود کی گواہی اصلا معتبر نہیںنہ تنہا عورتوں کی گواہی سے طلاق ثابت ہوسکے کم سے کم دو مسلمان مرد عاقل بالغ متقی پرہیزگار یا ایك مرددو عورتیں سب مسلمان عاقل بالغ متقی پرہیز گار درکار ہیںاگر ایسے گواہ نہیں تو شوہر سے قسم لی جائے اگروہ قسم کھاکر طلاق ہونے سے انکار کردے دعوی حرہ رد ہوجائے گا اور اگر شوہر قسم نہ کھائے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور اگر ویسے گواہ شرعی موجود ہیں تو دعوی طلاق آپ ہی ثابت ہے اور مدعیہ وگواہان اور نیز باہم گواہوں کا زمانہ طلاق میں اختلاف کچھ مضرشہادت نہیںدرمختار میں ہے:
یشترط الاسلام لو المدعی علیہ مسلما ۔ اگر مدعی علیہ مسلمان ہوتو گواہوں کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
اسی میں ہے:
ونصابھا لنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان ولاتقبل شہادۃ اربع بلا رجل اھ مختصرا۔ نکاح وطلاق کے لئے نصاب شہادت دو مر دیا ایك مر د اور دو عورتیںمرد کے بغیر چار عورتوں کی شہادت مقبول نہ ہوگی اھ مختصرا(ت)
عالمگیری میں ہے:
اختلفا فی الوقت اوالمکان فان کان المشہود بہ قولا محضا کالبیع والاجارۃ والطلاق والعتاق جازت شہادتھما اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر دونوں گواہوں کا وقت یا مکان میں اختلاف ہو اور شہادت والا معاملہ گفتگو سے متعلق ہو مثلا بیعاجارہطلاق اور عتاقتو یہ شہادت جائز ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۷تا۵۸: ازریاست رامپور مرسلہ منشی واحد علی صاحب پیشکارمحکمہ مال ۱۹/ربیع الآخر شریف ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)جوضوابط واحکام واسطے فیصلہ خصومات اور رجوع نالش کے خلیفہ یا قاضی وقت نے مقرر کئے ہیں ان کی پابندی حاکم کو شرعالازم و واجب ہے یانہیںبینواتوجروا۔
(۲)زید نے اپنی تحریرمیں یہ لکھا ہے کہ(عمرو شہرسے باہر گئے ہیں)ازروئے احکام شرعی الفاظ مذکورہ سے فرار عمرو ثابت ہے یانہیں بلکہ صرف معمولی طور پر جانا پایا جاتا ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)والی ملك حاکم اسلام یا اس کے یہاں کے افسر بالا دست مثل قاضی القضاۃ نے جسے اس نے لوگوں کو عہدہ قضا پر اپنے دستخطوں سے مقرر کردینے کا اختیار دیا ہوبالجملہ جس کے نصب سے حاکم شرعا حاکم ہوجاتا ہے اور بے رضائے فریقین فیصلہ کرنے کا اختیار پاتا ہے ایسے شخص نے جس کے نصب میں جو شرائط حکم قضا کےلئے لگائے ہوں یا سلطان خواہ اس کے ماذون مجاز نے جسے وضع ضوابط کا اختیار ہو جو ضابطے فیصلہ خصومات ورجوع مقدمات کے واسطے مقرر کئے ہوں ان کے پابندی صورت اولی میں اس خاص حاکم اور ثانیہ میں اس ریاست کے تمام حکام پر خواہی نخواہی ضرور ہےان کے خلاف جو فیصلہ
ونصابھا لنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان ولاتقبل شہادۃ اربع بلا رجل اھ مختصرا۔ نکاح وطلاق کے لئے نصاب شہادت دو مر دیا ایك مر د اور دو عورتیںمرد کے بغیر چار عورتوں کی شہادت مقبول نہ ہوگی اھ مختصرا(ت)
عالمگیری میں ہے:
اختلفا فی الوقت اوالمکان فان کان المشہود بہ قولا محضا کالبیع والاجارۃ والطلاق والعتاق جازت شہادتھما اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر دونوں گواہوں کا وقت یا مکان میں اختلاف ہو اور شہادت والا معاملہ گفتگو سے متعلق ہو مثلا بیعاجارہطلاق اور عتاقتو یہ شہادت جائز ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۷تا۵۸: ازریاست رامپور مرسلہ منشی واحد علی صاحب پیشکارمحکمہ مال ۱۹/ربیع الآخر شریف ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)جوضوابط واحکام واسطے فیصلہ خصومات اور رجوع نالش کے خلیفہ یا قاضی وقت نے مقرر کئے ہیں ان کی پابندی حاکم کو شرعالازم و واجب ہے یانہیںبینواتوجروا۔
(۲)زید نے اپنی تحریرمیں یہ لکھا ہے کہ(عمرو شہرسے باہر گئے ہیں)ازروئے احکام شرعی الفاظ مذکورہ سے فرار عمرو ثابت ہے یانہیں بلکہ صرف معمولی طور پر جانا پایا جاتا ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)والی ملك حاکم اسلام یا اس کے یہاں کے افسر بالا دست مثل قاضی القضاۃ نے جسے اس نے لوگوں کو عہدہ قضا پر اپنے دستخطوں سے مقرر کردینے کا اختیار دیا ہوبالجملہ جس کے نصب سے حاکم شرعا حاکم ہوجاتا ہے اور بے رضائے فریقین فیصلہ کرنے کا اختیار پاتا ہے ایسے شخص نے جس کے نصب میں جو شرائط حکم قضا کےلئے لگائے ہوں یا سلطان خواہ اس کے ماذون مجاز نے جسے وضع ضوابط کا اختیار ہو جو ضابطے فیصلہ خصومات ورجوع مقدمات کے واسطے مقرر کئے ہوں ان کے پابندی صورت اولی میں اس خاص حاکم اور ثانیہ میں اس ریاست کے تمام حکام پر خواہی نخواہی ضرور ہےان کے خلاف جو فیصلہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۳/ ۸۔۵۰۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۳/ ۸۔۵۰۷€
ہو گا سراسر مردود بے اثر ونامعتبر ہوگا جیسے کسی راہ چلے کا کوئی فیصلہ بطور خود کردینا۔درمختار میں ہے:
القضاء یتخصص بزمان ومکان وخصومۃ حتی لوامر السلطان بعدم سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعھا لم ینفذ ۔ قضا کو مکانزمان اور مقدمہ سے مختص کیا جاسکتا ہے حتی کہ اگر سلطان نے حکم دیا کہ پندرہ سال گزرجانے کے بعد دعوی کی سماعت نہ ہوگی تو کسی قاضی نے یہ سماعت کی تو فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
عزاہ فی الاشباہ الی الخلاصۃ وقال فی الفتح الولایۃ تقبل التقلید والتعلیق بالشرط ۔ اشباہ میں اس کو خلاصہ کی طرف منسوب کیا ہے اور فتح میں فرمایا کہ ولایت شرط کے ساتھ مقید اور معلق ہوسکتی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
فیکون القاضی معزولا عن سماعہا لما علمت من ان القضاء یتخصص ۔ قاضی اس کے سماعت سے بے اختیار ہوگا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ قضا کو خاص کیا جاسکتا ہے۔(ت)
ہاں اگر ان دوصورتوں کے سوا کسی قاضی غیرمجاز نے بے اذن والی بطور خود کچھ ضوابط مقرر کئے ہوں تو ان کی پابندی کسی پر لازم نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔(۲)الفاظ مذکورہ سے فرار عمرو ہر گز ثابت نہیں"باہر جانا"ترجمہ خروج کا ہے ا ورفرار کا ترجمہ"بھاگ جانا'۔خروج سے"فرار"ہر گز لازم نہیں۔اﷲ عزوجل زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں فرماتا ہے:
"فخرج علی قومہ من المحراب" ۔ اپنی قوم پر محراب سے باہر آئے۔
اﷲ تعالی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے:
"ومن حیث خرجت فول وجہک شطر المسجد الحرام" ۔ باہر جاؤ تو اپنا منہ کعبے کی طرف کرو۔
القضاء یتخصص بزمان ومکان وخصومۃ حتی لوامر السلطان بعدم سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعھا لم ینفذ ۔ قضا کو مکانزمان اور مقدمہ سے مختص کیا جاسکتا ہے حتی کہ اگر سلطان نے حکم دیا کہ پندرہ سال گزرجانے کے بعد دعوی کی سماعت نہ ہوگی تو کسی قاضی نے یہ سماعت کی تو فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
عزاہ فی الاشباہ الی الخلاصۃ وقال فی الفتح الولایۃ تقبل التقلید والتعلیق بالشرط ۔ اشباہ میں اس کو خلاصہ کی طرف منسوب کیا ہے اور فتح میں فرمایا کہ ولایت شرط کے ساتھ مقید اور معلق ہوسکتی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
فیکون القاضی معزولا عن سماعہا لما علمت من ان القضاء یتخصص ۔ قاضی اس کے سماعت سے بے اختیار ہوگا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ قضا کو خاص کیا جاسکتا ہے۔(ت)
ہاں اگر ان دوصورتوں کے سوا کسی قاضی غیرمجاز نے بے اذن والی بطور خود کچھ ضوابط مقرر کئے ہوں تو ان کی پابندی کسی پر لازم نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔(۲)الفاظ مذکورہ سے فرار عمرو ہر گز ثابت نہیں"باہر جانا"ترجمہ خروج کا ہے ا ورفرار کا ترجمہ"بھاگ جانا'۔خروج سے"فرار"ہر گز لازم نہیں۔اﷲ عزوجل زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں فرماتا ہے:
"فخرج علی قومہ من المحراب" ۔ اپنی قوم پر محراب سے باہر آئے۔
اﷲ تعالی سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے:
"ومن حیث خرجت فول وجہک شطر المسجد الحرام" ۔ باہر جاؤ تو اپنا منہ کعبے کی طرف کرو۔
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۱€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۴/ ۳۴۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۴/ ۳۴۳€
القرآن الکریم ∞۱۹/ ۱۱€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۴۹€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۴/ ۳۴۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیرو ت ∞۴/ ۳۴۳€
القرآن الکریم ∞۱۹/ ۱۱€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۴۹€
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے فرماتا ہے:
"ان کنتم خرجتم جہدا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی ٭ " اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری مرضی چاہنے تو کافروں سے دوستی نہ کرو۔
ظاہر ہے کہ بھاگ جانے میں باہر جانے سے ایك امر زائد ہے اور زیادت بے ثبوت زائد ہر گز ثابت نہیں ہوسکتیہدایہ وغیرہا کتب مذہب میں جابجا ہے الاقل ھو المتیقن(قلیل یقینی امر ہوتا ہےلک۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۵۹: ازریاست ٹونك محلہ قافلہ مرسلہ مولوی سید ظہور اﷲ صاحب ۱۷/شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بلاوصول دین مہر خوددرنگی بکر زوج اپنے کے فوت ہوگئی اس نے ایك بکر زوج خود اور دو پسر ایك عمرو او دوسرا زید وارث چھوڑےبعد تخمینا آٹھ سال کے عمرو کبھی فوت ہوگیا اور اس نے ایك زوجہ اور دو پسر اور دو دختر وارث چھوڑےاب زوجہ عمرو نسبت بکر خود کے اس طرح دعویدار ہوئی کہ میرادین مہر میرے زوج عمرو کے ذمہ چاہئے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا مہر ذمہ بکر خسر میرے کے واجب ہے جس میں عمرو کا بھی حصہ ہے پس اس کے حصہ میں سے اول یہ دین مہر مجھ کو وصول کرایا جاکر مابقی اس کا مجھ کو اور دو پسر اور دو دختر اولاد عمرو پر موافق فرائض اﷲ تقسیم کیاجائےبجواب مطالبہ ہذا بکر پدر عمرو کو یہ عذرہے کہ دعوی زوجہ عمرو کا دو طرح سے مجھ پر نہیں پہنچتا اولا تو یہ کہ زوجہ عمرو وارثہ ہندہ کی نہیں دوسرے بقول اس کے اس کا دین مہر اپنے زوج عمرو پر ہے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا دین مہر مجھ بکر پر بقول اس کے باقی ہے تو گویا دعوی اس کا مدیون کے مدیون پر ہوا جو عندالشرع قابل سماعت نہیں بموجب اس روایت کے:
لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لایقبل ولایملك اخذ الدین کذافی الخلاصۃ۔ اگر کسی نے اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی و ہ قرض حاصل کرنے کا حقدار نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
صورت مسئولہ میں اگر جواب بکر کا موافق کتاب کے ہے تو اس استفتاء پر مواہیر ثبت فرمائی جائیں اور اگر خلاف شرع بکر کا جواب ہے تو اس کا حکم مع روایت ذیل میں قلمبند فرمایا جاکر مواہیر ثبت فرمائی جائیں
"ان کنتم خرجتم جہدا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی ٭ " اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری مرضی چاہنے تو کافروں سے دوستی نہ کرو۔
ظاہر ہے کہ بھاگ جانے میں باہر جانے سے ایك امر زائد ہے اور زیادت بے ثبوت زائد ہر گز ثابت نہیں ہوسکتیہدایہ وغیرہا کتب مذہب میں جابجا ہے الاقل ھو المتیقن(قلیل یقینی امر ہوتا ہےلک۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۵۹: ازریاست ٹونك محلہ قافلہ مرسلہ مولوی سید ظہور اﷲ صاحب ۱۷/شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بلاوصول دین مہر خوددرنگی بکر زوج اپنے کے فوت ہوگئی اس نے ایك بکر زوج خود اور دو پسر ایك عمرو او دوسرا زید وارث چھوڑےبعد تخمینا آٹھ سال کے عمرو کبھی فوت ہوگیا اور اس نے ایك زوجہ اور دو پسر اور دو دختر وارث چھوڑےاب زوجہ عمرو نسبت بکر خود کے اس طرح دعویدار ہوئی کہ میرادین مہر میرے زوج عمرو کے ذمہ چاہئے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا مہر ذمہ بکر خسر میرے کے واجب ہے جس میں عمرو کا بھی حصہ ہے پس اس کے حصہ میں سے اول یہ دین مہر مجھ کو وصول کرایا جاکر مابقی اس کا مجھ کو اور دو پسر اور دو دختر اولاد عمرو پر موافق فرائض اﷲ تقسیم کیاجائےبجواب مطالبہ ہذا بکر پدر عمرو کو یہ عذرہے کہ دعوی زوجہ عمرو کا دو طرح سے مجھ پر نہیں پہنچتا اولا تو یہ کہ زوجہ عمرو وارثہ ہندہ کی نہیں دوسرے بقول اس کے اس کا دین مہر اپنے زوج عمرو پر ہے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا دین مہر مجھ بکر پر بقول اس کے باقی ہے تو گویا دعوی اس کا مدیون کے مدیون پر ہوا جو عندالشرع قابل سماعت نہیں بموجب اس روایت کے:
لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لایقبل ولایملك اخذ الدین کذافی الخلاصۃ۔ اگر کسی نے اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی و ہ قرض حاصل کرنے کا حقدار نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
صورت مسئولہ میں اگر جواب بکر کا موافق کتاب کے ہے تو اس استفتاء پر مواہیر ثبت فرمائی جائیں اور اگر خلاف شرع بکر کا جواب ہے تو اس کا حکم مع روایت ذیل میں قلمبند فرمایا جاکر مواہیر ثبت فرمائی جائیں
حوالہ / References
القرآن الکریم∞۶۰/ ۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۸€
بینواتوجروا(بیان کرو اجر دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زوجہ عمرو کا دعوی صحیح ومسموع اور بکر کے عذرات باطل ومدفوع ہیںزوجہ عمروضرور وارثہ ہندہ نہیں مگر اب وہ دین بھی دین ہندہ نہیں فان الموت ناقل للملک(کیونکہ موت ملکیت کو منتقل کرتی ہے۔ت)بعد موت ہندہ بقدر حصہ عمرو دین عمرو ہو ااور زوجہ عمرو وارثہ عمرو بھی ہے اور دائنہ بھی مہر زوجہ وغیرہ دیون کہ ذمہ عمرو ہوں جبکہ محیط ترکہ نہ ہوں تو مابقی بعد انفاذ وصایا علی حسب الفرائض خود ملك ورثہ ہے جن میں زوجہ بھی ہے تو اس قدر میں بکر خود مدیون زوجہ عمرو ہے نہ مدیون مدیون اور قدر دیون مہر وغیرہ میں اگرچہ ترکہ ملك عمرو پرباقی رکھاجائے لانصرافھا الی حاجۃ المیت(میت کی اپنی حاجت کیلئے ترکہ منتقل ہونے کی وجہ سے)مگر دائن میت ومدیون میت جبکہ دونوں وارثان میت ہوں تو ایسے دائن کا ایسے مدیون مدیون پر دعوی قطعا مسموع ومقبول ہےعدم سماع یا عدم قضا اس صورت میں ہے کہ وہ دونوں یا ان میں ایك میت سے اجنبی ہو۔تحقیق مقام کہ یہ دائن میت کو مدیون میت پر دعوی کرکے وصول پاسکنے کےلئے دو باتوں کی حاجت ہے:
اولا: میت کا دین اس پر ثابت کرے اور جب یہ میت سے اجنبی ہے اسے ملك میت مدیون میت پر ثابت کرنے کا کیا استحقاق ہے فانہ لایصلح خصماعنہ(کیونکہ وہ اس کا فریق بننے کاصلاحیت نہیں رکھتا)اس کے لئے میت کے وصی یا وارث کادعوی درکار ہے۔
ثانیا: اپنا دین میت پر ثابت کرے اور جب مدعا علیہ میت سے اجنبی ہے میت پر اثبات دین کےلئے اس کا حضور کافی نہیں فانہ لایقدم خصماعنہ(کیونکہ بطور فریق اسکی طرف سے پیش نہیں ہوسکتا)میت کا جو کوئی وصی یا وارث ہو تو میت پر دین ثابت کرنے کےلئے ان میں کسی کا حاضر ہونا ضرور ہے غرض عدم سماع کی وجہ عدم امکان ثابت ہے اگر دونوں امر کا ثبوت کسی طرح ہوجائے تو دعوی ضرور قابل قبول ہے ولہذا اگر دین دائن ذمہ میت نزد قاضی ثابت ہو اور مدیون میت مدیون میت ہونے کا اقرار کرے تو قاضی مدیون میت سے دائن میت کو دین دلادے گا خلاصہ وہندیہ میں ہے:
لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لاتقبل ولایملك اخذ الدین منہ امااذاثبت الدین فی ترکتہ عند القاضی واقررجل عند القاضی ان اگر اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی اور وہ قرض وصول کرنے کا حقدارنہ ہوگالیکن جب میت کے ترکہ میں قرض(کسی پر)قاضی کے ہاں ثابت ہوجائے اور قرضدار شخص یہ اقرار کرے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زوجہ عمرو کا دعوی صحیح ومسموع اور بکر کے عذرات باطل ومدفوع ہیںزوجہ عمروضرور وارثہ ہندہ نہیں مگر اب وہ دین بھی دین ہندہ نہیں فان الموت ناقل للملک(کیونکہ موت ملکیت کو منتقل کرتی ہے۔ت)بعد موت ہندہ بقدر حصہ عمرو دین عمرو ہو ااور زوجہ عمرو وارثہ عمرو بھی ہے اور دائنہ بھی مہر زوجہ وغیرہ دیون کہ ذمہ عمرو ہوں جبکہ محیط ترکہ نہ ہوں تو مابقی بعد انفاذ وصایا علی حسب الفرائض خود ملك ورثہ ہے جن میں زوجہ بھی ہے تو اس قدر میں بکر خود مدیون زوجہ عمرو ہے نہ مدیون مدیون اور قدر دیون مہر وغیرہ میں اگرچہ ترکہ ملك عمرو پرباقی رکھاجائے لانصرافھا الی حاجۃ المیت(میت کی اپنی حاجت کیلئے ترکہ منتقل ہونے کی وجہ سے)مگر دائن میت ومدیون میت جبکہ دونوں وارثان میت ہوں تو ایسے دائن کا ایسے مدیون مدیون پر دعوی قطعا مسموع ومقبول ہےعدم سماع یا عدم قضا اس صورت میں ہے کہ وہ دونوں یا ان میں ایك میت سے اجنبی ہو۔تحقیق مقام کہ یہ دائن میت کو مدیون میت پر دعوی کرکے وصول پاسکنے کےلئے دو باتوں کی حاجت ہے:
اولا: میت کا دین اس پر ثابت کرے اور جب یہ میت سے اجنبی ہے اسے ملك میت مدیون میت پر ثابت کرنے کا کیا استحقاق ہے فانہ لایصلح خصماعنہ(کیونکہ وہ اس کا فریق بننے کاصلاحیت نہیں رکھتا)اس کے لئے میت کے وصی یا وارث کادعوی درکار ہے۔
ثانیا: اپنا دین میت پر ثابت کرے اور جب مدعا علیہ میت سے اجنبی ہے میت پر اثبات دین کےلئے اس کا حضور کافی نہیں فانہ لایقدم خصماعنہ(کیونکہ بطور فریق اسکی طرف سے پیش نہیں ہوسکتا)میت کا جو کوئی وصی یا وارث ہو تو میت پر دین ثابت کرنے کےلئے ان میں کسی کا حاضر ہونا ضرور ہے غرض عدم سماع کی وجہ عدم امکان ثابت ہے اگر دونوں امر کا ثبوت کسی طرح ہوجائے تو دعوی ضرور قابل قبول ہے ولہذا اگر دین دائن ذمہ میت نزد قاضی ثابت ہو اور مدیون میت مدیون میت ہونے کا اقرار کرے تو قاضی مدیون میت سے دائن میت کو دین دلادے گا خلاصہ وہندیہ میں ہے:
لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لاتقبل ولایملك اخذ الدین منہ امااذاثبت الدین فی ترکتہ عند القاضی واقررجل عند القاضی ان اگر اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی اور وہ قرض وصول کرنے کا حقدارنہ ہوگالیکن جب میت کے ترکہ میں قرض(کسی پر)قاضی کے ہاں ثابت ہوجائے اور قرضدار شخص یہ اقرار کرے
للمیت علیہ دینا قدرہ کذا یأمرہ بالدفع الی رب الدین ۔ کہ مجھ پر میت کا قرض ہے جس کی مقدار یہ ہے تو قاضی اس کو ادائیگی کا حکم د ے گا کہ میت پر جس کا قرض ہے اس کو دے دے۔(ت)
ولہذا اگر دائن میت وارث میت ہو اور مدیون میت اجنبی اور دوسرا وارث حاضر نہیں تو مدیون میت پر دین میت ثابت کرنے کے حق میں اس دائن وارث کا دعوی مسموع ہوگا اور بوجہ اول اس مدیون پر دین میت کی ڈگری کردینگے مگر بوجہ ثانی وہ دین اس مدعی کو ابھی نہ دلائیں گے کہ مدیون اجنبی ہے اور دوسراوارث غائب۔محیط وعالمگیریہ میں ہے:
رجل مات ولہ ابنان احدھما غائب فادعی الحاضران لہ علی ابیہ الف درھم دینا و لامال لمیت غیر الف درہم علی رجل فانی اقبل بینۃ الابن الحاضر فی اثبات الدین علی الاجنبی ولااسمع بینتہ علی ابیہ بدینہ ولااقضی لہ من الالف التی قضیت علی الاجنبی بشیئ فاوقف الالف حتی یجیئ الاخ کذافی المحیط ۔ ایك شخص فوت ہو ا اس کے وارث د وبیٹے تھے جن میں سے ایك غائب ہے تو حاضر بیٹے نے اپنے باپ پر ایك ہزار درہم قرض کا دعوی کیا جبکہ میت(باپ)کاایك غیر شخص پر ایك ہزار قرض کے بغیر کوئی ترکہ نہ ہوتو اس صورت میں حاضر بیٹے کی گواہی کہ غیر شخص پر باپ کا قرض ہےمیں قبول کر لوں گااور اس کی اپنے باپ پر قرض کی گواہی کو نہ سنوں گااور نہ ہی غیر پر ثابت قرض میں سے حاضر بیٹے کو کچھ دلاؤں گااور میں غیر پر باپ کے ثابت شدہ قرض ہزار درہم کو موقوف رکھوں گا تاوقتیکہ اس کا غائب بھائی نہ آجائےایسے ہی محیط میں ہے۔(ت)
اور جب دائن ومدیون دونوں وارثان میت ہیں جس طرح یہاں بکر وزوجہ عمرو تو اب سماع وقبول کی تمام وجوہ متحقق ہیں زوجہ عمرو اپنی وراثت کے سبب بکر کے دین میت کا دعوی کرسکتی ہے اور وراثت بکر کے سبب اس کے موجہ میں میت پر اپنے دین کا دعوی۔ واقعات پھر جامع الفصولین میں ہے:
احدالورثۃ ینتصب خصما عن المورث فیما لہ وعلیہ الخ۔ ورثا میں سے ایك کو مورث کی طرف سے لین دین کےلئے فریق مقرر کیا جائے گا الخ(ت)
ولہذا اگر دائن میت وارث میت ہو اور مدیون میت اجنبی اور دوسرا وارث حاضر نہیں تو مدیون میت پر دین میت ثابت کرنے کے حق میں اس دائن وارث کا دعوی مسموع ہوگا اور بوجہ اول اس مدیون پر دین میت کی ڈگری کردینگے مگر بوجہ ثانی وہ دین اس مدعی کو ابھی نہ دلائیں گے کہ مدیون اجنبی ہے اور دوسراوارث غائب۔محیط وعالمگیریہ میں ہے:
رجل مات ولہ ابنان احدھما غائب فادعی الحاضران لہ علی ابیہ الف درھم دینا و لامال لمیت غیر الف درہم علی رجل فانی اقبل بینۃ الابن الحاضر فی اثبات الدین علی الاجنبی ولااسمع بینتہ علی ابیہ بدینہ ولااقضی لہ من الالف التی قضیت علی الاجنبی بشیئ فاوقف الالف حتی یجیئ الاخ کذافی المحیط ۔ ایك شخص فوت ہو ا اس کے وارث د وبیٹے تھے جن میں سے ایك غائب ہے تو حاضر بیٹے نے اپنے باپ پر ایك ہزار درہم قرض کا دعوی کیا جبکہ میت(باپ)کاایك غیر شخص پر ایك ہزار قرض کے بغیر کوئی ترکہ نہ ہوتو اس صورت میں حاضر بیٹے کی گواہی کہ غیر شخص پر باپ کا قرض ہےمیں قبول کر لوں گااور اس کی اپنے باپ پر قرض کی گواہی کو نہ سنوں گااور نہ ہی غیر پر ثابت قرض میں سے حاضر بیٹے کو کچھ دلاؤں گااور میں غیر پر باپ کے ثابت شدہ قرض ہزار درہم کو موقوف رکھوں گا تاوقتیکہ اس کا غائب بھائی نہ آجائےایسے ہی محیط میں ہے۔(ت)
اور جب دائن ومدیون دونوں وارثان میت ہیں جس طرح یہاں بکر وزوجہ عمرو تو اب سماع وقبول کی تمام وجوہ متحقق ہیں زوجہ عمرو اپنی وراثت کے سبب بکر کے دین میت کا دعوی کرسکتی ہے اور وراثت بکر کے سبب اس کے موجہ میں میت پر اپنے دین کا دعوی۔ واقعات پھر جامع الفصولین میں ہے:
احدالورثۃ ینتصب خصما عن المورث فیما لہ وعلیہ الخ۔ ورثا میں سے ایك کو مورث کی طرف سے لین دین کےلئے فریق مقرر کیا جائے گا الخ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب الخامس ∞کتب خانہ کراچی ۴/ ۳۹€
جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب الخامس ∞کتب خانہ کراچی ۴/ ۳۹€
جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴€
خزانۃ المفتین میں ہے:
لوادعی علی المیت دینا بحضرۃ احد الورثۃ یثبت الدین فی حق الکل وکذالوادعی احد الورثۃ دینا علی انسان للمیت واقام بینۃ یثبت الدین فی حق الکل و یدفع الی الحاضر نصیبہ مشاعا الخ۔ اگر کسی نے میت پر قرض کا دعوی کرکے ورثاء میں سے ایك کی موجودگی میں ثابت کردیا تو وہ قرض تمام ورثاء پر ثابت ہوجائے گا اور یونہی ورثاء میں سے ایك نے اپنے والد کا قرض کسی شخص پر ثابت کردیا اور گواہ بھی پیش کردئے تو یہ قرض تمام ورثاء کے حق میں ثابت ہوجائے گا اور ثابت کرنے والے موجود وارث کو غیر منقسم حصہ کے طور پر بطور حصہ اس کو دے دیا جائیگا الخ(ت)
لاجرم جامع الفصولین میں فتاوی امام رشید الدین سے نقل کیا:
لایملك الدائن اثبات الدین علی مدیون المیت ولا علی الموصی لہ ولواثبت علی من یصح اثباتہ علیہ کوصی ووارث ثبت لہ حق الاستیفاء منھما ولوانکر وارثہ وجود ترکۃ بیدہ فللدائن اثباتھا لالواجنبیا فلا تقبل علیہ بینۃ الدائن اذلیس بخصم فی اثبات الملك للمیت ۔ میت کے قرضخواہ کو میت کے مقروض یا موصی لہ پر قرض ثابت کرنے کا اختیار نہیں او ر اگر اس نے ایسے شخص پر قرض ثابت کردیا جس پر اثبات سے وصی اور وارث کے لئے حق ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو وصی اور وارث سے اپنا قرض وصول کرنے کا حق ہوگا اور اگر وارث میت کا ترکہ اپنے قبضہ میں ہونے سے انکار کردے تو قرض خواہ کو قبضہ کے اثبات کا حق ہوگا اگر اجنبی شخص انکار کرے تو اس کے خلاف قرض خواہ کی گواہی مقبول نہ ہوگی کیونکہ وہ اجنبی میت کی ملکیت کے اثبات میں فرق نہیں ہے(ت)
پس صورت مسئولہ میں زوجہ عمرو کا دعوی ضرور صحیح ہے مگر مہر ہندہ سے جس قدر حصہ عمرو ہو اس میں سے وہ مقدار کہ ترکہ عمرو سے خود حصہ بکر ہوئی چھوڑ کر باقی پر دعوی پہنچے گا
لانھا لادعوی لھا ولافی الذی لزوجھا وما کان لزوجھا قد سقط منہ ماورثہ منہ ابوہ کما کیونکہ اس میں خود بیوی کو اور نہ ہی ا سکے خاوند کے حصہ میں دعوی ہے اور جو خاوند کا حصہ تھا اس میں سے والد جتنے کا وارث بنا ساقط ہوجائیگا
لوادعی علی المیت دینا بحضرۃ احد الورثۃ یثبت الدین فی حق الکل وکذالوادعی احد الورثۃ دینا علی انسان للمیت واقام بینۃ یثبت الدین فی حق الکل و یدفع الی الحاضر نصیبہ مشاعا الخ۔ اگر کسی نے میت پر قرض کا دعوی کرکے ورثاء میں سے ایك کی موجودگی میں ثابت کردیا تو وہ قرض تمام ورثاء پر ثابت ہوجائے گا اور یونہی ورثاء میں سے ایك نے اپنے والد کا قرض کسی شخص پر ثابت کردیا اور گواہ بھی پیش کردئے تو یہ قرض تمام ورثاء کے حق میں ثابت ہوجائے گا اور ثابت کرنے والے موجود وارث کو غیر منقسم حصہ کے طور پر بطور حصہ اس کو دے دیا جائیگا الخ(ت)
لاجرم جامع الفصولین میں فتاوی امام رشید الدین سے نقل کیا:
لایملك الدائن اثبات الدین علی مدیون المیت ولا علی الموصی لہ ولواثبت علی من یصح اثباتہ علیہ کوصی ووارث ثبت لہ حق الاستیفاء منھما ولوانکر وارثہ وجود ترکۃ بیدہ فللدائن اثباتھا لالواجنبیا فلا تقبل علیہ بینۃ الدائن اذلیس بخصم فی اثبات الملك للمیت ۔ میت کے قرضخواہ کو میت کے مقروض یا موصی لہ پر قرض ثابت کرنے کا اختیار نہیں او ر اگر اس نے ایسے شخص پر قرض ثابت کردیا جس پر اثبات سے وصی اور وارث کے لئے حق ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو وصی اور وارث سے اپنا قرض وصول کرنے کا حق ہوگا اور اگر وارث میت کا ترکہ اپنے قبضہ میں ہونے سے انکار کردے تو قرض خواہ کو قبضہ کے اثبات کا حق ہوگا اگر اجنبی شخص انکار کرے تو اس کے خلاف قرض خواہ کی گواہی مقبول نہ ہوگی کیونکہ وہ اجنبی میت کی ملکیت کے اثبات میں فرق نہیں ہے(ت)
پس صورت مسئولہ میں زوجہ عمرو کا دعوی ضرور صحیح ہے مگر مہر ہندہ سے جس قدر حصہ عمرو ہو اس میں سے وہ مقدار کہ ترکہ عمرو سے خود حصہ بکر ہوئی چھوڑ کر باقی پر دعوی پہنچے گا
لانھا لادعوی لھا ولافی الذی لزوجھا وما کان لزوجھا قد سقط منہ ماورثہ منہ ابوہ کما کیونکہ اس میں خود بیوی کو اور نہ ہی ا سکے خاوند کے حصہ میں دعوی ہے اور جو خاوند کا حصہ تھا اس میں سے والد جتنے کا وارث بنا ساقط ہوجائیگا
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الدعوٰی فصل دعوی المیراث ∞قلمی نسخہ ۲/ ۸۲€
جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵€
جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵€
سقط اولاالربع من مھر ھندۃ لصیرورتہ حق المدیون بنفسہ وھو الزوج۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس طرح اولا اس میں سے چوتھائی حصہ ہندہ کے مہر کا ساقط ہوگیا ہے اس وجہ سے کہ وہ خود مدیون کا حق بن گیا اور وہ خود خاوند ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۰: ازبریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ ظہور حسن ۱۶/ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
زید وہندہ نے جو حقیقی بہن زید کی ہے خالد کو ایك دستاویز لکھ دی ہندہ کی طرف سے جو ناخواندہ ہے اور پردہ نشین ہے زید اس کے حقیقی بھائی نے دستخط کی بایں عبارت(ہندہ بقلم زید)اس دستاویز میں لکھا کہ زر مندرجہ دستاویز ہم نے وصول پالیا ایسا ہی زید نے لکھا بلا تفریق مقدار روپیہ کے اور دونوں نے جائداد غیر منقولہ مکفول کی وقت رجسٹری کے ہندہ نے اقرار تحریر دستاویز اور وصولیابی زر مندرجہ دستاویز سے اقرار کیااور چونکہ ہندہ ناخواندہ اور پردہ نشین ہے زید نے ہندہ کی طرف سے حسب بالا دستخط کردی اب خالد نے دونوں سے مطالبہ دستاویز کیا اور شناخت ہندہ کی اس کے دوسرے بھائی حقیقی اور بھتیجا نے کی کہ مسماۃ مقرہ ونویسندہ دستاویز ہندہ ہے جس نے اقرار کیا ہے خالد مطالبہ دستاویز کا دونوں مدیون سے کرتا ہے ہندہ یہ عذر کرتی ہے کہ میں نے روپیہ نہیں لیا اور دستاویز پر نہ میرے دستخط ہیں اور نہ نشانی ہے زید میرا بھائی میری دستخط کرنے کا مجاز نہ تھا اورہندہ ایك نظیر ہائی کورٹ کی پیش کرتی ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ صرف اقرار وصولیابی زر کافی نہیں ہے جب تك کہ مدیون کے دستخط یا نشانی نہ ہو۔
سوال:آیا اقرار تحریر دستاویز واقرار وصولیابی زر مندرجہ دستاویز جوسامنے مصدق دستاویز کے ہندہ نے کیاہے شرعا جائز ہے یانہیںاگر جائز ہے تو رائے حکام انگلشیہ ہائیکورٹ عدالت انگریزی کو بمقابلہ حکم شرعی کے فوقیت دی جائے گی یانہیں اور ہندہ پر پابندی اپنے اقرار کی شرعا لازم ہے اور یا یہ کہ پابندی حکم ہائیکورٹ کی اور دائن و مدیون یعنی دونوں فریق تابع شریعت اسلام ہیں اور کوئی فریق منکر شرع شریف کا نہیں ہے۔
الجواب:
حکم اﷲ ورسول کے لیے ہے جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم "ان الحکم الا للہ " (حکم نہیں مگر اﷲ کا۔ت)جب ہندہ منکر ہے تو شہادت عادلہ شرعیہ دو مرد یا ایك مرد دو عورت ثقہ کی درکار ہے
مسئلہ۶۰: ازبریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ ظہور حسن ۱۶/ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
زید وہندہ نے جو حقیقی بہن زید کی ہے خالد کو ایك دستاویز لکھ دی ہندہ کی طرف سے جو ناخواندہ ہے اور پردہ نشین ہے زید اس کے حقیقی بھائی نے دستخط کی بایں عبارت(ہندہ بقلم زید)اس دستاویز میں لکھا کہ زر مندرجہ دستاویز ہم نے وصول پالیا ایسا ہی زید نے لکھا بلا تفریق مقدار روپیہ کے اور دونوں نے جائداد غیر منقولہ مکفول کی وقت رجسٹری کے ہندہ نے اقرار تحریر دستاویز اور وصولیابی زر مندرجہ دستاویز سے اقرار کیااور چونکہ ہندہ ناخواندہ اور پردہ نشین ہے زید نے ہندہ کی طرف سے حسب بالا دستخط کردی اب خالد نے دونوں سے مطالبہ دستاویز کیا اور شناخت ہندہ کی اس کے دوسرے بھائی حقیقی اور بھتیجا نے کی کہ مسماۃ مقرہ ونویسندہ دستاویز ہندہ ہے جس نے اقرار کیا ہے خالد مطالبہ دستاویز کا دونوں مدیون سے کرتا ہے ہندہ یہ عذر کرتی ہے کہ میں نے روپیہ نہیں لیا اور دستاویز پر نہ میرے دستخط ہیں اور نہ نشانی ہے زید میرا بھائی میری دستخط کرنے کا مجاز نہ تھا اورہندہ ایك نظیر ہائی کورٹ کی پیش کرتی ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ صرف اقرار وصولیابی زر کافی نہیں ہے جب تك کہ مدیون کے دستخط یا نشانی نہ ہو۔
سوال:آیا اقرار تحریر دستاویز واقرار وصولیابی زر مندرجہ دستاویز جوسامنے مصدق دستاویز کے ہندہ نے کیاہے شرعا جائز ہے یانہیںاگر جائز ہے تو رائے حکام انگلشیہ ہائیکورٹ عدالت انگریزی کو بمقابلہ حکم شرعی کے فوقیت دی جائے گی یانہیں اور ہندہ پر پابندی اپنے اقرار کی شرعا لازم ہے اور یا یہ کہ پابندی حکم ہائیکورٹ کی اور دائن و مدیون یعنی دونوں فریق تابع شریعت اسلام ہیں اور کوئی فریق منکر شرع شریف کا نہیں ہے۔
الجواب:
حکم اﷲ ورسول کے لیے ہے جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم "ان الحکم الا للہ " (حکم نہیں مگر اﷲ کا۔ت)جب ہندہ منکر ہے تو شہادت عادلہ شرعیہ دو مرد یا ایك مرد دو عورت ثقہ کی درکار ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۵۷€
کہ ہندہ نے ہمارے سامنے روپیہ لیا ہمارے سامنے اقرار کیا فقط دستاویز اگرچہ خود ہندہ کے دستخط بقلم خود اس پر لکھے ہوتے یا اہلکار رجسٹری کی تحریر کہ میر ے سامنے اقرار کیا اصلا کافی نہیں۔فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او لاقرار اما الصك فلا یصلح حجۃ ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرسکتا ہے اور حجتگواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے اور رسید کسی طرح حجت نہیں بن سکتی۔(ت)
رہایہ کہ ہندہ کس چیز کی پابندی کرے ہندہ اپنے معاملہ کو خوب جانتی ہے اگر واقعی اس پر روپیہ عنداﷲ چاہئے تو اسے انکار کرنا سخت حرام ہے اس پر فرض ہے کہ حق کو قبول کرے اور عنداﷲ نہ چاہئے تو اگرچہ اس نے کسی دباؤ سے یا ناواقفی سے یا کسی وجہ سے اقرار غلط کردیا ہو اس کی پابندی اس پر اصلا لازم نہیںواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۶۱تا۶۲:ازرامپور متصل زیارت شاہ ولی اﷲ صاحب مرسلہ حافظ مولوی عنایت اﷲ خاں صاحب ۱۶/ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
سوال اول:زید اور عمرو نوعیت طرز عمل تزکیہ شہود میں مختلف الاقوال ہیںزید کہتا ہے کہ تین طرح سے قاضی شاہد کے چال چلن کے بابت تحقیق و دریافت کرسکتا ہے:رسول بھیج کر یا رقعہ مزکی کے نام بھیج کریا خود قاضی موقع پر جاکر مصلیان مسجد محلہ یا دیگر اشخاص اہل محلہ سےاور اس تیسری صورت میں قاضی پر یہ لازم نہیں ہے کہ جس شخص کو کہ وہ جانتا ہو مخصوص اسی سے دریافت حال شاہد کرے بلکہ نمازی صورت ہو شخص غیر معلوم سے بھی وہ دریافت حال کرسکتا ہے اور اس شخص مجہول الحال کے نام دریافت کرنے یاا س کا نام دفتر قضاء میں برائے علم آئندہ درج کرنے کی قاضی کو کوئی ضرورت نہیں ہےیہ تحقیقات قاضی بر سر موقع قاضی کے اطمینان او رمقدمہ کے فیصلہ کرنے کے لئے رائے قائم کرنے کو شرعا کافی ہے انتہی کلامہ(عمرو کا یہ بیان ہے کہ شرعی اصول پر بقول صاحبین تزکیہ شہود کا دو طرح سے ہوسکتا ہے سرا وعلانیۃ جو کتاب الشہادۃ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار ودیگر کتب فقہیہ میں بصراحت مذکور ہےیہ بھی بیان عمرو کا ہے مزکی ایسا شخص ہو جو لوگوں کے احوال سے خوب واقف ہو اور ان سے اختلاط رکھتا ہو اور بنفسہ عادل ہواور جرح وغیر جرح میں
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او لاقرار اما الصك فلا یصلح حجۃ ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرسکتا ہے اور حجتگواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے اور رسید کسی طرح حجت نہیں بن سکتی۔(ت)
رہایہ کہ ہندہ کس چیز کی پابندی کرے ہندہ اپنے معاملہ کو خوب جانتی ہے اگر واقعی اس پر روپیہ عنداﷲ چاہئے تو اسے انکار کرنا سخت حرام ہے اس پر فرض ہے کہ حق کو قبول کرے اور عنداﷲ نہ چاہئے تو اگرچہ اس نے کسی دباؤ سے یا ناواقفی سے یا کسی وجہ سے اقرار غلط کردیا ہو اس کی پابندی اس پر اصلا لازم نہیںواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۶۱تا۶۲:ازرامپور متصل زیارت شاہ ولی اﷲ صاحب مرسلہ حافظ مولوی عنایت اﷲ خاں صاحب ۱۶/ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
سوال اول:زید اور عمرو نوعیت طرز عمل تزکیہ شہود میں مختلف الاقوال ہیںزید کہتا ہے کہ تین طرح سے قاضی شاہد کے چال چلن کے بابت تحقیق و دریافت کرسکتا ہے:رسول بھیج کر یا رقعہ مزکی کے نام بھیج کریا خود قاضی موقع پر جاکر مصلیان مسجد محلہ یا دیگر اشخاص اہل محلہ سےاور اس تیسری صورت میں قاضی پر یہ لازم نہیں ہے کہ جس شخص کو کہ وہ جانتا ہو مخصوص اسی سے دریافت حال شاہد کرے بلکہ نمازی صورت ہو شخص غیر معلوم سے بھی وہ دریافت حال کرسکتا ہے اور اس شخص مجہول الحال کے نام دریافت کرنے یاا س کا نام دفتر قضاء میں برائے علم آئندہ درج کرنے کی قاضی کو کوئی ضرورت نہیں ہےیہ تحقیقات قاضی بر سر موقع قاضی کے اطمینان او رمقدمہ کے فیصلہ کرنے کے لئے رائے قائم کرنے کو شرعا کافی ہے انتہی کلامہ(عمرو کا یہ بیان ہے کہ شرعی اصول پر بقول صاحبین تزکیہ شہود کا دو طرح سے ہوسکتا ہے سرا وعلانیۃ جو کتاب الشہادۃ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار ودیگر کتب فقہیہ میں بصراحت مذکور ہےیہ بھی بیان عمرو کا ہے مزکی ایسا شخص ہو جو لوگوں کے احوال سے خوب واقف ہو اور ان سے اختلاط رکھتا ہو اور بنفسہ عادل ہواور جرح وغیر جرح میں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل دعوی الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲،€الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الدعوٰی والشہادات الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
فرق کرسکتا ہو نایجی اور مفلس نہ ہو۔قاضی علی الخصوص ایسے ہی شخص کو جو بصفات مذکورہ متصف ہو مزکی مقرر کرسکتا ہے پس اس امر میں دو قسم کی واقفیت ضرور ہے ایك بذاتہ علم قاضی بصفات منتسبہ الی المزکی۔دوسرے اطلاع مزکی نسبت احوال شہودمطلوبۃ التزکیۃ بعد تشریح اقوال زید وعمرو مفتیان شرع شریف سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ ازروئے شرع زید کا قول صحیح اور قابل عمل ہے یا عمرو کا جواب صاف بحوالہ روایات مستندہ کتب فقہیہ عنایت ہو۔
سوال دوم:زید کا قول ہے کہ اگر کسی ضرورت سے قاضی برسر موقع تحقیقات کرے تو جو گواہ موقع پر جمع ہوں وہ علیحدہ بٹھلائے جائیں اور ان میں سے ایك ایك شخص کو قاضی اپنے رو برو طلب کرکے ضرور سوالات کرے۔اورفریقین یا وکلاء فریقین کو بھی موقع سوالات وجرح کا دیا جاوےسب اہل محلہ کو ایك جلسہ میں ان سے قاضی کے دریافت حال کرنے میں یہ نقص ہے کہ سب لوگ حال مستفسرہ کو یك زبان ہو کر کہیں گے اور اس صورت میں اصلی واقعہ کا انکشاف قابل اطمینان نہ ہوگا بکر کہتاہے کہ جیسازید کہتاہے ایسا نہیں ہوناچاہئے بلکہ قاضی ایك ہی جلسہ میں کل گواہان سے دریافت حال کرکے قلم بند کرکے قاضی کا ایسا کرنا خلاف شرع نہیں ہے۔یہ تحقیقات قاضی کے اطمینان کے واسطے ہےمفتیان شرع شریف سے یہ التما س ہے کہ ازروئے شرع مبارك زید کا قول قابل عمل ہے یا بکر کابحوالہ کتب وعبارت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
(۱)زید کا قول باطل ہےمزکی کا عادل ہونا ضروری ہےمجہول الحال خود محتاج تزکیہ ہے وہ دوسرے کا تزکیہ کیاکرسکتا ہے۔
معین الحکام میں ہے:
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من ھو اوثق الناس واورعھم دیانۃ واعظمھم درایۃ و اکثرھم خبرۃ واعلمھم بالتمییز فطنۃ فیولیہ المسألۃ لان القاضی مامور بالتفحص عن العدالۃ فیجب علیہ المبالغۃ والاحتیاط فیہ اھ۔ گواہوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کےلئے قاضی ایسے حضرات کو مقرر کرے جو مناسب ترین دیانت میں متقی سمجھداری میں بڑےخبرداری میں کثیراور پرکھنے کا زیادہ علم رکھتے ہوں تو ایسے لوگوں کو یہ معاملہ سپرد کرے کیونکہ قاضی گواہوں کے عدل کو معلوم کرنے کا پابند ہےتو اس پر واجب ہے کہ وہ اس معاملہ میں مبالغہ اور احتیاط سے کام لے اھ
سوال دوم:زید کا قول ہے کہ اگر کسی ضرورت سے قاضی برسر موقع تحقیقات کرے تو جو گواہ موقع پر جمع ہوں وہ علیحدہ بٹھلائے جائیں اور ان میں سے ایك ایك شخص کو قاضی اپنے رو برو طلب کرکے ضرور سوالات کرے۔اورفریقین یا وکلاء فریقین کو بھی موقع سوالات وجرح کا دیا جاوےسب اہل محلہ کو ایك جلسہ میں ان سے قاضی کے دریافت حال کرنے میں یہ نقص ہے کہ سب لوگ حال مستفسرہ کو یك زبان ہو کر کہیں گے اور اس صورت میں اصلی واقعہ کا انکشاف قابل اطمینان نہ ہوگا بکر کہتاہے کہ جیسازید کہتاہے ایسا نہیں ہوناچاہئے بلکہ قاضی ایك ہی جلسہ میں کل گواہان سے دریافت حال کرکے قلم بند کرکے قاضی کا ایسا کرنا خلاف شرع نہیں ہے۔یہ تحقیقات قاضی کے اطمینان کے واسطے ہےمفتیان شرع شریف سے یہ التما س ہے کہ ازروئے شرع مبارك زید کا قول قابل عمل ہے یا بکر کابحوالہ کتب وعبارت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
(۱)زید کا قول باطل ہےمزکی کا عادل ہونا ضروری ہےمجہول الحال خود محتاج تزکیہ ہے وہ دوسرے کا تزکیہ کیاکرسکتا ہے۔
معین الحکام میں ہے:
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من ھو اوثق الناس واورعھم دیانۃ واعظمھم درایۃ و اکثرھم خبرۃ واعلمھم بالتمییز فطنۃ فیولیہ المسألۃ لان القاضی مامور بالتفحص عن العدالۃ فیجب علیہ المبالغۃ والاحتیاط فیہ اھ۔ گواہوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کےلئے قاضی ایسے حضرات کو مقرر کرے جو مناسب ترین دیانت میں متقی سمجھداری میں بڑےخبرداری میں کثیراور پرکھنے کا زیادہ علم رکھتے ہوں تو ایسے لوگوں کو یہ معاملہ سپرد کرے کیونکہ قاضی گواہوں کے عدل کو معلوم کرنے کا پابند ہےتو اس پر واجب ہے کہ وہ اس معاملہ میں مبالغہ اور احتیاط سے کام لے اھ
حوالہ / References
معین الحکام الفصل السادس فصل فی المسئلۃ عن الشہود مصطفی البابی ∞مصر ص۸۵و۸۶€
ردالمحتار مسئلہ تعدیل الخصم للشہود بیان مذہب امام میں ہے:
تزکیۃ الکاذب الفاسق لاتصح ۔ جھوٹے او رفاسق کو گواہوں کا تزکیہ درست نہیں۔(ت)
نیز مذہب صاحبین میں ہے:
تصح ان کان من اھلہ(ای اھل التعدیل)بان کان عدلا ۔ تزکیہ کرنے والا اہل ہو توصحیح ہے یعنی تزکیہ گواہوں کو عادل ثابت کرنا تب صحیح ہوگا جب وہ خود عادل ہو۔(ت)
ظاہر ہوا کہ مزکی میں عدالت باتفاق ائمہ ثلثہ رضی اﷲتعالی عنہم شرط ہےتہذیب پھر بحرالرائق پھر درمختار میں ہے:
المجھول لایعرف المجہول ۔ مجہول الحال کسی مجہول کو معلوم نہیں کرسکتا۔(ت)
خانیہ وہندیہ میں ہے:
ان کان فاسقا او مستورا لایصح تعدیلہ ۔ مزکی اگر فاسق یا مستور الحال ہو تو اسے عادل قرار دینا صحیح نہیں۔(ت)
اگر شاہد کے ہمسایگان مسکن وبازار واہل محلہ میں کوئی ثقہ نہ ملے نہ اس کے بارے میں کوئی تواتر صحیح شرعی ہوتو قاضی اہل محلہ کے بیان پر دو شرط سے اعتماد کرسکتا ہےایك یہ کہ وہ سب بالاتفاق یکزبان ایك ہی بات کہتے ہوں سب اسے عادل کہیں یا سب مجروح ہی بتاتے ہوںدوسرے یہ کہ قاضی کے قلب میں آئے کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو اس وقت ان کا اتفاق مع اس تحری کے قائم مقام تواتر ہوجائے گا اور تواتر میں عدالت کی حاجت نہیںنہ یہ کہ جس نمازی صورت محلے والے مجہول الحال سے چاہیں پوچھ لے اور یہی کافی ہو یہ محض افتراء زید ہے۔محیط وعالمگیریہ میں ہے:
ان لم یجد فی جیرانہ واھل سوقہ من یصلح للتعدیل بل یسأل اھل محلتہوان وجد کلھم غیر ثقات یعتمد فی ذلك علی تواتر الاخبارو اگر پڑوس اور بازاروں میں کسی کو تعدیل کا اہل نہ پائے تو پھر قاضی اہل محلہ کے متعلق سوال واستفسار کرے اگر ان میں سے کسی کو بھی اہل نہ پائے تو پھر گواہوں کے متعلق متواتر خبروں پر اعتماد کرے
تزکیۃ الکاذب الفاسق لاتصح ۔ جھوٹے او رفاسق کو گواہوں کا تزکیہ درست نہیں۔(ت)
نیز مذہب صاحبین میں ہے:
تصح ان کان من اھلہ(ای اھل التعدیل)بان کان عدلا ۔ تزکیہ کرنے والا اہل ہو توصحیح ہے یعنی تزکیہ گواہوں کو عادل ثابت کرنا تب صحیح ہوگا جب وہ خود عادل ہو۔(ت)
ظاہر ہوا کہ مزکی میں عدالت باتفاق ائمہ ثلثہ رضی اﷲتعالی عنہم شرط ہےتہذیب پھر بحرالرائق پھر درمختار میں ہے:
المجھول لایعرف المجہول ۔ مجہول الحال کسی مجہول کو معلوم نہیں کرسکتا۔(ت)
خانیہ وہندیہ میں ہے:
ان کان فاسقا او مستورا لایصح تعدیلہ ۔ مزکی اگر فاسق یا مستور الحال ہو تو اسے عادل قرار دینا صحیح نہیں۔(ت)
اگر شاہد کے ہمسایگان مسکن وبازار واہل محلہ میں کوئی ثقہ نہ ملے نہ اس کے بارے میں کوئی تواتر صحیح شرعی ہوتو قاضی اہل محلہ کے بیان پر دو شرط سے اعتماد کرسکتا ہےایك یہ کہ وہ سب بالاتفاق یکزبان ایك ہی بات کہتے ہوں سب اسے عادل کہیں یا سب مجروح ہی بتاتے ہوںدوسرے یہ کہ قاضی کے قلب میں آئے کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو اس وقت ان کا اتفاق مع اس تحری کے قائم مقام تواتر ہوجائے گا اور تواتر میں عدالت کی حاجت نہیںنہ یہ کہ جس نمازی صورت محلے والے مجہول الحال سے چاہیں پوچھ لے اور یہی کافی ہو یہ محض افتراء زید ہے۔محیط وعالمگیریہ میں ہے:
ان لم یجد فی جیرانہ واھل سوقہ من یصلح للتعدیل بل یسأل اھل محلتہوان وجد کلھم غیر ثقات یعتمد فی ذلك علی تواتر الاخبارو اگر پڑوس اور بازاروں میں کسی کو تعدیل کا اہل نہ پائے تو پھر قاضی اہل محلہ کے متعلق سوال واستفسار کرے اگر ان میں سے کسی کو بھی اہل نہ پائے تو پھر گواہوں کے متعلق متواتر خبروں پر اعتماد کرے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادت احیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۳€
ردالمحتار کتاب الشہادت احیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۳€
درمختار بحوالہ البحر عن التہذیب کتاب الشہادت ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ قاضیخان کتاب الشہادت الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۷€
ردالمحتار کتاب الشہادت احیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۳€
درمختار بحوالہ البحر عن التہذیب کتاب الشہادت ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ قاضیخان کتاب الشہادت الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۷€
کذلك اذا سأل جیرانہ واھل محلتہ وھم غیر ثقات فاتفقوا علی تعدیلہ او جرحہ ووقع فی قلبہ انہم صدقوا کان ذلك بمنزلۃ تواترالاخبار ۔ او ریوں ہی جب گواہوں کے پڑوس اور اہل محلہ سے پوچھا حالانکہ یہ تمام لوگ خود غیر ثقہ ہیںاو روہ تمام گواہوں کو عادل بتاتے ہیں یا مجروح بتاتے ہیں تو قاضی اگر ان کو سچا سمجھتا ہے تو ان کے قول پر عمل کرلے یہ بھی متواتر خبروں کی طرح ہے(ت)
عمرو نے جوصفات مزکی میں بیان کیں قاضی کو مناسب ہے کہ ایسے ہی شخص کو مزکی مقرر کرے طامع ومفلس نہ ہونا اور لوگوں سے اختلاط شرائط اولویت ہیں جبکہ ان سے ارجح وصف مثل علم فقہ ان کے معارض نہ ہو مثلا اور اس میں زیادہ حاجت ہےگوشہ گزیں اپنے معتمدین سے پوچھ کر تزکیہ کرسکتا ہے اور جاہل کے اسباب جرح و تعدیل میں امتیاز دشوار۔محیط وہندیہ میں ہے:
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من کان عدلا صاحب خبرۃ بالناس و ان لایکون طماعا و ینبغی ان یکون فقہیا یعرف اسباب الجرح و التعدیل وان یکون غنیا وان وجدعالما فقیرا وغنیا ثقۃ غیر عالم او عالما ثقۃ لایخالط الناس وثقۃ غیر عالم یخالط الناس اختار العالم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی کو مناسب ہے کہ گواہوں کی تعدیل کیلئے ایسے لوگوں کو مقرر کرے جو خود عادل او رخبردار ہوں اور وہ لالچی نہ ہوںبہتر ہے کہ وہ فقہ والے ہوں تاکہ جرح وتعدیل کے اسباب کو پہچانتے ہوں اگروہ غنی ہوں تو بہتر ہے اگر عالم فقیر ہو اور غنی ثقہ ہو اور عالم نہ ہو یا عالم ثقہ ہو لیکن لوگوں سے میل جول نہیں اور غیر عالم ثقہ ہے اور لوگوں سے میل جول رکھتا ہے توا ن حالات میں عالم کو ترجیح دے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)حق یہ کہ یہ امررائے قاضی پر مفوض ہے اگر گواہوں پر کوئی بدگمانی ہوتو قاضی پر واجب ہے کہ انہیں جداجدادائے شہادت کا حکم دے مگر دوعورتوں کہ ان کی شہادت مل کر شرعا بجائے شہادت واحدہ ہے ان میں تفریق نہیں لقولہ تعالی
"ان تضل احدىہما فتذکر احدىہما الاخری" (اﷲ تعالی کے ارشاد کے مطابق کہ عورتوں میں سے ایك غلطی کرے تو دوسری یاد دلائے۔ت)اوراگر قاضی کو اطمینان کافی ہوکہ یہ لوگ اہل صدق و
عمرو نے جوصفات مزکی میں بیان کیں قاضی کو مناسب ہے کہ ایسے ہی شخص کو مزکی مقرر کرے طامع ومفلس نہ ہونا اور لوگوں سے اختلاط شرائط اولویت ہیں جبکہ ان سے ارجح وصف مثل علم فقہ ان کے معارض نہ ہو مثلا اور اس میں زیادہ حاجت ہےگوشہ گزیں اپنے معتمدین سے پوچھ کر تزکیہ کرسکتا ہے اور جاہل کے اسباب جرح و تعدیل میں امتیاز دشوار۔محیط وہندیہ میں ہے:
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من کان عدلا صاحب خبرۃ بالناس و ان لایکون طماعا و ینبغی ان یکون فقہیا یعرف اسباب الجرح و التعدیل وان یکون غنیا وان وجدعالما فقیرا وغنیا ثقۃ غیر عالم او عالما ثقۃ لایخالط الناس وثقۃ غیر عالم یخالط الناس اختار العالم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قاضی کو مناسب ہے کہ گواہوں کی تعدیل کیلئے ایسے لوگوں کو مقرر کرے جو خود عادل او رخبردار ہوں اور وہ لالچی نہ ہوںبہتر ہے کہ وہ فقہ والے ہوں تاکہ جرح وتعدیل کے اسباب کو پہچانتے ہوں اگروہ غنی ہوں تو بہتر ہے اگر عالم فقیر ہو اور غنی ثقہ ہو اور عالم نہ ہو یا عالم ثقہ ہو لیکن لوگوں سے میل جول نہیں اور غیر عالم ثقہ ہے اور لوگوں سے میل جول رکھتا ہے توا ن حالات میں عالم کو ترجیح دے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)حق یہ کہ یہ امررائے قاضی پر مفوض ہے اگر گواہوں پر کوئی بدگمانی ہوتو قاضی پر واجب ہے کہ انہیں جداجدادائے شہادت کا حکم دے مگر دوعورتوں کہ ان کی شہادت مل کر شرعا بجائے شہادت واحدہ ہے ان میں تفریق نہیں لقولہ تعالی
"ان تضل احدىہما فتذکر احدىہما الاخری" (اﷲ تعالی کے ارشاد کے مطابق کہ عورتوں میں سے ایك غلطی کرے تو دوسری یاد دلائے۔ت)اوراگر قاضی کو اطمینان کافی ہوکہ یہ لوگ اہل صدق و
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادت الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادت الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۹€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادت الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۹€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۲€
دیانت ہیں ہر ایك اپنے علم کے مطابق شہادت دے گا نہ کہ دوسرے کی سنی سیکھی پر تو تفریق کی حاجت نہیں مگر اس زمانے میں ایسا اطمینان شاذ ونادر ہے۔ مبسوط امام محمد پھر محیط عالمگیریہ میں ہے:
اذاارتاب القاضی فی امر الشھود فرق بینھم ولایسعہ غیر ذلک ۔ قاضی کو گواہوں کے متعلق شك ہو تو جدا جدا کرکے شہادت لےاس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔(ت)
درمختار میں ہے:
(ورجل وامرأتان)ولایفرق بینھما لقولہ تعالی "فتذکر احدىہما الاخری" ۔ ایك مرد اور دو عورتیں ہوں تو عورتوں کو جدا جدا نہ کرے کیونکہ اﷲتعالی نے فرمایا وہ دونوں ایك دوسری کو یاد دلائیں(ت)
رہے وکلاء کے سوالات جرح جس کا حاصل چار طرف سے گھیر کر گھبرالینا اور سچے کو خواہی نخواہی جھوٹا بنا چھوڑنا ہے یہ سخت بدعت شنیعہ مردودہ ہے اس سے احتراز فرض ہے کہ ہمیں اکرام شہود کا حکم ہے اور یہ خاص اہانتخطیب وابن عساکر اور مالك نے اپنے جزء میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
اکرمواالشہود فان اﷲ یستخرج بھم الحقوق ویدفع بھم الظلم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ گواہوں کا احترام کرو کیونکہ ان کے ذریعے اﷲ تعالی بندوں کے حقوق ظاہر فرماتا ہے اور ظلم کو دفع فرماتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۳: ازرامپور راج دوارہ مرسلہ عبدالرحمن خاں ۱۸/ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید وعمرو نے دعوی حصہ موروثی مکانات کا باستثنائے بعض عملہ مکانات کے دائر کیا اور گواہان نے بلا استثنائے عملہ کے مکانات بحیثیت موجودہ کو مملوکہ مورث قرار دیا پس یہ شہادت شہادت علی الزیادۃ ہے یانہیں۔دوم یہ کہ جب مدعی نے استثناء کیا اورلکھ دیا کہ فلاں عملہ فلاں کا ہے پس اس کا دعوی مدعی کرسکتا ہے یانہیں۔سوم یہ کہ شہادت شاہد کی جب بعض مدعا بہا میں مردود عندالقاضی قرار پائے تو باقی میں قابل قبول ہے یانہیںبینواتوجروا۔
اذاارتاب القاضی فی امر الشھود فرق بینھم ولایسعہ غیر ذلک ۔ قاضی کو گواہوں کے متعلق شك ہو تو جدا جدا کرکے شہادت لےاس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔(ت)
درمختار میں ہے:
(ورجل وامرأتان)ولایفرق بینھما لقولہ تعالی "فتذکر احدىہما الاخری" ۔ ایك مرد اور دو عورتیں ہوں تو عورتوں کو جدا جدا نہ کرے کیونکہ اﷲتعالی نے فرمایا وہ دونوں ایك دوسری کو یاد دلائیں(ت)
رہے وکلاء کے سوالات جرح جس کا حاصل چار طرف سے گھیر کر گھبرالینا اور سچے کو خواہی نخواہی جھوٹا بنا چھوڑنا ہے یہ سخت بدعت شنیعہ مردودہ ہے اس سے احتراز فرض ہے کہ ہمیں اکرام شہود کا حکم ہے اور یہ خاص اہانتخطیب وابن عساکر اور مالك نے اپنے جزء میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
اکرمواالشہود فان اﷲ یستخرج بھم الحقوق ویدفع بھم الظلم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ گواہوں کا احترام کرو کیونکہ ان کے ذریعے اﷲ تعالی بندوں کے حقوق ظاہر فرماتا ہے اور ظلم کو دفع فرماتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۳: ازرامپور راج دوارہ مرسلہ عبدالرحمن خاں ۱۸/ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید وعمرو نے دعوی حصہ موروثی مکانات کا باستثنائے بعض عملہ مکانات کے دائر کیا اور گواہان نے بلا استثنائے عملہ کے مکانات بحیثیت موجودہ کو مملوکہ مورث قرار دیا پس یہ شہادت شہادت علی الزیادۃ ہے یانہیں۔دوم یہ کہ جب مدعی نے استثناء کیا اورلکھ دیا کہ فلاں عملہ فلاں کا ہے پس اس کا دعوی مدعی کرسکتا ہے یانہیں۔سوم یہ کہ شہادت شاہد کی جب بعض مدعا بہا میں مردود عندالقاضی قرار پائے تو باقی میں قابل قبول ہے یانہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
تاریخ بغداد ترجمہ ۳۱۷۷ ابراہیم بن عبدالصمد دارالکتاب العربی بیروت ∞۶/ ۱۳۸،€تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ احمد بن محمد الکلبی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۵۳€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
تاریخ بغداد ترجمہ ۳۱۷۷ ابراہیم بن عبدالصمد دارالکتاب العربی بیروت ∞۶/ ۱۳۸،€تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ احمد بن محمد الکلبی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۵۳€
الجواب:
اظہار سائل وملاحظہ فیصلہ متعلقہ مقدمہ سے واضح ہوا کہ مدعیان نے حصہ مکان مدعابہا بذریعہ وراثت سے بعض عملہ اس لئے استثناء کیا کہ وہ خود بناکردہ مدعیان ہے اور بعض اسلئے کہ بعض مدعا علیہم نے بعد موت مورث بنوایا ہے اور اس کے ایك قطعہ سے ۱۲گز زمین کو بھی ا ستثناء کیا اس لئے کہ وہ خاص احد المدعیین ہے باقی بعد الاستثناء ملك مورثان قرار دے کر اس میں سے اپنے سہام کا دعوی کیا شہود نے جملۃ بلا استثناء مجموع مکان ملك مورثان ہونے کی شہادت دی یہ شہادت ضرور شہادت علی الزیادۃ ہے اور اصلا قابل قبول نہیںمدعیان بعض عملہ میں اپنا حق نہیں بتاتے کہ وہ معمول مدعا علیہم ہے اور شہود بلا استثناء جمیع اجزائے مکان میں ان کا حق ثابت کرتے ہیں شہادۃ علی الزیادۃ ہمیشہ مردود ہوتی ہے مگر جبکہ مدعی اپنے دعوی اور شہود کے بیان میں توفیق وتطبیق کردے مثلا مدعی نے مکان سے ایك کوٹھری کا استثناء کیا تھا شہود نے بلا استثناء شہادت دی مدعی نے تطبیق کی کہ وہ کوٹھری بھی پہلے میری ہی تھی شاہدوں کو اسی وقت کا حال معلوم تھا بعد کو میں نے وہ کوٹھری بیچ ڈالی لہذا دعوی سے استثناء کردیایہاں بھی اگرچہ توفیق ممکن تھی کہ بعد موت مورث وہ مکان گرگیا اور بعض مدعا علیہم نے اپنے روپے سے تعمیر کیا مگر استحسانا مکان توفیق کافی نہیں بالفعل توفیق کردینا ضرور ہے اور وہ مدعیوں سے واقع نہ ہوا لہذا شہادت ناقابل قبول رہی بلکہ یہاں صرف زبانی دعوی توفیق بھی کافی نہ ہوتا اس پر گواہ دینے ضرور تھے کہ یہ توفیق ایسے امر سے تھی جو صرف ان کی زبان سے ادا ہوسکتا لہذا جب شہادت شرعیہ سے توفیق کا ثبوت نہ دیتے مقبول نہ ہوتی اور وہ اصلا نہ ہوا تو شہادت مذکورہ ضرور مردود ہےدرمختار میں ہے:
الشہادۃ باکثر من المدعی باطلۃ بخلاف الاقل للاتفاق فیہ ۔ دعوی سے زائد شہادت باطل ہے جبکہ بالاتفاق دعوی سے کم ہوجائز ہے۔(ت)
فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے:
المراد بالموافقۃ المطالبۃ اوکون المشہود بہ اقل من المدعی بہ بخلاف مااذاکان اکثر ۔ موافق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شہادت مطابق ہو یا مدعی سے کم ہو بخلاف جبکہ زائد ہو(ت)
انہیں میں ہے:
من المخالفۃ المانعۃ مااذا شھدت باکثرومن فروعھا دارفی قبولیت کے لئے مانع وہ مخالفت ہے جو کہ شہادت دعوی سے زائد ہواور اس کی تفریعات میں ایك
اظہار سائل وملاحظہ فیصلہ متعلقہ مقدمہ سے واضح ہوا کہ مدعیان نے حصہ مکان مدعابہا بذریعہ وراثت سے بعض عملہ اس لئے استثناء کیا کہ وہ خود بناکردہ مدعیان ہے اور بعض اسلئے کہ بعض مدعا علیہم نے بعد موت مورث بنوایا ہے اور اس کے ایك قطعہ سے ۱۲گز زمین کو بھی ا ستثناء کیا اس لئے کہ وہ خاص احد المدعیین ہے باقی بعد الاستثناء ملك مورثان قرار دے کر اس میں سے اپنے سہام کا دعوی کیا شہود نے جملۃ بلا استثناء مجموع مکان ملك مورثان ہونے کی شہادت دی یہ شہادت ضرور شہادت علی الزیادۃ ہے اور اصلا قابل قبول نہیںمدعیان بعض عملہ میں اپنا حق نہیں بتاتے کہ وہ معمول مدعا علیہم ہے اور شہود بلا استثناء جمیع اجزائے مکان میں ان کا حق ثابت کرتے ہیں شہادۃ علی الزیادۃ ہمیشہ مردود ہوتی ہے مگر جبکہ مدعی اپنے دعوی اور شہود کے بیان میں توفیق وتطبیق کردے مثلا مدعی نے مکان سے ایك کوٹھری کا استثناء کیا تھا شہود نے بلا استثناء شہادت دی مدعی نے تطبیق کی کہ وہ کوٹھری بھی پہلے میری ہی تھی شاہدوں کو اسی وقت کا حال معلوم تھا بعد کو میں نے وہ کوٹھری بیچ ڈالی لہذا دعوی سے استثناء کردیایہاں بھی اگرچہ توفیق ممکن تھی کہ بعد موت مورث وہ مکان گرگیا اور بعض مدعا علیہم نے اپنے روپے سے تعمیر کیا مگر استحسانا مکان توفیق کافی نہیں بالفعل توفیق کردینا ضرور ہے اور وہ مدعیوں سے واقع نہ ہوا لہذا شہادت ناقابل قبول رہی بلکہ یہاں صرف زبانی دعوی توفیق بھی کافی نہ ہوتا اس پر گواہ دینے ضرور تھے کہ یہ توفیق ایسے امر سے تھی جو صرف ان کی زبان سے ادا ہوسکتا لہذا جب شہادت شرعیہ سے توفیق کا ثبوت نہ دیتے مقبول نہ ہوتی اور وہ اصلا نہ ہوا تو شہادت مذکورہ ضرور مردود ہےدرمختار میں ہے:
الشہادۃ باکثر من المدعی باطلۃ بخلاف الاقل للاتفاق فیہ ۔ دعوی سے زائد شہادت باطل ہے جبکہ بالاتفاق دعوی سے کم ہوجائز ہے۔(ت)
فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے:
المراد بالموافقۃ المطالبۃ اوکون المشہود بہ اقل من المدعی بہ بخلاف مااذاکان اکثر ۔ موافق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شہادت مطابق ہو یا مدعی سے کم ہو بخلاف جبکہ زائد ہو(ت)
انہیں میں ہے:
من المخالفۃ المانعۃ مااذا شھدت باکثرومن فروعھا دارفی قبولیت کے لئے مانع وہ مخالفت ہے جو کہ شہادت دعوی سے زائد ہواور اس کی تفریعات میں ایك
حوالہ / References
درمختار باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
بحرالرائق بحوالہ فتح القدیر باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۳€
بحرالرائق بحوالہ فتح القدیر باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۳€
یدرجلین اقتسماھا وغاب احدھما فادعی رجل علی الحاضران لہ نصف ھذہ الدار مشاعا فشھدوا ان لہ النصف الذی فی یدالحاضر فھی باطلۃ لانھا باکثر من المدعی بہ ولوادعی دارا و استثنی طریق الدخول و حقوقھا ومرافقہا فشہدواانھا لہ ولم یستثنوا شیئا لاتقبلوکذالو استثنی بیتا ولم یستثنوہ الا اذا وافق فقال کنت بعت ذلك البیت منھا فتقبل ۔ یہ ہے کہ ایك مکان دو حضرات کے قبضہ میں ہے دونوں نے تقسیم کیا اور ایك غائب تھا تو اس نے موجود حاضر فریق پردعوی کردیا میرا اس مکان میں غیر منقسم حصہ ہے تو گواہوں نے شہادت دیتے ہوئے کہ اس کا نصف وہ ہے جو حاضر موجود کے قبضہ میں ہے تو یہ شہادت باطل ہے کیونکہ مدعی سے زائد ہے(یوں ہی)دعوی مکان ہواور اس دعوی میں داخلہ کے راستہ او دیگر حقوق وسہولیات کا استثناء کیا تو گواہوں نے مکان کی شہادت اس کے حق میں دیتے ہوئے راستہ حقوق اور سہولیات کا استثناء نہ کیاشہادت مقبول نہ ہوگی اور یونہی مدعی نے حویلی میں سے ایك کمرہ کا استثناء کیا اور گواہوں نے نہ کیا مگر مدعی ان کی موافقت میں کہہ دے کہ وہ کمرہ میں نے فروخت کردیا تھا تو قبول ہوگی۔(ت)
نیز بحر میں ہے:
والحاصل انہم اذاشھد واباقل مما ادعی تقبل بلا توفیق وان کان باکثر لم تقبل الااذا وفقفلوادعی الفافشھدابالف وخمسمائۃ فقال المدعی کان لی علیہ الف وخمسمائۃ الاانی ابرأتہ من خمس مائۃ او قال استوفیت منہ خمس مائۃ ولم یعلم بہ الشھود تقبل وکذافی الالف والالفین ولایحتاج الی اثبات التوفیق حاصل یہ کہ جب گواہوں نے دعوی سے کم چیز کی شہادت دی تو قبول ہوگی اور موافقت بنانے کی ضرورت نہ ہوگی او راگر زیادہ کی شہادت ہو تو پھر موافقت بنائے بغیر قبول نہ ہوگی مثلا مدعی نے ہزار کا دعوی کیا گواہوں نے ڈیڑھ ہزار کی شہادت دی مدعی کہہ دے میرا قرضہ اس پر ڈیڑھ ہزارتھا لیکن میں نے اس کو پانچسو معاف کردئے یا میں نے پانچ صد پہلے وصول کرلئے یہ گواہوں کو معلوم نہیں ہواتو اب شہادت مقبول ہوگیہزار اور دو ہزار میں بھی ایسے ہوگا موافق بنانے میں گواہی کی
نیز بحر میں ہے:
والحاصل انہم اذاشھد واباقل مما ادعی تقبل بلا توفیق وان کان باکثر لم تقبل الااذا وفقفلوادعی الفافشھدابالف وخمسمائۃ فقال المدعی کان لی علیہ الف وخمسمائۃ الاانی ابرأتہ من خمس مائۃ او قال استوفیت منہ خمس مائۃ ولم یعلم بہ الشھود تقبل وکذافی الالف والالفین ولایحتاج الی اثبات التوفیق حاصل یہ کہ جب گواہوں نے دعوی سے کم چیز کی شہادت دی تو قبول ہوگی اور موافقت بنانے کی ضرورت نہ ہوگی او راگر زیادہ کی شہادت ہو تو پھر موافقت بنائے بغیر قبول نہ ہوگی مثلا مدعی نے ہزار کا دعوی کیا گواہوں نے ڈیڑھ ہزار کی شہادت دی مدعی کہہ دے میرا قرضہ اس پر ڈیڑھ ہزارتھا لیکن میں نے اس کو پانچسو معاف کردئے یا میں نے پانچ صد پہلے وصول کرلئے یہ گواہوں کو معلوم نہیں ہواتو اب شہادت مقبول ہوگیہزار اور دو ہزار میں بھی ایسے ہوگا موافق بنانے میں گواہی کی
حوالہ / References
بحرالرائق بحوالہ فتح القدیر باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۳€
بالبینۃ لان الشیئ انما یحتاج الی اثباتہ بالبینۃ اذا کان سببا لایتم بدونہ ولا ینفرد باثباتہ کما اذا ادعی الملك بالشراء فشھد الشھود بالھبۃ فان ثمۃ یحتاج الی اثباتہ بالبینۃاماالابراء فیتم بہ وحدہ ولو اقربا لاستیفاء یصح اقرارہ ولا یحتاج الی اثباتہ لکن لابدمن دعوی التوفیق ھنا استحسانا والقیاس ان التوفیق اذاکان ممکنا یحمل علیہ وان لم یدع التوفیق تصحیحا للشھادۃ وصیانۃ لکلامہ وجہ الاستحسان ان المخالفۃ بین الدعوی والشہادۃ ثابتۃ صورۃ فاذاکان التوفیق مرادا تزول المخالفۃ و ان لم یکن مرادا لاتزول بالشك فاذاادعی التوفیق ثبت التوفیق وزالت المخالفۃ وذکر الشیخ الامام المعروف بخواہر زادہ ان محمدا شرط فی بعض المواضع دعوی التوفیق ولم یشترط فی البعض وذاك محمول علی مااذا ادعی التوفیق اوذاك جواب القیاس فلابدمن دعوی التوفیق ۔ ضرورت نہیں کیونکہ کسی چیز کو گواہی سے ثابت کرنے کی ضرورت تب ہوتی ہے کہ وہ ایسا سبب ہو جس کے بغیر چیز تام نہ ہو اور وہ اکیلے ثابت نہ ہوسکے جیسا کہ مدعی نے خریداری کے ذریعے ملك کا دعوی کیا اور گواہوں نے ہبہ کے ذریعے ملك ثابت کی تو ایسی صورت میں اس کے اثبات کے لیے گواہی کی ضرورت ہے لیکن بری کرنا ایسی چیز ہے جو اکیلے بغیر سبب تام ہو جاتی ہے اور اگر وصولی کا اقرار کرتا ہے تو اقرار صحیح ہے اس کے اثبات کی ضرورت نہیں ہے تاہم اس کے ساتھ موافقت کا دعوی بطور استحسان ضرور ی ہے جبکہ قیاس میں یہی ہے کہ اگر توفیق ممکن ہو تو اس پر محمول کرینگے اگرچہ توفیق کا دعوی نہ بھی ہو تاکہ شہادت صحیح ہوسکے اور کلام غلط نہ ہوسکے استحسان کی وجہ یہ ہے کہ دعوی اور شہادت میں صورتا مخالفت ثابت ہے تو اگر توفیق مراد بنے تو مخالفت زائل ہوگیاور اگر وہ مراد نہ ہو تو مخالفت زائل نہ ہوگی مراد ہونے نہ ہونے میں شك کی وجہ سے مخالفت ختم نہ ہوگی تو جب موافقت کا دعوی ہوگا تو مخالفت ختم ہوجائے گی اور توفیق ثابت ہوجائے گیاور شیخ امام المعروف خواہر زادہ نے ذکر فرمایا ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے بعض جگہ پر موافقت کے دعوی کو بیان فرمایاہے اور بعض جگہ اس کو بیان نہیں کیا اور اس کو دعوی موافقت پرمحمول کیا جائے گا یا اس کو قیاس کا جواب قرار دیا جائیگا لہذا دعوی موافقت ضروری ہے۔
حوالہ / References
بحرالرائق باب الاختلاف الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۰۴€
مندرجہ دعوی سے قطعی انکار ہے منجانب مدعیہ جو گواہ ثبوت دعوی میں گزرے ہیں ان میں سے نظام علی خاں گواہ نے بیان کیا کہ عرصہ تخمینا ڈیڑھ سال کا ہوا بوقت چار گھڑی دن رہے سعیدی بیگم زوجہ عبدالرشید خاں مدعا علیہا نے مکان متنازعہ کہ متصل مکان مظہر کے ہے بدست فردوس بیگم مدعیہ ائما صہ/ کا بیع کیا مدعاعلیہا نے کہامیں نے اماصہ/ کوفردوس بیگم کے ہاتھ مکان بیچا اور مدعیہ نے کہا کہ میں نے قبول کیا اسی وقت صہ /بیعانہ کے بذریعہ بھورے میاں مدعیہ نے مدعاعلیہا کودئیے اور باقی روپے کے نسبت وقت رجسٹری دستاویز بمدت یك ماہ دینا قرار پایا تھا یہ واقعہ پہلی تاریخ انگریزی مہینے کے ہوا تھا اس کے کوئی ۲۵دن کے بعد مدعا علیہا مذکور نے اپنے ماموں مسمی ابراہیم خاں کو بمکان مظہر بھیجا مدعیہ اس وقت میرے مکان پر مہمان تھی ابراہیم خان نے مدعیہ سے میری معرفت کہلابھیجا کہ سعیدی بیگم نے تم کو بلایا ہے چلو اور(٭٭۲/)بھی لے چلو کہ وہ عدالت میں بابت کورس داخل کرینگی چار پانچ دن میں بیعنامہ تصدیق ہوگا تو یہ(٭٭۲/صہ/)بیعانہ زر ثمن میں محسوب ہونگے چنانچہ فردوس بیگم گئی اور(٭٭۲/)لے گئی تھی مجھ کو اپنے بھانجے احمد ینی عرف پیارے کے ہمراہ لے گئی تھیں چنانچہ بمواجہہ پیارے مدعیہ نے وہ(٭٭۲/)حسب الطلب سعیدی بیگم کودے دئے اورمدعا علیہا نے داخل عدالت کردئے نشان دہی مکان متنازعہ کی کردوں گامولوی ارشد علی گواہ عرف بھورے میاں کا بیان ہے کہ مجھے تخمینا یاد ہے کہ عرصہ تخمیناڈیڑھ سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت نظام علی خان میرے پاس آئے تھے کہ فردوسی بیگم کی طرف سے یا ہاجرہ فردوسی بیگم دونوں کی طرف سے اس قدر بھول گیا ہوں بیعنامہ مکان کا دینا چاہتا ہوں مظہر کو اول سے علم تھا کہ مکان کی یعنی مکان متنازعہ کی بیع ہوتی ہے چنانچہ بمکان سعیدی بیگم مظہر نظام علی خان علی احمد خاں گئے عورتیں اندر مکان کوٹھے میں ہوگئیں ہم جاکر چارپائیوں پر بیٹھ گئے مظہر نے آواز دے کر کہا کہ نظام علی خاں فردوسی بیگم کی طرف سے بیعنامہ دیا چاہتے ہیں چونکہ سعیدی بیگم اندر کوٹھے کے تھیں اور سعیدی بیگم کی بہن اور ماں بھی تھیں اس وجہ سے میں نے اپنے ذہن میں سعیدی بیگم سے مخاطب ہوکر کہا کہ مکان بیچتی ہو اندر سے آواز آئی بیچتی ہوںیہ نہیں یاد کہ کس نے جواب دیامیں نے اندر ہاتھ بڑھا کہ صہ دے دئےنہیں معلوم کس نے اپنے ہاتھ میں بیعانہ لیا اور عورات اندر تھیں مگر مجھے معلوم نہیں کون تھیںعلی احمد خاں جس کی موجودگی وقت ایجاب وقبول نظام علی خاں گواہ نے بیان کی ہے وہ اپنے مکان میں نسبت ایجاب وقبول یا بیع مکان متنازعہ کچھ بیان نہیں کرتااحمدنبی خاں گواہ مدعیہ لکھتا ہے کہ عرصہ ڈیڑھ سال کا ہوا کہ سعیدی بیگم زوجہ عبدالرشید خاں نے مکان متنازعہ بدست فردوس بیگم مدعیہ بقیمت(ائما٭)بیچا تھا اور مدعا علیہا مذکور نے کہا تھا کہ میں نے اپنا مکان(ائما٭/)کو فردوس بیگم کے ہاتھ بیچا اور مدعیہ نے کہا کہ میں نے قبول کیا اور پانچ روپے بیعانہ کے
بھورے میاں کے ہاتھ سے سعیدی بیگم کو مدعیہ نے دئے تھے اور جس وقت علی احمد خاں وبھورے میاں آئے تھے تو سعیدی بیگم دالان میں بیٹھی رہی تھیں اور مدعیہ کوٹھری میں ہوگئی تھیں بھورے میاں کے سامنے گفتگو بیع وشراء کی ہو کر(صہ/) بیعانہ کے دئے گئے اور دو مرتبہ گفتگو بیع وشراء ہوئی تھی مدعیہ نے کہا تھا کہ بھورے میاں کے ہاتھ میں بیعانہ دلوادوں گی اور گفتگو نہیں ہوئی تھی۔سوال علمائے دین و مفتیان شرع متین سے یہ ہے کہ بیانات گواہان مندرجہ بالا سے بموجودگی اپنے وقت بیع وشراء کے درمیں متعاقدین ظاہرکرتے ہیں آیا بیع وشرامکان متنازعہ کی باہم متعاقدین شرعا واقع ہوگئی کہ قابل نفاذ ہے یانہیں ہوئیموافق مسائل شرعی کے حسبۃﷲ جواب عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نظام علی خاں واحمد نبی خاں عرف پیارے خاں گواہان مدعیہ کا بیان ذکر ایجاب وقبول متعاقدین پربھی شامل ہے اور سعیدی بیگم کے اقرا ر بالبیع پر بھی ان دونوں سے جو بات ہوئی شہادت میں لئے جانے کے لئے کافی ہے بیعانہ وغیرہ امر فضول ہے جسے بیع سے کچھ تعلق نہیںبھورے میاں گواہ مدعا علیہا کا بیان محض مختل مہمل ہےدونوں گواہان مدعیہ اگر جامع شرائط شہادت ہیں ان کا بیان حاکم مجوز کے سامنے حسب شرائط ہولیا ہے تو بیع بنام فردوس بیگم ضرور ثابت ہےباقی روداد مقدمہ مذکورہ سوال بھی مدعیہ کی مؤید ہےمیری رائے میں بصورت مذکورہ فیصلہ بحق مدعیہ ہونا لازم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۵: ازرام پور بازار نصراﷲ خاں مرسلہ فداعلی خان صاحب ۱۳/ذی القعدہ ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مکان کے کوچہ غیر نافذہ میں دروازہ جدید دوسرا عمرو کے حق مرور کی طرف منجانب اسفل جس طرف زید کے واسطے شرعا حق مرور نہ تھا برآمد کیا ہے اور عمرو اس فتح باب کامانع ہے پس وہ احداث شرعا جائز ہے یانہیںاور عمرو کو منع کرنا پہنچتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں قول معتمدہ و ظاہر الروایۃ مفتی بہا واجب العمل یہی ہے کہ زید کو اس دروازہ جدید کا احداث جائز نہیں عمرو کو حق منع حاصل ہے
فی ردالمحتار لواراد فتح باب اسفل من بابہ والسکۃ غیر نافذۃ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص بندگلی میں اپنے دروازہ سے نچلی جانب دروازہ یا کھڑکی کھولناچاہے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نظام علی خاں واحمد نبی خاں عرف پیارے خاں گواہان مدعیہ کا بیان ذکر ایجاب وقبول متعاقدین پربھی شامل ہے اور سعیدی بیگم کے اقرا ر بالبیع پر بھی ان دونوں سے جو بات ہوئی شہادت میں لئے جانے کے لئے کافی ہے بیعانہ وغیرہ امر فضول ہے جسے بیع سے کچھ تعلق نہیںبھورے میاں گواہ مدعا علیہا کا بیان محض مختل مہمل ہےدونوں گواہان مدعیہ اگر جامع شرائط شہادت ہیں ان کا بیان حاکم مجوز کے سامنے حسب شرائط ہولیا ہے تو بیع بنام فردوس بیگم ضرور ثابت ہےباقی روداد مقدمہ مذکورہ سوال بھی مدعیہ کی مؤید ہےمیری رائے میں بصورت مذکورہ فیصلہ بحق مدعیہ ہونا لازم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۵: ازرام پور بازار نصراﷲ خاں مرسلہ فداعلی خان صاحب ۱۳/ذی القعدہ ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مکان کے کوچہ غیر نافذہ میں دروازہ جدید دوسرا عمرو کے حق مرور کی طرف منجانب اسفل جس طرف زید کے واسطے شرعا حق مرور نہ تھا برآمد کیا ہے اور عمرو اس فتح باب کامانع ہے پس وہ احداث شرعا جائز ہے یانہیںاور عمرو کو منع کرنا پہنچتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں قول معتمدہ و ظاہر الروایۃ مفتی بہا واجب العمل یہی ہے کہ زید کو اس دروازہ جدید کا احداث جائز نہیں عمرو کو حق منع حاصل ہے
فی ردالمحتار لواراد فتح باب اسفل من بابہ والسکۃ غیر نافذۃ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص بندگلی میں اپنے دروازہ سے نچلی جانب دروازہ یا کھڑکی کھولناچاہے
یمنع منہ وقیل لاوفی کل من القولین اختلاف التصحیح والفتوی قال فی الخیریۃ والمتون علی المنع فلیکن المعول علیہ اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ فقدنقل فی جامع الفصولین ان لہ ذلك مطلقا وعلیہ الفتوی ونقل فی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن العتابیۃ انہ لیس لہ ذلك وعلیہ الفتوی وھو الذی صححہ فی الخانیۃ قال فی الخیریۃ ومثلہ فی کثیر من کتب المذہب قال وھو ظاہر الروایۃ کما صرح بہ فی جامع الفصولین فلیکن المعول علیہ اھ قلت کیف لاوقد نصواان الفتوی متی اختلف رجح ظاہر الروایۃ کما فی البحرالرائق وغیرہا وصرحواان قاضی خان فقیہ النفس لایعدل عن تصحیحہ کما فی غمز العیون وغیرہ واطبقواان التقدیم للمتون لانہا الموضوعۃ لنقل المذھب کما فی الدر وغیرہ فقد ترجح بوجوہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ تو اس کو منع کیا جائے اور بعض نے کہا منع نہ کیا جائے اور دونوں اقوال میں فتوی اور تصحیح کا اختلاف ہےخیریہ میں کہا کہ متون منع پروارد ہیں اور اس پر ہی اعتماد چاہئے اھ مجھے اس پر اپنا حاشیہ یاد ہے کہ جس کی عبارت یہ ہے کہ جامع الفصولین میں منقول ہے کہ اس کو مطلقا یہ اختیار ہے اور اسی پر فتوی ہےاور خیریہ میں تاتارخانیہ سے اور وہاں عتابیہ سے منقول ہے کہ اس کو اختیارنہیں ہے اور اس پر فتوی ہے اور اسی خانیہ میں ترجیح ہے خیریہ میں فرمایا کہ اکثر کتب میں اسی طرح ہے اور کہا یہ ظاہرالروایۃ ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے تو اس پر اعتماد چاہئےمیں کہتا ہوں یہ کیونکر نہ ہو کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جب فتوی میں اختلاف ہوتو ظاہرالروایہ کو ترجیح ہوتی ہے جیساکہ بحرالرائق وغیرہ میں ہےاور یہ بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ چونکہ قاضی خان فقیہ النفس ہیں لہذا اس کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائےگا جیساکہ غمز العیون وغیرہ میں ہےاور سب کا اتفاق ہے کہ متون کو اولیت ہے کیونکہ وہ مذہب کو بیان کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں جیسا کہ در وغیرہ میں ہے تو یہ کئی وجوہ سے ترجیح یافتہ ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۶۰€
جدالممتار علی ردالمحتار
جدالممتار علی ردالمحتار
انصح الحکومۃ فی فصل الخصومۃ ۱۳۲۱ھ
(جھگڑا ختم کرنے کےلئے خالص ترین فیصلہ)
مسئلہ۶۶: فیصلہ نالش تجویز حکیم عبدالعزیز بیگ پنچ مقبول متخاصمین ازروئے اقرار نامہ مورخہ ۵/ذی القعدہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۴/فروری۱۹۰۳ء
سید محمد افضل صاحب ولد سید محمد امیر علی صاحب مختار مرحوم ساکن بریلی متصل جامع مسجد بریلی مدعی سید محمد احسن صاحب ولد سید محمد امیر علی صاحب مختار مرحوم وسید افضال حسین صاحب ولد سید محمد افضل صاحب مذکور ساکنان محلہ مذکورہ مدعا علیہما دعوی تو فیر موضع جگت پور پر گنہ تحصیل وضلع بریلی محال زردو معافی واقع جگت پورمذکور محال سبز وسفید ومفروقہ واقعہ جگت پور محال سفید وکہنڈ سار موضع جگت پور مذکورمع منافع کہنڈ سار مذکور از اپریل ۱۸۹۸ء لغایت دسمبر ۱۹۰۲ء وبقایائے توفیر مذکور و کہنڈسار مذکور ذمہ اسامیان بابت مدت مذکور لغایت مارچ ۱۹۰۳ء بصیغہ قرض دادنی دامود رداس وغیرہ وتقسیم پنج قطعہ مکانات محدودہ ذیل واقعہ محلہ مذکوروسرمایہ مکان محدود ذیل نمبر۱ بابت مدت مذکور واثاث البیت متروکہ پدری
(جھگڑا ختم کرنے کےلئے خالص ترین فیصلہ)
مسئلہ۶۶: فیصلہ نالش تجویز حکیم عبدالعزیز بیگ پنچ مقبول متخاصمین ازروئے اقرار نامہ مورخہ ۵/ذی القعدہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۴/فروری۱۹۰۳ء
سید محمد افضل صاحب ولد سید محمد امیر علی صاحب مختار مرحوم ساکن بریلی متصل جامع مسجد بریلی مدعی سید محمد احسن صاحب ولد سید محمد امیر علی صاحب مختار مرحوم وسید افضال حسین صاحب ولد سید محمد افضل صاحب مذکور ساکنان محلہ مذکورہ مدعا علیہما دعوی تو فیر موضع جگت پور پر گنہ تحصیل وضلع بریلی محال زردو معافی واقع جگت پورمذکور محال سبز وسفید ومفروقہ واقعہ جگت پور محال سفید وکہنڈ سار موضع جگت پور مذکورمع منافع کہنڈ سار مذکور از اپریل ۱۸۹۸ء لغایت دسمبر ۱۹۰۲ء وبقایائے توفیر مذکور و کہنڈسار مذکور ذمہ اسامیان بابت مدت مذکور لغایت مارچ ۱۹۰۳ء بصیغہ قرض دادنی دامود رداس وغیرہ وتقسیم پنج قطعہ مکانات محدودہ ذیل واقعہ محلہ مذکوروسرمایہ مکان محدود ذیل نمبر۱ بابت مدت مذکور واثاث البیت متروکہ پدری
ہر سہ فریق مذکورین نے بروئے اقرار نامہ مورخہ ۵/ذی القعدہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۴/فروری ۱۹۰۳ء کو واسطے تصفیہ نزاعات مسطورہ بالا کے برضائے خودہا پنج مجاز وماذون مقرر کیا مقدمہ بحاضری ہر سہ فریق مذکورین ہمارے سامنے پیش ہواسید محمد افضل صاحب مدعی مذکور نے سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ مسطور پر دعوی کیا کہ موضع جگت پور ومعافی ومفروقہ مذکوران اور کہنڈ سار موضع جگت پور مع جملہ اسباب بیل وغیرہ مثل کرہا آہنی وغیرہ میرے اور ان سید محمداحسن مدعا علیہ کے شرکت بالمناصفہ میں ہے اوائل ۱۸۹۸ء تك میں اور مدعا علیہ مذکور بشرکت اکجائی کام کرتے رہے اپریل ۱۸۹۸ء سے میں پیلی بھیت چلاگیا جب سے مجھے توفیرات مذکورہ ومنافع کہنڈ سار مذکور نہ ملی بروئے حساب مجھے ان سید محمد احسن مدعا علیہ سے دلائی جائے اور جو بقایا ذمہ اسامیان وغیرہ ہے بابت توفیر جگت پور معافی و مقروضہ کہنڈ سار جگت پور مذکورات ہو ااس کے نصف میں میرے استقرار حق کاحکم کیا جائے اور اثاث البیت متروکہ والد جس کی فہرست پیش کرتا ہوں ان سید محمد احسن کے قبضہ میں ہے نصف اس سے مجھ کو دلایا جائے
مکانات محدودہ بالا میں بذریعہ وراثت پدری ومادری وبیع ورہن میرا اور ان سید محمد احسن کا بالمناصفہ چاہئے دستاویزوں میں سید افضال حسین وسید امیر حسن مرحوم پسران مدعی واختری بیگم زوجہ محمداحسن مذکور کا نام فرضی ہے سوامکان نمبر ۱کے کہ اس میں اراضی کا کچھ حصہ خرید کردہ والدہے اور زیادہ حصہ میری نانی صاحبہ ولایتی بیگم کے والد میرسید محمد صاحب کاخرید کردہ ہے ان کے تین وارث ہوئے: سید نثار الدین حسین پسر اور ولایتی بیگم ولالہ بیگم دختراناس میں سے نانی صاحبہ ولایتی بیگم نے اپنے حصہ کا ہبہ نامہ میری والدہ سردار بیگم کے نام لکھ دیا اور سید نثار الدین حسن صاحب نے اپنے حصہ کا ہبہ نامہ میرے اور سید محمد احسن کے نام لکھا لالہ بیگم دختران کا جس قدر حصہ اراضی میں تھا اس کا ہبہ نامہ سید محمد احسن کے نام لکھا گیا اور تعمیر اس کی کل والد صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے کی ہے مکانات مذکورہ تقسیم یکجائی کردی جائیں کہ نزاع نہ رہے کمی بیشی بجائے قسمت روپیہ سے پوری کردی جائے مکان نمبر۵کرایہ پر رہا جس قدر زر کرایہ حاصل ہوا اس کا حساب ان سید محمداحسن سے لے کر میرا نصف ان سید محمد احسن سے مجھے دلایا جائےسید محمد احسن صاحب مدعا علیہ مذکور نے بیان کیا کہ کہنڈ سار جگت پور تنہا میں نے کی ان سید محمد افضل کی اس میں کوئی شرکت نہیں مکان نمبر ۱ کا ہبہ نامہ میرے نام ہے اس کا تنہا مالك میں ہوںمکان نمبر۲میں ان سید محمد افضل صاحب کی شرکت تسلیم ہے نیز یہ مکان نمبر۳میں بقدر اپنے حصہ کے شریك ہیں مکان نمبر۴ وہ میری خرید کئے اور بنائے ہوئے ہیں مگر نام افضال حسین وامیر حسن کا بھی درج ہے تقسیم مکانات یکجائی بروئے معاوضہ کمی بیشی جس طرح مجوز کی رائے میں مناسب ہو مجھے منظور ہے اثاث البیت متروکہ پدری جو میرے پاس ہے اس کا نصف ان سید محمد افضل صاحب کودے دیا جائے اور جو کچھ ان سید محمد افضل صاحب کے پاس ہے اس کا نصف مجھے دلایا جائےسید افضال حسین مدعاعلیہ مذکور نے بیان کیا کہ مکان نمبر۴کے سوا کل مکانات متنازعہ میرے دادا سید اکبر علی صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے خریدے ہیں اور رہن لئے ہیں اور جس جس کو جتنا دینا منظور تھا اس کانام بیعنامہ و رہن نامہ میں درج کرادیامکان نمبر۴میرے حصہ کے قدر میرا مرہونہ ہے کہ بعد انتقال سید امیر علی صاحب رہن لیامکان نمبدر ۳ کی نسبت دونوں مدعا علیہما نے بیان کیا کہ یہ مکان سید امیر علی صاحب نے ہماری خالہ زاد بہنپھوپھی قادری بیگم بنت سید نجم الدین احمد زوجہ سید وارث علی کو ہبہ کردیا تھا اس میں جگت پور کی کہنڈ سار ہوتی تھی اور اب بھی مکان خالی کرکے قبضہ نہ دلایامگر چالیس روپیہ مجھ سید محمد احسن نے قادری بیگم مذکورہ کو دئے سید محمد احسن صاحب مذکور نے توفیر ومنافع کہنڈ سار وکرایہ مکان وبقایان مذکور ان کا حساب مطلوب من ابتدائے یکم نومبر ۱۸۹۸ء لغایت ۳۰/نومبر۱۹۰۲ء جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اور قرضہ دامود رد اس ہم فریقین پر تمام وکمال بالمناصفہ تھا اور ہے اگرچہ پانچسو روپیہ کا رقعہ بنام دامودرداس تنہا میرے نام سے تحریر ہوا سید محمد احسن اب اس سے انکار کرکے مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیںانصافا بعد تحقیقات اس کا نصف بھی
ان سید محمد احسن صاحب پر ڈالا جائے۔
نیز سید محمد احسن صاحب نے بیان کیا کہ مبلغ(٭/)معرفت شیخ تصدق حسین صاحب اور(٭٭/)معرفت سید فرحت علی صاحب اور تخمینا دس پندرہ متفرق اس پانچ سال میں میرے پاس سے ان سید محمد افضل صاحب کو پہنچے ہیں جواسی گوشوارہ خرچ میں کہ پیش کیا گیا ہے مندرج ہیں فقط ہر حساب سید محمد افضل صاحب کو دکھایا گیا انہوں نے(٭/)معرفت شیخ تصدق حسین صاحب اور(٭٭/)معرفت سید فرحت علی صاحب پاناقبول کیا اور باقی متفرق کو فرمایا مجھ کو یاد نہیں اور گوشوارہ مذکورہ کے رقوم کی نسبت سیدمحمد احسن صاحب سے حلف چاہا اور وجوہ خرچ میں عذر کیا کہ انصافا جو اس میں میرے ذمہ ہونا چاہئے میرے یا فتی سے مجرا ہوجائے باقی سے میں بری کیا جاؤں ان سید محمد احسن صاحب حسب الطلب جملہ رقوم آمد وخرچ گوشوارہ پر حلف کرلیا سید محمد احسن صاحب وسید افضال حسین صاحب مدعا علیہما مذکورین نے دفع دعوی سید محمد افضل صاحب مدعی مذکور میں نسبت مکانات سات دستاویز یں مفصلہ ذیل سندا پیش کیں:
نیز سید محمد احسن صاحب نے بیان کیا کہ مبلغ(٭/)معرفت شیخ تصدق حسین صاحب اور(٭٭/)معرفت سید فرحت علی صاحب اور تخمینا دس پندرہ متفرق اس پانچ سال میں میرے پاس سے ان سید محمد افضل صاحب کو پہنچے ہیں جواسی گوشوارہ خرچ میں کہ پیش کیا گیا ہے مندرج ہیں فقط ہر حساب سید محمد افضل صاحب کو دکھایا گیا انہوں نے(٭/)معرفت شیخ تصدق حسین صاحب اور(٭٭/)معرفت سید فرحت علی صاحب پاناقبول کیا اور باقی متفرق کو فرمایا مجھ کو یاد نہیں اور گوشوارہ مذکورہ کے رقوم کی نسبت سیدمحمد احسن صاحب سے حلف چاہا اور وجوہ خرچ میں عذر کیا کہ انصافا جو اس میں میرے ذمہ ہونا چاہئے میرے یا فتی سے مجرا ہوجائے باقی سے میں بری کیا جاؤں ان سید محمد احسن صاحب حسب الطلب جملہ رقوم آمد وخرچ گوشوارہ پر حلف کرلیا سید محمد احسن صاحب وسید افضال حسین صاحب مدعا علیہما مذکورین نے دفع دعوی سید محمد افضل صاحب مدعی مذکور میں نسبت مکانات سات دستاویز یں مفصلہ ذیل سندا پیش کیں:
۵بیعنامہ از سید احمد حسن ولد سید نثار الدین حسین بنام سید امیر حسن وسید افضال حسین پسران سید محمد افضل مدعی واحمدی بیگم زوجہ سید محمد احسن مدعا علیہ بابت کل ربع باقی مکان مذکور مورخہ ۱۰/جون ۱۸۸۴ء
متعلق مکان نمبر۴
۶رہن نامہ بعوض(ما ٭)از عبدالکریم خاں کنبوہ نصف مکان بدست سید محمد احسن مذکور ونصف بدست سید امیر حسن وسید افضال حسین مذکوران مورخہ ۴/جون ۱۸۹۴ء
متعلق مکان نمبر۵
بیعنامہ اراضی مع خشب وبناء عــــــہ
نصف بنام سید محمد احسن مذکورنصف بنام سید امیر حسن وسید افضال حسین مذکوران مورخہ ۱۰/نومبر ۱۸۸۴ء
یہ سب دستاویزیں سید محمدافضل مدعی کو دکھائی گئیں سید محمد افضل سید محمد مدعی نے ان کی تصدیق فرمائی مگر دستاویز نمبر۵ونمبر۶ونمبر۷متعلقہ مکان نمبر۳ونمبر۴ونمبر۵میں سید امیر حسین وسید افضال حسین واحمدی بیگم کے نام فرضی بتائے اور کہا کہ ایك ربع مکان نمبر۳واراضی مکان نمبر۵ سید امیر علی صاحب والد فریقین نے خریدکیں اور مکان نمبر۵ کی تعمیر بھی انہیں کی دستاویزوں میں اور ناموں کے اندراج سے ان کا مقصود ایك نہیں دونوں بھائیوں کو دینا تھا جسے مختلف صورتوں میں ظاہر کیا کبھی ہم دونوں بھائیوں کے نام درج فرمائے جیسے دستاویز نمبر۳ونمبر ۴ میں کبھی میری جگہ میرے بیٹوں کے جیسے دستاویز نمبر۷میں ولہذا نصف میں سید محمد احسن کا نام ہوا اور نصف میں میرے دونوں بیٹوں کا کہ حقیقتا ہم دونوں بھائیوں کو بالمناصفہ کرنا مقصود تھا کبھی میری جگہ میرے بیٹوں سے اور سید محمد احسن کی جگہ ان کی زوجہ احمدی بیگم کا جیسا دستاویز نمبر۵ میں دستاویز نمبر۶بعدانتقال والد صاحب مرحوم تحریر ہوئی اور اسی طریقہ جاریہ پر میری جگہ میرے بیٹوں کے نام لکھے گئے زر رہن خالص میرا اور سید محمد احسن کا تھا امیر حسن اور افضال حسین کا اس میں کچھ نہ تھا اس کی تعمیر میرے اور محمد احسن کے مشترك روپیہ سے ہوئی۔مکان نمبر ۱ کی دستاویز ہبہ نامہ کل مکان مذکور سے متعلق نہیں لہذا واہبان نے خود حقوق کا لفظ لکھا ہے اس کے متعلق دو ہبہ نامہ اور ہیں ایك از جانب ولایتی بیگم بنام سردار بیگم والدہ فریقین دوسرا از جانب سید نثار الدین حسین بنام فریقین یہ دونوں کاغذ سید محمد احسن کے پاس ہیں اس مکان کی عمارت بھی والد صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے بنوائی ہے۔
عــــــہ: اصل میں صاف پڑھا نہ گیا اندازہ سے بنادیا۔
متعلق مکان نمبر۴
۶رہن نامہ بعوض(ما ٭)از عبدالکریم خاں کنبوہ نصف مکان بدست سید محمد احسن مذکور ونصف بدست سید امیر حسن وسید افضال حسین مذکوران مورخہ ۴/جون ۱۸۹۴ء
متعلق مکان نمبر۵
بیعنامہ اراضی مع خشب وبناء عــــــہ
نصف بنام سید محمد احسن مذکورنصف بنام سید امیر حسن وسید افضال حسین مذکوران مورخہ ۱۰/نومبر ۱۸۸۴ء
یہ سب دستاویزیں سید محمدافضل مدعی کو دکھائی گئیں سید محمد افضل سید محمد مدعی نے ان کی تصدیق فرمائی مگر دستاویز نمبر۵ونمبر۶ونمبر۷متعلقہ مکان نمبر۳ونمبر۴ونمبر۵میں سید امیر حسین وسید افضال حسین واحمدی بیگم کے نام فرضی بتائے اور کہا کہ ایك ربع مکان نمبر۳واراضی مکان نمبر۵ سید امیر علی صاحب والد فریقین نے خریدکیں اور مکان نمبر۵ کی تعمیر بھی انہیں کی دستاویزوں میں اور ناموں کے اندراج سے ان کا مقصود ایك نہیں دونوں بھائیوں کو دینا تھا جسے مختلف صورتوں میں ظاہر کیا کبھی ہم دونوں بھائیوں کے نام درج فرمائے جیسے دستاویز نمبر۳ونمبر ۴ میں کبھی میری جگہ میرے بیٹوں کے جیسے دستاویز نمبر۷میں ولہذا نصف میں سید محمد احسن کا نام ہوا اور نصف میں میرے دونوں بیٹوں کا کہ حقیقتا ہم دونوں بھائیوں کو بالمناصفہ کرنا مقصود تھا کبھی میری جگہ میرے بیٹوں سے اور سید محمد احسن کی جگہ ان کی زوجہ احمدی بیگم کا جیسا دستاویز نمبر۵ میں دستاویز نمبر۶بعدانتقال والد صاحب مرحوم تحریر ہوئی اور اسی طریقہ جاریہ پر میری جگہ میرے بیٹوں کے نام لکھے گئے زر رہن خالص میرا اور سید محمد احسن کا تھا امیر حسن اور افضال حسین کا اس میں کچھ نہ تھا اس کی تعمیر میرے اور محمد احسن کے مشترك روپیہ سے ہوئی۔مکان نمبر ۱ کی دستاویز ہبہ نامہ کل مکان مذکور سے متعلق نہیں لہذا واہبان نے خود حقوق کا لفظ لکھا ہے اس کے متعلق دو ہبہ نامہ اور ہیں ایك از جانب ولایتی بیگم بنام سردار بیگم والدہ فریقین دوسرا از جانب سید نثار الدین حسین بنام فریقین یہ دونوں کاغذ سید محمد احسن کے پاس ہیں اس مکان کی عمارت بھی والد صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے بنوائی ہے۔
عــــــہ: اصل میں صاف پڑھا نہ گیا اندازہ سے بنادیا۔
تنقیحات ذیل قائم
(۱)آیا مکان نمبر ۱ میں بذریعہ ترکہ مادری یا تعمیر پدری یا ہبہ نامہ سید نثار الدین حسین بنام فریقین سید محمد افضل صاحب مدعی کا کون حق ہے
(۲)آیا مکان نمبر ۳ سید امیر علی صاحب مرحوم نے قادری بیگم مذکور کو ہبہ کیا اور اگر کیا تو اس کا کیااثر ہے
(۳)آیا مکان نمبر۳ونمبر۴ونمبر۵ میں سید افضال حسین ایك فریق مقدمہ کاکوئی حق ہے
(۴)ان تینوں مکانوں میں سید محمد افضل صاحب کوحق مرتہنی حاصل ہےاگر ہے تو کس قدر
(۵)آیا کھنڈسار جگت پور خالس سیدمحمد احسن صاحب کی ہے سیدمحمد افضل صاحب کی اس میں شرکت نہیں
(۶)مدات خرچ پیش کردہ مدعا علیہما کیا کیا رقم ذمہ سید محمد افضل صاحب ہونا چاہئے
(۷)اثاث البیت متروکہ سید امیر علی صاحب مرحوم فریقین کے قبضہ میں کیا کیا ہے اور اس کی تقسیم کیونکر چاہئے
(۸)مکانات کی تقسیم یکجائی کس طرح ہونا مناسب ہے
(۹)آیا(صما۵۰۰/)قرضہ دامودرد اس بابت رقعہ محررہ سید محمد افضل تنہا ذمہ سید محمد افضل صاحب ہے اور باقی قرضہ فریقین پر کس قدر ہے
(۱۰)بقایا مندرجہ گوشوارہ مذکورہ میں سید محمد افضل صاحب کا حصہ کس قدر ہے
تجویز:(۱)مکان نمبر۱کی نسبت سید محمد افضل صاحب مدعی کا دعوی قطع نظر اس سے کہ محض غیر معین تھا مدعی مذکور نے کوئی شہادت خواہ کوئی دستاویز اپنے مفید پیش نہ کی سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کو کوئی ہبہ نامہ اس مکان کے کسی جز کا از جانب ولایتی بیگم بنام سردار بیگم والدہ فریقین یا از جانب سید نثار الدین حسین بنام فریقین لکھا جانا تسلیم ہے مدعی مذکور نے صرف اپنے ماموں سید محمد شاہ صاحب خلف سید میر بادشاہ صاحب کے بیان پر(کہ سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے ماموں اور خسر بھی ہیں)حصر رکھا۔سید محمد شاہ صاحب مذکور بوجہ امراض معذور ہیں اور اس مکان نمبر ۱ میں اپنی دختر و داماد سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے پاس رہتے ہیں مجوز نے مکان مذکور میں جاکر ان کا اظہار لیاسید محمدشاہ عــــــہ
عــــــہ: تحریر نمبر۸شامل مسل ہے۱۲۔
(۱)آیا مکان نمبر ۱ میں بذریعہ ترکہ مادری یا تعمیر پدری یا ہبہ نامہ سید نثار الدین حسین بنام فریقین سید محمد افضل صاحب مدعی کا کون حق ہے
(۲)آیا مکان نمبر ۳ سید امیر علی صاحب مرحوم نے قادری بیگم مذکور کو ہبہ کیا اور اگر کیا تو اس کا کیااثر ہے
(۳)آیا مکان نمبر۳ونمبر۴ونمبر۵ میں سید افضال حسین ایك فریق مقدمہ کاکوئی حق ہے
(۴)ان تینوں مکانوں میں سید محمد افضل صاحب کوحق مرتہنی حاصل ہےاگر ہے تو کس قدر
(۵)آیا کھنڈسار جگت پور خالس سیدمحمد احسن صاحب کی ہے سیدمحمد افضل صاحب کی اس میں شرکت نہیں
(۶)مدات خرچ پیش کردہ مدعا علیہما کیا کیا رقم ذمہ سید محمد افضل صاحب ہونا چاہئے
(۷)اثاث البیت متروکہ سید امیر علی صاحب مرحوم فریقین کے قبضہ میں کیا کیا ہے اور اس کی تقسیم کیونکر چاہئے
(۸)مکانات کی تقسیم یکجائی کس طرح ہونا مناسب ہے
(۹)آیا(صما۵۰۰/)قرضہ دامودرد اس بابت رقعہ محررہ سید محمد افضل تنہا ذمہ سید محمد افضل صاحب ہے اور باقی قرضہ فریقین پر کس قدر ہے
(۱۰)بقایا مندرجہ گوشوارہ مذکورہ میں سید محمد افضل صاحب کا حصہ کس قدر ہے
تجویز:(۱)مکان نمبر۱کی نسبت سید محمد افضل صاحب مدعی کا دعوی قطع نظر اس سے کہ محض غیر معین تھا مدعی مذکور نے کوئی شہادت خواہ کوئی دستاویز اپنے مفید پیش نہ کی سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کو کوئی ہبہ نامہ اس مکان کے کسی جز کا از جانب ولایتی بیگم بنام سردار بیگم والدہ فریقین یا از جانب سید نثار الدین حسین بنام فریقین لکھا جانا تسلیم ہے مدعی مذکور نے صرف اپنے ماموں سید محمد شاہ صاحب خلف سید میر بادشاہ صاحب کے بیان پر(کہ سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے ماموں اور خسر بھی ہیں)حصر رکھا۔سید محمد شاہ صاحب مذکور بوجہ امراض معذور ہیں اور اس مکان نمبر ۱ میں اپنی دختر و داماد سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے پاس رہتے ہیں مجوز نے مکان مذکور میں جاکر ان کا اظہار لیاسید محمدشاہ عــــــہ
عــــــہ: تحریر نمبر۸شامل مسل ہے۱۲۔
صاحب مذکور نے بیان کیا کہ یہ مکان جس میں اس وقت موجودہوں میرے نانا میر سید محمد صاحب کا تھا ان کے صرف تین وارث ہوئے: میری والدہ ولایتی بیگم اور خالہ لالہ بیگم اور ماموں سید نثار الدین حسینان ماموں صاحب نے اپنا حصہ یعنی نصف مکان مذکور اپنی دونوں بہنوں میری والدہ وخالہ کو ہبہ بلا تقسیم کردیا ان ماموں صاحب کے بیٹوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین نے اب تك کوئی تعرض نہ کیا میری تینوں بہنوں سردار بیگم والدہ سید محمد افضل وسید محمد احسن اور برکاتی بیگم و آبادی بیگم نے اپنی والدہ ولایتی بیگم سے پہلے وفات پائیولایتی بیگم مذکور کا میں تنہا وارث ہوںبعد انتقال والدہ میں اور میر ی خالہ لالہ بیگم نصف نصف اس تمام مکان کے مالك ہوئے ہم دونوں مالکان مکان مذکور نے یہ مکان تمام وکمال ان سید محمد احسن کو ہبہ کردیا تعمیر کی نسبت کہا میں اس وقت یہاں نہ تھا میری والدہ زندہ تھیں یہ میرے علم میں نہیں کہ میری والدہ کے روپے سے بنایا سید امیر علی کے روپے سے تعمیر ہواظاہر ہے کہ ان گواہ کے بیان میں کوئی لفظ مفید مدعی نہیں البتہ دستاویز مذکورہ کے تینوں فریق مقدمہ کے مصدقہ ومسلمہ ہیں اس میں سے دستاویز نمبر ۲میں مکان نمبر۲ کی حد غربی میں کہ یہی مکان نمبر ایك ہے سردار بیگم زوجہ سید امیر علی کا نام لکھا ہے اور دستاویز نمبر۶میں مکان نمبر۴ کی حد شرقی میں کہ یہی مکان نمبر۱ ہے مکان محمد احسن مرتہن ومحمد افضل بیگ پر ایك قرینہ ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ۱۸۶۷ء تك یہ مکان نمبر۱ سردار بیگم والدہ فریقین کی طرف منسوب تھا اور ۱۸۹۴ء میں فریقین کی طرف مضاف ہوا مگر قطع نظر اس سے کہ مجرد نسبت واضافت خواہی نخواہی دلیل ملك نہیں اور وہ بھی ایسی کہ مدعی کے ثبوت استحقاق میں بکار آمد ہو خود سید افضل صاحب مدعی نے اپنی نیك نیتی سے صاف اقرار کیا کہ ولایتی بیگم کا سردار بیگم یا سید نثار الدین حسین صاحب کا فریقین کو اپنے اپنے حصص واقعہ مکان مذکور ہبہ کرنا بلا تقسیم تھاا ور اب تك کہ سردار بیگم و سید نثار الدین حسین کی وفات ہوچکی مکان بدستور نامقسم ہے غالبا بیان مدعی نسبت ہبہ نامجات مذکورہ صحیح ہے اور انہیں کی بناء پر ۶۷ء تك مکان ملك سردار بیگم اور ۱۸۹۴ء میں مکان ملك فریقین تصور کیا جاتا ہو لیکن قابل قسمت شے میں ہبہ شرعا ناجائز ہے اور جبکہ تقسیم سے پہلے موہوب لہ یا وارث انتقال کر جائے جیسا کہ بیان ہو اوہ ہبہ محض باطل وکالعدم ہوجاتا ہے عالمگیری جلد ۴ص۱۳۱:
لاتصح فی مشاع یقسم ۔ تقسیم سے قبل مشاع چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔(ت)
درمختار صحہ ۵۱۲:
لاتصح فی مشاع یقسم ۔ تقسیم سے قبل مشاع چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔(ت)
درمختار صحہ ۵۱۲:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۶€
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ ہبہ کے فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد میم سے مراد ہے اگر قبضہ سے پہلے ہو تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔ (ت)
تو ان دونوں ہبہ کی نسبت کسی بحث وتفتش کی حاجت نہیں کہ خود باقرار مدعی ان کا باطل ہونا ثابت ہے اور اگرچہ بعینہ یہی وجہ اس مکان میں سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے حق کو بھی باطل کرے گی کہ جب مکان بالاتفاق موروثی اور ہنوز نامقسم ہے تو سید نثار الدین حسین صاحب کا اپنا حصہ اپنی بہنوں ولایتی بیگم و لالہ بیگم کو ہبہ کرنا باطل ہوا اور نصف میں ان کے بیٹوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین کا حق ملك رہا ور اب جو سید محمد شاہ صاحب ولالہ بیگم نے اپنی مشاع ونامقسم حصے سید محمد احسن صاحب کو بذریعہ ہبہ نامہ نمبر ایك ہبہ کئے یہ ہبہ بھی ناجائز ہوا اور لالہ بیگم کی وفات سے ان کے حصہ کا ہبہ محض باطل ہوکر ان کے بھتیجوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین کا حق قرار پایا سید محمد شاہ صاحب زندہ ہیں اگر اپنا حصہ کہ ترکہ ولایتی بیگم سے انہیں پہنچا جدا تقسیم کراکر سید محمد احسن صاحب کو قبضہ دے دیں ہبہ صحیح ہوجائیگا ورنہ باطلمگر ان وجوہ کا نفع ان اشخاص کی طرف راجع ہے جو فریقین مقدمہ نہیں اور اس ہبہ کے بطلان سے مدعی کو کوئی فائدہ نہیں کہ سردار بیگم والدہ مدعی کا اپنی والدہ ولایتی بیگم سے پہلے انتقال کرنا بالاتفاق ویقین ثابت ہے لہذا سید محمد افضل صاحب مدعی مذکور کا دعوی اس مکان نمبر۱پر کسی وجہ سے قابل سماعت نہیں۔
(۲)تنقیح دوم کی نسبت اس قدر کہنا بس ہے کہ یہ ہبہ اگر ثابت بھی ہو تو محض بے معنی ہے سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے اولا اپنے بیان میں عــــــہ صاف تسلیم کیا کہ سید محمدافضل صاحب مدعی مکان نمبر۳ میں بقدر اپنے حصہ کے شریك میں بعدہ اظہار میں مدعا علیہما نے اس تمام مکان کا بنام قادری بیگم ہبہ ہونا ظاہر ہوکیا حسب طلب مدعا علیہما سید محمد افضل صاحب مدعی سے بھی اس ہبہ کی نسبت سوال ہوا انہوں نے اتنا اقرار کیا کہ سید امیر علی صاحب مرحوم نے قادری بیگم سے کہا تھا کہ اگر تم یہاں رہو تو یہ مکان تمہیں دیتا ہوں مگر وہ نہ رہیں ان سب سے قطع نظر کیجئے بالفرض سید امیر علی صاحب مرحوم نے تمام مکان کے تین ربع نامنقسم ہنوز رہن ہیں اور رہن ملك مرتہن نہیں ہوتا کہ اسے ہبہ کردینے کا اختیار ہو ایك ربع باقی اگر ملك سید امیر علی صاحب ہو بھی تو رہن مشاع ہے کہ بعد انتقال سید امیر علی اور کا ہبہ باطل ہوگیا۔
عــــــہ: تحریر نمبر۲شامل مسل۱۲۔
تو ان دونوں ہبہ کی نسبت کسی بحث وتفتش کی حاجت نہیں کہ خود باقرار مدعی ان کا باطل ہونا ثابت ہے اور اگرچہ بعینہ یہی وجہ اس مکان میں سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ کے حق کو بھی باطل کرے گی کہ جب مکان بالاتفاق موروثی اور ہنوز نامقسم ہے تو سید نثار الدین حسین صاحب کا اپنا حصہ اپنی بہنوں ولایتی بیگم و لالہ بیگم کو ہبہ کرنا باطل ہوا اور نصف میں ان کے بیٹوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین کا حق ملك رہا ور اب جو سید محمد شاہ صاحب ولالہ بیگم نے اپنی مشاع ونامقسم حصے سید محمد احسن صاحب کو بذریعہ ہبہ نامہ نمبر ایك ہبہ کئے یہ ہبہ بھی ناجائز ہوا اور لالہ بیگم کی وفات سے ان کے حصہ کا ہبہ محض باطل ہوکر ان کے بھتیجوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین کا حق قرار پایا سید محمد شاہ صاحب زندہ ہیں اگر اپنا حصہ کہ ترکہ ولایتی بیگم سے انہیں پہنچا جدا تقسیم کراکر سید محمد احسن صاحب کو قبضہ دے دیں ہبہ صحیح ہوجائیگا ورنہ باطلمگر ان وجوہ کا نفع ان اشخاص کی طرف راجع ہے جو فریقین مقدمہ نہیں اور اس ہبہ کے بطلان سے مدعی کو کوئی فائدہ نہیں کہ سردار بیگم والدہ مدعی کا اپنی والدہ ولایتی بیگم سے پہلے انتقال کرنا بالاتفاق ویقین ثابت ہے لہذا سید محمد افضل صاحب مدعی مذکور کا دعوی اس مکان نمبر۱پر کسی وجہ سے قابل سماعت نہیں۔
(۲)تنقیح دوم کی نسبت اس قدر کہنا بس ہے کہ یہ ہبہ اگر ثابت بھی ہو تو محض بے معنی ہے سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے اولا اپنے بیان میں عــــــہ صاف تسلیم کیا کہ سید محمدافضل صاحب مدعی مکان نمبر۳ میں بقدر اپنے حصہ کے شریك میں بعدہ اظہار میں مدعا علیہما نے اس تمام مکان کا بنام قادری بیگم ہبہ ہونا ظاہر ہوکیا حسب طلب مدعا علیہما سید محمد افضل صاحب مدعی سے بھی اس ہبہ کی نسبت سوال ہوا انہوں نے اتنا اقرار کیا کہ سید امیر علی صاحب مرحوم نے قادری بیگم سے کہا تھا کہ اگر تم یہاں رہو تو یہ مکان تمہیں دیتا ہوں مگر وہ نہ رہیں ان سب سے قطع نظر کیجئے بالفرض سید امیر علی صاحب مرحوم نے تمام مکان کے تین ربع نامنقسم ہنوز رہن ہیں اور رہن ملك مرتہن نہیں ہوتا کہ اسے ہبہ کردینے کا اختیار ہو ایك ربع باقی اگر ملك سید امیر علی صاحب ہو بھی تو رہن مشاع ہے کہ بعد انتقال سید امیر علی اور کا ہبہ باطل ہوگیا۔
عــــــہ: تحریر نمبر۲شامل مسل۱۲۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
(۳)تنقیح سوم ایك ظاہر بات تھی دستاویزات نمبر۵و نمبر۶ونمبر۷میں سید افضال حسین کا نام زمرہ مشتریان ومرتہنان میں موجود ہے دستاویز سب فریقوں کے مصدقہ مسلمہ ہیں سید محمد افضال حسین صاحب یا سید محمد احسن صاحب کا باوجود تسلیم صحت دستاویزات یہ ادعا کہ سید افضال حسین صاحب کا نام فرضی ہے بے ثبوت کافی ہر گز مسموع نہ ہوگا نہ دونوں فریق مذکور نے اس کا کوئی ثبوت پیش کیا مگر سید افضال حسین صاحب نے نیك نیتی سے اپنے اظہاروں میں صاف اقرار کردیا عــــــہ کہ مکان نمبر ۴ عبدالکریم خان والا میرے چچا صاحب نے رہن لیا میرا اس میں کچھ روپیہ نہ تھا تو صاف ظاہر ہوا کہ رہن نامہ میں سید افضال کا نام محض فرضی ہے اگر یہ کہئے کہ اصل دائن نے اپنا روپیہ راہن کو قرض دے کر سید افضال حسین کا نام اس غرض سے درج دستاویز کرایا کہ وہ دین ان کا قرار پائے اور ضرور عرف ورواج سے یہی ظاہر ہے بزرگ اپنے روپے سے کوئی عقد کرتے اور اپنے کسی خورد کا نام اسی غرض سے درج دستاویز کراتے ہیں کہ وہ ملك یا حق ان کے لئے قرار پائے مگر شرعا یہ ارادہ رہن میں محض بے اثر ہے کہ یہ غیر مدیون کو دین کا ملك کرنا ہو گا اور وہ صحیح نہیں۔درمختار ص۵۱۵:
تملیك الدین ممن لیس علیہ باطل ۔ غیر مدیون کو دین کا مالك بنانا باطل ہے۔(ت)
نیز سید افضال حسین صاحب نے اپنے اس اظہار میں کہ اپنی طرف سے اصالۃ اور اپنے چچا سید محمد احسن صاحب کی طرف سے بذریعہ مختار نامہ عام ہے صاف اقرار فرمایا کہ مکان نمبر۴ کی تمام بیع ورہن حقیقۃ سید امیر علی صاحب مرحوم نے اپنے روپے سے اپنے لئے بیع ورہن لئے اور اپنی طرف سے جس جس کو جس جس قدر کا مالك یا مستحق کرنا چاہا ان کانام بیعنامہ و رہن نامہ میں درج کرا دیااور واقعی عادات ناس سے معہود یہی ہے بائع سے گفتگوئے بیع و شراء خود کرتے ہیں ایجاب وقبول میں یہ لفظ نہیں ہوتے کہ بائع کہے کہ میں نے فلاں شے تیرے فلاں فلاں عزیز کے ہاتھ بیچی یہ کہے میں نے اپنے فلاں فلاں عزیزوں کی طرف سے قبول کی بلکہ گفتگو باہم ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد دستاویز میں اپنے جس عزیز کا نام چاہتے ہیں لکھوا دیتے ہیں یہ بیع حقیقۃ خود انہیں اشخاص عاقدین کے لئے منعقد ہوکر دستاویز میں اندراج نام عزیزاں ان عزیزوں کے نام ہبہ ہوتا ہے۔ردالمحتار میں ہے :
عــــــہ: تحریر نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
تملیك الدین ممن لیس علیہ باطل ۔ غیر مدیون کو دین کا مالك بنانا باطل ہے۔(ت)
نیز سید افضال حسین صاحب نے اپنے اس اظہار میں کہ اپنی طرف سے اصالۃ اور اپنے چچا سید محمد احسن صاحب کی طرف سے بذریعہ مختار نامہ عام ہے صاف اقرار فرمایا کہ مکان نمبر۴ کی تمام بیع ورہن حقیقۃ سید امیر علی صاحب مرحوم نے اپنے روپے سے اپنے لئے بیع ورہن لئے اور اپنی طرف سے جس جس کو جس جس قدر کا مالك یا مستحق کرنا چاہا ان کانام بیعنامہ و رہن نامہ میں درج کرا دیااور واقعی عادات ناس سے معہود یہی ہے بائع سے گفتگوئے بیع و شراء خود کرتے ہیں ایجاب وقبول میں یہ لفظ نہیں ہوتے کہ بائع کہے کہ میں نے فلاں شے تیرے فلاں فلاں عزیز کے ہاتھ بیچی یہ کہے میں نے اپنے فلاں فلاں عزیزوں کی طرف سے قبول کی بلکہ گفتگو باہم ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد دستاویز میں اپنے جس عزیز کا نام چاہتے ہیں لکھوا دیتے ہیں یہ بیع حقیقۃ خود انہیں اشخاص عاقدین کے لئے منعقد ہوکر دستاویز میں اندراج نام عزیزاں ان عزیزوں کے نام ہبہ ہوتا ہے۔ردالمحتار میں ہے :
عــــــہ: تحریر نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
حوالہ / References
درمختار کتاب العلم فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۵،€کتاب الھبۃ الفصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵€
الاب اشتری لھا فی صغرھا او بعد ما کبرت وسلم الیہا وذلك فی صحتہ ولا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃاھ منح۔ باپ نے اپنی صحت وتندرستی میں بیٹی کےلئے کوئی چیز خرید کر اس کے قبضہ میں دے دی وہ چیز خاص بیٹی کےلئے ہوگی خوہ بالغہ ہو یا نابالغہ ہو دیگر ورثاء کا اس چیز پر کوئی حق نہ ہوگا۔اھ منح(ت)
عقود الدریہ جلد ۲ص۲۸۱:
امرأۃ اشترت لو لدھا الصغیر بما لھا علی ان لا ترجع بالثمن علی الولد جاز استحساناوتکون مشتریۃ لنفسہا ثم تصیر ھبۃ منھا للصغیر ۔ کسی عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کےلئے اپنے مال سے کوئی چیز خریدی اس عہد پر کہ بیٹے سے رقم نہ لوں گی تو استحسانا جائز ہے اور وہ خریداری عورت کی اپنے لئے ہوگی پھر عورت کی طرف سے بیٹے کو ہبہ قرار پائے گی۔(ت)
اور جب حسب اقرار سید افضال حسین صاحب بیع مکان نمبر۵میں ان کانام بذریعہ ہے اور ہبہ مشاع بعد انتقال واہب باطل ہوجاتا ہے توثابت ہوا کہ ہر سہ مکانات مذکور نمبر ۳ و ۴ و ۵ میں سید افضال حسین صاحب کا کوئی حق ملك ورہن اصلانہیں۔
(۴)مکان نمبر ۳ کی نسبت بالاتفاق اظہارات عــــــہ ہرسہ فریق ثابت ہوا کہ اس کی بیع و رہن نامہ سب حقیقۃ بنام سید امیر علی صاحب مرحوم تھی اندراج نام دیگراں اسی قاعدہ معہودہ بزرگان کی بناء پر تھا بالخصوص مدعا علیہ کا بیان کہ یہ تمام و کمال مکان سید امیر علی صاحب مرحوم نے فریقین کے خالہ زاد ہمشیر قادری بیگم کو ہبہ کردیا صراحۃاس کے متروکہ امیر علی صاحب ہونے کا اقرار ہے۔سید امیرعلی نے انتقال فرمایا اور ان کے وارث یہی دو صاحبزادے سیدمحمد افضل صاحب وسید محمد احسن صاحب ہوئے تو مکان کے متروکہ مورث ہونے کا اقرار نصف مکان بذریعہ وراثت ملك سید محمد افضل صاحب ہونے کا اقرار ہوا لیکن یہ اقرار حق راہن پر کہ نہ حاضر ہے نہ فریق مقدمہ ہے مؤثر نہ ہوگا تو ایك ربع مکان مذکور باقرار
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
عقود الدریہ جلد ۲ص۲۸۱:
امرأۃ اشترت لو لدھا الصغیر بما لھا علی ان لا ترجع بالثمن علی الولد جاز استحساناوتکون مشتریۃ لنفسہا ثم تصیر ھبۃ منھا للصغیر ۔ کسی عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کےلئے اپنے مال سے کوئی چیز خریدی اس عہد پر کہ بیٹے سے رقم نہ لوں گی تو استحسانا جائز ہے اور وہ خریداری عورت کی اپنے لئے ہوگی پھر عورت کی طرف سے بیٹے کو ہبہ قرار پائے گی۔(ت)
اور جب حسب اقرار سید افضال حسین صاحب بیع مکان نمبر۵میں ان کانام بذریعہ ہے اور ہبہ مشاع بعد انتقال واہب باطل ہوجاتا ہے توثابت ہوا کہ ہر سہ مکانات مذکور نمبر ۳ و ۴ و ۵ میں سید افضال حسین صاحب کا کوئی حق ملك ورہن اصلانہیں۔
(۴)مکان نمبر ۳ کی نسبت بالاتفاق اظہارات عــــــہ ہرسہ فریق ثابت ہوا کہ اس کی بیع و رہن نامہ سب حقیقۃ بنام سید امیر علی صاحب مرحوم تھی اندراج نام دیگراں اسی قاعدہ معہودہ بزرگان کی بناء پر تھا بالخصوص مدعا علیہ کا بیان کہ یہ تمام و کمال مکان سید امیر علی صاحب مرحوم نے فریقین کے خالہ زاد ہمشیر قادری بیگم کو ہبہ کردیا صراحۃاس کے متروکہ امیر علی صاحب ہونے کا اقرار ہے۔سید امیرعلی نے انتقال فرمایا اور ان کے وارث یہی دو صاحبزادے سیدمحمد افضل صاحب وسید محمد احسن صاحب ہوئے تو مکان کے متروکہ مورث ہونے کا اقرار نصف مکان بذریعہ وراثت ملك سید محمد افضل صاحب ہونے کا اقرار ہوا لیکن یہ اقرار حق راہن پر کہ نہ حاضر ہے نہ فریق مقدمہ ہے مؤثر نہ ہوگا تو ایك ربع مکان مذکور باقرار
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
العقود الدریہ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۳۷€
العقود الدریہ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۳۷€
سید محمد احسن متروکہ سید امیر علی صاحب تین ربع مرہونہ سید امیر علی صاحب قرار پائیں گے یہ رہن اگرچہ بوجہ مشاع ہونے کے فاسد اور بوجہ دخلی ہونے کے شرعا حرام ہے مگر تاوصول دین اس پر قبضہ رکھنے کا اختیار ضرور حاصلاس بارے میں رہن صحیح وفاسد کا حکم ایك ہی ہے۔عہ درمختار صفحہ۶۱۶:
لایصح رہن مشاع مطلقا ثم الصحیح انہ فاسد ۔ غیر منقسم چیز کا رہن مطلقا صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ رہن فاسد ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے: ص۶۲۸:
کل حکم عرف فی الرہن الصحیح فھو الحکم فی الرھن الفاسد کرھن المشاع (ملخصا) جو حکم صحیح رہن کا ہے وہ حکم فاسد رہنمثلا غیر منقسم رہن چیزکا ہے۔(ت)
اور بعد انتقال مرتہن اس کے ورثہ اس کی جگہ مرتہن ہوجاتے ہیں درمختار ص۶۲۳:
لایبطل الرہن بموت الراھن ولا بموت المرتھن ولا بموتھما ویبقی الرھن رھنا عند الورثۃ ۔ راہن یا مرتہن یا دونوں کی موت سے رہن باطل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ورثاء میں رہن باقی رہے گا۔(ت)
تو اس مکان کے تین ربع کی مرتہنی بنام فریقین اگرچہ حسب اقرار فریقین بطور اسم فرضی تھی مگر بعد انتقال مرتہن اصلی واقعی وحقیقی ہوگئی اور اس میں کسی فریق کو نزاع بھی نہیں ایك ربع باقی کے بیعنامہ میں تین نام مندرج ہوئے سیدامیر حسن مرحوم وسید افضال حسین پسران مدعی واحمدی بیگم زوجہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ ان میں سید افضال حسین صاحب تو اپنے اقرار مذکور تنقیح سوم کے رو سے جدا ہوگئے لیکن ہر سہ فریق کا اتفاق سید امیر حسن واحمدی بیگم پر اثر نہیں ڈال سکتا کہ اقرار حجت قاصرہ ہے اثر صرف مقر کی اپنی ذات تك محدود رہتا ہے ہم صدرتنقیح سوم میں بیان کر آئے کہ دستاویزات مصدقہ مسلمہ ہر سہ فریق میں ان کاموں کا اندراج دفع دعوی دیگران کےلئے بس ہے جب تك وہ بینہ سے ان اسماء کا فرضی ہونا ثابت کریں جس کا ثبوت اصلا فریقین سے کسی نے نہ دیا تو اس ربع میں اقرارات کا اثر صرف ایك ثلث موسوم سید افضال حسین پر پڑے گااور وہ باقرار ہر سہ فریق متروکہ سید امیر علی صاحب قرار پاکر سید محمد افضل صاحب سید محمد احسن صاحب میں نصف نصف ہوا سید امیر حسن مرحوم و احمدی بیگم
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
لایصح رہن مشاع مطلقا ثم الصحیح انہ فاسد ۔ غیر منقسم چیز کا رہن مطلقا صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ رہن فاسد ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے: ص۶۲۸:
کل حکم عرف فی الرہن الصحیح فھو الحکم فی الرھن الفاسد کرھن المشاع (ملخصا) جو حکم صحیح رہن کا ہے وہ حکم فاسد رہنمثلا غیر منقسم رہن چیزکا ہے۔(ت)
اور بعد انتقال مرتہن اس کے ورثہ اس کی جگہ مرتہن ہوجاتے ہیں درمختار ص۶۲۳:
لایبطل الرہن بموت الراھن ولا بموت المرتھن ولا بموتھما ویبقی الرھن رھنا عند الورثۃ ۔ راہن یا مرتہن یا دونوں کی موت سے رہن باطل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ورثاء میں رہن باقی رہے گا۔(ت)
تو اس مکان کے تین ربع کی مرتہنی بنام فریقین اگرچہ حسب اقرار فریقین بطور اسم فرضی تھی مگر بعد انتقال مرتہن اصلی واقعی وحقیقی ہوگئی اور اس میں کسی فریق کو نزاع بھی نہیں ایك ربع باقی کے بیعنامہ میں تین نام مندرج ہوئے سیدامیر حسن مرحوم وسید افضال حسین پسران مدعی واحمدی بیگم زوجہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ ان میں سید افضال حسین صاحب تو اپنے اقرار مذکور تنقیح سوم کے رو سے جدا ہوگئے لیکن ہر سہ فریق کا اتفاق سید امیر حسن واحمدی بیگم پر اثر نہیں ڈال سکتا کہ اقرار حجت قاصرہ ہے اثر صرف مقر کی اپنی ذات تك محدود رہتا ہے ہم صدرتنقیح سوم میں بیان کر آئے کہ دستاویزات مصدقہ مسلمہ ہر سہ فریق میں ان کاموں کا اندراج دفع دعوی دیگران کےلئے بس ہے جب تك وہ بینہ سے ان اسماء کا فرضی ہونا ثابت کریں جس کا ثبوت اصلا فریقین سے کسی نے نہ دیا تو اس ربع میں اقرارات کا اثر صرف ایك ثلث موسوم سید افضال حسین پر پڑے گااور وہ باقرار ہر سہ فریق متروکہ سید امیر علی صاحب قرار پاکر سید محمد افضل صاحب سید محمد احسن صاحب میں نصف نصف ہوا سید امیر حسن مرحوم و احمدی بیگم
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ ومالایجوز ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۸€
درمختار کتاب الرہن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€۹
درمختار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷€
درمختار کتاب الرہن فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€۹
درمختار کتاب الرہن باب التصرف فی الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷€
نہ فریق مقدمہ ہیں نہ ان کے ابطال حق پر فریقین سے کسی نے کوئی ثبوت دیا لہذا اس قدر میں کسی کا دعوی مسموع نہیں سید امیر حسن مرحوم کے وارث صرف ان کے والد سید محمد افضل صاحب مدعی ہیں تو اس ربع کا ایك ثلث کہ شرعا ملك سید امیر حسن مرحوم تھا وراثۃ ملك سید محمد افضل صاحب ہواسید محمد افضل صاحب کو بھی اگرچہ اقرار تھا کہ یہ مکان متروکہ پدری ہے جس کے رو سے اگرچہ اقرارات ہر سہ فریق حق سید امیر حسن مرحوم پر مؤثر نہ ہوا مگر جب ثلث بدعوی ارث سید محمد افضل صاحب کو پہنچے سید محمد احسن صاحب ان کے اقرار پر مواخذہ کرکے اس ثلث میں نصف کے مدعی ہوسکتے تھے لیکن سید محمد احسن صاحب بعد اقرار مذکور ہر سہ فریق کے صراحۃ تحریر کرچکے کہ امیر حسن کے حق کی بابت گزارش ہے کہ روپیہ والد صاحب کا تھا اور اس سے بیع ورہن کیا گیا اگر شرعا اس میں میرا حق ہے تو مجھ کو دعوی ہے اور نہیں ہے تودعوی نہیں ہے فقط اور اوپر معلوم ہوتا ہے کہ شرعا سید امیر حسن مرحوم کے حق میں سید محمد احسن کا کوئی حق نہیںنہ خریداری میں روپیہ والد کا ہوناملك والد کو مستلزم۔فتاوی خیریہ ص۲۰۱:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ والد کے مال سے خرید کر دہ چیز ضروری نہیں کہ والد کے لئے ہو۔(ت)
او رلادعوی کسی شرط واقعی پر معلق کرنا بلا شرط لادعوی ہےدرمختار ص۴۰۷ :
علقہ بامرکائن کان اعطیتہ شریکی عــــــہ فقدابرأتك وقد اعطاہ صح ۔ برأت کو معلق کیا کسی امر ماضی محقق پر جیسے طالب کا مدیون سے کہنا کہ اگرتونے فلاں چیز میرے شریك کو دی تو میں نے تجھ کو بری الذمہ کیا حالانکہ مدیون وہ چیز اس کے شریك کو دے چکا تو یہ تعلیق صحیح ہوگی۔(ت)
ردالمحتار جلد ۲ ص۳۴۹:
لانہ علقہ بشرط کائن فتنجز۔ کیونکہ اس نے پائی جانیوالی شرط پر معلق کیا ہے تو فورا نافذ ہوگیا۔(ت)
تو سید محمد افضل صاحب کا اقرار حصہ سید امیر حسن مرحوم کے بارے میں سید محمد احسن صاحب کے لادعوے
عــــــہ: شریکی کی جگہ اصل میں بیاض ہے۔
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ والد کے مال سے خرید کر دہ چیز ضروری نہیں کہ والد کے لئے ہو۔(ت)
او رلادعوی کسی شرط واقعی پر معلق کرنا بلا شرط لادعوی ہےدرمختار ص۴۰۷ :
علقہ بامرکائن کان اعطیتہ شریکی عــــــہ فقدابرأتك وقد اعطاہ صح ۔ برأت کو معلق کیا کسی امر ماضی محقق پر جیسے طالب کا مدیون سے کہنا کہ اگرتونے فلاں چیز میرے شریك کو دی تو میں نے تجھ کو بری الذمہ کیا حالانکہ مدیون وہ چیز اس کے شریك کو دے چکا تو یہ تعلیق صحیح ہوگی۔(ت)
ردالمحتار جلد ۲ ص۳۴۹:
لانہ علقہ بشرط کائن فتنجز۔ کیونکہ اس نے پائی جانیوالی شرط پر معلق کیا ہے تو فورا نافذ ہوگیا۔(ت)
تو سید محمد افضل صاحب کا اقرار حصہ سید امیر حسن مرحوم کے بارے میں سید محمد احسن صاحب کے لادعوے
عــــــہ: شریکی کی جگہ اصل میں بیاض ہے۔
حوالہ / References
فتاوی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
درمختار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۵€
درمختار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۵€
سے رد ہوگیااشباہ ص۲۵۵ :
المقرلہ اذا ردالاقرار ثم عادالی التصدیق فلاشیئ لہ ۔ مقرلہ نے جب اقرارکو رد کردیا اور بعد میں اقرار کی تصدیق کردی تو بھی محروم رہے گا(ت)
ایضا صفحہ۲۵۳:
المقرلہ اذاکذب المقر بطل اقرارہ الخ۔ مقرلہ نے جب اقرار کرنے والے کو جھوٹا قرار دیا تو اقرار باطل ہوجائے گا الخ(ت)
تو یہ ثلث کہ ملك سید امیر حسن مرحوم تھا خاص ملك سید محمد افضل صاحب ہو ااور نصف اس ثلث اسمی سید افضال حسین صاحب کا ان کی ملك قرار پایا تھا مجموع ڈیڑھ ثلث یعنی اس رابع مبیع کا نصف مملوکہ سید محمد افضل صاحب ہوا مکان نمبر۴ کی اگرچہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ کا اپنے اظہار میں بیان کہ وہ میرا خرید کیا ہوا ہے صریح سہو ہے وہ مکان بیع نہیں رہن ہے مگر سید محمد احسن صاحب مذکور نے اپنے اظہار میں نیك نیتی سے تسلیم فرمالیا کہ اس مکان میں نصف ان کا حصہ ہےجو انہوں نے خواجہ محمد حسن صاحب کے قبضہ میں مع نصف مکان نمبر ۵ مستغرق کیا ہے انھوں نے اپنی تحریر عــــــہ۱ میں صراحتا اقرار کرلیا کہ یہ رہن کھنڈ سار مشترك کی آمدنی سے لیا گیا اور تحریر کردیا کہ جب سید محمد افضل صاحب شریك کھنڈسار ہیں تو نصف ان کاا ور نصف میرا ہے فقطلاجرم یہ نصف بحق سید محمد افضل صاحب ہےیہی حالت ہے اس کی نسبت اگرچہ بیان واظہار سید محمد احسن صاحب بہت مختلف واقع ہوئے مگر ہر شخص کا بیان اس قدر کہ اس کی ذات کےلئے نافع ہو بلاد لیل قابل قبول نہیں ہوسکتا اور جس قدر فریق دیگر کے لیے نافع ہے اس کے حق میں حجت ہوجاتا ہے سید محمد احسن صاحب نے اپنے اظہار میں صاف فرمایا ہے کہ نصف مکان نمبر۴ کے ساتھ مکان نمبر۵ پھاٹك والا احمد حسین والا کہ اس کا بھی نصف میرا ہے اسی قرضہ خواجہ عــــــہ۲ صاحب میں مستغرق ہے نیز سید محمد احسن صاحب کے مختار عام سید افضال حسین صاحب نے اپنے اظہار عــــــہ۳ اور اپنے بیان عــــــہ۴ دونوں میں صاف فرمایا ہے کہ مکان نمبر ۴ کے سوا کہ
عــــــہ۱:خط کشیدہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی ہے۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۱۹ شامل مسل ۱۲۔
عــــــہ۳:تحریر نمبر۳ شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۴:تحریر نمبر۱۴ شامل مسل ۱۲۔
المقرلہ اذا ردالاقرار ثم عادالی التصدیق فلاشیئ لہ ۔ مقرلہ نے جب اقرارکو رد کردیا اور بعد میں اقرار کی تصدیق کردی تو بھی محروم رہے گا(ت)
ایضا صفحہ۲۵۳:
المقرلہ اذاکذب المقر بطل اقرارہ الخ۔ مقرلہ نے جب اقرار کرنے والے کو جھوٹا قرار دیا تو اقرار باطل ہوجائے گا الخ(ت)
تو یہ ثلث کہ ملك سید امیر حسن مرحوم تھا خاص ملك سید محمد افضل صاحب ہو ااور نصف اس ثلث اسمی سید افضال حسین صاحب کا ان کی ملك قرار پایا تھا مجموع ڈیڑھ ثلث یعنی اس رابع مبیع کا نصف مملوکہ سید محمد افضل صاحب ہوا مکان نمبر۴ کی اگرچہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ کا اپنے اظہار میں بیان کہ وہ میرا خرید کیا ہوا ہے صریح سہو ہے وہ مکان بیع نہیں رہن ہے مگر سید محمد احسن صاحب مذکور نے اپنے اظہار میں نیك نیتی سے تسلیم فرمالیا کہ اس مکان میں نصف ان کا حصہ ہےجو انہوں نے خواجہ محمد حسن صاحب کے قبضہ میں مع نصف مکان نمبر ۵ مستغرق کیا ہے انھوں نے اپنی تحریر عــــــہ۱ میں صراحتا اقرار کرلیا کہ یہ رہن کھنڈ سار مشترك کی آمدنی سے لیا گیا اور تحریر کردیا کہ جب سید محمد افضل صاحب شریك کھنڈسار ہیں تو نصف ان کاا ور نصف میرا ہے فقطلاجرم یہ نصف بحق سید محمد افضل صاحب ہےیہی حالت ہے اس کی نسبت اگرچہ بیان واظہار سید محمد احسن صاحب بہت مختلف واقع ہوئے مگر ہر شخص کا بیان اس قدر کہ اس کی ذات کےلئے نافع ہو بلاد لیل قابل قبول نہیں ہوسکتا اور جس قدر فریق دیگر کے لیے نافع ہے اس کے حق میں حجت ہوجاتا ہے سید محمد احسن صاحب نے اپنے اظہار میں صاف فرمایا ہے کہ نصف مکان نمبر۴ کے ساتھ مکان نمبر۵ پھاٹك والا احمد حسین والا کہ اس کا بھی نصف میرا ہے اسی قرضہ خواجہ عــــــہ۲ صاحب میں مستغرق ہے نیز سید محمد احسن صاحب کے مختار عام سید افضال حسین صاحب نے اپنے اظہار عــــــہ۳ اور اپنے بیان عــــــہ۴ دونوں میں صاف فرمایا ہے کہ مکان نمبر ۴ کے سوا کہ
عــــــہ۱:خط کشیدہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی ہے۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۱۹ شامل مسل ۱۲۔
عــــــہ۳:تحریر نمبر۳ شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۴:تحریر نمبر۱۴ شامل مسل ۱۲۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹€
وہ تو سید امیر علی صاحب مرحوم کے بعد رہن لیا گیا باقی سب مکانات ان کے دادا سید امیر علی صاحب مرحوم نے اپنے روپے سے بیع ورہن لئے ہیں اور اپنی طرف سے جس جس کو جتنا دینا منظور تھا اس اس کا نام بیعنامہ اور رہن نامہ میں درج کرادیا
اور سید محمد احسن صاحب نے اپنے اظہار میں فرمایا ہے کہ سید افضال حسین میرا مختارعام ہے اس مقدمہ دائرہ میں جو بیان سید محمد افضال حسین صاحب نے کئے مجھ کو قبول ومنظور ہیں اور سید محمد احسن صاحب نے اپنی اخیر تحریر عــــــہ۱ میں خود صاف لکھا کہ یہ بیع ورہن والد صاحب کے روپے سے تھے تو اپنے اگلے بیانوں کو صراحۃ رد فرمایا بالجملہ باقرار مدعا علیہا ثابت ہوانیز اس کی تعمیر کی نسبت سید محمد احسن صاحب مجوز سے زبانی فرمادیاگیا گیا تھا کہ کھنڈ سار جگت پور کے روپے سے ہوئی اور یہ کہ اس وقت سوا اس کے ہماری کوئی آمدنی نہ تھی بعدہ اظہار میں اس عمارت کی نسبت بہت تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے اس کی کچھ متفرق ہے مشرك کچھ خاص ان کے ثابت ہوتے ہیں اور تحریر فرمایا ہے پہلے جو میں نے مکان نمبر ۵ کی نسبت تعمیر عملہ کی مجوز صاحب سے عرض کیا تھا کہ کھنڈ سار جگت پور کی آمدنی سے کہ وہ میرا سہو تھا صحیح یہ عــــــہ۲ ہے جو میں نے مفصل لکھا مگر کوئی مقر اپنے اقرار سے بدعوی سہو ولغزش پھر نہیں سکتااشباہ ص۲۵۴:
اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطاء لم تقبل ۔ جب کسی چیز کا اقرار کرکے پھر خطا کا دعوی کرے تو یہ دعوی قبول نہ ہوگا۔(ت)
تو میں اس امر میں شك کی کوئی وجہ نہیں پاتا کہ تمام و کمال مکان نمبر۵ بھی نصف ملك سید محمدافضل صاحب ہے اور اس پر ایك قرینہ واضحہ یہ بھی ہے کہ سید محمد احسن صاحب اپنے اظہار عــــــہ۳ میں فرماتے ہیں کہ یہ مکان نمبر۵ تمام وکمال میں نے اور سید محمد افضل نے بالمناصفہ دامودرداس کی دستاویز میں ہزار والی میں مستغر ق کیا ہے۔
(۵)سید محمد احسن صاحب نے بکمال نیك نیتی اپنے بیان واظہار میں جابجا صاف تسلیم کرلیا کہ کھنڈ سار جگت پور ان کی اور سید محمد افضل صاحب کی مشترك ہے خود ابتدائی بیان جس میں اس کھنڈ سار کو تنہا اپنی فرمایا ہے اسی کے آخر میں آمد و خرچ پیش کردہ سید افضال حسین کو صراحۃ لکھ دیا کہ میراا ور سید محمد افضل صاحب کا بشرکت ہے اس آمد میں آمدنی کھنڈ سار مذکور شامل ہے بلکہ حساب طلب بھی اس آمدنی کا ہوا تھا
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲۲شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۹شامل مسل۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۱۹شامل مسل ۱۲
اور سید محمد احسن صاحب نے اپنے اظہار میں فرمایا ہے کہ سید افضال حسین میرا مختارعام ہے اس مقدمہ دائرہ میں جو بیان سید محمد افضال حسین صاحب نے کئے مجھ کو قبول ومنظور ہیں اور سید محمد احسن صاحب نے اپنی اخیر تحریر عــــــہ۱ میں خود صاف لکھا کہ یہ بیع ورہن والد صاحب کے روپے سے تھے تو اپنے اگلے بیانوں کو صراحۃ رد فرمایا بالجملہ باقرار مدعا علیہا ثابت ہوانیز اس کی تعمیر کی نسبت سید محمد احسن صاحب مجوز سے زبانی فرمادیاگیا گیا تھا کہ کھنڈ سار جگت پور کے روپے سے ہوئی اور یہ کہ اس وقت سوا اس کے ہماری کوئی آمدنی نہ تھی بعدہ اظہار میں اس عمارت کی نسبت بہت تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے اس کی کچھ متفرق ہے مشرك کچھ خاص ان کے ثابت ہوتے ہیں اور تحریر فرمایا ہے پہلے جو میں نے مکان نمبر ۵ کی نسبت تعمیر عملہ کی مجوز صاحب سے عرض کیا تھا کہ کھنڈ سار جگت پور کی آمدنی سے کہ وہ میرا سہو تھا صحیح یہ عــــــہ۲ ہے جو میں نے مفصل لکھا مگر کوئی مقر اپنے اقرار سے بدعوی سہو ولغزش پھر نہیں سکتااشباہ ص۲۵۴:
اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطاء لم تقبل ۔ جب کسی چیز کا اقرار کرکے پھر خطا کا دعوی کرے تو یہ دعوی قبول نہ ہوگا۔(ت)
تو میں اس امر میں شك کی کوئی وجہ نہیں پاتا کہ تمام و کمال مکان نمبر۵ بھی نصف ملك سید محمدافضل صاحب ہے اور اس پر ایك قرینہ واضحہ یہ بھی ہے کہ سید محمد احسن صاحب اپنے اظہار عــــــہ۳ میں فرماتے ہیں کہ یہ مکان نمبر۵ تمام وکمال میں نے اور سید محمد افضل نے بالمناصفہ دامودرداس کی دستاویز میں ہزار والی میں مستغر ق کیا ہے۔
(۵)سید محمد احسن صاحب نے بکمال نیك نیتی اپنے بیان واظہار میں جابجا صاف تسلیم کرلیا کہ کھنڈ سار جگت پور ان کی اور سید محمد افضل صاحب کی مشترك ہے خود ابتدائی بیان جس میں اس کھنڈ سار کو تنہا اپنی فرمایا ہے اسی کے آخر میں آمد و خرچ پیش کردہ سید افضال حسین کو صراحۃ لکھ دیا کہ میراا ور سید محمد افضل صاحب کا بشرکت ہے اس آمد میں آمدنی کھنڈ سار مذکور شامل ہے بلکہ حساب طلب بھی اس آمدنی کا ہوا تھا
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲۲شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۹شامل مسل۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۱۹شامل مسل ۱۲
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰€
جو فریقین کی مشترك ہے تو اس میں آمدنی کھنڈ سار مذکور کا درج فرمانا ہے صراحۃ دلیل شرکت تھا نہ کہ جب بیان شرکت کی تصریح بھی کردی نہ کہ جب تحریر میں صاف لکھ دیا کہ یہ کھنڈ سار میری اور سید محمد افضل صاحب کی شرکت میں ہےلہذا مجموعہ آمدنی(٭٭٭/)سے نصف یعنی(٭٭٭)حق افضل صاحب ہیں۔
(۶)مدات خرچ میں اراضی محمد ولی جان فریقین کا مشترك ہونا اور اس کی قیمت کی(٭٭/)فریقین کے ذمے بالمناصفہ ہونا فریقین کو تسلیم ہے اور(٭٭)کہ قرضخواہ کو رقم خلاف شرع یعنی سود میں سید احسن صاحب کے ہاتھ سے گئی ان کے حلف کے بعد سید محمد افضل صاحب نے مشترك ہونا قبول کرلئے مرمت مکانات کی(٭٭)جن کی تفصیل فریقین سے کوئی نہ بتا سکا نہ ان کے معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ کہ کس قدر کس مکان کی مرمت میں صرف ہوا مکان نمبر ۴ کے سوا باقی چاروں مکانوں پر بحصہ مساوی قابل انقسام وہی مکان نمبر۱ میں جب کہ سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق ثابت نہ ہوا اور سید محمد احسن صاحب اسے تنہا اپنی ملك بتاتے ہیں تو اس رقم کا ایك ربع(٭٭)پائی خاص سید محمد احسن صاحب پر اور باقی ربع کا نصف(٭٭٭)پائی ذمہ سید محمد افضل صاحب ہو اعیدین و خیرات و نیاز وخوراك خانہ وغیرہ سب کی نسبت سید محمد احسن صاحب کو اپنے بیان تحریری عــــــہ۱ میں اقرار ہے کہ یہ بعد جانے سید محمد افضل صاحب کے خود سید محمد احسن صاحب نے صرف کئے البتہ کنبے داری کے خرچ شادی وغمی کو فریقین نے مشترك تسلیم کیااس پر ہم مجوز نے سید محمد احسن صاحب سے اس رقم کی فہرست طلب کی مگر سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ نے اس رقم کاحصہ ذمہ سید محمد افضل صاحب ڈالنے سے دستبرداری کی اور قبول فرمایاکہ یہ خفیف رقم بھی میرے ہی ذمے رکھی جائے کھنڈ سارا بھی پوڑنودیا کی نسبت خود محمد احسن صاحب اپنے تحریری عــــــہ۲بیان میں اقرار فرماتےہیں کہ وہ میں نے خود کی تھی محمد افضل کی کوئی شرکت نہیں تھی فقط نیزاپنے اظہار عــــــہ۳ میں اس کھنڈسار بالی بور کمال پور سب کی نسبت تحریرفرماتے ہیں کہ سید محمد افضل صاحب کے پیلی بھیت جانے کے ایك دو سال بعد میں نے سید محمد افضل صاحب سے کوئی اجازت نہیں لی تھی تو یہاں سے ظاہر ہواکہ ان میں سے کسی کھنڈسار میں سید محمد افضل صاحب کی شرکت نہ تھی نہ سید محمد افضل صاحب کو ان میں شرکت تسلیم ہے اور سید محمد احسن صاحب کا لکھنا کہ نہ سید محمد افضل صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں ان کھنڈساروں میں شریك نہیں ہوں ان کو علم تھا کہ یہ کھنڈ ساریں کی گئی ہیں اور کسی کام کی بابت بھی کوئی خاص اجازت نہ لی جاتی تھی ہمیشہ ان کے شریك پیلی بھیت سے آیا کرتے اور یہ بھی آتے وہ سب خرچ اس کھنڈ ساری آمدنی سے ہوتا تھا فقط کچھ انہیں
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲ شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۳شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر ۱۹ شامل مسل ۱۲
(۶)مدات خرچ میں اراضی محمد ولی جان فریقین کا مشترك ہونا اور اس کی قیمت کی(٭٭/)فریقین کے ذمے بالمناصفہ ہونا فریقین کو تسلیم ہے اور(٭٭)کہ قرضخواہ کو رقم خلاف شرع یعنی سود میں سید احسن صاحب کے ہاتھ سے گئی ان کے حلف کے بعد سید محمد افضل صاحب نے مشترك ہونا قبول کرلئے مرمت مکانات کی(٭٭)جن کی تفصیل فریقین سے کوئی نہ بتا سکا نہ ان کے معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ کہ کس قدر کس مکان کی مرمت میں صرف ہوا مکان نمبر ۴ کے سوا باقی چاروں مکانوں پر بحصہ مساوی قابل انقسام وہی مکان نمبر۱ میں جب کہ سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق ثابت نہ ہوا اور سید محمد احسن صاحب اسے تنہا اپنی ملك بتاتے ہیں تو اس رقم کا ایك ربع(٭٭)پائی خاص سید محمد احسن صاحب پر اور باقی ربع کا نصف(٭٭٭)پائی ذمہ سید محمد افضل صاحب ہو اعیدین و خیرات و نیاز وخوراك خانہ وغیرہ سب کی نسبت سید محمد احسن صاحب کو اپنے بیان تحریری عــــــہ۱ میں اقرار ہے کہ یہ بعد جانے سید محمد افضل صاحب کے خود سید محمد احسن صاحب نے صرف کئے البتہ کنبے داری کے خرچ شادی وغمی کو فریقین نے مشترك تسلیم کیااس پر ہم مجوز نے سید محمد احسن صاحب سے اس رقم کی فہرست طلب کی مگر سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ نے اس رقم کاحصہ ذمہ سید محمد افضل صاحب ڈالنے سے دستبرداری کی اور قبول فرمایاکہ یہ خفیف رقم بھی میرے ہی ذمے رکھی جائے کھنڈ سارا بھی پوڑنودیا کی نسبت خود محمد احسن صاحب اپنے تحریری عــــــہ۲بیان میں اقرار فرماتےہیں کہ وہ میں نے خود کی تھی محمد افضل کی کوئی شرکت نہیں تھی فقط نیزاپنے اظہار عــــــہ۳ میں اس کھنڈسار بالی بور کمال پور سب کی نسبت تحریرفرماتے ہیں کہ سید محمد افضل صاحب کے پیلی بھیت جانے کے ایك دو سال بعد میں نے سید محمد افضل صاحب سے کوئی اجازت نہیں لی تھی تو یہاں سے ظاہر ہواکہ ان میں سے کسی کھنڈسار میں سید محمد افضل صاحب کی شرکت نہ تھی نہ سید محمد افضل صاحب کو ان میں شرکت تسلیم ہے اور سید محمد احسن صاحب کا لکھنا کہ نہ سید محمد افضل صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں ان کھنڈساروں میں شریك نہیں ہوں ان کو علم تھا کہ یہ کھنڈ ساریں کی گئی ہیں اور کسی کام کی بابت بھی کوئی خاص اجازت نہ لی جاتی تھی ہمیشہ ان کے شریك پیلی بھیت سے آیا کرتے اور یہ بھی آتے وہ سب خرچ اس کھنڈ ساری آمدنی سے ہوتا تھا فقط کچھ انہیں
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲ شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۳شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر ۱۹ شامل مسل ۱۲
معتبر راجوں نے بمواجہ سید محمد احسن صاحب کیا مکان نمبر۲کی قیمت عــــــہ۱ (٭۱۹۰ /)قرار پائی اور مکان نمبر ۵کی عــــــہ۲ (٭٭۴۴۹) یہاں اتفاقا قرعہ برداری درکارتھی مگر سید محمد احسن صاحب نے کہا کہ مکان نمبر ۵ میرے والد کو بہت پسند تھا وہ اس میں سوتے تھے یہ مجھے مل جائے اور زیادت کا معاوضہ مجھ سے دلایا جائے سید محمد افضل صاحب پہلے فرماچکے تھے کہ جو مکان وہ پسند کرلیں لے لیں اور کمی بیشی کا معاوضہ ہوجائے بعد اس پسند کے بھی سید محمد افضل صاحب نے اسے منظور رکھا لہذا مکان نمبر ۲ خالص سید محمد افضل صاحب اور مکان نمبر۵ خالص سید محمد احسن صاحب کا قرار پایا اور بابت کمی حصہ سید محمد افضل صاحب میں آئی(٭٭۸/)سید محمد احسن صاحب پر سید محمد افضل صاحب کی واجب الادا ہوئی کہ رقم سابق سے مل کر مجموع(٭٭ ۲/۳/۸)پائی ہوئی۔
(۹)(صما/)قرض دامودرداس کو سید محمد احسن صاحب نے اپنے بیان تحریری میں بکمال نیك نیتی صاف تسلیم فرمالیا کہ یہ قرضہ ان پر اور سید محمد افضل صاحب مشترکا ہےباقی قرضہ کی نسبت تحقیقات درپیش تھی کہ ۶ / مئی ۱۹۰۳ء کو جناب سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے ایك درخواست بدیں مضمون پیش کی کہ مبلغ(٭٭۹/ ۵) پائی جو سید محمد افضل صاحب کی بھی ہیں ان کے قلم کی تحریر کی ہوئی ان کے تحویل میں باقی ہیں مجھ کو مجرا دلائی جائیں عریضہ شامل مسل فرمایا جائےیہ دعوی جدید کئی مہینے بعد جناب سید محمد احسن صاحب کو یاد بیان تحریری مورخہ۱۶/ ذی الحجہ ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۶مارچ ۱۹۰۳ء میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں تھا ولہذا اس کی نسبت کوئی تنقیح قائم نہ ہوئی تھی نہ ایسے جدید دعوی کا کسی فریق کو اختیار تھا مگر جناب سید محمد احسن صاحب کے اصرار پر درخواست شامل مسل کی گئی اور سید محمد افضل صاحب سے جواب طلب ہوا انہوں نے اس رقم کے اپنے پاس رہنے سے صاف انکار کیا سید محمد احسن صاحب نے شہادتیں پیش کیں جن میں اس رقم کی نسبت سید محمد افضل صاحب کے پاس رہنا کسی شاہد نے اصلا بیان نہ کیا بلکہ سید محمد حسین صاحب برادر عمہ زاد فریقین نے اتنا کہا یہ میں نے نہ سنا کہ محمد افضل اپنے ساتھ کچھ نہ لے گئے نہ میں نے سنا کہ کچھ روپیہ تحویل میں ہے یا محمد افضل لے گئے ہیں بلکہ یہ سنا کہ پیلی بھیت میں محمدافضل نے کچھ زیو ر گرو رکھا کچھ روپیہ مقبول حسین خاں نے دیامرزاہدایت بیگ نے بیان کیا میں نے کبھی نہ سنا کہ کچھ روپیہ محمد افضل پیلی بھیت لے گئے نہ محمد احسن نے بیان کیا نہ کسی نےیہ تو نا اتفاقی
عــــــہ۱:تحریر نمبر۱۲شال مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۱شامل مسل ۱۲
(۹)(صما/)قرض دامودرداس کو سید محمد احسن صاحب نے اپنے بیان تحریری میں بکمال نیك نیتی صاف تسلیم فرمالیا کہ یہ قرضہ ان پر اور سید محمد افضل صاحب مشترکا ہےباقی قرضہ کی نسبت تحقیقات درپیش تھی کہ ۶ / مئی ۱۹۰۳ء کو جناب سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے ایك درخواست بدیں مضمون پیش کی کہ مبلغ(٭٭۹/ ۵) پائی جو سید محمد افضل صاحب کی بھی ہیں ان کے قلم کی تحریر کی ہوئی ان کے تحویل میں باقی ہیں مجھ کو مجرا دلائی جائیں عریضہ شامل مسل فرمایا جائےیہ دعوی جدید کئی مہینے بعد جناب سید محمد احسن صاحب کو یاد بیان تحریری مورخہ۱۶/ ذی الحجہ ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۶مارچ ۱۹۰۳ء میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں تھا ولہذا اس کی نسبت کوئی تنقیح قائم نہ ہوئی تھی نہ ایسے جدید دعوی کا کسی فریق کو اختیار تھا مگر جناب سید محمد احسن صاحب کے اصرار پر درخواست شامل مسل کی گئی اور سید محمد افضل صاحب سے جواب طلب ہوا انہوں نے اس رقم کے اپنے پاس رہنے سے صاف انکار کیا سید محمد احسن صاحب نے شہادتیں پیش کیں جن میں اس رقم کی نسبت سید محمد افضل صاحب کے پاس رہنا کسی شاہد نے اصلا بیان نہ کیا بلکہ سید محمد حسین صاحب برادر عمہ زاد فریقین نے اتنا کہا یہ میں نے نہ سنا کہ محمد افضل اپنے ساتھ کچھ نہ لے گئے نہ میں نے سنا کہ کچھ روپیہ تحویل میں ہے یا محمد افضل لے گئے ہیں بلکہ یہ سنا کہ پیلی بھیت میں محمدافضل نے کچھ زیو ر گرو رکھا کچھ روپیہ مقبول حسین خاں نے دیامرزاہدایت بیگ نے بیان کیا میں نے کبھی نہ سنا کہ کچھ روپیہ محمد افضل پیلی بھیت لے گئے نہ محمد احسن نے بیان کیا نہ کسی نےیہ تو نا اتفاقی
عــــــہ۱:تحریر نمبر۱۲شال مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۱شامل مسل ۱۲
قبیان کیاباقی گواہوں کے بیان میں اصلا کچھ تذکرہ نہیںسید محمد احسن صاحب نے یہ شہادتیں اس غرض سے پیش کیں کہ تمام آمدنی کی تحویل سید محمد افضل صاحب کے پاس ہونا ثابت کریں یہ شہادتیں اس امر کے اثبات میں بھی ناتمام ہیں سید مہدی حسن صاحب و سید ممتاز علی صاحب ومرزاہدایت بیگ صرف شیرے کی آمدنی سید محمد افضل صاحب کے پاس آنا بیان کرتے ہیںسید محمد احسن صاحب صاف کہتے ہیں کہ یہ میرے علم میں کچھ نہیں کہ تحویل ان دونوں بھائیوں میں کس کے پاس ہوتی تھی سید محمد افضل صاحب کے بھی دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ اوپر سے دادنی و یافتنی کی رقمیں جدا جدا لکھتے آئے ہیں اور یا فتنی کی مجموع رقوم کو تتمہ قرار دیتے ہیں اگرچہ بعد مجرائی دادنی و تتمہ جو تحویل میں باقی نہیں قرار پاسکتا بارہ سو سے قدرے زائد ایك رقم اختر حسین خاں کے دادنی اور بارہ سو ان سے یافتنی دونوں مدوں میں تھی یہ یافتنی ملا کر رقم تتمہ(٭٭)لکھی گئی تھی اس کے بعد کے حساب میں وہ رقم دادنی ویافتنی دونوں میں سے چھوڑدی ہے او ریوں(٭٭)دادنی اور (٭٭۰۹/)یافتنی لکھے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ حساب برابر ہے تتمہ کچھ نہیں ایسی رقم وتحویل میں باقی ٹھہرانا سخت عجیبہ ہے ولہذا آج تك سید محمد احسن صاحب نے اس کا کوئی ذکر نہ فرمایا نہ وہ ان کے خیال میں تھا بلکہ بیان تحریر میں صراحۃ اس کے خلاف تحریر تھا کہ سید محمدافضل صاحب کو شاید بیس پچیس روپے گئے ہوں گے اگر یہ پندرہ سولہ سو کی رقم بھی پیلی بھیت جانے کے وقت ان کے پاس ہی ہوتی تو اتنی بڑی رقم کثیر چھوڑ کر صرف بیس پچیس روپے کے ذکر پر کیوں قناعت فرمائی جاتی اور وہ بھی لفظ شاید کے ساتھپھر اس درخواست کے دو روز بعد یعنی ۸/ مئی کو جو تفصیل قرضہ سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے پیش کی اس میں تو اس نزاع کو یك سرطے فرمادیا اور یہی ان کی نیك نیتی سے متوقع تھا اس کے آخر میں صراحۃتحریر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی مطالبہ سید محمد احسن صاحب وغیرہ کا ذمہ سید محمد افضل صاحب نہیں ہے سوائے(٭٭٭)کے کہ معرفت شیخ تصدق حسین صاحب وسید فرحت علی صاحب کے سید محمد افضل صاحب کو پہنچے ہیںالحمدﷲ کہ حق واضح فرمادیااس دعوی کے جواب میں ۱۱مئی کو سید محمد افضل صاحب نے بھی ایك جدید دعوی(٭٭٭)کا پیش کیا محاسبات میں سید افضال حسین صاحب مختار عام نے یہ رقم نقد آمدنی کھنڈ سار کی بتائی تھی کہ آسامیوں سے علاوہ اسکے آئی تھی مگر شرائط پیش کردہ میں اس کا کچھ ذکر نہ تھاسید افضال حسین صاحب نے بعد استفسار بیان کیا کہ یہ رقم ادھر سے آئی ادھر گئی یعنی یا فتنی میں آئی دادنی میں گئی لہذا قائم نہ کی گئی اس پر سید محمد افضل صاحب نے استفسار کیا کہ کس دادنی میں گئی انہوں نے خالص اپنے قرضے میں دی یا مشترك میں اس کا جواب ۱۲ / مئی کو سید محمداحسن صاحب نے لکھا کہ یہ رقم تحویل میں نہیں رہی بلکہ قرضے میں الٹ پھیر میں گئی صرف میرے ذمے پر تنہا قرضہ کوئی نہ تھابلکہ مشترك قرضہ متعلق کھنڈسار کے تھا اس میں گئیشرعا شریك کا حلفی بیان ایسے امور میں مقبول ہے اگرچہ اصلا تفصیل نہ بتائے۔
درمختار صفحہ۳۳۴:
سئل قاری الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لانلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولینھر ۔ قاری الہدایہ سے سوال ہوا کہ کوئی شخص اپنے شریك سے حساب کا مطالبہ کرے تو جواب دیا کہ ہم تفصیلی حساب لازم نہیں کریں گے۔اسی طرح مضاربوصی اور متولی کا معاملہ ہےنہر۔(ت)
توان سولہ سو کی طرح یہ دو ہزار بھی ناقابل سماعت ہیںاس جملہ معترضہ کے بعد اصل تنقیح بقیہ قرضہ کی طرف عطف عنان کریں(٭٭٭)کہ قرضے کے دکھائے گئے اور سید محمد احسن صاحب نے اپنے بیان تحریری میں فرمایا کہ وہی قرضہ اب تك چلاآتا ہے اس میں سے(٭صما) قرضہ دستاویز واقعہ دامودرداس تو یقینا اب تك چلاآتا ہے باقی رقوم کی تفصیل جو سید محمد احسن صاحب نے بابت ۱۳۰۶ھ فصلی جبکہ سید محمد افضل صاحب پیلی بھیت گئے تھے اور اب بابت شرع ۱۳۱۰ھ فصلی اپنی بہی سے لکھائی اور وہ شامل مسل ہےاس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ اس قرضے میں ایك حبہ قرضہ سید فرحت علی صاحب کے کچھ باقی نہیں۱۳۱۰ھ میں سب رقوم جدید ہیں سید فرحت علی صاحب کے ۱۳۰۶ھ میں(٭٭٭)لکھے تھے اور بابت ۱۳۱۰ھ میں(صمالہ)تحریر ہیں سید محمد احسن صاحب نے اپنی اخیر تحریر میں ذکرفرمایا ہے کہ اب یہ(لہ ٭)بھی ادا ہوگئے ان کے فقط(صما)باقی ہیں تو دامودر داس کے(٭٭)اور سید فرحت علی صاحب کے(صما)جملہ(٭٭)نکال کر(٭٭٭۰۹/)سید محمد احسن صاحب نے ادا کئے اور یہ قرضہ مشترك تھا تو سید محمدا حسن صاحب کا حاصل دعوی یہ ہوا کہ اس کا نصف یعنی(٭٭٭۰۴/)کہ سید محمداحسن صاحب نے از جانب سید محمدافضل صاحب اداکئے ہیں سید محمدافضل صاحب سے ان کو دلائے جائیں قرضہ اگر بابت کھنڈسار مشترك ہوتا تو یہ امر دیکھنا کہ قرضہ مذکور سید محمداحسن صاحب نے کس مال سے ادا کیااگر آمدنی مشترك کھنڈسار سے ادا ہوا تو کوئی وجہ مطالبہ نہیں کہ مشترك مال سے ادا ہو ا اور اب سید محمد احسن صاحب کا وہ بیان مورخہ ۱۲/مئی وارد ہوتا کہ(٭٭٭۰۱۳/)نقد آمدنی کھنڈ سار اور ہوئے تھے جو قرضہ مشترکہ کے ادا میں گئے مگر سید محمداحسن صاحب اپنے بیان تحریری میں صاف لکھ چکے ہیں کہ یہ قرضہ سابق میں جبکہ خرچ ان کے یعنی سید محمد افضل صاحب کے تعلق تھا ہوا تھا بابت خرچ خانگی کے جوان کے بہی سے ثابت ہے اور اخیر تحریر مورخہ ۸/جون۱۹۰۳ء میں لکھا قرضہ (٭٭٭)میں(٭٭)قرضہ دامودرد اس کے ہیں اور(٭٭۰۹/)جو دیگر صاحبان کا متفر ق چاہئے یہ بات خرچ خانگی ہے کھنڈسار جگت پور میں کبھی نقصان نہ ہوا نہ اس کو اس سے کچھ
سئل قاری الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لانلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولینھر ۔ قاری الہدایہ سے سوال ہوا کہ کوئی شخص اپنے شریك سے حساب کا مطالبہ کرے تو جواب دیا کہ ہم تفصیلی حساب لازم نہیں کریں گے۔اسی طرح مضاربوصی اور متولی کا معاملہ ہےنہر۔(ت)
توان سولہ سو کی طرح یہ دو ہزار بھی ناقابل سماعت ہیںاس جملہ معترضہ کے بعد اصل تنقیح بقیہ قرضہ کی طرف عطف عنان کریں(٭٭٭)کہ قرضے کے دکھائے گئے اور سید محمد احسن صاحب نے اپنے بیان تحریری میں فرمایا کہ وہی قرضہ اب تك چلاآتا ہے اس میں سے(٭صما) قرضہ دستاویز واقعہ دامودرداس تو یقینا اب تك چلاآتا ہے باقی رقوم کی تفصیل جو سید محمد احسن صاحب نے بابت ۱۳۰۶ھ فصلی جبکہ سید محمد افضل صاحب پیلی بھیت گئے تھے اور اب بابت شرع ۱۳۱۰ھ فصلی اپنی بہی سے لکھائی اور وہ شامل مسل ہےاس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ اس قرضے میں ایك حبہ قرضہ سید فرحت علی صاحب کے کچھ باقی نہیں۱۳۱۰ھ میں سب رقوم جدید ہیں سید فرحت علی صاحب کے ۱۳۰۶ھ میں(٭٭٭)لکھے تھے اور بابت ۱۳۱۰ھ میں(صمالہ)تحریر ہیں سید محمد احسن صاحب نے اپنی اخیر تحریر میں ذکرفرمایا ہے کہ اب یہ(لہ ٭)بھی ادا ہوگئے ان کے فقط(صما)باقی ہیں تو دامودر داس کے(٭٭)اور سید فرحت علی صاحب کے(صما)جملہ(٭٭)نکال کر(٭٭٭۰۹/)سید محمد احسن صاحب نے ادا کئے اور یہ قرضہ مشترك تھا تو سید محمدا حسن صاحب کا حاصل دعوی یہ ہوا کہ اس کا نصف یعنی(٭٭٭۰۴/)کہ سید محمداحسن صاحب نے از جانب سید محمدافضل صاحب اداکئے ہیں سید محمدافضل صاحب سے ان کو دلائے جائیں قرضہ اگر بابت کھنڈسار مشترك ہوتا تو یہ امر دیکھنا کہ قرضہ مذکور سید محمداحسن صاحب نے کس مال سے ادا کیااگر آمدنی مشترك کھنڈسار سے ادا ہوا تو کوئی وجہ مطالبہ نہیں کہ مشترك مال سے ادا ہو ا اور اب سید محمد احسن صاحب کا وہ بیان مورخہ ۱۲/مئی وارد ہوتا کہ(٭٭٭۰۱۳/)نقد آمدنی کھنڈ سار اور ہوئے تھے جو قرضہ مشترکہ کے ادا میں گئے مگر سید محمداحسن صاحب اپنے بیان تحریری میں صاف لکھ چکے ہیں کہ یہ قرضہ سابق میں جبکہ خرچ ان کے یعنی سید محمد افضل صاحب کے تعلق تھا ہوا تھا بابت خرچ خانگی کے جوان کے بہی سے ثابت ہے اور اخیر تحریر مورخہ ۸/جون۱۹۰۳ء میں لکھا قرضہ (٭٭٭)میں(٭٭)قرضہ دامودرد اس کے ہیں اور(٭٭۰۹/)جو دیگر صاحبان کا متفر ق چاہئے یہ بات خرچ خانگی ہے کھنڈسار جگت پور میں کبھی نقصان نہ ہوا نہ اس کو اس سے کچھ
حوالہ / References
درمختار کتاب الشرکۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۳€
تعلق ہے ان دونوں بیانوں سے صاف روشن ہوا کہ اس قرضہ کو عقد شرکت کے مال یعنی کھنڈسار سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ خانگی ہیں جو قرضہ دونوں صاحبوں پر تھا وہ سید محمد احسن صاحب نے ادا کیا ہے اب اگر اس کی ادا مال مشترك سے ہوئی(جیسا کہ اس بیان اخیر سے پتاچلتا ہے کہ کھنڈسار کسی وقت محتاج قرضہ نہ ہوئی تھی اور یہیں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس(٭٭٭)کا قرضہ کھنڈسار کے ادا میں صرف ہونا غالبا سہو بیان تھا)جب تو ظاہر ہے کہ سید محمد احسن صاحب کو اس قرضہ کی بابت کوئی دعوی نہیں پہنچتا اور اگر فرض ہی کرلیا جائے کہ یہ قرض سید محمد احسن صاحب نے خاص اپنے مال سے خواہ کسی سے قرض لے کر ادا کیا تو یہ ایك قرض ہے کہ ایك بھائی پر آتا تھا دوسرے نے بطور خود ادا کردیا بھائی کے ساتھ حسن سلوك ہوا اور نیك سلوك پر ثواب کی امید ہے مگر معاوضہ ملنے کا استحقاق نہیں کہ کوئی شخص نیك سلوك واحسان کرکے عوض جبرا نہیں مانگ سکتا ولہذا کتابوں میں تصریح ہے کہ جو شخص دوسرے کا قرضہ بے اس کے امر کے ادا کردے وہ اس سے واپس نہ پائے گا۔عقود الدریہ جلد ۲ص۲۰۷:
المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیرہ امرہ ۔ غیر پر نیکی کرنے والا نیکی میں دی ہوئی چیز واپس نہ پائیگا جیسے غیر کی طرف سے اس کے امر کے بغیر قرض ادا کردے۔ (ت)
اسی طرح جامع الفصولین وغیرہ میں ہےتو ثابت ہوا کہ سید محمد احسن صاحب کو کوئی مطالبہ بابت قرضہ سیدمحمد افضل پر نہیں پہنچتا دستاویز ورقعہ کا مطالبہ ہے تو دامود رداس کا ہے کا اور ان(صما/)کا نصب ہے تو سید فرحت علی صاحب کا ہے اس میں سید محمد افضل صاحب کو عذر بھی ہے کہ سید فرحت علی صاحب کے پانسو باقی ہیں کہ مجموع اڑھائی سو ہوں گے مگر اس کی تحقیقات کی یہاں ضرورت نہیں یہ دعوی سید محمد احسن صاحب کا نہیں اس میں مدعی ہوں تو سید فرحت علی صاحب ہونگے جن کو اس مقدمہ سے تعلق نہیں۔
(۱۰)سید محمد احسن صاحب نے بقایا ذمہ آسامیان(٭٭)لکھی ہے جو پہلے براہ سہو(٭٭)لکھی گئی اور بعد کو اس کی تصحیح فرمادی ہے اس رقم میں بقایا بابت مکان عبدالکریم خاں والا اور بقایا رس جگت پور ذمہ آسامیاں اوربقایا توفیر ذمہ آسامیاں دیہ شامل ہے اور اس کی اور تفصیل وہی ہے کہ اس میں اس قدر وصولی یعنی متوقع الوصول اور اس قدر غیر وصولی ہے جس کے وصول کی امید
المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیرہ امرہ ۔ غیر پر نیکی کرنے والا نیکی میں دی ہوئی چیز واپس نہ پائیگا جیسے غیر کی طرف سے اس کے امر کے بغیر قرض ادا کردے۔ (ت)
اسی طرح جامع الفصولین وغیرہ میں ہےتو ثابت ہوا کہ سید محمد احسن صاحب کو کوئی مطالبہ بابت قرضہ سیدمحمد افضل پر نہیں پہنچتا دستاویز ورقعہ کا مطالبہ ہے تو دامود رداس کا ہے کا اور ان(صما/)کا نصب ہے تو سید فرحت علی صاحب کا ہے اس میں سید محمد افضل صاحب کو عذر بھی ہے کہ سید فرحت علی صاحب کے پانسو باقی ہیں کہ مجموع اڑھائی سو ہوں گے مگر اس کی تحقیقات کی یہاں ضرورت نہیں یہ دعوی سید محمد احسن صاحب کا نہیں اس میں مدعی ہوں تو سید فرحت علی صاحب ہونگے جن کو اس مقدمہ سے تعلق نہیں۔
(۱۰)سید محمد احسن صاحب نے بقایا ذمہ آسامیان(٭٭)لکھی ہے جو پہلے براہ سہو(٭٭)لکھی گئی اور بعد کو اس کی تصحیح فرمادی ہے اس رقم میں بقایا بابت مکان عبدالکریم خاں والا اور بقایا رس جگت پور ذمہ آسامیاں اوربقایا توفیر ذمہ آسامیاں دیہ شامل ہے اور اس کی اور تفصیل وہی ہے کہ اس میں اس قدر وصولی یعنی متوقع الوصول اور اس قدر غیر وصولی ہے جس کے وصول کی امید
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب المداینات ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۴۸€
نہیں اوراپنے رقعہ مورخہ ۲۲/ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ میں اقرار فرمایا کہ بقایا رس سے تخمینا(٭٭)کارس اور وصول ہوگیا اور اس تخمینہ کو ان کے مختار عام سید افضال حسین صاحب نے بعد بہت محاسبات کے یوں ظاہر فرمایاکہ(٭٭)کا رس حقیقتا وصول ہوا ہے تو اس قدر تو بقایا میں نہ رہا اور ا سکا نصف(صما٭٭)ذمہ سید محمد احسن صاحب یافتنی سید محمد افضل صاحب اور واجب الادا ہو کر اس وقت تك مجموع رقم ان کے ذمے(٭٭٭۷/ ۳-۳/ ۸)پائی ہوئی بقایارقم(٭٭٭)کی نسبت اگرچہ محمد احسن صاحب کی یہ خواہش ہو کہ کمی وصولی کا کچھ کم کرکے باقی کی تنصیف کردی جائے خواہ دستاویز میں بانٹ دی جائیں خواہ ایك سے دوسرے کو ان کا معاوضہ دلاکر جملہ بقایا ایك فریق کی کردی جائے کہ اب کھنڈسار میں شرکت رکھنامنظور نہیں اور سید محمد افضل صاحب بھی قطعی شرکت پر راضی نہیں مگر تحصیل بقایا سے اپنے آپ کو معذور محض بتاتے ہیں کہ میں اسامیوں کو جانتا بھی نہیں ہمیشہ کام سید محمداحسن صاحب نے کیا اور اسامیان انہیں کے قبضے میں ہیں مجھے کچھ وصول نہ ہوسکے گا مگر شرعا دودائن مدیون کو تقسیم نہیں کرسکتے نہ غیر مدیون سے دین وتبادلہ ممکنلہذا اس بقایا کو خواہ وصولی ہو یا غیر وصولی بدستور اس کے حال پر چھوڑنا لازم اور جس فریق کو جس قدر ان میں سے وصول ہوتا جائے اس کا نصف دوسرے کو ادا کرنا واجبالبتہ اگر کسی مد میں بقایا اس قدر سے کم ثابت ہو جو سید محمدا حسن صاحب نے بتائی ہے تو ظاہر ہوگا کہ اس قدر او ر ان کو وصولی ہوگیاتھا لہذا اس کمی کا نصف بحق سید محمد افضل صاحب ادا کرنا ان کے ذمے لازم ہوگا سید محمد احسن صاحب نے بقایا بابت رس ذمہ اسامیان جگت پور(٭٭۰۲/)لکھائی ہے کہ(٭٭)بعد کو وصول ہوکر(سما٭٭)رہے بعد کو یہ عذر کہ اس میں سہو ہو اان میں(لہ٭٭)بابت خرید جائداد نیلام ہیں باقی اس جگت پور کے ہیں قابل رقم نہیں کہ وہ کاغذحلفی تھاا ور یہ رقم خرید نیلام ایك غیر وصولی رقم ہے جسے سید محمد احسن صاحب غیر وصولی نقصان میں ڈال چکے ہیں اور کوئی اقرار کنندہ آئندہ اپنے اقرار میں اپنی مفید غلطی و سہو بتانے کا مجاز نہیں خصوصا اس حالت میں کہ یہ غلطی انہوں نے تقریبا دو مہینے بعد ظاہر کی حلفی کاغذ۱۶/ذی الحجہ کو پیش کیا تھا اور یہ غلطی ۸/صفر کو بتائی ہے مع ہذاخواہ ان کی بہی کے ملاحظہ سے ظاہر ہواکہ یہ رقم اس میں بھی سہو ہوتی رہی بعد کو بڑھائی گئی ہے جو اوپر لکھے ہوئے جوڑ سے بڑھتی ہے اور اس کی تحریر بھی صاف جدا قلم و سیاہی سے نظر آتی ہے ۱۳۰۸ف اور ۱۳۰۹ف کا جمع خرچ بھی سید محمد احسن صاحب کے ملاحظہ سے یہ امر ظاہر ہے لہذا کسی طرح یہ استثناء قابل قبول نہیں اسی قطع شرکت کی غرض سے فریقین نے یہ بھی چاہا کہ کھنڈسار جگت پور کے کڑھاؤ(جس میں سید محمد افضل صاحب نے نو بیان کیاتھا اور سید محمد احسن صاحب نے سات تسلیم کئے)قیمت لگا کر ایك فریق کو دلادئے جائیں سید محمد احسن صاحب نے ان کی مجموعی قیمت
(٭٭٭)تجویز کی اور لکھا کہ سید محمد افضل صاحب اس قدر قیمت میں خود لے لیں یا ہم کو دے دیں۔سید محمد افضل صاحب نے خود لینا پسند کیا پس حصہ سید محمد احسن صاحب کے(٭٭)ان کی یافتنی مذکور سے کم ہو کر(٭٭٭۲ / ۳-۳/ ۸)پائی ان کے لئے محمد احسن صاحب پر رہے اور کڑھاؤ ساتوں سید محمد افضل صاحب کے ہوئے لہذا حسب ذیل حکم ہوا:
(۱)جملہ مکانات متنازعہ میں سید افضال حسین صاحب کا دعوی نہیں۔
(۲) مکان مسکونہ نمبر۱ میں سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق نہیں۔
(۳)مکان نمبر ۳ کے تین ربع مبیع سے نصف ملك سید محمدافضل صاحب اور ایك ربع مرہون سے نصف ان کا مرہون ہے۔
(۴)مکان نمبر ۴ عبدالکریم خاں والا بالمناصفہ سید محمد افضل ومحمد احسن صاحبان کے مرتہنی میں ہے۔
(۵)مکان نمبر ۵احمد حسین خاں والا خالص ملك سید محمد احسن صاحب قرار پایا اس میں سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق نہ رہا۔
(۶)مکان نمبر ۲محمد بخش والا خالص ملك سید محمد افضل صاحب قرار پایا اس میں سید محمد احسن صاحب کا کوئی حق نہ رہا۔
(۷)اثاث میں کسی فریق کا دوسرے پر دعوی نہ رہا۔
(۸)بقایا بدیں تفصیل بابت رس ذمہ اسامیان جگت پور(سما ٭٭)بابت توفیر ذمہ اسامیان دیہہ لغایۃ(۰ ۹ ف٭٭)بقایا بابت مان پور و پر ساکھیڑا(٭٭۰۱۲/)مطالبہ مرتہنان بابت مکان مرہون عبدالکریم خان والا(٭٭)مجموع(٭٭)آخر ۱۳۰۹ ف تك سید محمد افضل صاحب وسید محمد احسن صاحب کے بالمناصفہ ہیں ان میں جوکچھ جس فریق کو وصول ہوا اس کا نصف دوسرے کو اداکرے اگر کسی مد میں اس مقدار سے کمی ظاہر ہو تو سید محمد احسن صاحب پر لازم ہوگا کہ اس کمی کا نصف سید محمد افضل صاحب کو ادا کریں۔
(۹)کھنڈسار جگت پور میں شروع ۰ ۱ سے سید محمد افضل صاحب کی شرکت رہی اس کے ساتوں کڑھاؤ سید محمد افضل صاحب کے قرار پائے سید محمد احسن صاحب وہ ساتوں کڑھاؤ سید محمد افضل صاحب کے مکان پر پہنچوادیںسید محمد افضل صاحب کرایہ وباربرداری اد اکرینگے۔
(۱۰)قرضہ دامودرداس بابت دستاویز(٭٭واقعہ صما /)دونوں فریق سید محمد افضل وسید محمد احسن صاحبان پر نصف نصف ہے اس کی وجہ سے جو کچھ باریا مطالبہ آئے گا دونوں فریق پر بحصہ مساوی۔
(۱)جملہ مکانات متنازعہ میں سید افضال حسین صاحب کا دعوی نہیں۔
(۲) مکان مسکونہ نمبر۱ میں سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق نہیں۔
(۳)مکان نمبر ۳ کے تین ربع مبیع سے نصف ملك سید محمدافضل صاحب اور ایك ربع مرہون سے نصف ان کا مرہون ہے۔
(۴)مکان نمبر ۴ عبدالکریم خاں والا بالمناصفہ سید محمد افضل ومحمد احسن صاحبان کے مرتہنی میں ہے۔
(۵)مکان نمبر ۵احمد حسین خاں والا خالص ملك سید محمد احسن صاحب قرار پایا اس میں سید محمد افضل صاحب کا کوئی حق نہ رہا۔
(۶)مکان نمبر ۲محمد بخش والا خالص ملك سید محمد افضل صاحب قرار پایا اس میں سید محمد احسن صاحب کا کوئی حق نہ رہا۔
(۷)اثاث میں کسی فریق کا دوسرے پر دعوی نہ رہا۔
(۸)بقایا بدیں تفصیل بابت رس ذمہ اسامیان جگت پور(سما ٭٭)بابت توفیر ذمہ اسامیان دیہہ لغایۃ(۰ ۹ ف٭٭)بقایا بابت مان پور و پر ساکھیڑا(٭٭۰۱۲/)مطالبہ مرتہنان بابت مکان مرہون عبدالکریم خان والا(٭٭)مجموع(٭٭)آخر ۱۳۰۹ ف تك سید محمد افضل صاحب وسید محمد احسن صاحب کے بالمناصفہ ہیں ان میں جوکچھ جس فریق کو وصول ہوا اس کا نصف دوسرے کو اداکرے اگر کسی مد میں اس مقدار سے کمی ظاہر ہو تو سید محمد احسن صاحب پر لازم ہوگا کہ اس کمی کا نصف سید محمد افضل صاحب کو ادا کریں۔
(۹)کھنڈسار جگت پور میں شروع ۰ ۱ سے سید محمد افضل صاحب کی شرکت رہی اس کے ساتوں کڑھاؤ سید محمد افضل صاحب کے قرار پائے سید محمد احسن صاحب وہ ساتوں کڑھاؤ سید محمد افضل صاحب کے مکان پر پہنچوادیںسید محمد افضل صاحب کرایہ وباربرداری اد اکرینگے۔
(۱۰)قرضہ دامودرداس بابت دستاویز(٭٭واقعہ صما /)دونوں فریق سید محمد افضل وسید محمد احسن صاحبان پر نصف نصف ہے اس کی وجہ سے جو کچھ باریا مطالبہ آئے گا دونوں فریق پر بحصہ مساوی۔
ہوگا شروع ۱۳۰۶ھ ف تك جبکہ سید محمد افضل صاحب پیلی بھیت گئے ہیں جو رقم سید فرحت علی صاحب کی یافتنی ذمہ فریقین تھی اس میں سے بعد ادا آخر ۱۳۰۹ھ ف تك جو کچھ باقی رہا جو حسب بیان سید محمد احسن صاحب مجموع(صماء) روپے اور حسب بیان سید محمد افضل صاحب مجموعی دو سو(مال)یا ڈھائی سو(مال ٭)یہ قرضہ بھی پانسوکی مقدار تك جتنا ثابت ہو سید محمد افضل وسید محمد احسن صاحبان پر نصفا نصف ہے ان تینوں مدات مذکور ہ کے سو باقی قرضے سے فریقین بری ہیں۔
(۱۱)آخر ۱۳۰۹ھ ف تك بابت جملہ حساب کتاب فریقین میں ایك کے دوسرے پر یا فتنی محسوب ومجرا ہوکر ایك ہزار سات سواٹھانوے روپے د وآنے تین پائی اور ایك پائی کے آٹھ حصوں سے تین حصے سید محمد احسن صاحب پر سید محمد افضل کے یافتنی نکلے یہ سید محمد احسن صاحب رقم مذکور ان سید محمد افضل صاحب کو ادا کریں ۱۳۱۰ھ فصلی کا حساب بابت توفیر دیہہ علیحدہ ہے فقط ۹/ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۶/جون ۱۹۰۳ء
مسئلہ۶۷: ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ امیر حسن خان صاحب ۲۲/ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اسلام و شرع متین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ مسمی حافظ محمد میر خان نے منجملہ ۱۰بسوہ ۱۳بسوانسی ۶کچوانسی۱۳ انوانسی۷ننوانسی کے ۵بسوہ حقیت زمینداری موضع منڈریا پر گنہ پیلی بھیت وایك منزل مکان مسکونہ واقع پیلی بھیت قیمتی(معمہ۷۰۰۰ /)اپنی زوجہ مسماہ اشرف بیگم کو بالعوض دین مہر تعدادی(٭۵۰۰۰ )روپے کے دے کر داخل خارج کراکر قبضہ مستقل دے دیا اس کے بعد محمد میر خاں ساڑھے چار برس زندہ رہے بعد انتقال محمد میر خاں کے جو ۵بسوہ۱۳بسوانسی۶کچوانسی۱۳ انسوانسی۷ننوانسی ودیگر جائداد معافیات وغیرہا بنام محمد میر خان کے تھی اس میں سے حق چہارم مسماۃ اشرف بیگم کو ملا اور بقیہ ورثائے محمد میر خان پر تقسیم ہوگئی مسماۃ اشرف بیگم کل جائداد مذکورہ بالا پر ساڑھے انیس برس مالکانہ قابض ودخیل رہی بعد اس کے جائداد مذکورکو مسماۃ مذکور نے مختلف ایام میں اپنی حیات میں بدست امیر حسن خان بالعوض مبلغ(معہ۷۰۰۰)روپے کے فروخت کرکے داخل خارج وغیرہ اپنی موجودگی میں بنام امیر حسن خان کرادیا وقت بیع سے اس وقت تك امیر حسن خان مشتری برابر قابص ودخیل ہے تحریر بیعنامہ سے ایك سال تك مسماۃ زندہ رہی اب انتقال مسماۃ کو عرصہ ڈیڑھ برس کا ہو اجس وقت مسماۃ نے جائداد بیع کی تھی اس وقت وارثان محمد میر خان عاقل وبالغ تھے اور اسی محلہ کے ساکن بلکہ قریب مکان مبیعہ کے سکونت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں اور جس وقت داخل خارج بنام امیر حسن خان مسماۃ نے کرایا تو اس کے اشتہار وغیرہ موضع میں آویزاں کئے گئے اوراسی موضع میں وارثان محمد میر خاں
(۱۱)آخر ۱۳۰۹ھ ف تك بابت جملہ حساب کتاب فریقین میں ایك کے دوسرے پر یا فتنی محسوب ومجرا ہوکر ایك ہزار سات سواٹھانوے روپے د وآنے تین پائی اور ایك پائی کے آٹھ حصوں سے تین حصے سید محمد احسن صاحب پر سید محمد افضل کے یافتنی نکلے یہ سید محمد احسن صاحب رقم مذکور ان سید محمد افضل صاحب کو ادا کریں ۱۳۱۰ھ فصلی کا حساب بابت توفیر دیہہ علیحدہ ہے فقط ۹/ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۶/جون ۱۹۰۳ء
مسئلہ۶۷: ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ امیر حسن خان صاحب ۲۲/ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اسلام و شرع متین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ مسمی حافظ محمد میر خان نے منجملہ ۱۰بسوہ ۱۳بسوانسی ۶کچوانسی۱۳ انوانسی۷ننوانسی کے ۵بسوہ حقیت زمینداری موضع منڈریا پر گنہ پیلی بھیت وایك منزل مکان مسکونہ واقع پیلی بھیت قیمتی(معمہ۷۰۰۰ /)اپنی زوجہ مسماہ اشرف بیگم کو بالعوض دین مہر تعدادی(٭۵۰۰۰ )روپے کے دے کر داخل خارج کراکر قبضہ مستقل دے دیا اس کے بعد محمد میر خاں ساڑھے چار برس زندہ رہے بعد انتقال محمد میر خاں کے جو ۵بسوہ۱۳بسوانسی۶کچوانسی۱۳ انسوانسی۷ننوانسی ودیگر جائداد معافیات وغیرہا بنام محمد میر خان کے تھی اس میں سے حق چہارم مسماۃ اشرف بیگم کو ملا اور بقیہ ورثائے محمد میر خان پر تقسیم ہوگئی مسماۃ اشرف بیگم کل جائداد مذکورہ بالا پر ساڑھے انیس برس مالکانہ قابض ودخیل رہی بعد اس کے جائداد مذکورکو مسماۃ مذکور نے مختلف ایام میں اپنی حیات میں بدست امیر حسن خان بالعوض مبلغ(معہ۷۰۰۰)روپے کے فروخت کرکے داخل خارج وغیرہ اپنی موجودگی میں بنام امیر حسن خان کرادیا وقت بیع سے اس وقت تك امیر حسن خان مشتری برابر قابص ودخیل ہے تحریر بیعنامہ سے ایك سال تك مسماۃ زندہ رہی اب انتقال مسماۃ کو عرصہ ڈیڑھ برس کا ہو اجس وقت مسماۃ نے جائداد بیع کی تھی اس وقت وارثان محمد میر خان عاقل وبالغ تھے اور اسی محلہ کے ساکن بلکہ قریب مکان مبیعہ کے سکونت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں اور جس وقت داخل خارج بنام امیر حسن خان مسماۃ نے کرایا تو اس کے اشتہار وغیرہ موضع میں آویزاں کئے گئے اوراسی موضع میں وارثان محمد میر خاں
کی حقیت علیحدہ تھی اور اب ہے کوئی عذر کسی قسم کا نہیں کیا بعد اس کے امیر حسن خان نے ۵بسوانسی منجملہ ۵بسوہ خرید کردہ اپنے کے ایك مسجد کے نام وقف کردیںکسی نے کوئی عذر نہیں کیا ان سب کارروائیوں سے وارثان محمد میر خاں بخوبی آگاہ اور واقف تھے اب وارثان محمد میر خاں نے دعوی کیا ہے کہ یہ جائداد بالعوض دین مہر کے دی گئی مگر حین حیات یعنی مسماۃ اپنی حیات تك اس کی مالك تھی اور بعد وفات مسماۃ کے جائداد مذکور بالا وارثان محمد میر خاں کو پہنچیآیا اس حالت میں یہ جائداد ورثائے شوہر مسماۃ کو شرعا واپس ہوسکتی ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد ہر گز ورثائے شوہر کو واپس نہیں ہوسکتینہ ان کا دعوی اصلا سنا جائے گا کہ وہ صریح حیلہ و فریب ہے اور بعوض دین مہر جو کچھ جائداد دی جائے وہ بیع ہے اور بیع کا مشتری کے حین حیات تك ہونا کیا معنییہ محض مہمل و بیہودہ عذر ہےفتاوی خیریہ میں ہے:
قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذناعلی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضی للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرار بانہ ملك البائعوقال فی جامع الفتاوی وذکر فی منیۃ الفقہاء رأی غیرہ یبیع عروضا فقبضہا المشتری وھو ساکت وترك منازعتہ فھو اقرار منہ بانہ ملك البائع انتھی ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ صاحب منظومہ نے فرمایا ہمارے اساتذہ کا اتفاق ہے کہ اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور اس کے سکوت کو بیع پر رضامندی قرار دیا جائے گا تاکہ جعل سازی اور لالچدھوکہ دہی اور حیلے ختم کئے جاسکیں اور اس کی موجودگی اور منازعت نہ کرنا اس بات کا اقرار قراردیا جائے گا کہ یہ بائع کی ملکیت تھااور جامع الفتاوی میں فرمایا اور منیۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ ایك شخص دوسرے کو سامان فروخت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہو تو مشتری کے قبضہ کرنے پر وہ خاموش رہااور منازعت نہ کی تو وہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ بائع کی ملکیت ہے اھ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۸: ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو میں باہم نزاع تھی دونوں نے برضائے خود پنچایت کی پنچوں نے فیصلہ کردیا مگر انگریزی طور پر اس کا نفاذ نہ ہوا فریقین پھر متنازعہ کرتے رہے دوبارہ پھر پنچایت برضائے فریقین ہوئی نفاذ اس کا بھی قانونی طور پر نہ ہوا تھا لہذا فریقین کو گنجائش انحراف رہی یہاں تك کہ
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد ہر گز ورثائے شوہر کو واپس نہیں ہوسکتینہ ان کا دعوی اصلا سنا جائے گا کہ وہ صریح حیلہ و فریب ہے اور بعوض دین مہر جو کچھ جائداد دی جائے وہ بیع ہے اور بیع کا مشتری کے حین حیات تك ہونا کیا معنییہ محض مہمل و بیہودہ عذر ہےفتاوی خیریہ میں ہے:
قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذناعلی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضی للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرار بانہ ملك البائعوقال فی جامع الفتاوی وذکر فی منیۃ الفقہاء رأی غیرہ یبیع عروضا فقبضہا المشتری وھو ساکت وترك منازعتہ فھو اقرار منہ بانہ ملك البائع انتھی ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ صاحب منظومہ نے فرمایا ہمارے اساتذہ کا اتفاق ہے کہ اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور اس کے سکوت کو بیع پر رضامندی قرار دیا جائے گا تاکہ جعل سازی اور لالچدھوکہ دہی اور حیلے ختم کئے جاسکیں اور اس کی موجودگی اور منازعت نہ کرنا اس بات کا اقرار قراردیا جائے گا کہ یہ بائع کی ملکیت تھااور جامع الفتاوی میں فرمایا اور منیۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ ایك شخص دوسرے کو سامان فروخت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہو تو مشتری کے قبضہ کرنے پر وہ خاموش رہااور منازعت نہ کی تو وہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ بائع کی ملکیت ہے اھ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۸: ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو میں باہم نزاع تھی دونوں نے برضائے خود پنچایت کی پنچوں نے فیصلہ کردیا مگر انگریزی طور پر اس کا نفاذ نہ ہوا فریقین پھر متنازعہ کرتے رہے دوبارہ پھر پنچایت برضائے فریقین ہوئی نفاذ اس کا بھی قانونی طور پر نہ ہوا تھا لہذا فریقین کو گنجائش انحراف رہی یہاں تك کہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۸۸۔۸۷€
نوبت کچہری میں نالش کی پہنچی اب پھر سہ بار پنچایت قرار پائی اس صورت میں ان پنچوں کو اگلے فیصلوں کی نسبت کیاکرنا چاہئے انہیں بحال رکھیں یا وہ منسوخ ہوگئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
کسی کو پنچ کرکے جب تك وہ فیصلہ نہ کرے ہر فریق کو اس کی پنچایت سے عدول کا اختیار ہوتا ہے مگر جب اس نے حکم کردیا اب وہ فریقین کو لازم ہوگیا اس سے پھر نے کادونوں میں سے کسی کواختیار نہیں ہوتا قانونی نفاذ ہونا کچھ ضرور نہیں تو صرف بربنائے انحراف فریقین وہ فیصلے منسوخ نہیں ہوسکتے ان پنچوں کو چاہئے ان فیصلوں کو دیکھیں ان میں جو فیصلہ مطابق شریعت موافق مذہب حنفی ہوپنچوں پر لازم ہے کہ اسے نافذ کریں بحال رکھیں کہ موافق شرع کا خلاف مخالف شرع ہوگا اور مخالف شرع فیصلہ دینے کا کسی کو اختیار نہیںاور اگر دونوں فیصلے خلاف مذہب تھے تو پنچوں پر لازم ہے کہ انہیں کرکے موافق شرع فیصلہ کریں
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ینفرد احدھما بنقض التحکیم بعد وقوعہ(قبل الحکم) فان حکم لزمھما ولا یبطل حکمہ بعزلھما لصدورہ عن ولایۃ شرعیۃ اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن بحرالرائق لو رفع حکمہ الی حکم اخرحکماہ بعد فالثانی کالقاضی یمضیہ ان وافق رأیہ والاابطلہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔ تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ثالث کے فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کو ثالثی ختم کرنے کا اختیار ہے اور ثالث نے فیصلہ سنادیا تو دونوں فریقوں پر لازم ہوجائیگا اور اب وہ حکم فریقین کے کالعدم کرنے سے باطل نہ ہوگا کیونکہ وہ فیصلہ شرعی ولایت کی بنیاد پر صادر ہوا ہے اھ ملتقطا اور ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ اگر فریقین ثالثی فیصلہ کو بعد میں اپنے بنائے ہوئے کسی دوسرے ثالث کے پاس پیش کریں تو وہ اس فیصلہ کو نافذ کرنے میں قاضی کی طرح ہوگا اگر اس کی رائے کے موافق ہو تو نافذ کردے ورنہ باطل کردے اھ۔واﷲتعالی اعلم(ت)
الجواب:
کسی کو پنچ کرکے جب تك وہ فیصلہ نہ کرے ہر فریق کو اس کی پنچایت سے عدول کا اختیار ہوتا ہے مگر جب اس نے حکم کردیا اب وہ فریقین کو لازم ہوگیا اس سے پھر نے کادونوں میں سے کسی کواختیار نہیں ہوتا قانونی نفاذ ہونا کچھ ضرور نہیں تو صرف بربنائے انحراف فریقین وہ فیصلے منسوخ نہیں ہوسکتے ان پنچوں کو چاہئے ان فیصلوں کو دیکھیں ان میں جو فیصلہ مطابق شریعت موافق مذہب حنفی ہوپنچوں پر لازم ہے کہ اسے نافذ کریں بحال رکھیں کہ موافق شرع کا خلاف مخالف شرع ہوگا اور مخالف شرع فیصلہ دینے کا کسی کو اختیار نہیںاور اگر دونوں فیصلے خلاف مذہب تھے تو پنچوں پر لازم ہے کہ انہیں کرکے موافق شرع فیصلہ کریں
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ینفرد احدھما بنقض التحکیم بعد وقوعہ(قبل الحکم) فان حکم لزمھما ولا یبطل حکمہ بعزلھما لصدورہ عن ولایۃ شرعیۃ اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن بحرالرائق لو رفع حکمہ الی حکم اخرحکماہ بعد فالثانی کالقاضی یمضیہ ان وافق رأیہ والاابطلہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔ تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ثالث کے فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کو ثالثی ختم کرنے کا اختیار ہے اور ثالث نے فیصلہ سنادیا تو دونوں فریقوں پر لازم ہوجائیگا اور اب وہ حکم فریقین کے کالعدم کرنے سے باطل نہ ہوگا کیونکہ وہ فیصلہ شرعی ولایت کی بنیاد پر صادر ہوا ہے اھ ملتقطا اور ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ اگر فریقین ثالثی فیصلہ کو بعد میں اپنے بنائے ہوئے کسی دوسرے ثالث کے پاس پیش کریں تو وہ اس فیصلہ کو نافذ کرنے میں قاضی کی طرح ہوگا اگر اس کی رائے کے موافق ہو تو نافذ کردے ورنہ باطل کردے اھ۔واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۲،€ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۸€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۔۳۴۹€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۔۳۴۹€
مسئلہ ۶۹: ازجالندھر محلہ راستہ دروازہ پھگواڑہ مرسلہ محمد احمد صاحب ۱۴/جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی آبادی سے سالہا پہلے عمرو کے گھر کا تمام برساتی پانی اور روز مرہ کا پانی چلاآیا ہے جب زید نے اس حویلی کو خریدا اور از سر نو بنائی تو زید نے اپنے گھر میں سے عمرو کے پانی گزرنے کا حق ثابت کرکے اپنی دیوار میں ایك بدرو رکھ کر اپنے گھر کے صحن میں ایك پختہ نالی بناکر اس میں اپنا تمام پانی اور عمرو کے گھر کا تمام پانی ڈال کر باہر کو نکال دی جس کو عرصہ ۳۴ سال کا ہوچکا ہے کہ عمرو کے گھر کا ہر ایك قسم کا پانی مثل دستور سابقہ زید کے گھر سے گزر کر شارع عام میں جاگرتا ہےزید کی وفات کے بارہ سال بعدماشکیوں کے بے وقت پانی دینے کی وجہ سے عمرو نے اپنے گھر میں ایك کنواں لگوالیاہے اب زید متوفی کی زوجہ سوائے برساتی پانی کے روز مرہ کے پانی کو بندکرتی ہے اور عمرو کی طرف سے پانی نکلنے کو کوئی راستہ نہیں بجز زید کی طرف سےاور یہ بھی واضح ہو کہ زید نے حسن سلوك کی وجہ سے عمرو کاپانی اپنے گھر میں جاری نہیں کیا بلکہ استحقاق پچھلا ثابت کرکے عمرو کا پانی اپنے گھر میں جاری رکھا ہےاب علمائے کرام سے دریافت کیاجاتا ہے کہ حسب شریعت صورت مندرجہ بالا میں عمرو کو اپنے گھر کا پانی گزارنا زید متوفی کے گھر سے بلا رضامندی زوجہ زید متوفی کے جائز ہے یانہیں اور زید متوفی کی زوجہ بوجوہات بالا عمروکے پانی کو شریعۃ بند کرسکتی ہے یانہیںبینوابالصواب جزاکم اﷲ تعالی یوم الحساب۔
الجواب:
اگر صورت واقعہ یہی ہے کہ عمرو کا ہر قسم کا پانی بارانی وغیر بارانی بالاستحقاق مکان زید سے گزر کر جاتا ہے تو زوجہ زید کو عمرو کے کسی پانی کو روکنے کا ہر گز اختیار نہیں لان الحق لایرد والمسیل لایسد(کیونکہ حق رد نہیں ہوسکتا اور پانی کے بہاؤ کو روکا نہیں جاسکتا۔ت)یہاں زوجہ زید کو بھی عمرو کے مطلق استحقاق سے انکار نہیںنزاع اس میں ہے کہ برسات کے سوا روز مرہ کے پانی بہانے کا بھی عمرو کو حق ہے یا نہیںاس کے لئے زمین عمرو کا ڈھال مکان زید کی طرف ہونا مکان زید میں عمرو کی طرف سے آنے والے پانی کے لئے بدروہونا اس کے ثبوت کو کافی نہیں کہ یہ استحقاق ہر قسم کے پانی کو عام ہے بلکہ اس کاثبوت صرف تین طور پر ہے یا تو وارثان زید اقرار کریں کہ واقعی عمرو کو استحقاق عام حاصل ہے یا عمرو گواہان عادل سے اپنا عموم استحقاق ثابت کرادے یعنی گواہ شہادت دیں کہ عمرو کو ہر قسم کے پانی بہانے کا حق اس مکان میں حاصل ہے یا گواہی دیں کہ زید یا وارثان زید نے اس کے عموم استحقاق کا ہمارے سامنے اقرار کیا اور اگر فقط اتنی ہی گواہی دیں گے کہ ہم نے مدتوں سے عمرو کا ہر قسم کا مکان زیدمیں جاتے دیکھا تو اس سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔
لانہ لایدل علی الاستحقاق لجواز ان یہ استحقاق پر دلالت نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ زید کی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی آبادی سے سالہا پہلے عمرو کے گھر کا تمام برساتی پانی اور روز مرہ کا پانی چلاآیا ہے جب زید نے اس حویلی کو خریدا اور از سر نو بنائی تو زید نے اپنے گھر میں سے عمرو کے پانی گزرنے کا حق ثابت کرکے اپنی دیوار میں ایك بدرو رکھ کر اپنے گھر کے صحن میں ایك پختہ نالی بناکر اس میں اپنا تمام پانی اور عمرو کے گھر کا تمام پانی ڈال کر باہر کو نکال دی جس کو عرصہ ۳۴ سال کا ہوچکا ہے کہ عمرو کے گھر کا ہر ایك قسم کا پانی مثل دستور سابقہ زید کے گھر سے گزر کر شارع عام میں جاگرتا ہےزید کی وفات کے بارہ سال بعدماشکیوں کے بے وقت پانی دینے کی وجہ سے عمرو نے اپنے گھر میں ایك کنواں لگوالیاہے اب زید متوفی کی زوجہ سوائے برساتی پانی کے روز مرہ کے پانی کو بندکرتی ہے اور عمرو کی طرف سے پانی نکلنے کو کوئی راستہ نہیں بجز زید کی طرف سےاور یہ بھی واضح ہو کہ زید نے حسن سلوك کی وجہ سے عمرو کاپانی اپنے گھر میں جاری نہیں کیا بلکہ استحقاق پچھلا ثابت کرکے عمرو کا پانی اپنے گھر میں جاری رکھا ہےاب علمائے کرام سے دریافت کیاجاتا ہے کہ حسب شریعت صورت مندرجہ بالا میں عمرو کو اپنے گھر کا پانی گزارنا زید متوفی کے گھر سے بلا رضامندی زوجہ زید متوفی کے جائز ہے یانہیں اور زید متوفی کی زوجہ بوجوہات بالا عمروکے پانی کو شریعۃ بند کرسکتی ہے یانہیںبینوابالصواب جزاکم اﷲ تعالی یوم الحساب۔
الجواب:
اگر صورت واقعہ یہی ہے کہ عمرو کا ہر قسم کا پانی بارانی وغیر بارانی بالاستحقاق مکان زید سے گزر کر جاتا ہے تو زوجہ زید کو عمرو کے کسی پانی کو روکنے کا ہر گز اختیار نہیں لان الحق لایرد والمسیل لایسد(کیونکہ حق رد نہیں ہوسکتا اور پانی کے بہاؤ کو روکا نہیں جاسکتا۔ت)یہاں زوجہ زید کو بھی عمرو کے مطلق استحقاق سے انکار نہیںنزاع اس میں ہے کہ برسات کے سوا روز مرہ کے پانی بہانے کا بھی عمرو کو حق ہے یا نہیںاس کے لئے زمین عمرو کا ڈھال مکان زید کی طرف ہونا مکان زید میں عمرو کی طرف سے آنے والے پانی کے لئے بدروہونا اس کے ثبوت کو کافی نہیں کہ یہ استحقاق ہر قسم کے پانی کو عام ہے بلکہ اس کاثبوت صرف تین طور پر ہے یا تو وارثان زید اقرار کریں کہ واقعی عمرو کو استحقاق عام حاصل ہے یا عمرو گواہان عادل سے اپنا عموم استحقاق ثابت کرادے یعنی گواہ شہادت دیں کہ عمرو کو ہر قسم کے پانی بہانے کا حق اس مکان میں حاصل ہے یا گواہی دیں کہ زید یا وارثان زید نے اس کے عموم استحقاق کا ہمارے سامنے اقرار کیا اور اگر فقط اتنی ہی گواہی دیں گے کہ ہم نے مدتوں سے عمرو کا ہر قسم کا مکان زیدمیں جاتے دیکھا تو اس سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔
لانہ لایدل علی الاستحقاق لجواز ان یہ استحقاق پر دلالت نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ زید کی
یکون برضازید ان یتصرف عمرو فی حق زید من دون ان یکون لعمروفیہ حق یجبر علیہ۔ مرضی سے عمرو نے اس کے حق میں تصرف کیا ہوا اور وہ عمرو کی ملك نہ ہو جس پر مجبور کیا جاسکے۔(ت)
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو زوجہ زید سے قسم لی جائے کہ عمرو کوغیر بارانی پانی اس مکان زید میں بہانے کا حق نہیں اگر وہ قسم کھانے سے حاکم کے حضور انکار کرے گی عمرو کا حق ثابت ہوجائے گا۔
فی الھندیۃ ادعی علی اخر حق المرور ورقبۃ الطریق فی دارہ فالقول قول صاحب الدار ولو اقام المدعی البینۃ انہ کان یمر فی ھذہ الدار لم یستحق بھذا شیئاکذافی الخلاصۃ فان اقام البینۃ علی ان لہ حق المسیل وبینواانہ لماء المطر من ھذاالمیزاب فہو لماء المطر و لیس لہ ان یسیل ماء الاغتسال والوضوء فیہ وان بینواانہ لماء الاغتسال والوضوء فھو کذلك ولیس لہ ان یسیل ماء المطرفیہ وان قالوالہ فیہا حق مسیل ماء ولم یبینو الماء المطر او غیرہ صح والقول لرب الدار مع یمینہ انہ لماء المطراولماء الوضوء والغسالۃ کذافی محیط السرخسی و لو لم تکن للمدعی بینۃ اصلا استحلف صاحب الدار و یقضی فیہ بالنکول کذافی الحاوی ولو اراد اھل الداران یبنوا حائطالیسد وا مسیلہ لم یکن لھم ذلك کذافی البدائع اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ہے ایك شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ مجھے یہاں سے گزرنے کا حق ہے حالانکہ راستہ مدعی علیہ کی حویلی میں ہے تو حویلی والے کی بات معتبر ہوگی اور اگر مدعی یہ گواہی بھی پیش کردے کہ وہ یہاں سے گزرتا تھا تو اس کا حق ثابت نہ ہوگاخلاصہ میں یوں ہے اگر وہ گواہی پیش کردے کہ مجھے یہاں سے پانی بہالیجانے کا حق ہے تو گواہوں نے اگر کہا کہ اس پر نالہ سے بارش کا پانی یہاں بہتا ہے تو صرف بارش کا ثابت ہوگا اس کوغسل ووضو کا پانی وہاں بہا لیجانے کا حق نہ ہوگا اور اگر گواہوں نے غسل ووضو کے پانی کے متعلق بیان کیا تو بارش کا پانی گزارنے کا حق نہ ہوگا اور اگر انہوں نے مطلقا پانی بہنے کی بات کی ہو بارش یا غسل وغیرہ کا ذکر نہ کیا تو بیان صحیح ہوگا جبکہ اس صورت میں حویلی والے کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی کہ وہ پانی بارش کا ہے یا غسالہ کا پانی ہے جیسا کہ محیط سرخسی میں ہےاگر مدعی کے پاس کوئی گواہ نہ ہوتو حویلی والے سے قسم لی جائیگی اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو اس پر فیصلہ دیاجائیگاحاوی میں یوں ہےاگر حویلی والے چاہیں کہ پانی روکنے کے لئے دیوار بنادیں تو ان کو یہ اختیار نہ ہوگابدائع میں یوں ہے اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو زوجہ زید سے قسم لی جائے کہ عمرو کوغیر بارانی پانی اس مکان زید میں بہانے کا حق نہیں اگر وہ قسم کھانے سے حاکم کے حضور انکار کرے گی عمرو کا حق ثابت ہوجائے گا۔
فی الھندیۃ ادعی علی اخر حق المرور ورقبۃ الطریق فی دارہ فالقول قول صاحب الدار ولو اقام المدعی البینۃ انہ کان یمر فی ھذہ الدار لم یستحق بھذا شیئاکذافی الخلاصۃ فان اقام البینۃ علی ان لہ حق المسیل وبینواانہ لماء المطر من ھذاالمیزاب فہو لماء المطر و لیس لہ ان یسیل ماء الاغتسال والوضوء فیہ وان بینواانہ لماء الاغتسال والوضوء فھو کذلك ولیس لہ ان یسیل ماء المطرفیہ وان قالوالہ فیہا حق مسیل ماء ولم یبینو الماء المطر او غیرہ صح والقول لرب الدار مع یمینہ انہ لماء المطراولماء الوضوء والغسالۃ کذافی محیط السرخسی و لو لم تکن للمدعی بینۃ اصلا استحلف صاحب الدار و یقضی فیہ بالنکول کذافی الحاوی ولو اراد اھل الداران یبنوا حائطالیسد وا مسیلہ لم یکن لھم ذلك کذافی البدائع اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ہے ایك شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ مجھے یہاں سے گزرنے کا حق ہے حالانکہ راستہ مدعی علیہ کی حویلی میں ہے تو حویلی والے کی بات معتبر ہوگی اور اگر مدعی یہ گواہی بھی پیش کردے کہ وہ یہاں سے گزرتا تھا تو اس کا حق ثابت نہ ہوگاخلاصہ میں یوں ہے اگر وہ گواہی پیش کردے کہ مجھے یہاں سے پانی بہالیجانے کا حق ہے تو گواہوں نے اگر کہا کہ اس پر نالہ سے بارش کا پانی یہاں بہتا ہے تو صرف بارش کا ثابت ہوگا اس کوغسل ووضو کا پانی وہاں بہا لیجانے کا حق نہ ہوگا اور اگر گواہوں نے غسل ووضو کے پانی کے متعلق بیان کیا تو بارش کا پانی گزارنے کا حق نہ ہوگا اور اگر انہوں نے مطلقا پانی بہنے کی بات کی ہو بارش یا غسل وغیرہ کا ذکر نہ کیا تو بیان صحیح ہوگا جبکہ اس صورت میں حویلی والے کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی کہ وہ پانی بارش کا ہے یا غسالہ کا پانی ہے جیسا کہ محیط سرخسی میں ہےاگر مدعی کے پاس کوئی گواہ نہ ہوتو حویلی والے سے قسم لی جائیگی اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو اس پر فیصلہ دیاجائیگاحاوی میں یوں ہےاگر حویلی والے چاہیں کہ پانی روکنے کے لئے دیوار بنادیں تو ان کو یہ اختیار نہ ہوگابدائع میں یوں ہے اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۶€
مسئلہ۷۰: ازریاست رام پور متصل مسجد جامع مرسلہ بیچے خان ۱۴ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تخمینا تین سال کا ہوا کہ مسمی زید نے چند قطعہ مکانات واقع شہر رام پور بنام مسماۃ ہندہ زوجہ خود بعوض دین مہر بیع کرکے بیعنامہ بنام ہندہ تحریر کردیا اور حسب قاعدہ رجسٹری کرادی اور قبضہ بھی مکانات پر ہندہ کا کرادیا اور زید خود ایك موضع میں رہنے لگا بعد ازاں زید کی زوجہ متوفیہ اولی کے بطن سے جواولاد ہے اس نے بابت حق وحصہ شرعی منجملہ دین مہر یا فتنی والدہ خود ذمگی زید کے زید پر کچہری میں نالش کرکے کچہری سے ڈگری حاصل کی اور ڈگری مذکور جاری کراکے صیغہ اجرائے ڈگری میں مکانات مذکورہ کو قرق کرایاقاعدہ مروجہ کچہری یہ ہے کہ اگر کوئی جائداد صیغہ اجراء ڈگری میں قرق کی جائے اور کوئی شخص بربنائے قبضہ مستقلا نہ اس کی بابت عذر کرے تو بشرط ثبوت قبضہ مستقلا نہ عذر دار کی وہ جائداد قرقی سے واگزاشت ہوجاتی ہےاب مسماۃ ہندہ نے نسبت قرقی مکانات اپنے کے کچہری میں عذر داری کی کہ یہ مکانات مملوکہ و مقبوضہ میرے ہیںقرقی سے واگزاشت فرمائے جائیں ثبوت میں بیعنامہ اقراری زید اور بہت سے گواہان پیش کئے کہ جن کی شہادت سے مالك وقابض ہونا ہندہ کا بموجب بیعنامہ بذریعہ سکونت ومرمت مکانات ووصول کرایہ اور حسب اقرار زید کے ثابت ہےسوالات جرح میں گواہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ زید گاؤں میں رہتا ہےکبھی کبھی رامپور میں آتا ہے تو اپنی زوجہ مسماۃ ہندہ اور اپنی اولاد کے پاس انہیں مکانات میں ٹھہرتا ہے دوچار روز رہ کرپھر گاؤں کو چلاجاتا ہے ڈگری داران حجت پیش کرتے ہیں کہ حسب روایات فقہ مندرجہ ذیل قبضہ ہندہ کا نہیں ہے شرعا زوجہ مع متاع خود بقبضہ شوہر ہے لہذا مکانات بھی مقبوضہ شوہر ہیں روایات:
لان المرأۃ ومافی یدھا فی یدالزوج ۱۲ بحرالرائق۔ وفی الاشباہ ھبۃ المشغول لایجوز الااذا وھب الاب لطفلہ قلت وکذا الدارالمعارۃ والتی وھبتھا لزوجہا علی المذہب لان المرأۃ ومتاعھا فی یدالزوج فصحت التسلیم کیونکہ عورت اور اس کے زیر قبضہ تمام خاوند کے قبضہ میں ہےبحرالرائق۔اور اشباہ میں ہے کہ مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے مگر وہ کہ والد نے نابالغ لڑکے کے لئے کیا ہواور میں کہتا ہوں یوں ہی جب مکان عاریتا ہو اور وہ مکان جو بیوی نے خاوند کو ہبہ کیا ہویہ مذہب ہے کیونکہ عورت اور سامان خاوند کے قبضہ میں ہے تو ہبہ پر قبضہ صحیح ہوجائیگا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تخمینا تین سال کا ہوا کہ مسمی زید نے چند قطعہ مکانات واقع شہر رام پور بنام مسماۃ ہندہ زوجہ خود بعوض دین مہر بیع کرکے بیعنامہ بنام ہندہ تحریر کردیا اور حسب قاعدہ رجسٹری کرادی اور قبضہ بھی مکانات پر ہندہ کا کرادیا اور زید خود ایك موضع میں رہنے لگا بعد ازاں زید کی زوجہ متوفیہ اولی کے بطن سے جواولاد ہے اس نے بابت حق وحصہ شرعی منجملہ دین مہر یا فتنی والدہ خود ذمگی زید کے زید پر کچہری میں نالش کرکے کچہری سے ڈگری حاصل کی اور ڈگری مذکور جاری کراکے صیغہ اجرائے ڈگری میں مکانات مذکورہ کو قرق کرایاقاعدہ مروجہ کچہری یہ ہے کہ اگر کوئی جائداد صیغہ اجراء ڈگری میں قرق کی جائے اور کوئی شخص بربنائے قبضہ مستقلا نہ اس کی بابت عذر کرے تو بشرط ثبوت قبضہ مستقلا نہ عذر دار کی وہ جائداد قرقی سے واگزاشت ہوجاتی ہےاب مسماۃ ہندہ نے نسبت قرقی مکانات اپنے کے کچہری میں عذر داری کی کہ یہ مکانات مملوکہ و مقبوضہ میرے ہیںقرقی سے واگزاشت فرمائے جائیں ثبوت میں بیعنامہ اقراری زید اور بہت سے گواہان پیش کئے کہ جن کی شہادت سے مالك وقابض ہونا ہندہ کا بموجب بیعنامہ بذریعہ سکونت ومرمت مکانات ووصول کرایہ اور حسب اقرار زید کے ثابت ہےسوالات جرح میں گواہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ زید گاؤں میں رہتا ہےکبھی کبھی رامپور میں آتا ہے تو اپنی زوجہ مسماۃ ہندہ اور اپنی اولاد کے پاس انہیں مکانات میں ٹھہرتا ہے دوچار روز رہ کرپھر گاؤں کو چلاجاتا ہے ڈگری داران حجت پیش کرتے ہیں کہ حسب روایات فقہ مندرجہ ذیل قبضہ ہندہ کا نہیں ہے شرعا زوجہ مع متاع خود بقبضہ شوہر ہے لہذا مکانات بھی مقبوضہ شوہر ہیں روایات:
لان المرأۃ ومافی یدھا فی یدالزوج ۱۲ بحرالرائق۔ وفی الاشباہ ھبۃ المشغول لایجوز الااذا وھب الاب لطفلہ قلت وکذا الدارالمعارۃ والتی وھبتھا لزوجہا علی المذہب لان المرأۃ ومتاعھا فی یدالزوج فصحت التسلیم کیونکہ عورت اور اس کے زیر قبضہ تمام خاوند کے قبضہ میں ہےبحرالرائق۔اور اشباہ میں ہے کہ مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے مگر وہ کہ والد نے نابالغ لڑکے کے لئے کیا ہواور میں کہتا ہوں یوں ہی جب مکان عاریتا ہو اور وہ مکان جو بیوی نے خاوند کو ہبہ کیا ہویہ مذہب ہے کیونکہ عورت اور سامان خاوند کے قبضہ میں ہے تو ہبہ پر قبضہ صحیح ہوجائیگا
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الدعوٰی باب التحالف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۲۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الھبۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۴۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الھبۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲/ ۴۰€
اذاوھب لرجل دارا والواھب ساکن فیہا لاتصح الھبۃ بخلاف مااذا وھبت الزوجۃ لزوجہاوھی ساکنۃ فیہا لانہا ومافی یدھا فی یدہ ۱۲خزانۃ۔ اور جب ایك شخص نے اپنامکان دوسرے کو ہبہ کیا حالانکہ واہب خود اس میں رہائش پذیر ہے تو یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا بخلاف جبکہ عورت اپنا رہائشی مکان خاوند کو ہبہ کرے تو صحیح ہے کیونکہ خود عورت اور اس کا سامان خاوند کے قبضہ میں ہے ۱۲خزانہ(ت)
کیاروایات مذکورہ صورت مقدمہ مذکورہ سے متعلق ہیں اورازروئے روایات مذکورہ مکانات مقبوضہ ہندہ نہیں متصور ہوں گےیا روایات مذکورہ معاملہ ہبہ سے متعلق ہیں جس میں قبضہ ضرور ہے اور اسی صورت سے متعلق ہیں کہ جہاں کوئی شہادت قبضہ کی نہ گزرے اس مقدمہ میں بیعنامہ اقرار شوہر اور شہادت قبضہ زوجہ زید کی موجود ہےتو روایات مذکورہ اس مقدمہ سے غیر متعلق ہیں یا کیاجوابات بحوالہ روایات معتبرہ تحریر فرمائیےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مکانات مملوکہ ہندہ کا واگزاشت کرنا حاکم پر واجب ہے اور ان کا نیلام سخت حرام ڈگری داروں کی حجت محض با طل وصریح جہالت
اولا: جب بیع بنام ہندہ گواہوں سے ثابت ہے تو ملك ہندہ ثابت ہے اور قبضے کی بحث سرے سے لغو وبے معنی کہ بیع صحیح میں قبضہ شرط ملك نہیں نفس عقد سے شے ملك بائع سے نکل کر ملك مشتری میں داخل ہوجاتی ہے اذالم یکن توقف ولاخیار(جب بیع میں اختیار اور وقف نہ ہو۔ت)یہ تو صراحۃ بیعنامہ بعوض مہر تھا اگر ہبہ نامہ بعوض مہر ہوتا جب بھی قبضے کی اصلا حاجت نہ تھی حالانکہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا اور وجہ یہ کہ ہبہ بالعوض(نہ بشرط العوض)اگرچہ صورۃ واسما ہبہ ہے مگر نظرا بمعنی حقیقۃ وحکما ہے تو محتاج قبضہ نہیں۔درمختار میں ہے:
الھبۃ بشرط العوض المعین ھبۃ ابتداء فیشترط التقابض فی العوضین و یبطل بالشیوع بیع انتہاء فترد بالعیب وخیار الرؤیۃ وتوخذ معین چیز کے عوض ہبہ ابتداء ہبہ ہے اس لئے عوضین میں قبضہ شرط ہے اور غیر منقسم ہوجانے پر باطل ہوجائے گا اور یہ بشرط العوض ہبہ انتہاء بیع ہے اس لئے عیب اور خیار الرؤیۃ کی بناء پر واپس
کیاروایات مذکورہ صورت مقدمہ مذکورہ سے متعلق ہیں اورازروئے روایات مذکورہ مکانات مقبوضہ ہندہ نہیں متصور ہوں گےیا روایات مذکورہ معاملہ ہبہ سے متعلق ہیں جس میں قبضہ ضرور ہے اور اسی صورت سے متعلق ہیں کہ جہاں کوئی شہادت قبضہ کی نہ گزرے اس مقدمہ میں بیعنامہ اقرار شوہر اور شہادت قبضہ زوجہ زید کی موجود ہےتو روایات مذکورہ اس مقدمہ سے غیر متعلق ہیں یا کیاجوابات بحوالہ روایات معتبرہ تحریر فرمائیےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مکانات مملوکہ ہندہ کا واگزاشت کرنا حاکم پر واجب ہے اور ان کا نیلام سخت حرام ڈگری داروں کی حجت محض با طل وصریح جہالت
اولا: جب بیع بنام ہندہ گواہوں سے ثابت ہے تو ملك ہندہ ثابت ہے اور قبضے کی بحث سرے سے لغو وبے معنی کہ بیع صحیح میں قبضہ شرط ملك نہیں نفس عقد سے شے ملك بائع سے نکل کر ملك مشتری میں داخل ہوجاتی ہے اذالم یکن توقف ولاخیار(جب بیع میں اختیار اور وقف نہ ہو۔ت)یہ تو صراحۃ بیعنامہ بعوض مہر تھا اگر ہبہ نامہ بعوض مہر ہوتا جب بھی قبضے کی اصلا حاجت نہ تھی حالانکہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا اور وجہ یہ کہ ہبہ بالعوض(نہ بشرط العوض)اگرچہ صورۃ واسما ہبہ ہے مگر نظرا بمعنی حقیقۃ وحکما ہے تو محتاج قبضہ نہیں۔درمختار میں ہے:
الھبۃ بشرط العوض المعین ھبۃ ابتداء فیشترط التقابض فی العوضین و یبطل بالشیوع بیع انتہاء فترد بالعیب وخیار الرؤیۃ وتوخذ معین چیز کے عوض ہبہ ابتداء ہبہ ہے اس لئے عوضین میں قبضہ شرط ہے اور غیر منقسم ہوجانے پر باطل ہوجائے گا اور یہ بشرط العوض ہبہ انتہاء بیع ہے اس لئے عیب اور خیار الرؤیۃ کی بناء پر واپس
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الہبہ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۵۳€
بالشفعۃ ھذااذاقال وھبتك علی ان تعوضنی کذا اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتہاء اھ اختصار۔ ہوسکتا ہے اور شفعہ کے دعوی پر لیا جاسکتا ہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ ہبہ دینے والاکہے یہ چیز میں تمہیں فلاں چیز کے عوض ہبہ کرتا ہوں اور اس نے اگر یوں کہا ہو کہ میں تجھے ہبہ کرتا ہوںتو یہ ابتداء وانتہاء بیع ہے اھ اختصار(ت)
ثانیا: اگر بفرض باطل قبضہ کی حاجت بھی ہو تو جبکہ شہادت شرعیہ کافیہ سے قبضہ ہندہ رنگ ثبوت پائے اس پر ان عبارات سے ایراد محض جہل وعنادمستدلوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ علماء مافی یدھا فی یدہ فرمارہے ہیں یعنی جو کچھ عورت کے قبضے میں ہے وہ ازانجا کہ عورت خود قبضہ شوہر میں ہے بالواسطہ قبضہ شوہر میں ہے کہ "مقبوض المقبوض مقبوض" اس میں صراحۃ قبضہ زن کا اثبات اورا س کے ذریعہ سے قبضہ شوہر کاقرار داد ہے نہ کہ قبضہ زن کی راسا نفی۔علماء نے "مافی یدھا" فرمایا ہے نہ کہ "لیس فی یدھا"۔
ثالثا: ایسا ہو تو خود قبضہ شوہر بھی منتفی ہوجائے گا اور کلام اپنے مقصود پر نقص کرتا پلٹ آئے گاکہ قبضہ شوہر بواسطہ قبضہ زن مانا تھا بقیاس مساوات کے "قابض القابض قابض" جب سرے سے قبضہ زن منفی ہوجائیگا قبضہ شوہر کہ اس کے واسطے سے تھا کہا ں سے آئیگا ھل ھذا الاجھل مبین(یہ کھلی جہالت ہے۔ت)تو خودیہی روایات کہ ڈگری داروں نے پیش کیں ان کا صریح رد ہیں۔
رابعا: کلام علماء باب حدیث انت ومالك لابیک سے ہے جیسے بیٹے کےلئے ارشاد ہوا کہ وہ اور اس کا مال سب اس کے باپ کا ہے کوئی عاقل اس سے یہ وہم نہیں کرسکتا کہ بیٹے کی ملك کی نفی فرمائی ہے ایسا ہوتو باپ بیٹے کا وارث نہ ہوسکے اورآیہ کریمہ "و لابویہ لکل وحد منہما السدس" (ور میت کے ماں باپ ہر ایك کو اس کے ترکہ سے چھٹا۔ت)کا معاذاﷲ صاف انکار لازم آئے کہ ارث ترکہ مورث میں جاری ہوگی اور ترکہ مثبت ملك جب ملك منتفی توارث کہاںیونہی علماء کے اس کلام سے کہ زن ومقبوضات زن سب مقبوض شوہر ہیں قبضہ زن کے نفی کی طرف کسی ذی عقل کا گمان نہیں جاسکتا بلکہ وہ حقیقی بالذات ہے اور یہ حکمی بالواسطہ۔
ثانیا: اگر بفرض باطل قبضہ کی حاجت بھی ہو تو جبکہ شہادت شرعیہ کافیہ سے قبضہ ہندہ رنگ ثبوت پائے اس پر ان عبارات سے ایراد محض جہل وعنادمستدلوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ علماء مافی یدھا فی یدہ فرمارہے ہیں یعنی جو کچھ عورت کے قبضے میں ہے وہ ازانجا کہ عورت خود قبضہ شوہر میں ہے بالواسطہ قبضہ شوہر میں ہے کہ "مقبوض المقبوض مقبوض" اس میں صراحۃ قبضہ زن کا اثبات اورا س کے ذریعہ سے قبضہ شوہر کاقرار داد ہے نہ کہ قبضہ زن کی راسا نفی۔علماء نے "مافی یدھا" فرمایا ہے نہ کہ "لیس فی یدھا"۔
ثالثا: ایسا ہو تو خود قبضہ شوہر بھی منتفی ہوجائے گا اور کلام اپنے مقصود پر نقص کرتا پلٹ آئے گاکہ قبضہ شوہر بواسطہ قبضہ زن مانا تھا بقیاس مساوات کے "قابض القابض قابض" جب سرے سے قبضہ زن منفی ہوجائیگا قبضہ شوہر کہ اس کے واسطے سے تھا کہا ں سے آئیگا ھل ھذا الاجھل مبین(یہ کھلی جہالت ہے۔ت)تو خودیہی روایات کہ ڈگری داروں نے پیش کیں ان کا صریح رد ہیں۔
رابعا: کلام علماء باب حدیث انت ومالك لابیک سے ہے جیسے بیٹے کےلئے ارشاد ہوا کہ وہ اور اس کا مال سب اس کے باپ کا ہے کوئی عاقل اس سے یہ وہم نہیں کرسکتا کہ بیٹے کی ملك کی نفی فرمائی ہے ایسا ہوتو باپ بیٹے کا وارث نہ ہوسکے اورآیہ کریمہ "و لابویہ لکل وحد منہما السدس" (ور میت کے ماں باپ ہر ایك کو اس کے ترکہ سے چھٹا۔ت)کا معاذاﷲ صاف انکار لازم آئے کہ ارث ترکہ مورث میں جاری ہوگی اور ترکہ مثبت ملك جب ملك منتفی توارث کہاںیونہی علماء کے اس کلام سے کہ زن ومقبوضات زن سب مقبوض شوہر ہیں قبضہ زن کے نفی کی طرف کسی ذی عقل کا گمان نہیں جاسکتا بلکہ وہ حقیقی بالذات ہے اور یہ حکمی بالواسطہ۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عمرو بن شعیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۰۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عمرو بن شعیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۰۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
خامسا: اگر ان عبارات کا یہی مطلب باطل قرار دیاجائےکہ عورت کا قبضہ سرے سے معدوم ہے اس کا ہاتھ شرعا ہاتھ نہیں جیسے صبی لایعقل کا ہاتھتو تمام کتب مذہب متون وشروح وفتاوی سب کے اجماعی مسائل مردود و باطل ہوجائیںکتب مذہب کاا جماع قطعی ہے کہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا نیزاجماع قطعی ہے کہ زوجیت مانع رجوع ہے شوہر نے اگر اپنی زوجہ کو کوئی شیئ ہبہ کی اور قبضہ کرادیاکہ تکمیل ہوگئیاب اسے رجوع کا اختیار نہیںمذہب کی جو کتاب اٹھالیجئے اس میں ان دونوں مسئلوں کی تصریح پائیےمگر اس مطلب باطل کی تقدیر پر ان دونوں میں ایك مسئلہ ضرور باطل ہے کہ جب عورت کا قبضہ شرعا قبضہ ہی نہیں بلکہ اس کے شوہر ہی کا قبضہ ہے تواب وہ چیز جو شوہر نے ہبہ کرکے اس کے قبضہ میں دی ہبہ تمام اور عورت مالك ہوئی یا نہیںاگر کہئے ہوئی تو پہلا مسئلہ باطل ہوا کہ یہ ہبہ بے قبضہ تمام وکامل ہوگیااور اگر کہئے نہتو دوسرا مسئلہ باطل ہوگیا کہ جب عورت کے لئے ہبہ ہوہی نہیں سکتاتو رجوع ناجائز ماننا کیا معنیغرض یہ ایسی بدیہی البطلان بات ہے جسے کوئی جاہل بھی گوارا نہ کرسکےاور یہیں سے واضح ہوا کہ عبارات مذکورہ سوال کو صورت بیع سے متعلق ہونا درکنار وہ مطلقا ہر صورت ہبہ سے بھی متعلق نہیںآخر نہ دیکھا کہ ہبہ شوہر برائے زن میں ان کا اجراء محض باطل ہے بلکہ وہ صرف ہبہ زن برائے شوہر میں ہیں کہ یہاں موہوب کا متاع زن سے مشغول ہونا مانع تمام نہیں ہے کہ یہ شغل مانع قبضہ شوہر نہیں کہ زن و متاع زن سب مقبوض شوہر ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱: مرسلہ لال محمد صاحب احسن منزل مرزاپور ۲۶/صفر ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس اس کے مکان میں ہندہ عرصہ چالیس سال سے ہے زید نے لاولد ہندہ کو اپنے مکان میں چھوڑ کر وفات پائی اور اپنے زمانہ حیات میں زید نے بذریعہ چنددستاویزات کے ہندہ کو اپنی زوجہ منکوحہ لکھا ہے اور اپنے جملہ جائداد میں سے بعض جائداد ایك جزودین مہر کے دیا بھی ہے اب ہندہ کے دعوی زوجیت کےلئے بمقابلہ زید متوفی کے دوسرے شرعی ورثاکے جو منکر زوجیت ہندہ کے ہیں زید کی تحریر وتسلیم زوجیت ہندہ جو بذریعہ اس کے دستاویزات رجسٹری شدہ کے ہوئےاگر ہندہ کو اپنے نکاح کے شہود وغیرہ نہ ملیں شرعا ثبوت کافی ہے یانہیںاور ہندہ اس جائداد کے پانے کی جو زید نے اس کو بعوض ایك جزودین مہر کے دی اور باقی حصہ دین مہر کے پانے کی باقی متروکہ زید سے مستحق ہے یانہیںاور زید کے متروکہ سے وراثتا کس قدر حصہ ہندہ کا ہےبحوالہ کتب جواب تحریر فرمائیں۔
مسئلہ ۷۱: مرسلہ لال محمد صاحب احسن منزل مرزاپور ۲۶/صفر ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس اس کے مکان میں ہندہ عرصہ چالیس سال سے ہے زید نے لاولد ہندہ کو اپنے مکان میں چھوڑ کر وفات پائی اور اپنے زمانہ حیات میں زید نے بذریعہ چنددستاویزات کے ہندہ کو اپنی زوجہ منکوحہ لکھا ہے اور اپنے جملہ جائداد میں سے بعض جائداد ایك جزودین مہر کے دیا بھی ہے اب ہندہ کے دعوی زوجیت کےلئے بمقابلہ زید متوفی کے دوسرے شرعی ورثاکے جو منکر زوجیت ہندہ کے ہیں زید کی تحریر وتسلیم زوجیت ہندہ جو بذریعہ اس کے دستاویزات رجسٹری شدہ کے ہوئےاگر ہندہ کو اپنے نکاح کے شہود وغیرہ نہ ملیں شرعا ثبوت کافی ہے یانہیںاور ہندہ اس جائداد کے پانے کی جو زید نے اس کو بعوض ایك جزودین مہر کے دی اور باقی حصہ دین مہر کے پانے کی باقی متروکہ زید سے مستحق ہے یانہیںاور زید کے متروکہ سے وراثتا کس قدر حصہ ہندہ کا ہےبحوالہ کتب جواب تحریر فرمائیں۔
الجواب :
اگر ان دستاویزات پر گواہ شرعی موجود ہیں کہ ہمارے سامنے زید نے لکھوائیں اور ہندہ کو اپنی زوجہ بتایا کہ ہمارے سامنے جز جائداد ہندہ کو مہر میں دیا تھا اقرار زید کے گواہ ہوں کہ وہ ہندہ کو اپنی زوجہ کہتا تھا یا کچھ نہ سہی وہ لوگ جو اس مدت مدید تك زید و ہندہ کو باہم ایك مکان میں مثل زن و شو رہتے دیکھا کئے اور وہ اس بناء پر شہادت شرعیہ دیں کہ ہندہ زوجہ زید ہے یا عام طور پر ہندہ کا زوجہ زید ہونا مشہور ہو بعض شاہدان شرعی اسی شہرت کے اعتماد پر زوجیت ہندہ کی گواہی دیں تو زوجیت ثابت ہوجائیگی اور خاص گواہان نکاح پیش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہندہ اپنا مہر وحصہ پانے کی مستحق ہوگی اور اس کا حصہ بعد ادائے مہر ودیگر دیون ووصایا چہارم متروکہ ہے اور اگر ان صورتوں میں کچھ نہ پائی جائے تو نری دستاویزیں اگرچہ ہزار رجسٹری شدہ ہوں بے شہادت معتبرہ کے کوئی چیز نہیں۔جامع الفصولین میں ہے:
ادعت نکاحہ فشھد احدھما انہا امرأتہ والاخرانھا کانت امرأتہ تقبل وکذالوشھد احدھما انہ اقر انہا امرأتہ والاخرانہ اقرانہا کانت امرأتہ لان الشہادۃ باقرارہ بنکاح کان شہادۃ باقرارہ بنکاح حالی ۔ عورت نے ایك مرد پر اپنے نکاح کا دعوی کیاایك گواہ نے کہا کہ یہ اس کی بیوی ہےدوسرے نے کہا یہ اس کی بیوی تھی تو یہ گواہی مقبول ہوگیاسی طرح شہادت میں ایك گواہ کہے کہ مرد نے اقرار کیا ہے کہ یہ اس کی بیوی ہےدوسرا گواہ کہے کہ اس نے اقرار کیا کہ یہ اس کی بیوی تھییہ گواہی مقبول ہوگیکیونکہ گزشتہ نکاح کی شہادت یہ موجودہ نکاح کی شہادت ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
الشہادۃ بالشھرۃ والتسامع تقبل فی اربعۃ اشیاء بالاجماع وھی النکاح والنسب والموت والقضاء کذافی محیط السرخسی ۔ شہرت اور سماع کی بناء پر چارچیزوں میں بالاجماع شہادت مقبول ہے وہ چارنکاحنسبموت اورقضاء ہیںجیسا کہ محیط سرخسی میں ہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لایعمل بمجرد الدفتر ولابمجرد الحجۃ محض خط اور محض رجسٹرپر بغیر حجت عمل نہ ہوگا کیونکہ
اگر ان دستاویزات پر گواہ شرعی موجود ہیں کہ ہمارے سامنے زید نے لکھوائیں اور ہندہ کو اپنی زوجہ بتایا کہ ہمارے سامنے جز جائداد ہندہ کو مہر میں دیا تھا اقرار زید کے گواہ ہوں کہ وہ ہندہ کو اپنی زوجہ کہتا تھا یا کچھ نہ سہی وہ لوگ جو اس مدت مدید تك زید و ہندہ کو باہم ایك مکان میں مثل زن و شو رہتے دیکھا کئے اور وہ اس بناء پر شہادت شرعیہ دیں کہ ہندہ زوجہ زید ہے یا عام طور پر ہندہ کا زوجہ زید ہونا مشہور ہو بعض شاہدان شرعی اسی شہرت کے اعتماد پر زوجیت ہندہ کی گواہی دیں تو زوجیت ثابت ہوجائیگی اور خاص گواہان نکاح پیش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہندہ اپنا مہر وحصہ پانے کی مستحق ہوگی اور اس کا حصہ بعد ادائے مہر ودیگر دیون ووصایا چہارم متروکہ ہے اور اگر ان صورتوں میں کچھ نہ پائی جائے تو نری دستاویزیں اگرچہ ہزار رجسٹری شدہ ہوں بے شہادت معتبرہ کے کوئی چیز نہیں۔جامع الفصولین میں ہے:
ادعت نکاحہ فشھد احدھما انہا امرأتہ والاخرانھا کانت امرأتہ تقبل وکذالوشھد احدھما انہ اقر انہا امرأتہ والاخرانہ اقرانہا کانت امرأتہ لان الشہادۃ باقرارہ بنکاح کان شہادۃ باقرارہ بنکاح حالی ۔ عورت نے ایك مرد پر اپنے نکاح کا دعوی کیاایك گواہ نے کہا کہ یہ اس کی بیوی ہےدوسرے نے کہا یہ اس کی بیوی تھی تو یہ گواہی مقبول ہوگیاسی طرح شہادت میں ایك گواہ کہے کہ مرد نے اقرار کیا ہے کہ یہ اس کی بیوی ہےدوسرا گواہ کہے کہ اس نے اقرار کیا کہ یہ اس کی بیوی تھییہ گواہی مقبول ہوگیکیونکہ گزشتہ نکاح کی شہادت یہ موجودہ نکاح کی شہادت ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
الشہادۃ بالشھرۃ والتسامع تقبل فی اربعۃ اشیاء بالاجماع وھی النکاح والنسب والموت والقضاء کذافی محیط السرخسی ۔ شہرت اور سماع کی بناء پر چارچیزوں میں بالاجماع شہادت مقبول ہے وہ چارنکاحنسبموت اورقضاء ہیںجیسا کہ محیط سرخسی میں ہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لایعمل بمجرد الدفتر ولابمجرد الحجۃ محض خط اور محض رجسٹرپر بغیر حجت عمل نہ ہوگا کیونکہ
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۷€
لما صرح بہ علماؤنا من عدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ نہ خط پر اعتماد ہے نہ اس پر عمل کیا جائے اھواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۷۲: ازپیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ جناب شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ورثاء میں سے شوہر دعوی کرے کہ فلاں زیور میں نے اس کو کل یا جز بنواکر استعمال کے واسطے دیا تھا اور اسی طرح سے اس کے والدین وغیرہ دعوی کریں کہ فلاں فلاں زیور اور دیگر اشیاء ہم نے اس کے جہیز میں دی تھیں اس کے استعمال کے واسطےوہ ہم کو واپس ملنی چاہئیںکیا یہ دعویدار اپنے دعوے کے موافق مستوجب واپسی کے ہوسکتے ہیں اور عنداﷲ استحقاق واپسی ان کو حاصل ہے یانہیں بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
والدین کا دعوی کہ ہم نے فلاں شیئ جہیز میں عاریۃ دی تھی بے شہادت عادلہ مسموع نہیں کہ خلاف عرف ظاہر وناشی ہےشوہر کا قول سن لیاجائیگاجو زیور اس نے بنواکر دیا جب وہ تملیك کردینے کا مقر نہیں تو بغیر شہادت عادلہ ملك ہندہ ثابت نہ ہوگیلان الدافع ادری بجھۃ الدفع ولاعرف قاضیا ھھنا۔کیونکہ دینے والا بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طرح دیا ہے جبکہ یہاں واضح عرف نہیں جس پر فیصلہ دیا جائے۔(ت)درمختار میں ہے:
جھزابنتہ بجھاز وسلمھا ذلك لیس لہ الاسترد اد منھا وبہ یفتی والحیلۃ ان یشھد عندالتسلیم الیہا انہ انما سلمہ عاریۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ بیٹی کو جہیز دیا اور اس کو سونپ دیا تو اب والد کو واپسی کا حق نہیں ہےفتوی اسی پر ہےاور واپسی کا حیلہ یہ ہے جہیز دیتے ہوئے گواہ بنالے کہ میں نے یہ عاریتا دیاہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۷۲: ازپیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ جناب شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ورثاء میں سے شوہر دعوی کرے کہ فلاں زیور میں نے اس کو کل یا جز بنواکر استعمال کے واسطے دیا تھا اور اسی طرح سے اس کے والدین وغیرہ دعوی کریں کہ فلاں فلاں زیور اور دیگر اشیاء ہم نے اس کے جہیز میں دی تھیں اس کے استعمال کے واسطےوہ ہم کو واپس ملنی چاہئیںکیا یہ دعویدار اپنے دعوے کے موافق مستوجب واپسی کے ہوسکتے ہیں اور عنداﷲ استحقاق واپسی ان کو حاصل ہے یانہیں بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
والدین کا دعوی کہ ہم نے فلاں شیئ جہیز میں عاریۃ دی تھی بے شہادت عادلہ مسموع نہیں کہ خلاف عرف ظاہر وناشی ہےشوہر کا قول سن لیاجائیگاجو زیور اس نے بنواکر دیا جب وہ تملیك کردینے کا مقر نہیں تو بغیر شہادت عادلہ ملك ہندہ ثابت نہ ہوگیلان الدافع ادری بجھۃ الدفع ولاعرف قاضیا ھھنا۔کیونکہ دینے والا بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طرح دیا ہے جبکہ یہاں واضح عرف نہیں جس پر فیصلہ دیا جائے۔(ت)درمختار میں ہے:
جھزابنتہ بجھاز وسلمھا ذلك لیس لہ الاسترد اد منھا وبہ یفتی والحیلۃ ان یشھد عندالتسلیم الیہا انہ انما سلمہ عاریۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ بیٹی کو جہیز دیا اور اس کو سونپ دیا تو اب والد کو واپسی کا حق نہیں ہےفتوی اسی پر ہےاور واپسی کا حیلہ یہ ہے جہیز دیتے ہوئے گواہ بنالے کہ میں نے یہ عاریتا دیاہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۱۸€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳€
مسئلہ۷۳: مرسلہ صفدر علی صاحب ۱۴/شوال ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء ومفتیان دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع شراکت زید اور عمرو چلا آتا تھا اور زید بوجہ نمبرداری اس پر قابض اور دخیل تھا زید نے بلا اجازت عمرو کے ایك باغ جو واقعہ موضع مذکور تھا فروخت کرکے قیمت اپنے تصر ف میں لایا اور عمرو کو بابت حصہ اس کے کچھ نہ دیا جواب عمرو نے تقسیم موضع مذکور کی کرائی تو یہ امر معلوم ہوا جب عمرو نے اپنے حصہ کا مطالبہ زید سے طلب کیا تو زید نے عذر تمادی کا پیش کیاصورت ہذا میں حقوق عمرو کا عنداﷲ ذمہ زید کے ہے یانہیںبینواتوجروا (بیان فرمائے ثواب پائے۔ت)
الجواب:
بیشك ہے اور عذر تمادی محض باطل و مہمل
فی الاشباہ الحق لایسقط بتقادم الزمان ۔ اشباہ میں ہے کہ زمانہ قدیم ہوجانے پر حق ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
زید سخت گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا کہ عمرو کا حصہ بے اس کی اجازت کے بیچ کر کھاگیا
قال اﷲ تعالی "ولا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔(ت)
اب دوسر اگناہ عظیم یہ جھوٹا عذر مردود پیش کرتا ہے اﷲعزوجل سے ڈرے اور روز قیامت کی سخت شدتیں ناردوزخ کے قہر عذاب اپنے سر نہ لے۔
مسئلہ۷۴: ۱۰/ذیقعدہ۱۳۱۲ھ
زید نے عمرو سے ایك شے ایك روپے کو خریدیزید نے پوچھا یہ شیئ کتنے کو دوگےاس نے کہاایك روپے کومشتری اس کو خرید کے گھر لے آیابطور قرضدوسرے روز جب دام دینے گیا تو بائع نے کہا میاں!میں نے تو اس کے دو روپے کہے تھےمشتری کو اس امر میں کہ بائع نے اس کے دریافت پر وقت بیع کے ایك روپیہ کہا ذرا بھی شك نہیںاب شے مبیعہ یا ہلاك ہوگئی ہے بلکہ نہیں معیب بعیب فاحش ہے زرثمن یا اصل مبیعہ کا کس طرح فیصلہ ہے بائع ومشتری دونوں نمازی اور ایکدوسرے کے نزدیك موتمن بھی ہیں۔بینواتوجروابالروایۃ الصحیحۃ وھی لکم عندالحساب اجر وذخیرۃ(بیان کرو اجر پاؤصحیح روایت سے ہو اور وہ تمہارے لئے روز حساب اجر اور ذخیرہ ہے۔ت)
کیافرماتے ہیں علماء ومفتیان دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع شراکت زید اور عمرو چلا آتا تھا اور زید بوجہ نمبرداری اس پر قابض اور دخیل تھا زید نے بلا اجازت عمرو کے ایك باغ جو واقعہ موضع مذکور تھا فروخت کرکے قیمت اپنے تصر ف میں لایا اور عمرو کو بابت حصہ اس کے کچھ نہ دیا جواب عمرو نے تقسیم موضع مذکور کی کرائی تو یہ امر معلوم ہوا جب عمرو نے اپنے حصہ کا مطالبہ زید سے طلب کیا تو زید نے عذر تمادی کا پیش کیاصورت ہذا میں حقوق عمرو کا عنداﷲ ذمہ زید کے ہے یانہیںبینواتوجروا (بیان فرمائے ثواب پائے۔ت)
الجواب:
بیشك ہے اور عذر تمادی محض باطل و مہمل
فی الاشباہ الحق لایسقط بتقادم الزمان ۔ اشباہ میں ہے کہ زمانہ قدیم ہوجانے پر حق ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
زید سخت گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا کہ عمرو کا حصہ بے اس کی اجازت کے بیچ کر کھاگیا
قال اﷲ تعالی "ولا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔(ت)
اب دوسر اگناہ عظیم یہ جھوٹا عذر مردود پیش کرتا ہے اﷲعزوجل سے ڈرے اور روز قیامت کی سخت شدتیں ناردوزخ کے قہر عذاب اپنے سر نہ لے۔
مسئلہ۷۴: ۱۰/ذیقعدہ۱۳۱۲ھ
زید نے عمرو سے ایك شے ایك روپے کو خریدیزید نے پوچھا یہ شیئ کتنے کو دوگےاس نے کہاایك روپے کومشتری اس کو خرید کے گھر لے آیابطور قرضدوسرے روز جب دام دینے گیا تو بائع نے کہا میاں!میں نے تو اس کے دو روپے کہے تھےمشتری کو اس امر میں کہ بائع نے اس کے دریافت پر وقت بیع کے ایك روپیہ کہا ذرا بھی شك نہیںاب شے مبیعہ یا ہلاك ہوگئی ہے بلکہ نہیں معیب بعیب فاحش ہے زرثمن یا اصل مبیعہ کا کس طرح فیصلہ ہے بائع ومشتری دونوں نمازی اور ایکدوسرے کے نزدیك موتمن بھی ہیں۔بینواتوجروابالروایۃ الصحیحۃ وھی لکم عندالحساب اجر وذخیرۃ(بیان کرو اجر پاؤصحیح روایت سے ہو اور وہ تمہارے لئے روز حساب اجر اور ذخیرہ ہے۔ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۳۵۳€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ مبیع ہلاك یا معیب بعیب فاحش ہوگئی ہے تحالف نہیں بلکہ بائع سے گواہ لئے جائیں گے اگر اس نے بینہ شرعیہ سے ثابت کردیا کہ دو روپے ثمن ٹھہرے تھے تو وہی دینے ہوں گے اور اگر نہ دے سکا تو مشتری سے قسم لی جائیگی اگر اس نے حلف کرلیا کہ ایك ہی روپیہ قرار پایا تھا تو ایك ہی دینا آئے گا اور حلف سے نکول و انکار کیا تو دو روپے کی ڈگری کی جائیگی
فی الدرالمختار لاتحالف اذااختلفا بعد ھلاك المبیع اوخروجہ عن مبلکہ او تعیبہ بما لایرد بہ وحلف المشتری ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ درمختار میں ہے مبیع کے ہلاك ہوجانے یا مشتری کی ملکیت سے نکل جانے کے بعد یا ایسے عیب پید اہونے کے بعد جس کی وجہ سے واپس نہ ہوسکے اختلاف ہوتو دونوں سے قسم جائز نہیں اور مشتری سے قسم لی جائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۵: از ہلدوانی مرسلہ منشی ولایت حسین صاحب ٹھیکہ دار ۶جمادی الآخرہ ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس امر میں کہ زید نے اپنا مال بکر کے پاس امانت رکھاجب بکر سے طلب کیا تو بکر نے مال دینے سے انکار کیا بوجہ مال نقد اور زیور ہونے سے زید نے حاکم وقت کے یہاں دعوی دائر کیا اور گواہان ثبوت حاکم کے روبرو حاضر کئے بکربوجہ کرنے انکار کے قسم شرعی کھانے کو موجود ہےجب ثبوت مدعی موجود ہووے تو بموجب حکم شرع شریف کے بکر قسم کھاسکتا ہے یانہیں یا موجودگی شہادت مدعی کے فقط۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں اگر بکر بطور خود قسم کھانا چاہتا ہے تو محض نامسموعاگر کھابھی لے گا دعوی مدعی کو نقصان نہ پہنچے گااور اگر بکر سے زید قسم لیتا ہے تو اسے بھی اس کااختیار نہیں اور اس حالت میں بھی یہ قسم ناقابل سماعتقسم مدعا علیہ کا وقت جب ہے کہ مدعی نے شہادت مقبولہ نہ پیش کی ہو۔درمختار میں ہے:
اصطلحا علی ان یحلف عند غیر قاض ویکون بریئا فھو باطل لان الیمین مقدمہ کے فریقین نے اتفاق کرلیا کہ کسی غیر قاضی کے سامنے قسم کھاکر بری ہوجائے تو یہ باطل ہے کہ فریق
صورت مستفسرہ میں جبکہ مبیع ہلاك یا معیب بعیب فاحش ہوگئی ہے تحالف نہیں بلکہ بائع سے گواہ لئے جائیں گے اگر اس نے بینہ شرعیہ سے ثابت کردیا کہ دو روپے ثمن ٹھہرے تھے تو وہی دینے ہوں گے اور اگر نہ دے سکا تو مشتری سے قسم لی جائیگی اگر اس نے حلف کرلیا کہ ایك ہی روپیہ قرار پایا تھا تو ایك ہی دینا آئے گا اور حلف سے نکول و انکار کیا تو دو روپے کی ڈگری کی جائیگی
فی الدرالمختار لاتحالف اذااختلفا بعد ھلاك المبیع اوخروجہ عن مبلکہ او تعیبہ بما لایرد بہ وحلف المشتری ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ درمختار میں ہے مبیع کے ہلاك ہوجانے یا مشتری کی ملکیت سے نکل جانے کے بعد یا ایسے عیب پید اہونے کے بعد جس کی وجہ سے واپس نہ ہوسکے اختلاف ہوتو دونوں سے قسم جائز نہیں اور مشتری سے قسم لی جائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۵: از ہلدوانی مرسلہ منشی ولایت حسین صاحب ٹھیکہ دار ۶جمادی الآخرہ ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس امر میں کہ زید نے اپنا مال بکر کے پاس امانت رکھاجب بکر سے طلب کیا تو بکر نے مال دینے سے انکار کیا بوجہ مال نقد اور زیور ہونے سے زید نے حاکم وقت کے یہاں دعوی دائر کیا اور گواہان ثبوت حاکم کے روبرو حاضر کئے بکربوجہ کرنے انکار کے قسم شرعی کھانے کو موجود ہےجب ثبوت مدعی موجود ہووے تو بموجب حکم شرع شریف کے بکر قسم کھاسکتا ہے یانہیں یا موجودگی شہادت مدعی کے فقط۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں اگر بکر بطور خود قسم کھانا چاہتا ہے تو محض نامسموعاگر کھابھی لے گا دعوی مدعی کو نقصان نہ پہنچے گااور اگر بکر سے زید قسم لیتا ہے تو اسے بھی اس کااختیار نہیں اور اس حالت میں بھی یہ قسم ناقابل سماعتقسم مدعا علیہ کا وقت جب ہے کہ مدعی نے شہادت مقبولہ نہ پیش کی ہو۔درمختار میں ہے:
اصطلحا علی ان یحلف عند غیر قاض ویکون بریئا فھو باطل لان الیمین مقدمہ کے فریقین نے اتفاق کرلیا کہ کسی غیر قاضی کے سامنے قسم کھاکر بری ہوجائے تو یہ باطل ہے کہ فریق
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوی باب التحالف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۲۱€
حق القاضی مع طلب الخصم ولاعبرۃ لیمین ولا نکول عند غیر القاضی ۔ مخالف کے مطالبہ پر قسم صرف قاضی کا حق ہے غیر قاضی کے پاس قسم یا قسم سے انکار کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف ۔و اﷲ تعالی اعلم۔ قسم گویا گواہی کا خلف ہے تو جب اصل آجائے تو خلیفہ کا حکم ختم ہوجاتا ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۶: ازریاست رامپور مرسلہ سید نصیرالدین صاحب ۱۴/شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے عمرو پر بلاتحریر دستاویز بربنائے شہادت گواہان دس روپے کی نالش دائر کی اور تاریخ موعود پر گواہان ثبوت دعوی کو بذریعہ کچہری کے طلب کرایا اس تاریخ پر کسی وجہ سے سماعت بیان گواہان کی نہ ہوئی اور تاریخ دوسری کچہری نے واسطے حاضر کرنے انہیں گواہان ثبوت کے مقرر کئے اور عمرو مدعاعلیہ کو دعوی مدعی سے قطعی انکار ہے جب کہ تاریخ ثانی ادخال شہادت کے واسطے مقرر ہوئی تو مدعی نے اس تاریخ پر ایك درخواست کچہری میں پیش کی کہ مدعاعلیہ کا حلف لیاجائے گواہ اپنے سنوانا نہیں چاہتاتو اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسی صورت میں مدعاعلیہ حلف اٹھانے پر مجبور کیاجاسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر گواہ شہر میں موجود ہیں تو مدعاعلیہ سے حلف نہیں لے سکتا بلکہ مدعی ہی سے گواہ لئے جائیں گے اور اگر دور ہیں تو حلف مانگ سکتا ہے
فی الدرالمختار قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصرو طلب یمین خصمہ لم یحلف ولو غائبۃ عن المصر حلف وقدر فی المجتبی الغیبۃ بمدۃ درمختار میں ہے مدعی نے کہا میرے گواہ شہر میں ہیںاس کے بعد اس نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا تو قسم نہ لی جائیگیہاں اگرشہرمیں موجود نہ ہوں تو قسم لے لی جائیگی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے قول پربعض نے فرمایا کہ گواہوں کا مسافت سفر تك غائب
اسی میں ہے:
الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف ۔و اﷲ تعالی اعلم۔ قسم گویا گواہی کا خلف ہے تو جب اصل آجائے تو خلیفہ کا حکم ختم ہوجاتا ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۶: ازریاست رامپور مرسلہ سید نصیرالدین صاحب ۱۴/شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے عمرو پر بلاتحریر دستاویز بربنائے شہادت گواہان دس روپے کی نالش دائر کی اور تاریخ موعود پر گواہان ثبوت دعوی کو بذریعہ کچہری کے طلب کرایا اس تاریخ پر کسی وجہ سے سماعت بیان گواہان کی نہ ہوئی اور تاریخ دوسری کچہری نے واسطے حاضر کرنے انہیں گواہان ثبوت کے مقرر کئے اور عمرو مدعاعلیہ کو دعوی مدعی سے قطعی انکار ہے جب کہ تاریخ ثانی ادخال شہادت کے واسطے مقرر ہوئی تو مدعی نے اس تاریخ پر ایك درخواست کچہری میں پیش کی کہ مدعاعلیہ کا حلف لیاجائے گواہ اپنے سنوانا نہیں چاہتاتو اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسی صورت میں مدعاعلیہ حلف اٹھانے پر مجبور کیاجاسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر گواہ شہر میں موجود ہیں تو مدعاعلیہ سے حلف نہیں لے سکتا بلکہ مدعی ہی سے گواہ لئے جائیں گے اور اگر دور ہیں تو حلف مانگ سکتا ہے
فی الدرالمختار قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصرو طلب یمین خصمہ لم یحلف ولو غائبۃ عن المصر حلف وقدر فی المجتبی الغیبۃ بمدۃ درمختار میں ہے مدعی نے کہا میرے گواہ شہر میں ہیںاس کے بعد اس نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا تو قسم نہ لی جائیگیہاں اگرشہرمیں موجود نہ ہوں تو قسم لے لی جائیگی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے قول پربعض نے فرمایا کہ گواہوں کا مسافت سفر تك غائب
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱€۶
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۸€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۸€
السفر اھ اقول:عبارۃ المجتبی علی مافی قرۃ العیون قال بینتی غائبۃ عن المصر حلف عندابی حنیفۃ وقیل قدر الغیبۃ بمسیرۃ سفراھ وقد قالواکمافی البحر وغیرہ ان لو بعد مکان القاضی بحیث ان حضر للشہادہ لم یؤوہ اللیل الی اھلہ لم یلزمہ الحضور فافھمواﷲ تعالی اعلم۔ ہونا معیار ہے جیسا کہ مجتبی میں ہے۔میں کہتا ہوں قرۃ العیون میں مجتبی کی عبارت یوں ہے مدعی نے کہا میرے گواہ شہر سے غائب ہیں امام ابوحنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك قسم لی جائیگیبعض نے فرمایا مسافت سفر پر ہونا گواہوں کا غائب ہونا مراد ہے اھحالانکہ فقہاء کرام نے فرمایا جیسا کہ بحروغیرہ میں ہے کہ اگر قاضی کا مقام اتنی دور ہے کہ گواہ شہادت کیلئے حاضر ہوں تو واپس رات گھر نہیں پہنچ سکتے تو ایسی صورت میں مدعی کو گواہوں کا حاضر کرنا لازم نہ ہوگااس کو سمجھو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۷: ازریاست رامپور مکان حافظ محمد عنایت اﷲ خاں صاحب متصل مرزا شاہ ولی اﷲ صاحب صاحبزادہ امجد علی خان صاحب ۱۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مقدمہ میں عدالت سے جانب مدعا علیہ حسب درخواست مدعی حلف متوجہ ہوا اور حلف لینے کے لئے دوسرے محکمہ کے نام عدالت نے حکم دیا جس مضمون کے ساتھ واسطے لینے حلف کے ہدایت اور ایما ہوا وہ حسب یادداشت عدالت دیوانی معطوفہ سوال ہذا ہے محکمہ حلف گیرندہ نے ہر ہر چیز انکاری واقراری کی بابت جدا جدا حلف لیا لیکن عدالت دیوانی کی یادداشت کے جواب میں جو یاد داشت جوابی لکھی ہے وہ معطوفہ سوال ہذا ہے اور یہ امر بھی لائق اظہار ہے کہ جن الفاظ اور مضمون کے ساتھ حلف لیاگیا وہ حسب منشاء وکیل مدعی لیا گیا اب مدعی کو یہ عذر ہے کہ حسب منشاء تحریر عدالت حلف نہیں لیا گیا کیونکہ منشاء حکم عدالت کا یہ تھا کہ مدعا علیہا سے اس طرح پرحلف لیا جائے تاکہ اشیائے مندرجہ فرد میں سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی اس قیمت اور اس وزن کی یا اس سے کم قیمت اور کم وزن کی بابت متروکہ ضیا النساء بیگم کے مدعی علیہا کے پاس نہیں ہے نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئے اور عدالت گیرندہ حلف نے مضمون انکاری کے ساتھ نہ قید متروکہ ضیاء النساء بیگم کی لگائی نہ حلف کل یا جز و یعنی اس قیمت اور وزن کے اشیاء پر جو مندرجہ فرد ہیں یا اس سے کم قیمت اورکم وزن پر لیا گیا لہذا امور ذیل کے بابت جواب مطلوب ہے:
مسئلہ۷۷: ازریاست رامپور مکان حافظ محمد عنایت اﷲ خاں صاحب متصل مرزا شاہ ولی اﷲ صاحب صاحبزادہ امجد علی خان صاحب ۱۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مقدمہ میں عدالت سے جانب مدعا علیہ حسب درخواست مدعی حلف متوجہ ہوا اور حلف لینے کے لئے دوسرے محکمہ کے نام عدالت نے حکم دیا جس مضمون کے ساتھ واسطے لینے حلف کے ہدایت اور ایما ہوا وہ حسب یادداشت عدالت دیوانی معطوفہ سوال ہذا ہے محکمہ حلف گیرندہ نے ہر ہر چیز انکاری واقراری کی بابت جدا جدا حلف لیا لیکن عدالت دیوانی کی یادداشت کے جواب میں جو یاد داشت جوابی لکھی ہے وہ معطوفہ سوال ہذا ہے اور یہ امر بھی لائق اظہار ہے کہ جن الفاظ اور مضمون کے ساتھ حلف لیاگیا وہ حسب منشاء وکیل مدعی لیا گیا اب مدعی کو یہ عذر ہے کہ حسب منشاء تحریر عدالت حلف نہیں لیا گیا کیونکہ منشاء حکم عدالت کا یہ تھا کہ مدعا علیہا سے اس طرح پرحلف لیا جائے تاکہ اشیائے مندرجہ فرد میں سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی اس قیمت اور اس وزن کی یا اس سے کم قیمت اور کم وزن کی بابت متروکہ ضیا النساء بیگم کے مدعی علیہا کے پاس نہیں ہے نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئے اور عدالت گیرندہ حلف نے مضمون انکاری کے ساتھ نہ قید متروکہ ضیاء النساء بیگم کی لگائی نہ حلف کل یا جز و یعنی اس قیمت اور وزن کے اشیاء پر جو مندرجہ فرد ہیں یا اس سے کم قیمت اورکم وزن پر لیا گیا لہذا امور ذیل کے بابت جواب مطلوب ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۹€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الدعوٰی مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۳۵۰€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الدعوٰی مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۳۵۰€
اول: جو یادداشت عدالت گیرندہ حلف نے بجواب یادداشت عدالت دیوانی تحریر کی ہے اس سے پورے طور پر تعمیل حکم عدالت دیوانی ہوگئی یانہیں۔
دوم:یا دداشت عدالت دیوانی میں جو یہ مضمون تحریر ہے(کہ اشیائے مندرجہ فرد منسبلکہ حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد متروکہ ضیاء النساء بیگم سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم کے پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے اھ) اس کا منشایہ ہے کہ اشیائے مندرجہ فردحسب وزن وقیمت مندرجہ فرد میں کل چیزیں یا بعض چیزیں اس قیمت اور وزن کی جو مندرجہ فرد ہیں مدعا علیہا کے پاس نہیں ہیں نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعی علیہا کے قبضہ میں آئیں یا منشاء حکم عدالت یہ ہے کہ کل یا جز واشیائے مندرجہ بہ تعداد قیمت مندرجہ یعنی اسی قیمت اور وزن کے اشیاء یا اس سے کم وزن اور قیمت کے اشیاء بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم مدعا علیہا کے پاس نہیں ہیں نہ مسماۃ مذکور کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئیں یعنی لفظ کل اور جزوکا اطلاق تعداد اشیاء پر ہے یعنی کل اور جزواشیاء کا مراد ہے۔
سوم: یا دداشت میں محکمہ گیرندہ حلف نے جو لفط متروکہ ضیاء النساء بیگم تحریر نہیں کیا اس سے حلف کی تعمیل میں کوئی نقصان تو پیدا نہیں ہو ااس لئے کہ پیشتر مدعا علیہا سے بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم سوال کرکے حلف لیا گیا ہے دوسرے اس محل پر نفی مطلق سے نفی مقید ہوگئی یانہیں۔
چہارم: ایك مرتبہ جن الفاظ کے ساتھ وکیل مدعی نے جس کوحق حلف لینے کاحاصل تھا چاہا اسکے موافق حلف لیا گیا اب دوبارہ مدعی کو یاعدالت کو دوسرے طور پر پھر حق حلف لینے کا حاصل ہے یانہیں۔
پنجم: اشیاء متدعویہ کے انکار پر حلف لیا جاتا ہے نہ غیر متدعویہ پرپس یہ بات لائق دریافت ہے کہ جب مدعی نے ایك عدد زیور وغیرہ کے وزن اور قیمت کے ساتھ مقید کرکے دعوی کیا تو اس وزن اور قیمت سے کم مقدار اور وزن کے وہ شے متدعویہ قرار پائے گی یانہیں۔
نقل یادداشت عدالت دیوانی بمقدمہ خیرالنساء بیگم مدعیہ بنام امیر النساء بیگم بنت صاحبزادہ محمد باقر علی خاں زوجہ صاحبزادہ محمد ہادی علی خاں صاحب مرحوم مدعا علیہا ساکن محلہ قریب گھیر عثمان خاں دعوی دہایندگی حصہ فرائض از جائداد متروکہ مسماۃ ضیاء النساء بیگم مدعا علیہا نے نسبت جائداد مدعا علیہا اکثر کی نسبت انکار ترکہ ضیاء النساء بیگم سے کیا ہے اور مدعیہ نے نسبت جائداد منقولہ بحالت انکار حلف مدعا علیہا پر کیا ہے اور مدعا علیہا کوادائے حلف میں انکار نہیں ہے اور فریقین اہل خاندان سے ہیں اس لئےتعمیل حلف کونسل خاندان کے ذرعیہ سے ہونا مناسب ہے لہذا بذریعہ یا دداشت ہذانقل حکم و نقل فرد اشیاء مرسل ہوکر گزارش ہے کہ کاغذات ہذ ابنابر تعمیل حلف کونسل خاندان میں ارسال
دوم:یا دداشت عدالت دیوانی میں جو یہ مضمون تحریر ہے(کہ اشیائے مندرجہ فرد منسبلکہ حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد متروکہ ضیاء النساء بیگم سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم کے پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے اھ) اس کا منشایہ ہے کہ اشیائے مندرجہ فردحسب وزن وقیمت مندرجہ فرد میں کل چیزیں یا بعض چیزیں اس قیمت اور وزن کی جو مندرجہ فرد ہیں مدعا علیہا کے پاس نہیں ہیں نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعی علیہا کے قبضہ میں آئیں یا منشاء حکم عدالت یہ ہے کہ کل یا جز واشیائے مندرجہ بہ تعداد قیمت مندرجہ یعنی اسی قیمت اور وزن کے اشیاء یا اس سے کم وزن اور قیمت کے اشیاء بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم مدعا علیہا کے پاس نہیں ہیں نہ مسماۃ مذکور کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئیں یعنی لفظ کل اور جزوکا اطلاق تعداد اشیاء پر ہے یعنی کل اور جزواشیاء کا مراد ہے۔
سوم: یا دداشت میں محکمہ گیرندہ حلف نے جو لفط متروکہ ضیاء النساء بیگم تحریر نہیں کیا اس سے حلف کی تعمیل میں کوئی نقصان تو پیدا نہیں ہو ااس لئے کہ پیشتر مدعا علیہا سے بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم سوال کرکے حلف لیا گیا ہے دوسرے اس محل پر نفی مطلق سے نفی مقید ہوگئی یانہیں۔
چہارم: ایك مرتبہ جن الفاظ کے ساتھ وکیل مدعی نے جس کوحق حلف لینے کاحاصل تھا چاہا اسکے موافق حلف لیا گیا اب دوبارہ مدعی کو یاعدالت کو دوسرے طور پر پھر حق حلف لینے کا حاصل ہے یانہیں۔
پنجم: اشیاء متدعویہ کے انکار پر حلف لیا جاتا ہے نہ غیر متدعویہ پرپس یہ بات لائق دریافت ہے کہ جب مدعی نے ایك عدد زیور وغیرہ کے وزن اور قیمت کے ساتھ مقید کرکے دعوی کیا تو اس وزن اور قیمت سے کم مقدار اور وزن کے وہ شے متدعویہ قرار پائے گی یانہیں۔
نقل یادداشت عدالت دیوانی بمقدمہ خیرالنساء بیگم مدعیہ بنام امیر النساء بیگم بنت صاحبزادہ محمد باقر علی خاں زوجہ صاحبزادہ محمد ہادی علی خاں صاحب مرحوم مدعا علیہا ساکن محلہ قریب گھیر عثمان خاں دعوی دہایندگی حصہ فرائض از جائداد متروکہ مسماۃ ضیاء النساء بیگم مدعا علیہا نے نسبت جائداد مدعا علیہا اکثر کی نسبت انکار ترکہ ضیاء النساء بیگم سے کیا ہے اور مدعیہ نے نسبت جائداد منقولہ بحالت انکار حلف مدعا علیہا پر کیا ہے اور مدعا علیہا کوادائے حلف میں انکار نہیں ہے اور فریقین اہل خاندان سے ہیں اس لئےتعمیل حلف کونسل خاندان کے ذرعیہ سے ہونا مناسب ہے لہذا بذریعہ یا دداشت ہذانقل حکم و نقل فرد اشیاء مرسل ہوکر گزارش ہے کہ کاغذات ہذ ابنابر تعمیل حلف کونسل خاندان میں ارسال
فرمائے جائیں کہ مدعا علیہا سے اسی طرح حلف لیا جائے کہ اشیائے مندرجہ فرد منسبلکہ حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد متروکہ ضیاء النساء بیگم سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم کے پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے نہ ضیاء النساء کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئی اشیاء مندرجہ کی قیمت اور وز ن او ر تعداد اول مدعا علیہا کو سنا کر بمواجہہ وکلاء فریقین حلف لیا جائے۔دستخط حاکم نقل یادداشت محکمہ گیرندہ حلف حسب صدور حکم اجلاس اعلی مثبتہ ناصیہ یا دداشت حاکم عدالت دیوانی ضلع بمقدمہ خیرالنساء بیگم مدعیہ موسومہ امیر النساء بیگم مدعا علیہا بدعوی دہایندگی سہ سہام منجملہ۱۸سہام مالیتی مبلغ(ما ع صما)روپیہ از کل جائداد منقولہ متروکہ مسماۃ ضیاء النسا بیگم واقع شہر رام پور قیمتی(صہ ع)روپیہ فہرست منسبلکہ زیور و ظروف وغیر ہ حرفا حرفا مدعا علیہا کو بمواجھہ وکلاء فریقین بشناخت صاحبزادہ فرخ طور خاں بہادر مدعیہ سنائے گئے اور قرآن شریف ہاتھ میں دیگر بموجب منشاء مضمون یا دداشت عدالت دیوانی متوجہ بحلف کیاگیا مدعاعلیہا نے ہر ایك عدد زیور طلائی و نقرئی و دیگر سامان نقرئی مندرجہ فہرست معہ تعداد وزن وقیمت سن کر بحلف بیان کیا کہ کل اشیائے زیور طلائی ونقرئی و دیگر سامان نقرئی اس قیمت اور اس تعداد اور اس وزن کا میرے پاس نہیں ہے اور کل پارچہائے پوشیدنی قسم گوٹہ وغیرہ ہر ایك تفصیل وار سن کر بحلف کہا کہ میرے پاس اس تعدد اور اس قیمت کے نہیں ہیں جملہ سامان فروش تفصیل وار سن کر دو غلیچہ رنگ سیاہ قیمتی ( عہ)روپیہ کی نسبت حلفا کہا کہ میرے پاس ہیں لیکن اس قیمت کے نہیں ہیں باقی کل قسم فرش کے بابت حلف مذہبی نسبت عدم موجودگی کیا سامان چوبی مفصلا مدعاعلیہا کوسنایا گیا منجملہ کل سامان کے بیس عدد چوکیاں چوب سار قیمتی مبلغ تیس روپے کی نسبت حلف سے انکار کیااور دو پلنگ نواڑ کلاں قیمتی مبلغ بیس روپے کی نسبت مدعا علیہا نے بحلف کہا کہ میرے پاس ہیں لیکن قیمت کا حال معلوم نہیں مابقی کل سامان چوبی کی عدم موجودگی پر حلف لیا چونکہ کارروائی حلف کی بہ تعمیل حکم اجلاس اعلی حسب منشاء عدالت دیوانی ہوگئی لہذا جملہ کاغذات ذریعہ یادداشت ہذا باجلاس اعلی نواب مدارالمہارم صاحب بہادر مرسل ہیں فقط دستخط حاکم بینواتوجروا۔
الجواب:
کل یا جز سے مراد یہی ہے کہ اشیائے مدعی بہا جمیع یا بعض نہ یہ کہ خود وہ اشیاء یا ان سے کم وزن و قیمت کی چیزیں خود عبارت حاکم دیوانی میں تفسیر موجود تھی کہ اشیائے مندرجہ فرد حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد سے کل یا جز یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی اور یہی طریقہ مقررہ استحلاف ہے کہ احتیاط بعض دعوی بھی شامل حلف کرلیتے ہیں۔
الجواب:
کل یا جز سے مراد یہی ہے کہ اشیائے مدعی بہا جمیع یا بعض نہ یہ کہ خود وہ اشیاء یا ان سے کم وزن و قیمت کی چیزیں خود عبارت حاکم دیوانی میں تفسیر موجود تھی کہ اشیائے مندرجہ فرد حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد سے کل یا جز یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی اور یہی طریقہ مقررہ استحلاف ہے کہ احتیاط بعض دعوی بھی شامل حلف کرلیتے ہیں۔
ہندیہ میں ہے:
یحلف باﷲ ماھذا العین لفلان بن فلان ولاشیئ منہ یجمع بین الکل والبعض احتیاطاکذافی المحیط ۔ حلف یوں دے گا خدا کی قسم یہ خاص چیز یا اس کا کچھ حصہ فلاں بن فلاں کا نہیں ہے قسم میں اس چیز کے کل اور بعض کوذکر کرے احتیاطامحیط میں ایسے ہے۔(ت)
عامہ کتب میں تمام امثلہ دیکھی جائیں یہی بڑھاتے ہیں کہ ولاشیئ اخراقل منہ قیمۃ و وزنا(نہ کسی اور چیز کو جو اس سے قیمت اور وزن میں کم ہے۔ت)اس میں یہ ہے کہ حلف دعوی پر لیا جاتا ہے نہ کہ امر خارج عن الدعوی پر۔ہدایہ میں ہے:
وان عجز عن ذلك وطلب یمین خصمہ استحلفہ علیہا ۔ مدعی اگر گواہ پیش کرنے سے عاجز ہو اور مخالف کی قسم کا مطالبہ کرے تو قسم لی جائے(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
ای ان عجز المدعی عن اقامۃ البینۃ وطلب یمین المدعی علیہ استحلفہ القاضی حینئذ علی دعواہ ۔ یعنی اگر مدعی گواہی پیش کرنے سے عاجز ہو اور مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرے تو اس پر قاضی مدعی علیہ سے دعوی کے متعلق قسم لے(ت)
یمین دعوی صحیحہ کے سوا فاسدہ پر مترتب ہوتی نہیںمعدومہ پر کیونکر مترتب ہوسکتی ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
الاستحلاف یجری فی الدعاوی الصحیحۃ دون فاسد تھا کذافی الفصول العمادیۃ ۔ قسم صحیح دعووں پر جاری ہوگی فاسد دعووں پر نہ ہوگیفصول العمادیہ میں یونہی ہے۔(ت)
اور بعض دعوی داخل دعوی ہے ولہذااگر شاہدین یا ایك بعض دعوی پر شہادت دیں قد ر بعض
یحلف باﷲ ماھذا العین لفلان بن فلان ولاشیئ منہ یجمع بین الکل والبعض احتیاطاکذافی المحیط ۔ حلف یوں دے گا خدا کی قسم یہ خاص چیز یا اس کا کچھ حصہ فلاں بن فلاں کا نہیں ہے قسم میں اس چیز کے کل اور بعض کوذکر کرے احتیاطامحیط میں ایسے ہے۔(ت)
عامہ کتب میں تمام امثلہ دیکھی جائیں یہی بڑھاتے ہیں کہ ولاشیئ اخراقل منہ قیمۃ و وزنا(نہ کسی اور چیز کو جو اس سے قیمت اور وزن میں کم ہے۔ت)اس میں یہ ہے کہ حلف دعوی پر لیا جاتا ہے نہ کہ امر خارج عن الدعوی پر۔ہدایہ میں ہے:
وان عجز عن ذلك وطلب یمین خصمہ استحلفہ علیہا ۔ مدعی اگر گواہ پیش کرنے سے عاجز ہو اور مخالف کی قسم کا مطالبہ کرے تو قسم لی جائے(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
ای ان عجز المدعی عن اقامۃ البینۃ وطلب یمین المدعی علیہ استحلفہ القاضی حینئذ علی دعواہ ۔ یعنی اگر مدعی گواہی پیش کرنے سے عاجز ہو اور مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرے تو اس پر قاضی مدعی علیہ سے دعوی کے متعلق قسم لے(ت)
یمین دعوی صحیحہ کے سوا فاسدہ پر مترتب ہوتی نہیںمعدومہ پر کیونکر مترتب ہوسکتی ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
الاستحلاف یجری فی الدعاوی الصحیحۃ دون فاسد تھا کذافی الفصول العمادیۃ ۔ قسم صحیح دعووں پر جاری ہوگی فاسد دعووں پر نہ ہوگیفصول العمادیہ میں یونہی ہے۔(ت)
اور بعض دعوی داخل دعوی ہے ولہذااگر شاہدین یا ایك بعض دعوی پر شہادت دیں قد ر بعض
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الدعوٰی الباب الثالث الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۷€
ہدایہ کتاب الدعوٰی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۰۱€
غایۃ البیان
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الدعوٰی الباب الثالث الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳€
ہدایہ کتاب الدعوٰی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۰۱€
غایۃ البیان
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الدعوٰی الباب الثالث الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳€
میں قبول کرلیں گے۔خانیہ میں ہے:
اذا ادعی کل الدار فشہد والہ بنصف الدار جازت شہادتھم ویقضی بالنصف من غیر توفیق ۔ مدعی نے کل مکان کا دعوی کیا تو گواہوں نے نصف مکان کی شہادت دی فیصلہ نصف مکان پر ہوگا بغیر موافقت پیدا کئے(ت)
بخلاف دیگر اشیاء مخالفۃ الوزن والقیمۃ کہ وہ غیر مدعی بہا ہیں اور وزن وقیمت میں کم ہونا بعضیت نہیں ہر عاقل جانتا ہے کہ مثلا دو تولے سونے کے دوبالے قیمتی ساٹھ روپے اور دو بالے ایك تولے سونے کے تیس روپے قیمت کے ہوںیہ بالے ان کے بعض و جز نہیں بلکہ غیر وجدا چیز ہیںشیئ غیر حاضر میں ذکر وزن و قیمت اس کی تعریف و تعیین ہی کے لئے ہے تو اس کا غیر معین کا غیر ہے نہ جز۔ہدایہ میں ہے:
لایقبل الدعوی حتی یذکر شیئا معلوما فی جنسہ وقد رہ لان فائدۃ الدعوی الالزامبواسطۃ اقامۃ الحجۃ والالزام فی المجہول لایتحقق فان کان عینا فی ید المدعی علیہ کلف احضارھا لیشیر الیہا بالدعوی وکذا فی الشہادۃ والاستحلاف لان الاعلام باقصی ما یمکن شرط وذلك بالاشارۃ فی المنقول وان لم تکن حاضرۃ ذکرقیمتہا لیصیر المدعی معلوما لان العین لاتعرف بالوصف والقیمۃ تعرف بہ ۔ جنس اور قد رمیں معلوم چیز کے ذکرکے بغیر دعوی قبول نہ ہوگا کیونکہ دعوی کا فائدہ حجت کے ذریعہ الزام قائم کرنا ہے اور مجہول کا الزام متحقق نہیں ہوسکتا اور اگر وہ چیز مدعی علیہ کے قبضہ میں ہوتو اس کو حاضر کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ مدعی اس کی طرف دعوی کرتے ہوئے اشارہ کرسکےاور شہادت اور قسم میں بھی ایسے کیا جائے کیونکہ تمام مراحل میں ہرممکن حد تك تعارف ضروری ہے اوریہ منقول چیزمیں اشارہ سےہی حاصل ہوسکتا ہے اگر وہ چیز حاضر نہ ہو تو اس کی قیمت ذکر کرے تاکہ مدعا واضح ہوسکے کیونکہ خاص چیز کا تعارف اس کے وصف سے نہیں بلکہ اس کی قیمت سے ہوتا ہے(ت)
ہندیہ میں ہے:
اذاادعی جوھرا لابد من ذکر الوزن اذاکان غائبا وکان المدعی علیہ اگر کسی جوہری چیز کا دعوی ہوتو اس کے وزن کا ذکر ضروری ہے اگر وہ غائب ہواور مدعا علیہ اس کے قبضہ
منکرا کون ذلك فی یدہ کذافی السراجیۃ وفی اللؤلؤ یذکردورہ وضوء ہ ووزنہ کذافی خزانۃ المفتین ۔ سے انکار ی ہوسراجیہ میں یوں ہے اور موتیوں کے دعوی میں اس کی گولائیچمك اور وزن کو ذکر کرے جیساکہ خزانۃ المفتین میں ہے(ت)
وجیز امام کردری نوع اخیر فصل خامس عشر من الدعوی میں ہے:
فی دعوی الدیباج والجوہر یشترط ذکرالوزن اذالم یکن حاضرا وان حاضرا فلا لتفوت القیمۃ بتفاوت الوزن ۔ ریشمی کپڑے اور جواہر میں وزن کا ذکر شرط ہے جب حاضر نہ ہو اور اگر حاضر ہوتوضروری نہیں کیونکہ وزن کے اختلاف سے قیمت میں اختلاف ہوتا ہے(ت)
اذا ادعی کل الدار فشہد والہ بنصف الدار جازت شہادتھم ویقضی بالنصف من غیر توفیق ۔ مدعی نے کل مکان کا دعوی کیا تو گواہوں نے نصف مکان کی شہادت دی فیصلہ نصف مکان پر ہوگا بغیر موافقت پیدا کئے(ت)
بخلاف دیگر اشیاء مخالفۃ الوزن والقیمۃ کہ وہ غیر مدعی بہا ہیں اور وزن وقیمت میں کم ہونا بعضیت نہیں ہر عاقل جانتا ہے کہ مثلا دو تولے سونے کے دوبالے قیمتی ساٹھ روپے اور دو بالے ایك تولے سونے کے تیس روپے قیمت کے ہوںیہ بالے ان کے بعض و جز نہیں بلکہ غیر وجدا چیز ہیںشیئ غیر حاضر میں ذکر وزن و قیمت اس کی تعریف و تعیین ہی کے لئے ہے تو اس کا غیر معین کا غیر ہے نہ جز۔ہدایہ میں ہے:
لایقبل الدعوی حتی یذکر شیئا معلوما فی جنسہ وقد رہ لان فائدۃ الدعوی الالزامبواسطۃ اقامۃ الحجۃ والالزام فی المجہول لایتحقق فان کان عینا فی ید المدعی علیہ کلف احضارھا لیشیر الیہا بالدعوی وکذا فی الشہادۃ والاستحلاف لان الاعلام باقصی ما یمکن شرط وذلك بالاشارۃ فی المنقول وان لم تکن حاضرۃ ذکرقیمتہا لیصیر المدعی معلوما لان العین لاتعرف بالوصف والقیمۃ تعرف بہ ۔ جنس اور قد رمیں معلوم چیز کے ذکرکے بغیر دعوی قبول نہ ہوگا کیونکہ دعوی کا فائدہ حجت کے ذریعہ الزام قائم کرنا ہے اور مجہول کا الزام متحقق نہیں ہوسکتا اور اگر وہ چیز مدعی علیہ کے قبضہ میں ہوتو اس کو حاضر کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ مدعی اس کی طرف دعوی کرتے ہوئے اشارہ کرسکےاور شہادت اور قسم میں بھی ایسے کیا جائے کیونکہ تمام مراحل میں ہرممکن حد تك تعارف ضروری ہے اوریہ منقول چیزمیں اشارہ سےہی حاصل ہوسکتا ہے اگر وہ چیز حاضر نہ ہو تو اس کی قیمت ذکر کرے تاکہ مدعا واضح ہوسکے کیونکہ خاص چیز کا تعارف اس کے وصف سے نہیں بلکہ اس کی قیمت سے ہوتا ہے(ت)
ہندیہ میں ہے:
اذاادعی جوھرا لابد من ذکر الوزن اذاکان غائبا وکان المدعی علیہ اگر کسی جوہری چیز کا دعوی ہوتو اس کے وزن کا ذکر ضروری ہے اگر وہ غائب ہواور مدعا علیہ اس کے قبضہ
منکرا کون ذلك فی یدہ کذافی السراجیۃ وفی اللؤلؤ یذکردورہ وضوء ہ ووزنہ کذافی خزانۃ المفتین ۔ سے انکار ی ہوسراجیہ میں یوں ہے اور موتیوں کے دعوی میں اس کی گولائیچمك اور وزن کو ذکر کرے جیساکہ خزانۃ المفتین میں ہے(ت)
وجیز امام کردری نوع اخیر فصل خامس عشر من الدعوی میں ہے:
فی دعوی الدیباج والجوہر یشترط ذکرالوزن اذالم یکن حاضرا وان حاضرا فلا لتفوت القیمۃ بتفاوت الوزن ۔ ریشمی کپڑے اور جواہر میں وزن کا ذکر شرط ہے جب حاضر نہ ہو اور اگر حاضر ہوتوضروری نہیں کیونکہ وزن کے اختلاف سے قیمت میں اختلاف ہوتا ہے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات باب من الشہادۃ التی یکذب المدعی ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۳/ ۵۴۶€
الہدایہ کتاب الدعوٰی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۰۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الدعوی نوع من الفصل الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۲۵€
الہدایہ کتاب الدعوٰی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۰۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الدعوی نوع من الفصل الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۲۵€
اسی کی نوع مذکور میں ہے:
ذکر الوتارادعی زندنیجا طولہ بذرعان خوارزم کذا وشھد وابذلك کذلك بحضرۃ الزندنیجی فذرع فاذا ھو ازید اوانقص بطلت الشہادۃ والدعوی کما اذا خالف سن الدابۃ الدعوی او الشہادۃ وقولھم الذرع وصف فیلغوفی الحاضر ذلك فی الایمان والبیع لافی الدعوی والشہادۃ فانھما اذاشھدابوصف فظھر خلافہ لایقبل وذکر ایضا ادعی حدیدامشاراالیہ و ذکرانہ عشرۃ امناء فاذاھو عشرون او ثمانیۃ تقبل الدعوی والشھادۃ لان الوزن فی مشار الیہ لغوا اھ قلت وقولاہ علی اختلافھما مجمعان زندنیجا کا دعوی کیا اس کی پیمائش خوارزمی گزوں سے بتائی کہ اتنی ہے اور گواہوں نے بھی یہی گواہی دی زندنیجی حاضر کی گئی اور پیمائش کرنے پر مذکورہ پیمائش سے کم یا زیادہ ہوئی تو دعوی اور شہادت دونوں باطل ہوجائیں گی جیسا کہ دعوی اور شہادت میں جانورکی عمرو کا معاملہ ہےباقی رہا فقہاء کا یہ ارشاد کہ پیمائش وصف ہے تو حاضر میں اس کاذکر لغو ہوتا ہے تو یہ ضابطہ قسم اور بیع میں ہے دعوی اور شہادت میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں جب وصف کو ذکر کیا تو اس کاخلاف ظاہر ہونے پر مقبول نہ ہونگےاور یہ بھی ذکر کیا کہ موجود لو ہے پر اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا اور بتایا کہ اس کا وزن دس من ہے تو وہ بیس یاآٹھ من نکلا تو دعوی اور شہادت مقبول ہوگی کیونکہ مشار الیہ
ذکر الوتارادعی زندنیجا طولہ بذرعان خوارزم کذا وشھد وابذلك کذلك بحضرۃ الزندنیجی فذرع فاذا ھو ازید اوانقص بطلت الشہادۃ والدعوی کما اذا خالف سن الدابۃ الدعوی او الشہادۃ وقولھم الذرع وصف فیلغوفی الحاضر ذلك فی الایمان والبیع لافی الدعوی والشہادۃ فانھما اذاشھدابوصف فظھر خلافہ لایقبل وذکر ایضا ادعی حدیدامشاراالیہ و ذکرانہ عشرۃ امناء فاذاھو عشرون او ثمانیۃ تقبل الدعوی والشھادۃ لان الوزن فی مشار الیہ لغوا اھ قلت وقولاہ علی اختلافھما مجمعان زندنیجا کا دعوی کیا اس کی پیمائش خوارزمی گزوں سے بتائی کہ اتنی ہے اور گواہوں نے بھی یہی گواہی دی زندنیجی حاضر کی گئی اور پیمائش کرنے پر مذکورہ پیمائش سے کم یا زیادہ ہوئی تو دعوی اور شہادت دونوں باطل ہوجائیں گی جیسا کہ دعوی اور شہادت میں جانورکی عمرو کا معاملہ ہےباقی رہا فقہاء کا یہ ارشاد کہ پیمائش وصف ہے تو حاضر میں اس کاذکر لغو ہوتا ہے تو یہ ضابطہ قسم اور بیع میں ہے دعوی اور شہادت میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں جب وصف کو ذکر کیا تو اس کاخلاف ظاہر ہونے پر مقبول نہ ہونگےاور یہ بھی ذکر کیا کہ موجود لو ہے پر اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا اور بتایا کہ اس کا وزن دس من ہے تو وہ بیس یاآٹھ من نکلا تو دعوی اور شہادت مقبول ہوگی کیونکہ مشار الیہ
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الدعوی نوع من الفصل الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۲۱€
علی اعتبار الوزن فی الغائب اما الاول فظاہر فانہ اذا اعتبر الوصف فی الحاضر فا عتبار العین فی الغیب اولی بدرجتین اماعرف فی موضعہ ان الذراع وصف و القدر عین واما الثانی فلان الالغاء للاشارۃ فاذا انتفی انتفی۔ میں وزن کاذکر لغو ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)اس کے دونوں متخالف قول غائب چیز میں وزن کے اعتبار میں جمع ہوسکتے ہیں پس اول ظاہر ہے اس لئے کہ جب حاضر میں وصف کا اعتبار ہوگا تو غائب میں بطریق اولی دو درجہ ہوگا کیا معلوم نہیں کہ ذراع وصف اور قدر عینی چیز ہے اور دوسرا اس لئے کہ لغو ہونا اشارہ کی وجہ سے ہے تو جب اشارہ معدوم ہوجائے تو لغو ہونا معدوم ہوجائیگا(ت)
غرض وکیل مدعیہ کا یہ عذر مسموع نہیں اب باقی امور کی طرف چلئے پیش از حلف جو مکالمہ محکمہ حلف گیرندہ وحالفہ میں آیا وہ نہ یا دداشت میں مسطور نہ سوال میں مذکور جس پر بالخصوص رائے قائم کی جائے مگر ملاحظہ یادداشت محکمہ حلف سے ایساظاہر ہوتا ہے کہ فرد اشیائے مدعی بہا بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم امیر النساء بیگم کو سنا کر اسے متوجہ حلف کیا گیا یعنی اس سے کہا گیا کہ ان اشیاء کی نسبت بحلف بیان کرو اس نے کلام مذکور یا دداشت کہا جو ہر طرح سخن مستقل ہے اور اس میں ترکہ ضیاء النساء بیگم کا کہیں ذکر نہیں ہوسکتا تو عبارت حلف سے پیشترکسی کلام میں ذکر متروکہ آجانا نفس حلف میں ذکر نہیں ہوسکتا جس نے ان معاملات میں علمائے کرام کی احتیاطیں دیکھی ہیں وہ اس کا ناکافی ہونا جانے گا جہاں آہستہ سے کسی لفظ کے بڑھالینے کا احتمال پاتے ہیں وہاں اس کے قطع کی ہدایت فرماتے ہیں مثلا شاہد کہے یہ چیز اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق یوں نہ مانیں گے کہ شاید حق کے بعد آہستہ سے نہیں کہہ لے بلکہ یوں کہلوائیں گے کہ اور اس کا حق ہےیوں ہی مدعی سے'تو جہاں کچھ بڑھانے کی بھی حاجت نہیں صرف قطع نیت و صرف ارادت سے کام چلتا ہے وہاں کیونکر پسند کریں گےہندیہ میں ہے:
فی فتاوی النسفی ینبغی للشاہد ان یقول فی شہادتہ ایں عین ملك ایں مدعی است وحق وی است حتی لایمکن ان یلحق بہ وحق وے نے بنفی وکان الشیخ الامام فخر الاسلام علی البزدوی یقول اذا قال المدعی فلاں چیز ملك من ست وحق من لایکتفی بہ وینبغی ان یقول وحق من ست ویقول فی قولہ فتاوی نسفی میں ہے گواہ کو چاہئے کہ و ہ اپنی شہادت میں یوں کہے یہ عین چیز اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق ہے تاکہ نفی کے لاحق ہونے کا احتمال نہ رہے اور امام شیخ فخر الاسلام علی بزدوی فرماتے ہیں جب مدعی کہے یہ چیز میری ملك ہے اور میر ا حقتو کافی نہ ہوگابلکہ یوں کہے اور میرا حق ہےاور اپنے قول میںفلاں کے قبضہ میں ناحقکی بجائےفلاں کا قبضہ ناحق ہے
غرض وکیل مدعیہ کا یہ عذر مسموع نہیں اب باقی امور کی طرف چلئے پیش از حلف جو مکالمہ محکمہ حلف گیرندہ وحالفہ میں آیا وہ نہ یا دداشت میں مسطور نہ سوال میں مذکور جس پر بالخصوص رائے قائم کی جائے مگر ملاحظہ یادداشت محکمہ حلف سے ایساظاہر ہوتا ہے کہ فرد اشیائے مدعی بہا بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم امیر النساء بیگم کو سنا کر اسے متوجہ حلف کیا گیا یعنی اس سے کہا گیا کہ ان اشیاء کی نسبت بحلف بیان کرو اس نے کلام مذکور یا دداشت کہا جو ہر طرح سخن مستقل ہے اور اس میں ترکہ ضیاء النساء بیگم کا کہیں ذکر نہیں ہوسکتا تو عبارت حلف سے پیشترکسی کلام میں ذکر متروکہ آجانا نفس حلف میں ذکر نہیں ہوسکتا جس نے ان معاملات میں علمائے کرام کی احتیاطیں دیکھی ہیں وہ اس کا ناکافی ہونا جانے گا جہاں آہستہ سے کسی لفظ کے بڑھالینے کا احتمال پاتے ہیں وہاں اس کے قطع کی ہدایت فرماتے ہیں مثلا شاہد کہے یہ چیز اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق یوں نہ مانیں گے کہ شاید حق کے بعد آہستہ سے نہیں کہہ لے بلکہ یوں کہلوائیں گے کہ اور اس کا حق ہےیوں ہی مدعی سے'تو جہاں کچھ بڑھانے کی بھی حاجت نہیں صرف قطع نیت و صرف ارادت سے کام چلتا ہے وہاں کیونکر پسند کریں گےہندیہ میں ہے:
فی فتاوی النسفی ینبغی للشاہد ان یقول فی شہادتہ ایں عین ملك ایں مدعی است وحق وی است حتی لایمکن ان یلحق بہ وحق وے نے بنفی وکان الشیخ الامام فخر الاسلام علی البزدوی یقول اذا قال المدعی فلاں چیز ملك من ست وحق من لایکتفی بہ وینبغی ان یقول وحق من ست ویقول فی قولہ فتاوی نسفی میں ہے گواہ کو چاہئے کہ و ہ اپنی شہادت میں یوں کہے یہ عین چیز اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق ہے تاکہ نفی کے لاحق ہونے کا احتمال نہ رہے اور امام شیخ فخر الاسلام علی بزدوی فرماتے ہیں جب مدعی کہے یہ چیز میری ملك ہے اور میر ا حقتو کافی نہ ہوگابلکہ یوں کہے اور میرا حق ہےاور اپنے قول میںفلاں کے قبضہ میں ناحقکی بجائےفلاں کا قبضہ ناحق ہے
وبدست فلاں بنا حق بدست فلاں بناحق است و کذلك فی نظائرہ حتی لایلحق بہ کلمۃ النفی قال الاحتیاط فی ھذا ولکن ھذا الاحتیاط فی موضع یطالب بالتسلیم کذافی الذخیرۃ ۔ اور اس قسم کے بیان میںایساچاہئے تاکہ نفی کے احق ہونے کا احتمال نہ رہےاور فرمایا احتیاط یہی ہےلیکن یہ احتیاط وہاں ضروری ہے جہاں قبضہ لینے کا مطالبہ ہوجیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت)
اور اگر پیشتر بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم سوال کرکے حلف لئے جانے کے یہ معنی ہوں کہ اول امیرالنساء بیگم سے کہلوالیا گیا کہ وہ دربارہ متروکہ ضیاء النساء بیگم حلف سے کہے گی یا واﷲ اس باب میں جو کہے گی حق کہے گی کما ھو رائج فی زماننا(جیسا کہ ہمارے زمانہ میں رائج ہے۔ت)تو یہ محض مردود و باطل ہے جو حلف شرع مطہر نے مدعا علیہ پر لازم کیا ہے اس سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا کہ یہ دربارہ مستقل یمین منعقدہ ہے جس کا کفارہ بہت آسان اور یہاں مقصود وہ یمین ہے کہ اگر کاذب ہو تو غمو س ہو جس کا انجام معاذ اﷲ ہلاکت ہے اور اس کے لئے کوئی کفارہ ہی نہیںشرح ہدایہ للعلامۃ الاتقانی صدر باب الاستحلاف میں ہے:
الیمین الکاذبۃ مھلکۃ فالمدعی علیہ متی اتوی حق المدعی فالشرع جعل الیمین الکاذبۃ حقالہ حتی تصیر مھلکۃ ایاہ بازاء مااھلك من المال اھلا کا بازاء اھلاک ۔ جھوٹی قسم ہلاکت ہےتو مدعی علیہ جب مدعی کے حق کو ضائع کرتا ہے تو شریعت نے مدعی کے لئے جھوٹی قسم کو حق قرار دیا ہے تاکہ وہ مدعی علیہ کے لئے مال کو ہلاك کے عوض ہلاکت بن جائے(ت)
اسی طرح کافی ونتائج الافکار وغیرہا اسفار میں ہے کلام مذکور امیرالنساء بیگم کا اولا نفی مطلق ہونا محل نظر ہے پاس بمعنی ملك بھی مستعمل ہے کسی سے کوئی کتاب عاریۃ مانگے اور وہ اس کے کتب خانہ میں نہ ہو تو کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس نہیں اگرچہ دور رکھی ہے اول متروکہ ضیاء النساء بیگم سے مباین ہے اور دوم خاص من وجہ بہر حال اس کی نفی اس کی نفی کو مستلزم نہیں اور عموم ہی مانئے تاہم بے ضابطگی واضحیہ استلزام نکتہ بعد الوقوع سہی مگر شرعا یمین اس طور پر لینی چاہئے کہ نکول کرے تو دعوی کا بذل یا اقرار ظاہر ہو
اور اگر پیشتر بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم سوال کرکے حلف لئے جانے کے یہ معنی ہوں کہ اول امیرالنساء بیگم سے کہلوالیا گیا کہ وہ دربارہ متروکہ ضیاء النساء بیگم حلف سے کہے گی یا واﷲ اس باب میں جو کہے گی حق کہے گی کما ھو رائج فی زماننا(جیسا کہ ہمارے زمانہ میں رائج ہے۔ت)تو یہ محض مردود و باطل ہے جو حلف شرع مطہر نے مدعا علیہ پر لازم کیا ہے اس سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا کہ یہ دربارہ مستقل یمین منعقدہ ہے جس کا کفارہ بہت آسان اور یہاں مقصود وہ یمین ہے کہ اگر کاذب ہو تو غمو س ہو جس کا انجام معاذ اﷲ ہلاکت ہے اور اس کے لئے کوئی کفارہ ہی نہیںشرح ہدایہ للعلامۃ الاتقانی صدر باب الاستحلاف میں ہے:
الیمین الکاذبۃ مھلکۃ فالمدعی علیہ متی اتوی حق المدعی فالشرع جعل الیمین الکاذبۃ حقالہ حتی تصیر مھلکۃ ایاہ بازاء مااھلك من المال اھلا کا بازاء اھلاک ۔ جھوٹی قسم ہلاکت ہےتو مدعی علیہ جب مدعی کے حق کو ضائع کرتا ہے تو شریعت نے مدعی کے لئے جھوٹی قسم کو حق قرار دیا ہے تاکہ وہ مدعی علیہ کے لئے مال کو ہلاك کے عوض ہلاکت بن جائے(ت)
اسی طرح کافی ونتائج الافکار وغیرہا اسفار میں ہے کلام مذکور امیرالنساء بیگم کا اولا نفی مطلق ہونا محل نظر ہے پاس بمعنی ملك بھی مستعمل ہے کسی سے کوئی کتاب عاریۃ مانگے اور وہ اس کے کتب خانہ میں نہ ہو تو کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس نہیں اگرچہ دور رکھی ہے اول متروکہ ضیاء النساء بیگم سے مباین ہے اور دوم خاص من وجہ بہر حال اس کی نفی اس کی نفی کو مستلزم نہیں اور عموم ہی مانئے تاہم بے ضابطگی واضحیہ استلزام نکتہ بعد الوقوع سہی مگر شرعا یمین اس طور پر لینی چاہئے کہ نکول کرے تو دعوی کا بذل یا اقرار ظاہر ہو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۰و۴۶۱€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
یہاں ہر گز ایسا نہیں اگر بے تقید متروکہ مطلقا قسم لیتے کہ فلاں فلاں اشیاء اس قیمت ووزن کی تیرے پاس نہیں وہ قسم کھانے سے انکار کرتی تو مطلق کا اقرار ہوتا جو مقید کا اقرار قرار نہ دیا جاسکتا تو نکول مہمل و فضول رہتاجامع الفصولین میں ہے:
لایفید تحلیفہ لانہ لنکول ھو کاقرار ۔ اس کو قسم دینا مفیدنہیں کیونکہ اس کے انکار پر وہ اقرار قرار پائے گا۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
فائدۃ التحلیف القضاء بالنکول فاذالم یجز القضاء بالنکول عما ذکر فکیف یجوز التحلیف بہ لان التحلیف انما یقصد لنتیجتہ واذا لم یقضی بالنکول فلا ینبغی الاشتغال بہ وکلام العقلاء یصان عن اللغو کما اشار لذلك فی البحر المنح اھ باختصار قسم کھلانے کا فائدہ انکار قسم پر فیصلہ کرنا مقصود ہے تو جہاں قسم کے انکار پر فیصلہ جائز نہ ہو قسم کھلانا کیونکر جائز ہوگا کیونکہ مقصود نتیجہ خیز قسم ہے اور جب قسم کے انکار پر فیصلہ نہ کیا جاسکے تو قسم کا شغل نہ کیا جائے حالانکہ عقلاء کے کلام کو لغو ہونے سے بچایا جاتا ہے جیسا کہ اسکی طرف بحر اور منح میں اشارہ ہے اھ باختصار(ت)
ان امور میں زیادہ نظر کی حاجت نہیں جبکہ بالبداہۃ آشکارا ہے کہ حلف مذکور محض ناکافی و مہمل واقع ہوا اور حکم حاکم دیوانی کی اصلا تعمیل نہ ہوئی حاکم نے یادداشت میں صراحۃ یہ الفاظ لکھے تھے کہ کوئی چیز اس فہرست میں کے بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضے میں آئی اس دوسرے فقرے پر مطلق لحاظ نہ ہوا صرف پاس نہیں موجود نہیں پر حلف لیا گیا جس نے حلف کو محض ناقص و ناقابل قبول کردیا ممکن کہ بعدانتقال ضیاء النساء بیگم اشیائے دعوی کل یا بعض قبضہ امیر النساء بیگم میں آئی ہوں اور اب موجود نہ ہوں اب اس کے قبضے میں نہ ہوں صرف کردی ہوں تلف کردی ہوں ہبہ کردی ہوں تو قبضہ موجودہ ووجود فی الحال کی نفی سے کیا کام نکلا لاجرم حلف میں مدعیہ کے لئے نظر یکسر متروك ہوئی اور اس کے حق تلفی صاف محتمل رہی۔جامع الفصولین میں ہے:
ذکرالخصاف فی دعوی الودیعۃ اذا لم تکن حاضرۃ یحلفہ باﷲ مالہ ھذا المال الذی ادعاہ فی یدك ودیعۃ خصا ف نے ذکر کیا ہے کہ امانت کے دعوی میں اگر چیز حاضر نہ ہوتو مدعی علیہ سے یوں قسم لی جائے کہ خدا کی قسم وہ مال جو تیرے قبضہ میں بطور امانت ہونے
ولاشیئ منہ ولالہ قبلك حق منہ لانہ متی اتلفہ اودل انسانا علیہ لم یکن فی یدہ فیکون علیہ قیمتہ فلایکتفی بقولہ فی یدك بل یضم الیہ ولالہ قبلك حق منہ احتیاطا ۔ کا دعوی کرتا ہے وہ اس کا حق نہیں اور نہ اس میں سے کچھ اس کا حق ہے اور نہ ہی تیری طرف اس کا کوئی حق ہے کیونکہ جب اس نے امانت کو تلف کردیا ہو یا کسی اور کو دے دی اور اپنے قبضہ میں نہ ہوتو اس صورت میں اس پر قیمت لازم ہوگیتوتیرے قبضہ والی بات کافی نہ ہوگی بلکہ اس کے ساتھ اور تیری طرف کوئی حق اس کے لئے نہیں ہےشامل کرنا بطور احتیاط ضروری ہے۔(ت)
لایفید تحلیفہ لانہ لنکول ھو کاقرار ۔ اس کو قسم دینا مفیدنہیں کیونکہ اس کے انکار پر وہ اقرار قرار پائے گا۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
فائدۃ التحلیف القضاء بالنکول فاذالم یجز القضاء بالنکول عما ذکر فکیف یجوز التحلیف بہ لان التحلیف انما یقصد لنتیجتہ واذا لم یقضی بالنکول فلا ینبغی الاشتغال بہ وکلام العقلاء یصان عن اللغو کما اشار لذلك فی البحر المنح اھ باختصار قسم کھلانے کا فائدہ انکار قسم پر فیصلہ کرنا مقصود ہے تو جہاں قسم کے انکار پر فیصلہ جائز نہ ہو قسم کھلانا کیونکر جائز ہوگا کیونکہ مقصود نتیجہ خیز قسم ہے اور جب قسم کے انکار پر فیصلہ نہ کیا جاسکے تو قسم کا شغل نہ کیا جائے حالانکہ عقلاء کے کلام کو لغو ہونے سے بچایا جاتا ہے جیسا کہ اسکی طرف بحر اور منح میں اشارہ ہے اھ باختصار(ت)
ان امور میں زیادہ نظر کی حاجت نہیں جبکہ بالبداہۃ آشکارا ہے کہ حلف مذکور محض ناکافی و مہمل واقع ہوا اور حکم حاکم دیوانی کی اصلا تعمیل نہ ہوئی حاکم نے یادداشت میں صراحۃ یہ الفاظ لکھے تھے کہ کوئی چیز اس فہرست میں کے بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضے میں آئی اس دوسرے فقرے پر مطلق لحاظ نہ ہوا صرف پاس نہیں موجود نہیں پر حلف لیا گیا جس نے حلف کو محض ناقص و ناقابل قبول کردیا ممکن کہ بعدانتقال ضیاء النساء بیگم اشیائے دعوی کل یا بعض قبضہ امیر النساء بیگم میں آئی ہوں اور اب موجود نہ ہوں اب اس کے قبضے میں نہ ہوں صرف کردی ہوں تلف کردی ہوں ہبہ کردی ہوں تو قبضہ موجودہ ووجود فی الحال کی نفی سے کیا کام نکلا لاجرم حلف میں مدعیہ کے لئے نظر یکسر متروك ہوئی اور اس کے حق تلفی صاف محتمل رہی۔جامع الفصولین میں ہے:
ذکرالخصاف فی دعوی الودیعۃ اذا لم تکن حاضرۃ یحلفہ باﷲ مالہ ھذا المال الذی ادعاہ فی یدك ودیعۃ خصا ف نے ذکر کیا ہے کہ امانت کے دعوی میں اگر چیز حاضر نہ ہوتو مدعی علیہ سے یوں قسم لی جائے کہ خدا کی قسم وہ مال جو تیرے قبضہ میں بطور امانت ہونے
ولاشیئ منہ ولالہ قبلك حق منہ لانہ متی اتلفہ اودل انسانا علیہ لم یکن فی یدہ فیکون علیہ قیمتہ فلایکتفی بقولہ فی یدك بل یضم الیہ ولالہ قبلك حق منہ احتیاطا ۔ کا دعوی کرتا ہے وہ اس کا حق نہیں اور نہ اس میں سے کچھ اس کا حق ہے اور نہ ہی تیری طرف اس کا کوئی حق ہے کیونکہ جب اس نے امانت کو تلف کردیا ہو یا کسی اور کو دے دی اور اپنے قبضہ میں نہ ہوتو اس صورت میں اس پر قیمت لازم ہوگیتوتیرے قبضہ والی بات کافی نہ ہوگی بلکہ اس کے ساتھ اور تیری طرف کوئی حق اس کے لئے نہیں ہےشامل کرنا بطور احتیاط ضروری ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲€
العقود الدریۃ تنقیح فتاوٰی حامدیہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۹€
جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۵€
العقود الدریۃ تنقیح فتاوٰی حامدیہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۹€
جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۵€
حلف دینا مدعی یا وکیل مدعی کا حق نہیں حق حاکم ہے حق مدعی حلف لینا یعنی طلب حلف ہے وبسولہذا اگر مدعی خودحاکم کے سامنے دارالقضاء میں بطور خود مدعا علیہ کو حلف دے لے مقبول نہیں اگر چہ وہ حلف بروجہ کافی ہی دیا گیا ہو۔عالمگیریہ میں ہے:
لوحلف بطلب المدعی یمینہ بین یدی القاضی من غیر استحالف القاضی فھذا لیس بتحلیف لان التحلیف حق القاضی کذافی القنیۃ وھکذافی البحر الرائق ۔ اگر مدعی از خود قاضی کی موجودگی میں مدعی علیہ سے قسم طلب کرے تو قاضی کی طلب کے بغیر قسم کھلانا جائز نہیں کیونکہ قسم کا مطالبہ اور قسم کھلانا قاضی کا حق ہے قنیہ اور بحر الرائق میں یوں ہے۔(ت)
در مختا رمیں ہے:
المدعی لواسقطہ ای الیمین قصدا بان قال برئت من الحلف اوترکتہ علیہ اووھبتہ لایصح ولہ التحلیف بخلاف البرائۃ عن المال لان التحلیف للحاکم بزازیۃ ۔ مدعی نے اگر مدعی علیہ سے قسم کو ساقط کرتے ہوئے کہا میں نے تجھے قسم سے بری کیایاتجھ سے قسم لینا میں نے ترك کیا یا میں نے تجھے یہ حق ہبہ کردیا تو مدعی کا قصدا قسم کو ساقط کرنا صحیح نہ ہوگا کیونکہ قسم کھلانا قاضی وحاکم کا حق ہےاس کے برخلاف اگر مدعی اس کو مال سے بری کردے تو جائز ہے بزازیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
لوحلف بطلب المدعی یمینہ بین یدی القاضی من غیر استحالف القاضی فھذا لیس بتحلیف لان التحلیف حق القاضی کذافی القنیۃ وھکذافی البحر الرائق ۔ اگر مدعی از خود قاضی کی موجودگی میں مدعی علیہ سے قسم طلب کرے تو قاضی کی طلب کے بغیر قسم کھلانا جائز نہیں کیونکہ قسم کا مطالبہ اور قسم کھلانا قاضی کا حق ہے قنیہ اور بحر الرائق میں یوں ہے۔(ت)
در مختا رمیں ہے:
المدعی لواسقطہ ای الیمین قصدا بان قال برئت من الحلف اوترکتہ علیہ اووھبتہ لایصح ولہ التحلیف بخلاف البرائۃ عن المال لان التحلیف للحاکم بزازیۃ ۔ مدعی نے اگر مدعی علیہ سے قسم کو ساقط کرتے ہوئے کہا میں نے تجھے قسم سے بری کیایاتجھ سے قسم لینا میں نے ترك کیا یا میں نے تجھے یہ حق ہبہ کردیا تو مدعی کا قصدا قسم کو ساقط کرنا صحیح نہ ہوگا کیونکہ قسم کھلانا قاضی وحاکم کا حق ہےاس کے برخلاف اگر مدعی اس کو مال سے بری کردے تو جائز ہے بزازیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۲۰€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۲۰€
الیمین حق القاضی مع طلب الخصم ۔ فریق مخالف کے مطالبہ پر قسم قاضی کا حق ہے(ت)
اسی میں ہے:
ونقل المصنف عن القنیۃ ان التحلیف حق القاضی فما لم یکن باستحلافہ لم یعتبر ۔ مصنف نے قنیہ سے نقل کیا ہے کہ قسم کھلانا قاضی کا حق ہے تو جو قسم قاضی کی جانب سے نہ ہو وہ معتبر نہیں۔(ت)
تو ہدایت صاحب حق یعنی حاکم کے خلاف جو نا کافی و ناتمام حلف رکھا گیا اگرچہ خود وکیل مدعیہ یا مدعیہ نے آپ ہی رکھا ہو کیا معتبر ہوسکتا ہے بلکہ ناکافی حلف تو خود حاکم کا رکھا ہوا بھی مقبول نہیں اسے بیکار ٹھہراکردوبارہ حلف دینا ہوگا۔محیط وجامع الفصولین و تبیین الحقائق وعالمگیریہ ودررالحکام ودرمختار وغیرہا عامہ اسفار میں ہے:
فی کل موضع وجبت الیمین فیہ علی البتات فحلف علی العلم(ولفظ جامع الفصولین عن المحیط فحلفہ القاضی علی العلم)لاتکون معتبرۃ حتی لایقضی علیہ بالنکول و لاتسقط الیمین عنہ ۔ جس مقام پر قطعیت پر قسم چاہئے تو وہاں علم کی قسم کھائی(اور جامع الفصولین میں محیط سے منقول الفا ظ یہ ہیں)تو قاضی نے وہاں اس سے علم کی قسم لیتو یہ معتبر نہ ہوگی حتی کہ ایسی قسم کے انکار پر فیصلہ نہ کرسکے گا اور نہ ہی قسم ساقط ہوگی(ت)
وجیز امام کردری نوع ثالث فصل سابع کتاب القضاء میں ہے:
من لہ حق الحلف علی البتات اذاحلف القاضی خصمہ علی العلم یبقی لخصمہ حق البتات ۔ جہاں پر صاحب حق کو قطعیت پر قسم مطلوب ہو وہاں قاضی مدعی علیہ سے علم کی قسم لے تو دوسرے فریق یعنی مدعی کو قطعیت پر قسم کا حق باقی ہے۔(ت)
ان عبارات سے واضح کہ حلف جب فی نفسہ ناکافی ہو تو اگرچہ دونوں صاحب حق اعنی مدعی و قاضی کی مرضی مجتمع ہوجائے جب بھی مقبول و مسقط حلف نہ ہوگا اور بہ طلب مدعی دوبارہ حلف دینا لازم آئے گا۔
فافھم رتبواعدم اعتبارہ علی وقوعہ جس طور قسم واجب تھی اس کے خلاف قسم پر فقہاء نے
لاعلی الوجہ الذی وجب لوکان بلا تحلیف القاضی لم یعتبر قط وان وقع علی الوجہ الواجب کما سلف وکذا لوکان بلا طلب المدعی۔فی جامع الفصولین اواخر الفصل الخامس عشر عن فتاوی رشید الدین القاضی لو حلف بغیر طلب المدعی ثم طلب المدعی تحلیفہ فلہ ان یحلفہ ثانیا اھ فعلم ان وقوعہ لا علی الوجہ الواجب مستقل بالرد وان وقع بطلب المدعی وتحلیف القاضی۔ عدم اعتبار کو مرتب کیا ہے کہ قاضی کی طرف سے قسم طلب کئے بغیر صحیح طور بھی قسم ہوئی تو ہر گز معتبر نہ ہوگی جیساکہ گزرا ہے اور یونہی اگر وہ قسم مدعی کے مطالبہ کے بغیر ہوئی ہو جامع الفصولین کی پندرہویں فصل میں فتاوی رشید الدین سے منقول ہے کہ قاضی نے اگر مدعی کے مطالبہ کے بغیر قسم لے لیاور اس کے بعد مدعی نے قسم کا مطالبہ کیا ہو تو اس کو دوبارہ قسم کھلانے کا حق ہوگا اھتو معلوم ہوا کہ واجبی طور کے خلاف ہونا یہ نا اعتباری کی مستقل وجہ ہے اگرچہ یہ مدعی کے مطالبہ اور قاضی کے قسم لینے پر ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
ونقل المصنف عن القنیۃ ان التحلیف حق القاضی فما لم یکن باستحلافہ لم یعتبر ۔ مصنف نے قنیہ سے نقل کیا ہے کہ قسم کھلانا قاضی کا حق ہے تو جو قسم قاضی کی جانب سے نہ ہو وہ معتبر نہیں۔(ت)
تو ہدایت صاحب حق یعنی حاکم کے خلاف جو نا کافی و ناتمام حلف رکھا گیا اگرچہ خود وکیل مدعیہ یا مدعیہ نے آپ ہی رکھا ہو کیا معتبر ہوسکتا ہے بلکہ ناکافی حلف تو خود حاکم کا رکھا ہوا بھی مقبول نہیں اسے بیکار ٹھہراکردوبارہ حلف دینا ہوگا۔محیط وجامع الفصولین و تبیین الحقائق وعالمگیریہ ودررالحکام ودرمختار وغیرہا عامہ اسفار میں ہے:
فی کل موضع وجبت الیمین فیہ علی البتات فحلف علی العلم(ولفظ جامع الفصولین عن المحیط فحلفہ القاضی علی العلم)لاتکون معتبرۃ حتی لایقضی علیہ بالنکول و لاتسقط الیمین عنہ ۔ جس مقام پر قطعیت پر قسم چاہئے تو وہاں علم کی قسم کھائی(اور جامع الفصولین میں محیط سے منقول الفا ظ یہ ہیں)تو قاضی نے وہاں اس سے علم کی قسم لیتو یہ معتبر نہ ہوگی حتی کہ ایسی قسم کے انکار پر فیصلہ نہ کرسکے گا اور نہ ہی قسم ساقط ہوگی(ت)
وجیز امام کردری نوع ثالث فصل سابع کتاب القضاء میں ہے:
من لہ حق الحلف علی البتات اذاحلف القاضی خصمہ علی العلم یبقی لخصمہ حق البتات ۔ جہاں پر صاحب حق کو قطعیت پر قسم مطلوب ہو وہاں قاضی مدعی علیہ سے علم کی قسم لے تو دوسرے فریق یعنی مدعی کو قطعیت پر قسم کا حق باقی ہے۔(ت)
ان عبارات سے واضح کہ حلف جب فی نفسہ ناکافی ہو تو اگرچہ دونوں صاحب حق اعنی مدعی و قاضی کی مرضی مجتمع ہوجائے جب بھی مقبول و مسقط حلف نہ ہوگا اور بہ طلب مدعی دوبارہ حلف دینا لازم آئے گا۔
فافھم رتبواعدم اعتبارہ علی وقوعہ جس طور قسم واجب تھی اس کے خلاف قسم پر فقہاء نے
لاعلی الوجہ الذی وجب لوکان بلا تحلیف القاضی لم یعتبر قط وان وقع علی الوجہ الواجب کما سلف وکذا لوکان بلا طلب المدعی۔فی جامع الفصولین اواخر الفصل الخامس عشر عن فتاوی رشید الدین القاضی لو حلف بغیر طلب المدعی ثم طلب المدعی تحلیفہ فلہ ان یحلفہ ثانیا اھ فعلم ان وقوعہ لا علی الوجہ الواجب مستقل بالرد وان وقع بطلب المدعی وتحلیف القاضی۔ عدم اعتبار کو مرتب کیا ہے کہ قاضی کی طرف سے قسم طلب کئے بغیر صحیح طور بھی قسم ہوئی تو ہر گز معتبر نہ ہوگی جیساکہ گزرا ہے اور یونہی اگر وہ قسم مدعی کے مطالبہ کے بغیر ہوئی ہو جامع الفصولین کی پندرہویں فصل میں فتاوی رشید الدین سے منقول ہے کہ قاضی نے اگر مدعی کے مطالبہ کے بغیر قسم لے لیاور اس کے بعد مدعی نے قسم کا مطالبہ کیا ہو تو اس کو دوبارہ قسم کھلانے کا حق ہوگا اھتو معلوم ہوا کہ واجبی طور کے خلاف ہونا یہ نا اعتباری کی مستقل وجہ ہے اگرچہ یہ مدعی کے مطالبہ اور قاضی کے قسم لینے پر ہو۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱€۶
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۶€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ التبیین کتاب الدعوٰی الباب الثالث الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۴،€جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب القضاء فصل سابع نوع ثالث ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۵ /۲۰۵€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۶€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ التبیین کتاب الدعوٰی الباب الثالث الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۴،€جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب القضاء فصل سابع نوع ثالث ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۵ /۲۰۵€
پس صورت مستفسرہ میں لازم کہ حاکم امیر النساء بیگم سے دوبارہ حلف تام شرعیہ بروجہ صحیح وکافی لے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۷۸:ازریاست رام پور تھانہ حجیانے متصل زیارت نعیم شاہ صاحب مرسلہ سید چھٹن میاں صاحب غرہ جمادی الاولی۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك منزل مکان اپنا وقف کرکے زید کو متولی اس کا کردیازید قابض مکان مذکورہےاب زید پر بکر نے دعوی ایك دیوار پچھیت وپاکھے مکان اپنے کا دائر کچہری کیازید نے بکر کی دیوار پچھیت وپاکھے سے انکار کیابکر نے حصر دعوی اپنے کا حلف زید پر کیازید کہتا ہےکہ میں مالك مکان موقوفہ نہیں ہوں مجھ پر شرعا حلف متوجہ نہیں ہوتا ہےپس دریافت کیا جاتا ہے کہ زید پرحلف شرعا نسبت دعوی بکر آتا ہے یا بوجہ متولی اور غیر مالك مکان ہونے کے حلف متوجہ نہیں ہوتا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں زید متولی پر حلف متوجہ نہیں متولی پر حلف صرف اس وقت میں آتا ہے جب خود اس پر کسی عقد کا دعوی کیاجائے مثلا کوئی مدعی ہو کہ فلاں زمین وقفی ا س نے میرے اجارے میں دی عقد تمام ہوگیا اور اب قبضہ نہیں دیتا یا اس کے مثل اور دعوی۔تنویر الابصار میں ہے:
مسئلہ۷۸:ازریاست رام پور تھانہ حجیانے متصل زیارت نعیم شاہ صاحب مرسلہ سید چھٹن میاں صاحب غرہ جمادی الاولی۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك منزل مکان اپنا وقف کرکے زید کو متولی اس کا کردیازید قابض مکان مذکورہےاب زید پر بکر نے دعوی ایك دیوار پچھیت وپاکھے مکان اپنے کا دائر کچہری کیازید نے بکر کی دیوار پچھیت وپاکھے سے انکار کیابکر نے حصر دعوی اپنے کا حلف زید پر کیازید کہتا ہےکہ میں مالك مکان موقوفہ نہیں ہوں مجھ پر شرعا حلف متوجہ نہیں ہوتا ہےپس دریافت کیا جاتا ہے کہ زید پرحلف شرعا نسبت دعوی بکر آتا ہے یا بوجہ متولی اور غیر مالك مکان ہونے کے حلف متوجہ نہیں ہوتا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں زید متولی پر حلف متوجہ نہیں متولی پر حلف صرف اس وقت میں آتا ہے جب خود اس پر کسی عقد کا دعوی کیاجائے مثلا کوئی مدعی ہو کہ فلاں زمین وقفی ا س نے میرے اجارے میں دی عقد تمام ہوگیا اور اب قبضہ نہیں دیتا یا اس کے مثل اور دعوی۔تنویر الابصار میں ہے:
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الخامس عشر ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۰۵€
الوصی والمتولی وابوالصغیر یملك الاستحلاف ولا یحلف ۔ وصیمتولینابالغ کا باپ قسم لے سکتے ہیں اور ان سے قسم نہیں لی جاسکتی۔(ت)
درمختار و تنویر الابصار وبحرالرائق میں ہے:
لایستحلف الاب فی مال الصبی ولا الوصی فی مال الیتیم ولا المتولی للمسجد والاوقاف الااذاادعی علیہم العقد ۔ والد سے نابالغ بیٹے کے مال سے متعلق ولی سے یتیم کے مال اور متولی سے مسجد واوقاف کے متعلق قسم نہ لی جائے گی ان سے قسم صرف اس صورت میں لی جائیگی جب ان پر کسی عقد کا دعوی ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لایستحلف الاب اھ ای لوجنی الصبی جنایۃ فانکر ابوہ اووصیہ او ادعی احد جدارالمسجد او الدار الموقوفۃ اوانہ انفق علی الوقف شیئا باذن المتولی السابق ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ماتن کا قول کہ"باپ سے قسم نہ لی جائے گی الخ"یعنی بچے کی جنایت کا دعوی ہو اور باپ اس کا انکار کرے یا اس بچے کے لئے وصی ہو وہ انکار کرے یا کوئی متولی پر مسجد یا وقف شدہ مکان اور اس کی دیوار کا دعوی کرے یا یہ کہ اس نے پہلے متولی کی اجازت سے وقف پر اپنا مال خرچ کرنے کا دعوی کیا ہو تو ان پر قسم نہ ہوگی۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۹: ازشہر مدرسہ اہل سنت مسئولہ مولوی عبدالرحیم متعلم مدرسہ مذکور جمادی الآخر۱۳۳۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیافرمان ہے۔ت)کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہو ااور اس سے ایك لڑکا عمرو پیدا ہوابقضائے الہی زید فوت ہوا والد زید خالد موجود ہے جو دادا عمرو کا ہوتا ہے اب بوجہ نزاع جائداد کے خالد دادا عمرو کا یہ قول ہے کہ زید کانکاح ہندہ سے نہیں ہوا تھا اور نیز قاضی جس نے نکاح پڑھایا تھا اس سے اس امر میں جھوٹ بلوانا چاہتا ہے کہ جھوٹی گواہی
درمختار و تنویر الابصار وبحرالرائق میں ہے:
لایستحلف الاب فی مال الصبی ولا الوصی فی مال الیتیم ولا المتولی للمسجد والاوقاف الااذاادعی علیہم العقد ۔ والد سے نابالغ بیٹے کے مال سے متعلق ولی سے یتیم کے مال اور متولی سے مسجد واوقاف کے متعلق قسم نہ لی جائے گی ان سے قسم صرف اس صورت میں لی جائیگی جب ان پر کسی عقد کا دعوی ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لایستحلف الاب اھ ای لوجنی الصبی جنایۃ فانکر ابوہ اووصیہ او ادعی احد جدارالمسجد او الدار الموقوفۃ اوانہ انفق علی الوقف شیئا باذن المتولی السابق ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ماتن کا قول کہ"باپ سے قسم نہ لی جائے گی الخ"یعنی بچے کی جنایت کا دعوی ہو اور باپ اس کا انکار کرے یا اس بچے کے لئے وصی ہو وہ انکار کرے یا کوئی متولی پر مسجد یا وقف شدہ مکان اور اس کی دیوار کا دعوی کرے یا یہ کہ اس نے پہلے متولی کی اجازت سے وقف پر اپنا مال خرچ کرنے کا دعوی کیا ہو تو ان پر قسم نہ ہوگی۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۷۹: ازشہر مدرسہ اہل سنت مسئولہ مولوی عبدالرحیم متعلم مدرسہ مذکور جمادی الآخر۱۳۳۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیافرمان ہے۔ت)کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہو ااور اس سے ایك لڑکا عمرو پیدا ہوابقضائے الہی زید فوت ہوا والد زید خالد موجود ہے جو دادا عمرو کا ہوتا ہے اب بوجہ نزاع جائداد کے خالد دادا عمرو کا یہ قول ہے کہ زید کانکاح ہندہ سے نہیں ہوا تھا اور نیز قاضی جس نے نکاح پڑھایا تھا اس سے اس امر میں جھوٹ بلوانا چاہتا ہے کہ جھوٹی گواہی
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۰۱،€بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۰۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۰۱،€بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۰۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۹€
دے دو کہ میں نے نکاح نہیں پڑھایا کفارہ ادا کردیاجائے گاآیا جائز ہے کہ قاضی نکاح کچہری میں کہہ دے کہ میں نے نکاح نہیں پڑھایا یا سچ بولے اور شہادت کا ذبہ میں کفارہ ہوگا یا نہیں
الجواب:
جھوٹی قسم جو آئندہ کی بابت کھائی جائے اس کا کفارہ ہے اور جھوٹی گواہی کا کچھ کفارہ نہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"جھوٹ گواہی دینے والا گواہی دینے کی جگہ سے اپنے پاؤں ہٹانے نہیں پاتا کہ اﷲ تعالی اس کے لئے جہنم واجب کردیتا ہے"۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۰: ازنباہٹرہ علاقہ ریاست ٹونگ مرسلہ خدابخش ابراہیم ۳۰/رمضان ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحکم شرع شریف میں دعوی کیا مبلغ (٭٭٭)کا مدعا علیہ نے(٭٭)کا اقرار کیا باقی رقم مذکور سے انکار کیا تو عدالت شریعت نے مدعی کے پاس سے ثبوت طلب کیا اس میں مدعی نے پانچ گواہ پیش کئے گواہ مذکورعدالت شریعت میں قابل التفات کےنہیں اس وجہ سےکہ گواہوں میں اختلاف بہت اورمجہول گواہی دینےسےعدالت شریعت نےگواہی نامنظورفرمائی اورازروئےحدیث شریف کے مدعا علیہ پر قسم کا حکم دیا وہ حدیث شریف یہ ہے:
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر لازم ہے(ت)
آیا اس صورت میں حدیث شریف کا مطلب یہی ہے کہ گواہ پیش ہونے پر بھی مدعا علیہ پر بھی قسم عائد ہوتی ہے یانہیںجواب استفتاء بحوالہ کتب وعبارت عنایت فرمائیں اس لئے کہ میرے مقدمہ کی پیشی ۴/ شوال ۱۳۳۸ھ ہے براہ کرم جواب جلد عنایت ہو۔
الجواب:
شہادت کے موجود ہوتے مدعی مدعا علیہ کا حلف طلب نہیں کرسکتا مگرشہادت وہ ہےکہ مفید مدعا ہے ورنہ نام شہادت ہے حقیقۃ شہادت معدوم ہے ایسی صورت میں مدعا علیہ پر حلف عائد ہوسکتا ہے مگر حاکم بطور خود اس پر حلف نہیں رکھ سکتا بلکہ مدعی کا طلب کرنا شرط ہے وہ چاہے کہ مدعا علیہ سے حلف لیاجائے
الجواب:
جھوٹی قسم جو آئندہ کی بابت کھائی جائے اس کا کفارہ ہے اور جھوٹی گواہی کا کچھ کفارہ نہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"جھوٹ گواہی دینے والا گواہی دینے کی جگہ سے اپنے پاؤں ہٹانے نہیں پاتا کہ اﷲ تعالی اس کے لئے جہنم واجب کردیتا ہے"۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۰: ازنباہٹرہ علاقہ ریاست ٹونگ مرسلہ خدابخش ابراہیم ۳۰/رمضان ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحکم شرع شریف میں دعوی کیا مبلغ (٭٭٭)کا مدعا علیہ نے(٭٭)کا اقرار کیا باقی رقم مذکور سے انکار کیا تو عدالت شریعت نے مدعی کے پاس سے ثبوت طلب کیا اس میں مدعی نے پانچ گواہ پیش کئے گواہ مذکورعدالت شریعت میں قابل التفات کےنہیں اس وجہ سےکہ گواہوں میں اختلاف بہت اورمجہول گواہی دینےسےعدالت شریعت نےگواہی نامنظورفرمائی اورازروئےحدیث شریف کے مدعا علیہ پر قسم کا حکم دیا وہ حدیث شریف یہ ہے:
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر لازم ہے(ت)
آیا اس صورت میں حدیث شریف کا مطلب یہی ہے کہ گواہ پیش ہونے پر بھی مدعا علیہ پر بھی قسم عائد ہوتی ہے یانہیںجواب استفتاء بحوالہ کتب وعبارت عنایت فرمائیں اس لئے کہ میرے مقدمہ کی پیشی ۴/ شوال ۱۳۳۸ھ ہے براہ کرم جواب جلد عنایت ہو۔
الجواب:
شہادت کے موجود ہوتے مدعی مدعا علیہ کا حلف طلب نہیں کرسکتا مگرشہادت وہ ہےکہ مفید مدعا ہے ورنہ نام شہادت ہے حقیقۃ شہادت معدوم ہے ایسی صورت میں مدعا علیہ پر حلف عائد ہوسکتا ہے مگر حاکم بطور خود اس پر حلف نہیں رکھ سکتا بلکہ مدعی کا طلب کرنا شرط ہے وہ چاہے کہ مدعا علیہ سے حلف لیاجائے
حوالہ / References
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الدعوٰی باب البینۃ علی المدعی الخ دارصادر بیروت ∞۱۰ /۲۵۲،€صحیح البخاری کتاب الرہن باب اذااختلف الراہن والمرتہن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۲،€جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ما جاء ان البینۃ علی المدعی ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۰€
تو قاضی اس سے حلف لے اس لئے کہ حلف حق مدعی ہے جس طرح حلف لینا حق قاضی ہے بالجملہ جب مدعی شہادت اصلا نہ دے یا جو گواہ پیش کرے ان سے ثبوت دعوی نہ ہو تو اگر مدعی مدعا علیہ کا حلف نہ مانگے مقدمہ خارج کردیاجائے
لانہ ادعی ولم ینورد عواہ بالبینۃ والمدعی علیہ منکر وھذا لایطلب حلفہ فانسدت طرق القضاء۔ کیونکہ دعوی کرکے گواہی پیش نہ کرے اور مدعی علیہ منکر ہے مدعی اس سے قسم بھی طلب نہ کرے تو فیصلہ کے راستے بند ہوگئے۔(ت)
اور اگر مدعی حلف مانگے تو بطور خودمدعاعلیہ پر قسم نہیں رکھ سکتا اگر رکھے گا اور وہ حلف سے انکار کردے یہ انکار معتبر نہ ہوگا کہ حلف لینا حق قاضی ہے حاکم بر طلب مدعی مدعا علیہ پر حلف رکھے اب اگر مدعا علیہ حلف سے انکار کردے تو دعوی ڈگری کیا جائے اور حلف کرلے تو ڈسمس۔ ہدایہ میں ہے:
اذاصحت الدعوی سأل القاضی المدعی علیہ عنہا لینکشف وجہ الحکم فان اعترف قضی علیہ بھاوان انکر سأل المدعی البینۃ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الك بینۃ فقال لافقال لك یمینہ سأل و رتب الیمین عما فقد البینۃ فلا بد من السوال لیمکنہ الاستحلاف وان احضرھا قضی بھا لانتفاء التھمۃ عنہاوان عجز عن ذلك وطلب یمین خصمہ استحلفہ علیہا لماروینا ولا بد من طلبہ لان الیمین حقہ الا تری انہ کیف اضیف الیہ بحرف اللام فلا بد جب دعوی صحیح ہو تو قاضی مدعا علیہا سے دعوی کے متعلق سوال کرے تاکہ فیصلہ کا طریقہ واضح ہوسکے تو اگر مدعی علیہ دعوی کو مان لے تو ا س کے خلاف دعوی کا فیصلہ کردے اور اگر وہ انکارکرے تو اب قاضی مدعی سے گواہ طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیا تیرے پس گواہی ہے تو اس نے کہا نہیں ہےتو آپ نے فرمایا اب تجھے مدعی علیہ کی قسم کا حق ہے پس حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی سے پوچھا اور قسم کو گواہی نہ ہونے پر مرتب فرمایا تو گواہی کا سوال ضروری ہے تاکہ موجود نہ ہونے پر قسم لی جاسکےاور اگر مدعی نے گواہی پیش کردی تو قاضی اس پر فیصلہ کردے کیونکہ کوئی اعتراض نہ رہا اور اگر گواہی پیش کرنے سے معذور ہے اور وہ مدعی علیہ سے قسم طلب کرے تو قاضی قسم لے جیساکہ ہم نے روایت کیا مدعی کا قسم طلب کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہےدیکھا نہیں کہ
لانہ ادعی ولم ینورد عواہ بالبینۃ والمدعی علیہ منکر وھذا لایطلب حلفہ فانسدت طرق القضاء۔ کیونکہ دعوی کرکے گواہی پیش نہ کرے اور مدعی علیہ منکر ہے مدعی اس سے قسم بھی طلب نہ کرے تو فیصلہ کے راستے بند ہوگئے۔(ت)
اور اگر مدعی حلف مانگے تو بطور خودمدعاعلیہ پر قسم نہیں رکھ سکتا اگر رکھے گا اور وہ حلف سے انکار کردے یہ انکار معتبر نہ ہوگا کہ حلف لینا حق قاضی ہے حاکم بر طلب مدعی مدعا علیہ پر حلف رکھے اب اگر مدعا علیہ حلف سے انکار کردے تو دعوی ڈگری کیا جائے اور حلف کرلے تو ڈسمس۔ ہدایہ میں ہے:
اذاصحت الدعوی سأل القاضی المدعی علیہ عنہا لینکشف وجہ الحکم فان اعترف قضی علیہ بھاوان انکر سأل المدعی البینۃ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الك بینۃ فقال لافقال لك یمینہ سأل و رتب الیمین عما فقد البینۃ فلا بد من السوال لیمکنہ الاستحلاف وان احضرھا قضی بھا لانتفاء التھمۃ عنہاوان عجز عن ذلك وطلب یمین خصمہ استحلفہ علیہا لماروینا ولا بد من طلبہ لان الیمین حقہ الا تری انہ کیف اضیف الیہ بحرف اللام فلا بد جب دعوی صحیح ہو تو قاضی مدعا علیہا سے دعوی کے متعلق سوال کرے تاکہ فیصلہ کا طریقہ واضح ہوسکے تو اگر مدعی علیہ دعوی کو مان لے تو ا س کے خلاف دعوی کا فیصلہ کردے اور اگر وہ انکارکرے تو اب قاضی مدعی سے گواہ طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیا تیرے پس گواہی ہے تو اس نے کہا نہیں ہےتو آپ نے فرمایا اب تجھے مدعی علیہ کی قسم کا حق ہے پس حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی سے پوچھا اور قسم کو گواہی نہ ہونے پر مرتب فرمایا تو گواہی کا سوال ضروری ہے تاکہ موجود نہ ہونے پر قسم لی جاسکےاور اگر مدعی نے گواہی پیش کردی تو قاضی اس پر فیصلہ کردے کیونکہ کوئی اعتراض نہ رہا اور اگر گواہی پیش کرنے سے معذور ہے اور وہ مدعی علیہ سے قسم طلب کرے تو قاضی قسم لے جیساکہ ہم نے روایت کیا مدعی کا قسم طلب کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہےدیکھا نہیں کہ
من طلبہ اھ فانظر الی قولہ ان احضرھا قضی بھا فانما اراد البینۃ المثبتۃ للدعوی والیہا الاشارۃ فی قولہ و ان عجز عن ذلکفمن اتی ببینۃ لم تفت فقد عجز عن اقامتہا علی دعواہ۔ حدیث کے الفاظ میں قسم کو مدعی کی طرف حرف لام سے مضاف کیا ہے تو مدعی کا طلب کرنا ضروری ہےاھ مصنف کے قول"اگرگواہی پیش کردے تو فیصلہ دے دے"پر غور کروتو یہ گواہی صرف وہی ہوسکتی ہے جو دعوی کےلئے مثبت ہو اور ایسی ہی گواہی کے متعلق اشارہ فرمایااگر اس سے عاجز ہوتو اگر مدعی گواہی پیش کرے جو مفید نہ ہو تو وہ اپنے دعوی پر گواہی سے عاجز ہوا(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
اذاقال المدعی لی بینۃ حاضرۃ وطلب الیمین لم یستحلف عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ احتج بماروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال للمدعی الك بینۃ قال لا قال لك یمینہ فالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رتب الیمین علی البینۃ فدل علی ان الیمین انما تکون حجۃ عندعدم البینۃ ولان الیمین الکاذبۃ مھلکۃ فالمدعی علیہ متی اتوی حق المدعی فالشرع جعل الیمین الکاذبۃ حقالہ حتی تصیر مھلکۃ ایاہ بازاء ما اھلك من المال اھلاکا بازاء اھلاك وانما یستحق اتواء الحق علی المدعی اذالم تکن بینۃ فاما اذاکان لہ بینۃ لایتوی حقہ بل جب مدعی نے بتایا کہ میرے گواہ موجود ہیںاس کے باوجود قسم کا مطالبہ کرے تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك قاضی قسم نہ لے گاان کی دلیلنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مدعی سے یہ استفسار کہ کیا تیری گواہی ہے اس نے جواب میں عرض کیا نہیں ہےتو اس کو فرمایا تجھے قسم کا حق ہےتو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قسم کو گواہی پر مرتب فرمایا تو اس سے معلوم ہوا کہ قسم تب حجت ہوگی جب گواہی نہ ہواور اس لئے بھی کہ جھوٹی قسم ہلاکت ہے مدعی علیہ جب مدعی کا مال ضائع کرے تو شریعت نے مدعی کو اس کی جھوٹی قسم کا حق دیا ہے تاکہ جھوٹی قسم مدعی علیہ کے لئے ہلاکت بن جائے تاکہ مدعی کا مال ہلاك کرنے کے بدلے اس کو ہلاکت ملےتو اس وجہ میں مدعی علیہ مدعی کے حق کو نقصان تب پہنچاسکے گا جب مدعی کے پاس گواہی نہ ہوتو جب تك گواہی ہے
یمکنہ اثبات حقہ بالبینۃ فلا یجعل الیمین المھلکۃ حقالہ فی ھذہ الحال لانہ فی غیر وقتہ اھ ومعلوم ان الاتواء حاصل مع بینۃ لم تثبت دعواہ فکانت کلا بینۃ بناء علی ان البینۃ اذالم توافق الدعوی و منہ الشہادۃ بالمجھول بقیت بلا دعوی والدعوی شرط الشہادۃ فی حقوق العباد وانتفاء الشرط انتفاء المشروط فظہرانہ عجز من البینۃ فلہ طلب حلف المدعی علیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا حق ضائع نہ کرسکے گا بلکہ مدعی اپنے حق کو گواہی کے ذریعے ثابت کرلے گا لہذا اس حال میں ہلاك کرنیوالی قسم مدعی کا حق نہ بنے گی کیونکہ وہ وقت نہیں ہے اھ اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی گواہی جو دعوی کوثابت نہ کرسکے تو وہ کالعدم قرار پائے گی اس بناء پر کہ وہ گواہی دعوی کے موافق نہ ہوئی اس کی ایك صورت یہ ہے کہ شہادت مجہول ہوتوگویا دعوی ثابت نہ ہواحالانکہ شہادت کے لئے دعوی ضروری شرط ہے تو جب شرط نہ ہوئی تو مشروط نہ ہواتوظاہر ہوگیا کہ دعوی پر گواہی سے عاجز ہے تو اسے قسم طلب کرنے کا حق ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
اذاقال المدعی لی بینۃ حاضرۃ وطلب الیمین لم یستحلف عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ احتج بماروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال للمدعی الك بینۃ قال لا قال لك یمینہ فالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رتب الیمین علی البینۃ فدل علی ان الیمین انما تکون حجۃ عندعدم البینۃ ولان الیمین الکاذبۃ مھلکۃ فالمدعی علیہ متی اتوی حق المدعی فالشرع جعل الیمین الکاذبۃ حقالہ حتی تصیر مھلکۃ ایاہ بازاء ما اھلك من المال اھلاکا بازاء اھلاك وانما یستحق اتواء الحق علی المدعی اذالم تکن بینۃ فاما اذاکان لہ بینۃ لایتوی حقہ بل جب مدعی نے بتایا کہ میرے گواہ موجود ہیںاس کے باوجود قسم کا مطالبہ کرے تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك قاضی قسم نہ لے گاان کی دلیلنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مدعی سے یہ استفسار کہ کیا تیری گواہی ہے اس نے جواب میں عرض کیا نہیں ہےتو اس کو فرمایا تجھے قسم کا حق ہےتو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قسم کو گواہی پر مرتب فرمایا تو اس سے معلوم ہوا کہ قسم تب حجت ہوگی جب گواہی نہ ہواور اس لئے بھی کہ جھوٹی قسم ہلاکت ہے مدعی علیہ جب مدعی کا مال ضائع کرے تو شریعت نے مدعی کو اس کی جھوٹی قسم کا حق دیا ہے تاکہ جھوٹی قسم مدعی علیہ کے لئے ہلاکت بن جائے تاکہ مدعی کا مال ہلاك کرنے کے بدلے اس کو ہلاکت ملےتو اس وجہ میں مدعی علیہ مدعی کے حق کو نقصان تب پہنچاسکے گا جب مدعی کے پاس گواہی نہ ہوتو جب تك گواہی ہے
یمکنہ اثبات حقہ بالبینۃ فلا یجعل الیمین المھلکۃ حقالہ فی ھذہ الحال لانہ فی غیر وقتہ اھ ومعلوم ان الاتواء حاصل مع بینۃ لم تثبت دعواہ فکانت کلا بینۃ بناء علی ان البینۃ اذالم توافق الدعوی و منہ الشہادۃ بالمجھول بقیت بلا دعوی والدعوی شرط الشہادۃ فی حقوق العباد وانتفاء الشرط انتفاء المشروط فظہرانہ عجز من البینۃ فلہ طلب حلف المدعی علیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا حق ضائع نہ کرسکے گا بلکہ مدعی اپنے حق کو گواہی کے ذریعے ثابت کرلے گا لہذا اس حال میں ہلاك کرنیوالی قسم مدعی کا حق نہ بنے گی کیونکہ وہ وقت نہیں ہے اھ اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی گواہی جو دعوی کوثابت نہ کرسکے تو وہ کالعدم قرار پائے گی اس بناء پر کہ وہ گواہی دعوی کے موافق نہ ہوئی اس کی ایك صورت یہ ہے کہ شہادت مجہول ہوتوگویا دعوی ثابت نہ ہواحالانکہ شہادت کے لئے دعوی ضروری شرط ہے تو جب شرط نہ ہوئی تو مشروط نہ ہواتوظاہر ہوگیا کہ دعوی پر گواہی سے عاجز ہے تو اسے قسم طلب کرنے کا حق ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الدعوٰی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۰۱€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
مسئلہ۸۱: ازشہر مسئولہ غلام رسول ۲۷/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك پنچایت قائم ہوئی اور ایك شخص پر ایك امر میں حلف قائم کیا اور سب پنچوں نے اسے منظور کیا اس شخص نے حلف سے بیان کیا وہ معاملہ فیصل ہوگیا بعد کو چند اشخاص نے پنچ سے علیحدہ ہوکریہ کہا کہ حلف کو نہیں جانتے اور ہمارے یہاں حلف نہیں ہے ہم حلف کو نہیں جانتے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں یہ قول قائل کا کہ ہم حلف کو نہیں جانتے ہمارے یہاں حلف نہیں ہے اگر وہ شخص اہل اسلام سے ہے اور بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع ہے اور تکذیب کرتا ہے یا اہانت کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ یہ حکم حدیث مشہور البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر (گواہی مدعی کو لازم اور قسم مدعی علیہ منکر پر ہے۔ت)سے ثابت ہے
ایك پنچایت قائم ہوئی اور ایك شخص پر ایك امر میں حلف قائم کیا اور سب پنچوں نے اسے منظور کیا اس شخص نے حلف سے بیان کیا وہ معاملہ فیصل ہوگیا بعد کو چند اشخاص نے پنچ سے علیحدہ ہوکریہ کہا کہ حلف کو نہیں جانتے اور ہمارے یہاں حلف نہیں ہے ہم حلف کو نہیں جانتے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں یہ قول قائل کا کہ ہم حلف کو نہیں جانتے ہمارے یہاں حلف نہیں ہے اگر وہ شخص اہل اسلام سے ہے اور بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع ہے اور تکذیب کرتا ہے یا اہانت کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ یہ حکم حدیث مشہور البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر (گواہی مدعی کو لازم اور قسم مدعی علیہ منکر پر ہے۔ت)سے ثابت ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرہن باب اذااختلف الراہن والمرتہن ∞قدیمی کتب کراچی ۱/ ۲۴۲،€جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء ان البینۃ علی المدعی ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۰،€سنن الدار قطنی باب فی المرأۃ تقتل اذاارتدت نشر السنۃ ∞ملتان ۴/ ۲۱۸،€السنن الکبرٰی کتاب الدعوی باب البینۃ علی المدعی الخ دارصادربیروت ∞۱۰/ ۲۵۲€
اوراجماع تمام امت مرحومہ کا اس پر ہےھذاصورت الجواب واﷲ اعلم بالصواب فقط
بیشك حلف حدیث مشہور سے ثابت ہے۔ الجواب صحیح العبد المجیب محمد عبدالغفار خاں عفی عنہ
العبد محمد ہدایت اﷲ عفی عنہ محمد عبدالجبار خاں عفی عنہ مہر
الجواب:
سائل غلام رسول ترہ فروش پوری نے واقعہ بیان کیا کہ ان کی برادری کا کوئی شخص بدایوں سے آیا تھا حسب رواج قوم اسے دعوت دینی تھیایك برادر اسے دعوت دینے گیا وہ نہ ملا پھر پنچایت میں دعوت نہ دئے جانے کا شاکی ہوا اس پر اس برادر سے کہا گیا تم حلف سے کہہ دو کہ تم دعوت دینے گئے تھے اس نے حلف سے کہہ دیا اس پر چند اشخاص نے وہ لفظ کہےنیز غلام رسول نے بیان کیا کہ وہ اور حافظ علاء الدین اورجماتین شخص مجیب کے پاس گئے اور واقعہ مذکورہ ہمارے سامنے حافظ مذکور نے مجیب سے کہا
اور نشان انگوٹھا غلام رسول
انگوٹھے کا نشان جلد۱۸ ص ۳۰۸
فتوی طلب کیا جس پر یہ جواب لکھا اگر یہ بیان واقعی ہے تو یہاں ہر گز نہ کوئی شرعی دعوی تھا نہ کوئی مدعی نہ مدعا علیہ نہ کسی پر حلف عائداسے حدیث البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر (گواہی مدعی کو لازم اور قسم مدعی علیہ منکر پر ہے۔ت) کے تحت میں داخل کرنا صریح جہل وظلم ہےاوربفرض باطل اگر اس کا کہنا کہ میں دعوت دینے گیا تھا دعوی ہوتا تو منکر تو بدایوں والا تھا اس پر حلف آتا نہ کہ مدعی پریہ دوسری جہالت شدیدہ ہےبلا شبہہ ایسا حلف شریعت میں نہیں اور اس نے ٹھیك کہا تو اس پر حکم گناہگاری و توبہ تیسری جہالت ہے اور سب سے سخت تراشد وہ کہ اس باطل محض کو معاذ اﷲ حکم شرع ٹھہرا کر اس کی تکذیب کے سبب مسلمان پر حکم کفر عائد کرناحالانکہ اگر عقل سے کام لینا ہو تو باطل محض کو حکم شرع قرار دینے ہی پر یہ کہنا لازم کہ یہ قرار دینے والا اگر چہ بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع نہیں اور قصدا اﷲ ورسول پرجھوٹی شریعت کا افتراء کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن عظیم میں ہے:
بیشك حلف حدیث مشہور سے ثابت ہے۔ الجواب صحیح العبد المجیب محمد عبدالغفار خاں عفی عنہ
العبد محمد ہدایت اﷲ عفی عنہ محمد عبدالجبار خاں عفی عنہ مہر
الجواب:
سائل غلام رسول ترہ فروش پوری نے واقعہ بیان کیا کہ ان کی برادری کا کوئی شخص بدایوں سے آیا تھا حسب رواج قوم اسے دعوت دینی تھیایك برادر اسے دعوت دینے گیا وہ نہ ملا پھر پنچایت میں دعوت نہ دئے جانے کا شاکی ہوا اس پر اس برادر سے کہا گیا تم حلف سے کہہ دو کہ تم دعوت دینے گئے تھے اس نے حلف سے کہہ دیا اس پر چند اشخاص نے وہ لفظ کہےنیز غلام رسول نے بیان کیا کہ وہ اور حافظ علاء الدین اورجماتین شخص مجیب کے پاس گئے اور واقعہ مذکورہ ہمارے سامنے حافظ مذکور نے مجیب سے کہا
اور نشان انگوٹھا غلام رسول
انگوٹھے کا نشان جلد۱۸ ص ۳۰۸
فتوی طلب کیا جس پر یہ جواب لکھا اگر یہ بیان واقعی ہے تو یہاں ہر گز نہ کوئی شرعی دعوی تھا نہ کوئی مدعی نہ مدعا علیہ نہ کسی پر حلف عائداسے حدیث البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر (گواہی مدعی کو لازم اور قسم مدعی علیہ منکر پر ہے۔ت) کے تحت میں داخل کرنا صریح جہل وظلم ہےاوربفرض باطل اگر اس کا کہنا کہ میں دعوت دینے گیا تھا دعوی ہوتا تو منکر تو بدایوں والا تھا اس پر حلف آتا نہ کہ مدعی پریہ دوسری جہالت شدیدہ ہےبلا شبہہ ایسا حلف شریعت میں نہیں اور اس نے ٹھیك کہا تو اس پر حکم گناہگاری و توبہ تیسری جہالت ہے اور سب سے سخت تراشد وہ کہ اس باطل محض کو معاذ اﷲ حکم شرع ٹھہرا کر اس کی تکذیب کے سبب مسلمان پر حکم کفر عائد کرناحالانکہ اگر عقل سے کام لینا ہو تو باطل محض کو حکم شرع قرار دینے ہی پر یہ کہنا لازم کہ یہ قرار دینے والا اگر چہ بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع نہیں اور قصدا اﷲ ورسول پرجھوٹی شریعت کا افتراء کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن عظیم میں ہے:
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرہن باب اذااختلف الراہن والمرتہن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۲،€جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء ان البینۃ علی المدعی ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۰،€سنن الدار قطنی باب فی المرأۃ تقتل اذاارتدت نشر السنۃ ∞ملتان ۴/ ۲۱۸،€السنن الکبری للبیہقی کتاب الدعوٰی والبینات دارصادر بیروت ∞۱۰ /۲۵۲€
"انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" جھوٹ کا افتراء وہ لوگ کرتے ہیں جو مومن نہ ہوں(ت)
اورفرماتا ہے:
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ " جولوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔(ت)
ظاہر صورت اولی ہے کہ بوجوہ جہالت ایسا کہا ہے جس پر"ھذا صورت الجواب"بتائے کشیدہ قرینہ ہے مگر یہ فقط اس قول باطل ہی کا گناہ نہیں جاہل کو فتوی دینا کس نے حلال کیاحدیث میں ہے:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السموت والارض اوکما قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔ جو بے علم فتوی دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں(یا جس طرح حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)والعیاذ باﷲ تعالی۔
اور بالفرض اگر سائل کا بیان غلط ہے اور مجیب سے واقعہ بیان نہ کیا گیا جب بھی اتنے بیان سوال سے مجیب کا یہ ٹھہرالیناکہ ترہ فروشوں کی قومی پنچایت میں کوئی شرعی دعوی پیش ہوااور یہ کہ انہوں نے منکر پر حلف رکھا جہالت ہے قومی پنچائتوں کو کون نہیں جانتا ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل (جو اہل زمانہ کونہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ت)اور مدعی و منکر کی شناخت ہزاروں جگہ علماء کو تو سخت دشوار ہوتی ہے نہ کہ جہالمگر مجیب نے اپنے شہر کے ترہ فروشوں کو شاید امام مجتہد فرض کرلیا مسلمان پر حکم معصیت بلکہ ایك وجہ پر حکم کفر لگانے کےلئے تنقیح ضرورتھی کہ کیا معاملہ کیسا حلفمگر اسے تو وہ جانے جسے علم و دین سے حصہ عطا ہوابہر حال جواب رام پور جہل وظلم ضرورولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۶: ازعظیم آباد پٹنہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے انتقال کیا اور شوہر اورایك شیر خوار بچہ اور ایك نانی اور دو بھائی حقیقی چھوڑےبعد وفات ہندہ آپس میں من حیث ترکہ پانے کے نزاع واقع ہوئیہندہ کے بھائیوں نے ہندہ کے شوہرسے دین مہر خالدہ اخت ہندہ کا جو قبل شوہر ہندہ کے نکاح میں تھی اور بعد لاولد فوت ہونے اس کے ہندہ نکاح میں
آئی تھی اداکاری کا مطالبہ کیا اور چونکہ خالدہ اخت ہندہ کا دین مہر واقعی واجب الادا تھا تو جو حصہ ۸/ متروکہ کہ شوہرنے پایا وہ شوہر ہندہ نے محض دیانتداری سے بعوض دین مہر چھوڑدیامگر ازانجا کہ برادراں ہندہ کی جس نے اپنا دین مہر معاف کردیا تھا نیت صاف نہ تھی چہارم حصہ متروکہ ہندہ کو ابھی اسی دین مہر سابق میں ملاکر ہضم کرنا چاہا اور ہندہ کی نانی کو بھی نالش پر ابھارا تو شوہر ہندہ نے محض بغرض استحفاظ حصہ چہارم اپنے مصلحۃ یہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہندہ نے مرض الموت مں اپنی کل جائداد اپنے شیر خوار بچہ کو ہبہ کردی جس کا کوئی گواہ بجز شوہر ہندہ کے نہ تھااو
اورفرماتا ہے:
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ " جولوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔(ت)
ظاہر صورت اولی ہے کہ بوجوہ جہالت ایسا کہا ہے جس پر"ھذا صورت الجواب"بتائے کشیدہ قرینہ ہے مگر یہ فقط اس قول باطل ہی کا گناہ نہیں جاہل کو فتوی دینا کس نے حلال کیاحدیث میں ہے:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السموت والارض اوکما قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔ جو بے علم فتوی دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں(یا جس طرح حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)والعیاذ باﷲ تعالی۔
اور بالفرض اگر سائل کا بیان غلط ہے اور مجیب سے واقعہ بیان نہ کیا گیا جب بھی اتنے بیان سوال سے مجیب کا یہ ٹھہرالیناکہ ترہ فروشوں کی قومی پنچایت میں کوئی شرعی دعوی پیش ہوااور یہ کہ انہوں نے منکر پر حلف رکھا جہالت ہے قومی پنچائتوں کو کون نہیں جانتا ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل (جو اہل زمانہ کونہیں جانتا وہ جاہل ہے۔ت)اور مدعی و منکر کی شناخت ہزاروں جگہ علماء کو تو سخت دشوار ہوتی ہے نہ کہ جہالمگر مجیب نے اپنے شہر کے ترہ فروشوں کو شاید امام مجتہد فرض کرلیا مسلمان پر حکم معصیت بلکہ ایك وجہ پر حکم کفر لگانے کےلئے تنقیح ضرورتھی کہ کیا معاملہ کیسا حلفمگر اسے تو وہ جانے جسے علم و دین سے حصہ عطا ہوابہر حال جواب رام پور جہل وظلم ضرورولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۶: ازعظیم آباد پٹنہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے انتقال کیا اور شوہر اورایك شیر خوار بچہ اور ایك نانی اور دو بھائی حقیقی چھوڑےبعد وفات ہندہ آپس میں من حیث ترکہ پانے کے نزاع واقع ہوئیہندہ کے بھائیوں نے ہندہ کے شوہرسے دین مہر خالدہ اخت ہندہ کا جو قبل شوہر ہندہ کے نکاح میں تھی اور بعد لاولد فوت ہونے اس کے ہندہ نکاح میں
آئی تھی اداکاری کا مطالبہ کیا اور چونکہ خالدہ اخت ہندہ کا دین مہر واقعی واجب الادا تھا تو جو حصہ ۸/ متروکہ کہ شوہرنے پایا وہ شوہر ہندہ نے محض دیانتداری سے بعوض دین مہر چھوڑدیامگر ازانجا کہ برادراں ہندہ کی جس نے اپنا دین مہر معاف کردیا تھا نیت صاف نہ تھی چہارم حصہ متروکہ ہندہ کو ابھی اسی دین مہر سابق میں ملاکر ہضم کرنا چاہا اور ہندہ کی نانی کو بھی نالش پر ابھارا تو شوہر ہندہ نے محض بغرض استحفاظ حصہ چہارم اپنے مصلحۃ یہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہندہ نے مرض الموت مں اپنی کل جائداد اپنے شیر خوار بچہ کو ہبہ کردی جس کا کوئی گواہ بجز شوہر ہندہ کے نہ تھااو
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۰۵€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۲۹۰۱۸€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۰ /۱۹۳،€الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم ∞حدیث ۱۰۴۳€ دارابن جوزی ∞ریاض ۲ /۳۲۷€
درمختار باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۲۹۰۱۸€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۰ /۱۹۳،€الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم ∞حدیث ۱۰۴۳€ دارابن جوزی ∞ریاض ۲ /۳۲۷€
درمختار باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹€
بعض مقامات میں بذریعہ تحریری شوہر ہندہ نے اس وقت تك ہبہ کا اقرار کیا کہ وہ ششم حصہ بھی خود اپنے مال سے اسم فرضی اپنے پسر کے خرید لیا اور رمن بعد برابر کا غذات وغیرہ پر خود اپنے اور اپنے شیر خوار لڑکے کی طرف سے بحیثیت ولایت کے دستخط کرتا رہا اور برابر وہ جائداد پسر ہندہ کے قبضہ میں حسب حصہ رسد کے رہی تااینکہ وہ لڑکا عاقل و بالغ ہوا پھر اس کی شادی بھی ہوئی تو اب وہ لڑکا کل متروکہ اپنے مادر متوفیہ ہندہ پر دعوی کرتا ہے اور چہارم حصہ پدری اور اس حصہ پر جواس کے باپ شوہر ہندہ نے اپنے پسر کے نام سے اسم فرضی ہندہ کی نانی سے خریدا تھا دونوں کو ہضم کرنا چاہتا ہے اور کچہری میں مقدمہ دائر کیا ہے اور اپنے پدر کے اقرار ہبہ کو جو مثل خریداری ششم حصہ کو وہ مصلحۃ بیان کرتا رہا استدلال میں پیش کرتا ہے اور کسی حال میں باوجود فہمائش بلیغ منازعت سے باز نہیں آتا اور باپ کی تعظیم و تکریم تو درکنار ماں وپدر کو غلط اور لغو جانتا ہے اور حقوق پدر کا مطلق خیال نہیں کرتا تو ایسی صورت میں علمائے دین کا اس مصلحتی اقرار پدر متعلق ہبہ کے کیا ارشاد ہے اور اس پسر کے اس تکرار وفساد کو صحیح ودرست جانتے ہیں یا بالعکس بینوا توجروا۔
الجواب:
اولاد کو حقوق پدر ی کا خیال نہ کرنا اس کے ساتھ تمردو مخالفت سے پیش آنا اپنے لئے عذاب شدید ناروغضب رب قہار کا واجب کرتا ہےاﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں فرض کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کروانہیں ہوں نہ کہوان سے اعزاز واکرام کا کلام کروان کے لئے خاص محبت سے تذلل کا بازوبچھاؤان کےلئے دعا کرو کہ الہی !ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث و الرجلۃ من النساء ۔رواہ تین شخص ہیں کہ جنت میں نہ جائیں گےماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت
الجواب:
اولاد کو حقوق پدر ی کا خیال نہ کرنا اس کے ساتھ تمردو مخالفت سے پیش آنا اپنے لئے عذاب شدید ناروغضب رب قہار کا واجب کرتا ہےاﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں فرض کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کروانہیں ہوں نہ کہوان سے اعزاز واکرام کا کلام کروان کے لئے خاص محبت سے تذلل کا بازوبچھاؤان کےلئے دعا کرو کہ الہی !ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث و الرجلۃ من النساء ۔رواہ تین شخص ہیں کہ جنت میں نہ جائیں گےماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۷،€کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب البروالصلہ باب العقوق مطبع موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۷۲€
النسائی والبزار باسنا دین نظیفین والحاکم فی صحیحہ المستدرك عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ (اس کو نسائی اور بزار نے صاف سندوں سے اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ مستدرك میں حضرت ابن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق و منان ومکذب بقدر ۔رواہ ابن ابی عاصم فی کتاب السنۃ باسناد حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض:ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا(اس کو ابن ابی عاصم نے سند حسن کے ساتھ کتاب السنۃ میں حضرت ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ۔رواہ الطبرانی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائےملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے (اس کو طبرانی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رضااﷲ فی رضاالوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد ۔ رواہ الترمذی و اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہےاور اﷲ ناراضی والد کی ناراضی میں(اس کو ترمذی اور حاکم نے
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق و منان ومکذب بقدر ۔رواہ ابن ابی عاصم فی کتاب السنۃ باسناد حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض:ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا(اس کو ابن ابی عاصم نے سند حسن کے ساتھ کتاب السنۃ میں حضرت ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ۔رواہ الطبرانی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائےملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے (اس کو طبرانی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رضااﷲ فی رضاالوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد ۔ رواہ الترمذی و اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہےاور اﷲ ناراضی والد کی ناراضی میں(اس کو ترمذی اور حاکم نے
حوالہ / References
العلل المتناہیہ ∞حدیث ۲۳۹€ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱ /۱۵۱،€مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر الخ دارالکتاب بیروت ∞۷ /۲۰۶€
المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ∞۹ /۲۲۶،€الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی والحاکم الحدیث ∞۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۲۸۷€
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۵۲،€جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین ∞امین کمپنی دہلی ۲/۱۲€
المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ∞۹ /۲۲۶،€الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی والحاکم الحدیث ∞۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۲۸۷€
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکربیروت ∞۴ /۱۵۲،€جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین ∞امین کمپنی دہلی ۲/۱۲€
الحاکم بسند صحیح عن عبداﷲ بن عمرو والبزار عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔ صحیح سند کے ساتھ عبداﷲ بن عمرو اور بزار نے حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل الذنوب یوخر اﷲ تعالی منھا ماشاء الی یوم القیمۃ الاعقوق الوالدین فان اﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات رواہ الحاکم والا صبھا نی والطبرانی فی الکبیر عن ابی بکرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔ سب گناہوں کی سزا اﷲ تعالی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستاناکہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے(اس کو حاکماصبہانی اور طبرانی نے کبیر میں حضرت ابوبکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
ماں کے لئے ماں باپ سے مخاصمت کتنی بے حیائی یبیاکی کافر نعمتی ناپاکی ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتعقن والدیك وان امراك ان یخرج من اھلك و مالک ۔رواہ الامام احمد بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر۔ خبردار ماں باپ کی نافرمانی نہ کہ اگر چہ وہ تجھے حکم دیں کہ اپنے جوروبچوں مال و متاع سب سے نکل جا(اس کو امام احمد نے ہمارے اصول پر صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں روایت کیا۔ت)
دوسری روایت میں ہے:
اطع والدیك وان اخرجاك من مالك ومن کل شیئ ھولک ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند صالح کلاھما عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اپنے ماں باپ کا حکم مان اگر چہ وہ تجھے تیرے مال اور تیری سب چیزوں سے تجھے باہر کردیں(اسے طبرانی نے اوسط میں اسے اور مذکورہ بالاحدیث(دونوں)کو معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اوناشکرخدا ناترس ! مال لایا کہاں سےتیرا گوشت پوست استخوان سب تیرے ماں باپ
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل الذنوب یوخر اﷲ تعالی منھا ماشاء الی یوم القیمۃ الاعقوق الوالدین فان اﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات رواہ الحاکم والا صبھا نی والطبرانی فی الکبیر عن ابی بکرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔ سب گناہوں کی سزا اﷲ تعالی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستاناکہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے(اس کو حاکماصبہانی اور طبرانی نے کبیر میں حضرت ابوبکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
ماں کے لئے ماں باپ سے مخاصمت کتنی بے حیائی یبیاکی کافر نعمتی ناپاکی ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتعقن والدیك وان امراك ان یخرج من اھلك و مالک ۔رواہ الامام احمد بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر۔ خبردار ماں باپ کی نافرمانی نہ کہ اگر چہ وہ تجھے حکم دیں کہ اپنے جوروبچوں مال و متاع سب سے نکل جا(اس کو امام احمد نے ہمارے اصول پر صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں روایت کیا۔ت)
دوسری روایت میں ہے:
اطع والدیك وان اخرجاك من مالك ومن کل شیئ ھولک ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند صالح کلاھما عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اپنے ماں باپ کا حکم مان اگر چہ وہ تجھے تیرے مال اور تیری سب چیزوں سے تجھے باہر کردیں(اسے طبرانی نے اوسط میں اسے اور مذکورہ بالاحدیث(دونوں)کو معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اوناشکرخدا ناترس ! مال لایا کہاں سےتیرا گوشت پوست استخوان سب تیرے ماں باپ
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ∞۴ /۱۵۶€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۲۳€۸
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۷۹۵۲€ مکتبۃ المعارف ریاض ∞۸ /۴۶۰€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۲۳€۸
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۷۹۵۲€ مکتبۃ المعارف ریاض ∞۸ /۴۶۰€
کا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:انت ومالك لابیک(تو اور تیر ا مال سب تیرے باپ کا)
یہ اس وقت ارشاد ہوا کہ ایك صاحب حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اﷲ!مال وعیال رکھتا ہوں اور میرے ماں باپ میرا سب مال لینا چاہتے ہیں یعنی پھر میں اور میرے بال بچے کیا کھائیں گےفرمایا:"تو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے تجھے اس سے انکار نہیں پہنچتا"
رواہ ابن ماجۃ بسند صحیح عن جابر والطبرانی فی الکبیر عن سمرۃ بن جندب وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم۔ اس کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر اور طبرانی نے کبیر میں حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔(ت)
حدیث میں ہے ایك شخص حاضر خدمت ہوکر عرض رساں ہوئے:
ان ابیہ یرید ان یاخذ مالہ۔یا رسول اﷲ!میرے ماں باپ میرا مال لے لینا چاہتے ہیں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ادعہ لی انہیں ہمارے حضور میں حاضر لاؤ۔جب حاضر ہوئے ان سے ارشاد ہوا تمہارا بیٹا کیا کہتا ہے تم اس کا مال لینا چاہتے ہوعرض کی حضور اس سے پوچھ دیکھیں کہ میں وہ مال لے کر کیا کرتا ہوںیہی اس کی مہمانی اور اس کی قرابتی میںیا میرا اور میرے بال بچوں کا خرچاتنے میں جبریل امین علیہ الصلوۃ و التسلیم حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم !اس مرد پیر نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی خو داس کے کان نے نہیں سنے یعنی ہنوز زبان تك نہ لایاحضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی تمہارے کان نے بھی نہ سنے وہ سناؤ۔ان صاحب نے عرض کی:اﷲ ہمیشہ حضور کے معجزات سے ہمارے دل کی نگاہ ہمارا یقین بڑھاتا ہے
پھر یہ اشعار عرض کرنے لگے:
غذوتك مولودا و منتك یافعا تعل بما اجنی علیك وتنھل
اذالیلۃ ضاقتك بالسقم لم ابت لسقمك الاساھر اتململ
تخاف الردی نفسی علیك وانھا لتعلم ان الموت حتم موکل
یہ اس وقت ارشاد ہوا کہ ایك صاحب حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اﷲ!مال وعیال رکھتا ہوں اور میرے ماں باپ میرا سب مال لینا چاہتے ہیں یعنی پھر میں اور میرے بال بچے کیا کھائیں گےفرمایا:"تو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے تجھے اس سے انکار نہیں پہنچتا"
رواہ ابن ماجۃ بسند صحیح عن جابر والطبرانی فی الکبیر عن سمرۃ بن جندب وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم۔ اس کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر اور طبرانی نے کبیر میں حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔(ت)
حدیث میں ہے ایك شخص حاضر خدمت ہوکر عرض رساں ہوئے:
ان ابیہ یرید ان یاخذ مالہ۔یا رسول اﷲ!میرے ماں باپ میرا مال لے لینا چاہتے ہیں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ادعہ لی انہیں ہمارے حضور میں حاضر لاؤ۔جب حاضر ہوئے ان سے ارشاد ہوا تمہارا بیٹا کیا کہتا ہے تم اس کا مال لینا چاہتے ہوعرض کی حضور اس سے پوچھ دیکھیں کہ میں وہ مال لے کر کیا کرتا ہوںیہی اس کی مہمانی اور اس کی قرابتی میںیا میرا اور میرے بال بچوں کا خرچاتنے میں جبریل امین علیہ الصلوۃ و التسلیم حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم !اس مرد پیر نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی خو داس کے کان نے نہیں سنے یعنی ہنوز زبان تك نہ لایاحضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے دل میں کچھ اشعار تصنیف کئے ہیں جو ابھی تمہارے کان نے بھی نہ سنے وہ سناؤ۔ان صاحب نے عرض کی:اﷲ ہمیشہ حضور کے معجزات سے ہمارے دل کی نگاہ ہمارا یقین بڑھاتا ہے
پھر یہ اشعار عرض کرنے لگے:
غذوتك مولودا و منتك یافعا تعل بما اجنی علیك وتنھل
اذالیلۃ ضاقتك بالسقم لم ابت لسقمك الاساھر اتململ
تخاف الردی نفسی علیك وانھا لتعلم ان الموت حتم موکل
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب التجارات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۷،€المعجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث ۶۹۶۱€ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۷ /۲۳۰€
کانی اناالمطروق دونك بالذی طرقت بہ دونی فعینی تھمل
فلما بلغت السن والغایۃ التی الیك مدی ماکنت فیك اومل
جعلت جزائی غلظۃ وفظاظۃ کانك انت المنعم المتفضل
فلیتك اذلم ترع حق ابوتی فعلت کما الجار المجاور یفعل
واولیتنی حق الجوار ولم تکن علی بمالی دون مالك تبخل
میں نے تجھے غذاپہنچائی جب سے تو پیدا ہوا اور تیرا بار اٹھایا جب سے تو ننھا ہوا میری کمائی سے تو بار بار مکررسیراب کیا جاتاجب کوئی رات بیماری کا غم لے کر تجھ پر اترتی میں تیری ناسازی کے باعث جاگ کرلوٹ کر صبح کرتا میرا جی تیرے مرنے سےڈرتا حالانکہ اسے خوب معلوم تھا کہ موت یقینی ہے اور سب پر مسلط کی گئی ہے میری آنکھیں یوں بہتیں کہ گویا وہ مرض جو شب کو تجھے ہوا تھا نہ مجھےمجھے ہوا تھا نہ تجھےمیں نے تجھے یوں پالا اور جب تو پروان چڑھا اور اس حد کو پہنچا جس میں مجھے امید لگی ہوئی تھی کہ اس عمر کا ہوکر تو میرے کام آئے گا تو تونے میرا بدلہ سختی ودرشت خوئی کیاگویا تیرا ہی مجھ پر فضل واحسان ہےاے کاش جب تونے حق پدری کا لحاظ نہ کیا تھا تو ایسا ہی کرتا جیسا پاس کا ہمسایہ کرتا ہے ہمسایہ میں کا حق تومجھے دیا ہوتا اور مجھ پر اس مال سے کہ اصل میں تیرا نہیں میر اہی تھا بخل نہ کرتا۔ان اشعار کو استماع فرماکر حضور پر نور رحمت عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے گریہ کیا اور بیٹے کا گریبان پکڑ کر ارشاد فرمایا:
اذھب انت ومالك لابیک ۔رواہ الطبرانی فی المعجم الصغیر والبیہقی فی دلائل النبوۃ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲتعالی عنھما۔ جاتو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے(اس کو طبرانی نے معجم صغیر اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
حکم سعادت تو یہ ہے مگر باینہمہ قضاء باپ بیٹے کی ملك جدا ہے۔باپ اگر محتاج ہو تو بقدر حاجت بیٹے کے فاضل مال سے بے اس کی رضا واجازت کے لے سکتا ہے زیادہ نہیں اور یہ لینا بھی
فلما بلغت السن والغایۃ التی الیك مدی ماکنت فیك اومل
جعلت جزائی غلظۃ وفظاظۃ کانك انت المنعم المتفضل
فلیتك اذلم ترع حق ابوتی فعلت کما الجار المجاور یفعل
واولیتنی حق الجوار ولم تکن علی بمالی دون مالك تبخل
میں نے تجھے غذاپہنچائی جب سے تو پیدا ہوا اور تیرا بار اٹھایا جب سے تو ننھا ہوا میری کمائی سے تو بار بار مکررسیراب کیا جاتاجب کوئی رات بیماری کا غم لے کر تجھ پر اترتی میں تیری ناسازی کے باعث جاگ کرلوٹ کر صبح کرتا میرا جی تیرے مرنے سےڈرتا حالانکہ اسے خوب معلوم تھا کہ موت یقینی ہے اور سب پر مسلط کی گئی ہے میری آنکھیں یوں بہتیں کہ گویا وہ مرض جو شب کو تجھے ہوا تھا نہ مجھےمجھے ہوا تھا نہ تجھےمیں نے تجھے یوں پالا اور جب تو پروان چڑھا اور اس حد کو پہنچا جس میں مجھے امید لگی ہوئی تھی کہ اس عمر کا ہوکر تو میرے کام آئے گا تو تونے میرا بدلہ سختی ودرشت خوئی کیاگویا تیرا ہی مجھ پر فضل واحسان ہےاے کاش جب تونے حق پدری کا لحاظ نہ کیا تھا تو ایسا ہی کرتا جیسا پاس کا ہمسایہ کرتا ہے ہمسایہ میں کا حق تومجھے دیا ہوتا اور مجھ پر اس مال سے کہ اصل میں تیرا نہیں میر اہی تھا بخل نہ کرتا۔ان اشعار کو استماع فرماکر حضور پر نور رحمت عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے گریہ کیا اور بیٹے کا گریبان پکڑ کر ارشاد فرمایا:
اذھب انت ومالك لابیک ۔رواہ الطبرانی فی المعجم الصغیر والبیہقی فی دلائل النبوۃ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲتعالی عنھما۔ جاتو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے(اس کو طبرانی نے معجم صغیر اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲتعالی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
حکم سعادت تو یہ ہے مگر باینہمہ قضاء باپ بیٹے کی ملك جدا ہے۔باپ اگر محتاج ہو تو بقدر حاجت بیٹے کے فاضل مال سے بے اس کی رضا واجازت کے لے سکتا ہے زیادہ نہیں اور یہ لینا بھی
حوالہ / References
المعجم الصغیر للطبرانی باب من اسمہ محمد ترجمہ حضرت جابر بن عبداﷲرضی اﷲعنہ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۶۳،€دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی اخبارہ من قال فی نفسہ شعرًا الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶ /۵۔۳۰۴€
کھانے پینےپہننےرہنے کے لئےاور حاجت ہوتو خادم کے واسطے بھیبیٹے کے روپے پیسے سونے چاندی ناج کپڑے یاقابل سکونت پدر مکان سے ہوہاں یہ اشیاء نہ ملیں توانہیں اغراض ضروریہ کے لئے اس کے اور اموال سے جو خلاف جنس حاجت ہوں بحکم حاکم یا حاکم نہ ہو تو علی المفتی بہ بطور خود بھی لے سکتا ہے مثلا کھانے کی ضرورت ہے اناج یا روپیہ نہ پایا تو کپڑے برتن لے سکتا ہے یا کپڑوں کی ضرورت ہے اور دام یاکپڑے نہ ملے تو ناج وغیرہ بیچ کر بناسکتا ہے نہ یہ کہ اس کی جائداد ہی سرے سے اپنی ٹھہرالے۔درمختار میں ہے:
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمۃ والا اثم ۔ مبتغی للفقیر میں ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے انکار پر اس کااتنا مال چوری کرلے جتنا اس کونفقہ کےلئے ضرورت ہے جبکہ وہاں قاضی نہ ہو ورنہ گنہگار ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
سیاتی قریبا لو انفق الابوان ماعندھما للغائب من ما لہ علی انفسھما وھو من جنس النفقۃ لایضمنان لوجوب نفقۃ الابوین والزوجۃ قبل القضاء حتی لو ظفر بجنس حقہ فلہ اخذہ ولذافرضت فی مال الغائب بخلاف بقیۃ الاقارب ونحوہ فی المنح و الزیلعی وفی زکاۃ الجوھرۃ الدائن اذاظفر بجنس حقہ لہ اخذہ بلا قضاء ولارضاء وفی الفتح عند قولہ و یحلفھا باﷲ مااعطاھا النفقۃ وفی کل موضع جازا القضاء بالدفع کان لھا ان تأخذ بغیر قضاء عنقریب آئے گا کہ اگر غائب بیٹے کا مال پاس ہو تو والدین ضرورت نفقہ کے لئے اسے صرف کرلیں در انحالیکہ وہ مال جنس نفقہ ہو تو والدین ضامن نہ ہوں گے کیونکہ والدین اور بیوی کا نفقہ قضاء کے بغیر بھی واجب ہے لہذا وہ اپنے حق والی جنس پر قابو پالیں تو قبضہ کرسکتے ہیںاسی وجہ سے غائب کے مال میں ان کا نفقہ بقدر ضرورت نافذ ہوتا ہے بخلاف باقی اقارب کے۔اسی طرح کا بیان منحزیلعی اور جوہرہ کے باب زکوۃ میں ہےقرض خواہ اپنے حق والی جنس پر قابو پا نے پر لے سکتا ہے خواہ رضا اور قضانہ ہو۔اورفتح میں اس کے قول کہ "بیوی سے قاضی قسم لے گا کہ خاوند نے مجھے نفقہ نہیں دیا" کے تحت ہے جہاں قاضی کو بیوی کے لئے نفقہ نافذ
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمۃ والا اثم ۔ مبتغی للفقیر میں ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے انکار پر اس کااتنا مال چوری کرلے جتنا اس کونفقہ کےلئے ضرورت ہے جبکہ وہاں قاضی نہ ہو ورنہ گنہگار ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
سیاتی قریبا لو انفق الابوان ماعندھما للغائب من ما لہ علی انفسھما وھو من جنس النفقۃ لایضمنان لوجوب نفقۃ الابوین والزوجۃ قبل القضاء حتی لو ظفر بجنس حقہ فلہ اخذہ ولذافرضت فی مال الغائب بخلاف بقیۃ الاقارب ونحوہ فی المنح و الزیلعی وفی زکاۃ الجوھرۃ الدائن اذاظفر بجنس حقہ لہ اخذہ بلا قضاء ولارضاء وفی الفتح عند قولہ و یحلفھا باﷲ مااعطاھا النفقۃ وفی کل موضع جازا القضاء بالدفع کان لھا ان تأخذ بغیر قضاء عنقریب آئے گا کہ اگر غائب بیٹے کا مال پاس ہو تو والدین ضرورت نفقہ کے لئے اسے صرف کرلیں در انحالیکہ وہ مال جنس نفقہ ہو تو والدین ضامن نہ ہوں گے کیونکہ والدین اور بیوی کا نفقہ قضاء کے بغیر بھی واجب ہے لہذا وہ اپنے حق والی جنس پر قابو پالیں تو قبضہ کرسکتے ہیںاسی وجہ سے غائب کے مال میں ان کا نفقہ بقدر ضرورت نافذ ہوتا ہے بخلاف باقی اقارب کے۔اسی طرح کا بیان منحزیلعی اور جوہرہ کے باب زکوۃ میں ہےقرض خواہ اپنے حق والی جنس پر قابو پا نے پر لے سکتا ہے خواہ رضا اور قضانہ ہو۔اورفتح میں اس کے قول کہ "بیوی سے قاضی قسم لے گا کہ خاوند نے مجھے نفقہ نہیں دیا" کے تحت ہے جہاں قاضی کو بیوی کے لئے نفقہ نافذ
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق باب النفقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۴€
من مالہ شرعا اھ فیقول المبتغی ولا قاضی ثمۃ محمول علی مااذاکان یاخذہ من خلاف جنس النفقۃ فلاحاجۃ فیہا الی القاضی وتمامہ فی حاشیۃ الرحمتی وقد اطال واطاب ۔ کرنے کا اختیار ہے وہاں بیوی کو یہ جائز ہے کہ شرعا وہ بغیر قضاء خاوند کے مال سے حاصل کرلےاھتو مبتغی کا یہ قول کہ "وہاں قاضی نہ ہو"یہ اس صورت پر محمول ہے جبکہ غیر جنس نفقہ سے لےتو جنس نفقہ کی صورت میں قاضی کی ضرورت نہیںیہ تمام بیان رحمتی کے حاشیہ میں ہے انہوں نے اچھی طوالت سے بیان کیا ہے۔(ت)
یہاں کہ شوہر ہندہ نے کل متروکہ اپنے پسر کے نام جانب ہندہ سے ہبہ بتایا اور اسی پر کارروائی کی وہ شرعا اپنے اقرار پر مواخذ ہے اور اس کا دعوی کہ اس وقت اپنی چہارم بچانے کےلئے ایسا مصلحۃ محض غلط کہہ دیا تھا ہرگز یوں مسموع نہیں جب وہ خود اتنی مدت تك چہارم کے لئے جھوٹ ظاہر کرتے رہنے کا مقر ہے تو کیا اعتبار ہے کہ اس کے وہی بیانات ممتدہ سچے ہوں اور اب بیٹے کی حرکات کے باعث ناراض ہوکر اس کے اضرار کے لئے یہ اظہار کرتا ہوغرض کوئی مقر صرف اپنے اقرار سے پھر کر نفع نہیں پاسکتامرض الموت کا ہبہ جبکہ وارث کے نام ہواگرچہ تمام وکمال اجازت دے کر ورثہ پر موقوف رہتا ہے اور بعض نہ مانیں تو ان کے حق میں باطل ہوجاتا ہے مگر ماننے والے کے حق پر ضرور نافذرہتا ہے اور یہ شیوع کہ بعد کو عارض ہوا تمامی ہبہ کومضر نہیں ہوتاتنویر میں ہے:
المانع شیوع مقارن لاطارئ ۔ غیر منقسم حصہ ہونا ابتداء مانع ہے بعد والا طاری ہوتو مانع نہیں ہے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازۃ ۔ غیر منقسم ہوناصحۃ اجازت کےلئے مانع نہیں ہے۔(ت)
تو وہ اجازت شوہر ہندہ اس کے اپنے حق چہارم پر ضرور اثر انداز ہوئی اور اسے محض دعوی چہارم پانے کا کوئی حق نہ ہوگا۔رہا نانی کا ششم کہ اس کے عدم تسلیم کے باعث محفوظ رہا تھا جبکہ اسے اپنے پسر کے
یہاں کہ شوہر ہندہ نے کل متروکہ اپنے پسر کے نام جانب ہندہ سے ہبہ بتایا اور اسی پر کارروائی کی وہ شرعا اپنے اقرار پر مواخذ ہے اور اس کا دعوی کہ اس وقت اپنی چہارم بچانے کےلئے ایسا مصلحۃ محض غلط کہہ دیا تھا ہرگز یوں مسموع نہیں جب وہ خود اتنی مدت تك چہارم کے لئے جھوٹ ظاہر کرتے رہنے کا مقر ہے تو کیا اعتبار ہے کہ اس کے وہی بیانات ممتدہ سچے ہوں اور اب بیٹے کی حرکات کے باعث ناراض ہوکر اس کے اضرار کے لئے یہ اظہار کرتا ہوغرض کوئی مقر صرف اپنے اقرار سے پھر کر نفع نہیں پاسکتامرض الموت کا ہبہ جبکہ وارث کے نام ہواگرچہ تمام وکمال اجازت دے کر ورثہ پر موقوف رہتا ہے اور بعض نہ مانیں تو ان کے حق میں باطل ہوجاتا ہے مگر ماننے والے کے حق پر ضرور نافذرہتا ہے اور یہ شیوع کہ بعد کو عارض ہوا تمامی ہبہ کومضر نہیں ہوتاتنویر میں ہے:
المانع شیوع مقارن لاطارئ ۔ غیر منقسم حصہ ہونا ابتداء مانع ہے بعد والا طاری ہوتو مانع نہیں ہے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازۃ ۔ غیر منقسم ہوناصحۃ اجازت کےلئے مانع نہیں ہے۔(ت)
تو وہ اجازت شوہر ہندہ اس کے اپنے حق چہارم پر ضرور اثر انداز ہوئی اور اسے محض دعوی چہارم پانے کا کوئی حق نہ ہوگا۔رہا نانی کا ششم کہ اس کے عدم تسلیم کے باعث محفوظ رہا تھا جبکہ اسے اپنے پسر کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۷۸۔۶۷۷€
درمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیۃ
درمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیۃ
نام خریدا وہ بھی اس کا ہوگیا اگر اصل خریداری اسی کی طرف سے اسی کے نام سے ہوئی جب توظاہر ہے کہ ابتداء لڑکا ہی اس کا مالك ہوا اور اگر خود خریدا اور بیعنامے میں لڑکے کا نام لکھا دیا تو اب یہ نہ ٹھہرائیں گے کہ خریداری سے اصل مالك یہ خود ہوا
لان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ کما فی الدر وغیرہ۔ کیونکہ خریداری کا جب نفاذ مشتری(خریدار)پر ہو تو بیع نافذ ہوجائے گیجیسا کہ درو غیرہ میں ہے۔(ت)
اورپھر لڑکے کے نام بیعنامہ لکھا نا اس کی طرف سے پسر کو ہبہ ہوا لانہ دلالۃ التملیك وقد بیناہ فی فتاونا(کیونکہ یہ مالك بنانے پر دلالت ہےاس کو ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔ت)تاکہ وہم گزرے کہ جب ماورائے ششم کا بوجہ ہبہ ہندہ حسب اقرار شوہر ہوچکا اور یہ ششم بذریعہ شراء اس شخص کی ملك ہوا اور ہنوز منقسم ہے تو بیٹے کے نام لکھا دینا شیئ مشاع کا اپنے شریك کو ہبہ کرنا ہوااور وہ علی المذہب المعتمد جائز نہیں۔درمختار میں ہے:
تم بالقبض فی مقسوم ومشاع لایقسم الافی ما یقسم ولو لشریکہ کما فی عامۃ الکتب فکان ھو المذہب الخ مختصرا۔ تقسیم شدہ اور ناقابل تقسیم کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجاتا ہے مگر اس غیر منقسم کا ہبہ جو قابل تقسیم ہو قبضہ سے تام نہ ہوگا اگرچہ یہ ہبہ شریك کو ہی کیوں نہ ہوجیساکہ عام کتب میں ہے تو وہی مذہب ہے الخ مختصرا(ت)
بلکہ جب وہ مال اس کے قبضہ میں پہنچا اور یہ اقرار کرچکا تھا کہ وہ تمام وکمال بذریعہ ہبہ ملك پسر ہے تو اپنے اسی اقرار پر مواخذ ہو کر یہ ششم بھی سپرد پسر کرنا ہوگا اور وہ بیعنامہ میں اس کا نام لکھانا اس کی تکمیل ٹھہرے گابالجملہ اقرارکے باعث اب یہ دعوی ایسا نہ رہا جیسا کہ ایك وارث ثابت الوراثت کا دعوی صاف وآسان ہوتا۔اب حکم یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں اگر مہر ہندہ واقعی معاف ہوگیا او راس کے بھائی اسے ناحق دباتے تھے اور اس کے کوئی ذریعہ تحفظ سوائے اس اقرار کے نہ تھا جسے اب وہ غلط و بربنائے مصلحت بتاتا ہے تو اولا اس سے گواہ مانگے جائیں گے اگر گواہان شرعی سے ثبوت دے دے کہ یہ اقرار محض کا ذب و فرضی تھا فبہا ورنہ بیٹے سے حلف لیاجائے کہ واﷲ میرے باپ کا اقرار مذکور
لان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ کما فی الدر وغیرہ۔ کیونکہ خریداری کا جب نفاذ مشتری(خریدار)پر ہو تو بیع نافذ ہوجائے گیجیسا کہ درو غیرہ میں ہے۔(ت)
اورپھر لڑکے کے نام بیعنامہ لکھا نا اس کی طرف سے پسر کو ہبہ ہوا لانہ دلالۃ التملیك وقد بیناہ فی فتاونا(کیونکہ یہ مالك بنانے پر دلالت ہےاس کو ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔ت)تاکہ وہم گزرے کہ جب ماورائے ششم کا بوجہ ہبہ ہندہ حسب اقرار شوہر ہوچکا اور یہ ششم بذریعہ شراء اس شخص کی ملك ہوا اور ہنوز منقسم ہے تو بیٹے کے نام لکھا دینا شیئ مشاع کا اپنے شریك کو ہبہ کرنا ہوااور وہ علی المذہب المعتمد جائز نہیں۔درمختار میں ہے:
تم بالقبض فی مقسوم ومشاع لایقسم الافی ما یقسم ولو لشریکہ کما فی عامۃ الکتب فکان ھو المذہب الخ مختصرا۔ تقسیم شدہ اور ناقابل تقسیم کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجاتا ہے مگر اس غیر منقسم کا ہبہ جو قابل تقسیم ہو قبضہ سے تام نہ ہوگا اگرچہ یہ ہبہ شریك کو ہی کیوں نہ ہوجیساکہ عام کتب میں ہے تو وہی مذہب ہے الخ مختصرا(ت)
بلکہ جب وہ مال اس کے قبضہ میں پہنچا اور یہ اقرار کرچکا تھا کہ وہ تمام وکمال بذریعہ ہبہ ملك پسر ہے تو اپنے اسی اقرار پر مواخذ ہو کر یہ ششم بھی سپرد پسر کرنا ہوگا اور وہ بیعنامہ میں اس کا نام لکھانا اس کی تکمیل ٹھہرے گابالجملہ اقرارکے باعث اب یہ دعوی ایسا نہ رہا جیسا کہ ایك وارث ثابت الوراثت کا دعوی صاف وآسان ہوتا۔اب حکم یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں اگر مہر ہندہ واقعی معاف ہوگیا او راس کے بھائی اسے ناحق دباتے تھے اور اس کے کوئی ذریعہ تحفظ سوائے اس اقرار کے نہ تھا جسے اب وہ غلط و بربنائے مصلحت بتاتا ہے تو اولا اس سے گواہ مانگے جائیں گے اگر گواہان شرعی سے ثبوت دے دے کہ یہ اقرار محض کا ذب و فرضی تھا فبہا ورنہ بیٹے سے حلف لیاجائے کہ واﷲ میرے باپ کا اقرار مذکور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۰€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
سچا تھا اور فرضی نہ تھا اگر وہ حلف سے انکار کرے تو اس کے باپ کا دعوی ثابت مانا جائے گا اور حلف کرلے تو ر د ہوجائے گا۔ در مختار میں ہے:
اقررجل بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذاالمال المقربہ قرض وبعضہ ربا علیہ فان اقام علی ذلك بینۃ تقبل وان کان متناقضا لانانعلم انہ مضطر الی ھذاالاقرار شرح وھبانیہ ۔ ایك شخص نے رسید میں درج مال کا دوسرے کیلئے اقرار کیا اور مدعی نے اس پر شہادت پیش کی پھر مقر نے کہا کہ اس مال میں سے کچھ قرض ہے اور کچھ سود ہے اس پر مقر نے گواہ پیش کردئے تو یہ گواہی قبول کی جائے گی اگرچہ یہ بات پہلے اقرار کے مناقض ہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ وہ اس اقرار پر مجبور تھاشرح وہبانیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقر لم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی درر ۔ اقرار کرکے پھر کہتا ہے میں نے جھوٹا اقرار کیا ہے تو مقرلہ (جس کے حق میں اقرار کیا)سے قسم لی جائیگی کہ اقرار کرنیوالے نے سچا اقرار کیا ہے نہ کہ جھوٹایہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہےاور اسی پر فتوی دیا جائے گا درر۔(ت)
یہ فیصلہ قضا ہے اور فیصلہ سعادت وہ تھا انت ومالك لابیک تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔اپنے دونوں جہان کی بھلائی چاہتا ہے تو اسی فیصلہ پر سر رکھ دے کہ یہ فیصلہ اس کے نبی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہےاور مسلمان وہی ہے جوان کافیصلہ دل سے مان لےاﷲ عزوجل فرماتا ہے "تیرے رب کی قسم مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنے باہمی جھگڑوں میں تجھے حکم نہ بنائیں پھر تیرے فیصلہ سے اپنے دلوں میں اصلا تنگی نہ پائیں گے اور قبول کرلیں مان کر" ۔اﷲ عزوجل توفیق عطا فرمائےآمین!واﷲ تعالی اعلم۔
اقررجل بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذاالمال المقربہ قرض وبعضہ ربا علیہ فان اقام علی ذلك بینۃ تقبل وان کان متناقضا لانانعلم انہ مضطر الی ھذاالاقرار شرح وھبانیہ ۔ ایك شخص نے رسید میں درج مال کا دوسرے کیلئے اقرار کیا اور مدعی نے اس پر شہادت پیش کی پھر مقر نے کہا کہ اس مال میں سے کچھ قرض ہے اور کچھ سود ہے اس پر مقر نے گواہ پیش کردئے تو یہ گواہی قبول کی جائے گی اگرچہ یہ بات پہلے اقرار کے مناقض ہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ وہ اس اقرار پر مجبور تھاشرح وہبانیہ۔(ت)
اسی میں ہے:
اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقر لم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی درر ۔ اقرار کرکے پھر کہتا ہے میں نے جھوٹا اقرار کیا ہے تو مقرلہ (جس کے حق میں اقرار کیا)سے قسم لی جائیگی کہ اقرار کرنیوالے نے سچا اقرار کیا ہے نہ کہ جھوٹایہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہےاور اسی پر فتوی دیا جائے گا درر۔(ت)
یہ فیصلہ قضا ہے اور فیصلہ سعادت وہ تھا انت ومالك لابیک تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔اپنے دونوں جہان کی بھلائی چاہتا ہے تو اسی فیصلہ پر سر رکھ دے کہ یہ فیصلہ اس کے نبی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہےاور مسلمان وہی ہے جوان کافیصلہ دل سے مان لےاﷲ عزوجل فرماتا ہے "تیرے رب کی قسم مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنے باہمی جھگڑوں میں تجھے حکم نہ بنائیں پھر تیرے فیصلہ سے اپنے دلوں میں اصلا تنگی نہ پائیں گے اور قبول کرلیں مان کر" ۔اﷲ عزوجل توفیق عطا فرمائےآمین!واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار فصل مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۰€
درمختار کتاب الاقرار فصل مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۳€
مسند امام احمد بن حنبل ترجمہ عمرو بن شعیب دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۰۴€
القرآن الکریم ∞۴ /۶۵€
درمختار کتاب الاقرار فصل مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۳€
مسند امام احمد بن حنبل ترجمہ عمرو بن شعیب دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۰۴€
القرآن الکریم ∞۴ /۶۵€
مسئلہ۸۳: ازریاست رام پور محلہ متصل دروازہ انگوری باغ مرسلہ علی رضاخان ۱۱محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین کی خدمت میں بعد ادائے آداب بزرگاں گزارش ہے کہ ہندہ شب کو اپنے باپ کے مکان سے نکل کر زید کے مکان پر آئی اور زید سے برضائے خود نکاح کرلیاہندہ کے باپ نے استغاثہ فراری دخترکاکیااور ہندہ بحکم سرکار اپنے باپ کے سپرد کردی گئی اور زید نے نالش مفتی کے یہاں کیمفتی صاحب نے دعوی فسخ کردیاعرضی دعوی اور جواب دعوی اور جواب وتنقیح عدالت وثبوت مدعی وصفائی مدعا علیہاواظہارات گواہان وفیصلہ عدالت سب کی نقلیں حاضر ملاحظہ ہیں اس ثبوت پر دعوی مفتی نے خارج کردیا ہےاب علمائے دین کی خدمت میں عرض ہے کہ بعد ملاحظہ کاغذات حکم شرعی سے معزز فرمائیں۔عرضی علی رضاخاں برادر حسن رضاخاں ساکن رام پور۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب اﷲ عزوجل تبارك وتعالی احکم الحاکمین عزجلالہ نے خادمان علم سے عہد لیا ہے کہ جب تم سے کسی مسئہ شرعیہ کا استفسار ہوبے رورعایت حق کا اظہار ہو ورنہ معاذ اﷲ مستحق لجام نار ہوفیصلہ مع جملہ کا غذات مرسلہ نظر سے گزرا بنگاہ اولین واضح ہوا کہ معزز ذی علم مجوز کی نظر کو یہاں بوجوہ کثیر سخت لغزشوں کا سامنا ہوامحض نامکمل مقدمہ پر فیصلہ دے دیا گیا جو کسی طرح جائز نہ تھاذی علم مجوز نے بناء فیصلہ چند امور پر رکھی ہے:
(۱)ابطال مبنائے ثبوت دعوی
(۲)قرائن سے ظہور غلطی دعوی
مگر افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان میں کوئی وجہ قوانین شرع مطہر کی معیار مبارك پر صحیح نہ اتری تفصیل موجب تطویل لہذا مختصروجوہ غلطی فیصلہ پر اقتصار کریں وباﷲ التوفیق۔
بنائے دعوی
(۱)ذی علم مجوز نے اس دعوی کا اصلی مبنی اس امر کاثابت ہونا قرار دیا ہے کہ عصمت جہاں بیگم نے حسن رضاخاں کے ساتھ اپنے نکاح کا وکیل بوستاں خاں کو کیا ہے کیونکہ بذریعہ ولی جائز کے نکاح ہونے کا دعوی نہیں ہے بلکہ بوستاں خاں شخص اجنب کے اور مدعا علیہا بوستاں خاں کی توکیل سے منکر ہے یہاں تك کہ فرمایا صحت نکاح موقوف توکیل ہے جب توکیل غیر ثابت ہے تو اگر نکاح ہو بھی گیا توبوجہ عدم صحت توکیل کے نکاح ثابت نہیںیہاں تمام کتب مذہب کی روشن تصریحوں سے سخت ذہول
علمائے دین ومفتیان شرع متین کی خدمت میں بعد ادائے آداب بزرگاں گزارش ہے کہ ہندہ شب کو اپنے باپ کے مکان سے نکل کر زید کے مکان پر آئی اور زید سے برضائے خود نکاح کرلیاہندہ کے باپ نے استغاثہ فراری دخترکاکیااور ہندہ بحکم سرکار اپنے باپ کے سپرد کردی گئی اور زید نے نالش مفتی کے یہاں کیمفتی صاحب نے دعوی فسخ کردیاعرضی دعوی اور جواب دعوی اور جواب وتنقیح عدالت وثبوت مدعی وصفائی مدعا علیہاواظہارات گواہان وفیصلہ عدالت سب کی نقلیں حاضر ملاحظہ ہیں اس ثبوت پر دعوی مفتی نے خارج کردیا ہےاب علمائے دین کی خدمت میں عرض ہے کہ بعد ملاحظہ کاغذات حکم شرعی سے معزز فرمائیں۔عرضی علی رضاخاں برادر حسن رضاخاں ساکن رام پور۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب اﷲ عزوجل تبارك وتعالی احکم الحاکمین عزجلالہ نے خادمان علم سے عہد لیا ہے کہ جب تم سے کسی مسئہ شرعیہ کا استفسار ہوبے رورعایت حق کا اظہار ہو ورنہ معاذ اﷲ مستحق لجام نار ہوفیصلہ مع جملہ کا غذات مرسلہ نظر سے گزرا بنگاہ اولین واضح ہوا کہ معزز ذی علم مجوز کی نظر کو یہاں بوجوہ کثیر سخت لغزشوں کا سامنا ہوامحض نامکمل مقدمہ پر فیصلہ دے دیا گیا جو کسی طرح جائز نہ تھاذی علم مجوز نے بناء فیصلہ چند امور پر رکھی ہے:
(۱)ابطال مبنائے ثبوت دعوی
(۲)قرائن سے ظہور غلطی دعوی
مگر افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان میں کوئی وجہ قوانین شرع مطہر کی معیار مبارك پر صحیح نہ اتری تفصیل موجب تطویل لہذا مختصروجوہ غلطی فیصلہ پر اقتصار کریں وباﷲ التوفیق۔
بنائے دعوی
(۱)ذی علم مجوز نے اس دعوی کا اصلی مبنی اس امر کاثابت ہونا قرار دیا ہے کہ عصمت جہاں بیگم نے حسن رضاخاں کے ساتھ اپنے نکاح کا وکیل بوستاں خاں کو کیا ہے کیونکہ بذریعہ ولی جائز کے نکاح ہونے کا دعوی نہیں ہے بلکہ بوستاں خاں شخص اجنب کے اور مدعا علیہا بوستاں خاں کی توکیل سے منکر ہے یہاں تك کہ فرمایا صحت نکاح موقوف توکیل ہے جب توکیل غیر ثابت ہے تو اگر نکاح ہو بھی گیا توبوجہ عدم صحت توکیل کے نکاح ثابت نہیںیہاں تمام کتب مذہب کی روشن تصریحوں سے سخت ذہول
واقع ہواصحت نکاح ہر گز تقدم توکیل پر موقوف نہیںنہ ثبوت نکاح ثبوت توکیل سابق علی النکاح پر۔اگر کوئی فضولی راہ چلتا محض بلا اجازت وبلا اطلاع ہندہ کا نکاح زید سے خواہ زید کی طرف سے فضولی ہو کر اس کا نکاح ہندہ سے کردے اور طرف ثانی یعنی پہلی صورت میں زید اور دوسری صورت میں ہندہ خود یا اس کا وکیل یا ولی یا اس کی طرف سے بھی کوئی راہ چلتا اسی مجلس میں دو گواہوں کے سامنے کے سنتے سمجھتے ہوں قبول کرلے نکاح ضرور صحیح و منعقد ہوجائے گا جبکہ کوئی اس قابل ہو کہ اسے خبر پہنچے اور وہ اس فعل فضول کو روا رکھے تو جائز ہوسکے گا ہاں اس کا نفاذ خود منکوحہ یا ناکح یا دونوں یا ان کے اولیا کی اجازت پر موقوف رہے گا یعنی منکوحہ یا ناکح صرف ایك کی طرف سے کوئی فضولی تھا تو اس کی اپنی اجازت چاہئے اگر بالغ ہو ورنہ ولی کی اور دونوں کی طرف سے فضولیوں نے ایجاب و قبول کیا تو دونوں کی اپنی اجازت پر توقف ہوگا اگر بالغ ہوں یا اولیا کی اگر نابالغ ہوں یا ایك کی اپنی اور دوسرے کے ولی کی اگر ایك بالغ دوسرا نابالغ ہو بہر حال صحت نکاح میں شبہہ نہیںایسا نکاح اگر حاکم کے سامنے ثابت ہو تو ہر گزاس بناء پر رد نہ کرے گا کہ توکیل تو ہوئی ہی نہ تھی لہذانکاح ثابت نہیں بلکہ اس وقت تنقیح اس کی لازم ہوگی کہ ایا اجازت پائی گئی یا نہیںاگر بعد نکاح اجازت قولاخواہ فعلا کسی طرح ثابت ہو ضرور ثبوت نکاح کاحکم کرے گا ورنہ نہیں۔در مختار فصل فضولی میں ہے:
کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق واعتاق ولہ مجیز حال وقوعہ العقد موقوفا ۔ فضولی شخص کا ایسا تصرف کہ اس کے تصرف کے وقت کوئی جائز کرنے والا موجود ہو مثلا بیعنکاح کرناطلاق واعتقاقتو یہ تصرفات موقوف طور پر منعقد ہوں گے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الموقوف من قسم الصحیح وھو احد طریقین للمشائخ وھو الحق ۔ موقوف تصرف صحیح اقسام میں سے ہےیہ مشائخ کے دو طریقوں میں سے ایك ہے اور یہی حق ہے(ت)
فتاوی خیریہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا عامہ اسفار میں ہے:
کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق واعتاق ولہ مجیز حال وقوعہ العقد موقوفا ۔ فضولی شخص کا ایسا تصرف کہ اس کے تصرف کے وقت کوئی جائز کرنے والا موجود ہو مثلا بیعنکاح کرناطلاق واعتقاقتو یہ تصرفات موقوف طور پر منعقد ہوں گے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الموقوف من قسم الصحیح وھو احد طریقین للمشائخ وھو الحق ۔ موقوف تصرف صحیح اقسام میں سے ہےیہ مشائخ کے دو طریقوں میں سے ایك ہے اور یہی حق ہے(ت)
فتاوی خیریہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا عامہ اسفار میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳€
الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ ۔ بعد کی اجازت سابق وکالت کی طرح ہے۔(ت)
تو وکالت بوستاں خاں کو صحت نکاح کا موقوف علیہ اور ثبوت توکیل بوستاں خاں کو ثبوت دعوی کا اصل مبنی ماننا دونوں باتیں ناقابل قبول ہیں۔
(۲)جلال خاں وامجدی بیگم وسروری بیگم گواہان توکیل ہیںذی علم مجوز نے صحت دعوی کا دوسرا مبنی گواہوں کا مقرہ کو پہچاننا قرار دیا اورا س پر اعتراض کیا کہ جلال خاں کو عدم شناخت مقرہ کی تسلیم ہے اپنے اظہارمیں لکھایا ہے کہ عصمت جہاں بیگم پردہ نشین ہے جس وقت گواہی دریافت کرنے کے لئے میں گیا تھا اس وقت کے علاوہ میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہیں دیکھا تھا میں نے عصمت جہاں بیگم کو ایسے پہچانا کہ اس نے اپنا نام مجھے بتایا اور عورات نے بھی مجھ کو بتایا یہ شناخت کافی نہیں اول تو وہ عورات غیر معین ان کا نام گواہ نے نہ لیا کہ ان کی حیثیت کا اندازہ ہوتا نہ صراحت کی کہ کس طرح اس کو بتایا ان سے قطع نظر تعریف اناث بلا شمول مردے نیك اصلاقابل قبول نہیں پس بوجہ عدم شناخت مقرہ شہادت جلال خاں کی کالعد م ہےسروری بیگم وامجدی بیگم کی شہادتوں میں نقصان نہ بھی ہوں تو بلا شمول شہادت مردحجت نہیں پس شناخت و توکیل دونوں مفقود ہیںذی علم معزز مجوز نے لحاظ نہ فرمایا کہ جلال خاں کو فی الحال عصمت جہاں بیگم کی شناخت نہ ہونی تسلیم ہے یا یہ کہ اس وقت سے پہلے نہ پہچانتا تھا گواہ کو وقت شہادت مشہود علیہ کا پہچاننا چاہئے یا پہلے سے جان پہچان ہونا ضروری ہےجلال خاں نے یہ کہا کہ اس وقت کے علاوہ میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہ دیکھا تھا یا یہ کہ اس وقت بھی میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہ دیکھا تھا اور جب صراحۃ وہ اس وقت عصمت جہاں بیگم کو دیکھنا بیان کررہا ہے تو کسی مرد یا عورت کی تعریف کی کیا ضرورت تھی اگر کوئی عورت بھی اس سے نہ کہتی کہ یہ عصمت جہاں بیگم ہے جب وقت اقرار اس نے خود اپنی آنکھ سے اسے دیکھا اور اس کا منہ دیکھ کر پہچانی ہوئی عورت کے اقرار پر گواہ ہوا تو اس قدر صحت شہادت کے لئے یقینا کافی ووافی تھالاکھوں مردوں پر ایسی ہی شہادتیں تحمل کی جاتی ہیں کہ شاہدین نے اس وقت سے پہلے انہیں کبھی نہ دیکھا تھا کیا یہ شہادتیں مردود ہیں یا شاہدوں کو لازم ہے کہ کہیں سے اپنی جان پہچان سے دو مرد یا ایك مرددوعورتیں پکڑ کرلائیں اور پہلے انہیں دکھا کر مشہود علیہ کی تعریف کرالیں اس کے بعد تحمل شہادت کریں کوئی عاقل اس کا قائل نہیں خود وہ عبارات کہ ذی علم مجوز نے فیصلہ کے ساتھ اپنی تجویز کی سند میں پیش کیں تجویز کی رد پر گواہ عادل ہیں کیا ذی علم مجوز نے درمختار کی یہ عبارت نقل نہ کی:
اویری شخصھا ای القائلۃ مع شہادۃ یا یہ کہنے والی عورت کہ میں فلانی بنت فلاں بن فلاں ہوں
تو وکالت بوستاں خاں کو صحت نکاح کا موقوف علیہ اور ثبوت توکیل بوستاں خاں کو ثبوت دعوی کا اصل مبنی ماننا دونوں باتیں ناقابل قبول ہیں۔
(۲)جلال خاں وامجدی بیگم وسروری بیگم گواہان توکیل ہیںذی علم مجوز نے صحت دعوی کا دوسرا مبنی گواہوں کا مقرہ کو پہچاننا قرار دیا اورا س پر اعتراض کیا کہ جلال خاں کو عدم شناخت مقرہ کی تسلیم ہے اپنے اظہارمیں لکھایا ہے کہ عصمت جہاں بیگم پردہ نشین ہے جس وقت گواہی دریافت کرنے کے لئے میں گیا تھا اس وقت کے علاوہ میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہیں دیکھا تھا میں نے عصمت جہاں بیگم کو ایسے پہچانا کہ اس نے اپنا نام مجھے بتایا اور عورات نے بھی مجھ کو بتایا یہ شناخت کافی نہیں اول تو وہ عورات غیر معین ان کا نام گواہ نے نہ لیا کہ ان کی حیثیت کا اندازہ ہوتا نہ صراحت کی کہ کس طرح اس کو بتایا ان سے قطع نظر تعریف اناث بلا شمول مردے نیك اصلاقابل قبول نہیں پس بوجہ عدم شناخت مقرہ شہادت جلال خاں کی کالعد م ہےسروری بیگم وامجدی بیگم کی شہادتوں میں نقصان نہ بھی ہوں تو بلا شمول شہادت مردحجت نہیں پس شناخت و توکیل دونوں مفقود ہیںذی علم معزز مجوز نے لحاظ نہ فرمایا کہ جلال خاں کو فی الحال عصمت جہاں بیگم کی شناخت نہ ہونی تسلیم ہے یا یہ کہ اس وقت سے پہلے نہ پہچانتا تھا گواہ کو وقت شہادت مشہود علیہ کا پہچاننا چاہئے یا پہلے سے جان پہچان ہونا ضروری ہےجلال خاں نے یہ کہا کہ اس وقت کے علاوہ میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہ دیکھا تھا یا یہ کہ اس وقت بھی میں نے عصمت جہاں بیگم کو نہ دیکھا تھا اور جب صراحۃ وہ اس وقت عصمت جہاں بیگم کو دیکھنا بیان کررہا ہے تو کسی مرد یا عورت کی تعریف کی کیا ضرورت تھی اگر کوئی عورت بھی اس سے نہ کہتی کہ یہ عصمت جہاں بیگم ہے جب وقت اقرار اس نے خود اپنی آنکھ سے اسے دیکھا اور اس کا منہ دیکھ کر پہچانی ہوئی عورت کے اقرار پر گواہ ہوا تو اس قدر صحت شہادت کے لئے یقینا کافی ووافی تھالاکھوں مردوں پر ایسی ہی شہادتیں تحمل کی جاتی ہیں کہ شاہدین نے اس وقت سے پہلے انہیں کبھی نہ دیکھا تھا کیا یہ شہادتیں مردود ہیں یا شاہدوں کو لازم ہے کہ کہیں سے اپنی جان پہچان سے دو مرد یا ایك مرددوعورتیں پکڑ کرلائیں اور پہلے انہیں دکھا کر مشہود علیہ کی تعریف کرالیں اس کے بعد تحمل شہادت کریں کوئی عاقل اس کا قائل نہیں خود وہ عبارات کہ ذی علم مجوز نے فیصلہ کے ساتھ اپنی تجویز کی سند میں پیش کیں تجویز کی رد پر گواہ عادل ہیں کیا ذی علم مجوز نے درمختار کی یہ عبارت نقل نہ کی:
اویری شخصھا ای القائلۃ مع شہادۃ یا یہ کہنے والی عورت کہ میں فلانی بنت فلاں بن فلاں ہوں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۹€
اثنتین بانھا فلانۃ بنت فلان بن فلان ۔
اس پر اس کے ساتھ دو گواہ بھی ہوںکے تشخص کو دیکھا جارہا ہو۔(ت)
کیا اسکی شرح میں ردالمحتار کی یہ عبارت نقل نہ کی:
احترزبرؤیۃ شخصہا عن رؤیۃ وجھھا قال فی جامع الفصولین حسرت عن وجہہا وقالت انا فلانۃ بنت فلاں بن فلاں وھبت لزوجی مھری فلایحتاج الشہود الی شہادۃ عدلین انہا فلانۃ بنت فلاں ما دامت حیۃ اذیمکن للشاھد ان یشیر الیہا ۔ شخصیت کو دیکھنے کے قول نے چہرے کو دیکھنے سے بچادیاجامع الفصولین میں فرمایا:عورت نے چہرے سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ میں فلانہ بنت فلاں بن فلاں نے اپنا مہر اپنے خاوند کو دیا تو گواہوں کو یہ کہنے والے دو عادل گواہوں کی ضرورت نہیں کہ وہ فلا نہ بنت فلاں بن فلاں ہے کیونکہ اس کی زندگی میں گواہ کو اشارہ سے بتانا ممکن ہے(ت)
کیاشامی کی یہ عبارت نقل نہ کی:
کذااذا وکلت بالتزویج فھو علی ھذااھ ای ان رأوھااو کانت وحدھا فی البیت یجوز ان یشھدواعلیہا بالتوکیل ۔ یوں ہی جب عورت نے اپنے نکاح کےلئے وکیل بنایا اور عورت کو گواہ دیکھ سکتے ہوں یا وہ مکان میں اکیلی ہو تو گواہوں کو اس کی وکالت پر شہادت جائز ہے۔(ت)
کیاان عبارتوں میں صاف تصریح نہ تھی کہ دو مرد یا ایك مرد دو عورات کی تعریف اس وقت ضرور ہے جب مقرہ شاہد کے سامنے نقاب یا برقع میں ہوکہ اس کے قدوقامت و بدن و جسامت کا اندازہ کپڑوں میں چھپا نظر آتا ہے چہرہ نہیں دکھائی دیتا او اگرمنہ کھول کر کہے کہ میں فلانہ بنت فلاں بن فلاں ہوںتو جب تك عورت زندہ ہے گواہ کو اصلا تعریف کی حاجت نہیںغرض بربنائے عدم تعریف شہادت جلال خاں کا کالعدم قرار پانا اور اس کی بناء پر سروری بیگم و امجدی بیگم کی گواہیوں کا شہادت مرد سے خالی رہ جانا اور اس کی بناء پر توکیل بوستاں خاں کا ثابت نہ ہونا اور اسکی بناء پر دعوی نکاح کا بے ثبوت رہنا یہ سب بنائے فاسد علی الفاسد ہےہاں یہاں ضرورقصور رہا کہ شاہد جبکہ عصمت جہاں بیگم کو پہلے سے نہ پہچانتا تھا کہ وقت توکیل اسے دیکھ کر خود ہی پہچان لیتا اور وقت شہادت اپنے علم ذاتی سے گواہی دیتا کہ وہ عورت جس نے میرے سامنے توکیل کی عصمت جہاں بیگم
اس پر اس کے ساتھ دو گواہ بھی ہوںکے تشخص کو دیکھا جارہا ہو۔(ت)
کیا اسکی شرح میں ردالمحتار کی یہ عبارت نقل نہ کی:
احترزبرؤیۃ شخصہا عن رؤیۃ وجھھا قال فی جامع الفصولین حسرت عن وجہہا وقالت انا فلانۃ بنت فلاں بن فلاں وھبت لزوجی مھری فلایحتاج الشہود الی شہادۃ عدلین انہا فلانۃ بنت فلاں ما دامت حیۃ اذیمکن للشاھد ان یشیر الیہا ۔ شخصیت کو دیکھنے کے قول نے چہرے کو دیکھنے سے بچادیاجامع الفصولین میں فرمایا:عورت نے چہرے سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ میں فلانہ بنت فلاں بن فلاں نے اپنا مہر اپنے خاوند کو دیا تو گواہوں کو یہ کہنے والے دو عادل گواہوں کی ضرورت نہیں کہ وہ فلا نہ بنت فلاں بن فلاں ہے کیونکہ اس کی زندگی میں گواہ کو اشارہ سے بتانا ممکن ہے(ت)
کیاشامی کی یہ عبارت نقل نہ کی:
کذااذا وکلت بالتزویج فھو علی ھذااھ ای ان رأوھااو کانت وحدھا فی البیت یجوز ان یشھدواعلیہا بالتوکیل ۔ یوں ہی جب عورت نے اپنے نکاح کےلئے وکیل بنایا اور عورت کو گواہ دیکھ سکتے ہوں یا وہ مکان میں اکیلی ہو تو گواہوں کو اس کی وکالت پر شہادت جائز ہے۔(ت)
کیاان عبارتوں میں صاف تصریح نہ تھی کہ دو مرد یا ایك مرد دو عورات کی تعریف اس وقت ضرور ہے جب مقرہ شاہد کے سامنے نقاب یا برقع میں ہوکہ اس کے قدوقامت و بدن و جسامت کا اندازہ کپڑوں میں چھپا نظر آتا ہے چہرہ نہیں دکھائی دیتا او اگرمنہ کھول کر کہے کہ میں فلانہ بنت فلاں بن فلاں ہوںتو جب تك عورت زندہ ہے گواہ کو اصلا تعریف کی حاجت نہیںغرض بربنائے عدم تعریف شہادت جلال خاں کا کالعدم قرار پانا اور اس کی بناء پر سروری بیگم و امجدی بیگم کی گواہیوں کا شہادت مرد سے خالی رہ جانا اور اس کی بناء پر توکیل بوستاں خاں کا ثابت نہ ہونا اور اسکی بناء پر دعوی نکاح کا بے ثبوت رہنا یہ سب بنائے فاسد علی الفاسد ہےہاں یہاں ضرورقصور رہا کہ شاہد جبکہ عصمت جہاں بیگم کو پہلے سے نہ پہچانتا تھا کہ وقت توکیل اسے دیکھ کر خود ہی پہچان لیتا اور وقت شہادت اپنے علم ذاتی سے گواہی دیتا کہ وہ عورت جس نے میرے سامنے توکیل کی عصمت جہاں بیگم
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۲€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۷۳€
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۷۲€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۷۳€
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۷۲€
ہی تھی بلکہ اس نے اسی وقت مقرہ کو دیکھا اور اسی کی زبانی یا اور عورات کے بیان سے بھی جانا تھا کہ یہ عصمت جہاں بیگم ہے تو احتمال تھا کہ واقع میں وہ کوئی اور عورت تھی جس نے بفریب اپنے آپ کو عصمت جہاں بیگم ظاہر کیا اس شبہ کے رفع کو حاکم پر لازم تھا کہ عصمت جہاں بیگم کو وقت شہادت جلال خاں کے سامنے کرتا اور اس کا منہ کھلواکر شاہد سے گواہی لیتا کہ یہ وہی عورت ہے جسے تونے وقت توکیل دیکھا تھا اگر جلال خاں شناخت کرتا تو اس کی گواہی کامل تھی ورنہ باطلمگر یہ قصور شاہد کا نہیںشاہد کا کیا زور تھا کہ عصمت جہاں بیگم کو جو اس وقت اپنی توکیل سے منکر اور برسرخلاف ہے بالجبر حاضر لاتا اور اس کا منہ کھول کر دیکھ کر گواہی دیتا یہ کام تو حاکم کا تھا جو متروك رہا اور محض بے ترتیب و نامکمل مقدمہ پر فیصلہ دے دیا گیا مجوزکا فرمانا کہ شناخت کرانا مقرہ کا گواہ مذکور کو شرط تھا جو متروك ہے نہایت حق وبجا ہے واقعی شناخت کرنا گواہ کاکام تھا وہ اس نے متروك نہ کیا کہ نہ وہ اس کے اختیار میں تھا نہ اس سے چاہا گیاہاں شناخت کرنا حاکم کاکام تھا وہ ضرور متروك رہا مگر ترتیب مقدمہ میں مجوز کا خود قصور رکھنا اور اپنے فعل کا الزام گواہ کو دے کر بلاوجہ شہادت ودعوی رد فرمادینا ایك سخت تعجب انگیز بات ہے۔
(۳)اختلافات:ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب میں اختلاف وہ مضر ہے جو اصل معاملہ پر اثر انداز ہے زائد و فضول باتیں کہ یوں ہوں تو ضرر نہیں محض نظر انداز ہیں ان میں اختلافات ہزار ہوں اصلا قابل لحاظ نہیں یہاں دعوی صرف اس قدر ہے کہ عصمت جہاں بیگم سے میرا نکاح ہوا ہے وہ مجھے دلادی جائے مہر وغیرہ کچھ زیر بحث نہیں تو شاہدوں یا شہود و دعوی میں مقدار مہر یا جنس مہر کا اختلاف اصل دعوی میں کچھ مخل نہیںکیا اگر مہر میں دس اشرفیاں ٹھہری ہوں تونکاح ہوگا بیس ٹھہری ہوں تونہ ہوگا اور جب مہر دربارہ نکاح ایك امر زائد ہے تو محض بالائی لغو باتیں کہ بوستاں خاں کے جاتے وقت جلال خاں دروازہ میں کھڑا تھا یا اس کے پیچھے پیچھے گیا تھاعصمت جہاں بیگم نے تین بار اجازت دی یا ایك بار کہا تھاجلال خاں نے عصمت جہاں بیگم سے سوال کیا یا اس نے خود بے سوال کہا تھاعصمت جہاں بیگم نے شمسن بیگم کے کہنے پر بوستان خاں سے خطاب کیا یا وہ کہنے نہ پائی تھی کہ اس نے کہہ دیانکاح میں بتاشے بٹے تھے یا چھوہارے یا مٹھائی۔محمد حسین خاں اپنے بیٹے کے ساتھ آیا یا بعد وغیروغیرہ لغویات کا کیا ذکرمیں بعونہ تعالی ان تمام امور پر تفصیلا بحث کیا چاہتا ہوں یہاں اس عام وجامع مہم و نافع قاعدہ کو خوب سمجھ لیا جائے کہ فیصلوں میں باربار ایسی بیکار بحثیں پیش آتی ہیں اور ان کے سبب مسلمانوں کے حقو ق پر برا اثر پڑتا ہےبہت ادب سے تاکیدی گزارش کی جاتی ہے کہ اسلامی عدالتیں تو جہ تام سے ان احکام شرعیہ کو سنیں اور ان پر کار بندرہیں کہ حقوق مسلمین ضائع نہ ہوں صفر۱۳۱۶ھ :
(۳)اختلافات:ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب میں اختلاف وہ مضر ہے جو اصل معاملہ پر اثر انداز ہے زائد و فضول باتیں کہ یوں ہوں تو ضرر نہیں محض نظر انداز ہیں ان میں اختلافات ہزار ہوں اصلا قابل لحاظ نہیں یہاں دعوی صرف اس قدر ہے کہ عصمت جہاں بیگم سے میرا نکاح ہوا ہے وہ مجھے دلادی جائے مہر وغیرہ کچھ زیر بحث نہیں تو شاہدوں یا شہود و دعوی میں مقدار مہر یا جنس مہر کا اختلاف اصل دعوی میں کچھ مخل نہیںکیا اگر مہر میں دس اشرفیاں ٹھہری ہوں تونکاح ہوگا بیس ٹھہری ہوں تونہ ہوگا اور جب مہر دربارہ نکاح ایك امر زائد ہے تو محض بالائی لغو باتیں کہ بوستاں خاں کے جاتے وقت جلال خاں دروازہ میں کھڑا تھا یا اس کے پیچھے پیچھے گیا تھاعصمت جہاں بیگم نے تین بار اجازت دی یا ایك بار کہا تھاجلال خاں نے عصمت جہاں بیگم سے سوال کیا یا اس نے خود بے سوال کہا تھاعصمت جہاں بیگم نے شمسن بیگم کے کہنے پر بوستان خاں سے خطاب کیا یا وہ کہنے نہ پائی تھی کہ اس نے کہہ دیانکاح میں بتاشے بٹے تھے یا چھوہارے یا مٹھائی۔محمد حسین خاں اپنے بیٹے کے ساتھ آیا یا بعد وغیروغیرہ لغویات کا کیا ذکرمیں بعونہ تعالی ان تمام امور پر تفصیلا بحث کیا چاہتا ہوں یہاں اس عام وجامع مہم و نافع قاعدہ کو خوب سمجھ لیا جائے کہ فیصلوں میں باربار ایسی بیکار بحثیں پیش آتی ہیں اور ان کے سبب مسلمانوں کے حقو ق پر برا اثر پڑتا ہےبہت ادب سے تاکیدی گزارش کی جاتی ہے کہ اسلامی عدالتیں تو جہ تام سے ان احکام شرعیہ کو سنیں اور ان پر کار بندرہیں کہ حقوق مسلمین ضائع نہ ہوں صفر۱۳۱۶ھ :
میں اسی ریاست سے مقدمہ بگابیگم بنام عباس علی خاں کافیصلہ بغرض استصواب یہاں آیا تھا اس میں بھی ایسے ہی زائد و لغو اختلافات کی بنا پر ذی علم مجوز نے دعوی مدعیہ رد فرمایا تھا جس کا جواب مظہر صواب بہ تفصیل تام یہاں سے بھیج دیا گیا انہیں جواہر زواہر چند کلمات کا التقاط پھر کیا جاتا ہے زائد و فضول وبیکار باتوں میں تفاوت اصلا لائق التفات نہیں۔ وجیز امام کردری میں ہے:
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضراصلہ فی الجامع الصغیراھ ۔ غیر ضروری چیزمیں تناقض ہو تو اصل واقعہ کے ثبوت میں مضر نہیں ہے اس کی اصل جامع صغیر میں ہے اھ(ت)
جامع الفصولین کی فصل ۱۱میں ہے:
القاضی لوسأل الشھود قبل الدعوی عن لون الدابۃ فقالواکذاثم عندالدعوی شھدابخلاف ذلك اللون تقبل لانہ سأل عما لایکلف الشاھد بیانہ فاستوی ذکرہ وترکہ ویخرج منہ مسائل کثیرۃ ۔ قاضی نے اگر دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا تو انہوں نے کوئی رنگ بتایا اوردعوی کے ساتھ گواہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو ان کی گواہی مقبول ہوگی کیونکہ اس نے ایسی چیز وں کا سوال کیا جن کے بیان کا شاہد پابند نہیں تھا تو ان چیزوں کا ذکر اور عدم ذکر برابر ہے اور اس قاعدہ سے بہت سے مسائل کی تخریج ہے۔(ت)
خلاصہ اور ہندیہ میں ہے:
لو سأل القاضی الشھود عن لون الدابۃ و ذکر وا ثم شھد واعند الدعوی وذکرواالصفۃ علی خلافہ تقبل والتناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر کذافی الخلاصۃ۔ اگر قاضی نے دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا انہوں نے کوئی بتایا اور دعوی کے ساتھ انہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو دعوی مقبول ہوگا اور یہ تناقض غیر ضروری چیزوں میں ہے لہذا مضر نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (ت)
خانیہ وبحرالرائق وظہیریہ وعالمگیریہ میں ہے:
لواختلفا فی الثیاب التی کانت علی الطالب اگر گواہوں نے ان کپڑوں میں جو طالبمطلوب
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضراصلہ فی الجامع الصغیراھ ۔ غیر ضروری چیزمیں تناقض ہو تو اصل واقعہ کے ثبوت میں مضر نہیں ہے اس کی اصل جامع صغیر میں ہے اھ(ت)
جامع الفصولین کی فصل ۱۱میں ہے:
القاضی لوسأل الشھود قبل الدعوی عن لون الدابۃ فقالواکذاثم عندالدعوی شھدابخلاف ذلك اللون تقبل لانہ سأل عما لایکلف الشاھد بیانہ فاستوی ذکرہ وترکہ ویخرج منہ مسائل کثیرۃ ۔ قاضی نے اگر دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا تو انہوں نے کوئی رنگ بتایا اوردعوی کے ساتھ گواہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو ان کی گواہی مقبول ہوگی کیونکہ اس نے ایسی چیز وں کا سوال کیا جن کے بیان کا شاہد پابند نہیں تھا تو ان چیزوں کا ذکر اور عدم ذکر برابر ہے اور اس قاعدہ سے بہت سے مسائل کی تخریج ہے۔(ت)
خلاصہ اور ہندیہ میں ہے:
لو سأل القاضی الشھود عن لون الدابۃ و ذکر وا ثم شھد واعند الدعوی وذکرواالصفۃ علی خلافہ تقبل والتناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر کذافی الخلاصۃ۔ اگر قاضی نے دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا انہوں نے کوئی بتایا اور دعوی کے ساتھ انہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو دعوی مقبول ہوگا اور یہ تناقض غیر ضروری چیزوں میں ہے لہذا مضر نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (ت)
خانیہ وبحرالرائق وظہیریہ وعالمگیریہ میں ہے:
لواختلفا فی الثیاب التی کانت علی الطالب اگر گواہوں نے ان کپڑوں میں جو طالبمطلوب
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الشہادات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۵۱€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات باب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۰€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات باب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۰€
اوالمطلوب او المرکب اوقال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز ولا تبطل ھذہ الشہادۃ ۔ یاسواری پر تھے کہ متعلق مختلف بیان دیایا ایك نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا نہیں تھا تو امام محمد نے اصل(مبسوط)میں فرمایا کہ یہ شہات جائز ہوگی باطل نہ ہوگی(ت)
فتاوی قاعدیہ وفتاوی انقرویہ میں ہے:
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصان کذالك فان ذالك لایمنع قبولھا مثالہ لو شھدا علی اقرارہ بمال فقال اقرفی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا والمدعی ارخ اوشھدا انہ اقر فی بلد کذاوقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ او ذکر المدعی مکانا وھما سمیا غیر ذلك المکان او قال المدعی اقر وھو راکب فرس او لابس عمامۃ وقال اقروھو راجل او راکب حما را و لا بس قلنسوۃ واشباہ ذلك فانہ لا یمنع القبول لان ہذہ الاشیاء لایحتاج الی اثباتھا فذکرہا والسکوت عنہا سواء کذا لو وقع مثلا ھذا التفوت فی الشھادتین لایضر ۔ انہوں نے فرمایا اگردعوی سے زائد کسی ایسے امر میں جو دعوی کے اثبات میں ضروری نہیں یا یوں ہی کسی کمی جس سے دعوی میں کوئی اثر نہیں پڑتامیں گواہوں نے اختلاف کیا تو اس سے دعوی کو قبول کرنے میں کوئی ممانعت نہیںمثلا گواہوں نے بیان دیا کہ فلاں نے میرے پاس مال کا اقرار کیا گواہوں نے کہا فلاں روز اس نے اقرار کیا حالانکہ مدعی نے دعوی میں کسی دن کو ذکر نہ کیایوں ہی گواہوں نے اقرار کی تاریخ بیان نہ کی جبکہ دعوی میں تاریخ کا ذکر ہےیایوں کہ گواہوں نے کہافلاں شہر میں اقرار کیا جبکہ مدعی نے کسی شہر کو ذکر نہ کیا ہو یا مدعی نے جگہ ذکرکی اور گواہوں نے جگہ کو ذکر نہ کیایا مدعی نے دعوی میں ایك جگہ ذکر کی گواہوں نے دوسری جگہ کو ذکر کیایا مدعی نے کہا اس نے گھوڑے پر سواری یا عمامہ پہنے ہوئے اقرار کیا جبکہ گواہوں نے پیدل یا گدھے پر سواری یا ٹوپی پہنے اقرار کا ذکرکیاتو ایسے اختلاف سے دعوی کے مقبول ہونے میں ممانعت نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ
اشیاء دعوی کے اثبات کےلئے ضروری نہیں ہیں اسلے ان کاذکر اورعدم ذکر برابر ہے یونہی ان چیزوں میں اگر گواہوں نے بھی اپنے بیانوں میں اختلاف کیا تو دعوی کے لئے مضر نہیں ہے(ت)
اصل شہادت میں اتفاق شافی ووافی کے بعدبعض فضولیات میں ایسے نامؤثر ہلکے آسان اختلافوں کو دستاویز بناکر شہادات متفقہ کو رد کردینے کا اگر فتح باب ہو تو عامہ حقوق ضائع ہوجائیں ظالمین اموال و فروج پر دسترس پائیں مظلوم اپنے حق سے محروم رہ جائیںکچہریاں صرف اعانت ظلم کے صیغے نظرآئیںکہ انسان نسیان کےلئے ہے اور زوائد ضائعہ کی طرف نہ ذہن ابتداء التفات تام کرتا ہے نہ حافظہ انتہاء ان کا اہتمامایسی کسی بات میں اختلاف ہوجانا درست نہیں بلکہ غالب ہے خصوصاا س بدعت شنیعہ کے ہاتھوں جو آج کل کے وکلا نے اتلاف حقوق وتکذیب صدوق کے لئے تراشی اورقضات نے اس پر تقریر کی کہ محض براہ مغالطہ شہود کا بیان متزلزل کردینے کے لئے صدہا سوالات فضول ومہملات سوسو طرح کے
فتاوی قاعدیہ وفتاوی انقرویہ میں ہے:
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصان کذالك فان ذالك لایمنع قبولھا مثالہ لو شھدا علی اقرارہ بمال فقال اقرفی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا والمدعی ارخ اوشھدا انہ اقر فی بلد کذاوقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ او ذکر المدعی مکانا وھما سمیا غیر ذلك المکان او قال المدعی اقر وھو راکب فرس او لابس عمامۃ وقال اقروھو راجل او راکب حما را و لا بس قلنسوۃ واشباہ ذلك فانہ لا یمنع القبول لان ہذہ الاشیاء لایحتاج الی اثباتھا فذکرہا والسکوت عنہا سواء کذا لو وقع مثلا ھذا التفوت فی الشھادتین لایضر ۔ انہوں نے فرمایا اگردعوی سے زائد کسی ایسے امر میں جو دعوی کے اثبات میں ضروری نہیں یا یوں ہی کسی کمی جس سے دعوی میں کوئی اثر نہیں پڑتامیں گواہوں نے اختلاف کیا تو اس سے دعوی کو قبول کرنے میں کوئی ممانعت نہیںمثلا گواہوں نے بیان دیا کہ فلاں نے میرے پاس مال کا اقرار کیا گواہوں نے کہا فلاں روز اس نے اقرار کیا حالانکہ مدعی نے دعوی میں کسی دن کو ذکر نہ کیایوں ہی گواہوں نے اقرار کی تاریخ بیان نہ کی جبکہ دعوی میں تاریخ کا ذکر ہےیایوں کہ گواہوں نے کہافلاں شہر میں اقرار کیا جبکہ مدعی نے کسی شہر کو ذکر نہ کیا ہو یا مدعی نے جگہ ذکرکی اور گواہوں نے جگہ کو ذکر نہ کیایا مدعی نے دعوی میں ایك جگہ ذکر کی گواہوں نے دوسری جگہ کو ذکر کیایا مدعی نے کہا اس نے گھوڑے پر سواری یا عمامہ پہنے ہوئے اقرار کیا جبکہ گواہوں نے پیدل یا گدھے پر سواری یا ٹوپی پہنے اقرار کا ذکرکیاتو ایسے اختلاف سے دعوی کے مقبول ہونے میں ممانعت نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ
اشیاء دعوی کے اثبات کےلئے ضروری نہیں ہیں اسلے ان کاذکر اورعدم ذکر برابر ہے یونہی ان چیزوں میں اگر گواہوں نے بھی اپنے بیانوں میں اختلاف کیا تو دعوی کے لئے مضر نہیں ہے(ت)
اصل شہادت میں اتفاق شافی ووافی کے بعدبعض فضولیات میں ایسے نامؤثر ہلکے آسان اختلافوں کو دستاویز بناکر شہادات متفقہ کو رد کردینے کا اگر فتح باب ہو تو عامہ حقوق ضائع ہوجائیں ظالمین اموال و فروج پر دسترس پائیں مظلوم اپنے حق سے محروم رہ جائیںکچہریاں صرف اعانت ظلم کے صیغے نظرآئیںکہ انسان نسیان کےلئے ہے اور زوائد ضائعہ کی طرف نہ ذہن ابتداء التفات تام کرتا ہے نہ حافظہ انتہاء ان کا اہتمامایسی کسی بات میں اختلاف ہوجانا درست نہیں بلکہ غالب ہے خصوصاا س بدعت شنیعہ کے ہاتھوں جو آج کل کے وکلا نے اتلاف حقوق وتکذیب صدوق کے لئے تراشی اورقضات نے اس پر تقریر کی کہ محض براہ مغالطہ شہود کا بیان متزلزل کردینے کے لئے صدہا سوالات فضول ومہملات سوسو طرح کے
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۱۱۳€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الشہادات الثامن فی الاختلاف الخ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱ /۹۵۔۳۹۴€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الشہادات الثامن فی الاختلاف الخ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱ /۹۵۔۳۹۴€
پیچ دے کرکرتے اور شرع نے جن کے اکرام کا حکم دیا جنہیں ذریعہ دادرسی مظلوم بنایا ان کے اغواء وتضلیل وازلال وتذلیل میں کوئی دقیقہ نامرعی نہیں رکھتے اس بیہودہ بے معنی کشاکش پریشان کن میں آدمی کے آئے حواس جاتے ہیں خصوصا نساء وضعفاء وارباب سلامت صدور اور وہ لوگ جنہیں کچہریوں کااتفاق کم ہو یہ تو ان حضرت کے سخرہ ودستمال ہیںجب فہرست شہود میں ایسوں کا نام پاتےہیں برائے تفاخر فرماتے ہیں وہ بہت سیدھے مسلمان ہیں دیکھنا دو سوالوں میں بول جائیں گے جس کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ بھولا راست باز جھوٹا ٹھہرتا ہے اور جھوٹا فسوں ساز سچا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المؤمن غرکریم والفاجر خب لئیم رواہ ابوداؤد و الترمذی والحاکم بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔ مومن کریم ہونے پر دھوکہ کھاتا ہے اور فاجر شخص شاطر ہونے کی بناء پر دھوکہ ساز ہوتا ہے۔اس کو ابوداؤد ترمذی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
وہاں ایسے کسی اختلاف یسیر کا بھی اصلا واقع نہ ہونا ہی تعجب ہے تو ان پر نظرکاحاصل سوااضاعت حقوق واعانت عقوق کے اور کیا قرار پاسکتا ہے والعیاذ باﷲ تعالی پرظاہر کہ اس میں حرج صریح ہے اور حرج بنص قطعی مدفوعجامع الفصولین میں ہے:
المؤمن غرکریم والفاجر خب لئیم رواہ ابوداؤد و الترمذی والحاکم بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔ مومن کریم ہونے پر دھوکہ کھاتا ہے اور فاجر شخص شاطر ہونے کی بناء پر دھوکہ ساز ہوتا ہے۔اس کو ابوداؤد ترمذی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
وہاں ایسے کسی اختلاف یسیر کا بھی اصلا واقع نہ ہونا ہی تعجب ہے تو ان پر نظرکاحاصل سوااضاعت حقوق واعانت عقوق کے اور کیا قرار پاسکتا ہے والعیاذ باﷲ تعالی پرظاہر کہ اس میں حرج صریح ہے اور حرج بنص قطعی مدفوعجامع الفصولین میں ہے:
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی حسن المعاشرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۴€
عدم القبول فی امثالہ یفضی الی الحرج و التضییق و تضییع کثیر من الحقوق وامرنا بیسر لا بعسر و الحرج مدفوع شرعا ۔ ایسی صورتوں میں دعوی کا غیر مقبول ہوناحرج اور تنگی اور کثیر حقوق کے ضیاع کا باعث ہوسکتا ہے حالانکہ ہمیں آسانی کا حکم ہے مشکل کا نہیں حالانکہ حرج شرعا مدفوع ہے۔(ت)
روایت نادرہ ابی یوسف کو مذہب امام ابی یوسف کہنا کس قدر خلاف فقاہت ہےنہ قاضی و مفتی کو اس پر عمل کی اجازتجامع صغیر ومبسوط امام محمد وبحرالرائق واشباہ والنظائر وزواہر الجواہر ودرمختار وفتاوی صغری وفصول عمادی وخزانۃ المفتین وجامع الفصولین وغایۃ البیان و فتاوی انقرویہ وردالمحتار وفتاوی خلاصہ وکافی ولسان الحکام و معین الحکام وعقود دریہ ووجیز کردری وفتاوی خانیہ وفتاوی ظہیریہ و فتاوی قاعدیہ وغیرہ کتب معتمدہ مذہب کی عبارات کثیرہ اوپر گزریں کہ اس روایت نادرہ کے سراسر خلاف ہیں اور انہیں پر انحصار نہیں عامہ کتب مذہب میں اس کا خلاف موجودنوادر میں بھی یہ صرف روایت ابی یوسف ہے برخلاف امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲتعالی عنہ توجماہیر کے خلاف امام کے خلاف ظاہر الروایۃ کے خلاف دلیل کے خلاف بے تصحیح صریح وترجیح رجیح ائمہ افتاء ایك روایت شاذہ نادرہ پر فیصلہ کیونکر روا۔ائمہ و علماء کی روشن تصریحات ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے ہمارے ائمہ کا مذہب نہیں وہ مرجوع عنہ ہےقول مرجوح پر افتاوقضا جہل وخرق اجماع ہے نہ کہ مرجوع عنہ کہ سرے سے قول ہی نہ رہالاجرم ایسے فیصلے کو منسوخ کردینے کا حکم فرمایا ردالمحتار میں ہے:
قدصرحوابان العمل بما علیہ الاکثر ۔ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
یجب علینا الافتاء بقول الامام ۔ ہم پر امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی ضروری ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
المقررایضا عندنا انہ لایفتی و ہمارے ہاں یہ بھی مسلم ہے کہ فتوی اور عمل صرف
روایت نادرہ ابی یوسف کو مذہب امام ابی یوسف کہنا کس قدر خلاف فقاہت ہےنہ قاضی و مفتی کو اس پر عمل کی اجازتجامع صغیر ومبسوط امام محمد وبحرالرائق واشباہ والنظائر وزواہر الجواہر ودرمختار وفتاوی صغری وفصول عمادی وخزانۃ المفتین وجامع الفصولین وغایۃ البیان و فتاوی انقرویہ وردالمحتار وفتاوی خلاصہ وکافی ولسان الحکام و معین الحکام وعقود دریہ ووجیز کردری وفتاوی خانیہ وفتاوی ظہیریہ و فتاوی قاعدیہ وغیرہ کتب معتمدہ مذہب کی عبارات کثیرہ اوپر گزریں کہ اس روایت نادرہ کے سراسر خلاف ہیں اور انہیں پر انحصار نہیں عامہ کتب مذہب میں اس کا خلاف موجودنوادر میں بھی یہ صرف روایت ابی یوسف ہے برخلاف امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲتعالی عنہ توجماہیر کے خلاف امام کے خلاف ظاہر الروایۃ کے خلاف دلیل کے خلاف بے تصحیح صریح وترجیح رجیح ائمہ افتاء ایك روایت شاذہ نادرہ پر فیصلہ کیونکر روا۔ائمہ و علماء کی روشن تصریحات ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے ہمارے ائمہ کا مذہب نہیں وہ مرجوع عنہ ہےقول مرجوح پر افتاوقضا جہل وخرق اجماع ہے نہ کہ مرجوع عنہ کہ سرے سے قول ہی نہ رہالاجرم ایسے فیصلے کو منسوخ کردینے کا حکم فرمایا ردالمحتار میں ہے:
قدصرحوابان العمل بما علیہ الاکثر ۔ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
یجب علینا الافتاء بقول الامام ۔ ہم پر امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی ضروری ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
المقررایضا عندنا انہ لایفتی و ہمارے ہاں یہ بھی مسلم ہے کہ فتوی اور عمل صرف
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر فی الاختلاف بین الدعوٰی ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۶€
ردالمحتار فصل فی البئر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۷۰۔۲۶۹€
ردالمحتار فصل فی البئر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۷۰۔۲۶۹€
لایعمل الابقول الامام الاعظم اھ ۔ امام اعظم رضی اﷲ تعالی کے قول پر ہوگا اھ(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ماخالف ظاہرالروایۃ لیس مذہبا لاصحابنا ۔ جو ظاہرروایت کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہے(ت)
بحرالرائق میں ہے:
ما خرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ و المرجوع عنہ لم یبق قولالہ ۔ جو قول ظاہر روایت سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہوتا ہے اور جو مرجوع عنہ ہو وہ امام صاحب کا قول نہیں رہتا۔(ت)
تصحیح القدوری ودرمختار میں ہے:
الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ فتوی اور حکم مرجوح قول پر جہالت اور اجماع کے خلاف ہے۔ (ت)
حواشی ثلثہ سادات ثلثہ ابراہیم حلبی واحمد مصری ومحمد شامی میں ہے:
اولی من ھذابالبطلان الافتاء بخلاف ظاہرالروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ ۔ ظاہرروایت جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو کے خلاف فتوی دینااور مرجوع عنہ پر فتوی دینا اس سے بھی زیادہ باطل ہے(ت)
تنویر وشرح علائی میں ہے:
لایخیر الااذاکان مجتہدابل المقلد(لایخیر اذالم یکن مجتہدا کذافی بعض النسخ)متی خالف معتمد مذھبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھوا لمختار خیار نہیں ہوگا مگر جبکہ وہ مجتہد ہو بلکہ قاضی مقلد بھی جب اپنے قابل اعتماد مذہب کے خلاف کرے تو جائز نہیں اس کا حکم نافذ نہ ہوگا اور کالعدم قرار پائے گا
ردالمحتار میں ہے:
ماخالف ظاہرالروایۃ لیس مذہبا لاصحابنا ۔ جو ظاہرروایت کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہے(ت)
بحرالرائق میں ہے:
ما خرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ و المرجوع عنہ لم یبق قولالہ ۔ جو قول ظاہر روایت سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہوتا ہے اور جو مرجوع عنہ ہو وہ امام صاحب کا قول نہیں رہتا۔(ت)
تصحیح القدوری ودرمختار میں ہے:
الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ فتوی اور حکم مرجوح قول پر جہالت اور اجماع کے خلاف ہے۔ (ت)
حواشی ثلثہ سادات ثلثہ ابراہیم حلبی واحمد مصری ومحمد شامی میں ہے:
اولی من ھذابالبطلان الافتاء بخلاف ظاہرالروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ ۔ ظاہرروایت جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو کے خلاف فتوی دینااور مرجوع عنہ پر فتوی دینا اس سے بھی زیادہ باطل ہے(ت)
تنویر وشرح علائی میں ہے:
لایخیر الااذاکان مجتہدابل المقلد(لایخیر اذالم یکن مجتہدا کذافی بعض النسخ)متی خالف معتمد مذھبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھوا لمختار خیار نہیں ہوگا مگر جبکہ وہ مجتہد ہو بلکہ قاضی مقلد بھی جب اپنے قابل اعتماد مذہب کے خلاف کرے تو جائز نہیں اس کا حکم نافذ نہ ہوگا اور کالعدم قرار پائے گا
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالفکربیروت ∞۲ /۳۳€
ردالمحتار کتاب احیاء الموات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۷۸€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۷۰€
درمختار مقدمۃ الکتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵€
ردالمحتار خطبۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۱€
ردالمحتار کتاب احیاء الموات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۷۸€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۷۰€
درمختار مقدمۃ الکتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵€
ردالمحتار خطبۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۱€
للفتوی ۔ یہی فتوی کےلئے مختار ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ قاضیامام صاحب کے اصح اقوال پر حکم کاپابند ہے اگر غیراصح پر حکم دیا تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
(۴)تفصیلی اختلافات کی طرف چلئےجلال خاں کے بیان سے اس کا وقت آنے بوستاں خاں کے کھڑا ہونا بیرونی دروازہ میں پہلے سے اور مسماتوں کے بیان سے جلال خاں وکالے خاں کا ان کے پیچھے پیچھے آنا ثابت ہے یہاں اظہاروں کی عبارات پر قدرے بے غوری واقع ہوئیجلال خاں کا بیان یہ ہے جب بوستاں خاں اندر مکان کے چبوترے پر گئے ہیں تو میں دروازہ اندرونی میں مکان کے اندر کھڑاتھا مجھ میں اور بوستاں خاں میں تخمینا فاصلہ ۴ گز کا تھا اور امجدی بیگم سروری بیگم کہتی ہیں پھر محمد رضا خاں اور بوستاں خاں گھر میں آئے اور پیچھے پیچھے کالے خاں و جلال خاں بھی آئےعورتیں ان گواہوں کے گھر میں آتے وقت کا حال بیان کرتی ہیں کہ آگے آگے بوستاں خاں اور پیچھے پیچھے جلال خاں گھر میں آئے اور جلال خاں گھر میں داخل ہونے کے بعد اس وقت کا حال کہتا ہے جب بوستاں اندر مکان کے چبوترے پر گیا تھاان میں کیا اختلاف ہوا بوستاں خاں اور اس کے پیچھے جلال خاں گھر میں آئے جلال خاں دروازہ اندرونی پر رك رہا بوستاں خاں چبوترہ پر گیادونوں بیان صادق ہیںذی علم مجوز کی نظر نے اس لفظ میں لغزش فرمائی ہے کہ جلال خاں کے بیان سے وقت آنے بوستاں خاں کےحالانکہ اس کا یہ بیان مکان کے اندر چبوترہ پر بوستاں خاں کے جانے کے وقت کا ہےکہاں بوستاں خاں کا مکان میں آنا اور کہاں اس کا اندرونی مکان چبوترہ پر جانا۔
(۵)جلال خاں نے بیان کیا میں نے اس عورت سے دریافت کیا کہ تم کیا کہتی ہو تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار حسن رضاخاں کے ساتھ نکاح پڑھوانے کے لئے بوستاں خاں کو دیامسماتان مذکور دریافت کرنا جلال خاں کا عصمت جہاں بیگم سےبیان نہیں کرتیںسروری بیگم و امجدی بیگم نے اگر عصمت جہاں بیگم سے جلال خاں کا دریافت کرنا بیان نہ کیا تو یہ بھی تو نہ کہا کہ جلال خاں نے دریافت نہ کیابے اس کے پوچھے خود ہی عصمت جہاں بیگم نے بتایا تھاپھر یہ اختلاف کیا ہوا کیا عدم ذکرذکر عدم ہوتا ہےبھلا یہ تو لغو وفضول بات ہے خاص متعلق اصل معاملہ میں تصریح علماء ہے کہ شاہدین میں جب ایك ایك بات بیان کرے دوسرا نہ بیان کرے
ردالمحتار میں ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ قاضیامام صاحب کے اصح اقوال پر حکم کاپابند ہے اگر غیراصح پر حکم دیا تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
(۴)تفصیلی اختلافات کی طرف چلئےجلال خاں کے بیان سے اس کا وقت آنے بوستاں خاں کے کھڑا ہونا بیرونی دروازہ میں پہلے سے اور مسماتوں کے بیان سے جلال خاں وکالے خاں کا ان کے پیچھے پیچھے آنا ثابت ہے یہاں اظہاروں کی عبارات پر قدرے بے غوری واقع ہوئیجلال خاں کا بیان یہ ہے جب بوستاں خاں اندر مکان کے چبوترے پر گئے ہیں تو میں دروازہ اندرونی میں مکان کے اندر کھڑاتھا مجھ میں اور بوستاں خاں میں تخمینا فاصلہ ۴ گز کا تھا اور امجدی بیگم سروری بیگم کہتی ہیں پھر محمد رضا خاں اور بوستاں خاں گھر میں آئے اور پیچھے پیچھے کالے خاں و جلال خاں بھی آئےعورتیں ان گواہوں کے گھر میں آتے وقت کا حال بیان کرتی ہیں کہ آگے آگے بوستاں خاں اور پیچھے پیچھے جلال خاں گھر میں آئے اور جلال خاں گھر میں داخل ہونے کے بعد اس وقت کا حال کہتا ہے جب بوستاں اندر مکان کے چبوترے پر گیا تھاان میں کیا اختلاف ہوا بوستاں خاں اور اس کے پیچھے جلال خاں گھر میں آئے جلال خاں دروازہ اندرونی پر رك رہا بوستاں خاں چبوترہ پر گیادونوں بیان صادق ہیںذی علم مجوز کی نظر نے اس لفظ میں لغزش فرمائی ہے کہ جلال خاں کے بیان سے وقت آنے بوستاں خاں کےحالانکہ اس کا یہ بیان مکان کے اندر چبوترہ پر بوستاں خاں کے جانے کے وقت کا ہےکہاں بوستاں خاں کا مکان میں آنا اور کہاں اس کا اندرونی مکان چبوترہ پر جانا۔
(۵)جلال خاں نے بیان کیا میں نے اس عورت سے دریافت کیا کہ تم کیا کہتی ہو تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار حسن رضاخاں کے ساتھ نکاح پڑھوانے کے لئے بوستاں خاں کو دیامسماتان مذکور دریافت کرنا جلال خاں کا عصمت جہاں بیگم سےبیان نہیں کرتیںسروری بیگم و امجدی بیگم نے اگر عصمت جہاں بیگم سے جلال خاں کا دریافت کرنا بیان نہ کیا تو یہ بھی تو نہ کہا کہ جلال خاں نے دریافت نہ کیابے اس کے پوچھے خود ہی عصمت جہاں بیگم نے بتایا تھاپھر یہ اختلاف کیا ہوا کیا عدم ذکرذکر عدم ہوتا ہےبھلا یہ تو لغو وفضول بات ہے خاص متعلق اصل معاملہ میں تصریح علماء ہے کہ شاہدین میں جب ایك ایك بات بیان کرے دوسرا نہ بیان کرے
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۶€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۶€
تو جتنی بات میں دونوں متفق ہیں شہادت مقبول ہوگی اور جتنی بات صرف ایك کے بیان میں ہے وہ بوجہ عدم نصاب شہادت ثابت نہ ہوگی مثلا زید و عمرو نے گواہی دی کہ بکر نے خالد کو وکیل کیا زید نے اپنی شہادت میں اتنا اور بڑھایا کہ پھر معزول کردیا عمرو نے عزل کا ذکر نہ کیا تو وکالت ثابت ہوجائے گی اور معزولی ثابت نہ ہوگیفصول عمادیہ وفتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
لو شھدا بالوکالۃ و زاد احد ھما انہ عزلہ جازت شھادتھما علی الوکالۃ ولم تجز علی العزل ۔ اگر گواہوں نے وکالت کی گواہی دی اور ایك نے یہ بات زائد کہی کہ وہ معزول ہوچکا ہے تو نفس وکالت پر دونوں کی شہادت مقبول ہوگیمعزول کی زائد بات معتبر نہ ہوگی۔(ت)
(۶)مسماتان مذکور کہتی ہیں عصمت جہاں بیگم نے تین مرتبہ کلمات اجازت کہے جلال خاں تین مرتبہ اجازت دینا بیان نہیں کرتایہ بھی وہی عدم ذکر وذکر عد م میں فرق نہ کرنا ہے جلال خاں یہ بھی تو نہیں کہتا کہ عصمت جہاں بیگم نے تین مرتبہ نہ کہا صرف ایك ہی بار کہاتھااس مقدمہ بگابیگم بنام عباس علی خاں میں بھی اس قسم کے اختلافات تجویز فرمائے گئے تھے جنہیں فقیر نے اپنے فتوی میں لکھارب العزت جلا وعلانے سورہ نمل میں فرمایا:
"یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾ " اے موسی(علیہ السلام)!آپ خو ف نہ کریں میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا(ت)
اور سورہ قصص میں فرمایا:
"یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین ﴿۳۱﴾" اے موسی(علیہ السلام)! آگے بڑھو خوف نہ کرو آپ بیشك امن والوں میں ہیں(ت)
اور سورہ طہ میں ارشاد ہوا:
" قال خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی ﴿۲۱﴾" فرمایا اسے پکڑو اور خوف نہ کرو ہم اسے عنقریب پہلی حالت پر پھیردیں گے(ت)
لو شھدا بالوکالۃ و زاد احد ھما انہ عزلہ جازت شھادتھما علی الوکالۃ ولم تجز علی العزل ۔ اگر گواہوں نے وکالت کی گواہی دی اور ایك نے یہ بات زائد کہی کہ وہ معزول ہوچکا ہے تو نفس وکالت پر دونوں کی شہادت مقبول ہوگیمعزول کی زائد بات معتبر نہ ہوگی۔(ت)
(۶)مسماتان مذکور کہتی ہیں عصمت جہاں بیگم نے تین مرتبہ کلمات اجازت کہے جلال خاں تین مرتبہ اجازت دینا بیان نہیں کرتایہ بھی وہی عدم ذکر وذکر عد م میں فرق نہ کرنا ہے جلال خاں یہ بھی تو نہیں کہتا کہ عصمت جہاں بیگم نے تین مرتبہ نہ کہا صرف ایك ہی بار کہاتھااس مقدمہ بگابیگم بنام عباس علی خاں میں بھی اس قسم کے اختلافات تجویز فرمائے گئے تھے جنہیں فقیر نے اپنے فتوی میں لکھارب العزت جلا وعلانے سورہ نمل میں فرمایا:
"یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾ " اے موسی(علیہ السلام)!آپ خو ف نہ کریں میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا(ت)
اور سورہ قصص میں فرمایا:
"یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین ﴿۳۱﴾" اے موسی(علیہ السلام)! آگے بڑھو خوف نہ کرو آپ بیشك امن والوں میں ہیں(ت)
اور سورہ طہ میں ارشاد ہوا:
" قال خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی ﴿۲۱﴾" فرمایا اسے پکڑو اور خوف نہ کرو ہم اسے عنقریب پہلی حالت پر پھیردیں گے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفصول العمادیۃ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰€۷
القرآن الکریم ∞۲۷/ ۱۰€
القرآن الکریم ∞۲۸ /۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۰/۲۱€
القرآن الکریم ∞۲۷/ ۱۰€
القرآن الکریم ∞۲۸ /۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۰/۲۱€
ان دونوں سورتوں میں ذکر ندا ہے یہاں نہیں بلکہ جملہ لاتخف کے سوا ہر جگہ نیا کلام نقل فرمایاہےکیامعاذاﷲ یہ قرآن مجید کا اختلاف ٹھہرے گاہماری رائے میں ایك بڑااختلاف ذکر سے رہ گیااظہارات کی نقلیں کہ یہاں آئی ہیں ان میں سروری بیگم وامجدی بیگم کے بیان میں جتنی جگہ عصمت جہاں بیگم کا نام آیا ہے سب جگہ مع لفظ بیگم ہے اور جلال خاں کے بیان میں ایك جگہ لفظ بیگم نہیں تو ارشاد فرمانا تھا کہ عورتیں عصمت جہاں بیگم کہتی ہیں اور جلال خاں نے ایك جگہ بے لفظ بیگم کہا لہذا گواہیاں بوجہ اختلاف مردود ہیں۔
(۷)جلال خاں نے بیان کیا کہ جب بوستاں خاں اندر مکان کے گئے تو حسن رضاخاں کی ہمشیرہ سے کہا کہ تم اس عورت سے میرے رو برو کہلوادوچنانچہ انہوں نے اس عورت سے کہا کہ تم خود اپنے منہ سے کہوتو اس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار الخمسماتوں نے یہ کہا ہے کہ بوستاں خاں نے میری بڑی نند سے کہا کہ بیگم اب لڑکی سے کہو کہ کیاکہتی ہے جو میں بھی سنوںمیری نند کہنے بھی نہ پائی کہ عصمت جہاں بیگم نے کہا کہ میں ہوں عصمت جہاں بیگم میں نے حسن رضا کے ساتھ الخ۔ سارے اختلافوں میں یہ بڑا بھاری اختلاف ہے کہ ظاہرا نفی واثبات کا فرق ہےجلال خاں کہتا ہے شمسن بیگم کے کہنے پر عصمت جہاں بیگم نے کہا عورتیں کہتی ہیں شمسن بیگم کہنے بھی نہ پائی تھی کہ ا س نے کہہ دیا مگر انصاف کیجئے تو یہ اعتراض بھی مہمل ہے۔
اولا:اظہار جلال خاں کی نقل جو یہاں آئی اس کی عبارت یہ ہے بوستاں خاں اندر مکان کے گئے حسن رضا کی ہمشیرہ سے جا کر کہا کہ تم میرے روبرو کہلوادوچنانچہ انہوں نے اس عورت سے کہا کہ کہہ دوتب اس عورت نے اپنی زبان سے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار کہہ دوایك چار حرفی کلمہ ہےشمسن بیگم عصمت جہاں بیگم کے پاس بیٹھی تھی اس نے آہستہ سے کہا کہہ دو سروری بیگم و امجدی بیگم نے نہ سنا سروری بیگم کے بیان میں کہیں نہیں کہ وہ اس وقت شمسن بیگم یا عصمت جہاں بیگم کے پاس ہی زانوں سے زانو ملائے بیٹھی تھی اور خصوصاامجدی بیگم نے توصاف بیان کیا ہے کہ جوان عورت ہوں میرا تینوں سے پردہ ہے میں اس وقت اوٹ میں ہوگئی تھی دو لائی اوڑھ کراوٹ کرکے ذرا آڑ سے بیٹھی تھی خصوصاایسے وقت لوگوں کے کان دلہن کے بیان کی طرف لگے ہوتے ہیں بالائی لوگوں کے ایں و آں کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔
ثانیا: محتمل کہ ادھر تو شمسن بیگم نے اس سے کہا کہہ دو یا یہی کہ تم خود اپنے منہ سے کہوادھر عصمت جہاں بیگم نے بوستاں خاں سے خطاب شروع کردیادونوں بیان ایسے متصل معا واقع ہوئے کہ سامع کو اشتباہ ہو کہ یہ عصمت جہاں بیگم نے بطور خود کہا یا شمسن بیگم کے کہنے سے کہا جلال خاں غیر آدمی اس نے حسب عادت زنان دو شیزہ نیك گمان کیا کہ شمسن بیگم کے کہنے ہی سے کہا ہوگا سروری بیگم عصمت جہاں بیگم کی بھانجی ہے
(۷)جلال خاں نے بیان کیا کہ جب بوستاں خاں اندر مکان کے گئے تو حسن رضاخاں کی ہمشیرہ سے کہا کہ تم اس عورت سے میرے رو برو کہلوادوچنانچہ انہوں نے اس عورت سے کہا کہ تم خود اپنے منہ سے کہوتو اس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار الخمسماتوں نے یہ کہا ہے کہ بوستاں خاں نے میری بڑی نند سے کہا کہ بیگم اب لڑکی سے کہو کہ کیاکہتی ہے جو میں بھی سنوںمیری نند کہنے بھی نہ پائی کہ عصمت جہاں بیگم نے کہا کہ میں ہوں عصمت جہاں بیگم میں نے حسن رضا کے ساتھ الخ۔ سارے اختلافوں میں یہ بڑا بھاری اختلاف ہے کہ ظاہرا نفی واثبات کا فرق ہےجلال خاں کہتا ہے شمسن بیگم کے کہنے پر عصمت جہاں بیگم نے کہا عورتیں کہتی ہیں شمسن بیگم کہنے بھی نہ پائی تھی کہ ا س نے کہہ دیا مگر انصاف کیجئے تو یہ اعتراض بھی مہمل ہے۔
اولا:اظہار جلال خاں کی نقل جو یہاں آئی اس کی عبارت یہ ہے بوستاں خاں اندر مکان کے گئے حسن رضا کی ہمشیرہ سے جا کر کہا کہ تم میرے روبرو کہلوادوچنانچہ انہوں نے اس عورت سے کہا کہ کہہ دوتب اس عورت نے اپنی زبان سے کہا کہ میں نے اپنے نفس کا اختیار کہہ دوایك چار حرفی کلمہ ہےشمسن بیگم عصمت جہاں بیگم کے پاس بیٹھی تھی اس نے آہستہ سے کہا کہہ دو سروری بیگم و امجدی بیگم نے نہ سنا سروری بیگم کے بیان میں کہیں نہیں کہ وہ اس وقت شمسن بیگم یا عصمت جہاں بیگم کے پاس ہی زانوں سے زانو ملائے بیٹھی تھی اور خصوصاامجدی بیگم نے توصاف بیان کیا ہے کہ جوان عورت ہوں میرا تینوں سے پردہ ہے میں اس وقت اوٹ میں ہوگئی تھی دو لائی اوڑھ کراوٹ کرکے ذرا آڑ سے بیٹھی تھی خصوصاایسے وقت لوگوں کے کان دلہن کے بیان کی طرف لگے ہوتے ہیں بالائی لوگوں کے ایں و آں کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔
ثانیا: محتمل کہ ادھر تو شمسن بیگم نے اس سے کہا کہہ دو یا یہی کہ تم خود اپنے منہ سے کہوادھر عصمت جہاں بیگم نے بوستاں خاں سے خطاب شروع کردیادونوں بیان ایسے متصل معا واقع ہوئے کہ سامع کو اشتباہ ہو کہ یہ عصمت جہاں بیگم نے بطور خود کہا یا شمسن بیگم کے کہنے سے کہا جلال خاں غیر آدمی اس نے حسب عادت زنان دو شیزہ نیك گمان کیا کہ شمسن بیگم کے کہنے ہی سے کہا ہوگا سروری بیگم عصمت جہاں بیگم کی بھانجی ہے
وہ اپنی خالہ کے طلاقت لسانی سے خوب آگاہ تھی جس کا اظہار عصمت جہاں بیگم کے اظہاروں میں ہوا ہے جن کا بیان ان شاء اﷲ تعالی آگے آتا ہے اس نے جانا کہ اس کی نچلی طبیعت کا گرم تو سن کیا محتاج مہمیز ہوتا شمسن بیگم کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکلی تھی کہ اس نے توکیل کا خطبہ پڑھنا شروع کردیاذرا غور سے سروری بیگم کے لفظ دیکھئے وہ یہ نہیں کہتی کہ میری نند کچھ نہ بولی بلکہ کہتی ہے میری نند کہنے بھی نہیں پائی کہ عصمت جہاں بیگم نے کہا یعنی اس کا کہنا ختم نہ ہوا تھا کہ عصمت جہاں بیگم نے خطاب آغاز کیااہل زبان جانتے ہیں کہ کسی فعل کا ہوپانا اس کے تمام واختتام پر ہوتا ہے نہ کہ وسط و آغاز میںمثلاامام قعدہ اولی بھول کر تیسری رکعت کو کھڑا ہوا سیدھا نہ ہوا تھا کہ مقتدی نے تسبیح کی امام نے بعد سلام کہاتم نے بیجا بتایاتمہاری نماز نہ ہوئی کہ قعدہ اولی سے کھڑے ہوکرعود کا محل نہیں تو مقتدی کہے گا آپ ابھی اٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ میں نے بتایا یعنی قیام ہنوز تمام نہ ہوا تھا۔
(۸)مسماتوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بوستاں خاں کو لڑکی پہلے نہ جانتی تھی آگے بڑھ کر لکھا یا کہ اجازت دیتے وقت کہا بوستاں خاں بھائی تم کو وکیل کیا جب مدعا علیہا بوستاں خاں کو پہلے نہ جانتی تھی تو بوستاں خاں کا نام کیسے جانا کیونکہ مسماتوں نے کسی جگہ نہ لکھایا کہ کس نے اس کانام بتایا تھایہ اعتراض بھی سخت حیرت انگیز ہے۔
اولا:تو کسی شخص کو جاننا اس کے ساتھ شناسائی وتعارف کو کہتے ہیں اجنبی آدمی جسے کبھی نہ دیکھا ہو اس وقت اس کا نام کسی کی زبان سے سن لینے سے یہ نہ کہا جائیگا کہ ہم اسے جانتے ہیں۔
ثانیا:بالفرض کہا بھی جائے تو امجدی بیگم وسروری بیگم نے جاننے کی مطلقا نفی کب کی وہ تو صاف کہہ رہی ہیں کہ پہلے سے نہ جانتی تھی کیا کسی کا نام معلوم کرنے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ پہلے سے اسے جانے ورنہ نام معلوم نہیں ہوسکتاعورتوں کو اس بیان کی کیاضرورت تھی کہ عصمت جہاں بیگم نے بوستاں خاں کا نام کس سے سناایسے مواقع کے عام معمولی واقعات پر نظر فرمائی جاتی تو خود معلوم ہوجاتا کہ عصمت جہاں بیگم کو اس کا نام کیونکر معلوم ہواذی علم مجوز نے خود فرمایا ہے کہ بوستاں خاں اجنبی شخص تھا سروری بیگم کے اظہار میں ہے کہ جو مرد اس وقت مکان میں آئے جلسے کی نصف عورتوں کا ان سے پردہ تھا امجدی بیگم نے خود اپنا بیان کیا کہ میراکوئی رشتہ بوستاں خاں سے نہیں ہمارے خاندان میں پردہ کارواج ہے ایسے جلسے میں غیر مرد ہر گز بلا اطلاع نہیں جاتے ضرور اول سے کہا گیا کہ بوستاں خاں اذن لینے کو آتے ہیں اور جب وہ آیا اور اس نے شمسن بیگم سے کہا کہ بیگم میرے سامنے کہلوادو ضرور عصمت جہاں بیگم نے معلوم کیا کہ یہی بوستاں خاں ہے پھر نام معلوم کرنے کو بعید از عقل بتانا کیونکر قرین عقل ہوا۔
ثالثا: واقعات رائجہ کو جانے دیجئے ذرا اظہارات جلال خاں وبوستاں خاں و امجدی بیگم و سروری بیگم پر
(۸)مسماتوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بوستاں خاں کو لڑکی پہلے نہ جانتی تھی آگے بڑھ کر لکھا یا کہ اجازت دیتے وقت کہا بوستاں خاں بھائی تم کو وکیل کیا جب مدعا علیہا بوستاں خاں کو پہلے نہ جانتی تھی تو بوستاں خاں کا نام کیسے جانا کیونکہ مسماتوں نے کسی جگہ نہ لکھایا کہ کس نے اس کانام بتایا تھایہ اعتراض بھی سخت حیرت انگیز ہے۔
اولا:تو کسی شخص کو جاننا اس کے ساتھ شناسائی وتعارف کو کہتے ہیں اجنبی آدمی جسے کبھی نہ دیکھا ہو اس وقت اس کا نام کسی کی زبان سے سن لینے سے یہ نہ کہا جائیگا کہ ہم اسے جانتے ہیں۔
ثانیا:بالفرض کہا بھی جائے تو امجدی بیگم وسروری بیگم نے جاننے کی مطلقا نفی کب کی وہ تو صاف کہہ رہی ہیں کہ پہلے سے نہ جانتی تھی کیا کسی کا نام معلوم کرنے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ پہلے سے اسے جانے ورنہ نام معلوم نہیں ہوسکتاعورتوں کو اس بیان کی کیاضرورت تھی کہ عصمت جہاں بیگم نے بوستاں خاں کا نام کس سے سناایسے مواقع کے عام معمولی واقعات پر نظر فرمائی جاتی تو خود معلوم ہوجاتا کہ عصمت جہاں بیگم کو اس کا نام کیونکر معلوم ہواذی علم مجوز نے خود فرمایا ہے کہ بوستاں خاں اجنبی شخص تھا سروری بیگم کے اظہار میں ہے کہ جو مرد اس وقت مکان میں آئے جلسے کی نصف عورتوں کا ان سے پردہ تھا امجدی بیگم نے خود اپنا بیان کیا کہ میراکوئی رشتہ بوستاں خاں سے نہیں ہمارے خاندان میں پردہ کارواج ہے ایسے جلسے میں غیر مرد ہر گز بلا اطلاع نہیں جاتے ضرور اول سے کہا گیا کہ بوستاں خاں اذن لینے کو آتے ہیں اور جب وہ آیا اور اس نے شمسن بیگم سے کہا کہ بیگم میرے سامنے کہلوادو ضرور عصمت جہاں بیگم نے معلوم کیا کہ یہی بوستاں خاں ہے پھر نام معلوم کرنے کو بعید از عقل بتانا کیونکر قرین عقل ہوا۔
ثالثا: واقعات رائجہ کو جانے دیجئے ذرا اظہارات جلال خاں وبوستاں خاں و امجدی بیگم و سروری بیگم پر
نظر فرمائیے یہ سب بالاتفاق کہہ رہے ہیں کہ بوستاں خاں کے گھرمیں جانے سے پہلے عصمت جہاں بیگم سے بوستاں کے نام کی توکیل کرالی گئی تھی دوبارہ بوستاں خاں اپنے سامنے توکیل کرانے کو گھر میں گیا تو عصمت جہاں بیگم کو اس کے جانے سے پہلے ضرور اس کا نام معلوم ہوچکا تھا آگے جو بیباکی وبیحیائی کا اعتراض فرمایا ہے اس کا حال بعونہ تعالی ذکر قرائن میں آتا ہے۔
(۹)بوستاں خاں نے اول بیان کیا ہے کہ جب میں اندر گیا تو عصمت جہاں دالان پشت پھیرے بیٹھی تھی پھر آخر قول میں لکھایا کہ جب میں گیا تو اس نے مجھ سے ایسا پردہ کیا تھا کہ میں نصف چہرہ دیکھ سکتا تھا اور اوپر کے حصے پر گھونگھٹ تھا یہ دونوں قول متناقض ہیں جب پشت بیٹھی تھی تو نصف چہرہ دکھائی دینا محالات سے ہے
اولا:یہ محال سہی کیا پیٹھ پھیرے بیٹھنے والے کو وقت خطاب ادھر منہ کرنا بھی محال ہے بوستاں خاں نے اول بیان میں یہ کہا ہے کہ میں مکان میں گیا تو پشت پھیرے عصمت جہاں بیگم بیٹھی تھییہ نہیں کہا کہ اخیر تك وہ پشت ہی پھیرے بیٹھی تھی آخر بیان میں یہ کہا ہے کہ وقت نکاح میں عصمت جہاں کو ناك کے نیچے سے دیکھا تھا نصف اوپر کی ناك پر گھونگھٹ تھایہ نہیں کہا کہ جس وقت میں مکان میں گیا اسی وقت عصمت جہاں کو اس طرح اپنے سامنے بیٹھا پایا پھر دونوں میں تنافی کیاہوئییہاں جو نقل اظہار آئی اس کے الفاظ یہ تھے اور اگر بالفرض بیان آخر میں وہی لفط ہوں کہ جب میں گیا تو اس نے مجھ سے ایسا پردہ کیا تھا کہ میں نصف چہرہ الخ جب ھی بات صریح ظاہر ہے وہ مکان میں جاتے وقت کا ابتدائی حال ہے اور یہ وقت خطاب پر دہ وحجاب کا یہاں بھی یہ نہ کہا کہ جب میں گیا تووہ ایسی بیٹھی تھی کہ میں نصف چہرہ الخ۔
ثانیا: ممکن کہ عصمت جہاں بیگم اول تاآخر پشت پھیرے ہی بیٹھی رہی ہو مگر بیان میں یہ کہیں نہیں آیا کہ وہ دیوار سے ملی بیٹھی تھی وہ وسط دالان میں ہوگی بوستاں خاں مزید وثوق کے لئے خود اندر گیا تھا کہ میرے سامنے عصمت جہاں بیگم اقرار تو کیل کرے اس نے اقرار سن لیا مگر سمجھا کہ مقرہ کی معرفت چہرہ چاہئے کہ طریق توثیق جو اس کا مقصود خاص تھا اس میں ہے لہذا وہ آگے بڑھا اور سامنے سے عصمت جہاں بیگم کو دیکھاکیا یہ بھی محال ہے غرض مثبت اختلاف مستدل ہے اور احتمال قاطع استدلال ہے۔
(۱۰)شفیع حیدرخاں کی خاص متعلق معاملہ گواہی کو جس طرح محض بے علاقہ خیال فرمایا گیا اس کا ذکر تو بعونہ تعالی دیگر اعتراضات کے جواب میں آئے گا یہاں بھاری اختلاف یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جلسے میں شریك ہی نہ تھا اس لئے کہ بوستاں خاں بعد نکاح کے تقسیم ہونا بتاشوں کا اور صاحبزادے نظام الدین خاں چھوہاروں کا اور یہ گواہ خلاف ان کے تقسیم ہونا شیرینی کا بیان کرتا ہے واقعی
(۹)بوستاں خاں نے اول بیان کیا ہے کہ جب میں اندر گیا تو عصمت جہاں دالان پشت پھیرے بیٹھی تھی پھر آخر قول میں لکھایا کہ جب میں گیا تو اس نے مجھ سے ایسا پردہ کیا تھا کہ میں نصف چہرہ دیکھ سکتا تھا اور اوپر کے حصے پر گھونگھٹ تھا یہ دونوں قول متناقض ہیں جب پشت بیٹھی تھی تو نصف چہرہ دکھائی دینا محالات سے ہے
اولا:یہ محال سہی کیا پیٹھ پھیرے بیٹھنے والے کو وقت خطاب ادھر منہ کرنا بھی محال ہے بوستاں خاں نے اول بیان میں یہ کہا ہے کہ میں مکان میں گیا تو پشت پھیرے عصمت جہاں بیگم بیٹھی تھییہ نہیں کہا کہ اخیر تك وہ پشت ہی پھیرے بیٹھی تھی آخر بیان میں یہ کہا ہے کہ وقت نکاح میں عصمت جہاں کو ناك کے نیچے سے دیکھا تھا نصف اوپر کی ناك پر گھونگھٹ تھایہ نہیں کہا کہ جس وقت میں مکان میں گیا اسی وقت عصمت جہاں کو اس طرح اپنے سامنے بیٹھا پایا پھر دونوں میں تنافی کیاہوئییہاں جو نقل اظہار آئی اس کے الفاظ یہ تھے اور اگر بالفرض بیان آخر میں وہی لفط ہوں کہ جب میں گیا تو اس نے مجھ سے ایسا پردہ کیا تھا کہ میں نصف چہرہ الخ جب ھی بات صریح ظاہر ہے وہ مکان میں جاتے وقت کا ابتدائی حال ہے اور یہ وقت خطاب پر دہ وحجاب کا یہاں بھی یہ نہ کہا کہ جب میں گیا تووہ ایسی بیٹھی تھی کہ میں نصف چہرہ الخ۔
ثانیا: ممکن کہ عصمت جہاں بیگم اول تاآخر پشت پھیرے ہی بیٹھی رہی ہو مگر بیان میں یہ کہیں نہیں آیا کہ وہ دیوار سے ملی بیٹھی تھی وہ وسط دالان میں ہوگی بوستاں خاں مزید وثوق کے لئے خود اندر گیا تھا کہ میرے سامنے عصمت جہاں بیگم اقرار تو کیل کرے اس نے اقرار سن لیا مگر سمجھا کہ مقرہ کی معرفت چہرہ چاہئے کہ طریق توثیق جو اس کا مقصود خاص تھا اس میں ہے لہذا وہ آگے بڑھا اور سامنے سے عصمت جہاں بیگم کو دیکھاکیا یہ بھی محال ہے غرض مثبت اختلاف مستدل ہے اور احتمال قاطع استدلال ہے۔
(۱۰)شفیع حیدرخاں کی خاص متعلق معاملہ گواہی کو جس طرح محض بے علاقہ خیال فرمایا گیا اس کا ذکر تو بعونہ تعالی دیگر اعتراضات کے جواب میں آئے گا یہاں بھاری اختلاف یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جلسے میں شریك ہی نہ تھا اس لئے کہ بوستاں خاں بعد نکاح کے تقسیم ہونا بتاشوں کا اور صاحبزادے نظام الدین خاں چھوہاروں کا اور یہ گواہ خلاف ان کے تقسیم ہونا شیرینی کا بیان کرتا ہے واقعی
شفیع حیدر خاں سے یہ بھاری غلطی ہوئی کہ اس نے بتاشوں کو شیرینی کہا اسے کیا معلوم تھا کہ بتاشے کھٹے ہوتے ہیں
اولا:ذی علم مجوز نے سنا ہوگا کہ حسب رسم قدیم نکاح میں چھوہارے ضرور ہوتے ہیں پھر کہیں ان کے ساتھ شکر بھی ہوتی ہےکہیں بتاشے چھوٹے کہیں بڑےکہیں اور قسم کی مٹھائی اور شیرینی کا لفظ ان سب کو عام ہےیہاں اگر چھوہارے اور بتاشے تقسیم ہوئے اور ایك گواہ نے ایك شے دوسرے نے دوسری کا خاص نام تیسرے نے عام ذکر کیاکیا گناہ ہوا!
ثانیا:بعض لوگ نکاح ختم ہوتے ہی معا اٹھ جاتے ہیں اور خرموں کی تقسیم معا ہوتی ہے ممکن کہ نظام الدین خاں بھی فورا اٹھ گیا ہوا سکے سامنے خرما ہی تقسیم ہوئے تھے بعد کو بتاشے بٹےوہ اس نے نہ دیکھے کہ انہیں بیان کرتابوستاں خاں شفیع حیدر خاں نے خرموں کی تقسیم کا ذکر ضروری جانا کہ وہ تو عادۃ تقسیم ہوتے ہی ہیں دوسری چیز جو تقسیم ہوئی اس کا بیان کیا اگرچہ وہ بھی محض بے ضرورت وزائد تھا۔
(۱۱)مہر میں بوستاں خاں نے قسم اشرفی نادر شاہی اور اس گواہ نے محمدشاہی بیان کی ہے حالانکہ شہادت ایك وقت اور جلسے کی ہے یہ دلیل ہے کہ گواہ مذکور شریك جلسہ نہ تھا۔
(۱۲)نیز گواہ نے تعداداشرفی کی خلاف دعوی مدعی کے بیان کی ہے مدعی نے اپنے بیان میں دس لکھایا ہے گواہ نے بیسپس یہ شہادت کالعدم ہےتمام اختلافات میں یہی دو اصل معاملہ نکاح سے کچھ متعلق ہیں کہ مہر بدل نکاح ہے مگر اگر کتب فقہ پر نظر فرمائی جاتی تو ظاہر ہوتا کہ مہر نکاح میں مقصود نہیں وہ محض تابع و زائد ہےیہاں تك کہ عقد نکاح میں اگر نفی مہر کی شرط کرلی جائے نکاح صحیح ہوجائے گا اور مہر مثل لازم آئے گا تو ایسی چیز جس کا سرے سے ہونا نہ ہونا ہی اصل نکاح پر کچھ اثر نہیں ڈالتا اس کی کمی بیشی یا سکہ کے تفاوت سے کیا ضرر ہوسکتا ہےلاجرم ہمارے امام رضی اﷲتعالی عنہ نے تصریح فرمائی کہ ایك گواہ ہزار روپے مہر بتائے اور دوسرا پندرہ سویا گواہ سو اشرفی مہر کہتے ہوں اور مدعی ڈیڑھ سویا مدعی ہزار دینار بتاتا ہو اور گواہ دو ہزارسب صورتوں میں نکاح ثابت ہےاور ان اختلافات سے گواہیوں یا دعوی پر کوئی برا اثر نہ پڑے گا۔ہدایہ وکافی وتبیین الحقائق وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
واللفظ لھا فی النکاح یصح باقل المالین عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سواء کانت الدعوی من الزوج او من المرأۃویستوی الفاظ عالمگیری کے ہیں نکاح کے باب میںامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں دو مذکور رقموں میں سے کم رقم پر نکاح درست قرار پائیگا دعوی مرد کا ہویا عورت کا اس میں بڑی رقم کا
اولا:ذی علم مجوز نے سنا ہوگا کہ حسب رسم قدیم نکاح میں چھوہارے ضرور ہوتے ہیں پھر کہیں ان کے ساتھ شکر بھی ہوتی ہےکہیں بتاشے چھوٹے کہیں بڑےکہیں اور قسم کی مٹھائی اور شیرینی کا لفظ ان سب کو عام ہےیہاں اگر چھوہارے اور بتاشے تقسیم ہوئے اور ایك گواہ نے ایك شے دوسرے نے دوسری کا خاص نام تیسرے نے عام ذکر کیاکیا گناہ ہوا!
ثانیا:بعض لوگ نکاح ختم ہوتے ہی معا اٹھ جاتے ہیں اور خرموں کی تقسیم معا ہوتی ہے ممکن کہ نظام الدین خاں بھی فورا اٹھ گیا ہوا سکے سامنے خرما ہی تقسیم ہوئے تھے بعد کو بتاشے بٹےوہ اس نے نہ دیکھے کہ انہیں بیان کرتابوستاں خاں شفیع حیدر خاں نے خرموں کی تقسیم کا ذکر ضروری جانا کہ وہ تو عادۃ تقسیم ہوتے ہی ہیں دوسری چیز جو تقسیم ہوئی اس کا بیان کیا اگرچہ وہ بھی محض بے ضرورت وزائد تھا۔
(۱۱)مہر میں بوستاں خاں نے قسم اشرفی نادر شاہی اور اس گواہ نے محمدشاہی بیان کی ہے حالانکہ شہادت ایك وقت اور جلسے کی ہے یہ دلیل ہے کہ گواہ مذکور شریك جلسہ نہ تھا۔
(۱۲)نیز گواہ نے تعداداشرفی کی خلاف دعوی مدعی کے بیان کی ہے مدعی نے اپنے بیان میں دس لکھایا ہے گواہ نے بیسپس یہ شہادت کالعدم ہےتمام اختلافات میں یہی دو اصل معاملہ نکاح سے کچھ متعلق ہیں کہ مہر بدل نکاح ہے مگر اگر کتب فقہ پر نظر فرمائی جاتی تو ظاہر ہوتا کہ مہر نکاح میں مقصود نہیں وہ محض تابع و زائد ہےیہاں تك کہ عقد نکاح میں اگر نفی مہر کی شرط کرلی جائے نکاح صحیح ہوجائے گا اور مہر مثل لازم آئے گا تو ایسی چیز جس کا سرے سے ہونا نہ ہونا ہی اصل نکاح پر کچھ اثر نہیں ڈالتا اس کی کمی بیشی یا سکہ کے تفاوت سے کیا ضرر ہوسکتا ہےلاجرم ہمارے امام رضی اﷲتعالی عنہ نے تصریح فرمائی کہ ایك گواہ ہزار روپے مہر بتائے اور دوسرا پندرہ سویا گواہ سو اشرفی مہر کہتے ہوں اور مدعی ڈیڑھ سویا مدعی ہزار دینار بتاتا ہو اور گواہ دو ہزارسب صورتوں میں نکاح ثابت ہےاور ان اختلافات سے گواہیوں یا دعوی پر کوئی برا اثر نہ پڑے گا۔ہدایہ وکافی وتبیین الحقائق وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
واللفظ لھا فی النکاح یصح باقل المالین عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سواء کانت الدعوی من الزوج او من المرأۃویستوی الفاظ عالمگیری کے ہیں نکاح کے باب میںامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں دو مذکور رقموں میں سے کم رقم پر نکاح درست قرار پائیگا دعوی مرد کا ہویا عورت کا اس میں بڑی رقم کا
فیہ دعوی اقل المالین اواکثر ھما فی الصحیح ۔ دعوی ہو یا کم کا ہو کوئی فرق نہیں صحیح مذہب میں۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
اختلفا فی قدر البدل لا تقبل الافی النکاح ۔ کسی بدل میں گواہوں کا اختلاف ہوتو نکاح کے علاوہ کسی اور معاملہ میں قبول نہ ہوگی(ت)
درمختار میں ہے:
شھد واحد بشراء عبداوکتابتہ علی الف وآخر بالف وخمس مائۃ ردت و صح النکاح بالف مطلقا استحسانا (ملتقطا)
گواہوں میں سے ایك نے عبد خرید نے یا اس کی کتابت میں ہزار اور دوسرے نے ڈیڑھ ہزار کا ذکرکیا تو شہادت مردود ہوگی اور اگر نکاح میں یہ اختلاف ہوتو استحسانا ایك ہزار پر شہادت قبول ہوگی(ملتقطا)۔(ت)
تبیین الحقائق پھر قرۃ العیون میں ہے:
ویستوی فیہ دعوی اقل المالین فی الصحیح لا تفاقہما فی الاصل وھو العقد فالاختلاف فی التبع لا یوجب خللافیہ ۔ کم مقدار میں دونوں کی گواہی متفق ہوپائیگی کیونکہ اس اصل مقدار میں دونوں متفق ہیں اور اصل سے زائد میں اختلاف خلل کا موجب نہیں ہے(ت)
جب کتب مذہب میں روشن تصریحیں تھیں کہ مہر کے اختلافات خواہ باہم گواہوں میں ہوں خواہ گواہ مدعی میں ہوں دعوی نکاح اور شہادتوں سے ثبوت نکاح کو مطلقا کچھ ضرر نہیں دیتے یہی مذہب امام ہے یہی استحسان ہے یہی صحیح ہے تو حاکم یا مفتی کو اس سے عدول کیونکر حلال ہوا۔
(۱۳)حسن رضاخاں مدعی نے اپنے اظہار ۱۹/اکتوبر میں بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے نکاح میں اپنے
جامع الفصولین میں ہے:
اختلفا فی قدر البدل لا تقبل الافی النکاح ۔ کسی بدل میں گواہوں کا اختلاف ہوتو نکاح کے علاوہ کسی اور معاملہ میں قبول نہ ہوگی(ت)
درمختار میں ہے:
شھد واحد بشراء عبداوکتابتہ علی الف وآخر بالف وخمس مائۃ ردت و صح النکاح بالف مطلقا استحسانا (ملتقطا)
گواہوں میں سے ایك نے عبد خرید نے یا اس کی کتابت میں ہزار اور دوسرے نے ڈیڑھ ہزار کا ذکرکیا تو شہادت مردود ہوگی اور اگر نکاح میں یہ اختلاف ہوتو استحسانا ایك ہزار پر شہادت قبول ہوگی(ملتقطا)۔(ت)
تبیین الحقائق پھر قرۃ العیون میں ہے:
ویستوی فیہ دعوی اقل المالین فی الصحیح لا تفاقہما فی الاصل وھو العقد فالاختلاف فی التبع لا یوجب خللافیہ ۔ کم مقدار میں دونوں کی گواہی متفق ہوپائیگی کیونکہ اس اصل مقدار میں دونوں متفق ہیں اور اصل سے زائد میں اختلاف خلل کا موجب نہیں ہے(ت)
جب کتب مذہب میں روشن تصریحیں تھیں کہ مہر کے اختلافات خواہ باہم گواہوں میں ہوں خواہ گواہ مدعی میں ہوں دعوی نکاح اور شہادتوں سے ثبوت نکاح کو مطلقا کچھ ضرر نہیں دیتے یہی مذہب امام ہے یہی استحسان ہے یہی صحیح ہے تو حاکم یا مفتی کو اس سے عدول کیونکر حلال ہوا۔
(۱۳)حسن رضاخاں مدعی نے اپنے اظہار ۱۹/اکتوبر میں بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے نکاح میں اپنے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۶،€الہدایۃ کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۶۸€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۴€
درمختار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۹€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۶۲€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۴€
درمختار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۹€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۶۲€
پھوپھی زاد بھائی محمد حسین خاں کو شریك کیا تھا محمد حسین خاں گواہ اپنی شرکت جلسہ نکاح میں بیان نہیں کرتا اس گواہ کو بروز خانہ تلاشی زبانی والدہ مدعی کے نکاح کا علم ہوا جس سے بے اصلیت دعوی کی معلوم ہوتی ہے محمد حسین خاں کو گواہی وکالت یا عقد نکاح سے متعلق نہیں بلکہ وہ صرف عصمت جہاں بیگم کے جواب دعوی کی تکذیب کرتی ہے مگر سخت قابل افسوس یہ بات ہے کہ اظہار حسن خاں کی نقل جو یہاں آئی اس میں صاف یہ لفظ لکھے ہیں میں نے کسی کو نہیں بلایا میری شہر میں رشتہ داری ہے محمد حسین خاں میرے پھوپی زاد بھائی ہیں میں نے ان کو نہیں بلایا تھا اور محمد حسین خاں کی زوجہ کو بھی نہیں بلایا تھا میں نے بار بار بہ تکرار سائل سے دریافت کیا کہ اس نقل میں کوئی تفاوت تو نہ ہوا اس نے بوثوق تمام کہا کہ ایك حرف کا ہرگز فرق نہیں میں نے کئی بار کہا کہ فیصلے میں تو یہ لکھا ہےسائل نے باصرار کہا کہ اظہارمیں وہی تھا کہ نہیں بلایا فیصلے میں اس کا عکس نقل کیا ہے اب اس کو کیاکہا جائے میں نہیں کہہ سکتا کہ ایسی حالت میں بے اصلی دعوی کی معلوم ہوتی ہے یا فیصلے کی۔
(۱۴)نکاح نامہ جو ثبوت میں پیش کیاگیا اس میں تاریخ ناکح ۲اپریل ہے دعوی اس نکاح کی بابت ہے جس کا وقوع بقول مدعی ۲۴/اپریل کو ہوا ہے یہ وجہ بھی واسطے بے اصلیت دعوی کے ظاہر ہے۔ذی علم مجوز نے نکاح نامہ کو وجہ ثبوت میں لیا اور بوجہ اختلاف تاریخ بے اصلی دعوی کے دلیل قرا ر دیایہاں اولا جو فقہی مباحث ہیں خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں مگر اتنی بات تو عام فہم ہے کہ عوام رات کو روز گزشتہ کا تابع ٹھہراتے ہیں شب آئندہ کے بارہ بجے جو آنے والاہوا سے آج دن میں کہیں گے کہ آج رات کے بارہ بجے آئے گا اور اہل علم باتباع شرع رات کو روز آئندہ کا تابع مانتے ہیں شب جمعہ اس رات کو کہیں گے جس کی صبح کو جمعہ ہو نہ کہ وہ جو بعدہ جمعہ آئی سوالیالی حج کے کہ وہ حج میں تابع روزہائے گزشتہ ہیں لہذا اگر دسویں شب میں طلوع صبح سے پہلے وقوف عرفہ کرلیا حج ہوگیا کہ وہ رات عرفہ ہی کی رات ہے یہ نکاح آدھی رات کو یا اس کے قریب اپریل کی پچیسویں شب میں ہوا جس کی صبح کو ۲۵ تھی مدعی نے عرف عام عوام کے طور پر ۲۴/اپریل کہی کہ رات تابع روز گزشتہ سمجھی نکاح نامہ میں ذی علم قاضی نے ۲۵ /اپریل لکھی کہ شب تابع روز آئندہ تھی۔
ثانیا: جب انگریزی تاریخ انگریزی مہینہ تحریر میں آیا اور انگریزی میں تاریخ میں رات آدھی رات سے بدلتی ہے ولہذا ریل و تار کے دفاتر میں آدھی رات سے آدھی رات تك پورے ۲۴ گھنٹے شمار ہوتے ہیں فلاں ریل گاڑی ۱۴بجے چلے گی یعنی دن کے دو بجےیہ تاربیس بجے دیا گیا یعنی شام کے ۸بجے۔ممکن کہ نکاح کہ نکاح خواں نے ۱۲بجے جانا سمجھ کر خیال کیا ہو کہ انگریزی تاریخ بدل گئی لہذا ۲۵/اپریل لکھی۔
(۱۵)نکاح نامہ میں سکونت مدعا علیہا کی محلہ مدرسہ تحریر ہے قاضی نکاح خوان جس سے ترتیب و خانہ پری نقشہ کے متعلق ہے اس نے اپنی گواہی میں تحریر کرایا ہے کہ میں نے اس کی سکونت کی بابت دریافت
(۱۴)نکاح نامہ جو ثبوت میں پیش کیاگیا اس میں تاریخ ناکح ۲اپریل ہے دعوی اس نکاح کی بابت ہے جس کا وقوع بقول مدعی ۲۴/اپریل کو ہوا ہے یہ وجہ بھی واسطے بے اصلیت دعوی کے ظاہر ہے۔ذی علم مجوز نے نکاح نامہ کو وجہ ثبوت میں لیا اور بوجہ اختلاف تاریخ بے اصلی دعوی کے دلیل قرا ر دیایہاں اولا جو فقہی مباحث ہیں خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں مگر اتنی بات تو عام فہم ہے کہ عوام رات کو روز گزشتہ کا تابع ٹھہراتے ہیں شب آئندہ کے بارہ بجے جو آنے والاہوا سے آج دن میں کہیں گے کہ آج رات کے بارہ بجے آئے گا اور اہل علم باتباع شرع رات کو روز آئندہ کا تابع مانتے ہیں شب جمعہ اس رات کو کہیں گے جس کی صبح کو جمعہ ہو نہ کہ وہ جو بعدہ جمعہ آئی سوالیالی حج کے کہ وہ حج میں تابع روزہائے گزشتہ ہیں لہذا اگر دسویں شب میں طلوع صبح سے پہلے وقوف عرفہ کرلیا حج ہوگیا کہ وہ رات عرفہ ہی کی رات ہے یہ نکاح آدھی رات کو یا اس کے قریب اپریل کی پچیسویں شب میں ہوا جس کی صبح کو ۲۵ تھی مدعی نے عرف عام عوام کے طور پر ۲۴/اپریل کہی کہ رات تابع روز گزشتہ سمجھی نکاح نامہ میں ذی علم قاضی نے ۲۵ /اپریل لکھی کہ شب تابع روز آئندہ تھی۔
ثانیا: جب انگریزی تاریخ انگریزی مہینہ تحریر میں آیا اور انگریزی میں تاریخ میں رات آدھی رات سے بدلتی ہے ولہذا ریل و تار کے دفاتر میں آدھی رات سے آدھی رات تك پورے ۲۴ گھنٹے شمار ہوتے ہیں فلاں ریل گاڑی ۱۴بجے چلے گی یعنی دن کے دو بجےیہ تاربیس بجے دیا گیا یعنی شام کے ۸بجے۔ممکن کہ نکاح کہ نکاح خواں نے ۱۲بجے جانا سمجھ کر خیال کیا ہو کہ انگریزی تاریخ بدل گئی لہذا ۲۵/اپریل لکھی۔
(۱۵)نکاح نامہ میں سکونت مدعا علیہا کی محلہ مدرسہ تحریر ہے قاضی نکاح خوان جس سے ترتیب و خانہ پری نقشہ کے متعلق ہے اس نے اپنی گواہی میں تحریر کرایا ہے کہ میں نے اس کی سکونت کی بابت دریافت
نہ کیا تھا پس بلادریافت نقشہ میں سکونت اندراج یہ کارروائی برادر مدعی کی ہے جیسا کہ نکاح خوان نے بیان کیا ہے کہ یا دداشت نکاح نامہ برادر حسن رضاخاں سے میں نے لکھائی تھیاولا: مقدمہ موجودہ میں نکاح خواں کی شہادت کہ اس عہدہ سے استعفا کے بعد اپنے فعل پر ہے حاکم کو اس کا لینا سننا ہی ممنوع تھا لانہ اشتغال بما لایصح کما سیأتی(کیونکہ یہ غیر صحیح کام میں مشغولیت ہے جیسا کہ آئیگا۔ت)اور جب وہ شہادت شرعا کوئی چیز نہیں تو اس کے اختلاف سے دعوی پر اثر ڈالنا یعنی چہ۔
ثانیا:قاضی کے اظہار میں یہ ہے کہ حسن رضاخاں کے بھائی سے کاغذ لکھوایا تھا میں نے یہ دریافت نہیں کیا کہ لڑکی کی عمر کس قدر ہے میں نے اور کچھ نہیں پوچھا کہ لڑکی کون سے مکاں میں رہتی ہے اور کوئی بات میں نے نہیں دریافت کییہاں اس دریافت کی نفی ہے کہ لڑکی کس مکان میں رہتی ہےنہ اس دریافت کی کہ کس محلہ میں رہتی ہےظاہر ہےکہ مکان محلہ سے خاص ہے ا س سے سوال کی نفی محلہ سے سوال کی نفی نہیں کرسکتی جبکہ سوق عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ محلہ سے سوال کیا کہ وہ کہتا ہے اور کچھ نہیں پوچھا اور کوئی بات دریافت نہ کییہ اور کا لفظ بڑھانا ہی صاف کہہ رہا ہے کہ اسی قدر پوچھا اس سے زیادہ کچھ نہ پوچھا اگراس نے اتنا بھی نہ پوچھا ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ اور کچھ نہ پوچھا بلکہ یوں کہتا کہ میں نے کچھ نہ پوچھا ان دونوں محاوروں کا فرق اہل زبان پر ظاہر ہےرہا یہ کہ آخر کیا پوچھا اس کا پتہ مظہر نے ان لفظوں سے دیا کہ اس نے برادر حسن رضاخاں سے کاغذ لکھوایا تھا یعنی خانہ پری نقشہ کے لئے جتنی ضرورت ہے بس اسی قدر پوچھا اور محمد رضاخاں سے خانہ پری کو کہا اور کچھ نہ پوچھا کہ عمر کتنی ہے کس مکان میں رہتی ہے۔
ثالثا: اندراج نقشہ کےلئے واقفیت درکار ہے خواہ بعد سوال ہو یا بلاسوال تونفی سوال نفی علم کو مستلزم نہیں وقت نکاح کی گفتگو دن میں لوگوں کے تذکرہ سے اس نے بے دریافت کے سن لیا ہوگا کہ عصمت جہاں بیگم محلہ مدرسہ میں رہتی ہے بلکہ انصافا تذکرہ مرد مان کی بھی حاجت نہیں پیشہ نکاح خوانی والے کو اکثر اہل شہرسے واقفیت ہوجاتی ہے اور عصمت جہاں بیگم کا باپ خود ایك مشہور آدمی تھا اس کانام اس وقت ضرور لیا گیا تھا کہ مسعود خاں کی بیٹی کا نکاح ہے جیسا کہ خود قاضی کے اظہار میں موجود ہے وہ جانتا تھا کہ مسعود خاں ساکن محلہ مدرسہ ہے لہذا عصمت جہاں بیگم کی سکونت مدرسہ اسے بلا دریافت معلوم ہوگئی۔محمد رضاخاں نے جب بحکم قاضی خانہ پری کی جس کا قاضی کو اعتراف ہے تو وہ خود قاضی کی خانہ پری تھی اور یہ کارروائی قاضی کی کارروائی ہوئی نہ کہ محمد رضاخاں کی
فان فعل المامور یرجع الی الامر لاسیما فیما لاتتعلق الحقوق کیونکہ مامور کا فعل آمر کی طرف راجع ہوتا ہے خصوصا ان امور میں جہاں حقوق کا تعلق مامور سے نہیں ہوتا
ثانیا:قاضی کے اظہار میں یہ ہے کہ حسن رضاخاں کے بھائی سے کاغذ لکھوایا تھا میں نے یہ دریافت نہیں کیا کہ لڑکی کی عمر کس قدر ہے میں نے اور کچھ نہیں پوچھا کہ لڑکی کون سے مکاں میں رہتی ہے اور کوئی بات میں نے نہیں دریافت کییہاں اس دریافت کی نفی ہے کہ لڑکی کس مکان میں رہتی ہےنہ اس دریافت کی کہ کس محلہ میں رہتی ہےظاہر ہےکہ مکان محلہ سے خاص ہے ا س سے سوال کی نفی محلہ سے سوال کی نفی نہیں کرسکتی جبکہ سوق عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ محلہ سے سوال کیا کہ وہ کہتا ہے اور کچھ نہیں پوچھا اور کوئی بات دریافت نہ کییہ اور کا لفظ بڑھانا ہی صاف کہہ رہا ہے کہ اسی قدر پوچھا اس سے زیادہ کچھ نہ پوچھا اگراس نے اتنا بھی نہ پوچھا ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ اور کچھ نہ پوچھا بلکہ یوں کہتا کہ میں نے کچھ نہ پوچھا ان دونوں محاوروں کا فرق اہل زبان پر ظاہر ہےرہا یہ کہ آخر کیا پوچھا اس کا پتہ مظہر نے ان لفظوں سے دیا کہ اس نے برادر حسن رضاخاں سے کاغذ لکھوایا تھا یعنی خانہ پری نقشہ کے لئے جتنی ضرورت ہے بس اسی قدر پوچھا اور محمد رضاخاں سے خانہ پری کو کہا اور کچھ نہ پوچھا کہ عمر کتنی ہے کس مکان میں رہتی ہے۔
ثالثا: اندراج نقشہ کےلئے واقفیت درکار ہے خواہ بعد سوال ہو یا بلاسوال تونفی سوال نفی علم کو مستلزم نہیں وقت نکاح کی گفتگو دن میں لوگوں کے تذکرہ سے اس نے بے دریافت کے سن لیا ہوگا کہ عصمت جہاں بیگم محلہ مدرسہ میں رہتی ہے بلکہ انصافا تذکرہ مرد مان کی بھی حاجت نہیں پیشہ نکاح خوانی والے کو اکثر اہل شہرسے واقفیت ہوجاتی ہے اور عصمت جہاں بیگم کا باپ خود ایك مشہور آدمی تھا اس کانام اس وقت ضرور لیا گیا تھا کہ مسعود خاں کی بیٹی کا نکاح ہے جیسا کہ خود قاضی کے اظہار میں موجود ہے وہ جانتا تھا کہ مسعود خاں ساکن محلہ مدرسہ ہے لہذا عصمت جہاں بیگم کی سکونت مدرسہ اسے بلا دریافت معلوم ہوگئی۔محمد رضاخاں نے جب بحکم قاضی خانہ پری کی جس کا قاضی کو اعتراف ہے تو وہ خود قاضی کی خانہ پری تھی اور یہ کارروائی قاضی کی کارروائی ہوئی نہ کہ محمد رضاخاں کی
فان فعل المامور یرجع الی الامر لاسیما فیما لاتتعلق الحقوق کیونکہ مامور کا فعل آمر کی طرف راجع ہوتا ہے خصوصا ان امور میں جہاں حقوق کا تعلق مامور سے نہیں ہوتا
بالمامور کما ھھنا۔ جیسا کہ یہاں ہے۔(ت)
(۱۶)تعداد مہر مندرج نکاح نامہ اس کا جواب نمبر۱۲میں گزرانکاح نامہ اگر ہو تو ایك گواہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور گواہ مدعی کے بیان میں اختلاف تعداد مہر دعوی نکاح کو اصلا مضر نہیں کماعلمت۔
(۱۷)محمد حسین خاں نے اپنا آنا بمکان حسن رضا خاں بروز خانہ تلاشی بہمراہی اپنے پسر محمد حسن خاں کے بیان کیا ہے محمد حسین خاں لکھاتا ہے کہ میرے والد جب آئے تھے کہ اظہار ہوچکا تھا اپنے بعد آنا اپنے باپ کا بیان کیا ہے اولا: محمد حسین خان کے بیان میں یہ ہے کہ میں آیا اور میرا لڑکا آیااس میں ہمراہی کا لفظ کہیں نہیں لفظ(اور)حرف(و)کا ترجمہ ہے جس سے نہ معیت مفہوم ہو نہ ترتیب ہو نہ تراخی نہ تعقیبصرف اشتراك پر دلیل ہے کما صرح بہ جمیع کتب الاصول(جیساکہ تمام کتب اصول میں اس کی تصریح ہے۔ت)یہاں تو محمد حسین خاں نے اپنے اور اپنے لڑکے کے لئے دو فعل جدا جدا ذکر کئے کہ میں آیا اور میرالڑکا آیااگر ایك ہی فعل میں لفظ"اور"کے ساتھ جمع کرتا ہر گز معیت مفہوم نہ ہوتی اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" و جاء فرعون و من قبلہ و المؤتفکت بالخاطئۃ ﴿۹﴾ " فرعون آیا اور اس سے پہلے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے۔(ت)
ایك کلمہ جاء میں سب کو جمع فرمایا یہاں اس بیان کی کیا ضرورت کہ فرعون وقوم لوط میں تقریبا دو ہزار برس کا فاصلہ تھا کہ خود من قبلہ فرعون پر واؤ کے ساتھ معطوف ہے قبلیت و معیت کیونکر جمع ہوئیں۔
ثانیا: بالفرض محمد حسین خاں یہی کہتا کہ میں اپنے لڑکے کے ساتھ آیا تھا اور محمد حسن خاں کہتا میرے بعد آئے تو اس اختلاف کا بھی کچھ اثرنہ پڑتافتاوی ظہیریہ و فتاوی عالمگیریہ وغیرہما کی عبارت نمبر۳ میں گزری کہ
لوقال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز ولاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت)
ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت)
(۱۶)تعداد مہر مندرج نکاح نامہ اس کا جواب نمبر۱۲میں گزرانکاح نامہ اگر ہو تو ایك گواہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور گواہ مدعی کے بیان میں اختلاف تعداد مہر دعوی نکاح کو اصلا مضر نہیں کماعلمت۔
(۱۷)محمد حسین خاں نے اپنا آنا بمکان حسن رضا خاں بروز خانہ تلاشی بہمراہی اپنے پسر محمد حسن خاں کے بیان کیا ہے محمد حسین خاں لکھاتا ہے کہ میرے والد جب آئے تھے کہ اظہار ہوچکا تھا اپنے بعد آنا اپنے باپ کا بیان کیا ہے اولا: محمد حسین خان کے بیان میں یہ ہے کہ میں آیا اور میرا لڑکا آیااس میں ہمراہی کا لفظ کہیں نہیں لفظ(اور)حرف(و)کا ترجمہ ہے جس سے نہ معیت مفہوم ہو نہ ترتیب ہو نہ تراخی نہ تعقیبصرف اشتراك پر دلیل ہے کما صرح بہ جمیع کتب الاصول(جیساکہ تمام کتب اصول میں اس کی تصریح ہے۔ت)یہاں تو محمد حسین خاں نے اپنے اور اپنے لڑکے کے لئے دو فعل جدا جدا ذکر کئے کہ میں آیا اور میرالڑکا آیااگر ایك ہی فعل میں لفظ"اور"کے ساتھ جمع کرتا ہر گز معیت مفہوم نہ ہوتی اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" و جاء فرعون و من قبلہ و المؤتفکت بالخاطئۃ ﴿۹﴾ " فرعون آیا اور اس سے پہلے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے۔(ت)
ایك کلمہ جاء میں سب کو جمع فرمایا یہاں اس بیان کی کیا ضرورت کہ فرعون وقوم لوط میں تقریبا دو ہزار برس کا فاصلہ تھا کہ خود من قبلہ فرعون پر واؤ کے ساتھ معطوف ہے قبلیت و معیت کیونکر جمع ہوئیں۔
ثانیا: بالفرض محمد حسین خاں یہی کہتا کہ میں اپنے لڑکے کے ساتھ آیا تھا اور محمد حسن خاں کہتا میرے بعد آئے تو اس اختلاف کا بھی کچھ اثرنہ پڑتافتاوی ظہیریہ و فتاوی عالمگیریہ وغیرہما کی عبارت نمبر۳ میں گزری کہ
لوقال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز ولاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت)
ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۹ /۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۹€
(۱۸)جو واقعات محمد حسن خاں نے لکھائے محمد حسین خاں نہیں لکھاتا کیونکر لکھاتا حالانکہ وہ اظہار عصمت جہاں بیگم کے بعد آیا تھا جیسا کہ محمد حسن خاں نے بیان کیا محمد حسین خاں اگر وہ سب واقعات لکھاتاتو اس بیان محمد حسن کی تکذیب کہ اظہار ہوچکا تھا کچھ باقی تھا جب میرے والدآئےیہ طرفہ بات ہے کہ دلیل کذب نہ پائے جانے کو دلیل کذب قرار دیا جاتا ہے______معہذا پر واضح ہوچکا کہ اگر دونوں معا آتے اور ایك کچھ واقعات بیان کرتا کہ دوسرے کے بیان میں نہ آتے ہرگز اختلاف نہ تھا کہ عدم ذکر ذکر عدم نہیںیہ تھے وہ تمام بے اصل وبے اثر اختلافات جن کی بناء پر ذی علم مجوز نے شہادتوں کو رد فرمادیا اب شہادات پر دیگر اعتراضات کی طرف چلئے۔
دیگر اعتراضات
(۱۹)جلال خاں نے تمام اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا اس کا اظہار نسبت ایك عورت غیر معین کے قلمبندی ہوا ہے بعد پورا لکھا دینے اظہار کے اس نے کہا اور کچھ نہ لکھاؤں گا بعد سننے اظہار اور کرنے انکار کے اس نے بیان کیا کہ جس کا یہ نکاح ہوا تھا اس عورت نے اپنا نام عصمت جہاں بنت مولوی مسعود خاں بتایا تھا
اولا:یہاں جو نقل اظہار جلال خاں آئی اس میں شروع سے یہ لفظ ہیںمحمد رضاخاں نے مجھ سے کہا یہ عورت عصمت جہاں بیگم حسن رضاخاں کے ساتھ نکاح کرتی ہے تم گواہی دو۔پھر یہ لفط ہیں میں گھر میں اندر گیا تو والدہ حسن رضاخاں نے عصمت جہاں کو مجھ کو دکھادیاتو کیونکر صحیح ہو کہ اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا۔
ثانیا:کچہریوں کاضابطہ یہ ہے کہ گواہ بیان کرتا ہے اور اہلکار لکھتا جاتا ہے ظاہر ہے کہ کہنے اور لکھنے میں بڑا فرق ہے کچھ الفاط کا رہ جانا مستبعد نہیں ولہذا یہ امر لازم رکھا گیا ہےکہ اظہار لکھ کر گواہ کو سنالیا جائے کہ کہیں کچھ فرق کچھ کمی بیشی ہو تو صحیح ہوجائے اظہار اس وقت مکمل سمجھا جاتا ہے جب بعد سنانے کے تطبیق ہوجائے اب اگر کچھ لفظ لکھنے سے رہ جائیں تو فرمائیے گواہ کیا کرے اگر سکوت کرتا ہے تو اظہار ناقص رہتا ہے بتاتا ہے تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ تو بیان سننے کے بعد کہتا ہے اگر واقع ابتدائی اظہار جلال خاں میں وہ فقرے کہ ہم نے اوپر نقل کئے مکتوب نہیں توذی علم مجوز نے بہت مناسب تحریر فرمایا کہ اظہار ایك غیر معین عورت کی نسبت قلمبند ہوا ہے قلمبند یونہی ہوا ہوگا جس کی تصحیح جلال خاں نے سناتے وقت کردی۔
ثالثا: یہی سہی کہ گواہ نے اولا تمام اظہار میں عصمت جہاں بیگم کا نام نہ لیا مگر ابھی کہ مجلس اظہار ختم نہ ہوئی گواہ نے وہاں سے قدم نہ ہٹایا اگر ایك امر کہ اگلے بیان کے کسی حرف سے اصلا مخالف نہ تھا زائد کیاکیا گناہ ہوا خصوصا وہ بھی کہ شاہد کو اس کا بیان نہایت ضرور تھاادائے شہادت کہ اﷲ عزوجل نے اس پر فرض کیا بے اس کے ناقص رہا جاتا تھابھلا یہاں تو ابھی مجلس نہ بدلی تھی شاہد وہاں سے ہٹنے بھی نہ پایا تھاعلماء کرام یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر شاہد عدل مجلس شہادت بدلنے کے بعد دوسری مجلس میں آکر کہے کہ جس کے باب میں میں نے گواہی دی اس مدعی کا یہ نام ہے یا مدعا علیہا کانام مجھ سے چھوٹ
دیگر اعتراضات
(۱۹)جلال خاں نے تمام اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا اس کا اظہار نسبت ایك عورت غیر معین کے قلمبندی ہوا ہے بعد پورا لکھا دینے اظہار کے اس نے کہا اور کچھ نہ لکھاؤں گا بعد سننے اظہار اور کرنے انکار کے اس نے بیان کیا کہ جس کا یہ نکاح ہوا تھا اس عورت نے اپنا نام عصمت جہاں بنت مولوی مسعود خاں بتایا تھا
اولا:یہاں جو نقل اظہار جلال خاں آئی اس میں شروع سے یہ لفظ ہیںمحمد رضاخاں نے مجھ سے کہا یہ عورت عصمت جہاں بیگم حسن رضاخاں کے ساتھ نکاح کرتی ہے تم گواہی دو۔پھر یہ لفط ہیں میں گھر میں اندر گیا تو والدہ حسن رضاخاں نے عصمت جہاں کو مجھ کو دکھادیاتو کیونکر صحیح ہو کہ اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا۔
ثانیا:کچہریوں کاضابطہ یہ ہے کہ گواہ بیان کرتا ہے اور اہلکار لکھتا جاتا ہے ظاہر ہے کہ کہنے اور لکھنے میں بڑا فرق ہے کچھ الفاط کا رہ جانا مستبعد نہیں ولہذا یہ امر لازم رکھا گیا ہےکہ اظہار لکھ کر گواہ کو سنالیا جائے کہ کہیں کچھ فرق کچھ کمی بیشی ہو تو صحیح ہوجائے اظہار اس وقت مکمل سمجھا جاتا ہے جب بعد سنانے کے تطبیق ہوجائے اب اگر کچھ لفظ لکھنے سے رہ جائیں تو فرمائیے گواہ کیا کرے اگر سکوت کرتا ہے تو اظہار ناقص رہتا ہے بتاتا ہے تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ تو بیان سننے کے بعد کہتا ہے اگر واقع ابتدائی اظہار جلال خاں میں وہ فقرے کہ ہم نے اوپر نقل کئے مکتوب نہیں توذی علم مجوز نے بہت مناسب تحریر فرمایا کہ اظہار ایك غیر معین عورت کی نسبت قلمبند ہوا ہے قلمبند یونہی ہوا ہوگا جس کی تصحیح جلال خاں نے سناتے وقت کردی۔
ثالثا: یہی سہی کہ گواہ نے اولا تمام اظہار میں عصمت جہاں بیگم کا نام نہ لیا مگر ابھی کہ مجلس اظہار ختم نہ ہوئی گواہ نے وہاں سے قدم نہ ہٹایا اگر ایك امر کہ اگلے بیان کے کسی حرف سے اصلا مخالف نہ تھا زائد کیاکیا گناہ ہوا خصوصا وہ بھی کہ شاہد کو اس کا بیان نہایت ضرور تھاادائے شہادت کہ اﷲ عزوجل نے اس پر فرض کیا بے اس کے ناقص رہا جاتا تھابھلا یہاں تو ابھی مجلس نہ بدلی تھی شاہد وہاں سے ہٹنے بھی نہ پایا تھاعلماء کرام یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر شاہد عدل مجلس شہادت بدلنے کے بعد دوسری مجلس میں آکر کہے کہ جس کے باب میں میں نے گواہی دی اس مدعی کا یہ نام ہے یا مدعا علیہا کانام مجھ سے چھوٹ
گیا تھا اس کا یہ نام ہے جب بھی قبول کرلیں گے اور شہادت میں اصلا نقص نہ جانیں گے کہ ان ناموں کا بیان سے رہ جانا کوئی محل تہمت نہیں اوراگرمجلس ہنوز نہ بدلی جب تو موضع شبہہ و تہمت کی تبدیلیں بھی قبول کرلیں گے مثلا گواہی دی کہ اس مدعی کے اس مدعا علیہا پر ہزار روپے آتے ہیںختم شہادت کے بعد کہا میں بھول گیا تھا پانسو آتے ہیں یا مجھے یاد نہ رہا تھا دوہزار آتے ہیں ان تبدیلیوں سے قبول شہادت میں کچھ فرق نہ آئے گا جبکہ مجلس ہنوز نہ بدلی ہو اور شاہد شاہد شرعی ہو یہاں کہ نہ مجلس بدلی نہ شاہد نے کوئی تبدیلی کی صرف ایسی بات بیان کرتا ہے جس میں بتصریح علماء تہمت نہیں اور اس کا تدارك ادائے فریضہ شہادت کے لئے اس پر لازم تھا بعد سماع اظہار اس کے بڑھانے کو وجہ نقص قرار دینا اصلا صحیح نہیں ہوسکتاکافی وبحرالرائق وعنایہ وعالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
واللفظ لہذہ ان کان عدلا قبلت شہادتہ فی غیر موضع الشبھۃ مثل ان یدع لفظۃ الشہادۃ او یترك ذکر اسم المدعی او المدعی علیہ اوالاشارۃ الی احدھما سواء کان فی مجلس القضاء اوفی غیرہ اما فی موضع شبھۃ التلبیس کما اذا شہد بالف ثم قال غلطت بل ھی خمسمائۃ او بالعکس تقبل اذا قال فی المجلس وبعد ماقام عن المجلس فلم تقبل اھ باختصار۔ الفاظ عالمگیری کے ہیںاگر گواہ عادل ہوتو موضع شبہہ کے غیر میں اس کی یہ شہادت کہ لفظ شہادۃ یا مدعی یا مدعی علیہ کانام یا دونوں میں سے کسی ایك کی طرف اشارہ چھوٹ گیا مقبول ہوگی خواہ مجلس قضاء ہو یا غیر ہو لیکن مقام شبہہ میں مثلا پہلے اس نے ہزار کی شہادت دی اب کہتا ہے یہ غلطی ہوئی بلکہ پانچ سو ہے یا اس کا عکس کرتا ہے تو مجلس قضاء میں قبول کی جائیگی اور مجلس قضاء ختم ہونے کے بعد قبول نہ ہوگی اھ اختصارا(ت)
رابعا: بفرض غلط یہ بھی سہی کہ جلال خاں کا پچھلا الحاق نہ مانا جائے گا پھر کیا ہو اسی قدر ناکہ عصمت جہاں بیگم کانام اس نے نہ لیا مگر اس سے غیر معین عورت پر شہادت کہاں سے لازم آئی وہ صراحۃ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس عورت کا منہ دیکھاتھانام سے تو وہ تعیین ہو بھی نہیں سکتی جو منہ دیکھنے سے ہوتی ہے تو وہ ضرورایك معین عورت پر گواہی دے رہا ہے جو اس کی دیکھی ہوئی ہے ہاں مجوز کو معلوم نہ ہو اکہ عصمت جہاں بیگم ہی وہ عورت ہے جسے گواہ نے دیکھا اور اس پر گواہی ادا کی یا وہ کوئی اور عورت تھی ہم اوپر بیان کرآئے کہ اس کا چارہ کار مجوز کے ہاتھ میں تھا نہ کہ گواہ کےمجوز نے عصمت جہاں بیگم کو کیوں نہ بلوایا شاہد کے سامنے
واللفظ لہذہ ان کان عدلا قبلت شہادتہ فی غیر موضع الشبھۃ مثل ان یدع لفظۃ الشہادۃ او یترك ذکر اسم المدعی او المدعی علیہ اوالاشارۃ الی احدھما سواء کان فی مجلس القضاء اوفی غیرہ اما فی موضع شبھۃ التلبیس کما اذا شہد بالف ثم قال غلطت بل ھی خمسمائۃ او بالعکس تقبل اذا قال فی المجلس وبعد ماقام عن المجلس فلم تقبل اھ باختصار۔ الفاظ عالمگیری کے ہیںاگر گواہ عادل ہوتو موضع شبہہ کے غیر میں اس کی یہ شہادت کہ لفظ شہادۃ یا مدعی یا مدعی علیہ کانام یا دونوں میں سے کسی ایك کی طرف اشارہ چھوٹ گیا مقبول ہوگی خواہ مجلس قضاء ہو یا غیر ہو لیکن مقام شبہہ میں مثلا پہلے اس نے ہزار کی شہادت دی اب کہتا ہے یہ غلطی ہوئی بلکہ پانچ سو ہے یا اس کا عکس کرتا ہے تو مجلس قضاء میں قبول کی جائیگی اور مجلس قضاء ختم ہونے کے بعد قبول نہ ہوگی اھ اختصارا(ت)
رابعا: بفرض غلط یہ بھی سہی کہ جلال خاں کا پچھلا الحاق نہ مانا جائے گا پھر کیا ہو اسی قدر ناکہ عصمت جہاں بیگم کانام اس نے نہ لیا مگر اس سے غیر معین عورت پر شہادت کہاں سے لازم آئی وہ صراحۃ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس عورت کا منہ دیکھاتھانام سے تو وہ تعیین ہو بھی نہیں سکتی جو منہ دیکھنے سے ہوتی ہے تو وہ ضرورایك معین عورت پر گواہی دے رہا ہے جو اس کی دیکھی ہوئی ہے ہاں مجوز کو معلوم نہ ہو اکہ عصمت جہاں بیگم ہی وہ عورت ہے جسے گواہ نے دیکھا اور اس پر گواہی ادا کی یا وہ کوئی اور عورت تھی ہم اوپر بیان کرآئے کہ اس کا چارہ کار مجوز کے ہاتھ میں تھا نہ کہ گواہ کےمجوز نے عصمت جہاں بیگم کو کیوں نہ بلوایا شاہد کے سامنے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۳€
اس کا منہ کیوں نہ کھلوایا کہ وہ شناخت کرتا عصمت جہاں بیگم اگر ذی عزت خاندان سے پردہ نشین مخدرہ تھی کہ کچہری میں اس کا آنا مناسب نہ تھا حاکم نے اپنے امین کے ساتھ جلال خاں کو عصمت جہاں بیگم کے مکان پر بھیج کر تکمیل شہادت کرائی ہوتیخود شہادت کامل نہ ہونے دینا اور شاہد پر اعتراض کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔بالجملہ کچھ خاص اسم و نسب ہی کے ساتھ معرفت لازم نہیں بلکہ یا یہ ہو یا معرفت چہرہ۔جامع الفصولین میں ہے:
المعرفۃ بالوجہ او بالنسب لابد منھا لاداء الشہادۃ ۔ شہادت کی ادائیگی میں چہرے یا نسب کی شناخت ضروری ہے(ت)
اس اظہار میں اگر قسم اول متروك تھیثانی مذکور تھی اوراس کی تکمیل بدست حاکم تھی فافھم۔
(۲۰)سروری بیگم وامجدی بیگم کی شہادتوں پر اعتراض فرمایا کہ مدت واقعہ کی بلاایرادحرف یا کے اس طرح بیان کی ہے کہ عرصہ سات آٹھ ماہ کا ہوا جو محمول دو مدت پر ہے ایسی شہاد ت بوجہ جہالت شرعاقابل قبول نہیںبلاایرادحرف یا کا ذکر تو بیکار ہے حرف یا کے ساتھ ہوتا جب بھی تعیین نہ ہوتا بلکہ جب تعیین نہ ہونا اوراظہر تھا مگر ذی علم مجوز نے اتنا خیال نہ فرمایا کہ ثبوت نکاح تعین زمان پر موقوف نہیںنہ جہالت زمانہ اس کو مضرتردد تردید سے آخر اسی قدر تو مفہوم ہوگا کہ گواہ کو تاریخ یاد نہیں پھر کیا حرج ہوا۔علماء تو فرماتے ہیں اگر حاکم گواہ سے وقت پوچھے اور وہ صراحۃ اپنی بے علمی بیان کرے کچھ مضر نہیں کہ یہ لغووزائد بات ہے جس کی تعیین کی ضرورت نہیں وجیز کردری پھر قرۃ العیون میں ہے:
لوسألھما القاضی عن الزمان اوالمکان فقال لا نعلم تقبل لھما لم یکلفا بہ اھ وفیہا عن الدرالمنتقی عن الفتح وغیرہ لایکلف الشاھد الی بیان الوقت والمکان اھ اقول: وبون بین بین اختلافھما فی المکان او الزمان وبین تردد احدھما فی احدھما فان کلا اگر قاضی جگہ یا زمانہ کے متعلق گواہوں سے سوال کرے اور وہ لاعلمی ظاہر کریں تو گواہی قبول ہوگی کیونکہ وہ اسکے پابند نہیں ہیں اھ۔اسی میں الدرالمنتقی سے فتح وغیرہ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ گواہ کو مکان یا زمان کے بیان کا پابند نہیں کیاجائے اھمیں کہتا ہوں گواہوں کازمان یا مکان کے بیان میں اختلاف اور دونوں میں سے ایك کا بیان میں تردد کرنا ان دو صورتوں میں واضح فرق ہےاختلاف کی
المعرفۃ بالوجہ او بالنسب لابد منھا لاداء الشہادۃ ۔ شہادت کی ادائیگی میں چہرے یا نسب کی شناخت ضروری ہے(ت)
اس اظہار میں اگر قسم اول متروك تھیثانی مذکور تھی اوراس کی تکمیل بدست حاکم تھی فافھم۔
(۲۰)سروری بیگم وامجدی بیگم کی شہادتوں پر اعتراض فرمایا کہ مدت واقعہ کی بلاایرادحرف یا کے اس طرح بیان کی ہے کہ عرصہ سات آٹھ ماہ کا ہوا جو محمول دو مدت پر ہے ایسی شہاد ت بوجہ جہالت شرعاقابل قبول نہیںبلاایرادحرف یا کا ذکر تو بیکار ہے حرف یا کے ساتھ ہوتا جب بھی تعیین نہ ہوتا بلکہ جب تعیین نہ ہونا اوراظہر تھا مگر ذی علم مجوز نے اتنا خیال نہ فرمایا کہ ثبوت نکاح تعین زمان پر موقوف نہیںنہ جہالت زمانہ اس کو مضرتردد تردید سے آخر اسی قدر تو مفہوم ہوگا کہ گواہ کو تاریخ یاد نہیں پھر کیا حرج ہوا۔علماء تو فرماتے ہیں اگر حاکم گواہ سے وقت پوچھے اور وہ صراحۃ اپنی بے علمی بیان کرے کچھ مضر نہیں کہ یہ لغووزائد بات ہے جس کی تعیین کی ضرورت نہیں وجیز کردری پھر قرۃ العیون میں ہے:
لوسألھما القاضی عن الزمان اوالمکان فقال لا نعلم تقبل لھما لم یکلفا بہ اھ وفیہا عن الدرالمنتقی عن الفتح وغیرہ لایکلف الشاھد الی بیان الوقت والمکان اھ اقول: وبون بین بین اختلافھما فی المکان او الزمان وبین تردد احدھما فی احدھما فان کلا اگر قاضی جگہ یا زمانہ کے متعلق گواہوں سے سوال کرے اور وہ لاعلمی ظاہر کریں تو گواہی قبول ہوگی کیونکہ وہ اسکے پابند نہیں ہیں اھ۔اسی میں الدرالمنتقی سے فتح وغیرہ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ گواہ کو مکان یا زمان کے بیان کا پابند نہیں کیاجائے اھمیں کہتا ہوں گواہوں کازمان یا مکان کے بیان میں اختلاف اور دونوں میں سے ایك کا بیان میں تردد کرنا ان دو صورتوں میں واضح فرق ہےاختلاف کی
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۲€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۵۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۵۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۵۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۵۱€
المختلفین قاطع بمقالہ وباختلاف الزمان والمکان یختلف الفعل وما الحق بہ اما المردد فلم یقطع بشیئ فلم یکن الاکعدم البیان فلاخلف فلا محذور۔ صورت میں دونوں کی بات ایك دوسرے کی بات کیلئے قاطع ہے جبکہ تردد کرنیوالا دوسرے کی بات کا قاطع نہیں ہے تو یہ عدم بیان کی طرح ہے جس سے دوسرے کا خلاف نہ ہوا تو خرابی نہ ہوئی۔(ت)
(۲۱)بوستاں خان کی شہادت غیر معتبر کہ وکیل نکاح ہے بذریعہ وکالت خود عقد کرانا مدعاعلیہا کا بیان کیا ہے اور وکیل کی شہادت جس امر میں وہ وکیل ہونا جائز ہے۔یہ اعتراض اگر کچھ اصلیت رکھتا تو نہ فقط شہادت بوستاں خاں بلکہ خود حاکم مجوز پر بھی تھابیان مدعی وتنقیحات مجوز سے ظاہر ہے کہ پیش از شہادت علم مجوز میں آچکا تھا کہ اسے وکیل بتایا گیا ہے اور یہ اپنی وکالت سے وقوع تزویج کی شہادت دے گا تو اسی وقت مجوز پر لازم تھا کہ اسے ہرگز شہود میں نہ لیں اور نہ اتنی طویل دیر تك سماع شہادت وجرح وغیرہ میں اپنا اور اس کا اور وکلائے فریقین کا وقت ضائع نہ فرمائیں کہ جوامر اصلا صحیح نہیں اس سے اشتغال تضییع وقت کے علاوہ ممنوع وناجائز وگناہ ہےقنیہ ودرمختار وغیرہمامیں ہے:
تکرہ تحریما لانہ اشتغال بمالا یصح ۔ مکروہ تحریمہ ہے کیونکہ یہ غیر صحیح امر میں اشتغال ہے۔ (ت)
مگر بحمد اﷲ نہ ذی علم مجوز کا وقت ضائع ہوا نہ گواہ کانہ اس سماع شہادت میں مجوز نے کوئی شرعی گناہ کیا کہ شرعا بوستاں خاں کی شہادت اس مقدمہ میں ضرور قابل سماعت و قبول تھی وکیل کی شہادت جس امر میں وہ وکیل ہو اس وقت ناجائز ہے کہ مشہود بہ یعنی امر مقصود بالشہادت خود اس وکیل کا فعل ہو کہ انسان کی شہادت اپنے فعل پر مقبول نہیں خود عبارات منسبلکہ فیصلہ میں قرۃ العیون سے ہے:
قولہ والوکیل ای بالنکاح قولہ لو باثبات النکاح ای لا تقبل باثبات النکاح لانھا شہادۃ علی فعلہ ۔ اس کا قولاور وکیل یعنی نکاح کا۔اس کا قول اگر نکاح کے اثبات میں ہویعنی اثبات نکاح میں قبول نہ کیاجائے گا کیونکہ یہ اپنے فعل پر شہادت ہے۔(ت)
نیز یہی علت درمختار سے نقل فرمائی مگر یہاں ایسا نہیںیہاں فعل ومشہود بہ دو ہیں نکاح کی اجازت دینی
(۲۱)بوستاں خان کی شہادت غیر معتبر کہ وکیل نکاح ہے بذریعہ وکالت خود عقد کرانا مدعاعلیہا کا بیان کیا ہے اور وکیل کی شہادت جس امر میں وہ وکیل ہونا جائز ہے۔یہ اعتراض اگر کچھ اصلیت رکھتا تو نہ فقط شہادت بوستاں خاں بلکہ خود حاکم مجوز پر بھی تھابیان مدعی وتنقیحات مجوز سے ظاہر ہے کہ پیش از شہادت علم مجوز میں آچکا تھا کہ اسے وکیل بتایا گیا ہے اور یہ اپنی وکالت سے وقوع تزویج کی شہادت دے گا تو اسی وقت مجوز پر لازم تھا کہ اسے ہرگز شہود میں نہ لیں اور نہ اتنی طویل دیر تك سماع شہادت وجرح وغیرہ میں اپنا اور اس کا اور وکلائے فریقین کا وقت ضائع نہ فرمائیں کہ جوامر اصلا صحیح نہیں اس سے اشتغال تضییع وقت کے علاوہ ممنوع وناجائز وگناہ ہےقنیہ ودرمختار وغیرہمامیں ہے:
تکرہ تحریما لانہ اشتغال بمالا یصح ۔ مکروہ تحریمہ ہے کیونکہ یہ غیر صحیح امر میں اشتغال ہے۔ (ت)
مگر بحمد اﷲ نہ ذی علم مجوز کا وقت ضائع ہوا نہ گواہ کانہ اس سماع شہادت میں مجوز نے کوئی شرعی گناہ کیا کہ شرعا بوستاں خاں کی شہادت اس مقدمہ میں ضرور قابل سماعت و قبول تھی وکیل کی شہادت جس امر میں وہ وکیل ہو اس وقت ناجائز ہے کہ مشہود بہ یعنی امر مقصود بالشہادت خود اس وکیل کا فعل ہو کہ انسان کی شہادت اپنے فعل پر مقبول نہیں خود عبارات منسبلکہ فیصلہ میں قرۃ العیون سے ہے:
قولہ والوکیل ای بالنکاح قولہ لو باثبات النکاح ای لا تقبل باثبات النکاح لانھا شہادۃ علی فعلہ ۔ اس کا قولاور وکیل یعنی نکاح کا۔اس کا قول اگر نکاح کے اثبات میں ہویعنی اثبات نکاح میں قبول نہ کیاجائے گا کیونکہ یہ اپنے فعل پر شہادت ہے۔(ت)
نیز یہی علت درمختار سے نقل فرمائی مگر یہاں ایسا نہیںیہاں فعل ومشہود بہ دو ہیں نکاح کی اجازت دینی
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۴€
قرۃ عیون الاخیار کتا ب الشہادات باب القبول وعدمہ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۱۱€
قرۃ عیون الاخیار کتا ب الشہادات باب القبول وعدمہ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۱۱€
کہ عصمت جہاں بیگم کا فعل تھا اور تولی عقد یعنی ایجاب یا قبول کرنا کہ قاضی نکاح خوان کا فعل تھا ان دونوں میں بوستاں خاں کا کوئی فعل نہیں وہ بیچ میں صرف مبلغ اجازت تھا جیسا کہ ان بلاد کے عرف عام میں ہر وکیل نکاح کا حال ہےکہ نکاح پڑھوانا قاضی سے مقصود ہوتا ہے اور یہ وکیل صرف مبلغ اجازتنہ یہ کہ آپ تولی عقد کرے"والمعہود عرفا کالمشروط لفظا کما نصوا علیہ قاطبۃ"(عرف میں معینہ چیز لفظوں میں مشروط کی طرح ہے جیسا کہ اس پر سب نے نص کی ہے۔ت)ولہذا ذی علم مجوز نے بھی عقد کرانا کہا نہ کہ عقد کرنااور مبلغ کی شہادت مقبول ہے اگرچہ وہ اپنا فعل تبلیغ بھی شہادت میں بیان کرے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
عن ابی یوسف فی النوادر اذا شھد شاھدان ان فلانا امرنا ان نبلغ فلانا انہ قد وکلہ ببیع عبدہ وقد اعلمناہ او امرنا ان نبلغ امرأتہ انہ جعل امرھا بیدھا فبلغناھا و قد طلقت نفسہا جازت شہادتھما ولو قال نشھد انہ قال لنا خیرا امرأتی فخیرناھا فاختارت نفسھا لاتقبل شہادتھما کذا فی المحیط ۔ امام ابویوسف رحمہ ا ﷲ تعالی سے نوادر میں مروی ہے کہ جب کوئی گواہ یہ شہادت دے کہ مجھے فلاں نے حکم دیا ہے کہ ہم فلاں کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس نے اس فلاں کو بیع کا وکیل بنایا ہے او ہم نے اس تك وہ بات پہنچا دییا یہ شہادت دی کہ ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کی بیوی کو اطلاع دیں کہ اس نے طلاق کا اختیار اسے تفویض کیا ہے تو ہم نے بیوی کو اطلاع کردی ہے اور اس نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ہےیہ گواہی جائز ہے اور اگر گواہوں نےکہاہم شہادت دیتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی بیوی کی طلاق کا اختیار سونپا ہے اور ہم نے اس کی بیوی کو اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے تو یہ شہادت قبول نہ ہوگیمحیط میں ایساہی ہے۔(ت)
(۲۲)سید فضل علی شاہ قاضی نکاح خواں اگرچہ نیك آدمی اور بہت اچھا ہے لیکن شہادت بوجہ جہالت غیر مفید ہے کہ شہادت مذکور سے نہ تعین تاریخ ثابت ہے نہ مہینہ نہ اسمائے گوہان نہ وکالت نہ اسم منکوحہ جو شرط ہے اس مقدمہ میںسید صاحب موصوف کی شہادت ضرورمحض نامسموع ہے اور یہی وہ شہادت ہے جس کاسننا اور اس میں اپنا اور شاہد ووکلائے فریقین کا وقت ضائع کرنا مجوز کا ہر گز جائز نہ تھا کہ جب وہ پیش از شہادت ہرگز صحیح نہیں اور اس کا سننا سنانا سب ناجائز وتضییع وقت تھا۔اس شہادت پر اعتراض
عن ابی یوسف فی النوادر اذا شھد شاھدان ان فلانا امرنا ان نبلغ فلانا انہ قد وکلہ ببیع عبدہ وقد اعلمناہ او امرنا ان نبلغ امرأتہ انہ جعل امرھا بیدھا فبلغناھا و قد طلقت نفسہا جازت شہادتھما ولو قال نشھد انہ قال لنا خیرا امرأتی فخیرناھا فاختارت نفسھا لاتقبل شہادتھما کذا فی المحیط ۔ امام ابویوسف رحمہ ا ﷲ تعالی سے نوادر میں مروی ہے کہ جب کوئی گواہ یہ شہادت دے کہ مجھے فلاں نے حکم دیا ہے کہ ہم فلاں کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس نے اس فلاں کو بیع کا وکیل بنایا ہے او ہم نے اس تك وہ بات پہنچا دییا یہ شہادت دی کہ ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کی بیوی کو اطلاع دیں کہ اس نے طلاق کا اختیار اسے تفویض کیا ہے تو ہم نے بیوی کو اطلاع کردی ہے اور اس نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ہےیہ گواہی جائز ہے اور اگر گواہوں نےکہاہم شہادت دیتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی بیوی کی طلاق کا اختیار سونپا ہے اور ہم نے اس کی بیوی کو اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے تو یہ شہادت قبول نہ ہوگیمحیط میں ایساہی ہے۔(ت)
(۲۲)سید فضل علی شاہ قاضی نکاح خواں اگرچہ نیك آدمی اور بہت اچھا ہے لیکن شہادت بوجہ جہالت غیر مفید ہے کہ شہادت مذکور سے نہ تعین تاریخ ثابت ہے نہ مہینہ نہ اسمائے گوہان نہ وکالت نہ اسم منکوحہ جو شرط ہے اس مقدمہ میںسید صاحب موصوف کی شہادت ضرورمحض نامسموع ہے اور یہی وہ شہادت ہے جس کاسننا اور اس میں اپنا اور شاہد ووکلائے فریقین کا وقت ضائع کرنا مجوز کا ہر گز جائز نہ تھا کہ جب وہ پیش از شہادت ہرگز صحیح نہیں اور اس کا سننا سنانا سب ناجائز وتضییع وقت تھا۔اس شہادت پر اعتراض
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۲€
یہ ہے نہ یہ کہ تعین تاریخ و ماہ وذکر اسماء گواہان ووکالت سےخالی ہونےکے باعث بوجہ جہالت غیر مفید ہے شہادت نکاح میں ان اشیاء سے کسی کا ذکر اصلا لازم نہیںتاریخ وماہ کی نسبت عبارات نمبر ۲۰ میں گزریں اور وکالت واسمائے گواہان کا ذکر اس سے بھی زیادہ لغووغیرضروریکیا ذی علم مجوز کسی کتاب سے ثبوت دے سکتے ہیں کہ شہادت نکاح جب تك اسماء گواہان و وکالت کا ذکر نہ ہومردود ہےہرگز نہیںرہا اسم منکوحہ اگرچہ قاضی صاحب نے عصمت جہاں بیگم کا نام زبانی نہ لیا صرف اتنا کہا کہ نام رجسٹرمیں لکھا ہے مگر یہ ضرور کہا کہ مسعود خاں کی دختر نے اپنے نفس کا اختیاردیا مسعود خان کی دختر جو اپنے نفس کا اختیار دینے کے قابل ہو ایك یہی عصمت جہاں بیگم ہےاس کی دو چھوٹی بہنیں بہت صغیر سن ہیں کہ کسی تصرف کی اجازت دینے کے قابل نہیں اور مقصود منکوحہ کا تعین ہے اگرچہ کسی طرح ہوکچھ نام لینے ہی کی ضرورت نہیں مثلا گواہ گواہی دیں کہ زید نے اپنی بڑی لڑکی کا نکاح کیا شہادت مقبول ہے یہاں تك کہ اگر گواہ یہ بھی کہیں کہ مگر ہم نہیں جانتے کہ یہ مدعا علیہا زید کی بڑی لڑکی ہے جب بھی گواہی مقبول ہوگی اور مدعی سے اس پر گواہ لئے جائیں گے کہ یہی مدعی علیہا ا سکی دختر کلاں ہے
عالمگیریہ میں ہے:
فی الخزانۃ قال زوج الکبری لکن لاندر الکبری یکلفہ باقامۃ البینۃ ان الکبری ھذہ ۔ خزانہ میں ہے کہ گواہوں نے بڑی لڑکی کا ذکرکیا اور ساتھ ہی کہا لیکن ہمیں بڑی لڑکی کا تعارف نہیں ہے تو گواہوں کو پابند کیاجائیگا کہ بیان کریں کہ بڑی لڑکی یہ ہے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
شھدا انہ زوج بنتہ منہ ولا نعرفہا بوجھھا فلو لم تکن لہ الابنت واحدۃ تقبل لزوال الجھالۃ ۔ گواہوں نے شہادت دی کہ اس نے اپنی لڑکی کا فلاں سے نکاح کیا ہے لیکن ہم لڑکی کو چہرہ سے نہیں پہچانتے تو اگر اس شخص کی ایك ہی لڑکی ہو تو شہادت قبول کی جائیگی کیونکہ جہالت نہ رہی(ت)
(۲۳)محمد جان کی شہادت ضرور لغو و مہمل ہے کہ وہ صراحۃ کہتا ہے میں نے نہ سنا کیا نام مسماۃ کا لیا تھا اور نام کے علاوہ بھی کوئی پتہ اصلا نہیں بتایا مگر علی حسین کی گواہی اگرچہ لغو رہی کہ ناکح ومنکوحہ کسی کانام نشان نہیں لیکن انصافاوہ لغو رکھی گئی شاہد جب ایسی گول مجمل بات کہے تو حاکم کو حکم ہے کہ اس سے
عالمگیریہ میں ہے:
فی الخزانۃ قال زوج الکبری لکن لاندر الکبری یکلفہ باقامۃ البینۃ ان الکبری ھذہ ۔ خزانہ میں ہے کہ گواہوں نے بڑی لڑکی کا ذکرکیا اور ساتھ ہی کہا لیکن ہمیں بڑی لڑکی کا تعارف نہیں ہے تو گواہوں کو پابند کیاجائیگا کہ بیان کریں کہ بڑی لڑکی یہ ہے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
شھدا انہ زوج بنتہ منہ ولا نعرفہا بوجھھا فلو لم تکن لہ الابنت واحدۃ تقبل لزوال الجھالۃ ۔ گواہوں نے شہادت دی کہ اس نے اپنی لڑکی کا فلاں سے نکاح کیا ہے لیکن ہم لڑکی کو چہرہ سے نہیں پہچانتے تو اگر اس شخص کی ایك ہی لڑکی ہو تو شہادت قبول کی جائیگی کیونکہ جہالت نہ رہی(ت)
(۲۳)محمد جان کی شہادت ضرور لغو و مہمل ہے کہ وہ صراحۃ کہتا ہے میں نے نہ سنا کیا نام مسماۃ کا لیا تھا اور نام کے علاوہ بھی کوئی پتہ اصلا نہیں بتایا مگر علی حسین کی گواہی اگرچہ لغو رہی کہ ناکح ومنکوحہ کسی کانام نشان نہیں لیکن انصافاوہ لغو رکھی گئی شاہد جب ایسی گول مجمل بات کہے تو حاکم کو حکم ہے کہ اس سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب السابع الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۳€
جامع الفصولین الفصل العشرون فی دعوی النکاح الخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۷€
جامع الفصولین الفصل العشرون فی دعوی النکاح الخ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۷€
استفسار کرے تاکہ بات صاف ہوجائے ناتمام بات کہے تو اس سے پوچھے کہ بات پوری ہوجائے۔معین الحکام میں ہے:
ینبغی ان یسھل اذن البینات ولا یمطلھم فاذا حضروا انسھم وقر بھم وبسطھم و سالھم عن شہادتھم فان کانت تامۃ قیدھا وان کانت ناقصۃ سألھم عن بقیتھا وان کانت مجملۃ سألھم عن تفسیرھا ۔ گواہوں کی اجازت کا معاملہ آسان بنانا مناسب ہے اس معاملہ میں گواہوں کو تاخیر میں مبتلا نہیں کرنا ہوگا جب وہ حاضر ہوجائیں تو قاضی ان کو انسقرب اور فراخی دے کر ان سے شہادت لے اگر شہادت مکمل ہو تو نو ٹ کرلے ورنہ ناقص ہو تو بقیہ امور پوچھے اور اگر شہادت مجمل ہو ان سے تفسیر پوچھے۔(ت)
اور یہ تلقین نہیں بلکہ نظر ہے جس کے لئے قاضی مقرر ہوااکثر ابنائے زمانہ جاہل ہیں و ہ نہیں جانتے کہ شہادت میں شرعا کیا کیا ضرور ہے اگر انہیں کے بیان پر چھوڑ اجائے عام شہادتیں ناقص و ناتمام اتریں گی اور حقوق مسلمین ضائع ہوں گے ولہذا اگر حاکم جانے کہ مدعی دعوی بروجہ صحیح ادا نہ کرسکے گاتو اسے اجازت ہے مدعی کو دعوی کرنے کا طریق سکھادے ورنہ وہی حاصل ہوگا کہ صاحب حق حق سے محروم رہے گاعالمگیریہ میں ہے:
رجل لایحسن الدعوی والخصومۃ فامر القاضی رجلین فعلماہ الدعوی الخصومۃ ثم شھداعلی تلك الدعوی جازت شہادتھما ان کانا عدلین ولاباس بذلك علی القاضی بل ھو جائز فیمن لایقدر علی الخصومۃ ولا یحسن الدعوی خصوصا علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی کذا فی الظہیریۃ۔ اگر کوئی شہادت یا بحث کا طریقہ نہیں جانتا قاضی دو آدمیوں کو حکم دے کہ وہ اس کو شہادت اور بحث سکھائیں پھر وہی دو شخص اگراس دعوی کے گواہ ہوں تو ان کی شہادت جائز ہوگی بشرطیکہ وہ دونوں شخص عادل ہوں اس میں قاضی پر کوئی اعتراض نہ ہوگا بلکہ یہ جائز ہوگا جبکہ مدعی شخص دعوی اور بحث بہتر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا خصوصا امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ظہیریہ میں یوں ہے۔(ت)
ینبغی ان یسھل اذن البینات ولا یمطلھم فاذا حضروا انسھم وقر بھم وبسطھم و سالھم عن شہادتھم فان کانت تامۃ قیدھا وان کانت ناقصۃ سألھم عن بقیتھا وان کانت مجملۃ سألھم عن تفسیرھا ۔ گواہوں کی اجازت کا معاملہ آسان بنانا مناسب ہے اس معاملہ میں گواہوں کو تاخیر میں مبتلا نہیں کرنا ہوگا جب وہ حاضر ہوجائیں تو قاضی ان کو انسقرب اور فراخی دے کر ان سے شہادت لے اگر شہادت مکمل ہو تو نو ٹ کرلے ورنہ ناقص ہو تو بقیہ امور پوچھے اور اگر شہادت مجمل ہو ان سے تفسیر پوچھے۔(ت)
اور یہ تلقین نہیں بلکہ نظر ہے جس کے لئے قاضی مقرر ہوااکثر ابنائے زمانہ جاہل ہیں و ہ نہیں جانتے کہ شہادت میں شرعا کیا کیا ضرور ہے اگر انہیں کے بیان پر چھوڑ اجائے عام شہادتیں ناقص و ناتمام اتریں گی اور حقوق مسلمین ضائع ہوں گے ولہذا اگر حاکم جانے کہ مدعی دعوی بروجہ صحیح ادا نہ کرسکے گاتو اسے اجازت ہے مدعی کو دعوی کرنے کا طریق سکھادے ورنہ وہی حاصل ہوگا کہ صاحب حق حق سے محروم رہے گاعالمگیریہ میں ہے:
رجل لایحسن الدعوی والخصومۃ فامر القاضی رجلین فعلماہ الدعوی الخصومۃ ثم شھداعلی تلك الدعوی جازت شہادتھما ان کانا عدلین ولاباس بذلك علی القاضی بل ھو جائز فیمن لایقدر علی الخصومۃ ولا یحسن الدعوی خصوصا علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی کذا فی الظہیریۃ۔ اگر کوئی شہادت یا بحث کا طریقہ نہیں جانتا قاضی دو آدمیوں کو حکم دے کہ وہ اس کو شہادت اور بحث سکھائیں پھر وہی دو شخص اگراس دعوی کے گواہ ہوں تو ان کی شہادت جائز ہوگی بشرطیکہ وہ دونوں شخص عادل ہوں اس میں قاضی پر کوئی اعتراض نہ ہوگا بلکہ یہ جائز ہوگا جبکہ مدعی شخص دعوی اور بحث بہتر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا خصوصا امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ظہیریہ میں یوں ہے۔(ت)
حوالہ / References
معین الحکام الفصل السادس فی سیرتہ مع الخصوم مصطفی البابی ∞مصر ص۲۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۸۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۸۵€
(۲۴)شفیع حیدر خاں کی شہادت پر اعتراض کہ وہ گواہ نہ توکیل کاہے نہ شناخت کاجو الفاظ نکاح کے بابت گواہی دی ہے اس میں نہ نام ناکح کا لیا نہ منکوحہ کاسخت تعجب خیز ہے نقل اظہار کہ یہاں آئی اس کا شروع ان لفظوں سے ہےعرصہ کم و بیش سات ماہ کا ہوا کہ حسن رضاخاں کا نکاح مسماۃ عصمت جہاں بیگم مولوی مسعود خاں کی بیٹی سے ہوا میرے روبرو میں اس جلسہ نکاح میں شریك تھااب اسے کیا کہا جائے یہ تو کھلا گواہ نکاح ہے اور ناکح ومنکوحہ دونوں کانام لے رہا ہےہاں اخیر میں یہ لکھایا ہے کہ بوستاں خاں باہر آئے اورکہا کہ چندامیاں نکاح پڑھاؤ تب قاضی صاحب نے خطبہ پڑھا بعد ایجاب وقبول نکاح پڑھایایہاں بیشك زوجین کانام نہ لیا پھر کیا ضرور تھاجبکہ اول صراحۃ بتاچکا۔
(۲۵)نظام الدین خاں کی گواہی کا وہی حال ہے جو نمبر ۲۳میں علی حسین کی نسبت گزرا۔
(۲۶)جلال خاں کا حصہ بیان بابت انعقاد نکاح اس وجہ سے قابل لحاظ نہیں کہ جبکہ اس کی شہادت نسبت ثبوت توکیل جو اصل بنا وموقوف علیہ صحت دعوی ہے کالعدم ہے تو اس بارے میں اس کا حصہ بیان کیا معتبر ہوسکتا ہے
اولا:بیانات سابقہ میں واضح ہوگیا کہ نہ ثبوت توکیل موقوف علیہ صحت دعوی تھا نہ جلال کی گواہی نسبت توکیل کالعدمدونوں باتیں غلط ہیں۔
ثانیا:بالفرض اگر ایك حصہ بیان بوجہ عدم تعریف مقبول نہ ہو تو دوسرا حصہ بیان کہ امر جدا گانہ کے متعلق ہے کیوں مردود ہونے لگانمبر ۵ میں فصول عمادیہ و فتاوی عالمگیریہ سے گزرا کہ ایك گواہ نے صرف وکالت پر گواہی دی دوسرے نے وکالت وعزل دونوں پر یعنی وکیل بھی کیا پھر معزول بھی کردیا تو دوسرے کی گواہی دربارہ عزل مردود ہے کہ نصاب تام نہیں اور دربارہ وکالت مقبول کہ اس پر نصاب کامل ہےدرمختار میں ہے:
شھدا بالف وقال احدھما قضی خمس مائۃ قبلت بالف الااذا شھدمعہ اخر ۔ دونوں نے ایك ہزار کی گواہی دی اور ایك نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس نے پانچ سوا دا کر دئے ہیں تو ایك ہزار میں گواہی درست ہوگی مگر جب پانچ سو کی ادائیگی میں کوئی دوسرا ساتھ گواہی دے۔(ت)
دیکھو یہاں بھی ایك گواہ کا یہ حصہ شہادت کہ مدعی علیہ پر ہزار روپے آتے تھے مقبول ہوا اور دوسرا حصہ کہ ان میں سے پانچسو ادا کرچکا ہے نہ سنا گیا کتب فقہ میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی
(۲۵)نظام الدین خاں کی گواہی کا وہی حال ہے جو نمبر ۲۳میں علی حسین کی نسبت گزرا۔
(۲۶)جلال خاں کا حصہ بیان بابت انعقاد نکاح اس وجہ سے قابل لحاظ نہیں کہ جبکہ اس کی شہادت نسبت ثبوت توکیل جو اصل بنا وموقوف علیہ صحت دعوی ہے کالعدم ہے تو اس بارے میں اس کا حصہ بیان کیا معتبر ہوسکتا ہے
اولا:بیانات سابقہ میں واضح ہوگیا کہ نہ ثبوت توکیل موقوف علیہ صحت دعوی تھا نہ جلال کی گواہی نسبت توکیل کالعدمدونوں باتیں غلط ہیں۔
ثانیا:بالفرض اگر ایك حصہ بیان بوجہ عدم تعریف مقبول نہ ہو تو دوسرا حصہ بیان کہ امر جدا گانہ کے متعلق ہے کیوں مردود ہونے لگانمبر ۵ میں فصول عمادیہ و فتاوی عالمگیریہ سے گزرا کہ ایك گواہ نے صرف وکالت پر گواہی دی دوسرے نے وکالت وعزل دونوں پر یعنی وکیل بھی کیا پھر معزول بھی کردیا تو دوسرے کی گواہی دربارہ عزل مردود ہے کہ نصاب تام نہیں اور دربارہ وکالت مقبول کہ اس پر نصاب کامل ہےدرمختار میں ہے:
شھدا بالف وقال احدھما قضی خمس مائۃ قبلت بالف الااذا شھدمعہ اخر ۔ دونوں نے ایك ہزار کی گواہی دی اور ایك نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس نے پانچ سوا دا کر دئے ہیں تو ایك ہزار میں گواہی درست ہوگی مگر جب پانچ سو کی ادائیگی میں کوئی دوسرا ساتھ گواہی دے۔(ت)
دیکھو یہاں بھی ایك گواہ کا یہ حصہ شہادت کہ مدعی علیہ پر ہزار روپے آتے تھے مقبول ہوا اور دوسرا حصہ کہ ان میں سے پانچسو ادا کرچکا ہے نہ سنا گیا کتب فقہ میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۰€
اماقول الدرالشہادۃ اذا بطلت فی البعض بطلت فی الکل فقد حققنا فیما علقنا علی ردالمحتاران معناہ ان المشہود بہ الواحد لایقبل مرۃ ویرد اخری بل اذارد رد مطلقا ابدا الااذاکان لہ تعلق بامرین وقام بہ وجہ الرد نظر االی احدھمادون الاخر کما فی صور الاستثناء الثمان منہا شرب الخمر الثابت بشھادۃ رجل وامرأتین یقبل فی حق العتق والطلاق المعلقین بہ لا فی حق الحد اذلا شہادۃ للنساء فی الحدود وھکذا فی البواقی ولیس المراد ان الشاہد بعدۃ امور فردت شہادتہ فی احدھما لا یختص بہ لانقدح فی الشاھد ردت فی الامور الباقیۃ ایضا فان ھذا باطل قطعا ثم ذکرت الفرعین المذکورین۔ لیکن در کا یہ قول کہ جب بعض شہادت باطل ہوئی تو کل باطل ہوجائے گیتو اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں کردی ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ایك مشہود بہ(جس بات کی شہادت دی جارہی ہو)کو ایك دفعہ رد کرنے پر دوبارہ قبول کرنا جائز نہیںجب کردیا تو رد ہی ہوگا دوبارہ قبول کرنا جائز نہ ہوگا بشرطیکہ اس ایك مشہود بہ کا تعلق دو مختلف صورتوں سے نہ ہو اور اگر اس کا تعلق دو مختلف صورتوں سے ہے اور ایك صورت رد کی ہے دوسری نہیں ہےجیسا کہ آٹھ استثناؤں میں سے ایك یہ کہ شراب خوری جب ایك مرد ا وردو۲ عورتوں کی گواہی سے ثابت ہو تو یہ شہادت شراب خوری سے معلق کردہ امور عتق اور طلاق میں مقبول ہے اور یہی شہادت شراب خوری پر حدکے لئے مقبول نہ ہے کیونکہ حد میں عورتوں کی شہادت جائز نہیںیوں ہی باقی امور میں بھی۔ ردالمحتار کی عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ گواہ جب متعدد امور کی شہادت دے اور ایك میں شہادت اس کی خصوصیت کی بناء پر مردود ہوجائے تو باقی امور میں بھی شہادت مردود ہوجائے کیونکہ یہ بات قطعا باطل ہےپھر میں نے اس پر مذکور دو۲ فرعیں ذکر کی ہیں۔(ت)
(۲۷)محمد حسن خاں کی شہادت اس وجہ سے لغو ہے کہ اس تمام بیان میں کہیں تذکرہ نام مدعا علیہا کا نہیںنہ کوئی ثبوت اس کی شناخت کا ہے بلکہ ایك حکایت ہے کہ کوٹھری میں سے جوآوازآرہی تھی اس کا اعادہ کیاہےیہ اعتراض بھی تمام شبہات پر نظرنہ فرمانے سے ناشی ہے
اولا:محمد حسن خاں نے جہاں یہ کہا ہے کہ ایك کوٹھری جس میں کواڑ نہیں ہیں پردہ پڑا تھا اس میں سے یہ آواز آرہی تھی کہ میں اپنی خوشی سے آئی ہوں میری سوتیلی ماں سے ہمیشہ رنج رہتا تھا میرے والد مولوی مسعود خاں شہر میں نہیں ہیں حسن رضاکے ساتھ میرا بیڑا بھی ہوچکا تھا اس وجہ سے میں یہاں چلی گئی اور ان سے آکر کہا میرا آج ہی نکاح کردو نہیں تو میں جیسے پہلے چلی گئی تھی ویسے ہی چلی جاؤں گیوہاں یہ بھی کہا ہے کہ
(۲۷)محمد حسن خاں کی شہادت اس وجہ سے لغو ہے کہ اس تمام بیان میں کہیں تذکرہ نام مدعا علیہا کا نہیںنہ کوئی ثبوت اس کی شناخت کا ہے بلکہ ایك حکایت ہے کہ کوٹھری میں سے جوآوازآرہی تھی اس کا اعادہ کیاہےیہ اعتراض بھی تمام شبہات پر نظرنہ فرمانے سے ناشی ہے
اولا:محمد حسن خاں نے جہاں یہ کہا ہے کہ ایك کوٹھری جس میں کواڑ نہیں ہیں پردہ پڑا تھا اس میں سے یہ آواز آرہی تھی کہ میں اپنی خوشی سے آئی ہوں میری سوتیلی ماں سے ہمیشہ رنج رہتا تھا میرے والد مولوی مسعود خاں شہر میں نہیں ہیں حسن رضاکے ساتھ میرا بیڑا بھی ہوچکا تھا اس وجہ سے میں یہاں چلی گئی اور ان سے آکر کہا میرا آج ہی نکاح کردو نہیں تو میں جیسے پہلے چلی گئی تھی ویسے ہی چلی جاؤں گیوہاں یہ بھی کہا ہے کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادت باب قبول الشہادۃ وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱€
جدالممتارعلی ردالمحتار
جدالممتارعلی ردالمحتار
پردہ سے منہ بھی نکالا تھا میں نے منہ بھی دیکھاتھا پھر ثبوت شناخت کی کیا ضرورتیہاں بھی وہ مباحث پیش آئیں گے جوامر ۱۹و۲ میں نسبت شہادت جلال خاں گزرے محمد حسن خاں صرف کوٹھری کی آواز کا حاکی نہیں بلکہ آواز والی کو اسی وقت منہ دیکھ کرپہچانے ہوئے ہے۔
ثانیا: دربارہ نام مدعا علیہا وہ بحث جو زیر امر ۲۲گزری عائد ہے مولوی مسعود خاں کی بیٹی جو اس اظہار کے قابل ہو صرف عصمت جہاں بیگم ہے رفع جہالت کو اس قدر بس ہے اگرچہ نام نہ لیا گیایہ اور اس کو باپ کی گواہی ثبوت نکاح کے لئے نہ تھی بلکہ اس سے بیان عصمت جہان بیگم کی تکذیب مقصود ہے کہ وہ برضائے خود آئی ہے نہ کہ دوسری طرح۔
(۲۸)محمد حسن خاں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ تھانہ دار نے نہال الدین خاں او محمود خاں سے کہا تم نے اس کوٹھری میں یہ بھی دیکھ لیا کہ کوئی اور تو نہیں انہوں نے کہا اس میں ہماری ہی بھانجی ہے اور کوئی نہیں یہ قول بھی محمد حسن خاں کاغلط ہے اس لئے کہ مسماۃ نہال الدین کی بہن اور محمود خاں کی بھتیجی ہے نہ کہ بھانجی۔
اولا:کسی امر عظیم میں اشغال کے وقت کی زبان ایك آدھ لفظ میں بہك جانا کچھ مستبعدنہیں ہوتا محمود خاں کےلئے اس واقعہ کا سخت امر عظیم ہونا باتفاق فریقین ثابت ہے فریق عصمت جہاں بیگم کے طور پر تو ظاہر حتی کہ ایك فیصلہ میں بیان کیا گیا ہے کہ مسعود خاں اسی صدمہ سے دوران مقدمہ مرگیا محمود خان ان کا حقیقی بھائی ہے اگر بھتیجی کا بھانجی شدت صدمہ میں زبان سے نکل جائے کیا جائے تعجب ہے اور فریق حسن رضاخاں کے طور پر یوں کہ معاذ اﷲ حقیقی بھتیجی نوجوان کنواری باپ کے یہاں سے بھاگ کر ایك شخص کے یہاں چلی گئی اور خود نکاح کرلیا اور باپ بالجبر بلانا چاہتا ہے تو چچا اور بھائی کے سامنے یہ صاف صاف اظہار میں تھانے دار کو کہہ رہی ہے میں نہیں جانتی کون سے پیڑ پر رہتے ہیں کس باغ کی مولی ہیں عیاذا باﷲ یہ کیا تھوڑے صدمہ کا مقام ہےپھر اتنی زبان بہکنا کیا محالاور جب یہ ممکن اور ضرور ممکن تو مجوز ذی علم نے کیونکر یقین کرلیا کہ یہ محمد حسن خاں کی غلطی ہےکیا متحمل نہیں کہ محمود خاں ہی کی غلطی ہو اسی نے گھبراہٹ اور سخت رنج کی حالت میں بھانجی کہا محمد حسن خاں نے جو اس سے سنا وہی نقل کردیا اسے اپنی طرف سے تصرف کا کیا اختیار تھا مع ہذا کیا محال ہے کہ عصمت جہاں بیگم کی ماں محمود خاں کی رشتہ کی بہن ہو تو بھانجی کہنے میں کوئی غلطی بھی نہیں۔
ثانیا:بالفرض اگر یہ لغزش محمد حسن خاں ہی نے کی تو کیا الزام ہے کیایہاں عصمت جہاں بیگم کی نسبت وقرابت کاکوئی مقدمہ پیش تھا کہ بھتیجی کی جگہ بھانجی کہنے میں فرق پڑگیا یا شاید خواہ مدعی کا اس کے بھانجے ہونے
ثانیا: دربارہ نام مدعا علیہا وہ بحث جو زیر امر ۲۲گزری عائد ہے مولوی مسعود خاں کی بیٹی جو اس اظہار کے قابل ہو صرف عصمت جہاں بیگم ہے رفع جہالت کو اس قدر بس ہے اگرچہ نام نہ لیا گیایہ اور اس کو باپ کی گواہی ثبوت نکاح کے لئے نہ تھی بلکہ اس سے بیان عصمت جہان بیگم کی تکذیب مقصود ہے کہ وہ برضائے خود آئی ہے نہ کہ دوسری طرح۔
(۲۸)محمد حسن خاں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ تھانہ دار نے نہال الدین خاں او محمود خاں سے کہا تم نے اس کوٹھری میں یہ بھی دیکھ لیا کہ کوئی اور تو نہیں انہوں نے کہا اس میں ہماری ہی بھانجی ہے اور کوئی نہیں یہ قول بھی محمد حسن خاں کاغلط ہے اس لئے کہ مسماۃ نہال الدین کی بہن اور محمود خاں کی بھتیجی ہے نہ کہ بھانجی۔
اولا:کسی امر عظیم میں اشغال کے وقت کی زبان ایك آدھ لفظ میں بہك جانا کچھ مستبعدنہیں ہوتا محمود خاں کےلئے اس واقعہ کا سخت امر عظیم ہونا باتفاق فریقین ثابت ہے فریق عصمت جہاں بیگم کے طور پر تو ظاہر حتی کہ ایك فیصلہ میں بیان کیا گیا ہے کہ مسعود خاں اسی صدمہ سے دوران مقدمہ مرگیا محمود خان ان کا حقیقی بھائی ہے اگر بھتیجی کا بھانجی شدت صدمہ میں زبان سے نکل جائے کیا جائے تعجب ہے اور فریق حسن رضاخاں کے طور پر یوں کہ معاذ اﷲ حقیقی بھتیجی نوجوان کنواری باپ کے یہاں سے بھاگ کر ایك شخص کے یہاں چلی گئی اور خود نکاح کرلیا اور باپ بالجبر بلانا چاہتا ہے تو چچا اور بھائی کے سامنے یہ صاف صاف اظہار میں تھانے دار کو کہہ رہی ہے میں نہیں جانتی کون سے پیڑ پر رہتے ہیں کس باغ کی مولی ہیں عیاذا باﷲ یہ کیا تھوڑے صدمہ کا مقام ہےپھر اتنی زبان بہکنا کیا محالاور جب یہ ممکن اور ضرور ممکن تو مجوز ذی علم نے کیونکر یقین کرلیا کہ یہ محمد حسن خاں کی غلطی ہےکیا متحمل نہیں کہ محمود خاں ہی کی غلطی ہو اسی نے گھبراہٹ اور سخت رنج کی حالت میں بھانجی کہا محمد حسن خاں نے جو اس سے سنا وہی نقل کردیا اسے اپنی طرف سے تصرف کا کیا اختیار تھا مع ہذا کیا محال ہے کہ عصمت جہاں بیگم کی ماں محمود خاں کی رشتہ کی بہن ہو تو بھانجی کہنے میں کوئی غلطی بھی نہیں۔
ثانیا:بالفرض اگر یہ لغزش محمد حسن خاں ہی نے کی تو کیا الزام ہے کیایہاں عصمت جہاں بیگم کی نسبت وقرابت کاکوئی مقدمہ پیش تھا کہ بھتیجی کی جگہ بھانجی کہنے میں فرق پڑگیا یا شاید خواہ مدعی کا اس کے بھانجے ہونے
میں کوئی نفع بھتیجی ہونے میں کوئی نقصان تھا پھر ایسے لغو و فضول امر سے جس کے لئے مقدمہ میں کوئی اثر نہیں اعتراض یعنی چہ۔
(۲۹)یہ بھی لغویت قول گواہ مذکور ہے کہ اس نے واقعہ کی مدت قطعی آٹھ ماہ کی بیان کی ہے اور بروئے حساب کہ تاریخ عقد۲۴/اپریل ۱۹۰۴ء ہے تاروزادائے شہادت کہ ۴/دسمبر ۱۹۱۴ء ہے مدت سات ماہ نو دن ہوتے ہیں تو یہ شہادت متعلق کسی واقعہ مقابل کے ہے
اولا:سخت حیرت ہے کہ یہاں جو نقل اظہار آئی اس میں صاف یہ لفظ ہیں عرصہ تخمینا آٹھ ماہ کا ہوا کہاں تخمینا کہاں قطعا۔
ثانیا: اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
"الحج اشہر معلومت" زمانہ حج چند ماہ معلوم ہیں۔
اشھر بصیغہ جمع فرمایا جس کا اقل تین ہے حالانکہ وہ صرف یکم شوال سے دہم ذی الحجہ تك دو مہینے دس دن اور امام شافعی کے نزدیك نہم تك دومہینے نودن ہیں۔ردالمحتار میں علامہ مصطفی رحمتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کے حاشیہ درمختار میں سے ہے:
اطلق اشھر فی قولہ تعالی الحج اشھر معلومت علی شھرین وبعض الثالث ۔ اشھر جمع کا اطلاقاﷲ تعالی کے قول"اشھر معلومات"میں دوماہ اورایك ماہ کے کچھ حصے پر کیاگیا ہے(ت)
جب دو مہینے نو دن کو تین مہینے کہنا جائز ٹھہراتو سات مہینے نودن کو آٹھ مہینے کہنے میں کیاگناہ ہواہاں اگرمحمد حسن خاں قید لگاتا کہ پورے آٹھ مہینے ہوئے یا بے کم وبیش یا کامل تو ضرور اعتراض کا محل تھامعالم التزیل میں ہے:
شوال وذوالقعدۃ وتسع من ذی الحجۃ وانما قال اشھر بلفظ الجمع لان العرب تسمی الوقت تاما بقلیلہ وکثیرہ فیقول اتیتك یوم الخمیس شوالذوالقعدہ اور نودن ذی الحجہ ہیںاس کے باوجود اشھر جمع کا لفظ فرمایاکیونکہ عرب لوگ کچھ وقت کا تمام وقت پر اطلاق کرتے ہیںوہ کہتا ہے میں جمعرات کو تیرے پاس آیا حالانکہ
(۲۹)یہ بھی لغویت قول گواہ مذکور ہے کہ اس نے واقعہ کی مدت قطعی آٹھ ماہ کی بیان کی ہے اور بروئے حساب کہ تاریخ عقد۲۴/اپریل ۱۹۰۴ء ہے تاروزادائے شہادت کہ ۴/دسمبر ۱۹۱۴ء ہے مدت سات ماہ نو دن ہوتے ہیں تو یہ شہادت متعلق کسی واقعہ مقابل کے ہے
اولا:سخت حیرت ہے کہ یہاں جو نقل اظہار آئی اس میں صاف یہ لفظ ہیں عرصہ تخمینا آٹھ ماہ کا ہوا کہاں تخمینا کہاں قطعا۔
ثانیا: اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
"الحج اشہر معلومت" زمانہ حج چند ماہ معلوم ہیں۔
اشھر بصیغہ جمع فرمایا جس کا اقل تین ہے حالانکہ وہ صرف یکم شوال سے دہم ذی الحجہ تك دو مہینے دس دن اور امام شافعی کے نزدیك نہم تك دومہینے نودن ہیں۔ردالمحتار میں علامہ مصطفی رحمتی رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کے حاشیہ درمختار میں سے ہے:
اطلق اشھر فی قولہ تعالی الحج اشھر معلومت علی شھرین وبعض الثالث ۔ اشھر جمع کا اطلاقاﷲ تعالی کے قول"اشھر معلومات"میں دوماہ اورایك ماہ کے کچھ حصے پر کیاگیا ہے(ت)
جب دو مہینے نو دن کو تین مہینے کہنا جائز ٹھہراتو سات مہینے نودن کو آٹھ مہینے کہنے میں کیاگناہ ہواہاں اگرمحمد حسن خاں قید لگاتا کہ پورے آٹھ مہینے ہوئے یا بے کم وبیش یا کامل تو ضرور اعتراض کا محل تھامعالم التزیل میں ہے:
شوال وذوالقعدۃ وتسع من ذی الحجۃ وانما قال اشھر بلفظ الجمع لان العرب تسمی الوقت تاما بقلیلہ وکثیرہ فیقول اتیتك یوم الخمیس شوالذوالقعدہ اور نودن ذی الحجہ ہیںاس کے باوجود اشھر جمع کا لفظ فرمایاکیونکہ عرب لوگ کچھ وقت کا تمام وقت پر اطلاق کرتے ہیںوہ کہتا ہے میں جمعرات کو تیرے پاس آیا حالانکہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۷€
ردالمحتار
ردالمحتار
وانما اتاہ فی ساعۃ منہ ویقولون زرتك العام وانما زارہ فی بعضہ اھ مختصرا۔ آنا صرف ایك ساعت میں ہوایوں ہی کہتے ہیں میں نے اس سال تیری زیارت کی حالانکہ زیارت کچھ حصہ میں کی ہے اھ مختصرا(ت)
ولہذا احتمال مجاز رفع کرنا چاہا قرآن عظیم نے قید کمال بڑھاکر "تلک عشرۃ کاملۃ " (یہ دس کامل ہیں۔ت)فرمایا کشاف میں زیر قولہ تعالی حولین کاملین(دوسال کامل۔ت)لکھا تو کید کقولہ تعالی:
تلك عشرۃ کاملۃ لانہ ممایتسامح فیہ فتقول اقمت عند فلان حولین و لم تستکملھما ۔ یہ دس کامل ہیںکیونکہ یہ ان امور میں سے ہے جن میں تسامح سے کام لیا جاتا ہےتو کہتا ہے میں نے فلاں کے پاس دو سال قیام کیاحالانکہ تو نے پورے دو سال نہ کیا۔(ت)
شہادتوں پر دیگر اعتراضات کا بھی خاتمہ ہوگیااب قرائن سنئے:
قرائن:(۳۰)واقعہ حیرت خیز خلاف عقل ہےعورت پردہ نشین ناکتخدا معزز نامی شخص کی بیٹی کا پاپیادہ تنہا شب میں بلا اعانت شخص دیگر کے محلہ مدرسہ سے باغ انگوری تك آنا پھر خواہش نکاح کی کرنا اور بلا علم و شرکت اعزا ومعززین محلہ بوکالت اجنب نا آشنا وشہادت اشخاص غیر شناسا نکاح ہونا اصلا قابل باور ہونے کے نہیں اور اس سے پہلے توکیل بوستاں خاں کی نسبت فرمایا مدعا علیہا پردہ نشین شریف زادہ ہے اس بیباکی وبے حیائی کے ساتھ ایك شخص اجنب سے ایسے شرم کے وقت جو ذلیل ترین عورت بھی ایسی باتیں نہیں کرسکتی بلحاظ رسم ورواج شرفاء اصلا عقل سلیم اس کو باور نہیں کرسکتی یہ جملہ کار سازی مصلحتی و صنعتی ہے۔
اولا: صریح شہادتوں کے خلاف قرائن پر حکم ناممکن۔علماء فرماتے ہیں:
ان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔ البینۃ اپنے نام کی بناء پر واضح کرنے والا ہوتا ہےشہادت سے ثابت شدہ چیز مشاہدہ سے ثابت شدہ کی طرح ہے(ت)
ولہذا احتمال مجاز رفع کرنا چاہا قرآن عظیم نے قید کمال بڑھاکر "تلک عشرۃ کاملۃ " (یہ دس کامل ہیں۔ت)فرمایا کشاف میں زیر قولہ تعالی حولین کاملین(دوسال کامل۔ت)لکھا تو کید کقولہ تعالی:
تلك عشرۃ کاملۃ لانہ ممایتسامح فیہ فتقول اقمت عند فلان حولین و لم تستکملھما ۔ یہ دس کامل ہیںکیونکہ یہ ان امور میں سے ہے جن میں تسامح سے کام لیا جاتا ہےتو کہتا ہے میں نے فلاں کے پاس دو سال قیام کیاحالانکہ تو نے پورے دو سال نہ کیا۔(ت)
شہادتوں پر دیگر اعتراضات کا بھی خاتمہ ہوگیااب قرائن سنئے:
قرائن:(۳۰)واقعہ حیرت خیز خلاف عقل ہےعورت پردہ نشین ناکتخدا معزز نامی شخص کی بیٹی کا پاپیادہ تنہا شب میں بلا اعانت شخص دیگر کے محلہ مدرسہ سے باغ انگوری تك آنا پھر خواہش نکاح کی کرنا اور بلا علم و شرکت اعزا ومعززین محلہ بوکالت اجنب نا آشنا وشہادت اشخاص غیر شناسا نکاح ہونا اصلا قابل باور ہونے کے نہیں اور اس سے پہلے توکیل بوستاں خاں کی نسبت فرمایا مدعا علیہا پردہ نشین شریف زادہ ہے اس بیباکی وبے حیائی کے ساتھ ایك شخص اجنب سے ایسے شرم کے وقت جو ذلیل ترین عورت بھی ایسی باتیں نہیں کرسکتی بلحاظ رسم ورواج شرفاء اصلا عقل سلیم اس کو باور نہیں کرسکتی یہ جملہ کار سازی مصلحتی و صنعتی ہے۔
اولا: صریح شہادتوں کے خلاف قرائن پر حکم ناممکن۔علماء فرماتے ہیں:
ان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔ البینۃ اپنے نام کی بناء پر واضح کرنے والا ہوتا ہےشہادت سے ثابت شدہ چیز مشاہدہ سے ثابت شدہ کی طرح ہے(ت)
حوالہ / References
معالم التنزیل علٰی ہامش تفیسر الخازن تحت آیۃ الحج اشھر المصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۸۰€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۶€
الکشاف للزمخشری تحت آیۃ حولین کاملین انتشارات ∞آفتاب قم ایران ۱ /۷۰۔۳۷۹€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۶€
الکشاف للزمخشری تحت آیۃ حولین کاملین انتشارات ∞آفتاب قم ایران ۱ /۷۰۔۳۷۹€
آدمی جس طرح آنکھوں دیکھی بات کو محض اس بنا پر رد نہیں کرسکتا کہ قرینہ اس کے خلاف ہے یوں ہی ثابت بالشہادۃ کوقرائن سے غایت درجہ اگر ہوگا تو یہ کہ بیان شہود میں ریب و تہمت پیدا ہو اور محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب الاصل میں تحریر فرماتے ہیں کہ ریب و تہمت کے سبب گواہیاں رد نہیں ہوسکتیں
فی الھندیۃ عن المحیط عن الاصل القاضی وان کان یتھمھم فالشہادۃ لاترد بمجرد التھمۃ ۔ ہندیہ میں محیط سے اصل(مبسوط)کے حوالہ سے ہے کہ اگر قاضی گواہوں کو متہم بھی کرے تب بھی محض تہمت کی بنا پر شہادت مردود نہ ہوگی(ت)
شریف زادیوں کا مکان سے جاکر باختیار خود نکاح کرلینا اگرچہ رسم عام نہیں مگر شرعا ممنوع وحرام نہیںاگر تلاش کیجئے تو رامپور ہی میں اس کی بیس نظیریں ملیں گی اور رات کو پیادہ گلی کوچوں پھرنا تو وہاں بکثرت شائع ہے جس طرح لکھنؤ میںبریلی میں شریف خاندان اسے ضرور عیب سمجھتے ہیں مگر رام پور میں اگر یہ عیب ہے تو برائے گفتن ہے عملی طور پر اکثر خاندانوں میں عیب نہیں بلکہ وہاں بہت جگہ منگنی وغیرہ کی تقریبوں میں شب کو آپ ڈھول بجاتی ہوئی نکلنے کی رسم ہے ان میں کنواریاں بیاہیاں جوان بڑھیاں سب طرح کی ہوتی ہیں اور بعض بیباکیں تو مردانہ لباس پہن کر تپنچے کی جوڑی لگا کر نکلتی سنی گئی ہیں یہاں تك مسموع ہواکہ بعض اونچے گھر والیاں اسی وضع میں سڑك پر مقتول ملیں والعیاذ باﷲ رب العلمین مفتی وحاکم دونوں پر لازم کہ جہاں کی نسبت حکم یا فتوی دیں خاص وہاں کے رسم ورواج پر لحاظ کریں دوسرا رواج اگرچہ کیسا ہی عام ہو وہاں کے اپنے رواج کا معارض نہیں ہوسکتا۔
ثانیا: رسم ورواج کے قرائن تو اس وقت ڈھونڈھئے کہ خود اصل شخص مبحوث عنہ کے افعال و اقوالحرکات واعمال پر اطلاع نہ ہوجب خود اس کی حالت معلومپھر دوسروں کے رواج سے اس پر حکم کیامعنییہاں دوباتیں حیرت خیز و تعجب انگیز اور عقل سلیم سے بعید سمجھی گئیں ایك تو عصمت جہاں بیگم کا پاپیادہ گھر سے تنہا چلاجانادوسرے اجنبی شخص بوستاں خاں سے بیباکانہ یہ گفتگو کہ بھائی بوستاں خان میں نے تمہیں اپنے نکاح کا وکیل کیا۔ان دونوں باتوں کی زندہ نظریں بدرجہا ان سے زائد خود عصمت جہاں بیگم کے افعال واقوال میں موجودیہی عصمت جہاں بیگم مدعا علیہا یہی عورت پردہ نشین ناکتخدایہی معزز نامی شخص کی بیٹی یہی نوجوان کنواری شریف زادی ابھی قریب زمانہ ہوا اس نکاح سے دو ہی مہینے پہلے اپنے مکان
فی الھندیۃ عن المحیط عن الاصل القاضی وان کان یتھمھم فالشہادۃ لاترد بمجرد التھمۃ ۔ ہندیہ میں محیط سے اصل(مبسوط)کے حوالہ سے ہے کہ اگر قاضی گواہوں کو متہم بھی کرے تب بھی محض تہمت کی بنا پر شہادت مردود نہ ہوگی(ت)
شریف زادیوں کا مکان سے جاکر باختیار خود نکاح کرلینا اگرچہ رسم عام نہیں مگر شرعا ممنوع وحرام نہیںاگر تلاش کیجئے تو رامپور ہی میں اس کی بیس نظیریں ملیں گی اور رات کو پیادہ گلی کوچوں پھرنا تو وہاں بکثرت شائع ہے جس طرح لکھنؤ میںبریلی میں شریف خاندان اسے ضرور عیب سمجھتے ہیں مگر رام پور میں اگر یہ عیب ہے تو برائے گفتن ہے عملی طور پر اکثر خاندانوں میں عیب نہیں بلکہ وہاں بہت جگہ منگنی وغیرہ کی تقریبوں میں شب کو آپ ڈھول بجاتی ہوئی نکلنے کی رسم ہے ان میں کنواریاں بیاہیاں جوان بڑھیاں سب طرح کی ہوتی ہیں اور بعض بیباکیں تو مردانہ لباس پہن کر تپنچے کی جوڑی لگا کر نکلتی سنی گئی ہیں یہاں تك مسموع ہواکہ بعض اونچے گھر والیاں اسی وضع میں سڑك پر مقتول ملیں والعیاذ باﷲ رب العلمین مفتی وحاکم دونوں پر لازم کہ جہاں کی نسبت حکم یا فتوی دیں خاص وہاں کے رسم ورواج پر لحاظ کریں دوسرا رواج اگرچہ کیسا ہی عام ہو وہاں کے اپنے رواج کا معارض نہیں ہوسکتا۔
ثانیا: رسم ورواج کے قرائن تو اس وقت ڈھونڈھئے کہ خود اصل شخص مبحوث عنہ کے افعال و اقوالحرکات واعمال پر اطلاع نہ ہوجب خود اس کی حالت معلومپھر دوسروں کے رواج سے اس پر حکم کیامعنییہاں دوباتیں حیرت خیز و تعجب انگیز اور عقل سلیم سے بعید سمجھی گئیں ایك تو عصمت جہاں بیگم کا پاپیادہ گھر سے تنہا چلاجانادوسرے اجنبی شخص بوستاں خاں سے بیباکانہ یہ گفتگو کہ بھائی بوستاں خان میں نے تمہیں اپنے نکاح کا وکیل کیا۔ان دونوں باتوں کی زندہ نظریں بدرجہا ان سے زائد خود عصمت جہاں بیگم کے افعال واقوال میں موجودیہی عصمت جہاں بیگم مدعا علیہا یہی عورت پردہ نشین ناکتخدایہی معزز نامی شخص کی بیٹی یہی نوجوان کنواری شریف زادی ابھی قریب زمانہ ہوا اس نکاح سے دو ہی مہینے پہلے اپنے مکان
حوالہ / References
فتاوی ٰ ہندیہ کتاب ادب القاضی البا ب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۴۵€
سے بلا اطلاع غائب ہوکر اسٹیشن ریلوے رامپور تك جاچکی ہے اس کا بہنوئی پھوپھی زاد بہن کا شوہر تلاش کرتا گیا اور منا لایاسید مراد علی سب انسپکٹر اسٹیشن رامپور نے لکھایا ۲۵فروری ۱۹۰۴ء میں زبانی ضامن شاہ خاں ولد عادل شاہ خاں کے معلوم ہوا کہ میری حقیقی سالی اچھن بیگم مکان سے ناخوش ہوکر چلی آئی ہےزنانے کمرہ میں تلاش کرلی جائےمیں نے تلاش کرایا زنانہ کمرے میں موجود ملیہمراہ لے کر واپس مکان خود ہواسروری بیگم جس کے مکان پر نکاح ہوا عصمت جہاں بیگم کی بھانجی ہےاپنی بھانجی کے یہاں آنا آخر اسٹیشن تك پہنچنے سے کچھ کم ہی ہوگااچھن بیگم جس کاذکر اظہار مذکور میں ہے یہی عصمت جہاں بیگم ہے جیساکہ وہ خود اپنے اظہارمیں کہتی ہے کہ میرے چچاکبھی اچھی کہتے ہیں کبھی اچھن صاحب کبھی اچھنضامن شاہ خاں مذکور اسی کا بہنوئی ہےجیسا کہ وہ خود اپنے اظہار میں کہتی ہے کہ ضامن شاہ خاں میرے داماد جن کے باپ کا نام عادل شاہ خاں ہے عصمت جہاں بیگم کے اس خفیہ چلے جانے کے ذی علم مجوز جج ریاست نے بھی اپنے فیصلہ میں اخذ کیا اور اس سے عصمت جہاں بیگم کے باب میں وہ نتیجہ نکالا جسے فتوی میں ذکر کرنا مناسب نہیںاس کا چند روز تك حسن رضاخاں کے مکان پر رہنا اس کے حقیقی بھائی کا وہیں اس سے ملنے کو جانا اور اس کے باپ کے بمبئی سے آنے تك اس کے حقیقی بھائی حقیقی چچا سب کا چپ رہنا استغاثہ درکنار اطلاع بھی نہ کرنا پھر بمبئی سے آنے کے بعد بھی کئی دن کی خاموشی ہوکر کارروائی چلنا اور عصمت جہاں بیگم کا بجبر پولیس حسن رضاخاں کے مکان سے نکلنا یہ واقعات تو ایسے ہیں جن میں کسی کو انکار کی گنجائش نہیںہاں فریقین اس میں مختلف ہیں کہ یہ جانا بجبر تھا یا بخوشیعصمت جہاں بیگم جبر بتاتی ہے اور وہ شرعا اس میں مدعی ہے بارثبوت اس کے ذمے تھا اور وہ اس میں محض ناکام رہیاس کے اور اس کے باپ اور اس کے گواہوں کے اظہار سب عجب عجب تناقضوں اور خلاف عقل و بعید از قیاس باتوں پر مشتمل ہیں جن کو دیکھ کر صاف مترشح ہوتا ہے کہ صنعتی و مصلحتی کہنا انہیں بیانوں کو شایاں ہے ان کے نقائض وقبائح کی تفصیل آسان تھی مگر اس کے ذکر سے حاجت تطویل نہیں کہ خود ذی علم مجوز نے ان پر اعتبار نہ کیا اور عصمت جہاں بیگم کا بالجبر اپنے باپ کے مکان سے لایا جانا مسلم نہ رکھاآخر فیصلہ میں فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مدعا علیہا حسب رسم ورواج زمانہ اپنی بھانجی کے گھر کسی ضرورت سے گئی مگر جبر نہ مان کر بیان مدعی و گواہان مدعی مردود ہونے پر قرائن عقلیہ کی کوئی کافی شہادت نہیںجب عصمت جہاں بیگم کا اس کے یہاں بخوشی جانا مسلم تو مدعی کا اس میں کیا نفع تھا کہ اس کا رات کو پاپیادہ مردانہ لباس میں آنا بیان کرتا کیا اگر ڈولی میں آنا بتاتا تو ثبوت نکاح میں اشکال ہوتا نہیں نہیں بلکہ بظاہر اسی بیان میں شکل اشتباہ تھی جیسا کہ ذی علم مجوز کو واقع ہوا کہ اس کا یوں آنا بعید ازعقل سمجھا تو خلاف واقع ایسی بات کہ اپنے دعوی میں شبہہ پید اکرے بیان کرنا اور مطابق واقع صاف صاف
بے اشتباہ کو چھوڑدینا اصلا کوئی وجہ نہ رکھتا تھا۔لاجرم قرین قیاس یہی ہے کہ جیسا وہ کہتا ہے وہی واقع ہوا اور اس نے اپنی دیانت خواہ سادگی سے بیان واقعہ میں کوئی تصنع نہ کیا جو گزرا تھا بے کم و بیش وہی بیان کردیا ورنہ وہ بناوٹ چاہتا تو اسے یہ کہنا بہت آسانیاں دیتا کہ عصمت جہاں بیگم ڈولی میں اپنی بھانجی کے پاس آئی اور نکاح کی خواستگار ہوئیہم نے دیوانی و ججی دونوں مقدموں کے کاغذات فریقین وگواہان فریقین کے اظہارات بتفصیل دیکھے اصلاکسی حرف سے نہ تو عصمت جہاں بیگم کے دامن عصمت میں کوئی لوث و التباس نظر آتا ہے نہ بیان حسن رضاخاں میں کوئی امر بعید از قیاسغیب کا علم عالم الغیب عزجلالہ کو ہے مگر رو دادوں کا ملاحظہ بے رو رعایت حالت واقعہ یہ بتاتا ہے کہ عصمت جہاں بیگم ضرور اپنے نام کی عصمت جہاں ہے حاشا اس پر کسی بدوضعی کا ثبوت نہیں مگر اس کی طبیعت خلقۃ خوش باش وآزادی پسند و لطیف وظریف واقع ہوئی ہے وہ صدموں کا تحمل درکنار محکومی ودست نگری سے بھی بیزار ہے حبیب النساء بیگم اس کی سوتیلی ماں ہے حسب عادت زنان بلکہ رواج عام ہر زمان اس عداوت کے رشتے سے عصمت جہاں بیگم کو اذیت پہنچتی تھی اور کچھ نہ ہو تو کم از کم وہ محض محکوم ودست نگررکھی گئی تھی اس کی آزاد طبیعت اس قید و بند سے بھاگتی تھی جیسا کہ وہ خود اپنے اظہار میں درپردہ شاکی ہے کہ میرے پاس روپیہ علیحدہ نہیں رہتا ہے چچاماں بھائی سے کہہ کر چیز منگاسکتی ہوں ایسی چیز جس کو میرا جی چاہے اور یہ لوگ منع کریں نہیں منگاسکتی ہوںانہیں وجوہ سے وہ ایك بارتنگ آکر اسٹیشن تك فرار کرچکی اس بار پکڑی گئی اور پھر اس کو اسی قید کا سامنا ہوا اور مظنون ہے کہ اب بوجہ فرار قید وتشد د میں اور اضافہ ہوا ہووہ وقت کی منتظر تھی اس کا باپ بمبئی گیا ادھر سوتیلی ماں کو ستانے کا زیادہ موقع ملا ہوگاادھر اس نے اپنی آزادی قائم کرنے کا اچھا وقت پایا سوچی کہ اب کی بار بھی پہلا ہی سا فرار ہوا تو اسی طرح بیکار جائے گا وہ تدبیر کیجئے کہ ہمیشہ کو آزاد ہوجائیے۔حسن رضاخاں سے اس کا بیڑا ہوچکا تھا جیساکہ خود اس کی ماں نے اپنے ایك اظہار میں اقرار کیا ہے اسے سب کے ظاہر ڈولی منگا کر حسن رضا خاں کے یہاں جانے کا حسب رسم زمانہ کوئی موقع نہ تھا لہذا اس کا پاؤں ایك بار کھل چکا تھا رات آنے کی منتظر تھی اس کے یہاں معمولا آٹھ یا نو بجے رات کو سوجاتے ہیں جیساکہ خود اس نے اپنے اظہار میں لکھایا ہے باپ گھر میں نہ تھا ماں بھائی نوبجے سوگئے اس نے دس بجے راہ مقصود لی اس کے بھائی نے سوتے وقت اچکن ٹوپی اتارکر رکھ دی تھی یہ سمجھی کہ چاندنی رات ہے کہ صفر کی آٹھویں شب تھی اور ابھی راستہ چل رہا ہے جیسا کہ خود اس کی طرف کے اظہاروں میں ہے کہ راہ میں اس کے چچا وغیرہ لوگ ملے تھے اپنے لباس میں کہیں پہچانی نہ جائے لہذابھائی کی شکر گزاری کے ساتھ اس کی اچکن ٹوپی زیب بدن کی اور وہی ہوا جو وہ سمجھتی تھی کہ
اب کسی نے نہ پہچانا یہاں تك کہ وہ اپنی بھانجی کے گھر میں آگئییہاں کی عورتیں اجنبی جوان کو آتے دیکھ کر ضرور گھبرائی ہوں گی مگر یہ محل اس کے کھل جانے کا تھا اس کے اتنے کہنے پر کہ میں ہوں عصمت جہاں بیگموہ گھبراہٹ اب اس تعجب سے بدل گئی ہوگی کہ تم اس وقت اس وضع میں کہاںاور اس کا اس نے وہی جواب دیا ہوگا جو اپنی خود مختاری کے اظہار میں کہہ چکی تھی کہ میری سوتیلی ماں مجھے زہر دئے دیتی ہے میرا نکاح کردو ورنہ پہلے کی طرح پھر چلی جاؤں گی وہ خوب سمجھ لی تھی کہ اس کی آزادی قائم کرنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو یہی نکاح ہے کہ اس کے بعد وہ لوگ مجبور ہوجائیں گےشوہر کا گھر اسٹیشن کا کمرہ نہ ہوگا جہاں سے ضامن شاہ خاں پکڑلے جائیں اس نکاح کے لئے ضرورتھا کہ اس کے اعزہ واقارب واہل محلہ نہ بلائے جائیں کہ یہ تو بالکل برعکس مراد ہوتا تو اس کو یہاں قرینہ بے اصل دعوی ٹھہرانا اصل مطلب سے غفلت پر مبنی ہے۔تلاشی کے وقت اچکن ٹوپی کا مدعی کے یہاں سے بر آمدن ہونا بھی اسی کا مؤ ید ہے کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ لوگ ڈاکہ ڈالنے جائیں اور فقط روپے آٹھ آنے کے دو استعمالی کپڑے لے کر چلے آئیں پھر انہیں اپنے یہاں رکھ چھوڑیں یہاں تك کہ کئی دن بعد تلاشی میں نکلیں حالانکہ کپڑا فورا پہچانے جانے کی چیز ہےلاجرم وہ اسی طرح آلئے جس طرح مدعی بیان کرتا ہے اور انہیں گھر میں رکھنے سے احتراز نہ کیا کہ خود پہننے والی ہی موجودتھی اوراس نے اپنی خوشی سے نکاح کیا تھا مدعی مطمئن تھا کہ فساد نہ اٹھے گا آخر کئی روزتك اس کے چچابھائی خاموش رہے۔تھانے میں بھی خبر نہ کی بلکہ چچا اور بھائی اور بہنوئی خود یہاں آکر اس سے مل گئے جیسا کہ حبیب النساء بیگم و عصمت جہاں بیگم و نہال الدین خاں کے اظہار سے ثابت ہے وہ اقرار کرتا ہے کہ محمد رضاخاں مجھ کو اندر مکان کے لے گئے تھے اوردوسرے اظہار میں یہ بھی لکھایا ہے کہ محمد رضاخاں نے لڑکی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے بھائی آتے ہیںکیا جو کوئی بھگا کر لاتا ہے اس کے بھائی کو یوں مکان کے اندر لے جاتا ہےآگے نہال الدین خاں کا کہنا کہ بعد لے جانے کے محمد رضاخاں نے مجھ سے کہا کہ تم کیوں آئے ہو چلے جاؤ ہم تم کو ماریں گےمحض نامقبول ہےان لوگوں کو نامنظور ہوتا تو پہلے ہی مکان میں کیوں جانے دیتےہاں شاید اس نے اندر جاکر اپنی بہن کو کچھ بھکانا یا دھمکانا شروع کیا ہواس پر محمد رضاخاں نے ایسا کہا ہونیز مدعی کو اطمینان تھا کہ کسی نے فساد چاہا بھی تو عصمت جہاں بیگم جوان عورت خود مختار ہےاس پر کسی کی ولایت جبر یہ نہیں وہ اپنی عصمت پر تہمت نہ رکھے گیاور ہوا بھی ایسا ہیوہاں جواس کا اظہار ہوا ہے اس میں سارا واقعہ کہہ سنایا مگر جب بالجبر باپ کے یہاں بھیج دی گئی یہاں اسے پڑھایا ہوا سبق پڑھنا پڑااس سلسلہ وار قرین قیاس واقعہ کو دیکھ کر کچھ بھی ا س کا تعجب نہیں رہتا کہ عصمت جہاں بیگم نے کیونکر بوستاں خاں سے خطاب توکیل
کیاہوگا مگر زیادہ تعجب تو اس کا ہے کہ عصمت جہاں بیگم نے اظہارات جو اس نے اجنبی مردوں حکام وغیرہم کے سامنے دھڑلے کی صفائی سے آٹھ دس صفحہ مطول پر لکھا ئے ہیں جن میں وہ عندلیب ہزار داستان بن کر چہکی ہے جن میں کہیں نہ تو اس کی تیوری پر میل آیا نہ اس کی آنکھ جھپکی نہ اس کی زبان بہکی ہے انہیں ملاحظہ فرماکر اتنی بات کو بعیداز عقل سلیم کہا جاتا ہے کہ بھائی بوستاں خاں میں نے تمہیں اپنے نکاح کا وکیل کیاان اظہاروں کا دیکھنے والا انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ کمسن نوجوان پردہ نشین شریف زادی جسے غیر مردوں سے بات کرنے کا اتفاق تو بالائے طاق بقول اس کے یہ بھی نہیں جانتی کہ میرے مکان کے دروازہ کے سامنے کس کا مکان ہے وہ اور خاص اہلکاران حکومت کے سامنے چالاك وکیلوں کے پیچ در پیچ جرحوں کے مقابل یہ کچھ طراریں دکھانا یوں صفائی سے نکل جانا سچ پوچھئے تو بعیداز عقل سلیم اسے کہئے اس کے ابتدائی اظہار پر لچھے دار بیان کا تسلسل دیکھ کر وکلائے مدعی کو گمان ہو اتھا کہ شاید اس کے قانون دان باپ نے اسے اظہار لکھ کر دے دیا ہے جسے پڑھ کر سنارہی ہے جس کا جواب اس نے وہ چمك کر دیا کہ کاغذ دیکھنے والے پرلعنت ہےکتنا پہلو دار جواب ہےمعلوم نہیں اس کاغذ کوکہتی ہے جس کی نسبت وکیل مدعی نے شبہہ کیا یا اس کاغذ کو جس پراظہار لکھا جارہا ہے اوروکیل وغیرہ کے پیش نظر ہےخیر یہاں تو شبہہ صحیح تھا خواہ بے اصلمگر جرحوں کے جواب تو وہ لکھواکر نہ لاسکتی تھی وہاں اس کی تیز زبانیاں شیوابیانیاں قابل تماشہ ہیں اس کے باپ کی نسبت کو توال ریاست نے لکھایا ہے کہ تجربہ کار قانون دان مشہور ہے مگر موازنہ تو صاف کہہ رہا ہے کہ عصمت جہاں بیگم کا اظہار اس کے باپ کے اظہار سے کہیں زیادہ چاق وباطمطراق ہے وہ ان اجنبی مردوں نہ صرف اجنبی بلکہ حاکمانہ اظہار لینے والوں اور مخالفانہ جرحیں کرنے والوں کے مجمع میں اپنی ظریف طبیعت کے رنگ کو بھی نہ بھولی زہر یا دھتورے کے لڈو جنہیں کھلا کر اسے اور اس کے سارے کو بیہوش کردینا بتایا گیا ہے ان کی تعداد و وزن تخمینی سے وکلانے سوال کیا تھا جس کا جواب لکھاتی ہے کتنے نہیں بتاسکتی نہ یہ بتاسکتی ہوں کہ پانچ تھے یا پانچ سے زیادہ تھےآٹھ تھے یا آٹھ سے زیادہ تھےتخمینہ سے بھی نہیں بتا سکتی کہ دس تھے یا اس سے زیادہ تھےچار یا پانچ تخمینا تھےان چار پانچ کا وزن نہیں بتاسکتینہ ایك لڈو کا وزن تخمینا بتاسکتی ہوں کہ ماشہ بھر یا تو لہ بھر یا چھٹانك بھر تھا یا سیر بھر تھا یا من بھر تھا۔سوال تھا کہ ایك لڈو کتنے نوالوں میں کھا لیتی تھیںجواب دیا نہیں بتا سکتینہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ ایك لڈو کے آٹھ یا دس یا بیس یا پچاس نوالے ہوتے تھے۔سوال تھا کہ لڈو کھانے کے کتنی دیر بعد یہاں سے روانہ ہوئیکہا تخمینا بھی نہیں بتاسکتی۔وکیل نے پوچھا ایك گھنٹے بعد یا ڈیڑھ گھنٹے بعد۔کہا میں کچھ
نہیں کہہ سکتی سب گھنٹے بعدپھر ایك سوال کے جواب میں کہاآنے میں اور کھاناکھانے کے وقت تك چار پانچ گھنٹے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتی مجھ کو متشابہ تھاوکیل نے پوچھا متشابہ آپ کو کیوں تھااس پر بولی آپ نے لفظ"ہ"زیادہ کردیا مجھ کو کتاب سے بتلا دو یہ میر ی سمجھ میں نہیں آتازہر کے لڈو کھانے کے آثار سے سوال ہوااس کا جواب دیتی ہے ہم کو یاد نہیں کہ کلیجے پر جلن تھی یا نہیں ہم کو یاد نہیں کہ پیٹ میں درد ہوا تھا یانہیںیہ بھی یاد نہیں کہ گلے میں سوزش ہوئی تھی یانہیںآئینہ ہمارے ہاتھ میں نہ تھا کہ میں دیکھتی کہ آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں یا کیامجھے یاد نہیں کہ میرے گلے میں خشکی تھی یانہیںتین مہینے سے اونچا عرصہ ہوا۔یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ کسی کو پیاس تھی کہ نہیںمیں نہیں کہہ سکتی میرے سر میں درد ہوا یانہیںمیں نہیں کہہ سکتی کہ چکا چوند ہوا یا نہیںنہ میں نے پاگل دیکھانہ میں جانوںنہ کودنااچھلناجنون لڑکھڑاناپاؤں کا پھدکنا ناچنا واہی تباہیہوامیں ہاتھ مارناان سب باتوں کو میں نہیں جانتییہاں تك کہ لکھاتی ہے کسی مرد نے کہا پلنگ پر لیٹ جاؤ میں لیٹ گئی پلنگ پر لیٹنے کے بعد صبح تك ہوش نہ ہوا صبح کو اٹھی جب معلوم ہوا کہ مجھے خراب و بے عزت کیا پاجامے کی کلیوں پر خون لگا تھا یہ نہیں معلوم کس نے خراب کیاجب تك مظہرہ ملزمان کے قبضہ میں رہی مظہرہ سے براکام حسن رضاخاں ڈرادھمکا کر کرتا رہاکچہریوں کے اظہار اور وکلاء کی چتھاڑ میں بڑ ے بڑے مرد گھبراجاتے ہیں نہ کہ عورت نہ کہ کمسن نہ کہ پردہ نشین نہ کہ ناکتخدا نہ کہ ایسے بھنورے کی پلی جسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس کے دروازے کے سامنے کس کا مکان ہے نہ کہ ایسی گلفشانیاں یہ حرف گیریاں نہ کہ کلیوں کے خون تك کاصفائی سے بیانیہ سب اس کی آزاد بیباك طبیعت کے چہچہے تھےپھر اسے اتنا کہنا کیا محال تھا کہ بھائی بوستاں خاں !میں نے تمہیں وکیل نکاح کیا غرض یہاں مدعائے مدعی کے خلاف کوئی قرینہ نہیں بلکہ قرائن بھی اس کی طرف ہیں۔
تنقیحات
فیصلے کے تمام اعتراضات متعلق دعوی و شہادات سے فروغ پایا اتنے مختصر لفظ تنقیحات کی نسبت بھی گذارش ہیں کہ ذی علم مجوز نے تین تنقیحیں کیں:
(۱)عصمت جہاں بیگم بالغہ کا نکاح اس کی رضا وتوکیل سے ہوا یا نکاح نہ ہوا اور وہ نابالغہ تھی اورحسن رضاخاں اس کا کفو نہ تھا۔
(۲)آیا پیش از نکاح بیڑا ہوا۔
(۳)آیا مدعا علیہا اپنے باپ کے گھر سے تنہا پیدل رات کو آئی یا بالجبر بھگالی گئی۔پچھلی دوتنقیحوں پر تجویز
تنقیحات
فیصلے کے تمام اعتراضات متعلق دعوی و شہادات سے فروغ پایا اتنے مختصر لفظ تنقیحات کی نسبت بھی گذارش ہیں کہ ذی علم مجوز نے تین تنقیحیں کیں:
(۱)عصمت جہاں بیگم بالغہ کا نکاح اس کی رضا وتوکیل سے ہوا یا نکاح نہ ہوا اور وہ نابالغہ تھی اورحسن رضاخاں اس کا کفو نہ تھا۔
(۲)آیا پیش از نکاح بیڑا ہوا۔
(۳)آیا مدعا علیہا اپنے باپ کے گھر سے تنہا پیدل رات کو آئی یا بالجبر بھگالی گئی۔پچھلی دوتنقیحوں پر تجویز
دی ہے کہ سوا محمد حسن خاں کے کوئی شہادت نسبت امر دوم نہ گزری شہادت مذکورہ صحیح ہوتی تو بوجہ عدم کفایت کالعدم تھی پس امر دوم بھی غیر ثابت ہے اور امر سوم بھی کوئی ثبوت سوا ایك حصہ بیان شفیع حیدر خاں کے پیش نہ ہوا وہ بھی غیر ثابت ہے اگر شہادت صحیح بھی گزرتی تو بوجہ عدم کفایت کالعدم ہوتیہماری رائے میں اولا امراخیر کی تنقیح قائم کرنی اوراس پر تجویز دینی ہی محض فضول تھیاس محکمہ میں حسن رضاخاں کی طرف سے دعوی نکاح ورخصت تھا نہ کہ عصمت جہاں بیگم کی طرف سے دعوی جرمتو آنا بخوشی ہو ایا بالجبر اس کی بحث یہاں محض بیکارتھیآنا درکنار خود نکاح اگر بالجبر ہوصحیح و نافذ ہے کہ نکاح و طلاق میں اکراہ ان کی صحت میں مخل نہیں۔درمختا ر کتاب الاکراہ میں ہے:
صح نکاحہ وطلاقہ وعتقہ الخ۔ اس کا نکاحطلاق اور عتق صحیح ہے الخ(ت)
ثانیا:تنقیح دوم اس سے زیادہ عبث و لغو تھی کہ نکاح میں بیڑاہونے نہ ہونے کو تو اصلا دخل ہی نہیں کیا اگر بیڑا پہلے ہوجاتا تو نکاح صحیح وجائز تھا۔نہ ہوتا تو نہ تھا پھر اسے معرض بحث میں لانا اور اس پر تجویز سنانا یعنی چہ۔
ثالثا: ان دو بیکار تنقیحوں کی جگہ پہلی تنقیح کے ہی دو جز اخیر کو یعنی عصمت جہاں بیگم کا نابالغہ ہوناحسن رضاخاں کا اس کے لئے کفونہ ہونا مستقل تنقیحیں کرنا تھا کہ نفس حکم میں شرعا ان باتوں کو دخل عظیم تھا مگر وہ ایك بے التفاتی کے ساتھ پہلی تنقیح میں ضمنا ذکر کردی گئیں اور مطلقا ان کی نسبت تحریر فرمادیا کہ ثبوت ذمہ مدعی و تردید ذمہ مدعا علیہاحالانکہ ان میں جزء اخیر یعنی عدم کفائت کا بار ثبوت ذمہ مدعا علیہا تھا وہ اس میں مدعیہ تھی کہ اصل کفاءت ہے لان الناس بنواب وام(کیونکہ تمام لوگ باپ اور ماں کی اولاد ہیں۔ت)
رابعا: فیصلہ میں ان دونوں ضروری جزء تنقیح کی نسبت کسی تجویز کا ذکرنہیں عدم کفاءت کا تو کوئی ثبوت عصمت جہاں بیگم کی طرف سے نہ گزرا وہ قابل ثبوت تھی بلکہ وہ کاغذات دیکھنے میں آئے ہیں جن سے معاملہ عدم کفاءت بالعکس معلوم ہوتا ہے یعنی عصمت جہاں بیگم بہ نسبت حسن رضاخاں کے بہت کم قوم ہے اور ضرور ذی علم مجوز نے بھی اس کی یہ مہمل بات ناقابل التفات جانی اور خود اس کی طرف سے ا س کی بحث سے مطلق سکوت نے ظاہر کردیا کہ وہ صرف برائے گفتن کچھ الفاظ تھے جن کے نیچے معنی نہ تھی بلوغ کے بارے میں مسل میں نظیرن ومحبوبن دائیوں کے اظہار ہیں جن میں وہ لکھاتی ہیں کہ عصمت جہاں بیگم جس کو ہم نے
صح نکاحہ وطلاقہ وعتقہ الخ۔ اس کا نکاحطلاق اور عتق صحیح ہے الخ(ت)
ثانیا:تنقیح دوم اس سے زیادہ عبث و لغو تھی کہ نکاح میں بیڑاہونے نہ ہونے کو تو اصلا دخل ہی نہیں کیا اگر بیڑا پہلے ہوجاتا تو نکاح صحیح وجائز تھا۔نہ ہوتا تو نہ تھا پھر اسے معرض بحث میں لانا اور اس پر تجویز سنانا یعنی چہ۔
ثالثا: ان دو بیکار تنقیحوں کی جگہ پہلی تنقیح کے ہی دو جز اخیر کو یعنی عصمت جہاں بیگم کا نابالغہ ہوناحسن رضاخاں کا اس کے لئے کفونہ ہونا مستقل تنقیحیں کرنا تھا کہ نفس حکم میں شرعا ان باتوں کو دخل عظیم تھا مگر وہ ایك بے التفاتی کے ساتھ پہلی تنقیح میں ضمنا ذکر کردی گئیں اور مطلقا ان کی نسبت تحریر فرمادیا کہ ثبوت ذمہ مدعی و تردید ذمہ مدعا علیہاحالانکہ ان میں جزء اخیر یعنی عدم کفائت کا بار ثبوت ذمہ مدعا علیہا تھا وہ اس میں مدعیہ تھی کہ اصل کفاءت ہے لان الناس بنواب وام(کیونکہ تمام لوگ باپ اور ماں کی اولاد ہیں۔ت)
رابعا: فیصلہ میں ان دونوں ضروری جزء تنقیح کی نسبت کسی تجویز کا ذکرنہیں عدم کفاءت کا تو کوئی ثبوت عصمت جہاں بیگم کی طرف سے نہ گزرا وہ قابل ثبوت تھی بلکہ وہ کاغذات دیکھنے میں آئے ہیں جن سے معاملہ عدم کفاءت بالعکس معلوم ہوتا ہے یعنی عصمت جہاں بیگم بہ نسبت حسن رضاخاں کے بہت کم قوم ہے اور ضرور ذی علم مجوز نے بھی اس کی یہ مہمل بات ناقابل التفات جانی اور خود اس کی طرف سے ا س کی بحث سے مطلق سکوت نے ظاہر کردیا کہ وہ صرف برائے گفتن کچھ الفاظ تھے جن کے نیچے معنی نہ تھی بلوغ کے بارے میں مسل میں نظیرن ومحبوبن دائیوں کے اظہار ہیں جن میں وہ لکھاتی ہیں کہ عصمت جہاں بیگم جس کو ہم نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الاکراہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۷€
ابھی دیکھا ہے عرصہ ڈھائی تین سال سے بالغ ہےمجوز نے سوال فرمایا کہ بلوغ کے آثار بتاؤاس پر جواب دیا کہ جوان عورت کی چھاتیاں پوری ہوتی ہیں چنانچہ اس کی چھاتیاں پوری ہیں عارضہ جوعورات کو ہوتا ہے وہ عارضہ بھی اس کو موجود ہےاور اسی قسم کا ایك بیان بوستاں خاں نے اپنے اظہارمیں کیا ہے وہ کہتا ہے علامات بلوغ کے میں نے دیکھے ہیں کیونکہ وہ میرے سامنے آئی تھی اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ وہ بالغ ہے وہ جسیم عورت تھی اور سینہ کی چوڑائی وغیرہ اور جسم اس کامعمولی عورت سے زیادہ تھا اور چھاتیاں اس کی مثل انار بڑے کے تھیں نکاح ہونے کے بعد دیکھی تھی یہاں اعتراض کو گنجائش تھی کہ جب ذی علم مجوز نے دائیوں کے اس بیان پر کہ وہ ڈھائی تین سال سے بالغہ ہے قناعت نہ کی تھی تو انہوں نے جو علامات بتائیں بدرجہ اولی قابل قناعت نہ تھیں پستان کا ابھار شرعا مثبت بلوغ نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحیۃ واما نھود الثدی فذکر الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃ وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الھا ملی ابوالسعود و کذا شعر الساق والابط والشارب ۔ زیر ناف بالوں یا داڑھی اگنے کا اعتبار نہیں لیکن پستانوں کا ابھرناتو حموی نے ذکرکیا ہے کہ اس سے بلوغ کا حکم نہ کیا جائے گا ظاہر روایت میںیوں آواز کا ثقل بھی جیسا کہ شرح نظم الہاملی ابوسعود میں ہے اور یوں ہی پنڈلیبغل اور مونچھوں کے بال کا حکم ہے(ت)
اور عورتوں کاعارضہ نہیں معلوم انہوں نے حیض کو کہا یا کسی اورعارضہ نسائی کوشہادت میں ایسی گول بات نہیں لی جاتی تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس کا بالغہ ہونا ذی علم مجوز کو تسلیم ہے جب تو اس کی توکیل پر صحت نکاح کو موقوف فرمایا ورنہ نابالغہ کی توکیل وعدم توکیل یکساں ہے اور جب یہ دونوں بحثیں ذی علم مجوز کے نزدیك طے شدہ تھیں اور بیشك ثبوت نکاح وتوکیل پر کافی شہادتیں گزرگئیںصرف شہادت توکیل میں اتنا قصور خود منجانب مجوز باقی رہا کہ عصمت جہاں بیگم کو جلال خاں کے سامنے لاکر منہ دکھا کر شناخت کرائی جاتیاگر وہ شناخت کردیتا مقدمہ اس روش پر جو آج کل اسلامی ریاستوں اور خود رام پور میں شائع ہورہی ہے بہمہ وجوہ مکمل ہوجاتا اور فیصلہ بحق مدعی لازم تھا۔بالجملہ فیصلہ ناتمام وناقص اور سراسر پیش از وقت ہےاور جتنی وجوہ شہادات مدعی و ثبوت دعوی پر اعتراض فرمائے ہیں سب بے اصل ہیںمقدمہ اس تکمیل کا محتاج ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اور اس کے بعد فیصلہ بحق مدعی ہونا لازم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحیۃ واما نھود الثدی فذکر الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃ وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الھا ملی ابوالسعود و کذا شعر الساق والابط والشارب ۔ زیر ناف بالوں یا داڑھی اگنے کا اعتبار نہیں لیکن پستانوں کا ابھرناتو حموی نے ذکرکیا ہے کہ اس سے بلوغ کا حکم نہ کیا جائے گا ظاہر روایت میںیوں آواز کا ثقل بھی جیسا کہ شرح نظم الہاملی ابوسعود میں ہے اور یوں ہی پنڈلیبغل اور مونچھوں کے بال کا حکم ہے(ت)
اور عورتوں کاعارضہ نہیں معلوم انہوں نے حیض کو کہا یا کسی اورعارضہ نسائی کوشہادت میں ایسی گول بات نہیں لی جاتی تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس کا بالغہ ہونا ذی علم مجوز کو تسلیم ہے جب تو اس کی توکیل پر صحت نکاح کو موقوف فرمایا ورنہ نابالغہ کی توکیل وعدم توکیل یکساں ہے اور جب یہ دونوں بحثیں ذی علم مجوز کے نزدیك طے شدہ تھیں اور بیشك ثبوت نکاح وتوکیل پر کافی شہادتیں گزرگئیںصرف شہادت توکیل میں اتنا قصور خود منجانب مجوز باقی رہا کہ عصمت جہاں بیگم کو جلال خاں کے سامنے لاکر منہ دکھا کر شناخت کرائی جاتیاگر وہ شناخت کردیتا مقدمہ اس روش پر جو آج کل اسلامی ریاستوں اور خود رام پور میں شائع ہورہی ہے بہمہ وجوہ مکمل ہوجاتا اور فیصلہ بحق مدعی لازم تھا۔بالجملہ فیصلہ ناتمام وناقص اور سراسر پیش از وقت ہےاور جتنی وجوہ شہادات مدعی و ثبوت دعوی پر اعتراض فرمائے ہیں سب بے اصل ہیںمقدمہ اس تکمیل کا محتاج ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اور اس کے بعد فیصلہ بحق مدعی ہونا لازم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحجر فصل بلوغ الغلام بالاحتلام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹۷€
مسئلہ۸۴: ازلاہور محلہ بازارحکیماں مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی ۲۳/شعبان ۱۳۲۳ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس قاضی کو تقلید قضا از جانب سلطان وقت یا از جانب عام رعایا حاصل ہوا اور وہ ازجانب مقلد خود ماذون بخلافت ونیابت بھی ہو وہ قاضی حاکم عدالت شریعت کو کسی مقدمہ خاص میں یہ تحریر لکھیں حال یہ کہ وہ حاکم عدالت شریعت بھی قاضی کے ماتحتوں میں سے ایك حاکم ہے(کہ اگر ہمشیرگان زید کا حصہ مال زید میں ہو تو بعد تحقیق دلایاجائے)اور بعد چند روز حاکم مذکور کو یہ تحریر بھیجے کہ فلاں مقدمہ کافیصلہ بہت جلدی کرکے حکمنامہ بعجلت میرے حضور میں پیش کریں پس حاکم شریعت نے بعد تحقیقات شرعی باتفاق مفتیان عدالت کل عذرات مدعا علیہ دفع کرکے ہمشیرگان زید کو متروکہ زید میں ڈگری دلائیاب یہ امر دریافت ہے کہ اس ڈگری دلانے کو حکم قاضی کہنا چاہئے یا کیااور اس حکم مجمع علیہ کو تاوقتیکہ خلاف کتاب اﷲ وسنت مشہورہ واجماع نہ ہو خودحاکم شریعت مذکور یا قاضی دیگر اس کا نقض کرسکتا ہے شرعا بعد ایك زمانہ کے یانہیںاور اگر حاکم مذکور نے حکم مذکور نقض کرکے خلاف حکم اول حکم دے دیا تو قابل اجراء شرعا حکم اول رہے گا یاثانی۔
سوال دوم:ایك شخص رئیس ریاست اسلام ہے جس کو عزل ونصب اہلکار وعمالان ریاست کا اختیار حاصل ہے اور اس کو قاضی ماذون بالخلافت بھی کہہ سکتے ہیں اس رئیس نے کسی ایسے شخص کو جو اس رئیس کا نائب فی التحریر ہے یہ حکم دیا کہ یہ شخص فلاں مقدمہ کا فیصلہ شرعی کردے اس حکم کے بعد اس نائب نے اس مقدمہ میں فیصلہ شرعی کردیا پس دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ نائبرئیس کے اس حکم دینے کے بعد نیابت فی القضا کا مصداق ہوسکتا ہے یانہیں اور اس نائب کا حکم شرعی دیا ہوابجائے حکم رئیس کے ہے یانہیںنقض اس حکم کا رئیس یا وہ خود نائب کرسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب :
(۱)والی ملك رئیس خود مختار حاکم اسلام یا بحال حسب روایات جامع الفصولین وتتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا اتفاق رعایا سے قاضی مطلق بنایا ہوا یا ان کا مقلد قاضی ماذون بالاستخلاف جس مقدمہ میں کسی اہل قضا کے فیصلہ کا حکم دے وہ فیصلہ فیصلہ قاضی شرع ہے کسی کو اس کے نقض کا اختیار نہیں مگر جبکہ اپنے مذہب معتمد مفتی بہ کے خلاف واقع ہواہو تو منقوض ہوگا بلکہ راسا صحیح نہ ہوا اگرچہ خلاف اجماع نہ ہو۔ردالمحتار میں ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ قاضی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے صحیح ترین قول پر حکم کا مامور ہے اگر اس کے بغیر حکم کیا تو وہ حکم صحیح نہ ہوگا۔(ت)
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس قاضی کو تقلید قضا از جانب سلطان وقت یا از جانب عام رعایا حاصل ہوا اور وہ ازجانب مقلد خود ماذون بخلافت ونیابت بھی ہو وہ قاضی حاکم عدالت شریعت کو کسی مقدمہ خاص میں یہ تحریر لکھیں حال یہ کہ وہ حاکم عدالت شریعت بھی قاضی کے ماتحتوں میں سے ایك حاکم ہے(کہ اگر ہمشیرگان زید کا حصہ مال زید میں ہو تو بعد تحقیق دلایاجائے)اور بعد چند روز حاکم مذکور کو یہ تحریر بھیجے کہ فلاں مقدمہ کافیصلہ بہت جلدی کرکے حکمنامہ بعجلت میرے حضور میں پیش کریں پس حاکم شریعت نے بعد تحقیقات شرعی باتفاق مفتیان عدالت کل عذرات مدعا علیہ دفع کرکے ہمشیرگان زید کو متروکہ زید میں ڈگری دلائیاب یہ امر دریافت ہے کہ اس ڈگری دلانے کو حکم قاضی کہنا چاہئے یا کیااور اس حکم مجمع علیہ کو تاوقتیکہ خلاف کتاب اﷲ وسنت مشہورہ واجماع نہ ہو خودحاکم شریعت مذکور یا قاضی دیگر اس کا نقض کرسکتا ہے شرعا بعد ایك زمانہ کے یانہیںاور اگر حاکم مذکور نے حکم مذکور نقض کرکے خلاف حکم اول حکم دے دیا تو قابل اجراء شرعا حکم اول رہے گا یاثانی۔
سوال دوم:ایك شخص رئیس ریاست اسلام ہے جس کو عزل ونصب اہلکار وعمالان ریاست کا اختیار حاصل ہے اور اس کو قاضی ماذون بالخلافت بھی کہہ سکتے ہیں اس رئیس نے کسی ایسے شخص کو جو اس رئیس کا نائب فی التحریر ہے یہ حکم دیا کہ یہ شخص فلاں مقدمہ کا فیصلہ شرعی کردے اس حکم کے بعد اس نائب نے اس مقدمہ میں فیصلہ شرعی کردیا پس دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ نائبرئیس کے اس حکم دینے کے بعد نیابت فی القضا کا مصداق ہوسکتا ہے یانہیں اور اس نائب کا حکم شرعی دیا ہوابجائے حکم رئیس کے ہے یانہیںنقض اس حکم کا رئیس یا وہ خود نائب کرسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب :
(۱)والی ملك رئیس خود مختار حاکم اسلام یا بحال حسب روایات جامع الفصولین وتتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا اتفاق رعایا سے قاضی مطلق بنایا ہوا یا ان کا مقلد قاضی ماذون بالاستخلاف جس مقدمہ میں کسی اہل قضا کے فیصلہ کا حکم دے وہ فیصلہ فیصلہ قاضی شرع ہے کسی کو اس کے نقض کا اختیار نہیں مگر جبکہ اپنے مذہب معتمد مفتی بہ کے خلاف واقع ہواہو تو منقوض ہوگا بلکہ راسا صحیح نہ ہوا اگرچہ خلاف اجماع نہ ہو۔ردالمحتار میں ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ قاضی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے صحیح ترین قول پر حکم کا مامور ہے اگر اس کے بغیر حکم کیا تو وہ حکم صحیح نہ ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۶€
درمختار میں ہے:
لایخیر الا اذا کان مجتہدا بل المقلد متی خالف معتمد مذہبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھوالمختار للفتوی کما بسطہ المصنف فی فتاواہ وغیرہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اختیار نہ ہوگا مگر مجتہد کو بلکہ مقلد جب اپنے قابل اعتماد مذہب کے خلاف حکم کرے گا تو وہ نافذ نہ ہوگا اور اس کو کالعدم قرار دیا جائے گایہی فتوی کیلئے مختار ہے جیسا کہ مصنف وغیرہ نے اس کو اپنے فتاوی میں مبسوط کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
(۲)فی الواقع وہ حکم میں استجماع شرائط صحت منقوض نہیں ہوسکتا ہاں اگر خلاف مذہب معتمد ہو رد کردیا جائے گا اور نفاذ نہ پائے گا فتاوی علامہ قاسم بن قطلوبغا میں ہے:
لیس للقاضی المقلد ان یحکم بالضعیف ولو حکم لاینفذ اھ مختصرا وتمامہ فی فتاونا۔واﷲ تعالی اعلم۔ مقلد قاضی کو جائز نہیں کہ وہ ضعیف قول پر حکم دے اوراگر اس نے ایسا کیا تو نافذ نہ ہوگا اھ مختصرا اور اس کی مکمل بحث ہمارے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۶: ازریاست رام پور محلہ ٹھوٹر مرسلہ محمد رفیق خاں ۱۱/شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمقدمہ عبدالعلی خاں ولدمحمد عمر خان بنام محمد رفیق خاں ولد محمد سعید خاں حاکم دیوانی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ مع نقول اظہارات گواہان فریقین حاضر ملاحظہ ہے یہ فیصلہ شرعا صحیح وقابل بحالی ہے یا باطل وقابل منسوخی بینواتوجروا۔
الجواب:
کاغذات نظر سے گزرے یہ فیصلہ محض مہمل ومختل واقع ہواعبدالعلی خاں نے وقت رجسٹری عندالبائع والمشتری طلب مواثبت واشہاد کا دعوی کیا رفیق خاں کا جو بیان مندرج فیصلہ ہے اس میں اس طلب کا نہ انکار نہ اقرار بلکہ جواب دعوی اس امر پر مبتنی ہے کہ مدعی کو قبل رجسٹری علم بالبیع ہوچکا اور اس نے نہ فقط تسلیم کیا بلکہ صراحۃ لینے سے انکار کردیایہاں جو مسئلہ اسناد الی الماضی فیصلہ میں مذکور ہوا اور اس میں شفیع کا مدعی ہونا ذکرکیا اس مسئلہ کے فہم میں سخت لغزش واقع ہوئی طلب خصومت سے پیشترکی طرف
لایخیر الا اذا کان مجتہدا بل المقلد متی خالف معتمد مذہبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھوالمختار للفتوی کما بسطہ المصنف فی فتاواہ وغیرہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اختیار نہ ہوگا مگر مجتہد کو بلکہ مقلد جب اپنے قابل اعتماد مذہب کے خلاف حکم کرے گا تو وہ نافذ نہ ہوگا اور اس کو کالعدم قرار دیا جائے گایہی فتوی کیلئے مختار ہے جیسا کہ مصنف وغیرہ نے اس کو اپنے فتاوی میں مبسوط کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
(۲)فی الواقع وہ حکم میں استجماع شرائط صحت منقوض نہیں ہوسکتا ہاں اگر خلاف مذہب معتمد ہو رد کردیا جائے گا اور نفاذ نہ پائے گا فتاوی علامہ قاسم بن قطلوبغا میں ہے:
لیس للقاضی المقلد ان یحکم بالضعیف ولو حکم لاینفذ اھ مختصرا وتمامہ فی فتاونا۔واﷲ تعالی اعلم۔ مقلد قاضی کو جائز نہیں کہ وہ ضعیف قول پر حکم دے اوراگر اس نے ایسا کیا تو نافذ نہ ہوگا اھ مختصرا اور اس کی مکمل بحث ہمارے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۶: ازریاست رام پور محلہ ٹھوٹر مرسلہ محمد رفیق خاں ۱۱/شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمقدمہ عبدالعلی خاں ولدمحمد عمر خان بنام محمد رفیق خاں ولد محمد سعید خاں حاکم دیوانی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ مع نقول اظہارات گواہان فریقین حاضر ملاحظہ ہے یہ فیصلہ شرعا صحیح وقابل بحالی ہے یا باطل وقابل منسوخی بینواتوجروا۔
الجواب:
کاغذات نظر سے گزرے یہ فیصلہ محض مہمل ومختل واقع ہواعبدالعلی خاں نے وقت رجسٹری عندالبائع والمشتری طلب مواثبت واشہاد کا دعوی کیا رفیق خاں کا جو بیان مندرج فیصلہ ہے اس میں اس طلب کا نہ انکار نہ اقرار بلکہ جواب دعوی اس امر پر مبتنی ہے کہ مدعی کو قبل رجسٹری علم بالبیع ہوچکا اور اس نے نہ فقط تسلیم کیا بلکہ صراحۃ لینے سے انکار کردیایہاں جو مسئلہ اسناد الی الماضی فیصلہ میں مذکور ہوا اور اس میں شفیع کا مدعی ہونا ذکرکیا اس مسئلہ کے فہم میں سخت لغزش واقع ہوئی طلب خصومت سے پیشترکی طرف
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی علامہ قاسم بن قطلوبغا کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۳۵€
ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی علامہ قاسم بن قطلوبغا کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۳۵€
اسناد علم وہ اسناد الی الماضی نہیں کہ اس قدر سے تو شفیع کو چارہ نہیںاگر عین وقت خصومت عندالقاضی اپنا علم بالبیع بیان کرے اور شفعہ کا مدعی باطل ہوجائے گا کہ اس نے طلب مواثبت واشہاد دونوں چھو ڑ کر طلب خصومت سے آغاز کیا اور طلب واحد کو تینوں طلب کے قائم مقام کیاچاہتا ہے یہ باطل ومبطل شفعہ ہے کما بینہ المولی خیرالدین الرملی فی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ (جیساکہ اس کا آقا خیر الدین الرملی نے فتاوی خیریہ لنفع البریۃ میں ذکر کیا ہے۔ت)بلکہ وہ اسناد الی ماقبل الاشہاد ہے اگر شفیع کہے کہ اشہاد سے پہلے مجھے علم نہ ہوا تھا تو یمین کے ساتھ مصدق ہوگا اورمشتری پر بینہ اور اگر کہے کہ اس سے پہلے مجھے علم ہوا اور میں نے طلب مواثبت کی توشفیع پر بینہ کما حققناہ فیما علقناہ علی رد المحتار (جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگر یہاں یہ مسئلہ اصلا زیر بحث نہیں کہ طلب مواثبت واشہاد عند البائع والمشتری کا اقرار انکار مدعا علیہ نے کچھ نہ کیا یہ سکوت ہے اورمذہب اصح میں سکوت بے آفت بھی انکار ہےدرمختار میں ہے:
لوسکت کان انکارافتسمع البینۃ علیہ الا ان یکون اخرساختیار ۔ اگر خاموش ہوا تو انکار ہوگا جس پر گواہی سنی جائیگی لیکن اگر گونگا ہو تو پھر انکار نہیںالاختیار۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وبہ افتیت لما ان الفتوی علی قول الثانی فیما یتعلق بالقضاء ۔ میں نے اسی پر فتوی دیاکیونکہ قضاء کے متعلق امام ابویوسف کے قول پر فتوی ہوتا ہے(ت)
تو صورت دائرہ میں مدعی علی حالہ مدعی رہا اور بار ثبوت اسی پر ہوا اور اتنا خود مجوز کو بھی تسلیم ہے اگرچہ اس کی وجہ دوسری سمجھی تو مدار مقدمہ بینہ مدعی سے ثبوت دعوی پررہا اب اس کے گواہوں پر نظر ڈالئے تو ایك گواہی بھی اصلا اس کے مفید نہیں سید عطا ءالحق ومحمد علی خان تو بالکل خلاف دعوی وخلاف واقع شہادت دے رہے ہیں زمین بے عمارت بیع ہوئی اور اسی پر شفیع نے دعوی کیا مکان مشتری نے بعد شراء بنایا اور یہ دونوں گواہ شفیع کی طلب اس لفظ سے بیان کر رہے ہیں کہ مکان
لوسکت کان انکارافتسمع البینۃ علیہ الا ان یکون اخرساختیار ۔ اگر خاموش ہوا تو انکار ہوگا جس پر گواہی سنی جائیگی لیکن اگر گونگا ہو تو پھر انکار نہیںالاختیار۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وبہ افتیت لما ان الفتوی علی قول الثانی فیما یتعلق بالقضاء ۔ میں نے اسی پر فتوی دیاکیونکہ قضاء کے متعلق امام ابویوسف کے قول پر فتوی ہوتا ہے(ت)
تو صورت دائرہ میں مدعی علی حالہ مدعی رہا اور بار ثبوت اسی پر ہوا اور اتنا خود مجوز کو بھی تسلیم ہے اگرچہ اس کی وجہ دوسری سمجھی تو مدار مقدمہ بینہ مدعی سے ثبوت دعوی پررہا اب اس کے گواہوں پر نظر ڈالئے تو ایك گواہی بھی اصلا اس کے مفید نہیں سید عطا ءالحق ومحمد علی خان تو بالکل خلاف دعوی وخلاف واقع شہادت دے رہے ہیں زمین بے عمارت بیع ہوئی اور اسی پر شفیع نے دعوی کیا مکان مشتری نے بعد شراء بنایا اور یہ دونوں گواہ شفیع کی طلب اس لفظ سے بیان کر رہے ہیں کہ مکان
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الشفعۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۵۴€
درمختار کتاب الدعوی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۵€
بحرالرائق کتاب الشفعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۰۳€
درمختار کتاب الدعوی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۵€
بحرالرائق کتاب الشفعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۰۳€
محمد توفیق خاں نے جولیا ہے میں نے اپنے شفعہ میں لیا اس مکان کا میں شفیع ہوں۔فیاض خاں کہتا ہے کہ اسد علی خاں یعنی بائع نے کاغذ رجسٹرار کے سامنے پیش کیا رجسٹرار صاحب نے کاغذ پڑھ کر سنایا تو عبدالعلی خاں نے کہا کہ رفیق خاں نے جو زمین بیچی ہے میں نے اپنے شفعہ میں لیاور بیان کرتا ہے کہ کاغذ رجسٹرار صاحب نے اول سے آخر تك مدعی مدعا علیہ کو سنایا تھا یہاں طلب شفیع کو سنانے پر مرتب کرتا ہے اور سنانا اول سے آخر تك کہتا ہے تو مواثبت کا ثبوت درکنار ظاہرا مواثبت فوت ہوئی غالبا انہیں وجوہ سے ذی علم مجوز نے بھی ان تین گواہوں کو نظر انداز کیا اگرچہ نہایت قابل افسوس یہ بات ہے کہ یہ گواہان مدعی ہوکر خود ان کے مقر اور بیان مدعا علیہ کے موافق شہادت دے رہے ہیں اسے نظر انداز کرنا قرین انصاف نہ تھا کچھ بیان اس کا عنقریب آئیگا ان شاء اﷲ تعالیرہے تین گواہ اور فیصلہ کا سارا دار ومدار انہیں پر ہے ان میں رجسٹرار صاحب کی گواہی تومحض کالعدم ہے وہ طلب مدعی کے وقت بائع ومشتری کا موجودہونا ضروربیان کرتے ہیں مگر ان لفظوں کا نہ کہ ان کے مصداق کا۔ شہادت وہ ہے جو اپنے علم سے ناشی ہو اور وہ اتنا بھی نہیں کہتے کہ بائع ومشتری اگر میرے سامنے آئیں تو ان کو شناخت کرلوں گا بلکہ اسے بھی اس شرط پر مشروط کرتے ہیں کہ اگر یاد آگئے تو شناخت کرلوں گا پھر مدعی نے نہ ان سے شناخت کرانے کی کوشش کی نہ ظاہر ہوا کہ انہیں یاد آئے یا نہیں تو ایسی گواہی محض پادر ہوا ہے وقت رجسٹری نسبت حاضری تسلیم مشتری ہرگز اس کا اقرار نہیں کرتا کہ شفیع نے میرے سامنے طلب کی رجسٹری امر آنی نہیں امر ممتدزمانی ہےاس ناقص گواہی کی تکمیل ذمہ مدعی تھی وکلائے مدعا علیہ پر کیا ضرور تھا کہ گواہی مدعی کے رفع نقصان کی درخواست کرتے تو فیصلہ کی یہ تحریر کہ رجسٹرار صاحب کی بابت نسبت شناخت عاقدین کے وکیل مدعا علیہ نے کوئی درخواست پیش نہیں کی اور سکوت کیا تو یہ سکوت دلیل تسلیم کی ہےنہایت عجیب ہےجب گواہی مخالف میں صریح نقص موجود ہے تو سکوت کیا تو سکوت اس بنا پر ہوگا کہ وہ خود ہی ناقص و نامکمل ہے ہمیں اس گفتگو کی کیاحاجتنہ یہ کہ سکوت کیجئے تو ناقص کو کامل مان لیجئے یہ کون ساقاعدہ عقل یا نقل کا ہےنہیں نہیں بلکہ یوں کہئے کہ گواہی محض نامکمل تھی اور اس کی تکمیل اپنے نفع کےلئے مدعی پر لازم تھی تو مدعی کا سکوت صاف دلیل ہے کہ وہ اس کی تکمیل سے عاجز تھا یا کم از کم اس کو مکمل کرنا نہ چاہا اور ناقابل اسناد رکھا بلکہ غور کیجئے تو غالبا صاف ثابت ماننا پڑے کہ رجسٹرارصاحب کو نہ عاقدین یاد آئے نہ ان کی شناخت کرسکےاظہارات سے ظاہر ہے کہ وہ بمواجہہ عاقدین لئے گئے متعدد گواہوں نے ان حاضرین کواشارہ سے بتایا رجسٹرار صاحب اگر پہچان سکتے تو صاف کہتے کہ وہ دونوں یہ ہیں مولوی نعمت اﷲنے اتنا بھی نہ کہا کہ طلب مدعی کے وقت بائع ومشتری موجود تھے صرف اس قدر کہا کہ یہ یاد نہیں کہ سوا ملازمین رجسٹری اوربائع ومشتری اور عبدالعلی خاں کے کوئی اوراس وقت تھا یانہیں
قطع نظر اس سے کہ یہاں بائع ومشتری مستثنی میں ہیں اور جمہور حنفیہ کے نزدیك مشتثنی سکوت عنہ ہوتا ہے اور سکوت بیان نہیں تو بائع ومشتری کی نسبت گواہ کو کچھ یاد ہونا اصلا ثابت نہ ہوا یہاں جب گواہ نے یہ کہا کہ یاد نہیں کہ کوئی اور تھا یا نہیںتو اس"یانہیں"نے حکم کو مردود کردیا اور یہ استثناء حکم مردود سے ٹھہرا جس کا حاصل یہ ہوا کہ مستثنے لوگوں کی نسبت احدالامرین یاد ہےہونا یانہ ہونانہ یہ کہ خاص ہونا یاد ہےاس کی تو زیع یوں ہوسکتی ہے کہ ملازمین رجسٹری کی نسبت ہونا یاد ہو اور بائع ومشتری کی نسبت نہ ہونا پس دونوں مذہب پر یہ شہادت بالاتفاق مہمل وناکافی ہے معہذا مولوی نعمت اﷲکا بیان صراحۃ مدعی ودیگر گواہان مدعی کی تکذیب کرتا ہے وہ لفظ طلب یہ بیان کرتا ہے کہ صاحبو تم گواہ رہناکہ یہ بیعہ میں نے اپنے شفعہ میں لیا اور صاف تصریح کرتا ہے کہ یہ لفظ کہے تھے یعنی نقل بالمعنی نہیں نقل باللفظ ہےاور اسی پر قناعت نہ کی بلکہ صریح حصر کردیا کہ یہی لفظ کہے تھے حالانکہ مدعی و دیگر گواہان سب کے بیان میں لفظ طلب ان کے غیر اور ان سے زائد ہیںنیاز علی خاں کی گواہی اگر صاف بھی ہوتی تو ایك تنہا کیا قابل سماعت تھی مگر اس نے صرف عبدالعلی خاں کہا ہے مجرد اسم کے سوا کوئی تعیین تمیز کا بیان نہ کیا نہ وقت اظہار اس کو اشارہ سے بتایا یہ اعتراض نہ تنہا اس پر بلکہ باقی سب گواہوں پر بھی ہے فریقین میں کسی نہ کسی کی تعیین ہر ایك کے اظہار میں متروك ہوئی ہے اور شرعا ایسی نامعین گواہی معتبر نہیںائمہ کرام تو حاضر پر اشارہ شرط بتاتے ہیں۔عالمگیری میں ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی الحاضرالی الاشارۃ الی المدعی علیہ والمدعی الخ ۔ کسی حاضر پر شہادت میں مدعی یا مدعی علیہ کی طرف اشارہ ضروری ہے الخ(ت)۔
اور آج کل عامیانہ روش میں جو تو صیف بلفظ مدعی و مدعا علیہ پر قناعت کی جاتی ہے ان شہود نے یہ لفظ بھی بعض فریقین کی نسبت نہ کہے تو صرف نام کیا کافی ہوسکتا ہے عبدالعلی خاں ہزاروں ہیں بالجملہ گواہان مدعی میں اصلا کوئی گواہی قابل التفات نہیںتو یہاں اس مسئلہ سے استناد کہ بینہ مشتری سے بینہ شفیع اولی ہے محض باطل و بے معنی ہے پہلے بینہ ہو بھی تولے جب تو اولویت وعدم اولویت میں بحث کی جائے۔علاوہ بریں روایات منقولہ فیصلہ اس صورت میں ہیں کہ جب یہ دعوی طلب کرے اور وہ انکار کہ اس کو علم ہوا اور طلب نہ کی فیصلہ میں درمختار سے منقول کیا:
انکرالمشتری طلب المواثبۃ فانہ یحلف علی العلم وان انکر طلب مشتری نے مواثبہ کے طلب سے انکار کیا تو علم کے متعلق حلف لیاجائے اور اگر گواہی کے
یحتاج فی الشہادۃ علی الحاضرالی الاشارۃ الی المدعی علیہ والمدعی الخ ۔ کسی حاضر پر شہادت میں مدعی یا مدعی علیہ کی طرف اشارہ ضروری ہے الخ(ت)۔
اور آج کل عامیانہ روش میں جو تو صیف بلفظ مدعی و مدعا علیہ پر قناعت کی جاتی ہے ان شہود نے یہ لفظ بھی بعض فریقین کی نسبت نہ کہے تو صرف نام کیا کافی ہوسکتا ہے عبدالعلی خاں ہزاروں ہیں بالجملہ گواہان مدعی میں اصلا کوئی گواہی قابل التفات نہیںتو یہاں اس مسئلہ سے استناد کہ بینہ مشتری سے بینہ شفیع اولی ہے محض باطل و بے معنی ہے پہلے بینہ ہو بھی تولے جب تو اولویت وعدم اولویت میں بحث کی جائے۔علاوہ بریں روایات منقولہ فیصلہ اس صورت میں ہیں کہ جب یہ دعوی طلب کرے اور وہ انکار کہ اس کو علم ہوا اور طلب نہ کی فیصلہ میں درمختار سے منقول کیا:
انکرالمشتری طلب المواثبۃ فانہ یحلف علی العلم وان انکر طلب مشتری نے مواثبہ کے طلب سے انکار کیا تو علم کے متعلق حلف لیاجائے اور اگر گواہی کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۹€
الاشھاد حلف علی البینات ولو برھن فبینۃ الشفیع احق۔ طلب سے انکار کرے تو بینہ پر حلف لیاجائے اور اگر بینہ پیش کریں تو شفیع کا بینہ اولی ہوگا۔(ت)
نیز نقل کیا:
مشتری میگویدکہ تو روز پنجشنبہ دانستہ وطلب نکردہ قول قول مشتری بود لانہ ینکر الطلب والبینۃ علی الشفیع ۔ مشتری کہتا ہے تو نے جمعرات جان لیا اور مطالبہ نہ کیا تو مشتری کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہ طلب کا منکر ہے اور بینہ شفیع پر ہے۔(ت)
نیز عالمگیری سے لکھا:
اقام المشتری بینۃ ان الشفیع علم بالبیع ولم یطلب الشفعۃ واقام الشفیع البینۃ انہ طلب حین علم فالبینۃ بینۃ الشفیع ۔ مشتری نے گواہی پیش کی کہ شفیع نے بیع کا علم ہونے کے باوجود شفعہ کا مطالبہ نہ کیا اور شفیع نے گواہی پیش کردی کہ اس نے علم ہوجانے پر شفعہ کا مطالبہ کیا ہے تو شفیع کی گواہی معتبر ہے۔(ت)
اسی طرح بقیہ عبارت میں تصویر مسئلہ دعوی طلب وانکار طلب میں ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ نفی مجرد پر گواہی مقبول نہیں فان البینات للاثبات کما اثبتہ الائمۃ الاثبات(تو بیشك شہادت اثبات کےلئے ہوتی ہے جیسا کہ ائمہ نے اسکوثابت کرنا ہے)مگر یہاں مشتری یا اسکے گواہوں نے صرف انکار طلب پر قناعت نہ کی بلکہ صاف یہ کہا کہ بعد بیع شفیع کو اطلاع دی گئی اور اس نے لینے سے صریح انکار کیا یہ شہادت نفی نہیں شہادت اثبات ہے اور اس کی تاریخ مقدم ہے اور گواہی گواہان شفیع اس کے معارض نہیں ہوسکتی ان کا علم اس قدر کو محیط ہے جتنا شفیع سے وقت رجسٹری صادر ہوا انہوں نے ہر گز نہ کہا کہ اس سے پہلے شفیع نے لینے سے انکار نہ کیا تھا یا شفیع کو اس سے پہلے علم بالبیع نہ ہوا تھا اور نہ وہ ایسا کہہ سکتے تھے اور اگر کہتے تو مقبول نہ ہوتاکہ اب انکی شہادت شہادت
نیز نقل کیا:
مشتری میگویدکہ تو روز پنجشنبہ دانستہ وطلب نکردہ قول قول مشتری بود لانہ ینکر الطلب والبینۃ علی الشفیع ۔ مشتری کہتا ہے تو نے جمعرات جان لیا اور مطالبہ نہ کیا تو مشتری کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہ طلب کا منکر ہے اور بینہ شفیع پر ہے۔(ت)
نیز عالمگیری سے لکھا:
اقام المشتری بینۃ ان الشفیع علم بالبیع ولم یطلب الشفعۃ واقام الشفیع البینۃ انہ طلب حین علم فالبینۃ بینۃ الشفیع ۔ مشتری نے گواہی پیش کی کہ شفیع نے بیع کا علم ہونے کے باوجود شفعہ کا مطالبہ نہ کیا اور شفیع نے گواہی پیش کردی کہ اس نے علم ہوجانے پر شفعہ کا مطالبہ کیا ہے تو شفیع کی گواہی معتبر ہے۔(ت)
اسی طرح بقیہ عبارت میں تصویر مسئلہ دعوی طلب وانکار طلب میں ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ نفی مجرد پر گواہی مقبول نہیں فان البینات للاثبات کما اثبتہ الائمۃ الاثبات(تو بیشك شہادت اثبات کےلئے ہوتی ہے جیسا کہ ائمہ نے اسکوثابت کرنا ہے)مگر یہاں مشتری یا اسکے گواہوں نے صرف انکار طلب پر قناعت نہ کی بلکہ صاف یہ کہا کہ بعد بیع شفیع کو اطلاع دی گئی اور اس نے لینے سے صریح انکار کیا یہ شہادت نفی نہیں شہادت اثبات ہے اور اس کی تاریخ مقدم ہے اور گواہی گواہان شفیع اس کے معارض نہیں ہوسکتی ان کا علم اس قدر کو محیط ہے جتنا شفیع سے وقت رجسٹری صادر ہوا انہوں نے ہر گز نہ کہا کہ اس سے پہلے شفیع نے لینے سے انکار نہ کیا تھا یا شفیع کو اس سے پہلے علم بالبیع نہ ہوا تھا اور نہ وہ ایسا کہہ سکتے تھے اور اگر کہتے تو مقبول نہ ہوتاکہ اب انکی شہادت شہادت
حوالہ / References
درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۷€
فتاوی ہندیہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۴€
فتاوی ہندیہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۴€
علی النفی ہوتی وانما البینات للاثبات(حالانکہ گواہی اثبات کیلئے ہوتی ہے۔ت)یہاں اگرچہ کلام بروجہ دیگر ممکن مگر مقصود یہ ہے کہ روایات منقولہ فیصلہ یوں بھی صورت مقدمہ سے جدا ہیں نظر بروئداد ظاہر یہی ہے کہ واقع میں شفیع کو پہلے سے علم ہوچکا تھا اب کہ نگاہ عوام میں وقعت دعوی پیدا کرنے کےلئے اس کا منتظر رہا کہ جب بیعنامہ رجسٹری میں پیش ہوتو رجسٹرار کے سامنے طلب بجا لائے تا کہ ایك قیمتی گواہ طلب کامل جائے ولہذا وہ خاص اسی دن اسی وقت محکمہ رجسٹری میں پہنچا جبکہ بیعنامہ رجسٹری ہونے کوتھا اگر اسے پہلے سے کچھ علم نہ تھا تو خالص اس دن تاریخ وقت کی تعیین کسی الہام کے ذریعہ سے ہوئی یا خواب سے اور خود اس کے گواہوں سے دو گواہ صاف بتارہے ہیں کہ پیش از طلب اسے علم ہولیا تھاسید عطاء الحق نے کہا کہ عبدالعلی خاں قبل پیش ہونے بیعنامہ کے گھنٹہ بھر اول یہ کہہ گئے تھے کہ میں طلب شفعہ کروں گامشفوعہ کاکاغذ آج تصدیق ہوگا ایسی صریح باتوں کو جن سے خود گواہان مدعی بطلان شفعہ کی شہادت دے رہے ہیں نظر انداز کرنا بہت نامناسب تھا اس فیصلہ کے بطلان پر اور بھی وجوہ ہیں مگر جس قدر مذکور ہوا اظہار حق کے لئے ان شاء اﷲ کافی و وافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۷: ازریاست رامپور محلہ گھیر فتح محمد خاں مرسلہ سعید الرحمن خاں ۲۰شعبان ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسمی زید نے جو مسلمان ہے مسمی بکر کے پاس جو ہندو ہے زیور نقرئی وزنی دو صدر روپیہ بھر بالعوض ایك سو پندرہ روپیہ کے بشرح سود فیصدی دو روپیہ ماہوار رہن کیابکر نے جانچ وزن زیور کا کرکے نقرئی سمجھ کر رکھ لیا اور زر سود زید بکر کو ماہ بماہ ادا کرتا رہااب جو زید نے بکر پر عدالت میں دعوی انفکاك رہن بادائے ایك سو پندرہ روپیہ زر رہن کے کیا تو بکر یہ عذر کرتا ہے کہ وہ زیور مرہونہ نقرئی نہیں تھا بلکہ قسم جرمن سلور کا تھا جو نہایت کم قیمت جنس بمقابلہ نقرہ کے ہے مگر بکر نے کوئی شہادت اس بارہ میں پیش نہیں کی زید کی طرف سے جو گواہ گزرے ہیں وہ متفق اللفظ زیور کا نقرئی ہونا بیان کرتے ہیں البتہ تفصیل زیور میں کچھ اختلاف بیانی ہے جو اس وجہ سے قابل لحاظ نہیں ہے کہ حسب دعوی زید زیور کا وزنی دو صدر روپیہ ہونا مسلمہ بکر ہے۔بکر کو صرف عذر قسم زیور یعنی نقرہ وجرمن سلور ہونے میں ہے عدالت نے بلا کسی شہادت کے قول مرتہن کو تسلیم کرکے فیصلہ دیا ہے جس کی نقل شامل استفتاء ہذا ہے اور زید نے بناراضی اس فیصلہ عدالت کے مرافعہ بعدالت بالادست کیا ہے نقل وجوہات اپیل بھی منسبلکہ استفتاء ہذا ہےبعد ملاحظہ فیصلہ عدالت ووجوہات اپیل حسبۃ ﷲ فتوی تحریرفرمائیے عدالت جو بحوالہ ایك روایت فقہ کی ہے صحیح و درست ہے یاغیر صحیح اور قابل منسوخی ہے یہ ملحوظ فرمایا جائے کہ مرتہن ہندو اور راہن
مسئلہ۸۷: ازریاست رامپور محلہ گھیر فتح محمد خاں مرسلہ سعید الرحمن خاں ۲۰شعبان ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسمی زید نے جو مسلمان ہے مسمی بکر کے پاس جو ہندو ہے زیور نقرئی وزنی دو صدر روپیہ بھر بالعوض ایك سو پندرہ روپیہ کے بشرح سود فیصدی دو روپیہ ماہوار رہن کیابکر نے جانچ وزن زیور کا کرکے نقرئی سمجھ کر رکھ لیا اور زر سود زید بکر کو ماہ بماہ ادا کرتا رہااب جو زید نے بکر پر عدالت میں دعوی انفکاك رہن بادائے ایك سو پندرہ روپیہ زر رہن کے کیا تو بکر یہ عذر کرتا ہے کہ وہ زیور مرہونہ نقرئی نہیں تھا بلکہ قسم جرمن سلور کا تھا جو نہایت کم قیمت جنس بمقابلہ نقرہ کے ہے مگر بکر نے کوئی شہادت اس بارہ میں پیش نہیں کی زید کی طرف سے جو گواہ گزرے ہیں وہ متفق اللفظ زیور کا نقرئی ہونا بیان کرتے ہیں البتہ تفصیل زیور میں کچھ اختلاف بیانی ہے جو اس وجہ سے قابل لحاظ نہیں ہے کہ حسب دعوی زید زیور کا وزنی دو صدر روپیہ ہونا مسلمہ بکر ہے۔بکر کو صرف عذر قسم زیور یعنی نقرہ وجرمن سلور ہونے میں ہے عدالت نے بلا کسی شہادت کے قول مرتہن کو تسلیم کرکے فیصلہ دیا ہے جس کی نقل شامل استفتاء ہذا ہے اور زید نے بناراضی اس فیصلہ عدالت کے مرافعہ بعدالت بالادست کیا ہے نقل وجوہات اپیل بھی منسبلکہ استفتاء ہذا ہےبعد ملاحظہ فیصلہ عدالت ووجوہات اپیل حسبۃ ﷲ فتوی تحریرفرمائیے عدالت جو بحوالہ ایك روایت فقہ کی ہے صحیح و درست ہے یاغیر صحیح اور قابل منسوخی ہے یہ ملحوظ فرمایا جائے کہ مرتہن ہندو اور راہن
مسلمان ہے اور حسب رواج بازار جو کوئی زیور رہن رکھتا ہے اول جانچ اس کی بخوبی کرلیتا ہے کہ وہ کس قسم کا ہے اور کس مالیت کا ہےبوقت رہن مرتہن نے جانچ کرکے اور اس کو قسم نقرہ تسلیم کرکے رہن کیا تھا فقط۔
الجواب:
فیصلہ نظر سے گزراسخت افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ باستثناء اتنی بات کے کہ ذی علم فاضل مجوز نے اس میں دو تنقیحیں قائم فرماکر تنقیح دوم خلاف مدعا علیہ تجویز فرمائیباقی وہ سرتاپاباطل و خلاف شرع واقع ہواتنقیحیں یہ ہیں:
(۱)آیا مدعی نے زیور نقرہ مندرجہ عرض دعوی بعوض(ما صہ عہ/)مدعا علیہ کے پاس رہن رکھتا تھا کہ اب تك بہ قبضہ مدعا علیہ ہےاب مدعی بہ ادائے(ما صہ عہ/)زیور طلب کرتا ہے باوجود اقرار فك نہیں کرتا ثبوت ذمہ مدعی۔
(۲)آیا زیور جرمن سلور کا تھا نقرہ کہہ کر مدعاعلیہ کو دھوکا دے کر(ماصہ عہ/)لے لئے ثبوت ذمہ مدعا علیہ۔تنقیح اول کو فاضل مجوز نے تین وجہ سے خلاف مدعی فیصل کیا:
وجہ اول: جہالت شہادت کہ کسی شہادت سے تفصیل زیور مطابق عرضی دعوی بقید وزن وقیمت ثابت نہیں جس کا اظہار و تعین ضروری ہے۔
وجہ دوم: اختلاف باہمی شہوداو وہ دو ہیں:
(۱)پہلے گواہ نے مدعی کا دکان مدعا علیہ پر بہمراہی شفیع خاں آنا نہیں بیان کیاگواہ نمبر۲ نے دکان مدعا علیہ کا آنا بہمراہی شفیع خاں بیان کیا ہےحالانکہ جلسہ واحد کے گواہ ہیں۔
(۲)گواہ نمبر۱نے ایك کاغذ مدعی کا لکھنا اور نمبر۲ نے اس کے خلاف مدعا علیہ کا ایك رقعہ فارسی میں اپنے ہاتھ سے لکھ کر مدعی کو دینا تحریر کرایا ہے حالانکہ مدعا علیہ فارسی لکھنا نہیں جانتانہ مدعی نے مدعا علیہ کا رقعہ لکھنا عرضی دعوی نہ اظہار میں لکھایا بلکہ مدعی نے اپنے اظہار میں ایك شخص غیر سے رقعہ لکھانامدعا علیہ کا اقراری اپنا بیان کیا ہے حالانکہ توافق درمیان شہادت کے شرط ہے۔
وجہ سوم: تناقض دعوی کہ مدعی نے جو تفصیل زیور عرضی دعوی میں تحریر کی اس کو مالیتی دو سو روپیہ تحریر کی اور جو وزن ہر عدد کا تحریر کیا از روئے میزان کل زیور(مااصہ۔عہ)بھر ہوتا ہے اور جو
الجواب:
فیصلہ نظر سے گزراسخت افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ باستثناء اتنی بات کے کہ ذی علم فاضل مجوز نے اس میں دو تنقیحیں قائم فرماکر تنقیح دوم خلاف مدعا علیہ تجویز فرمائیباقی وہ سرتاپاباطل و خلاف شرع واقع ہواتنقیحیں یہ ہیں:
(۱)آیا مدعی نے زیور نقرہ مندرجہ عرض دعوی بعوض(ما صہ عہ/)مدعا علیہ کے پاس رہن رکھتا تھا کہ اب تك بہ قبضہ مدعا علیہ ہےاب مدعی بہ ادائے(ما صہ عہ/)زیور طلب کرتا ہے باوجود اقرار فك نہیں کرتا ثبوت ذمہ مدعی۔
(۲)آیا زیور جرمن سلور کا تھا نقرہ کہہ کر مدعاعلیہ کو دھوکا دے کر(ماصہ عہ/)لے لئے ثبوت ذمہ مدعا علیہ۔تنقیح اول کو فاضل مجوز نے تین وجہ سے خلاف مدعی فیصل کیا:
وجہ اول: جہالت شہادت کہ کسی شہادت سے تفصیل زیور مطابق عرضی دعوی بقید وزن وقیمت ثابت نہیں جس کا اظہار و تعین ضروری ہے۔
وجہ دوم: اختلاف باہمی شہوداو وہ دو ہیں:
(۱)پہلے گواہ نے مدعی کا دکان مدعا علیہ پر بہمراہی شفیع خاں آنا نہیں بیان کیاگواہ نمبر۲ نے دکان مدعا علیہ کا آنا بہمراہی شفیع خاں بیان کیا ہےحالانکہ جلسہ واحد کے گواہ ہیں۔
(۲)گواہ نمبر۱نے ایك کاغذ مدعی کا لکھنا اور نمبر۲ نے اس کے خلاف مدعا علیہ کا ایك رقعہ فارسی میں اپنے ہاتھ سے لکھ کر مدعی کو دینا تحریر کرایا ہے حالانکہ مدعا علیہ فارسی لکھنا نہیں جانتانہ مدعی نے مدعا علیہ کا رقعہ لکھنا عرضی دعوی نہ اظہار میں لکھایا بلکہ مدعی نے اپنے اظہار میں ایك شخص غیر سے رقعہ لکھانامدعا علیہ کا اقراری اپنا بیان کیا ہے حالانکہ توافق درمیان شہادت کے شرط ہے۔
وجہ سوم: تناقض دعوی کہ مدعی نے جو تفصیل زیور عرضی دعوی میں تحریر کی اس کو مالیتی دو سو روپیہ تحریر کی اور جو وزن ہر عدد کا تحریر کیا از روئے میزان کل زیور(مااصہ۔عہ)بھر ہوتا ہے اور جو
بیان مدعی عدالت میں تحریر ہوا اس نے وزن زیور دو سورو پیہ بھر ہونا لکھایا ہے لغو بیانی مدعی بداہۃ واضح ہے کہ فی زماننا زیور نقرہ دوسوروپیہ بھر قیمتی دو سوروپے کا کسی عنوان نہیں ہوسکتا۔یوہیں تنقیح دوم کو خلاف مدعا علیہ فیصل فرمایا اور تصریح کی کہ امر مذکور بحق مدعا علیہ غیر ثابت ہے کہ اس قول کی کہ مدعی زیور جرمن سلور نقرئی ظاہر کرکے رہن رکھا کوئی شہادت منجانب مدعا علیہ نہ گزری نہ مثل آمدہ فوجداری میں کوئی ثبوت قول مدعا علیہ کا ہے اس وجہ سے کہ مسل مذکور بربنائے عدم پیروی خارج ہوئی ہے۔تنقیحوں کی نسبت یہ تجویزیں دیکھ کر فرمایا لیکن چونکہ مدعا علیہ کو اقبال ہے کہ مدعی زیور وزنی دو سوروپیہ بعوض(ماصہ عہ/)رہن رکھ کر وپیہ لے گیا مگر زیور مرہونہ جرمن سلور کا ہے اور مدعی کو دعوی ہے کہ میں نے زیور چاندی کا رکھا یعنی غیر اس کے جو عدالت میں مدعا علیہ نے پیش کیا تولائق تصفیہ یہ ہے کہ بصورت عدم ثبوت قول فریقین بحالت اقبال فریقین بصراحت مذکورہ کس کا قول لائق اعتبار ہےمسئلہ یہ ہے کہ جس ایسے دعوی میں کہ راہن کہے میں نے زیوراس کا غیر رہن رکھا ہے اور مرتہن کہے یہی رکھا ہےقول مرتہن معتبر ہے کہ وہ قابض ہے(ترجمہ دمختار جلد رابع ص۴۸۰)چونکہ نفس رہن و تعداد زر رہن میں اختلاف نہیں پس جبکہ قول مرتہن معتبر ہے مگر بحلفلیکن یہاں استدعامدعاعلیہ کی نسبت اخذ حلف مدعی کے نہیں تو قابل نفاذ حکم حسب قول مدعا علیہ زیور مرہونہ یہی جرمن سلور کارہا جو بادائے(ماصہ عہ/)دعوی مدعی لائق ڈگری ہے بنابراں حکم ہوا کہ دعوی مدعی واسطے دلائے جانے اسی زیور موجودہ کے بادائے(ماصہ عہ/)کے بحق مدعی ڈگری ہو انتہی تمام تجویز و فیصلہ کا حاصل اس قدر ہےاس میں تنقیح دوم خلاف مدعی علیہ تجویر ہونا ضرور حق و بجا ہے باقی تما م تجویر میں براہ بشریت غلطی ہوئی تنقیح اول کو خلاف مدعی تجویز فرمانے کی تینوں وجہیں محض ناکافی۔تناقض دعوی جس کا ضرر خود جانب مدعی عائد ہو ہر گز مانع صحت دعوی نہیںپہلے وہ زیور نقرہ وزنی مال(مااصہ عہ/)کا مدعی تھا پھر صرف وزنی مال بیان کیا اس میں اپنے ہی لئے(صہ۔عہ/)بھر چاندی کی کمی کرلی اسے جزء متروك کہتے ہیں نہ کہ تناقض
جس کا حاصل یہ کہ اب اس کا دعوی صرف دو سو روپے بھر زیور نقرئی کی نسبت رہا زیادہ کا دعوی متروك ہوگیا نہ کہ تمام وکمال باطل ٹھہرا۔جامع الفصولین جلد اول ص۱۳۵میں ہے:
التناقض علی نفسہ لایمنع صحۃ الدعوی لانہ ادعی اولا کل المال لنفسہ ثم ادعی بعضہ فقد ادعی انقص من الاول فتسمع ۔ اپنے معاملہ میں تناقض صحت دعوی کےلئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ پہلے کل مال کا دعوی اپنے لئے کیا پھر بعض مال کاتو یہ پہلے مال سے کم ہے تو قابل سماعت ہوگا۔(ت)
ایضا ص۱۲۷:
ادعاہ مطلقا فقال المدعی علیہ فی دفعہ انہ کان ادعاہ بسبب فقال المدعی انا ادعیہ الان بذلك السبب وترکت دعوی الملك المطلق تسمع دعواہ ثانیا ویبطل الدفع ۔ کسی نے مطلقا دعوی کیا تو مدعی علیہ نے دفاع میں کہا اس نے تو سبب سے متعلق دعوی کیا تھا اس پر مدعی نے کہامیں اسی سبب کے متعلق دعوی کررہا ہوں اور پہلا مطلق دعوی ترك کرتا ہوں تو سماعت دوبارہ ہوگی اور مدعی علیہ کا دفاع باطل ہوجائیگا۔(ت)
ایضا ص۱۴۵:
ادعی علیہ اربعۃ اشیاء سماھا فانکر فحلف ثم قال المدعی کنت اخذت الاثنین من الاربعۃ وبرھن علی الاثنین تقبل ۔ ایك نے دوسرے پر چار چیزوں کا دعوی کیا مدعا علیہ نے انکار کردیا اور قسم اٹھالیپھر مدعی نے دعوی میں کہا کہ میں نے دو چیزیں چار میں سے لے لی تھیں اور باقیماندہ پر دو گواہ پیش کئے تو گواہی قبول ہوگی(ت)
ایضا ص۱۲۵:
التناقض انما یمنع اذا تضمن ابطال حق علی احد ۔ تناقض اس وقت مانع ہوگا جب اس سے کسی کا کسی پرحق باطل ہوتا ہو۔(ت)
فتاوی خلاصہ میں ہے:
ادعی علی آخر نصف دار معین ثم ادعی بعدذلك جمیع الدار لایسمع عــــــہ وعلی القلب یسمع ۔ ایك نے دوسرے پر کسی معین دار کے نصف کادعوی کیا پھر کل دار کا دعوی کردیا تو یہ دعوی قابل سماعت نہیںگر اس کا عکس ہوتو قابل سماعت ہوگا۔(ت)
عالمگیری جلد چہارم ص۲۵۰:
لوادعی انہا لہ ورثھا من ابیہ ثم ادعی ھو مع اخر انھما ورثاھامن المیت و کسی نے ایك حویلی کے متعلق دعوی کیا یہ میری ہے اور مجھے والد کی وراثت میں ملی ہےپھر اس نے
التناقض علی نفسہ لایمنع صحۃ الدعوی لانہ ادعی اولا کل المال لنفسہ ثم ادعی بعضہ فقد ادعی انقص من الاول فتسمع ۔ اپنے معاملہ میں تناقض صحت دعوی کےلئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ پہلے کل مال کا دعوی اپنے لئے کیا پھر بعض مال کاتو یہ پہلے مال سے کم ہے تو قابل سماعت ہوگا۔(ت)
ایضا ص۱۲۷:
ادعاہ مطلقا فقال المدعی علیہ فی دفعہ انہ کان ادعاہ بسبب فقال المدعی انا ادعیہ الان بذلك السبب وترکت دعوی الملك المطلق تسمع دعواہ ثانیا ویبطل الدفع ۔ کسی نے مطلقا دعوی کیا تو مدعی علیہ نے دفاع میں کہا اس نے تو سبب سے متعلق دعوی کیا تھا اس پر مدعی نے کہامیں اسی سبب کے متعلق دعوی کررہا ہوں اور پہلا مطلق دعوی ترك کرتا ہوں تو سماعت دوبارہ ہوگی اور مدعی علیہ کا دفاع باطل ہوجائیگا۔(ت)
ایضا ص۱۴۵:
ادعی علیہ اربعۃ اشیاء سماھا فانکر فحلف ثم قال المدعی کنت اخذت الاثنین من الاربعۃ وبرھن علی الاثنین تقبل ۔ ایك نے دوسرے پر چار چیزوں کا دعوی کیا مدعا علیہ نے انکار کردیا اور قسم اٹھالیپھر مدعی نے دعوی میں کہا کہ میں نے دو چیزیں چار میں سے لے لی تھیں اور باقیماندہ پر دو گواہ پیش کئے تو گواہی قبول ہوگی(ت)
ایضا ص۱۲۵:
التناقض انما یمنع اذا تضمن ابطال حق علی احد ۔ تناقض اس وقت مانع ہوگا جب اس سے کسی کا کسی پرحق باطل ہوتا ہو۔(ت)
فتاوی خلاصہ میں ہے:
ادعی علی آخر نصف دار معین ثم ادعی بعدذلك جمیع الدار لایسمع عــــــہ وعلی القلب یسمع ۔ ایك نے دوسرے پر کسی معین دار کے نصف کادعوی کیا پھر کل دار کا دعوی کردیا تو یہ دعوی قابل سماعت نہیںگر اس کا عکس ہوتو قابل سماعت ہوگا۔(ت)
عالمگیری جلد چہارم ص۲۵۰:
لوادعی انہا لہ ورثھا من ابیہ ثم ادعی ھو مع اخر انھما ورثاھامن المیت و کسی نے ایك حویلی کے متعلق دعوی کیا یہ میری ہے اور مجھے والد کی وراثت میں ملی ہےپھر اس نے
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵€۳
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲€۷
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۵€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الدعوٰی الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۸۹€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲€۷
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۵€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الدعوٰی الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۸۹€
عــــــہ: والصواب انہ یسمع فی الوجھین جمیعا الا اذاکان قال وقت دعوی النصف لاحق لی فیہا سوی النصف فحینئذ لاتسمع دعویاہ جمیعا کذافی المحیط اھ ھندیۃ اقول:وذلك للتناقض الصریح بین قولیہ وقد عادیدعی اکثر مما ادعی اولا فبطل القولان بخلاف مااذاادعی اولا جمیع الدار ثم ادعی نصفہا وقال لاحق لی فیہا سوی النصف حیث تقبل الدعوی الثانیۃ لانہ من باب ترك بعض الدعوی و التناقض علی نفسہ لایضر صحۃ الدعوی کما اسمعناك من جامع الفصولین ۱۲منہ۔
عــــــہ: درست یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں قابل سماعت ہے ہاں اگر نصف کے دعوی کے وقت یہ کہہ دیا ہو کہ باقی میں میرا حق نہیں تو اس صورت میں دونوں دعوے قابل سماعت نہ ہوں گےجیسا کہ محیط میں ہے اھ ہندیہ۔میں کہتا ہوں یہ اس لئے کہ اس صورت میں اس کے دونوں قول میں تناقض ظاہر ہے کہ پہلے دعوی کے مقابلہ میں دوسرے میں زیادہ کا مدعی ہے لہذا دونوں قول باطل ہوں گے اس کے برخلاف جب پہلے کل دار کا مدعی ہو اور بعدمیں نصف کااور ساتھ ہی کہہ دیا ہو کہ باقی میں میرا حق نہیں ہے تو دوسرا قبول کیا جائے گاکیونکہ پہلے دعوی کے بعض کو اس نے ترك کردیا جبکہ اپنے حق میں تناقض صحت دعوی کو مضر نہیں ہے جیسا کہ قبل ازیں ہم نے آپ کو جامع الفصولین سے سنایا ہے۱۲منہ(ت)
عــــــہ: درست یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں قابل سماعت ہے ہاں اگر نصف کے دعوی کے وقت یہ کہہ دیا ہو کہ باقی میں میرا حق نہیں تو اس صورت میں دونوں دعوے قابل سماعت نہ ہوں گےجیسا کہ محیط میں ہے اھ ہندیہ۔میں کہتا ہوں یہ اس لئے کہ اس صورت میں اس کے دونوں قول میں تناقض ظاہر ہے کہ پہلے دعوی کے مقابلہ میں دوسرے میں زیادہ کا مدعی ہے لہذا دونوں قول باطل ہوں گے اس کے برخلاف جب پہلے کل دار کا مدعی ہو اور بعدمیں نصف کااور ساتھ ہی کہہ دیا ہو کہ باقی میں میرا حق نہیں ہے تو دوسرا قبول کیا جائے گاکیونکہ پہلے دعوی کے بعض کو اس نے ترك کردیا جبکہ اپنے حق میں تناقض صحت دعوی کو مضر نہیں ہے جیسا کہ قبل ازیں ہم نے آپ کو جامع الفصولین سے سنایا ہے۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷۰€
اقاما البینۃ علی ذلك تقبل کذافی الخلاصۃ ۔ کسی دوسرے کے اشتراك سے دعوی کیا کہ یہ حویلی ان دونوں کو میت سے وراثت میں ملی ہے اور اس پر انہوں نے گواہی پیش کردی تو گواہی مقبول ہوگی۔خلاصہ میں اسی طرح ہے۔(ت)
مدعی کی لغو بیانی کبھی ہر گز ثابت نہیںچاندی کا نرخ کم ہونا اسے مستلزم نہیں کہ دو سو روپے کا قیمتی نہ ہوسکےکیا صنعت کوئی چیز نہیںکیا اس سے شے کی مالیت"اضعافا مضاعفہ"نہیں ہوجاتی دہلی کے سادہ کاری کے چھلےانگوٹھیاںنونگےتعویذوزن میں حباب کے مثل ہوتے ہیں اورقیمت کس درجہ زیادہ۔ولہذا شرعا حکم ہے کہ ان کی زکوۃ خلاف جنس سے دی جائے تو قیمت صناعی کا اعتبار ہوگا نہ کہ وزن کامعراج الدرایہ و نہرالفائق وردالمحتار وغیرہا میں:
لہ ابریق فضۃ وزنہ مائتان وقیمتہ ثلثمائۃ ۔ کسی کاچاندی کا کوزہ جس کا وزن دو سو درہم ہے اور اس کی قیمت تین سو درہم ہے۔(ت)
نیز جامع الرموز و شامی وغیرہما میں:
ابریق فضۃ وزنہ مائۃ درہم وقیمتہ بصناعتہ مائتان ۔ چاندی کا کوزہ وزن سو درہم اور اس کی بناوٹی قیمت دو سودرہم ہے۔(ت)
وغیرہ ذلك تصریحات فقہائے کرام دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ سوروپے بھر زیور کی بھی قیمت دو سو روپے بلکہ زائدہوسکتی ہے نہ کہ دو سور وپے بھر کی قیمت دو سوروپے ہونا محال ٹھہرےاختلاف گواہان کی وجہ اول تو سخت عجیب ہےشفیع خاں کا اس وقت ہمراہ مدعی ہونا اگر ایك گواہ نے بیان کیا تو دوسرے نے اس سے انکار تو نہ کیاکہ باہم اختلاف گما ن کیا جائے اسے اصل مقدمہ سے کیا تعلق تھا جس کا بیان ہر گواہ رپر لازم ہوتا ہے اور بفرض باطل اگرلازم ہوتا بھی تو دوسرے کا بیان بوجہ ترك امر ضروری ناقص ٹھہرتا اختلاف شہادت اس وقت بھی نہ کہہ سکتے کہ ذکر وعدم ذکر تخالف نہیں بلکہ ذکر وذکر عدمہم بار ہافیصلہات ریاست کے ایسے خود قرار دادہ اختلاف پر بحث کرچکے اور آیات قرآنیہ سناچکے ہیں کہ ایك ہی قصے کے بیان میں رب عزوجل نے ایك جگہ ایك بات ذکر فرمائی دوسری جگہ ترك فرمائی کیا معاذ اﷲ اسے قرآن عظیم
کا اختلاف قرار دیاجائے گا حالانکہ رب عزوجل فرماتا ہے:
"ا فلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلفا کثیرا ﴿۸۲﴾ " کیاقرآن میں تدبر نہیں کرتے اگر یہ غیراﷲ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں کثیرا ختلاف پاتے۔(ت)
اور اسکی تو لاکھوں مثالیں ملیں گی کہ بہت باتیں جو قرآن عظیم نے ذکر قصص میں ترك فرمائیں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام نے بیان فرمائیںکیا یہ اﷲورسول کا اختلاف بیان ٹھہرے گا والعیاذ باﷲ تعالی۔اختلاف دوم کی بھی حالت اسی کے قریب ہے گواہ اول نے مدعی کا ایك کاغذ لکھنا بیان کرکے صاف کہہ دیا کہ یادنہیں کس نے لکھا تھا تووہ اس کے کلام میں ذکر تحریر کالعدم ہوگیاایك شخص کہے زید نے فلاں کام کیا
مدعی کی لغو بیانی کبھی ہر گز ثابت نہیںچاندی کا نرخ کم ہونا اسے مستلزم نہیں کہ دو سو روپے کا قیمتی نہ ہوسکےکیا صنعت کوئی چیز نہیںکیا اس سے شے کی مالیت"اضعافا مضاعفہ"نہیں ہوجاتی دہلی کے سادہ کاری کے چھلےانگوٹھیاںنونگےتعویذوزن میں حباب کے مثل ہوتے ہیں اورقیمت کس درجہ زیادہ۔ولہذا شرعا حکم ہے کہ ان کی زکوۃ خلاف جنس سے دی جائے تو قیمت صناعی کا اعتبار ہوگا نہ کہ وزن کامعراج الدرایہ و نہرالفائق وردالمحتار وغیرہا میں:
لہ ابریق فضۃ وزنہ مائتان وقیمتہ ثلثمائۃ ۔ کسی کاچاندی کا کوزہ جس کا وزن دو سو درہم ہے اور اس کی قیمت تین سو درہم ہے۔(ت)
نیز جامع الرموز و شامی وغیرہما میں:
ابریق فضۃ وزنہ مائۃ درہم وقیمتہ بصناعتہ مائتان ۔ چاندی کا کوزہ وزن سو درہم اور اس کی بناوٹی قیمت دو سودرہم ہے۔(ت)
وغیرہ ذلك تصریحات فقہائے کرام دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ سوروپے بھر زیور کی بھی قیمت دو سو روپے بلکہ زائدہوسکتی ہے نہ کہ دو سور وپے بھر کی قیمت دو سوروپے ہونا محال ٹھہرےاختلاف گواہان کی وجہ اول تو سخت عجیب ہےشفیع خاں کا اس وقت ہمراہ مدعی ہونا اگر ایك گواہ نے بیان کیا تو دوسرے نے اس سے انکار تو نہ کیاکہ باہم اختلاف گما ن کیا جائے اسے اصل مقدمہ سے کیا تعلق تھا جس کا بیان ہر گواہ رپر لازم ہوتا ہے اور بفرض باطل اگرلازم ہوتا بھی تو دوسرے کا بیان بوجہ ترك امر ضروری ناقص ٹھہرتا اختلاف شہادت اس وقت بھی نہ کہہ سکتے کہ ذکر وعدم ذکر تخالف نہیں بلکہ ذکر وذکر عدمہم بار ہافیصلہات ریاست کے ایسے خود قرار دادہ اختلاف پر بحث کرچکے اور آیات قرآنیہ سناچکے ہیں کہ ایك ہی قصے کے بیان میں رب عزوجل نے ایك جگہ ایك بات ذکر فرمائی دوسری جگہ ترك فرمائی کیا معاذ اﷲ اسے قرآن عظیم
کا اختلاف قرار دیاجائے گا حالانکہ رب عزوجل فرماتا ہے:
"ا فلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلفا کثیرا ﴿۸۲﴾ " کیاقرآن میں تدبر نہیں کرتے اگر یہ غیراﷲ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں کثیرا ختلاف پاتے۔(ت)
اور اسکی تو لاکھوں مثالیں ملیں گی کہ بہت باتیں جو قرآن عظیم نے ذکر قصص میں ترك فرمائیں رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام نے بیان فرمائیںکیا یہ اﷲورسول کا اختلاف بیان ٹھہرے گا والعیاذ باﷲ تعالی۔اختلاف دوم کی بھی حالت اسی کے قریب ہے گواہ اول نے مدعی کا ایك کاغذ لکھنا بیان کرکے صاف کہہ دیا کہ یادنہیں کس نے لکھا تھا تووہ اس کے کلام میں ذکر تحریر کالعدم ہوگیاایك شخص کہے زید نے فلاں کام کیا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷۱€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰€
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران ۲ /۳۱۱،€ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰€
القرآن الکریم ∞۴ /۸۲€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰€
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران ۲ /۳۱۱،€ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰€
القرآن الکریم ∞۴ /۸۲€
دوسراکہے یاد نہیں کس نے کیا تو اس میں کیا اختلاف بیان ہوامعہذا اگر اس کا وہی قول لیجئے کہ مدعی نے ایك کاغذ لکھا تو اس کے کلام میں یہ کہاں ہے کہ مدعا علیہ نے کچھ نہ لکھا اسکا ترك ذکر ہے نہ ذکر نفی اور گواہ دوم مدعا علیہ کا ایك رقعہ لکھنا بیان کرکے کہتا ہے اور کوئی رقعہ نہیں لکھاگیا تھا یہ بظاہر اس تقدیر پر کہ گواہ اول کے بیان میں مدعی کا کاغذ لکھنا بالجزم فرض کرلیں اختلاف مذکورہ فیصلہ سے زیادہ اختلاف موہوم ہوسکتا ہے کہ وہاں اثبات تھا اس میں نفی ہے مگر ذی علم فاضل مجوز نے اسے قلم انداز فرمایا اور وجوہ اختلاف میں نہ لیا اور ایسا ہی چاہئے تھا کہ یہاں اثبات ونفی ایك شیئ پروارد نہیں جس سے اختلاف پیدا ہو عرف ناس سے آگاہ اول نے لفظ رقعہ نہ کہا کاغذ کہا وہ رقعہ سے عام ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو مستلزم نہیں ممکن کہ عام دوسرے فرد کے ضمن میں متحقق ہو یعنی مدعی نے کوئی رقعہ لکھا ہو بلکہ اور کوئی کاغذمثل یا دداشت فہرست زیور وغیرہ تحریر کیا ہواس میں کیا تناقض ہواذی علم مجوز کا یہ فرمانا کہ حالانکہ مدعا علیہ فارسی لکھنا نہیں جانتا معلوم نہیں کس بنا پر ہے کیا مدعا علیہ کا زبانی انکار ہوا وہ مان لیایا اس کی نفی پر کوئی شہادت گزری حالانکہ ایسی نفی پر شہادت اصلا مسموع نہیں۔شخص غیر اور خود مدعا علیہ کے لکھنے میں کیا منافات ہے اگر اظہار گواہ دوم میں یہ لفظ کہ اپنے ہاتھ سے لکھا نہ ہو جب تو ظاہر ہے کہ لکھوانے کو لکھنا بر ابر عرف شائع ہے خود اسی فیصلہ میں مجوز نے فرمایا کہ مدعی نے تفصیل زیور عرضی دعوی میں تحریر کی وزن ہر عدد کا تحریر کیا حالانکہ عرضی دعوی غالبا وکلاء لکھتے ہیں نہ کہ خود مدعی۔اور اگر اظہار میں اپنے ہاتھ سے لکھنے کا ذکر ہے جب بھی کیا دونوں کا لکھنا جمع نہیں ہوسکتا۔کیا اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی خود مسودہ کرکے جس کے متعلق ہے
اسے دکھا کر پسند کراکر دوسرے سے صاف کرادیتا ہے خصوصا وہ کہ بدخط ہو۔کیا ممکن نہیں کہ اس نے جو لکھ کردیا کہیں مشکوك تھا مدعی نے تبدیل چاہی اس نے دوسرے سے لکھوادیا اور اصل یہ ہے کہ ایسی فضول باتوں میں اختلاف پر نظر نامعتبراگر اس نے خود لکھا تو کیا فائدہ دوسرے سے لکھوایا تو کیا نقصانمدعی نے لکھا تو کیا نفعمدعی علیہ نے لکھا تو کیا ضرراور اگر دونوں نے لکھایا کسی نے نہ لکھا تو اس سے معاملہ پر کیا اثر۔ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب مہذب وظاہر الروایۃ وقول امام و معتمد جماہیر کتب مستندہ میں اختلاف صرف وہ مضر ہے جو اصل معاملہ پر خلل انداز ہوزائد وفضول باتیں کہ یوں ہوں تو دعوی میں خلل نہیںیوں ہوں تو ضرر نہیںمحض نظر انداز ہیں ان میں اختلاف اصلا قابل لحاظ نہیںہم نے اپنے فتاوی میں ریاست رامپور ہی کے ایك فیصلہ پر اس مسئلہ کے متعلق کتب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ سے لے کر بحرالرائق وغیرہ کتب معتمدہ متأخرین تك بائیس کتابوں کی سند پیش کی ہے یہاں اسی قدرکافی کہ فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیری وغیرہمامیں تصریح ہےکہ:
التناقض فیما لا یحتاج الیہ لایضر ۔ اگر غیر ضروری چیز میں تناقض ہوتو مضرنہیں ہے۔(ت)
ذی علم مجوز نے تو ایك کاہمراہی شفیع خاں بیان کرنا دوسرے کا اسے ذکر نہ کرنا اختلاف مضر قرار دیا اور فتاوی امام قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوی ظہیریہ و فتاوی عالمگیریہ میں اور نص صریح امام محرر المذہب رضی اﷲتعالی عنہ سے تصریح ہے کہ اگر ایك نے کہا فلاں شخص اس وقت ساتھ تھادوسرے نے صاف انکار کیا کہ وہ ساتھ نہ تھا جب بھی شہادت میں خلل نہیں کہ مطلب سے زیادہ باتوں میں اختلاف ناقابل التفات ہےعبارت یہ ہے:
قال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا فلان ذکر فی الاصل انہ یجوز ولاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ ایك نے کہا وہ فلاں ہمارے ساتھ تھادوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہ تھاتو اصل میں امام محمدر حمہ اﷲتعالی نے فرمایاکہ شہادت باطل نہ ہوگی۔(ت)
جہالت شہادت بھی وہ مضر ہوتی ہے جس سے طریق حکم مسدود ہو ورنہ تصریح ائمہ ہےکہ مذہب اصح وا رجح ومعتمد میں ہرگز مضر نہیںفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل ادعی فی دار رجل طریقا و ایك شخص نے دوسرے کی حویلی میں اپنے راستہ کا
التناقض فیما لا یحتاج الیہ لایضر ۔ اگر غیر ضروری چیز میں تناقض ہوتو مضرنہیں ہے۔(ت)
ذی علم مجوز نے تو ایك کاہمراہی شفیع خاں بیان کرنا دوسرے کا اسے ذکر نہ کرنا اختلاف مضر قرار دیا اور فتاوی امام قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوی ظہیریہ و فتاوی عالمگیریہ میں اور نص صریح امام محرر المذہب رضی اﷲتعالی عنہ سے تصریح ہے کہ اگر ایك نے کہا فلاں شخص اس وقت ساتھ تھادوسرے نے صاف انکار کیا کہ وہ ساتھ نہ تھا جب بھی شہادت میں خلل نہیں کہ مطلب سے زیادہ باتوں میں اختلاف ناقابل التفات ہےعبارت یہ ہے:
قال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا فلان ذکر فی الاصل انہ یجوز ولاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ ایك نے کہا وہ فلاں ہمارے ساتھ تھادوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہ تھاتو اصل میں امام محمدر حمہ اﷲتعالی نے فرمایاکہ شہادت باطل نہ ہوگی۔(ت)
جہالت شہادت بھی وہ مضر ہوتی ہے جس سے طریق حکم مسدود ہو ورنہ تصریح ائمہ ہےکہ مذہب اصح وا رجح ومعتمد میں ہرگز مضر نہیںفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل ادعی فی دار رجل طریقا و ایك شخص نے دوسرے کی حویلی میں اپنے راستہ کا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور۳ /۵۰۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور۳ /۵۰۹€
اقام البینۃ فشہدا الشہود بان لہ طریقا فی ھذہ الدار جازت شہادتھم وان لم یجدوا الطریق لان الجہالۃ انما تمنع قبول الشہادۃ اذا تعذر القضاء بھا وھھنا لایتعذر فان عرض الباب العظمی یجعل حکما لمعرفۃ الطریق اھ مختصرا۔ دعوی کیا اور اس پر گواہ پیش کئے تو گواہوں نے گواہی دے دی کہ اس حویلی میں اس کا راستہ ہے تو یہ شہادت جائز ہے اگر حویلی میں راستہ موجود نہیں پاتےکیونکہ جہالت وہاں شہادت کی قبولیت میں مانع ہوتی ہے جب وہ قضا کو متعذر بنادے جبکہ یہاں متعذر نہیں ہے کیونکہ بڑے دروازے کی چوڑائی سے راستے کا فاصلہ معلوم ہوسکتا ہے اھ مختصرا۔(ت)
اسی میں ہے:
قدمت ماھوا لاظھر الاشھر ۔ میں مشہور اور اظہر کو پہلے لاتا ہوں(ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
قدمہ قاضی خاں فکان ھوالمعتمد ۔ قاضی نے اس مسئلے کو پہلے ذکر کیا ہے لہذایہی قابل اعتماد ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے:
الاصح ان ھذہ الشہادۃ مقبولۃ علی کل حال کذافی المحیط ۔ یہ شہادت بہر صورت مقبول ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
اور یہاں طریق حکم واضح ہے جسے عنقریب بیان کریں گے ان شاء اﷲ تعالی ظاہر ہے کہ شہادت اس امر کے لئے درکار ہوتی ہے جس میں فریقین مختلف ہوں نہ کہ اس کے لئے جس میں اتفاق ہو ایك سو پندرہ روپے کے عوض زیور رہن رکھا جانا اور اس کا دو سو روپے بھر وزن میں ہونا مرتہن کو خود قبول ہے تو وزن پر شہادت کی اصلا حاجت نہ تھیاختلاف اس میں تھا کہ زیور چاندی کا تھا یا
اسی میں ہے:
قدمت ماھوا لاظھر الاشھر ۔ میں مشہور اور اظہر کو پہلے لاتا ہوں(ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
قدمہ قاضی خاں فکان ھوالمعتمد ۔ قاضی نے اس مسئلے کو پہلے ذکر کیا ہے لہذایہی قابل اعتماد ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے:
الاصح ان ھذہ الشہادۃ مقبولۃ علی کل حال کذافی المحیط ۔ یہ شہادت بہر صورت مقبول ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
اور یہاں طریق حکم واضح ہے جسے عنقریب بیان کریں گے ان شاء اﷲ تعالی ظاہر ہے کہ شہادت اس امر کے لئے درکار ہوتی ہے جس میں فریقین مختلف ہوں نہ کہ اس کے لئے جس میں اتفاق ہو ایك سو پندرہ روپے کے عوض زیور رہن رکھا جانا اور اس کا دو سو روپے بھر وزن میں ہونا مرتہن کو خود قبول ہے تو وزن پر شہادت کی اصلا حاجت نہ تھیاختلاف اس میں تھا کہ زیور چاندی کا تھا یا
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الدعوٰی باب الیمین رجل ادعی ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۱۱€
فتاوٰی قاضی خاں مقدمۃ الکتاب ∞نولکشور لکھنؤ ۱ /۲€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر∞ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۰۴€
فتاوٰی قاضی خاں مقدمۃ الکتاب ∞نولکشور لکھنؤ ۱ /۲€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر∞ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۰۴€
جرمن سلور کااس کی نسبت دونوں گواہوں نے بالاتفاق موافق دعوی شہادت ادا کی تویہ بینہ اس اقرار مرتہن سے مل کرثبوت دیتی ہے کہ چاندی کا زیور وزن میں دو سوروپے بھر(ما٭٭)کے عوض مرہون تھا اب طریق حکم میں کیا خفا ہے شہادتیں جب کہ موانع قبول نہ رکھیں مجوز پر لازم ہوا کہ دو سوروپے بھر نقرئی زیور(ما٭٭)لے کر راہن کو واپس دینا مرتہن پر لازم کرے اور اعداد زیور کا شہادت سے تحقیق نہ ہونا مانع حکم نہ ہوگا کہ جنس شیئ مدعی مع وزن وقدر زر رہن معلوم ہولی اسی قدر اس پر الزام حق کے لئے کافی ووافی ہےمعین الحکام ص ۱۴۴میں ہے:
لو قالوانشھد ان لہ علیہ دراہم لانعرف عدد ھا فھی ثلثۃوکذالو شھدواان علیہ دریھمات جعلت ثلثۃ ثم حلف علی شہادتھم لان الشہود قد بینوا بشھادتھم شیئا معلوما وھی الدراہم ویحلف مع شہادتھم لجواز ان یکون اکثر من ذلک ۔ اگر گواہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ اس کے دوسرے پر دراہم ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں تو تین درہم کا حکم ہوگا اور یونہی اگر انہوں نے دراہم کی جگہ دریہمات کہا یعنی جمع کی تصغیر بتائی تو بھی تین ہی ہونگےپھر قاضی اس شہادت کے ساتھ ساتھ مدعاعلیہ سے قسم لے گا(کہ اس سے زائد نہیں) کیونکہ گواہوں نے ایك معلوم چیزکی شہادت دی یعنی دراہم جس کی تعداد معلوم نہیںقسم اس لئے لی جائے گی کہ ہوسکتا ہے تعداد تین سے زیادہ ہوزائد کے انکار پر قسم ہوگی۔(ت)
دیکھو فقط اتنی شہادت پر کہ مدعا علیہ پر مدعی کے کچھ روپے ہیں یا تھوڑ ے سے درم ہیں حالانکہ گواہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گنتی نہیں معلوم کہ کتنے روپے آتے ہیں شرع نے گواہی مقبول رکھی اور اقل درجہ یعنی تین روپے لازم کئے اور اسے ایك شے معلوم پر شہادت دینا فرمایا یعنی روپے جس سے فقط جنس مدعی بہ کا علم ہوا نہ کہ عدد وزن مجموع کا جس کے علم سے گواہوں نے صاف انکار کردیاتو یہاں کہ شاہدوں نے جنس بھی بتائی کہ چاندی کا تھا اور مجموعی وزن بھی بتایا کہ دو سو روپے بھر تھا اور خود یہ مجموعی وزن فریقین کو تسلیم بھی ہےیہ کیونکر شہادت مجہولہ قرار پاکر رد ہوسکتی ہے۔غرض تنقیح اول کی تجویز سراسر غلط واقع ہوئیاس کے بعد فیصلے میں اور سخت بھاری غلطیاں ہوئیں جن کا اندازہ بھی دشوار ہےذی علم فاضل مجوز نے یہاں مدعی اور مدعا علیہ کی شناخث میں غور نہ کیا عوام کا خیال یا عرف یہ ہے کہ جو کچہری میں پہلے آکر نالشی ہو مطلقا وہی مدعی ہے اور جواب دینے والا مدعاعلیہ۔مگر شرع مطہر میں ہزار بار
لو قالوانشھد ان لہ علیہ دراہم لانعرف عدد ھا فھی ثلثۃوکذالو شھدواان علیہ دریھمات جعلت ثلثۃ ثم حلف علی شہادتھم لان الشہود قد بینوا بشھادتھم شیئا معلوما وھی الدراہم ویحلف مع شہادتھم لجواز ان یکون اکثر من ذلک ۔ اگر گواہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ اس کے دوسرے پر دراہم ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں تو تین درہم کا حکم ہوگا اور یونہی اگر انہوں نے دراہم کی جگہ دریہمات کہا یعنی جمع کی تصغیر بتائی تو بھی تین ہی ہونگےپھر قاضی اس شہادت کے ساتھ ساتھ مدعاعلیہ سے قسم لے گا(کہ اس سے زائد نہیں) کیونکہ گواہوں نے ایك معلوم چیزکی شہادت دی یعنی دراہم جس کی تعداد معلوم نہیںقسم اس لئے لی جائے گی کہ ہوسکتا ہے تعداد تین سے زیادہ ہوزائد کے انکار پر قسم ہوگی۔(ت)
دیکھو فقط اتنی شہادت پر کہ مدعا علیہ پر مدعی کے کچھ روپے ہیں یا تھوڑ ے سے درم ہیں حالانکہ گواہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گنتی نہیں معلوم کہ کتنے روپے آتے ہیں شرع نے گواہی مقبول رکھی اور اقل درجہ یعنی تین روپے لازم کئے اور اسے ایك شے معلوم پر شہادت دینا فرمایا یعنی روپے جس سے فقط جنس مدعی بہ کا علم ہوا نہ کہ عدد وزن مجموع کا جس کے علم سے گواہوں نے صاف انکار کردیاتو یہاں کہ شاہدوں نے جنس بھی بتائی کہ چاندی کا تھا اور مجموعی وزن بھی بتایا کہ دو سو روپے بھر تھا اور خود یہ مجموعی وزن فریقین کو تسلیم بھی ہےیہ کیونکر شہادت مجہولہ قرار پاکر رد ہوسکتی ہے۔غرض تنقیح اول کی تجویز سراسر غلط واقع ہوئیاس کے بعد فیصلے میں اور سخت بھاری غلطیاں ہوئیں جن کا اندازہ بھی دشوار ہےذی علم فاضل مجوز نے یہاں مدعی اور مدعا علیہ کی شناخث میں غور نہ کیا عوام کا خیال یا عرف یہ ہے کہ جو کچہری میں پہلے آکر نالشی ہو مطلقا وہی مدعی ہے اور جواب دینے والا مدعاعلیہ۔مگر شرع مطہر میں ہزار بار
حوالہ / References
معین الحکام الباب الحادی والعشرون مصطفی البا بی الحلبی ∞مصر ص۱۱۶€
اس کا عکس ہوجاتا ہے جو نالش لے کر آیا مدعا علیہ ٹھہرتا اور جواب دہندہ مدعی قرار پاتا ہے۔ولہذا علماء فرماتے ہیں کہ مدعی اور مدعا علیہ میں تمیز کرنی ایك سخت مہم ودشوار کام ہے جس میں غور کامل حاکم پر فرض تام ہے مثلا زید عمرو پر مدعی ہوا کہ اس پر میرے ہزار روپے قرض آتے ہیںعمرو نے جواب دیا میں ادا کرچکا ہوں اب عمرو مدعی ہے کہ ادائے دین کا دعوی کرتا ہے اور زید مدعی علیہ کہ انکار کرتاہےذی علم پر اس کے نظائر کا وفور مخفی نہیں یہاں جب کہ مرتہن نے دو سوروپے بھر وزن کا زیور رہن لے کر(٭٭)قرض دینے کا اقرار اور ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیا دار علی الخصوص دادستد والا ہندو ہر گز دو روپے کا مال رہن لے کر(ما ٭٭)قرض نہ دے گاہندوؤں کا تو عام قاعدہ ہے کہ برابر قیمت کازیور بھی ہر گز قبول نہیں کرتے جب تك مقدار دین سے ڈیوڑھا دونانہ ہوتوظاہر یہی ہے کہ وہ زیور ضرور چاندی کا تھا اور ضرور(٭٭)سے زیادہ قیمت کا تھا جب تو ہندو نے اس پر(ما ٭٭)دے دئے۔اب اس کا یہ ادعا کہ راہن نے مجھے دھوکا دے کر جرمن سلورکا زیور چاندی کا بتاکر(٭٭) مجھے سے لے لئے محض خلاف ظاہر ہے جو بے شہادت صحیحہ ہر گز قابل قبول نہیں ورنہ ہر شخص ہمیشہ ایسے ہی دھوکے کا ادعا کرکے لوگوں کا مال ہضم کرلیا کرے کہ آج کل شہادتوں کا معیار شرع پر ٹھیك اترنا بہت دشوار ہے خصوصا جہاں فضول وزوائد محض باتوں کے ذکر وعدم ذکر پر گواہیاں رد ہوتی ہوں تو معاملہ خود ان کی قسم پر آکر پڑے گا جو ایسے پیچ کریں انہیں قسم کھاتے کیا لگتا ہے اور اس فیصلہ موجودہ کا سافیصلہ ہوا تو قسم کی بھی حاجت نہیں یوں ہی مال ہضم ہےکیا شرع مطہر اسے گوارا کرسکتی ہے حاشا وکلاسخت عجب ہے کہ فاضل مجوز کو خود معلوم تھا کہ جرمن سلور کازیور بتانے میں مرتہن ہی شرعا مدعی ہوگیا اور راہن اس بارہ میں مدعا علیہ ہے جب تو اس تنقیح دوم کا بار ثبوت مرتہن پر رکھا تھاثبوت مدعی پر ہوتا ہے یا منکر پر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
البینۃ علی من ادعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر پر ہے۔(ت)
تو قطعا مانا کہ مرتہن مدعی ہے او رقطعاجانا کہ اس کا ثبوت دینا اس پر ہے اور صاف تصریح فرمائی کہ وہ اصلا ثبوت نہ دے سکا اور ظاہر ہے کہ راہن نے جرمن سلور ہونے کا اقرار نہ کیا نہ وہ اس پر قسم کھانے
البینۃ علی من ادعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر پر ہے۔(ت)
تو قطعا مانا کہ مرتہن مدعی ہے او رقطعاجانا کہ اس کا ثبوت دینا اس پر ہے اور صاف تصریح فرمائی کہ وہ اصلا ثبوت نہ دے سکا اور ظاہر ہے کہ راہن نے جرمن سلور ہونے کا اقرار نہ کیا نہ وہ اس پر قسم کھانے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرھن ∞۱/ ۲۴۲€ و جامع الترمذی ابواب الاحکام ∞۱ /۱۶۰،€سنن الدار قطنی باب فی المرأۃ تقتل اذاارتدت نشتر السنۃ ∞ملتان ۴ /۲۱۸،€السنن الکبرٰی کتاب الدعوٰی والبینات دار صادر بیروت ∞۱۰ /۲۵۲€
سے منکر ہوا تو بینہ اقرار نکول تینوں طریقے معدوماور محض اس مدعی یعنی مرتہن کے زبانی بیان جرمن سلور ہونا مقبولیوں ہوتو لوگوں کے جان و مال ہلاك و تلف ہوں۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو یعطی الناس بدعوھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ ۔ لوگ اگر اپنے دعوی پر دے دئے جائیں تو لوگوں کے خون اور مال کا دعوی کر بیٹھیں ہاں یوں ہے کہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔
او ریہیں سے ظاہر ہوا کہ روایت درمختار کو اس سے علاقہ نہیں وہ وہاں ہے کہ مرتہن خلاف ظاہر کا مدعی نہ ہو تو آپ ہی اس کا قول معتبر ہوگا کہ وہ قابض ہے یہاں خود مجوز کو اعتراف ہے کہ مرتہن امر خلاف ظاہر کا مدعی ہے جب تو تنقیح دوم میں لکھا تھا کہ ثبوت ذمہ مدعا علیہ ہےکیا جس کی بات ظاہر کے خلاف ہےاگر ادعائے خلاف ظاہر کی حالت کو بھی یہ روایت شامل ہوتو بنیوں کی ایك ایك دیا سلائی لاکھ لاکھ روپے کی ہوجائےزید نے کسی بنئے سے کچھ رہن رکھ کر لاکھ روپے قرض لئے جب وہ قرض ادا کرنے آئے بنیاد یا سلائی کی ایك ڈبیا دکھائے کہ یہ رہن رکھ کر لاکھ روپے مجھ سے لے گئے تھے مدیون گواہ پیش کرے ان میں کسی لفظ زائد و بیکار کے ذکر و ترك کا اختلاف پڑجائے جس سے عام شہادتوں کا خالی ہونا سخت ہی دشوار ہے گواہیاں تو یوں رد ہوگئیں اور اب قول مرتہن کا معتبر ہےحکم ہوجائے کہ راہن کو ڈگری دی گئی مگر کیسییوں کہ یہی دیا سلائی قابل نفاذ حکم ہے لاکھ روپے ادا کرکے دیا سلائی گھر کو لے جائےاس صورت کو باطل مانئے تو کیوںحالانکہ روایت درمختار کا اطلاق اسے بھی شامل ہے اس میں اسی قدر تو ہے کہ:
قال الراھن الرھن غیر ھذا وقال المرتھن بل ھذا ھو الذی رھنتہ عندی فالقول للمرتھن لانہ القابض ۔ یعنی راہن نے کہا مرہون اور چیز تھیمرتہن نے کہا بلکہ یہی تھیتو قول راہن کامعتبر ہے کہ وہ قابض ہے۔
لو یعطی الناس بدعوھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ ۔ لوگ اگر اپنے دعوی پر دے دئے جائیں تو لوگوں کے خون اور مال کا دعوی کر بیٹھیں ہاں یوں ہے کہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔
او ریہیں سے ظاہر ہوا کہ روایت درمختار کو اس سے علاقہ نہیں وہ وہاں ہے کہ مرتہن خلاف ظاہر کا مدعی نہ ہو تو آپ ہی اس کا قول معتبر ہوگا کہ وہ قابض ہے یہاں خود مجوز کو اعتراف ہے کہ مرتہن امر خلاف ظاہر کا مدعی ہے جب تو تنقیح دوم میں لکھا تھا کہ ثبوت ذمہ مدعا علیہ ہےکیا جس کی بات ظاہر کے خلاف ہےاگر ادعائے خلاف ظاہر کی حالت کو بھی یہ روایت شامل ہوتو بنیوں کی ایك ایك دیا سلائی لاکھ لاکھ روپے کی ہوجائےزید نے کسی بنئے سے کچھ رہن رکھ کر لاکھ روپے قرض لئے جب وہ قرض ادا کرنے آئے بنیاد یا سلائی کی ایك ڈبیا دکھائے کہ یہ رہن رکھ کر لاکھ روپے مجھ سے لے گئے تھے مدیون گواہ پیش کرے ان میں کسی لفظ زائد و بیکار کے ذکر و ترك کا اختلاف پڑجائے جس سے عام شہادتوں کا خالی ہونا سخت ہی دشوار ہے گواہیاں تو یوں رد ہوگئیں اور اب قول مرتہن کا معتبر ہےحکم ہوجائے کہ راہن کو ڈگری دی گئی مگر کیسییوں کہ یہی دیا سلائی قابل نفاذ حکم ہے لاکھ روپے ادا کرکے دیا سلائی گھر کو لے جائےاس صورت کو باطل مانئے تو کیوںحالانکہ روایت درمختار کا اطلاق اسے بھی شامل ہے اس میں اسی قدر تو ہے کہ:
قال الراھن الرھن غیر ھذا وقال المرتھن بل ھذا ھو الذی رھنتہ عندی فالقول للمرتھن لانہ القابض ۔ یعنی راہن نے کہا مرہون اور چیز تھیمرتہن نے کہا بلکہ یہی تھیتو قول راہن کامعتبر ہے کہ وہ قابض ہے۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب الیمین علی المدعی علیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۴€
درمختار کتاب الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
درمختار کتاب الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۷€
اس سے لاکھ روپے اور دیا سلائی کی ڈبیہ کا مسئلہ کیونکر خارج کیجئے گا۔رہن یہی تھی یا اور چیز تھی یہاں بھی صادق۔لاجرم ماننا پڑے گا کہ یہ اس صورت کو شامل نہیں جس میں مرتہن خلاف ظاہر ادعاکرے تو بعینہ یہی علت یہاں بھی ہےمرتہن خلاف ظاہر ہی کا مدعی ہوا ہے جب تو اس تنقیح کا بار ثبوت اس پر تھالاجرم عالمگیریہ میں فرمایا:
الظاہر یکذبہ(ای المرتھن)فیما قال فلا یقبل قولہ اذا جحد الراھن ذلك کذا فی المحیط ۔ ظاہر حال اس کو یعنی مرتہن کو جھوٹا قرار دیتا ہے لہذا اس کا قول معتبر نہ ہوگا جبکہ راہن اس کا انکار کررہا ہے محیط میں یونہی ہے۔(ت)
پھر اس سے بھی عجیب تر یہ ہے کہ اس روایت غیر متعلقہ کے بھی خلاف کیا گیا روایت میں قول مرتہن کیلئے مانا ہے اور قول کسی کا معتبر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس سے حلف لیاجائے گا اگرحلف کرے اس کا قول مقبول ہوخود فاضل مجوز کو اقرارہے کہ قول مرتہن معتبر ہے مگر بحلفصورت دائرہ میں بے حلف ہی اسی کا قول معتبر ہوگیا اور اس کا عذر یہ تحریر فرمایا کہ مدعی نے اس کے حلف کی استد عا نہ کیسبحان اﷲ اگر مدعی گواہ نہ دے سکے اور حلف مدعا علیہ کی خود استدعا بھی نہ کرے کہ ان کچہریوں میں یہ معمول کا لمنسوخ ہورہا ہے تو اب قاضی کو حکم ہےکہ بلا گواہ وبلا حلف خود بخود قول مدعا علیہ خلاف مدعی قبول کرکے فیصلہ دے دےفتاوی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرے گا اور وہ حجت گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت)
پھر لطف یہ کہ ساری بلا تو مدعی بیچارے کے سرپڑی کہ(٭٭)چہرہ دار دے کر دو روپے کا کھلونا لے لے اور نام یہ فرمایا گیا کہ مدعی کی ڈگری ہوئی۔بالجملہ اس فیصلہ کا منسوخ کرنا
الظاہر یکذبہ(ای المرتھن)فیما قال فلا یقبل قولہ اذا جحد الراھن ذلك کذا فی المحیط ۔ ظاہر حال اس کو یعنی مرتہن کو جھوٹا قرار دیتا ہے لہذا اس کا قول معتبر نہ ہوگا جبکہ راہن اس کا انکار کررہا ہے محیط میں یونہی ہے۔(ت)
پھر اس سے بھی عجیب تر یہ ہے کہ اس روایت غیر متعلقہ کے بھی خلاف کیا گیا روایت میں قول مرتہن کیلئے مانا ہے اور قول کسی کا معتبر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس سے حلف لیاجائے گا اگرحلف کرے اس کا قول مقبول ہوخود فاضل مجوز کو اقرارہے کہ قول مرتہن معتبر ہے مگر بحلفصورت دائرہ میں بے حلف ہی اسی کا قول معتبر ہوگیا اور اس کا عذر یہ تحریر فرمایا کہ مدعی نے اس کے حلف کی استد عا نہ کیسبحان اﷲ اگر مدعی گواہ نہ دے سکے اور حلف مدعا علیہ کی خود استدعا بھی نہ کرے کہ ان کچہریوں میں یہ معمول کا لمنسوخ ہورہا ہے تو اب قاضی کو حکم ہےکہ بلا گواہ وبلا حلف خود بخود قول مدعا علیہ خلاف مدعی قبول کرکے فیصلہ دے دےفتاوی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر وفتاوی خیریہ میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرے گا اور وہ حجت گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت)
پھر لطف یہ کہ ساری بلا تو مدعی بیچارے کے سرپڑی کہ(٭٭)چہرہ دار دے کر دو روپے کا کھلونا لے لے اور نام یہ فرمایا گیا کہ مدعی کی ڈگری ہوئی۔بالجملہ اس فیصلہ کا منسوخ کرنا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۹۲€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۲،€فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۱،€ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۳۸€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۲،€فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۱،€ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۳۸€
لازم ہے بلکہ اسے تو منسوخ کرنابھی کیا کہئے منسوخ تو وہ ہو جو کچھ وجود بھی رکھتا ہو نہ یہ کہ تجویز کہ اصلا کسی اصل شرعیعقلیعرفی سے لگاؤ نہیں رکھتی جس میں مرتہن کو کہ مدعی ہو لیامقبول القول مانا گیا اور وہ بھی ایسا کہ اس کی نری زبان بلا حلف مقبولنسأل اﷲ العفو والعافیۃ انصافا(ہم اﷲتعالی سے عفو و معافی کا سوال کرتے ہیں انصاف کے طور پر)یہاں طریق حکم یہ ہے کہ اگر گواہان راہن کی وہ دونوں شہادتیں بروجہ شرعی گزرچکی ہیں تو ان سے زیور نقرئی وزنی دو سوروپے بھر ہونا ضرور ثابت ہے۔مرتہن پر لازم کیا جائے کہ چاندی کا زیور اتنے وزن کا پیش کرے اگر وہ لے آئے اور اسی تفصیل کے مطابق ہو جوراہن نے بیان کی فبہااور اگر راہن کہے کہ یہ وہ زیور نہیں تو اب روایت درمختار اس مسئلہ سے متعلق ہوگی راہن تفصیل پر گواہ نہ لایا تو مرتہن سے حلف لےاگر وہ حلف کرے تو نقرئی دو سوروپے بھر کا زیور کہ مرتہن پیش کرے مرہون قرار پائے راہن(ماصہ عہ/)دے کر وہ چاندی کا زیور لے لےاور اگر مرتہن زیور نقرہ سے منکر ہی رہے تو یہ ٹھہرے گا کہ زیور اس نے تلف کردیا ایك سو پندرہ روپے بھر کے عوض تو مرتہن کا دین ساقط ہوگیا باقی(پچاسی صہ لہ)روپے بھر چاندی راہن کو واپس دے۔عالمگیری باب رہن الفضۃ بالفضۃ میں ہے:
یجوز رہن الدراہم والدنانیر فان رھنت بجنسہا فھلکت ھلکت بمثلھا من الدین وان اختلفا فی الجودۃ وھذا عند ابی حنیفۃرضی اﷲتعالی عنہ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دراہم ودیناروں کا رہن رکھنا جائز ہے تو اگر یہ بجنسہا رہن رکھے گئے ہوں تو ہلاك ہوجانے پر ان کی مثل لازم ہوگی اگرچہ دونوں فریق جید اور ردی ہونے میں اختلاف بھی کریں اور یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں ہے۔الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۸تا۸۹: ازریاست رام پور محلہ گھیر مردان خاں مرسلہ ضیاء الدین صاحب ۸ رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
سوال اول:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ہندہ دعویدار مہرکی پدر اپنے سے بقدر حصہ فرائض کے ہے اور پدر اس کا ابراء دین مہر کا مجیب ہے ثبوت ابراء دین مہر میں دو مرد او ر دو عورتیں پدر ہندہ نے گزرا نے ہیں جن کا حرف بحرف بیان نقل کرکے گزارش ہے کہ بروایات فقہیہ بیان شہود مشمولہ فتوی ثبوت ابراء دین مہر میں کافی ہے یا نہیں
یجوز رہن الدراہم والدنانیر فان رھنت بجنسہا فھلکت ھلکت بمثلھا من الدین وان اختلفا فی الجودۃ وھذا عند ابی حنیفۃرضی اﷲتعالی عنہ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دراہم ودیناروں کا رہن رکھنا جائز ہے تو اگر یہ بجنسہا رہن رکھے گئے ہوں تو ہلاك ہوجانے پر ان کی مثل لازم ہوگی اگرچہ دونوں فریق جید اور ردی ہونے میں اختلاف بھی کریں اور یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاں ہے۔الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۸تا۸۹: ازریاست رام پور محلہ گھیر مردان خاں مرسلہ ضیاء الدین صاحب ۸ رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
سوال اول:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ہندہ دعویدار مہرکی پدر اپنے سے بقدر حصہ فرائض کے ہے اور پدر اس کا ابراء دین مہر کا مجیب ہے ثبوت ابراء دین مہر میں دو مرد او ر دو عورتیں پدر ہندہ نے گزرا نے ہیں جن کا حرف بحرف بیان نقل کرکے گزارش ہے کہ بروایات فقہیہ بیان شہود مشمولہ فتوی ثبوت ابراء دین مہر میں کافی ہے یا نہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الرہن الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۷۳€
سوال دوم:ہندہ دعویدار اس امر کی ہے کہ میری ماں کا نکاح بتعداد مہر پچاس ہزار روپیہ بکر کے ساتھ ہوا ہے بکر سے بقدر حصہ فرائض دلادیا جائے بکر مجیب ہے کہ تعداد مہر مجھے یاد نہیں مگر والدہ ہندہ نے مہر مجھے معاف کردیا ابراء مہر کی شہادت بھی پیش کی لیکن شہادت مذکور عند العدالت کافی و مثبت نہ ہوئی ہندہ ثبوت تعداد مہر میں یہ کہتی ہے کہ مجھے ثبوت تعداد مہر کا اس وقت دینا تھا جب کہ مدعا علیہ یعنی بکر کمی بیشی تعداد مہر میں کلام کرتا بکر کو تعداد مستدعویہ سے اقرار و انکار نہیں بلکہ سکوت ہے صرف ابراء کا دعوی تھا جس کو ثابت نہ کرسکااب عندالشرع عدالت کو درصورت عدم ثبوت ابراء دین مہر ڈگری بحق مدعیہ باوجود نہ ثابت کرنے تعداد دین مہر کے دینی چاہئے یانہیںبینواتوجروا۔
بیانات متعلق سوال
بیان مرد اول کا:گواہی اﷲ کے واسطے دیتا ہوں کہ میں بکر کے یہاں بیٹھا تھا کہ عمرو بغرض فاتحہ پڑھنے کے آئے بعد فاتحہ کے عمرو نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ بکر کی بی بی نے اپنا مہر بخش دیا یا نہیں میرے سامنے زید برادربکرنے کہا کہ میرے اور کریم کے سامنے بخش دیا اور عمرو سے کہا کہ تم سب لوگ گواہ رہنا وقت ۱۲ بجے دن کے بعد کا تھا بکر کی بی بی کے مرنے کے دوسرے یا تیسرے روز کا یہ ذکر ہے خوب یاد نہیںسوال:عمرو نے دریافت کیا تھا کہ بکر کی بی بی نے مہر بخش دیا یا لڈن کی ماں نےمجھے یاد نہیں کہ کیا کہا تھا جس کے جواب میں زید نے کہا کہ مہر بخش دیازید نے اور بھی چند مرتبہ ہمارے روبرو بیان کیا کہ لڈن کی ماں نے مہر بخش دیا۔سوال:بکر کی بی بی کے انتقال کو کس قدر مدت گزریتخمینا اٹھارہ بیس سال ہوئے۔سوال منجانب بکر:کریم مسماۃ کے حقیقی بھائی تھےجواب:میں جہاں تك خیال کرتا ہوں حقیقی تھے۔
بیان دوسرے مرد کا:اﷲکو حاضر ناظرجان کر گواہی دیتا ہوں اﷲ کے واسطے یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں بعد مرنے محمد شفیع یعنی بکر کی بی بی کے میاں فیض اﷲ شاہ کی بیٹی کی فاتحہ کو گیا تھا میں نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ کریم کی بہنلڈن کی ماں نے مہر بکر کوبخش دیا زید اور کریم دونوں نے کہا لڈن کی ماں نے مہر معاف کردیا اور یہ کہا کہ اس بات پر گواہ رہنا اٹھارہ انیس سال کا عرصہ گزرا وقت دوپہر کا تھا یہ واقعہ مرنے سے دوسرے دن کا ہے۔
بیان عورت کا:عرصہ تخمینابیس سال کا گزرا کہ بکر کی بی بی نے اپنے خاوند بکر کو مہر بخش دیا تھا تین مرتبہ سوال کیا کہ کس کو بخشاجواب دیا بکر کو سوال مہر کی تعداد معلوم نہیں تعداد مہر کی بابت اس وقت ذکر میرے سامنے نہیں ہوا زبیدہ بکر کی بی بی تھیں مہر بخشنے سے دو روز بعد انتقال ہوگیا دق میں مبتلا تھیں
بیانات متعلق سوال
بیان مرد اول کا:گواہی اﷲ کے واسطے دیتا ہوں کہ میں بکر کے یہاں بیٹھا تھا کہ عمرو بغرض فاتحہ پڑھنے کے آئے بعد فاتحہ کے عمرو نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ بکر کی بی بی نے اپنا مہر بخش دیا یا نہیں میرے سامنے زید برادربکرنے کہا کہ میرے اور کریم کے سامنے بخش دیا اور عمرو سے کہا کہ تم سب لوگ گواہ رہنا وقت ۱۲ بجے دن کے بعد کا تھا بکر کی بی بی کے مرنے کے دوسرے یا تیسرے روز کا یہ ذکر ہے خوب یاد نہیںسوال:عمرو نے دریافت کیا تھا کہ بکر کی بی بی نے مہر بخش دیا یا لڈن کی ماں نےمجھے یاد نہیں کہ کیا کہا تھا جس کے جواب میں زید نے کہا کہ مہر بخش دیازید نے اور بھی چند مرتبہ ہمارے روبرو بیان کیا کہ لڈن کی ماں نے مہر بخش دیا۔سوال:بکر کی بی بی کے انتقال کو کس قدر مدت گزریتخمینا اٹھارہ بیس سال ہوئے۔سوال منجانب بکر:کریم مسماۃ کے حقیقی بھائی تھےجواب:میں جہاں تك خیال کرتا ہوں حقیقی تھے۔
بیان دوسرے مرد کا:اﷲکو حاضر ناظرجان کر گواہی دیتا ہوں اﷲ کے واسطے یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں بعد مرنے محمد شفیع یعنی بکر کی بی بی کے میاں فیض اﷲ شاہ کی بیٹی کی فاتحہ کو گیا تھا میں نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ کریم کی بہنلڈن کی ماں نے مہر بکر کوبخش دیا زید اور کریم دونوں نے کہا لڈن کی ماں نے مہر معاف کردیا اور یہ کہا کہ اس بات پر گواہ رہنا اٹھارہ انیس سال کا عرصہ گزرا وقت دوپہر کا تھا یہ واقعہ مرنے سے دوسرے دن کا ہے۔
بیان عورت کا:عرصہ تخمینابیس سال کا گزرا کہ بکر کی بی بی نے اپنے خاوند بکر کو مہر بخش دیا تھا تین مرتبہ سوال کیا کہ کس کو بخشاجواب دیا بکر کو سوال مہر کی تعداد معلوم نہیں تعداد مہر کی بابت اس وقت ذکر میرے سامنے نہیں ہوا زبیدہ بکر کی بی بی تھیں مہر بخشنے سے دو روز بعد انتقال ہوگیا دق میں مبتلا تھیں
دو گھڑی رات گئی تھی عورتیں تھیںمرد کوئی نہیںفقط ان کے بھائی موجود تھےخالد نے منجانب بکر دریافت کیا کہ زید اس وقت کہاں تھےکیا گھر میں موجود تھے
دوسری عورت کا بیان:گواہی دیتی ہوں اﷲکے واسطے میں بکر کے گھر ان کی بی بی کی دریافت حال کے واسطے گئی تھی بکرکی بیٹی نے ان سے کہا مہر کی بابت کیا کہتی ہوانہوں نے آنکھ کھولی اور کہا میں نے مہر بخش دیا اور میرے حقوق بھی ان سے بخشوا دیجیودو گھڑی رات گئی تھیکس قدر مرد تھےکوئی نہیں صرف عورتیں تھیںجس نے پہلے گواہی دی ہے یہ تھیںکہا موجود تھیمہر کے معاف کرنے سے دوروز بعد مرگئیں جس وقت مہر معاف کیا ہے اس وقت ہوش و حواس باقی تھے۔
الجواب:
(۱)بیانات شہود اربعہ نظر سے گزرے ان میں ایك بیان بھی اس قابل نہیں کہ اس کی جانب کچھ بھی التفات کیا جائے محض مہمل ومختل ہیں۔شہادت شہود ومشاہدہ وحضور معاینہ سے ہے دونوں مردوں میں کوئی خود اپنے سامنے زوجہ مدعا علیہ کا مہر معاف کرنا نہیں بیان کرتا بلکہ برادران زن و شو یا صرف برادر شوہر سے اپنا سننا بیان کرتے ہیں اور معافی مہران مسائل استثناء سے نہیں جن میں سماعی بات پر شہادت دینی جائز ہے۔ہدایہ میں ہے:
لایجوز للشاھدان یشھد بشیئ لم یعاینہ الا النسب والموت والنکاح والدخول و ولایۃ القاضی و ھذا استحسان والقیاس ان لاتجوز لان الشہادۃ مشتقۃ من المشاہدۃ وذلك بالمعاینۃ ولم یحصل فصار کالبیعوجہ الاستحسان ان ھذہ الامور تختص بمعاینۃ اسبابھا خواص من الناس ویتعلق بھا احکام تبقی علی انقضاء القرون فلو لم یقبل فیہا الشہادۃ بالتسامع گواہوں کو جائز نہیں کہ بغیر دیکھے کوئی گواہی دیں ماسوائے نسبموتنکاحدخول یعنی جماع اور قاضی کی ولایت کے یہ استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ ان امور میں بھی جائز نہ ہو کیونکہ لفظ شہادت مشاہدہ سے مشتق ہے اور یہ معاینہ سے ہی ہوسکتا ہے جبکہ یہاں معاینہ نہیں ہے لہذا یہ امور بھی دیگر معاملات بیع وغیرہ کی طرح ہوتے ہیںلیکن استحسان اس لئے کہ یہ امور اپنے اسباب کے معاینہ سے مختص ہوتے ہیں جن کا معاینہ خاص لوگ کرتے ہیں انہی اسباب کی بناء پر ان امور کے احکام زمانہ بھر باقی رہتے ہیں تو اگران میں سننے سنانے پر شہادت
دوسری عورت کا بیان:گواہی دیتی ہوں اﷲکے واسطے میں بکر کے گھر ان کی بی بی کی دریافت حال کے واسطے گئی تھی بکرکی بیٹی نے ان سے کہا مہر کی بابت کیا کہتی ہوانہوں نے آنکھ کھولی اور کہا میں نے مہر بخش دیا اور میرے حقوق بھی ان سے بخشوا دیجیودو گھڑی رات گئی تھیکس قدر مرد تھےکوئی نہیں صرف عورتیں تھیںجس نے پہلے گواہی دی ہے یہ تھیںکہا موجود تھیمہر کے معاف کرنے سے دوروز بعد مرگئیں جس وقت مہر معاف کیا ہے اس وقت ہوش و حواس باقی تھے۔
الجواب:
(۱)بیانات شہود اربعہ نظر سے گزرے ان میں ایك بیان بھی اس قابل نہیں کہ اس کی جانب کچھ بھی التفات کیا جائے محض مہمل ومختل ہیں۔شہادت شہود ومشاہدہ وحضور معاینہ سے ہے دونوں مردوں میں کوئی خود اپنے سامنے زوجہ مدعا علیہ کا مہر معاف کرنا نہیں بیان کرتا بلکہ برادران زن و شو یا صرف برادر شوہر سے اپنا سننا بیان کرتے ہیں اور معافی مہران مسائل استثناء سے نہیں جن میں سماعی بات پر شہادت دینی جائز ہے۔ہدایہ میں ہے:
لایجوز للشاھدان یشھد بشیئ لم یعاینہ الا النسب والموت والنکاح والدخول و ولایۃ القاضی و ھذا استحسان والقیاس ان لاتجوز لان الشہادۃ مشتقۃ من المشاہدۃ وذلك بالمعاینۃ ولم یحصل فصار کالبیعوجہ الاستحسان ان ھذہ الامور تختص بمعاینۃ اسبابھا خواص من الناس ویتعلق بھا احکام تبقی علی انقضاء القرون فلو لم یقبل فیہا الشہادۃ بالتسامع گواہوں کو جائز نہیں کہ بغیر دیکھے کوئی گواہی دیں ماسوائے نسبموتنکاحدخول یعنی جماع اور قاضی کی ولایت کے یہ استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ ان امور میں بھی جائز نہ ہو کیونکہ لفظ شہادت مشاہدہ سے مشتق ہے اور یہ معاینہ سے ہی ہوسکتا ہے جبکہ یہاں معاینہ نہیں ہے لہذا یہ امور بھی دیگر معاملات بیع وغیرہ کی طرح ہوتے ہیںلیکن استحسان اس لئے کہ یہ امور اپنے اسباب کے معاینہ سے مختص ہوتے ہیں جن کا معاینہ خاص لوگ کرتے ہیں انہی اسباب کی بناء پر ان امور کے احکام زمانہ بھر باقی رہتے ہیں تو اگران میں سننے سنانے پر شہادت
ادی الی الحرج وتعطیل الاحکام بخلاف البیع لانہ یسمعہ کل واحد ۔ قبول نہ کی جائے تو حرج اور احکام کی تعطیل تك معاملہ پہنچ جائے بخلاف بیع وغیرہ امو رکہ ان کو ہر ایك سنتا ہے۔(ت)
بزازیہ میں کہ دربارہ مہر شہادت سماعی کی اجازت دی اس کے معنی یہ ہیں کہ مقدار مہر پر حاضران جلسہ نکاح سے جماعت عظیم یا ثقہ عادل دو مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کے بیان سن کر گواہی دینی جائز ہے کہ جب نکاح پر شہادت بالتسامع رواہوئی تو مہر بھی اس کا تابع ہے نہ یہ کہ سنی سنائی معافی مہر پر شہادت جائز ہوعلما نے مہر کو گنا ہے نہ کہ معافی مہر کواور ان دونوں میں فرق بدیہی ہے درمختار میں ہے:
لایشھد احدبما لم یعاینہ بالاجماع الافی عشرۃ منھا العتق والولاء عند الثانی والمھر علی الاصح بزازیۃ الخ۔ کوئی بھی بغیر معاینہ شہادت نہ دے گا بالاجماعمگر صرف دس چیزوں میں جن میں عتقولاء اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے ہاں مہر بھی اصح قول کے مطابق شامل ہے بزازیہ الخ۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
لان المھر تبع للنکاح ذکرہ عبدالبر ۔ کیونکہ مہر نکاح کے تابع ہےاس کوا مام عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
لانہ من توابع النکاح فکان کاصلہ ۔ کیونکہ یہ نکاح کے توابع میں سے ہے لہذا اس کا وہی حکم ہے جو اصل کا ہے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
الشہادۃ بالسماع من الخارجین من بین جماعۃ حاضرین فی البیت عند النکاح نکاح والے کمرے سے نکلنے والے لوگوں سے سن کر ہی یہ شہادت جائز ومقبول ہے کہ مہر اتنا ہے دوسرے
بان المہر کذا تقبل لاممن سمع من غیرھم (بالمعنی)۔ لوگوں سے سن کر یہ شہادت جائز نہیں(بالمعنی)(ت)
بفرض باطل اگر یہاں شہادت بالسماع جائز بھی ہوتی تو جبکہ شاہدوں نے اپنی شہادت میں سماع ہونے کی تصریح کردی قابل قبول نہ رہیہدایہ میں ہے:
وینبغی ان یطلق اداء الشہادۃ ولایفسرامااذا فسر للقاضی انہ یشھد بالتسامع لم تقبل شہادتہ کماان معاینۃ الید فی الاملاك مطلق للشہادۃثم اذا فسر لاتقبل کذاھذا۔ مناسب ہے کہ گواہ شہادت کو مطلق رکھیں اور تفسیر نہ کریں اور اگر قاضی کے ہاں تفسیر کردی کہ میں سن کر شہادت دے رہاہوں تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی جیسا کہ قبضہ کا بیان املاك میں مطلق ہے پھر اگر کوئی اس کو بیان کردے کہ صرف قبضہ معلوم ہے ملکیت معلوم نہیں تو ملکیت میں یہ شہادت قبول نہ ہوگیاسی طرح یہاں ہے۔(ت)
بزازیہ میں کہ دربارہ مہر شہادت سماعی کی اجازت دی اس کے معنی یہ ہیں کہ مقدار مہر پر حاضران جلسہ نکاح سے جماعت عظیم یا ثقہ عادل دو مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کے بیان سن کر گواہی دینی جائز ہے کہ جب نکاح پر شہادت بالتسامع رواہوئی تو مہر بھی اس کا تابع ہے نہ یہ کہ سنی سنائی معافی مہر پر شہادت جائز ہوعلما نے مہر کو گنا ہے نہ کہ معافی مہر کواور ان دونوں میں فرق بدیہی ہے درمختار میں ہے:
لایشھد احدبما لم یعاینہ بالاجماع الافی عشرۃ منھا العتق والولاء عند الثانی والمھر علی الاصح بزازیۃ الخ۔ کوئی بھی بغیر معاینہ شہادت نہ دے گا بالاجماعمگر صرف دس چیزوں میں جن میں عتقولاء اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے ہاں مہر بھی اصح قول کے مطابق شامل ہے بزازیہ الخ۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
لان المھر تبع للنکاح ذکرہ عبدالبر ۔ کیونکہ مہر نکاح کے تابع ہےاس کوا مام عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
لانہ من توابع النکاح فکان کاصلہ ۔ کیونکہ یہ نکاح کے توابع میں سے ہے لہذا اس کا وہی حکم ہے جو اصل کا ہے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
الشہادۃ بالسماع من الخارجین من بین جماعۃ حاضرین فی البیت عند النکاح نکاح والے کمرے سے نکلنے والے لوگوں سے سن کر ہی یہ شہادت جائز ومقبول ہے کہ مہر اتنا ہے دوسرے
بان المہر کذا تقبل لاممن سمع من غیرھم (بالمعنی)۔ لوگوں سے سن کر یہ شہادت جائز نہیں(بالمعنی)(ت)
بفرض باطل اگر یہاں شہادت بالسماع جائز بھی ہوتی تو جبکہ شاہدوں نے اپنی شہادت میں سماع ہونے کی تصریح کردی قابل قبول نہ رہیہدایہ میں ہے:
وینبغی ان یطلق اداء الشہادۃ ولایفسرامااذا فسر للقاضی انہ یشھد بالتسامع لم تقبل شہادتہ کماان معاینۃ الید فی الاملاك مطلق للشہادۃثم اذا فسر لاتقبل کذاھذا۔ مناسب ہے کہ گواہ شہادت کو مطلق رکھیں اور تفسیر نہ کریں اور اگر قاضی کے ہاں تفسیر کردی کہ میں سن کر شہادت دے رہاہوں تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی جیسا کہ قبضہ کا بیان املاك میں مطلق ہے پھر اگر کوئی اس کو بیان کردے کہ صرف قبضہ معلوم ہے ملکیت معلوم نہیں تو ملکیت میں یہ شہادت قبول نہ ہوگیاسی طرح یہاں ہے۔(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الشہادات ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۵€۸
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات دارالمعرفہ بیروت ∞۳/ ۲۳۶€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۶۹€
جامع الفصولین الفصل الثانی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات دارالمعرفہ بیروت ∞۳/ ۲۳۶€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۶۹€
جامع الفصولین الفصل الثانی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۲€
درمختار میں ہے:
وان فسرالشاھد للقاضی ان شہادتہ بالتسامع او بمعاینۃ الید ردت علی الصحیح الا فی الوقف و الموت ۔ اگر قاضی کے ہاں گواہ نے تفسیر کردی میری شہادت سماع یا قبضہ پر مبنی ہے تو رد کردی جائے گی صحیح قول پرماسوائے موت اور وقف کے۔(ت)
ان دونوں شہادتوں کی حقیقت تو اس قدر ہے مگر شاہدین نے یہ چاہا کہ اپنی سماعی گواہی کو شہادۃ علی الشہادۃ کے دائرہ میں لے آئیں اور غالبا اسی لئے بیان اصول میں یہ لفظ ذکر کئے کہ تم لوگ گواہ رہنا تاکہ شرط تحمیل کریں لیکن ان سے بہت باتیں رہ گئیں جن کے سبب یہ مقصد بھی پورا نہ ہوا اور شہادت بدستور نا کارہ رہی
اولا:اصول یعنی برادران زن شو کا بیان شہادت نہیںحکایت ہے کہ ان کے بیانوں میں"گواہی دیتا ہوں"کالفظ نہیں تو یہ شہادت علی الحکایۃ ہوئی جس کا حاصل وہی شہادت بالتسامع ہے نہ کہ شہادۃ علی الشہادۃ۔درمختار میں ہے:
وان فسرالشاھد للقاضی ان شہادتہ بالتسامع او بمعاینۃ الید ردت علی الصحیح الا فی الوقف و الموت ۔ اگر قاضی کے ہاں گواہ نے تفسیر کردی میری شہادت سماع یا قبضہ پر مبنی ہے تو رد کردی جائے گی صحیح قول پرماسوائے موت اور وقف کے۔(ت)
ان دونوں شہادتوں کی حقیقت تو اس قدر ہے مگر شاہدین نے یہ چاہا کہ اپنی سماعی گواہی کو شہادۃ علی الشہادۃ کے دائرہ میں لے آئیں اور غالبا اسی لئے بیان اصول میں یہ لفظ ذکر کئے کہ تم لوگ گواہ رہنا تاکہ شرط تحمیل کریں لیکن ان سے بہت باتیں رہ گئیں جن کے سبب یہ مقصد بھی پورا نہ ہوا اور شہادت بدستور نا کارہ رہی
اولا:اصول یعنی برادران زن شو کا بیان شہادت نہیںحکایت ہے کہ ان کے بیانوں میں"گواہی دیتا ہوں"کالفظ نہیں تو یہ شہادت علی الحکایۃ ہوئی جس کا حاصل وہی شہادت بالتسامع ہے نہ کہ شہادۃ علی الشہادۃ۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الشہادات ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۵€۸
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲و۹۳€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲و۹۳€
کیفیتہا ان یقول الاصل مخاطبا للفرع اشھد علی شہادتی انی اشھد بکذا ۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ اصل گواہ فرع کو خطاب کرتے ہوئے کہے کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں تومیری اس گواہی پر گواہ بن جا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ انی اشھد بکذا قید بقولہ اشھد لانہ بدونہ لا یسعہ ان یشھد علی شہادتہ ۔ اس کا قول"انی اشھد بکذا"یہ س کے قول"اشھد"کے لئے قید ہے کیونکہ اس قید کے بغیروہ اپنی گواہی پر گواہ نہیں بنا سکتا۔(ت)
ہدایہ وطحطاوی میں ہے:
لابد ان یشھد عندہ کما یشھد عند القاضی لینقلہ الی مجلس القاضی وھو بالشین الثالثۃ ۔ اصل کےلئے ضروری ہے کہ فرع کے سامنے اس طرح شہادت دے جس طرح قاضی کےہاں شہادت دیتا تاکہ فرع اسی کو مجلس قضاء میں نقل کرسکے اس طرح کے تیسرے شین یعنی اصل کی شہادت کو دہرائے(ت)
ثانیا: اصل کافرع سے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری شہادت کا شاہد رہنا بردران زن وشو دونوں کے کلام میں شہادت پر اشہاد نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ تم سب لوگ گواہ رہنا یا یہ کہ اس بات پر گواہ رہنا یہ اس قدر کافی نہیں اور اس کی بناء پر جو شہادت علی الشہادت دی جائے مردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قید بقولہ اشھد علی شھادتی لانہ لو قال اشھد علی بذلك لم یجز لاحتمال ان یکون الاشہاد علی نفس الحق المشہود بہ فیکون امرابالکذب وبعلی لانہ لو قال بشھادتی لم یجز لاحتمال ان یکون امرابان یشھد اشھد بشھادتی(میری شہادت پر شہادت دے)کے ساتھ اس لئے مقید کیا کیونکہ اگر اس کی بجائے بذلک(اس امر کی)کہے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس میں احتمال رہے گا کہ اصل واقعہ پر گواہ بنارہاہے جو جھوٹ کہنے کا حکم قرار پائے گااور علی شہادتی(میری شہادت پر)سے مقید اس لئے
مثل شہادتہ بالکذب ۔ کیا کہ اگر"علی"کی بجائے"لشہادتی"لام کے ساتھ دے تو جائز نہیں کیونکہ احتمال رہے گا کہ اس کی شہادت جیسی شہادت دے جو کہ جھوٹ کا حکم قرار پائے گا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ انی اشھد بکذا قید بقولہ اشھد لانہ بدونہ لا یسعہ ان یشھد علی شہادتہ ۔ اس کا قول"انی اشھد بکذا"یہ س کے قول"اشھد"کے لئے قید ہے کیونکہ اس قید کے بغیروہ اپنی گواہی پر گواہ نہیں بنا سکتا۔(ت)
ہدایہ وطحطاوی میں ہے:
لابد ان یشھد عندہ کما یشھد عند القاضی لینقلہ الی مجلس القاضی وھو بالشین الثالثۃ ۔ اصل کےلئے ضروری ہے کہ فرع کے سامنے اس طرح شہادت دے جس طرح قاضی کےہاں شہادت دیتا تاکہ فرع اسی کو مجلس قضاء میں نقل کرسکے اس طرح کے تیسرے شین یعنی اصل کی شہادت کو دہرائے(ت)
ثانیا: اصل کافرع سے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری شہادت کا شاہد رہنا بردران زن وشو دونوں کے کلام میں شہادت پر اشہاد نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ تم سب لوگ گواہ رہنا یا یہ کہ اس بات پر گواہ رہنا یہ اس قدر کافی نہیں اور اس کی بناء پر جو شہادت علی الشہادت دی جائے مردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قید بقولہ اشھد علی شھادتی لانہ لو قال اشھد علی بذلك لم یجز لاحتمال ان یکون الاشہاد علی نفس الحق المشہود بہ فیکون امرابالکذب وبعلی لانہ لو قال بشھادتی لم یجز لاحتمال ان یکون امرابان یشھد اشھد بشھادتی(میری شہادت پر شہادت دے)کے ساتھ اس لئے مقید کیا کیونکہ اگر اس کی بجائے بذلک(اس امر کی)کہے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس میں احتمال رہے گا کہ اصل واقعہ پر گواہ بنارہاہے جو جھوٹ کہنے کا حکم قرار پائے گااور علی شہادتی(میری شہادت پر)سے مقید اس لئے
مثل شہادتہ بالکذب ۔ کیا کہ اگر"علی"کی بجائے"لشہادتی"لام کے ساتھ دے تو جائز نہیں کیونکہ احتمال رہے گا کہ اس کی شہادت جیسی شہادت دے جو کہ جھوٹ کا حکم قرار پائے گا۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۰€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۹۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۲۵۹€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۹۳€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۹۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۲۵۹€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۹۳€
اسی طرح حموی وطحطاوی وغیرہما میں ہے۔
ثالثا: شاہد دوم کا بیان یہ ہے کہ زید اور کریم دونوں نے یہ کہا کہ لڈن کی ماں نے مہر معاف کردیا اور یہ کہا کہ اس بات پر گواہ رہنا۔اس عبارت سے کچھ نہ کھلا اور یہ کہا کہ عطف"معاف کردیا"پر ہے یا"دونوں نے کہا"پربلکہ اول ہی قریب ہےاس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ عورت نے مہر معاف کیا اور لوگوں سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ رہناتو شاہد دوم کا بیان اس ٹوٹے پھوٹے بیان تحمیل سے بھی خالی ہے۔
بالجملہ وہ شہادتیں محض نامسموع ہیں۔رہیں عورتیںاول تو وہ تنہا رہ گئیں اور تنہا دو عورتوں کی گواہی بالاجماع مقبول نہیںپھر ان کے بیانوں میں خود جو تخالف اور مردوں کے بیان کی مخالفت ہےاس سب سے قطع نظر کیجئے تو ان کی شہادت صاف کہہ رہی ہے کہ یہ معافی مرض الموت میں ہوئی عورت دق میں مبتلا تھی یہ اس کی عیادت کو گئی تھیں اخیر وقت کی حالت تھی بیٹی نے پوچھا مہر کی بابت کیا کہتی ہوانہوں نے آنکھ کھولی اور کہا میں نے مہر بخش دیا اور میرے حقوق بھی ان سے بخشوادیجودو رو ز کے بعد انتقال ہوگیا اور مرض الموت میں معافی وصیت ہے کہ وارث کیلئے بے اجازت دیگر ورثہ نافذ نہیں۔ ردالمحتار میں ہے:
یعتبر حال العقد فی تصرف منجز فان کان فی الصحۃ فمن کل مالہ والافمن ثلثہوالمراد التصرف الذی ھو انشاء ویکون فیہ معنی التبرع وھبتہ ووصیتہ اھ مختصرا۔ فوری نافذ ہونے والے معاملہ میں اس کے اجراء کا حال معتبر ہے اگر یہ صحت میں ہوتو تمام مال میں نافذ ہوگا ورنہ تو ثلث میں نافذ ہوگا اور مراد وہ تصرف ہے جو بطور انشاء ہو اور اس میں تبرعہبہ یا وصیت کا معنی ہواھمختصرا(ت)
طحطاوی میں ہے:
ثالثا: شاہد دوم کا بیان یہ ہے کہ زید اور کریم دونوں نے یہ کہا کہ لڈن کی ماں نے مہر معاف کردیا اور یہ کہا کہ اس بات پر گواہ رہنا۔اس عبارت سے کچھ نہ کھلا اور یہ کہا کہ عطف"معاف کردیا"پر ہے یا"دونوں نے کہا"پربلکہ اول ہی قریب ہےاس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ عورت نے مہر معاف کیا اور لوگوں سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ رہناتو شاہد دوم کا بیان اس ٹوٹے پھوٹے بیان تحمیل سے بھی خالی ہے۔
بالجملہ وہ شہادتیں محض نامسموع ہیں۔رہیں عورتیںاول تو وہ تنہا رہ گئیں اور تنہا دو عورتوں کی گواہی بالاجماع مقبول نہیںپھر ان کے بیانوں میں خود جو تخالف اور مردوں کے بیان کی مخالفت ہےاس سب سے قطع نظر کیجئے تو ان کی شہادت صاف کہہ رہی ہے کہ یہ معافی مرض الموت میں ہوئی عورت دق میں مبتلا تھی یہ اس کی عیادت کو گئی تھیں اخیر وقت کی حالت تھی بیٹی نے پوچھا مہر کی بابت کیا کہتی ہوانہوں نے آنکھ کھولی اور کہا میں نے مہر بخش دیا اور میرے حقوق بھی ان سے بخشوادیجودو رو ز کے بعد انتقال ہوگیا اور مرض الموت میں معافی وصیت ہے کہ وارث کیلئے بے اجازت دیگر ورثہ نافذ نہیں۔ ردالمحتار میں ہے:
یعتبر حال العقد فی تصرف منجز فان کان فی الصحۃ فمن کل مالہ والافمن ثلثہوالمراد التصرف الذی ھو انشاء ویکون فیہ معنی التبرع وھبتہ ووصیتہ اھ مختصرا۔ فوری نافذ ہونے والے معاملہ میں اس کے اجراء کا حال معتبر ہے اگر یہ صحت میں ہوتو تمام مال میں نافذ ہوگا ورنہ تو ثلث میں نافذ ہوگا اور مراد وہ تصرف ہے جو بطور انشاء ہو اور اس میں تبرعہبہ یا وصیت کا معنی ہواھمختصرا(ت)
طحطاوی میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷€
والابراء والصدقۃ مثل ماذکر قھستانی ۔ اپنے حق سے کسی کو بری کرنا اور صدقہ بھی مذکور کی مثل ہوگاقہستانی۔(ت)
تو عورتوں کی شہادت بجائے نافع ہونے کے مدعی ابراء کو اور مضر ہے کہ وہ ابراء ہوا بھی تو ایسے وقت ہوا کہ بے اجازت مدعیہ مدعا علیہ کو مفید نہیںکلام یہاں ہنوز اور باقی ہے مگر اس قدر بھی وضوح میں کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ بکر اثبات ابراء نہ کر سکا حاکم ہندہ سے حلف لے اگر وہ حلف سے انکار کرے ابراء ثابت ہوجائیگا اور دعوی مدعیہ رد کردیا جائیگااور اگر حلف کرلے تو دعوی ابراء باطل ہوگیااب ہندہ کا دعوی مہر باقی ہے حاکم نظر کرے کہ پچاس ہزار کا مہر جس کا ہندہ دعوی کرتی ہے آیامادر ہندہ کے مہر مثل سے زائد تو نہیںاگر زائد نہ ہوتو ہندہ ہر گز محتاج گواہان نہیں کہ مقدار مہر مثل تك زن و وارثان زن کا بیان بے حاجت شہادت مقبول ہے کہ بوجہ موافقت مہر مثل ان کا قول موافق ظاہر ہے اور جس کا قول موافق ظاہر ہو وہ مدعا علیہ ہے اور جو مدعا علیہ ہے بار ثبوت اس پر نہیں اس کے مخالف پر ہے یہاں تك کہ اگر مہر مثل یا اس کے ورثہ کا شاہد ہو یعنی ان کے دعوی سے مساوی یا زائد ہو اورمرد کمی کا دعوی کرے اور فریقین گواہ دے دیں تو عورت کے گواہ مسموع بھی نہ ہوں گے کہ شہادت اثبات خفی کے لئے ہے نہ کہ اظہار ظاہر کے واسطےیہاں اگر بکر پچاس ہزار سے کم کسی مقدار کا تعین بتاتا تو وہ مدعی تھا اس سے گواہ مانگے جاتے اگر گواہان عادل سے مقدار اقل کا ثبوت دے دیتا تو ہندہ کو اسی قدر کا حصہ دلایا جاتا اور گواہ نہ دے سکتا تو ہندہ سے قسم لے کر اس کا دعوی ڈگری کردیا جاتا اس صورت میں پچاس ہزار کے گواہ نہ دے دیتی تو سن لئے جاتے کہ مدعی کی جانب گواہ نہ تھے اور اگر کوئی گواہ نہ دیتی او رقسم کھانے سے بھی انکار کرتی تو اسی مقدار اقل کا حصہ پاتی جس کا بکر مدعی ہوتا اب کہ بکر کمی کا دعوی بھی نہیں کرتا نہ اسے پچاس ہزار کے مقدار سے انکار ہےتوبیان ہندہ کہ شہادت مہر مثل سے روشن ہے صاف بے مزاحم ہے اور اسے پوری ڈگری پانے کا استحقاق ہےاور اگر مہر مثلا پچاس ہزار سے کم تھا تو اب ہندہ دربارہ زیادت ضرورمدعیہ ہوگیاور بکر کا کہنا کہ مجھے تعداد مہر یاد نہیں ہرگز جواب کافی وصحیح نہیں اسے یوں نہ چھوڑا جائے گا بلکہ حاکم اس سے سوال کرے آیا مہر پچاس ہزار کا بندھا تھااگر وہ کہے اتنا تھا تو کچھ کم کرکے پوچھے جو مقدار مہر مثل سے ہنوز زائد ہو ا گر وہ اس کی بھی نفی کرے تو اور گھٹا کر دریافت کرے یہاں تك کہ مقدار مہر مثل تك پہنچے اگر وہ اس کی بھی نفی کرے تو حاکم اس سے قسم لے اگروہ قسم
تو عورتوں کی شہادت بجائے نافع ہونے کے مدعی ابراء کو اور مضر ہے کہ وہ ابراء ہوا بھی تو ایسے وقت ہوا کہ بے اجازت مدعیہ مدعا علیہ کو مفید نہیںکلام یہاں ہنوز اور باقی ہے مگر اس قدر بھی وضوح میں کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ بکر اثبات ابراء نہ کر سکا حاکم ہندہ سے حلف لے اگر وہ حلف سے انکار کرے ابراء ثابت ہوجائیگا اور دعوی مدعیہ رد کردیا جائیگااور اگر حلف کرلے تو دعوی ابراء باطل ہوگیااب ہندہ کا دعوی مہر باقی ہے حاکم نظر کرے کہ پچاس ہزار کا مہر جس کا ہندہ دعوی کرتی ہے آیامادر ہندہ کے مہر مثل سے زائد تو نہیںاگر زائد نہ ہوتو ہندہ ہر گز محتاج گواہان نہیں کہ مقدار مہر مثل تك زن و وارثان زن کا بیان بے حاجت شہادت مقبول ہے کہ بوجہ موافقت مہر مثل ان کا قول موافق ظاہر ہے اور جس کا قول موافق ظاہر ہو وہ مدعا علیہ ہے اور جو مدعا علیہ ہے بار ثبوت اس پر نہیں اس کے مخالف پر ہے یہاں تك کہ اگر مہر مثل یا اس کے ورثہ کا شاہد ہو یعنی ان کے دعوی سے مساوی یا زائد ہو اورمرد کمی کا دعوی کرے اور فریقین گواہ دے دیں تو عورت کے گواہ مسموع بھی نہ ہوں گے کہ شہادت اثبات خفی کے لئے ہے نہ کہ اظہار ظاہر کے واسطےیہاں اگر بکر پچاس ہزار سے کم کسی مقدار کا تعین بتاتا تو وہ مدعی تھا اس سے گواہ مانگے جاتے اگر گواہان عادل سے مقدار اقل کا ثبوت دے دیتا تو ہندہ کو اسی قدر کا حصہ دلایا جاتا اور گواہ نہ دے سکتا تو ہندہ سے قسم لے کر اس کا دعوی ڈگری کردیا جاتا اس صورت میں پچاس ہزار کے گواہ نہ دے دیتی تو سن لئے جاتے کہ مدعی کی جانب گواہ نہ تھے اور اگر کوئی گواہ نہ دیتی او رقسم کھانے سے بھی انکار کرتی تو اسی مقدار اقل کا حصہ پاتی جس کا بکر مدعی ہوتا اب کہ بکر کمی کا دعوی بھی نہیں کرتا نہ اسے پچاس ہزار کے مقدار سے انکار ہےتوبیان ہندہ کہ شہادت مہر مثل سے روشن ہے صاف بے مزاحم ہے اور اسے پوری ڈگری پانے کا استحقاق ہےاور اگر مہر مثلا پچاس ہزار سے کم تھا تو اب ہندہ دربارہ زیادت ضرورمدعیہ ہوگیاور بکر کا کہنا کہ مجھے تعداد مہر یاد نہیں ہرگز جواب کافی وصحیح نہیں اسے یوں نہ چھوڑا جائے گا بلکہ حاکم اس سے سوال کرے آیا مہر پچاس ہزار کا بندھا تھااگر وہ کہے اتنا تھا تو کچھ کم کرکے پوچھے جو مقدار مہر مثل سے ہنوز زائد ہو ا گر وہ اس کی بھی نفی کرے تو اور گھٹا کر دریافت کرے یہاں تك کہ مقدار مہر مثل تك پہنچے اگر وہ اس کی بھی نفی کرے تو حاکم اس سے قسم لے اگروہ قسم
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الوصایا باب العتق فی المرض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/۳۲۸€
کھالے اور ہندہ اپنے دعوی کے گواہ نہ دے سکے تو حاکم صرف بقدر حصہ مہر مثل کے ہندہ کو ڈگری دے مثلا مہر مثل تیس ہزار ہے اور بکر نے اس کی بھی نفی کی اور قسم کھالی اور ہندہ نے پچاس ہزار کے گواہ نہ دئے تو ہندہ کو تیس ہزار کا حصہ دلایا جائے اور بکر قسم کھانے سے انکار کرے تو پورے پچاس ہزار کا۔اور اگر بکر سوال حاکم پر انکار اقرار کچھ نہ کرے یہی کہتا رہے کہ مجھے یا د نہیں توحاکم اسے جبر کرے کہ مقدار مہر بتائے اگر نہ مانے قید کرے یہاں تك کہ کسی مقدار کی تعیین کا مقر ہو اب اگر یہی پچاس ہزار قبول کئے تو ہندہ پوری ڈگری پائے اور اب بھی اسے اثبات مقدار کی حاجت نہ رہی اور اگر کم مانے تو حاکم نظر کرے کہ جو مقدار اس نے مانی عورت کے مہر مثل سے تو کم نہیں اگرکم نہ ہو تو اب مہر مثل بکر کا شاہد ہوگا او وہ خالص مدعا علیہ رہے گا اور بار ثبوت ہندہ پر آئے گا اگر گواہان عادل دے دے گی پورے دعوی کی ڈگری پائے گی اور اس صورت میں اگر بکر اقل کے گواہ بھی دے گا تو اسی وجہ سے جو اوپر جانب ہندہ میں مذکور ہوئی شاہدان ہندہ کے مقابل مسموع نہ ہونگے ہاں اگر ہندہ گواہ نہ لاسکی تو بکر کے گواہ سن لئے جائیں گے اور ہندہ مقدار اقل کا حصہ پائے گی اور دونوں گواہ نہ دے سکے تو بکر سے قسم لی جائے اگر قسم کھالے تو مقدار اقل کا حصہ ہندہ کو دلایا جائے قسم سے انکار کرے تو پھر بے حاجت گواہان پورادعوی ڈگری ہو اور اگر یہ مقدار کہ بکر نے مانی مہر مثل سے بھی کم ہے تو اب مہر مثل کسی کا شاہد نہیں اس لئے کہ دعوی بکر سے زائد اور دعوی ہندہ سے کم ہے اب ان میں جو گواہ دے دے گا اسی کا قول ثابت ہوگا اور دونوں گواہ دے دیں تو مہر مثل کے حصہ کی ڈگری دی جائے گی اور کوئی نہ دے سکے تو بکر سے قسم لی جائے اگر انکار کرے تو ہندہ کا پورا دعوی ڈگری ہو اور قسم کھالے تو ہندہ سے قسم لی جائے اگرانکار کرے تو حصہ اقل دلایا جائے اور وہ بھی قسم کھالے تو مہر مثلا کے حصہ کی ڈگری ہو۔یہ سب تفصیل اس صورت میں کہے کہ مادر ہندہ کا مہر مثل معلوم ہو اور اگر نہ معلوم ہو تو حاکم کو اختیار ہے چاہے ہندہ سے پچاس ہزار کے گواہ طلب کرے چاہے اپنے معتمدوں کے ذریعہ سے عورت کا مہر مثل تحقیق کرکے کارروائی بالا عمل میں لائے۔جامع الفصولین میں مختلفات امام ابی اللیث سے ہے:
ادعت الفامن مھر ھا علی ورثۃ زوجھا تصدق الی تمام مھر مثلہا عندح لان مھر المثل یحکم عندہ فمن شھد لہ فلہ القول ۔ اگر عورت نے خاوند کے ورثاء پر ایك ہزار مہر کا دعوی کیا تو مہر مثل کی مقدار تك عورت کی تصدیق کی جائیگی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے ہاںکیونکہ ان کے ہاں مہر مثل فیصل ہوتا ہےتو مہر مثل جس کی تائید کرے اس کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
ادعت الفامن مھر ھا علی ورثۃ زوجھا تصدق الی تمام مھر مثلہا عندح لان مھر المثل یحکم عندہ فمن شھد لہ فلہ القول ۔ اگر عورت نے خاوند کے ورثاء پر ایك ہزار مہر کا دعوی کیا تو مہر مثل کی مقدار تك عورت کی تصدیق کی جائیگی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے ہاںکیونکہ ان کے ہاں مہر مثل فیصل ہوتا ہےتو مہر مثل جس کی تائید کرے اس کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل العشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۹€
اسی میں عدہ سے ہے:
ادعت مھرا علی وارث الزوج وانکر وارثہ یوقف قدر مھر مثلہا ویقول القاضی لورثہ کان مھرھا کذا ام اعلی من ذلك لو قال لا قال کان کذادون ماقالہ فی المرۃ الاولی الی ان ینتھی الی مقدار مھر مثلھا ۔ عورت نے خاوند کے وارث پر مہر کا دعوی کیا اور وارث انکار کرتا ہے تو مہر مثل معلوم کرکے قاضی وارث سے مہر مثل سے زائد مقدار ووارث سے پوچھے گا کہ اس کا اتنا مہرہے یا اس سے زائد ہے اگر وارث انکار کرے تو پھر قاضی پہلے سے کم مقدار پوچھے حتی کہ مہر مثل تك پہنچ کر وارث سے سوال ختم کردے۔(ت)
درمختار میں ہے:
اختلفافی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لمن شھد لہ مھر المثل بیمینہ وای اقام بینۃ قبلت سواء شھد مہر المثل لہ اولہا اولا ولاوان اقاما البینۃ فبینتھا مقدمۃ ان شہد مھر المثل لہا لان البینات لاثبات خلاف الظاہر وان کان مھر المثل بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل برھانہ لانہ نوردعواہ و موت احدھما کحیاتھما فی الحکم ۔ نکاح کی موجودگی میں خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہو ا تو اس کی بات معتبر ہوگی جس کی تائید مہر مثل کریگا ساتھ قسم لیجائیگیجس نے گواہ پیش کئے اسکی بات تو مقبول ہوگی خواہ مہر مثل اس کا یا بیوی یا دونوں کا موید بنے یا کسی کا نہ بنے اگر خاوند اور بیوی دونوں گواہی پیش کریں تو بیوی کی گواہی کو ترجیح ہوگی اگر مہر مثل مرد کی تائید کرےاور مرد کی گواہی کو ترجیح ہوگی اگر مہر مثل بیوی کی تائید کرے کیونکہ گواہی سے ظاہر کا خلاف ثابت کیا جاتا ہے اور اگر مہر مثل دونوں کے دعووں کے درمیان ہوتو دونوں سے اپنے اپنے دعوی پر قسم لی جائے گیاگر دونوں نے قسم کھائی یا دونوں نے گواہی پیش کی تو قاضی مہر مثل پر فیصلہ کردے اور اگر صرف ایك نے اپنے دعوی پر گواہی پیش کی تو اسکی گواہی قبول کی جائے کیونکہ اس نے اپنے دعوی کو واضح کردیا اور دونوں میں سے ایك کی موت ہو تو دونوں کی حیات والا ہی حکم ہوگا۔(ت)
ادعت مھرا علی وارث الزوج وانکر وارثہ یوقف قدر مھر مثلہا ویقول القاضی لورثہ کان مھرھا کذا ام اعلی من ذلك لو قال لا قال کان کذادون ماقالہ فی المرۃ الاولی الی ان ینتھی الی مقدار مھر مثلھا ۔ عورت نے خاوند کے وارث پر مہر کا دعوی کیا اور وارث انکار کرتا ہے تو مہر مثل معلوم کرکے قاضی وارث سے مہر مثل سے زائد مقدار ووارث سے پوچھے گا کہ اس کا اتنا مہرہے یا اس سے زائد ہے اگر وارث انکار کرے تو پھر قاضی پہلے سے کم مقدار پوچھے حتی کہ مہر مثل تك پہنچ کر وارث سے سوال ختم کردے۔(ت)
درمختار میں ہے:
اختلفافی قدرہ حال قیام النکاح فالقول لمن شھد لہ مھر المثل بیمینہ وای اقام بینۃ قبلت سواء شھد مہر المثل لہ اولہا اولا ولاوان اقاما البینۃ فبینتھا مقدمۃ ان شہد مھر المثل لہا لان البینات لاثبات خلاف الظاہر وان کان مھر المثل بینھما تحالفا فان حلفا اوبرھنا قضی بہ وان برھن احدھما قبل برھانہ لانہ نوردعواہ و موت احدھما کحیاتھما فی الحکم ۔ نکاح کی موجودگی میں خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہو ا تو اس کی بات معتبر ہوگی جس کی تائید مہر مثل کریگا ساتھ قسم لیجائیگیجس نے گواہ پیش کئے اسکی بات تو مقبول ہوگی خواہ مہر مثل اس کا یا بیوی یا دونوں کا موید بنے یا کسی کا نہ بنے اگر خاوند اور بیوی دونوں گواہی پیش کریں تو بیوی کی گواہی کو ترجیح ہوگی اگر مہر مثل مرد کی تائید کرےاور مرد کی گواہی کو ترجیح ہوگی اگر مہر مثل بیوی کی تائید کرے کیونکہ گواہی سے ظاہر کا خلاف ثابت کیا جاتا ہے اور اگر مہر مثل دونوں کے دعووں کے درمیان ہوتو دونوں سے اپنے اپنے دعوی پر قسم لی جائے گیاگر دونوں نے قسم کھائی یا دونوں نے گواہی پیش کی تو قاضی مہر مثل پر فیصلہ کردے اور اگر صرف ایك نے اپنے دعوی پر گواہی پیش کی تو اسکی گواہی قبول کی جائے کیونکہ اس نے اپنے دعوی کو واضح کردیا اور دونوں میں سے ایك کی موت ہو تو دونوں کی حیات والا ہی حکم ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل العشرون ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۵۹€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۰۳۔۲۰۲€
درمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۰۳۔۲۰۲€
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لمن شھد لہ مھر المثل ای فیکون القول لھا ان کان مھر مثلھا کما قالت او اکثرولہ ان کان کماقال اواقل وان کان بینہماای اکثر مما قال واقل مما قالت ولابینۃ تحالفا ولزم مھر المثل کذا فی الملتقی وشرحہ قولہ وان کانھذا بیان لثالث الاقسامفانہ اذا لم یقیما البینۃ او اقاماھا قد یشھد مہر المثل لہ اولھا او یکون بینھما فقدم بیان القسمین الاولین فی المسألتینوھذابیان الثالثوقولہ فان حلفا راجع الی المسألۃ الاولی وقولہ اوبرھنا راجع الی الثانیۃ لکن کان علیہ حذف قولہ تحالفا لانہ اذبرھنا لاتحلفقولہ تحالفا فان نکلت المرأۃ وجب الف و اذانکل یقضی بالفین ماعرف ان ایھما نکل لزمہ دعوی الاخر۱ھ وصورۃ المسألۃ فیما اذاادعت الالفین وادعی ھو الالف و کان مھر المثل الفا و خمسائۃ قولہ قضی بہ ای بمھر المثل اھ مختصرا۔ ماتن کا قول"مہر مثل جس کی شہادت"یعنی بیوی کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اتنا ہو یا زائد ہو اور خاوند کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اس کے قول برابر ہو یا کم ہواگر دونوں کے درمیان ہو یعنی مرد کے دعوی سے زائد اور بیوی کے دعوی سے کم ہوتو گواہی نہ ہونے کی صورت میں دونوں سے قسم ہوگی او رمہر مثل لازم ہوگا۔ملتقی اور اس کی شرح میں یوں ہے ماتن کا قول"ان کان"یہ تیسری قسم کا بیان ہےتین قسمیں یہ ہیں:(۱)دونوں نے گواہی پیش نہ کی(۲)یا دونوں نے پیش کی اور مہر مثل کسی ایك کی تائید کرے(۳)یا مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہوتو ماتن نے پہلے دونوں مسئلوں میں پہلی دونوں قسموں کابیان بتایا اور اب یہ تیسرے کا بیان ہےاس کا قول"دونوں نے اگر قسم کھائی"یہ پہلے مسئلہ کا بیان اور اس کا قول"دونوں نے گواہی پیش کی"یہ دوسرے کا بیان ہے لیکن"دونوں قسم دیں"والے قول کو حذف کرنا مناسب تھا کیونکہ جب گواہی پیش کردیں تو قسم نہیں ہوگیاس کا قول"دونوں قسم دیں"تو عورت قسم سے انکار کرے تو خاوند کا دعوی ہزار کا واجب ہوگا اور اگر خاوند قسم سے انکار کرے تو عورت کا دو ہزار فیصلہ کن ہوگا جیساکہ معلوم ہوچکاکہ جب ایك قسم سے انکار کرے تو دوسرے کا دعوی ثابت ہوجاتا ہےیہاں مسئلہ کی صورت یہ ہےعورت کا دعوی دو ہزارمرد کا ایك ہزار جبکہ مہر مثل ڈیڑھ ہزار ہو اس کا قول"اس پر فیصلہ دے"یعنی مہر مثل پر اھ مختصرا۔(ت)
قولہ لمن شھد لہ مھر المثل ای فیکون القول لھا ان کان مھر مثلھا کما قالت او اکثرولہ ان کان کماقال اواقل وان کان بینہماای اکثر مما قال واقل مما قالت ولابینۃ تحالفا ولزم مھر المثل کذا فی الملتقی وشرحہ قولہ وان کانھذا بیان لثالث الاقسامفانہ اذا لم یقیما البینۃ او اقاماھا قد یشھد مہر المثل لہ اولھا او یکون بینھما فقدم بیان القسمین الاولین فی المسألتینوھذابیان الثالثوقولہ فان حلفا راجع الی المسألۃ الاولی وقولہ اوبرھنا راجع الی الثانیۃ لکن کان علیہ حذف قولہ تحالفا لانہ اذبرھنا لاتحلفقولہ تحالفا فان نکلت المرأۃ وجب الف و اذانکل یقضی بالفین ماعرف ان ایھما نکل لزمہ دعوی الاخر۱ھ وصورۃ المسألۃ فیما اذاادعت الالفین وادعی ھو الالف و کان مھر المثل الفا و خمسائۃ قولہ قضی بہ ای بمھر المثل اھ مختصرا۔ ماتن کا قول"مہر مثل جس کی شہادت"یعنی بیوی کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اتنا ہو یا زائد ہو اور خاوند کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اس کے قول برابر ہو یا کم ہواگر دونوں کے درمیان ہو یعنی مرد کے دعوی سے زائد اور بیوی کے دعوی سے کم ہوتو گواہی نہ ہونے کی صورت میں دونوں سے قسم ہوگی او رمہر مثل لازم ہوگا۔ملتقی اور اس کی شرح میں یوں ہے ماتن کا قول"ان کان"یہ تیسری قسم کا بیان ہےتین قسمیں یہ ہیں:(۱)دونوں نے گواہی پیش نہ کی(۲)یا دونوں نے پیش کی اور مہر مثل کسی ایك کی تائید کرے(۳)یا مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہوتو ماتن نے پہلے دونوں مسئلوں میں پہلی دونوں قسموں کابیان بتایا اور اب یہ تیسرے کا بیان ہےاس کا قول"دونوں نے اگر قسم کھائی"یہ پہلے مسئلہ کا بیان اور اس کا قول"دونوں نے گواہی پیش کی"یہ دوسرے کا بیان ہے لیکن"دونوں قسم دیں"والے قول کو حذف کرنا مناسب تھا کیونکہ جب گواہی پیش کردیں تو قسم نہیں ہوگیاس کا قول"دونوں قسم دیں"تو عورت قسم سے انکار کرے تو خاوند کا دعوی ہزار کا واجب ہوگا اور اگر خاوند قسم سے انکار کرے تو عورت کا دو ہزار فیصلہ کن ہوگا جیساکہ معلوم ہوچکاکہ جب ایك قسم سے انکار کرے تو دوسرے کا دعوی ثابت ہوجاتا ہےیہاں مسئلہ کی صورت یہ ہےعورت کا دعوی دو ہزارمرد کا ایك ہزار جبکہ مہر مثل ڈیڑھ ہزار ہو اس کا قول"اس پر فیصلہ دے"یعنی مہر مثل پر اھ مختصرا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۲۔۳۶۱€
فتاوی قاضی خاں و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
اذا ادعت مھرھا علی وارث زوجہا اکثر من مھر مثلھا ان کان الوارث مقر بالنکاح یقول لہ القاضی أکان مھرھا کذا اکثر من مھر مثلھا فان قال الوارث لا یقول القاضی أکان کذا یذکر مھر دون الاول لکنہ اکثر من مھر مثلھا ان قال لایقول لہ القاضی أکان کذا الی ان یاتی القاضی علی مقدار مھر المثلفبعد ذلك اذا قال الوارث لاالزمہ القاضی مقدار مھر المثل ویحلفہ علی الزیادۃ ھذا اذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یامر امناء بالسوال ممن یعلم او یکلفھا اقامۃ البینۃ علی ما تدعی ۔ جب عورت خاوند کے وارث پر مہر مثل سے زائد مہر کا دعوی کرے تو اگر وارث نکاح کا اقرار کرتا ہے تو قاضی کو چاہئے کہ وہ مہر مثل سے زائد کا وارث سے اقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو پھر پہلے سے کم کااقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو اور نیچے آئے اور جب قاضی مہر مثل پر آجائے اوراس پر بھی وارث انکار کردے تو قاضی مہر مثل کو اس پر واجب کردے اور زیادہ سے انکار پر اس سے قسم لےیہ جب ہے کہ قاضی مہر مثل معلوم کرچکا ہو ا اور اگر اسے مہر مثل کی مقدار معلوم نہیں تو قاضی کو چاہئے کہ وہ اہل کاروں کو حکم دے کہ وہ اس شخص سے پوچھیں جو اس عورت کے مہر مثل کی مقدار کو جانتا ہویا پھر عورت کو پابند بنائے کہ وہ اپنا مہر مثل ثابت کرنے کیلئے گواہ پیش کرے جو مقدار ثابت کریں(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
مات فادعت امرأتہ المسمی فقالت ورثتہ نعلم ان لك مھرا ولا نعلم قدرہ یجبرون علی البیان ومعنی الجبر ان یحبسواحتی یقر وابمقدارالمھر بقیام الورثۃ مقام الزوج ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خاوند فوت ہوا تو بیو ی نے مقررہ مہر کا دعوی کیا تو ورثاء نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تیرا مہر ہے لیکن ہمیں مقدار کا علم نہیں توان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مقدار بتائیںاور جبر کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مہر کی مقدار کے اقرار تك محبوس کیاجائےکیونکہ ورثاء خاوند کے قائم مقام ہیں۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
اذا ادعت مھرھا علی وارث زوجہا اکثر من مھر مثلھا ان کان الوارث مقر بالنکاح یقول لہ القاضی أکان مھرھا کذا اکثر من مھر مثلھا فان قال الوارث لا یقول القاضی أکان کذا یذکر مھر دون الاول لکنہ اکثر من مھر مثلھا ان قال لایقول لہ القاضی أکان کذا الی ان یاتی القاضی علی مقدار مھر المثلفبعد ذلك اذا قال الوارث لاالزمہ القاضی مقدار مھر المثل ویحلفہ علی الزیادۃ ھذا اذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یامر امناء بالسوال ممن یعلم او یکلفھا اقامۃ البینۃ علی ما تدعی ۔ جب عورت خاوند کے وارث پر مہر مثل سے زائد مہر کا دعوی کرے تو اگر وارث نکاح کا اقرار کرتا ہے تو قاضی کو چاہئے کہ وہ مہر مثل سے زائد کا وارث سے اقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو پھر پہلے سے کم کااقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو اور نیچے آئے اور جب قاضی مہر مثل پر آجائے اوراس پر بھی وارث انکار کردے تو قاضی مہر مثل کو اس پر واجب کردے اور زیادہ سے انکار پر اس سے قسم لےیہ جب ہے کہ قاضی مہر مثل معلوم کرچکا ہو ا اور اگر اسے مہر مثل کی مقدار معلوم نہیں تو قاضی کو چاہئے کہ وہ اہل کاروں کو حکم دے کہ وہ اس شخص سے پوچھیں جو اس عورت کے مہر مثل کی مقدار کو جانتا ہویا پھر عورت کو پابند بنائے کہ وہ اپنا مہر مثل ثابت کرنے کیلئے گواہ پیش کرے جو مقدار ثابت کریں(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
مات فادعت امرأتہ المسمی فقالت ورثتہ نعلم ان لك مھرا ولا نعلم قدرہ یجبرون علی البیان ومعنی الجبر ان یحبسواحتی یقر وابمقدارالمھر بقیام الورثۃ مقام الزوج ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خاوند فوت ہوا تو بیو ی نے مقررہ مہر کا دعوی کیا تو ورثاء نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تیرا مہر ہے لیکن ہمیں مقدار کا علم نہیں توان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مقدار بتائیںاور جبر کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مہر کی مقدار کے اقرار تك محبوس کیاجائےکیونکہ ورثاء خاوند کے قائم مقام ہیں۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الدعوٰی الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۰۶€
جامع الفصولین الفصل العشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۲€
جامع الفصولین الفصل العشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۲€
مسئلہ۹۰ تا۹۱:ازریاست جورہ ملك مالوہ محلہ شاہ گنج ڈاکخانہ کہنہ مرسلہ حضرت سید مقبول عیسی میاں صاحب ۲۵شعبان۱۳۲۶ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میں کہ زید ایك شخص متمول وصاحب ازواج و اولاد و املاك تھا اس کے انتقال کے بعدباہم بعد چند برس کے بابت تقسیم ایك مکان کے جس میں مرتے دم تك زید متوفی مع سب اولاد و ازواج کے رہتا تھا اور اسی مکان میں انتقال کیا تکرار پیدا ہوئی تا اینکہ ایك پسر نے بقدر اپنے حصہ کے تقسیم کراپانے نالش کی ایك سوتیلی بہن عذر دار جوابدہ ہوئی کہ یہ مکان میرے باپ زید نے اپنی زندگی میں میری ماں فرید بیگم کو ہبہ کیا ہے ہبہ نامہ ضائع ہوگیا اور قبضہ میری ماں کا وقت ہبہ ہوگیا اور بعد ماں کے میں قابض ہوں اور تین گواہ قبضہ کے پیش کئے جن کے بیان میں اختلاف کثیر ہے ایك کہتا ہے سات برس اور دوسرے کہتے ہیں بارہ تیرہ برس ہوئے اور پسر خواہندہ تقسیم کو ہبہ سے لاعلمی و انکار ہے اور گواہان پسر خواہندہ تقسیم کے بیان بمضمون واحد نسبت عدم ہبہ اور ہونے قبضہ جمیع ورثاء انتقال مورث سے آج تك مؤید دعوی خواندہ تقسیم ہے حالانکہ مکان مذکور میں دیگر ورثاء بھی اب تك سکونت رکھتے ہیں اور مستدعی تقسیم کا بھی کسی قدر اسباب اس مکان کی ایك کوٹھری میں اب تك رکھا تھا پس ایسی صورت میں قبضہ مشکور میں ازروئے شرع شریف ہبہ بحق مادر دختر بقول دختر بطور جائز متصور ہوسکتی ہے یا حالات صورت قبضہ سے ہبہ ناجائز ہوئی۔بینوا توجروا فقط۔
ملحض گواہی سید امیر شاہ:مکان متنازعہ کو رسول خاں مسماۃ صنوبر بیگم مدعا علیہا کو ہبہ کیا ہے جس کو عرصہ بہت ہو ایعنی چھ سات سال کا ہوا ہبہ کی تکمیل میرے رو برو ہوئی اور اس وقت دوسری زوجہ کو جو شامل رہتی تھی علیحدہ کرکے مسماۃ صنوبر بیگم مدعا علیہا کا تنہا قبضہ کرادیا تھا اور دوسر ی زوجہ کو پٹھان ٹولی کے مکان میں بود و باش کرادی گئی تھی بعد نوشت ہبہ نامہ۔
ملخص گواہی سلطان ولد نذر محمد خاں:رسول خاں جمعدار نے اپنی حیات میں مکان متنازعہ کو صنوبر بیگم کو ہبہ کیا تھا ہبہ تحریری ہوا تھا اور جمعداری صاحب کے دستخط بھی ہوئے تھے ہبہ نامہ تحریر ہونے کے بعد قبضہ دلادیا گیا تھا جمعدار نے قبضہ دلانے سے اول جو کچھ ان کا مال واسباب تھا چوکی میں بھیج دیا تھا۔مدعا علیہا نمبر۱ کو مدعاعلیہانمبر۲ نے اس مکان میں رکھا ہے خوشحال خاں مدعا علیہا نمبر۲ ان کی والدہ کی اجازت سے رہتے ہیں مکان کو ہبہ ہوئے تیرہ سال ہوئے ہوں گے جمعدار نے اپنے مرنے سے چھ سات اول ہبہ نامہ لکھا تھا تاریخ یاد نہیں مکان متنازعہ کا کوئی حصہ مدعی کے قبضہ میں نہیں ہے مدعی کی والدہ کا سامان بعد قبضہ کے علیحدہ کردیا میرے سامنے علیحدہ کردیا تھا بعد کو ہم نے دستخط ہبہ نامہ پر کئے تھے۔
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میں کہ زید ایك شخص متمول وصاحب ازواج و اولاد و املاك تھا اس کے انتقال کے بعدباہم بعد چند برس کے بابت تقسیم ایك مکان کے جس میں مرتے دم تك زید متوفی مع سب اولاد و ازواج کے رہتا تھا اور اسی مکان میں انتقال کیا تکرار پیدا ہوئی تا اینکہ ایك پسر نے بقدر اپنے حصہ کے تقسیم کراپانے نالش کی ایك سوتیلی بہن عذر دار جوابدہ ہوئی کہ یہ مکان میرے باپ زید نے اپنی زندگی میں میری ماں فرید بیگم کو ہبہ کیا ہے ہبہ نامہ ضائع ہوگیا اور قبضہ میری ماں کا وقت ہبہ ہوگیا اور بعد ماں کے میں قابض ہوں اور تین گواہ قبضہ کے پیش کئے جن کے بیان میں اختلاف کثیر ہے ایك کہتا ہے سات برس اور دوسرے کہتے ہیں بارہ تیرہ برس ہوئے اور پسر خواہندہ تقسیم کو ہبہ سے لاعلمی و انکار ہے اور گواہان پسر خواہندہ تقسیم کے بیان بمضمون واحد نسبت عدم ہبہ اور ہونے قبضہ جمیع ورثاء انتقال مورث سے آج تك مؤید دعوی خواندہ تقسیم ہے حالانکہ مکان مذکور میں دیگر ورثاء بھی اب تك سکونت رکھتے ہیں اور مستدعی تقسیم کا بھی کسی قدر اسباب اس مکان کی ایك کوٹھری میں اب تك رکھا تھا پس ایسی صورت میں قبضہ مشکور میں ازروئے شرع شریف ہبہ بحق مادر دختر بقول دختر بطور جائز متصور ہوسکتی ہے یا حالات صورت قبضہ سے ہبہ ناجائز ہوئی۔بینوا توجروا فقط۔
ملحض گواہی سید امیر شاہ:مکان متنازعہ کو رسول خاں مسماۃ صنوبر بیگم مدعا علیہا کو ہبہ کیا ہے جس کو عرصہ بہت ہو ایعنی چھ سات سال کا ہوا ہبہ کی تکمیل میرے رو برو ہوئی اور اس وقت دوسری زوجہ کو جو شامل رہتی تھی علیحدہ کرکے مسماۃ صنوبر بیگم مدعا علیہا کا تنہا قبضہ کرادیا تھا اور دوسر ی زوجہ کو پٹھان ٹولی کے مکان میں بود و باش کرادی گئی تھی بعد نوشت ہبہ نامہ۔
ملخص گواہی سلطان ولد نذر محمد خاں:رسول خاں جمعدار نے اپنی حیات میں مکان متنازعہ کو صنوبر بیگم کو ہبہ کیا تھا ہبہ تحریری ہوا تھا اور جمعداری صاحب کے دستخط بھی ہوئے تھے ہبہ نامہ تحریر ہونے کے بعد قبضہ دلادیا گیا تھا جمعدار نے قبضہ دلانے سے اول جو کچھ ان کا مال واسباب تھا چوکی میں بھیج دیا تھا۔مدعا علیہا نمبر۱ کو مدعاعلیہانمبر۲ نے اس مکان میں رکھا ہے خوشحال خاں مدعا علیہا نمبر۲ ان کی والدہ کی اجازت سے رہتے ہیں مکان کو ہبہ ہوئے تیرہ سال ہوئے ہوں گے جمعدار نے اپنے مرنے سے چھ سات اول ہبہ نامہ لکھا تھا تاریخ یاد نہیں مکان متنازعہ کا کوئی حصہ مدعی کے قبضہ میں نہیں ہے مدعی کی والدہ کا سامان بعد قبضہ کے علیحدہ کردیا میرے سامنے علیحدہ کردیا تھا بعد کو ہم نے دستخط ہبہ نامہ پر کئے تھے۔
ملحض گواہی عبدالمجید خاں:مدعا علیہا نمبر۲ کو جمعدار نے مکان متنازعہ ہبہ کردیا تھا اندازا بارہ سال کا عرصہ ہوا جب ہبہ نامہ لکھا گیا تھااس پر میری شہادت ہوئی تھی اس وقت مدعا علیہ نمبر۲ کا قبضہ بھی مکان متنازعہ پر کرادیا تھا جمعدار نے اس مکان کو خالی کرکے اپنا کل اسباب دوسرے مکان میں رکھوادیا اور مستورات کو بھی اس مکان سے علیحدہ کر دیا اور ہمارے سامنے جمعدار مذکور نے کہا کہ میں نے مدعاعلیھا کا قبضہ دلادیا ہے اور یہ مکان آپ کو دیا مدعا علیہ نمبر۲اس وقت موجود تھیں اور ان سے یہ سب جمعدار نے کہہ دیا تھا مدعا علیہا کو ہبہ نامہ سپرد کردیا تھا مکان متنازعہ میں اس وقت سوائے مدعا علیہا کے اور کوئی نہیں تھا اور کوئی ہو تو مجھ کو معلوم نہیں یہ مجھے معلوم نہیں کہ سوائے زوجہ خوشحال خاں وخوشحال خاں مدعا علیہا نمبر۲ اور کون کون مکان مذکور میں رہتا ہے مدعا علیہا نمبر ۲ کو جب دستاویز سنائی گئی توا س وقت مضمون سنا تھا مضمون ہہ نامہ کا یہ یاد ہے کہ یہ لکھاہوا تھا کہ اور سب کو تو حصہ دے دیا ہے تم کو اب یہ مکان ہبہ کیا جاتا ہے تم قبضہ کر لو جمعدار نے اردو میں اپنا نام لکھا تھا مجھے نہیں معلوم کہ زوجہ خوشحال خاں و خوشحال خاں مکان متنازعہ میں کس کی اجازت سے رہتے ہیں آیا مدعاعلیہا نمبر۲ نے اجازت دی ہے یانہیں۔
اعتراضات مفتی
سید امیر شاہ کی شہادت:معاینہ قبضہ مدعا علیہانمبر۲: اوپر مکان متنازعہ فیہ وقت ہبہ کرنے رسول خاں جمعدار کے مکان مذکور ہ کو یوں بیان کیا ہے کہ دوسرے زوجہ کو جو شامل رہتی تھی علیحدہ کرکے مسماۃ صنوبر بیگم کو تنہا قبضہ دلادیاہے اور رسول خاں کے اسباب سے مکان کو خالی کرنا نہیں بیان کیا ہے اورنہ رسول خاں کا خود علیحدہ ہونا اس مکان سے بیان کیا ہے حالانکہ تمامیت قبضہ کے لیے واھب کے اسباب مقبوضہ جو اس مکان موہوبہ میں رکھا ہوا ہو اور خود ذات واہب سے اس مکان موہوبہ کا خالی ہونا ضروری ہے ہبہ میں وقت قبضہ کے۔اور رسول خاں کا اسباب مقبوضہ اس مکان میں ہونا وقت ہبہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہے اورخود رہنا ان کا اس مکان میں سب کو ظاہر ہے اور بہرام خاں کی گواہی سے ثابت ہے کہ جمعدار مرنے تك اس مکان میں رہےسید امیر شاہ کی گواہی ہوئی اوپر معاینہ قبضہ ناقصہ کےلہذا انکی شہادت معتبر نہیں ہے۔
سلطان کی گواہی میں اوپر معاینہ قبضہ کے خود نکلنا رسول خاں کا مکان مذکورہ سے واسطے قبضہ دلانے کے بیان نہیں کیا اور یہ بیان کیا ہے کہ مدعی کی والدہ کاسامان بعد قبضہ کے علیحدہ کردیا تھا اس سے یہ معلوم ہوا کہ مدعی کی والدہ کا سامان قبضہ دلانے کے وقت اس مکان میں رکھا تھا بعد کو علیحدہ کیا گیا اور قبضہ کے وقت مکان موہوبہ مدعی کی والدہ کے سامان مقبوضہ کے ساتھ مشغول تھاتویہ بیان بھی
اعتراضات مفتی
سید امیر شاہ کی شہادت:معاینہ قبضہ مدعا علیہانمبر۲: اوپر مکان متنازعہ فیہ وقت ہبہ کرنے رسول خاں جمعدار کے مکان مذکور ہ کو یوں بیان کیا ہے کہ دوسرے زوجہ کو جو شامل رہتی تھی علیحدہ کرکے مسماۃ صنوبر بیگم کو تنہا قبضہ دلادیاہے اور رسول خاں کے اسباب سے مکان کو خالی کرنا نہیں بیان کیا ہے اورنہ رسول خاں کا خود علیحدہ ہونا اس مکان سے بیان کیا ہے حالانکہ تمامیت قبضہ کے لیے واھب کے اسباب مقبوضہ جو اس مکان موہوبہ میں رکھا ہوا ہو اور خود ذات واہب سے اس مکان موہوبہ کا خالی ہونا ضروری ہے ہبہ میں وقت قبضہ کے۔اور رسول خاں کا اسباب مقبوضہ اس مکان میں ہونا وقت ہبہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہے اورخود رہنا ان کا اس مکان میں سب کو ظاہر ہے اور بہرام خاں کی گواہی سے ثابت ہے کہ جمعدار مرنے تك اس مکان میں رہےسید امیر شاہ کی گواہی ہوئی اوپر معاینہ قبضہ ناقصہ کےلہذا انکی شہادت معتبر نہیں ہے۔
سلطان کی گواہی میں اوپر معاینہ قبضہ کے خود نکلنا رسول خاں کا مکان مذکورہ سے واسطے قبضہ دلانے کے بیان نہیں کیا اور یہ بیان کیا ہے کہ مدعی کی والدہ کاسامان بعد قبضہ کے علیحدہ کردیا تھا اس سے یہ معلوم ہوا کہ مدعی کی والدہ کا سامان قبضہ دلانے کے وقت اس مکان میں رکھا تھا بعد کو علیحدہ کیا گیا اور قبضہ کے وقت مکان موہوبہ مدعی کی والدہ کے سامان مقبوضہ کے ساتھ مشغول تھاتویہ بیان بھی
قبضہ ناقصہ کا ہوا لہذا یہ گواہی بھی معتبر نہیں۔
عبدالحمید خاں کی گواہی جو اوپر معاینہ قبضہ کی ہے اس میں یہ نقصان ہے کہ ذات رسول خاں سے خلو اس مکان کا نہیں بیان کیا ہے اور یہ بیان کیاہے کہ مکان متنازعہ میں اس وقت سوائے مدعا علیہا کے او رکوئی نہیں تھا اور کوئی ہوتو مجھے معلوم نہیںاس تقریر سے معلوم ہوتا ہےکہ عبدالمجید خاں کو پور ا علم مکان کے خالی ہونے کا نہ تھا تو یہ گواہی بھی قبضہ ناقصہ کی ہوئی۔جائز ہے کہ اس مکان میں اور کوئی ہو سوائے موہوب لہا کےاس کے ہونے کے سبب سے قبضہ موہوب لہا کا تام نہ ہوا اور عبدالمجید خاں کی گواہی جو اقرار واہب پر ہے اور ہمارے سامنے جمعدار مذکور نے کہا کہ میں نے مدعا علیہا نمبر۲ کو قبضہ دلادیا تو یہ گواہی اوپر اقرار قبضہ کے اور دونوں گواہوں سابق کی گواہی ہے اوپر معاینہ قبضہ کے اس اختلاف کے سبب سے یہ گواہی عبدالمجیدخاں کی مقبول نہیں ہے۔مثل اور خارجی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مدعا علیہا اول اور ان کے شوہر بہرام خاں قدیم سے اس مکان میں رہتے ہیں اور اپنے اموال اور اسباب کے قابض اور متصرف ہیں اس مکان میں اب بھی قبل بھی قابض اورمتصرف تھے اور مکان موہوب کا مشغول ہونا قبضہ موہوب لہا کے وقت ایسے اسباب کے ساتھ کہ موہوب لہا کے قبضہ میں نہ ہو دوسرے شخص کے قبضہ میں ہو مانع تمامیت قبضہ ہے اور کسی گواہ نے خلو مکان کا مدعاعلیہ نمبر۱ اور اس کے شوہر اور دونوں کے اسباب سے بیان نہیں کیا اس صورت میں بھی مشاہدہ قبضہ ناقصہ کا ہوا کہ مانع ہے تمامیت قبضہ کامکان موہوب اگر قبل از ہبہ موہوب لھا کے قبضہ تامہ میں فرض کیا جائے تو انعقاد عقدہبہ کے لیے صراحۃ قبول کرنا موہوب لہ کا ایجاب ہبہ کو چاہئےفقط قبضہ قائم مقام قبول نہ ہوگا اور عقد ہبہ منعقد نہ ہو گی اس صورت میں سب گواہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول خاں نے ہمارے سامنے مکان متنازعہ کو مدعاعلیھا نمبر۲ کو ہبہ کیا یہ تو ایجاب ہی ہے اور یہ کسی نے نہیں بیان کیا کہ مدعا علیہا نمبر۲ نے اس ہبہ کو قبول کیا یانہیںکیا تو ایجاب ہوئی بغیر قبول صریح کےتو اس صورت میں عقد ہبہ منعقد نہ ہوا تو وہ مکان ہبہ کے سبب سے مملوك موہوب لہا کا نہ ہواگواہان مذکورہ کی گواہی کے نقصانات سے اور مدعی کے متعدد گواہوں کے بیان سے کہ جمعدار کے اکثر اہل وعیال اور زوجات اس مکان متنازعہ فیہ حین حیات رسول خاں اور بعد ممات رسول خاں سب مشترك رہتے تھے اور اس مکان میں سب قابض تھے اور قبضہ تامہ جو شرط ہبہ ہے وہ متحقق نہیں ہوا تھا مسماۃ صنوبر بیگم کے واسطےلہذا میری رائے میں یہ آتا ہے کہ بابت مکان متنازعہ فیہ کا ہبہ مدعا علیہا نمبر۲ کو ثابت نہیں ہے۔مکان مذکور میرا ث کے طور پر وارثان رسول خاں پر تقسیم کیاجائے فقط دستخط مولوی محمد جمل۔
سوال دوم: زید نے مکان کا ہبہ بنام مسماۃ آفریدہ بیگم اپنی ایك زوجہ کے منجملہ ازواج لکھا ہبہ نامہ
عبدالحمید خاں کی گواہی جو اوپر معاینہ قبضہ کی ہے اس میں یہ نقصان ہے کہ ذات رسول خاں سے خلو اس مکان کا نہیں بیان کیا ہے اور یہ بیان کیاہے کہ مکان متنازعہ میں اس وقت سوائے مدعا علیہا کے او رکوئی نہیں تھا اور کوئی ہوتو مجھے معلوم نہیںاس تقریر سے معلوم ہوتا ہےکہ عبدالمجید خاں کو پور ا علم مکان کے خالی ہونے کا نہ تھا تو یہ گواہی بھی قبضہ ناقصہ کی ہوئی۔جائز ہے کہ اس مکان میں اور کوئی ہو سوائے موہوب لہا کےاس کے ہونے کے سبب سے قبضہ موہوب لہا کا تام نہ ہوا اور عبدالمجید خاں کی گواہی جو اقرار واہب پر ہے اور ہمارے سامنے جمعدار مذکور نے کہا کہ میں نے مدعا علیہا نمبر۲ کو قبضہ دلادیا تو یہ گواہی اوپر اقرار قبضہ کے اور دونوں گواہوں سابق کی گواہی ہے اوپر معاینہ قبضہ کے اس اختلاف کے سبب سے یہ گواہی عبدالمجیدخاں کی مقبول نہیں ہے۔مثل اور خارجی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مدعا علیہا اول اور ان کے شوہر بہرام خاں قدیم سے اس مکان میں رہتے ہیں اور اپنے اموال اور اسباب کے قابض اور متصرف ہیں اس مکان میں اب بھی قبل بھی قابض اورمتصرف تھے اور مکان موہوب کا مشغول ہونا قبضہ موہوب لہا کے وقت ایسے اسباب کے ساتھ کہ موہوب لہا کے قبضہ میں نہ ہو دوسرے شخص کے قبضہ میں ہو مانع تمامیت قبضہ ہے اور کسی گواہ نے خلو مکان کا مدعاعلیہ نمبر۱ اور اس کے شوہر اور دونوں کے اسباب سے بیان نہیں کیا اس صورت میں بھی مشاہدہ قبضہ ناقصہ کا ہوا کہ مانع ہے تمامیت قبضہ کامکان موہوب اگر قبل از ہبہ موہوب لھا کے قبضہ تامہ میں فرض کیا جائے تو انعقاد عقدہبہ کے لیے صراحۃ قبول کرنا موہوب لہ کا ایجاب ہبہ کو چاہئےفقط قبضہ قائم مقام قبول نہ ہوگا اور عقد ہبہ منعقد نہ ہو گی اس صورت میں سب گواہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول خاں نے ہمارے سامنے مکان متنازعہ کو مدعاعلیھا نمبر۲ کو ہبہ کیا یہ تو ایجاب ہی ہے اور یہ کسی نے نہیں بیان کیا کہ مدعا علیہا نمبر۲ نے اس ہبہ کو قبول کیا یانہیںکیا تو ایجاب ہوئی بغیر قبول صریح کےتو اس صورت میں عقد ہبہ منعقد نہ ہوا تو وہ مکان ہبہ کے سبب سے مملوك موہوب لہا کا نہ ہواگواہان مذکورہ کی گواہی کے نقصانات سے اور مدعی کے متعدد گواہوں کے بیان سے کہ جمعدار کے اکثر اہل وعیال اور زوجات اس مکان متنازعہ فیہ حین حیات رسول خاں اور بعد ممات رسول خاں سب مشترك رہتے تھے اور اس مکان میں سب قابض تھے اور قبضہ تامہ جو شرط ہبہ ہے وہ متحقق نہیں ہوا تھا مسماۃ صنوبر بیگم کے واسطےلہذا میری رائے میں یہ آتا ہے کہ بابت مکان متنازعہ فیہ کا ہبہ مدعا علیہا نمبر۲ کو ثابت نہیں ہے۔مکان مذکور میرا ث کے طور پر وارثان رسول خاں پر تقسیم کیاجائے فقط دستخط مولوی محمد جمل۔
سوال دوم: زید نے مکان کا ہبہ بنام مسماۃ آفریدہ بیگم اپنی ایك زوجہ کے منجملہ ازواج لکھا ہبہ نامہ
کی تحریر کے بعد مکان موہوبہ پر بدستور قبضہ واہب کاتاحیات واہب رہا یعنی واہب مع اپنے اطفال و ازواج کے مع اس زوجہ کے جس کے نام ہبہ لکھامرتے وقت تك اس مکان میں رہا بعد وفات زید ورثائے زید بالاجمال وبالاشتراك اس مکان پر قابض رہے اب وقت درخواست ہونے تقسیم مکان کے باہم شرکا کے وہ ہبہ ظاہر ہوکر ازروئے شرع شریف جائز ہوگی یا ناجائز قرار پائے گی۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اس مقدمہ میں تحقیق حکم شرعی تنقیح چند مسائل پر موقوف فنقول وباﷲ التوفیق(تو ہم کہتے ہیں اﷲ تعالی کی توفیق سے۔ت)
مسئلہ اولی:ہمارے مشائخ مذاہب رحمہم اﷲتعالی کو اختلاف ہے کہ قبول بھی مثل ایجاب رکن ہبہ ہے یانہیں
مشی علی الاول فی الکافی والکفایۃ والتنویر والدروھبۃ الھدایۃ وقال الاتقانی انہ قول الامام علاء الدین فی تحفۃ الفقہاء ومشی علی الثانی فی الحصر والمختلف و النہایۃ والدرایۃ والعنایۃ و العینی و عامۃ الشروح قال الاتقانی انہ قول الامام شیخ الاسلام خواہر زادہ فی مبسوطہ وبہ جزم فی کتاب الایمان من الھدایۃ و الکرمانی والتاویلات و محیط السرخسی۔ کافیکفایہتنویردر اور ہدایہ کے ہبہ میں اول کو اختیار کیااو راتقانی نے کہا کہ تحفۃ الفقہاء میں امام علاء الدین نے یہی فرمایا ہے اور حصرمختلفنہایہدرایہعنایہعینی اور عام شروح میں ثانی کو اختیار کیا۔اتقانی نے کہا کہ شیخ الاسلام خواہر زادہ نے مبسوط میں یہ فرمایا اور اسی پر ہدایہ کے کتاب الایمان میں اور کرمانی اور تاویلات او رمحیط سرخسی نے اعتماد کیا ہے۔(ت)
اور راجح ومعتمد ومفتی بہ یہ ہے کہ قبول رکن نہیں غایت یہ کہ شرط ثبوت ملك ہو پھر قبضہ کہ مجلس میں ہو اگرچہ بے اذن صریح واہب یا باذن واہب ہو اگر چہ بعد مدت وہ اس قول کا قائم مقام ہوجائیگا قول حق اور تحقیق یہ ہے کہ قبضہ بنفسہ شرط ثبوت ملك ہے اور وہی دلالت قبول بھی ہوجائے گارہا پیش از قبضہ حاجت اس قدر ہے کہ قبول کامنافی یعنی رد و امتناع نہ پایا جائےامام ملك العلماء ابوبکر مسعود کا شانی نے بدائع میں تصریح فرمائی کہ رکنیت قبول قول امام زفر وقیاس ہے اور استحسان عدم رکنیت ہے اور معلوم ہے کہ عمل ہمیشہ استحسان پر ہے الافی مسائل عدیدۃ لیست ھذہ
الجواب:
(۱)اس مقدمہ میں تحقیق حکم شرعی تنقیح چند مسائل پر موقوف فنقول وباﷲ التوفیق(تو ہم کہتے ہیں اﷲ تعالی کی توفیق سے۔ت)
مسئلہ اولی:ہمارے مشائخ مذاہب رحمہم اﷲتعالی کو اختلاف ہے کہ قبول بھی مثل ایجاب رکن ہبہ ہے یانہیں
مشی علی الاول فی الکافی والکفایۃ والتنویر والدروھبۃ الھدایۃ وقال الاتقانی انہ قول الامام علاء الدین فی تحفۃ الفقہاء ومشی علی الثانی فی الحصر والمختلف و النہایۃ والدرایۃ والعنایۃ و العینی و عامۃ الشروح قال الاتقانی انہ قول الامام شیخ الاسلام خواہر زادہ فی مبسوطہ وبہ جزم فی کتاب الایمان من الھدایۃ و الکرمانی والتاویلات و محیط السرخسی۔ کافیکفایہتنویردر اور ہدایہ کے ہبہ میں اول کو اختیار کیااو راتقانی نے کہا کہ تحفۃ الفقہاء میں امام علاء الدین نے یہی فرمایا ہے اور حصرمختلفنہایہدرایہعنایہعینی اور عام شروح میں ثانی کو اختیار کیا۔اتقانی نے کہا کہ شیخ الاسلام خواہر زادہ نے مبسوط میں یہ فرمایا اور اسی پر ہدایہ کے کتاب الایمان میں اور کرمانی اور تاویلات او رمحیط سرخسی نے اعتماد کیا ہے۔(ت)
اور راجح ومعتمد ومفتی بہ یہ ہے کہ قبول رکن نہیں غایت یہ کہ شرط ثبوت ملك ہو پھر قبضہ کہ مجلس میں ہو اگرچہ بے اذن صریح واہب یا باذن واہب ہو اگر چہ بعد مدت وہ اس قول کا قائم مقام ہوجائیگا قول حق اور تحقیق یہ ہے کہ قبضہ بنفسہ شرط ثبوت ملك ہے اور وہی دلالت قبول بھی ہوجائے گارہا پیش از قبضہ حاجت اس قدر ہے کہ قبول کامنافی یعنی رد و امتناع نہ پایا جائےامام ملك العلماء ابوبکر مسعود کا شانی نے بدائع میں تصریح فرمائی کہ رکنیت قبول قول امام زفر وقیاس ہے اور استحسان عدم رکنیت ہے اور معلوم ہے کہ عمل ہمیشہ استحسان پر ہے الافی مسائل عدیدۃ لیست ھذہ
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الھبہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۱۵،€فتح القدیر بحوالہ البدائع کتاب الھبہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/۴۸۰€
منھا(مگر متعدد مسائل میںجن میں سے یہ نہیں ہے۔ت)اور فتاوی قاضی خاں و نیز حاوی الفتاوی میں قبضۃ موہوب لہ بعد مجلس کو جب کہ باذن واہب ہو مثبت ملك ٹھہرایا اگرچہ موہوب لہ نے قبول کردم نہ کہا ہو او رصراحۃفرمایا:بہ ناخذ (ہم یہی اختیار کرتے ہیں۔ت)یہ لفظ اعاظم الفاظ افتاسے ہے کما فی الدر وغیرھا (جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے۔ت) قبضہ اگرچہ قائم مقام قبول ہے مگر قبول رکن ہوتا تو ماورائے مجلس پر موقوف نہ رہ سکتا:
لان الایجاب لفط واللفظ عرض والعرض لایبقی زمانین فلایکن ارتباط القبول بہ الااذا تحقق فی مجلسہ لان الشرع جعل المجلس جامعا للکلمات۔ کیونکہ ایجاب لفظ ہے او رلفظ عرض ہے اور عرض دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا لہذا قبول کا اس سے ربط نہ ہوگا مگر جبکہ وہ اسی مجلس میں متحقق ہو کیونکہ شریعت نے مجلس کو متفرقات کا جامع قرار دیا ہے۔(ت)
خود ہدایہ ودرمختار وغیرہما عامہ کتب میں تصریح فرمائی کہ اگر زید نے قسم کھائی ہبہ نہ کروں گا پھر عمرو سے کہا یہ شیئ میں نے تجھے ہہ کی اور عمرو نے ہبہ قبول نہ کیا قسم ٹوٹ گئی کہ ہبہ فقط اس کے ایجاب سے متحقق ہوگیا اگرچہ عمرو نے قبول نہ کیا اور اگر قسم کھائی کہ نہ بیچے گا پھر عمرو سے کہا میں نے یہ شے تیرے ہاتھ بیچی اور عمرو نے قبول نہ کیا قسم نہ ٹوٹی کہ بیع بے ایجاب و قبول دونوں کے متحقق نہ ہوگی تو بے قبول مشتری بیچنا صادق نہ آیا۔یہ تیسری وجہ اس قول کی ترجیح کی ہے کہ عام کتب معتمدہ حتی کہ ان میں بھی جو رکنیت کی تصریح کرتی تھیں یہ مسئلہ یونہی مسطور ہے جس سے عدم رکنیت روشن ومنصور ہے
اما تعلیل الکفایۃ والکافی الحنث فی الھبۃ بانہ اتی بما ھو مقدورھا والیمین انما تنسحب علی ماھو فعلہ و لیس الا الایجاب فمنقوض بعدم الحنث فی البیع کما لایخفی فانہ ثمہ ایضا لایقدر ہبہ کی حنث کی بحث میں کفایہ اور کافی کا یہ علت بیان کرنا کہ وہ اپنا مقدور ہی بجا لاسکتا ہے جبکہ قسم اس کے فعل پر ہی مرتب ہوتی ہے اور صر ف ایجاب ہی اس کا فعل ہےیہ علت بیع میں عدم حنث کی وجہ سے سالم نہیں رہے گی جیسا کہ مخفی
لان الایجاب لفط واللفظ عرض والعرض لایبقی زمانین فلایکن ارتباط القبول بہ الااذا تحقق فی مجلسہ لان الشرع جعل المجلس جامعا للکلمات۔ کیونکہ ایجاب لفظ ہے او رلفظ عرض ہے اور عرض دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا لہذا قبول کا اس سے ربط نہ ہوگا مگر جبکہ وہ اسی مجلس میں متحقق ہو کیونکہ شریعت نے مجلس کو متفرقات کا جامع قرار دیا ہے۔(ت)
خود ہدایہ ودرمختار وغیرہما عامہ کتب میں تصریح فرمائی کہ اگر زید نے قسم کھائی ہبہ نہ کروں گا پھر عمرو سے کہا یہ شیئ میں نے تجھے ہہ کی اور عمرو نے ہبہ قبول نہ کیا قسم ٹوٹ گئی کہ ہبہ فقط اس کے ایجاب سے متحقق ہوگیا اگرچہ عمرو نے قبول نہ کیا اور اگر قسم کھائی کہ نہ بیچے گا پھر عمرو سے کہا میں نے یہ شے تیرے ہاتھ بیچی اور عمرو نے قبول نہ کیا قسم نہ ٹوٹی کہ بیع بے ایجاب و قبول دونوں کے متحقق نہ ہوگی تو بے قبول مشتری بیچنا صادق نہ آیا۔یہ تیسری وجہ اس قول کی ترجیح کی ہے کہ عام کتب معتمدہ حتی کہ ان میں بھی جو رکنیت کی تصریح کرتی تھیں یہ مسئلہ یونہی مسطور ہے جس سے عدم رکنیت روشن ومنصور ہے
اما تعلیل الکفایۃ والکافی الحنث فی الھبۃ بانہ اتی بما ھو مقدورھا والیمین انما تنسحب علی ماھو فعلہ و لیس الا الایجاب فمنقوض بعدم الحنث فی البیع کما لایخفی فانہ ثمہ ایضا لایقدر ہبہ کی حنث کی بحث میں کفایہ اور کافی کا یہ علت بیان کرنا کہ وہ اپنا مقدور ہی بجا لاسکتا ہے جبکہ قسم اس کے فعل پر ہی مرتب ہوتی ہے اور صر ف ایجاب ہی اس کا فعل ہےیہ علت بیع میں عدم حنث کی وجہ سے سالم نہیں رہے گی جیسا کہ مخفی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ حاوی الفتاوی کتاب الہبہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۳۷۷،€فتاوٰی قاضی خاں کتاب الہبۃ∞ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۶۹۶€
درمختار مقدمہ کتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵€
درمختار مقدمہ کتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵€
الا علی الایجاب ولا یحنث بہ فیہ وفاقا ۔ نہیںکیونکہ یہاں بھی وہ صرف ایجاب پر قادر ہے حالانکہ اس میں بالاتفاق ایجاب سے حنث نہیں ہے(ت)
نتائج الافکار میں ہے:
فی البدائع اما رکن الھبۃ فھو الایجاب من الواھب فاما القبول من الموھوب لہ فلیس برکن استحسانا والقیاس ان یکون رکنا وھو قول زفر وفی قول قال القبض ایضا رکن الخ۔ بدائع میں ہے لیکن ہبہ میں رکن وہ واہب کا ایجاب ہے جبکہ موہوب لہ کا قبول کرنا استحسانا رکن نہیں ہے حالانکہ قیاس اس کے رکن ہونے کا مقتضی ہے امام زفر رحمہ اﷲ تعالی کے ایك قول میں ہے کہ قبضہ بھی رکن ہے الخ۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لو قال وھبت منك ھذاالعبد والعبد حاضر فقبضہ جازت الھبۃ وان لم یقل قبلت کذافی الملتقطولو کان العبد غائبا فقال لہ وھبت منك عبدی فلانا فاذھب واقبضہ فقبضہ جاز وان لم یقل قبلت وبہ ناخذ کذافی الحاوی للفتاوی ۔ اگر کسی نے کہا میں نے تجھے یہعبد حاضر ہبہ کیا تو اس نے قبضہ کرلیا تو ہبہ جائز ہوجائیگا اگرچہ موہوب لہ نے قبول کرنے کا قول نہ کیا ہوملتقط میں یوں ہے اور اگر عبد غائب ہوتو یوں کہا کہ میں نے اپنا فلاں عبد تجھے ہبہ کیا تو جاکر قبضہ کرلے اس نے قبضہ کرلیا تو ہبہ جائز ہوگا اگرچہ موہب لہ نے "میں نے قبول کیا"نہ کہا ہوہم نے اسی کو اختیار کیا ہے حاوی للفتاوی میں یونہی ہے۔(ت)
اسی طرح فتاوی امام اجل قاضی خاں میں ہے۔
اقول:وبما قررنا ظھر مافی اقول:(میں کہتا ہوں)ہم نے جو تقریرکی اس سے
نتائج الافکار میں ہے:
فی البدائع اما رکن الھبۃ فھو الایجاب من الواھب فاما القبول من الموھوب لہ فلیس برکن استحسانا والقیاس ان یکون رکنا وھو قول زفر وفی قول قال القبض ایضا رکن الخ۔ بدائع میں ہے لیکن ہبہ میں رکن وہ واہب کا ایجاب ہے جبکہ موہوب لہ کا قبول کرنا استحسانا رکن نہیں ہے حالانکہ قیاس اس کے رکن ہونے کا مقتضی ہے امام زفر رحمہ اﷲ تعالی کے ایك قول میں ہے کہ قبضہ بھی رکن ہے الخ۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لو قال وھبت منك ھذاالعبد والعبد حاضر فقبضہ جازت الھبۃ وان لم یقل قبلت کذافی الملتقطولو کان العبد غائبا فقال لہ وھبت منك عبدی فلانا فاذھب واقبضہ فقبضہ جاز وان لم یقل قبلت وبہ ناخذ کذافی الحاوی للفتاوی ۔ اگر کسی نے کہا میں نے تجھے یہعبد حاضر ہبہ کیا تو اس نے قبضہ کرلیا تو ہبہ جائز ہوجائیگا اگرچہ موہوب لہ نے قبول کرنے کا قول نہ کیا ہوملتقط میں یوں ہے اور اگر عبد غائب ہوتو یوں کہا کہ میں نے اپنا فلاں عبد تجھے ہبہ کیا تو جاکر قبضہ کرلے اس نے قبضہ کرلیا تو ہبہ جائز ہوگا اگرچہ موہب لہ نے "میں نے قبول کیا"نہ کہا ہوہم نے اسی کو اختیار کیا ہے حاوی للفتاوی میں یونہی ہے۔(ت)
اسی طرح فتاوی امام اجل قاضی خاں میں ہے۔
اقول:وبما قررنا ظھر مافی اقول:(میں کہتا ہوں)ہم نے جو تقریرکی اس سے
حوالہ / References
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار کتاب الہبہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۴۸۰€
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار کتاب الہبہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۴۸۰€
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فیما یجوزمن الہبۃ ومالایجوز ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الہبہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۶€
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار کتاب الہبہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۴۸۰€
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فیما یجوزمن الہبۃ ومالایجوز ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الہبہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۶€
المحیط من انہ لایشترط فی الہبۃ القبول وان استشکلہ فی البحر وذلك لانہ ان ارید خصوص القبول بالقول فغیر لازم قطعا وان اکتفی بالقبول دلالۃ فاشتراط القبض مغن عنہ فانہ یدل علیہ فلا یکون شرطا بحیالہ نعم یشترط ان لایوجد منافیہ کما اشرنا الیہ۔ محیط میں بیان کردہ یہ بات واضح ہوگئی کہ ہبہ میں قبول کرنا شرط نہیں ہے اگرچہ بحر میں اس پر اشکال کیاہےیہ اس لئے کہ اگر قبول سے مراد خاص زبانی قبول کا لفظ کہنا مراد ہو تو یہ قطعا ضروری نہیں ہے اور اگر دلالۃ قبول کرنا مراد ہے تو قبضہ کی شرط اس کو کافی ہے کیونکہ قبضہ قبول کرنے پر دال ہے لہذاہبہ میں قبول کرنا کسی طرح شرط نہ ہوگاہاں یہ شرط ضرور ہے کہ وہاں قبولیت کے منافی کوئی چیز نہ پائی جائے جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے۔(ت)
شرعاوعقلا وعرفا جب تك مالك مکان خود مکان میں ہو اسی کا قبضہ ہے اس کا مال اسباب رکھا ہو تو اسی کا قبضہ ہے اس کے اہل وعیال رہتے ہوں تو اسی کا قبضہ ہے ولہذا اگر مکان ہبہ کیا اور ہنوز خود واہب یا اس کا اسباب یا اہل وعیال مکان میں ہیں ان سے تخلیہ نہ کیا اور موہوب لہ سے کہتا ہے میں نے تجھے قبضہ دیا تو اس کا یہ کہنا صحیح نہیں۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایصح قولہ اقبضھا او سلمت اذاکان الواھب فیہ او اھلہ او متاعہ کذافی التاتارخانیۃ ۔ جب واہب خود یا اس کے اہل وعیال یا اس کا سامان مکان میں موجود ہو تو واہب کایہ کہنا کہ قبضہ کرلو میں نے سپرد کردیا مکان کے قبضہ کیلئے صحیح نہ ہوگاتاتارخانیہ میں یوں ہے(ت)
اسی طرح اگر کوئی شخص مالك کی اجازت سے عاریۃ یعنی بے اجرت رہتا ہے توجب بھی مکان قبضہ مالك ہی میں ٹھہرے گا کہ مرتہن یا مستاجر کی طرح اس کا قبضہ مستقلہ نہیں بلکہ قبضہ مالك ہی کی فرع اور اسی سے مستفاد ہے تو اس کا نافی نہ ہوگا بلکہ اس کی تقریر و تاکید کرے گا ولہذا اگر مکان جس میں بلا اجرت اور لوگوں کو سکونت دے رکھی ہے مالك نے اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کیا ہبہ کرتے ہی ملك پسر ہوگیا ان لوگوں سے تخلیہ درکار نہیں کہ ان کا قبضہ خود قبضہ واہب ہے اور اپنے ولد صغیر کو ہبہ کو ہبہ کرنے میں خود اپنا ہی قبضہ مطلوب ہےامام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں:
شرعاوعقلا وعرفا جب تك مالك مکان خود مکان میں ہو اسی کا قبضہ ہے اس کا مال اسباب رکھا ہو تو اسی کا قبضہ ہے اس کے اہل وعیال رہتے ہوں تو اسی کا قبضہ ہے ولہذا اگر مکان ہبہ کیا اور ہنوز خود واہب یا اس کا اسباب یا اہل وعیال مکان میں ہیں ان سے تخلیہ نہ کیا اور موہوب لہ سے کہتا ہے میں نے تجھے قبضہ دیا تو اس کا یہ کہنا صحیح نہیں۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایصح قولہ اقبضھا او سلمت اذاکان الواھب فیہ او اھلہ او متاعہ کذافی التاتارخانیۃ ۔ جب واہب خود یا اس کے اہل وعیال یا اس کا سامان مکان میں موجود ہو تو واہب کایہ کہنا کہ قبضہ کرلو میں نے سپرد کردیا مکان کے قبضہ کیلئے صحیح نہ ہوگاتاتارخانیہ میں یوں ہے(ت)
اسی طرح اگر کوئی شخص مالك کی اجازت سے عاریۃ یعنی بے اجرت رہتا ہے توجب بھی مکان قبضہ مالك ہی میں ٹھہرے گا کہ مرتہن یا مستاجر کی طرح اس کا قبضہ مستقلہ نہیں بلکہ قبضہ مالك ہی کی فرع اور اسی سے مستفاد ہے تو اس کا نافی نہ ہوگا بلکہ اس کی تقریر و تاکید کرے گا ولہذا اگر مکان جس میں بلا اجرت اور لوگوں کو سکونت دے رکھی ہے مالك نے اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کیا ہبہ کرتے ہی ملك پسر ہوگیا ان لوگوں سے تخلیہ درکار نہیں کہ ان کا قبضہ خود قبضہ واہب ہے اور اپنے ولد صغیر کو ہبہ کو ہبہ کرنے میں خود اپنا ہی قبضہ مطلوب ہےامام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۰€
لووھب من ابنہ الصغیر دارا و الاب ساکنھا ومتاعہ فیہا جازت الھبۃوملکہا الابن بمجرد قولہ وھبتھا لہ لانھا فی یدہ و سکناہ ومتاعہ فیہا لاینافی یدہ بل یقررھا فتکون ھی فی قبضہ وھو الشرطولوکان یسکنھا غیرہ باجر لا یجوز لماذکرنا(ای فی الغاصب والمرتہن والمستاجران کل واحد منھم قابض لنفسہ وعال لنفسہ بخلاف المودع لان یدہ ید المالک)وان کان بغیر اجر جازت الھبۃ وملکھا الابن بمجرد العقد ذکرہ محمد رضی اﷲ تعالی عنہ فی المنتقی ۔ اگر باپ نے اپنے نابالغ بیٹے کو مکان ہبہ کیا حالانکہ باپ اس میں سکونت پذیر ہے یا باپ کا سامان اس میں موجود ہے تو ہبہ جائز ہوگا اور یہ کہہ دینے سے کہ میں نے بیٹے کو یہ مکان ہبہ کیا بیٹا مالك ہوجائیگا کیونکہ نابالغ کے لئے باپ کا قبضہ ہی کافی ہونے کی وجہ سے مکان میں باپ کی رہائش اور سامان قبضہ کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ قبضہ کا ثبو ت ہے لہذا یہ بیٹے کے قبضہ میں ہے یہی قبضہ شرط ہے اور اگر اس مکان میں باپ کاغیر کوئی کرایہ دار ہوتو یہ قبضہ ہبہ کے لئے صحیح نہ ہوگااس کی وجہ ہم نے ذکر کردی ہے یعنی غاصبرہن لینے والے اجرت پر لینے والےکے بارے میں ذکر کیا کہ یہ لوگ اپنی ذات کے لئے قابض اور عامل ہوتے ہیںاس کے بخلاف امانت پاس رکھنے والاکہ اس کا قبضہ امانت کے طور پر مالك کا قبضہ قرار پاتا ہےاور اگر باپ کے ہبہ کردہ مکان میں کوئی دوسرا بغیر کرایہ رہائش پذیر ہے تو مذکورہ صورت میں ہبہ جائز اور ہبہ کر دینے سے نابالغ بیٹا مالك قرار پائے گا۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے اس کو منتقی میں ذکر فرمایا ہے(ت)
اور قبضہ دلانے کے معنی شرعا وعقلا وعرفا یہی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر اس کا قبضہ کرادیا جائے ورنہ جب تك اپنا قبضہ موجود ہے اس کا قبضہ کیونکر ہوگاکہ شیئ اپنے منافی کے ساتھ جمع نہیں آخر نہ دیکھا کہ جب تك تخلیہ تامہ نہ ہو واہب کے اس قول کو کہ میں نے تجھے قابض کردیا صحیح نہ مانا اور کلام مدعی کا ہو خواہ شاہد خواہ کسی عاقل کاوہ معنی صحیح ہی پر محمول ہوگاجامع الفصولین فصل اربعین میں ہے:
مطلق کلام العاقل او تصرفہ یحمل علی الصحۃ بقضیۃ الاصل وکذا عاقل کے کلام اور تصرف کو اصل قاعدہ کے مطابق صحت پر محمول کیا جائے گا اور یوں ہی اس کی
اور قبضہ دلانے کے معنی شرعا وعقلا وعرفا یہی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر اس کا قبضہ کرادیا جائے ورنہ جب تك اپنا قبضہ موجود ہے اس کا قبضہ کیونکر ہوگاکہ شیئ اپنے منافی کے ساتھ جمع نہیں آخر نہ دیکھا کہ جب تك تخلیہ تامہ نہ ہو واہب کے اس قول کو کہ میں نے تجھے قابض کردیا صحیح نہ مانا اور کلام مدعی کا ہو خواہ شاہد خواہ کسی عاقل کاوہ معنی صحیح ہی پر محمول ہوگاجامع الفصولین فصل اربعین میں ہے:
مطلق کلام العاقل او تصرفہ یحمل علی الصحۃ بقضیۃ الاصل وکذا عاقل کے کلام اور تصرف کو اصل قاعدہ کے مطابق صحت پر محمول کیا جائے گا اور یوں ہی اس کی
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الہبہ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵ /۹۵،۹۶€
الشہادۃ علی ھذا ۔ شہادت کو بھی۔(ت)
تو گواہ جب شہادت دیں کہ واہب نے ہبہ کیا اور قبضہ کرادیا اس کے یہی معنی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر موہوب لہ کو قابض کردیا اور اوپر معلوم ہوچکا کہ جب تك وہ خود یا اس کا اسباب یا اہل وعیال یا کوئی ساکن جو بلا اجر اس کی اجازت سے رہتا ہو مکان میں موجود ہے واہب کا قبضہ نہ اٹھا تو قبضہ دلانا صادق نہ ہوا حالانکہ شہود قبضہ دلانے کی گواہی دے رہے ہیں تو بالضرورت اس شہادت کے یہی معنی ہیں کہ تخلیہ تام ہولیا اور واہب و متاع واہب واہل وعیال واہب وغیرہم جملہ مذکورین جن کی بقاء قبضہ واہب کی بقا ہو اس وقت مکان میں نہ تھے بالجملہ قبضہ دلانے کی شہادت بعینہ تخلیہ وفراغ کی شہادت ہے جس کے بعد اس کے ذکر صریح کی اصلا حاجت نہیں جس طرح حاکم کے حضور نکاح کی گواہی میں شہود کا اتنا کہنا کافی ہے کہ فلاں مدعی نے فلاں مدعا علیہا سے نکاح کیا تمام شرائط کی تفصیل کہ اس وقت دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں عاقل بالغ سامع فاہم موجود تھے اور مجلس واحد میں انہوں نے ایجاب وقبول سنے وغیر ذلك بیان کرنے کی حاجت نہیں لان الشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ(کیونکہ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے لوازمات سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا شہادت ہبہ خواہ دعوی ہبہ کی تصویر وں میں جہاں دیکھئے علماء کرام قدست اسرار ہم نے اسی قدر پر قناعت فرمایا ہے کہ ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا اس کے ساتھ یہ نہیں بڑھاتے کہ اور واہب خودبھی مکان سے الگ ہوگیا اور اپنا مال واسباب بھی نکال لیا اور اپنے اہل وعیال کو بھی جداکردیا اور جو لوگ بلا اجارہ اجازۃ رہتے تھے ان کو بھی ہٹادیا اس کے بعد قبضہ کرایاتو وجہ وہی ہے کہ یہ سارا بیان اتنے کہنے میں آگیا کہ قبضہ کرادیا جیسے جملہ شرائط نکاح اس لفظ میں آگئے کہ نکاح کیا جامع الفصولین آخر فصل ۱۱میں ہے:
شھداحدھماکہ ایں بخواست ایں زن را وشھد الاخر کہ ایں زن خود را بایں داد تقبل ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے عورت کونکاح کی پیشکش کی ہے اور دوسرے نے یوں شہادت دی کہ عورت نے خود اپنے آپ کو اس کے نکاح میں دیا تو یہ شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
قال ھذہ امرأتی اوقال ھذہ منکوحتی وشھد واانہ کان تزوجھا تقبل مرد نے کہا یہ میری بیوی ہےیا کہا میری منکوحہ ہےاور گواہوں نے شہادت میں کہا کہ اس نے اس
تو گواہ جب شہادت دیں کہ واہب نے ہبہ کیا اور قبضہ کرادیا اس کے یہی معنی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر موہوب لہ کو قابض کردیا اور اوپر معلوم ہوچکا کہ جب تك وہ خود یا اس کا اسباب یا اہل وعیال یا کوئی ساکن جو بلا اجر اس کی اجازت سے رہتا ہو مکان میں موجود ہے واہب کا قبضہ نہ اٹھا تو قبضہ دلانا صادق نہ ہوا حالانکہ شہود قبضہ دلانے کی گواہی دے رہے ہیں تو بالضرورت اس شہادت کے یہی معنی ہیں کہ تخلیہ تام ہولیا اور واہب و متاع واہب واہل وعیال واہب وغیرہم جملہ مذکورین جن کی بقاء قبضہ واہب کی بقا ہو اس وقت مکان میں نہ تھے بالجملہ قبضہ دلانے کی شہادت بعینہ تخلیہ وفراغ کی شہادت ہے جس کے بعد اس کے ذکر صریح کی اصلا حاجت نہیں جس طرح حاکم کے حضور نکاح کی گواہی میں شہود کا اتنا کہنا کافی ہے کہ فلاں مدعی نے فلاں مدعا علیہا سے نکاح کیا تمام شرائط کی تفصیل کہ اس وقت دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں عاقل بالغ سامع فاہم موجود تھے اور مجلس واحد میں انہوں نے ایجاب وقبول سنے وغیر ذلك بیان کرنے کی حاجت نہیں لان الشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ(کیونکہ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے لوازمات سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا شہادت ہبہ خواہ دعوی ہبہ کی تصویر وں میں جہاں دیکھئے علماء کرام قدست اسرار ہم نے اسی قدر پر قناعت فرمایا ہے کہ ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا اس کے ساتھ یہ نہیں بڑھاتے کہ اور واہب خودبھی مکان سے الگ ہوگیا اور اپنا مال واسباب بھی نکال لیا اور اپنے اہل وعیال کو بھی جداکردیا اور جو لوگ بلا اجارہ اجازۃ رہتے تھے ان کو بھی ہٹادیا اس کے بعد قبضہ کرایاتو وجہ وہی ہے کہ یہ سارا بیان اتنے کہنے میں آگیا کہ قبضہ کرادیا جیسے جملہ شرائط نکاح اس لفظ میں آگئے کہ نکاح کیا جامع الفصولین آخر فصل ۱۱میں ہے:
شھداحدھماکہ ایں بخواست ایں زن را وشھد الاخر کہ ایں زن خود را بایں داد تقبل ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے عورت کونکاح کی پیشکش کی ہے اور دوسرے نے یوں شہادت دی کہ عورت نے خود اپنے آپ کو اس کے نکاح میں دیا تو یہ شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
قال ھذہ امرأتی اوقال ھذہ منکوحتی وشھد واانہ کان تزوجھا تقبل مرد نے کہا یہ میری بیوی ہےیا کہا میری منکوحہ ہےاور گواہوں نے شہادت میں کہا کہ اس نے اس
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الاربعون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۲€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸€
ھذہ الشہادۃ ۔ سے نکاح کیا تویہ شہادت قبول ہوگی۔(ت)
بلکہ عالمگیری میں اسی سے ہے:
شھدوا انھا امرأتہ وحلالہ ولم یذکرواالعقد المختار انہ یجوز ۔ گواہوں نے کہا یہ اس کی بیوی ہے اور اس کےلئے حلال ہے اور نکاح کا ذکر نہ کیا تو مختار مذہب ہے کہ یہ شہادت جائز ہے۔(ت)
خانیہ پھر ہندیہ ج ۳ص۵۰۱میں ہے:
ادعی دارافی یدرجل انھا لہ فجاء بشاھدین وشھدا ان فلانا وھبھا لہ وقبضھا منہ وھو یملکھا الخ ۔ کسی شخص کے مقبوضہ مکان کے متعلق ایك شخص نے دعوی کیا کہ یہ میرا ہے اور اس پر دو گواہ پیش کئے جنہوں نے شہادت دی کہ یہ مکان مدعی کو فلاں شخص نے ہبہ کیا اور اس نے اس سے قبضہ لیا تو مدعی مالك ہوگا الخ۔(ت)
ایضا صفحہ ۵۱۱:
شھد احدھما ان المدعی اقرانہ وھبہ للذی فی یدیہ وقبضہ منہ وشھد الاخر انہ اقرانہ نحلہ للذی فی یدیہ وقبضہ (ای تقبل) ایك گواہ نے کہا کہ مدعی نے اقرار کیا کہ قابض نے یہ مکان اسے ہبہ کیا ہے اور اس نے قبضہ لیا ہے جبکہ دوسرے گواہ نے کہ اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ اس نے یہ مکان قابض کو عطیہ دے کر قبضہ دیا ہے تو شہادت قبول کی جائیگی۔(ت)
ایضا ج ۴ ص۸۷:
ادعی الھبۃ مع القبض الخ ایضا ادعی ان فلانا وھبھا لہ وقبضھا منہ ہبہ مع قبضہ کا دعوی کیا الخنیز دعوی کیا کہ فلان نے اسے ہبہ کیا اور قبضہ اس نے لے لیا
ایضا دعوی الھبۃ والصدقۃ مع القبض فیہما مستویان ۔ نیز ہبہ اور صدقہ کے دعوی کے ساتھ قبضہ لینے کا دعوی ہوتو دونوں کا حکم مساوی ہے۔(ت)
فتاوی قاضی خاں:
بلکہ عالمگیری میں اسی سے ہے:
شھدوا انھا امرأتہ وحلالہ ولم یذکرواالعقد المختار انہ یجوز ۔ گواہوں نے کہا یہ اس کی بیوی ہے اور اس کےلئے حلال ہے اور نکاح کا ذکر نہ کیا تو مختار مذہب ہے کہ یہ شہادت جائز ہے۔(ت)
خانیہ پھر ہندیہ ج ۳ص۵۰۱میں ہے:
ادعی دارافی یدرجل انھا لہ فجاء بشاھدین وشھدا ان فلانا وھبھا لہ وقبضھا منہ وھو یملکھا الخ ۔ کسی شخص کے مقبوضہ مکان کے متعلق ایك شخص نے دعوی کیا کہ یہ میرا ہے اور اس پر دو گواہ پیش کئے جنہوں نے شہادت دی کہ یہ مکان مدعی کو فلاں شخص نے ہبہ کیا اور اس نے اس سے قبضہ لیا تو مدعی مالك ہوگا الخ۔(ت)
ایضا صفحہ ۵۱۱:
شھد احدھما ان المدعی اقرانہ وھبہ للذی فی یدیہ وقبضہ منہ وشھد الاخر انہ اقرانہ نحلہ للذی فی یدیہ وقبضہ (ای تقبل) ایك گواہ نے کہا کہ مدعی نے اقرار کیا کہ قابض نے یہ مکان اسے ہبہ کیا ہے اور اس نے قبضہ لیا ہے جبکہ دوسرے گواہ نے کہ اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ اس نے یہ مکان قابض کو عطیہ دے کر قبضہ دیا ہے تو شہادت قبول کی جائیگی۔(ت)
ایضا ج ۴ ص۸۷:
ادعی الھبۃ مع القبض الخ ایضا ادعی ان فلانا وھبھا لہ وقبضھا منہ ہبہ مع قبضہ کا دعوی کیا الخنیز دعوی کیا کہ فلان نے اسے ہبہ کیا اور قبضہ اس نے لے لیا
ایضا دعوی الھبۃ والصدقۃ مع القبض فیہما مستویان ۔ نیز ہبہ اور صدقہ کے دعوی کے ساتھ قبضہ لینے کا دعوی ہوتو دونوں کا حکم مساوی ہے۔(ت)
فتاوی قاضی خاں:
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الشہادات باب الاختلاف بین الدعوی و الشہادۃ ∞قلمی نسخہ ۲ /۱۱۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب السابع الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۱۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب السابع الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۱۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۷€
دار فی یدرجل فاقام رجل البینۃ انہ اشتراھا من فلان غیر ذی الید بالف درہم وھو یملکھا ونقدہ الثمن واقام اخر البینۃان فلانا اخر وھبھا منہ و قبضھا ۔ ایك شخص کے مقبوضہ مکان کے متعلق دوسرے نے گواہ پیش کئے کہ یہ مکان میں نے قابض شخص کے غیر سے ہزار روپے کے عوض خریداہے جس کا وہ مالك ہے اور اس کی قیمت نقداداکی ہے اور دوسرے ایك شخص نے اسی مکان کے متعلق گواہ پیش کئے کہ فلاں دوسرے شخص نے یہ مکان مجھے ہبہ کیا اور قبضہ دیا ہے(ت)
پس صورت مستفسرہ میں سید امیر شاہ عبدالمجید خاں کی شہادتیں کہ ہبہ ومعاینہ قبضہ کی ہیں قبضہ تامہ بتارہی ہیں اور ان پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتے کہ رسول خاں کی ذات ومتاع سے تخلیہ نہ بیان کیا بیشك بیان کیا کہ قبضہ دلانے کے خود یہی معنی ہیںیونہی بہرام خاں اور اس کی زوجہ اور ان کے اسباب سے بھی تخلیہ اسی میں آگیا کہ جوباجازت مالك بلا اجرت رہتا ہو اس کا قبضہ بھی قبضہ مالك ہے تو قبضہ دلانا اس سے تخلیہ کو مستلزم کما حققنا انفا(جیسا کہ ابھی ہم نے تحقیق کی ہے۔ت)بلکہ زیادات صاحب محیط وفصول عمادی وبحر الرائق ومنح الغفار ودرمختار وعالمگیری وغیرہما معتمدات میں تو یہاں تك تصریح ہے کہ غیر واہب کے ملك و اسباب سے موہوب کا مشغول ہونا تمامی ہبہ کا سرے سے مانع ہی نہیں فصول وہندیہ میں ہے:
اشتغال الموھوب یملك غیر الواھب ھل یمنع تمام الھبۃ ذکر صاحب المحیط فی الباب الاول من ھبۃ الزیادات انہ لایمنع ۔ کسی موہوب چیز کا واہب کے غیر کی ملکیت میں مصروف ہونا کیا ہبہ کے تمام ہونے سے مانع ہےصاحب محیط نے زیادات کے ہبہ کے باب اول میں ذکر کیا کہ مانع نہیں ہے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں سید امیر شاہ عبدالمجید خاں کی شہادتیں کہ ہبہ ومعاینہ قبضہ کی ہیں قبضہ تامہ بتارہی ہیں اور ان پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتے کہ رسول خاں کی ذات ومتاع سے تخلیہ نہ بیان کیا بیشك بیان کیا کہ قبضہ دلانے کے خود یہی معنی ہیںیونہی بہرام خاں اور اس کی زوجہ اور ان کے اسباب سے بھی تخلیہ اسی میں آگیا کہ جوباجازت مالك بلا اجرت رہتا ہو اس کا قبضہ بھی قبضہ مالك ہے تو قبضہ دلانا اس سے تخلیہ کو مستلزم کما حققنا انفا(جیسا کہ ابھی ہم نے تحقیق کی ہے۔ت)بلکہ زیادات صاحب محیط وفصول عمادی وبحر الرائق ومنح الغفار ودرمختار وعالمگیری وغیرہما معتمدات میں تو یہاں تك تصریح ہے کہ غیر واہب کے ملك و اسباب سے موہوب کا مشغول ہونا تمامی ہبہ کا سرے سے مانع ہی نہیں فصول وہندیہ میں ہے:
اشتغال الموھوب یملك غیر الواھب ھل یمنع تمام الھبۃ ذکر صاحب المحیط فی الباب الاول من ھبۃ الزیادات انہ لایمنع ۔ کسی موہوب چیز کا واہب کے غیر کی ملکیت میں مصروف ہونا کیا ہبہ کے تمام ہونے سے مانع ہےصاحب محیط نے زیادات کے ہبہ کے باب اول میں ذکر کیا کہ مانع نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الدعوی فصل فی دعوٰی الملك السبب ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۸۷€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ کتاب الہبہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۰€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ کتاب الہبہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۰€
درمختار میں ہے:
شغلہ بغیر ملك واھبہ لایمنع تمامھا ۔ واہب کی ملکیت کے غیر میں مصروف ہونا مانع نہیں ہے۔ (ت)
اور جب کہ کلام شاہد اس حکم سے کہ ہم بیان کرچکے جملہ موانع صحت ارتفاع پر محمول اور وقت قبضہ مجرد کسی شخص غیرموہوب لہ کا مکان میں موجود ہونا مانع تمامی قبضہ نہیں جب کہ نہ وہ قبضہ مستقلہ رکھتا ہو جیسے مرتہن ومستاجرنہ اس کا قبضہ قبضہ مالك ہو جیسے اہل وعیال و مودع ومستعیر کہ مانع قبضہ غیر ہے نہ کہ مجرد وجود غیراور ہر شخص کہ مکان میں ایك ساعت کے لئے موجود ہو مکان کا قابض نہیں کہلاتاکیا سائل کہ سوال کے لیے آنے یا نوکر یا ملاقات کے لیے آنے والا دوست وغیرھم قابضان مکان گنے جاتے ہیںہر گز نہیںعبدالمجید خاں کاکہنا کہ اس وقت سوا مدعا علیہا کے اور کوئی نہ تھا اور کوئی ہو تو مجھے معلوم نہیں ہر گز شہادت قبضہ تامہ میں خلل انداز نہیںہاں اگر وہ یہ کہتا کہ اس وقت اور کسی کا بھی قبضہ ہو تو مجھے معلوم نہیں تو بیشك بیان اول کے منافی ہوتا۔قبضہ صنوبر بیگم کی شہادت تو وہ صاف ادا کرچکا جس کے یہی معنی ہیں کہ اور کوئی قابض نہ تھا پھر کسی غیر قابض کا ہونا نہ ہونا اگر اسے معلوم نہ ہوبلکہ پچاس اشخاص غیر قابضین کا ہونا معلوم ہو تو کیا ضرر ہےکیا موہوب لہ کے قبضہ لیتے وقت اگر اس کے نوکر چاکر یا عزیز اقربا یا تحمل شہادت کے لئے بعض اہل محلہ وغیرہم ساتھ ہوں تو قبضہ تامہ نہ ہوگا کس نے لازم کیا ہے کہ موہوب لہ اس وقت تنہا مکان میں چھوڑدیا جائے کوئی فرد بشر اس کے پاس نہ جانے پائےاور جب یہ دونوں شہادتیں معاینہ قبضہ کی ہیں اور معاملہ ہبہ کا ہے تو مدت میں اختلاف کہ ایك چھ سات سال دوسرا بارہ سال بتاتا ہے کچھ مضر نہیں۔فتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ان اختلفوا فی عقد لایثبت حکمہ الابفعل القبض کالھبۃ والصدقۃ والرھن فان شھدواعلی معاینۃ القبض و اختلفوا فی الایام والبلدان جازت شہادتھم فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہما ولو شھدواعلی ایسا عقد جس میں قبضہ کے عمل کے بغیر حکم ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ہبہصدقہ اور رہن تو اس میں اگر گواہوں نے قبضہ دیکھنے کی شہادت دی اور وقت اور مقام میں گواہوں کا اختلاف ہوا ہو تو امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك یہ شہادت قبول کی جائے گی اور گواہوں نے
شغلہ بغیر ملك واھبہ لایمنع تمامھا ۔ واہب کی ملکیت کے غیر میں مصروف ہونا مانع نہیں ہے۔ (ت)
اور جب کہ کلام شاہد اس حکم سے کہ ہم بیان کرچکے جملہ موانع صحت ارتفاع پر محمول اور وقت قبضہ مجرد کسی شخص غیرموہوب لہ کا مکان میں موجود ہونا مانع تمامی قبضہ نہیں جب کہ نہ وہ قبضہ مستقلہ رکھتا ہو جیسے مرتہن ومستاجرنہ اس کا قبضہ قبضہ مالك ہو جیسے اہل وعیال و مودع ومستعیر کہ مانع قبضہ غیر ہے نہ کہ مجرد وجود غیراور ہر شخص کہ مکان میں ایك ساعت کے لئے موجود ہو مکان کا قابض نہیں کہلاتاکیا سائل کہ سوال کے لیے آنے یا نوکر یا ملاقات کے لیے آنے والا دوست وغیرھم قابضان مکان گنے جاتے ہیںہر گز نہیںعبدالمجید خاں کاکہنا کہ اس وقت سوا مدعا علیہا کے اور کوئی نہ تھا اور کوئی ہو تو مجھے معلوم نہیں ہر گز شہادت قبضہ تامہ میں خلل انداز نہیںہاں اگر وہ یہ کہتا کہ اس وقت اور کسی کا بھی قبضہ ہو تو مجھے معلوم نہیں تو بیشك بیان اول کے منافی ہوتا۔قبضہ صنوبر بیگم کی شہادت تو وہ صاف ادا کرچکا جس کے یہی معنی ہیں کہ اور کوئی قابض نہ تھا پھر کسی غیر قابض کا ہونا نہ ہونا اگر اسے معلوم نہ ہوبلکہ پچاس اشخاص غیر قابضین کا ہونا معلوم ہو تو کیا ضرر ہےکیا موہوب لہ کے قبضہ لیتے وقت اگر اس کے نوکر چاکر یا عزیز اقربا یا تحمل شہادت کے لئے بعض اہل محلہ وغیرہم ساتھ ہوں تو قبضہ تامہ نہ ہوگا کس نے لازم کیا ہے کہ موہوب لہ اس وقت تنہا مکان میں چھوڑدیا جائے کوئی فرد بشر اس کے پاس نہ جانے پائےاور جب یہ دونوں شہادتیں معاینہ قبضہ کی ہیں اور معاملہ ہبہ کا ہے تو مدت میں اختلاف کہ ایك چھ سات سال دوسرا بارہ سال بتاتا ہے کچھ مضر نہیں۔فتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ان اختلفوا فی عقد لایثبت حکمہ الابفعل القبض کالھبۃ والصدقۃ والرھن فان شھدواعلی معاینۃ القبض و اختلفوا فی الایام والبلدان جازت شہادتھم فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہما ولو شھدواعلی ایسا عقد جس میں قبضہ کے عمل کے بغیر حکم ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ہبہصدقہ اور رہن تو اس میں اگر گواہوں نے قبضہ دیکھنے کی شہادت دی اور وقت اور مقام میں گواہوں کا اختلاف ہوا ہو تو امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك یہ شہادت قبول کی جائے گی اور گواہوں نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
اقرار الراھن والمتصدق والواھب بالقبض جازت الشہادۃ فی قولھم ۔ واہبصدقہ کرنے والے اور راہن کے اس اقرار پر کہ قبضہ دے دیا تو بالاتفاق سب کے قول میں یہ شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
فتاوی صغری میں ہے:
لو شھدابرھن واختلفا زمانہ اومکانہ وھما یشھد ان علی معاینۃ القبض تقبل وکذاشراء وھبۃ وصدقۃ ۔ اگردونوں گواہوں نے رہن رکھنے کی شہادت دی اور مکان وزمان میں اختلاف کیا تو قبضہ دیکھنے کی گواہی دی تو شہادت مقبول ہوگی اور یونہی خریداریصدقہ اور ہبہ کا حکم ہے۔(ت)
بالجملہ یہ دونوں شہادتیں ہبہ ہونا اور صنوبر بیگم کا قبضہ تامہ ہوجانا بروجہ کافی بیان کررہی ہیں ان کے مقابل جانب مدعی کی شہادت کہ واہب کا اسباب مقبوضہ وقت ہبہ اس مکان میں تھا یہ تو اصلا وارد نہیں کہ موہوب کا وقت ہبہ ملك واہب سے خلو ضرور نہیں وقت قبضہ موہوب لہ ضرور ہے اور وقت ہبہ وقت قبضہ سے مقدم ہے تو اس شہادت کو ان شہادات سے کچھ مس نہیں اور یہ شہادتیں کہ واہب تادم مرگ اس مکان میں رہا یا بہرام خاں اور اس کی زوجہ ہمیشہ سے اس میں رہتی ہیںان کا حاصل اگر ہے تو اتنا کہ تخلیہ نہ ہوا صنوبر بیگم کا قبضہ تامہ نہ ہوا تو یہ سب شہادتیں نفی پر ہیں اور نفی پر شہادت مقبول نہیں جب تك متواتر نہ ہو جسے شہر کا ہر چھوٹا بڑا ہر عالم جاہل جانتا ہو اور عام لوگوں کی گواہیاں اس پر گزرجائیں۔ فتاوی صغری وجامع الفصولین ومعین الحکام میں ہے:
لاتقبل لانہاقامت علی النفی لان قولھما کان فی مکان کذا نفی معنی ولو کان اثباتا صورۃ اذ الغرض نفی ما قامت علیہ البینۃ الاولی ۔ شہادت قبول نہ کی جائیگی کیونکہ یہ نفی پر شہادت ہے کیونکہ گواہوں کا کہنا کہ فلاں مکان میں تھااگرچہ یہ صورۃ اثبات ہے مگر معنی غرض یہ ہے کہ پہلی گواہی سے جو چیز ثابت ہوئی ہے اس کی نفی کی جائے۔(ت)
فتاوی صغری میں ہے:
لو شھدابرھن واختلفا زمانہ اومکانہ وھما یشھد ان علی معاینۃ القبض تقبل وکذاشراء وھبۃ وصدقۃ ۔ اگردونوں گواہوں نے رہن رکھنے کی شہادت دی اور مکان وزمان میں اختلاف کیا تو قبضہ دیکھنے کی گواہی دی تو شہادت مقبول ہوگی اور یونہی خریداریصدقہ اور ہبہ کا حکم ہے۔(ت)
بالجملہ یہ دونوں شہادتیں ہبہ ہونا اور صنوبر بیگم کا قبضہ تامہ ہوجانا بروجہ کافی بیان کررہی ہیں ان کے مقابل جانب مدعی کی شہادت کہ واہب کا اسباب مقبوضہ وقت ہبہ اس مکان میں تھا یہ تو اصلا وارد نہیں کہ موہوب کا وقت ہبہ ملك واہب سے خلو ضرور نہیں وقت قبضہ موہوب لہ ضرور ہے اور وقت ہبہ وقت قبضہ سے مقدم ہے تو اس شہادت کو ان شہادات سے کچھ مس نہیں اور یہ شہادتیں کہ واہب تادم مرگ اس مکان میں رہا یا بہرام خاں اور اس کی زوجہ ہمیشہ سے اس میں رہتی ہیںان کا حاصل اگر ہے تو اتنا کہ تخلیہ نہ ہوا صنوبر بیگم کا قبضہ تامہ نہ ہوا تو یہ سب شہادتیں نفی پر ہیں اور نفی پر شہادت مقبول نہیں جب تك متواتر نہ ہو جسے شہر کا ہر چھوٹا بڑا ہر عالم جاہل جانتا ہو اور عام لوگوں کی گواہیاں اس پر گزرجائیں۔ فتاوی صغری وجامع الفصولین ومعین الحکام میں ہے:
لاتقبل لانہاقامت علی النفی لان قولھما کان فی مکان کذا نفی معنی ولو کان اثباتا صورۃ اذ الغرض نفی ما قامت علیہ البینۃ الاولی ۔ شہادت قبول نہ کی جائیگی کیونکہ یہ نفی پر شہادت ہے کیونکہ گواہوں کا کہنا کہ فلاں مکان میں تھااگرچہ یہ صورۃ اثبات ہے مگر معنی غرض یہ ہے کہ پہلی گواہی سے جو چیز ثابت ہوئی ہے اس کی نفی کی جائے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۹€
فتاوٰی صغرٰی
جامع الفصولین بحوالہ فتاوٰی صغرٰی الفصل الثانی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۲€
فتاوٰی صغرٰی
جامع الفصولین بحوالہ فتاوٰی صغرٰی الفصل الثانی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۲€
عالمگیری میں ذخیرہ سے ہے:
الاان تاتی العامۃ وتشھد بذلك فیؤخذ بشہادتھم ۔ مگر عام لوگ بتائیں تو اس پر لی گئی شہادت قبول ہوگی۔(ت)
نیز ان دونوں میں ہے:
الاان تکون ظاہرامستفیضایعرفہ کل صغیر وکبیر وکل عالم وجاہل ۔ مگر ظاہر مشہور کہ ہر چھوٹا بڑاعالم و جاہل اسے جانتا ہو۔(ت)
اور یہاں مستفیض متواتر شہادتیں خاص اس امر پر گزرنی درکار تھیں کہ وقت قبضہ صنوبر بیگم رسول خاں یا اس کا اسباب اس مکان میں موجود تھا یا فلاں لوگوں کا قبضہ تھا ورنہ یہ مجمل بات کہ فلاں ہمیشہ سے اس میں رہتے ہیں یا مرتے دم تك رہے اصلا کافی نہیں کہ ان شہادتوں کی بنا استصحاب حال پر ہوگی اور موہوب لہا کہ شہادتیں خاص اس وقت تخلیہ تامہ بتارہی ہیں تو وہ شہادات ان کے معارض نہیں ہوسکتیں کہ تخلیہ صرف ایك ساعت خفیفہ وقت قبضہ ضرور تھا اس کے بعد عمر بھر خود رسول خاں کا قبضہ باجازت صنوبر بیگم خواہ بلا اجازت غصبا رہے تو جو ملك کہ صنوبر بیگم کے لئے بعد ہبہ قبضہ تام سے ثابت ہولی زائل نہیں ہوسکتی کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)جامع الفصولین اواخر فصل عاشر میں ہے:
ادعی دارا انی اشتریتہ من ابیك وبرھن ذوالید انہ ملك ابیہ الی یوم موتہ و مات و ترکہ میراثا لاتقبل بینتہ لانھم شھدواباستصحاب الحال والمدعی اثبت الزوال ۔ کسی نے ایك شخص کے مقبوضہ مکان پر دعوی کیا یہ مکان میں نے تیرے والد سے خریدا ہے جبکہ قابض کہتا اور شہادت پیش کرتا ہے کہ یہ موت تك میرے والد کی ملکیت رہا اور اس نے اپنی موت پر اس کو بطور ترکہ میراث چھوڑا ہےتو قابض کی یہ شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ یہ سابقہ حال پر شہادت ہے جبکہ مدعی ملکیت کے زوال کو ثابت کررہا ہے۔(ت)
اور جب کہ شہادتیں صنو بر بیگم کو بعد ہبہ قبضہ دلانا بیان کررہی ہیں تو قبول صنوبر بیگم اصلا ضرور نہیں
الاان تاتی العامۃ وتشھد بذلك فیؤخذ بشہادتھم ۔ مگر عام لوگ بتائیں تو اس پر لی گئی شہادت قبول ہوگی۔(ت)
نیز ان دونوں میں ہے:
الاان تکون ظاہرامستفیضایعرفہ کل صغیر وکبیر وکل عالم وجاہل ۔ مگر ظاہر مشہور کہ ہر چھوٹا بڑاعالم و جاہل اسے جانتا ہو۔(ت)
اور یہاں مستفیض متواتر شہادتیں خاص اس امر پر گزرنی درکار تھیں کہ وقت قبضہ صنوبر بیگم رسول خاں یا اس کا اسباب اس مکان میں موجود تھا یا فلاں لوگوں کا قبضہ تھا ورنہ یہ مجمل بات کہ فلاں ہمیشہ سے اس میں رہتے ہیں یا مرتے دم تك رہے اصلا کافی نہیں کہ ان شہادتوں کی بنا استصحاب حال پر ہوگی اور موہوب لہا کہ شہادتیں خاص اس وقت تخلیہ تامہ بتارہی ہیں تو وہ شہادات ان کے معارض نہیں ہوسکتیں کہ تخلیہ صرف ایك ساعت خفیفہ وقت قبضہ ضرور تھا اس کے بعد عمر بھر خود رسول خاں کا قبضہ باجازت صنوبر بیگم خواہ بلا اجازت غصبا رہے تو جو ملك کہ صنوبر بیگم کے لئے بعد ہبہ قبضہ تام سے ثابت ہولی زائل نہیں ہوسکتی کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)جامع الفصولین اواخر فصل عاشر میں ہے:
ادعی دارا انی اشتریتہ من ابیك وبرھن ذوالید انہ ملك ابیہ الی یوم موتہ و مات و ترکہ میراثا لاتقبل بینتہ لانھم شھدواباستصحاب الحال والمدعی اثبت الزوال ۔ کسی نے ایك شخص کے مقبوضہ مکان پر دعوی کیا یہ مکان میں نے تیرے والد سے خریدا ہے جبکہ قابض کہتا اور شہادت پیش کرتا ہے کہ یہ موت تك میرے والد کی ملکیت رہا اور اس نے اپنی موت پر اس کو بطور ترکہ میراث چھوڑا ہےتو قابض کی یہ شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ یہ سابقہ حال پر شہادت ہے جبکہ مدعی ملکیت کے زوال کو ثابت کررہا ہے۔(ت)
اور جب کہ شہادتیں صنو بر بیگم کو بعد ہبہ قبضہ دلانا بیان کررہی ہیں تو قبول صنوبر بیگم اصلا ضرور نہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۱۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۱۶€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۱۶€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۰€
شہادتوں میں اس کا عدم بیان درکنار اگر بیان عدم ہوتا جب بھی مضر نہ تھا کہ قبضہ جو مجلس ہبہ میں ہوا اگرچہ بے اذن واہب یا باذن واہب ہو اگر چہ مجلس ہبہ کے بعد وہ مطلقا مثبت ملك موہوب لہ ہو اور یہی دلیل قبول ہے اگرچہ موہوب لہ نے صراحۃ قبول ہبہ نہ کیا ہو۔ شلبی علی التبیین میں امام قاضی خاں سے اور حاوی الفتاوی و فتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
وھذانص الھندیۃ لو قال وھبت منك ھذا العبد والعبد حاضر فقبضہ جازت الھبۃ وان لم یقل قبلت کذافی الملتقطولو کان العبد غائبا فقال لہ وھبت منك عبدی فلانا فاذھب واقبضہ فقبضہ جازوان قبلت وبہ ناخذ کذافی الحاوی للفتاوی ۔ یہ ہندیہ کی عبارت ہےاگر کسی نے کہا یہ عبد میں نے تجھے ہبہ کیاعبد حاضر تھا موہوب لہ نے اسی وقت عبدکو قبضہ میں لے لیا تو ہبہ صحیح ہوجائیگا اگرچہ زبانی"میں نے قبول کیا"نہ کہا ہو جیسا کہ ملتقط میں ہےاور اگر عبد غائب اور کہا فلاں عبد میں نے تجھے ہبہ کیا جاکر قبضہ کرلوپس اس نے قبضہ کرلیا تواگرچہ زبانی قبول کرنے کی بات نہ کی ہوتو بھی ہبہ جائز ہےہمارا یہی مختار ہےالحاوی للفتاوی میں یوں ہے۔(ت)
اسی طرح امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اسے بہ ناخذ (ہم اسے ہی اختیار کرتے ہیں۔ت)فرمایا سوال میں بیان گواہان کا خلاصہ لکھا ممکن کہ پورا بیان دیکھنے سے کوئی اور بات پیدا ہومگر جس قدر خلاصہ ہمارے سامنے پیش ہوا اس میں سید امیر شاہ وعبدالمجید خاں کی شہادتیں اعتراضات سے پاك ہیں اگر بیان کامل میں کوئی بات مضر شہادات نہیں اور یہ دو گواہیاں قابل قبول شرع اور بروجہ شرعی گزر گئی ہوں تو ضرور ہبہ مکان بحق صنوبر بیگم ثابت ہے اور مکان تقسیم سے بری۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)سائل کو تحریر ہبہ نامہ سے اعتراف ہے قبضہ موہوب لہ میں کلام ہے اور قاضی ریاست نے مدعیہ ہبہ و قبضہ کا دعوی سماعت کیا اور اس پر گواہ لئے جیسا کہ سوال اول سے ظاہر ہے اور ہم اس کے جواب میں واضح کر آئے کہ ان میں دو شہادتیں اگر بروجہ مقبول شرعی گزری ہوں توہبہ تام و ثابت ہے اور ساعت قبضہ موہوب لہا سے پہلے اور بعد آج تك اور دن کا اس میں رہنا بسنا قابض
وھذانص الھندیۃ لو قال وھبت منك ھذا العبد والعبد حاضر فقبضہ جازت الھبۃ وان لم یقل قبلت کذافی الملتقطولو کان العبد غائبا فقال لہ وھبت منك عبدی فلانا فاذھب واقبضہ فقبضہ جازوان قبلت وبہ ناخذ کذافی الحاوی للفتاوی ۔ یہ ہندیہ کی عبارت ہےاگر کسی نے کہا یہ عبد میں نے تجھے ہبہ کیاعبد حاضر تھا موہوب لہ نے اسی وقت عبدکو قبضہ میں لے لیا تو ہبہ صحیح ہوجائیگا اگرچہ زبانی"میں نے قبول کیا"نہ کہا ہو جیسا کہ ملتقط میں ہےاور اگر عبد غائب اور کہا فلاں عبد میں نے تجھے ہبہ کیا جاکر قبضہ کرلوپس اس نے قبضہ کرلیا تواگرچہ زبانی قبول کرنے کی بات نہ کی ہوتو بھی ہبہ جائز ہےہمارا یہی مختار ہےالحاوی للفتاوی میں یوں ہے۔(ت)
اسی طرح امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اسے بہ ناخذ (ہم اسے ہی اختیار کرتے ہیں۔ت)فرمایا سوال میں بیان گواہان کا خلاصہ لکھا ممکن کہ پورا بیان دیکھنے سے کوئی اور بات پیدا ہومگر جس قدر خلاصہ ہمارے سامنے پیش ہوا اس میں سید امیر شاہ وعبدالمجید خاں کی شہادتیں اعتراضات سے پاك ہیں اگر بیان کامل میں کوئی بات مضر شہادات نہیں اور یہ دو گواہیاں قابل قبول شرع اور بروجہ شرعی گزر گئی ہوں تو ضرور ہبہ مکان بحق صنوبر بیگم ثابت ہے اور مکان تقسیم سے بری۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)سائل کو تحریر ہبہ نامہ سے اعتراف ہے قبضہ موہوب لہ میں کلام ہے اور قاضی ریاست نے مدعیہ ہبہ و قبضہ کا دعوی سماعت کیا اور اس پر گواہ لئے جیسا کہ سوال اول سے ظاہر ہے اور ہم اس کے جواب میں واضح کر آئے کہ ان میں دو شہادتیں اگر بروجہ مقبول شرعی گزری ہوں توہبہ تام و ثابت ہے اور ساعت قبضہ موہوب لہا سے پہلے اور بعد آج تك اور دن کا اس میں رہنا بسنا قابض
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الہبۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۶€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الہبۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۶€
ہونا مخل صحت ہبہ نہیں تو اس تقدیر پر اس سوال دوم کے لئے کوئی منشا باقی نہیںہاں اگر یہ گواہیاں شرعا مخدوش و نامقبول ہوں تو ان گواہیوں پر کہ اب تك واہب کا قبضہ رہا اب بھی التفات نہ ہوگا کہ شہادت علی النفی معتبر نہیں بلکہ مدعیہ ہبہ کی درخواست پر خواہندہ تقسیم سے حلف لیا جائے گا کہ اس کے علم میں واہب نے کبھی موہوب لہا کو قبضہ نہ دلایا اگر وہ حلف سے انکار کرے گا ہبہ ثابت ہوجائے گا اور حلف کرے گاتو ہبہ غیر ثابت قرار پاکر مکان میں سے اس خواستگار تقسیم کا حصہ جدا کردیا جائے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۹۲: ازریاست رامپور بنگلہ آزاد خاں مرسلہ مفتی لطف اﷲ صاحب خلف مفتی محمد سعد اﷲ صاحب ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۶ھ
بخدمت مبارك جناب مولانا مخدوم ومکرم ذی المجد والکرم جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجد کم ! بعد سلام مسنون التماس ہے کہ ایك شخص نے دعوی عاریت زیور کا کیا ہے اس میں صفت وزن اور قیمت کا اظہار کیا ہے شہود نے مطابق گواہی دی ہے لیکن وزن نہیں بیان کیا ہے اسی نقصان کے نظر سے شہادت مقبول نہیں ہوئی ہے مدعی عذر دار نے روایت ذیل فتاوی عالمگیری میں پیش کی ہے:
ان وقعت الدعوی فی عین غائب لایدری مکانہ بان ادعی رجل علی رجل انہ غصب منہ ثوبااو جاریۃ و لایدری انہ قائم او ھالك ان بین الجنس والصفۃ والقیمۃ فدعواہ مسموعۃ وبینتہ مقبولۃ ۔ اگر کسی ایسی چیز کے متعلق دعوی ہو جو غائب ہو اورمعلوم نہ ہو کہ کہاں ہے یوں کہ کسی نے دوسرے کے خلاف دعوی کیا کہ اس نے میرا کپڑا یا لونڈی غصب کر رکھی ہے معلوم نہیں کہ موجود ہے یا ضائع ہوگئی ہے اور مدعی نے اس پر شہادت میں جنسصفت اور قیمت بیان کی ہو تو اس کا دعوی مسموع اور گواہی مقبول ہوگی۔(ت)
ظاہر ہے کہ روایت ہذا متعلق بہ غصب ہے کیا یہی حکم عاریت میں بھی جاری ہوسکتا ہے یعنی مثل غصب کے عاریت میں بھی اگر شہود وزن کا ذکر نہ کرینگے جب بھی شہادت مقبول ہوگی چونکہ نظر عالی نہایت وسیع ہے اور محققانہ مسلك ہے لہذا آپ کی خدمت باعظمت میں تصدیعہ دیا جاتا ہے کہ جواب باصواب سے آگاہ فرمایا جائےمقدمہ کی تاریخ ۱۱/دسمبر ۱۹۰۸ء مقرر ہے امید کہ ورودجواب سے
مسئلہ۹۲: ازریاست رامپور بنگلہ آزاد خاں مرسلہ مفتی لطف اﷲ صاحب خلف مفتی محمد سعد اﷲ صاحب ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۶ھ
بخدمت مبارك جناب مولانا مخدوم ومکرم ذی المجد والکرم جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجد کم ! بعد سلام مسنون التماس ہے کہ ایك شخص نے دعوی عاریت زیور کا کیا ہے اس میں صفت وزن اور قیمت کا اظہار کیا ہے شہود نے مطابق گواہی دی ہے لیکن وزن نہیں بیان کیا ہے اسی نقصان کے نظر سے شہادت مقبول نہیں ہوئی ہے مدعی عذر دار نے روایت ذیل فتاوی عالمگیری میں پیش کی ہے:
ان وقعت الدعوی فی عین غائب لایدری مکانہ بان ادعی رجل علی رجل انہ غصب منہ ثوبااو جاریۃ و لایدری انہ قائم او ھالك ان بین الجنس والصفۃ والقیمۃ فدعواہ مسموعۃ وبینتہ مقبولۃ ۔ اگر کسی ایسی چیز کے متعلق دعوی ہو جو غائب ہو اورمعلوم نہ ہو کہ کہاں ہے یوں کہ کسی نے دوسرے کے خلاف دعوی کیا کہ اس نے میرا کپڑا یا لونڈی غصب کر رکھی ہے معلوم نہیں کہ موجود ہے یا ضائع ہوگئی ہے اور مدعی نے اس پر شہادت میں جنسصفت اور قیمت بیان کی ہو تو اس کا دعوی مسموع اور گواہی مقبول ہوگی۔(ت)
ظاہر ہے کہ روایت ہذا متعلق بہ غصب ہے کیا یہی حکم عاریت میں بھی جاری ہوسکتا ہے یعنی مثل غصب کے عاریت میں بھی اگر شہود وزن کا ذکر نہ کرینگے جب بھی شہادت مقبول ہوگی چونکہ نظر عالی نہایت وسیع ہے اور محققانہ مسلك ہے لہذا آپ کی خدمت باعظمت میں تصدیعہ دیا جاتا ہے کہ جواب باصواب سے آگاہ فرمایا جائےمقدمہ کی تاریخ ۱۱/دسمبر ۱۹۰۸ء مقرر ہے امید کہ ورودجواب سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵€
قیل میعاد شرف حاصل ہوگا۔
خاکسار نیاز مند دیرین از ریاست رام پور ۸/ دسمبر ۱۹۰۸ء
الجواب :
اللھم لك الحمد(یا اﷲ ! تمام حمدیں تیرے لئے ہیں۔ت)اصل مقصود دعوی و شہادت دونوں میں تعین مدعی بہ ہے کہ قضا ممکن ہو فان القضاء بمجہول غیر معقول(مجہول چیز کا فیصلہ عقل کے خلاف ہے۔ت) درمختار میں ہے:
شرطھا ای شرط جواز الدعوی معلومیۃ المال المدعی اذلایقضی بمجہول ۔ اس کی شرط یعنی دعوی کی شرط یہ ہے کہ وہ مال معلوم ہو جس کا دعوی کیا گیا ہے کیونکہ مجہول چیز کا فیصلہ نہیں ہوتا۔(ت)
پھر جو شیئ حاضر ہو اس کی طرف اشارہ تعیین کےلئے کافی ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
تسمع الدعوی بحضرتہ عند الاشارۃ الیہ وحینئذ یستغن عن ذکر الاوصاف و الوزن والنوع ۔ مدعی کے حاضر ہونے پر اس کی طرف اشارہ سے دعوی مسموع ہوگا اور اس صورت میں دعوی میں چیز کے اوصافوزن اور اس کی نوعیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔(ت)
اسی میں ہے:
لوکان عینا حاضرا لا یشترط ذکراوصافہ ۔ اگر کسی موجود حاضر چیز سے متعلق دعوی ہوتو اس کے اوصاف کو ذکر کرنا شرط نہیں(ت)
یہاں تك کہ وزن بیان نہ کرنا درکنار اگر غلط و خلاف واقع بیان کیاضرر نہ کرے گا لان التسمیۃ تلغو عن الاشارۃ(کیونکہ اشارہ کی وجہ سے اوصاف کا ذکر لغو ہوجاتا ہے۔ت) بزازیہ میں ہے:
ادعی حدیدا و ذکرانہ عشرۃ امناء فاذا ھو عشرون او ثمانیۃ تقبل الدعوی حاضر لو ہے کو اشارہ کرکے دعوی کیا اور بیان کیا کہ یہ دس من ہے جبکہ وہ بیس من یا آٹھ من نکلا تو
خاکسار نیاز مند دیرین از ریاست رام پور ۸/ دسمبر ۱۹۰۸ء
الجواب :
اللھم لك الحمد(یا اﷲ ! تمام حمدیں تیرے لئے ہیں۔ت)اصل مقصود دعوی و شہادت دونوں میں تعین مدعی بہ ہے کہ قضا ممکن ہو فان القضاء بمجہول غیر معقول(مجہول چیز کا فیصلہ عقل کے خلاف ہے۔ت) درمختار میں ہے:
شرطھا ای شرط جواز الدعوی معلومیۃ المال المدعی اذلایقضی بمجہول ۔ اس کی شرط یعنی دعوی کی شرط یہ ہے کہ وہ مال معلوم ہو جس کا دعوی کیا گیا ہے کیونکہ مجہول چیز کا فیصلہ نہیں ہوتا۔(ت)
پھر جو شیئ حاضر ہو اس کی طرف اشارہ تعیین کےلئے کافی ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
تسمع الدعوی بحضرتہ عند الاشارۃ الیہ وحینئذ یستغن عن ذکر الاوصاف و الوزن والنوع ۔ مدعی کے حاضر ہونے پر اس کی طرف اشارہ سے دعوی مسموع ہوگا اور اس صورت میں دعوی میں چیز کے اوصافوزن اور اس کی نوعیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔(ت)
اسی میں ہے:
لوکان عینا حاضرا لا یشترط ذکراوصافہ ۔ اگر کسی موجود حاضر چیز سے متعلق دعوی ہوتو اس کے اوصاف کو ذکر کرنا شرط نہیں(ت)
یہاں تك کہ وزن بیان نہ کرنا درکنار اگر غلط و خلاف واقع بیان کیاضرر نہ کرے گا لان التسمیۃ تلغو عن الاشارۃ(کیونکہ اشارہ کی وجہ سے اوصاف کا ذکر لغو ہوجاتا ہے۔ت) بزازیہ میں ہے:
ادعی حدیدا و ذکرانہ عشرۃ امناء فاذا ھو عشرون او ثمانیۃ تقبل الدعوی حاضر لو ہے کو اشارہ کرکے دعوی کیا اور بیان کیا کہ یہ دس من ہے جبکہ وہ بیس من یا آٹھ من نکلا تو
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱€۵
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷€۷
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۹€
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷€۷
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۹€
والشہادۃ لان الوزن فی المشار الیہ لغو ۔ دعوی اور شہادت دونوں مقبول ہیں کیونکہ مشار الیہ چیز میں وزن کابیان لغو ہوتا ہے۔(ت)
اور جو شیئ حاضر نہ ہو اس میں جنس وقدربالجملہ اس قدر اشیاء کابیان ضروری ہے جن سے اس کی پوری تعیین بقدر امکان واحتیاج حاصل ہوکنز الدقائق وتبیین الحقائق میں ہے:
(لایصح الدعوی حتی یذکر شیئا علم جنسہ وقدرہ) لان فائدتھا الالزام بواسطۃ الاشھاد ولا یتحقق الاشھاد ولاالزام فی المجہول فلا یصح ۔ کوئی دعوی صحیح نہیں ہوتا جب تك شیئ کو ذکر کرکے اس کی جنس اور قدر کو بیان نہ کیا جائے کیونکہ دعوے کا مفاد گواہی کے ذریعے الزام ثابت کرنا ہے جبکہ الزام اور گواہی مجہول چیز میں متحقق نہیں ہوسکتے اس لئے دعوی صحیح نہ ہوگا۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
معلومیۃ المال المدعی ای ببیان جنسہ وقدرہ بالاجماع لان الغرض الزام المدعی علیہ عند اقامۃ البینۃ ولا الزام فیما لایعلم جنسہ وقدرہ ۔ جس مال کا دعوی ہو اس کا جنس اور مقدار بیان سے معلوم ہونا بالاجماع ضروری ہے کیونکہ غرض یہ ہے کہ مدعی علیہ کو گواہی کے وقت الزام دیا جائے جبکہ جنس اور قدر معلوم ہوئے بغیر الزام متحقق نہیں ہوگا۔(ت)
اور ظاہر ہے کہ سونے چاندی میں قدر وہی وزن ہےجامع الفصولین میں ہے:
فی الذھب والفضۃ المقدر ھوالوزن ۔ سونے اور چاندی کے دعوی میں ضروری بیان وزن کا ہے۔(ت)
تو بیان وزن ضروری ہے اور بغیر اس کے دعوی ہو یا شہادت صحیح نہیںبحرالرائق میں ہے:
اشار باشتراط معلومیۃ الجنس و جنس اور قدر کے معلوم ہونے کی شرط میں انہوں
اور جو شیئ حاضر نہ ہو اس میں جنس وقدربالجملہ اس قدر اشیاء کابیان ضروری ہے جن سے اس کی پوری تعیین بقدر امکان واحتیاج حاصل ہوکنز الدقائق وتبیین الحقائق میں ہے:
(لایصح الدعوی حتی یذکر شیئا علم جنسہ وقدرہ) لان فائدتھا الالزام بواسطۃ الاشھاد ولا یتحقق الاشھاد ولاالزام فی المجہول فلا یصح ۔ کوئی دعوی صحیح نہیں ہوتا جب تك شیئ کو ذکر کرکے اس کی جنس اور قدر کو بیان نہ کیا جائے کیونکہ دعوے کا مفاد گواہی کے ذریعے الزام ثابت کرنا ہے جبکہ الزام اور گواہی مجہول چیز میں متحقق نہیں ہوسکتے اس لئے دعوی صحیح نہ ہوگا۔(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
معلومیۃ المال المدعی ای ببیان جنسہ وقدرہ بالاجماع لان الغرض الزام المدعی علیہ عند اقامۃ البینۃ ولا الزام فیما لایعلم جنسہ وقدرہ ۔ جس مال کا دعوی ہو اس کا جنس اور مقدار بیان سے معلوم ہونا بالاجماع ضروری ہے کیونکہ غرض یہ ہے کہ مدعی علیہ کو گواہی کے وقت الزام دیا جائے جبکہ جنس اور قدر معلوم ہوئے بغیر الزام متحقق نہیں ہوگا۔(ت)
اور ظاہر ہے کہ سونے چاندی میں قدر وہی وزن ہےجامع الفصولین میں ہے:
فی الذھب والفضۃ المقدر ھوالوزن ۔ سونے اور چاندی کے دعوی میں ضروری بیان وزن کا ہے۔(ت)
تو بیان وزن ضروری ہے اور بغیر اس کے دعوی ہو یا شہادت صحیح نہیںبحرالرائق میں ہے:
اشار باشتراط معلومیۃ الجنس و جنس اور قدر کے معلوم ہونے کی شرط میں انہوں
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الدعوٰی الفصل الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۲۱€
تبیین الحقائق کتاب الدعوٰی المطبعۃ الکبری ∞بولاق مصر ۴ /۲۹۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الدعوٰی مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۳۱۶€
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۵€
تبیین الحقائق کتاب الدعوٰی المطبعۃ الکبری ∞بولاق مصر ۴ /۲۹۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الدعوٰی مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۳۱۶€
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۵€
القدر الی انہ لابد من بیان الوزن فی الموزونات ۔ نے اشارہ کیا ہے کہ وزنی چیز میں وزن کا بیان ضروری ہے۔ (ت)
عبارت عالمگیری سے اس مقدمہ میں استناد صحیح نہیں اولا غصب وعاریت میں فرق ظاہر ہے کہ غصب ان مستثنی اشیاء سے جن کے دعوی میں قدرے جہالت تحمل کی جاتی ہےردالمحتار میں ہے:
یستثنی من فساد الدعوی بالمجہول دعوی الرھن والغصب لما فی الخانیۃ معزیا الی رھن الاصل اذا شھدواانہ رھن عندہ ثوبا ولم یسمواالثوب ولم یعرفوا عینہ جازت شہادتھم والقول للمرتھن فی ای ثوب کان وکذلك فی الغصب اھ فالدعوی بالاولی اھ بحر ۔ مجہول چیز کے دعوی کے حکم سے رہن اور غصب کا دعوی مستثنی ہے کیونکہ خانیہ میں اصل(مبسوط)کے رہن کے حوالہ سے ہے کہ جب گواہوں نے شہادت میں کہا کہ اس شخص نے فلاں کے پاس کپڑا رہن رکھا ہے اور کپڑے کانام ذکرنہ کیااور نہ ہی گواہ کپڑے کو جانتے ہیں تو یہ شہادت جائز ہوگی اور کپڑے کے تعین میں مرتھن کاقول معتبر ہوگا کہ وہ کون ساکپڑا ہے اور غصب میں بھی حکم یہی ہے اھ(شہادت میں جہالت جب قابل اعتبار ہے)تو یہاں دعوی میں بطریق اولی جائز ہوگی اھ بحر(ت)
ولہذااس میں ذکر قیمت کی بھی حاجت نہیںخود اسی عبارت عالمگیری میں کلام منقول سوال کے متصل ہی تھا
وان لم یبین القیمۃ اشار فی عامۃ الکتب انہا مسموعۃ کذافی الظہیریۃ ۔ دعوی میں اگر قیمت کا بیان نہ ہو تو عام کتب میں دعوی کے مسموع ہونے کا اشارہ ہےجیسا کہ ظہیریہ میں ہے(ت)
ثانیا: روایت مذکورہ کہ بعض ائمہ اس صورت پر محمول کرتے ہیں کہ مدعا علیہ غصب کا مقر ہوا اور عامہ مشائخ رحمہم اﷲ تعالی اگرچہ یہ تخصیص نہیں کرتے مگر ان کے نزدیك و ہ قبول دعوی وشہادت صرف
عبارت عالمگیری سے اس مقدمہ میں استناد صحیح نہیں اولا غصب وعاریت میں فرق ظاہر ہے کہ غصب ان مستثنی اشیاء سے جن کے دعوی میں قدرے جہالت تحمل کی جاتی ہےردالمحتار میں ہے:
یستثنی من فساد الدعوی بالمجہول دعوی الرھن والغصب لما فی الخانیۃ معزیا الی رھن الاصل اذا شھدواانہ رھن عندہ ثوبا ولم یسمواالثوب ولم یعرفوا عینہ جازت شہادتھم والقول للمرتھن فی ای ثوب کان وکذلك فی الغصب اھ فالدعوی بالاولی اھ بحر ۔ مجہول چیز کے دعوی کے حکم سے رہن اور غصب کا دعوی مستثنی ہے کیونکہ خانیہ میں اصل(مبسوط)کے رہن کے حوالہ سے ہے کہ جب گواہوں نے شہادت میں کہا کہ اس شخص نے فلاں کے پاس کپڑا رہن رکھا ہے اور کپڑے کانام ذکرنہ کیااور نہ ہی گواہ کپڑے کو جانتے ہیں تو یہ شہادت جائز ہوگی اور کپڑے کے تعین میں مرتھن کاقول معتبر ہوگا کہ وہ کون ساکپڑا ہے اور غصب میں بھی حکم یہی ہے اھ(شہادت میں جہالت جب قابل اعتبار ہے)تو یہاں دعوی میں بطریق اولی جائز ہوگی اھ بحر(ت)
ولہذااس میں ذکر قیمت کی بھی حاجت نہیںخود اسی عبارت عالمگیری میں کلام منقول سوال کے متصل ہی تھا
وان لم یبین القیمۃ اشار فی عامۃ الکتب انہا مسموعۃ کذافی الظہیریۃ ۔ دعوی میں اگر قیمت کا بیان نہ ہو تو عام کتب میں دعوی کے مسموع ہونے کا اشارہ ہےجیسا کہ ظہیریہ میں ہے(ت)
ثانیا: روایت مذکورہ کہ بعض ائمہ اس صورت پر محمول کرتے ہیں کہ مدعا علیہ غصب کا مقر ہوا اور عامہ مشائخ رحمہم اﷲ تعالی اگرچہ یہ تخصیص نہیں کرتے مگر ان کے نزدیك و ہ قبول دعوی وشہادت صرف
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷ /۱۹۵€
ردالمحتار کتاب الدعوٰی داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/۴۲۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵€
ردالمحتار کتاب الدعوٰی داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/۴۲۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵€
حق حبس مدعا علیہ میں ہے یعنی تاکہ حاکم اسے حبس کرے کہ شیئ مدعی حاضر لائے نہ کہ ابتدا اسی قدر شہادت پر ڈگری دی جائے۔جامع الفصولین میں ہے:
لوادعی عینا غائبا لایعرف مکانہ بان ادعی انہ غصب منہ ثوبا او قنا ولایدری قیامہ او ھلاکہ فلو بین الجنس والصفۃ والقیمۃ تقبل دعواہولولم یبین قیمتہ اشار فی عامۃ الکتب الی انہا تقبل فانہ ذکر فی کتاب الرہن لو ادعی انہ رھن عندہ ثوباوھو ینکر تسمع دعواہوذکر فی کتاب الغصب ادعی انہ غصب منہ امۃ و برھن یسمع وبعض مشایخنا قالواانما تسمع دعواہ لو ذکر القیمۃ وھذاھو تاویل ماذکر فی الکتاب و قال فقیہ الاعمش رحمہ اﷲ تاویل ماذکر فی الکتاب ان الشہود شھد واعلی اقرار المدعی علیہ بالغصب فثبت غصب القن باقرارہ فی حق الحبس والحکم جمیعاوعامۃ المشایخ علی ان ھذہ الدعوی والبینۃتقبل ولکن فی حق الحبس واطلاق م رحمہ اﷲ تعالی فی الکتاب یدل علیہ ومعنی الحبس کسی ایسی موجود غائب چیز کا دعوی کیا جس کے مقام کا علم نہیں جیسا کہ کسی دوسرے پر کپڑے یا غلام کو غصب کرنے کا دعوی کیا اور کہا معلوم نہیں کہ وہ مغصوب قائم ہے یا ہلاك ہوگیا ہےتو ایسی صورت میں اگر مدعی نے اس چیز کی جنسصفت اور قیمت کو بیان کیا تو دعوی مقبول ہوگا اور اگر قیمت کا ذکر نہ کیا تو عام کتب میں مقبول ہونے کا اشارہ ہےکیونکہ انہوں نے کتاب الرہن میں ذکر کیا کہ ایك نے اگر کپڑے کے رہن کا دعوی کیا تو مدعی علیہ نے انکار کیاتو مدعی کا دعوی مسموع ہوگااور انہوں نے کتاب الغصب میں یوں ذکر کیا ہے ایك شخص نے دعوی کیا کہ فلاں نے میری لونڈی غصب کی ہے اور گواہ پیش کردئے تو یہ دعوی مسموع ہوگا اور بعض مشائخ نے ذکر کیا کہ اگر قیمت ذکر کی تو دعوی مسموع ہوگا یہ کتاب میں مذکور کی تاویل ہے اور فقیہ ابواعمش رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ کتاب الغصب میں مذکور کی تاویل یہ ہےکہ گواہوں نے مدعی علیہ کے غصب کے اقرار پر شہادت دی ہوتو اقرار کی بنا پر غلام کا غصب قید اور حکم دونوں میں ثابت ہوگا جبکہ عام مشائخ نے یوں ذکر کیا کہ یہ دعوی اور گواہی قبول ہوگی لیکن صرف حبس میںجبکہ کتاب میں مصنف رحمہ اﷲ تعالی کا مطلق بیان اس کی تائید پر دلالت کرتا ہے اور حبس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ
لوادعی عینا غائبا لایعرف مکانہ بان ادعی انہ غصب منہ ثوبا او قنا ولایدری قیامہ او ھلاکہ فلو بین الجنس والصفۃ والقیمۃ تقبل دعواہولولم یبین قیمتہ اشار فی عامۃ الکتب الی انہا تقبل فانہ ذکر فی کتاب الرہن لو ادعی انہ رھن عندہ ثوباوھو ینکر تسمع دعواہوذکر فی کتاب الغصب ادعی انہ غصب منہ امۃ و برھن یسمع وبعض مشایخنا قالواانما تسمع دعواہ لو ذکر القیمۃ وھذاھو تاویل ماذکر فی الکتاب و قال فقیہ الاعمش رحمہ اﷲ تاویل ماذکر فی الکتاب ان الشہود شھد واعلی اقرار المدعی علیہ بالغصب فثبت غصب القن باقرارہ فی حق الحبس والحکم جمیعاوعامۃ المشایخ علی ان ھذہ الدعوی والبینۃتقبل ولکن فی حق الحبس واطلاق م رحمہ اﷲ تعالی فی الکتاب یدل علیہ ومعنی الحبس کسی ایسی موجود غائب چیز کا دعوی کیا جس کے مقام کا علم نہیں جیسا کہ کسی دوسرے پر کپڑے یا غلام کو غصب کرنے کا دعوی کیا اور کہا معلوم نہیں کہ وہ مغصوب قائم ہے یا ہلاك ہوگیا ہےتو ایسی صورت میں اگر مدعی نے اس چیز کی جنسصفت اور قیمت کو بیان کیا تو دعوی مقبول ہوگا اور اگر قیمت کا ذکر نہ کیا تو عام کتب میں مقبول ہونے کا اشارہ ہےکیونکہ انہوں نے کتاب الرہن میں ذکر کیا کہ ایك نے اگر کپڑے کے رہن کا دعوی کیا تو مدعی علیہ نے انکار کیاتو مدعی کا دعوی مسموع ہوگااور انہوں نے کتاب الغصب میں یوں ذکر کیا ہے ایك شخص نے دعوی کیا کہ فلاں نے میری لونڈی غصب کی ہے اور گواہ پیش کردئے تو یہ دعوی مسموع ہوگا اور بعض مشائخ نے ذکر کیا کہ اگر قیمت ذکر کی تو دعوی مسموع ہوگا یہ کتاب میں مذکور کی تاویل ہے اور فقیہ ابواعمش رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ کتاب الغصب میں مذکور کی تاویل یہ ہےکہ گواہوں نے مدعی علیہ کے غصب کے اقرار پر شہادت دی ہوتو اقرار کی بنا پر غلام کا غصب قید اور حکم دونوں میں ثابت ہوگا جبکہ عام مشائخ نے یوں ذکر کیا کہ یہ دعوی اور گواہی قبول ہوگی لیکن صرف حبس میںجبکہ کتاب میں مصنف رحمہ اﷲ تعالی کا مطلق بیان اس کی تائید پر دلالت کرتا ہے اور حبس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ
ان یحبسہ حتی یحضرہ لیعید البینۃ علی عینہ فلو قال لا اقدر علیہ حبس قدر مالو قدر احضرہ ثم یقضی علیہ بقیمتہ ۔ کو قید میں اس وقت تك رکھا جائے جب تك وہ غلام کو حاضر نہ کردے تاکہ حاضر ہوجانے پر گواہوں سے دوبارہ غلام کی تعیین پر شہادت لی جائے اگر اس دوران قیدی کہے کہ میں اس کو حاضر کرنے پر قادر نہیں ہوں تو اس وقت تك قید رکھا جائے کہ اگر قدرت ہوتی تو وہ ضرور حاضر کردیتا اس اندازے کے بعد تیسرے مرحلہ پر قاضی اس پر قیمت کا حکم دے گا(ت)
ثالثا اگر ان سب سے قطع نظر ہو تو اس عبارت میں صورت ثوب وکنیز فرض کی ہے اور وہ موزونات سے نہیں ان میں جنس و صفت و قیمت ہی تعیین کرنے والے تھے اس سے یہ لازم نہیں آسکتا کہ زیور میں بھی ذکر وزن ضروری نہ ہوحالانکہ وہ موزون ہے اور کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بیان قدر وکیل ووزن ضروری ہے کما تقدم(جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ت)آخر نہ دیکھا کہ اگر دعوی ایسے ریشمیں کپڑے کا ہو جو وزن سے بکتا ہے بیان وزن لازم ہےاسی عالمگیریہ میں ہے:
اذا ادعی دیباجا فان کان عینا یشترط الاشارۃ الیہ وعند ذلك لاحاجۃ الی بیان الوزن وسائر اوصافہ وان کان دینا ففیہ اختلاف المشایخ ھل یشترط ذکر الوزن فعامتھم یشترط وھو الصحیح ذخیرہ اھ مختصرا۔ اگردیباج کپڑے کا دعوی ہو تو اگر سامنے حاضر ہو تو اس کی طرف اشارہ کرنا دعوی میں شرط ہے اس صورت میں وزن اور دیگر اوصاف کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ دیباج حاضر نہیں تو اس صورت میں مشائخ کا اختلاف ہے کہ کیا وزن کا بیان ضروری ہے جبکہ تمام فقہاء نے اس کو شرط قرار دیا ہے اور یہی صحیح ہےذخیرہمختصرا۔(ت)
اسی میں ہے:
اذا ادعی جوہرا لابد من ذکر الوزن اذاکان غائبا وکان المدعی علیہ منکراکون ذلك فی یدہ کذافی السراجیۃ ۔ جب جواہر کا دعوی ہو تو وزن کا ذکر ضروری ہے جب وہ جواہر غائب ہو اور مدعی علیہ اپنے قبضہ ہونے کا انکار کرتا ہوسراجیہ میں یوں ہے۔(ت)
ثالثا اگر ان سب سے قطع نظر ہو تو اس عبارت میں صورت ثوب وکنیز فرض کی ہے اور وہ موزونات سے نہیں ان میں جنس و صفت و قیمت ہی تعیین کرنے والے تھے اس سے یہ لازم نہیں آسکتا کہ زیور میں بھی ذکر وزن ضروری نہ ہوحالانکہ وہ موزون ہے اور کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بیان قدر وکیل ووزن ضروری ہے کما تقدم(جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ت)آخر نہ دیکھا کہ اگر دعوی ایسے ریشمیں کپڑے کا ہو جو وزن سے بکتا ہے بیان وزن لازم ہےاسی عالمگیریہ میں ہے:
اذا ادعی دیباجا فان کان عینا یشترط الاشارۃ الیہ وعند ذلك لاحاجۃ الی بیان الوزن وسائر اوصافہ وان کان دینا ففیہ اختلاف المشایخ ھل یشترط ذکر الوزن فعامتھم یشترط وھو الصحیح ذخیرہ اھ مختصرا۔ اگردیباج کپڑے کا دعوی ہو تو اگر سامنے حاضر ہو تو اس کی طرف اشارہ کرنا دعوی میں شرط ہے اس صورت میں وزن اور دیگر اوصاف کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ دیباج حاضر نہیں تو اس صورت میں مشائخ کا اختلاف ہے کہ کیا وزن کا بیان ضروری ہے جبکہ تمام فقہاء نے اس کو شرط قرار دیا ہے اور یہی صحیح ہےذخیرہمختصرا۔(ت)
اسی میں ہے:
اذا ادعی جوہرا لابد من ذکر الوزن اذاکان غائبا وکان المدعی علیہ منکراکون ذلك فی یدہ کذافی السراجیۃ ۔ جب جواہر کا دعوی ہو تو وزن کا ذکر ضروری ہے جب وہ جواہر غائب ہو اور مدعی علیہ اپنے قبضہ ہونے کا انکار کرتا ہوسراجیہ میں یوں ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷€
جامع الفصولین میں ہے:
فی دعوی الدیباج ھل یشترط ذکر الوزن الصحیح انہ یشترط وذکر فی"جف"انہ فی دعوی الدیباج والجوہر یشترط ذکر الوزن ۔ دیباج کے دعوی میں کیا وزن کا ذکر شرط ہے جبکہ صحیح یہ ہے کہ شرط ہے جامع الفتاوی میں ذکر کیا کہ دعوی دیباج اور جوہرمیں وزن کاذکر شرط ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ دعوی استرداد عاریت کا ہو اگر دعوی استہلاك کا تھا یعنی اتنا زیور اسے عاریۃ دیا تھا اس نے تلف کردیا تو اب یہ بعینہ دعوی غصب ہے اور اس کا حکم وہ ہے کہ اوپرمذکور ہوا
وذلك لان الامانات تنقلب مضمونات بالتعدی والامین یعود بہ غاصبا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ یہ اس لئے کہ امانتیں دخل اندازی کی بناء پر مضمون ہوجاتی ہیں اور امانت رکھنے والا غاصب قرار دیا جاتا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۳:ازریاست رامپور مرسلہ سید مسعود شاہ صاحب تحویلدار باورچی خانہ انگریزی ریاست رامپور ۶/ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے ایك منزل مکان منہدمہ(یعنی ہر چہار جانب دیوار ہائے شکستہ بقدر ساڑھے تین درعہ بلند موجود تھیں)چار سو پچیس درعہ اراضی مسمی بکر سے خرید کرکے مکان پختہ تعمیر کیا اور پس پشت مکان نو تعمیر کے ۱۲ گرہ عریض اور سرا سر طویل اراضی برائے آبچك چھوڑی۔مسمی عمرو نے جس کا مکان پس پشت پر سے جز و اراضی آبچك میں مداخلت ناجائز کیا اس کے تخلیہ کا زید نے عمرو پر دعوی کیا عمرو نے یہ جوابدہی کی اراضی مدعا بہ ملکیت مدعی نہیں بلکہ میری مملوکہ ہے اور دستاویز پر میری گواہی نہیں ہے مگر عمرو نے کوئی ثبوت اپنی ملکیت کا اور باطل ہونے دستاویز بیعنامہ کا پیش نہیں کیا عدالت نے جو پیمائش اراضی کی کرائی تو بموجب تعداد مندرجہ بیعنامہ کے اراضی مدعیہ آبچك مکان مدعی پائی گئی مگر عدالت نے دعوی مدعی کو اس بناء پر نامنظور فرمایا کہ اس مقدمہ میں شہادت بالبینہ یا اقبال یا نکول نہیں ہے جس پر مدار فیصلہ ہونا چاہئے زید نے شہادت دستاویز بیعنامہ کو کافی تصور کرکے شہادت بالبینہ پیش نہیں کیا ورنہ وہ بہت سی شہادتیں بالبینہ پیش کرسکتا تھا اور اب بھی پیش کرسکتا ہے اس صورت میں عدالت کو دعوی نامسموع فرمانا چاہئے تھا
فی دعوی الدیباج ھل یشترط ذکر الوزن الصحیح انہ یشترط وذکر فی"جف"انہ فی دعوی الدیباج والجوہر یشترط ذکر الوزن ۔ دیباج کے دعوی میں کیا وزن کا ذکر شرط ہے جبکہ صحیح یہ ہے کہ شرط ہے جامع الفتاوی میں ذکر کیا کہ دعوی دیباج اور جوہرمیں وزن کاذکر شرط ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ دعوی استرداد عاریت کا ہو اگر دعوی استہلاك کا تھا یعنی اتنا زیور اسے عاریۃ دیا تھا اس نے تلف کردیا تو اب یہ بعینہ دعوی غصب ہے اور اس کا حکم وہ ہے کہ اوپرمذکور ہوا
وذلك لان الامانات تنقلب مضمونات بالتعدی والامین یعود بہ غاصبا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ یہ اس لئے کہ امانتیں دخل اندازی کی بناء پر مضمون ہوجاتی ہیں اور امانت رکھنے والا غاصب قرار دیا جاتا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۳:ازریاست رامپور مرسلہ سید مسعود شاہ صاحب تحویلدار باورچی خانہ انگریزی ریاست رامپور ۶/ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے ایك منزل مکان منہدمہ(یعنی ہر چہار جانب دیوار ہائے شکستہ بقدر ساڑھے تین درعہ بلند موجود تھیں)چار سو پچیس درعہ اراضی مسمی بکر سے خرید کرکے مکان پختہ تعمیر کیا اور پس پشت مکان نو تعمیر کے ۱۲ گرہ عریض اور سرا سر طویل اراضی برائے آبچك چھوڑی۔مسمی عمرو نے جس کا مکان پس پشت پر سے جز و اراضی آبچك میں مداخلت ناجائز کیا اس کے تخلیہ کا زید نے عمرو پر دعوی کیا عمرو نے یہ جوابدہی کی اراضی مدعا بہ ملکیت مدعی نہیں بلکہ میری مملوکہ ہے اور دستاویز پر میری گواہی نہیں ہے مگر عمرو نے کوئی ثبوت اپنی ملکیت کا اور باطل ہونے دستاویز بیعنامہ کا پیش نہیں کیا عدالت نے جو پیمائش اراضی کی کرائی تو بموجب تعداد مندرجہ بیعنامہ کے اراضی مدعیہ آبچك مکان مدعی پائی گئی مگر عدالت نے دعوی مدعی کو اس بناء پر نامنظور فرمایا کہ اس مقدمہ میں شہادت بالبینہ یا اقبال یا نکول نہیں ہے جس پر مدار فیصلہ ہونا چاہئے زید نے شہادت دستاویز بیعنامہ کو کافی تصور کرکے شہادت بالبینہ پیش نہیں کیا ورنہ وہ بہت سی شہادتیں بالبینہ پیش کرسکتا تھا اور اب بھی پیش کرسکتا ہے اس صورت میں عدالت کو دعوی نامسموع فرمانا چاہئے تھا
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل السادس ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۹€
یازید کو ہدایت واسطے پیش کرنے شہادت بالبینہ کے فرمانی لازم تھی اور اب عدالت مرافعہ میں شہادت بالبینہ مدعی کہ جس کو اس نے عدالت ابتدائی میں پیش نہیں کیا ہے پیش کرسکتا ہے یانہیںجو واسطے حق رسی و انصاف کے ضروری ہے نقل فیصلہ ہمراہ اس استفتا کے پیش کی جاتی ہے۔
الجواب:
تجویز ملاحظہ ہوئیذی علم مجوز کا یہ فرمانا کہ"ثبوت دعوی کا بینہ سے ہوتا ہے یا اقرار مدعا علیہ سے یا نکول عن الحلف سے یہاں ان تین وجوہ شرعیہ سے کوئی نہیںـ"بہت صحیح ہے مگر ساتھ ہی یہ لحاظ بھی ضرور تھا کہ جس طرح ثبوت دعوی بغیر ان تین کے نہیں ہوسکتا یوں ہی قضائے قاضی بھی بغیر ان تین اور چوتھی یمین کے ناممکن ہے ان تین سے کوئی ہو تو مدعی کو ڈگری دے اور ان کے بدلے مدعا علیہ کی یمین ہو تو ڈسمس(dismiss)کرے اور چاروں نہ ہوں تو حاکم ڈگریڈسمس کچھ نہیں کرسکتا اصلا فیصلہ نہیں دے سکتا اور دے گا تو وہ فیصلہ بھی باطل و نامسموع ہوگا کہ حکم کے چھ ارکان ہیں ان میں سے جو رکن مفقود ہو حکم باطل ومردود ہے ان چھ میں ایك طریق حکم ہے اور وہ حقوق العباد میں انہیں چاراشیاء میں منحصرتو جہاں ان میں سے کچھ نہ ہو طریق مسدود اور فیصلہ غلط و مردود۔درمختار میں ہے:
ارکانہ ستۃ علی نظمہ ابن الغرس بقولہ
اطراف کل قضیۃ حکمیۃ
ست یلوح بعدھا التحقیق
حکم و محکوم بہ ولہ
ومحکوم علیہ وحاکم وطریق قاضی کے فیصلہ کے چھ رکن ہیں جن کو ابن الغرس نے اپنی نظم میں یوں بیان کیا
ہر فیصلہ کے معاملہ میں چھ پہلو ہیں
جن کے بعد تحقیق واضح ہوگی
حکممحکوم بہمحکوم لہ
محکوم علیہحاکم اور وجہ حکم
ردالمحتار میں ہے:
ای لاتکون محلا لثبوت حق المدعی فیہا وعدمہ الا بالاستجماع ھذہ الشروط الستۃوالطریق فیما یرجع الی حقوق العباد المحضۃ عبارۃ عن الدعوی والحجۃ وھی اما البینۃ اوالاقرار اوالیمین اوالنکول عنہ اھ ملتقطا۔ یعنی کسی محل میں مدعی کے حق یا عدم حق کا ثبوت ان چھ شرطوں کے پائے جانے کے بغیر نہیں ہوسکتا اور خالص حقوق العباد میں فیصلے کا طریقہدعوی اور حجت یعنی گواہی یا اقرار یا قسم یا انکار قسم ہےاھ(ت)
الجواب:
تجویز ملاحظہ ہوئیذی علم مجوز کا یہ فرمانا کہ"ثبوت دعوی کا بینہ سے ہوتا ہے یا اقرار مدعا علیہ سے یا نکول عن الحلف سے یہاں ان تین وجوہ شرعیہ سے کوئی نہیںـ"بہت صحیح ہے مگر ساتھ ہی یہ لحاظ بھی ضرور تھا کہ جس طرح ثبوت دعوی بغیر ان تین کے نہیں ہوسکتا یوں ہی قضائے قاضی بھی بغیر ان تین اور چوتھی یمین کے ناممکن ہے ان تین سے کوئی ہو تو مدعی کو ڈگری دے اور ان کے بدلے مدعا علیہ کی یمین ہو تو ڈسمس(dismiss)کرے اور چاروں نہ ہوں تو حاکم ڈگریڈسمس کچھ نہیں کرسکتا اصلا فیصلہ نہیں دے سکتا اور دے گا تو وہ فیصلہ بھی باطل و نامسموع ہوگا کہ حکم کے چھ ارکان ہیں ان میں سے جو رکن مفقود ہو حکم باطل ومردود ہے ان چھ میں ایك طریق حکم ہے اور وہ حقوق العباد میں انہیں چاراشیاء میں منحصرتو جہاں ان میں سے کچھ نہ ہو طریق مسدود اور فیصلہ غلط و مردود۔درمختار میں ہے:
ارکانہ ستۃ علی نظمہ ابن الغرس بقولہ
اطراف کل قضیۃ حکمیۃ
ست یلوح بعدھا التحقیق
حکم و محکوم بہ ولہ
ومحکوم علیہ وحاکم وطریق قاضی کے فیصلہ کے چھ رکن ہیں جن کو ابن الغرس نے اپنی نظم میں یوں بیان کیا
ہر فیصلہ کے معاملہ میں چھ پہلو ہیں
جن کے بعد تحقیق واضح ہوگی
حکممحکوم بہمحکوم لہ
محکوم علیہحاکم اور وجہ حکم
ردالمحتار میں ہے:
ای لاتکون محلا لثبوت حق المدعی فیہا وعدمہ الا بالاستجماع ھذہ الشروط الستۃوالطریق فیما یرجع الی حقوق العباد المحضۃ عبارۃ عن الدعوی والحجۃ وھی اما البینۃ اوالاقرار اوالیمین اوالنکول عنہ اھ ملتقطا۔ یعنی کسی محل میں مدعی کے حق یا عدم حق کا ثبوت ان چھ شرطوں کے پائے جانے کے بغیر نہیں ہوسکتا اور خالص حقوق العباد میں فیصلے کا طریقہدعوی اور حجت یعنی گواہی یا اقرار یا قسم یا انکار قسم ہےاھ(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۹۸۔۷ ۲۹€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۹۸۔۷ ۲۹€
فتاوی قاضی خاں پھر بحرالرائق پھر فتاوی خیریہ میں ہے:
انما ینفذ القضاء عند شرائطہ من الخصومۃ وغیرہا فاذالم توجد لم ینفذ ۔ کسی مقدمہ وغیرہ میں فیصلہ اپنی شرائط پائے جانے پر نافذ ہوگاجب تمام شرائط نہ پائے جائیں تو نافذ نہ ہوگا(ت)
نیزفتاوی علامہ خیرالدین رملی میں ہے:
صرح فی البحر فی مواضع متعددۃ انہ لایعمل بالتنافیذ الواقعۃ فی زماننا لعدم استیفا ئھا الشرائط الحکمیۃ التی نص علیہا ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ بقولہ
حکم ومحکوم بہ ولہ
ومحکوم علیہ وحاکم وطریق بحر میں متعدد مواضع پر تصریح ہے کہ ہمارے زمانہ میں نافذ اکثر فیصلے قابل عمل نہیں کیونکہ ان میں فیصلہ کی تمام شرطیں جمع نہیں جن کو ابن الغرس نے فواکہ البدریہ میں یوں بیان کیا ہے:حکممحکوم بہلہ و محکوم علیہ و حاکم وطریق۔
یہاں تین چیزوں یعنی بینہاقرارنکول کا نہ ہونا خود مجوز کو تسلیم اور چوتھی یعنی یمین کا نہ ہونا بھی واضح۔نہ مدعی نے طلب حلف کیا نہ حاکم نے مدعا علیہ سے حلف مانگا نہ مدعا علیہ نے حلف کیا تو بغیر اصلا کسی طریق شرعی کے مجوز کو فیصلہ کردینے کا کیا اختیار تھا ایسا ہی اختیار فرض کیا جائے تو دعوی پیش ہوتے ہی تحریر فرمادینا تھا کہ حکم ہوا کہ دعوی مدعی نامسموع ہو آخر اس پر یہی تو الزام ہوتا کہ بلاوجہ شرعی دعوی نامسموع کیا وہ الزام اب بھی حاصل ہے تو زمین پیمائش کرانے اور مدعا علیہ کے دس گواہ سننے سے سوا تطویل لاطائل کے کچھ مفاد نہ ہوا جب شرعا بیعنامہ میں گزوں کی تعداد لکھی کوئی حجت شرعیہ نہ تھی اور فی الواقع وہ اصلا حجت نہیں تو پیمائش کرانی محض فضول ہوئیشرع مطہر نے گواہ مدعی پر رکھے ہیں اور قسم مدعا علیہ پر تو مدعا علیہ یعنی منکر سے ثبوت انکار پر گواہ لینا کوئی معنی نہ رکھتا تھا حدیث میں ارشاد ہوا:
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر کے ذمہ ہے(ت)
انما ینفذ القضاء عند شرائطہ من الخصومۃ وغیرہا فاذالم توجد لم ینفذ ۔ کسی مقدمہ وغیرہ میں فیصلہ اپنی شرائط پائے جانے پر نافذ ہوگاجب تمام شرائط نہ پائے جائیں تو نافذ نہ ہوگا(ت)
نیزفتاوی علامہ خیرالدین رملی میں ہے:
صرح فی البحر فی مواضع متعددۃ انہ لایعمل بالتنافیذ الواقعۃ فی زماننا لعدم استیفا ئھا الشرائط الحکمیۃ التی نص علیہا ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ بقولہ
حکم ومحکوم بہ ولہ
ومحکوم علیہ وحاکم وطریق بحر میں متعدد مواضع پر تصریح ہے کہ ہمارے زمانہ میں نافذ اکثر فیصلے قابل عمل نہیں کیونکہ ان میں فیصلہ کی تمام شرطیں جمع نہیں جن کو ابن الغرس نے فواکہ البدریہ میں یوں بیان کیا ہے:حکممحکوم بہلہ و محکوم علیہ و حاکم وطریق۔
یہاں تین چیزوں یعنی بینہاقرارنکول کا نہ ہونا خود مجوز کو تسلیم اور چوتھی یعنی یمین کا نہ ہونا بھی واضح۔نہ مدعی نے طلب حلف کیا نہ حاکم نے مدعا علیہ سے حلف مانگا نہ مدعا علیہ نے حلف کیا تو بغیر اصلا کسی طریق شرعی کے مجوز کو فیصلہ کردینے کا کیا اختیار تھا ایسا ہی اختیار فرض کیا جائے تو دعوی پیش ہوتے ہی تحریر فرمادینا تھا کہ حکم ہوا کہ دعوی مدعی نامسموع ہو آخر اس پر یہی تو الزام ہوتا کہ بلاوجہ شرعی دعوی نامسموع کیا وہ الزام اب بھی حاصل ہے تو زمین پیمائش کرانے اور مدعا علیہ کے دس گواہ سننے سے سوا تطویل لاطائل کے کچھ مفاد نہ ہوا جب شرعا بیعنامہ میں گزوں کی تعداد لکھی کوئی حجت شرعیہ نہ تھی اور فی الواقع وہ اصلا حجت نہیں تو پیمائش کرانی محض فضول ہوئیشرع مطہر نے گواہ مدعی پر رکھے ہیں اور قسم مدعا علیہ پر تو مدعا علیہ یعنی منکر سے ثبوت انکار پر گواہ لینا کوئی معنی نہ رکھتا تھا حدیث میں ارشاد ہوا:
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر کے ذمہ ہے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۹€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۴۔۲۳€
صحیح البخاری کتاب الرہن ∞۱ /۲۴۲€ وجامع الترمذی ابواب الاحکام ∞۱ /۱۶۰€ وسنن الدارقطنی نشر السنۃ ∞ملتان ۴ /۲۱۸،€نصب الرایہ کتاب الدعوٰی باب الیمین المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴ /۹۵€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۴۔۲۳€
صحیح البخاری کتاب الرہن ∞۱ /۲۴۲€ وجامع الترمذی ابواب الاحکام ∞۱ /۱۶۰€ وسنن الدارقطنی نشر السنۃ ∞ملتان ۴ /۲۱۸،€نصب الرایہ کتاب الدعوٰی باب الیمین المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴ /۹۵€
ہدایہ و بحرالرائق میں ہے:
لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر قسم و القسمۃ تنافی الشرکۃ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابقگواہی مدعی کے ذمہ اور قسم انکار کرنے والے کے ذمہیہ تقسیم ہے اور تقسیم اشتراك کے منافی ہے۔(ت)
پھر تجویز میں فرمانا کہ"ان کے اظہارات کے ملاحظہ سے ثابت ہے کہ دروازہ مدعا علیہ بدستور جائے قدیم پر ہے اور مدعی نے جو دیوار خود تعمیر کی ہے بجائے بنیاد قدیمی تعمیر کی ہے"صراحۃشہادت علی النفی کا قبول کرنا ہےدروازہ مدعا علیہ جائے قدیم پر ہونے کا اسی قدر حاصل کہ مدعا علیہ نے ملك مدعی میں کوئی تصرف نہ کیایونہی دیوار مدعی بجائے بنیاد قدیم تعمیر ہونے کا اسی قدر محصل کہ مدعی نے کوئی آبچك نہ چھوڑی جس میں مدعا علیہ تصرف کرتاتو یہ صاف صاف نفی پر شہادتیں تھیں کہ اعتبار معنی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔ہدایہ وکافی وبحر وغیرہما میں ہے:
الاعتبار للمعانی دون الصور فان المودع اذاقال رددت الودیعۃ فالقول قولہ مع الیمین وان کان مدعیا للرد صورۃ لانہ ینکر الضمان ۔ معانی کا اعتبار ہے صورتوں کا نہیںکیونکہ جب امانت رکھنے والاکہے کہ میں نے امانت واپس کردی ہے تو اس کی بات قسم کے ساتھ مان لی جائے گی اگرچہ صورتا وہ واپس کرنے کا دعوی کررہا ہےوجہ یہ ہے کہ واپسی کا دعوی کرکے اپنے ذمہ سے ضمان کا انکارکررہا ہے۔(ت)
بلکہ یہاں معنی وصورۃ ہر طرح نفی ہے کہ قدم خود مفہوم سلبی ہے یعنی حادث وجدید نہ ہونا۔بالجملہ جس قدر کارروائی اس مقدمہ میں واقع ہوئی سب محض بیکار و بے اثر و بیگانہ و بے ثمر ہوئی۔میں نہیں کہتا کہ غلط فیصلہ ہوایہ تو جب کہا جائے کہ فیصلہ ہوا ہواور اس میں خطا ہو۔یہاں تو سرے سے فیصلہ ہواہی نہیںیہ تجویز جس کانام عوام میں فیصلہ رکھاجائے ہرگز فیصلہ ہی نہیںایك کاغذ سادہ ہے کہ فیصلہ کے چھ رکن شرع مطہر نے مقرر فرمائے اور یہاں رکن ششم معدوم ہے اور بغیر رکن کے وجود شیئ محال جس کی تصریحیں ابھی کتب معتمدہ سے گزریں تو مقدمہ ہنوز رو ز اول پر ہے مدعی بلا شبہہ
لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر قسم و القسمۃ تنافی الشرکۃ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابقگواہی مدعی کے ذمہ اور قسم انکار کرنے والے کے ذمہیہ تقسیم ہے اور تقسیم اشتراك کے منافی ہے۔(ت)
پھر تجویز میں فرمانا کہ"ان کے اظہارات کے ملاحظہ سے ثابت ہے کہ دروازہ مدعا علیہ بدستور جائے قدیم پر ہے اور مدعی نے جو دیوار خود تعمیر کی ہے بجائے بنیاد قدیمی تعمیر کی ہے"صراحۃشہادت علی النفی کا قبول کرنا ہےدروازہ مدعا علیہ جائے قدیم پر ہونے کا اسی قدر حاصل کہ مدعا علیہ نے ملك مدعی میں کوئی تصرف نہ کیایونہی دیوار مدعی بجائے بنیاد قدیم تعمیر ہونے کا اسی قدر محصل کہ مدعی نے کوئی آبچك نہ چھوڑی جس میں مدعا علیہ تصرف کرتاتو یہ صاف صاف نفی پر شہادتیں تھیں کہ اعتبار معنی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔ہدایہ وکافی وبحر وغیرہما میں ہے:
الاعتبار للمعانی دون الصور فان المودع اذاقال رددت الودیعۃ فالقول قولہ مع الیمین وان کان مدعیا للرد صورۃ لانہ ینکر الضمان ۔ معانی کا اعتبار ہے صورتوں کا نہیںکیونکہ جب امانت رکھنے والاکہے کہ میں نے امانت واپس کردی ہے تو اس کی بات قسم کے ساتھ مان لی جائے گی اگرچہ صورتا وہ واپس کرنے کا دعوی کررہا ہےوجہ یہ ہے کہ واپسی کا دعوی کرکے اپنے ذمہ سے ضمان کا انکارکررہا ہے۔(ت)
بلکہ یہاں معنی وصورۃ ہر طرح نفی ہے کہ قدم خود مفہوم سلبی ہے یعنی حادث وجدید نہ ہونا۔بالجملہ جس قدر کارروائی اس مقدمہ میں واقع ہوئی سب محض بیکار و بے اثر و بیگانہ و بے ثمر ہوئی۔میں نہیں کہتا کہ غلط فیصلہ ہوایہ تو جب کہا جائے کہ فیصلہ ہوا ہواور اس میں خطا ہو۔یہاں تو سرے سے فیصلہ ہواہی نہیںیہ تجویز جس کانام عوام میں فیصلہ رکھاجائے ہرگز فیصلہ ہی نہیںایك کاغذ سادہ ہے کہ فیصلہ کے چھ رکن شرع مطہر نے مقرر فرمائے اور یہاں رکن ششم معدوم ہے اور بغیر رکن کے وجود شیئ محال جس کی تصریحیں ابھی کتب معتمدہ سے گزریں تو مقدمہ ہنوز رو ز اول پر ہے مدعی بلا شبہہ
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷ /۲۰۴€
بحرالرائق بحوالہ الہدایہ کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۱۹۳€
بحرالرائق بحوالہ الہدایہ کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۱۹۳€
گواہ دے سکتا ہے اور ان کا سننا حاکم پر فرض ہے اگر وہ نہ سنے تو دوسرے محکمہ میں اس کے گواہ سنے جائیں۔معین الحکام میں ہے:
المواضع التی تصرفات الحکام فیہا لیست بحکم ولغیر ھم من الحکام تغییرھا والنظر فیہا علی انواع کثیرۃ وانا اذکر عشرین نوعا (الی ان قال)النوع التاسع التصرف فی انواع الحجاج بان یقول لااسمع البینۃ لانك حلفت قبلہا مع علمك بھا وقدرتك علی احجارھا فلغیرہ من الحکام ان یفعل ماترکہ ۔ وہ مقامات جہاں حکام کے تصرفاتحکم وفیصلہ نہیں بنتے اور دوسرے حکام کو ان میں تبدیل اور غور کا اختیار ہےیہ کثیر اقسام ہیں اور میں بیس اقسام ذکر رکرہاہوںاور آگے فرمایا نویں قسمبحث کی انواع میں تصرف ہےیوں کہ قاضی کہے کہ میں تیرے گواہوں کی شہادت نہ سنوں گا کیونکہ قبل ازیں تو گواہوں کے جاننے اور ان کو پیش کرنے پر قدرت کے باوجود قسم دے چکا ہےتو اس حکم کو تبدیل کرنے کا دوسرے حکام کو اختیار ہے۔(ت)
حاکم اپیل کو اختیار ہے کہ خود گواہ سنے اور مقدمہ حسب شرع ترتیب دے یا محکمہ ابتدائی کو واپس بھیجے کہ بعد تکمیل شرعی واسماع گواہان مدعی وہاں فیصل ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۹۴:ازریاست بہاولپور پنجاب تحصیل منچن آباد ڈاکخانہ صادق پور موضع واڑہ سراج الدین مرسلہ پیر نور محمد صاحب ولد پیر قمر الدین صاحب ذات چشتی ۳/ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر صدر الدین نے ۱۶۸۶ھ میں ایك طوائف مسماۃ رنگ بھری سے نکاح کیا اس وقت رنگ بھری کے دو نابالغ بیٹے اﷲ بخش والہی بخش موجود تھے اور تیسرا جوان بیٹا اﷲ دتا تھا صدر الدین نے وقت نکاح مذکور سے رنگ بھری کو مثل ازواج کے پردے میں رکھا جب تك وہ بے پردہ اپنے پیشہ حرام میں تھییہ دونوں بچے کہ خورد سال تھے ماں کے ساتھ پیر مرحوم کے یہاں رہے جن میں ایك کی شادی بھی پیر موصوف نے کردی رنگ بھری کا بڑا بیٹا اب تك الگ اور اپنے پیشہ حرام میں ہے صدر الدین مرحوم کے دو بیٹے زوجہ خاندانی مسماۃ نور سائن
المواضع التی تصرفات الحکام فیہا لیست بحکم ولغیر ھم من الحکام تغییرھا والنظر فیہا علی انواع کثیرۃ وانا اذکر عشرین نوعا (الی ان قال)النوع التاسع التصرف فی انواع الحجاج بان یقول لااسمع البینۃ لانك حلفت قبلہا مع علمك بھا وقدرتك علی احجارھا فلغیرہ من الحکام ان یفعل ماترکہ ۔ وہ مقامات جہاں حکام کے تصرفاتحکم وفیصلہ نہیں بنتے اور دوسرے حکام کو ان میں تبدیل اور غور کا اختیار ہےیہ کثیر اقسام ہیں اور میں بیس اقسام ذکر رکرہاہوںاور آگے فرمایا نویں قسمبحث کی انواع میں تصرف ہےیوں کہ قاضی کہے کہ میں تیرے گواہوں کی شہادت نہ سنوں گا کیونکہ قبل ازیں تو گواہوں کے جاننے اور ان کو پیش کرنے پر قدرت کے باوجود قسم دے چکا ہےتو اس حکم کو تبدیل کرنے کا دوسرے حکام کو اختیار ہے۔(ت)
حاکم اپیل کو اختیار ہے کہ خود گواہ سنے اور مقدمہ حسب شرع ترتیب دے یا محکمہ ابتدائی کو واپس بھیجے کہ بعد تکمیل شرعی واسماع گواہان مدعی وہاں فیصل ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۹۴:ازریاست بہاولپور پنجاب تحصیل منچن آباد ڈاکخانہ صادق پور موضع واڑہ سراج الدین مرسلہ پیر نور محمد صاحب ولد پیر قمر الدین صاحب ذات چشتی ۳/ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر صدر الدین نے ۱۶۸۶ھ میں ایك طوائف مسماۃ رنگ بھری سے نکاح کیا اس وقت رنگ بھری کے دو نابالغ بیٹے اﷲ بخش والہی بخش موجود تھے اور تیسرا جوان بیٹا اﷲ دتا تھا صدر الدین نے وقت نکاح مذکور سے رنگ بھری کو مثل ازواج کے پردے میں رکھا جب تك وہ بے پردہ اپنے پیشہ حرام میں تھییہ دونوں بچے کہ خورد سال تھے ماں کے ساتھ پیر مرحوم کے یہاں رہے جن میں ایك کی شادی بھی پیر موصوف نے کردی رنگ بھری کا بڑا بیٹا اب تك الگ اور اپنے پیشہ حرام میں ہے صدر الدین مرحوم کے دو بیٹے زوجہ خاندانی مسماۃ نور سائن
حوالہ / References
معین الحکام الرکن السادس مصطفی البابی ∞مصر ص۳۸€
معین الحکام الرکن السادس مصطفی البابی ∞مصر ص۴۰€
معین الحکام الرکن السادس مصطفی البابی ∞مصر ص۴۰€
سے تھے بدرالدین وسراج الدین پیر مرحوم کی کچھ جائداد علاقہ ریاست بہاولپور اور کچھ پاکپٹن شریف علاقہ انگریزی میں حسب تفصیل ذیل تھی:
علاقہ ریاست: واڑہ پیران کلچك قمر الدین نمبر۳۴۴حصہ سومبلاڑہ پیرنبی بخش حصہ سومبلاڑہ صدر الدین کل۔
علاقہ انگریزی: واڑہ پیران کلاںبلاڑہ پیران حصہ سومشیخوپورہ ملکیت ایك چاہ۔
صدر الدین نے ۱۳ /شوال ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۱/مئی ۱۸۹۲ء میں انتقال کیا اﷲ بخش والہی بخش نے اپنے آپ کو پسران متوفی قرار دے کر ضلع منٹگمری میں بعض جائداد واقع علاقہ انگیزی کا داخل خارج چاہاجون ۱۸۹۲ء میں عنایت اﷲ پٹواری کے سامنے بدرالدین و فریق دوم کے بیانات ہوئے جن میں بدرالدین نے ان کے پسران صدر الدین ہونے سے انکار اور انہوں نے اس کا اظہار کیا شیخ لطافت علی نائب تحصیلدار نے ۲۷ستمبر۱۸۹۲ء کو ایك نقل رواج عام اقوام چشتی کے بناء پر جو بغرض ملاحظہ حاضر ہے چاروں کو فرزندصدر الدین قرار دے کر اندراج نام کا حکم دیا بدرالدین نے منشی عزیز الدین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے یہاں اپیل کی بالآخر تنہا بدرالدین نے کسی دباؤ یا مصلحت سے راضی نامہ کرلیا جس میں کل جائدا ہر دو علاقہ کا ذکر ہے مگر جب مجوز نے بدرالدین کا بیان لیا تو اس نے صرف جائداد علاقہ انگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا بیان کیا اور فریق دوم نے بھی اس کا یہ بیان سن کر تسلیم کیا اس بناء پر ۲۵/ فروری ۱۸۹۳ء کو وہ مقدمہ وہاں فیصل ہوگیا جائداد واقع علاقہ انگریزی کے ۲/ ۵ نام اﷲ بخش والہی بخش اور ۳/۵ میں نام سراج الدین وبدرالدین مندرج ہواسراج الدین اس راضی نامہ میں شریك نہ تھانہ وہ وہاں موجود تھا مگر بدرالدین نے اس اظہار سے کہ وہ میرا حقیقی بھائی ہے میرا اس کا نفع نقصان مشترك ہے اس کی طرف سے راضی نامہ کرلیااس صلح نامہ کی بناء پر فریق ثانی نے یکم جون ۱۸۹۳ء کو جائداد واقع ریاست کے داخل خارج کی بھی درخواست تحصیل منچن آباد میں دی جس کی کارروائی ملاحظہ کاغذات سے ظاہر ہوگی جس میں بیان کیاجاتا ہے کہ بدرالدین و سراج الدین نے ۲۲/اگست ۱۸۹۳ء کو دعوی اﷲ بخش و الہی بخش تسلیم کیا اور ۳ / اکتوبر ۱۸۹۳ء کو کاردار نے حکم دیا کہ محکمہ بندوبست میں درخواست دے کر اندراج نام کرالیں لیکن انہوں نے کوئی درخواست نہ دی نہ اندراج نام ہوااس وقت کا بندوبست جاری تھا بلکہ دسمبر ۱۸۹۲ء میں ختم ہوچکا تھا بجائے اس کے ۲۹/دسمبر ۱۸۹۸ء کو فریق ثانی نے پھر اسی تحصیل منچن آباد میں درخواست اندراج نام دی جو ۲۳/ مارچ ۱۸۹۹ء کو بوجہ عدم پیروی خارج ہوئی جب ۱۹۰۶ء میں بندوبست جدید ہوا مدعیوں نے یہاں چارہ جوئی کی ۲۵/جون ۱۹۰۶ء کو داخل خارج منظور ہوکر ۶جنوری ۱۹۰۷ کو محکمہ مشیرت مال سے منسوخ ہوگیا ناچار ۲۷/ مئی۱۹۰۷ءکو مدعیان نے نظامت بہاولپور میں نالش دخلیابی
علاقہ ریاست: واڑہ پیران کلچك قمر الدین نمبر۳۴۴حصہ سومبلاڑہ پیرنبی بخش حصہ سومبلاڑہ صدر الدین کل۔
علاقہ انگریزی: واڑہ پیران کلاںبلاڑہ پیران حصہ سومشیخوپورہ ملکیت ایك چاہ۔
صدر الدین نے ۱۳ /شوال ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۱/مئی ۱۸۹۲ء میں انتقال کیا اﷲ بخش والہی بخش نے اپنے آپ کو پسران متوفی قرار دے کر ضلع منٹگمری میں بعض جائداد واقع علاقہ انگیزی کا داخل خارج چاہاجون ۱۸۹۲ء میں عنایت اﷲ پٹواری کے سامنے بدرالدین و فریق دوم کے بیانات ہوئے جن میں بدرالدین نے ان کے پسران صدر الدین ہونے سے انکار اور انہوں نے اس کا اظہار کیا شیخ لطافت علی نائب تحصیلدار نے ۲۷ستمبر۱۸۹۲ء کو ایك نقل رواج عام اقوام چشتی کے بناء پر جو بغرض ملاحظہ حاضر ہے چاروں کو فرزندصدر الدین قرار دے کر اندراج نام کا حکم دیا بدرالدین نے منشی عزیز الدین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے یہاں اپیل کی بالآخر تنہا بدرالدین نے کسی دباؤ یا مصلحت سے راضی نامہ کرلیا جس میں کل جائدا ہر دو علاقہ کا ذکر ہے مگر جب مجوز نے بدرالدین کا بیان لیا تو اس نے صرف جائداد علاقہ انگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا بیان کیا اور فریق دوم نے بھی اس کا یہ بیان سن کر تسلیم کیا اس بناء پر ۲۵/ فروری ۱۸۹۳ء کو وہ مقدمہ وہاں فیصل ہوگیا جائداد واقع علاقہ انگریزی کے ۲/ ۵ نام اﷲ بخش والہی بخش اور ۳/۵ میں نام سراج الدین وبدرالدین مندرج ہواسراج الدین اس راضی نامہ میں شریك نہ تھانہ وہ وہاں موجود تھا مگر بدرالدین نے اس اظہار سے کہ وہ میرا حقیقی بھائی ہے میرا اس کا نفع نقصان مشترك ہے اس کی طرف سے راضی نامہ کرلیااس صلح نامہ کی بناء پر فریق ثانی نے یکم جون ۱۸۹۳ء کو جائداد واقع ریاست کے داخل خارج کی بھی درخواست تحصیل منچن آباد میں دی جس کی کارروائی ملاحظہ کاغذات سے ظاہر ہوگی جس میں بیان کیاجاتا ہے کہ بدرالدین و سراج الدین نے ۲۲/اگست ۱۸۹۳ء کو دعوی اﷲ بخش و الہی بخش تسلیم کیا اور ۳ / اکتوبر ۱۸۹۳ء کو کاردار نے حکم دیا کہ محکمہ بندوبست میں درخواست دے کر اندراج نام کرالیں لیکن انہوں نے کوئی درخواست نہ دی نہ اندراج نام ہوااس وقت کا بندوبست جاری تھا بلکہ دسمبر ۱۸۹۲ء میں ختم ہوچکا تھا بجائے اس کے ۲۹/دسمبر ۱۸۹۸ء کو فریق ثانی نے پھر اسی تحصیل منچن آباد میں درخواست اندراج نام دی جو ۲۳/ مارچ ۱۸۹۹ء کو بوجہ عدم پیروی خارج ہوئی جب ۱۹۰۶ء میں بندوبست جدید ہوا مدعیوں نے یہاں چارہ جوئی کی ۲۵/جون ۱۹۰۶ء کو داخل خارج منظور ہوکر ۶جنوری ۱۹۰۷ کو محکمہ مشیرت مال سے منسوخ ہوگیا ناچار ۲۷/ مئی۱۹۰۷ءکو مدعیان نے نظامت بہاولپور میں نالش دخلیابی
دائر کی جو شیخ حسین بخش صاحب ناظم کے یہاں سے ۳۱/مارچ ۱۹۰۸ء کو ڈسمس ہوئی مدعیان نے افسر مال کے یہاں اپیل کی ۱۹/ اکتوبر ۱۹۰۸ء کو یہاں سے بربنائے فتوائے ثالثان کامیابی پائی جس کی حالت یہ ہے کہ بحکم مولوی عبدالمالك صاحب افسر مال فریقین نے ثالثی کی طرف رجوع کیچار ذی علم ثالث قرار پائے مولوی عطا محمد صاحب مدرس پھوگا نوالہمولوی عبدالرحیم صاحب اول مدرس عربی خانقاہ مہاران شریف مولوی اﷲ بخش چك نادر شاہیمولوی جمال الدین ساکن ماڑی میاں صاحب۔اور شرط تحریر ہوئی کہ اگر رود اد مسل سے مدعیوں کا اولاد پیر صدر الدین ہونا شرعا ثابت ہوتو ان کی وراثت کے باب میں فتوائے ثالثان ناطق ہوگا۔ثالث اول الذکرنے نسب ثابت نہ مانا باقیوں نے اثبات کیاافسرمال نے کثرت رائے پر فیصلہ دیا مدعا علیہم نے اخبئی میں نگرانی کی جس پر مولوی رحیم بخش صاحب رزیڈنٹ جوڈیشنل ممبر نے تحریر فرمایا کہ(جو عذرات واقعات پر ہیں ہم ان کوزیر بحث لانا نہیں چاہتے کیونکہ ڈگری بر بنائے فیصلہ ثالثی ہوئی ہے)لہذا ہر دو فتوائے ثالثان وفیصلہ نظامت وفیصلہ افسر مال واظہارات گواہان فریقین وجملہ کاغذات متعلقہ کے نقول باضابطہ خدمت علمائے دین میں حاضر کرکے امیدوار کہ خالصا لوجہ اﷲحکم شریعت مطہرہ سے آگاہ فرمائیں کہ تین ثالث صاحبوں کا پہلا فتوی اور ثالث چہارم کا فتوائے دوم ان میں کون سامطابق شرع شریف ہے اور فتوائے اول میں جن جن وجوہ سے مدعیان کو ثابت النسب مانا ہے وہ شرعاصحیح ہیں یا غلطنیز ازروئے اقرار نامہ ثالثی مدعا علیہم اس فتوائے ثالثان کے پابند ہوئے یانہیںاور بالجملہ روداد مسل موجود سے بحکم شرع شریف دعوائے مدعیان ڈگری ہونا چاہئے یا ڈسمسکاغذات متعلقہ کی مکمل نقول تو حاضر خدمت ہیں مگر آسانی ملاحظہ کے لئے واقع استثناء کا خلاصہ یہاں گزارش:
(۱)علاقہ آنروئے آب میں عنایت اﷲ پٹواری کے سامنے بدرالدین وغیرہا کا بیان رپورٹ حکمآج زبانی بدرالدین پسر متوفی کے معلوم ہواکہ مسمی صدرالدین والد مظہر فوت ہوگیامظہر وسراج الدین ہر دو پسر وارث وقابض ہیں نیز ظاہر کیا حسب تفصیل ذیل والد مظہر رنگ بھری کنچنی کو لے کر اس جگہ واڑہ پیران سے چلا گیا اور دیہات پار علاقہ ریاست بہاولپور میں بہت عرصہ تك رہا کیونکہ اس وقت چچا ہمارا محمد بخش برادر خورد والد مظہر زندہ تھا اس کے خوف سے اپنے دیہہ میں نہ آیا ان دنوں میں یہ دو تولد ہیںجب چچا ہمارا مرگیا تب نکاح اس کے ساتھ کیا اور اس جگہ آکر آباد ہوا یہ ہر دو پچھلگ والد مظہر کے ہیں اﷲ بخش و الہی بخش نے ظاہر کیا کہ
(۱)علاقہ آنروئے آب میں عنایت اﷲ پٹواری کے سامنے بدرالدین وغیرہا کا بیان رپورٹ حکمآج زبانی بدرالدین پسر متوفی کے معلوم ہواکہ مسمی صدرالدین والد مظہر فوت ہوگیامظہر وسراج الدین ہر دو پسر وارث وقابض ہیں نیز ظاہر کیا حسب تفصیل ذیل والد مظہر رنگ بھری کنچنی کو لے کر اس جگہ واڑہ پیران سے چلا گیا اور دیہات پار علاقہ ریاست بہاولپور میں بہت عرصہ تك رہا کیونکہ اس وقت چچا ہمارا محمد بخش برادر خورد والد مظہر زندہ تھا اس کے خوف سے اپنے دیہہ میں نہ آیا ان دنوں میں یہ دو تولد ہیںجب چچا ہمارا مرگیا تب نکاح اس کے ساتھ کیا اور اس جگہ آکر آباد ہوا یہ ہر دو پچھلگ والد مظہر کے ہیں اﷲ بخش و الہی بخش نے ظاہر کیا کہ
والد ہمارے نے ہم کو بطور دوسرے فرزندان کے پرورش کی ہے کچھ فرق نہیں کیاچاہتے ہیں کہ ہم چاروں کانام بحصہ برابر درج کیا جائے لہذا کھاتہ ہذابمراد حکم مناسب پیش کر تا ہوں۹/جون۱۸۹۲ء عنایت اﷲ پٹواری ۔
(۲)رواج عام اقوام چشتی پرگنہ پاك پٹن ضلع منٹگمری کتاب جلد ۲ ۱۸۷۲ء موجودہ دفتر فارسی محافظ خانہ مندرجہ ص۸۸ لغایت ۹۰ہمراہ عورت کمین مثل کنجری و موچیانی و ترکھانی ومچھانی کے نکاح بموجب شرع شریف کے جائز ہے اگرکوئی صاحب جائداد ہمراہ ایسی عورت کے نکاح کرلے تو اولاد اس کی مثل عورت ہم کف کے مالك ہوتی ہے۔اگر ایسی عورت بدون نکاح رہے اور اس سے اولاد پیدا ہوتو ایسی اولاد حرام کی ہوتی ہے ان کو وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملتا(نظائر)موضع واڑہ پیران مسمی صدر الدین نے ہمراہ عورت بیوہ قوم پیرنی کے نکاح کرلیا اولاد اس کی بعد وفات صاحب جائداد کے مالك ہوگی۔
(۳)راضی نامہ مدخلہ کچہری اکسٹر ا اسٹنٹ کمشنر ضلع منٹگمری مایانکہ بدرالدین وسراج الدین واﷲ بخش والہی بخش پسران پیر صدر الدین ہیں حسب ذیل مواضعات واقع علاقہ انگریزی وواقع ریاست بہاولپور خاص ملکیت پیر صدر الدین صاحب والد مظہران کی ہے ہم فریقین کل جائداد زرعی پر وقت وفات والد صاحب سے قابض ہیں اس لئے ہم فریقین نے برضامندی خود آپس میں اس طرح تصفیہ کیا ہے کہ کل جائداد مندرجہ بالا علاقہ انگریزی وریاست کے پانچ حصے کئےتین حصے بدرالدین وسراج الدین کو دیں گے اور دو حصے کل جائداد زرعی سے اﷲ بخش والہی بخش کو دیں گےجس قدر زیادہ نصف سے بدر الدین وسراج الدین کو دیا گیا اس کا سبب بہ ہے کہ وہ بسبب سرداری کے بڑے ہیںسراج الدین اس وقت موجود نہیں اس کی طرف سے مجھ بدر الدین ذمہ دار ہے کہ وہ اور میں بدر الدین حقیقی بھائی ہیں ۲۵فروری ۱۸۹۲ء
(۴)بیان بدرالدین وتصدیق مدعیان نسبت راضی نامہ مذکورہاستفسار بدرالدین ولد صدر الدین باقرار صالح ۲۵/ فروری ۱۸۹۳ء صدر الدین متوفی ہمارے والد کی جائداد زرعی علاقہ تحصیل پاکپٹن میں حسب ذیل ہےواڑہ پیران کلاں سالم بلاڑہ پیران سوم حصہ شیخوپور میں ایك چاہ کی اراضیوالد مرگیا جب سے میرا اور سراج الدین میرے اور برادر حقیقی اﷲ بخش والہی بخش برادران سوتیلی والدہ ہماری کا قبضہ جائداد پر علی الحساب بہ سبب تنازع رہا ہے اب برضامندی یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل پانچ حصے کرکے تین پانچویں مجھے اور سراج الدین کو ملے اور دو پانچویں اﷲ بخش والہی بخش کوجو زیادہ حصہ نصف سے مجھے اور سراج الدین کو دیا ہے وہ بوجہ اس کے ہے کہ میں اور سراج الدین بڑے بھائی ہیںسراج الدین پار ریاست میں ہے اور میرا اور اس کا نفع نقصان مشترکہ ہے لہذا میں اس کی جانب سے
(۲)رواج عام اقوام چشتی پرگنہ پاك پٹن ضلع منٹگمری کتاب جلد ۲ ۱۸۷۲ء موجودہ دفتر فارسی محافظ خانہ مندرجہ ص۸۸ لغایت ۹۰ہمراہ عورت کمین مثل کنجری و موچیانی و ترکھانی ومچھانی کے نکاح بموجب شرع شریف کے جائز ہے اگرکوئی صاحب جائداد ہمراہ ایسی عورت کے نکاح کرلے تو اولاد اس کی مثل عورت ہم کف کے مالك ہوتی ہے۔اگر ایسی عورت بدون نکاح رہے اور اس سے اولاد پیدا ہوتو ایسی اولاد حرام کی ہوتی ہے ان کو وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملتا(نظائر)موضع واڑہ پیران مسمی صدر الدین نے ہمراہ عورت بیوہ قوم پیرنی کے نکاح کرلیا اولاد اس کی بعد وفات صاحب جائداد کے مالك ہوگی۔
(۳)راضی نامہ مدخلہ کچہری اکسٹر ا اسٹنٹ کمشنر ضلع منٹگمری مایانکہ بدرالدین وسراج الدین واﷲ بخش والہی بخش پسران پیر صدر الدین ہیں حسب ذیل مواضعات واقع علاقہ انگریزی وواقع ریاست بہاولپور خاص ملکیت پیر صدر الدین صاحب والد مظہران کی ہے ہم فریقین کل جائداد زرعی پر وقت وفات والد صاحب سے قابض ہیں اس لئے ہم فریقین نے برضامندی خود آپس میں اس طرح تصفیہ کیا ہے کہ کل جائداد مندرجہ بالا علاقہ انگریزی وریاست کے پانچ حصے کئےتین حصے بدرالدین وسراج الدین کو دیں گے اور دو حصے کل جائداد زرعی سے اﷲ بخش والہی بخش کو دیں گےجس قدر زیادہ نصف سے بدر الدین وسراج الدین کو دیا گیا اس کا سبب بہ ہے کہ وہ بسبب سرداری کے بڑے ہیںسراج الدین اس وقت موجود نہیں اس کی طرف سے مجھ بدر الدین ذمہ دار ہے کہ وہ اور میں بدر الدین حقیقی بھائی ہیں ۲۵فروری ۱۸۹۲ء
(۴)بیان بدرالدین وتصدیق مدعیان نسبت راضی نامہ مذکورہاستفسار بدرالدین ولد صدر الدین باقرار صالح ۲۵/ فروری ۱۸۹۳ء صدر الدین متوفی ہمارے والد کی جائداد زرعی علاقہ تحصیل پاکپٹن میں حسب ذیل ہےواڑہ پیران کلاں سالم بلاڑہ پیران سوم حصہ شیخوپور میں ایك چاہ کی اراضیوالد مرگیا جب سے میرا اور سراج الدین میرے اور برادر حقیقی اﷲ بخش والہی بخش برادران سوتیلی والدہ ہماری کا قبضہ جائداد پر علی الحساب بہ سبب تنازع رہا ہے اب برضامندی یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل پانچ حصے کرکے تین پانچویں مجھے اور سراج الدین کو ملے اور دو پانچویں اﷲ بخش والہی بخش کوجو زیادہ حصہ نصف سے مجھے اور سراج الدین کو دیا ہے وہ بوجہ اس کے ہے کہ میں اور سراج الدین بڑے بھائی ہیںسراج الدین پار ریاست میں ہے اور میرا اور اس کا نفع نقصان مشترکہ ہے لہذا میں اس کی جانب سے
ذمہ دار ہوں۔بدر الدین بقلم خود۔دستخط عزیز الدین اسٹنٹ کلکٹر درجہ اول۔استفتاء اﷲ بخش و الہی بخش پسران صدر الدین باقرار صالح ۲۵/ فروری ۹۳ء۔بدر الدین برادر کلاں اپنے کا بیان ہم نے سنا یہ صحیح اور منظور ہے۔اﷲ بخش والہی بخش بقلم خود۔
(۵)شجرہ نسب و حقوق مالکان موضع واڑہ پیران کلاں تحصیل پاکپٹن ضلع منٹگمری مرتبہ ۱۸۹۴ء شیخ قریشی المعروف چشتی
بموجب حکم ۲۵/فروری ۱۸۹۳ء حصص ملکیت برخلاف حصہ جدی کے رسمی قرارپائے۔
(۶)درخواست ابتدائی مشمولہ مسل نمبری ۲۳موضع بلاڑہ صدر الدین تحصیل منچن آباد بابت داخل خارج مظہران برادر حقیقی وسراج الدین و بدرا لدین برادران سوتیلے ہمارے کا راضی نامہ ہوا۔نقل فیصلہ پیش کرکے ملتمس کہ موضع مذکور کا ۲/ ۵ حصہ ہمارے نام داخل خارج فرمایا جائے۔یکم جون۱۸۹۳ء العبد اﷲ بخش و الہی بخش پسران صدر الدیناﷲبخش بقلم خود۔ بیان سائل لیا جائے بمراد تکمیل مسل حوالہ قانون گوہو۔یکم جون ۱۸۹۳ء ۱۵ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ
(۵)شجرہ نسب و حقوق مالکان موضع واڑہ پیران کلاں تحصیل پاکپٹن ضلع منٹگمری مرتبہ ۱۸۹۴ء شیخ قریشی المعروف چشتی
بموجب حکم ۲۵/فروری ۱۸۹۳ء حصص ملکیت برخلاف حصہ جدی کے رسمی قرارپائے۔
(۶)درخواست ابتدائی مشمولہ مسل نمبری ۲۳موضع بلاڑہ صدر الدین تحصیل منچن آباد بابت داخل خارج مظہران برادر حقیقی وسراج الدین و بدرا لدین برادران سوتیلے ہمارے کا راضی نامہ ہوا۔نقل فیصلہ پیش کرکے ملتمس کہ موضع مذکور کا ۲/ ۵ حصہ ہمارے نام داخل خارج فرمایا جائے۔یکم جون۱۸۹۳ء العبد اﷲ بخش و الہی بخش پسران صدر الدیناﷲبخش بقلم خود۔ بیان سائل لیا جائے بمراد تکمیل مسل حوالہ قانون گوہو۔یکم جون ۱۸۹۳ء ۱۵ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ
(۷)بیان اﷲ بخش مشمولہ مسل نمبری ۲۳۔نام اپنا اﷲ بخش باپ کا نام صدر الدین عمر تخمینا()سال حاضر آکر لکھوایا کہ مظہر اور الہی بخش برادر مظہر وبدر الدین وسراج الدین پسران شیخ صدر الدین ہر چہار وارث بحصہ برابر ہیں بدر الدین و سراج الدین نے ملکیت موضع بلاڑہ صدر الدین میں ہمارانام درج نہیں کرایا اس باعث تکرار تھا برادری میں تصفیہ ہمارا ہوچکا ہے بموجب راضی نامہ ۲/ ۵ حصہ بنام مظہر والہی بخش داخل خارج فرمایاجائےاﷲ بخش بقلم خود۔بعد تصدیق حکم ہوا کہ باجرائے پروانہ بدر الدین و سراج الدین والہی بخش بنابر قلمبندی بیان طلب کیا جائےیکم جون ۱۸۹۳ءآج مسل پیش ہوئی حکم ہوا کہ فریقین مقدمہ طلب ہوکر بیان ان کا قلمبند کیا جائے۱۳/جون ۹۳مسل پیش ہوئی آج تك نہ فریقین مقدمہ حاضر ہوتے ہیں نہ رپورٹ پیشکار شامل مسل ہوئی لہذا حکم ہوا کہ مقرر پیشکار کو لکھا جائے کہ جلدمطلوبگان کو بھجوادیں۲۹/اگست ۱۸۹۳ء۔
(۸)پروانہ بنام پیشکار صادق پور مشمولہ مسل نمبری ۲۳۔اندریں مقدمہ۱۳جون کو طلبی فریقین بمراد قلمبندی بیانات کی گئی تھیآج تك ان کی جانب سے نہ رپورٹ شامل مسل ہوئی نہ فریقین حاضر آئے ہیں لہذا مکرر قلمی ہے کہ آپ فی الفور فریقین کو بھجوادیں۲۹اگست ۱۸۹۳ء فریقین کو باخذ مچبلکہ روانہ کارداری میں کیاجائے ۶/ستمبر ۱۸۹۳ء حکم سے اطلاع پائی سراج الدین بیمار ہے بروقت صحتیابی اس کے حاضر ہوجائیں گے۷ستمبر ۱۸۹۳ء العبد بدر الدین العبد اﷲبخشجناب عالی مطلوبگان کو ہدایت احضار کی گئی اور العبد کرائے گئے ہیں سراج الدین سخت بیمار ہے بعد شفا حاضر ہوگا ۸/ستمبر ۱۸۹۳ء
(۹)بیان بدر الدین وغیرہ مشمولہ مسل نمبری ۲۳ واقع ۲۲/اگست ۱۸۹۳ءسوال اﷲ بخش والہی بخش پسران صد ر الدین نے لکھوایا ہے کہ تم نے کل ملکیت صدر الدین کی محکمہ بندوبست میں اپنے نام درج کاغذات موضع بلاڑہ صدر الدین کرالی ہے حالانکہ مظہران بھی وارث ہیں منٹگمیر سے فیصلہ ہوچکا درج کاغذات موضع بلاڑہ صدر الدین کرالی ہے حالانکہ مظہران بھی وارث ہیں منٹگمری سے فیصلہ ہوچکا ہے کہ ۲/ ۵ حصہ ما مظہران اور ۳/۵حصہ تمہارا قرارپایا ہے نام مظہران درج کاغذات فرمایا جائے تم کو اس ایزادی میں کیا عذر ہے
(جواب)مظہران کو کسی طرح کا عذر اس ایزادی میں نہیں ۲/ ۵ حصہ میں نام اﷲ بخش و الہی بخش کا ایزادفرمایا جائےالعبد بدر الدین بقلم خودالعبد سراج الدین چونکہ اس ایزادی میں فریقین کو کچھ عذر نہیں لیکن یہ مسل بصیغہ وراثت دائر ہے وراثت کا فیصلہ محکمہ بندوبست میں ہوچکا ہے فریقین کو ہدایت ہو کہ درخواست ایزدی نام گذران کر حسب ضابطہ ایزادی کرادیں مسل پیشی سے خارج ہوکر داخل دفتر ہو۔مورخہ ۲۳/اکتوبر ۱۸۹۳ء۔چونکہ یہ مسل ماہ اکتوبر میں داخل دفتر نہ ہوئی
(۸)پروانہ بنام پیشکار صادق پور مشمولہ مسل نمبری ۲۳۔اندریں مقدمہ۱۳جون کو طلبی فریقین بمراد قلمبندی بیانات کی گئی تھیآج تك ان کی جانب سے نہ رپورٹ شامل مسل ہوئی نہ فریقین حاضر آئے ہیں لہذا مکرر قلمی ہے کہ آپ فی الفور فریقین کو بھجوادیں۲۹اگست ۱۸۹۳ء فریقین کو باخذ مچبلکہ روانہ کارداری میں کیاجائے ۶/ستمبر ۱۸۹۳ء حکم سے اطلاع پائی سراج الدین بیمار ہے بروقت صحتیابی اس کے حاضر ہوجائیں گے۷ستمبر ۱۸۹۳ء العبد بدر الدین العبد اﷲبخشجناب عالی مطلوبگان کو ہدایت احضار کی گئی اور العبد کرائے گئے ہیں سراج الدین سخت بیمار ہے بعد شفا حاضر ہوگا ۸/ستمبر ۱۸۹۳ء
(۹)بیان بدر الدین وغیرہ مشمولہ مسل نمبری ۲۳ واقع ۲۲/اگست ۱۸۹۳ءسوال اﷲ بخش والہی بخش پسران صد ر الدین نے لکھوایا ہے کہ تم نے کل ملکیت صدر الدین کی محکمہ بندوبست میں اپنے نام درج کاغذات موضع بلاڑہ صدر الدین کرالی ہے حالانکہ مظہران بھی وارث ہیں منٹگمیر سے فیصلہ ہوچکا درج کاغذات موضع بلاڑہ صدر الدین کرالی ہے حالانکہ مظہران بھی وارث ہیں منٹگمری سے فیصلہ ہوچکا ہے کہ ۲/ ۵ حصہ ما مظہران اور ۳/۵حصہ تمہارا قرارپایا ہے نام مظہران درج کاغذات فرمایا جائے تم کو اس ایزادی میں کیا عذر ہے
(جواب)مظہران کو کسی طرح کا عذر اس ایزادی میں نہیں ۲/ ۵ حصہ میں نام اﷲ بخش و الہی بخش کا ایزادفرمایا جائےالعبد بدر الدین بقلم خودالعبد سراج الدین چونکہ اس ایزادی میں فریقین کو کچھ عذر نہیں لیکن یہ مسل بصیغہ وراثت دائر ہے وراثت کا فیصلہ محکمہ بندوبست میں ہوچکا ہے فریقین کو ہدایت ہو کہ درخواست ایزدی نام گذران کر حسب ضابطہ ایزادی کرادیں مسل پیشی سے خارج ہوکر داخل دفتر ہو۔مورخہ ۲۳/اکتوبر ۱۸۹۳ء۔چونکہ یہ مسل ماہ اکتوبر میں داخل دفتر نہ ہوئی
اب داخل دفتر ہو۲۳/نومبر ۱۸۹۳ء
(۱۰)سند مولوی نور الدین تو گیروی نکاح خواں شیخ صدر الدین و رنگ بھری پیش کردہ مدعا علیہم برحکام واضح باد کہ بتاریخ ۱۲۸۶ہجری مقدس ایں خادم الشرع عقد نکاح پیر صد ر الدین چشتی ولد پیر غلام حیدر چشتی در موضع کلاچی روبروئے گواہان قمر الدین نمبر دار کلاچی واکبر علی ساکن کلاچی و مولوی غلام قادر ساکن جمن شاہ بارنگ بھری کنجری ولد نامعلوم بستہ اﷲ بخش والہی بخش قبل ازیں نکاح پیدا بودندتحریر ۲۲/ ربیع الاول ۱۳۱۰ھ العبد نور الدین توگیروی گواہ شد غلام قادر ساکن جمن شاہ
(۱۱)سند مولوی مذکور پیش کردہ مدعیانبرعلماء وحکام واضح باد کہ صدر الدین ولد پیر غلام حیدر چشتی رابطور نصیحت چند سال قبل از نکاح مشہورہ گفتہ کہ بارنگ بھری نکاح کردہ یا نےصدر الدین گفت من خفیہ از برادری روبروئے دو کس گواہان مسماۃ مذکورہ نکاح کردہ بودم گفتم آریں شمار اکہ ایں کار بہتر کردہ۔تحریر ۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۰ھ خادم الشرع نور الدین تو گیروی۔حشمت علی اقرار المقر۔ مدعی حضرت کی پیش کردہ سند از مولوی مذکور علماء وحکام پر واضح ہوکہ صدرالدین ولد پیر غلام حیدر چشتی کو نکاح مذکورہ سے قبل چند سال بطور نصیحت کہا تھا کہ تم نے رنگ بھری سے نکاح کیا ہے یانہیں کیاصدر الدین نےجواب میں کہا میں نے برادری سے خفیہ دو گواہوں کی موجودگی میں مسماۃ مذکورہ سے نکاح کیا ہے تومیں نے کہا کہ تمہیں آفرین ہے کہ تم نے یہ کام بہت اچھا کیا۔تحریر ۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۰ھ خادم شرع نو ر الدین تو گیروی وحشمت علی۔
(۱۲)بیان مولوی غلام قادر مسل نمبری ۱فیصلہ ۶/ جولائی ۱۹۰۶ء تحصیل منچن آباد غلطی بندوبست باقرار صالح نام اپنا غلام قادر ولد مولوی جان محمد عمر(صہ) ال سکنہ جمن شاہ تحصیل پاکپٹنعرصہ تخمینا اڑتیس سال کا گزرا ہوگا کہ پیرصدر الدین کا نکاح اﷲ بخش و الہی بخش کی والدہ رنگ بھری سے مولوی نور الدین صاحب نے روبروئے مظہرقمر دیناکبر علی شاہ پڑھا تھا اس وقت اﷲ بخش سات آٹھ سال کا تھا قرآن شریف مولوی صاحب مذکور سے پڑھا کرتا تھا الہی بخش تخمینا چار سال کا تھا۔یہ ہر دو شخص اﷲ بخش الہی بخش اس نکاح سے پہلے موجود تھے جب بدر الدین وقاسم علی کو اس شہادت کی ضرورت پیش آئی کہ یہ دونوں لڑکے قبل از نکاح موجود تھے اور مولوی صاحب مذکور سے انہوں نے تحریر حاصل کی توشہادت کے دستخط میں نے کردئیے میرے دستخط اس کاغذ پر موجود ہیں مظہر کو بھی حال معلوم ہے العبد مولوی غلام قادر۔
(۱۰)سند مولوی نور الدین تو گیروی نکاح خواں شیخ صدر الدین و رنگ بھری پیش کردہ مدعا علیہم برحکام واضح باد کہ بتاریخ ۱۲۸۶ہجری مقدس ایں خادم الشرع عقد نکاح پیر صد ر الدین چشتی ولد پیر غلام حیدر چشتی در موضع کلاچی روبروئے گواہان قمر الدین نمبر دار کلاچی واکبر علی ساکن کلاچی و مولوی غلام قادر ساکن جمن شاہ بارنگ بھری کنجری ولد نامعلوم بستہ اﷲ بخش والہی بخش قبل ازیں نکاح پیدا بودندتحریر ۲۲/ ربیع الاول ۱۳۱۰ھ العبد نور الدین توگیروی گواہ شد غلام قادر ساکن جمن شاہ
(۱۱)سند مولوی مذکور پیش کردہ مدعیانبرعلماء وحکام واضح باد کہ صدر الدین ولد پیر غلام حیدر چشتی رابطور نصیحت چند سال قبل از نکاح مشہورہ گفتہ کہ بارنگ بھری نکاح کردہ یا نےصدر الدین گفت من خفیہ از برادری روبروئے دو کس گواہان مسماۃ مذکورہ نکاح کردہ بودم گفتم آریں شمار اکہ ایں کار بہتر کردہ۔تحریر ۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۰ھ خادم الشرع نور الدین تو گیروی۔حشمت علی اقرار المقر۔ مدعی حضرت کی پیش کردہ سند از مولوی مذکور علماء وحکام پر واضح ہوکہ صدرالدین ولد پیر غلام حیدر چشتی کو نکاح مذکورہ سے قبل چند سال بطور نصیحت کہا تھا کہ تم نے رنگ بھری سے نکاح کیا ہے یانہیں کیاصدر الدین نےجواب میں کہا میں نے برادری سے خفیہ دو گواہوں کی موجودگی میں مسماۃ مذکورہ سے نکاح کیا ہے تومیں نے کہا کہ تمہیں آفرین ہے کہ تم نے یہ کام بہت اچھا کیا۔تحریر ۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۰ھ خادم شرع نو ر الدین تو گیروی وحشمت علی۔
(۱۲)بیان مولوی غلام قادر مسل نمبری ۱فیصلہ ۶/ جولائی ۱۹۰۶ء تحصیل منچن آباد غلطی بندوبست باقرار صالح نام اپنا غلام قادر ولد مولوی جان محمد عمر(صہ) ال سکنہ جمن شاہ تحصیل پاکپٹنعرصہ تخمینا اڑتیس سال کا گزرا ہوگا کہ پیرصدر الدین کا نکاح اﷲ بخش و الہی بخش کی والدہ رنگ بھری سے مولوی نور الدین صاحب نے روبروئے مظہرقمر دیناکبر علی شاہ پڑھا تھا اس وقت اﷲ بخش سات آٹھ سال کا تھا قرآن شریف مولوی صاحب مذکور سے پڑھا کرتا تھا الہی بخش تخمینا چار سال کا تھا۔یہ ہر دو شخص اﷲ بخش الہی بخش اس نکاح سے پہلے موجود تھے جب بدر الدین وقاسم علی کو اس شہادت کی ضرورت پیش آئی کہ یہ دونوں لڑکے قبل از نکاح موجود تھے اور مولوی صاحب مذکور سے انہوں نے تحریر حاصل کی توشہادت کے دستخط میں نے کردئیے میرے دستخط اس کاغذ پر موجود ہیں مظہر کو بھی حال معلوم ہے العبد مولوی غلام قادر۔
(۱۳)دربارہ درخواست ابتدائی مدعیان در تحصیل منچن آباد مشمول مسل نمبری ۴ گزارش ہے کہ ۱۵/شوال ۱۸۹۲ء میں پیرصدر الدین پدر فریقین کا انتقال ہوگیا ہم چہار بردران کا بابت تقسیم ترکہ پدر تنازع ہوکر نالش کی نوبت پہنچی جو بتاریخ ۳/فروری ۱۸۹۳ء فیصلہ اکسٹر ااسسٹنٹ ضلع منٹگمری داخل خارج حسب ذیل املاك آنروئے آب وریاست بہاولپور بدر الدین و سراج الدین اﷲ بخش والہی بخش ہوکر عملدرآمد ہوا ان املاك ریاست ہذا میں قبضہ ادائے مالگزاری(۲/ ۵)وکاشت پر داشت ۲/ ۵حصہ موقع پر موجود ہے لہذا عارض کو ۲/ ۵ بلاڑہ بدر الدین بنام مظہران داخل خارج فرمایا جائے ۲۹دسمبر ۱۸۹۸ء اﷲ بخش والہی بخش بقلم خودبمراد تکمیل حوالہ قانون گوہو اور بذریعہ پروانہ اسامیاں طلب کی جائیں۲۹دسمبر۱۸۹۸ ء۔
(۱۴)حکم ظہری پرچہ کھتونی مشمولہ مسل نمبری ۱۴۔آج مسل پیش ہوئی۔پایا گیا کہ فریقین نے بعد دینے درخواست باوصف اجرائے احکامات کے پیروی نہیں کی حکم ہوا کہ مسل مقدمہ بعد پیروی خارج ہو ۲۳/مارچ ۱۸۹۹ء۔
(۱۵)درخواست در بندوبست جدید۔درخواست غلطی بندوبستبموجب فیصلہ شیخ عزیزالدین کلکٹر ضلع منٹگمریاگرچہ حقیقت پراز وقت وفات پدرم قبضہ مالگزار بموجب فیصلہ مذکور الصدر ہمارا چلا آتا ہے بموجہ غلطی بندوبست داخل خارج کاغذات سرکاری نہ ہوا چونکہ اب دوران بندوبست ہے لہذا مستدعی کہ داخل خارج ہمارے نام بموجب فیصلہ انگریزی وپرچہ مالگزاری ۲/ ۵ حصہ فرمایا جائے۔نقل فیصلہ و پرچہ ملکیت شامل درخواست ہےیکم جنوری ۱۹۰۶ء مستدعی اﷲ بخش ولد پیر صدرالدین۔
(۱۶)بیان اﷲ بخش بعد درخواست مذکور نام اپنا اﷲ بخش ولد پیر صدر الدین ذات چشتی عمرو(عہ للعہ)سال بتاکر بیان کیا والد مظہر فوت ہوچکا ہے اس کے چار پسر تھے بدر الدین سراج الدین فوت ہوچکے ہیں غلطی بندوبست سے بعد فوت صدر الدین کے بدر الدین سراج الدین کا داخل خارج وراثت ہو کر عملدر آمد ہوگیا اور مظہر والہی بخش کے نام اندراج نہ ہوا ضلع انگریزی میں مقدمہ دائر ہوا جس سے یہ قرار پایا کہ ۲/ ۵ حصہ مظہر والہی بخش کے لئے جائیں جس کی نقل شامل درخواست ہے چاہتا ہوں۲/ ۵ حصہ پر داخلخارج فرمایاجائے۔اﷲ بخش ڈپٹی سپر نٹنڈنٹ ۲/جنوری ۱۹۰۶ء
(۱۷)درخواست تقررثالثان مشمولہ مسل ۱۶مر جوعہ ۲۷/ اپریل ۱۹۰۸ء۔کل مقدمہ سپرد ثالثان کرکے اعتراضات قانونی ورواجی چھوڑ دئے گئے ہیں لکھ دیتے ہیں کہ اگر موجودہ روئداد مسل سے مدعیان کا اولاد صحیح النسب ہونا پیر صدر الدین موصو ف سے ثابت ہوجائے تو مجھ مدعاعلیہ کو واپسی جائداد سے
(۱۴)حکم ظہری پرچہ کھتونی مشمولہ مسل نمبری ۱۴۔آج مسل پیش ہوئی۔پایا گیا کہ فریقین نے بعد دینے درخواست باوصف اجرائے احکامات کے پیروی نہیں کی حکم ہوا کہ مسل مقدمہ بعد پیروی خارج ہو ۲۳/مارچ ۱۸۹۹ء۔
(۱۵)درخواست در بندوبست جدید۔درخواست غلطی بندوبستبموجب فیصلہ شیخ عزیزالدین کلکٹر ضلع منٹگمریاگرچہ حقیقت پراز وقت وفات پدرم قبضہ مالگزار بموجب فیصلہ مذکور الصدر ہمارا چلا آتا ہے بموجہ غلطی بندوبست داخل خارج کاغذات سرکاری نہ ہوا چونکہ اب دوران بندوبست ہے لہذا مستدعی کہ داخل خارج ہمارے نام بموجب فیصلہ انگریزی وپرچہ مالگزاری ۲/ ۵ حصہ فرمایا جائے۔نقل فیصلہ و پرچہ ملکیت شامل درخواست ہےیکم جنوری ۱۹۰۶ء مستدعی اﷲ بخش ولد پیر صدرالدین۔
(۱۶)بیان اﷲ بخش بعد درخواست مذکور نام اپنا اﷲ بخش ولد پیر صدر الدین ذات چشتی عمرو(عہ للعہ)سال بتاکر بیان کیا والد مظہر فوت ہوچکا ہے اس کے چار پسر تھے بدر الدین سراج الدین فوت ہوچکے ہیں غلطی بندوبست سے بعد فوت صدر الدین کے بدر الدین سراج الدین کا داخل خارج وراثت ہو کر عملدر آمد ہوگیا اور مظہر والہی بخش کے نام اندراج نہ ہوا ضلع انگریزی میں مقدمہ دائر ہوا جس سے یہ قرار پایا کہ ۲/ ۵ حصہ مظہر والہی بخش کے لئے جائیں جس کی نقل شامل درخواست ہے چاہتا ہوں۲/ ۵ حصہ پر داخلخارج فرمایاجائے۔اﷲ بخش ڈپٹی سپر نٹنڈنٹ ۲/جنوری ۱۹۰۶ء
(۱۷)درخواست تقررثالثان مشمولہ مسل ۱۶مر جوعہ ۲۷/ اپریل ۱۹۰۸ء۔کل مقدمہ سپرد ثالثان کرکے اعتراضات قانونی ورواجی چھوڑ دئے گئے ہیں لکھ دیتے ہیں کہ اگر موجودہ روئداد مسل سے مدعیان کا اولاد صحیح النسب ہونا پیر صدر الدین موصو ف سے ثابت ہوجائے تو مجھ مدعاعلیہ کو واپسی جائداد سے
کچھ انکار نہ ہوگا اگر انکا شرعا نسب ثابت نہ ہو تو پھر ان کا میراث سے کچھ تعلق نہ ہوگا اور بشرط اولاد صحیح النسب ہونے کے فتوائے ثالثان ناطق ہوگا اور ہمیں کچھ عذر نہ ہوگا۱۸جون ۱۹۰۸ءبمقام صادق پور روبرو افسر صاحب مال مولوی عبدالمالک۔العبد بخش مدعی بقلم خودالعبد الہی بخش مدعی بقلم خودالعبد احمد شاہ مدعا علیہ بقلم خود۔تحریر ہوا کہ مولوی صاحبان تمام موضع چك بھوگا نوالہ میں جمع ہوکر بموجب روائداد مسل کے فتوی دیں۔امو رتنقیح بحث طلب یہ ہیں کہ آیا مدعیان پیر صدر الدین کی اولاد صحیح النسب ہے یانہیں۔دوسرا راضی نامہ مصدقہ ضلع منٹگمری کا شرعا کیا اثر ہے۔فیصلہ کثرت رائے ثالثان پر کیا جائے گا فتوی چار یوم کے اندر داخل ہو۱۸/جون۱۹۰۸ء دستخط افسر مال۔
(۱۸)فتوی مولوی عبدالرحیم وغیرہ مشمولہ مسل نمبری ۱۶۔مدعیان نے ایك صلحنامہ از جانب والد و چچا مدعا علیہما پیش کیا جس میں صریح لکھا ہے کہ مدعیان پیرصد ر الدین کے بیٹے ہیں۔علاوہ بریں معتبر شہادت سے ثابت ہے کہ پیر صدرالدین مورث مدعیان کو اپنا بیٹا تسلیم کرتا تھا بدر الدین وسراج الدین نے تحصیل میں بھی مدعیان کو اپنے بھائی پیر صدر الدین کے بیٹے قرار دے کر لکھوایا ہے کہ بیشك حسب مضمون صلحنامہ ریاست میں بھی ملکیت کا عملدر آمد ہوناچاہئے۔علاقہ آنروے آب میں بھی پٹواری کے سامنے سراج الدین و بدر الدین نے مدعیان کو اپنے بھائی لکھوائے ہیں۔رواج عام اقوام چشتی اور شجرہ نسب جو ضلع منٹگمری میں لکھا ہے مدعیان پیر صدر الدین کی اولاد اور وارث لکھے ہیں اور اس پر پیر صدر الدین اور بعض شاہدان نفی نسب کے ثبوت نسب پر مواہیر موجود ہیں شہادت مدعا علیہما نفی پر مشتمل ہیں اور شہادت نفی مقبول نہیں ہوتے۔پس بوجہ اقرار پیر صدر الدین بولدیت مدعیان اور تسلیم بدر الدین وسراج الدین اخوت مدعیان کو فتوی شرعی یہ ہے کہ مدعیان کا نسب پیر صدر الدین سے ثابت ہے۔
اذا اقر وارث واحد بوارث کمن ترك ابنا فاقر باخ لا یثبت نسبہ عند ھما وقال ابویوسف یثبت وبہ اخذ الکرخی لانہ لما قبل فی المیراث قبل فی النسب وان کان اکثر من واحد بان کان رجلین جب ایك وارث دوسرے کے وارث ہونے کا اقرار کرے جیسا کہ میت کا بیٹا اپنے بھائی کا اقرا رکرے تو شیخین رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك بھائی کا نسب ثابت نہ ہو گا اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا یہ نسب ثابت ہوجائے گا اور امام کرخی نے اسی کواختیار کیا ہے کیونکہ ایك کے اقرار سے جب وارث ہونا ثابت ہوجاتا ہے تو نسب میں اس کا قول تسلیم کیا جائے گا اور
(۱۸)فتوی مولوی عبدالرحیم وغیرہ مشمولہ مسل نمبری ۱۶۔مدعیان نے ایك صلحنامہ از جانب والد و چچا مدعا علیہما پیش کیا جس میں صریح لکھا ہے کہ مدعیان پیرصد ر الدین کے بیٹے ہیں۔علاوہ بریں معتبر شہادت سے ثابت ہے کہ پیر صدرالدین مورث مدعیان کو اپنا بیٹا تسلیم کرتا تھا بدر الدین وسراج الدین نے تحصیل میں بھی مدعیان کو اپنے بھائی پیر صدر الدین کے بیٹے قرار دے کر لکھوایا ہے کہ بیشك حسب مضمون صلحنامہ ریاست میں بھی ملکیت کا عملدر آمد ہوناچاہئے۔علاقہ آنروے آب میں بھی پٹواری کے سامنے سراج الدین و بدر الدین نے مدعیان کو اپنے بھائی لکھوائے ہیں۔رواج عام اقوام چشتی اور شجرہ نسب جو ضلع منٹگمری میں لکھا ہے مدعیان پیر صدر الدین کی اولاد اور وارث لکھے ہیں اور اس پر پیر صدر الدین اور بعض شاہدان نفی نسب کے ثبوت نسب پر مواہیر موجود ہیں شہادت مدعا علیہما نفی پر مشتمل ہیں اور شہادت نفی مقبول نہیں ہوتے۔پس بوجہ اقرار پیر صدر الدین بولدیت مدعیان اور تسلیم بدر الدین وسراج الدین اخوت مدعیان کو فتوی شرعی یہ ہے کہ مدعیان کا نسب پیر صدر الدین سے ثابت ہے۔
اذا اقر وارث واحد بوارث کمن ترك ابنا فاقر باخ لا یثبت نسبہ عند ھما وقال ابویوسف یثبت وبہ اخذ الکرخی لانہ لما قبل فی المیراث قبل فی النسب وان کان اکثر من واحد بان کان رجلین جب ایك وارث دوسرے کے وارث ہونے کا اقرار کرے جیسا کہ میت کا بیٹا اپنے بھائی کا اقرا رکرے تو شیخین رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك بھائی کا نسب ثابت نہ ہو گا اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا یہ نسب ثابت ہوجائے گا اور امام کرخی نے اسی کواختیار کیا ہے کیونکہ ایك کے اقرار سے جب وارث ہونا ثابت ہوجاتا ہے تو نسب میں اس کا قول تسلیم کیا جائے گا اور
اورجلا وامرأتین فصاعدایثبت النسب باقرار ھم بالاجماع لکمال النصاب و یستحق حظہ من نصیب المقر اھ حموی ۱۲قرۃ العیون۔ ایك سے زائد ورثاء مثلا دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں کسی کے وارث ہونے کا اقرا رکریں تو اس اقرار سے نسب بالا جماع ثابت ہوجائے گا کیونکہ شہادت کا نصاب کامل ہے اور اقرار کرنے والوں کے حصہ میں یہ بھی شریك ہوگا اھ ۱۲حموی قرۃ العیون(ت)
مولوی نور الدین صاحب نکاح خوان کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بوقت نکاح ثانی مدعیان موجود تھے اور دوسری تحریر میں ہے کہ نکاح مشہور سے پہلے پیر صدر الدین کا نکاح مخفی والدہ مدعیان کے ساتھ تھا ہر نکاح مخفی جو روبروئے گواہان کے ہو معلن ہوجاتا ہے اور شرعا جائز نافذ ہے باپ نے جب اقرار کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور ماں اس کی آزاد ہے تو یہ اقرار فرزندی اقرار ہوگا اس عورت کے منکوحہ ہونے پر۔درمختارطحطاویقنیہ ۱۲ نور الہدایہ العبد عبدالرحیم اول مدرس عربی خانقاہ مہاران شریف اﷲ بخش چك نادر شاہیاحقر العباد جمال الدین بقلم خود۔
(۱۹)فتوی مولوی عطا محمد مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعیان نے بابت اثبات نسب ووراثت تین امر پیش
کئےایك شہادتدوسرا اقرار پیر صدر الدین بذریعہ نقل رواج عام جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد موجودہ صدر الدین ازرنگ بھری وارث ہوں گے اس رواج عام پر مہر صدر الدین بھی ہے گواس میں نام اﷲ بخش والہی بخش نہیں لیکن اولاد بحسب الظاہر رنگ بھری و صدر الدین بغیر ان دونوں کے اور کوئی نہیں لہذا ضرورۃ یہی تصور کئے جائیں گےتیسرا صلحنامہ جس میں بدر الدین کی طرف سے اقرار صریح ہے لیکن اقرار سراج الدین نہیں ثابت ہوتا کہ سراج الدین موقع پر نہ تھا۔ایسا ہی کسی اور جگہ مسل مقدمہ سے اقرار سراج الدین ثابت نہیں جس وقت تحصیلدار منچن آباد نے مخاطب ہوکر فرمایا تم کو اس ایزادی میں کوئی عذر ہے تو سراج الدین نے بیان کیا کہ کوئی عذر نہیںاس سے تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ثابت ہوتا ہے نہ بحق ثبوت نسب جیسا کہ استفہام تحصیلدار وجواب سے ظاہر ہوتا ہے۔لیکن احقر کو بہ نسبت ہر ایك امران تینوں میں سے بحق ثبوت نسب اعتراض ہے۔امر اول شہادت۔رکن شہادت شرع شریف میں لفظ اشھد یا اس کا ہم معنی چنانچہ گواہی میدہم ہے۔درمختار:
مولوی نور الدین صاحب نکاح خوان کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بوقت نکاح ثانی مدعیان موجود تھے اور دوسری تحریر میں ہے کہ نکاح مشہور سے پہلے پیر صدر الدین کا نکاح مخفی والدہ مدعیان کے ساتھ تھا ہر نکاح مخفی جو روبروئے گواہان کے ہو معلن ہوجاتا ہے اور شرعا جائز نافذ ہے باپ نے جب اقرار کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور ماں اس کی آزاد ہے تو یہ اقرار فرزندی اقرار ہوگا اس عورت کے منکوحہ ہونے پر۔درمختارطحطاویقنیہ ۱۲ نور الہدایہ العبد عبدالرحیم اول مدرس عربی خانقاہ مہاران شریف اﷲ بخش چك نادر شاہیاحقر العباد جمال الدین بقلم خود۔
(۱۹)فتوی مولوی عطا محمد مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعیان نے بابت اثبات نسب ووراثت تین امر پیش
کئےایك شہادتدوسرا اقرار پیر صدر الدین بذریعہ نقل رواج عام جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد موجودہ صدر الدین ازرنگ بھری وارث ہوں گے اس رواج عام پر مہر صدر الدین بھی ہے گواس میں نام اﷲ بخش والہی بخش نہیں لیکن اولاد بحسب الظاہر رنگ بھری و صدر الدین بغیر ان دونوں کے اور کوئی نہیں لہذا ضرورۃ یہی تصور کئے جائیں گےتیسرا صلحنامہ جس میں بدر الدین کی طرف سے اقرار صریح ہے لیکن اقرار سراج الدین نہیں ثابت ہوتا کہ سراج الدین موقع پر نہ تھا۔ایسا ہی کسی اور جگہ مسل مقدمہ سے اقرار سراج الدین ثابت نہیں جس وقت تحصیلدار منچن آباد نے مخاطب ہوکر فرمایا تم کو اس ایزادی میں کوئی عذر ہے تو سراج الدین نے بیان کیا کہ کوئی عذر نہیںاس سے تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ثابت ہوتا ہے نہ بحق ثبوت نسب جیسا کہ استفہام تحصیلدار وجواب سے ظاہر ہوتا ہے۔لیکن احقر کو بہ نسبت ہر ایك امران تینوں میں سے بحق ثبوت نسب اعتراض ہے۔امر اول شہادت۔رکن شہادت شرع شریف میں لفظ اشھد یا اس کا ہم معنی چنانچہ گواہی میدہم ہے۔درمختار:
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار کتاب الاقرار باب اقرار المریض مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۴۹€
رکنہا لفظ اشھد لاغیر لتضمنہ معنی مشاہدۃ وقسم واخبار للحال فکانہ یقول اقسم باﷲ لقد اطلعت علی ذلك وان اخبربہ وھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین ۔ شہادت کارکن لفظ شہادت ہے دوسرا کوئی لفظ رکن نہیں کیونکہ یہ لفظ مشاہدہ کے معنی اور قسم اور حال کی خبر کو متضمن ہے گویا کہ گواہ نے یوں کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے اس واقعہ پر اطلاع پائی میں اس کی خبر دیتا ہوں کہ جبکہ یہ معانی کسی دوسرے لفظ میں نہیں پائے جاتے لہذا یہی لفظ شہادت متعین ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ولایخلو عن معنی لتعبد اذلم ینقل غیرہ ۔ اور شہادت عباد ت سے خالی نہیں جبکہ شارع کی طرف سے دوسرا کوئی لفط اس عبار ت میں منقول نہیں ہوا(ت)
تنویر الابصار:
لزم فی الکل لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع لقبولھا والعدالۃ لوجوبہ ۔ تمام گواہیوں میں اشھد کا لفظ مضارع بالاجماع لازم ہے قبولیت کےلئے اور گواہوں کی عدالت وجوب کی بناء پر ضروری ہے(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
حتی لو قال اعلم او اتیقن لاتقبل شہادتہ لان النصوص ناطقۃ بلفظ الشہادۃ فلا یقوم غیرہا مقامھا ۔ حتی کہ اگر گواہ نے"میں جانتا ہوں"یا"یقین رکھتا ہوں" کہہ دیا تو قبول نہ ہوگا کیونکہ تمام نصوص لفظ الشہادۃ کو بیان کررہی ہیں اس کی جگہ دوسرا لفظ قائم مقام نہ بنے گا(ت)
مولوی اسحق دہلوی کا غیر ضروری کہنا اشھد کو مخالف نصوص فقہاء وماثور ہے اور بس
ردالمحتارمیں ہے:
ولایخلو عن معنی لتعبد اذلم ینقل غیرہ ۔ اور شہادت عباد ت سے خالی نہیں جبکہ شارع کی طرف سے دوسرا کوئی لفط اس عبار ت میں منقول نہیں ہوا(ت)
تنویر الابصار:
لزم فی الکل لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع لقبولھا والعدالۃ لوجوبہ ۔ تمام گواہیوں میں اشھد کا لفظ مضارع بالاجماع لازم ہے قبولیت کےلئے اور گواہوں کی عدالت وجوب کی بناء پر ضروری ہے(ت)
قرۃ العیون میں ہے:
حتی لو قال اعلم او اتیقن لاتقبل شہادتہ لان النصوص ناطقۃ بلفظ الشہادۃ فلا یقوم غیرہا مقامھا ۔ حتی کہ اگر گواہ نے"میں جانتا ہوں"یا"یقین رکھتا ہوں" کہہ دیا تو قبول نہ ہوگا کیونکہ تمام نصوص لفظ الشہادۃ کو بیان کررہی ہیں اس کی جگہ دوسرا لفظ قائم مقام نہ بنے گا(ت)
مولوی اسحق دہلوی کا غیر ضروری کہنا اشھد کو مخالف نصوص فقہاء وماثور ہے اور بس
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۵۶€
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۵۶€
ظاہر ہے کہ شہادات مندرجہ مسل میں لفظ اشھد یا اس کے ہم معنی کا کہیں نام ونشان نہیں لہذایہ شہادات قبول کرنا شرعا ناجائز ہے۔امر ثانی اقرار صدر الدین مع نقل رواج عام میں یہ اعتراض ہے کہ دفاتر سلطانیہ سجلات محاضر کے امور مندرجہ تب حجت ہوتے ہیں کہ ان کے یا محافظ دفتروں کے ہاتھ محفوظ رہیں۔اگر فریقین مقدمہ یا اجنبی کے ہاتھ میں آجائیں تو حجت نہیں ہوتے۔شامی جلد ۴ص۳۲۱:
سجل القاضی لایزورعادۃ حیث کان محفوظا عند الامناء بخلاف ماکان بید الخصم ۔ قاضی کے دفتری امور کے کاغذات جعل سازی سے عادۃ اس وقت محفوظ ہوتے ہیں جب وہ امین لوگوں کے پاس محفوظ ہوں بخلاف جب وہ مخالف فریق کے ہاتھ میں ہوں۔(ت)
چونکہ نقل رواج عام بذریعہ مدعیان پہنچی اور اصل سجل کا ملاحظہ نہ ہوا حجت شرعی نہ ہوگی۔امر ثالث صلحنامہ میں یہ اعتراض ہے کہ فقط اقرار بدر الدین بہ ثبوت نسب ثابت ہوتا ہے سراج الدین کا اقرار بہ نسب کسی جگہ سے ثابت نہیںپس اقرار ایك بدر الدین بموجودگی سراج الدین مثبت نسب نہیں ہوسکتا۔تنویر الابصار:
لو اقر رجل بنسب فیہ تحمیل علی غیرہ لا یصح الاقرارومن مات ابوہ فاقر باخ شارکہ فی الارث ولم یثبت نسبہ ۔(ملخصا) اگر ایك شخص کسی کے نسب کا اقرار کرے جس سے دوسرے کے حصہ پر زد پڑے تو یہ اقرارصحیح نہ مانا جائے گااگر کسی کا والد فوت ہوا اور اپنے بھائی کا اقرار کرے تو یہ بھائی اس کے ساتھ وراثت میں شریك ہوگا لیکن اس ایك کے اقرار سے والد سے نسب ثابت نہ ہوگا(ملخصا)۔(ت)
عبارت قرۃ العیون سے مطلب مولوی صاحبان ثابت نہیںعبارت مذکورہ سے مقصود بیان اس صورت کاہے کہ مقروارث واحد ہوکہ اس کے ساتھ کوئی وارث نہ ہوااگر وارث دیگر ہوتو ثبوت نسب اقرار واحد شخص سے بموجب روایت امام ابویوسف بھی نہیں ہوسکتا۔خود قرۃ العیون کی اس سطر سے پہلے ملاحظہ فرمائیے:
قال فی البدائع ان الوارث لو کان کثیرا بدائع میں فرمایا اگر ورثاء کثیر ہوں تو ایك کے کسی
سجل القاضی لایزورعادۃ حیث کان محفوظا عند الامناء بخلاف ماکان بید الخصم ۔ قاضی کے دفتری امور کے کاغذات جعل سازی سے عادۃ اس وقت محفوظ ہوتے ہیں جب وہ امین لوگوں کے پاس محفوظ ہوں بخلاف جب وہ مخالف فریق کے ہاتھ میں ہوں۔(ت)
چونکہ نقل رواج عام بذریعہ مدعیان پہنچی اور اصل سجل کا ملاحظہ نہ ہوا حجت شرعی نہ ہوگی۔امر ثالث صلحنامہ میں یہ اعتراض ہے کہ فقط اقرار بدر الدین بہ ثبوت نسب ثابت ہوتا ہے سراج الدین کا اقرار بہ نسب کسی جگہ سے ثابت نہیںپس اقرار ایك بدر الدین بموجودگی سراج الدین مثبت نسب نہیں ہوسکتا۔تنویر الابصار:
لو اقر رجل بنسب فیہ تحمیل علی غیرہ لا یصح الاقرارومن مات ابوہ فاقر باخ شارکہ فی الارث ولم یثبت نسبہ ۔(ملخصا) اگر ایك شخص کسی کے نسب کا اقرار کرے جس سے دوسرے کے حصہ پر زد پڑے تو یہ اقرارصحیح نہ مانا جائے گااگر کسی کا والد فوت ہوا اور اپنے بھائی کا اقرار کرے تو یہ بھائی اس کے ساتھ وراثت میں شریك ہوگا لیکن اس ایك کے اقرار سے والد سے نسب ثابت نہ ہوگا(ملخصا)۔(ت)
عبارت قرۃ العیون سے مطلب مولوی صاحبان ثابت نہیںعبارت مذکورہ سے مقصود بیان اس صورت کاہے کہ مقروارث واحد ہوکہ اس کے ساتھ کوئی وارث نہ ہوااگر وارث دیگر ہوتو ثبوت نسب اقرار واحد شخص سے بموجب روایت امام ابویوسف بھی نہیں ہوسکتا۔خود قرۃ العیون کی اس سطر سے پہلے ملاحظہ فرمائیے:
قال فی البدائع ان الوارث لو کان کثیرا بدائع میں فرمایا اگر ورثاء کثیر ہوں تو ایك کے کسی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰€۹
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاقرار باب اقرار المریض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۸€
فاقر واحد منھم باخ اخر ونحوہ لایثبت نسبہ ولا یرث معہم ولو اقرمنھم رجلان اورجل وامرأتان یثبت نسبہ بالاتفاقولو کان الوارث واحدا فاقر بہ یثبت عند ابی یوسف خلافا لابی حنیفۃ ومحمد وبقول ابی یوسف اخذ الکرخی اھ وظاہر المتون علی ترجیح قولھما کما لایخفی اھ قرۃ العیون ج ۲ص۱۳۱۔ بھائی کے متعلق اقرارکرنے سے اس بھائی کی نسب ثابت نہ ہوگی اور باقی ورثاء کے حصو ں میں شریك نہ ہوگا اور اگر ان ورثاء میں سے دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں اقرار کریں تو پھر باتفاق نسب ثابت ہوجائے گا اور اگر ایك ہی وارث اقرار کرے تو امام ابویوسف کے نزدیك نسب ثابت ہوگا بخلاف امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲامام ابویوسف کے قول کو امام کرخی نے لیا ہے جبکہ ظاہر متون نے صاحبین کے قول کو ترجیح دی ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔قرۃ العیون جلد ۲ص ۱۳۱(ت)
چونکہ صورت مقدمہ میں بدر الدین کے ساتھ دوسرا وارث سراج الدین ہے تو اقرار بدر الدین اکیلے کابموجب روایت امام ابویوسف بھی مثبت نسب نہ ہوگاہر دو تحریرات مولوی نور الدین قابل اعتبار نہیں کیونکہ ان تحریرات سے نہیں جو شرعا حجت ہوباقی رہا اقرار بحق جائداد تو اقرار بدرالدین سے ضرور شرکت فی الوراثۃ اس کے حق میں ثابت ہے سراج الدین کا قول روبروئے تحصیلدار بظاہر تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ہے وبلحاظ استقلال کلام وعدم ضمیر راجع کلام مستانف ہوگی مبنی براقرار نہ ہوگیبہر حال شرکت فی الوراثت در کل جائداد یا درحصہ بدر الدین بموجب ضمانت وثابت ہوگی اور بموجب صلحنامہ اقرار بدر الدین مستحق وراثت علی حسب صلحنامہ ہوں گے۔خادم الشرع عطا محمد مدرس پھوگا نوالا بقلم خود فقط۔
(۲۰)رپورٹ ثالثان مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے اور اب تحقیقات جدید کا موقع نہیں رہا کہ احمد شاہ مدعا علیہ نے محکمہ پریذ یڈنٹی میں واسطے منسوخی ثالثان کے عرضی دی ہے اور بیان کیا ہے کہ مسل واسطے ملاحظہ کے محکمہ مذکور الصدر میں طلب کی گئی ہے اس واسطے تحقیقات جدید ملتوی کی گئی پھر جب حکم ہو تحقیقات کی جائیگی ۲۱/ جون ۱۹۰۸ء العبد اﷲ بخش چك نادر شاہیالعبد عطا محمد مدرس عربیہ پھوگا نوالاالعبد عبدالرحیم اول مدرس عربیہ مہاران شریف۔
چونکہ صورت مقدمہ میں بدر الدین کے ساتھ دوسرا وارث سراج الدین ہے تو اقرار بدر الدین اکیلے کابموجب روایت امام ابویوسف بھی مثبت نسب نہ ہوگاہر دو تحریرات مولوی نور الدین قابل اعتبار نہیں کیونکہ ان تحریرات سے نہیں جو شرعا حجت ہوباقی رہا اقرار بحق جائداد تو اقرار بدرالدین سے ضرور شرکت فی الوراثۃ اس کے حق میں ثابت ہے سراج الدین کا قول روبروئے تحصیلدار بظاہر تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ہے وبلحاظ استقلال کلام وعدم ضمیر راجع کلام مستانف ہوگی مبنی براقرار نہ ہوگیبہر حال شرکت فی الوراثت در کل جائداد یا درحصہ بدر الدین بموجب ضمانت وثابت ہوگی اور بموجب صلحنامہ اقرار بدر الدین مستحق وراثت علی حسب صلحنامہ ہوں گے۔خادم الشرع عطا محمد مدرس پھوگا نوالا بقلم خود فقط۔
(۲۰)رپورٹ ثالثان مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے اور اب تحقیقات جدید کا موقع نہیں رہا کہ احمد شاہ مدعا علیہ نے محکمہ پریذ یڈنٹی میں واسطے منسوخی ثالثان کے عرضی دی ہے اور بیان کیا ہے کہ مسل واسطے ملاحظہ کے محکمہ مذکور الصدر میں طلب کی گئی ہے اس واسطے تحقیقات جدید ملتوی کی گئی پھر جب حکم ہو تحقیقات کی جائیگی ۲۱/ جون ۱۹۰۸ء العبد اﷲ بخش چك نادر شاہیالعبد عطا محمد مدرس عربیہ پھوگا نوالاالعبد عبدالرحیم اول مدرس عربیہ مہاران شریف۔
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار کتاب الاقرار باب اقرار المریض مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۴۷€
(۲۱)نقل عرضی منسوخی ثالثان مشمولہ مسل نمبری۱۶جناب عالی افسر صاحب مال نے من مدعا علیہ کو ثالث مقرر کرنے کو ارشاد فرمایا تھا لیکن سائل نے انکار کیا تھا اور اس میں رضامند نہیں تھا عدالت موصوف نے مجھ سے جبرا اقرار نامہ ثالثی داخل کرالیا ہے جس میں سائل بالکل رضامند نہیں جیسا کہ پہلے سے رضامند نہیں تھا لہذا التماس ہے کہ تقرر ثالثی منسوخ فرمایا جائے اورجیسی کارروائی قبل از تقرر ثالثی تھی ویسی ہی جاری کی جائے ۲۱/جون۱۹۰۸ء فدوی احمد شاہ ولد سراج الدین بقلم خود۔
نقل حکم پریذیڈنٹ:مسل کا ملاحظہ کیا گیا درخواست تقرر ثالثان دستخطی شاکی ہےایك اعلی افسر کی نسبت بدظنی کی کوئی وجہ ہے اس لئے ناقابل التفات قرار دے کر مسل بمراد کارروائی ضابطہ واپس جائے۔دستخط پریذیڈنٹ صاحب۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(یااﷲ !حق اور درستی عطا فرما۔ت)قبل اس کے کہ ہم بتوفیق الہی یہاں حکم شرعی بیان کریں اتنی گزارش فریقین مقدمہ وحکام سب سے ضرور کہ معاملہ اہل اسلام کا ہے ریاست مسلمانوں کی ہےابتداء ہی ہر فریق پر فرض تھا کہ حکم شرع پر گردن رکھتاحکام پر فرض تھا کہ شرع مطہر کے موافق فیصلہ کرتے۔
قال اﷲ تعالی
"فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾"
وقال تعالی
" الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ " ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اے نبی ! تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنی باہمی نزاع میں تجھے حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تو حکم فرمائے اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور دل سے مان لیں۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)کیا تونے انہیں نہ دیکھا جن کا دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے قرآن مجید اور اگلی کتابوں پرپھر یہ چاہتے ہیں کہ مخالفان خداو رسول کی بات پر فیصلہ رکھیں حالانکہ انہیں تو ان سے منکر ہونے کاحکم تھا اور شیطان چاہتا ہے انہیں دور کی گمراہی میں ڈال دے(ت)
نقل حکم پریذیڈنٹ:مسل کا ملاحظہ کیا گیا درخواست تقرر ثالثان دستخطی شاکی ہےایك اعلی افسر کی نسبت بدظنی کی کوئی وجہ ہے اس لئے ناقابل التفات قرار دے کر مسل بمراد کارروائی ضابطہ واپس جائے۔دستخط پریذیڈنٹ صاحب۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(یااﷲ !حق اور درستی عطا فرما۔ت)قبل اس کے کہ ہم بتوفیق الہی یہاں حکم شرعی بیان کریں اتنی گزارش فریقین مقدمہ وحکام سب سے ضرور کہ معاملہ اہل اسلام کا ہے ریاست مسلمانوں کی ہےابتداء ہی ہر فریق پر فرض تھا کہ حکم شرع پر گردن رکھتاحکام پر فرض تھا کہ شرع مطہر کے موافق فیصلہ کرتے۔
قال اﷲ تعالی
"فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾"
وقال تعالی
" الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ " ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اے نبی ! تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنی باہمی نزاع میں تجھے حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تو حکم فرمائے اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور دل سے مان لیں۔
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)کیا تونے انہیں نہ دیکھا جن کا دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے قرآن مجید اور اگلی کتابوں پرپھر یہ چاہتے ہیں کہ مخالفان خداو رسول کی بات پر فیصلہ رکھیں حالانکہ انہیں تو ان سے منکر ہونے کاحکم تھا اور شیطان چاہتا ہے انہیں دور کی گمراہی میں ڈال دے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۶۵€
القرآن الکریم∞۴/ ۶۰€
القرآن الکریم∞۴/ ۶۰€
وقال تعالی" یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾" ۔ وقال تعالی
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾ " ۔وقال تعالی "فاولئک ہم الظلمون ﴿۴۵﴾" ۔ (اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے آجاؤ یعنی ہر بات میں احکام اسلام ہی کی پیروی کرو اور شیطانی راہ کے پیچھے نہ جاؤ بیشك وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ (اور اﷲ تعالی نے فرمایا)جو شریعت مطہرہ کے مطابق حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں(اور اﷲ تعالی نے فرمایا)وہی لوگ ظالم ہیں۔
اب کہ معاملہ ثالثی تك پہنچا اور اہل علم ثالث کئے گئے اور ان سے فتوی طلب ہوا تو خود ہی تمام بادی چھنٹ گئی اور صرف شرع مطہر پر بنائے کار رہی ولہذا اقرار نامہ میں فریقین نے لکھ دیا تھا کہ"کل مقدمہ سپرد ثالثان کرکے اعتراضات قانونی اوررواجی چھوڑدئے گئے ہیں"اب صرف اتنا دیکھنا رہا کہ فتوائے ثالثان صحیح و مطابق قواعد شرعیہ ہے یانہیںاور اس جانچ میں صرف قواعد شریعت مطہرہ پر نظر لازمقانونی یارواجی جھگڑوں کی طرف اصلا التفات نہیںنہ یہ کہ معاذاﷲ شرعی احکام کو تاویلات دور از کار کرکے قانون ورواج کی طرف ڈھالنا کہ یہ ان تمام آیات کریمہ کے صریح مخالف ہوگاواﷲ الھادی۔
اب ہم بیان حکم شرعی کی طرف توجہ ہوتے ہیں وباﷲ التوفیقکاغذات ملاحظہ ہوئے یہ فیصلہ کہ ثالثوں نے کیا اور اسی پر افسر مال نے مدار حکم رکھا شرعا محض باطل ہے اس کا بطلان بہت وجہ سے ہےایك یہ کہ فیصلہ کرنے والے شرعا ثالث ہی نہ تھےنہ ان کو اصلا فیصلہ کا اختیار تھا نہ ان کا فیصہ کسی راہ چلتے اجنبی کی بات سے زیادہ وقعت رکھتا ہے۔
دوم: اگر وہ ثالث فرض بھی کئے جائیں جب بھی انہیں خاص اس فیصلہ کا اختیار نہ تھا جو انہوں نے دیا۔
سوم: اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان کا فیصلہ بوجہ باہمی اختلاف رائے کے نامعتبر ہے۔
چہارم: ان سب سے در گزر یے اور نفس فیصلہ کو دیکھئے جو تین ثالثوں نے کیا تو وہ خود ہی یکسر مخالف شرع واقع ہوا____اب ان سب وجوہ کو بتوفیق اﷲ تعالی بیان کرتے ہیں:
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾ " ۔وقال تعالی "فاولئک ہم الظلمون ﴿۴۵﴾" ۔ (اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے آجاؤ یعنی ہر بات میں احکام اسلام ہی کی پیروی کرو اور شیطانی راہ کے پیچھے نہ جاؤ بیشك وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ (اور اﷲ تعالی نے فرمایا)جو شریعت مطہرہ کے مطابق حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں(اور اﷲ تعالی نے فرمایا)وہی لوگ ظالم ہیں۔
اب کہ معاملہ ثالثی تك پہنچا اور اہل علم ثالث کئے گئے اور ان سے فتوی طلب ہوا تو خود ہی تمام بادی چھنٹ گئی اور صرف شرع مطہر پر بنائے کار رہی ولہذا اقرار نامہ میں فریقین نے لکھ دیا تھا کہ"کل مقدمہ سپرد ثالثان کرکے اعتراضات قانونی اوررواجی چھوڑدئے گئے ہیں"اب صرف اتنا دیکھنا رہا کہ فتوائے ثالثان صحیح و مطابق قواعد شرعیہ ہے یانہیںاور اس جانچ میں صرف قواعد شریعت مطہرہ پر نظر لازمقانونی یارواجی جھگڑوں کی طرف اصلا التفات نہیںنہ یہ کہ معاذاﷲ شرعی احکام کو تاویلات دور از کار کرکے قانون ورواج کی طرف ڈھالنا کہ یہ ان تمام آیات کریمہ کے صریح مخالف ہوگاواﷲ الھادی۔
اب ہم بیان حکم شرعی کی طرف توجہ ہوتے ہیں وباﷲ التوفیقکاغذات ملاحظہ ہوئے یہ فیصلہ کہ ثالثوں نے کیا اور اسی پر افسر مال نے مدار حکم رکھا شرعا محض باطل ہے اس کا بطلان بہت وجہ سے ہےایك یہ کہ فیصلہ کرنے والے شرعا ثالث ہی نہ تھےنہ ان کو اصلا فیصلہ کا اختیار تھا نہ ان کا فیصہ کسی راہ چلتے اجنبی کی بات سے زیادہ وقعت رکھتا ہے۔
دوم: اگر وہ ثالث فرض بھی کئے جائیں جب بھی انہیں خاص اس فیصلہ کا اختیار نہ تھا جو انہوں نے دیا۔
سوم: اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان کا فیصلہ بوجہ باہمی اختلاف رائے کے نامعتبر ہے۔
چہارم: ان سب سے در گزر یے اور نفس فیصلہ کو دیکھئے جو تین ثالثوں نے کیا تو وہ خود ہی یکسر مخالف شرع واقع ہوا____اب ان سب وجوہ کو بتوفیق اﷲ تعالی بیان کرتے ہیں:
حوالہ / References
القرآ ن الکریم ∞۲/ ۲۰۸€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۷€
القرآ ن الکریم ∞۵/ ۴۵€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۷€
القرآ ن الکریم ∞۵/ ۴۵€
وجہ اول: پنچوں کو فیصلہ کا اختیار اس وقت ہوتا ہے کہ ان کے حکم دینے تك فریقین ان کے پنچ ہونے پر راضی رہیںاگر ایك فریق بھی پنچ کے حکم دینے سے ایك آن پہلے اس کی ثالثی پر ناراضی ظاہر کرے فورا وہ ثالثی سے نکل جائے گا اور اسے حکم دینے کا کچھ اختیار نہ رہے گا اور حکم دے تو اصلا نہ سنا جائیگا یہاں تك کہ ہمارے علماء فرماتے ہیں اگر تمام ترتیب و تکمیل مقدمہ کے بعد جب صرف حکم دینے کی دیر رہی تھی ثالث نے ایك فریق سے کہامیرے نزدیك حجت تجھ پر قائم ہوگئی میں تجھ پر حکم دیا چاہتا ہوں اس نے کہا میں تیرے ثالثی سے راضی نہیںبس یہ کہتے ہی ثالث کو اختیار جاتا رہا اب وہ کچھ حکم نہیں کرسکتا۔درمختار جلد ۴ صفحہ ۵۲۰میں ہے:
(ینفرد احدھما بنقضہ)ای التحکیم بعد وقوعہ ۔ ثالث بننے والے کے فیصلہ کو ایك فریق بھی رد کرسکتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار جلد ۴صفحہ ۵۴۲ میں ہے:
لکل منھما عزلہ قبل الحکم ۔ ثالث کے فیصلہ سے قبل کوئی ایك فریق بھی ثالث کو معزول کرسکتاہے۔(ت)
فتاوی عالمگیری جلد ۳ ص ۱۲۱ میں محیط سے ہے:
لو وجہ الحکم القضاء علی احدھما یرید بہ ان الحکم قال لاحد الخصمین قامت عندی الحجۃ بما ادعی علیك من الحق ثم ان الذی توجہ علیہ الحکم عزلہ ثم حکم علیہ بعد ذلك لاینفذ حکمہ علیہ ۔ اگر حکم کسی ایك فریق پر فیصلہ متوجہ کرےسے مراد یہ ہے کہ حکم ایك فریق کوکہے کہ دعوی کرنیوالے کی حجت میں تجھ پر قائم سمجھتا ہوں کہ حق ہے پھر یہ فریق اس کو معزول کردے اور اس کے باوجود حکم اس فریق کے خلاف فیصلہ دے دے تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)
یہاں کہ احمد شاہ نے قبل حکم ثالثان ثالثی سے اپنی ناراضی بذریعہ عرضی ظاہرکی ثالثی فورا منسوخ ہوگئی اور ثالثوں کا فیصلہ ایسا ہی ہوگیا جیسے راہ چلتا کوئی اجنبی کچھ کہہ جائے اور اس کی نسبت یہ عذر کہ
(ینفرد احدھما بنقضہ)ای التحکیم بعد وقوعہ ۔ ثالث بننے والے کے فیصلہ کو ایك فریق بھی رد کرسکتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار جلد ۴صفحہ ۵۴۲ میں ہے:
لکل منھما عزلہ قبل الحکم ۔ ثالث کے فیصلہ سے قبل کوئی ایك فریق بھی ثالث کو معزول کرسکتاہے۔(ت)
فتاوی عالمگیری جلد ۳ ص ۱۲۱ میں محیط سے ہے:
لو وجہ الحکم القضاء علی احدھما یرید بہ ان الحکم قال لاحد الخصمین قامت عندی الحجۃ بما ادعی علیك من الحق ثم ان الذی توجہ علیہ الحکم عزلہ ثم حکم علیہ بعد ذلك لاینفذ حکمہ علیہ ۔ اگر حکم کسی ایك فریق پر فیصلہ متوجہ کرےسے مراد یہ ہے کہ حکم ایك فریق کوکہے کہ دعوی کرنیوالے کی حجت میں تجھ پر قائم سمجھتا ہوں کہ حق ہے پھر یہ فریق اس کو معزول کردے اور اس کے باوجود حکم اس فریق کے خلاف فیصلہ دے دے تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)
یہاں کہ احمد شاہ نے قبل حکم ثالثان ثالثی سے اپنی ناراضی بذریعہ عرضی ظاہرکی ثالثی فورا منسوخ ہوگئی اور ثالثوں کا فیصلہ ایسا ہی ہوگیا جیسے راہ چلتا کوئی اجنبی کچھ کہہ جائے اور اس کی نسبت یہ عذر کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۲€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۵۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب القضاء باب التحکیم الباب الرابعون والعشرون ∞نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۳/ ۳۹۸€
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۵۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب القضاء باب التحکیم الباب الرابعون والعشرون ∞نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۳/ ۳۹۸€
درخواست تقرر ثالثان احمد شاہ کی دستخطی ہے کچھ بکار آمد نہیںاحمد شاہ نے عرضی میں فقط یہی بیان نہ کیا کہ مجھ سے جبرا تقرر ثالثان کرالیا ہے میں رضا مند نہ تھا بلکہ صاف لکھ دیا ہے کہ"سائل بالکل رضامند نہیں جیسا کہ پہلے رضامندنہ تھا"اس کا اس قدر لکھنا منسوخی ثالثی کےلئے کافی ہے پس ثالثی باطل محض ہوگئی اور یہ فیصلہ اصلا قابل التفات نہیں۔
وجہ دوم:بالفرض اگر ثالثی باقی بھی رہتی تو ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعا علیہم میں ایك لڑکا خدابخش نابالغ بھی ہے اور جب کہ فیصلہ بحق مدعیان دیا گیا تو اس کا ضرر اسے بھی پہنچے گا اور ثالثوں کو کوئی اختیار نہیں کہ ایسا فیصلہ دیں جس کا اثر نابالغ پر پڑے۔رد المحتار میں جلد ۴ص۵۴۲ میں ہے:
لایصح حکمہ بما فیہ ضرر علی الصغیر بخلاف القاضی ۔ نابالغ کے خلاف ضرر رساں فیصلہ حکم نہیں دے سکتا بخلاف قاضی کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔(ت)
اور وجہ اس کی ظاہر کہ ثالثی کا حاصل فریقین کا باہمی ایك صلح کرلینا ہے احمد شاہ کو کیا اختیارکہ ایسی صلح کرے جس سے اس کے نابالغ بھائی کو نقصان پہنچے۔درمختار صفحہ ۳۵۳ میں ہے:
(التحکیم)صلح معنی فلا یصح تعلیقہ ولا اضافتہ عند الثانی وعلیہ الفتوی کمافی قضاء الخانیۃ ۔ تحکیم یعنی کسی کو ثالث بنانا معنی صلح ہے لہذا اس کی تعلیق واضافت جائز نہیںیہ امام ثانی یعنی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوی ہےجیسا کہ خانیہ کی قضا میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی الدرر فانہ تولیۃ صورۃ وصلح معنی اذلا یصار الیہ الابتراضیہما لقطع الخصومۃ بینھما ۔ درر میں فرمایا:یہ صورتا تولیت ہے اور معنا صلح ہے کیونکہ اس سے دونوں فریقوں کی رضامندی سے ان کے جھگڑے کو ختم کرنا مطلوب ہوتا ہے۔(ت)
وجہ سوم:ہم پہلے کہہ چکے ہیں اور خود فریقین نے تسلیم کیا کہ قانونی ورواجی باتیں سب بالائے طاق رکھی گئیں معاملہ صرف شریعت مطہرہ کے سپرد ہے اور یہی فرض تھااب شرع مطہر کا حکم سنئے
وجہ دوم:بالفرض اگر ثالثی باقی بھی رہتی تو ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعا علیہم میں ایك لڑکا خدابخش نابالغ بھی ہے اور جب کہ فیصلہ بحق مدعیان دیا گیا تو اس کا ضرر اسے بھی پہنچے گا اور ثالثوں کو کوئی اختیار نہیں کہ ایسا فیصلہ دیں جس کا اثر نابالغ پر پڑے۔رد المحتار میں جلد ۴ص۵۴۲ میں ہے:
لایصح حکمہ بما فیہ ضرر علی الصغیر بخلاف القاضی ۔ نابالغ کے خلاف ضرر رساں فیصلہ حکم نہیں دے سکتا بخلاف قاضی کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔(ت)
اور وجہ اس کی ظاہر کہ ثالثی کا حاصل فریقین کا باہمی ایك صلح کرلینا ہے احمد شاہ کو کیا اختیارکہ ایسی صلح کرے جس سے اس کے نابالغ بھائی کو نقصان پہنچے۔درمختار صفحہ ۳۵۳ میں ہے:
(التحکیم)صلح معنی فلا یصح تعلیقہ ولا اضافتہ عند الثانی وعلیہ الفتوی کمافی قضاء الخانیۃ ۔ تحکیم یعنی کسی کو ثالث بنانا معنی صلح ہے لہذا اس کی تعلیق واضافت جائز نہیںیہ امام ثانی یعنی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوی ہےجیسا کہ خانیہ کی قضا میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی الدرر فانہ تولیۃ صورۃ وصلح معنی اذلا یصار الیہ الابتراضیہما لقطع الخصومۃ بینھما ۔ درر میں فرمایا:یہ صورتا تولیت ہے اور معنا صلح ہے کیونکہ اس سے دونوں فریقوں کی رضامندی سے ان کے جھگڑے کو ختم کرنا مطلوب ہوتا ہے۔(ت)
وجہ سوم:ہم پہلے کہہ چکے ہیں اور خود فریقین نے تسلیم کیا کہ قانونی ورواجی باتیں سب بالائے طاق رکھی گئیں معاملہ صرف شریعت مطہرہ کے سپرد ہے اور یہی فرض تھااب شرع مطہر کا حکم سنئے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۹€
درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۸€
درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳€
ردالمحتار کتاب البیوع باب مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۸€
ثالثی جب متعدد اشخاص کے سپردکی جائے تو ان کا وہی حکم مسلم وقابل اعتبار ہوگا جو وہ سب باتفاق رائے فیصلہ کریں اور اختلاف پڑے تو ان میں کسی کا حکم قابل لحاظ نہیں ایسے مقامات میں کثرت رائے پر نظر نہیں ہوسکتی جہاں کوئی اختیار متعدد اشخاص کو سپرد کیا گیا ہو مثلا چند شخصوں کو وکیل کیا تو ان سب کی رائے متفق ہونا ضرور ہے یا متعدد اشخاص کو اپنے مال کا وصی کیا تو جو تصرف ہوگا سب کی مجموعی رائے سے ہوسکے گا یا چند اشخاص کو وقف کا متولی کیا تو اس میں بھی بعض یا اکثر کی رائے سے کچھ نہ ہوسکے گا جب تك سب کی رائے متفق نہ ہو بعینہ یہی حالت ثالثوں کی ہے اور ان سب کی وجہ یہی ہے کہ اختیار دینے والا مجموع کی رائے پر راضی ہوا تھانہ کہ بعض کی۔اشباہ والنظائر صفحہ ۲۵۱میں ہے:
الشیئ المفوض الی اثنین لایمبلکہ احدھما کالو کیلین والوصیین والناظرین و القاضیین والحکمین ۔ جو چیز دو کو تفویض کی جائے ایك واحد مالك نہ ہوگا جیساکہ دو وکیلدو وصیدو منتظم دو قاضی اور دو ثالث۔(ت)
ہدایہ جلد دوم ص ۱۳۲میں ہے:
اذاوکل وکیلین فلیس لاحد ھما ان یتصرف فیما وکلا بہ دون الاخر وھذا فی تصرف یحتاج فیہ الی الرأی کالبیع والخلع وغیر ذلك لان الموکل رضی برأیھما لابرأی احدھما ۔ جب کسی نے دو وکیل بنائے تو جس معاملہ میں دونوں وکیل ہیںایك وکیل دوسرے کے بغیر اس میں تصرف نہیں کرسکتایہ ان امور میں ہے جن میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے بیع اور خلع وغیرہکیونکہ موکل دونوں کی رائے پر راضی ہے ایك کی رائے پر نہیں(ت)
اسی کے صفحہ ۵۶۷ میں ہے:
الولایۃ ثبتت بالتفویض فیراعی وصف التفویض وھو وصف الاجتماع اذھو شرط مفید ۔ ولایت تفویض سے ثابت ہوتی ہے لہذا تفویض کے وصف کی رعایت ضروری ہے اور یہ دونوں کی اجتماعی رائے کا وصف ہے(ت)
الشیئ المفوض الی اثنین لایمبلکہ احدھما کالو کیلین والوصیین والناظرین و القاضیین والحکمین ۔ جو چیز دو کو تفویض کی جائے ایك واحد مالك نہ ہوگا جیساکہ دو وکیلدو وصیدو منتظم دو قاضی اور دو ثالث۔(ت)
ہدایہ جلد دوم ص ۱۳۲میں ہے:
اذاوکل وکیلین فلیس لاحد ھما ان یتصرف فیما وکلا بہ دون الاخر وھذا فی تصرف یحتاج فیہ الی الرأی کالبیع والخلع وغیر ذلك لان الموکل رضی برأیھما لابرأی احدھما ۔ جب کسی نے دو وکیل بنائے تو جس معاملہ میں دونوں وکیل ہیںایك وکیل دوسرے کے بغیر اس میں تصرف نہیں کرسکتایہ ان امور میں ہے جن میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے بیع اور خلع وغیرہکیونکہ موکل دونوں کی رائے پر راضی ہے ایك کی رائے پر نہیں(ت)
اسی کے صفحہ ۵۶۷ میں ہے:
الولایۃ ثبتت بالتفویض فیراعی وصف التفویض وھو وصف الاجتماع اذھو شرط مفید ۔ ولایت تفویض سے ثابت ہوتی ہے لہذا تفویض کے وصف کی رعایت ضروری ہے اور یہ دونوں کی اجتماعی رائے کا وصف ہے(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۶تا۱۸€
الہدایۃ کتاب الوکالۃ فصل فی تصرف الوکیلین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۹۱€
الہدایہ کتاب الوصایا باب الوصی وما یملکہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۹۰€
الہدایۃ کتاب الوکالۃ فصل فی تصرف الوکیلین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۹۱€
الہدایہ کتاب الوصایا باب الوصی وما یملکہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۹۰€
اسی کے صفحہ ۹۲ میں ہے:
لو حکما رجلین لا بد من اجتما عھما لانہ امر یحتاج فیہ الی الرأی ۔ اگر دونوں فریقوں نے دو ثالث بنائے تو دونوں کی اجتماعی ثالثی ضرور ہے کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے۔(ت)
ان عبارات میں دوکاذکر صرف تصویر مسئلہ ہے قید حکم نہیں کہ دلیل مذکورہدایہ دو اور دس سب کو شامل ہےلاجرم ادب الاوصیاء ہامش جامع الفصولین جلد دوم صفحہ ۳۴۵میں ہے:
فی الخانیۃ وغیرہا ان حکم ھذاالفصل انہ لایتمکن احد الوصیین اوالاوصیاء من التصرف بدون حضور رأی الباقی الافیما لابدمنہ اولا یکون فیہ مدخل للرأی وھو اشیاء معدودۃ الخ۔ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اس معاملہ کا حکم یہ ہے کہ دو یا زیادہ وصی میں سے کسی ایك کو باقیوں کے بغیر تصرف کا حق نہیں مگر جب کوئی اہم مجبوری ہو یا معاملہ ایسا ہو جس میں مشورہ کی ضرور ت نہ ہو جبکہ یہ چند امور ہی ہیں الخ۔(ت)
اسی کے صفحہ ۳۵۲میں ہدایہ سے ہے:
اقر الوصیان بان معھما ثالثا یملك القاضی نصب الثلث معھما اعترافا بالعجز عن التصرف ۔ دو وصیوں نے اپنے ساتھ تیسرے وصی کا بھی اقرار کیا ہو تو قاضی کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی تیسرے کو ان کے ساتھ مقرر کرے کیونکہ ان دونوں نے تصرف سے اپنے عجز کا اعتراف کیا ہے۔ (ت)
یہ مسئلہ ہدایہ کتاب الشہادۃ صفحہ ۱۰۹ میں ہے:
ونصھا الوصیان اذا اقراان معھما ثالثا یملك القاضی نصب ثالث معھما لعجز ھما عن التصرف باعترافھما ۔ اس کی عبارت یہ ہے دو وصیوں نے اقرار کیا کہ ان کے ساتھ تیسرا بھی ہے تو قاضی کو اختیار ہوگا کہ کسی تیسرے کو ان دونوں کے ساتھ مقرر کرے کیونکہ انہوں نے خود اپنے اعتراف سے تصرف سے عجز ظاہر کیاہے۔(ت)
عنایہ ہامش الفتح ج ۶ص۴۶ میں ہے:
شہادتھما بثالث معہما اعتراف بعجزھما عن التصرف لعدم استقلا لھما بہ ۔ اپنے ساتھ تیسرے کے بارے میں ان کی شہادت اس بات کااعتراف ہے کہ وہ تصرف میں عاجزہیں کیونکہ وہ اس میں استقلال نہیں رکھتے۔(ت)
فتح القدیر جلد مذکور صفحہ ۴۷میں ہے:
وصیاالمیت لما شھدابالثالث فقد اعترفا بعجز شرعی منھما عن التصرف الاان یکون ھو معھما ۔ میت کے دو وصی ہیں انہوں نے جب اعتراف کیا کہ ہمارے ساتھ تیسرا ہے تو انہوں نے اپنے شرعی عجز کا اظہار کردیا کہ تیسرے کے بغیر ہم تصرف نہیں کرسکتے۔(ت)
لو حکما رجلین لا بد من اجتما عھما لانہ امر یحتاج فیہ الی الرأی ۔ اگر دونوں فریقوں نے دو ثالث بنائے تو دونوں کی اجتماعی ثالثی ضرور ہے کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے۔(ت)
ان عبارات میں دوکاذکر صرف تصویر مسئلہ ہے قید حکم نہیں کہ دلیل مذکورہدایہ دو اور دس سب کو شامل ہےلاجرم ادب الاوصیاء ہامش جامع الفصولین جلد دوم صفحہ ۳۴۵میں ہے:
فی الخانیۃ وغیرہا ان حکم ھذاالفصل انہ لایتمکن احد الوصیین اوالاوصیاء من التصرف بدون حضور رأی الباقی الافیما لابدمنہ اولا یکون فیہ مدخل للرأی وھو اشیاء معدودۃ الخ۔ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اس معاملہ کا حکم یہ ہے کہ دو یا زیادہ وصی میں سے کسی ایك کو باقیوں کے بغیر تصرف کا حق نہیں مگر جب کوئی اہم مجبوری ہو یا معاملہ ایسا ہو جس میں مشورہ کی ضرور ت نہ ہو جبکہ یہ چند امور ہی ہیں الخ۔(ت)
اسی کے صفحہ ۳۵۲میں ہدایہ سے ہے:
اقر الوصیان بان معھما ثالثا یملك القاضی نصب الثلث معھما اعترافا بالعجز عن التصرف ۔ دو وصیوں نے اپنے ساتھ تیسرے وصی کا بھی اقرار کیا ہو تو قاضی کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی تیسرے کو ان کے ساتھ مقرر کرے کیونکہ ان دونوں نے تصرف سے اپنے عجز کا اعتراف کیا ہے۔ (ت)
یہ مسئلہ ہدایہ کتاب الشہادۃ صفحہ ۱۰۹ میں ہے:
ونصھا الوصیان اذا اقراان معھما ثالثا یملك القاضی نصب ثالث معھما لعجز ھما عن التصرف باعترافھما ۔ اس کی عبارت یہ ہے دو وصیوں نے اقرار کیا کہ ان کے ساتھ تیسرا بھی ہے تو قاضی کو اختیار ہوگا کہ کسی تیسرے کو ان دونوں کے ساتھ مقرر کرے کیونکہ انہوں نے خود اپنے اعتراف سے تصرف سے عجز ظاہر کیاہے۔(ت)
عنایہ ہامش الفتح ج ۶ص۴۶ میں ہے:
شہادتھما بثالث معہما اعتراف بعجزھما عن التصرف لعدم استقلا لھما بہ ۔ اپنے ساتھ تیسرے کے بارے میں ان کی شہادت اس بات کااعتراف ہے کہ وہ تصرف میں عاجزہیں کیونکہ وہ اس میں استقلال نہیں رکھتے۔(ت)
فتح القدیر جلد مذکور صفحہ ۴۷میں ہے:
وصیاالمیت لما شھدابالثالث فقد اعترفا بعجز شرعی منھما عن التصرف الاان یکون ھو معھما ۔ میت کے دو وصی ہیں انہوں نے جب اعتراف کیا کہ ہمارے ساتھ تیسرا ہے تو انہوں نے اپنے شرعی عجز کا اظہار کردیا کہ تیسرے کے بغیر ہم تصرف نہیں کرسکتے۔(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب القضاۃ باب التحکیم ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۴۴€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی تعدد الاوصیاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۵€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی تعدد الاوصیاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۳€
الہدایۃ کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۶۴€
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۹۳€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی تعدد الاوصیاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۵€
آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی تعدد الاوصیاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۳€
الہدایۃ کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۶۴€
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۹۳€
نیز اشباہ صفحہ ۱۴۸ میں ہے:
ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الا فی مسائل ۔الی اخرہ وعد ثلثا لیس ھذہ منھا۔ جو امر جماعت کے لئے ثابت ہو تو وہ پوری جماعت اس میں شریك ہوگی ماسوائے چند مسائل کے جن کا عد د تین ہے یہ مسئلہ ان میں سے نہیں۔(ت)
تو یہاں کہ اختلاف رائے واقع ہوا ثالثوں میں کسی کا فیصلہ معتبر نہ رہا۔
وجہ چہارم:اگر یہ وجوہ کچھ بھی نہ ہوتے تو فیصلہ خود اصول شرعی کے بالکل خلاف ہوا ہے روئداد مسل اثبات نسب اﷲ بخش والہی بخش میں شرعا محض ناکافی ہے ثالثوں نے اسکےلئے سات چیزوں سے استناد کیا چھ ثبوت تحریری یعنی کاغذات نمبرا۲ ۳۵۹۱۱جن کا خلاصہ سوال میں گزرا اور ساتواں ثبوت زبانی یعنی شہادات مگر بہت افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان میں ایك بھی میزان شرع پر کامل و کافی نہیں۔
کاغذ اول رپورٹ پٹواری
(۱)فتوائے ثالثان کا بیان کہ"پٹواری کے سامنے سراج الدین و بدرالدین نے مدعیان کو اپنے بھائی
ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الا فی مسائل ۔الی اخرہ وعد ثلثا لیس ھذہ منھا۔ جو امر جماعت کے لئے ثابت ہو تو وہ پوری جماعت اس میں شریك ہوگی ماسوائے چند مسائل کے جن کا عد د تین ہے یہ مسئلہ ان میں سے نہیں۔(ت)
تو یہاں کہ اختلاف رائے واقع ہوا ثالثوں میں کسی کا فیصلہ معتبر نہ رہا۔
وجہ چہارم:اگر یہ وجوہ کچھ بھی نہ ہوتے تو فیصلہ خود اصول شرعی کے بالکل خلاف ہوا ہے روئداد مسل اثبات نسب اﷲ بخش والہی بخش میں شرعا محض ناکافی ہے ثالثوں نے اسکےلئے سات چیزوں سے استناد کیا چھ ثبوت تحریری یعنی کاغذات نمبرا۲ ۳۵۹۱۱جن کا خلاصہ سوال میں گزرا اور ساتواں ثبوت زبانی یعنی شہادات مگر بہت افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان میں ایك بھی میزان شرع پر کامل و کافی نہیں۔
کاغذ اول رپورٹ پٹواری
(۱)فتوائے ثالثان کا بیان کہ"پٹواری کے سامنے سراج الدین و بدرالدین نے مدعیان کو اپنے بھائی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۹۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۲۴۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب النکاح ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۲۴۴€
لکھوائے ہیں"سخت عجب ہے اولا وہ اگر ہے تو صرف بدرالدین کا بیان جس میں اظہار سراج الدین کانام نہ نشان۔
(۲)اس کے کس لفط کس حرف میں بدرالدین نے اﷲ بخش والہی بخش کو اپنا بھائی کہا اس نے تو صاف اس کے خلاف یہ بیان کیا کہ وہ دونوں قبل از نکاح پیدا ہوئے ہیں اس سے اتنا بھی نہ کھلا کہ نطفہ پیر صدرالدین سے پیداہوئے۔کنچنیان جو بلا نکاح رکھی جاتی ہیں مقید نہیں ہوتیں کیا خبر ان کی اولاد کس سے ہےنہ ہر گز اس بیان میں پیر بدر الدین نے معاذاﷲصراحۃ اپنے باپ کو زنا کی طرف نسبت کیا کنچنی کو لے کر چلا جانا گانا ناچ دیکھنے سننے کے لئے بھی ہوسکتا ہے کچھ زنا ہی ضرور نہیںاور بفرض غلط اگر بدر الدین کی یہی مراد مانی جائے تو بھی ان کے بھائی ہونے کا اقرار کہاں ہواایسی اولا بے نکاح کو شرع اس صاحب نطفہ کی اولاد کب مانتی ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ بچہ اس کا جس کا نکاح ہے اور زانی کیلئے پتھر۔
(۳)بالفرض اس میں اگر سراج الدین کا بھی نام ہوتا اور بھائی ماننے کی صریح تصریح بھی جب بھی کیا حجت ہوسکتا ہے کہ یہ نہ سراج الدین کا بیان ہے نہ بدرالدین کابلکہ ایك پٹواری کا قول ہے کہ انہوں نے ایسا بیان کیا جس کی عدالت بھی معلوم نہیںکیا شرع میں کسی کا اقرا رایك شخص واحد مجہول العدالۃ کے بیان سے ثابت ہوسکتا ہے' ہرگز نہیں
قال اﷲ تعالی "و اشہدوا ذوی عدل منکم" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اپنے میں سے دو عادل گواہ بناؤ۔(ت)
پٹواریوں کی سیکڑوں رپورٹیں اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے خلاف واقع گزرا کرتی ہیں ہر شخص جسے زمین داری سے تعلق رہا ہے اسے اپنے تجربے سے جانتا ہے میں نہیں کہتا کہ عنایت اﷲ نے ایسا کیا مگر تحسین ظن اور چیز ہے اور حجت شرعیہ دوسری چیز۔
کاغذ دوم رواج عام
(۴)رواج کی نسبت ثالثوں کا فرمانا کہ اس میں مدعیوں کو پیر صدر الدین نے وارث لکھا ہے
(۲)اس کے کس لفط کس حرف میں بدرالدین نے اﷲ بخش والہی بخش کو اپنا بھائی کہا اس نے تو صاف اس کے خلاف یہ بیان کیا کہ وہ دونوں قبل از نکاح پیدا ہوئے ہیں اس سے اتنا بھی نہ کھلا کہ نطفہ پیر صدرالدین سے پیداہوئے۔کنچنیان جو بلا نکاح رکھی جاتی ہیں مقید نہیں ہوتیں کیا خبر ان کی اولاد کس سے ہےنہ ہر گز اس بیان میں پیر بدر الدین نے معاذاﷲصراحۃ اپنے باپ کو زنا کی طرف نسبت کیا کنچنی کو لے کر چلا جانا گانا ناچ دیکھنے سننے کے لئے بھی ہوسکتا ہے کچھ زنا ہی ضرور نہیںاور بفرض غلط اگر بدر الدین کی یہی مراد مانی جائے تو بھی ان کے بھائی ہونے کا اقرار کہاں ہواایسی اولا بے نکاح کو شرع اس صاحب نطفہ کی اولاد کب مانتی ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ بچہ اس کا جس کا نکاح ہے اور زانی کیلئے پتھر۔
(۳)بالفرض اس میں اگر سراج الدین کا بھی نام ہوتا اور بھائی ماننے کی صریح تصریح بھی جب بھی کیا حجت ہوسکتا ہے کہ یہ نہ سراج الدین کا بیان ہے نہ بدرالدین کابلکہ ایك پٹواری کا قول ہے کہ انہوں نے ایسا بیان کیا جس کی عدالت بھی معلوم نہیںکیا شرع میں کسی کا اقرا رایك شخص واحد مجہول العدالۃ کے بیان سے ثابت ہوسکتا ہے' ہرگز نہیں
قال اﷲ تعالی "و اشہدوا ذوی عدل منکم" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اپنے میں سے دو عادل گواہ بناؤ۔(ت)
پٹواریوں کی سیکڑوں رپورٹیں اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے خلاف واقع گزرا کرتی ہیں ہر شخص جسے زمین داری سے تعلق رہا ہے اسے اپنے تجربے سے جانتا ہے میں نہیں کہتا کہ عنایت اﷲ نے ایسا کیا مگر تحسین ظن اور چیز ہے اور حجت شرعیہ دوسری چیز۔
کاغذ دوم رواج عام
(۴)رواج کی نسبت ثالثوں کا فرمانا کہ اس میں مدعیوں کو پیر صدر الدین نے وارث لکھا ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع وکتاب الوصایا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۶و۳۸۳،€مسند امام احمد بن حنبل ∞ترجمہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ€ دارالفکرو بیروت ∞۱/ ۵۹€
القرآن الکریم ∞۶۵/ ۲€
القرآن الکریم ∞۶۵/ ۲€
بہت سخت عجب ہے رواج عام کی عبارت سامنے موجود ہے اس میں نہ مدعیوں کا نام ہے نہ مدعیوں کی ماں کا نام صرف اس قدر ہے کہ"صدر الدین نے ہمراہ عورت بیوہ قوم پیرنی کے نکاح کرلیا ہے اولاد اس کی بعد وفات صاحب جائداد کے مالك ہوگی" اس سے کیاثابت ہوا کہ کون عورت اور کس کی اولاد یہ اقرار اگر ہے تو محض مجہول کے لئے ہے جس کی جہالت سخت فاحشہ ہے بیوہ عورت قوم پیرنی لاکھوں ہیں اور ایسے مجہول کے لئے اقرار بالاتفاق باطل ہے۔ہدایہ جلد دوم صفحہ ۱۶۵میں ہے:
جہالۃ المقربہ لایمنع صحۃ الاقرارلان الحق قدیلزمہ مجھولا بان اتلف مالایدری قیمتہ بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ لان المجھول لایصح مستحقا ۔ جس چیز کا اقرار کیا جائے وہ مجہول ہو تو مانع اقرار نہیں کیونکہ حق مجہول ہوتے ہوئے بھی لازم ہوجاتا ہے یوں کہ اقرارکیا کہ چیز تلف کی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں بخلاف مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار کیا ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں بن سکتا۔(ت)
بحرالرائق جلد ہفتم ص۲۷۲ میں ہے:
جھالۃ المقر لہ مانعۃ من صحتہ ان تفاحشت کل واحد من الناس علی کذا ۔ مقرلہ کی جہالت فاحشہ اقرار کی صحت کے لئے مانع ہے اس میں تمام لوگ شامل ہیں۔(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد پنچم ص۴ میں ہے:
لوکان المقربہ مجہولا لایمنع صحۃ الاقرار بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ سواء تفاحشت اولالان المجہول لایصلح مستحقا ھکذا ذکر شمس الائمۃ وذکر شیخ الاسلام فی مبسوطہ والناطفی فی واقعاتہ انہا اذا تفاحشت لایجوزوان لم تتفاحش جاز ۔ اگر مقربہ یعنی جس چیز کا اقرار ہومجہول ہو تو وہ اقرار کی صحت کےلئے مانع نہیں بخلاف مقرلہ کے خواہ یہ جہالت وسیع ہو یا نہ ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں ہوسکتاشمس الائمہ نے یوں ذکر کیا ہے جبکہ شیخ الاسلام نے اپنی مبسوط میں اور ناطفی نے اپنی واقعات میں فرمایا کہ اگرجہالت فحش ہو تو مانع ہے اور یہ جہالت کھلی نہ ہو تو اقرار جائز ہے۔(ت)
جہالۃ المقربہ لایمنع صحۃ الاقرارلان الحق قدیلزمہ مجھولا بان اتلف مالایدری قیمتہ بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ لان المجھول لایصح مستحقا ۔ جس چیز کا اقرار کیا جائے وہ مجہول ہو تو مانع اقرار نہیں کیونکہ حق مجہول ہوتے ہوئے بھی لازم ہوجاتا ہے یوں کہ اقرارکیا کہ چیز تلف کی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں بخلاف مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار کیا ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں بن سکتا۔(ت)
بحرالرائق جلد ہفتم ص۲۷۲ میں ہے:
جھالۃ المقر لہ مانعۃ من صحتہ ان تفاحشت کل واحد من الناس علی کذا ۔ مقرلہ کی جہالت فاحشہ اقرار کی صحت کے لئے مانع ہے اس میں تمام لوگ شامل ہیں۔(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد پنچم ص۴ میں ہے:
لوکان المقربہ مجہولا لایمنع صحۃ الاقرار بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ سواء تفاحشت اولالان المجہول لایصلح مستحقا ھکذا ذکر شمس الائمۃ وذکر شیخ الاسلام فی مبسوطہ والناطفی فی واقعاتہ انہا اذا تفاحشت لایجوزوان لم تتفاحش جاز ۔ اگر مقربہ یعنی جس چیز کا اقرار ہومجہول ہو تو وہ اقرار کی صحت کےلئے مانع نہیں بخلاف مقرلہ کے خواہ یہ جہالت وسیع ہو یا نہ ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں ہوسکتاشمس الائمہ نے یوں ذکر کیا ہے جبکہ شیخ الاسلام نے اپنی مبسوط میں اور ناطفی نے اپنی واقعات میں فرمایا کہ اگرجہالت فحش ہو تو مانع ہے اور یہ جہالت کھلی نہ ہو تو اقرار جائز ہے۔(ت)
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الاقرار ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۳۰€
بحرالرائق کتاب الاقرار ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۵۰€
تبیین الحقائق کتاب الاقرار المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۵/ ۴€
بحرالرائق کتاب الاقرار ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۵۰€
تبیین الحقائق کتاب الاقرار المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۵/ ۴€
اسی طرح فتاوی عالمگیریہ جلد چہارم ص۵۹میں ہے:اشباہ والنظائر صفحہ ۲۵۴میں ہے الاقرار للمجھول باطل الخ(مجہول شخص کےلئے اقرار باطل ہے الخ۔ت)اس پر ثالث چہارم یعنی مولوی عطا محمد صاحب نے جو یہ خیال کیا کہ"گواس میں نام اﷲ بخش والہی بخش نہیں ہے لیکن چونکہ اولاد بحسب الظاہر رنگ بھری وصدر الدین کی بغیر ان دونوں کے اور کوئی نہیںلہذا ضرورۃ یہی تصور کئے جائیں گےمیں اس کے لئے بھی شرع میں کوئی اصل نہیں پاتااولا: کیا اگر کوئی اقرار کرے کہ ایك شخص ساکن ہندوستان کے ہزار روپے مجھ پر قرض آتے ہیں تو جو کوئی ہندوستانی اس پر دعویدار ہو کر کھڑا ہوگا ہم باور کرلیں گے کہ وہ یہی ہے جسکی نسبت اقرار کیا تھا نہیں بلکہ ضروراسے ثبوت دینا ہوگا اس قدر شدید جہالت درکنار زید اگر کہے خالد کے مجھ پر سو روپے آتے ہیں پھر خالد نامی ایك شخص مدعی ہو کہ میں خالد ہوں میرے روپے آتے ہیں ہر گز اس قدر سے ثبوت دعوی نہ ہوگا اور مقر کااس کے حق میں انکار کرنا حلف کے ساتھ مان لیا جائے گا۔وجیز امام کردری پھر ردالمحتار میں جلد دوم صفحہ ۷۵۵ میں ہے:
اذا اقر بمال لمسمی فادعی رجل انہ ھو وانکر یصدق بالحلف مالہ علی ھذا المال ۔ جب ایك نے کسی مسمی شخص کے حق میں مال کا اقرار کیا اور دوسرے نے دعوی کیا وہ مسمی میں ہوں لیکن اقرار کرنے والا اس کا انکار کرتا ہے تو انکار کی قسم کے ساتھ تصدیق کی جائے گی مدعی کا اس پریہ مال نہیں ہے۔(ت)
توجب صراحۃ نام لے دینے سے بھی ثبوت نہ ہوگیا کہ ایك نام کے ہزاروں ہوتے ہیں تو اتنی سخت مجہول بات کہ بیوہ پیرنی کیا مفید ثبو ت ہوسکتی ہے اگر کہئے یہاں ثبوت کا پتہ یوں چلتاہے کہ آخررنگ بھری سے پیر صدر الدین نے نکاح کیاہے اور وہ قوم کی پیرنی ہے یوں ہم نے سمجھ لیا وہ عورت یہی ہےہم کہیں گے کیا ثبوت ہے کہ تحریر رواج عام کے وقت رنگ بھری نکاح صد رالدین میں تھی اور ہو بھی توغایت درجہ ایك قرینہ ہے جسے مفتی نے خود ظاہر کیا اور ہدایہ وغیر ہ تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ:
الظاہر یصلح حجۃ للدفع ظاہر حال دفاع کی دلیل ہوسکتا ہے۔
اذا اقر بمال لمسمی فادعی رجل انہ ھو وانکر یصدق بالحلف مالہ علی ھذا المال ۔ جب ایك نے کسی مسمی شخص کے حق میں مال کا اقرار کیا اور دوسرے نے دعوی کیا وہ مسمی میں ہوں لیکن اقرار کرنے والا اس کا انکار کرتا ہے تو انکار کی قسم کے ساتھ تصدیق کی جائے گی مدعی کا اس پریہ مال نہیں ہے۔(ت)
توجب صراحۃ نام لے دینے سے بھی ثبوت نہ ہوگیا کہ ایك نام کے ہزاروں ہوتے ہیں تو اتنی سخت مجہول بات کہ بیوہ پیرنی کیا مفید ثبو ت ہوسکتی ہے اگر کہئے یہاں ثبوت کا پتہ یوں چلتاہے کہ آخررنگ بھری سے پیر صدر الدین نے نکاح کیاہے اور وہ قوم کی پیرنی ہے یوں ہم نے سمجھ لیا وہ عورت یہی ہےہم کہیں گے کیا ثبوت ہے کہ تحریر رواج عام کے وقت رنگ بھری نکاح صد رالدین میں تھی اور ہو بھی توغایت درجہ ایك قرینہ ہے جسے مفتی نے خود ظاہر کیا اور ہدایہ وغیر ہ تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ:
الظاہر یصلح حجۃ للدفع ظاہر حال دفاع کی دلیل ہوسکتا ہے۔
حوالہ / References
الاشباہ والنطائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰€
ردالمحتار
ردالمحتار
لاللاستحقاق ۔ استحقاق کی نہیں۔(ت)
یعنی ظاہر سے سند لانا مدعا علیہ کو مفید ہوسکتا ہے مدعی کو اصلا مفید نہیں اور یہاں اﷲ بخش والہی بخش مدعی ہیں توظاہر انہیں کیا بکار آمد ہوسکتا ہے اگر کہئے رواج عام کی تاریخ ۱۸۷۲ءاورنکاح کی تاریخ ۱۲۸۶ھ کہ مولوی نورالدین نکاح خوان نے اپنی تحریر میں لکھائی دونوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت تحریر رواج رنگ بھری نکاح پیر صدرالدین میں تھی تو اس کا جواب عنقریب آتا ہے کہ تحریر مولوی نورالدین اصلا شہادت میں لئے جانے کے قابل نہیں نہ اس پر کوئی التفات ہوسکتا ہے اور یہ امر خود مفتی موصوف کو بھی مسلم ہے۔
(۵)ثانیا: رواج عام کی عبارت تویہ کہہ رہی ہے کہ وہ عورت جس کی نسبت اقرار تھا رنگ بھری نہ تھی کوئی اور تھی اس میں عورت کو بیوہ لکھاہے اور بیوہ وہ جس کا شوہر مرگیا ہورنگ بھری کنچنی تھی پیر صدر الدین سے نکاح کے ہونے تك اسی اپنے پیشہ ناجائز میں تھی ایسی عورت کو بیوہ نہیں کہتے۔حسن اتفاق سے ۱۵/ شعبان معظم ۲۷ روز چہار شنبہ کو فریق دوم شیخ اﷲ بخش بھی منچن آباد سے ہمارے پاس آئے ہم نے اس خیال پر کہ شاید اہل پنجاب میں بیوہ کا کوئی اور محاورہ ہو فریق اول ان کے ہمراہی سے پہلے ہی دریافت کرلیا تھا مزید اطمینان کے لئے ان فریق دوم سے بھی استفسار کیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ بیوہ اسی کو کہتے ہیں جس کا پہلا خاوند مرگیا ہوہم نے پوچھا تمہاری والدہ کا پیر صدرالدین سے پہلے کسی اور شخص سے نکاح ہوا تھاکہا کوئی نہیںتو صاف ظاہر ہوا کہ رواج عام کی تحریر رنگ بھری سے متعلق نہیںاس کا جواب فریق دوم کو کچھ بن نہ آیا مگر احمد شاہ فریق اول کی طرف اشارہ کرکے کہا یہی بتادے کہ پیر صد رالدین نے اور کسی عورت سے نکاح کیا تھااس کا جواب ان کو دے دیا گیا کہ تم مدعی ہوتمہاری دلیل کی تصحیح تمہارے ذمہ ہے مدعا علیہ پر اس کا کوئی بارثبوت نہیںہوگئی کوئی عورت بیوہ جس سے پیر صدر الدین نے نکاح کیا اور لاولد مرگئی ہو۔
(۶)فرض کیجئے کہ رواج عام میں رنگ بھری کاصاف نام اور پورا پتہ لکھا ہوتا پھر بھی کیا کام آتایہ مطلب تو ہو نہیں سکتا تھا کہ رنگ بھری کی جو اولاد ہو مطلقا پیر صدر الدین کی وارث ہوگی اگرچہ نطفہ پیر صدر الدین سے نہ ہوآخر رنگ بھری کا بیٹا اﷲ دتا بھی تو ہے اسے کیوں نہیں وارث
یعنی ظاہر سے سند لانا مدعا علیہ کو مفید ہوسکتا ہے مدعی کو اصلا مفید نہیں اور یہاں اﷲ بخش والہی بخش مدعی ہیں توظاہر انہیں کیا بکار آمد ہوسکتا ہے اگر کہئے رواج عام کی تاریخ ۱۸۷۲ءاورنکاح کی تاریخ ۱۲۸۶ھ کہ مولوی نورالدین نکاح خوان نے اپنی تحریر میں لکھائی دونوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت تحریر رواج رنگ بھری نکاح پیر صدرالدین میں تھی تو اس کا جواب عنقریب آتا ہے کہ تحریر مولوی نورالدین اصلا شہادت میں لئے جانے کے قابل نہیں نہ اس پر کوئی التفات ہوسکتا ہے اور یہ امر خود مفتی موصوف کو بھی مسلم ہے۔
(۵)ثانیا: رواج عام کی عبارت تویہ کہہ رہی ہے کہ وہ عورت جس کی نسبت اقرار تھا رنگ بھری نہ تھی کوئی اور تھی اس میں عورت کو بیوہ لکھاہے اور بیوہ وہ جس کا شوہر مرگیا ہورنگ بھری کنچنی تھی پیر صدر الدین سے نکاح کے ہونے تك اسی اپنے پیشہ ناجائز میں تھی ایسی عورت کو بیوہ نہیں کہتے۔حسن اتفاق سے ۱۵/ شعبان معظم ۲۷ روز چہار شنبہ کو فریق دوم شیخ اﷲ بخش بھی منچن آباد سے ہمارے پاس آئے ہم نے اس خیال پر کہ شاید اہل پنجاب میں بیوہ کا کوئی اور محاورہ ہو فریق اول ان کے ہمراہی سے پہلے ہی دریافت کرلیا تھا مزید اطمینان کے لئے ان فریق دوم سے بھی استفسار کیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ بیوہ اسی کو کہتے ہیں جس کا پہلا خاوند مرگیا ہوہم نے پوچھا تمہاری والدہ کا پیر صدرالدین سے پہلے کسی اور شخص سے نکاح ہوا تھاکہا کوئی نہیںتو صاف ظاہر ہوا کہ رواج عام کی تحریر رنگ بھری سے متعلق نہیںاس کا جواب فریق دوم کو کچھ بن نہ آیا مگر احمد شاہ فریق اول کی طرف اشارہ کرکے کہا یہی بتادے کہ پیر صد رالدین نے اور کسی عورت سے نکاح کیا تھااس کا جواب ان کو دے دیا گیا کہ تم مدعی ہوتمہاری دلیل کی تصحیح تمہارے ذمہ ہے مدعا علیہ پر اس کا کوئی بارثبوت نہیںہوگئی کوئی عورت بیوہ جس سے پیر صدر الدین نے نکاح کیا اور لاولد مرگئی ہو۔
(۶)فرض کیجئے کہ رواج عام میں رنگ بھری کاصاف نام اور پورا پتہ لکھا ہوتا پھر بھی کیا کام آتایہ مطلب تو ہو نہیں سکتا تھا کہ رنگ بھری کی جو اولاد ہو مطلقا پیر صدر الدین کی وارث ہوگی اگرچہ نطفہ پیر صدر الدین سے نہ ہوآخر رنگ بھری کا بیٹا اﷲ دتا بھی تو ہے اسے کیوں نہیں وارث
حوالہ / References
الہدایہ کتاب القضاء فصل فی القضاء بالمواریث ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷،€ردالمحتار باب القسامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۰۵€
ٹھہراتےتو بالضرورۃ مطلب یہ ہے کہ رنگ بھری کی جو اولاد نطفہ پیر صدر الدین سے ہو وہ پیر موصوف کی وارث ہوگیاب یہ بیان ایك شرطیہ کی حیثیت میں آگیا جس سے یہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ پیر صدر الدین کے رنگ بھری سے کوئی اولاد ہے بھی یا نہیںاگر فرض کیجئے کہ رنگ بھری کے بچہ سرے سے ہوتا ہی نہیں جب بھی واجب العرض میں یہ لکھا سکتے تھے کہ نطفہ پیر صدر الدین سے اس کی اولاد پیر موصوف کی وارث ہوگی جس کا مطلب وہی ہوتا ہے کہ اگر ہواور اس میں سر یہ ہے کہ رواج عام وواجب العرض ایك قاعدہ وقانون وضع کرنا ہوتا ہے جس پر آئندہ جزئیات کی بنا ہو جیسا کہ خود صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۱۲ میں فرمایا کہ"یہ ایك رواج عام مثال قرار دی گئی جس پر آئندہ فیصلجات خاندان کی وراثت کا مدار ہے"اور ظاہر ہے کہ ایسی عام باتیں حکم شرطیہ میں ہوتی ہیں یعنی ایسا ہو تو یہ ہوگا نہ کہ کسی واقعہ کی خبر دینا کہ ایسا ہوگیا مثلا درمختار جلد سوم صفحہ ۴۶۲میں ہے:
مایکون کفرااتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ۔ یعنی جو بات بالاتفاق کفر ہے وہ اعمال ونکاح سب کو باطل کردیتی ہےاور اس کی اولاد والد الزنا ہے۔
اس کے یہ معنی نہیں کہ جس سے کلمہ کفر صادر ہو خواہی نخواہی اس کےلئے کوئی منکوحہ واولاد ہے بلکہ وہی مطلب ہے کہ اگر اس کے کوئی منکوحہ ہو تو نکاح جاتارہے گا اگر اس سے بعد اس سے اولاد ہوگی تو ولد الزنا ہوگی بعینہ یہاں بھی یہی معنی ہیں۔نظیر کےلئے بیان واقعہ تو وہ کہ پیر صدر الدین نے ایسی عورت سے نکاح کرلیا ہے پھر وہی قانونی حکم پر تفریع ہے کہ پیر صدر الدین سے اگر اس کے اولاد ہوئی تو وارث ہوگی ظاہر ہے کہ اس قدر محصل رواج تسلیم کرنے بھی کچھ ثابت نہ ہوا کہ اﷲ بخش والہی بخش کس کے نطفہ سے ہیںعبارت رواج عام بر تقدیر تصریح نام بھی اتنا بتاتی کہ اولاد رنگ بھری جو نطفہ پیر صدر الدین سے وارث ہوگی یہ کس نے بتایا کہ یہ دونوں نطفہ پیر صد ر الدین سے ہیں تو تحریر رواج عام سے استناد محض بے معنی ہے۔
(۷)یہاں سخت استعجاب اس کا ہے کہ فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۱۲ میں عبارت رواج عام سے ایك فقرہ یہ نقل ہوا ہے کہ "اس کی اولاد نرینہ موجود ہے"اور یہی فقرہ لطافت علی صاحب تحصیلدار انگریزی کے فیصلہ میں ہے ہمارے سامنے رواج عام کی دو نقلیں باضابطہ موجود ہیں ایك ضلع منٹگمری سے
مایکون کفرااتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ۔ یعنی جو بات بالاتفاق کفر ہے وہ اعمال ونکاح سب کو باطل کردیتی ہےاور اس کی اولاد والد الزنا ہے۔
اس کے یہ معنی نہیں کہ جس سے کلمہ کفر صادر ہو خواہی نخواہی اس کےلئے کوئی منکوحہ واولاد ہے بلکہ وہی مطلب ہے کہ اگر اس کے کوئی منکوحہ ہو تو نکاح جاتارہے گا اگر اس سے بعد اس سے اولاد ہوگی تو ولد الزنا ہوگی بعینہ یہاں بھی یہی معنی ہیں۔نظیر کےلئے بیان واقعہ تو وہ کہ پیر صدر الدین نے ایسی عورت سے نکاح کرلیا ہے پھر وہی قانونی حکم پر تفریع ہے کہ پیر صدر الدین سے اگر اس کے اولاد ہوئی تو وارث ہوگی ظاہر ہے کہ اس قدر محصل رواج تسلیم کرنے بھی کچھ ثابت نہ ہوا کہ اﷲ بخش والہی بخش کس کے نطفہ سے ہیںعبارت رواج عام بر تقدیر تصریح نام بھی اتنا بتاتی کہ اولاد رنگ بھری جو نطفہ پیر صدر الدین سے وارث ہوگی یہ کس نے بتایا کہ یہ دونوں نطفہ پیر صد ر الدین سے ہیں تو تحریر رواج عام سے استناد محض بے معنی ہے۔
(۷)یہاں سخت استعجاب اس کا ہے کہ فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۱۲ میں عبارت رواج عام سے ایك فقرہ یہ نقل ہوا ہے کہ "اس کی اولاد نرینہ موجود ہے"اور یہی فقرہ لطافت علی صاحب تحصیلدار انگریزی کے فیصلہ میں ہے ہمارے سامنے رواج عام کی دو نقلیں باضابطہ موجود ہیں ایك ضلع منٹگمری سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹€
آئی ہوئی اور دوسری ریاست سے لیکن دونوں میں اس فقرے کا اصلا پتہ نہیں اب اصل عبارت رواج عام اگر فی الواقع اس فقرے سے خالی ہے جب تو امر ظاہر ہے ورنہ اس کا ہونا ان وجوہ کا سبب جو اوپر گزریں اور آئندہ آتی ہیں ثبوت نسب مدعیان میں تو بکار آمد نہیں مگر ایسی تحریرات کے نامعتبر وساقط ہونے کے لیے جس کی بحث ہم ابھی کیا چاہتے ہیں ایك کافی نظیر قابل یا دداشت ہے۔
(۸)یہ سب اس وقت ہے کہ وہ نقل جو مدعیوں نے پیش کی شرعا سند میں لے لینے کے قابل فرض کرلی جائے ورنہ درحقیقت وہ محض لاشیئ ہےمولوی عطا محمد صاحب کا اس پر اعتراض بہت ٹھیك ہے فی الواقع محاضرہ سجلات جہاں قابل اعتبار ہوتے بھی ہیں تو اسی قدر کہ حاکم مجوز اپنے دفتر پر جو اس کے حفظ میں اس کے مہر و نشان کے ساتھ زیر نگہبانی ہے اعتماد کرسکتا ہے مدعی مدعا علیہ جو کاغذ پیش کریں بے شہادت مقبولہ شرعیہ اصلا قابل التفات نہیںردالمحتار جلد ۴ ص۴۷۸میں ہے:
الدیوان وضع لیکون حجۃ عند الحاجۃ فیجعل فی یدمن لہ ولایۃ القضاء وما فی یدالخصم لایؤمن علیہ التغییر بزیادۃ او نقصان ۔ کاغذی ریکارڈ حاجت کے وقت دلیل بنانے کےلئے تیار کیا جاتا ہے اس لئے ایسے شخص کے قبضہ میں ہونا چاہئے جو قضاء کی ولایت والا ہو اور جو مخالف فریق کے قبضہ میں ہو وہ کمی بیشی سے محفوظ نہیں۔(ت)
نیز صفحہ مذکورہ میں ہے:
قال ابو العباس یجوز الرجوع فی الحکم الی دواوین من کان قبلہ من الامناء اھ ای لان سجل القاضی لایزور عادۃ حیث کان محفوظا عند الامناءبخلاف ماکان بید الخصم ۔ ابو العباس نے فرمایا:سابق امین لوگوں کے ریکارڈ کی طرف کسی حکم میں رجوع کیا جاسکتا ہے اھیعنی اس لئے کہ قاضی کا دفتری ریکارڈ جعل سازی سے عادتا محفوظ ہے جب وہ امین لوگوں کے پاس محفوظ ہو بخلاف جب وہ مخالف فریق کے قبضہ میں ہو۔(ت)
اسی کی جلد مذکور صفحہ ۵۴۹میں ہے:
ویجب تقییدہ ایضا بما اذاکان یہ قید بھی ضروری ہے کہ جب وہ ریکارڈ قاضی کے
(۸)یہ سب اس وقت ہے کہ وہ نقل جو مدعیوں نے پیش کی شرعا سند میں لے لینے کے قابل فرض کرلی جائے ورنہ درحقیقت وہ محض لاشیئ ہےمولوی عطا محمد صاحب کا اس پر اعتراض بہت ٹھیك ہے فی الواقع محاضرہ سجلات جہاں قابل اعتبار ہوتے بھی ہیں تو اسی قدر کہ حاکم مجوز اپنے دفتر پر جو اس کے حفظ میں اس کے مہر و نشان کے ساتھ زیر نگہبانی ہے اعتماد کرسکتا ہے مدعی مدعا علیہ جو کاغذ پیش کریں بے شہادت مقبولہ شرعیہ اصلا قابل التفات نہیںردالمحتار جلد ۴ ص۴۷۸میں ہے:
الدیوان وضع لیکون حجۃ عند الحاجۃ فیجعل فی یدمن لہ ولایۃ القضاء وما فی یدالخصم لایؤمن علیہ التغییر بزیادۃ او نقصان ۔ کاغذی ریکارڈ حاجت کے وقت دلیل بنانے کےلئے تیار کیا جاتا ہے اس لئے ایسے شخص کے قبضہ میں ہونا چاہئے جو قضاء کی ولایت والا ہو اور جو مخالف فریق کے قبضہ میں ہو وہ کمی بیشی سے محفوظ نہیں۔(ت)
نیز صفحہ مذکورہ میں ہے:
قال ابو العباس یجوز الرجوع فی الحکم الی دواوین من کان قبلہ من الامناء اھ ای لان سجل القاضی لایزور عادۃ حیث کان محفوظا عند الامناءبخلاف ماکان بید الخصم ۔ ابو العباس نے فرمایا:سابق امین لوگوں کے ریکارڈ کی طرف کسی حکم میں رجوع کیا جاسکتا ہے اھیعنی اس لئے کہ قاضی کا دفتری ریکارڈ جعل سازی سے عادتا محفوظ ہے جب وہ امین لوگوں کے پاس محفوظ ہو بخلاف جب وہ مخالف فریق کے قبضہ میں ہو۔(ت)
اسی کی جلد مذکور صفحہ ۵۴۹میں ہے:
ویجب تقییدہ ایضا بما اذاکان یہ قید بھی ضروری ہے کہ جب وہ ریکارڈ قاضی کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۹€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۹€
دفترہ محفوظا عندہ فلو کانت کتابتہ فیما علیہ فی دفتر خصمہ فالظاہر انہ لا یعمل بہ خلاف لما بحثہ ط لان الخط مما یزور وکذا لوکان لہ کاتب والد فاتر عند الکاتب لاحتمال کون الکاتب کتب ذلك علیہ بلا علمہ ۔ پاس محفوظ ہوتو اگر ایك کے خلاف تحریر ریکارڈ اس کے مخالف کے پاس ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس پر عمل نہ ہوگا۔طحطاوی کی بحث اس کے خلاف ہے کیونکہ خط میں جعلسازی ہوسکتی ہے اور یوں ہی اگر قاضی کا کاتب ہو اور ریکارڈ کاتب کے پاس ہو تو احتمال ہے کہ کاتب نے قاضی کے علم کے بغیر دوسرے کے خلاف لکھ دیا ہو۔(ت)
فتاوی خیریہ ج ۲ص۱۷میں ہے:
والخط یعتمد علیہ ولا یعمل بہ ولا یعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضیین لان القاضی لایقضی الابحجۃ وھی البینۃ والاقرار و النکول کمافی الاقرار الخانیۃ ۔ خط پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اور گزشتہ قاضیوں کے خط سے لکھا ہوا وقف نامہ قابل عمل نہیں کیونکہ فیصلہ حجت کی بناء پر ہی قاضی کرسکتا ہے اور شرعی حجت صرف گواہیاقرار اور قسم سے انکار ہے جیسا کہ خانیہ کی بحث اقرار میں ہے(ت)
بعینہ اسی طرح اشباہ والنظائر صفحہ ۲۰۵ میں ہےہدایہ جلد دوم ص۱۰۴میں ہے:
انما الخلاف فیما اذاوجد القاضی شہادتہ فی دیوانہ او قضیتہ لان مایکون فی قنطرۃ فھو تحت ختمہ ویومن علیہ من الزیادۃ والنقصان فحصل لہ العلم بذلک ولا کذلك الشہادۃ فی الصك لانہ فی ید غیرہ ۔ اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ جب قاضی ریکارڈ یا فیصلہ میں کسی شہادت کو پائے اوراگر ریکارڈ قاضی کے خاص مہر والے بکس میں ہوتو کمی بیشی سے محفوظ سمجھا جائے گا تو اس سے قاضی کو علم ہوجائیگاکسی کاغذ پر لکھی ہوئی شہادت کا معاملہ ایسا نہیں کیونکہ وہ غیر کے تصرف میں ہے(ت)
فتاوی خیریہ ج ۲ص۱۷میں ہے:
والخط یعتمد علیہ ولا یعمل بہ ولا یعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضیین لان القاضی لایقضی الابحجۃ وھی البینۃ والاقرار و النکول کمافی الاقرار الخانیۃ ۔ خط پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اور گزشتہ قاضیوں کے خط سے لکھا ہوا وقف نامہ قابل عمل نہیں کیونکہ فیصلہ حجت کی بناء پر ہی قاضی کرسکتا ہے اور شرعی حجت صرف گواہیاقرار اور قسم سے انکار ہے جیسا کہ خانیہ کی بحث اقرار میں ہے(ت)
بعینہ اسی طرح اشباہ والنظائر صفحہ ۲۰۵ میں ہےہدایہ جلد دوم ص۱۰۴میں ہے:
انما الخلاف فیما اذاوجد القاضی شہادتہ فی دیوانہ او قضیتہ لان مایکون فی قنطرۃ فھو تحت ختمہ ویومن علیہ من الزیادۃ والنقصان فحصل لہ العلم بذلک ولا کذلك الشہادۃ فی الصك لانہ فی ید غیرہ ۔ اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ جب قاضی ریکارڈ یا فیصلہ میں کسی شہادت کو پائے اوراگر ریکارڈ قاضی کے خاص مہر والے بکس میں ہوتو کمی بیشی سے محفوظ سمجھا جائے گا تو اس سے قاضی کو علم ہوجائیگاکسی کاغذ پر لکھی ہوئی شہادت کا معاملہ ایسا نہیں کیونکہ وہ غیر کے تصرف میں ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۵۴€
فتاوٰی خیریۃ کتاب القضاء باب التحکم دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۹€
الہدایۃ کتاب الشہادات فصل مایتحملہ الشاہد علی ضربین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۷€
فتاوٰی خیریۃ کتاب القضاء باب التحکم دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۹€
الہدایۃ کتاب الشہادات فصل مایتحملہ الشاہد علی ضربین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۷€
اسی طرح ردالمحتار جلد ۴ص۵۸۰ میں ہے۔فتح القدیر جلد ۵ص۱۹ میں ہے:
انی اری انہ اذاکان محفوظا ما مو نا علیہ من التغیر کان یکون تحت ختمہ فی خریطتہ المحفوظۃ عندہ ان یترجح العمل بھا بخلاف مااذاکان عند غیرہ لان الخط یشبہ الخط ۔ میری رائے ہے کہ یہ جب محفوظ اور تغیر سے اطمینان ہو کہ اس کے پاس محفوظ بیگ مہر زدہ میں ہوتو اس پر عمل کو ترجیح ہے بخلاف جبکہ وہ غیر کے پاس ہوکیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت)
(۹)یہیں سے ظاہر ہوا کہ فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۲۵میں جو اس کاغذ کے اعتبار پر قول شیخ ابو العباس سے استناد کیابجائے خود نہیں شیخ ابو العباس کے کلام میں کلرکوں یعنی کاتبوں محرروں کا ذکر نہیں بلکہ امناء فرمایا ہے اور اس سے مراد قضاۃ ہیں جس پر قبلہ کا لفظ دال ہے یعنی قاضی اپنے سے پہلے امناء کے دفتروں پر عمل کرسکتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس محفوظ رہا ہوولہذا درمختار میں اس کے بعد خیریہ سے نقل کیا:
ان کان للوقف کتاب فی سجل القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحسانا ۔ جب وقف کی کتاب قاضی کے ریکارڈ میں ہو اور اس کی نگرانی اور قبضہ میں ہو تو استحسانا اس کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی(ت)
اور اگر امین سے عام بھی مراد ہو تو دفاتر زمانہ کچھ امنائے شرعیہ ہی کے ہاتھ میں محفوظ نہیں رہتے بلکہ محافظ دفتر وغیر ہم اکثر نا مسلم بھی ہوتے ہیں جو شرعا کسی طرح امین نہیں ہوسکتےنہ ان کی حفاظت پر اعتمادنہ ان کے قول یا فعل پر اعتباریہی حالت نقل نویسوں اور قاریوں اور سامعون کی ہے اور جو کوئی کچہریوں کی کارروائی سے آگاہ ہے وہ ایسے کاغذات پر دستخط حکام کی بھی حقیقت جانتا ہےکارکن لوگ عام ازیں کہ مسلم ہوں یا کافرثقہ ہوں یا فاسقانہوں نے کام کیا اور کاغذات کا ایك انبار حاکموں کے سامنے دستخطوں کے لئے رکھ دیاحاکم کو ایك اجمالی حالت کے سوا تفصیل پر بھی پوری اطلاع نہیں ہوتینہ کہ نقول کے ایك ایك حرف کا خود مقابلہ کرنا یہ تو قطعا نہیں ہوتانہ وہ ایسے متفرقات کی طرف توجہ کی فرصت پاسکتے ہیں پھر دستخط حاکم ہونے نے کیا فائدہ دیااب یہیں دیکھئے
انی اری انہ اذاکان محفوظا ما مو نا علیہ من التغیر کان یکون تحت ختمہ فی خریطتہ المحفوظۃ عندہ ان یترجح العمل بھا بخلاف مااذاکان عند غیرہ لان الخط یشبہ الخط ۔ میری رائے ہے کہ یہ جب محفوظ اور تغیر سے اطمینان ہو کہ اس کے پاس محفوظ بیگ مہر زدہ میں ہوتو اس پر عمل کو ترجیح ہے بخلاف جبکہ وہ غیر کے پاس ہوکیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت)
(۹)یہیں سے ظاہر ہوا کہ فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۲۵میں جو اس کاغذ کے اعتبار پر قول شیخ ابو العباس سے استناد کیابجائے خود نہیں شیخ ابو العباس کے کلام میں کلرکوں یعنی کاتبوں محرروں کا ذکر نہیں بلکہ امناء فرمایا ہے اور اس سے مراد قضاۃ ہیں جس پر قبلہ کا لفظ دال ہے یعنی قاضی اپنے سے پہلے امناء کے دفتروں پر عمل کرسکتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس محفوظ رہا ہوولہذا درمختار میں اس کے بعد خیریہ سے نقل کیا:
ان کان للوقف کتاب فی سجل القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحسانا ۔ جب وقف کی کتاب قاضی کے ریکارڈ میں ہو اور اس کی نگرانی اور قبضہ میں ہو تو استحسانا اس کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی(ت)
اور اگر امین سے عام بھی مراد ہو تو دفاتر زمانہ کچھ امنائے شرعیہ ہی کے ہاتھ میں محفوظ نہیں رہتے بلکہ محافظ دفتر وغیر ہم اکثر نا مسلم بھی ہوتے ہیں جو شرعا کسی طرح امین نہیں ہوسکتےنہ ان کی حفاظت پر اعتمادنہ ان کے قول یا فعل پر اعتباریہی حالت نقل نویسوں اور قاریوں اور سامعون کی ہے اور جو کوئی کچہریوں کی کارروائی سے آگاہ ہے وہ ایسے کاغذات پر دستخط حکام کی بھی حقیقت جانتا ہےکارکن لوگ عام ازیں کہ مسلم ہوں یا کافرثقہ ہوں یا فاسقانہوں نے کام کیا اور کاغذات کا ایك انبار حاکموں کے سامنے دستخطوں کے لئے رکھ دیاحاکم کو ایك اجمالی حالت کے سوا تفصیل پر بھی پوری اطلاع نہیں ہوتینہ کہ نقول کے ایك ایك حرف کا خود مقابلہ کرنا یہ تو قطعا نہیں ہوتانہ وہ ایسے متفرقات کی طرف توجہ کی فرصت پاسکتے ہیں پھر دستخط حاکم ہونے نے کیا فائدہ دیااب یہیں دیکھئے
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الشہادات فصل فی کیفیۃ الاداء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۶۵€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۹€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۹€
صاحب افسر مال عبارت رواج عام سے یہ فقرہ نقل کرتے ہیں کہ"اس کی اولاد نرینہ موجود ہے"اور ہمارے سامنے دو نقلیں باضابطلہ حاضر ہیںایك میں بھی ان لفظوں کا پتہ نہیں تو معلوم ہوا کہ نقول میں کمی بیشی ہوجاتی ہے اور وہ صالح اعتمادنہیں۔
(۱۰)علامہ شامی نے جہاں شیخ ابو العباس کا یہ کلام نقل کیا اس کے متصل ہی یہ افادہ فرمایا کہ دفتر جب بروجہ کامل زیر نگہداشت حاکم محفوظ ہو اس کا اعتبار بھی صرف بضرورت ان مقدمات میں ہے جن کو زمانہ مدید گزرچکاشاہدوں کا انتقال ہوگیاتازہ معاملہ ان میں داخل نہیںوہ شرع کی اسی اصل کلی کے نیچے ہے کہ"لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ"(خط پر اعتماد اور عمل نہ کیا جائیگا۔(ت)نرے کاغذ پر نہ اعتماد ہو نہ اس پر اعتماد ہوسکے عبارت شیخ ابوالعباس کے متصل کلام فتاوی خیریہ جو ابھی ہم نے ذکر کیا نقل کرکے فرماتے ہیں:
والظاھر ان وجہ الاستحسان ضرورۃ احیاء الاوقاف ونحوھا عند تقادم الزمان بخلاف السجل الجدید لامکان الوقوف علی حقیقۃ مافیہ باقرارالخصم او البینۃ فلذالایعتمد علیہ ۔ استحسان کی وجہ ظاہری طور پر یہ ہے کہ قدیم اوقاف اور اس جیسے امور کو زندہ رکھنے کے لئے ضرورت ہے برخلاف جدید ریکارڈ کےکہ اس میں حقیقت پر اطلاع فریق کے اقرار یا گواہی سے ممکن ہے اس لئے اس پر اعتماد نہیں کیا جائیگا۔(ت)
(۱۱)صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۲۵ میں ایسے کاغذات کو کتاب القاضی الی القاضی کے قبیل سے مان کر معتبر ٹھہرانا چاہاہےیہ فقرہ بہت قابل قدر ہےہم بخوبی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے کاغذات جو کچہریوں سے آئیں کتاب القاضی الی القاضی کے قبیل سے ٹھہرائے جائیں مگر اب یہ دیکھنا رہا کہ کتاب القاضی القاضی کن شرائط سے مقبول ہوسکتی ہےتمام کتب میں تصریح ہے کہ اس کا قبول صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے مثلا کوئی شرعی گواہی گزری اس نے دوسرے شہر کے قاضی شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادت شرعیہ قائم ہوئی اور اس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو اور وہ خط دو گواہان عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضی فلاں شہر کے نام ہے وہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہاد ت ادا کی کہ آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کودیا اور ہمیں
(۱۰)علامہ شامی نے جہاں شیخ ابو العباس کا یہ کلام نقل کیا اس کے متصل ہی یہ افادہ فرمایا کہ دفتر جب بروجہ کامل زیر نگہداشت حاکم محفوظ ہو اس کا اعتبار بھی صرف بضرورت ان مقدمات میں ہے جن کو زمانہ مدید گزرچکاشاہدوں کا انتقال ہوگیاتازہ معاملہ ان میں داخل نہیںوہ شرع کی اسی اصل کلی کے نیچے ہے کہ"لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ"(خط پر اعتماد اور عمل نہ کیا جائیگا۔(ت)نرے کاغذ پر نہ اعتماد ہو نہ اس پر اعتماد ہوسکے عبارت شیخ ابوالعباس کے متصل کلام فتاوی خیریہ جو ابھی ہم نے ذکر کیا نقل کرکے فرماتے ہیں:
والظاھر ان وجہ الاستحسان ضرورۃ احیاء الاوقاف ونحوھا عند تقادم الزمان بخلاف السجل الجدید لامکان الوقوف علی حقیقۃ مافیہ باقرارالخصم او البینۃ فلذالایعتمد علیہ ۔ استحسان کی وجہ ظاہری طور پر یہ ہے کہ قدیم اوقاف اور اس جیسے امور کو زندہ رکھنے کے لئے ضرورت ہے برخلاف جدید ریکارڈ کےکہ اس میں حقیقت پر اطلاع فریق کے اقرار یا گواہی سے ممکن ہے اس لئے اس پر اعتماد نہیں کیا جائیگا۔(ت)
(۱۱)صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۲۵ میں ایسے کاغذات کو کتاب القاضی الی القاضی کے قبیل سے مان کر معتبر ٹھہرانا چاہاہےیہ فقرہ بہت قابل قدر ہےہم بخوبی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے کاغذات جو کچہریوں سے آئیں کتاب القاضی الی القاضی کے قبیل سے ٹھہرائے جائیں مگر اب یہ دیکھنا رہا کہ کتاب القاضی القاضی کن شرائط سے مقبول ہوسکتی ہےتمام کتب میں تصریح ہے کہ اس کا قبول صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے مثلا کوئی شرعی گواہی گزری اس نے دوسرے شہر کے قاضی شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادت شرعیہ قائم ہوئی اور اس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو اور وہ خط دو گواہان عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضی فلاں شہر کے نام ہے وہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہاد ت ادا کی کہ آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کودیا اور ہمیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۹€
گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے اب یہ قاضی اگر اس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کےلئے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ قاضی کاتب خط لکھ کر ان گواہوں کوسنا دے یا اس کا مضمون بتا دے او خط بند کرکے ان کے سامنے سر بمہر کردےاور اول یہ کہ اس کا مضمون ایك کھلے ہوئے پرچہ پر الگ لکھ کر بھی ان شہود کو دے دے کہ اسے یاد کرتے رہیں یہ آکر مضمون پر بھی گواہی دیں کہ خط میں یہ لکھا ہے اور سربمہر خط اس قاضی کے حوالے کریں یہ زیادہ احتیاط کے لئے ہے ورنہ خیراسی قدر کافی ہے کہ دو۲ مردوں یا ایك مرد دو۲ عورتوں عادل کے خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وہ باحتیاط یہاں لاکر شہادت دیں بغیر اس کے اگر خط ڈاك میں ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہر گز مقبول نہیں اگرچہ وہ خط اسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو اور اس کے سوا اور شرائط بھی ہیں کہ ہم نے اپنے فتاوی کتاب الصوم میں ذکر کیں۔درمختار میں ہے:
القاضی یکتب الی القاضی وان لم یحکم کتب الشہادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رأیہ وقرأ الکتاب علیہم اواعلمھم بما فیہ وختم عندھم وسلم الیہم بعد کتابۃ عنوانہ وھوان یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب الیہ وشھرتھما واکتفی الثانی بان یشھد ھم انہ کتابہ و علیہ الفتوی ولا یقبل کتاب من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام (ملخصا)۔ ایك قاضی اپنے فیصلہ کو نفاذ کیلئے دوسرے قاضی کی طرف بھیجے گااور فیصلہ نہ کیا ہوتو شہاد لکھ بھیجے گا تاکہ مکتوب الیہ قاضی شہادت پر اپنی رائے سے فیصلہ دےبھیجتے وقت قاضی گواہوں کو خط سنائے گا یا اس کا مضمون بتاکر مہر لگائے گاعنوان اور پتہ لکھ کر گواہوں کے سپرد کردے گاچٹھی میں اپنا او مکتوب الیہ قاضی کا نام اور گواہوں کی شہادت قلمبند کرے گا جبکہ دوسرا(مکتوب الیہ)قاضی گواہوں سے شہادت لینے پر اکتفاء کرے گا کہ یہ فلاں قاضی کا خط ہے فتوی اسی پر ہے صرف باقاعدہ سرکاری قاضی کی چٹھی قبول ہوگی ثالث کی چٹھی قبول نہ ہوگی(ملخصا)۔(ت)
درر وغرر میں ہے:
لایقلبہ ایضا الابشہادۃ رجلین اورجل وامرأتین لان الکتاب مکتوب الیہ قاضی چٹھی کو دومردوں یاایك مر داور دو عورتوں کی شہادت کے بغیر قبول نہ کرے گا
القاضی یکتب الی القاضی وان لم یحکم کتب الشہادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رأیہ وقرأ الکتاب علیہم اواعلمھم بما فیہ وختم عندھم وسلم الیہم بعد کتابۃ عنوانہ وھوان یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب الیہ وشھرتھما واکتفی الثانی بان یشھد ھم انہ کتابہ و علیہ الفتوی ولا یقبل کتاب من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام (ملخصا)۔ ایك قاضی اپنے فیصلہ کو نفاذ کیلئے دوسرے قاضی کی طرف بھیجے گااور فیصلہ نہ کیا ہوتو شہاد لکھ بھیجے گا تاکہ مکتوب الیہ قاضی شہادت پر اپنی رائے سے فیصلہ دےبھیجتے وقت قاضی گواہوں کو خط سنائے گا یا اس کا مضمون بتاکر مہر لگائے گاعنوان اور پتہ لکھ کر گواہوں کے سپرد کردے گاچٹھی میں اپنا او مکتوب الیہ قاضی کا نام اور گواہوں کی شہادت قلمبند کرے گا جبکہ دوسرا(مکتوب الیہ)قاضی گواہوں سے شہادت لینے پر اکتفاء کرے گا کہ یہ فلاں قاضی کا خط ہے فتوی اسی پر ہے صرف باقاعدہ سرکاری قاضی کی چٹھی قبول ہوگی ثالث کی چٹھی قبول نہ ہوگی(ملخصا)۔(ت)
درر وغرر میں ہے:
لایقلبہ ایضا الابشہادۃ رجلین اورجل وامرأتین لان الکتاب مکتوب الیہ قاضی چٹھی کو دومردوں یاایك مر داور دو عورتوں کی شہادت کے بغیر قبول نہ کرے گا
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۴۔۸۳€
قدیز ور اذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم فلایثبت الابحجۃ تامۃ ۔ کیونکہ چٹھی میں جعل سازی ہوسکتی ہے بوجہ اس کے کہ خط خط کے اور مہر مہر کے مشابہ ہوتا ہے لہذا چٹھی کامل شہادت کے بغیر پایہ ثبوت کو نہ پہنچے گی۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہ کاغذات اصلا ان شرائط پر نہیں آتے تو ان کا رد واجب ہوا اور ان کا قبول کرنا محض خلاف شریعتنمبر۱ کاغذات کے متعلق یہ بیان ہم نے ان چار نمبروں میں کئے ان تمام کاغذات کے رد کو کافی ووافی ہیں جن سے ثالثوں نے استناد کیا ہے لہذا ہمیں آئندہ کاغذات کے متعلق زیادہ بحث کی ضرورت نہ ہوگی ان چار نمبروں کے بیانات سمجھ لینے والا بے تکلف جان سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی کاغذ اس پیمانے پر نہیں جو شریعت مطہرہ میں درکار ہے تو وہ کاغذ بادی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کی طرف کے جو کاغذ ہیں انہیں کی یہ حالت ہے بلکہ فریقین کے کاغذی ثبوت کی یہی کیفیت ہے کہ شریعت مطہرہ کے دربار میں وہ ایك کاغذی ناؤ سے زیادہ نہیںہم اگر اپنے بیان میں کسی کاغذ سے استناد کریں گے تو وہ الزاما ہوگا نہ کہ تحقیقا۔
(۱۲)مجھے رواج عام کی نسبت زیادہ تحریر کی ضرورت نہیں البتہ صرف افسر مال کے اس فقرہ نمبر۱۲ کے متعلق کہ"اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ کل مالکان کی موجودگی میں یہ واقعہ قلمبند ہوا اور اﷲ بخش و الہی بخش کا صحیح النسب ہونا امر محقق تھا اور کسی کو شك وشبہ نہیں تھا یہاں تك کہ یہ ایك رواج عام مثال قرار دئے گئے جس پر آئندہ فیصلجات خاندان کی وراثت کا مدار ہےلطافت علی صاحب تحصیلدار کی ایك تحقیقات کا بیان کردینامناسب ہے وہ اپنے فیصلہ ۲۷/ستمبر ۱۹۲۱ء فقہر پنجم میں لکھتے ہیں کہ عام تحقیقات اور موقع سے ظاہر ہے کہ بدر الدین کو خصوصا اور اقوام چشتی گردونواح کو عموما بلحاظ اپنی شرافت کے یہ امر نہایت ناگوار ہے کہ پیرنی زادگان یعنی عذر داران کو جائداد میں حصہ دیا جائے"۔اس تحقیقات کو بیان موصوف صاحب افسر مال سے ملا کر دیکھنا اس خیال کی ایك واضح راہ دیتا ہے کہ مدعیان وہ نہیں جن کی نسبت معززان قوم حصہ دار ہونے پر راضی ہوچکے اور خاندان کے لئے اسے ایك نظیر بناچکے یہ وہی معزز ان قوم تو ہیں جن میں ان کو حصہ دئے جانے پر عام ناراضی ہے تو ضرور ہے کہ وہ مدعیان کو صرف پیرنی زادہ سمجھتے تھے نہ کہ پیر زادہاور رواج عام میں اس اولاد پیرنی کی نسبت رضامندی دی گئی ہے جو پیرزادہ یعنی نطفہ پیر صدر الدین سے ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ کاغذات اصلا ان شرائط پر نہیں آتے تو ان کا رد واجب ہوا اور ان کا قبول کرنا محض خلاف شریعتنمبر۱ کاغذات کے متعلق یہ بیان ہم نے ان چار نمبروں میں کئے ان تمام کاغذات کے رد کو کافی ووافی ہیں جن سے ثالثوں نے استناد کیا ہے لہذا ہمیں آئندہ کاغذات کے متعلق زیادہ بحث کی ضرورت نہ ہوگی ان چار نمبروں کے بیانات سمجھ لینے والا بے تکلف جان سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی کاغذ اس پیمانے پر نہیں جو شریعت مطہرہ میں درکار ہے تو وہ کاغذ بادی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کی طرف کے جو کاغذ ہیں انہیں کی یہ حالت ہے بلکہ فریقین کے کاغذی ثبوت کی یہی کیفیت ہے کہ شریعت مطہرہ کے دربار میں وہ ایك کاغذی ناؤ سے زیادہ نہیںہم اگر اپنے بیان میں کسی کاغذ سے استناد کریں گے تو وہ الزاما ہوگا نہ کہ تحقیقا۔
(۱۲)مجھے رواج عام کی نسبت زیادہ تحریر کی ضرورت نہیں البتہ صرف افسر مال کے اس فقرہ نمبر۱۲ کے متعلق کہ"اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ کل مالکان کی موجودگی میں یہ واقعہ قلمبند ہوا اور اﷲ بخش و الہی بخش کا صحیح النسب ہونا امر محقق تھا اور کسی کو شك وشبہ نہیں تھا یہاں تك کہ یہ ایك رواج عام مثال قرار دئے گئے جس پر آئندہ فیصلجات خاندان کی وراثت کا مدار ہےلطافت علی صاحب تحصیلدار کی ایك تحقیقات کا بیان کردینامناسب ہے وہ اپنے فیصلہ ۲۷/ستمبر ۱۹۲۱ء فقہر پنجم میں لکھتے ہیں کہ عام تحقیقات اور موقع سے ظاہر ہے کہ بدر الدین کو خصوصا اور اقوام چشتی گردونواح کو عموما بلحاظ اپنی شرافت کے یہ امر نہایت ناگوار ہے کہ پیرنی زادگان یعنی عذر داران کو جائداد میں حصہ دیا جائے"۔اس تحقیقات کو بیان موصوف صاحب افسر مال سے ملا کر دیکھنا اس خیال کی ایك واضح راہ دیتا ہے کہ مدعیان وہ نہیں جن کی نسبت معززان قوم حصہ دار ہونے پر راضی ہوچکے اور خاندان کے لئے اسے ایك نظیر بناچکے یہ وہی معزز ان قوم تو ہیں جن میں ان کو حصہ دئے جانے پر عام ناراضی ہے تو ضرور ہے کہ وہ مدعیان کو صرف پیرنی زادہ سمجھتے تھے نہ کہ پیر زادہاور رواج عام میں اس اولاد پیرنی کی نسبت رضامندی دی گئی ہے جو پیرزادہ یعنی نطفہ پیر صدر الدین سے ہو۔
حوالہ / References
الدررالحکام فی شرح غررا لاحکام کتاب القضاء باب کتاب القاضی ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۱۴€
(۱۳)احمد شاہ کا اس کتاب پر اعتراض نہ کرنا جس سے صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۲۵ میں استناد کیا ہے بالبداہۃ اس بناء پر نہیں کہ وہ اپنے علم ویقین سے جانتا ہے کہ پیر صدر الدین نے یہ تحریر لکھی یا اس پر مہر کی وہ تحریر احمد شاہ کی ولادت سے بھی پہلے کی ہے اس کا سکوت اس عام غلطی کی بناء پر ہے جو آج کل لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے کہ ایسے کاغذات کو جو کچہریوں سے بے شرائط کتاب القاضی الی القاضی آتے ہیں رواجا وقانونا مستند سمجھے جاتے ہیں اس کے ذہن میں بھی وہی رواج قانون تھا یہ شرعی مسئلہ کہ فتوی دینے والے عالموں اور فیصلہ کرنے والے حاکموں پر بھی مخفی رہااحمد شاہ اسے کیونکر جان سکتاتھا بلکہ اگر اسے معلوم بھی ہوتا جب بھی وہ کچہری میں ایسے اعتراض کا موقع نہ پاتا کہ قانونی بات کی مخالفت پر کیونکر کھڑا ہوسکتا تھا اب کہ بالاتفاق فریقین تمام رواجی وقانونی باتیں ترك کردی گئیں اور معاملہ شریعت مطہرہ کے سپرد ہوا وہ مبنی جس کی بناء پر احمد شاہ معترض نہ ہوا تھا زائل و باطل ہوگیا یہ تو اعتراض سے اس کا سکوت ہے اگر وہ اسی عام غلط فہمی پر بنا کرکے اس کاغذ کے مستند ہونے کی تصریح بھی کردیتا جب بھی وہ اقرار کہ بنائے باطل پر مبنی تھا شرعا باطل ہوتاجامع الفصولین واشباہ والنظائر صفحہ ۱۱۹ میں ہے:
اقر بالطلاق بناء علی ما افتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع ۔ کسی شخص نے مفتی کے فتوی کی بناء پر طلاق کا اقرار کیا پھر واضح ہوا کہ طلاق کا وقوع نہیں ہوا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(ت)
یہ بحث یادرکھنے کی ہے کہ اور کاغذات کی نسبت بھی اگر احمد شاہ کے عدم اعتراض سے استناد ہو تو سب کا یہی جواب شافی و کافی ہے۔
کاغذ سوم صلحنامہ پیر بدر الدین
(۱۴)یہ کاغذمدعیوں کا سب سے زیادہ مابہ الاستناد ہے ہر محکمہ میں اپنے دعوی کی بناء اسی پر رکھی ہے اورعموما فیصلہ کرنے والوں نے بھی اسے کوئی بڑی چیز سمجھا یہاں تك کہ اگر خلاف بھی کیا تو نہ بربنائے اعتباری بلکہ اور وجوہ سےاس سب کا منشاوہی ہے کہ آج کل ہندیوں کے ذہن میں رواج قانون کے باعث قانونی باتیں اصول مسلمہ کے طور پر جمی ہوئی ہیں اگرچہ شرع مطہر میں ان کی کچھ اصل نہ ہو مدعیان و قانونی حکام سے تعجبعجب تو ان اہل علم سے ہے جن سے شرعی سوال ہوا اورشریعت کا حکم
اقر بالطلاق بناء علی ما افتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع ۔ کسی شخص نے مفتی کے فتوی کی بناء پر طلاق کا اقرار کیا پھر واضح ہوا کہ طلاق کا وقوع نہیں ہوا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(ت)
یہ بحث یادرکھنے کی ہے کہ اور کاغذات کی نسبت بھی اگر احمد شاہ کے عدم اعتراض سے استناد ہو تو سب کا یہی جواب شافی و کافی ہے۔
کاغذ سوم صلحنامہ پیر بدر الدین
(۱۴)یہ کاغذمدعیوں کا سب سے زیادہ مابہ الاستناد ہے ہر محکمہ میں اپنے دعوی کی بناء اسی پر رکھی ہے اورعموما فیصلہ کرنے والوں نے بھی اسے کوئی بڑی چیز سمجھا یہاں تك کہ اگر خلاف بھی کیا تو نہ بربنائے اعتباری بلکہ اور وجوہ سےاس سب کا منشاوہی ہے کہ آج کل ہندیوں کے ذہن میں رواج قانون کے باعث قانونی باتیں اصول مسلمہ کے طور پر جمی ہوئی ہیں اگرچہ شرع مطہر میں ان کی کچھ اصل نہ ہو مدعیان و قانونی حکام سے تعجبعجب تو ان اہل علم سے ہے جن سے شرعی سوال ہوا اورشریعت کا حکم
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۱€
دریافت کیاگیا اور ان سے جن کو شرعی فیصلہ کے لئے مقدمہ سپرد ہوا اور جن سے فریقین نے صاف کہہ دیا کہ قانونی رواجی باتیں چھوڑ دی گئیں محض احکام شرعیہ سے فیصلہ کرو تاہم ان صاحبوں نے توجہ نہ فرمائی اور اپنے فتوی اور اپنے فیصلہ میں ایسی چیز معتبر مانی جو شرعا محض بے بنیاد ہے ہم نمبر۸ میں فتاوی قاضی خاں و فتاوی خیریہ واشباہ والنظائر سے لکھ آئے کہ قاضی صرف تین طور پر حکم دے سکتا ہے یا تو گواہان شرعی قائم ہوں یا مدعا علیہ دعوی تسلیم کرلے یا اس پر حلف رکھاجائے اور وہ قسم سے انکار کردے ان کے سوا نرا کاغذ کوئی چیز نہیںنہ اس پر عمل ہوسکے۔نیز فتاوی خیریہ جلد ۲صر ۱۱میں ہے:
المقرعند علماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولا التفات الیہ اذحجج الشرع ثلاثۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول کماصرح بہ فی اقرارالخانیۃ فلا اعتبار بمجرد المحضر المذکور ولا التفات الیہ الااذا ثبت مضمونہ بالوجہ الشرعی اعنی باحدی الحجج الشرعیۃ المشار الیہا ۔ علماء احناف کے ہاں طے شدہ ہے کہ محض خط قابل التفات ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ہے کیونکہ شرعی دلائل صرف تین ہیں:گواہیاقرار اور قسم سے انکارجیسا کہ خانیہ نے اقرار کی بحث میں تصریح کی ہے لہذا محضر نامہ مذکور قابل اعتبار اور قابل التفات نہ ہوگا سوائے اس کے کہ اس کا مضمون شرعی طریقہ یعنی مذکور شرعی دلائل سے ثابت ہوجائے(ت)
نیز اسی کے صفحہ ۲۲جلد ۲ میں ہے:
ابرز کتاب من السجل فوجد فیہ کذا و کذا ولیس الموجود فیہ سوی خط فی ورق لیس من حجج الشرعی فی شیئ (ملتقطا) قاضی نے پہلے ریکارڈ میں سے چٹھی نکالی اس میں کوئی مضمون لکھا ورق پایا تو وہ شرعی دلیل کے بغیر حجت نہ بنے گا۔ (ملتقطا)۔(ت)
جوہرہ نیرہ ج ۳ص ۲۴۵ میں ہے:
ولا یقبل الکتاب الابشہادۃ رجلین او رجل وامرأتین لان الکتاب یشبہ الکتاب فلا یثبت الا بحجۃ کوئی مکتوب دو مردوں یا ایك مرد اور دو عورتوں کی شہادت کے بغیر مقبول نہ ہوگا کیونکہ مکتوب دوسرے مکتوب کے مشابہ ہوتا ہے لہذا شرعی حجت
المقرعند علماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولا التفات الیہ اذحجج الشرع ثلاثۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول کماصرح بہ فی اقرارالخانیۃ فلا اعتبار بمجرد المحضر المذکور ولا التفات الیہ الااذا ثبت مضمونہ بالوجہ الشرعی اعنی باحدی الحجج الشرعیۃ المشار الیہا ۔ علماء احناف کے ہاں طے شدہ ہے کہ محض خط قابل التفات ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ہے کیونکہ شرعی دلائل صرف تین ہیں:گواہیاقرار اور قسم سے انکارجیسا کہ خانیہ نے اقرار کی بحث میں تصریح کی ہے لہذا محضر نامہ مذکور قابل اعتبار اور قابل التفات نہ ہوگا سوائے اس کے کہ اس کا مضمون شرعی طریقہ یعنی مذکور شرعی دلائل سے ثابت ہوجائے(ت)
نیز اسی کے صفحہ ۲۲جلد ۲ میں ہے:
ابرز کتاب من السجل فوجد فیہ کذا و کذا ولیس الموجود فیہ سوی خط فی ورق لیس من حجج الشرعی فی شیئ (ملتقطا) قاضی نے پہلے ریکارڈ میں سے چٹھی نکالی اس میں کوئی مضمون لکھا ورق پایا تو وہ شرعی دلیل کے بغیر حجت نہ بنے گا۔ (ملتقطا)۔(ت)
جوہرہ نیرہ ج ۳ص ۲۴۵ میں ہے:
ولا یقبل الکتاب الابشہادۃ رجلین او رجل وامرأتین لان الکتاب یشبہ الکتاب فلا یثبت الا بحجۃ کوئی مکتوب دو مردوں یا ایك مرد اور دو عورتوں کی شہادت کے بغیر مقبول نہ ہوگا کیونکہ مکتوب دوسرے مکتوب کے مشابہ ہوتا ہے لہذا شرعی حجت
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲€
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی باب خلل المحاضروالسجلات ∞۲/ ۲۴€
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی باب خلل المحاضروالسجلات ∞۲/ ۲۴€
تامۃ اھ۔ کے بغیر پایہ ثبوت کو نہ پہنچے گا اھ(ت)
دیکھو کیسی صاف تصریحیں ہیں کہ ایسی جملہ تحریرات نرے کاغذ ہیں جن میں سیاہی سے نقش بنے ہوئے ہیں اور وہ شرع میں حجت ہونا درکنار اصلا التفات کے قابل نہیں۔
(۱۵)دو اوین قضاۃ یعنی دفتر حکام لیجے توہم نمبر۸۹میں ردالمحتار و ہدایہ و فتح القدیر وخیریہ سے بیان کر آئے کہ دفتر حکام وہی معتبر ہے جو خاص ان کی حفاظت میں ان کے مہر و نشان کے نیچے ہو اور یہ کہ آج کل کے محافظ دفتر ی مسلمانوں کے ساتھ بھی خاص نہیں نہ کہ ثقہ عادل کے ساتھ اور نہ کہ جو نقل فریق کے ہاتھ میں ہو ہر گز قابل اعتماد نہیں۔
(۱۶)نمبر۸ میں یہ بھی گزرا کہ دفتر حکام کا اعتبار بھی بضرورت ان مقدمات میں ہے جن کو زمانہ دراز گزرا اوران پر ثبوت شرعی نہیں مل سکتا جہاں کا معاملہ تازہ ہے حاکم خود اپنے دفتر پر کارروائی نہ کرے گا بلکہ انہیں طرق شرعیہ بینہ و اقرار ونکول کی طرف رجوع ضروری ہوگی اس پر ردالمحتار کی عبارت گزری نیز اسی میں ہے:
لا بد من تقییدہ بتقادم العھد کما قلنا توفیقا بین کلامھم ۔ قدیم زمانہ کی قید ضروری ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے فقہاء کرام کے کلام میں تطبیق دیتے ہوئے۔(ت)
(۱۷)خود صاحب افسر مال نے ان کاغذات کا بہت اچھا فیصلہ کردیا کہ انہیں کتاب القاضی الی القاضی کے باب سے سمجھا جائے واقعی کچہری سے آئی ہوئی نقلیں اگر محمول ہوسکتی ہیں تو اسی پر اور تمام کتب مذہب کا اتفاق ہے کہ کتاب القاضی الی القاضی بے شہادت عادلہ کاملہ ہر گز معتبر نہیں اگرچہ اس پر قاضی کے دستخط اور دارالقضاء کی مہر بھی ہواس پر عبارات کتب نمبر۱۱میں گزریں۔
(۱۸)بلکہ انصافا صلحنامہ کی عبارت کتاب القاضی الی القاضی کی حد تك پہنچ ہی نہیں سکتیشہادت ہونا نہ ہونا بالائے طاقصلحنامہ نہ حاکم نے خود لکھانہ اسکے سامنے لکھا گیانہ مسل میں یہی بیان ہے کہ پیر بدر الدین نے حاکم کے سامنے اس کے لکھنے یا اس پر دستخط کرنے سے اقرار کیا بلکہ حاکم کے سامنے استفسار پر جواس کابیان ہو نا ذکر کیا جاتا ہے اور جس پر فریق کی تصدیق بھی موجود ہے وہ بیان تحریر صلحنامہ سے قاصر ہے صلحنامہ میں کل جائداد ریاست وانگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا مذکور ہے اور بیان استفسار میں صرف جائداد وعلاقہ انگریزی ذکر ہے جسے شبہ کیا جاسکتا ہے کہ پیر بدر الدین نے قطع نزاع و رفع فساد
دیکھو کیسی صاف تصریحیں ہیں کہ ایسی جملہ تحریرات نرے کاغذ ہیں جن میں سیاہی سے نقش بنے ہوئے ہیں اور وہ شرع میں حجت ہونا درکنار اصلا التفات کے قابل نہیں۔
(۱۵)دو اوین قضاۃ یعنی دفتر حکام لیجے توہم نمبر۸۹میں ردالمحتار و ہدایہ و فتح القدیر وخیریہ سے بیان کر آئے کہ دفتر حکام وہی معتبر ہے جو خاص ان کی حفاظت میں ان کے مہر و نشان کے نیچے ہو اور یہ کہ آج کل کے محافظ دفتر ی مسلمانوں کے ساتھ بھی خاص نہیں نہ کہ ثقہ عادل کے ساتھ اور نہ کہ جو نقل فریق کے ہاتھ میں ہو ہر گز قابل اعتماد نہیں۔
(۱۶)نمبر۸ میں یہ بھی گزرا کہ دفتر حکام کا اعتبار بھی بضرورت ان مقدمات میں ہے جن کو زمانہ دراز گزرا اوران پر ثبوت شرعی نہیں مل سکتا جہاں کا معاملہ تازہ ہے حاکم خود اپنے دفتر پر کارروائی نہ کرے گا بلکہ انہیں طرق شرعیہ بینہ و اقرار ونکول کی طرف رجوع ضروری ہوگی اس پر ردالمحتار کی عبارت گزری نیز اسی میں ہے:
لا بد من تقییدہ بتقادم العھد کما قلنا توفیقا بین کلامھم ۔ قدیم زمانہ کی قید ضروری ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے فقہاء کرام کے کلام میں تطبیق دیتے ہوئے۔(ت)
(۱۷)خود صاحب افسر مال نے ان کاغذات کا بہت اچھا فیصلہ کردیا کہ انہیں کتاب القاضی الی القاضی کے باب سے سمجھا جائے واقعی کچہری سے آئی ہوئی نقلیں اگر محمول ہوسکتی ہیں تو اسی پر اور تمام کتب مذہب کا اتفاق ہے کہ کتاب القاضی الی القاضی بے شہادت عادلہ کاملہ ہر گز معتبر نہیں اگرچہ اس پر قاضی کے دستخط اور دارالقضاء کی مہر بھی ہواس پر عبارات کتب نمبر۱۱میں گزریں۔
(۱۸)بلکہ انصافا صلحنامہ کی عبارت کتاب القاضی الی القاضی کی حد تك پہنچ ہی نہیں سکتیشہادت ہونا نہ ہونا بالائے طاقصلحنامہ نہ حاکم نے خود لکھانہ اسکے سامنے لکھا گیانہ مسل میں یہی بیان ہے کہ پیر بدر الدین نے حاکم کے سامنے اس کے لکھنے یا اس پر دستخط کرنے سے اقرار کیا بلکہ حاکم کے سامنے استفسار پر جواس کابیان ہو نا ذکر کیا جاتا ہے اور جس پر فریق کی تصدیق بھی موجود ہے وہ بیان تحریر صلحنامہ سے قاصر ہے صلحنامہ میں کل جائداد ریاست وانگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا مذکور ہے اور بیان استفسار میں صرف جائداد وعلاقہ انگریزی ذکر ہے جسے شبہ کیا جاسکتا ہے کہ پیر بدر الدین نے قطع نزاع و رفع فساد
حوالہ / References
الجوہرۃ النیرۃ کتاب آداب القاضی ∞مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۴۵€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۹€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۹€
کے لئے جائداد علاقہ انگریزی میں مدعیوں کو دوخمس دینا گوارا کرلیا کہ وہ قلیل وکم حیثیت ہے بڑاحصہ اس کا اور ریاست کی وافر جائداد اپنے اور اپنے بھائی کے لئے کافی سمجھیراضی نامہ میں کاتب نے خود فریق کی تحریك سے تمام جائداد ذکر کردیا ہو تو وہ کچھ مؤثر نہیں ہوسکتا ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اعتبار اس کا ہے جو تمسك لکھانے والے نے اپنی زبان سے کہا اس کا کچھ اعتبار نہیں جو کاتب نے لکھافتاوی خیریہ جلد ۱ صفحہ ۱۲۸میں ہے:
العبرۃ بما تلفظ بہ الواقف لالما کتب الکاتب فمن عبارات علمائنا العبرۃ لما ھوالواقع فی نفس الامر اھ۔ واقف کے تلفظ کا اعتبار ہے نہ کہ کاتب کی لکھائی کا جیسا کہ ہمارے علماء کرام کی عبارات میں ہے کہ صرف نفس الامر میں واقعہ کا اعتبار ہے۔(ت)
بدر الدین کا لکھا ہوا نام کوئی دلیل شرعی نہیں کہ اسی کے قلم سے ہےنہ نشان خط ملنے کا کوئی اعتبارہدایہ و عالمگیری وغیرہا صدہا کتب مذہب میں تصریح ہے کہ الخط یشبہ الخط (خط خط کے مشابہ ہوتا ہے۔ت)اس کی کچھ عبارتیں اوپر بھی گزریں نیز اشباہ والنظائر صفحہ ۳۶۱ وغیرہا میں ہے:
فاستکتب وکان بین الخطین مشابھۃ ظاہرۃ دالۃ علی انھما خط کاتب واحد لایحکم علیہ بالمال فی الصحیح ۔ اس نے کچھ لکھوایا اور دو خطوں میں واضح مشابہت ہے کہ ایك ہی کاتب کے معلوم ہوتے ہیں تو مالی معاملات میں اس لکھائی پر فیصلہ نہ دیا جائے گا صحیح قول میں۔(ت)
اور بالفرض دستخط اسی نے کئے جب بھی کچھ بعید نہیں کہ اس نے صرف جائداد انگریزی کی نسبت کہا اور کاتب نے عمدا یا غلطا کل کی نسبت لکھ دیا اوراس نے اس اعتماد پر کہ جو میں نے کہا وہی لکھا ہوگا خاص نظر نہ کی اور دستخط کردئے ایسا ہونا کچھ دور نہیں۔ہدایہ جلد دوم ص۵۷۱میں ہے:
اذاکتب کتاب الشراء علی وصی کتب کتاب الوصیۃ علی حدۃ وکتاب الشراء علی حدۃ لان ذلك احوطولو کوئی شخص جب وصی کا تقرر کرکے اس کو خریداری کا اختیار لکھوانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وصیت نامہ اور اس کا اختیار نامہ علیحدہ علیحدہ لکھوائے کیونکہ اس میں
العبرۃ بما تلفظ بہ الواقف لالما کتب الکاتب فمن عبارات علمائنا العبرۃ لما ھوالواقع فی نفس الامر اھ۔ واقف کے تلفظ کا اعتبار ہے نہ کہ کاتب کی لکھائی کا جیسا کہ ہمارے علماء کرام کی عبارات میں ہے کہ صرف نفس الامر میں واقعہ کا اعتبار ہے۔(ت)
بدر الدین کا لکھا ہوا نام کوئی دلیل شرعی نہیں کہ اسی کے قلم سے ہےنہ نشان خط ملنے کا کوئی اعتبارہدایہ و عالمگیری وغیرہا صدہا کتب مذہب میں تصریح ہے کہ الخط یشبہ الخط (خط خط کے مشابہ ہوتا ہے۔ت)اس کی کچھ عبارتیں اوپر بھی گزریں نیز اشباہ والنظائر صفحہ ۳۶۱ وغیرہا میں ہے:
فاستکتب وکان بین الخطین مشابھۃ ظاہرۃ دالۃ علی انھما خط کاتب واحد لایحکم علیہ بالمال فی الصحیح ۔ اس نے کچھ لکھوایا اور دو خطوں میں واضح مشابہت ہے کہ ایك ہی کاتب کے معلوم ہوتے ہیں تو مالی معاملات میں اس لکھائی پر فیصلہ نہ دیا جائے گا صحیح قول میں۔(ت)
اور بالفرض دستخط اسی نے کئے جب بھی کچھ بعید نہیں کہ اس نے صرف جائداد انگریزی کی نسبت کہا اور کاتب نے عمدا یا غلطا کل کی نسبت لکھ دیا اوراس نے اس اعتماد پر کہ جو میں نے کہا وہی لکھا ہوگا خاص نظر نہ کی اور دستخط کردئے ایسا ہونا کچھ دور نہیں۔ہدایہ جلد دوم ص۵۷۱میں ہے:
اذاکتب کتاب الشراء علی وصی کتب کتاب الوصیۃ علی حدۃ وکتاب الشراء علی حدۃ لان ذلك احوطولو کوئی شخص جب وصی کا تقرر کرکے اس کو خریداری کا اختیار لکھوانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وصیت نامہ اور اس کا اختیار نامہ علیحدہ علیحدہ لکھوائے کیونکہ اس میں
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالفکر بیروت ∞۱/ ۴۰۔۱۳۹€
الہدایۃ کتاب الشہادۃ فصل مایتحملہ الشاہد علی ضربین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹۸€
الہدایۃ کتاب الشہادۃ فصل مایتحملہ الشاہد علی ضربین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۹۸€
کتب جملۃ عسی ان یکتب الشاہد شہادتہ فی اخرہ من غیر تفصیل فیصیر ذلك حملا علی الکذب ۔ احتیاط ہےاگر دونوں کو اکٹھا لکھوایا تو ہوسکتا ہے کہ گواہ اپنی شہادت آخر میں بغیرتفصیل درج کرے جس کی بناپر وہ تحریر جھوٹ پر محمول ہوجائے۔(ت)
اسی کے ہامش پر کافی اما م نسفی سے ہے:
کتب اشتری من فلان وصی فلان واشھد علیہ قوما وفیہم من لم یشھد علی الایصاء فربما یشھد بالکل فیکون حملالہ علی الکذب ۔ کاتب نے یوں لکھا کہ فلاں نے فلاں سے چیز خریدی اور کچھ لوگوں کی گواہی بھی لکھی اور ان گواہوں میں کوئی ایسا شخص بھی تھا جو وصیت کے وقت موجود نہ تھا تو ہوسکتا ہے کہ وہ خریداری کی شہادت میں وصیت کی شہادت بھی کہہ دے تو اس سے گواہ کو جھوٹ پر آمادہ کرنا لازم آتا ہے۔(ت)
کیا ہم علانیہ نہیں دیکھتے ہیں کہ اس نے مجوز کے سامنے صرف جائداد انگریزی کا اقرار کیا ہے تحریر صلحنامہ کے بعد حاکم کے سامنے بیان اس کی تصدیق و تحقیق کےلئے ہوتا ہے نہ یہ کہ فیصلہ تو قرار پایا ہو ایك ہزار پر اور بیان میں اقرار کرے پانچ سو کا پھر فریق بھی سن کر تصدیق کرے کہ یہ بیان صحیح ہے
(۱۹)ان سب امور سے اگر قطع نظر بھی کی جائے تو اس کا حاصل کتناصرف اس قدر کہ پیر بدر الدین نے مدعیوں کو اپنا بھائی تسلیم کیا مولوی عطا محمد صاحب کا اس پر اعتراض بہت صحیح ہے کہ جب وارث متعدد ہوں تو ایك کے اقرار سے مورث پر نسب نہیں ثابت ہوسکتایہ اگرچہ خود اپنے اقرار پر ماخوذ ہو جبکہ اس پر قائم رہے مگر دوسروں پر اس کا اثر کچھ نہیں پڑسکتا امام ابویوسف کی روایت اول: تو خلاف مذہب امام اعظم مختار ہونی مسلم نہیںنہ بہ اخذ الکرخی کہنے سے اس کا مفتی بہ ہونا ثابتاور یہ ایك لفظ دیکھنا او ظاہر المتون علی ترجیح قولہما چھوڑ دینا بس عجیب ہے۔
ثانیا: وہ روایت صراحۃ اس صورت میں ہے کہ ایك ہی وارث ہو اور وہ دوسرے کی نسبت وراثت کا اقرار کرے اور دو یا زیادہ وارثوں میں سے ایك نے اقرار کیا تو بالاتفاق نسب ثابت نہ ہوگاثالثوں کی نظر نے یہاں کوتاہی کیاسی قرۃ العیون کو اگر ایك ورق پہلے دیکھتے تو یہ دھوکا نہ ہوتاوہ عبارت مولوی عطا محمد کے فیصلہ میں گزریاور جامع الفصولین جلد ۲ صفحہ ۴۵
اسی کے ہامش پر کافی اما م نسفی سے ہے:
کتب اشتری من فلان وصی فلان واشھد علیہ قوما وفیہم من لم یشھد علی الایصاء فربما یشھد بالکل فیکون حملالہ علی الکذب ۔ کاتب نے یوں لکھا کہ فلاں نے فلاں سے چیز خریدی اور کچھ لوگوں کی گواہی بھی لکھی اور ان گواہوں میں کوئی ایسا شخص بھی تھا جو وصیت کے وقت موجود نہ تھا تو ہوسکتا ہے کہ وہ خریداری کی شہادت میں وصیت کی شہادت بھی کہہ دے تو اس سے گواہ کو جھوٹ پر آمادہ کرنا لازم آتا ہے۔(ت)
کیا ہم علانیہ نہیں دیکھتے ہیں کہ اس نے مجوز کے سامنے صرف جائداد انگریزی کا اقرار کیا ہے تحریر صلحنامہ کے بعد حاکم کے سامنے بیان اس کی تصدیق و تحقیق کےلئے ہوتا ہے نہ یہ کہ فیصلہ تو قرار پایا ہو ایك ہزار پر اور بیان میں اقرار کرے پانچ سو کا پھر فریق بھی سن کر تصدیق کرے کہ یہ بیان صحیح ہے
(۱۹)ان سب امور سے اگر قطع نظر بھی کی جائے تو اس کا حاصل کتناصرف اس قدر کہ پیر بدر الدین نے مدعیوں کو اپنا بھائی تسلیم کیا مولوی عطا محمد صاحب کا اس پر اعتراض بہت صحیح ہے کہ جب وارث متعدد ہوں تو ایك کے اقرار سے مورث پر نسب نہیں ثابت ہوسکتایہ اگرچہ خود اپنے اقرار پر ماخوذ ہو جبکہ اس پر قائم رہے مگر دوسروں پر اس کا اثر کچھ نہیں پڑسکتا امام ابویوسف کی روایت اول: تو خلاف مذہب امام اعظم مختار ہونی مسلم نہیںنہ بہ اخذ الکرخی کہنے سے اس کا مفتی بہ ہونا ثابتاور یہ ایك لفظ دیکھنا او ظاہر المتون علی ترجیح قولہما چھوڑ دینا بس عجیب ہے۔
ثانیا: وہ روایت صراحۃ اس صورت میں ہے کہ ایك ہی وارث ہو اور وہ دوسرے کی نسبت وراثت کا اقرار کرے اور دو یا زیادہ وارثوں میں سے ایك نے اقرار کیا تو بالاتفاق نسب ثابت نہ ہوگاثالثوں کی نظر نے یہاں کوتاہی کیاسی قرۃ العیون کو اگر ایك ورق پہلے دیکھتے تو یہ دھوکا نہ ہوتاوہ عبارت مولوی عطا محمد کے فیصلہ میں گزریاور جامع الفصولین جلد ۲ صفحہ ۴۵
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الوصایا باب الوصی ومایملکہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۹€۴
حواشی الہدایۃ مع الہدایہ کتاب الوصایا باب الوصی ومایملکہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۹۴€
حواشی الہدایۃ مع الہدایہ کتاب الوصایا باب الوصی ومایملکہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۹۴€
میں ہے:
الوارث لو واحدا فاقر بابن اخر للمیت لایثبت نسبہ من المیت خلافا لابی یوسف والشافعی واجمعواانہ یشارکہ فی الارث لنا ان مجرد تحمیل النسب علی الغیر لایقبل کما لو اقربہ فی حیاتہ او علی انسان اخر اوکان فی الورثۃ غیرہ اھ۔ اگر ایك وارث نے میت کے لئے کسی اور بیٹے کا اقرار کیا تو اس کے ایك اقرار سے اس کا نسب میت سے ثابت نہ ہوگا اس میں امام ابویوسف اور امام شافعی رحمہما اﷲ تعالی کا خلاف ہے تاہم اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ مقرلہ وراثت میں شریك ہوگا ہماری دلیل یہ ہے کہ غیر کی طرف نسب منسوب کرنا بغیر دلیل معتبر اور مقبول نہیں جیسا کہ زندہ شخص کی طرف یا دوسرے شخص کا نسب یا وارثوں میں کوئی دوسرا بھی ہواھ(ت)
ملاحظہ مسل سے واضح ہے کہ اس اقرار میں پیر سراج الدین شریك نہ تھا بلکہ وہ اس تحریر کے وقت موجودبھی نہ تھا اس کی طرف سے اگر اس اقرار کا رد ثابت نہیں تو اس کی تسلیم کا بھی پتہ نہیں غایت درجہ سکوت ہےاورشرع کا قاعدہ مقررہے کہ لاینسب الی ساکت قول(کسی ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہ ہوگا۔ت)جامع الفصولین واشباہ والنظائر ورد المحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے یعنی سکوت کرنے والے کو کسی بات کا قائل نہیں ٹھہرایا جاتا مستثنی صورتیں جو ان کتابوں اور ان کے شروح وحواشی میں ذکر کی ہیں یہ مسئلہ ان میں داخل نہیں۔اظہار تحصیل منچن آباد سے جو صاحب افسر مال نے پیر سراج الدین کا بھی اس اقرار کو تسلیم کرنا نکالا ہے اس کا حال ان شاء اﷲ عنقریب آتا ہے۔
(۲۰)شرع مطہر میں ایسے رشتے کا اقرار جس میں اپنے غیر پر نسب لازم کرنا ہو جیسے کسی کو اپنا بھائی بتانا کہ اس میں باپ پر نسب لازم کیا گیا خود اس مقر کے مال میں بھی اتنا ضعیف و کمزور مانا گیا ہے کہ جب تك کوئی دور کے رشتہ کا ضعیف ساضعیف وارث موجود ہو بلکہ کوئی رشتہ دار بھی نہیں صرف مولی الموالاۃ ہو اس وقت تك یہ شخص جس کے نسب کا اقرار کیا ہے خود مقر کے ترکہ میں سے کچھ نہیں پاسکتا تمام کتب میں اس کی تصریح ہے ایسے واضح اور مشہور مسئلہ کو چھوڑ کر روایت امام ابویوسف کے وہ معنی قرار دینا اور اسے مفتی بہ ٹھہرانا سخت عجیب ہے طحطاوی ج ۴ ص۳۷۳ میں ہے:
ان کان للمقر وارث معلوم غیرالزوجین اگر اقرار کرنے والے کے اپنے قریب بعید کوئی بھی
الوارث لو واحدا فاقر بابن اخر للمیت لایثبت نسبہ من المیت خلافا لابی یوسف والشافعی واجمعواانہ یشارکہ فی الارث لنا ان مجرد تحمیل النسب علی الغیر لایقبل کما لو اقربہ فی حیاتہ او علی انسان اخر اوکان فی الورثۃ غیرہ اھ۔ اگر ایك وارث نے میت کے لئے کسی اور بیٹے کا اقرار کیا تو اس کے ایك اقرار سے اس کا نسب میت سے ثابت نہ ہوگا اس میں امام ابویوسف اور امام شافعی رحمہما اﷲ تعالی کا خلاف ہے تاہم اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ مقرلہ وراثت میں شریك ہوگا ہماری دلیل یہ ہے کہ غیر کی طرف نسب منسوب کرنا بغیر دلیل معتبر اور مقبول نہیں جیسا کہ زندہ شخص کی طرف یا دوسرے شخص کا نسب یا وارثوں میں کوئی دوسرا بھی ہواھ(ت)
ملاحظہ مسل سے واضح ہے کہ اس اقرار میں پیر سراج الدین شریك نہ تھا بلکہ وہ اس تحریر کے وقت موجودبھی نہ تھا اس کی طرف سے اگر اس اقرار کا رد ثابت نہیں تو اس کی تسلیم کا بھی پتہ نہیں غایت درجہ سکوت ہےاورشرع کا قاعدہ مقررہے کہ لاینسب الی ساکت قول(کسی ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہ ہوگا۔ت)جامع الفصولین واشباہ والنظائر ورد المحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے یعنی سکوت کرنے والے کو کسی بات کا قائل نہیں ٹھہرایا جاتا مستثنی صورتیں جو ان کتابوں اور ان کے شروح وحواشی میں ذکر کی ہیں یہ مسئلہ ان میں داخل نہیں۔اظہار تحصیل منچن آباد سے جو صاحب افسر مال نے پیر سراج الدین کا بھی اس اقرار کو تسلیم کرنا نکالا ہے اس کا حال ان شاء اﷲ عنقریب آتا ہے۔
(۲۰)شرع مطہر میں ایسے رشتے کا اقرار جس میں اپنے غیر پر نسب لازم کرنا ہو جیسے کسی کو اپنا بھائی بتانا کہ اس میں باپ پر نسب لازم کیا گیا خود اس مقر کے مال میں بھی اتنا ضعیف و کمزور مانا گیا ہے کہ جب تك کوئی دور کے رشتہ کا ضعیف ساضعیف وارث موجود ہو بلکہ کوئی رشتہ دار بھی نہیں صرف مولی الموالاۃ ہو اس وقت تك یہ شخص جس کے نسب کا اقرار کیا ہے خود مقر کے ترکہ میں سے کچھ نہیں پاسکتا تمام کتب میں اس کی تصریح ہے ایسے واضح اور مشہور مسئلہ کو چھوڑ کر روایت امام ابویوسف کے وہ معنی قرار دینا اور اسے مفتی بہ ٹھہرانا سخت عجیب ہے طحطاوی ج ۴ ص۳۷۳ میں ہے:
ان کان للمقر وارث معلوم غیرالزوجین اگر اقرار کرنے والے کے اپنے قریب بعید کوئی بھی
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل التاسع والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۵€
قریب او بعید فھو اولی بالمیراث من المقر لہ لانہ لما لم یثبت نسبہ منہ لایزاحم الوارث المعروف ولا مزاحمۃ اذاکان الوارث احد الزوجین وان لم یکن لہ وارث مزاحم استحق المقر لہ میراثہ لان للمقر ولایۃ التصرف فی مال نفسہ عدم الوارث ۔ زوجین کے علاوہ معروف وارث موجود ہوں تو مقرلہ کی نسبت وہ معروف وارث وراثت کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ جب مقرلہ کا نسب ثابت نہیں ہے تو وہ معروف ورثاء کے مقابل نہیں آسکتااور جب زوجین میں سے کوئی ایك دوسرے کا وارث ہوتو وہاں کوئی مزاحمت نہ ہوگیاور اگر ان مقرلہ کے مقابل کوئی بھی معروف وارث نہ ہوتو پھر مقرلہ مقر کی وراثت کا حقدار ہے کیونکہ مقر کو اپنے مال میں تصرف کی ولایت ہے۔(ت)
جامع الرموز صفحہ ۶۱۳میں ہے:
ولواقر رجل بنسب من غیر ولادقریب بینھما کالاخ والعم والجد وابن الابن لایصح اقرارہ بالنسب ۔ اگر مقر(اقرار کرنیوالے)نے ولادت کے علاوہ کسی قریبی رشتہ کا اقرار کیا جیسے بھائیچچادادا پوتا ہونے کا۔تو یہ اقرار نسب صحیح نہ ہوگا۔(ت)
ایضاح شرح اصلاح للعلامۃ ابن کمال پاشا قلمی ص ۴۲۶میں ہے:
لایصح لما فیہ من تحمیل النسب علی غیر فلا یرث الاعند عدم وارث معروف قریبا کان او بعیدا ۔ صحیح اس لئے نہیں کہ اس میں غیر پر نسب ٹھونسنا ہے تو کسی قریب یا بعید معروف وارث کی عدم موجودگی میں ہی مقرلہ وارث ہوسکے گا
اگر ایك اس کے اقرار سے نسب ثابت ہوجاتا تو وارث قوی کا ضعیف تر وارث سے محرورم کردینا کیا معنی رکھتا بلکہ واجب ہوتا کہ اس سے نیچے درجے کے جتنے ورثاء ہوں سب اس کے آگے محروم ہوں لیکن ایسا قطعا نہیں تو ثابت ہوا کہ نسب ثابت نہ ہوا۔
(۲۱)ایسے نسب کا اقرار اگرچہ مقر کے مال پر نافذ ہومگر یہ ایك فقہی فتوی ہے اور حکم یا قاضی کو مطلقا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ صورت میں جو حکم مسئلہ پائیں اس پر فیصلہ کردیں ان کا حکم اس حد
جامع الرموز صفحہ ۶۱۳میں ہے:
ولواقر رجل بنسب من غیر ولادقریب بینھما کالاخ والعم والجد وابن الابن لایصح اقرارہ بالنسب ۔ اگر مقر(اقرار کرنیوالے)نے ولادت کے علاوہ کسی قریبی رشتہ کا اقرار کیا جیسے بھائیچچادادا پوتا ہونے کا۔تو یہ اقرار نسب صحیح نہ ہوگا۔(ت)
ایضاح شرح اصلاح للعلامۃ ابن کمال پاشا قلمی ص ۴۲۶میں ہے:
لایصح لما فیہ من تحمیل النسب علی غیر فلا یرث الاعند عدم وارث معروف قریبا کان او بعیدا ۔ صحیح اس لئے نہیں کہ اس میں غیر پر نسب ٹھونسنا ہے تو کسی قریب یا بعید معروف وارث کی عدم موجودگی میں ہی مقرلہ وارث ہوسکے گا
اگر ایك اس کے اقرار سے نسب ثابت ہوجاتا تو وارث قوی کا ضعیف تر وارث سے محرورم کردینا کیا معنی رکھتا بلکہ واجب ہوتا کہ اس سے نیچے درجے کے جتنے ورثاء ہوں سب اس کے آگے محروم ہوں لیکن ایسا قطعا نہیں تو ثابت ہوا کہ نسب ثابت نہ ہوا۔
(۲۱)ایسے نسب کا اقرار اگرچہ مقر کے مال پر نافذ ہومگر یہ ایك فقہی فتوی ہے اور حکم یا قاضی کو مطلقا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ صورت میں جو حکم مسئلہ پائیں اس پر فیصلہ کردیں ان کا حکم اس حد
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳۷۳€
جامع الرمو ز کتاب الاقرار مکتبۃ الاسلامیہ ∞گنبد قاموس ایران ۳/ ۴۵۸€
ایضاح شرح اصلاح
جامع الرمو ز کتاب الاقرار مکتبۃ الاسلامیہ ∞گنبد قاموس ایران ۳/ ۴۵۸€
ایضاح شرح اصلاح
تك محدود رہتا ہے جس قدر انہیں قاضی یا حکم کرنے والے نے اختیار دیا ہے مثلا تقلید قضا میں سلطان نے یہ قید لگادی کہ تجھے فلاں روزقضا کا اختیار دیا تو اسی دن اس کا حکم حکم قاضی ٹھہرے گا دوسرے دن کچھ نہیںیا یہ تخصیص کردی کہ تجھے فلاں مکان میں اختیار قضا ہے تو وہ اس مکان کے اندر ہی قاضی رہے گا اس سے باہر کچھ اختیار نہیں رکھتایا یہ شرط لگادی کہ تجھے فلاں فلاں قبیلے یا فلاں فلاں اشخاص پر قاضی کیا تو وہ انہیں کا فیصلہ کرسکتا ہے ان کے ماوراء میں مثل اور رعایا کےہے علی ہذا القیاس جو قید لگادی جائے اس کے ساتھ مقید رہے گا کہ وہ بذات خود والی نہیں بلکہ دوسرے کے ولایت دینے سے ولایت پاتا ہے تو وہ جس شرط کے ساتھ اختیار دے گا اسی کے ساتھ مختص رہے گا بعینہ یہی حال حکم کا ہے قاضی کی تولیت جانب فریقین سے تو فریقین ثالثوں کوجن شرائط کا پا بند کرینگے اسی قدر انہیں اختیار فیصلہ ہوگا باقی میں وہ ایك راہ چلتے اجنبی کے مثل ہیںاشباہ ص۲۲۳میں ہے:
القضاء یجوز تخصیصہ وتقییدہ بالزمان والمکان واستثناء بعض الخصومات کما فی الخلاصۃ ۔ قضا کو کسی زمانہمکان اور بعض خصومات سے مقید اور مخصوص کرناجائز ہےجیسا کہ خلاصہ میں ہے۔(ت)
درمختار جلد چہارم ص۵۳میں ہے:
القضاء یتخصص بزمان ومکان و خصومۃ حتی لو امر السلطان لعدم سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعھا لم ینفذ ۔ قضاء کو کسی زمانہ مکان اور خصومت سے مختص کرنا جائز ہے حتی کہ اگر سلطان نے پندرہ سال بعد دعوی کی سماعت سے روك دیا ہو اور قاضی نے اس مقررہ مدت کے بعد سماعت کی تو نافذ نہ ہوگی۔(ت)
ردالمحتار صفحہ مذکور میں ہے:
قال فی الفتح الولایۃ تقبل التقیید والتعلیق بالشرط کقولہ اذاوصلت الی بلدۃ کذافانت قاضیھا و الاضافۃ کجعلتك قاضیافی راس الشھر و فتح میں فرمایا کہ ولایت شرط سے تعلیق و تقیید کو قبول کرسکتی ہے مثلا سلطان کا یہ کہنا کہ جب تم فلاں شہر پہنچ جاؤ تو تم وہاں کے قاضی ہوجاؤ گےاور اضافت و نسبت کو بھی قبول کرسکتی ہے کہ میں نے
القضاء یجوز تخصیصہ وتقییدہ بالزمان والمکان واستثناء بعض الخصومات کما فی الخلاصۃ ۔ قضا کو کسی زمانہمکان اور بعض خصومات سے مقید اور مخصوص کرناجائز ہےجیسا کہ خلاصہ میں ہے۔(ت)
درمختار جلد چہارم ص۵۳میں ہے:
القضاء یتخصص بزمان ومکان و خصومۃ حتی لو امر السلطان لعدم سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعھا لم ینفذ ۔ قضاء کو کسی زمانہ مکان اور خصومت سے مختص کرنا جائز ہے حتی کہ اگر سلطان نے پندرہ سال بعد دعوی کی سماعت سے روك دیا ہو اور قاضی نے اس مقررہ مدت کے بعد سماعت کی تو نافذ نہ ہوگی۔(ت)
ردالمحتار صفحہ مذکور میں ہے:
قال فی الفتح الولایۃ تقبل التقیید والتعلیق بالشرط کقولہ اذاوصلت الی بلدۃ کذافانت قاضیھا و الاضافۃ کجعلتك قاضیافی راس الشھر و فتح میں فرمایا کہ ولایت شرط سے تعلیق و تقیید کو قبول کرسکتی ہے مثلا سلطان کا یہ کہنا کہ جب تم فلاں شہر پہنچ جاؤ تو تم وہاں کے قاضی ہوجاؤ گےاور اضافت و نسبت کو بھی قبول کرسکتی ہے کہ میں نے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۶۹€
درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۱€
درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۱€
والا ستثناء کجعلتك قاضیا الافی قضیۃ فلان ولا تنظر فی قضیۃ کذا ۔(ملخصا) تجھے فلاں ماہ کے شروع سے قاضی بنایااور ولایت استثناء کو بھی قبول کرسکتی ہے مثلا یوں کہہ جائے کہ میں نے تجھے فلاں کیس کے ماسوا میں قاضی بنایا یوں کہ فلاں کیس کو زیر غور نہ لانا۔(ت)
نیز صفحہ۵۳۱میں ہے:
یکون القاضی معزولا عنہا لما علمت ان القضاء یتخصص ۔ قاضی کی قضاء خاص ہوسکتی ہے اس لئے وہ اس تخصیص کی بناء پر معزول ہوتا ہے(ت)
درمختار صفحہ ۵۳۹جلد ۴ میں ہے:
التحکیم تولیۃ الخصمین حاکما یحکم بینھما ۔ ثالثی دو فریقوں کا کسی کو حاکم بنانا کہ وہ ان دونوں میں فیصلہ کرے۔(ت)
یہاں فریقین نے اقرار نامہ ثالث میں یہ قید لگا دی تھی کہ اگر ان کا شرعا نسب ثابت نہ ہوتو ان کا میراث سے کچھ تعلق نہ ہوگا اور بشرط اولاد صحیح النسب ہونے کے فتوی ثالثان ناطق ہوگا جس کا صاف حاصل یہ تھا کہ نسب ثابت نہ ہو تو دربارہ وراثت انہیں حکم کا اختیار نہیںثالث چہارم نے کہ ثبوت نسب نہ مانا اور وراثت مال کی نسبت فیصلہ دیا معلوم نہیں یہ کس اختیار سے تھا یہیں سے ظاہر ہوا کہ صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں فیصلہ ثالث چہارم سے یہ استناد کہ اصل مطلب کی بات یعنی وراثت مال انہوں نے بھی مان لی ہے اسی قدر کافی ہےایك محض بے اثر چیز سے استناد ہے۔
کاغذ چہارم۴ شجرہ نسب
(۲۲)شجرہ نسب جو منٹگمری سے آیا اس کی نسبت علاوہ ان اعتراضوں کے جو ایسے کاغذات کی نسبت مکرر گزر چکے اور ثابت کردیا گیا کہ وہ شرعا استناد درکنار التفات کے بھی قابل نہیں یہ شجرہ حاکم کی کسی اپنی تحقیقات پر مبنی نہیں بلکہ اسی صلحنامہ بدر الدین پر اس کی بناء ہے اور ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ وہ اپنی ذاتی نامعتبری کے علاوہ ثبوت نسب کے بارہ میں محض مہمل ہے تو یہ شجرہ کہ اس پر مبنی تھا
نیز صفحہ۵۳۱میں ہے:
یکون القاضی معزولا عنہا لما علمت ان القضاء یتخصص ۔ قاضی کی قضاء خاص ہوسکتی ہے اس لئے وہ اس تخصیص کی بناء پر معزول ہوتا ہے(ت)
درمختار صفحہ ۵۳۹جلد ۴ میں ہے:
التحکیم تولیۃ الخصمین حاکما یحکم بینھما ۔ ثالثی دو فریقوں کا کسی کو حاکم بنانا کہ وہ ان دونوں میں فیصلہ کرے۔(ت)
یہاں فریقین نے اقرار نامہ ثالث میں یہ قید لگا دی تھی کہ اگر ان کا شرعا نسب ثابت نہ ہوتو ان کا میراث سے کچھ تعلق نہ ہوگا اور بشرط اولاد صحیح النسب ہونے کے فتوی ثالثان ناطق ہوگا جس کا صاف حاصل یہ تھا کہ نسب ثابت نہ ہو تو دربارہ وراثت انہیں حکم کا اختیار نہیںثالث چہارم نے کہ ثبوت نسب نہ مانا اور وراثت مال کی نسبت فیصلہ دیا معلوم نہیں یہ کس اختیار سے تھا یہیں سے ظاہر ہوا کہ صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں فیصلہ ثالث چہارم سے یہ استناد کہ اصل مطلب کی بات یعنی وراثت مال انہوں نے بھی مان لی ہے اسی قدر کافی ہےایك محض بے اثر چیز سے استناد ہے۔
کاغذ چہارم۴ شجرہ نسب
(۲۲)شجرہ نسب جو منٹگمری سے آیا اس کی نسبت علاوہ ان اعتراضوں کے جو ایسے کاغذات کی نسبت مکرر گزر چکے اور ثابت کردیا گیا کہ وہ شرعا استناد درکنار التفات کے بھی قابل نہیں یہ شجرہ حاکم کی کسی اپنی تحقیقات پر مبنی نہیں بلکہ اسی صلحنامہ بدر الدین پر اس کی بناء ہے اور ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ وہ اپنی ذاتی نامعتبری کے علاوہ ثبوت نسب کے بارہ میں محض مہمل ہے تو یہ شجرہ کہ اس پر مبنی تھا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی ∞بیروت ۴/ ۳۴۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۲€
درمختار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۲€
درمختار کتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۲€
اسی کی طرح باطل و بے عمل ہے ہاں جائداد انگریزی میں بدر الدین کی طرف سے قطع نزاع کے لئے اس کے یہ الفاظ قابل لحاظ ہیں کہ"حصہ ملکیت بر خلاف حصہ جدی کے"رسمی قرار پایا۔
کاغذ پنجم نمبر ۹ اظہار منچن اباد
(۲۳)کاغذات کے متعلق جو نفیس جلیل ابحاث شرعیہ ہم بار بار لکھ آئے اور ثابت کر آئے کہ شرع مطہر ایسے نرے کاغذی جمع خرچ پر اصلا لحاظ نہیں فرماتی وہی بحثیں اس کاغذ کے بھی مہمل وبیکار ہونے کے لئے کافی تھیں مگر اس کاغذ کی حالت نے ان عظیم بحثوں کی اور بھی تائید وتصدیق کردی اور خود ہی ایك واضح نظیر ہو زبان حال سے صاف بتادیا کہ دیکھو شرع مطہر حکیم ہے وہ ایسی وجوہ سے نری کاغذی بات کو نا معتبر فرماتی ہے یکم جون ۱۸۹۳ء کو اﷲ بخش نے تحصیل منچن آباد میں درخواست دی کاردار صاحب نے طلبی فریقین کا حکم دیا۱۳/جون کو پھر پیشی ہوئی اب مکرر حکم طلبی تحریر سہوا ۲۹/ اگست کو پیشی ہوئی اور کار دار صاحب نے لکھا کہ اب تك نہ فریقین آئے نہ کوئی رپورٹ پیش کار کی شامل ہوئی اب حکم تاکیدی طلبی کا بھیجا گیا ۶/ستمبر کو باخذ مچبلکہ طلبی ہوئی ۷/ستمبر کو فریقین کی اطلاع یابی اور سراج الدین کی بیماری کاعذر تحریر ہوا ۸/ستمبر کو پیش کار نے اسی مضمون کی رپورٹ تحصیل میں بھیجی ادھر تو یہ کارروائی ہو رہی ہے ادھر ۲۲ اگست کو بدر الدین اور سراج الدین حاضر ہوگئے اظہار بھی دے گئے حکم بھی ہوچکا مقدمہ ختم چکا مقدمہ ختم بھی ہوگیا مسل داخل دفتر بھی ہوگئی اور ۲۹ اگست کو پھر کاردار صاحب شاکی ہیں کہ ۱۳ / جون سے اب تك کوئی نہیں آیا اس خواب پریشان کی کیا تعبیر کہی جائے ۲۲ سے ۲۹ تك ایسی مدت بھی تو طویل نہ گزری تھی کہ کاردار صاحب اور تمام اہل محکمہ کسی کو یاد نہ رہا کہ ابھی فریقین حاضر ہوکر اظہار دے چکے ہیں مقدمہ ختم ہوچکا ہے اب یہ دوبارہ پیشی کیسی اور مکرر طلبی کس لئےاو مچلکوں کی شدت کس بناپرناچار صاحب افسر مال کو بھی فقرہ ۱۰ میں تسلیم کرنا پڑا کہ اہلمدا ایسی بدعنوانیاں بطور خود کرلیتے ہیں حاکم کو اطلاع بھی نہیں ہوتی اور احکام جاری کردیتے ہیں اور خود ہی حکم اخیر بھی لکھ دیتے ہیں کبھی یہ کہ داخل دفتر ہو کبھی یہ کہ بندوبست میں پیروی کرو اور یہ بھی تصریح فرمائی کہ دفتر والوں سے سازش ہوکر بھی ایسی کارروائیوں ہوجاتی ہیں اور یہ بھی کہ یہ میدان اہلمدوں کی سبز چراگاہ ہے جب یہ سب کچھ ثابت ہے تو کون سی دلیل قائم ہے کہ یہ دوبارہ طلبی اور بار بار کی پیشیوں کے احکام بھی اہلمدوں کے بطور خود لکھے ہوئے ہیں اور ۲۲ / اگست کا اظہار و حکم ان کی سبز چراگاہ سے دور و محفوظ ہے حاکم دستخطوں کو دیکھاجائے تو وہ ان احکام پر بھی ہیں نہ نرے دستخط شرع میں کوئی حجت کہ سیکڑوں بن سکتے ہیں
کاغذ پنجم نمبر ۹ اظہار منچن اباد
(۲۳)کاغذات کے متعلق جو نفیس جلیل ابحاث شرعیہ ہم بار بار لکھ آئے اور ثابت کر آئے کہ شرع مطہر ایسے نرے کاغذی جمع خرچ پر اصلا لحاظ نہیں فرماتی وہی بحثیں اس کاغذ کے بھی مہمل وبیکار ہونے کے لئے کافی تھیں مگر اس کاغذ کی حالت نے ان عظیم بحثوں کی اور بھی تائید وتصدیق کردی اور خود ہی ایك واضح نظیر ہو زبان حال سے صاف بتادیا کہ دیکھو شرع مطہر حکیم ہے وہ ایسی وجوہ سے نری کاغذی بات کو نا معتبر فرماتی ہے یکم جون ۱۸۹۳ء کو اﷲ بخش نے تحصیل منچن آباد میں درخواست دی کاردار صاحب نے طلبی فریقین کا حکم دیا۱۳/جون کو پھر پیشی ہوئی اب مکرر حکم طلبی تحریر سہوا ۲۹/ اگست کو پیشی ہوئی اور کار دار صاحب نے لکھا کہ اب تك نہ فریقین آئے نہ کوئی رپورٹ پیش کار کی شامل ہوئی اب حکم تاکیدی طلبی کا بھیجا گیا ۶/ستمبر کو باخذ مچبلکہ طلبی ہوئی ۷/ستمبر کو فریقین کی اطلاع یابی اور سراج الدین کی بیماری کاعذر تحریر ہوا ۸/ستمبر کو پیش کار نے اسی مضمون کی رپورٹ تحصیل میں بھیجی ادھر تو یہ کارروائی ہو رہی ہے ادھر ۲۲ اگست کو بدر الدین اور سراج الدین حاضر ہوگئے اظہار بھی دے گئے حکم بھی ہوچکا مقدمہ ختم چکا مقدمہ ختم بھی ہوگیا مسل داخل دفتر بھی ہوگئی اور ۲۹ اگست کو پھر کاردار صاحب شاکی ہیں کہ ۱۳ / جون سے اب تك کوئی نہیں آیا اس خواب پریشان کی کیا تعبیر کہی جائے ۲۲ سے ۲۹ تك ایسی مدت بھی تو طویل نہ گزری تھی کہ کاردار صاحب اور تمام اہل محکمہ کسی کو یاد نہ رہا کہ ابھی فریقین حاضر ہوکر اظہار دے چکے ہیں مقدمہ ختم ہوچکا ہے اب یہ دوبارہ پیشی کیسی اور مکرر طلبی کس لئےاو مچلکوں کی شدت کس بناپرناچار صاحب افسر مال کو بھی فقرہ ۱۰ میں تسلیم کرنا پڑا کہ اہلمدا ایسی بدعنوانیاں بطور خود کرلیتے ہیں حاکم کو اطلاع بھی نہیں ہوتی اور احکام جاری کردیتے ہیں اور خود ہی حکم اخیر بھی لکھ دیتے ہیں کبھی یہ کہ داخل دفتر ہو کبھی یہ کہ بندوبست میں پیروی کرو اور یہ بھی تصریح فرمائی کہ دفتر والوں سے سازش ہوکر بھی ایسی کارروائیوں ہوجاتی ہیں اور یہ بھی کہ یہ میدان اہلمدوں کی سبز چراگاہ ہے جب یہ سب کچھ ثابت ہے تو کون سی دلیل قائم ہے کہ یہ دوبارہ طلبی اور بار بار کی پیشیوں کے احکام بھی اہلمدوں کے بطور خود لکھے ہوئے ہیں اور ۲۲ / اگست کا اظہار و حکم ان کی سبز چراگاہ سے دور و محفوظ ہے حاکم دستخطوں کو دیکھاجائے تو وہ ان احکام پر بھی ہیں نہ نرے دستخط شرع میں کوئی حجت کہ سیکڑوں بن سکتے ہیں
اوپر متعدد کتابوں سے اس کی تصریح گزری غرض دفتر والوں کو خود مختاریاں مانے بغیر چارہ نہیں اور انہیں پیش خویش کچھ تحریروں سے خاص کرلینے اور فلاں کو ان سے محفوظ ماننے کی کوئی وجہ نہیںیہی شناعتیں توہیں جن کے سبب شرع مطہر نے ان کا دربا ہی جلادیا اور سبز چراگاہوں کا راستہ یك قلم بند فرمایا۔
(۲۴)پھر اس پر کار دار صاحب کا جو حکم بتایا جاتا ہے کتنے مزہ کا ہے ایك فریق داخل خارج کی درخواست کرتا ہے دوسرے کو کہتے ہو کہ وہ بلا عذر کررہا ہے پھر بندوبست میں درخواست دینے پر اسے ملتوی کرنا کیا معنی رکھتا ہے یہ اظہار اگر واقعی ہوتا تو کار دار صاحب فورا حکم انتقال دیتے اور اسی کا موقع تھا جیسا کہ خودصاحب افسر مال کو فقرہ نمبر۱۰ میں تسلیم ہے کہ"کاردا رکو انتقال کا حکم دینا تھا"غرض یہ حکم اگرچہ فریقین راضی ہوں مگر انتقال ابھی نہ ہونا چاہئے بلکہ بندوبست جاری ہے اس میں درخواست دو ایك ایسا عجیب حکم ہے جس کی نظیر انہیں سبز چراگاہوں میں مل سکتی ہے جاہلوں تك میں تو مثل مشہور ہے کہ دو دل راضی تو کیا گرے گا قاضی۔لہذا قرین قیاس یہی ہے کہ ۸/ستمبر تك فریقین کی حاضری نہ ہوئی جیسا کہ مسل سے واضح ہے او یہ ۲۲/ اگست کا اظہار اور بے معنی حکم اسی دفتری سازشوں او سبز چراگاہوں کی سیاہ کاری ہے۔
(۲۵)لطف یہ کہ بندوبست اس تاریخ سے پہلے کبھی کا ختم ہوچکا تھا اور کار دار صاحب یہ ہدایت کریں کہ بندوبست جاری ہے اس میں درخواست دودیکھو فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۴ پھر اگر یہاں تسلیم کیا جائے کہ بندوبست اس وقت جاری تو مدعیوں کا اس میں درخواست نہ دینا کیا معنیبدر الدین وسراج الدین کی رضامندی کو وہ ایك بار آزما چکے تھے کہ بقول ان کے راضی نامہ کرکے کار بند نہ ہوئے او ان کا اندراج نام نہ کرایا جس پر انہیں تحصیل میں عرضی دینی پڑی کیا انہوں نے نہ سنا تھا کہ آز مودہ را آزمودن جہل ست(آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے۔ت)اب دونوں بھائی اقرار لکھا چلے اور بندوبست جاری تھا تو مدعی ہر گز اپنا کام پختہ کرلینے سے نہ بیٹھتےپھر خوبی یہ کہ جب چھ سال بعد بندوبست جدید میں غلطی کی اصلاح چاہی تو اس درخواست میں بھی مدعیوں نے اس اقرار وتسلیم ہر دو بردران کا کوئی ذکر نہ کیا بلکہ صلحنامہ منٹگمری ہی کو دستاویز بنایا اگر تحصیل منچن آباد میں دونوں بھائیوں نے یوں بلا عذر ان کے نام انتقال تسلیم کرلیا ہو تو سب سے زیادہ بنائے کا ر اسی پر رکھنی تھی نہ یہ کہ درخواست میں اس کا نام تك نہیں۔
(۲۶)صاحب افسر مال فقرہ نمبر۱۰میں اپنے یہاں کے محکموں کے سخت شاکی ہیں اور وہاں کے انتقالات کو بہت سنگلاخ دشوار گزارراہ بتاتے ہیں مگر سختیاں وہیں پیش آتی ہیں جہاں منازعت ہو مزاحمت ہوکیا اس کی کوئی نظیہر بتائی جاسکتی ہے کہ فریقین راضی نامہ کرلیں ایك فریق
(۲۴)پھر اس پر کار دار صاحب کا جو حکم بتایا جاتا ہے کتنے مزہ کا ہے ایك فریق داخل خارج کی درخواست کرتا ہے دوسرے کو کہتے ہو کہ وہ بلا عذر کررہا ہے پھر بندوبست میں درخواست دینے پر اسے ملتوی کرنا کیا معنی رکھتا ہے یہ اظہار اگر واقعی ہوتا تو کار دار صاحب فورا حکم انتقال دیتے اور اسی کا موقع تھا جیسا کہ خودصاحب افسر مال کو فقرہ نمبر۱۰ میں تسلیم ہے کہ"کاردا رکو انتقال کا حکم دینا تھا"غرض یہ حکم اگرچہ فریقین راضی ہوں مگر انتقال ابھی نہ ہونا چاہئے بلکہ بندوبست جاری ہے اس میں درخواست دو ایك ایسا عجیب حکم ہے جس کی نظیر انہیں سبز چراگاہوں میں مل سکتی ہے جاہلوں تك میں تو مثل مشہور ہے کہ دو دل راضی تو کیا گرے گا قاضی۔لہذا قرین قیاس یہی ہے کہ ۸/ستمبر تك فریقین کی حاضری نہ ہوئی جیسا کہ مسل سے واضح ہے او یہ ۲۲/ اگست کا اظہار اور بے معنی حکم اسی دفتری سازشوں او سبز چراگاہوں کی سیاہ کاری ہے۔
(۲۵)لطف یہ کہ بندوبست اس تاریخ سے پہلے کبھی کا ختم ہوچکا تھا اور کار دار صاحب یہ ہدایت کریں کہ بندوبست جاری ہے اس میں درخواست دودیکھو فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۴ پھر اگر یہاں تسلیم کیا جائے کہ بندوبست اس وقت جاری تو مدعیوں کا اس میں درخواست نہ دینا کیا معنیبدر الدین وسراج الدین کی رضامندی کو وہ ایك بار آزما چکے تھے کہ بقول ان کے راضی نامہ کرکے کار بند نہ ہوئے او ان کا اندراج نام نہ کرایا جس پر انہیں تحصیل میں عرضی دینی پڑی کیا انہوں نے نہ سنا تھا کہ آز مودہ را آزمودن جہل ست(آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے۔ت)اب دونوں بھائی اقرار لکھا چلے اور بندوبست جاری تھا تو مدعی ہر گز اپنا کام پختہ کرلینے سے نہ بیٹھتےپھر خوبی یہ کہ جب چھ سال بعد بندوبست جدید میں غلطی کی اصلاح چاہی تو اس درخواست میں بھی مدعیوں نے اس اقرار وتسلیم ہر دو بردران کا کوئی ذکر نہ کیا بلکہ صلحنامہ منٹگمری ہی کو دستاویز بنایا اگر تحصیل منچن آباد میں دونوں بھائیوں نے یوں بلا عذر ان کے نام انتقال تسلیم کرلیا ہو تو سب سے زیادہ بنائے کا ر اسی پر رکھنی تھی نہ یہ کہ درخواست میں اس کا نام تك نہیں۔
(۲۶)صاحب افسر مال فقرہ نمبر۱۰میں اپنے یہاں کے محکموں کے سخت شاکی ہیں اور وہاں کے انتقالات کو بہت سنگلاخ دشوار گزارراہ بتاتے ہیں مگر سختیاں وہیں پیش آتی ہیں جہاں منازعت ہو مزاحمت ہوکیا اس کی کوئی نظیہر بتائی جاسکتی ہے کہ فریقین راضی نامہ کرلیں ایك فریق
اس کا اجرا چاہے دوسرا بلا عذر قبول کرلے باینہمہ بار بار کی تحریکوں کے بعد سولہ سال تك معاملہ ہنوز روز اول رہے یہ اسی امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر واقع ہو تو اس قدر ہوگا کہ پیر بدر الدین نے جھگڑا کاٹنے کےلئے علاقہ انگریزی کی تھوڑی جائداد سے چھوٹا حصہ رسمی طور کا جیسا مصالحتوں میں ہوتا ہےنہ جدی حصہ جیسا برا بر کے بھائیوں کو دیا جاتا ہے مدعیوں کو دینا گوارا کیاپیر سراج الدین نے بھی اس پر سکوت کیا مگر ریاست کی جائداد نہ کبھی دینی چاہی نہ اس میں مزاحمت ترك کی نہ مدعیوں کے پاس کوئی کافی ثبوت تھا وہ ارادہ کرتے تھے اور بیٹھ رہتے تھے تحصیل منچن آباد میں درخواست دی اور حاضر نہ ہوئےبقول مدعیان محکمہ بندوبست کی ہدایت ہوئی اور وہاں نہ گئے اس کے بعد تحصیل میں پھر درخواست دی اور پیروی کو نہ آئے یہ سب قرائن ان کے بے اصلی دعوی کے ہیں اور کچھ بھی قرینہ نہ ہوتا تو بار ثبوت ان کے ذمہ تھا جس سے وہ آج تك سبکدوش نہ ہوئے بالجملہ اس کاغذ پنجم کی حالت سب سے زیادہ ردی ہے ثبوت میں اس کانام لینا شرع تو شرع عقل عرفی سے بھی میل نہیں رکھتا۔
کاغذ ششم نمبر ۱۱ تحریری نور الدین
(۲۷)نرے کاغذ کی بے اعتباری تو دلائل قاہرہ سے بار بار ہم ثابت کر آئے مگر یہ کاغذ ایك شہادت ہے کوئی فیصلہ نہیں کسی کاغذ محکمہ کی نقل نہیں کوئی تمسك نہیں جن میں کاغذی ثبوت برخالف اصول شرع آجکل قابل توجہ سمجے گئے ہیں جو کسی واقعہ کی شہادت ادا کرنا چاہے وہ ایك پرچہ پر لکھ کر کسی فریق کو دے دے اور فریق اسے محکمہ میں پیش کرے کہ یہ فلاں کا بیان ہے جس کے ساتھ اتنی شہادت بھی نہ ہو کہ فلاں نے ہمارے سامنے یہ کاغذ لکھا یہ دستخط اسی کے ہیں اس نےہمارے سامنے کئے محض فریق کے زبانی بیان پر وہ کاغذ شہادت میں لے لیا جائے ایسا تو شایدقانون و رواج میں بھی نہ ہوگا شرع کا حکم تو پہلے ہی سن چکے کہ بجوئے نخرند۔
(۲۸)صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹ میں مولوی نورالدین پیش کردہ مدعا علیہ کو یوں مشکوك ٹھہرایا کہ اس میں اہتمام کیا گیا ایك روپیہ کے کاغذ پر لکھائی گئی حالانکہ فریق مقدمہ جسے رواجا اپنی سند سمجھے اس میں رواجی استحکام کی کوشش کوئی منشاء شك نہیں ہوسکتی شاید اگرسادہ پرچہ لکھا ہوتا تو اس پر یہ شك ہوتا کہ کچے کاغذ کا کیا اعتبارمگر انصافا اگر شك جاتا ہے تو تحریر پیش کردہ مدعیان زیادہ محل ریب ہے نور الدین کی اپنے دل کی لکھی ہوئی اتنی ہی بات ہے جو اس نے تحریر اول میں لکھی کہ نکاح میں نے پڑھایا اور یہ دونوں وقت نکاح موجود تھے اگر اس وقت اس کے ذہن میں یہ ہوتا کہ میرے پڑھائے ہوئے نکاح
کاغذ ششم نمبر ۱۱ تحریری نور الدین
(۲۷)نرے کاغذ کی بے اعتباری تو دلائل قاہرہ سے بار بار ہم ثابت کر آئے مگر یہ کاغذ ایك شہادت ہے کوئی فیصلہ نہیں کسی کاغذ محکمہ کی نقل نہیں کوئی تمسك نہیں جن میں کاغذی ثبوت برخالف اصول شرع آجکل قابل توجہ سمجے گئے ہیں جو کسی واقعہ کی شہادت ادا کرنا چاہے وہ ایك پرچہ پر لکھ کر کسی فریق کو دے دے اور فریق اسے محکمہ میں پیش کرے کہ یہ فلاں کا بیان ہے جس کے ساتھ اتنی شہادت بھی نہ ہو کہ فلاں نے ہمارے سامنے یہ کاغذ لکھا یہ دستخط اسی کے ہیں اس نےہمارے سامنے کئے محض فریق کے زبانی بیان پر وہ کاغذ شہادت میں لے لیا جائے ایسا تو شایدقانون و رواج میں بھی نہ ہوگا شرع کا حکم تو پہلے ہی سن چکے کہ بجوئے نخرند۔
(۲۸)صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹ میں مولوی نورالدین پیش کردہ مدعا علیہ کو یوں مشکوك ٹھہرایا کہ اس میں اہتمام کیا گیا ایك روپیہ کے کاغذ پر لکھائی گئی حالانکہ فریق مقدمہ جسے رواجا اپنی سند سمجھے اس میں رواجی استحکام کی کوشش کوئی منشاء شك نہیں ہوسکتی شاید اگرسادہ پرچہ لکھا ہوتا تو اس پر یہ شك ہوتا کہ کچے کاغذ کا کیا اعتبارمگر انصافا اگر شك جاتا ہے تو تحریر پیش کردہ مدعیان زیادہ محل ریب ہے نور الدین کی اپنے دل کی لکھی ہوئی اتنی ہی بات ہے جو اس نے تحریر اول میں لکھی کہ نکاح میں نے پڑھایا اور یہ دونوں وقت نکاح موجود تھے اگر اس وقت اس کے ذہن میں یہ ہوتا کہ میرے پڑھائے ہوئے نکاح
سے پہلے خفیہ نکاح ہولیا تھا تو وہ ضرور اسے ذکر کرتا یا کم از کم ایسا لفظ نہ لکھتا جو اس کے علم کے خلاف مدعیوں پر ناحق برا اثر ڈالتا مگر جب وہ تحریر دے چکا اور مدعیوں کو اس سے اپنا ضرر ظاہر ہوا تو تیسرے دن یہ دوسری تحریر پیدا کی گئی یا جس طرح ممکن ہو ا ایك عاجز مولوی سے لی گئی۔
(۲۹)نرے کاغذی ثبوت ماننے والوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ دونوں تحریریں مولوی نور الدین کی ہیں او اس نے یا تو پہلی تحریر میں اخفائے حق کیا او مدعا علیہ کی خاطر یا کسی طمع سے مدعیوں کو ضرر پہنچا نا چاہا یا دوسری تحریر میں خلاف حق بات بنائی اور مدعیوں کے لحاظ خواہ کسی لالچ سے مدعا علیہ کو نقصان رسانی چاہی بہر حال اس کی شاہدت ساقط ہوگئی اور اس کی بات قابل التفات نہ رہی۔
(۳۰)بالجملہ مدعیوں کا یہ کاغذ پیش کرنا ان کو نافع تو کچھ نہ ہوا مگر ان کے ضرر کا دروازہ کھول گیا اسی کاغذ سے ظاہر ہوگیا کہ وہ اپنی ماں کے نکاح مشہور کے وقت اپنا موجود ہونا تسلیم کرتے ہیں اور اس لاعلاج مرض کا یوں مداوا چاہتے ہیں کہ نور الدین کہتاتھاکہ پیر صدر الدین نے کہا تھا کہ ایك نکاح خفیہ دعو گواہوں کے سامنے پہلے ہولیا تھا نکاح مشہور کے وقت ان کا موجود نہ ہونا تو یہ خودمان چکےرہا یہ کہ پہلے کوئی خفیہ نکاح ہوا تھا اس کا ثبوت دینا ان پر عائد ہو ا جس سے وہ آج تك عہدہ بر آنہ ہوئے عہدہ برآ نہ ہونا درکنار س کی طرف رخ بھی نہ کیا اور کیونکر رخ رکتےوہ جانتے تھے کہ اس کا چارہ ان کی قدرت میں نہیں کیافقط نور الدین کا بیان نکاح کو ثابت کردے گا کیا شرع میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ صرف ایك شاہد کے بیان اقرار سے نکاح ثابت ہوجائے تمام کتب اور خود قرآن عظیم میں تصریح ہے کہ کم از کم دو گواہوں کی ضرورت ہے و مدعیان نہ نکاح مشہور سے پیدا ہوئے نہ نکاح خفیہ ثابت کرسکے پھر کس بنا پر وارث بن بیٹھے۔
(۳۱)فرض کیجئے کہ نکاح خفیہ مان بھی لیا جائے تو اس کی کوئی مدت بیان میں نہ آئی کہ کب اور نکاح مشہور سے کتنا پہلے ہوا نورالدین نے صرف چند سال کہا جس کا صدق تین بلکہ اردو کا چند دوسال پر بھی ممکناور گواہ نکاح مولوی غلام قادر کا بیان ہے کہ نکاح مشہور کے وقت اﷲ بخش آٹھ سال اور الہی بخش چار برس کا تھا غرض اس قدر میں شك نہیں کہ حالت مبہم ہے اور تحریر مولوی نور الدین سے کچھ نہیں ثابت ہوسکتا کہ ان کی ولادت بعد نکاح خفیہ ہوئینہ اقرار پیر صدر الدین میں اس کا کچھ تذکرہصدرالدین نے اتنا ہی تو کہا کہ پہلے نکاح خفیہ کرچکا ہویہ کب کہا کہ مدعی اسی نکاح خفیہ سے پیدا ہیںمدعی درکنار اس نے نکاح خفیہ و مشہور کے بیچ میں اپنی کوئی اولاد ہونے کا اصلا ذکر نہ کیا پھر خفیہ نکاح سے مدعیوں کا پیر صدر الدین کی اولاد ہونا کیونکر ثابت ہوا عجب ہے کہ صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹ میں ایسے مہمل کاغذ کوجواب دندان شکن فرمایا جو انصافا خود اپنے پیش کرنے والے ہی کو ضرر رساں ہے۔
(۲۹)نرے کاغذی ثبوت ماننے والوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ دونوں تحریریں مولوی نور الدین کی ہیں او اس نے یا تو پہلی تحریر میں اخفائے حق کیا او مدعا علیہ کی خاطر یا کسی طمع سے مدعیوں کو ضرر پہنچا نا چاہا یا دوسری تحریر میں خلاف حق بات بنائی اور مدعیوں کے لحاظ خواہ کسی لالچ سے مدعا علیہ کو نقصان رسانی چاہی بہر حال اس کی شاہدت ساقط ہوگئی اور اس کی بات قابل التفات نہ رہی۔
(۳۰)بالجملہ مدعیوں کا یہ کاغذ پیش کرنا ان کو نافع تو کچھ نہ ہوا مگر ان کے ضرر کا دروازہ کھول گیا اسی کاغذ سے ظاہر ہوگیا کہ وہ اپنی ماں کے نکاح مشہور کے وقت اپنا موجود ہونا تسلیم کرتے ہیں اور اس لاعلاج مرض کا یوں مداوا چاہتے ہیں کہ نور الدین کہتاتھاکہ پیر صدر الدین نے کہا تھا کہ ایك نکاح خفیہ دعو گواہوں کے سامنے پہلے ہولیا تھا نکاح مشہور کے وقت ان کا موجود نہ ہونا تو یہ خودمان چکےرہا یہ کہ پہلے کوئی خفیہ نکاح ہوا تھا اس کا ثبوت دینا ان پر عائد ہو ا جس سے وہ آج تك عہدہ بر آنہ ہوئے عہدہ برآ نہ ہونا درکنار س کی طرف رخ بھی نہ کیا اور کیونکر رخ رکتےوہ جانتے تھے کہ اس کا چارہ ان کی قدرت میں نہیں کیافقط نور الدین کا بیان نکاح کو ثابت کردے گا کیا شرع میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ صرف ایك شاہد کے بیان اقرار سے نکاح ثابت ہوجائے تمام کتب اور خود قرآن عظیم میں تصریح ہے کہ کم از کم دو گواہوں کی ضرورت ہے و مدعیان نہ نکاح مشہور سے پیدا ہوئے نہ نکاح خفیہ ثابت کرسکے پھر کس بنا پر وارث بن بیٹھے۔
(۳۱)فرض کیجئے کہ نکاح خفیہ مان بھی لیا جائے تو اس کی کوئی مدت بیان میں نہ آئی کہ کب اور نکاح مشہور سے کتنا پہلے ہوا نورالدین نے صرف چند سال کہا جس کا صدق تین بلکہ اردو کا چند دوسال پر بھی ممکناور گواہ نکاح مولوی غلام قادر کا بیان ہے کہ نکاح مشہور کے وقت اﷲ بخش آٹھ سال اور الہی بخش چار برس کا تھا غرض اس قدر میں شك نہیں کہ حالت مبہم ہے اور تحریر مولوی نور الدین سے کچھ نہیں ثابت ہوسکتا کہ ان کی ولادت بعد نکاح خفیہ ہوئینہ اقرار پیر صدر الدین میں اس کا کچھ تذکرہصدرالدین نے اتنا ہی تو کہا کہ پہلے نکاح خفیہ کرچکا ہویہ کب کہا کہ مدعی اسی نکاح خفیہ سے پیدا ہیںمدعی درکنار اس نے نکاح خفیہ و مشہور کے بیچ میں اپنی کوئی اولاد ہونے کا اصلا ذکر نہ کیا پھر خفیہ نکاح سے مدعیوں کا پیر صدر الدین کی اولاد ہونا کیونکر ثابت ہوا عجب ہے کہ صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹ میں ایسے مہمل کاغذ کوجواب دندان شکن فرمایا جو انصافا خود اپنے پیش کرنے والے ہی کو ضرر رساں ہے۔
(۳۲)ثالث صاحبان او صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹و ۲۱میں یہ تو لکھا کہ صحت نکاح کے لئے دو گواہ کافی ہیں اس قدر سے اعلان ہوجاتا ہےبیشك ہوجاتا ہے اور ضرور کافی ہیں مگر اس طرف کسی صاحب نے توجہ نہ فرمائی کہ دو گواہوں کے سامنے ہونے کا ثبوت بھی تو درکار ہے یا بلاثبوت رجما بالغیب مان لیاجائےگا کیا ان گواہوں نے خود آکر ثالثوں یا صاحب افسر مال کے سامنے شہادت دیکیا انہوں نے اپنی شہادت پر دو شاہدعدل اپنے نائب کرکے بھیجے اور انہوں نے بمراعات شرائط شرعیہ شہادۃ علی الشہادۃ اد اکی یا کیاہوا کچھ بھی نہ ہو ا دو گواہ ہونے کاثبوت کیا ہے پیر صدر الدین کا اقراران کے اقرار کا ثبوت کا ہے مولوی نورالدین کا بیانان کے بیان کاثبوت کیا ہے ایك کاغذ میں کچھ حرف لکھے ہوئے ہیںاس کاغذ کا ثبوت کیا ہے صرف مدعیوں کا بیانتوحاصل یہ ٹھہراکہ نری مدعیوں کی زبان نکاح خفیہ کی گواہ ہے اور اسی کی بناء پر اسے مانا گیا ہے حالانکہ
باطل ست آنچہ مدعی گوید
(جو کچھ مدعی نے کہا ہے وہ باطل ہے۔ت)
ایسا ثبوت اگر مان لیا جائے تو نرے عرضی دعوی ہی پر کیوں نہ مدعیوں کو ڈگری دیا جایا کرے آخر وہ اس میں بھی تو کہا کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں ہمارا بیان سچا ہے غرض اس کاغذ کا سند میں نام لینا بھی شرعا عقلا عرفا کسی طرح کوئی معنی نہیں رکھتا۔ الحمدﷲ تمام کاغذی سندوں کے جواب سے فراغ پایا اور واضح ہوگیا کہ ان میں ایك پرچہ بھی قابل استناد نہیں۔اب امر ہفتم کی طرف چلئے۔
سند ہفتم شھادات
(۳۳)شہادتوں پر مولوی عطا محمد صاحب کا اعتراض بہت حق و بجا ہے فی الواقع شر ع مطہر نے حقو ق العباد میں لفظ اشھد یا اس کا ترجمہ کہ گواہی می دہم یا گواہی دیتاہوں رکن شہادت قرار دیا ہے بغیر اس کے ہر گز شہادت متحقق نہیں ہوسکتیخالی خبر ہوگی جو یہاں اصلا قابل التفات نہیںتمام کتب مذہب میں اس کی تصریح ہےہدایہ جلد دوم ص۱۰۱میں ہے:
ولابد فی ذلك کلہ من العدالۃ ولفظۃ الشہادۃ فان لم یذکر الشاھد لفظۃ الشھادۃ وقال اعلم او اتیقن لم تقبل شہادتہ ۔ ان سب میں عدالت اور لفظ شہادت ضروری ہے اگر گواہ نے لفظ شہادت نہ کہا اورمیں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے کہا تو شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت)
باطل ست آنچہ مدعی گوید
(جو کچھ مدعی نے کہا ہے وہ باطل ہے۔ت)
ایسا ثبوت اگر مان لیا جائے تو نرے عرضی دعوی ہی پر کیوں نہ مدعیوں کو ڈگری دیا جایا کرے آخر وہ اس میں بھی تو کہا کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں ہمارا بیان سچا ہے غرض اس کاغذ کا سند میں نام لینا بھی شرعا عقلا عرفا کسی طرح کوئی معنی نہیں رکھتا۔ الحمدﷲ تمام کاغذی سندوں کے جواب سے فراغ پایا اور واضح ہوگیا کہ ان میں ایك پرچہ بھی قابل استناد نہیں۔اب امر ہفتم کی طرف چلئے۔
سند ہفتم شھادات
(۳۳)شہادتوں پر مولوی عطا محمد صاحب کا اعتراض بہت حق و بجا ہے فی الواقع شر ع مطہر نے حقو ق العباد میں لفظ اشھد یا اس کا ترجمہ کہ گواہی می دہم یا گواہی دیتاہوں رکن شہادت قرار دیا ہے بغیر اس کے ہر گز شہادت متحقق نہیں ہوسکتیخالی خبر ہوگی جو یہاں اصلا قابل التفات نہیںتمام کتب مذہب میں اس کی تصریح ہےہدایہ جلد دوم ص۱۰۱میں ہے:
ولابد فی ذلك کلہ من العدالۃ ولفظۃ الشہادۃ فان لم یذکر الشاھد لفظۃ الشھادۃ وقال اعلم او اتیقن لم تقبل شہادتہ ۔ ان سب میں عدالت اور لفظ شہادت ضروری ہے اگر گواہ نے لفظ شہادت نہ کہا اورمیں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے کہا تو شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الشہادۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۵€
اسی میں ہے:
امالفظۃ الشہادۃ فلان النصوص نطقت باشتراطہا اذا الامر فیہا بھذہ اللفظۃ ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین(کقولہ اشھد باﷲ)فکان الامتناع عن الکذب بھذہ اللفظۃ اشد ۔ لفظ شہادت تو اس لئے کہ تمام نصوص نے اسکو شرط کہا ہے کیونکہ شہادت کا حکم اسی لفظ سے بیان ہوا ہے اور اس لئے کہ اس لفظ میں تاکید زیادہ ہے کیونکہ شاہد کا اشھد کہنایہ قسم کے الفاط میں سے ہے(جیسے اشھد باﷲ قسم ہے)لہذا اس لفظ میں جھوٹ سے امتناع زیادہ قوی ہے۔(ت)
فتح القدیر جلد ۶صفحہ ۱۰۰میں ہے:
وقد وقع الامر بلفظ الشہادۃ فی قولہ تعالی واقیمو الشہادۃ ﷲ وقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اذا رأیت مثل الشمس فاشھد فلزم لذلك لفظ الشہادۃ ۔ اﷲ تعالی کے ارشاد اقیمو الشہادۃ(شہادت قائم کرو)او رحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد اذ رأ یت مثل الشمس فاشھد (یعنی جب سورج کی مثل دیکھ لے تو شہادت دے)تو اس سے لفظ شہادت لازم ہوا کیونکہ یہاں لفظ شہادت سے حکم دیا گیا ہے۔ (ت)
فتاوی عالمگیریہ جلد ۳ صفحہ۴۵۰میں ہے:
واما رکنہا فلفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم ھکذا فی التبیین ۔ لیکن شہادت کا رکنتو لفظ اشھد بمعنی خبر ہے بمعنی قسم نہیں ہےتبیین میں یونہی ہے(ت)
اسی طرح بحرالرائق جلد ہفتم ص۶۱ میں ہےدرمختار وردالمحتار وقرۃ العیون کی عبارتیں فتوائے مولوی عطا محمد صاحب میں گزریں اور خود تکثیر عبارات کی کیا حاجت جبکہ علماء نے قرآن عظیم ہی کا نص اس پر ذکرفرمایا۔
(۳۴)صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں اس ناممکن الجواب اعتراض پر یہ اعتذار پیش کرنا کہ فقہاءنے لفظ اشھد کی شرط تو ضرور لگائی مگر اس کی علت یہی ہے کہ اشھد میں معنی قسم ہیں تو معنی قسم جس لفظ سے پورے کرلئے جائیں شرط حاصل ہو جائے گی سخت عجیب ہے جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ نماز
امالفظۃ الشہادۃ فلان النصوص نطقت باشتراطہا اذا الامر فیہا بھذہ اللفظۃ ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین(کقولہ اشھد باﷲ)فکان الامتناع عن الکذب بھذہ اللفظۃ اشد ۔ لفظ شہادت تو اس لئے کہ تمام نصوص نے اسکو شرط کہا ہے کیونکہ شہادت کا حکم اسی لفظ سے بیان ہوا ہے اور اس لئے کہ اس لفظ میں تاکید زیادہ ہے کیونکہ شاہد کا اشھد کہنایہ قسم کے الفاط میں سے ہے(جیسے اشھد باﷲ قسم ہے)لہذا اس لفظ میں جھوٹ سے امتناع زیادہ قوی ہے۔(ت)
فتح القدیر جلد ۶صفحہ ۱۰۰میں ہے:
وقد وقع الامر بلفظ الشہادۃ فی قولہ تعالی واقیمو الشہادۃ ﷲ وقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اذا رأیت مثل الشمس فاشھد فلزم لذلك لفظ الشہادۃ ۔ اﷲ تعالی کے ارشاد اقیمو الشہادۃ(شہادت قائم کرو)او رحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد اذ رأ یت مثل الشمس فاشھد (یعنی جب سورج کی مثل دیکھ لے تو شہادت دے)تو اس سے لفظ شہادت لازم ہوا کیونکہ یہاں لفظ شہادت سے حکم دیا گیا ہے۔ (ت)
فتاوی عالمگیریہ جلد ۳ صفحہ۴۵۰میں ہے:
واما رکنہا فلفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم ھکذا فی التبیین ۔ لیکن شہادت کا رکنتو لفظ اشھد بمعنی خبر ہے بمعنی قسم نہیں ہےتبیین میں یونہی ہے(ت)
اسی طرح بحرالرائق جلد ہفتم ص۶۱ میں ہےدرمختار وردالمحتار وقرۃ العیون کی عبارتیں فتوائے مولوی عطا محمد صاحب میں گزریں اور خود تکثیر عبارات کی کیا حاجت جبکہ علماء نے قرآن عظیم ہی کا نص اس پر ذکرفرمایا۔
(۳۴)صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں اس ناممکن الجواب اعتراض پر یہ اعتذار پیش کرنا کہ فقہاءنے لفظ اشھد کی شرط تو ضرور لگائی مگر اس کی علت یہی ہے کہ اشھد میں معنی قسم ہیں تو معنی قسم جس لفظ سے پورے کرلئے جائیں شرط حاصل ہو جائے گی سخت عجیب ہے جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ نماز
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الشہادۃ ∞مطبع یوسفی ۳/ ۱۵۵€
فتح القدیر کتاب الشہادات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۵۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۰€
فتح القدیر کتاب الشہادات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۵۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۰€
کے لئے شرع میں ہیئت تو ضرور مقرر ہے جس میں قیام و رکوع و سجود وقعود وغیرہا ارکان ہیں مگران سب سے مقصود تعطیم الہی ہے تو وہ جس طرح حاصل ہو نماز ادا ہوجائے گی کچھ ان ارکان کی ضرور نہیںشہادت میں لفظ اشھد شرط نہیں بلکہ فقہاء نے اسے رکن شہادت لکھا ہے جیسا کہ تبیین الحقائق وبحرالرائق وعالمگیریہ سے گزرا اور کوئی شے بغیر اپنے رکن کے متحق نہیں ہوسکتی۔
(۳۵)سخت عجب یہ ہے کہ کتابیں صاف تصریحیں کررہی ہیں اور کوئی لفظ اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتادرمختار سے گزرا:
ھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین ۔ یہ معنی اس کے غیرمیں مفقود ہے تو یہ متعین ہے۔(ت)
اسی طرح بحرالرائق جلد ۷ ص۶۱میں قرۃ العیون سے گزرا:لایقوم غیرھا مقامھا (دوسرا اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا ہے۔ت)بحرالرائق جلد ۷ ص۶۸ میں ہے:
شرط لجمیع انواعھا لفط اشھد بالمضارع فلا یقوم غیرہ مقامہ وقدمنا ان لفظہا رکن ۔ تمام اقسام شہادت میں لفظ اشھد مضارع ہے لہذا دوسرا لفظ اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا جبکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہی لفظ رکن ہے۔(ت)
پھر اس کا مطلب یہ ٹھہرانا کہ کچھ اس لفظ کی خصوصیت نہیں بالکل دن کو رات سے تفسیر کرنا ہوگا
(۳۶)یہ بھی محض غلط ہے کہ اس کی علت معنی قسم ہے بلکہ معانی کثیرہ کا اجتماع جن میں سے ایك معنی قسم بھی ہےدرمختارکی عبارت گزری:
لتضمنہ معنی مشاھدۃ وقسم واخبار للحال ۔ کہ مشاہدہ قسم اورحال کے معنی کو متضمن ہے۔(ت)
فتح القدیر جلد ۶ صفحہ ۱۱میں ہے:
(۳۵)سخت عجب یہ ہے کہ کتابیں صاف تصریحیں کررہی ہیں اور کوئی لفظ اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتادرمختار سے گزرا:
ھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین ۔ یہ معنی اس کے غیرمیں مفقود ہے تو یہ متعین ہے۔(ت)
اسی طرح بحرالرائق جلد ۷ ص۶۱میں قرۃ العیون سے گزرا:لایقوم غیرھا مقامھا (دوسرا اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا ہے۔ت)بحرالرائق جلد ۷ ص۶۸ میں ہے:
شرط لجمیع انواعھا لفط اشھد بالمضارع فلا یقوم غیرہ مقامہ وقدمنا ان لفظہا رکن ۔ تمام اقسام شہادت میں لفظ اشھد مضارع ہے لہذا دوسرا لفظ اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا جبکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہی لفظ رکن ہے۔(ت)
پھر اس کا مطلب یہ ٹھہرانا کہ کچھ اس لفظ کی خصوصیت نہیں بالکل دن کو رات سے تفسیر کرنا ہوگا
(۳۶)یہ بھی محض غلط ہے کہ اس کی علت معنی قسم ہے بلکہ معانی کثیرہ کا اجتماع جن میں سے ایك معنی قسم بھی ہےدرمختارکی عبارت گزری:
لتضمنہ معنی مشاھدۃ وقسم واخبار للحال ۔ کہ مشاہدہ قسم اورحال کے معنی کو متضمن ہے۔(ت)
فتح القدیر جلد ۶ صفحہ ۱۱میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۶
بحرالرائق کتاب الشہادات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۶۲
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۶
بحرالرائق کتاب الشہادات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۶۲
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰
لفظۃ الشہادۃ اقوی فی افادۃ تاکید متعلقھا من غیرھا من الالفاظ کا علم واتیقن لما فیہا من اقتضاء معنی المشاھدۃ والمعاینۃ التی مرجعھاالحس ۔ شہادت کا لفظ اپنے متعلق کی تاکید میں دوسرے ہم معنی الفاط کی نسبت اقوی ہے جیسے کہ لفظمیں جانتا ہوں مجھے یقین ہےکہ مقابلہ میںکیونکہ شہادت کا لفظ مشاہدہ اور معاینہ جس کا مرجع حس ہےکو چاہتا ہے۔(ت)
بلکہ عالمگیری سے گزرا کہ اشھد بمعنی خبررکن ہے نہ بمعنی قسم۔
(۳۷)یہ بھی ہر گز مسلم نہیں کہ کچہریوں میں حلف کے معنی پورے کرا لئے جاتے ہیں کہیں یہ کہلوایا جاتا ہے سچ کہوں گا خدا میری مدد کرےکہیں یوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہوں گا ان الفاط کو یمین سے کچھ تعلق نہیں اور اگر وہی لفظ کہلوائے جائیں جو صاحب افسر مال نے لکھے کہ خدا کی قسم میں سچ کہوں گا تو یہ یمین منعقدہ ہوئی یعنی آئندہ کی نسبت جس کے خلاف کرنے پر پندرہ سیر گیہوں یاتین روزوں میں کام نکل سکتا ہے بخلاف اشھد کہ اس میں یمین غموس ہے کہ سلطنت ہفت اقلیم یا لاکھ روزے بھی اس کا کفارہ نہیں ہوسکتے تو اس میں اس کے معنی کا ادا ہوجانا کیونکر ممکن۔
(۳۸)دوسرالفظ صاحب افسر مال نے یہ لکھا کہ خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر شہادت دوں گا یہ بھی ایك وعدہ ہے جو کسی اشھد کے معنی پورے نہیں کرسکتاعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ شہادت بلفظ مضارع بمعنی حال لازم ہے درمختارسے ابھی گزرا واخبار للحال (حال کی خبر دینا ہے۔ت)ردالمحتار ج ۴ص۵۷۳میں ہے:
فلو قال شھدت لایجوز لان الماضی موضوع للاخبار عماوقع فیکون غیر مخبر فی الحال ۔ اگر اس نے"شھدت"بلفظ ماضی کہا تو ناجائز ہے کیونکہ ماضی گزشتہ واقعہ کی خبر کے لئے وضع کیا گیا ہے تو یہ ماضیحال کی خبر نہ دے گا۔(ت)
جب صیغہ ماضی معتبر نہ ہوا جو یمین میں مثل صیغہ حال ہے حلفت باﷲ اور احلف باﷲ کاایك ہی حکم ہے توشہادت دوں گا صیغہ استقبال کیا حیثیت رکھتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگاکہ یہ قسم کھاؤں گا
بلکہ عالمگیری سے گزرا کہ اشھد بمعنی خبررکن ہے نہ بمعنی قسم۔
(۳۷)یہ بھی ہر گز مسلم نہیں کہ کچہریوں میں حلف کے معنی پورے کرا لئے جاتے ہیں کہیں یہ کہلوایا جاتا ہے سچ کہوں گا خدا میری مدد کرےکہیں یوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہوں گا ان الفاط کو یمین سے کچھ تعلق نہیں اور اگر وہی لفظ کہلوائے جائیں جو صاحب افسر مال نے لکھے کہ خدا کی قسم میں سچ کہوں گا تو یہ یمین منعقدہ ہوئی یعنی آئندہ کی نسبت جس کے خلاف کرنے پر پندرہ سیر گیہوں یاتین روزوں میں کام نکل سکتا ہے بخلاف اشھد کہ اس میں یمین غموس ہے کہ سلطنت ہفت اقلیم یا لاکھ روزے بھی اس کا کفارہ نہیں ہوسکتے تو اس میں اس کے معنی کا ادا ہوجانا کیونکر ممکن۔
(۳۸)دوسرالفظ صاحب افسر مال نے یہ لکھا کہ خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر شہادت دوں گا یہ بھی ایك وعدہ ہے جو کسی اشھد کے معنی پورے نہیں کرسکتاعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ شہادت بلفظ مضارع بمعنی حال لازم ہے درمختارسے ابھی گزرا واخبار للحال (حال کی خبر دینا ہے۔ت)ردالمحتار ج ۴ص۵۷۳میں ہے:
فلو قال شھدت لایجوز لان الماضی موضوع للاخبار عماوقع فیکون غیر مخبر فی الحال ۔ اگر اس نے"شھدت"بلفظ ماضی کہا تو ناجائز ہے کیونکہ ماضی گزشتہ واقعہ کی خبر کے لئے وضع کیا گیا ہے تو یہ ماضیحال کی خبر نہ دے گا۔(ت)
جب صیغہ ماضی معتبر نہ ہوا جو یمین میں مثل صیغہ حال ہے حلفت باﷲ اور احلف باﷲ کاایك ہی حکم ہے توشہادت دوں گا صیغہ استقبال کیا حیثیت رکھتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگاکہ یہ قسم کھاؤں گا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الشہادات المکتبۃ النوریۃ الرضویہ ∞سکھر ۶/ ۴۵۶€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
ردالمختار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
ردالمختار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
کیا اس کہنے سے قسم ہوجاتی ہے یا جھوٹ سے باز رہ سکتا ہے۔
(۳۹)اور اصل حقیقت امر یہ ہےکہ تعین لفظ اشھد میں جو علتیں توجیہیں بیان میں آئیں از قبیل نکات و لطائف ہیں وہ ایك حکم تعبدی ہے یعنی شرع مطہر نے خاص اسی لفظ کو معین فرمادیا تو اب اس سے تجاوز جائز نہیں ردالمحتار جلد ۴ص۵۷۳ وبحر الرائق جلد ۷ص۶۰۔۶۱میں ہے:
اقتصر علیہ اتباعا للماثور ولایخلو عن معنی التعبد اذلم ینقل غیرہ ۔ اس نے اس پر اقتصار کیامنقول و ماثور کی پیروی کرتے ہوئے جبکہ یہ تعبد کے معنی سے خالی نہیںاور اس کا غیر منقول نہیں۔(ت)
تو اس کی علت تلاش کرنا اور اس کا دوسری جگہ اجرا چاہنا سرے سے باطل ہوگیاان تقریرات سے آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ ہندہ کچہریوں میں جہاں لفط اشھد نہیں کہلواتے اور ان بے معنی الفاظ مذکورہ یا ان کے امثال سے حلف لیتے ہیں وہ زنہار اصول شرع سے مطابقت نہیں کھاسکتا ہےشیئ اگر اپنی ضد سے مکمل ہوسکتی ہودن کی اگر رات سے تکمیل ہوسکتی ہو تو ان الفاط میں اصول شرع کو مکمل سمجھ سکیںانگریزی وہندی کچہریوں میں مثبت سمجھے ہوئے دعوے اگر شرعا غیر مثبت ٹھہریں تو کیااستحالہ ہے بلکہ اصول شرع کے اتباع نہ کرنے سے شرعا ان کا غیر مثبت ہونا خود ہی لازمنہ یہ کہ ان کو مثبت بنانے کےلئے اصول شرع تبدیل کردئیے جائیںیہاں کی کچہریوں میں کفار کی گواہیاں مسلمانوں پر عموما سنی جاتی ہے اور ان پر فیصلے ہوتے ہیں او روہ دعوے مثبت ٹہرائے جاتے ہیں اسے کون سے اصول شرع سے تطبیق دی جائے گی حالانکہ رب العزت جل وعلا فرماتا ہے:
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ اﷲ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔(ت)
خو د صاحب افسر اپنے اسی فیصلہ فقرہ نمبر ۱۳ میں فرماتے ہیں:"قبضہ کی باتب ریلا رام پیشکار اور غلام حیدر خاں پیشکار کی شہادت شامل مسل ہے اور ان کی شہادت سے ثابت ہے کہ قبضۃ رہا پس دو معزز راہلکاروں کی شہادت معتبر شہادت ہے ہمارا فرض ہے کہ اس کو قبول کریں اور یقین کے ساتھ قبول کریں"حالانکہ شرع مطہر اسے حرام بتاتی ہے فاسق کی نسبت تو ارشاد ہوا:
" یایہا الذین امنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا
(۳۹)اور اصل حقیقت امر یہ ہےکہ تعین لفظ اشھد میں جو علتیں توجیہیں بیان میں آئیں از قبیل نکات و لطائف ہیں وہ ایك حکم تعبدی ہے یعنی شرع مطہر نے خاص اسی لفظ کو معین فرمادیا تو اب اس سے تجاوز جائز نہیں ردالمحتار جلد ۴ص۵۷۳ وبحر الرائق جلد ۷ص۶۰۔۶۱میں ہے:
اقتصر علیہ اتباعا للماثور ولایخلو عن معنی التعبد اذلم ینقل غیرہ ۔ اس نے اس پر اقتصار کیامنقول و ماثور کی پیروی کرتے ہوئے جبکہ یہ تعبد کے معنی سے خالی نہیںاور اس کا غیر منقول نہیں۔(ت)
تو اس کی علت تلاش کرنا اور اس کا دوسری جگہ اجرا چاہنا سرے سے باطل ہوگیاان تقریرات سے آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ ہندہ کچہریوں میں جہاں لفط اشھد نہیں کہلواتے اور ان بے معنی الفاظ مذکورہ یا ان کے امثال سے حلف لیتے ہیں وہ زنہار اصول شرع سے مطابقت نہیں کھاسکتا ہےشیئ اگر اپنی ضد سے مکمل ہوسکتی ہودن کی اگر رات سے تکمیل ہوسکتی ہو تو ان الفاط میں اصول شرع کو مکمل سمجھ سکیںانگریزی وہندی کچہریوں میں مثبت سمجھے ہوئے دعوے اگر شرعا غیر مثبت ٹھہریں تو کیااستحالہ ہے بلکہ اصول شرع کے اتباع نہ کرنے سے شرعا ان کا غیر مثبت ہونا خود ہی لازمنہ یہ کہ ان کو مثبت بنانے کےلئے اصول شرع تبدیل کردئیے جائیںیہاں کی کچہریوں میں کفار کی گواہیاں مسلمانوں پر عموما سنی جاتی ہے اور ان پر فیصلے ہوتے ہیں او روہ دعوے مثبت ٹہرائے جاتے ہیں اسے کون سے اصول شرع سے تطبیق دی جائے گی حالانکہ رب العزت جل وعلا فرماتا ہے:
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ اﷲ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔(ت)
خو د صاحب افسر اپنے اسی فیصلہ فقرہ نمبر ۱۳ میں فرماتے ہیں:"قبضہ کی باتب ریلا رام پیشکار اور غلام حیدر خاں پیشکار کی شہادت شامل مسل ہے اور ان کی شہادت سے ثابت ہے کہ قبضۃ رہا پس دو معزز راہلکاروں کی شہادت معتبر شہادت ہے ہمارا فرض ہے کہ اس کو قبول کریں اور یقین کے ساتھ قبول کریں"حالانکہ شرع مطہر اسے حرام بتاتی ہے فاسق کی نسبت تو ارشاد ہوا:
" یایہا الذین امنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ البحرا لرائق کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
بجہلۃ فتصبحوا علی ما فعلتم ندمین ﴿۶﴾ " نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔(ت)
نہ کہ کفار والعیاذ باﷲ العزیز الغفار۔
(۴۰)صاحب افسر مال فقرہ نمبر۸ میں اس شہادت مدعیان کو متواتر حقیقی بناتے ہیں کہ"یہ شہادت تو اتر تك پہنچ چکی ہے جس کے خلاف ہونے کا احتمال نہیں"اور عجب یہ کہ مدعیوں کے تیس گواہ کے مقابل مدعا علیہ کے پینتالیس گواہوں کو لفظ"چند کس"سے تعبیر فرماتے ہیں جس کی انتہا نو تك ہے یہ مجمل جرح کہ وہ یا اجیرہیں یا اس فریق کے جتھے والےہر طرف کے گواہوں پر ہوسکتی ہے جو ان میں معزز ہوئے ان پر طرفداری اور باقیوں کو اجورہ داری کا الزام لگا دینا کیا دشوار ہےان الزامات کی راہ تو شرع مطہر نے گواہوں میں عادل ہونے کی شرط لگا کر بند فرمائی تھی جب یہ شرط اٹھ گئی بلکہ گواہ کے مسلمان ہونے کی بھی قید نہ رہی تو ہر گونہ الزام آسان ہے جس میں دونوں فریق کی حالت یکساں ہے بلکہ اس نوٹ کی بناء پر جو صاحب افسر مال نے اپنے آخر فیصلہ میں دیا جس میں مدعیوں کو اخلاقا و عادۃ مدعاعلیہ سے بہت بہتر بتایا اور مدعا علیہ کو چلباز کمینہ کا آدمی شریر وغیرہا الفاط سخیفسے یاد فرمایا احتمال طرفداری گواہان مدعیان کی طرف زیادہ قائم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ خوش اخلاق و نکوسیر آدمی کا جتھا بھاری ہوتا ہےمکار شریر چالباز سے لوگ نفرت کرتے ہیں اگرچہ لطافت علی صاحب تحصیلدار نے جو تحقیقات موقع لکھی وہ اس کا عکس ظاہر کرتے ہیں اور عمزز خاندان چشتیاں کو مدعیوں سے نفرت بتاتے ہیں بہر حال یہ زائد وخارج از بحث باتیں ہیںکلام اس میں ہے کہ وہ تواتر جس میں خلاف کا احتمال بھی نہ رہے اس کے یہ معنی نہیں جسمیں فریقین کے انتخاب کوکوئی دخل ہو ہر فریق اپنی مرضی کے گواہ چھانٹ چھانٹ کر اسم نویسی کرائے یہ تیس بتائے وہ پینتالیس لے آئے بلکہ تواتر کے یہ معنی ہیں کہ وہاں کے تمام لوگ چھوٹے بڑے عالم جاہل سب اس امر سے واقف ہوںعام لوگ یك زبان و متفق اللسان ایك ہی بات کہیں۔فتاوی عالمگیری جلد ۳ ص۱۵۲ میں اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ:
ان تاتی العامۃ وتشھد بذلك فیؤخذ بشہادتھم کذافی الذخیرۃ ۔ اگر عام لوگ یہی بات کہیں اور یہی شہادت دیں تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی جیسا کہ ذخیرہ میں ہے(ت)
نہ کہ کفار والعیاذ باﷲ العزیز الغفار۔
(۴۰)صاحب افسر مال فقرہ نمبر۸ میں اس شہادت مدعیان کو متواتر حقیقی بناتے ہیں کہ"یہ شہادت تو اتر تك پہنچ چکی ہے جس کے خلاف ہونے کا احتمال نہیں"اور عجب یہ کہ مدعیوں کے تیس گواہ کے مقابل مدعا علیہ کے پینتالیس گواہوں کو لفظ"چند کس"سے تعبیر فرماتے ہیں جس کی انتہا نو تك ہے یہ مجمل جرح کہ وہ یا اجیرہیں یا اس فریق کے جتھے والےہر طرف کے گواہوں پر ہوسکتی ہے جو ان میں معزز ہوئے ان پر طرفداری اور باقیوں کو اجورہ داری کا الزام لگا دینا کیا دشوار ہےان الزامات کی راہ تو شرع مطہر نے گواہوں میں عادل ہونے کی شرط لگا کر بند فرمائی تھی جب یہ شرط اٹھ گئی بلکہ گواہ کے مسلمان ہونے کی بھی قید نہ رہی تو ہر گونہ الزام آسان ہے جس میں دونوں فریق کی حالت یکساں ہے بلکہ اس نوٹ کی بناء پر جو صاحب افسر مال نے اپنے آخر فیصلہ میں دیا جس میں مدعیوں کو اخلاقا و عادۃ مدعاعلیہ سے بہت بہتر بتایا اور مدعا علیہ کو چلباز کمینہ کا آدمی شریر وغیرہا الفاط سخیفسے یاد فرمایا احتمال طرفداری گواہان مدعیان کی طرف زیادہ قائم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ خوش اخلاق و نکوسیر آدمی کا جتھا بھاری ہوتا ہےمکار شریر چالباز سے لوگ نفرت کرتے ہیں اگرچہ لطافت علی صاحب تحصیلدار نے جو تحقیقات موقع لکھی وہ اس کا عکس ظاہر کرتے ہیں اور عمزز خاندان چشتیاں کو مدعیوں سے نفرت بتاتے ہیں بہر حال یہ زائد وخارج از بحث باتیں ہیںکلام اس میں ہے کہ وہ تواتر جس میں خلاف کا احتمال بھی نہ رہے اس کے یہ معنی نہیں جسمیں فریقین کے انتخاب کوکوئی دخل ہو ہر فریق اپنی مرضی کے گواہ چھانٹ چھانٹ کر اسم نویسی کرائے یہ تیس بتائے وہ پینتالیس لے آئے بلکہ تواتر کے یہ معنی ہیں کہ وہاں کے تمام لوگ چھوٹے بڑے عالم جاہل سب اس امر سے واقف ہوںعام لوگ یك زبان و متفق اللسان ایك ہی بات کہیں۔فتاوی عالمگیری جلد ۳ ص۱۵۲ میں اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ:
ان تاتی العامۃ وتشھد بذلك فیؤخذ بشہادتھم کذافی الذخیرۃ ۔ اگر عام لوگ یہی بات کہیں اور یہی شہادت دیں تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی جیسا کہ ذخیرہ میں ہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۱۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۱۴€
نیز اسی کے صفحہ ۱۵۳ پر اس کی تشریح یوں فرمائی:
کونہ ظاھرا مستفیضا یعرفہ کل صغیر و کبیر وکل عالم و جاہل کذافی الذخیرۃ ۔ اس کے ظاہر مستفیض ہونے کی وجہ سے کہ اس کو ہر بڑا چھوٹا عالم اور جاہل جانتا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہاں ایسا نہیںفہرست گواہان کے ملاحظہ سے ظاہر ہے کہ ایك ہی خاندان کے لوگ مدعی کے گواہ ہیں کچھ لوگ مدعا علیہ کےایك ہی بستی کہ کچھ لوگ ادھر کے شاہد ہیں کچھ لوگ ادھر کےایك بھائی ادھر کا گواہ تو دوسرا حقیقی بھائی دوسری طرف کا۔بھانجا مدعیوں کا گواہ ہے تو ماموں مدعا علیہ کا۔تواتر حقیقی کی صورت ہوتی تو معاملہ بدیہیات سے ہوجاتا کہ متواترات اقسام بدیہی سے ہیں اور بدیہی پر دلیل قائم کرنا بے معنیتو صاحب افسر مال کو اپنا فیصلہ میں ۷ نمبر ابتدائی کے علاوہ کہ متعلق واقعات ہیں اکیس نمبر بحث کے کیوں لکھنے پڑتے یا ادھر تو اتر ہوجاتا تو ہم کو ۲۱ کے مقابل ۴۲نمبر لکھنے کی کیا ضرورت ہوتی۔ بزازیہ اور قرۃ العیون ج ۴ص۶۰۰ میں ہے:
فی المحیط ان تواتر عندالناس وعلم الکل یقضی بفراغ ذمتہ لانہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ والضروریات ممالم یدخلھا شك اھ۔ محیط میں ہے اگر لوگوں میں تواتر ہے اور سب جانتے ہیں تو اس کے ذمہ کی فراغت کاحکم کردیا جائے گا کیونکہ یہ بدیہی طور پر ثابت ہے اور اسے نہ ماننے پر ضروری معلوم شدہ کی تکذیب لازم آئے گی جبکہ ضروری بدیہی امور میں شك کا دخل نہیں ہوسکتا۔(ت)
(۴۱)اگر ۳۰گواہ ہونے کے سبب شہادت مدعیان متواتر ہوگئی تو شہادت مدعاعلیہ بدرجہ اولی متواتر ہوگی کہ اس کے ۴۵ گواہ ہیں اور اب وہ اعتراض جو ثالثوں اور مجوز نے فقرہ نمبر۲۲ میں اس پر کیا کہ وہ شہادت نفی ہے اور نفی پر شہادت مقبول نہیں باطل ہوجائے گا کہ شہادت جب متواتر ہو یقینا مقبول ہے اگرچہ نفی پر ہو۔فتاوی ظہیریہ وفتاوی بزازیہ واشباہ والنظائر صفحہ ۲۱۴ میں ہے: تقبل بینۃ النفی المتواتر (نفی پر متواتر بات کو بطور دلیل قبول کیا جائیگا۔ت) درمختار جلد ۲ص۶۰۰میں ہے:
شہادۃ النفی المتواتر مقبول ۔ متواتر نفی کو شہادت کے طور قبول کیا جائے گا۔(ت)
(۴۲)بحمد اﷲتعالی آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ ثالثوں نے جتنی سندوں پر بنائے فیصلہ رکھی سب محض ناکارہ و بے اعتبار ہیںروئداد مسل مدعیوں کا نسب اصلا ثابت نہیں کرتی سخت محل افسوس یہ ہے کہ ثالث صاحبوں نے خود یہ سمجھ لیا تھا کہ مسل کے موجودہ کاغذات وشہادات ناکافی ہیں اور بے تحقیقات مزیدکے حقیقت معاملہ سمجھ میں نہیں آسکتیملاحظہ ہو رپورٹ ثالثان کاغذنمبر۲۰گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے ہیںیہاں ثالثوں نے روئداد مسل پر فیصلہ کرنے سے صاف صاف استعفا دے دیا یا باوصف اس کے بلا تحقیق جدید فیصلہ کیا اس سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ صاحب افسر مال خود موقع پر تحقیقات کےلئے تشریف لے گئے اور علاقہ کے تمام سر برآوردہ اشخاص اور چشتیوں کوطلب کیا مگر بے تحیقیقات جدیدکہ اسی کی شرعا ضرورت تھی معاملہ بربنائے روئداد ناکافی مسل سپرد ثالثان کرادیا۔دیکھو فیصلہ افسر فقرہ نمبر۲۴ میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کا اولاد پیر صدر الدین نہ ہونا ثابت ہے غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہے ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کا اولاد پیر صدر الدین ہو ثابت نہیں تمام کاغذات و شہادات موجودہ مسل ان کا نسب ثابت کرنے میں عاجز و قاصر ہیںان
کونہ ظاھرا مستفیضا یعرفہ کل صغیر و کبیر وکل عالم و جاہل کذافی الذخیرۃ ۔ اس کے ظاہر مستفیض ہونے کی وجہ سے کہ اس کو ہر بڑا چھوٹا عالم اور جاہل جانتا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہاں ایسا نہیںفہرست گواہان کے ملاحظہ سے ظاہر ہے کہ ایك ہی خاندان کے لوگ مدعی کے گواہ ہیں کچھ لوگ مدعا علیہ کےایك ہی بستی کہ کچھ لوگ ادھر کے شاہد ہیں کچھ لوگ ادھر کےایك بھائی ادھر کا گواہ تو دوسرا حقیقی بھائی دوسری طرف کا۔بھانجا مدعیوں کا گواہ ہے تو ماموں مدعا علیہ کا۔تواتر حقیقی کی صورت ہوتی تو معاملہ بدیہیات سے ہوجاتا کہ متواترات اقسام بدیہی سے ہیں اور بدیہی پر دلیل قائم کرنا بے معنیتو صاحب افسر مال کو اپنا فیصلہ میں ۷ نمبر ابتدائی کے علاوہ کہ متعلق واقعات ہیں اکیس نمبر بحث کے کیوں لکھنے پڑتے یا ادھر تو اتر ہوجاتا تو ہم کو ۲۱ کے مقابل ۴۲نمبر لکھنے کی کیا ضرورت ہوتی۔ بزازیہ اور قرۃ العیون ج ۴ص۶۰۰ میں ہے:
فی المحیط ان تواتر عندالناس وعلم الکل یقضی بفراغ ذمتہ لانہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ والضروریات ممالم یدخلھا شك اھ۔ محیط میں ہے اگر لوگوں میں تواتر ہے اور سب جانتے ہیں تو اس کے ذمہ کی فراغت کاحکم کردیا جائے گا کیونکہ یہ بدیہی طور پر ثابت ہے اور اسے نہ ماننے پر ضروری معلوم شدہ کی تکذیب لازم آئے گی جبکہ ضروری بدیہی امور میں شك کا دخل نہیں ہوسکتا۔(ت)
(۴۱)اگر ۳۰گواہ ہونے کے سبب شہادت مدعیان متواتر ہوگئی تو شہادت مدعاعلیہ بدرجہ اولی متواتر ہوگی کہ اس کے ۴۵ گواہ ہیں اور اب وہ اعتراض جو ثالثوں اور مجوز نے فقرہ نمبر۲۲ میں اس پر کیا کہ وہ شہادت نفی ہے اور نفی پر شہادت مقبول نہیں باطل ہوجائے گا کہ شہادت جب متواتر ہو یقینا مقبول ہے اگرچہ نفی پر ہو۔فتاوی ظہیریہ وفتاوی بزازیہ واشباہ والنظائر صفحہ ۲۱۴ میں ہے: تقبل بینۃ النفی المتواتر (نفی پر متواتر بات کو بطور دلیل قبول کیا جائیگا۔ت) درمختار جلد ۲ص۶۰۰میں ہے:
شہادۃ النفی المتواتر مقبول ۔ متواتر نفی کو شہادت کے طور قبول کیا جائے گا۔(ت)
(۴۲)بحمد اﷲتعالی آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ ثالثوں نے جتنی سندوں پر بنائے فیصلہ رکھی سب محض ناکارہ و بے اعتبار ہیںروئداد مسل مدعیوں کا نسب اصلا ثابت نہیں کرتی سخت محل افسوس یہ ہے کہ ثالث صاحبوں نے خود یہ سمجھ لیا تھا کہ مسل کے موجودہ کاغذات وشہادات ناکافی ہیں اور بے تحقیقات مزیدکے حقیقت معاملہ سمجھ میں نہیں آسکتیملاحظہ ہو رپورٹ ثالثان کاغذنمبر۲۰گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے ہیںیہاں ثالثوں نے روئداد مسل پر فیصلہ کرنے سے صاف صاف استعفا دے دیا یا باوصف اس کے بلا تحقیق جدید فیصلہ کیا اس سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ صاحب افسر مال خود موقع پر تحقیقات کےلئے تشریف لے گئے اور علاقہ کے تمام سر برآوردہ اشخاص اور چشتیوں کوطلب کیا مگر بے تحیقیقات جدیدکہ اسی کی شرعا ضرورت تھی معاملہ بربنائے روئداد ناکافی مسل سپرد ثالثان کرادیا۔دیکھو فیصلہ افسر فقرہ نمبر۲۴ میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کا اولاد پیر صدر الدین نہ ہونا ثابت ہے غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہے ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کا اولاد پیر صدر الدین ہو ثابت نہیں تمام کاغذات و شہادات موجودہ مسل ان کا نسب ثابت کرنے میں عاجز و قاصر ہیںان
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۱۵€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۴۱€
الاشباہ والنظائر بحوالہ ظہیریہ وبزازیہ الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۵۲€
درمختار کتاب الشہادات باب الفضول عدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
قرۃ عیون الاخیار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۴۱€
الاشباہ والنظائر بحوالہ ظہیریہ وبزازیہ الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۵۲€
درمختار کتاب الشہادات باب الفضول عدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
کا دعوی نامسموع ہونے کے لئے ثبوت عدم درکار نہیں عدم ثبوت کافی ہے اور وہ بلاشبہہ حاصللہذا دعوی مدعیان باطلیہاں اور ابحاث فقہیہ بھی باقی ہیں مگر جس قدر گزارش ہوا ذی انصاف متبع شرع کے لئے اس قدر بہت ہے۔وباﷲ التوفیقواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۵ تا ۱۰۱: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیرمحمد خان صاحب ۵شعبان ۱۳۲۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں میں زر مہر کا جھگڑا ہے ان دونوں شخصوں نے اہل اسلام کے دو شخصوں کو پنچ اور ایك کو سر پنچ اس جھگڑے کے فیصلے کے واسطے باقاعدہ بنادیاپنچان و سر پنچ صاحب نے بالاتفاق اپنی اور نیز اپنی جماعت کثیر اہل اسلام پابند صوم وصلوۃ سے ایك فیصلہ تجویز کردیافیصلہ سنانے کے قبل پنچان و سر پنچ ونیز دیگر شریك رائے اہل اسلام نے ہر دو فریق کو کہ جن کی جانب سے پنچ و سر پنچ بنائے گئے تھے یہ تجویز سنادی کہ جو فیصلہ ہم دو فریق کو سنادیں گے وہ تم دونوں کو بخوشی خاطر قبول و منظور ہوگا یانہیںاور اس فیصلہ میں خواہ کسی فریق کا کیسا ہی نقصان کثیر ہو وہ برداشت کرنا ہوگا ہر دو فریق نے نہایت رضامندی سے اس تجویز کو قبول اور منظور کا کیا اس کے بعد پنچان و سر پنچ صاحب نے بآواز بلند مجمع کثیر میں اس فیصلہ کو جو باہم نزاعی تھا سنایا ایك فرقہ نے اس کو منظور کرلیا اور ایك فرقہ نے اس کو نامنظور کیااب جس فرقہ نے اس کو نامنظور کیا تو ازروئے شرع شریف کے اس معاہدہ کی تکمیل جو بروقت فیصلہ سنانے کے ہر دو فریق سے منظور کرالی تھی اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں
(۲)دو شخصوں میں تبادلہ جائداد پر جھگڑا تھا ان دونوں شخصوں نے اس کے فیصلہ کے واسطے دو پنچ اور
مسئلہ ۹۵ تا ۱۰۱: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیرمحمد خان صاحب ۵شعبان ۱۳۲۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں میں زر مہر کا جھگڑا ہے ان دونوں شخصوں نے اہل اسلام کے دو شخصوں کو پنچ اور ایك کو سر پنچ اس جھگڑے کے فیصلے کے واسطے باقاعدہ بنادیاپنچان و سر پنچ صاحب نے بالاتفاق اپنی اور نیز اپنی جماعت کثیر اہل اسلام پابند صوم وصلوۃ سے ایك فیصلہ تجویز کردیافیصلہ سنانے کے قبل پنچان و سر پنچ ونیز دیگر شریك رائے اہل اسلام نے ہر دو فریق کو کہ جن کی جانب سے پنچ و سر پنچ بنائے گئے تھے یہ تجویز سنادی کہ جو فیصلہ ہم دو فریق کو سنادیں گے وہ تم دونوں کو بخوشی خاطر قبول و منظور ہوگا یانہیںاور اس فیصلہ میں خواہ کسی فریق کا کیسا ہی نقصان کثیر ہو وہ برداشت کرنا ہوگا ہر دو فریق نے نہایت رضامندی سے اس تجویز کو قبول اور منظور کا کیا اس کے بعد پنچان و سر پنچ صاحب نے بآواز بلند مجمع کثیر میں اس فیصلہ کو جو باہم نزاعی تھا سنایا ایك فرقہ نے اس کو منظور کرلیا اور ایك فرقہ نے اس کو نامنظور کیااب جس فرقہ نے اس کو نامنظور کیا تو ازروئے شرع شریف کے اس معاہدہ کی تکمیل جو بروقت فیصلہ سنانے کے ہر دو فریق سے منظور کرالی تھی اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں
(۲)دو شخصوں میں تبادلہ جائداد پر جھگڑا تھا ان دونوں شخصوں نے اس کے فیصلہ کے واسطے دو پنچ اور
ایك سر پنچ بنائےپنچ و سر پنچ صاحبان نے دونوں شخصوں سے چار چار ہزار روپیہ جمع کرالیا اور ایك جماعت کثیر اہل اسلام کے رو برو حلف شرعی وخدا و رسول کو درمیان و کلام مجید درمیان کرکے یہ وعدہ ہر دو شخصوں سے کرالیا کہ جو تم دونوں شخصوں میں سے ہمارا فیصلہ کیا ہوا نہ مانے گا ہم اس کا روپیہ ضرور دوسرے کو دے دیں گے ان دونوں شخصوں نے جن کی جائداد کا جھگڑا تھا اس بات کو قبول و منظور کرلیا ارو پختہ عہد و پیمان شرعی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اگر ہم میں سے جو کوئی فیصلہ کئے ہوئے کو نہ مانے اس کا روپیہ آپ دوسرے کو دیناہم کو یہ بات قبول و منظور ہےاب پنچان وسرپنچ صاحبان نے اپنا فیصلہ کیا ہو ا دونوں شخصوں کو سنایاایك نے منظور کرلیا اور ایك نے نہیں منظور کیاجس نے کہ نہیں منظور کیا اس کا روپیہ حسب وعدہ نیز پنچ یا سر پنچ صاحبان کے دوسرے کو دینا جائز ہے یانہیں
(۳)اگر کسی شخص کو پنچ یا سر پنچ کسی فیصلہ کےلیے بنایا جائے تو وہ صرف یکطرفیء شہادت و ثبوت خفیہ پر اپنی تجویز لکھ سکتا ہے یانہیں اورایسی تجویز جائز ہے یانہیں
(۴)اگر پنچ سر پنچ نے ایك فریق سےجو بوجہ طمع ناجائز کے ساز و اتفاق کرکے فریق دعوم کے خلاف فیصلہ دیا ہو تو ایسے شخصوں کا فیصلہ کیا ہوا ازروئے شرع جائز ہوگا یاناجائز
(۵)اگر کوئی شخص قرآن مجید ہاتھ میں لے کر قسم کھائے اور پھر اس قسم کے خلاف کرے تو ایسا شخص قابل قاضی وحاکم بنانے کے ہے یانہیں اور اس کا فیصلہ مانا جاسکتا ہے یانہیں
(۶)حاکم وقاضی کو شہادت لینا باقاعدہ ضرور ہے یانہیں یا صرف اس کا ذاتی علم فیصلہ کرنے کے واسطے جائز ہے یاناجائز
(۷)ازروئے شرع شریف کے رشوت لینا کیسا گناہ ہے اور رشوت لینے والا حاکم وقاضی و شاہد معتبر ہے یاغیرمعتبراس کا فیصلہ کیا ہوا قابل تسلیم ہے یانہیں
الجواب :
(۱)اگر فیصلہ مطابق شرع ہو ہر فریق کو ماننا لازم ہے اور باطل وخلاف شرع ہو تو کسی پر اس کی پابندی نہیں
قال اﷲ تعالی " ان الحکم الا للہ " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:حکم صرف اﷲ تعالی کا ہے۔(ت)
(۳)اگر کسی شخص کو پنچ یا سر پنچ کسی فیصلہ کےلیے بنایا جائے تو وہ صرف یکطرفیء شہادت و ثبوت خفیہ پر اپنی تجویز لکھ سکتا ہے یانہیں اورایسی تجویز جائز ہے یانہیں
(۴)اگر پنچ سر پنچ نے ایك فریق سےجو بوجہ طمع ناجائز کے ساز و اتفاق کرکے فریق دعوم کے خلاف فیصلہ دیا ہو تو ایسے شخصوں کا فیصلہ کیا ہوا ازروئے شرع جائز ہوگا یاناجائز
(۵)اگر کوئی شخص قرآن مجید ہاتھ میں لے کر قسم کھائے اور پھر اس قسم کے خلاف کرے تو ایسا شخص قابل قاضی وحاکم بنانے کے ہے یانہیں اور اس کا فیصلہ مانا جاسکتا ہے یانہیں
(۶)حاکم وقاضی کو شہادت لینا باقاعدہ ضرور ہے یانہیں یا صرف اس کا ذاتی علم فیصلہ کرنے کے واسطے جائز ہے یاناجائز
(۷)ازروئے شرع شریف کے رشوت لینا کیسا گناہ ہے اور رشوت لینے والا حاکم وقاضی و شاہد معتبر ہے یاغیرمعتبراس کا فیصلہ کیا ہوا قابل تسلیم ہے یانہیں
الجواب :
(۱)اگر فیصلہ مطابق شرع ہو ہر فریق کو ماننا لازم ہے اور باطل وخلاف شرع ہو تو کسی پر اس کی پابندی نہیں
قال اﷲ تعالی " ان الحکم الا للہ " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:حکم صرف اﷲ تعالی کا ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶ / ۵۷€
اور ماننے نہ ماننے پر کوئی خاص معاہدہ کرلیا ہو تو اس کی پابندی ضروری نہیں کہ ایك مہمل شرط ہے کوئی عقد شرعی نہیں۔
شرط اﷲ احق واوثق قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲتعالی کی شرط کردہ زیادہ پختہ اور قوی حق ہےیہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
(۲)وہ شرط حرام با طل تھی اور وہ روپیہ ہر ایك کو اس کا واپس دینا فرض اور دوسرے کو دینا حرام
قال اﷲتعالی" ولا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کے مال کو باطل طور پر مت کھاؤ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)شہادت شرع میں صرف مدعی سے لیجاتی ہے مدعا علیہ سے گواہ لینا کچھ ضرور نہیں اور گواہان قبول شرعی کے ساتھ اگر کسی خفیہ تحقیقات سے اطمینان کرلیا تو اس میں بھی حرج نہیں۔رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
البینۃعلی المدعی والیمین علی من انکر ۔رواہ الدار قطنی والبیہقی وابن عساکر عن عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال النووی سند البیھقی حسن وصحیح۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر پر ہے۔اس کو دار قطنی بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔امام نووی نے فرمایا:بیہقی کی سند حسن اور صحیح ہے۔(ت)
ہاں اگر حاکم نے خلاف شرع ناجائز ہے بے ضابطہ کارروائی کی تو وہ جس حد کی ناجائز ہوگی اس کے قابل اس پر حکم ہوگا سائل نے کوئی تفصیل نہ بیان کی کہ صورت خاصہ کا حکم دیا جاتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)اظہار سائل سے معلوم ہوا کہ طمع ناجائز سے مراد کچھ لے کر فیصلہ دینا ہے ایسا فیصلہ مطلقا مردود
شرط اﷲ احق واوثق قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲتعالی کی شرط کردہ زیادہ پختہ اور قوی حق ہےیہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
(۲)وہ شرط حرام با طل تھی اور وہ روپیہ ہر ایك کو اس کا واپس دینا فرض اور دوسرے کو دینا حرام
قال اﷲتعالی" ولا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " واﷲتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کے مال کو باطل طور پر مت کھاؤ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)شہادت شرع میں صرف مدعی سے لیجاتی ہے مدعا علیہ سے گواہ لینا کچھ ضرور نہیں اور گواہان قبول شرعی کے ساتھ اگر کسی خفیہ تحقیقات سے اطمینان کرلیا تو اس میں بھی حرج نہیں۔رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
البینۃعلی المدعی والیمین علی من انکر ۔رواہ الدار قطنی والبیہقی وابن عساکر عن عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال النووی سند البیھقی حسن وصحیح۔ گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر پر ہے۔اس کو دار قطنی بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔امام نووی نے فرمایا:بیہقی کی سند حسن اور صحیح ہے۔(ت)
ہاں اگر حاکم نے خلاف شرع ناجائز ہے بے ضابطہ کارروائی کی تو وہ جس حد کی ناجائز ہوگی اس کے قابل اس پر حکم ہوگا سائل نے کوئی تفصیل نہ بیان کی کہ صورت خاصہ کا حکم دیا جاتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)اظہار سائل سے معلوم ہوا کہ طمع ناجائز سے مراد کچھ لے کر فیصلہ دینا ہے ایسا فیصلہ مطلقا مردود
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
صحیح البخاری کتاب الرہن ∞۱/ ۲۴۲€ و جامع الترمذی ابواب الاحکام ∞۱/ ۱۶۰€ وسنن الدار قطنی ∞۴/ ۲۱۸،€السنن الکبری للبیہقی کتاب الدعوی البینات دارالفکر بیروت ∞۱۰/ ۲۵۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
صحیح البخاری کتاب الرہن ∞۱/ ۲۴۲€ و جامع الترمذی ابواب الاحکام ∞۱/ ۱۶۰€ وسنن الدار قطنی ∞۴/ ۲۱۸،€السنن الکبری للبیہقی کتاب الدعوی البینات دارالفکر بیروت ∞۱۰/ ۲۵۲€
وبے اعتبار ہے۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
اجمعوا انہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء نے اجماع کیا ہے کہ قاضی نے جس فیصلہ میں رشوت لی ہے وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۵)حلف کا حکم جواب سوال چہارم میں گزرااگر شرعا اس قسم کا خلاف اسے کرنا چاہئے تھا تو اس پر کچھ الزام نہیں اور وہ حاکم وقاضی بنائے جانے میں مخل نہیں اور اگر ناجائز تھا توایسے کو قاضی و حاکم نہ بنایا جائے اور اگر بنایا گیا تو اس کا فیصلہ اب بھی مانا جائے گا اگر مطابق شرع ہوفتح القدیر میں ہے:
ان الفسق لایوجب العزل فولایتہ قائمۃ وقضائہ بحق فلم لاینفذ واﷲتعالی اعلم۔ قاضی کا فسق موجب عزل نہیں تو اس کی ولایت قائم اور فیصلہ حق ہے تو کیونکر نافذ نہ ہو واﷲ تعالی اعلم (ت)
(۶)فتوی اس پر ہے کہ قاضی وحاکم کا ذاتی علم فیصلہ کے واسطے کافی نہیںنہ اسے اس پر فیصلہ دیناجائزاشباہ میں ہے:
الفتوی علی عدم العمل بعلم القاضی فی زماننا کما فی جامع الفصولین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے زمانہ میں آج فتوی یہ ہے کہ قاضی کے علم پر مبنی فیصلہ پر عمل جائز نہیں ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۷)رشوت لینا مطلقا گناہ کبیرہ ہے لینے والا حرامخوار ہے مستحق سخت عذاب نار ہےدینا اگر بمجبوری اپنے اوپر سے دفع ظلم کو ہو تو حرج نہیں اور اپناآتا وصول کرنے کو ہو تو حرام ہے اور لینے دینے والا دونوں جہنمی ہیں اور دوسرے کا حق دبانے یا اور کسی طرح ظلم کرنے کے لئے دے تو سخت تر حرام اور مستحق اشد غضب وانتقام ہے
فی وصایا الھندیۃ عن فتاوی الامام قاضیخاں ان بذل المال لاستخراج ہندیہ کے وصایا میں امام قاضی خاں کے فتاوی سے منقول ہے کہ دوسرے پر اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے
اجمعوا انہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فقہاء نے اجماع کیا ہے کہ قاضی نے جس فیصلہ میں رشوت لی ہے وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۵)حلف کا حکم جواب سوال چہارم میں گزرااگر شرعا اس قسم کا خلاف اسے کرنا چاہئے تھا تو اس پر کچھ الزام نہیں اور وہ حاکم وقاضی بنائے جانے میں مخل نہیں اور اگر ناجائز تھا توایسے کو قاضی و حاکم نہ بنایا جائے اور اگر بنایا گیا تو اس کا فیصلہ اب بھی مانا جائے گا اگر مطابق شرع ہوفتح القدیر میں ہے:
ان الفسق لایوجب العزل فولایتہ قائمۃ وقضائہ بحق فلم لاینفذ واﷲتعالی اعلم۔ قاضی کا فسق موجب عزل نہیں تو اس کی ولایت قائم اور فیصلہ حق ہے تو کیونکر نافذ نہ ہو واﷲ تعالی اعلم (ت)
(۶)فتوی اس پر ہے کہ قاضی وحاکم کا ذاتی علم فیصلہ کے واسطے کافی نہیںنہ اسے اس پر فیصلہ دیناجائزاشباہ میں ہے:
الفتوی علی عدم العمل بعلم القاضی فی زماننا کما فی جامع الفصولین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے زمانہ میں آج فتوی یہ ہے کہ قاضی کے علم پر مبنی فیصلہ پر عمل جائز نہیں ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۷)رشوت لینا مطلقا گناہ کبیرہ ہے لینے والا حرامخوار ہے مستحق سخت عذاب نار ہےدینا اگر بمجبوری اپنے اوپر سے دفع ظلم کو ہو تو حرج نہیں اور اپناآتا وصول کرنے کو ہو تو حرام ہے اور لینے دینے والا دونوں جہنمی ہیں اور دوسرے کا حق دبانے یا اور کسی طرح ظلم کرنے کے لئے دے تو سخت تر حرام اور مستحق اشد غضب وانتقام ہے
فی وصایا الھندیۃ عن فتاوی الامام قاضیخاں ان بذل المال لاستخراج ہندیہ کے وصایا میں امام قاضی خاں کے فتاوی سے منقول ہے کہ دوسرے پر اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الدعوٰی والبینات ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۴۶۰€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی المکتبۃ النوریۃ الرضویہ ∞سکھر ۶/ ۳۵۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۵۳€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی المکتبۃ النوریۃ الرضویہ ∞سکھر ۶/ ۳۵۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۵۳€
حق لہ علی اخر رشوۃ وان بذل لدفع الظلم عن نفسہ وما لہ لایکون رشوۃ اھ والمسألۃ تحتاج الی زیادۃ تقریر وتحریر وتنقیح وتنقیر لاتفرغ لہ الان وباﷲ التوفیق۔ مال خرچ کرے تو رشوت ہے اور اگر اپنے پر ہونے والے ظلم یا اپنے مال پر ناجائز دخل کو ختم کرنے کے لئے مال خرچ کرے تو یہ رشوت نہ ہوگی اھاور یہ مسئلہ تقریرچھان بین تنقیح اور تحقیق کوچاہتا ہے جس کی فی الحال فرصت نہیں۔وبا ﷲ التوفیق(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الراشی والمرتشی والرائش الذی یمشی بینھما ۔رواہ الامام احمد عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ کی لعنت رشوت دینے والے اور لینے والے اور ان کے دلال پر۔اسے امام احمد رحمہ اﷲ تعالی نے ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا(ت)قاضی و شاہد کا مسئلہ جواب ششم و ہفتم میں گزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۲: از رامپور چوك حیدر علی خاں مرسلہ محمد ایاز صاحب ٹھیکیدار ۱/رمضان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دعوی زر قرضہ اپنے کا بنام بکر دائر کیا حاکم نے ڈگری زر قرضہ بنام بکر صادر فرمایا مگر اپنی تجویز میں قسط بندی کردیدریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعا حاکم کو بدون رضامندی مدعی اختیار قسط بندی کا حاصل ہے یانہیں
الجواب:
حاکم کو نہ ہرگز اپنی طرف سے قسط بندی بے رضائے مدعی کردینے کا اختیار نہ اس کی اس قسط بندی کاکوئی اعتباربلکہ وہ ایك لغو بات محض ناقابل التفات ہےحاکم کا فرض ہے کہ جب دعوی اس کے نزدیك ثابت ہوجائے فورا مطابق دعوی حکم دے اگر تاخیر کرے گا فاسق و معزول و مستحق تعزیر ہوگا۔
الاولی لرجاء الصلح بین الاقارب الثانیۃ اذا استھل المدعی کما مہلت دینا اقارب میں صلح ہے یا مدعی جب اس کا اظہار کرےجیسا کہ الاشباہ
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الراشی والمرتشی والرائش الذی یمشی بینھما ۔رواہ الامام احمد عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ کی لعنت رشوت دینے والے اور لینے والے اور ان کے دلال پر۔اسے امام احمد رحمہ اﷲ تعالی نے ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا(ت)قاضی و شاہد کا مسئلہ جواب ششم و ہفتم میں گزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۲: از رامپور چوك حیدر علی خاں مرسلہ محمد ایاز صاحب ٹھیکیدار ۱/رمضان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دعوی زر قرضہ اپنے کا بنام بکر دائر کیا حاکم نے ڈگری زر قرضہ بنام بکر صادر فرمایا مگر اپنی تجویز میں قسط بندی کردیدریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعا حاکم کو بدون رضامندی مدعی اختیار قسط بندی کا حاصل ہے یانہیں
الجواب:
حاکم کو نہ ہرگز اپنی طرف سے قسط بندی بے رضائے مدعی کردینے کا اختیار نہ اس کی اس قسط بندی کاکوئی اعتباربلکہ وہ ایك لغو بات محض ناقابل التفات ہےحاکم کا فرض ہے کہ جب دعوی اس کے نزدیك ثابت ہوجائے فورا مطابق دعوی حکم دے اگر تاخیر کرے گا فاسق و معزول و مستحق تعزیر ہوگا۔
الاولی لرجاء الصلح بین الاقارب الثانیۃ اذا استھل المدعی کما مہلت دینا اقارب میں صلح ہے یا مدعی جب اس کا اظہار کرےجیسا کہ الاشباہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوصایا الباب التاسع فی الوصی الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۰€
مسند احمد ترجمہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ دارالفکر بیروت ∞۵/ ۲۷۹€
مسند احمد ترجمہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ دارالفکر بیروت ∞۵/ ۲۷۹€
فی الاشباہ ولاحاجۃ الی استثناء ثالثۃ ذکرھا وھو ما اذاکان عندہ فیہ ریبۃ لان الکلام اذا اثبت الامر۔ میں ہےاور تیسرے کےاستثناء کی حاجت نہیں ہے اور وہ یہ کہ جب قاضی کو اس میں شك ہوکیونکہ یہ کلام اس صورت میں ہے جب قاضی کے ہاں معاملہ ثابت ہوجائے۔(ت)
نہ کہ بر خلاف دعوی اپنی طرف سے کوئی بات بڑھادے۔غمز العیون میں ہے:
یجب علی القاضی الحکم بمقتضی الدعوی عند قیام البینۃ علی سبیل الفور فلو اخر اثم ویعزل ویعزر کما فی جامع الفصولین ۔ قاضی پر لازم ہے کہ دعوی پر گواہی مل جانے پر اس کے مطابق فیصلہ فورا کردے اگر تاخیر کریگا تو گنہگار ہوگا اور معزولی اور تعزیر کا مستحق ہوگاجیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔(ت)
قسط بندی ایك قسم اجل ہے اور اجل حق مدیون ہے۔ہدایہ وخانیہ واشباہ وغیرہا میں ہے:
الأجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ۔ مہلت مقروض ومدیون کا حق ہے تو اسی کو ساقط کرنے کا حق ہے۔(ت)
تو یہ مدیون کے لئے ایك ایسے حق کاثابت کرنا ہے جس کا کوئی ثبوت نہ تھانہ بینہ نہ اقرار نہ نکولتو بلا ثبوت اچبات محض باطل و نامقبولخانیہ واشباہ وخیریہ وغیرہا میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول ۔ قاضی صرف دلیل پر فیصلہ کرسکتا ہے اور وہ صرف گواہی اقرار اور قسم سے انکار ہے۔(ت)
طرفہ یہ کہ ثبوت درکنار خود مدیون جس کے لئے حاکم نے یہ حق ثابت کرنا چاہا اس حق کا پنے لئے مدعی نہ تھا مدعا علیہ نے کب کہا تھا کہ یہ مطالبہ مجھ پر قسط بندی سے واجب ہے اور ظاہر ہے کہ دعوی شرط قضا ہے لادعوی خود قضاء کربیھٹنے کا حاکم کو کیا اختیار ہے اور اگر مراد انشاء تنجیم ہو یعنی دین تو مؤجل باقساط نہ تھا مگر میں اس کی قسط بندی کرتا ہوں تو یہ منصب قضاء سے محض بیگانہ ایك مشورہ ہے جس کا قبول کرنا کسی پر واجب نہیںنہ اسے پرائے مال پر کچھ اختیار ہےنہ یہ کہ جبر پہنچتا ہے کہ مال تو تیرا واجب ہے مگر ابھی نہ لےغایت
نہ کہ بر خلاف دعوی اپنی طرف سے کوئی بات بڑھادے۔غمز العیون میں ہے:
یجب علی القاضی الحکم بمقتضی الدعوی عند قیام البینۃ علی سبیل الفور فلو اخر اثم ویعزل ویعزر کما فی جامع الفصولین ۔ قاضی پر لازم ہے کہ دعوی پر گواہی مل جانے پر اس کے مطابق فیصلہ فورا کردے اگر تاخیر کریگا تو گنہگار ہوگا اور معزولی اور تعزیر کا مستحق ہوگاجیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔(ت)
قسط بندی ایك قسم اجل ہے اور اجل حق مدیون ہے۔ہدایہ وخانیہ واشباہ وغیرہا میں ہے:
الأجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ۔ مہلت مقروض ومدیون کا حق ہے تو اسی کو ساقط کرنے کا حق ہے۔(ت)
تو یہ مدیون کے لئے ایك ایسے حق کاثابت کرنا ہے جس کا کوئی ثبوت نہ تھانہ بینہ نہ اقرار نہ نکولتو بلا ثبوت اچبات محض باطل و نامقبولخانیہ واشباہ وخیریہ وغیرہا میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول ۔ قاضی صرف دلیل پر فیصلہ کرسکتا ہے اور وہ صرف گواہی اقرار اور قسم سے انکار ہے۔(ت)
طرفہ یہ کہ ثبوت درکنار خود مدیون جس کے لئے حاکم نے یہ حق ثابت کرنا چاہا اس حق کا پنے لئے مدعی نہ تھا مدعا علیہ نے کب کہا تھا کہ یہ مطالبہ مجھ پر قسط بندی سے واجب ہے اور ظاہر ہے کہ دعوی شرط قضا ہے لادعوی خود قضاء کربیھٹنے کا حاکم کو کیا اختیار ہے اور اگر مراد انشاء تنجیم ہو یعنی دین تو مؤجل باقساط نہ تھا مگر میں اس کی قسط بندی کرتا ہوں تو یہ منصب قضاء سے محض بیگانہ ایك مشورہ ہے جس کا قبول کرنا کسی پر واجب نہیںنہ اسے پرائے مال پر کچھ اختیار ہےنہ یہ کہ جبر پہنچتا ہے کہ مال تو تیرا واجب ہے مگر ابھی نہ لےغایت
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاۃ والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۶۰€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاۃ والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۶۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۴۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاۃ والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۳۸€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاۃ والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۶۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۴۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاۃ والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۳۸€
یہ کہ مدیون کو بزعم خود کم استطاعت سمجھا ہو مگر یہ سمجھ بھی محض بے اصل ہےبیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہ دین ایك عقد بیع کا ثمن تھا اور ایسے حالت میں اسے بلا بینہ ناقابل ادا مان لینا صحیح نہیں۔خانیہ وہندیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان الدین واجبا بدلا عما ھو مال کا لقرض وثمن المبیع القول قول مدعی الیسار مروی ذلك عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ و علیہ الفتوی لان قدرتہ کانت ثابتۃ بالمبدل فلا یقبل قولہ فی زوال تلك القدرۃ ۔ اگر وصولی کسی مالی بدل کی وجہ سے ضرورت ہو مثلا قرض یا مبیع کا ثمن ہے تو قابل ادائیگی ہونے کی بات مانی جائے گییہی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے اور اسی پر فتوی ہے کہ کیونکہ مبدل حاصل کرلینے سے مدیون کی قدرت ادائیگی ثابت ہے لہذا اس قدرت کے زوال کی بات نہ سنی جائیگی۔(ت)
اس انشائے تاجیل کا حاصل اگر دائن کو منع کرنا ہے تو یکمشت اپنادین نہ لے تو یہ حرمکلف پر حجر بلا وجہ شرعی ہے اور وہ باطل ہے اور اگر اس کا حاصل مدیون سے یہ کہنا ہے کہ تو مثلا مہینہ پیچھے اتنا ادا کیا کرتو ایسا دائن خود کہے تو تاجیل نہ ہوگی اور جس وقت چاہے یکمشت لے سکے گا نہ کہ غیر دائن جسے دین سے کوئی تعلق نہیں پرائے دین کو مؤجل کردے۔اشباہ میں ہے:
قال الدائن للمدیون اذھب واعطنی کل شھر کذا فلیس بتاجیل لانہ امر بالاعطاء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر وصولی کرنے والا مدیون سے کہے کہ جا ماہانہ اتنی قسط دے دیا کرتو یہ مہلت کا بیان نہیں ہے کیونکہ یہ ادائیگی کا حکم ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۳: ازشہر بریلی محلہ روہیلے ٹولہ مسئولہ جناب ملك اعجاز ولی خاں صاحب زید مجدہم ۱/رمضان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بنام بکر بابت غلہ قیمتی(صہ ۷/)بایں دعویدار ہے کہ میرا غلہ ناجائز طور پر لے لیا ہے دلایا جائےبکر کو لینے غلہ سے اقبال ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میرا قرضہ بذمہ زید چاہئیے تھا میں نے یہ غلہ قیمتی(صہ ۷/)مذکورہ بالا اپنے قرضہ میں لیا ہے اس قسم کا بیان بکر انکار دعوی مدعی ہے یانہیںوار زید ثبوت نہ پیش کرکے خواستگار حلف بکر کہے تو بکر پر شرعا حلف متوجہ ہوتا ہے یانہیںبینوبالکتاب وتوجروایوم الحساب(کتاب یعنی قرآن کریم
ان کان الدین واجبا بدلا عما ھو مال کا لقرض وثمن المبیع القول قول مدعی الیسار مروی ذلك عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ و علیہ الفتوی لان قدرتہ کانت ثابتۃ بالمبدل فلا یقبل قولہ فی زوال تلك القدرۃ ۔ اگر وصولی کسی مالی بدل کی وجہ سے ضرورت ہو مثلا قرض یا مبیع کا ثمن ہے تو قابل ادائیگی ہونے کی بات مانی جائے گییہی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے اور اسی پر فتوی ہے کہ کیونکہ مبدل حاصل کرلینے سے مدیون کی قدرت ادائیگی ثابت ہے لہذا اس قدرت کے زوال کی بات نہ سنی جائیگی۔(ت)
اس انشائے تاجیل کا حاصل اگر دائن کو منع کرنا ہے تو یکمشت اپنادین نہ لے تو یہ حرمکلف پر حجر بلا وجہ شرعی ہے اور وہ باطل ہے اور اگر اس کا حاصل مدیون سے یہ کہنا ہے کہ تو مثلا مہینہ پیچھے اتنا ادا کیا کرتو ایسا دائن خود کہے تو تاجیل نہ ہوگی اور جس وقت چاہے یکمشت لے سکے گا نہ کہ غیر دائن جسے دین سے کوئی تعلق نہیں پرائے دین کو مؤجل کردے۔اشباہ میں ہے:
قال الدائن للمدیون اذھب واعطنی کل شھر کذا فلیس بتاجیل لانہ امر بالاعطاء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر وصولی کرنے والا مدیون سے کہے کہ جا ماہانہ اتنی قسط دے دیا کرتو یہ مہلت کا بیان نہیں ہے کیونکہ یہ ادائیگی کا حکم ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۳: ازشہر بریلی محلہ روہیلے ٹولہ مسئولہ جناب ملك اعجاز ولی خاں صاحب زید مجدہم ۱/رمضان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بنام بکر بابت غلہ قیمتی(صہ ۷/)بایں دعویدار ہے کہ میرا غلہ ناجائز طور پر لے لیا ہے دلایا جائےبکر کو لینے غلہ سے اقبال ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میرا قرضہ بذمہ زید چاہئیے تھا میں نے یہ غلہ قیمتی(صہ ۷/)مذکورہ بالا اپنے قرضہ میں لیا ہے اس قسم کا بیان بکر انکار دعوی مدعی ہے یانہیںوار زید ثبوت نہ پیش کرکے خواستگار حلف بکر کہے تو بکر پر شرعا حلف متوجہ ہوتا ہے یانہیںبینوبالکتاب وتوجروایوم الحساب(کتاب یعنی قرآن کریم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ قاضی خاں کتاب ادب القاضی الباب السادس والعشرون ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۳ /۴۱۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۱۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۱۳€
سے بیان کیجئے روز حساب اجردئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بکر دعوی زید یعنی غلہ لے لینے کا مقر اور اپنے قرضہ کا مدعی ہے یہاں نہ زید کے ذمہ کوئی ثبوت دینا رہا نہ بکر پرحلف آسکتا ہے
لانہ مقر و مدع وکلاھما لاحلف علہما واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ یہ اقرار کرنے یا دعوی کرنے والا ہے جبکہ ان دونوں پر قسم نہیں ہے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ۱۰۴: از قصبہ شاہ آباد ضلع ریاست رامپور مرسلہ قمر علی خاں عرف چند اخاں ۱۸/ربیع الاول ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید و عمرو وبکر نے چند دیہات سرکاری اجارہ پر لئے بعد کو باہم شرکاء میں تقسیم دیہات آپس میں ہوگئی جس کے حصہ میں جو دیہہ آیا وہ اس کی ادائے جمع سرکاری کا ذمہ دار رہا اقرار نامہ تقسیم لکھ کر تصدیق ہوگئیاس اقرار نامہ میں زید نے یہ لکھا کہ میں ایك ہزار روپے کمی قرعہ یعنی توفیر کے بکر کو باقساط ادا کروں گااب بکر اس ایك ہزار روپے کا دعویدار ہےزید عذر کرتا ہے کہ ایك رقم مبہم کا مجھ سے اقرار کرالیا ہے ہر شخص اپنے حصہ کے دیہات پر قابض ہےیہ ہزار مجھ پر کیسے چاہئیںجو دیہات مدعی کےلئے نامزد ہوئے وہ بقبضہ مدعی ہیں بعد تقسیم میرے قبضہ میں نہ آئے نہ ان کی توفیر مجھے ملی ان کی توفیر بکر مدعی پاتا ہے لہذازر توفیر بذمہ مدعا علیہ کیسے چاہئےدریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعا ایسا اقرار مقر پرلازم الوفاء ہے یانہیں نقل اقرارنامہ ہمرشتہ سوال ہے۔
الجواب:
ملاحظہ اقرارنامہ وبیان سائل سے واضح ہوا کہ یہ دیہات ریاست سے ان تین شخصوں نے مستاجرانہ لئے تھے ریاست نے زر منافع ۱۵ ہزار پیشگی ان سے لیا اس میں سے قریب نصف زید نے دےدیا اور بکر نے کہ ہندو ہے کچھ نہ دیا مگر ریاست زر مستاجری پر ضمانت لیتی ہے یہ کفالت تنہا جائداد بکر سے ہوئی لہذا اسے شریك کیا گیا وقت تقسیم)/ کا حصہ زید کا قرار پایا ار ۴ /۔ ۴/ کا باقی شریکوں کا۔جو دیہات بکر کو دئے گئے ان کی چونی میں کہ بکر کو ملتی بقدر ایك ہزار روپے کمی تھی لہذا زید نے یہ اقرار نامہ لکھ دیایہ نہ کوئی عقد شرعی ہے نہ اقرار شرعی نہ بکر کا زید پر کچھ آتا ہے نہ زید کہتا ہے کہ اس کا مجھ پر اتنا آتا ہے نہ کسی ثالث کا دین کہ بکر پر آتا ہو زید ا سکی کفالت کرتا ہے محض ایك مہمل تحریر ہے جس کا حاصل ایك وعدہ بے معنی سے زائد نہیں ایسے وعدہ کی وفا پر جبر نہیں ہوسکتا نہ بکر کو اصلا مطالبہ کا استحقاق ہے۔ ہندیہ واشباہ
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بکر دعوی زید یعنی غلہ لے لینے کا مقر اور اپنے قرضہ کا مدعی ہے یہاں نہ زید کے ذمہ کوئی ثبوت دینا رہا نہ بکر پرحلف آسکتا ہے
لانہ مقر و مدع وکلاھما لاحلف علہما واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ یہ اقرار کرنے یا دعوی کرنے والا ہے جبکہ ان دونوں پر قسم نہیں ہے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ۱۰۴: از قصبہ شاہ آباد ضلع ریاست رامپور مرسلہ قمر علی خاں عرف چند اخاں ۱۸/ربیع الاول ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید و عمرو وبکر نے چند دیہات سرکاری اجارہ پر لئے بعد کو باہم شرکاء میں تقسیم دیہات آپس میں ہوگئی جس کے حصہ میں جو دیہہ آیا وہ اس کی ادائے جمع سرکاری کا ذمہ دار رہا اقرار نامہ تقسیم لکھ کر تصدیق ہوگئیاس اقرار نامہ میں زید نے یہ لکھا کہ میں ایك ہزار روپے کمی قرعہ یعنی توفیر کے بکر کو باقساط ادا کروں گااب بکر اس ایك ہزار روپے کا دعویدار ہےزید عذر کرتا ہے کہ ایك رقم مبہم کا مجھ سے اقرار کرالیا ہے ہر شخص اپنے حصہ کے دیہات پر قابض ہےیہ ہزار مجھ پر کیسے چاہئیںجو دیہات مدعی کےلئے نامزد ہوئے وہ بقبضہ مدعی ہیں بعد تقسیم میرے قبضہ میں نہ آئے نہ ان کی توفیر مجھے ملی ان کی توفیر بکر مدعی پاتا ہے لہذازر توفیر بذمہ مدعا علیہ کیسے چاہئےدریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعا ایسا اقرار مقر پرلازم الوفاء ہے یانہیں نقل اقرارنامہ ہمرشتہ سوال ہے۔
الجواب:
ملاحظہ اقرارنامہ وبیان سائل سے واضح ہوا کہ یہ دیہات ریاست سے ان تین شخصوں نے مستاجرانہ لئے تھے ریاست نے زر منافع ۱۵ ہزار پیشگی ان سے لیا اس میں سے قریب نصف زید نے دےدیا اور بکر نے کہ ہندو ہے کچھ نہ دیا مگر ریاست زر مستاجری پر ضمانت لیتی ہے یہ کفالت تنہا جائداد بکر سے ہوئی لہذا اسے شریك کیا گیا وقت تقسیم)/ کا حصہ زید کا قرار پایا ار ۴ /۔ ۴/ کا باقی شریکوں کا۔جو دیہات بکر کو دئے گئے ان کی چونی میں کہ بکر کو ملتی بقدر ایك ہزار روپے کمی تھی لہذا زید نے یہ اقرار نامہ لکھ دیایہ نہ کوئی عقد شرعی ہے نہ اقرار شرعی نہ بکر کا زید پر کچھ آتا ہے نہ زید کہتا ہے کہ اس کا مجھ پر اتنا آتا ہے نہ کسی ثالث کا دین کہ بکر پر آتا ہو زید ا سکی کفالت کرتا ہے محض ایك مہمل تحریر ہے جس کا حاصل ایك وعدہ بے معنی سے زائد نہیں ایسے وعدہ کی وفا پر جبر نہیں ہوسکتا نہ بکر کو اصلا مطالبہ کا استحقاق ہے۔ ہندیہ واشباہ
وبزازیہ وغیرہما میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وعدہ وفائی پر جبرنہیں۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۵: ازرامپور محلہ بارہ دری محمود خاں مسئولہ جناب عبداﷲ خان صاحب ۲۹/جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درمیان اس مسئلہ کے کہ ہندہ تین نابالغ لڑکے لڑکیوں کی نانی ہے اور زید ان نابالغ بچوں کا باپ ہےسعیدہ ان نابالغ بچوں کی ماںزوجہ فوت ہوگئیان نابالغ بچوں کی جائداد غیر منقولہ علاقہ انگریزی میں واقع ہے۔ہندہ نے اس جائداد کی نگرانی وغیرہ کے لئے برضامندی زید سرٹیفکیٹ ولایت حاصل کرلیاہے۔اب ہندہ نے بولایت انہیں نابالغان اور باستدلال حصول سرٹیفکیٹ از علاقہ انگریزی زید پر نابالغان کی طرف سے مہر کی نالش کی ہے۔زید نے عدالت ججی ریاست رامپور میں ان نابالغ بچوں کی ولی دوران مقدمہ ہونے کی درخواست کی ہےاور بکر باپ زید کا یعنی دادا نابالغان درخواست کرتا ہے کہ شرعا مجھے حق ولایت نابالغان حاصل ہے لہذا دوران مقدمہ کے لئے ولی نابالغان مقرر کردیا جاؤں۔یہ تینوں درخواستیں متضاد ہیں۔مفتیان شرع متین سے یہ دریافت طلب امر ہے کہ مسماۃ ہندہ جو سرٹیفکیٹ ولایت باجازت باپ نابالغان علاقہ انگریزی میں حاصل کرچکی اس کی ولایت ریاست ہذا کے مقدمات میں مقابل زید مدعا علیہ قائم و برقرار رہے گی یا زید مدعا علیہ ولی دوران مقدمہ ان نابالغ بچوں کا مقرر ہوسکتا ہےیا بکر دادا ولی دوران مقدمہ مقرر ہوسکتا ہے اس کی نسبت دو صورتیں ہیں اگر زید ولی مقرر نہ ہو تب یہ ولی قائم ہوسکے گا یا زید کے ولی قائم ہونے کی حالت میں اس کو حق ولایت نابالغان حاصل ہے بصراحت روایات کتب فقہ جواب عنایت ہو۔فقط المرقوم ۱۱جون ۱۹۱۲ء
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نہ نانی کوئی شے ہے نہ وہ سرٹیفکیٹ کوئی چیزنہ زید اپنی ولایت منتقل کرسکتا تھا نہ باپ کے ہوتے دادا کو استحقاق ولایت ہے۔یہ کارروائیاں سب مہمل و بے معنی ہیں ہاں اگر زید پر سعیدہ کا مہر آتا ہو اور انکار کرے توقاضی شرع اپنی طرف سے جسے چاہے نابالغوں پر وصی
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ وعدہ وفائی پر جبرنہیں۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۵: ازرامپور محلہ بارہ دری محمود خاں مسئولہ جناب عبداﷲ خان صاحب ۲۹/جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درمیان اس مسئلہ کے کہ ہندہ تین نابالغ لڑکے لڑکیوں کی نانی ہے اور زید ان نابالغ بچوں کا باپ ہےسعیدہ ان نابالغ بچوں کی ماںزوجہ فوت ہوگئیان نابالغ بچوں کی جائداد غیر منقولہ علاقہ انگریزی میں واقع ہے۔ہندہ نے اس جائداد کی نگرانی وغیرہ کے لئے برضامندی زید سرٹیفکیٹ ولایت حاصل کرلیاہے۔اب ہندہ نے بولایت انہیں نابالغان اور باستدلال حصول سرٹیفکیٹ از علاقہ انگریزی زید پر نابالغان کی طرف سے مہر کی نالش کی ہے۔زید نے عدالت ججی ریاست رامپور میں ان نابالغ بچوں کی ولی دوران مقدمہ ہونے کی درخواست کی ہےاور بکر باپ زید کا یعنی دادا نابالغان درخواست کرتا ہے کہ شرعا مجھے حق ولایت نابالغان حاصل ہے لہذا دوران مقدمہ کے لئے ولی نابالغان مقرر کردیا جاؤں۔یہ تینوں درخواستیں متضاد ہیں۔مفتیان شرع متین سے یہ دریافت طلب امر ہے کہ مسماۃ ہندہ جو سرٹیفکیٹ ولایت باجازت باپ نابالغان علاقہ انگریزی میں حاصل کرچکی اس کی ولایت ریاست ہذا کے مقدمات میں مقابل زید مدعا علیہ قائم و برقرار رہے گی یا زید مدعا علیہ ولی دوران مقدمہ ان نابالغ بچوں کا مقرر ہوسکتا ہےیا بکر دادا ولی دوران مقدمہ مقرر ہوسکتا ہے اس کی نسبت دو صورتیں ہیں اگر زید ولی مقرر نہ ہو تب یہ ولی قائم ہوسکے گا یا زید کے ولی قائم ہونے کی حالت میں اس کو حق ولایت نابالغان حاصل ہے بصراحت روایات کتب فقہ جواب عنایت ہو۔فقط المرقوم ۱۱جون ۱۹۱۲ء
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نہ نانی کوئی شے ہے نہ وہ سرٹیفکیٹ کوئی چیزنہ زید اپنی ولایت منتقل کرسکتا تھا نہ باپ کے ہوتے دادا کو استحقاق ولایت ہے۔یہ کارروائیاں سب مہمل و بے معنی ہیں ہاں اگر زید پر سعیدہ کا مہر آتا ہو اور انکار کرے توقاضی شرع اپنی طرف سے جسے چاہے نابالغوں پر وصی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷،€الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الحظر والاباحہ دارالقرآن ∞کراچی ۲ /۱۱۰،€العقود الدریۃ مسائل و فوائد شتی من الحظر والاباحۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۵۳€
کرے یہ وصی دعوی کرسکے گااور اگر زید مہر کا مقر ہے جب تو ا س پر نابالغوں کی طرف سے دعوی مہرنانی کرے خواہ دادا خواہ کوئی اصلا قابل سماعت نہیں۔جامع الصغار فصل النکاح میں ہے:
ماتت عن زوج واولاد صغار وعلی الزوج المھر فان اقرالزوج بالمھر لم یؤخذ منہ لان الاب یملك حفظ مال صغیرہ وان انکر ینصب القاضی وصیا فیثبت علیہ المھر ویؤخذ منہ ویدفع الی الوصی فانہ بانکارہ تظہر خیانتہ و عند ظہور الخیانۃ یکون للقاضی ولایۃ دفع مال الصغیرالی وصی غیرہ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بیوی نے خاوند اور نابالغ بچے وارث چھوڑے اور خاوند کے ذمہ مہر باقی ہے اگر خاوند مہرکا اقرار کرتا ہے تو خاوند سے مہر وصول نہ کیا جائے کیونکہ اپنے نابالغ بچوں کے مال کا وہی محافظ ہے او اگر خاوند اپنے ذمہ مہر کا انکار کرے تو قاضی بچوں کے حق میں کسی کو وصی بناکر مہرو ثابت کردے تو خاوند سے مہر وصول کرکے وصی کے سپرد کرے کیونکہ خاوندکے انکار سے اس کی خیانت واضح ہوگئی جبکہ خیانت کے ظاہر ہوجانے پر قاضی اختیار مل جاتاہے کہ بچوں کا مال وصیہ کے سپر کر دے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۶: ازریاست رامپور متصل اصطبل سرکاری عید گاہ دروازہ مرسلہ حن جہاں بیگم ۱۵/رجب ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نانی نابالغین نے نابالغین کی طرف سے بر فاقت ابن زید نابالغان کے باپ پر نابالغین کی والدہ متوفیہ کے دین مہر کی نالش کی ہے اور زید دین مہر سے منکر ہے اور چاہتا ہے کہ میں ولی دوران مقدمہ مقرر کیا جاؤں اور نیز والد زید بھی خواستگار ہے حالانکہ دادا کی حالت بھی ٹھیك نہیں ہے اور خوف تلف جائداد نابالغین کا پورا اندیشہ ہے اور نانی مشفقہ امینہ ہے اورمصلحہ ہے پس استفسار اس امر کا ہے کہ ان تینوں میں سے ولی دوران مقدمہ کون ہوسکتا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ زید مہر کا منکر ہے تو وہ اس مقدمہ میں ہر گز ولی نہیں ہوسکتا بلکہ حاکم پر لازم ہے کہ کسی دوسرے امین متدین کار گزار کو نابالغوں پر وصی کرے اگر دادا ٹھیك نہیں اور اس سے
ماتت عن زوج واولاد صغار وعلی الزوج المھر فان اقرالزوج بالمھر لم یؤخذ منہ لان الاب یملك حفظ مال صغیرہ وان انکر ینصب القاضی وصیا فیثبت علیہ المھر ویؤخذ منہ ویدفع الی الوصی فانہ بانکارہ تظہر خیانتہ و عند ظہور الخیانۃ یکون للقاضی ولایۃ دفع مال الصغیرالی وصی غیرہ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بیوی نے خاوند اور نابالغ بچے وارث چھوڑے اور خاوند کے ذمہ مہر باقی ہے اگر خاوند مہرکا اقرار کرتا ہے تو خاوند سے مہر وصول نہ کیا جائے کیونکہ اپنے نابالغ بچوں کے مال کا وہی محافظ ہے او اگر خاوند اپنے ذمہ مہر کا انکار کرے تو قاضی بچوں کے حق میں کسی کو وصی بناکر مہرو ثابت کردے تو خاوند سے مہر وصول کرکے وصی کے سپرد کرے کیونکہ خاوندکے انکار سے اس کی خیانت واضح ہوگئی جبکہ خیانت کے ظاہر ہوجانے پر قاضی اختیار مل جاتاہے کہ بچوں کا مال وصیہ کے سپر کر دے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۶: ازریاست رامپور متصل اصطبل سرکاری عید گاہ دروازہ مرسلہ حن جہاں بیگم ۱۵/رجب ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نانی نابالغین نے نابالغین کی طرف سے بر فاقت ابن زید نابالغان کے باپ پر نابالغین کی والدہ متوفیہ کے دین مہر کی نالش کی ہے اور زید دین مہر سے منکر ہے اور چاہتا ہے کہ میں ولی دوران مقدمہ مقرر کیا جاؤں اور نیز والد زید بھی خواستگار ہے حالانکہ دادا کی حالت بھی ٹھیك نہیں ہے اور خوف تلف جائداد نابالغین کا پورا اندیشہ ہے اور نانی مشفقہ امینہ ہے اورمصلحہ ہے پس استفسار اس امر کا ہے کہ ان تینوں میں سے ولی دوران مقدمہ کون ہوسکتا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ زید مہر کا منکر ہے تو وہ اس مقدمہ میں ہر گز ولی نہیں ہوسکتا بلکہ حاکم پر لازم ہے کہ کسی دوسرے امین متدین کار گزار کو نابالغوں پر وصی کرے اگر دادا ٹھیك نہیں اور اس سے
حوالہ / References
جامع الصغارعلی ہامش جامع الفصولین آداب الاوصیاء فصل النکاح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۴€
ضرر نابالغان کا اندیشہ ہے اور نانی امکینہ مصلحہ مشفقہ ہے تو وہی باپ داداسے احق ہے ورنہ قاضی شرع جس کو مناسب جانے۔
جامع احکام الصغار میں ہے:
ماتت عن زوج واولاد صغار وعلی الزوج المھر فانکر ینصب القاضی وصیا فیثبت علیہ المھر ویؤخذ منہ وید فع الی الوصی فانہ بانکارہ تظہر خیانتہ وعند ظہور الخیانۃ یکون للقاضی ولایۃ دفع مال الصغیرہ الی وصی غیرہ ۔ بیوی نے خاوند اور نابالغ بچے وارث چھوڑے او خاوند کے ذمہ مہرباقی ہے اور خاوند انکار کرتا ہے تو قاضی کسی کو وصی مقررکے جو مہر کو ثابت کرکے وصول کرے کیونکہ مہر کا انکار کرکے خاوند نے خیانت کردی جبکہ خیاسنت کے ظہور پر قاضی کو مال وصول کرکے کسی وصی کو دینے کا اکتیار مل جاتا ہے۔ (ت)
اسی عبارت سے واضح ہوا کہ اگر قاضی کے نزدیك ثابت ہوجائے کہ مہر آتا تھا اور زید منکر کہوا تو نہ فقط اس مقدمہ یا مہر کے بارہ میں بلکہ تمام اموال نابالغان سے زید کی ولایت اٹھادی جائےگی لظہور خیانتہ وانعدام صیانتہ فخرج عن امانتہ(خیانت ظاہر ہونے اور حفاظ ت معدوم ہوجانے پر امانت سے محروم ہوگیا۔ت)اور جملہ اموال نابالگان نانی مصلحہ امینہ کو سپر د کئے جائیں گے یا جورائے قاضی میں اصلح وانسب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: ازریاست رامپور محلہ گھیر شرف الدین خاں متصل فیل خانہ کہنہ مسئولہ غلام جعفر خان صاحب ۱۸/محرم الحرام۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مدخولہ بہا کو طلاق مغلظہ دی بعد ازاں منکوحہ زید بدیں بیان دعویدار ہوئی کہ بوقت عقد نکاح مبلغ سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی تعداد دین مہر مقرر ہوئے تھے اور یہ کل دین مہر بذمہ زید اس وقت تك واجب الادا ہے بناء بریں میرا کل دین مہر زید سے دلایاجائے زید مدعا علیہ مجیب ہوا کہ تعداد دین مہر یاد نہیں کہ بوقت عقد نکاح کس قدر مسمی ہوا تھا مگر نکاح ہو اور مدعیہ نے کل دین مہر یا فتنی اپنا بزمانہ حلالت مدعا علیہ اﷲ کے واسطے معاف وابراکردیا مدعیہ نے چندع کس گواہ پیش کئے اور سب نے بیان کیاکہ بوقت عقد نکاح سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی دین مہر کے مقرر ہوئے تھے اور
جامع احکام الصغار میں ہے:
ماتت عن زوج واولاد صغار وعلی الزوج المھر فانکر ینصب القاضی وصیا فیثبت علیہ المھر ویؤخذ منہ وید فع الی الوصی فانہ بانکارہ تظہر خیانتہ وعند ظہور الخیانۃ یکون للقاضی ولایۃ دفع مال الصغیرہ الی وصی غیرہ ۔ بیوی نے خاوند اور نابالغ بچے وارث چھوڑے او خاوند کے ذمہ مہرباقی ہے اور خاوند انکار کرتا ہے تو قاضی کسی کو وصی مقررکے جو مہر کو ثابت کرکے وصول کرے کیونکہ مہر کا انکار کرکے خاوند نے خیانت کردی جبکہ خیاسنت کے ظہور پر قاضی کو مال وصول کرکے کسی وصی کو دینے کا اکتیار مل جاتا ہے۔ (ت)
اسی عبارت سے واضح ہوا کہ اگر قاضی کے نزدیك ثابت ہوجائے کہ مہر آتا تھا اور زید منکر کہوا تو نہ فقط اس مقدمہ یا مہر کے بارہ میں بلکہ تمام اموال نابالغان سے زید کی ولایت اٹھادی جائےگی لظہور خیانتہ وانعدام صیانتہ فخرج عن امانتہ(خیانت ظاہر ہونے اور حفاظ ت معدوم ہوجانے پر امانت سے محروم ہوگیا۔ت)اور جملہ اموال نابالگان نانی مصلحہ امینہ کو سپر د کئے جائیں گے یا جورائے قاضی میں اصلح وانسب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: ازریاست رامپور محلہ گھیر شرف الدین خاں متصل فیل خانہ کہنہ مسئولہ غلام جعفر خان صاحب ۱۸/محرم الحرام۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مدخولہ بہا کو طلاق مغلظہ دی بعد ازاں منکوحہ زید بدیں بیان دعویدار ہوئی کہ بوقت عقد نکاح مبلغ سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی تعداد دین مہر مقرر ہوئے تھے اور یہ کل دین مہر بذمہ زید اس وقت تك واجب الادا ہے بناء بریں میرا کل دین مہر زید سے دلایاجائے زید مدعا علیہ مجیب ہوا کہ تعداد دین مہر یاد نہیں کہ بوقت عقد نکاح کس قدر مسمی ہوا تھا مگر نکاح ہو اور مدعیہ نے کل دین مہر یا فتنی اپنا بزمانہ حلالت مدعا علیہ اﷲ کے واسطے معاف وابراکردیا مدعیہ نے چندع کس گواہ پیش کئے اور سب نے بیان کیاکہ بوقت عقد نکاح سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی دین مہر کے مقرر ہوئے تھے اور
حوالہ / References
جامع الصغارعلی ہامش جامع الفصولین آداب الاوصیاء فصل النکاح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۴€
کسی گواہ نے یہ بیان نہیں کیا کہ دین مہر اب تك بذمہ زید مدعا علیہ واجب الاداد ہے صرف گواہان مدعیہ نے اسی قدر بیان کیا کہ سوالاکھ روپے اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی وقت عقد نکاح کے دین مہر مقررہوا تھا تو ایسی حالت میں گواہی گوہان مدعیہ کے معتبر ہوں گی یا نہیں اور مدعیہ دلاپانے مہر مذکورہ کے مستحق ہوگی یانہیںاور اگر عورت ثبوت مہر پر گواہ پیش کرے اور مرد ابراء مہر پر گواہ پیش کرے تو شرعا کس کے گواہ اولی بالقبول ہوتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں موافق روایت مفتی بہا کے شرعا شہادت گواہان مدعیہ معتبر او رمقبول نہیں اور مدعیہ دلاپانے مہر کے مستحق نہیں
قال فی درر الاحکام ناقلا عن العنایۃ ادعت المرأۃ الف المھر بانھا واجبۃ علی الزوج الی یومنا ھذا وقال الزوج انك قد ابرأتنی منھا فاقامت المرأۃ شہودا و شھد وابالف المھر ولم یبینوا انھا واجبۃ علیہ الی یومنا ھذالم تقبل شہادتھم علی الاصح ۔واﷲ تعالی اعلم۔العبد المجیب محمد شجاعت علی مدرس مدرسہ ارشاد العلوم۔ درر الحکام میں عنایہ سے منقول ہے عورت نے خاوند پر مہر کے ہزار کا دعوی کیا کہ آج اس کے زمہ ہے اور خاوند کہتا ہے کہ تونے اس میں کچھ سے مجھے بری کردیا ہے تو عورت نے گواہ پیش کئے جنہوں نے ہزار مہرکی گواہی دین اوربیان میں انہوں نے آج تك باقی ہونے کی بات نہ کی تو صحیح قول کے مطابق یہ گواہی قبول نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم العبد المجیب محمد شجاعت علی مدرس مدرسہ ارشاد العلوم(ت)
الجواب صحیح محمد عبدالغفار خاں الجواب صواب ابوالافضال محمد فضل حق۔
فی الواقع صورت مسئولہ عنہ شہادت شہود مدعیہ ناکفی اور بروقت تعارض شہود اثبات مہر وابراء کے شہود ابراء اولی بالقبول ہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم محمد منور العلی
الجواب:
صورت مذکورہ میں گواہان زن کی شہادت دربارہ مقدار مہر مسمی مقبول و معتبر ہے جس مقدار کا وہ دعوی کرتی ہے اگر اسکے مہر مثل سے زائد ہے تو ظاہر ہے کہ وہ دربارہ زیادت مدعیہ ہے اور یہ شہادت
الجواب:
صورت مسئولہ میں موافق روایت مفتی بہا کے شرعا شہادت گواہان مدعیہ معتبر او رمقبول نہیں اور مدعیہ دلاپانے مہر کے مستحق نہیں
قال فی درر الاحکام ناقلا عن العنایۃ ادعت المرأۃ الف المھر بانھا واجبۃ علی الزوج الی یومنا ھذا وقال الزوج انك قد ابرأتنی منھا فاقامت المرأۃ شہودا و شھد وابالف المھر ولم یبینوا انھا واجبۃ علیہ الی یومنا ھذالم تقبل شہادتھم علی الاصح ۔واﷲ تعالی اعلم۔العبد المجیب محمد شجاعت علی مدرس مدرسہ ارشاد العلوم۔ درر الحکام میں عنایہ سے منقول ہے عورت نے خاوند پر مہر کے ہزار کا دعوی کیا کہ آج اس کے زمہ ہے اور خاوند کہتا ہے کہ تونے اس میں کچھ سے مجھے بری کردیا ہے تو عورت نے گواہ پیش کئے جنہوں نے ہزار مہرکی گواہی دین اوربیان میں انہوں نے آج تك باقی ہونے کی بات نہ کی تو صحیح قول کے مطابق یہ گواہی قبول نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم العبد المجیب محمد شجاعت علی مدرس مدرسہ ارشاد العلوم(ت)
الجواب صحیح محمد عبدالغفار خاں الجواب صواب ابوالافضال محمد فضل حق۔
فی الواقع صورت مسئولہ عنہ شہادت شہود مدعیہ ناکفی اور بروقت تعارض شہود اثبات مہر وابراء کے شہود ابراء اولی بالقبول ہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم محمد منور العلی
الجواب:
صورت مذکورہ میں گواہان زن کی شہادت دربارہ مقدار مہر مسمی مقبول و معتبر ہے جس مقدار کا وہ دعوی کرتی ہے اگر اسکے مہر مثل سے زائد ہے تو ظاہر ہے کہ وہ دربارہ زیادت مدعیہ ہے اور یہ شہادت
حوالہ / References
الدر رالحکام
اسکے دعوی کے مطابق گزری تو بحال استجماع شرائط معروفہ ضرور واجب القبول ہے
لانھا نورت دعویھا بالبینۃ والبینۃ کا سمھا مبینۃ والثابت بشہادۃ عدلین کالثابت بمشاھدۃ العین۔ کیونکہ بیوی نے اپنا دعوی گواہوں سے واضح کردیااور بینہ اپنے نام کی طرح روشن کرنے والا ہوتا ہے اور دو گواہوں عادلوں کی شہادت سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے آنکھ کے مشاہدہ سے ثابت ہوتی ہے۔(ت)
اور اگر مہر مثل کے برابر یااس سے کم ہے کجب بھی شہادت مفید و مقبول ہے اگرچہ عورت اس صورت میں صرف مدعا علیہا ہے کہ اگر گواہ نہ دیتی اسے حلف کرنا پڑتا اور ایسی جگہ حلف سے بچنے کے لئے مدعا علیہ کے گواہ مسموع ہیںدرر الاحکام باب المھر میں ہے:
ان اقامت بینۃ قبلت وان اقامھا الزوج قبلت ایضالان البینۃ تقبل لرد الیمین کما اذا اقامہ المودع بینۃ علی رد الودیعۃ الی المالك تقبل ۔ اگر بیوی نے گواہی پیش کردی تو مقبول ہوگی اگر خاوند نے پیش کی تو وہ بھی قبول ہوگی کیونکہ قسم کو رد کرنے کے لئے گواہی مقبول ہوگی ہے جیسے امین امانت مالك کو واپس کرنے پر شہادت پیش کرے تو قبول کی جائیگی۔(ت)
بلکہ اگر مہر مثل معلوم نہ ہو اور شوہر اس مقدار کو مہر مثل نہ مانے توعورت کو آپ ہی گواہ دینے کی حاجت ہوئی کہ اتنا مہر تھا یہ وہی شہادت ہے جو اس سے شرع طلب فرماتی تو عدقبول کی وجہ کیا ہے یا یہ گواہ دیتی کہ اس کا مہر مثل اس قدر یا اس سے زائد ہےپھر اسے حلف کرنا پڑتا کہ اس قدر مہر مقر ہوا تھا اس شہادت نے اس شہادت اور حلف دونوں سے غنی کردیابہر حال مفید و واجب القبول ہوئی فتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ھذااذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یأمرامناءہ بالسوال ممن یعلم او یکلفہا اقامۃ البینۃ علی ماتدعی ۔ یہ اس صور ت میں جب قاضی مہر مثل کی مقدار جانتا ہو تو اگر اسے معلوم نہ ہو چاہئے کہ وہ اپنے قابل اعتماد عملہ کو کہے کہ وہ معلومات والوں کو پوچھیں یا قاضی عورت کو پابند کرے کہ وہ اپنے مہر مثل کے دعوی کو ثابت کرنے کےلئے گواہ پیش کرے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یشترط فی ثبوت مھر المثل اخبار رجلین اورجل وامرأتین ولفظ الشہادۃ فان لم یوجد شہود عدول فالقول للزوج بیمینہ ۔ مہر مثل ثابت کرنے کے لئے دو مردوں یا ایك مرد اور دو عورتوں کی گواہی اس میں لفظ شہادت شرط ہے اوراگر عادل گواہ نہ ملیں تو خاوند کا قول قسم لے کر تسلیم کیاجائے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لانھا نورت دعویھا بالبینۃ والبینۃ کا سمھا مبینۃ والثابت بشہادۃ عدلین کالثابت بمشاھدۃ العین۔ کیونکہ بیوی نے اپنا دعوی گواہوں سے واضح کردیااور بینہ اپنے نام کی طرح روشن کرنے والا ہوتا ہے اور دو گواہوں عادلوں کی شہادت سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے آنکھ کے مشاہدہ سے ثابت ہوتی ہے۔(ت)
اور اگر مہر مثل کے برابر یااس سے کم ہے کجب بھی شہادت مفید و مقبول ہے اگرچہ عورت اس صورت میں صرف مدعا علیہا ہے کہ اگر گواہ نہ دیتی اسے حلف کرنا پڑتا اور ایسی جگہ حلف سے بچنے کے لئے مدعا علیہ کے گواہ مسموع ہیںدرر الاحکام باب المھر میں ہے:
ان اقامت بینۃ قبلت وان اقامھا الزوج قبلت ایضالان البینۃ تقبل لرد الیمین کما اذا اقامہ المودع بینۃ علی رد الودیعۃ الی المالك تقبل ۔ اگر بیوی نے گواہی پیش کردی تو مقبول ہوگی اگر خاوند نے پیش کی تو وہ بھی قبول ہوگی کیونکہ قسم کو رد کرنے کے لئے گواہی مقبول ہوگی ہے جیسے امین امانت مالك کو واپس کرنے پر شہادت پیش کرے تو قبول کی جائیگی۔(ت)
بلکہ اگر مہر مثل معلوم نہ ہو اور شوہر اس مقدار کو مہر مثل نہ مانے توعورت کو آپ ہی گواہ دینے کی حاجت ہوئی کہ اتنا مہر تھا یہ وہی شہادت ہے جو اس سے شرع طلب فرماتی تو عدقبول کی وجہ کیا ہے یا یہ گواہ دیتی کہ اس کا مہر مثل اس قدر یا اس سے زائد ہےپھر اسے حلف کرنا پڑتا کہ اس قدر مہر مقر ہوا تھا اس شہادت نے اس شہادت اور حلف دونوں سے غنی کردیابہر حال مفید و واجب القبول ہوئی فتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ھذااذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یأمرامناءہ بالسوال ممن یعلم او یکلفہا اقامۃ البینۃ علی ماتدعی ۔ یہ اس صور ت میں جب قاضی مہر مثل کی مقدار جانتا ہو تو اگر اسے معلوم نہ ہو چاہئے کہ وہ اپنے قابل اعتماد عملہ کو کہے کہ وہ معلومات والوں کو پوچھیں یا قاضی عورت کو پابند کرے کہ وہ اپنے مہر مثل کے دعوی کو ثابت کرنے کےلئے گواہ پیش کرے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یشترط فی ثبوت مھر المثل اخبار رجلین اورجل وامرأتین ولفظ الشہادۃ فان لم یوجد شہود عدول فالقول للزوج بیمینہ ۔ مہر مثل ثابت کرنے کے لئے دو مردوں یا ایك مرد اور دو عورتوں کی گواہی اس میں لفظ شہادت شرط ہے اوراگر عادل گواہ نہ ملیں تو خاوند کا قول قسم لے کر تسلیم کیاجائے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
حوالہ / References
درر الحکام فی شرح غررالاحکام کتاب النکاح باب المہر ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۷€
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الدعوٰی والبینات فصل فیما یتعلق بالنکاح الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۴۹۵€
درمختار کتاب النکاح باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۰۲
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الدعوٰی والبینات فصل فیما یتعلق بالنکاح الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۴۹۵€
درمختار کتاب النکاح باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۰۲
من تزوج امرأۃ ثم اختلفا فی المھر فالقول قول المرأۃ الی تمام مہر مثلھا ۔ اگر زوجین مہر میں اختلاف کریں تو مہر مثل کی حد تك بیوی کی بات معتبر ہے(ت)
عبارت منسوبہ دررالحکام وعنایہ کہ:
ادعت المراۃ الف المہر بانھا واجبۃ علی الزوج الی یومنا ھذا وقال الزوج انك قد ابرأتنی منہا فاقامت المرأۃ شہودا وشہدوابالف المہر ولم یبینواانھا واجبۃ علیہ الی یومنا ھذالم تقبل شہادتھم علی الاصح ۔ عورت نے ہزار مہر کا دعوی کیا کہ یہ آج تك خاوند کے ذمہ واجب ہے اور خاوند کہتا ہے کہ تونے کچھ سے مجھے بری کردیا ہے تو عورت نے گواہی پیش کی تو گواہوں نے ہزار کی گواہی دی اور آج تك ذمہ واجب ہونے کو بیان نہ کیا تو صحیح قول پر وہ گواہی قبول نہ ہوگی۔(ت)
اگر ان میں اسی طرح ہو جب بھی مسئلہ دائرہ سے متعلق نہیں وہاں کلام اس صورت میں ہے کہ عورت جس مقدار مہر کا دعوی کرتی ہے شوہر کو وہ مقدار تسلیم ہے اور معافی کا مدعی ہے شہود نے اب تك مہر ذمہ شوہر پر واجب ہونے کا ذکر نہ کیا تو ان کی شہادت کو دعوی زوج سے تو کچھ مس نہ ہوارہی مقدار مہر زوج کو خود اس کا اقرار تھا اور مقر پر شہادت مسموع نہیں
الافی اربع لیس ھذا منھا کما فی البحر بل فی کل موضع مگر چارمیں کہ یہ ان میں سے نہیں ہے جیساکہ بحر میں ہے بلکہ ہر ایسے مقام میں جہاں اگر گواہی نہ ہو
عبارت منسوبہ دررالحکام وعنایہ کہ:
ادعت المراۃ الف المہر بانھا واجبۃ علی الزوج الی یومنا ھذا وقال الزوج انك قد ابرأتنی منہا فاقامت المرأۃ شہودا وشہدوابالف المہر ولم یبینواانھا واجبۃ علیہ الی یومنا ھذالم تقبل شہادتھم علی الاصح ۔ عورت نے ہزار مہر کا دعوی کیا کہ یہ آج تك خاوند کے ذمہ واجب ہے اور خاوند کہتا ہے کہ تونے کچھ سے مجھے بری کردیا ہے تو عورت نے گواہی پیش کی تو گواہوں نے ہزار کی گواہی دی اور آج تك ذمہ واجب ہونے کو بیان نہ کیا تو صحیح قول پر وہ گواہی قبول نہ ہوگی۔(ت)
اگر ان میں اسی طرح ہو جب بھی مسئلہ دائرہ سے متعلق نہیں وہاں کلام اس صورت میں ہے کہ عورت جس مقدار مہر کا دعوی کرتی ہے شوہر کو وہ مقدار تسلیم ہے اور معافی کا مدعی ہے شہود نے اب تك مہر ذمہ شوہر پر واجب ہونے کا ذکر نہ کیا تو ان کی شہادت کو دعوی زوج سے تو کچھ مس نہ ہوارہی مقدار مہر زوج کو خود اس کا اقرار تھا اور مقر پر شہادت مسموع نہیں
الافی اربع لیس ھذا منھا کما فی البحر بل فی کل موضع مگر چارمیں کہ یہ ان میں سے نہیں ہے جیساکہ بحر میں ہے بلکہ ہر ایسے مقام میں جہاں اگر گواہی نہ ہو
حوالہ / References
الہدایہ کتاب النکاح باب المہر المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۳۱۴
الدرالحکام
الدرالحکام
یتوقع ضررمن غیر المقر لولاھا فیکون ھذااصل کما فیہ ایضا اقول: والوجہ فیہ ان الاقرار حجۃ ملزمۃ بنفسہ من دون حاجۃ الی قضاء القاضی ولذایصح فی غیرمجلس القضاء ونصوا ان القضاء علی المقر قضاء مجازا و الشہادۃ انما ھی یسمعھا القاضی فیلزم فاقامتھا علی المقر سعی فی تحصیل الحاصل وھو باطل بخلاف ما اذا افادت فائدۃ لم یفدھا الاقرار وھی التعدیۃ لان الاقرار حجۃ قاصرۃ ۔ تو وہاں غیر مقر کی طرف سےضررکا خطرہ ہوتو یہ قاعدہ ہوگا جیسا کہ یہ بھی اسی میں ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں وجہ یہ ہے کہ اقرار ایسی حجت ہے جو معاملہ کو خود لازم کرتی ہے بغیر قاضی کی قضاء کےا سی لئے یہ اقرار مجلس قضاء کے بغیر بھی صحیح ہوتا ہے او فقہاء نے نص کی ہے اقرار پر قاضی کی کارروائی کو مجازا قضاء کہا جاتا ہے جبکہ شہادت کو قاضی سن کر حکم کو لازم کرتا ہے تو مقرپر گواہی کو پیش کرنا تحصیل حاصل ہے جو کہ باطل ہے بخلاف اس صورت کے جس میں شہادت سے ایسا فائدہ حاصل ہو جو اقرا ر سے نہ ہوتا ہوا اوروہ فائدہ حکم کو متعدی بنانا ہے کیونکہ اقرا ر ناقص حجت ہے(ت)
یہاں تك کہ بعد شہادت اگر مدعا علیہ اقرار کردے تو حاکم بربنائے اقرار حکم کرے گا نہ کہ بر بنائے شہادت۔بحرالرائق میں ہے:
لو برھن المدعی ثم اقرالمدعی علیہ بالملك لہ یقضی لہ باقرار لاببینۃ اذ البینۃ انما تقبل علی المنکر لا علی المقرانتہی اقول: ووجہہ ظاہر لما قدمنالانہ لما اقرقبل القضاء لزم الحق من دون الزام فلم یبق مساغ لالزام والقضاء بالشہادۃ الزام۔
جب مدعی گواہی پیش کرچکا ہو اور اس کے بعد مدعاعلیہ مدعی کی ملکیت کا اقرار کرے تو قاضی اقرار کی بناء پر فیصلہ دے گا کیونکہ گواہی صرف منکر کے خلاف قبول کی جاتی ہے اقرار پر نہیں اھ ۔اقول:(میں کہتا ہوں)اس کی وجہ ظاہر ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے کہ جب قضاء سے قبل اقرار کردے گا تو حق خود بغیر الزام کے لازم ہوجائے گا تو اقرار کے بعد قاضی کی طرف سے لازم کرنے کا جواز نہیں رہتا جبکہ شہادت کی بنا پر فیصلہ الزام ہوتا ہے۔(ت)
یہاں تك کہ بعد شہادت اگر مدعا علیہ اقرار کردے تو حاکم بربنائے اقرار حکم کرے گا نہ کہ بر بنائے شہادت۔بحرالرائق میں ہے:
لو برھن المدعی ثم اقرالمدعی علیہ بالملك لہ یقضی لہ باقرار لاببینۃ اذ البینۃ انما تقبل علی المنکر لا علی المقرانتہی اقول: ووجہہ ظاہر لما قدمنالانہ لما اقرقبل القضاء لزم الحق من دون الزام فلم یبق مساغ لالزام والقضاء بالشہادۃ الزام۔
جب مدعی گواہی پیش کرچکا ہو اور اس کے بعد مدعاعلیہ مدعی کی ملکیت کا اقرار کرے تو قاضی اقرار کی بناء پر فیصلہ دے گا کیونکہ گواہی صرف منکر کے خلاف قبول کی جاتی ہے اقرار پر نہیں اھ ۔اقول:(میں کہتا ہوں)اس کی وجہ ظاہر ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے کہ جب قضاء سے قبل اقرار کردے گا تو حق خود بغیر الزام کے لازم ہوجائے گا تو اقرار کے بعد قاضی کی طرف سے لازم کرنے کا جواز نہیں رہتا جبکہ شہادت کی بنا پر فیصلہ الزام ہوتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۰۳€
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۰۳€
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۰۳€
اس وجہ سے وہاں شہادت زن نامقبول تھی بخلاف مسئلہ دائرہ کے یہاں شوہر اس مقدار مہر کا مقر نہیں تو گواہان سزن ضرور قابل قبول ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اسی قدر پر عورت کو ڈگری دی جائیگی بلکہ شہور سے ابراء پر گواہ طلب کئے جائیں گے اگر اس نے گوہان شرعی سے ابراء ثابت کردیا اور عورت کی طرف سے اس کا کوئی دفع صحیح نہ پایا گیا یا وہ گواہ نہ دے سکا اور عورت کا حلف چاہا اور عورت نےحلف سے انکار کردیا تو ان دونوں صورتوں میں عورت کا مطالبہ رد کردیاجائے گا اور اگر عورت نے عدم ابراء پر حلف کرلیا تو اپنے پورے مطالبہ کی ڈگری پائے گی جس قدر اس نے شہادت سے ثابت کردیا اب وہ گواہی اس کے کام آئے گی۔ عقود الدریہ میں ہے:
بینۃ البرائۃ اولی من البینۃ علی المال ان لم یؤرخا او أرخ احدھما فقط اوأرخا سواءبینۃ المطلوب علی انك اقررت بالبراءۃ اولی من بینۃ الطالب علی انك اقررت بالمال بعد اقراری بالبراءۃ وبینۃ الطالب اولی ان قال انك اقررت بالمال بعد دعواك اقراری بالبراءۃ ۔ برائۃ پر گواہی مال پر گواہی سے اولی ہے جب دونوں فریق یا ایك فریق نے تاریخ نہ بیان کی ہو یا دونوں نے ایك ہی تاریخ نہ بیان کی ہو مطلوب شخص کی گواہی کہ تونے براءت کا اقرار کیا ہے اولی ہے طالب کی اس گواہی سے کہ تونے مال کا اقرار میرے براءت کے اقرار کے بعد کیا ہے اور طالب کی یہ گواہی اولی ہے کہ تونے مال کا اقرار اپنے اس دعوی کے بعد کیا کہ میں نے تیرے لئے براءت کا اقرار کیا ہے۔(ت)
جامع الفصولین فصل عاشر میں ہے:
بینۃ الابراء اولی من بینۃ ان لہ علیہ کذافی الحال ۔ براءت کی گواہی اولی ہے اس گواہی سےکہ اس کے ذمہ فی فی الحال اتنا مال ہے(ت)
اسی میں وہیں ہے:
الاصل ان الموجب والمسقط اذا تعارضایؤخر المسقط اذا السقط یکون بعد الوجوب ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب موجب اور مسقط کا مقابلہ ہوجائے تو مسقط کو مؤخر قرار دیا جائے گا کیونکہ سقوط بعد ازوجوب ہوتا ہے۔ (ت)
بینۃ البرائۃ اولی من البینۃ علی المال ان لم یؤرخا او أرخ احدھما فقط اوأرخا سواءبینۃ المطلوب علی انك اقررت بالبراءۃ اولی من بینۃ الطالب علی انك اقررت بالمال بعد اقراری بالبراءۃ وبینۃ الطالب اولی ان قال انك اقررت بالمال بعد دعواك اقراری بالبراءۃ ۔ برائۃ پر گواہی مال پر گواہی سے اولی ہے جب دونوں فریق یا ایك فریق نے تاریخ نہ بیان کی ہو یا دونوں نے ایك ہی تاریخ نہ بیان کی ہو مطلوب شخص کی گواہی کہ تونے براءت کا اقرار کیا ہے اولی ہے طالب کی اس گواہی سے کہ تونے مال کا اقرار میرے براءت کے اقرار کے بعد کیا ہے اور طالب کی یہ گواہی اولی ہے کہ تونے مال کا اقرار اپنے اس دعوی کے بعد کیا کہ میں نے تیرے لئے براءت کا اقرار کیا ہے۔(ت)
جامع الفصولین فصل عاشر میں ہے:
بینۃ الابراء اولی من بینۃ ان لہ علیہ کذافی الحال ۔ براءت کی گواہی اولی ہے اس گواہی سےکہ اس کے ذمہ فی فی الحال اتنا مال ہے(ت)
اسی میں وہیں ہے:
الاصل ان الموجب والمسقط اذا تعارضایؤخر المسقط اذا السقط یکون بعد الوجوب ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب موجب اور مسقط کا مقابلہ ہوجائے تو مسقط کو مؤخر قرار دیا جائے گا کیونکہ سقوط بعد ازوجوب ہوتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الشہادۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۵۸€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۳€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۷€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۳€
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۷€
یہاں سوال دوم کا جواب بھی واضح ہوگیا کہ بینہ ابراء بینہ وجوب پر مرجح ہے اگرچہ گواہان زن یہ تصریح بھی کردیتے کہ آج تك مہر واجب الاداہے۔
فانھم انما یقولون بالاستصحاب فمعناھا نفی الابراء والایفاء ولا شہادۃ علی الفنی بل انما یرجع نفیھم الی علمھم وعدم العلم لیس علما بالعدم۔ واﷲ وسبحنہ وتعالی اعلم۔ کہ وہ استصحاب کا قول کرتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ براءت اور ادائیگی نہ ہوئی ہے جبکہ کسی نفی پر شہادت جائز نہیں بلکہ انکی یہ بات ان کے علم کی نفی کی طرف راجع ہوتی ہے جبکہ علم نہ ہونا نہ ہونے کا علم نہیں ہے۔واﷲسبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۸: ازرامپور محلہ گنج از جانب سبزہ فروشاں معرفت سدن کنجڑا ۴شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی اﷲ دین کےذمہ مسمی بھورے چودھری کی دو اشرفیاں مبلغ تیس روپیہ کی واجب الادا ہیں جب اس نے طلب کیں تب جواب دیا کہ میں بھورے چودھر کو عبدالکریم اور نور محمد اور نسوہ کے سامنے دے چکا جب اس نے دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق کہا کہ ہمارے سامنے ہر گز تم نے نہیں دیں تم غلط کہتے ہو جب دیکھا کہ سب نے انکار کیا اور میرا جھوٹ کھلا تو اﷲ دین نے کہا اچھا میں ان اشرفیوں کے مبلغ تیس روپیہ بر وقف حساب کتاب کے مجرادوں گا اور یہ اقرار چند آدمیوں کے سامنے کیا کہ جس میں چھد ا اور کلن اور اشخاص مذکورین موجود تھے پھر جب وقت حساب کا ہوا تو پھر انکار کردیا اور اس اقرار سے رجوع کیا اور قسم کاکر کہتا ہے کہ میں تو تینوں شخصوں مذکورین کے سامنے اداکرچکا میں نہیں دوں گاتو اب ایسی صورت میں جب اقرار گواہوں کے سامنے اشرفیوں کے تیس روپیہ اداکرنے کی بابت کرچکا اور پھر انکار کیا تو یہ انکار بعد الاقرار معتبر ہوگا یا وہی اقرا ر مقدم کہ جس کا ثبوت گواہوں سے ہے قائم رہے گا اور اﷲ دین کے ذمہ تیس روپیہ اشرفیوں کے بھورے چودھری کے واجب الادا ہوں گے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ امر دین ہے اور معاملہ حقو ق العباد کا ہے احتیاط لازم ہے یہاں جو بھورے چودھری نے آکر بیان کیا اس میں یہ سوال تھا کہ اﷲدین قسم کھاتا ہے اس کی قسم معتبر ہے یا نہیں اور اس کا جواب دیا گیا تھا کہ جب وہ ادا کردینا بتاتا ہے کہ دین کا اقرار کرچکا اور ادا کا دعوی کیا تو اب وہ مدعی ہے اور چودھری مدعا علیہ۔اور مدعی کی قسم معتبر نہیں بلکہ وہ گواہوں سے ثبوت دے کہ ادا کرچکا اگر ثبوت نہ دے سکے اور
فانھم انما یقولون بالاستصحاب فمعناھا نفی الابراء والایفاء ولا شہادۃ علی الفنی بل انما یرجع نفیھم الی علمھم وعدم العلم لیس علما بالعدم۔ واﷲ وسبحنہ وتعالی اعلم۔ کہ وہ استصحاب کا قول کرتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ براءت اور ادائیگی نہ ہوئی ہے جبکہ کسی نفی پر شہادت جائز نہیں بلکہ انکی یہ بات ان کے علم کی نفی کی طرف راجع ہوتی ہے جبکہ علم نہ ہونا نہ ہونے کا علم نہیں ہے۔واﷲسبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۸: ازرامپور محلہ گنج از جانب سبزہ فروشاں معرفت سدن کنجڑا ۴شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی اﷲ دین کےذمہ مسمی بھورے چودھری کی دو اشرفیاں مبلغ تیس روپیہ کی واجب الادا ہیں جب اس نے طلب کیں تب جواب دیا کہ میں بھورے چودھر کو عبدالکریم اور نور محمد اور نسوہ کے سامنے دے چکا جب اس نے دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق کہا کہ ہمارے سامنے ہر گز تم نے نہیں دیں تم غلط کہتے ہو جب دیکھا کہ سب نے انکار کیا اور میرا جھوٹ کھلا تو اﷲ دین نے کہا اچھا میں ان اشرفیوں کے مبلغ تیس روپیہ بر وقف حساب کتاب کے مجرادوں گا اور یہ اقرار چند آدمیوں کے سامنے کیا کہ جس میں چھد ا اور کلن اور اشخاص مذکورین موجود تھے پھر جب وقت حساب کا ہوا تو پھر انکار کردیا اور اس اقرار سے رجوع کیا اور قسم کاکر کہتا ہے کہ میں تو تینوں شخصوں مذکورین کے سامنے اداکرچکا میں نہیں دوں گاتو اب ایسی صورت میں جب اقرار گواہوں کے سامنے اشرفیوں کے تیس روپیہ اداکرنے کی بابت کرچکا اور پھر انکار کیا تو یہ انکار بعد الاقرار معتبر ہوگا یا وہی اقرا ر مقدم کہ جس کا ثبوت گواہوں سے ہے قائم رہے گا اور اﷲ دین کے ذمہ تیس روپیہ اشرفیوں کے بھورے چودھری کے واجب الادا ہوں گے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ امر دین ہے اور معاملہ حقو ق العباد کا ہے احتیاط لازم ہے یہاں جو بھورے چودھری نے آکر بیان کیا اس میں یہ سوال تھا کہ اﷲدین قسم کھاتا ہے اس کی قسم معتبر ہے یا نہیں اور اس کا جواب دیا گیا تھا کہ جب وہ ادا کردینا بتاتا ہے کہ دین کا اقرار کرچکا اور ادا کا دعوی کیا تو اب وہ مدعی ہے اور چودھری مدعا علیہ۔اور مدعی کی قسم معتبر نہیں بلکہ وہ گواہوں سے ثبوت دے کہ ادا کرچکا اگر ثبوت نہ دے سکے اور
چودھری کا حلف مانگے تو چودھری پر حلف آئے گا کہ مجھے ادا نہ کئے میرا مطالبہ اس پر اب تك ہے اگر چودھری قسم سے انکار کرے تو کچھ نہ پائے اور قسم کھالے تو ڈگری دیا جائے۔رہے چودھری کے گواہ کہ تونے نہیں دئے اصلا معتبر نہیں کہ شہادت نفی ہے اورنفی پر گواہی مقبول نہیں اور یہاں یہ ٹھہرانا کہ گواہ کے ہوتے حلف کی ضرورت نہیں محض بے معنی ہےنہ چودھری پر گواہ ہیں نہ اﷲ دین پر حلف۔
وھذاکلہ ظاھر لمن لہ ادنی المام بخدمۃ الفقہ الشریف فلم یکن لیقع فیہ الارتیاب ولکن لاحول ولاقوۃ الابتوفیق العزیز الوھاب۔ یہ تمام ظاہر ہے اس شخص پر جس کو فقہ شریف کی خدمت میں ادنی حصہ بھی ہے تو اس میں شك نہیں ہونا چاہئےلیکن اقدام اور قوت اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہیں۔(ت)
اس قدر صورت کا تو حکم یہ تھا اور سال میں اکثر عبارات سائلین اپنے فہم کے لائق بالمعنی نقل کرتے ہیں اور جہاں اختلاف لفظ سے حکم بدلتا ہے وہاں ان کے سبب دقت واقع ہوتی ہے اور حق رسی دشوار ہوجاتی ہے خصوصا بہت خدا ناترس وکلائے مفتعلہ ساختہ الفاظ تعلیم کرتے ہیں جن سے کمی پوری ہوجائے اور یہ سخت مزلہ اقدام ہے والعیاذ باﷲ تعالیپس اگرشہادت عادلہ شرعیہ متفقہ سے ثابت ہوا کہ اﷲ دین نے وہ لفظ کہے کہ اچھا میں ان اشرفویں کے تیس روپے وقت حساب مجرادوں گایہ تو ضرور اقرار ہے کہ اسی زر مدعی کا دینا مانتا ہے اور اقرار کے بعد انکار مسموع نہیںروپے دینا ہوں گےاور اگر انتا کہنا ثابت ہوکہ اچھا میں تیس روپے وقت حساب مجرادوں گا تو اسے اقرار ٹھہرانا محل تامل ہےظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ یہ کلام مبتداء ہے اور مجرادوں گا وعدہ ہے اور وعدہ کہ کلام مبتدا میں ہو اقرار نہیں اور اچھا کہ بعد منازعت کہا معنی قبول عطا قطعاللنزاع کا احتمال رکھتا ہے اور قبول عطا قبول وجوب نہیں اور اقرار قبول وجوب ہے اور اب زرمدعی کی طرف اشارہ اور مجرا دینا دادنی ہونا چاہتا ہے اور کلام مبتداء میں کوئی مال دادنی ماننا بھی اقرار نہیں فلیثبت فیہ۔فتاوی قاضی خان میں ہے:
الاصل فیہ ان الکلام اذاخرج علی وجہ الکنایۃ عن المال الذی ادعاہ المدعی یکون اقرارارجل قال لغیرہ اقض الالف التی لی علیك فقال ساعطیکھا اوغدا اعطیکہا اوفاتزنہا اوانتقدھا قاعدہ یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ایسی کلام جس سے مدعی کے دعوی مال کا کنایہ بنتا ہو تو وہ اقرار ہوگا ایك شخص دوسرے کو کہے کہ وہ ہزار جو میرا تیرے ذمہ ہے اس کو ادا کرتو وہ جواب میں کہے یہ دوں گا یا یہ کل دوں گایا ان کو وزن کریا انکو گنتی کرتو یہ مدعی کی
وھذاکلہ ظاھر لمن لہ ادنی المام بخدمۃ الفقہ الشریف فلم یکن لیقع فیہ الارتیاب ولکن لاحول ولاقوۃ الابتوفیق العزیز الوھاب۔ یہ تمام ظاہر ہے اس شخص پر جس کو فقہ شریف کی خدمت میں ادنی حصہ بھی ہے تو اس میں شك نہیں ہونا چاہئےلیکن اقدام اور قوت اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیر نہیں۔(ت)
اس قدر صورت کا تو حکم یہ تھا اور سال میں اکثر عبارات سائلین اپنے فہم کے لائق بالمعنی نقل کرتے ہیں اور جہاں اختلاف لفظ سے حکم بدلتا ہے وہاں ان کے سبب دقت واقع ہوتی ہے اور حق رسی دشوار ہوجاتی ہے خصوصا بہت خدا ناترس وکلائے مفتعلہ ساختہ الفاظ تعلیم کرتے ہیں جن سے کمی پوری ہوجائے اور یہ سخت مزلہ اقدام ہے والعیاذ باﷲ تعالیپس اگرشہادت عادلہ شرعیہ متفقہ سے ثابت ہوا کہ اﷲ دین نے وہ لفظ کہے کہ اچھا میں ان اشرفویں کے تیس روپے وقت حساب مجرادوں گایہ تو ضرور اقرار ہے کہ اسی زر مدعی کا دینا مانتا ہے اور اقرار کے بعد انکار مسموع نہیںروپے دینا ہوں گےاور اگر انتا کہنا ثابت ہوکہ اچھا میں تیس روپے وقت حساب مجرادوں گا تو اسے اقرار ٹھہرانا محل تامل ہےظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ یہ کلام مبتداء ہے اور مجرادوں گا وعدہ ہے اور وعدہ کہ کلام مبتدا میں ہو اقرار نہیں اور اچھا کہ بعد منازعت کہا معنی قبول عطا قطعاللنزاع کا احتمال رکھتا ہے اور قبول عطا قبول وجوب نہیں اور اقرار قبول وجوب ہے اور اب زرمدعی کی طرف اشارہ اور مجرا دینا دادنی ہونا چاہتا ہے اور کلام مبتداء میں کوئی مال دادنی ماننا بھی اقرار نہیں فلیثبت فیہ۔فتاوی قاضی خان میں ہے:
الاصل فیہ ان الکلام اذاخرج علی وجہ الکنایۃ عن المال الذی ادعاہ المدعی یکون اقرارارجل قال لغیرہ اقض الالف التی لی علیك فقال ساعطیکھا اوغدا اعطیکہا اوفاتزنہا اوانتقدھا قاعدہ یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ایسی کلام جس سے مدعی کے دعوی مال کا کنایہ بنتا ہو تو وہ اقرار ہوگا ایك شخص دوسرے کو کہے کہ وہ ہزار جو میرا تیرے ذمہ ہے اس کو ادا کرتو وہ جواب میں کہے یہ دوں گا یا یہ کل دوں گایا ان کو وزن کریا انکو گنتی کرتو یہ مدعی کی
کان اقرارا بالملکولو قال اتزن او انتقد لایکون اقرارا ۔ ملکیت کا اقرار ہوگااور اگر یوں کہے میں وزن کرتا ہوں یا گنتی کرتا ہوں تو یہ اقرار نہ ہوگا(ت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا قال مرا بفلان دہ درم دادنی ست قال لایلزمہ شئی مالم یقل ھو علی اوفی رقبتی اوذمتی او ھو دین واجب او حق لازم کذافی الظہیریۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی نے یوں کہا مجھے فلاں کے دس درہم دینے ہیںتو اس سے کچھ لازم نہ ہوگا جب تك میرے ذمہ یا مجھ پریامیری گردن پریا وہ قرض واجب یا حق لازمکے الفاظ نہ کہے ظہیریہ میں یونہی ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۹: مسئولہ محمد عبدالقیوم صاحب زمیندار قادر پور پرگنہ سرونج ریست دارالاسلام ٹونك ۲۳/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزید کی بیوی ہندہ اپنے شوہر کی تیرہ چودہ برس بعد ایك دستاویز جو کہ بحیثیت ہبہ کے ہے پیش کرتی ہے اور بیان کرتی ہے کہ میرے شوہر نے اپنی حیات میں یہ دستاویز مجھے لکھ دی تھی اس پر ایك مفتی کے دستخط بھی ہیں لیکن باضابطہ اس کی تصدیق سرکاری دفتر میں نہیں ہوئی ہے نہ وہ اصل دستاویز یا اس کی نقل سرکاری دفتر میں رکھی گئی ہے البتہ مفی صاحب کے دستخط بحیثیت تصدیق کے ہیں ونیز اس جائداد کا جھگڑا بعد انتقال زید کے ہوا تھا لیکن اس وقت اس نے اس تحریر کو پیش نہیں کیا ایسی صورت میں وہ دستاویز مانی جانے کے قابل ہوسکتی ہے اور شریعت پاك اس تصدیق شدہ دستاویز ونیز متذکرہ کو جس کی نقل یا اصل سرکاری دفتر میں نہیں رکھی گئی ہے صحیح تسلیم فرماکر ہندہ کو فائدہ بخش سکتے ہیں۔بیان کرو تم اور اجر پاؤتم فقط۔
الجواب:
کوئی دستاویز ثبوت میں پیش نہیں کی جاسکتی جب تك اس کے ساتھ شہادت نہ ہو۔علماء فرماتے ہیں:
لایعمل بالکتاب لان الخط یشبہ لکھائی پر عمل واجب نہیں کیونکہ خط ایك دوسرے
فتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا قال مرا بفلان دہ درم دادنی ست قال لایلزمہ شئی مالم یقل ھو علی اوفی رقبتی اوذمتی او ھو دین واجب او حق لازم کذافی الظہیریۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی نے یوں کہا مجھے فلاں کے دس درہم دینے ہیںتو اس سے کچھ لازم نہ ہوگا جب تك میرے ذمہ یا مجھ پریامیری گردن پریا وہ قرض واجب یا حق لازمکے الفاظ نہ کہے ظہیریہ میں یونہی ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۹: مسئولہ محمد عبدالقیوم صاحب زمیندار قادر پور پرگنہ سرونج ریست دارالاسلام ٹونك ۲۳/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزید کی بیوی ہندہ اپنے شوہر کی تیرہ چودہ برس بعد ایك دستاویز جو کہ بحیثیت ہبہ کے ہے پیش کرتی ہے اور بیان کرتی ہے کہ میرے شوہر نے اپنی حیات میں یہ دستاویز مجھے لکھ دی تھی اس پر ایك مفتی کے دستخط بھی ہیں لیکن باضابطہ اس کی تصدیق سرکاری دفتر میں نہیں ہوئی ہے نہ وہ اصل دستاویز یا اس کی نقل سرکاری دفتر میں رکھی گئی ہے البتہ مفی صاحب کے دستخط بحیثیت تصدیق کے ہیں ونیز اس جائداد کا جھگڑا بعد انتقال زید کے ہوا تھا لیکن اس وقت اس نے اس تحریر کو پیش نہیں کیا ایسی صورت میں وہ دستاویز مانی جانے کے قابل ہوسکتی ہے اور شریعت پاك اس تصدیق شدہ دستاویز ونیز متذکرہ کو جس کی نقل یا اصل سرکاری دفتر میں نہیں رکھی گئی ہے صحیح تسلیم فرماکر ہندہ کو فائدہ بخش سکتے ہیں۔بیان کرو تم اور اجر پاؤتم فقط۔
الجواب:
کوئی دستاویز ثبوت میں پیش نہیں کی جاسکتی جب تك اس کے ساتھ شہادت نہ ہو۔علماء فرماتے ہیں:
لایعمل بالکتاب لان الخط یشبہ لکھائی پر عمل واجب نہیں کیونکہ خط ایك دوسرے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الاقرار فصل فیما یکون الاقرار ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۶۱۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاقرار الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۵۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاقرار الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۵۷€
الخط والخاتم یشبہ الخاتم کما فی الاشباہ والھدایۃ والھندیۃ وغیرہا ۔ کے مشابہ ہوتا ہےا اور مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوتی ہے جیسا کہ اشباہہدایہ اور ہندیہ وغیرہا میں ہے۔(ت)
خصوصا اس حالت میں کہ بعد موت جھگڑا بھی ہوا اور اس نے دستاویز پیش نہ کی اب اتنی برسوں کے بعدظاہر کرتی ہے دستاویز درکنار ایسا دعوی ہی قابل سماعت نہیں
بہ یفتی قطعا للتزویر والتلبیس کما فی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ اسی پر فتوی ہے تاکہ جعلسازی اور تلبیس کا خاتمہ ہوسکے جیسا کہ خیریہعقود الدریہ وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱۰: مرسلہ قاضی حسام الدین صاحب از تعلقہ را دیر ضلع مشرقی خاندیس ۱۵جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
ایك شخص فوت ہوا اور اس کے تین لڑکے عاقل و بالغ ہیں اور لیاقت میں تینوں مساوی ہیں تو ایسی حالت میں قضاۃ کا کون مستحق ہےخلف اکبر کا رتبہ وحق برادران خورد سے کم ہے یا زیادہ
الجواب:
کوئی منصب نہ میراث ہےنہ بڑے چھوٹے پر موقوفجولائق تر ہو وہ کیا جائےاور سب مساوی ہوں تو منصب دینے والا جسے چاہے دے دےاور اگر ان سب سے کوئی اجنبی زیادہ لائق ہے تو وہی مستحق ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۱:مرسلہ میاں جان شاہ خلیفہ و جانشین حضرت حاجی غلام احمد صاحب مرید میاں احمد علی شاہ صاحب سکینہ ریاست رامپو ر محلہ بذریہ ہمت خاں ۱۸/ذی قعدہ ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید لاوارث نے اپنے مکان مملوکہ و مقبوضہ کی نسبت اپنے مریدوں سے ایك مرید بکر نامی کو جودس سال کی عمر سے اس کی اطاعت و خدمت گزاری شبانہ روز بسر کرتا تھا خرقہ خلافت وتبرکات وغیرہ عطا فرما کر اس کو اپنی سجادہ نشینی
خصوصا اس حالت میں کہ بعد موت جھگڑا بھی ہوا اور اس نے دستاویز پیش نہ کی اب اتنی برسوں کے بعدظاہر کرتی ہے دستاویز درکنار ایسا دعوی ہی قابل سماعت نہیں
بہ یفتی قطعا للتزویر والتلبیس کما فی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ اسی پر فتوی ہے تاکہ جعلسازی اور تلبیس کا خاتمہ ہوسکے جیسا کہ خیریہعقود الدریہ وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱۰: مرسلہ قاضی حسام الدین صاحب از تعلقہ را دیر ضلع مشرقی خاندیس ۱۵جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
ایك شخص فوت ہوا اور اس کے تین لڑکے عاقل و بالغ ہیں اور لیاقت میں تینوں مساوی ہیں تو ایسی حالت میں قضاۃ کا کون مستحق ہےخلف اکبر کا رتبہ وحق برادران خورد سے کم ہے یا زیادہ
الجواب:
کوئی منصب نہ میراث ہےنہ بڑے چھوٹے پر موقوفجولائق تر ہو وہ کیا جائےاور سب مساوی ہوں تو منصب دینے والا جسے چاہے دے دےاور اگر ان سب سے کوئی اجنبی زیادہ لائق ہے تو وہی مستحق ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۱:مرسلہ میاں جان شاہ خلیفہ و جانشین حضرت حاجی غلام احمد صاحب مرید میاں احمد علی شاہ صاحب سکینہ ریاست رامپو ر محلہ بذریہ ہمت خاں ۱۸/ذی قعدہ ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید لاوارث نے اپنے مکان مملوکہ و مقبوضہ کی نسبت اپنے مریدوں سے ایك مرید بکر نامی کو جودس سال کی عمر سے اس کی اطاعت و خدمت گزاری شبانہ روز بسر کرتا تھا خرقہ خلافت وتبرکات وغیرہ عطا فرما کر اس کو اپنی سجادہ نشینی
حوالہ / References
الاشباہ والنظائرمع غمز عیون البصائر کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۳۸،€الہدایہ کتاب القاضی الی القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۹و۱۵۷،€فتاوٰی ہندیہ کتاب القضاء الباب الثالث والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۸۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۴۸€
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۴۸€
کی خدمت تفویض کی اور ساتھ ہی اس کو یہ وصیت کی کہ یہ مکان تجھ کو ہبہ کرتا ہوں میرے انتقال کے بعد تم اس مکان میں اپنی سکونت رکھ کر مکان مذکورہ میں میرا اور میرے پیر ومرشد نیز دیگر اولیاء و پیران عظام کی علی الدوام فاتحہ عرس بطریق فقراء اپنے اہتمام سے سال بسال کرتے رہنااور میرے مرید بغرض شرکت عرس بیر ونجات وغیرہ سے آئیں ان کو مکان مسطور میں مقیم کرکے ان کے خوردنوش کا بھی انتظام کرنا اور جس طرح کہ میں اورادو اشغال وچلہ کشی وغیرہ خود کرتا اور اپنے مریدوں وغیرہ کو تلقین اورسلسلہ وطریقہ پیری ومریدی وغیرہ کی تعلیم دیتارہتا ہوں یہی معمول رکھنااور زید نے بخیال کم استطاعتی و بے بضاعتی اپنے سجادہ نشین بکر کے مکان مذکور کی نسبت بیع کی ممانعت کرکے رہن کی اجازت دیبعد اس وصیت کے زید نے مکان مذکورہ پر بکر کا قبضہ کامل طور سے کرادیابکر ایك تارك الدنیا فقیر ہےوصیت پیر و مرشد کو بجان و دل قبول ومنظور کرلیا اور زید نے اس وصیت کے کئی سال بعد سفر آخرت اختیار کا بکر زید کی وصیت کے موافق زمانہ اٹھارہ سال سے مکان مذکور پر بلا شرکت غیرے قابض ومتصرف ہے اور جملہ خدمات کی بجاآوری میں مامورومشغول ہے بلکہ بسبب انہدام مکان مذبور ونیز برائے سرانجام فاتحہ عرس بباعث تنگدستی مکان مسطور کو رہن کرکے حسب وصیت زید جمیع امورات مفوضہ کو بجا لانا مقدم سمجھا ہے ان امور متذکرہ بالا کے اکثر وبیشتر لوگ واہل محلہ بخوبی واقف وشاہد ہیںاب ایك عمرو نامی شخص دینا دار جو اپنے کو متولی زید کے پیر ومرشد کے مزار کا قرار دیتا ہے بوجہ طمع نفسانی وبحرص مفاد دنیا وی اس وصیت زیدکو اٹھارہ سال کے بعد کالعدم ظاہرکرکے یہ کہتا ہے کہ زید مجھ کو یہ وصیت کر گیا ہے کہ مکان مسطور فروخت کرکے میرے پیر ومرشد کے مزار کی مرمت وروشنی وغیرہ کرناپس صورت مذکورہ بالا میں مکان مقبوضہ اٹھارہ سالہ مواہبہ شرعا قبضہ بکر سے علیحدہ ہو کر فروخت ہوسکتا ہے یا نہیں اور خواہش نفسانی عمرو دنیادار کی موافق شرع شریف کے جائز ہے یاناجائز
الجواب:
سائل مظہر ہےکہ عمرو وہیں کا ساکن ہے اور مدت دراز سے زید کو اس مکان پر قبضہ کے تصرفات مالکانہ مثل ہدم وتعمیر وغیرہ کرتے دیکھ رہا ہے اور اب تك ساکت رہا اب ۱۸سال کے بعد اس وصیت کا مدعی ہواپس صورت مستفسرہ میں عمرو کادعوی اصلا قابل سماعت نہیں۔فتاوی امام شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ عزی تمر تاشی میں ہے:
سئل عن عجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات سوال ہو ا ایسے شخص کے متعلق کہ ایك حویلی کے کمرہ میں تین سال سے زائد مدت سے مقیم ہے۔
الجواب:
سائل مظہر ہےکہ عمرو وہیں کا ساکن ہے اور مدت دراز سے زید کو اس مکان پر قبضہ کے تصرفات مالکانہ مثل ہدم وتعمیر وغیرہ کرتے دیکھ رہا ہے اور اب تك ساکت رہا اب ۱۸سال کے بعد اس وصیت کا مدعی ہواپس صورت مستفسرہ میں عمرو کادعوی اصلا قابل سماعت نہیں۔فتاوی امام شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ عزی تمر تاشی میں ہے:
سئل عن عجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات سوال ہو ا ایسے شخص کے متعلق کہ ایك حویلی کے کمرہ میں تین سال سے زائد مدت سے مقیم ہے۔
ولہ جار بجانبہ والرجل المذکور فی البیت متصرف فی البیت المزبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ فھل اذا ادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدما وبناء فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام الاجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی ۔ اور شخص مذکور اس کمرہ میں ہر طرف کا تصرف گرانابنانا کرتا چلا آرہا ہے اس کے پڑوس میں دوسرا شخص ہے جو مذکورہ مدت سے اس کے تصرفات مذکور کو دیکھ رہا ہےتو کیا اس پڑوسی کو اس کمرہ کے کل یا بعض پر دعوی کا حق ہے باوجود یکہ وہ سب کچھ تصرفات دیکھتا رہا ہو۔جواب دیا کہ اس دعوی سماعت نہ ہوگی مفتی بہ قول کے مطابق(ت)
وجیز کردری میں ہے:علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ (اس پر فتوی فاسد طمع کو ختم کرنے کےلئے ہے۔ت) رد المحتار میں ہے:
مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع من الدعویقولہ زرعا وبناء المراد بہ کل تصرف لایطلق الاللمالك فھما من قبیل التمثلقولہ لاتسمع دعواہ ای دعوی الاجنبی ولو جارا ۔ تصرفات مذکورہ پر اطلاع کے باوجود خاموشی دعوی کےلئے مانع ہےماتن کا قول''زراعت وتعمیر'' سے مراد تمام ایسے تصرفات جوصرف مالك کےلئے جائز ہیں یہ دونوں بطور تمثیل ذکر کئےاس کا قول اس کا دعوی نہ سنا جائے گا یعنی ہر اجنبی کا خواہ پڑوسی ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعویولم یقیدوہ بمدۃ ولابموتولیس مبنیا علی المنع السلطانی بل ھو حکم اجتہادی نص علیہ الفقہاء ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔ تصرفات پر اطلاع ہی دعوی سے مانع ہے کسی مدت یا موت کی قید کے بغیر یہ بات فقہاء نے ذکر ہےیہ حکم سرکاری پابندی کی بناء پر نہیں ہے بلکہ یہ اجتہادی حکم ہے جس کو فقہاء نے بالاتفاق بیان کیا ہے ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
وجیز کردری میں ہے:علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ (اس پر فتوی فاسد طمع کو ختم کرنے کےلئے ہے۔ت) رد المحتار میں ہے:
مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع من الدعویقولہ زرعا وبناء المراد بہ کل تصرف لایطلق الاللمالك فھما من قبیل التمثلقولہ لاتسمع دعواہ ای دعوی الاجنبی ولو جارا ۔ تصرفات مذکورہ پر اطلاع کے باوجود خاموشی دعوی کےلئے مانع ہےماتن کا قول''زراعت وتعمیر'' سے مراد تمام ایسے تصرفات جوصرف مالك کےلئے جائز ہیں یہ دونوں بطور تمثیل ذکر کئےاس کا قول اس کا دعوی نہ سنا جائے گا یعنی ہر اجنبی کا خواہ پڑوسی ہو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعویولم یقیدوہ بمدۃ ولابموتولیس مبنیا علی المنع السلطانی بل ھو حکم اجتہادی نص علیہ الفقہاء ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔ تصرفات پر اطلاع ہی دعوی سے مانع ہے کسی مدت یا موت کی قید کے بغیر یہ بات فقہاء نے ذکر ہےیہ حکم سرکاری پابندی کی بناء پر نہیں ہے بلکہ یہ اجتہادی حکم ہے جس کو فقہاء نے بالاتفاق بیان کیا ہے ملتقطاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریہ بحوالہ فتاوٰی غزی کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب النکاح الفصل التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲۶€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۴۷۴€
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب النکاح الفصل التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲۶€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۴۷۴€
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴€
مسئلہ۱۱۲: ازانجمن نعمانیہ لاہور ۱۳/ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
امیر یا امام یا صدر قوم کو شرعا مسلمانوں کا مشورہ لین کے بعد کثرت رائے کا اتباع لازمی ہے یا اس کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی رائے پر ع اور کاموں میں ان سے مشورہ ار جو کسی بات کا ارادہ پکاکرلو تو اﷲ پر بھروسہ کرو۔(ت)مل کرے خواہ وہ رائے کثرت رائے کے خلاف ہی ہو مثلا انجمن یا مجلس کی صورت میں اس کے متعلقہ کاموں کے لئے ماتحت مجلسین ہر فن کے ماہرین کی بنادی گئی ہوں اور کل اس عام مجلس کا ایك صدر یا امام یا امیر بھی منظور کرلیا گیا ہو تو خاص فن کی مجلس کے فیصلہ کے خلاف صدر مجلس مذکور کو ان کی رائے حاصل کرلینے کے بعد یہ اختیار ہوگا کہ ان کے فیصلہ کے خلاف حکم دے دے اور وہ قابل اتباع ہویا نہیںیعنی زید جو اس دعوی کا حامی ہے کہ صدر کو کثرت رائے کا اتباع لازمی نہیں وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں فخر کائنات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مثاہل پیش کرتا ہے کہ بعض اوقات صحابہ علیہم الرضوان سے مشورہ لینے کے بعد بھی اپنی ذاتی رائے پر عمل کیا اور کلام قدیم میں بھی انہیں الفاظ میں حکم آیا کہ:
" وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ " اور کاموں میں ان سے مشورہ ار جو کسی بات کا ارادہ پکاکرلو تو اﷲ پر بھروسہ کرو۔(ت)
یعنی اپنی عزیمت پر عمل کرنے کا اختیار دے دیا زید یہ بھی کہتا ہےکہ آج کل مجلسوں میں کثرت رائے کا اتباع ایك زمانہ حال کے غیر مذاہب کے رویہ کا اتباع ہے جو درحقیقت مضر ہوتاہے مثلا کثرت رائے آج کل کے ایسے مسلمان کی جو مذہبی اتباع میں نہایت کمزور ہوتے ہیں کسی شرع معاملہ میں بوجہ آرام طلبی و مصلحت زمانہ کے خلاف ہوجائے تو کیا ا س شرعی مسئلہ کے خلاف کرنا جائز ہوجائے گاعمرو بکر وغیرہ زید کے مقابل میں یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ خاصہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کےلئے تھا بعد میں امت مرحومہ کو اتباع سواد اعظم کا حکم دیاگیا اور من شذ شذفی النار (جو جماعت سے علیحدہ رہا وہ جہنم میں علیحدہ کیا گیا۔ت)کا وعید سنایا گیا اور لاتجتمع امتی علی الضلالۃ (میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ت)کہ کسوٹی دی گئی اجماع ادلہ شرعی میں قرار پایا جس پر اہل سنت وجماع کے مذاہب
امیر یا امام یا صدر قوم کو شرعا مسلمانوں کا مشورہ لین کے بعد کثرت رائے کا اتباع لازمی ہے یا اس کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی رائے پر ع اور کاموں میں ان سے مشورہ ار جو کسی بات کا ارادہ پکاکرلو تو اﷲ پر بھروسہ کرو۔(ت)مل کرے خواہ وہ رائے کثرت رائے کے خلاف ہی ہو مثلا انجمن یا مجلس کی صورت میں اس کے متعلقہ کاموں کے لئے ماتحت مجلسین ہر فن کے ماہرین کی بنادی گئی ہوں اور کل اس عام مجلس کا ایك صدر یا امام یا امیر بھی منظور کرلیا گیا ہو تو خاص فن کی مجلس کے فیصلہ کے خلاف صدر مجلس مذکور کو ان کی رائے حاصل کرلینے کے بعد یہ اختیار ہوگا کہ ان کے فیصلہ کے خلاف حکم دے دے اور وہ قابل اتباع ہویا نہیںیعنی زید جو اس دعوی کا حامی ہے کہ صدر کو کثرت رائے کا اتباع لازمی نہیں وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں فخر کائنات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مثاہل پیش کرتا ہے کہ بعض اوقات صحابہ علیہم الرضوان سے مشورہ لینے کے بعد بھی اپنی ذاتی رائے پر عمل کیا اور کلام قدیم میں بھی انہیں الفاظ میں حکم آیا کہ:
" وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ " اور کاموں میں ان سے مشورہ ار جو کسی بات کا ارادہ پکاکرلو تو اﷲ پر بھروسہ کرو۔(ت)
یعنی اپنی عزیمت پر عمل کرنے کا اختیار دے دیا زید یہ بھی کہتا ہےکہ آج کل مجلسوں میں کثرت رائے کا اتباع ایك زمانہ حال کے غیر مذاہب کے رویہ کا اتباع ہے جو درحقیقت مضر ہوتاہے مثلا کثرت رائے آج کل کے ایسے مسلمان کی جو مذہبی اتباع میں نہایت کمزور ہوتے ہیں کسی شرع معاملہ میں بوجہ آرام طلبی و مصلحت زمانہ کے خلاف ہوجائے تو کیا ا س شرعی مسئلہ کے خلاف کرنا جائز ہوجائے گاعمرو بکر وغیرہ زید کے مقابل میں یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ خاصہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کےلئے تھا بعد میں امت مرحومہ کو اتباع سواد اعظم کا حکم دیاگیا اور من شذ شذفی النار (جو جماعت سے علیحدہ رہا وہ جہنم میں علیحدہ کیا گیا۔ت)کا وعید سنایا گیا اور لاتجتمع امتی علی الضلالۃ (میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ت)کہ کسوٹی دی گئی اجماع ادلہ شرعی میں قرار پایا جس پر اہل سنت وجماع کے مذاہب
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳ /۱۵۹€
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکربیروت ∞۱ /۱۱۵€
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکربیروت ∞۱ /۱۵۔۱۱۴،€الدرالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حدیث۴۵۹ المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞ص۱۹۰€
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکربیروت ∞۱ /۱۱۵€
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکربیروت ∞۱ /۱۵۔۱۱۴،€الدرالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حدیث۴۵۹ المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞ص۱۹۰€
اربعہ کی بنیاد ہےنیز زید کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہر ایك امر کے متعلق اس کے اہل فن کی مجلسیں مقرر کردی گئی ہوں تو ان کا فیصلہ کیوں اجماع کا حکم نہ رکھے گا اور اس کے خلاف صدر کوعمل کرنے کا کیوں اختیار ہونا چاہئے کیونکہ صدر آخر ایك شخص ہے اس کو ایك مجلس کے متفقہ فیصلہ توڑدینے کا اختیار دینا خالی اذخطر نہیں ہوسکے گا اس کے مفسدہ اور مصلحت پر بھی نظر رہناچاہئےبراہ کرم ان کے جواب سے بادلہ شرعی بہت جلد مطلع فرمادیں۔
المستفتی المستفتی
سلیم اﷲ خاں جنزل سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور تاج الدین احمد سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور
المستفتی
نور بخش فنا نشل سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور
الجواب:
دلیل کہ زیدنے بیان کیبجائے خود صحیح ہے۔خصائص بے دلیل صحیح اختصاص ثابت نہیں ہوتےمواہب شریف میں ہے:
الخصائص لا تثبت الابدلیل صحیح قالہ فی شرح تقریب الاسانید ۔ خصائص صحیح دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتےیہ بات انہوں نے تقریب الاسانید کی شرح میں ذکر کی ہے۔(ت)
اسی طرح فتح الباری وغیرہ میں ہےیوں تو ہر فضل عطائی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی سے خاص ہے کہ وہی اصل و منبع ومبدء و مرجع ہر فضل ہیں
وکل آی اتی الرسل الکرام بھا فانما اتصلت من نورہ بھم
انما مثلواصفاتك للنا س کما مثل النجوم الماء
(جو معجزات مرسلین لائے ہیں وہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نور سے ان تك پہنچے وہ لوگوں کے لئے آپ کی صفات مظہر بنے جس طرح ستاروں کیلئے پانی مظہر بنتا ہے۔ت)
المستفتی المستفتی
سلیم اﷲ خاں جنزل سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور تاج الدین احمد سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور
المستفتی
نور بخش فنا نشل سیکرٹری انجمن نعمانیہ لاہور
الجواب:
دلیل کہ زیدنے بیان کیبجائے خود صحیح ہے۔خصائص بے دلیل صحیح اختصاص ثابت نہیں ہوتےمواہب شریف میں ہے:
الخصائص لا تثبت الابدلیل صحیح قالہ فی شرح تقریب الاسانید ۔ خصائص صحیح دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتےیہ بات انہوں نے تقریب الاسانید کی شرح میں ذکر کی ہے۔(ت)
اسی طرح فتح الباری وغیرہ میں ہےیوں تو ہر فضل عطائی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی سے خاص ہے کہ وہی اصل و منبع ومبدء و مرجع ہر فضل ہیں
وکل آی اتی الرسل الکرام بھا فانما اتصلت من نورہ بھم
انما مثلواصفاتك للنا س کما مثل النجوم الماء
(جو معجزات مرسلین لائے ہیں وہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نور سے ان تك پہنچے وہ لوگوں کے لئے آپ کی صفات مظہر بنے جس طرح ستاروں کیلئے پانی مظہر بنتا ہے۔ت)
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۶۰۰€
المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۵۸۲€
المجموعۃ النبہانیہ فی المدائح النبویہ حرف الہمزہ دارالمعرفت بیروت ∞۱ /۷۷€
المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۵۸۲€
المجموعۃ النبہانیہ فی المدائح النبویہ حرف الہمزہ دارالمعرفت بیروت ∞۱ /۷۷€
مگر حقائق عطایائے محمدیہ میں یہ فضل کہ بعد مشورہ بھی اپنی رائے پر اعتماد جائز ہو علمائے کرام نے خصائص حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے نہ گنا البتہ وجوب مشورہ کوخصائص والا سے شمارکیا کما فی انموذج اللبیب للامام السیوطی والمواھب للامام القسطلانی(جس طرح کہ امام سیوطی کی انموذنج اللبیب اور امام قسطلانی کی مواہب میں ہے۔ت)بلکہ ہمارے علمائے کرام نے ہر حاکم ذی رائے کےلئے اس کے عموم کی تصریح فمائی کہ مشورہ کرے پھر عمل اپنی ہی رائے پر کرے اگرچہ سب رائے دہندوں کے خلاف ہو یعنی جبکہ مشورہ سے اپنی رائے کی غلطی ظاہر نہ ہورسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم تو محتاج مشورہ نہیں بلکہ ہرامر میں اپنے رب کے سوا تمام جہان سے غنی وبے نیاز ہیں حضور کا مشورہ فرمانا غلاموں کے اعزاز بڑھانے اور انہیں طریقہ اجتہاد سکھانے امت کے لئے سنت قائم فرمانے کے لئے تھا وہ خودفرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اما ان اﷲ ورسولہ لغنیان عنہا ولکن جعلہا اﷲ رحمۃ لامتی فمن استشار منھم لم یعدم رشدا و من ترکہا لم یعدم غیا ۔رواہ ابن عدی والبیہقی فی الشعب بسند حسن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واضح ہو کہ اﷲتعالی اور اس کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم مشورہ سے مستغنی ہیں لیکن اﷲ تعالی نے مشورہ کو میری امت کیلئے رحمت بنایا ہے تو جو مشورہ کرے گا وہ رہنمائی کو معدوم نہ پائے گا او رجو نہ کرے گا وہ خطا کو معدوم نہ پائے گا۔اس کو ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں سند حسن کے ساتھ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
امام حسن بصری فرماتے ہیں:
قد علم اﷲ انہ مابہ الیہم من حاجۃولکنہ اراد ان یستن بہ من بعدہ رواہ سعید بن منصور فی سننہ وابن المنذر وابی حاتم والبیہقی۔ اﷲ تعالی جانتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کے مشورہ کی حاجت نہیں لیکن ارادہ فرمایا کہ آپ کے بعد آپ کی سنت جاری کی جائےاس کو سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور ابن منذربیہقی اور ابوحاتم نے روایات کیا ہے۔ (ت)
اما ان اﷲ ورسولہ لغنیان عنہا ولکن جعلہا اﷲ رحمۃ لامتی فمن استشار منھم لم یعدم رشدا و من ترکہا لم یعدم غیا ۔رواہ ابن عدی والبیہقی فی الشعب بسند حسن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واضح ہو کہ اﷲتعالی اور اس کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم مشورہ سے مستغنی ہیں لیکن اﷲ تعالی نے مشورہ کو میری امت کیلئے رحمت بنایا ہے تو جو مشورہ کرے گا وہ رہنمائی کو معدوم نہ پائے گا او رجو نہ کرے گا وہ خطا کو معدوم نہ پائے گا۔اس کو ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں سند حسن کے ساتھ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
امام حسن بصری فرماتے ہیں:
قد علم اﷲ انہ مابہ الیہم من حاجۃولکنہ اراد ان یستن بہ من بعدہ رواہ سعید بن منصور فی سننہ وابن المنذر وابی حاتم والبیہقی۔ اﷲ تعالی جانتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کے مشورہ کی حاجت نہیں لیکن ارادہ فرمایا کہ آپ کے بعد آپ کی سنت جاری کی جائےاس کو سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور ابن منذربیہقی اور ابوحاتم نے روایات کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
شعب الایمان للبیہقی ∞حدیث۷۵۴۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷ /۶۶،€درمنثور بحوالہ البیہقی وابن عدی وشاور ھم فی الامر ∞کے تحت مکتبہ€ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایران ۲ /۹۰€
المواہب الدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۶۰۱€
المواہب الدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۶۰۱€
امت کے لئے فائدہ مشورہ یہ ہےکہ تلاحق انظار وافکار سے بارہا وہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ صاحب رائے کی نظرمیں نہ تھی س کا انتظار ہے اور بعد مشورہ بھی کوئی جدید امر کہ اپنی رائے میں ترمیم کرنا واضح نہ ہوا تو رائے روشن مشورہ بے ضیاء سے احق بالا تباع ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
استفت قلبك وان افتاك المفتون رواہ البخاری و احمد فی التاریخ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اپنے دل سے فتوی لے اگرچہ مفتی حضرات تجھے فتوی دیں۔ اس کو بخاری نے تاریخ اور احمدنے حضرت وابصہ بن معبد جہنی رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
ہمارے امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس کے حق میں کثرت رائے کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ ذی رائے ہے تو اپنی ہی رائے کا اتباع کرے اگرچہ تمام رائے دہندہ خلاف پر ہوں اور غیر کے لئے بھی یہ ہے کہ جوان میں اعلی وافقہ واورع ہے اس کی رائے پر چلے اگرچہ وہ اکیلا اور اس کے خلاف پر کثیر ہوں۔معین الحکام میں ہے:
ان کان فی المصر قوم من اھل الفقہ شاورھم لان اﷲ تعالی امر رسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بذلک فان اتفقوا علی شیئ وکان رأیۃ کرأیھم فصل الحکم وان اختلفو ا نظر الی اقرب الاقوال من الحق و امضی ذلك وان کان من اھل الاجتہادولا یعتبر السن ولا کثرۃ العدد لان الاصغر والوا حد قد یوفق للصواب فی حادثۃ مالا یوفق الاکبر والجماعۃ ۔ اگر شہر میں اہل فقہ ہوں تو ان سے مشہور ہ کرے کیونکہ اﷲ تعالی نے اپنے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمایا ہے پس اگر ان کا کسی معاملہ پر اتفاق ہو اور اس کی رائے انکی رائے کے مطابق ہو تو حکم حاصل ہوگیا اور اگران کا اختلاف ہو تو اقرب الی الحق قول کو پاکر اس پر عمل کرے اگرچہ وہ اہل اجتہاد میں سے ہوعمراور عدد کی کثرت کا اعتبار نہیں کیونکہ کبھی کم عمر اور واحد شخص کسی حادثہ میں درستگی کو پالیتا جس کو بڑا اور جماعت نہیں پاتے(ت)
استفت قلبك وان افتاك المفتون رواہ البخاری و احمد فی التاریخ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اپنے دل سے فتوی لے اگرچہ مفتی حضرات تجھے فتوی دیں۔ اس کو بخاری نے تاریخ اور احمدنے حضرت وابصہ بن معبد جہنی رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
ہمارے امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس کے حق میں کثرت رائے کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ ذی رائے ہے تو اپنی ہی رائے کا اتباع کرے اگرچہ تمام رائے دہندہ خلاف پر ہوں اور غیر کے لئے بھی یہ ہے کہ جوان میں اعلی وافقہ واورع ہے اس کی رائے پر چلے اگرچہ وہ اکیلا اور اس کے خلاف پر کثیر ہوں۔معین الحکام میں ہے:
ان کان فی المصر قوم من اھل الفقہ شاورھم لان اﷲ تعالی امر رسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بذلک فان اتفقوا علی شیئ وکان رأیۃ کرأیھم فصل الحکم وان اختلفو ا نظر الی اقرب الاقوال من الحق و امضی ذلك وان کان من اھل الاجتہادولا یعتبر السن ولا کثرۃ العدد لان الاصغر والوا حد قد یوفق للصواب فی حادثۃ مالا یوفق الاکبر والجماعۃ ۔ اگر شہر میں اہل فقہ ہوں تو ان سے مشہور ہ کرے کیونکہ اﷲ تعالی نے اپنے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمایا ہے پس اگر ان کا کسی معاملہ پر اتفاق ہو اور اس کی رائے انکی رائے کے مطابق ہو تو حکم حاصل ہوگیا اور اگران کا اختلاف ہو تو اقرب الی الحق قول کو پاکر اس پر عمل کرے اگرچہ وہ اہل اجتہاد میں سے ہوعمراور عدد کی کثرت کا اعتبار نہیں کیونکہ کبھی کم عمر اور واحد شخص کسی حادثہ میں درستگی کو پالیتا جس کو بڑا اور جماعت نہیں پاتے(ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ تخ ∞حدیث ۲۹۳۴۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰ /۲۵۰،€مسند احمد بن حنبل مروی ازوابصہ بن معبد المکتب الاسلامیہ بیروت ∞۴ /۲۲۸€
معین الحکام الرکن الثانی من ارکان القضاء المقتضی بہ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۷€
معین الحکام الرکن الثانی من ارکان القضاء المقتضی بہ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۷€
اسی طرح محیط پھر ہندیہ میں ہے:
(وزاد)وینبغی ان یکون ھذاعلی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اما علی قول محمد رحمہ اﷲ تعالی فتعتبر کثرۃ العدد ثم قال وان لم یکن القاضی من اھل الاجتہاد وقد وقع الاختلاف بین اھل الفقہ اخذ بقول من ھوا فقہ واورع عندہ ۔ اور انہوں نے یہ زائد بات کی کہ یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول ہونا مناسب ہے لیکن امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر کثرت عدد کا اعتبار ہےاور پھر فرمایا اگر قاضی اہل اجتہاد میں سے نہ ہو تو فقہاء کرام کے اختلاف کی صورت میں زیادہ فقیہ اور پر ہیز گار کے قول کو اپنائے۔(ت)
نیز معین الحکام میں ہے:
وان اختلفواعلی الامیر فرأی بعضھم رأیاورأی بعضھم رأیا غیرہ لم یمل مع اکثر ھم ولکن ینظر فیما اختلفوا فیہفمارأہ صوابا قضی بہ وانفذہ و کذلك ینبغی للقاضی ان یفعل ذلك اختلف علیہ المشاورون من الفقہاء ۔ اگر مشورہ دینے والوں میں اختلاف ہو کسی کی رائے کچھ اور کسی کی رائے کچھ ہو تو اکثریت کی رائے پر عمل نہ کرے بلکہ غور کرکے درست رائے قائم کرے اور اس پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ دے کر نافذ کردےاور قاضی کو بھی یہی کرنا چاہئیے جب مشورہ دینے میں فقیہ لوگوں میں اختلاف پایا جائے۔(ت)
عمروبکر وغیرہماکے استدلال محض باطل ہیں اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار (جو جد اہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیںصحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوںسیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کا مطلقا جمع زرکو حرام ٹھہراناابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جانناعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کا مسئلہ رباامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کامسئلہ مدت رضاعامام شافعی رضی اﷲتعالی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدا
(وزاد)وینبغی ان یکون ھذاعلی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اما علی قول محمد رحمہ اﷲ تعالی فتعتبر کثرۃ العدد ثم قال وان لم یکن القاضی من اھل الاجتہاد وقد وقع الاختلاف بین اھل الفقہ اخذ بقول من ھوا فقہ واورع عندہ ۔ اور انہوں نے یہ زائد بات کی کہ یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول ہونا مناسب ہے لیکن امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر کثرت عدد کا اعتبار ہےاور پھر فرمایا اگر قاضی اہل اجتہاد میں سے نہ ہو تو فقہاء کرام کے اختلاف کی صورت میں زیادہ فقیہ اور پر ہیز گار کے قول کو اپنائے۔(ت)
نیز معین الحکام میں ہے:
وان اختلفواعلی الامیر فرأی بعضھم رأیاورأی بعضھم رأیا غیرہ لم یمل مع اکثر ھم ولکن ینظر فیما اختلفوا فیہفمارأہ صوابا قضی بہ وانفذہ و کذلك ینبغی للقاضی ان یفعل ذلك اختلف علیہ المشاورون من الفقہاء ۔ اگر مشورہ دینے والوں میں اختلاف ہو کسی کی رائے کچھ اور کسی کی رائے کچھ ہو تو اکثریت کی رائے پر عمل نہ کرے بلکہ غور کرکے درست رائے قائم کرے اور اس پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ دے کر نافذ کردےاور قاضی کو بھی یہی کرنا چاہئیے جب مشورہ دینے میں فقیہ لوگوں میں اختلاف پایا جائے۔(ت)
عمروبکر وغیرہماکے استدلال محض باطل ہیں اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار (جو جد اہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیںصحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوںسیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کا مطلقا جمع زرکو حرام ٹھہراناابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جانناعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کا مسئلہ رباامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کامسئلہ مدت رضاعامام شافعی رضی اﷲتعالی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۱۴€
معین الحکام فصل فی جمع الفقہاء للنظر فی حکم القاضی مصطفی البابی ∞مصر ص۳۳€
مستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکر بیروت ∞۱ /۱۱۵€
معین الحکام فصل فی جمع الفقہاء للنظر فی حکم القاضی مصطفی البابی ∞مصر ص۳۳€
مستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکر بیروت ∞۱ /۱۱۵€
امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبعامام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا موردجانے خود شذ فی النار (جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔ت)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف اور" نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ " (اس کو پھیر دیں گے جب وہ پھرہم اس کو جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ت)کا مستوجب ہوگا اور حدیث اجماع اور بھی بعید تر۔اجماع میں ایك وقت کے تمام مجتہدین کا اتفاق درکار ہے ایك کے خلاف سے بھی اجماع نہیں رہتا اور کسی مجلس کے فیصلہ کو اجماع ٹھہرانا سخت سے سخت نادانی ہےشہر بھر کےفقہاء کا اتفاق تو اجماع درکنار فقیہ کے مقابل اصلا حجت نہیں ہوتانہ کہ اراکین مجلس کا فیصلہ جن میں اکثر بے علم ہوتے ہیں بلکہ بہت جگہ کل۔بدائع میں ہے:
ان اشکل علیہ حکم الحادثۃ استعمل رأیہ فی ذلك وعمل بہ والافضل ان یشاور اھل الفقہ فان اختلفوا اخذ بما یؤدی الی الحق ظاھرا و ان اتفقواعلی رأی یخالف رأیہ عمل برأی نفسہ ایضا لکن لاینبغی ان یعجل الخ (ملخصا) اگر کسی حادثہ میں مشکل پیش آئے اپنی رائے کو عمل میں لائے اور افضل یہ ہے کہ اس معاملہ میں اہل فقہ سے مشورہ کرےاگر ان میں اختلاف ہو توجو ظاہر طور پر حق کے قریب ہوا سے اختیار کرے اور اگر وہ اس کی رائے کے خلاف کسی رائے پر اتفاق کریں تو اس کو اپنی رائے کا ترك جائز نہیں لیکن عجلت مناسب نہیں الخ(ت)
محیط میں ہے:
اتفقواعلی شیئ ورأی القاضی بخلاف رأیھم لاینبغی ان یترك رأی نفسہ ۔ اگر ان کا اتفاق قاضی کی رائے کے خلاف ہو تو قاضی کو اپنی رائے ترك کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
معین الحکام میں ہے:
فاذا اجتمع فقہاء البلد علی شیئ جب شہر کے فقہاء کا کسی رائے پر اتفاق ہو اور
ان اشکل علیہ حکم الحادثۃ استعمل رأیہ فی ذلك وعمل بہ والافضل ان یشاور اھل الفقہ فان اختلفوا اخذ بما یؤدی الی الحق ظاھرا و ان اتفقواعلی رأی یخالف رأیہ عمل برأی نفسہ ایضا لکن لاینبغی ان یعجل الخ (ملخصا) اگر کسی حادثہ میں مشکل پیش آئے اپنی رائے کو عمل میں لائے اور افضل یہ ہے کہ اس معاملہ میں اہل فقہ سے مشورہ کرےاگر ان میں اختلاف ہو توجو ظاہر طور پر حق کے قریب ہوا سے اختیار کرے اور اگر وہ اس کی رائے کے خلاف کسی رائے پر اتفاق کریں تو اس کو اپنی رائے کا ترك جائز نہیں لیکن عجلت مناسب نہیں الخ(ت)
محیط میں ہے:
اتفقواعلی شیئ ورأی القاضی بخلاف رأیھم لاینبغی ان یترك رأی نفسہ ۔ اگر ان کا اتفاق قاضی کی رائے کے خلاف ہو تو قاضی کو اپنی رائے ترك کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
معین الحکام میں ہے:
فاذا اجتمع فقہاء البلد علی شیئ جب شہر کے فقہاء کا کسی رائے پر اتفاق ہو اور
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکربیروت ∞۱ /۱۱۵€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱۵€
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب ادب القاضی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۵€
محیط
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱۵€
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب ادب القاضی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۵€
محیط
وکان رأیہ خلاف ذلك فلاینبغی ان یجعل بالحکم حتی یکتب فیہ الی غیرھم ویشاورھم ثم ینظر الی احسن ذلك فیعمل بہلان المشورۃ بالکتاب من الغائب بمنزلۃ المشورۃ بالخطاب من الحاضرفان خالف رأیہ رأیھم قضی برأی نفسہلان رأیہ اصوب عندہ ورأی غیر لیس بصواب ۔ قاضی کی رائے کے خلا ف ہو تو قاضی کو جلد مناسب نہیں حتی کہ دوسروں سے خط وکتابت اور مشورہ کرے پھر ان آراء میں غور کرکے بہتر رائے کو عمل میں لائے کیونکہ خط و کتابت کے ذریعہ غائب شخص سے مشورہ ایسے ہی ہے جیسے خطاب کے ذریعہ حاضر شخص سے مشورہ ہے اس کے باوجو د اگر اس کی رائے ان کی رائے سے مختلف ہوتو اپنی رائے پر عمل کرے اور فیصلہ دے کیونکہ اس کے لئے اپنی رائے پر عمل درست ہے او دوسرے کی رائے اس کے ہاں درست نہیں ہے۔(ت)
یہ دلائل پر کلام تھارہاحکم فاقول: وبااﷲ التوفیقاس میں تفصیل کثیر ہےمعاملہ دائرہ دو قسم ہے:شرعی یا اس کا غیر۔ یہاں شرعی سے مراد وہ امر ہے جس سے حکم و تحدید شرعی متعلق ہو اختیار مکلف پر نہ چھوڑا گیا ہواور غیر سے وہ جسے شرع نے ہمارے اختیار پر رکھا ہے مثلا چاندی چاندی کے عوض بیچنے میں مساوات لازم فرمادی ہے کمی بیشی کا اختیار نہیں اور سونا چاندی کے عوض بیچنے میں کوئی حد مقرر نہ فرمائیعاقدین کو اختیار ہے کہ پندرہ کی اشرفی ہزار روپیہ کولیں دین خواہ ایك پیسے کو
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذااختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی وجہ سے کہ جب دو مختلف جنس ہوں تو پھر جیسے چاہو فروخت کرو۔(ت)
توپونڈ کی قیمت پندرہ روپے ہونا حکم شرعی نہیں لیکن روپے کو بدلے سواگیارہ ہی ماشے چاندی ہونا حکم شرعی ہے۔قسم اول میں پھر دو۲ صورتیں ہیںکتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاج نظر تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایك ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس چاہے عمل کرےپہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہویا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایك ہی ہے خواہ یوں کہ فتوی ایك ہی
یہ دلائل پر کلام تھارہاحکم فاقول: وبااﷲ التوفیقاس میں تفصیل کثیر ہےمعاملہ دائرہ دو قسم ہے:شرعی یا اس کا غیر۔ یہاں شرعی سے مراد وہ امر ہے جس سے حکم و تحدید شرعی متعلق ہو اختیار مکلف پر نہ چھوڑا گیا ہواور غیر سے وہ جسے شرع نے ہمارے اختیار پر رکھا ہے مثلا چاندی چاندی کے عوض بیچنے میں مساوات لازم فرمادی ہے کمی بیشی کا اختیار نہیں اور سونا چاندی کے عوض بیچنے میں کوئی حد مقرر نہ فرمائیعاقدین کو اختیار ہے کہ پندرہ کی اشرفی ہزار روپیہ کولیں دین خواہ ایك پیسے کو
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذااختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی وجہ سے کہ جب دو مختلف جنس ہوں تو پھر جیسے چاہو فروخت کرو۔(ت)
توپونڈ کی قیمت پندرہ روپے ہونا حکم شرعی نہیں لیکن روپے کو بدلے سواگیارہ ہی ماشے چاندی ہونا حکم شرعی ہے۔قسم اول میں پھر دو۲ صورتیں ہیںکتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاج نظر تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایك ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس چاہے عمل کرےپہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہویا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایك ہی ہے خواہ یوں کہ فتوی ایك ہی
حوالہ / References
معین الحکام الرکن الثانی من ارکان القضاء المقضی بہ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۸،۲۷€
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع المکتبۃ اسلامیہ ∞ریاض ۴ /۴€
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع المکتبۃ اسلامیہ ∞ریاض ۴ /۴€
جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہےیہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے۔(ت)
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر(شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں۔ت)اور دوسری صورت یہ کہ دونوں قول بلا ترجیح آراء ہوں یا ترجیح دونوں طرف متکافی ہو یہ صورت قسم دوم سے ملتصق ہے کہ ایسی حالت میں مکلف مختار ہے جس پر چاہے عمل کرے۔درمختار میں ہے:
فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما ۔ بحروغیرہ وقف میں ہےجب کسی مسئلہ میں دو مختلف قول ہوں اور وہ صحیح قرار دئے گئے ہوں تو ان میں ایك پر فتوی اور قضاجائز ہے۔(ت)
ردالمحتار کتاب القضاء میں ہے:
ومثلہ یقال فی المقلدین فیما لم یصرحوا فی الکتب بترجیحہ واعتمادہ کتب میں جس مسئلہ پر ترجیح نہ ہو تو دو مقلدوں کے متعلق یہی بات کہی جائے گی(ت)
او رجس کا حکم کتب میں نہیں تو اب چار صورتیں ہیں یا تو صدر وار اکین سب فقیہ متفقہ صاحب نظر و تصرفات صحیحہ ہیں یا صرف صدر یا صرف اراکین کل یا بعض کوئی نہیںبہر حال اس میں جو ایسا نہ ہو اس کی رائے کا کچھ اعتبار نہیں صدر ہو یا رکن تو شکل چہارم میں صدر واراکین سب کی رائے امر شرعی میں مہمل ومعطل ہے اگرچہ ایك ہی رائے پر متفق ہوں بلکہ ان پر فرض ہے کہ اہل علم فقیہ متفقہ کی طرف رجوع
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہےیہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے۔(ت)
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر(شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں۔ت)اور دوسری صورت یہ کہ دونوں قول بلا ترجیح آراء ہوں یا ترجیح دونوں طرف متکافی ہو یہ صورت قسم دوم سے ملتصق ہے کہ ایسی حالت میں مکلف مختار ہے جس پر چاہے عمل کرے۔درمختار میں ہے:
فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما ۔ بحروغیرہ وقف میں ہےجب کسی مسئلہ میں دو مختلف قول ہوں اور وہ صحیح قرار دئے گئے ہوں تو ان میں ایك پر فتوی اور قضاجائز ہے۔(ت)
ردالمحتار کتاب القضاء میں ہے:
ومثلہ یقال فی المقلدین فیما لم یصرحوا فی الکتب بترجیحہ واعتمادہ کتب میں جس مسئلہ پر ترجیح نہ ہو تو دو مقلدوں کے متعلق یہی بات کہی جائے گی(ت)
او رجس کا حکم کتب میں نہیں تو اب چار صورتیں ہیں یا تو صدر وار اکین سب فقیہ متفقہ صاحب نظر و تصرفات صحیحہ ہیں یا صرف صدر یا صرف اراکین کل یا بعض کوئی نہیںبہر حال اس میں جو ایسا نہ ہو اس کی رائے کا کچھ اعتبار نہیں صدر ہو یا رکن تو شکل چہارم میں صدر واراکین سب کی رائے امر شرعی میں مہمل ومعطل ہے اگرچہ ایك ہی رائے پر متفق ہوں بلکہ ان پر فرض ہے کہ اہل علم فقیہ متفقہ کی طرف رجوع
حوالہ / References
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱€۵
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۳€
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۳€
اور اس کے ارشاد پر عمل کریں۔
قال اﷲ تعالی" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھو۔ (ت)
درمختار میں ہے:
ولا یخلوا الوجود عمن یمیز ھذا حقیقۃ لاظنا وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبراء ۃ ذمتہ۔ ظنی نہیں حقیقی علم والوں سے وجود خالی نہیں علاوہ ازیں اگر خود تمیز نہ کرسکے تو براءت ذمہ کے لئے تمیز والوں کی طرف رجوع کرے۔(ت)
اور شکل دوم میں جبکہ صدر متفقہ اور اراکین خالی ہیں تو اس پر واجب ہے کہ جو حکم وہ کتب معتمدہ سے بعد غور کامل اور فحص بالغ سمجھا اس پر حکم دے رائے اراکین کی کثرت بلکہ اجماع کا بھی اصلا لحاظ نہ کرے اور خود اراکین کو روا نہیں کہ اس کا خلاف کریں کہ یہ علم کا مقابلہ جہل سے ہوگا اور وہ جہل مرکب ہے۔
قال اﷲ تعالی " فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم "۔ اﷲ تعا لی نے فرمایا:مجھ سے اس معاملہ میں کیوں بحث کرتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں ہے(ت)
اور شکل سوم میں صدر کی رائے کوئی چیز نہیں پھر اگر اراکین میں جو متفقہ ہیں ایك رائے پر متفق ہیں اسی پر حکم کرے اور مختلف ہیں تو جسے ان میں افقہ و اورع سمجھے اس کا اتباع کرے کما قدمناہ عن المحیط و الھندیۃ(جیسا کہ ہم نے پہلے محیط اور ہندیہ سے بیان کیا ہے ت)سراجیہ پھر تنویر و در میں ہے:
اذا اختلف مفتیان فی جواب حا دثۃ اخذ بقول افقھھما بعد ان یکون اور عھما۔ جب کسی حادثہ میں دو مفتیوں میں اختلاف ہو توان میں افقہ اور پرہیزگار کے قول کو اختیار کرے(ت)
اور اگر تفقہ میں متقارب اور ورع میں یکساں ہیں تو اب کثرت رائے کی طرف میل کرے فان مظنۃ
قال اﷲ تعالی" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھو۔ (ت)
درمختار میں ہے:
ولا یخلوا الوجود عمن یمیز ھذا حقیقۃ لاظنا وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبراء ۃ ذمتہ۔ ظنی نہیں حقیقی علم والوں سے وجود خالی نہیں علاوہ ازیں اگر خود تمیز نہ کرسکے تو براءت ذمہ کے لئے تمیز والوں کی طرف رجوع کرے۔(ت)
اور شکل دوم میں جبکہ صدر متفقہ اور اراکین خالی ہیں تو اس پر واجب ہے کہ جو حکم وہ کتب معتمدہ سے بعد غور کامل اور فحص بالغ سمجھا اس پر حکم دے رائے اراکین کی کثرت بلکہ اجماع کا بھی اصلا لحاظ نہ کرے اور خود اراکین کو روا نہیں کہ اس کا خلاف کریں کہ یہ علم کا مقابلہ جہل سے ہوگا اور وہ جہل مرکب ہے۔
قال اﷲ تعالی " فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم "۔ اﷲ تعا لی نے فرمایا:مجھ سے اس معاملہ میں کیوں بحث کرتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں ہے(ت)
اور شکل سوم میں صدر کی رائے کوئی چیز نہیں پھر اگر اراکین میں جو متفقہ ہیں ایك رائے پر متفق ہیں اسی پر حکم کرے اور مختلف ہیں تو جسے ان میں افقہ و اورع سمجھے اس کا اتباع کرے کما قدمناہ عن المحیط و الھندیۃ(جیسا کہ ہم نے پہلے محیط اور ہندیہ سے بیان کیا ہے ت)سراجیہ پھر تنویر و در میں ہے:
اذا اختلف مفتیان فی جواب حا دثۃ اخذ بقول افقھھما بعد ان یکون اور عھما۔ جب کسی حادثہ میں دو مفتیوں میں اختلاف ہو توان میں افقہ اور پرہیزگار کے قول کو اختیار کرے(ت)
اور اگر تفقہ میں متقارب اور ورع میں یکساں ہیں تو اب کثرت رائے کی طرف میل کرے فان مظنۃ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۱ /۷€
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵€
القرآن الکریم ∞۳ /۶۶€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲€
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵€
القرآن الکریم ∞۳ /۶۶€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲€
الاصابۃ فیھا اکثر عند من لا یعلم وھو اعذر لہ عند ربہ عزوجل(کیونکہ اکثریت کی رائے میں درستگی کا احتمال زیادہ ہے یہ چیز نہ جاننے والے کے لئے عنداﷲ بڑا عذر ہے۔ت)اور اگر کثرت بھی کسی طرف نہ ہو مثلا چار متفقہ ہیں دو ایك طرف دو ایك طرفتو جس طرف دل گواہی دے کہ یہ احسن یا احوط فی الدین ہے اس طرف میل اولی ہے۔ورنہ مختار ہے جس پر چاہے عمل کرے اور اب یہ صورت قسم دوم کی طرف راجع ہوجائے گی۔معین الحکام میں ہے:
ذکر الحسن بن زیاد فی ادب القاضی لہ الجاھل بالعلم اذا استفتی فقیھا فافتاہ بقول احد اخذ بقولہ ولا یسعہ ان یتعدی الی غیرہوان کا ن فی المصر فقیھان کلاھمارضا یأخذ عنھمافان اختلفا علیہ فلینظر ایھما یقع فی قلبہ انہ اصوبھما وسعہ ان یاخذ بہفان کانوا ثلثۃفقھاء واتفق اثنان اخذ بقولھما ولا یسعہ ان یتعدی الی قول الثالث۔ حسن بن زیاد نے اپنی ادب القاضی میں ذکر کیا ہے کہ کوئی جاہل جب کسی فقیہ سے سوال کرے اور وہ اسے کسی ایك قول پر فتوی دے تو وہ اس فتوی کو اپنائے اور غیر کی طرف جانے کی اس کو اجازت نہیں۔اگرشہر میں دو مساوی فقیہ ہوں تو دونوں سے چاہے رجوع کرےاگر دونوں میں اختلاف ہو تو اسے چاہئے کہ غور کرے جس کی بات دل میں درست سمجھے اس کو اپنائے تو یہ جائز ہے اور اگر شہر میں تین فقیہ ہوں اور دو کی رائے متفق ہو تو ان کی بات کو اپنائے اور تیسرے کی طرف رجوع کی گنجائش اسے نہ ہوگی(ت)
رد المحتار میں ہے:
قال فی الفتح وعندی انہ لواخذ بقول الذی لا یمیل الیہ قلبہ جاز لان ذلك المیل وعدمہ سواء الخ۔ اقول:عارضہ ماذکر الامام الحسن بن زیاد وھو من ائمتنا المجتھدین فتح میں کہا ہےکہ اگر اس قول کو اپنایا جس کی طرف قلبی میلان نہیں تو میرے نزدیك جائز ہے کیونکہ اس کا میلان اور عدم میلان برابر ہیں۔(ت)اقول:(میں کہتا ہوں امام حسن بن زیادکا ذکر کردہ قول اس کے معارض ہے جبکہ وہ ہمارے امام اعظم
ذکر الحسن بن زیاد فی ادب القاضی لہ الجاھل بالعلم اذا استفتی فقیھا فافتاہ بقول احد اخذ بقولہ ولا یسعہ ان یتعدی الی غیرہوان کا ن فی المصر فقیھان کلاھمارضا یأخذ عنھمافان اختلفا علیہ فلینظر ایھما یقع فی قلبہ انہ اصوبھما وسعہ ان یاخذ بہفان کانوا ثلثۃفقھاء واتفق اثنان اخذ بقولھما ولا یسعہ ان یتعدی الی قول الثالث۔ حسن بن زیاد نے اپنی ادب القاضی میں ذکر کیا ہے کہ کوئی جاہل جب کسی فقیہ سے سوال کرے اور وہ اسے کسی ایك قول پر فتوی دے تو وہ اس فتوی کو اپنائے اور غیر کی طرف جانے کی اس کو اجازت نہیں۔اگرشہر میں دو مساوی فقیہ ہوں تو دونوں سے چاہے رجوع کرےاگر دونوں میں اختلاف ہو تو اسے چاہئے کہ غور کرے جس کی بات دل میں درست سمجھے اس کو اپنائے تو یہ جائز ہے اور اگر شہر میں تین فقیہ ہوں اور دو کی رائے متفق ہو تو ان کی بات کو اپنائے اور تیسرے کی طرف رجوع کی گنجائش اسے نہ ہوگی(ت)
رد المحتار میں ہے:
قال فی الفتح وعندی انہ لواخذ بقول الذی لا یمیل الیہ قلبہ جاز لان ذلك المیل وعدمہ سواء الخ۔ اقول:عارضہ ماذکر الامام الحسن بن زیاد وھو من ائمتنا المجتھدین فتح میں کہا ہےکہ اگر اس قول کو اپنایا جس کی طرف قلبی میلان نہیں تو میرے نزدیك جائز ہے کیونکہ اس کا میلان اور عدم میلان برابر ہیں۔(ت)اقول:(میں کہتا ہوں امام حسن بن زیادکا ذکر کردہ قول اس کے معارض ہے جبکہ وہ ہمارے امام اعظم
حوالہ / References
معین الحکام الرکن الثانی من ارکان القضاء المقضی بہ مصطفی البابی ∞مصر ص ۲۷€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۳€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۳€
تلامذۃ امامنا الاعظم فالاخذبہ اولی من بحث المحقق۔ رضی اﷲتعالی عنہ کے مجتہد تلامذہ میں سے ایك امام ہیں تو محقق صاحب کے قول کے مقابلہ میں اس امام کے قول کو اپنانا بہتر ہے۔(ت)
شکل اول میں صدر متفقہ کو اپنی رائے پر عمل چاہئے کثرت رائے خلاف پر نظر نہیں کما قدمناہ عن معین الاحکام والمحیط والعالمگیریۃ(جیساکہ ہم پہلے معین الحکاممحیط اور عالمگیریہ سے اس کا ذکر کرآئے ہیں۔ت)ہاں اگراراکین میں کوئی اس سے افقہ واعلم ہے اور اس کے خلاف کے سبب اس کی رائے میں تزلزل آگیا تو رواہے کہ اس افقہ کا اتباع کرے خواہ اب بھی اپنی ہی رائے پر قائم رہےیہ صورت بھی قسم دوم سے ملتحق ہوجائے گیمحیط وہندیہ میں ہے:
ان اشار ذلك الرجل الی شیئ ورأی القاضی بخلاف رأیہ فالقاضی لایترك رأی نفسہ فان اھتم القاضی برأیہ لما ان ذلك الرجل افضل وافقہ عندہ لو قضی برأی ذلك الرجل ارجو ان یکون فی سعۃ من ذلك وان لم یھتم القاضی برأیہ لاینبغی لہ ان یترك رأی نفسہ ۔ اگر یہ شخص قاضی کو کسی چیز کا مشورہ دے اور قاضی کی رائے اس کے خلاف ہو توقاضی اپنی رائے کو ترك نہ کرے اور اگر قاضی اپنی رائے کو اس بنا پراہم نہ سمجھے کہ وہ شخص اس سے افقہ اور افضل ہے تو اس بناپر اگر اس شخص کی رائے پر عمل کرلے تو مجھے امید ہے قاضی کو یہ گنجائش ہے اور اگر قاضی اس شخص کی رائے کو اہم نہیں سمجھتا تو اسے اپنی رائے کا ترك مناسب نہیں ہے۔(ت)
درمختار میں ملتقط سے ہے:
قضی بما راہ صوابالابغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد فیجوز ترك رأیہ برأیہ ۔ اپنی رائے پرقاضی فیصلہ دے مگر جب غیر کی رائے کو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اقوی قرار دے تو اس کے مقابلہ میں اپنی رائے کا ترك قاضی کوجائز ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
شکل اول میں صدر متفقہ کو اپنی رائے پر عمل چاہئے کثرت رائے خلاف پر نظر نہیں کما قدمناہ عن معین الاحکام والمحیط والعالمگیریۃ(جیساکہ ہم پہلے معین الحکاممحیط اور عالمگیریہ سے اس کا ذکر کرآئے ہیں۔ت)ہاں اگراراکین میں کوئی اس سے افقہ واعلم ہے اور اس کے خلاف کے سبب اس کی رائے میں تزلزل آگیا تو رواہے کہ اس افقہ کا اتباع کرے خواہ اب بھی اپنی ہی رائے پر قائم رہےیہ صورت بھی قسم دوم سے ملتحق ہوجائے گیمحیط وہندیہ میں ہے:
ان اشار ذلك الرجل الی شیئ ورأی القاضی بخلاف رأیہ فالقاضی لایترك رأی نفسہ فان اھتم القاضی برأیہ لما ان ذلك الرجل افضل وافقہ عندہ لو قضی برأی ذلك الرجل ارجو ان یکون فی سعۃ من ذلك وان لم یھتم القاضی برأیہ لاینبغی لہ ان یترك رأی نفسہ ۔ اگر یہ شخص قاضی کو کسی چیز کا مشورہ دے اور قاضی کی رائے اس کے خلاف ہو توقاضی اپنی رائے کو ترك نہ کرے اور اگر قاضی اپنی رائے کو اس بنا پراہم نہ سمجھے کہ وہ شخص اس سے افقہ اور افضل ہے تو اس بناپر اگر اس شخص کی رائے پر عمل کرلے تو مجھے امید ہے قاضی کو یہ گنجائش ہے اور اگر قاضی اس شخص کی رائے کو اہم نہیں سمجھتا تو اسے اپنی رائے کا ترك مناسب نہیں ہے۔(ت)
درمختار میں ملتقط سے ہے:
قضی بما راہ صوابالابغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد فیجوز ترك رأیہ برأیہ ۔ اپنی رائے پرقاضی فیصلہ دے مگر جب غیر کی رائے کو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اقوی قرار دے تو اس کے مقابلہ میں اپنی رائے کا ترك قاضی کوجائز ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب آداب القاضی الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۱۴€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲€
لکن ھذااذااتھم رأی نفسہ ففی الھندیۃ عن المحیط ونقل ماذکرناہ بمعناہ۔ لیکن یہ تب جائز ہے کہ اپنی رائے کو اس کے مقابلہ میں اہم نہ جانےتو ہندیہ میں محیط سے معنا وہ نقل کیا جس کو ہم نے ذکر کیا ہے۔(ت)
یہ احکام قسم اول کے تھے۔
قسم دوم: میں یعنی جہاں جہاں شرعا اسے اختیار دیا گیا ہے تین صورتیں ہیں ایك یہ کہ وہ انجمن کسی وقف سے متعلق ہو اور یہ امر دائر شروط واقف میں داخل۔اس صورت میں جو شرط واقف کا مقتضی ہو اس پر عمل کیا جائے خواہ رائے صدر یا اراکین یا بعض کے موافق ہو یا سب کے خلاف کہ شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہے کما نصواعلیہ الافیما استثنی وھو مفصل فی الاشباہ والغمز وحواشی الدر وغیرھا(جیسا کہ انہوں نے کااس پر نص فرمائی ماسوائے ان استثنائی صورتوں کے جن کی تفصیل اشباہ غمز اور حواشی الدر وغیرہا میں ہے۔ت)دوم چندہ سے اس کی کارروائی ہو اور امر دائر متعلق بمالاس صورت میں چندہ دہندوں کی رائے کا اتباع ہے صدر واراکین ان کے خلاف اجازت صرف مال کے مختار نہیں لان المال فی ھذہ الصورۃ لایخرج عن ملك المعطین کما حققناہ فی کتاب الوقف من فتاونا(کیونکہ عطیہ دینے والوں کی ملکیت سے اس صورت میں مال خارج نہ ہوگا جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)جیسے قسم اول سے دو صورتیں ملتحق بقسم دوم ہوئی تھیں یوہیں قسم دوم سے یہ صورتیں راجع بہ قسم اول ہیں کہ معارض وقف وملك غیران میں جانب شرع سے تحدید ہوگئی تخییر نہ رہی۔سوم ان دونوں کے علاوہ یعنی وقف ہو تو امر دائر کو کسی شرط واقف سے تعلق نہ ہو یا چندہ کا کام ہو تو امر دائر متعلق بمال نہ ہو یا چندہ دہندوں کی طرف سے انجمن کو اذن عام ہو حقیقتا یہی صورتیں قسم دوم ہیں یہاں اگر اس امر میں صدر ذی راء نہیں اور اراکین جیسا کہ سوال میں ہے ماہر فنجب توظاہر کہ وہاں سے اپنی رائے پر وثوق بے معنی ہے غایت یہ کہ کسی خاص معاملہ میں کسی وجہ سے رائے اراکین میں اسے کوئی شبہ ہے تو اور متدین ماہروں سےتفتیش کرکے اطمینان کرلےبالجملہ یہ صورت شکل سوم کے مقارب اور اصالۃ یہاں ویسی ہی طرز عمل مناسبیوہیں اگر صدر خود بھی اس امر کا ماہر ذی رائے ہے تو یہ صورت شکل اول کے مشابہ ہوگی مگر از انجا کسی طرف کوئی مطالبہ شرعی نہیں بہر صورت یہاں مصلحۃ صدر کو یہی مناسب ہے کہ کثرت رائے
یہ احکام قسم اول کے تھے۔
قسم دوم: میں یعنی جہاں جہاں شرعا اسے اختیار دیا گیا ہے تین صورتیں ہیں ایك یہ کہ وہ انجمن کسی وقف سے متعلق ہو اور یہ امر دائر شروط واقف میں داخل۔اس صورت میں جو شرط واقف کا مقتضی ہو اس پر عمل کیا جائے خواہ رائے صدر یا اراکین یا بعض کے موافق ہو یا سب کے خلاف کہ شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہے کما نصواعلیہ الافیما استثنی وھو مفصل فی الاشباہ والغمز وحواشی الدر وغیرھا(جیسا کہ انہوں نے کااس پر نص فرمائی ماسوائے ان استثنائی صورتوں کے جن کی تفصیل اشباہ غمز اور حواشی الدر وغیرہا میں ہے۔ت)دوم چندہ سے اس کی کارروائی ہو اور امر دائر متعلق بمالاس صورت میں چندہ دہندوں کی رائے کا اتباع ہے صدر واراکین ان کے خلاف اجازت صرف مال کے مختار نہیں لان المال فی ھذہ الصورۃ لایخرج عن ملك المعطین کما حققناہ فی کتاب الوقف من فتاونا(کیونکہ عطیہ دینے والوں کی ملکیت سے اس صورت میں مال خارج نہ ہوگا جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)جیسے قسم اول سے دو صورتیں ملتحق بقسم دوم ہوئی تھیں یوہیں قسم دوم سے یہ صورتیں راجع بہ قسم اول ہیں کہ معارض وقف وملك غیران میں جانب شرع سے تحدید ہوگئی تخییر نہ رہی۔سوم ان دونوں کے علاوہ یعنی وقف ہو تو امر دائر کو کسی شرط واقف سے تعلق نہ ہو یا چندہ کا کام ہو تو امر دائر متعلق بمال نہ ہو یا چندہ دہندوں کی طرف سے انجمن کو اذن عام ہو حقیقتا یہی صورتیں قسم دوم ہیں یہاں اگر اس امر میں صدر ذی راء نہیں اور اراکین جیسا کہ سوال میں ہے ماہر فنجب توظاہر کہ وہاں سے اپنی رائے پر وثوق بے معنی ہے غایت یہ کہ کسی خاص معاملہ میں کسی وجہ سے رائے اراکین میں اسے کوئی شبہ ہے تو اور متدین ماہروں سےتفتیش کرکے اطمینان کرلےبالجملہ یہ صورت شکل سوم کے مقارب اور اصالۃ یہاں ویسی ہی طرز عمل مناسبیوہیں اگر صدر خود بھی اس امر کا ماہر ذی رائے ہے تو یہ صورت شکل اول کے مشابہ ہوگی مگر از انجا کسی طرف کوئی مطالبہ شرعی نہیں بہر صورت یہاں مصلحۃ صدر کو یہی مناسب ہے کہ کثرت رائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۳€
پر عمل کرے کہ باعث وحشت و بددلی اراکین وبد انتظامی مجلس نہ ہوعلماء نے تشریع مشورہ و نزول کریمہ " وشاورہم فی الامر " کی ایك مصلحت یہ بھی لکھی ہے عــــــہ ۔معالم میں ہے:
قال قتادۃ و مقاتل فان ساداۃ العرب کانوا اذالم تشاور فی الامر شق ذلك علیہم فامر اﷲ تعالی نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یشاورھم فان ذلك اعطف لھم واذھب لاضغانھم واطیب لنفوسھم ۔ حضرت قتادہ اور مقاتل نے فرمایا:عرب سرداروں سے جب مشورہ نہ ہوا تو ان کی یہ بات گراں گزری اس لئے اﷲ تعالی نے اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان سے مشورہ کا حکم فرمایا کیونکہ اس سے ان پر شفقت کا اظہار اور ان کے دل کی خلش دوراور ان کے نفوس مطمئن ہونے کا سامان ہوگا۔(ت)
اور شك نہیں کہ ابتداء ترك مشورہ میں وہ ایحاش نہیں جو بعد مشورہ رائے اکثر پر عمل نہ کرنے میں ہے اور رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:بشرواولا تنفروا (خوشخبری دو اور نفرت پیدا نہ کرو۔ت)ہاں اگر خلاف میں کوئی مصلحت اس مصلحت سے اعظم اور اس کے ترك میں کوئی مفسدہ اس مفسدہ سے اشد ہو تو من ابتلی بلیتین اختار اھو نھما (جو دو مصیبتوں میں مبتلا ہو تو آسان کو اپنائے۔ت)پر عمل کرے۔
ھذا کلہ ماظہر لی اخذا من کلما تھم وارجو ان یکون منتھی المقال فی ھذا المقام وباﷲ التوفیق۔ یہ تمام بحث وہ ہے جو میں نے ان کے کلام سے ظاہر پاکر حاصل کیتو مجھے امید ہے کہ اس مقام میں یہ بحث کی انتہا ہےاور توفیق صرف اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔(ت)
عــــــہ: اصل کی عبارت پڑھی نہ جاسکی پھر بھی مطلب میں خلل نہیں۔
قال قتادۃ و مقاتل فان ساداۃ العرب کانوا اذالم تشاور فی الامر شق ذلك علیہم فامر اﷲ تعالی نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یشاورھم فان ذلك اعطف لھم واذھب لاضغانھم واطیب لنفوسھم ۔ حضرت قتادہ اور مقاتل نے فرمایا:عرب سرداروں سے جب مشورہ نہ ہوا تو ان کی یہ بات گراں گزری اس لئے اﷲ تعالی نے اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان سے مشورہ کا حکم فرمایا کیونکہ اس سے ان پر شفقت کا اظہار اور ان کے دل کی خلش دوراور ان کے نفوس مطمئن ہونے کا سامان ہوگا۔(ت)
اور شك نہیں کہ ابتداء ترك مشورہ میں وہ ایحاش نہیں جو بعد مشورہ رائے اکثر پر عمل نہ کرنے میں ہے اور رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:بشرواولا تنفروا (خوشخبری دو اور نفرت پیدا نہ کرو۔ت)ہاں اگر خلاف میں کوئی مصلحت اس مصلحت سے اعظم اور اس کے ترك میں کوئی مفسدہ اس مفسدہ سے اشد ہو تو من ابتلی بلیتین اختار اھو نھما (جو دو مصیبتوں میں مبتلا ہو تو آسان کو اپنائے۔ت)پر عمل کرے۔
ھذا کلہ ماظہر لی اخذا من کلما تھم وارجو ان یکون منتھی المقال فی ھذا المقام وباﷲ التوفیق۔ یہ تمام بحث وہ ہے جو میں نے ان کے کلام سے ظاہر پاکر حاصل کیتو مجھے امید ہے کہ اس مقام میں یہ بحث کی انتہا ہےاور توفیق صرف اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔(ت)
عــــــہ: اصل کی عبارت پڑھی نہ جاسکی پھر بھی مطلب میں خلل نہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳ /۱۵۹€
معالم التنزیل علٰی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ وشاورھم فی الامر مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۴۳۹€
صحیح مسلم کتاب الجہاد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲،€صحیح البخاری کتاب العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
الاسرار المرفوعۃ ∞حدیث ۸۵۲€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۲۱۵€
معالم التنزیل علٰی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ وشاورھم فی الامر مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۴۳۹€
صحیح مسلم کتاب الجہاد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲،€صحیح البخاری کتاب العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
الاسرار المرفوعۃ ∞حدیث ۸۵۲€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۲۱۵€
تنبیہ:کسی امر کو قسم دوم سے ٹھہرانے میں احتیاط بلیغ ونظر غائر درکار ہےمسلمانوں کے کم کام ایسے نکلیں گے جن میں شرع مطہر کی طرف سے ابتداعا خواہ بوجہ عارض کوئی تحدید نہ ہواب یہیں دیکھئے کہ خالص قسم دوم میں طبائع اکثر اہل زمانہ کے سبب تنفیر کا اندیشہ پیدا ہوکر ایك تحدید شرعی نکل آئی تو حکم کے لئے علم و فہم کامل سے چارہ نہیں اور حق یہ کہ مسلمان بے علم دین ایك قدم نہیں چل سکتا اﷲ عزوجل علم دے اس پر عمل دے اس کو قبول فرمائے بجاہ حبیبہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳: ازریاست رامپور محلہ پیپلا تالاب مرسلہ مولوی ہدایت الرسول صاحب ۲۰/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںعمرو نے پختہ مکان بنایا جس کا دروازہ شارع عام پر واقع ہوااس مکان پر بالاخانے بھی تعمیر کئےان بالاخانوں میں اسی شارع عام کی طرف چار چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بھی ضرورۃ رکھی ہیںاسی سمت میں شارع عام سے فاصلہ پر بکر کا مکان واقع ہےان کھڑکیوں کی وجہ سے بکر کو اپنی بے پردگی کی شکایت واقع ہوئی اور اہل محلہ سے کہا کہ ان کھڑکیوں کے سامنے آڑ کرادینا چاہئے جس سے ہمارے مکان کا سامنا نہ رہے۔عمرو نے اہل محلہ کے کہنے سے ان روشندانوں پر جستی چادر سے ایسا سائبان ڈال دیا کہ سوا نیچے کی سڑك کے اور کچھ نظر نہیں آتا پھر روشندانوں میں لوہے کی سلاخیں لگادیں اور اڑنگوں سے خوب مضبوط جڑوادیا کہ کسی طرح وہ چادر اٹھ نہ سکےاب بحالت موجودہ ان سے کسی کے مکان کا سامنا مطلقا نہ رہایہ سب کچھ کرکے بکر کو دکھایا گیا جس کو اچھی طرح جانچ کر بکر نے اہل محلہ کے سامنے اپنی رضامندی ظاہر کی اور بتراضی طرفین وہ کھڑکی نما روشندان قائم ہوگئی جو عرصہ ۳ برس سے بدستور قائم ہیں فی الحال بکر نے ایك رنجش تازہ کی وجہ سے ان سہ سال قائم شدہ روشندانوں کی مسدودی کادعوی اس بے اصل اور خلاف واقعہ اظہار پر کیا ہے کہ مذکورہ کھڑکیوں کے سائبان اٹھاکر اس کے مکان کی بے پردگی کی جاتی ہے حالانکہ وہ سائبان مطابق بیان بالا نہایت مضبوط جڑے ہوئے ہیں جن کا اٹھانا ناممکن ہےچنانچہ اس کا معائنہ حاکم عدالت کو بھی کرادیا گیا ہے اور نیز اگر موجودہ استحکام سے اور کوئی زیادہ استحکامی حالت تجویز کیجائے تو عمرو اس کےلئے بھی تیار ہے۔عرض یہ ہے کہ بکر اندر سے سائبان اٹھاکر جھانکنے کا وہم بے اصل رفع کرلے۔اس واقعہ صحیحہ کو عرض کرکے امید وار حکم شرعی کا ہوں۔بینوا توجروا۔
مسئلہ ۱۱۳: ازریاست رامپور محلہ پیپلا تالاب مرسلہ مولوی ہدایت الرسول صاحب ۲۰/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںعمرو نے پختہ مکان بنایا جس کا دروازہ شارع عام پر واقع ہوااس مکان پر بالاخانے بھی تعمیر کئےان بالاخانوں میں اسی شارع عام کی طرف چار چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بھی ضرورۃ رکھی ہیںاسی سمت میں شارع عام سے فاصلہ پر بکر کا مکان واقع ہےان کھڑکیوں کی وجہ سے بکر کو اپنی بے پردگی کی شکایت واقع ہوئی اور اہل محلہ سے کہا کہ ان کھڑکیوں کے سامنے آڑ کرادینا چاہئے جس سے ہمارے مکان کا سامنا نہ رہے۔عمرو نے اہل محلہ کے کہنے سے ان روشندانوں پر جستی چادر سے ایسا سائبان ڈال دیا کہ سوا نیچے کی سڑك کے اور کچھ نظر نہیں آتا پھر روشندانوں میں لوہے کی سلاخیں لگادیں اور اڑنگوں سے خوب مضبوط جڑوادیا کہ کسی طرح وہ چادر اٹھ نہ سکےاب بحالت موجودہ ان سے کسی کے مکان کا سامنا مطلقا نہ رہایہ سب کچھ کرکے بکر کو دکھایا گیا جس کو اچھی طرح جانچ کر بکر نے اہل محلہ کے سامنے اپنی رضامندی ظاہر کی اور بتراضی طرفین وہ کھڑکی نما روشندان قائم ہوگئی جو عرصہ ۳ برس سے بدستور قائم ہیں فی الحال بکر نے ایك رنجش تازہ کی وجہ سے ان سہ سال قائم شدہ روشندانوں کی مسدودی کادعوی اس بے اصل اور خلاف واقعہ اظہار پر کیا ہے کہ مذکورہ کھڑکیوں کے سائبان اٹھاکر اس کے مکان کی بے پردگی کی جاتی ہے حالانکہ وہ سائبان مطابق بیان بالا نہایت مضبوط جڑے ہوئے ہیں جن کا اٹھانا ناممکن ہےچنانچہ اس کا معائنہ حاکم عدالت کو بھی کرادیا گیا ہے اور نیز اگر موجودہ استحکام سے اور کوئی زیادہ استحکامی حالت تجویز کیجائے تو عمرو اس کےلئے بھی تیار ہے۔عرض یہ ہے کہ بکر اندر سے سائبان اٹھاکر جھانکنے کا وہم بے اصل رفع کرلے۔اس واقعہ صحیحہ کو عرض کرکے امید وار حکم شرعی کا ہوں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
جب صورت واقعہ یہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو اس صورت میں بکر کا دعوی باطل ونامسموع اور ہمارے ائمہ متقدمین و متاخرین کے اجماع سے مردود و مدفوع ہےہمارے جمیع ائمہ کرام رضی اﷲ عنہم کا اصل مذہب تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ملك خاص میں جس سے دوسرے کا حق متعلق نہ ہو ہر قسم تصرف کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ اس سے بالتبع دوسرے کا ضرر لازم آتا ہو بہت اکابر نے اسی پر فتوی دیا۔درمختار میں ہے:
ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیرالدین و ابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ ۔ ظاہر روایت مطلقا عدم منع پر ہے اسی پر ایك جماعت مثلا امام ظہیر الدینابن شحنہ اور ان کے والد کا فتوی ہے اور فتح میں اسی کو ترجیح دی ہے اور مجتبی کی قسمت کی بحث میں"بہ یفتی یعنی اس پر فتوی ہے"فرمایااور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا کہ فتوی مختلف ہے اور مناسب یہی ہے کہ ظاہر روایت پر اعتماد کیا جائے۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن زیاد انہ لایمنع عن التصرف فی ملکہ وان اضر بجارہ قال وھو الذی امیل الیہ و اعتمدہ وافتی بہ تبعا لوالدی شیخ الاسلام رحمہ اﷲ تعالی ۔ علامہ ابن شحنہ نے فرمایا کہ میری یاد میں ہےکہ ہمارے پانچوں ائمہ ابو حنیفہابویوسفمحمد زفر اور حسن بن زیاد رحمہم اﷲ تعالی سے ثابت ہے کہ کسی کو ذاتی ملکیت میں تصرف منع نہیں کیا جائے گا اگرچہ پڑوسی کو ضرر ہو۔اور فرمایا اسی کی طرف میرا میلان ہے اور اعتماد ہے اور اپنے والد شیخ الاسلام کی اتباع میں میرا یہی فتوی ہے۔(ت)
جب صورت واقعہ یہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو اس صورت میں بکر کا دعوی باطل ونامسموع اور ہمارے ائمہ متقدمین و متاخرین کے اجماع سے مردود و مدفوع ہےہمارے جمیع ائمہ کرام رضی اﷲ عنہم کا اصل مذہب تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ملك خاص میں جس سے دوسرے کا حق متعلق نہ ہو ہر قسم تصرف کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ اس سے بالتبع دوسرے کا ضرر لازم آتا ہو بہت اکابر نے اسی پر فتوی دیا۔درمختار میں ہے:
ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیرالدین و ابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ ۔ ظاہر روایت مطلقا عدم منع پر ہے اسی پر ایك جماعت مثلا امام ظہیر الدینابن شحنہ اور ان کے والد کا فتوی ہے اور فتح میں اسی کو ترجیح دی ہے اور مجتبی کی قسمت کی بحث میں"بہ یفتی یعنی اس پر فتوی ہے"فرمایااور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا کہ فتوی مختلف ہے اور مناسب یہی ہے کہ ظاہر روایت پر اعتماد کیا جائے۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن زیاد انہ لایمنع عن التصرف فی ملکہ وان اضر بجارہ قال وھو الذی امیل الیہ و اعتمدہ وافتی بہ تبعا لوالدی شیخ الاسلام رحمہ اﷲ تعالی ۔ علامہ ابن شحنہ نے فرمایا کہ میری یاد میں ہےکہ ہمارے پانچوں ائمہ ابو حنیفہابویوسفمحمد زفر اور حسن بن زیاد رحمہم اﷲ تعالی سے ثابت ہے کہ کسی کو ذاتی ملکیت میں تصرف منع نہیں کیا جائے گا اگرچہ پڑوسی کو ضرر ہو۔اور فرمایا اسی کی طرف میرا میلان ہے اور اعتماد ہے اور اپنے والد شیخ الاسلام کی اتباع میں میرا یہی فتوی ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۸۶€
بحرالرائق کتاب القضاء مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۳€
بحرالرائق کتاب القضاء مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۳€
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:والوجہ لظاہرالروایۃ (معتبر وجہ ظاہر روایت کےلئے ہے۔ت)اور معلوم ہے کہ فتوی جب مختلف ہو تو ظاہر الروایۃ پر عمل واجب ہے۔
کما فی البحر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا عامۃ الاسفار۔ جیسا کہ بحرخیریہ اور ردالمحتار وغیرہا عام کتب میں ہے۔(ت)
اس تقدیر پر تو دعوی سرے سے بے بنیاد ہے مگر متاخرین نے بنظر مصلحت وحدیث:
لاضررولاضرار ۔رواہ احمد عن عباس وابن ماجۃ عنہ وعن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہم بسند حسن۔ ضرررسانی جائز نہیں۔اس کو احمد نے عباس سے اور ابن ماجہ نے ان سے اور عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بسند حسن روایت کیا(ت)
بطور استحسان دفع ضرر بین پر نظر کی ہے اقول: غیر فقیہ اس سے یہ گمان کرتا ہے کہ بین کے معنی ہیں ظاہر وواضحتو کیسا ہی ضرر کسی حالت میں ہو جبکہ مخفی نہ ہو مالك کو اپنی ملك میں تصرف سے باز رکھنے کا پروانہ ہے حالانکہ یہ محض وہم وسوئے فہم ہے۔شرع مطہر نے ملك کی وضع اطلاق تصرف کے لئے فرمائی ہے مالك کو اس کی ملك میں تصرف سے روکنا کیا ضرر نہیںاور حدیث فرماتی ہے:لاضرر ولاضرار (ضرر رسانی جائز نہیں۔ت) تو کیا وجہ ہے کہ مطلقا دوسرے کے ضرر کو خود مالك کے ضرر پر ترجیح دی جائے حالانکہ یہ ترجیح بلا مرجح بلکہ بارہا ترجیح مرجوح ہے کہ مالك صاحب حق ہے اور صورت یہ مفروض ہے کہ دوسرے کا اس ملك سے حق متعلق نہیں کما فی السفل لرجل والعلو لاخر(جیسے نچلا حصہ ایك کا ہو اور بالائی حصہ دوسرے کا۔ت)ایك شخص کے مکان میں نہایت وسیع سایہ دار گنجان درخت ہے اس کے برابر ایك محتاج کا گھر ہے جس پر سایہ اس درخت ہی کا ہے بلا شبہہ اس کے قطع میں جار کا اضرار ہے مگر ہر گز مالك اس سے ممنوع نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر وجامع الفصولین میں فرمایا:
واللفظ للجامع رجل لہ شجرۃ یستظل بھا جارہ اراد قلعھا لایمنع منہ ولو تضرربہ جارہ اذرب الشجرۃ بالقلع یمنعہ عن الانتفاع کسی شخص کا درخت ہو اور اس کا پڑوسی اس سے سایہ حاصل کرتا ہے اور مالك درخت اکھاڑ نا چاہتا ہے تو پڑوسی کے ضرر کی وجہ سے مالك کو اکھاڑنے سے نہ روکا جائے گاہوسکتا ہے کہ درخت
کما فی البحر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا عامۃ الاسفار۔ جیسا کہ بحرخیریہ اور ردالمحتار وغیرہا عام کتب میں ہے۔(ت)
اس تقدیر پر تو دعوی سرے سے بے بنیاد ہے مگر متاخرین نے بنظر مصلحت وحدیث:
لاضررولاضرار ۔رواہ احمد عن عباس وابن ماجۃ عنہ وعن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہم بسند حسن۔ ضرررسانی جائز نہیں۔اس کو احمد نے عباس سے اور ابن ماجہ نے ان سے اور عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے بسند حسن روایت کیا(ت)
بطور استحسان دفع ضرر بین پر نظر کی ہے اقول: غیر فقیہ اس سے یہ گمان کرتا ہے کہ بین کے معنی ہیں ظاہر وواضحتو کیسا ہی ضرر کسی حالت میں ہو جبکہ مخفی نہ ہو مالك کو اپنی ملك میں تصرف سے باز رکھنے کا پروانہ ہے حالانکہ یہ محض وہم وسوئے فہم ہے۔شرع مطہر نے ملك کی وضع اطلاق تصرف کے لئے فرمائی ہے مالك کو اس کی ملك میں تصرف سے روکنا کیا ضرر نہیںاور حدیث فرماتی ہے:لاضرر ولاضرار (ضرر رسانی جائز نہیں۔ت) تو کیا وجہ ہے کہ مطلقا دوسرے کے ضرر کو خود مالك کے ضرر پر ترجیح دی جائے حالانکہ یہ ترجیح بلا مرجح بلکہ بارہا ترجیح مرجوح ہے کہ مالك صاحب حق ہے اور صورت یہ مفروض ہے کہ دوسرے کا اس ملك سے حق متعلق نہیں کما فی السفل لرجل والعلو لاخر(جیسے نچلا حصہ ایك کا ہو اور بالائی حصہ دوسرے کا۔ت)ایك شخص کے مکان میں نہایت وسیع سایہ دار گنجان درخت ہے اس کے برابر ایك محتاج کا گھر ہے جس پر سایہ اس درخت ہی کا ہے بلا شبہہ اس کے قطع میں جار کا اضرار ہے مگر ہر گز مالك اس سے ممنوع نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر وجامع الفصولین میں فرمایا:
واللفظ للجامع رجل لہ شجرۃ یستظل بھا جارہ اراد قلعھا لایمنع منہ ولو تضرربہ جارہ اذرب الشجرۃ بالقلع یمنعہ عن الانتفاع کسی شخص کا درخت ہو اور اس کا پڑوسی اس سے سایہ حاصل کرتا ہے اور مالك درخت اکھاڑ نا چاہتا ہے تو پڑوسی کے ضرر کی وجہ سے مالك کو اکھاڑنے سے نہ روکا جائے گاہوسکتا ہے کہ درخت
حوالہ / References
فتح القدیر مسائل منثورۃ من کتاب القضاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴€
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۱۳€
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۱ /۳۱۳€
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۶€
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۱۳€
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۱ /۳۱۳€
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۶€
بالبین وھو مایکون سببا للھدم وما یوھن البناء سبب لہ اویخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو مایمنع من الحوائج الاصلیۃکسد الضوء بالکلیۃواختار واالفتوی علیہ واما التوسع الی منع کل ضرر ما فیسد باب الانتفاع بملك الانسان کما ذکرنا قریبا (ملتقطا) گرنے یا کمزور ہونے کا خطرہ ہومراد ہے یاایسا ضرر کہ دوسرے کو اپنی ملکیت کے انتفاع سے بالکل محروم کردے وہ یہ کہ اس کو اپنی حوائج اصلیہ سے روك دےمثلا بالکل روشنی کا ختم ہوجانا فقہاء کرام نے اسی پر فتوی کو مختار قراردیا ہے لیکن یہ کہ ہر ضرر کو ممنوع قرار دینے تك توسیع تو انسان کو اپنی ملکیت سے انتفاع سے محروم کردیگی جیسا کہ قریب ہی ہم نے ذکر کیا ہے(ملتقطا)۔(ت)اسی طرح عقود دریہ میں حواشی اشباہ علامہ بیری زادہ سے ہے۔
شرط دوم:اس ضرر میں اس کا فعل مستقل ہو فعل جار کو اس میں دخل نہ ہو ورنہ اصلا لحاظ نہ ہوگا مثلا اس کی چھت سے جار کے زنانہ کا سامنا نہیں مگر زنانہ کے پاس کوئی باغیچہ اور مکان ہے اس کا سامنا ہے یا اس کی چھت سے جار کی چھت ملی ہوئی ہے اور آڑ نہیں کہ عورتیں اس باغیچہ یا اپنی چھت پر آئیں اور یہ اپنی سقف پہ جائے تو بے پردگی ہو یہ ضرر میں محسوب نہیں کہ زنانہ کا سامنا نہیں عورتیں ایسی جگہ کیوں آئیں یہ جار کا فعل ہوا۔تنقیح الحامدیہ میں ہے:
لزید طبقۃ فیہا طاقۃ قدیمۃ مقابلۃ لقصر ورواق حادثین فی دار جارہ عمر وفقام عمروویکلفہ سد الطاقۃ زاعما انھا تشرف علی القصر والرواق المذکورین والحال انھما لیسا محل قرار نسائہ و جلوسھن بل محلہ سفل الدارفھل لیس لہ تکلیفہ بذلك ۔ زید کے مکان کی دوسری منزل ہے جس میں قدیم کھڑکی ہے اور کھڑکی مقابل پڑوسی عمرو کی حویلی میں جدید برآمدہ اور باغیچہ ہے عمرو ضد کرکے کھڑکی کو بند کرانے پر اس خیال سے مجبور کرے کہ کھڑکی والا باغیچہ اور بر آمدہ مذکورہ کو جھانکتا ہے حالانکہ وہ باغیچہ اور برآمدہ کی مستورات کی آرام گاہ اور نشستگاہ نہیں بلکہ مستورات کی اصل وہ جگہ مکان کی پست جگہ میں ہے تو ایسی صورت میں عمرو کو یہ حق نہیں کہ وہ کھڑکی والے کو بندکرنے پر مجبور کرے۔(ت)
شرط دوم:اس ضرر میں اس کا فعل مستقل ہو فعل جار کو اس میں دخل نہ ہو ورنہ اصلا لحاظ نہ ہوگا مثلا اس کی چھت سے جار کے زنانہ کا سامنا نہیں مگر زنانہ کے پاس کوئی باغیچہ اور مکان ہے اس کا سامنا ہے یا اس کی چھت سے جار کی چھت ملی ہوئی ہے اور آڑ نہیں کہ عورتیں اس باغیچہ یا اپنی چھت پر آئیں اور یہ اپنی سقف پہ جائے تو بے پردگی ہو یہ ضرر میں محسوب نہیں کہ زنانہ کا سامنا نہیں عورتیں ایسی جگہ کیوں آئیں یہ جار کا فعل ہوا۔تنقیح الحامدیہ میں ہے:
لزید طبقۃ فیہا طاقۃ قدیمۃ مقابلۃ لقصر ورواق حادثین فی دار جارہ عمر وفقام عمروویکلفہ سد الطاقۃ زاعما انھا تشرف علی القصر والرواق المذکورین والحال انھما لیسا محل قرار نسائہ و جلوسھن بل محلہ سفل الدارفھل لیس لہ تکلیفہ بذلك ۔ زید کے مکان کی دوسری منزل ہے جس میں قدیم کھڑکی ہے اور کھڑکی مقابل پڑوسی عمرو کی حویلی میں جدید برآمدہ اور باغیچہ ہے عمرو ضد کرکے کھڑکی کو بند کرانے پر اس خیال سے مجبور کرے کہ کھڑکی والا باغیچہ اور بر آمدہ مذکورہ کو جھانکتا ہے حالانکہ وہ باغیچہ اور برآمدہ کی مستورات کی آرام گاہ اور نشستگاہ نہیں بلکہ مستورات کی اصل وہ جگہ مکان کی پست جگہ میں ہے تو ایسی صورت میں عمرو کو یہ حق نہیں کہ وہ کھڑکی والے کو بندکرنے پر مجبور کرے۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر مسائل منثورۃ من کتاب القضاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۶ /۱۵۔۴۱۴€
العقود الدریہ کتاب القضاء باب الحبس مسائل شتی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۳۰€
العقود الدریہ کتاب القضاء باب الحبس مسائل شتی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۳۰€
فتاوی امام فقیہ ابوللیث رحمہ اﷲتعالی پھر فتح القدیر وجامع الفصولین میں ہے:
واللفظ لہ لو لا یقع بصرہ فی دار جارہ ولکن یقع بصرہ علیہم لو کانواعلی السطح لایمنعہ اذا استویافی الضرر لانہ این کان یقع بصرہ علیہم یقع بصرھم علیہم ایضا فی السطح کذا ۔ لفظ جامع الفصولین کے ہیںاگر مکان والے کی نظر پڑوسی کے گھر میں نہیں پڑتی لیکن اگر پڑوس والے چھت پر اور کھلی جگہ ہوں تو نظر پڑتی ہے تو ایسی صور ت میں پڑوسی کو منع کرنے کا حق نہیں ہے جبکہ دونوں اس ضر ر میں برابر ہیں کیونکہ جب ایك کی نظر پڑے گی تو دوسرے کی بھی ان پر نظر پڑے گی جب چھت پر ہوں گے۔(ت)اسی طرح وجیز کردری میں ہے۔
شرط سوم:وہ ضرر ثابت و متحقق ہو محتمل و متوقع معتبر نہیں مثلا چھت کے قریب بلند دیوار میں تابدان ہیں کہ اگر سیڑھی لگا کر اوپر چڑھ کر جھانکے تو ہمسایہ کے زنانے کا سامنا ہو اس کا اعتبار نہ ہوگا اور وہ روشندان بند نہ کئے جائیں گے۔عقود الدریہ میں ہے:
سئل فی رجل لہ قاعۃ رفیعۃ البناء ملا صقۃ لدار جارہ ففتح فی اعلاھا بالقرب من سقفہا قمریتین للضوء فقط لیس فیہما اشراف علی حریم الجار الابالصعود الیہما بسلم عال قام جارہ الان یکلفہ سدھما بدون وجہ شرعی فہل یمنع الجار من ذلکالجواب نعم ۔ ان سے ایك شخص کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا بڑا بلند مکان ہو اس کے ساتھ ملا ہوا پڑوسی کا مکان ہے تو بلند محل والے اس شخص نے روشنی کےلئے چھت کے قریب اپنے مکان میں دوروشندان پڑوسی کی طرف نکالے جبکہ ان روشندانوں سے پڑوس کے اہل خانہ کوجھانکنے کا کوئی ذریعہ نہیں ماسوائے اس کے کہ بلند سیڑھی لگا کر ان سے جھانکا جائے تو اب پڑوسی ضد کرکے ان روشندانوں کو کسی شرعی وجہ کے بغیر بند کرائے تو کیا پڑوسی کو اس سے روکا جائیگا جواب دیا کہ ہاں پڑوسی کو اس مطالبہ سے منع کیا جائے گا۔(ت)
شرط چہارم:وہ ضرر ناممکن الاحتراز ہو یعنی جس تصرف سے پیدا ہوابے اس کے ازالہ کے اور کوئی چارہ کار نہ ہو ورنہ منع تصرف لازم نہ ہوگا۔بحرالرائق میں کتاب الاستحسان امام ابوبکر رازی
واللفظ لہ لو لا یقع بصرہ فی دار جارہ ولکن یقع بصرہ علیہم لو کانواعلی السطح لایمنعہ اذا استویافی الضرر لانہ این کان یقع بصرہ علیہم یقع بصرھم علیہم ایضا فی السطح کذا ۔ لفظ جامع الفصولین کے ہیںاگر مکان والے کی نظر پڑوسی کے گھر میں نہیں پڑتی لیکن اگر پڑوس والے چھت پر اور کھلی جگہ ہوں تو نظر پڑتی ہے تو ایسی صور ت میں پڑوسی کو منع کرنے کا حق نہیں ہے جبکہ دونوں اس ضر ر میں برابر ہیں کیونکہ جب ایك کی نظر پڑے گی تو دوسرے کی بھی ان پر نظر پڑے گی جب چھت پر ہوں گے۔(ت)اسی طرح وجیز کردری میں ہے۔
شرط سوم:وہ ضرر ثابت و متحقق ہو محتمل و متوقع معتبر نہیں مثلا چھت کے قریب بلند دیوار میں تابدان ہیں کہ اگر سیڑھی لگا کر اوپر چڑھ کر جھانکے تو ہمسایہ کے زنانے کا سامنا ہو اس کا اعتبار نہ ہوگا اور وہ روشندان بند نہ کئے جائیں گے۔عقود الدریہ میں ہے:
سئل فی رجل لہ قاعۃ رفیعۃ البناء ملا صقۃ لدار جارہ ففتح فی اعلاھا بالقرب من سقفہا قمریتین للضوء فقط لیس فیہما اشراف علی حریم الجار الابالصعود الیہما بسلم عال قام جارہ الان یکلفہ سدھما بدون وجہ شرعی فہل یمنع الجار من ذلکالجواب نعم ۔ ان سے ایك شخص کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا بڑا بلند مکان ہو اس کے ساتھ ملا ہوا پڑوسی کا مکان ہے تو بلند محل والے اس شخص نے روشنی کےلئے چھت کے قریب اپنے مکان میں دوروشندان پڑوسی کی طرف نکالے جبکہ ان روشندانوں سے پڑوس کے اہل خانہ کوجھانکنے کا کوئی ذریعہ نہیں ماسوائے اس کے کہ بلند سیڑھی لگا کر ان سے جھانکا جائے تو اب پڑوسی ضد کرکے ان روشندانوں کو کسی شرعی وجہ کے بغیر بند کرائے تو کیا پڑوسی کو اس سے روکا جائیگا جواب دیا کہ ہاں پڑوسی کو اس مطالبہ سے منع کیا جائے گا۔(ت)
شرط چہارم:وہ ضرر ناممکن الاحتراز ہو یعنی جس تصرف سے پیدا ہوابے اس کے ازالہ کے اور کوئی چارہ کار نہ ہو ورنہ منع تصرف لازم نہ ہوگا۔بحرالرائق میں کتاب الاستحسان امام ابوبکر رازی
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۸€
العقود الدریہ کتاب القضا باب الحبس،مسائل شتی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۳۰€
العقود الدریہ کتاب القضا باب الحبس،مسائل شتی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۳۰€
سے ہے:
الدار اذاکانت مجاورۃ للدور فارادصاحبھا ان یبنی فیہا تنورا للخبز الدائم کما یکون فی الدکاکین او رحی للطحین او مدقات للقصارین لم یجز لان ذلك یضر بجیرانہ ضررافاحشا لایمکن التحرز عنہ فانہ یاتی منہ الدخان الکثیر الشدیدو رحی الطحن ودق القصارین یوھم النباء بخلاف الحمام فانہ لا یضر الا بالنداوۃ ویمکن التحرز عنہ بان یبنی حائطا وبین جارہ وبخلاف التنور الصغیر المعتاد فی البیوت ۔ ایك مکان دوسرے مکان سے ملا ہو ا ہو تو ایك مکان والا اپنے مکان میں دائمی کاروباری تنور روٹیوں کےلئے یا آٹا پیسنے کے لئے چکی یا دھوبی گھاٹ بنائے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس سے پڑوس کو کھلا ضرر ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ کثیر وشدید دھواں وہاں سے آئے گا اور چکی اور دھوبی گھاٹ سے پڑوس والے مکان کی عمارت کمزور ہوتی ہے اس کے برخلاف حمام ہوتو جائز ہے کیونکہ اس سے رطوبت کا نقصان ہے لیکن اس سے بچنا ممکن ہے کہ اپنے اور پڑوس کے درمیان دیوار بنادےاسی طرح گھریلو تنور جو کہ عادتاگھروں میں ہوتا ہے وہ بھی جائز ہے(ت)
جب یہ اصل منقح ہولی مسئلہ دائرہ کی طرف چلئےیہ تو پہلے معلوم ہولیا کہ ہمارے جملہ ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب مہذب مصحح مرجح پر تو دعوی بکر سرے سے بے بنیاد ہے اور بہت اکابراس صورت کو فتوائے متاخرین سے بھی جدا مانتے ہیں اور اس پر وہی اصل حکم ائمہ جانتے ہیں کہ بالا خانے میں دروازہ ودریچہ نکالنے سے اصلا منع نہ کیا جائے گا جس کی بے پردگی ہو وہ اپنا پردہ بنالے اپنی دیوار اونچی کرلے۔امام عمادالدین نے فصول میں باآنکہ قول متاخرین اختیارکیااس مسئلہ میں عدم منع ہی کو موید فرمایااور محقق علی الاطلاق نے اسے مقرر رکھافتح میں بعد نقل مسئلہ مذکور فتاوی امام سمر قندی میں فرمایا:
قال فی فصول العمادی وعلی قیاس المسألۃ المتقدمۃ وھی ان لایمنع صاحب الساحۃ من ان یفتح صاحب العلوکوۃ فصول عمادی میں فرمایا:پہلے مسئلہ پر قیاس کے طور اور وہ یہ کہ صحن والا بالاخانے والے کو روشندان اور کھڑکی نکالنے سے منع نہیں کرسکتا
الدار اذاکانت مجاورۃ للدور فارادصاحبھا ان یبنی فیہا تنورا للخبز الدائم کما یکون فی الدکاکین او رحی للطحین او مدقات للقصارین لم یجز لان ذلك یضر بجیرانہ ضررافاحشا لایمکن التحرز عنہ فانہ یاتی منہ الدخان الکثیر الشدیدو رحی الطحن ودق القصارین یوھم النباء بخلاف الحمام فانہ لا یضر الا بالنداوۃ ویمکن التحرز عنہ بان یبنی حائطا وبین جارہ وبخلاف التنور الصغیر المعتاد فی البیوت ۔ ایك مکان دوسرے مکان سے ملا ہو ا ہو تو ایك مکان والا اپنے مکان میں دائمی کاروباری تنور روٹیوں کےلئے یا آٹا پیسنے کے لئے چکی یا دھوبی گھاٹ بنائے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس سے پڑوس کو کھلا ضرر ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ کثیر وشدید دھواں وہاں سے آئے گا اور چکی اور دھوبی گھاٹ سے پڑوس والے مکان کی عمارت کمزور ہوتی ہے اس کے برخلاف حمام ہوتو جائز ہے کیونکہ اس سے رطوبت کا نقصان ہے لیکن اس سے بچنا ممکن ہے کہ اپنے اور پڑوس کے درمیان دیوار بنادےاسی طرح گھریلو تنور جو کہ عادتاگھروں میں ہوتا ہے وہ بھی جائز ہے(ت)
جب یہ اصل منقح ہولی مسئلہ دائرہ کی طرف چلئےیہ تو پہلے معلوم ہولیا کہ ہمارے جملہ ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب مہذب مصحح مرجح پر تو دعوی بکر سرے سے بے بنیاد ہے اور بہت اکابراس صورت کو فتوائے متاخرین سے بھی جدا مانتے ہیں اور اس پر وہی اصل حکم ائمہ جانتے ہیں کہ بالا خانے میں دروازہ ودریچہ نکالنے سے اصلا منع نہ کیا جائے گا جس کی بے پردگی ہو وہ اپنا پردہ بنالے اپنی دیوار اونچی کرلے۔امام عمادالدین نے فصول میں باآنکہ قول متاخرین اختیارکیااس مسئلہ میں عدم منع ہی کو موید فرمایااور محقق علی الاطلاق نے اسے مقرر رکھافتح میں بعد نقل مسئلہ مذکور فتاوی امام سمر قندی میں فرمایا:
قال فی فصول العمادی وعلی قیاس المسألۃ المتقدمۃ وھی ان لایمنع صاحب الساحۃ من ان یفتح صاحب العلوکوۃ فصول عمادی میں فرمایا:پہلے مسئلہ پر قیاس کے طور اور وہ یہ کہ صحن والا بالاخانے والے کو روشندان اور کھڑکی نکالنے سے منع نہیں کرسکتا
حوالہ / References
بحرالرائق کتب القضاء مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۳۳،۳۳€
ینبغی ان یقال فی ھذہ لیس للجارحق المنع من الصعود وان کان بصرہ یقع فی دارجارہالاتری ان محمد ارحمہ اﷲ تعالی لم یجعل لصاحب الساحۃ حق منع صاحب البناء عن فتح الکوۃ فی علوہ مع ان بصرہ یقع فی الساحۃ ۔ اس بناء پر یہ حکم مناسب ہے کہ پڑوسی کو یہ حق نہیں کہ دوسرے کو اپنے مکان پر چڑھنے سے منع کرے اگرچہ چھت پر جانے سے پڑوسی کے گھر نظر پڑتی ہوآپ دیکھتے نہیں کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے صحن والے کو حق نہیں دیا کہ وہ بالاخانہ والے کوکھڑکی نکالنے سے منع کرے حالانکہ ظاہر ہے کہ اوپر کھڑکی سے صحن میں نظر پڑتی ہے۔(ت)
کتاب الحیطان امام حسام شہید و بحرالرائق و خلاصہ ووجیز کردری وانقرویہ وغیرہا میں ہے:
لو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابا او کوۃ لایلی صاحب الساحۃ منعہ بل لہ ان یبنی مایستر جھتہ ۔ اگر عمارت والا اپنے بالاخانے سے کھڑکی یا دروازہ نکالے تو صحن والے کو حق نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی طرف کوئی پردہ لگائے(ت)
ارباب الفتوی میں ہے:
رجل وکل وکیلا عن زوجتہ باع لھا قطعۃ ارض لجارہلہ ان یفتح طیاقا مطلۃ علی حوش الموکلۃ المذکورۃ ولیس لہا ان تمنعہ فان استضرت منہ تبنی جدارا فی ارضھا اھ ملخصا۔ ایك شخص نے اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بنایا تاکہ بیوی کی زمین کا کچھ حصہ پڑوسی کو فروخت کرےاگر پڑوسی نے وہاں سے کھڑکی نکالی جس سے مؤکلہ عورت کی چار دیواری میں نظر پڑتی ہو تو عورت اسے منع کرنے کا حق نہیں رکھتی اگر وہ اس سے ضرر محسوس کرتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی زمین میں پردہ کےلئے دیوار بنالے اھ(ت)
ان کے حکم سے بھی بکر کو کچھ اختیار دعوی نہیں۔رہا قول مضمرات وغیرہا جس میں اس صورت کو داخل فتوائے متاخرین مانا اور بیشك ہمارے بلاد میں یہی اوفق وارفق ہے اس قول پر بھی بکر کو اصلا راہ دعوی نہیں کہ جب ان پر جست کے سائبان جڑوادئے جن کے بعد صرف سڑك کا سامنا رہا توضرر کثیر فاحش درکنار
کتاب الحیطان امام حسام شہید و بحرالرائق و خلاصہ ووجیز کردری وانقرویہ وغیرہا میں ہے:
لو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابا او کوۃ لایلی صاحب الساحۃ منعہ بل لہ ان یبنی مایستر جھتہ ۔ اگر عمارت والا اپنے بالاخانے سے کھڑکی یا دروازہ نکالے تو صحن والے کو حق نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی طرف کوئی پردہ لگائے(ت)
ارباب الفتوی میں ہے:
رجل وکل وکیلا عن زوجتہ باع لھا قطعۃ ارض لجارہلہ ان یفتح طیاقا مطلۃ علی حوش الموکلۃ المذکورۃ ولیس لہا ان تمنعہ فان استضرت منہ تبنی جدارا فی ارضھا اھ ملخصا۔ ایك شخص نے اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بنایا تاکہ بیوی کی زمین کا کچھ حصہ پڑوسی کو فروخت کرےاگر پڑوسی نے وہاں سے کھڑکی نکالی جس سے مؤکلہ عورت کی چار دیواری میں نظر پڑتی ہو تو عورت اسے منع کرنے کا حق نہیں رکھتی اگر وہ اس سے ضرر محسوس کرتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی زمین میں پردہ کےلئے دیوار بنالے اھ(ت)
ان کے حکم سے بھی بکر کو کچھ اختیار دعوی نہیں۔رہا قول مضمرات وغیرہا جس میں اس صورت کو داخل فتوائے متاخرین مانا اور بیشك ہمارے بلاد میں یہی اوفق وارفق ہے اس قول پر بھی بکر کو اصلا راہ دعوی نہیں کہ جب ان پر جست کے سائبان جڑوادئے جن کے بعد صرف سڑك کا سامنا رہا توضرر کثیر فاحش درکنار
حوالہ / References
فتح القدیر مسائل منثورۃ من کتاب القضاء ∞مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۱۵€
فتاوٰی انقرویہ کتاب القضاء مسائل الحیطان ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۶۶،€فتاوٰ ی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۱۴€
ارباب الفتوی
فتاوٰی انقرویہ کتاب القضاء مسائل الحیطان ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۶۶،€فتاوٰ ی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الحیطان الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۱۴€
ارباب الفتوی
سرے سے بکر کا ضرر ہی نہ رہااس قول میں یہ ہے کہ:
اذاکانت الکوۃ لنظر وکانت الساحۃ محل الجلوس للنساء یمنع وعلیہ الفتوی۔ اگر کھڑکی دیکھنے کی غرض سے بنائی اور پڑوسی عورتوں کی نشست گاہ صرف وہی صحن والا برآمدہ ہے تو اس صورت میں کھڑکی بنانے سے منع کیا جائے گا اور اسی پر فتوی ہے(ت)
یہاں وہ کہ نظرآتا ہے محل جلوس زنان نہیں سڑك ہے اور وہ کہ محل جلوس زنان ہے نظر نہیں آتا تو نہ دریچہ دریچہ نظر ہوا نہ محل محل نساء۔عقود الدریہ میں ہے:
سئل فی رجل لہ طبقۃ فی دارہ لہا ثلاث شبابیك مطلات علی الشارع فقط قام رجل من اھل المحلۃ یعارضہ فی اعادۃ الشبابیك المذکورۃ فہل لیس لہ معارضۃ فی ذلك الجواب نعم۔ سوال ہوا کہ ایك شخص کی حویلی میں اس کا بالاخانہ ہے جس میں تین کھڑکیاں ہیں جن سے صرف سڑك پر نظر پڑتی ہے تو اہل محلہ میں سے ایك شخص اٹھ کر مذکورہ کھڑکیوں پر اعتراض کرے تو کیا اس معترض کو حق اعتراض تو نہیں الجواب ہاں اسے حق نہیں ہے۔(ت)
بالجملہ صورت مسئولہ میں دعوی بکر ہمارے ائمہ متقدمین وعلمائے متاخرین کسی کے قول پر اصلا قابل سماعت نہیں نیز بیان مذکور سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اس کا انسداد چاہنا شرط چہارم سے مردود ہے کہ ضرر ممکن التحرز تھا اوراس کا چارہ کار عمرو نے کردیا جسے حسب بیان سائل بکر نے بھی قبول کیا اور تین سال تك اس پر راضی رہا اور یہ گمان کہ اگرچہ سائبان قبضوں سے جڑدئے گئے مگر قبضے اکھڑ واسکتے ہیں اور ایسا کیا تو پھر بے پردگی ہوگی شرط سوم سے مردود ہے کھلے ہوئے طاقچے تك سیڑھی لگا کر چڑھ جانا آسان ہے یا جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھادینا جب اس صورت کا احتمال قریب مسموع نہ ہوا یہ احتمال بعید کیونکر مسموع ہوسکے گا اور اگر ایسے مہمل احتمالات مان لئے جائیں تو دریچے مٹی یا چوکوں سے بند کردینا کیا نافع ہوگا جو مضبوط جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھاویگا کیا وہ مٹی کی چھاپ میں روزن نہیں کرسکتا یا ایك آدھ چوکا نہیں نکال سکتا بلکہ غالبا یہ اس سے آسان تر ہوگا تو دعوی انسداد محض تعنت ہوا اور متعنت کا دعوی مسموع نہیں ہوسکتا یہ توحکمرہا بکر کا وہم اس کا علاج اور نیز اس سے زیادہ استحکام کے سوال کا جواب وہی ہے جو
اذاکانت الکوۃ لنظر وکانت الساحۃ محل الجلوس للنساء یمنع وعلیہ الفتوی۔ اگر کھڑکی دیکھنے کی غرض سے بنائی اور پڑوسی عورتوں کی نشست گاہ صرف وہی صحن والا برآمدہ ہے تو اس صورت میں کھڑکی بنانے سے منع کیا جائے گا اور اسی پر فتوی ہے(ت)
یہاں وہ کہ نظرآتا ہے محل جلوس زنان نہیں سڑك ہے اور وہ کہ محل جلوس زنان ہے نظر نہیں آتا تو نہ دریچہ دریچہ نظر ہوا نہ محل محل نساء۔عقود الدریہ میں ہے:
سئل فی رجل لہ طبقۃ فی دارہ لہا ثلاث شبابیك مطلات علی الشارع فقط قام رجل من اھل المحلۃ یعارضہ فی اعادۃ الشبابیك المذکورۃ فہل لیس لہ معارضۃ فی ذلك الجواب نعم۔ سوال ہوا کہ ایك شخص کی حویلی میں اس کا بالاخانہ ہے جس میں تین کھڑکیاں ہیں جن سے صرف سڑك پر نظر پڑتی ہے تو اہل محلہ میں سے ایك شخص اٹھ کر مذکورہ کھڑکیوں پر اعتراض کرے تو کیا اس معترض کو حق اعتراض تو نہیں الجواب ہاں اسے حق نہیں ہے۔(ت)
بالجملہ صورت مسئولہ میں دعوی بکر ہمارے ائمہ متقدمین وعلمائے متاخرین کسی کے قول پر اصلا قابل سماعت نہیں نیز بیان مذکور سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اس کا انسداد چاہنا شرط چہارم سے مردود ہے کہ ضرر ممکن التحرز تھا اوراس کا چارہ کار عمرو نے کردیا جسے حسب بیان سائل بکر نے بھی قبول کیا اور تین سال تك اس پر راضی رہا اور یہ گمان کہ اگرچہ سائبان قبضوں سے جڑدئے گئے مگر قبضے اکھڑ واسکتے ہیں اور ایسا کیا تو پھر بے پردگی ہوگی شرط سوم سے مردود ہے کھلے ہوئے طاقچے تك سیڑھی لگا کر چڑھ جانا آسان ہے یا جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھادینا جب اس صورت کا احتمال قریب مسموع نہ ہوا یہ احتمال بعید کیونکر مسموع ہوسکے گا اور اگر ایسے مہمل احتمالات مان لئے جائیں تو دریچے مٹی یا چوکوں سے بند کردینا کیا نافع ہوگا جو مضبوط جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھاویگا کیا وہ مٹی کی چھاپ میں روزن نہیں کرسکتا یا ایك آدھ چوکا نہیں نکال سکتا بلکہ غالبا یہ اس سے آسان تر ہوگا تو دعوی انسداد محض تعنت ہوا اور متعنت کا دعوی مسموع نہیں ہوسکتا یہ توحکمرہا بکر کا وہم اس کا علاج اور نیز اس سے زیادہ استحکام کے سوال کا جواب وہی ہے جو
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب القضاء،باب الحبس،مسائل شتی∞ ارگ بازار قندھار ۱ /۳۳۰€
محرر مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ نے کتاب الاصل میں باب قسمۃ الدار سے کچھ پہلے فرمایا:
لو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابا لم یکن لصاحب الساحہ منعہ ولصاحب الساحۃ ان یبنی فی ملکہ ما یستر ۔ اگر عمارت والا اپنی عمارت کے بالائی حصہ میں دروازہ بنائے توصحن والے کو منع کا حق نہیں بلکہ ا س کو چاہئے کہ وہ اپنی ملکیت میں پردے کا انتظام کرے۔(ت)
یعنی عمرو کو اجازت دی جائے کہ اپنے دریچوں پر سے سائبان بالکل اتار کردریچے پورے کھول دے اور بکر سے کہا جائے کہ تو اپنے مکان کا پردہ بنالے کہ عمرو کو اس پر اینٹیں نکال کر جھانکنے کا قابو نہ ہوگا اور بے پردگی کا وہم جاتا رہے گا اور اگر اب بھی اندیشہ ہوکہ بکر نے اپنی دیوار اونچی کی تو عمرو اپنے ملکان کو سہ منزلہ کرکے اس میں دریچے نکالے گا اور پھر بے پردگی ہوگی تو قاطع ہر گونہ وہم پر ہے کہ بکر اپنے صحن پر جست کی چادریں ڈال کر پاٹ لے کہ پھر عمرو تو عمرو آسمان کی نظر سے بھی تحفظ ہوجائے گا ولاحول ولا قوۃ الاباﷲالعلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمدوالہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
لو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابا لم یکن لصاحب الساحہ منعہ ولصاحب الساحۃ ان یبنی فی ملکہ ما یستر ۔ اگر عمارت والا اپنی عمارت کے بالائی حصہ میں دروازہ بنائے توصحن والے کو منع کا حق نہیں بلکہ ا س کو چاہئے کہ وہ اپنی ملکیت میں پردے کا انتظام کرے۔(ت)
یعنی عمرو کو اجازت دی جائے کہ اپنے دریچوں پر سے سائبان بالکل اتار کردریچے پورے کھول دے اور بکر سے کہا جائے کہ تو اپنے مکان کا پردہ بنالے کہ عمرو کو اس پر اینٹیں نکال کر جھانکنے کا قابو نہ ہوگا اور بے پردگی کا وہم جاتا رہے گا اور اگر اب بھی اندیشہ ہوکہ بکر نے اپنی دیوار اونچی کی تو عمرو اپنے ملکان کو سہ منزلہ کرکے اس میں دریچے نکالے گا اور پھر بے پردگی ہوگی تو قاطع ہر گونہ وہم پر ہے کہ بکر اپنے صحن پر جست کی چادریں ڈال کر پاٹ لے کہ پھر عمرو تو عمرو آسمان کی نظر سے بھی تحفظ ہوجائے گا ولاحول ولا قوۃ الاباﷲالعلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمدوالہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References
فتح القدیر بحوالہ الاصل قبیل باب قسمۃ الدار مسائل شتی من کتاب القضاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۴€
رسالہ
الھبۃ الاحمدیۃ فی الولایۃ الشرعیۃ والعرفیۃ۱۳۳۳ھ
(شرعی اور عرفی ولایت کے بارے میں احمدی ہبہ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ۱۱۴: ازگولڑہ ضلع راولپنڈی مرسلہ قاری عبدالرحمن صاحب ۷/ جمادی الاخرہ ۱۳۳۳ھ
جناب عالی مدظلہ العالی ان دونوں فتووں کی نسبت جناب کی کیا رائے ہے یعنی واقعی غیر مسلم مسلمانوں کا قاضی ہوسکتا ہے جیسا کہ مفتی عبداﷲ صاحب نے تحریر فرمایا ہےوالتسلیم(نقل فتوی مطبوعہ عــــــہ مستشار العلماء)
عــــــہ: مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی سید عبدالسلام۲۹/ جون جمع کردہ لطف الرحمن ساکن کرنال متعلق ابطال وقف نواب عظمت علی خاں جاگیر دار کرنال جن کو ڈپٹی کمشنر کرنال نے بحیثیت جج دیوانی حکما محجور کردیا تھااس کے بعد انہوں نے وقفنامہ مورخہ ۲۵/اگست ۱۹۰۸ء رجسٹری شدہ ۲۵/ستمبر ۱۹۰۸ء لکھااس فتوے میں یہ ثبوت دینا چاہا ہے کہ جج انگریز قاضی شرع ہے اور اس کے احکام مثل قاضی شرع مثبت احکام شرعیہ ہیںاس کے ساتھ دوسرا فتوی اسی مستشار العلماء کاچھپا ہے کہ جب جج قاضی شرع ہے اور قاضی کاحجر جائز تو عظمت علی خاں محجور ہوگئے اور وقف باطل ہے۱۲۔
الھبۃ الاحمدیۃ فی الولایۃ الشرعیۃ والعرفیۃ۱۳۳۳ھ
(شرعی اور عرفی ولایت کے بارے میں احمدی ہبہ)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ۱۱۴: ازگولڑہ ضلع راولپنڈی مرسلہ قاری عبدالرحمن صاحب ۷/ جمادی الاخرہ ۱۳۳۳ھ
جناب عالی مدظلہ العالی ان دونوں فتووں کی نسبت جناب کی کیا رائے ہے یعنی واقعی غیر مسلم مسلمانوں کا قاضی ہوسکتا ہے جیسا کہ مفتی عبداﷲ صاحب نے تحریر فرمایا ہےوالتسلیم(نقل فتوی مطبوعہ عــــــہ مستشار العلماء)
عــــــہ: مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی سید عبدالسلام۲۹/ جون جمع کردہ لطف الرحمن ساکن کرنال متعلق ابطال وقف نواب عظمت علی خاں جاگیر دار کرنال جن کو ڈپٹی کمشنر کرنال نے بحیثیت جج دیوانی حکما محجور کردیا تھااس کے بعد انہوں نے وقفنامہ مورخہ ۲۵/اگست ۱۹۰۸ء رجسٹری شدہ ۲۵/ستمبر ۱۹۰۸ء لکھااس فتوے میں یہ ثبوت دینا چاہا ہے کہ جج انگریز قاضی شرع ہے اور اس کے احکام مثل قاضی شرع مثبت احکام شرعیہ ہیںاس کے ساتھ دوسرا فتوی اسی مستشار العلماء کاچھپا ہے کہ جب جج قاضی شرع ہے اور قاضی کاحجر جائز تو عظمت علی خاں محجور ہوگئے اور وقف باطل ہے۱۲۔
سوال:کیافرماتے ہیں علمائے حنفیہ اس بات میں کہ ہندوستان میں جج عدالت دیوانی کا جو انگریز ہو شرع محمدی کے بموجب قاضی ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:حنفیہ مذہب کی روسے ملك ہندوستان کی موجودہ حالت میں دیوانی عدالت کا جج مسلم بمنزلہ شرعی قاضی کے ہے اور اس کے فیصلے اسی طرح شرعا قابل نفاذ ہوں گے جس طرح ایك مسلمان قاضی کے ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ فیصلے مذہب اسلام کے مطابق اور شریعت محمدی کے موافق ہوں۔
ثبوت:حنفی مذہب کی کتابوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا منصبی فرض اور بحیثیت قاضی ہونے کے اس کا اصلی کام یہ ہے کہ وہ بذریعہ اس طاقت اور قوت کے جو بادشاہ کی طرف سے اسے حاصل ہو عام اس سے کہ وہ بادشاہ مسلم ہو یا غیر مسلمحقدار کی حق رسی کردے جبکہ اس کا حقدار ہونا اسلامی احکام اور شرعی قوانین کے مطابق ثابت ہوپھر یہ ثبوت قاضی کو خود اپنے علم سے حاصل ہو یعنی جبکہ وہ خود اسلامی مسائل اور شرعی احکام سے پورا واقف ہو یا یہ بات بذریعہ کسی لائق مفتی کے فتوی دینے کے اسے حاصل ہو یعنی جبکہ وہ خود اسلامی مسائل اور شرعی احکام سے واقف نہ ہو۔ شیخ الاسلام برہان الدین مرغینانی فرماتے ہیں:
فالصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولیۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندنا خلافا للشافعی رحمہ اﷲ وھو یقول ان الامر بالقضاء یستدعی القدرۃ علیہ ولا قدرۃ دون العلم ولنا انہ یمکنہ ان یقضی بفتوی غیرہ ومقصود القضاء یحصل بہ وھو ایصال الحق الی مستحقہ ۔ھدایۃ ج ۶ص۳۶۰۔ تو صحیح یہ ہے کہ اجتہاد کی شرط اولی ہونے کی ہے لیکن جاہل کا تقرر تو ہمارے نزدیك یہ صحیح ہے امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی کا اس میں اختلاف ہے وہ فرماتے ہیں قضاء کا معاملہ اس پر قدرت کا متقاضی ہے جبکہ علم کے بغیر قدرت اس پر نہیں ہوسکتی اور ہماری دلیل یہ ہے کہ جاہل کو دوسرے کے فتوی پر عمل ممکن ہے اور قضاء کا مقصد اس سے حاصل ہوجاتا ہے اور وہ حقدار کو حق دینا ہے۔ہدایہ ج ۶ص۳۶۰(ت)
محقق شیخ ابن الہمام فرماتے ہیں:
وقد اختلف فی قضاء الفاسق فاکثر الائمۃ علی انہ لاتصح ولایتہ کالشافعی فاسق کی قضامیں اختلاف ہے اکثر ائمہ کرام کی رائے ہے کہ یہ صحیح نہیں مثلا امام شافعی رحمہ اﷲ
الجواب:حنفیہ مذہب کی روسے ملك ہندوستان کی موجودہ حالت میں دیوانی عدالت کا جج مسلم بمنزلہ شرعی قاضی کے ہے اور اس کے فیصلے اسی طرح شرعا قابل نفاذ ہوں گے جس طرح ایك مسلمان قاضی کے ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ فیصلے مذہب اسلام کے مطابق اور شریعت محمدی کے موافق ہوں۔
ثبوت:حنفی مذہب کی کتابوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا منصبی فرض اور بحیثیت قاضی ہونے کے اس کا اصلی کام یہ ہے کہ وہ بذریعہ اس طاقت اور قوت کے جو بادشاہ کی طرف سے اسے حاصل ہو عام اس سے کہ وہ بادشاہ مسلم ہو یا غیر مسلمحقدار کی حق رسی کردے جبکہ اس کا حقدار ہونا اسلامی احکام اور شرعی قوانین کے مطابق ثابت ہوپھر یہ ثبوت قاضی کو خود اپنے علم سے حاصل ہو یعنی جبکہ وہ خود اسلامی مسائل اور شرعی احکام سے پورا واقف ہو یا یہ بات بذریعہ کسی لائق مفتی کے فتوی دینے کے اسے حاصل ہو یعنی جبکہ وہ خود اسلامی مسائل اور شرعی احکام سے واقف نہ ہو۔ شیخ الاسلام برہان الدین مرغینانی فرماتے ہیں:
فالصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولیۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندنا خلافا للشافعی رحمہ اﷲ وھو یقول ان الامر بالقضاء یستدعی القدرۃ علیہ ولا قدرۃ دون العلم ولنا انہ یمکنہ ان یقضی بفتوی غیرہ ومقصود القضاء یحصل بہ وھو ایصال الحق الی مستحقہ ۔ھدایۃ ج ۶ص۳۶۰۔ تو صحیح یہ ہے کہ اجتہاد کی شرط اولی ہونے کی ہے لیکن جاہل کا تقرر تو ہمارے نزدیك یہ صحیح ہے امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی کا اس میں اختلاف ہے وہ فرماتے ہیں قضاء کا معاملہ اس پر قدرت کا متقاضی ہے جبکہ علم کے بغیر قدرت اس پر نہیں ہوسکتی اور ہماری دلیل یہ ہے کہ جاہل کو دوسرے کے فتوی پر عمل ممکن ہے اور قضاء کا مقصد اس سے حاصل ہوجاتا ہے اور وہ حقدار کو حق دینا ہے۔ہدایہ ج ۶ص۳۶۰(ت)
محقق شیخ ابن الہمام فرماتے ہیں:
وقد اختلف فی قضاء الفاسق فاکثر الائمۃ علی انہ لاتصح ولایتہ کالشافعی فاسق کی قضامیں اختلاف ہے اکثر ائمہ کرام کی رائے ہے کہ یہ صحیح نہیں مثلا امام شافعی رحمہ اﷲ
حوالہ / References
الہدایہ کتاب ادب القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۲€
وغیرہ کما لاتقبل شہادتہوعن علمائنا الثلاثۃ فی النوادر مثلہ لکن الغزالی قال اجتماع ھذہ الشروط من العدالۃ والاجتہاد وغیرہما متعذر فی عصرنا لخلوالعصر عن المجتہد والعدل فالوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذو شوکۃ وان کان جاھلا فاسقا وھو ظاہر المذہب عندنافلو قلد الجاہل الفاسق صح ویحکم بفتوی غیرہ ۔فتح القدیر جلد ۶ص۳۵۷۔ وغیرہ فرماتے ہیں کہ جس طرح فاسق کی شہادت قابل قبول نہیں اسی طرح اس کی ولایت بھی صحیح نہیں ہے اور ہمارے تینوں ائمہ کا نوادر میں یہی قول ہے لیکن غزالی نے فرمایا کہ عدالتاجتہاد اور دیگر شرائط کا جمع ہونا ہمارے زمانہ میں دشوار ہے کیونکہ یہ زمانہ عدل واجتہاد سے خالی ہے تو صحیح طور پر یہ ہے کہ صاحب شوکت سلطان جس کو بھی ولایت سونپ دے اس کی قضاء نافذ ہوگی اگرچہ وہ جاہل فسق ہو اور ہمارا ظاہرمذہب یہی ہے تو اگر وہ سلطانجاہل فاسق کا تقرر کردے تو صحیح ہوگا اور وہ قاضی دوسرے کے فتوے پر فیصلے دے گا۔فتح القدیر جلد۶ ص۳۵۷۔(ت)
نیز محقق موصوف فرماتے ہیں:
فالصحیح انہا لیست شرطا للولایۃ بل للاولویۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندناویحکم بفتوی غیرہ خلافا للشافعی ومالك واحمد وقولھم روایۃ عن علمائنا نص محمد فی الاصل ان المقلد لایجوز ان یکون قاضیا ولکن المختار خلافہ علیہ قالوا القضاء یستدعی القدرۃ علیہ ولاقدرۃ بدون العلم قلنا یمکنہ القضاء بفتوی غیرہ ومقصود القضاء و تو صحیح یہ ہے کہ اجتہاد ولایت کی شرط نہیں ہے بلکہ اولی ہونے کی شرط ہے لیکن جاہل کا تقرر تو ہمارے نزدیك یہ صحیح ہے اور غیر کے فتوے پر فیصلے دے گا۔امام شافعیامام مالك اور امام احمدرحمہ اﷲ تعالی کا موقف اس کے خلاف ہے اور ہمارے ائمہ سے بھی یہ قول مروی ہےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے اصل(مبسوط)میں اس پر نص فرمائی ہے کہ کوئی مقلد قاضی نہیں بن سکتا لیکن مختار اس کے خلاف ہےائمہ فرماتے ہیں کہ قضا کا منصب اس پر قدرت کا متقاضی ہے جبکہ علم کے بغیر قدرت نہیں ہوتیہمارا جواب یہ ہے کہ بے علم کو
نیز محقق موصوف فرماتے ہیں:
فالصحیح انہا لیست شرطا للولایۃ بل للاولویۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندناویحکم بفتوی غیرہ خلافا للشافعی ومالك واحمد وقولھم روایۃ عن علمائنا نص محمد فی الاصل ان المقلد لایجوز ان یکون قاضیا ولکن المختار خلافہ علیہ قالوا القضاء یستدعی القدرۃ علیہ ولاقدرۃ بدون العلم قلنا یمکنہ القضاء بفتوی غیرہ ومقصود القضاء و تو صحیح یہ ہے کہ اجتہاد ولایت کی شرط نہیں ہے بلکہ اولی ہونے کی شرط ہے لیکن جاہل کا تقرر تو ہمارے نزدیك یہ صحیح ہے اور غیر کے فتوے پر فیصلے دے گا۔امام شافعیامام مالك اور امام احمدرحمہ اﷲ تعالی کا موقف اس کے خلاف ہے اور ہمارے ائمہ سے بھی یہ قول مروی ہےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے اصل(مبسوط)میں اس پر نص فرمائی ہے کہ کوئی مقلد قاضی نہیں بن سکتا لیکن مختار اس کے خلاف ہےائمہ فرماتے ہیں کہ قضا کا منصب اس پر قدرت کا متقاضی ہے جبکہ علم کے بغیر قدرت نہیں ہوتیہمارا جواب یہ ہے کہ بے علم کو
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵۷€
ھوایصال الحق الی مستحقہ ورفع الظلم یحصل بہ فاشتراطہ ضائع ۔فتح القدیر جلد۶ص ۳۵۹۔ دوسرے کے فتوی پر فیصلے دینا ممکن ہے جبکہ قضاء کامقصد صرف مستحق کو عطا کرنا اور ظلم کا دفاع کرنا ہے اور وہ اس طریقہ سے حاصل ہوسکتا ہےلہذا اجتہاد کی شرط بے مقصد ہے۔فتح القدیر جلد۶ص۳۵۹(ت)
کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے:
ویکون من اھل الاجتہاد والصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ کذا فی الھدایۃ حتی لو قلد جاہل وقضی ھذا الجاہل بفتوی غیرہ یجوز کذا فی الملتقط۔ جلد ۳ص۳۰۷ قاضی اہل اجتہاد سے ہو جبکہ صحیح یہ ہے کہ اجتہاد کی شرط صرف اولی ہونے کے لئے ہے۔ہدایہ میں ایسے ہے حتی کہ اگر جاہل کا تقرر کیا گیا اور وہ دوسروں کے فتوی پر فیصلے دے تو جائز ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔جلد ۳ص۳۰۷(ت)
عبدالرحمن آفندی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں فرماتے ہیں:
وفی الشمنی اجتماع ھذہ الشرائط من الاجتہاد والعدالۃ وغیرہما متعذر فی عصرنا لخلوالعصر عن المجتہد و العدل فالوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذوشوکۃ وان کان جاہل فاسقا ۔جلد ۲ص۱۵۱۔ شمنی میں ہے کہ اجتہادعدالت وغیرہ کی شرائط کا جمع ہونا ہمارے زمانہ میں دشوار ہے کیونکہ یہ زمانہ اجتہاد اور عدل سے خالی ہےتو صحیح وجہ یہ ہے کہ جس کو بھی صاحب شوکت سلطانی قاضی مقرر کردے اس کی قضاء نافذ ہوگی خواہ وہ فاسق جاہل ہی کیوں نہ ہو۔(ت)جلد۲ص۱۵۱۔
علامہ ابن عابدین کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
قولہ والفاسق اھلھا سیأتی بیان الفسق والعدالۃ فی الشہادات وافصح بھذہ الجعلۃ دفعا للتوھم من ماتن کا قول کہ فاسق قضاکا اہل ہے تو شہادات کے بیان میں فسق اور عدالت کی بحث آئے گیماتن نے یہ قول یہاں اس لئے بیان کیا تا کہ ان لوگوں کا
کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے:
ویکون من اھل الاجتہاد والصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ کذا فی الھدایۃ حتی لو قلد جاہل وقضی ھذا الجاہل بفتوی غیرہ یجوز کذا فی الملتقط۔ جلد ۳ص۳۰۷ قاضی اہل اجتہاد سے ہو جبکہ صحیح یہ ہے کہ اجتہاد کی شرط صرف اولی ہونے کے لئے ہے۔ہدایہ میں ایسے ہے حتی کہ اگر جاہل کا تقرر کیا گیا اور وہ دوسروں کے فتوی پر فیصلے دے تو جائز ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔جلد ۳ص۳۰۷(ت)
عبدالرحمن آفندی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں فرماتے ہیں:
وفی الشمنی اجتماع ھذہ الشرائط من الاجتہاد والعدالۃ وغیرہما متعذر فی عصرنا لخلوالعصر عن المجتہد و العدل فالوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذوشوکۃ وان کان جاہل فاسقا ۔جلد ۲ص۱۵۱۔ شمنی میں ہے کہ اجتہادعدالت وغیرہ کی شرائط کا جمع ہونا ہمارے زمانہ میں دشوار ہے کیونکہ یہ زمانہ اجتہاد اور عدل سے خالی ہےتو صحیح وجہ یہ ہے کہ جس کو بھی صاحب شوکت سلطانی قاضی مقرر کردے اس کی قضاء نافذ ہوگی خواہ وہ فاسق جاہل ہی کیوں نہ ہو۔(ت)جلد۲ص۱۵۱۔
علامہ ابن عابدین کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
قولہ والفاسق اھلھا سیأتی بیان الفسق والعدالۃ فی الشہادات وافصح بھذہ الجعلۃ دفعا للتوھم من ماتن کا قول کہ فاسق قضاکا اہل ہے تو شہادات کے بیان میں فسق اور عدالت کی بحث آئے گیماتن نے یہ قول یہاں اس لئے بیان کیا تا کہ ان لوگوں کا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۶۰۔۳۵۹€
فتاوی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۳ /۳۰۷€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۵۱€
فتاوی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۳ /۳۰۷€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۵۱€
قال ان الفاسق لیس باھل للقضاء فلا یصح قضاؤہ لانہ لایؤمن علیہ لفسقہ وھو قول الثلاثۃ واختارہ الطحاویقال العینی وینبغی ان یفتی بہ خصوصا فی ھذاالزمان اھ اقول:لو اعتبر ھذا لانسد باب القضاء خصوصا فی زماننا فلذاکان ماجری علیہ المصنف ھو الاصح کذا فی الخلاصۃ وھو اصح الاقاویل کمافی العمادیۃ نھر ۔جلد ۴ص۳۳۰۔ تو ہم ختم ہو جو یہ کہتے ہیں کہ فاسق قاضی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا لہذا اس کی قضا صحیہح نہیں ہے کیونکہ فسق کی وجہ سے اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا یہ قول تینوں اماموں کا ہے جسے طحاوی نے اختیار کیا ہےامام عینی نے فرمایا اس قول پر فتوی مناسب ہے خصوصا موجودہ زمانہ میںاھمیں کہتا ہوں کہ اگر اس قول کا اعتبار کیا گیا تو پھر قضا کا دروازہ بند ہوجائے گا خصوصا ہمارے اس زمانہ میںلہذا مصنف جس قول پر قائم ہے وہی اصح ہےخلاصہ میں ایسے ہے اور یہ سب سے اصح قول ہے جیسا کہ عمادیہ میں ہےنہر۔جلد ۴ص۳۳۰(ت)
نیز علامہ موصوف فرماتے ہیں:
قال فی البحر وبہ علم ان تقلید الکافر صحیح وان لم یصح قضاؤہ علی المسلم حال کفرہ اھ وھذا ترجیح لروایۃ صحۃ التولیۃ اخذ من کون الفتوی علی انہ لاینعزل بالردۃ خلافا لمامشی علیہ المصنف فی باب التحکیم من روایۃ عدم الصحۃ وفی الفتح قلد عبد فعتق جاز قضاؤہ بتلك الولایۃ بلاحاجۃ الی تجدید بخلاف تولیۃصبی فادرکولو قلد کافر فاسلم قال بحر میں فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کا تقرر صحیح ہے اگرچہ ا س کے کفرکی بناء پر مسلمان پر اس کی قضاء صحیح نہ ہوگی اھاور یہ اس روایت کی ترجیح قرار پائے گی جس میں کافر کی تولیت کو صحیح کہا گیا ہے یہ اس فتوی سے ماخوذ ہے جس میں یہ ہے کہ قاضی کے مرتد ہوجانے پر وہ معزول متصور نہ ہوگایہ مصنف کے عدم جواز والے موقف کے خلاف ہے جس کو انہوں نے تحکیم کے باب میں بیان کیا ہے اور فتح میں ہے کہ جب غلام کا تقرر ہوا ہو اور وہ آزاد ہوگیا تو اس پہلی تقرری پر ہی اس کی قضا جائز ہوگی نئی تقرری کی ضرورت نہیں اس کے بر خلاف جب بچے کی تقرری ہوئی اس کے بعد وہ بالغ ہوجائے
نیز علامہ موصوف فرماتے ہیں:
قال فی البحر وبہ علم ان تقلید الکافر صحیح وان لم یصح قضاؤہ علی المسلم حال کفرہ اھ وھذا ترجیح لروایۃ صحۃ التولیۃ اخذ من کون الفتوی علی انہ لاینعزل بالردۃ خلافا لمامشی علیہ المصنف فی باب التحکیم من روایۃ عدم الصحۃ وفی الفتح قلد عبد فعتق جاز قضاؤہ بتلك الولایۃ بلاحاجۃ الی تجدید بخلاف تولیۃصبی فادرکولو قلد کافر فاسلم قال بحر میں فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کا تقرر صحیح ہے اگرچہ ا س کے کفرکی بناء پر مسلمان پر اس کی قضاء صحیح نہ ہوگی اھاور یہ اس روایت کی ترجیح قرار پائے گی جس میں کافر کی تولیت کو صحیح کہا گیا ہے یہ اس فتوی سے ماخوذ ہے جس میں یہ ہے کہ قاضی کے مرتد ہوجانے پر وہ معزول متصور نہ ہوگایہ مصنف کے عدم جواز والے موقف کے خلاف ہے جس کو انہوں نے تحکیم کے باب میں بیان کیا ہے اور فتح میں ہے کہ جب غلام کا تقرر ہوا ہو اور وہ آزاد ہوگیا تو اس پہلی تقرری پر ہی اس کی قضا جائز ہوگی نئی تقرری کی ضرورت نہیں اس کے بر خلاف جب بچے کی تقرری ہوئی اس کے بعد وہ بالغ ہوجائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۹۹€
محمد ھو علی قضائہ فصار الکافر کالعبد والفرق ان کلامنھما لہ ولایۃ وبہ مانع وبالعتق والاسلام یرتفعاما الصبی فلا ولایۃ لہ اصلا ۔ردالمحتار جلد ۴صف ۳۲۹۔ اگر کافر کی تقرری ہوئی پھر وہ مسلمان ہوجائے امام محمدرحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ وہ پہلی تقرری پر ہی قضاء کرے گا تو یوں کافر عبد کی طرح حکم پائے گااور ان دونوں اور بچے میں فرق یہ ہوگا کہ یہ دونوں ولایت کے اہل تھے لیکن ان کاکفر اور غلام ہونا عمل قضا سے مانع تھا اور اب وہ ختم ہوگیا ہے لیکن نابالغ ولایت کا اہل ہی نہیں تھا اس لئے بلوغ کے بعد دوبارہ تقرری ضروری ہے۔(ت)
نیز فرماتے ہیں:
فی الخانیۃ اجمعواانہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی فیہ اھ قلت حکایۃ الاجماع منقوضۃ بما اختارہ البزدوی واستحسنہ فی الفتح وینبغی اعتمادہ للضرورۃ فی ھذا الزمان والابطلت جمیع القضایا الواقعۃ الان لانہ لاتخلو قضیۃ عن اخذالقاضی الرشوۃ المسماۃ بالمحصول قبل الحکم او بعدہ فیلزم تعطیل الاحکام وقدمرعن صاحب النھر فی ترجیح ان الفاسق اھل للقضاء انہ لو اعتبر العدالۃ لانسد باب القضاء فکذایقال ھھنا ردالمحتار جلد۴ص۳۳۵۔ خانیہ میں ہے کہ فقہاء نے بالاجماع فرمایا کہ قاضی نے جس کیس میں رشوت لی ہے اس میں اس کی قضاء نافذ نہ ہوگی میں کہتا ہوں یہ اجماع امام بزدوی کے مختار اس قول سے جس کو فتح میں مستحسن قرار دیا اور(فی زمانہ ضرورت کی بناپر اس پر اعتماد مناسب ہے)سے ٹوٹ جائیگا ورنہ اجماع کے پیش نظر آج تمام فیصلے باطل ہوجائیں گے کیونکہ کوئی کیس بھی قاضی کے اس عنوان کی رشوت جس کو وہ محصول کہتے ہیںسے خالی نہیں ہے جس کو وہ فیصلہ سے قبل یا بعد وصول کرلیتے ہیں اس تمام فیصلے کا معطل ہونا لازم آئے گا جبکہ صاحب نہر کی یہ روایت گزرچکی ہے جس میں انہوں نے فاسق کی اہلیت قضاء کو ترجیح دی اور کہا ہے کہ اگر عدالت کا اعتبار کیا جائے تو پھر قضاء کا دروازہ ہی بند ہوجائے گایہاں یہی کہا جاسکتا ہے(ت)
علامہ جمال الدین زیلعی بجواب امام شافعی رحمہ اﷲ جن کے نزدیك جاہل کی قضاء درست نہیں ہے
نیز فرماتے ہیں:
فی الخانیۃ اجمعواانہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی فیہ اھ قلت حکایۃ الاجماع منقوضۃ بما اختارہ البزدوی واستحسنہ فی الفتح وینبغی اعتمادہ للضرورۃ فی ھذا الزمان والابطلت جمیع القضایا الواقعۃ الان لانہ لاتخلو قضیۃ عن اخذالقاضی الرشوۃ المسماۃ بالمحصول قبل الحکم او بعدہ فیلزم تعطیل الاحکام وقدمرعن صاحب النھر فی ترجیح ان الفاسق اھل للقضاء انہ لو اعتبر العدالۃ لانسد باب القضاء فکذایقال ھھنا ردالمحتار جلد۴ص۳۳۵۔ خانیہ میں ہے کہ فقہاء نے بالاجماع فرمایا کہ قاضی نے جس کیس میں رشوت لی ہے اس میں اس کی قضاء نافذ نہ ہوگی میں کہتا ہوں یہ اجماع امام بزدوی کے مختار اس قول سے جس کو فتح میں مستحسن قرار دیا اور(فی زمانہ ضرورت کی بناپر اس پر اعتماد مناسب ہے)سے ٹوٹ جائیگا ورنہ اجماع کے پیش نظر آج تمام فیصلے باطل ہوجائیں گے کیونکہ کوئی کیس بھی قاضی کے اس عنوان کی رشوت جس کو وہ محصول کہتے ہیںسے خالی نہیں ہے جس کو وہ فیصلہ سے قبل یا بعد وصول کرلیتے ہیں اس تمام فیصلے کا معطل ہونا لازم آئے گا جبکہ صاحب نہر کی یہ روایت گزرچکی ہے جس میں انہوں نے فاسق کی اہلیت قضاء کو ترجیح دی اور کہا ہے کہ اگر عدالت کا اعتبار کیا جائے تو پھر قضاء کا دروازہ ہی بند ہوجائے گایہاں یہی کہا جاسکتا ہے(ت)
علامہ جمال الدین زیلعی بجواب امام شافعی رحمہ اﷲ جن کے نزدیك جاہل کی قضاء درست نہیں ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۹۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
فرماتے ہیں:
ولناان المقصود ایصال الحق الی المستحق وھو یحصل بالعمل بفتوی غیرہ۔تبیین الحقائق ج۴ ص۱۷۶۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قضاء سے مقصود یہ ہے کہ مستحق کو اس کا حق دلایا جائے تو غیر کے فتوی پر عمل سے یہ حاصل ہوجاتا ہے۔تبیین الحقائق ج۴ص۱۷۶۔(ت)
شیخ الاسلام علاء الدین خفصکی عــــــہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ویجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو کافرا ذکرہ مسکین وغیرہ الا اذاکان یمنعہ عن القضاء بالحق فیحرم ۔جلد ۴ص۳۳۹۔ مسکین وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ سلطان عادل ہو یا ظالم ہو بلکہ کافر بھی ہو تو اس کی طرف سے قاضی کی تقرری جائز ہے مگر وہ جب قاضی کو حق پر فیصلہ سے منع کرتا ہو تو پھر تقرری حرام ہوگی۔جلد ۴ ص۳۳۹۔(ت)
علامہ شامی کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
قولہ ولو کافر افی التتارخانیۃ الاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد ۔ج۴ص۳۳۹۔ ماتن کا قول"اگر چہ کافر ہو"تاتارخانیہ میں ہے کہ قاضی کی تقرری کرنے والے سلطان کیلئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔ ج ۴ ص۳۳۹۔(ت)
روایت مندرجہ بالا میں سے روایت نمبر ۱و۳و۸ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کےلئے نہ اس کے عالم ہونے کی ضرورت ہے اور نہ مفتی پر ہیز گار ہونے کیاگر خود عالم ہو تو خیرورنہ دوسرے کے فتوی دینے سے اپنے اس غرض کو پورا کرے گا اور ظاہرہے کہ ایسا کرنا طاقت کے ذریعہ ہو سکتا ہے جو بادشاہ وقت کاعطیہ ہوا روایت نمبر۵۲سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی میں علم اور اتقا کی شرط اس لئے چھوڑ دی گئی ہے کہ ایسے قاضی کا ملنا جو عالم ہو اور علم کے ساتھ اتقا بھی رکھتا ہو مشکل اور سخت مشکل ہےروایت نمبر ۶۸
عــــــہ: صحیح حصکفی ہے حصن کیفا کی طرف نسبت ۱۲۔
ولناان المقصود ایصال الحق الی المستحق وھو یحصل بالعمل بفتوی غیرہ۔تبیین الحقائق ج۴ ص۱۷۶۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قضاء سے مقصود یہ ہے کہ مستحق کو اس کا حق دلایا جائے تو غیر کے فتوی پر عمل سے یہ حاصل ہوجاتا ہے۔تبیین الحقائق ج۴ص۱۷۶۔(ت)
شیخ الاسلام علاء الدین خفصکی عــــــہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ویجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو کافرا ذکرہ مسکین وغیرہ الا اذاکان یمنعہ عن القضاء بالحق فیحرم ۔جلد ۴ص۳۳۹۔ مسکین وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ سلطان عادل ہو یا ظالم ہو بلکہ کافر بھی ہو تو اس کی طرف سے قاضی کی تقرری جائز ہے مگر وہ جب قاضی کو حق پر فیصلہ سے منع کرتا ہو تو پھر تقرری حرام ہوگی۔جلد ۴ ص۳۳۹۔(ت)
علامہ شامی کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
قولہ ولو کافر افی التتارخانیۃ الاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد ۔ج۴ص۳۳۹۔ ماتن کا قول"اگر چہ کافر ہو"تاتارخانیہ میں ہے کہ قاضی کی تقرری کرنے والے سلطان کیلئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔ ج ۴ ص۳۳۹۔(ت)
روایت مندرجہ بالا میں سے روایت نمبر ۱و۳و۸ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کےلئے نہ اس کے عالم ہونے کی ضرورت ہے اور نہ مفتی پر ہیز گار ہونے کیاگر خود عالم ہو تو خیرورنہ دوسرے کے فتوی دینے سے اپنے اس غرض کو پورا کرے گا اور ظاہرہے کہ ایسا کرنا طاقت کے ذریعہ ہو سکتا ہے جو بادشاہ وقت کاعطیہ ہوا روایت نمبر۵۲سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی میں علم اور اتقا کی شرط اس لئے چھوڑ دی گئی ہے کہ ایسے قاضی کا ملنا جو عالم ہو اور علم کے ساتھ اتقا بھی رکھتا ہو مشکل اور سخت مشکل ہےروایت نمبر ۶۸
عــــــہ: صحیح حصکفی ہے حصن کیفا کی طرف نسبت ۱۲۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب القضاء المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۴/ ۱۷۶€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ علم اور اتقا کی شرط مان لیجائے تو فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے گاروایت نمبر۸ سے بالخصوص یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ رشوت لے کر فیصلہ کیا ہو باوجود بالاجماع باطل ہونے کے متاخرین نے اسلئے جائز اور نافذ مان لیا ہے کہ ایسانہ کرنے میں فیصلوں کادروازہ ہی بند ہوا جاتا ہے کیونکہ قاضی غیر مرتشی کا وجود ہی عنقاء ہےروایت نمبر۱۰۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاء کا عہدہ اور اس کے اختیارات دینے کے لئے دینے والے بادشاہ کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔روایت نمبر ۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم میں قاضی ہونے کی کافی لیاقت ہے اگر چہ مسلمانوں پر اس کے احکام نافذ نہیں ہوتےجب روایات مندرجہ بالا سے معلوم ہوگیا کہ قاضی کے لئے علم اور پر ہیز گاری کی شرط کو فقہاء متاخرین نے اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ اس کے ماننے سے فیصلوں کا دروازہ بند ہوجائے گا تو ظاہر ہے کہ ملك ہندوستان میں اسلام کی شرط ماننے سے بھی فیصلوں کا دروازہ بند ہوجائیگا اور مسلمانوں کے لئے یا کم از کم اسی جگہ کے مسلمانوں کے لئے جہاں کا قاضی(جج)مسلمان نہ ہو حق رسی کی کوئی صورت نہیں رہے گی کیونکہ گورنمنٹ کو تمام اہل مذاہب سے یکساں تعلق ہے اور اس لیے مسلمان قاضی مقرر کرنے کی پابندی نہیں ہوسکتی تو جس جگہ کا قاضی مسلمان نہ ہوگا وہاں یہ مشکل ضرور پید اہوگی اور اس میں کچھ شك نہیں کہ حقدار کی حق رسی کی طاقت اور اس کا عمل میں لانا جو منصب قضاکا اصل مقصود ہے جس طرح ایك مسلمان سے باوجود عالم پرہیز گار نہ ہونے کے ممکن ہے اسی طرح ایك غیر مسلم قاضی سے بھی ممکن ہےلہذا اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہر جگہ مسلمان قاضی کا ملنا متعذر اور سخت مشکل ہے نیز اس بات کو کہ قضا کی اصل غرض ایصال حق کے حاصل ہونے مسلم اور غیر مسلم دونوں یکساں ہیںشرعا یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ملك ہندوستان میں دیوانی عدالت کا جج بموجب شرع محمدی کے قاضی ہوسکتا ہے عام اس سے کہ وہ مسلم یا غیر مسلم اور مسلم ہونے کی شرط کا اسی ملك تك محدو د ہونا ضروری ہے جہاں اسلامی گورنمنٹ ہو۔ ھذا ما استقر علیہ رائی(یہ وہ ہے جس پر میری رائے ٹھہری۔ت)واﷲ بالصواب۔
کتبہ العبد المذنب المفتی محمد عبداﷲ عفا اﷲ عنہ
المجیب مصیب صح الجواب الجواب صحیح
احمد علی عفی عنہ محمد حسن عفی عنہ محمد اکرام الحق
الجواب صحیح الجواب نعم الجواب الجواب صحیح
محمد عمر خاں عفی عنہ محمد یار عفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور بقلمہ غلام رسول مدرس مدرسہ حمیدیہ
قد اصاب من اجاب محمد عالم مدرس مدرسہ حمیدیہ
کتبہ العبد المذنب المفتی محمد عبداﷲ عفا اﷲ عنہ
المجیب مصیب صح الجواب الجواب صحیح
احمد علی عفی عنہ محمد حسن عفی عنہ محمد اکرام الحق
الجواب صحیح الجواب نعم الجواب الجواب صحیح
محمد عمر خاں عفی عنہ محمد یار عفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور بقلمہ غلام رسول مدرس مدرسہ حمیدیہ
قد اصاب من اجاب محمد عالم مدرس مدرسہ حمیدیہ
اس زمانے میں جج کو بشرطیکہ وہ موافق شرع کے حکم د ے بضرورت قاضی کا حکم دیا جاسکتا ہے۔
محمد لطف اﷲ مہر سابق مفتی حیدر آباد دکن ساکن علی گڑھ۱۹۹۲ء ۱۲/مئی
الجواب صحیح محمد امانت اﷲ غفراﷲ مدرس مدرسہ اسلامیہ علی گڑھ۱۲مئی ۱۹۱۲ء
اظنہ صحیحا ولعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا(میرے گمان میں صحیح ہے ہوسکتا ہے اﷲ تعالی اس کے بعد کوئی صورت پیدا فرمادے۔ت)الفقیر محمد ابراہیم عفی عنہ نمبر دار کرنال وقاضی تحصیل کرنال بقلم خود۲۷جون ۱۹۱۲ء
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ لاولی سواہ و الصلوۃ والسلام عدد العلم والکلم علی الاولی بالمومنین من انفسھم وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اجمعین امین! بسم اﷲ الرحمن الرحیمسب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس کے سوا کوئی مدد گار نہیںاور کلمات کی تعداد برابر صلوۃ وسلام ہو اس ذات گرامی پر جو مومنوں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہے اور آپ کی آل واصحاب واولیاء اور جماعت سب پر آمین !(ت)
مولنا! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ۔فقیران فتووں کی نسبت اس سے بہترکیا کہہ سکتا ہے جو حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حدیث ذیل میں ارشاد فرمایا:
اذاوسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ ۔رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس وقت امور نااہلوں کے حوالے کئے جانے لگیں گے تو قیامت کا انتظار کرو۔اس کو بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
یہ فتوے محض اجتہاد پر مبنی ہیں اور اجتہاد بھی وہ جو آج تك ابوحنیفہ و شافعی درکنار ابوبکر صدیق و عمر فاروق کو بھی میسر نہ ہوا نہ ہوسکتا تھا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین یعنی نص قطعی قرآن عظیم کے مقابل بے اصل و محض جامع قیاس بے اساسنسال اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)تحقیق حق کے لئے تمہید چند مقامات سود مند فاقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)
مقدمہ اولی:حقیقت امر یہ ہے کہ ولایت مجبرہ جس کی تعریف ہے تنفیذ القول علی غیرہ شاء اوابی(دوسرے پر اپنا قول نافذ کرنا
محمد لطف اﷲ مہر سابق مفتی حیدر آباد دکن ساکن علی گڑھ۱۹۹۲ء ۱۲/مئی
الجواب صحیح محمد امانت اﷲ غفراﷲ مدرس مدرسہ اسلامیہ علی گڑھ۱۲مئی ۱۹۱۲ء
اظنہ صحیحا ولعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا(میرے گمان میں صحیح ہے ہوسکتا ہے اﷲ تعالی اس کے بعد کوئی صورت پیدا فرمادے۔ت)الفقیر محمد ابراہیم عفی عنہ نمبر دار کرنال وقاضی تحصیل کرنال بقلم خود۲۷جون ۱۹۱۲ء
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمدﷲ لاولی سواہ و الصلوۃ والسلام عدد العلم والکلم علی الاولی بالمومنین من انفسھم وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اجمعین امین! بسم اﷲ الرحمن الرحیمسب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس کے سوا کوئی مدد گار نہیںاور کلمات کی تعداد برابر صلوۃ وسلام ہو اس ذات گرامی پر جو مومنوں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہے اور آپ کی آل واصحاب واولیاء اور جماعت سب پر آمین !(ت)
مولنا! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ۔فقیران فتووں کی نسبت اس سے بہترکیا کہہ سکتا ہے جو حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حدیث ذیل میں ارشاد فرمایا:
اذاوسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ ۔رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس وقت امور نااہلوں کے حوالے کئے جانے لگیں گے تو قیامت کا انتظار کرو۔اس کو بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
یہ فتوے محض اجتہاد پر مبنی ہیں اور اجتہاد بھی وہ جو آج تك ابوحنیفہ و شافعی درکنار ابوبکر صدیق و عمر فاروق کو بھی میسر نہ ہوا نہ ہوسکتا تھا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین یعنی نص قطعی قرآن عظیم کے مقابل بے اصل و محض جامع قیاس بے اساسنسال اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)تحقیق حق کے لئے تمہید چند مقامات سود مند فاقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)
مقدمہ اولی:حقیقت امر یہ ہے کہ ولایت مجبرہ جس کی تعریف ہے تنفیذ القول علی غیرہ شاء اوابی(دوسرے پر اپنا قول نافذ کرنا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب من سئل علماء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€
وہ مانے یا نہ مانے۔ت)دو قسم ہے عرفیہ ودنیویہ کہ بادشاہ کو رعایا حکام کو محکومین پر ہوتی ہے اسی کے سبب سلاطین کو والیان ملك کہا جاتا ہےاور شرعیہ دینیہ کو حقیقۃ اﷲ عزوجل پھر اس کی عطا سے اس کے رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ہے وبسجس کی حقیقت ذاتیہ کا بیان اس آیہ کریمہ میں ہے: " ما لہم من دونہ من ولی ۫ " (اﷲ تعالی کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں۔ت) اورحقیقت عطائیہ کا بیان اس آیہ کریمہ میں " النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم " (نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہیں۔ت)اور دونوں کا جمع اس آیہ کریمہ میں:
" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ " مومن مرد یا عورت کسی کو اپنا اختیار نہیں ہے جب اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی معاملہ کا فیصلہ فرمادیں اور جو اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی کا مرتکب ہوگا۔(ت)
پھر رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریح و تفویض وانابت سے اسے ہے جسے انہوں نے جتنی بات میں اپنی ولایت اصلیہ سے اختیار ظلی عطا فرمایاماذون مطلق کو مطلق اور ماذون امر خاص کو اس امر خاص میں جس کا بیان کریمہ " الذی بیدہ عقدۃ النکاح " (وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ت) اور کریمہ " و اسمعوا و اطیعوا " (سنو اور اطاعت کرو۔ت)میں ہے اور ان انواع ثلثہ یعنی ذاتیہ و عطائیہ و ظلیہ کا اجتماع اس کریمہ میں
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔(اﷲ تعالی کی اطاعت کرو اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور اولی الامر کی۔ت) اقول:یہی سرہے کہ نوع دوم پر اطیعوا مکر ر آیا کہ ذاتیہ و عطائیہ دو حقیقتیں ہیں اور نوع سوم کو اسی اطیعوا دوم کے نیچے مندرج فرمایا کہ ظلاصل سے جد اکوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
مقدمہ دوم:دونوں ولایتوں میں بحسب مناشی و نتائج ولوازم و مقاصد جو فرق ہیں ان کی بہت تعبیرات ہیں:
" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾ " مومن مرد یا عورت کسی کو اپنا اختیار نہیں ہے جب اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی معاملہ کا فیصلہ فرمادیں اور جو اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی کا مرتکب ہوگا۔(ت)
پھر رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریح و تفویض وانابت سے اسے ہے جسے انہوں نے جتنی بات میں اپنی ولایت اصلیہ سے اختیار ظلی عطا فرمایاماذون مطلق کو مطلق اور ماذون امر خاص کو اس امر خاص میں جس کا بیان کریمہ " الذی بیدہ عقدۃ النکاح " (وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ت) اور کریمہ " و اسمعوا و اطیعوا " (سنو اور اطاعت کرو۔ت)میں ہے اور ان انواع ثلثہ یعنی ذاتیہ و عطائیہ و ظلیہ کا اجتماع اس کریمہ میں
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔(اﷲ تعالی کی اطاعت کرو اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور اولی الامر کی۔ت) اقول:یہی سرہے کہ نوع دوم پر اطیعوا مکر ر آیا کہ ذاتیہ و عطائیہ دو حقیقتیں ہیں اور نوع سوم کو اسی اطیعوا دوم کے نیچے مندرج فرمایا کہ ظلاصل سے جد اکوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
مقدمہ دوم:دونوں ولایتوں میں بحسب مناشی و نتائج ولوازم و مقاصد جو فرق ہیں ان کی بہت تعبیرات ہیں:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۸/ ۲۶€
القرآن الکریم ∞۳۳ /۶€
القرآن الکریم ∞۳۳ /۳۶€
القرآن الکریم∞۲ /۲۳۷€
القرآن الکریم ∞۶۴ /۱۶€
القرآن الکریم∞۴/ ۵۹€
القرآن الکریم ∞۳۳ /۶€
القرآن الکریم ∞۳۳ /۳۶€
القرآن الکریم∞۲ /۲۳۷€
القرآن الکریم ∞۶۴ /۱۶€
القرآن الکریم∞۴/ ۵۹€
(۱)ولایت عرفیہ غلبہ واستیلا سے حاصل ہوتی ہے اور شرعیہ بعطائے شرع۔
(۲)عرفیہ ملکی مسئلہ ہے اور شرعیہ مذہبی و دینی۔
(۳)عرفیہ مقصد سلاطین ہے اور شرعیہ مقصود خاص دین۔
(۴)عرفیہ عالم اسباب میں احکام تکوینیہ الہیہ کا آلہ ہے یعنی کن لاتکن یہ امر واقع ہویہ نہ ہواور شرعیہ احکام تشریعیہ الہیہ کا مثلا کن مکن(یہ کرو یہ نہ کرو۔)
(۵)عرفیہتصرفات کے ثمرات حسیہ کی مثمر ہوتی ہے اور شرعیہمعانی دینیہ کی۔
(۶)عرفیہ سے شیئ غیرموجود موجود ہوجاتی ہے اور شرعیہ سے حکم شرعی غیر حاصل حاصل۔
(۷)عرفیہ دنیا میں مؤثر ہے اور شرعیہ عقبی میں معتبر۔
(۸)عرفیہ کی نافرمانی قوانین سلاطین کی خلاف ورزی ہے اور شرعیہ کی ناحفاظی اﷲ عزوجل کی معصیت۔
(۹)عرفیہ کا لحاظ عام ہے کہ بادشاہ کی ہر رعیت پر ہے مسلم ہو یا کافراور شرعیہ کا لحاظ خاص کہ اس سے صرف مسلمانوں کو کام ہے۔
(۱۰)عرفیہ کا عمل خاص ہے کہ ہر بادشاہ کی قلمر وتك محدود اور شرعیہ کا عمل دنیائے اسلام پر عام ہے شرق میں ہویا غرب میں۔
(۱۱)عرفیہ فوج وسپاہ وتیغ وسلاح کے سایہ میں ہے اور شرعیہ فقیر و محتاج کو بھی بقدر عطا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ظلی عطیہیہ تمام مضامین اور ان دونوں ولایتوں میں عموم و خصوص من وجہ ہونا اس مثال سے روشنسلطان نے زید کی قاصرہ کا اپنے پسر سے نکاح کرلیا اور زید راضی نہیں اس نے انکار کردیا اس تصرف کے تمام ثمرات حسیہ دنیا میں مرتب ہوجائیں گےشیئ غیر موجود موجود ہوجائے گی یعنی عورت کہ پہلے قبضہ میں نہ تھی اب آجائے گی دوسرا شخص مزاحمت پر قدرت نہ پائے گا مزاحمت کرے گا مستوجب غضب سلطانی وسزا ئے نافرمانی ہوگاعورت مرجائیگی تو یہ بزعم زوجیت اس کا ترکہ لے گاپھر اگر بادشاہ نو مسلم ہے تو اسے واقع میں بھی نکاح و مباح جانے گا اور اپنے تصرف کو صحیح وصاف مانےگایہ تمام امور احکام تکوینیہ الہیہ سے صادر ہو جائیں گے مگر احکام تشریعیہ کہ نکاح شرعی بولایت شرعی سے پید اہوتے اصلا متحقق نہ ہونگے نہ وہ عورت اس کے لئے شرعا حلال ہوگی نہ بعد مرگ ایك کو دوسرے کا مال وراثۃ جائز ہوگا کہ باپ کے سامنے سلطان کو دربارہ نکاح ولایت شرعیہ نہ تھی تو نکاح نکاح فضولی ہو ااور ولی شرعی کے رد سے باطل ہوگیا
لان الولایۃ الخاصۃ اقوی من کیونکہ خاص ولایت عام ولایت سے اقوی ہے
(۲)عرفیہ ملکی مسئلہ ہے اور شرعیہ مذہبی و دینی۔
(۳)عرفیہ مقصد سلاطین ہے اور شرعیہ مقصود خاص دین۔
(۴)عرفیہ عالم اسباب میں احکام تکوینیہ الہیہ کا آلہ ہے یعنی کن لاتکن یہ امر واقع ہویہ نہ ہواور شرعیہ احکام تشریعیہ الہیہ کا مثلا کن مکن(یہ کرو یہ نہ کرو۔)
(۵)عرفیہتصرفات کے ثمرات حسیہ کی مثمر ہوتی ہے اور شرعیہمعانی دینیہ کی۔
(۶)عرفیہ سے شیئ غیرموجود موجود ہوجاتی ہے اور شرعیہ سے حکم شرعی غیر حاصل حاصل۔
(۷)عرفیہ دنیا میں مؤثر ہے اور شرعیہ عقبی میں معتبر۔
(۸)عرفیہ کی نافرمانی قوانین سلاطین کی خلاف ورزی ہے اور شرعیہ کی ناحفاظی اﷲ عزوجل کی معصیت۔
(۹)عرفیہ کا لحاظ عام ہے کہ بادشاہ کی ہر رعیت پر ہے مسلم ہو یا کافراور شرعیہ کا لحاظ خاص کہ اس سے صرف مسلمانوں کو کام ہے۔
(۱۰)عرفیہ کا عمل خاص ہے کہ ہر بادشاہ کی قلمر وتك محدود اور شرعیہ کا عمل دنیائے اسلام پر عام ہے شرق میں ہویا غرب میں۔
(۱۱)عرفیہ فوج وسپاہ وتیغ وسلاح کے سایہ میں ہے اور شرعیہ فقیر و محتاج کو بھی بقدر عطا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ظلی عطیہیہ تمام مضامین اور ان دونوں ولایتوں میں عموم و خصوص من وجہ ہونا اس مثال سے روشنسلطان نے زید کی قاصرہ کا اپنے پسر سے نکاح کرلیا اور زید راضی نہیں اس نے انکار کردیا اس تصرف کے تمام ثمرات حسیہ دنیا میں مرتب ہوجائیں گےشیئ غیر موجود موجود ہوجائے گی یعنی عورت کہ پہلے قبضہ میں نہ تھی اب آجائے گی دوسرا شخص مزاحمت پر قدرت نہ پائے گا مزاحمت کرے گا مستوجب غضب سلطانی وسزا ئے نافرمانی ہوگاعورت مرجائیگی تو یہ بزعم زوجیت اس کا ترکہ لے گاپھر اگر بادشاہ نو مسلم ہے تو اسے واقع میں بھی نکاح و مباح جانے گا اور اپنے تصرف کو صحیح وصاف مانےگایہ تمام امور احکام تکوینیہ الہیہ سے صادر ہو جائیں گے مگر احکام تشریعیہ کہ نکاح شرعی بولایت شرعی سے پید اہوتے اصلا متحقق نہ ہونگے نہ وہ عورت اس کے لئے شرعا حلال ہوگی نہ بعد مرگ ایك کو دوسرے کا مال وراثۃ جائز ہوگا کہ باپ کے سامنے سلطان کو دربارہ نکاح ولایت شرعیہ نہ تھی تو نکاح نکاح فضولی ہو ااور ولی شرعی کے رد سے باطل ہوگیا
لان الولایۃ الخاصۃ اقوی من کیونکہ خاص ولایت عام ولایت سے اقوی ہے
الولایۃ العامۃ کمافی الاشباہ وغیرھا اقول:یعنی الظلیۃ اما الاصلیۃ فما کان لظل ان یقاوم الاصل بل یضمحل دونہ ولذالو زوج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قاصرۃ رجل من قاصر رجل تم النکاح و لزم ولم یکن لابویھما خیرۃ اصلا بل کذلك لو زوج صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجلا عاقلا بالغامن امرأۃ کذابدون رضاھما لزم النکاح ولم یکن لھما الخیرۃ من انفسھما کما نصواعلیہ وقد نطق بہ القرآن العزیز۔ جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے اقول:(میں کہتا ہوں) ولایت ظلیہ ایسے ہے لیکن ولایت اصلیہتو ظلیہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بلکہ وہ اصلیہ کے مقابلہ میں کمزور ہوتی ہے اور اسی لئے اگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی قاصرہ(نابالغہ و مجنونہ و لونڈی)کا نکاح کسی قاصر مرد سے کردیں تو ان کے والدین کو قطعا کوئی اختیار نہ رہے گااور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا یہ نکاح لازم و نافذ ہوگا بلکہ آ پ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی عاقل بالغ مرد کا کسی عورت سے نکاح کردیں تو ایسے ہی لازم و نافذ ہوگا اور اس پر مرد و عورت کواپنے بارے میں کوئی اختیار نہ ہوگا جیساکہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے اور قرآن پاك نے اسکوبیان کیاہے(ت)
اور اگر زید نے اپنی قاصرہ کا نکاح عمرو سے کردیا اور سلطان کی ناراضی ہے اس نے حکما اس نکاح کو ناجائز رکھا اور رخصت سے روك دیاعنداﷲ اس تصرف کے تمام معانی شرعیہ ترتیب پائیں گے عورت کہ اس کے لیے حلال نہ تھی حلال ہوگئی حکم غیر موجود شرعی ہوگیادوسرا اگر بے افتراق بموت وطلاق اس سے نکاح کرے گا مستحق غضب جبار و سزائے نار ہوگاعورت مرجائے گی تو عمرو بحکم زوجیت اس کے ترکہ کا شرعا بقدر حصہ مالك ہوگایہ تمام باتیں احکام تشریعیہ الہیہ سے ثابت ہوجائیں گی مگر احکام تکوینیہ کہ ولایت عرفیہ سے آتے اصلا حاصل نہ ہوں گے نہ وہ عورت اس کے قبضہ میں آئے گی نہ یہ دعوی ارث کرسکے گا کہ سلطان کے سامنے باپ کو کیا اختیاراور یہ نکاح کہ رائے سلطانی میں خلاف قانون تھا قانونا باطل ہوچکا۔
لان الولایۃ العامۃ املك من الولایۃ الخاصۃ فی الدنیا۔ کیونکہ ولایت عامہ دنیا میں ولایت خاصہ سے زیادہ قوی ہے۔(ت)
اسی قیاس پر صدہا صورتیں ہیںاور یہیں سے ظاہر ہوا کہ ولایت عرفیہ میں تنفیذ سے مراد تحصیل ثمرات حسیہ دنیویہ ہے اگرچہ احکام شرعیہ حاصل نہ ہوں اور ولایت شرعیہ میں مراد اثبات معانی شرعیہ ودینیہ ہے اگرچہ
اور اگر زید نے اپنی قاصرہ کا نکاح عمرو سے کردیا اور سلطان کی ناراضی ہے اس نے حکما اس نکاح کو ناجائز رکھا اور رخصت سے روك دیاعنداﷲ اس تصرف کے تمام معانی شرعیہ ترتیب پائیں گے عورت کہ اس کے لیے حلال نہ تھی حلال ہوگئی حکم غیر موجود شرعی ہوگیادوسرا اگر بے افتراق بموت وطلاق اس سے نکاح کرے گا مستحق غضب جبار و سزائے نار ہوگاعورت مرجائے گی تو عمرو بحکم زوجیت اس کے ترکہ کا شرعا بقدر حصہ مالك ہوگایہ تمام باتیں احکام تشریعیہ الہیہ سے ثابت ہوجائیں گی مگر احکام تکوینیہ کہ ولایت عرفیہ سے آتے اصلا حاصل نہ ہوں گے نہ وہ عورت اس کے قبضہ میں آئے گی نہ یہ دعوی ارث کرسکے گا کہ سلطان کے سامنے باپ کو کیا اختیاراور یہ نکاح کہ رائے سلطانی میں خلاف قانون تھا قانونا باطل ہوچکا۔
لان الولایۃ العامۃ املك من الولایۃ الخاصۃ فی الدنیا۔ کیونکہ ولایت عامہ دنیا میں ولایت خاصہ سے زیادہ قوی ہے۔(ت)
اسی قیاس پر صدہا صورتیں ہیںاور یہیں سے ظاہر ہوا کہ ولایت عرفیہ میں تنفیذ سے مراد تحصیل ثمرات حسیہ دنیویہ ہے اگرچہ احکام شرعیہ حاصل نہ ہوں اور ولایت شرعیہ میں مراد اثبات معانی شرعیہ ودینیہ ہے اگرچہ
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۹۱€
موانع صوریہ زائل نہ ہوں۔
مقدمہ سوم:دونوں ولایتوں کے جو فرق بیان ہوئے ان کا ملاحظہ ہر عاقل پر دوامرواضح کرے گا ایك یہ کہ ہر سلطنت کو اسلامی ہو یا غیر اسلامی اپنے ملك پر ولایت قسم اول ہوتی ہے دوسرے یہ کہ یہی ولایت مطمح نظر سلاطین ہےاسی میں منازعت ان کے نزدیك بادشاہ کی مخالفت قرار پاتی ہےوہ یہی ولایت چاہتے ہیں کہ فوج و لشکر و تیغ و تبر کی لازم و ملزوم ہے نہ وہ کہ ہر فقیر مفلس بے زر بے پر کے لئے موسوم ہےولایت قسم دوم کسی نا مسلم سلطنت کو مقصود ہونا تو کوئی معنی ہی نہیں رکھتا کہ قصدا اتباع شرع سے ناشئی ہے نامسلم کو مذہب اسلام کی کب پیروی ہے صدہا سال سے خود مسلمان بادشاہوں کا مقصد اصلی وہی ولایت عرفی ہے وہ اپنے حکم کا نفاذ چاہتے ہیں اگرچہ حکم شرعی نہ ہو جیساکہ ہزاروں کارناموں سے واضح ہے تو کوئی نامسلم سلطنت کیونکر پابند ولایت شرعیہ ہوسکتی ہے ولایت قسم اول کہ مقصد سلاطین ہے بلا شبہہ ہندوستان میں گورنمنٹ انگلشیہ کو بلا نزاع حاصل ہے جس میں کسی فریق کو خلاف نہیں اور خود گورنمنٹ کو اس قدر منظور ہے اس نے کبھی نہ کہا کہ مجھے ہر فریق کے دین و مذہب میں مداخلت ہے بلکہ ا سکے خلاف ہمیشہ یہی اعلان کیا اور کرتی ہے کہ ہمیں کسی قوم کے دین و مذہب میں دست اندازی نہیں اور یقینا ہر ایسی گورنمنٹ جسے اﷲ تعالی عقل معاش بروجہ کمال اور ملك داری کا سلیقہ عنایت فرمائے اسے یہی شایان ہےحکام ورعایا سب جانتے ہیں کہ گورنمنٹ والی ملك ہے اس کا حکم یہاں نافذ ہے جو چیز وہ جسے دلائے مل جاتی ہے منع کردے رك جاتی ہے رعیت اس کا حکم مانتی اور اس کا خلاف مضر جانتی ہےیہ وہی وجود و عدم شیئ کے ثمرات ہوئے کہ نتائج ولایت عرفیہ ہیں مگر ہر گز نہ حکام کا دعوی غیر موجودہ موجود کردیتی یا کرنا چاہتی ہے۔اب یہی دیکھئے کہ گورنمنٹ روزانہ سود کی ڈگریاں دیتی ہے اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ مدعا علیہ اتنی رقم مدعی کو دے یہ ہر گز نہیں کہتی کہ مسلمان سود لینے دینے کو شرعا حلال جانیں یا ڈگری کے سبب اس لینے والے کے لئے سود کو ازروئے شریعت اسلامی مباح جانیںاسی طرح تمام احکام میں اسے اپنے ملك میں تعمیل حکم سے کام ہے اور اسی میں اس کی اطاعت ہے نہ یہ کہ ان احکام کو آخرت میں بھی بکار آمد سمجھوجو کام ولایت شرعیہ کا ہے اور قانون کو عین شریعت اسلامیہ مانو اس پر نہ وہ کسی کو مجبور کرتی ہے نہ اس سے اسے اصلا بحثتو بلا شبہہ گورنمنٹ والی ملك ہی بننا چاہتی ہے اور وہ ضروروالی ملك باختیارہے مگر کسی مذہب وملت کی والی دین بننا نہیں چاہتی نہ اس سے اسے سروکار ہے تو اس کے خلاف ٹھہرانا خود گورنمنٹ کے بارے میں غلط بیانی اور اس
مقدمہ سوم:دونوں ولایتوں کے جو فرق بیان ہوئے ان کا ملاحظہ ہر عاقل پر دوامرواضح کرے گا ایك یہ کہ ہر سلطنت کو اسلامی ہو یا غیر اسلامی اپنے ملك پر ولایت قسم اول ہوتی ہے دوسرے یہ کہ یہی ولایت مطمح نظر سلاطین ہےاسی میں منازعت ان کے نزدیك بادشاہ کی مخالفت قرار پاتی ہےوہ یہی ولایت چاہتے ہیں کہ فوج و لشکر و تیغ و تبر کی لازم و ملزوم ہے نہ وہ کہ ہر فقیر مفلس بے زر بے پر کے لئے موسوم ہےولایت قسم دوم کسی نا مسلم سلطنت کو مقصود ہونا تو کوئی معنی ہی نہیں رکھتا کہ قصدا اتباع شرع سے ناشئی ہے نامسلم کو مذہب اسلام کی کب پیروی ہے صدہا سال سے خود مسلمان بادشاہوں کا مقصد اصلی وہی ولایت عرفی ہے وہ اپنے حکم کا نفاذ چاہتے ہیں اگرچہ حکم شرعی نہ ہو جیساکہ ہزاروں کارناموں سے واضح ہے تو کوئی نامسلم سلطنت کیونکر پابند ولایت شرعیہ ہوسکتی ہے ولایت قسم اول کہ مقصد سلاطین ہے بلا شبہہ ہندوستان میں گورنمنٹ انگلشیہ کو بلا نزاع حاصل ہے جس میں کسی فریق کو خلاف نہیں اور خود گورنمنٹ کو اس قدر منظور ہے اس نے کبھی نہ کہا کہ مجھے ہر فریق کے دین و مذہب میں مداخلت ہے بلکہ ا سکے خلاف ہمیشہ یہی اعلان کیا اور کرتی ہے کہ ہمیں کسی قوم کے دین و مذہب میں دست اندازی نہیں اور یقینا ہر ایسی گورنمنٹ جسے اﷲ تعالی عقل معاش بروجہ کمال اور ملك داری کا سلیقہ عنایت فرمائے اسے یہی شایان ہےحکام ورعایا سب جانتے ہیں کہ گورنمنٹ والی ملك ہے اس کا حکم یہاں نافذ ہے جو چیز وہ جسے دلائے مل جاتی ہے منع کردے رك جاتی ہے رعیت اس کا حکم مانتی اور اس کا خلاف مضر جانتی ہےیہ وہی وجود و عدم شیئ کے ثمرات ہوئے کہ نتائج ولایت عرفیہ ہیں مگر ہر گز نہ حکام کا دعوی غیر موجودہ موجود کردیتی یا کرنا چاہتی ہے۔اب یہی دیکھئے کہ گورنمنٹ روزانہ سود کی ڈگریاں دیتی ہے اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ مدعا علیہ اتنی رقم مدعی کو دے یہ ہر گز نہیں کہتی کہ مسلمان سود لینے دینے کو شرعا حلال جانیں یا ڈگری کے سبب اس لینے والے کے لئے سود کو ازروئے شریعت اسلامی مباح جانیںاسی طرح تمام احکام میں اسے اپنے ملك میں تعمیل حکم سے کام ہے اور اسی میں اس کی اطاعت ہے نہ یہ کہ ان احکام کو آخرت میں بھی بکار آمد سمجھوجو کام ولایت شرعیہ کا ہے اور قانون کو عین شریعت اسلامیہ مانو اس پر نہ وہ کسی کو مجبور کرتی ہے نہ اس سے اسے اصلا بحثتو بلا شبہہ گورنمنٹ والی ملك ہی بننا چاہتی ہے اور وہ ضروروالی ملك باختیارہے مگر کسی مذہب وملت کی والی دین بننا نہیں چاہتی نہ اس سے اسے سروکار ہے تو اس کے خلاف ٹھہرانا خود گورنمنٹ کے بارے میں غلط بیانی اور اس
کے خلاف منشا واظہار ہے۔
مقدمہ چہارم:شریعت مطہرہ اسلامیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلوۃ والتحیۃ نے ولایت عرفیہ کو جس سے آدمی والی ملك اور حاکم کو بادشاہ وقت ہوجاتا ہے اور عایا کو اس کی پابندی لازم ہوتی ہے اس کے حال پر چھوڑا ہےاسے مسلم نا مسلم کسی سے خاص نہ فرمایاجس طرح وہ عرف میں کسی سے خاص نہیں اس لئے کہ وہ زیر اثر احکام تکوینیہ ہے جسے خدادے اسے ملے اور شریعت کی بحث صرف احکام تشریعیہ سے ہے:
قال اﷲ تعالی " قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء۫ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپ فرمادیجئے اے ملك کے مالك تو جسے چاہے ملك عطا فرمائے اور جس سے چاہے واپس لے لے۔(ت)
اس من تشاء میں کوئی خصوصیت اسلام کی نہیںولہذا قرآن مجید نے زمانہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام میں بادشاہ مصر کو جابجا بلفظ ملك تعبیر فرمایا:
" و قال الملک انی اری " " و قال الملک ائتونی بہ " " ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک " ۔ بادشاہ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوںبادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤبادشاہ کے دین میں بھائی کو پکڑناجائز نہیں۔(ت)
اور وہ غلط تعبیر سے پاك و منزہ ہےیوں ہی حضرت بلقیس کو ان کے اسلام سے پہلے قول ہدہد میں بلفظ " انی وجدت امراۃ تملکہم " (میں نے ایك عورت کو ان کا بادشاہ پایا۔ت) ذکر فرمایا اور وہ تقریر علی الغلط سے طاہر و مبرا ہے تو ثابت ہوا کہ بادشاہ اگرچہ نامسلم ہو ضرور والی ملك اور ولایت قسم اول رکھتا ہے مگر مسلمان بر ولایت قسم دوم دینیہ شرعیہ جس سے مسلمان کے حق میں حکم غیر موجود شرعی مذہبا موجود ہوجائے اور دینی حیثیت سے آخرت میں اس کے کام آئے صرف مسلمان کے ساتھ خاص فرمائی ہے اور کلمہ حصر و تصریح نفی دونوں طور پر اسے صاف فرمادیا ہے کہ کسی کا مجال تاویل وابدائے احتمال نہ رہے اول اس آیہ کریمہ میں " انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنوا " (تمہارا ولی اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ت)اور اس آیہ کریمہ میں " ولن یجعل
اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " (اور اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا۔ت) یہاں قطعا وہی سبیل دینی شرعی مراد ہے کہ سبیل دنیوی کا انتفاع خلاف مشاہدہ و اشہاد ہےقرآن عظیم اس معنی کی آیات سے مشحون ہے۔حلبی علی الدر پھر شامی میں ہے:
الکافر لایلی علی ولدہ المسلم لقولہ تعالی " ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ کافر اپنے مسلم بیٹے کا ولی نہیں کیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا(ت)
مقدمہ چہارم:شریعت مطہرہ اسلامیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلوۃ والتحیۃ نے ولایت عرفیہ کو جس سے آدمی والی ملك اور حاکم کو بادشاہ وقت ہوجاتا ہے اور عایا کو اس کی پابندی لازم ہوتی ہے اس کے حال پر چھوڑا ہےاسے مسلم نا مسلم کسی سے خاص نہ فرمایاجس طرح وہ عرف میں کسی سے خاص نہیں اس لئے کہ وہ زیر اثر احکام تکوینیہ ہے جسے خدادے اسے ملے اور شریعت کی بحث صرف احکام تشریعیہ سے ہے:
قال اﷲ تعالی " قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء۫ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپ فرمادیجئے اے ملك کے مالك تو جسے چاہے ملك عطا فرمائے اور جس سے چاہے واپس لے لے۔(ت)
اس من تشاء میں کوئی خصوصیت اسلام کی نہیںولہذا قرآن مجید نے زمانہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام میں بادشاہ مصر کو جابجا بلفظ ملك تعبیر فرمایا:
" و قال الملک انی اری " " و قال الملک ائتونی بہ " " ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک " ۔ بادشاہ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوںبادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤبادشاہ کے دین میں بھائی کو پکڑناجائز نہیں۔(ت)
اور وہ غلط تعبیر سے پاك و منزہ ہےیوں ہی حضرت بلقیس کو ان کے اسلام سے پہلے قول ہدہد میں بلفظ " انی وجدت امراۃ تملکہم " (میں نے ایك عورت کو ان کا بادشاہ پایا۔ت) ذکر فرمایا اور وہ تقریر علی الغلط سے طاہر و مبرا ہے تو ثابت ہوا کہ بادشاہ اگرچہ نامسلم ہو ضرور والی ملك اور ولایت قسم اول رکھتا ہے مگر مسلمان بر ولایت قسم دوم دینیہ شرعیہ جس سے مسلمان کے حق میں حکم غیر موجود شرعی مذہبا موجود ہوجائے اور دینی حیثیت سے آخرت میں اس کے کام آئے صرف مسلمان کے ساتھ خاص فرمائی ہے اور کلمہ حصر و تصریح نفی دونوں طور پر اسے صاف فرمادیا ہے کہ کسی کا مجال تاویل وابدائے احتمال نہ رہے اول اس آیہ کریمہ میں " انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنوا " (تمہارا ولی اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ت)اور اس آیہ کریمہ میں " ولن یجعل
اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " (اور اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا۔ت) یہاں قطعا وہی سبیل دینی شرعی مراد ہے کہ سبیل دنیوی کا انتفاع خلاف مشاہدہ و اشہاد ہےقرآن عظیم اس معنی کی آیات سے مشحون ہے۔حلبی علی الدر پھر شامی میں ہے:
الکافر لایلی علی ولدہ المسلم لقولہ تعالی " ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ کافر اپنے مسلم بیٹے کا ولی نہیں کیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳/ ۲۶€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۴۳€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۵۴€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۷۶€
القرآن الکریم ∞۲۷ /۲۳€
القرآن الکریم ∞۵ /۵۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۴۳€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۵۴€
القرآن الکریم ∞۱۲ /۷۶€
القرآن الکریم ∞۲۷ /۲۳€
القرآن الکریم ∞۵ /۵۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
نہایہ پھر عالمگیریہ پھر طحطاوی پھر ابن عابدین میں ہے:
تقلید الذمی لیحکم بین اھل الذمۃ صحیح لابین المسلمین وکذلك التحکیم ۔ ذمی کا تقر ر ذمیوں میں فیصلہ کرنے کے لئے صحیح ہے مسلمانوں میں فیصلہ کرنے کےلئے نہیں اور ثالثی کا بھی یہی حکم ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
لو حکما عبدافاعتق اوصبیا فبلغ اوذمیا فاسلم ثم حکم لاینفذ ۔ اگر فریقین نے کسی غلام کو ثالث بنایااب وہ آزاد ہوگیا نابالغ کو بنایا تو وہ بالغ ہوگیایا ذمی کو بنایا تو وہ مسلمان ہوگیاپھر اس کے بعد وہ فیصلہ کریں تو نافذ نہ ہوگا۔(ت)
درمختار کتاب الشہادات میں ہے:
شرطھا الولایۃ فیشترط الاسلام لو المدعی علیہ مسلما ۔ شہادت کی شرط ولایت ہے اگرمدعا علیہ مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا شرط ہوگا۔(ت)
تقلید الذمی لیحکم بین اھل الذمۃ صحیح لابین المسلمین وکذلك التحکیم ۔ ذمی کا تقر ر ذمیوں میں فیصلہ کرنے کے لئے صحیح ہے مسلمانوں میں فیصلہ کرنے کےلئے نہیں اور ثالثی کا بھی یہی حکم ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
لو حکما عبدافاعتق اوصبیا فبلغ اوذمیا فاسلم ثم حکم لاینفذ ۔ اگر فریقین نے کسی غلام کو ثالث بنایااب وہ آزاد ہوگیا نابالغ کو بنایا تو وہ بالغ ہوگیایا ذمی کو بنایا تو وہ مسلمان ہوگیاپھر اس کے بعد وہ فیصلہ کریں تو نافذ نہ ہوگا۔(ت)
درمختار کتاب الشہادات میں ہے:
شرطھا الولایۃ فیشترط الاسلام لو المدعی علیہ مسلما ۔ شہادت کی شرط ولایت ہے اگرمدعا علیہ مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا شرط ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۲ /۳۱۲€
ردالمحتار بحوالہ الھندیۃ عن النہایۃ کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۸،€حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۲۰۷€
درمختار شرح تنویر الابصارکتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰€
ردالمحتار بحوالہ الھندیۃ عن النہایۃ کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۸،€حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۲۰۷€
درمختار شرح تنویر الابصارکتاب القضاء باب التحکیم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰€
اور کتاب القضایا میں ہے:
اھلہ اھل الشہادۃ وشرط اھلیتھا شرط اھلیتہ فان کلامنھما من باب الولایۃ ۔ قاضی کی اہلیت وہی ہے جو شہادت کی اہلیت ہے اور شہادت کی اہلیت وہی ہوگی جو مدعا علیہ کی اہلیت ہوگی کیونکہ یہ دونوں امرولایت سے متعلق ہیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لاولایۃ لکافر علی مسلم لقولہ تعالی
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں کیونکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: اﷲ تعالی نے کافرو ں کو مومنوں پر ہر گزاختیار نہیں دیا۔(ت)
اسی کی شہادات میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الذمی علی المسلم لانہ لا ولایۃ لہ بالاضافۃ الیہ ۔ مسلم کے خلاف ذمی کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کو مسلمان پر ولایت نہیں ہے۔(ت)
مختصر امام قدوری میں ہے:
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولی شرائط الشہادۃ ۔ قاضی کی ولایت اس وقت تك صحیح نہ ہوگی جب تك کہ مولی میں شہادت کی شرائط پائی جائیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لان حکم القضاء یستقی من حکم الشہادۃ لان کل واحد منھما من باب الولایۃ فکل من کان اھلا للشہادۃ یکون اھلا للقضاء وما یشترط کیونکہ قاضی کا فیصلہ شہادت کے حکم سے مستفاد ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں امر از قبیل ولایت ہیں تو جو شہادت کا اہل ہوگا وہی قضاء کا اہل ہوگا تو جو چیز شہادت کی اہلیت میں شرط ہے وہ قضاء
اھلہ اھل الشہادۃ وشرط اھلیتھا شرط اھلیتہ فان کلامنھما من باب الولایۃ ۔ قاضی کی اہلیت وہی ہے جو شہادت کی اہلیت ہے اور شہادت کی اہلیت وہی ہوگی جو مدعا علیہ کی اہلیت ہوگی کیونکہ یہ دونوں امرولایت سے متعلق ہیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لاولایۃ لکافر علی مسلم لقولہ تعالی
" ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں کیونکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: اﷲ تعالی نے کافرو ں کو مومنوں پر ہر گزاختیار نہیں دیا۔(ت)
اسی کی شہادات میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الذمی علی المسلم لانہ لا ولایۃ لہ بالاضافۃ الیہ ۔ مسلم کے خلاف ذمی کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کو مسلمان پر ولایت نہیں ہے۔(ت)
مختصر امام قدوری میں ہے:
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولی شرائط الشہادۃ ۔ قاضی کی ولایت اس وقت تك صحیح نہ ہوگی جب تك کہ مولی میں شہادت کی شرائط پائی جائیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لان حکم القضاء یستقی من حکم الشہادۃ لان کل واحد منھما من باب الولایۃ فکل من کان اھلا للشہادۃ یکون اھلا للقضاء وما یشترط کیونکہ قاضی کا فیصلہ شہادت کے حکم سے مستفاد ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں امر از قبیل ولایت ہیں تو جو شہادت کا اہل ہوگا وہی قضاء کا اہل ہوگا تو جو چیز شہادت کی اہلیت میں شرط ہے وہ قضاء
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
الہدایۃ کتاب النکاح باب الاولیاء والاکفاء ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ /۲۹۸€
الہدایۃ کتاب الشہادت باب من یقبل شہادتہ الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۶۲€
المختصر للقدوری کتاب آداب القاضی ∞مطبع مجید کانپور ص۲۸۳€
الہدایۃ کتاب النکاح باب الاولیاء والاکفاء ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ /۲۹۸€
الہدایۃ کتاب الشہادت باب من یقبل شہادتہ الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۶۲€
المختصر للقدوری کتاب آداب القاضی ∞مطبع مجید کانپور ص۲۸۳€
لاھلیۃ الشہادۃ یشترط لاھلیۃ القضاء ۔ کی اہلیت میں شرط ہوگی(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لاولایۃ للصبی والمجنون ولا المملوك ولاالکافر علی المسلم ۔ نابالغمجنونغلام اور کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں۔(ت)
بدائع ملك ا لعلماء مسعود کاشانی میں ہے:
لاشہادۃ للکافر علی المسلم اصلا ۔ مسلم کےخلاف کافرکی شہادت معتبر نہیں(ت)
اسی میں ہے:
لاولایۃ للکافر علی المسلم لانہ لا میراث بینھما ولان الکافر لیس من اھل الولایۃ علی المسلم لان الشرع قطع ولایۃ الکافر علی المسلمین قال اﷲ تعالی "ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ "وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاسلام یعلو ولا یعلی ۔الخ کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں کیونکہ دونوں میں میراث نہیںاور اس لئے کہ کافر کومسلمان پر ولایت کی اہلیت نہیں ہے کیونکہ شریعت نے مسلمانوں پر کافر کی ولایت کوختم کردیا ہےاﷲ تعالی نے فرمایا اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اسلام غالب ہوگا مغلوب نہیں الخ۔(ت)
اسی میں ہے:
الصلاحیۃ للقضاء لھا شرائط منھا العقل والبلوغ والاسلام فلایجوز تقلید المجنون والصبی والکافر لان القضاء من باب الولایۃ بل ھو اعظم الولایات وھؤلاء لیست لھم اھلیۃ ادنی الولایات وھی قضاء کی صلاحیت کے لئے چند شرائط ہیں ان میں سے عقل بلوغاسلام ہے تو مجنوننابالغ اور کافر کی تقرری جائز نہ ہوگی کیونکہ قضاء ازقبیل ولایت ہے بلکہ اعظم ولایا ت میں سے ہے جبکہ ان لوگوں کو ولایت میں سے ادنی ولایت جو شہادت میں ہے
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لاولایۃ للصبی والمجنون ولا المملوك ولاالکافر علی المسلم ۔ نابالغمجنونغلام اور کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں۔(ت)
بدائع ملك ا لعلماء مسعود کاشانی میں ہے:
لاشہادۃ للکافر علی المسلم اصلا ۔ مسلم کےخلاف کافرکی شہادت معتبر نہیں(ت)
اسی میں ہے:
لاولایۃ للکافر علی المسلم لانہ لا میراث بینھما ولان الکافر لیس من اھل الولایۃ علی المسلم لان الشرع قطع ولایۃ الکافر علی المسلمین قال اﷲ تعالی "ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ "وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاسلام یعلو ولا یعلی ۔الخ کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں کیونکہ دونوں میں میراث نہیںاور اس لئے کہ کافر کومسلمان پر ولایت کی اہلیت نہیں ہے کیونکہ شریعت نے مسلمانوں پر کافر کی ولایت کوختم کردیا ہےاﷲ تعالی نے فرمایا اﷲ تعالی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اسلام غالب ہوگا مغلوب نہیں الخ۔(ت)
اسی میں ہے:
الصلاحیۃ للقضاء لھا شرائط منھا العقل والبلوغ والاسلام فلایجوز تقلید المجنون والصبی والکافر لان القضاء من باب الولایۃ بل ھو اعظم الولایات وھؤلاء لیست لھم اھلیۃ ادنی الولایات وھی قضاء کی صلاحیت کے لئے چند شرائط ہیں ان میں سے عقل بلوغاسلام ہے تو مجنوننابالغ اور کافر کی تقرری جائز نہ ہوگی کیونکہ قضاء ازقبیل ولایت ہے بلکہ اعظم ولایا ت میں سے ہے جبکہ ان لوگوں کو ولایت میں سے ادنی ولایت جو شہادت میں ہے
حوالہ / References
الہدایہ کتاب ادب القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۲€
فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح فصل فی الاولیاء ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۶€۳
بدائع الصنائع کتاب الشہادت فصل واما الشرائط فی الاصل∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۲۶€۶
بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل واما بیان شرائط الجواز ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۳۹€
فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح فصل فی الاولیاء ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۶€۳
بدائع الصنائع کتاب الشہادت فصل واما الشرائط فی الاصل∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۲۶€۶
بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل واما بیان شرائط الجواز ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۳۹€
الشہادۃ فلان لایکون لھم اھلیۃ اعلاھا اولی ومن لا یصلح قاضیا لایجوز قضاؤہ ضرورۃ اھ ملتقطا۔ وہ بھی نہیں تو لازما اعلی ولایت کے وہ اہل بطریق اولی نہ ہوں گے اور جو قاضی کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کی قضاء لازما جائز نہ ہوگی اھ ملتقطا(ت)
یہ گیارہ کتابوں کی عبارات ہیں مختصرامام قدوریفتاوی امام قاضی خاںبدائع امام ملك العلماءہدایہ امام برہان الدیننہایہ امام سغناقیتنویر الابصاردرمختارحلبیطحطاویشامیفتاوی علمگیریہ۔اور خود کثرت عبارات کی کیا حاجت بلا مبالغہ صدہا ہیں بلکہ شریعت نے ان مسلمانوں پر سلطان اسلام کو بھی ولایت نہ دی جو دارالحرب میں اسلام لائے اور ہنوز ہجرت کرکے ہمارے دار میں نہ آئے۔
قال اﷲ تعالی عزوجل" والذین امنوا ولم یہاجروا ما لکم من ولیتہم من شیء حتی یہاجروا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تمہیں ان سے کوئی ولایت نہیں حتی کہ وہ ہجرت کرلیں۔(ت)
کتب فقہ میں مسائل کثیرہ اس اصل پر مبنی ہیں کہ بحالت اختلاف دار سلطان اسلام کو ولایت نہیں راجع ابواب نکاح الکافر والمستامن وغیر ذلک(نکاح کافر و مستامن وغیرہما کے ابواب کی طرف رجوع کرو۔ت)ہدایہ میں ہے:
اختلاف الدارین یقطع الولایۃ ولھذا یمنع التوارث ۔ دارالاسلام و دار الحرب کا اختلاف ولایت کو ختم کردیتا ہے اس لئے آپس کا وارث ہونا ممنوع ہے۔(ت)
توبحالت اختلاف دین غیر مسلم کو مسلم کے دینی احکام میں مداخلت کیونکر حکم شرعی ہوسکتی ہے بلکہ ولایت شرعیہ کا دائرہ اس سے بھی تنگ تر ہےخود سلطان اسلام کوخود اس کی ملك میں خود اسکی مسلمان رعایا پر صدہا باتوں میں شریعت مطہرہ نے ولایت شرعیہ نہ دی اس کی نظیر وہی تزویج قاصرہ گزری کہ سلطان یا قاضی اسلام کا کیا ہوا نکاح نافذ نہیں اور باپ بھائی یا چچا یاکسی عصبہ بلکہ عصبہ نہ ہو
یہ گیارہ کتابوں کی عبارات ہیں مختصرامام قدوریفتاوی امام قاضی خاںبدائع امام ملك العلماءہدایہ امام برہان الدیننہایہ امام سغناقیتنویر الابصاردرمختارحلبیطحطاویشامیفتاوی علمگیریہ۔اور خود کثرت عبارات کی کیا حاجت بلا مبالغہ صدہا ہیں بلکہ شریعت نے ان مسلمانوں پر سلطان اسلام کو بھی ولایت نہ دی جو دارالحرب میں اسلام لائے اور ہنوز ہجرت کرکے ہمارے دار میں نہ آئے۔
قال اﷲ تعالی عزوجل" والذین امنوا ولم یہاجروا ما لکم من ولیتہم من شیء حتی یہاجروا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تمہیں ان سے کوئی ولایت نہیں حتی کہ وہ ہجرت کرلیں۔(ت)
کتب فقہ میں مسائل کثیرہ اس اصل پر مبنی ہیں کہ بحالت اختلاف دار سلطان اسلام کو ولایت نہیں راجع ابواب نکاح الکافر والمستامن وغیر ذلک(نکاح کافر و مستامن وغیرہما کے ابواب کی طرف رجوع کرو۔ت)ہدایہ میں ہے:
اختلاف الدارین یقطع الولایۃ ولھذا یمنع التوارث ۔ دارالاسلام و دار الحرب کا اختلاف ولایت کو ختم کردیتا ہے اس لئے آپس کا وارث ہونا ممنوع ہے۔(ت)
توبحالت اختلاف دین غیر مسلم کو مسلم کے دینی احکام میں مداخلت کیونکر حکم شرعی ہوسکتی ہے بلکہ ولایت شرعیہ کا دائرہ اس سے بھی تنگ تر ہےخود سلطان اسلام کوخود اس کی ملك میں خود اسکی مسلمان رعایا پر صدہا باتوں میں شریعت مطہرہ نے ولایت شرعیہ نہ دی اس کی نظیر وہی تزویج قاصرہ گزری کہ سلطان یا قاضی اسلام کا کیا ہوا نکاح نافذ نہیں اور باپ بھائی یا چچا یاکسی عصبہ بلکہ عصبہ نہ ہو
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب آداب القاضی فصل واما بیان من یصلح للقضاء ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۳و۴€
بدائع الصنائع کتاب آداب القاضی فصل اما بیان من یفترض علیہ القبول الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۴€
القرآن الکریم ∞۸ /۷۲€
الہدایہ کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۶۲€
بدائع الصنائع کتاب آداب القاضی فصل اما بیان من یفترض علیہ القبول الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۴€
القرآن الکریم ∞۸ /۷۲€
الہدایہ کتاب الشہادات باب من یقبل شہادتہ ومن لایقبل ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۶۲€
توذوی الارحاماور وہ بھی نہ ہوں تو مولی الموالاۃ کا کیا ہوا نافذ۔ تنویر الابصار میں ہے:
الولی فی النکاح العصبیۃ بنفسہ بشرط اسلام فی حق مسلمۃ فان لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم للاخت ثم لو لدالام ثم لذوی الارحام(ثم مولی الموالاۃ اھ در)ثم للسلطان ثم القاضی نص علیہ فی منشورۃ ۔(ملخصا) مسلمان لڑکی کے نکاح کی ولایت اس کے عصبہ بنفسہ کو حاصل ہوگی بشرطیکہ یہ مسلمان ہواور اگر عصبہ نہ ہو تو ولایت ماں کو پھر حقیقی بہن کو اور پھر ماں کی طرف سے اولادکواس کےبعد پھر ذوی الارحام پھر مولی موالات کو حاصل ہوگی (مولی موالات اسکو کہتے ہیں جس کے ہاتھ پر کوئی کافر مسلمان ہو)اھ درپھر سلطان پھر قاضی جس کی سند قضاء میں تصریح کردی گئی ہو نکاح صغار کی ولایت پراس کو ولایت حاصل ہوگی(ملخصا)۔(ت)
اشباہ میں ہے:
ولھذا قالوا ان القاضی لویزوج الیتیم والیتیمۃ الاعند عدم ولی لھمافی النکاح ولوذارحم محرم عــــــہ او اما او معتقا ۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ قاضی یتیم لڑکے اور لڑکی کا نکاح نہیں کرسکتا مگر جب ان کا کوئی ولی نکاح موجود نہ ہواگرچہ یہ ولی ذو محرم یا ماں یا آزاد کرنے والا ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
فلو زوج الابعد قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ اگر بعید شخص نے اقرب کی شہر میں موجودگی کے باوجود نکاح کردیا تو اقرب کی اجازت پر نکاح موقوف رہے گا۔(ت)
عــــــہ: اقول:قید المحرم لامفہوم لہ وکان ینبغی عکس الترتیب فان المعتق مقدم علی الام والام علی ذی رحم ۱۲منہ غفرلہ۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہاں محرم کی قید فہم سے بالاتر ہے اور مناسب تھا کہ ترتیب میں یوں عکس ہوتا کہ آزاد کرنےوالا ماں سے اور ماں ذی محرم سے مقدم کرتےکیونکہ ترتیب یوں ہے۱۲منہ غفرلہ۔(ت)
دوسری نظیر اوقاف ہیں وقف میں متولی شرعی کا تصرف معتبر اور اسکے ہوتے سلطان اسلام قاضی کا تصر ف بے اثر۔فتاوی امام رشید الدین پھر اشباہ میں ہے:
لایملك القاضی التصرف فی الوقف مع وجود ناظرہ ولو من قبلہ ۔ قاضی وقف میں تصرف کا مالك نہیں ہوگا جبکہ اس کا متولی موجود ہو اگرچہ متولی اسی قاضی کا مقرر کردہ ہو۔(ت)
فتاوی وبری پھر فتوی علامہ قاسم قطلو بغا پھر لسان الحکام میں ہے:
الولی فی النکاح العصبیۃ بنفسہ بشرط اسلام فی حق مسلمۃ فان لم تکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم للاخت ثم لو لدالام ثم لذوی الارحام(ثم مولی الموالاۃ اھ در)ثم للسلطان ثم القاضی نص علیہ فی منشورۃ ۔(ملخصا) مسلمان لڑکی کے نکاح کی ولایت اس کے عصبہ بنفسہ کو حاصل ہوگی بشرطیکہ یہ مسلمان ہواور اگر عصبہ نہ ہو تو ولایت ماں کو پھر حقیقی بہن کو اور پھر ماں کی طرف سے اولادکواس کےبعد پھر ذوی الارحام پھر مولی موالات کو حاصل ہوگی (مولی موالات اسکو کہتے ہیں جس کے ہاتھ پر کوئی کافر مسلمان ہو)اھ درپھر سلطان پھر قاضی جس کی سند قضاء میں تصریح کردی گئی ہو نکاح صغار کی ولایت پراس کو ولایت حاصل ہوگی(ملخصا)۔(ت)
اشباہ میں ہے:
ولھذا قالوا ان القاضی لویزوج الیتیم والیتیمۃ الاعند عدم ولی لھمافی النکاح ولوذارحم محرم عــــــہ او اما او معتقا ۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ قاضی یتیم لڑکے اور لڑکی کا نکاح نہیں کرسکتا مگر جب ان کا کوئی ولی نکاح موجود نہ ہواگرچہ یہ ولی ذو محرم یا ماں یا آزاد کرنے والا ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
فلو زوج الابعد قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۔ اگر بعید شخص نے اقرب کی شہر میں موجودگی کے باوجود نکاح کردیا تو اقرب کی اجازت پر نکاح موقوف رہے گا۔(ت)
عــــــہ: اقول:قید المحرم لامفہوم لہ وکان ینبغی عکس الترتیب فان المعتق مقدم علی الام والام علی ذی رحم ۱۲منہ غفرلہ۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہاں محرم کی قید فہم سے بالاتر ہے اور مناسب تھا کہ ترتیب میں یوں عکس ہوتا کہ آزاد کرنےوالا ماں سے اور ماں ذی محرم سے مقدم کرتےکیونکہ ترتیب یوں ہے۱۲منہ غفرلہ۔(ت)
دوسری نظیر اوقاف ہیں وقف میں متولی شرعی کا تصرف معتبر اور اسکے ہوتے سلطان اسلام قاضی کا تصر ف بے اثر۔فتاوی امام رشید الدین پھر اشباہ میں ہے:
لایملك القاضی التصرف فی الوقف مع وجود ناظرہ ولو من قبلہ ۔ قاضی وقف میں تصرف کا مالك نہیں ہوگا جبکہ اس کا متولی موجود ہو اگرچہ متولی اسی قاضی کا مقرر کردہ ہو۔(ت)
فتاوی وبری پھر فتوی علامہ قاسم قطلو بغا پھر لسان الحکام میں ہے:
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴۔۱۹۳€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۹۱€
درمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۴€
الاشباہ والنظائر بحوالہ فتاوٰی رشید الدین الفن الاول ∞قاعدہ ۱۶€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۹۲€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۹۱€
درمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۴€
الاشباہ والنظائر بحوالہ فتاوٰی رشید الدین الفن الاول ∞قاعدہ ۱۶€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۹۲€
لاتد خل ولایۃ السلطان علی ولایۃ المتولی فی الوقف ۔ وقف میں متولی کی ولایت کے خلاف سلطان کی ولایت مؤثر نہ ہوگی۔(ت)
تیسری نظیر اموال قاصرین ہیں کہ اولیائے اموال پھر اس کے ولی شرعی مقدم ہیں اورسلطان و قاضی ساتویں درجہ ہیں۔قنیہ پھر اشباہ میں ہے:
لایملك القاضی التصرف فی مال الیتیم مع وجود وصیہ ولو کان منصوبہ ۔ وصی کی موجودگی میں یتیم کے مال میں قاضی تصرف کا مالك نہیں ہے اگرچہ یہ وصی اس نے ہی مقرر کیا ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم الوالی ثم القاضی عــــــہ اس کا ولی باپ پھر وصی پھر وصی کا وصی پھر حقیقی دادا پھر اس کا وصی پھر اس کے وصی کا وصیپھر والی پھر قاضی۔(ت)
عــــــہ:کان علیہ ان یقول والقاضی بالواؤ لانہ والوالی فی مرتبۃ واحدۃ ایھما تصرف جاز ۱۲منہ غفرلہ۔ یوں کہنا لازم تھاوالقاضییعنی واؤ کے ساتھکیونکہ قاضی اور والی کا مرتبہ یہاں مساوی ہے دونوں میں سے جو بھی تصرف کرے جائز ہے۱۲منہ غفرلہ(ت)
تیسری نظیر اموال قاصرین ہیں کہ اولیائے اموال پھر اس کے ولی شرعی مقدم ہیں اورسلطان و قاضی ساتویں درجہ ہیں۔قنیہ پھر اشباہ میں ہے:
لایملك القاضی التصرف فی مال الیتیم مع وجود وصیہ ولو کان منصوبہ ۔ وصی کی موجودگی میں یتیم کے مال میں قاضی تصرف کا مالك نہیں ہے اگرچہ یہ وصی اس نے ہی مقرر کیا ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم الوالی ثم القاضی عــــــہ اس کا ولی باپ پھر وصی پھر وصی کا وصی پھر حقیقی دادا پھر اس کا وصی پھر اس کے وصی کا وصیپھر والی پھر قاضی۔(ت)
عــــــہ:کان علیہ ان یقول والقاضی بالواؤ لانہ والوالی فی مرتبۃ واحدۃ ایھما تصرف جاز ۱۲منہ غفرلہ۔ یوں کہنا لازم تھاوالقاضییعنی واؤ کے ساتھکیونکہ قاضی اور والی کا مرتبہ یہاں مساوی ہے دونوں میں سے جو بھی تصرف کرے جائز ہے۱۲منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
لسان الحکام مع معین الحکام الفصل العاشر فی الوقف مصطفی البابی ∞مصر ص۲۹۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوصایا ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۲۵€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوصایا ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۲۵€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
لہذا حدیث میں ارشاد ہوا:
السلطان ولی من لاولی لہ ۔ سلطان اس شخص کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔(ت)
شریعت مطہرہ نے جس حکم کو اس قدر محدود فرمایا ہو اسے اتنا وسیع کردینا شریعت جدیدہ قائم کرنا ہوگا۔ان دونوں مقدمات سے واضح ہوا کہ جو ولایت گورنمنٹ کی مقصود و مدعا ہے شرع مطہر اس کا انکار نہیں فرماتی اور جو ولایت شرع مطہر مسلمان پر مسلمان کے لئے خاص فرماتی ہے گورنمنٹ کو نہ اس سے بحث نہ اس کا دعویتو کیا نہ کہا جائے گا کہ اس کی مخالفت شرع اور گورنمنٹ دونوں پر تہمتنسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالی سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ت)
مقدم پنجم:اوپرمعلوم ہوا کہ مقصود کبھی وجود شیئ ہوتا ہے کبھی حدوث حکم شرعیقاضی کے یہاں جو مقدمات دائر ہوتے ہیں دونوں قسم کے ہیں اکثر قسم اول کے ان کی تنفیذ بمعنی اول و منع موانع ثمرات حسیہ مقصود ہےمثلا:
(۱)زید نے عمرو کی جائداد دبالی۔
(۲)قرض لیا اور ادا نہیں کرتا۔
(۳)چیز بیچی اور قبضہ نہیں دیتا۔
(۴)مول لی اور قیمت نہیں دیتا۔
(۵)ترکہ میں حق ہے اور قابض نہیں ہونے دیتا۔
(۶)مورث نے وصیت کی تھی وارث نہیں مانتا۔
(۷)شوہر رخصت کرالایا اور نان نفقہ نہیں دیتا۔
(۸)طلاق بائن دے دی ہے اور نہیں چھوڑتا۔
(۹)چیز عاریت لی تھی اور واپس نہیں کرتا۔
(۱۰)وقف میں ناجائز تصرف کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان عام صورتوں میں کہ روازنہ جن کی حاجت پڑتی اور جن کے مقدمات دائر ہوتے رہتے ہیں حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے دفع ظلم صرف تنفیذ بمعنی اول مانگتی ہے کہ معانی شرعیہ تو خود موجود ہیں۔
السلطان ولی من لاولی لہ ۔ سلطان اس شخص کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔(ت)
شریعت مطہرہ نے جس حکم کو اس قدر محدود فرمایا ہو اسے اتنا وسیع کردینا شریعت جدیدہ قائم کرنا ہوگا۔ان دونوں مقدمات سے واضح ہوا کہ جو ولایت گورنمنٹ کی مقصود و مدعا ہے شرع مطہر اس کا انکار نہیں فرماتی اور جو ولایت شرع مطہر مسلمان پر مسلمان کے لئے خاص فرماتی ہے گورنمنٹ کو نہ اس سے بحث نہ اس کا دعویتو کیا نہ کہا جائے گا کہ اس کی مخالفت شرع اور گورنمنٹ دونوں پر تہمتنسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالی سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ت)
مقدم پنجم:اوپرمعلوم ہوا کہ مقصود کبھی وجود شیئ ہوتا ہے کبھی حدوث حکم شرعیقاضی کے یہاں جو مقدمات دائر ہوتے ہیں دونوں قسم کے ہیں اکثر قسم اول کے ان کی تنفیذ بمعنی اول و منع موانع ثمرات حسیہ مقصود ہےمثلا:
(۱)زید نے عمرو کی جائداد دبالی۔
(۲)قرض لیا اور ادا نہیں کرتا۔
(۳)چیز بیچی اور قبضہ نہیں دیتا۔
(۴)مول لی اور قیمت نہیں دیتا۔
(۵)ترکہ میں حق ہے اور قابض نہیں ہونے دیتا۔
(۶)مورث نے وصیت کی تھی وارث نہیں مانتا۔
(۷)شوہر رخصت کرالایا اور نان نفقہ نہیں دیتا۔
(۸)طلاق بائن دے دی ہے اور نہیں چھوڑتا۔
(۹)چیز عاریت لی تھی اور واپس نہیں کرتا۔
(۱۰)وقف میں ناجائز تصرف کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان عام صورتوں میں کہ روازنہ جن کی حاجت پڑتی اور جن کے مقدمات دائر ہوتے رہتے ہیں حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے دفع ظلم صرف تنفیذ بمعنی اول مانگتی ہے کہ معانی شرعیہ تو خود موجود ہیں۔
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب النکاح باب الولی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۸۴،€جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء لانکاح الابولی ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۰€
اوپر معلوم ہوا کہ اس تنفیذ کےلئے ولایت قسم دوم کی حاجت نہیںنہ صرف وہ اس کےلئے کافیبلکہ ولایت قسم اول کی حاجتاور تنہاوہی یہاں دادرسی کےلئے بس ہے۔دوسرے وہ جن میں مسلمانوں کے کسی کام میں معنی شرعی غیر موجود کا اپنی ولایت و نیابت حضرت رسالت علی افضل الصلوۃ والتحیۃ سے پیدا کرنا ہو مثلا:
(۱)جمعہ وعیدین میں کسی کو امام بنانا۔
(۲)کسی کو خطیب جمعہ مقرر کرنا کہ ہر مسلمان صالح امامت نماز پنجگانہجمعہ وعیدین کی امامت نہیں کرسکتا نہ جمعہ کا خطبہ پڑھ سکتا ہے نہ اس کے پڑھنے پڑھانے سے نماز صحیح ہوجب تك ماذون من جہۃ السلطان نہ ہو جہاں اذن سلطان ناممکن ہو بضرورت نصب عامہ مسلمین معتبر ہے کما نص علیہ فی تنویر الابصار والدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ اس پر تنویر الابصار درمختار اور عام کتب میں تصریح ہے۔ت)تولیاقت خطبہ وامامت مذکورہ ایك معنی شرعی دینی ہے اور پیش از اذن سلطان مثلا زید کو حاصل نہیںاذن دیتے ہی ثابت و محقق ہوجائے گی اس کےلئے قطعا ولایت قسم دوم درکار۔
(۳)زن و شو لعان کریں۔
(۴)عنین بعد مرافعہ و تاجیل یکسال و انقضائے اجل و طلب زن طلاق نہ دے تو دونوں صورتوں میں بہ نیابت ولی مطلق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان میں تفریق کرنا یعنی خود منکوحہ غیر کو طلاق بائن دے دینا اور شوہر مانے یا نہ مانے نکاح ثابت کا اس کے قول سے قطع ہوکر شرعا زوج کا زوجہ زوجہ کا زوج پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوجانا ایسا کہ اگر اس کے بعد قربت کریں تو نہ فقط دنیا میں بلکہ اﷲ عزوجل کے نزدیك بھی حرام کارٹھہریں جب تك از سر نو نکاح نہ کریںاور صورت لعان میں تو نکاح بھی نہیں کرسکتے جب تك مرد وزن دونوں اہلیت لعان پر باقی رہیں اور شوہر خود اپنی تکذیب نہ کرے۔درمختار میں ہے:
فان التعنابانت بتفریق الحاکم فیتوارثان قبل تفریقہ ۔ اگر دونوں نے لعان کرلیا تو حاکم کی تفریق سے بائنہ ہوجائیگی اور قاضی کی تفریق سے قبل مرد و عورت ایك دوسرے کے وارث ہوں گے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
تکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عندھما وقال ابویوسف ھو تحریم طرفین کے نزدیك قاضی کی تفریق طلاق بائن ہوگی جبکہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ یہ
(۱)جمعہ وعیدین میں کسی کو امام بنانا۔
(۲)کسی کو خطیب جمعہ مقرر کرنا کہ ہر مسلمان صالح امامت نماز پنجگانہجمعہ وعیدین کی امامت نہیں کرسکتا نہ جمعہ کا خطبہ پڑھ سکتا ہے نہ اس کے پڑھنے پڑھانے سے نماز صحیح ہوجب تك ماذون من جہۃ السلطان نہ ہو جہاں اذن سلطان ناممکن ہو بضرورت نصب عامہ مسلمین معتبر ہے کما نص علیہ فی تنویر الابصار والدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ اس پر تنویر الابصار درمختار اور عام کتب میں تصریح ہے۔ت)تولیاقت خطبہ وامامت مذکورہ ایك معنی شرعی دینی ہے اور پیش از اذن سلطان مثلا زید کو حاصل نہیںاذن دیتے ہی ثابت و محقق ہوجائے گی اس کےلئے قطعا ولایت قسم دوم درکار۔
(۳)زن و شو لعان کریں۔
(۴)عنین بعد مرافعہ و تاجیل یکسال و انقضائے اجل و طلب زن طلاق نہ دے تو دونوں صورتوں میں بہ نیابت ولی مطلق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان میں تفریق کرنا یعنی خود منکوحہ غیر کو طلاق بائن دے دینا اور شوہر مانے یا نہ مانے نکاح ثابت کا اس کے قول سے قطع ہوکر شرعا زوج کا زوجہ زوجہ کا زوج پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوجانا ایسا کہ اگر اس کے بعد قربت کریں تو نہ فقط دنیا میں بلکہ اﷲ عزوجل کے نزدیك بھی حرام کارٹھہریں جب تك از سر نو نکاح نہ کریںاور صورت لعان میں تو نکاح بھی نہیں کرسکتے جب تك مرد وزن دونوں اہلیت لعان پر باقی رہیں اور شوہر خود اپنی تکذیب نہ کرے۔درمختار میں ہے:
فان التعنابانت بتفریق الحاکم فیتوارثان قبل تفریقہ ۔ اگر دونوں نے لعان کرلیا تو حاکم کی تفریق سے بائنہ ہوجائیگی اور قاضی کی تفریق سے قبل مرد و عورت ایك دوسرے کے وارث ہوں گے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
تکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عندھما وقال ابویوسف ھو تحریم طرفین کے نزدیك قاضی کی تفریق طلاق بائن ہوگی جبکہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ یہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق باب اللعان ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۲€
مؤبد ۔ ابدی تحریم ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
سیأتی فی بابہ انھا حرمۃ مؤبد ماداما اھلا للعان فاذاخرجا عن اھلیۃ اللعان اواحد ھما لہ ان ینکحھا وکذالو اکذب نفسہ حد ودلہ ان ینکحھا ۔ عنقریب متعلقہ باب میں آئے گا کہ یہ ابدی حرمت ہے جب تك مرد عورت لعان کے اہل ہیں اور جب دونوں یا ایك کی اہلیت لعان نہ رہے تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیںاور یونہی اگر مرد نے اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیا حد لگائی جائیگی اور اس کو جائز ہوگا کہ وہ عورت سے دوبارہ نکاح کرلے۔(ت)
درمختار باب العنین میں ہے:
بانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا ۔ قاضی کی تفریق سے عورت بائنہ ہوجائے گی اگر مرد طلاق دینے سے انکار کرے یہ تفریق بیوی کے مطالبہ پر ہوگی۔ (ت)
(۵)قاصرہ نے بفور بلوغ اپنے نفس کو اختیارکیا نکاح سے نہ نکلیشوہر کو اب بھی اس سے وطی حلال ہےایك مرجائے گا دوسرا ترکہ پائیگا مگر بعد مرافعہ و تفریق قاضی عند اﷲ حرام ہوجائے گی اور بے تجدید نکاح حلف نہ رہے گی اب ایك مرے گا دوسرے کو ترکہ نہ ملے گامبسوط پھر عالمگیریہ میں ہے:
یحل للزوج ان یطأھا مالم یفرق القاضی بینھما ۔ قاضی جب تك دونوں میں تفریق نہ کرے خاوند کو وطی کرنا حلال ہوگا۔(ت)
ردالمحتا رمیں ہے:
یتوار ثان فی ھذا النکاح قبل ثبوت فسخہ ۔ اس نکاح کے فسخ ہونے سے قبل دونوں ایك دوسرے کے وارث بنیں گے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
سیأتی فی بابہ انھا حرمۃ مؤبد ماداما اھلا للعان فاذاخرجا عن اھلیۃ اللعان اواحد ھما لہ ان ینکحھا وکذالو اکذب نفسہ حد ودلہ ان ینکحھا ۔ عنقریب متعلقہ باب میں آئے گا کہ یہ ابدی حرمت ہے جب تك مرد عورت لعان کے اہل ہیں اور جب دونوں یا ایك کی اہلیت لعان نہ رہے تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیںاور یونہی اگر مرد نے اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیا حد لگائی جائیگی اور اس کو جائز ہوگا کہ وہ عورت سے دوبارہ نکاح کرلے۔(ت)
درمختار باب العنین میں ہے:
بانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا ۔ قاضی کی تفریق سے عورت بائنہ ہوجائے گی اگر مرد طلاق دینے سے انکار کرے یہ تفریق بیوی کے مطالبہ پر ہوگی۔ (ت)
(۵)قاصرہ نے بفور بلوغ اپنے نفس کو اختیارکیا نکاح سے نہ نکلیشوہر کو اب بھی اس سے وطی حلال ہےایك مرجائے گا دوسرا ترکہ پائیگا مگر بعد مرافعہ و تفریق قاضی عند اﷲ حرام ہوجائے گی اور بے تجدید نکاح حلف نہ رہے گی اب ایك مرے گا دوسرے کو ترکہ نہ ملے گامبسوط پھر عالمگیریہ میں ہے:
یحل للزوج ان یطأھا مالم یفرق القاضی بینھما ۔ قاضی جب تك دونوں میں تفریق نہ کرے خاوند کو وطی کرنا حلال ہوگا۔(ت)
ردالمحتا رمیں ہے:
یتوار ثان فی ھذا النکاح قبل ثبوت فسخہ ۔ اس نکاح کے فسخ ہونے سے قبل دونوں ایك دوسرے کے وارث بنیں گے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب اللعان داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸۹€
الہدایہ
درمختار کتاب الطلاق باب العنین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۳€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المبسوط کتاب النکاح الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۸۶۔۲۸۵€
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰۷€
الہدایہ
درمختار کتاب الطلاق باب العنین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۳€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المبسوط کتاب النکاح الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۸۶۔۲۸۵€
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰۷€
(۶)اپنے حکم سے اختلافی مسئلہ کو اتفاقی کردینا ائمہ مجتہدین کا اختلاف اٹھا کر متفق کرلینا مثلا مرد و عورت دونوں شافعی المذہب ہیں مرد نے پیش از نکاح حلف کیا کہ تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاقپھر نکاح کرلیازوجین کے مذہب میں طلاق نہ ہوئی کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك یمین مضافہ باطل ہے انہیں باہم قربت حلال ہےبعدہ عورت نے دعوی کردیاحاکم حنفی المذہب نے صحت یمین و وقوع طلاق وبینونت زن کا حکم کیا اب عنداﷲ ان میں حرمت ثابت ہوگئی ایسی کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ بھی یہی فرمائیں گے کہ دونوں اجنبیہ و اجنبیہ ہیں بے نکاح جدید اسے ہاتھ لگانا ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہےاور اگر زوجین حنفی ہوں نکاح ہوتے ہی عورت پر طلاق بائن ہوگئی لو قوعۃ قبل الخلوۃ(کیونکہ یہ طلا ق قبل از دخول ہے۔ت)ان دونوں کے مذہب میں حرمت ثابت ہوگئی کہ اضافت یمین ہمارے نزدیك صحیح ہے اب مثلا عورت نے قاضی شافعی کے یہاں دعوی کردیا قاضی نے بطلان یمین وعدم طلاق کا حکم دیا اب عنداﷲ ان میں حلت ثابت ہوگئی ایسی کہ ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالی عنہم بھی یہی فرمائیں گے کہ یہ دونوں زوج وزوجہ ہیں یہاں تك کہ اس کے حکم سے پہلے جو وطی کرچکا تھا اب اس پر بھی حکم حلت ہوگیا۔بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
قال ان تزوجت فلانۃ فھی طالق ثلثا فتزوجھا فخاصمتہ الی قاض شافعی وادعت الطلاق فحکم بانھا امرأتہ وان الطلاق لیس بشیئ حل لہ ذلک و لو وطئھا الزوج بعد النکاح قبل الفسخ ثم فسخ یکون الوطی حلالا اذا فسخ واذافسخ لایحتاج الی تجدید العقد ۔ اگرکسی نے کہا میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو تین طلاق ہیںتو اب اس سے نکاح کیا تو عورت نے کسی شافعی قاضی کے ہاں طلاق کا دعوی کیا تو اس قاضی نے(اپنے مذہب پر)فیصلہ دیا کہ یہ اس کی بیو ی ہے اور یہ طلاق کچھ نہیں تو ایسی صورت میں وہ عورت خاوند کے لئے حلال ہوگی اور اگر خاوند نے اس عورت سے فسخ سے قبل وطی کرلی تو حلال ہوگی اور جب یمین و تعلیق فسخ ہوگئی تو اب تجدید نکاح کی حاجت نہیں۔(ت)
وجہ یہ کہ قضائے شرعی نے کہ حقیقۃ حکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے سلطان وقاضی حضور کے نائب وحکم رساں ہیں اختلاف مجتہدین کو اٹھادیا اور ہر امام و مجتہد پر اس واقعہ میں اسی کو حکم الہی جاننا لازم ہوگیا۔
قال ان تزوجت فلانۃ فھی طالق ثلثا فتزوجھا فخاصمتہ الی قاض شافعی وادعت الطلاق فحکم بانھا امرأتہ وان الطلاق لیس بشیئ حل لہ ذلک و لو وطئھا الزوج بعد النکاح قبل الفسخ ثم فسخ یکون الوطی حلالا اذا فسخ واذافسخ لایحتاج الی تجدید العقد ۔ اگرکسی نے کہا میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو تین طلاق ہیںتو اب اس سے نکاح کیا تو عورت نے کسی شافعی قاضی کے ہاں طلاق کا دعوی کیا تو اس قاضی نے(اپنے مذہب پر)فیصلہ دیا کہ یہ اس کی بیو ی ہے اور یہ طلاق کچھ نہیں تو ایسی صورت میں وہ عورت خاوند کے لئے حلال ہوگی اور اگر خاوند نے اس عورت سے فسخ سے قبل وطی کرلی تو حلال ہوگی اور جب یمین و تعلیق فسخ ہوگئی تو اب تجدید نکاح کی حاجت نہیں۔(ت)
وجہ یہ کہ قضائے شرعی نے کہ حقیقۃ حکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے سلطان وقاضی حضور کے نائب وحکم رساں ہیں اختلاف مجتہدین کو اٹھادیا اور ہر امام و مجتہد پر اس واقعہ میں اسی کو حکم الہی جاننا لازم ہوگیا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۴۹۶€
(۷)قاصر وقاصرہ جن کے لئے کوئی ولی نہیں اپنی ولایت یعنی ولی " النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم " (نبی مومنوں کی جانوں سے زیادہ تر ولی ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ت)کی نیابت سے ان میں نکاح کرکے تمام دینی احکام مثلا قربت کی حلت کہ پہلے حرام تھی نفقہ کا وجوب کہ پہلے لازم نہ تھا وراثت کا اثبات کہ پہلے ثابت نہ تھی عنداﷲ موجود و متحقق کردینا و قد تقدم نقلہ(اس کی نقل گزر چکی ہے۔ت)
(۸)زید نے اپنی ملك خاص بحالت صحت نفس و ثبات عقل وقف صحیح شرعی کی اور متولی شرعی مقرر کرکے ا س کے قبضہ میں دے دی تمام مفتی بہ مذاہب پر وقف صحیح و لازم ہوگیا اور زید کا اس میں کوئی حق ملك نہ رہا اس کے بعد وارثوں نے دعوی کیا یا خود زید ہی نے درخواست فسخ دی اور حاکم نے اس کے فسخ کا حکم دیا بشرطیکہ وقف پر رجسٹری نہ ہوچکی تھی اور قاضی مذہب مفتی بہ پر قضا سے مقید نہ تھا جس طرح قضاء زمانہ مقید ہے بلکہ خود امام مجتھد تھا جو اب صدہا سال سے کوئی نہیں یا سلطان نے اسے مذہب خاص امام اعظم پر قضاء کےلئے مقرر کیا تھا اگرچہ فتوی اس کے خلاف پر ہو یا اسے مذہب امام پر مطلقا قضایا خلاف میں جسے چاہے اختیار کی اجازت دی تھی جو اس زمانہ میں نہیں تو ان شرائط کے ساتھ ایسے قاضی کے حکم سے اس وقت بے رجسٹری کے زائل اور ملك زائل عنداﷲ حاصل ہو جانا۔درمختار میں ہے:
اطلق القاضی بیع الوقف غیر المسجل لوارث الوقف فباع صحوکان حکما ببطلان الوقف لعدم تسجیلہ حتی لو باعہ الواقف او بعضہ اورجع عنہ ووقفہ لجھۃ اخری وحکم بالثانی قبل الحکم بلزوم الاول صح الثانی لوقوعہ فی محل الاجتہاد کما حققہ المصنف وافتی بہ تبعا لشیخہ و قاری الھدایۃ والملا اگر قاضی نے بے رجسٹری وقف کو اس کے وارث کے لئے فروخت کی اجازت دے دی اور فروخت کردیا تو یہ بیع صحیح ہوگی اور قاضی کا یہ حکم اس وقف بے رجسٹری کو باطل کرنا قرار پائے گا حتی کہ واقف نے خود اس کو یا اس کے بعض کو فروخت کردیا یا پہلے وقف سے رجوع کرکے کسی دوسرے عنوان سے دوبارہ وقف کردیا اور قاضی نے دوسرے عنوان کے وقف کو پہلے وقف سے قبل لازم کردیا تو دوسرے وقف کا حکم صحیح ہوگا کیونکہ قاضی کا یہ حکم محل اجتہاد میں واقع ہوا جیسا کہ مصنف نے
(۸)زید نے اپنی ملك خاص بحالت صحت نفس و ثبات عقل وقف صحیح شرعی کی اور متولی شرعی مقرر کرکے ا س کے قبضہ میں دے دی تمام مفتی بہ مذاہب پر وقف صحیح و لازم ہوگیا اور زید کا اس میں کوئی حق ملك نہ رہا اس کے بعد وارثوں نے دعوی کیا یا خود زید ہی نے درخواست فسخ دی اور حاکم نے اس کے فسخ کا حکم دیا بشرطیکہ وقف پر رجسٹری نہ ہوچکی تھی اور قاضی مذہب مفتی بہ پر قضا سے مقید نہ تھا جس طرح قضاء زمانہ مقید ہے بلکہ خود امام مجتھد تھا جو اب صدہا سال سے کوئی نہیں یا سلطان نے اسے مذہب خاص امام اعظم پر قضاء کےلئے مقرر کیا تھا اگرچہ فتوی اس کے خلاف پر ہو یا اسے مذہب امام پر مطلقا قضایا خلاف میں جسے چاہے اختیار کی اجازت دی تھی جو اس زمانہ میں نہیں تو ان شرائط کے ساتھ ایسے قاضی کے حکم سے اس وقت بے رجسٹری کے زائل اور ملك زائل عنداﷲ حاصل ہو جانا۔درمختار میں ہے:
اطلق القاضی بیع الوقف غیر المسجل لوارث الوقف فباع صحوکان حکما ببطلان الوقف لعدم تسجیلہ حتی لو باعہ الواقف او بعضہ اورجع عنہ ووقفہ لجھۃ اخری وحکم بالثانی قبل الحکم بلزوم الاول صح الثانی لوقوعہ فی محل الاجتہاد کما حققہ المصنف وافتی بہ تبعا لشیخہ و قاری الھدایۃ والملا اگر قاضی نے بے رجسٹری وقف کو اس کے وارث کے لئے فروخت کی اجازت دے دی اور فروخت کردیا تو یہ بیع صحیح ہوگی اور قاضی کا یہ حکم اس وقف بے رجسٹری کو باطل کرنا قرار پائے گا حتی کہ واقف نے خود اس کو یا اس کے بعض کو فروخت کردیا یا پہلے وقف سے رجوع کرکے کسی دوسرے عنوان سے دوبارہ وقف کردیا اور قاضی نے دوسرے عنوان کے وقف کو پہلے وقف سے قبل لازم کردیا تو دوسرے وقف کا حکم صحیح ہوگا کیونکہ قاضی کا یہ حکم محل اجتہاد میں واقع ہوا جیسا کہ مصنف نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۶€
ابی السعود لکن حملہ فی النھر علی القاضی المجتہداھ وکتبت علیہ مانصہ اقول:وکذلك القاضی المقلد المقلد لیقضی بمذہب ابی حنفیۃ مطلقا وکذاالماذون لہ ان یقضی بہ مطلقا او بماشاء فی الخلافیات وھذا ظاہر جدا لانعدام المائع وھو کونہ معزولا بالنسبۃ الی القول الضعیف ۔ اس کی تحقیق فرمائی اور اس پر اپنے شیخ کی اتباع اور قاری الہدایہ اور ملامسکین کی اتباع میں فتوی دیالیکن نہر میں اس کو انہوں نے مجتہد قاضی کی رائے پر محمول کیا اھ۔میں نے اس پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہےمیں کہتا ہوں کہ کسی بااختیار قاضی کا مقرر کردہ مقلد قاضی کہ وہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب پر مطلقا فیصلہ دے اور وہ قاضی جس کو مطلقا اجازت ہے کہ خلافیات میں اپنی صوابدید پر فیصلہ دےان کا فیصلہ بھی ایسا ہی نافذ ہوگایہ بالکل ظاہر ہے کہ کیونکہ قاضی کے معزول ہونے والا ضعیف قول بھی یہاں نہیں ہے جو مانع بنے۔(ت)
ردالمحتا رمیں ہے:
لو قضی الحنفی بصحۃ بیعہ فحکمہ باطل لانہ لایصح الابالصحیح المفتی بہ فھو معزول بالنسبۃ الی القول الضعیف وماافتی بہ قاری الھدایۃ من صحۃ الحکم ببیعہ قبل الحکم بوقفہ فمحمول علی ان القاضی مجتہد ۔ اگر حنفی قاضی نے اس وقت کی بیع کی صحت کا حکم دیا تو اس کا حکم باطل ہوگا کیونکہ اس کے حکم کی صحت صرف صحیح مفتی بہ قول پر ہوگیتو یہ قاضی ایك ضعیف قول کی بناء پر معزول قرار پائے گا اور جو قاری الہدایہ نے وقف کے حکم نامہ سے قبل بیع کے حکم کی صحت پر فتوی دیا ہے تو وہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ قاضی مجتہد ہو۔(ت)
حلبی علی الدر پھر ابن عابدین میں ہے:
ومثل القاضی المجتہدمن قلد مجتہدا ایراہ اھ اقول: مجتہد قاضی کی طرح ہے وہ قاضی جس کو اپنی رائے میں کوشاں کے طور پر مقرر کیا گیا ہے اھ اقول:
ردالمحتا رمیں ہے:
لو قضی الحنفی بصحۃ بیعہ فحکمہ باطل لانہ لایصح الابالصحیح المفتی بہ فھو معزول بالنسبۃ الی القول الضعیف وماافتی بہ قاری الھدایۃ من صحۃ الحکم ببیعہ قبل الحکم بوقفہ فمحمول علی ان القاضی مجتہد ۔ اگر حنفی قاضی نے اس وقت کی بیع کی صحت کا حکم دیا تو اس کا حکم باطل ہوگا کیونکہ اس کے حکم کی صحت صرف صحیح مفتی بہ قول پر ہوگیتو یہ قاضی ایك ضعیف قول کی بناء پر معزول قرار پائے گا اور جو قاری الہدایہ نے وقف کے حکم نامہ سے قبل بیع کے حکم کی صحت پر فتوی دیا ہے تو وہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ قاضی مجتہد ہو۔(ت)
حلبی علی الدر پھر ابن عابدین میں ہے:
ومثل القاضی المجتہدمن قلد مجتہدا ایراہ اھ اقول: مجتہد قاضی کی طرح ہے وہ قاضی جس کو اپنی رائے میں کوشاں کے طور پر مقرر کیا گیا ہے اھ اقول:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۵€
جدالممتار علی ردالمحتار
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۹۴€
جدالممتار علی ردالمحتار
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۹۴€
ای اذالم یکن مقیدابالقضاء بالمفتی بہ فی المذہب الحنفی کقضاۃ زماننا وھوظاہر والا کان رجوعا الی ماوقع الضرار منہ فانہ اذا لم یصح القضاء بالمرجوح کیف یصح بتقلید مذھب اخر فرجع حاصلہ الی ما کتبت وباﷲ التوفیق۔ (میں کہتاہوں)یعنی جب وہ مذہب حنفی میں مفتی بہ قول پر قضاء کا پابند نہ بنا یا گیا ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ کے قاضی۔اور یہ ظاہر بات ہے ورنہ ضرر والی چیز کی طرف رجوع کرنا لازم آئے گاکیونکہ مرجوح قول پر قضاء صحیح نہ ہو تو دوسرے مذہب کی تقلید کیسے صحیح ہوگیلہذا حاصل وہی ہے جو میں نے لکھا ہےاور توفیق صرف اﷲ تعالی سے ہے۔(ت)
(۹)بعض حجر تو خود بحکم شرع ثابت ہیں جیسے مجنون اور ناسمجھ بچے کا ہر تصرف قولیاور معتدہ وصبی عاقل کا دائربین النفع والضرر سے محجور ہونا کہ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اور بعض وہ ہیں کہ بحکم حاکم ثابت ہوتے ہیں جیسے صاحبین رحمہمااﷲتعالی کے نزدیك مدیون کو بوجہ دیناور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول صحیح مفتی بہ پر سفیہ کو بوجہ سفہ ممنوع التصرف کردینایہ حجر بحکم حاکم بھی تنفیذ کی طرح دو۲ قسم ہے:
اول:حسی کہ ایك آدمی ایك فعل سے حکما باز رکھاجائے بغیر اس کے کہ کوئی معنی جدید شرعی حادث ہو۔
دوم: شرعی کہ اس کے سبب تصرف کا حکم شرعی مسدود ہوجائےانسان کی اہلیت کہ عطائے رب العزت ہے باطل و بے اثر ہو کر بہائم سے ملحق ہوجائے۔اور نتیجہ ولایت قسم اول کا ہے اور دو م علی الاختلاف ولایت قسم دوم کا۔اس دوم کی ولایت شرعیہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك تو اصلا سلطان اسلام کو بھی نہیں۔ہدایہ میں اسی کو ترجیح دی کہ فرماتے ہیں:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لایحجر علی الحر العاقل البالغ السفیہ وتصرفہ فی مالہ جائز وان کان مبذرا مفسدا یتلف مالہ وقال ابویوسف و محمد رحمھما اﷲ تعالی یحجر علی السفیہ ویمنع من التصرف فی مالہلابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ ان فی سلب ولایتہ اھدار امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حرعاقل بالغ بیوقوف کو محجور(یعنی تصرفات سے روکنا)جائز نہیں ہے اور اس کا اپنے مال میں تصرف کرنا جائز ہے اگرچہ وہ فضول خرچی اور فاسد کرتے ہوئے مال کو تلف کردے اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی نے فرمایا ایسے بیوقوف کو محجور قرار دینا اور مال تصرف کرنے سے روکنا جائز ہےامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ اس کی ولایت کو ختم کرنااس کی آدمیت کو
(۹)بعض حجر تو خود بحکم شرع ثابت ہیں جیسے مجنون اور ناسمجھ بچے کا ہر تصرف قولیاور معتدہ وصبی عاقل کا دائربین النفع والضرر سے محجور ہونا کہ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اور بعض وہ ہیں کہ بحکم حاکم ثابت ہوتے ہیں جیسے صاحبین رحمہمااﷲتعالی کے نزدیك مدیون کو بوجہ دیناور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول صحیح مفتی بہ پر سفیہ کو بوجہ سفہ ممنوع التصرف کردینایہ حجر بحکم حاکم بھی تنفیذ کی طرح دو۲ قسم ہے:
اول:حسی کہ ایك آدمی ایك فعل سے حکما باز رکھاجائے بغیر اس کے کہ کوئی معنی جدید شرعی حادث ہو۔
دوم: شرعی کہ اس کے سبب تصرف کا حکم شرعی مسدود ہوجائےانسان کی اہلیت کہ عطائے رب العزت ہے باطل و بے اثر ہو کر بہائم سے ملحق ہوجائے۔اور نتیجہ ولایت قسم اول کا ہے اور دو م علی الاختلاف ولایت قسم دوم کا۔اس دوم کی ولایت شرعیہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك تو اصلا سلطان اسلام کو بھی نہیں۔ہدایہ میں اسی کو ترجیح دی کہ فرماتے ہیں:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لایحجر علی الحر العاقل البالغ السفیہ وتصرفہ فی مالہ جائز وان کان مبذرا مفسدا یتلف مالہ وقال ابویوسف و محمد رحمھما اﷲ تعالی یحجر علی السفیہ ویمنع من التصرف فی مالہلابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ ان فی سلب ولایتہ اھدار امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حرعاقل بالغ بیوقوف کو محجور(یعنی تصرفات سے روکنا)جائز نہیں ہے اور اس کا اپنے مال میں تصرف کرنا جائز ہے اگرچہ وہ فضول خرچی اور فاسد کرتے ہوئے مال کو تلف کردے اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی نے فرمایا ایسے بیوقوف کو محجور قرار دینا اور مال تصرف کرنے سے روکنا جائز ہےامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ اس کی ولایت کو ختم کرنااس کی آدمیت کو
آدمیتہ والحاقۃ بالبھائم وھو اشد ضررامن التبذیر فلا یتحمل الاعلی لدفع الادنی اھ مختصرا وقد قدم قول الامام واخر دلیلہ واجاب عن دلیلہما وکذلك فعل فی الحجر بسبب الدین۔ معطل کرنا اور حیوانوں سے لاحق کرنا ہے اور یہ چیز اس کے لئے مال کی فضول خرچی سے زیادہ مضر ہے لہذا اس کے ادنی ضرر کو ختم کرنے کے لئے بڑے ضرر کو نہ اپنایا جائے گا اھ مختصراانہوں نے امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے قول کو مقدم ذکر کیا اور ان کی دلیل کو آخر میں لاکر صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کی دلیل کا جواب دیا ور مصنف نے دین کے سبب محجوری کے عمل میں بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا۔(ت)
اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے طور پر بھی بہت مواقع میں سلطان اسلام کا حجر بھی صرف حسی ہوتا ہے نہ کہ شرعیمثلا مفتی ماجن و طبیب جاہل و مکاری مفلس پر حجر کہ بحکم سلطان بھی صرف صورۃہوگا شرعا ان کے تصرفات صحیحہ باطل نہ ہوجائیں گے۔درمختار میں ہے:
لایحجر علی حرمکلف بسفہ وفسق ودین وغفلۃ بل یمنع مفت ماجن یعلم الحیل الباطلۃ کتعلیم الردۃ لتبین من زوجھا او تسقط عنہا الزکاۃ وطبیب جاھل ومکار مفلس ۔ حر مکلف کو بیوقوفیفسقدین اور غفلت کی وجہ سے محجور نہ کیا جائے گا بلکہ ماجن مفتی جو لوگوں کو باطل حیلے سکھاتا ہو مثلا بیوی کو خاوند سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے مرتد ہونے اور اس سے زکوۃ ساقط کی تعلیم دینانیز جاہل طبیب اور مکار مفلس کو روك دیا جائیگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بل یمنع اشاربہ الی انہ لیس المراد بہ حقیقۃ الحجر وھو المنع الشرعی الذی یمنع نفوذ التصرف لان المفتی لوافتی بعد الحجر واصاب جاز ماتن کا قول"بلکہ منع کیا جائے"اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ممانعت حقیقی پابندی نہیں بلکہ اس سے مراد شرعی ممانعت ہے جو تصرف کے نفاذ کو روکتی ہے کیونکہ اگر وہ مفتی حجر والی کارروائی کے بعد فتوی درست دے تو جائز ہے
اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے طور پر بھی بہت مواقع میں سلطان اسلام کا حجر بھی صرف حسی ہوتا ہے نہ کہ شرعیمثلا مفتی ماجن و طبیب جاہل و مکاری مفلس پر حجر کہ بحکم سلطان بھی صرف صورۃہوگا شرعا ان کے تصرفات صحیحہ باطل نہ ہوجائیں گے۔درمختار میں ہے:
لایحجر علی حرمکلف بسفہ وفسق ودین وغفلۃ بل یمنع مفت ماجن یعلم الحیل الباطلۃ کتعلیم الردۃ لتبین من زوجھا او تسقط عنہا الزکاۃ وطبیب جاھل ومکار مفلس ۔ حر مکلف کو بیوقوفیفسقدین اور غفلت کی وجہ سے محجور نہ کیا جائے گا بلکہ ماجن مفتی جو لوگوں کو باطل حیلے سکھاتا ہو مثلا بیوی کو خاوند سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے مرتد ہونے اور اس سے زکوۃ ساقط کی تعلیم دینانیز جاہل طبیب اور مکار مفلس کو روك دیا جائیگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بل یمنع اشاربہ الی انہ لیس المراد بہ حقیقۃ الحجر وھو المنع الشرعی الذی یمنع نفوذ التصرف لان المفتی لوافتی بعد الحجر واصاب جاز ماتن کا قول"بلکہ منع کیا جائے"اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ممانعت حقیقی پابندی نہیں بلکہ اس سے مراد شرعی ممانعت ہے جو تصرف کے نفاذ کو روکتی ہے کیونکہ اگر وہ مفتی حجر والی کارروائی کے بعد فتوی درست دے تو جائز ہے
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر للفساد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۵۲۔۳۵۱€
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۹۸€
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۹۸€
وکذاالطبیب لو باع الادویۃ نفذ فدل ان المراد المنع الحسی کما فی الدرر عن البدائع ۔ اور یونہی وہ طبیب اگر دوافروخت کرے تو یہ کارروائی نافذ ہوگی تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ منع محض حسی کارروائی ہے جیسا کہ درر میں بدائع سے نقل کیا گیا ہے(ت)
اسی قبیل سے ہے سلطان کا ایام گرانی میںیافوج کے لئے اشیاء کا بھاؤ کاٹ دینا کہ اگر بائع برضائے مشتری زیادہ کو پہنچے شرعا جائز و نافذ رہے گا آخرت میں مستحق عذاب نہ ہوگا اگرچہ دنیا میں سلطان اسے سزادے اور اگر اس سلطانی مقرر کردہ بھاؤ پر محض بخوف سلطان بیچے تو وہ شے مشتری کیلئے عنداﷲ حلال نہ ہوگی۔درمختار میں ہے:
لایسعر حاکم لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تسعر وا فان اﷲ ھوالمسعر القابض الباسط الرازق الا اذا تعدی الارباب عن القیمۃ تعدیا فاحشا فیعسر بمشورۃ اھل الرأیوفی الاختیار ثم اذا سعر و خاف البائع ضرب الامام لو نقص لایحل للمشتری اھ ای اذا باع للخوف کما عبر للقہستانی فسقط نظر الشامی وتحقیقہ فی جدالممتار۔ حاکم بھاؤ مقرر نہ کر ے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے بھاؤ مقرر نہ کرو کیونکہ اﷲ تعالی ہی بھاؤ بنانے والا ہے وہی تنگیوہی وسعت وہی رزق دینے والا ہے مگر جب تجار قیمت میں فحش گرانی کریں تو پھر حاکم اہل الرائے سے مشورہ کے بعد بھاؤ مقرر کرے تو جائز ہےاور اختیار میں ہے پھر جب حاکم بھاؤ مقرر کردے اور بائع کو حاکم کی سزا کا خوف ہواگر اس نے مال کم بھاؤ پر دیا تو مشتری کو اس بھاؤ خرید نا جائز نہیں اھ یعنی جب بائع محض خوف کی وجہ سے(بغیر رضا) فروخت کرے تو مشتری کو جائزنہیں جیسا کہ قہستانی نے یہ تعبیر کی ہےتو اب علامہ شامی کا اعتبار ساقط ہوگیا اور اس کی تحقیق جدالممتار میں ہے(ت)
(۱۰)بے اذن و رضائے مدیون اس کی جائداد زر ڈگری میں نیلام کر دینا ضرور حسابحکم سلطنت موجود ہوجائے گاکلام اس میں ہے کہ شرعا بھی وہ بیع صحیح ونافذ اور شیئ مبیع مشتری کے لئے عنداﷲ حلال ہوجائے گی اس پر خواہ اس کے ورثہ پر کہ اس کے بعد اسے اپنی ملك صحیح شرعی جانیں آخرت میں کچھ مواخذہ نہ ہوگا یہ مختلف فیہ ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تو اسے سلطان اسلام کیلئے بھی
اسی قبیل سے ہے سلطان کا ایام گرانی میںیافوج کے لئے اشیاء کا بھاؤ کاٹ دینا کہ اگر بائع برضائے مشتری زیادہ کو پہنچے شرعا جائز و نافذ رہے گا آخرت میں مستحق عذاب نہ ہوگا اگرچہ دنیا میں سلطان اسے سزادے اور اگر اس سلطانی مقرر کردہ بھاؤ پر محض بخوف سلطان بیچے تو وہ شے مشتری کیلئے عنداﷲ حلال نہ ہوگی۔درمختار میں ہے:
لایسعر حاکم لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تسعر وا فان اﷲ ھوالمسعر القابض الباسط الرازق الا اذا تعدی الارباب عن القیمۃ تعدیا فاحشا فیعسر بمشورۃ اھل الرأیوفی الاختیار ثم اذا سعر و خاف البائع ضرب الامام لو نقص لایحل للمشتری اھ ای اذا باع للخوف کما عبر للقہستانی فسقط نظر الشامی وتحقیقہ فی جدالممتار۔ حاکم بھاؤ مقرر نہ کر ے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے بھاؤ مقرر نہ کرو کیونکہ اﷲ تعالی ہی بھاؤ بنانے والا ہے وہی تنگیوہی وسعت وہی رزق دینے والا ہے مگر جب تجار قیمت میں فحش گرانی کریں تو پھر حاکم اہل الرائے سے مشورہ کے بعد بھاؤ مقرر کرے تو جائز ہےاور اختیار میں ہے پھر جب حاکم بھاؤ مقرر کردے اور بائع کو حاکم کی سزا کا خوف ہواگر اس نے مال کم بھاؤ پر دیا تو مشتری کو اس بھاؤ خرید نا جائز نہیں اھ یعنی جب بائع محض خوف کی وجہ سے(بغیر رضا) فروخت کرے تو مشتری کو جائزنہیں جیسا کہ قہستانی نے یہ تعبیر کی ہےتو اب علامہ شامی کا اعتبار ساقط ہوگیا اور اس کی تحقیق جدالممتار میں ہے(ت)
(۱۰)بے اذن و رضائے مدیون اس کی جائداد زر ڈگری میں نیلام کر دینا ضرور حسابحکم سلطنت موجود ہوجائے گاکلام اس میں ہے کہ شرعا بھی وہ بیع صحیح ونافذ اور شیئ مبیع مشتری کے لئے عنداﷲ حلال ہوجائے گی اس پر خواہ اس کے ورثہ پر کہ اس کے بعد اسے اپنی ملك صحیح شرعی جانیں آخرت میں کچھ مواخذہ نہ ہوگا یہ مختلف فیہ ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تو اسے سلطان اسلام کیلئے بھی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹۳€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ باب البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹۔۲۴۸€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ باب البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹۔۲۴۸€
جائز نہیں مانتےہدایہ میں اسی کوترجیح دی اور اس پر دلیل قاطع ارشاد کی فرماتے ہیں:
قال ابو حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ لااحجر فی الدین لان فی الحجر اھدار اھلیتہ فلا یجوز لدفع ضرر خاص فان کان لہ مال لم یتصرف فیہ الحاکم لانہ تجارۃ لاعن تراض فیکون باطلا بالنصوقالا اذا طلب غرماء المفلسحجر القاضی علیہ وباع مالہ ان امتنع من بیعہقلنا المستحق قضاء الدین والبیع لیس بطریق متعین لذلك کیف وان صح البیع کان الحبس اضرارا بھما بتاخیر حق الدائن وتعذیب المدیون فلا یکون مشروعا اھ مختصرا۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میں دین میں کسی کو محجور نہ کروں گا کیونکہ حجر میں آدمی کی اہلیت معطل ہوتی ہے لہذا کسی ضرر خاص کو ختم کرنے کے لئے اہلیت کو ختم کرنا جائز نہیں ہےاگر ایسے شخص کا مال ہوتو حاکم اس میں تصرف نہ کرے کیونکہ یہ اس کی رضا کے بغیر تجارت قرار پائیگی جو ناجائز اور بذریعہ نص باطل ہےاور صاحبین رحمہما اﷲتعالی فرماتے ہیں کہ اگر مطالبہ والے حضرات قاضی سے مطالبہ کریں کہ اس پر حجر(مالی تصرف میں پابندی)لگادے اور اس کے مال کو جبرا فروخت کردے تو قاضی ایساکرےہم امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کی طرف سے کہتے ہیں مطالبہ والوں کا حق صرف دین کی ادائیگی ہے اور مطلوب کے مال کو فروخت کرنا یہ واحد طریقہ نہیں ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اگر اس کے مال کی فروخت جائز ہو تو اس کو قید کرنا دوہرا ضرر ہوگاایك حق والوں کے حق میں تاخیراور دوسرا مدیون کو سزا دیناتویہ ناجائز ہے اھ مختصرا(ت)
عنایہ میں ہے:
لکنہ(ای الحبس)مشروع بالاجماع فلم یصح البیع ۔ لیکن وہ یعنی قیدکرنا بالاجماع مشروع ہے تو مال کا فروخت کرنا جائز نہ ہوگا۔(ت)
صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے مفتی بہ قول پر کہ بشرائط اجازت ہے صریح احداث حکم جدید شرعی وتبدیل توقف بنفاذ و حرمت بحلت کی حاجت ہے۔یہ دس مثالیں مقدمات قسم دوم کی ہیں ان میں تنفیذ بمعنی دوم درکار ہے اور نیا حکم شرعی کہ اب تك حاصل نہ تھا حاصل کرنے کی ضرورت ہے تو اس کے
قال ابو حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ لااحجر فی الدین لان فی الحجر اھدار اھلیتہ فلا یجوز لدفع ضرر خاص فان کان لہ مال لم یتصرف فیہ الحاکم لانہ تجارۃ لاعن تراض فیکون باطلا بالنصوقالا اذا طلب غرماء المفلسحجر القاضی علیہ وباع مالہ ان امتنع من بیعہقلنا المستحق قضاء الدین والبیع لیس بطریق متعین لذلك کیف وان صح البیع کان الحبس اضرارا بھما بتاخیر حق الدائن وتعذیب المدیون فلا یکون مشروعا اھ مختصرا۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میں دین میں کسی کو محجور نہ کروں گا کیونکہ حجر میں آدمی کی اہلیت معطل ہوتی ہے لہذا کسی ضرر خاص کو ختم کرنے کے لئے اہلیت کو ختم کرنا جائز نہیں ہےاگر ایسے شخص کا مال ہوتو حاکم اس میں تصرف نہ کرے کیونکہ یہ اس کی رضا کے بغیر تجارت قرار پائیگی جو ناجائز اور بذریعہ نص باطل ہےاور صاحبین رحمہما اﷲتعالی فرماتے ہیں کہ اگر مطالبہ والے حضرات قاضی سے مطالبہ کریں کہ اس پر حجر(مالی تصرف میں پابندی)لگادے اور اس کے مال کو جبرا فروخت کردے تو قاضی ایساکرےہم امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کی طرف سے کہتے ہیں مطالبہ والوں کا حق صرف دین کی ادائیگی ہے اور مطلوب کے مال کو فروخت کرنا یہ واحد طریقہ نہیں ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اگر اس کے مال کی فروخت جائز ہو تو اس کو قید کرنا دوہرا ضرر ہوگاایك حق والوں کے حق میں تاخیراور دوسرا مدیون کو سزا دیناتویہ ناجائز ہے اھ مختصرا(ت)
عنایہ میں ہے:
لکنہ(ای الحبس)مشروع بالاجماع فلم یصح البیع ۔ لیکن وہ یعنی قیدکرنا بالاجماع مشروع ہے تو مال کا فروخت کرنا جائز نہ ہوگا۔(ت)
صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے مفتی بہ قول پر کہ بشرائط اجازت ہے صریح احداث حکم جدید شرعی وتبدیل توقف بنفاذ و حرمت بحلت کی حاجت ہے۔یہ دس مثالیں مقدمات قسم دوم کی ہیں ان میں تنفیذ بمعنی دوم درکار ہے اور نیا حکم شرعی کہ اب تك حاصل نہ تھا حاصل کرنے کی ضرورت ہے تو اس کے
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۵۷۔۳۵۶€
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۲۰۷€
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۲۰۷€
عنداﷲ صحیح و مقبول اور آخرت میں بکار آمد ہونے کے لئے ولایت قسم اول کافی نہیں بلکہ قطعا ولایت قسم دوم کی حاجت ہے اور وہ بھی باختلاف صور مختلف کہ ہر امر محتاج ولایت شرعیہ میں ہر ولی شرعی حتی کہ سلطان اسلام کے احکام سے بھی حکم موجود شرعی نہیں بدلتانہ حکم جدید شرعی حادث ہو جس کے نظائر بیان ہوئےتو قسم دوم میں مطلقا والیان ملك مراد لینا درکنار مطلقا والیان شرع بھی مراد نہیں بلکہ خصوصی مواضع میں شرع مطہر سے ثابت ہونا درکنار کہ شرع نے اس امر میں فلاں کو حکم جدید شرعی پیدا کرنے کا اختیار بخشا ہے بغیر اس کے شریعت پر اجترااور وہ پہلے تو سیع قطعا شرع مطہر پر افترا ہے۔والعیاذ باﷲتعالی۔
تنبیہ:ان تمام تقریرات ومسائل سے روشن ہوگیا کہ کسی امر میں کسی کے لئے ولایت شرعیہ ہونا ہم مسلمانوں کا ایك دینی مذہبی مسئلہ ہے جو خاص لحاظ سے شرع پر مبنی ہےکہیں ہر فقیر مفلس کےلئے ہے اور کہیں سلاطین اسلام کو بھی نہیںتو اس کے انکار کو انکار سلطنت سے کوئی علاقہ نہیںآخر نہ دیکھا کہ صدہا جگہ حکم شریعت نے خود سلطان اسلام بلکہ خلیفۃ المسلمین کے لئے بھی ولایت شرعیہ نہ مانی اس سے ان کے سلطان و بادشاہ وحاکم وقت ووالی ملك ہونے کا انکار نہ ہواکما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)وباﷲ التوفیق۔
مقدمہ ششم: جس طرح بعض حجر محتاج حکم حاکم ہیںپھر حکم سے کبھی حجر حسی حاصل ہوتا ہے کبھی شرعی جس کا بیان گزرا یوں ہی تقلید قضاکہ فك حجر ہے دست نگر حکم والی ہے اور اس میں تقسیم حسی و شرعی یا دنیوی و دینی ہے قضائے دنیوی کے لئے توصرف منجانب والی تقرر بس ہے اگرچہ نہ وہ والی مسلم ہو نہ یہ مولیکہ جس ملك میں جس مذہب و ملت کے احکام جسے حاکم مقرر کریں گے ضرور وہ حکم پر قادر اور اس کا حکم وہاں نافذاور وہاں کی رعایا پر بحکم والیان ملکلازم القبول ہوگایہ وہی ولایت قسم اول ہے اور تمام مقدمات قسم اول کے لئے کافی و وافی ہے لیکن قضائے دینی شرعی کہ ولایت قسم دوم ہے اور مقدمات قسم دوم یعنی مسلمان کے حق میں احداث حکم جدید شرعی نافع آخرت کیلئے درکار ہے اس کےلئے جس طرح مولی یا مقلد بالفتح یعنی اس قاضی کا مسلم ہونا شرع مطہر نے لازم مانا جس کا روشن ثبوت گزرایونہی مولی یا مقلد بالکسر یعنی وہ والی شہر حاکم ذی اختیار صاحب فوج و خزانہ جس کے حکم کی طرف اس کا نصب وعزل منتہی ہو اس کا اسلام بھی لازم ہے کہ قضاء ولایت مستقلہ نہیں بلکہ ولایت مقلد سے مستفاداور عدم مفید وجود نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے:
اذالم یکن سلطان ولامن یجوز التقلد منہ کما فی بعض بلاد جب کوئی سلطان نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا حاکم جس کی طرف سے قاضی کی تقرری ہوسکے جیسا کہ
تنبیہ:ان تمام تقریرات ومسائل سے روشن ہوگیا کہ کسی امر میں کسی کے لئے ولایت شرعیہ ہونا ہم مسلمانوں کا ایك دینی مذہبی مسئلہ ہے جو خاص لحاظ سے شرع پر مبنی ہےکہیں ہر فقیر مفلس کےلئے ہے اور کہیں سلاطین اسلام کو بھی نہیںتو اس کے انکار کو انکار سلطنت سے کوئی علاقہ نہیںآخر نہ دیکھا کہ صدہا جگہ حکم شریعت نے خود سلطان اسلام بلکہ خلیفۃ المسلمین کے لئے بھی ولایت شرعیہ نہ مانی اس سے ان کے سلطان و بادشاہ وحاکم وقت ووالی ملك ہونے کا انکار نہ ہواکما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)وباﷲ التوفیق۔
مقدمہ ششم: جس طرح بعض حجر محتاج حکم حاکم ہیںپھر حکم سے کبھی حجر حسی حاصل ہوتا ہے کبھی شرعی جس کا بیان گزرا یوں ہی تقلید قضاکہ فك حجر ہے دست نگر حکم والی ہے اور اس میں تقسیم حسی و شرعی یا دنیوی و دینی ہے قضائے دنیوی کے لئے توصرف منجانب والی تقرر بس ہے اگرچہ نہ وہ والی مسلم ہو نہ یہ مولیکہ جس ملك میں جس مذہب و ملت کے احکام جسے حاکم مقرر کریں گے ضرور وہ حکم پر قادر اور اس کا حکم وہاں نافذاور وہاں کی رعایا پر بحکم والیان ملکلازم القبول ہوگایہ وہی ولایت قسم اول ہے اور تمام مقدمات قسم اول کے لئے کافی و وافی ہے لیکن قضائے دینی شرعی کہ ولایت قسم دوم ہے اور مقدمات قسم دوم یعنی مسلمان کے حق میں احداث حکم جدید شرعی نافع آخرت کیلئے درکار ہے اس کےلئے جس طرح مولی یا مقلد بالفتح یعنی اس قاضی کا مسلم ہونا شرع مطہر نے لازم مانا جس کا روشن ثبوت گزرایونہی مولی یا مقلد بالکسر یعنی وہ والی شہر حاکم ذی اختیار صاحب فوج و خزانہ جس کے حکم کی طرف اس کا نصب وعزل منتہی ہو اس کا اسلام بھی لازم ہے کہ قضاء ولایت مستقلہ نہیں بلکہ ولایت مقلد سے مستفاداور عدم مفید وجود نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے:
اذالم یکن سلطان ولامن یجوز التقلد منہ کما فی بعض بلاد جب کوئی سلطان نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا حاکم جس کی طرف سے قاضی کی تقرری ہوسکے جیسا کہ
المسلمین غلب علیہم الکفاریجب علیہم ان یتفقوا علی واحد منھم یجعلو نہ والیافیولی قاضیا و یکون ھوالذی یقضی بینھم وکذا ینصبو الھم اماما یصلی بھم الجمعۃ ۔ مسلمانوں کے وہ علاقے جہاں کفار نے غلبہ پایا ہے تو وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کسی ایك پر اتفاق کرکے اس کو والی قراردیں تو وہ کسی کو قاضی مقرر کردے اور وہ لوگوں میں فیصلے کرے اور یونہی وہ مسلمان کسی کو جمعہ کا امام مقرر کریں جو جمعہ کی نماز پڑھائے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذالخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہمواما فی بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم طلب وال مسلم ۔ ہر ایسا شہر جس میں کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی مقرر ہو اس شہر میں جمعہ و عیدین کا قیام خراج وصول کرناقاضی کی تقرری اور یتیم بچیوں کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ اس طرح مسلمانوں کا ان پر غلبہ ثابت ہے اور لیکن وہ علاقے جہاں کفار ہی والی ہوں وہاں مسلمانوں کی رضامندی سے مقرر شدہ قاضی ہی بااختیار قاضی ہوگا تو وہاں مسلمانوں کو جمعہ وعیدین کا قیام جائز ہوگا اور مسلم والی کےلئے جدوجہد ان پر واجب ہوگی۔(ت)
درمختار میں ہے:
لو فقد وال لغلبۃ کفار وجب علی المسلمین تعیین وال وامام للجمعۃفتح ۔ اگر غلبہ کفار کی بناپر مسلمان والی مفقود ہو تو مسلمانوں پر اپنے طور کسی قاضی اور جمعہ و عیدین کے امام کا تقرر واجب ہوگا فتح(ت)
بعینہ اسی طرح معراج الدرایہ وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے کہ ان کی عبارات
جامع الفصولین میں ہے:
کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذالخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہمواما فی بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم طلب وال مسلم ۔ ہر ایسا شہر جس میں کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی مقرر ہو اس شہر میں جمعہ و عیدین کا قیام خراج وصول کرناقاضی کی تقرری اور یتیم بچیوں کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ اس طرح مسلمانوں کا ان پر غلبہ ثابت ہے اور لیکن وہ علاقے جہاں کفار ہی والی ہوں وہاں مسلمانوں کی رضامندی سے مقرر شدہ قاضی ہی بااختیار قاضی ہوگا تو وہاں مسلمانوں کو جمعہ وعیدین کا قیام جائز ہوگا اور مسلم والی کےلئے جدوجہد ان پر واجب ہوگی۔(ت)
درمختار میں ہے:
لو فقد وال لغلبۃ کفار وجب علی المسلمین تعیین وال وامام للجمعۃفتح ۔ اگر غلبہ کفار کی بناپر مسلمان والی مفقود ہو تو مسلمانوں پر اپنے طور کسی قاضی اور جمعہ و عیدین کے امام کا تقرر واجب ہوگا فتح(ت)
بعینہ اسی طرح معراج الدرایہ وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے کہ ان کی عبارات
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۵€
جامع الفصولین الفصل الاول ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳€
جامع الفصولین الفصل الاول ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳€
بعونہ تعالی عنقریب آتی ہیں نہر الفائق میں عبارت فتح القدیر نقل کرکے فرمایا:
ھذاھوالذی تطمئن النفس الیہ فالیعتمد ۔ یہی وجہ ہے جس پر نفس مطمئن ہوتا ہے تو اس پر اعتماد چاہئے۔ (ت)
ابن عابدین نے اسے نقل کرکے فرمایا:
الاشارۃ بقولہ ھذاالی ماافادہ کلام الفتح من عدم صحۃ تقلدالقضاء من کافر ۔ اس کے قول"ھذا"سے فتح کےکلام سے جو فائدہ حاصل ہوا کہ کافر کی طرف سے قاضی کی تقرری صحیح نہیں ہےکی طرف اشارہ ہے(ت)
اور یہ خود نص محررالمذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب الاصل میں ہے کما سیأتی ان شاء اﷲ تعالی(جیساکہ ان شاء اﷲ تعالی آگے آئے گا۔ت)یہ تمام نصوص صریحہ واضحہ قاطعہ ہیں کہ قضائے شرعی بمعنی مذکور کےلئے مولی و مولی دونوں کا اسلام ضرور ہے۔ اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ہاں اس کے لیے بادشاہ ملك کا مسلمان ہونا ضرور نہیں جیسے بادشاہ نامسلم کے زیر حکم کوئی اسلامی ریاست کا والی جس کی مسند نشینی بحکم ومنظوری بادشاہ نا مسلم ہوتی ہو کسی مسلمان کو اپنی رعایا پر عہدہ قضادے قاضی شرعی ہوجائے گا اگرچہ بالواسطہ اس کی قضا بادشاہ نامسلم کی طرف مستند ہوئی کہ اسے والی شہر نواب مسلمان نے مقرر کیا اور وہ نواب بادشاہ نامسلم کا مقرر کیا ہوا ہے اور مقلد مقلد مقلد ہے بلکہ وہ نواب مسلمان والی شہر صاحب فوج وخزانہ خود ایك اعلی درجہ کا قاضی ہے۔درمختارمیں ہے:
ثم الوالی بالطریق الاولی ۔ پھر والی بطریق اولی۔(ت)
شامی میں ہے:
ای ثبوت الولایۃ للوالی اولی لان القاضی یستمدھا منہ ۔ یعنی والی کے لئے ثبوت ولایت بطریق اولی ہوگی کیونکہ قاضی اس سے تقرر پاتا ہے(ت)
ھذاھوالذی تطمئن النفس الیہ فالیعتمد ۔ یہی وجہ ہے جس پر نفس مطمئن ہوتا ہے تو اس پر اعتماد چاہئے۔ (ت)
ابن عابدین نے اسے نقل کرکے فرمایا:
الاشارۃ بقولہ ھذاالی ماافادہ کلام الفتح من عدم صحۃ تقلدالقضاء من کافر ۔ اس کے قول"ھذا"سے فتح کےکلام سے جو فائدہ حاصل ہوا کہ کافر کی طرف سے قاضی کی تقرری صحیح نہیں ہےکی طرف اشارہ ہے(ت)
اور یہ خود نص محررالمذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب الاصل میں ہے کما سیأتی ان شاء اﷲ تعالی(جیساکہ ان شاء اﷲ تعالی آگے آئے گا۔ت)یہ تمام نصوص صریحہ واضحہ قاطعہ ہیں کہ قضائے شرعی بمعنی مذکور کےلئے مولی و مولی دونوں کا اسلام ضرور ہے۔ اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ہاں اس کے لیے بادشاہ ملك کا مسلمان ہونا ضرور نہیں جیسے بادشاہ نامسلم کے زیر حکم کوئی اسلامی ریاست کا والی جس کی مسند نشینی بحکم ومنظوری بادشاہ نا مسلم ہوتی ہو کسی مسلمان کو اپنی رعایا پر عہدہ قضادے قاضی شرعی ہوجائے گا اگرچہ بالواسطہ اس کی قضا بادشاہ نامسلم کی طرف مستند ہوئی کہ اسے والی شہر نواب مسلمان نے مقرر کیا اور وہ نواب بادشاہ نامسلم کا مقرر کیا ہوا ہے اور مقلد مقلد مقلد ہے بلکہ وہ نواب مسلمان والی شہر صاحب فوج وخزانہ خود ایك اعلی درجہ کا قاضی ہے۔درمختارمیں ہے:
ثم الوالی بالطریق الاولی ۔ پھر والی بطریق اولی۔(ت)
شامی میں ہے:
ای ثبوت الولایۃ للوالی اولی لان القاضی یستمدھا منہ ۔ یعنی والی کے لئے ثبوت ولایت بطریق اولی ہوگی کیونکہ قاضی اس سے تقرر پاتا ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ النھر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۱۱€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۸€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۱۱€
اور پر ظاہر کہ اس کا تقرر بلا واسطہ بمنظوری بادشاہ نامسلم ہوا تو نظربہ استفادہ وسبب وقضاتقلد قضامن سلطان غیر مسلم کہہ سکتے ہیںاگرچہ یہاں حقیقت امر یہ ہے کہ ولایت نواب والی ملك اپنی ولایت عرفیہ یعنی غلبہ واستیلا سے مستفاد ہے کہ شرع مطہر نے والی مسلم کے لئے صرف اسے بھی سبب حصول ولایت معتبرہ عندالشرع مانا ہے۔فتاوی امام قاضی خاں پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
السلطان یصیر سلطانا بامرین بالمبایعۃ معہ من الاشراف والاعیان وبان ینفذ حکمہ علی رعیتہ خوفا من قھرہ فان بویع ولم ینفذ فیہم حکمہ لعجزہ عن قھرھم لایصیر سلطانافاذاصار سلطانا بالمبایعۃ فجار ان کان لہ قھر وغلبۃ لاینعزل ۔ سلطان کی تقرری دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے ایك اشراف اور اعیان حکومت کی بیعتاور دوسرا رعیت پر اس کے دبدبے کی بناپر اس کے حکم کا نافذ ہوناتو اس کی بیعت ہوئی لیکن رعیت پر دبدبہ قائم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا حکم نافذ نہ ہوسکا تو سلطان نہ بن سکے گا تو جب سلطان بن گیا اور اپنے دبدبے اور غلبہ کی بنا پر ظلم کیا تو معزول نہ قرار پائے گا۔(ت)
فصول عمادیہ پھر ہندیہ میں ہے:
ذکر فی الفتاوی ایضا تجوز صلوۃ الجمعۃ خلف المتغلب الذی لامنشورلہ من الخلیفۃ اذاکانت سیرتہ فی رعیتہ سیرۃ الامراء یحکم فیما بین رعیتہ بحکم الولایۃ لان بھذا تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط ۔ فتاوی میں یہ بھی مذکور کہ ایسے سلطان کی اقتدا میں جمعہ جائز ہوگا جو خود غلبہ پاکر خلیفہ کی منظوری کے بغیر اقتدار پر فائز ہوگیا بشرطیکہ رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرچکا ہو وہ اپنی ولایت کی بنا پر رعیت میں حکم نافذ کرچکا ہو کیونکہ اس سے سلطنت قائم ہوگئی تو شرط متحقق ہوگئی۔(ت)
خلاصہ پھر بحرالرائق پھر طحطاوی پھر ابن عابدین میں ہے:
المتغلب الذی لاعھدلہ ای لامنشور لہ ان کان سیرتہ فیما بین الرعیۃ خلیفہ کی منظوری کے بغیر غلبہ پانے والے نے رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرلی اور اپنی
السلطان یصیر سلطانا بامرین بالمبایعۃ معہ من الاشراف والاعیان وبان ینفذ حکمہ علی رعیتہ خوفا من قھرہ فان بویع ولم ینفذ فیہم حکمہ لعجزہ عن قھرھم لایصیر سلطانافاذاصار سلطانا بالمبایعۃ فجار ان کان لہ قھر وغلبۃ لاینعزل ۔ سلطان کی تقرری دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے ایك اشراف اور اعیان حکومت کی بیعتاور دوسرا رعیت پر اس کے دبدبے کی بناپر اس کے حکم کا نافذ ہوناتو اس کی بیعت ہوئی لیکن رعیت پر دبدبہ قائم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا حکم نافذ نہ ہوسکا تو سلطان نہ بن سکے گا تو جب سلطان بن گیا اور اپنے دبدبے اور غلبہ کی بنا پر ظلم کیا تو معزول نہ قرار پائے گا۔(ت)
فصول عمادیہ پھر ہندیہ میں ہے:
ذکر فی الفتاوی ایضا تجوز صلوۃ الجمعۃ خلف المتغلب الذی لامنشورلہ من الخلیفۃ اذاکانت سیرتہ فی رعیتہ سیرۃ الامراء یحکم فیما بین رعیتہ بحکم الولایۃ لان بھذا تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط ۔ فتاوی میں یہ بھی مذکور کہ ایسے سلطان کی اقتدا میں جمعہ جائز ہوگا جو خود غلبہ پاکر خلیفہ کی منظوری کے بغیر اقتدار پر فائز ہوگیا بشرطیکہ رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرچکا ہو وہ اپنی ولایت کی بنا پر رعیت میں حکم نافذ کرچکا ہو کیونکہ اس سے سلطنت قائم ہوگئی تو شرط متحقق ہوگئی۔(ت)
خلاصہ پھر بحرالرائق پھر طحطاوی پھر ابن عابدین میں ہے:
المتغلب الذی لاعھدلہ ای لامنشور لہ ان کان سیرتہ فیما بین الرعیۃ خلیفہ کی منظوری کے بغیر غلبہ پانے والے نے رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرلی اور اپنی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۷€
سیرۃ الامراء ویحکم بینھم بحکم الولاۃ تجوز الجمعۃ بحضرتہ ۔ ولایت کی بناء پرحکم تسلیم کرو اچکا ہو اس کی موجودگی میں جمعہ قائم ہوسکے گا۔(ت)
غایت یہ کہ اس کی ولایت عرفیہ طریقہ شرعیہ سے مستفادیعنی بحکم امیر المومنین نہیں تو یہ ایك نواب کیا آج صدہا سال سے تمام روئے زمین کے سلاطین اسلام ایسے ہی ہیںاپنے استیلاہی کے باعث سلطان اسلام ہیں وہ اسے بھی حاصل اور منظوری بادشاہ اس کی معین ہے نہ کہ مخلرہا بوجہ منظوری سبباس کی قضاء کو تقلید بادشاہ غیر مسلم کی طرف منسوب کرسکتے ہیں یہی دونوں صورتیں عبارت مسکین:
یجوز تقلد القضاء من السلطان العادل او الجائر سواء کان کافرا اومسلما کذافی الاصل ۔ قضاء کی تقرری سلطان عادل خواہ ظالم سے ہوگی اس کا مسلمان ہونا اور کافر ہونا برابر ہے اصل(مبسوط)میں یونہی ہے(ت)
اور عبارت ہندیہ:
ذکر فی الملتقط والاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد کذافی التاتارخانیۃ ۔ ملتقط میں ذکرکیاکہ سلطان میں اسلام شرط نہیں ہے یعنی جو سلطان قاضی کی تقرری کرے۔تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔ (ت)
میں مراد ہیں اور اس پردلیل قاطع یہ کہ مسکین نے اسے اصل سے نقل کیا اصل مبسوط امام محمد رضی اﷲتعالی عنہ کا نام ہےمبسوط کی عبارت یہ ہے جو ردالمحتار کتاب الصلوۃ میں بحوالہ معراج الدرایہ منقول:
البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لابلاد الحرب لانھم لم یظھروا فیہا حکم الکفر بل القضاۃ والولاۃ مسلمون یطیعونھم عن ضرورۃ او بدونھا وکل مصرفیہ وال وہ بلاد جوکفار کے قبضے میں آئے ہیں وہ بلاد اسلام ہیں بلاد کفر نہیں ہیں کیونکہ کافر وہاں کفر کے احکام کو مسلط نہیں کر پائے بلکہ وہاں قاضی اور والی حضرات مسلمان ہیں وہ ایك ضرورت کے تحت یا ضرورت کے بغیر کفار کے ماتحت ہیںوہ شہر جس میں
غایت یہ کہ اس کی ولایت عرفیہ طریقہ شرعیہ سے مستفادیعنی بحکم امیر المومنین نہیں تو یہ ایك نواب کیا آج صدہا سال سے تمام روئے زمین کے سلاطین اسلام ایسے ہی ہیںاپنے استیلاہی کے باعث سلطان اسلام ہیں وہ اسے بھی حاصل اور منظوری بادشاہ اس کی معین ہے نہ کہ مخلرہا بوجہ منظوری سبباس کی قضاء کو تقلید بادشاہ غیر مسلم کی طرف منسوب کرسکتے ہیں یہی دونوں صورتیں عبارت مسکین:
یجوز تقلد القضاء من السلطان العادل او الجائر سواء کان کافرا اومسلما کذافی الاصل ۔ قضاء کی تقرری سلطان عادل خواہ ظالم سے ہوگی اس کا مسلمان ہونا اور کافر ہونا برابر ہے اصل(مبسوط)میں یونہی ہے(ت)
اور عبارت ہندیہ:
ذکر فی الملتقط والاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد کذافی التاتارخانیۃ ۔ ملتقط میں ذکرکیاکہ سلطان میں اسلام شرط نہیں ہے یعنی جو سلطان قاضی کی تقرری کرے۔تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔ (ت)
میں مراد ہیں اور اس پردلیل قاطع یہ کہ مسکین نے اسے اصل سے نقل کیا اصل مبسوط امام محمد رضی اﷲتعالی عنہ کا نام ہےمبسوط کی عبارت یہ ہے جو ردالمحتار کتاب الصلوۃ میں بحوالہ معراج الدرایہ منقول:
البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لابلاد الحرب لانھم لم یظھروا فیہا حکم الکفر بل القضاۃ والولاۃ مسلمون یطیعونھم عن ضرورۃ او بدونھا وکل مصرفیہ وال وہ بلاد جوکفار کے قبضے میں آئے ہیں وہ بلاد اسلام ہیں بلاد کفر نہیں ہیں کیونکہ کافر وہاں کفر کے احکام کو مسلط نہیں کر پائے بلکہ وہاں قاضی اور والی حضرات مسلمان ہیں وہ ایك ضرورت کے تحت یا ضرورت کے بغیر کفار کے ماتحت ہیںوہ شہر جس میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الجمعہ داراحیا ء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۸۔۵۳۷€
شرح الکنز لملامسکین علٰی ہامش فتح المعین کتاب القضاء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۶€
فتاوی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۷€
شرح الکنز لملامسکین علٰی ہامش فتح المعین کتاب القضاء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۶€
فتاوی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۷€
من جھتھم یجوزلہ اقامۃ الجمع والاعیاد والحد و تقلیدالقضاء لاستیلاء المسلم علیہم فلوالولاۃ کفارایجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم ان یلتمسو او الیا مسلما ۔ کفار کی طرف سے مقرر کردہ والی ہو تو جمعہعیدین اور حد کا قیام اور قاضیوں کا تقرر اسے جائز ہے کیونکہ مسلمانوں کا کفار پر غلبہ ہےتو اگر والی کفار ہوں تو مسلمانوں کو جمعہ کا قیام جائز ہوگا اور مسلمان کی رضامندی سے قاضی ہو تو وہ باختیار قاضی ہوگا اور مسلمانوں پر مسلمان والی کےلئے کوشش لازم ہے۔ (ت)
اور ہندیہ نے اسے تاتارخانیہ سے نقل کیاتاتارخانیہ کی پوری عبارت یہ ہے جو ردالمحتار کتاب القضاء میں منقول ہے:
الاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد وبلاد الاسلام التی فی ایدی الکفرۃ لاشك انھا بلاد الاسلام لابلاد الحرب لانھم لم یظہروافیہا حکم الکفروالقضاۃ مسلمون والملوك الذین یطیعونھم عن ضرورۃ مسلمون ولو کانت عن غیر ضرورۃ منھم ففساق وکل مصرفیہ وال من جھتھم تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج و تقلید القضاۃ و تزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہواما بلاد علیہاولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی اسلام اس میں شرط نہیں یعنی اس سلطان میں جو قاضی کی تقرری کرتاہے اور جو مسلمانوں کے علاقے کفار کے قبضے میں ہیں بیشك وہ بلاد اسلام ہیں نہ کہ بلاد حربکیونکہ کفار وہاں احکام کفر غالب نہیں کر پائے جبکہ وہاں قاضی مسلمان ہیں اوروہاں کے ملوك اگر کفار کے ماتحت ضرورت کی وجہ سے ہیں تو وہ مسلمان ہیںاور اگر بغیر ضروت ماتحت بنے ہوئے ہیں تو وہ فاسق ہیں اور وہ تمام شہر جن میں کفار کی طرف سے مسلمان والی مقرر ہیں وہاں جمعہ وعیدین کا قیام اور خراج کی وصولی اور قاضیوں کا تقرر اور یتیم بچوں کا نکاح جائز ہے کیونکہ یہاں مسلمان کو ولایت حاصل ہے لیکن وہ بلا د جہاں کفار والی ہوں تو وہاں مسلمانوں کو جمعہ و عیدین کا قیام جائز ہے اور وہاں مسلمانوں کی
اور ہندیہ نے اسے تاتارخانیہ سے نقل کیاتاتارخانیہ کی پوری عبارت یہ ہے جو ردالمحتار کتاب القضاء میں منقول ہے:
الاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد وبلاد الاسلام التی فی ایدی الکفرۃ لاشك انھا بلاد الاسلام لابلاد الحرب لانھم لم یظہروافیہا حکم الکفروالقضاۃ مسلمون والملوك الذین یطیعونھم عن ضرورۃ مسلمون ولو کانت عن غیر ضرورۃ منھم ففساق وکل مصرفیہ وال من جھتھم تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج و تقلید القضاۃ و تزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہواما بلاد علیہاولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی اسلام اس میں شرط نہیں یعنی اس سلطان میں جو قاضی کی تقرری کرتاہے اور جو مسلمانوں کے علاقے کفار کے قبضے میں ہیں بیشك وہ بلاد اسلام ہیں نہ کہ بلاد حربکیونکہ کفار وہاں احکام کفر غالب نہیں کر پائے جبکہ وہاں قاضی مسلمان ہیں اوروہاں کے ملوك اگر کفار کے ماتحت ضرورت کی وجہ سے ہیں تو وہ مسلمان ہیںاور اگر بغیر ضروت ماتحت بنے ہوئے ہیں تو وہ فاسق ہیں اور وہ تمام شہر جن میں کفار کی طرف سے مسلمان والی مقرر ہیں وہاں جمعہ وعیدین کا قیام اور خراج کی وصولی اور قاضیوں کا تقرر اور یتیم بچوں کا نکاح جائز ہے کیونکہ یہاں مسلمان کو ولایت حاصل ہے لیکن وہ بلا د جہاں کفار والی ہوں تو وہاں مسلمانوں کو جمعہ و عیدین کا قیام جائز ہے اور وہاں مسلمانوں کی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الجمعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۱۔۵۴۰€
قاضیا بتراضی المسلمین فیجب علیہم ان یلتمسواوالیا مسلما منھم ۔ باہمی رضامندی سے مقرر شدہ قاضی باختیار قاضی ہوجائے گا تو مسلمانوں کو لازم ہوگا کہ وہ کوئی اپنا مسلمان والی بنانے کے لئے کوشاں رہیں۔(ت)
ان نفیس وجلیل عبارات نے صاف صاف ایسے شہروں کی تین قسمیں فرمائیں:ایك وہ ملك جس میں بادشاہ مسلمان ہے مگرنا مسلمان حکومت کے زیر اثر ہوگیا ہے جیسے آج کل بخاراشریف۔اس کا بیان کتاب الاصل میں"اوبدونھا"اور تاتارخانیہ میں "ففساق"تك ہے۔دوسرے وہ کہ ریاست بااختیار صاحب فوج وخزانہ اسلامی ہے اور بادشاہ غیر مسلماس کا بیان دونوں عبارتوں میں"وکل مصر"سے"لاستیلا المسلم علیہم"تك ہے۔تیسرے وہ کہ ان پر والی بھی مسلمان نہیں عام ازیں کہ بادشاہ نامسلم نے تنہا اپناقبضہ رکھا ہو یا کوئی غیر اسلامی ریاست قبول کی ہوجیسے رجواڑے۔اس کا بیان دونوں عبارات کے بقیہ میں ہے جواز تقلید قضائے شرعی دو صورت پیشیں سے خاص فرمایااور سوم میں بعینہ وہی جو فتح القدیر وجامع الفصولین سے گزراارشاد کیا کہ اب قضائے شرعی تراضی مسلمین پر رہے گی اب بھی اگر تقلد قضاء شرعی صحیح ہو تو اس تخصیص اور اس تفریق حکم کے کیا معنے تھے اور عبارت امام محقق علی الطلاق نے تو اس مفاد صریح کو اور بھی اوضح واصرح فرمادیا کہ:
اذالم یکن من یجوز التقلید منہ الخ۔ جب کوئی ایسا نہ ہو جس کی طرف سے قاضی کی تقرری ہوسکے الخ۔(ت)
تو روشن ہوا کہ نامسلم سے تقلد قضاء شرعی انہیں دوصورت وساطت مولی مسلم میں ہے کہ پہلی صورت میں بادشاہ مسلم اور دوسری میں نواب مسلم ہےصورت سوم میں یہ حکم ہر گز نہ رکھا اور صراحۃ اس کا عدم جواز ظاہر فرمادیا تو مسکین و ہندیہ کہ انہیں اصل وتاتارخانیہ کا حوالہ دے رہے ہیں قطعا ان کی یہی مراد لازم ورنہ حوالہ باطل اور نقل خلاف اصل ہوجائے گیہاں ان دونوں کے اختصار شدید نے اثارت وہم کی جس کے سبب بحرالرائق نے قول مسکین نقل کرکے عبارت مذکورہ فتح القدیر وجامع الفصولین سے اس کا رد فرمایا:
فی فتح القدیر مایخالفہ(واثر ما اسلفنا فتح القدیر وہ ہے جو اسکے مخالف ہے(اور جو ہم نے
ان نفیس وجلیل عبارات نے صاف صاف ایسے شہروں کی تین قسمیں فرمائیں:ایك وہ ملك جس میں بادشاہ مسلمان ہے مگرنا مسلمان حکومت کے زیر اثر ہوگیا ہے جیسے آج کل بخاراشریف۔اس کا بیان کتاب الاصل میں"اوبدونھا"اور تاتارخانیہ میں "ففساق"تك ہے۔دوسرے وہ کہ ریاست بااختیار صاحب فوج وخزانہ اسلامی ہے اور بادشاہ غیر مسلماس کا بیان دونوں عبارتوں میں"وکل مصر"سے"لاستیلا المسلم علیہم"تك ہے۔تیسرے وہ کہ ان پر والی بھی مسلمان نہیں عام ازیں کہ بادشاہ نامسلم نے تنہا اپناقبضہ رکھا ہو یا کوئی غیر اسلامی ریاست قبول کی ہوجیسے رجواڑے۔اس کا بیان دونوں عبارات کے بقیہ میں ہے جواز تقلید قضائے شرعی دو صورت پیشیں سے خاص فرمایااور سوم میں بعینہ وہی جو فتح القدیر وجامع الفصولین سے گزراارشاد کیا کہ اب قضائے شرعی تراضی مسلمین پر رہے گی اب بھی اگر تقلد قضاء شرعی صحیح ہو تو اس تخصیص اور اس تفریق حکم کے کیا معنے تھے اور عبارت امام محقق علی الطلاق نے تو اس مفاد صریح کو اور بھی اوضح واصرح فرمادیا کہ:
اذالم یکن من یجوز التقلید منہ الخ۔ جب کوئی ایسا نہ ہو جس کی طرف سے قاضی کی تقرری ہوسکے الخ۔(ت)
تو روشن ہوا کہ نامسلم سے تقلد قضاء شرعی انہیں دوصورت وساطت مولی مسلم میں ہے کہ پہلی صورت میں بادشاہ مسلم اور دوسری میں نواب مسلم ہےصورت سوم میں یہ حکم ہر گز نہ رکھا اور صراحۃ اس کا عدم جواز ظاہر فرمادیا تو مسکین و ہندیہ کہ انہیں اصل وتاتارخانیہ کا حوالہ دے رہے ہیں قطعا ان کی یہی مراد لازم ورنہ حوالہ باطل اور نقل خلاف اصل ہوجائے گیہاں ان دونوں کے اختصار شدید نے اثارت وہم کی جس کے سبب بحرالرائق نے قول مسکین نقل کرکے عبارت مذکورہ فتح القدیر وجامع الفصولین سے اس کا رد فرمایا:
فی فتح القدیر مایخالفہ(واثر ما اسلفنا فتح القدیر وہ ہے جو اسکے مخالف ہے(اور جو ہم نے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۸€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۵€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۵€
ثم قال)ویؤیدہ مافی جامع الفصولین(ونقل ما قدمنا) ۔ پہلے بیان کیا اسکو نقل کیا پھر کہا جامع الفصولین کا بیان اس کی تائید کرتا ہے(اور ہمارے پہلے بیان کو نقل کیا)(ت)
یوں ہی درمختار نے قول مسکین ذکر کرکے کلام فتح سے اس کا تعقب کیا اور نہر الفائق نے کلام فتح نقل فرما کر اسی پر اعتماد لازم بتایایہ سب کچھ کلام مسکین میں حوالہ کتاب الاصل دیکھنے پر ہوا جو محرر المذہب رضی اﷲ تعالی عنہ کی کتب ظاہر الروایۃ سے ہےاس درجہ قوت عظیمہ کے تخیل پر بھی ان اکابرمحققین نے اس پر اعتماد نہ فرمایا مگر بحمد اﷲ تعالی عبارت اصل یونہی ہندیہ کی منقول عنہا تاتارخانیہ کی اصل عبارت دیکھنے سے تمام سحاب شبہات واوہام کا پردہ چاك کرکے حق کا چاند چمکادیا
والحمدﷲ رب العلمین ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کےلئے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی زیادہ علم والا توفیق کا مالك ہے(ت)
مقدمہ ہفتم:ایك صورت ضرور پیش آتی ہے کہ والی بھی مسلمان نہ ہو اوپر واضح ہوا کہ عام احکام جن کی روزانہ حاجت پڑتی ہے ان میں توصرف ولایت قسم اول درکار ہے ولایت شرعیہ پر توقف نہیں مگر مسلمانوں کو دینی ضرورتیں وہ بھی آتی ہیں جن کے لئے بغیر ولایت شرعیہ سلطان اسلام بھی کافی نہیں ان میں خاص خاص حاجتوں کے لئے فریقین راضی ہوں تو حکم مقرر کرسکتے ہیں مگر بعض جگہ حکم کافی نہیں یا ایك فریق تحکیم پرراضی نہیںوہاں کیا کیجئے کہ دینی حکم کےلئے دنیوی طریقہ کافی نہیںاس طریقہ پر ہو جو باجازت شرع احکام شرعیہ کا احداث کرسکے اور آخرت میں کام دے اس کےلئے تمام کتب مذکورہ اور خود محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ حکم دیا کہ مسلمان اپنی ایسی دینی حاجتوں کےلئے اپنی تراضی سے ان امور کا قاضی شرع مقرر کرلیں اور ایك لفظ یہ فرمایا کہ کوئی مسلمان والی تلاش کریں کہ وہ قضائے شرعی کاافادہ کرے اس صورت دوم کا وجوب تو یہاں حسب نص قرآن عظیم ساقط ہے
قال اﷲ تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم " وقال اﷲ تعالی " لا یکلف اللہ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو اپنی استطاعت کے مطابق اﷲ تعالی سے ڈرو۔اور فرمایا:اﷲتعالی
یوں ہی درمختار نے قول مسکین ذکر کرکے کلام فتح سے اس کا تعقب کیا اور نہر الفائق نے کلام فتح نقل فرما کر اسی پر اعتماد لازم بتایایہ سب کچھ کلام مسکین میں حوالہ کتاب الاصل دیکھنے پر ہوا جو محرر المذہب رضی اﷲ تعالی عنہ کی کتب ظاہر الروایۃ سے ہےاس درجہ قوت عظیمہ کے تخیل پر بھی ان اکابرمحققین نے اس پر اعتماد نہ فرمایا مگر بحمد اﷲ تعالی عبارت اصل یونہی ہندیہ کی منقول عنہا تاتارخانیہ کی اصل عبارت دیکھنے سے تمام سحاب شبہات واوہام کا پردہ چاك کرکے حق کا چاند چمکادیا
والحمدﷲ رب العلمین ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کےلئے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی زیادہ علم والا توفیق کا مالك ہے(ت)
مقدمہ ہفتم:ایك صورت ضرور پیش آتی ہے کہ والی بھی مسلمان نہ ہو اوپر واضح ہوا کہ عام احکام جن کی روزانہ حاجت پڑتی ہے ان میں توصرف ولایت قسم اول درکار ہے ولایت شرعیہ پر توقف نہیں مگر مسلمانوں کو دینی ضرورتیں وہ بھی آتی ہیں جن کے لئے بغیر ولایت شرعیہ سلطان اسلام بھی کافی نہیں ان میں خاص خاص حاجتوں کے لئے فریقین راضی ہوں تو حکم مقرر کرسکتے ہیں مگر بعض جگہ حکم کافی نہیں یا ایك فریق تحکیم پرراضی نہیںوہاں کیا کیجئے کہ دینی حکم کےلئے دنیوی طریقہ کافی نہیںاس طریقہ پر ہو جو باجازت شرع احکام شرعیہ کا احداث کرسکے اور آخرت میں کام دے اس کےلئے تمام کتب مذکورہ اور خود محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ حکم دیا کہ مسلمان اپنی ایسی دینی حاجتوں کےلئے اپنی تراضی سے ان امور کا قاضی شرع مقرر کرلیں اور ایك لفظ یہ فرمایا کہ کوئی مسلمان والی تلاش کریں کہ وہ قضائے شرعی کاافادہ کرے اس صورت دوم کا وجوب تو یہاں حسب نص قرآن عظیم ساقط ہے
قال اﷲ تعالی" فاتقوا اللہ ما استطعتم " وقال اﷲ تعالی " لا یکلف اللہ اﷲ تعالی نے فرمایا:تو اپنی استطاعت کے مطابق اﷲ تعالی سے ڈرو۔اور فرمایا:اﷲتعالی
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاۃ فصل یجوز التقلید من شاء الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۷۴€
القرآن الکریم ∞۶۴ /۱۶€
القرآن الکریم ∞۶۴ /۱۶€
نفسا الا وسعہا " صرف وسعت کے مطابق کسی کو تکلیف دیتا ہے۔(ت)
بلکہ وجوب درکناریہاں اس کا جواز بھی نہ ہونا چاہئے کہ اس میں اثارث فتنہ ہے اور فتنہ جائز نہیں اس میں اسلام و مسلمین کا ذلت پر پیش کرنا اور یہ روا نہیںمگر صورت اولی یعنی ان دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی تراضی سے ان امورکا قاضی مقر ر کرلینا اور نصب امام وخطیب جمعہ وامام عیدین و تفریق لعان وعنین وتزویج قاصرین و قاصرات بلا ولی وفسخ نکاح بخیار بلوغ وامثال ذلك امور جن میں کوئی مزاحمت قانونی نہیں اس کے ذمہ رکھنا بلا شبہہ میسر ہےگورنمنٹ نے کبھی اس سے ممانعت نہ کی جن قوموں نے اپنی جماعتیں مقرر کرلیں اور اپنے معاملات مالی ودیوانی قسم اول بھی باہم طے کرلیتے ہیں گورنمنٹ کو ان سے بھی کچھ تعرض نہیں اور ایسے مقدمات جو عاقل لوگ مصارف ودا دوش سے بچنے کے لئے باہمی پنچایت سے فیصل کرلیتے ہیں گورنمنٹ ان کو کب مانع آتی ہےمگر یہ کہئے کہ خود مسلمان کو اپنے دینی امور دینی طور پر ہونے منظور نہ ہوں تو گورنمنٹ کو اس سے کیا بحث۔تم مسلمان ہودین تمہارا ہےتم جانو تمہارا کام۔پھر اگر ان خاص امور کے لئے شرعی قاضی بہ تراضی مقرر کئے ہوئے کا حکم نفاذ بمعنی اول ہوتا نہ دیکھئے تکمیل حکم شرع یوں کرلیجئےاس کے بعد مقدمات قسم دوم بھی قسم اول کی طرف عائد ہوجائیں گےتکمیل نفاذ حسی کےلئے گورنمنٹ نے لاکھوں روپے ماہوار کے صرف سے کچہریاں کھول رکھی ہیں تنفیذ وہاں سے ہوجائے گییوں دونوں مقصد دین ودنیا حاصل ہیں اور بفضلہ تعالی تمام حاجتیں روا اور ضرورتیں زائل ہیں وﷲ الحمد بلکہ مسلمان اگر اپنے دین کو دین سمجھیں اور امور شرعیہ بطریقہ شرعیہ انجام دینا چاہیں تو تلاش کی بھی حاجت نہیں ہر قطر وضلع میں جو عالم سنی صحیح العقیدہ متدین ہوحکم شرعی کی تکمیل اس کے یہاں کرلیں اور تنفیذ کےلئے گورنمنٹی محکمے کھلے ہوئے ہیںفتاوی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ امام عبدالغنی نابلسی رحمہما اﷲ تعالی میں اسی ولایت شرعیہ کی نسبت ہے:
اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم ویصیرون ولاۃ فاذا عسرجمعھم علی واحد استقل کل قطر جب زمانہ باکفایت سلطان سےخالی ہو تو معاملات علماء کے سپرد ہوتے ہیں اور امت پر ان کی طرف رجوع لازم ہوتا ہے اور علماء والی بن جاتے ہیںتو جب لوگوں کو ایك عالم کی طرف رجوع دشوار ہو تو ہر علاقہ اپنے اپنے عالم کی طرف
بلکہ وجوب درکناریہاں اس کا جواز بھی نہ ہونا چاہئے کہ اس میں اثارث فتنہ ہے اور فتنہ جائز نہیں اس میں اسلام و مسلمین کا ذلت پر پیش کرنا اور یہ روا نہیںمگر صورت اولی یعنی ان دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی تراضی سے ان امورکا قاضی مقر ر کرلینا اور نصب امام وخطیب جمعہ وامام عیدین و تفریق لعان وعنین وتزویج قاصرین و قاصرات بلا ولی وفسخ نکاح بخیار بلوغ وامثال ذلك امور جن میں کوئی مزاحمت قانونی نہیں اس کے ذمہ رکھنا بلا شبہہ میسر ہےگورنمنٹ نے کبھی اس سے ممانعت نہ کی جن قوموں نے اپنی جماعتیں مقرر کرلیں اور اپنے معاملات مالی ودیوانی قسم اول بھی باہم طے کرلیتے ہیں گورنمنٹ کو ان سے بھی کچھ تعرض نہیں اور ایسے مقدمات جو عاقل لوگ مصارف ودا دوش سے بچنے کے لئے باہمی پنچایت سے فیصل کرلیتے ہیں گورنمنٹ ان کو کب مانع آتی ہےمگر یہ کہئے کہ خود مسلمان کو اپنے دینی امور دینی طور پر ہونے منظور نہ ہوں تو گورنمنٹ کو اس سے کیا بحث۔تم مسلمان ہودین تمہارا ہےتم جانو تمہارا کام۔پھر اگر ان خاص امور کے لئے شرعی قاضی بہ تراضی مقرر کئے ہوئے کا حکم نفاذ بمعنی اول ہوتا نہ دیکھئے تکمیل حکم شرع یوں کرلیجئےاس کے بعد مقدمات قسم دوم بھی قسم اول کی طرف عائد ہوجائیں گےتکمیل نفاذ حسی کےلئے گورنمنٹ نے لاکھوں روپے ماہوار کے صرف سے کچہریاں کھول رکھی ہیں تنفیذ وہاں سے ہوجائے گییوں دونوں مقصد دین ودنیا حاصل ہیں اور بفضلہ تعالی تمام حاجتیں روا اور ضرورتیں زائل ہیں وﷲ الحمد بلکہ مسلمان اگر اپنے دین کو دین سمجھیں اور امور شرعیہ بطریقہ شرعیہ انجام دینا چاہیں تو تلاش کی بھی حاجت نہیں ہر قطر وضلع میں جو عالم سنی صحیح العقیدہ متدین ہوحکم شرعی کی تکمیل اس کے یہاں کرلیں اور تنفیذ کےلئے گورنمنٹی محکمے کھلے ہوئے ہیںفتاوی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ امام عبدالغنی نابلسی رحمہما اﷲ تعالی میں اسی ولایت شرعیہ کی نسبت ہے:
اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیہم ویصیرون ولاۃ فاذا عسرجمعھم علی واحد استقل کل قطر جب زمانہ باکفایت سلطان سےخالی ہو تو معاملات علماء کے سپرد ہوتے ہیں اور امت پر ان کی طرف رجوع لازم ہوتا ہے اور علماء والی بن جاتے ہیںتو جب لوگوں کو ایك عالم کی طرف رجوع دشوار ہو تو ہر علاقہ اپنے اپنے عالم کی طرف
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۶€
باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم ۔ رجوع میں مستقل ہوگاتو اگر علماء علاقہ میں کثیر ہوں تو بڑا عالم قابل اتباع ہوگا۔(ت)
بحمد اﷲ تعالی ان مقدمات جلیلہ نے ان فتووں کے حرف حرف کا بطلان آفتاب سے زیادہ روشن کر دیا جس کے بعد کسی ذی فہم کو کوئی حالت منتظرہ باقی نہ رہی پھر بھی زیادت ایضاح للقاصرین کےلئے ہر جگہ رد کا مردود سے تعلق بتادینا اور بعض افاضات تازہ کا اضافہ کرنا انسب واولی۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(تومیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی سے توفیق ہے۔ت)
اول: کلام حاکم نامسلم کی ولایت شرعیہ میں تھا جسے بادشاہ نامسلم نے مقرر کیا سائل نے اسی سے سوال کیا تھا مجیب نے اسی سے جواب دیا اور ثبوت کی سرخی دے کر جو گیارہ عبارتیں گنائیں ان میں پہلی نو مقلد بالفتح اور اخیر کی دو مقلد بالکسر سے متعلق ہیں۔ان دو کا بیان شافی مقدمہ ششم میں گزرا کہ انہیں یہاں سے متعلق سمجھنا محض نادانی و بے فہمی ہے وہ صرف اس صورت سے متعلق ہیں کہ ریاست اسلامی کا والی مولی ہو اور بادشاہ نامسلم۔
دوم:بفرض باطل اگر یہ دو عام ہوتیں ہر گز تام نہ ہوتیں کہ کلام تو قاضی نا مسلم میں ہے ان دو نے اگر بفرض غلط بادشاہ سے تقلد قضائے شرعی مسلم کے لئے مطلقا جائز رکھا تو نامسلم کےلئے جواز کیونکر ہوگیاکیا قاضی مسلم و نامسلم کا شرعا ایك حکم ہے
قال اﷲتعالی" افنجعل المسلمین کالمجرمین ﴿۳۵﴾ ما لکم کیف تحکمون ﴿۳۶﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیںتمہیں کیا ہوا کیسا فیصلہ کرتے ہو۔(ت)
سوم:رہیں وہ نوان میں سے آٹھ میں نامسلم کا نام تك نہیںپہلی تیسریچوتھینویں میں جاہل کا ذکر ہے اور چھٹی آٹھویں میں فاسق اور دوسریپانچویں میں جاہل وفاسق دونوں کا۔کیا جاہل و فاسق مسلمان نہیں یا مسلم یا نامسلم شرعا یکساں ہیںجو حکم ان کےلئے شرع نے مانا ہوان پر قیاس کرکے نامسلم کے لیے بھی ثابت ہوجائے گاکیا ایسا تعدیہ شرع پر تعدی نہیں۔ " ومن یتعد حدود اللہ " (جو اﷲ تعالی کی حدودسے تجاوز کرے۔ت)کا کیاحکم ہے۔
بحمد اﷲ تعالی ان مقدمات جلیلہ نے ان فتووں کے حرف حرف کا بطلان آفتاب سے زیادہ روشن کر دیا جس کے بعد کسی ذی فہم کو کوئی حالت منتظرہ باقی نہ رہی پھر بھی زیادت ایضاح للقاصرین کےلئے ہر جگہ رد کا مردود سے تعلق بتادینا اور بعض افاضات تازہ کا اضافہ کرنا انسب واولی۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(تومیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالی سے توفیق ہے۔ت)
اول: کلام حاکم نامسلم کی ولایت شرعیہ میں تھا جسے بادشاہ نامسلم نے مقرر کیا سائل نے اسی سے سوال کیا تھا مجیب نے اسی سے جواب دیا اور ثبوت کی سرخی دے کر جو گیارہ عبارتیں گنائیں ان میں پہلی نو مقلد بالفتح اور اخیر کی دو مقلد بالکسر سے متعلق ہیں۔ان دو کا بیان شافی مقدمہ ششم میں گزرا کہ انہیں یہاں سے متعلق سمجھنا محض نادانی و بے فہمی ہے وہ صرف اس صورت سے متعلق ہیں کہ ریاست اسلامی کا والی مولی ہو اور بادشاہ نامسلم۔
دوم:بفرض باطل اگر یہ دو عام ہوتیں ہر گز تام نہ ہوتیں کہ کلام تو قاضی نا مسلم میں ہے ان دو نے اگر بفرض غلط بادشاہ سے تقلد قضائے شرعی مسلم کے لئے مطلقا جائز رکھا تو نامسلم کےلئے جواز کیونکر ہوگیاکیا قاضی مسلم و نامسلم کا شرعا ایك حکم ہے
قال اﷲتعالی" افنجعل المسلمین کالمجرمین ﴿۳۵﴾ ما لکم کیف تحکمون ﴿۳۶﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیںتمہیں کیا ہوا کیسا فیصلہ کرتے ہو۔(ت)
سوم:رہیں وہ نوان میں سے آٹھ میں نامسلم کا نام تك نہیںپہلی تیسریچوتھینویں میں جاہل کا ذکر ہے اور چھٹی آٹھویں میں فاسق اور دوسریپانچویں میں جاہل وفاسق دونوں کا۔کیا جاہل و فاسق مسلمان نہیں یا مسلم یا نامسلم شرعا یکساں ہیںجو حکم ان کےلئے شرع نے مانا ہوان پر قیاس کرکے نامسلم کے لیے بھی ثابت ہوجائے گاکیا ایسا تعدیہ شرع پر تعدی نہیں۔ " ومن یتعد حدود اللہ " (جو اﷲ تعالی کی حدودسے تجاوز کرے۔ت)کا کیاحکم ہے۔
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ الخلق الخامس من الاخلاق الستین الخ المکتبۃ النوریۃ الرضویہ ∞فیصل آباد ۱/ ۳۵۱€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۳۵€
القرآ ن الکریم ∞۲ /۲۲۹€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۳۵€
القرآ ن الکریم ∞۲ /۲۲۹€
چہارم:طرفہ یہ کہ یہاں جاہل سے مراد ہر غیر مجتہد ہے کہ اسے مجتہد کے مقابل اطلاق کیا ہے خود عبارت ہدایہ منقولہ فتوی میں ہے:
الصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندنا ۔ صحیح یہ ہے کہ اجتہاد اولی ہونے کی شرط ہے تو لیکن جاہل کی تقرری(قضاء کےلئے)توہمارے نزدیك صحیح ہے۔(ت)
بایں معنی آج تمام دنیا کے عالم اور خود یہ مفتی اور ان کے اساتذہ اور اساتذہ اساتذہ صد ہا سال سے سب جاہل ہیں کہ کوئی مجتہد نہیں اور ان کے طور پر ان کا اور مجوس و ہنود ونصاری ویہود سب کا ایك حکم ہے کیا یہ قابل تسلیم عقل سلیم ہے۔
پنجم:گیارہ۱۱ میں یہ دس تو محض بے علاقہ و بیگانہ تھیں مگر سب میں لطیف تروہ ایك باقیماندہ عبارت ردالمحتار یعنی ساتویں ہے جو اول تاآخر سراسر مزعوم فتوی کا رد و ابطال ہے اور مفتی کو اس سے استناد کا خیال ہے مفیدونامفید میں فرق نہ کرنا ایسا دشوار نہ تھا جیسا خود کو مفید سمجھنے میں اشکال ہےبحرالرائق میں تو یہ فرمایا کہ اگر سلطان اسلام کسی نامسلم کو اپنے حکم سے قاضی کردے جب بھی تاوقتیکہ وہ مسلمان نہ ہوجائےمسلمان پر اس کی قضا صحیح نہیں کہ فرمایا:
لم یصح قضاؤہ علی المسلم حال کفرہ ۔ کافر کی قضاء حالت کفر میں مسلم پر صحیح نہیں ہے(ت)
اور اس سے استناد اس پر ہوتا ہے کہ اگر بادشاہ نامسلم بھی نامسلم کو قاضی کردے اور وہ نامسلم ہی رہے جب بھی مسلمانوں پر اس کی قضاء قضائے شرعی ہےصحت تقلید کے معنی یہ تھے کہ اگر بعد تقلید مسلمان ہوجائے گا تقلید جدید کی حاجت نہ ہوگینیز قبل اسلام غیر مسلمین پر اس کی قضاء صحیح ہوجائے گی نہ یہ کہ مسلمین پر قضائے شرعی ہواسی ردالمحتار کے اسی صفحہ میں ہے:
تنبیہ: ظھر من کلامھم حکم القاضی المنصوب فی بلاد الدروز فی تنبیہ:فقہاء کے کلام سے شام کے علاقہ بلا د دروز میں مقرر قاضی کا حکم واضح ہوا کہ دروز
الصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندنا ۔ صحیح یہ ہے کہ اجتہاد اولی ہونے کی شرط ہے تو لیکن جاہل کی تقرری(قضاء کےلئے)توہمارے نزدیك صحیح ہے۔(ت)
بایں معنی آج تمام دنیا کے عالم اور خود یہ مفتی اور ان کے اساتذہ اور اساتذہ اساتذہ صد ہا سال سے سب جاہل ہیں کہ کوئی مجتہد نہیں اور ان کے طور پر ان کا اور مجوس و ہنود ونصاری ویہود سب کا ایك حکم ہے کیا یہ قابل تسلیم عقل سلیم ہے۔
پنجم:گیارہ۱۱ میں یہ دس تو محض بے علاقہ و بیگانہ تھیں مگر سب میں لطیف تروہ ایك باقیماندہ عبارت ردالمحتار یعنی ساتویں ہے جو اول تاآخر سراسر مزعوم فتوی کا رد و ابطال ہے اور مفتی کو اس سے استناد کا خیال ہے مفیدونامفید میں فرق نہ کرنا ایسا دشوار نہ تھا جیسا خود کو مفید سمجھنے میں اشکال ہےبحرالرائق میں تو یہ فرمایا کہ اگر سلطان اسلام کسی نامسلم کو اپنے حکم سے قاضی کردے جب بھی تاوقتیکہ وہ مسلمان نہ ہوجائےمسلمان پر اس کی قضا صحیح نہیں کہ فرمایا:
لم یصح قضاؤہ علی المسلم حال کفرہ ۔ کافر کی قضاء حالت کفر میں مسلم پر صحیح نہیں ہے(ت)
اور اس سے استناد اس پر ہوتا ہے کہ اگر بادشاہ نامسلم بھی نامسلم کو قاضی کردے اور وہ نامسلم ہی رہے جب بھی مسلمانوں پر اس کی قضاء قضائے شرعی ہےصحت تقلید کے معنی یہ تھے کہ اگر بعد تقلید مسلمان ہوجائے گا تقلید جدید کی حاجت نہ ہوگینیز قبل اسلام غیر مسلمین پر اس کی قضاء صحیح ہوجائے گی نہ یہ کہ مسلمین پر قضائے شرعی ہواسی ردالمحتار کے اسی صفحہ میں ہے:
تنبیہ: ظھر من کلامھم حکم القاضی المنصوب فی بلاد الدروز فی تنبیہ:فقہاء کے کلام سے شام کے علاقہ بلا د دروز میں مقرر قاضی کا حکم واضح ہوا کہ دروز
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب ادب القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۳۲€
بحرالرائق کتاب القضاء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۵۹،€ردالمحتار بحوالہ البحر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۹۹۔۲۹۸€
بحرالرائق کتاب القضاء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۵۹،€ردالمحتار بحوالہ البحر کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۹۹۔۲۹۸€
القطر الشامی ویکون در زیا ویکون نصرانیا فکل منھما لایصح حکمہ علی المسلمین فان الدرزی لاملۃ لہ کالمنافق والزندیق وان سمی نفسہ مسلماوھذاکلہ بعد کونہ منصوبا من طرف السلطان اومامورہ بذلك والافالواقع انہ ینصبہ امیر تلك الناحیۃ ولاادری انہ ماذون لہ بذلك ام لاولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم ۔ یانصرانی ہو تو اس کی قضاء مسلمانوں پر جائز نہیں کیونکہ دروزی کی کوئی ملت نہیں ہے جیسا کہ منافق اور زندیق کی ملت نہیں ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلائےیہ تمام اس صورت میں ہے جب اس کو سلطان کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو یا ایسے کو مقرر کرنے کا مامور ہواور اگر واقع یہ ہو کہ اس علاقہ کے کسی امیر کی طرف سے دروزی قاضی مقرر شدہ ہو اور معلوم نہیں کہ وہ امیر اس بات کا ماذون ہے یانہیںلاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم(ت)
ششم:یہ اول عبارت تھا آخریہ ہے کہ فتح نے فرمایا کافر و غلام اگرچہ ایك نوع ولایت رکھتے ہیں مگر ان میں صحت ونفاذ سے مانع موجود ہے جب تك یہ آزاد اور وہ مسلمان نہ ہوگا انکی قضاء صحیح ونافذ نہ ہوگی یعنی اس کی مطلقا اور اس کی مسلمان پر کہ فرمایا:
لہ ولایۃ وبہ مانع وبالعتق والاسلام یرتفع ۔ اس کو ولایت ہوئی اور غلامی اور کفر اس کو مانع تھا اب عتق اور اسلام حاصل ہوجانے پر مانع ختم ہوگیا۔(ت)
اور اس سے استناد اس پر کیا جاتا ہے کہ اس کی قضاء مطلقا قضائے شرعی ہے صحت تقلید کے وہ معنی بھی اس میں واضح فرمادئے تھے کہ:
لو قلد کافر القضاء فاسلم قال محمد ھو علی قضائہ فصار الکافر کالعبد ۔ اگر کفر کی حالت میں قاضی مقرر ہو ا تو مسلما ن ہوگیاامام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا وہ پہلی تقرری پر قاضی ہے تو یہ کافر غلام کی طرح ہوا۔(ت)
اور عبد(غلام)میں فرمایا:
ششم:یہ اول عبارت تھا آخریہ ہے کہ فتح نے فرمایا کافر و غلام اگرچہ ایك نوع ولایت رکھتے ہیں مگر ان میں صحت ونفاذ سے مانع موجود ہے جب تك یہ آزاد اور وہ مسلمان نہ ہوگا انکی قضاء صحیح ونافذ نہ ہوگی یعنی اس کی مطلقا اور اس کی مسلمان پر کہ فرمایا:
لہ ولایۃ وبہ مانع وبالعتق والاسلام یرتفع ۔ اس کو ولایت ہوئی اور غلامی اور کفر اس کو مانع تھا اب عتق اور اسلام حاصل ہوجانے پر مانع ختم ہوگیا۔(ت)
اور اس سے استناد اس پر کیا جاتا ہے کہ اس کی قضاء مطلقا قضائے شرعی ہے صحت تقلید کے وہ معنی بھی اس میں واضح فرمادئے تھے کہ:
لو قلد کافر القضاء فاسلم قال محمد ھو علی قضائہ فصار الکافر کالعبد ۔ اگر کفر کی حالت میں قاضی مقرر ہو ا تو مسلما ن ہوگیاامام محمد رحمہ اﷲتعالی نے فرمایا وہ پہلی تقرری پر قاضی ہے تو یہ کافر غلام کی طرح ہوا۔(ت)
اور عبد(غلام)میں فرمایا:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۹۹€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵€۷
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵۷€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵€۷
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵۷€
قلد عبد فعتق جازان یقضی بتلك الولایۃمن غیر حاجۃ الی تجدید ۔ عبد تھا جو قاضی مقرر ہوا اب وہ آزاد ہوگیا تو اس پہلی تقرری ولایت پر اس کی قضاء جائز ہوجائیگی نئی تقرری کی ضرورت نہ ہوگی۔(ت)
ہفتم:طرفہ تر یہ کہ اس روایت ہفتم کا خود حاصل یہ بتایا کہ غیر مسلم میں قاضی ہونے کی کافی لیاقت ہے اگرچہ مسلمانوں پر اس کے احکام نافذ نہیں ہوتے مگر اگر یہ ٹھہرے کہ ع
خود گفتہ و خود نداندکہ چیست
(اپنے کہے ہوئے کو خود نہیں جانتا کہ کیا ہے۔ت)
تو ا سکی بات جدا ہے۔
ہشتم:کافی لیاقت سے اگر مراد مطلق قضاء کی لیاقت تو صحیح ہے کہ نامسلم کو نامسلم پر ولایت شرعیہ مل سکتی ہے جیسے اپنے نابالغ بچوں پر۔درمختار میں ہے:
للکافر ولایۃ علی کافر مثلہ اتفاقا ۔ کافر کو اپنے جیسے کافر پر ولایت بالاتفاق حاصل ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ۔ اہل ذمہ میں فیصلے کےلئے کافر کو قاضی مقرر کرنا جائز ہے۔(ت)
مگر اس سے مسلمانوں کے دینی امور میں ان پر ولایت شرعیہ کیونکر لازماور اگر عام مراد تو محض باطل اور نصوص قطعیہ قرآن عظیم وتصریحات جملہ ائمہ وکتب کے خلاف ہے جس کا بیان مقدمہ چہارم میں گزرا۔غرض ثبوت کی یہ حالت تھی کہ گیارہ میں دس بیگانہ و بیکار اور ایك سراپا مخالف وضاراستنباط کا حال اسی سے آشکار کہ الشجرۃ تنبئی عن الثمرۃ(درخت اپنے پھل کی اطلاع دیتا ہے۔ت)
نہم:روایت ۱۳۸ سے یہ نتیجہ نکالا کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کے لئے نہ عالم کی ضرورت نہ پرہیز گار کی۔اس سے مراد اگرصرف تنفیذ بمعنی
ہفتم:طرفہ تر یہ کہ اس روایت ہفتم کا خود حاصل یہ بتایا کہ غیر مسلم میں قاضی ہونے کی کافی لیاقت ہے اگرچہ مسلمانوں پر اس کے احکام نافذ نہیں ہوتے مگر اگر یہ ٹھہرے کہ ع
خود گفتہ و خود نداندکہ چیست
(اپنے کہے ہوئے کو خود نہیں جانتا کہ کیا ہے۔ت)
تو ا سکی بات جدا ہے۔
ہشتم:کافی لیاقت سے اگر مراد مطلق قضاء کی لیاقت تو صحیح ہے کہ نامسلم کو نامسلم پر ولایت شرعیہ مل سکتی ہے جیسے اپنے نابالغ بچوں پر۔درمختار میں ہے:
للکافر ولایۃ علی کافر مثلہ اتفاقا ۔ کافر کو اپنے جیسے کافر پر ولایت بالاتفاق حاصل ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ۔ اہل ذمہ میں فیصلے کےلئے کافر کو قاضی مقرر کرنا جائز ہے۔(ت)
مگر اس سے مسلمانوں کے دینی امور میں ان پر ولایت شرعیہ کیونکر لازماور اگر عام مراد تو محض باطل اور نصوص قطعیہ قرآن عظیم وتصریحات جملہ ائمہ وکتب کے خلاف ہے جس کا بیان مقدمہ چہارم میں گزرا۔غرض ثبوت کی یہ حالت تھی کہ گیارہ میں دس بیگانہ و بیکار اور ایك سراپا مخالف وضاراستنباط کا حال اسی سے آشکار کہ الشجرۃ تنبئی عن الثمرۃ(درخت اپنے پھل کی اطلاع دیتا ہے۔ت)
نہم:روایت ۱۳۸ سے یہ نتیجہ نکالا کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کے لئے نہ عالم کی ضرورت نہ پرہیز گار کی۔اس سے مراد اگرصرف تنفیذ بمعنی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵€۷
درمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۳€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
درمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۳€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
اول ہے تو حصر باطلبلکہ اس کا فرض منصبی یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے لئے احکام شرعیہ ناحاصلہ حاصل کر دے قیامت کو ان کے لئے مواخذہ الہیہ سے نجات کی صورت کردے ائمہ مجتہدین کے اختلاف اٹھاکر مختلف فیہ کو مجمع علیہ کردے۔اور اگر مراد عام ہے تو یہ قسم دوم ہر گز صرف دنیوی طاقت کاکام نہیں اس کےلئے مولی و مولی دونوں کا اسلام لازم اگرچہ عالم و متقی ہونا ضرور نہ ہوجیسا کہ مقدمہ ششم میں گزرا۔
دہم:روایت ۲۵۶۸ سے یہ لیا کہ قاضی میں علم و اتقا کی شرط اس لئے چھوڑدی کہ ایسے قاضی کا ملنا سخت مشکل ہےعلم واتقا کی شرط مان لی جائے تو فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوااور اس پر یہ قیاس کیا کہ ہندوستان میں اسلام کی شرط ماننے سے بھی فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا لہذا اسلام کی قید بھی اڑادی۔خود اس فتوی کی روایت۱۳۴ میں تصریح ہے کہ علم شرط اولویت ہے نہ شرط صحت۔یہی حال اتقا کا ہےفصول امام استروشنی پھر غایۃ البیان امام اتقانی میں ہے:
کون القاضی عدلا لیس بشرط ایضا حتی قال اصحابنا رضی اﷲ تعالی عنہم ان الفاسق یصلح ان یکون قاضیا و العدالۃ شرط الاولویۃ فی ظاھر الروایۃ۔ قاضی کا عادل ہونا بھی شرط نہیں ہے حتی کہ ہمارے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم نے فرمایا بے شك فاسق قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عدالت اولی ہونے کی شرط ہے ظاہر الروایۃ میں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
الفاسق اھل للقضاء حتی لو قلد یصح الاانہ لاینبغی ان یقلد ھذا ھو ظاہر المذہب وعلیہ مشایخنا رحمہم اﷲ تعالی وقال الشافعی رحمۃ اﷲتعالی علیہ الفاسق لایجوز قضائہ ۔ فاسق قاضی بنے کی صلاحیت رکھتا ہے حتی کہ اگر وہ ہوجائے تو صحیح ہے مگر یہ مناسب نہیں کہ اس کی تقرری کی جائےیہی ظاہر مذہب اور ہمارے مشائخ رحمہم اﷲ تعالی اس پر اعتماد کرتے ہیں البتہ امام شافعی رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ فاسق کی قضاء درست نہیں ہے۔(ت)
بدائع ملك العلماء میں ہے:
کذاالعدالۃ عندنا لیست بشرط لجواز یونہی تقرری کے لئے عدالت شرط نہیں لیکن کمال
دہم:روایت ۲۵۶۸ سے یہ لیا کہ قاضی میں علم و اتقا کی شرط اس لئے چھوڑدی کہ ایسے قاضی کا ملنا سخت مشکل ہےعلم واتقا کی شرط مان لی جائے تو فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوااور اس پر یہ قیاس کیا کہ ہندوستان میں اسلام کی شرط ماننے سے بھی فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا لہذا اسلام کی قید بھی اڑادی۔خود اس فتوی کی روایت۱۳۴ میں تصریح ہے کہ علم شرط اولویت ہے نہ شرط صحت۔یہی حال اتقا کا ہےفصول امام استروشنی پھر غایۃ البیان امام اتقانی میں ہے:
کون القاضی عدلا لیس بشرط ایضا حتی قال اصحابنا رضی اﷲ تعالی عنہم ان الفاسق یصلح ان یکون قاضیا و العدالۃ شرط الاولویۃ فی ظاھر الروایۃ۔ قاضی کا عادل ہونا بھی شرط نہیں ہے حتی کہ ہمارے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم نے فرمایا بے شك فاسق قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عدالت اولی ہونے کی شرط ہے ظاہر الروایۃ میں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
الفاسق اھل للقضاء حتی لو قلد یصح الاانہ لاینبغی ان یقلد ھذا ھو ظاہر المذہب وعلیہ مشایخنا رحمہم اﷲ تعالی وقال الشافعی رحمۃ اﷲتعالی علیہ الفاسق لایجوز قضائہ ۔ فاسق قاضی بنے کی صلاحیت رکھتا ہے حتی کہ اگر وہ ہوجائے تو صحیح ہے مگر یہ مناسب نہیں کہ اس کی تقرری کی جائےیہی ظاہر مذہب اور ہمارے مشائخ رحمہم اﷲ تعالی اس پر اعتماد کرتے ہیں البتہ امام شافعی رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ فاسق کی قضاء درست نہیں ہے۔(ت)
بدائع ملك العلماء میں ہے:
کذاالعدالۃ عندنا لیست بشرط لجواز یونہی تقرری کے لئے عدالت شرط نہیں لیکن کمال
حوالہ / References
غایۃ البیان
الہدایۃ کتاب ادب القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۲€
الہدایۃ کتاب ادب القاضی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۲€
التقلید لکنھا شرط الکمال فیجوز تقلید الفاسق و تنفذ قضایاہ اذالم یجاوز فیہا حدالشرط وعند الشافعی رحمہ اﷲ تعالی شرط الجواز ۔ کےلئے یہ شرط ہے لہذا فاسق کی تقرری اور اس کی قضاء کا نفاذ جائز ہے جب اپنے فیصلوں میں اس نے شرع سے تجاوز نہ کیاہواور امام شافعی رحمہ اﷲتعالی کے ہاں عدالت جواز قضاکےلئے شرط ہے۔(ت)
اور اسلام قطعا شرط صحت ہے جس کا ثبوت قرآن عظیم و نصوص ائمہ سے گزرا اولویت کی شرطوں سے اگر درگزر کی گئی تو اس سے شرط صحت کو بھی اڑادینے کا جواز کیونکر لازم آیا یعنی علماء نے غیر اولی کو صحیح مانا ہے لہذا ہم باطل کو حق مانے لیتے ہیں کیونکہ جیسا خلاف اولی ویسا ہی باطل ایك ہی بات ہے۔
یازدہم:نماز فاسق کے پیچھے مکروہ ہے پھر بھی جمعہ میں جہاں ایك ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو علماء نے بضرورت اس کراہت سے در گزر کی ہےفتح القدیر میں ہے:
فی الدرایۃ قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الافی الجمعۃ لان فی غیرہا یجداماما غیرہ اھ یعنی انہ فی غیر الجمعۃ بسبیل من ان یتحول الی مسجد اخر ولایأثم فی ذلکذکرہ فی الخلاصۃ وعلی ھذافیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھو المفتی بہ لانہ بسبیل من التحول حینئذ۔ درایہ میں ہے کہ ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ فاسق کی اقتداء جمعہ کے بغیر مناسب نہیں کیونکہ جمعہ کے ماسوا نمازوں کے لئے امام دوسرا مل جاتا ہے یعنی غیر جمعہ میں گنجائش ہے کہ وہ دوسری مسجد میں چلا جائے تو گنہگار نہ ہوگا۔ اس کو خلاصہ میں بیان کیا تو اس وجہ کی بنا پر جمعہ میں بھی ایسے امام کی اقتداء مکروہ ہوگی جب جمعہ شہر میں متعدد جگہ ہوتا ہو جیسا کہ امام محمد رحمہم اﷲ تعالی کا قول ہے اور وہی مفتی بہ قول ہے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے دوسرے امام جمعہ کے لئے گنجائش ہے(ت)
لہذا اگر کہیں صرف جاہل مسلمان ہوں جن کو سورۃ فاتحہ بھی صحیح یاد نہیںجیسے دیہات بلکہ قصبات بلکہ ہندوستان کے شہروں میں لاکھوں آدمی اسی طرح کے ہیں اور کوئی پادری صاحب شوقیہ طور پر فاتحہ اور چند سورتیں ٹھیك یاد کرچکے ہوں تو اس فتوے کی رائے میں بضرورت ان پادر ی صاحب کو
اور اسلام قطعا شرط صحت ہے جس کا ثبوت قرآن عظیم و نصوص ائمہ سے گزرا اولویت کی شرطوں سے اگر درگزر کی گئی تو اس سے شرط صحت کو بھی اڑادینے کا جواز کیونکر لازم آیا یعنی علماء نے غیر اولی کو صحیح مانا ہے لہذا ہم باطل کو حق مانے لیتے ہیں کیونکہ جیسا خلاف اولی ویسا ہی باطل ایك ہی بات ہے۔
یازدہم:نماز فاسق کے پیچھے مکروہ ہے پھر بھی جمعہ میں جہاں ایك ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو علماء نے بضرورت اس کراہت سے در گزر کی ہےفتح القدیر میں ہے:
فی الدرایۃ قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الافی الجمعۃ لان فی غیرہا یجداماما غیرہ اھ یعنی انہ فی غیر الجمعۃ بسبیل من ان یتحول الی مسجد اخر ولایأثم فی ذلکذکرہ فی الخلاصۃ وعلی ھذافیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھو المفتی بہ لانہ بسبیل من التحول حینئذ۔ درایہ میں ہے کہ ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ فاسق کی اقتداء جمعہ کے بغیر مناسب نہیں کیونکہ جمعہ کے ماسوا نمازوں کے لئے امام دوسرا مل جاتا ہے یعنی غیر جمعہ میں گنجائش ہے کہ وہ دوسری مسجد میں چلا جائے تو گنہگار نہ ہوگا۔ اس کو خلاصہ میں بیان کیا تو اس وجہ کی بنا پر جمعہ میں بھی ایسے امام کی اقتداء مکروہ ہوگی جب جمعہ شہر میں متعدد جگہ ہوتا ہو جیسا کہ امام محمد رحمہم اﷲ تعالی کا قول ہے اور وہی مفتی بہ قول ہے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے دوسرے امام جمعہ کے لئے گنجائش ہے(ت)
لہذا اگر کہیں صرف جاہل مسلمان ہوں جن کو سورۃ فاتحہ بھی صحیح یاد نہیںجیسے دیہات بلکہ قصبات بلکہ ہندوستان کے شہروں میں لاکھوں آدمی اسی طرح کے ہیں اور کوئی پادری صاحب شوقیہ طور پر فاتحہ اور چند سورتیں ٹھیك یاد کرچکے ہوں تو اس فتوے کی رائے میں بضرورت ان پادر ی صاحب کو
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب ادب القاضی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۳€
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۴€
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۴€
امام کرکے جمعہ پڑھ لیں گے کہ علماء نے بضرورت شرط اولویت سے در گزر کی تھییہ بضرورت شرط اسلام اڑادیں گے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
دوازدہم:فاقد الطہورین میں اختلاف ہے کہ تاخیر کرے یا تشبہدرمختار میں ہے:
یوخر ھا عندہ وقالا یتشبہ بالمصلین وجوبا ثم یعیدبہ یفتی والیہ صح رجوعہ ۔ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك مؤ خر کرے اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك نمازیوں سے تشبہ کرنا واجب ہے پھر بعد میں اعادہ کرےاسی پر فتوی ہےاور امام صاحب کا اس طرف رجوع صحیح ثابت ہے۔(ت)
بالجملہ اس پر اجماع ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتا مگر اس فتوے کے طور پر بے وضو ہی نمازیں پڑھاکرے کہ اس سے زائد ضرورت کس کی ہوگی ا ور ضرورت سے اس فتوے نے شرائط صحت بھی ساقط مان لی ہیں۔
سیزدہم:روایت ۸ سے یہ واضح بتانا کہ رشوت لے کر فیصلہ بالاجماع باطل سخت عجیب ہے حالانکہ خود اس روایت کی عبارت منقولہ فتوی میں اس کا رد موجود ہے کہ اجماع کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ امام فخر الاسلام بزدوی کا مختاریہ ہے کہ وہ فیصلہ نافذ ہےاور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں ترجیح دی۔
چاردہم:مختلف فیہ مسئلہ میں بالفرض ایك طرف ترجیح نہ بھی ہوتی محل ضرورت میں اسے اختیار کرنے سے کیونکر لازم آتا کہ اسے سند بناکر دوسری جگہ بزعم ضرورت اپنی رائے سے نصوص قطعیہ قرآن عظیم و اجماع جمیع ائمہ کے خلاف چلئےنہ کہ وہ مسئلہ جس میں فتوائے ائمہ مختلف ہوں ا س میں ایك جانب کو ضرور ت کے باعث بالخصوص معتمد کرلینے کو رد قرآن واجماع کی حجت بنالیجئے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
پانزدہم:بفرض باطل بطلان فیصلہ رشوت پر اجماع ہی ہوتا تو فیصلہ قطعا اہل سے محل میں صادر ہوا تھا امر خارج وجہ بطلان ہوتا جو انتہائی کوشش کے بعد یہ بتایاگیا ہے کہ قضا عمل لوجہ اﷲ ہے اور جب رشوت لے کر قضا کیعمل اپنے لئے ہوا نہ کہ اﷲعزوجل کے لئے۔فتح القدیر میں ہے:
حاصل امر الرشوۃ فیما اذا قضی رشوت کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ حق فیصلہ میں
دوازدہم:فاقد الطہورین میں اختلاف ہے کہ تاخیر کرے یا تشبہدرمختار میں ہے:
یوخر ھا عندہ وقالا یتشبہ بالمصلین وجوبا ثم یعیدبہ یفتی والیہ صح رجوعہ ۔ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك مؤ خر کرے اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالی کے نزدیك نمازیوں سے تشبہ کرنا واجب ہے پھر بعد میں اعادہ کرےاسی پر فتوی ہےاور امام صاحب کا اس طرف رجوع صحیح ثابت ہے۔(ت)
بالجملہ اس پر اجماع ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتا مگر اس فتوے کے طور پر بے وضو ہی نمازیں پڑھاکرے کہ اس سے زائد ضرورت کس کی ہوگی ا ور ضرورت سے اس فتوے نے شرائط صحت بھی ساقط مان لی ہیں۔
سیزدہم:روایت ۸ سے یہ واضح بتانا کہ رشوت لے کر فیصلہ بالاجماع باطل سخت عجیب ہے حالانکہ خود اس روایت کی عبارت منقولہ فتوی میں اس کا رد موجود ہے کہ اجماع کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ امام فخر الاسلام بزدوی کا مختاریہ ہے کہ وہ فیصلہ نافذ ہےاور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں ترجیح دی۔
چاردہم:مختلف فیہ مسئلہ میں بالفرض ایك طرف ترجیح نہ بھی ہوتی محل ضرورت میں اسے اختیار کرنے سے کیونکر لازم آتا کہ اسے سند بناکر دوسری جگہ بزعم ضرورت اپنی رائے سے نصوص قطعیہ قرآن عظیم و اجماع جمیع ائمہ کے خلاف چلئےنہ کہ وہ مسئلہ جس میں فتوائے ائمہ مختلف ہوں ا س میں ایك جانب کو ضرور ت کے باعث بالخصوص معتمد کرلینے کو رد قرآن واجماع کی حجت بنالیجئے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
پانزدہم:بفرض باطل بطلان فیصلہ رشوت پر اجماع ہی ہوتا تو فیصلہ قطعا اہل سے محل میں صادر ہوا تھا امر خارج وجہ بطلان ہوتا جو انتہائی کوشش کے بعد یہ بتایاگیا ہے کہ قضا عمل لوجہ اﷲ ہے اور جب رشوت لے کر قضا کیعمل اپنے لئے ہوا نہ کہ اﷲعزوجل کے لئے۔فتح القدیر میں ہے:
حاصل امر الرشوۃ فیما اذا قضی رشوت کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ حق فیصلہ میں
حوالہ / References
درمختار کتاب ∞الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۴€
بحق ایجابھا فسقہ وقد فرض ان الفسق لایوجب العزل فولایتہ قائمۃ وقضاؤہ بحق فلم لاینفذ وخصوص ھذا الفسق غیر مؤثر و غایۃ ماوجہ بہ انہ اذا ارتشی عامل لنفسہ یعنی والقضاء عمل ﷲ تعالی ۔ رشوت لی تو اس کا حکم فسق ہے اورمفروض یہ ہے کہ وہ معزولی کا موجب نہیں تو اس کی ولایت قائم ہے تو اس کا حق فیصلہ کیوں نہ نافذ ہوگا اور یہ خاص فسق فیصلہ کے لئے مؤثر نہیں ہوگااور انتہائی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب قاضی رشوت لے گا تو گویا وہ اپنی ذات کے لئے عامل ہوا جبکہ قضاء کا عمل اﷲ تعالی کی رضا کے لئے ہوتا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی النہر تبعا للبحر وانت خبیر بان کون خصوص ھذا الفسق غیر مؤثر ممنوع بل یؤثر بملاحظۃ کونہ عملا لنفسہ وبھذا یترجح مااختارہ السرخسی اھ۔ بحر کی اتباع میں نہر میں کہا تجھے علم ہے کہ اس خاص فسق کا غیر مؤثر ہونا ممنوع ہے بلکہ اپنے لئے عامل ہوجانے کے پیش نظریہ موثر ہوگااس اعتبار سے امام سرخسی کے مختار کو ترجیح حاصل ہوجائیگی اھ(ت)۔
اقول:یہ کہ محقق علی الاطلاق نے نکالا اور اس پرا عتماد نہ فرمایاواقعی اصلا لائق اعتماد نہیں کہ عمل لوجہ اﷲ تعالی نہ ہونے سے اخلاص گیااور عدم اخلاص نفی ثواب کرتا ہے نہ کہ نفی صحت۔ردالمحتار میں ہے:
الاخلاص شرط للثواب لاللصحۃ ۔ اخلاص ثواب کے لئے شرط ہے صحت عمل کےلئے نہیں۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر کسی سے کہا جائے اس وقت کی نماز پڑھ تجھے ایك اشرفی دیں گے وہ اسی نیت سے نماز پڑھے فرض ساقط ہوجائے گا اگرچہ ثواب نہ پائے گانہ اشرفی کا مستحق ہوگا۔درمختا رمیں ہے:
قیل لشخص صل الظہر ولك دینار فصلی بھذہ النیۃ ینبغی ان تجزئہ ولا یستحق ایك شخص کو کسی نے کہا تو ظہر کی نماز پڑھے تو تجھے دینار ملے گاتو اس نے اس نیت سے نماز پڑھی تو مناسب حکم یہ ہے کہ اس کی نماز جائز قرار پائیگی
ردالمحتار میں ہے:
قال فی النہر تبعا للبحر وانت خبیر بان کون خصوص ھذا الفسق غیر مؤثر ممنوع بل یؤثر بملاحظۃ کونہ عملا لنفسہ وبھذا یترجح مااختارہ السرخسی اھ۔ بحر کی اتباع میں نہر میں کہا تجھے علم ہے کہ اس خاص فسق کا غیر مؤثر ہونا ممنوع ہے بلکہ اپنے لئے عامل ہوجانے کے پیش نظریہ موثر ہوگااس اعتبار سے امام سرخسی کے مختار کو ترجیح حاصل ہوجائیگی اھ(ت)۔
اقول:یہ کہ محقق علی الاطلاق نے نکالا اور اس پرا عتماد نہ فرمایاواقعی اصلا لائق اعتماد نہیں کہ عمل لوجہ اﷲ تعالی نہ ہونے سے اخلاص گیااور عدم اخلاص نفی ثواب کرتا ہے نہ کہ نفی صحت۔ردالمحتار میں ہے:
الاخلاص شرط للثواب لاللصحۃ ۔ اخلاص ثواب کے لئے شرط ہے صحت عمل کےلئے نہیں۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر کسی سے کہا جائے اس وقت کی نماز پڑھ تجھے ایك اشرفی دیں گے وہ اسی نیت سے نماز پڑھے فرض ساقط ہوجائے گا اگرچہ ثواب نہ پائے گانہ اشرفی کا مستحق ہوگا۔درمختا رمیں ہے:
قیل لشخص صل الظہر ولك دینار فصلی بھذہ النیۃ ینبغی ان تجزئہ ولا یستحق ایك شخص کو کسی نے کہا تو ظہر کی نماز پڑھے تو تجھے دینار ملے گاتو اس نے اس نیت سے نماز پڑھی تو مناسب حکم یہ ہے کہ اس کی نماز جائز قرار پائیگی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب ادب القاضی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۵€۸
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
رد المحتار کتاب الصلٰوۃ باب شروط الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۷۸€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
رد المحتار کتاب الصلٰوۃ باب شروط الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۷۸€
الدینار اور دینار کا مستحق نہ ہوگا۔(ت)
اشباہ میں ہے:
اما الاجزاء فلما قدمنا ان الریاء لایدخل الفرائض فی حق سقوط الواجب واما عدم استحقاق الدینار فلان اداء الفرض لایدخل تحت عقد الاجارۃ ۔ نماز کو جائز کہنا اس لئے جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ ریا کاری واجب کے سقوط میں فرائض پر اثر انداز نہیں ہوتیباقی رہا استحقاق دینار کا معاملہ تو وہ اس لئے کہ فرض کی ادائیگی عقد اجارہ کے تحت داخل نہیں ہوتی۔(ت)
بلکہ اب فتوی جواز اجرت امامت پر ہے اور شك نہیں کہ اجیر عامل لنفسہ ہے نہ کہ عامل ﷲ تعالی حالانکہ اس کی نماز قطعا صحیح ہےبہر حال قضاء بہ رشوت میں جو کچھ خلل ہے امر خارج میں ہے اہلیت برقرار ہے تو جہاں اہلیت شرعا منتفی ہے اس کا اس پر قیاس کیونکر ممکن۔
شانزدہم:یہ بھی غلط ہے کہ فیصلہ مذکورہ رشوت میں قول متقدمین بطلان ہے اور متاخرین نے نفاذ مانابلکہ قول بطلان اختیار امام شمس الائمہ سرخسی ہے اور قول نفاذ اختیار امام فخر الاسلام بزدوی کہ ان کے معاصر بلکہ ان سے وفات میں مقدم ہیںامام بزدوی کی وفات شریف ۴۸۲ھ میں ہے اور امام سرخسی کی حدود ۵۰۰ھ یا حدود ۴۹۰ھ میں۔
ہفدہم:یہ بھی غلط ہے کہ قائلان نفاذنے نفاذ اس ضرورت سے مانا ہو کہ اب سب حکام رشوت خوار ہیں نہ مانیں تو فیصلہ کا دروازہ بند ہوگایہ امر صرف علامہ شامی نے اپنے زمانے کی نسبت لکھا جو اسی تیرھویں صدی میں تھے جن کے انتقال کو ابھی اسی ۸۰سال ہوئے ہیں ۱۲۵۲ھ میں وصال فرمایا۔قائلان نفاذ کے دلائل واضحہ وہ ہیں کہ گزرے۔
ہجدہم:یہ ضرورت زمانہ امام فخر الاسلام میں کیونکر ہوتی حالانکہ درمختار میں معروضات مفتی ابوسعود سے ہے:
لما وقع التساوی فی قضاۃ زماننا فی وجود العدالۃ ظاہرا وردالامر جب ہمارے زمانے کے قاضی حضرات ظاہرا عدالت میں مساوی ہوں تو حکم ہے کہ علمدیانت
اشباہ میں ہے:
اما الاجزاء فلما قدمنا ان الریاء لایدخل الفرائض فی حق سقوط الواجب واما عدم استحقاق الدینار فلان اداء الفرض لایدخل تحت عقد الاجارۃ ۔ نماز کو جائز کہنا اس لئے جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ ریا کاری واجب کے سقوط میں فرائض پر اثر انداز نہیں ہوتیباقی رہا استحقاق دینار کا معاملہ تو وہ اس لئے کہ فرض کی ادائیگی عقد اجارہ کے تحت داخل نہیں ہوتی۔(ت)
بلکہ اب فتوی جواز اجرت امامت پر ہے اور شك نہیں کہ اجیر عامل لنفسہ ہے نہ کہ عامل ﷲ تعالی حالانکہ اس کی نماز قطعا صحیح ہےبہر حال قضاء بہ رشوت میں جو کچھ خلل ہے امر خارج میں ہے اہلیت برقرار ہے تو جہاں اہلیت شرعا منتفی ہے اس کا اس پر قیاس کیونکر ممکن۔
شانزدہم:یہ بھی غلط ہے کہ فیصلہ مذکورہ رشوت میں قول متقدمین بطلان ہے اور متاخرین نے نفاذ مانابلکہ قول بطلان اختیار امام شمس الائمہ سرخسی ہے اور قول نفاذ اختیار امام فخر الاسلام بزدوی کہ ان کے معاصر بلکہ ان سے وفات میں مقدم ہیںامام بزدوی کی وفات شریف ۴۸۲ھ میں ہے اور امام سرخسی کی حدود ۵۰۰ھ یا حدود ۴۹۰ھ میں۔
ہفدہم:یہ بھی غلط ہے کہ قائلان نفاذنے نفاذ اس ضرورت سے مانا ہو کہ اب سب حکام رشوت خوار ہیں نہ مانیں تو فیصلہ کا دروازہ بند ہوگایہ امر صرف علامہ شامی نے اپنے زمانے کی نسبت لکھا جو اسی تیرھویں صدی میں تھے جن کے انتقال کو ابھی اسی ۸۰سال ہوئے ہیں ۱۲۵۲ھ میں وصال فرمایا۔قائلان نفاذ کے دلائل واضحہ وہ ہیں کہ گزرے۔
ہجدہم:یہ ضرورت زمانہ امام فخر الاسلام میں کیونکر ہوتی حالانکہ درمختار میں معروضات مفتی ابوسعود سے ہے:
لما وقع التساوی فی قضاۃ زماننا فی وجود العدالۃ ظاہرا وردالامر جب ہمارے زمانے کے قاضی حضرات ظاہرا عدالت میں مساوی ہوں تو حکم ہے کہ علمدیانت
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب شروط الصلٰوۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷€۰
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن ∞کرا چی ۱ /۶۴€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن ∞کرا چی ۱ /۶۴€
بتقدیم الافضل فی العلم والدیانۃ والعدالۃ ۔ اور عدالت میں جو افضل ہو اس کو ترجیح دی جائے۔(ت)
اس پر اسی ردالمحتار میں ہے:
ھذا کان فی زمنہ وقد وجد التساوی فی عدمھا الآن فلینظر من یقدم ۔ یہ ان کے زمانہ میں تھا حالانکہ اب عدم عدالت میں سب مساوی ہیں تو اب ترجیح میں غور کرنا ہوگا۔(ت)
مفتی ابو السعود دسویں صدی ہجری کے آخر میں تھے ۹۸۲ھ میں انتقال فرمایاجب ان کے زمانہ تك تمام قاضی ظاہر العدالۃ تھے تو زمانہ امام اجل بزدوی میں کہ ان سے پورے پانسو۵۰۰ برس پہلے تھا سب رشوت خوار کیسے ہوئے۔
نوزدہم:اپنے زمانے تیرھویں صدی کی نسبت جو علامہ شامی نے لکھا وہ بھی محل نظر ہے قضاۃ اگر محصول سلطنت کے لئے لیتے تھے جیسے یہاں کورٹ فیس لی جاتی ہے تو وہ رشوت قاضی کیونکر ہوسکتی ہے اور اگر اپنے ہی لئے لیتے تھے جب بھی حدرشوت میں اس کا آنا مشکل کہ یہ محصول عام طور پر لیا جاتا ہے نہ کہ خاص اس فریق سے جس کے موافق فیصلہ دینا ہےاور رشوت کسی کاکام بنانے کےلئے لی جاتی ہے نہ کہ مطلقیوں ہی اجرت تو وہ لینا محض ایك غصب ہوگا جو فسق ہے اور فسق مانع نفاذ نہیں۔
بستم:فتوے میں یہ عبارت علامہ شامی فکذا یقال ھنا (یہاں بھی یوں کہا جائے گا۔ت)تك نقل کی اس کے متصل انہوں نے فرمایا:وانظر ما سنذکرہ فی اول باب التحکیم اسے دیکھو جو ہم شروع باب تحکیم میں ذکر کریں گےاسے چھوڑ دیا
شروع باب تحکیم میں یہ فرمایا ہے:
تنبیہ:فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عھدنا فی بلادنا مصالحون لانھم تقلدو القضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان تنبیہ:بزازیہ سے بحر میں فرمایابعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی حضرات اس زمانہ میں ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت کے ذریعہ تقرری حاصل کی ہے ان کے ہاں مقدمہ پیش کرنے پر ان کا ثالثی فیصلہ قرارپائے گا اور یہ
اس پر اسی ردالمحتار میں ہے:
ھذا کان فی زمنہ وقد وجد التساوی فی عدمھا الآن فلینظر من یقدم ۔ یہ ان کے زمانہ میں تھا حالانکہ اب عدم عدالت میں سب مساوی ہیں تو اب ترجیح میں غور کرنا ہوگا۔(ت)
مفتی ابو السعود دسویں صدی ہجری کے آخر میں تھے ۹۸۲ھ میں انتقال فرمایاجب ان کے زمانہ تك تمام قاضی ظاہر العدالۃ تھے تو زمانہ امام اجل بزدوی میں کہ ان سے پورے پانسو۵۰۰ برس پہلے تھا سب رشوت خوار کیسے ہوئے۔
نوزدہم:اپنے زمانے تیرھویں صدی کی نسبت جو علامہ شامی نے لکھا وہ بھی محل نظر ہے قضاۃ اگر محصول سلطنت کے لئے لیتے تھے جیسے یہاں کورٹ فیس لی جاتی ہے تو وہ رشوت قاضی کیونکر ہوسکتی ہے اور اگر اپنے ہی لئے لیتے تھے جب بھی حدرشوت میں اس کا آنا مشکل کہ یہ محصول عام طور پر لیا جاتا ہے نہ کہ خاص اس فریق سے جس کے موافق فیصلہ دینا ہےاور رشوت کسی کاکام بنانے کےلئے لی جاتی ہے نہ کہ مطلقیوں ہی اجرت تو وہ لینا محض ایك غصب ہوگا جو فسق ہے اور فسق مانع نفاذ نہیں۔
بستم:فتوے میں یہ عبارت علامہ شامی فکذا یقال ھنا (یہاں بھی یوں کہا جائے گا۔ت)تك نقل کی اس کے متصل انہوں نے فرمایا:وانظر ما سنذکرہ فی اول باب التحکیم اسے دیکھو جو ہم شروع باب تحکیم میں ذکر کریں گےاسے چھوڑ دیا
شروع باب تحکیم میں یہ فرمایا ہے:
تنبیہ:فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عھدنا فی بلادنا مصالحون لانھم تقلدو القضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان تنبیہ:بزازیہ سے بحر میں فرمایابعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی حضرات اس زمانہ میں ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت کے ذریعہ تقرری حاصل کی ہے ان کے ہاں مقدمہ پیش کرنے پر ان کا ثالثی فیصلہ قرارپائے گا اور یہ
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۰€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۰€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
الرفع لیس علی وجہ التحکیم بل علی اعتقاد انہ ماضی الحکم وحضور المدعی علیہ قد یکون بالاشخاص والجبر فلا یکون حکماالاتری ان البیع قد ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذا تقدمہ بیع باطل او فاسد و ترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب آخر فکذاھناولہذا قال السلف القاضی النافذ حکمہ اعزمن الکبریت الاحمراھ قال ط و بعض الشافعیۃ یعبرعنہ لانہ قاضی ضرورۃ اذ لایوجد قاض فیما علمناہ من البلاد الاوھو راش و مرتش اھ وانظر ماقدمناہ اول القضاء ۔ اعتراض کہ ان کے ہاں دعوی ثالثی کی بناپر نہیں ہوتا بلکہ اس اعتقاد پر کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ لازم ہوگا اور ان کے ہاں مدعا علیہ کی حاضری عملہ کے ذریعہ اور جبرا ہوتی ہے تو ثالث نہ ہوئے۔آپ دیکھتے نہیں کہ دستی تبادلہ سے ابتداء بیع ہوجاتی لیکن جب پہلے یہ بیع باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اس کے بعد یہ دستی تبادلہ بیع نہیں بن سکتی کیونکہ اب یہ ایك ا ور سبب پر مرتب ہے تو یہاں بھی معاملہ ایسا ہے اور اسی وجہ سے سلف نے فرمایا کہ ایسا قاضی جس کا حکم نافذ ہوتا ہو بہت کم ہے اھ طحطاوی نے کہا اور بعض شافعی حضرات نے اس کو یوں تعبیر کیا ہے کہ یہ ضرورت کی بناء پر قاضی ہیں اس لئے کہ ہمارے معلومات میں تمام بلاد کے قاضی رشوت لینے اور دینے والے ہیں اھجو ہم نے قضاء کے باب کی ابتداء میں بیان کیا ہے اسے دیکھو۔(ت)
بست ویکم:بلکہ یہیں اس کے متصل یہ عبارت تھی:
وفی الحامدیۃ عن جواھر الفتاوی قال شیخنا واما منا جمال الدین البزدوی انا متحیر فی ھذہ المسألۃ لااقدران اقول تنفذ احکامھم لما اری من التخلیط والجھل والجرائۃ فیہمولااقدران اقول لاتنفذ لان اھل زماننا کذلك فلو افتیت بالبطلان ادی الی ابطال الاحکام جمیعا یحکم اور حامدیہ میں جواہر الفتاوی سے منقول ہے کہ ہمارے شیخ اور امام جمال الدین بزدوی نے فرمایا میں اس مسئلہ میں حیران ہوںنہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کے حکم نافذ ہیں کیونکہ فیصلوں میں انکی جہالتجرأت اور خلط دیکھ رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ نافذ نہیں ہیں کیونکہ ہمارے اہل زمانہ اسی طرح ہیں اگر میں باطل ہونے کا فتوی دوں تو اس سے تمام فیصلوں کا باطل ہونا لازم آتا ہےاﷲ تعالی ہی ہمارے اور زمانہ کے قاضیوں کے درمیان فیصلہ فرمائیگا
اﷲ بیننا وبین قضاۃ زماننا افسدوا علینا دیننا و شریعۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یبق منھم الاالاسم والرسم اھ ۔ انہوں نے ہمارا دین اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شریعت کو فاسد کیا اب ان میں دین و شریعت کا صرف نام ورسم باقی ہے اھ۔(ت)
سبحان اﷲ! ائمہ کرام وعلمائے اعلام تو اسلامی سلطنتوں میں مسلمان سلاطین کے مسلمان قضاۃ میں یوں فرمائیںبعض حیران ہوں کہ ان کو کیونکر قاضی شرعی مانا جائے بعض تصریح فرمائیں کہ وہ قاضی نہیں پنچ ہیں پھر اسے بھی رد فرمادیں کہ پنچ کہنا بھی ٹھیك نہیں انہیں قاضی
بست ویکم:بلکہ یہیں اس کے متصل یہ عبارت تھی:
وفی الحامدیۃ عن جواھر الفتاوی قال شیخنا واما منا جمال الدین البزدوی انا متحیر فی ھذہ المسألۃ لااقدران اقول تنفذ احکامھم لما اری من التخلیط والجھل والجرائۃ فیہمولااقدران اقول لاتنفذ لان اھل زماننا کذلك فلو افتیت بالبطلان ادی الی ابطال الاحکام جمیعا یحکم اور حامدیہ میں جواہر الفتاوی سے منقول ہے کہ ہمارے شیخ اور امام جمال الدین بزدوی نے فرمایا میں اس مسئلہ میں حیران ہوںنہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کے حکم نافذ ہیں کیونکہ فیصلوں میں انکی جہالتجرأت اور خلط دیکھ رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ نافذ نہیں ہیں کیونکہ ہمارے اہل زمانہ اسی طرح ہیں اگر میں باطل ہونے کا فتوی دوں تو اس سے تمام فیصلوں کا باطل ہونا لازم آتا ہےاﷲ تعالی ہی ہمارے اور زمانہ کے قاضیوں کے درمیان فیصلہ فرمائیگا
اﷲ بیننا وبین قضاۃ زماننا افسدوا علینا دیننا و شریعۃ نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یبق منھم الاالاسم والرسم اھ ۔ انہوں نے ہمارا دین اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شریعت کو فاسد کیا اب ان میں دین و شریعت کا صرف نام ورسم باقی ہے اھ۔(ت)
سبحان اﷲ! ائمہ کرام وعلمائے اعلام تو اسلامی سلطنتوں میں مسلمان سلاطین کے مسلمان قضاۃ میں یوں فرمائیںبعض حیران ہوں کہ ان کو کیونکر قاضی شرعی مانا جائے بعض تصریح فرمائیں کہ وہ قاضی نہیں پنچ ہیں پھر اسے بھی رد فرمادیں کہ پنچ کہنا بھی ٹھیك نہیں انہیں قاضی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۔۳۴۷€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۰۴€
ضرورت ماننا جیسا کہ علامہ شامی کا اس عبارت میں خیال تھا بعض شافعیہ کا قول کہیں سلف صالح سے نقل کریں کہ قاضی شرعی کبریت احمر سے بھی زیادہ نادر ہے یہاں یہ حکم بالجزم ہے کہ اگرچہ نامسلم سلطنت ہواگرچہ نامسلم حکام ہوں سب قاضی شرعی ہیں فسبحن مقلب القلوب والابصار۔
بست ودوم: اس ضرورت سے ائمہ غافل نہ تھےمقدمہ ہفتم دیکھو کہ خود محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس صورت ضرورت کو ذکرفرمایا اور اس کا علاج بتایا جسے ہم نے موافق قانون وقت کر دکھایاپھر زعم ضرورت کی کیا گنجائش رہی اور محض باتباع ہوا مخالفت قرآن و تبدیل شریعت واقع ہوئی والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
بست وسوم:جب خاص جزئیہ کتب مذہب اور خود ارشادات محرر مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ میں صاف صاف بالتصریح موجود تھا تو اس کے خلاف اور تمام نصوص کے خلاف اورخود قرآن عظیم کے خلاف مفتی کو اجتہاد لایعنی و قیاس بے معنی کے کیا معنیاور ایسی جگہ ھذا مااستقرعلیہ رائی(میری رائے اسی پر قائم ہوئی ہے۔ت)کی صدا لگانی کس نے مانی۔
بست وچہارم:بالفرض تصریح جزئیہ نہ بھی ہوتی تو اجتہاد کی لیاقت کس گھر سے آئی۔
بست و پنجم:اینہم بر علم تو نص قرآنی کے مقابل اجتہاد کیسا۔
بست و ششم:بفرض باطل کوئی جزئیہ نادرہ شاذہ ہوتا بھی تو ظاہر الروایۃ و نصوص متواترہ تصریحات متظافرہ اور خود آیات متکاثرہ کے مقابل مردود ہوتا اور اس پر فتوی دینا حسب
بست ودوم: اس ضرورت سے ائمہ غافل نہ تھےمقدمہ ہفتم دیکھو کہ خود محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس صورت ضرورت کو ذکرفرمایا اور اس کا علاج بتایا جسے ہم نے موافق قانون وقت کر دکھایاپھر زعم ضرورت کی کیا گنجائش رہی اور محض باتباع ہوا مخالفت قرآن و تبدیل شریعت واقع ہوئی والعیاذ باﷲ رب العلمین۔
بست وسوم:جب خاص جزئیہ کتب مذہب اور خود ارشادات محرر مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ میں صاف صاف بالتصریح موجود تھا تو اس کے خلاف اور تمام نصوص کے خلاف اورخود قرآن عظیم کے خلاف مفتی کو اجتہاد لایعنی و قیاس بے معنی کے کیا معنیاور ایسی جگہ ھذا مااستقرعلیہ رائی(میری رائے اسی پر قائم ہوئی ہے۔ت)کی صدا لگانی کس نے مانی۔
بست وچہارم:بالفرض تصریح جزئیہ نہ بھی ہوتی تو اجتہاد کی لیاقت کس گھر سے آئی۔
بست و پنجم:اینہم بر علم تو نص قرآنی کے مقابل اجتہاد کیسا۔
بست و ششم:بفرض باطل کوئی جزئیہ نادرہ شاذہ ہوتا بھی تو ظاہر الروایۃ و نصوص متواترہ تصریحات متظافرہ اور خود آیات متکاثرہ کے مقابل مردود ہوتا اور اس پر فتوی دینا حسب
تصریح علماء کرام جہل و خرق کااجماع ہوتاتصحیح القدوری پھر درمختار میں ہے:
الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ مرجوح قول پر فیصلہ اور فتوی جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے۔(ت)
جہاں کہ وہ بھی ہاتھ میں نہیں اس کی سخت شناعت کس درجہ مہین۔
بست وہفتم:بفرض محال اگرمرجوح نہیں کوئی قول مساوی بھی گھڑلیاجاتا جب بھی اس کے سبب ابطال وقف روانہ ہوتا کہ مسائل مختلف فیہا میں فتوی اس پر واجب ہے جو وقف کےلئے انفع ہونہ اس پر کہ وقف کا انفی ہو کما نصواعلیہ فی غیر ما کتاب ز(جیسے کہ کثیر کتب میں فقہاء کرام نے تصریح فرمائی۔ت)
بست و ہشتم:مفتی و مصدقین و مستفتی واہل معاملہ سب صاحبوں سے خیر خواہانہ معروض اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ہدىہم اللہ و اولئک ہم اولوا الالبب ﴿۱۸﴾ " ۔ اے نبی! خوشی کی خبردے میرے بندوں کو جو کان لگاکر بات سنیں پھر بہتر کی پیروی کریں وہی ہیں جن کو اﷲ نے ہدایت دی اور وہی عقلمند ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" والذین اذا فعلوا فحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبہم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ۪ ولم یصروا علی ما فعلوا وہم یعلمون﴿۱۳۵﴾ " اور جنت ان کے لئے تیار کی گئی ہے کہ جب کوئی بدی یا گناہ کر بیٹھیں اﷲ کویاد کرکے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اﷲ کے سوا کون گناہ بخشے اور اپنے کئے پر دانستہ ہٹ نہ کریں ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے معافی ہے اور باغ جن کے نیچے نہریں ہیں ہمیشہ ان میں رہیں اورکام والوں کاکیا اچھانیگ۔
الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع ۔ مرجوح قول پر فیصلہ اور فتوی جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے۔(ت)
جہاں کہ وہ بھی ہاتھ میں نہیں اس کی سخت شناعت کس درجہ مہین۔
بست وہفتم:بفرض محال اگرمرجوح نہیں کوئی قول مساوی بھی گھڑلیاجاتا جب بھی اس کے سبب ابطال وقف روانہ ہوتا کہ مسائل مختلف فیہا میں فتوی اس پر واجب ہے جو وقف کےلئے انفع ہونہ اس پر کہ وقف کا انفی ہو کما نصواعلیہ فی غیر ما کتاب ز(جیسے کہ کثیر کتب میں فقہاء کرام نے تصریح فرمائی۔ت)
بست و ہشتم:مفتی و مصدقین و مستفتی واہل معاملہ سب صاحبوں سے خیر خواہانہ معروض اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ہدىہم اللہ و اولئک ہم اولوا الالبب ﴿۱۸﴾ " ۔ اے نبی! خوشی کی خبردے میرے بندوں کو جو کان لگاکر بات سنیں پھر بہتر کی پیروی کریں وہی ہیں جن کو اﷲ نے ہدایت دی اور وہی عقلمند ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" والذین اذا فعلوا فحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبہم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ۪ ولم یصروا علی ما فعلوا وہم یعلمون﴿۱۳۵﴾ " اور جنت ان کے لئے تیار کی گئی ہے کہ جب کوئی بدی یا گناہ کر بیٹھیں اﷲ کویاد کرکے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اﷲ کے سوا کون گناہ بخشے اور اپنے کئے پر دانستہ ہٹ نہ کریں ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے معافی ہے اور باغ جن کے نیچے نہریں ہیں ہمیشہ ان میں رہیں اورکام والوں کاکیا اچھانیگ۔
حوالہ / References
درمختار مقدمۃ الکتاب رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵€
القرآن الکریم ∞۳۹ /۱۸،۱۷€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۳۵€
القرآن الکریم ∞۳۹ /۱۸،۱۷€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۳۵€
ابوداؤدترمذی نے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما اصر من استغفر جس نے معانی مانگ لی اس نے ہٹ نہ کی۔امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان الحق قدیم ولا یبطل الحق شیئ و مراجعۃ الحق خیر من التمادی فی الباطل ۔رواہ الدار قطنی و البیہقی و ابن عساکر عن ابی العوام البصری۔ بیشك حق قدیم ہے حق کوکوئی چیز باطل نہیں کرتی حق کی طرف رجوع باطل پر قائم رہنے سے بہتر ہے(اس کو دار قطنیبیہقی اور ابن عساکر نے ابو العوام البصری سے روایت کیا ہے۔ت)
یہ فرمان امیر المومنین نے اپنے قاضی ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ کو ارسال فرمایا:خوشی و شادمانی ہے انہیں جو سنیں اورگردن رکھیں انسان سے خطا مستبعد نہیں مگر خیر الخطائین التوابون خطا کی خیر اس میں ہے کہ توبہ کرے رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم وصححہ انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اس کو احمدترمذیابن ماجہ اور حاکم نے صحیح کہہ کر انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ت)حق کی طرف رجوع سے عار وسوسہ ابلیس ہے اس کا ساتھ بہتر یا اس کے ارشاد کی اطاعت جو قرآن مجید میں فرماچکا کہ خطا پر اصرار نہ کیا تو میں نے تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہےشیطان سمجھتا ہے کہ رجوع کی تو علم و عقل کو بٹالگے گا۔ دشمن جھوٹا ہے اور اﷲ سچا کہ اچھی بات سن کر ماننے والے ہی ہدایت پر ہیں اور وہی عقل والے ہیں اﷲ توفیق دے۔
بست و نہم:یہ فتوے چھپ کر شائع ہوئے ان کا ضرر متعدی ہواکہاں دہلی کرنال کہاں راولپنڈی گولڑہ جہاں سے یہاں آیااس کا ازالہ مفتی و مصدقین سب پر فرض ہےجیسے یہ فتوے شائع ہوئے یوں ہی ان کا بطلانان سے رجوع ملك میں شائع کریں اس میں اﷲ کی رضا ہے اﷲ کے رسول کی رضا ہےخلق کے نزدیك عزت و وقعت ہےحق پسند کا لقب ملنا بڑی دولت ہے رسول اﷲ
ما اصر من استغفر جس نے معانی مانگ لی اس نے ہٹ نہ کی۔امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان الحق قدیم ولا یبطل الحق شیئ و مراجعۃ الحق خیر من التمادی فی الباطل ۔رواہ الدار قطنی و البیہقی و ابن عساکر عن ابی العوام البصری۔ بیشك حق قدیم ہے حق کوکوئی چیز باطل نہیں کرتی حق کی طرف رجوع باطل پر قائم رہنے سے بہتر ہے(اس کو دار قطنیبیہقی اور ابن عساکر نے ابو العوام البصری سے روایت کیا ہے۔ت)
یہ فرمان امیر المومنین نے اپنے قاضی ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ کو ارسال فرمایا:خوشی و شادمانی ہے انہیں جو سنیں اورگردن رکھیں انسان سے خطا مستبعد نہیں مگر خیر الخطائین التوابون خطا کی خیر اس میں ہے کہ توبہ کرے رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم وصححہ انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اس کو احمدترمذیابن ماجہ اور حاکم نے صحیح کہہ کر انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ت)حق کی طرف رجوع سے عار وسوسہ ابلیس ہے اس کا ساتھ بہتر یا اس کے ارشاد کی اطاعت جو قرآن مجید میں فرماچکا کہ خطا پر اصرار نہ کیا تو میں نے تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہےشیطان سمجھتا ہے کہ رجوع کی تو علم و عقل کو بٹالگے گا۔ دشمن جھوٹا ہے اور اﷲ سچا کہ اچھی بات سن کر ماننے والے ہی ہدایت پر ہیں اور وہی عقل والے ہیں اﷲ توفیق دے۔
بست و نہم:یہ فتوے چھپ کر شائع ہوئے ان کا ضرر متعدی ہواکہاں دہلی کرنال کہاں راولپنڈی گولڑہ جہاں سے یہاں آیااس کا ازالہ مفتی و مصدقین سب پر فرض ہےجیسے یہ فتوے شائع ہوئے یوں ہی ان کا بطلانان سے رجوع ملك میں شائع کریں اس میں اﷲ کی رضا ہے اﷲ کے رسول کی رضا ہےخلق کے نزدیك عزت و وقعت ہےحق پسند کا لقب ملنا بڑی دولت ہے رسول اﷲ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الدعوات احادیث شتی من ابواب الدعوات ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹۵€
سنن الدار قطنی کتاب الاقضیہ والاحکام نشر السنۃ ∞ملتان ۴ /۲۰۷€
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیامۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۷۳€
سنن الدار قطنی کتاب الاقضیہ والاحکام نشر السنۃ ∞ملتان ۴ /۲۰۷€
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیامۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۷۳€
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاعلمت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السربالسر والعلانیۃبالعلانیۃ ۔رواہ الامام احمد فی الزہد و الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جب تو گناہ کرے تو فورا توبہ کرخفیہ کی خفیہ اور علانیہ کی علانیہ۔(اس کو امام احمد نے زہد میں اور طبرانی نے کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
افسوس کہ چھاپنے والے صاحب نے تمہید میں لکھا تھا"بغرض اطلاع عام مسلمان اور علمائے حنفیہ ہندوستان عرض کیا جاتا ہے"اور آخر میں لکھا تھا"یہ مضمون اہل اسلام ہند اور علمائے حنفیہ کے روبروپیش کرنا ہے"ممکن کہ قریب مواضع دیوبند تھانہ بھون بھیجا اور جواب موافق ملایا سکوت رہا ہویہاں اب تین برس کے بعد ایك بندہ خدا نے بھیجا اور اس کی صحت وبطلان سے استفتاء کیا اول ہی آجاتا تو مفتی و مصدقین پر حق جلد کھل جاتا۔ماننا نہ ماننا جب بھی تو فیق پر تھا اب بھی توفیق پر ہے
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے اور اﷲ تعالی ہی جسے چاہتا ہدایت فرماتا ہے۔(ت)
سیم:اشاعت فتوے میں لکھا ہے کہ جائداد کرنال کے واقف حکما محجور و ممنوع التصرف کردئے گئے تھے اور حکام رجسٹری کو ممانعت کی گئی تھی کہ ان کی کسی دستاویز انتقال پر رجسٹری نہ کریں اس کے احکام امتناعی کرنالمظفر نگرالہ آباد تین محکموں سے ۲۴/اگست لغایت ۷/ ستمبر ۱۹۰۸ء صادر ہوچکے تھےپھر بھی یہ لکھا ہے کہ انہوں نے ۲۵ / اگست ۱۹۰۸ ء کو اپنی جائداد کا وقف نامہ لکھا اور ۲۵/ستمبر ۱۹۰۸ء کو اس پر رجسٹری ہوئی۔احکام امتناعی کے بعد رجسٹری کیونکر ہوئی تو وہ بھی حکم ہے جس سے فك حجر متصور ہو یا بطور خود کسی اہلکار کی حکم عدولیبہر حال یہ قانونی بحث ہےشریعت مطہرہ کے حکم میں بلا شبہہ وہ وقف صحیح ہو کرتام و نافذ و لازم ہے جائداد ملك واقف سے خارج ہوکر خالص ملك الہی عزوجل ہوگئیاور اب ان فتووں کی روسے ورثا وقف کو باطل کرکے اس پر مالکانہ قابض ہوگئے اس کا وبال عنداﷲ مفتی و مصدقین کے سر ہے بقائے جائداد تك اس مال خدا میں جتنے تصرفات مالکانہ نسلا بعد نسل ہوا کرینگے ہمیشہ ان کا وبال مفتی و مصدقین کی زندگی میں اور بعد موت قبر میں پہنچتا رہے گا
اذاعلمت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السربالسر والعلانیۃبالعلانیۃ ۔رواہ الامام احمد فی الزہد و الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جب تو گناہ کرے تو فورا توبہ کرخفیہ کی خفیہ اور علانیہ کی علانیہ۔(اس کو امام احمد نے زہد میں اور طبرانی نے کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
افسوس کہ چھاپنے والے صاحب نے تمہید میں لکھا تھا"بغرض اطلاع عام مسلمان اور علمائے حنفیہ ہندوستان عرض کیا جاتا ہے"اور آخر میں لکھا تھا"یہ مضمون اہل اسلام ہند اور علمائے حنفیہ کے روبروپیش کرنا ہے"ممکن کہ قریب مواضع دیوبند تھانہ بھون بھیجا اور جواب موافق ملایا سکوت رہا ہویہاں اب تین برس کے بعد ایك بندہ خدا نے بھیجا اور اس کی صحت وبطلان سے استفتاء کیا اول ہی آجاتا تو مفتی و مصدقین پر حق جلد کھل جاتا۔ماننا نہ ماننا جب بھی تو فیق پر تھا اب بھی توفیق پر ہے
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے اور اﷲ تعالی ہی جسے چاہتا ہدایت فرماتا ہے۔(ت)
سیم:اشاعت فتوے میں لکھا ہے کہ جائداد کرنال کے واقف حکما محجور و ممنوع التصرف کردئے گئے تھے اور حکام رجسٹری کو ممانعت کی گئی تھی کہ ان کی کسی دستاویز انتقال پر رجسٹری نہ کریں اس کے احکام امتناعی کرنالمظفر نگرالہ آباد تین محکموں سے ۲۴/اگست لغایت ۷/ ستمبر ۱۹۰۸ء صادر ہوچکے تھےپھر بھی یہ لکھا ہے کہ انہوں نے ۲۵ / اگست ۱۹۰۸ ء کو اپنی جائداد کا وقف نامہ لکھا اور ۲۵/ستمبر ۱۹۰۸ء کو اس پر رجسٹری ہوئی۔احکام امتناعی کے بعد رجسٹری کیونکر ہوئی تو وہ بھی حکم ہے جس سے فك حجر متصور ہو یا بطور خود کسی اہلکار کی حکم عدولیبہر حال یہ قانونی بحث ہےشریعت مطہرہ کے حکم میں بلا شبہہ وہ وقف صحیح ہو کرتام و نافذ و لازم ہے جائداد ملك واقف سے خارج ہوکر خالص ملك الہی عزوجل ہوگئیاور اب ان فتووں کی روسے ورثا وقف کو باطل کرکے اس پر مالکانہ قابض ہوگئے اس کا وبال عنداﷲ مفتی و مصدقین کے سر ہے بقائے جائداد تك اس مال خدا میں جتنے تصرفات مالکانہ نسلا بعد نسل ہوا کرینگے ہمیشہ ان کا وبال مفتی و مصدقین کی زندگی میں اور بعد موت قبر میں پہنچتا رہے گا
حوالہ / References
الزہد للامام احمدبن حنبل ترجمہ الامام احمد بن حنبل الدیان للتراث ∞قاہرہ مصر ص۳۵€
خود فتوے نے تسلیم کیاہے کہ احکام قانونی شرعا وہی مفید ہیں جو مطابق شرع ہوں نامسلم تو نامسلم خود قاضیان اسلام بلکہ سلاطین اسلام اگر کوئی چیز زید کو برخلاف حکم شرع دلادیں وہ ہر گز اس کے لئے حلال نہ ہوجائے گی احکام سلاطین دنیا تك ہیں آخرت میں کام نہیں آسکتےسلاطین درکنار خود صاحب شریعت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انکم تختصمون الی فلعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی نحومما اسمع فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعۃ عن النار فلیأخذھا او لیترکھا ۔رواہ الائمۃ مالك واحمد و الستۃ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ صاف ارشاد فرمایا کہ ایك اگر اپنی چرب زبانی کے باعث حجت میں بازی لے جائے اور ہم اسے ڈگری دے دیں اور واقع میں اس کاحق نہ ہو تو ہماراڈگری فرمانا اسے مفید نہ ہوگا وہ مال نہیں اس کے حق میں جہنم کی آگ کا گڑھا ہے چاہے اسے لے یا چھوڑ دے(اسکو امام مالکاحمد اور ائمہ صحاح ستہ نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
مفتی و مصدقین پر فرض ہے کہ جس طرح اپنے غلط فتوے سے یہ آتش دوزخ کاٹکڑا ورثہ کو دلایا یونہی اپنی صحیح ولوجہ اﷲ کوششوں سے انہیں اس سے بچانے کی فکر کریں ورنہ انما علیك اثم الاریسیین(کاشتکاروں کا گناہ تجھی پر ہے۔ت)اﷲ واحد قہار سے ڈریں اور "و لیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم ۫ و لیسـلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون ﴿۱۳﴾ " (اور وہ اپنا بوجھ اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ اٹھائیں گےاور ضرور ان سے قیامت کے روز ان کی افتراء بازی پر سوال ہوگا۔ت)کی جانگزا آفت سے پرہیز کریں۔یہ ضرور ہے کہ بہت ابنائے دنیا کو ملا ہوا مال چھوڑنا سخت دشوار بلکہ ناممکن ہوتا ہے مگر زمانہ اﷲ کے ڈر والے بندوں سے خالی نہیں اور نصیحت نفع دیتی ہے " و ذکر فان الذکری تنفع المؤمنین ﴿۵۵﴾ " (آپ یاد دہانی کرائیں تو بیشك یاد دہانی مومنوں کو نفع دے گی۔ت) ابلیس کہ دشمن راہ خدا ہے دوسروں کے بتانے میں آپ کے باطل
انکم تختصمون الی فلعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی نحومما اسمع فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعۃ عن النار فلیأخذھا او لیترکھا ۔رواہ الائمۃ مالك واحمد و الستۃ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ صاف ارشاد فرمایا کہ ایك اگر اپنی چرب زبانی کے باعث حجت میں بازی لے جائے اور ہم اسے ڈگری دے دیں اور واقع میں اس کاحق نہ ہو تو ہماراڈگری فرمانا اسے مفید نہ ہوگا وہ مال نہیں اس کے حق میں جہنم کی آگ کا گڑھا ہے چاہے اسے لے یا چھوڑ دے(اسکو امام مالکاحمد اور ائمہ صحاح ستہ نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
مفتی و مصدقین پر فرض ہے کہ جس طرح اپنے غلط فتوے سے یہ آتش دوزخ کاٹکڑا ورثہ کو دلایا یونہی اپنی صحیح ولوجہ اﷲ کوششوں سے انہیں اس سے بچانے کی فکر کریں ورنہ انما علیك اثم الاریسیین(کاشتکاروں کا گناہ تجھی پر ہے۔ت)اﷲ واحد قہار سے ڈریں اور "و لیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم ۫ و لیسـلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون ﴿۱۳﴾ " (اور وہ اپنا بوجھ اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ اٹھائیں گےاور ضرور ان سے قیامت کے روز ان کی افتراء بازی پر سوال ہوگا۔ت)کی جانگزا آفت سے پرہیز کریں۔یہ ضرور ہے کہ بہت ابنائے دنیا کو ملا ہوا مال چھوڑنا سخت دشوار بلکہ ناممکن ہوتا ہے مگر زمانہ اﷲ کے ڈر والے بندوں سے خالی نہیں اور نصیحت نفع دیتی ہے " و ذکر فان الذکری تنفع المؤمنین ﴿۵۵﴾ " (آپ یاد دہانی کرائیں تو بیشك یاد دہانی مومنوں کو نفع دے گی۔ت) ابلیس کہ دشمن راہ خدا ہے دوسروں کے بتانے میں آپ کے باطل
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الاقضیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۴،€صحیح البخاری کتاب الحیل و کتاب الاحکام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۳۰ و ۱۰۶۲،€مؤطاامام مالک کتاب الاقضیہ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ص۶۳۲،€مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۲۰۲ و ۲۹۰ و ۳۰۸€
القرآن الکریم ∞۲۹/ ۱۳€
القرآن الکریم ∞۵۱/ ۵۵€
القرآن الکریم ∞۲۹/ ۱۳€
القرآن الکریم ∞۵۱/ ۵۵€
فتووں کا حیلہ سکھائے گا کہ اتنے مولوی حلال کررہے ہیں عذاب ہے تو ان کی گردن پرمگر جب آپ حضرات خود ہی خوف خدا کرکے حق حکم ان پر ظاہر کریں گے تو کیا عجب کہ اﷲ عزوجل اپنے بندوں کو حرام مال سے بچنے اور وقف خدا پر تصرف نہ کرنے کی توفیق بخشے اور جب وہ رئیس جاگیر دار ہیں تو شائد اسی پر ان کا ذریعہ رزق منحصر نہ ہو اور ہو تو رزق اﷲ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے حرام کھانے سے فاقہ لاکھ جگہ بہتر ہے اور اس میں حکام کی کچھ مخالفت نہیں جس پر ڈگری ہو وہ مجبور کیا جاتاہے جس کی ڈگری ہو اگر خدا سے ڈرے اور اس مال کو چھوڑدے حکام کو ہر گز اس سے تعرض نہ ہوگا۔کیا اچھاہو کہ روز قیامت اﷲ واحد وقہار کے حضور کھڑے ہونے سے ڈریں اور قلیل وذلیل و فانی مال چھوڑ کر جلیل و جزیل و باقی ثواب لیں۔بہر حال مفتی و مصدقین پر اپنے فرض سے ادا ہونا فرض ہے یہ محض خالص اسلامی عرض ہے۔دیکھیں کون بندہ خدا سبقت کرتا اور رضائے الہی و ثواب عقبی و ثنائے دنیا کا مستحق ٹھہرتا ہےاﷲ عزوجل توفیق دے
فستذکرون ما اقول لکم و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد ﴿۴۴﴾ " وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔ تو عنقریب یاد کروگے جو تمہیں کہہ رہا ہوںمیں اپنا معاملہ اﷲ تعالی کے سپرد کرتا ہوں۔تحقیق اﷲ تعالی بندوں کو دیکھتا ہےہم کو اﷲ تعالی کافی ہے۔(ت)
وصلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین والحمدﷲ رب العالمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
مسئلہ ۱۱۵: ازریاست رامپور محلہ لال قبر مرسلہ سید احمد حسن صاحب ۲۷شوال المکرم ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ہندہ نے ۱۵/ نومبر ۱۹۱۴ء کو ایك مکان خریدا۱۷/ جنوری ۱۹۱۵ء کو زید نے اس پر دعوی شفعہ کیا اور ۸/ جنوری کو علم بیع ہونا اور اسی وقت طلب مواثبات واشہاد بجالانابیان کیا اور اس پر پانچ گواہ دئیے ہندہ نے سات گواہ تسلیم شفعہ کے پیش کئے حاکم نے ان گواہوں پر اعتماد فرماکر دعوی رد کردیا مدعی نے اپیل کی اور گواہان ہندہ پر بہت سی جرحیں نکالیں اور ان کے متعلق دو فتوے داخل کئےسائل نے بریلی دارالافتاء سے
فستذکرون ما اقول لکم و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد ﴿۴۴﴾ " وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔ تو عنقریب یاد کروگے جو تمہیں کہہ رہا ہوںمیں اپنا معاملہ اﷲ تعالی کے سپرد کرتا ہوں۔تحقیق اﷲ تعالی بندوں کو دیکھتا ہےہم کو اﷲ تعالی کافی ہے۔(ت)
وصلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین والحمدﷲ رب العالمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
مسئلہ ۱۱۵: ازریاست رامپور محلہ لال قبر مرسلہ سید احمد حسن صاحب ۲۷شوال المکرم ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ہندہ نے ۱۵/ نومبر ۱۹۱۴ء کو ایك مکان خریدا۱۷/ جنوری ۱۹۱۵ء کو زید نے اس پر دعوی شفعہ کیا اور ۸/ جنوری کو علم بیع ہونا اور اسی وقت طلب مواثبات واشہاد بجالانابیان کیا اور اس پر پانچ گواہ دئیے ہندہ نے سات گواہ تسلیم شفعہ کے پیش کئے حاکم نے ان گواہوں پر اعتماد فرماکر دعوی رد کردیا مدعی نے اپیل کی اور گواہان ہندہ پر بہت سی جرحیں نکالیں اور ان کے متعلق دو فتوے داخل کئےسائل نے بریلی دارالافتاء سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۰ /۴۴€
فتوی چاہا اس پر فیصلہ واظہارات جملہ گواہان فریقین کی نقول باضابطہ لانے کا حکم ہواسائل نے نقول حاصل کیں اور حسب الحکم مع نقل ہر دو فتوائے مدخلہ مدعی حاضر دارالافتاء ہیں امید کہ بعد ملاحظہ حکم شرعی سے خالصا لوجہ اﷲاطلاع عطا ہو۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب نقول مذکورہ مطلوبہ دارالافتاء مدخلہ سائل ملاحظہ ہوئیں باضابطہ نقلیں اس لئے طلب کی تھیں کہ تجربہ سے سائلوں کا خلاف روداد اظہار کرکے فتوی لینا ثابت ہولیا تھا جس میں سراسر اضاعت وقت دارالافتاء تھی فیصلہ و اظہارات کا ملاحظہ بنگاہ اولین بتاتا ہے کہ مدعی اپنے دعوی شفعہ کو بروجہ شرعی ثابت کرنے میں محض ناکام رہاعند الشرع دعوی واجب الرد ہے جیسا کہ ذی علم فاضل مفتی نے کیا۔تمام ابحاث کہ دونوں فتووں میں ظاہر کی گئیں ان پر فردا فردا نظر اور ہر باطل کا ابطال مستقل ایك وقت چاہتا تھا مگر ہر دو فتوے مدخلہ مدعی خود ہی رد دعوی کوکافی و وافی ہیں ان سے زیادہ ثبوت کی حاجت نہیں کہ وہ خود مسلمہ مدعی ہیں لہذا انہیں وجوہ مقبولہ مدعی ومفتیان مدعی سے بطلان دعوی ثابت کرکے صرف ایك وجہ شرعی اور اضافہ کریں جس کی طرف فیصلہ میں بھی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
وجہ اول:پہلے فتوے میں گواہ ہندہ سید ابو القاسم پر یہ اعتراض ہے کہ اس کے بیان میں مدعی بہا کا تعین نہیںمدعی بہا عــــــہ یہاں مکان ہے اس کی تعیین کے دو طریقے ہیں:ایك نشان دہیدوسرے بیان حدود۔دونوں اس کے بیان میں نہیںایسی حالت میں گواہی کیونکر مقبول ہوسکتی ہےاورا س پر قاضی خاں کی تین عبارتیں پیش کیںسید ابو القاسم کے بیان میں وعدہ نشان دہی ہے کہ مکان کو موقع پربتادوں گا۔پانچوں گواہان مدعی نے بھی صرف وعدہ نشان دہی کیا ہےجب وہ کافی نہیں تو مدعی کی پانچوں گواہیاں مدعا بہا سے خالی اور واجب الرد و نا مقبول ہوئیں کہ ان میں نہ بیان حدود ہے نہ نشاندہیبلکہ رحمت علی خاں نے صراحۃ کہا ہے مظہر حدیں مکان متنازعہ کی نہیں بتاسکتامظہر حدیں دیکھنے نہیں گیا تھاگواہیوں میں وقت طلب شفعہ جانب مکان اشارہ مدعی کا بیان نہ گواہ کا اشارہ ہوا نہ بیان حدود۔مدعی نے اس وقت اشارہ کیا ہو گواہ تو نہیں بتاتے کہ وہ کون سا مکان ہے جس کی طرف اشارہ کرکے طلب مواثبت کی تھی فتوی مدعی کو تسلیم ہے کہ اسکی
عــــــہ: فتوے میں ہر جگہ یہ لفظ متدعویہ ہے کہ محض مہمل و بے معنی ہے۱۲۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب نقول مذکورہ مطلوبہ دارالافتاء مدخلہ سائل ملاحظہ ہوئیں باضابطہ نقلیں اس لئے طلب کی تھیں کہ تجربہ سے سائلوں کا خلاف روداد اظہار کرکے فتوی لینا ثابت ہولیا تھا جس میں سراسر اضاعت وقت دارالافتاء تھی فیصلہ و اظہارات کا ملاحظہ بنگاہ اولین بتاتا ہے کہ مدعی اپنے دعوی شفعہ کو بروجہ شرعی ثابت کرنے میں محض ناکام رہاعند الشرع دعوی واجب الرد ہے جیسا کہ ذی علم فاضل مفتی نے کیا۔تمام ابحاث کہ دونوں فتووں میں ظاہر کی گئیں ان پر فردا فردا نظر اور ہر باطل کا ابطال مستقل ایك وقت چاہتا تھا مگر ہر دو فتوے مدخلہ مدعی خود ہی رد دعوی کوکافی و وافی ہیں ان سے زیادہ ثبوت کی حاجت نہیں کہ وہ خود مسلمہ مدعی ہیں لہذا انہیں وجوہ مقبولہ مدعی ومفتیان مدعی سے بطلان دعوی ثابت کرکے صرف ایك وجہ شرعی اور اضافہ کریں جس کی طرف فیصلہ میں بھی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
وجہ اول:پہلے فتوے میں گواہ ہندہ سید ابو القاسم پر یہ اعتراض ہے کہ اس کے بیان میں مدعی بہا کا تعین نہیںمدعی بہا عــــــہ یہاں مکان ہے اس کی تعیین کے دو طریقے ہیں:ایك نشان دہیدوسرے بیان حدود۔دونوں اس کے بیان میں نہیںایسی حالت میں گواہی کیونکر مقبول ہوسکتی ہےاورا س پر قاضی خاں کی تین عبارتیں پیش کیںسید ابو القاسم کے بیان میں وعدہ نشان دہی ہے کہ مکان کو موقع پربتادوں گا۔پانچوں گواہان مدعی نے بھی صرف وعدہ نشان دہی کیا ہےجب وہ کافی نہیں تو مدعی کی پانچوں گواہیاں مدعا بہا سے خالی اور واجب الرد و نا مقبول ہوئیں کہ ان میں نہ بیان حدود ہے نہ نشاندہیبلکہ رحمت علی خاں نے صراحۃ کہا ہے مظہر حدیں مکان متنازعہ کی نہیں بتاسکتامظہر حدیں دیکھنے نہیں گیا تھاگواہیوں میں وقت طلب شفعہ جانب مکان اشارہ مدعی کا بیان نہ گواہ کا اشارہ ہوا نہ بیان حدود۔مدعی نے اس وقت اشارہ کیا ہو گواہ تو نہیں بتاتے کہ وہ کون سا مکان ہے جس کی طرف اشارہ کرکے طلب مواثبت کی تھی فتوی مدعی کو تسلیم ہے کہ اسکی
عــــــہ: فتوے میں ہر جگہ یہ لفظ متدعویہ ہے کہ محض مہمل و بے معنی ہے۱۲۔
تعیین کے دو۲ ہی طریقے تھے:نشاندہی یا بیان حدوداور وہ دونوں یہاں مفقودلہذا پانچوں گواہیاں مردود۔
وجہ دوم:عجب یہ کہ گواہی ہندہ میں مکان خود مدعی بہ نہیں بلکہ اس کا دعوی تسلیم شفعہ کا ہے مکان صرف متعلقات دعوی سے ہے تو جہاں وعدہ نشاندہی کافی ہو کر صرف ایك شے متعلق دعوی کی تعیین نہ ہونے سے فتوائے مدعی نے شہادتوں کو ناممکن القبول بنایا تو یہاں کہ خود مکان ہی مدعی بہ ہے وعدہ نشان دہی ناکافی ہو کر بیان گواہان میں اس کا عدم تعیین کیوں نہ ان تمام شہادات کو واجب الرد کرے گا۔
وجہ سوم:فتوے نے گواہان ہندہ محمد صدیق خاںمحمد سعید خاںمحمد علی خاں پر بھی یہی عدم تعیین مدعی بہ کا اعتراض کرکے فرمایا اس لئے شہادت ان کی بالمجہول شرعا لغو و باطل ہے اور اس پر قاضی خاں اور عالمگیریہ کی عبارتیں پیش کیں۔یہ سب سے عجیب تر ہے ان تینوں کے اظہار خود موقع پر ہوئے اور نقول میں ہر ایك کے ساتھ صاف تصریح ہے کہ نشاندہی کردی تو اولا: ان کی شہادت کو بالمجہول کہنا کیسا صریح لغو وباطل ہے۔
ثانیا: جب بالفعل نشاندہی بھی تعیین کو کافی نہ ہوئی تو پانچوں گواہان مدعی کے بیان میں کہ نشاندہی کا صرف وعدہ ہے سودرجہ زائد ان کی شہادت بالمجہول و لغو و باطل کرے گا۔
وجہ چہارم:وہی کہ گواہی مدعا علیہا میں مکان مدعی بہ نہیں جب یہاں نشاندہی کافی نہ ہوئی شہادات مدعی میں کہ خود مکان مدعی بہ ہے وعدہ کس درجہ باطل و ناکام ہوگا۔
تنبیہ:ان افادوں کے بعد دارالافتاء کو اس بحث کی طرف توجہ کی اصلا حاجت نہیں کہ اس عدم تعیین کا جواب فیصلہ میں یہ فرمایا کہ تسلیم اسقاط ہے اس میں تعیین کی ضرورت نہیں اور فتوے نے اس پر رد کیا کہ اس حالت میں ہے کہ اسقاط بالفاظ صریحہ ہوا ہو ورنہ تسلیم لغو بعد تسلیم اختیار دعوی حاصلاور اس پرعالمگیری کی عبارت پیش کیاگرچہ یہ جواب ہر گز صحیح نہیں۔
اولا:وہ عبارت عالمگیری تسلیم دلالۃ میں ہے مثلا خبر بیع سن کرخاموش رہنا اٹھ جانا یا مشتری سے مبیعہ کی خریداری یا ہبہ یا اجارہ کی خواہشاور یہاں تسلیم ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے کہ اچھی بیگم نے مکان خرید لیا میں بہت خوش ہوااس کے لینے سے میں خوش ہوںمناسب ہےاچھا کیایہ دلالۃ تسلیم کی شق میں کیونکر جاسکتے ہیں۔
ثانیا:دلالۃ تسلیم میں بھی صرف علم شفیع بالبیع درکار ہے نہ کہ تسلیم میں تعیین حدود جس پر
وجہ دوم:عجب یہ کہ گواہی ہندہ میں مکان خود مدعی بہ نہیں بلکہ اس کا دعوی تسلیم شفعہ کا ہے مکان صرف متعلقات دعوی سے ہے تو جہاں وعدہ نشاندہی کافی ہو کر صرف ایك شے متعلق دعوی کی تعیین نہ ہونے سے فتوائے مدعی نے شہادتوں کو ناممکن القبول بنایا تو یہاں کہ خود مکان ہی مدعی بہ ہے وعدہ نشان دہی ناکافی ہو کر بیان گواہان میں اس کا عدم تعیین کیوں نہ ان تمام شہادات کو واجب الرد کرے گا۔
وجہ سوم:فتوے نے گواہان ہندہ محمد صدیق خاںمحمد سعید خاںمحمد علی خاں پر بھی یہی عدم تعیین مدعی بہ کا اعتراض کرکے فرمایا اس لئے شہادت ان کی بالمجہول شرعا لغو و باطل ہے اور اس پر قاضی خاں اور عالمگیریہ کی عبارتیں پیش کیں۔یہ سب سے عجیب تر ہے ان تینوں کے اظہار خود موقع پر ہوئے اور نقول میں ہر ایك کے ساتھ صاف تصریح ہے کہ نشاندہی کردی تو اولا: ان کی شہادت کو بالمجہول کہنا کیسا صریح لغو وباطل ہے۔
ثانیا: جب بالفعل نشاندہی بھی تعیین کو کافی نہ ہوئی تو پانچوں گواہان مدعی کے بیان میں کہ نشاندہی کا صرف وعدہ ہے سودرجہ زائد ان کی شہادت بالمجہول و لغو و باطل کرے گا۔
وجہ چہارم:وہی کہ گواہی مدعا علیہا میں مکان مدعی بہ نہیں جب یہاں نشاندہی کافی نہ ہوئی شہادات مدعی میں کہ خود مکان مدعی بہ ہے وعدہ کس درجہ باطل و ناکام ہوگا۔
تنبیہ:ان افادوں کے بعد دارالافتاء کو اس بحث کی طرف توجہ کی اصلا حاجت نہیں کہ اس عدم تعیین کا جواب فیصلہ میں یہ فرمایا کہ تسلیم اسقاط ہے اس میں تعیین کی ضرورت نہیں اور فتوے نے اس پر رد کیا کہ اس حالت میں ہے کہ اسقاط بالفاظ صریحہ ہوا ہو ورنہ تسلیم لغو بعد تسلیم اختیار دعوی حاصلاور اس پرعالمگیری کی عبارت پیش کیاگرچہ یہ جواب ہر گز صحیح نہیں۔
اولا:وہ عبارت عالمگیری تسلیم دلالۃ میں ہے مثلا خبر بیع سن کرخاموش رہنا اٹھ جانا یا مشتری سے مبیعہ کی خریداری یا ہبہ یا اجارہ کی خواہشاور یہاں تسلیم ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے کہ اچھی بیگم نے مکان خرید لیا میں بہت خوش ہوااس کے لینے سے میں خوش ہوںمناسب ہےاچھا کیایہ دلالۃ تسلیم کی شق میں کیونکر جاسکتے ہیں۔
ثانیا:دلالۃ تسلیم میں بھی صرف علم شفیع بالبیع درکار ہے نہ کہ تسلیم میں تعیین حدود جس پر
یہاں بحث ہےخود اسی عبارت عالمگیری میں تسلیم صریح اما یجری مجراہ میں فرمایا:
سواء علم بالبیع اولم یعلم ان کان بعد البیع ۔ بیع کے بعد ہو تو بیع کا علم ہو یا نہ ہو برابر ہے۔(ت)
اور دلالۃ میں فرمایا:
لایسقط حقہ ثمہ الابعد العلم ۔ وہاں حق ساقط نہ ہوگا مگر علم کے بعد۔(ت)
وجہ پنجم:فتوے نے گواہ ہندہ سید اچھے میاں کی شہادت پر یہ اعتراض کیا کہ تعیین و تعریف مدعی و مدعا علیہ کی کرنا گواہ پر ضروری ہے بلا اس کے گواہی نامعقول ہے اور تعریف و تعیین بصورت موجودگی مدعی و مدعا علیہ وقت ادائے شہادت اشارہ سے چاہئے یہ یہاں مقصود ہے اور اس پر عالمگیری کی عبارت پیش کی۔گواہ کے لفظ یہ ہیں:"اس میں پیارے میاں صاحب مدعی حاضر عدالت نے فرمایا یہ مکان تم نے اچھی بیگم کے نام خریدا ہے مناسب ہے"۔اگر مدعی کا نام اور یہ صفت کہ مدعی اور یہ وصف کہ حاضر عدالت ان تینوں کا اجتماع تعیین و تعریف کے لئے کافی نہیں بلکہ بوجہ حضور مدعی خاص اشارہ ہی لازم تھا تو مدعی کے پانچوں گواہوں میں بعینہ یہی حالت ہے ایك نے بھی مدعی کی طرف اشارہ نہ کیا سب نے پیارے میاں مدعی حاضر عدالت ہی کہا ہے یا برادر مدعی سید وزیر علی نے اتنا اور بڑھایا جن کو شجاعت علی کہتے ہیں تو ثابت ہوا کہ بحکم فتوائے مدخلہ مدعی پانچوں گواہان مدعی کی گواہیاں مردود ہیں۔
وجہ ششم:دوسرااعتراض اسی گواہ پر عدم تعیین مدعا علیہا سے کیا کہ بصورت عدم موجودگی عام آدمی کی تعیین ولدیت وغیرہ سے چاہئے تھی وہ بھی متحقق ان کے بیان میں نہیں ہے لہذا شہادت ان کی شرعا ہرگز قابل قبول نہیں اس پر بھی وہی عبارت عالمگیری سند ہے یہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ سید اچھے میاں نے صرف اچھی بیگم کہا اور گواہان مدعی سوائے سید وزیر علی کے بیان میں بھی اگرچہ اچھی بیگم کی ولدیت مذکور نہیں مگر خبر وطلب یعنی شاہ علی حیدر کےاخبار اور مدعی کے طلب شفعہ میں بیان زوجیت ہے مخبر نے کہا مکان مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے مول لیا الخ مدعی نے کہا جس قیمت کو یہ مکان مدن میاں کی بیوی اچھی بیگم نے مول لیا فتوی میں یہ عبارت عالمگیری اس لفظ تك نقل فرمائی:
سواء علم بالبیع اولم یعلم ان کان بعد البیع ۔ بیع کے بعد ہو تو بیع کا علم ہو یا نہ ہو برابر ہے۔(ت)
اور دلالۃ میں فرمایا:
لایسقط حقہ ثمہ الابعد العلم ۔ وہاں حق ساقط نہ ہوگا مگر علم کے بعد۔(ت)
وجہ پنجم:فتوے نے گواہ ہندہ سید اچھے میاں کی شہادت پر یہ اعتراض کیا کہ تعیین و تعریف مدعی و مدعا علیہ کی کرنا گواہ پر ضروری ہے بلا اس کے گواہی نامعقول ہے اور تعریف و تعیین بصورت موجودگی مدعی و مدعا علیہ وقت ادائے شہادت اشارہ سے چاہئے یہ یہاں مقصود ہے اور اس پر عالمگیری کی عبارت پیش کی۔گواہ کے لفظ یہ ہیں:"اس میں پیارے میاں صاحب مدعی حاضر عدالت نے فرمایا یہ مکان تم نے اچھی بیگم کے نام خریدا ہے مناسب ہے"۔اگر مدعی کا نام اور یہ صفت کہ مدعی اور یہ وصف کہ حاضر عدالت ان تینوں کا اجتماع تعیین و تعریف کے لئے کافی نہیں بلکہ بوجہ حضور مدعی خاص اشارہ ہی لازم تھا تو مدعی کے پانچوں گواہوں میں بعینہ یہی حالت ہے ایك نے بھی مدعی کی طرف اشارہ نہ کیا سب نے پیارے میاں مدعی حاضر عدالت ہی کہا ہے یا برادر مدعی سید وزیر علی نے اتنا اور بڑھایا جن کو شجاعت علی کہتے ہیں تو ثابت ہوا کہ بحکم فتوائے مدخلہ مدعی پانچوں گواہان مدعی کی گواہیاں مردود ہیں۔
وجہ ششم:دوسرااعتراض اسی گواہ پر عدم تعیین مدعا علیہا سے کیا کہ بصورت عدم موجودگی عام آدمی کی تعیین ولدیت وغیرہ سے چاہئے تھی وہ بھی متحقق ان کے بیان میں نہیں ہے لہذا شہادت ان کی شرعا ہرگز قابل قبول نہیں اس پر بھی وہی عبارت عالمگیری سند ہے یہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ سید اچھے میاں نے صرف اچھی بیگم کہا اور گواہان مدعی سوائے سید وزیر علی کے بیان میں بھی اگرچہ اچھی بیگم کی ولدیت مذکور نہیں مگر خبر وطلب یعنی شاہ علی حیدر کےاخبار اور مدعی کے طلب شفعہ میں بیان زوجیت ہے مخبر نے کہا مکان مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے مول لیا الخ مدعی نے کہا جس قیمت کو یہ مکان مدن میاں کی بیوی اچھی بیگم نے مول لیا فتوی میں یہ عبارت عالمگیری اس لفظ تك نقل فرمائی:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۸€۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۸۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۸۲€
یحتاج الی تسمیۃ الشہود اسم المیت واسم الغائب واسم ابیہما ۔ گواہوں کے نام اور میت اور غیر حاضر اور ان کی ولدیت کے نام ضروری ہیں۔(ت)
اس کا ظاہر یہ ہے کہ بیان ولدیت ضرور ہے جس سے چاروں گواہان مذکورہ مدعی کے بیان بھی خالی ہیں مگر یہاں کارروائی اور ہے فتوے نے ناقص عبارت نقل کی اور اس کا تتمہ کہ مضر جملہ شاہدان مذکور مدعی تھا چھوڑ دیا اس کے بعد عبارت عالمگیری یوں ہے:
واسم جد ھما شرط الخصاف ذکر الجد للتعریف وھکذا ذکر فی الشروطومن مشائخنا من قال ھذا قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہمااﷲ تعالی اما علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فذکر الاب یکفی کذافی الذخیرۃوالصحیح ان النسبۃ الی الجد لابد منھا کذافی البحر الرائق ۔ یعنی غیر مشہور شخص کہ حاضر نہیں ضرور ہے کہ اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے دادا کا نام گواہ لیں امام خصاف نے تعریف کیلئے دادا کاذکر شرط فرمایاہے کہ ایسا ہی کتاب الشروط میں ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ دادا کا نام لینا ضروری ہونا حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رحمہما اﷲ تعالی کا قول ہےامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك باپ کا نام کافی ہے ایسا ہی ذخیرہ میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کا نام لئے بغیر چارہ نہیں ایسا ہی بحرا لرائق میں ہے۔
یہاں تك عالمگیری کی پوری عبارت تھی جس میں صرف باپ کے نام تك نقل فرماکر باقی چھوڑی اب اگر ولدیت کی حاجت نہ بھی ہو تو عبارت مذکورہ کا صاف ارشاد ہے کہ ایك تقیید کافی نہیں دو ضرور ہیں یہی ہمارے امام مذہب کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے تو ان گواہان مدعی نے کہ فقط مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے کہا ایك ہی تقیید ہوئی اور تعیین کے لئے ناکافی ہو کر صحیح مذہب امام اعظم میں شہادتیں مردود ہوئیں جب آدمی اور اس کے باپ کا نام کافی نہیں کہ دو تك شرکت نادر نہیںممکن کہ اور شخص بھی اس نام کا ہو جس کا باپ بھی اس کے باپ کا ہمنام ہو لہذا نام جد ضرور ی ہے عورت اور اس کے شوہر کا نام کیوں کافی ہونے لگایہاں بھی ممکن کہ اور عورت بھی اس نام کی ہو جس کا شوہر بھی اس کے شوہر کے ہمنام ہولہذا تقیید دیگر بھی ضروری ہے رہے سید وزیر علیانہوں نے ضرور دو نام لئے شوہر کے ساتھ اچھی بیگم کے باپ کا نام ایوب شاہ بھی بتایا
اس کا ظاہر یہ ہے کہ بیان ولدیت ضرور ہے جس سے چاروں گواہان مذکورہ مدعی کے بیان بھی خالی ہیں مگر یہاں کارروائی اور ہے فتوے نے ناقص عبارت نقل کی اور اس کا تتمہ کہ مضر جملہ شاہدان مذکور مدعی تھا چھوڑ دیا اس کے بعد عبارت عالمگیری یوں ہے:
واسم جد ھما شرط الخصاف ذکر الجد للتعریف وھکذا ذکر فی الشروطومن مشائخنا من قال ھذا قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہمااﷲ تعالی اما علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فذکر الاب یکفی کذافی الذخیرۃوالصحیح ان النسبۃ الی الجد لابد منھا کذافی البحر الرائق ۔ یعنی غیر مشہور شخص کہ حاضر نہیں ضرور ہے کہ اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے دادا کا نام گواہ لیں امام خصاف نے تعریف کیلئے دادا کاذکر شرط فرمایاہے کہ ایسا ہی کتاب الشروط میں ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ دادا کا نام لینا ضروری ہونا حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رحمہما اﷲ تعالی کا قول ہےامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك باپ کا نام کافی ہے ایسا ہی ذخیرہ میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کا نام لئے بغیر چارہ نہیں ایسا ہی بحرا لرائق میں ہے۔
یہاں تك عالمگیری کی پوری عبارت تھی جس میں صرف باپ کے نام تك نقل فرماکر باقی چھوڑی اب اگر ولدیت کی حاجت نہ بھی ہو تو عبارت مذکورہ کا صاف ارشاد ہے کہ ایك تقیید کافی نہیں دو ضرور ہیں یہی ہمارے امام مذہب کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے تو ان گواہان مدعی نے کہ فقط مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے کہا ایك ہی تقیید ہوئی اور تعیین کے لئے ناکافی ہو کر صحیح مذہب امام اعظم میں شہادتیں مردود ہوئیں جب آدمی اور اس کے باپ کا نام کافی نہیں کہ دو تك شرکت نادر نہیںممکن کہ اور شخص بھی اس نام کا ہو جس کا باپ بھی اس کے باپ کا ہمنام ہو لہذا نام جد ضرور ی ہے عورت اور اس کے شوہر کا نام کیوں کافی ہونے لگایہاں بھی ممکن کہ اور عورت بھی اس نام کی ہو جس کا شوہر بھی اس کے شوہر کے ہمنام ہولہذا تقیید دیگر بھی ضروری ہے رہے سید وزیر علیانہوں نے ضرور دو نام لئے شوہر کے ساتھ اچھی بیگم کے باپ کا نام ایوب شاہ بھی بتایا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵€۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۹€
مگر افسوس کہ شوہر کا نام ودن میاں لیا اور شاہ حیدر علی کے بیان میں بھی یونہی کہا کہ مکان اچھی بیگم ودن میاں کی بی بی نے خرید لیایہ نام لینا نہ لینے سے بدرجہا بدتر ہوانہ لیا جاتا تو مدعا علیہا میں ایك نوع جہالت رہی اور نام بدل دیا تو مدعا علیہا خود بدل گئی کہ وہ اچھی بیگم بنت ایوب شاہ جو مدن میاں کی بی بی ہے یقینا اس اچھی بیگم بنت ایوب شاہ کی غیر ہے جو اسی وقت میں ودن میاں کی بی بی ہواس کے بیان کو بھی یہی فتوائے مدخلہ مدعی کافی ہےمدعا علیہا کے گواہ محمد شاہ خاں کے بیان میں یہ جملہ واقع ہوا مظہر اچھی بیگم مدعا علیہا کو جانتا ہے اس کے باپ کا نام ایوب علی ہےاس پر فتوے نے اعتراض فرمایا کہ ان کے بیان میں ایك نقصان یہ بھی ہے کہ انہوں نے ولدیت مدعا علیہا کی غلط بیان کی ہے کہ جس کا یہ شاہد ہے اس کو خود تسلیم ہے لہذا اس کی گواہی کیونکر قابل قبول ہوسکتی ہے اورا س پر عالمگیری کی سند دییونہی یہاں بھی سید وزیر علی کی نسبت کہا جائے گا کہ ان کے بیان میں ایك نقصان یہ بھی ہے کہ انہوں نے زوجیت مدعا علیہا کی غلط بیان کی ہے کہ جس کا یہ شاہد ہے اس کو خود تسلیم ہے لہذا اس کی گواہی کیونکر قبول ہوسکتی ہےبلکہ انصافا ایوب شاہ وایوب علی میں وہ تباین نہیں جو مدن میاں و ودن میاں میں ہے ممکن کہ نام ایوب علی شاہ ہواور اختصارا کسی نے ایوب شاہ کہا کسی نے اخیر کا کلمہ تعظیمی کم کرکے ایوب علی بخلاف مدن وودن کہ قطعا دو متغائر نام ہیں بہر حال اسی وجہ ششم پر بھی پانچوں شہادات مدعی رد ہیں۔
وجہ ہفتم:مدعی کے فتوائے اولی نے جملہ شہادات مدعی کو ان چھ وجوہ سے باطل کیا نہ یوں کہ مجموع پر چھ ہوں بلکہ ہر گواہی چھ وجہ سے مردود ہےاب اس فتوے میں بعض شہادتوں پر دو اعتراض اور ہیں کہ وہ بھی مدعی کی بعض شہادات پر وار د ہیں یونہی بعض دیگر ابطال مدعی کے فتوائے دوم سے ہے یوں مل کر ان فتووں نے ساتویں وجہ سے جملہ شہادات مدعی باطل کی ہیں ان کا بیان سنئے:
اول:شہادت محمد شاہ خاں پر تبدیلی نام کا اعتراض کہ اس سے سخت تر شہادت سید وزیر علی پر وارد ہے:
دوم:شہادت منور حسین پر اس کا جز و بیان غلط ہونے سے اعتراض کہ اس نے کہا مجھے سمن وصول ہوگیا تھا حالانکہ واقع میں اس وقت تك وصول نہ ہوا تھا فتوے نے اس کی نسبت
وجہ ہفتم:مدعی کے فتوائے اولی نے جملہ شہادات مدعی کو ان چھ وجوہ سے باطل کیا نہ یوں کہ مجموع پر چھ ہوں بلکہ ہر گواہی چھ وجہ سے مردود ہےاب اس فتوے میں بعض شہادتوں پر دو اعتراض اور ہیں کہ وہ بھی مدعی کی بعض شہادات پر وار د ہیں یونہی بعض دیگر ابطال مدعی کے فتوائے دوم سے ہے یوں مل کر ان فتووں نے ساتویں وجہ سے جملہ شہادات مدعی باطل کی ہیں ان کا بیان سنئے:
اول:شہادت محمد شاہ خاں پر تبدیلی نام کا اعتراض کہ اس سے سخت تر شہادت سید وزیر علی پر وارد ہے:
دوم:شہادت منور حسین پر اس کا جز و بیان غلط ہونے سے اعتراض کہ اس نے کہا مجھے سمن وصول ہوگیا تھا حالانکہ واقع میں اس وقت تك وصول نہ ہوا تھا فتوے نے اس کی نسبت
کہا تھا کہ عدالت کو بھی تسلیم ہے ہم نے فیصلہ میں کہیں اس کی صریح تسلیم نہ پائی بلکہ جواب وہ دیا ہے کہ برتقدیر وقوع بھی شہادت سے دفع مضرت کرے جس کا بیان عنقریب آتا ہے بہرحال یہ اعتراض گواہ مدعی احسان خاں بلکہ ننھے مرزا پر بھی ہے ان کے کلام میں بھی تناقص ہے ننھے مرزانے کہا مظہر گل نورخاں کے چبوترہ پر قریب مکان متنازعہ بیٹھا ہوا تھا اس کو عرصہ کوئی ڈھائی مہینہ کا ہوا پھر کہا مظہر چبوترہ کے نیچے بیٹھا تھا اور آدمی چبوترہ پر تھے اسے اگر استدراك ہی کہئے تو احسان خاں نے اولا کہا جب سے مظہر اس جلسہ میں آیا اور جب تك گیا مظہر سے کسی کی بات نہ ہوئیبعد کو لکھایا مظہر گل نورخاں سے باتیں کررہا تھا یہ ضرور تناقض ہے اور تناقض میں کذب سے مفر نہیں کہ دونوں باتی سچی نہیں ہوسکتیں عالمگیری میں مبسوط سے ہے:
لم تقبل شہادتھما لانا نتیقن بکذب احدھما ۔ دونوں کی گواہی قبول نہ ہوگی دونوں میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا ہمیں یقین ہے۔(ت)
فیصلہ نے منور حسین خاں کی طرف سے وہ جواب دیا کہ وہی احساں خاں اور ننھے مرزا پر سے اس اعتراض کا جواب ہوتا یعنی یہ امر صلب شہادت سے خارج ہے اور شرعا نقص غیر مشہود بہ مضر شہادت نہیں اور اس پر یہ عبارت شرح وقایہ تحریر فرمائی:
الاکذاب فی غیر المشھود بہ لا یمنع القبول ۔ مشھود بہ کے غیر میں جھٹلانا قبولیت کے لیے مانع نہیں ہے۔(ت)
یہ عبارت اگر چہ چنداں متعلق نہ ہو کہ کلام کذب میں ہےنہ اکذاب میں بلکہ اس کےلیے یہ عبارت خلاصہ وہندیہ ہے کہ:
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر ۔ غیر ضروری معاملہ میں تناقض مضر نہیں ہے۔(ت)
مگر فتوائے مدعی نے خود بھی کذب واکذاب میں فرق نہ کرکے اس کا یہ رد کیا کہ بصورت منسوب ہونے گواہ کے صریح جھوٹ کے ساتھ گواہی اس کا نامقبول ہے خواہ یہ لغو بیانی اس کی مشہود بہا سے خارج ہویا نہ ہو اور اس پر عبارت عالمگیری پیش کی:
فی العیونشہد الرجلان علی اخر عیون میں ہے کہ دو گواہوں نے ایك شخص کے
لم تقبل شہادتھما لانا نتیقن بکذب احدھما ۔ دونوں کی گواہی قبول نہ ہوگی دونوں میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا ہمیں یقین ہے۔(ت)
فیصلہ نے منور حسین خاں کی طرف سے وہ جواب دیا کہ وہی احساں خاں اور ننھے مرزا پر سے اس اعتراض کا جواب ہوتا یعنی یہ امر صلب شہادت سے خارج ہے اور شرعا نقص غیر مشہود بہ مضر شہادت نہیں اور اس پر یہ عبارت شرح وقایہ تحریر فرمائی:
الاکذاب فی غیر المشھود بہ لا یمنع القبول ۔ مشھود بہ کے غیر میں جھٹلانا قبولیت کے لیے مانع نہیں ہے۔(ت)
یہ عبارت اگر چہ چنداں متعلق نہ ہو کہ کلام کذب میں ہےنہ اکذاب میں بلکہ اس کےلیے یہ عبارت خلاصہ وہندیہ ہے کہ:
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر ۔ غیر ضروری معاملہ میں تناقض مضر نہیں ہے۔(ت)
مگر فتوائے مدعی نے خود بھی کذب واکذاب میں فرق نہ کرکے اس کا یہ رد کیا کہ بصورت منسوب ہونے گواہ کے صریح جھوٹ کے ساتھ گواہی اس کا نامقبول ہے خواہ یہ لغو بیانی اس کی مشہود بہا سے خارج ہویا نہ ہو اور اس پر عبارت عالمگیری پیش کی:
فی العیونشہد الرجلان علی اخر عیون میں ہے کہ دو گواہوں نے ایك شخص کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۸€
شرح الوقایۃ کتاب الشہادات باب قبول الشہادۃ وعدمہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۶۹€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۰€
شرح الوقایۃ کتاب الشہادات باب قبول الشہادۃ وعدمہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۶۹€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۰€
بالف وانہ قد قضاہ خمسمائۃ وقال الطالب لی علیہ الف وما قضانی شیئا والشہود او ھموا فی الشہادۃ علی القضاء تقبل شہادتھما ان عدلاولو قال شہادتھم بالالف حق وبالقضاء باطل لاتقبل شہادتھما لانہ نسبھما الی الفسق کذافی المحیط (ملتقطا) ذمہ ہزار کی گواہی دی اور کہا کہ پانصداس نے ادا کردئے ہیں جبکہ مدعی کہتا ہے کہ میرا اس کے ذمہ پورا ہزار ہے ابھی اس نے کچھ بھی ادا نہیں کیا اور گواہوں کو ادائیگی کے متعلق شہادت میں وہم ہوا ہے تو ان کی شہادت قبول ہوگی بشرطیکہ دونوں گواہوں کو عادل قرار دیا گیا ہواور اگر طالب یعنی مدعی نے کہا ان گواہوں کی ہزار کے متعلق گواہی حق ہے اور ادائیگی کے متعلق شہادت باطل ہے تو گواہوں کی شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں اس نے گواہوں کی نسبت فسق ظاہر کیا ہےمحیط میں ایسے ہی ہے(ملتقطا۔(ت)
مگر نہ جانا کہ صورت عالمگیری کو یہاں سے کچھ علاقہ نہیں جب مدعی ہزار روپے کا مطالبہ بتاتا ہے اور گواہ کہتے ہیں ہزار تھے پانسو ادا ہوچکے ہیں تو وہ صراحۃ ہزار کے مطالبہ کو غلط اور صرف پانسو کامطالبہ بتارہے ہیں اسے مشہود بہ سے خارج ماننا عجیب ہے۔
سوم: یہاں تك فتوائے اولی کے حرف حرف پر کلام ہولیا اب دوسرا سنئے:
فتوائے ثانیہ مدعی کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اولا: مدعا علیہ کا بیان تھا کہ ۱۵/نومبر یعنی تاریخ بیع ہی میں مدعی کو علم بیع ہوامدعی شریك مشورہ تھااس نے بعد البیع تسلیم کی ان میں پہلے دو فقرے کسی گواہ مدعا علیہا نے بیان نہ کئے تو شہادت مطابق دعوی نہیں لہذا نامقبولعینی میں ہے:
موافقۃ الشہادۃ للمدعی ان تتحد انواعا وکما و زمانا ۔ مدعی کے لئے شہادت کی موافقت یوں ہے کہ وہ نوع مقدار اور زمانہ کے اعتبار سے متفق ہوں۔(ت)
ثانیا گواہان مدعا علیہا میں محمد سعید خاںمحمد صدیق علی خاں جن کی شہادت ۲۳/اپریل کو ہوئی اس وقت چار مہینے پہلے مدعی کا وہ قول بتاتے ہیں کہ مکان اچھی بیگم نے مول لیامیں خوش ہواتو حساب سے اس قول کا وقت اواخر دسمبر آتا ہے اور منور حسین خاںمحمد شاہ خاں
مگر نہ جانا کہ صورت عالمگیری کو یہاں سے کچھ علاقہ نہیں جب مدعی ہزار روپے کا مطالبہ بتاتا ہے اور گواہ کہتے ہیں ہزار تھے پانسو ادا ہوچکے ہیں تو وہ صراحۃ ہزار کے مطالبہ کو غلط اور صرف پانسو کامطالبہ بتارہے ہیں اسے مشہود بہ سے خارج ماننا عجیب ہے۔
سوم: یہاں تك فتوائے اولی کے حرف حرف پر کلام ہولیا اب دوسرا سنئے:
فتوائے ثانیہ مدعی کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اولا: مدعا علیہ کا بیان تھا کہ ۱۵/نومبر یعنی تاریخ بیع ہی میں مدعی کو علم بیع ہوامدعی شریك مشورہ تھااس نے بعد البیع تسلیم کی ان میں پہلے دو فقرے کسی گواہ مدعا علیہا نے بیان نہ کئے تو شہادت مطابق دعوی نہیں لہذا نامقبولعینی میں ہے:
موافقۃ الشہادۃ للمدعی ان تتحد انواعا وکما و زمانا ۔ مدعی کے لئے شہادت کی موافقت یوں ہے کہ وہ نوع مقدار اور زمانہ کے اعتبار سے متفق ہوں۔(ت)
ثانیا گواہان مدعا علیہا میں محمد سعید خاںمحمد صدیق علی خاں جن کی شہادت ۲۳/اپریل کو ہوئی اس وقت چار مہینے پہلے مدعی کا وہ قول بتاتے ہیں کہ مکان اچھی بیگم نے مول لیامیں خوش ہواتو حساب سے اس قول کا وقت اواخر دسمبر آتا ہے اور منور حسین خاںمحمد شاہ خاں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتب الشہادات الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۹۵€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ للعینی کتاب الشہادات المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۳ /۳۴۷€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ للعینی کتاب الشہادات المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۳ /۳۴۷€
سید اچھے میاں شروع جنوری روز جمعہ کو مدعی کا یہ کہنا بیان کرتے ہیں اور خود مدعا علیہا ۱۵نومبر ہی کو وقوع تسلیم بتاتی ہے اب بیان گواہان کو موجب تسلیم مانیے یا تسلیم گزشتہ کی خبر۔برتقدیر اول جبکہ حسب بیان مدعا علیہا شفعہ ۱۵نومبر کو تسلیم و ساقط ہوچکا تھاپھر دسمبر و جنوری میں مکرر سقوط کیساالساقط لایعود(ساقط شدہ بحال نہیں ہوتا۔ت)بر تقدیر ثانی خبر کےلئے مخبر بہ کا ثبوت لازممخبربہ قول مدعا علیہا ہے بیان گواہان سے جس کا ثبوت نہیں لہذا یہ خبر تسلیم مثبت تسلیم نہیں۔
ثالثا: مدعا علیہا ۱۵ / نومبر کو تسلیم بتاتی ہے گواہ بعد کوتو دونوں بیان متعارض ہوکر ساقط ہوں گے اور حق شفعہ جو طلبین سے مستقر ہوچکا ہے ثابت رہے گا۔قاضیخاں میں ہے:
المدعی اذااکذب الشھود فی ماشھدوالہ اوفی بعضہ لاتقبل شہادتھم ۔ مدعی جب گواہوں کو اپنے حق میں کل بیان یا بعض کو جھٹلادے تو شہادت قبول نہ ہوگی(ت)
یہ حاصل ہے تمام تطویل فتوائے ثانیہ کابلکہ زیادت ضبط و ایضاح کے ساتھمگر افسوس کا محل ہےکہ اس میں ایك حرف بھی صحیح نہیں
اولا:مدعی علیہا کا دعوی تسلیم شفعہ بعد العلم بالبیع ہے اس کے سوا تعیین وقت نہ اس کے دعوی کا حقیقۃ جز ہے نہ مدارنہ اس کے بیان کی حاجت نہ اس میں اختلاف سے مضرتتسلیم یہاں بالقول ہوئیاور قول قابل تکرر ہےاور شہود ایك جلسہ خاصہ کا بیان نہیں کرتے بلکہ صراحۃ جدا جلسوں کا ذکر کرتے ہیںقول محض میں اگر شہادتیں یا شہادت و دعوی دربارہ زمانہ ایسا اختلاف کریں اصلا کچھ مضر نہیںنہ ہر گز اسے شہادت ودعوی یاباہم دو شہادتوں کی عدم مطابقت کہہ سکیںعالمگیری میں ہے:
ان کان المشہود بہ قولا محضا کالبیع والاجارۃ و الطلاق والعتاق و الصلح والابراءواختلفا فی البلدان او فی الشہود جازت شھادتھما ولا تبطل الشہادۃ باختلاف الشاھدین فی الایام والبلدان الاان یقولا کنامع الطالب جس چیز کی شہادت ہے وہ اگر خالص گفتگو ہے مثلا بیعاجارہ طلاقعتاقصلح اور بری کرنا جن کا تعلق زبان سے ادائیگی کے ساتھ ہےاور گواہوں نے ان امور میں علاقے یا مہینے کے بیان میں اختلاف کیا تو دونوں کی شہادت قبول ہوگیاور دونوں گواہوں کا ایامشہروں کا اختلاف شہادت کو باطل نہ کرے گامگر اس صورت میں
ثالثا: مدعا علیہا ۱۵ / نومبر کو تسلیم بتاتی ہے گواہ بعد کوتو دونوں بیان متعارض ہوکر ساقط ہوں گے اور حق شفعہ جو طلبین سے مستقر ہوچکا ہے ثابت رہے گا۔قاضیخاں میں ہے:
المدعی اذااکذب الشھود فی ماشھدوالہ اوفی بعضہ لاتقبل شہادتھم ۔ مدعی جب گواہوں کو اپنے حق میں کل بیان یا بعض کو جھٹلادے تو شہادت قبول نہ ہوگی(ت)
یہ حاصل ہے تمام تطویل فتوائے ثانیہ کابلکہ زیادت ضبط و ایضاح کے ساتھمگر افسوس کا محل ہےکہ اس میں ایك حرف بھی صحیح نہیں
اولا:مدعی علیہا کا دعوی تسلیم شفعہ بعد العلم بالبیع ہے اس کے سوا تعیین وقت نہ اس کے دعوی کا حقیقۃ جز ہے نہ مدارنہ اس کے بیان کی حاجت نہ اس میں اختلاف سے مضرتتسلیم یہاں بالقول ہوئیاور قول قابل تکرر ہےاور شہود ایك جلسہ خاصہ کا بیان نہیں کرتے بلکہ صراحۃ جدا جلسوں کا ذکر کرتے ہیںقول محض میں اگر شہادتیں یا شہادت و دعوی دربارہ زمانہ ایسا اختلاف کریں اصلا کچھ مضر نہیںنہ ہر گز اسے شہادت ودعوی یاباہم دو شہادتوں کی عدم مطابقت کہہ سکیںعالمگیری میں ہے:
ان کان المشہود بہ قولا محضا کالبیع والاجارۃ و الطلاق والعتاق و الصلح والابراءواختلفا فی البلدان او فی الشہود جازت شھادتھما ولا تبطل الشہادۃ باختلاف الشاھدین فی الایام والبلدان الاان یقولا کنامع الطالب جس چیز کی شہادت ہے وہ اگر خالص گفتگو ہے مثلا بیعاجارہ طلاقعتاقصلح اور بری کرنا جن کا تعلق زبان سے ادائیگی کے ساتھ ہےاور گواہوں نے ان امور میں علاقے یا مہینے کے بیان میں اختلاف کیا تو دونوں کی شہادت قبول ہوگیاور دونوں گواہوں کا ایامشہروں کا اختلاف شہادت کو باطل نہ کرے گامگر اس صورت میں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الشہادت فصل فی تکذیب المدعی ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۵۵۰€
فی موضع واحد فی یوم واحد ثم اختلفا فی الایام و المواطن و البلدان فان اباحنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ قال انا اجیز الشہادۃ وعلیہم ان یحفظوا الشہادۃ دون الوقت وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی الامر کما قال ابوحنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ فی القیاس وانا استحسن وابطل ھذہ الشہادۃ بالتھمۃ الاان یختلفا فی الساعتین من یوم واحد فیجوز کذا فی فتاوی قاضیخان (ملتقطا) جب دونوں یہ کہہ چکے ہوں کہ ہم دونوں ایك جگہ ایك وقت میں طالب کے ہمراہ تھے پھر اس کے بعد ایاممقامات اور شہروں کا اختلاف بیان کریں تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں اس شہادت کو جائز قرار دوں گا کیونکہ گواہوں کے ذمہ اصل شہادت کو محفوظ کرنا ہے نہ کہ وقت کواور امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد قیاس کے مطابق ہے میں استحسان کرتا ہوں اور میں اس شہادت کو تہمت کی بناء پر باطل کہتا ہوںہاں اگر دونوں کا اختلاف صرف ایك دن میں مختلف گھنٹوں کے متعلق ہو تو شہادت جائز ہوگیفتاوی قاضیخان میں یونہی ہے۔(ملتقطا)۔(ت)
ثانیا: اعتراض دوم عجیب منطق ہے اس شہادت میں موجب و مخبر کی تردید کیسیشہادت ہمیشہ مخبر ہی ہوتی ہے اس کی تعریف ہی میں اخبار بحقداخل ہے اور مخبر بہ صرف قول مدعا علیہا ہونے سے ایراد اس سے بھی عجیب ترمخبربہ ہمیشہ دعوی ہوتا ہے اور دعوی ہمیشہ قول صرف مدعی۔اسی کے اثبات کے لئے شہادت ہوتی ہے شہادت سے پہلے اس کا ثبوت درکار ہوتو شہادت لغوہے کہ امر ثابت کیا محتاج اثبات ہے اور اگر یہ مقصود کہ اس کا دعوی اور ان کا بیان زمانا مختلف ہے تو یہ وہی پہلا اعتراض ہے جس کا رد ہوچکا۔
ثالثا: یہی حال تعارض کا ہے نفس تسلیم میں دعوائے مدعا علیہا وجملہ شاہدان مدعا علیہا متفق ہیںاختلاف اگر ہے تو زمانہ کااور وہ قول محض میں مضر نہیں ہے۔عالمگیری میں ہے:
شھدا ان فلانا طلق امرأتہ فشھد احدھما انہ طلقھا بالبصرۃ والاخر انہ طلقھا بالکوفۃلو شھدا بذلك فی یومین متفرقین من الایام دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ایك نے کہا بصر ہ میں دوسرے نے کہا کوفہ میں دی ہےاگر دونوں نے متفرق دنوں کی بات کی ہے جن میں کوئی شخص اپنی سواری
وبینھما قدر مایسیر الراکب من الکوفۃ الی مکۃ جازت شہادتھما (ملتقطا) کے ذریعے ان دونوں شہروں میں سے ایك سے دوسرے میں پہنچ سکتا ہو مثلا کوفہ سے مکہ تك ان دونوں میں جاسکتا ہے تو شہادت جائز ہوگی(ت)
یہ رد ہے اس تمام فتوائے ثانیہ کااور شفعہ بہ ثبوت طلبین مستقر ہولینے کا ردی حال ہمارے بیانات سابقہ و لاحقہ سے واضح۔ خیریہ تو اس فتوے کی حالت تھی۔کہنا یہ ہے کہ بفور علم بالبیع طلب مواثبت واشہاد بجالانا قطعا ایسی چیز ہے کہ دوبارہ نہیں ہوسکتی کہ علم بالبیع متکرر نہیں ہوسکتا تو مدعی اور اس کے شاہدان کا بیان وقت میں بھی یقینا متفق چاہئےاگر زمانہ اس کے زمانہ سے آگے پیچھے بتائیں تو شہادت و دعوی ضرور مختلف ہیں
ثانیا: اعتراض دوم عجیب منطق ہے اس شہادت میں موجب و مخبر کی تردید کیسیشہادت ہمیشہ مخبر ہی ہوتی ہے اس کی تعریف ہی میں اخبار بحقداخل ہے اور مخبر بہ صرف قول مدعا علیہا ہونے سے ایراد اس سے بھی عجیب ترمخبربہ ہمیشہ دعوی ہوتا ہے اور دعوی ہمیشہ قول صرف مدعی۔اسی کے اثبات کے لئے شہادت ہوتی ہے شہادت سے پہلے اس کا ثبوت درکار ہوتو شہادت لغوہے کہ امر ثابت کیا محتاج اثبات ہے اور اگر یہ مقصود کہ اس کا دعوی اور ان کا بیان زمانا مختلف ہے تو یہ وہی پہلا اعتراض ہے جس کا رد ہوچکا۔
ثالثا: یہی حال تعارض کا ہے نفس تسلیم میں دعوائے مدعا علیہا وجملہ شاہدان مدعا علیہا متفق ہیںاختلاف اگر ہے تو زمانہ کااور وہ قول محض میں مضر نہیں ہے۔عالمگیری میں ہے:
شھدا ان فلانا طلق امرأتہ فشھد احدھما انہ طلقھا بالبصرۃ والاخر انہ طلقھا بالکوفۃلو شھدا بذلك فی یومین متفرقین من الایام دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ایك نے کہا بصر ہ میں دوسرے نے کہا کوفہ میں دی ہےاگر دونوں نے متفرق دنوں کی بات کی ہے جن میں کوئی شخص اپنی سواری
وبینھما قدر مایسیر الراکب من الکوفۃ الی مکۃ جازت شہادتھما (ملتقطا) کے ذریعے ان دونوں شہروں میں سے ایك سے دوسرے میں پہنچ سکتا ہو مثلا کوفہ سے مکہ تك ان دونوں میں جاسکتا ہے تو شہادت جائز ہوگی(ت)
یہ رد ہے اس تمام فتوائے ثانیہ کااور شفعہ بہ ثبوت طلبین مستقر ہولینے کا ردی حال ہمارے بیانات سابقہ و لاحقہ سے واضح۔ خیریہ تو اس فتوے کی حالت تھی۔کہنا یہ ہے کہ بفور علم بالبیع طلب مواثبت واشہاد بجالانا قطعا ایسی چیز ہے کہ دوبارہ نہیں ہوسکتی کہ علم بالبیع متکرر نہیں ہوسکتا تو مدعی اور اس کے شاہدان کا بیان وقت میں بھی یقینا متفق چاہئےاگر زمانہ اس کے زمانہ سے آگے پیچھے بتائیں تو شہادت و دعوی ضرور مختلف ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۸۔۵۰۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۸€
اور وہی عبارات ہدایہ و عینی کہ فتوائے ثانیہ نے رد شہادات مدعا علیہا کے لئے زعم کی تھیںرد شہادات مدعی کو کافی و وافی ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ مدعی نے علم بالبیع اور بفور علم طلب کی تاریخ ۸ / جنوری بتائی اس کی گواہیاں ۲۰/ مارچ کو گزریں کہ اکہتر دن یا دو مہینے گیارہ دن کا فاصلہ ہےلیکن سید گوہر علی کے بیان میں ہے کہ کوئی مہینہ سے کم کم ہوا ہوگا لہذا شہادت مخالف دعوی ومردودرحمت علی خاں بالتعیین بلاتخمین کہتا ہے عرصہ دوڈھائی ماہ کا ہواجس کے پچھتر دن ہوئےبیان مدعی سے چار دن زیادہاحسان خان اگرچہ تخمینہ کرتا ہے مگر زائد کااور اس سے بھی زیادہ کی طرف بڑھتا ہےوہ زائد دن میں تردد کرتا ہے کہ کوئی عرصہ تخمینا ڈھائی پونے تین مہینے کا ہو یعنی پچھتر۷۵ یا بیاسی۸۲ یا تراسی ۸۳دن ہوئے اور مدعی کے قول سے اکہتر ہی ہیں تو دو گواہ وجوہ خاصہ سے فتوائے اولی نے رد کئے تھے تین فتوائے ثانیہ نے رد کئےپانچوں رد ہوگئے بلکہ عند التحقیق خود یہ فتوائے ثانیہ ہی پانچوں کو رد کردے گاسید وزیر علی اور ننھے مرزا نے اگرچہ عرصہ تخمینا ڈھائی ماہ کا کہا جو بیان مدعی سے موافقت کو بھی متحمل ہے مگر امر محتمل شہادت میں نہیں لیا جاتا کہ احتمال جانب مخالفت کا بھی رہا اور موافقت دعوی کی شرط قبول شہادت تھی ثابت نہ ہوئی ولہذا اگر گواہ زمانہ مرور بیان کرے بوجہ جہالت مردود ہے جہالت تخمینہ میں بھی موجود ہےیہ متحقق نہ ہوا کہ یہ واقعہ آٹھ ہی جنوری کا ہےممکن ہے کہ قبل کا ہوتو دعوی سے مطابقت کب ہوئی۔عالمگیری میں ہے:
شھد الشھودان لہذا المدعی علی ھذاالمدعی علیہ دہ دوازدہ درم لاتقبل لمکان الجہالۃوکذلك اذاادعی دہ دوازدہ گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے فلاں مدعا علیہ پر دس بارہ درہم ہیںشہادت قبول نہ ہوگی اور یونہی جب مدعی نے اپنے دعوی میں دس بارہ
شھد الشھودان لہذا المدعی علی ھذاالمدعی علیہ دہ دوازدہ درم لاتقبل لمکان الجہالۃوکذلك اذاادعی دہ دوازدہ گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے فلاں مدعا علیہ پر دس بارہ درہم ہیںشہادت قبول نہ ہوگی اور یونہی جب مدعی نے اپنے دعوی میں دس بارہ
درہم لاتسمع دعواہ وکذلك اذاذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذاالوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لا تسمع دعواہوکذلك اذاذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا الوجہ لا تقبل شہادتھم کذافی الذخیرۃ ۔ درم کہا تو دعوی قابل سماعت نہ ہوگااور یوں جب تاریخ کو دعوی میں ا س انداز سے بیان کرتے ہوئے کہا دس بارہ سال سے اس چیز کا مالك ہوں تو سماعت نہ ہوگی اور یونہی گواہوں نے اگر تاریخ کو اسی انداز سے بیان کیا تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ذخیرہ میں ایسے ہی ہے۔
وجہ ہشتم:یہاں تك گواہان مدعی علیہا پر تمام اعتراضات کا رد ہوگیا۔ہر دو فتوائے مدعی کا ایك ایك فقرہ مسترد ہوگیا اور روشن ہوا کہ وہ فتوے اگرچہ بظاہر تائید مدعی کے لئے ہیں حقیقۃ ابطال دعوی شفعہ کررہے ہیں ان سے ایك ایك گواہی مدعی سات سات وجہ سے مردود ہے۔اب ہم وہ وجہ ذکر کریں جس کا وعدہ کیا تھاثبوت شفعہ کے لئے لازم ہے کہ دار مشفوع بہا جس کے ذریعہ سے شفیع دعوی شفعہ کرے قبل بیع سے وقت حکم تك ملك شفیع میں رہے کہ وقت بیع اس کی ملك شرط شفعہ ہے اور بعد بیع قبل حکم اس کا اپنی ملك سے اخراج دلیل اعراض ہے و لہذا اگر مشتری مشفوع بہا میں ملك شفیع تسلیم نہ کرے شفیع کی طرف سے اس مضمون کی شہادت لازم ہے کہ مشفوع بہا قبل بیع مشفوعہ سے اس وقت تك ملك شفیع ہے ہمارے علم میں اس کی ملك سے خارج نہ ہوئیاگر گواہوں نے صرف اتنا کہا کہ مشفوع بہا ملك شفیع ہے کافی نہ ہوگا۔ عالمگیریہ شرائط شفعہ میں ہے:
منھا ملك الشفیع وقت الشراء فی الدار التی یاخذ بھا الشفعۃ ۔ شرائط میں سے شفعہ کرنے والے کی سودے کے وقت اس مکان کی ملکیت ہے جس کی بناء پر شفعہ کررہا ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یبطلھا بیع مایشفع بہ قبل القضاء شفعہ کے فیصلہ سے قبل شفعہ کا سبب بننے
وجہ ہشتم:یہاں تك گواہان مدعی علیہا پر تمام اعتراضات کا رد ہوگیا۔ہر دو فتوائے مدعی کا ایك ایك فقرہ مسترد ہوگیا اور روشن ہوا کہ وہ فتوے اگرچہ بظاہر تائید مدعی کے لئے ہیں حقیقۃ ابطال دعوی شفعہ کررہے ہیں ان سے ایك ایك گواہی مدعی سات سات وجہ سے مردود ہے۔اب ہم وہ وجہ ذکر کریں جس کا وعدہ کیا تھاثبوت شفعہ کے لئے لازم ہے کہ دار مشفوع بہا جس کے ذریعہ سے شفیع دعوی شفعہ کرے قبل بیع سے وقت حکم تك ملك شفیع میں رہے کہ وقت بیع اس کی ملك شرط شفعہ ہے اور بعد بیع قبل حکم اس کا اپنی ملك سے اخراج دلیل اعراض ہے و لہذا اگر مشتری مشفوع بہا میں ملك شفیع تسلیم نہ کرے شفیع کی طرف سے اس مضمون کی شہادت لازم ہے کہ مشفوع بہا قبل بیع مشفوعہ سے اس وقت تك ملك شفیع ہے ہمارے علم میں اس کی ملك سے خارج نہ ہوئیاگر گواہوں نے صرف اتنا کہا کہ مشفوع بہا ملك شفیع ہے کافی نہ ہوگا۔ عالمگیریہ شرائط شفعہ میں ہے:
منھا ملك الشفیع وقت الشراء فی الدار التی یاخذ بھا الشفعۃ ۔ شرائط میں سے شفعہ کرنے والے کی سودے کے وقت اس مکان کی ملکیت ہے جس کی بناء پر شفعہ کررہا ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یبطلھا بیع مایشفع بہ قبل القضاء شفعہ کے فیصلہ سے قبل شفعہ کا سبب بننے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۶۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۱€
بالشفعۃمطلقاعلم بیعھا ام لاوکذالوجعل ما یشفع بہ مسجدا ۔ والی زمین کو فروخت کرنا مطلقا شفعہ کو باطل کردے گا اس کی بیع کا علم ہو یا نہ ہو اور یوں ہی اگر اس زمین کو مسجد بنادیا ہو(ت)
نیز درمختار میں ہے:
واذا طلب الشفیع سأل القاضی الخصم عن مالکیۃ الشفیع لما یشفع بہ فان اقربھا او نکل عن الحلف علی العلم او برھن الشفیع انہا مبلکہ سألہ عن الشراء الخ۔ جب شفعہ والا مطالبہ کرے تو قاضی دوسرے فریق سے اس مکان کی ملکیت کے متعلق سوال کرے جس کے سبب شفعہ کا دعوی کیا ہے اگر وہ فریق مدعی کی ملکیت کا اقرار کرے یا اپنے علم سے متعلق قسم دینے سے انکار کردے یا مدعی اس کی اپنی ملکیت پر شہادت پیش کردے تو پھر قاضی اس مکان کے سودے کے متعلق سوال کرے الخ۔(ت)
ردالمحتار میں زیر قولہ برھن الشفیع(شفعہ والا گواہ پیش کرے۔ت)محیط سے اور عالمگیری میں محیط وذخیرہ سے ہے:
فی الاجناس بین کیفیۃ الشہادۃ فقال ینبغی ان یشھدوا ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ملك ھذا الشفیع قبل ان یشتری ھذاالمشتری ھذاالدار وھی لہ الی ھذہ الساعۃ لانعلمھاخرجت عن مبلکہ فلو قال ان ھذہ الدار لہذا الجار لا یکفی ۔ اجناس میں شہادت کی کیفیت کے بیان میں ہےتو فرمایا کہ گواہوں کو چاہئے کہ وہ یہ بیان کریں کہ مدعی فروخت شدہ مکان کے پڑوسی والے مکان کا اس مکان کی فروخت سے قبل تاحال مالك چلاآرہا ہے اور مدعی ہی مالك ہے اس کی ملکیت سے خارج ہونے کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اگر گواہوں نے صرف اتنا کہا کہ پڑوس کا یہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو کافی نہ ہوگا۔(ت)
یہاں مشتریہ نے مشفوع بہا میں ملك مدعی تسلیم نہ کی تو مدعی پر اقامت بینہ بروجہ مذکور لازم تھی پانچ
نیز درمختار میں ہے:
واذا طلب الشفیع سأل القاضی الخصم عن مالکیۃ الشفیع لما یشفع بہ فان اقربھا او نکل عن الحلف علی العلم او برھن الشفیع انہا مبلکہ سألہ عن الشراء الخ۔ جب شفعہ والا مطالبہ کرے تو قاضی دوسرے فریق سے اس مکان کی ملکیت کے متعلق سوال کرے جس کے سبب شفعہ کا دعوی کیا ہے اگر وہ فریق مدعی کی ملکیت کا اقرار کرے یا اپنے علم سے متعلق قسم دینے سے انکار کردے یا مدعی اس کی اپنی ملکیت پر شہادت پیش کردے تو پھر قاضی اس مکان کے سودے کے متعلق سوال کرے الخ۔(ت)
ردالمحتار میں زیر قولہ برھن الشفیع(شفعہ والا گواہ پیش کرے۔ت)محیط سے اور عالمگیری میں محیط وذخیرہ سے ہے:
فی الاجناس بین کیفیۃ الشہادۃ فقال ینبغی ان یشھدوا ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ملك ھذا الشفیع قبل ان یشتری ھذاالمشتری ھذاالدار وھی لہ الی ھذہ الساعۃ لانعلمھاخرجت عن مبلکہ فلو قال ان ھذہ الدار لہذا الجار لا یکفی ۔ اجناس میں شہادت کی کیفیت کے بیان میں ہےتو فرمایا کہ گواہوں کو چاہئے کہ وہ یہ بیان کریں کہ مدعی فروخت شدہ مکان کے پڑوسی والے مکان کا اس مکان کی فروخت سے قبل تاحال مالك چلاآرہا ہے اور مدعی ہی مالك ہے اس کی ملکیت سے خارج ہونے کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اگر گواہوں نے صرف اتنا کہا کہ پڑوس کا یہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو کافی نہ ہوگا۔(ت)
یہاں مشتریہ نے مشفوع بہا میں ملك مدعی تسلیم نہ کی تو مدعی پر اقامت بینہ بروجہ مذکور لازم تھی پانچ
حوالہ / References
درمختار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱€۵
درمختار کتاب الشفعہ باب طلب الشفعہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱€۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۹،€ردالمحتار کتاب الشفعہ باب طلب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۴۴€
درمختار کتاب الشفعہ باب طلب الشفعہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱€۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۹،€ردالمحتار کتاب الشفعہ باب طلب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۴۴€
گواہوں میں سے تین نے تو اس کا نام ہی نہ لیاننھے مرزا نے یوں کہا"مدعی جس مکان میں رہتا ہے وہ ملکیت سولہ برس سترہ برس سے گویا کہ مدعی کی اب تك ہے"گویا کو شہادت سے کیا علاقہ۔اور آگے چل کر اور بھی تخریب کردی کہ مظہر نے محلہ میں مظفرشاہ کی زبانی سنا کہ مدعی کا مکان جس میں مدعی رہتا ہے ملك کی گواہی اور ایك شخص کی سماعیہاں صرف برادر مدعی سید وزیر علی نے کہا ہے کہ جس مکان کے ذریعہ سے مدعی نے مکان کے شفعہ کا دعوی کیا ہے وہ مکان قبل بیع سے اب تك ملك مدعی میں ہے یہ شہادت بھی باطل ہے
اولا: ملك مکان پر شہادت کےلئے ضرور ہے کہ یا مکان حاضر کی طرف اشارہ ہو جیسا ابھی عبارت عالمگیری سے گزرا کہ:
ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ۔ بیشك یہ مکان جو فروخت شدہ مکان کے پڑوس میں ہے۔ (ت)
یا غائب ہے تو اس کے حدود کا بیان ہو عالمگیریہ میں ہے:
فی الشہادۃ علی المحدود لا بد من ذکر الحدود کذافی الخلاصۃ ۔ محدود چیز کےء متعلق شہادت میں اس کے حدود کو بیان کرنا ضرور ی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
یہاں دونوں مفقودلہذا شہادت مردود۔
ثانیا: یہ وہی گواہی سے جس میں تبدیل نام واقع ہوئی ہے جس کا بیان وجہ ششم گزرا۔
ثالثا:کچھ نہ ہو تو تنہا ایك کی گواہی ہے ملك ثابت نہیں ہوسکتی لہذا سرے سے مبنائے شفعہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچا اور دعوی بے ثبوت رہارہا یہ کہ خود اسی مکان متنازعہ فیہ کے بیعنامہ اسمی مدعاعلیہامیں حد شمالی مکان مولوی شجاعت علی تحریر ہے اور بیعنامہ عاقدین پر حجت ہوتا ہے لہذا یہ مدعا علیہا کی طرف سے مکان مشفوع بہ میں ملك مدعی کی تسلیم ہے ذی علم فاضل مفتی صاحب نے اسی بناء پر تنقیح بحق مدعی فیصل فرمائی مگر ہماری تقریر سابق سے واضح ہے کہ صرف وقت بیع مشفوع بہا میں ملك شفیع کافی نہیں بلکہ جب سے وقت حکم تك ملك مستمر در کار ہے بیعنامہ سے ثابت ہوا تو اتنا کہ وقت بیع مذکور مکان مشفوع بہ ملك مدعی تھا اس سے وقت طلب اول حسب بیان مدعی بھی
اولا: ملك مکان پر شہادت کےلئے ضرور ہے کہ یا مکان حاضر کی طرف اشارہ ہو جیسا ابھی عبارت عالمگیری سے گزرا کہ:
ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ۔ بیشك یہ مکان جو فروخت شدہ مکان کے پڑوس میں ہے۔ (ت)
یا غائب ہے تو اس کے حدود کا بیان ہو عالمگیریہ میں ہے:
فی الشہادۃ علی المحدود لا بد من ذکر الحدود کذافی الخلاصۃ ۔ محدود چیز کےء متعلق شہادت میں اس کے حدود کو بیان کرنا ضرور ی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت)
یہاں دونوں مفقودلہذا شہادت مردود۔
ثانیا: یہ وہی گواہی سے جس میں تبدیل نام واقع ہوئی ہے جس کا بیان وجہ ششم گزرا۔
ثالثا:کچھ نہ ہو تو تنہا ایك کی گواہی ہے ملك ثابت نہیں ہوسکتی لہذا سرے سے مبنائے شفعہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچا اور دعوی بے ثبوت رہارہا یہ کہ خود اسی مکان متنازعہ فیہ کے بیعنامہ اسمی مدعاعلیہامیں حد شمالی مکان مولوی شجاعت علی تحریر ہے اور بیعنامہ عاقدین پر حجت ہوتا ہے لہذا یہ مدعا علیہا کی طرف سے مکان مشفوع بہ میں ملك مدعی کی تسلیم ہے ذی علم فاضل مفتی صاحب نے اسی بناء پر تنقیح بحق مدعی فیصل فرمائی مگر ہماری تقریر سابق سے واضح ہے کہ صرف وقت بیع مشفوع بہا میں ملك شفیع کافی نہیں بلکہ جب سے وقت حکم تك ملك مستمر در کار ہے بیعنامہ سے ثابت ہوا تو اتنا کہ وقت بیع مذکور مکان مشفوع بہ ملك مدعی تھا اس سے وقت طلب اول حسب بیان مدعی بھی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷€۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۸۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۸۵€
ملك مدعی ثابت نہیں ہوتینہ کہ اب تك کہ بیع ۱۵/ نومبر کو ہوئی اور مدعی نے وقت طلب ۸/جنوری بیان کیاممکن ہے کہ اس بیچ میں اس کی ملك سے نکل گیا ہو اور یہاں استصحاب یعنی اس وقت ملك ثابت تھی اور زوال معلوم نہیں تو اب تك ملك مانی جائے گی کافی نہیں کہ یہ ظاہر ہے اور ظاہر حجت دفع ہے نہ کہ حجت استحقاقاور شفیع کو منظور استحقاق ہے تو استصحاب بکار آمدنہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
الظاہرلایصلح للاستحقاق فلا بدمن ثبوت مبلکہ بحجۃ لاستحقاق الشفعۃ ۔ ظاہر حال کسی استحقاق کو ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ثبوت ملکیت کے لئے اس کے پاس شفعہ کے استحقاق کی دلیل کا ہونا ضروری ہے(ت)
اگر کہئے یہ تنقیح تو فیصلہ میں بحق مدعی فیصل ہوچکی تو اس کا جواب بھی فتوائے اولی مدخلہ مدعی دے گا کہ تجویز عدالت بلا دلیل وحجت ہے شرعاہر گز قابل نفاذ نہیں۔اشباہ میں ہے:
والحکم اذاکان لا دلیل علیہ لم ینفذ انتہی ۔ جب حکم کی دلیل نہ ہو تو وہ نافذ نہیں ہوتا انتہی(ت)
بالجملہ ہر وجہ ہر جہت ہر پہلو سے دعوی مدعی باطل اور شریعت مطہر کے حکم سے فیصلہ بحق مدعا علیہا ہونا لازم واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۶ تا ۱۱۸: ازضلع بجنور قصبہ نگینہ محلہ میر سرائے مسئولہ جلال الدین عطار بروز یکشنبہ ۱۴/ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام سوالات مندرجہ زیل میں:
(۱)حافظ جلال الدین و نظام الدین ولد مولا بخش بھائی علاتی ہیں ان کو ترکہ میں نزاع ہےاول یہ کہ دو دکانیں جن میں ان کے والد نشست وبرخاست کرتے تھے حافظ جلال الدین مدعی ہیں کہ یہ ملك والد صاحب مرحوم سے ہےاور نظام الدین کہتا ہے کہ والد صاحب کی نہیں بلکہ والدہ صاحبہ کو یہ ملی ہیں حافظ جلال الدین اپنے مدعا کے ثبوت میں منجملہ شہادتوں کے ایك شہادت حدود سے کرتے ہیں یعنی ان دکانوں کی جن کے مکانات سے حدود ملتے ہیں ان کے بیعنامہ کے حدود میں ملك والد صاحب کہتے ہیں اور لکھنے والے والد صاحب کی ملك بتلاتے ہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ شہادت
الظاہرلایصلح للاستحقاق فلا بدمن ثبوت مبلکہ بحجۃ لاستحقاق الشفعۃ ۔ ظاہر حال کسی استحقاق کو ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ثبوت ملکیت کے لئے اس کے پاس شفعہ کے استحقاق کی دلیل کا ہونا ضروری ہے(ت)
اگر کہئے یہ تنقیح تو فیصلہ میں بحق مدعی فیصل ہوچکی تو اس کا جواب بھی فتوائے اولی مدخلہ مدعی دے گا کہ تجویز عدالت بلا دلیل وحجت ہے شرعاہر گز قابل نفاذ نہیں۔اشباہ میں ہے:
والحکم اذاکان لا دلیل علیہ لم ینفذ انتہی ۔ جب حکم کی دلیل نہ ہو تو وہ نافذ نہیں ہوتا انتہی(ت)
بالجملہ ہر وجہ ہر جہت ہر پہلو سے دعوی مدعی باطل اور شریعت مطہر کے حکم سے فیصلہ بحق مدعا علیہا ہونا لازم واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۶ تا ۱۱۸: ازضلع بجنور قصبہ نگینہ محلہ میر سرائے مسئولہ جلال الدین عطار بروز یکشنبہ ۱۴/ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام سوالات مندرجہ زیل میں:
(۱)حافظ جلال الدین و نظام الدین ولد مولا بخش بھائی علاتی ہیں ان کو ترکہ میں نزاع ہےاول یہ کہ دو دکانیں جن میں ان کے والد نشست وبرخاست کرتے تھے حافظ جلال الدین مدعی ہیں کہ یہ ملك والد صاحب مرحوم سے ہےاور نظام الدین کہتا ہے کہ والد صاحب کی نہیں بلکہ والدہ صاحبہ کو یہ ملی ہیں حافظ جلال الدین اپنے مدعا کے ثبوت میں منجملہ شہادتوں کے ایك شہادت حدود سے کرتے ہیں یعنی ان دکانوں کی جن کے مکانات سے حدود ملتے ہیں ان کے بیعنامہ کے حدود میں ملك والد صاحب کہتے ہیں اور لکھنے والے والد صاحب کی ملك بتلاتے ہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ شہادت
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیہ کتاب الشفعہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۴€
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الاولیٰ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۴۳€
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الاولیٰ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۴۳€
باوجود اس کے کہ سبب ملك والد صاحب نہیں بیان کرتے عند الشرع معتبر ہے یا نہیںاگر معتبر ہے تو ناشی حکم(اس امر کا کھوج لگانا اور جرح کرنا کہ تم کو کس ذریعہ سے ملك مولا بخش معلوم ہوئییاتم نے بیعنامہ دیکھا ہے یا تمہارے سامنے بیع ہوئی ہے) حق حاصل ہے یانہیں
(۲)اور نیز حافظ جلال الدین اپنے مدعا میں ایك شہادت یہ گزرانتا ہے کہ ایك شاہد یہ بیان کرتا ہے کہ ان دکانوں کا بیعنامہ میرے سامنے ہو ااور بائع نے میرے سامنے بیع کیاور دوسرا شاہد بیان کرتا ہے کہ مشتری نے میرے سامنے اس کی بیع لینے کا اقرار کیا کہ میں نے فلاں سے یہ دکانیں خریدی ہیں اب دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ شہادت عند الشرع معتبر ہے یانہیں
(۳)حافظ جلال الدین کہتا ہے کہ ایك مکان والد صاحب نے مجھ کو ہبہ کیا تھا جس میں میں نے ان کی زندگی میں ہی چھپر کا دالان بنالیا تھا اور تقریبا اس میں بیس پچیس سال رہابعد میں مجھ کو اس میں تنگی ہوئی اور دوسری دکان کرایہ پر لے کر اس صورت سے رہنے لگا کہ مکان موہوبہ میں اپنا تصرف و قبضہ مالکانہ رہااس کے بعد والد صاحب نے دوسرے دکان جو دکان موہوبہ سابق کے بغل میں ایك جانب کو واقع اور ملکیت میں اپنی زوجہ یعنی میری سوتیلی مادر کے تھا مجھ کو ملا کردے دیا اور مادر صاحبہ سے بھی کہلادیاکہ میں نے دے دیا جیسا میرا بیٹا نظام الدین ہے ویسا ہی جلال الدین ہے چنانچہ میں نے اس دوسری دکان کو بھی لے کر اپنے والد اور مادرکی زندگی میں اپنی سابق دکان کے ساتھ ملحق کرلئے درمیان کی دیوار نکال دی اور اس کے سامنے ہی ایك دالان بنالیااب سوال یہ ہے کہ عندالشرع ان دونوں دکانوں کا میرے لئے ہبہ درست ہوا یانہیںاور میرے شاہد ان دونوں مکانوں کی بابت دینا والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی جانب سے بیان کرتے ہیں یہ شہادت فقط دینے کی ہبہ پر محمول ہوگی یا عاریۃ پر اور اس میں قاضی یا حکم کو شاہدان سے یہ حق دریافت کرنے کا حاصل ہے یانہیں کہ دکان جلال الدین کو ہبہ دیا گیا تھا یا عاریۃ۔بینواتوجروا۔
الجواب: وباﷲ التوفیق
(۱)اگر شاہدان نے صرف اس پر اکتفاء کیا کہ یہ دکانیں مولا بخش کی ہیں اور سبب ملك نہ بیان کیا تو یہ شہادت منجملہ عند الشرع معتبر ہے او ر دکانیں مولا بخش کی ہی مانی جائیں گی اور قاضی یا حکم
(۲)اور نیز حافظ جلال الدین اپنے مدعا میں ایك شہادت یہ گزرانتا ہے کہ ایك شاہد یہ بیان کرتا ہے کہ ان دکانوں کا بیعنامہ میرے سامنے ہو ااور بائع نے میرے سامنے بیع کیاور دوسرا شاہد بیان کرتا ہے کہ مشتری نے میرے سامنے اس کی بیع لینے کا اقرار کیا کہ میں نے فلاں سے یہ دکانیں خریدی ہیں اب دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ شہادت عند الشرع معتبر ہے یانہیں
(۳)حافظ جلال الدین کہتا ہے کہ ایك مکان والد صاحب نے مجھ کو ہبہ کیا تھا جس میں میں نے ان کی زندگی میں ہی چھپر کا دالان بنالیا تھا اور تقریبا اس میں بیس پچیس سال رہابعد میں مجھ کو اس میں تنگی ہوئی اور دوسری دکان کرایہ پر لے کر اس صورت سے رہنے لگا کہ مکان موہوبہ میں اپنا تصرف و قبضہ مالکانہ رہااس کے بعد والد صاحب نے دوسرے دکان جو دکان موہوبہ سابق کے بغل میں ایك جانب کو واقع اور ملکیت میں اپنی زوجہ یعنی میری سوتیلی مادر کے تھا مجھ کو ملا کردے دیا اور مادر صاحبہ سے بھی کہلادیاکہ میں نے دے دیا جیسا میرا بیٹا نظام الدین ہے ویسا ہی جلال الدین ہے چنانچہ میں نے اس دوسری دکان کو بھی لے کر اپنے والد اور مادرکی زندگی میں اپنی سابق دکان کے ساتھ ملحق کرلئے درمیان کی دیوار نکال دی اور اس کے سامنے ہی ایك دالان بنالیااب سوال یہ ہے کہ عندالشرع ان دونوں دکانوں کا میرے لئے ہبہ درست ہوا یانہیںاور میرے شاہد ان دونوں مکانوں کی بابت دینا والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی جانب سے بیان کرتے ہیں یہ شہادت فقط دینے کی ہبہ پر محمول ہوگی یا عاریۃ پر اور اس میں قاضی یا حکم کو شاہدان سے یہ حق دریافت کرنے کا حاصل ہے یانہیں کہ دکان جلال الدین کو ہبہ دیا گیا تھا یا عاریۃ۔بینواتوجروا۔
الجواب: وباﷲ التوفیق
(۱)اگر شاہدان نے صرف اس پر اکتفاء کیا کہ یہ دکانیں مولا بخش کی ہیں اور سبب ملك نہ بیان کیا تو یہ شہادت منجملہ عند الشرع معتبر ہے او ر دکانیں مولا بخش کی ہی مانی جائیں گی اور قاضی یا حکم
کو اس کا حق حاصل نہیں ہے کہ گواہان سے تفتیش کرے کہ تم کو کس سبب اور ذریعہ سے ملك فلاں ہونا ثابت ہوا
ومن فی یدہ شیئ فلك ان تشھد انہ لہ ان وقع فی قلبك ذلك والالا الخ تنویر الابصاروفی الھدایۃ ومن کان فی یدہ شیئ سوی العبد والامۃ وسعك ان تشھد انہ لہ لان الید اقصی مایستدل بہ علی الملك اذھی مرجع الدلالۃ فی الاسباب کلہا قال فی نہایۃ انہ لا دلیل لمعرفۃ الملك فی حق الشاہد سوا الید لان اکثر مافی الباب ان یعاین اسباب الملك من الشراء ونحوہ الا ان الشراء انما یفید الملك اذاکان المبیع ملکا للبائع وذلك لایعرف الابالید فلو لم یجزاداء الشہادۃ بحکم الید لسد باب الشہادۃ حتی حل للقاضی ان یقضی بحکم الید کما یحل للشاہد انتہی۔
اور اگر کوئی شیئ کسی کے قبضہ میں بطور ملکیت ہودل پر گزرے تو تجھے جائز ہے کہ اس چیز کی اس کے لئے شہادت دے ورنہ نہیں الخ تنویر الابصار۔اور ہدایہ میں ہے غلام اور لونڈی کے علاوہ کوئی چیز کسی کے قبضہ میں ہوتو تجھے گنجائش ہے کہ تو یہ شہادت دے کہ یہ چیز اس کی ہے کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل کے لئے فیصلہ کن ہے کیونکہ یہ تمام اس باب میں دلالت کا مرجع ہےنہا یہ میں فرمایا:گواہ کے پاس ملکیت کی معرفت کے لئے قبضہ کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس باب میں اکثر طور نظر آنے والے اسباب خریداری وغیر ہ ہیں لیکن خریداری بھی اس وقت مفید ملك ہے جب یہ معلوم ہو کہ مبیع بائع کی ملکیت تھا اور بائع کی ملکیت اس کے قبضہ سے ہی معلوم ہوسکتی ہے اور اگر قبضہ کی بناء ملکیت کی گواہی جائز نہ ہو تو شہادت کا دروازہ ہی بند ہوجائےحتی کہ قاضی کو جائز ہے کہ وہ قبضہ کی بناء پر ملکیت کا فیصلہ دے جس طرح گواہ کو یہ شہادت دینا جائز ہے اھ(ت)
(۲)یہ شہادت معتبر ہے۔
کما فی فوائد السمیۃ فی باب الاختلاف جیسا کہ فوائد السمیہ کے اختلاف شہادت کے باب
ومن فی یدہ شیئ فلك ان تشھد انہ لہ ان وقع فی قلبك ذلك والالا الخ تنویر الابصاروفی الھدایۃ ومن کان فی یدہ شیئ سوی العبد والامۃ وسعك ان تشھد انہ لہ لان الید اقصی مایستدل بہ علی الملك اذھی مرجع الدلالۃ فی الاسباب کلہا قال فی نہایۃ انہ لا دلیل لمعرفۃ الملك فی حق الشاہد سوا الید لان اکثر مافی الباب ان یعاین اسباب الملك من الشراء ونحوہ الا ان الشراء انما یفید الملك اذاکان المبیع ملکا للبائع وذلك لایعرف الابالید فلو لم یجزاداء الشہادۃ بحکم الید لسد باب الشہادۃ حتی حل للقاضی ان یقضی بحکم الید کما یحل للشاہد انتہی۔
اور اگر کوئی شیئ کسی کے قبضہ میں بطور ملکیت ہودل پر گزرے تو تجھے جائز ہے کہ اس چیز کی اس کے لئے شہادت دے ورنہ نہیں الخ تنویر الابصار۔اور ہدایہ میں ہے غلام اور لونڈی کے علاوہ کوئی چیز کسی کے قبضہ میں ہوتو تجھے گنجائش ہے کہ تو یہ شہادت دے کہ یہ چیز اس کی ہے کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل کے لئے فیصلہ کن ہے کیونکہ یہ تمام اس باب میں دلالت کا مرجع ہےنہا یہ میں فرمایا:گواہ کے پاس ملکیت کی معرفت کے لئے قبضہ کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس باب میں اکثر طور نظر آنے والے اسباب خریداری وغیر ہ ہیں لیکن خریداری بھی اس وقت مفید ملك ہے جب یہ معلوم ہو کہ مبیع بائع کی ملکیت تھا اور بائع کی ملکیت اس کے قبضہ سے ہی معلوم ہوسکتی ہے اور اگر قبضہ کی بناء ملکیت کی گواہی جائز نہ ہو تو شہادت کا دروازہ ہی بند ہوجائےحتی کہ قاضی کو جائز ہے کہ وہ قبضہ کی بناء پر ملکیت کا فیصلہ دے جس طرح گواہ کو یہ شہادت دینا جائز ہے اھ(ت)
(۲)یہ شہادت معتبر ہے۔
کما فی فوائد السمیۃ فی باب الاختلاف جیسا کہ فوائد السمیہ کے اختلاف شہادت کے باب
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۲€
الہدایہ کتاب الشہادات ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۹€
النہایہ شرح الہدایہ
الہدایہ کتاب الشہادات ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۹€
النہایہ شرح الہدایہ
بالشہادۃ ناقلا علی صاحب الدرر ولو شھد احدھما ان فلانا باع منہ و اخران فلانا اقربا لبیع منہ تقبل الخ۔ میں صاحب درر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اور گواہوں میں سے ایك نے شہادت دی کہ فلاں نے یہ چیز اس کو فروخت کی ہےاور دوسرے نے شہادت دی کہ فلاں نے اس کے پاس فروخت کرنے کا اقرار کیا ہےتو مقبول ہوگی الخ(ت)
(۳)حافظ جلال الدین کے لئے ان دونوں مکانوں کا ہبہ عندالشرع درست ہوگیا اور باپ کا دینا قرائن ہبہ اور تملیك کے موجود ہوتے ہوئے ہبہ ہی ماناجائے گا اور اتنی مدت دراز تك تصرف مالکانہ اور عدم تعرض والد کا واضح قرینہ تملیك ہےلہذا شاہدین کی شہادت میں لفظ دینا ہبہ ہی پر محمول ہوگا عاریت پر نہیں ہوسکتا اور قاضی یا حکم کو شاہدین سے یہ استفسار کرنا کہ عاریۃ دیا تھا یا ہبۃ عندالشرع کوئی حق نہیں بلکہ یہ شہادت ہبہ ہی پر محمول ہوگیردالمحتار میں ہے:
وفی خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الابن یکون للاب الااذادلت دلالۃ التملیك بیری الخ۔ وفی فوائد السمیۃ صحت بمثل قولہ نحلت و وھبتہ کذالہ جعلتاما وھبت فانہ صریح فیہ واما نحلت وھی بمعنی اعطیت فلانہ مستعمل فیہ واما جعلت لہ فلان اللام للتملیکواﷲ اعلم بالصواب راقم بشیر احمد عفی عنہ۔ خزانۃ الفتاوی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا جس میں بیٹا باپ کی دی ہوئی اجازت سے تصرف کرتا ہو وہ مال باپ کا ہوگا مگر جب باپ کی طرف سے تملیك کا واضح قرینہ موجود ہو تو بیٹے کا تصور ہو گابیری الخ(ت) فوائد السمیہ میں ہے میں نے اس کو عطیہ دیااس کو ہبہ کیا۔یونہی اس کے لئے کردیا میں نے اسے ہبہ کیا۔ان الفاظ سے ہبہ صحیح قرار پائیگا "وھبت"سے تو اس لئے کہ اس میں تملیك کی تصریح ہے "نحلت"سے اس لئے کہ یہ"اعطیت"(میں نے عطا کیا) کے معنی میں ہے کیونکہ یہ اسی معنی میں مستعمل ہے لیکن "جعلت لہ"سے اس لئے کہ اس میں لام تملیك کے لئے ہےواﷲ تعالی اعلم بالصوابراقم بشیر احمد عفی عنہ۔(ت)
(۳)حافظ جلال الدین کے لئے ان دونوں مکانوں کا ہبہ عندالشرع درست ہوگیا اور باپ کا دینا قرائن ہبہ اور تملیك کے موجود ہوتے ہوئے ہبہ ہی ماناجائے گا اور اتنی مدت دراز تك تصرف مالکانہ اور عدم تعرض والد کا واضح قرینہ تملیك ہےلہذا شاہدین کی شہادت میں لفظ دینا ہبہ ہی پر محمول ہوگا عاریت پر نہیں ہوسکتا اور قاضی یا حکم کو شاہدین سے یہ استفسار کرنا کہ عاریۃ دیا تھا یا ہبۃ عندالشرع کوئی حق نہیں بلکہ یہ شہادت ہبہ ہی پر محمول ہوگیردالمحتار میں ہے:
وفی خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الابن یکون للاب الااذادلت دلالۃ التملیك بیری الخ۔ وفی فوائد السمیۃ صحت بمثل قولہ نحلت و وھبتہ کذالہ جعلتاما وھبت فانہ صریح فیہ واما نحلت وھی بمعنی اعطیت فلانہ مستعمل فیہ واما جعلت لہ فلان اللام للتملیکواﷲ اعلم بالصواب راقم بشیر احمد عفی عنہ۔ خزانۃ الفتاوی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا جس میں بیٹا باپ کی دی ہوئی اجازت سے تصرف کرتا ہو وہ مال باپ کا ہوگا مگر جب باپ کی طرف سے تملیك کا واضح قرینہ موجود ہو تو بیٹے کا تصور ہو گابیری الخ(ت) فوائد السمیہ میں ہے میں نے اس کو عطیہ دیااس کو ہبہ کیا۔یونہی اس کے لئے کردیا میں نے اسے ہبہ کیا۔ان الفاظ سے ہبہ صحیح قرار پائیگا "وھبت"سے تو اس لئے کہ اس میں تملیك کی تصریح ہے "نحلت"سے اس لئے کہ یہ"اعطیت"(میں نے عطا کیا) کے معنی میں ہے کیونکہ یہ اسی معنی میں مستعمل ہے لیکن "جعلت لہ"سے اس لئے کہ اس میں لام تملیك کے لئے ہےواﷲ تعالی اعلم بالصوابراقم بشیر احمد عفی عنہ۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۸€
الجواب
(۱)بیعناموں کی حدود میں ملك فلاں لکھا ہونا حجت نہیں
فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالاقرار اوالنکول اما الکتاب فلیس من الحجۃ فی شیئ کما فی الخانیۃ والخیریۃ وغیرھما ۔ کیونکہ قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دیتا ہے لیکن تحریر کوئی حجت نہیں ہے جیساکہ خانیہ اور خیریہ میں ہے۔(ت)
اس کے ساتھ اگر کاتبان بیعنامہ کی زبانی شہادتیں یوں ہی کہ یہ بیعنامے ہم نے لکھے اور ان کے حدودمیں فلاں مکان ملك فلاں لکھا تو یہ بھی کوئی چیز نہیں کہ یہ شہادت ملك پر نہیں بلکہ اپنے ایك فعل پر ہے اور اگر وہ یوں گواہی دیتے ہیں کہ یہ مکان ملك مولابخش ہے کہ حدود بیعنامہ میں اس کی ملك لکھا ہے تو یہ بھی اصلا مسموع نہیں کہ کتابت صك غیر مقر پر حجت نہیںہاں اگر وہ مطلقا یہ مکان ملك مولابخش ہونے کی گواہی دیتے ہوں اور تحریر حدود کو اس کا متبع بتاتے ہوں تو گواہی مسموع ہےاور اگر وہ عادل شرعی ہیں تو حکم یا قاضی کو اس جرح کا کوئی حق نہیں کہ تم نے کیونکر اس کی ملك جانی ہاں اگر مستور ہوں اور حکم کو شبہہ گزرے تو سوال کرے والمسئلۃ توخذمن جامع الفصولین وغیرہ(یہ مسئلہ جامع الفصولین وغیرہ سے لیا گیا ہے۔ت) واﷲتعالی اعلم۔
(۲)یہ شہادت اگر پوری تعیین بائع و مشتری کے ساتھ ہو بھی کہ ایك گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے یہ مکان زید بن بکرنے مولی بخش بن فلان بن فلاں کے ہاتھ بیع کیااور دوسرا گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے مولی بخش بن فلاں بن فلاں نے کہا کہ میں نے یہ مکان زید بن عمرو بن بکر سے خریدکیا جب بھی اصلا مسموع نہیں کہ دونوں شہادتیں کسی امر واحد پر وارد نہیںنہ کسی کا بیان کہ میں نے خرید کیا دوسرے پر حجت ہوسکےاور اسے شہادت علی الاقرار سمجھنا محض بے معنی ہے کہ یہ کہنا کہ میں نے خرید کیا اقرار نہیں دعوی ہےاقرار ودعوی میں زمین آسمان کا بل ہےاقرار مقر پر کوئی حق لازم کرنا ہے بخلاف اس صورت کے کہ ایك گواہ گواہی دے کہ اس بائع نے میرے سامنے اس مشتری کے ہاتھ یہ چیز بیع کیدوسرا گواہی دے کہ میرے سامنے اس بائع نے اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز اس مشتری کے ہاتھ بیع کییہ ضرور اقرار کی شہادت ہے اور دونوں شہادتوں سے واحد پر وارد کہ بیع میں صیغہ انشاء وصیغہ اقرار دونوں"بعت"ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۱)بیعناموں کی حدود میں ملك فلاں لکھا ہونا حجت نہیں
فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالاقرار اوالنکول اما الکتاب فلیس من الحجۃ فی شیئ کما فی الخانیۃ والخیریۃ وغیرھما ۔ کیونکہ قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دیتا ہے لیکن تحریر کوئی حجت نہیں ہے جیساکہ خانیہ اور خیریہ میں ہے۔(ت)
اس کے ساتھ اگر کاتبان بیعنامہ کی زبانی شہادتیں یوں ہی کہ یہ بیعنامے ہم نے لکھے اور ان کے حدودمیں فلاں مکان ملك فلاں لکھا تو یہ بھی کوئی چیز نہیں کہ یہ شہادت ملك پر نہیں بلکہ اپنے ایك فعل پر ہے اور اگر وہ یوں گواہی دیتے ہیں کہ یہ مکان ملك مولابخش ہے کہ حدود بیعنامہ میں اس کی ملك لکھا ہے تو یہ بھی اصلا مسموع نہیں کہ کتابت صك غیر مقر پر حجت نہیںہاں اگر وہ مطلقا یہ مکان ملك مولابخش ہونے کی گواہی دیتے ہوں اور تحریر حدود کو اس کا متبع بتاتے ہوں تو گواہی مسموع ہےاور اگر وہ عادل شرعی ہیں تو حکم یا قاضی کو اس جرح کا کوئی حق نہیں کہ تم نے کیونکر اس کی ملك جانی ہاں اگر مستور ہوں اور حکم کو شبہہ گزرے تو سوال کرے والمسئلۃ توخذمن جامع الفصولین وغیرہ(یہ مسئلہ جامع الفصولین وغیرہ سے لیا گیا ہے۔ت) واﷲتعالی اعلم۔
(۲)یہ شہادت اگر پوری تعیین بائع و مشتری کے ساتھ ہو بھی کہ ایك گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے یہ مکان زید بن بکرنے مولی بخش بن فلان بن فلاں کے ہاتھ بیع کیااور دوسرا گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے مولی بخش بن فلاں بن فلاں نے کہا کہ میں نے یہ مکان زید بن عمرو بن بکر سے خریدکیا جب بھی اصلا مسموع نہیں کہ دونوں شہادتیں کسی امر واحد پر وارد نہیںنہ کسی کا بیان کہ میں نے خرید کیا دوسرے پر حجت ہوسکےاور اسے شہادت علی الاقرار سمجھنا محض بے معنی ہے کہ یہ کہنا کہ میں نے خرید کیا اقرار نہیں دعوی ہےاقرار ودعوی میں زمین آسمان کا بل ہےاقرار مقر پر کوئی حق لازم کرنا ہے بخلاف اس صورت کے کہ ایك گواہ گواہی دے کہ اس بائع نے میرے سامنے اس مشتری کے ہاتھ یہ چیز بیع کیدوسرا گواہی دے کہ میرے سامنے اس بائع نے اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز اس مشتری کے ہاتھ بیع کییہ ضرور اقرار کی شہادت ہے اور دونوں شہادتوں سے واحد پر وارد کہ بیع میں صیغہ انشاء وصیغہ اقرار دونوں"بعت"ہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب القضاء باب خلل والمحاضر والسجلات دارالفکر بیروت ∞۲/ ۱۹،۲۳€
(۳)فرق ہے اس میں کہ زید عمرو سے کہے کہ یہ مکان میں نے تجھے دیا اور اس میں کہ بکر گواہی دے یہ مکان زید نے عمرو کو دیا تھا دینا ہبۃ بھی ہوتا ہے عاریۃ بھی اجارۃ بھیمدار قرائن پر رہتا ہے اگر دلالت تملیك پائی جائے ہبہ سمجھا جائے گا ورنہ نہیںدلائل و قرائن قول معطی کے ساتھ مقترن ہوتے ہیں یہ جو حکایت کررہا ہے کہ زید نے دیا تھا اس کے ساتھ کون سا قرینہ مقترن ہے لہذا شہادت محض مہمل وناکافی ہےایسی مبہم بات میں قاضی استفسار کرسکتا ہے اور مدعی کو اس سے روکنے کا حق نہیں کہ اگر استفسار نہ ہوگا شہادت مبہم ہوکر لغو بیکار ہو جائے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۹: ازگوالیار محمود الحسن ہادی ۲/ذی الحجہ ۳۳ ھ روز شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و حماۃ الشرع المتین کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں کسی شخص قرار دادہ احد المتخاصمین کو حکم قرار دے دیں اور وہ حکم ولایت شرعیہ میں نہ فیصلہ کرے تو کیا شرعاا س کی منسوخی کے واسطے احد المتخاصمین باب القضاء میں یا کسی دیگر طریقہ سے چارہ جوئی کرسکتا ہے
الجواب:
حکم کا ولایت شرعیہ میں فیصلہ نہ کرنا دو معنی رکھتا ہےایك یہ کہ اسے اس فیصلہ کی شرعا ولایت نہ تھی عام ازیں کہ وہ خود اہل ولایت سے نہ تھا یا اس خاص فیصلہ کی اسے ولایت نہ تھی جیسے قود و حدود میں تحکیم جائز نہیںدوسرے یہ کہ حکم کو فی نفسہ اور اس خاص مقدمہ کے اعتبار سے بھی ولایت شرعیہ تھی مگر اس نے اس ولایت کے حدود میں فیصلہ نہ کیا اس سے باہر گیا یعنی خلاف شرع حکم دیا بہر حال کچھ بھی معنی ہوں وہ فیصلہ مردود باطل ہے اور کسی طرح نافذ نہیں ہوسکتا منسوخ تو وہ کیا جائے جو کچھ وجود بھی رکھتا ہوہاں اگر فریق ثانی نہ مانے تو اس کے اظہار بطلان کے لئے دارالقضاء میں رجوع کی جائے اور قاضی پر واجب کہ اسے رد کردے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۰: مسئولہ محمد حسن صاحب تحصیلدار بجنور ۲۴/محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مورث نے کچھ زیور نقرئی و طلائی برتن وغیرہ کے اس نیت سے تیار کرائے کہ بوقت شادی اپنی فلاں لڑکی کو بطور جہیز دینگےوقتا فوقتا کسی کسی زیور کو جو تیار ہوکر آتے رہے اپنے اعزاواحباب کو یہ کہہ کر دکھایا بھی کہ فلاں لڑکی کو بطور جہیز بوقت شادی دینے کے لئے بنوایا ہےمنجملہ اشیا مسطور بالا بعض اشیاء دختر مذکور ہ کے زمانہ عدم بلوغ میں تیار ہوئے تھےاور بعد بلوغ قطعی طور سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کون سے قبل از بلوغ تیار ہوئے تھے اور کون سے بعد بلوغ۔بعد بلوغ دختر مذکورہ مورث زائد
مسئلہ۱۱۹: ازگوالیار محمود الحسن ہادی ۲/ذی الحجہ ۳۳ ھ روز شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و حماۃ الشرع المتین کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں کسی شخص قرار دادہ احد المتخاصمین کو حکم قرار دے دیں اور وہ حکم ولایت شرعیہ میں نہ فیصلہ کرے تو کیا شرعاا س کی منسوخی کے واسطے احد المتخاصمین باب القضاء میں یا کسی دیگر طریقہ سے چارہ جوئی کرسکتا ہے
الجواب:
حکم کا ولایت شرعیہ میں فیصلہ نہ کرنا دو معنی رکھتا ہےایك یہ کہ اسے اس فیصلہ کی شرعا ولایت نہ تھی عام ازیں کہ وہ خود اہل ولایت سے نہ تھا یا اس خاص فیصلہ کی اسے ولایت نہ تھی جیسے قود و حدود میں تحکیم جائز نہیںدوسرے یہ کہ حکم کو فی نفسہ اور اس خاص مقدمہ کے اعتبار سے بھی ولایت شرعیہ تھی مگر اس نے اس ولایت کے حدود میں فیصلہ نہ کیا اس سے باہر گیا یعنی خلاف شرع حکم دیا بہر حال کچھ بھی معنی ہوں وہ فیصلہ مردود باطل ہے اور کسی طرح نافذ نہیں ہوسکتا منسوخ تو وہ کیا جائے جو کچھ وجود بھی رکھتا ہوہاں اگر فریق ثانی نہ مانے تو اس کے اظہار بطلان کے لئے دارالقضاء میں رجوع کی جائے اور قاضی پر واجب کہ اسے رد کردے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۰: مسئولہ محمد حسن صاحب تحصیلدار بجنور ۲۴/محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مورث نے کچھ زیور نقرئی و طلائی برتن وغیرہ کے اس نیت سے تیار کرائے کہ بوقت شادی اپنی فلاں لڑکی کو بطور جہیز دینگےوقتا فوقتا کسی کسی زیور کو جو تیار ہوکر آتے رہے اپنے اعزاواحباب کو یہ کہہ کر دکھایا بھی کہ فلاں لڑکی کو بطور جہیز بوقت شادی دینے کے لئے بنوایا ہےمنجملہ اشیا مسطور بالا بعض اشیاء دختر مذکور ہ کے زمانہ عدم بلوغ میں تیار ہوئے تھےاور بعد بلوغ قطعی طور سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کون سے قبل از بلوغ تیار ہوئے تھے اور کون سے بعد بلوغ۔بعد بلوغ دختر مذکورہ مورث زائد
ازیك سال زندہ رہے اور کل اشیاء بدستور بحالت موجودہ بہ بقبضہ مورث رہیں۔مورث نے دختر مذکورہ کی شادی سے قبل انتقال کیااس صورت میں اشیاء متذکرہ بالا شرعا متروکہ متوفی قابل ورثہ ہیں یا تنہا ملك دختر متصور ہوں گی اور مورث کی محض نیت ہبہ وصیت کی حد تك پہنچتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
کسی مال سے مالك کی ملك بے کسی دلیل ثابت واضح کے منتقل نہیں مانی جاسکتی۔ائمہ کرام فرماتے ہیں:
لاینزع شیئ من ید احدالابحق ثابت معروف۔ مشہور طور پر حق کے ثبوت کے بغیر کسی کے قبضہ سے چیز کو چھڑانا صحیح نہیں ہے۔(ت)
یہ پہلے فتوی میں بیان ہولیا کہ اگر لڑکی نابالغہ تھی جو کچھ اس کی نیت سے بنوایا ملك دختر ہوگیا باپ کا اس نیت سے یہ تصرف ہی اس وقت قائم مقام ہبہ ہے اور باپ کا قبضہ ہی نابالغ کا قبضہ ہے ہبہ تام وکامل ہوگیا اور بالغہ تھی تو قبل تسلیم موت واہب سے ہبہ تھا بھی تو باطلرہا یہ کہ بعض نامعلوم اشیاء قبل بلوغ اس کے لئے بنوائی تھیں اس کا ثبوت درکاردختر اگر خود یونہی مجہول دعوی کرتی ہے کہ کچھ میری نابالغی میں بنوایا تھا تو دعوی ہی مسموع نہیں کہ دعوی مجہول نامقبول۔درمختار میں ہے:
شرط جواز الدعوی معلومیۃ المال المدعی اذلایقضی بمجہول ۔ دعوی کے جواز کے لئے مال مدعی کا معلوم ہونا شرط ہے کیونکہ مجہول چیز کا فیصلہ درست نہیں۔(ت)
اور اگر وہ معین اشیاء کا دعوی کرے مگر گواہ تعین نہ کریں تو گواہان نامسموع کہ شے مجہول پر شہادت مردود۔عالمگیری میں ہے:
شرائطھا منھا مایرجع الی المشہود بہ وھو ان یکون بمعلوم فان کان بمجہول لاتقبل ۔ اس کی شرائط میں سے ایك یہ ہے جو مشہود بہ سے متعلق ہے کہ وہ معلوم ہوتو اگر مجہول ہو تو شہادت مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
الجواب:
کسی مال سے مالك کی ملك بے کسی دلیل ثابت واضح کے منتقل نہیں مانی جاسکتی۔ائمہ کرام فرماتے ہیں:
لاینزع شیئ من ید احدالابحق ثابت معروف۔ مشہور طور پر حق کے ثبوت کے بغیر کسی کے قبضہ سے چیز کو چھڑانا صحیح نہیں ہے۔(ت)
یہ پہلے فتوی میں بیان ہولیا کہ اگر لڑکی نابالغہ تھی جو کچھ اس کی نیت سے بنوایا ملك دختر ہوگیا باپ کا اس نیت سے یہ تصرف ہی اس وقت قائم مقام ہبہ ہے اور باپ کا قبضہ ہی نابالغ کا قبضہ ہے ہبہ تام وکامل ہوگیا اور بالغہ تھی تو قبل تسلیم موت واہب سے ہبہ تھا بھی تو باطلرہا یہ کہ بعض نامعلوم اشیاء قبل بلوغ اس کے لئے بنوائی تھیں اس کا ثبوت درکاردختر اگر خود یونہی مجہول دعوی کرتی ہے کہ کچھ میری نابالغی میں بنوایا تھا تو دعوی ہی مسموع نہیں کہ دعوی مجہول نامقبول۔درمختار میں ہے:
شرط جواز الدعوی معلومیۃ المال المدعی اذلایقضی بمجہول ۔ دعوی کے جواز کے لئے مال مدعی کا معلوم ہونا شرط ہے کیونکہ مجہول چیز کا فیصلہ درست نہیں۔(ت)
اور اگر وہ معین اشیاء کا دعوی کرے مگر گواہ تعین نہ کریں تو گواہان نامسموع کہ شے مجہول پر شہادت مردود۔عالمگیری میں ہے:
شرائطھا منھا مایرجع الی المشہود بہ وھو ان یکون بمعلوم فان کان بمجہول لاتقبل ۔ اس کی شرائط میں سے ایك یہ ہے جو مشہود بہ سے متعلق ہے کہ وہ معلوم ہوتو اگر مجہول ہو تو شہادت مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۱€
ہاں اگر دخترد عوی بالتعیین کرے اور گواہان اشیاء معینہ نہ دے سکے او ر دیگر ورثہ پر حلف رکھے اور وہ حلف کرلیں دعوی رد ہوجائے گا اور حلف سے انکار کردیں تو دعوی ثابت ہوجائے گا______________اور وہ اشیاء بعینہ دختر کو دلادی جائیں گی کما ھو الحکم المعروف فی النکول(جیسا کہ قسم کے انکار میں حکم معروف ہے۔ت)اور اگر صورت یہ ہے کہ ورثہ خود اقرار کرتے ہیں کہ مورث نے بعض اشیاء اس دختر کی نابالغی میں اس کےلئے بنوائی تھیں تو جو جو شے معین کریں وہ ملك دختر ہوں گی ورنہ کچھ نہیں
فان الھبۃ تملیك وتملیك المجہول لایجوز فالا قرار بھبۃ مجھولۃ لایجوز۔ کیونکہ ہبہ تملیك کا نام ہے جبکہ تملیك مجہول ناجائز ہےتو مجہول چیز کے ہبہ کا اقرار جائز نہیں۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
قال لاخرانت فی حل مما اخذت لم یحل لہ الاخذ ۔ ایك نے دوسرے کو کہا کہ جو تو نے لیا وہ تجھے حلال ہے تو اسکو وہ لینا حلال نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
جہالۃ المقر بہ لاتضر الااذا بین سببا تضرہ الجہالۃ کبیع واجارۃ واﷲ تعالی اعلم۔ جس چیز کا اقرار کیا گیا اس کا مجہول ہونا مضر نہیں لیکن جب اقرار میں ایسے سبب کو بیان کرے جس میں جہالت مضر ہو جیسے بیع اور اجارہ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۲۱: ازرام پور محلہ پل پختہ متصل زیارت بھورے میاں مسئولہ عبدالحکیم ۱۹صفر ۱۳۳۴ھ دوشنبہ
رشوت کی تعریف اور اس کی وعید۔
الجواب:
رشوت کے لئے فرمایا:
الراشی والمرتشی کلاھما فی رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنم
فان الھبۃ تملیك وتملیك المجہول لایجوز فالا قرار بھبۃ مجھولۃ لایجوز۔ کیونکہ ہبہ تملیك کا نام ہے جبکہ تملیك مجہول ناجائز ہےتو مجہول چیز کے ہبہ کا اقرار جائز نہیں۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
قال لاخرانت فی حل مما اخذت لم یحل لہ الاخذ ۔ ایك نے دوسرے کو کہا کہ جو تو نے لیا وہ تجھے حلال ہے تو اسکو وہ لینا حلال نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
جہالۃ المقر بہ لاتضر الااذا بین سببا تضرہ الجہالۃ کبیع واجارۃ واﷲ تعالی اعلم۔ جس چیز کا اقرار کیا گیا اس کا مجہول ہونا مضر نہیں لیکن جب اقرار میں ایسے سبب کو بیان کرے جس میں جہالت مضر ہو جیسے بیع اور اجارہ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۲۱: ازرام پور محلہ پل پختہ متصل زیارت بھورے میاں مسئولہ عبدالحکیم ۱۹صفر ۱۳۳۴ھ دوشنبہ
رشوت کی تعریف اور اس کی وعید۔
الجواب:
رشوت کے لئے فرمایا:
الراشی والمرتشی کلاھما فی رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتب الہبہ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۲€
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۰€
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۰€
النار ۔ میں ہیں۔(ت)
یہ اس صورت میں ہے کہ دینے والا مستحق رہے گاکسی کا حق چھپانا اور اپنا حق نکالنے کیلئے جو دیا جائے وہ رشوت ہے اور اپنے اوپر سے دفع ظلم کرد یا جائے تو رشوت نہیںہاں ظالم کے حق میں وہ بھی رشوت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۲: مسئولہ رحمت علی خاں از جے پور سالگانیر دروازہ جوہری بازار دکان عبدالرحمن وعبدالغنی خیاط ۹رجب ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی رحمت علی خان اور اس کی زوجہ مسماۃ آبادی بیگم کے باہمی نااتفاقی تھی چنانچہ مسماۃ کی جانب سے دعوی واپسی جہیز عدالت میں دائرہوکر دس پانچ اشخاص اہل ہنود متخاصمین کی جانب سے پنچ مقرر ہوئے اور عدالت سے پنچان ہنود کے سپرد فیصلہ کےلئے کہا گیاپنچان نے بجائے اس کے کہ مقدمہ واپسی جہیز میں فیصلہ دیتی یہ فیصلہ صادر کیا کہ رحمت علی خاں اپنی زوجہ کو نہ طلاق دے سکے اور نہ دوسری شادی کرسکے اور نان و نفقہ میں نصف جائداد مسماۃ کو دی جائے۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ بروئے شرع شریف اس فیصلہ کی پابندی رحمت علی خاں پر لازم ہے یانہیں
الجواب:
وہ فیصلہ محض مردود و باطل اور خلاف شرع و ناقابل قبول ہےاس کا کوئی اثر فریقین میں سے کسی پر نہیں پڑسکتاعلاوہ بریں وہ پنچایت سرے سے مردود باطل ہے
کمافی الھدایۃ والدر المختار و العالمگیریۃ وغیرہا عامۃ الکتب قال اﷲ تعالی " ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ جیسا کہ ہدایہدرمختاراور عالمگیریہ وغیرھا عام کتب میں ہے اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہ دے گا(ت)
ہاں شرعا رحمت علی خاں پر یہ فرض ہے کہ یا تو عورت کو اچھی طرح رکھے یا اچھی طرح طلاق دے دے
قال تعالی " فامسکوہن بمعروف او ا ﷲ تعالی نے فرمایا:ان کو بھلائی کے ساتھ پاس
یہ اس صورت میں ہے کہ دینے والا مستحق رہے گاکسی کا حق چھپانا اور اپنا حق نکالنے کیلئے جو دیا جائے وہ رشوت ہے اور اپنے اوپر سے دفع ظلم کرد یا جائے تو رشوت نہیںہاں ظالم کے حق میں وہ بھی رشوت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۲: مسئولہ رحمت علی خاں از جے پور سالگانیر دروازہ جوہری بازار دکان عبدالرحمن وعبدالغنی خیاط ۹رجب ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی رحمت علی خان اور اس کی زوجہ مسماۃ آبادی بیگم کے باہمی نااتفاقی تھی چنانچہ مسماۃ کی جانب سے دعوی واپسی جہیز عدالت میں دائرہوکر دس پانچ اشخاص اہل ہنود متخاصمین کی جانب سے پنچ مقرر ہوئے اور عدالت سے پنچان ہنود کے سپرد فیصلہ کےلئے کہا گیاپنچان نے بجائے اس کے کہ مقدمہ واپسی جہیز میں فیصلہ دیتی یہ فیصلہ صادر کیا کہ رحمت علی خاں اپنی زوجہ کو نہ طلاق دے سکے اور نہ دوسری شادی کرسکے اور نان و نفقہ میں نصف جائداد مسماۃ کو دی جائے۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ بروئے شرع شریف اس فیصلہ کی پابندی رحمت علی خاں پر لازم ہے یانہیں
الجواب:
وہ فیصلہ محض مردود و باطل اور خلاف شرع و ناقابل قبول ہےاس کا کوئی اثر فریقین میں سے کسی پر نہیں پڑسکتاعلاوہ بریں وہ پنچایت سرے سے مردود باطل ہے
کمافی الھدایۃ والدر المختار و العالمگیریۃ وغیرہا عامۃ الکتب قال اﷲ تعالی " ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾ " ۔ جیسا کہ ہدایہدرمختاراور عالمگیریہ وغیرھا عام کتب میں ہے اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہ دے گا(ت)
ہاں شرعا رحمت علی خاں پر یہ فرض ہے کہ یا تو عورت کو اچھی طرح رکھے یا اچھی طرح طلاق دے دے
قال تعالی " فامسکوہن بمعروف او ا ﷲ تعالی نے فرمایا:ان کو بھلائی کے ساتھ پاس
حوالہ / References
الترغیب والترہیب ∞۳/ ۱۸۰€ مجمع الزوائد،باب فی الرشا ∞۴ /۱۹۹۔€ کنز العمال ∞حدیث ۱۵۰۷۷ ۶ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۴۱€
فارقوہن بمعروف " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ روك لو یا ان کو بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ۱۲۳: مسئولہ غلام گیلانی از شمس آباد کیمل پور ۱۸/شعبان ۱۳۳۴ھ سہ شنبہ
مدعی بینہ آورد وامانز د قاضی بکسے وجہ مقبول نشد ندازوجہ فسق یا عدم تو افق شہادات بادعوی یایك گواہ موافق بود دیگر مخالف مدعی دریں صور ایں بینہ را کالعدم تصور بدہ بر منکر حلف عائد خواہد شد یانہ فقط۔ مدعی نے گواہی پیش کی لیکن فاسق ہونے یا شہادت کے دعوی کے موافق نہ ہونے یا ایك گواہ موافق اور دوسرا مخالف میں سے کسی وجہ سے قاضی کے ہاں گواہی مقبول نہ ہوئی ان صورتوں میں مدعی نے گواہی کو کالعدم قرار دیا تو کیا منکر پر قسم عائد ہوگی یا نہیںفقط۔(ت)
الجواب الملفوظ
پیداست کہ دریں صورت مدعی از اقامت بینہ عاجز ماند ہر چہ برسم گواہان پیش کنند بینہ نہ باشد بینہ آنست کہ ہمچو اسم خود بینہ باشد پس بطلب مدعی بلا شبہہ حلف بر مدعی علیہ عائد گردد۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ مدعی گواہی پیش کرنے سے عاجز رہا اس نے گواہی کے طور پرجن کو پیش کیا وہ بینہ نہ ہوئےبینہ اپنے نام کی طرح واضح کرنے والا ہوتا ہےپس مدعی کے مطالبہ پر مدعی علیہ پر قسم عائد ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۲۴: مسئولہ شمس الدین از نصیر آباد ضلع اجمیر شریف مسجد گودام چرم ۱۷/ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ دو شنبہ
فتوی دینے کےلئے مفتی کو کتنا علم پڑھنا ضروری ہے اور کتنی مہارت علوم دینیہ میں ہونی چاہئے فقط۔
مسئلہ۱۲۳: مسئولہ غلام گیلانی از شمس آباد کیمل پور ۱۸/شعبان ۱۳۳۴ھ سہ شنبہ
مدعی بینہ آورد وامانز د قاضی بکسے وجہ مقبول نشد ندازوجہ فسق یا عدم تو افق شہادات بادعوی یایك گواہ موافق بود دیگر مخالف مدعی دریں صور ایں بینہ را کالعدم تصور بدہ بر منکر حلف عائد خواہد شد یانہ فقط۔ مدعی نے گواہی پیش کی لیکن فاسق ہونے یا شہادت کے دعوی کے موافق نہ ہونے یا ایك گواہ موافق اور دوسرا مخالف میں سے کسی وجہ سے قاضی کے ہاں گواہی مقبول نہ ہوئی ان صورتوں میں مدعی نے گواہی کو کالعدم قرار دیا تو کیا منکر پر قسم عائد ہوگی یا نہیںفقط۔(ت)
الجواب الملفوظ
پیداست کہ دریں صورت مدعی از اقامت بینہ عاجز ماند ہر چہ برسم گواہان پیش کنند بینہ نہ باشد بینہ آنست کہ ہمچو اسم خود بینہ باشد پس بطلب مدعی بلا شبہہ حلف بر مدعی علیہ عائد گردد۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ مدعی گواہی پیش کرنے سے عاجز رہا اس نے گواہی کے طور پرجن کو پیش کیا وہ بینہ نہ ہوئےبینہ اپنے نام کی طرح واضح کرنے والا ہوتا ہےپس مدعی کے مطالبہ پر مدعی علیہ پر قسم عائد ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۲۴: مسئولہ شمس الدین از نصیر آباد ضلع اجمیر شریف مسجد گودام چرم ۱۷/ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ دو شنبہ
فتوی دینے کےلئے مفتی کو کتنا علم پڑھنا ضروری ہے اور کتنی مہارت علوم دینیہ میں ہونی چاہئے فقط۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۵/۲€
الجواب:
حدیث و تفسیر واصول وادب وقدر حاجت ہیأت وہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی اﷲ اور نیت لوجہ اﷲ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من اﷲ جوان شروط کا جامع وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے ورنہ اگر خواہی سلامت برکنار است۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۵: مسئولہ محمد سلیمان طالب علم مدرسہ فیض احمدی کانپور ۳۰/محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شر ع متین ا س مسئلہ ذیل میں کہ زید صاحب جائداد کے انتقال کے قریب اس کی زوجہ مسماۃ ہندہ سے لوگوں نے کہا کہ زید کے انتقال کا وقت قریب ہے اپنا دین مہر زید کو معاف کردو تاکہ آخرت میں اس کو مواخذہ نہ ہومسماۃ ہندہ مذکور نے کہا کہ اگر میں اپنا مہر معاف کردوں تو زید کا بھائی بکر اس جائداد میں سے اپنا حصہ لے لے گا اور بقیہ جائداد مجھ کو اور میری دونوں لڑکیوں کو کافی نہ ہوگی اور ہم لوگ سخت تکلیف اٹھائیں گےلوگوں نے کہا کہ تم معاف کردو اور ہم ذمہ داری کرتے ہیں کہ یہ جائداد تمہارے ہی قبضہ میں رہے گی اور بکر کو ہر گز قابض نہ ہونے دینگےچنانچہ مسماۃ ہندہ نے جس قدر مہر کی قیمت جائداد سے زائد تھا اسی وقت زید کو معاف کردیابعد اس کے زید نے انتقال کیا او ربعد انتقال زید کے جائداد زید پر قابض ہوئی اور اپنی باقی عمر ا س پر مالکانہ تصرف کرتی رہیچنانچہ دونوں لڑکیوں کی شادی کے وقت کچھ جائداد کو متفرق طور پر بقدر ضرورت بیچ ڈالا اور بکر برادر زید مرحوم کچھ نہیں بولا اور جب تك مسماۃ ہندہ زندہ رہی بکرنے کبھی کوئی دعوی کچہری میں اپنے حق پانے کا نہیں کیا اور نہ کبھی ہندہ سے کہا کہ میرا حق مجھ کو دے دوالبتہ اور لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میرا بھی اس جائدا میں حق ہےاب ہندہ نے بعد وفات زید کے تخمینا پندرہویں سال انتقال کیا اور بعد انتقال ہندہ کے بکر دعوی کرتا ہے کہ جائداد زید میں میرا حق میراث مجھ کو ملناچاہئے اور منافع جائداد مذکور ہندہ کی دونوں لڑکیوں کو لینے نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ جب تك میراحق مجھ کو نہ دوگی تم لوگوں کو لینے نہ دوں گااس صورت میں جائدا د متروکہ زید میں سے کہ جس میں اس کی زوجہ ہندہ بعوض بقیہ مہر کے چودہ پندرہ برس قابض و متصرف مالکانہ رہی ہے شرعا بکر کو حق مل سکتا ہے یانہیںبینوابالسند و الکتاب تؤجروا من رب الارباب(سند اور کتاب سے بیان کیجئےرب الارباب سے اجر دئیے جاؤ گے۔ت)
حدیث و تفسیر واصول وادب وقدر حاجت ہیأت وہندسہ و توقیت اور ان میں مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغال دنیویہ سے فراغ قلب اور توجہ الی اﷲ اور نیت لوجہ اﷲ اور ان سب کے ساتھ شرط اعظم توفیق من اﷲ جوان شروط کا جامع وہ اس بحر ذخار میں شناوری کرسکتا ہے مہارت اتنی ہو کہ اس کی اصابت اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رجوع سے عار نہ رکھے ورنہ اگر خواہی سلامت برکنار است۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۵: مسئولہ محمد سلیمان طالب علم مدرسہ فیض احمدی کانپور ۳۰/محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شر ع متین ا س مسئلہ ذیل میں کہ زید صاحب جائداد کے انتقال کے قریب اس کی زوجہ مسماۃ ہندہ سے لوگوں نے کہا کہ زید کے انتقال کا وقت قریب ہے اپنا دین مہر زید کو معاف کردو تاکہ آخرت میں اس کو مواخذہ نہ ہومسماۃ ہندہ مذکور نے کہا کہ اگر میں اپنا مہر معاف کردوں تو زید کا بھائی بکر اس جائداد میں سے اپنا حصہ لے لے گا اور بقیہ جائداد مجھ کو اور میری دونوں لڑکیوں کو کافی نہ ہوگی اور ہم لوگ سخت تکلیف اٹھائیں گےلوگوں نے کہا کہ تم معاف کردو اور ہم ذمہ داری کرتے ہیں کہ یہ جائداد تمہارے ہی قبضہ میں رہے گی اور بکر کو ہر گز قابض نہ ہونے دینگےچنانچہ مسماۃ ہندہ نے جس قدر مہر کی قیمت جائداد سے زائد تھا اسی وقت زید کو معاف کردیابعد اس کے زید نے انتقال کیا او ربعد انتقال زید کے جائداد زید پر قابض ہوئی اور اپنی باقی عمر ا س پر مالکانہ تصرف کرتی رہیچنانچہ دونوں لڑکیوں کی شادی کے وقت کچھ جائداد کو متفرق طور پر بقدر ضرورت بیچ ڈالا اور بکر برادر زید مرحوم کچھ نہیں بولا اور جب تك مسماۃ ہندہ زندہ رہی بکرنے کبھی کوئی دعوی کچہری میں اپنے حق پانے کا نہیں کیا اور نہ کبھی ہندہ سے کہا کہ میرا حق مجھ کو دے دوالبتہ اور لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میرا بھی اس جائدا میں حق ہےاب ہندہ نے بعد وفات زید کے تخمینا پندرہویں سال انتقال کیا اور بعد انتقال ہندہ کے بکر دعوی کرتا ہے کہ جائداد زید میں میرا حق میراث مجھ کو ملناچاہئے اور منافع جائداد مذکور ہندہ کی دونوں لڑکیوں کو لینے نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ جب تك میراحق مجھ کو نہ دوگی تم لوگوں کو لینے نہ دوں گااس صورت میں جائدا د متروکہ زید میں سے کہ جس میں اس کی زوجہ ہندہ بعوض بقیہ مہر کے چودہ پندرہ برس قابض و متصرف مالکانہ رہی ہے شرعا بکر کو حق مل سکتا ہے یانہیںبینوابالسند و الکتاب تؤجروا من رب الارباب(سند اور کتاب سے بیان کیجئےرب الارباب سے اجر دئیے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بکر کا دعوی مدفوع اور اصلا نامسموعشیخ الاسلام ابو عبداﷲ محمد عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اپنے فتاوی میں تصریح فرمائی ہے کہ:
لا تسمع الدعوی بعد ثلث سنین قطعا للحیل و التزویر والاطماع الفاسدۃ (ملتقطا) حیلہ سازیجھوٹ اور فاسد لالچ کے احتما ل کی وجہ سے تین سال کے بعد دعوی قطعا قابل سماعت نہ ہوگا(ملتقطا)۔(ت)
اسی طرح خیریہ و عقود الدریہ وردالمحتار وغیرہا میں ہےوالتفصیل فی فتاونا(اور س کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶: مرسلہ ناصر الدین خاں ساکن پیلی بھیت محلہ بشیر خاں ۲/صفر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو کے دروازوں کے سامنے ایك اراضی چودہ فٹ چار انچ طویل اور پانچ فٹ نوانچ عریض بغرض مرور کے ہےعرصہ پندرہ سولہ سال سے زید نے بجائے دروازہ کے کھڑکی کرلی اور اس سے آمدورفت جاری رکھیپھر زید نے اس کو تقریبا ایك سال تك بندر کھااور اسی حالت میں اپنے مکان کا بیعنامہ مع جملہ حقوق داخلی و خارجی کے بکر کو کردیا اور اس بیعنامہ میں اس کھڑکی کا ذکر نہیں اور اس بیعنامہ میں دوسری کھڑکی کا بھی ذکر نہیں ہے جو اس مکان میں دوسری طرف لگی ہوئی ہے بکر نے مکان خرید نے کے بعد کھڑکی کھول لی جس کو تقریبا تیرہ چودہ سال ہوئے اب عمرو نے اس اراضی کو اپنے گھر میں عرصہ تین ماہ سے ڈال لیا ہے اور ایك دروازہ جدید اراضی مرور میں لگایا ہے جو ملاحظہ نقشہ سے ظاہر ہوگاآیا زید کو اپنی کھڑکی کھولنے کا حق تھا یانہیں اور اگر حق حاصل تھا تو وہی حق مشتری بکر کو حاصل ہے یا نہیں اور عمرو اس اراضی کو اپنے مکان میں الحاق کرنے کا مجاز ہے یانہیں
الجواب:
عمرو کو کوئی استحقاق اس زمین کے الحاق کا نہیںیہ سراسر ظلم ہے اور اس سے باز آنا اس پر
صورت مستفسرہ میں بکر کا دعوی مدفوع اور اصلا نامسموعشیخ الاسلام ابو عبداﷲ محمد عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اپنے فتاوی میں تصریح فرمائی ہے کہ:
لا تسمع الدعوی بعد ثلث سنین قطعا للحیل و التزویر والاطماع الفاسدۃ (ملتقطا) حیلہ سازیجھوٹ اور فاسد لالچ کے احتما ل کی وجہ سے تین سال کے بعد دعوی قطعا قابل سماعت نہ ہوگا(ملتقطا)۔(ت)
اسی طرح خیریہ و عقود الدریہ وردالمحتار وغیرہا میں ہےوالتفصیل فی فتاونا(اور س کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶: مرسلہ ناصر الدین خاں ساکن پیلی بھیت محلہ بشیر خاں ۲/صفر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو کے دروازوں کے سامنے ایك اراضی چودہ فٹ چار انچ طویل اور پانچ فٹ نوانچ عریض بغرض مرور کے ہےعرصہ پندرہ سولہ سال سے زید نے بجائے دروازہ کے کھڑکی کرلی اور اس سے آمدورفت جاری رکھیپھر زید نے اس کو تقریبا ایك سال تك بندر کھااور اسی حالت میں اپنے مکان کا بیعنامہ مع جملہ حقوق داخلی و خارجی کے بکر کو کردیا اور اس بیعنامہ میں اس کھڑکی کا ذکر نہیں اور اس بیعنامہ میں دوسری کھڑکی کا بھی ذکر نہیں ہے جو اس مکان میں دوسری طرف لگی ہوئی ہے بکر نے مکان خرید نے کے بعد کھڑکی کھول لی جس کو تقریبا تیرہ چودہ سال ہوئے اب عمرو نے اس اراضی کو اپنے گھر میں عرصہ تین ماہ سے ڈال لیا ہے اور ایك دروازہ جدید اراضی مرور میں لگایا ہے جو ملاحظہ نقشہ سے ظاہر ہوگاآیا زید کو اپنی کھڑکی کھولنے کا حق تھا یانہیں اور اگر حق حاصل تھا تو وہی حق مشتری بکر کو حاصل ہے یا نہیں اور عمرو اس اراضی کو اپنے مکان میں الحاق کرنے کا مجاز ہے یانہیں
الجواب:
عمرو کو کوئی استحقاق اس زمین کے الحاق کا نہیںیہ سراسر ظلم ہے اور اس سے باز آنا اس پر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۴،€العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳،€فتاوٰی خیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۴۸€
واجب اور بکر اس کھڑکی کے کھولنے کا اختیار رکھتا ہے مکان مع جمیع حقوق اس نے خریدا ہے حقو ق میں یہ مرور بھی ہے عمرو وبکر دونوں کو یکساں اس میں حق مرور حاصل ہے عمرو کا اس میں دیوار قائم کرنا تصرف باطل ہے اوراس کا انہدام لازم۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (ظالم کے دخل کا کوئی حق نہیں۔ت)دروازہ جدید کہ عمرو نے نکالا ہے اس کے نکالنے کا اس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اندر کی جانب نہیں باہر کی طرف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷: مرسلہ اکبرخاں ساکن ریاست رامپورمحلہ جھنڈا بڑے پیر صاحب ۲۶/ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
مقدمہ عباسی بیگم زوجہ عنایت احمد خان وعنایت احمد خاں ولد عبدالرحیم خاں بنام کریم بخش ولد رحیم بخشدعوی یہ کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کی اراضی مرور ۱۲ گرہ عریض اور ۸ گز ۱۲ گرہ طویل دباکر دیوار بنالی محکمہ دیوانی نے گواہان مدعی کا بیان ناقص و مجہول وباہم مختلف و نیز مخالف دعوی مان کر یکسر خارج کیا محکمہ ججی سے صرف چار گرہ کی ڈگری ہوئی کہ اس قدر میں مدعیہ کو مردہ نکالنے کی وسعت ہوجائے گی محکمہ عالیہ اپیل نے شہادت مدعیہ راجح ٹھہراکر کل دعوی ڈگری فرمایا یہ تمام تجویزیں مع نقول باضابطہ گواہان فریقین دارالافتاء میں حاضر کرکے استدعا ہےکہ اس صورت میں جو حکم شرعی ہو ارشاد ہو۔بینواتوجروا ۔
الجواب:
" ان الحکم الا للہ " (حکم صرف اﷲ تعالی ہی کا ہے۔ت) حکم اگر شریعت کے لئے ہے اور بیشك حکم شریعت ہی کے لئے ہے حکام اگر اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ مطابق شرع فیصلہ کریں اور بیشك وہ اسی لئے مقرر ہوتے ہیں اور یہی ان کا فرض ہے تو شریعت مطہرہ نے قاضی کے حضور ثبوت دعوی کے صرف تین طریقے رکھے ہیں:بینہاقرارنکول اور جہاں تینوں معدوم ثبوت معدوماور قضاء بحق مدعی ناممکن۔فتاوی امام اجل قاضیخاں میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ وھی البینۃ او الاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت کی بنا پر فیصلہ کرے گا اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت)
مسئلہ۱۲۷: مرسلہ اکبرخاں ساکن ریاست رامپورمحلہ جھنڈا بڑے پیر صاحب ۲۶/ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
مقدمہ عباسی بیگم زوجہ عنایت احمد خان وعنایت احمد خاں ولد عبدالرحیم خاں بنام کریم بخش ولد رحیم بخشدعوی یہ کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کی اراضی مرور ۱۲ گرہ عریض اور ۸ گز ۱۲ گرہ طویل دباکر دیوار بنالی محکمہ دیوانی نے گواہان مدعی کا بیان ناقص و مجہول وباہم مختلف و نیز مخالف دعوی مان کر یکسر خارج کیا محکمہ ججی سے صرف چار گرہ کی ڈگری ہوئی کہ اس قدر میں مدعیہ کو مردہ نکالنے کی وسعت ہوجائے گی محکمہ عالیہ اپیل نے شہادت مدعیہ راجح ٹھہراکر کل دعوی ڈگری فرمایا یہ تمام تجویزیں مع نقول باضابطہ گواہان فریقین دارالافتاء میں حاضر کرکے استدعا ہےکہ اس صورت میں جو حکم شرعی ہو ارشاد ہو۔بینواتوجروا ۔
الجواب:
" ان الحکم الا للہ " (حکم صرف اﷲ تعالی ہی کا ہے۔ت) حکم اگر شریعت کے لئے ہے اور بیشك حکم شریعت ہی کے لئے ہے حکام اگر اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ مطابق شرع فیصلہ کریں اور بیشك وہ اسی لئے مقرر ہوتے ہیں اور یہی ان کا فرض ہے تو شریعت مطہرہ نے قاضی کے حضور ثبوت دعوی کے صرف تین طریقے رکھے ہیں:بینہاقرارنکول اور جہاں تینوں معدوم ثبوت معدوماور قضاء بحق مدعی ناممکن۔فتاوی امام اجل قاضیخاں میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ وھی البینۃ او الاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت کی بنا پر فیصلہ کرے گا اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت)
حوالہ / References
السنن الکبری للبیہقی کتاب الغصب باب لیس لعرق ظالم الخ دارصادر بیروت ∞۶ /۹۹،€صحیح البخاری کتاب الحرث ∞۱/ ۳۱۴€ وسنن ابی داؤد کتاب الخراج ∞۲ /۸۱€
القرآن الکریم ∞۶ /۵۷€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۴۲،€فتاوٰی خیریہ کتاب القاضی الی القاضی باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۹ و ۵۱€
القرآن الکریم ∞۶ /۵۷€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۴۲،€فتاوٰی خیریہ کتاب القاضی الی القاضی باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۹ و ۵۱€
محکمہ دیوانی نے شہادات مدعیہ کو مجروح کیا محکمہ ججی نے اول جروح کو مقبول رکھا کہ مفتی صاحب نے گواہان مدعی پر اعتبار نہیں کیا ہے حجتہائے معقولہ وروایات شرعیہ سے مؤکد اپنی رائے کو فرمایا ہے ظاہرا دیوار کا بڑا ہونا اگر معلوم ہو تو یہ مدعیہ کا نافع نہیں۔ائمہ دین ہدایہ وغیرہ عامہ کتب میں فرماتے ہیں:
الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق ۔ ظاہر حال دفاع کےلئے حجت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے استحقاق کےلئے نہیں۔(ت)
یہ مصلحت کہ مدعیہ مردہ نکال سکے کوئی حجت شرعیہ تو شرعیہ عرفیہ بھی نہیں کوئی اپنی مصلحت کےلئے بلا ثبوت شرعی پر ایامال نہیں لے سکتا یہ فرمانا کہ گواہان ثبوت سے کم از کم جس قدر زمین کا ڈال لینا پایا جائے اس قدر تخلیہ کرادینا چاہئے حکم شریعت سے اصلا مطابق نہیں جس کا بیان ابھی آتا ہے پھر فیصلہ خود بھی اس کے خلاف ہے ہمارے سامنے سات گواہان مدعی کے اظہار ہیں بشیر حسن خاںرفیق محمد خاںممتاز الدین خاںعطا ء اﷲ خاں مشتاق حسین خاںممتاز علی خاںغفور حسن خان اور آٹھواں عاشق حسین خاں جس کا بیان نہ ہوا۔ان میں سے ممتاز الدین خاں نے تو کوئی مقدار بیان ہی نہ کی اور اس کی نسبت محکمہ عالیہ اپیل نے بھی اسی قدر لکھا کہ ممتاز الدین خاں کی شہادت مجہول ہو بھی تو اور بہت سی شہادت موجود ہے باقی کسی کے بیان میں دس گرہ سے کم عرض نہیں اور ڈگری صرف چار گرہ پر دی گئی جس سے صاف ظاہر کہ محکمہ ججی نے بھی وہ شہادتیں قبول نہ فرمائیں جیسا کہ ان کی بے اعتباری کو حجتہائے معقولہ وروایات شرعیہ سے مؤکد ہونا فرمایا ہے ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ ثابت دس گرہ ہو اور ڈگری چار گرہ کی۔لاجرم وہی لحاظ مصلحت ہوتی ہے کہ مردہ نکل سکے یہ ایك نیك صلاح ہے کہ کسی طرح حکم کی حد میں نہیں آسکتییہیں سے تجویز محکمہ عالیہ اپیل کے اس جملہ کا جواب واضح ہوگیا کہ ظاہر ہے کہ صاحب جج بہادر نے مدعیان کی شہادت کو مانا ہے محکمہ عالیہ نے خود جانب شہادات توجہ فرمائی محکمہ دیوانی کے اعتراضات میں بعض کے جواب دیئے بعض کے جواب سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ اور بہت سی شہادت موجود ہے ان تمام اعتراض وجواب اور ان کے مالہ و ما علیہ پر بحث موجب طول ہے اور بیان حکم محکم شرع مطہر کے لئے اس کی حاجت نہیںیہاں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ محکمہ دیوانی نے شہادتوں کو ناقص و مختلف ومخالف دعوی فرمایا اور وہ بیشك ایسی ہی ہیں ان کے وجوہ
الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق ۔ ظاہر حال دفاع کےلئے حجت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے استحقاق کےلئے نہیں۔(ت)
یہ مصلحت کہ مدعیہ مردہ نکال سکے کوئی حجت شرعیہ تو شرعیہ عرفیہ بھی نہیں کوئی اپنی مصلحت کےلئے بلا ثبوت شرعی پر ایامال نہیں لے سکتا یہ فرمانا کہ گواہان ثبوت سے کم از کم جس قدر زمین کا ڈال لینا پایا جائے اس قدر تخلیہ کرادینا چاہئے حکم شریعت سے اصلا مطابق نہیں جس کا بیان ابھی آتا ہے پھر فیصلہ خود بھی اس کے خلاف ہے ہمارے سامنے سات گواہان مدعی کے اظہار ہیں بشیر حسن خاںرفیق محمد خاںممتاز الدین خاںعطا ء اﷲ خاں مشتاق حسین خاںممتاز علی خاںغفور حسن خان اور آٹھواں عاشق حسین خاں جس کا بیان نہ ہوا۔ان میں سے ممتاز الدین خاں نے تو کوئی مقدار بیان ہی نہ کی اور اس کی نسبت محکمہ عالیہ اپیل نے بھی اسی قدر لکھا کہ ممتاز الدین خاں کی شہادت مجہول ہو بھی تو اور بہت سی شہادت موجود ہے باقی کسی کے بیان میں دس گرہ سے کم عرض نہیں اور ڈگری صرف چار گرہ پر دی گئی جس سے صاف ظاہر کہ محکمہ ججی نے بھی وہ شہادتیں قبول نہ فرمائیں جیسا کہ ان کی بے اعتباری کو حجتہائے معقولہ وروایات شرعیہ سے مؤکد ہونا فرمایا ہے ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ ثابت دس گرہ ہو اور ڈگری چار گرہ کی۔لاجرم وہی لحاظ مصلحت ہوتی ہے کہ مردہ نکل سکے یہ ایك نیك صلاح ہے کہ کسی طرح حکم کی حد میں نہیں آسکتییہیں سے تجویز محکمہ عالیہ اپیل کے اس جملہ کا جواب واضح ہوگیا کہ ظاہر ہے کہ صاحب جج بہادر نے مدعیان کی شہادت کو مانا ہے محکمہ عالیہ نے خود جانب شہادات توجہ فرمائی محکمہ دیوانی کے اعتراضات میں بعض کے جواب دیئے بعض کے جواب سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ اور بہت سی شہادت موجود ہے ان تمام اعتراض وجواب اور ان کے مالہ و ما علیہ پر بحث موجب طول ہے اور بیان حکم محکم شرع مطہر کے لئے اس کی حاجت نہیںیہاں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ محکمہ دیوانی نے شہادتوں کو ناقص و مختلف ومخالف دعوی فرمایا اور وہ بیشك ایسی ہی ہیں ان کے وجوہ
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۶،€الہدایہ کتاب ادب القاضی مسائل شتی ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۴۷€
اختلال کثیر و وافر ہیں جن کی تفصیل موجب تطویل۔ہم صر ف اس قدر پر اقتصار کریں کہ ان میں سے کسی نے بھی ایك شے معین اور ایك شخص معین پر شہادت نہ دی جس پر قضاء ممکن ہو لہذا یکسر مہمل ونامسموع ہیں۔
بیان بشیرحسن خاں: کچھ نالہ تھا کچھ زمین ہے جوڑاؤ دونوں کا تخمینا دس یا بارہ گرہ ہے اور وہ زمین آٹھ یا نوگز لمبی ہے پوٹھیا کریم بخش نے اپنے مکان میں داب لی ہےکریم بخش کی ولدیت نہیں معلوم۔اراضی مذکور کریم بخش نے اپنے مکان میں اندر پونے تین برس ہوئے مظہر کے سامنے ڈالی ہے۔
بیان ممتازالدین خاں: مدعی کی چوکھٹ کے برابر دو پوٹھے تھےبائیں ہاتھ کا پوٹھا دس بارہ گرہ چوڑا ہے اس میں سے نکل کر مدعی کا پر نالہ آیا ہے مدعا علیہ ہیں وہ یا کیا جن کا نام اور ولدیت مظہرکو نہیں معلوم مظہر ان کو پہچانتا ہے ان کے مکان کی دیوار گرتی جاتی تھی اور وہ بڑھاتے جاتے تھے انہوں نے مذکورپوٹھا دبالیا۔
بیان رفیق محمدخان: عباسی بیگم کی مملوکہ مقبوضہ زمین تخمینا دس یابارہ گرہ عرضا او ر طولا تخمینا آٹھ نو گز کریم بخش نے دبالی ہےکریم بخش کے باپ کا نام یاد نہیں مظہر اس کو پہچانتا ہے۔
بیان عطاء اﷲ خاں: عباسی بیگم کے مرور کی اراضی میں سے آٹھ گرہ اور چار گرہ نالی کی کل دس یا بارہ گرہ اراضی چوڑی اور نویا پونے نوگز لمبی کریم بخش مدعا علیہ نے اپنے مکان میں ڈال کر دیوار بنالی ہے جس کی وجہ سے دکھن رخ کا پاکھا پھر کہا پوٹھا مدعیہ کے دوازے کا دیوار میں دب گیا ہے مذکور زمین عباسی بیگم اور ان کے شوہر عنایت احمد خاں کی ہمیشہ سے مملوکہ مقبوضہ چلی آئی ہےکریم بخش مدعا علیہ کے باپ کا نام نہیں معلوم مظہر اس کو پہچانتا ہےاراضی مذکور کو ڈالے ہوئے تخمینا تین سال کاعرصہ ہوامدعا علیہ نے اراضی مذکور کو ایك وقت میں نہیں ڈالی تھوڑی تھوڑی ڈالیآخری مرتبہ کو مدعا علیہ نے جو اراضی ڈالی ہے اس کو تین سال ہوئے۔
بیان مشتاق حسین خاں: کوئی عرصہ تین یا چار سال کا ہوا تخمینا کریم بخش مدعا علیہ نے تین یا چار گرہ تخمینا نالے اور سات یاآٹھ گرہ راستہ میں سے کل دس یا بارہ گرہ چوڑی اور آٹھ یا نوگز لمبی زمین ڈال کر دیوار بنالی ہے مذکورہ نالی اور زمین مملوکہ و مقبوضہ عنایت احمد خاں اور ان کی زوجہ عباسی بیگم مدعیان کی ہے کریم بخش کی ولدیت نہیں معلوممظہر اس کو پہچانتا ہےپہلی مرتبہ جو مظہر کے سامنے دیوار بنی اس کو تخمینا چار برس کا عرصہ ہوا دوسری بار بننے کو تخمینا سال بھرہوا۔
بیان بشیرحسن خاں: کچھ نالہ تھا کچھ زمین ہے جوڑاؤ دونوں کا تخمینا دس یا بارہ گرہ ہے اور وہ زمین آٹھ یا نوگز لمبی ہے پوٹھیا کریم بخش نے اپنے مکان میں داب لی ہےکریم بخش کی ولدیت نہیں معلوم۔اراضی مذکور کریم بخش نے اپنے مکان میں اندر پونے تین برس ہوئے مظہر کے سامنے ڈالی ہے۔
بیان ممتازالدین خاں: مدعی کی چوکھٹ کے برابر دو پوٹھے تھےبائیں ہاتھ کا پوٹھا دس بارہ گرہ چوڑا ہے اس میں سے نکل کر مدعی کا پر نالہ آیا ہے مدعا علیہ ہیں وہ یا کیا جن کا نام اور ولدیت مظہرکو نہیں معلوم مظہر ان کو پہچانتا ہے ان کے مکان کی دیوار گرتی جاتی تھی اور وہ بڑھاتے جاتے تھے انہوں نے مذکورپوٹھا دبالیا۔
بیان رفیق محمدخان: عباسی بیگم کی مملوکہ مقبوضہ زمین تخمینا دس یابارہ گرہ عرضا او ر طولا تخمینا آٹھ نو گز کریم بخش نے دبالی ہےکریم بخش کے باپ کا نام یاد نہیں مظہر اس کو پہچانتا ہے۔
بیان عطاء اﷲ خاں: عباسی بیگم کے مرور کی اراضی میں سے آٹھ گرہ اور چار گرہ نالی کی کل دس یا بارہ گرہ اراضی چوڑی اور نویا پونے نوگز لمبی کریم بخش مدعا علیہ نے اپنے مکان میں ڈال کر دیوار بنالی ہے جس کی وجہ سے دکھن رخ کا پاکھا پھر کہا پوٹھا مدعیہ کے دوازے کا دیوار میں دب گیا ہے مذکور زمین عباسی بیگم اور ان کے شوہر عنایت احمد خاں کی ہمیشہ سے مملوکہ مقبوضہ چلی آئی ہےکریم بخش مدعا علیہ کے باپ کا نام نہیں معلوم مظہر اس کو پہچانتا ہےاراضی مذکور کو ڈالے ہوئے تخمینا تین سال کاعرصہ ہوامدعا علیہ نے اراضی مذکور کو ایك وقت میں نہیں ڈالی تھوڑی تھوڑی ڈالیآخری مرتبہ کو مدعا علیہ نے جو اراضی ڈالی ہے اس کو تین سال ہوئے۔
بیان مشتاق حسین خاں: کوئی عرصہ تین یا چار سال کا ہوا تخمینا کریم بخش مدعا علیہ نے تین یا چار گرہ تخمینا نالے اور سات یاآٹھ گرہ راستہ میں سے کل دس یا بارہ گرہ چوڑی اور آٹھ یا نوگز لمبی زمین ڈال کر دیوار بنالی ہے مذکورہ نالی اور زمین مملوکہ و مقبوضہ عنایت احمد خاں اور ان کی زوجہ عباسی بیگم مدعیان کی ہے کریم بخش کی ولدیت نہیں معلوممظہر اس کو پہچانتا ہےپہلی مرتبہ جو مظہر کے سامنے دیوار بنی اس کو تخمینا چار برس کا عرصہ ہوا دوسری بار بننے کو تخمینا سال بھرہوا۔
بیان ممتاز علی خان:عرصہ تخمینا تین چار برس کا ہوا کہ کریم بخش مدعا علیہ جس کے باپ کا نام نہیں معلوممظہر اس کو پہچانتا ہےاس نے چار گرہ نالی کی زمین اور آٹھ گرہ راستہ کی زمین چوڑی اور نویا آٹھ گز لمبی لے کر اپنے مکان میں ڈال لی ہے۔
بیان غفور حسن خاں:عرصہ تخمینا تین چار سال کا ہواکہ تین چار گرہ نالی کی زمین اور سات آٹھ گرہ راستہ کریم بخش نے اپنے مکان میں ڈال لیامظہر کریم بخش کی ولدیت نہیں جانتا کریم بخش کو پہچانتا ہےجو زمین کریم بخش نے ڈال لی ہے یہ مولوی عنایت احمد خاں مدعی کے تصرف میں تھی۔یہ ان تمام بیانوں کا خلاصہ ہے ان میں جو وجوہ اختلال ہیں خادم فقہ پر مخفی نہیں مگر یہ دو اہمال ان سب کو شامل ہیں کہ ان میں کسی نے نہ شخص معین پر شہادت دی ہے نہ شے معین پر
اول:اس لئے کہ مدعا علیہ کی طرف نہ اشارہ کیا نہ ولدیت بتائیولدیت بتانی درکنار بالاتفاق سب نے ولدیت جاننے ہی سے انکار کیا ایسی شہادت مجہول اور محض ناقابل قبول۔عالمگیریہ میں ہے:
شرط الخصاف ذکر الجد للتعریف و ھکذا ذکر فی الشروطومن مشایخنا من قال ھذا قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اﷲ تعالی اما علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فذکر الاب یکفی کذا فی الذخیرہ والصحیح ان النسبۃ الی الجد لابد منھا کذافی البحرالرائق ۔ امام خصاف نے شناخت کے لئے جد کے ذکر کو شرط قرار دیا ہے اور شروط میں یوں ذکر فرمایا ہےاور ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کا قول ہے جبکہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر شناخت کےلئے باپ کا ذکر کافی ہےذخیرہ میں یوں ہےاور صحیح یہ ہے کہ داد ے کی طرف نسبت شناخت کےلئے ضروری ہے۔بحرالرائق میں یونہی ہے۔(ت)
دوم:جس نے کہے متردد لفظ کہے دس یا بارہآٹھ یا نوگز یا پونے نوگزتین یا چار گرہسات یا آٹھ گرہیہ نفس مشہود بہ میں جہالت و موجب رد و بطلان شہادت ہے۔یہ نہیں کہ ایسی جگہ کم سے کم مان لیں گےنہیں بلکہ بالکل رد کردیں گے۔عالمگیری میں ہے:
اذا ادعی بالفارسیۃ دوازدہ درہم و شھد الشہودان لہذاالمدعی علی ھذا جب کسی نے فارسی میں بارہ درم کا دعوی کیا اور گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے
بیان غفور حسن خاں:عرصہ تخمینا تین چار سال کا ہواکہ تین چار گرہ نالی کی زمین اور سات آٹھ گرہ راستہ کریم بخش نے اپنے مکان میں ڈال لیامظہر کریم بخش کی ولدیت نہیں جانتا کریم بخش کو پہچانتا ہےجو زمین کریم بخش نے ڈال لی ہے یہ مولوی عنایت احمد خاں مدعی کے تصرف میں تھی۔یہ ان تمام بیانوں کا خلاصہ ہے ان میں جو وجوہ اختلال ہیں خادم فقہ پر مخفی نہیں مگر یہ دو اہمال ان سب کو شامل ہیں کہ ان میں کسی نے نہ شخص معین پر شہادت دی ہے نہ شے معین پر
اول:اس لئے کہ مدعا علیہ کی طرف نہ اشارہ کیا نہ ولدیت بتائیولدیت بتانی درکنار بالاتفاق سب نے ولدیت جاننے ہی سے انکار کیا ایسی شہادت مجہول اور محض ناقابل قبول۔عالمگیریہ میں ہے:
شرط الخصاف ذکر الجد للتعریف و ھکذا ذکر فی الشروطومن مشایخنا من قال ھذا قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اﷲ تعالی اما علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فذکر الاب یکفی کذا فی الذخیرہ والصحیح ان النسبۃ الی الجد لابد منھا کذافی البحرالرائق ۔ امام خصاف نے شناخت کے لئے جد کے ذکر کو شرط قرار دیا ہے اور شروط میں یوں ذکر فرمایا ہےاور ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کا قول ہے جبکہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر شناخت کےلئے باپ کا ذکر کافی ہےذخیرہ میں یوں ہےاور صحیح یہ ہے کہ داد ے کی طرف نسبت شناخت کےلئے ضروری ہے۔بحرالرائق میں یونہی ہے۔(ت)
دوم:جس نے کہے متردد لفظ کہے دس یا بارہآٹھ یا نوگز یا پونے نوگزتین یا چار گرہسات یا آٹھ گرہیہ نفس مشہود بہ میں جہالت و موجب رد و بطلان شہادت ہے۔یہ نہیں کہ ایسی جگہ کم سے کم مان لیں گےنہیں بلکہ بالکل رد کردیں گے۔عالمگیری میں ہے:
اذا ادعی بالفارسیۃ دوازدہ درہم و شھد الشہودان لہذاالمدعی علی ھذا جب کسی نے فارسی میں بارہ درم کا دعوی کیا اور گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۹€
المدعی علیہ دہ دوازدہ درہم لاتقبل لمکان الجہالۃ وکذلك اذا ادعی دہ دوازدہ درم لاتسمع دعواہ وکذالك اذا ذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذاالوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لاتسمع دعواہوکذلك اذذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا الوجہ لاتقبل شہادتھم کذافی الذخیرۃ مدعی علیہ پر دس بارہ درہم ہیں جہالت کی وجہ سے یہ شہادت مقبول نہ ہوگیاور یوں ہی اگر مدعی نے دس بارہ درہم کا دعوی کیا تو اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگااور یونہی اگر گواہوں نے اپنی شہادت میں ایسی تاریخ ذکر کی تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت)
لہذا شہادتیں سب مردود اور دعوی محض بے ثبوت وواجب الرداور فیصلہ مفتی صاحب لازم القبولحکم شرعی یہ ہے اور حکم نہیں مگر شر ع کےلئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۸: ۲۵/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور نصیبہ نے اپنے ترکہ پدری کے تقسیم کا دعوی عمرو برادر خورد اور مسماۃ زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر زید برادر کلاں کے نام دائر کچہری کیا۔زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر مدعا علیہا مجیب ہوئے کہ ترکہ مظہرہ مدعیات غلط اور غیر صحیح ہے جس قدر جز ہمارے مورث زید کا مملوکہ مقبوضہ چالیس سال کا ہے وہ مستثنی ہوکر جس قدر متروکہ پدر مدعیات ثابت کریں اس کے تقسیم میں کچھ عذر نہیں ہے عمرو برادر خورد مدعا علیہا بوجہ سازش مدعیات ضمنا مقبل دعوی اور ظاہر ایك جز و کابذریعہ خریدار مدعیات و مدعا علیہا نمبر۲ونمبر۳ کا دعویدار ہوا کچہری سے مطابق تنیقیحات ہر ایك سے بقدر دعوی کے ثبوت و تردید طلب ہوا۔مدعیات نے ایك مرتبہ گواہ طلبی بذریعہ کچہری کراکر بعذر عدم تعمیل سمن ثبوت داخل کرنے سے گریز کیا مگر بذریعہ سمن طلبی گواہان کراکر تاریخ موعود پر گواہان حاضر کو ہدایت حاضری تاریخ ثانی بعذر عدم حاضری جملہ گواہان کچہری سے رخصت کرادیا۔سہ بارہ بذریعہ سمن جملہ گواہان حاضر کچہری کرائے گئے اور باوجو د حاضری گواہان بہ کچہری بدیں مضمون درخواست پیش کی کہ گواہان کا اعتماد نہیں ہے لہذا جملہ مدعا علیہم مجیب سے حلف لے لیا جائے۔پس دریافت طلب امر یہ ہےکہ بحالت موجودگی گواہان در مجلس قضا مدعیات کا انحصار بحلف مدعا علیہم مجیب شرعا صحیح ہے یا
لہذا شہادتیں سب مردود اور دعوی محض بے ثبوت وواجب الرداور فیصلہ مفتی صاحب لازم القبولحکم شرعی یہ ہے اور حکم نہیں مگر شر ع کےلئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۸: ۲۵/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور نصیبہ نے اپنے ترکہ پدری کے تقسیم کا دعوی عمرو برادر خورد اور مسماۃ زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر زید برادر کلاں کے نام دائر کچہری کیا۔زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر مدعا علیہا مجیب ہوئے کہ ترکہ مظہرہ مدعیات غلط اور غیر صحیح ہے جس قدر جز ہمارے مورث زید کا مملوکہ مقبوضہ چالیس سال کا ہے وہ مستثنی ہوکر جس قدر متروکہ پدر مدعیات ثابت کریں اس کے تقسیم میں کچھ عذر نہیں ہے عمرو برادر خورد مدعا علیہا بوجہ سازش مدعیات ضمنا مقبل دعوی اور ظاہر ایك جز و کابذریعہ خریدار مدعیات و مدعا علیہا نمبر۲ونمبر۳ کا دعویدار ہوا کچہری سے مطابق تنیقیحات ہر ایك سے بقدر دعوی کے ثبوت و تردید طلب ہوا۔مدعیات نے ایك مرتبہ گواہ طلبی بذریعہ کچہری کراکر بعذر عدم تعمیل سمن ثبوت داخل کرنے سے گریز کیا مگر بذریعہ سمن طلبی گواہان کراکر تاریخ موعود پر گواہان حاضر کو ہدایت حاضری تاریخ ثانی بعذر عدم حاضری جملہ گواہان کچہری سے رخصت کرادیا۔سہ بارہ بذریعہ سمن جملہ گواہان حاضر کچہری کرائے گئے اور باوجو د حاضری گواہان بہ کچہری بدیں مضمون درخواست پیش کی کہ گواہان کا اعتماد نہیں ہے لہذا جملہ مدعا علیہم مجیب سے حلف لے لیا جائے۔پس دریافت طلب امر یہ ہےکہ بحالت موجودگی گواہان در مجلس قضا مدعیات کا انحصار بحلف مدعا علیہم مجیب شرعا صحیح ہے یا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۲€
غیر صحیحاور صورت مسئولہ میں مدعا علیہما مجیب پر حلف متوجہ ہوتا ہے یانہیںدوسرے جبکہ مدعیات اپنے دعوی کو ثابت نہ کرسکیں تو اب مدعا علیہما نمبر ۲ و نمبر۳ کو اپنی جوابدہی کے موافق ثبوت دینے کی ضرورت باقی رہی یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مدعیات کامدعا علیہم سےحلف طلب کرنا صحیح نہیں نہ مدعا علیہم پر حلف متوجہ ہو۔بحرالرائق میں ہے:
ان لم تکن للمدعی بینۃ حلف القاضی المدعی علیہ بطلب المدعی لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للمدعی الك بینۃ قال لافقال لك یمینہ سأل ورتب الیمین علی فقدان البینۃ ۔ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا حلف لے اگر مدعی طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیاتیرے پاس گواہ ہیںاس نے کہا نہیںفرمایا تجھے اس کی قسم لینی ہوگیحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود سوال فرمایا اور مرتب فرمایا کہ قسم گواہ نہ ہونے پر ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ثبوت الحق فی الیمین مرتب علی العجز عن اقامۃ البینۃ بما رویناہ فلایکون حقہ دونہ ۔ قسم کا حق گواہ پیش کرنے سے عاجز ہونے پر مرتب ہوتا ہے اس حدیث کے سبب جو ہم نے روایت کی ہے تو اس عجز کے بغیر قسم کا حق نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
لو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا ۔ اگر وہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم لینا جائز نہیں(ت)
جب مدعی اثبات دعوی سے عاجز ہومنکر کو ثبوت دینے کی حاجت نہیں۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مدعیات کامدعا علیہم سےحلف طلب کرنا صحیح نہیں نہ مدعا علیہم پر حلف متوجہ ہو۔بحرالرائق میں ہے:
ان لم تکن للمدعی بینۃ حلف القاضی المدعی علیہ بطلب المدعی لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للمدعی الك بینۃ قال لافقال لك یمینہ سأل ورتب الیمین علی فقدان البینۃ ۔ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا حلف لے اگر مدعی طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیاتیرے پاس گواہ ہیںاس نے کہا نہیںفرمایا تجھے اس کی قسم لینی ہوگیحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود سوال فرمایا اور مرتب فرمایا کہ قسم گواہ نہ ہونے پر ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ثبوت الحق فی الیمین مرتب علی العجز عن اقامۃ البینۃ بما رویناہ فلایکون حقہ دونہ ۔ قسم کا حق گواہ پیش کرنے سے عاجز ہونے پر مرتب ہوتا ہے اس حدیث کے سبب جو ہم نے روایت کی ہے تو اس عجز کے بغیر قسم کا حق نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
لو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا ۔ اگر وہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم لینا جائز نہیں(ت)
جب مدعی اثبات دعوی سے عاجز ہومنکر کو ثبوت دینے کی حاجت نہیں۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۰€۳
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۱۰€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۹€
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۱۰€
درمختار کتاب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۹€
فان البینۃ علی من ادعی والیمین علی من انکر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ گواہ پیش کرنا مدعی پر اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۲۹: از سہسرامضلع گیامدار دروازہ مرسلہ قادر بخش صاحب ۳شوال ۱۳۳۵ھ
ایك مسجد محلہ مدار دروازہ میں واقع ہے جس کے اتر جانب کی دیوار اسے ایك ہندو حلوائی نے اپنا مکان مسجد مذکور کی دیوار سے دیوار ملا کر اس طرح اٹھایا کہ جس سے مسجد کے اتر جانب ایك فرخانہ جھنجری نما ہوا کے لئے ایك کھڑکی تھی اس کو اپنی نو دیوار سے بند کردیا ہے جس سے ہوا بالکل بند ہوگئی ہے اب نمازیوں کو بسبب بند ہوجانے ہوا کے از حد تکلیف ہے اور جانب اتر و پورب کچھ اینٹ دیوار جدید فصیل مسجد پر زیادہ کرکے بنالیا ہے جو قریب دو انچ کے ہوگی مسجد کی فصیل پر اس کی اینٹ چڑھی ہوئی ہے اور ایك جانب پورب سے وہ ناگر معلوم عــــــہ ہوتی ہے یہ مسجد زمانہ چھپن برس کی بنی ہوئی ہے اس نے آج یہ نیا کام بنایا ہےازروئے شرع شریف اس میں کیا حکم ہے
الجواب:
اگر کوئی شخص دیوار مسجد کے متصل اور اسی کی ہوا میں دیوار اٹھائے تو کتنی ہی بلند کرے اسے ممانعت نہ ہوگی کہ خاص اپنی ملك میں تصرف کررہاہے اورمسجد کا کوئی ضرر نہیںنمازیوں کے لئے ایك طرف کی ہوا رکنا کوئی ضرر نہیں جس کے سبب کسی شخص کو اپنی ملك میں تصرف سے روکا جائے۔جامع الفصولین میں ہے:
اراد ذو الساحۃ ان یبنی فیہا ویرفع بنائہ فقال ذو البناء انك تسد علی الریح والشمس فلا ادعك ترفع البناء فلہ منعہ لافی ظاہر الروایۃ لان ذا الساحۃ منعہ عن الانتفاع بمبلکہ ولم یتلف علیہ ملکا خالی جگہ پر مالك تعمیر کرنا چاہتا ہے اور عمارت بلند کرتا ہے تو دوسری عمارت والا اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے تو ہوا اور دھوپ کو مجھ پر بند کررہا ہے اس لئے میں تجھے عمارت بلند نہ کرنے
عــــــہ:اصل میں اسی طرح ہے۔
مسئلہ۱۲۹: از سہسرامضلع گیامدار دروازہ مرسلہ قادر بخش صاحب ۳شوال ۱۳۳۵ھ
ایك مسجد محلہ مدار دروازہ میں واقع ہے جس کے اتر جانب کی دیوار اسے ایك ہندو حلوائی نے اپنا مکان مسجد مذکور کی دیوار سے دیوار ملا کر اس طرح اٹھایا کہ جس سے مسجد کے اتر جانب ایك فرخانہ جھنجری نما ہوا کے لئے ایك کھڑکی تھی اس کو اپنی نو دیوار سے بند کردیا ہے جس سے ہوا بالکل بند ہوگئی ہے اب نمازیوں کو بسبب بند ہوجانے ہوا کے از حد تکلیف ہے اور جانب اتر و پورب کچھ اینٹ دیوار جدید فصیل مسجد پر زیادہ کرکے بنالیا ہے جو قریب دو انچ کے ہوگی مسجد کی فصیل پر اس کی اینٹ چڑھی ہوئی ہے اور ایك جانب پورب سے وہ ناگر معلوم عــــــہ ہوتی ہے یہ مسجد زمانہ چھپن برس کی بنی ہوئی ہے اس نے آج یہ نیا کام بنایا ہےازروئے شرع شریف اس میں کیا حکم ہے
الجواب:
اگر کوئی شخص دیوار مسجد کے متصل اور اسی کی ہوا میں دیوار اٹھائے تو کتنی ہی بلند کرے اسے ممانعت نہ ہوگی کہ خاص اپنی ملك میں تصرف کررہاہے اورمسجد کا کوئی ضرر نہیںنمازیوں کے لئے ایك طرف کی ہوا رکنا کوئی ضرر نہیں جس کے سبب کسی شخص کو اپنی ملك میں تصرف سے روکا جائے۔جامع الفصولین میں ہے:
اراد ذو الساحۃ ان یبنی فیہا ویرفع بنائہ فقال ذو البناء انك تسد علی الریح والشمس فلا ادعك ترفع البناء فلہ منعہ لافی ظاہر الروایۃ لان ذا الساحۃ منعہ عن الانتفاع بمبلکہ ولم یتلف علیہ ملکا خالی جگہ پر مالك تعمیر کرنا چاہتا ہے اور عمارت بلند کرتا ہے تو دوسری عمارت والا اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے تو ہوا اور دھوپ کو مجھ پر بند کررہا ہے اس لئے میں تجھے عمارت بلند نہ کرنے
عــــــہ:اصل میں اسی طرح ہے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرہن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۲،€جامع الترمذی ابواب الاحکام ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۰،€السنن الکبرٰی کتاب الدعوات دارصادر بیروت ∞۱۰ /۲۵۲€
ولامنفعۃ فلا یمنع کرجل لہ شجرۃ یستظل بھا جارہ اراد قلعھا لایمنع منہ ولو تضرر بہ جارہاذ رب الشجرۃ بالقلع یمنعہ عن الانتفاع بملکہ ۔ دوں گا تو اس کو منع کرنے کا حق نہیں ہے ظاہر روایت میں کیونکہ یہ خالی جگہ والے کو اپنی ملکیت سے انتفاع سے منع کر نا ہے جبکہ عمارت والے کی ملکیت اور اس کے انتفاع میں نقصان نہیں لہذا جگہ والے کو عمار ت بلند کرنے سے منع نہیں کیا جائے گاجیساکہ ایك آدمی کا درخت جس سے پڑوس والے کو سایہ حاصل ہوتا ہو درخت والے کو اس کے اکھاڑنے سے نہیں روکا جاسکتا حالانکہ پڑوسی کو اس سے ضرر ہے کیونکہ درخت کا مالك اکھاڑ کراپنی ملکیت سے دوسرے کے نفع کو روك رہا ہے۔(ت)
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے:
والحاصل ان القیاس فی جنس ھذہ المسائل ان یفعل المالك ما بدالہ مطلقا لانہ متصرف فی خالص مبلکہ لکن ترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضررا فاحشا وھو المراد بالبین وھو مایکون سببا للھدماویخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو ما یمنع الحوائج الاصلیۃ کسدالضوء بالکلیۃ واختار و الفتوی علیہ فاما التوسع الی منع کل ضرر مافیسد باب انتفاع الانسان بمبلکہ کما ذکرنا قریبا ۔ اور حاصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں قیاس یہ ہےکہ مالك اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے کیونکہ وہ اپنی خالص ملك میں تصرف کررہا ہے لیکن بعض ایسے مقامات میں جہاں مالك کا تصرف دوسرے کےلئے فحش ضرر پیداکرے وہاں یہ قیاس متروك ہوگا اور فحش ضررسے ایسا تصرف ہی مراد ہے جو دوسرے کے مکان کے گرنے کا سبب ہو یا دوسرے کو اپنی ملکیت میں انتفاع سے مکمل طور پر محرورم کردے وہ یوں کہ اس کے حوائج اصلیہ کو ختم کردے مثلا کلیۃ روشنی کا ختم کردینا اور اسی پر فتوی کو فقہاء نے پسند کیا ہے لیکن ہر قسم کے ضرر کی وجہ سے منع کو وسیع کرنا اس سے تو انسان کا اپنی ملکیت سے انتفاع کا دروازہ بند ہوجائے گاجیسا کہ قریب ہم ذکر کرچکے ہیں۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
الضوء من الحوائج الاصلیۃ والشمس والریح من الحوائج الزائدۃ ۔ روشنی حوائج اصلیہ میں سے ہے اور دھوپ اور ہوا حوائج زائدہ میں سے ہے۔(ت)
البتہ اگر دیوار مسجد کا کوئی حصہ اگرچہ جو بھر اس کی دیوار نے دبالیا ہے تو اس جزء دیوار کا ازالہ وہدم لازم ہےدرمختار میں ہے:
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے:
والحاصل ان القیاس فی جنس ھذہ المسائل ان یفعل المالك ما بدالہ مطلقا لانہ متصرف فی خالص مبلکہ لکن ترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضررا فاحشا وھو المراد بالبین وھو مایکون سببا للھدماویخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو ما یمنع الحوائج الاصلیۃ کسدالضوء بالکلیۃ واختار و الفتوی علیہ فاما التوسع الی منع کل ضرر مافیسد باب انتفاع الانسان بمبلکہ کما ذکرنا قریبا ۔ اور حاصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں قیاس یہ ہےکہ مالك اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے کیونکہ وہ اپنی خالص ملك میں تصرف کررہا ہے لیکن بعض ایسے مقامات میں جہاں مالك کا تصرف دوسرے کےلئے فحش ضرر پیداکرے وہاں یہ قیاس متروك ہوگا اور فحش ضررسے ایسا تصرف ہی مراد ہے جو دوسرے کے مکان کے گرنے کا سبب ہو یا دوسرے کو اپنی ملکیت میں انتفاع سے مکمل طور پر محرورم کردے وہ یوں کہ اس کے حوائج اصلیہ کو ختم کردے مثلا کلیۃ روشنی کا ختم کردینا اور اسی پر فتوی کو فقہاء نے پسند کیا ہے لیکن ہر قسم کے ضرر کی وجہ سے منع کو وسیع کرنا اس سے تو انسان کا اپنی ملکیت سے انتفاع کا دروازہ بند ہوجائے گاجیسا کہ قریب ہم ذکر کرچکے ہیں۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
الضوء من الحوائج الاصلیۃ والشمس والریح من الحوائج الزائدۃ ۔ روشنی حوائج اصلیہ میں سے ہے اور دھوپ اور ہوا حوائج زائدہ میں سے ہے۔(ت)
البتہ اگر دیوار مسجد کا کوئی حصہ اگرچہ جو بھر اس کی دیوار نے دبالیا ہے تو اس جزء دیوار کا ازالہ وہدم لازم ہےدرمختار میں ہے:
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶€۶
فتح القدیر مسائل شتٰی من کتاب القضاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۵،€ردالمحتار کتاب القضاء مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۶۱€
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۷€
فتح القدیر مسائل شتٰی من کتاب القضاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۱۵،€ردالمحتار کتاب القضاء مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۶۱€
جامع الفصولین الفصل الخامس والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۷€
یجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ۔ اس کا گرانا واجب ہے اگرچہ مسجد کی دیوار پر ہو۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
اذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فمن بنی بیتا علی جدارالمسجد وجب ھدمہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب یہ حکم واقف میں ہے تو غیر میں کیسے نہ ہوتو جس نے مسجد کی دیوار پر کمرہ بنایا اس کاگرانا واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۰: چاچڑاں ریاست بہاولپور تحصیل خاں پور مرسلہ مولوی محمد یار صاحب ۷/ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
چہ فرمایند علماء دین اندریں صورت کہ زید در قطعہ اراضی بعد ثبوت استحقاق شفعہ با عمرو چنیں اظہار کرد مصرفہ اراضی رابراں قدر کہ صرف کردی ازیں جانب وصول کردہ ازیں قطعہ اراضی بیزار شو۔عمرو ازیں دعوی زید انحراف کلی ورزیدہ انکار قطعی نمود پس زید بعد ادائے فیس کہ شرط استماع دعوی ست دعوی خود بعرض عدالت کردہ پس از حصول مدعا دربارہ فیس ہذا کہ وقت عرضی دعوی ادایش ساخت ازروئے قانون گورنمنٹی مطالبہ اش کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے لئے شفعہ اراضی کے استحقاق کے بعد عمرو خریدار سے کہا کہ تونے جو کچھ اس میں پر صرفہ کیا ہے اتنا مجھ سے وصول کرکے زمین چھوڑدے۔عمرو نے زید کے دعوی کو تسلیم نہ کرتے ہوئے زید کے مطالبہ سے قطعی انکار کردیا تو زید نے فیس کورٹ وغیرہ ادا کرکے جو کہ دعوی کے لئے شرط تھی اپنا دعوی عدالت میں پیش کردیا زید نے اپنا مدعی عدالت سے حاصل کرلینے یعنی اپنے حق ڈگری ہوجانے کے بعد عمرو پر مقدمہ کی فیس کا دعوی کردیا جس کا گورنمنٹ کے
بحرالرائق میں ہے:
اذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فمن بنی بیتا علی جدارالمسجد وجب ھدمہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب یہ حکم واقف میں ہے تو غیر میں کیسے نہ ہوتو جس نے مسجد کی دیوار پر کمرہ بنایا اس کاگرانا واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۰: چاچڑاں ریاست بہاولپور تحصیل خاں پور مرسلہ مولوی محمد یار صاحب ۷/ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
چہ فرمایند علماء دین اندریں صورت کہ زید در قطعہ اراضی بعد ثبوت استحقاق شفعہ با عمرو چنیں اظہار کرد مصرفہ اراضی رابراں قدر کہ صرف کردی ازیں جانب وصول کردہ ازیں قطعہ اراضی بیزار شو۔عمرو ازیں دعوی زید انحراف کلی ورزیدہ انکار قطعی نمود پس زید بعد ادائے فیس کہ شرط استماع دعوی ست دعوی خود بعرض عدالت کردہ پس از حصول مدعا دربارہ فیس ہذا کہ وقت عرضی دعوی ادایش ساخت ازروئے قانون گورنمنٹی مطالبہ اش کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے لئے شفعہ اراضی کے استحقاق کے بعد عمرو خریدار سے کہا کہ تونے جو کچھ اس میں پر صرفہ کیا ہے اتنا مجھ سے وصول کرکے زمین چھوڑدے۔عمرو نے زید کے دعوی کو تسلیم نہ کرتے ہوئے زید کے مطالبہ سے قطعی انکار کردیا تو زید نے فیس کورٹ وغیرہ ادا کرکے جو کہ دعوی کے لئے شرط تھی اپنا دعوی عدالت میں پیش کردیا زید نے اپنا مدعی عدالت سے حاصل کرلینے یعنی اپنے حق ڈگری ہوجانے کے بعد عمرو پر مقدمہ کی فیس کا دعوی کردیا جس کا گورنمنٹ کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
بر عمر وقائم نمود پس ایں چنیں مطالبہ فیس کہ جوازش منسوب برواج ست عندا لشرع صحیح ست یا نہ۔بینوا توجروا۔ قانون کے مطابق عمرو کو ادا کرنا لازم آتا ہے تو کیا ایسے مروج قانون کے مطابق زید کو عمرو سے یہ فیس وصول کرنا درست ہے یانہیںشرعا کیا حکم ہےبینواتوجروا۔(ت)
الجواب:
آنراکہ حکم شرع مطہر درکارست نزدشرع شریف خرچہ مدعی بر مدعی علیہ عائد نتواں شد گو مد عی محق باش اگر بے رضایش گیر د مدعاعلیہ ازوواپس تواں گرفت اگر ندہد مواخذہ و مطالبہ بر گرد نش ماند در عقود الدریہ فرمود رجل کفل آخر عند زید بدین معلوم ثم طلبہ زید بہ والزم بہ لدی القاضیفطلب الرجل من زید ان یمہلہ بہ فابی الاان یدفع لہ الرجل قدرما صرفہ فی کلفۃ الالزام فدفعہ لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فہل لہ ذلك (الجواب)نعم حیث الحال ماذکر۔واﷲ تعالی اعلم۔ شرعی حکم یہ ہےکہ شرع شریف میں مدعی کا خرچہ مدعی علیہ پر عائد نہیں ہوتا اگرچہ مدعی حق پر ہواگر مدعی نے مدعی علیہ سے اس کی رضا مندی کے بغیر خرچہ وصول کرلیا ہو تو مدعی علیہ اس سے واپس لے سکتا ہےاگر واپس نہ دے تو شرعا مدعی کی گردن پریہ مطالبہ ومواخذہ باقی رہے گاعقود الدریہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کو زید کے دین معلوم کا کفیل بنایاپھر زید نے کفیل سے مطالبہ کرتے ہوئے قاضی کے ہاں اس پر دین کی ادائیگی لازم کردی تو اس کفیل شخص نے زید کو مہلت کے لئے کہا تو زید نے مہلت دینے سے انکار کردیا مگر یہ کہا اگر تو قاضی کے ہاں دعوی الزام پر خرچ شدہ رقم ادا کردے تو تجھے مہلت دے دوں گااس پر کفیل شخص نے خرچہ کی رقم ادا کردی پھر مہلت کے مطابق وہ رقم جس کی کفالت تھی زید کو ادا کردی اس موقعہ پر کفیل نے زید سے مطالبہ کیا کہ مقدمہ کے خرچہ کی رقم جو تو نے وصول کی وہ مجھے واپس کردےآیا اس واپسی کے مطالبہ کاکفیل شخص کو حق ہے جواب دیا گیا مذکورہ حال پر حق حاصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۱: ازریاست رامپور محلہ محل موتی خاں ۲۷/شوال ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنے نابالغ بچے بکر کے مقدمہ میں پنچوں کو حکم کردیا تو آیا باپ بیٹے کے مقدمہ میں کسی کو حکم کرسکتا ہے یانہیںاور فیصلہ پنچایت قابل پابندی ہے یانہیں
الجواب:
آنراکہ حکم شرع مطہر درکارست نزدشرع شریف خرچہ مدعی بر مدعی علیہ عائد نتواں شد گو مد عی محق باش اگر بے رضایش گیر د مدعاعلیہ ازوواپس تواں گرفت اگر ندہد مواخذہ و مطالبہ بر گرد نش ماند در عقود الدریہ فرمود رجل کفل آخر عند زید بدین معلوم ثم طلبہ زید بہ والزم بہ لدی القاضیفطلب الرجل من زید ان یمہلہ بہ فابی الاان یدفع لہ الرجل قدرما صرفہ فی کلفۃ الالزام فدفعہ لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فہل لہ ذلك (الجواب)نعم حیث الحال ماذکر۔واﷲ تعالی اعلم۔ شرعی حکم یہ ہےکہ شرع شریف میں مدعی کا خرچہ مدعی علیہ پر عائد نہیں ہوتا اگرچہ مدعی حق پر ہواگر مدعی نے مدعی علیہ سے اس کی رضا مندی کے بغیر خرچہ وصول کرلیا ہو تو مدعی علیہ اس سے واپس لے سکتا ہےاگر واپس نہ دے تو شرعا مدعی کی گردن پریہ مطالبہ ومواخذہ باقی رہے گاعقود الدریہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کو زید کے دین معلوم کا کفیل بنایاپھر زید نے کفیل سے مطالبہ کرتے ہوئے قاضی کے ہاں اس پر دین کی ادائیگی لازم کردی تو اس کفیل شخص نے زید کو مہلت کے لئے کہا تو زید نے مہلت دینے سے انکار کردیا مگر یہ کہا اگر تو قاضی کے ہاں دعوی الزام پر خرچ شدہ رقم ادا کردے تو تجھے مہلت دے دوں گااس پر کفیل شخص نے خرچہ کی رقم ادا کردی پھر مہلت کے مطابق وہ رقم جس کی کفالت تھی زید کو ادا کردی اس موقعہ پر کفیل نے زید سے مطالبہ کیا کہ مقدمہ کے خرچہ کی رقم جو تو نے وصول کی وہ مجھے واپس کردےآیا اس واپسی کے مطالبہ کاکفیل شخص کو حق ہے جواب دیا گیا مذکورہ حال پر حق حاصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۱: ازریاست رامپور محلہ محل موتی خاں ۲۷/شوال ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنے نابالغ بچے بکر کے مقدمہ میں پنچوں کو حکم کردیا تو آیا باپ بیٹے کے مقدمہ میں کسی کو حکم کرسکتا ہے یانہیںاور فیصلہ پنچایت قابل پابندی ہے یانہیں
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الکفالۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۳۰۸€
الجواب:
باپ کا اپنے نابالغ کے مقدمہ میں کسی کو حکم کرنا جائز ہے مگر وہ فیصلہ اگر خلاف شرعی ہو جیسا کہ مقدمہ متعلقہ سوال میں ملاحظہ فیصلہ سے ظاہر ہوا تو وہ اصلا قابل پابندی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۲: ازرامپور
چندا نے وحیدی پر دعوی حق زوجیت کا کیاوحیدی کو زوجہ چندا ہونے سے انکار ہےمدعی کی طرف سے جوگواہان گزرے ہیں ان میں سے احسان الحق واشتیاق احمد اپنے آپ کو گواہان نکاح قرار دیتے ہیں جن کے بیان شامل سوال ہذا ہیں مفتی صاحب دیوانی نے مدعا علیہ کا اجازت دینا قرار نہیں دیا ہے تجویز مفتی صاحب بھی ہمراہ سوال ہے بعض علمائے رامپور نے مفتی صاحب کے تجویز فیصلہ کے خلاف فتوی عــــــہ دیا ہے اس
عــــــہ:نقل فتوی رامپور:کیافرماتے ہیں علمائے دینزیدنے اپنی بیوی ہندہ کے رخصت کراپانے کی نالش عدالت میں بربنائے نقل رجسٹر نکاح خوان و گواہی گواہان دائرکی اور گواہان نے یہ بیان کیا کہ جلسہ نکاح منعقد ہو ا اور ہندہ نے ہم سے یہ کہا کہ میرا نکاح زید کے ساتھ پڑھوادو اور ہم کو اپنے نفس کا اختیار دیا ہم لوگ نکاح کے گواہ تھے اور غلام سرور وکیل تھے چنانچہ ہم نے وکیل سے کہہ دیا اور وکیل نے قاضی سے کہہ دیا قاضی نے نکاح پڑھادیا اور بعض نکاح چھوہارے اور شیرینی تقسیم ہوئی اور ہندہ زید کے یہاں بعد نکاح کے حسب رواج زمانہ رہیپس ایسی حالت میں نکاح صحیح شرعی ہندہ کا زید کے ساتھ ہوگیا یا کہ نکاح فضولی ہے بوجہ عدم اجازت ہندہ کے صحیح نہیں ہوابینواتوجروا
الجواب:سبحانہ الموفق با لصدق والصواب(وہ پاك ذات صدق و صواب کی توفیق دینے والی ہے۔ت)صورت مسئلہ میں نکاح صحیح و شرعی ہندہ کا زید کے ساتھ ہوگیا اس لئے کہ بیان گواہان سے معلوم ہوتا ہے کہ جلسہ نکاح منعقد ہوا اور حسب قاعدہ رواج نکاح ہوا اگر نکاح بطور فضولی کے منعقد ہوا ہے تو اجازت ہندہ کی بعد نکاح کے ثابت ہے اس لئے کہ جلسہ نکاح کا منعقد ہونا اور کثیر لوگوں کا جمع ہونا اورہندہ کا اجازت دینانکاح پڑھوانے کی یہ دلیل اس امر کی کافی ہے کہ ہندہ کو علم نکاح کا ہوا اور بعد نکاح کے ہندہ کا بمکان زید رہنا یہ فعل ضرور دلیل اجازت ہندہ بعد نکاح کے ہےاور برائے اجازت یہ ضروری نہیں ہے کہ اجازت قول سے ہی ہو بلکہ فعل سے بھی اجازت ہونا کافی ہے وہ یہاں متحقق ہے لہذا نکاح صحیح و شرعی زید کے ہندہ کا ہوجانا یقینی ہے۔چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
ویثبت الاجازۃ لنکاح الفضولی بالقول و فضولی کے نکاح کی اجازت قول اور فعل سے ثابت(باقی برصفحہ ائندہ)
باپ کا اپنے نابالغ کے مقدمہ میں کسی کو حکم کرنا جائز ہے مگر وہ فیصلہ اگر خلاف شرعی ہو جیسا کہ مقدمہ متعلقہ سوال میں ملاحظہ فیصلہ سے ظاہر ہوا تو وہ اصلا قابل پابندی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۲: ازرامپور
چندا نے وحیدی پر دعوی حق زوجیت کا کیاوحیدی کو زوجہ چندا ہونے سے انکار ہےمدعی کی طرف سے جوگواہان گزرے ہیں ان میں سے احسان الحق واشتیاق احمد اپنے آپ کو گواہان نکاح قرار دیتے ہیں جن کے بیان شامل سوال ہذا ہیں مفتی صاحب دیوانی نے مدعا علیہ کا اجازت دینا قرار نہیں دیا ہے تجویز مفتی صاحب بھی ہمراہ سوال ہے بعض علمائے رامپور نے مفتی صاحب کے تجویز فیصلہ کے خلاف فتوی عــــــہ دیا ہے اس
عــــــہ:نقل فتوی رامپور:کیافرماتے ہیں علمائے دینزیدنے اپنی بیوی ہندہ کے رخصت کراپانے کی نالش عدالت میں بربنائے نقل رجسٹر نکاح خوان و گواہی گواہان دائرکی اور گواہان نے یہ بیان کیا کہ جلسہ نکاح منعقد ہو ا اور ہندہ نے ہم سے یہ کہا کہ میرا نکاح زید کے ساتھ پڑھوادو اور ہم کو اپنے نفس کا اختیار دیا ہم لوگ نکاح کے گواہ تھے اور غلام سرور وکیل تھے چنانچہ ہم نے وکیل سے کہہ دیا اور وکیل نے قاضی سے کہہ دیا قاضی نے نکاح پڑھادیا اور بعض نکاح چھوہارے اور شیرینی تقسیم ہوئی اور ہندہ زید کے یہاں بعد نکاح کے حسب رواج زمانہ رہیپس ایسی حالت میں نکاح صحیح شرعی ہندہ کا زید کے ساتھ ہوگیا یا کہ نکاح فضولی ہے بوجہ عدم اجازت ہندہ کے صحیح نہیں ہوابینواتوجروا
الجواب:سبحانہ الموفق با لصدق والصواب(وہ پاك ذات صدق و صواب کی توفیق دینے والی ہے۔ت)صورت مسئلہ میں نکاح صحیح و شرعی ہندہ کا زید کے ساتھ ہوگیا اس لئے کہ بیان گواہان سے معلوم ہوتا ہے کہ جلسہ نکاح منعقد ہوا اور حسب قاعدہ رواج نکاح ہوا اگر نکاح بطور فضولی کے منعقد ہوا ہے تو اجازت ہندہ کی بعد نکاح کے ثابت ہے اس لئے کہ جلسہ نکاح کا منعقد ہونا اور کثیر لوگوں کا جمع ہونا اورہندہ کا اجازت دینانکاح پڑھوانے کی یہ دلیل اس امر کی کافی ہے کہ ہندہ کو علم نکاح کا ہوا اور بعد نکاح کے ہندہ کا بمکان زید رہنا یہ فعل ضرور دلیل اجازت ہندہ بعد نکاح کے ہےاور برائے اجازت یہ ضروری نہیں ہے کہ اجازت قول سے ہی ہو بلکہ فعل سے بھی اجازت ہونا کافی ہے وہ یہاں متحقق ہے لہذا نکاح صحیح و شرعی زید کے ہندہ کا ہوجانا یقینی ہے۔چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
ویثبت الاجازۃ لنکاح الفضولی بالقول و فضولی کے نکاح کی اجازت قول اور فعل سے ثابت(باقی برصفحہ ائندہ)
کی نقل بھی حاضر کی جاتی ہےاب علمائے محققین سے عرض ہے کہ آیا تجویز مفتی صاحب دیوانی صحیح ہے یااستفتاء۔اور جزئیات فقہ کس رائے کے مثبت ہےاوریہ بھی واضح رہے کہ گواہان مذکور سے مسماۃ وحیدی بیگم کا کوئی بھی رشتہ نہیں ہے جس سے کہ مابین گواہان مذکورین وحیدی بیگم کانکاح ناجائز ہو پس گواہان مذکور ذی رحم محرم نہ ہونے کے باوجود اپنا بے پردہ ہونا بیان کرنا موجب فسق ہے یانہیں فاسق کی شہادت جائز ہے یانہیں
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابفیصلہ جناب مفتی صاحب و اظہار ہر شش گواہ مدعی کی باضابطہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)الفعل کذافی البحرالرائق انتہی بقدر الحاجۃ ھذہ صورۃ الجوابواﷲ تعالی اعلم۔ ہوجاتی ہےایسے ہی بحر الرائق میں ہے اھ بقدر حاجت یہ جواب ہے۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابفیصلہ جناب مفتی صاحب و اظہار ہر شش گواہ مدعی کی باضابطہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)الفعل کذافی البحرالرائق انتہی بقدر الحاجۃ ھذہ صورۃ الجوابواﷲ تعالی اعلم۔ ہوجاتی ہےایسے ہی بحر الرائق میں ہے اھ بقدر حاجت یہ جواب ہے۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الفصل السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۹۹€
نقلیں اور فتوائے رامپور ملاحظہ ہوئے تفصیل موجب تطویل اور فرصت قلیل اور سائل کو تعجیللہذا اجمالا مدارك عالیہ فقہیہ کی طرف اشارت کریں و باﷲا لتوفیقفتوائے رام پور محض باطل و بے شعورعقل و نقل دونوں سے دوراور حکم مفتی صاحب کہ دعوی نامسموع ضرور صحیح اور طریق حکم میں مسلك صحیح کی یہ تصریح۔مدعی نے چھ گواہ پیش کئے:
(۱)عنایت احمد ولد عبدالرحیم خاں جس کی شہادت ہے کہ ۸/جون میں مظہر نے چندا مدعی حاضر عدالت کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ پڑھایا۔ذی علم مجوز نے ایك اسی گواہ کی تعدیل فرمائی ہے کہ بہت اچھے نہایت عمدہ آدمی ہیں باقی سب کو مستور لکھا ہے جوان کی اصطلاح میں فاسق بلکہ کافر کو شاملیہ گواہ کتنا ہی عمدہ ثقہ ہو مگر اپنے فعل پر گواہی دے رہا ہے کہ میں نے پڑھایالہذا اس کی شہادت مسموع نہیںالبتہ صرف نکاح ہونے کی گواہی دیتا اور اپنا نکاح پڑھانانہ بیان کرتا تو سنی جاتی۔ فتاوی خانیہ وفتاوی عالمگیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
اذاادعت امرأۃ علی ورثۃ الزوج مہرھا فانکرت الورثۃ نکاحھا وکان الشاہد تولی تزویجھا قال یشھد علی النکاح ولا یذکر العقد عن نفسہ ۔ جب عورت نے خاوند کے ورثاء پر اپنے مہر کا دعوی کیا تو ورثاء نے ا س کے نکاح کا انکار کردیا ہو جبکہ اس عورت کے نکاح کا گواہ خود اس کے نکاح کا ولی تھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ گواہ نکاح کی شہادت دے اور یہ ذکر نہ کرے کہ میں نے اسکا نکاح پڑھاہے۔(ت)
تاتارخانیہ وہندیہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
ان رجلا حلف بطلاق امرأتہ ثلثا ان ضرب ھذین الرجلین فضربھما وسعھما ان یشھداعلیہ بطلاق امرأتہ ثلثا ولایخبران کیف کان وان اخبرا لاتقبل شہادتھما کذافی التاتارخانیۃ ۔ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ اگرمیں ان دو مردوں کو ماروں تو میری بیو ی کو تین طلاق تو اس نے دونوں کو مارا تو ان دونوں مردوں کو جائز ہے کہ وہ اس شخص پر بیوی کی تین طلاقوں کی شہادت دیں اور یہ نہ بتائیں کہ طلاق کیسے ہوئیاور اگر طلاق کی وجہ بتائی تو شہادت قبول نہ ہوگی۔تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔(ت)
(۱)عنایت احمد ولد عبدالرحیم خاں جس کی شہادت ہے کہ ۸/جون میں مظہر نے چندا مدعی حاضر عدالت کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ پڑھایا۔ذی علم مجوز نے ایك اسی گواہ کی تعدیل فرمائی ہے کہ بہت اچھے نہایت عمدہ آدمی ہیں باقی سب کو مستور لکھا ہے جوان کی اصطلاح میں فاسق بلکہ کافر کو شاملیہ گواہ کتنا ہی عمدہ ثقہ ہو مگر اپنے فعل پر گواہی دے رہا ہے کہ میں نے پڑھایالہذا اس کی شہادت مسموع نہیںالبتہ صرف نکاح ہونے کی گواہی دیتا اور اپنا نکاح پڑھانانہ بیان کرتا تو سنی جاتی۔ فتاوی خانیہ وفتاوی عالمگیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
اذاادعت امرأۃ علی ورثۃ الزوج مہرھا فانکرت الورثۃ نکاحھا وکان الشاہد تولی تزویجھا قال یشھد علی النکاح ولا یذکر العقد عن نفسہ ۔ جب عورت نے خاوند کے ورثاء پر اپنے مہر کا دعوی کیا تو ورثاء نے ا س کے نکاح کا انکار کردیا ہو جبکہ اس عورت کے نکاح کا گواہ خود اس کے نکاح کا ولی تھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ گواہ نکاح کی شہادت دے اور یہ ذکر نہ کرے کہ میں نے اسکا نکاح پڑھاہے۔(ت)
تاتارخانیہ وہندیہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
ان رجلا حلف بطلاق امرأتہ ثلثا ان ضرب ھذین الرجلین فضربھما وسعھما ان یشھداعلیہ بطلاق امرأتہ ثلثا ولایخبران کیف کان وان اخبرا لاتقبل شہادتھما کذافی التاتارخانیۃ ۔ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ اگرمیں ان دو مردوں کو ماروں تو میری بیو ی کو تین طلاق تو اس نے دونوں کو مارا تو ان دونوں مردوں کو جائز ہے کہ وہ اس شخص پر بیوی کی تین طلاقوں کی شہادت دیں اور یہ نہ بتائیں کہ طلاق کیسے ہوئیاور اگر طلاق کی وجہ بتائی تو شہادت قبول نہ ہوگی۔تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات الباب الرابع،الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۸۳€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات الباب الرابع،الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۸۳€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات الباب الرابع،الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۸۳€
فتاوی بزازیہ وعالمگیریہ میں ہے:
شھدا علی رجل انہ قال ان مسست جسدکما فامرأتہ کذا اوعبدہ حر و مس جسد نا لاتقبل ولو شھد انہ قال ان مسست ثیابکما وفعل تقبل وفی فتاوی القاضی لوارادالشہود ان یشھدوافی ھذہ المسائل یشھدون بالطلاق والعتاق مطلقا بلا بیان السبب ۔ دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ اگر میں تم دونوں کے جسم کو مس کروں تو میری بیوی کو طلاق یا میرا عبد آزاد ہے جبکہ اس شخص نے ہمارے جسم کو مس کرلیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگیاور اگر گواہوں نے اپنے جسم کے بجائے کپڑوں کا ذکر کرتے ہوئے شہادت دی اور کہا اس نے ایسا کرلیا ہے تو شہادت مقبول ہوگیاور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر گواہ حضرات ان مسائل میں گواہی دینا چاہیں تو سبب بیان کئے بغیر مطلقا طلاق وعتاق کی شہادت دیں۔ (ت)
(۲)یسین خاں ولد قسیم خاں یہ کہتا ہے عرصہ تخمینا سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ مظہر چندا ولد کلن مدعی حاضر عدالت کے مکان پر گئے وحیدی بنت قمر الدین خاں نے زور سے آواز دی کہ چنداولد کلن سے میر ا نکاح پڑھوادو وحیدی نے گواہان کو اجازت دی گواہان نے نکاح پڑھوادیا فیصلہ میں اس پر ایك اعتراض یہ فرمایا ہے کہ اس نے گواہوں کے نام ظاہر نہیں کئے کہ کس کو اجازت دیمگر شہادت بالنکاح بیان نام مزوج ووکیل وشہود کی محتاج نہیں ایك یہ اعتراض ہے کہ وحیدی کی اجازت بذریعہ سماع آواز بیان کرتا ہے اور خود کہتا ہے کہ اندر اور عورتیں بھی تھیںاس سے ثبوت توکیل میں خلل آیا نہ نفس انعقاد وعقد میں کہ بذریعہ فضولی بھی ممکن۔ہاں ایك اعتراض یہ ہے کہ چندا کی ولدیت غلط بیان کیواقعہ اگر عبدالکریم کا عرف کلن نہ ہو تو یہ بھاری اعتراض ہے اور کچھ نہ ہو تو اس کی شہادت میں ذکر زوج مجمل ہے گواہان نے نکاح پڑھوادیاکس سے پڑھوادیا اسی سے جس کی نسبت وحیدی نے اجازت دی تھی یا دوسرے سےشہادت میں ایسی محتمل بات نہیں لی جاتی
کما یشھدبہ من شاھد کلمات العلماء فی باب خلل المحاضر والسجلات وغیر ذلک۔ جیساکہ علمائے کرام کے مقالموں اور کاغذی ریکارڈ وغیرہ میں خلل سے متعلق کلام کا مشاہدہ کرنے والا گواہی دے گا۔(ت)
شھدا علی رجل انہ قال ان مسست جسدکما فامرأتہ کذا اوعبدہ حر و مس جسد نا لاتقبل ولو شھد انہ قال ان مسست ثیابکما وفعل تقبل وفی فتاوی القاضی لوارادالشہود ان یشھدوافی ھذہ المسائل یشھدون بالطلاق والعتاق مطلقا بلا بیان السبب ۔ دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ اگر میں تم دونوں کے جسم کو مس کروں تو میری بیوی کو طلاق یا میرا عبد آزاد ہے جبکہ اس شخص نے ہمارے جسم کو مس کرلیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگیاور اگر گواہوں نے اپنے جسم کے بجائے کپڑوں کا ذکر کرتے ہوئے شہادت دی اور کہا اس نے ایسا کرلیا ہے تو شہادت مقبول ہوگیاور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر گواہ حضرات ان مسائل میں گواہی دینا چاہیں تو سبب بیان کئے بغیر مطلقا طلاق وعتاق کی شہادت دیں۔ (ت)
(۲)یسین خاں ولد قسیم خاں یہ کہتا ہے عرصہ تخمینا سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ مظہر چندا ولد کلن مدعی حاضر عدالت کے مکان پر گئے وحیدی بنت قمر الدین خاں نے زور سے آواز دی کہ چنداولد کلن سے میر ا نکاح پڑھوادو وحیدی نے گواہان کو اجازت دی گواہان نے نکاح پڑھوادیا فیصلہ میں اس پر ایك اعتراض یہ فرمایا ہے کہ اس نے گواہوں کے نام ظاہر نہیں کئے کہ کس کو اجازت دیمگر شہادت بالنکاح بیان نام مزوج ووکیل وشہود کی محتاج نہیں ایك یہ اعتراض ہے کہ وحیدی کی اجازت بذریعہ سماع آواز بیان کرتا ہے اور خود کہتا ہے کہ اندر اور عورتیں بھی تھیںاس سے ثبوت توکیل میں خلل آیا نہ نفس انعقاد وعقد میں کہ بذریعہ فضولی بھی ممکن۔ہاں ایك اعتراض یہ ہے کہ چندا کی ولدیت غلط بیان کیواقعہ اگر عبدالکریم کا عرف کلن نہ ہو تو یہ بھاری اعتراض ہے اور کچھ نہ ہو تو اس کی شہادت میں ذکر زوج مجمل ہے گواہان نے نکاح پڑھوادیاکس سے پڑھوادیا اسی سے جس کی نسبت وحیدی نے اجازت دی تھی یا دوسرے سےشہادت میں ایسی محتمل بات نہیں لی جاتی
کما یشھدبہ من شاھد کلمات العلماء فی باب خلل المحاضر والسجلات وغیر ذلک۔ جیساکہ علمائے کرام کے مقالموں اور کاغذی ریکارڈ وغیرہ میں خلل سے متعلق کلام کا مشاہدہ کرنے والا گواہی دے گا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوی بزازیہ کتاب الشہادات الباب الرابع الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۸۳€
نیز اس کی شہادت میں ایك اور خلل بھی ہے جس کا بیان آگے آتاہے ان شاء اﷲ تعالی۔
(۳)غلام صمدانی خاں ولد صاحبزادہ افتخار علی خان فیصلہ کہ اس پر یہ اعتراض ہیں اس نے وحیدی کا کوئی لفظ کہنا بیان نہ کیا نہ وکیل کا ذکر کیا۔یہ وہی بات ہےکہ اس سے توکیل بے ثبوت ہوگی نہ کہ نفس انعقاد۔اس شہادت میں پور اخلل یہ ہےکہ چندا مدعی حاضر عدالت کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہوا قمر الدین خاں شاید وحیدی کے باپ ہیں ان کا نام ہےاس شاید نے مشہود علیہا کو مشکوك و محتمل ومجہول کردیا۔شہادت و شاہد میں بین تنافی ہے۔
(۴)احسان الحق ولد غلام سروراس کا بیان ہے کہ عرصہ سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ چنداولد کریم اﷲ کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہواوحیدی نے مظہر کو اپنے نفس کا اختیار دیا اور اشتیاق احمد کو کہ میرا نکاح پڑھوا دومظہر نے چندا کے ساتھ پڑھوادیا۔غلام سرور وکیل سے مظہر نے کہہ دیا اور غلام سرور نے خود سن لیاوکیل اور گواہان کے کہنے کے بموجب قاضی نے نکاح پڑھادیا۔نکاح ملحق بالافعال ہے کہ بے فعل تمام نہیں ہوتا تو اس میں اختلاف زمانہ مسقط شہادت ہے اور ایسی جگہ قول مردود مثلا سات یا ساڑھے سات مقبول نہیں۔عالمگیریہ وخانیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان المشہود بہ قولا لایتم الا بفعل کالنکاح واختلف الشہود فی المکان او الزمان او فی الانشاء والاقرار لاتقبل شہادتھم ۔ جس چیز کی گواہی دی جارہی ہے وہ ایسا قول ہو جو فعل و عمل سے تام ہو جیسے نکاح وغیرہ اور گواہوں کا مکان یا زمان یا انشاء اور اقرار میں اختلاف ہو تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
عالمگیریہ وذخیرہ میں ہے:
اذا ادعی دہ دوازدہ درھم لا تسمع دعواہ وکذلك اذا ذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذہ الوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لاتسمع دعواہ وکذلك اذا ذکر الشھود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا جب دعوی دس بارہ درہم کا کرے تو وہ قابل سماعت نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوی میں تاریخ کو اس طرح ذکر کرے مثلا یوں کہے یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملك ہے تو بھی دعوی مسموع نہ ہوگااور یونہی اگر گواہوں نے شہادت میں مہینہ اور تاریخ کو اس طرح ذکر کیا
(۳)غلام صمدانی خاں ولد صاحبزادہ افتخار علی خان فیصلہ کہ اس پر یہ اعتراض ہیں اس نے وحیدی کا کوئی لفظ کہنا بیان نہ کیا نہ وکیل کا ذکر کیا۔یہ وہی بات ہےکہ اس سے توکیل بے ثبوت ہوگی نہ کہ نفس انعقاد۔اس شہادت میں پور اخلل یہ ہےکہ چندا مدعی حاضر عدالت کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہوا قمر الدین خاں شاید وحیدی کے باپ ہیں ان کا نام ہےاس شاید نے مشہود علیہا کو مشکوك و محتمل ومجہول کردیا۔شہادت و شاہد میں بین تنافی ہے۔
(۴)احسان الحق ولد غلام سروراس کا بیان ہے کہ عرصہ سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ چنداولد کریم اﷲ کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہواوحیدی نے مظہر کو اپنے نفس کا اختیار دیا اور اشتیاق احمد کو کہ میرا نکاح پڑھوا دومظہر نے چندا کے ساتھ پڑھوادیا۔غلام سرور وکیل سے مظہر نے کہہ دیا اور غلام سرور نے خود سن لیاوکیل اور گواہان کے کہنے کے بموجب قاضی نے نکاح پڑھادیا۔نکاح ملحق بالافعال ہے کہ بے فعل تمام نہیں ہوتا تو اس میں اختلاف زمانہ مسقط شہادت ہے اور ایسی جگہ قول مردود مثلا سات یا ساڑھے سات مقبول نہیں۔عالمگیریہ وخانیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان المشہود بہ قولا لایتم الا بفعل کالنکاح واختلف الشہود فی المکان او الزمان او فی الانشاء والاقرار لاتقبل شہادتھم ۔ جس چیز کی گواہی دی جارہی ہے وہ ایسا قول ہو جو فعل و عمل سے تام ہو جیسے نکاح وغیرہ اور گواہوں کا مکان یا زمان یا انشاء اور اقرار میں اختلاف ہو تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
عالمگیریہ وذخیرہ میں ہے:
اذا ادعی دہ دوازدہ درھم لا تسمع دعواہ وکذلك اذا ذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذہ الوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لاتسمع دعواہ وکذلك اذا ذکر الشھود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا جب دعوی دس بارہ درہم کا کرے تو وہ قابل سماعت نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوی میں تاریخ کو اس طرح ذکر کرے مثلا یوں کہے یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملك ہے تو بھی دعوی مسموع نہ ہوگااور یونہی اگر گواہوں نے شہادت میں مہینہ اور تاریخ کو اس طرح ذکر کیا
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۹€
الوجہ لاتقبل شہادتھم ۔ تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت)
اس کی رد شہادت کی ایك وجہ وہ ہے جو شہادت یسین خاں میں بھی تھی دوسری اور بھاری وجہ یہ ہےکہ وہ اپنے آپ کو وکیل بالنکاح بتاتا اور اپنے فعل سے کار نکاح تمامی کو پہنچنا بیان کرتا ہے ایسی شہادت مردودہے۔خلاصہ میں ہے:
الوکیلان بالنکاح اوالخلع اذاشھداباثبات ذلك النکاح او ذلك الخلع لاتقبل ۔ نکاح یا خلع کے دو وکیل اگر اس نکاح یا خلع کے اثبات میں شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
رجلان شھدا علی رجل انہ قال لھما ان مسست جسدکما فعبدی ھذا حرفشہد اانہ مس جسد ھما لایقبل لانھما شھدافی امرتم بھا بخلاف شہد اانہ قال ان مسست ثیابکما وقد مس انہ یقبل ویعتق الغلام لان الثیاب غیرہما ۔ دو مردوں نے ایك شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے کہا تھا اگر میں تمہارے جسم کو چھولوں تو میرا غلام آزاد ہےاور پھر شہادت دی کہ اس نے ہمارے جسم کو مس کیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے ایسی چیز کی شہادت دی ہے جس کا اتمام خود ان سے ہوا ہے بخلاف جب جسم کی بجائے اپنے کپڑوں کو چھونے کا ذکر کریں اور پھر اس کے مس کرلینے پر شہادت دیں تو مقبول ہوگی اور غلام آزاد قرار پائے گا کیونکہ ان کے کپڑے ان کا غیر ہیں۔(ت)
(۵)اشتیاق احمد ولد کریم اﷲ برادر مدعیاس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں عرصہ تخمینا ساڑھے سات ماہ کا ہوا قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام اس کا نکاح چندا ولد کریم اﷲ کے ساتھ ہوا وحیدی نے مجھ سے اور احسان الحق سے کہا میں نکاح چندا کے ساتھ کرتی ہوں میرا نکاح کرادو میں اجازت دیتی ہوںحافظ غلام سرور نے نکاح پڑھوایا ہمارے دو گواہیوں کے ساتھاس کے بیان میں یہ جملہ کہ قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام مستقل جملہ ہے جس نے مابعد کے بیان نکاح کو اس
اس کی رد شہادت کی ایك وجہ وہ ہے جو شہادت یسین خاں میں بھی تھی دوسری اور بھاری وجہ یہ ہےکہ وہ اپنے آپ کو وکیل بالنکاح بتاتا اور اپنے فعل سے کار نکاح تمامی کو پہنچنا بیان کرتا ہے ایسی شہادت مردودہے۔خلاصہ میں ہے:
الوکیلان بالنکاح اوالخلع اذاشھداباثبات ذلك النکاح او ذلك الخلع لاتقبل ۔ نکاح یا خلع کے دو وکیل اگر اس نکاح یا خلع کے اثبات میں شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
رجلان شھدا علی رجل انہ قال لھما ان مسست جسدکما فعبدی ھذا حرفشہد اانہ مس جسد ھما لایقبل لانھما شھدافی امرتم بھا بخلاف شہد اانہ قال ان مسست ثیابکما وقد مس انہ یقبل ویعتق الغلام لان الثیاب غیرہما ۔ دو مردوں نے ایك شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے کہا تھا اگر میں تمہارے جسم کو چھولوں تو میرا غلام آزاد ہےاور پھر شہادت دی کہ اس نے ہمارے جسم کو مس کیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے ایسی چیز کی شہادت دی ہے جس کا اتمام خود ان سے ہوا ہے بخلاف جب جسم کی بجائے اپنے کپڑوں کو چھونے کا ذکر کریں اور پھر اس کے مس کرلینے پر شہادت دیں تو مقبول ہوگی اور غلام آزاد قرار پائے گا کیونکہ ان کے کپڑے ان کا غیر ہیں۔(ت)
(۵)اشتیاق احمد ولد کریم اﷲ برادر مدعیاس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں عرصہ تخمینا ساڑھے سات ماہ کا ہوا قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام اس کا نکاح چندا ولد کریم اﷲ کے ساتھ ہوا وحیدی نے مجھ سے اور احسان الحق سے کہا میں نکاح چندا کے ساتھ کرتی ہوں میرا نکاح کرادو میں اجازت دیتی ہوںحافظ غلام سرور نے نکاح پڑھوایا ہمارے دو گواہیوں کے ساتھاس کے بیان میں یہ جملہ کہ قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام مستقل جملہ ہے جس نے مابعد کے بیان نکاح کو اس
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۲€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الشہادات الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۶۹€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الشہادات الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۷۰€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الشہادات الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۶۹€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الشہادات الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۷۰€
لفظ سے کہ گواہی دیتا ہوںالگ کردیا کہ وہ بلا عطف مستقل جملہ منفعلہ ہے کہ اس کا نکاح الخ ہاں اگر یوں ہوتا کہ گواہی دیتا ہوں کہ اتنا عرصہ ہوا کہ قمر الدین کی بیٹی کا جس کانام وحیدی ہے چنداسے نکاح ہواتو یہ جملہ گواہی دیتا ہوں کے تحت میں ہوتا اب محتمل رہ گیا کہ اس نے سب سے اشد واعظم حلف گواہی دیتا ہوں صرف اتنے جملہ کی نسبت کہا کہ قمر الدین کی بیٹی کا وحیدی نام ہےباقی بیان اس حلف اعظم سے جدا رکھا تویہ نکاح پر شہادت نہ ہوئیمحتمل بیان شہادت میں نہیں لیا جاتا فیصلہ نے ان دونوں شہادتوں پر اختلاف سے اعتراض فرمایا کہ احسان الحق کہتا ہے میں نے نکاح پڑھوادیااشتیاق احمد کہتا ہے غلام سرور نے پڑھوادیا یہ کوئی اختلاف نہیں نکاح پڑھایا یعنی خود متولی عقد ہوا اور پڑھوایا یعنی دوسرے سے اور اس میں واسطہ وواسطہ در واسطہ سب یکساں ہیںوحیدی نے ان دونوں سے کہا ان دونوں نے غلام سرور سے کہا غلام سرور نے نکاح خواں سے کہا تو نکاح خواں نے پڑھایا اور ان سب نے پڑھوایاہاں ان کے بیانوں میں اور اختلافات ہیںاحسان الحق کہتا ہے وحیدی نکاح سے اول بھی جایا آیا کرتی تھیں۔اشتیاق احمد کہتا ہے اس سے اول نہیں آئی گئی تھیںاحسان الحق کہتا ہے نکاح خواں نے آواز دے کر دریافت کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہےآواز آئی کہ بیوہ ہےاشتیاق احمد کہتا ہے قاضی صاحب نے اندر کسی سے دریافت نہیں کیا تھا احسان اﷲ کہتاہے قاضی صاحب میرے بعد آئے تھے اشتیاق احمد کہتا ہے احسان الحق دس سے اول نہیں آئے تھے قاضی صاحب قریب دس بجے تشریف لائے تھے ہم نے ایسے زوائد پر التفات نہ کیافیصلہ نے دوسرا اعتراض یہ فرمایا کہ یہ دونوں وکیل بالنکاح ہیں اور وکیل بالنکاح کی شہادت ناجائز مطلقا ناجائز نہیںخلاصہ میں بعد عبارت مذکورہ اولا ہے:
اما اذاشھد الوکیلان بالبیع انہ ملك المشتری او شھد الوکیلان بالنکاح انہا منکوحتہ یقبل فی الاجناس ۔ لیکن اگر بیع کے دو وکیلوں نے یہ شہادت دی کہ اس چیز کا خریدار مالك بن گیا ہے یا نکاح کے دو وکیلوں نے یہ شہادت کہ بطور فلاں کی منکوحہ ہے تو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
بلکہ اس اعتراض کی تحقیق وہ ہے جو شاہد چہارم میں ہم نے ذکر کی۔وکلائے نکاح کی ایسی گواہیاں ضرور مردود ہیں۔
(۶)سجاد علی خاں ولد منور علی خاںاس کا بیان متناقض ہے کہتاہے وحیدی نے اپنے نفس کا اختیار گواہوں کو دیاگواہ چوکھٹ پر تھے وکیل چوکھٹ کے اندر تھاجو الفاظ وحیدی نے
اما اذاشھد الوکیلان بالبیع انہ ملك المشتری او شھد الوکیلان بالنکاح انہا منکوحتہ یقبل فی الاجناس ۔ لیکن اگر بیع کے دو وکیلوں نے یہ شہادت دی کہ اس چیز کا خریدار مالك بن گیا ہے یا نکاح کے دو وکیلوں نے یہ شہادت کہ بطور فلاں کی منکوحہ ہے تو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
بلکہ اس اعتراض کی تحقیق وہ ہے جو شاہد چہارم میں ہم نے ذکر کی۔وکلائے نکاح کی ایسی گواہیاں ضرور مردود ہیں۔
(۶)سجاد علی خاں ولد منور علی خاںاس کا بیان متناقض ہے کہتاہے وحیدی نے اپنے نفس کا اختیار گواہوں کو دیاگواہ چوکھٹ پر تھے وکیل چوکھٹ کے اندر تھاجو الفاظ وحیدی نے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الشہادات الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۶۹€
گواہان سے کہے مظہر کو یاد نہیں وہ الفاظ مظہر نے سنے بھی نہیںپہلا فقرہ توکیل پر شہادت ہے اور پچھلا اس شہادت سے صاف برائتنیز کہتا ہے وحیدی اور چندا کا رسم تھا اسی وجہ سے چندا مدعی کے مکان پر نکاح ہوا یہ ان کے مکان میں جاتے تھے وہ ان کے مکان میں آتے تھے ا س سے اول وحیدی کے آنے جانے کاحال مجھ کو معلوم نہیںاس گواہ کو نہیں معلوم ہوتا کہ ابھی کیا کہہ چکا تھا اور اب کیا کہتا ہےایسے مغفل کی کیا شہادتاور ہوتی بھی تو وہ تنہا تھا ایك کی شہادت ان حقو ق میں مسموع نہیںفیصلہ نے اسی گواہ اور نکاح خواں عنایت احمد کی شہادتوں پر نکاح فضولی منعقد ہونا تسلیم فرمایا ہے اور ازاں کہ وحیدی کی اجازت درکنار اسے نفس نکاح سے انکار ہےفرمایا پس یہ نکاح شرعا باطل ہےہم ان دونوں شہادتوں کا حال بیان کرآئے تو ہرگز نکاح فضولی بھی ثابت نہیں اور بالفرض ثابت ہوتا تو نکاح فضولی ہر گزباطل نہیں بلکہ منعقد موقوف علی الاجازۃ ہوتا ہے وحیدی کا اس وقت نفس نکاح سے انکار بعد نکاح اجازت قولی یا فعلی کا کب مبطل ہوسکتا ہے ممکن کہ اس وقت سن کر جائز کیا ہواب کسی نااتفاقی کے باعث سرے سے وقوع نکاح کی منکر ہوگئی تو دعوی نکاح ثابت کرنا تھا اور اجازت وحیدی کا مدعی سے ثبوت مانگنا کہ حق ظاہر ہو اور ہوا ہے تو حقدار کو پہنچے کہ قاضی کا نصب اسی ایصال حقوق و ابطال عقوق کے لئے ہوتا ہے مگر ہم ثابت کرآئے کہ اصلا وقوع نکاح ہی ثابت نہیںنہ اصیل سے نہ وکیل سے نہ فضولی سےنکاح خواں کا رجسٹر کوئی چیز نہیںحروف صامت ہیں جن کی زبان ناطق وہی نکاح خواں جس کی شہادت یہاں اصلا مسموع نہیںاشباہ والنظائر میں ہے:
لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ فلا یعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین لان القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار و النکول کمافی وقف الخانیۃ ۔ لکھائی اور خط پر نہ اعتماد ہوگا نہ عملتو ماضی کے دور کے قاضی حضرات کے مکتوب وقف پر اب عمل نہ ہوگا کیونکہ کوئی قاضی حجت کے بغیر فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ حجت صرف گواہی اقرار یا قسم سے انکار ہے جیسا کہ خانیہ کے وقف میں ہے۔ (ت)
یہیں فتوائے رام پور کا بطلان واضح ہوا اولا: اس نے انہیں نامقبول و نامسموع شہادتوں پر بنا کی کہ بیانات گواہان سے ثابت ہوتا ہے کہ جلسہ نکاح منعقد ہواا ور حسب قاعدہ و رواج
لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ فلا یعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین لان القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار و النکول کمافی وقف الخانیۃ ۔ لکھائی اور خط پر نہ اعتماد ہوگا نہ عملتو ماضی کے دور کے قاضی حضرات کے مکتوب وقف پر اب عمل نہ ہوگا کیونکہ کوئی قاضی حجت کے بغیر فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ حجت صرف گواہی اقرار یا قسم سے انکار ہے جیسا کہ خانیہ کے وقف میں ہے۔ (ت)
یہیں فتوائے رام پور کا بطلان واضح ہوا اولا: اس نے انہیں نامقبول و نامسموع شہادتوں پر بنا کی کہ بیانات گواہان سے ثابت ہوتا ہے کہ جلسہ نکاح منعقد ہواا ور حسب قاعدہ و رواج
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
نکاح ہوا حالانکہ ہونے پر اصلا ایك شہادت معتمدہ بھی نہیں جیسا کہ اوپر مفصلا معلوم ہوا۔
ثانیا:خود سمجھا کہ صرف اتنی بات دعوی مدعی مطالبہ رخصت کا اثبات نہ کرے گی لہذا اس میں یہ پیوند لگایا کہ اگر نکاح بطور فضولی کے منعقد ہوا تو اجازت ہندہ بعد نکاح ثابت ہے اجازت کےلئے دو امر درکار تھے عورت کو اطلاع ہونا اور اس کا جائز رکھنا اول کے ثبوت کو یہ بے معنی دلیل گھڑی کہ اس لئے کہ جلسہ نکاح کا منعقد ہونا اور کثیر لوگوں کاجمع ہونا اور ہندہ کا اجازت دینا نکاح پڑھوانے کے لئے دلیل کافی ہے کہ ہندہ کو علم نکاح ہوا یہ اس پر موقوف ہے کہ ہندہ کا وہاں ہونا ثابت ہوکہ کثیر لوگ نکاح کے لئے جمع ہونے سے اس کی اطلاع پر استدلال کیا جائے یہاں سرے سے جلسہ نکاح کا انعقاد ہی ثابت نہیں کہ شہادتیں سب مختل و مہمل ہیں۔
ثالثا:نکاح خواں کہتا ہے نکاح میں ۱۵یا ۲۰آدمی سے کم نہ تھےاشتیاق احمد کہتا ہے جلسہ نکاح میں ۲۵یا ۳۰ آدمی ہوں گے احسان الحق بھی یہی کہتا اور لفظ اندازا اور اضافہ کرتا ہےاسی طرح یسین خاں تخمینا کہتا ہےقطع نظر اس سے کہ یہ شہادتیں شرعا مردود ہیں۱۵۲۰یا ۲۵۳۰کیا ایسا کثیر مجمع ہے جس کی اطلاع گھر کے اندر پہنچنی ضرور ہے خصوصا اس حالت مں کہ نکاح خوان کہہ رہا ہے کسی عورت سے دریافت کا قاعدہ نہیں گواہان کے اعتبار پر نکاح پڑھوادیاکسی عورت سے کچھ دریافت نہ کیا۔غلام صمدانی کہتا ہے نکاح رات کے ساڑھے دس بجے ہوا تھا جلسہ نکاح میں مظہر نو بجے پہنچا تھاقاضی صاحب میرے سامنے آئے تھےقاضی جی نے میرے سامنے عورتوں سے کچھ نہیں پو چھااشتیاق احمد کہتا ہے قاضی صاحب نے گواہوں سے دریافت کیا تھا انہوں نے کہا بیوہ ہیں اندر کسی سے دریافت نہیں کیا تھا صرف ایك احسان الحق کہتا ہے کہ نکاح خواں نے ہم سے بھی دریافت کیا اور آوازدے کر دریافت کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہے آواز آئی کہ بیوہ ہے یہ مستوران ثقہ نہایت عمدہ آدمی کی تکذیب کرتا ہے اور نہ سہی تو اکیلا ہے اور نہ سہی تو آواز آئی سے کیا ثابت ہوا اور اس سے کیونکر معلوم ہوا کہ وحیدی کو اطلاع ہوئی۔
رابعا: اطلاع درکنار سرے سے وحیدی کا اس مکان میں ہونا ہی ثابت نہیں اس کا وہاں آنا ایك تو احسان الحق واشتیاق احمد نے بیان کیا یہ دونوں اپنے لئے مدعی توکیل ہیں ان کو تو اس کے بیان کی ضرورت ہی لاحق تھی مگر کسی وکیل کا ادعائے وکالت بحال انکار موکل مسموع نہیں ہوسکتا۔باطل ست انچہ مدعی گوید(مدعی جو کچھ کہتا ہے باطل ہے۔ت)یسین خاں کہتا ہے وحیدی نے زور سے آوازدی کہ میرا نکاح پڑھوادو۔یہ اس کی تراش باقی سب گواہوں سے
ثانیا:خود سمجھا کہ صرف اتنی بات دعوی مدعی مطالبہ رخصت کا اثبات نہ کرے گی لہذا اس میں یہ پیوند لگایا کہ اگر نکاح بطور فضولی کے منعقد ہوا تو اجازت ہندہ بعد نکاح ثابت ہے اجازت کےلئے دو امر درکار تھے عورت کو اطلاع ہونا اور اس کا جائز رکھنا اول کے ثبوت کو یہ بے معنی دلیل گھڑی کہ اس لئے کہ جلسہ نکاح کا منعقد ہونا اور کثیر لوگوں کاجمع ہونا اور ہندہ کا اجازت دینا نکاح پڑھوانے کے لئے دلیل کافی ہے کہ ہندہ کو علم نکاح ہوا یہ اس پر موقوف ہے کہ ہندہ کا وہاں ہونا ثابت ہوکہ کثیر لوگ نکاح کے لئے جمع ہونے سے اس کی اطلاع پر استدلال کیا جائے یہاں سرے سے جلسہ نکاح کا انعقاد ہی ثابت نہیں کہ شہادتیں سب مختل و مہمل ہیں۔
ثالثا:نکاح خواں کہتا ہے نکاح میں ۱۵یا ۲۰آدمی سے کم نہ تھےاشتیاق احمد کہتا ہے جلسہ نکاح میں ۲۵یا ۳۰ آدمی ہوں گے احسان الحق بھی یہی کہتا اور لفظ اندازا اور اضافہ کرتا ہےاسی طرح یسین خاں تخمینا کہتا ہےقطع نظر اس سے کہ یہ شہادتیں شرعا مردود ہیں۱۵۲۰یا ۲۵۳۰کیا ایسا کثیر مجمع ہے جس کی اطلاع گھر کے اندر پہنچنی ضرور ہے خصوصا اس حالت مں کہ نکاح خوان کہہ رہا ہے کسی عورت سے دریافت کا قاعدہ نہیں گواہان کے اعتبار پر نکاح پڑھوادیاکسی عورت سے کچھ دریافت نہ کیا۔غلام صمدانی کہتا ہے نکاح رات کے ساڑھے دس بجے ہوا تھا جلسہ نکاح میں مظہر نو بجے پہنچا تھاقاضی صاحب میرے سامنے آئے تھےقاضی جی نے میرے سامنے عورتوں سے کچھ نہیں پو چھااشتیاق احمد کہتا ہے قاضی صاحب نے گواہوں سے دریافت کیا تھا انہوں نے کہا بیوہ ہیں اندر کسی سے دریافت نہیں کیا تھا صرف ایك احسان الحق کہتا ہے کہ نکاح خواں نے ہم سے بھی دریافت کیا اور آوازدے کر دریافت کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہے آواز آئی کہ بیوہ ہے یہ مستوران ثقہ نہایت عمدہ آدمی کی تکذیب کرتا ہے اور نہ سہی تو اکیلا ہے اور نہ سہی تو آواز آئی سے کیا ثابت ہوا اور اس سے کیونکر معلوم ہوا کہ وحیدی کو اطلاع ہوئی۔
رابعا: اطلاع درکنار سرے سے وحیدی کا اس مکان میں ہونا ہی ثابت نہیں اس کا وہاں آنا ایك تو احسان الحق واشتیاق احمد نے بیان کیا یہ دونوں اپنے لئے مدعی توکیل ہیں ان کو تو اس کے بیان کی ضرورت ہی لاحق تھی مگر کسی وکیل کا ادعائے وکالت بحال انکار موکل مسموع نہیں ہوسکتا۔باطل ست انچہ مدعی گوید(مدعی جو کچھ کہتا ہے باطل ہے۔ت)یسین خاں کہتا ہے وحیدی نے زور سے آوازدی کہ میرا نکاح پڑھوادو۔یہ اس کی تراش باقی سب گواہوں سے
جدا ہے پھر خود کہتا ہے کوٹھی میں اور بھی عورتیں تھیں اس نے توآواز کا دروازہ بند کیا آگے کہتا ہے یہ نہیں بتاسکتا کہ کوٹھی میں کون کون عورتیں تھیں یہاں سے اس علم کابھی سد باب ہوا کہ وحیدی تھی کیونکہ اس کا وہاں موجود ہونا جانا لاجرم سنی سنائی کسی کی بتائی یا محض جزافا اڑائی۔سجاد علی خاں صاف تر کہتا ہے کہ وحیدی پردہ نشین ہے مظہر سے پردہ ہے وحیدی کوٹھڑی میں تھی اول تو یہی نہیں معلوم کہ کہاں کی کوٹھری میں تھی پھر یہ کیونکر جانا کہ وہاں تھی یہی گواہ توکیل گواہان پر شہادت بھی دے رہا ہے اور اسی منہ میں کہتا ہے کہ میں نے وہ الفاظ سنے تك نہیں تو جس طرح کسی کی تعلیم سے توکیل پر گواہی دے دی یونہی وہاں وحیدی کے ہونے کے۔کیا ایسے مہمل و بے سر وپا بیانوں سے عورت کا وہاں موجود ہونا ثابت ہوسکتا ہے حاشا۔
خامسا:طرفہ تر فتوی کا یہ قول ہے کہ ہندہ کا اجازت دینا نکاح کےلئے دلیل کافی ہے کہ ہندہ کو علم ہوا اجازت دینے کا حال تو اوپر معلوم ہوا کہ دو مدعیان تو کیلی اور تیسری اس غیبی آواز پر شہادت اور چوتھی میں آواز تك نہیں یونہی ایمان بالغیب کے سوا کہیں اس کا پتہ نہیںمگر لطف یہ ہےکہ جب ہندہ کا قبل عقد اجازت نکاح دینا ثابت ہے تو نکاح فضولی کب رہا جس کے لئے اجازت فعلی گھڑ نے کو آپ یہ درد سر اٹھارہے ہیں۔سبحان اﷲ!خود نکاح کی اجازت دینا مانئے اور اس سے صرف اتنا نتیجہ نکالئے کہ اسے نکاح کی خبر ہوئیرہی اجازت وہ آگے فعل سے ہورہے گی ایسے اجتماع ہوش وحواس کی حالت میں افتاد تصدیقات کی تکلیف اٹھانی نہ تھی مگر ہے یہ کہ خود سمجھا کہ جلسہ کا انعقاد اور آدمیوں کا اجتماع ہندہ کی اطلاع کو کافی نہیںناچار اجازت کا شقشقہ بڑھایا اگرچہ اس نے ساری تقریر کو عقل سے بیگانہ کر دکھایا۔
سادسا:اب دعوی کے دوسرے شق کا ثبوت دینے کی طرف توجہ ہوئی کہ بعد نکاح ہندہ کا بمکان زید رہنا یہ فعل ضرور دلیل اجازت ہندہ بعد نکاح ہے لہذا نکاح صحیح شرعی زید کے ساتھ ہندہ کا ہوجانا یقینی ہےہم بیان کرآئے کہ وحیدی کا وہاں جانا ہی ثابت نہیں نہ کہ دو ایك روز رہنا۔اس شگوفے کا ذکر ان دو مدعیان وکالت کے سوا کسی کے بیان میں نہیں۔یسین خاں نے اتنا کہا ہے کہ ہم نکاح کے بعد مدعی کے مکان پر وحیدی کو چھوڑ آئے تھے اس سے رہنا ثابت نہیں ہوتاہاں احسان الحق نے کہا ہے کہ بعد نکاح ایك آدھ روز وہاں رہی پھر اپنی والدہ کے گھر چلی آئیاشتیاق احمد نے ایك یا ڈیڑھ دن اور بڑھایا کہ بعد نکاح کے ایك دو دن اسی مکان میں رہیظاہر ہے کہ رہنا وہاں ہونے کی فرع ہے اور وہاں ہونے کا اظہار یہ اپنے دعوی وکالت و گواہی نکاح کےلئے کررہے ہیں جس میں وہ متہم ہیں۔
خامسا:طرفہ تر فتوی کا یہ قول ہے کہ ہندہ کا اجازت دینا نکاح کےلئے دلیل کافی ہے کہ ہندہ کو علم ہوا اجازت دینے کا حال تو اوپر معلوم ہوا کہ دو مدعیان تو کیلی اور تیسری اس غیبی آواز پر شہادت اور چوتھی میں آواز تك نہیں یونہی ایمان بالغیب کے سوا کہیں اس کا پتہ نہیںمگر لطف یہ ہےکہ جب ہندہ کا قبل عقد اجازت نکاح دینا ثابت ہے تو نکاح فضولی کب رہا جس کے لئے اجازت فعلی گھڑ نے کو آپ یہ درد سر اٹھارہے ہیں۔سبحان اﷲ!خود نکاح کی اجازت دینا مانئے اور اس سے صرف اتنا نتیجہ نکالئے کہ اسے نکاح کی خبر ہوئیرہی اجازت وہ آگے فعل سے ہورہے گی ایسے اجتماع ہوش وحواس کی حالت میں افتاد تصدیقات کی تکلیف اٹھانی نہ تھی مگر ہے یہ کہ خود سمجھا کہ جلسہ کا انعقاد اور آدمیوں کا اجتماع ہندہ کی اطلاع کو کافی نہیںناچار اجازت کا شقشقہ بڑھایا اگرچہ اس نے ساری تقریر کو عقل سے بیگانہ کر دکھایا۔
سادسا:اب دعوی کے دوسرے شق کا ثبوت دینے کی طرف توجہ ہوئی کہ بعد نکاح ہندہ کا بمکان زید رہنا یہ فعل ضرور دلیل اجازت ہندہ بعد نکاح ہے لہذا نکاح صحیح شرعی زید کے ساتھ ہندہ کا ہوجانا یقینی ہےہم بیان کرآئے کہ وحیدی کا وہاں جانا ہی ثابت نہیں نہ کہ دو ایك روز رہنا۔اس شگوفے کا ذکر ان دو مدعیان وکالت کے سوا کسی کے بیان میں نہیں۔یسین خاں نے اتنا کہا ہے کہ ہم نکاح کے بعد مدعی کے مکان پر وحیدی کو چھوڑ آئے تھے اس سے رہنا ثابت نہیں ہوتاہاں احسان الحق نے کہا ہے کہ بعد نکاح ایك آدھ روز وہاں رہی پھر اپنی والدہ کے گھر چلی آئیاشتیاق احمد نے ایك یا ڈیڑھ دن اور بڑھایا کہ بعد نکاح کے ایك دو دن اسی مکان میں رہیظاہر ہے کہ رہنا وہاں ہونے کی فرع ہے اور وہاں ہونے کا اظہار یہ اپنے دعوی وکالت و گواہی نکاح کےلئے کررہے ہیں جس میں وہ متہم ہیں۔
سابعا:خود احسان الحق کہتا ہے کہ نکاح ہونے کے بعد سب چلے گئے اس کے بعد دو ایك یا ایك آدھ روز وحیدی کے وہاں رہنے کا علم اسے کیونکر ہوااپنا معاینہ بیان نہیں کرتانہ یہ ان مواقع میں ہے جن میں سماع پر شہادت روا ہو تو بیان بے ثبوت ہے یہی حال اشتیاق احمد کا ہے اگر وہ چند اہی کے مکان میں نہ رہتا ہو۔
ثامنا:اگر نکاح فضولی وحیدی کے مکان پر ہوتا اور وہ بعد علم نکاح حسب دستور رخصت ہوکر چند ا کے یہاں جاتی تو یہ ضرور اجازت فعلی کی حد میں آسکتایہاں تو یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ نکاح چنداہی کے مکان پر ہوا اور وحیدی کو اطلاع کا کوئی ثبوت نہیں معدود اشخاص کا باہرجمع ہونا اور اندر سے کچھ دریافت کرنا کیا موجب اطلاع زناں سے ہے اسی زخم نا مندمل کے بھرنے کوفتوائے رامپور نے وہ فقرہ اضافہ کیا جس نے اس فتوے کو نقل کے ساتھ عقل سے بھی بعید کردیااور جب اس وقت اطلاع نہ ہوئی بعد نکاح معا ہونی کیا ضروراور اس کا کیا ثبوت۔ممکن کہ ایك آدھ یا دو ایك روز کے بعد ہی اسے خبر دی ہو جس پر وہ فورا اپنی ماں کے یہاں چلی گئی۔
تاسعا: منسب استحقاق سخت دشوار ہے اس میں شاید ولعل سے کام نہیں چلتا بلکہ احتمال دافع استحقاق وقاطع استدلال۔شہادت میں کہاں ہے کہ یہ رہنا بالاختیار تھا ممکن کہ مجبورا بطور حبس رہی ہو اگرچہ اسی قدر کہ وہ پردہ نشین تھی اور سواری نہ ملنے دی۔
عاشرا: بالفرض باختیار ہی رہی مگر لڑنے جھگڑنے میں وقت گزارا اور چلی آئی اور اپنے نفس پر قدرت نہ دی تو اجازت فعلی کس گھر سے آئیگیوہ پانچ ادعاء اطلاع پر تھے یہ پانچ اجازت پر"تلك عشرۃ کاملۃ"جن سے آفتاب کی طرح واضح ہوگیا کہ یہاں وحیدی کی طرف سے اجازت فعلی ماننا محض سفسطہ ہے اور وہ بھی اس جوش کے ساتھ کہ نکاح صحیح شرعی ہوجانا یقینی انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔اسی لئے سوال میں یہ لفظ اضافہ کیا کہ ہندہ زید کے یہاں بعد نکاح حسب رواج زمانہ رہی مگر اس لفظ حسب رواج زمانہ کا ان بیچارے دونوں مدعیان توکیل کے بیان میں بھی پتہ نہیں حتی المقدور اجازت فعلی بنانے کے لئے از پیش خویش اضافہ ہوا ہےناراض ہونے کی بات نہیںاسلامی خیر خواہی کے لئے عرض ہے کہ اتنے علم وعقل والوں کو امور شرعیہ میں دخل دینافتوی لکھواناتصدیق کرنا شرعا حرام حرام حرام سخت کبیرہ ہے۔ابن عساکر امیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ والعیاذ باﷲ تعالی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت۔(ت)
احسان الحق واشتیاق احمد کا وحیدی سے پردہ نہ ہونا جبکہ سامنے آنا بے ستری کے طور پر ہو مثلا سر کے بال یا گلے یا پیٹ یا بازو یاکلائی کا کوئی حصہ کھلا ہوا یا باریك کپڑے پہنے جن سے بدن چمکے اور یہ اس پر راضی ہوںمانع نہ ہوں نگاہ پھیرنہ لیتے ہوں ضرور ان کے لئے بھی موجب فسق ہے ورنہ نہیں عالمگیریہ میں ہے:
یقبل تعدیل المرأۃ لزوجھا وغیرہ اذا کانت امرأۃ برزۃ تخالط الناس و تعاملہم کذافی محیط السرخسی ۔ عورت کا اپنے خاوند کو عادل قرار دینا مقبول ہوگا جبکہ یہ عورت باہر نکل کر لوگوں میں اختلاط اور ان سے معاملات کرتی ہوجیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔(ت)
حدیث میں ہے:
ثامنا:اگر نکاح فضولی وحیدی کے مکان پر ہوتا اور وہ بعد علم نکاح حسب دستور رخصت ہوکر چند ا کے یہاں جاتی تو یہ ضرور اجازت فعلی کی حد میں آسکتایہاں تو یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ نکاح چنداہی کے مکان پر ہوا اور وحیدی کو اطلاع کا کوئی ثبوت نہیں معدود اشخاص کا باہرجمع ہونا اور اندر سے کچھ دریافت کرنا کیا موجب اطلاع زناں سے ہے اسی زخم نا مندمل کے بھرنے کوفتوائے رامپور نے وہ فقرہ اضافہ کیا جس نے اس فتوے کو نقل کے ساتھ عقل سے بھی بعید کردیااور جب اس وقت اطلاع نہ ہوئی بعد نکاح معا ہونی کیا ضروراور اس کا کیا ثبوت۔ممکن کہ ایك آدھ یا دو ایك روز کے بعد ہی اسے خبر دی ہو جس پر وہ فورا اپنی ماں کے یہاں چلی گئی۔
تاسعا: منسب استحقاق سخت دشوار ہے اس میں شاید ولعل سے کام نہیں چلتا بلکہ احتمال دافع استحقاق وقاطع استدلال۔شہادت میں کہاں ہے کہ یہ رہنا بالاختیار تھا ممکن کہ مجبورا بطور حبس رہی ہو اگرچہ اسی قدر کہ وہ پردہ نشین تھی اور سواری نہ ملنے دی۔
عاشرا: بالفرض باختیار ہی رہی مگر لڑنے جھگڑنے میں وقت گزارا اور چلی آئی اور اپنے نفس پر قدرت نہ دی تو اجازت فعلی کس گھر سے آئیگیوہ پانچ ادعاء اطلاع پر تھے یہ پانچ اجازت پر"تلك عشرۃ کاملۃ"جن سے آفتاب کی طرح واضح ہوگیا کہ یہاں وحیدی کی طرف سے اجازت فعلی ماننا محض سفسطہ ہے اور وہ بھی اس جوش کے ساتھ کہ نکاح صحیح شرعی ہوجانا یقینی انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔اسی لئے سوال میں یہ لفظ اضافہ کیا کہ ہندہ زید کے یہاں بعد نکاح حسب رواج زمانہ رہی مگر اس لفظ حسب رواج زمانہ کا ان بیچارے دونوں مدعیان توکیل کے بیان میں بھی پتہ نہیں حتی المقدور اجازت فعلی بنانے کے لئے از پیش خویش اضافہ ہوا ہےناراض ہونے کی بات نہیںاسلامی خیر خواہی کے لئے عرض ہے کہ اتنے علم وعقل والوں کو امور شرعیہ میں دخل دینافتوی لکھواناتصدیق کرنا شرعا حرام حرام حرام سخت کبیرہ ہے۔ابن عساکر امیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ والعیاذ باﷲ تعالی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت۔(ت)
احسان الحق واشتیاق احمد کا وحیدی سے پردہ نہ ہونا جبکہ سامنے آنا بے ستری کے طور پر ہو مثلا سر کے بال یا گلے یا پیٹ یا بازو یاکلائی کا کوئی حصہ کھلا ہوا یا باریك کپڑے پہنے جن سے بدن چمکے اور یہ اس پر راضی ہوںمانع نہ ہوں نگاہ پھیرنہ لیتے ہوں ضرور ان کے لئے بھی موجب فسق ہے ورنہ نہیں عالمگیریہ میں ہے:
یقبل تعدیل المرأۃ لزوجھا وغیرہ اذا کانت امرأۃ برزۃ تخالط الناس و تعاملہم کذافی محیط السرخسی ۔ عورت کا اپنے خاوند کو عادل قرار دینا مقبول ہوگا جبکہ یہ عورت باہر نکل کر لوگوں میں اختلاط اور ان سے معاملات کرتی ہوجیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔(ت)
حدیث میں ہے:
حوالہ / References
الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم ∞حدیث ۱۰۴۳€ دارابن جوزی ریاض∞ ۲/ ۳۲۷،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی ∞حدیث۲۹۰۱۸€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۰/ ۱۹۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۲۸€
النظرۃ الاولی لك والثانیۃ علیک ۔ پہلی نگاہ تجھے معاف ہے اور دوسری نگاہ پر تجھ پر گناہ ہے۔ (ت)
کلا م کریم میں ہے:
لاتزروازرۃ وزراخری ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۳:ازعلی گڑھ مدرسۃ العلوم مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ناظم دینیات ومحمد نصرت شیر خان محرر دینیات ۱۹/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی والدہ محترمہ کی مالك میں ایك کھیت تھا اس کا فروخت کردیا اس کے روپے سے ایك مکان خرید نے کاارادہ کیا جب مکان تجویز ہوگیا اور قیمت کامعاملہ بائع سے طے ہوگیا اس وقت زید نے اپنی والدہ سے دریافت کیا کہ اس مکان کا بیعنامہ آپ کے نام کرادوں یا جس کے نام ارشاد فرمائیں زید کی والدہ کے بجز زید کے اور کوئی فرزند ودختر نہ تھی اس وجہ سے زید کی والدہ نے فرمایا کہ تو ہی اپنے نام کرالے چنانچہ زید نے بموجب حکم اپنی والدہ کے اپنے نام مکان کابیعنامہ کرالیا اور اس بیعنامہ کو عرصہ چالیس سال کا تخمینا ہواہے اس وقت زید کی زوجہ اولی مع بعض اولاد کے موجود تھی اس مکان کے خریدنے کے پہلے اور بعد کو بھی زید نے چند جگہ اپنے خاندان میں کسی عورت
کلا م کریم میں ہے:
لاتزروازرۃ وزراخری ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۳:ازعلی گڑھ مدرسۃ العلوم مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ناظم دینیات ومحمد نصرت شیر خان محرر دینیات ۱۹/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی والدہ محترمہ کی مالك میں ایك کھیت تھا اس کا فروخت کردیا اس کے روپے سے ایك مکان خرید نے کاارادہ کیا جب مکان تجویز ہوگیا اور قیمت کامعاملہ بائع سے طے ہوگیا اس وقت زید نے اپنی والدہ سے دریافت کیا کہ اس مکان کا بیعنامہ آپ کے نام کرادوں یا جس کے نام ارشاد فرمائیں زید کی والدہ کے بجز زید کے اور کوئی فرزند ودختر نہ تھی اس وجہ سے زید کی والدہ نے فرمایا کہ تو ہی اپنے نام کرالے چنانچہ زید نے بموجب حکم اپنی والدہ کے اپنے نام مکان کابیعنامہ کرالیا اور اس بیعنامہ کو عرصہ چالیس سال کا تخمینا ہواہے اس وقت زید کی زوجہ اولی مع بعض اولاد کے موجود تھی اس مکان کے خریدنے کے پہلے اور بعد کو بھی زید نے چند جگہ اپنے خاندان میں کسی عورت
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب النکاح باب حلۃ النظر قبل التزوج ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۰€
القرآن الکریم ∞۷/ ۱۶۴€
القرآن الکریم ∞۷/ ۱۶۴€
سے عقد ثانی کا ارادہ بزمانہ حیات اپنی ولادہ اور زوجہ کے پختہ طور سے کرلیا اور دونوں کوا س کا علم قطعی طور سے ہوا لیکن اس پر بھی زید کی والدہ نے زید سے یہ نہیں فرمایا کہ تو اس مکان کو اپنی زوجہ یا اپنی اولاد کے نام منتقل کردے بلکہ زید کی ماں نے اسی مکان میں سالہاسال تك سکونت فرماکر وفات پائی آخر دم تك کوئی بات اس مکان کی نسبت نہیں فرمائیزید نے بعد وفات اپنی وجہ اولی کے تخمینا عرصہ بیس سال کا ہوا ایك عورت سے نکاح کرلیا ید اس مکان کو جس کو اس کی والدہ مرحومہ نے زید کے نام کرادیا تھا اسے زوجہ ثانیہ کے مہر میں دینا چاہتا ہے اور ایك دوسرا مکان جو اس مکان کے محاذ میں زید نے خریدا ہے اس کو اپنی زوجہ اولی متوفیہ کے اولاد کو تبرعا دینا چاہتا ہے اس حالت میں زید کی بڑی لڑکی خالدہ یہ دعوی کرتی ہے کہ جس مکان کو اپ مہر میں ہماری مادر صاحبہ کے دینا چاہتے ہیں وہ مکان ہماری والدہ مرحومہ کا اور ہمارا ہے کیونکہ ہماری دادی صاحبہ مرحومہ کی دلی نیت یہ تھی ہماری والدہ صاحبہ اور ہم آپ کے ساتھ اس مکان میں رہیں اور ہماری دادی صاحبہ نے آپ کا نام بیعنامہ میں فرضی طور پر کرادیا تھا۔
دوسرا دعوی خالدہ کا یہ ہے کہ جب ہیہ مکان خریدا گیا تو صرف اس میں ایك کو ٹھا بہت نیچا تھا اس کو آپ نے اونچا کرایا اور اس کے آگے سہ دری مرتب کرائی اور دروازہ مسقف بنوایا اور باسٹھ گز زمین پچاس روپے کو خرید کر آپ نے اس مکان میں شام کی یہ سب روپیہ آپ نے ہماری والدہ سے لیا اور وہ سب روپیہ ہماری والدہ کا تھا کیونکہ جس قدر وپیہ آپ اپنی چالیس روہے کی تنخواہ میں سے بچا کر مان بماہ ہم کوروانہ کرتے تھے وہ ہماری والدہ کے نان و نفقہ اور ہمارے اخراجات کا تھاعلاوہ بریں ہماری والدہ صاحب مع ہمارے دوسرے تیسرے سال نانی صاحبہ کے گھر جاتی تھیں اور وہاں دو دو مہینے یا تین تین مہینے رہنا ہوتا تھا اور ہمارا سب کا کھانا نانی صاحبہ کے ذمہ ہوتا تھا اس عرصہ میں جس قدر روپیہ ماہواری آپ روانہ کرتے تھے وہ بچتا تھا وہ سب روپیہ ہماری والدی کا اور ہمارا تھا اس کے سوا ہمارے نانا صاحب کے مرید اور شاگرد نانا صاحب کے مکان پر آتے تھے وہ ہماری والدہ صاحبہ یا ہم کو کچھ روپیہ دیتے تھے وہ ہماری والدہ صاحب ہ کا اور ہمار ا ہوتا تھا۔
زید خالدہ کے اول دعوی ملکیت مکان کا یہ جواب دیتا ہے کہ اصل مکان جبکہ میری والدہ مرحومہ نے اپنی ذاتی رضامندی سے میرے نام کرادیا تو اس کے بعد یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ ان کی دلی نیت تمہاری ملك میں دینے کی نہ تھی اور آپ کا نام فرض تھا کیونکہ بیع وشراء میں باعتبار شریعت کے دلی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ ظاہری الفاظ یا تحریر کا اعتبار ہوتا ہےاور زید خالدہ کے دوسرے دعوی ملکیت روپے کا یہ جواب دیتا ہے کہ جو کچھ تمہاری والدہ کے پاس پس انداز روپیہ تھا وہ میری ہی
دوسرا دعوی خالدہ کا یہ ہے کہ جب ہیہ مکان خریدا گیا تو صرف اس میں ایك کو ٹھا بہت نیچا تھا اس کو آپ نے اونچا کرایا اور اس کے آگے سہ دری مرتب کرائی اور دروازہ مسقف بنوایا اور باسٹھ گز زمین پچاس روپے کو خرید کر آپ نے اس مکان میں شام کی یہ سب روپیہ آپ نے ہماری والدہ سے لیا اور وہ سب روپیہ ہماری والدہ کا تھا کیونکہ جس قدر وپیہ آپ اپنی چالیس روہے کی تنخواہ میں سے بچا کر مان بماہ ہم کوروانہ کرتے تھے وہ ہماری والدہ کے نان و نفقہ اور ہمارے اخراجات کا تھاعلاوہ بریں ہماری والدہ صاحب مع ہمارے دوسرے تیسرے سال نانی صاحبہ کے گھر جاتی تھیں اور وہاں دو دو مہینے یا تین تین مہینے رہنا ہوتا تھا اور ہمارا سب کا کھانا نانی صاحبہ کے ذمہ ہوتا تھا اس عرصہ میں جس قدر روپیہ ماہواری آپ روانہ کرتے تھے وہ بچتا تھا وہ سب روپیہ ہماری والدی کا اور ہمارا تھا اس کے سوا ہمارے نانا صاحب کے مرید اور شاگرد نانا صاحب کے مکان پر آتے تھے وہ ہماری والدہ صاحبہ یا ہم کو کچھ روپیہ دیتے تھے وہ ہماری والدہ صاحب ہ کا اور ہمار ا ہوتا تھا۔
زید خالدہ کے اول دعوی ملکیت مکان کا یہ جواب دیتا ہے کہ اصل مکان جبکہ میری والدہ مرحومہ نے اپنی ذاتی رضامندی سے میرے نام کرادیا تو اس کے بعد یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ ان کی دلی نیت تمہاری ملك میں دینے کی نہ تھی اور آپ کا نام فرض تھا کیونکہ بیع وشراء میں باعتبار شریعت کے دلی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ ظاہری الفاظ یا تحریر کا اعتبار ہوتا ہےاور زید خالدہ کے دوسرے دعوی ملکیت روپے کا یہ جواب دیتا ہے کہ جو کچھ تمہاری والدہ کے پاس پس انداز روپیہ تھا وہ میری ہی
کمائی کا روپیہ تھا اور جس وقت میں نے تمہاری والدہ سے زمین کے خرید نے اور دکان کے مول لینے کو یا مرمت مکان کو یادرمیانی دیوار بنانے کو روپیہ طلب کیا اس مرحومہ نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ اس وقت آپ کا ذاتی روپیہ تو میرے پاس نہیں ہاں میرا ذاتی روپیہ موجود ہے یا کسی کی امانت میرے پاس رکھی ہے اس وقت آپ لےکر اپنا کام چلالیں بعد کو بتدریج ادا کر دیںاس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ روپیہ میری کمائی کا پس اندا ز تھا جو میں نے اس مرحومہ سے لیا۔
دوسرا جواب شرعی طور پر یہ ہے کہ اس مرحومہ نے مرتے دم تك اس روپے کا نسبت کبھی یہ نہیں کہا کہ جو روپیہ آپ نے فلاں فلاں وقت مجھ سے لے کر مکان میں لگایا تھا وہ میراذاتی روپیہ تھا اس کو آپ نے مجھ کو واپس نہیں دیا اب آپ اس روپے کو میری طرف سے کسی مدرسہ اسلامیہ یا مسجد یا کسی اور کار خیر میں لگادیں تاکہ مجھ کو اس کا ثواب پہنچتا رہےاس سے بھی صاف ظاہرہوتا ہے کہ جو روپیہ میں اس سے لیا میرا ہی مملوك تھا۔
اور تیسرا جواب زید کایہ ہےکہ اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ انہوں نے اپنا مملوك ہی روپیہ مجھ کو دیا تھا جب کہ آخریدم تك اس کو مجھ سے طلب نہ کیا اور نہ اس کی نسبت بوقت وفات مجھ کو کچھ وصیت کی تو وہ روپیہ انہوں نے مجھ کو بخش دیا اعنی وہ روپیہ مجھے واپس لینے کی غرض سے نہیں دیا بلکہ اس روپیہ کا مجھ کو مالك بنادیا تھاپس علمائے دین سے استفسار ہے کہ زید کی خالدہ بیٹی کے دونوں دعوی ازروئے شرع شریف حق ہیں یا زید کے جوابات حق ہیں
الجواب:
خالدہ کا پہلا دعوی محض باطل و نامسموع ہے اعتبار لفظ کا ہے نہ کہ محض نیت کا فقد نصوا ان العبرۃ بما تلفظ لا بمانوی (فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ لفظ کا اعتبار ہے نیت کا نہیں۔ت)روپیہ زوجہ کو خرچ کےلئے دیا جاتا ہے اس کی دو۲ صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زن و شو وعیال ایك جگہ رہتے ہیں ایك خرچ ہے شوہر سب آمدنی اسے دے دیتا ہے وہ اپنے اور شوہر اور سب گھر کے مصارف اس سے اٹھاتی ہےاس صورت میں وہ روپیہ تمام و کمال ملك شوہر پر رہتا ہےعورت کا خرچ بھی ملك شوہر پر ہوتا ہےاسے شرع میں تموین کہتے ہیںعقد نکاح کا اصل موجب یہی ہےظاہرہے کہ اس میں جو کچھ پس انداز ہوگا شوہر کا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ زن و شو جدا ہیں شوہر اسے نفقہ بھیجتا ہے یا ایك ہی جگہ ہیں مگر عورت کے خرچ کا اسے جدا دیتا ہےعام ازیں کہ وقت معین پر مثلا ماہوار رقم معین مثلا دس روپے خاص بحکم قاضی خواہ بتراضییا تعیین کچھ نہیں وقتا فوقتا مختلف مقدار میں اس کے
دوسرا جواب شرعی طور پر یہ ہے کہ اس مرحومہ نے مرتے دم تك اس روپے کا نسبت کبھی یہ نہیں کہا کہ جو روپیہ آپ نے فلاں فلاں وقت مجھ سے لے کر مکان میں لگایا تھا وہ میراذاتی روپیہ تھا اس کو آپ نے مجھ کو واپس نہیں دیا اب آپ اس روپے کو میری طرف سے کسی مدرسہ اسلامیہ یا مسجد یا کسی اور کار خیر میں لگادیں تاکہ مجھ کو اس کا ثواب پہنچتا رہےاس سے بھی صاف ظاہرہوتا ہے کہ جو روپیہ میں اس سے لیا میرا ہی مملوك تھا۔
اور تیسرا جواب زید کایہ ہےکہ اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ انہوں نے اپنا مملوك ہی روپیہ مجھ کو دیا تھا جب کہ آخریدم تك اس کو مجھ سے طلب نہ کیا اور نہ اس کی نسبت بوقت وفات مجھ کو کچھ وصیت کی تو وہ روپیہ انہوں نے مجھ کو بخش دیا اعنی وہ روپیہ مجھے واپس لینے کی غرض سے نہیں دیا بلکہ اس روپیہ کا مجھ کو مالك بنادیا تھاپس علمائے دین سے استفسار ہے کہ زید کی خالدہ بیٹی کے دونوں دعوی ازروئے شرع شریف حق ہیں یا زید کے جوابات حق ہیں
الجواب:
خالدہ کا پہلا دعوی محض باطل و نامسموع ہے اعتبار لفظ کا ہے نہ کہ محض نیت کا فقد نصوا ان العبرۃ بما تلفظ لا بمانوی (فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ لفظ کا اعتبار ہے نیت کا نہیں۔ت)روپیہ زوجہ کو خرچ کےلئے دیا جاتا ہے اس کی دو۲ صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زن و شو وعیال ایك جگہ رہتے ہیں ایك خرچ ہے شوہر سب آمدنی اسے دے دیتا ہے وہ اپنے اور شوہر اور سب گھر کے مصارف اس سے اٹھاتی ہےاس صورت میں وہ روپیہ تمام و کمال ملك شوہر پر رہتا ہےعورت کا خرچ بھی ملك شوہر پر ہوتا ہےاسے شرع میں تموین کہتے ہیںعقد نکاح کا اصل موجب یہی ہےظاہرہے کہ اس میں جو کچھ پس انداز ہوگا شوہر کا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ زن و شو جدا ہیں شوہر اسے نفقہ بھیجتا ہے یا ایك ہی جگہ ہیں مگر عورت کے خرچ کا اسے جدا دیتا ہےعام ازیں کہ وقت معین پر مثلا ماہوار رقم معین مثلا دس روپے خاص بحکم قاضی خواہ بتراضییا تعیین کچھ نہیں وقتا فوقتا مختلف مقدار میں اس کے
خرچ کے لئے بھیجتا یا اسے دیتا ہےاس صورت میں جو کچھ اسے دیا وہ ملك زن ہوگیااس میں سے جو کچھ بچے گاخواہ عورت کی جز رسی سے یا یوں کہ وہ مہینوں اپن ی ماں کے یہاں رہی اور مصارف ماں نے کئے بہر حال عورت ہی اس کی مالك ہے۔بحر الرائق وردالمحتار میں ہے:
المفروضۃ اوالمدفوعۃ لھا ملك لہا فلہا الاطعام منھا والتصدق وفی الخانیۃ لو اکلت من مالھا او من المسألۃ لھا الرجوع علیہ بالمفروض ۔ عورت کے لئے مقرر شدہ یا اس کو ادا شدہ کی وہ مالك ہے تو اس میں سے اس کوکھلانے اور صدقہ کرنے کا حق ہےور خانیہ میں ہے اگر عورت اپنے مال میں سے کچھ کھائے یا وصول کردہ سے مقرر شدہ کیلئے عورت خاوند سے رجوع کرسکتی ہے۔(ت)
ظاہر ہےکہ یہاں واقع صورت ثانیہ ہےکہ زید اسےخرچ بھیجاکرتا تھا تو تو چاہئےکہ عورت ہی اس کی مابلکہ ہو
اقول:مگر یہاں ایك نکتہ اور ہے زن وولد کے نفقہ میں فرق ہے وہ جزائے احتباس ہے اور جبکہ نفقہ اسے دیا گیا اس کی ملك ہوگیا اگر وہ نہ اٹھائے بلکہ دوسری جگہ سے اپنا خرچ چلائے تواس سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر اس نے مثلا مہینے یا سال بھر کا اسے دے دیا اور اس کے پاس سے چوری نہ کریں اپنی حاجت دوسرے طور پر رواکرلیں تو اس مدت کا ان کا نفقہ ذمہ پدر نہیں اس صورت میں اگر ان کا نفقہ مثلا کچھ ماہوار بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب بھی آئندہ کے لئے اس سے نہیں لے سکتے جب تك یہ خرچ نہ ہوجائے کہ پہلی حاجت دفع ہوگئی اور اگر اس نے دیا ان کے پاس سے چوری ہوگیا اسے دوبارہ دینا ہوگا کہ حاجت دفع نہ ہوئی تو اس میں سے جو کچھ پس انداز کریں وہ ان کی ملك نہیں ملك پدر ہے کہ معلوم ہوا کہ حاجت سے زائد ہے مگریہ کہ ان کو ہبۃ دے تو البتہ وہ مالك ہوں گےذخیرہ پھر بحرالرائق میں ہے:
فرق بین نفقۃ الزوجات وکسوتھن و بین نفقۃ المحارم وکسوتھمفان فی الاقارب اذا مضی الوقت بیویوں کے لئے نفقہ و لبا س میں اور ذی محرم کیلئے نفقہ اور لباس میں فرق ہے کیونکہ اقارب کے نفقہ و لباس میں سےکچھ باقی ہو اور وقت گزرجائے
المفروضۃ اوالمدفوعۃ لھا ملك لہا فلہا الاطعام منھا والتصدق وفی الخانیۃ لو اکلت من مالھا او من المسألۃ لھا الرجوع علیہ بالمفروض ۔ عورت کے لئے مقرر شدہ یا اس کو ادا شدہ کی وہ مالك ہے تو اس میں سے اس کوکھلانے اور صدقہ کرنے کا حق ہےور خانیہ میں ہے اگر عورت اپنے مال میں سے کچھ کھائے یا وصول کردہ سے مقرر شدہ کیلئے عورت خاوند سے رجوع کرسکتی ہے۔(ت)
ظاہر ہےکہ یہاں واقع صورت ثانیہ ہےکہ زید اسےخرچ بھیجاکرتا تھا تو تو چاہئےکہ عورت ہی اس کی مابلکہ ہو
اقول:مگر یہاں ایك نکتہ اور ہے زن وولد کے نفقہ میں فرق ہے وہ جزائے احتباس ہے اور جبکہ نفقہ اسے دیا گیا اس کی ملك ہوگیا اگر وہ نہ اٹھائے بلکہ دوسری جگہ سے اپنا خرچ چلائے تواس سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر اس نے مثلا مہینے یا سال بھر کا اسے دے دیا اور اس کے پاس سے چوری نہ کریں اپنی حاجت دوسرے طور پر رواکرلیں تو اس مدت کا ان کا نفقہ ذمہ پدر نہیں اس صورت میں اگر ان کا نفقہ مثلا کچھ ماہوار بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب بھی آئندہ کے لئے اس سے نہیں لے سکتے جب تك یہ خرچ نہ ہوجائے کہ پہلی حاجت دفع ہوگئی اور اگر اس نے دیا ان کے پاس سے چوری ہوگیا اسے دوبارہ دینا ہوگا کہ حاجت دفع نہ ہوئی تو اس میں سے جو کچھ پس انداز کریں وہ ان کی ملك نہیں ملك پدر ہے کہ معلوم ہوا کہ حاجت سے زائد ہے مگریہ کہ ان کو ہبۃ دے تو البتہ وہ مالك ہوں گےذخیرہ پھر بحرالرائق میں ہے:
فرق بین نفقۃ الزوجات وکسوتھن و بین نفقۃ المحارم وکسوتھمفان فی الاقارب اذا مضی الوقت بیویوں کے لئے نفقہ و لبا س میں اور ذی محرم کیلئے نفقہ اور لباس میں فرق ہے کیونکہ اقارب کے نفقہ و لباس میں سےکچھ باقی ہو اور وقت گزرجائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۴۹،€بحرالرائق کتاب الطلاق باب النفقۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۴/ ۱۷۴€
وبقی شیئ من الدراھم والکسوۃ فان القاضی لایقضی باخری فی الاحوال کلہالانھا باعتبار الحاجۃ فی حقھموفی حق المرأۃ معاوضۃ عن الاحتباس ولہذا اذاضاعت النفقۃ او الکسوۃ من ایدیھم یفرض لھم اخری لما ذکرنا ۔ تو قاضی اس کےعوض کچھ اورکسی حالت میں دینےکا حکم نہیں کرسکتاکیونکہ ان کے لئے یہ خرچہ حاجت کے اعبتار سے ہوتا ہے اور بیویوں کے حق میں ان کو مبحوس رکھے کا معاوضہ ہوتا ہے اس لئے ان کے خرچہ میں سے اگر ان کے پاس ضائع ہوجائے تو قاضی اسکے عوض کےلئے حکم نافذ کرے گا جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
النفقۃ فی حق القریب بقدر الحاجۃ والکفایۃ وفی حق الزوجۃ معاوضۃ عن الاحتباس ولذالومضی الوقت وبقی منھا شیئ یقضی باخری لھا لالہ وکذا لوضاعت ۔ قریبی کے حق میں نفقہ بقدر حاجت و کفایت ہوتا ہے اور زوجہ کے حق میں پابندی کا معاوضہ ہوتا ہے اس لئے بیوی کے حق میں سے کچھ بقایا ہو تو وقت گزرجانے کے باوجود مزیدادا کرنے کا حکم دے گا اور قریبی کےلئے ایسا نہیں ہے اور یونہی اگر ضائع ہوجائے۔(ت)
اسی پر حواشی فقیر غفرلہ میں ہے:
اقول:سبق قلمہ وصوابہ(وبعکسہ لوضاعت) ای یقضی باخری لہ لعدم اندفاع الحاجۃ لالھا لو صول العوض الیہا ۔ اقول:(میں کہتا ہوں) یہ قلم کی سبقت ہےورنہ درست اس کا عکس ہےاگر ضائع ہوجائے یعنی قریبی کےلئے نفققہ ضائع ہوجائے تو قاضی اس کے لئے مزید کا حکم دے گا کیونکہ اس کی حاجت پورا کرنا ہےبیوی کے لئے ایسا نہیں کیونکہ وہ عوض کے حقدار ہے جو اسے مل گیا ہے(ت)
یہاں سے خالدہ کے اس دعوی کا کہ جس قدر بچتا تھا ہمارا اور ہماری والدہ کا تھا اپنی نسبت بطلان تو ظاہر ہوگیا اس کی ماں کی نسبت بھی صحیح نہ رہا۔سوال سے ظاہر ہے کہ زید تنہا عورت کے نقہ اسے نہ بھیجتا تھا بلکہ مع اولاداور اس میں کوئی تفصیل نہ تھی کہ اتنا زوجہ کےلئے اتنا اولاد کے واسطے بلکہ مجملا بغرض صرف
ردالمحتار میں ہے:
النفقۃ فی حق القریب بقدر الحاجۃ والکفایۃ وفی حق الزوجۃ معاوضۃ عن الاحتباس ولذالومضی الوقت وبقی منھا شیئ یقضی باخری لھا لالہ وکذا لوضاعت ۔ قریبی کے حق میں نفقہ بقدر حاجت و کفایت ہوتا ہے اور زوجہ کے حق میں پابندی کا معاوضہ ہوتا ہے اس لئے بیوی کے حق میں سے کچھ بقایا ہو تو وقت گزرجانے کے باوجود مزیدادا کرنے کا حکم دے گا اور قریبی کےلئے ایسا نہیں ہے اور یونہی اگر ضائع ہوجائے۔(ت)
اسی پر حواشی فقیر غفرلہ میں ہے:
اقول:سبق قلمہ وصوابہ(وبعکسہ لوضاعت) ای یقضی باخری لہ لعدم اندفاع الحاجۃ لالھا لو صول العوض الیہا ۔ اقول:(میں کہتا ہوں) یہ قلم کی سبقت ہےورنہ درست اس کا عکس ہےاگر ضائع ہوجائے یعنی قریبی کےلئے نفققہ ضائع ہوجائے تو قاضی اس کے لئے مزید کا حکم دے گا کیونکہ اس کی حاجت پورا کرنا ہےبیوی کے لئے ایسا نہیں کیونکہ وہ عوض کے حقدار ہے جو اسے مل گیا ہے(ت)
یہاں سے خالدہ کے اس دعوی کا کہ جس قدر بچتا تھا ہمارا اور ہماری والدہ کا تھا اپنی نسبت بطلان تو ظاہر ہوگیا اس کی ماں کی نسبت بھی صحیح نہ رہا۔سوال سے ظاہر ہے کہ زید تنہا عورت کے نقہ اسے نہ بھیجتا تھا بلکہ مع اولاداور اس میں کوئی تفصیل نہ تھی کہ اتنا زوجہ کےلئے اتنا اولاد کے واسطے بلکہ مجملا بغرض صرف
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الطلاق باب النفقۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴/ ۱۷۸€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۷۲€
جدالممتار علٰی ردالمحتار
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۷۲€
جدالممتار علٰی ردالمحتار
ارسال ہوتا تھا تو اسے عورت کےلئے تملیك نہیں کہہ سکتے کہ علاوہ شیوع مجہول القدر ہے مقصود یقینا یہ ہےکہ جتنا عورت کے صرف میں آئے وہ اٹھائے جتنا بچوں کے خرچ میں آئے ان پر صرف کرے نہ یہ کہ کہ عورت اور ہر بچے کو بحصہ مساوی مالك کیا اور جہالت قدر مبطل ہبہ ہے۔بحرالرائق میں ہے:
یشترط فی صحۃ المشاع الذی لایحتمل القسمۃ ان یکون قدر امعلوما ۔ مشاع یعنی جو تقسیم نہ ہوسکے ایسی چیز کی ہبہ کی صحت کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کی قدر معلوم ہو۔(ت)
تو ثابت ہوا کہ وہ بھیجنا بھی تموین ہی تھا نہ کہ تملیکلہذا جو کچھ بچا ملك زید ہی تھا ھکذاینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کا ولی ہے۔ت) یہاں سے ظاہر ہوا کہ دوسرے دعوی خالدہ کے تین جواب جو زیدس نے دئے اگرچہ ان میں دو پچھلے صحیح نہیںزن وشو کا معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ شرف و شرم والیاں اس میں تقاضائے دین پسند نہیں کرتیں تو نہ مانگنا یا وصیت نہ کرنا دلیل تملیك نہیں ولا ینسب الی ساکت قول(خاموش کی طرف بات منسوب نہیں ہوتی۔ت) مگر پہلا جواب کہ وہ میری ہی ملك تھا صحیح ہےنہ اس طور پر کہ زید نے کہابلکہ جس طرح ہم نے تقریر کی۔ رہا خالدہ کا بیان کہ اس کے نانا کے مریدین و تلامذہ اسے اور اس کی ماں کو کچھ دیتے تھے اس کا ثبوت اس کے ذمہ ہے کہ اس روپے میں سے اس کی ماں نے زید کو دیا اگر بتعین مقدار اسے شہود عدول سے ثابت کردے تو اس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ زید اتنے روپے کا مدیون ہےمکان پر خالدہ وغیرہ کسی کو دعوی نہیں پہنچتا کہ روپیہ قرض دیا ہے نہ کہ مکان کا کوئی حصہ مول لیا ہے والدیون تقضی بامثالھا(نقدی دین کی ادائیگی ہم مثل سے ہوتی ہے۔ت)خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ والد کے مال سے خریدی گئی چیز کو یہ لازم ہیں کہ وہ باپ کی ہوجائے۔(ت)
تعین و مقدار کی ضرورت یہ ہے کہ بے اس کے دعوی مسموع نہیں مثلا خالدہ کہے اس میں کچھ روپیہ زر نذور کا تھا نہ سنا جائے گا ہندیہ میں ہے:
لو کان المدعی بہ مجھولافان القاضی جس چیز کا دعوی ہےوہ اگر مجہول ہو تو قاضی اس
یشترط فی صحۃ المشاع الذی لایحتمل القسمۃ ان یکون قدر امعلوما ۔ مشاع یعنی جو تقسیم نہ ہوسکے ایسی چیز کی ہبہ کی صحت کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کی قدر معلوم ہو۔(ت)
تو ثابت ہوا کہ وہ بھیجنا بھی تموین ہی تھا نہ کہ تملیکلہذا جو کچھ بچا ملك زید ہی تھا ھکذاینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کا ولی ہے۔ت) یہاں سے ظاہر ہوا کہ دوسرے دعوی خالدہ کے تین جواب جو زیدس نے دئے اگرچہ ان میں دو پچھلے صحیح نہیںزن وشو کا معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ شرف و شرم والیاں اس میں تقاضائے دین پسند نہیں کرتیں تو نہ مانگنا یا وصیت نہ کرنا دلیل تملیك نہیں ولا ینسب الی ساکت قول(خاموش کی طرف بات منسوب نہیں ہوتی۔ت) مگر پہلا جواب کہ وہ میری ہی ملك تھا صحیح ہےنہ اس طور پر کہ زید نے کہابلکہ جس طرح ہم نے تقریر کی۔ رہا خالدہ کا بیان کہ اس کے نانا کے مریدین و تلامذہ اسے اور اس کی ماں کو کچھ دیتے تھے اس کا ثبوت اس کے ذمہ ہے کہ اس روپے میں سے اس کی ماں نے زید کو دیا اگر بتعین مقدار اسے شہود عدول سے ثابت کردے تو اس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ زید اتنے روپے کا مدیون ہےمکان پر خالدہ وغیرہ کسی کو دعوی نہیں پہنچتا کہ روپیہ قرض دیا ہے نہ کہ مکان کا کوئی حصہ مول لیا ہے والدیون تقضی بامثالھا(نقدی دین کی ادائیگی ہم مثل سے ہوتی ہے۔ت)خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ والد کے مال سے خریدی گئی چیز کو یہ لازم ہیں کہ وہ باپ کی ہوجائے۔(ت)
تعین و مقدار کی ضرورت یہ ہے کہ بے اس کے دعوی مسموع نہیں مثلا خالدہ کہے اس میں کچھ روپیہ زر نذور کا تھا نہ سنا جائے گا ہندیہ میں ہے:
لو کان المدعی بہ مجھولافان القاضی جس چیز کا دعوی ہےوہ اگر مجہول ہو تو قاضی اس
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الہبہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۸۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
لایسمع دعواہ ھکذا فی النھایۃ ۔ دعوی کو نہ سنے گانہایہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
یہ حکم قضا ہے دیانۃ اگر زید جانتا ہو کہ اس میں زر نذر بھی تھا تو اس پر لازم ہے کہ واپس دے اور مقدار نہ معلوم ہو تو آسان طریقہ یہ ہے کہ جو مکان ان کو تبرعا دینا چاہتا ہے اس روپے کے عوض میں دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۳۴ تا۱۳۷: ازدیوی تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ میر غلام اول مدرس ۱۳ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قاضی قضا کرتا ہے لیکن قضا بالکل ہی واقع کے خلاف ہے قاضی کو یقین دے دیا جاتا ہے کہ آپ کا فیصلہ بالکل خلاف واقع ہے اس میں حق شناسی نہیں ہوئی تو قاضی کہتا ہےکہ جاؤ جیجوکچھ ہوا ہوہو لیااب قضا پر قضا نہیں ہوتی نصاب سے زیادہ گواہ نہیں لئے جاسکتے حالانکہ قاضی صرف دو گواہ لیتا ہے اور ایك گواہ کی رائے پر فیصلہ کردیتا ہے چونکہ اس کی دلی منشا بھی اسی فیصلہ پر ہے اور واقعہ یوں ہے ایك آدمی اپنا گاؤں چھوڑ کر دوسرے گاؤں میں جارہتا ہے وہاں جس کے مکان میں رہتا ہے اس کے ساتھ اپنی نابالغہ لڑکی کا عقد شرعی رو برو گواہان کردیتا ہےشادی نہیں ہوتی یعنی روٹی وغیرہ نہیں کی جاتی اور ڈھول وغیرہ نہیں بجایا جاتا اس کا گھر بار کھالیتا ہے گاؤں کے سب لوگوں کو پتہ ہوجاتا ہے کہ نکاح ہوگیا کچھ عرصہ کے بعد ناچاقی ہوجاتی ہے لڑکی کا خاوند لاہور ملازم ہے اس کی عدم موجودگی میں اس کا گھر چھوڑ کر لڑکی کے والدین لڑکی کو لے کر اپنے اصلی گاؤں میں آجاتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ طلاق دلاکر لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا جائے لڑکی کا باپ کئی مسلمانوں کو کہتا ہے جو ابھی زندہ ہیں کہ طلاق لے دو وہ اس کے ساتھ لاہور جانے پر تیار ہوتے ہیں بلکہ اسے یقین دلاتے ہیں کہ طلاق لے دیں گے چونکہ جس اصلی گاؤں میں اب لڑکی کے والدین ہیں اس گاؤں کے لوگوں کی مرضی تھی کہ یہ اپنی لڑکی کا نکاح اپنے بھتیجے سے کردے ان کی شہ وغیرہ سے وہ بغیر طلاق لئے نکاح کردینے پر آمادہ ہوجاتا ہے اس گاؤں کے نکاح خوانوں کی مرضی نہیں یہ نکاح پر نکاح ہوپھر اس حالت میں کہ پہلا نکاح اس نکاح خواں کے لڑکے نے ہی پڑھا تھا جواب فوت ہوگیا ہے اس مجبوری کو دیکھ کر لڑکی کا باپ تیسرے گاؤں کے قاضی کے پاس جاتا ہے کہ شاید اس کے طفیل کام بن جائے خاوند لاہور ہے بغیر اس کے علم کے ایك تیسرا آدمی اس بات کو سن کر اس قاضی کے پاس جاتا ہے کہ یہ آگے نکاح ہوا ہوا ہے قاضی نے پوچھا کہ کوئی گواہ موجود ہیں جواب ملا
یہ حکم قضا ہے دیانۃ اگر زید جانتا ہو کہ اس میں زر نذر بھی تھا تو اس پر لازم ہے کہ واپس دے اور مقدار نہ معلوم ہو تو آسان طریقہ یہ ہے کہ جو مکان ان کو تبرعا دینا چاہتا ہے اس روپے کے عوض میں دے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۳۴ تا۱۳۷: ازدیوی تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ میر غلام اول مدرس ۱۳ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قاضی قضا کرتا ہے لیکن قضا بالکل ہی واقع کے خلاف ہے قاضی کو یقین دے دیا جاتا ہے کہ آپ کا فیصلہ بالکل خلاف واقع ہے اس میں حق شناسی نہیں ہوئی تو قاضی کہتا ہےکہ جاؤ جیجوکچھ ہوا ہوہو لیااب قضا پر قضا نہیں ہوتی نصاب سے زیادہ گواہ نہیں لئے جاسکتے حالانکہ قاضی صرف دو گواہ لیتا ہے اور ایك گواہ کی رائے پر فیصلہ کردیتا ہے چونکہ اس کی دلی منشا بھی اسی فیصلہ پر ہے اور واقعہ یوں ہے ایك آدمی اپنا گاؤں چھوڑ کر دوسرے گاؤں میں جارہتا ہے وہاں جس کے مکان میں رہتا ہے اس کے ساتھ اپنی نابالغہ لڑکی کا عقد شرعی رو برو گواہان کردیتا ہےشادی نہیں ہوتی یعنی روٹی وغیرہ نہیں کی جاتی اور ڈھول وغیرہ نہیں بجایا جاتا اس کا گھر بار کھالیتا ہے گاؤں کے سب لوگوں کو پتہ ہوجاتا ہے کہ نکاح ہوگیا کچھ عرصہ کے بعد ناچاقی ہوجاتی ہے لڑکی کا خاوند لاہور ملازم ہے اس کی عدم موجودگی میں اس کا گھر چھوڑ کر لڑکی کے والدین لڑکی کو لے کر اپنے اصلی گاؤں میں آجاتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ طلاق دلاکر لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا جائے لڑکی کا باپ کئی مسلمانوں کو کہتا ہے جو ابھی زندہ ہیں کہ طلاق لے دو وہ اس کے ساتھ لاہور جانے پر تیار ہوتے ہیں بلکہ اسے یقین دلاتے ہیں کہ طلاق لے دیں گے چونکہ جس اصلی گاؤں میں اب لڑکی کے والدین ہیں اس گاؤں کے لوگوں کی مرضی تھی کہ یہ اپنی لڑکی کا نکاح اپنے بھتیجے سے کردے ان کی شہ وغیرہ سے وہ بغیر طلاق لئے نکاح کردینے پر آمادہ ہوجاتا ہے اس گاؤں کے نکاح خوانوں کی مرضی نہیں یہ نکاح پر نکاح ہوپھر اس حالت میں کہ پہلا نکاح اس نکاح خواں کے لڑکے نے ہی پڑھا تھا جواب فوت ہوگیا ہے اس مجبوری کو دیکھ کر لڑکی کا باپ تیسرے گاؤں کے قاضی کے پاس جاتا ہے کہ شاید اس کے طفیل کام بن جائے خاوند لاہور ہے بغیر اس کے علم کے ایك تیسرا آدمی اس بات کو سن کر اس قاضی کے پاس جاتا ہے کہ یہ آگے نکاح ہوا ہوا ہے قاضی نے پوچھا کہ کوئی گواہ موجود ہیں جواب ملا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲€
کہ گو نکاح خواں اور چند گواہ مرگئے ہیں لیکن پھر بھی کئی گواہ موجود ہیں قاضی نے کہا کہ زیادہ گواہوں کی ضرورت نہیں صرف دو گواہ میرے پاس لے آؤاس بیچارے کو پتہ نہ لگا کہ قاضی صرف دو گواہ کیوں مانگتا ہےاس کی حکمت آگے ظاہر ہوجائے گی کہ منطق پڑھے ہوئے قاضی نے کیوں دو گواہ مانگےجب دو گواہ قاضی کے پاس آئے تو ان میں سے ایك نے پورے طور پر بیان کیا کہ نکاح ہوا اور ایجاب و قبول ہوا ہے قاضی نے کوئی سوال نہ کیا دوسرے گواہ نے جب ٹھیك طور پر گواہی دینی شروع کی تو قاضی نے جھٹ سوال کیا کہ شادی ہوئی تھی یا ناتااس نے کہا ناتاقاضی جی کی چاندی ہوگئیوہ چاہتا بھی یہی تھایہ سن کر بغیر مزید سوالات فیصلہ دے دیا کہ نکاح ثابت نہیں ہوا شہادت نہیں ہے حالانکہ ناتا کہنے والے نے اسی وقت کہا کہ میری مراد یہ تھی کہ شادی نہیں ہوئی بلکہ ناطہ میں ضرورایجاب و قبول ہوا ہے اس واسطے شادی کی مقابلہ میں میں نے ناتا کہامگر قاضی نے باور نہ کیا اور پھر کہا گیا او ربھی کتنے آدمی ہیں جو اس نکاح کے وقت موجود تھےقاضی نے کہا نصاب ہوچکا ہے اس سے زیادہ گواہ نہیں لینا چاہتا قاضی کے لئے راہ بن گیا فورا اس گاؤں میں جاکر لڑکی کا نکاح دوسرے آدمی سے کردیا حلوے مانڈے کھا چلتا بنا۔اس قضا سے مسلمانوں میں عجیب حیرت ہے خاص کراس گاؤں اور گردو نواح کے لوگوں کو جن کو اس نکاح کی خبر تھی ان گواہوں کو جو نکاح میں موجود تھے ان معتبر مسلمانوں کو جن کو لڑکی کابا پ کہتا تھا کہ طلاق دلوادو کہ قاضی جی نے خوب قضا کی خاوند کو خبرہی نہیں دو سو میل پر بیٹھا ہے قاضی بغیر طلاق کے اس عورت کا نکاح دوسرے آدمی سے پڑھ دیتا ہےعجب عجب عجبپتہ کے گاؤں کے لفظ ناطہ ایك ایسا مل گیا ہے جو سب باتوں کو رد کردیتا ہے اس بات پر غور کرنے نہیں دیتا کہ اگرمعاملہ صاف ہوتا تو طرفین کے آدمی میرے پاس کیوں آتے کیا میرے بغیر اس گاؤں میں نکاح کوئی نہیں پڑھ سکتاجب گواہ پیش کرنے کو کہا جاتا ہے تو قاضی کہتا ہے کہ نصاب پورا ہوگیاجب شریعت کی طرف رجوع کرنے کو کہا جاتا ہے تو یہ کہہ کر چپ کردیا جاتا ہے کہ قضا پر قضا نہیں ہوتی لیکن یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ دو گواہوں میں سے ناطہ کہنے والے کو کیوں سچا سمجھا جاتا ہے اور دوسرے کو جھوٹا اور کیوں قاضی نے بغیر مزید تحقیقات نکاح پر نکاح پڑھ دیا۔قاضی کے اس مسئلہ نے تمام عورت والوں کو ڈرا دیا ہے جس کا جی چاہے خاوند کی عدم موجود گی میں دو گواہ پیش کردے جن میں سے ایك کہہ دے کہ اس عورت کا نکاح نہیں ہو ا پس عورت کے ساتھ قاضی جی سے نکاح پڑھوالے اور عورت والا بیچارہ منہ دیکھتا کا دیکھتا رہ جائے۔جناب من! اب خوب تحقیق کرکے جواب سے سرفراز فرمادیں کیونکہ قاضی جی کی اس قضاء سے اس علاقے کے مسلمانوں میں عجیب ہلچل اور کھلبلی پڑی ہوئی ہے اور حیران ہیں کہ جیتے خاوند
کی عورت بلا طلاق کیونکر دوسرے مرد پر حلال ہوگئیاگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو مہر بانی فرماکر فتوی دیں:
(۱) عام مسلمانوں کے واسطے کیا حکمآیا وہ اس قضا کو مان لیں جوان کے خیال میں بالکل ناجائز ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ نکاح پہلے ہوا ہے بعض نکاح کے موقع پر موجود تھے بعض وہ ہیں جن کو لڑکی کا باپ طلاق کے واسطے کہتا تھا۔
(۲) قاضی کے واسطے کیا حکم ہے جس نے دانستہ دو گواہ لئے گوان گواہوں کے مطلب میں کوئی فرق نہ تھا مگر خود قاضی نے ناتا کا لفظ نکلوا کر پہلے گواہ کو جھوٹا جانا اور دوسرے گواہ کی شہادت پرجاکر اس عورت کا نکاح دوسرے آدمی سے پڑھ دیا جس گاؤں میں اس کا نکاح پہلے ہوا تھا وہاں کے کسی بھلے مانس نے پوچھا تك نہیں۔
(۳) لڑکی کے والدین کے لئے کیا حکم ہے جنہوں نے نکاح پر نکاح بنوایا ان سے بعد میں پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا حالانکہ تم پہلے طلاق لینے پر تیار تھے تو کہتے ہیں کہ قاضی جی نے بغیر طلاق حلال کردیا۔
(۴) لڑکی کے خاوند کے لئے کیا حکم ہے جس کو اب تك لاہور سے رخصت ہی نہیں ملی ادھر قاضی جی اس کی عورت دوسرے کو دلواچکے ہیں کیا وہ قاضی جی کی قضا کو مان کر اپنی عورت سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
الجواب:
ایسا شخص قاضی نہیں ابلیس ہے اور اس کا ناتے اور شادی میں فرق کرنا شیطانی تلبیس ہے ناتا ہی اصل نکاح ہے تو عورت کا منکوحہ غیر ہونا انہیں دونوں گواہوں سے ثابت ہولیا تھا قاضی نے ہٹ دھرمی سے اسے نہ مانا اور گواہوں کے سننے سے انکار اس کی خباثت قلبی تھی نصاب کے بعد اور گواہوں کی حاجت نہ ہونا اس صورت میں ہے جب کہ نصاب سے ثبوت ہوجائے اس کے نزدیك ابھی ثبوت نہ ہوا تو اور گواہ سننا فرض تھا مگر اس نے قصدا نہ چاہا اسے تو حرام قطعی کو حلال کرنا اور خود زنا کا دلال بننا تھا وہ اور گواہ کیسے سنتا اور یہ جواب کہ قضا پر قضاء نہیں ہوتی اس کی تیسری شیطنت ہے اول تو یہ نکاح خواں شرعا قاضی نہیں ہوتے ان کو قاضی کہنا ایسا ہے جیسے لونڈوں کے میاں جی بے علم کو مولوی صاحب کہنا اور ہوبھی تو اس نے کون سی قضا کی تھی جو بدل نہ سکے اتنا ہی تو تھا کہ اس کے نزدیك نکاح ثابت نہ ہوا عدم ثبوت کوئی قضا نہیں۔
(۱) عام مسلمانوں کے واسطے کیا حکمآیا وہ اس قضا کو مان لیں جوان کے خیال میں بالکل ناجائز ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ نکاح پہلے ہوا ہے بعض نکاح کے موقع پر موجود تھے بعض وہ ہیں جن کو لڑکی کا باپ طلاق کے واسطے کہتا تھا۔
(۲) قاضی کے واسطے کیا حکم ہے جس نے دانستہ دو گواہ لئے گوان گواہوں کے مطلب میں کوئی فرق نہ تھا مگر خود قاضی نے ناتا کا لفظ نکلوا کر پہلے گواہ کو جھوٹا جانا اور دوسرے گواہ کی شہادت پرجاکر اس عورت کا نکاح دوسرے آدمی سے پڑھ دیا جس گاؤں میں اس کا نکاح پہلے ہوا تھا وہاں کے کسی بھلے مانس نے پوچھا تك نہیں۔
(۳) لڑکی کے والدین کے لئے کیا حکم ہے جنہوں نے نکاح پر نکاح بنوایا ان سے بعد میں پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا حالانکہ تم پہلے طلاق لینے پر تیار تھے تو کہتے ہیں کہ قاضی جی نے بغیر طلاق حلال کردیا۔
(۴) لڑکی کے خاوند کے لئے کیا حکم ہے جس کو اب تك لاہور سے رخصت ہی نہیں ملی ادھر قاضی جی اس کی عورت دوسرے کو دلواچکے ہیں کیا وہ قاضی جی کی قضا کو مان کر اپنی عورت سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
الجواب:
ایسا شخص قاضی نہیں ابلیس ہے اور اس کا ناتے اور شادی میں فرق کرنا شیطانی تلبیس ہے ناتا ہی اصل نکاح ہے تو عورت کا منکوحہ غیر ہونا انہیں دونوں گواہوں سے ثابت ہولیا تھا قاضی نے ہٹ دھرمی سے اسے نہ مانا اور گواہوں کے سننے سے انکار اس کی خباثت قلبی تھی نصاب کے بعد اور گواہوں کی حاجت نہ ہونا اس صورت میں ہے جب کہ نصاب سے ثبوت ہوجائے اس کے نزدیك ابھی ثبوت نہ ہوا تو اور گواہ سننا فرض تھا مگر اس نے قصدا نہ چاہا اسے تو حرام قطعی کو حلال کرنا اور خود زنا کا دلال بننا تھا وہ اور گواہ کیسے سنتا اور یہ جواب کہ قضا پر قضاء نہیں ہوتی اس کی تیسری شیطنت ہے اول تو یہ نکاح خواں شرعا قاضی نہیں ہوتے ان کو قاضی کہنا ایسا ہے جیسے لونڈوں کے میاں جی بے علم کو مولوی صاحب کہنا اور ہوبھی تو اس نے کون سی قضا کی تھی جو بدل نہ سکے اتنا ہی تو تھا کہ اس کے نزدیك نکاح ثابت نہ ہوا عدم ثبوت کوئی قضا نہیں۔
(۱) اس ناپاك حکم کا ماننا مسلمانوں پر حرام ہے۔
(۲) قاضی سزائے شدید کا مستحق ہے مگر یہاں کون سزادےحاکم اسلام سزادیتا ہے بلکہ وہ اس ناپاکی پر قتل تك کرسکتا ہے کہ ایسا شخص " ویسعون فی الارض فسادا " (زمین پر فساد پھیلانے کی کوشش کرتاہے۔ت) میں داخل ہے۔
(۳)لڑکی کا باپ دیوث ہے جس نے اپنی بیٹی زنا کے لئے دی بلکہ والدین کا یہ کہنا کہ قاضی نے بغیر طلاق حلال کر دیا کلمہ کفر ہے کہ انہوں نے قاضی کے کہنے سے زنا کو حلال جانا واستحلال المعصیۃ کفر(گناہ کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ت) ان کا آپس میں نکاح نہ رہا دونوں نئے سرے سے مسلمان ہوکر پھرآپس میں نکاح کریں۔
(۴) لڑکی اپنے خاوند کی منکوحہ ہے وہی اسے لے اور یوں نہ ملے تو لڑکی کے باپ اور قاضی پر ازدواج مکرر کا دعوی کرکے لے سکتا ہے۔معاذاﷲ کیا کیا فساد کا زمانہ آگیا ہےلاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸: ازرامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ تاج محمود صاحب ۵/محرم ۱۳۳۹ھ
اگر ایك نکاح خواں بغیر دعوی مدعی کے کہہ دے کہ مدعی علیہ نے دختر معلومہ نابالغہ کا نکاح مدعی کے فلانے بیٹے کو کردیا ہےمدعی نے بیٹے معلوم کے لئے قبول کیا ہے حالانکہ یہ نکاح خواں بہت جاہل اور دائمی دشمن مدعی کا ہےآیا یہ شہادت قابل اعتبار ہوگی یانہیں
الجواب:
جب دعوی نہیں تو مدعی کیسااور اگر یہ مطلب ہوکہ مدعی نے اسے گواہ نہ لکھایا تو یہ شرط شہادت نہیں اس نے اگر شہادت میں اپنا نکاح پڑھانا ذکر کیا تو مقبول نہیں لانہ شہادۃ علی فعل نفسہ(کیونکہ یہ اپنے خلاف شہادت ہے۔ت) ورنہ اگر گواہ ثقہ ہے قابل قبول ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۳۹: ازضلع دربھنگہ مقام مدھوبنی محلہ جولاہہ ٹولہ متصل جامع مسجد مرسلہ خاں محمد صاحب ۱۱/محرام الحرام۱۳۳۹ھ
نوری مومن اور اس کے ساتھی نے مسجد میں بیان کیا کہ ہم خاں محمد کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے کیونکہ اس کی ماں کو اس کے پہلے شوہر نے طلاق نہیں دی تھی کہ اس کے والدنے اس سے نکاح کرلیا چونکہ یہ نکاح صحیح نہ ہوا اس لئے اس کے ماں باپ دونوں زانی اور یہ لوگ ولد الزنا ہوئے اور ولد الزنا کے پیچھے نماز درست نہیں ہےکئی دفعہ کہنے پر خان محمد نے اس پر پنچایت بٹھائی جس میں چند معزز اشخاص کے
(۲) قاضی سزائے شدید کا مستحق ہے مگر یہاں کون سزادےحاکم اسلام سزادیتا ہے بلکہ وہ اس ناپاکی پر قتل تك کرسکتا ہے کہ ایسا شخص " ویسعون فی الارض فسادا " (زمین پر فساد پھیلانے کی کوشش کرتاہے۔ت) میں داخل ہے۔
(۳)لڑکی کا باپ دیوث ہے جس نے اپنی بیٹی زنا کے لئے دی بلکہ والدین کا یہ کہنا کہ قاضی نے بغیر طلاق حلال کر دیا کلمہ کفر ہے کہ انہوں نے قاضی کے کہنے سے زنا کو حلال جانا واستحلال المعصیۃ کفر(گناہ کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ت) ان کا آپس میں نکاح نہ رہا دونوں نئے سرے سے مسلمان ہوکر پھرآپس میں نکاح کریں۔
(۴) لڑکی اپنے خاوند کی منکوحہ ہے وہی اسے لے اور یوں نہ ملے تو لڑکی کے باپ اور قاضی پر ازدواج مکرر کا دعوی کرکے لے سکتا ہے۔معاذاﷲ کیا کیا فساد کا زمانہ آگیا ہےلاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸: ازرامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ تاج محمود صاحب ۵/محرم ۱۳۳۹ھ
اگر ایك نکاح خواں بغیر دعوی مدعی کے کہہ دے کہ مدعی علیہ نے دختر معلومہ نابالغہ کا نکاح مدعی کے فلانے بیٹے کو کردیا ہےمدعی نے بیٹے معلوم کے لئے قبول کیا ہے حالانکہ یہ نکاح خواں بہت جاہل اور دائمی دشمن مدعی کا ہےآیا یہ شہادت قابل اعتبار ہوگی یانہیں
الجواب:
جب دعوی نہیں تو مدعی کیسااور اگر یہ مطلب ہوکہ مدعی نے اسے گواہ نہ لکھایا تو یہ شرط شہادت نہیں اس نے اگر شہادت میں اپنا نکاح پڑھانا ذکر کیا تو مقبول نہیں لانہ شہادۃ علی فعل نفسہ(کیونکہ یہ اپنے خلاف شہادت ہے۔ت) ورنہ اگر گواہ ثقہ ہے قابل قبول ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۳۹: ازضلع دربھنگہ مقام مدھوبنی محلہ جولاہہ ٹولہ متصل جامع مسجد مرسلہ خاں محمد صاحب ۱۱/محرام الحرام۱۳۳۹ھ
نوری مومن اور اس کے ساتھی نے مسجد میں بیان کیا کہ ہم خاں محمد کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے کیونکہ اس کی ماں کو اس کے پہلے شوہر نے طلاق نہیں دی تھی کہ اس کے والدنے اس سے نکاح کرلیا چونکہ یہ نکاح صحیح نہ ہوا اس لئے اس کے ماں باپ دونوں زانی اور یہ لوگ ولد الزنا ہوئے اور ولد الزنا کے پیچھے نماز درست نہیں ہےکئی دفعہ کہنے پر خان محمد نے اس پر پنچایت بٹھائی جس میں چند معزز اشخاص کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۳۳€
سامنے نوری سے ثبوت طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ خاں محمد کے والد کو چالیس برس ہوئے اب تك تم لوگ کیوں نہ بولےاتنے دن تك خان محمد کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے رہےخان محمد اور اس کے بھائی کی شادی خاندان میں کیوں کینوری نے کوئی گواہی پیش نہیں کی بلکہ اقرار کیا کہ ہم نے رنج اور غصہ کی وجہ سے ایسا کہا ہےہم سے قصور ہوااب ہم خان محمد اور اس کے بھائی کو ولد الزنا نہیں کہیں گے اور برابر ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔اب عرض یہ ہے کہ نوری اور اس کے ساتھی کا اگر پنچایت والا بیان صحیح ہے تو وہ لوگ حد قذف کے قابل ہیں یا نہیںاگر ہیں تو خود ان لوگوں کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہےان لوگوں کی گواہی ہمیشہ مردود ہوگی یا نہیںاگر پہلا بیان سچ ہے تو چالیس برس نہ بولنےخان محمد کے پیچھے نماز پڑھنے اور اسکی شادی بیاہ اپنے خاندان میں کرنے سے نوری اور اس کے ساتھی کس سزا کے مستحق ہیں او کس حکم کے قابل ہیں
الجواب:
ان لوگوں کا پہلا بیان جھوٹااور سر اسر جھوٹ ہے
قال اﷲ تعالی" فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:جب وہ گواہ پیش نہ کریں تو وہ اﷲ تعالی کے ہاں جھوٹے ہیں۔(ت)
اور وہ اس بیان کے سبب ضرور حد قذف کے مستحق ہیں۔
قال اﷲتعالی " فاجلدوہم ثمنین جلدۃ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کو اسی کوڑے مارو۔(ت)
گواہی کا وہ مردود ہونا کہ " و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا " (اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو۔ت)اس حالت میں ہے کہ حد قذف لگ جائے یہاں نہیں ہوسکتا البتہ وہ مردود ہونا حاصل ہے جو جھوٹے کذاب کی گواہی کے لئے ہے جبکہ وہ بار بار یہ جھوٹ بك چکے ہوں۔عاجز آکر خان محمد نے پنچایت کی ہو یا اس کے سوا اور جھوٹوں کے ساتھ معروف و مشہور ہوں کہ جھوٹ ان کی عادت ہو تو کبھی ان کی گواہی مقبول نہ ہوگی اگرچہ تو بہ کرلیں۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الجواب:
ان لوگوں کا پہلا بیان جھوٹااور سر اسر جھوٹ ہے
قال اﷲ تعالی" فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:جب وہ گواہ پیش نہ کریں تو وہ اﷲ تعالی کے ہاں جھوٹے ہیں۔(ت)
اور وہ اس بیان کے سبب ضرور حد قذف کے مستحق ہیں۔
قال اﷲتعالی " فاجلدوہم ثمنین جلدۃ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان کو اسی کوڑے مارو۔(ت)
گواہی کا وہ مردود ہونا کہ " و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا " (اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو۔ت)اس حالت میں ہے کہ حد قذف لگ جائے یہاں نہیں ہوسکتا البتہ وہ مردود ہونا حاصل ہے جو جھوٹے کذاب کی گواہی کے لئے ہے جبکہ وہ بار بار یہ جھوٹ بك چکے ہوں۔عاجز آکر خان محمد نے پنچایت کی ہو یا اس کے سوا اور جھوٹوں کے ساتھ معروف و مشہور ہوں کہ جھوٹ ان کی عادت ہو تو کبھی ان کی گواہی مقبول نہ ہوگی اگرچہ تو بہ کرلیں۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۳€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
المعروف بالکذب لاعدالۃ لہ فلا تقبل شہادتہ ابداوان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سہوا اوابتلی مرۃ ثم تاب کذافی البدائع۔ جھوٹ میں مشہور شخص عادل نہیں ہے تو اس کی شہادت کبھی مقبول نہ ہوگی اگرچہ وہ توبہ بھی کرلے بخلاف اس شخص کے جو بھول کر جھوٹ میں مبتلا ہوا یا کبھی ایك مرتبہ جھوٹ بولا ہو پھر توبہ کرلےتو اس کی شہادت قبول ہوگیایسے ہی بدائع میں ہے۔(ت)
ایسے لوگ فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی جائے اس کا پھیرنا واجب ہے ہاں اگر توبہ کرلیں اور ان کا حال صلاح کے ساتھ بدل جائے تو اس وقت ان کے پیچھے نماز میں حرج نہ ہوگا جبکہ باقی شرائط جواز وحلت امامت کے جامع ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۰: ازپبی ضلع پشاور مدرسہ قادریہ محمودیہ واقع مسجد چہل گزی مولوی حمد اﷲ صاحب قادری محمودی ۲/ربیع الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ماموں عمرو پر اپنے نانا کے متروکہ سے جو عمرو کے قبضے میں ہے اپنی ماں متوفاۃ کے حق میراث کا دعوی کیا عمرو جواب دہ ہوا کہ یہ مال ۳۶ برس سے میرے قبضے میں ہے دعوی میں تمادی عارض ہے نیز تیری ماں نے اپنا حصہ میراث اپنی حیات میں مجھے ہبہ کردیا تھا جس کے گواہوں میں اب کوئی زندہ نہیںزید کہتا ہے یہ مال تجارت کا ہے اب تك میرے نانا کانام مندرج کاغذات رہا میں نے اور ما ں نے تمہیں امین جانا اور بنظر تجارت ترقی کا خیال رہاامید تھی کہ جب داخلخارج ہوگا حصہ مادری میں میرا نام درج کراؤگے ڈیڑھ سال سے تم نے داخلخارج کرایا اور صرف اپنا نام مندرج کرایا لہذا میں مدعی ہوا گواہان مردہ سے ثبوت ہبہ کیسے ہوسکتا ہےنہ مال مشترك کا ہبہ صحیح نہ میراث میں تمادی مانع۔نیز تمہارے دعوی میں تناقض ہے کہ ہبہ کا بھی ادعا کرتے ہو اور تمادی عذر بھی۔اس صورت میں زید حق پر ہے یا عمرو عبارات عربی کا اردو ترجمہ فرمادیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کا دعوی صحیح و مقبول ہے اور عمرو کے عذر باطل و مخذول۔ہبہ صرف اس کی زبان سے کیسے ثابت ہوسکتا ہےاموات کو گواہ قرار دینا عجب جہل بے مزہ ہےایسی شہادت بس ہو تو جو چاہے۔
ایسے لوگ فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی جائے اس کا پھیرنا واجب ہے ہاں اگر توبہ کرلیں اور ان کا حال صلاح کے ساتھ بدل جائے تو اس وقت ان کے پیچھے نماز میں حرج نہ ہوگا جبکہ باقی شرائط جواز وحلت امامت کے جامع ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۰: ازپبی ضلع پشاور مدرسہ قادریہ محمودیہ واقع مسجد چہل گزی مولوی حمد اﷲ صاحب قادری محمودی ۲/ربیع الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ماموں عمرو پر اپنے نانا کے متروکہ سے جو عمرو کے قبضے میں ہے اپنی ماں متوفاۃ کے حق میراث کا دعوی کیا عمرو جواب دہ ہوا کہ یہ مال ۳۶ برس سے میرے قبضے میں ہے دعوی میں تمادی عارض ہے نیز تیری ماں نے اپنا حصہ میراث اپنی حیات میں مجھے ہبہ کردیا تھا جس کے گواہوں میں اب کوئی زندہ نہیںزید کہتا ہے یہ مال تجارت کا ہے اب تك میرے نانا کانام مندرج کاغذات رہا میں نے اور ما ں نے تمہیں امین جانا اور بنظر تجارت ترقی کا خیال رہاامید تھی کہ جب داخلخارج ہوگا حصہ مادری میں میرا نام درج کراؤگے ڈیڑھ سال سے تم نے داخلخارج کرایا اور صرف اپنا نام مندرج کرایا لہذا میں مدعی ہوا گواہان مردہ سے ثبوت ہبہ کیسے ہوسکتا ہےنہ مال مشترك کا ہبہ صحیح نہ میراث میں تمادی مانع۔نیز تمہارے دعوی میں تناقض ہے کہ ہبہ کا بھی ادعا کرتے ہو اور تمادی عذر بھی۔اس صورت میں زید حق پر ہے یا عمرو عبارات عربی کا اردو ترجمہ فرمادیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کا دعوی صحیح و مقبول ہے اور عمرو کے عذر باطل و مخذول۔ہبہ صرف اس کی زبان سے کیسے ثابت ہوسکتا ہےاموات کو گواہ قرار دینا عجب جہل بے مزہ ہےایسی شہادت بس ہو تو جو چاہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۸€
جس کا مال چاہے چھپن لے کہ تونے یا تیرے باپ نے مجھے ہبہ کردیا یا میرے ہاتھ بیچا اور ثمن پالیا تھابیس پچیس معززین اس کے گواہ تھے جو سب مرچکےاور بفرض باطل اگر ہبہ ہوتا بھی تو مال مشترك صالح قسمت قبل تقسیم ہبہ کرنا اگرچہ شریك کے لئے ہو محض ناتمام ہے جسے موت واہبہ قبل تسلیم نے باطل کردیا۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
(لا) تتم بالقبض(فیما یقسم و)(لو) وہبہ(لشریکہ) لعدم تصور القبض الکامل کمافی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب ۔ قابل تقسیم چیزکا ہبہ قبضہ کے بعد بھی ناتمام رہتا ہے اگرچہ اپنے شریك کو ہبہ کیا ہو کہ اس میں بلاتقسیم قبضہ کامل متصور ہی نہیں جیسا کہ عام کتب میں تصریح ہے تو یہی مذہب حنفی ہے۔
اسی میں ہے:
(والمیم موت احد العاقدین) بعد التقسیم فلو قبلہ بطل۔ موہوب لہ کو قبضہ کا ملہ دینے کے بعد واہب یا موہوب لہ کا مرجانا ہبہ میں رجوع کامانع ہے اور اگر قبضہ کا ملہ سے پہلے ان میں سے کوئی مرجائے گا تو ہبہ سرے سے باطل ہوجائے گا۔
بلکہ اس کے دعوی ہبہ نے اسی کو ضرر دیا اس سے صاف ظاہر ہوا کہ مال کو وہ متروکہ پدر مانتا اور اپنی بہن کا اس میں حق ارث جانتا ہے جب تو اپنے لئے ہبہ از جانب خواہر کا مدعی ہے اور اس صورت میں چھتیس نہیں سو برس گزرجائیں دعوی ساقط نہیں ہوسکتا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فیما اذاادعی زید علی عمرو ومحدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنہ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعویھل یکون ذلك من باب الاقرار سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر ایك زمین کا دعوی کیا کہ میری ملك ہے باپ کے ترکہ سے میں اس کا وارث ہوں عمرو نے جواب دیا کہ میں نے تیرے باپ سے خرید لی تھی اور چالیس برس سے زائد ہوئے کہ میں اس پر قابض ہوں اور تو ایك شہر میں میرے ساتھ ساکن اور بلاعذر ساکت ہے آیا اس صورت میں کیا عمرو مورث زید سے بذریعہ
(لا) تتم بالقبض(فیما یقسم و)(لو) وہبہ(لشریکہ) لعدم تصور القبض الکامل کمافی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب ۔ قابل تقسیم چیزکا ہبہ قبضہ کے بعد بھی ناتمام رہتا ہے اگرچہ اپنے شریك کو ہبہ کیا ہو کہ اس میں بلاتقسیم قبضہ کامل متصور ہی نہیں جیسا کہ عام کتب میں تصریح ہے تو یہی مذہب حنفی ہے۔
اسی میں ہے:
(والمیم موت احد العاقدین) بعد التقسیم فلو قبلہ بطل۔ موہوب لہ کو قبضہ کا ملہ دینے کے بعد واہب یا موہوب لہ کا مرجانا ہبہ میں رجوع کامانع ہے اور اگر قبضہ کا ملہ سے پہلے ان میں سے کوئی مرجائے گا تو ہبہ سرے سے باطل ہوجائے گا۔
بلکہ اس کے دعوی ہبہ نے اسی کو ضرر دیا اس سے صاف ظاہر ہوا کہ مال کو وہ متروکہ پدر مانتا اور اپنی بہن کا اس میں حق ارث جانتا ہے جب تو اپنے لئے ہبہ از جانب خواہر کا مدعی ہے اور اس صورت میں چھتیس نہیں سو برس گزرجائیں دعوی ساقط نہیں ہوسکتا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فیما اذاادعی زید علی عمرو ومحدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنہ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعویھل یکون ذلك من باب الاقرار سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر ایك زمین کا دعوی کیا کہ میری ملك ہے باپ کے ترکہ سے میں اس کا وارث ہوں عمرو نے جواب دیا کہ میں نے تیرے باپ سے خرید لی تھی اور چالیس برس سے زائد ہوئے کہ میں اس پر قابض ہوں اور تو ایك شہر میں میرے ساتھ ساکن اور بلاعذر ساکت ہے آیا اس صورت میں کیا عمرو مورث زید سے بذریعہ
حوالہ / References
درمختا ر کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختا ر کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختا ر کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
بالتلقی من مورثیہ فیحتاج الی بینۃ تشھد لہ بالشراء ولا ینفعہ کونہ واضعا یدہ علیہ المدۃ المذکورۃ اجاب نعم دعوی ذلك التلقی عن ابی المودع ودعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع یحتاج الی بینۃ ینور بھا دعواہ ولا ینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور لیس من باب ترك الدعوی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذباقرارہ ولو کان فی یدہ احقاما کثیرۃ لاتعد وھذامالایتوقف فیہ ۔ شر املك حاصل کرنے کا مدعی ہوگا اور اسے اس انتقال پر گواہ دینے ہوں گے اور چالیس برس سے زائد اس کا قبضہ اور زید کا سلوك عمرو کو کچھ نفع نہ دے گاجواب:فرمایاہاں یہ عمرو کا دعوی ہے کہ مجھے دعوی ہے کہ مجھے تیرے مورث سے ملی ہے اور ارث زید سے ملنے کا اقرار تو اس کی ملك کی اوپر سے اقرار ہے اور اس کا دعوی کہ بذریعہ انتقال شرعی مجھے ملی تو اب عمرو اس پر گواہ دینے کا محتاج ہے کہ یہ مدعی ہوگیا اور ہر مدعی کو شہادت پیش کرنی لازم ہے جس سے اس کا دعوی ثابت ہواور وہ چالیس برس سے زائد کا قبضہ اسے اقرار مذکور کے ساتھ کچھ بھی نافع نہیںنہ یہ تمادی کے باب سے ہے بلکہ باب اقرار سے کہ ہر مقر اپنے اقرار پر ماخوذ ہے اگرچہ وہ شیئ بے شمار قرنوں جگہوں سے اس کے قبضہ میں ہویہ ایسی واضح بات ہے جس میں شبہہ کو دخل نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: ازریاست رامپور موٹے کلن کی کنیان مرسلہ مولوی محمد عنایت اﷲ خان صاحب ۲۰/صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ ہندہ نے دعوی تفریق از زوجیت بجہت وقوع سہ طلاق مغلظہ بنام عباس عــــــہ علی خان نے مجھ کو بتاریخ فلاں بہ دادن سہ طلاق مغلظہ حبالہ نکاح اپنے سے آزاد کیا عباس علی خاں کو دینے طلاق سے ہندہ کے انکار ہے اور
عــــــہ:عباس علی خان بعد الت دیوانی محکمہ ابتدائی میں رجوع کیا اور دعوی اپنے میں بصراحت لکھا۔
مسئلہ ۱۴۱: ازریاست رامپور موٹے کلن کی کنیان مرسلہ مولوی محمد عنایت اﷲ خان صاحب ۲۰/صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ ہندہ نے دعوی تفریق از زوجیت بجہت وقوع سہ طلاق مغلظہ بنام عباس عــــــہ علی خان نے مجھ کو بتاریخ فلاں بہ دادن سہ طلاق مغلظہ حبالہ نکاح اپنے سے آزاد کیا عباس علی خاں کو دینے طلاق سے ہندہ کے انکار ہے اور
عــــــہ:عباس علی خان بعد الت دیوانی محکمہ ابتدائی میں رجوع کیا اور دعوی اپنے میں بصراحت لکھا۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۸۰و۸۱€
کہتا ہے کہ میں بتاریخ مذکورہ شہر میں موجود نہ تھاہندہ نے چار مرد مسمیان تفضل حسین خان و غلام ناصرخان وغلام محی الدین خان وکلن خان اور دو عوتیں مسماتان ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم بہ ثبوت وقوع طلاق پیش کئےان میں سے پانچ نے ہنگام ادائے شہادت بمواجہ خود عباس علی خان کا طلاق دینا عند العدالت بیان کیا اور ایك نے یعنی کلن خان نے ادائے شہادت اقراری کی اور نیز جانب ہندہ سے ہنگام تحقیقات محلہ کے تین شخصوں نے اوپر موجودگی عباس علی خان کے شہر ہذا میں بتاریخ مذکورہ ادائے شہادت کیعدالت نے دعوی ہندہ کو بے اصل اور شہادت شہود کو غیر مقبول قرار دے کر دعوی ہندہ کو نامسموع فرمایا اور وجوہ بے اصلیت دعوے اور نامقبولی شہادت شہود پیش کردہ ہندہ اپنے فیصلہ میں تحریر فرمائیں
پہلی وجہ: نامقبولی شہادت و شہود کی ان الفاظ پر قائم کی کہ جملہ گواہوں نے بالاتفاق اپنے اظہاروں میں بیان کیا کہ اشہد باﷲ گواہی دیتے ہیں کہ عرصہ چھبیس ستائیس دن کا ہوا کہ خالی کا مہینہ تھا ساتویں تاریخ بدھ کا رو ز تھا آٹھ بجے دن کے تھے کہ عباس علی خان نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دیں یہ کہ جملہ گواہان رجال و اناث مدعیہ مسموعہ عدالت نے دینا طلاق بمرور چھبیس ستائیس روز لکھایا ہے اور اس قسم کا بیان بیان زمان خواہ بدعوی ہو خواہ بشہادت بوجہ جہالت تاریخ شرعا بموجب روایت ہذا کے نامقبول ہے
ادعی بالفارسیۃ دوازدہ درہم وشہد الشہود ان لہذا المدعی علی ہذا المدعی علیہ دوازدہ درہم لاتقبل لمکان الجہالۃوکذلك اذاادعی دہ دوازدہ درہم لاتسمع دعواہ وکذلك اذا ذکرت التاریخ فی الدعوی علی ھذا الوجہ بان قال ایں عین ملك من است از دہ دوازدہ سال فانہ لا تسمع دعواہ و کذلك اذا ذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم کذافی الذخیرۃ عالمگیریۃ ۔ فارسی میں دس گیارہ درہم کا دعوی کیا اور گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے اس مدعی علیہ پر دس بارہ درہم ہیں تو شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ مجہول ہے اور یوں ہی دس بارہ کا دعوی بھی مسموع نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوی میں تاریخ مجہول ذکر کی یوں کہ یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملکیت میں ہے تو بھی دعوی مسموع نہ ہوگا اور ایسے ہی اگر گواہوں نے اپنی شہادت میں ایسی تاریخ بیان کی تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگیذخیرہ میں یونہی ہے۔عا لمگیریہ(ت)
وجہ دوم: عدم مقبولی شہادت تفضل حسین خاں و غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں پر
پہلی وجہ: نامقبولی شہادت و شہود کی ان الفاظ پر قائم کی کہ جملہ گواہوں نے بالاتفاق اپنے اظہاروں میں بیان کیا کہ اشہد باﷲ گواہی دیتے ہیں کہ عرصہ چھبیس ستائیس دن کا ہوا کہ خالی کا مہینہ تھا ساتویں تاریخ بدھ کا رو ز تھا آٹھ بجے دن کے تھے کہ عباس علی خان نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دیں یہ کہ جملہ گواہان رجال و اناث مدعیہ مسموعہ عدالت نے دینا طلاق بمرور چھبیس ستائیس روز لکھایا ہے اور اس قسم کا بیان بیان زمان خواہ بدعوی ہو خواہ بشہادت بوجہ جہالت تاریخ شرعا بموجب روایت ہذا کے نامقبول ہے
ادعی بالفارسیۃ دوازدہ درہم وشہد الشہود ان لہذا المدعی علی ہذا المدعی علیہ دوازدہ درہم لاتقبل لمکان الجہالۃوکذلك اذاادعی دہ دوازدہ درہم لاتسمع دعواہ وکذلك اذا ذکرت التاریخ فی الدعوی علی ھذا الوجہ بان قال ایں عین ملك من است از دہ دوازدہ سال فانہ لا تسمع دعواہ و کذلك اذا ذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم کذافی الذخیرۃ عالمگیریۃ ۔ فارسی میں دس گیارہ درہم کا دعوی کیا اور گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے اس مدعی علیہ پر دس بارہ درہم ہیں تو شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ مجہول ہے اور یوں ہی دس بارہ کا دعوی بھی مسموع نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوی میں تاریخ مجہول ذکر کی یوں کہ یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملکیت میں ہے تو بھی دعوی مسموع نہ ہوگا اور ایسے ہی اگر گواہوں نے اپنی شہادت میں ایسی تاریخ بیان کی تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگیذخیرہ میں یونہی ہے۔عا لمگیریہ(ت)
وجہ دوم: عدم مقبولی شہادت تفضل حسین خاں و غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں پر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۲€
قائم کی ان الفاظ پر جوان کے اظہاروں سے نقل کئے جاتے ہیں تفضل حسین خاں اپنے اظہاروں میں بیان کرتا ہے اس طلاق دینے کے بعد سے اب تك میری اور عباس علی خاں کی بات چیت نہیں ہے اور نہ سلام علیك بگاڑ ہے نہ میں بات چیت اور سلام علیك مدعا علیہ سے کرتا ہوں اور مدعا علیہ مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے۔غلام ناصر خاں نے اپنے اظہار میں لکھایا ہے کہ مدعیہ کا اگر کسی سے جھگڑا ہو تو مظہر اس میں کوشش و طرفداری کریگا جو عزیز ہوتا ہے وہ طرفداری کرتا ہے مظہر مدعیہ کا عزیز ہے اس واسطے میں بھی طرفداری کروں گااس بیان پر عدالت نے یہ وجہ نا مقبولی شہادت شہود قائم کی منجملہ گواہان تفضل حسین خان سے عداوت دنیوی مدعا علیہ ثابت ہے اور اثبات عداوت خود باقرار گواہ ظاہر ہے کہ وہ باظہار خود لکھاتا ہے کہ روز طلاق سے مظہر کا مدعا علیہ سے بگاڑ ہے نہ بات چیت ہے نہ سلام علیکغلام ناصر خاںغلام محی الدین خاں پیروکار مقدمہ اور مثل مدعیہ ہیں کہ ان دونوں نے بھی باظہار خود لکھایا ہے کہ اگر مدعیہ سے کسی کا تنازعہ ہو تو ہم کوشش و طرفداری مدعیہ کی کریں گے اور گواہی مخاصم مقدمہ اور عدوی دنیوی شرعا بموجب روایت ہذا نامقبول ہے:
ولاشہادۃ عدو اذاکانت العداوۃ لاجل الدنیا لان العداوۃ لاجل الدنیا حرام فمن ارتکبہا لایؤمن من التقول علیہ ۱۲عینی۔ دشمن کی شہادت قبول نہ ہوگی جب یہ دشمنی دنیاوی ہو کیونکہ دنیا کی خاطر دشمنی حرام ہے تو جس نے یہ ارتکاب کیا اس کے جھوٹ بولنے کا خطرہ رہتا ہے ۱۲عینی(ت)
تیسری وجہ: عدم مقبول شہادت شہود یہ قائم کی کہ باہم شہادت شہود میں اختلاف ہیں وہ الفاظ کہ جن میں عدالت نے اختلاف ثابت کیا ہے اظہاروں سے نقل کئے جاتے ہیں کہ تفضل حسین خاں بیان کرتا ہے کہ اس لڑکی کو میں نے پرورش نہیں کیا میری بیوی نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہےاورغلام ناصرخاں نےکہا کہ تفضل حسین خاں نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہے اور درمیان غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں یہ اختلاف ہے کہ غلام ناصر خاں اپنے بیان میں لکھاتا ہے کہ پہلی مرتبہ جو طلاق دی تو یوں کہا تھا کہ بگامیں نے تجھ کو طلاق دیاور غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی اس کی طرف نسبت کرکےاور غلام محی الدین خاں اور تفضل حسین خاں میں یہ اختلاف ہے کہ غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ مدعا علیہ جو آیا تھا تو امراؤ بیگم زوجہ تفضل حسین خاں کو سلام علیك کی تھی اور سب سےاور تفضل حسین خاں کہتا ہے کہ نہیں کی تھیاور بیان کرتا ہے کہ جس
ولاشہادۃ عدو اذاکانت العداوۃ لاجل الدنیا لان العداوۃ لاجل الدنیا حرام فمن ارتکبہا لایؤمن من التقول علیہ ۱۲عینی۔ دشمن کی شہادت قبول نہ ہوگی جب یہ دشمنی دنیاوی ہو کیونکہ دنیا کی خاطر دشمنی حرام ہے تو جس نے یہ ارتکاب کیا اس کے جھوٹ بولنے کا خطرہ رہتا ہے ۱۲عینی(ت)
تیسری وجہ: عدم مقبول شہادت شہود یہ قائم کی کہ باہم شہادت شہود میں اختلاف ہیں وہ الفاظ کہ جن میں عدالت نے اختلاف ثابت کیا ہے اظہاروں سے نقل کئے جاتے ہیں کہ تفضل حسین خاں بیان کرتا ہے کہ اس لڑکی کو میں نے پرورش نہیں کیا میری بیوی نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہےاورغلام ناصرخاں نےکہا کہ تفضل حسین خاں نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہے اور درمیان غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں یہ اختلاف ہے کہ غلام ناصر خاں اپنے بیان میں لکھاتا ہے کہ پہلی مرتبہ جو طلاق دی تو یوں کہا تھا کہ بگامیں نے تجھ کو طلاق دیاور غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی اس کی طرف نسبت کرکےاور غلام محی الدین خاں اور تفضل حسین خاں میں یہ اختلاف ہے کہ غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ مدعا علیہ جو آیا تھا تو امراؤ بیگم زوجہ تفضل حسین خاں کو سلام علیك کی تھی اور سب سےاور تفضل حسین خاں کہتا ہے کہ نہیں کی تھیاور بیان کرتا ہے کہ جس
حوالہ / References
البنایۃ فی شرح الہدایۃ
وقت مدعا علیہ آیا تھا تو میں دروازہ میں بلانے کو گیا تھا اور درمیان غلام ناصر خاں وغلام محی الدین خاں کے بیان میں یہ فرق ہے کہ غلام ناصر نے بیان کیا ہے کہ میں غلام محی الدین خاں سے پہلے چلا گیا تھا اور غلام محی الدین خاں کہتے ہیں کہ میں نے غلام ناصر خاں کو وہاں ہی چھوڑا تھاظہورن بیگم و فاطمہ بیگم وکلن خاں کے بیان میں یہ فرق ہے کہ ہر دو مسماتان کہتی ہیں کہ عباس علی خاں مدعا علیہ کے جانے کے بعد بگابیگم نے دالان میں سے کہا تھا کہ تم سب اور کلن خاں کو گواہی دینی ہوگی اور دروازہ میں کچھ نہیں کہا تھا اور کلن خاں کہتے ہیں کہ مجھ سے بگا بیگم نے دروازہ میں دالان سے تین چار گز کے فاصلہ پر واقع ہے یہ مضمون کہا تھا کہ کلن خاں تم کو گواہی دینی ہوگی کہ عباس علی خاں نے تم سے بیان کیا ہےکہ میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاق دے دیظہورن بیگم وفاطمہ بیگم اپنے اظہار میں بیان کرتی ہیں کہ مدعیہ نے بجواب مدعا علیہ کے کہا کہ اب میں نہیں جاؤں گی جب تك کہ وہ لوگ جو پہلے مجھ کو ضمانت کرکے لے گئے تھے نہ آئیں گےاس پر مدعا علیہ نے کہا کہ تو میری جو رونہ ہوئی ان لوگوں کی ہوئیپھر طلاق دے دیاور تفضل حسین خاں لکھاتا ہے کہ مدعا علیہ نے کہا کہ ابھی لے جاؤں گابجواب مدعا علیہ نے کہا جو لوگ مجھ کو پہلے ضمانت کرکے لے گئے تھے اگر وہی آئینگے تو میں جاؤنگیاس پر مدعا علیہ نے کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دیاور غلام محی الدین خاں لکھاتا ہے کہ مدعا علیہ نے مدعیہ زوجہ اپنی سے کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دیاور غلام محی الدین خاں لکھاتا ہے کہ مدعا علیہ نے مدعیہ زوجہ اپنی سے کہا میں نے نائن کو اور ڈولی بھی بھیجی تھی تو کیوں نہیں آئیاس پر بگابیگم نے کہا کہ مجھ کو جانے میں کچھ عذر نہیں ہے مگر جو لوگ مجھ کو پہلے ضمانت کرکے لے گئے تھے وہی آکر لے جائیں گے تو میں جاؤں گی ان سوالات جرح وکلاء مدعا علیہ از گواہان مدعیہ سے اکثر اختلاف بگواہی گواہان مدعیہ اس قسم کے پائے گئے جو باعث بے اصلیت شہادت ونامقبولی عدالت پائے گئے گو یہ اختلافات بحالت ہونے گمان غالب صداقت دعوی وشہادت مانع قبول نہ تھی لیکن چونکہ مقدمہ ہذاحل و حرمت کاہے اور عدالت ایسے محل پر کہ شادی فریقین کو صرف چھ سات ماہ گزرے ہیں کہ وصال میں انفصال سر پر آیا مدعا علیہ باوجود گوارہ نہ ہونے بود و باش سہ چار روزہ مدعیہ بخانہ والدین صرف انکار مدعیہ پر نہ آئی اپنے سے ہنوز بخانہ شوہر طلاق دے کر چلا گیا بہت شبہات واقع ہیں اس بناء پر بمذہب ابی یوسف وہ اختلافات بالضرورۃ اس زمانے میں کہ اکثر مخلوق نے پیشہ ادائے شہادت زور اختیار کرلیا ہے مانع قبول شہادت شہود ہیں بموجب روایت ہذاکے:
اذاارتاب القاضی فی امر الشہود فرق بینھم ولایسعہ غیر ذلك و یسألھم ایضا این کان ھذاومتی جب قاضی کوگواہوں کے متعلق شك ہو تو ان کو علیحدہ علیحدہ کردے اس کے علاوہ قاضی کو اختیار نہیں ہے اور قاضی ہر ایك سے جگہ اور وقت کا
اذاارتاب القاضی فی امر الشہود فرق بینھم ولایسعہ غیر ذلك و یسألھم ایضا این کان ھذاومتی جب قاضی کوگواہوں کے متعلق شك ہو تو ان کو علیحدہ علیحدہ کردے اس کے علاوہ قاضی کو اختیار نہیں ہے اور قاضی ہر ایك سے جگہ اور وقت کا
کان ھذاویکون ھذاالسوال بطریق الاحتیاط وان کان لایجب ھذاعلی الشہود فی الاصلفاذا فرقھم فان اختلفو افی ذلك اختلافا یفسد الشہادۃ ردھا وان کان لایفسدھا لایردھا وان کان یتھمھم فالشہادۃ لانرد بمجرد التھمۃ فی نوادر ابن السماعۃ عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی قال ابوحنیفۃ اذا اتھمت الشہود فرقت بینھم ولاالتفت الی اختلافھم فی لبس الثیاب وعدد من کان معھم من الرجال والنساء ولا الی اختلافات المواضع بعد ان تکون الشہادۃ علی الاقوال وان کان الشہادۃ علی الافعال فالاختلاف فی المواضع اختلاف فی الشہادۃ قال ابو یوسف اذا اتھمتھم ورأیت الربیۃ فظننت انھم شھود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب ومن کان معھم فاذا اختلفو افی ذلك فھذا عندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ کذافی المحیط ۱۲۔ سوال کرے کہ واقعہ کب اور کہاں ہوایہ سوال بطور احتیاط ہوگا اگرچہ گواہوں پر یہ بیان کرنا لازم نہیں ہےتو جدا کرنے پر جگہ اور وقت میں دونوں کا بیان ایسا مختلف ہو جس سے شہادت میں فساد ہو تو اس کو رد کردے اور وہ اختلاف ایسا ہو جس سے شہادت فاسد نہ ہوتی ہو تو رد نہ کرے اور اگر گواہوں میں اتفاق پایا جائے تو محض تہمت کی بناء پر رد نہ کرےابن السماعۃ کے نوادر میں امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی سے روایت ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہے جب گواہوں پر تہمت پاؤں تو ان میں تفریق کردوں گا اور ایسے اختلاف کی طرف التفات نہ کرونگا کہ ان کا لباس کیا اور ان کے ساتھ کتنے مرد اور عورتیں تھیں اور نہ ہی جگہوں کے اختلاف کی طرف التفات کروں گا بشرطیکہ شہادت اقوال پر ہو اور اگر شہادت افعال پر ہو تو جگہوں کا اختلاف شہادت کا اختلاف قرار پائے گاامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا جب مجھے شك ہو اور میں یہ گمان کروں کہ گواہ جھوٹے ہیں تو میں دونوں کو ایکدوسرے سے جدا کرکے ان سے مواضع اور لباس کے کپڑوں اور واقعہ میں موجود مرد وعورتوں کی تعداد کے متعلق سوال کروں گا اگر وہ ان امور میں اختلاف کریں تو میرے نزدیك یہ ایسا اختلاف ہو گا جس کی بناء پر میں شہادت کو باطل قرار دوں گامحیط میں یونہی ہے ۱۲۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المحیط کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
چہارم: یہ کہ معاملہ ہذا اقسام دعاوی حلال وحرام سے ہے ایسے محل پر واجبات سے ہے کہ تاوقتیکہ گواہان ثقات و معتمد سے وقوع طلاق متحقق نہ ہو اوپر بیان مجرد ایسے اشخاص کے حکم تفریق بین الزوجین دینا بجز اس کے کہ اپنی جان کو ماخوذ بہ گناہ کیاجائے کوئی نتیجہ نہیں عدالت کی رائے میں کوئی گواہان میں سے ایسا نہیں کہ جس کی شہادت کے اطمینان پر حکم تفریق بین الزوجین دیا جائے اس لئے کہ غلام ناصر خاں مرد مان گواہی پیشہ سے ہے اکثر مقدمات میں گواہیاں اس کے وقت تلاش موجود نکل سکتی ہیں اور صدہا مخبریان دروغ لوگوں پر کرنا شروع کی تھیں کہ عندالتحقیق سرکار اصل ان کی نہ نکلی گواہی مخبر بوجہ فسق قابل قبول نہیںتفضل حسین خاں پیشتر ازیں بمقدمہ جعل سازی سزایاب ہوچکا ہے غلام محی الدین خاں عرف ننھے خان اور کلن خاں جن کا حال ہم کو نہیں معلوم تھا ان کا حال ہم نے خفیہ طور پر بذریعہ آدم معتبر و معتمد خود دریافت کرایا یہ ہر دو گواہ بھی عند الدریافت آدم معتمد ثقات اور مقبول الشہادۃ نہ پائے گئے بناء برروایت شامی کے کہ جوذکر کی جائے گی اور بعض گواہ ان میں سے مستور الحال ہیں اور بعض فاسق ہیں اور گواہی مستور و فاسق کی جب تك تحری صدق نہ ہو اور عدالت ظاہر نہ ہو قابل اعتماد نہیں۔
کما قال فی الدر الفاسق اھلھا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی وقیدہ فی القاعدیۃ بما اذا غلب ظنہ صدقہ فلیحفظ درر ومقتضی الدلیل ان لایحل ان یقضی بھا فان قضی جاز و نفذ اھ ومقتضاہ الاثم وظاہر قولہ تعالی ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا انہ لایحل قبولھا قبل جیسے درمیں فرمایا کہ فاسق شہادت کا اہل ہے تو وہ قضاء کا اہل ہے لیکن اس کا تقرر نہ کیا جائے یہ لازمی بات ہے اور اس کی تقرری منظور کرنیوالا گنہگار ہوگا جیساکہ اس کی شہادت قبول کرنے والا گنہگار ہے اسی پر فتوی ہےفتاوی قاعدیہ میں فاسق کے متعلق اہل قضاء و شہادت ہونے کو اس قید سے مقید کردیا کہ جب تقرر کرنیوالے کو فاسق کے صدق کا گمان ہواس کو محفوظ کرلودرر۔اور دلیل کا مقتضی یہ ہے کہ فاسق کو فیصلہ دینا حلال نہیں تو اگراس نے کوئی فیصلہ کردیا تو جائز اور نافذ ہوگا اھاس کا
کما قال فی الدر الفاسق اھلھا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی وقیدہ فی القاعدیۃ بما اذا غلب ظنہ صدقہ فلیحفظ درر ومقتضی الدلیل ان لایحل ان یقضی بھا فان قضی جاز و نفذ اھ ومقتضاہ الاثم وظاہر قولہ تعالی ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا انہ لایحل قبولھا قبل جیسے درمیں فرمایا کہ فاسق شہادت کا اہل ہے تو وہ قضاء کا اہل ہے لیکن اس کا تقرر نہ کیا جائے یہ لازمی بات ہے اور اس کی تقرری منظور کرنیوالا گنہگار ہوگا جیساکہ اس کی شہادت قبول کرنے والا گنہگار ہے اسی پر فتوی ہےفتاوی قاعدیہ میں فاسق کے متعلق اہل قضاء و شہادت ہونے کو اس قید سے مقید کردیا کہ جب تقرر کرنیوالے کو فاسق کے صدق کا گمان ہواس کو محفوظ کرلودرر۔اور دلیل کا مقتضی یہ ہے کہ فاسق کو فیصلہ دینا حلال نہیں تو اگراس نے کوئی فیصلہ کردیا تو جائز اور نافذ ہوگا اھاس کا
حوالہ / References
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱€
تعرف حالہ وقولھم بوجوب السوال عن الشاہد سراوعلانیۃ طعن الخصم اولا فی سائر الحقوق علی قولھما المفتی بہ یقتضی الاثم بترکہ لانہ للتعریف عن حالہ حتی لایقبل الفاسق وصرح ابن الکمال بان من قلد فاسقا یاثم واذا قبل القاضی شہادتہ یاثم اھ وفی الفتاوی القاعدیۃ ھذا اذا غلب علی ظنہ صدقہ وھو مما یحفظ اھ قلت والظاہر انہ لایاثم ایضا لحصول التبیین المامور بہ فی النص تاملقال ط فان لم یغلب علی ظن القاضی صدقہ فان غلب کذبہ عندہ او تساویا فلا یقبلھا ای لایصح قبولھا
مقتضی یہ ہے کہ گناہ ہوگااور ا ﷲ تعالی کے ارشاد''اگر فاسق کوئی خبر دے تو اس کی وضاحت طلب کرو'' کا ظاہری تقاضا یہ ہے کہ اس کی شہادت کا قبول کرنا اس کے حال کی تحقیق سے قبل حلال نہیں ہے جبکہ فقہاء کرام کا گواہ کے متعلق فرمانا کہ خفیہ طور پر اور اعلانیہ بھی اس کی تفتیش کی جائے فریق مخالف کا اس پر طعن ہویا نہ ہو خواہ تمام حقوق میں ہوصاحبین کے مفتی بہ قول کے مطابق تو فقہاء کرام کی اس بات کا تقاضا ہے یہ کام ترك کرنے پر گناہ ہوگا کیونکہ یہ کام گواہ سے متعلق معلومات کےلئے ہے حتی کہ فاسق ہو تو گواہی قبول نہ کی جائیگی اور ابن کمال نے تصریح کی ہے کہ جس نے فاسق کی تقرری کی وہ گناہگار ہوگا اور جب قاضی فاسق کی شہادت قبول کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔فتاوی قاعدیہ میں ہے یہ جب ہے کہ تقرری اور شہادت قبول کرنے والے نے فاسق کے صدق کا گمان کیا ہویہ بات محفوظ رکھنے کے قابل ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں) ظاہر یہ ہے کہ گنہگار نہ ہوگاکیونکہ نص میں بیان کردہ حکم کے مطابق تفتیش ہوچکی ہےغور کرو۔ط نے کہا اگر قاضی کو گواہ فاسق کے صدق پر غلبہ ظن نہ ہو خواہ اس کذب پر غلبہ ظن ہو یا اس کا صدق و کذب قاضی کے نزدیك مساوی ہو تو شہادت کو قبول نہ کرے یعنی قبول
مقتضی یہ ہے کہ گناہ ہوگااور ا ﷲ تعالی کے ارشاد''اگر فاسق کوئی خبر دے تو اس کی وضاحت طلب کرو'' کا ظاہری تقاضا یہ ہے کہ اس کی شہادت کا قبول کرنا اس کے حال کی تحقیق سے قبل حلال نہیں ہے جبکہ فقہاء کرام کا گواہ کے متعلق فرمانا کہ خفیہ طور پر اور اعلانیہ بھی اس کی تفتیش کی جائے فریق مخالف کا اس پر طعن ہویا نہ ہو خواہ تمام حقوق میں ہوصاحبین کے مفتی بہ قول کے مطابق تو فقہاء کرام کی اس بات کا تقاضا ہے یہ کام ترك کرنے پر گناہ ہوگا کیونکہ یہ کام گواہ سے متعلق معلومات کےلئے ہے حتی کہ فاسق ہو تو گواہی قبول نہ کی جائیگی اور ابن کمال نے تصریح کی ہے کہ جس نے فاسق کی تقرری کی وہ گناہگار ہوگا اور جب قاضی فاسق کی شہادت قبول کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔فتاوی قاعدیہ میں ہے یہ جب ہے کہ تقرری اور شہادت قبول کرنے والے نے فاسق کے صدق کا گمان کیا ہویہ بات محفوظ رکھنے کے قابل ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں) ظاہر یہ ہے کہ گنہگار نہ ہوگاکیونکہ نص میں بیان کردہ حکم کے مطابق تفتیش ہوچکی ہےغور کرو۔ط نے کہا اگر قاضی کو گواہ فاسق کے صدق پر غلبہ ظن نہ ہو خواہ اس کذب پر غلبہ ظن ہو یا اس کا صدق و کذب قاضی کے نزدیك مساوی ہو تو شہادت کو قبول نہ کرے یعنی قبول
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۹۹€
اصلا ھذا ما یعطیہ المقام شامی ۱۲ولایقبل قول المستور فی ظاہر الروایۃوعن ابی حنیفۃ انہ یقبل قولہ فیہا جریا علی مذہبہ یجوز القضاء بہ وفی ظاہر الروایۃ ھو والفاسق سواء حتی یعتبر فیہما اکثر الرای ۱۲ ھدایۃ ولھذاجوز ابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی القضاء بشہادۃ المستور فیما یثبت بشبھات اذالم یطعن الخصم قال ولکن ماذکرہ فی الاستحسان اصح فی زماننا فان الغالب فی اھل الزمان الفسق فلا تعتمد روایۃ المستور مالم یتبین عدالتہ کما لا تعتمد شہادتہ فی القضاء قبل ان یظہر عدالتہ وفی ظاہرا لروایۃ ھووالفاسق سواء حتی یعتبر فیہما ای فی المستور والفاسق اکبر رأی فان کان غالب الرأی صدقھما یقبل قولھما والافلا عینی ۱۲۔ کرنا بالکل صحیح نہ ہوگایہ مقام کی بحث ہےشامیاور مستور الحال کی بات ظاہر روایت کے مطابق قابل قبول نہیں ہےاور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ اس کی بات قبول ہوگی جیسا کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کا مذہب ہے جب شہادت قبول ہوگی تو قضاء بھی جائزہوگی اور جبکہ ظاہر الروایت میں مستور الحال اور فاسق کا حکم مساوی ہے حتی کہ ان دونوں میں رائے کے غلبہ کا اعتبار ہےہدایہ۔اور اس لئے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے مستور الحال کی قضا کو ایسے معاملات میں جائز قرار دیا ہے جو شبہات کے باوجود مخالف فریق کے طعن نہ کرنے پر ثابت ہوجاتے ہیںفرمایا لیکن آپ نے استحسان میں جوفرمایا ہمارے زمانے میں وہ اصح قول ہے کیونکہ اس زمانہ میں فسق غالب ہے تو مستور الحال کا معاملہ جب تك حلف نہ ہوجائے اس پر اعتماد نہ کیا جائے گا جیساکہ قضاء کے معاملہ میں اس کی شہادت پر اعتماد ظہو رعدالت کے بغیر نہیں کیا جاتا ظاہر روایت میں اس کا اور فاسق کا حکم مساوی ہے حتی کہ ان دونوں کے متعلق غلبہ رائے میں ان کا صدق ہو تو ان کی بات مقبول ہوگیورنہ نہیںعینی ۱۲۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۰€
الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵€۲
البنایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴/ ۲۰۰€
الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵€۲
البنایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ∞۴/ ۲۰۰€
اور جن گواہوں کی نسبت عدالت نے نامقبول شہادت پر وجوہات قائم کئے ہیں اورفاسق اور مستور الحال لکھا ہے بہت تھوڑا زمانہ گزرا ہے کہ عدالت نے ان میں سے اکثر کی گواہی قبول کی ہے اور بعد اس کے کوئی امران سے ایسا سر زد نہیں ہوا ہے کہ جس سے فاسق اور مستور الحال ہوگئے ہوں اور ان کی گواہی پر اعتماد نہ رہا ہو اور بابت تفضل حسین خاں کے لکھا ہے کہ یہ مقدمہ جعل سازی میں سزایاب ہوچکا ہے یہ صحیح نہیں ہے اس واسطے کہ عدالت ماتحت نے اس پر جعل سازی قائم کی تھی حالانکہ وہ بری تھا اسی واسطے وہ مرافعہ میں بری ہوگیا اس کی سند اس کے پاس موجود ہے اورغلام ناصر خاں کوعدالت نے اپنے فیصلہ میں گواہی پیشہ اور مخبر قرار دیا ہے اور اس کو اس سے انکار ہے اورکہتا ہے کہ یہ امر بالکل بے ثبوت ہے اگر عدالت کے پاس کوئی ثبوت ہو بیان کرے۔اب علمائے دیندار سے استفسار اس امر کا ہے کہ دعوی ہندہ کا ثابت ہے یانہیں اور شہادۃ شہود کافی ہے یانہیں اور عدالت نے جو وجوہات نامقبولی شہادت شہود بیان کئے ہیں صحیح ہیں یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر دو مرد یا ایك مرد دونوں عورتیں ثقہ عادل شرعیہ ہیں اور انہوں نے شہادت بروجہ شرع اد اکی تو دعوی طلاق ضرور ثابت ہے اور فیصلہ بحق مدعیہ کرنا واجبعامہ وجوہ نامقبولی شہادات کہ فیصلہ میں مذکور ہوئیں اصلا بے اصل و ناقابل قبول ہیں(جہالت تاریخ) شہود کے چھبیس۲۶ ستائیس۲۷ دن کہنے کو جہالت تاریخ قرار دینا اولا: سخت عجب ہے جبکہ صراحۃتعیین تاریخ ویوم وماہ سب کچھ ان کے کلام میں مذکور۔
ثانیا: روایت منقولہ فیصلہ دعوی ملك میں ہے طلاق کا اس پر قیاس باطل و مہجور۔علماء تصریح فرما تےہیں کہ اگر ایك شاہد نے کہا آج طلاق دی دوسرے نے کہا کلطلاق ثابت ہے اور شہادت متقبل بحرالرائق واشباہ والنظائر و زواہر الجواہر ودرمختار وغیرہ میں ہے:
قال احدھما طلقھا الیوم والآخر انہ طلقھا امس یقع الطلاق ۔ ایك گواہ نے کہا اس نے بیوی کو آج طلاق دی ہے دوسرے نے کہا اس نے گزشتہ روز طلاق دی ہے تو طلاق ثابت ہوگی۔ (ت)
فتاوی صغری و فصول عمادی و خزانۃ المفتین و جامع الفصولین و غایۃ البیان و فتاوی انقرویہ
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر دو مرد یا ایك مرد دونوں عورتیں ثقہ عادل شرعیہ ہیں اور انہوں نے شہادت بروجہ شرع اد اکی تو دعوی طلاق ضرور ثابت ہے اور فیصلہ بحق مدعیہ کرنا واجبعامہ وجوہ نامقبولی شہادات کہ فیصلہ میں مذکور ہوئیں اصلا بے اصل و ناقابل قبول ہیں(جہالت تاریخ) شہود کے چھبیس۲۶ ستائیس۲۷ دن کہنے کو جہالت تاریخ قرار دینا اولا: سخت عجب ہے جبکہ صراحۃتعیین تاریخ ویوم وماہ سب کچھ ان کے کلام میں مذکور۔
ثانیا: روایت منقولہ فیصلہ دعوی ملك میں ہے طلاق کا اس پر قیاس باطل و مہجور۔علماء تصریح فرما تےہیں کہ اگر ایك شاہد نے کہا آج طلاق دی دوسرے نے کہا کلطلاق ثابت ہے اور شہادت متقبل بحرالرائق واشباہ والنظائر و زواہر الجواہر ودرمختار وغیرہ میں ہے:
قال احدھما طلقھا الیوم والآخر انہ طلقھا امس یقع الطلاق ۔ ایك گواہ نے کہا اس نے بیوی کو آج طلاق دی ہے دوسرے نے کہا اس نے گزشتہ روز طلاق دی ہے تو طلاق ثابت ہوگی۔ (ت)
فتاوی صغری و فصول عمادی و خزانۃ المفتین و جامع الفصولین و غایۃ البیان و فتاوی انقرویہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل فیمایتعلق بوقف الاولاد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۸€
وردالمحتار آخر الوقف میں ہے:
لو اختلف الشاھدان فی زمان اومکان او انشاء و اقرار او کان ھذاالاختلاف فی قول محض کبیع وطلاق و اقرار و ابراء لایمنع القبول ۔ اگر دونوں گواہوں کا اختلاف زمانمکانانشاء اور اقرار میں ہوااور گواہی کا تعلق کلام والے معاملہ سے جیسے بیعطلاق اقرار اور بری کرنے سے ہو تو یہ اختلاف گواہی کی قبولیت سے مانع نہ ہوگا۔(ت)
خلاصہ وجامع الفصولین وبحرالرائق وانقرویہ میں ہے:
الاختلاف فی زمان او مکان او انشاء و اقرار فی القول المحض لایمنع قبولھا مطلقا اھ مختصرین ۔ زمانمکان یا انشاء واقرار کا محض کلام والے معاملہ میں یہ اختلاف شہادت کی قبولیت کیلئےمانع نہ ہوگا اھ مختصرین(ت)
کافی و لسان الحکام وبحرالرائق میں ہے:
اذا اختلف الشاھدان فی الزمان او المکان فی البیع و الشراء والطلاق والعتاق والوکالۃ والوصیۃ والرھن و الدین والقرض والبرائۃ والکفالۃ والحوالۃ والقذف تقبل ۔ بیع شراءطلاقعتاقوکالتوصیترہندین قرض برائتکفالہحوالہ اور قذف میں جب گواہوں کا اختلاف زمانہ یا مکان میں ہو تو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
لو اختلف الشاھدان فی زمان اومکان او انشاء و اقرار او کان ھذاالاختلاف فی قول محض کبیع وطلاق و اقرار و ابراء لایمنع القبول ۔ اگر دونوں گواہوں کا اختلاف زمانمکانانشاء اور اقرار میں ہوااور گواہی کا تعلق کلام والے معاملہ سے جیسے بیعطلاق اقرار اور بری کرنے سے ہو تو یہ اختلاف گواہی کی قبولیت سے مانع نہ ہوگا۔(ت)
خلاصہ وجامع الفصولین وبحرالرائق وانقرویہ میں ہے:
الاختلاف فی زمان او مکان او انشاء و اقرار فی القول المحض لایمنع قبولھا مطلقا اھ مختصرین ۔ زمانمکان یا انشاء واقرار کا محض کلام والے معاملہ میں یہ اختلاف شہادت کی قبولیت کیلئےمانع نہ ہوگا اھ مختصرین(ت)
کافی و لسان الحکام وبحرالرائق میں ہے:
اذا اختلف الشاھدان فی الزمان او المکان فی البیع و الشراء والطلاق والعتاق والوکالۃ والوصیۃ والرھن و الدین والقرض والبرائۃ والکفالۃ والحوالۃ والقذف تقبل ۔ بیع شراءطلاقعتاقوکالتوصیترہندین قرض برائتکفالہحوالہ اور قذف میں جب گواہوں کا اختلاف زمانہ یا مکان میں ہو تو شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل فیما یتعلق بوقف الاولاد داراحیاء التراث لعربی بیروت ∞۳/ ۴۴۴،€فتاوٰی انقرویۃ کتاب الشہادات الفصل الثامن دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱/ ۳۹۹،€جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۳€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۴،€فتاوی انقرویۃ کتب الشہادات الفصل الثامن دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱/ ۳۹۹،€بحرالرائق کتب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱€۳
بحرالرائق کتب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۳،€لسان الحکام الفصل الثالث فی الشہادات نوع فی الاختلاف فیہ الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۷€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۴،€فتاوی انقرویۃ کتب الشہادات الفصل الثامن دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱/ ۳۹۹،€بحرالرائق کتب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱€۳
بحرالرائق کتب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۳،€لسان الحکام الفصل الثالث فی الشہادات نوع فی الاختلاف فیہ الشہادۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۷€
معین الحکام میں ہے:
لو شھد ابالخلع او الکبیع اوالھبۃ او الصدقۃ اوالرھن او الصلح واخلتفا فی المکان اوالزمان قبلت ۔ اگر گواہی کا تعلق خلعبیعہبہصدقہرہن یا صلح سے ہو اور دونوں گواہ مکان یا زمان میں اختلاف کریں تو شہادت مقبول ہوگی(ت)
جامع الفصولین و انقرویہ میں دربارہ اختلاف تاریخ ہے:
الاختلاف فی القول لایمنع ۔ قولی معاملہ میں تاریخ کا اختلاف گواہی کی مقبولیت کےلئے مانع نہیں ہے(ت)
(عداوت دنیویہ) تفضل حسین خاں کا مدعا علیہ سے ترك سلام وکلام اولا مہاجرت ہے اور مہاجرت و عداوت میں عموم وخصوص من وجہباپ اپنے بیٹے اور بھائی بھائی اور دوست دوست سے کسی بات پر کشیدہ ہوکر ترك سلام وکلام کرتا ہے مگر عداوت نہیں ہوتی ولھا نظائر فی عہد الصحابۃ بل و عہد النبوۃ مع قولہ تعالی" رحماء بینہم "(اﷲ تعالی کے فرمان کہ"آپس میں رحم کرنے والے ہیں" کے باوجود صحابہ کرام بلکہ زمانہ نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔ت) تو عام کو ایك خاص پر بلادلیل حمل کردینا کیونکرصحیحلاجرم شرح وہبانیہ للمصنف ولا بن الشحنہ والشرنبلالی ولسان الحکام ودرمختار وغیرہا میں ہے:
مثال العداوۃ الدنیویۃ ان یشھد المقذوف علی القاذف والمقطوع علیہ الطریق علی القاطع الطریق و المقتول ولیہ علی القاتل والمجروح علی الجارح و قد یتوھم بعض المفقہۃ والشہود ان کل من خاصم شخصا فی حق یصیر عداوۃ ولیس کذلك بل العداوۃ تثبت دنیاوی عداوت کی مثال متہم ہونیوالے کی تہمت لگانے کے خلافڈکیتی سے متاثر ہونیوالے کی ڈاکو کے خلافمقتول کے والی کی قاتل کے خلافمجروح ہونیوالے کی جارح کے خلاف شہادت ہےبعض فقیہ بننے والے اور بعض گواہ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر مخاصمت والے کی ایك دوسرے کے خلاف عداوت قرار پاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں بلکہ عداوت کا ثبوت ان صورتوں
لو شھد ابالخلع او الکبیع اوالھبۃ او الصدقۃ اوالرھن او الصلح واخلتفا فی المکان اوالزمان قبلت ۔ اگر گواہی کا تعلق خلعبیعہبہصدقہرہن یا صلح سے ہو اور دونوں گواہ مکان یا زمان میں اختلاف کریں تو شہادت مقبول ہوگی(ت)
جامع الفصولین و انقرویہ میں دربارہ اختلاف تاریخ ہے:
الاختلاف فی القول لایمنع ۔ قولی معاملہ میں تاریخ کا اختلاف گواہی کی مقبولیت کےلئے مانع نہیں ہے(ت)
(عداوت دنیویہ) تفضل حسین خاں کا مدعا علیہ سے ترك سلام وکلام اولا مہاجرت ہے اور مہاجرت و عداوت میں عموم وخصوص من وجہباپ اپنے بیٹے اور بھائی بھائی اور دوست دوست سے کسی بات پر کشیدہ ہوکر ترك سلام وکلام کرتا ہے مگر عداوت نہیں ہوتی ولھا نظائر فی عہد الصحابۃ بل و عہد النبوۃ مع قولہ تعالی" رحماء بینہم "(اﷲ تعالی کے فرمان کہ"آپس میں رحم کرنے والے ہیں" کے باوجود صحابہ کرام بلکہ زمانہ نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔ت) تو عام کو ایك خاص پر بلادلیل حمل کردینا کیونکرصحیحلاجرم شرح وہبانیہ للمصنف ولا بن الشحنہ والشرنبلالی ولسان الحکام ودرمختار وغیرہا میں ہے:
مثال العداوۃ الدنیویۃ ان یشھد المقذوف علی القاذف والمقطوع علیہ الطریق علی القاطع الطریق و المقتول ولیہ علی القاتل والمجروح علی الجارح و قد یتوھم بعض المفقہۃ والشہود ان کل من خاصم شخصا فی حق یصیر عداوۃ ولیس کذلك بل العداوۃ تثبت دنیاوی عداوت کی مثال متہم ہونیوالے کی تہمت لگانے کے خلافڈکیتی سے متاثر ہونیوالے کی ڈاکو کے خلافمقتول کے والی کی قاتل کے خلافمجروح ہونیوالے کی جارح کے خلاف شہادت ہےبعض فقیہ بننے والے اور بعض گواہ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر مخاصمت والے کی ایك دوسرے کے خلاف عداوت قرار پاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں بلکہ عداوت کا ثبوت ان صورتوں
حوالہ / References
معین الحکام الباب الثالث عشر مصطفی البابی ∞مصر ص۱۰۷€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۴،€فتاوٰی انقرویۃ کتاب الشہادات الفصل الثامن دارالاشاعت العربیہ ∞قندھار افغانستان۱/ ۳۹۹€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۴،€فتاوٰی انقرویۃ کتاب الشہادات الفصل الثامن دارالاشاعت العربیہ ∞قندھار افغانستان۱/ ۳۹۹€
بنحو ما ذکرت اھ ملتقطا۔ کے سبب ہوتا ہے جیسے میں نے ذکر کی ہیں اھ ملتقطا(ت)
ثانیا:مہاجرت کو عداوت ہی مانئے تو دنیویہ کا کیاثبوت۔مسلمان کے اقوال افعال کو مہما امکن محمل حسن پر اتارنا واجب کما نطقت بہ الایات والاحادیث(جیسا کہ آیات واحادیث نے اسے بیان کیا ہے۔ت) کیا یہ مہاجرت اس بناء پر ناممکن کہ مدعا علیہ نے تین طلاقیں دفعۃ دیں اور یہ شرعا حرامتو بوجہ ارتکاب معصیت اس سے مہاجرت کی فیکون من الدین لا للدنیا و ھو لایمنع القبول کما نص الفحول(تو وہ دین کے متعلق ہوگی نہ کہ دنیویجبکہ یہ مانع نہیں ہے جیساکہ بڑوں نے اس پر نص کی ہے۔ت) درمختار میں ہے:
تقبل من عدو بسبب الدین لانہا من التدین ۔ دین کے سبب عداوت والے کی شہادت مقبول ہے کیونکہ یہ دین پسندی ہے۔(ت)
ثالثا:دنیویہ ہی سہی مگر ہمارے تمام ائمہ کے اصل مذہب منصوص علیہ میں ہر عداوت دنیویہ مطلقا مانع شہادت نہیں جب تك موجب فسق نہ ہومنع مطلق امام شافعی کا مذہب ہے نہ کہ ہمارے ائمہ کا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وقت اختلاف ترجیح ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع واجب کما فی البحر والدر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار(جیسا کہ بحر درخیریہردالمحتار وغیرہاقابل اعتماد کتب میں ہے۔ت) نہ کہ جہاں روایت وہی ہو وہاں غیر کی طرف کیونکر مصیر ردالمحتار میں ہے:
بقی ھنا تحقیق و توفیق وھو انہ ذکر فی القنیۃ ان العداوۃ الدنیویۃ لاتمنع قبول الشہادۃ مالم یفسق بھا وانہ الصحیح وعلیہ الاعتماد وان مافی المحیط و الواقعات من ان شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل اختیار المتاخرین والروایۃ یہاں تحقیق اور توفیق باقی ہے وہ یہ کہ قنیہ میں مذکور ہے کہ عداوت دنیوی میں جب تك فاسق نہ ہوجائے اس کی شہادت قبول ہوگیاور کہاکہ یہ صحیح ہے اور اس پر اعتماد ہےجبکہ محیط اور واقعات میں یہ بیان ہے کہ دشمنی والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہا دت قبول نہ ہوگی یہ متاخرین کا
ثانیا:مہاجرت کو عداوت ہی مانئے تو دنیویہ کا کیاثبوت۔مسلمان کے اقوال افعال کو مہما امکن محمل حسن پر اتارنا واجب کما نطقت بہ الایات والاحادیث(جیسا کہ آیات واحادیث نے اسے بیان کیا ہے۔ت) کیا یہ مہاجرت اس بناء پر ناممکن کہ مدعا علیہ نے تین طلاقیں دفعۃ دیں اور یہ شرعا حرامتو بوجہ ارتکاب معصیت اس سے مہاجرت کی فیکون من الدین لا للدنیا و ھو لایمنع القبول کما نص الفحول(تو وہ دین کے متعلق ہوگی نہ کہ دنیویجبکہ یہ مانع نہیں ہے جیساکہ بڑوں نے اس پر نص کی ہے۔ت) درمختار میں ہے:
تقبل من عدو بسبب الدین لانہا من التدین ۔ دین کے سبب عداوت والے کی شہادت مقبول ہے کیونکہ یہ دین پسندی ہے۔(ت)
ثالثا:دنیویہ ہی سہی مگر ہمارے تمام ائمہ کے اصل مذہب منصوص علیہ میں ہر عداوت دنیویہ مطلقا مانع شہادت نہیں جب تك موجب فسق نہ ہومنع مطلق امام شافعی کا مذہب ہے نہ کہ ہمارے ائمہ کا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وقت اختلاف ترجیح ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع واجب کما فی البحر والدر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار(جیسا کہ بحر درخیریہردالمحتار وغیرہاقابل اعتماد کتب میں ہے۔ت) نہ کہ جہاں روایت وہی ہو وہاں غیر کی طرف کیونکر مصیر ردالمحتار میں ہے:
بقی ھنا تحقیق و توفیق وھو انہ ذکر فی القنیۃ ان العداوۃ الدنیویۃ لاتمنع قبول الشہادۃ مالم یفسق بھا وانہ الصحیح وعلیہ الاعتماد وان مافی المحیط و الواقعات من ان شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل اختیار المتاخرین والروایۃ یہاں تحقیق اور توفیق باقی ہے وہ یہ کہ قنیہ میں مذکور ہے کہ عداوت دنیوی میں جب تك فاسق نہ ہوجائے اس کی شہادت قبول ہوگیاور کہاکہ یہ صحیح ہے اور اس پر اعتماد ہےجبکہ محیط اور واقعات میں یہ بیان ہے کہ دشمنی والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہا دت قبول نہ ہوگی یہ متاخرین کا
حوالہ / References
لسان الحکام الفصل الثالث مصطفی البابی ∞مصر ص۴۴۔۲۴۳€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵€
المنصوصۃ تخالفہا وانہ مذہب الشافعیوقال ابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی تقبل اذاکان عدلا وفی المبسوط ان کانت دنیویۃ فھذا یوجب فسقہ فلا تقبل شہادتہ اھ ملخصاوالحاصل ان فی المسألۃ قولین معتمدین احدھما عدم قبولھا علی العدو وھذا اختیار المتاخرین وعلیہ صاحب الکنز و الملتقی ثانیہما انہا تقبل الااذافسق بھا واختارہ ابن وھبان وابن الشحنۃ اھ مختصرا۔ مختار ہے حالانکہ منصوص روایت اس کے خلاف ہےاور کہا کہ یہ امام شافعی کا مسلك ہےاور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ یہ شہادت قبول ہوگی جب وہ عادل ہواور مبسوط میں ہے کہ جب دنیوی عداوت ہو تو یہ موجب فسق ہے تو مقبول نہ ہوگی اھ ملخصااور حاصل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں دو معتمد قول ہیںایك یہ کہ عدالت والوں کی ایك دوسرے کے خلاف شہادت نامقبول ہے اور یہ متاخرین کا مختار ہے اور اسی پر صاحب کنز و ملتقی کا اعتماد ہےاور دوسرا قول یہ ہے کہ عداوت والوں کی شہادت مقبول ہے تاوقتیکہ وہ فاسق نہ ہوجائیںاور اس کو ابن وہبان اور ابن شحنہ نے اختیار کیا ہے اھ مختصرا(ت)
کنز الرؤس میں ہے:
شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل لانہ متھم وقال ابوحنیفۃ تقبل اذا کان عدلا قال استاذ نا وھو الصحیح و علیہ الاعتماد لانہ اذاکان عدلا تقبل شہاد تہ وان کان بینھما عداوۃ بسبب امرالدنیا اھ اثرہ فی البحرہ۔ عداوت والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہیں کیونکہ وہ محل تہمت ہےاور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا جب عادل ہوں تو مقبول ہےاور ہمارے استاد نے فرمایا یہی صحیح ہے اور اسی پر اعتماد ہے کیونکہ جب عادل ہو تو اس کی شہادت مقبول ہے اگرچہ ان میں دنیوی عداوت ہو اھاور بحر میں اسے نقل کیا ہے(ت)
شرح وہبانیہ و لسان الحکام میں ہے:
کنز الرؤس میں ہے:
شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل لانہ متھم وقال ابوحنیفۃ تقبل اذا کان عدلا قال استاذ نا وھو الصحیح و علیہ الاعتماد لانہ اذاکان عدلا تقبل شہاد تہ وان کان بینھما عداوۃ بسبب امرالدنیا اھ اثرہ فی البحرہ۔ عداوت والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہیں کیونکہ وہ محل تہمت ہےاور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا جب عادل ہوں تو مقبول ہےاور ہمارے استاد نے فرمایا یہی صحیح ہے اور اسی پر اعتماد ہے کیونکہ جب عادل ہو تو اس کی شہادت مقبول ہے اگرچہ ان میں دنیوی عداوت ہو اھاور بحر میں اسے نقل کیا ہے(ت)
شرح وہبانیہ و لسان الحکام میں ہے:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۱€
بحر الرائق بحوالہ کنز الرؤس کتاب الشہادات باب من تقبل شہادتہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۸۶€
بحر الرائق بحوالہ کنز الرؤس کتاب الشہادات باب من تقبل شہادتہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۸۶€
شہادۃ العدو علی عدوہ الصحیح انہا تقبل سواء کانت العداوۃ دینیۃ او دنیویۃ فانہا لاتقدح فی العدالۃ ۔ صحیح یہ ہے کہ عداوت والے کی شہادت مقبول ہے خواہ یہ عداوت دینی ہو یا دنیویکیونکہ یہ عدالت کو متاثر نہیں کرتی۔ (ت)
رابعا: وباﷲ التوفیقنظر تدقیق میں تحقیق یہ ہے کہ علمائے متاخرین بھی مطلقا رنجش کو مسقط شہادت نہیں کہتے جب تك اس حد تك نہ پہنچے کہ قلب و عقل ایمانی پر مستولی ہو کر عدالت انسان عادل پر غالب آجائے جس کے باعث بانکہ اس کی عدالت ثابتیہاں جھوٹی گواہی دینے کا مظنہ پیدا ہو ا اور اس شخص کے معاملہ خاص میں اس کے صدق و عدالت پر اطمینان نہ رہےان کی تعلیلات اس معنی پر شاہد عدل ہیںخود فیصلہ میں امام عینی سے نقل کیا:
لایؤمن من التقول علیہ عــــــہ ۔ جھوٹ والے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا(ت)
اسی طرح بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے اور اب یہ مذہب منصوص سے چنداں بعید نہیں وہاں فسق حاضر و ظاہر پر بنائے کار ہے یہاں فسق مظنون و خفی و ارتفاع امان پراور اس کی نظیر اس کی ضد یعنی محبت ہے کہ وہ بھی جب اس درجہ تك بالغ ہو کہ یہ اس کے معاملہ میں متہم ہوجائے تو اس کے نفع میں اس کا قول مقبول نہیں اصل محبت بالاجماع مانع شہادت نہیں کما سیأتی (جیسا کہ آگے آئے گا۔ت) یونہی اصل عداوت تو حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ اگر عداوت نے بالفعل فاسق کردیا تو بالاتفاق اس کی شہادت اس دشمن اور اس کے غیر سب کے معاملہ میں مطلقا مردوداور اگر اس مرتبہ قوت پر ہے کہ گوفی الحال مرتکب فسق نہ ہوامگر اس کے معاملہ میں عداوت کا پلہ عدالت پر غالب ہے تو غیرعدو کے بارے میں بالا تفاق مسموعاور خاص عدو کے ضرر پر اختیارمتاخرین میں نامقبولاور اگر ایسا نہیں تو مطلقا اتفاقا مقبول۔
ھذاھو التحقیق الذی یعطیہ کلامھم و یشدہ الدلیل فعلیہ فلیکن التعویل۔ تحقیق یہی ہے جوان کے کلام سے حاصل ہوئی اور دلیل اس کی تائید کرتی ہے اس پر اعتمادچاہئے۔(ت)
عــــــہ: یہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی۔
رابعا: وباﷲ التوفیقنظر تدقیق میں تحقیق یہ ہے کہ علمائے متاخرین بھی مطلقا رنجش کو مسقط شہادت نہیں کہتے جب تك اس حد تك نہ پہنچے کہ قلب و عقل ایمانی پر مستولی ہو کر عدالت انسان عادل پر غالب آجائے جس کے باعث بانکہ اس کی عدالت ثابتیہاں جھوٹی گواہی دینے کا مظنہ پیدا ہو ا اور اس شخص کے معاملہ خاص میں اس کے صدق و عدالت پر اطمینان نہ رہےان کی تعلیلات اس معنی پر شاہد عدل ہیںخود فیصلہ میں امام عینی سے نقل کیا:
لایؤمن من التقول علیہ عــــــہ ۔ جھوٹ والے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا(ت)
اسی طرح بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے اور اب یہ مذہب منصوص سے چنداں بعید نہیں وہاں فسق حاضر و ظاہر پر بنائے کار ہے یہاں فسق مظنون و خفی و ارتفاع امان پراور اس کی نظیر اس کی ضد یعنی محبت ہے کہ وہ بھی جب اس درجہ تك بالغ ہو کہ یہ اس کے معاملہ میں متہم ہوجائے تو اس کے نفع میں اس کا قول مقبول نہیں اصل محبت بالاجماع مانع شہادت نہیں کما سیأتی (جیسا کہ آگے آئے گا۔ت) یونہی اصل عداوت تو حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ اگر عداوت نے بالفعل فاسق کردیا تو بالاتفاق اس کی شہادت اس دشمن اور اس کے غیر سب کے معاملہ میں مطلقا مردوداور اگر اس مرتبہ قوت پر ہے کہ گوفی الحال مرتکب فسق نہ ہوامگر اس کے معاملہ میں عداوت کا پلہ عدالت پر غالب ہے تو غیرعدو کے بارے میں بالا تفاق مسموعاور خاص عدو کے ضرر پر اختیارمتاخرین میں نامقبولاور اگر ایسا نہیں تو مطلقا اتفاقا مقبول۔
ھذاھو التحقیق الذی یعطیہ کلامھم و یشدہ الدلیل فعلیہ فلیکن التعویل۔ تحقیق یہی ہے جوان کے کلام سے حاصل ہوئی اور دلیل اس کی تائید کرتی ہے اس پر اعتمادچاہئے۔(ت)
عــــــہ: یہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی۔
حوالہ / References
لسان الحکام الفصل الثالث مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۳€
تو عند التحقیق مجرد اس اظہار تفضل حسین خاں سے عداوت بالغہ مان لینا کسی قول پر صحیح نہیں جب تك اس کی ترجیح جانب عدالت پر ثابت نہ کی جائے ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)
(طرفداری) غلام ناصر خاں کاکہنا جو کچھ کوشش اور پیروی ہوسکے گی کروں گا اگر اس بناء پر مانع قبول مانئے کہ جو کسی کام میں کوشش وپیروی کرے مطلقا مردود و مثل نفس مخاصم ہے تو بداہۃ باطل کہ اس میں سرے سے شہادت کا دروازہ ہی بند ہوتا ہے نفس شہادت ہی مشہودلہ کیلئے کوشش اور اس کے کام کی پیروی ہے کما تشھد بہ اللام فی شھد لہ(جیسا کہ"شھد لہ"کالام اس کی گواہی دیتا ہے۔ت) اور اگر اس بناء پر کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خواہ مدعیہ حق پر ہو یا باطل پرہر طرح میں اسی کا ساتھ دوں گاتوکلام میں ہرگز اس کا ذکر نہیں اور از پیش خویش معنی فاسد پر حمل کرکے جو اعتراض ہو وہ اپنے حمل پر ہے نہ کہ اصل قول پرکیوں نہ کہئے کہ ہوسکنے سے اس کے کلا م میں امکان شرعی مرادحضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔رواہ الامام احمد ومسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی کو نفع دے تو دینا چاہئے(اسے امام احمد و مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
جو معنی"ہوسکنے"کے یہاں ہیں وہی وہاں۔لفظ طرفداری کلام غلام ناصر خان میں ہے بھی نہیںکلام غلام محی الدین خاں میں ہےعند الانصاف وہ بھی اسی قیاس پر ہے اس نے ہر گز نہ کہا کہ مدعیہ حق پر ہو یا ناحق پرمیں ہر طرح اس کا طرفدار ہوں گا اور امر حق میں طرفداری نہ ممنوع نہ مانع قبولورنہ وہی سدباب شہادت لازم آئے۔علماء جو مخاصم مقدمہ کی شہادت نامقبول بتاتے ہیں جسے مجوز فیصلہ نے ایك روایت محض بیگانہ پر محول کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود فریق مقدمہ ہو جیسے شریك یا وکیل یا نابالغ کا وصینہ یہ کہ مطلقا معین کو مخاصم و فریق مقدمہ بنادیجئےبدائع پھر ردالمحتار میں ہے:
شرط ادائھا ان لایکون خصما شہادت اداکرنے کی شرط یہ ہے کہ اس معاملہ
(طرفداری) غلام ناصر خاں کاکہنا جو کچھ کوشش اور پیروی ہوسکے گی کروں گا اگر اس بناء پر مانع قبول مانئے کہ جو کسی کام میں کوشش وپیروی کرے مطلقا مردود و مثل نفس مخاصم ہے تو بداہۃ باطل کہ اس میں سرے سے شہادت کا دروازہ ہی بند ہوتا ہے نفس شہادت ہی مشہودلہ کیلئے کوشش اور اس کے کام کی پیروی ہے کما تشھد بہ اللام فی شھد لہ(جیسا کہ"شھد لہ"کالام اس کی گواہی دیتا ہے۔ت) اور اگر اس بناء پر کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خواہ مدعیہ حق پر ہو یا باطل پرہر طرح میں اسی کا ساتھ دوں گاتوکلام میں ہرگز اس کا ذکر نہیں اور از پیش خویش معنی فاسد پر حمل کرکے جو اعتراض ہو وہ اپنے حمل پر ہے نہ کہ اصل قول پرکیوں نہ کہئے کہ ہوسکنے سے اس کے کلا م میں امکان شرعی مرادحضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔رواہ الامام احمد ومسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی کو نفع دے تو دینا چاہئے(اسے امام احمد و مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
جو معنی"ہوسکنے"کے یہاں ہیں وہی وہاں۔لفظ طرفداری کلام غلام ناصر خان میں ہے بھی نہیںکلام غلام محی الدین خاں میں ہےعند الانصاف وہ بھی اسی قیاس پر ہے اس نے ہر گز نہ کہا کہ مدعیہ حق پر ہو یا ناحق پرمیں ہر طرح اس کا طرفدار ہوں گا اور امر حق میں طرفداری نہ ممنوع نہ مانع قبولورنہ وہی سدباب شہادت لازم آئے۔علماء جو مخاصم مقدمہ کی شہادت نامقبول بتاتے ہیں جسے مجوز فیصلہ نے ایك روایت محض بیگانہ پر محول کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود فریق مقدمہ ہو جیسے شریك یا وکیل یا نابالغ کا وصینہ یہ کہ مطلقا معین کو مخاصم و فریق مقدمہ بنادیجئےبدائع پھر ردالمحتار میں ہے:
شرط ادائھا ان لایکون خصما شہادت اداکرنے کی شرط یہ ہے کہ اس معاملہ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴€
فلاتقبل شہادۃ الوصی للیتیم والوکیل لموکلہ ۔ میں گواہ کی مخاصمت نہ ہوتو وصی کی یتیم کے حق میں اور وکیل کی موکل کے حق میں شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت)
شرح وہبانیہ للمصنف ولسان الحکام و بحرالرائق میں ہے:
لو خاصم الشخص آخر فی حق لاتقبل شہادتہ علیہ فی ذلك الحق کالوکیل لاتقبل شہادتہ فیما ھو وکیل فیہوالوصی لاتقبل شہادتہ فیما ھو وصی فیہ و الشریك لا تقبل شہادتہ فیما ھو شریك فیہ ونحو ذلک ۔ اگر کوئی کسی حق میں دوسرے سے مخاصم ہے تو اس حق میں ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہ ہوگیجیسا کہ وکیل کی شہادت اس کی وکالت والے معاملہ میں اور وصی کی جس معاملہ میں وہ وصی ہے اور شریك کی جس میں اس کی شرکت ہےقبول نہ ہوگی۔(ت)
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ ایك دوست خالص اپنے سچے دلی دوست کا ضرور طرفدار ہوتا ہے خصوصا حقیقی بھائی پھر باتفاق علما دوست وبرادر کی شہادت یقینا مقبول ومسموع ہے جب تك دوستی اس حد کو نہ پہنچے کہ ایك دوسرے کے مال میں نہ صرف زبانی بلکہ واقعی اپنے مال کی طرح جو چاہے بے تکلف تصرف کرے۔معین الحکام وفتاوی تمرتاشی و درمختار میں ہے:
اما الصدیق لصدیقہ فتقبل الااذاکانت الصداقۃ متناھیۃ بحیث یتصرف کل فی مال الآخر ۔ لیکن دوست کی دوست کے حق میں شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ وہ دوستی انتہائی جس میں وہ ایك دوسرے کے مال میں بلا اجازت تصرف کرتے ہوںنہ ہو۔(ت)
کنز وغیرہ عامہ متون میں ہے:
تقبل لاخیہ وعمہ و ابویہ رضاعا و ام امرأتہ وبنتھا و زوج بنتہ و بھائیچچاوالدین رضاعیبیوی کی ماںبیوی کی پہلی خاوند سے بیٹیدامادوالد کی بیوی
شرح وہبانیہ للمصنف ولسان الحکام و بحرالرائق میں ہے:
لو خاصم الشخص آخر فی حق لاتقبل شہادتہ علیہ فی ذلك الحق کالوکیل لاتقبل شہادتہ فیما ھو وکیل فیہوالوصی لاتقبل شہادتہ فیما ھو وصی فیہ و الشریك لا تقبل شہادتہ فیما ھو شریك فیہ ونحو ذلک ۔ اگر کوئی کسی حق میں دوسرے سے مخاصم ہے تو اس حق میں ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہ ہوگیجیسا کہ وکیل کی شہادت اس کی وکالت والے معاملہ میں اور وصی کی جس معاملہ میں وہ وصی ہے اور شریك کی جس میں اس کی شرکت ہےقبول نہ ہوگی۔(ت)
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ ایك دوست خالص اپنے سچے دلی دوست کا ضرور طرفدار ہوتا ہے خصوصا حقیقی بھائی پھر باتفاق علما دوست وبرادر کی شہادت یقینا مقبول ومسموع ہے جب تك دوستی اس حد کو نہ پہنچے کہ ایك دوسرے کے مال میں نہ صرف زبانی بلکہ واقعی اپنے مال کی طرح جو چاہے بے تکلف تصرف کرے۔معین الحکام وفتاوی تمرتاشی و درمختار میں ہے:
اما الصدیق لصدیقہ فتقبل الااذاکانت الصداقۃ متناھیۃ بحیث یتصرف کل فی مال الآخر ۔ لیکن دوست کی دوست کے حق میں شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ وہ دوستی انتہائی جس میں وہ ایك دوسرے کے مال میں بلا اجازت تصرف کرتے ہوںنہ ہو۔(ت)
کنز وغیرہ عامہ متون میں ہے:
تقبل لاخیہ وعمہ و ابویہ رضاعا و ام امرأتہ وبنتھا و زوج بنتہ و بھائیچچاوالدین رضاعیبیوی کی ماںبیوی کی پہلی خاوند سے بیٹیدامادوالد کی بیوی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۰€
لسان الحکام الفصل الثالث مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۴€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
لسان الحکام الفصل الثالث مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۴€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
امرأۃ ابنہ وابیہ ۔ اور والد کے بیٹے(علاتی بھائی) کے حق میں شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر گواہی مقدمہ میں مدعاعلیہ سے لڑیں جھگڑیں شہادت کو ضرر نہیں جبکہ عادل ہوں اس سے زیادہ اور کیا طرف داری ہوگی۔خزانۃ الفتاوی وبحرائق ودرمختار میں ہے:
تخاصم الشہود والمدعی علیہ تقبل لوعدولا ۔ مدعی علیہ اور گواہوں کی مخاصمت ہوتو گواہی مقبول ہے بشرطیکہ گواہ عادل ہوں۔(ت)
تنبیہ:مسئلہ برادر تمام متون وعامہ شروح و فتاوی میں یونہی اطلاق وارسال پر ہے قنیہ میں اسے اس قید سے مقید کیاکہ ایسا نہ ہو کہ مقدمہ نے بہت طول کھینچا اور یہ بھائی اپنے بھائی کی حمایت میں برسوں سے اس مقدمہ کی پیروی وکو شش ومخاصمہ و کاوش میں رہااب اگر اس مقدمہ میں بھائی کیلئے گواہی دے گا مقبول نہ ہوگی کہ اس ممتد کارروائی نے گویا اسے مثل مخاصم کردیاعلامہ ابن وہبان نے نظم الفرائد میں اسے بلفظ قیل نقل کیا اور شرح میں قیاسا فرمایا کہ باقی اقارب واجانب کا بھی یہی حکم ہو جبکہ برسوں پیروی مقدمہ کرچکے ہوں۔بحر الرائق میں ہے:
فی القنیۃ امتدت الخصومۃ سنین ومع المدعی اخ وابن عم یخاصمان لہ مع المدعی علیہ ثم شھدا لہ فی ھذہ الخصومۃ بعد ھذہ الخصومات لاتقبل شہادتھما اھ وذکر ابن وھبان وقیاس ذلك ان یطرد ذلك فی کل قرابۃ وصاحب تردد مع قرابتہ او صاحبہ الی المدعی فی الخصومۃ سنین ویخاصم لہ قنیہ میں ہے کئی سال تك مدعوی کی حمایت میں اس کا بھائی چچا زادمدعی کے خلاف مخاصمت میں شریك ہیں پھر وہ بھائی اور چچا زاد اسی مخاصمت کے مقدمہ میں مدعی کے حق میں گواہی دیں تویہ شہادت مقبول نہ ہوگی اھابن وہبان نے ذکر کیا ہے کہ یہ قاعدہ ہر قرابت میں جاری ہوگا اور اپنے قریبی کے تردد اور مدعی کی مصاحبت میں کوئی سال سے شامل ہے اور مدعی کے حق میں مدعی کے ساتھ
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر گواہی مقدمہ میں مدعاعلیہ سے لڑیں جھگڑیں شہادت کو ضرر نہیں جبکہ عادل ہوں اس سے زیادہ اور کیا طرف داری ہوگی۔خزانۃ الفتاوی وبحرائق ودرمختار میں ہے:
تخاصم الشہود والمدعی علیہ تقبل لوعدولا ۔ مدعی علیہ اور گواہوں کی مخاصمت ہوتو گواہی مقبول ہے بشرطیکہ گواہ عادل ہوں۔(ت)
تنبیہ:مسئلہ برادر تمام متون وعامہ شروح و فتاوی میں یونہی اطلاق وارسال پر ہے قنیہ میں اسے اس قید سے مقید کیاکہ ایسا نہ ہو کہ مقدمہ نے بہت طول کھینچا اور یہ بھائی اپنے بھائی کی حمایت میں برسوں سے اس مقدمہ کی پیروی وکو شش ومخاصمہ و کاوش میں رہااب اگر اس مقدمہ میں بھائی کیلئے گواہی دے گا مقبول نہ ہوگی کہ اس ممتد کارروائی نے گویا اسے مثل مخاصم کردیاعلامہ ابن وہبان نے نظم الفرائد میں اسے بلفظ قیل نقل کیا اور شرح میں قیاسا فرمایا کہ باقی اقارب واجانب کا بھی یہی حکم ہو جبکہ برسوں پیروی مقدمہ کرچکے ہوں۔بحر الرائق میں ہے:
فی القنیۃ امتدت الخصومۃ سنین ومع المدعی اخ وابن عم یخاصمان لہ مع المدعی علیہ ثم شھدا لہ فی ھذہ الخصومۃ بعد ھذہ الخصومات لاتقبل شہادتھما اھ وذکر ابن وھبان وقیاس ذلك ان یطرد ذلك فی کل قرابۃ وصاحب تردد مع قرابتہ او صاحبہ الی المدعی فی الخصومۃ سنین ویخاصم لہ قنیہ میں ہے کئی سال تك مدعوی کی حمایت میں اس کا بھائی چچا زادمدعی کے خلاف مخاصمت میں شریك ہیں پھر وہ بھائی اور چچا زاد اسی مخاصمت کے مقدمہ میں مدعی کے حق میں گواہی دیں تویہ شہادت مقبول نہ ہوگی اھابن وہبان نے ذکر کیا ہے کہ یہ قاعدہ ہر قرابت میں جاری ہوگا اور اپنے قریبی کے تردد اور مدعی کی مصاحبت میں کوئی سال سے شامل ہے اور مدعی کے حق میں مدعی کے ساتھ
حوالہ / References
کنز الدقائق کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶€۰
بحرالرائق کتاب الشہادات باب من تقبل شہادتہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۹۳،€درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
بحرالرائق کتاب الشہادات باب من تقبل شہادتہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۹۳،€درمختار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۳€
ومعہ علی المدعی ثم یشھد لہ بعد ذلك فانہ ینبغی ان لاتقبل والفقہ فیہ انہ لماطال التردد مع المخاصم والمخاصمۃ لہ مع المدعی علیہ صار بمنزلۃ الخصم للمدعی علیہ اھ اھ ۔ مدعا علیہ کے خلاف مخاصمت کر رہا ہے پھر وہ مدعی کے حق میں اس تردد اور مخاصمت میں گواہی دے تو اسے قبول کرنا مناسب نہیں اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ جب مدعی کے حق میں مدعی علیہ کے خلاف طویل مدت شریك رہا تو وہ گویا خودمدعی علیہ کے خلا ف مخاصم بن گیا اھ۔(ت)
وہبانیہ میں ہے:
وقد قیل لابن العم والاخ لم یجز اذا خاصما معہ سنینا واخروا
(چچا زاد اوربھائی کےمتعلق بیشك یہ کہا گیا ہے کہ جب مدعی کے حق میں کئی سال کے بعد تك وہ مدعا علیہ کے خلاف مخاصم رہے ہوں تو ان کی گواہی مدعی کے حق میں جائز نہیں ہے۔ت)
پر ظاہر کہ یہاں یہ صورت بھی نہیں تو صرف اتنی بات پر شہود کو خصم ٹھہرادنیا محض بے اصل ہے۔
(اختلافات) کہ بیان شہود میں پیدا کئے ان میں کوئی اصلا صالح التفات نہیں۔
اولا:تفضل حسین خاں نے اپنی بی بی کا پرورش کرنا بتایا غلام ناصر خاں نے تفضل حسین خاں کا یہ کیا اختلاف ہوا ممکن کہ تربیت مباشرۃ امراؤ بیگم نے کی اور مال ورضاجانب تفضل حسین خاں سےتو بلحاظ مباشرت اس سے نفی اور بنظرمال واجازت اس کے لئے اثبات دونوں حق ہیں۔
قال اﷲ تعالی " وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی " ۔ فتح الامیر الحصن ولم یفتح ھو بل العسکر کل صحیح کما قد علم فی محلہ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جب آپ نے مارا آپ نے نہ مارا لیکن اﷲ تعالی نے مارا۔امیر نے قلعہ فتح کیااس نے فتح نہ کیا بلکہ لشکر نے فتح کیا یہ کلام ہر طرح صحیح ہےجیسا کہ وہ اپنے محل میں معلوم ہے۔(ت)
ایسے امور کا صاحب خانہ کی طرف نسبت کرنا شائع وذائع ہے لانہ الاصل وعن رأیہ یصدر(کیونکہ
وہبانیہ میں ہے:
وقد قیل لابن العم والاخ لم یجز اذا خاصما معہ سنینا واخروا
(چچا زاد اوربھائی کےمتعلق بیشك یہ کہا گیا ہے کہ جب مدعی کے حق میں کئی سال کے بعد تك وہ مدعا علیہ کے خلاف مخاصم رہے ہوں تو ان کی گواہی مدعی کے حق میں جائز نہیں ہے۔ت)
پر ظاہر کہ یہاں یہ صورت بھی نہیں تو صرف اتنی بات پر شہود کو خصم ٹھہرادنیا محض بے اصل ہے۔
(اختلافات) کہ بیان شہود میں پیدا کئے ان میں کوئی اصلا صالح التفات نہیں۔
اولا:تفضل حسین خاں نے اپنی بی بی کا پرورش کرنا بتایا غلام ناصر خاں نے تفضل حسین خاں کا یہ کیا اختلاف ہوا ممکن کہ تربیت مباشرۃ امراؤ بیگم نے کی اور مال ورضاجانب تفضل حسین خاں سےتو بلحاظ مباشرت اس سے نفی اور بنظرمال واجازت اس کے لئے اثبات دونوں حق ہیں۔
قال اﷲ تعالی " وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی " ۔ فتح الامیر الحصن ولم یفتح ھو بل العسکر کل صحیح کما قد علم فی محلہ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جب آپ نے مارا آپ نے نہ مارا لیکن اﷲ تعالی نے مارا۔امیر نے قلعہ فتح کیااس نے فتح نہ کیا بلکہ لشکر نے فتح کیا یہ کلام ہر طرح صحیح ہےجیسا کہ وہ اپنے محل میں معلوم ہے۔(ت)
ایسے امور کا صاحب خانہ کی طرف نسبت کرنا شائع وذائع ہے لانہ الاصل وعن رأیہ یصدر(کیونکہ
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۹۳€
الوہبانیۃ
القرآن الکریم ∞۸/ ۱۷€
الوہبانیۃ
القرآن الکریم ∞۸/ ۱۷€
صاحب خانہ اصل اور صاحب رائے ہے۔ت)اور اختلاف غلام ناصر خاں وغلام محی الدین خاں کا ادعا سخت ہی تعجب خیز ہے کلام محی الدین میں بگا کو ندا کی نفی بھی تو نہیں صرف عدم ذکر ہے وہ ذکر عدم کیونکر ہوا رب العزت جل وعلا نے سورہ نمل میں فرمایا:
" یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾ " اے موسی علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلاممت خوف کرومیں وہ ذات ہوں کہ میرے ہاں رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔ (ت)
اور سورہ قصص میں ہے:
" یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین ﴿۳۱﴾ " اے موسی علیہ السلام ! آگے بڑھو اور خوف نہ کروآپ امن والوں میں سے ہیں۔(ت)
اور سورہ طہ میں ارشاد ہوا:
" قال خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی ﴿۲۱﴾ " فرمایا اسے پکڑو اور خوف نہ کرو ہم اس کو عنقریب پہلی حالت پر پھیریں گے۔(ت)
ان دونوں سورتوں میں ذکر ندا ہے یہاں نہیں بلکہ جملہ"لاتخف"کے سوا ہر جگہ نیا کلام نقل فرمایا ہےکلن خاں اور ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم کے بیانوں میں اختلاف گمان کرنا محض قلت تدبر سے ناشئی ہےسائل سے استفسار پر واضح ہوا کہ کلن خاں غیر شخص ہے بگا بیگم اس سے چھپتی ہے وہ دالان میں تھی اور یہ دروازے میں۔اب دونوں بیان صاف صاف حق وصحیح ہیں بے غوری کے باعث یہ گمان ہوا کہ دروازے کا لفظ دونوں کلام میں بگا بیگم سے متعلق ہے یعنی کلن خاں کہتا ہے بگا بیگم نے دروازے میں آکر مجھ سے کہاظہورن بیگم و فاطمہ بیگم کہتی ہیں بگابیگم نے دالان میں سےکہا دروازے میں کچھ نہ کہا حالانکہ حقیقۃ عورا ت کے بیان میں تویہ لفظ بگابیگم کی طرف ناظر ہے جس طرح مجوز نے سمجھا اور کلن خاں کے کلام میں خود کلن سے متعلق ہے یعنی میں دروازے میں تھا کہ بگا بیگم نے مجھ سے کہا ایسیطرف متکلم ومخاطب دونوں کے لئے محتمل و مستعمل ہوتی ہے زید نے مجھ سے مسجد میں کہا اسکے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ زید مسجد میں تھا جو اس نے مجھ سے
" یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ﴿٭۱۰﴾ " اے موسی علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلاممت خوف کرومیں وہ ذات ہوں کہ میرے ہاں رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔ (ت)
اور سورہ قصص میں ہے:
" یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین ﴿۳۱﴾ " اے موسی علیہ السلام ! آگے بڑھو اور خوف نہ کروآپ امن والوں میں سے ہیں۔(ت)
اور سورہ طہ میں ارشاد ہوا:
" قال خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی ﴿۲۱﴾ " فرمایا اسے پکڑو اور خوف نہ کرو ہم اس کو عنقریب پہلی حالت پر پھیریں گے۔(ت)
ان دونوں سورتوں میں ذکر ندا ہے یہاں نہیں بلکہ جملہ"لاتخف"کے سوا ہر جگہ نیا کلام نقل فرمایا ہےکلن خاں اور ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم کے بیانوں میں اختلاف گمان کرنا محض قلت تدبر سے ناشئی ہےسائل سے استفسار پر واضح ہوا کہ کلن خاں غیر شخص ہے بگا بیگم اس سے چھپتی ہے وہ دالان میں تھی اور یہ دروازے میں۔اب دونوں بیان صاف صاف حق وصحیح ہیں بے غوری کے باعث یہ گمان ہوا کہ دروازے کا لفظ دونوں کلام میں بگا بیگم سے متعلق ہے یعنی کلن خاں کہتا ہے بگا بیگم نے دروازے میں آکر مجھ سے کہاظہورن بیگم و فاطمہ بیگم کہتی ہیں بگابیگم نے دالان میں سےکہا دروازے میں کچھ نہ کہا حالانکہ حقیقۃ عورا ت کے بیان میں تویہ لفظ بگابیگم کی طرف ناظر ہے جس طرح مجوز نے سمجھا اور کلن خاں کے کلام میں خود کلن سے متعلق ہے یعنی میں دروازے میں تھا کہ بگا بیگم نے مجھ سے کہا ایسیطرف متکلم ومخاطب دونوں کے لئے محتمل و مستعمل ہوتی ہے زید نے مجھ سے مسجد میں کہا اسکے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ زید مسجد میں تھا جو اس نے مجھ سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۷/ ۱۰€
القرآن الکریم ∞۲۸/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۲۱€
القرآن الکریم ∞۲۸/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۲۱€
کہا اور یہ بھی کہ میں مسجد میں تھا کہ اس نے کہا ولہذا قرائن سے ایك معنی کی تعیین کرتے ہیں مثلا قسم کھائی کہ تجھے مسجد میں گالی نہ دوں گاتو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں جس وقت مسجد میں ہوں گا تجھے گالی نہ دوں گا ولہذا اگر وہ شخص مسجد میں ہوا اور اس نے باہر سے گالی دی حانث نہ ہوگااور اگر قسم کھائی کہ تجھے مسجد میں نہ ماروں گا تو اس کے یہ معنی کہ جب تو مسجد میں ہوگا تجھے نہ ماروں گا ولہذا اگر وہ شخص بیرون مسجد ہے اور اس نے مسجد میں سے اسے مارا قسم نہ ٹوٹے گی۔اشباہ میں ہے:
قال ان شتمتہ فی المسجد او رمیت الیہ فشرط حنثہ کون الفاعل فیہ وان ضربتہ او جرحتہ او قتلتہ او رمیتہ کون المحل فیہ ۔ اگر کسی نے کہا میں اسے مسجد میں گالی دوں یا مسجد سے اسے تیرماروںاس کی قسم ٹوٹنے کی شرط یہ ہے کہ فاعل مسجد میں ہواور اگر کہا میں اس کو ضرب لگاؤں یا زخمی کروں یا قتل کروں یا تیر ماروں تو پھر شرط یہ ہے کہ مفعول مسجد میں ہو۔ (ت)
ظہورن بیگم وفاطمہ بیگم کے بیا ن میں احتمال اول مقصود ہے اور کلن خاں کے بیان میں دومولہذا اس نے دالان ودروازہ کا فاصلہ بتایا کہ تین چار ہی گز ہے جس کے سبب بگابیگم نے دالان میں سے جو بات کی میں نے دروازے میں سنی۔یہ تو حق تحقیق ہے اور بالفرض اس سے قطع نظر بھی کیجئے اور دونوں کلام میں طرف کوبگابیگم ہی کے واسطے قرار دیجئے تاہم وہ دونوں بیان بداہۃ بگابیگم کے دو کلاموں کے حکایت ہیں ایك میں کلن خان مخاطب تھا کہ تم کو گواہی دینا ہوگی دوسرے میں اور لوگ کہ تم سب اور کلن خاں کو گواہی دینی ہوگی وہ کلن خان سے کہا تھا یہ اس کے جانے کے بعد تو ایك کا دروازہ دوسرے کا دالان میں ہونا کیا محال ہے نہ ہر گز شرط شاہد ہے کہ اس تمام جلسے میں جس سے جو بات اصل امر سے زائد بھی کہی جائے اس سب کو اس کا علم محیط اور اس کے حفظ میں حاضر ہویہیں سے سلام علیك کہنے نہ کہنے کا جواب ظاہرمعہذاممکن کہ تفضل حسین خان جب دروازے پر مدعا علیہ کو بلانے گیا اس نے اس سے سلام علیك نہ کی پھر یہ اس کے بعدمکان میں آیا اس نے سلام علیك کرتے نہ دیکھا اپنے عدم علم کی بناء پر نفی کی اور غلام محی الدین نے دیکھا لہذ ا اپنے علم کی بناء پر اثباتظہورن بیگم و فاطمہ بیگم و تفضل حسین خاں و غلام محی الدین خاں کے بیان میں جو مکالمہ زن و شو کے حکایا ت ہیں ان کاحاصل کہیں مختلف و متنافی نہیں اسے اختلاف بتانے کے رد میں وہی تین آیتیں کہ ابھی تلاوت کی گئیں
قال ان شتمتہ فی المسجد او رمیت الیہ فشرط حنثہ کون الفاعل فیہ وان ضربتہ او جرحتہ او قتلتہ او رمیتہ کون المحل فیہ ۔ اگر کسی نے کہا میں اسے مسجد میں گالی دوں یا مسجد سے اسے تیرماروںاس کی قسم ٹوٹنے کی شرط یہ ہے کہ فاعل مسجد میں ہواور اگر کہا میں اس کو ضرب لگاؤں یا زخمی کروں یا قتل کروں یا تیر ماروں تو پھر شرط یہ ہے کہ مفعول مسجد میں ہو۔ (ت)
ظہورن بیگم وفاطمہ بیگم کے بیا ن میں احتمال اول مقصود ہے اور کلن خاں کے بیان میں دومولہذا اس نے دالان ودروازہ کا فاصلہ بتایا کہ تین چار ہی گز ہے جس کے سبب بگابیگم نے دالان میں سے جو بات کی میں نے دروازے میں سنی۔یہ تو حق تحقیق ہے اور بالفرض اس سے قطع نظر بھی کیجئے اور دونوں کلام میں طرف کوبگابیگم ہی کے واسطے قرار دیجئے تاہم وہ دونوں بیان بداہۃ بگابیگم کے دو کلاموں کے حکایت ہیں ایك میں کلن خان مخاطب تھا کہ تم کو گواہی دینا ہوگی دوسرے میں اور لوگ کہ تم سب اور کلن خاں کو گواہی دینی ہوگی وہ کلن خان سے کہا تھا یہ اس کے جانے کے بعد تو ایك کا دروازہ دوسرے کا دالان میں ہونا کیا محال ہے نہ ہر گز شرط شاہد ہے کہ اس تمام جلسے میں جس سے جو بات اصل امر سے زائد بھی کہی جائے اس سب کو اس کا علم محیط اور اس کے حفظ میں حاضر ہویہیں سے سلام علیك کہنے نہ کہنے کا جواب ظاہرمعہذاممکن کہ تفضل حسین خان جب دروازے پر مدعا علیہ کو بلانے گیا اس نے اس سے سلام علیك نہ کی پھر یہ اس کے بعدمکان میں آیا اس نے سلام علیك کرتے نہ دیکھا اپنے عدم علم کی بناء پر نفی کی اور غلام محی الدین نے دیکھا لہذ ا اپنے علم کی بناء پر اثباتظہورن بیگم و فاطمہ بیگم و تفضل حسین خاں و غلام محی الدین خاں کے بیان میں جو مکالمہ زن و شو کے حکایا ت ہیں ان کاحاصل کہیں مختلف و متنافی نہیں اسے اختلاف بتانے کے رد میں وہی تین آیتیں کہ ابھی تلاوت کی گئیں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الایمان ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۲۷۷€
اور قرآن عظیم کے عامہ قصص اور تمام منقولہ بالمعنی و بزیادت و نقص رواۃ جن کے تو دہ تو دہ نظائر صحیح بخاری کے اور ابواب اور صحیح مسلم کے ایك ہی سیاق میں مل سکتے ہیں کافی ووافی۔کوئی عاقل اسے اختلاف نہیں کہہ سکتا۔رہا غلام ناصر خان و غلا م محی الدین خاں کا اختلافممکن کہ واقع میں غلام ناصر خاں پہلے چلا گیا ہو غلام محی الدین خاں نے اسے جاتے نہ دیکھا استصحابا کہا وہیں چھوڑآیا۔
ثانیا:بالفرض اگر یہ سب اختلاف مسلم بھی ہوں تو زائد و فضول و لغو و بیکار باتوں میں تفاوت اصلا لائق التفات نہیں بگابیگم کو تفضل حسین خان نے پرورش کیا یا اس کی زوجہ نے مدعا علیہ نے طلاق دینے میں"اے بگا"کہایا بے ندا اس سے خطاب کیااس نے امراؤ بیگم وغیرہا سے سلام علیك کی یا نہ کیغلام محی الدین خاں پہلے اٹھ گیا یا غلام ناصر خاںبگا بیگم نے کلن خاں سے دروازے میں کچھ کہا یا نہیںبجواب عباس علی خاں جب تك ضامن نہ آئیںجانے سے انکار ان لفظوں سے اداکیایا ا ن سے ان میں کون سی بات کی نفی یا اثبات طلاق دینے نہ دینے سے تعلق یا معاملہ پر کچھ اثر رکھتی ہے تو ایسی مہملات پر نظر کے کوئی معنی نہیں۔وجیزامام کردری میں ہے:
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضراصلہ فی الجامع الصغیر الخ ۔ غیر ضروری کے متعلق تناقض مضر نہیںاس کی اصل جامع الصغیر میں ہے الخ(ت)
جا مع الفصولین فصل ۱۱ میں ہے:
القاضی لو سأل الشہود قبل الدعوی عن لون الدابۃ فقالوا کذا ثم عند الدعوی شھدا بخلاف ذلك اللون تقبل لانہ سأل عما لایکلف الشاھد بیانہ فاستوی ذکرہ وترکہ ویخرج منہ مسائل کثیرۃ ۔ قاضی نے اگر دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا تو انہو ں نے کوئی رنگ بتایا پھر قاضی نے دعوی کے موقعہ پر ان سے سوال کیا تو انہوں نے دوسرا رنگ بتایا یہ شہادت مقبول ہوگی کیونکہ قاضی نے ان سے ایسی چیز کا سوال کیا جس کے بیان کے وہ پابند نہیں تو ایسی چیز کا ذکر کرنا نہ کرنا مساوی ہے اس ضابطہ سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوئی ہے۔(ت)
خلاصہ وہندیہ میں ہے:
ثانیا:بالفرض اگر یہ سب اختلاف مسلم بھی ہوں تو زائد و فضول و لغو و بیکار باتوں میں تفاوت اصلا لائق التفات نہیں بگابیگم کو تفضل حسین خان نے پرورش کیا یا اس کی زوجہ نے مدعا علیہ نے طلاق دینے میں"اے بگا"کہایا بے ندا اس سے خطاب کیااس نے امراؤ بیگم وغیرہا سے سلام علیك کی یا نہ کیغلام محی الدین خاں پہلے اٹھ گیا یا غلام ناصر خاںبگا بیگم نے کلن خاں سے دروازے میں کچھ کہا یا نہیںبجواب عباس علی خاں جب تك ضامن نہ آئیںجانے سے انکار ان لفظوں سے اداکیایا ا ن سے ان میں کون سی بات کی نفی یا اثبات طلاق دینے نہ دینے سے تعلق یا معاملہ پر کچھ اثر رکھتی ہے تو ایسی مہملات پر نظر کے کوئی معنی نہیں۔وجیزامام کردری میں ہے:
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضراصلہ فی الجامع الصغیر الخ ۔ غیر ضروری کے متعلق تناقض مضر نہیںاس کی اصل جامع الصغیر میں ہے الخ(ت)
جا مع الفصولین فصل ۱۱ میں ہے:
القاضی لو سأل الشہود قبل الدعوی عن لون الدابۃ فقالوا کذا ثم عند الدعوی شھدا بخلاف ذلك اللون تقبل لانہ سأل عما لایکلف الشاھد بیانہ فاستوی ذکرہ وترکہ ویخرج منہ مسائل کثیرۃ ۔ قاضی نے اگر دعوی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا تو انہو ں نے کوئی رنگ بتایا پھر قاضی نے دعوی کے موقعہ پر ان سے سوال کیا تو انہوں نے دوسرا رنگ بتایا یہ شہادت مقبول ہوگی کیونکہ قاضی نے ان سے ایسی چیز کا سوال کیا جس کے بیان کے وہ پابند نہیں تو ایسی چیز کا ذکر کرنا نہ کرنا مساوی ہے اس ضابطہ سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوئی ہے۔(ت)
خلاصہ وہندیہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۵۱€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰€
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰€
لو سأل القاضی الشہود عن لون الدابۃ وذکر وا ثم شہد واعند الدعوی و ذکر واالصفۃ علی خلافہ تقبل والتناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر ۔ اگر قاضی نے گواہوں سے جانو ر کے رنگ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کوئی رنگ بتایا پھر دعوی کے موقعہ پر انہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو شہادت مقبول ہوگی کیونکہ غیر ضروری چیز میں تناقض مضر نہیں ہے(ت)
خانیہ وبحرالرائق وظہیریہ وعالمگیریہ میں ہے:
لو اختلفافی الثیاب التی کانت علی الطالب والمطلوب او المرکب او قال احدھما کان معنا فلان وقال الآخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ اگر گواہوں نے طالبمطلوب یا سواری کے جانور پر کپڑے میں اختلاف کیا یا ایك نے کہا فلاں ہمارے ساتھ تھا اور دوسرے نے کہا وہ ہمارے ساتھ نہ تھا اصل(مبسوط) میں مذکور ہے کہ یہ شہادت جائز ہے اور اسے باطل نہ کہا جائیگا۔(ت)
فتاوی قاعدیہ وفتاوی انقرویہ میں ہے:
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصا ن کذلك فان ذلك لایمنع قبولھا مثالھا لو اشھدا علی اقرارہ بمال فقال لااقر فی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا و المدعی ارخاوشھداانہ اقرفی بلد کذا وقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ فرمایا اگر شہادت کسی غیر ضروری یا نقصان کی وجہ سے دعوی سے مختلف ہوجائے تو گنجائش ہے کہ اس کی قبولیت سے انکار نہ کیا جائے مثلا گواہوں نے ایك شخص کے اقرار بالمال کی شہادت دیتے ہوئے کہا اس نے فلاں روز اقرار کیا حالانکہ مدعی نے اس دن کا ذکر نہ کیا یا یوں کہ مدعی نے اپنے دعوی میں کوئی تاریخ ذکر کی اور گواہوں نے وہ تاریخ نہ ذکر کی یا یہ کہ گواہوں نے کسی شہر کا ذکر کیا حالانکہ مدعی نے کسی شہر کوذکر نہ کیا یا یہ کہ مدعی
خانیہ وبحرالرائق وظہیریہ وعالمگیریہ میں ہے:
لو اختلفافی الثیاب التی کانت علی الطالب والمطلوب او المرکب او قال احدھما کان معنا فلان وقال الآخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لاتبطل ھذہ الشہادۃ ۔ اگر گواہوں نے طالبمطلوب یا سواری کے جانور پر کپڑے میں اختلاف کیا یا ایك نے کہا فلاں ہمارے ساتھ تھا اور دوسرے نے کہا وہ ہمارے ساتھ نہ تھا اصل(مبسوط) میں مذکور ہے کہ یہ شہادت جائز ہے اور اسے باطل نہ کہا جائیگا۔(ت)
فتاوی قاعدیہ وفتاوی انقرویہ میں ہے:
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصا ن کذلك فان ذلك لایمنع قبولھا مثالھا لو اشھدا علی اقرارہ بمال فقال لااقر فی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا و المدعی ارخاوشھداانہ اقرفی بلد کذا وقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ فرمایا اگر شہادت کسی غیر ضروری یا نقصان کی وجہ سے دعوی سے مختلف ہوجائے تو گنجائش ہے کہ اس کی قبولیت سے انکار نہ کیا جائے مثلا گواہوں نے ایك شخص کے اقرار بالمال کی شہادت دیتے ہوئے کہا اس نے فلاں روز اقرار کیا حالانکہ مدعی نے اس دن کا ذکر نہ کیا یا یوں کہ مدعی نے اپنے دعوی میں کوئی تاریخ ذکر کی اور گواہوں نے وہ تاریخ نہ ذکر کی یا یہ کہ گواہوں نے کسی شہر کا ذکر کیا حالانکہ مدعی نے کسی شہر کوذکر نہ کیا یا یہ کہ مدعی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۰€
بحرالرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۳،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۹€
بحرالرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۳،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۹€
اوذکر المدعی مکانا وھما سمیا غیر ذلك المکاناو قال المدعی اقر وھو راکب فرس اولابس عمامۃ و قالا اقروھو راجل اوراکب حمار او لابس قلنسوۃ و اشباہ ذلك فانہ لایمنع القبول لان ھذہ الاشیاء لا یحتاج الی اثباتھا فذکرھا والسکوت عنہا سواء وکذا لووقع مثل ھذا التفاوت بین الشہادتین لایضر ۔ نے جگہ کاذکر کیااور گواہوں نے وہ جگہ ذکر نہ کییا یہ کہ مدعی نے جگہ کا ذکر کیا اور گواہوں نے کسی دوسری جگہ ذکر کیا یا یہ کہ مدعی نے دعوی میں کہا کہ گھوڑے پر سواری کی حالت میں اقرار کیا یا عمامہ پہنے ہوئے اقرار کیا اور گواہوں نے پیدل یا گدھے پر سوار ی کی حالت میں یا ٹوپی پہننے کی حالت وغیرہ کاتوان غیر ضروری امور میں اختلاف گواہی کی قبولیت کے لئے مانع نہ ہوگاکیونکہ یہ چیزیں وہ ہیں جن کا اثبات ضروری نہیں ہے توان کا ذکر اور عدم ذکر مساوی ہے اور یونہی اگر اس قسم کا اختلاف دونوں گواہوں کی شہادت میں ہو تو مضر نہ ہوگا۔(ت)
بلکہ علماء تو معاملہ طلاق و عتاق میں نفس الفاظ ایقاع کے اختلاف لسانی کو نظر انداز کرتے ہیں ایك گواہ کہے زید نے اپنی زوجہ سے کہا انت طالق یا غلام سے انت حردوسرا کہے طلاق دادمت کہایا آزاد ت کردمیا ایك کہے زید نے اس وقت عربی میں کلام کیا تھادوسرا کہے کہ فارسی میںان سب صورتوں میں شہادت مقبول ہے اور طلاق وعتاق ثابتپھر ان بالائی لغویات کا لحاظ یعنی چہدرمختار میں ہے:
شھد احدھما انہ قال لعبدہ انت حر والاخر انہ قال آزادی تقبل ۔ اگر ایك نے شہادت دی کہ اس نے اپنے غلام کو"انت حر" (عربی) اور دوسرے گواہ نے کہا کہ اس نے غلام کو فارسی میں آزاد کہا گواہی قبول ہوگی۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
شھد احدھما انہ اعتق بالعربی والاخر بالفارسی تقبل ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے غلام آزاد کرتے ہوئے عربی میں اور دوسرے نے شہادت میں کہا کہ اس نے فارسی میں کہاشہادت مقبول ہوگی(ت)
بلکہ علماء تو معاملہ طلاق و عتاق میں نفس الفاظ ایقاع کے اختلاف لسانی کو نظر انداز کرتے ہیں ایك گواہ کہے زید نے اپنی زوجہ سے کہا انت طالق یا غلام سے انت حردوسرا کہے طلاق دادمت کہایا آزاد ت کردمیا ایك کہے زید نے اس وقت عربی میں کلام کیا تھادوسرا کہے کہ فارسی میںان سب صورتوں میں شہادت مقبول ہے اور طلاق وعتاق ثابتپھر ان بالائی لغویات کا لحاظ یعنی چہدرمختار میں ہے:
شھد احدھما انہ قال لعبدہ انت حر والاخر انہ قال آزادی تقبل ۔ اگر ایك نے شہادت دی کہ اس نے اپنے غلام کو"انت حر" (عربی) اور دوسرے گواہ نے کہا کہ اس نے غلام کو فارسی میں آزاد کہا گواہی قبول ہوگی۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
شھد احدھما انہ اعتق بالعربی والاخر بالفارسی تقبل ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے غلام آزاد کرتے ہوئے عربی میں اور دوسرے نے شہادت میں کہا کہ اس نے فارسی میں کہاشہادت مقبول ہوگی(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ بحوالہ الفتاوی القاعدیۃ کتاب الشہادات دارالاشاعۃ العربیہ قندھار ۱/ ۹۵۔۳۹۴
درمختار کتاب الوقف فصل فیما یتعلق بوقف الاولاد∞ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۸€
البحرالرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۔۱۱۰€
درمختار کتاب الوقف فصل فیما یتعلق بوقف الاولاد∞ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۸€
البحرالرائق کتاب الشہادات باب الاختلاف الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۱۔۱۱۰€
اشباہ میں ہے:
شھد احد ھما انہ اعتقہ بالعربیۃ والاخر بالفارسیۃ تقبل بخلاف الطلاق والاصح القبول فیہما ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے عربی میںاور دوسرے نے شہادت دی کہ اس نے فارسی میں آزاد کہامقبول ہوگی بخلاف طلاق کےلیکن صحیح یہ ہے کہ عتاق وطلاق دونوں میں مقبول ہے۔(ت)
ثالثا: اصل شہادت میں اتفاق شافی ووافی کے بعد بعض فضولیات میں ایسے مؤثر ہلکے آسان اختلافوں کو جنہیں معاملے سے کچھ تعلق نہ ہو دستاویز بناکر شہادت متفقہ کو رد کردینے کا اگر فتح باب ہو تو عامہ حقوق ضائع ہوجائیںظالمین اموال وفروج پر دسترس پائیںمظلوم اپنے حق سے محروم رہ جائیںکچہریاں صرف اعانت ظلمہ کے صیغے نظرآئیں کہ انسان نسیان کےلئے ہے اور زوائد ضائعہ کی طرف نہ ذہن ابتداء التفات تام کرتا ہے نہ حافظہ انتہاء ان کا اہتمامایسی کسی بات میں ایك آدھ اختلاف ہوجانا نادر نہیں بلکہ کثیر و غالب ہے خصوصا اس بدعت شنیعہ کے ہاتھوں جو آجکل کے وکلاء نے اتلاف حقوق وتکذیب صدوق کےلئے تراشی اور قضاۃ نے اس پر تقریر کی محض براہ مغالطہ شہود کا بیان متزلزل کردینے کے لئے صدہا سوالات فضول و مہملات سو سو طرح کے پیچ دے کر کرتے اور شرع نے جن کے اکرام کاحکم دیا جنہیں ذریعہ دادرسی مظلوم بنایا ان کے اغوا وتضلیل وازلال و تذلیل میں کوئی دقیقہ نامرعی نہیں رکھتے اس بیہودہ بے معنی کشاکش پریشان کن میں آدمی کے آئے حواس جاتے ہیں خصوصا نساء وضعفا وارباب سلامت صدر اور وہ لوگ جنہیں کچہریوں کا اتفاق کم ہوا کہ یہ توان حضرات کے سخرہ و دست مال ہیں جب فہرست شہود میں ایسوں کانام پاتے ہیں براہ تاخر فرماتے ہیں وہ بہت سیدھے مسلمان ہیں دیکھنا دو سوالوں میں بول جائیں گے جس کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ بھولا راستباز جھوٹا ٹھہرتا ہے اور جھوٹا فسوں کار سچارسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المؤمن غرکریم والفاجر خب لئیم ۔رواہ ابوداؤد و الترمذی والحاکم بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مومن کریم ہونے کی بناء پر دھوکا کھاتا ہے اور فاجر شخص قابل ملامت ہونے کی وجہ سے دھوکاباز ہوتا ہے۔اسے ابودادؤد ترمذی اور حاکم نے جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
شھد احد ھما انہ اعتقہ بالعربیۃ والاخر بالفارسیۃ تقبل بخلاف الطلاق والاصح القبول فیہما ۔ ایك نے شہادت دی کہ اس نے عربی میںاور دوسرے نے شہادت دی کہ اس نے فارسی میں آزاد کہامقبول ہوگی بخلاف طلاق کےلیکن صحیح یہ ہے کہ عتاق وطلاق دونوں میں مقبول ہے۔(ت)
ثالثا: اصل شہادت میں اتفاق شافی ووافی کے بعد بعض فضولیات میں ایسے مؤثر ہلکے آسان اختلافوں کو جنہیں معاملے سے کچھ تعلق نہ ہو دستاویز بناکر شہادت متفقہ کو رد کردینے کا اگر فتح باب ہو تو عامہ حقوق ضائع ہوجائیںظالمین اموال وفروج پر دسترس پائیںمظلوم اپنے حق سے محروم رہ جائیںکچہریاں صرف اعانت ظلمہ کے صیغے نظرآئیں کہ انسان نسیان کےلئے ہے اور زوائد ضائعہ کی طرف نہ ذہن ابتداء التفات تام کرتا ہے نہ حافظہ انتہاء ان کا اہتمامایسی کسی بات میں ایك آدھ اختلاف ہوجانا نادر نہیں بلکہ کثیر و غالب ہے خصوصا اس بدعت شنیعہ کے ہاتھوں جو آجکل کے وکلاء نے اتلاف حقوق وتکذیب صدوق کےلئے تراشی اور قضاۃ نے اس پر تقریر کی محض براہ مغالطہ شہود کا بیان متزلزل کردینے کے لئے صدہا سوالات فضول و مہملات سو سو طرح کے پیچ دے کر کرتے اور شرع نے جن کے اکرام کاحکم دیا جنہیں ذریعہ دادرسی مظلوم بنایا ان کے اغوا وتضلیل وازلال و تذلیل میں کوئی دقیقہ نامرعی نہیں رکھتے اس بیہودہ بے معنی کشاکش پریشان کن میں آدمی کے آئے حواس جاتے ہیں خصوصا نساء وضعفا وارباب سلامت صدر اور وہ لوگ جنہیں کچہریوں کا اتفاق کم ہوا کہ یہ توان حضرات کے سخرہ و دست مال ہیں جب فہرست شہود میں ایسوں کانام پاتے ہیں براہ تاخر فرماتے ہیں وہ بہت سیدھے مسلمان ہیں دیکھنا دو سوالوں میں بول جائیں گے جس کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ بھولا راستباز جھوٹا ٹھہرتا ہے اور جھوٹا فسوں کار سچارسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المؤمن غرکریم والفاجر خب لئیم ۔رواہ ابوداؤد و الترمذی والحاکم بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مومن کریم ہونے کی بناء پر دھوکا کھاتا ہے اور فاجر شخص قابل ملامت ہونے کی وجہ سے دھوکاباز ہوتا ہے۔اسے ابودادؤد ترمذی اور حاکم نے جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب الدعوٰی والشہادات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۳۴۵€
سنن ابی داؤد کتاب الادب ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۶۰€
سنن ابی داؤد کتاب الادب ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۶۰€
وہاں ایسے کسی اختلاف یسیر کا بھی اصلا واقع نہ ہونا ہے تعجب ہے تو ان پر نظر کا حاصل سوا اضاعت حقوق اعانت عقوق کے اور کیا قرار پاسکتا ہےوالعیاذ باﷲ تعالیپرظاہر کہ اس میں حرج صریح ہے اور حرج بنص قطعی مدفوع۔جامع الفصولین میں ہے:
عدم القبول فی امثالہ یفضی الی الحرج والتضییق وتضییع کثیر من الحقوق وامرنا بیسرلابعسر والحرج مدفوع شرعا۔ ایسی صورتوں میں قبول نہ کرنا حرجتنگی اور بہت سے حقوق کے ضیاع کا سبب بنتا ہے جبکہ ہمیں یسر کا حکم ہے تنگی اور دشواری پیداکرنے کا حکم نہیں نیز حرج شرعا مدفوع ہے۔(ت)
(روایت نادرہ ابی یوسف)کو مذہب امام ابویوسف کہنا کس قدرخلاف فقاہت ہے نہ قاضی ومفتی کو اس پر عمل وحکم کی اجات۔ جامع صغیر ومبسوط امام محمد وبحرالرائق واشباہ والنظائر وزواہر الجواہر و درمختارو فتاوی صغری و فصول عمادی وخزانۃ المفتین وجامع الفصولین وغایۃ البیان و فتاوی انقرویہردالمحتار وفتاوی خلاصہ وکافی ولسان الحکام و معین الحکام و عقود الدریہ و وجیز کردری وفتاوی خانیہ وفتاوی ظہیریہ و فتاوی قاعدیہ وغیرہا کتب معتمدہ مذہب کی عبارات کثیرہ اوپر گزریں کہ اس روایت نادرہ کے سراسر خلاف ہیں اور انہیں پر انحصار نہیںعامہ کتب مذہب میں اس کا خلاف موجوداور اس روایت کامخالف ظاہرالروایت ہونا خود عبارت منقولہ فیصلہ سے ثابت فیصلہ سے جس قدر سائل نے نقل کیا وہ یہیں سے ہے کہ اذا ارتاب القاضی(جب قاضی کو شك ہو۔ (ت)حالانکہ اصل عبار ت محیط ان الفاظ سے شروع ہے:قال فی الاصل اذاارتاب القاضی الخ(اصل(مبسوط)میں فرمایا جب قاضی شك میں مبتلا ہو الخ۔ت)جس سے صاف ظاہر کہ محرر المذہب امام محمد نے کتاب الاصل میں کہ کتب ستہ ظاہر الروایۃ سے ہے بے حکایت خلاف تصریح صاف فرمائی کہ شاہدوں کا زمان ومکان میں بھی اختلاف مطلقا مضر شہادت نہیں جہاں ہے"ہے"یعنی افعال نہ طلاق و عتاق وبیع وامثالہا اقوال چہ جائے اختلاف ثیاب ومراکب وحضار واقعہ نساء ورجال اورصاف یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مجرد تہمت وریب کی بناء پر شہادت رد نہ کی جائے گینیز اسی عبارت سے یہ بھی ثابت کہ نوادر میں بھی یہ صرف روایت ابی یوسف ہے برخلاف امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالی عنہ
عدم القبول فی امثالہ یفضی الی الحرج والتضییق وتضییع کثیر من الحقوق وامرنا بیسرلابعسر والحرج مدفوع شرعا۔ ایسی صورتوں میں قبول نہ کرنا حرجتنگی اور بہت سے حقوق کے ضیاع کا سبب بنتا ہے جبکہ ہمیں یسر کا حکم ہے تنگی اور دشواری پیداکرنے کا حکم نہیں نیز حرج شرعا مدفوع ہے۔(ت)
(روایت نادرہ ابی یوسف)کو مذہب امام ابویوسف کہنا کس قدرخلاف فقاہت ہے نہ قاضی ومفتی کو اس پر عمل وحکم کی اجات۔ جامع صغیر ومبسوط امام محمد وبحرالرائق واشباہ والنظائر وزواہر الجواہر و درمختارو فتاوی صغری و فصول عمادی وخزانۃ المفتین وجامع الفصولین وغایۃ البیان و فتاوی انقرویہردالمحتار وفتاوی خلاصہ وکافی ولسان الحکام و معین الحکام و عقود الدریہ و وجیز کردری وفتاوی خانیہ وفتاوی ظہیریہ و فتاوی قاعدیہ وغیرہا کتب معتمدہ مذہب کی عبارات کثیرہ اوپر گزریں کہ اس روایت نادرہ کے سراسر خلاف ہیں اور انہیں پر انحصار نہیںعامہ کتب مذہب میں اس کا خلاف موجوداور اس روایت کامخالف ظاہرالروایت ہونا خود عبارت منقولہ فیصلہ سے ثابت فیصلہ سے جس قدر سائل نے نقل کیا وہ یہیں سے ہے کہ اذا ارتاب القاضی(جب قاضی کو شك ہو۔ (ت)حالانکہ اصل عبار ت محیط ان الفاظ سے شروع ہے:قال فی الاصل اذاارتاب القاضی الخ(اصل(مبسوط)میں فرمایا جب قاضی شك میں مبتلا ہو الخ۔ت)جس سے صاف ظاہر کہ محرر المذہب امام محمد نے کتاب الاصل میں کہ کتب ستہ ظاہر الروایۃ سے ہے بے حکایت خلاف تصریح صاف فرمائی کہ شاہدوں کا زمان ومکان میں بھی اختلاف مطلقا مضر شہادت نہیں جہاں ہے"ہے"یعنی افعال نہ طلاق و عتاق وبیع وامثالہا اقوال چہ جائے اختلاف ثیاب ومراکب وحضار واقعہ نساء ورجال اورصاف یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مجرد تہمت وریب کی بناء پر شہادت رد نہ کی جائے گینیز اسی عبارت سے یہ بھی ثابت کہ نوادر میں بھی یہ صرف روایت ابی یوسف ہے برخلاف امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۶€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المحیط کتاب ادب القضاء الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المحیط کتاب ادب القضاء الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
توجماہیر کے خلافامام کے خلافظاہر الروایۃ کے خلافدلیل کے خلافبے تصحیح صریح و ترجیح رجیح ائمہ افتاء ایك روایت شاذہ نادرہ پر فیصلہ کیونکر رواائمہ وعلماء کی روشن تصریحا ت ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے ہمارے ائمہ کامذہب نہیں وہ مرجوع عنہ ہے قول مرجوح پر افتاء وقضاء جہل وخرق اجماع ہے نہ کہ مرجوع عنہ کہ سرے سے قول ہی نہ رہالاجرم ایسے فیصلے کو منسوخ کردینے کا حکم فرمایا اور اگر والی مولی جس نے قاضی عہدہ قضا دیا تصریح کردی کہ مذہب امام یا قول مصحح پر عمل کرنا جیساکہ غالبا یونہی ہوتا ہے جب تو ایسا فیصلہ قطعا اجماعا سرے ہی سے باطل و نامعتبر و محض بے اثر جسے منسوخ کرنے کی بھی حاجت نہیں کہ قاضی اب ماورائے مذہب میں معزول ومثل احدمن الناس ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قد صرحو ابان العمل بما علیہ الاکثر ۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔ (ت)
امداد الفتاح علامہ شرنبلالی میں ہے:
القاعدۃ العمل بماعلیہ الاکثر ۔ قاعدہ ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔(ت)
شرح الاشباہ للعلامۃ البیری وعقودالدریہ میں ہے:
المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بما قالہ الاکثر ۔ مشائخ کے ہاں ثابت شدہ ہے کہ جب مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کا اعتبار ہوگا۔(ت)
تنویر الابصار ودرمختار ومنیہ وسراجیہ وغیرہا میں ہے:
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔ مفتی کی طرح قاضی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کو علی الاطلا ق لے گا۔(ت)
ثلثہ اخیرہ میں ہے:ھو الاصح (وہی اصح ہے۔ت)بحر الرائق میں ہے:یجب علینا الافتاء
قد صرحو ابان العمل بما علیہ الاکثر ۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔ (ت)
امداد الفتاح علامہ شرنبلالی میں ہے:
القاعدۃ العمل بماعلیہ الاکثر ۔ قاعدہ ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔(ت)
شرح الاشباہ للعلامۃ البیری وعقودالدریہ میں ہے:
المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بما قالہ الاکثر ۔ مشائخ کے ہاں ثابت شدہ ہے کہ جب مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کا اعتبار ہوگا۔(ت)
تنویر الابصار ودرمختار ومنیہ وسراجیہ وغیرہا میں ہے:
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۔ مفتی کی طرح قاضی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کو علی الاطلا ق لے گا۔(ت)
ثلثہ اخیرہ میں ہے:ھو الاصح (وہی اصح ہے۔ت)بحر الرائق میں ہے:یجب علینا الافتاء
حوالہ / References
ردالمحتار باب المیاہ قبل باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
العقو دالدریہ بحوالہ الشرنبلالی مسائل وفوائد من الحظر والاباحۃ الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵€۶
العقو دالدریہ بحوالہ بیری مقدمۃ الکتاب ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ €۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
العقو دالدریہ بحوالہ الشرنبلالی مسائل وفوائد من الحظر والاباحۃ الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵€۶
العقو دالدریہ بحوالہ بیری مقدمۃ الکتاب ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ €۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
درمختار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
بقول الامام (ہم پر امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر فتوی دینا واجب ہے۔ت)خیریہ میں ہے:
المقر ایضا عندنا انہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم الخ۔ ہمارے ہاں یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے قول کے بغیر نہ فتوی دیا جائے اور نہ عمل کیا جائے الخ(ت)
ردالمحتار میں صدر کتاب احیاء الموات میں ہے:
وذلك عجیب لما قالواان ماخالف ظاہر الروایۃ لیس مذہبا لاصحابنا ۔ یہ امر عجیب ہے کیونکہ ان فقہاء کرام نے فرمایا کہ جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہے۔(ت)
بحرالرائق کتاب القضاء میں ہے:
ماخرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ لما قرروہ فی الاصول من عدم امکان صدور قولین مختلفین متساویین من مجتہد والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۔ جو ظاہر الروایت سے خارج ہے وہ مرجوع عنہ ہے کیونکہ انہوں نے اصول میں یہ امرثابت شدہ قرار دیا ہے کہ مجتہد سے دو مساوی مختلف قول صادر ہونا ممکن نہیں اور جس قول سے رجوع کرلیا ہو تو وہ مجتہد کا قول نہیں رہتا۔(ت)
خیریہ اواخرشہادات میں ہے:
ھذاھو المذہب الذی لایعدل عنہ الی غیرہ وما سواہ روایات خارجۃ عن ظاہر الروایۃ وما خرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۔ مذہب یہی ہے جس سے غیر کی طرف عدول نہیں کیاجاسکتا اور اس کے ماسوا روایات ظاہر الروایۃ سے خارج ہیں اور جو ظاہر الروایۃ سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہے اور جو مرجوع عنہ ہو وہ مجتہد کا قول نہیں رہتا۔(ت)
تصحیح القدوری ودرمختار میں ہے:
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔ کوئی حکم یا فتوی مرجوح قول پر ہو تو وہ جہالت اور اجماع کے مخالف ہے۔(ت)
حواشی ثلثہ سادات ثلثہ ابراہیم حلبی واحمد مصری ومحمد شامی میں ہے:
اولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاہر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ ۔ اس سے زیادہ باطل یہ ہے کہ فتوی دینا ظاہر الروایۃ کے خلاف جس کی تصحیح نہ ہواور مرجوع عنہ قول پر فتوی دینا ہے۔(ت)
المقر ایضا عندنا انہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم الخ۔ ہمارے ہاں یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے قول کے بغیر نہ فتوی دیا جائے اور نہ عمل کیا جائے الخ(ت)
ردالمحتار میں صدر کتاب احیاء الموات میں ہے:
وذلك عجیب لما قالواان ماخالف ظاہر الروایۃ لیس مذہبا لاصحابنا ۔ یہ امر عجیب ہے کیونکہ ان فقہاء کرام نے فرمایا کہ جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہے۔(ت)
بحرالرائق کتاب القضاء میں ہے:
ماخرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ لما قرروہ فی الاصول من عدم امکان صدور قولین مختلفین متساویین من مجتہد والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۔ جو ظاہر الروایت سے خارج ہے وہ مرجوع عنہ ہے کیونکہ انہوں نے اصول میں یہ امرثابت شدہ قرار دیا ہے کہ مجتہد سے دو مساوی مختلف قول صادر ہونا ممکن نہیں اور جس قول سے رجوع کرلیا ہو تو وہ مجتہد کا قول نہیں رہتا۔(ت)
خیریہ اواخرشہادات میں ہے:
ھذاھو المذہب الذی لایعدل عنہ الی غیرہ وما سواہ روایات خارجۃ عن ظاہر الروایۃ وما خرج عن ظاہر الروایۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۔ مذہب یہی ہے جس سے غیر کی طرف عدول نہیں کیاجاسکتا اور اس کے ماسوا روایات ظاہر الروایۃ سے خارج ہیں اور جو ظاہر الروایۃ سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہے اور جو مرجوع عنہ ہو وہ مجتہد کا قول نہیں رہتا۔(ت)
تصحیح القدوری ودرمختار میں ہے:
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔ کوئی حکم یا فتوی مرجوح قول پر ہو تو وہ جہالت اور اجماع کے مخالف ہے۔(ت)
حواشی ثلثہ سادات ثلثہ ابراہیم حلبی واحمد مصری ومحمد شامی میں ہے:
اولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاہر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ ۔ اس سے زیادہ باطل یہ ہے کہ فتوی دینا ظاہر الروایۃ کے خلاف جس کی تصحیح نہ ہواور مرجوع عنہ قول پر فتوی دینا ہے۔(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۷۰۔۲۶۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۳۳€
ردالمحتار کتاب احیاء الموات احیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷۸€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۷۰€
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۳€
درمختار مقدمۃ الکتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۳۳€
ردالمحتار کتاب احیاء الموات احیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷۸€
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۷۰€
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۳€
درمختار مقدمۃ الکتاب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۱€
تنویر وشرح علائی میں ہے:
لایخیر اذلم یکن مجتہد ابل المقلد متی خالف معتمد مذہبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھو المختار للفتوی کما بسطہ المصنف فی فتاویہ غیرہ ۔ مجتہد کے غیر کو اختیار نہ ہوگا بلکہ مقلد جب اپنے معتمد علیہ مذہب کے خلاف فیصلہ دے تو وہ نافذ نہ ہوگا اور اس کو کالعدم قرار دیا جائے گایہی فتوی کیلئے مختار جیساکہ مصنف نے اپنے دوسرے فتاوی میں اس کو بسط سے بیان کیا ہے۔(ت)
انہیں میں ہے:
(قضی فی مجتہدفیہ بخلاف رأیہ) ای مذہبہمجمع وابن کمال(لاینفذ مطلقا) ناسیا او عامدا عندھما والائمۃ الثلثۃ(وبہ یفتی) مجمع وقایۃ وملتقیوقیل بالنفاذ یفتی وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی قضی من لیس مجتہدا کحنفیۃ زماننا قاضی نے مجتہد فیہ مسئلہ میں اپنی رائے یعنی اپنے مذہب کے خلافمجمع اور ابن کمال(مطلقا نافذ نہ ہوگا) خواہ قصدا ہو یا سہواصاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے ہاں(اسی پر فتوی ہے) مجمع وملتقی اور وقایہاور بعض نے کہا نفاذ پر فتوی ہے۔علامہ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے ہمارے زمانہ کے حنفی قاضی کی طرح غیر مجتہد
لایخیر اذلم یکن مجتہد ابل المقلد متی خالف معتمد مذہبہ لاینفذ حکمہ وینقض ھو المختار للفتوی کما بسطہ المصنف فی فتاویہ غیرہ ۔ مجتہد کے غیر کو اختیار نہ ہوگا بلکہ مقلد جب اپنے معتمد علیہ مذہب کے خلاف فیصلہ دے تو وہ نافذ نہ ہوگا اور اس کو کالعدم قرار دیا جائے گایہی فتوی کیلئے مختار جیساکہ مصنف نے اپنے دوسرے فتاوی میں اس کو بسط سے بیان کیا ہے۔(ت)
انہیں میں ہے:
(قضی فی مجتہدفیہ بخلاف رأیہ) ای مذہبہمجمع وابن کمال(لاینفذ مطلقا) ناسیا او عامدا عندھما والائمۃ الثلثۃ(وبہ یفتی) مجمع وقایۃ وملتقیوقیل بالنفاذ یفتی وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی قضی من لیس مجتہدا کحنفیۃ زماننا قاضی نے مجتہد فیہ مسئلہ میں اپنی رائے یعنی اپنے مذہب کے خلافمجمع اور ابن کمال(مطلقا نافذ نہ ہوگا) خواہ قصدا ہو یا سہواصاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے ہاں(اسی پر فتوی ہے) مجمع وملتقی اور وقایہاور بعض نے کہا نفاذ پر فتوی ہے۔علامہ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے ہمارے زمانہ کے حنفی قاضی کی طرح غیر مجتہد
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲€
بخلاف مذہبہ عامدالاینفذ اتفاقا وکذا ناسیا عندھماولو قیدہ السلطان بصحیح مذہبہ کزماننا تقید بلاخلاف لکونہ معزولا عنہ اھ وقد غیرت بیت الوھبانیۃ فقلت
ولو حکم القاضی بحکم مخالف لمذہبہ ماصح اصلایسطر ۔ نے اپنے مذہب کے خلاف قصدا فیصلہ دیا تو بالاتفاق نافذ نہ ہوگااور یوں ہی بھول کردیا تو صاحبین کے ہاں وہ بھی نافذ نہ ہوگااور اگر سلطان نے قاضی کو اپنے مذہب کے صحیح پر فیصلہ کا پابند کیا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں پابند کیا جاتا ہے تو بغیر اختلاف وہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ قاضی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اھ اور میں نے وبانیہ کے شعر کو تبدیل کرتے ہوئے یوں کہاہے:اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو قطعا صحیح نہ ہوگا یوں لکھا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں قبیل باب التحکیم ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ جو قاضی امام صاحب کے اقوال میں سے اصح قول پرفیصلہ کا پابند بنایا گیا ہو جب وہ اس کے غیر پر فیصلہ دے تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
فتح القدیر ہے:
اما المقلد فانما ولاہ لیحکم بمذہب ابی حنیفۃ فلا یملك المخالفۃ فیکون معزولا بالنسبۃ الی ذلك الحکم ۔ اگرمقررکرنے والے نے قاضی کو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے مذہب کا پابند کیا ہو وہ مخالفت کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ وہ ایسے حکم کا مجاز نہ تھا۔(ت)
برہان شرح مواہب الرحمن پھر غنیۃ ذوی الاحکام شرح دررالحکام میں ہے:
ھذاصریح الحق الذی یعض علیہ بالنواجذ ۔ یہ صریح حق ہے جس کو دانتوں سے مضبوط پکڑنا چاہئے۔ (ت)
ولو حکم القاضی بحکم مخالف لمذہبہ ماصح اصلایسطر ۔ نے اپنے مذہب کے خلاف قصدا فیصلہ دیا تو بالاتفاق نافذ نہ ہوگااور یوں ہی بھول کردیا تو صاحبین کے ہاں وہ بھی نافذ نہ ہوگااور اگر سلطان نے قاضی کو اپنے مذہب کے صحیح پر فیصلہ کا پابند کیا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں پابند کیا جاتا ہے تو بغیر اختلاف وہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ قاضی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اھ اور میں نے وبانیہ کے شعر کو تبدیل کرتے ہوئے یوں کہاہے:اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو قطعا صحیح نہ ہوگا یوں لکھا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں قبیل باب التحکیم ہے:
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح ۔ جو قاضی امام صاحب کے اقوال میں سے اصح قول پرفیصلہ کا پابند بنایا گیا ہو جب وہ اس کے غیر پر فیصلہ دے تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
فتح القدیر ہے:
اما المقلد فانما ولاہ لیحکم بمذہب ابی حنیفۃ فلا یملك المخالفۃ فیکون معزولا بالنسبۃ الی ذلك الحکم ۔ اگرمقررکرنے والے نے قاضی کو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے مذہب کا پابند کیا ہو وہ مخالفت کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ وہ ایسے حکم کا مجاز نہ تھا۔(ت)
برہان شرح مواہب الرحمن پھر غنیۃ ذوی الاحکام شرح دررالحکام میں ہے:
ھذاصریح الحق الذی یعض علیہ بالنواجذ ۔ یہ صریح حق ہے جس کو دانتوں سے مضبوط پکڑنا چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۰€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۶€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی فصل آخر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۹۷€
غنیۃ ذو ی الاحکام شرح درر الاحکام کتاب القضاء ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۱۰€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۴۶€
فتح القدیر کتاب ادب القاضی فصل آخر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۹۷€
غنیۃ ذو ی الاحکام شرح درر الاحکام کتاب القضاء ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۱۰€
فتاوی علامہ قاسم بن قطلوبغامیں ہے:
لیس للقاضی المقلد ان یحکم بالضعیف لانہ لیس من اھل الترجیح فلا یعدل عن الصحیح الالقصد غیر جمیل ولو حکم لاینفذ لان قضائہ قضاء بغیر الحق لان الحق ھوالصحیح وما وقع من ان القول الضعیف یتقوی بالقضاء المراد بہ قضاء المجتہد کما بین فی موضعہ ۔ مقلد قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ضعیف قو ل پر فیصلہ دے کیونکہ وہ اہل ترجیح میں سے نہیں ہے تو وہ صحیح قول سے عدول نہیں کرسکتا سوائے کسی غیر پسندیدہ وجہ کےاگر اس نے ایسا فیصلہ دیا تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ ناحق ہے کیونکہ صحیح قول پر ہی حق ہےاور یہ قول کہ ضعیف کو فیصلہ قوی بنادیتا ہے تو اس سے مراد مجتہد کا فیصلہ ہے جیسا کہ اس کے مقام پر واضح کیا گیا۔(ت)
فواکہ بدریہ علامہ ابن الغرس میں ہے:
واما المقلد المحض فلا یقضی الابما علیہ العمل والفتوی ۔ لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اس پر فیصلہ دے سکتا ہے جس پر فتوی اور عمل ہو۔(ت)
رسائل علامہ زین بن نجیم میں ہے:
اما القاضی المقلد فلیس لہ الحکم الا بالصحیح المفتی بہ فی مذہبہ ولا ینفذ قضاؤہ بالقول الضعیف اھ اثر ھذہ الخمس جمیعا فی ردالمحتار۔ لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اپنے مذہب کے صحیح مفتی بہ قول پر فیصلہ دے سکتا ہے ضعیف قول پر فیصلہ دے تو وہ نافذ نہ ہوگا اھ ان پانچوں عبارات کو ردالمحتار میں نقل کیا ہے۔(ت)
ان روایات صحیحہ صریحہ کثیرہ شہیرہ متوافرہ متظافرہ سے شمس وامس کی طرح واضح ہوا کہ مجوز نے اس روایت پر فیصلہ کرنے میں سراسر خلاف حکم کیا اس بناء پر فیصلہ واجب النقض بلکہ سرے سے باطل محض ہے یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ فیصلہ کو اس روایت نادرہ کے موافق فرض کرلیجئے ورنہ انصاف یہ کہ وہ اس کے بھی موافق نہیںیہ روایت نادرہ مطلقا ایسے اختلافات یسیرہ کو مانع شہادت ٹھہراتی بلکہ اس حالت میں جب قرائن صحیحہ و امارات صریحہ سے قاضی کو مرتبہ ظن حاصل ہو کہ یہ گواہ جھوٹی گواہی دے رہے ہیں کہ اس میں صاف
لیس للقاضی المقلد ان یحکم بالضعیف لانہ لیس من اھل الترجیح فلا یعدل عن الصحیح الالقصد غیر جمیل ولو حکم لاینفذ لان قضائہ قضاء بغیر الحق لان الحق ھوالصحیح وما وقع من ان القول الضعیف یتقوی بالقضاء المراد بہ قضاء المجتہد کما بین فی موضعہ ۔ مقلد قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ضعیف قو ل پر فیصلہ دے کیونکہ وہ اہل ترجیح میں سے نہیں ہے تو وہ صحیح قول سے عدول نہیں کرسکتا سوائے کسی غیر پسندیدہ وجہ کےاگر اس نے ایسا فیصلہ دیا تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ ناحق ہے کیونکہ صحیح قول پر ہی حق ہےاور یہ قول کہ ضعیف کو فیصلہ قوی بنادیتا ہے تو اس سے مراد مجتہد کا فیصلہ ہے جیسا کہ اس کے مقام پر واضح کیا گیا۔(ت)
فواکہ بدریہ علامہ ابن الغرس میں ہے:
واما المقلد المحض فلا یقضی الابما علیہ العمل والفتوی ۔ لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اس پر فیصلہ دے سکتا ہے جس پر فتوی اور عمل ہو۔(ت)
رسائل علامہ زین بن نجیم میں ہے:
اما القاضی المقلد فلیس لہ الحکم الا بالصحیح المفتی بہ فی مذہبہ ولا ینفذ قضاؤہ بالقول الضعیف اھ اثر ھذہ الخمس جمیعا فی ردالمحتار۔ لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اپنے مذہب کے صحیح مفتی بہ قول پر فیصلہ دے سکتا ہے ضعیف قول پر فیصلہ دے تو وہ نافذ نہ ہوگا اھ ان پانچوں عبارات کو ردالمحتار میں نقل کیا ہے۔(ت)
ان روایات صحیحہ صریحہ کثیرہ شہیرہ متوافرہ متظافرہ سے شمس وامس کی طرح واضح ہوا کہ مجوز نے اس روایت پر فیصلہ کرنے میں سراسر خلاف حکم کیا اس بناء پر فیصلہ واجب النقض بلکہ سرے سے باطل محض ہے یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ فیصلہ کو اس روایت نادرہ کے موافق فرض کرلیجئے ورنہ انصاف یہ کہ وہ اس کے بھی موافق نہیںیہ روایت نادرہ مطلقا ایسے اختلافات یسیرہ کو مانع شہادت ٹھہراتی بلکہ اس حالت میں جب قرائن صحیحہ و امارات صریحہ سے قاضی کو مرتبہ ظن حاصل ہو کہ یہ گواہ جھوٹی گواہی دے رہے ہیں کہ اس میں صاف
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ فتاویٰ قاسم بن قطلوبغا کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۳۵€
ردالمحتار بحوالہ فواکہ بدریۃ ابن الغرس کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۳۵€
ردالمحتار بحوالہ رسائل ابن نجیم کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۳۵€
ردالمحتار بحوالہ فواکہ بدریۃ ابن الغرس کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۳۵€
ردالمحتار بحوالہ رسائل ابن نجیم کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۳۵€
شرط مذکور:
اذااتھتھم ورأیت الریبۃ فظننت انھم شہود الزور ۔ جب میں ان کو متہم پاؤں اور مشکوك معاملہ دیکھوں تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں(ت)
صرف تہمت پر بھی قناعت نہ فرمائی بلکہ زیادہ کیا کہ میں ان میں ریب دیکھ لوں مجھے ان کی شاہد کذب ہونے پر گمان غالب حاصل ہوجائے یہاں مجوز نے ان تمام شہادات میں کیا ریب دیکھ لیا کس بنا پر ان کی یہ گواہی جھوٹ ہونے پر ظن ہاتھ آیا۔
(ریب وتہمت)اس بنا پر کہ اکثر مخلوق نے پیشہ شہادت زور اختیار کرلیا ہے محض بے اصل ہے شیوع کذب وعدم اعتماد خود زمانہ امام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی کہ قرون خیر منقضی ہوچکے تھےشہادت احادیث صحیحہ متحقق ہولیا تھا ولہذا صاحبین نے برخلاف مذہب صاحب مذہب رضی اﷲ تعالی عنہم ظاہر عدالت پر اطمینان نہ رکھا خفیہ وآشکارا تحقیق وتزکیہ لازم کیا علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ اختلاف اختلاف برہان نہیں اختلاف زمان ہے۔درمختار میں ہے:
لا یسأل عن شاہد بلا طعن من الخصم الافی حد وقود عندھما یسال فی الکل ان جہل بحالھم بحر سرا وعلنابہ یفتی وھو اختلاف زمان لانھما کانافی القرن الرابع ولو اکتفی بالسرجازمجمعوبہ یفتی سراجیۃ ۔ قاضی فریق مخالف کے اعتراض کے بغیر گواہوں کی تفتیش نہ کرے ماسوائے قصاص اور حد کےاور صاحبین کے نزدیك تمام مقدمات میں تفتیش کرسکتا ہے اگر قاضی گواہوں کے حال سے ناواقف ہوبحرخفیہ اور اعلانیہ بھی۔اسی پر فتوی ہے اور یہ زمانہ کے اختلاف کا معاملہ ہے کیونکہ صاحبین قرن رابع میں تھےاگر خفیہ تفتیش کرے تو بھی صحیح ہےاسی پر فتوی ہے سراجیہ (ت)
تو اس روایت میں یہ شیوع کذب کی عام بے اطمینانی قطعا مراد نہیں ورنہ قید و شرط کی حاجت نہ تھی بلکہ بالخصوص ان گواہوں میں کوئی ریب واضح پیدا ہونا مقصود ہے ولہذا"ورأیت الریب"فرمایاپہر ظاہر کہ اس عام احتمال بات سے ان شہود کے کاذب ہونے پر ظن نہیں ہوسکتا اور روایت میں صراحۃ فرمایا فظننت انھم شہود الزور (تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)شادی
اذااتھتھم ورأیت الریبۃ فظننت انھم شہود الزور ۔ جب میں ان کو متہم پاؤں اور مشکوك معاملہ دیکھوں تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں(ت)
صرف تہمت پر بھی قناعت نہ فرمائی بلکہ زیادہ کیا کہ میں ان میں ریب دیکھ لوں مجھے ان کی شاہد کذب ہونے پر گمان غالب حاصل ہوجائے یہاں مجوز نے ان تمام شہادات میں کیا ریب دیکھ لیا کس بنا پر ان کی یہ گواہی جھوٹ ہونے پر ظن ہاتھ آیا۔
(ریب وتہمت)اس بنا پر کہ اکثر مخلوق نے پیشہ شہادت زور اختیار کرلیا ہے محض بے اصل ہے شیوع کذب وعدم اعتماد خود زمانہ امام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی کہ قرون خیر منقضی ہوچکے تھےشہادت احادیث صحیحہ متحقق ہولیا تھا ولہذا صاحبین نے برخلاف مذہب صاحب مذہب رضی اﷲ تعالی عنہم ظاہر عدالت پر اطمینان نہ رکھا خفیہ وآشکارا تحقیق وتزکیہ لازم کیا علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ اختلاف اختلاف برہان نہیں اختلاف زمان ہے۔درمختار میں ہے:
لا یسأل عن شاہد بلا طعن من الخصم الافی حد وقود عندھما یسال فی الکل ان جہل بحالھم بحر سرا وعلنابہ یفتی وھو اختلاف زمان لانھما کانافی القرن الرابع ولو اکتفی بالسرجازمجمعوبہ یفتی سراجیۃ ۔ قاضی فریق مخالف کے اعتراض کے بغیر گواہوں کی تفتیش نہ کرے ماسوائے قصاص اور حد کےاور صاحبین کے نزدیك تمام مقدمات میں تفتیش کرسکتا ہے اگر قاضی گواہوں کے حال سے ناواقف ہوبحرخفیہ اور اعلانیہ بھی۔اسی پر فتوی ہے اور یہ زمانہ کے اختلاف کا معاملہ ہے کیونکہ صاحبین قرن رابع میں تھےاگر خفیہ تفتیش کرے تو بھی صحیح ہےاسی پر فتوی ہے سراجیہ (ت)
تو اس روایت میں یہ شیوع کذب کی عام بے اطمینانی قطعا مراد نہیں ورنہ قید و شرط کی حاجت نہ تھی بلکہ بالخصوص ان گواہوں میں کوئی ریب واضح پیدا ہونا مقصود ہے ولہذا"ورأیت الریب"فرمایاپہر ظاہر کہ اس عام احتمال بات سے ان شہود کے کاذب ہونے پر ظن نہیں ہوسکتا اور روایت میں صراحۃ فرمایا فظننت انھم شہود الزور (تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)شادی
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیۃ کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
کے چھ سات مہینے بعد طلاق ہونا بھی کچھ موجب ریب نہیں جس طرح تین چار دن بھی والدین کے یہاں نہ چھوڑنے کو مجوز نے فرط محبت پر محمول کرکے اسے مبنائے ریب ٹھہرایا ہےیوں ہی برابر کا احتمال یہ بھی موجود کہ یہ بربنائے خشونت وشدت وسخت گیری ہو جس کاخاتمہ تین طلاق پر ہواعورتیں مردوں کے ہاتھ میں قیدی ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ اﷲ فی النساء فانھن عوان بین ایدیکم ۔ اﷲسے ڈرواﷲ سے ڈرو عورتوں کے حق میں کہ وہ تمہارے ہاتھ میں قیدی ہیں۔
بد مزاج لوگ عورت کو دو دن بھی والدین کے یہاں بخوشی نہیں چھوڑتے نہ بربنائے کمال انس و محبت بلکہ شدت و غلظت واظہار حکومتبلکہ یہاں یہی احتمال زیادہ راجح تھا اولا: عورات کا ضعف " الرجال قومون علی النساء " (مرد عورتوں پر قوی منتظم ہیں۔ت)سرکشی زناں بہ نسبت سخت گیری مرداں نادر ہے۔
ثانیا: بر خلاف معتاد جملہ بلا د اول بار بھی عورت کا بضمانت جانا تند مزاجی شوہر سے ترس شدیدکا پتہ دے رہا ہے۔
ثالثا:نام طلاق جس قدر عورتوں کو سخت شدید ناگوار ہے مردوں کو نہیں کہ اس میں انہیں اپنی بدنامی کا بھی زیادہ لحاظ ہوتا ہے لوگ کیاکہیں گےکیاسمجھیں گےکیوں چھوڑدیااور اس کے ساتھ اپنے عیش باقی اور آنے والی عمر کا خیال کہ زنان ہند میں نکاح ثانی عار ہے۔تو بے طلاق دئیے از پیش خویش جھوٹا مشغلہ بنانے اور اس پر مقدمہ لڑانے کی جرات نوکتخدا عورت سے بہت بعید اور سخت محل شبہات ہےہاں جاہل مرد جب جوش حکومت میں غضب پر آتے ہیں کبھی ایك طلاق پر نہیں رکتے بلکہ تین پر بھی اتفاقا ٹھہرتے ہیں پھر جب غصہ اترتا اور نادم ہوتے ہیں لاعلاج مرض کا علاج ڈھونڈتے ہیں ایسا ہی خوف خدا ہوا تو صبر کربیٹھے ورنہ انکار طلاق سہل نسخہ ہے بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ ایسے ضعیف احتمالات مبنائے ظننت انھم شہود الزور(تجھے گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)نہیں ہوسکتے تو صاف واضح ہوا کہ فیصلہ اس روایت کے بھی موافق نہیں محض اوہام پر مبنی ہے۔
اﷲ اﷲ فی النساء فانھن عوان بین ایدیکم ۔ اﷲسے ڈرواﷲ سے ڈرو عورتوں کے حق میں کہ وہ تمہارے ہاتھ میں قیدی ہیں۔
بد مزاج لوگ عورت کو دو دن بھی والدین کے یہاں بخوشی نہیں چھوڑتے نہ بربنائے کمال انس و محبت بلکہ شدت و غلظت واظہار حکومتبلکہ یہاں یہی احتمال زیادہ راجح تھا اولا: عورات کا ضعف " الرجال قومون علی النساء " (مرد عورتوں پر قوی منتظم ہیں۔ت)سرکشی زناں بہ نسبت سخت گیری مرداں نادر ہے۔
ثانیا: بر خلاف معتاد جملہ بلا د اول بار بھی عورت کا بضمانت جانا تند مزاجی شوہر سے ترس شدیدکا پتہ دے رہا ہے۔
ثالثا:نام طلاق جس قدر عورتوں کو سخت شدید ناگوار ہے مردوں کو نہیں کہ اس میں انہیں اپنی بدنامی کا بھی زیادہ لحاظ ہوتا ہے لوگ کیاکہیں گےکیاسمجھیں گےکیوں چھوڑدیااور اس کے ساتھ اپنے عیش باقی اور آنے والی عمر کا خیال کہ زنان ہند میں نکاح ثانی عار ہے۔تو بے طلاق دئیے از پیش خویش جھوٹا مشغلہ بنانے اور اس پر مقدمہ لڑانے کی جرات نوکتخدا عورت سے بہت بعید اور سخت محل شبہات ہےہاں جاہل مرد جب جوش حکومت میں غضب پر آتے ہیں کبھی ایك طلاق پر نہیں رکتے بلکہ تین پر بھی اتفاقا ٹھہرتے ہیں پھر جب غصہ اترتا اور نادم ہوتے ہیں لاعلاج مرض کا علاج ڈھونڈتے ہیں ایسا ہی خوف خدا ہوا تو صبر کربیٹھے ورنہ انکار طلاق سہل نسخہ ہے بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ ایسے ضعیف احتمالات مبنائے ظننت انھم شہود الزور(تجھے گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)نہیں ہوسکتے تو صاف واضح ہوا کہ فیصلہ اس روایت کے بھی موافق نہیں محض اوہام پر مبنی ہے۔
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب النکاح دارالفکربیروت ∞۵/ ۳۵۲،€احیاء العلوم کتاب آداب النکاح الباب الثالث مطبعۃ المشہد القاہرہ ∞۲/ ۴۲€
القرآن الکریم ∞۴/ ۳۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۳۴€
(معاملہ حلال وحرام)ضرور محل احتیاط شدید ہےمگر یہاں حلت وحرمت کا پلہ دونوں طرف یکساں اگر واقع میں طلاق نہ ہوئی اور مطلقہ ثلاث ٹھہرا کر اجازت نکاح ثانی دیں تو معاذ اﷲ اجازت زنا ہے اور واقع میں ہوگئی اور بدستور زوجہ بناکر قبضہ طلاق دہندہ میں رکھیں تو عیاذا باﷲ اجازت زنا ہے۔دونوں طرفین کانٹے کی تو ل برابر ہیںہاں اتنا ضرور ہے کہ شوہر کی طرف وہ شبہات ہیں جوابھی مذکور ہوئے اور مدعا علیہ کاکذب کچھ مستبعد نہیں کہ اس کا اپنا نفع ذاتی ہے خصوصا عوام سے ایسے مواقع میں کما قد علمت(جیسا کہ آپ معلوم کر چکے۔ت)اور شہود کثیر و متعدد ہیں اور ان کا اپناذاتی معاملہ نہیں ایك خود غرض کا کاذب ہونابہت مسلمانوں کے پرائے پیچھے اپنادین بیچنے سے آسان ہے۔غایۃ البیان میں ہے:
الشہادۃ تحمل علی الصحۃ ماامکن ۔ شہادت کو ممکن حد تك صحت پر محمول کیا جائے۔(ت)
عنایہ میں ہے:
عندالمخالفۃ تعارض کلام المدعی والشاھد فما المرجح لصدق الشاہد ان الاصل فی الشہود العدالۃ لاسیما علی قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالی و لایشترط عدالۃ المدعی لصحۃ دعواہ فرجحنا جانب الشہود عملا بالاصل اھ کذارأیتہ ماثورا عنہا فی بعض منقولاتی۔ مدعی کی بات اور گواہوں کے بیان میں تعارض ہو تو ہم گواہوں کی بات کو ترجیح دیں گے کیونکہ گواہوں میں عدالت اصل ہے خصوصا امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کے قول پرجملہ مدعی کا صحت دعوی کے لئے عادل ہونا شرط نہیں ہے تو ہم اصل پر عمل کرتے ہوئے گواہوں کے موقف کوترجیح دینگے اھمیں نے اپنے بعض منقولات میں یوں مذکور پایا ہے۔(ت)
(جرح شہود)کثرت شہادت کوئی قدح شرعی نہیںاحکام الہیہ دو قسم ہیں:تکوینی وتشریعی کسی کے سامنے وقوع وقائع متعلق بہ اول ہے اور ان میں اس کی شہادت کا قبول متعلق بہ ثانیکیا تکوین نے کوئی حد مقرر فرمادی ہے کہ اتنے سے زائد وقائع ایك شخض کے سامنے واقع نہ ہوں گے یا تشریع نے کوئی تحدید بتادی ہے کہ اتنے بار سے زیادہ شہادت شاہد مقبول نہ ہوگیصکاك کو دیکھئے جس کا واقعی پیشہ ہی تحریر دستاویزات ہے سال میں سیکڑوں لکھتا اور وہ ہر ایك کا گواہ پھر مذہب صحیح میں
الشہادۃ تحمل علی الصحۃ ماامکن ۔ شہادت کو ممکن حد تك صحت پر محمول کیا جائے۔(ت)
عنایہ میں ہے:
عندالمخالفۃ تعارض کلام المدعی والشاھد فما المرجح لصدق الشاہد ان الاصل فی الشہود العدالۃ لاسیما علی قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالی و لایشترط عدالۃ المدعی لصحۃ دعواہ فرجحنا جانب الشہود عملا بالاصل اھ کذارأیتہ ماثورا عنہا فی بعض منقولاتی۔ مدعی کی بات اور گواہوں کے بیان میں تعارض ہو تو ہم گواہوں کی بات کو ترجیح دیں گے کیونکہ گواہوں میں عدالت اصل ہے خصوصا امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کے قول پرجملہ مدعی کا صحت دعوی کے لئے عادل ہونا شرط نہیں ہے تو ہم اصل پر عمل کرتے ہوئے گواہوں کے موقف کوترجیح دینگے اھمیں نے اپنے بعض منقولات میں یوں مذکور پایا ہے۔(ت)
(جرح شہود)کثرت شہادت کوئی قدح شرعی نہیںاحکام الہیہ دو قسم ہیں:تکوینی وتشریعی کسی کے سامنے وقوع وقائع متعلق بہ اول ہے اور ان میں اس کی شہادت کا قبول متعلق بہ ثانیکیا تکوین نے کوئی حد مقرر فرمادی ہے کہ اتنے سے زائد وقائع ایك شخض کے سامنے واقع نہ ہوں گے یا تشریع نے کوئی تحدید بتادی ہے کہ اتنے بار سے زیادہ شہادت شاہد مقبول نہ ہوگیصکاك کو دیکھئے جس کا واقعی پیشہ ہی تحریر دستاویزات ہے سال میں سیکڑوں لکھتا اور وہ ہر ایك کا گواہ پھر مذہب صحیح میں
حوالہ / References
غایۃ البیان
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۰۱€
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۰۱€
یہ کہ کثرت شہادت اس کی گواہی میں خلل انداز نہیںخلاصہ و خزانۃ المفتین میں ہے:
شہادۃ الصکاکین تقبل علی الاصح ۔ وثیقہ نویس کی شہادت مقبول ہے اصح قول کے مطابق۔(ت)
بزازیہ وانقرویہ میں ہے:
شھادۃ الصکاکین تقبل فی الصحیح ۔ صحیح قول کے مطابق وثیقہ نویس کی شہادت مقبول ہے(ت)
ذخیرہ وغیاثیہ وفتح القدیر وہندیہ میں ہے:
اما شہادۃ الصکاکین فالصحیح انھا تقبل اذاکان غالب حالھم الصلاح ۔ لیکن وثیقہ نویسوں کی شہادتتو صحیح یہ ہے کہ مقبول ہے بشرطیکہ ان کا غالب حال درست ہو۔(ت)
مخبری بروجہ مذکور ضرور فسق ہے مگر غلام ناصر خاں کو اس سے انکار بحت ہے اور جرح تفضل حسین خاں کا جواب سوال میں مذکورمجوز نے روایت مذکورہ شامی پر محول کرنے سے ننھے خاں کلن خاں کے فسق کی طرف اشارہ کیا مگر سبب نہ بتایا اور ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم مستورات کو شاید پردہ مستور ی میں رکھا حالانکہ بعد تنقیح کے ذمہ قاضی لازم وضوح حال ممکن تھا۔
بالجملہ فیصلہ کے بیانات بالامحض باطل ومختل اور روایت نادرہ ضعیفہ پر بنائے حکم رکھنے سے فیصلہ خود ناجائز و مہمل۔اور مدار حکم صرف اسی قدر پر ہے جو ابتداء گزرا کہ ان میں کوئی بھی نصاب شہادت بروجہ کفایت موجود تو بلا شبہہ تین طلاقیں ثابت اور فیصلہ بحق مدعیہ ہونا لازم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۴۲: ازریاست رام پور مرسلہ مولوی مفتی عبدالقادر خاں صاحب صدر الصدور ۴/صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے سہ قطعہ مکانات وغیرہا پاس مسماۃ ہندہ بالعوض مبلغ(صمہ ۵۰۰ )بیع بالوفاء کرکے مسماۃ کا قبضہ بعد تحریر و تصدیق کردینے دستاویز بیع بالوفاء نامہ
شہادۃ الصکاکین تقبل علی الاصح ۔ وثیقہ نویس کی شہادت مقبول ہے اصح قول کے مطابق۔(ت)
بزازیہ وانقرویہ میں ہے:
شھادۃ الصکاکین تقبل فی الصحیح ۔ صحیح قول کے مطابق وثیقہ نویس کی شہادت مقبول ہے(ت)
ذخیرہ وغیاثیہ وفتح القدیر وہندیہ میں ہے:
اما شہادۃ الصکاکین فالصحیح انھا تقبل اذاکان غالب حالھم الصلاح ۔ لیکن وثیقہ نویسوں کی شہادتتو صحیح یہ ہے کہ مقبول ہے بشرطیکہ ان کا غالب حال درست ہو۔(ت)
مخبری بروجہ مذکور ضرور فسق ہے مگر غلام ناصر خاں کو اس سے انکار بحت ہے اور جرح تفضل حسین خاں کا جواب سوال میں مذکورمجوز نے روایت مذکورہ شامی پر محول کرنے سے ننھے خاں کلن خاں کے فسق کی طرف اشارہ کیا مگر سبب نہ بتایا اور ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم مستورات کو شاید پردہ مستور ی میں رکھا حالانکہ بعد تنقیح کے ذمہ قاضی لازم وضوح حال ممکن تھا۔
بالجملہ فیصلہ کے بیانات بالامحض باطل ومختل اور روایت نادرہ ضعیفہ پر بنائے حکم رکھنے سے فیصلہ خود ناجائز و مہمل۔اور مدار حکم صرف اسی قدر پر ہے جو ابتداء گزرا کہ ان میں کوئی بھی نصاب شہادت بروجہ کفایت موجود تو بلا شبہہ تین طلاقیں ثابت اور فیصلہ بحق مدعیہ ہونا لازم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۴۲: ازریاست رام پور مرسلہ مولوی مفتی عبدالقادر خاں صاحب صدر الصدور ۴/صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے سہ قطعہ مکانات وغیرہا پاس مسماۃ ہندہ بالعوض مبلغ(صمہ ۵۰۰ )بیع بالوفاء کرکے مسماۃ کا قبضہ بعد تحریر و تصدیق کردینے دستاویز بیع بالوفاء نامہ
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الشہادات ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۰۷€
فتاوٰی انقریہ بحوالہ بزازیہ الفصل الاول دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱/ ۳۷۸€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ والعنایۃ وفتح القدیر کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹€
فتاوٰی انقریہ بحوالہ بزازیہ الفصل الاول دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۱/ ۳۷۸€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ والعنایۃ وفتح القدیر کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹€
کی معرفت عمر برادر مسماۃ ہندہبعد فراغ از اسباب خود مکانات مرہونہ پر کرادیا۔من بعد مسماۃ ہندہ نے جائداد مرہونہ کرایہ پر مسمی خالد کو ذریعہ کرایہ نامہ مصدقہ کے دے کر قبضہ کرایہ دار مسمی مذکور کا جائداد مرہونہ پر کرادیا۔چنانچہ روزرہن سے تخمینا پندرہ سال تك مسمی زید راہن برابر یہ صور ت دیکھتا رہا اور عقد مذکور کی صحت کا مقر رہا بالآخرراہن مذکور نے انتقال کیا اور وقت فوت تك اس نے کسی قسم کا عذر نہیں کیا ہندہ نے بعد فوت راہن کچہری میں ولاپانے زررہن کا دعوی کرنا چاہا اس ارادہ ہندہ سے ورثائے راہن مطلع ہوئے تو بطور پیش بندی ورثائے راہن خلاف مضمون دستاویز اور خلاف قول راہن بنام مرتہنہ و شوہر مرتہنہ اس بیان سے کچہری میں دعویدار ہوئے(کہ پدر مدعیان نے مبلغ(صمہ شرح سود ۱۳/۱۱/)پائی فیصدی ماہوار بہ تحریر دستاویز تمسك کفالتی باستغراق جائدادبکر(شوہر مرتہنہ)سے قرض لینا چاہا جس کو مسمی بکر مذکور نے قبول ومنظور کیا اور بوقت تکمیل معاہدہ دستاویز سودی کو اپنے حق میں تحریر کرانا خلاف شان ثقاہت سمجھ کر بجائے دستاویز تمسك کفالتی کے دستاویز بیع بالوفاء بجائے اپنے نام کے اپنی زوجہ(مرتہنہ)کا نام تحریر کرایا اور واسطے اخفاء لفظ سود کے رقم سود قرار یافتہ کی بابت ایك دوسری دستاویز بنام نہاد کرایہ نامہ برادر راہن سے تحریر کرائی جس میں(للعہ للعہ /)رقم سود قرار یافتہ کو بلفظ کرایہ تحریر کرایا قبض و دخل مرتہنہ و شوہر مرتہنہ یا کرایہ دار مذکو رکا کبھی نہیں ہوا چنانچہ مبلغ(صمہ ٭٭)بابت سود بحساب(٭٭٭)ماہوار اور مبلغ(٭٭)منجملہ زرا صل ذریعہ ٹومہ نوشتہ(بکر)شوہر مرتہنہ من بعد(٭٭)بشرح سود(٭٭۳/)ماہوار بہ منہائی رقم سود(٭٭)مودی اصل کی پدر مدعیان نے(بکر)کو ادا کئے علاوہ(٭٭)مندرجہ بالا کے(٭٭)بابت سود بکر کے پاس پہنچی کل مقدار رقم ادا کردہ کی(٭٭)ہے بموجب شرع شریف معاملہ بیع بالوفاحکم رہن میں ہے اور رہن میں قبضہ لازمی ہے اور موافق مذہب اسلام سود کا لینا قطعا ناجائز ہے اور رقم کرایہ بابت مرہونہ راہنان سے لینا بھی نادرست ہے اس لئے جس قدر رقم بنام نہاد کرایہ راہن سے وصول کی ہے وہ کل رقم لائق مجرائی و محسوبی باصل زر رہن ہے اور زر فاضل کی واپسی کے مستحق ہم وارثان راہن ہیں لہذااصل دستاویز بیع بالوفا وکرایہ نامہ بایفائے کل زر مندرجہ بیعنامہ بالو فایعنی(٭٭)تجویز انفکاك رہن و مبلغ(٭٭)زر فاضل مسماۃ ہندہ وبکر سے مدعیان کو دلائے جائیں بتردید دعوی مدعیان ازجانب بکر شوہر مرتہنہ جواب دیا گیا کہ پدر مدعیان سے جو معاہدہ ہوا تھا وہ مسماۃ ہندہ سے ہوا تھا حاصل فریق معاملہ مسماۃ مرتہنہ مذکورہ ہے زرثمن بھی ملك اسی کا ہے من مدعا علیہ نے کوئی رقم کرایہ با ز ر اصل وصول نہیں کی نہ رسیدات دیںمدعیان کو بوجہ عروض تمادی شش سالہ حق دعوی حاصل نہیں ہے
پدر مدعیان اس کے حصہ دار تھےثبوت ذمہ مدعیان وتردید ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲۔
(۶)جو رقم مدعا علیہا نمبر۱ نے مورث مدعیان سے بنام نہاد کرایہ وصول کی ہے وہ لائق محسوبی و مجرائی باصل زر رہن ہے اور زر فاضل قابل واپسی مدعیان ہےثبوت ذمہ مدعیان و تردید ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲۔
(۷)دستاویز بیعنامہ برضا ورغبت مورث مدعیان بنام مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ)تحریر ہوئی ہے پس مدعیان کو اپنے مورث کے قول کے خلاف دعوی کرنے کا حق بمقابلہ مدعا علیہ نمبر ۱ نہیں رہا۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۸)دعوی مدعیان کو تمادی عارض ہے۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۹)مورث مدعیان نے جو مکانات متنازعہ مدعا علیہا نمبر ۲ ہندہ کے ہاتھ بیع بالوفاء کئے ہیں زر ثمن اس کا ملك مدعا علیہا نمبر۲ ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا و تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۰)مکانات مندرجہ بیعنامہ بالوفاء پر قبضہ حسب قاعدہ شرعی مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ کا ہوگیا تھا اور مول چند کے پاس منجانب مدعا علیہا نمبر۲ہندہ کرایہ پر ہے جس میں سے ایك قطعہ گودام واپس لے لیا گیا ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۱)دعوی مدعیان کو دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ودفعہ۹۲ قانون شہادت عارض ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۱۲)جو تحریر بنام نہادرسید ایك کتاب مدعیان نے داخل کی ہے وہ بے ضابطہ و خلاف قانون قابل ضبطی ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیانبعدہ کچہری نے اپنی تجویز نسبت ہرامر تنقیح کے بطریق مندرجہ تحت صادر کی۔
(تجویز)
تنقیح نمبر۱ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ موتی شاہ اوروزیر خاں کی شہادت میں حسب مراد تنقیح نمبر۱ کے گنیشی لال(زید راہن)مورث مدعیان اور عبدالغافر خاں کے مابین معاہدہ قرضہ(٭٭) کا بشرح سود(٭٭) ماہوار اور جائداد مندرجہ دستاویز کی کفالت کیلئے دینابحق مدعیان ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۲و۳درحقیقت ایسے امور میں جن کا شہودی ثبوت ناممکن ہے البتہ امور مذکورہ کاثبوت نیت میں ہوتا ہے اور نیت مذکورہ حالات ذیل میں ثابت ہوتی ہے یعنی مدعا علیہ نمبر۱(بکر شوہر مرتہنہ)مسلمان ہے اور پیشکار کچہری بھی ہے اس لئے برے معاملات میں اس کو خود معاہدہ کرنا اور دستاویز زوجہ
(۶)جو رقم مدعا علیہا نمبر۱ نے مورث مدعیان سے بنام نہاد کرایہ وصول کی ہے وہ لائق محسوبی و مجرائی باصل زر رہن ہے اور زر فاضل قابل واپسی مدعیان ہےثبوت ذمہ مدعیان و تردید ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲۔
(۷)دستاویز بیعنامہ برضا ورغبت مورث مدعیان بنام مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ)تحریر ہوئی ہے پس مدعیان کو اپنے مورث کے قول کے خلاف دعوی کرنے کا حق بمقابلہ مدعا علیہ نمبر ۱ نہیں رہا۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۸)دعوی مدعیان کو تمادی عارض ہے۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۹)مورث مدعیان نے جو مکانات متنازعہ مدعا علیہا نمبر ۲ ہندہ کے ہاتھ بیع بالوفاء کئے ہیں زر ثمن اس کا ملك مدعا علیہا نمبر۲ ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا و تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۰)مکانات مندرجہ بیعنامہ بالوفاء پر قبضہ حسب قاعدہ شرعی مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ کا ہوگیا تھا اور مول چند کے پاس منجانب مدعا علیہا نمبر۲ہندہ کرایہ پر ہے جس میں سے ایك قطعہ گودام واپس لے لیا گیا ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۱)دعوی مدعیان کو دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ودفعہ۹۲ قانون شہادت عارض ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۱۲)جو تحریر بنام نہادرسید ایك کتاب مدعیان نے داخل کی ہے وہ بے ضابطہ و خلاف قانون قابل ضبطی ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیانبعدہ کچہری نے اپنی تجویز نسبت ہرامر تنقیح کے بطریق مندرجہ تحت صادر کی۔
(تجویز)
تنقیح نمبر۱ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ موتی شاہ اوروزیر خاں کی شہادت میں حسب مراد تنقیح نمبر۱ کے گنیشی لال(زید راہن)مورث مدعیان اور عبدالغافر خاں کے مابین معاہدہ قرضہ(٭٭) کا بشرح سود(٭٭) ماہوار اور جائداد مندرجہ دستاویز کی کفالت کیلئے دینابحق مدعیان ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۲و۳درحقیقت ایسے امور میں جن کا شہودی ثبوت ناممکن ہے البتہ امور مذکورہ کاثبوت نیت میں ہوتا ہے اور نیت مذکورہ حالات ذیل میں ثابت ہوتی ہے یعنی مدعا علیہ نمبر۱(بکر شوہر مرتہنہ)مسلمان ہے اور پیشکار کچہری بھی ہے اس لئے برے معاملات میں اس کو خود معاہدہ کرنا اور دستاویز زوجہ
بلہ مدعا علیہ نمبر ۱ نہیں رہا۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۸)دعوی مدعیان کو تمادی عارض ہے۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۹)مورث مدعیان نے جو مکانات متنازعہ مدعا علیہا نمبر ۲ ہندہ کے ہاتھ بیع بالوفاء کئے ہیں زر ثمن اس کا ملك مدعا علیہا نمبر۲ ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا و تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۰)مکانات مندرجہ بیعنامہ بالوفاء پر قبضہ حسب قاعدہ شرعی مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ کا ہوگیا تھا اور مول چند کے پاس منجانب مدعا علیہا نمبر۲ہندہ کرایہ پر ہے جس میں سے ایك قطعہ گودام واپس لے لیا گیا ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۱)دعوی مدعیان کو دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ودفعہ۹۲ قانون شہادت عارض ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۱۲)جو تحریر بنام نہادرسید ایك کتاب مدعیان نے داخل کی ہے وہ بے ضابطہ و خلاف قانون قابل ضبطی ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیانبعدہ کچہری نے اپنی تجویز نسبت ہرامر تنقیح کے بطریق مندرجہ تحت صادر کی۔
(تجویز)
تنقیح نمبر۱ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ موتی شاہ اوروزیر خاں کی شہادت میں حسب مراد تنقیح نمبر۱ کے گنیشی لال(زید راہن)مورث مدعیان اور عبدالغافر خاں کے مابین معاہدہ قرضہ(٭٭) کا بشرح سود(٭٭) ماہوار اور جائداد مندرجہ دستاویز کی کفالت کیلئے دینابحق مدعیان ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۲و۳درحقیقت ایسے امور میں جن کا شہودی ثبوت ناممکن ہے البتہ امور مذکورہ کاثبوت نیت میں ہوتا ہے اور نیت مذکورہ حالات ذیل میں ثابت ہوتی ہے یعنی مدعا علیہ نمبر۱(بکر شوہر مرتہنہ)مسلمان ہے اور پیشکار کچہری بھی ہے اس لئے برے معاملات میں اس کو خود معاہدہ کرنا اور دستاویز زوجہ
(۸)دعوی مدعیان کو تمادی عارض ہے۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۹)مورث مدعیان نے جو مکانات متنازعہ مدعا علیہا نمبر ۲ ہندہ کے ہاتھ بیع بالوفاء کئے ہیں زر ثمن اس کا ملك مدعا علیہا نمبر۲ ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا و تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۰)مکانات مندرجہ بیعنامہ بالوفاء پر قبضہ حسب قاعدہ شرعی مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ کا ہوگیا تھا اور مول چند کے پاس منجانب مدعا علیہا نمبر۲ہندہ کرایہ پر ہے جس میں سے ایك قطعہ گودام واپس لے لیا گیا ہےثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۱)دعوی مدعیان کو دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ودفعہ۹۲ قانون شہادت عارض ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۱۲)جو تحریر بنام نہادرسید ایك کتاب مدعیان نے داخل کی ہے وہ بے ضابطہ و خلاف قانون قابل ضبطی ہےثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیانبعدہ کچہری نے اپنی تجویز نسبت ہرامر تنقیح کے بطریق مندرجہ تحت صادر کی۔
(تجویز)
تنقیح نمبر۱ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ موتی شاہ اوروزیر خاں کی شہادت میں حسب مراد تنقیح نمبر۱ کے گنیشی لال(زید راہن)مورث مدعیان اور عبدالغافر خاں کے مابین معاہدہ قرضہ(٭٭) کا بشرح سود(٭٭) ماہوار اور جائداد مندرجہ دستاویز کی کفالت کیلئے دینابحق مدعیان ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۲و۳درحقیقت ایسے امور میں جن کا شہودی ثبوت ناممکن ہے البتہ امور مذکورہ کاثبوت نیت میں ہوتا ہے اور نیت مذکورہ حالات ذیل میں ثابت ہوتی ہے یعنی مدعا علیہ نمبر۱(بکر شوہر مرتہنہ)مسلمان ہے اور پیشکار کچہری بھی ہے اس لئے برے معاملات میں اس کو خود معاہدہ کرنا اور دستاویز زوجہ
کے نام لکھانا عین مصلحت ہے اسی طرح سود کا لینا کسی مسلم اور خاص کر ذی علم شخص کو سراسر معیوب ہے لہذا رقم سود کا نام بدل کرکرایہ کا نام لکھانا ایك حیلہ ضرور ہے۔دوسرے رقم(٭٭) کو خود وصول کرناجس کی بابت آئندہ تصریح کی جائے گی) اور رقم کرایہ مندرجہ کتاب کا خود وصول کرکے اپنے دستخط کرنا اور مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کانام نہ لکھنا صاف طور پر اس نیت کو جو تنقیحات نمبر۲و۳ کا ماحصل ہے ثابت کررہا ہے اس لئے میں ان دونوں تنقیحوں کو بحق مدعیان قرار دیتا ہوں۔
تنقیح نمبر۴ کے متعلق میری تجویز ہے کہ(محمد رضاخاں ومظہر حسین خاں)کی شہادت سے(٭٭)کے پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ نمبر۱ اور(٭٭)روبرو گواہان مذکور گنیشی لال(زیدراہن)کا مدعا علیہ نمبر۱ کو دینا جملہ(٭٭) کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور عبدالعزیز وسید عبدالعزیز کی شہادت سے(٭٭) کے پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭)گواہان کی موجودگی میں دیا جانا جملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ نمبر۱ پہنچنا اور(عجائب الدین واحمد نبی خاں ولد مسیتا خاں)کی شہادت سے(٭٭) کے پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭) کا نقد روبرو گواہان مذکور دیا جانا جملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(حیدر علی خاں و عبدالرحیم خاں)کی شہادت سے(٭٭)کے پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ مذکور اور(٭٭)کا نقد گواہان مذکور کے روبرودیاجانا جملہ (٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(الطاف علی خاں ومحمد بشیر خاں و انور بیگ)کی شہادت سے(٭٭)کا پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭)کا نقد گواہان مذکور کے روبرودیا جاناجملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(نجن ولد غلام محی الدین وحیدر حسین)کی شہادت سے(٭٭ ۴/۳)پائی کا پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ نمبر۱ اور(٭٭)کا بمواجہہ گواہان مذکور نقد دیا جانا (٭٭)پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا ثابت ہے مضمون شہادت مصرحہ بالا میں ثابت ہے کہ بعض حصہ کل رقم موصولہ کا اقرار اور بعض حصہ مشاہدہ گواہان(جنکے روبرو رقوم دی گئی ہیں ثابت ہوتا ہے جن رقوم کے اقرار کی شہادت ہے ان کی صداقت کا یہ قوی قرینہ ہے کہ دیگر شہادتیں اس کی بالترتیب تائید کرتی ہیں اور اس کے متعلق رسیدات مدعا علیہ مذکور مشمولہ کتاب رسیدات ہے جس کی بابت ہم آئندہ تفصیلی بحث کریں گے)پیش ہوئی ہیں جو شہادت و اقرار کی کامل تائید کرتی ہیں اس لئے اس رقم اقراری کے ایصال کو بوجہ تائید شہادت تحریر ی کے میں ثابت قرار دیتا ہوںلیکن منجملہ(٭٭)کل رقم مودی بنام نہاد کرایہ کے(٭٭)کی ایسی رقم ہے جس کے متعلق مدعیان نے کوئی رسید پیش نہیں کی او رتحریر کرتے ہیں کہ مدعا علیہ نمبر۱ کے براہ بدنیتی اس رقم کی رسیدات نہیں دیں بوجہ نہ ہونے شہادت تحریری کے قابل منہائی جانتا ہوں جس کے منہا ہونے کے بعد (٭٭)باقی رہتے ہیں اس لئے باتفاق شہادت مدعیان و
تنقیح نمبر۴ کے متعلق میری تجویز ہے کہ(محمد رضاخاں ومظہر حسین خاں)کی شہادت سے(٭٭)کے پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ نمبر۱ اور(٭٭)روبرو گواہان مذکور گنیشی لال(زیدراہن)کا مدعا علیہ نمبر۱ کو دینا جملہ(٭٭) کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور عبدالعزیز وسید عبدالعزیز کی شہادت سے(٭٭) کے پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭)گواہان کی موجودگی میں دیا جانا جملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ نمبر۱ پہنچنا اور(عجائب الدین واحمد نبی خاں ولد مسیتا خاں)کی شہادت سے(٭٭) کے پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭) کا نقد روبرو گواہان مذکور دیا جانا جملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(حیدر علی خاں و عبدالرحیم خاں)کی شہادت سے(٭٭)کے پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ مذکور اور(٭٭)کا نقد گواہان مذکور کے روبرودیاجانا جملہ (٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(الطاف علی خاں ومحمد بشیر خاں و انور بیگ)کی شہادت سے(٭٭)کا پہلے پہنچنے کا اقرار اور(٭٭)کا نقد گواہان مذکور کے روبرودیا جاناجملہ(٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا اور(نجن ولد غلام محی الدین وحیدر حسین)کی شہادت سے(٭٭ ۴/۳)پائی کا پہلے پہنچنے کا اقرار مدعا علیہ نمبر۱ اور(٭٭)کا بمواجہہ گواہان مذکور نقد دیا جانا (٭٭)پاس مدعا علیہ مذکور پہنچنا ثابت ہے مضمون شہادت مصرحہ بالا میں ثابت ہے کہ بعض حصہ کل رقم موصولہ کا اقرار اور بعض حصہ مشاہدہ گواہان(جنکے روبرو رقوم دی گئی ہیں ثابت ہوتا ہے جن رقوم کے اقرار کی شہادت ہے ان کی صداقت کا یہ قوی قرینہ ہے کہ دیگر شہادتیں اس کی بالترتیب تائید کرتی ہیں اور اس کے متعلق رسیدات مدعا علیہ مذکور مشمولہ کتاب رسیدات ہے جس کی بابت ہم آئندہ تفصیلی بحث کریں گے)پیش ہوئی ہیں جو شہادت و اقرار کی کامل تائید کرتی ہیں اس لئے اس رقم اقراری کے ایصال کو بوجہ تائید شہادت تحریر ی کے میں ثابت قرار دیتا ہوںلیکن منجملہ(٭٭)کل رقم مودی بنام نہاد کرایہ کے(٭٭)کی ایسی رقم ہے جس کے متعلق مدعیان نے کوئی رسید پیش نہیں کی او رتحریر کرتے ہیں کہ مدعا علیہ نمبر۱ کے براہ بدنیتی اس رقم کی رسیدات نہیں دیں بوجہ نہ ہونے شہادت تحریری کے قابل منہائی جانتا ہوں جس کے منہا ہونے کے بعد (٭٭)باقی رہتے ہیں اس لئے باتفاق شہادت مدعیان و
تحریر ات مدعا علیہ نمبر۱(٭٭)کا پاس مدعا علیہ مذکور حسب اطمینان کچہری پہنچنا ثابت ہے ایصال رقوم مندرجہ بالا کے ثبوت میں جو کتاب رسیدات مدعیان نے پیش کی اس کتاب میں سوائے رقم(٭٭)کے باقی جملہ رقوم درج ہیں جن کی وصول کے بابت مدعا علیہ کے دو قسم کے دستخط ہیں ایك بنام عبدالغافر خان دوسرا بنام دولہ خاںجو دستخط بنام عبدالغافر خاں تحریر ہیں ان کے ثبوت میں مدعیان نے متعدد گواہان عہدہ داران متعلق شناخت تحریر خط و دستخط طلب کرائے ہیں اور واسطے مطابقت دستخطوں کے پندرہ قطعہ ثمن وغیرہ مجریہ کچہری دیوانی اور بیس قطعات اطلاع نامجات مجریہ کچہری فوجداری پیش کئے جن پر مدعا علیہ نمبر۱ کے مسلم دستخط ثبت ہیں شہادت عہدہ داران مذکور اور مطابقت و معائنہ دستخطہائے مثبتہ کاغذات مذکور دویم مثبت پشت ثمن ابتدائی مثل ہذا و دستخطہائے اطلاعیابی و نیز احکام کچہری میں باطمینان کچہری ثابت ہے کہ کتاب رسیدات پر جس قدر دستخط بنام عبدالغافر تحریر ہیں وہ یقینا مدعا علیہ نمبر۱ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور تحریر بھی اسی کے ہاتھ کی ہے جس جگہ دستخط بنام دو لہ خاں تحریر ہیں ان کی طرز تحریر اور شان خط اور روشن قلم سے ثابت ہے کہ وہ بھی مدعا علیہ نمبر ۱ کے ہاتھ کی ہیں اور اکثر شہادتوں سے یہ امر ثابت ہے کہ مدعا علیہ نمبر۱ کا عرف دولہ خاں بھی ہے۔واسطے ثبوت اور جانچ اس امر کے کہ دستخط مثبتہ کتاب رسیدات فی الواقع مدعا علیہ مذکور کی ہیں دو طریقے ہیںایك تو شہادت ایسے اشخاص کی جو مدعا علیہ مذکور کے دستخط پہچانتے ہیںدوسرے مطابقت ان دستخطوں سے جو تحقیقی طور پر مدعا علیہ مذکور کی ہیںپس دونوں طریقوں مصرحہ بالا سے کچہری کو اطمینان اس امر کا ہوگیا کہ دستخطہائے مثبتہ کتاب رسیدات یقینا مدعا علیہ مذکور کے ہیں۔
فقرہ ثانی تنقیح نمبر۴ رقم(٭٭)کی ادائیگی اور رقعہ کی تحریر کی بابت میری یہ رائے ہے کہ شہادت شیخ غفران و محمد علیخان سے (٭٭)کا پاس مدعا علیہ نمبر ۱ پہنچنا ثابت ہے اور منشی فدا علی خاں پیشکار دیوانی اور منشی گوری سہائے ناظر فوجداری و منشی فیاض علی خاں پیشکار کچہری ججی بابو شمس الدین سب انسپکٹر پولیس وسید فرزند علی ناظر سیکریٹریٹ و منشی شکیل احمد اہلمد فوجدار ی و منشی سید احمد وکیل کی شہادت سے بخوبی ثابت ہے کہ رسید(٭٭)کی مدعا علیہ نمبر۱ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اور اسی کے دستخط اس پر ثبت ہیں اس کے علاوہ دیگر دستخطہائے مدعاعلیہ مذکور مثبتہ کاغذات ثمن و اطلاعنامجات و پشت ثمن و نیز احکام کچہری کے معائنہ و مطابقت سے حسب اطمینان کچہری ثابت ہے کہ دستخط مثبتہ رقعہ(٭٭)کے اور تحریر خاص مدعا علیہ نمبر۱ کے ہاتھ کی اور اسی کی دستخطی ہے جس میں کسی قسم کا شك و شبہ باقی نہیں رہا لیکن یہ رقم منجملہ زر رہن
فقرہ ثانی تنقیح نمبر۴ رقم(٭٭)کی ادائیگی اور رقعہ کی تحریر کی بابت میری یہ رائے ہے کہ شہادت شیخ غفران و محمد علیخان سے (٭٭)کا پاس مدعا علیہ نمبر ۱ پہنچنا ثابت ہے اور منشی فدا علی خاں پیشکار دیوانی اور منشی گوری سہائے ناظر فوجداری و منشی فیاض علی خاں پیشکار کچہری ججی بابو شمس الدین سب انسپکٹر پولیس وسید فرزند علی ناظر سیکریٹریٹ و منشی شکیل احمد اہلمد فوجدار ی و منشی سید احمد وکیل کی شہادت سے بخوبی ثابت ہے کہ رسید(٭٭)کی مدعا علیہ نمبر۱ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اور اسی کے دستخط اس پر ثبت ہیں اس کے علاوہ دیگر دستخطہائے مدعاعلیہ مذکور مثبتہ کاغذات ثمن و اطلاعنامجات و پشت ثمن و نیز احکام کچہری کے معائنہ و مطابقت سے حسب اطمینان کچہری ثابت ہے کہ دستخط مثبتہ رقعہ(٭٭)کے اور تحریر خاص مدعا علیہ نمبر۱ کے ہاتھ کی اور اسی کی دستخطی ہے جس میں کسی قسم کا شك و شبہ باقی نہیں رہا لیکن یہ رقم منجملہ زر رہن
کے ہے اور رقعہ میں حوالہ(٭٭)زررہن کا دیا گیا ہے لہذا بمنشاء ۹۲دفعہ ۱۴ قانون رجسٹری ریاست کے رسید مذکور کا رجسٹری ہونا لازمی ہے اور چونکہ وہ رجسٹری نہیں کرائی گئی اس لئے بمنشاء دفعہ ۴۹قانون رجسٹری مذکور ثبوت میں لینے کے قابل نہیں ہے بناء براں اس رقم(٭٭)کا ادا ہونا بوجہ نص قانونی کے غیر ثابت قرار دیا جاتا ہے۔
تنقیح نمبر۵ یعنی جائداد مرہونہ کا موروثی مدعیان ہونا اور بحیات گنیشی لال مدعیان کا حصہ دار ہونا کسی شہادت سے ثابت نہیں ہے اس لئے اس تنقیح کو میں خلاف مدعیان فیصل کرتا ہوں۔
تنقیح نمبر۶ کے بارہ میں میری یہ رائے ہے کہ جو رقم مدعا علیہ نمبر۱ نے(بکر شوہر مرتہنہ)مورث مدعیان(زید راہن)سے بنام نہاد کرایہ وصولی کی ہے اور جس کے ایصال کو کچہری نے ثابت قرار دیا ہے بقدر(٭٭)حسب تصریحات صدر ہوتی ہے میرے نزدیك وہ رقم بوجوہ قابل مجرائی بہ زر اصل ہےاول یہ کہ کچہری دیوانی سے یہ امر طے ہوچکا ہےکہ بیع بالوفاء بمذہب حنفی حکم رہن میں ہے اور شیئ مرہونہ کا کرایہ اور دیگر محاصل حق راہن اور قابل مجرائی بہ زر رہن ہے جیسا کہ نقول فیصلجات پیش کردہ مدعیان سے ثابت ہےدوم یہ کہ شہادت اشرف علی خاں و دیگر گواہان سے امر ثابت ہے کہ کرایہ نامہ برضامندی واجازت گنیشی لال(زید راہن)لکھا گیا حتی کہ رقم کرایہ خود گنیشی لال نے وقتا فوقتا ادا کی جیسا کہ تجویز تنقیح نمبر۴ سے ثابت ہے اس رضامندی واجازت راہن سے حسب فتوی مدرسہ اہلسنت بریلی پیش کردہ خود مدعا علیہما رہن باطل ہوگیا اور رقم زر رہن قرضہ خالص ہوگیا پس بلا اختلاف وہ رقم جو بنام نہاد کرایہ وصول ہوئی ہے وہ لائق مجرائی بہ زر رہن ہےسویم یہ کہ حسب تصریح مندرجہ تجویز تنقیح نمبر۱۰ قبضہ مرتہن ثابت نہیں ہو ا تو اس صورت میں کبھی قرضہ سادہ اور رقم مودی بنام نہاد کرایہ ضرور لائق محسوبی و مجرائی بہ زر اصل رہن ہے۔
تنقیح نمبر۷و۸کے متعلق کوئی ثبوت قانونی پیش نہیں کیا گیا اس لئے وہ بحق مدعا علیہما غیر ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۹ کے متعلق صرف حافظ عثمان خاں نے شہادت دی ہے مگر وہ مثبت اس تنقیح کی نہیں ہے
تنقیح نمبر۱۰ بوجوہ ذیل میرے نزدیك بحق مدعا علیہما نمبر۲ ثابت نہیں ہےاول:یہ کہ جس قدر گواہان جانب مدعا علیہا نمبر۲ (ہندہ مرتہنہ)میں پیش ہوئے ہیں ان کی شہادت سے پورے طور پر فارغ ہونا کل مکانا ت کا اسباب و سامان راہن سے ثابت نہیں ہے اس لئے کہ کل گواہان مدعا علیہ نمبر ۲ بیان
تنقیح نمبر۵ یعنی جائداد مرہونہ کا موروثی مدعیان ہونا اور بحیات گنیشی لال مدعیان کا حصہ دار ہونا کسی شہادت سے ثابت نہیں ہے اس لئے اس تنقیح کو میں خلاف مدعیان فیصل کرتا ہوں۔
تنقیح نمبر۶ کے بارہ میں میری یہ رائے ہے کہ جو رقم مدعا علیہ نمبر۱ نے(بکر شوہر مرتہنہ)مورث مدعیان(زید راہن)سے بنام نہاد کرایہ وصولی کی ہے اور جس کے ایصال کو کچہری نے ثابت قرار دیا ہے بقدر(٭٭)حسب تصریحات صدر ہوتی ہے میرے نزدیك وہ رقم بوجوہ قابل مجرائی بہ زر اصل ہےاول یہ کہ کچہری دیوانی سے یہ امر طے ہوچکا ہےکہ بیع بالوفاء بمذہب حنفی حکم رہن میں ہے اور شیئ مرہونہ کا کرایہ اور دیگر محاصل حق راہن اور قابل مجرائی بہ زر رہن ہے جیسا کہ نقول فیصلجات پیش کردہ مدعیان سے ثابت ہےدوم یہ کہ شہادت اشرف علی خاں و دیگر گواہان سے امر ثابت ہے کہ کرایہ نامہ برضامندی واجازت گنیشی لال(زید راہن)لکھا گیا حتی کہ رقم کرایہ خود گنیشی لال نے وقتا فوقتا ادا کی جیسا کہ تجویز تنقیح نمبر۴ سے ثابت ہے اس رضامندی واجازت راہن سے حسب فتوی مدرسہ اہلسنت بریلی پیش کردہ خود مدعا علیہما رہن باطل ہوگیا اور رقم زر رہن قرضہ خالص ہوگیا پس بلا اختلاف وہ رقم جو بنام نہاد کرایہ وصول ہوئی ہے وہ لائق مجرائی بہ زر رہن ہےسویم یہ کہ حسب تصریح مندرجہ تجویز تنقیح نمبر۱۰ قبضہ مرتہن ثابت نہیں ہو ا تو اس صورت میں کبھی قرضہ سادہ اور رقم مودی بنام نہاد کرایہ ضرور لائق محسوبی و مجرائی بہ زر اصل رہن ہے۔
تنقیح نمبر۷و۸کے متعلق کوئی ثبوت قانونی پیش نہیں کیا گیا اس لئے وہ بحق مدعا علیہما غیر ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۹ کے متعلق صرف حافظ عثمان خاں نے شہادت دی ہے مگر وہ مثبت اس تنقیح کی نہیں ہے
تنقیح نمبر۱۰ بوجوہ ذیل میرے نزدیك بحق مدعا علیہما نمبر۲ ثابت نہیں ہےاول:یہ کہ جس قدر گواہان جانب مدعا علیہا نمبر۲ (ہندہ مرتہنہ)میں پیش ہوئے ہیں ان کی شہادت سے پورے طور پر فارغ ہونا کل مکانا ت کا اسباب و سامان راہن سے ثابت نہیں ہے اس لئے کہ کل گواہان مدعا علیہ نمبر ۲ بیان
کرتے ہیں کہ مکانات مذکور میں اوپر بھی درجات ہیں اور اوپر کے درجات میں ہم نہیں گئےپس ظاہر ہے کہ جب اوپر کے درجوں میں ان گواہوں نے خود جاکر نہیں دیکھا تو ان گواہوں کی شہادت سے فارغ ہونا کل مکانات کا اسباب و سامان راہن سے جو شرط ضروری قبضہ مرہونہ کی ہے کس طرح ثابت مانا جاسکتا ہے۔
ثا نیا:یہ کہ شہادت مذکور سے تعلق عمرو خاں قبضہ گیرندہ کا بھی نہیں ہوتاچونکہ وہ فوت ہوگیا ہے اس لئے اس کا یعنی واسطے حصول قبضہ کے موجود ہونا ضروری تھا۔
ثالثا:اہم وجہ بے اثری قبضہ محمد عمرو خاں یہ ہے کہ بضمن تجویز تنقیح نمبر۹ اصل صاحب معاملہ ہونا مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کا غیر ثابت ہے اور بضمن تجویز تنقیح نمبر۱ مابین مولوی عبدالغافر خاں و گنیشی لال کے معاہدہ ہونا ثابت ہےایسی حالت میں منجانب مدعا علیہ نمبر۲ محمد عمر خاں(عمر بردار مرتہنہ)کا قبضہ کب مفید ہوسکتا ہے۔
رابعا:یہ کہ مدعیان نے نقل فیصلہ اجلاس عالیہ جو ڈیشلی بمقدمہ جانی بیگم ابیلانٹ بنام نایاب بیگم رمپانڈنٹ مورخہ ۹ / دسمبر ۱۹۱۴ء میں اس امر کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اجازت دینا قبضہ کی ثابت نہیں ہے جو باتباع حکم موصوفہ مبطل رہن ہےاس میں شك نہیں کہ فیصلہ موصوفہ میں یہ امر تجویز فرمایا گیا ہے کہ راہنہ کی اجازت قبضہ دینے کی مرتہنہ کو ثابت نہیں جو ضرور ی ہے اور اس مقدمہ میں مدعا علیھا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کاعمر خاں(عمر برادر ہندہ)کو قبضہ لینے کی اجازت لینا کسی شہادت سے ثابت نہیں ہےپس بہ تقلید فیصلہ اجلاس اعلی اگر اجازت راہنہ پر اجازت مرتہنہ قیاس کی جائے تو بلاشبہہ قبضہ زیر بحث میں اجازت مرتہنہ ثابت نہ ہونے سے رہن باطل ہوتا ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ جب رہن میں اجازت قبضہ دینے کی امر ضروری ہے تو قبضہ کے لئے اجازت دینا بدرجہ اولی ضروری ہوگا کیونکہ اسی پر مدار قبضہ مرتہنہ ہے۔
خامسا:یہ کہ شہادت مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)میں نسبت ثبوت مکانات وخلو مکانات اختلاف بین ہے۔
تنقیح نمبر۱۱ کے متعلق کوئی ثبوت قانونی یا نظر ایسی پیش نہیں ہوئی جس سے میں تنقیح مذکور کو ثابت قراردوں میرے نزدیك اس مقدمہ میں دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ریاست اور دفعہ ۹۲ قانون شہادت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تنقیح نمبر۱۲ بھی غیر ثابت ہے بلکہ تردید اس کی ثابت ہے کیونکہ رسید کرایہ کے لئے بمنشاء دفعہ ۱۴
ثا نیا:یہ کہ شہادت مذکور سے تعلق عمرو خاں قبضہ گیرندہ کا بھی نہیں ہوتاچونکہ وہ فوت ہوگیا ہے اس لئے اس کا یعنی واسطے حصول قبضہ کے موجود ہونا ضروری تھا۔
ثالثا:اہم وجہ بے اثری قبضہ محمد عمرو خاں یہ ہے کہ بضمن تجویز تنقیح نمبر۹ اصل صاحب معاملہ ہونا مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کا غیر ثابت ہے اور بضمن تجویز تنقیح نمبر۱ مابین مولوی عبدالغافر خاں و گنیشی لال کے معاہدہ ہونا ثابت ہےایسی حالت میں منجانب مدعا علیہ نمبر۲ محمد عمر خاں(عمر بردار مرتہنہ)کا قبضہ کب مفید ہوسکتا ہے۔
رابعا:یہ کہ مدعیان نے نقل فیصلہ اجلاس عالیہ جو ڈیشلی بمقدمہ جانی بیگم ابیلانٹ بنام نایاب بیگم رمپانڈنٹ مورخہ ۹ / دسمبر ۱۹۱۴ء میں اس امر کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اجازت دینا قبضہ کی ثابت نہیں ہے جو باتباع حکم موصوفہ مبطل رہن ہےاس میں شك نہیں کہ فیصلہ موصوفہ میں یہ امر تجویز فرمایا گیا ہے کہ راہنہ کی اجازت قبضہ دینے کی مرتہنہ کو ثابت نہیں جو ضرور ی ہے اور اس مقدمہ میں مدعا علیھا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کاعمر خاں(عمر برادر ہندہ)کو قبضہ لینے کی اجازت لینا کسی شہادت سے ثابت نہیں ہےپس بہ تقلید فیصلہ اجلاس اعلی اگر اجازت راہنہ پر اجازت مرتہنہ قیاس کی جائے تو بلاشبہہ قبضہ زیر بحث میں اجازت مرتہنہ ثابت نہ ہونے سے رہن باطل ہوتا ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ جب رہن میں اجازت قبضہ دینے کی امر ضروری ہے تو قبضہ کے لئے اجازت دینا بدرجہ اولی ضروری ہوگا کیونکہ اسی پر مدار قبضہ مرتہنہ ہے۔
خامسا:یہ کہ شہادت مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)میں نسبت ثبوت مکانات وخلو مکانات اختلاف بین ہے۔
تنقیح نمبر۱۱ کے متعلق کوئی ثبوت قانونی یا نظر ایسی پیش نہیں ہوئی جس سے میں تنقیح مذکور کو ثابت قراردوں میرے نزدیك اس مقدمہ میں دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ریاست اور دفعہ ۹۲ قانون شہادت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تنقیح نمبر۱۲ بھی غیر ثابت ہے بلکہ تردید اس کی ثابت ہے کیونکہ رسید کرایہ کے لئے بمنشاء دفعہ ۱۴
قانون رجسٹری کے رجسٹری ہونا ضرور ی نہیں ہے البتہ ٹکٹ رسید کی ضرورت ہے چونکہ اس پر ٹکٹ رسید نہیں تھا اس کا تاوان ایك روپیہ وصول ہوگیا ہےاس لئے بمنشاء مدب دفعہ ۵۲ قانون اسٹامپ ریاست قابل قبول ہےاور حسب اعتراض مدعا علیہا لائق ضبطی و خلاف قانون و بے ضابطہ نہیں ہےبوجوہات بالا حکم ہوا کہ دعوی مدعیان بتجویز انفکاك رہن بمجرائی کل زر مندرجہ بیعنامہ بالوفا وواپسی(٭٭)زر فاضل بواپسی دلائی جانی بیعنامہ بالوفاء و کرایہ نامہ اقراری مول چند بنام مدعا علیہما نمبر ۱و۲ ڈگری ہوا اور دعوی مدعیان واپسی(٭٭)کی خارج ہوالہذا اب سوالات مندرجہ تحت جواب طلب ہیں:
(۱)آیا وارث کو اپنے مورث کے اقرار کے خلاف ایسے ادعا کا حق شرعا حاصل ہے یانہیں
(۲)آیا قاضی کو بلا موجودگی بینہ واقرار ونکول کے محض اپنے قیاس کی بناء پر دستاویز مصدقہ سرکاری کے فرضیت کا حکم کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور ایساحکم قابل بحالی ہے یا منسوخی
(۳)آیا شرعا قاضی کو عمل بالخط بصورت انکار مدعا علیہ از تحریرخود الخط یشبہ الخط (خطخط کے مشابہ ہوتا ہے۔ت)کے خلاف جائز ہے یانہیں اور رسید پیش کردہ مدعی بصورت موجودہ جس کی بابت کوئی گواہ شہادت ادا نہیں کرتا ہے کہ ہمارے سامنے رسید لکھی گئی ہے صرف قیاسا شناخت خط کے گواہ پیش ہوئے ہیں قابل قبول ہے یانہیں
(۴)آیا بیع بالوفاء میں غیر بائع یعنی کرایہ دار سے بعد قبضہ شرعی جو روپیہ بذریعہ کرایہ وصول کیاجائے وہ زر اصل میں قابل مجرائی ہے یانہیں
(۵)اگر خود بائع بالوفاء کایہ ادعا ہو کہ میں نے فرضی کرایہ نامہ از غیر تحریر و تصدیق کرایا تھا در حقیقت کرایہ من بائع بالوفا نے ادا کیا ہے تو یہ صورت اجارہ باذن راہن کی ہے یانہیں
(۶)آیا شہادت گواہان معمولی وغیر ثقہ مدعیان سے بمقابلہ مدعا علیہا مقر لہا دستاویزات و اقرار ات گنیشی لال(زید راہن)کی فرضیت ثابت بھی ہوسکتی ہے اور ایسی فرضیت کی شرعا کوئی سند ہے
(۷)آیا محض دو گواہوں کے(جس میں ایك سزا یافتہ ہے اور دوسرا گواہ جہاں ملازم ہے وہاں
(۱)آیا وارث کو اپنے مورث کے اقرار کے خلاف ایسے ادعا کا حق شرعا حاصل ہے یانہیں
(۲)آیا قاضی کو بلا موجودگی بینہ واقرار ونکول کے محض اپنے قیاس کی بناء پر دستاویز مصدقہ سرکاری کے فرضیت کا حکم کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور ایساحکم قابل بحالی ہے یا منسوخی
(۳)آیا شرعا قاضی کو عمل بالخط بصورت انکار مدعا علیہ از تحریرخود الخط یشبہ الخط (خطخط کے مشابہ ہوتا ہے۔ت)کے خلاف جائز ہے یانہیں اور رسید پیش کردہ مدعی بصورت موجودہ جس کی بابت کوئی گواہ شہادت ادا نہیں کرتا ہے کہ ہمارے سامنے رسید لکھی گئی ہے صرف قیاسا شناخت خط کے گواہ پیش ہوئے ہیں قابل قبول ہے یانہیں
(۴)آیا بیع بالوفاء میں غیر بائع یعنی کرایہ دار سے بعد قبضہ شرعی جو روپیہ بذریعہ کرایہ وصول کیاجائے وہ زر اصل میں قابل مجرائی ہے یانہیں
(۵)اگر خود بائع بالوفاء کایہ ادعا ہو کہ میں نے فرضی کرایہ نامہ از غیر تحریر و تصدیق کرایا تھا در حقیقت کرایہ من بائع بالوفا نے ادا کیا ہے تو یہ صورت اجارہ باذن راہن کی ہے یانہیں
(۶)آیا شہادت گواہان معمولی وغیر ثقہ مدعیان سے بمقابلہ مدعا علیہا مقر لہا دستاویزات و اقرار ات گنیشی لال(زید راہن)کی فرضیت ثابت بھی ہوسکتی ہے اور ایسی فرضیت کی شرعا کوئی سند ہے
(۷)آیا محض دو گواہوں کے(جس میں ایك سزا یافتہ ہے اور دوسرا گواہ جہاں ملازم ہے وہاں
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ باازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۹€
مدعی تحویلدار ہے)اور مدعی کا اس پر ہر وقت اثر ہے اس قدر بیان سے کہ گفتگوئے معاہدہ شوہر مرتہنہ اور بائع بالوفاء کے درمیان میں ہمارے سامنے(٭٭)قرض دینے کے متعلق ہوئی تھی تو ایسی صرف دو شہادتوں کی بنیاد پر کہ جو دستاویزات کی تصدیق ہونے سے بیشتر کی شہادت خلاف دستاویزات مصدقہ ادا کریں اور نہ اپنی موجودگی ہنگام تصدیق دستاویزات بیان کریں اور نہ مسماۃ ہندہ مشتریہ بیع بالوفاء کے کسی اقرار کے متعلق شہادت ادا کریں کچہری دستاویزات مصدقہ کو شرعا فرضی قرار دے سکتی ہے اور مدعا علیہا نمبر۲(مشتریہ بیع بالوفا)کا حق شرعا ضائع ہوسکتا ہے یانہیں اور ایسی شہادت مدعاعلیہا مذکور کی مقابلہ میں شرعا کیا اثر رکھتی ہے جس قدر گواہ منجانب مدعیان پیش ہوئے ہیں وہ سب مستور الحال اور غیر ثقہ ہیں کچہری نے کسی گواہ کی حیثیت تحت اظہار تحریر نہیں کی ہے کہ یہ گواہ کیسی حیثیت کا ہے حالانکہ حکم ریاست جاری ونافذ ہے کہ ہر گواہ کے ختم بیان پر کچہر ی کی جانب سے نوٹ حیثیت گواہ کا لکھا جائے کہ گواہ کچہری کے نزدیك کیسی قسم کا ہے آیا ثقہ یا غیر ثقہ یا مستور الحال ہے جس سے گواہ کی معتبری کا اندازہ ہوسکے۔پس ایسی حالت میں شہادت گواہان مدعیان پر حاکم اپیل کو شرعا کیا حکم دینا چاہئے
(۸)آیا مدعیان حسب قول خود بشرح سود ۱۳/ ۱۱ پائی سود فیصدی ماہوار رقم سود(٭٭)قرار داد ہونا بیان کرکے (٭٭) ماہوار میزان قائم کرکے ادائیگی بیان کرتے ہیں اور نیز گواہ بھی اسی طرح شہادت اداکرتے ہیں لیکن بحساب ۱۳/ ۱۱پائی فیصدی ماہوار کی رقم(٭٭٭٭) پر سود(٭٭)پائی ہوتا ہے تو ایسی تناقض عرضی دعوی و شہادت علی الزیادات پر کچہری مقدمہ کی ڈگری شرعا کرسکتی ہے اور اگر کچہری ڈگری ایسی صورت میں صادر کرے تو وہ ڈگری شرعا قابل بحالی ہے یا منسوخی بینوا توجروا۔
الجواب:
اللھم لك الحمد یاوھاب اسئلك ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ ! حمدیں تیرے لئے ہیںاے عطا کرنے والے! میں تجھ سے حق اور ہدایت کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ت)کلام طویل اور فرصت قلیل اور طبیعت علیل اور سائل کو تعجیللہذا چندمفید و کافی کلمات پر اقتصار اور انہیں کے ضمن میں جواب سوالات ضروریہ کا اظہار ہو وباﷲالتوفیق سائل نے دارالافتا میں عرضی دعوی وبیان تحریر و فیصلہ و عبارت رسیدات مندرجہ بہی اور بیعنامہ وکرایہ نامہ اور مدعی کے بیس گواہان ۱موتی شاہ۲وزیر خاں۳محمد رضاخاں۴مظہر حسین۵عبدالعزیز۶سید عبدالعزیز۔
(۸)آیا مدعیان حسب قول خود بشرح سود ۱۳/ ۱۱ پائی سود فیصدی ماہوار رقم سود(٭٭)قرار داد ہونا بیان کرکے (٭٭) ماہوار میزان قائم کرکے ادائیگی بیان کرتے ہیں اور نیز گواہ بھی اسی طرح شہادت اداکرتے ہیں لیکن بحساب ۱۳/ ۱۱پائی فیصدی ماہوار کی رقم(٭٭٭٭) پر سود(٭٭)پائی ہوتا ہے تو ایسی تناقض عرضی دعوی و شہادت علی الزیادات پر کچہری مقدمہ کی ڈگری شرعا کرسکتی ہے اور اگر کچہری ڈگری ایسی صورت میں صادر کرے تو وہ ڈگری شرعا قابل بحالی ہے یا منسوخی بینوا توجروا۔
الجواب:
اللھم لك الحمد یاوھاب اسئلك ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ ! حمدیں تیرے لئے ہیںاے عطا کرنے والے! میں تجھ سے حق اور ہدایت کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ت)کلام طویل اور فرصت قلیل اور طبیعت علیل اور سائل کو تعجیللہذا چندمفید و کافی کلمات پر اقتصار اور انہیں کے ضمن میں جواب سوالات ضروریہ کا اظہار ہو وباﷲالتوفیق سائل نے دارالافتا میں عرضی دعوی وبیان تحریر و فیصلہ و عبارت رسیدات مندرجہ بہی اور بیعنامہ وکرایہ نامہ اور مدعی کے بیس گواہان ۱موتی شاہ۲وزیر خاں۳محمد رضاخاں۴مظہر حسین۵عبدالعزیز۶سید عبدالعزیز۔
۷حافظ عجائب الدین خاں۸احمد خان ولد میان خاں۹حیدر علی خاں۱۰عبدالرحیم خاں۱۱الطاف علی۱۲محمد بشیر۱۳انور بیگ ۱۴نجن۱۵حیدر حسین۱۶اشرف علیخاں۱۷احمد خاں ولد عبدالنبی خاں۱۸نجف علی خان۱۹محمدغفران۲۰ولی خاں کے اظہارات کی نقول پیش کیں جبکہ رسیدات وبینات موتی شاہ ووزیر خاں کی باضابطہ باقی سادہان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ نہ دعوی صحیح نہ شہادتیں نہ فیصلہ۔منصب افتا شرع مطہر کا حکم بتانا ہے اور زمانہ حسب ارشاد حدیث وہ کہ معروف منکر ہے اور منکر معروف۔
اہل اسلام حکم شرع پر گردن رکھیں اگرچہ غلط رواج سے بیگانہ نظرآئے۔
دعوے:
دعوی تین وجہ سے باطل ہے:
اول: وارث و مورث مثل شخص واحدہیں مورث کے اقرار ثابت کے خلاف وارث کا دعوی تناقض ہے اور غیر محل خطا میں تناقض مبطل دعوی۔وجیز امام کردری پھر بحرالرائق جلدہفتم ص۳۹پھر فتح اﷲ المعین جد ۳ ص۴۲پھر طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ص۲۱۶میں ہے:
اعلم ان التناقض کما یکون من متکلم واحدیکون عن متکلمین کمتکلم واحد حکما کوارث و مورث۔ معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح تناقض ایك متکلم کے کلام میں ہوتا ہے اسی طرح ایسے دو متکلم حضرات کے کلاموں میں جو ایك متکلم کے حکم میں ہوں مثلا وارث اور مورث دونوں کا کلام ایك متکلم کے حکم میں ہے(ت)
فتح المعین و طحطاوی صفحات مذکورہ میں اس کے بعد ہے:
وفی ھذا دلالۃ ظاہرۃ علی مانقلہ الشیخ حسن(یعنی العلامۃ الشرنبلالی)فی رسالۃ الابراء عن فتاوی الشیخ الشلبی حیث حکی الاجماع علی ان دعوی الوارث لاتسمع فی شیئ لاتسمع فیہ دعوی مورثہ ان لوکان حیا فادعی ۔ اور اس میں شیخ حسن یعنی علامہ شرنبلالی کی رسالہ الابراء میں شیخ شلبی کے فتاوی سے منقول کلام پر ظاہر دلالت ہے جہاں انہوں نے یہ اجماع ذکر کیا ہے کہ جہاں مورث اپنی زندگی میں کوئی دعوی کرتا تو اس کا دعوی وہاں مقبول نہ ہوتا وارث کا ایسا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا۔(ت)
دوم: واپسی دستاویزات کے دعوی میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کاغذدستاویز ملك مدعا علیہ ہے
اہل اسلام حکم شرع پر گردن رکھیں اگرچہ غلط رواج سے بیگانہ نظرآئے۔
دعوے:
دعوی تین وجہ سے باطل ہے:
اول: وارث و مورث مثل شخص واحدہیں مورث کے اقرار ثابت کے خلاف وارث کا دعوی تناقض ہے اور غیر محل خطا میں تناقض مبطل دعوی۔وجیز امام کردری پھر بحرالرائق جلدہفتم ص۳۹پھر فتح اﷲ المعین جد ۳ ص۴۲پھر طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ص۲۱۶میں ہے:
اعلم ان التناقض کما یکون من متکلم واحدیکون عن متکلمین کمتکلم واحد حکما کوارث و مورث۔ معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح تناقض ایك متکلم کے کلام میں ہوتا ہے اسی طرح ایسے دو متکلم حضرات کے کلاموں میں جو ایك متکلم کے حکم میں ہوں مثلا وارث اور مورث دونوں کا کلام ایك متکلم کے حکم میں ہے(ت)
فتح المعین و طحطاوی صفحات مذکورہ میں اس کے بعد ہے:
وفی ھذا دلالۃ ظاہرۃ علی مانقلہ الشیخ حسن(یعنی العلامۃ الشرنبلالی)فی رسالۃ الابراء عن فتاوی الشیخ الشلبی حیث حکی الاجماع علی ان دعوی الوارث لاتسمع فی شیئ لاتسمع فیہ دعوی مورثہ ان لوکان حیا فادعی ۔ اور اس میں شیخ حسن یعنی علامہ شرنبلالی کی رسالہ الابراء میں شیخ شلبی کے فتاوی سے منقول کلام پر ظاہر دلالت ہے جہاں انہوں نے یہ اجماع ذکر کیا ہے کہ جہاں مورث اپنی زندگی میں کوئی دعوی کرتا تو اس کا دعوی وہاں مقبول نہ ہوتا وارث کا ایسا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا۔(ت)
دوم: واپسی دستاویزات کے دعوی میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کاغذدستاویز ملك مدعا علیہ ہے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء مسائل شتی داالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۲۱۶€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء مسائل شتی داالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۲۱۶€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء مسائل شتی داالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۲۱۶€
تو دعوی رأسا باطلصرف رسید پانے کا دعوی کرسکتا ہے اگر نہ پائی ہو اور اگر ملك مدعی ہے تو ضرور ہے دعوی میں کاغذ کی مقدار اور اس کی صفت بیان کرے ورنہ دعوی بوجہ جہالت نامسموعیہاں مدعیوں نے ان میں سے کچھ نہ بیان کیا لہذا دعوی مدفوع۔حاوی زاہدی و قنیہ باب المداینات و عقود الدریہ جلد دوم صفحہ۲۰۸:
طلب القبالۃ من رب الدین بعد القضاء فللمدیون طلبھا منھم ان کانت الکاغذۃ مملوکۃ لہ وان کانت مملوکۃ للدائن فلہ طلب وثیقۃ القضاء منہ ولابدفی صحۃ دعوی القبالۃ من بیان قدر الکاغذۃ وصفتہا و بیان قدر المال المکتوب فیہا ۔(ملخصا) قرض کی ادائیگی کے بعد قرضخواہ سے دستاویزات طلب کرنا مقروض کا حق ہے بشرطیکہ وہ دستاویزات مقروض کی ملکیت ہوںاور اگر وہ قرض خواہ کی ملك ہوں تو پھر مقروض کو صرف ادائیگی کی رسید کے مطالبہ کا حق ہے اور دستاویزات کے دعوی میں مدعی پر لازم ہےکہ وہ ان دستاویزات کی مقدار اور ان کی صفت اور ان میں درج شدہ مال کی مقدار کوبیان کرے(ملخصا)۔(ت)
ریاست رامپور میں علاقہ قدیم پر اسٹامپ کی قید بہت جدید ہے مگر ان دستاویزوں تك نہ تھی جب توظاہر اور تھی توجب بھی اس قدر تعیین مدعی بہ کےلئے کافی نہیں کبھی کاغذ کم قیمت کا پیش ہوتا ہے جس پر تاوان لے کر رجسٹری کردیتے ہیں کبھی جتنی قیمت کا قانونا چاہئے خزانے میں نہیں ہوتا تو دو قطعے دئے جاتے ہیں کبھی عبارت دستاویز قطعا اسٹامپ پر پوری نہیں آتی سادہ ضمیمہ لگاتے ہیں تو صرف اس قدر کہ اس نوعیت کی دستاویز پر اتنے کا اسٹامپ ہوگاتعیین کاغذ نہیں کر سکتا بلکہ دعوی میں اس کا بیان ضرور ہے کہ کاغذ کس قیمت کا ہےایك قطعہ ہے یادوتنہا ہے یا مع ضمیمہضمیمہ ہے تو کس مقدار و صفت کا ہےیہاں ان میں سے کچھ مذکور نہیں لہذا دعوی مسموع نہیں۔
سوم: دعوی زر کے ساختہ پر داختہ ہونے پر ایك اور قرینہ واضحہ بھی ہے بنیوں کو حساب خصوصا سود کے محاسبات میں کمال مشق و مہارت ہوتی ہے لیکن عرضی دعوی نیز شہود مدعی کے بیانوں پر حساب بہت گندا ہے اولا مدعیوں نے پانچ ہزار پر شرح ماہوار فیصدی ۱۳/ ۱۱ پائی بتائی پھر سب نے ماہوار(٭٭)حالانکہ شرح مذکور سے پانچ ہزار پر(٭٭)ماہوار ہوتا ہے بنئے کا ہر مہینے
طلب القبالۃ من رب الدین بعد القضاء فللمدیون طلبھا منھم ان کانت الکاغذۃ مملوکۃ لہ وان کانت مملوکۃ للدائن فلہ طلب وثیقۃ القضاء منہ ولابدفی صحۃ دعوی القبالۃ من بیان قدر الکاغذۃ وصفتہا و بیان قدر المال المکتوب فیہا ۔(ملخصا) قرض کی ادائیگی کے بعد قرضخواہ سے دستاویزات طلب کرنا مقروض کا حق ہے بشرطیکہ وہ دستاویزات مقروض کی ملکیت ہوںاور اگر وہ قرض خواہ کی ملك ہوں تو پھر مقروض کو صرف ادائیگی کی رسید کے مطالبہ کا حق ہے اور دستاویزات کے دعوی میں مدعی پر لازم ہےکہ وہ ان دستاویزات کی مقدار اور ان کی صفت اور ان میں درج شدہ مال کی مقدار کوبیان کرے(ملخصا)۔(ت)
ریاست رامپور میں علاقہ قدیم پر اسٹامپ کی قید بہت جدید ہے مگر ان دستاویزوں تك نہ تھی جب توظاہر اور تھی توجب بھی اس قدر تعیین مدعی بہ کےلئے کافی نہیں کبھی کاغذ کم قیمت کا پیش ہوتا ہے جس پر تاوان لے کر رجسٹری کردیتے ہیں کبھی جتنی قیمت کا قانونا چاہئے خزانے میں نہیں ہوتا تو دو قطعے دئے جاتے ہیں کبھی عبارت دستاویز قطعا اسٹامپ پر پوری نہیں آتی سادہ ضمیمہ لگاتے ہیں تو صرف اس قدر کہ اس نوعیت کی دستاویز پر اتنے کا اسٹامپ ہوگاتعیین کاغذ نہیں کر سکتا بلکہ دعوی میں اس کا بیان ضرور ہے کہ کاغذ کس قیمت کا ہےایك قطعہ ہے یادوتنہا ہے یا مع ضمیمہضمیمہ ہے تو کس مقدار و صفت کا ہےیہاں ان میں سے کچھ مذکور نہیں لہذا دعوی مسموع نہیں۔
سوم: دعوی زر کے ساختہ پر داختہ ہونے پر ایك اور قرینہ واضحہ بھی ہے بنیوں کو حساب خصوصا سود کے محاسبات میں کمال مشق و مہارت ہوتی ہے لیکن عرضی دعوی نیز شہود مدعی کے بیانوں پر حساب بہت گندا ہے اولا مدعیوں نے پانچ ہزار پر شرح ماہوار فیصدی ۱۳/ ۱۱ پائی بتائی پھر سب نے ماہوار(٭٭)حالانکہ شرح مذکور سے پانچ ہزار پر(٭٭)ماہوار ہوتا ہے بنئے کا ہر مہینے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب المداینات ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۰€
سود میں آٹھ آنے ماہوار سے زیادہ دینا اور پندرہ برس تك اسی غلطی پر جما رہنا اور کبھی متنبہ نہ ہونا عادۃ معقول نہیں۔
ثانیا:۱۷ / دسمبر ۱سے ختم ماہ تك پندرہ دن ہوتے ہیں مدعیوں نے ان کی بابت بائیس روپے رکھے اور یہی رسید میں دکھائے۔دسمبر ۳۱ دن کا ہے اس کے ۱۵دن کے شرح مذکور پر(٭٭)پائی ہوئے کہ اکیس روپے سے تین پیسے بھی زائد نہیں نہ کہ پورے بائیس اور اگر(٭٭)ہی شرح لیں تو ان پندرہ دن کے(٭٭)پائی ہوئے اب بھی بائیس روپے میں(۱۱/)سے زائد زیادہ گئےکیا بنیا ۱۱یا ۱۵آنے سود کے حساب میں زیادہ دیگا۔
ثالثا ایك ہزار زر اصل سے ادا ہونے کے بعد حسب شرح اقرار ی مدعیان(٭٭)ماہوار رہا نہ کہ(٭٭)جو مدعیوں نے لکھا کہ ہر مہینے پر(۶ / ۷) پائی زائد ہے اور اگر چوالیس ہی روپے لیں(٭٭)پائی ہو اب بھی ۳/۵ کی زیادت ہے حساب میں اسے بھی غلطی کہیں گے اور مرورزمان سے اس کی مقدار روپوں کو پہنچے گی۔
رابعا:یہ ہزار کی ادا ۳/ جنوری ۱۳ کو بتائی اور جب سے آخر اپریل ۱۵ تک(٭٭)پہنچنا کے حساب سے صرف(٭۴/۴-۲/۳۱)کے حساب سے یہ رقم یکم جنوری سے پورے ۲۸ ماہ کی ہوئی حالانکہ ان کے زعم پر جنوری کے پہلے دو دن تک(٭٭)کی پوری رقم باقی تھی اس پر جنوری کے دو یوم کے(٭٭ ۱۲/۰ا-۲۲/۳۰)پائی ہوتے اور(٭٭)کے حساب سے صرف (٭۴/۴-۲/۳۱)پائی رہ گئے ساڑھے آٹھ آنے سے زیادتی کی کمی ہےیہ سب اغلاط دعوے پر ہے شرح اقراری مدعیان ۱۷ /دسمبر ۱ سے آخر اپریل۱۵ تك حساب یہ ہوا
ثانیا:۱۷ / دسمبر ۱سے ختم ماہ تك پندرہ دن ہوتے ہیں مدعیوں نے ان کی بابت بائیس روپے رکھے اور یہی رسید میں دکھائے۔دسمبر ۳۱ دن کا ہے اس کے ۱۵دن کے شرح مذکور پر(٭٭)پائی ہوئے کہ اکیس روپے سے تین پیسے بھی زائد نہیں نہ کہ پورے بائیس اور اگر(٭٭)ہی شرح لیں تو ان پندرہ دن کے(٭٭)پائی ہوئے اب بھی بائیس روپے میں(۱۱/)سے زائد زیادہ گئےکیا بنیا ۱۱یا ۱۵آنے سود کے حساب میں زیادہ دیگا۔
ثالثا ایك ہزار زر اصل سے ادا ہونے کے بعد حسب شرح اقرار ی مدعیان(٭٭)ماہوار رہا نہ کہ(٭٭)جو مدعیوں نے لکھا کہ ہر مہینے پر(۶ / ۷) پائی زائد ہے اور اگر چوالیس ہی روپے لیں(٭٭)پائی ہو اب بھی ۳/۵ کی زیادت ہے حساب میں اسے بھی غلطی کہیں گے اور مرورزمان سے اس کی مقدار روپوں کو پہنچے گی۔
رابعا:یہ ہزار کی ادا ۳/ جنوری ۱۳ کو بتائی اور جب سے آخر اپریل ۱۵ تک(٭٭)پہنچنا کے حساب سے صرف(٭۴/۴-۲/۳۱)کے حساب سے یہ رقم یکم جنوری سے پورے ۲۸ ماہ کی ہوئی حالانکہ ان کے زعم پر جنوری کے پہلے دو دن تک(٭٭)کی پوری رقم باقی تھی اس پر جنوری کے دو یوم کے(٭٭ ۱۲/۰ا-۲۲/۳۰)پائی ہوتے اور(٭٭)کے حساب سے صرف (٭۴/۴-۲/۳۱)پائی رہ گئے ساڑھے آٹھ آنے سے زیادتی کی کمی ہےیہ سب اغلاط دعوے پر ہے شرح اقراری مدعیان ۱۷ /دسمبر ۱ سے آخر اپریل۱۵ تك حساب یہ ہوا
کل(٭٭)دینے تھے لیکن مدعی اور گواہ اور رسیدات سب(٭٭)دینا بتاتے ہیں محال عادی ہے کہ ہو شیار بنیا تیرہ چودہ برس غلطی میں پیچاں رہ کر ۷۹روپے ۴ آنے(۷-۲۹/۳۱)پائی حساب سے زیادہ دے دے یہ ہر گز معقول نہیں اور ایسا دعوی کہ ظاہر حال مدعی جس کی تکذیب کرے مقبول نہیں۔بحرالرائق میں ہے:
ان من شرط سماع الدعوی ان لایکذب المدعی ظاہر حالہ ثم رأیت ابن الغرس فی الفوائد الفقہیۃ(صرح بہ فقال)ومن شروط صحۃ الدعوی ان یکون المدعی بہ مما یحتمل الثبوت بان لایکون مستحیلا عقلا او عادۃفان الدعوی والحال ماذکر ظاہرۃ الکذب لان المستحیل العادی کالمستحیل العقلی ۔(ملخصا) دعوی کے قابل سماعت ہونے کے لئے شرائط میں سے ہے کہ مدعی کاظاہر حال اس دعوی کی تکذیب نہ کرتا ہوپھر میں نے فوائد فقہیہ میں ابن الغرس کی تصریح دیکھی تو انہوں نے کہا کہ دعوی کی صحت کیلئے شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ جس چیز کا دعوی کیا ہو وہ قابل ثبوت بھی ہو یوں کہ وہ عقلا یا عادۃ محال نہ ہو کیونکہ اگر دعوی ایسا ہو کہ ظاہرا جھوٹ ہو تو قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ محال عادی محال عقلی کی طرح ہوتا ہے۔(ملخصا۔ (ت)
غایت درجہ یہاں عذر خطا ہوگا یعنی مدعیوں نے براہ غلط اس شرح کا اقرار کیا مگر بعد اقرار ادعائے خطا مردود وبیکار۔فتاوی قاضیخان و اشباہ والنظائر وقنیہ و درمختا ر وعقو دالدریہ وغیرہا میں ہے:
اقربشیئ ثم ادعی الخطا لم تقبل ۔ ایك چیز کا اقرار کرکے پھر اس کی خطا کی دعوی کرے تو قبول نہ ہوگا۔(ت)
شہادات
ان شہادتوں کے بطلان پر کچھ وجوہ عامہ ہیں کہ ہر وجہ سب کوشاملاور کچھ خاصہ کہ بعض سے خاص مگر ان سے بھی کوئی گواہی خالی نہیں لہذا وہ بھی وجہ عام ہیںوجوہ عامہ سات ہیں:
اول:حقوق العباد میں صحت دعوی شرط شہادت ہے اگر دعوی صحیح نہیں اس پر کوئی شہادت کیسے ہی اعلی درجہ وثوق کی ہو اصلا مسموع نہیں اذفات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط فوت ہوجاتا ہے۔ت)تنویر الابصار میں ہے:
ان من شرط سماع الدعوی ان لایکذب المدعی ظاہر حالہ ثم رأیت ابن الغرس فی الفوائد الفقہیۃ(صرح بہ فقال)ومن شروط صحۃ الدعوی ان یکون المدعی بہ مما یحتمل الثبوت بان لایکون مستحیلا عقلا او عادۃفان الدعوی والحال ماذکر ظاہرۃ الکذب لان المستحیل العادی کالمستحیل العقلی ۔(ملخصا) دعوی کے قابل سماعت ہونے کے لئے شرائط میں سے ہے کہ مدعی کاظاہر حال اس دعوی کی تکذیب نہ کرتا ہوپھر میں نے فوائد فقہیہ میں ابن الغرس کی تصریح دیکھی تو انہوں نے کہا کہ دعوی کی صحت کیلئے شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ جس چیز کا دعوی کیا ہو وہ قابل ثبوت بھی ہو یوں کہ وہ عقلا یا عادۃ محال نہ ہو کیونکہ اگر دعوی ایسا ہو کہ ظاہرا جھوٹ ہو تو قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ محال عادی محال عقلی کی طرح ہوتا ہے۔(ملخصا۔ (ت)
غایت درجہ یہاں عذر خطا ہوگا یعنی مدعیوں نے براہ غلط اس شرح کا اقرار کیا مگر بعد اقرار ادعائے خطا مردود وبیکار۔فتاوی قاضیخان و اشباہ والنظائر وقنیہ و درمختا ر وعقو دالدریہ وغیرہا میں ہے:
اقربشیئ ثم ادعی الخطا لم تقبل ۔ ایك چیز کا اقرار کرکے پھر اس کی خطا کی دعوی کرے تو قبول نہ ہوگا۔(ت)
شہادات
ان شہادتوں کے بطلان پر کچھ وجوہ عامہ ہیں کہ ہر وجہ سب کوشاملاور کچھ خاصہ کہ بعض سے خاص مگر ان سے بھی کوئی گواہی خالی نہیں لہذا وہ بھی وجہ عام ہیںوجوہ عامہ سات ہیں:
اول:حقوق العباد میں صحت دعوی شرط شہادت ہے اگر دعوی صحیح نہیں اس پر کوئی شہادت کیسے ہی اعلی درجہ وثوق کی ہو اصلا مسموع نہیں اذفات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط فوت ہوجاتا ہے۔ت)تنویر الابصار میں ہے:
حوالہ / References
بحر الرائق کتب الدعوٰی باب التحالف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۲۷€
درمختار کتاب الاقرار فصل مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۰€
درمختار کتاب الاقرار فصل مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۰€
تقدم الدعوی فی حقو ق العباد شرط قبولہا ۔ حقوق العباد کے متعلق پہلے دعوی ہونا شہادت کی قبولیت کے لئے شرط ہے۔(ت)
اور ہم ثابت کرچکے کہ یہ دعوی صحیح نہیں لہذا تمام یہ اور ان کے سوا اور جس قدر ہوں سب باطل۔
دوم: حقو ق العباد میں شرط شہادت وہ لفظ ہے جو انشاء گواہی کے لئے ہو بلفظ اخبار کچھ بھی کہا جائے ہر گز قبول نہیں۔معین الحکام میں ہے:
اعلم ان اداء الشہادۃ لایصح بالخبر البتۃ فالخبر کیف تصرف لایجوز الاعتماد علیہ ۔ واضح ہوکہ خبر کے طور پر شہادت کی ادائیگی ہر گز صحیح نہیں کیونکہ خبر جیسی بھی ہو وہ قابل اعتماد نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لابد من انشاء الاخبار عن الواقعۃ المشھودبھا و الانشاء لیس بخبر فاذا قال الشاھد اشھد کان انشاء ولو قال شھدت لم یکن انشاء ۔ جس واقعہ کی شہادت دی جائے وہ بطریقہ انشاء ہو کیونکہ وہ خبر نہ ہوگی جب گواہ اشھد(گواہی دیتا ہوں)کہے تو یہ انشاء ہے اور اگر اس نے شھدت(میں نے شہادت دی ہے کہا تو انشاء نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے:
لایقع الانشاء باسم الفاعل نحوانا شاھد عندك بکذا فھذالیس انشاء ملخصا۔ اسم فاعل کے صیغہ سے مثلا"میں گواہی دینے والا ہوں"کہا تو یہ انشاء نہیں ہےملخصا(ت)
گواہ پر قسم خلاف مذہب و خلاف شرع ہے بعض متاخرین نے نظر بضرورت جو اس بدعت کو گوارا کیا تھا کہ لوگ جھوٹی شہادت پر جری ہیں جھوٹی قسم سے بچیں گے اب وہ بھی باقی نہیں قسم پر شہادت سے زیادہ جرأت ہےاس سے قطع نظر ہو تو قسم مشہود بہ پر ہونی تھی مثلا خداکی قسم اس زیدپر اس عمرو کا اتنا روپیہ فلاں سبب سے آتا ہے یہاں اس کے خلاف تمام اظہاروں میں قسم شہادت دینے پر کھائی ہے کہ خدا کی قسم سچ گواہی دیتا ہوں اس نے"گواہی دیتا ہوں"کو انشائے شہادت نہ رکھا بلکہ اخبار کےلئے متعین کردیا کہ قسم داخل نہیں ہوتی مگر جملہ خبریہ پرولہذا اگر کہے خد اکی قسم تو میری زوجہ نہیں اگرچہ اس سے طلاق کی نیت کرے طلاق
اور ہم ثابت کرچکے کہ یہ دعوی صحیح نہیں لہذا تمام یہ اور ان کے سوا اور جس قدر ہوں سب باطل۔
دوم: حقو ق العباد میں شرط شہادت وہ لفظ ہے جو انشاء گواہی کے لئے ہو بلفظ اخبار کچھ بھی کہا جائے ہر گز قبول نہیں۔معین الحکام میں ہے:
اعلم ان اداء الشہادۃ لایصح بالخبر البتۃ فالخبر کیف تصرف لایجوز الاعتماد علیہ ۔ واضح ہوکہ خبر کے طور پر شہادت کی ادائیگی ہر گز صحیح نہیں کیونکہ خبر جیسی بھی ہو وہ قابل اعتماد نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لابد من انشاء الاخبار عن الواقعۃ المشھودبھا و الانشاء لیس بخبر فاذا قال الشاھد اشھد کان انشاء ولو قال شھدت لم یکن انشاء ۔ جس واقعہ کی شہادت دی جائے وہ بطریقہ انشاء ہو کیونکہ وہ خبر نہ ہوگی جب گواہ اشھد(گواہی دیتا ہوں)کہے تو یہ انشاء ہے اور اگر اس نے شھدت(میں نے شہادت دی ہے کہا تو انشاء نہ ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے:
لایقع الانشاء باسم الفاعل نحوانا شاھد عندك بکذا فھذالیس انشاء ملخصا۔ اسم فاعل کے صیغہ سے مثلا"میں گواہی دینے والا ہوں"کہا تو یہ انشاء نہیں ہےملخصا(ت)
گواہ پر قسم خلاف مذہب و خلاف شرع ہے بعض متاخرین نے نظر بضرورت جو اس بدعت کو گوارا کیا تھا کہ لوگ جھوٹی شہادت پر جری ہیں جھوٹی قسم سے بچیں گے اب وہ بھی باقی نہیں قسم پر شہادت سے زیادہ جرأت ہےاس سے قطع نظر ہو تو قسم مشہود بہ پر ہونی تھی مثلا خداکی قسم اس زیدپر اس عمرو کا اتنا روپیہ فلاں سبب سے آتا ہے یہاں اس کے خلاف تمام اظہاروں میں قسم شہادت دینے پر کھائی ہے کہ خدا کی قسم سچ گواہی دیتا ہوں اس نے"گواہی دیتا ہوں"کو انشائے شہادت نہ رکھا بلکہ اخبار کےلئے متعین کردیا کہ قسم داخل نہیں ہوتی مگر جملہ خبریہ پرولہذا اگر کہے خد اکی قسم تو میری زوجہ نہیں اگرچہ اس سے طلاق کی نیت کرے طلاق
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات باب الاختلاف فی الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
نہ ہوگی کہ طلاق انشاء ہے اور قسم نے اس جملے کو خاص خبریہ کردیادرمختار میں ہے:
لست لك بزوج او لست لی بامرأۃ لو اکدہ بالقسم لاتطلق اتفاقا لان الیمین قرینۃ ارادۃ النفی ۔ میں تیرا خاوند نہیں ہوں یا تو میری بیوی نہیں ہے۔اگر اس کلام کو قسم سے مؤکد کردیا تو بالاتفاق طلا ق نہ ہوگی کیونکہ قسم اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں نفی کا ارادہ ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لان الیمین لتاکید مضمون الجملۃ الخبریۃ فلا یکون جوابہ الاخبرا ۔ کیونکہ قسم جملہ خبریہ کے مضمون کی تاکید کےلئے ہے تو اس کا جواب صرف خبر ہوگا۔(ت)
سراج وہاج و عالمگیر یہ میں ہے:
اتفقواجمیعا انہ لو قال واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع شیئ وان نوی ۔ سب نے اتفاق کیا ہے کہ اگر خاوند نے کہا خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہےتو ارادہ طلاق کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع عندالکل و ان نوی ۔ خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہے کہا تو سب کے نزدیك طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو۔(ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
اذاقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع الطلاق وان نوی بالاتفاق لان الیمین علی النفی تتناول الماضی وھو کاذب فی ذالك فلا یقع بہ شیئ (ملتقطا)۔ جب کہے خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو یہ بالاتفاق ہے کیونکہ نفی پر قسم ماضی کو شامل ہے جبکہ یہ جھوٹ ہے تو اس سے کچھ نہ واقع ہوگا (ملتقطا)۔(ت)
تو ثابت ہوا کہ ان میں کوئی شہادت ہر گز شرعا شہادت ہی نہیں سب افسا نہ گوئی قصہ خوانی ہیں۔
سوم: اشھدگواہی میدہمگواہی دیتا ہوں سب سے سخت تر قسم ہے اور مشہود بہ مقسم علیہ یعنی وہ بات جس پر یہ شدید قسم کھائی۔درمختا رمیں ہے:
رکنھا لفظ اشھد لاغیر لتضمنہ معنی مشاہدۃ وقسم واخبار للحال فکانہ یقول اقسم باﷲ لقد اطلعت علی ذلك وان اخبربہ وھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین ۔ اس کا رکن صرف اشھد کا لفظ ہے اور کچھ نہیں کیونکہ یہ لفظ مشاہدہ اور قسم اور حال کی خبر ہے گویا اس نے یوں کہا خدا کی قسم میں نے اس پر اطلاع پائی اور اس کی خبر دے رہا ہوں جبکہ یہ معانی اس لفظ کے غیر میں مفقود ہیںتویہی متعین ہے۔(ت)
لست لك بزوج او لست لی بامرأۃ لو اکدہ بالقسم لاتطلق اتفاقا لان الیمین قرینۃ ارادۃ النفی ۔ میں تیرا خاوند نہیں ہوں یا تو میری بیوی نہیں ہے۔اگر اس کلام کو قسم سے مؤکد کردیا تو بالاتفاق طلا ق نہ ہوگی کیونکہ قسم اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں نفی کا ارادہ ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لان الیمین لتاکید مضمون الجملۃ الخبریۃ فلا یکون جوابہ الاخبرا ۔ کیونکہ قسم جملہ خبریہ کے مضمون کی تاکید کےلئے ہے تو اس کا جواب صرف خبر ہوگا۔(ت)
سراج وہاج و عالمگیر یہ میں ہے:
اتفقواجمیعا انہ لو قال واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع شیئ وان نوی ۔ سب نے اتفاق کیا ہے کہ اگر خاوند نے کہا خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہےتو ارادہ طلاق کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع عندالکل و ان نوی ۔ خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہے کہا تو سب کے نزدیك طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو۔(ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
اذاقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ لایقع الطلاق وان نوی بالاتفاق لان الیمین علی النفی تتناول الماضی وھو کاذب فی ذالك فلا یقع بہ شیئ (ملتقطا)۔ جب کہے خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو یہ بالاتفاق ہے کیونکہ نفی پر قسم ماضی کو شامل ہے جبکہ یہ جھوٹ ہے تو اس سے کچھ نہ واقع ہوگا (ملتقطا)۔(ت)
تو ثابت ہوا کہ ان میں کوئی شہادت ہر گز شرعا شہادت ہی نہیں سب افسا نہ گوئی قصہ خوانی ہیں۔
سوم: اشھدگواہی میدہمگواہی دیتا ہوں سب سے سخت تر قسم ہے اور مشہود بہ مقسم علیہ یعنی وہ بات جس پر یہ شدید قسم کھائی۔درمختا رمیں ہے:
رکنھا لفظ اشھد لاغیر لتضمنہ معنی مشاہدۃ وقسم واخبار للحال فکانہ یقول اقسم باﷲ لقد اطلعت علی ذلك وان اخبربہ وھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین ۔ اس کا رکن صرف اشھد کا لفظ ہے اور کچھ نہیں کیونکہ یہ لفظ مشاہدہ اور قسم اور حال کی خبر ہے گویا اس نے یوں کہا خدا کی قسم میں نے اس پر اطلاع پائی اور اس کی خبر دے رہا ہوں جبکہ یہ معانی اس لفظ کے غیر میں مفقود ہیںتویہی متعین ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق باب الصریح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۲۲€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الفصل الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۷۵€
بحرالرائق کتاب الطلاق ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۰۵€
بدائع الصنائع کتاب الطلاق فصل واما الکنایۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۱۰۷ €
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الفصل الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۷۵€
بحرالرائق کتاب الطلاق ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۰۵€
بدائع الصنائع کتاب الطلاق فصل واما الکنایۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۱۰۷ €
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
جامع الفصولین جلد اول ص۱۲۱:
فی لفظ الشہادۃ من التاکید مالیس فی لفظ الخبرلانہ یمین باﷲ تعالی معنی ۔ لفظ شہاد ت میں جو تاکید ہے وہ خبر کے لفظ میں نہیں ہے کیونکہ اشھد معنا اﷲ تعالی کی قسم ہے۔(ت)
تبیین امام زیلعی ج ۴ ص۲۱۰:
النصوص ناطقۃ بالاستشہاد فلا یقوم مقامھا غیر ھا لما فیہا من زیادۃ توکید لانہا من الفاظ الیمین فیکون معنی الیمین ملاحظافیہا ۔ تمام نصوص شہادت کے مطالبہ پر ناطق ہیں تو کوئی دوسرا لفظ اس کے قائم مقام نہ ہوگا کیونکہ اس میں تاکید زیادہ ہے اس لئے کہ اس میں قسم کا معنی ملحوظ ہے لہذا یہ قسم کے الفاظ میں ہے۔(ت)
ہدایہ میں فرمایا:
النصوص نطقت باشتراطہا ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین فکان الامتناع عن تمام نصو ص اس کی شرط پر ناطق ہیں اور اس لئے کہ اس میں تاکید زیادہ ہے تواس کا اشھد کہنا قسم کے الفاظ میں سے ہے تو اس لفظ سے
الکذب بھذہ اللفظۃ اشد ۔ کذب کا امتناع شدید ہے۔(ت)
اور قسم مقسم علیہ کا اتصال شرط ہے جب ان میں وہ چیز فاصل ہو کہ نہ قسم ہے نہ اس کی تاکید ہےتو قسم اس سے بے تعلق و بے اثر ہوجاتی ہے۔فتاوی قاضی خاں و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو قال خدائے را وپیغمبر را پذیرفتم کہ فلاں کا ر نہ کنم لایکون یمینا لان قولہ پیغمبر را پذیر فتم لایکون یمینا فاذا تخلل بین ذکر اﷲ تعالی وبین الشرط مالا یکون یمینا یصیر فاصلا فلایکون یمینا ۔ اگر یوں کہے میں خدا تعالی اور پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گا تو قسم نہ ہوگی کیونکہ پیغمبر کو قبول کرتاہوںکہنا قسم نہیں ہے تو جب اﷲ تعالی اور شرط کے ذکر میں کوئی غیر قسم والے الفاظ فاصل بن جائیں تو قسم نہ ہوگی۔(ت)
انہیں میں ہے:
لو قال باﷲ العظیم کہ بزر گتراز باﷲ العظیم نیست کہ ایں کار نہ کنم یکون یمینا کما لو قال باﷲ العظیم الاعظم و ھذہ الزیادات تکون للتاکید فلا یصیر فاصلا ۔ اگر کہا اﷲ عظیم کی قسماﷲ تعالی سے بزرگ تر کوئی نہیں میں فلاں کام نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگی کیونکہ یہ ایسے ہے جیسے کہ اﷲ تعالی العظیم الاعظم کی قسمتو یہ زیادتی عظمت کی تاکید ہے تو وہ فاصل نہ ہوگی۔(ت)
فی لفظ الشہادۃ من التاکید مالیس فی لفظ الخبرلانہ یمین باﷲ تعالی معنی ۔ لفظ شہاد ت میں جو تاکید ہے وہ خبر کے لفظ میں نہیں ہے کیونکہ اشھد معنا اﷲ تعالی کی قسم ہے۔(ت)
تبیین امام زیلعی ج ۴ ص۲۱۰:
النصوص ناطقۃ بالاستشہاد فلا یقوم مقامھا غیر ھا لما فیہا من زیادۃ توکید لانہا من الفاظ الیمین فیکون معنی الیمین ملاحظافیہا ۔ تمام نصوص شہادت کے مطالبہ پر ناطق ہیں تو کوئی دوسرا لفظ اس کے قائم مقام نہ ہوگا کیونکہ اس میں تاکید زیادہ ہے اس لئے کہ اس میں قسم کا معنی ملحوظ ہے لہذا یہ قسم کے الفاظ میں ہے۔(ت)
ہدایہ میں فرمایا:
النصوص نطقت باشتراطہا ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین فکان الامتناع عن تمام نصو ص اس کی شرط پر ناطق ہیں اور اس لئے کہ اس میں تاکید زیادہ ہے تواس کا اشھد کہنا قسم کے الفاظ میں سے ہے تو اس لفظ سے
الکذب بھذہ اللفظۃ اشد ۔ کذب کا امتناع شدید ہے۔(ت)
اور قسم مقسم علیہ کا اتصال شرط ہے جب ان میں وہ چیز فاصل ہو کہ نہ قسم ہے نہ اس کی تاکید ہےتو قسم اس سے بے تعلق و بے اثر ہوجاتی ہے۔فتاوی قاضی خاں و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو قال خدائے را وپیغمبر را پذیرفتم کہ فلاں کا ر نہ کنم لایکون یمینا لان قولہ پیغمبر را پذیر فتم لایکون یمینا فاذا تخلل بین ذکر اﷲ تعالی وبین الشرط مالا یکون یمینا یصیر فاصلا فلایکون یمینا ۔ اگر یوں کہے میں خدا تعالی اور پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گا تو قسم نہ ہوگی کیونکہ پیغمبر کو قبول کرتاہوںکہنا قسم نہیں ہے تو جب اﷲ تعالی اور شرط کے ذکر میں کوئی غیر قسم والے الفاظ فاصل بن جائیں تو قسم نہ ہوگی۔(ت)
انہیں میں ہے:
لو قال باﷲ العظیم کہ بزر گتراز باﷲ العظیم نیست کہ ایں کار نہ کنم یکون یمینا کما لو قال باﷲ العظیم الاعظم و ھذہ الزیادات تکون للتاکید فلا یصیر فاصلا ۔ اگر کہا اﷲ عظیم کی قسماﷲ تعالی سے بزرگ تر کوئی نہیں میں فلاں کام نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگی کیونکہ یہ ایسے ہے جیسے کہ اﷲ تعالی العظیم الاعظم کی قسمتو یہ زیادتی عظمت کی تاکید ہے تو وہ فاصل نہ ہوگی۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۲۔۱۲۱€
تبیین الحقائق کتاب الشہادۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۴/ ۲۱۰€
الہدایہ کتاب الشہادۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۵€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الایمان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۸€
تبیین الحقائق کتاب الشہادۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۴/ ۲۱۰€
الہدایہ کتاب الشہادۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۵۵€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الایمان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۸€
اسی طرح فتاوی سمر قند و فتاوی خلاصہ میں ہے ردالمحتار میں ہے:
ویشترط عدم الفاصل من سکوت و نحوہ ففی الصیرفیۃ لو قال علی عھد اﷲ وعھد الرسول لا افعل کذا لایصح لان عھد الرسول صار فا صلااھ ای لانہ لیس قسما سکوت اور ایسی دوسری چیز کا فاصل نہ بننا قسم میں شرط ہے تو صیر فیہ میں ہے اگر کہا اﷲ تعالی کے عہد اور رسول کے عہد پر میں ایسا نہ کروں گایہ صحیح نہیں کیونکہ"رسول کا عہد" درمیان میں فاصل بن گیا ہے اھ یعنی یہ قسم نہیں ہے بخلاف
ویشترط عدم الفاصل من سکوت و نحوہ ففی الصیرفیۃ لو قال علی عھد اﷲ وعھد الرسول لا افعل کذا لایصح لان عھد الرسول صار فا صلااھ ای لانہ لیس قسما سکوت اور ایسی دوسری چیز کا فاصل نہ بننا قسم میں شرط ہے تو صیر فیہ میں ہے اگر کہا اﷲ تعالی کے عہد اور رسول کے عہد پر میں ایسا نہ کروں گایہ صحیح نہیں کیونکہ"رسول کا عہد" درمیان میں فاصل بن گیا ہے اھ یعنی یہ قسم نہیں ہے بخلاف
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الایمان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۷،۵۸€
بخلاف عہداﷲ ۔(ملتقطا) عہد اﷲ کے(ملتقطا)۔(ت)
خانیہ میں ہے:
رجل اخذہ السلطان وارادان یحلفہ فقالہ قل بایزدقال بایزد قال کہ بروز آدینہ بیائی قال بروز آدینہ بیایم فلم یأت لایحنث علیہ لانہ لما قال لہ قل بایزد و سکت صار فاصلا فلا یصیر یمینا ۔ ایك شخص کوسلطان نے پکڑ لیا اور اس سے قسم لیتے ہوئے سلطان نے کہاتو کہہ کہ اﷲ تعالی کی قسماس نے کہا اﷲ کی قسم تو کل آئے گاتو گرفتار ہونے والے نے کہا میں کل آؤں گاوہ اگر نہ آئے تو اس پر وہ حانث نہ ہوگاکیونکہ سلطان نے اس کو کہا تو کہہ اﷲ کی قسمپھر سلطان خاموش ہواتو یہ خاموشی فاصل بن گئیتو قسم نہ ہوئی۔(ت)
اسی طرح بزازیہ وغیرہامیں ہےاور شك نہیں کہ کلام دیگر بھی مثل سکوت ہے بلکہ اس سے زائد
کما فی البحر وقد عرفت المسائل فی الشفعۃ وخیار البکر۔ جیسا کہ بحر میں ہے جبکہ تو شفعہ اور باکرہ کے خیار کی بحث میں مسائل معلوم کرچکا ہے(ت)
اور ظاہر کہ مشہود بہ و ہ چیز ہے جس کی نزاع ہے مدعی جس کا مدعی ہے مدعا علیہ جس کا منکر ہے مدعی جسے شہادت سے ثابت کیا چاہتا ہے ان تمام گواہیوں میں"گواہی دیتا ہوںـ"کے بعد اس کا ایك حرف نہیںبالائی جملے ہیں۔محمدرضاخاں گواہی دیتا ہوں ۸ میں مظہر جمعہ خاں کے یہاں ملازم تھامظہر حسین گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا میں گنیشی کے مکان پر بیٹھا تھاعبدالعزیز خاں گواہی دیتا ہوں نوسال ہوئے مظہر گنیشی کے مکان پر تھاسید عبدالعزیز گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر پسر گنیشی کو لکھنے کی مشق کرارہا تھاعجائب الدین خاں گواہی دیتا ہوں مئی کا مہینہ تھا میں دکان عطاری کرتا ہوں گنیشی کا آدمی دوالینے نسخہ لایااحمد خاں ولد میاں خاں گواہی دیتا ہوں مئی ۹کو میں رام پور آیا تھاحیدر علی خاں گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا میں گنیشی کے پاس چاول لینے گیاعبدالرحیم خاں گواہی دیتا ہوں مظہر گنیشی کو بلانے گیا ناظم صاحب نے بلوایا تھاسید الطاف علی گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر گنیشی کی دکان پر تھامحمد بشیر خاں گواہی دیتا ہوں بعد
خانیہ میں ہے:
رجل اخذہ السلطان وارادان یحلفہ فقالہ قل بایزدقال بایزد قال کہ بروز آدینہ بیائی قال بروز آدینہ بیایم فلم یأت لایحنث علیہ لانہ لما قال لہ قل بایزد و سکت صار فاصلا فلا یصیر یمینا ۔ ایك شخص کوسلطان نے پکڑ لیا اور اس سے قسم لیتے ہوئے سلطان نے کہاتو کہہ کہ اﷲ تعالی کی قسماس نے کہا اﷲ کی قسم تو کل آئے گاتو گرفتار ہونے والے نے کہا میں کل آؤں گاوہ اگر نہ آئے تو اس پر وہ حانث نہ ہوگاکیونکہ سلطان نے اس کو کہا تو کہہ اﷲ کی قسمپھر سلطان خاموش ہواتو یہ خاموشی فاصل بن گئیتو قسم نہ ہوئی۔(ت)
اسی طرح بزازیہ وغیرہامیں ہےاور شك نہیں کہ کلام دیگر بھی مثل سکوت ہے بلکہ اس سے زائد
کما فی البحر وقد عرفت المسائل فی الشفعۃ وخیار البکر۔ جیسا کہ بحر میں ہے جبکہ تو شفعہ اور باکرہ کے خیار کی بحث میں مسائل معلوم کرچکا ہے(ت)
اور ظاہر کہ مشہود بہ و ہ چیز ہے جس کی نزاع ہے مدعی جس کا مدعی ہے مدعا علیہ جس کا منکر ہے مدعی جسے شہادت سے ثابت کیا چاہتا ہے ان تمام گواہیوں میں"گواہی دیتا ہوںـ"کے بعد اس کا ایك حرف نہیںبالائی جملے ہیں۔محمدرضاخاں گواہی دیتا ہوں ۸ میں مظہر جمعہ خاں کے یہاں ملازم تھامظہر حسین گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا میں گنیشی کے مکان پر بیٹھا تھاعبدالعزیز خاں گواہی دیتا ہوں نوسال ہوئے مظہر گنیشی کے مکان پر تھاسید عبدالعزیز گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر پسر گنیشی کو لکھنے کی مشق کرارہا تھاعجائب الدین خاں گواہی دیتا ہوں مئی کا مہینہ تھا میں دکان عطاری کرتا ہوں گنیشی کا آدمی دوالینے نسخہ لایااحمد خاں ولد میاں خاں گواہی دیتا ہوں مئی ۹کو میں رام پور آیا تھاحیدر علی خاں گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا میں گنیشی کے پاس چاول لینے گیاعبدالرحیم خاں گواہی دیتا ہوں مظہر گنیشی کو بلانے گیا ناظم صاحب نے بلوایا تھاسید الطاف علی گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر گنیشی کی دکان پر تھامحمد بشیر خاں گواہی دیتا ہوں بعد
حوالہ / References
ردالمحتارکتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۶€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الایمان ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۲۸۲€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الایمان ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۲۸۲€
ظہر کے مظہر اپنے گھر کو جارہا تھاانور بیگ گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر گنیشی کے یہاں بیٹھا تھانجم خاں گواہی دیتا ہوں مظہر رگناتھ پر شاد کا ملازم تھاسید حیدر حسین گواہی دیتا ہوں میں خان بہادر کو بلانے گنیشی کے یہاں گیااحمد خاں ولد عبدالغنی گواہی دیتا ہوں مظہر گنیشی کے یہاں نوٹ تڑانے گیانجف علی خاں گواہی دیتا ہوں اتناعرصہ ہوا مظہر گنیشی کی بیٹھك میں تھا محمد غفران گواہی دیتا ہوں اتناعرصہ ہوا مظہر عبدالغافر خاں کے مکان پر تھااشرف علی خاں گواہی دیتا ہوں اتنے سال ہوئے دولھا صاحب اور ایك منشی جی گنیشی کی بیٹھك میں آئےموتی شاہ گواہی دیتا ہوں منصور خاں نے میرے گھر آکر مجھ سے کہا میرا زیور گروی رکھا دو۔وزیر خاں گواہی دیتا ہوں اتنا زمانہ ہوا میرے ہاتھ میں چوٹ لك گئی تھی۔
کیا یہی فقرے مابہ النزاع ہیںکیا انہیں جملوں کا دعوی ہے کیا انہیں کو مدعی ثابت کرانا چاہتا ہے ہرگز نہیںتو یہ قطعا مشہود بہ نہیںمشہود بہ وہ حق ہے جسے شاہد مشہود علیہ پر بتاتا ہے۔ شلبیہ علی الزیلعی میں بنایہ سے ہے:
فی الشرع الشہادۃ اخباربحق لشخص علی غیرہ عن مشاھدۃ الخ۔ شریعت میں مشاہدہ کی بناء پر کسی حق کی خبر دینا کہ یہ فلاں کا غیر کے ذمہ ہے الخ(ت)
ظاہر ہے کہ یہ جملے وہ حق نہیں اور ان کا قسم یا تاکید قسم نہ ہونا بدیہیتو شہادت و مشہود بہ یعنی قسم و مقسم علیہ میں فاصل اور قسم و شھادت کے مبطل ہیں۔گواہی ان فقروں سے متصل ہوئی نہ کہ مقصود و مشہودسےمعاملہ شہادت و دعوی بس نازك ہے ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ اگر یوں دعوی کرے کہ یہ چیز میری ملك ہے اور میرا حقیا گواہ شہادت دے کہ یہ چیز اس مد عی کی ملك ہے اور اس کا حقیہ دعوی وشہادت کا فی نہ مانیں گے کہ ممکن ہے کہ میر ایا اس کا حق کہنے کے بعد آہستہ سے لفظ "نہیں"ملالے بلکہ یوں کہنا لازم کہ میرا یا اس کا حق ہے۔فتاوی امام نسفی وفتاوی عالمگیریہ وغیرہم میں ہے:
ینبغی للشاہد ان یقول فی شہادۃ ایں مدعی ست وحق وے ست حتی لایمکن ان یلحق بہ وحق گواہ کو چاہئے کہ وہ شہادت میں یوں کہے یہ اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق ہے تاکہ اس کو نفی لاحق نہ ہوسکے یعنی صرف اس کا حق"ہے"
کیا یہی فقرے مابہ النزاع ہیںکیا انہیں جملوں کا دعوی ہے کیا انہیں کو مدعی ثابت کرانا چاہتا ہے ہرگز نہیںتو یہ قطعا مشہود بہ نہیںمشہود بہ وہ حق ہے جسے شاہد مشہود علیہ پر بتاتا ہے۔ شلبیہ علی الزیلعی میں بنایہ سے ہے:
فی الشرع الشہادۃ اخباربحق لشخص علی غیرہ عن مشاھدۃ الخ۔ شریعت میں مشاہدہ کی بناء پر کسی حق کی خبر دینا کہ یہ فلاں کا غیر کے ذمہ ہے الخ(ت)
ظاہر ہے کہ یہ جملے وہ حق نہیں اور ان کا قسم یا تاکید قسم نہ ہونا بدیہیتو شہادت و مشہود بہ یعنی قسم و مقسم علیہ میں فاصل اور قسم و شھادت کے مبطل ہیں۔گواہی ان فقروں سے متصل ہوئی نہ کہ مقصود و مشہودسےمعاملہ شہادت و دعوی بس نازك ہے ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ اگر یوں دعوی کرے کہ یہ چیز میری ملك ہے اور میرا حقیا گواہ شہادت دے کہ یہ چیز اس مد عی کی ملك ہے اور اس کا حقیہ دعوی وشہادت کا فی نہ مانیں گے کہ ممکن ہے کہ میر ایا اس کا حق کہنے کے بعد آہستہ سے لفظ "نہیں"ملالے بلکہ یوں کہنا لازم کہ میرا یا اس کا حق ہے۔فتاوی امام نسفی وفتاوی عالمگیریہ وغیرہم میں ہے:
ینبغی للشاہد ان یقول فی شہادۃ ایں مدعی ست وحق وے ست حتی لایمکن ان یلحق بہ وحق گواہ کو چاہئے کہ وہ شہادت میں یوں کہے یہ اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق ہے تاکہ اس کو نفی لاحق نہ ہوسکے یعنی صرف اس کا حق"ہے"
حوالہ / References
حاشیۃ الشلبی علٰی تبیین الحقائق کتاب الشہادات المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞مصر ۴/ ۲۰۶€
وے نے بنفی وکان الشیخ الامام فخر الاسلام علی البزدوی یقول اذاقال المدعی فلاں چیز ملك من ست وحق منلایکتفی بہ وینبغی ان یقول وحق من ست ویقول فی قولہ وبدست فلاں حقبدست فلاں بنا حق ست وکذلك فی نظائرہ حتی لایلحق بہ کلمۃ النفی ۔ نہ کہےایسا نہ ہو کہ حق کے ساتھنہ ہےلاحق ہوجائے اما م شیخ فخر الاسلام بزدوی فرماتے تھے کہ اگر گواہ نے یہ کہا فلاں چیز میری ملك ہے اور میرا حقتو کافی نہ ہوگابلکہمیرا حق ہےکہےاور فلان کا قبضہ ناحق کی بجائےفلاں کا قبضہ ناحق ہےیوں ہی اس کے نظائر میںتاکہ اس کو نفی لاحق نہ ہوسکے۔(ت)
جب اسے نہ مانا کہ کہیں چپکے سے لفظ"نفی"نہ بڑھالے تو یہاں تو کسی حرف کے بڑھانے گھٹانے کی حاجت ہی نہیں فقط نیت کافی ہے"گواہی دیتا ہوں"کو صرف ان فقروں سے متعلق کیا جواس کے متصل ہیں باقی داستان گوئی کردی۔ معین الحکام میں ہے:
اذا قال الحاکم للشاھد بای شیئ تشھد فقال حضرت عندفلان فسمعتہ یقرأ بکذااو اشھدنی علی نفسہ بکذااو شھدت بینھما بصدور البیع اوغیر ذلك من العقود لایکون اداء شہادۃولایجوز للحاکم الاعتماد علی شیئ من ذلک ۔ جب حاکم نے گواہ سے پوچھا تو کس چیز کی گواہی دیتا ہے تو اس نے کہا میں فلاں کے پاس حاضر تھا تو میں نے اسے فلاں چیز کا ذکر کرتے ہوئے سنایا اس نے مجھے اتنی چیز کا گواہ بنایایا کہا میں دونوں فریقوں کے درمیان بیع صادر ہونے کی گواہی دیتا ہوں یا اس کے علاوہ کسی سودے کیتو یہ شہادت کی ادائیگی نہ ہوگی اور نہ ہی حاکم کو اس بیان پر اعتماد ہوگا۔(ت)
ہمارے نزدیك اس کی بہتر تعلیل یہی ہے کہ"حضرت عندفلاں"شہادت مشہود بہ میں فاصل ہوگیا۔
ولامحل لان یقال لم یقل اشھد لان السوال معاد یہ محل ایسا نہیں کہ اشھد نہ کہنے کو وجہ بنایا جائے کیونکہ (قاضی کا یہ کہنا تو کیا شہادت دیتا ہے)
جب اسے نہ مانا کہ کہیں چپکے سے لفظ"نفی"نہ بڑھالے تو یہاں تو کسی حرف کے بڑھانے گھٹانے کی حاجت ہی نہیں فقط نیت کافی ہے"گواہی دیتا ہوں"کو صرف ان فقروں سے متعلق کیا جواس کے متصل ہیں باقی داستان گوئی کردی۔ معین الحکام میں ہے:
اذا قال الحاکم للشاھد بای شیئ تشھد فقال حضرت عندفلان فسمعتہ یقرأ بکذااو اشھدنی علی نفسہ بکذااو شھدت بینھما بصدور البیع اوغیر ذلك من العقود لایکون اداء شہادۃولایجوز للحاکم الاعتماد علی شیئ من ذلک ۔ جب حاکم نے گواہ سے پوچھا تو کس چیز کی گواہی دیتا ہے تو اس نے کہا میں فلاں کے پاس حاضر تھا تو میں نے اسے فلاں چیز کا ذکر کرتے ہوئے سنایا اس نے مجھے اتنی چیز کا گواہ بنایایا کہا میں دونوں فریقوں کے درمیان بیع صادر ہونے کی گواہی دیتا ہوں یا اس کے علاوہ کسی سودے کیتو یہ شہادت کی ادائیگی نہ ہوگی اور نہ ہی حاکم کو اس بیان پر اعتماد ہوگا۔(ت)
ہمارے نزدیك اس کی بہتر تعلیل یہی ہے کہ"حضرت عندفلاں"شہادت مشہود بہ میں فاصل ہوگیا۔
ولامحل لان یقال لم یقل اشھد لان السوال معاد یہ محل ایسا نہیں کہ اشھد نہ کہنے کو وجہ بنایا جائے کیونکہ (قاضی کا یہ کہنا تو کیا شہادت دیتا ہے)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۶۱،۴۶۰€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
معین الحکام الفصل الثامن مصطفی البابی ∞مصر ص۸۹€
فی الجواب ولذالم یبنیہ علیہ العلامۃ الطرابلسی وانما عﷲ بانہ خبر عن ماض ویحتمل التغیر اقول: وفیہ نظر ویردہ فروع جمۃ لاتحصرقال فی جامع الفصولین(مش)لو شھداانہ کان مبلکہ فکانما شھدا انہ مبلکہ فی الحال ولا یجوز للقاضی ان یقول امروز ملك وے دانید فعلی ھذا لوادعی دیناراشھد اانہ کان لہ علیہ کذااوقال اورا ایں قدرزردرذمہ ایں بود ینبغی ان تقبل کما فی العین وفی(ط)مایدل علی قبولھا وفیہ و کذا لو شاھد احدھما انہ مبلکہ والآخر انہ کان ملکہ تقبل شہادتھما لاتفاقھما انہ لہ فی الحال معنی لمامر وکذا الشہادۃ علی النکاح والاقرار بہ ففی(فش)ادعت نکاحہ فشھد احدھما انہ اقرانھا امرأتہ والاخرانہ اقرانھا کانت امرأتہ تقبللان الشہادۃ باقرارہ بنکاح کان شہادۃ باقرارہ بنکاح حالی لان ماثبت یبقی وکذالوادعی انہا امرأتی او منکوحتی وشھد اانہ سوال کا جواب میں اعادہ ہوتا ہے اسی لئے علامہ طرابلسی نے اس کو بنیاد نہیں بنایا اور وجہ یہ بتائی کہ یہ ماضی سے خبر ہے جو خلاف کا احتمال رکھتی ہے اقول:(میں کہتاہوں کہ)ماضی والی وجہ قابل غور ہے بہت سے مسائل ا سکو رد کرتے ہیں۔جامع الفصولین میں فرمایا(مش)اگر دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ یہ اس کی ملکت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال اس کی ملك ہے اور قاضی کویہ حق نہیں کہ وہ کہے کہکیا آج ملك مانتے ہوتو اس بنا پر اگر مدعی دینار کا دعوی کرے اور گواہ شہادت دیں کہ اس کا دین مدعی علیہ کے ذمے تھا یا یوں کہیں کہ اتنی مقدار زر اس کے ذمہ تھا گواہی قبول کی جائے گی جیساکہ عین چیز میں مقبول ہوگیاور طحطاوی میں ذکر کردہ اس کی قبولیت پر دال ہے اور اس میں ہے اور یونہی اگر ایك گواہ نے کہا یہ اس کی ملك ہےاور دوسرے نے کہا اس کی ملك تھیدونوں کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ معنی دونوں کا اتفاق ہے کہ فی الحال ملك ہے جیسا کہ گزرااور یونہی نکاح اور نکاح کے اقرار کی شہادت کا معاملہ ہے(فش)میں ہے کہ عورت نے ایك مرد سے نکاح کا دعوی کیاایك گواہ نے کہا کہ مر دنے اس کے بیوی ہونے کا اقرار کیا ہے اور دوسرے نے کہا کہ یہ اس کی بیوی تھیتو شہادت مقبول ہوگی کیونکہ نکاح کے متعلق اقرار کی شہادت
کان تزوجہا ولم یتعرضا للحال تقبلولوادعی انہ کان لاتقبل لان اسناد المدعی یدل نفی الملك فی الحال اذلافائدۃ للمدعی فی الاسناد مع قیام مبلکہ فی الحال بخلاف الشاہدین لو اسندا مبلکہ الی الماضی لایدل علی النفی فی الحال لانھما لایعرفان بقائہ الا بالاستصحاب والشاھد قد یحترز عن الشہادۃ بماثبت باستصحاب الحال لعدم تیقنہ بخلاف المالك لانہ کما یعلم ثبوت مبلکہ یقینا یعلم بقائہ یقینااھ بعض اختصار وفی الدر والغرر وتنویر الابصار والدرالمختار ادعی الملك فی الحال و شھد الشھود ان ھذا العین کان مبلکہ تقبل لان ماثبت فی زمان یحکم بقائہ مالم یوجد موجودہ نکاح کے اقرار کی شہادت ہے کیونکہ ثابت شدہ چیز باقی رہتی ہےاور یوں ہی اگرمرد نے دعوی کیا کہ یہ میری بیوی ہے یا منکوحہ ہے اور دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ اس نے اس عورت سے نکاح کیا تھا اور انہوں نے حال کو بیان نہ کیا تو شہادت مقبول ہوگیاور اگر مدعی نے کہاہو کہ نکاح تھا تو پھر یہ گواہی مقبول نہ ہوگی کیونکہ مدعی کا ماضی کی طرف منسوب کرنا دال ہے کہ فی الحال ملك نہیں کیونکہ فی الحال ملك ہو تو پھر ماضی کیطرف منسوب کرنا مدعی کو مفید نہیں ہے اس کے برخلاف گواہوں کا ماضی کی طرف منسوب کرنا حال کی نفی پر دال نہیں کیونکہ ان کو بقاکا علم صرف استصحاب سے ثابت شدہ چیز کی گواہی سے احتراز کرتا ہے کیونکہ وہ یقینی نہیں ہے جبکہ مالك خود اپنی ملکیت کے ثبوت کو جانتا ہےاسی طرح وہ بقائے ملکیت بھی یقینی طور پر جانتاہے۔بعض اختصا ر کے ساتھ عبارت ختم ہوئی۔دررغررتنویر الابصار اور درم ختار میں ہے اگر مدعی نے اپنی حالیہ ملکیت کا دعوی کیا اور گواہوں نے یہ شہادت دی کہ یہ چیز اس کی ملك تھی تو یہ شہادت مقبول ہوگی کیونکہ جب کوئی چیز ایك زمانہ میں ثابت ہوتو جب تك اس کے ثبوت کا زوال ثابت نہ ہوجائے اس وقت
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۲€
المزیل اھ فالوجہ فی تعلیلہ ماذکرنا وباﷲ التوفیق وﷲ الحمدواﷲ تعالی اعلم۔ تك اس کی بقاء کا حکم دیا جائے گا اھتو اس کی علت کی وجہ وہی ہے جو ہم نے بیان کی ہےتوفیق اﷲ تعالی سے اور تمام حمدیں اﷲ تعالی ہی کے لئے ہیںواﷲ تعالی اعلم(ت)
ولی خاں کی گواہی بھی اس بحث کا عمل ہے مگر وہ اپنے فعل پر شہادت ہے اور خود مجوز نے اسے قبول نہ کیا لہذا اس کی طرف زیادہ توجہ کی حاجت نہیں۔
چہارم:حاضر پر شہادت میں مدعی و مدعا علیہ دونوں کی طرف اشارہ ضرور ہے اور غائب و میت کا نام و نسب بتانا جس میں سید ناامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ذکر جد بھی لازماور اسی پر فتوی ہے مگر جب غناء ہےذخیرہ و ہندیہ وغیرہما میں ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی الحاضر الی الاشارۃ الی المدعی علیہ والمدعی یحتاج الی تسمیۃ الشہود اسم المیت والغائب وابیھما وجدھما ۔ حاضر شخص کے خلاف شہادت میں مدعی اور مدعی علیہ کی طرف اشارہ کی ضرورت ہےاور گواہوں کا میت اور غیر حاضر اور ان کے والد اور دادا کا نام لینا ضروری ہے۔(ت)
بحر میں ہے:
والصحیح ان النسبۃ الی الجد لابدمنہ ۔ صحیح یہی ہے کہ دادے کی طرف نسبت ضرور ی ہے۔(ت)
شہادات تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
(ھی)ان(علی حاضر یحتاج الشاھد الی الاشارۃ(الی) ثلثۃ مواضع اعنی(الخصمین والمشھودبہ لوعینا) لا دینا(وان علی شہادت اگر حاضر کے خلاف ہو تو گواہ کو تین چیزوں کی طرف اشارہ کی ضرورت ہوگیمدعیمدعی علیہ اور مشہود بہ اگر وہ عین چیز ہونقد نہ ہواور اگر غائب کے خلاف ہوجیسے
ولی خاں کی گواہی بھی اس بحث کا عمل ہے مگر وہ اپنے فعل پر شہادت ہے اور خود مجوز نے اسے قبول نہ کیا لہذا اس کی طرف زیادہ توجہ کی حاجت نہیں۔
چہارم:حاضر پر شہادت میں مدعی و مدعا علیہ دونوں کی طرف اشارہ ضرور ہے اور غائب و میت کا نام و نسب بتانا جس میں سید ناامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ذکر جد بھی لازماور اسی پر فتوی ہے مگر جب غناء ہےذخیرہ و ہندیہ وغیرہما میں ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی الحاضر الی الاشارۃ الی المدعی علیہ والمدعی یحتاج الی تسمیۃ الشہود اسم المیت والغائب وابیھما وجدھما ۔ حاضر شخص کے خلاف شہادت میں مدعی اور مدعی علیہ کی طرف اشارہ کی ضرورت ہےاور گواہوں کا میت اور غیر حاضر اور ان کے والد اور دادا کا نام لینا ضروری ہے۔(ت)
بحر میں ہے:
والصحیح ان النسبۃ الی الجد لابدمنہ ۔ صحیح یہی ہے کہ دادے کی طرف نسبت ضرور ی ہے۔(ت)
شہادات تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
(ھی)ان(علی حاضر یحتاج الشاھد الی الاشارۃ(الی) ثلثۃ مواضع اعنی(الخصمین والمشھودبہ لوعینا) لا دینا(وان علی شہادت اگر حاضر کے خلاف ہو تو گواہ کو تین چیزوں کی طرف اشارہ کی ضرورت ہوگیمدعیمدعی علیہ اور مشہود بہ اگر وہ عین چیز ہونقد نہ ہواور اگر غائب کے خلاف ہوجیسے
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوی باب دعوی الرجلین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۲۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور۳/ ۴۵۹€
بحرالرائق باب الشہادۃ علی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۲۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور۳/ ۴۵۹€
بحرالرائق باب الشہادۃ علی الشہادۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۲۵€
غائب)کمافی نقل الشہادۃ(او میت فلابد)لقبولھا (من نسبتہ الی جدہ فلایکفی ذکر اسمہ واسم ابیہ و صناعتہ الا اذا کان یعرف بھا لامحالۃ)بان لا یشارکہ فی المصرغیرہ ۔ نقل شہادت کی صورت ہویامیت کے متعلق ہو تو اس وقت شہادت کی قبولیت کے لئے ان کو دادے کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے تو اس کا اور اس کے باپ اور پیشہ کا نام ذکر کرنا ناکافی نہیں ہے ہاں اگر ان کے ذکر سے لازمی طور پر معرفت ہوجائے مثلا اس نام کا شہر میں کوئی دوسرا نہ ہو۔(ت)
فتاوی ابن رشیدالدین وجامع الفصولین میں ہے:
لوکانت الشہادۃ علی الحاضر یحتاج الشاہد الی ال اشارۃ الی ثلثۃ مواضع الی الخصمین والمشھودبہ ولو علی غائب او میت فسماہ ونسبہ الی ابیہ فقط لاتقبل حتی ینسبہ الی جدہ ۔ شہادت اگر حاضر کے خلاف ہو تو تین چیزوں کی طرف اشارہ ضروری ہےمدعیمدعی علیہ اور مشہود بہ کی طرف۔اور غائب اور میت سے متعلق ہو تو ان کانام اور ان کے باپ کا نام کافی نہ ہوگا بلکہ ان کے دادے کا نام ذکر کیا جائے تو شہادت قبول ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
اماالغائب فلابد من ذکرجدہ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی وھو الصحیح والفتوی علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی ۔ لیکن غائب شخص کے متعلق ہو تو اس کے دادے کاذکر بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ضرور ی ہے یہی صحیح ہے اور فتوی امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے۔(ت)
اسی طرح عامہ کتب مذہب میں ہے اقول: سر ا س میں یہ ہے کہ حاضر پر شہاد ت میں شاہد کا اسے پہچاننا ضرور ہے جبکہ اصل شاہد ہو نہ کہ شاھد علی الشاھد کما افادہ العلامۃ ابن قاضی سماوۃ(جیسا کہ علامہ ابن سماوۃ نے اس کا افادہ فرمایا ہے۔ (ت)محیط پھر جامع الفصولین
فتاوی ابن رشیدالدین وجامع الفصولین میں ہے:
لوکانت الشہادۃ علی الحاضر یحتاج الشاہد الی ال اشارۃ الی ثلثۃ مواضع الی الخصمین والمشھودبہ ولو علی غائب او میت فسماہ ونسبہ الی ابیہ فقط لاتقبل حتی ینسبہ الی جدہ ۔ شہادت اگر حاضر کے خلاف ہو تو تین چیزوں کی طرف اشارہ ضروری ہےمدعیمدعی علیہ اور مشہود بہ کی طرف۔اور غائب اور میت سے متعلق ہو تو ان کانام اور ان کے باپ کا نام کافی نہ ہوگا بلکہ ان کے دادے کا نام ذکر کیا جائے تو شہادت قبول ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
اماالغائب فلابد من ذکرجدہ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی وھو الصحیح والفتوی علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی ۔ لیکن غائب شخص کے متعلق ہو تو اس کے دادے کاذکر بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ضرور ی ہے یہی صحیح ہے اور فتوی امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے۔(ت)
اسی طرح عامہ کتب مذہب میں ہے اقول: سر ا س میں یہ ہے کہ حاضر پر شہاد ت میں شاہد کا اسے پہچاننا ضرور ہے جبکہ اصل شاہد ہو نہ کہ شاھد علی الشاھد کما افادہ العلامۃ ابن قاضی سماوۃ(جیسا کہ علامہ ابن سماوۃ نے اس کا افادہ فرمایا ہے۔ (ت)محیط پھر جامع الفصولین
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۱€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۹€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۹€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۹€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۹€
میں ہے:
یحتاج الی اداء الشہادۃ بمحضر منہ فلابد من معرفتہ بوجہ لیمکنہ الشہادۃ علیہ وعند غیبتہ او موتہ یحتاج الی الشہادۃ باسمہ و نسبہ فلا بد من معرفۃ اسمہ ونسبہ ۔ حاضر کے متعلق شہادت اس کے سامنے ضروری ہے تاکہ ضروری شناخت ہوسکے اور غیب ہونے کی صورت میں یا موت کی صورت میں اس کے نام اور اس کے نسب کو بیان کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے نام اور نسب کی ضروری معرفت ہوسکے۔(ت)
ولہذا اگر گواہ حاضر کا پورا نام ونسب بیان کریں اور اسے پہچانتے نہ ہوں گواہی مردود ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
شھداعلی امرأۃ باسمھا ونسبھا وھی حاضرۃ فقال القاضی للشھود ھل تعرفون المدعی علیہا فقالو الا لا تقبل شہادتھم ۔ دو گواہوں نے عورت کے خلاف شہادت دیتے ہوئے اس کانام ونسب بیان کیا اور وہ موجود تھیتو قاضی نے گواہوں سے پوچھا کہ تمہیں اس عورت کی شناخت ہوگئی ہے تو انہوں نے کہا نہیںتو ان گواہوں کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ (ت)
اور حاضری میں معرفت شاہد کا بتانے والا یہی اشارہ ہے نام ونسب سیکھ کر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے ابھی اس فرع میں گزرا تو حاضر پر گواہی بے اشارہ قبول نہیں مدعی اور مدعاعلیہ دونوں کی طرف اشارہ لازم ہے اور یہ سب گواہیاں اس سے خالی ہیں مدعیوں کی طر ف اشارہ اصلاکسی میں نہیں۔
پنجم:یوں ہی مدعا علیہ کی جانب سوائے شہادت وزیر خاں کہ محض مہمل بے معنی ہے کما یأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)بلکہ اس کا اشارہ بھی شہادت میں نہیں اس سے خارج و جدا ہےاس نے یہ نہ کہا کہ یہ دولھا خاں آئے بلکہ"دولہا خاں صاحب پیشکار آئے"تو کلام میں اشارہ نہیں اگرچہ اس کے ساتھ ہو شہادت کلام ہے کہ زبان سے ادا ہوتا ہے نہ کہ ہاتھ سےتو شہادت اشارہ سے خالی ہے جس طرح اپنی زوجہ سے کہے تجھ پر اتنی طلاق اور تین انگلیاں
یحتاج الی اداء الشہادۃ بمحضر منہ فلابد من معرفتہ بوجہ لیمکنہ الشہادۃ علیہ وعند غیبتہ او موتہ یحتاج الی الشہادۃ باسمہ و نسبہ فلا بد من معرفۃ اسمہ ونسبہ ۔ حاضر کے متعلق شہادت اس کے سامنے ضروری ہے تاکہ ضروری شناخت ہوسکے اور غیب ہونے کی صورت میں یا موت کی صورت میں اس کے نام اور اس کے نسب کو بیان کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے نام اور نسب کی ضروری معرفت ہوسکے۔(ت)
ولہذا اگر گواہ حاضر کا پورا نام ونسب بیان کریں اور اسے پہچانتے نہ ہوں گواہی مردود ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
شھداعلی امرأۃ باسمھا ونسبھا وھی حاضرۃ فقال القاضی للشھود ھل تعرفون المدعی علیہا فقالو الا لا تقبل شہادتھم ۔ دو گواہوں نے عورت کے خلاف شہادت دیتے ہوئے اس کانام ونسب بیان کیا اور وہ موجود تھیتو قاضی نے گواہوں سے پوچھا کہ تمہیں اس عورت کی شناخت ہوگئی ہے تو انہوں نے کہا نہیںتو ان گواہوں کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ (ت)
اور حاضری میں معرفت شاہد کا بتانے والا یہی اشارہ ہے نام ونسب سیکھ کر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے ابھی اس فرع میں گزرا تو حاضر پر گواہی بے اشارہ قبول نہیں مدعی اور مدعاعلیہ دونوں کی طرف اشارہ لازم ہے اور یہ سب گواہیاں اس سے خالی ہیں مدعیوں کی طر ف اشارہ اصلاکسی میں نہیں۔
پنجم:یوں ہی مدعا علیہ کی جانب سوائے شہادت وزیر خاں کہ محض مہمل بے معنی ہے کما یأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)بلکہ اس کا اشارہ بھی شہادت میں نہیں اس سے خارج و جدا ہےاس نے یہ نہ کہا کہ یہ دولھا خاں آئے بلکہ"دولہا خاں صاحب پیشکار آئے"تو کلام میں اشارہ نہیں اگرچہ اس کے ساتھ ہو شہادت کلام ہے کہ زبان سے ادا ہوتا ہے نہ کہ ہاتھ سےتو شہادت اشارہ سے خالی ہے جس طرح اپنی زوجہ سے کہے تجھ پر اتنی طلاق اور تین انگلیاں
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۲€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۔۱۲۰€
جامع الفصولین الفصل التاسع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۔۱۲۰€
اٹھائے تین طلاق ہوجائیں گی کہ اس اشارے سے کلام متعلق ہوابدائع ملك العلماء میں ہے:
کذااذااشار الی عدد الثلاث بان قال لہا انت طالق ھکذا یشیر بالابھام والسبابۃ والوسطی لان الاشارۃ متی تعلقت بھا العبارۃ نزلت منزلۃ الکلام اذا اقامت الاشارۃ مع تعلق العبارۃ بہا مقام الکلام صار کانہ قال انت طالق ثلثا ۔ یوں ہی جب تین عدد کا اشارہ کر تے ہوئے خاوند نے کہا تجھے یہ طلاق۔انگوٹھاشہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا کیونکہ اشار ہ کے ساتھ عبار ت ہوتو اس اشار ہ کو کلام کے قائم مقام کیا جاتا ہےتو جب اشارہ عبارت سے متعلق ہو تو "تجھے تین طلاق"جیسی کلام کی طرح ہوجائیگا(ت)
ردالمحتا رمیں فتاوی امام قاضیخاں سے ہے:
قال انت طالق واشار بثلاث اصابع ونوی الثلاث ولم یذکر بلسانہ فانہاتطلق واحدۃ ۔ خاوند نے"تجھے طلاق" کے ساتھ تین انگلیوں کا اشارہ کیا اور تین طلاقوں کی نیت کی اور زبان سے اشارہ ذکر نہ کیا تو ایك طلاق ہوگی کیونکہ اشارہ کاتعلق عبار ت سے نہیں ہے۔(ت)
اور اگر کہے"تجھ پر طلاق"اور تین انگلیاں اٹھائے دل میں بھی تین ہی کی نیت کرے ایك ہی طلاق پڑے گی کہ اس اشارے سے کلام کا تعلق نہ ہوا۔
ششم: گنیشی مردہ ہے اس کے نہ دادا کانام اصلا کسی نے لیا نہ باپ کابلکہ بعض نے صراحۃ اس کے باپ کانام معلوم ہونے سے انکار کیا تو شہادتیں سب مختلف وپر قصور ہیں۔ناظر یہاں تعجب کرے گا کہ سید عبدالعزیز نے شہادت اور محمد رضاخاں نے جواب جرح میں بتایا ہے کہ گنیشی کے باپ کا نام رام چند رہے او ولی خاں نے شہادت میں کہا ہے عبدالغافر نے رسید لکھ دی میں نے کہا گنیشی کی ولدیت رامچندر لکھ دیجئے تو ان تین نے تو باپ کا نام بتایا مگر اس کا یہ تعجب دوسرے سخت استعجاب سے بدل جائے گا جب اسے معلوم ہوگاکہ گنیشی کاباپ رامچندر نہیں بلکہ لل مل ہے جیسا کہ خود اس نے اسی بیعنامہ بنام نوشان بیگم کے عنوان میں لکھا ہے وہ رامچندر کا متبنی تھا اور متبنی کو بیٹا بتانا قرآن عظیم کے خلاف ہے۔
کذااذااشار الی عدد الثلاث بان قال لہا انت طالق ھکذا یشیر بالابھام والسبابۃ والوسطی لان الاشارۃ متی تعلقت بھا العبارۃ نزلت منزلۃ الکلام اذا اقامت الاشارۃ مع تعلق العبارۃ بہا مقام الکلام صار کانہ قال انت طالق ثلثا ۔ یوں ہی جب تین عدد کا اشارہ کر تے ہوئے خاوند نے کہا تجھے یہ طلاق۔انگوٹھاشہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا کیونکہ اشار ہ کے ساتھ عبار ت ہوتو اس اشار ہ کو کلام کے قائم مقام کیا جاتا ہےتو جب اشارہ عبارت سے متعلق ہو تو "تجھے تین طلاق"جیسی کلام کی طرح ہوجائیگا(ت)
ردالمحتا رمیں فتاوی امام قاضیخاں سے ہے:
قال انت طالق واشار بثلاث اصابع ونوی الثلاث ولم یذکر بلسانہ فانہاتطلق واحدۃ ۔ خاوند نے"تجھے طلاق" کے ساتھ تین انگلیوں کا اشارہ کیا اور تین طلاقوں کی نیت کی اور زبان سے اشارہ ذکر نہ کیا تو ایك طلاق ہوگی کیونکہ اشارہ کاتعلق عبار ت سے نہیں ہے۔(ت)
اور اگر کہے"تجھ پر طلاق"اور تین انگلیاں اٹھائے دل میں بھی تین ہی کی نیت کرے ایك ہی طلاق پڑے گی کہ اس اشارے سے کلام کا تعلق نہ ہوا۔
ششم: گنیشی مردہ ہے اس کے نہ دادا کانام اصلا کسی نے لیا نہ باپ کابلکہ بعض نے صراحۃ اس کے باپ کانام معلوم ہونے سے انکار کیا تو شہادتیں سب مختلف وپر قصور ہیں۔ناظر یہاں تعجب کرے گا کہ سید عبدالعزیز نے شہادت اور محمد رضاخاں نے جواب جرح میں بتایا ہے کہ گنیشی کے باپ کا نام رام چند رہے او ولی خاں نے شہادت میں کہا ہے عبدالغافر نے رسید لکھ دی میں نے کہا گنیشی کی ولدیت رامچندر لکھ دیجئے تو ان تین نے تو باپ کا نام بتایا مگر اس کا یہ تعجب دوسرے سخت استعجاب سے بدل جائے گا جب اسے معلوم ہوگاکہ گنیشی کاباپ رامچندر نہیں بلکہ لل مل ہے جیسا کہ خود اس نے اسی بیعنامہ بنام نوشان بیگم کے عنوان میں لکھا ہے وہ رامچندر کا متبنی تھا اور متبنی کو بیٹا بتانا قرآن عظیم کے خلاف ہے۔
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الطلاق فصل وامابیان صفۃ الواقع بہا الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۱۰۔۱۰۹€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۴۸€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۴۸€
قال تعالی " وما جعل ادعیاءکم ابناءکم ذلکم قولکم بافوہکم و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ﴿۴﴾ "
" ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲنے تمہارے لئے پالکوں کو تمہارا بیٹا نہ ٹھہرایایہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اﷲ حق بات فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے انہیں ان کے اصل باپوں کی طرف نسبت کرویہ اﷲ کے یہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔
تو یہ ان شاہدوں کا کذب ہوا اور قرآن عظیم کی مخالفت اور نہ بتانے سے الٹا بتانا بدترا ور اگر بفرض باطل رامچندر ہی اس کا باپ ہوتا تو یہ نام سید عبدالعزیز نے شہادت میں یوں نہ لیا کہ گنیشی ابن فلاں شہادت دی ہو بلکہ ختم شہادت پر ایك مستقل جملہ کہا کہ گنیشی کے باپ کانام رامچندر ہے اس میں بھی لفظ مذکور تك نہ کہا معلوم نہیں کون سے گنیشی کا باپ۔یوہیں محمد رضاخاں نے ایسا ہی مستقل جملہ کہا بلکہ استدعا کی کہ یہ ولدیت لکھ دواس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ واقع میں یہی ولدیت ہواس نے ہاتھی خانے کا تحویلدار بھی کہا مگر کہاں کا ہاتھی خانہیہ نہ بتایاشہاد ت میں ذہنی تصورات سے کام نہیں چلتا کہ مقصود ہے تعریفوتعریف تعریف ہے یعنی یہ بتانا کہ شاہد اسے ہپنچانتا ہےیہ تعریفیں الفاظ سے ہوں گی نہ کہ قائل کے مافی الذہن سے لہذا سب شہادتیں مہمل ہیں۔
ہفتم:عبدالغافر خاں پر دعوی عائد ہونے کی بنا اس پر ہے کہ بیعنامہ وکرایہ نامہ میں زوجہ عبدالغافر خاں کانام فرضی ہو حقیقۃ یہ عقد عبدالغافر خاں سے ہوئے ہیں شہادتوں سے اس کاثبوت دو ہی صورتوں میں منحصرایك یہ کہ گواہ اپنے ذاتی علم سے اس پر شہادت دیںدوسرے یہ کہ ان کے سامنے عبدالغافر خاں نے زوجہ کا نام فرضی اور اپنا واقعی ہونے کا اقرار کیا ہو ا س کی گواہی دیںلیکن تمام شہادات ان دونوں وجہ سے خالی ہیں اپنا ذاتی علم تو کسی نے بیان نہ کیا بلکہ بعض مثل حیدر علی خاں ومحمد بشیر وغیرہما نے اپنے علم کی صاف نفی کی ہےاکثر نے گنیشی کا قول بیان کیا ہے کہ میں نے عبدالغافر خاں سے پانچ ہزار قرض لئے اور اپنے مکان دکان رہن یا مکفول کئے ان کا کرایہ یا سوددیتا ہوں گنیشی یہاں بجائے مدعی ہےباطل ست آنچہ مدعی گوید (باطل ہے جو کچھ مدعی کہتا ہے۔ت)اگر مدعی کے کہنے سے ثبوت ہوجائے تو گنیشی کا بیان تو گواہوں سے سنا مدعیوں کا بیان تو خود مجوز کے سامنے ہوا بس اس قدر
" ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲنے تمہارے لئے پالکوں کو تمہارا بیٹا نہ ٹھہرایایہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اﷲ حق بات فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے انہیں ان کے اصل باپوں کی طرف نسبت کرویہ اﷲ کے یہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔
تو یہ ان شاہدوں کا کذب ہوا اور قرآن عظیم کی مخالفت اور نہ بتانے سے الٹا بتانا بدترا ور اگر بفرض باطل رامچندر ہی اس کا باپ ہوتا تو یہ نام سید عبدالعزیز نے شہادت میں یوں نہ لیا کہ گنیشی ابن فلاں شہادت دی ہو بلکہ ختم شہادت پر ایك مستقل جملہ کہا کہ گنیشی کے باپ کانام رامچندر ہے اس میں بھی لفظ مذکور تك نہ کہا معلوم نہیں کون سے گنیشی کا باپ۔یوہیں محمد رضاخاں نے ایسا ہی مستقل جملہ کہا بلکہ استدعا کی کہ یہ ولدیت لکھ دواس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ واقع میں یہی ولدیت ہواس نے ہاتھی خانے کا تحویلدار بھی کہا مگر کہاں کا ہاتھی خانہیہ نہ بتایاشہاد ت میں ذہنی تصورات سے کام نہیں چلتا کہ مقصود ہے تعریفوتعریف تعریف ہے یعنی یہ بتانا کہ شاہد اسے ہپنچانتا ہےیہ تعریفیں الفاظ سے ہوں گی نہ کہ قائل کے مافی الذہن سے لہذا سب شہادتیں مہمل ہیں۔
ہفتم:عبدالغافر خاں پر دعوی عائد ہونے کی بنا اس پر ہے کہ بیعنامہ وکرایہ نامہ میں زوجہ عبدالغافر خاں کانام فرضی ہو حقیقۃ یہ عقد عبدالغافر خاں سے ہوئے ہیں شہادتوں سے اس کاثبوت دو ہی صورتوں میں منحصرایك یہ کہ گواہ اپنے ذاتی علم سے اس پر شہادت دیںدوسرے یہ کہ ان کے سامنے عبدالغافر خاں نے زوجہ کا نام فرضی اور اپنا واقعی ہونے کا اقرار کیا ہو ا س کی گواہی دیںلیکن تمام شہادات ان دونوں وجہ سے خالی ہیں اپنا ذاتی علم تو کسی نے بیان نہ کیا بلکہ بعض مثل حیدر علی خاں ومحمد بشیر وغیرہما نے اپنے علم کی صاف نفی کی ہےاکثر نے گنیشی کا قول بیان کیا ہے کہ میں نے عبدالغافر خاں سے پانچ ہزار قرض لئے اور اپنے مکان دکان رہن یا مکفول کئے ان کا کرایہ یا سوددیتا ہوں گنیشی یہاں بجائے مدعی ہےباطل ست آنچہ مدعی گوید (باطل ہے جو کچھ مدعی کہتا ہے۔ت)اگر مدعی کے کہنے سے ثبوت ہوجائے تو گنیشی کا بیان تو گواہوں سے سنا مدعیوں کا بیان تو خود مجوز کے سامنے ہوا بس اس قدر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
پر فیصلہ ہوجا تا شہادتوں کی کیاحاجت تھیعبدالغافر خاں کا جو قول شاہدوں نے بیان کیا وہ پانچ قسم ہے:
(۱)محمد رضاخاں ومظہر حسین"بہت دن ہوگئے روپیہ کرایہ کا دو"کس کا کرایہ کاہے کا کرایہیہ محض مجمل و مہمل۔
(۲)محمد رضاومظہر حسین"کرایہ ہمارا چاہئے"عبدالعزیز خاں"ہمارا کرایہ دلوائیے" احمد خاں ولد میاں خاں"ہمارا کئی مہینے کا کرایہ دلوائیے"حیدر علی خاں"ہمارا کرایہ بہت عرصہ سےنہ پہنچا"عبدالرحیم خاں"کرایہ کا روپیہ بہت دنوں سے نہیں دیا ہے ہم کو دو"سید الطاف علی"آپ نے ہمارا تین سال کا کرایہ ادانہیں کیا ہے"محمد بشیر"ہمارا کرایہ بہت دنوں کا"انور بیگ"ہمارا کرایہ تین سال سے"حیدر حسین"کئی مہنے سے ہمارا کرایہ نہ دیا"ان میں اپنی طرف اضافت ہے مگریہ نہیں کہ کس چیز کا کرایہ۔
(۳)سید عبدالعزیز"۸مہینے کا مکان کا کرایہ دیجئے"یہ دوم کا عکس ہے کرایہ مکان کا بتایا اور اضافت نہیں۔
(۴)عجائب الدین خاں"کرایہ مکانوں کا جو میرا ہے تم نے نہ دیا"نجن"ہمارا سات مہینے کرایہ مکانوں کا"ان دو میں دونوں ہیں مگر مکان مبہم مکان انہیں میں منحصر نہیں جن کا معاملہ زوجہ عبدالغافر خاں سے ہوا ہے اس سے اتنا سمجھا گیا کہ عبدالغافر خاں نے کچھ اپنے مکان گنیشی کو کرائے پر دئے ان کا کرایہ مانگا۔
(۵)وہ الفاظ جن میں خاص غرض پر روشنی ڈالنی چاہی ہےسید الطاف علی"ایك دن م نے مولوی عبدالغافر خاں سے دریافت کیافرمایا اگر جائداد رہن رکھ کر منافع لیا جائے خصوصا ہنود سے سود تو جائز ہے"یہ مثل قسم اول ہے ایك عام بات بطور مسئلہ ہے خاص اپنا ذکر نہیں۔محمد رضاضاں"یہ بھی وجہ ہے کہ ہماے رہن میں خلل کرے گا"حیدر علی خاں"میں نے بیع الوفا کرالیا ہے بیع الوفا سے نفع اٹھانا جائز ہے"محمد بشیر"دکانیں اور گودام گنیشی کے میرے پاس رہن ہیں یہ اس کا کرایہ ہے"ان تین بیانوں میں ہر گز اس کا اقرار نہیں کہ زوجہ کا نام فرض ہے حقیقۃ معاملہ میرا ہے صرف اپنی طرف اضافت ہے مجرد اضافت دستاویز اقرار گنیشی ومصدقہ رجسٹری ومسلمہ فریقین کیونکر باطل کردے گی زوج وزوجہ میں ایسا ہی انبساط ہوتا ہے کہ ایك دوسرے کے مال کو بلاتکلف اپنی طرف اضافت کرتا ہے ولہذا ایك دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتا کہ یہ دینا نہ ہوا بلکہ گویا خود لینا۔فتح القدیر میں ہے:
للاشتراك فی المنافع فکان الدافع الی منافع میں اشتراك کی بناء پر ان کودینا گویا
(۱)محمد رضاخاں ومظہر حسین"بہت دن ہوگئے روپیہ کرایہ کا دو"کس کا کرایہ کاہے کا کرایہیہ محض مجمل و مہمل۔
(۲)محمد رضاومظہر حسین"کرایہ ہمارا چاہئے"عبدالعزیز خاں"ہمارا کرایہ دلوائیے" احمد خاں ولد میاں خاں"ہمارا کئی مہینے کا کرایہ دلوائیے"حیدر علی خاں"ہمارا کرایہ بہت عرصہ سےنہ پہنچا"عبدالرحیم خاں"کرایہ کا روپیہ بہت دنوں سے نہیں دیا ہے ہم کو دو"سید الطاف علی"آپ نے ہمارا تین سال کا کرایہ ادانہیں کیا ہے"محمد بشیر"ہمارا کرایہ بہت دنوں کا"انور بیگ"ہمارا کرایہ تین سال سے"حیدر حسین"کئی مہنے سے ہمارا کرایہ نہ دیا"ان میں اپنی طرف اضافت ہے مگریہ نہیں کہ کس چیز کا کرایہ۔
(۳)سید عبدالعزیز"۸مہینے کا مکان کا کرایہ دیجئے"یہ دوم کا عکس ہے کرایہ مکان کا بتایا اور اضافت نہیں۔
(۴)عجائب الدین خاں"کرایہ مکانوں کا جو میرا ہے تم نے نہ دیا"نجن"ہمارا سات مہینے کرایہ مکانوں کا"ان دو میں دونوں ہیں مگر مکان مبہم مکان انہیں میں منحصر نہیں جن کا معاملہ زوجہ عبدالغافر خاں سے ہوا ہے اس سے اتنا سمجھا گیا کہ عبدالغافر خاں نے کچھ اپنے مکان گنیشی کو کرائے پر دئے ان کا کرایہ مانگا۔
(۵)وہ الفاظ جن میں خاص غرض پر روشنی ڈالنی چاہی ہےسید الطاف علی"ایك دن م نے مولوی عبدالغافر خاں سے دریافت کیافرمایا اگر جائداد رہن رکھ کر منافع لیا جائے خصوصا ہنود سے سود تو جائز ہے"یہ مثل قسم اول ہے ایك عام بات بطور مسئلہ ہے خاص اپنا ذکر نہیں۔محمد رضاضاں"یہ بھی وجہ ہے کہ ہماے رہن میں خلل کرے گا"حیدر علی خاں"میں نے بیع الوفا کرالیا ہے بیع الوفا سے نفع اٹھانا جائز ہے"محمد بشیر"دکانیں اور گودام گنیشی کے میرے پاس رہن ہیں یہ اس کا کرایہ ہے"ان تین بیانوں میں ہر گز اس کا اقرار نہیں کہ زوجہ کا نام فرض ہے حقیقۃ معاملہ میرا ہے صرف اپنی طرف اضافت ہے مجرد اضافت دستاویز اقرار گنیشی ومصدقہ رجسٹری ومسلمہ فریقین کیونکر باطل کردے گی زوج وزوجہ میں ایسا ہی انبساط ہوتا ہے کہ ایك دوسرے کے مال کو بلاتکلف اپنی طرف اضافت کرتا ہے ولہذا ایك دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتا کہ یہ دینا نہ ہوا بلکہ گویا خود لینا۔فتح القدیر میں ہے:
للاشتراك فی المنافع فکان الدافع الی منافع میں اشتراك کی بناء پر ان کودینا گویا
ھؤلاء کالدافع لنفسہ من وجہ ۔ خود کو دینا ہوا۔(ت)
وکیل خصومتملك موکل کو اپنی طرف نسبت کرتا ہے بلکہ ایك خدمتگار اپنے آقا کی ملك کوبلکہ وصی مال یتیم کو بلکہ موقوف علیہ بلکہ متولی مال وقف کوحالانکہ وقف خالص ملك الہی عزوجل ہے کسی مخلوق کا اصلا مملو ك نہیںیہ سب یك گونہ بوجہ اختصاص انہیں اپنی جانب اضافت کرتے اور اپنی ملك کہتے ہیں تو شوہر نے معاملہ زوجہ کو اگر اپنا کہا کیا بعیدکہابلکہ شرفاء میں قطعا یہی معہود ہے عورت کا کوئی مطالبہ کسی اجنبی پر آتا ہو یاعورت نے رہن کیا ہو تو اجانب میں بیٹھ کر یہ نہ کہیں گےکہ ہماری بی بی کا اتنا روپیہ دے دو ہماری بی بی نے یہ رہن کیا ہے بلکہ یوں ہی کہ ہمارا اتنا دے دو ہم نے رہن لیا ہے۔وجیز امام کردری میں ہے:
ادعی انہ وکیل عن فلان بالخصومۃ فیہ ثم ادعاہ لنفسہ لایقبل لان ماھو لہ لا یضیفہ الی غیرہ بخلاف مااذاادعاہ لنفسہ ثم ادعی انہ وکیل لفلان بالخصومۃ لعدم المنافاۃ فان الوکیل بالخصومۃ قد یضیف الی نفسہ یکون المطالبۃ لہ ۔ کسی نے کہا کہ میں فلاں کی طرف سے اس معاملہ کی جواب دہی کا وکیل ہوں پھر اسی چیز کو اپنی ملکیت ہونے کا دعوی کرے تو یہ مقبول نہ ہوگا کیونکہ اپنی چیز کو دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیاجاتااسکے بر عکس پہلے اپنی ملکیت کا دعوی کیا پھر بعد میں یہ دعوی کرے کہ اس چیز کی جواب دہی کے لئے میں فلاں کی طرف سے وکیل ہوں تو جائز ہوگااس صورت میں منافات نہیں ہے کیونکہ وکیل بالخصومۃ کبھی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کو مطالبے کا حق ہے(ت)
اسی میں ہے:
ادعی علیہ انہا لہ ثم ادعی انہا وقف علیہ یسمع لصحۃ الاضافۃ بالاخصیۃ انتفاعا ۔ پہلے دعوی کیا کہ یہ میری ملکیت ہےپھر دعوی کیا کہ یہ مجھ پر وقف کی گئی ہے تو دعوی مقبول وار قابل سماعت ہوگا کیونکہ اپنے لئے انتفاع کی خصوصیت کی بناء پر اپنی طرف منسوب کرسکتا ہے(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
ادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔ دعوی کیا یہ محدود جائداد میری ہے پھر دعوی کیا کہ یہ وقف ہےتو صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اس وقف کی تولیت کی وجہ سے اپنی طرف منسوب کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادۃ متولی کو تصرف اور خصومیت کی ولایت ہوتی ہے اس کی بنا پر اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت)
وکیل خصومتملك موکل کو اپنی طرف نسبت کرتا ہے بلکہ ایك خدمتگار اپنے آقا کی ملك کوبلکہ وصی مال یتیم کو بلکہ موقوف علیہ بلکہ متولی مال وقف کوحالانکہ وقف خالص ملك الہی عزوجل ہے کسی مخلوق کا اصلا مملو ك نہیںیہ سب یك گونہ بوجہ اختصاص انہیں اپنی جانب اضافت کرتے اور اپنی ملك کہتے ہیں تو شوہر نے معاملہ زوجہ کو اگر اپنا کہا کیا بعیدکہابلکہ شرفاء میں قطعا یہی معہود ہے عورت کا کوئی مطالبہ کسی اجنبی پر آتا ہو یاعورت نے رہن کیا ہو تو اجانب میں بیٹھ کر یہ نہ کہیں گےکہ ہماری بی بی کا اتنا روپیہ دے دو ہماری بی بی نے یہ رہن کیا ہے بلکہ یوں ہی کہ ہمارا اتنا دے دو ہم نے رہن لیا ہے۔وجیز امام کردری میں ہے:
ادعی انہ وکیل عن فلان بالخصومۃ فیہ ثم ادعاہ لنفسہ لایقبل لان ماھو لہ لا یضیفہ الی غیرہ بخلاف مااذاادعاہ لنفسہ ثم ادعی انہ وکیل لفلان بالخصومۃ لعدم المنافاۃ فان الوکیل بالخصومۃ قد یضیف الی نفسہ یکون المطالبۃ لہ ۔ کسی نے کہا کہ میں فلاں کی طرف سے اس معاملہ کی جواب دہی کا وکیل ہوں پھر اسی چیز کو اپنی ملکیت ہونے کا دعوی کرے تو یہ مقبول نہ ہوگا کیونکہ اپنی چیز کو دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیاجاتااسکے بر عکس پہلے اپنی ملکیت کا دعوی کیا پھر بعد میں یہ دعوی کرے کہ اس چیز کی جواب دہی کے لئے میں فلاں کی طرف سے وکیل ہوں تو جائز ہوگااس صورت میں منافات نہیں ہے کیونکہ وکیل بالخصومۃ کبھی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کو مطالبے کا حق ہے(ت)
اسی میں ہے:
ادعی علیہ انہا لہ ثم ادعی انہا وقف علیہ یسمع لصحۃ الاضافۃ بالاخصیۃ انتفاعا ۔ پہلے دعوی کیا کہ یہ میری ملکیت ہےپھر دعوی کیا کہ یہ مجھ پر وقف کی گئی ہے تو دعوی مقبول وار قابل سماعت ہوگا کیونکہ اپنے لئے انتفاع کی خصوصیت کی بناء پر اپنی طرف منسوب کرسکتا ہے(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
ادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔ دعوی کیا یہ محدود جائداد میری ہے پھر دعوی کیا کہ یہ وقف ہےتو صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اس وقف کی تولیت کی وجہ سے اپنی طرف منسوب کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادۃ متولی کو تصرف اور خصومیت کی ولایت ہوتی ہے اس کی بنا پر اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۹€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ نوع التناقض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ نوع التناقض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۸€
خزانۃ المفتین کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف والشہادۃ علیہ ∞قلمی نسخہ ۱/ ۲۲۵€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ نوع التناقض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ نوع التناقض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۸€
خزانۃ المفتین کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف والشہادۃ علیہ ∞قلمی نسخہ ۱/ ۲۲۵€
رب عزوجل فرماتا ہے:
" ولا تؤتوا السفہاء امولکم التی جعل اللہ لکم قیما " ۔ اپنے وہ مال جن کا اﷲ تعالی نے تمہیں منتظم بنایاہے بے سمجھ لوگوں کو نہ دو۔(ت)
امام سعید بن جبیر تلمیذ سید نا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
ھو مال الیتیم یکون عندك یقول لاتؤتہ ایاہ و انفقہ علیہ منہ حتی یبلغ وانما اضاف الی الاولیاء فقال اموالکم لانھم قوامھا ومدبروھا ۔ یہ یتیم کا مال ہے جو تیرے پاس ہےاﷲ تعالی نے فرمایایہ مال یتیم کو نہ دو اور اس پر خرچ کرو حتی کہ بالغ ہوجائےاس مال کو اﷲ تعالی نے اولیاء کی طرف اس لئے منسوب فرمایا کہ وہ اس کے نگران اور منتظم ہیں۔(ت)
یہی تفسیر عکرمہ سے منقول کما فی المعالم وغیرھا(جیسا کہ معالم وغیرہ میں ہے۔ت)بلکہ رب العزت نے فرمایا: " و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾ " (اور آپ کو محتاج پایا تو اس نے غنی کردیا۔ت)یہ مال ام المومنین خدیجۃالکبری رضی اﷲ تعالی عنہا کا ہے جسے مولی تعالی نے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
" ولا تؤتوا السفہاء امولکم التی جعل اللہ لکم قیما " ۔ اپنے وہ مال جن کا اﷲ تعالی نے تمہیں منتظم بنایاہے بے سمجھ لوگوں کو نہ دو۔(ت)
امام سعید بن جبیر تلمیذ سید نا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
ھو مال الیتیم یکون عندك یقول لاتؤتہ ایاہ و انفقہ علیہ منہ حتی یبلغ وانما اضاف الی الاولیاء فقال اموالکم لانھم قوامھا ومدبروھا ۔ یہ یتیم کا مال ہے جو تیرے پاس ہےاﷲ تعالی نے فرمایایہ مال یتیم کو نہ دو اور اس پر خرچ کرو حتی کہ بالغ ہوجائےاس مال کو اﷲ تعالی نے اولیاء کی طرف اس لئے منسوب فرمایا کہ وہ اس کے نگران اور منتظم ہیں۔(ت)
یہی تفسیر عکرمہ سے منقول کما فی المعالم وغیرھا(جیسا کہ معالم وغیرہ میں ہے۔ت)بلکہ رب العزت نے فرمایا: " و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾ " (اور آپ کو محتاج پایا تو اس نے غنی کردیا۔ت)یہ مال ام المومنین خدیجۃالکبری رضی اﷲ تعالی عنہا کا ہے جسے مولی تعالی نے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۵€
معالم التنزیل علٰی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۴/ ۵€ مصطفی البابی ∞مصر۱/ ۴۷۸€
القرآن الکریم ∞۹۳/ ۸€
معالم التنزیل علٰی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۴/ ۵€ مصطفی البابی ∞مصر۱/ ۴۷۸€
القرآن الکریم ∞۹۳/ ۸€
کامال فرمایا کہ غنا بمال غیر نہیں۔محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
قال اﷲ تعالی " و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾ " ای بمال خدیجۃ وانما کان منہا ادخالہ علیہ الصلوۃ والسلام فی المنفعۃ علی وجہ الاباحۃ والتملیك احیانا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپ کو اس نے محتاج پایا تو اس نے غنی کردیایعنی حضرت خدیجہ کے مال سے اور اس لئے کہ آپ کو حضرت خدیجہ رضی اﷲتعالی عنہا کی طرف سے ان کے مال میں دخل اختیار تھایہ اختیار آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے مباح اور کبھی ملك کے طور پر تھا۔(ت)
بالجملہ ان میں کوئی صرف مثبت دعوی نہیںہاں موتی شاہ ووزیر خاں کی کوشش مدعیوں کو قابل مشکوری تھی کہ وہ صراحۃ ساری گفتگو عبدالغافر خاں وگنیشی میں بتاتے ہیں ان کی مہمل ومتناقض گواہیوں کا حال آئندہ آتا ہے مگر انہوں نے نری ناتمام گفتگو پر خاتمہ کردیا وقوع عقد سے صراحۃ انکار کیاموتی شاہ"میرے سامنے کچھ اور معاملہ نہیں ہوا لکھت پڑھت کچھ نہ ہوئی زبانی بات تھی"وزیر خاں"پھر مجھے کچھ نہیں معلوممیرے سامنے کچھ دستاویز کی تکمیل نہ ہوئی"اشرف علی خاں"اس کاغذ کا لکھا جانا بتاتا ہے جس میں تصریحا زوجہ عبدالغافر خاں کانام ہے"عبدالغافر خاں کا گھر آنا اور روپیہ کچہری کو لے جانابلکہ دستاویزیں اپنے نام چھڑانا کسی طرح زوجہ کا اسم فرضی ہونے کا شبہہ بھی نہیں دلاتا نہ کہ دلیل ہو۔ولی خاں و غفران خاں ہزار روپے زراصل سے عبدالغافر خاں کو دئے جانے اور ان کی رسید لکھنے کے گواہ ہیں
اولا: ان دونوں کی گواہی خود مجوز نے نہ مانی اور اس ہزار کی ڈگری نہ دی۔
ثانیا: تقریر سابق اس وہم کے دفع کو بس ہےمخدرات کا روپیہ ان کے ازواج ہی کو دیاجائیگا اور وہی رسیددیں گے۔احمد خاں ولد عبدالغنی خاں ونجف علی خاں اس مد کے گواہ ہیں کہ عبدالغافر خاں نے گنیشی سے گودام کا ایك حصہ پندرہ روپے ماہوار کرائے پر مانگا۔ان گواہیوں نے تو روشن طور پر ثابت کردیا کہ یہ مکان عبدالغافر خاں سے بیع یا رہن نہ ہوئی ورنہ کرائے پر لینے نہ جاتا غایت یہ کہ حسب زعم مدعیان خلاف اقرار صریح مورث قبضہ نہ ہوا تھا تو بذریعہ نالش قابض ہوجاتا نہ کہ ایك چیز کا پندرہ روپے مہینہ کرایہ دینا چاہتابالجملہ کوئی شہادت اس دعوی کا اثبات نہیں کرتی کہ اصل معاملہ
قال اﷲ تعالی " و وجدک عائلا فاغنی ﴿۸﴾ " ای بمال خدیجۃ وانما کان منہا ادخالہ علیہ الصلوۃ والسلام فی المنفعۃ علی وجہ الاباحۃ والتملیك احیانا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:آپ کو اس نے محتاج پایا تو اس نے غنی کردیایعنی حضرت خدیجہ کے مال سے اور اس لئے کہ آپ کو حضرت خدیجہ رضی اﷲتعالی عنہا کی طرف سے ان کے مال میں دخل اختیار تھایہ اختیار آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے مباح اور کبھی ملك کے طور پر تھا۔(ت)
بالجملہ ان میں کوئی صرف مثبت دعوی نہیںہاں موتی شاہ ووزیر خاں کی کوشش مدعیوں کو قابل مشکوری تھی کہ وہ صراحۃ ساری گفتگو عبدالغافر خاں وگنیشی میں بتاتے ہیں ان کی مہمل ومتناقض گواہیوں کا حال آئندہ آتا ہے مگر انہوں نے نری ناتمام گفتگو پر خاتمہ کردیا وقوع عقد سے صراحۃ انکار کیاموتی شاہ"میرے سامنے کچھ اور معاملہ نہیں ہوا لکھت پڑھت کچھ نہ ہوئی زبانی بات تھی"وزیر خاں"پھر مجھے کچھ نہیں معلوممیرے سامنے کچھ دستاویز کی تکمیل نہ ہوئی"اشرف علی خاں"اس کاغذ کا لکھا جانا بتاتا ہے جس میں تصریحا زوجہ عبدالغافر خاں کانام ہے"عبدالغافر خاں کا گھر آنا اور روپیہ کچہری کو لے جانابلکہ دستاویزیں اپنے نام چھڑانا کسی طرح زوجہ کا اسم فرضی ہونے کا شبہہ بھی نہیں دلاتا نہ کہ دلیل ہو۔ولی خاں و غفران خاں ہزار روپے زراصل سے عبدالغافر خاں کو دئے جانے اور ان کی رسید لکھنے کے گواہ ہیں
اولا: ان دونوں کی گواہی خود مجوز نے نہ مانی اور اس ہزار کی ڈگری نہ دی۔
ثانیا: تقریر سابق اس وہم کے دفع کو بس ہےمخدرات کا روپیہ ان کے ازواج ہی کو دیاجائیگا اور وہی رسیددیں گے۔احمد خاں ولد عبدالغنی خاں ونجف علی خاں اس مد کے گواہ ہیں کہ عبدالغافر خاں نے گنیشی سے گودام کا ایك حصہ پندرہ روپے ماہوار کرائے پر مانگا۔ان گواہیوں نے تو روشن طور پر ثابت کردیا کہ یہ مکان عبدالغافر خاں سے بیع یا رہن نہ ہوئی ورنہ کرائے پر لینے نہ جاتا غایت یہ کہ حسب زعم مدعیان خلاف اقرار صریح مورث قبضہ نہ ہوا تھا تو بذریعہ نالش قابض ہوجاتا نہ کہ ایك چیز کا پندرہ روپے مہینہ کرایہ دینا چاہتابالجملہ کوئی شہادت اس دعوی کا اثبات نہیں کرتی کہ اصل معاملہ
حوالہ / References
فتح القدیر باب الزکوٰۃ باب من یجوز دفع الصدقۃ الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۹€
عبدالغافر خاں سے ہے ور زوجہ کا نام فرضی ہے بلکہ یہ دو شہادتیں اس کا رد ہیں۔وجوہ خاصہ وجوہ عامہ کے بعد ان کی طرف زیادہ توجہ کی حاجت نہیںنہ وقت میں وسعتمگر بعض کا تذکرہ کریں۔
(اختلاف شہادت ودعوی)اول: مدعی کہتا ہے قبض و دخل مدعا علیہما کا جائداد مرہونہ پر کبھی ایك منٹ کےلئے نہیں ہوا۔محمد بشیر"قبضہ جائداد پر عبدالغافر خاں کا تھا اب تك گودام پر عبدالغافر خاں اور رام کنور کا ہے دونوں کے قفل پڑے ہیں عبدالغافر خاں کا کچھ غلہ وغیرہ گودام میں ہے مجھے نہیں معلوم کہ روپیہ لینے سے قبضہ جائداد پر پیشتر ہوا تھا یا بعدگودام پر اب تك قبضہ عبدالغافر خاں کا ہے اور گنیشی کابھی قبضہ ہے"یعنی مردے کا۔
دوم:مدعی کہتا ہے اصل معاملہ عبدالغافر کان سے ہےزوجہ کا نام فرضیاور احمد خان ولد عبدالنبی خاں ونجف علی خان کی شہادتیں صراحۃ اس کا رد کررہی ہیں کما مر انفا۔
سوم:مدعی کہتا ہے حقیقۃ سود لیا اور اس کے اخفاء کےلئے کرایہ نامہ فرضی لکھوایا۔انور بیگ"گنیشی نے لکھا کہ سود کی کارروائی فرض ہے گودام اور مکان میرا رہن ہے۔
چہارم: مدعی کہتا ہے بشرح سود(۱۳ / ۱۱)پائی سیکڑہ ماہواری موتی شاہ ۱۴ کا سود ٹھہراتا تھا۔
پنجم: حسب دعوعائے مدعیان رسید بہی پیش کردہ میں صرف اس سود کی رقوم ہیں جو گنیشی نے مدعا علیہ کو دیا لیکن سید الطاف علی کا بیان ہے"میں نے گنیشی سے ریافت کیا یہ کتاب کس بابت ہے کہا میں نے مولوی عبدالغافر خاں سے کچھ روپے قرض لئے تھے اس کے سود وغیرہ کا حساب ہے"گنیشی کا یہ"وغیرہ"دعوی مدعیان کا نقض ہے۔
ششم: یہ رسید بہی بھی شاید بناکر پیش کی ہے وہ مدعیوں اور شاہدوں کی تکذیب کرتی ہے مدعیوں کا بیان ہے کہ"ابتدائے ۱۷/ دسمبر ۱ لغایۃ ۱۲ دسمبر (٭٭)بشرح(٭٭)ماہوار مدعا علیہ کو باخذ رسیدات نوشتہ نامبردہ ادا کی گئیلیکن رسید بہی میں نومبر ۴ میں(٭٭٭٭)کی دو رقمیں درج ہیں تو آخر دسمبر ۱۲ تک(٭٭)پہنچی۔
(اختلاف شاہدان)ہفتم: بیان مدعیان کے سلسلے کو تمام گواہوں نے اول سے آخر تك نباہا ہے کہ ۱۵ یوم دسمبر ۱ کے (٭٭)پھر ختم ۱۲ تك ہر مہینے کے(٭٭)انہیں کے لحاظ سے اخیر رقم(٭٭)رکھی ہے اور شاہدوں کے مشاہدے سے جولائی ۶ تك پہنچی ہوئی(٭٭)حالانکہ رسید بہی سے یہ رقم(٭٭)ہے اور رقم اخیر(٭٭)۔
(اختلاف شہادت ودعوی)اول: مدعی کہتا ہے قبض و دخل مدعا علیہما کا جائداد مرہونہ پر کبھی ایك منٹ کےلئے نہیں ہوا۔محمد بشیر"قبضہ جائداد پر عبدالغافر خاں کا تھا اب تك گودام پر عبدالغافر خاں اور رام کنور کا ہے دونوں کے قفل پڑے ہیں عبدالغافر خاں کا کچھ غلہ وغیرہ گودام میں ہے مجھے نہیں معلوم کہ روپیہ لینے سے قبضہ جائداد پر پیشتر ہوا تھا یا بعدگودام پر اب تك قبضہ عبدالغافر خاں کا ہے اور گنیشی کابھی قبضہ ہے"یعنی مردے کا۔
دوم:مدعی کہتا ہے اصل معاملہ عبدالغافر کان سے ہےزوجہ کا نام فرضیاور احمد خان ولد عبدالنبی خاں ونجف علی خان کی شہادتیں صراحۃ اس کا رد کررہی ہیں کما مر انفا۔
سوم:مدعی کہتا ہے حقیقۃ سود لیا اور اس کے اخفاء کےلئے کرایہ نامہ فرضی لکھوایا۔انور بیگ"گنیشی نے لکھا کہ سود کی کارروائی فرض ہے گودام اور مکان میرا رہن ہے۔
چہارم: مدعی کہتا ہے بشرح سود(۱۳ / ۱۱)پائی سیکڑہ ماہواری موتی شاہ ۱۴ کا سود ٹھہراتا تھا۔
پنجم: حسب دعوعائے مدعیان رسید بہی پیش کردہ میں صرف اس سود کی رقوم ہیں جو گنیشی نے مدعا علیہ کو دیا لیکن سید الطاف علی کا بیان ہے"میں نے گنیشی سے ریافت کیا یہ کتاب کس بابت ہے کہا میں نے مولوی عبدالغافر خاں سے کچھ روپے قرض لئے تھے اس کے سود وغیرہ کا حساب ہے"گنیشی کا یہ"وغیرہ"دعوی مدعیان کا نقض ہے۔
ششم: یہ رسید بہی بھی شاید بناکر پیش کی ہے وہ مدعیوں اور شاہدوں کی تکذیب کرتی ہے مدعیوں کا بیان ہے کہ"ابتدائے ۱۷/ دسمبر ۱ لغایۃ ۱۲ دسمبر (٭٭)بشرح(٭٭)ماہوار مدعا علیہ کو باخذ رسیدات نوشتہ نامبردہ ادا کی گئیلیکن رسید بہی میں نومبر ۴ میں(٭٭٭٭)کی دو رقمیں درج ہیں تو آخر دسمبر ۱۲ تک(٭٭)پہنچی۔
(اختلاف شاہدان)ہفتم: بیان مدعیان کے سلسلے کو تمام گواہوں نے اول سے آخر تك نباہا ہے کہ ۱۵ یوم دسمبر ۱ کے (٭٭)پھر ختم ۱۲ تك ہر مہینے کے(٭٭)انہیں کے لحاظ سے اخیر رقم(٭٭)رکھی ہے اور شاہدوں کے مشاہدے سے جولائی ۶ تك پہنچی ہوئی(٭٭)حالانکہ رسید بہی سے یہ رقم(٭٭)ہے اور رقم اخیر(٭٭)۔
ہشتم:موتی شاہ و وزیر خاں دونوں ایك جلسے کے گواہ ہیں قول محض میں اختلاف زمان و مکان مضر نہیں اس لئے کہ وہ مکرر ہوسکتا ہے مگر یہ طویل تقریر اور ابتدائی مول تول کے دونوں نے بیان کئے عادۃ ہر گز دوبارہ نہیں ہوتے کہ ایك بار گنیشی عبدالغافر کان کو بلائےعبدالغافر خان آپ نے مجھے بلایا تھاگنیشی بلایا تھا مجھے پانچ ہزار روپے کی ضرور ہےعبدالغافر میں دوں گا میرااطمینان کیا ہوگاگنیشی زنانہ مکان گودام دکان ضمانت میں دوں گا اس روپے کا نفع کیا لیا جائیگادولھا خاں ڈیڑہ روپیہ کا قاعدہ رام پور میں ہے وہی لیا جائیگاگنیشی آپ میرے مہربان ہیں کچھ کم کرکے کہہ دیجئے دولھا خان ایك روپیہگنیشی میں عرض کرتا ہوں اس کو منظور کرلینا(٭٭)ماہوار آپ لے لیا کریںدولھا خاں ذرا چپ ہوئے پھر کہا یہ تو(۱۴/)سے بھی ایك پائی کم ہوتا ہے گنیشی اب آپ اسے ہی منظور کرلیں ہماری آپ کی محبت ہےدولہا خان آپ کاغذ کی تکمیل کریں روپیہ تیار ہے دوں گاپھر فریقین سو رہے اور ۲۱ دن بعد گنیشی پھر عبدالغافر خاں کو بلائے اور اول تا آخر سب وہی گفتگو پیش آئی فریقین اس پہلی گفتگو کو ایسا بھول جائیں کہ خواب فراموش ہوجائے اور از سر نو آغازکریں مگر تمام سوال جواب وہی رہیں ترتیب تك نہ بدلے وہی بلانے کی وجہ پوچھنی وہی پانچ ہزار کی ضرورت وہی اطمینان کا سوال وہی انہیں کفالتوں کا بیان وہی سود کا سوال وہی حسب قاعدہ شہر ڈیڑھ روپیہ وہی تخفیف چاہنا وہی اس پر ایك روپیہ پھر وہی کہ میری مانئے(٭٭)ماہوار اس پر وہی تأمل اور وہی جواب کہ(۱۴/)سے بھی ایك پائی کم ہوا اور بالآخر وہی قبول کہ روپیہ تیار ہے کاغذ لکھواؤ اسے ہر گز عقل سلیم قبول نہیں کرتی تو ضرور جلسہ واحدہ کے گواہ میں لیکن یہ انہیں کے بیان سے محال ہےموتی شاہ کی شہادت ۹/ اکتوبر ۱۷ کو ہوئی اور وہ بالجزم کہتا ہے"عرصہ اس کو سولہ برس کاہواتو روز گفتگو ۳۱/ اکتوبر ۱ ہوا وزیر خاں کی شہادت ۳۱ مارچ ۱۸ کو ہوئی اور وہ بالجزم کہتا ہے کہ سولہ برس پانچ مہینے ہوئےتو روز گفتگو ۳۱ اکتوبر ۱ ہوا۹و ۳۱ دونوں ایك ہوجائیں تو یہ شہادیں دائرہ امکان میں آئیں لیکن وہ محال تو یہ بھی باطل وواجب الاہمال۔خانیہ و ہندیہ میں ہے:
لاتبطل الشہادۃ باختلاف الشاھدین فیما بینھما فی الایام والبلدان الاان یقولاکنامع الطالب فی موضع واحد فی یوم واحد ۔ دونوں گواہوں کا زمانہ اور شہروں میں اختلاف شہادست کو باطل نہ کرے گا ماسوائے اس کے کہ وہ دونوں ایك جگہ ایك دن میں طالب کے ساتھ ہونے کی بات کریں۔(ت)
لاتبطل الشہادۃ باختلاف الشاھدین فیما بینھما فی الایام والبلدان الاان یقولاکنامع الطالب فی موضع واحد فی یوم واحد ۔ دونوں گواہوں کا زمانہ اور شہروں میں اختلاف شہادست کو باطل نہ کرے گا ماسوائے اس کے کہ وہ دونوں ایك جگہ ایك دن میں طالب کے ساتھ ہونے کی بات کریں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثامن فی الاختلاف بین الشاہدین ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۸€
مبسوط وعالمگیریہ میں ہے:
شھد احد ھما انہ طلقھا یوم الجمعۃ بالبصرۃ والاخر انہ طلقھا فی ذیلك الیوم بعینہ بالکوفۃ لم تقبل شہادتھمالانا نتیقن بکذب احدھما فان الانسان فی یوم واحد لایکون بالبصرۃ والکوفۃ بخلاف مااذا شھد احدھما انہ طلقھا بالکوفۃ والاخرانہ طلقھا بالبصرۃ ولم یوقتا وقتا فہناك الشہادۃ تقبل ۔ ایك گواہ نےکہا اس نےبصرہ میں جمعہ کے روز بیوی کو طلاق دیاور دوسرے نےکہاکہ اس نے اسی جمعہ کے روز کوفہ میں طلاق دی تو دونوں کی یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ ہمیں ان میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے کیونکہ ایك ہی روز میں انسان کوفہ اور بصر ہ میں نہیں ہوتا اس کے برخالف جب ایك نے کہااس نے بصرہ میں اور دوسرے نے کہا کوفہ میں طلاق دی اور دونوں نے کوئی وقت نہ بتایا تو اس صورت میں شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
نہم: سید عبدالعزیز وعبدالعزیز خاں ایك جلسے کے گواہ ہیں ان کے بیان میں شروع ستمبر ہے اس کے بیان میں ۳۰/ستمبر۔
دہم: سید عبدالعزیز کا بیان ہے مظہر پسر گنیشی کو لکھنے کی مشق کرارہاتھا اتنے میں مولوی عبدالغافر خاں تشریف لائے گنیشی کے پاساور کہا پانچ مہینے کا مکان کا کرایہ دو سو بیس روپے دے دیجئے اس پر گنیشی نے رام کنور سے کہا کتاب حساب کی لے آؤوہ لے گئےگنیشی نے مولوی عبدالغافر خاں کو کتاب دیبعد مولوی عبدالغافر کے چلے جانے کے مجھ سے گنیشی نے کہا اس کتاب میں کیا لکھا ہےتو اس میں یہ لکھا تھا کہ آخر اگست ۸ تك کرایہ وصول ہوا یعنی پانچ ماہ کا مطالبہ آتے ہی کیا کتاب سے دیکھنے سے پہلےلیکن عبدالعزیز خان کہتا ہے"عبدالغافر خان تشریف لائے اور گنیشی سے کہا ہمارا کرایہ دلوائیےگنیشی نے کہا حساب کرلیجئےاور رام کنور سے کہا کتاب لے آؤوہ کتاب حساب کی لائےعبدالغافر نے دیکھ کر کہا پانچ مہینے کا ہمارا کرایہ بقدر دو سو بیس کے واجب ہے وہ دےدیجئے۔
یازدہم:عبدالعزیز خاں کہتا ہے"اس کے بعد گنیشی نے وہ کتاب ایك شخص کو جوگنیشی کے لڑکے کو پڑھا رہا تھا بلاکر دکھائیاس نے پڑھامیرے کان تك آواز آئی"یہ شخص وہی سید عبدالعزیز ہیں"لیکن ان کا بیان ہے"اس وقت آٹھ سات آدمی تھے ایك مظہر اور عبدالغافر خاں مسلمان باقی ہندو"
شھد احد ھما انہ طلقھا یوم الجمعۃ بالبصرۃ والاخر انہ طلقھا فی ذیلك الیوم بعینہ بالکوفۃ لم تقبل شہادتھمالانا نتیقن بکذب احدھما فان الانسان فی یوم واحد لایکون بالبصرۃ والکوفۃ بخلاف مااذا شھد احدھما انہ طلقھا بالکوفۃ والاخرانہ طلقھا بالبصرۃ ولم یوقتا وقتا فہناك الشہادۃ تقبل ۔ ایك گواہ نےکہا اس نےبصرہ میں جمعہ کے روز بیوی کو طلاق دیاور دوسرے نےکہاکہ اس نے اسی جمعہ کے روز کوفہ میں طلاق دی تو دونوں کی یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ ہمیں ان میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے کیونکہ ایك ہی روز میں انسان کوفہ اور بصر ہ میں نہیں ہوتا اس کے برخالف جب ایك نے کہااس نے بصرہ میں اور دوسرے نے کہا کوفہ میں طلاق دی اور دونوں نے کوئی وقت نہ بتایا تو اس صورت میں شہادت مقبول ہوگی۔(ت)
نہم: سید عبدالعزیز وعبدالعزیز خاں ایك جلسے کے گواہ ہیں ان کے بیان میں شروع ستمبر ہے اس کے بیان میں ۳۰/ستمبر۔
دہم: سید عبدالعزیز کا بیان ہے مظہر پسر گنیشی کو لکھنے کی مشق کرارہاتھا اتنے میں مولوی عبدالغافر خاں تشریف لائے گنیشی کے پاساور کہا پانچ مہینے کا مکان کا کرایہ دو سو بیس روپے دے دیجئے اس پر گنیشی نے رام کنور سے کہا کتاب حساب کی لے آؤوہ لے گئےگنیشی نے مولوی عبدالغافر خاں کو کتاب دیبعد مولوی عبدالغافر کے چلے جانے کے مجھ سے گنیشی نے کہا اس کتاب میں کیا لکھا ہےتو اس میں یہ لکھا تھا کہ آخر اگست ۸ تك کرایہ وصول ہوا یعنی پانچ ماہ کا مطالبہ آتے ہی کیا کتاب سے دیکھنے سے پہلےلیکن عبدالعزیز خان کہتا ہے"عبدالغافر خان تشریف لائے اور گنیشی سے کہا ہمارا کرایہ دلوائیےگنیشی نے کہا حساب کرلیجئےاور رام کنور سے کہا کتاب لے آؤوہ کتاب حساب کی لائےعبدالغافر نے دیکھ کر کہا پانچ مہینے کا ہمارا کرایہ بقدر دو سو بیس کے واجب ہے وہ دےدیجئے۔
یازدہم:عبدالعزیز خاں کہتا ہے"اس کے بعد گنیشی نے وہ کتاب ایك شخص کو جوگنیشی کے لڑکے کو پڑھا رہا تھا بلاکر دکھائیاس نے پڑھامیرے کان تك آواز آئی"یہ شخص وہی سید عبدالعزیز ہیں"لیکن ان کا بیان ہے"اس وقت آٹھ سات آدمی تھے ایك مظہر اور عبدالغافر خاں مسلمان باقی ہندو"
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۰۸€
توان کو وہاں عبدالعزیز کے ہونے ہی سے انکار ہے۔
دوازدہم: حیدر علی وعبدالرحیم ایك جلسے کے گواہ ہیں حیدر علی خاں کا بیان ہے"عبدالغافر چلے گئے اس کے بعد گنیشی نے حساب کی کتاب مجھے دی اور کہا پڑھ کر سنادیجئے کہ عبدالغافر خاں نے کیا لکھا ہے میں نے گنیشی سے پوچھا یہ کیسا روپیہ ہے کہاں مکان اور گودام رہن ہے اس کے سود کا ہے اس کے بعد میں چلاآیا چاولوں کے واسطے روپیہ دے کے۔عبدالرحیم خاں کہتا ہے" عبدالغافر خاں جب چلے گئے گنیشی نے کتاب ایك آدمی کو جوان کے پاس بیٹھا تھا دکھائی کہ اسمیں کیا لکھا تھا اس نے سنایا پھر انہیں صاحب نے پوچھا یہ روپیہ کیسا عبدالغافر خاں کو دیا گنیشی نے کہا مکان اور گودام او دکان رہن ہے اس کا کرایہ ہے اس پر اس شخص نے کہا کرایہ بہت ہوگا گنیشی نے کہا(٭٭)ماہوار دیتا ہوں انہیں صاحب نے چلتے وقت گنیشی کو(٭٭)دئے کہ چاول بھجوادینا"ان اختلافوں کو جانے دیجئے اولا:حیدر علی نے دو چیزیں بتائیں مکان اور گوداماور عبدالرحیم نے دکان بھی بڑھائی۔
ثانیا: گنیشی کا جواب حیدر علی نے یہ بتایا کہ سود کاہے عبدالرحیم نے یہ کہ کرایہ ہے۔
ثالثا: ایسا ہی اختالف یہ ہے کہ حیدر علی خاں کہتا ہے"گنیشی نے اپنے پسر سے کہا حساب کی بہی لے آؤوہ لے کر آیا او عبدالغافر خاں کو دی"عبدالرحیم خاں کہتا ہے"گنیشی کو دی"۔
رابعا: حیدر علی خاں کہتا ہے"گنیشی نے کہا پہلے کتنی رقم آپ کے پاس پہنچی"عبدالغافر خاں نے کہا"(٭٭)"اس پر گنیشی نے اپنے بیٹے سےکہا عبدالغافر خاں کو کرایہ کا روپہیہ دوکوٹھری سے لاکر(٭٭)دے دئےعبدالرحیم خاں اس کا عکس بیان کرتا ہے کہ(٭٭)دے دئے پھر گنیشی نے کہا اس سے پہلے رقم کس قدر گئی ہے کہا(٭٭)۔
خامسا: تخالف شدید یہ ہے کہ عبدالرحیم کہتا ہے"اس شخص یعنی حیدر علی خاں نے کرایہ پوچھا گنیشی نے(٭٭)ماہوار بتایاحیدرعلی کاں کہتا ہے"تعداد ماہوار ی کرایہ کی مجھے گنیشی نے نہیں بتائی"۔
سیزدہم: محمدرضاں خاں کہتا ہے"عبدالغافر خان نے کتاب پر وصول ڈال دیا اور پڑھ کر سنایا کہ آخر مارچ ۸ تك کا کرایہ معرفت مولچند کے وصول پایا"جس کا حاصل یہ کہ کرایہ کسی اور پر ہے اس نے مولچند کے ہاتھ بھیجا لیکن کتاب یعنی رسید بہی کی عبارت یہ ہے"آخرمارچ ۸ تك کرایہ مولچند سے وصول ہوا۔"
چاردہم: سب شاہد(٭٭)ماہوار کے حساب پر چلے ہیں جس کے فیصدی(۱۴/ ۱۱۱۸ /۲۴) پائی
دوازدہم: حیدر علی وعبدالرحیم ایك جلسے کے گواہ ہیں حیدر علی خاں کا بیان ہے"عبدالغافر چلے گئے اس کے بعد گنیشی نے حساب کی کتاب مجھے دی اور کہا پڑھ کر سنادیجئے کہ عبدالغافر خاں نے کیا لکھا ہے میں نے گنیشی سے پوچھا یہ کیسا روپیہ ہے کہاں مکان اور گودام رہن ہے اس کے سود کا ہے اس کے بعد میں چلاآیا چاولوں کے واسطے روپیہ دے کے۔عبدالرحیم خاں کہتا ہے" عبدالغافر خاں جب چلے گئے گنیشی نے کتاب ایك آدمی کو جوان کے پاس بیٹھا تھا دکھائی کہ اسمیں کیا لکھا تھا اس نے سنایا پھر انہیں صاحب نے پوچھا یہ روپیہ کیسا عبدالغافر خاں کو دیا گنیشی نے کہا مکان اور گودام او دکان رہن ہے اس کا کرایہ ہے اس پر اس شخص نے کہا کرایہ بہت ہوگا گنیشی نے کہا(٭٭)ماہوار دیتا ہوں انہیں صاحب نے چلتے وقت گنیشی کو(٭٭)دئے کہ چاول بھجوادینا"ان اختلافوں کو جانے دیجئے اولا:حیدر علی نے دو چیزیں بتائیں مکان اور گوداماور عبدالرحیم نے دکان بھی بڑھائی۔
ثانیا: گنیشی کا جواب حیدر علی نے یہ بتایا کہ سود کاہے عبدالرحیم نے یہ کہ کرایہ ہے۔
ثالثا: ایسا ہی اختالف یہ ہے کہ حیدر علی خاں کہتا ہے"گنیشی نے اپنے پسر سے کہا حساب کی بہی لے آؤوہ لے کر آیا او عبدالغافر خاں کو دی"عبدالرحیم خاں کہتا ہے"گنیشی کو دی"۔
رابعا: حیدر علی خاں کہتا ہے"گنیشی نے کہا پہلے کتنی رقم آپ کے پاس پہنچی"عبدالغافر خاں نے کہا"(٭٭)"اس پر گنیشی نے اپنے بیٹے سےکہا عبدالغافر خاں کو کرایہ کا روپہیہ دوکوٹھری سے لاکر(٭٭)دے دئےعبدالرحیم خاں اس کا عکس بیان کرتا ہے کہ(٭٭)دے دئے پھر گنیشی نے کہا اس سے پہلے رقم کس قدر گئی ہے کہا(٭٭)۔
خامسا: تخالف شدید یہ ہے کہ عبدالرحیم کہتا ہے"اس شخص یعنی حیدر علی خاں نے کرایہ پوچھا گنیشی نے(٭٭)ماہوار بتایاحیدرعلی کاں کہتا ہے"تعداد ماہوار ی کرایہ کی مجھے گنیشی نے نہیں بتائی"۔
سیزدہم: محمدرضاں خاں کہتا ہے"عبدالغافر خان نے کتاب پر وصول ڈال دیا اور پڑھ کر سنایا کہ آخر مارچ ۸ تك کا کرایہ معرفت مولچند کے وصول پایا"جس کا حاصل یہ کہ کرایہ کسی اور پر ہے اس نے مولچند کے ہاتھ بھیجا لیکن کتاب یعنی رسید بہی کی عبارت یہ ہے"آخرمارچ ۸ تك کرایہ مولچند سے وصول ہوا۔"
چاردہم: سب شاہد(٭٭)ماہوار کے حساب پر چلے ہیں جس کے فیصدی(۱۴/ ۱۱۱۸ /۲۴) پائی
ہوئے لیکن موتی شاہ کہتا ہے"۱۴/ کا سود ٹھہراتھا"یہاں یا وجہ چہارم میں مجاز کا عذر کہ بقاعدہ رفع واسقاط موتی شاہ نے ۱۴ /ایك پائی کم یا زائد کو مجاز ۱۴/ کہا مقبول نہیں کہ شہادت میں مجاز نہیں لے سکتے۔وجیز امام کردری جلد ۵ص۳۲۲میں ہے:
الحکم لما اتصل بالشھادۃ وشرط فیہا العلم مثل الشمس لم یتحمل فیہا المجاز الذی یصح نفیہ واما الدعوی فاخبار مجرد لایتصل بہ الحکم فاتسع فیہ لدفع المناقضۃ عند الافصاح بالتوفیق ۔ حکم جب شہادت سے متصل ہواور شہادت میں شرط ہے کہ واقعہ کا سورج کی طرح واضح علم ہو اور اس میں مجاز کا احتمال نہ ہو جس کی نفی کرنا پڑے لیکن دعوی تو وہ خالص خبر ہے جس میں فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے تو اس میں وسعت ہے کہ تناقض کو ختم کرنے کے لئے موافقت کوظاہر کیا جائے(ت)
پانزدہم:احمد خاں ولد میاں خاں اور عجائب الدین خاں ایك جلسے کے گواہ ہیں احمد خاں مئی ۹ کا واقعہ بتاتا ہے کہ عبدالغافر خاں نے کہا کہ آٹھ مہینے کا کرایہ چاہئے جس کے(٭٭)ہوتے ہیںگنیشی نے کہا اس سے پہلے کتنی رقم پہنچیکہا(٭٭) حسب رسید بہی و شہادت سید عبدالعزیز اگست ۸ تك تھی جب سے ختم اپریل ۹ تك ۵ مہینے ہوتے ہیں تو اسی وقت تك کا کرایہ ہوا لیکن عجائب الدین خاں یہی شروع مئی ۹ لکھا کرکہتا ہے"مولوی عبدالغافر خاں نےجواب دیا(٭٭)اول پہنچی اور(٭٭)اب گنیشی نے پوچھا یہ سب کتنے ہوئےعبد الغافر خاں نے کہا(٭٭)بابت کرایہ کے ہمارے پاس پہنچی اکتوربر تك کا"یہ اکتوبر ۸ کا ہے تو ستمبر ۸ سے اس تك دو ہی مہینے ہوئے اور ماہوار(٭٭)ٹھہرا اور ۹کا ہے تو چودہ مہینے ہوئے اور ماہوار کچھ اوپر پچیس ہی رہے۔
شانزدہم: محمد رضاخاں و مظہر حسین ایك جلسے کے گواہ ہیں وہ گنیشی کا کہنا یہ بتاتا ہے"کل تم آنا تمہیں بھی روپیہ دوں گا"یہ کہتا ہے"کل ہم روپیہ پہنچادیں گے۔
ہفدہم: نجن وحیدر حسین ایك جلسہ کے گواہ ہیں نجن عــــــہ کہتا ہے کہ کتاب اس وقت نہیں ملتی کل آکر آپ روپیہ لے لیں سید حیدر حسین کا بیان ہے عبدالغافر خاں سے گنیشی نے کہا
عــــــہ: خط کشیدہ عبار ت اندازہ سے درست کی اصل میں پڑھی نہیں گئی۔
الحکم لما اتصل بالشھادۃ وشرط فیہا العلم مثل الشمس لم یتحمل فیہا المجاز الذی یصح نفیہ واما الدعوی فاخبار مجرد لایتصل بہ الحکم فاتسع فیہ لدفع المناقضۃ عند الافصاح بالتوفیق ۔ حکم جب شہادت سے متصل ہواور شہادت میں شرط ہے کہ واقعہ کا سورج کی طرح واضح علم ہو اور اس میں مجاز کا احتمال نہ ہو جس کی نفی کرنا پڑے لیکن دعوی تو وہ خالص خبر ہے جس میں فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے تو اس میں وسعت ہے کہ تناقض کو ختم کرنے کے لئے موافقت کوظاہر کیا جائے(ت)
پانزدہم:احمد خاں ولد میاں خاں اور عجائب الدین خاں ایك جلسے کے گواہ ہیں احمد خاں مئی ۹ کا واقعہ بتاتا ہے کہ عبدالغافر خاں نے کہا کہ آٹھ مہینے کا کرایہ چاہئے جس کے(٭٭)ہوتے ہیںگنیشی نے کہا اس سے پہلے کتنی رقم پہنچیکہا(٭٭) حسب رسید بہی و شہادت سید عبدالعزیز اگست ۸ تك تھی جب سے ختم اپریل ۹ تك ۵ مہینے ہوتے ہیں تو اسی وقت تك کا کرایہ ہوا لیکن عجائب الدین خاں یہی شروع مئی ۹ لکھا کرکہتا ہے"مولوی عبدالغافر خاں نےجواب دیا(٭٭)اول پہنچی اور(٭٭)اب گنیشی نے پوچھا یہ سب کتنے ہوئےعبد الغافر خاں نے کہا(٭٭)بابت کرایہ کے ہمارے پاس پہنچی اکتوربر تك کا"یہ اکتوبر ۸ کا ہے تو ستمبر ۸ سے اس تك دو ہی مہینے ہوئے اور ماہوار(٭٭)ٹھہرا اور ۹کا ہے تو چودہ مہینے ہوئے اور ماہوار کچھ اوپر پچیس ہی رہے۔
شانزدہم: محمد رضاخاں و مظہر حسین ایك جلسے کے گواہ ہیں وہ گنیشی کا کہنا یہ بتاتا ہے"کل تم آنا تمہیں بھی روپیہ دوں گا"یہ کہتا ہے"کل ہم روپیہ پہنچادیں گے۔
ہفدہم: نجن وحیدر حسین ایك جلسہ کے گواہ ہیں نجن عــــــہ کہتا ہے کہ کتاب اس وقت نہیں ملتی کل آکر آپ روپیہ لے لیں سید حیدر حسین کا بیان ہے عبدالغافر خاں سے گنیشی نے کہا
عــــــہ: خط کشیدہ عبار ت اندازہ سے درست کی اصل میں پڑھی نہیں گئی۔
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی نوع فی التناقض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲€
کتاب تلاش کرکے میں روپیہ خودبھیج دوں گا یا آپ آکر لے جائیں۔نجم کہتا ہے عبدالغافر خاں نے کہا کاغذ پر آپ رسید لے لیں کل کچہری سے آؤں گا تو کتاب پر جب مل جائے گی دستخط کروں گا"حیدر حسین کا بیان ہے کہ کتاب کل میرے پاس بھیج دینا وصول لکھ دوں گا۔
ہیجدہم: احمد خان ولد میان خان گنیشی کو کہتا ہے"گورے چٹے تھے"موتی شاہ کا بیان ہے"گندمی رنگ تھا"جب گواہوں کی حالت قابل اطمینان نہ ہو جیسی یہاں ہے تو اس قسم کے اختلافات پر بھی نظر کی جاتی ہے محیط و ہندیہ میں ہے:
قال ابویوسف اذرأیت الریبۃ فظننت انہم شہود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب و من کان معھم فاذااختلفو افی ذلك اعندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ ۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:جب شك کی بنا پر مجھے یہ گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں تو ان دونوں کو جدا کرکے ان سے جگہ اور لباس کے متعلق اور ان کے ساتھ موجود لوگوں کے متعلق سوال کروں گا اگر وہ ان امور میں اختلاف کریں تو میرے نزدیك یہ اختلاف ایسا ہے کہ میں شہادت کو باطل کردوں گا۔(ت)
(تناقض شاہد)نوزدہم: محمدرضاں خاں نے پہلے"معرفت مولچند"بتایا پھر کہا"ص۹ پر یہ عبارت لکھی تھی"مولچند سے وصول ہوا۔
بستم: موتی شاہ نے(٭٭)ماہوار بتایا پھر کہا ۱۴/ سود۔
بست ویکم: سید الطاف علی نے خود اپنی شہادت نقض کردی رقوم سابق ولاحق ومجموعی بیان کرکے کہا"میں نے اسکو نوٹ کرلیا تعداد رقم کی پرسوں میں نے دیکھی ہے اگر نہ دیکھتا تو اس وقت رقم کی شہادت نہ بیان کرسکتا" شاہد کو جب شہادت یاد نہ ہو تو اپنی لکھی یا دداشت کی بناء پر گواہی امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك مطلقا باطل ہے۔متن تنویر میں ہے:
لایشھد من رأی خطہ ولم یذکرھا ۔ جس نے خط دیکھا اور اس کا مضمون یا د نہ ہو تو وہ اس کی شہادت نہ دے۔(ت)
بزدوی وغیرہ نے اسی کو قول امام محمد بتایا تقویم میں اسی صحیح کہاردالمحتار میں ہے:
ہیجدہم: احمد خان ولد میان خان گنیشی کو کہتا ہے"گورے چٹے تھے"موتی شاہ کا بیان ہے"گندمی رنگ تھا"جب گواہوں کی حالت قابل اطمینان نہ ہو جیسی یہاں ہے تو اس قسم کے اختلافات پر بھی نظر کی جاتی ہے محیط و ہندیہ میں ہے:
قال ابویوسف اذرأیت الریبۃ فظننت انہم شہود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب و من کان معھم فاذااختلفو افی ذلك اعندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ ۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:جب شك کی بنا پر مجھے یہ گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں تو ان دونوں کو جدا کرکے ان سے جگہ اور لباس کے متعلق اور ان کے ساتھ موجود لوگوں کے متعلق سوال کروں گا اگر وہ ان امور میں اختلاف کریں تو میرے نزدیك یہ اختلاف ایسا ہے کہ میں شہادت کو باطل کردوں گا۔(ت)
(تناقض شاہد)نوزدہم: محمدرضاں خاں نے پہلے"معرفت مولچند"بتایا پھر کہا"ص۹ پر یہ عبارت لکھی تھی"مولچند سے وصول ہوا۔
بستم: موتی شاہ نے(٭٭)ماہوار بتایا پھر کہا ۱۴/ سود۔
بست ویکم: سید الطاف علی نے خود اپنی شہادت نقض کردی رقوم سابق ولاحق ومجموعی بیان کرکے کہا"میں نے اسکو نوٹ کرلیا تعداد رقم کی پرسوں میں نے دیکھی ہے اگر نہ دیکھتا تو اس وقت رقم کی شہادت نہ بیان کرسکتا" شاہد کو جب شہادت یاد نہ ہو تو اپنی لکھی یا دداشت کی بناء پر گواہی امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ کے نزدیك مطلقا باطل ہے۔متن تنویر میں ہے:
لایشھد من رأی خطہ ولم یذکرھا ۔ جس نے خط دیکھا اور اس کا مضمون یا د نہ ہو تو وہ اس کی شہادت نہ دے۔(ت)
بزدوی وغیرہ نے اسی کو قول امام محمد بتایا تقویم میں اسی صحیح کہاردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتب القضاء الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۴۵€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
فی البزدوی الصغیر اذااستیقن انہ خطہ وعلم انہ لم یزد فیہ شیئ بان کان مخبوأعندہ وعلم بدلیل اخرانہ لم یزد فیہ لکن لایحفظ ماسمع فعندھما لا یسعہ ان یشھدوعند ابی یوسف یسعہ وما قالہ ابو یوسف ھو المعمول بہ وقال فی التقویم قولھما ھو الصحیحجوہرۃ ۔ بزدوی صغیر میں ہے جب اس کو یقین ہو کہ یہ خط اس کا ہے اور یہ معلوم ہوکہ اس میںکوئی زیادہ نہیں کی گئی اور وہ خط اس کے پاس بند تھا اور دیگر دلائل سے بھی معلوم ہوا کہ اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی لیکن خط کا سنا ہوا مضمون یاد نہیں رہا تو طرفین کے نزدیك اس صورت میں شہادت دینے کی گنجائش نہیں اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ کے ہاں اسے شہادت دینا جائز ہےاور ابویوسف رحمہ اﷲتعالی نے جو فرمایا وہی معمول بہ ہے اور تقویم میں فرمایا کہ طرفین رضی اﷲتعالی عنہما کا قول صحیح ہے جوہرہ(ت)
قول امام ثانی پر اگرچہ فتوی دیا گیا مگر وہ اس صورت میں ہے کہ گواہ حاکم کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ اپنا لکھا دیکھ کر گواہی دے رہا ہوں اساظہار کے بعد بالاتفاق اس کی شہادت مقبول نہیں۔بحرالرائق وطحطاوی علی الدرالمختار وعالمگیریہ میں ہے:
ثم الشاہد اذااعتمد علی خطہ علی القول المفتی بہ وشھد فللقاضی ان یسألہ ھل تشھدعن علم او عن خط ان قال عن علم قبلہ وان قال عن الخط لا ۔ (ملخصا) پھر گواہ کو جب اپنے خط پر اعتماد ہے کہ اسی کا ہے اور گواہی دی تو مفتی بہ قول میں جائز ہےلیکن قاضی اس سے سوال کرے کہ تو اپنے علم کی بناء پررشہادت دے رہا ہے یا خط کی بناء پر اگر وہ یہ کہے کہ اپنے علم کی بناء پر شہادت دے رہا ہوںتو شہادت کو قبول کرلےاو اگر وہ کہے کہ خط کی بنا پر دے رہا ہوں توع قبول نہ کرے۔(ملخصا)۔(ت)
تنبیہ:یہاں جو نقول سادہ اظہار محمدرضاخاںمظہر حسین آئیں ان میں اظہار محمدر ضا
قول امام ثانی پر اگرچہ فتوی دیا گیا مگر وہ اس صورت میں ہے کہ گواہ حاکم کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ اپنا لکھا دیکھ کر گواہی دے رہا ہوں اساظہار کے بعد بالاتفاق اس کی شہادت مقبول نہیں۔بحرالرائق وطحطاوی علی الدرالمختار وعالمگیریہ میں ہے:
ثم الشاہد اذااعتمد علی خطہ علی القول المفتی بہ وشھد فللقاضی ان یسألہ ھل تشھدعن علم او عن خط ان قال عن علم قبلہ وان قال عن الخط لا ۔ (ملخصا) پھر گواہ کو جب اپنے خط پر اعتماد ہے کہ اسی کا ہے اور گواہی دی تو مفتی بہ قول میں جائز ہےلیکن قاضی اس سے سوال کرے کہ تو اپنے علم کی بناء پررشہادت دے رہا ہے یا خط کی بناء پر اگر وہ یہ کہے کہ اپنے علم کی بناء پر شہادت دے رہا ہوںتو شہادت کو قبول کرلےاو اگر وہ کہے کہ خط کی بنا پر دے رہا ہوں توع قبول نہ کرے۔(ملخصا)۔(ت)
تنبیہ:یہاں جو نقول سادہ اظہار محمدرضاخاںمظہر حسین آئیں ان میں اظہار محمدر ضا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۷۵€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۲۳۶،€بحر الرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۷۲،€فتاوی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۶€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۲۳۶،€بحر الرائق کتاب الشہادات ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۷۲،€فتاوی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۶€
خاں میں سابق پہنچی ہوئی رقم(٭٭)لکھی ہے اور(٭٭)حال کی ملاکر(٭٭)یہ دعوی و دیگر شہادت ورسید بہی سب کے خلاف ہے اور اظہار مظہر حسین میں اولا رقم سابق(٭٭)اور چند سطر کے بعد(٭٭)ہے یہ تناقض ہے اگر ان رقوم میں خطائے نقلی ہو تو یہ تین وجہیں اختلاف دعوی شہادت واختلاف شاہدیں وتناقض شاہد میں اور اضافہ ہوں گی۔
بست ودوم:(حالت گواہان)(۱)موتی شاہ(۲)غفران اقراری سزا یافتہ ہیں(۳)عجائب الدین خاں پتنگ ساز پتنگ فروش گواہی پیشہ ہے(۴)حیدر علی خاں گواہی پیشہ ہے(۵)احمد خاں ولد میاں خاں باجہ فروش ہے(۶)محمدر ضاخاں(۷)مظہر حسین بنیوں کے یہاں سود کے تقاضے اور وصول کرکے لانے پر کم درجے کے نوکر ہیں(۸)عبدالعزیز خاں وثائق نویس ہیںاور صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے ہے:
لعن رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ رسول اﷲصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اورکھلانے والے اور اس کاکاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر۔اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔(ت)
(۹)ولی خاں(۱۰)عبدالرحیم خان(۱۱)اشرف علی خاں(۱۲)محمدر بشیر(۱۳)مظہر حسین(۱۴)نجف علی خاں سب جاہل و ناخواندہ ہیں بلکہ اظہر یہ کہ ان میں اکثریا سب اپنے ضروری فرائض سے آگاہ نہ ہوں اور جو اس قدر بھی فقہ نہ سیکھے اس کی شہادت مردود ہے۔ مجبتی شرح قدوری و نہر الفائق ودرمختار باب التعزیر میں ہے:
من ترك الاشتغال بالفقہ لاتقبل شہادتہ والمراد مایجب علیہ تعلمہ ۔ جس نے فقہ سے مشغولیت ختم کردی اسکی شہادت مقبول نہیں یعنی جس نے واجبی حد تك فقہ سے بھی تعلق نہ رکھا(ت)
(۱۵)سید الطاف علی(۱۶)عبدالرحیم خاں(۱۷)نجن(۱۸)اشرف علیخاں(۱۹)مظہر حسین(۲۰)نجف علی خاں(۲۱)وزیر خاں سب بلاسمن کچہری کے ناخواندہ مہمان ہیں عرف حال میں اہل حیثیت
بست ودوم:(حالت گواہان)(۱)موتی شاہ(۲)غفران اقراری سزا یافتہ ہیں(۳)عجائب الدین خاں پتنگ ساز پتنگ فروش گواہی پیشہ ہے(۴)حیدر علی خاں گواہی پیشہ ہے(۵)احمد خاں ولد میاں خاں باجہ فروش ہے(۶)محمدر ضاخاں(۷)مظہر حسین بنیوں کے یہاں سود کے تقاضے اور وصول کرکے لانے پر کم درجے کے نوکر ہیں(۸)عبدالعزیز خاں وثائق نویس ہیںاور صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے ہے:
لعن رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ رسول اﷲصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اورکھلانے والے اور اس کاکاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر۔اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔(ت)
(۹)ولی خاں(۱۰)عبدالرحیم خان(۱۱)اشرف علی خاں(۱۲)محمدر بشیر(۱۳)مظہر حسین(۱۴)نجف علی خاں سب جاہل و ناخواندہ ہیں بلکہ اظہر یہ کہ ان میں اکثریا سب اپنے ضروری فرائض سے آگاہ نہ ہوں اور جو اس قدر بھی فقہ نہ سیکھے اس کی شہادت مردود ہے۔ مجبتی شرح قدوری و نہر الفائق ودرمختار باب التعزیر میں ہے:
من ترك الاشتغال بالفقہ لاتقبل شہادتہ والمراد مایجب علیہ تعلمہ ۔ جس نے فقہ سے مشغولیت ختم کردی اسکی شہادت مقبول نہیں یعنی جس نے واجبی حد تك فقہ سے بھی تعلق نہ رکھا(ت)
(۱۵)سید الطاف علی(۱۶)عبدالرحیم خاں(۱۷)نجن(۱۸)اشرف علیخاں(۱۹)مظہر حسین(۲۰)نجف علی خاں(۲۱)وزیر خاں سب بلاسمن کچہری کے ناخواندہ مہمان ہیں عرف حال میں اہل حیثیت
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربو ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۷€
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۷€
اسے بے عزتی سمجھتے ہیں(۲۲)ولی خان درگاہ اس کے یہاں چار روپے کا ملازم ہے(۲۳)عبد الرحیم عبدالرحیم خاں ایك چپراسی ہے۔(۲۴)محمد بشیر ایك مذکوری(۲۵)اشرف علی خاں(۲۶)نجف علی خاں دونوں گاڑی بان(۲۷)احمد خاں ولد عبدالنبی خاں ۶ روپے کا فیلبان(۲۸)وزیر خاں یہ بھی ہاتھی بان ہے(۲۹و۳۰)جہا یہ دونوں فیلبانی پر نوکرہیں اس کارخانے کا تحویلدار مدعی ہے اور وہی انہیں تنخواہ دیتاہے۔
(تحری صدق)ایسی جگہ تحری صدق لازم تھی اس کی۸ ھالت سخت عجیب ہے مدعیوں نے پیش خویش ایك نہایت مرتب منتظم سلسلہ وصول کرایہ شہادتوں کا مسلسل کیا کہ ۱۷دسمبر / دسمبر ۱ سے چار برس ۷ ماہ تك تو گنیشی ایسا خود دہندرہا کہ مہینے کے مہینے(٭٭)دیتا رہا بنبلکہ بکمال فیاضی نومبر ۴ میں دوہرے دئے یہاں تك کا وصوہل اقرار عبدالغافر خاں سے رکھا آگے گنیشی کی یہ حالت ہے کہ تین تین برس گزرجائیں ایك پیسہ بے تقاضا نہیں دیتا مگر ہر تقاضے پر اگرچہ ہزاروں کا مطالبہ ہو روپیہ برابر تیار رکھتا ہے کبھی یہ نہیں کہتا کہ آج اتنی کمی ہے کل پوری کردو ں گا پھر روپیہ تیار ہے تو مہینوں برسوں رکھ کیوں چھوڑ تا ہے اور عبدالغافر خاں کو برسوں ماہ بماہ لیتا رہا اب مدتہائے مدت تك کیوں ساکت رہتا ہے اس کی حکمت وہ دونوں جانتے ہوں گےپھر ہر تقاضے پر گنیشی کے مسلمان بیٹھے ہوتے ہیں نہ نوکر عــــــہ جن کا ہزارہا ہونا معتبر نہیں کہ نوکر کی کون سنتا ہے بلکہ اجنبی اگرچہ وہ جو نہ کبھی پہلے گئے نہ بعد کو۔یہ اس لئے کہ مسلم پر کافر کی شہادت مقبول نہیںپھر کئی دفعہ اس وقت دو سے کم مسلمان حاضر نہیں ہوتےکہ نصاب کامل رہے اور وہ ہر بار پہلے سے جا بیٹھتے یا عبدالغافر خاں کے ساتھ کہ سرے سے گفتگو سنیں اور ہر بار عبدالغافر خاں کواٹھا کر اٹھتے ہیں کہ پوری گفتگو کے شاہد رہیں برسوں کے متفرق جلسے ہیں کبھی اس انتظام میں فرق نہیں آیااب دنیا بھر کا قاعدہ ہے کہ جس حساب کے لئے کتاب موجود ہے اس پر رقم کا وصول دائن کے ہاتھ کا لکھا ہوا دستخط کیا ہو ا ہے اس میں ماضی کا اطمینان کافی ہےاسے دہرانے کی کیاحاجتاب جو دینا ہو اگر معلوم نہیں اس کا پوچھنا اور دے کر رسید لینا ہی ہوتا ہے مگر گنیشی ہر مطالبہ پر پوچھتا ہے کہ پہلے کتنا پہنچا رقم مال دے کر پھر پوچھتا ہے اب تك کل کتنا ہوا یہ اس لئے کہ ہر بار کے حاضرین کہ رقم حال کے شاہد معاینہ ہوں گے ہر رقم سابق کے شاہد اقرار ہوجائیںپھر مجموعہ پوچھنے کی بھی حاجت ہے کہ رقم حال پر بھی اقرارہوجائےیوں ہر رقم سابق و سابق برسابق سب کا ہر بار اقرار ہوتا رہا
عــــــہ:خط کشیدہ جملے اندازے سے بنائے گئے کہ جلد بندی میں کٹ گئے تھے۔عبدالمنان ۔
(تحری صدق)ایسی جگہ تحری صدق لازم تھی اس کی۸ ھالت سخت عجیب ہے مدعیوں نے پیش خویش ایك نہایت مرتب منتظم سلسلہ وصول کرایہ شہادتوں کا مسلسل کیا کہ ۱۷دسمبر / دسمبر ۱ سے چار برس ۷ ماہ تك تو گنیشی ایسا خود دہندرہا کہ مہینے کے مہینے(٭٭)دیتا رہا بنبلکہ بکمال فیاضی نومبر ۴ میں دوہرے دئے یہاں تك کا وصوہل اقرار عبدالغافر خاں سے رکھا آگے گنیشی کی یہ حالت ہے کہ تین تین برس گزرجائیں ایك پیسہ بے تقاضا نہیں دیتا مگر ہر تقاضے پر اگرچہ ہزاروں کا مطالبہ ہو روپیہ برابر تیار رکھتا ہے کبھی یہ نہیں کہتا کہ آج اتنی کمی ہے کل پوری کردو ں گا پھر روپیہ تیار ہے تو مہینوں برسوں رکھ کیوں چھوڑ تا ہے اور عبدالغافر خاں کو برسوں ماہ بماہ لیتا رہا اب مدتہائے مدت تك کیوں ساکت رہتا ہے اس کی حکمت وہ دونوں جانتے ہوں گےپھر ہر تقاضے پر گنیشی کے مسلمان بیٹھے ہوتے ہیں نہ نوکر عــــــہ جن کا ہزارہا ہونا معتبر نہیں کہ نوکر کی کون سنتا ہے بلکہ اجنبی اگرچہ وہ جو نہ کبھی پہلے گئے نہ بعد کو۔یہ اس لئے کہ مسلم پر کافر کی شہادت مقبول نہیںپھر کئی دفعہ اس وقت دو سے کم مسلمان حاضر نہیں ہوتےکہ نصاب کامل رہے اور وہ ہر بار پہلے سے جا بیٹھتے یا عبدالغافر خاں کے ساتھ کہ سرے سے گفتگو سنیں اور ہر بار عبدالغافر خاں کواٹھا کر اٹھتے ہیں کہ پوری گفتگو کے شاہد رہیں برسوں کے متفرق جلسے ہیں کبھی اس انتظام میں فرق نہیں آیااب دنیا بھر کا قاعدہ ہے کہ جس حساب کے لئے کتاب موجود ہے اس پر رقم کا وصول دائن کے ہاتھ کا لکھا ہوا دستخط کیا ہو ا ہے اس میں ماضی کا اطمینان کافی ہےاسے دہرانے کی کیاحاجتاب جو دینا ہو اگر معلوم نہیں اس کا پوچھنا اور دے کر رسید لینا ہی ہوتا ہے مگر گنیشی ہر مطالبہ پر پوچھتا ہے کہ پہلے کتنا پہنچا رقم مال دے کر پھر پوچھتا ہے اب تك کل کتنا ہوا یہ اس لئے کہ ہر بار کے حاضرین کہ رقم حال کے شاہد معاینہ ہوں گے ہر رقم سابق کے شاہد اقرار ہوجائیںپھر مجموعہ پوچھنے کی بھی حاجت ہے کہ رقم حال پر بھی اقرارہوجائےیوں ہر رقم سابق و سابق برسابق سب کا ہر بار اقرار ہوتا رہا
عــــــہ:خط کشیدہ جملے اندازے سے بنائے گئے کہ جلد بندی میں کٹ گئے تھے۔عبدالمنان ۔
کہ افزوں کاسلسلہ منتظم رہے اور ہر رقم حال پر معاینہ بھی اقرار بھی اور(٭٭)رقم اخیر کے سواسب کی گواہ رسید بہی بھی پھر تحریر رسید بھی پڑھواکر سننا بعید نہیںجاہل ناخواندہ کو ایساہی چاہئے کہ نوشتہ دائن پر اطمینان ہومگر ہوشیار بنیا کسی اپنے قریب یا نوکر یا دوست ہندو پر اعتماد نہیں کرتا التزام کے ساتھ مسلمان ہی سے پڑھواتا ہے اگرچہ اس سے شناسائی نہ ہویہ اسی شہادت علم المسلم کےلئے ہےپھر یہ حضرات اگرچہ اپنے ذاتی معاملات اگرچہ قریب کے بالکل بھولے ہوئے ہوں ہر بات کا جواب یاد نہیں سے ہو لیکن اس اصول کا معاملہ مدت تك پورا یاد رکھتے ہیں سابق کی رقم الگحال کی الگمجموعہ کی الگوقت الگپھر جو کوئی پوچھتا ہے کہ یہ روپیہ کیسا دیا اور بنیا سود بتاتا ہے یہ سوال جواب عبدالغافر خاں کے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے کسی نے اس کے سامنے نہ پوچھایہ اسلئے کہ سامنے اگر عبدالغافر خاں اس کا رد کرتا بات بگڑتی اور اگر قبول کرا یا ساکت رہتا کہ وہ بھی قبول ہے تو اس کا خلاف ہوتا کہ تحفظ شان علم کے لئے اخفا چاہااہل انصاف دیکھیں ایسی ہوشیاری کے ساتھ سلسلہ بہ سلسلہ ایك سلك میں منسلك کی ہوئی ترتیب وارگواہیاں کبھی سنی ہیں جن کی لائن چپراسیمذکوریفیلبانگاڑی بانباجہ فروش کنکیاساز محصلان سودبنیوں کی خدمتیچار چار چھ چھ روپے کے نوکرجاہل ناخواندے مل کر اس خوبصورتی سے بنارہے ہیںاس سے بڑھ کر تحری صدق اور کیا ہوگی اور اس پر پوری رجسٹری اس نے کردی کہ رقومات میں جو اغلاط مدعیوں سے واقع ہوئے سب گواہ اسی ڈگرپر چلے ہیں غلطی کےلئے کوئی معیار نہیں ہوتامدعیوں سے غلطیاں ہوئی تھیں اور بالفرض سب شاہد بھی کرتے جدا جدا اغلاط ہوتےکسی نے کہیں غلطی کی کسی نے کہیںیہاں یہ نہیں بلکہ وہی غلطیاں انہیں مواقع پر ہیں جس کے ظاہر کہ سب ایك سانچے کے ڈھلے ہوئے ہیںلطف یہ کہ پان ہزار کب کے ادا ہوچکے اس کے بعد بنیاد برسوں نئی رقمیں خوشی خوشی دے رہا ہے یہاں تك کہ(٭٭)تقریبا تین ہزار روپے زیادہ پہنچاتا ہے ستمبر ۱۱ تك ہی پانچہزار سے(٭٭) زیادہ جاچکے تھے زراصل سے ایك حبہ باقی نہ رہا تھامگر جنوری ۱۳ میں ایك ہزار منجملہ زراصل بھیجتا ہے مگر اسے معلوم نہ تھا کہ نوشان بیگم کے نام اور مولچند کے کرایہ کی آڑ میں فرضی ہیں میرا اصل معاملہ عبدالغافر خاں سے ہے وہ سود لے رہے ہیں اور سود ناجائز ہے جو دیا جائے رقم اصل میں مجراہونا لازم ہے اب میں کا ہے ہزار بھیجتا ہوں اور ان کا بھی منجملہ کہتا ہوں اور کاہے پر اور رقمیں دئے چلاجاتا ہوںاگر مدعیوں اور گواہوں کے بیان سچ ہوتے تو ضرور پانچ ہزار پہنچتے ہی بنیا ہاتھ روك لیتامدعا علیہ نہ مانتا تو کچہریوں کے دروزے کھلے تھے جو نالش اب ہوئی وہی کرتا اور دستاویزیں واپس لیتا او رایك پیسہ زیادہ نہ دیتا مگر وہ عمر بھر غفلت میں لٹتا رہتا اور بحکم آنکہ پدر اگر نتواند پسرتمام کندیہ تمام تحقیقیں تدقیقیں پچھلی مت میں اپنے بیٹوں کےلئے چھوڑجاتا ہے۔
جو یہ ظاہر کرہرہے ہیں کہ ان کا باپ احمق تھا عقل ان کو ہےیہ ہے دعوی اور یہ ہیں گواہیاں۔
تجویز و فیصلہ
اس کی نسبت کچہ کہنے کی حاجت نہیں اولا: سر ے سے دعوی ہی صحیح نہیں اور جب دعوی صحیح نہ ہو تو مدعا علیہ سے جواب بھی نہیں لیا جاتانہ کوئی کارروائی چلےشہادتیں گزریں اور غیر صحیح دعوی کی ڈگری ہو یہ سراسرباطل ہے۔درمختا رمیں ہے:
یسأل القاضی لامدعی علیہ عن الدعوی بعد صحتہا والاتصدر صحیحۃ لایسأل ۔ صحت دعوی کے بعد قاضی مدعا علیہ سے پوچھے اور اگر دعوی صحیح نہیں تو مدعا علیہ سے کچھ نہ پوچھے۔(ت)
ثانیا:گواہیاں باطل ہیں اور مدعا علیہ کا اقرار یا نکول نہ ہونا بدیہی تو قضا کی رہا مسدود اور حکم باطل ہیں۔فتاوی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت و دلیل کی بناء پر فیصہ دے سکتا ہے اور حجت تین چیزیں ہیں:گواہیاقرار اور قسم سے انکار۔(ت)
باینہمہ اجمالا دو ایك حرف اس کے متعلق بھی لکھنا مناسب کہ تفصیل ایك مستقل رسالہ ہوگیدو۲ وجہیں یہ ہوئی۔
سوم: تنقیح نمبر۱ کو بربنائے شہادت موتی شاہ و وزیر خاں بحق مدعیان ثابت ماننا صراحۃ باطل ہےردشہادات میں اس کابیان مفصل گزرا۔
چہارم: تنقیح نمبر۲ونمبر۳ کی نسبت رجویز کو خود اقرار ہے کہ شہادت سے اس کاثبوت ناممکن ہے پھر محض اس بنا پر کہ مدعا علیہ مسلمان معزز ذی علم ہے ان کو بحق مدعیان مان لینا سراسر خلاف انصاف ہے یوں تو اہل علم و معززین پر کفار وفجار کے دعوی سود ہمیشہ بے شاہدت مسموع ہوجائیں گے زید کو ہزاروں روپے دے دین اور خالد مسلمان ذی علم پر دعوی کردیں کہ زید اس کا علاقہ ار ہے اصل میں سودخالد نے لیا اور مسلم و
تجویز و فیصلہ
اس کی نسبت کچہ کہنے کی حاجت نہیں اولا: سر ے سے دعوی ہی صحیح نہیں اور جب دعوی صحیح نہ ہو تو مدعا علیہ سے جواب بھی نہیں لیا جاتانہ کوئی کارروائی چلےشہادتیں گزریں اور غیر صحیح دعوی کی ڈگری ہو یہ سراسرباطل ہے۔درمختا رمیں ہے:
یسأل القاضی لامدعی علیہ عن الدعوی بعد صحتہا والاتصدر صحیحۃ لایسأل ۔ صحت دعوی کے بعد قاضی مدعا علیہ سے پوچھے اور اگر دعوی صحیح نہیں تو مدعا علیہ سے کچھ نہ پوچھے۔(ت)
ثانیا:گواہیاں باطل ہیں اور مدعا علیہ کا اقرار یا نکول نہ ہونا بدیہی تو قضا کی رہا مسدود اور حکم باطل ہیں۔فتاوی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر میں ہے:
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول ۔ قاضی صرف حجت و دلیل کی بناء پر فیصہ دے سکتا ہے اور حجت تین چیزیں ہیں:گواہیاقرار اور قسم سے انکار۔(ت)
باینہمہ اجمالا دو ایك حرف اس کے متعلق بھی لکھنا مناسب کہ تفصیل ایك مستقل رسالہ ہوگیدو۲ وجہیں یہ ہوئی۔
سوم: تنقیح نمبر۱ کو بربنائے شہادت موتی شاہ و وزیر خاں بحق مدعیان ثابت ماننا صراحۃ باطل ہےردشہادات میں اس کابیان مفصل گزرا۔
چہارم: تنقیح نمبر۲ونمبر۳ کی نسبت رجویز کو خود اقرار ہے کہ شہادت سے اس کاثبوت ناممکن ہے پھر محض اس بنا پر کہ مدعا علیہ مسلمان معزز ذی علم ہے ان کو بحق مدعیان مان لینا سراسر خلاف انصاف ہے یوں تو اہل علم و معززین پر کفار وفجار کے دعوی سود ہمیشہ بے شاہدت مسموع ہوجائیں گے زید کو ہزاروں روپے دے دین اور خالد مسلمان ذی علم پر دعوی کردیں کہ زید اس کا علاقہ ار ہے اصل میں سودخالد نے لیا اور مسلم و
حوالہ / References
درمختار کتب الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۶€
الاشباہ والنظائر بحوالہ الخانیہ الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
الاشباہ والنظائر بحوالہ الخانیہ الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
عالم ہونے کے سبب نام دوسرے کا کیا۔
پنجم: رسید بہی خود ہی ثابت نہیں
اولا: آئندہ اس کی تصریح کی جائے گی۔
ثانیا: اس کے اختراعی ہونے پر ایك واضح قرینہ نومبر ۴ میں دوبارہ(٭٭)کا اقرار ہے رسید بہی میں مذکور نہیں کہ یہ کس مہینے کا مطالبہ ہے کسی مہینے میں وصول ہونا اسی مہینے کے مطالبہ ہونے پر دلیل نہیں پہلے کا بھی ہوتا ہے پیشگی بھی ہوتا ہے اگر یہ رسیدات عبدالغافر خاں کی ہوتیں یوں مبہم و مجمل مکرر نہ ہوتیں۔
ثالثا:رسید بھی انہیں اغلاط پر مرتب ہوئی ہے جو مدعیوں نے دعوے میں کیں جن کا بیان وجوہ ابطال دعوی میں گزرا اگر رسیدات واقعی ہوتیں حسب صحیح پر ہوتیںاور بالفرض اگر مسلم ہو تو ہم وجہ ہفتم عام میں ثابت کرچکے کہ مطالبہ کو شوہر کا اپنے دستخط سے وصول کرنا بیجا نہیں۔
ششم: ایك ہزار کی رقم منجملہ زر اصل کو عبدالغافر سخاں کا وصول کرنا ماننا اور اس کی ڈگری نہ دینا تجویزکا صریح تناقص ہے اگر پہنچنا ثابت ہے تو حقدار کو حق سے محروم کار قضاء نہیں قاضی اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ حقدار کو حق دلائےنہ اس لئے کہ حق مانے اور محروم کردےاور اگر ثابت نہیں تو اس کے وصول کرنے سے استدلال کیامعنی۔
ہفتم: رسیدات پر دستخط کرنے اور ہزار کی رقم خود وصول کرنے کو تنقیحات ۲و۳ کے ماحصل کا مثبت ماننا الٹی منطق ہے بلکہ یہ ان کا صریح رد ہے کہ اس میں اس امر شنیع کی اپنی نسبت اعلان ہے جس کا اخفاء چاہا تھااگر واقعی یہ سود کی رقمیں ہوتیں عبدالغافر خاں جس طرح دستاویز میں الگ رہا ان وصولوں میں بھی خود نہ پڑنا مسماۃ کے بھائی وغیرہ کسی اور کا پردہ رکھتا۔کیا فقط دستاویز میں نام ہونے سے اعلان ہوتا ہے جس پر گواہان حاشیہ یا اہل رجسٹری ہی واقف ہوتے اور یہ وسالہا سال تك بارہا علانیہ بر ملا مسلمانوں ہندوؤں سب کے سامنے وصول کرنا باعث اعلان نہیںکیا گواہ نہیں کہ رہے ہیں کہ وہ اوردیکھنے والے ہندو تك متعجب ہوئے کہ یہ مسلمان ہوکر کیونکر سود لیتے ہیں نوٹ کرنے والوں نے اسے نوٹ کیا مولویوں کسے مسئلہ پوچھا ہاتھیوں پر بیٹھ کر تذکرہ کیا خود ایك ہندو نے اپنے نوکر سے نوٹ کرنے کو کہا اور ان سب سے زائد موتی شاہ ووزیر خاں کی شہادتیں ہیں کہ علانیہ سود کی گفتگو مول تول کرنا بتاتے ہیں موتی شاہ کہتا ہے"فریقین کی گفتگو میں آدمی ہندو مسلمان بہت تھے"وزیر خاں کہتا ہے"مسلمان زائد تھے ہندو کم تھے"موتی شاہ کہتا ہے"وقت گفتگو دن کے دس بجے
پنجم: رسید بہی خود ہی ثابت نہیں
اولا: آئندہ اس کی تصریح کی جائے گی۔
ثانیا: اس کے اختراعی ہونے پر ایك واضح قرینہ نومبر ۴ میں دوبارہ(٭٭)کا اقرار ہے رسید بہی میں مذکور نہیں کہ یہ کس مہینے کا مطالبہ ہے کسی مہینے میں وصول ہونا اسی مہینے کے مطالبہ ہونے پر دلیل نہیں پہلے کا بھی ہوتا ہے پیشگی بھی ہوتا ہے اگر یہ رسیدات عبدالغافر خاں کی ہوتیں یوں مبہم و مجمل مکرر نہ ہوتیں۔
ثالثا:رسید بھی انہیں اغلاط پر مرتب ہوئی ہے جو مدعیوں نے دعوے میں کیں جن کا بیان وجوہ ابطال دعوی میں گزرا اگر رسیدات واقعی ہوتیں حسب صحیح پر ہوتیںاور بالفرض اگر مسلم ہو تو ہم وجہ ہفتم عام میں ثابت کرچکے کہ مطالبہ کو شوہر کا اپنے دستخط سے وصول کرنا بیجا نہیں۔
ششم: ایك ہزار کی رقم منجملہ زر اصل کو عبدالغافر سخاں کا وصول کرنا ماننا اور اس کی ڈگری نہ دینا تجویزکا صریح تناقص ہے اگر پہنچنا ثابت ہے تو حقدار کو حق سے محروم کار قضاء نہیں قاضی اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ حقدار کو حق دلائےنہ اس لئے کہ حق مانے اور محروم کردےاور اگر ثابت نہیں تو اس کے وصول کرنے سے استدلال کیامعنی۔
ہفتم: رسیدات پر دستخط کرنے اور ہزار کی رقم خود وصول کرنے کو تنقیحات ۲و۳ کے ماحصل کا مثبت ماننا الٹی منطق ہے بلکہ یہ ان کا صریح رد ہے کہ اس میں اس امر شنیع کی اپنی نسبت اعلان ہے جس کا اخفاء چاہا تھااگر واقعی یہ سود کی رقمیں ہوتیں عبدالغافر خاں جس طرح دستاویز میں الگ رہا ان وصولوں میں بھی خود نہ پڑنا مسماۃ کے بھائی وغیرہ کسی اور کا پردہ رکھتا۔کیا فقط دستاویز میں نام ہونے سے اعلان ہوتا ہے جس پر گواہان حاشیہ یا اہل رجسٹری ہی واقف ہوتے اور یہ وسالہا سال تك بارہا علانیہ بر ملا مسلمانوں ہندوؤں سب کے سامنے وصول کرنا باعث اعلان نہیںکیا گواہ نہیں کہ رہے ہیں کہ وہ اوردیکھنے والے ہندو تك متعجب ہوئے کہ یہ مسلمان ہوکر کیونکر سود لیتے ہیں نوٹ کرنے والوں نے اسے نوٹ کیا مولویوں کسے مسئلہ پوچھا ہاتھیوں پر بیٹھ کر تذکرہ کیا خود ایك ہندو نے اپنے نوکر سے نوٹ کرنے کو کہا اور ان سب سے زائد موتی شاہ ووزیر خاں کی شہادتیں ہیں کہ علانیہ سود کی گفتگو مول تول کرنا بتاتے ہیں موتی شاہ کہتا ہے"فریقین کی گفتگو میں آدمی ہندو مسلمان بہت تھے"وزیر خاں کہتا ہے"مسلمان زائد تھے ہندو کم تھے"موتی شاہ کہتا ہے"وقت گفتگو دن کے دس بجے
کا تھااس واقعہ کے یادرکھنے کا ذریعہ یہ ہے کہ ۱۴کا سودٹھہراتھا حالانکہ مسلمان کبھی سود نہیں لیتے ہیں"جو ایسا بیبیاك ہواسے اخفا کیا معنیلہذا یہ تمام بیانات تصنیف شدہ ہیں۔
ہشتم: تنیقح ۴ کے متعلق جن شہادتوں اور ان کے بالترتیب بیانوں سے استدلال کیا ان کے بکثرت ابطال مباحث سابقہ میں گزرے حاجت اعادہ نہیںاس تنقیح کا ایك حرف بھی بحق مدعیان ثابت نہیں مگر غنیمت ہے کہ تجویز نے ان تمام شہادتوں کو خود ہی ناکافی مانا کہ"اس رقم اقرار ی کے ایصال بوجہ تائید شہادت تحریری کے میں ثابت قرار دیتا ہوں"یعنی وہ نہ ہوتی تو میں ان گواہیوں کونہ مانتا معلوم ہوا کہ سب گواہیاں ناکافی ہیںشہادت تحریری کیا ہے وہی رسید بہی جس کی ردی حالت اوپر گزری اور پوری تفصیل بعونہ تعالی آگے آتی ہے تو مؤید رہا نہ مؤید اور ثبوت تنقیح باطل ومسترد۔
نہم: ذی علم مجوز نے مدعیوں اور شاہدوں اور رسید بہی جن کے کاذب ہونے کی ایك اور دلیل ظاہر کی جو ہمارے خیال میں بھی نہ تھی فرمایا"منجملہ رقم مودی بنام کرایہ(٭٭)کی ایسی رقم ہے جس کے متعلق مدعیان نے کوئی رسید پیش نہ کیاور تحریر کرتے ہیں کہ مدعا علیہ نے براہ بدنیتی اس رقم کی رسیدات نہ دیں جو کتاب رسیدات مدعیان نے پیش کی اس میں سوائے رقم(٭٭)کے باقی رقوم درج ہیں"لیکن مدعیان و گوہان و رسید بہی صرف اخیر ۷ ماہ کی رقم(٭٭)کی رسید نہ دینی بتاتے ہیں تو بیان ذی علم مجوز کے مقابل سب جھوٹے ہیںیہاں سے اندازہ ہوسکتاہے کہ تجویز کس اعلی درجہ بیداری مغزی پر ہے جس نے ان سب کے ایسے اغلاط پر مفید عــــــہ روشنی ڈالی۔
دہم: رسیدات جن پر بلفظ عبدالغافر خان دستخط ہیں ان کے نوشتہ عبدالغافر ہونے کا یہ ثبوت کہ اتنے گواہوں نے ان دستخطوں کا خط پہچانا اور اتنے کاغذات کچہری کے دستخطوں سے دستخط ملے لہذا یقینا مدعا علیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیںمحض خلاف شرع باطل ہے کتب مذہب میں تصریحات قاہرہ ہیں کہ خط مشابہ خط ہوتا ہے اور بن سکتا ہے اور یہ کہ اس پر اعتماد جائز نہیں اور یہ کہ قاضی اس پر فیصلہ نہیں دے سکتا بنانے والوں کا جسے تجربہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ ایسا بنا لیتے ہیں کہ خود صاحب خط کو دیکھ کر اشتباہ ہوجاتا ہے اور وہ تمیز نہیں کرسکتا کہ میرا لکھا ہے یا دوسرے کاپھر اوروں کی شناخت کیا چیز ہے۔ہدایہ میں ہے:الخط یشبہ الخط فلا یعتبر (خط ایك دوسرے
عــــــہ: خط کشیدہ لفظ اندازہ سے بنایا گیا۔
ہشتم: تنیقح ۴ کے متعلق جن شہادتوں اور ان کے بالترتیب بیانوں سے استدلال کیا ان کے بکثرت ابطال مباحث سابقہ میں گزرے حاجت اعادہ نہیںاس تنقیح کا ایك حرف بھی بحق مدعیان ثابت نہیں مگر غنیمت ہے کہ تجویز نے ان تمام شہادتوں کو خود ہی ناکافی مانا کہ"اس رقم اقرار ی کے ایصال بوجہ تائید شہادت تحریری کے میں ثابت قرار دیتا ہوں"یعنی وہ نہ ہوتی تو میں ان گواہیوں کونہ مانتا معلوم ہوا کہ سب گواہیاں ناکافی ہیںشہادت تحریری کیا ہے وہی رسید بہی جس کی ردی حالت اوپر گزری اور پوری تفصیل بعونہ تعالی آگے آتی ہے تو مؤید رہا نہ مؤید اور ثبوت تنقیح باطل ومسترد۔
نہم: ذی علم مجوز نے مدعیوں اور شاہدوں اور رسید بہی جن کے کاذب ہونے کی ایك اور دلیل ظاہر کی جو ہمارے خیال میں بھی نہ تھی فرمایا"منجملہ رقم مودی بنام کرایہ(٭٭)کی ایسی رقم ہے جس کے متعلق مدعیان نے کوئی رسید پیش نہ کیاور تحریر کرتے ہیں کہ مدعا علیہ نے براہ بدنیتی اس رقم کی رسیدات نہ دیں جو کتاب رسیدات مدعیان نے پیش کی اس میں سوائے رقم(٭٭)کے باقی رقوم درج ہیں"لیکن مدعیان و گوہان و رسید بہی صرف اخیر ۷ ماہ کی رقم(٭٭)کی رسید نہ دینی بتاتے ہیں تو بیان ذی علم مجوز کے مقابل سب جھوٹے ہیںیہاں سے اندازہ ہوسکتاہے کہ تجویز کس اعلی درجہ بیداری مغزی پر ہے جس نے ان سب کے ایسے اغلاط پر مفید عــــــہ روشنی ڈالی۔
دہم: رسیدات جن پر بلفظ عبدالغافر خان دستخط ہیں ان کے نوشتہ عبدالغافر ہونے کا یہ ثبوت کہ اتنے گواہوں نے ان دستخطوں کا خط پہچانا اور اتنے کاغذات کچہری کے دستخطوں سے دستخط ملے لہذا یقینا مدعا علیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیںمحض خلاف شرع باطل ہے کتب مذہب میں تصریحات قاہرہ ہیں کہ خط مشابہ خط ہوتا ہے اور بن سکتا ہے اور یہ کہ اس پر اعتماد جائز نہیں اور یہ کہ قاضی اس پر فیصلہ نہیں دے سکتا بنانے والوں کا جسے تجربہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ ایسا بنا لیتے ہیں کہ خود صاحب خط کو دیکھ کر اشتباہ ہوجاتا ہے اور وہ تمیز نہیں کرسکتا کہ میرا لکھا ہے یا دوسرے کاپھر اوروں کی شناخت کیا چیز ہے۔ہدایہ میں ہے:الخط یشبہ الخط فلا یعتبر (خط ایك دوسرے
عــــــہ: خط کشیدہ لفظ اندازہ سے بنایا گیا۔
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الشہادات ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۱۵۷€
کے مشابہ ہوتا ہے لہذا معتبر نہیں۔ت)فتح القدیر میں ہے:
الخط لاینطق وھو متشابہ ۔ خط بولتا نہیں وہ متشابہ چیز ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:لایعمل بالخط (خط پر عمل نہ ہوگا۔ت)فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لایصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۔ چونکہ خط ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا(ت)
نیز خانیہ میں ہے:
اخرج المدعی خطا باقرار المدعی علیہ بذلك فانکران یکون خطہ فاستکتب وکان بین الخطین مشابہۃ ظاہرۃ لایقضی بہ ھوالصحیح ۔ مدعی نے مدعا علیہ کے اقرار کا خط پیش کیا تو مدعا علیہ نے اپنا خط ہونے سے انکار کردیا تو قاضی مدعا علیہ سے تحریر لکھوائے اور دونوں تحریروں میں واضح مشابہت پائی جائے اس کے باوجود صحیح یہ ہے کہ قاضی اس خط پر فیصلہ نہ دے۔(ت)
اشباہ والنظائرمیں ہے:
لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ ۔ خط پر نہ اعتماد کیا جائے نہ عمل۔(ت)
کافی شرح وافی میں ہے:
الخط یشبہ الخط وقد یزور ویفتعل ۔ خط ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے اور جھوٹا اور جعلی ہوتا ہے۔(ت)
عینی علی الکنز میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلایلزم حجۃ لانہ خط چونکہ ایك دوسرے کے مشابہ اور من گھڑت
الخط لاینطق وھو متشابہ ۔ خط بولتا نہیں وہ متشابہ چیز ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:لایعمل بالخط (خط پر عمل نہ ہوگا۔ت)فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لایصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۔ چونکہ خط ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا(ت)
نیز خانیہ میں ہے:
اخرج المدعی خطا باقرار المدعی علیہ بذلك فانکران یکون خطہ فاستکتب وکان بین الخطین مشابہۃ ظاہرۃ لایقضی بہ ھوالصحیح ۔ مدعی نے مدعا علیہ کے اقرار کا خط پیش کیا تو مدعا علیہ نے اپنا خط ہونے سے انکار کردیا تو قاضی مدعا علیہ سے تحریر لکھوائے اور دونوں تحریروں میں واضح مشابہت پائی جائے اس کے باوجود صحیح یہ ہے کہ قاضی اس خط پر فیصلہ نہ دے۔(ت)
اشباہ والنظائرمیں ہے:
لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ ۔ خط پر نہ اعتماد کیا جائے نہ عمل۔(ت)
کافی شرح وافی میں ہے:
الخط یشبہ الخط وقد یزور ویفتعل ۔ خط ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے اور جھوٹا اور جعلی ہوتا ہے۔(ت)
عینی علی الکنز میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلایلزم حجۃ لانہ خط چونکہ ایك دوسرے کے مشابہ اور من گھڑت
حوالہ / References
فتح القدیر
درمختار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۳€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الدعوی والبینات باب الدعوٰی ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۴۶۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
کافی شرح وافی
درمختار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۳€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الدعوی والبینات باب الدعوٰی ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۴۶۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸€
کافی شرح وافی
یحتمل التزویر ۔ ہوسکتا ہے لہذا حجت ہونا لازم نہ آئے گا۔(ت)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الکتاب قدیز ور ویفتعل والخط یشبہ الخط و الخاتم یشبہ الکاتم مختصرا۔ مکتوب کبھی جھوٹا اور جعلی ہوتا ہے اور ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے اور مہر ایك دوسرے کے مشابہ ہوتی ہےمختصرا (ت)
ظہیریہ وشرح الاشباہ للعلامۃ البیری وردالمحتار میں ہے:
لایقضی بذلك عند المنازعۃ لان الخط مما یزور و یفتعل ۔ قاضی کسی نزاع میں مکتوب پر فیصلہ نہ دے کیونکہ خط جعلی ور من گھڑت ہوسکتا ہے۔(ت)
فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی وغمز العیون میں ہے:
العلۃ فی عدم العمل بالخط کونہ ممایزور ویفتعل ای من شانہ ذلك وکونہ من شانہ ذلك یقتضی عدم العمل بہ وعدم الاعتماد علیہ وان لم یکن فی نفس الامر کما ھو ظاہر ۔ خط پر عمل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جعلی اور منگھڑت ہوسکتا ہے اور جب وہ ایسا ہوسکتا ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ اس پر عمل اور اعتماد نہ کیا جائے اگرچہ نفس الامر میں وہ ایسا نہ ہو جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔(ت)
یازدہم: جن پر بلفظ دولھا خاں دستخط ہیں اور اکثر وہی ہیں ۶۳ رسیدوں میں صرف ۴ پر عبدالغافر خاں ہے اور ۵۹ پر دولھا خاں ان کی نسبت اتنا بھی نہیں پہچاننے والوں نے شان خط پر گواہی دی یا کسی کاغذ کچہری پر یہ دستخط ملے یہاں صرف اس قدر سے کام لیا گیا کہ اس کی شان شان دستخط سابق سے ملتی ہے یعنی ظن در ظن قیاس در قیاس اور اس پر حکم یہ کہ"دستخط یقینا مدعا علیہ کے ہیں"انا ﷲ وانا الیہ راجعون o
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الکتاب قدیز ور ویفتعل والخط یشبہ الخط و الخاتم یشبہ الکاتم مختصرا۔ مکتوب کبھی جھوٹا اور جعلی ہوتا ہے اور ایك دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے اور مہر ایك دوسرے کے مشابہ ہوتی ہےمختصرا (ت)
ظہیریہ وشرح الاشباہ للعلامۃ البیری وردالمحتار میں ہے:
لایقضی بذلك عند المنازعۃ لان الخط مما یزور و یفتعل ۔ قاضی کسی نزاع میں مکتوب پر فیصلہ نہ دے کیونکہ خط جعلی ور من گھڑت ہوسکتا ہے۔(ت)
فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی وغمز العیون میں ہے:
العلۃ فی عدم العمل بالخط کونہ ممایزور ویفتعل ای من شانہ ذلك وکونہ من شانہ ذلك یقتضی عدم العمل بہ وعدم الاعتماد علیہ وان لم یکن فی نفس الامر کما ھو ظاہر ۔ خط پر عمل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جعلی اور منگھڑت ہوسکتا ہے اور جب وہ ایسا ہوسکتا ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ اس پر عمل اور اعتماد نہ کیا جائے اگرچہ نفس الامر میں وہ ایسا نہ ہو جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔(ت)
یازدہم: جن پر بلفظ دولھا خاں دستخط ہیں اور اکثر وہی ہیں ۶۳ رسیدوں میں صرف ۴ پر عبدالغافر خاں ہے اور ۵۹ پر دولھا خاں ان کی نسبت اتنا بھی نہیں پہچاننے والوں نے شان خط پر گواہی دی یا کسی کاغذ کچہری پر یہ دستخط ملے یہاں صرف اس قدر سے کام لیا گیا کہ اس کی شان شان دستخط سابق سے ملتی ہے یعنی ظن در ظن قیاس در قیاس اور اس پر حکم یہ کہ"دستخط یقینا مدعا علیہ کے ہیں"انا ﷲ وانا الیہ راجعون o
حوالہ / References
رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الشہادات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۸€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب القضاء فصل فی کتاب القاضی الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۶۔۱۶۵،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۸۱€
ردالمحتار بحوالہ البیری کتاب القضاء باب کتاب القاضی الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۶۲€
غمز عیون البصائر بحوالہ الفتاوی الظہیریہ مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۹€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب القضاء فصل فی کتاب القاضی الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۶۔۱۶۵،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الثالث والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۸۱€
ردالمحتار بحوالہ البیری کتاب القضاء باب کتاب القاضی الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۶۲€
غمز عیون البصائر بحوالہ الفتاوی الظہیریہ مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۹€
دوازدہم: یہ کمی کہ مدعا علیہ کانام تو عبدالغافر خاں ہے اور ان میں دولھا خاںاسے یوں پورا فرمایا کہ"اکثر شہادتوں سے ثابت کہ مدعا علیہ کا عرف دولھا خاں بھی ہے"شہادتوں کا ردی حال اوپر گزرااگر ان کے علاوہ اور شہادتیں مراد ہیں تو انہوں نے یہ شہادت دی کہ عبدالغافر خاں کو دولھا خاں بھی کہتے ہیں یا یہ کہ دولھا خاں جہاں لکھا اس سے یہی عبد الغافر خاں مراد ہیںاور اگر یہی شہادتیں مراد تو سخت عجب۔شہادتوں پر اعتما دبذریعہ شہادت تحریری یعنی رسیدات مذکورہ ہوااب ان رسیدات پر اعتماد ان شہادتوں سے ہوکھلا دور ہے۔
سیزدہم: منجملہ زر اصل ایك ہزار کا عبدالغافر خاں کو پہنچنا ولی خاں و غفران کی شہادتوں سے(جن کا حال اوپر گزرا)ثابت ماننا اور رسید ورقعہ یقینا تحریر عبدالغافر خاں جاننا مگر اس بنا پر کہ رقعہ بے رجسٹری ہے لہذا بموجب فلاں دفعہ قانون رجسٹری ریاست ثبوت میں لینے کے قابل نہیں اس کی ڈگری نہ دینا سخت عجب ہے بحکم دفعہ رقعہ ثبوت میں لیا جانا نہ سہی شہادتوں کا ثبوت کدھر گیا اگر شہادتیں قابل قبول نہ تھیں ان سے ثبوت ماننا کیا معنی اور مقبول تھیں تو ان پر عمل نہ کرنا یعنی چہیہ شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف ہےہاں یوں کہنا تھا کہ شہادتیں ان وجوہ سے(کہ ہم نے فتوی میں بیان کیں)باطل ہیں اور کوئی رقعہ بے شہادت نہیں لیا جاسکتا خصوصا اس میں نقص قانونی بھی ہے لہا ہزار کا پہنچنا اصلا ابت نہیں تو بات صحیح ہوتی۔
چاردہم: تنقیح ۵ خود فیصلہ نے بحق مدعیان ثابت نہ مانیتنقیح ۲ کو تین دلیلوں سے ثابت گمان کیا جن میں دو بے علاقہ محض ہیں اور ایك باطلاول بیع وفا حکم رہن میں ہے اور مرہون کا کرایہ اور دیگر محاصل حق راہن اور قابل مجرائی بزر رہن ہےحکم شرع یہ ہے کہ مرتہن بے اجازت راہن شخص ثالث کو کرایہ دے تو کرائے کا مالك مرتہن ہے ہر گز وہ ملك راہن نہیںہاں اس کے حق میں خبیث ہے تصدق کردے یا راہن کو دے دے اگر حق راہن ہوتا تصدق کا حکم کیونکر ہوسکتا۔فتاوی قاضیخان و فتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
ان اجر المرتہن من اجنبی وکانت الاجارۃ بغیر اذن الراھن یکون الاجر للمرتہن یتصدق بہ ۔(ملخصا) رہن لینے والے نے مکان کو رہن رکھنے والے کی اجازت کے بغیر کسی تیسرے شخص کو کرایہ پردے دیا تو اجرت و کرایہ مرتہن(رہن لینے والے)کا ہوگا اور اس کو صدقہ کردے گا (ملخصا)۔(ت)
سیزدہم: منجملہ زر اصل ایك ہزار کا عبدالغافر خاں کو پہنچنا ولی خاں و غفران کی شہادتوں سے(جن کا حال اوپر گزرا)ثابت ماننا اور رسید ورقعہ یقینا تحریر عبدالغافر خاں جاننا مگر اس بنا پر کہ رقعہ بے رجسٹری ہے لہذا بموجب فلاں دفعہ قانون رجسٹری ریاست ثبوت میں لینے کے قابل نہیں اس کی ڈگری نہ دینا سخت عجب ہے بحکم دفعہ رقعہ ثبوت میں لیا جانا نہ سہی شہادتوں کا ثبوت کدھر گیا اگر شہادتیں قابل قبول نہ تھیں ان سے ثبوت ماننا کیا معنی اور مقبول تھیں تو ان پر عمل نہ کرنا یعنی چہیہ شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف ہےہاں یوں کہنا تھا کہ شہادتیں ان وجوہ سے(کہ ہم نے فتوی میں بیان کیں)باطل ہیں اور کوئی رقعہ بے شہادت نہیں لیا جاسکتا خصوصا اس میں نقص قانونی بھی ہے لہا ہزار کا پہنچنا اصلا ابت نہیں تو بات صحیح ہوتی۔
چاردہم: تنقیح ۵ خود فیصلہ نے بحق مدعیان ثابت نہ مانیتنقیح ۲ کو تین دلیلوں سے ثابت گمان کیا جن میں دو بے علاقہ محض ہیں اور ایك باطلاول بیع وفا حکم رہن میں ہے اور مرہون کا کرایہ اور دیگر محاصل حق راہن اور قابل مجرائی بزر رہن ہےحکم شرع یہ ہے کہ مرتہن بے اجازت راہن شخص ثالث کو کرایہ دے تو کرائے کا مالك مرتہن ہے ہر گز وہ ملك راہن نہیںہاں اس کے حق میں خبیث ہے تصدق کردے یا راہن کو دے دے اگر حق راہن ہوتا تصدق کا حکم کیونکر ہوسکتا۔فتاوی قاضیخان و فتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
ان اجر المرتہن من اجنبی وکانت الاجارۃ بغیر اذن الراھن یکون الاجر للمرتہن یتصدق بہ ۔(ملخصا) رہن لینے والے نے مکان کو رہن رکھنے والے کی اجازت کے بغیر کسی تیسرے شخص کو کرایہ پردے دیا تو اجرت و کرایہ مرتہن(رہن لینے والے)کا ہوگا اور اس کو صدقہ کردے گا (ملخصا)۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ قاضیخاں کتاب الرہن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۴€
وجیز کردری وحموی علی الاشباہ میں ہے:
اجر المرتہن الرھن من اجنبی بلا اجازۃ الراہن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا عندالامام ومحمد کالغاصب یتصدق بالغلۃ و یردھا علی المالك قلت ای ویطیب لہ لانہ نماء مبلکہ اخص الطرفین لانہا تطیب للمرتہن عند الامام الثانی رضی اﷲتعالی عنہم فلا یتصدق بشیئ۔ کسی رہن چیز کو مرہن نے راہن کی اجازت کے بغیر اجنبی شخص کو کرایہ پر دے دیا تو کرایہ کی آمدن مرتہن کی ہوگی اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہماا ﷲ تعالی کے نزدیك وہ اسے صدقہ کردےگا۔جیسا کہ غاصب مغصوبہ چیز کی آمدن کو صدقہ کرتا ہے یا مالك کو واپس ادا کرتا ہے اھ میں کہتاہوں یہ آمدن مالك کے لئے طیب ہے کیونکہ اس کی ملکیت کی آمدن ہےمصنف نے طرفین رحمہا اﷲ تعالی کا خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك یہ آمدن مرتہن کے لئے طیب ہے لہذا صدقہ نہ کرے۔ (ت)
یہاں اگر ہے تو یہی صورت ہے اس میں زر کرایہ اصل میں مجرا کرنے کا حکم ایسا ہے کہ زید نے عمرو سے پانچ ہزار قرض لئے عمرو نے شخص ثالث بکر سے کچھ ناجائز رقمیں حاصل کیں اب زید کہے میرا قرض ادا ہوگیا کیونکہ تو ایك راہ چلنے سے ناجائز رقم لے چکاکیا اس میں زید کو مجنوں نہ کہا جائے گااگر یہ وجہ اول اس صورت کو شامل تو حکم یقینا باطلاور اگر یہ مراد کہ یہ اجارہ باذن راہن تھا لہذا وہ مالك اجرت ہوااور لی مرہن نےتو زراصل میں محسوب ہونی چاہئےتو یہ وجہ نہ رہی بلکہ وجہ دوم ہوگئوجہ دوم یہی ہے کہ اجارہ باذن راہن تھا لہذا"رہن باطل اور کرایہ لائق مجرائییہ انہیں شہادات باطلہ اشرف علی وغیرہ پر مبنی ہے جن کے وجوہ بطلان روشن ہوگئیں اور جن کو خود مجوز نے ناکافی جانا جیسا کہ ابھی رد ۱۳ میں گزرا۔سوم یہ کہ قبضہ مرتہن ثابت نہیںاس کی بحث ابھی آتی ہےقبضہ یقینا ثابت ہےاور بالفرض نہ سہی تو اس سے کرایہ اصل میں کیوں مجراہونے لگاغایت یہ کہ یہ غاصب ہو اور غاصب کہ مغصوب کو کرایہ پر دے مالك کرایہ خود غاصب ہوگا نہ کہ مغصوب منہ جیسا کہ ابھی گزراہاں اجارہ باذن راہن ثابت ہونا درکار تھا تو یہ بھی وجہ دوم ہے کہ باطل ہےبالجملہ اصلا کوئی تنقیح بحق مدعیان ثبوت کا نام بھی نہیں رکھتی۔
پانزدہم: تنقیح ۷ بلاشبہہ بحق مدعیا علیہ ثابت ہے جس کا بیان ابطال دعوی کی وجہ اول
اجر المرتہن الرھن من اجنبی بلا اجازۃ الراہن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا عندالامام ومحمد کالغاصب یتصدق بالغلۃ و یردھا علی المالك قلت ای ویطیب لہ لانہ نماء مبلکہ اخص الطرفین لانہا تطیب للمرتہن عند الامام الثانی رضی اﷲتعالی عنہم فلا یتصدق بشیئ۔ کسی رہن چیز کو مرہن نے راہن کی اجازت کے بغیر اجنبی شخص کو کرایہ پر دے دیا تو کرایہ کی آمدن مرتہن کی ہوگی اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہماا ﷲ تعالی کے نزدیك وہ اسے صدقہ کردےگا۔جیسا کہ غاصب مغصوبہ چیز کی آمدن کو صدقہ کرتا ہے یا مالك کو واپس ادا کرتا ہے اھ میں کہتاہوں یہ آمدن مالك کے لئے طیب ہے کیونکہ اس کی ملکیت کی آمدن ہےمصنف نے طرفین رحمہا اﷲ تعالی کا خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کے نزدیك یہ آمدن مرتہن کے لئے طیب ہے لہذا صدقہ نہ کرے۔ (ت)
یہاں اگر ہے تو یہی صورت ہے اس میں زر کرایہ اصل میں مجرا کرنے کا حکم ایسا ہے کہ زید نے عمرو سے پانچ ہزار قرض لئے عمرو نے شخص ثالث بکر سے کچھ ناجائز رقمیں حاصل کیں اب زید کہے میرا قرض ادا ہوگیا کیونکہ تو ایك راہ چلنے سے ناجائز رقم لے چکاکیا اس میں زید کو مجنوں نہ کہا جائے گااگر یہ وجہ اول اس صورت کو شامل تو حکم یقینا باطلاور اگر یہ مراد کہ یہ اجارہ باذن راہن تھا لہذا وہ مالك اجرت ہوااور لی مرہن نےتو زراصل میں محسوب ہونی چاہئےتو یہ وجہ نہ رہی بلکہ وجہ دوم ہوگئوجہ دوم یہی ہے کہ اجارہ باذن راہن تھا لہذا"رہن باطل اور کرایہ لائق مجرائییہ انہیں شہادات باطلہ اشرف علی وغیرہ پر مبنی ہے جن کے وجوہ بطلان روشن ہوگئیں اور جن کو خود مجوز نے ناکافی جانا جیسا کہ ابھی رد ۱۳ میں گزرا۔سوم یہ کہ قبضہ مرتہن ثابت نہیںاس کی بحث ابھی آتی ہےقبضہ یقینا ثابت ہےاور بالفرض نہ سہی تو اس سے کرایہ اصل میں کیوں مجراہونے لگاغایت یہ کہ یہ غاصب ہو اور غاصب کہ مغصوب کو کرایہ پر دے مالك کرایہ خود غاصب ہوگا نہ کہ مغصوب منہ جیسا کہ ابھی گزراہاں اجارہ باذن راہن ثابت ہونا درکار تھا تو یہ بھی وجہ دوم ہے کہ باطل ہےبالجملہ اصلا کوئی تنقیح بحق مدعیان ثبوت کا نام بھی نہیں رکھتی۔
پانزدہم: تنقیح ۷ بلاشبہہ بحق مدعیا علیہ ثابت ہے جس کا بیان ابطال دعوی کی وجہ اول
حوالہ / References
غمز عیون البصائر بحوالہ البزازیہ مع الاشباہ والنظائر،الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۔۱۱۲€
میں گزرا۔
شانزدہم: تنقیح ۸ قابل بحث نہیںنہ اس کا ثبوت شرع کچھ نافع مدعا علیہ تھانہ عدم ثبوتر کچھ مضرتنقیح ۱۰ وہ قطعا بحق مدعا علیہ ایسے قطعی ثبوت سے ثابت ہے کہ بکلائے ہل نہیں سکتا تجویز میں اس پر ایك طویل بحث ہے کہ قبضہ مرتہنہ اس کی شہادتوں سے ثابت نہیں مگر یہ بحث محض بیہودہ ودور از کار ہے شہادتوں سے قبضہ مرتہنہ کاثبوت نہ سہی بلکہ یہ فرض کرلیجئے کہ شہادتوں سے راہن کا مرتے دم تك ان مکانوں پر قابض رہنا ثابت ہو جب بھی قبضہ مرتہنہ یقینا ثابت ہے اور ورثۃ راہن کا اس سے انکار مسموع نہیں وہ قبضہ راہن عاریۃ باجازت مرتہنہ سمجھا جائیگا جوہرگز رہن میں مخل نہیںوجہ یہ کہ گنیشی صراحۃ بیعنامہ میں اقرارکرتا ہے کہ"بدست نوشان بیگم بیع کیا میں نےاور زر ثمن تمام وکمال بعد صحت عقد بیع ایجاب و قبول طرفین کے مجھ بائع نے مشتریہ مذکورہ سے وصول پاکر قبض و دخل مشتریہ کیا مبیعہ مذکورہ پرکرادیا اور قبضہ ملکیت اپنی سے خارج کرلیا او مشتریہ نے بادائے کل زرثمن مجھ بائع سے قبضہ مالکانہ اپنا مبیعہ مذکورہ پر کرلیا"بعد اس اقرار قطعی کے قبضہ مرتہنہ میں کلام کی گنجائش نہ رہینہ اسے کوئی شہادت دینے کی اصلا حاجتنہ شہادت سے ثابت نہ ہونا اس ے کچھ مضربلکہ قبضہ راہن ثابت ہو تو وہ بھی منجانب مرتہنہ ہے۔جواہر الفتاوی امام کرمانی و عقود الدریہ علامہ شامی میں ہے:
رھن دارہ واعترف بالقبض الاانہ لم یتصل بہ القبض فاذا تصادقا علی القبض والاقباض یؤخذ باقرارہ ۔ کسی نے اپنا مکان رہن رکھا اور مرتہن کے قبضہ کا اعتراف کیا لیکن عملا مرتہن کا قبضہ نہ ہوا تو دونوں نے جب قبضہ لینے اور دینے پر اتفاق کرلیا تو اب راہن کے اقرار کو لیا جائیگا۔(ت)
نیز ہر دو کتاب مذکور میں ہے:
رجل رھن دارہ والراھن متصرف فیہ حتی مات ثم اختلف المرتہن و ورثۃ الراھن انہ کان مقبوضا ام لا فان اقام المرتھن البینۃ علی اقرار الراھن بالرھن و ایك شخص نے اپنا مکان رہن رکھا اور خود راہن ہی اپنی موت تك اس میں تصرف کرتا رہا پھر مرتہن او راہن کے ورثاء میں مرتہن کے قبضہ میں ہونے نہ ہونے کا اختلاف ہوا اگر مرتہن نے راہن کے اس اقرار پر کہ اس نے رہن رکھا اور
شانزدہم: تنقیح ۸ قابل بحث نہیںنہ اس کا ثبوت شرع کچھ نافع مدعا علیہ تھانہ عدم ثبوتر کچھ مضرتنقیح ۱۰ وہ قطعا بحق مدعا علیہ ایسے قطعی ثبوت سے ثابت ہے کہ بکلائے ہل نہیں سکتا تجویز میں اس پر ایك طویل بحث ہے کہ قبضہ مرتہنہ اس کی شہادتوں سے ثابت نہیں مگر یہ بحث محض بیہودہ ودور از کار ہے شہادتوں سے قبضہ مرتہنہ کاثبوت نہ سہی بلکہ یہ فرض کرلیجئے کہ شہادتوں سے راہن کا مرتے دم تك ان مکانوں پر قابض رہنا ثابت ہو جب بھی قبضہ مرتہنہ یقینا ثابت ہے اور ورثۃ راہن کا اس سے انکار مسموع نہیں وہ قبضہ راہن عاریۃ باجازت مرتہنہ سمجھا جائیگا جوہرگز رہن میں مخل نہیںوجہ یہ کہ گنیشی صراحۃ بیعنامہ میں اقرارکرتا ہے کہ"بدست نوشان بیگم بیع کیا میں نےاور زر ثمن تمام وکمال بعد صحت عقد بیع ایجاب و قبول طرفین کے مجھ بائع نے مشتریہ مذکورہ سے وصول پاکر قبض و دخل مشتریہ کیا مبیعہ مذکورہ پرکرادیا اور قبضہ ملکیت اپنی سے خارج کرلیا او مشتریہ نے بادائے کل زرثمن مجھ بائع سے قبضہ مالکانہ اپنا مبیعہ مذکورہ پر کرلیا"بعد اس اقرار قطعی کے قبضہ مرتہنہ میں کلام کی گنجائش نہ رہینہ اسے کوئی شہادت دینے کی اصلا حاجتنہ شہادت سے ثابت نہ ہونا اس ے کچھ مضربلکہ قبضہ راہن ثابت ہو تو وہ بھی منجانب مرتہنہ ہے۔جواہر الفتاوی امام کرمانی و عقود الدریہ علامہ شامی میں ہے:
رھن دارہ واعترف بالقبض الاانہ لم یتصل بہ القبض فاذا تصادقا علی القبض والاقباض یؤخذ باقرارہ ۔ کسی نے اپنا مکان رہن رکھا اور مرتہن کے قبضہ کا اعتراف کیا لیکن عملا مرتہن کا قبضہ نہ ہوا تو دونوں نے جب قبضہ لینے اور دینے پر اتفاق کرلیا تو اب راہن کے اقرار کو لیا جائیگا۔(ت)
نیز ہر دو کتاب مذکور میں ہے:
رجل رھن دارہ والراھن متصرف فیہ حتی مات ثم اختلف المرتہن و ورثۃ الراھن انہ کان مقبوضا ام لا فان اقام المرتھن البینۃ علی اقرار الراھن بالرھن و ایك شخص نے اپنا مکان رہن رکھا اور خود راہن ہی اپنی موت تك اس میں تصرف کرتا رہا پھر مرتہن او راہن کے ورثاء میں مرتہن کے قبضہ میں ہونے نہ ہونے کا اختلاف ہوا اگر مرتہن نے راہن کے اس اقرار پر کہ اس نے رہن رکھا اور
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ جواہر الفتاوٰی کتاب الرہن ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۹€
التسلیم یحکم بصحۃ الرھن ودعوی فساد الرھن لاتقبل بظاہر ماکان فی ید الراھن لانہ لما حکم علیہ باقرارہ بالرھن حمل علی ان الید کانت ید العاریۃ ۔ مرتہن کو سونپ دیا ہےگواہ پیش کردئے تو رہن کے صحیح ہونے کا فیصلہ دیاجائے گااور ظاہرا راہن کے قبضہ کی بنا ء پر فساد رہن کا حکم نہ ہوگا اس کے ظاہری قبضہ کو عاریۃ قبضہ پر محمول کیاجائیگا(ت)
غرض تجویز میں ۱۲تنقیحیں ۶ جانب مدعا علیہما میں چار بیکار او ۲ یقینا بحق مدعا علیہما ثابت ہفتم بحق مدعا علیہ و دہم بحق مدعا علیہا۔
ہفدہم: تنقیح ۹ بے معنی ہے وہ قائم کرنے ہی کی نہ تھی جس کے ثبوت یا عدم سے کسی فریق کو کچھ نفع نہ ضررخصوصا مدعا علیہا پر اس کا بار ثبوت رکھنا تو سخت عجیب تر۔بیع مسماۃ کے نام ہوئی اس کے شوہر نے روپیہ اس کی طرف سے دیا۔گنیشی نے زر ثمن تمام و کمال مشتریہ سے وصول پانے کا اقرار لکھا اب اس بحث کا کیا محل رہا کہ روپیہ مسماۃ کی ملك تھا یا نہیں یہ دلیل ملك ہے جو خلاف کا مدعی ہو ثبوت اس کے ذمہ ہے نہ کہ مدعا علیہا پرورنہ تمام بیوع و اجارات سخت دقت میں پڑجائیں ہر مشتری اور ہر مستاجر پر یہ ثبوت پیش کرنا لازم ہوکہ روپیہ اس کی ملك تھا اور یہ لازم بھی کیوں ہوبالفرض روپیہ اس کی ملك نہ تھا دوسرے کے روپے سے باجازت یا بلا اجازت اس نے خریدی تو اس سے شراءاس کا کیوں نہ رہاقاعدہ شرعیہ ہے کہ:
الشراء اذا وجد نفاذاعلی المشتری نفذ کما فی الدر المختار وغیرہ۔ خریداری جب خرید کرنے والے کے حق میں پائی جائے تو اس پر خریداری کا حکم دیا جائے گاجیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لاتثبت الدار للاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذلایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع بیٹے کے اس کہنے پر کہ میں نے باپ کے مال سے خریدا ہے باپ کی ملکیت مکان پر ثابت نہ ہوگی کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے پر یہ لازم نہیں آتا
غرض تجویز میں ۱۲تنقیحیں ۶ جانب مدعا علیہما میں چار بیکار او ۲ یقینا بحق مدعا علیہما ثابت ہفتم بحق مدعا علیہ و دہم بحق مدعا علیہا۔
ہفدہم: تنقیح ۹ بے معنی ہے وہ قائم کرنے ہی کی نہ تھی جس کے ثبوت یا عدم سے کسی فریق کو کچھ نفع نہ ضررخصوصا مدعا علیہا پر اس کا بار ثبوت رکھنا تو سخت عجیب تر۔بیع مسماۃ کے نام ہوئی اس کے شوہر نے روپیہ اس کی طرف سے دیا۔گنیشی نے زر ثمن تمام و کمال مشتریہ سے وصول پانے کا اقرار لکھا اب اس بحث کا کیا محل رہا کہ روپیہ مسماۃ کی ملك تھا یا نہیں یہ دلیل ملك ہے جو خلاف کا مدعی ہو ثبوت اس کے ذمہ ہے نہ کہ مدعا علیہا پرورنہ تمام بیوع و اجارات سخت دقت میں پڑجائیں ہر مشتری اور ہر مستاجر پر یہ ثبوت پیش کرنا لازم ہوکہ روپیہ اس کی ملك تھا اور یہ لازم بھی کیوں ہوبالفرض روپیہ اس کی ملك نہ تھا دوسرے کے روپے سے باجازت یا بلا اجازت اس نے خریدی تو اس سے شراءاس کا کیوں نہ رہاقاعدہ شرعیہ ہے کہ:
الشراء اذا وجد نفاذاعلی المشتری نفذ کما فی الدر المختار وغیرہ۔ خریداری جب خرید کرنے والے کے حق میں پائی جائے تو اس پر خریداری کا حکم دیا جائے گاجیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لاتثبت الدار للاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذلایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع بیٹے کے اس کہنے پر کہ میں نے باپ کے مال سے خریدا ہے باپ کی ملکیت مکان پر ثابت نہ ہوگی کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے پر یہ لازم نہیں آتا
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ جواہر الفتاوٰی کتاب الرہن ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۹€
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفر قات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۰€
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفر قات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۰€
للاب لانہ یحتمل القرض والغصب ۔ کہ بیع باپ کے لئے ہوئی کیونکہ باپ کے مال کو بطور قرض یا غصب استعمال کرنیکا احتمال موجود ہے۔(ت)
ہیجدہم: تنقیح ۱۱و۱۲شرعا بیکار ہیں قانونی باتیں ہیں کہ ثابت ہوتیں تو مدعا علیہ کو قانونا مفید تھیںنہ ثابت ہوتیں تو اس کا کچھ ضرر نہیںاب نہ رہی مگر تنقیح ۸یہ قابل بحث نہیں نہ اسکا ثبوت شرعا کچھ نافع مدعا علیہ تھانہ عدم ثبوت کچھ مضر۔یہ پچاس وجوہ ہیںتین سے دعوے باطل ہے۲۹ سے شہادتیں ۱۸ سے تجویز۔اور انہیں کے ضمن میں مراتب سوال کا جواب مع زیادت کثیرہ آگیا اور حکم اخیریہ ہے کہ فیصلہ ججی سراسر بے اصل وواجب الرد ہے اور مدعا علیہما دعوائے باطلہ مدعیان سے یکسر بری۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۱۴۳: مسئولہ حافظ محمود حسن صاحب ۲۳/رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید نے عمرو عطار کو ایك نسخہ دکھلایا کہ اس کی قیمت کیا ہےاس نے کہا آٹھ آنےزید نے کہا بنادو آج تیار کر دوعطار نے کہا دو تین روز میں ہوگازید نے کہا تو مجھ کو بذریعہ پارسل بھیج دیناپارسل جو بیرنگ آیا اس میں قیمت(٭٭)لکھی ہے محصول ۱۲/ بالجملہ اختلاف قیمت کے مقدار میں ہےزید کہتا ہے ۸/قیمت کہی گئی جس پرمیں نے تیاری کےلئے حکم کیااور عمرو فرماتا ہے میں نے(٭٭)کہے تھےپس قول عندالشرع کس کا معتبر ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
جو گواہان شرعی سے اپنا دعوی ثابت کردے اسی کے حق میں حکم کیا جائےگااور اگر دونوں طرف شہادت کافیہ ہو تو عمرو بائع کے گواہ معتبر ہونگے کہ وہ مثبت زیادت ہے اور اگر کوئی گواہان شرعی نہ دے سکے تو زید مشتری سے پہلے حلف لیا جائے واﷲ میں نے عمرو سے(٭٭)کویہ دوانہ خریدی ۸/ کوخریدی تھیاگر مشتری قسم کھانے سے انکار کرے فیصلہ بحق بائع ہے اورقسم کھالے تو اب بائع سے حلف لیا جائے کہ واﷲ میں نے یہ دوا زیدکے ہاتھ ۸/ کو نہ بیچی(٭٭)کوبیچی تھی اگر بائع حلف سے انکار کرے فیصلہ بحق مشتری ہوا اور اگر وہ بھی قسم کھالے تو چیز واپس دی جائے او رباہم وہ دونوں مل کر بیع فسخ کرلیں یا حاکم درخواست پرفسخ کردے
فی الدرالمختار اختلف المتبا یعان فی درمختار میں ہے فروخت کرنے والے اورخریدار کے
ہیجدہم: تنقیح ۱۱و۱۲شرعا بیکار ہیں قانونی باتیں ہیں کہ ثابت ہوتیں تو مدعا علیہ کو قانونا مفید تھیںنہ ثابت ہوتیں تو اس کا کچھ ضرر نہیںاب نہ رہی مگر تنقیح ۸یہ قابل بحث نہیں نہ اسکا ثبوت شرعا کچھ نافع مدعا علیہ تھانہ عدم ثبوت کچھ مضر۔یہ پچاس وجوہ ہیںتین سے دعوے باطل ہے۲۹ سے شہادتیں ۱۸ سے تجویز۔اور انہیں کے ضمن میں مراتب سوال کا جواب مع زیادت کثیرہ آگیا اور حکم اخیریہ ہے کہ فیصلہ ججی سراسر بے اصل وواجب الرد ہے اور مدعا علیہما دعوائے باطلہ مدعیان سے یکسر بری۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۱۴۳: مسئولہ حافظ محمود حسن صاحب ۲۳/رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید نے عمرو عطار کو ایك نسخہ دکھلایا کہ اس کی قیمت کیا ہےاس نے کہا آٹھ آنےزید نے کہا بنادو آج تیار کر دوعطار نے کہا دو تین روز میں ہوگازید نے کہا تو مجھ کو بذریعہ پارسل بھیج دیناپارسل جو بیرنگ آیا اس میں قیمت(٭٭)لکھی ہے محصول ۱۲/ بالجملہ اختلاف قیمت کے مقدار میں ہےزید کہتا ہے ۸/قیمت کہی گئی جس پرمیں نے تیاری کےلئے حکم کیااور عمرو فرماتا ہے میں نے(٭٭)کہے تھےپس قول عندالشرع کس کا معتبر ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
جو گواہان شرعی سے اپنا دعوی ثابت کردے اسی کے حق میں حکم کیا جائےگااور اگر دونوں طرف شہادت کافیہ ہو تو عمرو بائع کے گواہ معتبر ہونگے کہ وہ مثبت زیادت ہے اور اگر کوئی گواہان شرعی نہ دے سکے تو زید مشتری سے پہلے حلف لیا جائے واﷲ میں نے عمرو سے(٭٭)کویہ دوانہ خریدی ۸/ کوخریدی تھیاگر مشتری قسم کھانے سے انکار کرے فیصلہ بحق بائع ہے اورقسم کھالے تو اب بائع سے حلف لیا جائے کہ واﷲ میں نے یہ دوا زیدکے ہاتھ ۸/ کو نہ بیچی(٭٭)کوبیچی تھی اگر بائع حلف سے انکار کرے فیصلہ بحق مشتری ہوا اور اگر وہ بھی قسم کھالے تو چیز واپس دی جائے او رباہم وہ دونوں مل کر بیع فسخ کرلیں یا حاکم درخواست پرفسخ کردے
فی الدرالمختار اختلف المتبا یعان فی درمختار میں ہے فروخت کرنے والے اورخریدار کے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
قدر ثمن حکم لمن برہن وان برھنا فلمثبت الزیادۃوان عجز اولم یرض واحد منھما بدعوی الاخر تحالفا وبدئ بیمین المشتری لوبیع عین بدین ویقتصر علی النفی فی الاصح و فسخ القاضی البیع بطلب احدھما او طلبھما ولاینفسخ بالتحالف ولا بفسخ احدھما بل بفسخھما بحرومن نکل منھما لزمہ دعوی الاخر بالقضاء اھ مختصرا وفی رد المحتار فی الزیادات یحلف البائع واﷲ ماباعہ بالف ولقد باعہ بالفین ویحلف المشتری باﷲ مااشتراہ بالفین ولقد اشتراہ بالف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمیان طے پانے والی رقم میں اختلاف ہوگیا تو دونوں میں سے جو بھی گواہ پیش کردے اس کے حق میں حکم ہوگااور اگر دونوں نے گواہ پیش کردئے تو رقم میں زیادتی والے کے حق میں فیصلہ ہوگا اور اگر دونوں گواہ نہ پیش کرسکیں اور کوئی بھی دوسرے کے حق میں دست بردار نہ ہو تو دونوں سے قسم لی جائے اور قسم میں پہل مشتری سے کی جائے جبکہ یہ بیع مال کی نقد کے بدلے ہواور قسم نفی پر کافی متصور ہوگی اصح قول کے مطابق اور ایك یا دونوں کے مطالبہ پر قاضی بیع کو فسخ کر دےاور اگر دونوں قسم دیں تو اس سے بیع خود بخود فسخ نہ ہوگیدونوں فریقوں میں سے ایك کے فسخ کرنے پر فسخ نہ ہوگی بلکہ دونوں کے اتفاق سے فسخ ہوگیبحر اور دونوں میں سے کوئی قسم سے انکار کرے تو دوسرے کا دعوی قضاء لازم ہوجائیگا اھ مختصرا۔اور ردالمحتار میں ہے کہ زیادات میں فرمایا کہ بائع یوں قسم کھائے خدا کی قسم میں نے اسکو ایك ہزار میں نہیں دو ہزار میں فروخت کیا ہےاور مشتری یوں قسم کھائے کہ خدا کی قسم میں نے دو ہزار میں نہیں خریدی میں نے تو ایك ہزار میں خریدی ہے۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۴۴: ازریاست رامپور گھیر شرف الدین خاں مرسلہ اسعمیل خاں ۱۶شعبان المعظم ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ عرضی دعوی اور اظہار محمد نبی خاں اور محمد حسن شاہدین ہمرشتہ آیا شہادت دونوں گواہوں کا مطابق دعوی و مثبت دعوی ہے یانہیںاور دونوں شہادتیں باہم مطابق ہیں یانہیں اور محمد نبی خاں کا ایك جگہ یہ کہنا کہ مدعی نے کہا کہ ان پنج قطعات کو جس قیمت کو پرتہ سے
مسئلہ۱۴۴: ازریاست رامپور گھیر شرف الدین خاں مرسلہ اسعمیل خاں ۱۶شعبان المعظم ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ عرضی دعوی اور اظہار محمد نبی خاں اور محمد حسن شاہدین ہمرشتہ آیا شہادت دونوں گواہوں کا مطابق دعوی و مثبت دعوی ہے یانہیںاور دونوں شہادتیں باہم مطابق ہیں یانہیں اور محمد نبی خاں کا ایك جگہ یہ کہنا کہ مدعی نے کہا کہ ان پنج قطعات کو جس قیمت کو پرتہ سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی باب التحالف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۲۱€
ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب التحالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۳۰€
ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب التحالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۳۰€
پڑے میں نے اپنے حق شفعہ میں لیا اور مدعی عرض دعوی میں لکھاتا ہے کہ پنج میں سے جو سہام مبیعہ ازروئے پر تہ کے پڑیں گے میں نے اسی قیمت کو بحق شفعہ لئے ہر دونوں بیان مخالف ہیں یا نہیں اور یہ خلاف بیانی محمد نبی خاں کی مبطل شہادت ہے یانہیںدوسرے محمد نبی خاں نے طلب شفعہ کرنا عندالمبیع اور موجودگی مشتری بیان کی ہے اور مدعی طلب عندالمشتری تحریر کرتا ہے آیا دونوں میں مخالفت ہے یانہیںاور محمد حسن کی شہادت خلاف اس سبب سے ہوسکتی ہے یانہیں کہ بلحاظ اندراج عرضی دعوی مدعی کا طلب شفعہ کرنا نسبت سہام مبیعہ پنج قطعات مندرجہ میں سے دریافت ہوتا ہے اور شہادت محمد حسن سے بلحاظ خبر دینے علی گوہر خاں کے طلب شفعہ کرنا نسبت ایك غیر معین کے پنج قطعات مکانات سے معلوم ہوتا ہے اور نیز شہادت مذکور محمد حسن مجہول شہادت ہے اس کے بیان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ حصہ کون سے قطعہ سے ہے یا ہر ایك قطعہ سےاور نیز یہ اعتراض کہ شاہدین کا بیان باہم مختلف ہے محمد نبی خاں طلب شفعہ کرنا نسبت مجموعہ پنج قطعات مکانات کے اور محمد حسن خاں طلب شفعہ نسبت ایك حصہ کے بیان کرتا ہے شرعا عائد ہوسکتا ہے یانہیں فقط۔
اور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنا ایك سہم منجملہ دس سہام چھ قطعات مکانات سے جو اس کو وراثۃ پہنچا تھا بدست بکر بیع کیا عمرو نے نسبت پانچ مکانات کے کہ عمر وکا شفعہ انہیں پانچ قطعات میں تھا طلب مواثبت و اشہاد کرکے دعوی دائر عدالت کیااب سوال یہ ہے کہ بوجہ تفریق صفقہ یہ دعوی جائز ہوگا یا ناجائزبینوا توجروا۔
اور کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مکان مذکورہ میں دسواں حصہ زید کا تھا وہ اس نے بدست بکر بیع کیادریافت طلب امریہ ہے کہ بعض شاہد نے دسواں حصہ بیع کرنا بیان کیا اور بعض نے یہ کہا زید نے اپنے حصص چھ قطعہ مکانات سے گویا ہر ایك قطعوں میں دس دس سہام قرار دے کر ایك ایك سہم کا بیع کرنا اور طلب شفعہ کرنا بیان کیا یہ اختلاف موجب سقم شہادت ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
کاغذات نظر سے گزرےابحاث فقہی پر یہاں سے کچھ کہنا ہے مگر نہ تفصیل کی فرصت نہ تطویل کی ضرورتلہذا چند اجمالی جملوں اشعاری اشاروں پرقناعت عرضی دعوی میں محمد اسمعیل خان بنام محمد اکبر خاں دعوی دہانیدایك ایك سہام منجملہ دس دس سہام از پنج منزل مکانات مندرجہ بیع نامہ بحق شفعہ محدودات ذیل واقع رامپور گھیر شرف الدین خاں حسب مرسوم عام محاکم زمانہ دعوی تامہ واضحہ ہے جس میں نہ کوئی ابہام منافی صحتنہ بیان شاہدین کو اس سے مخالفتآگے بیان تفصیل میں یہ لفظ حکایات طلب میں
اور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنا ایك سہم منجملہ دس سہام چھ قطعات مکانات سے جو اس کو وراثۃ پہنچا تھا بدست بکر بیع کیا عمرو نے نسبت پانچ مکانات کے کہ عمر وکا شفعہ انہیں پانچ قطعات میں تھا طلب مواثبت و اشہاد کرکے دعوی دائر عدالت کیااب سوال یہ ہے کہ بوجہ تفریق صفقہ یہ دعوی جائز ہوگا یا ناجائزبینوا توجروا۔
اور کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مکان مذکورہ میں دسواں حصہ زید کا تھا وہ اس نے بدست بکر بیع کیادریافت طلب امریہ ہے کہ بعض شاہد نے دسواں حصہ بیع کرنا بیان کیا اور بعض نے یہ کہا زید نے اپنے حصص چھ قطعہ مکانات سے گویا ہر ایك قطعوں میں دس دس سہام قرار دے کر ایك ایك سہم کا بیع کرنا اور طلب شفعہ کرنا بیان کیا یہ اختلاف موجب سقم شہادت ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
کاغذات نظر سے گزرےابحاث فقہی پر یہاں سے کچھ کہنا ہے مگر نہ تفصیل کی فرصت نہ تطویل کی ضرورتلہذا چند اجمالی جملوں اشعاری اشاروں پرقناعت عرضی دعوی میں محمد اسمعیل خان بنام محمد اکبر خاں دعوی دہانیدایك ایك سہام منجملہ دس دس سہام از پنج منزل مکانات مندرجہ بیع نامہ بحق شفعہ محدودات ذیل واقع رامپور گھیر شرف الدین خاں حسب مرسوم عام محاکم زمانہ دعوی تامہ واضحہ ہے جس میں نہ کوئی ابہام منافی صحتنہ بیان شاہدین کو اس سے مخالفتآگے بیان تفصیل میں یہ لفظ حکایات طلب میں
واقع ہوئے کہ پنج قطعہ مکانات میں سے جو سہام مبیعہ ازروئے پر تے کے پڑیں گے میں نے اسی قیمت کو بحق شفعہ خود لئے اسے وجہ مخالفت دعوی و شہادت ٹھہرایا ہے حالانکہ یہ دعوی نہیں حکایت الفاظ طلب ہے اور اس میں بھی جو ابہام واقع ہوا ایك ہی سطر بعداسے واضح کردیا ہے کہ فدوی سہام مبیعہ پر پنج قطعات میں سے مدعا علیہ سے بدون قیمت اصلی ازروئے پر تہ کے بحق شفعہ کے طلب کرتا ہے کھل گیا کہ پرتہ ناظر بقیمت ہے نہ کہ ناظر بہ سہاممع ہذا یہاں ابہام سہام تعیین دعوی و طلب کے منافی ہی نہیں تعین دو قسم:تعین ذات کہ شیئ فی نفسہ محدود و مفرز و متمیز ہواور تعین قدر کہ اگرچہ مشاع و مخلوط ہےمگر اس کی مقدار معلوم و معہود ہے۔ہر عاقل جانتا ہے کہ شے مشاع میں تعین دوم ہوسکتا ہے تعین اول بے دفع شیوع ناممکن ہے اور بیع صرف تعین ثانی چاہتی ہےنہ تعین اول کہ بیع مشاع جائز بالاجماعاور شفعہ مبیع پر اسی حیثیت موجودہ سے وارد ہوگا مفرز ہے تو مفرز اور مشاع ہے تو مشاع شیوع جب کہ مانع بیع نہیںمانع طلب و دعوی شفعہ بھی نہیں وکل ذلك واضح جلی عندکل طالب فضلا عن عالم(یہ طالب علم پر واضح اور روشن ہے چہ جائیکہ جو فاضل ہو۔ت)مدعی نے از روئے پر تہ تو باعتبار ثمن کہا اور جو سہام کا ابہام بنظر ابہام ذات رکھا کہ مشاع ضرور مبہم الذات ہوتا ہے نہ کہ بنظر ابہام قدر بلکہ خود اس کا تعین لفظ مبیعہ سے بتادیا کہ بیع نہ ہوئی مگر معلوم القدر کیپھر دعوی شہادت میں تخالف کدھر سے آیاغایت یہ کہ شہود نے ابہام ذات کا جدا ذکر نہ کیانہ اس کی حاجت تھی کہ وہ شیوع سے مستفاد۔اظہار محمد نبی خاں میں کہیں نہیں کہ مدعی نے مکانات مبیعہ کے پاس جاکر شفعہ طلب کیا بلکہ لکھا ہے کہ فورا مدعی نے کہا کہ ان پنج قطعات کو(اشارہ مدعی نے کیا تھا)میں نے شفعہ لیا اس وقت عبدالرحمن خاں بھی موجودتھا اس کی موجودگی میں یہ سب گفتگو ہوئی تو صاف طلب عندالمشتری بتاتا ہے نہ کہ عند المبیع۔کیا فقط اشارہ اگرچہ دور سے ہو عندیت ہے اس نے تو آگے چل کر اور صاف ترکہاہے کہ اسمعیل خاں نے زیر درخت نیب سڑك پرکھڑے ہوکر طلب شفعہ کیا مکانات متنازعہ متفرق ہیں جہاں طلب شفعہ کیا تھا اس جگہ سے سب مکانات دکھتے تھے مدعی نے کل مکان کی جانب اشارہ کیا تھا اور بالفرض اس بیان سے طلب عندالمبیع بھی ثابت ہوتو کیا طلب عندالمشتری کی اس میں صریح تصریح نہیں پھر بیان مدعی و شاہد میں کیا تخالف ہوا۔کیا مدعی کے کلام میں کوئی حرف طلب عند المبیع سے انکار ہے یا طلب عندالمشتری بے طلب عند المبیع یا دونوں اجتماع مسقط شفعہ ہے یا ذکر اول بے ذکر ثانی مخل دعوی ہے یا عندالمبیع طلب میں حق زیادہ ملتا عندالمشتری طلب میں کم ہوجاتا ہے پھر اسے شہادۃ علی الزیادۃ سے کیا علاقہیا عدم ذکر و ذکر عدم میں
فرق نہ کرنے کا منشا کیا ہے۔شہادت محمد حسن پر جملہ اعتراضات اس کا تمام کلام نہ دیکھنے سے ناشی اس کی صدر عبارت یہ ہے:علی گوہر خاں نے کہا اکبر خاں نے دس حصوں سے ایك حصہ چھ قطعہ مکانات میں سے دولھا خاں کے ہاتھ بیچا ہے اس پر فورا اسمعیل خاں نے کہا ان پنچ قطعات مکانات میں سے(مکانات کی جانب اشارہ کیا)جس قیمت کو وہ پڑتے میں آئے میں نے شفعہ میں لیا ایك حصہ کہنے سے ضروریہ معنی بھی محتمل کہ مجموع مکانات سے صرف ایك حصہ بیع ہوا اب نہیں معلوم کہ وہ حصہ کس مکان کا ہے تو اس خبر پر جو طلب ہوئی طلب مجہول ہوئی اور اب یہ یہاں بیان مدعی و بیان شاہد دیگر سب کے خلاف ہو امگر اتفاقا اس عبارت سے یہ بھی محتمل کہ ہر مکان کے دس حصو ں سے ایك ایك حصہ بیع ہو اور وہی مدعی نے طلب کیا ایك ایك میں سے ایك ایك کا حذف کردینا مستبعد نہیں۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" لا نفرق بین احد من رسلہ " ای بین احدواحد۔ ہم رسولوں میں سے کسی ایك کا فرق نہیں کرتے یعنی اﷲ تعالی کے رسولوں میں ہر ایك ایك میں فرق نہیں کرتے۔(ت)
عبارت مظہر صرف اسی قدر ہوتی جب بھی اسے مخالف بیان مدعی و بیان گواہ آخر کہنا ٹھیك نہ تھا غایت یہ کہ بوجہ احتمال ناکافی ہوتی مگر محمد حسن خاں نے صرف اسی قدر بیان نہ کیا بلکہ آگے چل کر مطلب صراحۃ کھول دیا جس سے وہ احتمال اٹھ گیا اور کلام بلاشبہ بیان مدعی و شاہد آخر کے مطابق ہوگیا وہ کہتا ہے سواایك ایك سہام مبیعہ کے باقی جملہ مکانات میں سے نو نو سہام اسمعیل خان وغلام جعفر خان کے ہیں یہ دعوی اسمعیل خاں نے پنج قطعات میں سے ایك ایك سہام مبیعہ کا کیا ہےان تصریحات کے بعد اعتراضات ابہام و جہالت و مخالفت مدعی و مخالفت شاہد سب خلاف انصاف ہیں۔شفعہ میں تفریق صفقہ مضر نہیں جبکہ مدعی کا حق صرف بعض مبیع میں ہو۔ردالمحتار میں ہے:
لون کان شفیعا لاحدھما یاخذ التی ھو شفیعھما اتفاقا لان الصفۃ وان اتحدت فقد اشتملت علی ما فیہ الشفعۃ وعلی مالیست فیہ اگر دو رقبوں میں سے ایك میں شفعہ رکھتا ہو تو بالاتفاق اس رقبہ کو ہی لے سکے گا جس میں اس کو شفعہ کا حق ہےسودا اگرچہ ایك ہے مگر اس کا ایك حصہ شفعہ والا ہے اور دوسرا حصہ
" لا نفرق بین احد من رسلہ " ای بین احدواحد۔ ہم رسولوں میں سے کسی ایك کا فرق نہیں کرتے یعنی اﷲ تعالی کے رسولوں میں ہر ایك ایك میں فرق نہیں کرتے۔(ت)
عبارت مظہر صرف اسی قدر ہوتی جب بھی اسے مخالف بیان مدعی و بیان گواہ آخر کہنا ٹھیك نہ تھا غایت یہ کہ بوجہ احتمال ناکافی ہوتی مگر محمد حسن خاں نے صرف اسی قدر بیان نہ کیا بلکہ آگے چل کر مطلب صراحۃ کھول دیا جس سے وہ احتمال اٹھ گیا اور کلام بلاشبہ بیان مدعی و شاہد آخر کے مطابق ہوگیا وہ کہتا ہے سواایك ایك سہام مبیعہ کے باقی جملہ مکانات میں سے نو نو سہام اسمعیل خان وغلام جعفر خان کے ہیں یہ دعوی اسمعیل خاں نے پنج قطعات میں سے ایك ایك سہام مبیعہ کا کیا ہےان تصریحات کے بعد اعتراضات ابہام و جہالت و مخالفت مدعی و مخالفت شاہد سب خلاف انصاف ہیں۔شفعہ میں تفریق صفقہ مضر نہیں جبکہ مدعی کا حق صرف بعض مبیع میں ہو۔ردالمحتار میں ہے:
لون کان شفیعا لاحدھما یاخذ التی ھو شفیعھما اتفاقا لان الصفۃ وان اتحدت فقد اشتملت علی ما فیہ الشفعۃ وعلی مالیست فیہ اگر دو رقبوں میں سے ایك میں شفعہ رکھتا ہو تو بالاتفاق اس رقبہ کو ہی لے سکے گا جس میں اس کو شفعہ کا حق ہےسودا اگرچہ ایك ہے مگر اس کا ایك حصہ شفعہ والا ہے اور دوسرا حصہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۵€
فحکم بھا فیما تثبت فیہ اداء لحق العبد کذا فی درر البحار وشرح المجمع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ شفعہ والا نہیں ہے تو جس حصہ میں شفعہ ہے اس میں شفعہ کا حکم کیا جائے گا تاکہ بندے کا حق اداہوسکے۔دررالبحار اور شرح المجمع میں یونہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۵:از ریاست رامپور جولوں والی املی مسئولہ سید محمد شاہ صاحب سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر ان اسپ در بریلی غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
علمائے کرام سے سوال ہے کہ جو اقرار نسبت بیع کسی شے کے محکمہ رجسٹری میں رو برو ایسے رجسٹرار کے جو فقیہ متقی اورقاضی شہر بھی ہو بمعہ گواہان حسب قا عدہ کرکے تصدیق کرادےاس کے خلاف بعد اس کے انتقال کے اس کے ورثہ شرعا یہ کہنے کےمجاز ہیں کہ وہ اقرار غیر صحیح اور فرضی تھا یا نہیںاور ان کا یہ قول شرعا معتبر ہوگا یاکیابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ان کا قول معتبر نہیں بلکہ مشتری کہ بیع فرضی ہونے کا منکر ہے اس کا قول معتبر ہےوارثان بائع کو گواہان شرعی عادل ثقہ سے ثبوت دیناہوگا کہ بیع فرضی تھی اگر ثبوت دے دیں فبہا ورنہ مشتری سے حلف چاہیں تو اس سے قسم لی جائے اگر وہ قسم کھالے کہ بیع فرضی نہ تھی تو ورثاء کا دعوی فرضیت رد کردیا جائیگا اور بیع ثابت رہے گیاور اگر مشتری قسم کھانے سے انکار کردے تو بیع فرضی ثابت ہوگی اور مشتری کو مبیع پر دعوی نہ رہے گا۔جامع الفصولین و طحطاوی و ردالمحتار میں ہے:
اقرومات فقال ورثتہ انہ اقر تلجئۃ حلف المقرلہ باﷲ لقد اقرلك اقرارا صحیحا ۔ اقر ار کرکے فوت ہوگیا تو اس کے وارثوں نے کہا کہ میت کا یہ اقرار فرضی تھا اس صورت میں مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار ہے سے قاضی حلف لے کہ کیا تیرے حق میں اسکا اقرار صحیح تھا۔(ت)
پھر ورثاء بائع اگر صرف اس مضمون کی گواہی دیں کہ قبل بیع بائع و مشتری میں قرار داد ہولیا تھا کہ ہم فرضی
مسئلہ۱۴۵:از ریاست رامپور جولوں والی املی مسئولہ سید محمد شاہ صاحب سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر ان اسپ در بریلی غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
علمائے کرام سے سوال ہے کہ جو اقرار نسبت بیع کسی شے کے محکمہ رجسٹری میں رو برو ایسے رجسٹرار کے جو فقیہ متقی اورقاضی شہر بھی ہو بمعہ گواہان حسب قا عدہ کرکے تصدیق کرادےاس کے خلاف بعد اس کے انتقال کے اس کے ورثہ شرعا یہ کہنے کےمجاز ہیں کہ وہ اقرار غیر صحیح اور فرضی تھا یا نہیںاور ان کا یہ قول شرعا معتبر ہوگا یاکیابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ان کا قول معتبر نہیں بلکہ مشتری کہ بیع فرضی ہونے کا منکر ہے اس کا قول معتبر ہےوارثان بائع کو گواہان شرعی عادل ثقہ سے ثبوت دیناہوگا کہ بیع فرضی تھی اگر ثبوت دے دیں فبہا ورنہ مشتری سے حلف چاہیں تو اس سے قسم لی جائے اگر وہ قسم کھالے کہ بیع فرضی نہ تھی تو ورثاء کا دعوی فرضیت رد کردیا جائیگا اور بیع ثابت رہے گیاور اگر مشتری قسم کھانے سے انکار کردے تو بیع فرضی ثابت ہوگی اور مشتری کو مبیع پر دعوی نہ رہے گا۔جامع الفصولین و طحطاوی و ردالمحتار میں ہے:
اقرومات فقال ورثتہ انہ اقر تلجئۃ حلف المقرلہ باﷲ لقد اقرلك اقرارا صحیحا ۔ اقر ار کرکے فوت ہوگیا تو اس کے وارثوں نے کہا کہ میت کا یہ اقرار فرضی تھا اس صورت میں مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار ہے سے قاضی حلف لے کہ کیا تیرے حق میں اسکا اقرار صحیح تھا۔(ت)
پھر ورثاء بائع اگر صرف اس مضمون کی گواہی دیں کہ قبل بیع بائع و مشتری میں قرار داد ہولیا تھا کہ ہم فرضی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۷€
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۵۸€
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۵۸€
بیع کرینگے تو یہ شہادت کافی نہیں کہ ممکن کہ اس قرار داد کے بعد پھر بیع قطعی پر راضی ہولئے ہوںتو جب تك بعد بیع فریقین متفق نہ ہوں کہ بیع اسی قرار داد فرضی پر ہوئی صرف ایك فریق کے کہنے سے فرضی نہ مانی جائے گی۔یونہی اگر یہ گواہی دیں کہ بعد بیع بائع نے کہا تھا کہ میں نے بیع فرضی کی تویہ بھی کافی نہیں کہ خود بائع اگر موجود ہوتا اور یہ ادعا کرتا مسموع نہ ہوتا جب کہ مشتری اسے تسلیم نہ کرتا خصوصا جب کہ پیش ازبیع قرار داد فرضی کا ثبوت نہیںہاں اگر بعد بیع مشتری کے اقرار فرضیت کو گواہان ثقہ عادل سے ثابت کریں تو مشتری پر حجت ہوگا۔درمختار میں ہے:
لو ادعی احدھما بیع التلجئۃ وانکر الاخر فالقول لمدعی الجد بیمینہ ولو برھن احدھما قبل ولو برھن فالتلجئۃ اگر ایك نے فرضی بیع کا دعوی کیا اوردوسرے نے فرض ہونے کا انکار کیا تو صحیح بیع کہنے والے کی بات اس سے قسم لے کر تسلیم کی جائے گیاور اگر دونوں میں سے ایك نے گواہی پیش کی تو قبول ہوگی اور اگر دونوں نے گواہی پیش کی تو پھر فرض کہنے والے کی گواہی معتبر ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لو برھن احدھما الاظہر قول الخانیۃ لو برھن مدعی التلجئۃ قبل لان مدعی الجد لایحتاج الی برھان لان البرھان یثبت خلاف الظاہر ۔ اس کا قول کہ"اگر ایك گواہی پیش کرے تو قبول ہوگی"کا مطلب بقول خانیہ اظہریہ ہے کہ وہ گواہی والا فرضی بیع کا مدعی ہو تو قبول ہوگی کیونکہ صحیح بیع کے مدعی کو دلیل کی ضرورت نہیں اس لئے کہ دلیل سے خلاف ظاہر کو ثابت کیا جاتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
فی المنار فان تواضعاعلی الہزل باصل البیع واتفقا علی بناء العقد علی المواضعۃ یفسد منار میں ہے کہ دونوں فریق اصل بیع کے فرضی ہونے پر متفق ہوئے اور دونوں سودے کے وقت بھی اسی فرض ہونے پر متفق رہے تو بیع
لو ادعی احدھما بیع التلجئۃ وانکر الاخر فالقول لمدعی الجد بیمینہ ولو برھن احدھما قبل ولو برھن فالتلجئۃ اگر ایك نے فرضی بیع کا دعوی کیا اوردوسرے نے فرض ہونے کا انکار کیا تو صحیح بیع کہنے والے کی بات اس سے قسم لے کر تسلیم کی جائے گیاور اگر دونوں میں سے ایك نے گواہی پیش کی تو قبول ہوگی اور اگر دونوں نے گواہی پیش کی تو پھر فرض کہنے والے کی گواہی معتبر ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لو برھن احدھما الاظہر قول الخانیۃ لو برھن مدعی التلجئۃ قبل لان مدعی الجد لایحتاج الی برھان لان البرھان یثبت خلاف الظاہر ۔ اس کا قول کہ"اگر ایك گواہی پیش کرے تو قبول ہوگی"کا مطلب بقول خانیہ اظہریہ ہے کہ وہ گواہی والا فرضی بیع کا مدعی ہو تو قبول ہوگی کیونکہ صحیح بیع کے مدعی کو دلیل کی ضرورت نہیں اس لئے کہ دلیل سے خلاف ظاہر کو ثابت کیا جاتا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
فی المنار فان تواضعاعلی الہزل باصل البیع واتفقا علی بناء العقد علی المواضعۃ یفسد منار میں ہے کہ دونوں فریق اصل بیع کے فرضی ہونے پر متفق ہوئے اور دونوں سودے کے وقت بھی اسی فرض ہونے پر متفق رہے تو بیع
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب الصرف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۷€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۵€
البیع فلا یملك بالقبض وان اتفقا علی الاعراض بان قالا بعد البیع اعرضنا وقت البیع عن الھزل الی الجد فالبیع صحیح والھزل باطل وان اختلف فی البناء علی المواضعۃ والاعراض عنہا فالعقد صحیح عندہ خلافا لھما فجعل صحۃ الایجاب اولی لانھا الاصل وھما اعتبر المواضعۃ الاان یوجد ماینا قضھا کما اذااتفقاعلی البناء انتہی مختصرااقول:ولا یذھب عنك ان قولھما فی ماعلم تقدم تواضھعما علی الھزل فالمواضعۃ الثابتۃ باتفاقھما لاتزول بادعاء احدھما الاعراض عندھما وھو الذی رجحہ المحقق فی التحریر بخلاف مااذا عقدا عقدا ثم ادعی احدھما المواضعۃ فلا تقبل اتفاقا مالم یبرھن لانہ یسعی فی نقض ماتم من جھتہ اھ من حاشیتنا علی ردالمحتار۔ فاسد ہوگی اور قبضہ کے باوجود مالك نہ ہوں گے اور اگر انہوں نے اپنے طے شدہ سے اعراض کرتے ہوئے سودے کے صحیح بیع کا ارادہ کرلیا اور دونوں نے بیع کے بعد کہا کہ ہم نے سودے کے وقت طے شدہ فرضی کے بجائے قطعی بیع کرلی تھی تو بیع صحیح ہوگی اور فرض و مذاق باطل قرار پائیگااور اگر اس معاملہ میں اختلاف ہوجائے کہ طے شدہ کی بجائے صحیح او ر قطعی بیع کا ارادہ کیا تھا یا نہیں تو امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك بیع صحیح قرار دی جائے گیصاحبین کا اس میں خلاف ہےامام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ نے بیع کی صحت کو ترجیح دی کیونکہ بیع میں اصل صحت ہےاو رصاحبین رحمہما اﷲ تعالی نے دونوں کے طے کردہ کو اس وقت تك معتبر قرار دیا جب تك اس کا منا قض نہ پایا جائے جس طرح کہ طے کردہ پر بنا کر نا پایا گیا ہے اھ مختصرامیں کہتا ہوں یہ بات پیش نظر رہے کہ صاحبین رحمہم اﷲ تعالی کے نزدیك دونوں کا باتفاق طے کردہ فرضی منصوبہ ایك فریق کے اعراض سے ختم نہ ہوگا کیونکہ وہ دونوں کا طے کردہ ہےاسی کو محقق صاحب نے تحریر میں ترجیح دی ہے اس کے برخلا ف وہ صورت کہ دونوں نے مطلق سودا کرلیاپھر ایك یہ کہے کہ ہم نے فرضی طے کیا تھا تو اسکی بات بالاتفاق قبول نہ کی جائیگی کیونکہ وہ اپنی تام کی ہوئی بیع کو ختم کرنا چاہتا ہے الایہ کہ وہ اس پر گواہ پیش کرکے اس کوثابت کردے۔ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ کی عبارت ختم ہوئی۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۵€
جدالممتار علٰی ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف
جدالممتار علٰی ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف
درمختار میں ہے:
اقر بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذا المال رباعلیہ فان اقام علی ذلك بینۃ تقبلوان کان متناقضالانانعلم انہ مضطر الی ھذا الاقرار شرح وھبانیۃ و حرر شارحھا الشرنبلالی انہ لایفتی بھذا الفرع لانہ لا عذر لمن اقرغایتہ ان یقال بانہ یحلف المقر لہ علی قول ابی یوسف المختار للفتوی فی ھذہ ونحوھا اھ قلت وبہ جزم المصنف۔ ایك شخص نے رسیدمیں درج مال کا اقرار کیا اور اس پرگواہی پائی گئی پھر اقرار کرنیوالے نے دعوی کردیا کہ اس میں سے کچھ مال مجھ پر سود ہے اگر اس نے اس دعوی پر گواہ پیش کردئے تو یہ شہادت قبول کی جائیگی اگرچہ یہ دعوی اس کے اقرار سے مناقض ہے کیونکہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ اس کواس اقرار کے بغیر چارہ نہیں تھا شرح وہبانیہ میں جس کو اس کے شارح شرنبلالی نے تحریر کیا ہے کہ اس پر فتوی نہ دیا جائے کیونکہ اقرا رکرنے والے کوکوئی عذر نہیںزیادہ سے زیادہ یہ کہ جس کے حق میں اس نے اقرار کیا ہے اس سے قسم لی جائے امام ابویوسف کے قول پر جوکہ اس جیسے مسئلہ میں فتوی کے لئے مختار ہے۔میں کہتا ہوں اسی پر مصنف نے جزم فرمایا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں نورالعین سے ہے:
فی دعوی التلجئۃ یدعی الوارث علی المقرلہ فعلالہ وھو تواضعہ مع المقر فی السر فلذایحلف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ فرضی بیع کے دعوی میں مقرلہ کے خلاف وارثوں کا دعوی ہوجاتا ہے کہ اس نے اقرار کرنیوالے سے خفیہ سمجھو تہ کیا ہے اس لئے اس سے قسم لی جائیگی۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۶ تا ۱۴۹: ازریاست رامپور مرسلہ سید صاحب موصوف غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
استفتاء بخدمت فضائل منزلت اعلیحضرت مولانا المولوی حافظ حاجی احمد رضاخاں صاحب عم فیضہم !
ہندہ نے بنام سعید النساء وغیرہ پانچ کس ورثاء زیددخلیابی مکان کویوں دعوی کیا کہ ہندہ نے
اقر بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذا المال رباعلیہ فان اقام علی ذلك بینۃ تقبلوان کان متناقضالانانعلم انہ مضطر الی ھذا الاقرار شرح وھبانیۃ و حرر شارحھا الشرنبلالی انہ لایفتی بھذا الفرع لانہ لا عذر لمن اقرغایتہ ان یقال بانہ یحلف المقر لہ علی قول ابی یوسف المختار للفتوی فی ھذہ ونحوھا اھ قلت وبہ جزم المصنف۔ ایك شخص نے رسیدمیں درج مال کا اقرار کیا اور اس پرگواہی پائی گئی پھر اقرار کرنیوالے نے دعوی کردیا کہ اس میں سے کچھ مال مجھ پر سود ہے اگر اس نے اس دعوی پر گواہ پیش کردئے تو یہ شہادت قبول کی جائیگی اگرچہ یہ دعوی اس کے اقرار سے مناقض ہے کیونکہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ اس کواس اقرار کے بغیر چارہ نہیں تھا شرح وہبانیہ میں جس کو اس کے شارح شرنبلالی نے تحریر کیا ہے کہ اس پر فتوی نہ دیا جائے کیونکہ اقرا رکرنے والے کوکوئی عذر نہیںزیادہ سے زیادہ یہ کہ جس کے حق میں اس نے اقرار کیا ہے اس سے قسم لی جائے امام ابویوسف کے قول پر جوکہ اس جیسے مسئلہ میں فتوی کے لئے مختار ہے۔میں کہتا ہوں اسی پر مصنف نے جزم فرمایا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں نورالعین سے ہے:
فی دعوی التلجئۃ یدعی الوارث علی المقرلہ فعلالہ وھو تواضعہ مع المقر فی السر فلذایحلف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ فرضی بیع کے دعوی میں مقرلہ کے خلاف وارثوں کا دعوی ہوجاتا ہے کہ اس نے اقرار کرنیوالے سے خفیہ سمجھو تہ کیا ہے اس لئے اس سے قسم لی جائیگی۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۶ تا ۱۴۹: ازریاست رامپور مرسلہ سید صاحب موصوف غرہ شعبان ۱۳۳۰ھ
استفتاء بخدمت فضائل منزلت اعلیحضرت مولانا المولوی حافظ حاجی احمد رضاخاں صاحب عم فیضہم !
ہندہ نے بنام سعید النساء وغیرہ پانچ کس ورثاء زیددخلیابی مکان کویوں دعوی کیا کہ ہندہ نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۵۸€
ردالمحتار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۵۸€
مکان متنازعہ زید سے خریدا ہے زید فوت ہوگیا ہے ورثاء زید مکان پر قابض ہیںدخل دلایاجائےمدعا علیہم کو بیعنامہ مکان مذکور کا تصدیق کرادینا تسلیم ہے مگر کہتے ہیں کہ بیع فرضی ہوئی تھیزید نے سعید النساء اپنی زوجہ کے دین مہر اور نان نفقہ کے خوف سے بیعنامہ فرضی کردیا تھا زر ثمن کا دادوستد نہیں ہوا نہ مدعیہ کا قبضہ مکان متنازعہ پر ہوامدعیہ کی جانب سے پانچ مرد اور چار عورتوں نے قطعیت بیع اور زر ثمن ادا کرنے کی بابت شہادت دی ہےمگر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ صرف دو گواہ مدعیہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں ان کی شہادت خلاف قیاس ہے اور مستور ہونے کے سبب ناقابل التفات خلاف قیاس ہونے کی اور بھی وجوہ لکھی ہیں جو نقل فیصلہ میں مذکور ہیں یہ نقل فیصلہ ملاحظہ کے لئے پیش کیاجاتا ہے اب سوال یہ ہے:
(۱)بیع فرضی ہونے کے لئے شرعا کچھ شرائط ہیںمحض اس قدر شہادت دلوادینے سے کہ عاقدین نے بیع کے بعد اقرار فرضی ہونے کا کیا تھا بیع فرضی ثابت ہوجائیگیجن جن گواہوں نے یہ شہادت دی ہے ان کو عدالت نے خود مستور الحال لکھا ہے لیکن بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو اپنی سزا یابی سابقہ اور بالفعل اپنی داڑھی منڈوانا تسلیم ہے۔
(۲)جو وجوہ شہادت مدعیہ کی نسبت عدالت نے خلاف قیاس ہونے کے لکھے ہیں کیا وہ شرعا ایسے ہیں جن سے شہادت ناقابل تسلیم ہوجائے۔
(۳)کیا قاضی کا یہ فعل اس کے فیصلہ پر مؤثر ہوگا کہ بجائے چھ مرد اور چار عورتوں کے صرف دو کا پیش ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کرے حالانکہ مسل میں سب کے بیان موجود ہیں۔
(۴)کیا ایسا فیصلہ حاکم مرافعہ کی عدالت میں شرعا قابل بحالی ہوسکتا ہے
نقل فیصلہ اور نقول بیانات گواہان فریقین عدالت سے باقاعدہ حاصل کرکے پیش کئے جاتے ہیں جواب مرحمت ہو۔والاجر عند اﷲ۔
الجواب:
جواب سوا ل اول
فیصلہ واظہارات فریقین تمام وکمال ملاحظہ ہوئے تنقیحات فقہیہ کے اعتبا ر سے تو یہاں بہت کہنا ہے مگر بتوفیقہ تعالی چند مختصر افادات پر اقتصار کریں کہ بعونہ تعالی اظہار صواب وایضاح جواب کےلئے اسی قدر بس ہے۔
(۱)اس مقدمہ میں فریقین کو اتفاق ہے کہ زید یعنی سید صادق شاہ نے مکان متنازع فیہ کا
(۱)بیع فرضی ہونے کے لئے شرعا کچھ شرائط ہیںمحض اس قدر شہادت دلوادینے سے کہ عاقدین نے بیع کے بعد اقرار فرضی ہونے کا کیا تھا بیع فرضی ثابت ہوجائیگیجن جن گواہوں نے یہ شہادت دی ہے ان کو عدالت نے خود مستور الحال لکھا ہے لیکن بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو اپنی سزا یابی سابقہ اور بالفعل اپنی داڑھی منڈوانا تسلیم ہے۔
(۲)جو وجوہ شہادت مدعیہ کی نسبت عدالت نے خلاف قیاس ہونے کے لکھے ہیں کیا وہ شرعا ایسے ہیں جن سے شہادت ناقابل تسلیم ہوجائے۔
(۳)کیا قاضی کا یہ فعل اس کے فیصلہ پر مؤثر ہوگا کہ بجائے چھ مرد اور چار عورتوں کے صرف دو کا پیش ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کرے حالانکہ مسل میں سب کے بیان موجود ہیں۔
(۴)کیا ایسا فیصلہ حاکم مرافعہ کی عدالت میں شرعا قابل بحالی ہوسکتا ہے
نقل فیصلہ اور نقول بیانات گواہان فریقین عدالت سے باقاعدہ حاصل کرکے پیش کئے جاتے ہیں جواب مرحمت ہو۔والاجر عند اﷲ۔
الجواب:
جواب سوا ل اول
فیصلہ واظہارات فریقین تمام وکمال ملاحظہ ہوئے تنقیحات فقہیہ کے اعتبا ر سے تو یہاں بہت کہنا ہے مگر بتوفیقہ تعالی چند مختصر افادات پر اقتصار کریں کہ بعونہ تعالی اظہار صواب وایضاح جواب کےلئے اسی قدر بس ہے۔
(۱)اس مقدمہ میں فریقین کو اتفاق ہے کہ زید یعنی سید صادق شاہ نے مکان متنازع فیہ کا
بیع نامہ اپنی بھاوج ہندہ یعنی فاطمہ بیگم کے نام کیا اور اس کی رجسٹری کرادیحاکم شہر قاضی مفتی فقیہ متقی نے اسکی تصدیق فرمائی اختلاف جدو ہزل میں ہے یعنی آیا یہ بیع صحیح قطعی تھی یا محض نمائش فرضیسعیدہ بیگم زوجہ وغیرہا پانچ کس ورثائے سید صادق شاہ فرضی بتاتے ہیں اور فاطمہ بیگم مشتریہ قطعیہ اس صورت میں شرعا سعیدہ بیگم وغیرہا مدعی ہیں کہ ایك امر ظاہر الثبوت کامٹانا چاہتے ہیں اور فاطمہ بیگم مدعا علیہا کہ اس کا بیان موافق ظاہر ہے لہذا بار ثبوت سعیدہ بیگم وغیرہا پر ہے فاطمہ کو اصلا کسی گواہ کی حاجت نہیں اس کا صرف زبانی بیان قسم کے ساتھ معتبر ہے۔درمختار میں ہے:
لو ادعی احدھما بیع التلجئۃ وانکر الاخر فالقول لمدعی الجدبیمینہ ۔ ایك فریق کا دعوی ہے کہ بیع فرضی ہے دوسرا منکر ہے تو صحیح بیع کے مدعی کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
مدعی الجد لایحتاج الی برھان لان البرھان یثبت خلاف الظاہر ۔ قطعی ہونے کی مدعی کو دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ دلیل خلاف ظاہر کو ثابت کرتی ہے۔(ت)
تو فاطمہ بیگم پر بار ثبوت رکھنا اور اس کے گواہوں سے بحث اور ان پر اعتراض سب بلاوجہ وبیکار وخلاف ضابطہ فقہیہ ہے۔
(۲)ورثائے صادق شاہ کو بیع فرضی ثابت کرنے کے لئے صرف دو گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اس مضمون کے دینا کافی کہ بعد بیع نامہ فاطمہ بیگم نے ہمارے سامنے اقرار کیا کہ یہ بیع میرے نام فرضی ہوئی ہےاس کے سوانہ اور کچھ شرائط درکارنہ اور کسی بیان سے ان کو نفع۔
اب ہم گواہان ورثہ پر نظرکرتے ہیں ان کی طرف سے بانکے میاںچھٹن میاںسید مجیب شاہحاجی محمد رضاخاںشاہنواز خاں نیاز احمد خاںمحمد یوسف خاںبنا خاںسید محمد شاہ نومرد اور صغری وعجوبہ دو عورتیںجملہ گیارہ گواہ پیش ہوئےان میں یوسف خاں کا بیان تو اتنا ہے کہ یہ مکان میاں صادق شاہ کا تھا وہ اس میں مرتے دم تك رہےپچھلے فقرہ سے اگر ثابت ہے
لو ادعی احدھما بیع التلجئۃ وانکر الاخر فالقول لمدعی الجدبیمینہ ۔ ایك فریق کا دعوی ہے کہ بیع فرضی ہے دوسرا منکر ہے تو صحیح بیع کے مدعی کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
مدعی الجد لایحتاج الی برھان لان البرھان یثبت خلاف الظاہر ۔ قطعی ہونے کی مدعی کو دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ دلیل خلاف ظاہر کو ثابت کرتی ہے۔(ت)
تو فاطمہ بیگم پر بار ثبوت رکھنا اور اس کے گواہوں سے بحث اور ان پر اعتراض سب بلاوجہ وبیکار وخلاف ضابطہ فقہیہ ہے۔
(۲)ورثائے صادق شاہ کو بیع فرضی ثابت کرنے کے لئے صرف دو گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اس مضمون کے دینا کافی کہ بعد بیع نامہ فاطمہ بیگم نے ہمارے سامنے اقرار کیا کہ یہ بیع میرے نام فرضی ہوئی ہےاس کے سوانہ اور کچھ شرائط درکارنہ اور کسی بیان سے ان کو نفع۔
اب ہم گواہان ورثہ پر نظرکرتے ہیں ان کی طرف سے بانکے میاںچھٹن میاںسید مجیب شاہحاجی محمد رضاخاںشاہنواز خاں نیاز احمد خاںمحمد یوسف خاںبنا خاںسید محمد شاہ نومرد اور صغری وعجوبہ دو عورتیںجملہ گیارہ گواہ پیش ہوئےان میں یوسف خاں کا بیان تو اتنا ہے کہ یہ مکان میاں صادق شاہ کا تھا وہ اس میں مرتے دم تك رہےپچھلے فقرہ سے اگر ثابت ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب الصرف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۷€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۵€
تو اتنا کہ فاطمہ بیگم کا قبضہ نہ ہواپھر بیع کے لئے قبضہ کیاضروربیع ہبہ نہیں کہ بے قبضہ تمام نہ ہواور پہلے فقرہ سے فاطمہ بیگم کو بھی انکار نہیں جب وہ صادق شاہ سے خریدنا بتاتی ہے تو خود مقر ہے کہ مکان صادق شاہ کا تھا پھر اس سے کیا ثابت ہوااس گواہ نے یہ بھی کہا ہے کہ سننے میں آیا کہ انہوں نے بھاوج کے نام مکان کردیا یہ اگر سماع نہ ہوتا تو فاطمہ بیگم کا کچھ مؤید ہوتامشہود لہم یعنی ورثہ کو اس سے کچھ فائدہ نہیںبنا خاں اور سید محمد شاہ کی گواہیاں یہ ہیں کہ مکان متنازعہ میاں صادق شاہ کا ہے یہ صریح غلط و باطل ہےسید صادق شاہ کا انتقال ہوگیا اور میت کسی شے کا مالك نہیں تو اب مکان ان کا کسی طرح نہیںغرض "ہے"کہنا تو یوں باطل ہے اور"تھا"کہنے سے دم مرگ تك ان کی ملك رہنا ثابت نہیں کہ انتقال بیع کا منافی ہولہذا یہ تینوں شہادتیں محض مہمل ہیں بلکہ بالفرض اگر ان کے بیان یوں ہوتے کہ یہ مکان سید صادق شاہ کا تھا دم مرگ تك وہی اس کے مالك رہے اور وقت انتقال اسے اپنے وارثوں کے لئے میراث چھوڑا جب بھی مفید نہ ہوتے کہ اس شہادت کا مبنی استصحاب ہوتا یعنی ان کی ملك معلوم تھی اور انتقال تك بیع پر علم نہ ہوا لہذا اپنے علم کی بنا پر تادم مرگ ان کی ملك کہا مشتریہ نے جب کہ بیع تامہ مصدقہ و مسلمہ فریقین سے انتقال ثابت کر دیا وہ گواہیاں بے سود ہوگئیں۔جامع الفصولین میں ہے:
ادعی دارا انی اشتریتہ من ابیك و برھن ذوالید انہ ملك ابیہ الی یوم موتہ و مات و ترکہ میراثا لاتقبل بینتہ لانھم شھدوا باستصحاب الحال والمدعی اثبت الزوال ۔ ایك شخص نے یہ دعوی کیا کہ یہ مکان میں نے تیرے والد سے خریدا ہے اور قابض نے گواہ پیش کردئے کہ یہ مکان میرے والد کی موت تك اس کی ملك رہا ہے اور اس نے اپنی موت پر اس کو بطور میراث چھوڑا ہے تو قابض کی طرف سے یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی کیونکہ گواہوں کی یہ شہادت استصحاب حال کی بنا پر ہے جبکہ مدعی اس سابقہ ملکیت کے زوال کو ثابت کررہا ہے۔(ت)
نیاز احمد خاں فقط اتنا کہتا ہے اور وہ بھی اہل محلہ سے سنا ہوا کہ صادق شاہ اور ان کی بی بی میں نااتفاقی تھی پھر اس سے کیا ہوا۔حاجی محمد رضاخاں بھی نااتفاقی کا گواہ ہے اور یہ کہ جب بی بی کا نان نفقہ مقرر ہوا صادق شاہ نے نوکری چھوڑ دی پھراس سے بیع کیونکر فرض ہوگئی دنیا میں لاکھوں
ادعی دارا انی اشتریتہ من ابیك و برھن ذوالید انہ ملك ابیہ الی یوم موتہ و مات و ترکہ میراثا لاتقبل بینتہ لانھم شھدوا باستصحاب الحال والمدعی اثبت الزوال ۔ ایك شخص نے یہ دعوی کیا کہ یہ مکان میں نے تیرے والد سے خریدا ہے اور قابض نے گواہ پیش کردئے کہ یہ مکان میرے والد کی موت تك اس کی ملك رہا ہے اور اس نے اپنی موت پر اس کو بطور میراث چھوڑا ہے تو قابض کی طرف سے یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی کیونکہ گواہوں کی یہ شہادت استصحاب حال کی بنا پر ہے جبکہ مدعی اس سابقہ ملکیت کے زوال کو ثابت کررہا ہے۔(ت)
نیاز احمد خاں فقط اتنا کہتا ہے اور وہ بھی اہل محلہ سے سنا ہوا کہ صادق شاہ اور ان کی بی بی میں نااتفاقی تھی پھر اس سے کیا ہوا۔حاجی محمد رضاخاں بھی نااتفاقی کا گواہ ہے اور یہ کہ جب بی بی کا نان نفقہ مقرر ہوا صادق شاہ نے نوکری چھوڑ دی پھراس سے بیع کیونکر فرض ہوگئی دنیا میں لاکھوں
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰€
آدمی اپنی عورتوں سے ناراض ہوتے ہیں کیا اس سے ان کے تمام انتقالات فرضی ٹھہرجاتے ہیں۔یہ پانچوں فیصلہ میں اصلا قابل ذکر بھی نہ تھیں ہاں مذکور ہوتیں تو اس طرح کہ فلان فلاں اظہار محض مہمل و بیکار ہیں۔
(۳)شاہنواز خاں نے بیعنامہ فرضی ہونے کی گواہی دی مگر اس طرح کہ مظہر سے صادق شاہ نے خود اقرار فرضی ہونے کا کیا تھااس سے ہر گز فرضی ہونا ثابت نہیں ہوتایہ تواقرار بائع کا گواہ ہےاگر خود صادق شاہ بعد تحریر و تصدیق بیعنامہ دعوی کرتا کہ میں نے تو محض فرضی بیع نامہ کردیا ہے کیا قابل سماعت ہوتاورنہ ہر شخص بیع کرکے پھر جائے ا ور اس کے فرضی کہہ دینے سے بیع فرضی ٹھہر جائے یہاں اقرار مشتری کا درکار تھا بائع کا اقرار اقرار نہیں بلکہ دعوی ہے کہ بے گواہان ہر گز مقبول نہیں بلکہ اکثر صورتوں میں اس کے گواہ بھی مسموع نہیں کہ بیع کرکے فرضیت کا ادعا تناقض ہے اور تناقض والے کا دعوی سنا نہیں جاتا۔در مختار میں ہے:لاعذر لمن اقر (اقرار کرنے والے کا عذر معتبر نہیں۔ت)اشباہ وغیرہ میں ہے:
من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ ۔ جو شخص ایسی کا رروائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے جو اس کی طرف سے تام ہوئی ہے تو اس کی یہ کوشش مردود ہوگی۔(ت)
لہذا یہ شہادت بھی ساقط محض ہے۔
(۴)اب رہے تین مرد اور دو عورتیں جن کے بیان میں فاطمہ بیگم کی طرف سے فرضی کا لفظ آیا ہے اگرچہ محض بے علاقہ اس کا حال یہ ہے کہ ا ن میں عورتوں کی گواہی توصرف ہوا پر ہے جسے انہوں نے محل تنازع سے اصلا متعلق نہ کیاپہلے اتنا تو کہا کہ یہ مکان صادق شاہ کا ہے اس کا حال اوپر سن چکے کہ یہ شہادت باطلہ بلکہ کاذبہ ہے اور قرینہ کی ہوتی جب بھی نامسموع تھیآگے چل کر انہوں نے میاں بی بی اور ساس داماد کا جھگڑا بیان کرکے صرف اتنا کہا کہ صادق شاہ نے آکر فرضی کاغذاپنی بھاوج فاطمہ بیگم کے نام کردیاکس چیز کاکاغذ کردیاکیا کاغذ کردیامکان یا دکان یا کچھ اسبابیا کیافرضی بیع کردیا یا ہبہ یا رہن یا اجارہ یا کیااس کا کچھ پتا نہیںپھر کہتی ہیں ہم نے فاطمہ بیگم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ
(۳)شاہنواز خاں نے بیعنامہ فرضی ہونے کی گواہی دی مگر اس طرح کہ مظہر سے صادق شاہ نے خود اقرار فرضی ہونے کا کیا تھااس سے ہر گز فرضی ہونا ثابت نہیں ہوتایہ تواقرار بائع کا گواہ ہےاگر خود صادق شاہ بعد تحریر و تصدیق بیعنامہ دعوی کرتا کہ میں نے تو محض فرضی بیع نامہ کردیا ہے کیا قابل سماعت ہوتاورنہ ہر شخص بیع کرکے پھر جائے ا ور اس کے فرضی کہہ دینے سے بیع فرضی ٹھہر جائے یہاں اقرار مشتری کا درکار تھا بائع کا اقرار اقرار نہیں بلکہ دعوی ہے کہ بے گواہان ہر گز مقبول نہیں بلکہ اکثر صورتوں میں اس کے گواہ بھی مسموع نہیں کہ بیع کرکے فرضیت کا ادعا تناقض ہے اور تناقض والے کا دعوی سنا نہیں جاتا۔در مختار میں ہے:لاعذر لمن اقر (اقرار کرنے والے کا عذر معتبر نہیں۔ت)اشباہ وغیرہ میں ہے:
من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ ۔ جو شخص ایسی کا رروائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے جو اس کی طرف سے تام ہوئی ہے تو اس کی یہ کوشش مردود ہوگی۔(ت)
لہذا یہ شہادت بھی ساقط محض ہے۔
(۴)اب رہے تین مرد اور دو عورتیں جن کے بیان میں فاطمہ بیگم کی طرف سے فرضی کا لفظ آیا ہے اگرچہ محض بے علاقہ اس کا حال یہ ہے کہ ا ن میں عورتوں کی گواہی توصرف ہوا پر ہے جسے انہوں نے محل تنازع سے اصلا متعلق نہ کیاپہلے اتنا تو کہا کہ یہ مکان صادق شاہ کا ہے اس کا حال اوپر سن چکے کہ یہ شہادت باطلہ بلکہ کاذبہ ہے اور قرینہ کی ہوتی جب بھی نامسموع تھیآگے چل کر انہوں نے میاں بی بی اور ساس داماد کا جھگڑا بیان کرکے صرف اتنا کہا کہ صادق شاہ نے آکر فرضی کاغذاپنی بھاوج فاطمہ بیگم کے نام کردیاکس چیز کاکاغذ کردیاکیا کاغذ کردیامکان یا دکان یا کچھ اسبابیا کیافرضی بیع کردیا یا ہبہ یا رہن یا اجارہ یا کیااس کا کچھ پتا نہیںپھر کہتی ہیں ہم نے فاطمہ بیگم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۰€
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والدعاوی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۷۰€
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والدعاوی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۷۰€
بوجہ اپنی بی بی کے ہمارے نام فرضی بیعنامہ کردیا ہے بیچا نہیں ہے یہاں سوال دوم کا جواب تو کھلا ہے کہ ہبہ رہن اجارہ نہیں بلکہ بیعنامہ کیا مگر سوال اول کا جواب اب بھی محض غائبکچھ نہ کہا کہ مکان کا بیعنامہ کیا ہے یادکان کا یا اسباب یا کا ہے کاایسی گول ناصافمجملمہمل باتیں گواہی میں سن لینا کس شریعت کا حکم ہے حاشا وکلا۔اس کے جواب میں اگر فاطمہ بیگم کہے کہ صغیر ی و عجوبہ سچ کہتی ہیں صادق شاہ نے ایك گھوڑے کا بیعنامہ فرضی میرے نام کردیا تھا بیچانہ تھامیں عورت ذات گھوڑا لے کر کیا کرتی میں نے اس بیعنامہ کا ان سے ذکر کیا تھاتو یہ گواہ یا انہیں پیش کرنے والے ورثاء یا انہیں قبول فرمانے والے اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔
(۵)اب باقی مردوں کی سنئے ان میں چھٹن میاں علاوہ اور وجوہ کے خود کہتا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے جب سے داڑھی منڈاتا ہوں کبھی کھونٹی بھی آنے ہی نہیں دی تو باقرار خود فاسق معلن بلکہ فسق بالاعلان پر مصر ہے ایسے شخص کی گواہی اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہو مردود ہے پھر اس کا بیان بھی ساختہ ہونے کا شبہہ دلاتا ہے جیساکہ ملاحظہ ظاہر سے واضح ہے۔
(۶)رہ گئے بانکے میان اور سید مجیب شاہان دونوں نے اگرچہ بیعنامہ مکان فرضی ہونے نسبت فاطمہ بیگم کا اقرار بیان کیا مگر اول سے آخر تك سارے اظہار میں کچھ پتہ نہیں کہ کس کا گھر یہاں تك کہ مکان متنازعہ کابھی کہیں لفظ نہیںہاں بانکے میاں نے اتنا کہا ہے کہ نشاندہی محلہ پر کرادونگا اور سید مجیب شاہ نے یہ کہ مکان بنادوں گادونوں نے بتایا یا نہیںاو ربتایا تو کیا بتایا کیالفظ کہےوہ کہاں تك کافی تھے پھر ان دونوں گواہوں کو بھی ذ ی علم مجوز نے مستور لکھا ہے اور وہ فاسق معلن مصر کو بھی مستور لکھتے ہیں معلوم نہیں کہ یہ مستور کس معنی پر ہیں اگر ویسے ہی مستور ہوئے جب تو ظاہر ہے اور اگر حقیقۃ مستور الحال ہوئے تو مستو ر کی گواہی بھی مردود ہے مگر یہ کہ دلائل واضحہ سے اس کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہو اور یہاں انکے صدق پر کوئی دلیل مفید ظن بھی نہیں غلبہ ظن تو بڑی چیز ہے تجویز میں ان پر اعتماد کرنا تھا تو واجب ہوتا کہ ان کے صدق کے غلبہ ظن پر واضح دلائل قائم فرماتے مگر کوئی دلیل نہ دی محض ان کے بیان کا حوالہ دیا کہ ان کی شہادتوں سے فرضی ہونا بخوبی ثابت ہے یہ ہر گز قابل قبول نہیں بلکہ دلائل صدق درکنار ذی علم مجوز نے جو دلائل رد گواہان فاطمہ بیگم کے لئے تحریر فرمائے بعینہا ان گواہوں میں جاری ہیںجیسا کہ عنقریب واضح ہوگا تو غایت یہ کہ دونوں شقیں محتمل ہوکر صدق وکذب مساوی رہے اور اس صورت میں شہادت مستور ین ہر گز مقبول نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
فان لم یغلب علی ظن القاضی صدقہ بان اگر قاضی کو اس کی سچائی کا ظن غالب نہ ہو بلکہ اس کے
(۵)اب باقی مردوں کی سنئے ان میں چھٹن میاں علاوہ اور وجوہ کے خود کہتا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے جب سے داڑھی منڈاتا ہوں کبھی کھونٹی بھی آنے ہی نہیں دی تو باقرار خود فاسق معلن بلکہ فسق بالاعلان پر مصر ہے ایسے شخص کی گواہی اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہو مردود ہے پھر اس کا بیان بھی ساختہ ہونے کا شبہہ دلاتا ہے جیساکہ ملاحظہ ظاہر سے واضح ہے۔
(۶)رہ گئے بانکے میان اور سید مجیب شاہان دونوں نے اگرچہ بیعنامہ مکان فرضی ہونے نسبت فاطمہ بیگم کا اقرار بیان کیا مگر اول سے آخر تك سارے اظہار میں کچھ پتہ نہیں کہ کس کا گھر یہاں تك کہ مکان متنازعہ کابھی کہیں لفظ نہیںہاں بانکے میاں نے اتنا کہا ہے کہ نشاندہی محلہ پر کرادونگا اور سید مجیب شاہ نے یہ کہ مکان بنادوں گادونوں نے بتایا یا نہیںاو ربتایا تو کیا بتایا کیالفظ کہےوہ کہاں تك کافی تھے پھر ان دونوں گواہوں کو بھی ذ ی علم مجوز نے مستور لکھا ہے اور وہ فاسق معلن مصر کو بھی مستور لکھتے ہیں معلوم نہیں کہ یہ مستور کس معنی پر ہیں اگر ویسے ہی مستور ہوئے جب تو ظاہر ہے اور اگر حقیقۃ مستور الحال ہوئے تو مستو ر کی گواہی بھی مردود ہے مگر یہ کہ دلائل واضحہ سے اس کے صدق پر غلبہ ظن حاصل ہو اور یہاں انکے صدق پر کوئی دلیل مفید ظن بھی نہیں غلبہ ظن تو بڑی چیز ہے تجویز میں ان پر اعتماد کرنا تھا تو واجب ہوتا کہ ان کے صدق کے غلبہ ظن پر واضح دلائل قائم فرماتے مگر کوئی دلیل نہ دی محض ان کے بیان کا حوالہ دیا کہ ان کی شہادتوں سے فرضی ہونا بخوبی ثابت ہے یہ ہر گز قابل قبول نہیں بلکہ دلائل صدق درکنار ذی علم مجوز نے جو دلائل رد گواہان فاطمہ بیگم کے لئے تحریر فرمائے بعینہا ان گواہوں میں جاری ہیںجیسا کہ عنقریب واضح ہوگا تو غایت یہ کہ دونوں شقیں محتمل ہوکر صدق وکذب مساوی رہے اور اس صورت میں شہادت مستور ین ہر گز مقبول نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
فان لم یغلب علی ظن القاضی صدقہ بان اگر قاضی کو اس کی سچائی کا ظن غالب نہ ہو بلکہ اس کے
غلب کذب عنہ او تساویا فلا یقبلھا ای لایصح قبولھا اصلا ۔ کذب کا ظن ہو یا دونوں پہلو مساوی جانتا ہو تو اس کی شہادت کو قبول نہ کرے یعنی اس کا قبول کرنا ہر گز صحیح نہیں ہے۔(ت)
لاجرم ظاہر ہوا کہ ورثائے بائع بیع فرضی ثابت نہ کرسکے او را س مقدمہ میں صرف اتنا ہی دیکھنا تھا اس کے علاوہ باقی سب بحثیں زائد و دور از کار ہیں۔
جواب سوال دوم
(۱)ہم اوپر ثابت کرآئے فاطمہ بیگم اس مقدمہ میں اصلا محتاج گواہان نہیںنہ اس کے گواہوں سے بحث کی حاجت خلاف قیاس درکنار اگر ان کی گواہیاں بدیہی البطلان ہوتیں مثلا کہتے سو برس ہوئے یہ بیع ہوگئی یاکل ہوئی تھی جب بھی فاطمہ بیگم کو اس سے نقصان نہ تھا کہ اس کا دعوی بیعنامہ مصدقہ مسلمہ فریقین سے آپ ہی ثابت ہے۔
(۲)ذی علم مجوز نے ان کی شہادتیں قابل لحاظ نہ ہونے کی چھ وجہیں ذکر فرمائیں:
(۱)وہ مستور الحال ہیں
(۲)کل زر ثمن ایك مفلس کو قبل تحریر و تصدیق بیعنامہ گھر میں بیٹھ کر دیا گیا۔
(۳)مقر نے دستاویز اپنے نام چھڑائی۔
(۴)وصول ثمن کا اقرار کیا رجسٹرار کے سامنے نہ دیا گیا۔
(۵)فاطمہ بیگم کا قبضہ نہ ہوا۔
(۶)مکان دونی قیمت کو بیچنا لکھا۔
ان میں کوئی وجہ بھی ایسی نہیں جس سے شہادتیں قابل لحاظ نہ ہوں یا حسب بیان فیصلہ بطلان دعوی مدعیہ بتائیں وجہ اول تو خود کوئی چیز نہیںمستو رالحال کی گواہی مطلقا مردود ہے یا جب خلاف قیاس ہو بر تقدیر اول سعیدہ بیگم وغیرہ کے گواہوں کو بھی فیصلہ میں مستور فرمایا ہے ان کی گواہی کیوں نہ مردود ہوئیاور بر تقدیر ثانی اس کے لئے وہ وجوہ درکار ہیں جس سے شہادت کاخلاف قیاس ہونا ثابت ہو تو وجوہ آئندہ پر مدار کا ررہا اور وجہ اول نے کچھ فائدہ نہ دیاہاں یہ کہ وہ ان کی متمم یعنی عادل کی گواہی اگرچہ خلا ف قیاس ہو مقبول ہے نہ مستور کی تو مدار اسی خلاف قیاس ہونے کے ثبوت پررہا اور وہ
لاجرم ظاہر ہوا کہ ورثائے بائع بیع فرضی ثابت نہ کرسکے او را س مقدمہ میں صرف اتنا ہی دیکھنا تھا اس کے علاوہ باقی سب بحثیں زائد و دور از کار ہیں۔
جواب سوال دوم
(۱)ہم اوپر ثابت کرآئے فاطمہ بیگم اس مقدمہ میں اصلا محتاج گواہان نہیںنہ اس کے گواہوں سے بحث کی حاجت خلاف قیاس درکنار اگر ان کی گواہیاں بدیہی البطلان ہوتیں مثلا کہتے سو برس ہوئے یہ بیع ہوگئی یاکل ہوئی تھی جب بھی فاطمہ بیگم کو اس سے نقصان نہ تھا کہ اس کا دعوی بیعنامہ مصدقہ مسلمہ فریقین سے آپ ہی ثابت ہے۔
(۲)ذی علم مجوز نے ان کی شہادتیں قابل لحاظ نہ ہونے کی چھ وجہیں ذکر فرمائیں:
(۱)وہ مستور الحال ہیں
(۲)کل زر ثمن ایك مفلس کو قبل تحریر و تصدیق بیعنامہ گھر میں بیٹھ کر دیا گیا۔
(۳)مقر نے دستاویز اپنے نام چھڑائی۔
(۴)وصول ثمن کا اقرار کیا رجسٹرار کے سامنے نہ دیا گیا۔
(۵)فاطمہ بیگم کا قبضہ نہ ہوا۔
(۶)مکان دونی قیمت کو بیچنا لکھا۔
ان میں کوئی وجہ بھی ایسی نہیں جس سے شہادتیں قابل لحاظ نہ ہوں یا حسب بیان فیصلہ بطلان دعوی مدعیہ بتائیں وجہ اول تو خود کوئی چیز نہیںمستو رالحال کی گواہی مطلقا مردود ہے یا جب خلاف قیاس ہو بر تقدیر اول سعیدہ بیگم وغیرہ کے گواہوں کو بھی فیصلہ میں مستور فرمایا ہے ان کی گواہی کیوں نہ مردود ہوئیاور بر تقدیر ثانی اس کے لئے وہ وجوہ درکار ہیں جس سے شہادت کاخلاف قیاس ہونا ثابت ہو تو وجوہ آئندہ پر مدار کا ررہا اور وجہ اول نے کچھ فائدہ نہ دیاہاں یہ کہ وہ ان کی متمم یعنی عادل کی گواہی اگرچہ خلا ف قیاس ہو مقبول ہے نہ مستور کی تو مدار اسی خلاف قیاس ہونے کے ثبوت پررہا اور وہ
حوالہ / References
ردالمحتار
ثابت نہیں۔
(۳)وجہ ششم اگر قرینہ ہے تو ثمن مقدار واقعی سے زیادہ لکھنے کا نہ اس کا کہ اصل بیع ہی فرضی ہےزوجہ کے خوف سے بیع فرضی کرنے کو قیمت بڑھا کر لکھنا کیا ضرور تھا کیا اگر سو کا مال سو کو بیچنا لکھتا تو اس کا مقصود حاصل نہ ہوتاہاں اگر کسی شفیع کا خوف ہوتا تو اس کے سبب زیادہ قیمت لکھی جاتی ایسا زیادہ لکھنا رات دن حقیقی قطعی بیعوں میں ہوتا رہتا ہے تو یہ فرضیت بیع کا کیا قرینہ ہوئی۔
(۴)وجہ دوم عجیب ہے زر ثمن گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے دیا جانا بیان ہوا ہے نہ کہ تنہائی میںپھر اس سے کیا شبہہ پڑسکتا ہے ان کو بناوٹ منظور ہوتی تو رجسٹرار کے سامنے دیتا اور زیادہ ان کے مقصود کا مؤید ہوتا نہ کہ گھر میں بیٹھ کر دینابیع فرضی والے چالاك اکثر یہی طریقہ پسند کرتے ہیں کہ رجسٹری میں دیا اور گھر جاکر وپس لے لیا۔
(۵)وجہ چہارم بھی اسی دوم پر مبنی ہے جب روپیہ گواہوں کے سامنے پہلے مل چکا تو رجسڑار کے سامنے اقرار کے سوا کیا ہوتانمائشی بناوٹ چاہتے تو رجسٹرار کے سامنے ہی دینے میں زیادہ تھی نہ کہ گھر میں۔نمائش والا وہ طریقہ اختیار کرتا ہے جس میں اعلان زیادہ ہو یا وہ جس میں کم ہو۔
(۶)وجہ سوم کی نسبت گزارش کہ دستاویز فاطمہ بیگم نے پیش کی ہے تو صادق شاہ نے چھڑا کو ضرور اسے سپرد کردی پھر اپنے نام چھڑانے نے فرضیت کا کیاثبوت دیابلکہ انصافا واقعیت کا پتہ دیا کہ فرضی نمائشی کارروائی تو رجسٹری تك ختم ہوگئی تھی اگر واقع میں بیع نہ ہوئی تھی تو دستاویز خود اپنے نام چھڑا کر فاطمہ بیگم کو دینے کی کیا حاجت تھیفاطمہ بیگم ایك پردہ نشین شریف زادی بیوہ اور صادق شاہ کی بھاوج ہے بھائیوں میں اتحاد کی حالت میں ان کی زندگی میں ان کی زوجات کے ایسے کام جیٹھ دیور کردیا کرتے ہیں نہ کہ بعد بیوگی۔
(۷)وجہ پنجم اجنبی اشخاص میں کچھ شبہہ ڈالتی باہم اتحاد کی حالت میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ زید کو روپیہ درکار ہے بیع ہوگئی تصدیق وغیرہ سے تکمیل ہوگئی اطمینان کا فی ہولیا بائع کو مکان کی حاجت ہے مشتری اور مکان میں رہتا ہے تبرعا خالی نہ کرایا پھر بیع و موت بائع میں ایسا کوئی طویل فاصلہ بھی نہیںقبضہ لینا چاہااس نے فکر مکان میں آج کل کیا اتنے میں وہ بیمار ہوگیا انتقال کرگیااس میں پانچ چھ مہینے گزرجانا کیا دو راز قیاس ہے جس کی بناء پر شہادت باطل کردی جائے اور بیعنامہ مصدقہ مسلمہ فریقین غلط قرار پائے۔
(۸)اب ہم ایك تقریر جامع بیان کرتے ہیں کہ سب وجوہ کو شامل ہو۔وجہ ششم کو تو معلوم کرچکے کہ وہ وجوہ فرضیت میں نام لئے جانے کے بھی قابل نہیںاور وجہ اول نہ خود وجہ ہے نہ گواہان فاطمہ بیگم کے ساتھ
(۳)وجہ ششم اگر قرینہ ہے تو ثمن مقدار واقعی سے زیادہ لکھنے کا نہ اس کا کہ اصل بیع ہی فرضی ہےزوجہ کے خوف سے بیع فرضی کرنے کو قیمت بڑھا کر لکھنا کیا ضرور تھا کیا اگر سو کا مال سو کو بیچنا لکھتا تو اس کا مقصود حاصل نہ ہوتاہاں اگر کسی شفیع کا خوف ہوتا تو اس کے سبب زیادہ قیمت لکھی جاتی ایسا زیادہ لکھنا رات دن حقیقی قطعی بیعوں میں ہوتا رہتا ہے تو یہ فرضیت بیع کا کیا قرینہ ہوئی۔
(۴)وجہ دوم عجیب ہے زر ثمن گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے دیا جانا بیان ہوا ہے نہ کہ تنہائی میںپھر اس سے کیا شبہہ پڑسکتا ہے ان کو بناوٹ منظور ہوتی تو رجسٹرار کے سامنے دیتا اور زیادہ ان کے مقصود کا مؤید ہوتا نہ کہ گھر میں بیٹھ کر دینابیع فرضی والے چالاك اکثر یہی طریقہ پسند کرتے ہیں کہ رجسٹری میں دیا اور گھر جاکر وپس لے لیا۔
(۵)وجہ چہارم بھی اسی دوم پر مبنی ہے جب روپیہ گواہوں کے سامنے پہلے مل چکا تو رجسڑار کے سامنے اقرار کے سوا کیا ہوتانمائشی بناوٹ چاہتے تو رجسٹرار کے سامنے ہی دینے میں زیادہ تھی نہ کہ گھر میں۔نمائش والا وہ طریقہ اختیار کرتا ہے جس میں اعلان زیادہ ہو یا وہ جس میں کم ہو۔
(۶)وجہ سوم کی نسبت گزارش کہ دستاویز فاطمہ بیگم نے پیش کی ہے تو صادق شاہ نے چھڑا کو ضرور اسے سپرد کردی پھر اپنے نام چھڑانے نے فرضیت کا کیاثبوت دیابلکہ انصافا واقعیت کا پتہ دیا کہ فرضی نمائشی کارروائی تو رجسٹری تك ختم ہوگئی تھی اگر واقع میں بیع نہ ہوئی تھی تو دستاویز خود اپنے نام چھڑا کر فاطمہ بیگم کو دینے کی کیا حاجت تھیفاطمہ بیگم ایك پردہ نشین شریف زادی بیوہ اور صادق شاہ کی بھاوج ہے بھائیوں میں اتحاد کی حالت میں ان کی زندگی میں ان کی زوجات کے ایسے کام جیٹھ دیور کردیا کرتے ہیں نہ کہ بعد بیوگی۔
(۷)وجہ پنجم اجنبی اشخاص میں کچھ شبہہ ڈالتی باہم اتحاد کی حالت میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ زید کو روپیہ درکار ہے بیع ہوگئی تصدیق وغیرہ سے تکمیل ہوگئی اطمینان کا فی ہولیا بائع کو مکان کی حاجت ہے مشتری اور مکان میں رہتا ہے تبرعا خالی نہ کرایا پھر بیع و موت بائع میں ایسا کوئی طویل فاصلہ بھی نہیںقبضہ لینا چاہااس نے فکر مکان میں آج کل کیا اتنے میں وہ بیمار ہوگیا انتقال کرگیااس میں پانچ چھ مہینے گزرجانا کیا دو راز قیاس ہے جس کی بناء پر شہادت باطل کردی جائے اور بیعنامہ مصدقہ مسلمہ فریقین غلط قرار پائے۔
(۸)اب ہم ایك تقریر جامع بیان کرتے ہیں کہ سب وجوہ کو شامل ہو۔وجہ ششم کو تو معلوم کرچکے کہ وہ وجوہ فرضیت میں نام لئے جانے کے بھی قابل نہیںاور وجہ اول نہ خود وجہ ہے نہ گواہان فاطمہ بیگم کے ساتھ
خاص بلکہ وہی علت مستوری گواہان سعیدہ بیگم میں بھی موجود۔بیچ کی چار وجہیں۔نہیں بلکہ تین ہی کہ چہارم خود دوم پر مبنی ہے اب وجہ شبہہ اتنی رہی کہ روپیہ گھر میں بیٹھ کردیا او دستاویز مقر کے نام و اگزاشت ہوئی اورمشتریہ نے قبضہ نہ لیا ہم پوچھتے ہیں کہ یہاں عاقدین میں باہم ایسا اتحاد مانئے گا کہ ایك کو دوسرے پر کافی اطمینان ہے یا اجنبیت کہ ایك دوسرے پر مطمئن نہیں۔شق ثانی خود گواہان سعید ہ بیگم وخود فیصلہ مجوز سے صریح البطلان ہے جب یہ ٹھہراتے ہو کہ واقع میں نہ بیع تھی نہ ثمن ملایونہی فرضی بیعنامہ اس کے نام لکھ دیا اس پر گواہیان کرادیں اسے رجسٹری کراکرپکا کردیا رجسٹرار کے سامنے روپیہ ملنے کا اقرار کر دیا ہر طرح بائع نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تو کیا یہ معاملہ بے اطمینان اجنبی کے ساتھ ہوسکتا ہے حاشا بلکہ اعلی درجہ کا باہم اطمینان واتحاد چاہئے اور جب اس نہایت درجہ کا ان میں اتحاد مجوز و گواہان سعیدہ وسعیدہ وغیرہ سب کو خود مسلم ہے تو گھر میں بیٹھ کر روپیہ دینا یا دستاویز مقر کو ملنا یا مشتریہ کا قبضہ نہ لینا اس اعلی اتحاد کی حالت میں کیا بعید از قیاس ہے۔بالجملہ اتحاد ہو تو یہ کچھ بھی بعید از قیاس نہیںاور بے اطمینانی ہو تو ایسے کے ہاتھ فرضی بیع کرکے رجسٹری کرادینا اور وصول ثمن کہہ دینا اور بھی زیادہ بعید از قیاس ہے اور اس کے گواہ بھی مستور ہی ہیں توان وجوہ سے انہیں کیوں نہیں رد کیا جاتا۔
جواب سوال سوم
نظر ظاہر میں یہ اعتراض ہوسکتا کہ فیصلہ میں سعیدہ بیگم وغیرہا کے سب گواہوں کے بیان کا خلاصہ فرمایا گیا یہاں تك کہ وہ بھی جو محض بے علاقہ تھے اور فاطمہ بیگم کے اتنے گواہوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا بلکہ صراحۃ تحریر فرمادیا کہ مدعیہ کی جانب سے صرف دو گواہ پیش ہوئے ہیں مگر نظر دقیق میں اس کی توجیہ قریب ممکن ہےفاطمہ بی بی کی طرف سے دس گواہ پیش ہوئے چھ مرد ضامن شاہ غلام ناصر خاں قاسم خاںمحمد علی خاںاحمد شاہ خاںعنبر شاہ خاںاور چار عوتیںاشرف بیگمنازنین بیگمابادی انتظام بیگم۔ان میں قاسم خاں تو محض اپنی ناواقفی بیان کرتا ہے او کچھ شہادت نہ دی محمد علی خاں نے لوگوں کی زبانی سننا بتایا اور وہ بھی یوں کہ پہلے کہا بہن کے ہاتھ بیچ ڈالاپھر کہا بیگم کے ہاتھ۔احمد شاہ خاں کا اتنا بیان ہے کہ بھاوج کے نام بیعنامہ لکھ دیا اس سے کسے انکار ہےیونہی عنبر شاہ خاں نے بائع کی زبانی سننا بیان کیا کہ میں نے یہ مکان بیگم سیدانی کے ہاتھ دوسوروپے کو بیچ ڈالا جس نے بیعنامہ رجسٹری کرادیا اس نے اگر اس گواہ کے سامنے اتناکہا تو اس سے بیع کی قطعیت نہیں سمجھی جاتیلہذا چاروں گواہ بیکار تھے صرف دو مرد اور چار عورتیں باقی رہیں ان کی گواہی ضرور عام مروج طور پر مفید فاطمہ بیگم واقع ہوئی ہےذی علم مجوزکی رائے میں دونوں مردوں کی گواہی مخدوش تھی تو باقی سب عورتیں رہ جائیں گی اور تنہا عورت کی شہادت مقبول
جواب سوال سوم
نظر ظاہر میں یہ اعتراض ہوسکتا کہ فیصلہ میں سعیدہ بیگم وغیرہا کے سب گواہوں کے بیان کا خلاصہ فرمایا گیا یہاں تك کہ وہ بھی جو محض بے علاقہ تھے اور فاطمہ بیگم کے اتنے گواہوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا بلکہ صراحۃ تحریر فرمادیا کہ مدعیہ کی جانب سے صرف دو گواہ پیش ہوئے ہیں مگر نظر دقیق میں اس کی توجیہ قریب ممکن ہےفاطمہ بی بی کی طرف سے دس گواہ پیش ہوئے چھ مرد ضامن شاہ غلام ناصر خاں قاسم خاںمحمد علی خاںاحمد شاہ خاںعنبر شاہ خاںاور چار عوتیںاشرف بیگمنازنین بیگمابادی انتظام بیگم۔ان میں قاسم خاں تو محض اپنی ناواقفی بیان کرتا ہے او کچھ شہادت نہ دی محمد علی خاں نے لوگوں کی زبانی سننا بتایا اور وہ بھی یوں کہ پہلے کہا بہن کے ہاتھ بیچ ڈالاپھر کہا بیگم کے ہاتھ۔احمد شاہ خاں کا اتنا بیان ہے کہ بھاوج کے نام بیعنامہ لکھ دیا اس سے کسے انکار ہےیونہی عنبر شاہ خاں نے بائع کی زبانی سننا بیان کیا کہ میں نے یہ مکان بیگم سیدانی کے ہاتھ دوسوروپے کو بیچ ڈالا جس نے بیعنامہ رجسٹری کرادیا اس نے اگر اس گواہ کے سامنے اتناکہا تو اس سے بیع کی قطعیت نہیں سمجھی جاتیلہذا چاروں گواہ بیکار تھے صرف دو مرد اور چار عورتیں باقی رہیں ان کی گواہی ضرور عام مروج طور پر مفید فاطمہ بیگم واقع ہوئی ہےذی علم مجوزکی رائے میں دونوں مردوں کی گواہی مخدوش تھی تو باقی سب عورتیں رہ جائیں گی اور تنہا عورت کی شہادت مقبول
نہیںلہذا ان کے ذکر کی حاجت نہ جانی اور صرف دو کے بیان پر اقتصار فرمایا ایسی کمی سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔
جواب سوال چہارم
فیصلہ قابل منسوخی ہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۵۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لطافت حسین نے شمس النساء سے ایك لاکھ اسی ہزار ٹکے کا دینار سرخ پر جس کے سکہ وقت سے پانچ ہزار چھ سو بیس روپے ہوتے ہیں نکاح کیا۲۳ سال کے بعد اپنی ہمشیرہ مصاحب جان کے پاس ایك جزو مکان رہن رکھ کر دو ہزار دو سواکتالیس روپے قرض لئے ارو رہن نامہ میں لکھا کہ مکان اپنے قبضہ سے نکال کر قبضہ مرتہنہ میں دیا حالانکہ مکان ایك لمحہ کو بھی خالی نہ کیادو سال کے بعد لطافت حسین نے نومبر ۷۷ ء میں دو سو کے قرضے اپنے ذمے چھوڑ کر وفات پائیجائداد حسب رواج برادری کے متوفی کی اولاد ذکور نہ ہوتو زوجہ قابض و متصرف ہوتی ہے قبضہ شمس النساء میں آئیاب مصاحب جان اپنے دین کے مدعی ہے اور زوجہ دین مہر کے مطالبہ میں اپنے قبضہ ورواج مذکور سے استناد کرتی ہےاس صورت میں کس کا دین شرعا مقدم رہے گا ارو دین مہر کو دیگر دیون پر ترجیح ہے یانہیں اور شمس النساء کے بر بنائے رواج مذکور قبض وتصرف ہونا یا اس کا دین دین مصاحب جان سے پیشتر کا ہونا دعوی مصاحب جان کا مانع سماعت ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر مصاحب جان نے رہن مع القبض کا دعوی کیا یعنی دعوی اس بیان سے واقع ہواکہ وہ جز و مکان لطافت حسین نے میرے پاس رہن رکہا اور مجھے قبضہ دلادیا تھا پھر ثبوت میں لطافت حسین کے اس اقرار قبضہ پر جو رہن نامہ مذکور ہے گواہ شرعی دے دے اگرچہ خاص قبضہ کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا دعوی بیشك ثابت ہےرہن صحیح وتام و نافذ مانا جائے گا اور مکان پر اس کا قبضہ رہنا مرتہنہ کی طرف سے بطور عاریت خیال کریں گے۔علامہ شامی قد س سرہ السامی عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں فرماتے ہیں:
رہن دارہ واعترف بالقبض الاانہ لم یتصل بہ القبض فاذا تصادقا علی القبض والا قباض یؤخذ باقرارہ من رہن جواہر الفتاوی مکان رہن رکھا اور قبضہ دینے کا اعتراف کیا مگر عملا قبضہ نہ ہوا توجب دونوں فریق قبضہ لینے اور دینے پر متفق ہیں تو راہن کے اقرار کو لیا جائے گاایك شخص نے مکان رہن رکھا اور خود راہن ہی اس میں
جواب سوال چہارم
فیصلہ قابل منسوخی ہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۵۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لطافت حسین نے شمس النساء سے ایك لاکھ اسی ہزار ٹکے کا دینار سرخ پر جس کے سکہ وقت سے پانچ ہزار چھ سو بیس روپے ہوتے ہیں نکاح کیا۲۳ سال کے بعد اپنی ہمشیرہ مصاحب جان کے پاس ایك جزو مکان رہن رکھ کر دو ہزار دو سواکتالیس روپے قرض لئے ارو رہن نامہ میں لکھا کہ مکان اپنے قبضہ سے نکال کر قبضہ مرتہنہ میں دیا حالانکہ مکان ایك لمحہ کو بھی خالی نہ کیادو سال کے بعد لطافت حسین نے نومبر ۷۷ ء میں دو سو کے قرضے اپنے ذمے چھوڑ کر وفات پائیجائداد حسب رواج برادری کے متوفی کی اولاد ذکور نہ ہوتو زوجہ قابض و متصرف ہوتی ہے قبضہ شمس النساء میں آئیاب مصاحب جان اپنے دین کے مدعی ہے اور زوجہ دین مہر کے مطالبہ میں اپنے قبضہ ورواج مذکور سے استناد کرتی ہےاس صورت میں کس کا دین شرعا مقدم رہے گا ارو دین مہر کو دیگر دیون پر ترجیح ہے یانہیں اور شمس النساء کے بر بنائے رواج مذکور قبض وتصرف ہونا یا اس کا دین دین مصاحب جان سے پیشتر کا ہونا دعوی مصاحب جان کا مانع سماعت ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر مصاحب جان نے رہن مع القبض کا دعوی کیا یعنی دعوی اس بیان سے واقع ہواکہ وہ جز و مکان لطافت حسین نے میرے پاس رہن رکہا اور مجھے قبضہ دلادیا تھا پھر ثبوت میں لطافت حسین کے اس اقرار قبضہ پر جو رہن نامہ مذکور ہے گواہ شرعی دے دے اگرچہ خاص قبضہ کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا دعوی بیشك ثابت ہےرہن صحیح وتام و نافذ مانا جائے گا اور مکان پر اس کا قبضہ رہنا مرتہنہ کی طرف سے بطور عاریت خیال کریں گے۔علامہ شامی قد س سرہ السامی عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں فرماتے ہیں:
رہن دارہ واعترف بالقبض الاانہ لم یتصل بہ القبض فاذا تصادقا علی القبض والا قباض یؤخذ باقرارہ من رہن جواہر الفتاوی مکان رہن رکھا اور قبضہ دینے کا اعتراف کیا مگر عملا قبضہ نہ ہوا توجب دونوں فریق قبضہ لینے اور دینے پر متفق ہیں تو راہن کے اقرار کو لیا جائے گاایك شخص نے مکان رہن رکھا اور خود راہن ہی اس میں
وفیہا من الباب الخامس رجل رھن دارہ والراھن متصرف فیہ حتی مات ثم اختلاف المرتھن وورثہ الراہن انہ کان مقبوضا ام لافان اقام المرتہن البینۃ علی اقرار الراہن بالرھن والتسلیم یحکم بصحۃ الرھن ودعوی فك الرھن لا تقبل بظاھر ما کان فی یدالراہن لانہ لما ھکم علیہ باقرارہ بالرھن حمل علی ان الید کانت یدالعاریۃ اھ ۔ اپنی موت تك تصرف کرتا رہا پھر مرتہن اور راہن کے ورثاء میں قبضہ کے متعلق اختلاف ہوکہ مرتہن کا قبضہ تھا یا نہیں اگر مرتہن نے راہن کے اس اقرار کہ اس نے رہن رکھا اور قبضہ دے دیا پر گواہ پیش کردئے تو اس رہن کی صحت کا حکم کیا جائیگا اور رہن کے قبضہ کی بنا پر فساد رہن کا دعوی درست نہ ہوگا کیونکہ جب اس کے اقرار کی بنا پر فیصلہ ہوا ہے تو اس کے قبضہ کو عاریتا متصور کیا جائیگا اھ(ت)
پس رہن مرہون میں مصاحب جان کا استحقاق شمس النساء وغیرہا سب قرضخواہوں پر مقدم ہے پہلے اسی کا قرض اس سے ادا کریں گے اگر کچھ بچا مہر وغیرہ دیون کی طرف مصروف ہوگا ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
اذا مات الراہن وعلیہ دیون کثیرۃ کان المرتھن احق بالرہن کذافی المحیط ۔ راہن نے اپنی موت پر اپنے ذمہ کثیر دیون(قرضے)چھوڑے تو مرتہن اس رہن کا حقدار ہوگا جیساکہ محیط میں ہے(ت)
اسی میں ہے کہ:
فلیستوفی منہ دینہ فما فضل یکون لسائر الغرماء والورثۃ ۔ مرتہن اپنی رقوم وصول کرلے باقی زائد دوسرے حق داروں اور ورثاء کا ہوگا۔(ت)
اور یہاں مرہون کا مشاع یعنی جزء غیر منقسم ہونا اس حکم کا مانع نہ ہوگا کہ رہن مشاع مذہب صحیح پر فاسد ہے اور رہن میں فاسد و صحیح کا حکم واحدہے۔درمختار میں ہے:
لایصح رھن مشاع لعدم کونہ ممیزا غیر منقسم چیز کا رہن صحیح نہیں کیونکہ رہن ممتاز نہیں ہے
پس رہن مرہون میں مصاحب جان کا استحقاق شمس النساء وغیرہا سب قرضخواہوں پر مقدم ہے پہلے اسی کا قرض اس سے ادا کریں گے اگر کچھ بچا مہر وغیرہ دیون کی طرف مصروف ہوگا ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
اذا مات الراہن وعلیہ دیون کثیرۃ کان المرتھن احق بالرہن کذافی المحیط ۔ راہن نے اپنی موت پر اپنے ذمہ کثیر دیون(قرضے)چھوڑے تو مرتہن اس رہن کا حقدار ہوگا جیساکہ محیط میں ہے(ت)
اسی میں ہے کہ:
فلیستوفی منہ دینہ فما فضل یکون لسائر الغرماء والورثۃ ۔ مرتہن اپنی رقوم وصول کرلے باقی زائد دوسرے حق داروں اور ورثاء کا ہوگا۔(ت)
اور یہاں مرہون کا مشاع یعنی جزء غیر منقسم ہونا اس حکم کا مانع نہ ہوگا کہ رہن مشاع مذہب صحیح پر فاسد ہے اور رہن میں فاسد و صحیح کا حکم واحدہے۔درمختار میں ہے:
لایصح رھن مشاع لعدم کونہ ممیزا غیر منقسم چیز کا رہن صحیح نہیں کیونکہ رہن ممتاز نہیں ہے
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب الراہن ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۵۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الاول الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۵۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الاول الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۳۳€
ثم الصحیح انہ فاسد ۔ پھر صحیح قول پر یہ رہن فاسد ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
کل حکم عرف فی الرھن الصحیح فھو الحکم فی الرھن الفاسد کما فی العمادیۃ وفی کل موضع کان الرھن مالا والمقابل بہ مضمونا الاانہ فقد بعض شرائط الجواز کرھن المشاع ینعقد الرھن لوجود شرط الانعقادولکن بصفۃ الفساد کالفاسد من البیوع فمن مات ولہ غرماء فالمرتھن احق بہ کما فی الرھن الصحیح اھ ملخصین۔ جو حکم صحیح رہن میں معلوم ہواوہی حکم فاسد رہن میں جاری ہوگا جیساکہ عمادیہ میں ہے اور ہر وہ صورت جس میں رہن مال ہو اور اس کا مقابل مضمون چیز ہو مگر وہاں جوا ز کے بعض شرائط مفقود ہوں جیسے غیر منقسم کا جزء کا رہن رکھا جائے تو رہن منعقد ہوجائےگا کیونکہ انعقاد کی شرط پائی گئی ہے لیکن فاسد صفت کی وجہ سے بیع فاسد کی طرح ہوگی تو راہن اگر فوت ہوجائے اور کئی قرض خواہ ہوں تو مرتہن اس رہن کا زیادہ حقدار ہوگا جیساکہ صحیح رہن میں ہوتا ہے اھ دونوں عبارتیں ملخص ہیں۔(ت)
اور اگر مصاحب جان نے صرف رہن کا دعوی کیانہ قبضہ پانے کاتو دعوی رہن اصلا مسموع نہ ہوگا اگرچہ اس کے گواہوں نے لطافت حسین کے اقرارمذکور بلکہ خود معاینہ قبضہ پر گواہی دی ہو۔عقود الدریہ میں ہے:
ان ادعی المرتھن الرھن مع القبض یقبل برھانہ علیہما وان ادعی الرھن فقط لایقبل لان مجرد العقد لیس بلازم ولا تسمع البینۃ اذا اشھد وابمعاینۃ القبض او اقرار الراھن بہ لانہم شھدوا بشیئ زائد علی الدعوی لان مرتہن اگر رہن بمع قبضہ کا دعوی کرے تو ا س پر شہادت قبول کی جائے گیاورا گر صرف رہن کا دعوی کرے تو اس پر شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ محض عقد لازم نہیں ہوتا اور اگر گواہوں نے قبضہ کے معاینہ کی شہادت دی یا رہن کے اقرار کی کہ میں نے دیا ہےکی شہادت دی تو یہ گواہی قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ یہ زائد چیز کی شہادت ہے
اسی میں ہے:
کل حکم عرف فی الرھن الصحیح فھو الحکم فی الرھن الفاسد کما فی العمادیۃ وفی کل موضع کان الرھن مالا والمقابل بہ مضمونا الاانہ فقد بعض شرائط الجواز کرھن المشاع ینعقد الرھن لوجود شرط الانعقادولکن بصفۃ الفساد کالفاسد من البیوع فمن مات ولہ غرماء فالمرتھن احق بہ کما فی الرھن الصحیح اھ ملخصین۔ جو حکم صحیح رہن میں معلوم ہواوہی حکم فاسد رہن میں جاری ہوگا جیساکہ عمادیہ میں ہے اور ہر وہ صورت جس میں رہن مال ہو اور اس کا مقابل مضمون چیز ہو مگر وہاں جوا ز کے بعض شرائط مفقود ہوں جیسے غیر منقسم کا جزء کا رہن رکھا جائے تو رہن منعقد ہوجائےگا کیونکہ انعقاد کی شرط پائی گئی ہے لیکن فاسد صفت کی وجہ سے بیع فاسد کی طرح ہوگی تو راہن اگر فوت ہوجائے اور کئی قرض خواہ ہوں تو مرتہن اس رہن کا زیادہ حقدار ہوگا جیساکہ صحیح رہن میں ہوتا ہے اھ دونوں عبارتیں ملخص ہیں۔(ت)
اور اگر مصاحب جان نے صرف رہن کا دعوی کیانہ قبضہ پانے کاتو دعوی رہن اصلا مسموع نہ ہوگا اگرچہ اس کے گواہوں نے لطافت حسین کے اقرارمذکور بلکہ خود معاینہ قبضہ پر گواہی دی ہو۔عقود الدریہ میں ہے:
ان ادعی المرتھن الرھن مع القبض یقبل برھانہ علیہما وان ادعی الرھن فقط لایقبل لان مجرد العقد لیس بلازم ولا تسمع البینۃ اذا اشھد وابمعاینۃ القبض او اقرار الراھن بہ لانہم شھدوا بشیئ زائد علی الدعوی لان مرتہن اگر رہن بمع قبضہ کا دعوی کرے تو ا س پر شہادت قبول کی جائے گیاورا گر صرف رہن کا دعوی کرے تو اس پر شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ محض عقد لازم نہیں ہوتا اور اگر گواہوں نے قبضہ کے معاینہ کی شہادت دی یا رہن کے اقرار کی کہ میں نے دیا ہےکی شہادت دی تو یہ گواہی قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ یہ زائد چیز کی شہادت ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الرھن باب مایجوز ارتہانہ الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۸€
درمختار کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۹€
درمختار کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۹€
فرض المسئلۃ ان المرتہن لم یذکر القبض فی دعواہ وایضا فان الصحۃ الدعوی شرط صحۃ الشھادۃ اھ ملخصا۔ اس لئے کہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ مرتہن نے اپنے دعوی میں قبضہ کو ذکر نہ کیا ہو اور نیز اس لئے کہ دعوی کا صحیح ہونا شہادت کی صحت کےلئے شرط ہے اھ ملخصا۔(ت)
اور اگر دعوی میں قبضہ پالینے کا ذکر تو کیا مگر حصول قبض یا لطافت حسین کے اقرارمذکور پر گواہ نہ دے سکے تو بھی اس کا استحقاق مرتہنانہ نہ ثابت ہوگا اور اب مکان کا خالی نہ کیا جانا بیشك اس کے دعوی رہن پر ضرر کا اثر ڈالے گا کہ رہن بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔ ردالمحتار میں عنایہ سے ہے:القبض شرط تمام العقد (رہن میں قبضہ عقد کے تمام ہونے کے لئے شرط ہے۔ت) تو قبل قبضہ مرتہن کا حق مرہون میں حاصل نہ ہوا۔عالمگیریہ میں ہے:
مالم یقبضہ المرتہن لایثبت حکم ید الرھن لہ ۔ جب تك مرتہن اس پر قبضہ نہ کر لے اس وقت تك رہن کو اس کا مقبوض نہیں قرار دیا جاسکتا(ت)
ولہذا راہن کو قبل تسلیم اختیار رہتا ہے کہ رہن سے رجوع کرجائے اور مرتہن کو مرہون پر قبضہ نہ دے۔درمختار میں ہے:
ینعقد بایجاب و قبول حال کونہ غیر لازم فللراھن تسلیمہ والرجوع عنہ کما فی الھبۃ ۔ رہن کا انعقاد ایجاب و قبول سے ہوتا ہے جب کہ وہ ابھی غیر لازم ہوتا ہے تو راہن کو ابھی حق ہے کہ وہ مرتہن کو سونپ دے یا رجوع کرلے جیسا کہ ہبہ کا حکم ہے۔(ت)
اور صرف دستاویز میں لطافت حسین کا اقرار مزبور لکھا ہونا ثبوت کےلئے کافی نہ ہوگا جب تك اس اقرار پر گواہان شرعی نہ پیش کرے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل مات مدیونا لغرماء ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جومقروض
اور اگر دعوی میں قبضہ پالینے کا ذکر تو کیا مگر حصول قبض یا لطافت حسین کے اقرارمذکور پر گواہ نہ دے سکے تو بھی اس کا استحقاق مرتہنانہ نہ ثابت ہوگا اور اب مکان کا خالی نہ کیا جانا بیشك اس کے دعوی رہن پر ضرر کا اثر ڈالے گا کہ رہن بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔ ردالمحتار میں عنایہ سے ہے:القبض شرط تمام العقد (رہن میں قبضہ عقد کے تمام ہونے کے لئے شرط ہے۔ت) تو قبل قبضہ مرتہن کا حق مرہون میں حاصل نہ ہوا۔عالمگیریہ میں ہے:
مالم یقبضہ المرتہن لایثبت حکم ید الرھن لہ ۔ جب تك مرتہن اس پر قبضہ نہ کر لے اس وقت تك رہن کو اس کا مقبوض نہیں قرار دیا جاسکتا(ت)
ولہذا راہن کو قبل تسلیم اختیار رہتا ہے کہ رہن سے رجوع کرجائے اور مرتہن کو مرہون پر قبضہ نہ دے۔درمختار میں ہے:
ینعقد بایجاب و قبول حال کونہ غیر لازم فللراھن تسلیمہ والرجوع عنہ کما فی الھبۃ ۔ رہن کا انعقاد ایجاب و قبول سے ہوتا ہے جب کہ وہ ابھی غیر لازم ہوتا ہے تو راہن کو ابھی حق ہے کہ وہ مرتہن کو سونپ دے یا رجوع کرلے جیسا کہ ہبہ کا حکم ہے۔(ت)
اور صرف دستاویز میں لطافت حسین کا اقرار مزبور لکھا ہونا ثبوت کےلئے کافی نہ ہوگا جب تك اس اقرار پر گواہان شرعی نہ پیش کرے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل مات مدیونا لغرماء ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جومقروض
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الرہن ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۹€
ردالمحتار بحوالہ العنایۃ کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۹۲€
درمختار کتاب الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۵€
ردالمحتار بحوالہ العنایۃ کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۱۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۹۲€
درمختار کتاب الرہن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۵€
متعدد ین وقد کان رہن بدین احدھم مشاعا واظہر المرتھن محضرا وفیہ الحکم بصحتہ ولزومہ ھل یختص المرتھن بہ فی وفاء دینہ ام لااجاب المقر عند علماء الحنفیۃ انہ لا اعتبار بمجرد الخط ولا التفات الیہ اذحجج الشرعیۃ ثلثۃ وھی البینۃ و الاقرار والنکول کما صرح بہ فی اقرار الخانیۃ فلا اعتبار بمجرد المحضر المذکور ولا التفات الیہ الا اذا ثبت مضمونہ بالوجہ الشرعی اعنی باحدی الحجج الشرعیۃ المشار الیہا (ملتقطا) تھا اس کے متعدد لوگ قرض خو رتھے جبکہ ان میں سے ایك کا قرض غیر منقسم رہن کے بدلے میں تھا تو اس مرتہن نے محضر نامہ دکھایا جس میں رہن کی صحت اور اس کے لزوم کا حکم تھا تو کیا اس مرتہن کو حق ہے کہ رہن کو اپنے قرض کے عوض اپنے لئے مختص کرلے یا اس کو یہ حق نہیںتو جواب دیا کہ علمائے احناف کے ہاں یہ بات طے شدہ ہے کہ محض خط قابل اعتبار اور قابل التفات نہیں ہے کیونکہ شرعی حجت تین چیزیں ہیں:گواہیاقرار اور قسم سے انکار جیسا کہ خانیہ میں اقرار کی بحث میں تصریح ہے لہذا مذکور محضر نامہ اعتبار و التفات کے قابل نہیں جب تك اس کے مضمون کو کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ کردیا جائے(ملتقطا)۔(ت)
ان دونوں صورتوں میں مصاحب جان کا دین مثل باقی دیون کے سمجھا جائے گا اور اس کو استحقاق تقدم شمس النساء پر نہ ہوگا کہ ذریعہ تقدم استحقاق مرتہن ہی تھا اور وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچامگر جس طرح شمس النساء پر ترجیح نہیں شمس النساء کو بھی اس پر کوئی تفصیل نہیں کہ آخر جائداد و مہر میں بھی رہن نہ تھی اور مصاحب جان کا دین بھی دین صحت سے ہے اور مہر کو کسی دین صحت پر تقدم نہیں کہ وہ بھی مثل سائردیون کے ایك دین ہےدرمختارکے باب نکاح الرقیق میں ہے:
وسادت المرأۃ الغرماء فی مھر مثلھا ۔ بیوی اپنے مہر مثل کی حد تك دیگر قرضخواہوں کے مساوی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فیہ تصریح بان المھر کسائر اس میں یہ تصریح ہے کہ مہر بھی دوسرے
ان دونوں صورتوں میں مصاحب جان کا دین مثل باقی دیون کے سمجھا جائے گا اور اس کو استحقاق تقدم شمس النساء پر نہ ہوگا کہ ذریعہ تقدم استحقاق مرتہن ہی تھا اور وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچامگر جس طرح شمس النساء پر ترجیح نہیں شمس النساء کو بھی اس پر کوئی تفصیل نہیں کہ آخر جائداد و مہر میں بھی رہن نہ تھی اور مصاحب جان کا دین بھی دین صحت سے ہے اور مہر کو کسی دین صحت پر تقدم نہیں کہ وہ بھی مثل سائردیون کے ایك دین ہےدرمختارکے باب نکاح الرقیق میں ہے:
وسادت المرأۃ الغرماء فی مھر مثلھا ۔ بیوی اپنے مہر مثل کی حد تك دیگر قرضخواہوں کے مساوی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فیہ تصریح بان المھر کسائر اس میں یہ تصریح ہے کہ مہر بھی دوسرے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲€
درمختار کتاب النکاح الرقیق ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۵€
درمختار کتاب النکاح الرقیق ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۵€
الدیون ۔ قرضوں کی طرح ہے۔(ت)
مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں ہے:
سئل فی رجل مات عن زوجتہ وعلیہ دیون لجماعۃ استدان فی صحتہ فھل تکون ھی اسوۃ الغرماء اجاب نعم اھ ملخصا۔ ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے متعدد قرضخواہ چھوڑے اور فوت ہونے پر بیوی کا مہر بھی اسکے ذمہ تھا جبکہ دیگر قرضے اس نے زندگی اور صحت میں لئے تھے تو بیوی دیگر قرضخواہوں کے مساوی ہوگی یانہیںتو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں مساوی ہوگی اھ ملخصا(ت)
نہ کسی دین کا پہلے ہونا دوسرے پر باعث رجحان ہوسکےنہ ایك قرضخواہ کے بطور خود جائداد مدیون پر قبضہ کرلینا دوسرے دائنوں کا حق ساقط کرسکےنہ برادری کا وہ اختراعی رواج حقوق شرعیہ کا مزاحم بن سکے۔یہ سب امور واضحات جلیلہ ہیں جنہیں ادنی فہم وتمیز رکھنے والا آفتاب کے مثل ظاہر وروشن جانتا ہے۔پس اس تقدیر پر تمام متروکہ سے بعد صرف تجہیز وتکفین مصاحب جان کا قرض اور شمس النساء کامہر اور ان کے سوا اور جو دین ذمہ لطافت حسین ہو سب ایك ساتھ حصہ رسد ادا کئے جائیں گے ایك کو دوسرے پرترجیح ہو گی مثلا قرض کے لطافت حسین پر بس یہی دو دین ہیں اور جائداد ان کو کافی خواہ ان سے زائد ہے تو دونوں دائنہ پورا پورا اپنااپنا دین وصول کرلیں ورنہ قیمت ترکہ کو ۷۸۶۱ سہام پر منقسم کرکے ۵۶۲۰سہام شمس النساء اور ۲۲۴۱ سہام مصاحب جان کو دیں کہ دونوں اس نسبت سے اپنے اپنے حق کو پہنچیں۔بالجملہ حق شمس النساء کو بجہت مہریت خواہ تقدم و قوع خواہ رواج برادریاصلا تقدم نہیں ہوسکتا۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: ازشہر کہنہ بریلی ۱۸محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے مکان کے سمت جنوب زیر دیوار خام پشتہ عرض میں ۱۴ گرہ قدیم الایام سے واسطے حفاظت دیوار کے بنا ہوا ہے اور اسی دیوار میں ایك سمت کو بدر و کہ جس میں ہمیشہ سے پانی پاخانے اور بارش مکان خود و مکان برادر خود کا نکلتا ہے۔یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ متصل پشتہ دیوار قدیم مذکورہ بالا کے اراضی افتادہ ہے جس پر ہمیشہ یہ گزر گاہ عام تھی عمرو نے
مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں ہے:
سئل فی رجل مات عن زوجتہ وعلیہ دیون لجماعۃ استدان فی صحتہ فھل تکون ھی اسوۃ الغرماء اجاب نعم اھ ملخصا۔ ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے متعدد قرضخواہ چھوڑے اور فوت ہونے پر بیوی کا مہر بھی اسکے ذمہ تھا جبکہ دیگر قرضے اس نے زندگی اور صحت میں لئے تھے تو بیوی دیگر قرضخواہوں کے مساوی ہوگی یانہیںتو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں مساوی ہوگی اھ ملخصا(ت)
نہ کسی دین کا پہلے ہونا دوسرے پر باعث رجحان ہوسکےنہ ایك قرضخواہ کے بطور خود جائداد مدیون پر قبضہ کرلینا دوسرے دائنوں کا حق ساقط کرسکےنہ برادری کا وہ اختراعی رواج حقوق شرعیہ کا مزاحم بن سکے۔یہ سب امور واضحات جلیلہ ہیں جنہیں ادنی فہم وتمیز رکھنے والا آفتاب کے مثل ظاہر وروشن جانتا ہے۔پس اس تقدیر پر تمام متروکہ سے بعد صرف تجہیز وتکفین مصاحب جان کا قرض اور شمس النساء کامہر اور ان کے سوا اور جو دین ذمہ لطافت حسین ہو سب ایك ساتھ حصہ رسد ادا کئے جائیں گے ایك کو دوسرے پرترجیح ہو گی مثلا قرض کے لطافت حسین پر بس یہی دو دین ہیں اور جائداد ان کو کافی خواہ ان سے زائد ہے تو دونوں دائنہ پورا پورا اپنااپنا دین وصول کرلیں ورنہ قیمت ترکہ کو ۷۸۶۱ سہام پر منقسم کرکے ۵۶۲۰سہام شمس النساء اور ۲۲۴۱ سہام مصاحب جان کو دیں کہ دونوں اس نسبت سے اپنے اپنے حق کو پہنچیں۔بالجملہ حق شمس النساء کو بجہت مہریت خواہ تقدم و قوع خواہ رواج برادریاصلا تقدم نہیں ہوسکتا۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: ازشہر کہنہ بریلی ۱۸محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے مکان کے سمت جنوب زیر دیوار خام پشتہ عرض میں ۱۴ گرہ قدیم الایام سے واسطے حفاظت دیوار کے بنا ہوا ہے اور اسی دیوار میں ایك سمت کو بدر و کہ جس میں ہمیشہ سے پانی پاخانے اور بارش مکان خود و مکان برادر خود کا نکلتا ہے۔یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ متصل پشتہ دیوار قدیم مذکورہ بالا کے اراضی افتادہ ہے جس پر ہمیشہ یہ گزر گاہ عام تھی عمرو نے
حوالہ / References
ردالمحتار باب النکاح الرقیق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۷۵€
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
اس کو اپنا مقبوضہ کرکے باغیچہ لگایا ہے اب عمرو نے تھوڑا حصہ پشتہ مذکور کا غیبت میں زید کے کاٹ ڈالا اور بقیہ پشتہ موجود ہے اس میں ایك درخت ناشپاتی کا عمرو نے پشتہ مذکور کھود کر نصب کیا ہے۔صرف غرض عمرو کی ان تصرفات سے یہ ہے کہ پشتہ مذکور کھود کر بدرو مذکور بند کرکے ایك مکان دیوار زید سے ملا کر بنایا جائےآیا یہ تصرفات مذکورہ عمرو کے جائز ہیں یا ناجائز حق ہیں یاناحق اور پشتہ ملکیت زید میں داخل ہے یانہیں اور آب جاری بدروکو عمرو بند کرسکتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
پشتہ قبضہ ہے اور قبضہ دلیل ملکعمرو جب تك گواہان عادل شرعی ثابت نہ کرے کہ زمین پشتہ اس کی ملك ہے اسے اس کا کھود ناجائز نہیںاور جب کہ بدر و قدیم سے ہے اور مکان کا ڈھال اس طرف ہمیشہ سےتو زید کےلئے اس زمین میں پانی بہانے کا حق حاصل ہےعمرو کو ہرگز جائز نہیں کہ دیوار بنا کر بد رو بند کردے اور کسی طرح اسے پاٹ دے یا اجرائے آب سے منع کرے اس کے یہ سب تصرفات ناحق ہوں گے۔
فی الھندیۃ عن محیط الامام شمس الائمۃ السرخسی عن الامام الفقیۃ ابی اللیث عن مشائخنا قدست اسرارھم انہم استحسنوا ان المیزاب اذاکان قدیما وکان تصویب السطح الی دارہ وعلم ان التصویب قدیم ولیس بمحدث ان یجعل لہ حق التسییل اھ وفیہا عن البدائع لواراداھل الداران یبنواحائطا لیسدوا مسیلہ اوارادوا ان ینقلو المیزاب من موضعہ او یر فعوہ او یسفلوہ لم یکن لھم ذلك ولو بنی اھل الدار بنا لیسیل میزابہ ہندیہ میں امام شمس الائمہ سرخسی سے انہوں نے امام فقیہ ابواللیث سے انہوں نے ہمارے مشائخ قدست اسرارھم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے قدیم پرنالہ جس کا پانی دوسرے کی حویلی کی چھت پر گرتا ہےاور واضح طور پر معلوم ہو کہ یہ پرنالہ قدیم ہے جدید نہیں ہےکے متعلق استحسان کے طور پر فرمایا کہ اس پرنالہ والے کو حق ہے کہ وہ اس کو بہاؤ کے لئے قائم رکھے اھاور اس میں بدائع سے منقول ہے کہ اگر حویلی والےاس پرنالہ کاپانی روکنے کے لیے دیوار بنانا چاہیں یا اس پرنالہ کو وہاں سے ہٹانا چاہیں یا اونچا نیچا کرنا چاہیں تو ان کو یہ اختیار نہیں ہوگا ہاں اگر حویلی والے کوئی ایسی عمارت بنائیں جس کا پرنالہ اس کی
الجواب:
پشتہ قبضہ ہے اور قبضہ دلیل ملکعمرو جب تك گواہان عادل شرعی ثابت نہ کرے کہ زمین پشتہ اس کی ملك ہے اسے اس کا کھود ناجائز نہیںاور جب کہ بدر و قدیم سے ہے اور مکان کا ڈھال اس طرف ہمیشہ سےتو زید کےلئے اس زمین میں پانی بہانے کا حق حاصل ہےعمرو کو ہرگز جائز نہیں کہ دیوار بنا کر بد رو بند کردے اور کسی طرح اسے پاٹ دے یا اجرائے آب سے منع کرے اس کے یہ سب تصرفات ناحق ہوں گے۔
فی الھندیۃ عن محیط الامام شمس الائمۃ السرخسی عن الامام الفقیۃ ابی اللیث عن مشائخنا قدست اسرارھم انہم استحسنوا ان المیزاب اذاکان قدیما وکان تصویب السطح الی دارہ وعلم ان التصویب قدیم ولیس بمحدث ان یجعل لہ حق التسییل اھ وفیہا عن البدائع لواراداھل الداران یبنواحائطا لیسدوا مسیلہ اوارادوا ان ینقلو المیزاب من موضعہ او یر فعوہ او یسفلوہ لم یکن لھم ذلك ولو بنی اھل الدار بنا لیسیل میزابہ ہندیہ میں امام شمس الائمہ سرخسی سے انہوں نے امام فقیہ ابواللیث سے انہوں نے ہمارے مشائخ قدست اسرارھم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے قدیم پرنالہ جس کا پانی دوسرے کی حویلی کی چھت پر گرتا ہےاور واضح طور پر معلوم ہو کہ یہ پرنالہ قدیم ہے جدید نہیں ہےکے متعلق استحسان کے طور پر فرمایا کہ اس پرنالہ والے کو حق ہے کہ وہ اس کو بہاؤ کے لئے قائم رکھے اھاور اس میں بدائع سے منقول ہے کہ اگر حویلی والےاس پرنالہ کاپانی روکنے کے لیے دیوار بنانا چاہیں یا اس پرنالہ کو وہاں سے ہٹانا چاہیں یا اونچا نیچا کرنا چاہیں تو ان کو یہ اختیار نہیں ہوگا ہاں اگر حویلی والے کوئی ایسی عمارت بنائیں جس کا پرنالہ اس کی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۴€
علی ظھرہ لھم ذلك ۔واﷲتعالی اعلم۔ چھت پر گرے تو ان کو جائز ہوگا۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۵۲: ازریاست رامپور محلہ شاہ شور مرسلہ جناب مولنا مولوی محمد سلامت اﷲصاحب ۲۳/ صفر ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان مع چند دکاکین منجملہ مکانات اپنے کے بتعیین ہر چہار حدود جس کے سمت شرق و سمت شمال میں دیگر مکانات واقف تحریر ہیں وقف کیا اور متولی اس کا بکر کو کردیابکر کی جانب سے کرایہ دار موقوفہ میں کرایہ پر رہتے ہیں اور بکر بوصولی زر کرایہ مصرف خیرکرتا ہے ایك جزو مکان منجملہ موقوفہ کے کرایہ پر عمرو کو بکر متولی نے بوساطت خالد کے دیا اس نے سات مہینے کا کرایہ ادا نہ کیا تو بکر نے دعوی تخلیہ کاکیاعمر ومنکر ہو ا او ر ظاہر کیا کہ زینب و کلثوم سے کرایہ پر لیا ہےعدالت نے حکما زینب وکلثوم کو بھی بکر متولی سے مدعا علیہما بنوایا۔زینب وکلثوم کا بیان یہ ہے کہ یہ مکان متنازعہ متروکہ محسن پدر واقف کا ہےبعد فوت محسن مذکور کے ایك زید او دوسرا حسن پدر مایاں دوابن اور مسماۃ ہندہ زوجہ سہ کس وارث مع الحصرر ہےاول حسن فوت ہوا اسکے وارث زید اخاور ہندہ ام و مایاں دو بنات پھر ہندہ فوت ہوئی زید پسر اس کا وارث رہاشیئ متروکہ وقف مشاع ہوا کہ وہ کسی طرح جائز نہیںاورعمرو ہمارا کرایہ دار ہےبجواب اس کے متولی نے لکھا کہ مورث مدعا علیہما مقربر ملکیت واقف رہا ہے اور مدعا علیہما کو بھی وقف اور دیگر مکانات واقف تسلیم ہیںزینب و کلثوم سے ثبوت طلب ہوا مدعا علیہما نے ایك بیعنامہ اسمی محسن پیش کیا جو مدعی کو تسلیم نہیں ہے اور جو گواہ پیش کئے ہیں وہ سماعی ہیں۔ مدعی نے ثبوت تسلیم وقف وملکیت وقف جو مکانات جانب شرق و شمال بعد فوت واقف کے و عزیز عم و وارث بالحصر واقف سے مدعا علیہما نے خرید ی ہیں جس کے بیع نامہ کے حد غرب میں مکان موقوفہ تحریر ہے پیش کیا اور گواہ جن کو عدالت نے بھی ثقات تسلیم کیا ہے بر ثبوت دادن مکان متنازعہ پر کرایہ بہ عمرو واقرار حسن پدر مدعا علیہما بملکیت واقف قبل از وقف سماعت کرائے ہیں جس کے بیان سے ثبوت بخوبی ہے جب کہ مکانات ملحقہ موقوفہ مدعا علیہما نے بہ تسلیم ملك واقف و تسلیم وقف حسب صراحت صدر خریدے ہیں جن کابیع نامہ متولی نے پیش کیا ہے اور گواہان متولی سے کرایہ پر دینا اور اقرار پدر مدعا علیہما بملك وقف ثابت ہے اور کاغذ وقف جو مسلمہ مدعا علیہما ہے وہ بھی موجود ہے ایسی حالت میں عدالت
مسئلہ۱۵۲: ازریاست رامپور محلہ شاہ شور مرسلہ جناب مولنا مولوی محمد سلامت اﷲصاحب ۲۳/ صفر ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان مع چند دکاکین منجملہ مکانات اپنے کے بتعیین ہر چہار حدود جس کے سمت شرق و سمت شمال میں دیگر مکانات واقف تحریر ہیں وقف کیا اور متولی اس کا بکر کو کردیابکر کی جانب سے کرایہ دار موقوفہ میں کرایہ پر رہتے ہیں اور بکر بوصولی زر کرایہ مصرف خیرکرتا ہے ایك جزو مکان منجملہ موقوفہ کے کرایہ پر عمرو کو بکر متولی نے بوساطت خالد کے دیا اس نے سات مہینے کا کرایہ ادا نہ کیا تو بکر نے دعوی تخلیہ کاکیاعمر ومنکر ہو ا او ر ظاہر کیا کہ زینب و کلثوم سے کرایہ پر لیا ہےعدالت نے حکما زینب وکلثوم کو بھی بکر متولی سے مدعا علیہما بنوایا۔زینب وکلثوم کا بیان یہ ہے کہ یہ مکان متنازعہ متروکہ محسن پدر واقف کا ہےبعد فوت محسن مذکور کے ایك زید او دوسرا حسن پدر مایاں دوابن اور مسماۃ ہندہ زوجہ سہ کس وارث مع الحصرر ہےاول حسن فوت ہوا اسکے وارث زید اخاور ہندہ ام و مایاں دو بنات پھر ہندہ فوت ہوئی زید پسر اس کا وارث رہاشیئ متروکہ وقف مشاع ہوا کہ وہ کسی طرح جائز نہیںاورعمرو ہمارا کرایہ دار ہےبجواب اس کے متولی نے لکھا کہ مورث مدعا علیہما مقربر ملکیت واقف رہا ہے اور مدعا علیہما کو بھی وقف اور دیگر مکانات واقف تسلیم ہیںزینب و کلثوم سے ثبوت طلب ہوا مدعا علیہما نے ایك بیعنامہ اسمی محسن پیش کیا جو مدعی کو تسلیم نہیں ہے اور جو گواہ پیش کئے ہیں وہ سماعی ہیں۔ مدعی نے ثبوت تسلیم وقف وملکیت وقف جو مکانات جانب شرق و شمال بعد فوت واقف کے و عزیز عم و وارث بالحصر واقف سے مدعا علیہما نے خرید ی ہیں جس کے بیع نامہ کے حد غرب میں مکان موقوفہ تحریر ہے پیش کیا اور گواہ جن کو عدالت نے بھی ثقات تسلیم کیا ہے بر ثبوت دادن مکان متنازعہ پر کرایہ بہ عمرو واقرار حسن پدر مدعا علیہما بملکیت واقف قبل از وقف سماعت کرائے ہیں جس کے بیان سے ثبوت بخوبی ہے جب کہ مکانات ملحقہ موقوفہ مدعا علیہما نے بہ تسلیم ملك واقف و تسلیم وقف حسب صراحت صدر خریدے ہیں جن کابیع نامہ متولی نے پیش کیا ہے اور گواہان متولی سے کرایہ پر دینا اور اقرار پدر مدعا علیہما بملك وقف ثابت ہے اور کاغذ وقف جو مسلمہ مدعا علیہما ہے وہ بھی موجود ہے ایسی حالت میں عدالت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۶€
بموجب مسائل شرعی بجواز تخلیہ مکان کا کرایہ دار سے کرائے گی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عمرو ومستاجر کی بدنیتی اور اس سے وقف کوضرر پہنچنے کا اندیشہ صاف ظاہر ہے یہاں تك کہ اس نے اپنے بیان سے یہ چاہا کہ سرے سے وقف ہی کو معدوم کرےلاجرم حاکم پر فرض قطعی ہے کہ فورا فورا بلا توقف مکان اس سے خالی کراکر متوفی کو سپرد کرے اگرچہ ہنوز مدت اجارہ کتنی ہی باقی ہو کہ ایسی صورت میں فسخ اجارہ لازم ہے۔الاسعاف فی احکام الاوقاف میں ہے:
لوتبین ان المستاجر یخاف منہ علی رقبۃ الوقف یفسخ القاضی الاجارۃ ویخرجہ من یدہ ۔ اگر مستاجر سے یہ خطرہ واضح ہو کہ وہ وقف جائداد کو نقصان پہنچائے گا تو قاضی اس اجارہ کو فسخ کردے اور اس کے قبضہ کو ختم کردے۔(ت)
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر اجرت مثل زائد ہوجائے اور مستاجر کرایہ بڑھانے سے انکار کرے تو اجارہ فسخ کردیا جائیگا نہ کہ جب اصلا کرایہ دینا ہی نہ چاہے۔درمختار میں قبیل مایجوز من الاجارۃ ہے:
وان کانت لزیادۃ اجر المثل فالمختار قبولھا فیفسخھا المتوفی فان امتنع فالقاضی ثم یؤجرھا ممن یزاد ۔ اگر زائد کرایہ ملتا ہو تو دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز اور مختار ہےمتولی پہلے اجارہ کو فسخ کردے اگر وہ نہ کرے تو قاضی فسخ کرکے زائد دینے والے کو اجارہ پر دے۔(ت)
غرض یہاں حکم اس قدر تھا کہ اجارہ فسخ اور تخلیہ لازماس سے زائد جو کارروائیاں اس مقدمے میں ہوئیں کہ عمرو کے مجرد بیان پر زینب و کلثوم کو اس دعوی کا مدعا علیہ بنوایا گیا ان کا جواب داخل ہوا متولی سے اس کا رد لیا گیا سب محض لغو وفضول و بے معنی ہیں ان کی طرف توجہ اصلا روانہ تھینہ ان کے سبب متولی کو ڈگری دینے میں ایك منٹ کی تاخیر حلال تھینہ ہے۔مدعا علیہ کا صرف زبانی بیان کہ میں نے فلاں سے اجارہ لیا ہے اصلا قابل سماعت نہیں ہوتانہ اس کے سبب خصومت اس سے چھوڑ کر فلاں کی طرف متعدی ہوسکتی ہے بلکہ وہی مدعا علیہ رہتا ہے اور جب مدعی اس پر
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عمرو ومستاجر کی بدنیتی اور اس سے وقف کوضرر پہنچنے کا اندیشہ صاف ظاہر ہے یہاں تك کہ اس نے اپنے بیان سے یہ چاہا کہ سرے سے وقف ہی کو معدوم کرےلاجرم حاکم پر فرض قطعی ہے کہ فورا فورا بلا توقف مکان اس سے خالی کراکر متوفی کو سپرد کرے اگرچہ ہنوز مدت اجارہ کتنی ہی باقی ہو کہ ایسی صورت میں فسخ اجارہ لازم ہے۔الاسعاف فی احکام الاوقاف میں ہے:
لوتبین ان المستاجر یخاف منہ علی رقبۃ الوقف یفسخ القاضی الاجارۃ ویخرجہ من یدہ ۔ اگر مستاجر سے یہ خطرہ واضح ہو کہ وہ وقف جائداد کو نقصان پہنچائے گا تو قاضی اس اجارہ کو فسخ کردے اور اس کے قبضہ کو ختم کردے۔(ت)
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر اجرت مثل زائد ہوجائے اور مستاجر کرایہ بڑھانے سے انکار کرے تو اجارہ فسخ کردیا جائیگا نہ کہ جب اصلا کرایہ دینا ہی نہ چاہے۔درمختار میں قبیل مایجوز من الاجارۃ ہے:
وان کانت لزیادۃ اجر المثل فالمختار قبولھا فیفسخھا المتوفی فان امتنع فالقاضی ثم یؤجرھا ممن یزاد ۔ اگر زائد کرایہ ملتا ہو تو دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز اور مختار ہےمتولی پہلے اجارہ کو فسخ کردے اگر وہ نہ کرے تو قاضی فسخ کرکے زائد دینے والے کو اجارہ پر دے۔(ت)
غرض یہاں حکم اس قدر تھا کہ اجارہ فسخ اور تخلیہ لازماس سے زائد جو کارروائیاں اس مقدمے میں ہوئیں کہ عمرو کے مجرد بیان پر زینب و کلثوم کو اس دعوی کا مدعا علیہ بنوایا گیا ان کا جواب داخل ہوا متولی سے اس کا رد لیا گیا سب محض لغو وفضول و بے معنی ہیں ان کی طرف توجہ اصلا روانہ تھینہ ان کے سبب متولی کو ڈگری دینے میں ایك منٹ کی تاخیر حلال تھینہ ہے۔مدعا علیہ کا صرف زبانی بیان کہ میں نے فلاں سے اجارہ لیا ہے اصلا قابل سماعت نہیں ہوتانہ اس کے سبب خصومت اس سے چھوڑ کر فلاں کی طرف متعدی ہوسکتی ہے بلکہ وہی مدعا علیہ رہتا ہے اور جب مدعی اس پر
حوالہ / References
الاسعاف فی احکام الاوقاف
درمختار کتاب الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۱€
درمختار کتاب الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۱€
اقامت بینہ کردے جیساکہ یہاں واقع ہوا فورا مقدمہ اپنی نہایت کو پہنچتا اور حاکم پر فرض ہوتا ہے کہ مدعی کو ڈگری دے۔در مختار میں ہے:
قال ذوالید ھذا المدعی بہ منقولا کان او عقار ااودعنیہ او اعارنیہ او اجر نیہ او رھننیہ زیدالغائب وبرھن علی ماذکردفعت خصومۃ المدعی للملك المطلق ۔(ملخصا) قابض نے کہا کہ مدعی جس چیز کا دعوی کر رہا ہے اس کو میرے پاس زید نے جو غیر حاضر ہے نے امانت رکھا یا کہے اس نے عاریتا یا اجرت پر دیا یا رہن رکھا ہے وہ چیز منقولہ ہو یا غیر منقولہاو مدعی نے گواہی پیش کی ہو تو اس چیزمیں مدعی کا دعوی ملك مطلق کے طور پر ثابت رہے گا(ملخصا)۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
وان لم یقم البینۃ فھو خصم فی ظاہر الروایۃ عن اصحابنا رحمھم اﷲ تعالی کذافی المحیط ۔ اگرچہ مدعی گواہی پیش نہ کرے تب بھی ظاہر روایت کے مطابق وہ فریق ہوگا جیسا کہ ہمارے اصحاب سے مروی ہے محیط میں یوں ہے(ت)
اس فلاں کو(کہ زینب وکلثوم ہیں)مدعا علیہ بنانا اور اس کے لئے مقدمے کو روکنا صراحۃ شرع مطہر کے خلاف و گناہ ہوا۔غمز العیون میں ہے:
یجب علی القاضی الحکم بمقتضی الدعوی عند قیام البینۃ علی سبیل الفور فلو اخر اثم لترکہ الواجب و ھو قضاؤہ بھا ویعزل ویعزر کما فی جامع الفصولین ۔ دعوی پر جب گواہی ہوگئی تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ فورا دعوی کے مطابق فیصلہ دے اگر وہ تاخیر کرے تو گنہگار ہوگا او وہ قابل معزول و تعزیر ہوگا جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔(ت)
طرہ یہ کہ زینب وکلثوم اس دعوی تخلیہ کی مدعا علیہ بن نہیں سکتیں کہ مکان ان کے قبضہ میں نہیںغیر قابض سے تخلیہ چاہنا کیا معنینہ غیر ذی الید پر غیر فعل کا دعوی ہوسکے۔اشباہ میں ہے:
الدعوی علی غیر ذی الید لا تسمع غیر قابض پر دعوی قابل سماعت نہ ہوگا الا
قال ذوالید ھذا المدعی بہ منقولا کان او عقار ااودعنیہ او اعارنیہ او اجر نیہ او رھننیہ زیدالغائب وبرھن علی ماذکردفعت خصومۃ المدعی للملك المطلق ۔(ملخصا) قابض نے کہا کہ مدعی جس چیز کا دعوی کر رہا ہے اس کو میرے پاس زید نے جو غیر حاضر ہے نے امانت رکھا یا کہے اس نے عاریتا یا اجرت پر دیا یا رہن رکھا ہے وہ چیز منقولہ ہو یا غیر منقولہاو مدعی نے گواہی پیش کی ہو تو اس چیزمیں مدعی کا دعوی ملك مطلق کے طور پر ثابت رہے گا(ملخصا)۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
وان لم یقم البینۃ فھو خصم فی ظاہر الروایۃ عن اصحابنا رحمھم اﷲ تعالی کذافی المحیط ۔ اگرچہ مدعی گواہی پیش نہ کرے تب بھی ظاہر روایت کے مطابق وہ فریق ہوگا جیسا کہ ہمارے اصحاب سے مروی ہے محیط میں یوں ہے(ت)
اس فلاں کو(کہ زینب وکلثوم ہیں)مدعا علیہ بنانا اور اس کے لئے مقدمے کو روکنا صراحۃ شرع مطہر کے خلاف و گناہ ہوا۔غمز العیون میں ہے:
یجب علی القاضی الحکم بمقتضی الدعوی عند قیام البینۃ علی سبیل الفور فلو اخر اثم لترکہ الواجب و ھو قضاؤہ بھا ویعزل ویعزر کما فی جامع الفصولین ۔ دعوی پر جب گواہی ہوگئی تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ فورا دعوی کے مطابق فیصلہ دے اگر وہ تاخیر کرے تو گنہگار ہوگا او وہ قابل معزول و تعزیر ہوگا جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔(ت)
طرہ یہ کہ زینب وکلثوم اس دعوی تخلیہ کی مدعا علیہ بن نہیں سکتیں کہ مکان ان کے قبضہ میں نہیںغیر قابض سے تخلیہ چاہنا کیا معنینہ غیر ذی الید پر غیر فعل کا دعوی ہوسکے۔اشباہ میں ہے:
الدعوی علی غیر ذی الید لا تسمع غیر قابض پر دعوی قابل سماعت نہ ہوگا الا
حوالہ / References
درمختار کتاب الدعوٰی فصل فی دفع الدعوٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۲۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۶۰€
الا فی دعوی الغصب فی المنقول واما فی الدور والعقار فلا فرق کما فی الیتیمیۃ ۔ یہ کہ دعوی منقولہ چیز کے غصب کا ہولیکن مکانات اور پراپرٹی میں کسی طرح بھی قابل سماعت نہ ہوگا جیسا کہ یتیمیہ میں ہے۔(ت)
اور جب سرے سے زینب و کلثوم اس دعوی کے احاطے میں آہی نہ سکیں تو ان کا جواب ان کی گواہیاں اور جو کچھ کارروائیاں اس پر ہوئیں اس وجہ پر سب محض مہمل و پادر ہوا ہیں کہ دفع دعوی صحیحہ پر مرتب ہوتا ہے جب دعوی مفقود تودفع مردودوھذاکلہ ظاھر غیر مستنکر ولا محجود(یہ تمام بیان ظاہر ہے جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔(ت)اس کے بعد ان خللوں پر بحث کی حاجت نہیں جو زینب و کلثوم کے لئے بے حاصل ثبوتوں میں واضح طور پر موجود ہیں اور اگر کچھ نہ ہوتا تو شہادت ملك کا سماعی ہوتا اور محض کاغذ بیع نامہ بے شہادت کافیہ سے استدلال کرنا ہی ان کے رد مزعومات کو بس تھا خصوصا جبکہ انکے مورث کا اقرا رثابت ہے کہ مکان مذکور پیش از وقف ملك واقف نہ تھادرمختار میں ہے:
لایشھد احدبما لم یعانیہ بالاجماع الافی عشرۃ الخ ولیس ھذامنھا۔ بالاجماع بغیر دیکھے کوئی بھی شہادت نہیں دے سکتا ماسوائے دس چیزوں کے الخ۔اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
خانیہ وخیریہ وعقود الدریہ وغیرہ میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او الاقرار واما الصك فلایصلح حجۃ ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ دے گا اور حجت صرف شہادتاقرار اور قسم سے انکار ہے لیکن رسید تو وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔(ت)
اور جب سرے سے زینب و کلثوم اس دعوی کے احاطے میں آہی نہ سکیں تو ان کا جواب ان کی گواہیاں اور جو کچھ کارروائیاں اس پر ہوئیں اس وجہ پر سب محض مہمل و پادر ہوا ہیں کہ دفع دعوی صحیحہ پر مرتب ہوتا ہے جب دعوی مفقود تودفع مردودوھذاکلہ ظاھر غیر مستنکر ولا محجود(یہ تمام بیان ظاہر ہے جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔(ت)اس کے بعد ان خللوں پر بحث کی حاجت نہیں جو زینب و کلثوم کے لئے بے حاصل ثبوتوں میں واضح طور پر موجود ہیں اور اگر کچھ نہ ہوتا تو شہادت ملك کا سماعی ہوتا اور محض کاغذ بیع نامہ بے شہادت کافیہ سے استدلال کرنا ہی ان کے رد مزعومات کو بس تھا خصوصا جبکہ انکے مورث کا اقرا رثابت ہے کہ مکان مذکور پیش از وقف ملك واقف نہ تھادرمختار میں ہے:
لایشھد احدبما لم یعانیہ بالاجماع الافی عشرۃ الخ ولیس ھذامنھا۔ بالاجماع بغیر دیکھے کوئی بھی شہادت نہیں دے سکتا ماسوائے دس چیزوں کے الخ۔اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
خانیہ وخیریہ وعقود الدریہ وغیرہ میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او الاقرار واما الصك فلایصلح حجۃ ۔ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ دے گا اور حجت صرف شہادتاقرار اور قسم سے انکار ہے لیکن رسید تو وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۸۹€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۹،€فتاوی خیریہ باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۹و۲۳،€الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸،€فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲€
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۲€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۹،€فتاوی خیریہ باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۹و۲۳،€الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۳۸،€فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوقف فصل فی دعوٰی الوقف الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۴۲€
جامع الفصولین فصل عاشر میں ہے:
ادعی ارثافبر ھن المدعی علیہ ان مورثہ اقر ان المدعی لیس لہ او ھو ملك المدعی علیہ کان دفعا ۔ ایك نے وراثت کا دعوی کیا تو مدعا علیہ نے گواہی پیش کردی کہ اس شخص کے مورث نے اقرار کیا تھا کہ یہ چیز میری نہیں ہے یایہ کہ یہ چیز مدعا علیہ کی ملکیت ہے تو اس شہادت سے دعوی کا دفاع ہوجائےگا۔(ت)
کلام یہاں تطویل ہے اور اسی قدر میں کفایت۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
________________
___________________________________
نوٹ
اٹھارہویں جلد کتاب القضاء والدعوی پر ختم ہوئی
انیسویں جلد کاآغاز کتاب الوکالۃ سے ہوگا۔
___________________________________
ادعی ارثافبر ھن المدعی علیہ ان مورثہ اقر ان المدعی لیس لہ او ھو ملك المدعی علیہ کان دفعا ۔ ایك نے وراثت کا دعوی کیا تو مدعا علیہ نے گواہی پیش کردی کہ اس شخص کے مورث نے اقرار کیا تھا کہ یہ چیز میری نہیں ہے یایہ کہ یہ چیز مدعا علیہ کی ملکیت ہے تو اس شہادت سے دعوی کا دفاع ہوجائےگا۔(ت)
کلام یہاں تطویل ہے اور اسی قدر میں کفایت۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
________________
___________________________________
نوٹ
اٹھارہویں جلد کتاب القضاء والدعوی پر ختم ہوئی
انیسویں جلد کاآغاز کتاب الوکالۃ سے ہوگا۔
___________________________________
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل العاشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۰€
مدعی جب ایك چیز کادوسرے کے لئے اقرار کرچکا اب اپنے لئے دعوی نہیں کرسکتا لاجل التناقض(تناقض کی وجہ سے۔ت) شہادت جب بعض میں مردود ہوکل میں مردود ہے مگر آٹھ مسائل مذکورہ شروح اشباہ میں اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ان کا محصل یہ کہ شہادت کو اگر دو چیزوں سے تعلق ہے ایك میں وہ نصاب کامل ہے دوسرے میں نہیں یا ایك میں تہمت سے دوری ہے دوسرے میں نہیں یا ایك پر شاہدوں کو ولایت شہادت ہے دوسرے پر نہیں تو جہاں نصاب کامل ولایت حاصل تہمت زائل ہے اتنے میں مقبول ہوگی دوسرے میں مردود۔درمختار میں ہے:
الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل الافی عبد بین مسلم ونصرانی فشھدنصرانیان علیہما بالعتق قبلت فی حق النصرانی فقط اشباہقلت وزاد محشیہا خمسۃ اخری معزیۃ للبزازیۃ اھ وراجع للسبع البواقی ردالمحتار وما علقنا علیہواﷲ تعالی اعلم۔ جب بعض چیز میں شہادت باطل ہو تو کل چیز میں باطل ہوجائے گی مگر ایك صورت میں کہ غلام مسلمان اور نصرانی کا مشترکہ ہو تو دو نصرانیوں نے گواہی دی کہ انہوں نے غلام آزاد کردیا ہے تو ان کی شہادت فقط نصرانی کے متعلق قبول ہوگیاور اس کے محشی نے پانچ صورتوں کا اس پر اضافہ کیا ہے جن کو انہوں نے بزازیہ کی طرف منسوب کیا ہے اھاور باقی صورتوں کےلئے ردالمحتاراور اس پر ہمارے حاشیہ کی طرف رجوع کرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۴: ازرامپورمرسلہ نظام علی خان ۱۹ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
فردوس بیگم مدعیہ کا دعوی ہے کہ مکان محدودہ مندرجہ عرضی دعوی سعیدی بیگم نے بدست مدعیہ عوضی ۱ماصہ/کے بتاریخ یکم فروری ۱۹۰۰ء بیع قطعی کیا مدعیہ نے بہ قبول بیع صہ / بیعانے کے مدعا علیہا مذکور کو دئے اور باقی روپے کا دینا یکم مارچ ۱۹۰۰ء کو وقت تصدیق وتکمیل بیعنامہ ٹھہرابعدہ مہ عہ۲/ مدعی علیہا نے بعد کو مدعیہ سے لے کر مطالبہ سرکاری میں۲۰/فروری ۱۹۰۰ء کوداخل عدالت کئےمدعی علیہا نے حسب وعدہ تکمیل بیعنامہ نہیں کرایا اوربایزادی قیمت مکان مذکور بدست عباسی عباسی بیگم وغلام محمد خاں فروخت کرڈالا بدہانیداما صہ عہ۱۴/بقیہ زرثمن تکمیل وتصدیق بیعنامہ مدعا علیہا سے کرادی جائے اور دخل مدعیہ کا مکان متنازعہ پر کرادیا جائے سعیدی بیگم مدعا علیہاکو بیع کرنے مکان اور لینے صہ /بیعنامہ اور مہ عہ ۲/
الشہادۃ اذابطلت فی البعض بطلت فی الکل الافی عبد بین مسلم ونصرانی فشھدنصرانیان علیہما بالعتق قبلت فی حق النصرانی فقط اشباہقلت وزاد محشیہا خمسۃ اخری معزیۃ للبزازیۃ اھ وراجع للسبع البواقی ردالمحتار وما علقنا علیہواﷲ تعالی اعلم۔ جب بعض چیز میں شہادت باطل ہو تو کل چیز میں باطل ہوجائے گی مگر ایك صورت میں کہ غلام مسلمان اور نصرانی کا مشترکہ ہو تو دو نصرانیوں نے گواہی دی کہ انہوں نے غلام آزاد کردیا ہے تو ان کی شہادت فقط نصرانی کے متعلق قبول ہوگیاور اس کے محشی نے پانچ صورتوں کا اس پر اضافہ کیا ہے جن کو انہوں نے بزازیہ کی طرف منسوب کیا ہے اھاور باقی صورتوں کےلئے ردالمحتاراور اس پر ہمارے حاشیہ کی طرف رجوع کرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۴: ازرامپورمرسلہ نظام علی خان ۱۹ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
فردوس بیگم مدعیہ کا دعوی ہے کہ مکان محدودہ مندرجہ عرضی دعوی سعیدی بیگم نے بدست مدعیہ عوضی ۱ماصہ/کے بتاریخ یکم فروری ۱۹۰۰ء بیع قطعی کیا مدعیہ نے بہ قبول بیع صہ / بیعانے کے مدعا علیہا مذکور کو دئے اور باقی روپے کا دینا یکم مارچ ۱۹۰۰ء کو وقت تصدیق وتکمیل بیعنامہ ٹھہرابعدہ مہ عہ۲/ مدعی علیہا نے بعد کو مدعیہ سے لے کر مطالبہ سرکاری میں۲۰/فروری ۱۹۰۰ء کوداخل عدالت کئےمدعی علیہا نے حسب وعدہ تکمیل بیعنامہ نہیں کرایا اوربایزادی قیمت مکان مذکور بدست عباسی عباسی بیگم وغلام محمد خاں فروخت کرڈالا بدہانیداما صہ عہ۱۴/بقیہ زرثمن تکمیل وتصدیق بیعنامہ مدعا علیہا سے کرادی جائے اور دخل مدعیہ کا مکان متنازعہ پر کرادیا جائے سعیدی بیگم مدعا علیہاکو بیع کرنے مکان اور لینے صہ /بیعنامہ اور مہ عہ ۲/
حوالہ / References
درمختار باب القبول وعدمہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۸€
مفیدنہیں سید محمد افضل صاحب نے انہیں شرکت کی نفی نہ کی تو اقرار بھی نہ کیا اور علم ہونا شریك ہونے کو مستلزم نہیں کھنڈساروں کی مخلوط آمدنی جن میں مشترك کھنڈسار جگت پور بھی تھی مہمانداری سے سید محمد افضل صاحب وغیرہ میں خرچ ہونا بھی ان کھنڈساروں میں دلیل شرکت نہیں جوان کے جانے کے سال دو سال بعد سید محمد احسن صاحب نے بطور خود بے اجازت لئے کیںآخر خود سید محمد احسن صاحب صراحۃ لکھ چکے ہیں عــــــہ۱ کہ ابھی پوڑ ونودیا کی کھنڈساروں میں سید محمد افضل صاحب کی شرکت نہیں اگرچہ دلائل موجب شرکت ہوتے تو ان میں بھی شرکت ثابت ہوئی جس سے خود مدعا علیہ کو انکار ہے توثابت ہوا کہ ان سب کھنڈساروں میں نقصانات سیدمحمد افضل صاحب پر ڈالنے کی کوئی وجہ نہیں پس مدات خرچ میں صرف تین مدیں ذمہ سید محمد افضل صاحب ہوئیںنصف قیمت اراضی ولی محمد خان و نصف رقم ناجائز سود کہ قرض خواہ کو گئی وبابت مرمت مکان کل(٭٭ ۱۳/ ۲-۵/۸کل صمالہ معہ ۲-۵/۸)پائی کہ نصف آمدنی ان کی یافتنی(٭٭٭۱۰/ ۶) پائی سے منہا ہوکر(٭٭۳/۳-۸)پائی رہے لیکن سید محمود حسن صاحب نے دعوی کیا کہ مبلغ(٭/)معرفت شیخ تصدق حسین اور(٭٭)معرفت سید فرصت علی اور تخمینا دس پندرہ روپے متفرق سیدمحمد افضل صاحب کے پاس پہنچے جواسی گوشوارہ خرچ میں مندرج ہیں پہلی دو رقموں کا سید محمد افضل صاحب نے اقرار کیا تو یہ(٭٭)اور مجرا ہوکر(٭٭٭)پائی سید محمد افضل کی یافتنی ذمہ سید محمد احسن صاحب پر رہے یہ حساب ظاہرا سید افضال حسین صاحب مختار عام سید محمد احسن صاحب بہت جلدی میں تحریر فرمایا ہے رقم خرچ رقم آمدنی کے برابر(٭٭٭)قائم کی اور تتمہ ندارد لکھ دیا اور مدات خرچ کی جو تفصیل فرمائی ان کا جوڑ صرف(٭٭)آتا ہے اسی روپے کا فرق ہے اور ایسی ہی سوروپے کی غلطی رقم بقایا میں ہے جس کا خود اقرار تحریر فرمایا مگر ازانجا کہ ذمہ مدعی ان تین مدوں کے سوا باقی سے بری ہے اس تحقیقات کی کچھ حاجت نہیں کہ یہ اسی(٭/)کی غلطی کہاں گئی۔
(۷)اثاث البیت کے دعوی سے فریقین نے دست عــــــہ۲ برداری لکھ دی۔
(۸)مکان نمبر۱ میں تو کوئی سید محمد افضل صاحب کا ثابت نہ ہوا اور مکان نمبر ۴ فریقین کے پاس رہن ہے نمبر ۳ کے بھی تین ربع فریقین کے پاس رہن ہیں رہن مملوك مرتہن نہیں ہوتا اس مکان کا ربع اگرچہ مملوك ہے مگر بوجہ اختلاط رہن وہ یکجائی نہ ہوسکے گا تو صرف دومکان قابل تقسیم یکجائی ہے مکان نمبر ۲جس کا نصفا نصف ہونا ابتداء سے مسلم عــــــہ۳ فریقین تھا اور مکان نمبر ۵ کے اب نصفا نصف ثابت ہوا ان دونوں مکانوں کا مفصل تخمینہ
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۵ونمبر۱۶شامل مسل۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۲شامل مسل۱۲۔
(۷)اثاث البیت کے دعوی سے فریقین نے دست عــــــہ۲ برداری لکھ دی۔
(۸)مکان نمبر۱ میں تو کوئی سید محمد افضل صاحب کا ثابت نہ ہوا اور مکان نمبر ۴ فریقین کے پاس رہن ہے نمبر ۳ کے بھی تین ربع فریقین کے پاس رہن ہیں رہن مملوك مرتہن نہیں ہوتا اس مکان کا ربع اگرچہ مملوك ہے مگر بوجہ اختلاط رہن وہ یکجائی نہ ہوسکے گا تو صرف دومکان قابل تقسیم یکجائی ہے مکان نمبر ۲جس کا نصفا نصف ہونا ابتداء سے مسلم عــــــہ۳ فریقین تھا اور مکان نمبر ۵ کے اب نصفا نصف ثابت ہوا ان دونوں مکانوں کا مفصل تخمینہ
عــــــہ۱:تحریر نمبر۲شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۲:تحریر نمبر۱۵ونمبر۱۶شامل مسل۱۲۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۲شامل مسل۱۲۔
بملکہ
کا مالك اپنی ملکیت سے پڑوسی کو انتفاع سے روکنا چاہتا ہو۔ (ت)
خادم فقہ سمجھتا ہے کہ یہاں چار شرطیں ہیں جن کے اجتماع سے وہ ضرر بین متحقق ہوگا:
شرط اول:وہ ضرر کثیر فاحش ہو یعنی دار جار کو گرادے یا بالکل قابل انتفاع نہ رکھے دیوار کمزور کرنا اول میں داخل ہے اور حاجت اصلیہ سے باز رکھنا دوم۔محقق نے فتح میں فرمایا:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضرر ولاضرار لا شك انہ عام مخصوص للقطع بعدم امتناع کثیر من الضرر کا لتعازیر والحدود ومواظبۃ طبخ ینتشر بہ دخان قد ینجس فی خصوص اماکن فیتضرر بہ جیران لایطبخون لفقرہم خصوصا اذاکان فیہم مریض یتضرر بہ وکما اریناك من التضرر بقطع الشجرۃ المملوکۃ للقاطع فلا بد ان یحمل علی خصوص من الضرر وھو مایؤدی الی ھدم بیت الجار ونحوہ من الضرر البین الفاحش والحاصل ان القیاس ان یفعل صاحب الملك مابدالہ مطلقا لانہ یتصرف فی خالص مبلکہ وان کان یلحق الضرر بغیرہ لکن یترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضررا فاحشاوھو المراد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد لاضرر ولاضرار(یعنی ضرر رسانی جائز نہیں)عام مخصوص البعض ہے کیونکہ بہت سے ضرر ایسے ہیں جن سے یقینا ممانعت نہیں ہے مثلا! تعزیرات اور حدود اور مسلسل آگ سے کچھ پکانا جس سے دھوئیں کا پھیلاؤ بعض جگہ گھٹن پیدا کرتا ہے تو اس سے ایسے پڑوسیوں کو ضرر ہوتا ہے جو اپنے فقر کی وجہ سے کھانا نہیں پکاتے خصوصاجبکہ پڑوسیوں میں مریض جسے اسکی وجہ سے ضرر پہنچتا ہوجیساکہ ہم آپ کو مالك کا اپنے درخت کو کاٹنے پر ضرر بتارہے ہیںتو ضروری ہے کہ مذکور حدیث میں ضرر سے خاص ضرر مراد لیا جائے اور وہ جس سے پڑوسی کے مکان گرنے کا خدشہ ہویا اس طرح کا جو کوئی واضح ضرر ہو۔حاصل یہ ہے کہ قانون کے مطابق ملکیت والا اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرسکتا ہے کیونکہ وہ خالص اپنی ملکیت میں تصرف کررہا ہے اگرچہ اس سے دوسرے کو ضرر بھی ہوتاہم یہ قیاس و قانون ایسی جگہ نافذ نہ ہوگا جہاں پڑوسی کو واضح طور پر ضرر پہنچتا ہویہی ضرر جس سے دوسرے کے مکان
کا مالك اپنی ملکیت سے پڑوسی کو انتفاع سے روکنا چاہتا ہو۔ (ت)
خادم فقہ سمجھتا ہے کہ یہاں چار شرطیں ہیں جن کے اجتماع سے وہ ضرر بین متحقق ہوگا:
شرط اول:وہ ضرر کثیر فاحش ہو یعنی دار جار کو گرادے یا بالکل قابل انتفاع نہ رکھے دیوار کمزور کرنا اول میں داخل ہے اور حاجت اصلیہ سے باز رکھنا دوم۔محقق نے فتح میں فرمایا:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضرر ولاضرار لا شك انہ عام مخصوص للقطع بعدم امتناع کثیر من الضرر کا لتعازیر والحدود ومواظبۃ طبخ ینتشر بہ دخان قد ینجس فی خصوص اماکن فیتضرر بہ جیران لایطبخون لفقرہم خصوصا اذاکان فیہم مریض یتضرر بہ وکما اریناك من التضرر بقطع الشجرۃ المملوکۃ للقاطع فلا بد ان یحمل علی خصوص من الضرر وھو مایؤدی الی ھدم بیت الجار ونحوہ من الضرر البین الفاحش والحاصل ان القیاس ان یفعل صاحب الملك مابدالہ مطلقا لانہ یتصرف فی خالص مبلکہ وان کان یلحق الضرر بغیرہ لکن یترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضررا فاحشاوھو المراد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد لاضرر ولاضرار(یعنی ضرر رسانی جائز نہیں)عام مخصوص البعض ہے کیونکہ بہت سے ضرر ایسے ہیں جن سے یقینا ممانعت نہیں ہے مثلا! تعزیرات اور حدود اور مسلسل آگ سے کچھ پکانا جس سے دھوئیں کا پھیلاؤ بعض جگہ گھٹن پیدا کرتا ہے تو اس سے ایسے پڑوسیوں کو ضرر ہوتا ہے جو اپنے فقر کی وجہ سے کھانا نہیں پکاتے خصوصاجبکہ پڑوسیوں میں مریض جسے اسکی وجہ سے ضرر پہنچتا ہوجیساکہ ہم آپ کو مالك کا اپنے درخت کو کاٹنے پر ضرر بتارہے ہیںتو ضروری ہے کہ مذکور حدیث میں ضرر سے خاص ضرر مراد لیا جائے اور وہ جس سے پڑوسی کے مکان گرنے کا خدشہ ہویا اس طرح کا جو کوئی واضح ضرر ہو۔حاصل یہ ہے کہ قانون کے مطابق ملکیت والا اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرسکتا ہے کیونکہ وہ خالص اپنی ملکیت میں تصرف کررہا ہے اگرچہ اس سے دوسرے کو ضرر بھی ہوتاہم یہ قیاس و قانون ایسی جگہ نافذ نہ ہوگا جہاں پڑوسی کو واضح طور پر ضرر پہنچتا ہویہی ضرر جس سے دوسرے کے مکان







