Fatawa Razaviah Volume 28 in Typed Format

#201 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم ط



پیش لفظ
الحمد اﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ كے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ كو جدید انداز میں عصر حاضر كے تقاضوں كے عین مطابق منظر عام پر لانے كے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن كے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی كامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ كے ارتقائی مراحل كو طے كرتے ہوئے اپنے ہدف كی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا كی متعدد تصانیف شائع كرچكا ہے جن میں بین الاقوامی معیار كے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت كی حامل ہیں :
(۱) الدولۃ المكیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملكیۃ لمحب الدولۃ المكیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲) انباء الحی ان كلامہ المصون تبیانا لكل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳) كفل الفقیہ الفاھم فی احكام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴) صیقل الرین عن احكام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵) ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶) الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحكم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
#202 · پیش لفظ
(۷) الاجازات المتینۃ لعلماء بكۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے كا عظیم ترین كارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ كی تخریج وترجمہ كے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذكورہ كی اشاعت كاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الكریم تقریبا چودہ سال كے مختصر عرصہ میں اٹھائیسویں جلد آپ كے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی ستائیس جلدوں كی مشمولات كی تفصیل سنین اشاعت كتب وابواب مجموعی صفحات تعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل كی تعداد كے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ كتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ كتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ كتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ كتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ كتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ كتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ كتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ كتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ كتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ كتاب زكوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ كتاب النكاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ كتاب نكاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ كتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ كتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
#203 · پیش لفظ
۱۵
كتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ كتاب الشركۃكتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ كتاب البیوعكتاب الحوالہكتاب الكفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ كتاب الشھادۃكتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ كتاب الوكالۃكتاب الاقراركتاب الصلح كتاب المضاربۃكتاب الامانات كتاب العاریۃكتاب الھبہ كتاب الاجارۃكتاب الاكراہ كتاب الحجر كتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ كتاب الشفعہكتاب القسمہ كتاب المزارعہكتاب الصید و الذبائحكتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ كتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ كتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ كتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ كتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ كتاب المدایناتكتاب الاشربہكتاب الرھنباب القسمكتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
۲۶ كتاب الفرائضكتاب الشتی حصہ اول ۳۲۵ ۸ محرم الحرام _____۱۴۲۵ مارچ _____۲۰۰۴ ۶۱۶
۲۷ كتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری ____۱۴۲۵ ___اگست ۲۰۰۴ ۶۸۴
فتاوی رضویہ قدیم كی پہلی آٹھ جلدوں كے ابواب كی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول كتب فقہ و فتاوی میں مذكور ہے۔ رضا فاؤنڈیشن كی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب كو ملحوظ ركھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم كی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) كی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت كی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا كے سرپرست اعلی محسن اہلسنت
#204 · پیش لفظ
مفتی اعظم پاكستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اكابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار كے بعد اراكین ادارہ نے فیصلہ كیا كہ بیسویں جلد كے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ كی قدیم جلدوں كی ترتیب كے بجائے ابواب فقہ كی معروف ترتیب كو بنیاد بنایا جائےنیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت بركاتہم العالیہ كی گرانقدر تحقیق انیق كو بھی ہم نے پیش نظر ركھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل كی۔عام طور پر فقہ وفتاوی كی كتب میں كتاب الاضحیہ كے بعد كتاب الحظروالاباحۃ كاعنوان ذكر كیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں۲۰ جلد كا اختتام چونكہ كتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہذا اكیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرواباحۃ كی اشاعت كاآغاز كیاگیا۔ كتاب الحظروالاباحۃ (جوچارجلدوں ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ پرمشتمل ہے) كی تكمیل كے بعد ابواب مداینات اشربہ رہن قسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں۲۵ چھبیسویں۲۶ جلد بھی منصہ شہود پرآچكی ہے۔ اب ابواب فقہیہ میں سے صرف كتاب الفرائض باقی تھی جس كو پیش نظرجلد میں شامل كردیاگیاہے۔ باقی رہے مسائل كلامیہ ودیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم كی جلد نہم ودوازدہم میں غیرمبوب وغیرمترتب طورپرمندرج ہیں ان كی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان كام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل كی توفیق رحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین كی نظرعنایت اعلیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما كے روحانی تصرف وكرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبوركرلی اور كتاب الحظروالاباحۃ كی طرح ان بكھرے ہوئے موتیوں كوابواب كی لڑی میں پروكرمرتبط ومنضبط كردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل اموركوبطورخاص ملحوظ ركھا:
(ا) ان تمام مسائل كلامیہ ومتفرقہ كو كتاب الشتی كامركزی عنوان دے كر مختلف ابواب پرتقسیم كردیاہے۔
(ب) تبویب میں سوال واستفتاء كااعتباركیاگیاہے۔
(ج) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذكور ہونے كی صورت میں ہرمسئلہ كومستفتی كے نام سمیت متعلقہ ابواب كے تحت داخل كردیاہے۔
(د) مذكورہ بالادونوں جلدوں (نہم ودوازدہم قدیم) میں شامل رسائل كو ان كے عنوانات كے مطابق متعلقہ ابواب كے تحت داخل كردیا ہے۔
(ھ) رسائل كی ابتداء وانتہاء كوممتاز كیاہے۔
(و) كتاب الشتی كے ابواب سے متعلق اعلیحضرت كے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسكے تھے ان كوبھی موزوں ومناسب جگہ پر شامل كردیاہے۔
(ز) تبویب جدید كے بعد موجودہ ترتیب چونكہ سابق ترتیب سے بالكل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل كی مكمل فہرست موجودہ ابواب كے مطابق نئے سرے سے مرتب كرناپڑی۔
#205 · پیش لفظ
(ح) كتاب الشتی میں داخل تمام رسائل كے مندرجات كی مكمل ومفصل فہرستیں مرتب كی گئی ہیں۔
اٹھائیسو یں۲۸ جلد
یہ جلد ۲۲ سو الا ت كے جو ا با ت اور مجمو عی طو ر پر ۶۸۴صفحا ت پر مشتمل ہے اس جلد كی عر بی و فا رسی عبارات كا تر جمہ را قم الحرو ف نے كیا ہے سو ائے رسا لہ الزلا ل الا نقی شما ئم العنبراور تنزیہ المكا نۃ الحیدر یۃكے كہ ان میں سے اول الذكر كا تر جمہ جانشین مفتی اعظم فقیہ اسلام حضر ت علا مہ مو لا نا مفتی محمد اختر رضاخاں صاحب بریلوی ازھری دا مت بر كا تہم العالیہ اور ثانی الذكر كاترجمہ بحر العلوم حضر ت علا مہ مو لا نا مفتی محمد عبدالمنان صاحب اعظمی دا مت بر كا تہم العالیہ اورآخرالذكر كاترجمہ حضرت علا مہ مو لا نا محمد احمد مصباحی دا مت بر كا تہم العالیہ نے كیا ہے جبكہ فتا وی كر ا ما ت غو ثیہ پر حو ا شی حضر ت علا مہ مو لا نا جلا ل الدین قا دری كے تحر یر كر دہ ہیں ۔
پیش نظر جلد بنیا دی طور پر كتا ب الشتی حصہ سو م كے ابو ا ب اذا ن نما ز مسا جد اور فضا ئل و منا قب پر مشتمل ہے تا ہم متعد د دیگر عنو ا نا ت سے متعلق كثیر مسا ئل ضمنا زیر بحث آئے ہیں لہذا مذكورہ بالا بنیادی عنوانات كے تحت مندرج مسائل ورسائل كی مفصل فہرست كے علاوہ مسائل ضمنیہ كی الگ فہر ست بھی تیا ر كر دی گئی ہے تا كہ قا رئین كو تلا ش مسا ئل میں سہو لت رہے ۔
انتہا ئی و قیع او ر گرا نقد ر تحقیقا ت و تدقیقات پر مشتمل مند رجہ ذیل چھ رسا ئل بھی اس جلد كی زینت ہیں :
(۱) شما ئم العنبر فی ادب الند ا ء اما م المنبر (۱۳۳۳ھ)
مسجد كے اند ر اذا ن خطبہ كے عدم جو ا ز پر انتہا ئی محققا نہ بحث
(۲) فتا و ی كر ا ما ت غو ثیہ
غو ث اعظم رضی الله تعالی عنہ كی شب معر اج با ر گا ہ رسا لت میں حا ضر ی سے متعلق تین سو ا لو ں كے جو اب
(۳) الزلا ل الا نقی من بحر سبقۃ الا تقی(۱۳۰۰ھ)
افضلیت سید نا صدیق اكبر رضی الله تعالی عنہ كا بیا ن
(۴) طر د الا فا عی من حمی ھاد رفع الر فا عی (۱۳۳۲ھ)
سید نا اما م احمد رفاعی اور سید نا غو ث اعظم رضی الله تعالی عنھما كی عظمت كا بیا ن
#206 · پیش لفظ
(۵)تنزیہ المكا نۃالحید ریۃعن وصمۃ عہد الجا ھلیۃ(۱۳۱۲ھ)
اس امر كا بیا ن كہ سید نا حضرت صدیق اكبر اور سید نا حضر ت علی المر تضی رضی الله تعالی عنہ كا دا من ہمیشہ نجا ست شر ك سے پاك رہا ۔
(۶)غا یۃ ا لتحقیق فی اما مۃ العلی والصد یق (۱۳۳۱ھ)
حضر ت صد یق اكبر و حضرت علی المر تضی رضی الله تعالی عنہما كی خلا فت كا بیا ن
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ كے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ كوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑا مگریہ اس سراپاكرامت وجود باجود كافیضان ہے كہ ان كے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ وعصریہ كے مستند فاضل اورحضرت مفتی اعظم كی علمی وتجرباتی وسعت وفراست كے وارث وامین ہیں نہایت صبرواستقامت كا مظاہرہ فرماتے ہوئے تمام شعبہ جات كی ترویج وترقی كے لئے شب وروز ایك كئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے كہ موصوف نے جامعہ كے طلباء كی تعداد میں خاصا اضافہ ہونے كے باعث متعدد تجربہ كارمدرسین مقرركئے ہیں اور فتاوی رضویہ جدید كی اشاعت وطباعت میں بھی بدستور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ كے نقوش جمیلہ پرگامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے كہ حسب معمول سالانہ دوجلدوں كی اشاعت باقاعدگی سے ہورہی ہے۔ بس آپ حضرات سے درخواست ہے كہ دعاؤں سے نوازتے رہئے تاكہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ كے مشن كو ان كے جسمانی وروحانی نائبین بحسن وخوبی ترقی سے ہمكنار كرنے میں اپناكردار سرانجام دیتے رہیں۔ فقط
ذیقعدہ ۱۴۲۵ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
جنوری ۲۰۰۵ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہور شیخوپورہ (پاكستان)
#207 · اذان،نماز،مساجد
اذان و نماز و مساجد

مسئلہ ۱: ازجھو ناماركیٹ كر انچی بندر مرسلہ حضر ت سید پیر ابر اہیم صاحب مد ظلہ الاقد س ۱۵رجب المر جب ۱۳۳۷ھ
كیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں كہ اگر غیر منكو حہ عو ر ت سے لڑكاتو لد ہو ااور قضائے الہی سے فو ت ہو ااس كی قبر پر خانقاہیں بنانااور واسطے مرادو ں كے دعامانگنااور صاحب القبر كو اولیاقبو ل كر ناشر عادرست ہے یانہیں اگر ایساشخص صفت بالامیں متصف ہے اور مسجد میں امام ہے تو ہزاروں مقتدیو ں كو تحقیق واقعات بالاكے نماز قبل از تحقیقات كااعادہ كر ناافضل ہے یانہیں
الجواب:
جوشخص فاسق و فاجر ہے اس كے پیچھے نماز مكر و ہ ہے پھر اگر فاسق معلن ہے تو كر اہت تحر یمی ہے اور اعادہ واجب ہے ور نہ تنز یہی اور اور اعادہ بہتر والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲: ازمو ضع چانڈ پور ڈاكخانہ بمنو ئی تحصیل سكندرہ راؤ ضلع علیگڑھ مسئولہ مرزااحسان بیگ صاحب
زمیند ار ۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ بعد سلام مسنو ن معر و ض خد مت ہو ں كہ نماز غفیراكی بابت میں ذكرالشہادتیں دیكھاہے كہ حضرت زین العابد ین رضی الله تعالی نے یزید كو و اسطے مغفر ت كے بتائی تھی مجھے اس نماز كہ تلاش ہے میں پڑھناچاہتاہو ں براہ مہر بانی اس مسئلہ پر التفات مبذو ل فر ماكر تر تیب نماز سے
#208 · اذان،نماز،مساجد
اطلاع دیجئے۔
الجو اب:
وعلیكم السلام و رحمۃ و بر كاتہ۔یہ رو ایت محض بے اصل ہے حضر ت نے كو ئی نماز اس پلید كی مغفرت كے لیے اس كو تعلیم نہ فر مائی۔
مسئلہ ۳: ازاسپتال دھام نگر ضلع بالسیر اوڑیسہ
كیافر ماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں كہ یہاں ایك شاہ صاحب نے اپنے ایك مر ید كو خلیفہ بنایاہے وہ مرید بظاہر پابند شر یعت ہے ذكر و اذكار كاپابند ہے آپ كے عقید ہ ہے اورآپ كامد اح علم انگر یزی میں اچھی دخل ہے مسائل شر یعت سے بھی اقفیت ہے سب باتیں صحیح ہین لیكن وہ ولد الزناہے اب حضو ر و الاسے عر ض ہے كہ ایسے شخص كے پیچھے نماز در ست ہے یانہاور بیعت جو ہو گاوہ عند الطر یقت صحیح ہے یانہ اور جو ولد الز ناكو خلیفہ بنادے وہ شاہ صاحب كیسے ہیں اب خلیفہ سے جر مر ید ہو ایاشاہ صاحب دو نو ن مرید صحیح ہیں یانہ بینو اتو جر وا۔
الجواب:
ولد الزناكے پیچھے نماز مكر و ہ تنز یہی یعنی خلاف اولی ہے جبكہ وہ حاضر ین سے علم میں زائد نہ ہو ورنہ اسی كی امامت اولی ہے۔ ردالمحتار میں ہے:
فی الاختیار و لو عد مت ای علۃ الكر اھۃ بان كان الاعرابی افضل من الحضر ی والعبد من الحر ولد الزنامن ولد الرشد ۃ والاعمی من البصیر فالحكم باالضد اھ و نحو ہ فی شر ح الملتقی للبھنسی و شر ح درر البحار ۔ اختیار میں ہے كہ جب كر اہت كی علت معد و م ہو جائے یعنی دیہاتی شہر ی سےغلام آزاد سےولد الزناثابت النسب سے اور اندھابیناسے افضل ہوجائے اور دررالبحاربھی ایساہے۔ (ت)
یو نہی اگر وہ لائق خلافت ہے اسے خلافت دینی اور عقید ت كے ساتھ اسكے ہاتھ پر بیعت كر نے میں كو ئی حر ج نہیں نہ اس پر نہ اس كے شیخ پر اس میں كچھ الزام قال تعالی" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " كو ئی بو جھ اٹھانے والی جان دوسر ی كابو جھ نہیں اٹھائے گی۔(ت)
#209 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
رسالہ
رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر
(منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)

بسم الله الر حمن الر حیم ط
نحمد ہ و نصلی علی رسو لہ الكر یم ط
اذان من الله الحق المبین ان الحمد لله رب العلمین و افضل الصلو ا ت و اعلی التسلمیا ت علی من اذن باسمہ الكریم فی اطباق السموات والارضین و سیؤذن بحمد ہ العظیم ووصفہ الفخیم علی رؤ س الاولین و الا خرین یوم الد ین وعلی الہ وصحبہ و ابنہ الكریم الغوث الاعظم وسائر حزبہ اجمین۔ امین! حمد اس وجہ كر یم كو جس كا یہ اعلا ن ہے كہ سب تعر یفیں میری ذا ت كے لیے ہیں اور افضل تر ین در ود و سلا م اس ذات گر امی پر جس كے نا م نا می كا اعلا ن الله تعالی نے آسمانوں كی بلندیو ں اور زمینو ں كی پستیو ں مین فرما یا اور روز قیا مت كی بھڑ میں اولین و آخر ین سے منتخب فر ما كر آپ كو ا پنی مخصوص حمد و ثنا كی اجا ز ت اور اذن دے گا۔اور آپ كی آل و اصحاب اور آپ كے فر ز ند غو ث اعظم پراور حضو ر اكر م صلی الله تعالی علیہ وسلم كی سا ر ی امت پر آمین!
#210 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
وبعد:فھذہ سطور ان عدت یسیر ۃ و بیز ۃو فیھا علوم ان شاء الله عزیز ۃ عزیزۃ فی بیان ما ھو السنۃ فی اذان الخطبۃ یوم الجمعۃ سمیتھا"شما ئم العنبر فی ادب ابلند اء المنبر"و الغرض بیان ماظہر من حقا ئق زبر الحدیث الجلی و الفقہ الحنفی معر و ضۃ علی ساداتنا علماء اھل السنۃ فی بلاد الا سلا م للا ستعانۃ بھم فی احیاء سنۃ نبینا الكریم علیہ و علی الہ افضل الصلو ۃ و التسلیم۔

والعبد الذلیل عا ئذ بجلال وجہ ربہ الجلیلو جمال محیا حبیبہ الجمیلعلیہ وعلی الہ الصلو ت بالتبجیل من كل عین لاتنظر بالانصا ف و تقوم بالخلا ف علی قد م الا عتساف فضلا عمن یخلد فی ارض اتباع الرواج وتقدمہ علی سنۃ صاحب التاج والمعراج صلی الله تعالی علیہ وسلموعلی الہ و صحبہ و شر ف و كر م۔ حمدوصلوۃكے بعد یہ چند سطریں ہیں بظاہرتھوڑی اورمختصر مگر ان میں اذان خطبہ سے متعلق علوم و فنو ن كا سمندر سمٹا ہو ا ہے ہم نے جس كانا م"ند ا ئے منبر كے آداب میں عنبر كے شما مے"ركھا جس سے ہمار ا مقصد حدیث رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم اور فقہ حنفی سے رو شن ہو نے و الے تابناك حقا ئق كو جملہ علمائےہل سنت عمو ما اور خصو صا علما ئے حر مین شریفین كی خد مات عالیہ میں پیش كر نا ہے(الله تعالی انہیں تو فیق خیر عطا فرما ئےاور قیا مت تك ان سے مذہب حق كی حفاظت و حمایت كا كا م لے)تا كہ ہم رسول انام صلی الله تعالی علیہ وسلم كی ایك مرد ہ سنت كی احیاء میں ان سے مد د حا صل كریں۔
یہ بند ہ عاجز اپنے جلیل و بز رگ پر وردگار كے وجہ كریم كے جلال اور اس كے حبیب لبیب كے چہرہ جمیل كی پنا ہ ڈھونڈ تا ہے ایسی آنكھوں سے جو انصاف كو نہ دیكھ سكیں اور ظلم و اختلاف كا ارادہ ركھیں نہ دیكھ سكیں اور ظلم و اختلا ف كا ارادہ ركھیں نہ كہ وہ جورسم وروا ج كی پابند ی میں ثابت قد م ہوں اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی سنت كریم پر اس كو تر جیح دیں۔
بسم الله الر حمن الر حیم ط
ولا حول ولا قو ۃ الابالله العلی العظیم ط
یقول العبد المستعین بربہ العظیم وھو نعم المعین ثم بحبیبہ الكریم و ھو بند ہ اپنے رب عظیم سے مدد مانگتے ہو ئے(كہ وہی اچھا مدد گارہے)پھر اپنے حبیب رؤ ف و امین
#211 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
نعم الامین صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ و صحبہ اجمین حامداو مسلماو مشھداو مصلیا۔
قد علمتم یاسادتی و اخوتی رحمناالله تعالی و ایاكم وبالسلامۃ حیاناوحیاكم ان خیر الحدیث كتاب الله و خیر الھدی ھدی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وشر الامور محدثاتھاوان المعر وف معر وف وان صارمنكراوالمنكر منكر و ان صار معر وفافلر بمایحد ث حدث و یشیع و ینكر علیہ بد ء فیضیع امالامر الامارۃ او نفوس امارۃ۔
والعالم یقول الہوی متبع و القول لایسمع و قد قضیت ماعلی فان سكت فلاعلی فیدعفلایدعو فالمنكریربو ویفشووتنشؤ الصغار فتقتفی الكبار فیظن متوارثاوماكان الاحادثاوایۃ ذلك كو نہ علی خلاف السنۃ المرویۃ ومناواۃ الخصلۃ المرضیۃ ومع ذلك اذافتشتہ فی الصدرالاول و القرون الاول لم تر لہ اثرا۔وان سألت صلی الله تعالی علیہ وآلہ و صحبہ اجمعین كی حمایت چاہتے ہو ئے حمدو صلاۃ سلام وتشہد پڑھتے ہو ئے عر ض پر داز ہے۔
اے ہمار ے سر دار و اور بھائیو ! الله تعالی ہم پر اور آپ پر رحم فر مائے اورہم سب كوسلامتی كے ساتھ زند ہ ركھے آپ خو ب جانتے ہیں كہ تمام باتوں سے بہتر خد اكی كتاب ہے اورتمام سیرتوں سے برتر سیرت رسول ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم اور سب چیز وں سے برے وہ توایجاد ہیں(جن كی دلیل قر آن و حد یث نہ ہو)پسند ید ہ چیز پسند ید ہ ہی رہے گی چاہے لوگ اسےناپسند كریں اور ناپسندیدہ چیز ناپسندیدہ ہی رہے گی چاہے سب لوگ اس میں مبتلاہوں۔
بہت ساری ناپسند ید ہ باتوں كی سر گز شت یہ ہے كہ پیداہو كر پھیل جاتی ہیں اہل حق اس پر نكیر بھی كرتے ہیں لیكن یہ ردو قد ح ضائع ہو جاتی ہے جس كے چند اسباب ہو تے ہیں (۱)ان نو ایجاد امور كی اشاعت كے لیے حكو مت اپنااثر ورسو خ استعمال كرتی ہے۔(۲)سر كش نفوس اسے رواج دینے پرآمادہ ہو جاتے ہیں۔ (۳)علماء جو انہیں روك سكتے تھے ان كاخیال ہوتاہے لوگ اتباع نفس میں ایساگر فتارہیں كہ ہماری بات سننے كو تیار نہیں اورہم اس سلسلہ میں ہد ایت كاحق اداكر چكے ہیں اب خاموش میں رہیں تو ہم پر كو ئی ذمہ داری نہیں۔عالم یہ سوچ كر رشدو ہدایت
#212 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
متی حدثومن احدث لم تجد بہ خبر افیجعل الناس لعدم العلم بمبدئہ علمابعدمہ و علماعلی قدمہوماالیہ سبیلمع خلاف الدلیلو انما تحكیم الحال عند الاحتمال و الافالحادث لاقرب اوقاتہ ولغفلۃ الناس عن ھذاالبنایۃ تفوہ الالسنۃ انہ السنۃوتصیر النفوس الیہ مطمئنۃ و عند ذلك یكون المعروف منكر او المنكر معروفا ۔كمافی حدیث عــــــہ۱ عن المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم و یكذب الصادق و یصدق الكاذب كماقد صح عــــــہ۲ چھوڑ دیتے ہیں اور گمر اہی پھیلتی رہتی ہے اور بڑھتی رہتی ہے چھو ٹے لوگ اسے بڑھاوادیتے ہیں بڑے لوگ ان كے پیچھے چلتے رہتے ہیں اورلوگ انہیں متو ار ث سمجھنے لگتے ہیں حالانكہ وہ ایك نو پید بات ہو تی اس كے نو زائید ہ ہو نے كی علامت یہ ہو تی ہے كہ وہ سنت مر ویہ كے خلاف اور خصائص حمید ہ كی ضد ہو تی ہے اور اسلام كے ابتد ائی عہد میں اس كاكہیں پتاہی نہیں ہو تااسكی ایجاد كے وقت اور مو جد كاپتاپو چھاجائے تو كچھ پتاہی نہیں چلتالوگ اس لاعلمی كو اس بات كاثبو ت مان لیتے ہیں كہ یہ شروع سے ہی ایسے ہی ہورہی ہے حالانكہ نہ تو تاریخ اس كی تائید میں ہو تی نہ دلیل سو ائے اس امر كے پتانہیں كب سے ایساہی ہورہاہے لوگوں كی طبیعتیں اس در جہ خو د فر امو ش واقع ہو ئی ہیں كہ بہت سے قریب العہد نو پید امور كی تاریخ بھی ان لوگوں كو معلوم نہیں رہتی اور لوگ اسی كوسنت سمجھ كر مطمئن ہو جاتے ہیں اس وقت بر ائی اچھائی بن جاتی ہے اور اچھائی بر ائی حد یث شریف میں ہے سچے كو جھو ٹااور جھو ٹے كوسچاسمجھاجانے لگتاہے

عــــــہ۱:رواہ ابن عساكر عن محمد بن الحنفیۃ و المسعو دی عن النبی صلی الله علیہ وسلم ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:رواہ ابن ابی الدنیاو الطبر انی فی الكبیدو ابو نصر السجزی فی الابانۃ و ابن عساكر نے محمد بن حنفیہ اور مسعو دی سے انہوں نے حضور اكرم صلی الله علیہ وسلم سے اس كوروایت كیا(ت)
ابن ابی الدنیااور امام طبر انی نے معجم كبیر میںامام ابو نصر سجزی نے كتاب الابانۃ میںامام (باقی برصفحہ ائندہ)
#213 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
عن سید الاطائب صلی الله تعالی علیہ وسلم فمن القی علیھم السنۃ فكانمایحول جبلۃ او یحاول جبلااو یبتدع حكمامن عندہ قبلا۔
و ان القلب اذ امتلاء بشیئ لم یكد یقبل غیرہ لداب مستمرفان حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے یہ صحیح حد یث بھی مرو ی ہے"تو جو انہیں كسی سنت پر ابھارے گو یاان كو فطرت بد ل رہاہے یاپہاڑ منتقل كر نے كاقصد كر رہاہے یااپنے پاس سے كو ئی حكم گھڑرہاہے۔"
اور دل مین جب كو ئی بات سماجاتی ہے تو آدمی اپنی عادت جاریہ كے خلاف كچھ قبول ہی

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابن عساكر فی تاریخ دمشق عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ بسند لاباس بہوالطبر نی فیہ والحاكم فی الكنی ابن عساكر عن عوف بن مالك الاشجعی والطبرانی فیہ والبیھقی فی البعث وابن النجار عن ابن مسعو دو الطبر انی فیہ عن ام المو منین ام سلمہ ونعیم ابن حماد فی الفتن عن ابی ھریرہ رضی الله تعالی عنہم و لفظۃ حد یث ام المو منین لیاتین علی الناس زمان یكذب فیہ الصادق و یصد ق فیہ الكاذب الحدیث وھو قطعۃ احادیث عند ھم جمیعا۱۲منہ۔ ابن عساكر نے تاریخ دمشق حضرت ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے لاباس بہ سند كے ساتھ اس كوروایت كیاطبر انی نے كبیر میں حاكم نے كنی میں اور ابن عساكر نے عوف بن مالك اشجعی رضی الله تعالی عنہ سے روایت كیاطبرانی نے كبیر میں اور امام بیہقی نے بعث میں اور ابن نجار نے ابن مسعو درضی الله تعالی عنہ سے روایت كیاطبرانی نے حضرت ام سلمہ رضی الله تعالی عنہاسےاور نعیم بن حماد نے"فتن"میں ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے(اور سب نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت كی)ام المؤمنین كی روایت كے الفاظ یہ ہیں:لیاتین علی الناس زمان یكذب فیہ الصادق و یصدق فیہ الكاذب الحدیث۔اوریہ سب كے نز دیك حدیث كاایك ٹكڑاہے۱۲منہ
#214 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
قراء لم یجاوز التراقی اوسمع لم یجاوز الاذن وما بھذا امر وانماقال لہ ربہ و قول الحق و وعدہ الصدق
"فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ہدىہم اللہ و اولئک ہم اولوا الالبب ﴿۱۸﴾"
فالسبیل الاستماع ثم الانتفاء ثم الاتباعلاان یقنع ولایسمعاو یكو ن من الذین سمعو اوھم لا یسمعو ن فھم بالقرآن لاینتفعو ن۔
وانماالنفع لمن كان لہ قلب مرید أو القی السمع وھو شہید۔
فعلیك یااخی القاء السمع وانقاء القلب عن الجزم او لابایجاب اوسلب رجاء ان تجد حقافتذ عن فان الحكمۃ ضالۃ المؤمن فتدخل او ذاك فی بشارۃ مولاك والله یتولی ھدای و ھداك۔
ولنجمل اولاماوجدہ الفقیر فی ھذہ المسألۃ من الحدیث الكریم نہیں كرتا۔اگر كوئی بات اس كے خلاف پڑھتاہے تو حلق كے نیچے نہیں اترتی اور سنتاہے تو كان سے آگے نہیں بڑھتی جبكہ لوگوں كو اس ہٹ دھر می كاحكم نہیں دیاگیاہے وہ تو یوں فر ماتا ہے"ہمارے ان بند وں كو بشارت دو جو اچھی بات سن كر اس كی پیر و ی كرتے ہیں الله تعالی نے انہیں ہد ایت دی اور وہی اہل عقل و بصیرت ہیں۔"
توراستہ توسن كر انتفاع اور اتباع كاتھانہ كہ قناعت كر كے بیٹھ رہنے اور نہ سننے كا۔یاسن كر ان سنی كر دینے كاایسے لوگ قرآن سے كچھ مستفید نہیں ہوتے۔
نفع تو ان لوگوں كو پہنچتاہے جو ارادہ قلبی اور سماع حضور كے ساتھ سنتے ہیں۔
پس اے برادران محترم!غایت توجہ اور عنایت قلب كے ساتھ قبل ازمطالعہ یك طرفہ فیصلہ كئے بغیر اس ارادہ سے كہ حق ہوگاتو قبول كروں گا۔ہمارے معروضات سنیں كہ حكمت مومن كاگمشدہ مال ہےاور الله تعالی ہدایت دینے والاہے ہماری اور آپ دونوں كی ہدایت فرمائے۔
پہلے تو ہم احادیث كریمہفقہ مستقیمہبلكہ قر آن عظیم میں ایك فقیہ مسئلہ دائرہ میں جو كچھ
#215 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
والفقہ القویم بل ومن القرآن العظیمثم نفصلہ تفصیلاباذن الفتاح العلیم۔لان التفصیل بعد الاجمال اوقع فی النفس و اقمع للتكمین والحدث و لا ارید كل التفصیل لمابد فان المسئلۃ تحتمل مجلد او لكن ماقل وكفی خیر مماكثر و الہی قالہ عــــــہ النبی المصطفی صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ افضل الصلو ۃ والثنا۔
فاقول:وبہ استعین:ارشد ناالحدیث الصحیح الذی رواہ ابو دواد فی سننہ وامام الائمۃابن خزیمہ فی صحیحہامام ابو قاسم الطبر انی فی معجمہ الكبیر ان السنۃ فی ھذاالاذان ان یكون بین یدیہ الامام اذااجلس علی المنبر فی حدود المسجد لافی جو فہ ھكذاكان یفعل علی عہدرسول الله تعالی علیہ وسلم و عہد صاحبیہ ابی بكر وعمر پاسكتاہے اسے اجمالابیان كرتے ہیں پھر ان شاء الله تعالی مسئلہ كی ضروری تفصیل بیان كرینگے كہ اجمال كے بعدتفصیل نفس میں زیادہ جاگزیں اور ظن و تخمین كو ز ائل كر نے والی ہوتی ہے پوری تفصیل كے لیے تو صیحفے در كارہیں مگر جب واجبی بیان سے كام چل جائے تو مكمل تفصیل كی كو ئی خاص ضرورت بھی نہیں۔حدیث شریف میں ہے"جو كلام مختصر اور كفایت كر نے والاہو طویل اور الجھادینے و الے بیان سے اچھاہے۔
پس میں اس كی مد د كے ساتھ كہتاہوں سنن ابی دوادصحیح امام ابن خزیمہمعجم كبیر امام ابو لقاسم الطبرانی كی حدیث سے پتاچلتاہے كہ اذان خطبہ میں سنت یہ ہے امام مبنر پر بیٹھے تو اس كے سامنے حدو د مسجد كے اندر(نہ كہ خاص مسجد میں) اذان دی جائے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم اور شیخین كریمین رضی الله تعالی عنہم كے عہد ہائے مبارك و مسعود میں اور دیگر خلفاء راشدین وغیرہ صحابہ كر ام و زمانہ تابعین و ائمہ مجتہدین میں ایساہی ہو تارہا

عــــــہ:رو اہ ابو یعلی او الضیاء المقدسی فی المختار ۃ عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ ۱۲منہ ابو یعلی اور ضیاء مقد سی نے مختارہ میں ابوسعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے اس كوروایت كیا۱۲منہ(ت)
#216 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
رضی الله تعالی عنہما ولم یاتناعن احد من الخلفاء الر اشدین و غیرھم من الصحابۃ و التابعین و الائمۃ المجتہدین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین تصریح قط بخلاف ذلك وماكان لہم ان یقولو اوالعیاذ بالله تر ك ماھنالك۔
وقداعتمد ھذاالحدیث كبار المفسرین فی تفسیر الكریمۃ"اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ" كالزمخشری فی الكشافوالامام الرازی فی مفاتیح الغیب والخازن فی لباب التاویل والنیسابوری فی رغائب الفر قانوالخطیب والجمل و غیرھم و اوردہ الامام الشعرانی فی كشف الغمۃ عن جمیع الامۃكما سیاتیك نصوصھم ان شاء الله تعالی۔
ثم تظافرت كلمات علمائنافی الكتب المعتمد ۃ علی النہی عن الاذان فی المسجدو انہ مكروہنص علیہ الامام فقیہ النفس فی الخانیۃوالامام البخاری فی الخلاصۃوالامام الاسبیجابی فی شر ح الطحاوی والامام الاتقانی فی غایۃ البیان كسی سے اس كاخلاف مرو ی نہیں اور معاذ الله رب العالمین وہ اس كے خلاف كہہ بھی كیسے سكتے تھے۔



اس حدیث پر بے شمار ائمہ مفسرین نے آیت مباركہ
" اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ "كی تفسیر میں اعتماد كیا چنانچہ كشاف میں زمخشری مفاتیح الغیب میں امام رازی لباب التاویل میں امام خازنرغائب الفر قان میں امام نیشاپوری خطیب و جمل وغیرہ نے اسے ذكر كیاامام شعر انی رحمۃ الله علیہ نے اپنی كتاب كشف الغمہ عن جمیع الامۃ میں اس پر اعتماد كیاعبارتیں سب كی آگے آرہی ہیں ان شاء الله تعالی۔
ہمارے ائمہ فقہ نے كثرت كے ساتھ فقہ كی كتب معتمد ہ میں مسجد كے اندر اذان كی ممانعت فر مائی كہ مكرو ہ ہے ۱فقیہ النفس امام قاضیخاں نے خانیہ میں ۲امام بخاری نے خلاصہ میں امام ۳اسبیجابی نے شر ح طحاوی میں ۴امام اتقانی نے غایۃ البیان میں ۵امام عینی نے بنایہ میں
#217 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
والامام العینی فی البنایۃوالامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیروالامام الزندوستی فی النظموالامام السمعانی فی خزانۃ المفتین و مختار الزاھدی فی المجتبیوالمحقق زین بن نجیم فی البحر الر ائقوالمحقق ابر اہیم الحلبی فی الغنیۃ والبر جندی فی شر ح النقایۃ والقہستانی فی جامع الرمو زوالسید الطحطاوی فی الحواشی علی مر اقی الفلاح واصحاب الفتاو ی العالمگیریۃوالفتاوی التاتار خانیۃ و مجمع البركاتولم یسثنوامنہ فصلا۔ ویلموابتخصیص اصلاوالھجوم علی تخصیص النصوص من دون خصوص فھم مخصوص بل و ھم مرصوص۔ثم ولناالقران العظیم والاحادیث و الشاھد المطبق علیہ فی القدیم والحدیث ان التاذین فی جوف المسجد اساءۃ ادب بالحضرۃ الالہیۃ۔ ثم ھو خلاف ماشر ع لہ الاذان۔ ثم لیس علیہ من حدیث ولافقہ دلیل ولابرہان ولا یعارض العلامۃ الحكم ولاالاشارۃ العبارۃ ولا المحتمل الصریح ولا المجاز علی الحقیقۃ۔ثم ھو علی حالہ ھذاوان شاع فی زماننافی بعض الاصقاع لم ینعقد قط علیہ الاجماع و لاعلیہ تعامل فی جمیع البقاع۔ولاھو متوار ث من الصدر الاول ۶امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں ۷امام زندوستی نے نظم میں ۸امام سمعانی نے خز انۃ المفتین میں ۹مختار زاہدی نے مجتبی میں۱۰محقق زین ابن نجیم نے بحر الرائق میں۱۱محقق ابر اہیم حلبی نے غنیہ میں۱۲بر جندی نے شر ح نقایہ میں ۱۳قہستانی نے جامع الر مو زمیں۱۴سید طحطاوی نے حواشی مر اقی الفلاح میں نیز اصحاب ۱۵فتاو ی عالمگیریہ۱۶فتاو ی تاتار خانیہ اور مجمع البركات نے اس كی تصریح فر مائی۔ان حضر ات نے نہ تو كسی جز ء كا استثناء كیانہ تخصیص كی طر ف اشارہ فرمایاتو غیر مخصو ص كی تخصیص كاارادہ ایك ناقص رائے اوروہمی قیاس آرائی ہے۔ اس مسئلہ میں مزید چند امور قابل غورہیں(۱)جوف مسجد میں اذان دینادربار الہی كی بے ادبی ہے اس پر قرآن و حدیث اور عہدقدیم سے آج تك كاعر ف شاہد ہے۔(۲)جوف مسجد میں اذانمشرو عیت اذان كے مقصد كے خلاف ہے۔(۳)جوف مسجد میں اذان كے جواز پر قر آن و حدیث سے كو ئی دلیل نہیں اگر كہیں علامت یااشارۃالنص یااحتمال و مجاز كے طور پر اس كاتذكرہ ہو بھی تو یہ اسی باب میں علی الترتیب حكمعبارۃ النص اور صریح و حقیقت كے معارض نہیں ہوسكتے(۴)اندرون مسجد اذان گواجكل بعض مقامات میں شائع و ذائع ہو مگر پورے عالم اسلام میں نہ تواس پر اجماع ہواہے نہ عہدرسالت سے اس كاتوراث ثابت ہے پس ایسے امر كاجواز
#218 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
فمثل ھذالایحتمل ولایقبل والمنكر لایصیر معروفاوان فشا۔ولاالحادث قدیماوان لم نعلم متی نشاء۔
ویاسادتناعلماء السنۃ انتم المدخرون لاحیاء السنۃ و قد ندبكم الی ذلك نبیكم صلی الله تعالی علیہ وسلم فی غیر عــــــہ۱ ماحدیث ووعدتم عــــــہ۲ علیہ اجر مائۃ نہ تو محتمل ہے نہ قابل قبول اور جوفعل شرعاناپسندیدہ ہوگو لاكھ معروف و مشہورہوگو ہم اس كے ایجاد كازمانہ متعین نہ كرسكیں مقبول و معروف شر عی نہیں ہوسكتا۔
اے سر دار ان امت علمائے اہلسنت الله تعالی نے آپ لوگوں كو احیائے سنت كے لیے تیار كر ركھاہے اور آپ كے رسول گرامی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے متعدد حدیثوں میں آپ كو اس كی دعوت دی ہے اس پرسو شہیدوں

عــــــہ۱:التر مذی عن بلال وابن ماجہ عن عمرو بن عوف رضی الله تعالی عنہماعن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم:من احیاسنۃ من سنتی قد امیتت بعدی فان لہ من الاجر مثل اجر من عمل بھامن غیر ان ینقص من اجورھم شیئا ۔۱۲منہ
عــــــہ۲:والبیہقی فی الزھد عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہماقال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم"من تمسك بسنتی عند فسادامتی فلہ اجر مائۃ شہید " تر مذی نے حضرت بلال وابن ماجہ نے حضرت عمرو بن عوف رضوان الله تعالی عنہم اجمین سے انہوں نے حضور صلی الله تعالی وسلم سے روایت كی جس مے میری كسی مر دہ سنت كو زند ہ كیااسے تمام عمل كر نے والوں كے اجر كے بر ابر ملے گاان كے اجرمیں كچھ كمی نہ ہوگی۔
امام بیہقی نے كتاب الز ہد میں ابن عباس سے انہوں نے رسول الله تعالی وسلم سے روایت كی"جس نے میری امت كے فساد كے وقت میری سنتوں پر مضبو طی سے عمل كیااسے سو شیہد وں كاثواب ملے گا"
#219 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
شہید۔وان عــــــہ تكونوابہ مع نبیكم فی دارالمزید۔
وانماتحی اذا امیتت وانما تموت اذا ترك الناس العمل بھاوسكت عنھاعلماؤ ھم لماقد مراو شبہ لھم فلمن احیالاحقااجرہ ولمن سكت سابقاعذرہ علی ذلك مضی امراحیاء السنن وتجدید الدین من سالف الزمن الی ھذاالحین فالاستناد فی مثلہ بعمل الناس و عادتھم او سكوت من سلف قریب من سادتھم او زعم انہ یلحقھم بذلك شین كے اجراور داراخرت میں اپنی ہم نشینی كاوعد ہ فر مایاہے۔
سنت كااحیاجبھی ہوگاكہ لوگوں نے اسے مر دہ كر ڈالااور موت اسی صورت میں ہوگی كہ لوگ اس پر عملدرامدتر ك دیں اوراس وقت كے علماء مذكورہ بالاوجو ہ كی بنیاد پران كی اس حر كت پر خمو ش رہے ہوں پس جوایسی سنت زند ہ كر ے اسے اس كااجر ملے گااور جس نے خاموشی اختیار كی وہ معذور سمجھا جائے گااسی نہج پراحیائے سنت كامعاملہ عہدقدیم سے آج تك چلتارہاہے اس لیے لوگوں كے عمل یاعادت یاكسی عمل پر ماضی قریب كے علماء كی خمو شی سے استد لال اوریہ خیال كہ اگر مسئلہ دائرہ خلاف شر ع ہوتا

عــــــہ:السجزی فی الابانۃ عن انس رضی الله تعالی عنہ:من احیاسنتی فقد احبنی ومن احبنی كان معی فی الجنۃ

رواہ الترمذی بلفظ من احب اللھم ارزقناامین ! ۱۲منہ امام سجزی نے كتاب الابانۃ میں حضرت انس اورانہوں نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت كی۔"جس نے میری سنت زند ہ كی اس نے مجھ سے محبت ركھی اور جس نے مجھ سے محبت ركھی وہ میر ے ساتھ جنت میں ہوگا"
اورامام تر مذی نے لفظ احب كے ساتھ روایت فر مایاہے یاالله ! ہم سب كواپ كی محبت عطافر ما!۱۲منہ
#220 · رسالہ رسا لہ شما ئم العنبر فی ادب الند اء امام المنبر (منبر كے سا منے ند ا ء كے بیان میں عنبر كے شما مے)
مع جلالتھم۔
كل ذلك جہل واضح و و ھم فاضح وسد لباب احیا السنۃ مع انہ مفتو ح بید المصطفی سید الانس و الجن صلی الله تعالی علیہ وسلم و مو عو د علیہ عظیم المنۃ۔
واماتفصیل كل مع اجملت ھناففی شمائم زاكیاتفی كل شمائمۃ نفحات طیبات وعلی حبیبناوالہ اطیب الصلوۃ وانمی التحیات۔
تواس پران علماء كی خموشی ان كے لیے باعث عارہوتی۔
یہ سب خیال كھلی جہالت اورواضح وہم پرستی ہے اوراحیائے سنت كاسد باب ہے حالانكہ حضورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے احیائے سنت كادروازہ كھلاركھاہے اوراس پر عظیم انعام واكرام كاوعد ہ فر مایاہے۔

اب ہم مہكتے شماموں اور لہكتے نفحات میں اس كی تفصیل بیان كرتے ہیں الله تعالی ہمارے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران كے آل واصحاب پر مقدس درود اور مبارك تسلیمات ناز ل فر مائے۔آمین
#221 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
الشمامۃ الاولی من عنبر الحدیث
(عنبر حدیث كاشمامہ اولی)

نفحہ۱:أنباناشیخناالعلامۃ الامام شیخ العلماء بالبلد الكرام السید احمد بن زین بن دحلان المكی قدس سرہ الملكی بمكۃ مكر مۃ ۱۲۹۶ھ عن الشیخ عثمان بن حسن الد میاطی الازھری عن الشیخ محمد الامیرالمالكی والشیخ عبد الله الشر قاوی الشافعی الازھریین حوانباناالمولی المفتی العلامۃ عبد الر حمن السراج مفتی البلد الحرام فی ذی الحجۃ ۱۲۹۵ھ عن مفتیھاالمولی جمال بن عبد الله بن عمر ح وانباناعالیابدر جۃ السید حسین بن صالح جمل اللیل المكی نفحہ۱:ہمارے شیخشیخ علمائے حرم سید احمد ابن زین ابن دحلان مكی قدس سرہ نے مكہ مكرمہ میں ۱۲۹۶ ھ میں ہم سے بیان كیاان سے شیخ عثمان بن حسن د میاطی ازہری نےان سے شیخ محمد امیر مالكی نے اور شیخ عبدالله شرقاوی شافعی ازہری نے ح ہم سے علامہ مولانامفتی عبدالرحمن بن سراج مكی نے ذوالحجہ ۱۲۹۵ھ میں مولانامفتی مكہ جمال ابن عبدالله ابن عمركے واسطہ سے بیان كیاح ہمیں حسین ابن صالح جمل اللیل مكی نے باب صفاكے پاس اپنے گھر ذوالحجہ ۱۲۹۵ھ میں بیان كیااور احمد ابن زید جمل اللیل نے بھی۔دونوں حضرات
#222 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ببیتہ عند باب الصفافی ذی الحجۃ ۱۲۹۵ كلاھماعن الشیخ عابد السندی المدنی عن الشیخ صالح الغلانی والسید عبدالرحمن بن سلیمان الاھدل و یوسف بن محمد المزجاجی والسیدبن احمدو قاسم ابنی سلیمن وعمہ محمد حسین الانصاری حو انباناشیخناالسید الامام العارف بالله الشاہ آل الرسول الاحمدی فی جمادی الاولی ۱۲۹۴ھ عن الشاہ عبد العزیزالدھلوی عن ابیہ الشاہ ولی الله الدھلوی عن الشیخ ابی طاھر بن ابراھیم الكردی المدنی حوغیرھم من مشایخنارحمھم الله تعالی جمیعا باسانیدھم المعروفۃ الی ابی داؤد فی سننہ قال حدثنا النفیلی نامحمد بن سلمۃ عن محمد بن اسحق عن الزھری عن السائب بن یزیدرضی الله تعالی عنھماقال كان یؤذن بین یدی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبریوم الجمعۃ علی باب المسجدوابی بكرو عمر رضی الله تعالی عنھما ھذاحدیث حسن صحیحمحمد بن اسحق ثقۃ صدوق امام قال شعبۃ وابو زرعۃ والذھبی وابن حجر صدوق و قال الامام ابن المبارك نے شیخ عابدسندھی اورانھوں نے شیخ صالح غلانی اورسید عبد الرحمن اہدل اوریوسف ابن محمد مزجاجی اورسید احمدو قاسم ابنائے سلیمان اوراپنے چچامحمد حسین انصاری سے حہمارے شیخ سید امام عارف بالله شاہ آل رسول احمدی نے جمادی الاولی ۱۲۹۴ھ میں ہم كو خبر دیانھیں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اورانھیں ان كے والدشاہ ولی الله دہلوی نے اورانھیں شیخ ابو طاہر بن ابراہیم كردی مدنی نے ح ان سب لوگوں نے اپنے مشائخ كرام سے جن كی معروف و مشہورسندیں امام ابو داود تك متصل ہیں انھوں نے اپنی سنن میں نفیلیمحمد بن مسلمہ محمد اسحق زہری عن سائب ابن یزیدرضی الله تعالی عنہم سے روایت كیا:ــــ"حضور صلی الله تعالے علیہ وسلم جمعہ كے دن منبر پرتشریف لے جاتے تواپ كے سامنے مسجد كے دروازہ پر حضرت بلال رضی الله تعالے عنہ اذان دیتے۔ ایساہی ابو بكرو عمر رضی الله تعالی عنہماكے زمانہ میں ہوتارہا۔ "یہ حدیث حسن وصحیح ہے اسكے راوی محمد بن اسحق قابل بھروسہنہایت سچے امام ہیں۔ان كے بارے میں امام شعبی محدث ابو زرعہ اورابن حجر نے فرمایایہ بہت سچے ہیں۔امام عبدالله
#223 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
اناوجدناہ صدوقااناوجدناہ صدوقااناوجدناہ صدوقا ۔تلمیذ لہ ائمۃ اجلاء كابن المبارك وشعبۃ وسفین الثوری وابن عیینۃ والامام ابی یوسف واكثرعنہ فی كتاب الخراج لہ۔
و قال ابو زرعۃ الدمشقی اجمع الكبراء من اھل العلم علی الاخذ عنہ قال و قد اختبرہ اھل الحدیث فرؤہ صدقاو خیرا۔
و قال ابن عدی لم یتخلف فی الروایۃ عنہ الثقات و الائمۃ ولابأس بہ
و قال علی بن المدینی مارأیت احدایتھم ابن اسحق
وقال سفیان عــــــہ بن عیینہ جالست ابن مبارك فرماتے ہیں:"ہم نے انھیں صدوق پایاہم نے انھیں صدوق پایاہم نے انھیں صدوق پایا۔"امام عبدالله بن مباركامام شعبہ اورسفیان ثوری اورابن عیینہ اورامام ابو یوسف نے كتاب الخراج میں بہت زیادہ روایتیں كیں اوران كی شاگردی اختیاركی۔
امام ابو زرعہ دمشقی نے فرمایا:"اجلہ علماء كااجماع ان سے روایت كرنے پر قائم ہےاوراپ كواہل علم نے آزمایاتواہل صدق و خیر پایا۔"
ابن عدی نے كہا:"آپ كی روایت میں ائمہ ثقات كو كوئی اختلاف نہیںاوراپ سے روایت كرنے میں كوئی حرج نہیں۔"
امام علی ابن المدینی نے كہا"كسی امام یامحد ث كوابن اسحق پر جر ح كرتے نہیں دیكھا"
امام سفیان ابن عیینہ فر ماتے ہیں میں

عــــــہ:وبہ ظہركذب من زعم الان ان قد جر حہ سفین سفیان ابن عیینہ كے اس قول سے اس شخص كاجھو ٹ ظاہرہوگیاجو یہ كہتاہے كہ حضرت سفیان (باقی اگلے صفحہ پر)
#224 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ابن اسحق منذ بضع سنین وسبعین سنۃ سترسال سے اوپرابن اسحاق كی خد مت كرتارہا

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بن عیینہحاشاہ بل قدتلمذ و ذب عنہ وقال رایت الزھری قال لمحمدبن اسحق این كنت فقال ھل یصل الیك أحد فد عاحاجبہ وقال لاتحجبہ اذاجاء وقال ایضاقال ابن شہاب وسئل عن مغازیہ فقال ھذاأعلم الناس بھا وقال ابن المدینی قلت لسفیان كان ابن اسحق جالس فاطمۃ بنت منذر فقال اخبر نی ابن اسحق انھاحد ثتہ وانہ دخل علیہا وقال ابن عیینۃ ایضا ابن عیینہ نے ابن اسحق پر جر ح كی ہے خد اكی پناہ انہوں نے توابن اسحق كی شاگر دی اختیاركی ہے ان كی طر ف سے مدافعت كی ہے اور فر ماتے ہیں كہ امام زہری كو دیكھاكہ ابن اسحق سے پو چھاآپ كہاں تھےانہوں نے جواب دیاكو ئی آپ كے یہاں باریابی بھی تو پائے(یعنی در بان روكے ہو ئے تھا)توامام زہری نے اپنے دربان كو بلاكر فر مایاآئند ہ ابن اسحق كواندرانے سے كبھی بھی مت رو كنا۔حضرت ابن عیینہ كی ہی روایت ہے كہ كسی نے امام زہری سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے غزوات كے بار ے میں پوچھاانہوں نے ابن اسحق كی طرف اشارہ كركے فر مایایہ اس كوسب لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں حضرت علی بن مدینی روایت كرتے ہیں كہ میں نے سفیان سے پو چھاكہ ابن اسحاق فاطمہ منذركے پاس بیٹھے تھے تو حضرت سفیان نے كہاكہ مجھ سے خو د محمد بن اسحاق نے كہ
#225 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ومایتھمہ احد من اھل المدینۃ ولایقول فیہ شیئا
وقال ابوامعاو یۃ كان اسحاق اہل مدینہ میں سے كسی نے ان پراتہام نہیں ركھانہ ان پركچھ تنقید كی۔
امام ابو معاویہ نے فر مایا:"ابن اسحاق سب

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سمعت شعبۃ یقول محمد بن اسحق امیرالمو منین فی الحدیث فھذاماجر حہ بہ سفیان نعم ذكران الناس اتھموہ بالقدر ولو كان ھذاجر حافمااكثر المجرو حین فی الصحیحینالاتری انہ كان یسمع ھذاثم لایترك مجالسۃ ابن اسحاق ولاالاخذ منہ ھل لیس منہ ماید ل علی تصدیقہ الناس فی ھذافكم من تھمۃ لااصل لھا وسیاتیك كلام ابن منیر ۱۲منہ۔ كہ مجھ سے فاطمہ نے حدیث بیان كی اورانكے پاس گیا(تو پاس بیٹھنے كی حقیقت صر ف یہ تھی كہ ان سے حدیث سنی)ابن عیینہ نے توابن اسحق كی تعدیل میں امام شعبہ كاوہ شاند ار قول نقل كیاكہ یہ امیرالمو منین فی الحدیث ہیں(كیاجر ح ایسی ہی ہوتی ہے )ہاں آپ نے ابن اسحاق كے بار ے میں یہ بھی فرمایاہے كہ لوگوں نے ان پر قدری ہونے كاالزام لگایاہے لیكن كیایہ جر ح ہےاگر جر ح ہوتو بخاری و مسلم ایسے مجرو ح روایوں سے بھری پڑی ہیں ان كے بہت سے راو یوں پر قدركاالزام ہے اگریہ جر ح ہوتی توابن عیینہ كاابن اسحاق سے حدیث روایت كرناتو بڑی بات ہے ان كاساتھ بھی چھوڑ دیتے لیكن انہوں نے نہ توان كاساتھ چھوڑانہ ان كی شاگر دی ترك كی نہ ہی عوام كے الزام كی تصدیق كی یہ تہمتیں بے اصل ہیں مزید ابن منیركاكلام آرہاہے ۱۲منہ۔
#226 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
من احفظ الناس وقال الامام ابن معین اللیث بن سعد اثبت فی یزید بن ابی حبیب من محمد بن اسحق ۔
قلت و یز ید ھذاكماقال ابن یونس روی عنہ الاكابر من اھل مصر قلت كعمرو بن الحار ث وحیوۃ بن شریح وسعید بن ابی ایو ب واللیث بن سعد نفسہ كلھم ثقاتاثباتاجلاو یحیی بن ایو ب الغافقی صد وق خمستھم من رجال الشیخین و عبدالله بن لھیعۃ صدو ق حسن الحدیث علی مااستقر الامر علیہ و عبد الله بن عیاش كلاھمامن رجال مسلم و من غیر ھم سلیمن التیمی البصری و زید بن ابی انیسۃ ثقتان من رجال الصحیحین و عبد الحمید بن جعفرالمد نی الصدوق من رجال مسلم وا خرون كثیرون ففی ھذاتفضیل لابن اسحق علیھما جمیعا۔
وقال الامام شعبۃ لو كان لی سلطان لامرت ابن اسحق علی المحدثین وقال ایضامحمد بن اسحاق امیر المومنین فی لوگوں سے زیادہ یادركھنے والے تھے"اورامام ابن معین نے فر مایا"یزید بن ابی حبیب سے روایت كرنے والوں میں لیث بن سعد ابن اسحق سے زیادہ ثبت ہے"
ابن یونس فر ماتے ہیں كہ ان یزید بن حبیب سے اكابرعلمائے مصر نے روایت كی جیسے عمرو بن حار ثحیوۃ ابن شریح سعید بن ابی ایو ب اور خو د لیث بن سعدیہ سب كے سب ثقہ اور ثبت ہیں اور پانچو یں یحیی ابن ایو ب غافقی صدو ق ہیں اوریہ پانچوں رجال شیخین میں سے ہیں عبد الله ابن لہیعہ صدو ق اورحسن الحدیث ہے ان كے بار ے میں اسی امر پرائمہ رجال كی رائے مستقرہو ئی اورعبد الله بن عیاش یہ دونوں مسلم كے روایوں میں سے ہیں انكے علاوہ سلیمان تیمی بصریزید بن ابی انیسہ دونوں حضرات ثقہ اور رواۃ صحیحین میں سے ہیں اورعبد الحمید بن جعفر مد نی صدو ق ر جال مسلم سے ہیں ان كے علاوہ اور بھی بہت سے افراد ہیں تواس سے ثابت ہواكہ ابن اسحاق ان سب سے افضل ہیں۔
امام شعبہ نے فر مایا"میری حكو مت ہوتی تو میں ابن اسحق كو محد ثین پر حاكم بناتایہ توامیرالمو منین فی الحدیث ہیں"ایك روایت میں ہے كہ
#227 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
الحدیث وفی روایۃ عنہ قیل لہ لماقال لحفظہ وفی اخری عنہ لوسو د احد فی الحد ث لسو د محمد بن اسحق
وقال علی بن المدینی مدار حدیث رسول الله صلی الله علیہ وسلم علی ستۃ فذكر ھم ثم قال فصارعلم الستۃ عند اثنی عشر فذكرابن سحق فیھم
وقال الامام الزھری لایزال بالمدینۃ علم جم ما كان فیھاابن اسحاق وقد كان یتلقف المغازی من ابن اسحق مع انہ شیخہ وشیخ الد نیافی الحدیث و قال شیخ الاخرعاصم بن عمر بن قتادہ لایز ال فی الناس علم مابقی محمد ابن اسحق وقال عبد الله بن فائدكنانجلس الی ابن اسحق فاذا كسی نے ان سے پو چھاآپ الیساكیوں كہتے ہیں تو حضرت شعبہ نے فرمایاان كے حفظ كی وجہ سے دوسری روایت میں ہے حدیث والوں میں اگركو ئی سردارہوسكتاہے تو وہ محمد ابن اسحق ہیں۔
علی بن المدینی سے روایت ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كی حدیثیں چھ آدمیوں میں منحصرہیں پھران سب كے نام گنوائے اور فر مایااس كے بعد بارہ آدمیوں میں دائرہ ہو ئیں اورابن اسحاق ان بارہ۱۲ میں ہیں۔
امام زہری فر ماتے ہیں مدینہ مجمع العلوم رہے گاجب تك یہاں محمد بن اسحاق قیام پذیر رہیں گے آپ غزوات كی روایتوں میں ابن اسحق پرہی بھروساكرتے تھے ہر چند كہ آپ حدیث میں ان كے استادتھے بلكہ دنیابھركے شیخ تھے ابن اسحق كے دوسر ے استاذ عاصم ابن عمر بن قتادہ نے فر مایاجب تك ابن اسحاق زند ہ ہیں دنیامیں تمام علوم باقی رہیں گے عبد الله ابن فائد نے كہا:ہم لوگ ابن اسحاق كی مجلس میں
#228 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
اخذ فی فن من العلم ذھب المجلس بذلك الفن ۔
وقال ابن حبان لم یكن احد بالمدینۃ یقار ب ابن اسحق فی علمہ ولایوازیہ فی جمعہ وھو من احسن الناس سباقاللاخبار
وقال ابو یعلی الخلیلی محمد بن اسحق عالم كبیر واسع الرواۃ والعلم ثقۃ
وكذلك قال یحیی بن معین و یحیی بن یحیی وعلی بن عبد الله (ھوابن المدینی شیخ البخاری)واحمد العجلی ومحمد بن سعد وغیر ھم ان محمد بن اسحاق ثقہ
وقال ابن البرتی لم اراھل الحدیث یختلفون فی ثقہ و حسن حدیثہ وقال الحاكم عن البوشنجی شیخ البخاری ھو عندناثقۃ ۔ ہوتے تو جس فن كاتذكرہ شرو ع كر دیتے اس دن مجلس اسی پر ختم ہو جاتی۔
ابن حبان نے كہامدینہ میں كو ئی علمی مجلس حدیث كی ہو یادیگرعلوم و فنون كی ابن اسحق كی مجلس كے ہمسر نہ ہوتی اور خبروں كی حسن ترتیب میں یہ اورلوگوں سے آگے تھے۔
ابو یعلی خلیلی نے فر مایامحمد بن اسحق بہت بڑے عالم حدیث تھے روایت میں واسع العلم اور ثقہ تھے۔
یحیی ابن معین یحیی ابن یحیی وعلی ابن عبد الله المدینی استاد امام بخاریاحمد عجلیمحمد بن سعد وغیرہ نے كہامحمد بن اسحق ثقہ ہیں۔
حضرت ابن البرتی نے فر مایاعلم حدیث والوں میں محمد ابن اسحق كے ثقہ ہونے میں كوئی اختلاف نہیں اوران كی حدیث حسن ہے اور حاكم نے بوشنجی شیخ بخاری سے روایت كی كہ ابن اسحق ہمارے نزدیك ثقہ ہیں۔
#229 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
وقال المحقق فی فتح القدیراماابن اسحق فثقۃ لاشبھہ عند نافی ذلك ولاعند محققی المحدثین وقال ایضاتوثیق محمد بن اسحق و ھوالحق الابلج و مانقل عن كلام مالك فیہ لایثبت ولوصح لم یقبلہ اھل العلم الخ وقد اطال الامام البخاری فی تو ثیقہ فی جز ء القراء ۃ ولم یوردہ فی الضعفاء لہ وانكر صحۃ مایذكر فیہ من كلام مالك ومانقل عن علی مایشعر بانكار صحتہ ماعن ھشام۔
وقد بیناوجھہ فی تحریراتناالحدیثیۃ واوردہ ولدی المولو ی مصطفی رضاخاں حفظہ الله تعالی فی
كتابہ"وقایۃ اھل السنۃ عن مكر دیو بند والفتنۃ "صنفہ فی الرد علی وھابیہ دیو بند اذخالفوافی ھذہ المسالۃ وھم الذین حكم ساداتناعلماء الحر مین الشریفین جمیعابكفرھم وارتدادھم وان من شك فی كفر ھم وعذابھم فقد كفر لسبھم الله
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فر مایاابن اسحق ثقہ ہیں ثقہ ہیں اس میں نہ ہمیں شبہہ ہے نہ محققین محد ثین كوشبہہ ہے محمد ابن اسحق كی تو ثیق حق صریح ہے اورامام مالك سے ان كے بارے میں جو كلام مروی ہے وہ صیح نہیں اور برتقدیر صحت روایت ان كے كلام كو كسی محد ث نے تسلیم نہیں كیااورامام بخاری نے تو جز ء القراء ۃ میں ان كی تو ثیق میں طو یل كلام فر مایااوران كاتذكرہ اپنی كتاب"ضعفاء"میں بھی نہیں كیااوران كی جر ح میں امام مالك كاجو كلام نقل كیاگیاہے اس كی صحت سے انكاركیاہے اور حضرت علی(كر م الله وجہہ الكریم)سے ان كے بارے میں ہشام سے جو مروی ہے اس كابھی انكاركیاہے۔
ان سب باتوں پرہم نے اپنی تحریروں میں جو علم حدیث سے متعلق ہیں روشنی ڈالی ہے اوران سب كو میرے عزیز فر زند مولوی مصطفی رضاخاں(سلمہ الله تعالی)نے اپنی كتاب "وقایہ اہل السنہ عن مكر دیو بند والفتنہ"میں جو وھابیہ دیو بندیہ كے رد میں ہے بیان كیاہے كہ انہوں نے بھی اس مسئلہ میں مخالفت كی تھی اوراہل دیو بند پرتوہمارے علمائے حر مین طیبین نے كفركافتو ی دیاہے اوران كے كفر میں شك كر نیوالوں كی بھی تكفیر فر مائی ہے كیونكہ انہوں نے
#230 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
رب العلمین و محمداسیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع النبیین۔
ثم اجاب عنہ البخاری فاجادواصاب وقدقال فیما قال ولم ینج كثیر من الناس من كلام بعض الناس فیھم نحو مایذكرعن ابراھیم من كلامہ فی الشعبی و كلام الشعبی فی عكر مۃ ولم یلتفت اہل العلم فی ھذاالنحوالاببیان وحجۃ ولم تسقط عدالتھم الاببرھان و حجۃ اھ
وحسن الامام احمدو یحیی بن معین و محمد بن عبدالله بن نمیرو محمد بن یحیی كلھم شیو خ البخاری وابو داؤد والمنذری والذھبی حدیثہ و عدہ الامام الذ ھبی ثم السیوطی فی اعلی مراتب الحسن قال فی التدریب الحسن ایضااعلی مراتب كالصحیح قال الذھبی فاعلی مراتبہ بھزبن حكیم عن ابیہ عن جدہ و عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ وابن اسحاق عن التیمی وامثال ذلك پروردگارعالم اورسیدالمرسلین محمد مصطفی كوگالی دی ہے الله تعالی آپ پراورتمام نبیوں پر درودوسلام نازل فرمائے۔
امام بخاری رحمۃ الله تعالی عنہ نے بے سندتنقید وں كاكیاخو ب رد فر مایاہے آپ فر ماتے ہیں ایسی تنقید وں سے كم لوگ ہی كامیاب ہو ئے جیسے امام شعبی كے بار ے میں امام ابرہیم كاكلام حضرت عكرمہ كے بارے میں امام شعبی كاكلام اہل علم میں سے كسی نے اس قسم كی تنقید وں كی طر ف كو ئی توجہ نہ كی جب تك طر ح صریح اورمدلل نہ ہواورایسی تنقید وں سے كسی كی عدالت پراثر نہیں پڑتا۔
امام احمدامام یحیی بن معین اورمحمد بن عبدالله بن نمیرو محمد ابن یحیی یہ سب امام بخاری كے استاذ ہیں اورابو داودمنذری اور ذہبی ان سب لوگوں نے محمد بن اسحاق كی حدیث كو حسن قرار دیاہے اورامام ذہبی اورسیو طی نے ان كو حسن كے اعلی مدارج میں گر داناہے تدریب میں ہے"صحیح كی طر ح حسن كے بھی چند در جے ہیں"امام ذہبی فر ماتے ہیں كہ اعلی در جہ كی حسن بہز ابن حكیم عن ابیہ عن جد ہ اورعمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ اورابن اسحق عن تمیی اوران كے امثال ہیں اور اسی كو
#231 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
مماقیل انہ صحیح و ھوادنی مراتب الصحیح اھ
صححہ ابن المدینی والترمذی وابن خزیمۃ و الامام الطحاوی وقد حسن الدار قطنی بعض ماتفرد بہ ابن اسحق وصححہ الحاكم عــــــہ وقد تبعھما علیہ ادنی در جہ كی صحیح بھی قرار دیاہے۔
چنانچہ ابن مدینیتر مذی ابن خز یمہ اورامام طحاوی نے اس كوصحیح كہااور بعض وہ حدیثیں جن كے تنہامحمد بن اسحق راوی ہیں انہیں دار قطنی نے حسن كہااور حاكم نے صحیح فر مایااوران دونوں

عــــــہ:اورد فی السنن حدیث احمد بن خالد عن ابن اسحق عن مكحول عن محمود بن الربیع عن عبادۃ رضی الله تعالی عنہ فی القراءۃ خلف الامام وقالقال علی بن عمرھذااسناد حسن واقرہ البیہقیوروی فی باب الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حدیث ابی مسعودرضی الله تعالی:ان رجلاقال:یارسول الله ! اما السلام علیك فقد عرفناہفكیف نصلی علیك اذانحن صلینافی صلوتناوقال:قال الدارقطنی:حسن متصل واقرہ البیہقی وقال ابن التركمانی لااعلم احداروی ھذا الحدیث بھذااللفظ الامحمد بن اسحاق واوردہ ایضافی باب الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی التشھد ثم حكی الحاكم تصحیحہثم عن الدارقطنی تحسینہ واقرھما۔۱۲منہ سنن میں حدیث احمد بن خالدابن اسحاقمكحولمحمود بن ربیع عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ باب قرأۃ خلف الامام میں نقل كركے فرمایاعلی بن عمر نے اس سند كوحسن قرار دیاہےاورامام بیہقی نے اس كو ثابت ركھاہے اور باب وجوب الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں ابو مسعودانصاری رضی الله تعالی عنہ كی اس حدیث كونقل كیا:ایك شخص نے سركار دوعالم صلی الله تعالی علیہ وسلم كی خدمت اقدس میں عرض كیایارسول الله صلی الله تعالی علیك وسلم ! سلام كوتوہم نے خوب سمجھ لیاہے كہ نمازمیں كیسے پڑھناچاہئے اب یہ فرمائیے كہ جب ہم آپ پر درود پڑھیں اپنی نمازوں میں توكیسے پڑھیں۔اورفرمایاكہ دار قطنی اس كوحسن متصل قرار دیتے ہیں اور بیہقی اس كو برقرار ركھتے ہیںابن تركمانی كہتے ہیں یہ حدیث ان الفاظ میں ہمارے علم میں ابن اسحاق كے علاوہ كسی نے روایت نہیں كیپھر بھی حدیث باب الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی التشہد میں نقل كركے كہاحاكم نے اس كی تصحیح كی اور دار قطنی نے تحسیناورخوداس كو برقرار ركھا ۱۲ منہ
#232 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
البیھقیووصفہ المنذری والذھبی باحدالائمۃ الاعلام وانہ صالح الحدیث مالہ ذنب الاماحشافی السیر ۃ من مناكیر
واوردہ الحافظ العسقلانی فی طبقات المد لسین فیمن لم یضعف بشیئ لاعیب علیہ الاالتد لیس۔
وقال امام النو وی لیس فیہ الاالتدلیس وقال محمد بن عبدالله بن نمیر رمی بالقدرو كان ابعدالناس منہ
وقال یعقو ب بن شیبہ سالت ابن المدینی عن ابن اسحق قال حدیثہ عندی صحیح قلت فكلام مالك فیہ قال مالك لم یجالسہ ولم یعر فہ
وذكرہ ابن حبان فی ثقاتہ وان مالكارجع عن الكلام فی ابن اسحق واصطلح معہ و بعث الیہ ھدیۃ حضرات كی امام بیہقی نے اتباع كی امام منذری اورامام ذہبی نے محمد بن اسحاق كوائمہ اعلام میں شماركیااور صالح الحدیث قرار دیااور فرمایاكہ ان كااس كے سواكو ئی گناہ نہیں كہ انہوں نے سیرت میں منكر حدیثیں در ج كیں۔
حافظ ابن حجر نے انہیں مد لسین كے طبقات میں ذكركیاجن میں تد لیس كے علاوہ كو ئی ضعف ہے نہ علت۔
امام نو و ی بھی فر ماتے ہیں كہ ان میں تد لیس كے علاوہ كو ئی كمی نہیں محمد بن عبدالله نمیری نے فر مایاان پہ قدریہ ہونے كاالزام ہے لیكن وہ اس سے كوسوں دورہیں۔
یعقوب ابن شیبہ فر ماتے ہیں میں نے ان كے بارے میں علی ابن المدینی سے سوال كیاتو فر مایاكہ میر ے نز دیك ان كی حدیثیں صحیح ہیں میں نے امام مالك كی تنقید وں كاذكركیاتو فر مایاوہ نہ ان كے ساتھ رہے نہ انہیں پہچانا۔
ابن حبان نے انہیں ثقات میں شماركیااور فر مایاامام مالك نے ابن اسحق كی جر ح سے رجو ع فر مایااوران سے صلح كر لی اورانہیں تحفہ بھیجا۔
#233 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
وقال مصعب الز بیری و دھیم وابن حبان لم یكن یقد ح فیہ من اجل الحدیث وقدتكفل بالجواب عنہ الائمۃ احمدوابن المدینی والبخاری وابن حبان والمزی والذھبی والعسقلانی والمحقق حیث اطلق كماھو مفصل مع زیادات كثیرۃ فی كتاب ولدی المحفو ظ بكرم الله تعالی"وقایۃ اھل السنۃ"ولله الحمد والمنۃ۔
نفحہ۲:من الجھل الوخیم رمیہ بالر فض اغترارا بقول التقریب رمی بالتشیع ومابین التشیع و الرفض كمابین السماء والار ض فر بمااطلقوا التشیع علی تفضیل علی علی عثمان رضی الله تعالی عنہماوھو مذھب جماعۃ من ائمۃ اھل السنۃ لاسیماائمۃ الكوفۃ قال صاحب التقریب نفسہ فی ھدی الساری التشیع محبۃ علی وتقدیمہ علی الصحابۃ فمن قد مہ علی ابی بكرو عمر فھو غال فی تشیعہ و یطلق علیہ رافضی والا فشیعی فان انضاف الی ذلك السب او مصعب زبیریدہیم اورابن حبان نے كہاان پر حدیث كی وجہ سے جرح نہیں كی گئی اورائمہ میں احمدابن مدینی بخاری ابن حبان مزیذہبی اور محقق علی الاطلاق نے ان كی طر ف سے دفاع كیا۔یہ اور مزیداضافے میر ے فر زندسلمہ كی كتاب"وقایہ اہل سنۃ"میں ہیں والحمد لله والمنۃ۔



نفحہ ۲:تقریب كے قول"ان پرتشیع كی تہمت لگائی گئی ہے" سے دھو كاكھاكران پر رفض كاعیب لگانابد بو دار جہالت ہے رفض وتشیع میں زمین واسمان كافر ق ہے بسااوقات لفظ تشیع كا اطلاق حضرت مولاعلی كو عثمان غنی رضی الله تعالی عنہم پر فضیلت دینے پرہوتاہے جبكہ یہ ائمہ بالخصوص اعلام كو فہ كا مذہب ہے صاحب تقریب نے خو د بھی"ہدی الساری"میں فر مایاتشیع حضرت علی كی صحابہ سے زائدمحبت كانام ہے تو اگركوئی آپ كوابو بكرو عمر پر فضیلت دیتاہے تو وہ غالی شیعہ ہے اوراس كے ساتھ گالی اور بغض كااظہاركر ے تو غالی رافضی ہے۔
#234 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
التصریح بالبغض فغال فی الرفض اھ وتمام تحقیقہ فی تحریراتناالحدیثیۃ۔
وفی المقاصد للعلامۃ التفتازانی الافضلیۃ عندنا بترتیب الخلافۃ مع تر دد فیمابین عثمان وعلی رضی الله تعالی عنہما
وفی شرحہالہ قال اھل السنۃ الافضل ابو بكر ثم عمر ثم عثمان ثم علی و قد مال بعض منھم الی تفضیل علی علی عثمان رضی الله تعالی عنہماوالبعض الی التو قف فیمابینھما اھ
وفی الصواعق لامام ابن حجر جزم الكو فیون و منھم سفیان الثوری بتفضیل علی علی عثمان و قیل بالوقف عن التفاضل بینھماوھوروایۃ عن مالك اھ۔وفی تہذیب التہذیب فی ترجمۃ الامام الاعمش كان فیہ تشیع اھ وفی شرح الفقہ الاكبر لعلی قاری رو ی عن اوراس كی پوری تحقیق ہماری تحریرات حدیثیہ میں ہے۔
مقاصد علامہ تفتازانی میں ہے ہمارے نز دیك خلفائے اربعہ میں فضلیت خلافت ترتیب پرہے حضرت عثمان و علی رضی الله تعالی عنہمامیں تردد كے ساتھ۔
شرح مقاصد للتفتازانی میں ہے اہل سنت نے كہاكہ سب سے افضل ابو بكر پھرعمر پھرعثمان پھرعلی اور بعض حضرت علی كو عثمان سے افضل مانتے ہیں رضوان الله تعالی علیہم اجمعین اور بعض ان دونوں كے در میان توقف كے قائل ہیں۔
امام ابن حجر مكی رحمۃ الله تعالی علیہ كی صواعق محر قہ میں ہے ائمہ كو فہ(انہیں میں سفیان ثوری ہیں)نے حضرت علی كو حضرت عثمان پر بالیقین افضل گر دانااورامام مالك وغیرہ سے تو قف مرو ی ہے۔
تہذیب التہذیب میں حضرت امام اعمش كے حالات میں تحریرہے كہ ان میں تشیع تھا۔
فقہ اكبر ملاعلی قاری میں امام صاحب كے بارے
#235 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ابی حنیفۃ تفضیل علی علی عثمان رضی الله تعالی عنھما ا الصحیح ما علیہ جمھور اھل السنۃ و ھو ظاھر من قبول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علی ما رتبہ ھناوفق مراتب الخلافۃ ۔اھ
ثم لایذ ھب عنك الفر ق بین شیعی ورمی بالتشیع و كم فی الصحیحین ممن رمی بہ وقد عد فی ھدی الساری عشرین منھم فی مسانید صحیح البخاری فضلاعن تعلیقاتہبل فیہ مثل عباد بن یعقو ب رافضی جلد ثم الشبھۃ لاقیمہ لہاراسافكم فی الصحیحین ممن رمی بانواع البد ع وقدتقر رعند ھم ان المبتدع تقبل روایۃ اذالم یكن داعیۃ۔


نفحہ۳:اصل الحدیث رویناہ فی المسند حدثنا یعقو ب حد ثناابی عن ابی اسحق قال حد ثنی محمد بن مسلم بن عبیدالله الزھری عن السائب میں لكھاہے حضرت ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے حضرت عثمان غنی پرحضرت علی كی فضیلت مرو ی ہے(رضی الله تعالی عنہ)لیكن صحیح وہی ہے جس پرجمہوراہلسنت ہیں اور فقہ اكبر میں اس كوترتیب خلافت كے موافق ركھنے سے معلوم ہوتاہے كہ یہی آپ كاقول بھی ہے۔
پھر لفظ شیعی اور رمی بالتشیع كافر ق بھی ملحو ظ رہناچاہیے۔ بخاری كے كتنے ہی ایسے راوی ہیں جن پرتشیع كاالزام ہے۔ "ہدی الساری"میں ایسی بیس سند وں كی تفصیل ہے جو خاص مسانید بخاری میں ہیں تعلیقات كاتو ذكرہی الگ رہابلكہ رواۃ بخاری میں عباد بن یعقوب جیسارافضی ہے جس پركوڑے كی حد جاری گئی تھی اورجرح میں شبہہ كی تو كو ئی اہمیت نہیں خو د بخاری ومسلم میں بہت سے روای ہیں جن پرانواع واقسام كی بدعت كاشبہہ كیاگیااوراصول محد ثین كی روسے خو د بد عتی بھی اپنے مذہب نامہذب كاداعی و مبلغ نہ ہوتواس كی روایت مقبول ہے۔
نفحہ ۳:اصل حدیث جسے ہم نے روایت كیامسنداحمدابن حنبل میں اس سند كے ساتھ ہے یعقوبابیابن اسحق حد ثنی محمد بن مسلم عبیدالله الز ہری سائب بن یز یدیہاں یہ
#236 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
بن یزیدابن اخت نمر فقد صرح بالسماع فلا علیك من عنعنۃ ھناھذاوجہ۔
وثانیاابن اسحق كثیرالروایۃ عن الزھری و العنعنہ عن مثل الشیخ تحمل علی السماع قال الذھبی فی مثلہ متی قال"نا"فلاكلام و متی
قال"عن"تطر ق الیہ احتمال التدلیس الافی شیو خ لہ اكثرعنہم فان روایتہ عن ھذاالصنف محمولۃ علی الاتصال ۔اھ
لاسیماابن اسحق فقد عر ف منہ النزول فی اشیاخ اكثرعنھم قال ابن المدینی حدیث ابن اسحق لیتبین فیہ الصدق وھو من اروی الناس عن سالم بن ابی النضروروی عن رجل عنہ وھو من اروی الناس عن عمرو بن شعیب وروی عن رجل عن ایوب حدیث لفظ حد ثنی سے مرو ی ہے تواب اس روایت پر نہ تد لیس كااعتراض ہوسكتاہے نہ ارسال كاایك جواب تو یہ ہوا۔
دوسرایہ ہے كہ امام محمد بن اسحق امام زہری سے كثیرالروایت ہیں اورایسے راوی كاعنعنہ بھی سماع پر محمول ہوتاہے امام ذہبی فر ماتے ہیں راوی جب روایت میں لفظ عن سے كسی بات كااضافہ كر ے توتد لیس كااحتمال ہوتاہے مگرجب روای ایسے شیخ سے روایت كر ے جس سے وہ كثیرالروایت ہوتو یہ روایت متصل ہوگی۔
اورابن اسحق كے بارے میں معروف مشہورہے كہ وہ ایسے اساتذہ كی حدیثوں كو بطور نز ول بھی روایت كرتے جن سے وہ اكثر روایت كرتے ہیں علی بن المدینی فر ماتے ہیں محمد بن اسحاق كی حدیثوں میں صدق ظاہرہے وہ سالم بن ابی نضرسے بنسبت ان كے دوسرے شاگر دوں كے كثیرالروایت ہیں پھر بھی ان كی روایت عن رجل عن سالم(یعنی اپنے سے كم درجہ كے آدمی كے واسطہ سے بھی سالم سے ان كی روایت ہے) اسی طرح وہ عمرو بن شعیب كے شاگردوں میں بھی اروی الناس عنہ ہیں اورانكی
#237 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
عنہ اھ
قلت و كذاھو من اروی الناس عن ابن شہاب وقدرو ینافی كتاب الخراج للامام ابی یوسف حد ثنی محمد بن اسحق عن عبدالسلام عن الز ھری


و ثالثاھذاكلہ علی طریقۃ ھولاء المحد ثین اماعلی اصولنامعشرالحنفیۃ والمالكیۃ والحنبلیۃ الجمہور فسؤ ال العنعنۃ ساقط عن راسہ فان مبناہ علی شبھۃ الارسال و حقیقتہ مقبولۃ عند ناو عندالجمہور فكیف بشبہتہ۔




قال الامام الجلیل السیو طی فی التدریب فی عنعنعۃ روایت عن رجل عن ایو ب عن عمرو بن شعیب بھی ہے۔
میں كہتاہوں ابن اسحاق امام زہری كے بھی ارو ی الناس شاگر د ہیں مگر قاضی ابو یوسف رحمۃ الله تعالی علیہ"كتاب الخراج" میں فر ماتے ہیں مجھ سے محمد بن اسحق نے بیان كیاكہ ان سے عبدالسلام نے روایت كی اوران سے امام زہری نے(توابن اسحاق كی یہ روایتیں لفظ عن سے ہونے كے باو جو دتد لیس نہیں ہے روایت متصل ہے)
تیسراجواب:محمدابن اسحاق كی تد لیس اورعنعنہ كے بار ے میں اب تك جو بحث تھی وہ ان محد ثین كے مسلك كی بنیادتھی جو حدیث كی جرح میں عنعنہ اورتد لیس كالحاظ كرتے ہیں لیكن ہم حنفیو ںمالكیو ںحنبلیوں جمہورعلماء كے اصول پرعنعنہ كالحاظ ہی اصلاساقط ہے كیونكہ عنعنہ كے لحاظ كی وجہ تو یہ شبہہ ہے كہ تد لیس حدیث كے مرسل ہونے كاڈ رہے اورہمار ے اورجمہوركے نزدیك تو خودارسال بھی سند كاعیب نہیں اور حدیث مرسل بھی مقبول ہے تو پھر شبہ ارسال سے حدیث پر كیااثر پڑے گا۔
امام جلال الدین سیو طی نے تدریب میں فر مایاجمہورعلمائے كرام جو مراسیل قبول كرتے ہیں
#238 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
المدلسقال جمہور من یقبل المراسیل تقبل مطلقا اھ
و فیہ عن الامام ابن جریرالطبری اجمع التابعون باسرھم علی قبول المرسل ولم یات عنھم انكارہ و لاعن احد من الائمہ بعد ھم الی راس المائتین
و فی صحیح مسلم و جامع التر مذ ی عن محمد بن سیرین التابعی قال لم یكونوایسئلون عن الاستاذ فلماوقعت الفتنۃ قالواسموالنارجالكم ۔اھ
قلت و ھذازید بن اسلم الامام مولی امیرالمو منین الفارو ق الذی كان الامام الاجل زین العابدین یجلس الیہ و یتخطی مجالس قو مہ فقال لہ نافع ابن جبیر بن مطعم تخطی مجالس قو مك الی عبد عمر بن الخطاب فقال رضی الله تعالی عنہ انما یجلس الرجل الی من ینفعہ فی دینہ رواہ البخاری فی تاریخ زید وہ عنعنہ كو بھی قبول كرتے ہیں اسی میں امام جریر طبری سے منقول ہے كہ جملہ تابعین نے بالكلیہ مراسیل قبول كر نے پر اجماع كیاہے نہ توتابعین نے مراسیل كاانكاركیانہ ان كے بعد ۲۰۰ ہجری تك كسی اور نے۔
صحیح مسلم اورجامع میں محمد بن سیرین تابعی سے ہے كہ لوگ احادیث كی سند كے بارے میں كسی سے سوال ہی نہیں كرتے تھے جب فتنہ واقع ہواتوسوال كیاجانے لگاكہ اپنے راویوں كوہم سے بیان كرو۔
میں كہتاہوں كہ امام زیدبن اسلم جوامیرالمو منیبن عمر فارو ق رضی الله تعالی عنہماكے آزاد كر دہ غلام تھے ان كے پاس امام جلیل زین العابدین بیٹھاكرتے تھے اوراپنی قوم كی مجلس چھوڑ دیتے تھے نافع بن جبیر بن مطعم نے آپ سے كہاآپ اپنے لوگوں كی مجلس چھوڑ كرعمر بن خطاب(رضی الله تعالی عنہ) كے غلام كی محفل میں بیٹھتے ہیں آپ نے فر مایاآدمی وہیں بیٹھتاہے كہ جہاں اس كے دین كافائد ہ ہوتاہے(تاریخ بخاری) انہیں زید نے ایك
#239 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ھذاحد ث بحدیث فقال لہ رجل یاابااسامۃ عمن ھذافقال یاابن اخی ماكنانجالس السفہاء قال لہ العطاف بن خالد۔
قلت و قداكثرالارسال ائمۃ التابعین سعید بن المسیب والقاسم وسالم والحسن وابوالعالیۃ و ابراہیم النخعی و عطاء بن ابی رباح و مجاہدو سعید بن جبیرو طاؤ س والشعبی والاعمش و الزھری و قتاد ۃ و مكحول وابوسحق السبیعی وابراہیم التیمی و یحیی بن الكثیرواسماعیل بن ابی خالد وعمرو بن دینارو معو یۃ بن قرۃ و زیدبن اسلم وسلیمان التیمی ثم الائمۃ مالك ومحمدوالسفیانان افتراھم فعلوہ لترد احادیثھم وفی مسلم الثبوت و شرحہ فواتح الرحموت مرسل الصحابی یقبل مطلقا اتفاقاوان من غیرہ فالاكثرو منھم الائمۃ الثلثۃ ابو حنیفۃ و مالك واحمدرضی الله تعالی عنہم یقبل مطلقاوالظاھریۃ و جمہورالمحد ثین الحادثین بعد المائتین لا اھ ۔و فی فصول البدائع للعلامۃ حدیث بیان كی ایك آدمی نے ان سے كہاابااسامہ یہ كس سے اپ بیان كر رہے ہیں آپ نے فر مایااے بھتیجے! ہم سفہاء كے ساتھ نہیں بیٹھتے یہ اسے عطاف بن خالد نے كہا۔
میں كہتاہوں علمائے تابعین مثلاسعید بن مسیب قاسمسالم حسنابوالعالیہابراہیم نخعیعطاء بن ابی رباح مجاہدسعید بن جبیرطاؤ سامام شعبیاعمشزہری قتادہ مكحول ابواسحق سبیعیابراہیم تیمییحیی بن كثیراسمعیل بن ابی خالد عمرو بن دینارمعاو یہ بن قرہزید بن اسلمسلیمن تیمیامام مالك و محمداورسفیانینكیایہ سب حضرات اس لیے ارسال كرتے تھے كہ ان كی حدیثیں رد كر دی جائیں مسلم الثبوت اوراس كی شرح فواتح الرحموت میں صحابہ كرام كے مراسیل باتفاق ائمہ مطلقامقبول ہیں اور دوسروں كے مراسیل باتفاق ائمہ جن میں امام ابو حنیفہامام مالكامام احمد بن حنبل شامل ہیں یہ سب لوگ اسے مطلقامقبول ركھتے ہیں ہاں ظاہریہ اورجمہور محد ثین جو ۲۰۰ ہجری كے بعد ہو ئے قبول نہیں كرتے۔فصول البدائع مولی خسرو میں ہے
#240 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
مولی خسرو طعن المحد ثین بمالایصلح جرحالا یقبل كالطعن بالتد لیس فی العنعنۃ فانھاو ھم شبھۃ الارسال و حقیقۃ لیست بجرح اھ
قلت:وروی ابو داود عن عبدالله بن حنظلۃ بن ابی عامران رسول الله امر بالو ضو ء عند كل صلوۃ فلماشق ذلك علیہ امر بالسواك لكل صلوۃ فیہ ایضاابن اسحق و قد عنعن و مع ذلك قال الشامی فی سیرت اسنادہ جیدو فیہ اختلاف لایضر اھ ۔
وروی احمد عن واثلۃ بن الاسقع رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله تعالی علیہ وسلم امرت بالسواك حتی خشیت ان یكتب علی نقل الزرقانی علی المواھب عن المنذری وغیرہ فیہ لیث بن ابی سلیم ثقۃ مدلس اور محد ثین كاایساطعن جو جرح بننے كی صلاحیت نہیں ركھتاجیسے عنعنہ میں تد لیس كاطعن كہ اس میں شبہہ ارسال ہے حالانكہ خو دارسال اسباب طعن سے نہیں ہے۔
چوتھاجواب:ابو داو درضی الله تعالی عنہ نے حضرت حنظلہ ابن ابی عامرسے روایت كی كہ رسول الله تعالی علیہ وسلم كوہر وقت و ضو كاحكم دیاگیاتھالیكن یہ جب آپ پر مشقت ڈالنے لگا تو ہر نماز كے وقت آپ كو مسواك كر نے كاحكم ہوااس حدیث میں بھی ابن اسحق نے لفظ عن سے روایت كی اس كے باو جود امام شافعی اپنی سیرت میں كہتے ہیں اس كی سند صحیح ہے اس میں اختلاف ہے جس سے كو ئی ضر ر نہیں۔
پانچواں جواب:امام احمد نے واثلہ بن اسقع رضی الله تعالی عنہ سے یہ حدیث روایت كی مجھے مسواك كے لیے اتنی بارحكم دیاگیاكہ مجھے ڈرہواكہ كہیں یہ فر ض نہ كر دی جائے۔امام زر قانی نے یہ حدیث مواہب كی شرح میں منذری وغیرہ سے روایت كیاس روایت میں لیث بن ابی سلیم جو ثقہ مدلس ہیں
#241 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
وقدرواہ بالعنعنۃ اھ ومع ذلك قال عن المنذری اسناہ حسن اھ
وقال الحافظ العسقلانی فی نظم اللالی معنعن ابی الزبیر غیر محمول علی الاتصال الااذاكان من روایۃ اللیث عنہ الخ وھذاامر مقررعند ھؤلامحد ثین ونجد فی صحیح مسلم احادیث عن ابی الزبیرعن جابر رضی الله تعالی عنہ لیست من روایۃ اللیث عنہ قال الذھبی فی المیزان فی صحیح مسلم عد ۃ احادیث ممالم یو ضح فیھاابوالزبیرالسماع عن جابروہی من غیر طریق اللیث عنہ ففی القلب منہا اھ
قلت:ولكن لم یكن منھافی قلب مسلم شیئ فادرجھا فی صحیحہ الذی جعلہ حجۃ بینہ وبین ربہ عز وجل۔
وروی ابن جریرعن زید بن ثابت رضی الله تعالی عنہ سمعت اورحدیث كولفظ عن سے روایت كرتے ہیں منذری كہتے ہیں كہ اس كی سند حسن ہے۔
چھٹاجواب:حافظ ابن حجرعسقلانی نے نظم اللالی میں كہا"ابو زبیركی معنعن مقبول نہیں اوراتصال پر محمول نہیں ہاں لیث سے ہوتو مقبول ہے"محد ثین كے نزدیك یہ بات مسلم ہے لیكن امام مسلم كی صحیح میں چند حدیثیں ابو زبیر بواسطہ حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ مرو ی ہیں جن میں ابو زبیر حضرت لیث سے روایت نہیں كرتے چنانچہ امام ذہبی میزان الاعتدال میں فر ماتے ہیں كہ"صحیح مسلم میں چند حدیثیں ایسی ہیں جن میں ابو زبیرجابر رضی الله تعالی سے بواسطہ لیث كی تصریح نہیں كی ہے جس سے دل میں كچھ شبہہ ہوتاہے۔"
میں كہتاہوں كہ امام مسلم رحمۃ الله تعالی علیہ كے دل میں توان حدیثوں كے بار ے میں كو ئی شبہہ نہیں تھاجبھی توانہوں نے یہ روایتیں اپنی صحیح میں درج كیں جس كواپنے اوراپنے رب كے در میان حجت قرار دیا۔
ساتواں جواب:ابن جریر نے زید بن ثابت رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی میں نے
#242 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول الشیخ والشیخۃ اذازنیافارجمو ھماالبتۃ فقال عمر رضی الله تعالی عنہ لمانز لت اتیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الحدیث۔
قال ابن جریرھذاحدیث لایعر ف لہ مخرج عن عمرعن رسول الله تعالی علیہ وسلم بھذااللفظ الامن ھذاالو جہ و ھو عند ناصحیح سندہ لاعلۃ فیہ تو ھنہ ولاسبب یضعفہ لعدالۃ نقلتہ و قدیعل بان قتادۃ مدلس ولم یصرح بالسماع والتحدیث اھ
وھذاامام الحنفیۃ امام الفقہاء المحد ثین الحافظ الناقدالبصیر بعلل الحدیث الامام ابو جعفراحمد الطحاو ی رحمۃ الله تعالی علیہ روی فی كتاب الحجۃ فی فتح رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مكۃ حدیثین احدھما اپ كو فر ماتے ہو ئے سناكہ بڑھیابوڑھے زناكریں توانہیں ضرورسنگساركرو۔حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی تومیں بارگاہ رسالت میں حاضرہوا۔ (الحدیث)
ابن جریر نے كہاكہ اس حدیث كی كو ئی تخریج عمرعن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یعنی بایں الفاظ سوائے اس روایت كے نہیں پھر بھی یہ حدیث ہمارے نز دیك صحیح اور مستند ہے اس میں كو ئی ایساعیب نہیں جواس حدیث كو كمزور كر ے تواس كے ضعیف ہونے كاكو ئی راستہ نہیں كہ یہ عادل راویوں سے مروی البتہ اس میں ایك علت یہ بیان كی جاتی ہے كہ اس كے ایك راو ی حضرت قتادہ مد لس ہیں اورانہوں نے نہ توسماع كی بات كی نہ لفظاحدثناكہا۔
آٹھواں جواب:امام الحنیفہامام الفقہاء والمحد ثینحافظناقدو بصیرامام ابو جعفراحمد طحاوی نے شرح معانی الاثار"كتاب الحجۃ فی فتح رسول الله مكۃ عنوۃ"میں دو حدیثیں روایت كیں ایك حضرت عكر مہ سے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم جب اہل مكہ سے رخصت ہو ئے اور دوسری
#243 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
عن عكر مۃ قال لماوادع رسول الله تعالی علیہ وسلم اھل مكۃوالاخرحدیث الز ھری وغیرہ قال كان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قد صالح قریشا الحدیثین بطولہماقال بعد ہ فان قلتم ان حدیثی الز ھری و عكر مۃ الذین ذكر نامنقطعان قیل لكم وقدرو ی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما حدیث ید ل علی مارویناہ حد ثنافھد بن سلیمن بن یحیی ثنایوسف بن بہلول ثناعبدالله بن ادریس حد ثنی محمد بن اسحق قال قال الزھری حد ثنی عبیدالله بن عبدالله بن عتبۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہماالحدیث فی نحو ورقۃ كبیر ۃ قال فی ا خرہ فھذاحدیث متصل الاسناد صحیح و معلوم ان"قال فلان"كعن فلان لعد م بیان السماع فیھما۔
قال الامام النو وی فی التقریب تد لیس الاسناد بان یرعی عمن عاصرہ مالم یسمعہ منہ مو ھماسماعہ قائلا:قال فلان او عن فلان ونحوہ الافی ماعنعنۃ ابن اسحق ان حكم ھذا حدیث امام زہری وغیرہ سے جس میں ہے كہ"حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اہل مكہ سے مصالحت فر مائی"یہ دونوں حدیثیں مكمل نقل فرماكرارشاد فر مایاكہ"اگركو ئی اعتراض كر ے كہ زہری و عكر مہ كی مذكورمنقطع ہیں"فہد بن سلیمنیوسف بن بہلولعبدالله بن ادریسمحمد بن اسحق قال قال الزہری عبیدالله بن عبدالله بن عتبہ نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے یہ حدیث بیان كی یہ حدیث حضرت امام طحاو ی رحمۃ الله تعالی علیہ نے بڑی طو یل ایك بڑے ورق كی مقدار میں روایت كركے فر مایایہ حدیث متصل الاسناد صحیح ہے حالانكہ سب كو معلوم ہے كہ اصطلاح میں قال كاحكم لفظ عن كاہے كیونكہ دونوں میں سماع كی تصریح نہیں۔
اورامام نو وی نے تقریب میں فر مایاكہ"تد لیس اسنادیہ نہیں كہ راوی اس سے روایت كر ے جس كامعاصرہو جب تك اس سے خو د نہ سنے اور لفظ ایسے بولے جس سے وہم ہو كہ راوی نے خو داس سے سناہے جیسے قال فلاں یاعن فلان مگران روایتوں میں جن كو
#244 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
قیل الامام الحجہ انہ متصل الاسنادوانہ صحیح فقدرفع مكحول وابواسحق السبیعی كلتاالشبھتین الكلام فی ابن اسحق وعدالتہ والاتیان من قبل عنعنۃ بلفظ الكریم الصریحولله الحمد۔
وھذاامامناثانی ائمہ مذھبناالامام ابو یوسف رضی الله تعالی عنہم قداكثر فی كتاب الخراج الاحتجاج باحادیث محمد بن اسحق معنعنۃ و غیر معنعنۃ و قدقالواكمافی ردالمحتارو غیرہ ان المجتھداذا استدل بحدیث كان تصحیحالہ فقد صحح الامام ابو یوسف احادیث ابن اسحق و عنعنۃ كیف وقد ادرجھافیمااوجب العمل بہ اذقال فی مبدء كتابہ ان امیرالمو منین ایدہ الله تعالی سالنی ان اضع لہ كتابا جامعایعمل بہ فی جبایۃ الخراج والعشورو الصدقات و الجوالی وغیرہ ذالك ممایجب العمل بہ و قد فسرت ذلك و محمد بن اسحاق نے لفظ عن سے روایت كیاہو بیشك ان كی ایسی روایت كابھی حكم یہی ہے كہ وہ متصل الاسناداور صحیح ہیںوہ امام حجۃ ہیں مكحول اورابواسحق سبیعی نے ان سے دونوں شبہوں كو دفع كیاہے۔"
ہمار ے امام مذہب ثانی الائمہ قاضی ابو یوسف رحمۃ الله تعالی علیہ نے كثرت كے ساتھ كتاب الخراج میں ان حدیثوں سے استدلال فرمایاجوحضرت محمد بن اسحاق سے بصیغہ عن وبغیر عن مروی تھیں اورعلمائے حدیث نے تصریح كی ہے (جیسا كہ ردالمحتاروغیرہ صحیفوں میں ہے)كہ مجتہد كاكسی حدیث سے استد لال كر نااس حدیث كی تصیح شمارہوتاہے تو قاضی ابو یوسف رحمۃ الله تعالی علیہ نے ابن اسحق كی معنعن اور غیر معنعن حدیثوں كواپنی كتاب میں داخل فر ماكران كی تصیح كی اوراستدلال بھی ایسی كتاب میں كیاجس كے واجب العمل ہونے كی تصریح خوداس كتاب كے مقدمہ میں فر مائی آپ لكھتے ہیں بے شك امیرالمو منین نے(خداان كی مد د فرمائے) مجھ سے ایك ایسی جامع كتاب كی فر مائش كی جس پروہ اپنی زند گی بھرجبایاخراج عشر صدقات اورجوالی وغیرہ میں عملدرآمد كریں اوروہ احكام واجب العمل ہوں تومیں نے
#245 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
شرحتہ اھ
نفحہ ۴:كفاناالمولی سبحانہ وتعالی النظر فی تو ثیق ابن اسحق و حجیۃ حدیثہ بان الذی الین لہ الحدیث كماالین لداؤ د علیہ الصلوۃ السلام الحدید رواہ فی كتابہ الذی قالوافیہ من كان فی بیتہ فكانمافی بیتہ نبی یتكلم وسكت علیہ۔



o وقدقال كمافی مقد مۃ الامام ابن الصلاح ذكرت فیہ الصحیح ومایشبہ و یقار بہ

o وفی فتح المغیث عن الامام ابن كثیر رو ی عنہ ماسكت عنہ فھو حسن اھ
oوفی رسالۃ الی اھل مكۃ ان كی تعبیراورتو ضیح كر دی
نفحہ ۴:روایت ابن اسحق كی تائیدوتو ثیق اوران كی طر ف سے دفاع كی مشقت سے الله تعالی نے ہماری یوں كفایت كی كہ ان كی محولہ بالاحدیث كواس امام نے اپنی مسند میں روایت كیا جن كے ہاتھ میں علم حدیث اس طرح نر م و ملائم ہوگیا تھا جیسے حضرت داود علیہ السلام كے دست كریم میں لوہانر م كر دیا گیامتھاجن كے مجموعہ حدیث كے بارے میں علمائے حدیث كی یہ شہادت ہے كہ جس گھر میں یہ كتاب ہواس گھر میں گویا نبی ہے جو كلام كر رہاہےایسے امام میں یہ حدیث اپنی كتاب میں درج فر ماكرسكوت كیااوراس پركو ئی جرح نہیں كی۔
o مقدمہ ابن صلاح میں حضرت ابو داودرحمۃ الله تعالی علیہ كایہ قول اس كتاب كے بارے میں منقول ہوا:"میں نے اپنی كتاب میں صحاح كو جمع كیایاجواس كے مشابہ اور قریب ہو۔"
o فتح المغیث میں امام ابن كثیرسے انہیں كایہ قول منقول ہوا"اس كتاب میں میں جس حدیث پرسكوت كروں تو وہ حسن ہے۔"
oابو داود نے اہل مكہ كوایك خط لكھا"اس
#246 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ماكان فیہ حدیث منكر نبینہ بماانہ منكر
oوقال ابو عمربن عبدالبركل ماسكت علیہ فھوصحیح عند ہ
oوقال المنذری:كل حدیث عز وتہ الی ابی داودو سكت عنہ فھو كماذكرابو داود ولاینزل عن درجہ الحسن وقدیكون علی شرط الصحیحین
oوقال ابن الصلاح ثم الامام النو و ی فی التقریب ماوجد نافی كتابہ مطلقافھو حسن عندابی داود
oوقال العلامۃ ابن التركمانی فی الجوھر النقی اخرجہ ابو داودوسكت عنہ فاقل احوالہ ان یكون حسناعند ہ علی ماعر ف
oوقال الزیلعی فی نصب الرایۃ كتاب میں اگركو ئی منكرحدیث ذكركروں گاتواس كاسبب بھی بیان كروں گاكہ كیونكر منكرہے"
oابو عمر بن عبدالبر نے كہا"جس حدیث كو ذكركركے ابوداؤد نے سكوت كیاتو وہ ان كے نزدیك صحیح ہے۔
oامام منذری نے فرمایا"جس حدیث كی نسبت ابو داود كی طر ف كروں اورابو داود نے اس پرسكوت كیاہوتو وہ ابو داود كے قول كے مطابق ہے یعنی درجہ حسن سے تو كم نہ ہوگی بسا اوقات صحیحین كے اصول پرہوتی ہے"
oابن صلاح اور نو و ی دونوں اماموں نے فر مایا"امام داو د كی كتاب میں جو حدیث مطلق مرو ی ہو وہ ان كے نزدیك حسن ہے۔"
oامام تركمانی جوہرالنقی میں فر ماتے ہیں"ابو داود نے جس حدیث كی تخریج فر ماكرسكوت كیااوراس پركو ئی جرح نہیں كی تواس حدیث كاكم سے كم درجہ حسن كاہوگاجیساكہ یہ بات مشہورو معروف ہے۔"
oنصب الرایہ میں امام زیلعی فر ماتے ہیں:
#247 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
ان اباداودروی حدیث القلتین وسكت عنہ فھو صحیح عند ہ علی عادتہ فی ذلك
oوقال الحافظ العراقی ثم الشمس السخاوی فی المقاصدالحسنۃ یكفیناسكوت ابی داود علیہ فھو حسن
oوقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیرسكت ابو داؤ د فھو حجۃ
o وقال العلامۃ محمد بن امیرالحاج رواہ ابو داود وسكت علیہ فیكون حجۃ علی ماھو مقتضی شر طہ
oوقال العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ سكت علیہ ابوداود المنذری بعدہ فی مختصرہ وھو تصحیح منھما اھ
o وقال الخطابی فی معالم السنن كتاب ابی داؤد جامع لھذ ین النو عین "ابو داود نے حدیث قلتین روایت كیااوراس پرسكوت فرمایایہ اس بات كی دلیل ہے كہ یہ حدیث ان كے نز دیك صحیح ہے"
oحضرت عراقی اور شمس الدین سخاوی نے"مقاصد حسنہ" میں فر مایا"اس حدیث پرابو داود كاسكوت ہی ہمارے لیے كافی ہے اوریہ حدیث حسن ہے۔"
oمحقق علی الاطلاق فتح القدیر میں لكھتے ہیں"ابو داؤ د نے اس حدیث پرسكوت كیاتو یہ حدیث حجت ہے"
oعلامہ محمدابن امیرالحاج فر ماتے ہیں"ابو داود نے اس پرسكوت كیاتو یہ ان كی شر ط كے موافق حجت ہے"
oعلامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں فر مایاابو داو داوران كے بعدامام منذ ری نے اپنی مختصر میں اس پرسكوت فرمایاتو یہ ان دونوں كی طر ف سے اس حدیث كی تصحیح ہے۔
o علامہ خطابی نے معالم السنن میں تحریركیا"ابو داود كی كتاب صحیح اورحسن دونوں قسم كی
#248 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
من الحدیث والحسن اماالسقیم فعلی طبقات شرھاالمو ضوع ثم المقلو ب ثم المجھولو كتاب ابی داود خلی منھابری من جملۃ وجو ھھا
وقال الامام بخاری فی جزء القرۃ قال علی بن عبدالله نظرت فی كتاب ابن اسحق فماوجدت علیہ الافی حدیثین و یمكن ان یكون صحیحین اھ
و بینھماالقسوی عن علی لیس حدیثناھذابحمد الله تعالی منھمااحد ھماعن ابن عمرعن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذانعس احد كم یوم الجمعۃ والاخرعن زید بن خالداذامس احد كم فرجہ فلیتو ضا
و علی ھذاھوابن المدینی شیخ البخاری الذی كان یقول فیہ البخاری مااستصغرت احادیث پر مشتمل ہے اورحدیث سقیم كی تو كئی قسمیں ہیں سب سے بے حیثیت مو ضو ع پھر مقلو ب پھر مجہول اورابو داود كی كتاب سقیم كی تمام قسموں سے خالی اور بری ہے۔"
امام بخاری نے اپنی اكتاب"جز ء القرۃ"میں لكھاعلی ابن عبدالله نے كہاكہ میں نے ابن سحق كی كتابیں دیكھیں توسوائے دو حدیثوں كے اوركسی میں كو ئی عیب نہیں پایااور ممكن ہے كہ وہ دونوں بھی صحیح ہو ں"
ان دونوں حدیثوں كو قسو ی نے حضرت علی بن عبدالله سے روایت كیا۔بحمدالله ہماری ذكركر دہ حدیث ان میں نہیں ہے دونوں میں سے ایك حدیث ابن عمر رضی الله تعالی عنہ نے حضورسے روایت كی كہ جب تم میں سے كوئی جمعہ كے روز اونگھے اور دوسری حدیث زید بن خالدسے كہ تم میں سے كو ئی جب اپنی شر مگاہ كو چھو ئے تو وضو كر ے۔
یہ علی ابن المدینی اس پائے كے محد ث ہیں كہ ان كے شاگر دامام بخاری كہتے ہیں كہ سوائے علی بن المدینی كے اوركسی كے
#249 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
نفسی الاعند ہ فثبت بحمدالله تعالی ان ابن اسحق ثقۃ وان الحدیث حسن صحیح۔
نفحہ ۵:اكثراصحاب لزھری لم یذكروافی الحدیث "علی باب المسجد"ولا"بین یدیہ"وھمازیادۃ ثقۃ فو جب قبولھماومن الظلم قبولہ فی ھذالافی ذالك فلیس مستند كونہ"بین یدیہ"من الحدیث الا زیادۃ ابن اسحق ومن اشدالجہل زعم ان ذكرہ مالم یذ كروامخالفۃ لھم والالاضطر بت الاحادیث عن اخرھاالاافراداعدید ۃ فمامن حدیث اتی بطریقین اواكثرالاو فی بعضھامالیس فی الاخر الانادراولاعبر ۃ بالنادرھذاوجہ۔
وثانیا:كثیراماتری الائمہ المحد ثین یجمعون الطر ق فیقول احد ھم حد ثنافلانو فلان عن فلان یزید بعضھم علی بعض ثم
سامنے میں نے اپنے كو چھو ٹانہیں محسوس كیاتو مذكورہ بالاتفصیلات سے بحمدالله ثابت ہوگیاكہ محمد بن اسحق ثقہ ہیں اوراذان خطبہ كے بارے میں ان كی بیان كر دہ حدیث صحیح ہے۔
نفحہ ۵:امام زہری كے اكثر شاگر دوں نے حدیث میں"علی باب المسجد"اور"بین یدیہ"كاذكر نہیں كیاہے ان دونوں ٹكڑوں كاذكر صر ف ابن اسحق نے كیاہے جوایك ثقہ روای كااضافہ ہے اوراس كاقبول كر ناواجب ہے تو یہ كتنابڑاظلم ہے كہ"بین یدیہ"كوتسلیم كیاجائے اور"علی باب المسجد"كوترك كر دیاجائے اوراس سے بڑاظلم یہ ہے كہ ابن اسحق كے اس اضافہ كواس وجہ سے ترك كیاجائے كہ صر ف ابن اسحاق اس كے راو ی ہیں اوروں نے اس كاذكر نہیں كیاہے اوراسی بناپراس اضافہ كوان كی ثقہ راویوں كی مخالفت قرار دیاجائے اورحدیث كو مضطرب قرار دیاجائے اگریہ ظلم رواركھاجائے تو چند معدو داور مختصر روایتیں ہی اضطراب سے محفو ظ رہیں گی كیونكہ كون حدیث ہے جو دو یادوسے ز ائد طریقوں سے مروی نہیں اورہر طریقہ روایت كے متن میں كچھ ایساحصہ بھی ضرورہے جو دوسر ے میں نہیں شاید ہی ایساہوگاكہ دونوں روایتوں كے الفاظ بالكلیہ یكساں اور برابرہوں اور نادر كاكیا اعتبار۔
ثانیا:اكثر دیكھاگیاہے كہ ائمہ محدیثین چندسند وں كوایك ساتھ جمع كرتے ہیں مثلاوہ كہتے ہیں فلاں فلاں
#250 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
یسو ق الحدیث سیاقاواحداافتراھم یجمعون بین الضب والنون ۔
و ثالثا:مفسروالقران العظیم من الصحابۃ و التابعین وھلم جراكلمافسروا واقعۃ ذكرت فی القران المجید زادوااشیاء لیست فی القران العظیم فاذن كلھم یخالفون القران الكریم حاشم ھم۔
رابعا:فی الصحیحین عن ابی ھریر ۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم الااحد ثكم حدیثاعن الد جال ماحدث بہ نبی قو مہ انہ اعور الحدیث فاذن یكون صلی الله تعالی علیہ وسلم و العیاذبالله تعالی قد خالف جمیع الانبیاء علیہھم الصلاۃ والسلام فی بیان واقعۃ وھذالایتفوہ بہ مسلم۔
و خامسا: السورالقرانیۃ تذكر قصۃ موسی و غیرھا یزید اور فلاں نےفلاں سے روایت كی جس میں بعض نے بعض سے زائد بیان كیااور پھر پوری حدیث ایك ہی سیاق میں بیان كرتے ہیں تو كیاوہ لوگ مچھلی اور گوہ دونوں كوایك ساتھ ہی ملادیتے ہیں۔
ثالثاقرآن عظیم كے مفسروں میںصحابہ ہوں یاتابعین(بعد كے لوگوں كابھی یہی حال ہے)كہ كسی ایسے واقعہ كی تفسیركرتے ہیں جو قرآن عظیم میں مذكورہے تواس واقعہ میں كچھ ایسااضافہ بھی كرتے ہیں جو قرآن عظیم میں نہیں ہےتو كیاسب كے سب نے قران عظیم كی مخالفت كی پناہ بخدا!
رابعا:صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ حضور نبی كریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت كرتے ہیں"میں تم سے دجال كے بارے میں وہ بات نہ بیان كروں جو كسی نبی نے اپنی قوم سے بیان نہ كیا"تو پیغمبر خداصلی الله تعالی علیہ وسلم نے اورانبیاء سے زائد بتاكران سب انبیاكی مخالفت كی كون مسلم یہ كہے گا
خامسا: قران شریف میں حضرت موسی وغیرہ انبیاء كرام علیہم السلام كے قصے مختلف
#251 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
بعضھاعلی بعض و حاشاالقران ان یتخالف
نفحہ۶:مااجھل من زعم ان الحدیث متناقض بنفسہ فان قولہ بین یدی رسول الله تعالی علیہ وسلم یعار ض قولہ علی باب المسجد فلو كان علی الباب كیف یكون بین یدیہ و ھذافھم لایتصور الامن وھم اذاجلست علی المنبر فتجاہ وجھك باب فالقائم علیہ ھل یكون بین یدیك ام خلفك والصفوف الجلوس بینكمالاتحجبہ عن نظرك الاتری ان الله تعالی سمی السماء بین ایدینااذقال و قولہ الحق" افلم یروا الی ما بین ایدیہم وما خلفہم من السماء و الارض " وكم من جبال بینھماو بینناو سیاتیك زیاد ۃ وافیۃ فی تحقیق معنی"بین یدیہ"ان شاء الله تعالی۔
جگہ بیان كئے گئے ہیں كہیں كم كہیں كچھ زیاد ہ تو كیاقران شریف نے اپنے بیان كی خو د مخالفت كی
نفحہ ۶:وہ شخص بھی كیاخو ب جاہل ہے جو یہ كہتاہے كہ سائب بن یزیدرضی الله تعالی عنہ كی حدیث خو د ہی متناقض ہے اس لیے كہ حدیث كے الفاظ خطیب كے سامنے اور مسجد كے دروازہ پر میں تناقض ہے۔تواگر باب مسجد پرہوگی تو خطیب كے سامنے كیسے ہوگی یہ شبہہ سراسروہم كی پیداوارہے كیونكہ جب تم منبر پر بیٹھواورتمھارے منہ كے سامنے مسجد كادروازہ ہو تو دروازے پركھڑاہونیوالاكیوں تمہارے سامنے نہ ہوگا كیا اس كوتمہارے پیچھے كھڑاہونیوالاكہاجائیگاشایدیہ سو چتے ہوں گے كہ اس صورت میں امام اور مؤ ذن كے بیچ میں صفیں حائل ہیں پھرسامنے كیسے ہوا! صفیں بیچ میں ضرورہیں لیكن وہ مؤ ذن اورامام میں حائل نہیں ہیں الله تعالی نے قران عظیم میں ارشاد فر مایا"كیاتم دیكھتے نہیں كہ آسمان و زمین تمھارے آگے پیچھے ہیں"حالانكہ كتنے پہاڑ اس كے اورہمارے درمیان میں حائل ہیں۔"بین یدیہ"كی زیادہ تفصیل آگے آرہی ہے ان شاء الله تعالی۔
#252 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
نفحہ ۷:اذابطل زعمۃ التناقض انتقض مابنی علیہ من وجو ب تاویل الحدیث فان الشجر ۃ تنبئی عن الثمر ۃ ولكن ان تعجب فعجب قولہ وان المراد بالباب الباب الذی كان فی جدارالقبلۃ قبل تحو یلھاالی الكعبۃ المشر فۃ فیاللانصاف باب كان و بان وصارجداراوالباب الحقیقی مو جو دالان فاذاذكر باب المسجد ھل یذھب ذھن احدالی ان القائل لم یردالباب بل الجدار فمثل ھذایكون تحو یلاو تعطیلاوتبدیلالاتاویلاولاسیماوالحاكی لھذااعنی سیدالسائب بن یزیدرضی الله تعالی عنہ لم یشاھد ذلك الباب الكائن البائن قط۔
فانہ كان ابن سبع عندو فاۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم فولادتہ سنۃ ثلاث نفحہ ۷:اورجب"بین یدیہ"اور"علی الباب"كاتناقض ختم ہو گیاتواس پرحدیث كی جوتاویل مبنی تھی وہ بھی ختم ہوگئی كہ در خت بیج كے بغیر نہیں اگ سكتالیكن اس تاویل میں حیرتناك بات یہ ہے كہ مؤ ول كے نزدیك سائب بن یزیدرضی الله تعالی عنہ كی حدیث میں دروازہ سے مراد وہ دروازہ ہے جو دیوار قبلہ میں منبركی پشت پرتھاتو خطیب كے سامنے منبركے بالكل متصل كھڑے ہونے والے مؤ ذن كو مسجد كے دروازہ پركہہ دیااگر چہ مؤذن اور دروازہ كے بیچ میں خو د خطیب اور منبرحائل تھامگركھڑے ہونے والے مؤ ذن كے سامنے ہی دروازہ تھا۔
یاللعجب ! مؤ ول جس دروازہ كی بات كر رہاہے وہ اب نہیں ہے اسے بند كركے اب دیواركر دیاگیاہے وہ تو مراد ہوسكتاہے اورحقیقی دروازہ جو فی الو قت مو جو د ہے اور خطیب كے سامنے ہے وہ مراد نہیں ہوسكتاكیاایسی صورت میں كو ئی باب المسجد كہے تو كسی كاذہن اس باب كی طر ف منتقل ہوسكتاہے كہ اس سے مراد مو جو داور مشاہد دروازہ مو جو د نہیں بلكہ یہ دیوار مراد ہے اس كوتاویل نہیں كہتے یہ توتحو یل ہے تعطیل ہے اور تبدیل ہے خصوصااس صورت میں كہ سائب ابن یز یدرضی الله تعالی عنہ نے اس بند شد ہ دروازہ كو دیكھابھی نہیں اس لیے كہ وہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے
#253 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
اواربع من الھجر ۃ الشریفۃ وتحویل القبلۃ فی السنۃ الثانیۃ فھو یحكی ماشاھد ہ فكیف یرید بابالم یشاھدہ ثم انك تحتاج فیہ الی مجاز فی مجاز فان ذلك الباب كان فی الجدارالقبلی والمنبر دونہ بینھماممر شاۃ والمؤ ذن دون المنبر فكیف یكون حقیقۃ علی الباب افتری انہ كان یؤ ذن متقد ماالی جدارالقبلۃ مستد براللنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم او متو جھاالی ظہرہ الشریف متد براللقبلۃ بل لو فر ض ھذالم یكن ایضاحقیقۃ علی الباب المفقو دای محلہ المو جو د لانہ الان مسدو د۔



نفحہ ۸:اراد ۃ الباب الشمالی المو جو داذ ذاك وتاو یل علی بالمحاذ ات ای كان یقوم المؤذن متصلابالمنبر بین یدی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لكونہ اذذاك علی محاذات الباب الشمالی قیل لہ علی باب المسجد كلام وصال كے وقت سات سال كے تھے اس حساب سے ان كی ولادت ۳ھجری میں ہوئی جب كہ تحویل قبلہ كاواقعہ ۲ ھ كا ہے تو جب وہ اپنے مشاہد ہ كی بات كر رہے ہیں تو یہ كیسے سوچا جاسكتاہے كہ وہ اس ان دیكھے دروازہ كی گواہی دیں گے پھراس تاویل میں مجاز در مجازمانناپڑے گاكیونكہ یہ دروازہ قبلہ كی دیوار میں تھااوراسی كے پاس منبرتھااس دروازہ اورمنبركے درمیان بكری كے گزرنے بھرجگہ تھی اور منبركے پاس مؤ ذن كھڑاہوتاتھاایسی صورت میں مؤ ذن حقیقی معنی میں دروازہ پركس طرح كھڑاہوسكتاہے كیونكہ حقیقی معنی میں دروازہ پر ماننے كی صورت تو یہ ہوگی مؤ ذن منبرسے آگے بڑھ كر قبلہ كی دیواركے اندروالے دروازہ پركھڑاہو كر حضور كی پشت اقدس كے پیچھے قبلہ كی طر ف پشت اوراپ كے پشت كی طر ف رخ كر ے بلكہ سچ پو چھوتو یہ اذان بھی دروازہ پر نہ ہوگی كہ دروازہ تو بند ہو كراس جگہ دیوار بنادی گئی تھی۔
نفحہ ۸:اور دروازہ سے مسجد كاباب شمالی مراد لیناجو منبركے سامنے واقع تھااور"علی باب المسجد"كے علی كو محاذات پر محمول كر نااور مطلب یہ بتاناكہ مؤ ذن تو منبرسے متصل ہی كھڑاہوتاتھالیكن لفظ"علی باب المسجد"سے اس كی تعبیراس لیے كی گئی كہ دروازہ منبركے سامنے تھامؤ ذن اور دروازہ میں آمناسامنا
#254 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
مفسول مزدول۔
فاولا: تجوز بعید من دون قرینۃ والتكلم بمثلہ تغلیط للسامع وتلبیس للسنۃ فلایظن بالصحابی۔
ثانیا:فیہ تضییع قولہ علی باب المسجد لان الباب لماكان محاذیاللامام فالقائم بین یدی الامام قائم علی محاذاۃ الباب قطعااینماكان فذكرہ بعد ذكرہ لیس فیہ تخصیص ولاتو ضیح ولاافاد ۃ شیئ مقصو داذلم یكن القصد شرعاالاالی مواجھۃ الامام لاالی محاذاۃ الباب فبقی لغواعبثالاطائل تحتہ۔
وثالثا:ان من اخنع الاباطیل مایقضی وجو دہ علیہ بالرحیل و ذلك ان التاو یل انمایحتاج الیہ اذالم یستقم المعنی الظاہروانمااحلت الظاہر ۃ لمنافاتہ بز عمك قولہ بین یدیہ الالمحاذاۃ بلاحائل كمااعتر فہ بہ ابن اخت خالتك فالذی قام لصیق الامام اذاكان علی محاذاۃ تھایہ بے وزن اورحقیركلام ہے۔
اولا بلاقرینہ معنی بعید مراد لینااورایساكلام بولناسامع كو غلط فہمی میں ڈالنااورتلبیس سنت ہے صحابی رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم ایسی حركت نہیں كرسكتے۔
ثانیا:اس تاویل كی روسے"علی باب المسجد"كالفظ بے سو د ہے كیونكہ دروازہ جب امام كے سامنے ہے تو جوامام كے سامنے كھڑاہے وہ دروازہ كے سامنے بھی كھڑاہے تولفظ"بین یدیہ" كے ذكركے بعد لفظ"علی باب المسجد"نہ تواس پہلے معنی كی تو ضیح ہو ئی نہ تخصیص اور نہ ہی اس لفظ سے كسی معنی كاافادہ مقصود كیونكہ بقول مؤ ول مقصدتوامام كے سامنے كھڑاہوناہے دروازہ پركھڑاہونانہیں ایسی صورت میں لفظ علی باب المسجد لغواور بیكارہواجس سے كو ئی فائد ہ حاصل نہیں۔
ثالثا:اولایہ تاویل خو داپنے وجو د كے ابطال كی دلیل ہے كیونكہ تاویل كی ضرورت تب ہوتی ہے كہ كلام كے معنی ظاہر درست نہ ہوں اور مخالف نے علی باب المسجد كو محاذات پراس لیے محمول كیاكہ اس كے نزدیك بین یدیہ اورعلی باب المسجد میں تضادتھااور بین یدیہ كے معنی محاذات بلاحائل ہیں جیساكہ تمہاری خالہ كے ابن اخت نے اس كااعتراف كیااوراب تمھاری تاویل سے جب امام كے پاس كھڑاہونے والادروازہ
#255 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
الباب كمااعتر ف الانكیف لایكون الذی علی الباب محاذیاللامام ولاحائل ثمہ یحجبہ من النظر فصدق بین یدیہ فتاویلك باطل باستقامۃ المعنی الظاھرواستقامتہ نقتضی لبطلان التاو یل فكان و جو د حاكم بعد مہ و ھذاھواشنع الاباطیل۔
نفحہ ۹:اشنع منہ زعم ان عــــــہ العاطف كے سامنے اور محاذی ہے تو دروازہ پركھڑاہونیوالاامام كے محازی و مقابل كیوں نہ ہوگاجب كہ دونوں كے درمیان
حائل نہیں تو جب آپ كی یہ تاویل علی الباب كے معنی تو جب آپ كی یہ تاویل علی الباب كے معنی ظاہركی تائید كرتی ہے تو اس تاویل كی كیاضرورت ہے اسی لیے ہم نے كہاتھاكہ آپ كی تاویل اپنی تخریب كاسامان اپنے ساتھ ہی لائی ہے اوریہ بد ترین بات ہے۔
نفحہ ۹:اس سے بری تاویل یہ ہے كہ

عــــــہ:و مثلہ بل ابعد منہ قول اعجاز الحق ان فی روایۃ محمد بن اسحق تقدیرایعنی اذجلس النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم علی المبنراذن بین یدیہ(بعد ماكان) علی باب المسجد فالنداء لابالفاظ مخصوصۃ علی باب المسجد كان فی زمن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم والشیخینثم جعل عثمن ھذاالنداء اذاناای بالفاظ مخصوصۃ علی مقام عال ھوالزوراء علی ماصرح بہ فی المرقاۃ فھذاھوالتحقیق الحقیق بالقبول عــــــہ اوراس سے بھی زیادہ بعیداعجازالحق كاقول ہے كہ محمد بن اسحق كی روایت میں پوراایك جملہ مقدرہے یعنی عبارت یوں ہے" حضوراكرم صلی الله تعالی علیہ وسلم جب منبر پرتشریف فر ماہوتے تو دروازہ پرہونے كے بعداذان آپ كے سامنے ہوتی"یعنی وہ نداجو دروازہ پرہوتی اذان كے الفاظ میں نہیں ہوتی تھی ایساحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اور شیحین كے زمانہ میں ہوتارہاپھرعثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے اپنے زمانہ میں اس كواذان ہی كے الفاظ میں مقام زوراء پركہلاناشرو ع كیاجو مسجدسے دورایك بلند جگہ تھی ایساہی ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے مر قاۃ شرح مشكوۃ میں تحریر فرمایا یہ تحقیق لائق قبول ہے (باقی اگلے صفحہ پر)
#256 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
محذوف قبل قولہ"علی باب المسجد" یہ كہاجائے كہ الفاظ حدیث میں لفظ"علی الباب"

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وبہ ارتفع التعارض فی الروایاتوزین القول بالفاظہ الفصیحۃ فھذااشد ۃ [شفاھتہ لارزانتہ ]لم یقنع بحذف حرف واحدولتو ھمہ ان"یؤذن"فی الحدیث علی۔۔۔۔ ولعمرالله لو جو ز امثال ھذہ الحذفات فی الكلام لھان تحو یل كل نص الی ماتہو ی الانفس للئام فیقول من یبح الزناللاعزب الحق ان فی قولہ تعالی" و لا تقربوا الزنی " تقدیرایعنی بعد ماتزو جتم لان المتاھل عند ہ ما یغنیہ من الز ناالمحر م علیہ بخلاف الاعزب فانہ محتاج الیہ و یقول من یبیح قتل الشبان الحق ان فی قولہ تعالی " ولا تقتلوا النفس التی اوراس سے تمام روایتوں كاتعار ض بھی اٹھ جاتاہے مسمی اعجاز الحق نے اپنی اسی بات كو فصیح الفاظ سے آراستہ كیاہے لیكن اس كی یہ تاویل بھی سخت گندی ہے كہ اس نے ایك لفظ كے مقدرماننے پر قناعت نہ كی پورامركب غیرمفید كر ڈالااوریہ سو چ كركہ حدیث شریف میں یؤ ذن كامطلب چونكہ اذان معروف ہے اس لیے باب مسجد والااعلان ہوگااوراس كو ملاعلی قاری رحمۃ الله تعالی علیہ كی طرف منسو ب كر دیاوالله العظیم اگراس طرح كی خرافات كلام میں جائز ہوں توہر شحص كواپنی ہوائے نفس كے مطابق قران عظیم كی آیتیں پھیر ناآسان ہوگامثلاجولوگ كہتے ہیں كہ غیر شادی شد ہ كو زناجائز ہے وہ یہ كہنے لگیں گے كہ آیت شریفہ " و لا تقربوا الزنی " (زناكے قریب مت جاؤ)میں یہ ٹكڑامقدرہے بعدتزوجتم یعنی جس كی شادی ہو چكی ہو وہ زناكے قریب بھی نہ جائے كیونكہ شادی كر لینے والے كو زناكی حاجت نہیں بخلاف غیر شادی شد ہ كے اس كے پاس بیو ی نہیں (باقی اگلے صفحہ پر)
#257 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
والمعنی كان الاذان تار ۃ بین سے پہلے واو یااو محذوف ہے اور مطلب یہ ہے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حرم اللہ " تقدیرایعنی بعد ماتحر م لان القتل لدفع الایذاء والھرماضعف من ان یوذی احدا بخلاف الشباب فانہ ان لم یوذ حالافیستطیع ان یو ذی وقتل المو ذی قبل الایذاء ثم ھو بنفسہ لم لایستدل علی مزعومہ بایۃ الجمعۃ قائلا:الحق ان فی كلامہ تعالی اذانو دی للصلوۃ من یوم الجمعۃ تقدیرایعنی
" اذا نودی للصلوۃ " داخل المسجدلصیق المنبریوم الجمعۃ ولا حول ولاقوۃ الاباالله العلی العظیم ومانسب التصریح بہ الی القاری فلم یصرح تو كس طرح اپنی شہوت پوری كر ے گااسی طرح جولوگ جوانوں كاقتل جائز ركھتے ہیں وہ كہہ سكتے ہیں كہ الله تعالی كے فر مان " ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ "میں یہ ٹكڑامقدرہے بعد ماتحر م اور مطلب بجائے اس كے كہ الله تعالی نے قتل نفس حرام كیاہے یہ ہے كہ بوڑھے ہونے كے بعدانسانوں كاقتل حرام ہے كیونكہ كسی كو قتل اس لیے كیاجاتاہے كہ لوگوں كواس كی ایذاسے نجات ملے اور بوڑھاایذاپہنچانے كے لائق نہیں تواس كاقتل حرام ہوناچاہیے بخلاف جوانوں كے كہ یہ فی الوقت ایذانہ دیں ایذادے توسكتے ہیں اور مو ذی كوایذاسے پہلے قتل كر دیناچاہئے اس طرح آیت میں صر ف بڈھوں كے قتل كی ممانعت ہے جوانوں كے قتل كی نہیں بلكہ خو دیہ مو ول اسی مسئلہ میں قران كی آیت كو بھی اپنے مقصد كے موافق بناسكتاہے مثلاقران شریف كی آیت مقدسہ اذانو دی للصلوۃ من یوم الجمعۃ(جمعہ كے دن جب اذان پكاری جائے) میں یہ مقدر مان لے (باقی اگلے صفحہ پر)
#258 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وتارۃ علی باب المسجداو كان یكون فی المحلین غیران الذی علی الباب كان اعلامابغیر لفظ الاذان و ھذابحكایتہ یعنی عن نكایتہ فمامثلہ الاكمن یقول فی قولہ تعالی " فصیام شہرین متتابعین من قبل ان یتماسا " ان الواو بمعنی او محذوف قبل من"من قبل"والمعنی اما كہ اذان كبھی حضوركے سامنے منبركے پاس ہوتی اوركبھی دروازہ پریامطلب یہ ہے كہ مو ذن بانگ دونوں جگہ دیتا منبركے پاس والی تواذان ہو ئی اور دروازے كے پاس والااعلان تھاجواذان كےالفاظ میں نہیں ہوتاتھایہ بات خو د ہی اپنابطلان كر رہی ہے كیونكہ یہ توایسے ہی ہے جیسے كو ئی كفارہ ظہاركی آیت صیام شہرین متتابعین من قبل ان یتماسا (صحبت سے قبل مسلسل دو مہینے روزہ ركھناہے)میں یہ كہے كہ آیت میں لفظ من قبل كے پہلے حر ف واو جو بمعنی اوہے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بہ ولم یكن وانماابدی من عندنفسہ عد ۃ احتمالات شتی لماسبق الی وھمہ فاحتمال ھو بعد ہ للتوفیق كمایاتی بعونہ تعالی بیانہ الشافی فی نفحۃ عشرین من الشمامۃ الرابعہ ۱۲منہ۔ اذانو دی للصلوۃ داخل المسجد لصیق المنبر من یوم الجمعۃ(جب مسجد كے اندر منبرسے متصل جمعہ كے دن اذان دی جائے)لاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم۔۔ ۔۔رہ گئی اس قدر نامعقول كی نسبت ملاعلی قاری كی طرف تو یہ قطعاغلط ہے انھوں نے اس امركی طر ف نہ كنایہ كیانہ تصریح بلكہ انہوں نے ایك وہم كی بناپرحدیث كے الفاظ میں اختلاف تصوركرتےہوئے اپنی طرف سے چنداحتمالات كاذكركیاكہ ان مخالف الفاظ میں تو فیق ہو جائے لیكن اختلاف ان كاواہمہ تھاتو یہ ساری تو فیقیں اسی كی پید وار مانی جائیں گی اس كی پوری تفصیل ان شاء الله تعالی شمامہ چہارم نفحہ بستم میں آرہی ہے ۱۲منہ۔
#259 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
متتابعین او قبل ان یتماسا۔
ثم اولالیس مبناہ الاعلی زعم المقابلۃ بین"بین یدیہ"و"علی الباب"وماھوالاوھم فی تباب فلو وجد العاطف لم یدل علی التو زیع بل علی جمع جمیع و ھو مرادنا۔
ثم ثانیایلزم علی الثانی وجو دالتثو یب فی الجمعۃ علی عہدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو خلاف ماصرحوابہ بل السائب نفسہ رضی الله تعالی عنہ یقول لم یكن للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤ ذن غیرواحدو كان التاذین یوم الجمعۃ حین یجلس الامام یعنی علی المنبر رواہ البخاری
ثم ثالثا:ھذاالاذان ھوالمحكوم علیہ فی الحدیث بكونہ بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وبكونہ علی الباب فكیف تفصیل بینھمابان ماعلی مقدرہے اورایت كامطلب یہ ہے كہ مسلسل دو مہینے روزہ ركھے یاعورت سے صحبت سے پہلے روزہ ركھے۔
پھراولا: اس كی تاویل كی بنااس واہمہ پرہے كہ لفظ بین یدیہ اور علی الباب میں تقابل ہے دونوں ایك مصداق پر صادق نہیں آسكتے اور چونكہ یہ وہم باطل ہے اس لیے او بھی یہاں تقسیم كے لیے نہیں ہوگابلكہ اس بات كے اظہاركے لیے ہوگاكہ لفظ بین یدیہ اورعلی الباب دونوں ایك ہی ہیں یعنی جمع كے لیے ہوگا۔
ثانیا"علی الباب"اور"بین یدیہ"دوالگ الگ نداؤ ں سے متعلق ماننے پریہ لازم آئیگاكہ عہدرسالت میں نماز جمعہ كے لیے تثو یب ہوتی تھی اوریہ تصریحات علماء كے بالكل خلاف ہے بلكہ خو دسائب بن یز یدرضی الله تعالی عنہ یہی فر ماتے ہیں كہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام كے عہد مسعود میں ایك ہی مؤ ذن ہوتاتھاجوامام كے منبر پر بیٹھتے ہی اذان دیتایہ روایت بخاری شریف كی ہے۔
ثالثا:حدیث شریف میں توایك ہی اذان كے بین یدیہ اورعلی الباب ہونے كی تنصیص ہے اس تفصیل كی گنجائش كیسے نكل سكتی ہے كہ دروازہ پراذان سے مختلف
#260 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
الباب اعلام غیرالاذان الاان تقدر مع العاطف معطوفاوھوالاعلام اوتحمل الاذان علی عموم المجاز فترتكب مجاز اعلی مجاز وترك الحقیقۃ من دون ضرورۃ ملجئۃ وثیقۃ اشنع مسلك واخنع طریقۃ و بالجملۃ امثال الھوسات لایرتكبھاالامن یكید النصوص بالتعطیل و یریدالتغیر باسم التاویل۔
نفحہ ۱۰:وبعض من تعیرنابہ الجہل ارادان یبدی فی الحدیث علۃ تہد مہ عن اصلہ فزعم ان لم یكن فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم للمسجدالكریم باب تجاہ المنبرانماكان لہ ثلثۃ ابوابباب جبریل عــــــہ فی الشر ق و باب السلام و باب الرحمۃ فی الغرب و ھذاھجوم علی ردالحدیث بالجہل الخبیث كان للمسجدالكریم ثلثۃ ابواب باب جبریل كلمات میں اعلان ہوتاتھاہاں حر ف عطف كے ساتھ معطوف كو بھی مقدر ماناجائے یعنی و بعد ماكان الاعلام علی باب المسجد (مسجد كے دروازہ پراعلان ہونے كے بعدسامنے اذان ہوتی یالفظ یؤ ذن كوہی عموم مجاز پر محمول كیاجاتاجس سے ڈبل مجاز بلكہ بلاكسی قرینہ ملجئہ كےترك حقیقت ماننالازم آئے تو یہ سب مخالفین كی ہوس ہے جس سے وہ حدیث كی تفسیركے نام پرتغییروتبدیل حدیث كر ناچاہتے ہیں)
نفحہ ۱۰:اور مخالفین میں سے بعض جن كوہم نے جہالت پرعار دلایا تھااس نے حدیث پاك میں ایك ایسی علت پیداكر نی چاہی جوسر ے سے اس حدیث سے استد لال كوہی ختم كر دے وہ كہتاہے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد پاك میں كو ئی دروازہ منبركے سامنے تھاہی نہیں پوری مسجد نبو ی شریف میں صرف تین دروازے تھے پوربی رخ پر باب جبریل اور پچھم طر ف باب السلام اور باب الرحمہ(شمال و جنو ب میں كوئی دروازہ تھاہی نہیں)یہ خبیث جہالت سے حدیث كورد كر ناہے مسجد شریف میں یہ تین دروازے ضرورتھے

عــــــہ:ھذاالاسامی حادثۃ ولایقیت الابواب فی محل الابواب بل احد ثت علی محاذاتھابعدالزیادات ۱۲منہ۔ ابواب كے نام بعد میں ركھے گئے ہیں اور مو جو دہ دروازے بھی ٹھیك انہیں مقامات پر نہیں جہاں تھے بلكہ مسجد كی توسیع كے بعد انہیں دروازوں كی محاذات میں ركھے گئے منہ ۱۲غفر لہ
#261 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
فی الشر ق ثم زادامیرالمو منین عمر رضی الله تعالی عنہ باب النساء وباب الرحمۃ فی الغر ب ثم زادامیر المو منین عمر رضی الله تعالی عنہ باب السلام و باب ابی بكر فی الشمال ثم زادامیرالمو منین بابا اخر كمافصلہ عالم المدینۃ السیدالسمھو دی رحمۃ الله تعالی علیہ فی خلاصۃ الو فاء و حسبك حدیث البخاری فی ابواب الاستسقاء عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان رجلادخل یوم الجمعۃ من باب كان وجاہ منبررسول الله تعالی علیہ وسلم قائم یخطب الحدیث۔
نفحہ ۱۱:لایذھبن عنك ان ھھناسنتینسنۃ خاصۃ باذان الخطبۃ و ھو كونہ بین یدیہ الخطیب حین جلوسہ علی المنبروسنۃ عامۃ لكل اذان و ھو كونہ فی حد ودالمسجداو فنائہلافی حد ودالمسجداو فنائہ لافی جو فہ كماستسمع نصوص مگراور دروازے بھی تھے جن كی تفصیل یوں ہے پوربی جانب باب جبریل پھرامیرالمو منین عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے اسی سمت باب النساء قائم فر مایاپچھم طر ف باب الرحمۃ پھراسی طر ف امیرالمو منین نے باب السلام قائم فر مایا شمالی جانب باب ابی بكر پھراسی طر ف امیرالمو منین نے ایك دروازے كااوراضافہ فر مایاعالم مدینہ حضرت سیدسمہو دی رحمۃ الله تعالی علیہ نے خلاصۃ الو فاء میں اس كی تصریح فر مائی پھر باب شمال كے لیے كسی دوسرے حوالہ كی ضرورت نہیں بخاری شریف باب الاستسقاء كی یہ حدیث كافی ہے انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے كہ ایك آدمی اس دروازہ سے جو منبركے سامنے تھاایك جمعہ كوایاآپ صلی الله تعالی علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فر مارہے تھے(الحدیث)
نفحہ ۱۱:یہ امر قابل لحاظ ہے كہ یہاں دوسنتیں ہیں جن میں ایك كاتعلق خاص اذان خطبہ سے ہے یہ خطیب كے منبر پر بیٹھنے كے وقت اذان كااس كے سامنے ہوناہے اورایك عام سنت ہے جوہراذان كو عام ہے اوراذان كاحدود مسجد كے اندر اس كے صحن میں ہوناہے نہ كہ خاص مسجد كے اندراسكی تصریح
#262 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
الفقھاء علیہ و قدسردنالك اسماء ھم و قدارشد حدیث السائب رضی الله تعالی عنہ الیھما معا۔۔ فالاولی قولہ بین یدی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبروالاخری قولہ علی باب المسجد فان باب المسجد فی حدودہ لافی جو فہ و خصوصیۃ الباب ملغاۃ قطعاوانمالایكون علیہ لكونہ وجاہ المنبر لولاذالك لم یكن علی الباب بل علی حافۃ المسجداو فی فنائہ بین یدی الامام فانكشف بہ سوالان كثیراماتوردھماجھلۃ الھنودالاول ان العلماء لم یذكروامن سنن ھذاالاذان كونہ علی الباب قل لھم لم یذكرونہ مع انہ غیر مقصود فی ھذا الباب و مامثلہ الاكمثل من یری حدیث ان بلال رضی الله تعالی عنہ كان یؤ ذن علی سطح بیت ستنا نوارام زید بن ثابت رضی الله تعالی عنھما فیحسب ان السنۃ فیہ كونہ من سطح بین الجیران حتی لو كان علی منارۃ او علی جدارالمسجد كان مخالفاللسنۃ وھذااجہل منہ بان القصد كان علی محل عال لاالی خصوص ان فقہاء كے نصوص میں ہے جن كانام ہم بیان كر چكے ہیں اور سائب ابن یز یدرضی الله تعالی عنہ نے اپنی اس حدیث میں ان دونوں ہی سنتوں كابیان كیاہے كہ اذان خطبہ خطیب كے منبر پر بیٹھنے كے بعداس كے سامنے ہو ئی اوریہ كہ اذان مسجد كے دروازہ پرہو ئی اور دروازہ مسجد مسجد كی حد پرہوتاہے مسجد كے اندر نہیں لیكن اذان كی سنت میں دروازہ كی كو ئی خصوصیت نہیں اہمیت صر ف منبركے سامنے ہونے كوہے اگركسی مسجد میں منبركے سامنے دروازہ نہ ہوتوایسانہیں ہے كہ دروازہ ڈھونڈ كروہیں اذان دی جائے بلكہ خطیب كے سامنے حدو د مسجداور صحن مسجد میں ہوگی اس سے دوسوالوں كا جواب ہوگیاجواكثركیاجاتاہے اول یہ كہ علماء نے اس اذان كی سنتوں میں اس كادرواز ہ پرہوناذكر نہ كیاجواب یہ ہے كہ اس لیے اس كاذكرنہ كیاكہ درواز ہ اس باب میں غیر مقصو د ہے اس حدیث میں اس كاذكرایسے ہی ہے جیسے دوسری حدیث میں سطح بیت نوارام زید كاكہ حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ نوارام زید پراذان دیتے تھے تواگركو ئی یہ گمان كر ے كہ اذان میں یہ سنت ہے كہ پڑوسیوں كے گھركی چھت پرہواوركو ئی شخص منارہ یامسجد كے دروازہ كے اوپركھڑاہو كر دے توسنت كے مخالف ہے تو غلط ہے كیونكہ اس گھركی چھت كے ذكرسے مقصدتو یہ ہے كہ بلند جگہ پراذان ہونہ یہ كہ پڑوسی كے گھركی چھت پر
#263 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
سقف جاركذاھھناوالثانی ان الفقہاء لایذكرونہ فی باب الجمعۃ سنیۃ اذان الخطبۃ خارج المسجد فی حدودہ انمایذكرون استنان كونہ بین یدی الامام قل لھم ولم یذكرونہ ثمہ فانہ لایختص بہ بل ھو حكم مطلق الاذان الشرعی فمحل ذكرہ ھوباب الاذان لاباب الجمعۃ وقد ذكروہ فیہ نعم كونہ بین یدیہ كان من خصوصیات اذان الخطبۃ فذكروہ فی باب الجمعۃ اشتمل الحدیث علی حكمین خاص وعام وكان من حقھماان یذكرالخاص فی باب الخاص و العام فی باب العام و كذالك فعلواولكن العوام لا یفقھون ھذاعلی تسلیم زعمھم والافعلماؤ نالم یخلواباب الجمعۃ ایضاعن افادۃ ھذاالحكم كما ستری بعون العلی الاعلی۔
نفحہ۱۲:اذاعجز وامن كل جہۃ قالواھذاحدیث لم یعرج علیہ الناس فكان مہجوراعند ھم و ھذا كما تری قول من لم یترعرع عن العامیۃ شیئا الحدیث وكل شیئ انمایطلب فی معدنہ ولایضرہ عدم دوسراسوال یہ كہ فقہاء اس اذان كے لیے خارج مسجد ہونے كی شر ط باب جمعہ میں ذكر نہیں كرتے بلكہ صر ف اتنابتاتے ہیں كہ سنت یہ ہے كہ امام كے سامنے ہو جواب یہ ہے كہ خاص باب جمعہ ذكر نہ كرنے كی وجہ یہ ہے كہ یہ سنت صر ف اذان جمعہ كے ساتھ مختص نہیں بلكہ تمام اذانوں كی سنت ہے اس لیے علماء نے اس كو مطلق اذان كے باب میں ذكركیاہاں خطیب كے سامنے ہونااذان جمعہ كے ساتھ خاص تھاتواس كو باب جمعہ میں خصوصیت كے ساتھ ذكركیاخلاصہ كلام یہ ہے كہ حدیث حضرت سائب ابن یز یدرضی الله تعالی عنہ اذان كے دو خاص و عام حكم كوشامل تھی اصولااس كو دو علیحد ہ علیحدہ ابواب میں ذكركر ناچاہیے تھافقہائے امت نے ایساہی كیایہ جواب اس تقدیر پرہے كہ سائل كے قول كوتسلیم كیاجائے ورنہ ہمارے علماء كرام نے ابواب جمعہ كو بھی اس بیان سے خالی نہیں ركھاان شاء الله آئند ہ ہم اس كی شہادتیں پیش كریں گے۔
نفحہ ۱۲:اورجب ہر طر ف سے عاجزآگئے تو كہاكہ لوگوں نے اس حدیث كاچر چاہی نہیں كیاتو یہ مترو ك العمل رہی مگریہ بات ایسے شخص كی ہوسكتی ہے جو عوام كے درجہ سے بالشت بھر بھی بلند نہ ہوسكاكیونكہ ہر چیز كو وہیں تلاش كر ناچاہیے جہاں اس كاٹھكانہ ہواور دوسری جگہ
#264 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
و جدانہ فی غیرہ مع ھذاماھی الاشہادۃ نفی ولا سیمامن قوم عمی ولوابصروالنظرواان العلماء لم یز الوایوردونہ و یعتمد ونہ ففی تفسیرالخازن (اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ)اراد بھذاالاذان عند قعو دالامام علی المنبر لانہ لم یكن فی عہد رسول الله تعالی علیہ وسلم نداء سواہ ولابی داؤ دقال كان یؤذن بین یدی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبریوم الجمعۃعلی باب المسجد اھ مختصرا۔
وفی تفسیرالكبیر:قولہ تعالی"اذانو دی"یعنی النداء اذاجلس الامام علی المنبریوم الجمعۃ وھو قول مقاتل وانہ كماقال لانہ لم یكن فی عہدرسول الله تعالی علیہ وسلم نداء سواہ كان اذاجلس علیہ الصلوۃ والسلام علی المنبراذن بلال علی باب المسجدو كذا نہ ملنے كی كو ئی شكایت نہیں اوریہ بات اسی قبیل سے ہے كہ كسی چیز كے نہ ہونے پراند ھوں كی گواہی پیش كی جائے ورنہ علماء تواس حدیث كامسلسل ذكركرتے رہے اوراس پراعتماد كرتے رہے تفسیر خاز ن میں ہے:(جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے)اس سے وہ اذان مراد ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت ہوتی ہے اس لیے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں اسكے علاوہ اوراذان نہیں تھی۔ابو داؤد كی حدیث میں ہے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم جمعہ كے دن جب منبر پر بیٹھتے توان كے سامنے مسجد كے دروازہ پراذان دی جاتی تھی اھ مختصرا
تفسیركبیر میں ہے:الله تعالی كاقول"جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے"یعنی نداجو جمعہ كے دن امام كے منبر پر بیٹھتے وقت دی جاتی ہے یہی مقاتل كاقول ہے اورایساہی بیان كیاگیاہے كہ حضورصلی الله تعالی كے زمانہ میں اس اذان كے علاوہ كو ئی اذان نہیں دی جاتی تھی جمعہ كے دن جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم منبر پر بیٹھتے تو بلال رضی الله تعالی عنہ مسجد كے دروازہ پراذان
#265 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
علی عہدابی بكروعمر رضی الله تعالی عنھما اھ
وفی الكشاف:النداء الاذان وقالوالمراد بہ الاذان عندقعودالامام علی المنبرو قد كان لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤ ذن واحد فكان اذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذاانزل اقام للصلوۃ ثم كان ابو بكروعمر رضی الله تعالی عنھماعلی ذلك حتی اذاكان عثمان و كثرالناس وتباعدت المنازل زاد مؤ ذنااخر فامر بالتاذین الاول علی دارہ التی تسمی "زوراء"فاذاجلس علی المنبراذن المو ذن الثانی فاذا نزل اقام للصلوۃ اھ



وفی الدرالشفاف لعبدالله بن الہادی:كان لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤذن واحد دیتے ایساہی ابو بكرو عمر رضوان الله علیھماكے زمانے میں بھی تھا۔
تفسیركشاف میں ہے(سورہ جمعہ كی آیت میں)نداء سے مراداذان ہے كہتے ہیں كہ اس اذان كی طر ف اشارہ ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت دی جاتی تھی حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد مبارك میں ایك ہی مؤ ذن آپ كے منبر پر بیٹھتے ہی مسجد كے دروازہ پراذان دیتاخطبہ كے بعداپ مبنرسے اتركر نماز قائم فرماتے ابو بكروعمر رضی الله تعالی عنھماكے زمانہ میں بھی ایساہی ہوتارہاحضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ خلیفہ ہو ئے اور لوگوں كی تعداد میں بڑااضافہ ہوااور دور دورتك مكانات ہوگئے تواپ نے ایك مو ذن كااوراضافہ فر مایااوراسے پہلی اذان كاحكم دیاجواپ كے گھرسے موسوم بہ زواء پر دی جاتی(یہ مكان مسجدسے دور بازار میں تھا)اوراپ جب منبر پر بیٹھتے تو دوسر ے مو ذن اذان دیتے پھراپ منبر سے اتركر نماز قائم فر ماتے۔
در شفاف لعبدالله بن الہادی میں ہے:آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم كے ایك ہی مؤذن تھے
#266 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
فكان اذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذا نزل اقام الصلوۃ اھ
وكذافی النھرالماد من البحر لابی حیان:كذالك كان فی زمان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كان اذ اصعد علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانزل بعدالخطبۃ اقیمت الصلوۃ و كذاكان فی زمن ابی بكرو عمرالی زمن عثمان كثرالناس وتباعدت المنازل فزاد مو ذناآخرعلی دارہ التی تسمی الزوراء فاذاجلس علی المنبراذن الثانی فاذانزل من المنبراقیمت الصلوۃ ولم یعب احد ذلك
وفی تقریب الكشاف(لابی الفتح محمد بن مسعود) كان لرسول الله صلی الله تعالی وسلم كذالشیخین بعد ہ مؤ ذن واحدیو ذن عندالجلوس علی المنبرعلی باب المسجد اھ جواپ كے منبر پر بیٹھنے كے وقت دروازہ مسجد پراذان دیتے پھراپ منبرسے اتركر نماز قائم فرماتے۔
نہرالماد من البحر لابی حیان میں بھی اسی طرح ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ پاك میں ایساہی ہوتاتھاكہ جب آپ منبر پر بیٹھتے تو مسجد كے دروازہ پراذان ہوتیاورجب خطبہ كے بعداپ اترتے تونماز قائم ہوتی ایسے ہی صاحبین كے عہدتاابتداء عہد عثمان غنی رضوان الله علیہم اجمعین ہوتارہا پھرعثمان كے زمانہ میں مدینہ شریف كی آبادی بڑھ گئی لوگ زیادہ ہوگئے اور مكانات دورتك پھیل گئے تواپ نے ایك مؤ ذن كااضافہ فر مایااورانہیں حكم فرمایاكہ پہلی اذان آپ كے مكان زوراء پر دیں پھرجب آپ منبر پر بیٹھتے تو مؤ ذن دوسری اذان دیتاپھراپ منبرسے اتركر نماز قائم فر ماتے اس اضافہ پركسی نے آپ پراعتراض نہیں كیا۔
تقریب كشاف لابی الفتح محمد بن مسعود میں حضور صلی الله تعالی وسلم اوراپ كے بعد شیخین رضی الله تعالی عنہماكے عہد میں ایك ہی مؤ ذن تھاجوامام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھا۔
#267 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
وفی تجریدالكشاف لابی الحسن علی بن القاسم:كان لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤذن واحد فكان اذا جلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانز ل اقام الصلوۃ اھ
وفی تفسیرالنیسابوری:النداء الاذان فی اول وقت الظہرو قد كان لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤ ذن واحد فكان اذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد الخ مثل مافی الكشاف۔
وفی تفسیرالخطیب ثم الفتوحات الالھیۃ:قولہ تعالی "اذانو دی للصلوۃ"المراد بھذاابلنداء الاذان عند قعودالخطیب علی المنبر لانہ لم یكن فی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نداء سواہ فكان لہ مؤذن واحداذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانزل اقام الصلوۃ ثم كان ابو بكرو عمرو علی بالكو فۃ رضی الله تعالی عنھم علی ذلك حتی كان عثمان رضی الله تعالی عنہ و كثرالناس و اورجب آپ منبر پرسے اترتے نماز قائم فرماتے۔
اورتجرید كشاف لابی الحسن علی بن القاسم میں ہے:حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھااوراپ جب منبرسے اترتے تونماز قائم فر ماتے۔
تفسیر نیشاپوری میں ہے نداء اول وقت ظہر میں اذان ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھاالخ(موافق تفسیركشاف)
تفسیر خطیب وفتو حات الہیہ میں ہے الله تعالی كافر مان"جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے"اس نداسے وہ اذان مراد ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے پر دی جاتی ہے كہ حضور صلی الله تعالی وسلم كے عہد میں اس اذان كے علاوہ تھی ہی نہیں ایك ہی مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ دروازہ پراذان دیتا جب آپ منبرسے اترتے تونماز قائم ہوتی پھرابو بكرو عمرو علی(رضی الله تعالی عنھم)كو فہ میں اسی پرعامل رہے مدینہ میں عہد عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ میں آبادی
#268 · الشمامۃ الاولٰی من عنبر الحدیث (عنبر حدیث كاشمامۂ اولٰی)
وفی تجریدالكشاف لابی الحسن علی بن القاسم:كان لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤذن واحد فكان اذا جلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانز ل اقام الصلوۃ اھ
وفی تفسیرالنیسابوری:النداء الاذان فی اول وقت الظہرو قد كان لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مؤ ذن واحد فكان اذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد الخ مثل مافی الكشاف۔
وفی تفسیرالخطیب ثم الفتوحات الالھیۃ:قولہ تعالی "اذانو دی للصلوۃ"المراد بھذاابلنداء الاذان عند قعودالخطیب علی المنبر لانہ لم یكن فی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نداء سواہ فكان لہ مؤذن واحداذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانزل اقام الصلوۃ ثم كان ابو بكرو عمرو علی بالكو فۃ رضی الله تعالی عنھم علی ذلك حتی كان عثمان رضی الله تعالی عنہ و كثرالناس و اورجب آپ منبر پرسے اترتے نماز قائم فرماتے۔
اورتجرید كشاف لابی الحسن علی بن القاسم میں ہے:حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھااوراپ جب منبرسے اترتے تونماز قائم فر ماتے۔
تفسیر نیشاپوری میں ہے نداء اول وقت ظہر میں اذان ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھاالخ(موافق تفسیركشاف)
تفسیر خطیب وفتو حات الہیہ میں ہے الله تعالی كافر مان"جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے"اس نداسے وہ اذان مراد ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے پر دی جاتی ہے كہ حضور صلی الله تعالی وسلم كے عہد میں اس اذان كے علاوہ تھی ہی نہیں ایك ہی مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ دروازہ پراذان دیتا جب آپ منبرسے اترتے تونماز قائم ہوتی پھرابو بكرو عمرو علی(رضی الله تعالی عنھم)كو فہ میں اسی پرعامل رہے مدینہ میں عہد عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ میں آبادی



تباعدت المنازل زاداذاناآخر الخ
وفی كشف الغمۃ للامام الشعرانی كان الاذان الاول علی عہدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وابی بكرو عمر رضی الله تعالی عنھمااذاجلس الخطیب علی المنبرالی قولہ و كان الاذان علی باب المسجد اھ بڑھی اور مكانات دور دورتك پھیل گئے توانہوں نے ایك اذان اور زائد كی۔
كشف الغمہ للامام شعرانی میں ہے اذان اول حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اورابو بكروعمر رضی الله تعالی عنھماكے زمانہ میں جب خطیب منبر پر بیٹھتااوراذان مسجد كے دروازہ پرہوتی۔
#269 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ
(شمامہ ثانیہ از صندل فقہ)

نفحہ۱: الحمدلله تظافرت النصوص علی كراھۃ الاذان فی المسجد والنھی عنہ بصیغۃ النفی الا كد من صیغۃ النھی ففی ۱ الخانیۃ و۲ الخلاصۃ و ۳خزانۃ المفتین و۴شرح النقایۃ للعلامۃ عبدالعلی و ۵الفتاوی الھندیۃ و۶التاتارخانیۃ و۷مجمع البر كا ت ینبغی ان یو ذن علی المئذنۃ او خارج المسجد ولا یوذن فی المسجد اھ
و۸فی البحرالرا ئق شر ح كنز الد قا ئق وفی الخلا صۃ : نفحہ ۱: الله تعالی كے لیے بے شما ر حمد ہے كہ مسجد كے اند راذان مكر و ہ ہو نے پر كثیرالتعدا د فقہی نصوص ہیں وہ بھی صیغہ نفی كے ساتھ جو ممانعت میں نہی سے زیا دہ مؤ كد ہو تا ہے ۔۱خانیہ ۲خلا صہ ۳خزانہ المفتین ۴شر ح نقایہ للعلامہ عبد العلی فتا وی ۵ہندیہ ۶تا تا رخانیہ ۷مجمع البركات میں ہے مئذنہ پراذان دینا چا ہیے یا مسجد كے باہر مسجد میں اذان نہ دی جا ئے ۔
۸بحرالرا ئق شر ح كنز الدقا ئق اور خلاصۃ الفتا وی میں ہے:
#270 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ولا یؤ ذن فی المسجد اھ
وفی ۹شرح مختصرالامام الطحاوی للامام الا سبیجابی ثم۱۰ المجتبی شرح مختصر الامام القدوری لا یؤ ذن الا فی فنا ء المسجد او علی المئذ نۃ
و۱۱فی البنا یۃ شرح الھد ا یۃ للا مام العینی: لا یؤ ذن الا فی فنا ء المسجد او نا حیتہ عــــــہ ۔ مسجد میں اذان نہ دی جا ئے ۔
۹شرح مختصرالا مام طحا وی للا مام اسبیجا بی اور ۱۰مجتبی شرح مختصر للامام قدوری میں ہے اذان نہ دی جا ئے مگر صحن متعلقہ مسجد میں منارہ پر ۔
۱۱بنایہ شرح ہد ایہ لا مام عینی میں ہے :اذان نہ دی جا ئے مگر صحن مسجد میں یا مسجد كے كنارے ۔

عــــــہ: النا حیۃ الر كن وا لجانب كلھا بمعنی فی القاموس النا حیۃ الجانب اھ وفی المصبا ح الجانب النا حیۃ وفی تاج العروس ركن الجبل والقصرجانبہ واركان كل شیئ جوانبہ التی یستند الیھا و یقو م بھا اھ واللفظ مبنی من التنحی والا عتزال ناحیہ ركن اورجانب سب كے معنی ایك ہیں قا مو س میں ہے ناحیہ جانب اور كنارے كو كہتے ہیں مصبا ح میں ہے الجانب الناحیۃ جانب اور كنارہ ہی ناحیہ ہے ۔تا ج العر و س میں ہے پہا ڑ اور محل كاركن اس كا كو نہ ہو تا ہے اور ہر شیئ كاركن اس كا كنارہ ہی ہوتا ہے۔ جس كی طر ف اس كی نسبت ہو تی ہے یا اس كے ساتھ(باقی برصفحہ ائندہ)
#271 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فی ۱۲الغنیۃ شرح المنیۃ الاذان انما یكو ن فی المئذنۃ اوخارج المسجد والاقا مۃ فی دا خلہ
وفی۱۳نظم الامام الزند ویستی ثم ۱۴شرح النقایۃ للشمس القھستانی ثم ۱۵حا شیۃ مرا قی الفلاح للعلامۃ السید احمد الطحطاوی و یكرہ ان یؤ ذن فی المسجد
وفی ۱۶غا یۃ البیان شرح الھد ا یۃ للعلا مۃ الاتقانی وفی ۱۷فتح القدیر شرح الھد ا یۃ ۱۲غنیہ شرح منیہ میں اذان مئذنہ پر یا خارج مسجد ہواوراقامت مسجد كے اند ر۔
۱۳نظم امام زند ویستی ۱۴شرح نقا یہ لشمس قہستا تی ۱۵حا شیہ مراقی الفلاح میں للعلا مۃ سید احمد طحطاو ی میں ہے مسجد كے اندر اذان مكر وہ ہے۔
۱۶غا یۃ البیان شرح ہد ا یہ للعلا مہ اتقا تی ۱۷فتح القدیر شرح ہدایہ لمحقق علی الا طلا ق میں ہے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
كا لمجانب من المجانبۃ والانفصا ل و تر ی ركنی الكعبہ الكر یمۃ الا سو د الیمانی خارجۃ منھا ۔
وذكر فی خلا صۃ الو فا ء ان عمر بن عبد العز یز رضی الله تعالی عنہ جعل للمسجد اربع منارا ت فی زوا یا ت الاربع ثم قال كل ذلك من الھلال الی الارض خارج عن المسجد منہ غفر لہ۔ قا ئم ہو تا ہے یہ لفظ علیحد گی اورجد ائی كے معنی دیتا ہے جیسے جانب دوری اورانفصال كے معنی دیتا ہے اوركعبہ شریف كے دونو ں ركن اسو د اور یمانی كو دیكھا جا سكتا ہے كہ وہ دو نو ں كعبہ سے خارج ہیں اور خلا صۃ الوفا ء میں ذكر كیا ہے كہ عمر بن عبد العزیز رضی الله تعالی عنہ نے مسجد نبو ی شر یف كے چارو ں كونوں پر چار میناربنائے اور فرمایا كہ یہ چاروں مینار زمین سے لے كر چاند تك خارج مسجد ہیں (منہ غفر لہ)۔
#272 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
للمحقق علی الاطلا ق :قولہ (ای الامام برھان الدین صا حب الھد ا یہ ) والمكان فی مسا لتنا مختلف یفید كو ن المعھو د اختلا ف مكانھماوھو كذلك شر عا فا لا قا مۃ فی المسجد ولابدواما الاذان فعلی المئذنۃ فان لم یكن ففی فنا ء المسجد وقا لوا لا یؤذن فی المسجد اھ
وقالا فی الكتابین فی مسئلۃ سنیۃ الطہار ۃ لخطبۃ الجمعۃ قیا سا علی الاذان مانصہ : الاولی ما عینہ فی الكا فی جامعاوھو ذكرالله تعالی فی المسجد ای فی حدودہ لكراھۃ الاذان فی داخلہ اھ
فھذہ تسعۃ عشر نصاوختم العشر ین بكلام الامام ابن الحا ج المكی مالكی فانہ رحمہ الله تعالی عقد فی المد خل فصلا للنھی عنہ وفی نفی فعلہ من السلف الصا لح مطلقا فد خل فیھم ائمۃ المذا ھب الاربعۃ جمیعاومن قبلھم من الصحابۃ والتابعین رضی الله تعالی عنھم اجمعین و ھذا مانصہ۔ مصنف امام بر ھان الدین صا حب ہد ا یہ كا قول كہ (مكان ہمارے مسئلہ میں مختلف ہے ) اس امر كا فا ئد ہ دیتا ہے كہ اذان واقامت كے مقا ما ت كا اختلا ف ہی معہودومعر و ف نیز حكم شر عی ہے كہ اقامت مسجد میں ہو نا ضر وری ہے اوراذان مئذنہ پراور مئذنہ نہ ہو تو مسجد كے صحن میں ائمہ نے فر ما یا كہ مسجد میں اذان نہیں دی جا ئے گی۔
اوردونوں شارحین نے اپنی دونو ں كتابو ں میں جمعہ كے لیے طہارت مسنو ن ہو نے كے مسئلہ میں اذان پر قیا س كرتے ہو ئے فر ما یا"كا فی میں دونو ں مسئلہ میں علت جا معہ یہ بتا ئی كہ خطبہ اوراذان دو نو ں ہی مسجد كے اند ر خدا كاذكر ہے جن كے لیے طہارت سنت ہے مسجد كے اند ر كا مطلب حدود مسجد ہے كیو نكہ اذان دا خل مسجد مكر و ہ ہے ۔"
یہ انیس نصوص ہیں اور بیسو یں نص امام ابن الحا ج مكی مالكی رحمۃ الله علیہ نے اپنی كتاب مد خل میں ایك فصل تحر یر فرمائی جس میں مسجد كے اند راذان كی كراہت بیان فر ما ئی اور بتا یا كہ مطلقا سلف صا لحین نے اس فعل كی نفی كی ہے تواس عموم میں ائمہ اربعہ داخل ہو گئے اوران سے پہلے كے صحابہ و تابعین بھی۔
#273 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فصل فی النھی عن الاذان فی المسجدوقد تقدم ان للاذان ثلثۃ موا ضع المنارہ وعلی سطح المسجد وعلی بابہ واذا كان ذلك كذلك فیمنع من الاذان فی جو ف المسجدلو جوہ احدھا انہ لم یكن من فعل من مضی الی اخر ہ ۔
نفحہ ۲: بمرأی منك ھذہ النصوص بعمو مھاواطلا قھا فان الفعل كما عر ف فی الا صول فی قوۃ النكر ۃ و قدوقع فی حیز النفی فقولھم لا یؤ ذن فی المسجد عا م و البا قی مطلق ولا اثر فیھا للتخصیص والتقیید فو جب امرارھا كما ھی والتی فیھاذكرالمئذنۃ فاقول: اولا لا تو ذن بخر و ج اذان الخطبۃ فان النا س بعد الصدرالاول احد ثوا اعلاء المنابردككا بحذائھا لاذان الخطبۃ كما ھو مشہور ھھنا فی الجوا مع السلطانیۃ ستعلم جواز ذلك بشرطہ فیصدق وعلی ھذا لاذان مد خل كی عبار ت یہ ہے"مسجد میں اذان كی ممانعت كے بیان میں یہ گزر چكا كہ اذان كے لیے تین جگہیں ہیں مسجد كی چھتمسجد كا دروا زہ اور منارہاورجب ایسا ہے تو مسجد كے اندر اذان كی ممانعت كئی وجہ سے ثابت ہے اول یہ كہ گز شتہ بزر گان دین مسجد كےاند راذان نہیں دیتے تھے"الخ یہ كل بیس نصوص ہوئے ۔
نفحہ ۲: یہ نصوص اپنے عمو م واطلا ق كے ساتھ سب كے سامنے ہیں اوراصول فقہ سے یہ ظا ہر ہے كہ فعل نكر ہ كے حكم میں ہے اور نفی كے تحت ہو تو عا م ہے پس فقہا ء كا قول لا یو ذن فی المسجد عا م ہے اور با قی اقوا ل مطلق ہیں جن میں تخصیص و تقیید كا كو ئی اثر نہیں توان كواپنے عمو م پر ہی جار ی ركھنا ہو گا ۔ اورجن كی عبارتو ں میں مئذنہ كاذكر ہے تو وہ خطبہ كی اذان كواس حكم سے نكا لنے كے لئے نہیں اولا اس لیے كہ صد راول كے بعد ہی لوگوں نے بلند منبراوران كے سا منے اذان جمعہ كے لیے چبو ترے بنا ئے جیسا كہ شا ہی مسجدوں میں اب بھی دیكھا جا سكتا ہے (اوران كی بنا مخصوص شرا ئط كے سا تھ جا ئز بھی ہے) تواذان جمعہ كے لیے یہی مئذنہ ہو ئے اور
#274 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ایضا انہ علی المئذ نۃ وان لم تكن فی الفنا ء ۔
وثانیا الحكم علی مطلق او عا م بمفہو م مردد انما یقتضی ان لا یخلوشیئ من افرادہ عن كلا الو جہین اما كو ن كل فردیجر ی فیہ الوجہان فلا و ھذا ظاھر جدا ۔عبار ۃ نسختی الفتح والعنا یۃ ۔ واما الاذان فعلی المئذنۃ فان لم یكن بیا ء تحتیۃ ای الاذان علیھا ففی فنا ء المسجد وعدم كو نہ علیہا یشمل الترك والكف فید خل فیہ كل اذان و كذا علی نسخۃ تكن بتاء فو قانیۃ والضمیر للمنار ۃ فان المراد الكو ن الشر عی والو جو د حسیا غیرالو جو دلشیئ شر عاو علی التنزل فزیادتھما لفظۃ قا لوا قطعت ھذا الحكم عن سنن السابق و ذلك لان لا یوذن بمعنی لا یفعل الاذان و ھو بعمومہ ان پراذان اذان علی المئذ نہ ہو ئی تواس حكم میں كہ مئذنہ پراذان نہ ہو توصحن مسجد میں ہواذان جمعہ بھی دا خل رہی۔
ثانیا: (یہ جملہ اذان مئذ نہ پر ہو نی چا ہیے نہ ہو توصحن مسجد میں دی جا ئے ) مطلق یا عا م (اذان )كے لیے ایك حكم مردد ہے اورایسے تردیدی حكم كا یہ تقا ضانہیں ہو تا كہ مطلق یا عا م كا ہر ہر فرد حكم كے دو نو ں پہلو ؤ ں سے متصف ہو بلكہ مطلب صرف یہ ہو تا ہے كہ اس كو كو ئی فرد بھی حكم كے دو نو ں پہلوؤں سے یكسر خا لی نہ ہو كوئی فرد حكم كے ایك پہلو سے متصف ہواور كو ئی دوسر ے پہلو سے اس میں كو ئی حرج نہیں ہے ۔(اس تشر یح كی رو سے مذكورہ با لا جملہ كا مطلب یہ ہوا كہ اذان خوا ہ پنج وقتہ ہو یا اذان خطبہ سب كو مئذنہ پر ہونا چاہیے (لائق اذان ) مئذنہ ہی نہ ہو یاا س پراذان نہ ہو سكی تو صحن مسجد میں ہو پس مذكورہ با لا حكم اذان جمعہ كو بھی شامل ہوا )
(اعترا ض ) فتح القدیراور غا یۃ البیان كی مذكورہ با لا عبارت كا ظا ہر تو یہی ہے كہ یہ حكم صر ف نما ز پنجو قتہ كے سا تھ ہی خا ص ہو كہ مئذ نہ كی ضرورت اسی كے لیے ہے ۔
#275 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
كان یشمل كل اذان لكن ھذا التنزل الاخیر لما كان الكلام فی مابین العبار تین فی اذان المنائر خاصۃ فلولم یاتیابقالوا لاشمل الظرف الحكم الی العھد ومقصودھمارحمھما الله تعالی مع الاستبدال بہ علی المسألۃ الخاصۃ افادۃ الحكم العام فزادا قالوا فصار حكمامنقولاولا عہد فی المنقول عنہ فلم یسرالیہ عہد سیاقہ وبقی علی محوضۃ اطلاقہ و لعمری لا یو قف علی اشارا تھم الابتو فیق من بركا تھم والله الموفق لار ب سوا ہ ۔ اذان جمعہ تو عد م محاذا ت كی وجہ سے متعار ف مئذنو ں پر منع ہے)
(جواب) ان دونو ں كتابو ں كی اصل عبارت یہ ہے :اما الاذن فعلی المئذنۃ وان لم یكن (ایك نسخہ ) وان لم تكن (دوسرا نسخہ ) ففی فنا ء المسجد پہلے نسخہ كی تقدیر پر ترجمہ یہ ہوا"اگر مئذنہ پراذان نہ ہو ئی"اذان نہ ہو نے كی دو صورتیں ہیں : اول اذان كامئذنہ پر ہو نا تو ممكن تھامگر مؤ ذن نے سستی وغیر ہ كی وجہ سے اذان مئذنہ پر نہ دی یا عدم اذان علی المئذنہ بو جہ ترك مؤ ذن ہے اوردو سر ی صور ت یہ كہ مؤذن مئذنہ پراذان دینا چا ہتا تھا لیكن وہ مئذنہ پراذان اس لیے نہ دے سكا كہ شر یعت نے اسے روك دیا كہ یہ مئذنہ خطیب كی محاذا ۃ میں نہیں اس لیے اس پراذان منع ہے یہ عدم اذان مو ذن كواذان سے كف و منع كی وجہ سے ہے ان میں پہلی صورت اذان پنجو قتہ میں ہے اوردوسر ی جمعہ كی اذانو ں میں اور عدم اذان كی ان دونوں صور تو ں كے لیے حكم یہی ہے اذان صحن مسجد میں ہو تو جمعہ كی اذان كو بھی یہ حكم شامل ہوا اوردو سر ے نسخہ كی رو سے ترجمہ یہ ہو گا كہ اگر مئذنہ نہ ہو تواذان صحن مسجد میں ہوگی مئذنہ نہ ہو نے كی بھی دوصورتیں ہیں عدم حسی اور عدم شرعی مسجد میں سر ے سے كو ئی مئذنہ ہی نہ ہو یہ عدم حسی ہے اور مئذنہ تو ہو مگر خطیب كی محاذا ت كی وجہ سے خطبہ كی اذان كے لیے شر عامعد وم ہیں تو حكم مذكوراذان جمعہ كے لیے بھی ہوا كہ صحن مسجد میں ہو تو بہر تقدیراس حكم سے خطبہ كی اذان خارج نہ ہو ئی ولله الحمد اور كسی كو ضد ہی ہو كہ اس حكم میں جمعہ كے خطبہ كی اذان شامل نہیں تو بر سبیل تنزل گزار ش ہے كہ ان دونوں بزرگو ں نے اس كابھی خیا ل ركھا ہے چنانچہ اپنی اسی عبارت میں مذكورہ با لا ٹكڑے كے بعد اسلو ب بدل كر لفظ قالوا كے اضافہ كے ساتھ ایك عام اور تام حكم دیا ۔فر ما تے ہیں:قالوا لا یو ذن فی المسجد فقہاء كا قول ہے كہ مسجد میں اذان نہیں دی جا ئے گی اور یہ میں ا س لیے كہتا ہوں كہ لایوذن فی المسجد كا حكم اپنے عمو م كے سا تھ تمام اذانوں كوشامل ہے لیكن بطور تنزل جب ہم نے سابقہ
#276 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
نفحہ ۳:بتو فیقہ تعالی ظھر ت فا ئد ۃ لفظۃ"قا لوا"فی ھا تین العبار تین ولیست فی غیرھماولیس كلما قالوا "قالوا"ارادوا تبرأ۔اوافا دۃ خلا ف كما یشھد بہ التتبع ولا ھو عــــــہ مصطلح كل احد بل قا ل السید العلامۃ فی حا شیہ الدرالمختار۔۔۔ ۔
وفی رد المحتارفی مسئلۃ مس المحدث كتب الا حا دیث والفقہ قا ل فی الخلا صۃ یكر ہ عند ھماوالا صح انہ لا یكر ہ عند ہ و مشی فی الفتح علی الكراھۃ فقال قا لوا یكر ہ مس كتب التفسیر والفقہ والسنن لانہا لا تخلو عن جملہ كو پنج وقتہ اذان كے لیے مخصوص مان لیا۔تو یہ حضرا ت اگر عبار ت كا اسلو ب بدلے اور لفظ قا لوا كا اضا فہ كئے بغیر لا یؤ ذن فی المسجد كہہ دیتے تو یہ وہم ہو سكتا تھا كہ حكم بھی اسی معہو د اذان(پنجو قتہ)كے لیے ہے جس كاذكرجملہ سابقہ میں ہے لیكن جب عبارت كاسیاق بدل گیا اور قالوا كے اضافہ نے اسے ایك علیحد ہ جملہ كردیا تو وہ وہم با لكلیہ ختم ہوگیا اور یہ امر با لكل واضح ہوگیا كہ یہ ایك علیحد ہ حكم جملہ اذانوں كے لیے مطلق اور عام ہے جس میں خطبہ كی اذان بھی شامل ہے بز ر گوں كے كلام میں ان دقائق كی طرف رہنما ئی صرف تو فیق ا لہی كا كر شمہ ہے الله تعالی اس كے علاوہ آ داب كی بھی تو فیق بخشے۔آمین!
نفحہ ۳:الله تعالی كی تو فیق سے ان دو نوں اماموں كی عبار ت میں لفظ قا لوانہیں ہے اورایسابھی نہیں ہے كہ جب لفظ قا لوا كہیں تو ما سبق سے تبر ی اورافا دہ خلا ف كا ہی فا ئد ہ مرادلیں نہ یہ سب كی تسلیم شد ہ اصطلا ح ہے جیسا كہ كلام علما ء كے تتبع و تلا ش سے ظا ہر ہوا۔
ردالمحتار میں بے وضوادمی كے حدیث و فقہ كی كتابوں كے چھو نے كے بارے میں فر ما یا"خلا صہ میں ہے كہ صا حبین كے نزدیك چھو نامكر وہ ہے اور صحیح یہ ہے كہ امام صا حب كے نزدیك چھو نامكر و ہ نہیں ہے اورفتح القدیر میں اس كی كرا ہت كا حكم فر ما یا اور كہا كہ لوگوں نے كہا كہ مكر وہ ہے بے وضو كا تفسیرفقہ اور سنت كی

عــــــہ:ومن نسب فی مسئلتنا ھذہ زیا دہ لفظۃ"قا لوا"الی الامام فقیہ النفس قا ضی خا ں فقد كذب وافتر ی كما تری منہ حفظہ ربہ۔ اورجس نے اس مسئلہ میں لفظ قا لوا كی ز یا دتی كی نسبت امام قاضیخاں كی طرف كی غلط كیا جیسا كہ ان كی عبارت سے پتہ چلا۔ منہ حفظہ ربہ۔
#277 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ایا ت القران و ھذا التعلیل یمنع من شر و ح النحو اھ فجعلہ مشیا علیہ۔
وفی نھرالفا ئق فی مسئلۃ ما اذا زوج البا لغۃ غیر كفؤ فبلغھا فسكتت لا یكو ن رضا عند ھماو قیل فی قول الامام یكو ن رضا ان المزو ج ابا اوجداجزم فی الدرا یۃ با لاول بلفظ قا لوا اھ۔
فجعلہ جز مابہ كذا ھھنا جزم الامامین بو جھین : الاول مقصو د ھما ھھنا تعلیل القول المعتمد وھو قول الامام ان لا فصل بین اذان المغرب واقامتہ بجلسۃراجع الہدایۃ وانظرالی قولھما یفید كذاوھو كذلك شر عا فھمابصدد اثبا تہ و تحقیقہ لا التبر ی عنہ و تزئیقہ۔
والا خر مانقلنامنھمامن قولھما الآخرحیث اولا فیہ كلام الكا فی۔وجز مابكرا ھتہ دا خل المسجد فو ضح الحق كتابوں كوچھو نا تواس عبارت میں لفظ قا لوا كہہ كر سابقہ حكم كی تا ئید ہی كی"
نہرالفا ئق میں ایك مسئلہ بیان كیا"با لغہ كی شا دی غیر كفو میں كردی گئی اسے خبر ہو ئی تو چپ رہی۔یہ خموشی صا حبین كے نزدیك رضامندی نہیں۔اورامام صا حب كے قول پر رضا مندی ہے بشر طیكہ شا دی با پ دادانے كی ہو درا یہ میں اول كولفظ قا لوا سے بیان كیا ہے۔"
اسی طرح ان دونوں اماموں نے یہا ں دو نوں ہی طرح اثبات مدعا كیا ہے كہ پہلے قول میں وہ امام كے قول معتمد كی علت بیان كر نا چا ہتے ہیں(مغر ب میں اذان اوراقامت كے بیچ میں جلسہ سے فصل جا ئز نہیں)اور قا لوا لا یو ذن فی المسجد سے اسكی تا ئید كر نا چا ہتے تھے تا كہ اس كی مخا لفت اور تبر ی كے در پے رہیں(تصدیق كے لیے ہد ا یہ كا یہ مقام اوراس كی وضا حت میں ان دونوں اماموں كاقول یفید كذاو ھم كذلك شر عا دیكھا جائے)
اوردوسر ے قول میں كا فی كے قول ھو ذكرالله تعالی فی المسجد كی تاویل میں فر ما یا ای فی حد ود ہ اور بغیر قا لوا كے یہ جزم فر ما یا كہ اذان مسجد میں مكر و ہ ہے تو یہا ں
#278 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ولله الحمد۔
نفحہ ۴:لیس بخا ف علی كل من لہ حظ من علم او عقل علی ان الا ستدلا ل علی الخا ص با لعام صحیح نجیح تام وقد فعلہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذ تلا ا یۃ""فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ﴿۷﴾ " الایۃ۔والصحابۃ بعدہ والائمۃ ولو كلفنا اثبا ت كل خاص بما یخصہ لبطلت الشرا ئع و ترك الانسان سدیفان الشر یعۃ لا تا تی الاباحكام عامۃ تشتمل النا س كا فۃ فلولم یكن الا حتجا ج با لعام یطلب كل واحد حكما اتی لہ با لخصوص فما اجہل الو ھابیۃ العنودومن تابعھم من جہلۃ الہنو د اذ یقولو نایتونا للنھی فیہ ذكراذان الخطبۃ خاصۃ و یدانیہ قول من یقول منھم ان الفقہا ء انماذكر وا ھذا الحكم فی باب الاذان و من لم یذكر وہ فی باب الجمعۃ و قد مر كشف ھذہ الجہا لۃ فی النفحۃ ۱۱ من بے قا لوا كے تبر ی اوراظہار خلا ف كے لیے یہ جملہ ہوا تو حق واضح ہوا۔اورحمد الله تعالی كے لیے ہی ثابت ہے۔
نفحہ ۴:یہ با ت كسی علم و عقل وا لے سے پوشید ہ نہیں ہے كہ عام سے خا ص پراستدلا ل صحیح اوردر ست ہے خو د حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے آیت مباركہ
" فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ﴿۷﴾ " (جس نے ذرہ بھر بھلا ئی كی اس كابدلہ پا ئے گا)میں بر تا اوراپ كے بعد صحابہ و ائمہ اعلام رضوان الله علیہم اجمعین نے اسے اپنا دستورالعمل بنایا اگر ہر خا ص كے ثبو ت كے لیے خا ص اسی كے بار ے میں آیت اورحدیث كو ضرور ی قراردیا جائے توشریعت معطل ہو جا ئے گی اورانسان بے مقصد بھٹكتا پھر ےگا حا لانكہ شر یعت میں احكام تو عام ہی ہو تے ہیں كہ سب لوگ اس پر عمل كر یں اگر نصوص عامہ سے استدلا ل صحیح نہ ہو تو ہر شخص مطا لبہ كرے گا خا ص میرے نام حكم لاو تو یہ جا ہل وہابیہ اور مسئلہ اذان میں انكی اتبا ع كر نے وا لے سنی جہلا كس درجہ نا سمجھ ہیں جو ہم سے یہ مطا لبہ كر تے ہیں كہ ہم كوممانعت اذان كی كو ئی حدیث دكھا ؤ جس سے خا ص طور سے اذان خطبہ كاذكر ہو۔ اسی كے قر یب ان لوگوں كی یہ با ت بھی ہے كہ مسجد كے اند راذان نہ دینے كا حكم اذان كے باب
#279 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
النفحا ت الحدیثیۃ أتزعم الجہلۃ ان اذان الخطبۃ لیس لہ من الحكم اماماذكرفی باب الجمعۃ من كو نہ بین یدی الخطیب مثلا كلابل یعتبر بہ سا ئرالا حكام المذكورۃ لمطلق الاذان فی باب الاذان فلولم یكفہ البیان ثمہ من این تاتی تلك الا حكام لھذا الاذان و ھذا شیئ لا یخفی حتی علی الصبیان ولكن الو ھابیۃ واتباعھم قو م لا یفقہو ن۔
ھذاما كان طر یق العلم رحم الله الامامین الا تقان والمحقق علی الا طلاق واجذل قربھما یوم الطلاق حیث داو یا جہل ھولا ء بو جہ لم یبق لھم عذراولا حیلۃ و ذلك ان الامام صا حب الہد ا یۃ فی مسئلۃ ندب الطہارۃ لخطبۃ الجمعۃ قاسرھا علی الاذان و ذكر ما یو ھم ان الجامع كو نھا شر ط الصلوۃ و ھو ظا ہرا لبطلان فالامامان الشارحان عدلامنہ الی ماعین الامام النسفی میں ہے جمعہ كے باب میں نہیں اس لیے یہ حكم اذان جمعہ كے لیے نہیں ہوگا۔اس كا تفصیلی جواب تو نفحا ت حدیثیہ كے گیارہویں نفحہ میں گزرا اس نفحہ فقہیہ میں بھی مزید گزارش ہے كہ شایدیہ نا دان یہ سمجھ رہے ہیں كہ اذان جمعہ كے سا تھ وہی احكام خا ص ہیں جو باب جمعہ میں مذكور ہیں مثلا اس اذان كا خطیب كے سامنے ہونا ایسا ہر گز نہیں ہے وہ سارے ہی عمو می احكام جواذان سے متعلق ہیں گوصرف باب اذان میں ہی ان كا ذكر كیوں نہ ہو سب كے سب اذان جمعہ پر بھی عا ئد ضرور ہوں گے تواگر صرف باب اذان كابیان ہی اذان جمعہ كے لیے كا فی نہ ہو تو جمعہ كی اذان میں ان پر عملدرامد كی كیا سبیل ہوگی یہ بات تو بچوں پر بھی واضح ہے مگر نا دان وہابیہ نا دانی سے با ز نہیں آتے۔
اس اجما ل كی تفصیل یہ ہے كہ صا حب ہد ایہ نے خطبہ جمعہ باوضو مسنو ن فر ما یا اور خطبہ كے مسئلہ كواذان كے مسئلہ پر قیاس كیا كہ جیسے اذان كے لیے طہارت مسنو ن ایسے خطبہ كے لیے بھی اس سے یہ وہم ہوا كہ ان دونوں كے درمیان علت جامعہ ان دو نوں كانما ز كے لیے شر ط ہو نا ہے یہ با ت غلط تھی اس لیے ان دونوں شارحوں نے مذكورہ با لا علت كو چھو ڑ كراس كی علت جامعہ كی طرف رجو ع كیا جس كوامام نسفی نے
#280 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
جامعا فی الكا فی و ھو كونھاذكرالله فی المسجد ای ذكراموقتا كالاذان و كان یرد علیہ ان الاذان لیس ذكرا فی المسجدلكراھتہ فیہ فاولاہ بان المراد فی حدود المسجد فلوان اذان الخطبۃ كان یكو ن فی المسجدلما احتج الی التاویل اصلا فقیا س خطبۃ الجمعۃ علی اذان الخطبۃ بجامع كون كل منھماذكراموقتا فی المسجد كان اذن صحیحا قطعا وای شیئ كان احق بقیا س الخطبۃ من اذانھا لكنھما اولا فارشدابارشاد بین من الشمس ان اذان الخطبۃ ایضامكر و ہ فی المسجدوای نص انص تر ید من ھذاولله الحمد۔
نفحہ ۵:لیست المسئلۃ من النوازل ولا عزوھا الی احد من المشا ئخ بل ارسلو ھا ارسا لاوالذاكر و ن لھا اولئك الا ئمۃ الاجلا ء وامثا لھم كا لامام قا ضی خان ونظرا ئہ اذا ارسلوا دل علی انہ المذھب لما عرف من عا دتھم عزو تخر یجا ت المشا ئخ الی المشا ئخ قا ل فی الغنیۃ ذوی الا حكام فی مسئلۃ النعا س صرح بہ قاضی خان من غیراسنا دہ لاحد فافتضی كو نہ المذھب اھ فا لتشكیك فیہ بانہ غیر معز و ر اپنی كتاب كا فی میں متعین طور سے ذكر كیا تھا كہ خطبہ جمعہ اوراس كی اذان كے درمیان علت مشتر كہ ان كا ایساذكر ہو نا ہے جو مسجد كے اندر ہو تا ہے اس توجیہ پر یہ اعترا ض وارد ہورہا تھا كہ اذان تو مسجد كے اندر ہو نے وا لاذكر نہیں یہ تو مسجد كے اندر مكر وہ ہے توان حضرا ت نے جواب دیا كہ تعلیل میں اذان كو ذكر مسجد كہنے كامطلب قلب مسجد نہیں حد ود مسجد ہے اوراذان خطبہ اند رون مسجد نہ ہو تی ہو حد ود مسجد میں تو ہو تی ہے اس اعتبار سے اس كو ذكر مسجد كہنا صحیح ہے تواذان خطبہ كے مسجد كے اندر مكر وہ ہو نے كی اس سے بڑی اور كو ن سی نص چاہیے۔
نفحہ ۵:یہ مسئلہ كتب نوا زل كانہیں ہے نہ اسے مشا ئخ میں سے كسی كی طرف منسوب كیا گیا ہے راو ی وہی ائمہ اعلام ہیں جیسے امام قا ضی خا ں اوران كے ہم مر تبہ حضرا ت ائمہ اور قاعدہ یہ ہے كہ یہ لوگ جب كسی مسئلہ كو مرسل روا یت كر تے ہیں تو یہ مسا ئل مذھب میں شمار ہو تے ہیں كیو نكہ ان مشا ئخ كی عا دت كر یمہ یہ ہے كہ جب مشا ئخ میں سے كسی كی تخر یج روا یت كر تے ہیں تو مسئلہ كے سا تھ ان كانام ضرور لیتے ہیں چنانچہ غنیۃ ذوالا حكام میں ہے اونگھنے كے مسئلہ كی تصریح امام قا ضی خا ں نے فر ما ئی اور یہ مسئلہ جب كسی كی طرف منسوب نہیں ہے
#281 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
الی سید نا الامام الا عظم ولیس حا صلہ الا شیئان رفع الامان عن عامۃ مسا ئل الشرح والفتاوی الغیرالمعز یۃ الی احدوابطا ل سا ئر ما فیہ من المعز یات الی مشا ئخ المذاھب لان الاول اذا لم یقبل لعد م العلم لكو نہ عن الامام فا لا خراحدی بالرد للعلم بعدم كو نہ عن الامام وانت تعلم ان فیہ ابطا ل ثلثی مسا ئل المذھب او ثلثۃ اربا عھاوانما كان علینا اتبا ع مارجحو ہ وصححو ہ كماقا لوا افتو نا فی حیاتھم فكیف بما اتوابہ جا ز مین بہ من دون اشعار بخلا ف فیہ والله الموفق۔
نفحہ ۶:اذلم یا ت لھم تخصیص حاولوا ان یخرجوا اذان الخطبۃ من جنس كی یخرج بنفسہ مما یشمل شیئ من احكام الاذان من دون حا جۃ الی تخصیص و ذلك ان الاذان اعلام الغا ئبین وا لاقامۃ تواس با ت كی علامت ہے كہ یہ مذہب ہے تو مسئلہ دائر ہ میں یہ شك پید ا كر نا كہ یہ خاص طور سے امام اعظم رحمہ الله كی طرف منسوب نہیں اس لیے قابل قبول نہیں اس كامقصد دو باتیں ہیں عام مسا ئل شر عیہ و فتاوی جن كی نسبت كسی كی طرف نہ ہوان سے امام كی نسبت مر تفع ہو جا ئے اور بقیہ مسائل جو كسی شیخ یا امام كی نسبت مسا ئل امام كی طرف منسوب ہوں ان كاردوابطا ل ہو كہ جب غیر منسوب مسا ئل امام كی طرف منسوب نہ ہو نے كی وجہ سے غیر مقبول ہو ئے تو یہ مسا ئل جو با لتصر یح غیر كی طرف منسوب ہیں ان كے ردوابطا ل میں كون سا تردد كہ ان كے بارے میں تو یہ بالیقین معلو م ہے كہ یہ مسا ئل امام سے مروی نہیں اس كانتیجہ یہ ہوگا كہ مذہب كے دوثلث یا تین ربع مسا ئل اكارت ہو جا ئیں گے جبكہ حقیقت حا ل یہ ہے كہ مشا ئخ نے جن مسا ئل كی تصحیح یا ترجیح فر ما ئی ان پر عمل كر نابھی ضروری ہے كہ ان كی زند گی میں ان كے فتاوے مقبول اور معمول بہا تھے توان مسا ئل سے كیوں روگردانی جا ئز ہوگیجن كوان بزرگوں نے یقین كے سا تھ كسی اختلا ف كا اشارہ كئے بغیر روا یت كیا الله تعالی تو فیق عطا فر ما ئے۔
نفحہ ۶:جب نصوص كی تخصیص ان كے بس سے با ہر ہو ئی تو سوچا كہ اذان خطبہ كو ہی اذان كی جنس سے خارج كردیں تا كہ یہ خو د اذان كی جنس سے خارج ہو جائے اور ہم تخصیص كی زحمت سے نجا ت پا جا ئیں تو وہ كہنے لگے كہ اذان تو غیر مو جو د مصلیوں كابلاوا ہے اوراقامت مسجد میں مو جو د مصلیوں كو اطلاع ہے جیسا كہ ائمہ
#282 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
اعلام الحا ضرین كمانص علیہ الا ئمۃ منھم الامام العینی فی عمد ۃ القاری شرح صحیح البخاری و فی الہدایۃ الاذان استحضارالغا ئبین ۔فجعلوا اذان الخطبۃ اعلاما لحا ضر ین لاند ا ء للغا ئبین كی لا یكون اذاناوان كان بكلما ت الاذان كا لاذان فی اذن المولو دوالمھمو م و خلف المسا فر ولد فع الغیلان و عند الاقبار لتذكیرا لجواب و طرد الشیطان وامثا ل ذلك حیث لا یقصد بہ ندا ء الخا ص الی مشی او اعلاما لھم بدخول الوقت اصلابل التبرك واستد فاء البلابتلك الكلما ت الكر یمۃ۔
ثم اضطر بوا فا جہلہم یقول لم یكن عــــــہ اذانامن لدن رسول الله صلی الله تعالی وسلم واذاقیل لہ افكان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الجمعۃ من دون اذان قا ل لیس فیہانما نے اس كی تصر یح كی ہے۔علامہ عینی نے عمد ۃ القاری میں لكھا ہے اور صا حب ہد ایہ نے فر ما یا"اذان غیر مو جو د مصلیوں كابلاوا ہے"پس یہ لوگ اذان خطبہ كو حا ضر مصلیوں كی اطلا ع مانتے ہیں غا ئبین كابلاوا تسلیم نہیں كر تے اوراذان خطبہ اذان كے الفا ظ كے ہو تے ہو ئے بھی اذان نہیں جیسے وہ اذان جو نو مولو د كے كان میں كہی جاتی ہے غمزدہ انسان كے لیے یامسا فر كے پیچھے اور غول بیابانی كا اثردور كر نے كے لے دی جا تی ہے اوردفن میت كے وقت منكر و نكیر كا جواب یا د دلانے كے لیے پكاری جا تی ہے جن كامقصد حا ضر ی مسجدیا دخول وقت كا اعلان نہیں ہو تابلكہ مبارك كلما ت سے تبرك یابلا كا اند فا ع ہو تا ہے۔
اس كے بعد ان كی با توں میں اختلا ف پیدا ہوگیا ایك جا ہل كہتا ہے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں اذان ہوتی ہی نہیں تھی اورجب اس سے كہا جا تا ہے كہ كیارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نما ز جمعہ بے اذان كے ہی پڑھتے تھے تو كہتا ہے كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم

عــــــہ:یہا ں ایك بہت طو یل حا شیہ ہے جو حل نہ ہو سكا۔عبد المنان۔
#283 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
كان یصلی الصلوۃ كلھابمكۃ بدو ن اذان ولا یدری ھذا المسكین ان ھذا ا انكار للا جما ع و تصر یح القران فقد اجمعوا انہ لم یكن من عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم للجمعۃ الا ھذا الاذان والله تعالی یقول "یایہا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ" انما الامر بالسعی للغا ئبین دون الحاضرین لا ستحا لۃ تحصیل الحا صل والله تعالی یقول" و ذروا البیع " وانما البیع والشرا ء كان فی الا سواق لا فی المسجد فدل النص ان اذان الخطبۃ علی عہد رسول الله صلی الله تعالی كان نداء للغا ئبین الی الصلوۃ ھذا ھوالاذان المصطلح شر عی و صلوۃ مكۃ كانت قبل نزول الاذان فقیا س الجمعۃ علیہا جہل لا یقا س ولا یمان و غیر ہ یقول نعم كان الاذان علی عہد رسول الله وصا حبیہ صلی الله علیہ و علیہماوسلم فلما احد ث ذوالنورین رضی الله تعالی عنہ الاذان الاول كان ھوالاذان و بقی ھذ ا اعلاما للحاضرین و علیہ فر ع مفرع منھم انہ لما كان فی الزمن تو مكہ میں سار ی نما زیں بغیراذان كے ہی پڑھتے تھے اس مسكین كو یہ معلو م نہیں كہ یہ اجما ع امت و تصر یح قرآن كا انكار ہے كیو نكہ سب كا اس پراجما ع"كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد میں خطبہ كے علاوہ كو ئی اذان نہ تھی"اورالله تعالی كا ارشاد ہے"اے ایمان والو !جمعہ كے دن اذان دی جا ئے توالله تعالی كے ذكر كے لیے دوڑپڑو"یہ مسجد كی طرف سعی كا حكم غا ئبین كے لیے ہی تو ہے یہ بھی فر ما یا كہ بیع وشرا ء چھوڑ دو بیع وشرا ء تو با زار میں ہو تی ہے مسجد میں نہیں۔تو معلو م ہوا كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں اذان خطبہ مسجد میں مو جو د نہ رہنے وا لوں كو نما ز كے لیے بلانے كے لیے ہی ہو تی تھی اور یہی اذان شر عی واصطلا حی ہے اور مكہ كی نما ز نزول اذان سے قبل ہو ئی تو كو ئی مو من اس پر نما ز جمعہ كو قیا س نہیں كر سكتا اوردوسر ے مخا لف كا كہنا یہ ہے كہ بیشك حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اور صا حبین رضی الله تعالی عنہما كے زمانہ میں یہی اذان خطبہ تھی لیكن حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كے زمانہ میں جب انھوں نے اذان اول ایجاد كی تو یہ اذان حاضرین كا اعلان ہوگئیتو جب پہلے زمانہ میں یہ اعلان تھی تو باب مسجد پر ہو نا ہی منا سب تھا اور عہد عثمان غنی میں جب یہ حا ضرین كو خطبہ كے لیے
#284 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
الاول للا علام نا سب باب المسجد وفی زمن عثمن رضی الله تعالی عنہ صار للانصات فناسب داخل المسجدلدی المنبر۔
اقول:و ھذا ایضامن ابین الابا طیل و خلا ف اجما ع ائمتنا الكرام فاولاقد اجمعوا للجمعۃ اذانین و ثانیا یعاد اذان الجنب لا اقامتہ علی المذھب و عللو ہ بان تكرارالاذان مشر و ع دون الاقامۃ كما فی الہدا یہ وا ستشہد وا علیہ باذان الجمعۃ قال فی الكا فی والتبیین والعنا یۃ والدرالمختار و غیرھا فان تكرارالاذان مشر و ع فی الجملۃ كما فی الجمعۃ الی ھنامتفقو ن ثم قا ل فی الكا فی فاما تكرارالاقامۃ فغیر مشروع اصلا و فی التبیین دون الاقامۃ وفی العنا یۃ بخلا ف الاقامۃ خاموش كر نے كے وا سطے ہے تواس كامسجد كے اند ر منبر كے قریب ہو نامنا سب ہوا
میں كہتا ہوں كہ یہ بات بھی بالكل غلط اور ظاہرالبطلان ہے كہ یہ بھی ہمارے علما كرام كے اجماع كے خلاف ہے۔(۱) سارے ائمہ كا اس بات پراجماع ہے كہ جمعہ كے لئے دواذانیں ہیں۔(۲)جنبی كی اذان دہرائی جائیگی اقامت نہیں دہرائی جائے گی۔دلیل یہ دی گئی كہ اذان كی تكرار مشروع ہے اقامت كی نہیں۔ہدایہ میں اس كی تصریح ہےاور تكراراذان كے جواز كے ثبوت میں اذان جمعہ كو ہی پیش كیا گیا ہے۔چناچہ كافیتبیینعنایہ اوردرمختار میں ہے":اذان كی تكرارفی الجملہ مشروع ہے۔"یہاں تك كہ پانچوں كتابوں كی عبارت میں اتفاق ہےآگے كافی میں فرماتے ہیں"اقامت كی تكرار تو بالكل جائز نہیں"۔تبیین میں صرف یہ ہے "اقامت كا یہ حكم نہیں۔"عنایہ میں ہے:"بخلاف اقامت
#285 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ونظم الدر لمشر و عیۃ تكرارہ فی الجمعۃ دون تكرارھا اھ۔فلولم یكن الثانی اذانامثل الاول فا ین التكرار۔وثا لثا صر یح نص البحرفی البحر لان تكرارہ مشر وع كما فی اذان الجمعۃ لانہ لاعلام الغا ئبین فتكر یر ہ مفیدلا حتما ل عد م سما ع البعض بخلا ف تكرارالاقامۃ اذھو غیر مشر و ع اھ ورابعا لم تغیرالاذان عما كان علیہ بحدوث الاول لان الا علام حصل با لاول فلا یحصل با لثانی فانسلخ ضرورۃ عن الاذانیۃ و كو نہ اعلاما للغا ئبین ام لان امیرالمومنین عثمن ھوالذی قطعہ عما كان الاول با طل اجماعا فما التثو یب الا علام بعد الا علام و كرہ المتقد مو ن واستحسنہ المتا خر ون فكان ھذا اجما عامنھم علی ان الا علام مما یقبل كے۔"اوردرمختار كی عبارت یوں ہے:"اذان كی تكرارجمعہ میں مشروع ہے نہ كہ اقامت كی تكرار۔"پس اذان ثانی اگراذان اول كی طرح ہی اذان نہ ہو تواس كی تكرار كس طرح ہوگی۔(۳)علامہ بحر نے اپنی كتاب بحرالرائق میں صریح عبارت ارشاد فرمائی:"اس لئے كہ اذان كی تكرار شرعا جائز ہےجیسے جمعہ كی اذان كہ بار بار ہوتی ہے اس لئے كہ وہ غائبین كے اعلان كے لئے ہوتی ہے۔تواس كے بار بار كرنے میں فائدہ ہے كہ كسی نے پہلے نہ سنا ہو تواب سن لے گاالبتہ اقامت كی تكرارجائز نہیں۔"(۴)اذان خطبہ كے اذان ہو كراذان نہ ہونے كی وجہ یا تو یہ ہوگی كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كی ایجاد كردہ اذان سے اعلام غائبین كی ضرورت پوری ہوگئی تواب اذان خطبہ كی ضرورت نہیں رہیتو یہ اذان نہ رہی۔یا یہ وجہ ہوگی كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالے عنہ نے پہلی اذان ایجاد فرما كر یہ كہا كہ اب اذان خطبہ اذان نہ رہی بلكہ اس سے اطلاع حاضرین كا كام لیا جائے گا۔پہلی بات تو باطل ہے كہ تثویب بھی تواعلام بعد الاعلام یہ ہے جسے متقدمین نے مكروہ كہا اور متاخرین نے مستحسن گردانا۔تو متاخرین اور متقدمین دونوں نے مل كر یہ طے كردیا اعلام
#286 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
التكراراذلواستحا ل لاستحا ل ان یكو ن مكرو ھا او حسناوایضا كفی للرد علیہ كلام البحروالثانیاشد واشنع واشر واخنع ان یكو ن امیرالمومنین بدل و حرف سنۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم حا شا ہ من ذلك نعم للخلفا ء الراشدین ان یضیفوا سنۃ كما اضا ف الاذان الاول یو م الجمعۃ و تبعہ علیہ المسلمو ن فی عامۃ البلا د واما ان یغیر وا سنتہ فكلاواجار ھم الله تعالی عن ذلك الا تری الی ماقا ل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ستۃ لعنتھم ولعنھم الله و كل نبی مجاب و ذكر منھم التارك بسنتی رواہ التر مذی عن ام المو منین عا ئشہ رضی الله تعالی عنہاوالحاكم عنھاو عن امیرالمو منین علی روا ہ الطبرانی فی الكبیر عن عمر و بن سعواء رضی الله تعالی عنھم بلفظ سبعۃ لعنتھم تكرار كا امكان ركھتا ہے۔اگر محال ہوتا تو نہ مستحسن ہو سكتانہ مكروہ۔پھراس كے رد كے لئے صاحب بحرالرائق كا كلام ہی كافی ہے۔دوسری بات باطل ہونے كے ساتھ ساتھ نہایت ہی بری اور گندی بھی ہے كہ امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے حضور سید كائنات صلی الله تعالی علیہ وسلم كی سنت بدل ڈالی۔پناہ بخدا خلفائے راشدین اس سے بری ہیں وہ آپ كی سنتوں میں اضافہ كرسكتے ہیں اس میں تغیر و تبدل نہیں كرسكتے۔جیسا كہ آپ نے جمعہ كے دن اذان كی سنت میں ایك اذان كااضافہ كیا۔جمیع اہل اسلام نے تمام شہروں میں اس كی اتباع كی۔آپ كی سنت بدلنے سے الله تعالی انہیں محفوظ ركھا۔تم نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كا فرمان نہیں سناآپ فرماتے ہیں:"چھ آدمیوں پر میں نے لعنت كیاورالله تعالی نے لعنت فرمائی اور ہر نبی مجاب الدعوات نے۔ان چھ آدمیوں میں سے ایك سنت بدلنے والا ہے۔"اس حدیث كو ترمذی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سےحاكم نے ام المومنین اورامیر المومنین حضرت علی رضی الله تعالی عنہ سےاور طبرانی نے كبیر میں عمرو بن سعواء رضی الله تعالی عنہ سے بلفظ سبعۃ لعنتھم
#287 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
و كل نبی مجاب والعجب ممن یقول ان عدم اعتبار تغییر عثمن ضلا لۃ بتعلیمہ ولا ید ری المسكین ان نسبۃ تغییرالسنۃ الی عثمن ھوالضلا ل البعید ھذاوجہ و كفی بہ وجھاوجیھا الثانی حیث یسو غ الاعلام مكر را فمن ذا ا لذی اخبر كم ان عثمن قطعہ عنہ أاقرانی قطعتہ ام امرالموذن ان لا یتو بہ اوامر ہ ان یخففہ او یخفیہ ام تقولو ن علی عثمان ما لا تعلمون ولا تعلمو ن انكم مسؤلو ن قا ل تعا لی:
"و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾" الثالث حصول الا علام كان لا زم الاذان ان كان علی وجہ المعہو د علی عہد الرسا لۃ فلا ینقطع عنہ الابا حد ا ث فیہ یقعدہ عن الا علام السا لف و كیف یظن ھذابعثمن و كل نبی مجاب روایت فرمایاپس ان لوگوں كی كیسی بوالعجبی ہےحضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ كی طرف تغییر سنت كی نسبت كا انكار كرنیوالوں كے فعل كو ضلالت شنیعہ بتاتے ہیں۔اور خود ان مسكینوں كو یہ معلوم نہیں كہ آپ كی طرف تغییر سنت كی نسبت كرنابہت بڑی گمراہی ہے اوراس كے مردود ہونے كی سب سے بڑی وجہ خود وہی ہے۔دوسری بات كا یہ جواب بھی ہے كہ آپ لوگوں كو كیسے معلوم ہوا كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے اذان خطبہ كی اذانیت كو ختم كردیا۔كیا انھوں نے خود اس كا اقرار كیا یا انھوں نے مؤذن كو حكم دیا تھاكہ وہ اذان كی طرف رجوع نہ كرے یا انھوں نے مؤذن كو حكم دیا تھا كہ اس اذان میں تخفیف كرے یا اس كو پست آواز سے كہےیا آپ لوگ امیرالمومنین پر بے جانے بوجھے افتراء كر رہے ہیں۔اور سمجھتے ہیں كہ ہم سے باز پرس نہ ہوگی۔الله تعالی تو فرماتا ہے:اس پر كان بھی نہ دھرو جس كا علم نہیںبے شك كانآنكھدل سب سے پوچھا جائے گا۔"اس پر یوں بھی غور كرنا چاہئے كہ عہد رسالت كی اذان خطبہ اگرحسب سابق اعلان كا فائدہ دے رہی تھی توا س كو اذانیت سے نكالنے كے لئے اس میں كچھ ایسا تصرف ناروا ضروری تھا كہ اس سے اعلام
#288 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فان فیہ تقلیل الفا ئد ۃ الشر عیۃ و ذلك انہ رضی الله تعالی عنہ احدث الاذان الاول لما كثرا لنا س فماذا كان یغیرہ ھذا الثانی ان بقی علی ماكان علیہ فی عہد الرسالۃ والخلافتین كی یسمعہ من لم یسمع الاول كما تقد م عن البحرفا لذی یزعم ان عثمن احد ث فیہ ماقطعہ من كو نہ اعلاما یقول بملاء فیہ ان عثمن غیرالسنۃ و نقص الفا ئد ہ و نقض المصلحۃ فكان معاذ الله محض محا دۃ للسنۃ و مضا دۃ وان عدینا عنہفا دنی احوا لہ ان لا فا ئد ہ فیہ فیكو ن عبثا فی الدین والعبث كما فی الھد ا یہ حرام و یكو ن لغوا"والذین ہم عن اللغو معرضون ﴿۳﴾ "
نفحہ ۷:تحر ر ما تقرران بحث بقا ئہ بعدلخصوص الانصا ت غیر محر ر بل و قع مصا دما للنص ولحر مۃ الصحابۃ والاجما ع ائمتناو نصوص فقہا ئنا فكیف یعرج علیہبل كیف یحل ان یلتفت الیہ كا فائدہ ختم ہوجائے۔اورحضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كے بارے میں كسی ایسی حركت كا تصور بھی نہیں كیا جاسكتا كہ یہ تو دانستہ فائدہ شرعیہ كو ختم كرنا ہے۔حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے تو دوردراز تك پھیلے ہوئے لوگوں كی اطلاع كے لئے اذان اول كا اضافہ فرمایا تھاتواذان ثانی كو عہد رسالت اور عہد صاحبین كی طرح اعلام غائبین كے لئے باقی ركھنے میں كہ جن لوگوں نے پہلا اعلان نہ سنا ہو یہ دوسرا اعلان سن كرتو مسجد میں ضروراجائیں گے كیا حرج تھا كہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ دوسری اذان كی اذانیت كو ختم كردیتےتواس كی اذانیت كے ختم كرنے كی نسبت حضرت ذوالنورین كی طرف كرنا ان پرالزام لگانا ہے كہ انھوں نے سنت بدلیفائدہ شرعیہ گھٹایا۔اوردینی مصلحت توڑی۔ ورنہ اتنا تو ہے كہ ایك بے فائدہ كام كیا۔اور ہدایہ میں ہے كہ العبث حرام ہےایك لغو فعل ہوااور قرآن عظیم ان كے اوصاف بیان كرتا ہےوہ لغو سے پرہیز كرتے ہیں۔
نفحہ۷:ہماری گزشتہ بحثوں سے یہ بات ثابت ہوگئی كہ اذان ثانی كواب صرف مقتدیوں كو خطبہ كے لیے خموش كرانے كی غر ض سے باقی ركھنا صحیح نہیں بلكہ یہ نصحر مت صحابہ اور ہمارے ائمہ كے اجما ع اور نصوص فقہا ء كے خلا ف و مصا دم ہے تواب یہ با ت نہ ماننے كے قابل ہے نہ لا ئق التفا ت
#289 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ولكن الر ز یۃ من ترك نصوص مذھبہ و تشبث بذلك البحث وتحمل كل مامر ثم زا د فی الشطر نج بغلۃ و ھو ذلك تفر یع البا طل انہ اذن نا سب دا خل المسجدلدی المنبر ولم ذاك مع ان اھل المسجد الصیفی ا حوج الی ھذا الا علام من اھل الشتو ی فانھم یر و ن الامام باعینھم فینصتو ن والقیاس علی الاقامۃ جہل فان با لاقامۃ تتر تب الصفوف من الاول فا لاول قا ل صلی الله تعالی علیہ وسلم اتموا الصف المقد م ثم الذی یلیہ فما كان من نقص فلیكن فی الصف المؤ خر روا ہ احمد فی المسندو النسا ئی وابن حبان و خزیمۃ والضیا ء كلھم فی صحا حھم بسند صحیح عن انس رضی الله تعالی عنہ ولعمر ی ان ھذہ ایضا كادت ان تكو ن سنۃ مھجورۃ والله المستعان فنا سب كو ن الاقامۃ فی الصف الاول بخلا ف الاعلام بجلو س الامام فان اھل الخارج احو ج الیہ كما تر ی۔ لیكن تبا ہی تو یہ ہے كہ كچھ لوگوں نے اپنے مذہب كی نصوص چھو ڑ كر مذكورہ با لا غیر مفید بحثوں كا سہارا لیا اور بے مقصد زحمتیں بردا شت كیں پھر بے تكی حركت یہ كی كہ اس پرایك تفر یع با طل لگا دی كہ لہذامنا سب یہ ہے كہ اذان خطبہ مسجد كے اندر منبر كے با لكل متصل ہو حا لانكہ اس اذان كی غرض اسكان سامعین مان بھی لی جا ئے تواس اذان كے زیا دہ ضرور تمند حصہ صیفی و بیر و نی صحن كے لوگ ہیں اند رو نی دالان كے لوگ توامام كو منبر پر بیٹھا دیكھ كر خو د ہی خموش ہو جا ئیں گے ضر ورت تو با ہر ی صحن میں اذان دینے كی ہے تا كہ جولوگ امام كو نہیں دیكھتے مطلع ہو جا ئیں اس اذان كواقامت پر قیا س كر نا جہا لت ہے كیو نكہ اس كامطلب تو جما عت كے لیے صف لگانے كا ہے اور صف كے لیے پہلی صف سے درجہ بد رجہ صفیں مكمل كر نے كا حكم ہے چنانچہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فر ما یا پہلے پہلی مكمل كر و پھراس كے بعد پھراس كے بعد پھراس كے بعد اورجو كمی ہو تواخر ی صف میں ہو"اس حدیث كوامام احمد نے اپنی مسندامام نسا ئیضیامقد سی ابن خزیمہ اورابن حبان نے اپنی اپنی صحا ح میں حضر ت انس رضی الله تعالی عنہ سے نقل فر ما یا اب لوگوں نے سر كار كی اس سنت كو بھی ترك كردیا ہے تو خلاصہ یہ ہوا كہ اقامت تو پہلی ہی صف میں ہو نی چا ہیے اوراذان خطبہ كے با ہر وا لے زیا دہ محتا ج ہیں۔
#290 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
۸:عد ۃ طلبۃ حاولوانقص كلیۃ الا ئمۃ"لا یؤ ذن فی المسجد"با لاقامۃ فانھا ایضا یقال علیہا" الاذان" كما فی حدیث بین كل اذانین صلوۃ لمن شا ء مع انھا فی المسجد وفاقاوجہلوا ان اطلاق الاذان علیہا تغلیب او عموم مجا زقا ل الامام العینی فی عمدۃ القاری المراد من الاذانین الاذان والاقامۃ بطر یق التغلیب كا لعمر ین والقمر ین وفی المواھب اللدنیۃ عن امام الا ئمۃ ابن خزیمۃ قولہ "اذانین" یرید الاذان والاقامۃ تغلیبا قا ل الزرقانی لانہ شرعا غیرالاقامۃ وفی العینی ثم المواھب اولا شتراكھما فی الا علام قا ل الزرقانی نفحہ ۸:كچھ طلبہ ائمہ دین كے اس كلیہ كو كہ كو ئی اذان مسجد میں نہ دی جا ئے یہ كہہ كر تو ڑ نا چا ہتے ہیں كہ اقامت كو بھی تو اذان كہا جا تا ہے جیسا كہ احا دیث میں ہے"ہردواذانوں كے بیچ میں اس كے لیے نما ز ہے جو پڑھنا چا ہے"حا لانكہ اقامت كامسجد كے اندر ہو نا ہی ضروری ہے تو فقہا ء كا یہ حكم كلی نہیں رہااوراقامت كی طرح اذان بھی مسجد میں دی جاسكتی ہےان بے چاروں كو یہ بھی نہیں معلوم كہ اقامت پراذان كا اطلاق تغلیبا ہے یابطور عمو م مجا ز امام عینی عمد ہ میں فر ما تے ہیں "اذانین سے مراد اذان واقامت ہے جیسا كہ ابو بكر و عمر رضی الله تعالی عنھما كو عمر ین كہا جا تا ہے"اصطلا ح بدیع میں اس كو تغلیب كہا جا تا ہےمواہب لد نیہ میں امام الا ئمہ ابن خزیمہ سے اذانین سے مراداذان واقامت دونوں ہیں اور یہ تغلیب ہے۔زرقانی میں ہے"شر یعت كے اذان اقامت سے الگ ہے"عینی اورمواہب میں تغلیب كی تو جیہ كر تے ہو ئے فر ما یا"اقامت كواذان اس لیے كہہ دیا كہ اعلان ہونے میں
#291 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فلا تغلیب لان الاذن لغۃ الا علام و فی الاقامۃ اعلام بدخول وقت الصلوۃ كا لاذان فھو حقیقۃ اللغو یۃ فی كل منھما وما یقا ل فی تعلیل روا یۃ مرجو حۃ مخالف للمذھب ان الاقامۃ احد الاذانین فھو كقھولھم"القلم احد اللسانین "ولذا فسر ہ الامام النسفی بان كل وا حد منھماذكر معظم كما یفسر ھذابان كلامنھما یعر ب عما فی الضمیرالم تر ماقد منامن نصوص الھد ا یۃ والكا فی والزیلعیوالا كمل والدروالبحران تكرارالاذان مشر و ع ولا یشر ع تكرارالاقامۃ الم تعلم مانصوا علیہ فی الكتب المذكور ۃ جمیعاو غیر ھا ان اذ ان الجنب یعاد ولا تعاد اقامتہ الم تسمع الی ما فی البحر عن الظہیریۃ لو جعل دو نوں شریك ہیں"۔زرقانی نے فرمایا"ان دونوں میں تغلیب نہیں اس لیے لغت كے اعتبار سے اعلان كے معنی میں ہے۔اوراقامت میں دخول وقت كا اعلان ہو تا ہے توان دونوں میں عام وخاص كا فرق ہے اوردونوں كے لیے اذان كا اطلاق لغوی ہی ہے۔"ایك مرجو ح اور مخا لف روا یت"الاقامۃ احد الاذانین"اقامت دواذانوں میں سے ایك ہے اس كو جواس تعلیل كے سلسلہ میں بیان كیا جا تا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے اہل زبان كامقولہ ہے القلم احدی اللسانین قلم دوزبانوں میں سے ایك ہے اسی لیے امام نسفی نے اس كی تفسیر میں كہا كہ اذان واقامت دونوں ہی ذكر معظم ہیں جیسا كہ القلم احدی اللسانین كی تفسیر كی جا تی ہے كہ دونوں ہی ما فی الضمیر كو بیان كر تے ہیں ان دونوں میں مغا یر ت پردلا لت كر نے والی ہدا یہكافی زیلعیاكملدراور بحر كی عبار تیں ہیں كہ"اذان كی تكرار مشروع ہے اقامت كی نہیں"انہیں سب كتابوں میں اس كی بھی تصریح ہے كہ"جنبی كی اذان دہرائی جا ئے اوراقامت نہیں دہرائی جا ئے گی"بحرالرا ئق میں ظہیر یہ سے ہے كہ "اگراذان كواقامت كی طرح ادا كیا
#292 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
الاذان اقامۃ یعید الاذان ولو جعل الاقامۃ اذانا لا یعیدلان تكرارالاذان مشر و ع دون الاقامۃ وفیہ عن المحیط لو جعل الاذن اقامۃ لا یستقبل ولو جعل الاقامۃ اذانا یستقبل الخ۔الی غیر ذلك من مسا ئل باینوا فیھابین الاذان والاقامۃ۔و با لجملۃ الا لزام با جرا ء احكام الاذان طرا فی الاقامۃ شیئ لا یتفوہ بہ من شم را ئحۃ العلمولكن الجہل اذا تركب فھوالدا ء العضا ل۔
نفحہ ۹:اقول:وبا لله التوفیق اعلم و فقنا الله تعالی وایا ك ان للمسجد اطلاقین احد ھمامو ضع الصلوۃ من الار ض المو قو فۃ لھاو ھوالا صل و بھذا المعنی لا یدخل فیہ البنا ء فان البنا ء من الاوصا ف كا لا طراف فا لباب والجد ار خارج عن المسجد۔وكذا ا لدكۃ والمنار والحیا ض والاباروان كانت فی حد ودہ بل فی جوفہ اذابنیت قبل تمام المسجدیۃ امابعدہ فلایجوز تغییر شیئ من الاو قاف عن ھیئتہ الابشر ط الواقف تواذان دہرائی جا ئے اوراگراقامت كواذان كی طرح كہا تو نہ دہرا ئی جا ئے كیو نكہ تكراراذان مشروع ہے تكراراقامت كیا تو استقبال قبلہ ضروری نہیں اوراگراقامت كواذان قراردیا تو استقبال قبلہ كرے"اس كے علاوہ بھی كتنے مسا ئل ہیں جن میں اذان واقامت كا فر ق ہے ان سب اشا دات كا حا صل یہ ہوا كہ اذان كے جملہ احكام كے اقامت پر طریان كا دعو ی كو ئی سمجھدارادمی نہیں كر سكتا ہاں جہل مر كب بڑی مشكل بیماری ہے۔
نفحہ ۹:الله تعالی ہم كواوراپ كو سب كو علم كی توفیق بخشے مسجد كی دواطلاقا ت ہیں(ا)زمین كاوہ حصہ جو نما ز كے لیے وقف كیا گیا ہو مسجد كے حقیقی معنی یہی ہیں اس اطلاق میں مسجد كی بنیا دیں مسجد میں داخل نہیں كہ بنیا دیں اوصا ف كے حكم میں ہیں جیسے كہ اطرا ف و حد ود پس مسجد كا دروازہ اوردیواریں مسجد سے خارج ہیں اسی طرح اذان كے چبو تر ےمینار یںحو ض اور كنو یں حد ود مسجدیا جو ف مسجد ہی میں كیوں نہ ہوں اگر تمام مسجدیت سے قبل بنا ئے گئے تو مسجد سے خارج ہیں ہا ں مسجد مكمل ہو جانے كے بعد اگران چیزوں كو مسجد میں بنایا تو یہ وقف كو بدلنا ہواجو جا ئز نہیں۔واقف نے وقف كی ضرورت
#293 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
لحا جۃ الوقف و مصلحتہ فكیف بالمسجد فی براتہ و حر یتہ و تمنعہ من حق عبدوخیر تہفی وقف الدر من احكام المسجدلو بنی فو قہ بیتا لامام لا یضر لانہ من المصا لح اما لو تمت المسجدیۃ ثم اراد البنا ء منع ولو قا ل عنیت ذلك لم یصد ق تا تار خانیۃ فاذا كان ھذا فی الواقف فكیف بغیر ہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد اھ
والاخرالارض مع البنا ء وھوالا صل مع الوصف فا لبنیان كا لجداران والبنیان دا خل بھذا المعنی فیہ و علی الاول قولہ تعالی"انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر " اخرجہ الا ئمۃ احمدوالد ارمی و الترمذی و حسنہ وابن ما جہ وابن خزیمۃ وابن حبان والحا كموصححہ عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ قا ل قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذارأیتم الرجل یعتاد المسجد كے لیے اس كی شرط لگا ئی ہو تواور بات ہے اور مسجد میں یہ ناممكن ہے كہ مسجد حقوق عبد سے با لكلیہ آزاد ہو تی ہے۔ درمختار كے كتاب الو قف باب احكام المسجد میں ہے:"اگر مسجد كے اوپرامام مسجد كے لیے كمر ہ بنا یا تو حرج نہیں كہ یہ مصالح مسجد میں ہے لیكن مسجد مكمل ہوگئی تو مسجد كی چھت پر منع كیا جا ئیگا اگر چہ یہ كہے كہ میر ی نیت پہلے ہی كمر ہ بنانے كی تھیاس كی تصدیق نہ كی جا ئے گی۔"تا تار خانیہ میں ہے" جب خو د واقف كا یہ حا ل ہے تو دوسرے كا كیا۔ایسی تعمیر گو مسجد كی دیوار پر ہواس كو بھی ڈھا دینا چا ہیے"
(ب)اس اطلاق میں زمین مع بنیادوں كے مسجد ہےتو دروازے اوردیواریں سب مسجد میں داخل ہیں الله تعالی كے فرمان انما یعمر مساجدالله من امن بالله (مسجدیں الله تعالی پرایمان لانے والے تعمیر كرتے ہیں)میں یہی مراد ہے۔امام احمددارمی اور ترمذی نے اس كو تخریج كیااور ترمذی نے حسن كہا۔ابن ماجہابن خزیمہابن حبان اورحاكم نے اس كی تصحیح كی روایت ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے ہے كہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم كسی آدمی كو دیكھو كہ مسجد كی حاضری اس كی عادت بن چكی ہے تو
#294 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فا شھدوا لہ با لا یمان قال الله تعالی" انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر فعمارتھابا لصلوۃ فیھا لولم یكن ثم بنا ء كا لمسجد الحرام فی زمن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فما كان الا ارضا حول الكعبۃ مخلا ۃ للطوا ف۔و علی الا خر قولہ عزوجل " لہدمت صومع و بیع وصلوت و مسجد " فما الھد م الا للبنا ء۔
بل لاطلاق الثا لث یشمل الفناء ولھذا جا ز للمعتكف دخولہ ولا یعد بہ الامعتكفا فی المسجد فی البدا ئع ثم رد المحتار لوصعد ای المعتكف المنارۃ لم یفسد بلا خلا ف اس كے ایمان كی گواہی دو۔الله تعالی فرماتا ہے مسجد تو وہی آباد كرتے ہیں جوالله تعالی اور یوم آخرت پرایمان لائے۔ "مسجد كی آبادی تو نماز پڑھنے سے ہے اگرچہ وہاں كوئی مسجد كی عمارت نہ ہو۔جیسا حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانے میں مسجد حرام كا حال تھا كہ وہ كعبہ كے گرد كی زمین تھی جو طواف كے لئے خالی چھوڑی ہوئی تھی۔ اوراس دوسرے معنی پر ہی الله تعالی كا یہ فرمان ہے: لھدمت صوامع وبیع (توالبتہ یہودونصاری)كے صوامع اور عبا دت خانے ڈھا دیئے جا تے اور بنی ہو ئی عمار ت ہی ڈھا ئی جا تی ہے۔
(ج)اور مسجد كا ایك تیسرا اطلاق بھی ہے اس اطلاق پر صحن كا حصہ بھی شامل ہو تا اسی لیے تو معتكف كواس میں جانا جائز ہے اوراس كے بعد بھی وہ معتكف ہی رہتا ہے بد ائع اور شامی میں ہے:معتكف ایسے منارہ پر چڑھ سكتا ہے جس كا دروا زہ مسجد سے خارج
#295 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
وانكان بابھا خارج المسجدلانھامنہ لانہ یمنع فیھامن كل ما یمنع فیہ من البول و نحو ہ فا شبہ زاویۃ من زوا یا المسجد ۔وعن ھذا تسمع النا س یقولو ن قد اذن فی المسجد اذا سمعوا الاذان من منارتہ مثلاوان كانت واقعۃ خارج المسجدو ھذا محاورۃ سا ئغۃ شا ئعۃ عر باو عجما۔ولا یقول احد قوموا فقد اذن خارج المسجدوعلی ھذانظا ئر قول ابن مسعو د رضی الله تعالی عنہ ان من سنن الھدی الصلوۃ فی المسجد الذی یؤ ذن فیہ روا ہ مسلم ۔ وقول الفقھاء كر ہ خر وج من لم یصل من مسجد اذن فیہ ۔اذا علمت ھذا فا علم ان الاذان انما یكر ہ فی اصل المسجدلا فی وصفہ ولا تبعہ وان شئت قلت یكرہ فی المسجد بالمعنی الاول دون الثانیین ألا تری الی ماقد تلو نا علیك من نصوص الا ئمۃ كیف نھوا عن الاذان فی المسجد دون المئذنۃ و فنا ء ہ والحدود بمرای منك حدیث الاذان علی باب ہو كیو نكہ وہ مسجد میں شمار ہو تا ہے اور وہا ں پیشاب و پا خانہ منع ہےتو وہ بھی مسجد كے ایك كو نہ كی طرح ہوا"اسی لیے لوگ كسی مسجد كے منارہ سے ہو نے وا لی اذان كو سن كر كہتے ہیں كہ فلا ں مسجد میں اذان ہوگئی حا لانكہ منارہ تو مسجد سے خارج بنا ہے اور چو نكہ یہ محاروہ عرب و عجم میں شا ئع و ذائع ہے كہ اذان منارہ كو سن كر كو ئی نہیں كہتا كہ چلو مسجد كے با ہر اذان ہوگئی۔اور یہی معنی حضر ت عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ كے اس ارشاد كے بھی ہیں جواپ نے فر ما یا تھا"جس مسجد میں اذان ہو تی ہو وہا ں نما ز پڑھنا سنت ہدی ہے" (مسلم)۔اورفقہا ء كرام كے اس قول كابھی یہی مطلب ہے كہ "مسجد میں اذان ہو چكی ہو تو جما عت میں شریك ہو ئے بغیر مسجد سے با ہرجانامكر وہ ہے"
اس تفصیل كے بعدیہ جاننا چا ہیے كہ اذان اصل مسجد میں مكر وہ ہے وصف مسجد میں نہیں۔اور تبع مسجد میں بھی نہیں اس كی تعبیر یوں بھی كی جا سكتی ہے اذان مسجد با لمعنی الاول میں مكر وہ ہے معنی ثانی اور ثا لث میں نہیں۔ائمہ كی نصوص سے بھی یہی ظا ہر ہے كہ خا ص مسجد كے اندر مكر وہ ہے منارہ صحن اورحد ود میں نہیں۔حدیث سا ئب بن یزید رضی الله تعالی عنہ كابھی مفا د ہے"كان
#296 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
المسجدواخرج ابوالشیخ فی كتاب الاذان عن عبد الله ابن زید الانصاری رضی الله تعالی عنہ قا ل رأیت فیما یر ی النا ئم كان رجلا علیہ ثو بان اخضر ان علی سورالمسجدیقول الله اكبرالله اكبر اربعا الحدیث وفی اخر ی عنہ رأیت رجلا علیہ ثو بان اخضران وانابین النو م والیقظان فقام علی سطح المسجد فجعل اصبعیہ فی اذنیہ و نا دی الحدیث۔ وتقد م قول المد خل ان محل الاذان المناراو سطح المسجد اوبابہ وبماقر رناولله الحمد تبنیت فوائدالاولی یجو ز الاذان الدكۃ والمنارۃ وشفیر البئر و حر یم الحو ض وان كانت ھذ ہ الاشیا ء داخل المسجد اذا كان البانی بنا ھاقبل تمام المسجدیۃ لان ذلك یبقی مستثنی ولا تشملہ المسجدیۃ فیجوز لہ ان یبنی وللناس ان یستعملوھا كما اذا اعد فیہ موضعا للوضوء وكذا اذاكنت بئراوحوض مثلا فی فناء المسجد الاذان علی باب المسجد"(اذان مسجد كے دروازہ پر ہو تی تھی)۔ ابوالشیخ نے كتاب الاذان میں حضر ت عبد الله بن زید رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی كہ"میں نے خواب میں دیكھا كہ ایك شخص ہرا جو ڑا پہنے ہو نے مسجد كی چھت پر كھڑا ہوا الله اكبرالله اكبر كہہ رہا تھا"دوسر ی حدیث میں انہیں سے ہے كہ"میں نے خواب میں ایك شخص كو ہرا جو ڑا پہنے ہو ئے مسجد كی چھت پر كانوں میں انگلیا ں دیئے ہوئے كھڑا دیكھا جو كہہ رہا تھا"(الحدیث)مدخل كی عبارت ہم پہلے نقل كرائے ہیں كہ"اذان منارہ پر یا سطح مسجد پر یا اس كے درواز ہ پر ہونا چاہیے۔"ان عبار توں سے چند فوا ئد حا صل ہو ئے(۱)اذان چبو تر ے پرمنارہ پركنو یں كی منڈیر پرحو ض كی كگر ی پراگر چہ یہ چیزیں مسجد كے اند ر ہی ہوں جا ئز ہے جب كہ بانی نے اس كی بنامسجد سے پہلے كی ہو وجہ اس كی یہ ہے وہ ابتداء سے ہی مسجد سے مستثنی ہیں تو بانی ان مطلو بہ چیزوں كو بنا سكتا ہےاور لوگ اس كواسی غرض سے استعمال كر سكتے ہیںایسے ہی كو ئی جگہ جو خا ص مسجد میں تمام مسجدیت سے قبل ہی وضو كے لیے خا ص كردی گئی ہو۔یہ یوں بھی ممكن ہے كہ مسجد كے
#297 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
فزید المسجدواحا ط بھا كبئر زمزم فی المسجد الحرام فان كونھا اذذاك قبل المسجدیۃ ابین و اظہرامابعد تمام المسجدیۃ فلا یجو ز فی ارض اصل المسجد احد اث دكۃ ولامنارۃ ولابئر ولا حو ض كما قد منا عن الدر من منع بنا ء فو ق جدار المسجد او سطحہ فكیف ارضہ ھذامانص علیہ علماؤنا انہ لا یحفرفی المسجد بئر ما ء ولو كانت البئر قدیمۃ تترك كبئر زمزم اھ خانیۃ و ھندیۃ وغیر ھماو تمام تحقیق المسا لۃ فی جد الممتار تعلیقا تنا علی رد المحتار و قا ل فی الا شبا ہ والنظا ئر من احكام المسجد تكر ہ المضمضۃ والو ضوء فیہ الا ان یكو ن ثمہ موضع اعدلذ لك لایصلی فیہ او فی انا ء اھ و نحوہ فی الدر۔قال الشامی رحمۃ الله تعالی علیہ قولہ"الا فیما اعدلذلك"انظرھل یشترط صحن میں كو ئی حو ض تھا كنوا ں تھامسجد میں تو سیع ہو ئی یامسجد كا احا طہ كیا گیا جیسے زمزم شر یف كا كنوا ں كہ اب تو خا ص مسجد حرام شریف میں ہے جب كہ اس كا اس جگہ مسجد حرام سے قبل ہونابالكل ظاہر ہےہاں مسجد تمام ہو نے كے بعد اصل مسجد میں نہ چبو تر ہ بنانا جا ئز ہے نہ منارہ نہ كنوا ں نہ حوض جیسا كہ ہم در مختار سے نقل كرائے كہ"تمام مسجدیت كے بعد دیوار یا چھت پر كو ئی اور عمار ت منع ہے"ہمارے علما ء نے اس بات پر تنصیص كی ہے كہ"مسجد میں كنواں نہیں كھودا جا سكتاپرانا ہو تو باقی رہ سكتا ہے جیسا زمزم كا كنواں خانیہہندیہ وغیرہ اسكی پوری تحقیق ہماری كتاب جدالممتارحا شیہ درمختار وشامی میں ہے اشباہ و نظائر كے باب احكام المسجد میں ہے" مسجد میں كلی وغیر ہ منع ہے ہا ں كو ئی جگہ پہلے ہی سے ان امور كے لیے مقر ر ہو تواور با ت ہے"ایسا ہی درمختار میں ہے۔امام شامی رحمۃ الله تعالی علیہ نے مصنف كے قول الاما اعدلذ لك پر فرمایا:"یہ امر غور طلب ہے كہ واقف كی طرف سے ان امور كے لیے جگہ
#298 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
اعداد ذلك من الواقف ام لا وكتبت فی جد الممتار اقول:نعم وشیئ اخرفوق ذلك وھوان یكو ن الا عداد قبل تمام المسجدیۃ فان بعد ہ لیس لہ ولا لغیر ہ تعر یضہ للمستقذرا ت ولا فعل شیئ یخل بحر متہ اخذتہ مما یا تی فی الو قف من الواقف لو بنی فوق سطح المسجد بیتا لسكنی الامام اھ ثم فی احداثھا فی المسجد بعد ما صار مسجداموانع اخری فانھا تشغل مو ضع الصلوۃ و تقطع الصفو ف وقد قا ل صلی الله تعالی علیہ وسلم من وصل صفا وصلہ الله و من قطع صفاقطعہ الله ۔روا ہ احمدوابو داؤد والنسا ئی وابن خزیمہ والحا كم بسند صحیح عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھماقا ل العلامۃ القار ی فی المرقا ۃ مقر ر كر نا شر ط ہے یانہیں"میں نے جد الممتار میں اس پر لكھا یہ شرط تو ضر ور ی ہے ہی یہ بھی ضر وری ہے كہ واقف مسجد مكمل ہو نے سے پہلے ان امور كے لیے یہ جگہیں متعین كر ے مسجد مكمل ہو نے كے بعد نہ واقف كواس تعین كا اختیار ہے نہ كسی اور كو كہ اس صورت میں مسجد كوگندگی كے لیے پیش كر تا ہے۔میں نے اس كا استنبا ط كتاب الوقف كی اس عبار ت سے كیا كہ"واقف بھی مسجد كے اوپرامام كے رہنے كے لیے كوئی گھر نہیں بنا سكتا"مسجد مكمل ہو نے كے بعد اس میں ان امور كے لیے جگہ نكالنے میں دوسر ی قباحتیں بھی ہیں مثلا اس كی وجہ سے نما ز كی جگہ جا ئے گی اوراس كی وجہ سے صف منقطع ہو سكتی ہے جبكہ حدیث شریف میں ہے"جس نے صفیں ملا ئیں الله تعالی اسے اپنی رحمت سے ملا ئے گا اورجس نے صفیں قطع كیں الله تعالی اسے رحمت سے دور كر یگا " (احمدابو داؤدابن خزیمہاورحاكم نے عبد الله بن عمر رضی الله تعالی عنہ سے بہ سند صحیح روا یت كی)ملا علی قار ی رحمۃ الله تعالی علیہ نے
#299 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
(من قطعہ)ای با لغیبۃ او بعد م السداوبو ضع شیئ مانع وقد نھی العلما ء عن غرس الشجرفی المسجد وعللوہ بانہ یشغل مكان الصلوۃ كما فی الخانیۃ و خزانۃ المفتین والھندیۃ و غیر ھاواما اباحتہ لتقلیل النز اذا كانت الارض نزۃ لا یستقراسا طینھا فللضر ور ۃ والضرورا ت تبیح المحظورا ت قا ل فی البحرفیغرس لیجذب عروق الا شجار ذلك النز فحینئذ یجوزوالا فلا ومثلہ فی الظہیر یۃ والبزا زیۃ و غیر ھما قا ل فی منحۃ الخالق:وفی قولہ"الا فلا" دلیل علی انہ لا یجو ز احد اث الغرس فی المسجد ولا ابقاؤہ فیہ لغیر ذلك العذر ولو كان المسجد وا سعا كمسجد المقد س الشر یف ولو قصد بہ الا ستغلا ل او تجو یز ابقا ء ذلك بعد احدا ثہ ولم یقل بذلك احد بلا ضرورۃ دا عیۃ ولان فیہ ابطال مرقا ۃ میں"قطعہ"كامطلب یہ تحریرفر ما یا كہ صف سے غائب ہو كر یا صف میں لا یعنی كام كر كے یا كو ئی چیز بیچ صف میں ركھ كرجوصف كے ملنے سے مانع ہو علما ئے كرام نے مسجدمیں درخت لگانے سے منع كیا كہ وہ نما ز كی جگہ گھیر ے گا ایسا ہی خانیہ خزانۃ المفتین وغیر ہمامیں لكھا ہے اور مسجد میں نمی ہو تواسے كم كر نے كے لیے درخت لگانا جا ئز ہے كہ یہ بہ ضرورت ہے اور ضرورتیں تو ممنو عا ت كو جا ئز كردیتی ہیں بحرالرائق میں ہے:"مسجد كے نم فر ش پردرخت لگا سكتے ہیں كہ اس كی جڑیں تر ی چو س لیں ورنہ در خت لگانا جا ئز نہیں"ایسا ہی ظہیر یہ وبزا زیہ وغیر ہ میں ہے۔منحۃ الخا لق میں بحر كے قول"والا فلا"پرفر ما یا یہ اس با ت كی دلیل ہے كہ مسجد میں مذكورہ با لا ضرورت سے درخت لگانا جا ئز ہے اور ضرورت نہ ہو تو نہ درخت لگانا جا ئز ہے نہ اس كاباقی ركھنا۔اوراگر مسجد وسیع ہو جیسے بیت المقد س اوراس كے كسی حصہ میں سامان ركھنا ہو تو یہ بھی منع ہے كہ اس سے مسجد كوگو دام اوردكان بنانے كی را ہ كھلے گی اوراس كےباقی ركھنے میں جبكہ بلا ضرور ت ہو مسجد میں دكان و مكان باقی ركھنے كی راہ استوار ہوگی حا لانكہ اس كا كو ئی قا ئل نہیں ہے اور مسجد میں ایسی چیزیں تیار كر نے سے مسجد كی تعمیر كی
#300 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
مابنی المسجدلا جلہ من صلوۃ وا عتكا ف ونحوھما وقد رایت فی ھذہ المسا لۃ رسالۃ بخط العلامۃ ابن امیرالحا ج الحلبی الفھا فی الرد علی من اجا ز ذلك فی المسجد الاقصیورأ یت فی اخر ھابخط بعض العلماء انہ وافقہ علی ذلك العلامۃ الكما ل ابن الشریف الشا فعی اھ
وقلت فی جد الممتار بعد نقل ما ھناوغیر ہ من نظر ھذ ہ الكلما ت الشر یفۃ بعین الانصا ف لم یلبث فی الحكم بتحر یم كل احدا ث فی المسجدیكو ن فیہ شغل محل منہ لغیر مابنی لہ سوا ء كان بیتا او حانوتا او دكۃ او منار ۃ او غا سلا او خزانۃ او بئرا او حو ضا او شجراأوأوأوالخ و عنیت بہ المسجد با لمعنی الاول۔
وقال الامام ابن الحاج المكی فی المد خل و من ھذاالباب ایضاما احد ثو ہ فی المسجد من الصنا دیق المو بد ۃ وذلك غصب لمو ضع مصلی المسلمین قال و من ھذا الباب الد كۃ التی یصعد علیھا المو ذنو ن للاذان یوم الجمعۃ بل ھی اشد من الصنادیق اذ یمكن نقل اصلی غر ض فو ت ہوگی اس مسئلہ میں ایك رسا لہ ابن امیرالحا ج كے ہاتھ كا لكھا ہوامیں نے دیكھا جسے آپ نے اس شخص كے رد میں تحر یرفرمایا تھا جس نے بیت المقد س میں اس كوروا ركھا تھا اوراسی كے آخر میں بعض علماء كی تحر یر تھی جس میں اس مسئلہ میں علامہ كما ل ابن ابی شر یف شا فعی نے ابن امیرالحا ج كی تا ئید كی تھی۔
میں نے جد الممتار میں ان سب با توں كولكھ كر تحر یر كیا جوان كو انصا ف كی نظر سے دیكھے گابلا تو قف اس قسم كی تمام ایجادات كو(جن سے تعمیر مسجد كی اصلی غرض میں خلل واقع ہو) حرام قراردے گا چا ہے گھر ہو یا دكانچبو تر ہ ہو یامنارہ خزانہ ہو یا گو دام كنوا ں ہو یا حو ضدرخت ہو یا كچھ اورالخ ایسے تمام مقاما ت پر ہماری مراد مسجد سے قسم اول(اصل مسجد)ہے۔
امام ابن الحا ج مكی نے مد خل میں فر ما یا كہ اسی قسم سے وہ صند وق ہیں جن كو مسجد میں ركھنے كاروا ج لوگوں نے قائم كر لیا ہے یہ نما ز كی جگہ كوگھیر تا ہے اوراسی قسم كے وہ چبوترے ہیں جو مسجدوں میں اذان خطبہ كے لیے بعد میں بنائے گئے ہیں بلكہ ان كا حكم صندوق سے زیا دہ سخت ہے كہ وہ بضر ورت كھسك بھی سكتے ہیں جبكہ چبو تر وں میں
#301 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
الصنا دیق ولا یمكن نقلھا قا ل ومن ھذا الباب ا یضا اعنی فی امسا ك موا ضع فی المسجدوتقطیع الصفو ف بھا اتخاذ ھذا المنبرالعالی فانہ اخذ من المسجد جزا ء جیداو ھو وقف علی صلا ۃ المسلمین اھ ملتقطا فرحم الله من نص ورحم الله من قبل۔
الثانیۃ۲ المرا د فی قول الكا فی انہ ذكرفی المسجد المعنی الثانی الشامل للا صل والوصف فا ل فلخطبۃ فی الا صل والاذان فی الوصف فشملھما الكون فی المسجد وان تفرق المحل و فی قول الغا یۃ والفتح الكرا ھۃ الاذان فی داخل المعنی الاول فبد قۃ النظر لیس ما ذكر تاویل لكلامہ بل تبیین لمرامہ اذلیس فیہ صرف عن ظا ھر ہ والله تعالی الموفق۔
الثالثۃ۳المراد فی قول یہ ناممكن ہے اوراسی قسم یعنی مسجد كی جگہ روكنے وا لے اور صفیں قطع كر نے وا لے وہ رفیع منبر ہیں جن سے نما ز كی قابل ذكرجگہ گھرجا تی ہے جو مسلمانوں كی نما ز كے لیے وقف تھی ملخصا(الله تعالی نصیحت كرنے والے اور قبول كر نیوا لے دو نوں كو قبول فر ما ئے۔
(۲)امام كا فی كے قول میں اذان كو جو ذكرا فی المسجد (مسجد كے اند ر كاذكر)كہا ہے تواس سے مراد مسجد كی قسم ثانی ہے جس میں اصل مسجد اور وصف مسجد دو نوں ہی شامل ہیں خطبہ اصل مسجد میں ہو تا ہے اوراذان وصف مسجد میں۔تو مسجد میں ہو نا خطبہ اوراذان دونوں ہی كی صفت ہے اگرچہ جگہ میں اختلا ف ہواور غا یۃ البیان اورفتح القدیر كے قول قا لوا لا یوذن فی المسجد(مسجد میں اذان ممنو ع ہے)اس سے مراد مسجدبمعنی اول ہے تو دقت نظر سے یہ پتا چلے گا كہ یہ بھی ہدایہ كے قول كی تاویل اوراس كے مقصد كی تعیین ہے اس میں ان كےكلام كو ظاہر سے پھیر نانہیں الله تعالی ہی آدمی كو حق كی تو فیق دینے والا ہے
(۳)اورحضر ت عبد الله رضی الله تعالی عنہ كے
#302 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ابن مسعو د رضی الله تعالی عنہ وقول الفقہا ء المارین العنیان الاخیران وكذا فی حدیث ابی داؤد وابی بكر بن ابی شیبۃ عن عبد الرحمن بن ابی لیلی قال حد ثنا اصحابنا جا ء رجل من الانصارفقال یا رسول الله رأیت رجلا كان علیہ ثو بین اخضر ین فقام علی المسجد فاذن الا ترا ہ یقول قام علی المسجدولوارا د المعنی الاول لقا ل قام فی المسجد و قد اوضحتہ روا یۃ ابی بكر بن ابی شیبۃ الاخری وابی الشیخ فی الاذان عن ابن ابی لیلی قال حدثنا اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان عبد الله بن زید الانصاری جاء الی النبی صلی الله تعالی علیہ و سلم فقا ل یارسول الله رأیت فی المنام كان رجلا قائم وعلیہ بردان اخضران علی جذمۃ حا ئط فاذن الخ قول"جس مسجد میں اذان ہو تی ہو وہا ں سے اذان كے بعد بے جماعت چلا جانامنع ہے"اورفقہا ء كے اقوا ل جو ذكر كئے جا چكے مسجد سے مراد معنی ثانی یا ثا لث ہیں ابی داؤد اورابو بكر بن ابی شیبہ نے عبد الرحمان ابن ابی لیلی سے صحابہ كاقول نقل كیا كہ"عہد رسا لت میں ایك انصاری نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی خدمت مبارك میں عر ض كی میں نے ایك آ دمی كو دیكھا جس كے جسم پردوہر ے رنگ كے كپڑے تھے اس نے مسجد میں كھڑے ہو كراذان دی"اس روا یت میں لفظ قام علی المسجد ہے اگر مسجد كے اند ر كہنا ہو تا تو قام فی المسجد كہتے اس حدیث شر یف كی اور زیا دہ تشر یح و تو ضیح حضرت ابو بكر بن ابی شیبہ اورابوالشیخ ابن ابی لیلی كی دوسر ی روایت سے ہوتی ہے كہ"زید ابن عبد الله انصاری نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عر ض كی:یارسول الله صلی الله تعالی علیك وسلم !میں نے خواب میں ایك آدمی كو ہرے رنگ كا جوڑا پہنے ہو ئے ایك منہد م دیوار كے ٹیلے پر كھڑے دیكھا جواذان دے رہا تھا"
#303 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ولسعید ابن منصورفی سننہ عن عبد الرحمن ابن ابی لیلی ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اھتم للصلوۃ كیما یجمع الناس لھا فانصرف عبد الله بن زید فرا ی الاذان الحدیث وتقد مت روا یۃ سور المسجد وسطح المسجد۔
الرابعۃ۴المعنی الثا لث ھوالمراد فی فر ع الخانیۃ والخلا صۃ ولابا س بان یتخذ فی المسجد بیتا یو ضع فیہ الحصیر و متاع المسجد بہ جر ت العا دۃ من غیر نكیر اھ ومن الدلیل علیہ حدیث التعارف فانہ المتعارف او بنا ؤہ قبل تمام المسجدیۃ اما ان یتم المسجد ثم یاخذ احد قطعۃ منہ فیجعلھابیت البواری فلم تجر بہ العا دۃ ولا یحل السكو ت اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبد الرحمن بن ابی لیلی سے روایت كی كہ حضور سید عا لم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك بار لوگوں كواہتمام سے نما ز كے لیے جمع كیا حضر ت عبد الله بن زید انصاری نما ز پڑھ كر واپس ہو ئے تو خواب میں اذان ہو تے دیكھی صبح كورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كواطلا ع دی كہ را ت میں نے خواب میں اس طرح اذان ہو تے دیكھی كہ ایك آدمی ہرا جو ڑا پہنے سقف پراذان دے رہا ہے اس روایت میں سوراور سطح كا لفظ گزر چكا ہے۔
(۴)خانیہ اور خلا صہ كی عبار ت"اس میں كو ئی حرج نہیں كہ مسجد میں ایك ایسا گھر بنا لیا جا ئے جس میں چٹائی وغیر ہ اسباب ركھے جا ئیں كہ عام اہل اسلام كی عا دت اسی پرجاری ہے"اس عبارت میں مسجد سے مراد اس كے تیسر ے معنی ہیں اوراس پردلیل اسی عبار ت كا یہ ٹكڑا ہے كہ"اہل اسلام كی عا دت اسی پرجاری ہے"اس لیے كہ تعارف تو یہی ہے كہ مسجد بمعنی سو م میں ایسا كمر ہ بنتا ہے۔یامسجد بمعنی اول میں تواس جگہ كی مسجدیت مكمل ہو نے سے پہلے مسجد مكمل ہو جانے كے بعد اسی كا ایك ٹكڑا چٹا ئی اورفر ش وغیر ہ ركھنے كے لیے
#304 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
علیہ۔
الخامسۃ۵قا ل فی جامع الر مو ز لہا یو ذن فی المسجد فانہ مكر وہ كما فی النظم لكن فی الجلابی یوذن فی المسجد او ما فی حكمہ لا فی البعید منہ اھ فمرا د النظم المعنی الاول ومراد الجلابی المعنی الثانی فا لمعنی یوذن فی حد ود المسجد كما فسر بہ الامامان كلام الكا فی او ما فی حكمہ ای فی فنا ئہ فان فنا ء المسجدلہ حكم المسجد كما فی الھندیۃ عن الامام السر خسی قا ل الفناء تبع المسجد فیكو ن حكمہ حكم المسجد ومثلہ فی كتب كثیر ۃ ذكر نا ھا فی جد الممتارفلا استدرا ك بكلام الجلابی علی كلام النظم كما فعل القھستانی الا تر ی ان العلامۃ الطحطاوی رحمہ الله تعالی كیف اقتصرفی الحكم علی حكا یۃ ما فی القہستانی بنا یا جا ئے نہ عا دت اس پرجاری نہ خاموشی اس پرجا ئز۔
(۵)جامع الر مو ز میں ہے كہ مسجد میں اذان دینامكر و ہ ہے ایسا ہی نظم میں ہے لیكن جلابی میں ہے كہ مسجد میں یا اس جگہ میں جو مسجد سے دوراذان نہ دینی چا ہیے تو نظم میں مسجد بمعنی اول میں اذان دینے كو مكر وہ كہا ہے اورجلابی میں مسجد بمعنی ثانی مرا د ہے یعنی مسجد میں دی جانے كامطلب حد ود مسجد میں ہے جیسا كہ امام اتقانی اورابن ہمام نے صا حب ہدا یہ كے قول ذكرفی المسجد كی تفسیرفی حد ود المسجد سے كی تو جلابی كی عبارت میں لفظ او ما فی حكم المسجد سے اسی كی طرف اشارہ ہو تا ہے كہ فنا ء مسجد مسجد كے حكم میں ہے ہندیہ میں بھی ایسا ہی امام سر خسی سے روایت ہے كہ"صحن مسجد كے حكم میں ہے" اوراسی كے مثل بہت ساری كتابوں میں ہے جس كی تفصیل ہم نےجد الممتار میں لكھی ہے تو حقیقت میں امام جلابی كا كلام "نظم"كی تردید نہیں جیسا كہ قہستانی نے سمجھا حضر ت امام طحطاوی نے نظم كا یہ جزیہ قہستانی سے ہی نقل كیا لیكن قہستانی كے ادرا ك كو غیر معتبرجان كر
#305 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
عن النظم ولم یعرج علی استد را كہ اصلا علمامنہ بان الاستدراك مستدرك لایبتغی نقلاھكذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التو فیق ولولم یكن ھذا لكان ذكرجامع الر مو ز بمقابلہ تلك المعتمد ات العظیمۃ بل ما تفرد بہ الجلابی با زا ء ما اتفق علیہ اولئك الاكابرالا جلۃ مما ینبغی ان یستحی منہ فانہ لو فر ض لكان خلا فا لا اختلا فاوقد تقر ران الحكم والفتیابالمرجوح جہل و خر ق للا جما ع فكیف ولا خلا ف علی التحقیق لما علمت من جلیل التو ثیق و با لله تعالی التو فیق۔
نفحہ ۱۰:اذلم یقد روا علی شیئ تعلق بعض الو ھابیۃ بمافی چھو ڑ دیا اوراگر نہ مانا جا ئے تو یا تو جامع الر مو ز والے قہستانی صاحب ائمہ اعلام كے مقابلہ میں اكیلے ہوں گے اور یہ تسلیم كر لیا جا ئے تو جلابی اور قہستابی كا یہ قول مرجو ح رہ جا ئے گا كہ ان كی حثیت ائمہ سے اختلا ف كر نے كی نہیں اور یہ طے ہو چكا ہے كہ قول مرجو ح كے موا فق فتوی حكم جہل اور خر ق اجما ع ہے اور سچ پو چھو تو خلا ف بھی نہیں كہ ان كے قول فی المسجد كامعنی فی حدود المسجدواضح ہوگیا ہے۔
نفحہ ۱۰:جب مخا لفین كسی با ت پر قادر نہ ہو ئے توان میں سے بعض نے خانیہ عــــــہ اور

عــــــہ:خانیہ كی عبار ت یوں ہے:ینبغی ان یو ذن علی المنارۃ او خارج المسجدولا یو ذن فی المسجد مخا لفین كے مغا لطہ كامطلب یہ ہے كہ لفظ ینبغی كا تعلق دونوں سے ہے یعنی مسجد كے باہراور منارہ پراذان دینامناسب ہے اور مسجد میں اذان دینامنا سب نہیں تو مسجد كی اذان ز یادہ سے زیادہ خلاف اولی ہو ئی توگراندرون مسجد ہی اذان كاروا ج ہوگیا تو كو ئی حرج كی با ت نہیں پھراتناواو یلا كیوں اعلیحضر ت كے پہلے جواب كامطلب یہ ہے كہ لفظ ینبغی كا تعلق صرف پہلے جملہ سے ہے اوردوسرا جملہ(لایوذن فی المسجد)اس سے خالی ہے جس كامطلب اندرون مسجد اذان كی ممانعت ہے جیسا كہ دیگر كتب فقہ میں لا یوذن یا یكرہ الاذان فی المسجد سے ظاہر ہے اس كی تائید صاحب بحر كی عبارت سے ہوتی ہے جنھوں نے یہ عبار ت خلاصہ كے حوالہ سے نقل كی اور ینبغی كا لفظ چھو ڑ دیا۔عبد المنان اعظمی۔
#306 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
نص الخانیۃ والخلا صۃ من لفظ"ینبغی"یر ید بہ ان الامر سھل لا یعتنی بہ انت تر ی عامۃ النصوص عریۃ عنھا ثم لم یدخل علی"لا یو ذن فی المسجد" الا تری ان البحر نقلہ عن الخلاصۃ ھكذاولم یلتفت الی"ینبغی"فی الجملۃ الاولی۔
ثم استعمالہ فی الندب اصطلا ح المتا خر ین وھو فی كلام المشا ئخ اعظم كما فی ردالمحتار وغیر ھاقا ل ھو فی القران كثیر:ما كان ینبغی لنا ان نتخذ من دو نك اولیاء۔۔۔۔قال فی المصباح ینبغی ان یكون كذا معنا ہ یجب او یند ب بحسب ما فیہ من الطلب ثم ندبہ یقابل الوجوب ویعم الا ستنانوامر السنۃ لیس بھینین بل ربما جا ء"ینبغی للو جو ب خلا صہ میں آئے ہو ئے لفظ ینبغی كا سہارا لیا اور سمجھا كہ معاملہ آسان ہے اس پر توجہ دینے كی ضرورت نہیں حا لانكہ اولا دوسری كتابوں كی عبار تیں لفظ ینبغی سے خا لی ہیں اورجہاں یہ لفظ ہے جملہ لایؤذن فی المسجد پرداخل نہیں خو د صا حب بحر نے خلا صہ سے یہی عبار ت نقل كی اورجملہ اولی میں آئے ہو ئے لفظ ینبغی كی طرف تو جہ نہ فر ما ئی۔
ثانیا لفظ ینبغی كو مستحب كے معنی میں قراردینا ائمہ متا خر ین كی اصطلا ح ہے كلام مشا ئخ میں یہ لفظ عام ہے جیسا كہ ردالمحتار وغیر ہ میں اس كی تصر یح ہے انہوں نے فر ما یا كہ ایساقران عظیم میں بہت وارد ہے مثلا آیت قرآنی:ما كان ینبغی لنا ان نتخذ من دونك اولیاء(ہمیں زیب نہیں دیتا كہ الله كے علاوہ كسی كواپناولی بنائیں)مصباح المنیر میں ہے ینبغی كے معنی و جو ب اوراستحباب دو نوں ہی حسب طلب ہو سكتے ہیں۔
ثا لثا: اس لفظ میں استحباب كے معنی سنت كو بھی شامل ہیں اور سنت كامعاملہ ایسا آسان نہیں بلكہ لفظ ینبغی بسااوقات صرف معنی وجوب پرہی دلالت كرتاہے۔
#307 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
"كقول الھدا یۃ والكنز وغیر ھما"من حلف علی معصیۃ ینبغی ان یحنث "فان الحنث وا جب قطعا و قول الھد ایۃ و كثیر ین"ینبغی للمسلمین ان لا یغدرواولا یغلو ولا یمثلوا "اھ مع ان ترك الغد ر والغلول فر یضۃ فانھما حرام و كذا المثلۃ قا ل فی الفتح قولہ و ینبغی للمسلمین ای یحر م علیہم ان یغدروا او یغلواویمثلوا اھ وقول القد وری والھدا یۃ وغیرھما ینبغی للنا س ان یلتمسوا الھلا ل فی الیو م التاسع والعشر ین من شعبان قال المحقق فی الفتح ای یجب علیہم وھو وا جب علی الكفا یۃ اھ قال فی الجوھرۃ النیرہ ای یجب الخ وقال فی القنیۃ فاستحسان القا ضی الصدرالشہید ہدایہ وكنز وغیرہ میں ہے:"جس نے گناہ كرنے كی قسم كھائی تو اسے توڑ دینا چاہیے"۔یہاں قسم توڑناواجب ہے۔صاحب ہدایہ اور بہت سارے ائمہ كاقول ہے:"مسلمانوں كوچاہیے كہ بے وفائی نہ كریںمال غنیمت سے نہ چرائیں اور مثلہ نہ كریں"۔یہاں ترك غدر وغلول ومثلہ فرض ہے۔فتح القدیر میں ہے:"مسلمانوں كوچاہیے یعنی ان پرحرام ہے كہ غدر مال غنیمت كی چوری اورمثلہ كریں"۔اسی طرح امام قدوری اور صاحب ہدایہ وغیرہ كاقول ہے: "لوگوں كوچاہیے كہ شعبان كی انتیس تاریخ كوچاند تلاش كریں"محقق ابن ہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں:"یعنی ینبغی كے معنی ہیں كہ ان پر چاند كی تلاش واجب ہے اورتلاش واجب علی الكفایہ ہے"۔ اورجوہرہ نیرہ میں ایساہی ہے یعنی قدوری میں ینبغی بمعنی یجب ہے۔ قنیہ میں ہے قاضی صدرالشہید كے استحسان
#308 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
ینبغی للا خ من الر ضا ع ان لا یخلوابا ختہ من الر ضا ع لان الغا لب ھنا ك الو قو ع فی الجما ع افا د العلامۃ البیر ی ان"ینبغی"معنا ہ الو جو ب ھنا (الشامی)وكم لہ من نظیر۔
ثم ان كان ھو ظاھرا فعارضہ فی نفس الكلام ظاھر اخر وھو النھی بصیغۃ الا خبارفانہ غا لبا فی كلامھم لا یجاب الفعل والترك الا ان یصرف صارف قا ل الامام ابن امیرالحا ج فی الحلیۃ صفۃ الصلوۃ مسئلۃ القراءۃ فی الاخر یین ظا ہر قول المصنف 'لا یز ید علیھما شیئا"یشیرالی عد م اباحۃ الزیا دۃ علیہما اھ وفی عید الغنیۃ الا یر ی الی قولہ لا یترك واحد منھما فانہ اخبر بعد م الترك والاخبارفی عبارا ت الا ئمۃ والمشا ئخ یفید الو جو ب میں ہے كہ رضاعی بھائی كورضاعی بہن كے ساتھ تنہائی میں نہیں رہنا چاہیے كہ ایسی حالت میں حرامكاری میں مبتلاہونا غالب ہے اھ۔علامہ بیری فرماتے ہیں كہ یہاں بھی لفظ ینبغی كامطلب وجوب ہے(شامی)المختصراس بات كی بے شمار مثالیں پیش كی جاسكتی ہیں كہ كلام مشائخ میں"ینبغی"بول كر واجب مرادلیاجاتاہے۔
رابعا پھر خانیہ اور خلا صہ كے كلام كا ظا ہر مطلب عد م وجو ب ہو تواسی كلام كا ایك اور ظا ہر بھی ہے جواس كے معارض ہے كہ نہی بصیغہ اخبار كلام مشا ئخ میں عمو ماوجو ب فعل یاوجو ب ترك كے لیے ہو تی ہے امام ابن الامیرالحا ج نے"باب صفۃ الصلوۃ"مسئلہ قراءت میں فر ما یامسئلہ قرا ءت ركعتین اخیرین مصنف كے قول لا یزید علیہما شیئا كا ظا ہر ی مطلب یہی ہے كہ اس سے زا ئد قرا ء ت مبا ح نہیں اور غنیہ كے باب العید میں ہے"مصنف كے قول"لا یترك وا حد منھما"كو دیكھنا كہ یہ عدم ترك كی خبر ہےاورائمہ و مشا ئخ كی عبار ت میں اخبار وجو ب كا فا ئد ہ دیتا ہے۔"
#309 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
وفی امامۃ البحرالرا ئق:قولہ فان فعلن تقف الامام وسطہن افاد با لتعبیر بقولہ تقف انہ وا جب فلو تقدمت اثمت كماصرح بہ فی فتح القدیر وفی حا شیۃ العلامۃ الخیرالر ملی علی البحر ثم منحۃ الخالق قبیل الاذان علی قول الاسبیجابی(اذا جیئی بجنا ز ۃ بعد الغروب بد ؤ ابا لمغر ب ثم بھا ثم بسنۃ المغرب اھ)الظا ھران ذلك علی سبیل الوجو ب لتعلیلھم بان المغر ب فرض عین والجنا ز ۃ فر ض كفا یۃ ولان الغا لب فی كلامھم فی مثلہ ارادۃ الو جو ب تامل اھ وقا ل العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی صوم حوا شی الدر:و فیھا(ای فی النھا یۃ)ولا یفعل (ای الدھن)لتطویل اللحیۃ اذا كانت بقد رالمسنو ن وھویقتضی ان الدھن لھذاالقصدیكرہ تحر یما لانہ یفضی الی المكر و ہ تحر یماولا كان مكر و ھا تنزیھیا بحرا الرا ئق كے باب الامامت میں ہے"مصنف كے قول"اگر عورتیں جما عت كر یں توامام ان كے بیچ میں كھڑی ہو" مطلب یہ ہے كہ ایسا كرناوا جب ہے جس پر لفظ تقف دلالت كرتا ہے توامام آگے بڑھ كر كھڑی ہو توگنہگار ہوگی اس كی تصریح فتح القدیر میں ہے"حا شیہ خیررملی منحۃ الخالق میں باب الاذان سے تھو ڑے پہلے اسبیجابی كے قول"جنا ز ہ غروب آفتاب كے بعدلایا گیا تو پہلے مغر ب كے فر ض پڑھیں پھرجنازہ پڑھیں پھر سنتیں ادا كر یں"پر تشر یح ہے ظا ہر یہ ہے كہ یہ حكم بر سبیل وجوب ہے كیو نكہ علت یہ بیان كر تے ہیں كہ مغر ب فرض عین ہے اور نما ز جنا زہ فر ض كفا یہ ہے اور یوں بھی كہ عام طور پرفقہا ء كے كلام میں ایسی عبارت سے وجوب ہی مرا د ہو تا ہے علامہ سید طحطاوی در مختار كے حوا شی میں فر ما تے ہیں:"نہا یہ میں ہے كہ داڑھی جب بقدر سنت لمبی ہو تو زیا دہ بڑھانے كے لیے تیل نہیں لگانا چا ہیے نہا یہ كے اس قول كا تقا ضا یہ ہے كہ اس نیت سے تیل لگانامكر وہ تحر یمی ہے كہ ایك مكر وہ تحر یمی كاذریعہ بنے گا اوراگر یہ فعل مكر وہ تنزیہی ہوتا تواس كولفظ لا یفعل
#310 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
لما عبر بقولہ ولا یفعل فظاھر نا ھذا غیر معار ض من نصوص الا سبیجابی والمجتبی والبنایۃ والا تقانی و فتح القدیر۔
ثم ثمہ ظاھر اخر غیر معارض ھناك وھواطلاق الكراھۃ فی النظم وشرح النقایۃ و حا شیۃ مراقی الفلاح و غا یۃ البیان وفتح المحقق حیث اطلق فانھا كما عرف فی محلہ اذا اطلقت كانت ظا ہر ۃ فی التحر یم الابصارف وقا ل سیدی العارف بالله العلامۃ عبد الغنی فی الحدیقۃ الندیۃ من آفا ت الید مانصہ۔ و الكرا ھۃ عند الشا فعیۃ اذا اطلقت تنصرف الی التنزیھیۃ لا التحر یمیۃ بخلا ف مذھبنا ۔اھ
ثم فیہ اساءۃ ادب با لحضر ۃ الا لھیۃ كما یا تی فی الشمامۃ الثالثۃ بعون الله تعالی فیجب التحر ز عنہ۔
ثم المعروف من عا دتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ترك الفضیلۃ احیانابیانا للجوا ز ولم یو ثر قط اذانا فی زمنہ صلی الله تعالی سے منع نہ كر تے"اور ہمارا یہ ظا ہراسبیجابیمجتبیبنا یہاتقانی اورفتح القدیر كی عبارتوں كے معار ض بھی نہیں(كہ یہ بے اعتبار ٹھہر ے)
خامسا: یہا ں ایك اور ظا ہر غیر معار ض بھی ہے كہ نظمحاشیہ مراقی الفلا حغا یۃ البیان اورفتح القدیر میں ہے كہ لفظ كرا ہت مطلقابولا جا ئے تو كراہت تحر یمی مرا د ہوگی ہاں كو ئی قر ینہ صارفہ ہو تواور با ت ہے امام عبد الغنی نابلسی رحمۃ الله علیہ اپنی كتاب حدیقہ ندیہ باب آ فا ت الیدین میں رقمطرا ز ہیں "لفظ كرا ہت مطلق بولاجائے توشوافع كے نزدیك كراہت تنزیہیہ پر محمول ہوگا اور ہمار ے مذہب(احنا ف)میں تحر یمی پر۔"
سادسا:مسجد میں اذان دینے میں بار گا ہ الہی كی بے ادبی ہے جیسا كہ ہم ان شا ء الله تیسرے شمامہ میں بیان كریں گے تواس سے پر ہیز ضر وری ہوا۔
سابعا: حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی عا دت كر یمہ یہ بھی كہ كبھی كبھی بیان جوا ز كے لیے افضل كو بھی ترك كردیتے تھے جبكہ زمانہ رسا لت میں كبھی بھی اذان كامسجد كے اند ر ہو نا ثابت نہیں تو یہ
#311 · الشمامۃ الثانیہ من صندل الفقہ (شمامۂ ثانیہ از صندل فقہ)
علیہ وسلم دا خل المسجد فبمجمو ع ھذا ینقد ح فی الذھن انہ یكر ہ تحر یماوان لم یقنع فلا اقل من ان الامردار بین كراھتین مكر و ہ قطعاو یحتمل كرا ھۃ التحر یم فما سبیلہ الا الترك عند العقل السلیم ثم ان شئت فد ع الاحتما ل واقنع با لا جما ل وقل ان الاذان فی المسجد مكر وہ منھی عنہ فان ھذا القد ر لامفر منہ و فی ھذا كفا یۃ لاولی الد را یۃ والله سبحنہ ولی الھد ا یۃ۔ سب با تیں مل جل كر یہ ثابت كر تی ہیں كہ مسجد كے اندر اذان مكر وہ تحر یمی ہے اورجس كواس سے تسلی نہ ہو تو كم از كم اتنا تو ہے كہ یہ مسئلہ كرا ہت تحر یمیہ و كرا ہت تنزیہیہ میں دائر ہے توایك امر مشكو ك كو چھو ڑ دینا دانشمندی ہے اور كم از كم اتنا تو ہے جس كے مانے بغیر چارہ نہیں كہ مسجد میں اذان مطلقامكر وہ ہے اوراہل عقل كے لیے ممانعت كا اتنا حكم ہی كا فی ہے۔
#312 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم
(قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)

نفحہ۱:اخر نا ھا الی ھنا لیكون" ختمہ مسک و فی ذلک فلیتنافس المتنفسون ﴿۲۶﴾ " ۔قال الله عز وجل: " یایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصوتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعملکم و انتم لا تشعرون ﴿۲﴾ ان الذین یغضون اصوتہم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی نفحہ ۱:ہم نے اس شمامہ كو یہا ں تك اسے لیے مؤ خر كیا كہ اس كواختتام مشك قران سے ہو تاكہ اس میں رغبت كر نے والوں كی رغبت میں اوراضا فہ ہو۔الله تبارك وتعالی فر ما تا ہے اے ایمان وا لو نبی مكر م صلی الله تعالی علیہ وسلم كی آوا ز پراپنی آوا ز ایسے بلندنہ كرو جیسا آپس میں ایك دوسر ے سے آوا ز بلند كر تے ہو كہیں تمھارے اعمال اكار ت نہ ہو جا ئیں اور تمھیں پتہ بھی نہ چلے جولوگ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے حضوراپنی آوا ز پست كرتے ہیں الله تعالی نے ان كے دلوں كو تقو ی كے لیے آزما لیا ہے
#313 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
لہم مغفرۃ و اجر عظیم ﴿۳﴾ " ارشدنا القران الكر یم الی ادب حضر ۃ الر سا لۃ وانہ لا یجوز رفع الصوت فیھا و اوعد علیہ الو عید الشدید ان فیہ لخشیۃ حبط الاعمال والعیاذبا لله تعالی و ند ب الی غض الصو ت عندہ وو عد علیہ الوعد الجمیل مغفر ۃ من الله واجر عظیم۔
ولا شك ان لیس ذلك الا لھیبۃ المقام واجلا ل صا حبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فالحضر ۃ الا لھیۃ احق واعظم الم تسمع ربك عز وجل یقول " و خشعت الاصوات للرحمن فلا تسمع الا ہمسا ﴿۱۰۸﴾ " وما المصلی الا حضر ۃ العلی الا علی عزو علاوتبارك و تعالی فلعمری لو یتذكرالناس حین حضورھم المساجد قیامھم بین یدی ربھم عز وجل یو م القیامۃ و استحضر واعظمۃ المقام و تفطنوا این ھم و بین یدی من ھم لخشعت الا صوات للرحمن فلا یكاد یخرج صو ت الامن اذن لہ الرحمن وقا ل صوابا كا لقاری و ان لیے مغفر ت اور بڑا اجر ہے۔
الله تعالی نے دربار مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم كے ادب كی طرف رہنما ئی كی كہ اس بارگا ہ میں بلند آوازی جا ئز نہیں اورایسی شدید وعید فر ما ئی كہ اس میں(معاذ الله )عمل ضا ئع ہو جانے كا خطر ہ ہے اور وہاں پست آوازی پرالله تعالی كی مغفرت اوراجر عظیم كاوعد ہ ہے۔
اور شبہہ نہیں كہ یہ اہتمام صا حب مقام كی ہیبت واجلا ل كے لیے ہے(صلی الله تعالی وسلم)تو دربارالہی جل جلالہ كا ادب واحترام تواس سے بد رجہا اعلی واہم ہے الله تعالی كا یہ فر مان كس نے نہ سنا:"قیامت كے دن در بارالہی میں سار ی آوا یں سہمی ہوں گی اور سرگوشی كے علاوہ كچھ بھی سن نہ سكوگے۔ "مسجد الله تبارك و تعالی كا دربار عالی ہےوالله العظیم اگرادمی مسجد كی حا ضر ی كے وقت قیامت میں رب العا لمین كے حضور اپنا كھڑا ہو نا یاد كر ے اور مقام كی عظمت یا د كر كے سوچے كہ كہاں اور كس وا سطے كھڑا ہے تواجا زت یا فتہ انسانوں كے علاوہ (یعنی قاری اور خطیب)كسی كی آواز نہ نكلے پس اصل حكم یہی ہوا كہ مسجد میں اجا زت یا فتہ لوگوں كے سوا كسی كی سر گوشی كے علاوہ كچھ نہ سنا جا سكے
#314 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
الخطیب فكان الا صل فی المسا جد فیما لم یرد بہ الاذان ان لا تسمع الا ھمساولذا اتت الا حا دیث عــــــہ تنھی عن رفع الصو ت فیھا: اسی لیے احا دیث كر یمہ میں مسجد میں آوا ز بلند كر نے كی ممانعت آئی۔

عــــــہ:وللبیھقی عن ابی ھر یر ۃ رضی الله عالی عنہ كان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یكر ہ العطسۃ الشدیدۃ فی المسجد وفی البحرالرا ئق وغیر ہ:قا لواولا یجو ز ان تعمل فیہ الصنا ئع لانہ مخلص لله تعالی فلا یكو ن محلا لغیرالعبا دۃ غیرانھم قالوا فی الخیاط اذا جلس فیہ مصلحتہ من دفع الصبیان وصیانۃا لمسجدلابا س بہ للضر ورۃ ولا یدق الثو ب عند طیہ دقا عنیفا انتھی وماذا عسی ان یر تفع صوت الثو ب بضر ب الید علیہ عندطیہ یستو ی وقد نھوا عنہ۔و كذلك من یعرف الادب ولا دین لمن لا ادب لہ نسا ل الله حسن التو فیق منہ عفی عنہ۔ بیہقی میں حضرت ابو ہر یر ہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے كہ نبی كر یم صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجد میں زور سے چھینكنے كو نا پسند جانتے بحرالرا ئق وغیر ہ میں ہے كہ مشا ئخ نے كہامسجد خا لص الله تعالی كی عبا دت كی جگہ ہے لہذاوہ غیر عبا دت كامحل نہ ہوگی سوائے اس كے جوانھوں نے درزی كے بارے میں كہا كہ جب وہ مسجد میں مصلحت كے لیے وہا ں بیٹھے یعنی مسجد كی حفا ظت اور بچوں كو مسجد سے دور ركھنے كے لیے تواس ضر ورت كے تحت اس كے لیے مسجد میں بیٹھ كر سلا ئی كر نے میں حرج نہیں اور وہ كپڑوں كو تہہ كر تے وقت انھیں سختی سے نہ جھا ڑے انتہی اور بسا اوقا ت كپڑوں كولپیٹتے وقت ان پر ہا تھ مار كر سید ھا كر تے ہو ئے اوا ز پید ا ہو جا تی ہے جس سے انہیں منع كیاگیا ایسے ہی وہ شخص جوا دب كو پہچانتا ہے اورجو با ادب نہیں اس كا كو ئی دین نہیں ہم الله سے اچھی تو فیق كے طلبگار ہیں(ت)
#315 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
(۱)ابن ما جۃ عن وا ثلۃ رضی الله تعالی عنہ قا ل قا ل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جنبوا مساجدكم صبیانكم و مجانینكم وشرا ءكم و بیعكم و خصو ما تكم ورفع اصوا تكم
(۲)وابن عدی والطبرانی فی الكبیر والبیھقی وابن عسا كر عن مكحول عن وا ثلۃ وابی الد ردا ء وابی امامۃ رضی الله تعالی عنہم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جنبوامساجدكم صبیانكم و مجانینكم وسل سیوفكم واقامۃ حدودكم ورفع اصوا تكم وخصو ما تكم
(۳)عبد الر زاق فی مصنفہ قا ل حد ثنامحمد بن مسلم عن عبد ر بہ بن عبد الله عن مكحول عن معاذ رضی الله تعالی عنہ قا ل قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم جنبوامساجدكم مجانینكم و صبیانكم ورفع اصو تكم وسل سیوفكم وبیعكم و شرا ئكم واقامۃ حدود كم و خصو متكم ابن ما جہ نے وا ثلہ بن اسقع رضی الله تعالی عنہ سے روا یت كی حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فر ما یا"اپنی مسجدوں كو اپنے بچوںپاگلوںخر یدوفر و ختلڑا ئی جھگڑا اور بلند آوازی سے محفو ظ ركھو"
ابن عدی اور طبرانی نے معجم كبیر میں اور بیہقی وابن عسا كر نے مكحول سے انہوں نے وا ثلہ سے اورابوالدردا اورابوامامہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی"اپنی مسجدوں كواپنے بچوں پاگلوں اور بے نیام تلواروںحدیں قا ئم كرنے اورجھگڑنے سے محفو ظ ركھو۔"
(۳)عبد الر زاق نے اپنے مصنف میں محمد ابن مسلمعبد ر بہ ابن عبد الله مكحول عن معاذرضی الله تعالی عنہ عن رسول الله صلی الله تعالی وسلم روا یت كی"اپنی مسجدوں كواپنے پاگلوںبچوں اوراوا ز بلند كر نےتلواریں بے نیام كر نے بیع و شرا ء اورحد ود قا ئم كر نے اورجھگڑوں سے محفو ظ ركھو۔"
#316 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
(۴)والامام ابن المبارك عن عبید الله بن ابی حفص یرفعہ الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قا ل:من اجاب دا عی الله واحسن عمارۃ مسا جد الله كانت تحفتہ بذلك من الله الجنۃ قیل یارسول الله ما احسن عمار ۃ مسا جد الله قا ل لا یرفع فیھا صو ت ولا یتكلم فیھابا لرفث
(۵)امام مالك والبیھقی عن سا لم بن عبد الله ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ بنی الی جانب المسجد رحبۃ فسما ھا البطیحاء فكان یقول من اراد ان یلغط و ینشد شعرا او یرفع صو تا فلیخرج الی ھذا الرحبۃ
(۶)والامام ابن المبارك وابراھیم بن سعد فی نسختہ عن سعید بن ابراھیم عن ابیہ قا ل سمع عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ صو ت رجل فی المسجد فقا ل اتد ری این انت (۴)امام عبد الله بن مبارك رحمۃ الله علیہ نے عبید الله بن ابی حفص سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ و سلم تك سند پہنچائی كہ آپ نے فر ما یا كہ"جس نے الله تعالی كی طرف بلانے وا لے كی پكاركا جواب دیا اور مسجد كواچھی طرح آباد كیا تو بدلہ میں اس كا جنت كا تحفہ ملے گا لوگوں نے پو چھا یارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجد كواچھی طرح آبا د كر نا كس طرح ہو تا ہے فر ما یا اس میں آواز بلند نہ كر واور یاوہ گو ئی میں مبتلانہ ہو۔"
(۵)امام ما لك اورامام بیہقی رحمہما الله سا لم ابن عبد الله سے روا یت كر تے ہیں"حضر ت عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ نے مسجد كے پہلو میں ایك كشا دہ جگہ نكا ل دی تھی جسے بطیحا ء كہا جا تا تواپ فر ما تے جسے بیفا ئد ہ با ت كر نی ہو یا شعر پڑھنا ہو یا آوا ز بلند كر نی ہو تواس احا طہ میں آجا ئے۔"
(۶)امام ابن مبارك وابرا ہیم بن سعد نے اپنے نسخہ میں سعید بن ابراہیم عن ابیہ روا یت كی"حضر ت عمرفارو ق رضی الله تعالی عنہ نے ایك آدمی كی آوا ز مسجد میں سنی تو فر ما یا تجھے معلو م نہیں كہ تو كہا ں ہے تجھے معلو م نہیں كہ تو
#317 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
اتد ری این انت كر ہ الصو ت
وقد تقبلھا ائمہ الامۃ با لقبول حتی ان فقہائھانصوا علی كراھۃ رفع الصوت فی المسجد با لذكرالا للمتفقھۃ كما فی الدرالمختار وغیر ہ من معتمدات الا سفارفاذا كان ھذا فی الذكرفما ظنك بما لیس بذكر خا لص كا لاذان لاشتمالہ علی الحیعلین قا ل الامام العینی فی البنا یۃ شرح الھد ا یۃ فان قلت الاذان ذكرفكیف یقول انہ شبہ الذكر وشبہ الشیئ غیر ہ قلت ھولیس بذكر خا لص علی ما لا یخفی انما اطلق اسم الذكر علیہ با عتباران اكثرالفا ظہ ذكر اھ
وفی البحرالرائق عن المحیط تحت قول الكنز" یستقبل بھما القبلۃ و یلتفت یمیناوشما لابا لصلا ۃ والفلا ح لانہ فی حا لۃ الذكر والثنا ء علی الله تعالی والشھا دۃ لہ بالوا حد انیۃ ولنبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم با لر سا لۃ فالاحسن ان یكو ن مستقبلا فاما الصلوۃ وا لفلا ح دعا ء الی كہا ں ہے آپ نے آوا ز كو نا پسند كیا۔"
اس حدیث كوائمہ نے قبول كیا۔اورفقہا ء نے یہا ں تك تصریح فر ما ئی كہ مسجد میں بلند آوا ز سے ذكر كر نابھی مكر و ہ ہے ہا ں اہل فقہ كی دینی بات چیت كا استثنا ء ہے ایسا ہی در مختار وغیر ہ كتب فقہ میں مر قو م ہے تو جب ذكرالہی كا یہ حا ل ہے تواذان جو خا لص ذكر بھی نہیں كیو نكہ اس میں حیعلین تو نما ز كابلاوا ہے امام عینی نے بنا یہ شرح ہدا یہ میں فر ما یا"اگر یہ شبہ ہو كہ اذان تو ذكر ہے اس كو ذكر كے مشابہ قراردینا صحیح نہیں كیو نكہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغا یر ت ہو تی ہے تو جواب یہ ہے كہ اذان ذكر خا لص نہیں ہا ں اس كے بیشترالفاظ ضرور ذكر ہیں اسی كا لحا ظ كر كے اس كو ذكر كہا جا تا ہے۔"
كنز كے قول"كلمہ شہا دت كے وقت قبلہ كا استقبا ل اور صلا ۃ و فلا ح كے وقت دا ئیں با ئیں مڑیں"كی تشر یح میں بحرالرائق نے محیط سے نقل كیا"اذان میں كلمہ شہا دتین حا لت ذكر ہے كہ الله تعالی كی وحد انیت اور رسول كر یم صلی الله تعالی علیہ وسلم كی رسا لت كی گوا ہی ہے اوراس وقت استقبا ل قبلہ ہی منا سب ہے اور صلا ۃ و فلا ح میں نما ز كی طرف بلانا ہے۔
#318 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
الصلوۃ واحسن الداعی بان یكون مقبلا علی المدعوین "اھ ۔
وفی صلوۃ المسعو دی رحمہ الله تعالی:ان فی الاذان منا جا ۃ و منا دا ۃ المنا جا ۃ ذكرالله تعالی والمنا دا ۃ ندا ء الناس ومادام فی ذكرالله یستقبل القبلۃ واذابلغ المناداۃ یحول وجہہ ثم قا ل الشیخ ابوالقا سم الصفارحمہ الله تعالی الد عا ء الی الصلوۃ منا دا ۃ و باقیہ ذكرالله تعالی لكن ظا ھرالراو یۃ ان الاذان كلہ من اولہ الی اخردعا ء الی الصلوۃ ثم قا ل ظا ہرالر وا یۃ ان الموذن اذاقا ل حی علی الصلوۃیقول المستمع لا حول ولاقوۃ الابا لله فاذاقال حی علی الفلا ح ویقول المستمع"ما شا ء الله كان وما لم یشا لم یكن"قا ل شیخ الاسلام بر ھان الدین رحمہ الله تعالی ما كان العبد فی ذكرالرحمن یفرالشیطان فاذا جا ء ند ا ء الخلق یعو د فاذاقیل"لا حول ولاقوۃ الابا لله تواس وقت یہی اچھا ہے كہ بلانے والابلا ئے ہو ؤں كی طرف متو جہ ہو"۔
صلوۃ مسعو دی میں ہے كہ بیشك اذان منا جا ت بھی ہے اور بلا وہ بھی منا جا ت الله تعالی كاذكر ہے جبكہ بلاوہ میں لوگوں كو پكارنا ہےمو من جب تك الله تعالی كے ذكر میں ہو تا ہے تو وہ قبلہ كی طرف منہ كر تا ہے اورجب بلاوہ پر پہنچتا ہے تواپنا چہر ہ گھماتا ہے پھر شیخ ابوا لقا سم صفار رحمۃ الله تعالی علیہ نے فر ما یا نما ز كی طرف دعو ت دینامنا دا ت ہے اور باقی الله تعالی كا ذكر ہے لیكن ظا ہرالر وایہ یہ ہے كہ اذان اول سے آخر تك نما ز كی طرف دعو ت ہے پھرفر مایا ظا ہرالروا یہ یہ ہے كہ مو ذن جب"حی علی الصلوۃ"كہے تو سننے والا"لاحول ولاقوۃ الا با للہ"كہے اورجب مو ذن"حی علی الفلا ح"كہے تو سننے والا كہے"ما شا ء الله كان وما لم یشا لم یكن"شیخ الا سلام برھان الدین رحمۃ الله تعالی علیہ نے فر ما یا كہ بند ہ جب ذكر رحمان میں مشغول ہو تا ہے توشیطان بھاگ جا تا ہے پھرجب مخلو ق كو ندا كر تا ہے توشیطان لو ٹ آتا ہے پھرجب كہا جا تا ہے "لا حول ولاقوۃ الابا لله
#319 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
ما شا الله كان"یفر انتہی ملتقطامترجما۔
واذا كان ذلك كذلك ولم یرد فی الشر ع الاذن با لاذان فی المسجد كان داخلا تحت النھی وھو المقصود۔
نفحہ۲:نسمع ربنا تبارك و تعالی یعا تب قو ما اذیقول عز من قا ئل " اذا فریق منہم یخشون الناس کخشیۃ اللہ او اشد خشیۃ " ۔وقال عزوجل " فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مؤمنین ﴿۱۳﴾ " ولقد علم من غشی ابواب السلطان انہ اذا كان قو م خارج الحضرۃ وامرالملك بدعائھم لم یكن للحجاب ان ینادوھم فی الحضرۃ بل یخرجون فینادون ولو قاموا علی را س السلطان وجعلوا یصیحو ن بالند اء لا سا ؤ ا الا دب واستجلبوا الغضب واستحقوا التادیب ومن لم یر الملوك فینظر قضاۃ بلادنا كفارھم ومسلمو ھم اذا امر وابنداء الخصوم اوالشھو دلم تقدر الاعوان ان ما شاءالله كان"توشیطان پھر بھاگ جا تا ہے انتہی التقاط مترجما۔
پس جب صورت حا ل یہ ہے اور شر یعت مقد سہ میں مسجد كے اند راذان دینے كا ثبو ت نہیں تواذان مسجد ممنو ع ہوگی ہمارا یہی كہنا ہے۔
نفحہ ۲:الله تبارك وتعالی ایك قوم كی حا لت بیان كر تا ہے "ایك گر وہ آدمیوں سے خدا سے ڈر نے كی طرح ڈرتا ہے بلكہ اس سے بھی زیا دہ خو ف كھا تا ہے۔"الله تعالی فر ما تا ہے: "حا لانكہ مو منوں كوالله تعالی سے ہی سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے اورجوآدمی بادشاہوں كے دربار میں حا ضر ی دیتا ہے خو ب جانتا ہے كہ جب كو ئی شخص دربار كے با ہر رہتا ہے اور با دشا ہ اس كو بلانے كا حكم دیتا ہے تو دربان دربار كے اند ر سے ہی اسے پكار نے نہیں لگتے بلكہ با ہر نكل كراوا ز دیتے ہیں اگر یہ دربان با دشا ہ كے سر پر ہی كھڑے ہو كر چلانے لگیں تو بے ادبی كے مر تكب ہوں گے با دشا ہ كے غضب كے مستحق اور سزا كے مستو جب ہوں گے۔اورجو با دشا ہوں كے در بار میں نہ جا سكا ہو تو وہ ہمارے علاقہ كے ججوں كی كچہر ی میں حا ضر ہو جج مسلمان ہوں یا غیرمسلم وہ دیكھے گا كہ جج جب گواہوں یا مدعی و
#320 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
ینا دوھم فی دارالقضا ء بل یخرجون خروجا فیدعون وھذامشہو د كل یو م ومن انكر كونہ اساءۃ ادب فلیجرب علی نفسہ ولیقم بین یدی حاكمھم المسمی عند ھم جج۔و یرفع صو تہ بیا فلان یا فلان لنا س خارج المكان فسیر ی ما یبدل البیان با لعیان وماذلك الالا دب المقام وخشیۃ الحكام
" فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مؤمنین ﴿۱۳﴾ " كیف ان امثال الامورالبنیۃ علی الا جلا ل۔المبنئۃ من الا دب انما تحال علی الشاھد فیما لم یرد بہ النصو الشاھد ھھنا ماذكرنا فو جب المصیرالیہ و كان نداء الغائبین قائما فی حضر ۃ المصلی اسا ئۃ ادب بالحضرۃ الا علی وقلۃ خشیۃ من الله تعالی۔
اماماقلنامن الاحا لۃ علی الشاھد فشیئ یشھد بہ العقل السلیم والقلب الحاضر ومن تتبع وجد شواھدہ كثیر ۃ فی كلام الا جلۃ الا كابر من ذلك قول الامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر:الثابت ھو و ضع مد عا علیہ كو حا ضر كر نے كا حكم دیتے ہیں تو چپراسی انہیں كچہری كے كمر ہ كے اند ر سے نہیں بلا تے بلكہ دروا زہ كے با ہراكر پكارتے ہیں یہ روز مرہ كامشا ہدہ ہے اورجواس كے بے ادبی ہو نے میں شبہ كر ے وہ خو د ہی اس كا تجر بہ كر ے كہ جج كے سامنے كھڑے ہو كرفلاں حاضر ہو فلاں حاضر ہو پكارنے لگے تو ہمارابیان اس كے لیے مشا ہد ہ میں تبدیل ہو جا ئے گا توا س كا سبب كچہر ی كا ادب اورحكام كا خو ف ہی ہے پس اے ایمان والو ! الله تعالی سے تواس سے زیا دہ ڈرناچا ہیے اوراس قسم كے امور تعظیم واظہارادب میں جہا ں كو ئی شر عی حكم منصوص نہ ہو معاملہ مشا ہدہ پر ہی مو قو ف ہو تا ہے اور مشا ہد ہ كا حا ل ہم بیان كر چكے تواسی كی طرف پلٹنا چا ہیے اور غا ئب مصلیوں كو مصلی كے اند ر كھڑے ہو كر پكارنے كو بار گا ہ الو ہیت میں بے ادبی ہی تصور كرنا چا ہیے۔"
ہم نے جو مسئلہ كو مشا ہد ہ پر محمول كر نے كی با ت كہی وہ عقل سلیم كے نزدیك مسلم ہے اور تتبع اور تلا ش سے بزرگوں كے كلام میں اس كی بہت ساری نظریں مل سكتی ہیں چنانچہ امام محقق علی الا طلاق فتح القدیر میں فرما تے ہیں"حدیث شر یف سے اتنا ثابت ہے"
#321 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
الیمنی علی الیسر ی و كونہ تحت السرۃ اوالصدر كماقا ل الشا فعی لم یثبت فیہ حدیث یوجب العمل فیحا ل علی المعھو د من و ضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھو د فی الشا ھد منہ تحت السر ۃ
ومن ذلك قولہ ایضاواستحسنہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحا ج الحلبی جدامانصہ لا اری تحریرالنغم فی الدعا ء كما یفعلہ القرا ء فی ھذا الز مان یصد رممن فھم معنی الدعا ء والسوال وماذلك الانو ع لعب فانہ لو قد رفی الشا ھد سا ئل حا جۃ من ملك ادی سوالہ بتحریرالنغم فیہ من الرفع والخفض و التغریب والرجو ع كا لتغنی نسب البتۃ الی قصد السخریۃ واللعب اذ مقام طلب الحا جۃ التضرع لا التغنی اھ ۔ (كہ قیام كی حا لت میں)دایا ں ہا تھ با ئیں پر ركھا جا ئے یہ امر كہ وہ نا ف كے نیچے ہو یا سینہ كے نیچےجیسا كہ امام شا فعی رحمۃ الله تعالی علیہ كامذہب ہے اس باب میں ایسی كوئی حدیث نہیں جس پر عمل واجب ہو تواس معاملہ كو مشا ہد ہ پر محمول كرنا چاہیے كہ حا لت تعظیم میں جہاں ہا تھ باند ھنامعلو م و مشہور ہو وہی اختیار كیا جا ئے اور یہ زیر نا ف ہے۔
انہی نظیر وں میں سے حضر ت محقق كا یہ قول بھی ہے جس كی ان كی شاگرد ابن امیرالحا ج نے تحسین بھی كی ہے دعامیں گلے با زی(گانا)كو میں جا ئز تصور نہیں كر تا جیسا كہ آ ج كل كے قاری كر تے ہیں اور یہ فعل ایسے لوگوں سے بھی صا در ہوتا ہے جو سوال اوردعا كے معنی سمجھتے ہیں حا لانكہ یہ ایك قسم كا كھیل اور مذاق ہے اگر مشا ہد ے كے اعتبار سے دیكھا جا ئے تو كوئی سا ئل جو با دشا ہ سے اپنی حاجت كی در خواست كر رہا ہواپنے سوال كوگو یوں كی طرح گا كراوا ز كی بلندی اور پستی گئكر ی اوراواز كی آرا ئش كے سا تھ مانگے توایسے سا ئل كو كھیل اور مذاق كی تہمت دی جا ئے گی كہ مقام الحا ح و زاری كا ہے نہ كہ گانے كا۔
#322 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
قا ل فی الحلیۃ وقد اجا د رحمہ الله تعالی فیما اوضح و افا د اھ
ومن ذلك اشیا ء فیہ وفی الحلیۃ والغنیۃ وغیر ھاقلت ارشد الیہ حدیث"استحیی الله استحیاء ك من رجلین من صا لح عشیر تك روا ہ ابن عدی عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔"
وحدیث قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم"الله احق ان یستحی منہ من الناس۔"رواہ احمد وابو داؤد و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاكم عن معاویۃ بن حید ۃ رضی الله تعالی عنہ۔ حلیہ میں اس كی تعر یف كر تے ہو ئے فر مایاگیا:حضر ت محقق نے بہت عمد ہ تو ضیح وافا دہ فر ما یا۔
اس قسم كی بہت سی نظیر یں فتح القدیرحلیہ اور غنیہ وغیر ہ میں ہیں بلكہ میراكہنا تو یہ ہے كہ خو د حدیث شریف میں اس طرف رہنما ئی ہے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فر ما تے ہیں "تم الله تعالی سے ایسے ہی شر م كر و جیسے اپنے خاند ان كے دو نیك مردوں سے شر م كر تے ہو"اس حدیث كوابن عدی نے ابوامامہ رضی الله تعالی عنہ سے حضور سے روا یت كی۔
اورحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كا فر مان ہے"الله تعالی كو اس كا زیا دہ حق ہے كہ آدمی اس سے انسانوں كی بہ نسبت زیا دہ شرم كر ے۔"اس حدیث كواحمدوابو داؤد اورتر مذی نے روایت كیا اور نسا ئی اورابن ما جہ اورحا كم نے معاو یہ ابن حید ہ سے روا یت كیا۔
#323 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
وحدیث"اذا صلی احد كم فلیلبس ثو بیہ فان الله احق من یزین لہ"روا ہ الطبرانی فی الاوسط والبیھقی عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم و قد او ضحہ ابن عمراذكسانا فعا ثو بین و ھو غلام فد خل المسجد فو جد ہ یصلی متوشحابہ فی ثو ب فقال ألیس لك ثو بان تلبسھما ارایت لوانی ارسلتك الی ورا ء الد ار لكنت لابسھما قا ل نعم قا ل فا لله احق ان تتزین لہ ام النا س فقال بل الله روا ہ عبد الر زاق عن نا فع۔



نفحہ ۳:قا ل المولی تبارك و تعالی
" یایہا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا و تسلموا علی اہلہا اور یہ حدیث:"نماز پڑھو تو پورے لباس میں كہ الله كے لیے زینت وارائش كا سب سے زیا دہ حق ہے"اس حدیث كوامام طبرانی نے اوسط میں اورامام بیہقی نے ابن عمر رضی الله تعالی عنہم سے حضوراكر م صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روا یت كیا اوراس كی وضا حت حضر ت ابن عمر رضی الله تعالی عنہ سے منقول ہو ئی كہ انہوں نے اپنے غلام نافع كو دو نوں كپڑے پہنائے(یعنی مكمل جو ڑا دیا)پھرانہیں مسجد كے اندرایك ہی چادر میں لپٹا ہوا دیكھا تو فرمایا كیا تمھارے پا س پہننے كے لیے پورا جو ڑانہیں ہے اگر میں تم كوگھر سے با ہر كسی كام لے لیے بھیجتا تو مكمل جو ڑا پہن كرجا تے یا ایك چا در لپیٹ كر حضر ت نا فع نے جواب دیا ضرور پورا لباس پہنتا اس پرابن عمر نے ارشا د فر ما یا كہ الله تعالی سے زیا دہ كو ن اس با ت كامستحق ہے كہ اس كے لیے زینت كی جا ئے حضر ت نا فع كواقرار كر نا پڑا كہ الله تعالی۔اسے عبد الر زاق نے نا فع سے روایت كیا۔
نفحہ۳:الله تبارك وتعالی فر ما تا ہے:اے ایمان وا لو !دوسر ے كے گھر میں بے انس پید ا كئے اور گھر وا لوں كو سلام كئے بغیردا خل نہ ہو
#324 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
ذلکم خیر لکم لعلکم تذکرون ﴿۲۷﴾ فان لم تجدوا فیہا احدا فلا تدخلوہا حتی یؤذن لکم " نہی الله سبحنہ عن دخول الانسان فی بیت غیر ہ بغیراذنہ(تسانسوا عــــــہ تستاذنوا)والمسا جد بیو ت ربنا عزوجل اخرج الطبرانی فی الكبیر عن ابن مسعو د رضی الله تعالی عنہ قا ل قا ل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان بیو ت الله فی الارض المساجد یہ تمھارے لیے بہتر ہے تا كہ نصیحت حا صل كر واگر كسی كو گھر میں نہ پا ؤ تو جب تك اجا زت نہ ملے گھر میں داخل نہ ہو۔
الله تبارك و تعالی نے دو سر ے انسانوں كے گھر میں بے اذن وانس داخلہ ممنو ع فر مایا اور مسجدیں الله رب العز ت جل و علا كے گھر ہیں۔طبرانی نے كبیر میں ابن مسعو د رضی الله تعالی عنہ سے روا یت كی كہ حضور نے فر ما یا"روئے زمین پر مسجدیں الله تعالی كاگھر ہیں اورالله تعالی نے اپنے ذمہ كر م پر لیا كہ اس میں زیارت كو انیوالوں

عــــــہ:فی الایۃ امران الاستیذان والسلامفا لاستیذان فی المساجد كمانبیناما السلام فاقیم مقامہ السلام علی حبیبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فانہ حا ضردا ئما فی حضرتہ فامر كل من ید خل مسجدا او یخرج منہ ان یقول بسم الله والحمدلله والسلام علی رسول الله الی اخر الدعا ء الوارد فی الا حا دیث صحیحۃ شھیر ۃ كثیر ۃ ۱۲ منہ۔ آیت كر یمہ میں دو۲ امر ہیں:(۱)استیذان(۲)سلام استیذان مساجد میں ہو تا ہے جیسا كہ ہم بیان كر یں گے۔رہا سلام تو نبی كر یم صلی الله تعالی علیہ وسلم پر سلام بھیجنا اسكے قا ئم مقام ہے اس لیے كہ آپ كی بارگا ہ میں حاضری دائمی ہے چنانچہ مسجد میں داخل ہو نے وا لے یامسجد سے نكلنے والے ہر شخص كو حكم ہے كہ وہ یوں كہے "بسم الله والحمدلله والسلام علی رسول الله "آخر تك پوری دعا پڑھے جومتعدد مشہوراحا دیث صحیحہ میں وارد ہے ۱۲(ت)
#325 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
وان حقا علی الله تعالی ان یكر م من زارہ فیہ (وروا ہ ابو بكر بن شیبۃ عن امیرالمو منین عمر رضی الله تعالی عنہ من قولہ)
ورو ی الطبرانی فی الكبیر والضیا ء فی المختار ۃ عن ابی قرصا فۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ابنواالمسا جدواخرجوالقمامۃ منھا فمن بنی لله مسجدابنی الله لہ بیتا فی الجنۃ
وعدم الاذن فی الد خول لشیئ كما یكو ن برفع المقید كذلك برفع القید فمن اذن لہ با لد خول لشیئ ودخل بغیرہ فقد دخل بغیرالاذن والیہ یشیر قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا الله علیك فان المساجد لم تبن لھذا(رواہ احمدومسلم وابو داؤدو ابن ماجۃ عن ابی ھر یر ۃ كی تكر یم فرما ئے گا۔"ابو بكرابن شیبہ نے اسكو حضر ت فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ كاقول بتا كر نقل كیا۔
اورامام طبرانی نے كبیر میں اور ضیا ء نے مختارہ میں ابو قر صا فہ رضی الله تعالی عنہ كے وا سطہ سے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كاقول نقل كیا:"مسجدیں بنا ؤ اوران سے كو ڑے صا ف كر و تو جو خد ا كے لیے گھر بنا ئے الله تعالی نے اس كے لیے جنت میں گھر بنا دیا۔"
اور بے اجا زت دا خل ہو نے كی ایك صور ت یہ بھی ہے كہ اجازت كسی اور كام كی ہے اورداخل ہو نے والاكسی اور كام كی غرض سے دا خل ہوا اسی نكتہ كی طرف حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا:"جس نے كسی آدمی كو سنا كہ مسجد میں اپنی كھو ئی ہو ئی چیز تلا ش كر رہا ہے تو دعا كر ے كہ خد ا كر ے تواسے نہ پا ئے كہ مسجدیں اس كام كے لیے نہیں بنا ئی گئیں"امام احمدامام مسلمامام ابو داؤد
#326 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
رضی الله تعالی عنہ)
ھم جمیعا عن بر ید ۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لاوجدتہ لاوجد تہ لاوجد تہ انمابنیت ھذہ المسا جدلمابنیت لہ
ولعبد الر زاق عن ابی بكر بن محمد انہ سمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رجلا ینشد ضا لۃ فی المسجد فقا ل النبی صلی الله علیہ وسلم ایھا النا شد غیرك الوا جدلیس لھذابنیت المسا جد ۔
والاحادیث فی الباب كثیر ۃ و ھو بعمو مہ یشمل من ینشد مصحفا لیتلو ہ بل ومن ینشد امانۃ ضلت عنہ مع ان انشادھاوا جب علیہ" ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت
ابن ما جہ نے اس حدیث كو حضر ت ابو ہر یر ہ رضی الله تعالی عنہ كے واسطے سے روا یت كیا۔
مذكورہ با لا سبھی محد ثین نے حضر ت بر ید ہ رضی الله تعالی عنہ كے وا سطہ سے اس حدیث كو حضوراكر م صلی الله تعالی علیہ وسلم سے اس الفا ظ میں روا یت كیا:"تواسے نہ پا ئے تواسے نہ پا ئے تواسے نہ پا ئے مسجدیں اس كام كے لیے نہیں بنا ئی گئیںوہ تو جس كے لیے بنائی گئی ہیں بنا ئی گئی ہیں۔
عبد الرزاق نے ابی بكرابن محمد سے روایت كی:"رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك شخص كو مسجد میں كھو ئی ہوئی چیز تلاش كر تے سنا تو فر ما یا اے تلا ش كر نیوا لے ! پانےوالا تیر ے علاوہ ہو مسجدیں اس كام كے لیے نہیں ہیں۔"
اس مو ضوع پرحدیثیں بہت ہیں اور یہ اس صور ت كو بھی شامل ہے كہ تلاو ت كے لیے مصحف شریف كو ڈھونڈے یا كسی كی امانت جواس كے پا س تھی كھو جانے پر مسجد میں تلاش كر ے حا لانكہ ایسی چیز كا تلا ش كر ناوا جب ہے ارشا د الہی ہے: "الله تعالی تمھیں حكم دیتا ہے
#327 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
الی اہلہا " ۔
فا لانشاد مقدمۃ الو جد ان والو جد ان مقد مۃ الاداء والا د اء واجبمقد مۃ الوا جب واجب و كذلك عمم الفقھا ء فقالوا كرہ انشا د ضا لۃولم یستثنوامنہ فصلاو ذلك ان اتیان الواجب ان كان من اعما ل الا خر ۃ فما لكل عمل الاخر ۃ بنیت المساجد انمابنیت لمابنیت لہ احمدو مسلم عن انس رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم:"ان ھذہ المسا جدلا تصلح لشیئ من القذر والبول والخلا ء وانما ھی لقرائۃ القران و ذكرالله والصلوۃ "
وللبخار ی وابن ما جۃ عن ابی ھر یر ۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انمابنی لذكرالله والصلوۃ
ولا حمد فی الز ھد عن ابی ضمر ۃ عن ابی بكرالصدیق رضی الله تعالی عنہ انمابنیت للذكر ۔ كہ امانت وا لوں كی امانت واپس كردو"
تلا ش پانے كامقد مہ ہے اور پانا دینے كاذریعہاورجو واجب كاذریعہ ہو وہ خو د وا جب ہے فقہاءنے اس عمو م میں ہر گمشد ہ چیز كی تلا ش كو دا خل كیا اور كسی خا ص گمشد ہ كا استثنانہیں كیا اس كارمزیہ ہے كہ وا جب كی ادائیگی ہر چند كہ عمل آخر ت ہے پر سبھی عمل آخر ت كے لیے مسجد نہیں بنا ئی گئی۔حضرا ت امام احمدومسلم حضر ت انس رضی الله تعالی عنہ اور وہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت كر تے ہیں:"یہ مسجدیں گند گی پیشاب و پا خانہ كے لیے نہیں یہ توصرف تلاوت قران ذكرالہی اور نما ز كے لیے ہیں۔"
بخاری وابن ما جہ حضر ت ابو ہر یر ہ اور وہ رسول الله صلی الله تعالی وسلم سے روا یت كر تے ہیں:"یہ(مسا جد)تو نما ز اور ذكرالہی كے لیے ہی بنا ئی گئی ہیں۔"
امام احمد نے كتاب الزہد میں حضرت ابو ضمر ہ عن ابی بكر الصدیق رضی الله تعالی عنہ صرف ذكر كا ہی ذكر كیا۔
#328 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
وفی مسند الفردوس عن ابی ھر یر ۃ رضی الله تعالی عنہ قا ل قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كل كلام فی المسجدلغوالا القران و ذكرالله تعالی و مسا لۃ عن الخیراواعطا ؤہ ۔
وقد علمت ان لیس الاذان خالص ذكر ولو كان المسجدیبنی لہ لاتی الشر ع با یقا عہ فیہ ولنقل ولو مر ۃ و كیف یعقل ان شیئابنی لہ المسجدلا یفعل فیہ قط علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم والخلفا ء الرا شدین رضی الله تعالی عنہم فیقا ل فیہ ایضا ان المسا جدلم تبن لھذا كیف والاذان للد عا ء الی الحضر ۃ والحضر ۃ لا تبنی لند ا ء النا س الیھاوفیھاوالله المو فق فھذاما ظہر للعبد الضعیف من الكلام المجیدوالحدیث الحمیدوالفقہ السدید وحلہ كما تری وا ضح بلا امترا ء وان كان اخر ہ من قبیل المتابعا ت والشوا ھد ولكن كلہ لمن تحلی با لانصا ف ھیھا ت لما یقنع المكابر ویقمع الاعتسا ف مسند الفردو س میں بر وا یت ابو ہر یر ہ مر وی ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فر ما یا:"مسجد كے اندر تلاوت كلام الله ذكرالہی اور بھلا ئی سے سوال اوراس كو دینے كے علاوہ ہر با ت لغو ہے۔"
یہ پہلے ہی معلو م ہو چكا ہے كہ اذان خا لص ذكرالہی نہیں اگر مسجد اس كے لیے بنی ہو تی توشر ع شر یف مسجد كے اند راذان كا حكم فر ماتی اوراس پر عمل درآمد ایك بار ہی سہی مر وی ضرور ہو تابھلا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے كہ جس كام كے لیے مسجد كی تعمیر ہو ئی وہی مسجد میں كبھی نہ ہوانہ تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد میں نہ خلفا ئے را شدین كے عہد میں تو یہی كہا جا ئیگا كہ مسجد اس كے لیے بنا ئی ہی نہیں گئی اورایسا ہو تابھی كیسے یہ تو در بارالہی كی حا ضر ی كا اعلان ہے اوردر باراعلان كے لیے نہیں ہو تا اعلان تو در بار كے با ہر ہو تا ہے الله تعالی تو فیق دینے والا ہے اس ضعیف بند ے پر كلام مجید حدیث مقد س اورفقہ مبارك سے یہی ظا ہر ہوابا تیں سب كی سب ظا ہر ہیں اگرچہ اخیر میں ہم نے شوا ہد اور متابعات سے كام لیا لیكن یہ سب بھی اہل انصا ف كے نز دیك قطع مكابر ہ اوردفع زیا دتی كے لیے كا فی ہے
#329 · الشمامۃ الثا لثۃ من مسك القران العظیم (قران كر یم كے مشك سے تیسرا شمامہ)
وفی مسند الفردوس عن ابی ھر یر ۃ رضی الله تعالی عنہ قا ل قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كل كلام فی المسجدلغوالا القران و ذكرالله تعالی و مسا لۃ عن الخیراواعطا ؤہ ۔
وقد علمت ان لیس الاذان خالص ذكر ولو كان المسجدیبنی لہ لاتی الشر ع با یقا عہ فیہ ولنقل ولو مر ۃ و كیف یعقل ان شیئابنی لہ المسجدلا یفعل فیہ قط علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم والخلفا ء الرا شدین رضی الله تعالی عنہم فیقا ل فیہ ایضا ان المسا جدلم تبن لھذا كیف والاذان للد عا ء الی الحضر ۃ والحضر ۃ لا تبنی لند ا ء النا س الیھاوفیھاوالله المو فق فھذاما ظہر للعبد الضعیف من الكلام المجیدوالحدیث الحمیدوالفقہ السدید وحلہ كما تری وا ضح بلا امترا ء وان كان اخر ہ من قبیل المتابعا ت والشوا ھد ولكن كلہ لمن تحلی با لانصا ف ھیھا ت لما یقنع المكابر ویقمع الاعتسا ف مسند الفردو س میں بر وا یت ابو ہر یر ہ مر وی ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فر ما یا:"مسجد كے اندر تلاوت كلام الله ذكرالہی اور بھلا ئی سے سوال اوراس كو دینے كے علاوہ ہر با ت لغو ہے۔"
یہ پہلے ہی معلو م ہو چكا ہے كہ اذان خا لص ذكرالہی نہیں اگر مسجد اس كے لیے بنی ہو تی توشر ع شر یف مسجد كے اند راذان كا حكم فر ماتی اوراس پر عمل درآمد ایك بار ہی سہی مر وی ضرور ہو تابھلا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے كہ جس كام كے لیے مسجد كی تعمیر ہو ئی وہی مسجد میں كبھی نہ ہوانہ تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد میں نہ خلفا ئے را شدین كے عہد میں تو یہی كہا جا ئیگا كہ مسجد اس كے لیے بنا ئی ہی نہیں گئی اورایسا ہو تابھی كیسے یہ تو در بارالہی كی حا ضر ی كا اعلان ہے اوردر باراعلان كے لیے نہیں ہو تا اعلان تو در بار كے با ہر ہو تا ہے الله تعالی تو فیق دینے والا ہے اس ضعیف بند ے پر كلام مجید حدیث مقد س اورفقہ مبارك سے یہی ظا ہر ہوابا تیں سب كی سب ظا ہر ہیں اگرچہ اخیر میں ہم نے شوا ہد اور متابعات سے كام لیا لیكن یہ سب بھی اہل انصا ف كے نز دیك قطع مكابر ہ اوردفع زیا دتی كے لیے كا فی ہے



و نسا ل الله العفو والعا فیۃ والرحمۃ الكا فیۃ والنعمۃ الوافیۃ والعیشۃالصافیۃوالحمدلله رب العلمین و صلی الله تعالی و بارك وسلم علی سید نامحمدوالہ و ابنہ و حزبہ اجمعین۔ میں الله تعالی سے عفو و عا فیت رحمت كاملہ اور نعمت متكا ثر ہ اور عیش صافیہ كا طالب ہوں الله تعالی كے لیے ہی حمد ہے اور ہمارے سردار محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران كے آل و اصحاب اوران كے گر وہ سب پردرو د سلام ہو۔
#330 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف
(اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )

الحمد لله وكفی وسلام علی عبا دہ الذین اصطفی لیعلم سا دتنا و اخو تنا اھل الحق و الھد ی حفظنا الله تعالی و ایاھم عن الردی ان الو ھا بیۃ العنو د ومن تبعھم من طلبۃ الھنود بذلوا جھدھم لیخرجوا حدیثا صحیحا او نصا فی الفقہ صریحا یفید ان السنۃ فی ھذا الاذان كو نہ فی جو ف المسجد متصلا با لمبنر كما تعو د ہ ھھنا فلم یقد روا وما كا ن الله لیرفع باطل راسا فجعلوا یتشبثو ن بكل حشیش فخمسۃ اتفقو ا علی الا حتجا ج حمد الله تعالی كے لیے ہی خا ص ہے اور وہی ہما رے لیے كا فی ہے اور اس كے بر گزید ہ بند و ں پر سلا م و رحمت ہو حق و ہدایت وا لے بزرگو ں اور بھا ئیو ں كو معلو م ہو الله تعالی ان كی حفا ظت فر ما ئے كہ معا ند و ہا بیہ اور انكی پیروی كرتے ہوئے ابھرتے طلبہ سب كو اس امر نے تھكا دیا كہ ایك صحیح حد یث یا فقہ كی كو ئی نص صر یح پیش كریں جو اذا ن كے مسجد كے اندر منبر سے متصل ہو نے كا افا دہ كرے جیساكہ آج كل رواج پڑگیا ہے مگر وہ اس پر قادر نہ ہو سكے اور الله تعالی با طل كو سر بلند ی عطا نہیں كر تا ۔پس وہ تنكو ں كا سہا را لینے لگے ان میں پا نچ با تو ں میں تو سب متفق ہیں بقیہ كچھ لو گو ں نے انفرا دی
#331 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بھا :
(۱) نصو صھم ان ھذا الاذان بین ید ی الخطیب ۔
(۲) وتعبیر بعضھم فی مسئلۃ ان ایجا ب السعی بالاذان الاول او الثانی ھذا ا لا ذا ن با لذی عند المنبر ۔
(۳) وبعضھم با لذی علی المنبر ۔
(۴) وزعمو ا ان كو نہ دا خل المسجد ملا صق المنبر ھو التوارث فمن احتر س لنفسہ یجمل و یقول من القدیم والذی تجرأ یقول من لدن رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم و خلفا ئہ الر ا شد ین رضی الله تعالی عنھم اجمعین ۔
(۵) وزعمو ان علیہ التعا مل فی جمیع البلدا ن واجمع علیہ جمیع اھل الا سلا م وتفر د بعضھم من بعض بشبھا ت اخری ذا ت عجر و بجر والعبد الضعیف بتو فیق الملك اللطیف عز جلا لہ یر ید ان یمر علیھا طردا طر دا و یبین عو ا رھا فر د ا فر دا فلنبتدی با لاول ثم نتبعھا البا قی الا ذل وما تو فیقی الا با لله علیہ بحثیں بھی كی ہیں یہ بند ہ ضعیف پہلے تو پا نچو ں متفقہ دلا ئل كا ذكر فر دا فر دا اس كا رد كر دے گا پھر انفرا دی لچر اور پو چ دلا ئل كی بھی خبر گیر ی كر یگا پہلی پا نچ با تیں یہ ہیں۔
(۱) اذا ن جمعہ كے لیے تما م فقہا ء نے بین ید یہ (خطیب كے سا منے )كا لفظ استعما ل كیا ہے جس ظا ہر ہے كہ یہ اذ ا ن مسجد كے اند ر منبر سے متصل ہو نا چا ہیے ۔
(۲) اس مسئلہ كو بیان كر تے ہو كہ جس اذان كو سن كر جمعہ كے لیے مسجد كی طر ف جا نا وا جب ہو جا تا ہے وہ اذان اول ہے یا ثا نی ۔بعض فقہا ئے یو ں تعبیر كی یہ وہی اذا ن ہے جو عند المنبر (منبر كے پا س) ہو تی ہے ۔
(۳) اور بعض فقہا ء نے علی المنبر (منبر كے اوپر )فر ما یا جو پاس سے بھی زا ئد قر یب پر دلا لت كر تا ہے ۔
(۴) معاند ین كا یہ گما ن فا سد ہے كہ اس اذا ن كا مسجد كے اندر منبر سے متصل ہو نا متو ا رث ہے (یعنی خلفا عن سلف ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے ) توا رث كے بیان میں جس نے احتیا ط سے كام لیا تو اتنا كہہ كر رہ گیا كہ قد یم سے ایسا ہو تا آیا ہے اور جو جرأت بے جا كر تا وہ كہتا ہے كہ حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زما نہ اور خلفائے راشدین كے عہد مبا ر ك سے ایسا ہی ہو تا ہے ۔
#332 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
تو كلت والیہ انیب ۔
نفحہ ۱ : قد بینا با لحد یث و الفقہ ان السنۃ فی ھذا ا لا ذا ن كو نہ بین ید ی الخطیب اذا جلس علی المنبر و لكن لیس فی الفظۃ بین ید یہ ما یقرأ عینھم ولا ما یمیل الیہ انما مفا دھا ان یكون بحذا ء المنبر قبا لۃ وجہ الخطیب من دون حائل یحجبہ عنہ وھذا یشمل دا خل المسجد و خا رجہ الی حیث تبقی المحا ذا ۃ والمشا ھد ۃ لیس فی مفا د اللفظ اكثر من ھذا غیر ان الفقہ دلنا علی ان الاذان لا یكون فی جو ف المسجد ولا بعیدا منہ بحیث لا یعد ابلند ا ء ثمہ ندا ء الی ھذا المسجد بل فی حد ود ہ و فنا ئہ و ارشد نا الحدیث فتعین ھذا محلا لہ ولنكشف الستر عن وجہ التحقیق فی مفا د ھذا اللفظ ۔
فاقول : و بالله التو فیق ۔اللفظ مركب و معنا ہ الحقیقی بحسب اجزا ئہ التر كیبیۃ وقو ع الشیئ فی (۵) ان سب كا كہنا ہےكہ تما م مما لك میں اسی پر عملدرآمد ہے اور تما م اہل اسلا م كا اس پر اجما ع ہے ۔
اب میں ان پا نچ متفقہ با تو ں كا تفصیلی رد اور بعد میں متفرقات سے بھی تعر ض كر وں گا الله تعالی سے ہی میر ی توفیق ہے اسی پر میر ا بھر و سا ہے اور اسی كی طر ف میر ا رجو ع ہے ۔
نفحہ ۱ : ہم احا دیث و فقہ سے یہ ثا بت كر آئے ہیں كہ جب اما م منبر پر بیٹھے تو اس اذا ن كا خطیب كے سا منے ہو نا مسنو ن ہے لیكن"سا منے"كے لفظ میں مخا لفین كی آنكھ ٹھنڈ ی كر نے وا لی كو ئی با ت نہیں بلكہ اس كا مفا د صر ف اتنا ہے كہ منبر كے سامنے خطیب كے چہر ے كے مقا بل ہو بیچ میں كو ئی حا ئل نہ ہو جو روئے خطیب كا آڑ بنے یہ با ت مسجد كے اندر اور با ہر دونوں ہی صو رتو ں كو شا مل ہے اس حد تك كہ مشا ہد ہ اور مقا بلہ با قی رہے اصل لفظ بین ید یہ (سا منے )كا مفا د اس كے سو ا نہیں البتہ فقہ نے ہم كو بتا یا كہ اذا ن مسجد كے اند ر نہ ہو نی چاہیے بلكہ مسجد سے اتنی دور ہو نی چا ہیے كہ مسجد میں نہ شمار كی جا ئے بلكہ مسجد كے حد ود اور اس كی فناء میں ہو احا دیث مبا ركہ نے بھی اسی كی طر ف رہنما ئی كی ہے جس سے اس مقا م كی تعیین ہو تی ہے ۔
اب میں اس لفظ كی تحقیق كرتا ہو ں لفظ"بین ید یہ"دو حر فوں سے مركب ان اجزا ئے تر كیبیہ كے اعتبا ر سے اس لفظ
#333 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الفضا ء المحصو ر بین ھذین العضو ین من المضا ف سوا ء كا ن اما مہ او خلفہ اولا ولا والفضا ء محققا او متخیلا فا نك اذا ارسلت ید یك فلیس بینھما الا جنبا ك و فخذا ك و او ان بستطھما قبالۃ وجہك او وراء ظہر ك فكل ما وقع فی الفضا ء المحصور بھما فھو بین ید یك وھو اما مك فی الاول وخلقك فی الثا نی ولیس اما مك ولا خلفلك فی صو ر ۃ الا رسا ل ۔
وا نت تعلم ان ھذا المعنی لا مسا غ لہ ھنا بل الا مر ان المركب ربما لایلاحظ الی معانی اجزائہ التفصیلیۃ و یصیر باجمالہ دا لا علی معنی اخر لغۃ او عر فا فھو و ان كا ن مجا زا لہ با لنظر الی مفصلہ یكون حقیقتا لغویۃ او عر فیۃفیہ باعتبا ر اجما لہ و ذلك فی لفظنا ھذا معنی الا ما م والقد ام اما مطلقا من دو ن تخصیص با لقر ب او مع لحا ظہ و حینئذ یفسر با لحا ضر المشا ھد لان شرط الرؤیۃ العا دیۃ القرب و المقابلۃ فكل مر ئی حین ھو مر ئی محاذ كے معنی حقیقی یہ ہو ئے كہ"آدمی كے دو نو ں ہا تھ كے در میا ن جو فضا ہے"چا ہے وہ آدمی كے آگے كی فضا ہو چا ہے پیچھے كی كیو نكہ دونوں ہا تھو ں كو كھلا چھو ڑ دیا جا ئے تو ان كے بیچ میں آدمی كے دو نو ں پہلو اور دو نو ں را نیں ہو تی ہیں اور نہیں دونوں كو جب منہ كے آگے یا پشت كے پیچھے درا ز كیا جا ئے تو پہلی صورت میں آگے كی جا نب دونو ں ہا تھ كے بیچ كی فضا اور دوسر ی صو ر ت میں پیچھے كی جانب كی اتنی فضا ء"بین دی یہ "ہے اور دونو ں ہا تھ لٹكا نے كی صورت میں آگے پیچھے كا سوال ہی نہیں۔
لفظ"بین ید یہ"كے معنی تركیبی حقیقی تو یہی ہیں لیكن یہ یہا ں مراد نہیں ہو سكتے اور معنی حقیقی تفصیلی چھوڑ كر دوسر ے معنی اجما لی مراد ہو تے ہیں یہ اطلا ق كبھی لغو ی ہو تا ہے اور كبھی عر فی اپنے معنی تفصیلی كے لحاظ سے یہ دوسر ے معا نی اگر چہ مجازی قرا ر دئے جا ئیں لیكن استعما ل كے لحا ظ سے حقیقی ہو تے ہیں لفظ بین ید یہ كا بھی یہی حا ل ہے كہ وہ سا منے اور مقا بل كے معنی میں طے ہو گیا ہے قر ب كے معنی سے قطع نظر میں طے ہو گیا ہے قر ب كے معنی سے قطع نظر كر كے یا اس كا لحا ظ كر تے ہو ئے اور اس وقت میں اس لفظ كی تفسیر لحا ظ كر تے ہوئے اور اس وقت میں اس لفظ كی تفسیر حا ضر اور مشا ہد سے كی جا تی ہے كیو نكہ رؤیت عادیہ كے لیے قر ب و مقا بلہ شرط ہے جو مر ئی ہے دیكھنے كے وقت قر یب
#334 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
قر یب ۔
وھذا منتھی مفا د اللفظ فی نفسہ و اختلا ف حدود القر ب تنشؤ من خصو صیا ت المقا م لانہ امر اضا فی مشكلك متفا و ت غا یۃ التفا و ت فیلا حظ لكل مقا م ما یستد عی وھی دلا لۃ عقلیۃ من الخا ر ج لا من اللفظ ثم تو سع فیہ علی الوجھین و استعیر ظر ف المكا ن للزما ن فا رید بہ الما ضی اما مطلقا او قر یب لان جھۃ المضی جھۃ الظھو ر كا لا ما م او المستقبل كذلك لان كل آت قر یب و انت منو جہ الی القا بل فكا نہ لك مقا بل وعلی ھذین الوجھین و رد فی القران العظیم و المحاورات وبھما فسر تہ ائمۃ اللغۃ و التفسیر الا ثبا ت ووجد ت اللفظۃ فی القرا ن الكریم فی ثما ن و ثلثین موضعا فی عشر ین منھا لادلا لۃ علی القر ب وفی وا ھد جا ء علی حقیقۃ اجزا ئہ التر كیبیۃ و فی سبعۃ عشر فید القر ب علی تفا وت عظیم فیہ من الا تصا ل الحقیقی الی فصل مسیر ۃ خمسما ئۃ سنۃ جعلناما لا دلا لۃ فیہ علی القر ب فر یقا والبو ا قی فر یقا : بھی ہے اور مقا بل بھی ہے ۔
لفظ"بین یك یہ"كا اصلی مفا د یہی ہے البتہ قر ب چو نكہ ایك امر اضا فی حد در جہ متفا و ت المعنی كلی مشكك ہے اس لیے اس كے مختلف در جا ت میں سے كسی ایك كی تعییب مقا م كی خصو صیت كے لحا ظ سے ہو گی اور قر ب و بعد كے مختلف مر ا تب پر دلا لت لفظ كے تقا ضا سے نہیں عقل كے تقا ضا سے ہے پھر اصل میں تو یہ لفظ ظر ف مكا ن كے لیے تھا لیكن بعد میں ظر ف زما ن كے لیے مستعمل ہو نے لگا یا تو مطلقا زما نہ ما ضی یا ما ضی قریب كے لیے كیو نكہ ما ضی حضو ر كے قر یب ہے اور اسی طر ح مستقبل میں بھی كہ آنے وا لا زما نہ بھی مقا بل اور متوجہ ہے قرا ن عظیم اور مھاورات عر ب میں لفظ"بین یدیہ"ا ن دونو ں معنی میں وارد ہو ا مفسر ین نے اسی معنی سے اسكی تفسیر كی میں تتبع اور تلا ش سے قرا ن پا ك میں ۳۸جگہ یہ لفظ پا یا جن میں بیس مقا ما ت پر قر ب پر كو ئی دلا لت نہیں اور ایك مقا م پر معنی تر كیبی حقیقی كے لیے ہے اور ستر ہ مقامات پر قر ب كے لیے ۔مگر اس قرب میں بھی تفا وت عظیم ہے كہ اتصا ل حقیقی سے پا نچ سو بر س كی را ہ كی دوری تك پر قر ب كا اطلا ق ہو اہے ہم نے ان سب آیتو ں كو دو قسموں پر تقسیم كیا ہے :
#335 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فمن الا ول (۱) قو ل ربنا عز و جل فی سو رۃ البقر ۃ (۲) فی طہ (۳) فی الانبیاء (۴) فی الحج"
" یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم " (۵) فی مریم
" لہ ما بین ایدینا وما خلفنا وما بین ذلک " ۔فعلم الله تعالی وملكہ لا یمكن اختصا صہ بقر یب او بعید سواء اخذا الظرف مكا نیا او زما نیا او لو حظ معنی عا م كما ھو الانسب با لمقا م الا فخم (۶) فی سو ر ۃ البقر ۃ " فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ مصدقا لما بین یدیہ"
(۷)فی آل عمران :" نزل علیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ" ۔
(۸) فی سو ر ۃ الانعا م :" و ہذا کتب انزلنہ مبرک مصدق الذی بین یدیہ" ۔ قسم اول :(۱) سور ۃ بقر ہ(۲) سورہ طہ(۳) سورہ انبیاء(۴) سورہ حجان سب سورتو ں میں آیا ت كے ا لفاظ یكسا ں ہیں " یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم "ان كے پس و پیش كا اسے علم ہے۔(۵) سورہ مر یم شر یف كی آیت
" لہ ما بین ایدینا وما خلفنا وما بین ذلک " ۔الله تعالی ہی كے لیے ہے ہما رے پس و پیش اور اس كے در میا ن كی حكومت۔ ظا ہر ہے كہ الله تعالی كی حكو مت اور اس كا علم قر یب یا بعید كے سا تھ خاص نہیں ۔(۶) سورہ بقر ۃ میں
" فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ مصدقا لما بین یدیہ"
پاك نے قر ان عظیم كو اپ كے قلب پر اتا را جو اپنے سے پہلے كی تصد یق كر تا ہے ۔
(۷) آل عمر ا ن میں نز ل علیك الكتا ب با لحق مصد قا لما بین ید یہ آپ پر كتا ب اتا ری حق كے سا تھ جو گز رے ہوئے كی تصدیق كرتی ہے ۔
(۸) سور ہ انعا م میں :"ہم نے اس مبا ر ك كتا ب كو اتا را جو گزرے ہو ئے كی تصد یق كر تی ہے ۔"
#336 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۹)فی یو نس:" وما کان ہذا القران ان یفتری من دون اللہ ولکن تصدیق الذی بین یدیہ" ۔
(۱۰)فی یوسف: "ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل کل شیء" ۔
(۱۱)فی سبا"و قال الذین کفروا لن نؤمن بہذا القران ولا بالذی بین یدیہ " ۔
(۱۲)فی الملئكۃ والذی اوحینا الیک من الکتب ہو الحق مصدقا لما بین یدیہ " " ۔
(۱۳)فی حم السجد ۃ"و انہ لکتب عزیز ﴿۴۱﴾ لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ "
" ۔
(۱۴)فی الحقا ف"قالوا یقومنا انا سمعنا کتبا انزل من بعد موسی مصدقا لما بین یدیہ" ۔ (۹)سورہ و نس میں"یہ قرا ن غیر خدا كی طر ف سے افترا ء نہیں ہے یہ تو گزر ے ہو ئے كی تصد یق ہے"
(۱۰)سور ہ یوسف میں"یہ بنا و ٹ كی با ت نہیں لیكن اپنے سے پہلے كا مو ں كی تصد یق اور ہر شیئ كی تفصیل ہے"
(۱۱)سورہ سبا میں كا فر و ں نے كہا ہم نہ تو اس قرا ن پر ایما ن لاتے ہیں نہ اس پر جو گذشتہ ہے"۔
(۱۲)سورہ ملئكہ میں"جو كتا ب ہم نے آپ كی طر ف وحی كی حق ہے اور گز ر ے ہو ئے كی تصد یق ہے"
(۱۳)سورہ حم السجد ہ میں"یہ عز ت وا لی كتا ب كی با طل كو اس كی طر ف را ہ نہیں نہ اس كے آگے سے نہ پیچھے سے۔"
(۱۴)سور ہ احقا ف میں سورہ احقا ف میں"اے ہما ری قو م !ہم نے ایك كتا ب سنی جو مو سی كے بعد اتا ری گئی اگلی كتابوں كی تصد یق فر ما تی ہے۔"
(ان سب آیا ت میں ہے كہ قرا ن عظیم گزشتہ كتا بو ں كی تصدیق كر تا ہے)
#337 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فا لقران الكر یم مصد قا لكل كتا ب الہی نزل قبلہ قریبا او بعیدا ولا یخالفہ عــــــہ۱ شیئ من كتب الله تعالی و الكفر ۃ عــــــہ۲ بشیئ لا یو منو ن۔
(۱۵)ومن ذلك فی ال عمران عن عبد ہ عیسی علیہ الصلو ۃ والسلا م" ومصدقا لما بین یدیہ من التورىۃ "
(۱۶)فی الما ئد ۃ" وقفینا علی اثرہم بعیسی ابن مریم مصدقا لما بین یدیہ من التورىۃ ۪"
(۱۷)فی الصف"مصدقا لما بین یدی من التورىۃ و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد "
فما فسروہ الا با لقبیلۃ حملا لہ علی نظا ئر ہ فی االقران العز یز اور بلا شبہ قرا ن عظیم تما م ہی گزری ہو ئی آسما نی كتا بو ں كی تصدیق فر ما تا ہے قر یب كی ہو یا بعید كی اور گزشتہ كتا بو ں میں كو ئی بھی اس كی مخا لفت نہیں كر تی۔اور كا فر كسی پر بھی ایما ن نہیں لا تے۔
(۱۵)آل عمران كی یہ ایت بھی قسم اول میں ہی ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام كی حكا یت كر تی ہے كہ"میں تصد یق كر تا آیا ہو ں اپنے سے پہلی كتا ب تو ریت كی۔"
(۱۶)سورہ ما ئد ہ كی آیت"ہم ان نبیو ں كے نشا ن قد م پر عیسی بن مر یم كو لا ئے تصد یق كر تا ہوا تو ریت كی جو اس سے پہلے تھی"
(۱۷)اور سورہ صف كی آیت"میں اپنے سے پہلے كتا ب توریت كی تصد یق كر تا ہو ااور ان رسو ل كی بشا رت سنا تا ہوا جو میر ے بعد تشر یف لا ئیں گے ان كا نا م احمد ہے"
ان آیا ت میں لفظ"بین ید یہ"كہ حضو ر پر حمل كیا جا سكتا تھا لیكن مفسیر ین نے اس كی

عــــــہ۱:نا ظر الی الا یۃ الثا لثۃ عشر ۱۲منہ علیہ الر حمۃ۔
عــــــہ۲:نا ظر الی الا یۃ الحا دیۃعشر ۱۲منہ۔ عــــــہ۱: تیر ھو یں آیت كی طر ف اشا رہ ہے
عــــــہ۲: گیا رھو یں آیت كی طر ف اشا ر ہ ہے۔
#338 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وھو الذی یسبق الی الفھم و ان امكن حملہ ھھنا علی الحضور۔
(۱۸)فی سو رۃ البقر ۃ "فجعلنہا نکالا لما بین یدیہا وما خلفہا" علی التفسیر لما قبلھا وما بعد ھا من الا مم اذا ذكرت حا لھم فی زبر الا ولین واشتھر ت قصتھم فی الا خر ین(بیضا وی )
(۱۹)وفی حم السجدۃ"اذ جاءتہم الرسل من بین ایدیہم و من خلفہم" عن الحسن انذروھم من وقائع الله فیمن قبلھم من الا مم وعذا ب الا خر ہ ۱ھ (نسفی )او من قبلھم ومن بعد ھم اذقد بلغتھم خبر المتقد مین و اخبر ھم ھو د و صا لح عن المتا خر ین دا عین الی الا یما ن بھم اجمعین(بیضا وی )
(۲۰)فی الا حقا ف"اذ انذر قومہ بالاحقاف و قد خلت النذر من بین یدیہ و من خلفہ " قبل ھود(ومن خلفہ)من بعدہ الی اقو امھم(ان لا تعبد و تفسیر من قبلہ سے كی ہے كہ ذہن كا تبادر اسی طر ف ہو تا ہے۔
(۱۸)اور سورہ بقر ہ میں"تو ہم نے(اس بستی كا)واقعہ اس كے آگے اور پیچھے وا لو ں كے لیے عبر ت كر دیا"اس كی تفسیر بھی "اگلی اور پچھلی امتیں"كی گئی جس كا ذكر گزشتہ امتو ں میں مذكور اور بعد وا لی قو مو ں میں مشہو ر ہوا(بیضا وی)
(۱۹)اور حم سجد ہ میں"اور جب رسو ل ان كے آگے پیچھے پھرتے تھے"حضر ت حسن بصر ی سے اس كی تفسیر مر وی ہے كہ رسو ل انہیں پہلی امتو ں كے حا دثا ت اور آ خر ت میں آنے وا لے عذا ب سے ڈر ا تے(نسفی)یا گزشتہ اور آئند ہ قومیں كہ انہیں پہلو ں كی خبر پہنچی اور ہو د اور صا لح علیہ السلا م نے نہیں دعو ت دیتے ہو ئے متا خر ین كا حا ل بتا یا(بیضا و ی)۔
(۲۰)سو رہ احقا ف میں حضر ت ہو د نے اپنی قو م كو مقا م احقاف میں ڈرا یا اور اس كے پہلے سنا نے والے گزر چكے تھے اور بعد میں آئے یعنی حضرت ہود سے پہلے اور ان كے بعد اپنی
#339 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ا الا الله )(جلا ل )"۔
ومن الثا نی(۲۱)فی الا عرا ف"وہو الذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ" ۔
(۲۲)وفی الفرقان" وہو الذی ارسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ "
(۲۳)فی النمل"امن یہدیکم فی ظلمت البر و البحر و من یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ " (فا نھا تد ل علی قر ب المطر)۔
(۲۴)فی الا عرا ف" لاتینہم من بین ایدیہم و من خلفہم وعن ایمنہم وعن شمائلہم
" فلابد للموسوس من القرب وا لعیا ذ با لله تعالی ۔ قوموں كی طرف كہ سوائے خدا كے كس اور كو نہ پوجو(جلالین)
قسم ثا نی(۲۱)سور ہ اعرا ف میں"الله تعالی نے ہو ا ؤ ں كو با رش سے پہلے بشا ر ت دینے وا لی بنا كر بھیجا۔"
(۲۲)سور ہ فر قا ن میں"الله تعالی نے ہو ا ؤ ں كو با ر ش سے پہلے بشا ر ت دینے والی بنا كر بھیجا۔"
(۲۳)سورہ نمل میں"یا وہ جو تمھیں را ہ دكھا تا ہے اندھیریوں میں خشكی اور تر ی كیاور وہ كہ ہو ا ئیں بھیجتا ہے اپنی رحمت كے آگے خو
شخبر ی سنا تی"(ان آیات میں بین یدیہ قریب ہونے پر دلالت كرتاہے)۔
(۲۴)اعرا ف میں"ہم ان پر آئیں گے ان كے آگے ان كے پیچھے اور دا ئیں با ئیں"اس آیت میں شیطا نو ں كو وسو سہ كا بیان ہے جس كے لیے ان كا ان لو گو ں كے قر یب ہو نا ضرو ری ہے جن كو وسو سہ دیں بے اس سے خدا كی پنا ہ)
#340 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۲۵)فی الر عد" لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ"
فا ن شا ن الحا فظ القر ب۔
(۲۶)فی سبا " افلم یروا الی ما بین ایدیہم وما خلفہم من السماء و الارض " یر ید سما ء الد نیا المرئیۃ لنا الا قر ب الینا۔
(۲۷)فیھا" و من الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ (الی قولہ عز وجل) یعملون لہ ما یشاء من محریب و تمثیل و جفان کالجواب و قدور راسیت " ۔فان المقصود من العمل بین ید ی الملك ان یكون بمرای منہ علی وفق ما یشاء۔
(۲۸)فیھا" ما بصاحبکم من جنۃ ان ہو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید ﴿۴۶﴾" دل علی قر ب القیا مۃ۔ (۲۵)سو رہ رعد میں"اس كے نگرا ن اس كے آگے پیچھے ہیں۔ "اس آیت میں نگر ا نی كا ذكر ہے جو قر یب سے ہو تی ہے۔
(۲۶)سورہ سبا میں"تو كیا انہو ں نے نہ دیكھا جو ان كے آگے اور پیچھے ہے آسما ن و زمین۔"اس آیت سے سما ء سے مرا د آسما ن دنیا ہے جو نسبۃ ہم سے قر یب ہے اور ہم پر سا یہ فگن ہے۔
(۲۷)اس میں ہے"اور جنو ں میں سے وہ جو اس كے آگے كا م كر تے اس كے رب كے حكم سے اس كے لیے بنا تے جو وہ چا ہتا اونچے اونچے محل اور تصویر یں اور بڑے بڑے حو ضو ں كے بر ابر لگن اور لنگر دا ر دیگیں۔"
اس آیت میں با دشا ہ كے حسب مر ضی كا م كر نیو ا لو ں كے اس كے سا منے ہو نے سے مرا د اس كی نگا ہ میں ہو نا ہے۔
(۲۸)اسی میں"تمھا ر ے ان صا حب میں جنو ن كی كو ئی با ت نہیں وہ تو نہیں مگر تمھیں ڈر سنا نے وا لے ایك سخت عذا ب كے آگے۔"اس میں لفظ بین ید ی قیا مت كے قر ب پر دلا لت كر تا ہے۔
#341 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۲۹)فی یس" و جعلنا من بین ایدیہم سدا و من خلفہم سدا" ۔ھذا علی الاتصال الحقیقی لیورث العمی و العیاذ با لله تعالی ۔
(۳۰)وفیھا( و اذا قیل لہم اتقوا ما بین ایدیکم من عذاب الدنیا كغیركم(وما خلفکم )من عذاب الاخرۃ (جلال )
(۳۱)فی حم سجد ہ(و قیضنا لہم قرناء فزینوا لہم ما بین ایدیہم من امر الدنیا و اتباع الشہوات(و ما خلفہم ) من امر الا خر ۃ)(جلا ل )
(۳۲)فی الحجرا ت:" یایہا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ" فان المفاد النہی عن قطع امر قبل حكم الله ورسو لہ و تصو یر
(۲۹)سو ر یس میں"ہم نے ان كے آگے ایك دیو ا ر بنا دی اور ان كے پیچھے ایك دیو ار۔"یہا ں لفظ بین اید ی اتصا ل حقیقی كے لیے ہے تا كہ نا بینا ئی پید ا ہو"(پناہ بخد ا)
(۳۰)اسی میں ہے"جب ان سے كہا گیا كہ سا منے اور پیچھے كے عذا ب سے بچو۔"یعنی دو سر و ں كی طر ح كہا گیا كہ عذا ب سے بچو۔یعنی دوسرو ں كی طر ح كہا گیا كہ عذاب دنیا اور عذا ب آخرت سے بچو(جلا لین)
(۳۱)حم سجد ہ میں"اور ہم نے ان پر كچھ سا تھی تعینا ت كئے انہو ں نے انہیں مزین كر دیا جو ان كے آگے اور جو ا ن كے پیچھے ہے"مابین اید یھم سے مرا د امو ر دنیا اور شہوتوں كی اتباع اور خلفھم سے مراد امو ر آخر ت(جلا لین)
(۲۳)سورہ حجرا ت میں"اے ایما ن وا لو !الله و رسو ل پر سبقت نہ كر و اس آیت میں نفی كا مفا د حكم خدا رسو ل سے پہلے كسی امر كے فیصلہ كی مما نعت ہے اور اسكی شنا عت
#342 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
شنا عۃ ھذا المحسو س وھو تقد م العبد علی مو لا ہ فی المسیر و انما یستھجن من قر ب ما۔

(۳۳)فی الحد ید" یوم تری المؤمنین و المؤمنت یسعی نورہم بین ایدیہم و بایمنہم" كلمۃ "یسعی"
تد ل علی ارادۃ ما ینو رلھم فالمد لو ل القر ب اما النو ر فمتصل حقیقۃ۔

(۳۴)فی المجا دلۃ" یایہا الذین امنوا اذا نجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوىکم صدقۃ " ۔
(۳۵)فیھا" ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوىکم صدقت " فا ن المقصو د تعظیم الر سو ل صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یظہر الا با لقر ب۔
(۳۶)فی الممتحنۃ(و لا یاتین ببہتن یفترینہ بین ایدیہن و ارجلہن )ای بولد ملقوط ینسبہ الی الزوج كو محسو س كے سا تھ ممثل كر كے دكھا یا گیا اگر چلنے میں غلا م اقا سے آگے چلنے تو بر ا ہے اور یہ بر ا ئی قر ب كے سا تھ ہی مخصو ص ہے۔
(۳۳)سورہ حد ید میں"اس دن تم دیكھو گے كہ مو من كہ مومن مرد و ں اور عو رتو ں كا نو ر ان كے آگے اور دا ئیں چلے گا۔ "یہا ں كلمہ"یسعی"اس با ت پر دلا لت كر تا ہے كہ آگے اور دا ئیں سے مراد وہ جگہ ہے جو ان كے لیے رو شن كی گئی ہے تو یہاں بین ید یہ سے مرا د قر ب ہے"اور نور تو مو منو ں سے متصل ہی ہو گا۔
(۳۴)سورہ مجا دلہ میں ہے:"اے ایما ن و الو !رسو ل كر یم سے با ت كر نا چا ہو تو اس سے پہلے صد قہ پیش كر و۔"
(۳۵)اسی میں ہے:"با ت چیت سے قبل صد قہ پیش كر نے سے ڈر رہے ہو"ان دو نو ں آیتو ں میں مراد تعظیم رسو ل ہے تو یہ قر ب سے ہی ظا ہر ہو گی۔
(۳۶)سو ر ۃ ممتحنہ میں ہے:"ایسا بہتا ن نہ ظا ہر كر و جسے تم نے اپنے ہا تھو اور پیر و ں كے بیچ گا ڑا ہو۔"وہ لڑكا جو دوسر ے كا ہو
#343 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ووصف بصفت الو لد الحقیقی فا ن الا مر اذا وضعتہ سقط بین یدیھا ورجلیھا ۱ھ(جلال )فھذا علی الحقیقۃ التر كیبیۃ۔
(۳۷)فی التحر یم" نورہم یسعی بین ایدیہم و بایمنہم"
(۳۸)فی الجن("علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ﴿۲۶﴾ الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک" )یجعل و یسیر (من بین یدیہ)ای الرسول(ومن خلفھم رصدا) ملئكۃ یحفظونہ حتی یبلغہ فی جملۃ الو حی(جلال )ھذہ و اضحا ت۔
ومنھا" فجعلنہا نکالا لما بین یدیہا وما خلفہا " علی الا ظہر الا شہر ای الا مم التی فی زما نھا و عو رت اس كو اپنے شو ہر كی طر ف منسو ب كر ے اور اس كو شو ہر كا حقیقی لڑكا بتا ئے تو عور ت جب بچہ جنے گی تو وہ حقیقتا اس كے پاؤں اور ہا تھوں كے بیچ میں ہو گا تو یہا ں بین ید یہ كے معنی حقیقی تر كیبی مراد ہیں۔"
(۳۷)سو ر ۃ تحر یم میں"ان كا نور انكے آگے آگے اوردا ئیں چل رہا ہو گا۔"
(۳۸)سور ہ جن میں"الله تعالی علم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر اپنے پسند ید ہ رسو لو ں كے سو ا كسی كو مطلع نہیں كر تا ان رسو لو ں كے آگے پیچھے نگر ا ن چلتے ہیں۔"یعنی فر شتے جو وحی كی تبلیغ تك ان كی حفاظت كر تے ہیں یہ سب آیا ت وا ضح ہیں۔
اسی سے ہے:"ہم نے(اس بستی)كا یہ وقعہ اس كے آگے اور پیچھے وا لو ں كے لیے عبر ت كر دیا"مشہو ر اور ظا ہر یہی ہے كہ ما بین ید یہ اور خلفہ سے مر اد وہ امتیں
#344 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بعد ھا(جلا ل )اولما بحضر تھا من القر ی وما تباعد عنھا او لاھل تلك القریۃ وما حوالیھا (بیضاوی )وكذا" اذ جاءتہم الرسل من بین ایدیہم و من خلفہم" علی معنی اتو ھم من كل جا نب وعملو ا فیھم كل حیلۃ ۱ھ(مدا ر ك )"۔
واما تفسیر ائمۃ اللغۃ وا لتفسیر ففی الصحا ح والقاموس ثم مختا رالصحاح و تاج العروس وغیرھا "بین ید ی السا عۃ"ای قدامھا وفی الصرا ح"بین ید ی پیش رو ئے اووفی التا ج"یقا ل بین یدیك بكل شیئ امامك اھو فی معالم التنزیل من الھجرات "معنی بین الیدین الامام و القدام ۔و ہیں جو اس زما نہ میں تھیں اور ان كے بعد میں(جلا لین)یا جو دیہات قر یب تھے اور وہ جو دو ر تے یا ان دیہا تو ں وا لے (بیضاو ی)ایسا ہی آیت مبا ر كہ"جب الله تعالی كے بھیجے فر شتے آئے ان كے آگے اور پیچھے اس"آیت كے معنی یہ ہیں فر شتے ان كے پا س ہر طر ف سے آئے اور ان كے سا تھ ہر طرح كے حیلے بر تے(مد ا رك)۔
ائمہ تفسیر و لغت كا بیان یہ ہے:۱صحا ح۲قاموس۳مختا ر الصحاح ۴تا ج العر و س وغیر ہ میں بین ید ی الساعۃ كے معنی قیامت سے پہلے اور۵صرا ح میں آگے جا نے والے اور۶تا ج العروس میں ہے كہ بین یدیك ہر اس چیز كو كہا جا ئے گا جو تمھارے آگے ہو۔۷معا لم التنزیل تفسیر سورہ حجر ات میں بین الیدین كے معنی آگے ہے۔اور
#345 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الخازن من آل عمرا ن ما بین ید یہ فھو اما مہ وفی ابی السعو د و الفتو حا ت الا لھیتہ من یو نس علیہ الصلو ۃ والسلا م"بین ید یہ ای اما مہ وفی الجلا ل من الر عد بین ید یہ قد امہ وفیہ من مر یم ما بین ا ید ینا ای اما منا وفیہ وفی غیر ہ من البقر ۃ وغیر ھا مصدقا لما بین یدیہ قبلہ من الكتب ثم فی الانموذج الجلیل تحت الكریم السا دسۃ والعشرین" ما بین ید ی الانسا ن ھو كل شیئ یقع نظر ہ علیہ من غیر ان یھول وجہہ الیہ وفی الكرخی ثم الفتوھات الا لہیۃ ایضا تحتھا من المعلو م ان ما بین ید ی الانسا ن ھو كل ما یقع نظر ہ علیہ من غیر ا ن یحو ل وجھہ الیہ وفی تكملۃ مجمع البھا ر فعلتہ بین ید یك ای بحضر تك "۔ ۸خا زن میں بین ید یہ كے معنی جو اس كے آگے ہو۔۹تفسیر ابو سعود اور فتوحات الہیہ میں سورۃ یونس علیہ السلام میں بین یدیہ كے معنی"اس كے آگے"اور۱۰جلالین میں سورہ رعد كے لفظ بین یدیہ كے معنی"اسكے آگے"۔اسی۱۱میں سورہ مریم كے لفظ مابین ایدینا كے معنی كے ہمارے آگے۔اسی۱۲میں اور ۱۳دیگر تفاسیر میں سورہ بقرہ اور دیگر سورتوں كے لفظ مصدقا لما بین یدیہ كے معنی اس سے پہلےكی كتابیں ہے۱۴انموذج جلیل میں ۲۷ویں آیت كے تحت ہے: مابین یدی الانسان ہر وہ چیز جس پر انسان كی نظر چہرے پھیرے بغیر پڑے۔ ۱۵كرخی اور۱۶فتوحات الہیہ میں اسی آیت كے تحت ہے:انسان كےمابین یدیہ وہ چیز ہے جس پر اسكی نظر چہرہ پھیرے بغیر پڑے۔۱۷تكملہ مجمع البحار میں ہے:فعلتہ بین یدیك كا ترجمہ "میں نے اس كو تیرے حضور میں كیا"—
#346 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وفی عنا یۃ القا ضی من ایۃ الكر سی اطلا ق ما بین اید یھم علی امور الد نیا الانھا حا ضر ہ والھا ضر یعبر عنہ بذلك۔وامور الاخر ہ مستتر ۃ كما یستتر عنك ما خلفك وفی الجمل منھا ما بین اید یھم ای ما ھو حاضر مشاھدلھم وفی الخطیب الشر بینی ثم الجمل(بین ید ی الله ورسو لہ)معنا ہ بحضر تھما لان ما یحضر ہ الانسا ن فھو بین ید یہ نا ظر الیہ الخ"یا تی تما مہ۔
فا ستبا ن لك با القران العظیم والحدیث و نصو ص ائمۃ القدیم والحدیث ان لا دلا لۃ اصلا لقول الفقھاء یوذن بین ید ی الخطیب علی كو ن الاذان دا خل المسجد فضلا عن كو نہ لصیق المنبر۔
فاولا:لایتعین فی افا دۃ القر ب كما یظہر من عشر ین اور۱۸عنایۃ القاضی میں آیۃ الكرسی كے مابین یدیہ كے معنی لكھے ہیں كہ مابین یدیہ كا اطلاق امور دنیاپر ہے كہ وہ تمھارے سامنے ہیں۔اور حاضر كی تعبیر مابین یدیہ سے كی جاتی ہے۔اور امور آخرت تم سے پوشیدہ ہیں جیسے وہ چیز تمھارے پیچھے ہو۔اور جمل ۱۹ میں اسی آیت كی تفسیر میں مابین ایدیھم كے معنی"جو حاضر و مشاہد ہو"لكھے ہیں۲۰خطیب شربینی اور ۲۱جمل میں بین یدی الله و رسولہ كے معنی"ان دونوں كے حضور كئے ہیں كہ جو آدمی كے پاس ہو وہ ہبین یدیہ ہےاور آدمی اس كو دیكھنے والا ہے۔(پوری بات آگے آرہی ہے)
تو قران عظیم احا دیث كر یمہ اور قد یم و جد ید ائمہ كی نصو ص سے ظا ہر ہو گیا كہ قو ل فقہاء یو ذن بین ید ی الخطیب كی دلا لت مسجد كے اند ر ہو نے پر بھی نہیں چہ جا ئیكہ منبر كے پا س ہو۔
اولا:لفظ بین ید یہ افا دہ قر ب میں متعین نہیں جیسا كہ پہلے ذكر كی ہو ئی بیس
#347 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ایۃ تلو نا اولا و مما ذكر نا من كتب اللغۃ والتفسیر سا بقا فا نما غرضھم افا دہ ان السنۃ فی ھذا الاذان مضا ذا ۃ الخطیب كما قا ل فی النا فع شر ح القد وری اذن المؤذنو ن بین ید ی المنبر)ای فی حذا ئہ اھ فھذا ھو المقصو د با لا فا دۃ ھھنا اما ان الاذان لا یكون فی جو ف المسجد ولا بعیدا عنہ بل فی حد ود ہ و فنا ئہ فمسأ لۃ اخر ی معلو مۃ فی محلھا و بھا تتعین محل ھذا المحا ذا ۃ كما قد منا۔
وثا نیا:سلمنا القر ب فھو امر اضافی و قر ب كل شیئ بحسبہ الا تر ی۔
(۱)الی الا یۃ الحا دیۃ والعشر ین دلت علی قر ب المطر لكن لیس ان تھب الریاح فینزل بل كماقال عزوجل " حتی اذا اقلت سحابا ثقالا سقنہ لبلد میت فانزلنا بہ الماء" ۔
(۲)فی السا دسۃ و العشر ین آیتو ں سے ظا ہر ہو ا اور پہلے ذكر كئے ہو ئے ائمہ لغت و تفسیر كی تصر یحا ت سے ظا ہر ہوا فقہا ء كی غر ض تو یہ بیا ن كر نا ہے كہ ا س اذا ن میں مسنون خظیب كا سامنا ہے جیسا كہ نا فع شرح قد ور ی كی عبا رت سے ظا ہر ہے كہ جب مو ذنین خطیب كے سامنے اذا ن دے لیں فقہا ء كو اس عبارت سے صر ف سامنا بتا نا ہے یہ با ت كہ اذا ن جو جو ف مسجد میں نہ ہو نہ مسجد سے دور ہو بلكہ مسجد كے حدود و اطرا ف میں ہو یہ ایك دوسر ا مسئلہ ہے جس كو با ب الاذان میں بیا ن كیا گیا ہے اور اس دوسر ے مسئلہ سے سا منے كی دوری متعین ہو تی ہے۔
ثا نیا:اور اگر بین ید یہ كے معنی قر یب تسلیم بھی كر لیے جا ئیں تو قر ب اسی كے حسا ب سے ہوگا
(۱)دیكھو اكیسو یں۲۱ آیت میں بین یدیہ كے معنی بار ش قریب ہو نے كے ہیں لیكن ایسا نہیں كہ ہو ا چلی اور با ر ش آئی بلكہ اس طر ح جیسا قران عظیم میں ہے:"ہو ا نے با دل كو اٹھا لیا تو ہم نے اسے خشك علا قہ كی طر ف روا نہ كیا تو اس سے بار ش ہوئی۔
(۲)۲۲ویں آیت میں آسما ن كو
#348 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
جعل السما ء بین اید ینا و بیننا وبینھا مسیر ۃ خمسمائۃ سنۃ و ھذا تر جما ن القران علا مۃ الكتا ب من افصح العرب واعلمھا با للسا ن عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنھما یقول فی تفسیر ایۃ الكرسی یعلم ما بین ایدیھم یر ید من السما ء الی الارض وما خلفھم یرید فی السموات(روا ہ الطبرانی فی كتا ب السنۃ)
(۳)وفی السا بعۃ والعشر ین ذكر عمل الجن بین ید ی سید نا سلیمن وھو لا ء الجن ھم الشیا طین كما قال تعالی " والشیطین کل بناء و غواص ﴿۳۷﴾" وما كا ن لھم ان ید خلو الحضر ۃ السلیما نیۃ لیعملو ا ثمہ محا ریب و ما ثیل و جفا نا كا لجو اب و قد ور رسیت تكفی وا حد ہ منھا الف رجل۔
وروی ابن ابی حتم فی تفسیر ہ عن سیدنا سعید بن جبیر قا ل كا ن یو ضع لسلیما ن علیہ السلا م علیہ الصلو ۃ و السلا م ثلثما ئۃ الف كر سی فیجلس مو منو الانس مما یلیہ و مو منو الجن من ورا ئھم اھ ہما رے قر یب(بین ید یہ)بتا یا اور وہ ہم سے پا نچ سو بر س كی را ہ كی دوری پر ہے حضر ت ترجما ن القران علا مۃ الكتا ب افصح العر ب اور اعلم القو م با للسا ن سید نا ابن عبا س رضی الله تعالی عنہ نے آیۃ الكر سی كے یعلم ما بین اید یھم كے معنی زمین سے آسمان تك بتا ئے اور ما خلفھم كے معنی آسما ن متعین فرمائے طبرا نی نے سے كتا ب السنہ میں روا یت كیا
(۳)۲۷ویں آیت میں كہا گیا كہ جن حضرت سلیما ن علیہ السلا م كے سا منے(بین ید یہ)چیزیں بنا تے تھے حا لانكہ وہ شیا طین تھے حضر ت سلیمان علیہ السلا م كے دربا ر میں دا خل ہو كر وہ عظیم الشا ن عما ر تیں مجسمے اور مید ا نو ں كی طر ح وسیع و عر ض لگن بڑی بڑی دیگیں كہ ایك ہزا ر آدمیو ں كے كھا نے كو كا فی ہو ں بنا ہی نہیں سكتے تھے۔
ابن ابی حا تم نے اپنی تفسیر میں حضر ت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ سے ر وایت كی كہ حضر ت سلیما ن علیہ السلا م كے در با ر میں تین لا كھ كر سیا ں بچھا ئی جا تیں جن پر مو من انسا ن بیٹھتے ان كے پیچھے مو من جن ہو تے تو شیطا ن تو ان
#349 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فما كا نت الشیا طین الا ورا ء كل ذلك
(۴)وفی الثا منۃ وا لعشیر ن ارشد الی ان بعثۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم بقر ب القیا مۃ كما قا ل صلی الله تعالی وعلیہ وسلم بعثت انا وا لسا عۃ كہا تین(روا ہ احمد والشیخا ن عن سھل بن سعد وھم والتر مذی عن انس رضی الله تعالی عنہما)وقد ا مھل الله الا مۃ المر حو مۃ الی وقتنا ھذا الفا و ثلثما ئۃ وخمسا اربعین سنۃ و سنزید والحمد لله الحمید ولم ینا ف ذلك الا یۃ ولا قو لہ صلی الله تعالی وسلم بعثت طین ید ی السا عۃ با لسیف حتی یعبد الله تعالی وحدہ لا شر یك لہ(روا ہ احمد وابو یعلی و الطبرا نی فی الكبیر بسند حسن عن عبد الله بن عمر رضی الله تعالی عنہ وعلقہ البخا ر ی)۔
(۵)الانجیل بین ید ی القران و بینھما فی النزو ل اكثر من ستما ئۃ سب كے بعد میں ہی ہو ں گے۔
(۴)اٹھا ؤیو یں آیت میں ارشاد فر ما یا حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم كی بعثت قیا مت كے قر یب ہے خو د حضور صلی الله تعالی وسلم نے بھی ارشا د فر ما یا میں اور قیا مت ان دو انگلیو ں كی طر ح سا تھ سا تھ مبعو ث كئے گئے(احمد و شیخا ن نے سہل بن سعد سے اور تر مذی نے حضر ت انس رضی الله تعالی عنھما سے اس كو روا یت كیا)اور الله توا لله تعالی نے آج ۱۳۳۳ھ تك امت مر حو مہ كو مہلت دی اور اس كے بعد بھی یہ امت باقی رہے گی اس كے با وجو د یہ مہلت نہ تو آیت با قی رہے گی اس كے با وجو د یہ مہلت قیا مت كے قر یب تلو ار دے كر بھیجا گیا تا كہ لو گ ایك خدا كو پو جیں(احمد وابو یعلی اور طبرا نی نے كبیر میں عبد الله بن عمر رضی الله تعالی عنہ سے اس حد یث كو سند حسن كے سا تھ روا یت كیا)۔
(۵)انجیل"بین ید ی القران" ہے اور ان دو نو ں كے بیچ میں چھ سو سا ل
#350 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
سنۃوالتو را ۃ بی ید ی الانجیل و بین عیسی و مو سی علی ما فی الجمل الف و تسعما ئۃ و خمس و سبعو ن سنۃ و كذا ھی بین ید ی والفر قا ن و بین نزولیھما نحو من ثلثۃ الا ف سنۃ۔
(۶)لا یر تا ب احد ان المو ا جہ المغر ب حین تد لت الشمس للغر و ب ان یقو ل ان الشمس بین ید ی و با لفا رسیۃ"آفتاب پیش رو ئے من است"او بالھند یۃ" سو ر ج میر ے منہ كے سا منے ہے"مع ان بینھما مسیر ۃ ثلثۃ الا ف سنۃ وكذا یقول للثر یا اذا وا جھھا و بینھما مسیر ۃ ثما نیۃ الا ف سنۃ۔
(۷)فی الكر یمۃ التا سعۃ والعشر ین ارید الا تصا ل الحقیقی لان العمی لا یحصل الا بذا ك فظھر ان القلب المد لول بلفظ بین ید یہ لہ عر ض عر یض منبسط من الا تصا ل الحقیقی الی مسیر ۃ ثما نیۃ الاف سنۃ۔انما اصلہ الحا ضر المشہو د و الا ختلا ف لا ختلا ف المحل والمقصود فمثملا سے ز ا ئد كا فا صلہ ہے ا۳ور تو ریت انجیل كے ما بین ید یہ ہے ان دو نو ں كے د رمیا ن حسب روا یت جمل انیس سو پچھتر ۱۹۷۵ سال كا فاصلہ ہے۔اوریو نہی توراۃ قرا ن كے بھی بین ید یہ ہے تو توریت وقرا ن شر یف كا فا صلہ لگ بھگ تین ہزار سال كا ہو ا"۔
(۶)یہ با ت یقینی ہےكہ غروب آفتا ب كے وقت پچھم كی طرف رخ كر كے كھڑا ہو نےو ا لا عر بی میں كہتا ہے: "الشمس بین یدی"اور فا رسی میں كہتا ہے:"آفتا ب پیش روئے است "اور"ہند ی میں كہتا ہے۔""سو رج میرے منہ كے سامنے ہے۔"حا لانكہ ان دونو ں كے درمیان تین ہزار سا ل كی مسا فت ہے اور یہی با ت ثر یا كی طر ف رخ كر كے بھی كہتا ہے جبكہ اس كے اور ثر یا كے درمیان آٹھ ہزار سا ل كی را ہ ہے۔
(۷)انتیسو یں آیت میں لفظ"بین ید یہ"سے مرا د اتصا ل حقیقی ہے اس لیے كہ اند ھا پن بے اس كے متحقق نہیں ہو سكتا تو اس سے یہ ثا بت ہو ا كہ لفظ بین ید یہ كے مد لو ں كی جولان گاہ اتصا ل حقیقی سے شر و ع ہو كر آٹھ ہزا ر سال كی مسا فت تك پھیلی ہو ئی ہے تو اس كی اصل حا ضر و مشہو د كے لیے ہے اور محل و مقصود كے لحاظ سے اس حضو ر میں اختلا ف ہو سكتا ہے مثلا
#351 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۱)الثریا تری من مسیرۃ كذا(۲)الشمس من كذا (۳) السما ئۃ من میسر ۃ خمسما ئۃ سنۃ فكا ن ھی القر ب فیھا(۴)وفی العملۃ من حیث یر ون فلا یفتر وا ولا یزیغوا(۵)المصلی ما مو ر بقصر بظر ہ علی مو ضع سجود ہ فھذا ھو مو ضع شہود ہ فلن یكن المرور بین ید یہ الا اذا مر بحیث لو صلی صلو ۃ الخا شعین یقع علیہ نظر ہ وھو المراد بمو ضع سجود ہ كما افا دہ المحققو ن(۶)فی قو لك جلست بین ید یہ یحتا ج الی قر ب اكثر مما یفید مجر د الا بصار فا نہ یكون للمكا لمۃ والسمع اقصر مد ی من البصر والیہ اشا روا فی الكشاف و المدارك والشر بینی وغیر ھا بقو لھم" حقیقۃ قو لھم جلست بین ید ی فلان ان یجلس بین الجہتین المسامتتین لیمینہ و شما لی قر یب منہ فسمیت الجہتا ن ید ین لكو نھما علی سمت الید ین مع القر ب منھما تو سعا كما یسمی الشیئ با سم غیر ہ اذا (۱)ثیر یا اتنی دور سے(۲)اور سو ر ج اتنی دو ر سے(۳)اور سیار ے پا نچ سو بر س كی راہ سے تو ان اشیا ء میں یہ قر یب كہا جا ئے گا(۴)اور مزدوروں میں اتنی دور سے كہ نگرا نی ہو سكےمزدور سست نہ پڑیں اور كھسك نہ سكیں(۵)اور مصلی كو حكم ہےكہ وہ اپنی نگا ہ مو ضع سجو د پر ركھے تو اس كے مو ضع سجود میں اتنی ہی دوری اصل ہے اور مصلی كے سا منے سے گزرنا تبھی كہا جا ئے گا جب گزرنے والا خشو ع كے سا تھ نما ز پڑھنے وا لے كی نگا ہ كی زد میں آئے اور یہ مو ضع سجودہی ہے جس كی محقیقین نے تصر یح كی ہے(۶)مقولہ"جلست بین ید یہ"میں مرا د حدود بصر سے بھی كم اور محد ود دائر ہ ہو گا كہ یہ بیٹھنا با ت چیت كے لیے ہے جس كا تعلق سما ع سے ہے اور سماع كا دا ئر ہ بصر ہ كے دائر ہ سے بھی محدود و مختصر ہے چنا نچہ كشا فمدارك اور شر بینی وغیر ہ كے مصنفین نے اسی امر كی طرف اشار ہ كر تے ہو ئے فر ما یاقو ل"جلست بین ید ی فلان"كی حقیقت یہ ہے كہ دائیں با ئیں كی دو مقا بل جہتو ں كے بیچ میں فلا ں كے قر یب بیٹھا جا ئے ان د ونو ں جہتو ں كو دو ہاتھ سے تعبیر كیا كہ یہ جہتیں ابہیں دونو ں ہا تھو ں پر ان سے قر یب ہیں اور یہ مجا زا ہے جیسا كہ دو پا س والی چیزو ں میں ایك كا نا م دو سر ی كو
#352 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
جا ورہ ھ
وھذا ھو تما م عبا رۃ الخطیب المو عو د قلت:
تنبیہ:وفی قو لھم اولا حقیقۃ قو لھم و اخر ا تو سعا اشارۃ الی ما قد مت من انہ مجا ز با عتبا ر معا نی
الا جزا ء التفصیلیۃ حقیقۃ با عتبا ر الا جما ل۔
(۷)یر ید رجل قرا ء ۃ القران العظیم وھو محد ث فیقو ل لعبد ہ قم با لمصحف بین ید ی فید ل علی القرب محیث یمكنہ القراءۃ منہ ویختلف باختتلاف نظر ہ حد یدا او كلیلا و ا ختلا ف خط المصحف دقیقا و جلیلا۔
وھذا ما قا لو افی مصحف مو ضو ع بین یدی المصلیأو رحل وھو لا یحمل ولا یقلب انما یقر أمنہ با لنظر فیہ لا تفسد فی الصلو ۃ عند ھماوعند ہ تفسد كما فی الھند یۃ وغیر ھا۔ دے دیا جا تا ہے ۱ھ"
(خطیب شر بینی كی یہی عبا ر ت ہے جس كا ہم نے وعد ہ كیا تھا۔)
تنبیہ:اس عبا ر ت مین اس معنی كو شرو ع میں حقیقی كہا اور بعد میں مجا زی قرار دیا اس كا مطلب یہ ہے كہ اجزا ئے تفصیلی كے معنی كے لحا ظ سے تو یہ مجا ز ہے اور اجما ل كے لحا ظ سے معنی حقیقی۔
ایك شخص قرا ن كر یم پڑھنا چا ہتا ہے مگر خو د نے وضو ہے تو وہ اپنے خا دم سے كہتا ہے میر ے سامنے قرا ن عظیم لے كر بیٹھ جا جا ؤ تو یہا ں قریب سے ایسا قر ب مراد ہو گا كہ پڑھنا ممكن ہو اور یہ قر ب تیز نگا ہی اور ضعف بصا رت كے اعتبار سے مختلف ہو گا اور تحر یر كے جلی اور خفی ہو نے كے لحا ظ سے بھی متعد د ہو گا۔
اور یہی بات مشا ئخ نے اس مصحف شر یف كے بارے میں كہی جو نما زی كے سا منے ركھا ہوا ہے یا رحل میں ہےنما زی نہ تو اسے اٹھا تا ہے اور نہ ہی ورق الٹتا ہے بلكہ فقط اس دیكھتا ہے اور قرأ ت كر تا ہے تو صا حبین كے نزدیك اس كی نماز فاسد نہ ہوگی جبكہ امام اعظم كےنزدیك فا سد ہوجا ئیگی جیسا كہ ہند یہ وغیر ہ میں ہے۔
#353 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۸)تضع شیئا بین ید ی أحد لاكلہ فھذا علی ما تصل ید ہ الیہ كحد یث البخاری عن جا بربن عبد الله رضی الله تعالی عنھما۔جئت بقلیل رطب فو ضعتہ بین ید ی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فاكل ۔
(۹)مقا بلان علی صحفۃ یا كلان منھافیأخذ احد منھما شیئا منھا ویضع بین ید ی صا حبہ فھذا علی جا نب الصحفۃ الذی یلی صا حہ كحد یث البخا ری
عن انس رضی الله تعالی عنہ فجعلت اتتبع الدبا ء وا ضعہ بین ید یہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔

(۱۰)"و جعلنا من بین ایدیہم سدا" علی الاتصال الحقیقی كما علمت۔ تم كسی كے آگے كچھ كھا نے كے لیے ركھ دو تو یہ اسی حد تك ہو گا جہا ں تك اس كا ہا تھ پہنچ جا ئے جیسا كہ حد یث بخا ری جو سیدنا جا بر بن عبد الله رضی الله تعالی عنہما سے مروی ہے كہ "میں تھو ڑی سی تر كھجوریں لا یا اور حضور انو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم كے آگے ركھ دیں جنھیں آپ نے تنا ول فر ما یا۔"
(۹)دوشخص آمنے بیٹھ كر ایك پیا لے میں كھا رہے ہو ں اور ان میں سے ایك شخص پیا لے سے كو ئی شے لے كر اپنے سا تھی كے قر یب جیسا كہ حد یث بخاری جو سید نا انس رضی الله تعالی عنہ سر مروی ہے كہ میں كد و تلا ش كر نے لگا اور اسے رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے آگے ركھنے لگا۔
(۱۰)ہم نے ان كے آگے ایك دیو ار بنا دی یہ اتصا ل حقیقی پر محمو ل ہے جیسا بنا دی یہ اتصا ل حقیقی پر محمو ل ہے جیسا كہ تو نے جا نا۔
#354 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وبا لجملۃ كل ھذہ الا ختلا فا ت انما تنشؤ من اختلاف المقا ما ت ولا دلا لۃ علی شیئ منھا للفظ بین ید یہ واذا كا ن الا مر علی ما وصفنا بطل الاستدلال بہ علی الا تصا ل او القر ب الاخص حتی یستفا د منہ كو ن الاذان دا خل المسجد فضلا عن كو نہ لصیق المنبر وھم المستد لو ن فلیا تو ا ببر ھا ن ان كا نو ا صادقین وانی لھم ذلك وا ذ قد عجز وا و لله الحمد فیسا لو نا ان نتبر ع ونفید ھم ان القر المد لو ل ھو ان یكون ظا ھر ا مشا ھد ا لا یحتاج معہ فی رؤیتہ الی تحو یل الو جہ كما قد منا التنصیص بہ عن الا ئمۃ ھذا ھو القد ر المشتر ك والزیا دۃ تستفا د من خصوص المقا م كما علمت وھی ھھنا كو ن الاذان فی حدود المسجد وفنا ئہ فتم الا مر وحصل النصر فظہر امر الله وھم كا ر ھو ن خلا صہ كلا م یہ ہے كہ قر یب كے یہ مختلف معا نی مو ارد اور مقامات كے اختلا ف كی وجہ سے پید ا ہو ئے ہیں۔ان معا نی پر دلالت كر نے میں خو د لفظ"بین ید یہ"كو كو ئی دخل نہیں اور جب صور ت حا ل یہ ہے تو لفظ بین ید یہ سے كسی خا ص قر ب پر استدلا ل با طل ہے جس سے اذا ن كا منبر كے متصل یا مسجد كے اندر ہو نا سمجھا جا ئے نہ كہ یہ حكم دیا جا ئے كہ اذا ن منبر سے لگ كر دی جا ئے اور چو نكہ اس قر ب كے مد عی وہ لو گ ہیں اور لفظ بین ید یہ سے اس مد عی پر وہی لو گ استد لا ل كر تے ہیں تو انہیں ہی علیحد ہ سے كو ئی دلیل لانی چا ہیے كہ یہا ں اس لفظ سے مراد یہی قر ب ہے اور یہ بھلا ا ن كے بس كی با ت كہا ں !اور وہ خو د یہا ں بین دید یہ كے معنی متعین كر نے سے عاجز ہو ں توہم سے دریا فت كر یں ہم تبر عا انہیں بتا تے ہیں كہ یہا .ں وہی قر ب مراد ہے جواس لفظ كا مد لو ل ہے یعنی موجو د و مسا ہد جسے دیكھنے كے لیے چہر ہ دا ئیں یا با ئیں مو ڑنے كی ضرور ت نہ پڑے قر ب كے تما م افراد میں یہی معنی مشتر ك ہے اور اس معنی پر اضا فہ تو مو قعہ استعما ل كی خصو صیت سے مستفا د ہو تاہے جو مسئلہ دائر ہ میں مسجد كی با ہر ی حد یں اور بیر ونی صحن ہے با ت مكمل ہو گئی اور مسلك حق مؤید بالدلیل ہو گیا الله تعالی كا
#355 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
والحمد لله رب العلمین۔
ثا لثا:نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم الحكم العد ل وما كا ن عھد ہ فھو الفصل الم تسمع من الحدیث الصحیح ان ھذا ا لاذا ن كا ن یكون بین ید یہ صلی الله تعالی علیہ وسلم علی با ب المسجد فعلم ان ھذا القد ر من القر ب ھو المراد ھھنا فمن زادا و نقص فقد تعد ی وظلم ای من زاد فی القرب فا دخل الاذان فی المسجد با لمعنی الاول فقد تعد ی فی سنۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم ومن نقص منہ فجعل ھذا الاذا ن خا رج المسجد با لمعا نی الثلثۃ فقد ظلم ومن جعلہ داخل المسجد با لمعینین الا خر ین و خار ج المسجد با لمعنی الا ول فھو الذی بالحق حكم و حكم الله ورسو لہ اجل واحكم جل و عز وتعالی و تكر م وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔
نفحہ ۲:ظہر مما زھر ولله الحمد سفا ھۃ من تشبث ھھنا یقو ل الرا غب فی مفرا دتہ یقول:یقال فیصلہ ظا ہر ہو گیا مگر یہ لو گ اس كو نا پسند كر تے ہیں ہم تو اس ظہو ر حق پر الله تعالی كی حمد ہی كر تے ہیں۔
ثالثا:یہا ں بین ید یہ كی حدمتعین كر نے كے لیے رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ ولسم ھكم العد ل ہیں اور جو حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد میں ہو تا تھا وہی حق و با طل كے درمیان امتیازہے جسے حد یث صحیح سے سنا جا چكا كہ حضور كے سا منے مسجد كے دروا زہ پر اذا ن ہو تی تھی تو یہا ں قر ب كی بحكم رسو ل یہی حد مقر ر ہو ئی اور جو اس پر اضا فہ كرے یااس میں كمی كرے وہ ظلم و تعدی كرنے والا ہے پس جس نے اس قرب مروی میں اضافہ كركے داخل مسجد كر دیا تو اس نے سنت رسول پر زیا دتی كیاور جس نے اس قر ب میں كمی كی كہ ہر سہ معنی مسجد سے اس كو خا رج كرد یا اس نے بھی ظلم كیا اور جس نے دو آخری معنی كے اعتبا ر سے خا رج مسجد كیا اور معنی اول كے اعتبا ر سے دا خل مسجد كیااس نے حق كے موافق حكم كیا اور حكم و الله ورسو ل جل وعلا صلی الله علیہ وسلم كا ہے۔
نفحہ ۲:الحمد لله گز شتہ صفحا ت میں تحقیقات كے جو گلشن لہلہا ئے ان سے ان صا حب كی نا سمجھی ظا ہر ہو گئی جنھو ں نے اذا ن خطیب كے دا خل مسجد ہو نے پر مفردات اما م راغب
#356 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ھذا الشیئ بین ید یك ای قر یبا منك ۱ھ وبكلا م الكشاف والمدارك:حقیقۃ قولھم جلست بین یدی فلان الخ
فاولالاننكر ان اللفظ ربما یلا حظ فیہ القر ب ولكن قد علمت ان للقر ب عرضا بعیدا۔
وثا نیا:لم ید را ن الزیا دۃ فی جلست بین ید یہ مستفا دمن خصو ص الجلو س كما بینا ولہ ایضا عر ض عر یض فا لو زیر الا عظم والسو قی حضر ا فا مر السلطا ن با لجلو سكلا ھما یقو ل جلست بین ید ی الملك ولكن شتا ن ما قر ب الو زیر وقر ب من فی صف النعا ل او لعلہ لم یجلس الا علی عتبۃ البا ب فینقلب السند علی من استذا ذ صد ق علی من فی البا ب كو نہ بین ید ی من فی صد ر اصفہا نی كے اس قول سے استد لا ل كیا كہا جا تا ہے كہ یہ چیز تمھاتے سا منے ہے یعنی تم سے قریب ہے اور كشا ف اور مدارك كے مذكو رہ با لاقو ل سے"میں فلا ں كے سا منے بیٹھا الخ"۔
اولا:ہم تو اس كا اعترا ف ہی كر تے ہیں كہ لفظ بین یدیہ بسا اوقات قر ب كے لیے استعما ل ہو تا ہے لیكن خو دقر ب میں بھی تو بڑی وسعت ہے۔
ثا نیا:انھیں یہ امر محسو س ہی نہ ہو ا كہ یہا ں لفظ بین ید یہ كے معنی مشتر ك حا ضر و مشا ہد پر قر ب كی زیا دتی جلو س كی خصوصیت سے مستفاد ہے پھر اس جلو س خا ص كے بھی متعد د مراتب ہیں ایك با زا ری آدمی اور وزیر اعظم دو نو ں با دشا ہ كے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور دونوں ہی اپنے بارے میں كہتے ہیں كہ میں بادشاہ كے پا س بیٹھا تھالیكن دو نو ں پا س میں كتنا فرق ہو تا ہے كہ وزیر با دشا ہ كے سا تھ صد ر میں ہو تا ہے اور عا م آدمی جو تا نكا لنے كی جگہ بلكہ چو كھٹ كے با ہر تو اس لفظ سےقر ب پر استدلا ل الٹ گیا كہ دربار كے دروا زہ كی چوكھٹ كے پا س بیٹھنے والا بھی صدر میں بیٹھنے
#357 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المجلس والمحراب۔
ثا لثا:حفظت شیئا و غا بت عنك اشیا ء ایھا لرا غب الی قو ل الر ا غب ھل تظنہ مخالفا للنصو ص التی قد منا عن ائمہ اللغۃ وجھا بذۃ التفسیر ام لا فعلی الاول ما الذی راغبك عنھم الی من شذوھم الجم الغفیر وعلی الثا بی الم یكفك ما للحا ضر المشا ھد من القر ب فا ن الر ؤیۃ العا دیۃ مشروط لھا لقر ب ام زعمت ان القرب حد معین لا تشكیك فیہ فا ذ ن لا یحا ور ك ال مثلك سفیہ وھذا ربنا تبا رك و تعالی قائلا وقو لہ الحق" اقتربت الساعۃ و انشق القمر ﴿۱﴾" بل قال عزوجل" اقترب للناس حسابہم وہم فی غفلۃ معرضون ﴿۱﴾ " والحساب بعد قیام الساعۃ بنصف الیوموالیوم كان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ وا لے كی طر ح بین ید یہ اور پا س ہے۔
ثالثا:راغب كے قول میں یہ رغبت ظاہر كرنے والوں كو كچھ یاد رہا اور كچھ بھول گئے كیونكہ مخالف نے امام راغب كے قول كے جو معنی بتائے وہ ان آئمہ لغت و تفسیر كے خلاف ہے یا موافقاگر خلاف ہے تو آپ نے جمہور ائمہ لغت كی تصریحات كو چھوڑ كر امام راغب كے شاذ قول كی طرف كیوں رغبت ظاہر فرمائیاور اگر خلاف نہیں تو حاضر و مشاہد میں جتنا قرب ہے اس پر قناعت كیوں نہیںحالانكہ روئیت عادیہ كے لئے قریب ہونے كی شرط لابدی ہےیا تم قرب كے ایك متعین حد مانتے ہو اور اسے كلی مشكك نہیں مانتے۔پھر تو آپ كا جواب آپ كے جیسا نا سمجھ ہی دے سكے گا۔الله تبارك و تعالی اپنے قول حق میں فرماتا ہے:"قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہو چكا"۔ بلكہ اسی قدوس و پروردگار نے فرمایا: "لوگوں كے حساب كی گھڑی آپہنچی اور وہ ابھی غفلت میں اعراض كر رہے ہیں۔" حالانكہ حساب قیام قیامت كے بعد آدھا دن گزار كر ہوگااس وقت ایك دن كی مقدار آج كے پچاس ہزار سال كے برابر ہوگی۔
#358 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ورابعا:ذكر الا ما م القد ور ی فی الكتا ب الحر ز علی ضربین منھما حرزبا لحافظ فقال فی الجوھرۃ النیرۃ"ھذا اذكا ن الحا فظ قر یبا منہ بحیث لا یر ا ہ فلیس بحا فظ ۱ھ"فا نظر جعل ما یر ی قر یبا وما نا ی بحیث لا یر ی بعیدا فھذا ھو معنی القر ب فی كلا م الرا غب مو فق لما نص علیہ الا ئمۃ الا طا ئب۔
خا مسا:یقو ل لك الر ا غب اراغب انت عن بقیۃ كلامی یا غفو ل فا ن كلا مہ ھكذا"یقا ل ھذا الشیئ قر یب منك وعلی ھذا قولہ:لہ ما بین اید ینا و مصد قا لما بین ید ی من التو را ۃ الخ وقو لہ قا ل الذین كفر وا لن نؤمن بھذا القران ولا با لذی بین ید یہ ای متقد ما لہ رابعا:اما مقد ور ی نے اپنی كتا ب میں فر ما یا اشیا ء كی حفاظت كے دو طر یقے ہین(۱)نگر ا ن كے ذریعہ حفاظت جوہرہ نیر ہ میں اس كی تشر یح فر ما ئی كہ محا فظ چیز سے اتنا قر یب ہو كہ اسے دیكھتا رہے اور اگر اتنا دو ر ہو یا كہ چیز نگاہ سے اوجھل ہو گئی تو یہ حفا ظت نہیں ہے اما م قد وری اور صا حب جو ہر ہ نے قر ب و بعد كا مدار دیكھنے نہ دیكھنے پر ركھا تو كلا م را غب میں بھی قر ب سے مراد یہی حا ضر و مشا ہد ہو ناچا ہیے جیسا كہ دیگر ائمہ لغت و تفسیر كی تحقیق ہے۔
خامسا:اس مستد ل سے خود اما م را غب كو شكا یت ہو گی كہ اس نے میر ی پو ری با ت یا د نہیں ركھی كیو نكہ ان كی پو ری بات تو یہ ہے:"محا روہ ہے كہ یہ چیز تمھا رے سا منے یعنی تم سے قر یب ہے الله تعالی كے مند رجہ ذیل اقوا ل میں لفظ بین یدیہ سے یہی قر ب مراد ہے(مثلا الله تعالی نے فر شتو ں كی زبا نی سے كہلا یا)جو ہما رے سا منے ہے سب خدا كے لیے ہے (اور قرآن كے لیے خو د فر مایا)اپنے سے آگے عالے كتاب توراۃ
#359 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
من الانجیل ونحو ہ ۱ھ(با ختصا ر)"
فانظر علی ما حمل القرب وقد جعل مفرعا الیہ"لہ ما بین ایدینا"اتراہ یقول ان مراد لاملئكۃ تخصیص ملك الله تعالی بما یلیھم۔
وسا دسا:فرع علیہ" ومصدقا لما بین یدی من التورىۃ " وبینھما الفا سنۃ فا ذا لم یمنع ھذا الفصل الكثیر الزما نی من القر ب لم یمنع منہ الفصل القلیل المكانی بین المنبر و حر ف المسجد و ربما لا یبلغ مائۃ ذراع بل ولا فی كثیر من المسا جد عشر ین۔
وسا بعا:ثم قا ل الرا غب انزل علیہ الذكر من بیننا ای من جملتنا وقو لہ لن نؤمن بھذا القران ولا بالذی بین ید یہ ای كی تا ئید كر تا ہے اور كا فر و ں كا قول نقل كیا كہ ہم نہ تو قرآن پر ایما ن لا ئیں گے نہ اس سے پہلے كی كتا بو ں مثلا انجیل وغیر ہ پر"
اس پوری عبارت میں امام راغب نے بین یدیہ كے معنی قریب بتاكر اس كا مصداق لہ مابین ایدینا كو قرار دیاتوكیا فرشتوں نے ہمارے سامنے كہہ كر صرف اپنی متصل اشیاء مراد لیكیا صرف وہی الله تعالی كی ملك ہیں
سادسا:اسی معنی قر یب كی فر ع مصد قا لما بین ید ی من التو را ۃ كو كہا جن میں دوہزا ر سا ل كا فا صلہ ہے تو جب یہ عظیم زما نی فا صلہ لفظ بین ید یہ كے معنی قر ب كے منا فی نہیں تو قر ب مكا نی میں مسجد كے حدود اور اس سے متصل زمین كا فا صلہ بین ید یہ كے معنی قر ب كے كیا منا فی ہو گا جو عا م طو ر سے سو ہا تھ بھی نہیں ہو تا بلكہ كئی مسا جد میں بیس ہا تھ بھی نہیں ہو تا۔
سابعا:اگر اما م راغب كے قو ل"قو لہ وقا ل الذی كفر و ا كو ما سبق وا لے قو لہ پر ہی معطو ف قرا ردیجئے تو اب لگ بھل تین ہزار سا ل كا فا صلہ بھی قر یب ہی ہو گا اور اس كو جملہ مستا نفہ
#360 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
متقد ما لہ من الانجیل و نحو ہ انتھی فھذا تفسیر اخر لبین ید یہ"تقیید با لقر ب فقد افا د كلا الو جھین واقتصر ت علی الا ول بالشین والمین۔"
وثا منا:سلمنا لك ان مراد الر اغب ما تر ید ولكن ھذا صا حب رسو ل الله صلی لله تعالی علیہ وسلم السائب بن یزید العر بی صا حب اللسا ن یقو ل كا ن یوذن بین یدیہ رسو ل الله صلی الله تعالی وسلم علی باب المسجد ھو ا علم باللسان ام انت و راغبك و با لجملۃ احد یث فی جبھۃ حجا
جكم كیۃ لا تمحی فللہ الحمد
تا سعا:اعتر ف ھذالمستد ل با ن بین ید یہ فی بعض المواضع بحسب المقا م تكون خالیا تكون خالیا عن قرار دیا جا ئے تو اب یہ لفظ بین ید یہ كے دوسرے معنی كا بیان ہو تا كہ بین ید یہ كے معنی(جیسے قر یب ہو تے ہیں ویسے اس كے ایك معنی)جملہ كتب ما ضیہ بھی ہیں جو بعید تر ہیں اسی طرح اما م را غب كے ہی بیا ن سے بین ید یہ كےمعنی قر یب و بعید دو نو ں ہی ثابت ہو ئے پھر آپ كو معنی قر ب پر اصرا ر كیو ں ہے "
ثا منا:چلئے ہم نے اما م راغب كے قو ل كی وہی مراد تسلیم كر لی جو آپ كو مر غو ب ہے مگر اس كو كیا كجیئے گا كہ صحا بی رسو ل حضر ت سا ئب بن یزید عر بی رضی الله عنہ جو خو د بھی صا حب زبا ن ہیں اور آپ اور آپ كے اما م راغب دو نو ں سے زیا دہ عر بی زبا ن كی با ریكیا ں سمجھتے ہیں وہ حضو ر صلی الله تعالی وسلم كی اذا ن جمعہ كو بین ید ی رسو ل الله علیہ وسلم كی اذا ن جمعہ كو بین ید ی رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بھی كہتے ہیں اور علی با ب المسجد بھی كہتے ہیں یہ حد یث گر ا می تو آپ كی كٹھ حجتی كے منہ پر ایسی مہر ہے جس كا ٹو ٹنانا ممكن ہے ہم اس پر الله تعالی كی حمد بجا لا تے ہیں۔
تا سعا:مستد ل نے یہ بھی اعترا ف كیا ہے كہ بین یدیہ بعض مواقع میں قر ب سے خا لی بھی ہو تا ہے اور صر ف سامنے اور
#361 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
معنی القرب دالا علی مجر د المحا ذا ۃ قا ل كما صا ر واقعا فی بعص الایا ت القر ینیۃ ایضا لكن ھھنا ای فی مسئلۃ الاذان لم یصر ح بھذا فی كتاب(۱ھ متر جما)فقد اقرا ن بین ید یہ یستعمل علی كلا الوجھین وانہ ورد فی القران العظیم ایضا با لوجہین ثم یقو ل لم یصر ح بہ ھھنا فی كتاب یا مسكین انت المستد ل واذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستد لا ل فما ینفعك عد م التصریح انہ انما كا ن علیك ان تبد ی تصریحا بنفیہ و لكن الجھل بمسا لك الا حتجا ج یا تی با لعجا ئب۔



ثم قولہ لما لا یریدہ ولا یرضاہ كما صا ر واقعا فی بعض ا یا ت القران ایضا یلمح الی شیئ اصعب فا ن مثل ھذا ا لكلا م فی مثل ھذا المقا م یقا ل
مقا بل كے معنی میں آتا ہے جیسا كہ بعض آیا ت قرا نی میں بھی وا قع ہو ا ہے مگر مسئلہ اذا ن میں جو لفظ بین ید یہ آیا ہے اس كے معنی صر ف وہ محا ذا ۃ ہے جو قر ب سے خا لی ہو اس كی تصر یح كسی نے نہیں كی ہے ۱ھ۔مقا م حیر ت ہے كہ"بین ید یہ"كو قر یب و بعید دونوں كے لیے ما ن كر اور یہ تسلیم كر كے كہ قرا ن عظیم میں ایسا وارد ہے اور مستد ل ہو كر سا دگی سے یہ كہنا كہ مسئلہ متنا زعہ میں بین ید یہ كے معنی بعید ہو نے كی تصر یح كہیں سے ثا بت نہیں(الٹی بھیر ویں الاپنا ہے)اس عد م ثبو ت سے مستد ل كو كیا فا ئد ہ پہنچے گا۔آپ كا استد لا ل تو اس احتما ل كے تسلیم كر تے ہی ختم ہو گیا كہ"اذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستدلا ل"اب تو اگر آپ یہ ثا بت كر سكتے ہیں كہ مسئلہ اذا ن میں اس لفظ كے معنی بعید نہیں مراد ہیں تو با ت بنتی اور یہ آپ كے بس سے با ہر ہے جبھی تو معنی محتمل مراد نہ ہو نے كی تصر یح كے عدم سے استد لا ل كر نے لگے سبحا ن الله !یہ بھی پتہ نہیں كہ مستدل كا مو قف كیا ہے اور معتر ض كو كس با ت سے فا ئد ہ پہنچتا ہے۔
اسلو ب بیا ن كی خا می یہ جملہ جیسا كہ قرا ن كی بعض آیا ت میں واقع ہو ا یہ بتا نے كے لیے بو لتے ہیں كہ یہ جوواقع ہو ا سہو ا و خطا ء
#362 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لما وقع سہو ا ا و خطا ء علی خلا ف الجا دۃ نسا ل الله العفو و العا فیۃ۔
عا شرا:اذ قد ثبت فی القران العظیم فلم انت را غب عنہ الی قول الر ا غب و تزعم ان المفا د ھو الذی قا لہ لا ما وقع فی القران الكریم فا ن زعمت ان ما انت فیہ لیس محلہ كا ن علیك ابد ا ء ما ھو محلہ وانہ فی القران لا ھھنا واثبات كل ذلك بالبینۃ والا فلم تقر بانہ فی القرآن المجید ثم انت عنہ تحید ولا ھو ل ولا قو ۃ الا با لله العلی العزیز الحمید۔
نفحہ ۳:نص ائمتنا فی الا صو ل ان"عند للحضور" قال الا ما م الا جل فخر الا سلا م البزدوی فی اصو لہ والا مام صد ر الشر یعۃ فی التنقیح والتو ضیحواقرہ العلا مۃ سعد التفتا زا نی فی التلو یح(عند للحضرۃ ) وفی تحر یر المحقق علی الا طلا ق وشر حہ التقر یر لتلمیذہ المحقق الحلبی(عند للحضر ۃ)الحسیۃ واقع ہو ا كیا قرا نی آیا ت كے لیے یہ اسلو ب بیا ن صحیح ہے الله تعالی سے ہم عفو كے طالب ہیں
عاشر ا:جب تم نے یہ تسلیم كر لیا كہ"بین ید یہ"كے معنی قرآن میں بعید مقا بل كے لیے ہے تو اس سے منہ مو ڑ كر اس كے را غب كے بیان كے مطا بق قر یب لینے كی كیا وجہ ہے اگر كو ئی وجہ فر ق تھی تو آپ كو دو نو ں ہی پہلو كے لیے دلیل دینی چا ہیے تھی كہ قرآن میں بعید ہو نے كی یہ وجہ ہے اور اذا ن میں قریب مراد ہو نے كی دلیل یہ ہے اور جب آپ كے پا س تفر یق كی كو ئی دلیل نہی تو قرآن عظیم سے رخ مو ڑ كر را غب كا دا من پكڑنا كار ذلیل ہے۔
نفحہ۳:ہما رے اما مو ں نے اصو ل كی كتا بو ں میں تحریر فر ما یا كہ عند حضور كے لیے ہے چنا نچہ اما م فخر الا سلا م بزدوی نے اپنے اصو ل میں اور اما م صد ر الشر یعہ نے تنفیح و تو ضیح میں اور علا مہ تفتا زا نی نے تلو یح میں فرما یا كہ"عند حجو ر كے لیے ہے محقق علی الا طلا ق اور ان كے شا گر د رشید محقق حلبی كی شر ح تقر یر میں ہے كہ عند حضو ر حسی كے لیے ہے جیسے آیۃ كر یمہ فلما را ہ مستقر ا عند ہ
#363 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
نحو فلما را ہ مستقر ا عند ہوالمعنو یۃ نحو قا ل الذی عند ہ علم من الكتاب ۱ھ وقا ل الا ما م الا جل ابو البر كا ت النسفی فی المنا ر وشر حہ كشف الا سرا ر والعلا مۃ شمس الد ین الفنار ی فی الفصو ل البد ا ئع فی الا صو ل الشرائع والعلا مۃ مولی خسر و فی مرا ۃ الا صو ل و شر حۃ مرقا ۃ لو صو ل(عند للحضر ہ الحقیقۃ او الحكمیۃ ۱ھ )وفی مسلم الثبو ت للمد قق البھا ری و شر حہ فو ا تح الر حمو ت للملك العلا ما ء بحر العلو م عبد العلی(عند للحضرۃ الحسیۃ)نحو عند ی كوز(والمعنویۃ)نحو عند ی دین لفلان ۱ھ۔
ومعلوم ان كلا حاضر بالمرأی وكل ما بالمرأی قریب فلا القر ب ینكر ولا فی الاتصا ل یحصرفما د عند اوسع من مفا د"بین ید یہ"فضلا عن ان یزید ضیقا علیہ وقد فرقوا بین لدی اور حضور معنو ی كے لیے جیسے وقا ل الذی عند ہ علم من الكتاب اس نے كہا جس كے پا س علم كتاب تھا اور اسی طر ح امام اجل ابو البركات نسفی نے منا ر میں اور اس كی شر ح كشف الا سرا ر میں اور علا مہ شمس الد ین الفنا ری نے فصو ل البد ا ئع فی اصو ل الشر ائع میں مولاخسر و نے مرا ت الا صو ل اور اس كی شر ح مرقات الو صو ل میں فر ما یا كہ عند حضور حقیقی یا حكمی كے لیے آتا ہے مد قق بہا ری نے مسلم الثبو ت میں ملك العلما ء بحر العلو م نے فوا تح الر حمو ت میں فر ما یا كہ عند حضورحقیقی كے لیے ہے جیسے عند ی كو ز(میر ے پا س پیالہ ہے)۔اورمعنو ی كے لیے جیس ے عند یدین لفلان(مجھ پر فلا ں كا قر ضہ ہے)۔
اور یہ با لكل واضح ہےكہ حا ضر پیش نگا ہ ہے اور جو پیش نگا ہ ہے قریب ہی كہا جا ئے گا تو نہ تو عند كے معنی سے قر ب كے انكا ر كی گنجا ئش اور نہ عند كے لیے سا تھ چپكا ہو نا ضروری ہے اور سچ پو چھو تو عند اپنے مفا د میں بین ید یہ سے بھی زیا دہ وسیع ہے نہ یہ كہ
#364 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وعند با ن عند یستعمل فی القر یب والبعید ولد ی مختص با لقر یب۔قا ل الر ضی فی شر ح الكا فیۃ عند اعم تصرفا من لد ی لان عند یستعمل فی الحا ضر القر یب وفیما ھو فی حرزك ان كا ن بعید ا بخلا ف لدی فا نہ لا یستعمل فی البعید ۱ھوالقر ب كما علمت ذو وسع بعید و لنو ضح ھھنا ایضا با یا ت الكلام الحمید۔
(۱)قا ل الله عز و جل:" ان الذین یغضون اصوتہم عند رسول اللہ" (الا یۃ)۔"ومرت فی النفحۃ الا ولی القر ا نیہ امر كل من فی مشھد ہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بغض الصو ت ولا یختص با لذی یلیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فسوا ء فیہ من لد یہ ومن علی الباب كلھم عند رسو ل الله بلا ارتیاب عند كو بین ید یہ سے تنگ ما نا جا ئے چنا نچہ عند اورلد ی میں یہی فر ق بیا ن كیا جا تا ہے كہ عند قریب و بعید دونو ں كے لیے اور لد ی خا ص طو ر سے قر یب پر دلا لت كر تا ہے رضی نحوی نے شر ح كا فیہ میں تحریر كیا:"عند اپنے تصر فا ت میں لد ی سے اعم ہے كہ وہ پا س اور دور دونو ں میں مستعمل ہے اور لدی كا استعما ل بعید میں ہو تا ہی نہیں ہے۔"اور ہم پہلے بیا ن كر آئے ہیں كہ خود قر یب كی جو لانگا ہ بھی بہت وسیع ہے مزید آیا ت قرآنیہ سے ہم اسے واضح كر تے ہیں:
(۱)الله تعالی نے فر ما یا:"جو لوگ رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے حضور اپنی آواز پست كر تے ہیں۔"
نفحہ اولی قرآنیہ میں واضح كر آئے ہیں كہ یہ حكم ہر اس شخص كے لیے ہے جو رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے پیش نگا ہ ہو حضور كے با لكل پا س بیٹھنے وا لو ں كے لیے كچھ خا ص نہیں بلكہ جو پا س ہے اورجو باب مسجد كے پاس ہے سب كے لیے یہی حكم ہے محرا ب رسو ل اور دروازہ مسجد پر بیٹھنے والے دو نو ں ہی عند رسو ل الله كہے جا ئیں گے سبھی
#365 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یحل لا حد ان یصیح و یصر خ فی حضر تہ او یر فع صو تا فو ق ضرورتہ ولو كان مفا د"عند"ما یز عمو ن لشمل ھذا الو عد الجمیل بمغفر ۃ واجر عظیم من قا م بحضر تہ صلی الله تعالی علیہ وسلم علی فصل عد ۃ اذرع فجعل یصیح مع اخر صیاحا شد ید ا منكرا فا ذا كا ن منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بفصل شبر مثلا او تكلم ھو صلی الله تعالی علیہ وسلم غض صو تہ وھذا لا یقو ل بہ مسلم لہ عقل۔
(۲)قا ل جل وعلا:" ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا ۔"
وھذا وسع من ذا ك یشمل كل من فی خد متہ وان لم یكن الان فی حضر تہ۔ كے لیے چیخنا اور چلانا منع ہے بلكہ یہ كہیئے كہ ضرورت سے زیادہ آوا ز نكلا لنا منع ہے اور اس مقا م پر اگر عند كے وہی معنی ہو ں جو یہ لو گ اذا ن عند منبر میں مراد لیتے ہیں آواز پست ركھنے پر مغفر ت اور اجر عظیم كے وعد ہ كا مستحق وہ بے ادب بھی ہو جا ئےگا جو رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے چند ہا تھ كی دوری پر كھڑا چیخ رہا ہو یا صر ف اس كے لیے خا ص ہو گی جو حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ایك با لشت كی دوری پر كھڑا ہوكر كسی سے پست آواز میں با ت كر ے یا خود حضور ہی سے كلا م كر ے اور چارہاتھ دور كھڑا ہو كر كسی سے پست آواز سے با ت كر ے تو وہ دائرہ رحمت و مغفر ت سے با ہر ہے كہ(وہ عند رسو ل الله نہیں)بھلا كو ن عقلمند مسلما ن ایسا كہہ سكے گا۔
(۲)ارشا د الہی ہے:"یہ منا فقین كہتے ہیں كہ رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خر چ نہ كر و تا كہ یہ ادھر ادھر منتشر ہو جائیں۔"
یہا ں عند كا مفہو م پہلے وا لی آیت سے بھی وسیع ہے كیو نكہ یہا تو عند سے مراد وہ سبھی لو گ ہیں جو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی خد مت كر تے ہیں اگر چہ فی الحا ل حضو ر سے بہت دور ہو ں۔
#366 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
(۳)قا ل تبا ر ك و تعالی :" ویقولون طاعۃ ۫ فاذا برزوا من عندک بیت طائفۃ منہم غیر الذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون " ۔
ھذا فی المنا فقین وما كا نو یلو نہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی المجلس انما كا ن ذلك لا بی بكر وعمر رضی الله تعالی عنھما ثم لا یختص بمن كا ن اقر ب منھم با لنسبۃ الی الا خر یشمل ھو جمیعا۔
(۴)قا ل المو لی سبحا نہ وتعالی " ان المتقین فی جنت و نہر ﴿۵۴﴾ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ﴿۵۵﴾" ۔
عمت كل متق و لكن این احا د الصلحا ء من العلما ء و العلما ء من الا ولیا ء والا ولیا ء من الصحا بۃ و الصحا بۃ من الانبیا ء (۳)الله تبارك وتعا ی كا ارشا دگر ا می ہے(كہ منا فق آپ كے سا منے كہتے ہیں):"ہم آپ كے فرما نبردار ہیںاور جب آپ كے پا س دے دور ہو جا تے ہیں تو ان كی ایك جما عت اس كے خلا ف بو لنے لگتی جو آپ كے سا منے كہہ چكے۔"
یہ منا فقین كے حا ل كا بیا ن ہے اور تا ریخ شا ہد ہے كہ منا فقین رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے دربا ر میں آپ كے بالكل پا س نہیں بیٹھتے تھے قر یب كی جگہ تو ابو بكر وعمرعثما ن وعلی و دیگر مخلصین صحا بہ كے لیے تھی منا فقین تو ادھر ادھر آنكھ بچا كر بیٹھتے تھے اگر كچھ كسی مجبور ی سے آپ كے سا منے بیٹھ بھی گئے ہو ں تو عند كہہ كر سبھی منا فقین مراد ہیں قریب بیٹھنے وا لے ہو ں یا دور۔
"بے شك متقین با غو ں اور نہر و ں میں سچ كی مجلس میں عظیم قد ر ت وا لے با دشا ہ كے حضور ہو ں گے۔"
یہ آیت تو سا رے ہی متقیو ں كو گھیر ے ہو ئے ہے لیكن اس میں كہا ں بہ نسبت اولیا ء كے كسی صا لح مسلما ن كا در جہ اور بہ نسبت اولیا ء كے كسی عا لم كا در جہاور بہ نسبت انبیا ء كے
#367 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
والانبیا ء من سید الانبیا ء صلی الله تعالی علیہ وسلم فر ق لا یقد ر ولا یقد ر بشر ا ن یتصور اعظم بالوف الاف مرا ت مما بین الفلك الا علی وما تحت الثری وقد شملت كلھم عند۔
(۵)مثلہ قو لہ عزوجل" ان للمتقین عند ربہم جنت النعیم ﴿۳۴﴾"
(۶)فی ایۃ اخر ی وقا ل العلی الا علی تبارك وتعالی "اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ"۔
ومعلو م ان الله تعالی قد اتجا ب لھا وقد فر ج لھا ففی الد نیا ون بیتھا كما فی حد یث سلما ن و حد یث ابی ہر یر ہ بسند صحیح رضی الله تعالی عنہما وما كا نت لتطلب اقر ب المنا زل وا ن تفضل علی الانبیا ء والر سل علیہم و علیھا الصلو ۃ والسلا مبل قربا یلیق بھا وان لم یساوی ما لخدیجۃ و فا طمۃ و عا ئشۃ رضی الله تعالی عنھن كسی ولی كا درجہ اور كہا ں سید الانبیا ء اور دیگر انبیا ء علیہم السلام كا درجہ ان مر اتب میں تو فلك الا فلا ك اور تحت الثری سے بھی زیا دہ فا صلہ ہے مگر سب كو عند الله سے بیا ن كیا گیا ہے۔

(۵)اسی طرح الله عز وجل كا ارشا د گر امی ہے"بے شك متقین كے لیے رب كے پا س جنت نعیم فر ما یا ہے۔"


(۶)دوسر ی آیت میں الله تبا ر وتعالی نے فر ما یا:"اس نے دعا ما نگی یا الله !میر ے لیے اپنے پا س جنت میں ایك مكان بنا دے۔"
(مذكو رہ با لا آیت كے تحت)حضر ت سلما ن وحضر ت ابو ہر یر ہ رضی الله تعالی عنہما سے روایت ہے كہ الله تعالی نے ان پا ك بی بی كی دعا قبو ل كر لی تو كیا وہ انبیا ء واولیا ء سے بھی زیا دہ قرب الہی كی طا لب تھیں وہ تو اس كی خواستگا ر تھیں كہ قر ب كا وہ مقا م جو ان كے لائق ہو چاہے حضرت خدیجہ و فاطمہ و عائشہ رضوان الله تعالی عنہن كے در جہ كے ہم پلہ بھی نہ ہو چہ جا ئیكہ
#368 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فضلا عن الانبیا ء الكر ا م علیہم الصلو ۃ السلا م۔
(۷)وقا ل عزودلا فی الشھد اء" بل احیاء عند ربہم " این رجل من احا د الشھد ا ء من سید ھم حمزۃ رضی الله تعالی عنہ بل من نبی الله یحیی وغیر ہ ممن استشہد من الانبیا ء علیھم الصلو ۃ والسلا م۔
(۸)قال جل ذكرہ فی الملئكۃ " فالذین عند ربک " تفا وتھم فیما بینھم معلول م غیر مفھو م
" و ما منا الا لہ مقام معلوم ﴿۱۶۴﴾ "
(۹)قا ل عز من قا ئل " وقد مکروا مکرہم وعند اللہ مکرہم " وماكا ن لمكر الكفا ر ان یكون انبیا ء عظا م علیہم الر حمہ والر ضوا ن كے در جہ كے بر ابر ہو۔
(۷)الله تعالی نے شہد ائے كر ام كے بارے میں ارشا د فرمایا "شہدا ء الله تعالی پا س زند ہ ہیں۔"تو بھلا كہا ں سید الشہد ا ء امیر حمزہ رضی الله تعالی عنہ كا مقا م بلند اور كہا ں الله تعالی كے نبی یحیی علیہ السلام كا مقا م بلنداور كہاں عا م شہد ا ء كر ام رضوان الله تعالی علیھم كی منزل بلكہ انبیا ء كرا م علیہم السلا م میں شہا دت پا نے وا لو ں كی منزلیں۔
(۸)الله تعالی فر شتو ں كے با رے میں ارشا د فر ما تا ہے"جو فر شتے تمہا رے رب كے پا س ہیں ان فر شتو ں میں با ہم درفت كا كتنا تفا وت ہے ہم اس كی حقیقت تو نہیں جا ن سكتے مگر تفاوت ہو ن یقینا معلو م ہے قرا ن عظیم كا ارشا د ہے كہ ہم میں سے ہر ایك كے لیے ایك متعین مقا م ہے۔"
(۹)الله عزوجل ارشا دفر ما تا ہے"كا فر وں نے خدا سے مكر كیا ان كا مكر تو خدا ہی كے پا س ہے۔"كا فر و ں كے مكر كے لیے الله تعالی سے
#369 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لہ قر ب من العزیز الجبا ر لا مكا نا لا ستحا لتہ ولا مكلانۃ لا ستھا نتہ وانما ھو للحضور ای حا ضر بین ید یہ لا یخفی علیہ فیر جع الی معنی العلم۔
(۱۰)قا ل سبحا نہ ما اعظم شا نہ
" ثم محلہا الی البیت العتیق ﴿۳۳﴾ " یعنی البدن قا ل فی المعا لم ای عند البیت العتیق یر ید ارض الحرا م كلھا قا ل فالا یقربو ا المسجد الحرا م كلہ اھ جعل جمیع الجزا ء الحرم اذ كلھا منحر عند البیت ومعلوم ان كثیرا منھا علی فصل فراسخ من البیت الكر یم۔
(۱۱)تر ی التا بعین یقو لو ن فی احا دیثھم كنا عند عا ئشۃ رضی الله تعالی عنہا فلا ادر ی علی ای قر ب یحملہ المطلو ن۔
(۱۲)یقو ل الحا جب جئت من عند الملك وما كا ن الا علی كو ئی قر ب نہیں نہ قر ب مكا نی كہ یہ ذا ت با ری كے لے محا ل ہے نہ قر ب مرتبی كہ مكر تو نہا یت ذلیل چیز ہے لا محا لہ اس آیت میں قرب سے مراد حضور یعنی یہ الله تعالی كے سامنے ہے اس سے پو شید ہ نہیں تو حضو ر علمی ہوا۔
(۱۰)الله جل شا نہ نے ارشاد فر ما یا قربا نی كے جا نو ر ذبح كرنے كی جگہ بیت الله كے پا س ہے معا لم التنزیل میں فر ما یا الی البیت العتیق كا مطلب عند البیت العتق ہے یعنی حر م كی پو ر ی زمین(چنا نچہ دوسر ی جگہ)ارشاد ہو ا پو رے حر م كے قر یب نہ جا ؤ آیت مذكور ہ با لا میں پو رے حر م كو منحر عند البیت العتیق قرا ر دیا جب كہ حدود حر م مختلف جہا ت میں بیت الله شر یف سے كو سو ں دور ی پر ہے۔
(۱۱)احا دیث كر یمہ میں بہت سے تا بعین فر ماتے ہیں ہم ام المومنین حضرت عا ئشہ صد یقہ رضی الله تعالی عنہا كے پا س تھے پتہ نہیں یہ با طل كوش یہا ں قر بت كو كتنے قر ب پر محمول كر یں گے۔
(۱۲)دربا ن كہتا ہے میں ابھی با دشا ہ كے پا س سے آرہا ہو ں حا لانكہ وہ دروا زہ سے
#370 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
البا ب۔
(۱۳)یقو ل مكی بیتی عند با ب السلا م وربما كا ن بینھا اكثر من ما ئتی ذرا ع۔
(۱۴)یقو ل التلمیذ جلست عند شیخی ثلث سنین كو امل وان لم یكن قیا مہ الا فی مسجد ہ وجلو سہ الا فی اخر یا ت مجلسہ۔
(۱۵)اتو خذ لفظۃ عند من كلام بعض الفقھا ء ولایوخذ ما ابا نو ا من معنی عند قا ل فی الكتا ب الھد ا یۃ و الكنز والتنو یر وغیر ھا واللفظ للكنز من سر ق من المسجد متا عا وبہ عند ہ قطع فقا ل علیہ فی شروحھا المجتبی وفتح القد یر و بحرا لر ئق وا لدر المختار وغیر ھا و النظم للدر:"عند ہ ای بحیث یر اہ "۔
آگے بڑھ نہیں سكتا۔
(۱۳)مكہ كا رہنے وا لا اپنا پتہ بتا تا ہے كہ میرا گھر باب السلام كے پا س ہے ھا لانكہ بسا ا وقات دو نو فا صلہ دو سو ہاتھ سے بھی زیادہ ہو تا۔
(۱۴)شا گر د استا ذ كے پا س مكمل تین سا ل رہا حا لانكہ قیا م اس كا مسجد میں ہو تا ہے اور شیخ كی مجلس میں اسے آخر ی صف میں بیٹھنے كی جگہ ملتی ہے۔
(۱۵)یہ كہا ں كا انصا ف ہے فقہا ر كے كلا م میںا ئے ہو ئے لفظ عند سے تو اذا ن ثا نی كے متصل منبر ہو نے پر استدالا لی كیا جائے اور فقہا ئے كر ا م نے خود لفظ عند كے جو معنی بتا ئے ہیں اس سے رو گر دا نی كی جا ئے ہد ایہكنزتنو یر وغیر ھا میں فر ما یا یہ عبا ر ت كنز كی ہے جس نے مسجد سے ایسا سامان چرا یا جس كا مالك سا ما ن كے پا س تھا اس كا ہا تھ كا ٹا جا ئیگا ان كی شر ح مجتبیفتح القد یربحرا الر ائق اور در مختا ر میں فر ما یا الفا ظ در مختار كے ہیں"سا ما ن كے ما لك كے پا س ہو نے كا مطلب یہ ہے كہ اتنی دور ہو جہا ں سے اپنا سا ما ن دیكھ رہا ہو۔
#371 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فظہر ان معنی عند لا یشید علی ما بینا من مفا د بین یدیہ ولا دلا لۃ لشیئ منھما ان لاا ذا ن دا خل المسجد فضلا عن كو نہ لصیق المنبر ولكن اذا رسخ فی القلب و ھم فكلما یسمع یتو ھمہ بمعنا ہ كما قیل لسغبا ن وا حد مع وا حد كم یصیر قا ل خبزا ن۔
نفحہ۴:استبا ن مما با ن و لله الحمد جہا لۃ من تمسك ھنا بقو ل الر ا غب"عند"لفظ مو ضو ع للقر ب فتا رۃ یستعمل فی المكا ن و تا ر ۃ فی الا عتقا د نحو ان یقا ل عندی كذا و تا ر ۃ فی الز لفی و المنز لۃ وقول المبسو ط"عند عبا ر ۃ عن القر ب "
وبا ن تر جمتہ با لفا ر سیۃ نز د و با لہند یۃ مذكو ر ہ با لا شو ا ہد سے یہ ثا بت ہو گیا كہ عند كے معنی بھی اس سے زیا دہ نہیں جو ہم نے بین ید یہ كے معنی میں بیا ن كیا اور ان دو نو ں لفظو ں كی كو ئی دلا لت اذان كے دا خل مسجد ہو نے پر نہیں چہ جا ئیكہ منبر سے متصل مرا د لی جا ئے مگر جب كو ئی وہم آدمی كے دما غ میں جم جا تا ہے تو وہ جو چیز بھی دیكھتا ہے اس كو وہی وہمی چیز سمجھتا ہے اور كو ئی با ت سنتا ہے تو ہی چیز اس كے خیا ل میں جیسا كہ بھو كے سے پو چھا جا ئے كہ ایك ایك كتنا ہو تا ہے تو وہ جو ا ب دیتا ہے دو۲ رو ٹی۔
نفحہ ۴:الحمد لله رب العا لمین گزشتہ اظہا ر سے ان لوگوں كی جہا لت واضح ہو گئی جو اس مو قعہ پر بھی اما م را غب كے قو ل سے استد لا ل كر تے ہیں كہ"لفظ عند قر ب كے لیے وضع كیا گیا ہے تو كبھی مكا ن كے لیے ہو تا ہے اور كبھی اعتقا د كے لیے جیسے كو ئی كہے میرے پا س ایسا ہے او ر كہیں رتبہ اور مر تبہ كے لیے ہو تا ہے یا مبسوط میں اما م سر خسی كے قو ل سے استدلا ل كر تے ہیں عند قرب بیا ن كر نے كے لیے ہے۔"
عند كا تر جمہ فارسی میں"نزد"اور ہند ی
#372 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
پاس وقد افد نا ك من مو ارد القر ب ما یغنی عن اعادتہ و جمیع الا یا ت التی تلو نا انما تر جمو ا عنع فیھا با للسا نین بلفظۃ"نزد پا س"مع ما فیھا من العر ض العر یض كما بینا۔
وكذلك فی " اقتربت الساعۃ " "اقترب للناس حسابہم" وغیر ذلك مما لا یخفی علی الصبیان وقد سئلنا ھم مرا ر ا عن مسئلۃ فقھیۃ فلم یجب احد منھم الی الان و كیف یجیبو ا وما لھم بہ یدا ن وا ذا بز غ الحق كلا اللسان۔
صورتھا زید صنع منبرا تبلغ قیمتہ دینا را عشر ۃ درا ھم او اكثر وھو خفیف بحیث یذھب بہ رجل واحد لا ینؤ ابہ ولا یؤدۃ شیئ من میں"پا س"ہے كیو نكہ ہم نے قر ب كے تما م موا ر د كا ذكر كر دیا ہے جس كے لیے آیا ت كے اعادہ كی ضرورت اور یہ بھی بتا دیا ہے كہ ان تما م آیتو ں میں لفظ"عند"كا تر جمہ دونوں زبا نو ں میں لفظ نز د و پا س سے كیا گیا ہے جبكہ ان مو ارد میں قر ب كے معنی میں بڑی وسعت ہے۔
جیسا كہ آیت اقتر بت السا عۃ(قیا مت قر یب ہو ئی)اور آیت اقتر ب للنا س حسا بھم(لو گو ں كے لیے ان كے حسا ب كا وقت قر یب ہو ا)وغیر ہ سے ظا ہر ہے(كہ لفظ قر ب اپنے دا من میں صد یو ں كا فا صلہ سمیٹے ہو ئے ہے)اور یہ با ت بچو ں تك پر وا ضح ہے ہم نے ان سے بار ہا ایك مسئلہ پو چھا جس كا جو ا ب آج تك كو ئی نہ دے سكا اور وہ كیسے جو ا ب دیتے وہی جو ا ب تو خود ان پر لو ٹتا با ت یہ ہے كہ جب حق ظا ہر ہو تا ہے زبا نیں گو نگی ہو جا تی ہیں۔
صور ت مسئلہ یہ ہے كہ زید نے ایك دینا ر مسا وی دس درم یا زا ئد كا ایك ہلكا پھلكا منبر بنا یا جسے ایك آدمی بلا تكلف و بے زحمت و مشقت جہا ں چا ہے اٹھا لے جا ئے اذا ن منبر
#373 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
حملہ واذھا بہ فا ذا ا نا ء فی المسجد حین المنبر كا ن المتو لی یستعیر ہ من ما بب لكہ ثم اذا فر غ یر د ہ الیہ و ذا ت یو م قضیت الصلو ۃ اونتشر وا فی الا ر ض والمنبر بعد فی مكا نہ و مالكہ قا م بحذا ئہ علی باب ا خر مستر قا و حا نت التفا تۃ من زید فا خذ المنبر و اشر د فحل یقطع ھذا الوا ھا بی السا ر ق شر عا ام لا فان قا لو ا لا فقد خا لفو ا نصو ص الا ئمۃ اذ قالوا من سرق من المسجد متا عا وربہ عند ہ بحیث یراہ قطع وان قا لو ا نعم فقد كا ن شرط القطع ان یكون ربہ عندہ لیكون محر زا بالحا فظ اذا المسجد لیس بمحر ز فقد ا عتر فو ا ان القا ئم علی باب المسجد او فی حدودہ او فنا ئہ حذاء كے وقت زید ا سے مسجد میں لے كر پہنچا متو لی مسجد نے اسے ما لك سے عا ریۃ ما نگ لیا كہ نما ز سے فا ر غ ہو كر وا پس كر دیں گے بعد نما ز لو گ تو ادھر ادھر منتشر ہو گئے اور منبر وہیں پڑ ا رہ گیا اور ما لك سا منے مسجد كے دروازہ پر یا حد ود مسجد كے اندر كھڑا رہ كرا سے دیكھتا اور نگر ا نی كر تا رہا اس اثنا میں ایك وھابی چو ر ی كی نیت سے مسجد كے اندر دوسر ے دوروا زے سے دا خل ہوا اور ما لك كے ایك ذرارخ پھیر نے كا انتظا ر كر تا رہا جیسے ہی مہلت پا ئی مبنرع لے كر نكل بھا گا سو ا ل یہ ہے كہ وہ وہا بی چو ر ی كی علت میں ما خو ذ ہو گا یا نہیں اور اس كا ہا تھ كا ٹا جا ئے گا یا نہیں تو دا خل مسجد اذا ن كے حامی اگر یہ جوا ب دیں كہ نہیں تو ائمہ فقہ كی نص صریح كے خلا ف ہو گا كہ ان كا ارشاد"جس نے مسجد كے اندر كے سا ما ن كو چر یا جبكہ ما لك اس سا ما ن كے پا س ایسی جگہ ہو جہا ں سے سا ما ن نظرآا رہا ہو تو اس كا ہا تھ كا ٹا جائیگا"اگر یہ جوا ب دیں كہ ہا تھ كا ٹا جا ئیگا تو كاٹنے كی شرط یہ تھی كہ ما لك سا ما ن كے اتنے پا س ہو كہ اسكا محافظ قرا ر دیا جا ئے كیونكہ مسجد حود محفوظ جگہ نہیں تو ان لوگوں نے یہ اعتر اف كر لیا كہ مسجد كے دروازے
#374 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المنبر قا ئم عند المنبر فبثت ان الاذان عند المنبر و ذلك ما اردنا ہ ولله الحمد حمد ا كثیر ا طیبا مبا ر كا فیہ كما یحبہ و یر ضا ہ۔
نفحہ ۵:لئن ننزلنا الی مثل مدار كھم فلا شك ان عند ظر ف زما ن و مكا ن قا ل تعالی :
" خذوا زینتکم عند کل مسجد " ای ثیا بكم وقت كل صلو ۃ والوقت یضا ف الی الا مكنۃ والا جسا م ایضا اذا كا ن لہ اختصا بھا قا ل تعالی :
" ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم " انما حنین اسم مكان و كذا یو م بدر یوم احد یو م الدار لیلۃ عقبۃ لیلۃ المعرا ج لیلۃ الغار فی الصحیحین: "من لھا یوم السبع "سبع بسكون البا ء مكا ن المحشر
كے پا س اس كے فنا ء میں منبر كے سا منے كھڑا ہو نے وا لا منبر كے پا س ہی ہے یہ تو ہما را دعو ی تھا جس كا اعترا ف مخا لف نے كیا الله تعالی كے لیے بے شما ر پا ك اور مبا ر ك تعر یفیں جس ے وہ را ضی ہو ا اور جسے پسند كرے۔
نفحہ ۵:اگر ہم ان لو گو ں كے معیا ر فہم پر اتر كر بھی با ت كر یں تو اتنا تو سب پر ظا ہر ہے كہ عند ظر ف زما ن اور مكان دو نو ں ہی كے لیے ہے جیسا كہ ارشاد بار ی ہے:"ہر مسجد كے پا س اپنی زینت اختیا ر كر و"یعنی ہر نما ز كے وقت كپڑے پہنو اور خود وقت بھی مكا ن اور اجسام دو نو ں ہی كی طر ف مضا ف ہو تا ہے جب كہ وقت كے ساتھ ان كو كوئی خصو صیت ہو ارشاد الہی ہے:"اور حنین كا دن یا د كر و جب تم اپنی كثر ت پر اترا گئے تھے"
حنین ایك جگہ كا نا م ہے یہی حا ل یو م بدریو م احدیو م دارلیلۃ العقبہلیلۃ المعرا ج اور لیلۃ الغار كا ہے صحیحین كی حدیث ہے:"ومن لھا یو م السبع"سبع كا لفظ با كے سكو ن كے سات بھی مروی ہے
#375 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
او بضمتھا الحیو ن المفتر س و علیہ الا كثر و لا شك ان لہذا الو قت اختصاصا بالمنبر وقتہ وحینہ۔
نفحہ ۶:احتجو ا بقو ل بعضھم علی المنبر فمن ھؤلاء من یفسر ہ بعند و قد علمت ان لیس فی عند ما یقرأ اعینھم واجھلھم یقو ل"علی"ھھنا بمعنی البا ء یر ید ان البا ء اللا لصاق فكا ن الاذان ملا صق المنبر مع ان الا لصا ق الذی فی البا ء لیس قطعا بمعنی الا تصا ل الحقیقی تقو ل مررت بزید اذا ا مررت بحیث ترا ہ و ان كا ن بینكما اكثر مما بین المنبر و البا ب قا ل تعالی : وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیہا وہم عنہا معرضون ﴿۱۰۵﴾ "" ھھنا لفظۃ علی نفسھا وانت لا یبلغ الا سبا ب اسباب تو لفظ سبع سے مراد مكا ن محشر ہو گا اور با ء كے ضمہ كے سا تھ تو شیر مراد ہو گا كااكثر علما ء كے نزدیك یہی را جح ہے پس ان مقامات میں یو م كی نسبت مقام كی طر ف ہے تو ایسا كیو ں صحیح نہ ہو گا كہ اذا ن عند المنبر كے معنی اذا ن وقت منبر ہو كیونكہ اس اذا ن كو منبر سے ایك نسبت خا ص ہے۔
نفحہ ۶:اذا نیو ں نے بعض فقہا ء كے قو ل اذا ن علی المنبر سے استدلا ل كیا تو ان میں سے بعض نے علی كی تفسیر عند سے كی اور ہم اوپر ذكر كر آئے ہیں كہ خود لفظ عند میں كو ئی ایسی با ت نہیں جس سے ان كے دل كو چین ملے اور ان میں سب سے بڑے جا ہل نے كہا كہ علی معنی میں با ء كے ہے مطلب یہ كہ باء الصا ق كے لے آتا ہے تو لفظ اذا ن علی المنبر كا مطلب ہو گا وہ اذا ن جو منبر كے متصل ہو اس با ت سے قطع نظر كہ یہا ں علی كا با ء كے معنی میں ہو ا خود محل نظر ہے لطف یہ ہے كہ خود الصا ق كے معنی اتصا ل حقیقی نہیں عر بی كے اس قول مررت بزید(میں زید كے سا تھ چلا)كا یہ مطلب نہیں كہ میں زید سے چپك كر چلا بلكہ تم زید كے پیچھے پیچھے منبر اور دوازہ مسجد كی دور ی سے زا ئد فا صلہ پر بھی چلو اس طر ح كہ تمہا ری نظر زید پر رہے تو تم كہہ سكتے ہو كہ میں زید كے سا تھ چلا الله تبارك و تعالی
#376 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
السمو ات حتی تلتصق با یا تھا انما المعنی تمر بحیث تر ا ھا وامثلھم طر یقۃ یقو ل ان بعض الفقھا ء اتی بعلی تا كید ا للقر ب یر ید ان المراد المبا لغۃ فی القرب حتی كا نہ علیہ فو قہ وكل ھذا من ھو سا تھم۔
فاولا:قد اجمع العقلا ء ان اللفظ متی احتمل الحقیقۃ لا مجا ز عنھا الی المجا ز و معلو م ان علی بمعنی عند او بمعنی البا ء او للمبا لغۃ كل ذلك مجا ز وھی حقیقۃ فی اللزو م ففی اصول الا ما م شمس الائمۃ ثم كشف الا ما م البخار ی:"اما علی فللزا م با عتبار اصل الو ضع اھ"
ارشا د فر ما تا ہے:"آسما ن و زمین میں كتنی آیتیں ہیں جن گزر تے ہیں اور وہ ان آیتو ں سے اعرا ض كر تے ہیں۔"اس آیت میں خود لفظ علی ہی ہے تو كیاتم علی كو الصا ق كے معنی میں لے كر آسما نی آیتو ں سے متصل ہو نے كے لیے آسما نو ں تك بلند ہو نے كی طا قت ركھتے ہو پس اس آیت میں لا محا لہ تمر و ن علیہا كے یہی معنی مراد لینے ہو نگے كہ تم ان آیتو ں كو دیكھتے ہو ئے گزرتے ہو اس حا ل میں كہ تم میں او ران آیتوں میں آسمان كی و زمین كی دوری تھی اور ان میں سب سے زیا دہ سلیم الطبع نے یہ تشر یح كی كہ بعض فقہا كی عبارت میں علی المنبر كا لفظ قر ب كی تا كید كے لیے ہے مطلب یہ كہ مراد مبا لغہ فی القرب ہے یعنی منبر كے اتنا قر یب كہ گو یا منبر پر ہی ہو لیكن یہ بھی ان كی ہو س ہی ہے۔
اولا:تما م اہل زبا ن كا اس امر پر اتفا ق ہے كہ لفظ كے معنی حقیقی جب تك بن سكیں معنی مجا زی مراد لینے كی كو ئی سبیل نہیں اور یہ واضح ہے كہ علی كو عند با ء یا مبالغہ كے لیے لینا اس كے معنی مجا زی ہو ں گے كہ اس كے معنی حقیقی تو لا زم كر نے كے ہیں جیسا كہ آو ل اما م شمس الا تمہ اور كشف اما م بخار ی میں: "علی اصل وضع كے اعتبار سے الزا م كے لیے ہے۔"
#377 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وفی تحریر الا ما م ابن الھما م و تقر یر الا مام ابن امیر الحا ج:"وھو ا ی اللزو م ھو بمعنی الحقیقی اھ وفی الر ضی الكا فیۃ منہ سر علی اسم الله تعالی ای ملتزما "
قال ربنا عزوجل" فجاءتہ احدىہما تمشی علی استحیاء ۫ "
ای ملا زمۃ للحیا ء۔
ولا شك ان ھذا الاذان اینما كا ن لا زم ملا زم للمنبر فا نی تو فكو ن۔
ثا نیا:الیست"علی"للمصا حبۃقا ل الا ما م الجلیل الجلا ل السیو طی فی الا تقا ن علی حر ف جر لھا معان(الی ان قال)ثا نیھا للمصا حبۃ كمع نحو"وا تی المال علی حبہ ای مع حبہوان ربك لذو مغفر ۃ الناس علی ظلمھم " تحریم اما م ابن ہما م اور تقر یب اما م ابن امیر الحا ج میں ہے:"لزو م ہی علی كے معنی حقیقی ہیں"۔اور رضی شر ح كافیہ میں ہے اسی محا ورہ سے ہے الله كے نا م پر سیر كر یعنی اس كو لا زم پكڑو۔"
قرآن عظیم میں یہ لفظ اسی معنی میں وارد ہوا ارشاد الہی ہے: "ان دو عورتو ں میں سے ایك شر م كر تی ہو ئی آئی"یعنی وہ شرم كو لا زم كئے ہوئے تھی۔
اور اذا ن خطیب اس اما م كو لا زم ہے جس نے منبر كا الزا م كیا ہے تو یہ لو گ علی كو اس كے حقیقی معنی(لزو م)سے پھیر كو كد ھر پلٹ
رہے ہیں۔
ثانیا:علی مصا حبت كے لیے ہے اما م جلا ل الد ین سیوطی اتقا ن میں فرما تے ہیں"علی"حرف جر ہے اس كے چند معا نی ہیں دوسرا معنی مصا حبت ہے جیسے لفظ مع قرا ن عظیم میں ہے كہ ما ل كو محبت كے با وجو د قرا بت داروں كو دیا(دوسر ی مثال) تمھا را رب ظلم كے با وجو د لو گو ں كی مغفر ت كر نیو ا لا ہے(یہا ں علی ظلم كا مطلب مع ظلم ہے)"
#378 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وفی الحدیث"زكا ۃ الفطر علی كل حر و عبد "قا ل فی النہا یۃ"قیل علی بمعنی مع لان العبد لا تجب علیہ الفطرۃ و انما تجب علی سید ہ اھ"وفی القاموس: "والمصاحبۃ كمع""واتی المال علی حبہ "وفی الفتوحات الا لھیۃ تحت قو لہ تعالی "تمشی علی استحیاء "علی بمعنی مع ای مع استحیا ء "ولا شك ان ھذا الاذان مصا حب المنبر لا یتقد مہ ولا یتأخر عنہ فا ن كا نت حقیقۃ فی المصا حبۃ فذا ك والا بطل مجا ز كم با حتما ل مجا ز اخر اذ انتم المستدلو ن۔



ثالثا:قال ربنا عزوجل:" و اور حدیث شر یف میں ہے زكو ۃ فطر ہر آزاد اور غلا م پر ہے"نہا یہ میں فر ما یا علی یہا ں بھی مع كے معنی میں ہے كہ صد قہ فطر غلام پر واجب نہیں ہو تو ما لك پر ہے(تو مطلب یہ ہو كہ غلا م كا صد قہ بھی اپنے ساتھ دے)قا مو س سے بھی اسی كی تا ئید ہو تی ہے:"مع كی طر ح علی بھی مصا حبۃ كے لیے آتا ہے جیسے اتی الما ل علی حبہ"اور فتو حا ت الہیہ میں آیت مبا ر كہ تمشی علی استحیاء كی توضیح میں فرمایا:علی مع كے معنی میں ہے یعنی شرماتے ہو ئے اور اذا ن خطبہ بلا شبہ جلو س علی المنبر كے مصا حب ہے نہ اس سے قبل نہ بعد پس مصا حبۃ اگر علی كے معنی حقیقی ہو ں آپ كے مراد لیے ہو ئے معا نی مجا زی ہو ئے اور مجا ز حقیقت كے مصا دم نہیں ہو سكتا اور یہ معنی مجا زی اور آپ كے معا نی بھی مجا زی تو ایك اور معنی مجا زی كا احتما ل پید ا ہو ا اور احتما ل استدلا ل كے لیے كتنا مضر ہے یہ سب كو معلو م ہے۔
ثالثا:الله تعالی كا ارشاد ہے:اور
#379 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن " قال فی الاتقان والفتوحات الا لھیۃ(ای فی زمن ملكہ )و فی مدارك الامام النسفی:"ای علی عھد ملكہ وفی زمانہ "اھ۔ ولا شك ان ھذالاذان علی عھدالمنبر وفی زمانہ فرجعت الی معنی عند الزمانیۃ۔
رابعا:اصل الكلا م انھم اختلفو ا فی الاذان المعتبر لا یجا ب السعی و تر ك العمل ھل ھو الاذان الا ول كما ھو الا صح و بہ قا ل الحسن بن زیا د عن سید نا الا ما ام الا عظم رضی الله تعالی عنہ ام اذا ن الخطبۃ لانہ لم یكن عند نزو ل الكر یمۃ وغیر ہ و بہ قا ل الا مام الطحا وی رحمہ الله تعالی و نقل الشمنی فی شر ح النفا یۃ كلا مہ ھكذا قا ل الطحا وی:انما یجب السعی و تر ك البیع اذا ا ذن الاذان الذی یكون وا لا مام علی المنبر لانہ الذی كا ن علی عہد رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم و ابی بكر و عمر رضی الله تعالی عنھما اھ انہو ں نے ملك سلیما ن پر شیطا نو ں كے پڑھے ہو ئے كی اتبا ع كی اتقا ن اور فتوحات الہیہ میں ہے یعنی ان كی حكو مت كے زما نہ میں مدار ك اما م نسفی میں ہے یعنی ان كی حكو مت اور ان كے زما نہ میں اور اس میں كو ئی شبہ نہیں كہ اذا ن خطبہ منبر كے وقت اور زما نہ میں ہے تو یہ عند زما نیہ كے ہم معنی ہو گیا۔
رابعا: اصل یہ ہے كہ فقہا ء نے اس با ب میں اختلا ف كیا ہے كہ جمعہ كے لیے سعی كے وجو ب میں كس اذا ن كا اعتبا ر ہےاذا ن اول كا(حنفیہ كے نزدیك یہی صحیح ہے اور حسن بن زیا د نے امام اعظم سے اس كی روا یت كی)یا اذان خطبہ كا كیونكہ آیت سعی كے نزو ل كے وقت اذا ن اول تھی ہی نہیں(یہی اما م طحا وی كا قو ل ہے جس كو شر ح نقا یہ میں شمنی نے نقل كیا)اما م طحا وی نے فرما یا كہ جمعہ كے وقت وجو ب سعی اور تر ك بیع كا حكم اس اذا ن كے وقت ہے جو اما م كے منبر پر بیٹھنے كے وقت دی جا تی ہے كیو نكہ پہلی اذا ن عہد رسا لت اور ابو بكر و عمر رضوان الله تعالی علیہم اجمیعن كے زما نہ میں نہ تھی۔
#380 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وفی مر قا ۃ علی القا ری:"قا ل الطحا وی انما یجب السعی وتر ك البیع اذا اذ ن الاذان و الا ما م علی المنبر لانہ الذی كان علی عہدہ علیہ الصلو ۃ والسلام و زمن الشیخین رضی الله تعالی عنھما ۔
وھكذا ا كما تر ی لا مثا رلو ھمھم فیہ وكا ن بعض المتا خر ین اختصر وا مقا لہ ولیر ا جع اصل لفظہ رحمہ الله تعالی عنہ فا نی ارجو ا ان لا یكون فیہ ما او قعھم فی الو ھم و كیف ما كا ن فا نما استدل با نہ الذی كا ن علی عہد رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وابی بكر و عمر رضی الله تعالی عنہما وھكذا ذكر فی دلیلہ من عبر ہ با لا ذا ن علی المنبر عند المنبر كا لكا فی و الكفایۃ والمبسوط وغیرھا و معلو م قطعا انہ لم یكن علی عہد رسو ل الله تعالی علیہ وسلم فوق المنبر ولذا احتا ج ھؤلا ء ایضا الی تا ویل علی بعند او البا ء او ملا علی قا ر ی رحمۃ الله علیہ كی مرقا ت میں بھی روا یت ان الفا ظ میں ہے:"اما م طحا وی فر ما تے ہیں كہ جمعہ كے لیے سعی اور تر ك بیع كا وجو ب اما م منبر پر بیٹھنے كے وقت دی جا نے والی اذا ن سے ہے كیو نكہ عہد رسا لت اور زما نہ شیخین میں صرف یہی اذا ن تھی۔"
ہر ایك پر روشن ہے كہ اس عبار ت میں مخا لفین كے شبہ میں پڑنے كی كو ئی گنجا ئش نہیں(اما م طحا وی نے امام كے منبر پر ہو نے كی با ت كہی ہے نہ كہ اذا ن كے)اور اسی عبارت كو بعض متا خر ین نے اپنے طو ر پر مختصر كیا ہے اصل عبا ر ت كو دیكھا جا ئے توا س شبہ كی كو ئی بنیا د ہی نہیں بھلا ایسے ہو سكتا ہے۔اما م طحا وی نے اپنے استدلا ل میں فر ما یا وہ اذا ن جس پر سعی وا جب ہو تی ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم اور صا حبین رضی الله تعالی عنہما كے عہد مبا ر ك میں یہی بھی بعد كے جن لو گو ں نے اس اذا ن كی تعبیر علی المنبر یا عند المبنر سے كی جیسے صاحب كافی وكفایہ اور مبسوط وغیرہ ان لوگوں نے بھی یہی كہا كہ یہی اذان حضور كے عہد مبارك میں ہوتی تھیاور سب كو معلوم ہی كہ اذان خطبہ عھد رسالت میں منبر كے اوپر نہیں ہوتی تھی اسی لیے تو ان علما ء نے بھی علی كو عند
#381 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المبا لغۃ فا ذن یجب حملہ ما كا ن علیہ فی زمنہ الكریم وكما لم یثبت كو نہ فی عہد ہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فو ق المنبركذلك لم یثبت كونہ ملاصق المنبراو عندالمنبر با لمعنی الذی یزعمو ن وانما ثبت كو نہ علی با ب المسجد فیجب ان لا یحمل الا علی ما یو ا فقہ عند كا ن او علی ولكن الانصاف قد عز فی الاخلا ف۔
نفحہ۷:لئن تنزلنا لھم عن جمیع ھذہ التحقیقات التی ذكرنا بتو فیق ربنا علی الا علی فی"عند وعلی"۔
فاولا:ما قو لھم"المعتبر الاذان علی المنا رۃ او الاذان علی المنبر او عند المنبر"الا حكا یۃ حا ل للتعر یف و یعر ف كل احد حتی الصبیا ن انہ لیس بحكم و قو لھم"لا یؤذن فی المسجدویكر ہ الاذان فی المسجد حكم والعبر ۃ با لحكم الا بالحكا یۃ۔
وثا نیا:الاذان الذی كذ ا كے معنی میں لیا۔اور روا یت سے یہ ثا بت ہے كہ جس كو عند كہتے ہیں وہ علی با ب المسجد ہے تو عبا رت میں لفظ عند ہو یا علی سب كو اسی ثا بت شدہ محمل پر حمل كر نا چا ہیے نہ كہ اس واقعہ كے انكا ر كے لیے معبر ین كی تعبیر كو سند بنا نا چا ہیے مگر افسوس كہ انصا ف دنیا سے نا پید ہورہا ہو۔
نفحہ۷:اگر ہم عن اور علی كے با رے میں ذكر كی ہو ئی تما م تحقیقا ت سے قطع نظر كر لیں تب بھی بات وہ ہی ثابت ہو تی ہے جو ہم نے الله تعالی كی تو فیق سے ذكر كی ہے۔
اولا:ان تمام عبار تو ں میں جہا ں اذا ن علی المنا رہ یا اذا ن علی المنبر یا عند المنبر كا لفظ آیا ہے بطو ر تعا ر ف و حكایت حا ل كے ہے(یعنی وہ اذا ن جو فلا ں جگہ ہو تی ہے اس میں كو ئی حكم نہیں كہ اذا ن یہا ں ہو نی چا ہیے)بخلا ف ان اوقو ا ل كے جب میں مسجد میں اذا ن مما نعت آئی ہے جیسے لا یؤذن فی المسجد (مسجد میں اذا ن نہ دی جا ئے)یا یكرہ الاذان فی المسجد (مسجد میں اذان مكر وہ ہے)كہ یہ صا ف صا ف حكم ہے اور اعتبا ر حكم كا ہے تعا ر ف و حكا یت كا نہیں۔
ثانیا:یہ طر یقہ بیا ن(كہ جو اذان فلا ں
#382 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بیا ن علا مۃ لہ فلا ید ل علی جو ازہ فضلا عن استنا نہ قا ل الا ما م الا جل ابو زكر یا النو وی فی شر ح صحیح مسلم ثم العلا مۃ المحدث طا ہر فی مجمع بحا الانوار:"ان العلامۃ تكو ن بحرا م و مبا ح اھارأیت ان اجتمع فی صعید السلطا ن و الامر ا ء النا س فمن لا یعر ف السلطا ن سا ل علا ما من فیھم الملك الذی یفتر ض علینا طا عتہ فی المعر وف فا ل الذی علی راسہ تا ج الذھب ھل یكون ذلك حكما منہ بجو از لبس الذھب للر جا ل كلا علماؤنا قد ارشد و ا لی الحكم ان لا یؤو ن فی المسجد ومع ذلك لا شك ان لو فعل فیہ كما یفعل ھو لا ء لكا ن مو جبا للسعی و ترك البیع علی قو ل لا ما م الطحا وی فلو فر ض ان النا س احدثو ہ ھكذا فعر فو ہ بہ بیا نا لحكم السعی كا ن ما ذا۔ جگہ ہو تی ہے)علا مت ہے اور علا ما ت كا مسنو ن ہو نا تو بڑی بات ہے جا ئز ہو نا بھی ثا بت نہیں ہو تا اما م اجل ابو زكر یا نووی شر ح صحیح مسلم اور علا مہ محد ث طا ہر فتنی نے مجمع البحا ر میں فر ما یا"كسی چیز كی علا مت مبا ح اور حرا م دو نو ں ہی كو قرار دیا جا سكتا ہے"اس كی مثا ل یہ ہے كہ كسی مید ا ن میں بادشا ہ امرا ء اور عو ا م سبھی جمع ہیں ایك آدمی با دشا ہ كو نہیں پہچا نتا اس نے ایك پر ہیز گا ر عا لم دین سے پو چھا ان لو گو ں میں با دشا ہ كو ن ہے جس كی اطا عت ہم پر وا جب ہے وہ عا لم كہے گا كہ جس كے سر پر سو نے كا تا ج ہے دیكھئے یہا ں سو نے كے تا ج كی علامت سے با دشا ہ كو پہنچوا یا گیا تو كیا یہ تعا رف اس با ت كا حكم ہو گیاكہ مردوں كو سو نے كا تا ج پہننا جا ئز ہے تو جب ہما رے علما ء نے یہ حكم بتا دیا كہ مسجد كے اندر اذان نہ دی جا ئے اور یہ كہ مسجد كی اذا ن مكر وہ ہے تو اگر اس كے خلا ف مسجد كے اندر اذا ن دی جا نے لگے جیسا كہ آجكل یہ لو گ كر رہے ہیں تو یہ اذا ن بھی اما م طحا وی كے مسلك پو مو جب سعی و تر ك بیع ہو گی ہم یہ فر ض كئے لیتے ہیں كہ یہ اذا ن متصل منبر لو گو ں نے ازخود ایجا د كر لی ہے پھر بھی اس ممنو ع اذا ن كو وجو ب سعی كی علامت قرار دیں تو اس سے یہ اذا ن جا ئز تو ہو نہیں جا ئے گی۔
#383 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ثا لثا:الحكم الضمنی فی الوصف العنو ا نی حكم منطقیوالحكم المنطقی ان كا ن قصد یا لم یلزم ان یكون شر عیا فكیف اذا كا ن ضمینیا الم تسمع الی ما قا لہ العلما ء فی حدیث علیہ السلا م تحیۃ الموتی ۔





رابعا:بعد التیا و التی ان كا ن فمن با ب"الا شا رۃ"وقو لھم لا یوذن فی المسجد و یكرہ الاذان فی المسجد "عبا رۃ"وقد نصو ا قا طبۃ ان العبا ر ۃ مر جحۃ علی الا شا ر ۃ و ان الحكم و الفتیا با لمر جو ح جہل و خر ق الا جما ع كما فی تصحیح القدوری و الد ر المختا ر ۔ ثالثا:قضیہ ضمنیہ میں دو حكم ہو تا ہے ایك مو ضو ع كے وصف كا صد قپ ذا ت مو ضو ع پر اور دوسرا وصف محمو ل كا صد ق ذا ت موضوع پر پہلے وا لا حكم ضمنی منطقی ہو تا ہے اور دوسرا حكم صر یحیشر ع كے نزدیك یہی معتبر ہے حكم منطقی قصدی ہو تو تب بھی شر عا معتبر نہیں۔اور مسئلہ دائر ہ میں تو اس اذا ن پر جو فی زما نہ متصل منبر ہو تی ہے فقہا ء نے اذا ن كا حكم ضمنا لگا یا ہے تو یہ شر ع كے نزدیك كب معتبر ہو گا اس كی مثا ل یہ ہے كہ لفظ علیك السلا م میں مخا طب پر سلا م كا حكم منطقی قصد ی ہے مگر شر یعت نے اسے نا معتبر اور ناجائز بتایا۔حدیث شریف میں ہے:"علیك السلا م مردو ں كا سلا م ہے"۔
رابعا:تما م بحث و مبا حثہ كے بعد اذا ن علی المنبر اسے اگر كو ئی حكم ثا بت ہو تو بطور اشا ر ۃ النص ثبو ت ہو گا اور فقہاء كے قول "لا یؤذن فی المسجد و یكر ہ الاذان فی المسجد"عبا ر ۃ النص ہے اور تما م علما ئے اصو ل كا اجما ع ہے كہ عبارۃ النص راجح اور اشا ر ۃ النص مر جو ح ہے اور در مختا ر میں ہے كہ قو ل مر جو ح پر فتو ی دینا جہا لت اور خرق اجما ع ہے۔
#384 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وخامسا:فی معا نہ انو ا ع الا حتما ل والنصا ن صریحان والمحتمل لا یعا ر ض الصر یح و اذا جا ء الا حتما ل بطل الا ستد لا ل۔
وسادسا:مع قطع النظر عن كل ما مر غا یتہ تعا ر ض حا ظر و مبیح فیتر جح الحظر بل الا مر اذا تر دد بین السنۃ والكر ا ھۃ كان سبیلہ التر ك كم نص علیہ فی رد المحتا ر والبحر وغیر ھما لان در ء المفا سد اھم من جلب المصا لح وفی معرا ج الدرا یۃ للا ما م القو ا م الكا كی ثم منحۃ الخا لق غض البصر مكر و ہ والجما عۃ سنۃ فتر ك السنۃ اولی من ارتكا ب المكروہ اھ فعلی كل حا ل ما النصر الا لنا ولا الدا ائر ۃ الا علیہم ولله الحمد فھذا عشر ۃ أجوبۃعن "عند"و عشرۃ عن"علی"ولله الحمد العلی وخا مسا:اذا ن علی المنبر كے معنی میں مختلف قسم كے احتما ل ہیں اور مما نعت اذا ن فی المسجد كی عبار ت نص صر یح ہے اور یہ بات با لكل واضح ہے كہ محتمل صر یح كا مقا بل نہیں ہو سكتا اور كلا م محتمل سے استد لا ل با طل ہے۔
سادسا:جو پہلے گزرا اس تما م سے قطع نظر كر تے ہو ئے اس كی غا یت حظر و ابا حت كی دلیل میں تعا ر ض ہے تو ترجیح حظر كو ہو گی بلكہ امر جب سنت و كرا ہت میں دائر ہو تو اس كا را ستہ تر ك سنت ہے جیسا كہ ردالمحتا ر اور بحر وغیر ہ میں اس پر نص كی گئی ہے كیو نكہ مفا سد سے بچنا منا فع كے حصو ل سے زیا دہ اہمیت ركھتا ہےمعراج الد ارا یہ اور متحتہ الخا لق میں ہے غضن بصر مكر وہ اور جما عت سنت ہے چنا نچہ تر ك سنت او لی ہے ارتكاب مكر و ہ سے بہر حا ل نصر ت ہما رے لیے اور وبا ل ان پر ہے اور تما م تعر یفیں الله تعالی كے لیے ہیں یہ"عند" سے متعلق دس جو ا ب ہیں اور علی سے متعلق بھی دس جو اب ہیں اور تما م تعر یفیں الله تعالی بلند و
#385 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الا علی۔
وانت خبیر ان كل ما ذكر نا فی ھذہ النفحۃ الا خیر ۃ فا نما ھو علی غا یتہ التنزل وارخا ء العنا ن و جر ی علی سنن المناظرۃ والا حققنا كلا م الفقھا ء الكر ا م بمالا یبقی معہ للمنصف كلام ولا للمجا دل مجا ل جدا ل وا ما المكا بر فدا ءہ عضا ل نسا ل الله العفو و العا فیۃ۔
نفحہ ۸:اعلم ان السنۃ عند السا دۃ الما لكیہ فی اذا ن الخطبۃ ایضا ان یكون علی المنا رۃ و صر حوا ا ن كو نہ بین ید ی الخطیب بد یۃ و مكر و ھۃ وقا ل الا ما م محمد العبد ر ی الفا سی الما لكی فی المد خل:"ان السنۃ فی اذا ن الجمعۃ اذا صعد الا ما علی المنبر ان یكون المؤذن علی المنا ر كذلك كا ن علی عھد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وا بی بكر وعمر وصدرا من خلا فۃ عثما ن رضی الله تعالی عنہثم زاد عثما ن رضی الله تعالی عنہ اذا نا اخر با لزوراء وابقی الاذان الذی كا ن علی عہد رسو ل الله تعالی علیہ وسلم علی المنار و الخطیب علی المنبر اذ ذاكثم لما تو لی ھشام بن عبد الملك اخذ الاذان اعلی كے لیے ہیں۔
اس نفحہ میں جتنی با تیں ہم نے ذكر كیں اپنے منصب سے اتركر اور لگا م ڈھیلی كر كےاور بطور منا ظر ہ۔ور نہ ہم نے تو فقہا ئےكرا م كے كلا م كی گنجا ئش ہی نہیں بلكہ مجا دل بھی جدل سے با ز آئے رہ گیا مكا برانہ كلا م تو ئی ایك گمر ہی ہے جس سے ہم خدا كی پنا ہ ما نگتے ہیں۔
نفحہ ۸:ائمہ ما لكیہ رضی الله تعالی عنھم كے نزدیك اذا ن خطبہ میں بھی سنت یہی ہے كہ منا ر ہ پر ہو خطیب كے سا منے یہ اذان بد عت مكر و ہہ ہے اما م محمد عبد ری فا سی ما لكی مد خل میں فرما تے ہیں اما م كے منبر پر چڑھنے كے وقت كی اذا ن میں سنت یہ ہے كہ مو ذن اس وقت منارہ پر ہو ایسا سید عا لم صلی الله تعالی علیہ وسلم اور زما نہ ابو بكر وعمر عثما ن غنی رضی الله تعالی عنھم كے ابتدائے خلافت تك رہااس كے بعد حضرت ذوالنورین عثما ن غنی رضی الله تعالی عنہ نے ایك اور اذا ن زیادہ فر ما ئی جو مقا م زوراء پر دی جا تی اور عہد رسا لت وا لی اذان كو جہا ں كا تہا ں با قی ركھا(یعنی جب خطیب مبنر پر چڑھتا اس وقت اذا ن منا ر ہ پر دی جا تی)ہشا م ابن عبد الملك بادشا ہ ہو ا تو اس نے اذا ن اول كو مقا م زوارء سے منا ر ہ كی طر ف
#386 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الذی فعلہ عثما ن رضی الله تعالی عنہ با لزوارء و جعلہ علی النا ر ثم نقل الاذان الذی كا ن علی المنا ر حین صعود الا مام علی المنبر علی عہد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم و ابی بكر و عمر وصدرا من خلافۃ عثما ن رضی الله تعالی عنہم بین ید یہ قا ل علما ؤنا رحمھم الله تعالی علیہم و سنۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اولی ان تتبطع اھ"(با ختصار)۔
وحواشی الجو اھر الزكیۃ شر ح المقد مۃ العشما ویۃ للعلامۃ یو سف السفطی الما لكی الاذان الثا نی كا ن علی المنار فی الزمن القد یم علیہ اھل المغر ب الی الان وفعلہ بین ید ی الا مام مكر وہ كما نص علیہ البر زنی وقد نھی عنہ ما لك فعلہ علی المنا ر و ا لا ما م جالس ھو المشرو ع اھ سكند ر ی۔
وفی المو اھب اللدنیۃ للا ما م احمد القسطلانی وشر حھا للعلا مۃ محمد منتقل كیا اور اذا ن عہد رسا لت وصا حبین اور ابتد ا ئے عہد عثما ن غنی میں(یعنی اما م كے منبر پر بیٹھنے كے وقت)منا ر ہ پر ہوتی تھی اس كو اما م كے سامنے دلانے لگا ہما رے علما ء كرا م فرماتے ہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كی سنت كی پیروی اس بات كی زیا دہ مستحق ہے كہ اس كی پیر وی كی جائے۔
حوا شی جو ا ہر زكیہ شر ح مقد مہ عشما ویہ للعلا مہ یو سف السفطی سكند ر ی ما لكی میں ہے دوسر ی اذا ن زما نہ قد یم سے منا ر ہ پر ہو تی تھی اہل مغر ب كا آج بھی اسی پر عملدر آمد ہے اس اذا ن كے اما م كے سا منے دینے كو اما م برزنی نے مكر و ہ لكھا ہے اما م ما لك نے اس سے منع فرما یا اما م كے مبنر پر بیٹھنے كے وقت منار ہ پر اذا ن مشر و ع ہے۔
موا ہب الد نیہ میں اما م احمد قسطلانی نے اور اس كی شر ح میں علا مہ زرقا نی ما لكی رحمھما لله تعالی
#387 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الزرقا نی الما لكی رحمھما لله تعالی قا ل الشیخ خلیل ابن اسحق فی التوضیح اسم شرحہ علی ابن الحاجب: "اختلف النقل ھل كا ن یؤذن بین ید یہ صلی الله تعالی علیہ وسلم او علی امنا ر الذی نقلہ اصحبنا انہ كا ن علی المنا ر نقلہ ابن القا سم عن ما لك فی المجموعۃ ونقل ابن عبد البر فی كا فیہ عن ما لك رضی الله تعالی عنہ ان الاذان بین ید ی الا ما م لیس من الامر القدیم الخ۔"وسیاتی تما مہ بعو نہ تعالی ۔
فھذہ نصو ص الا ما م ما لك و اصحا بہ علی ان كو ن الاذان بین ید ی الخطیب بد عۃ من را سہ فضلا عن كو نہ فی المسجد و انما السنۃ فیہ ایضا كا ذا ن سا ئر الصلوات كونہ علی المنار فظہر ان ادعا ئھم اجما ع المسلمین علی الاذان داخل المسجد لصیق المنبر فر یۃ منھم وای اجما عۃ یقوم مع خلا ف اما م دار الھرۃ و جما ھیر اصحا بہ رضی الله تعالی عنہ وعنھم وكذا كذب من نے فر ما یا:"شیخ خلیل ابن اسحق نے تو ضیح میں فرما یا جو ابن حا جب كی شر ح ہے كہ علما ئے نقل نے اختلا ف كیا كہ"اذا ن ثانی حضور صلی الله تعالی علیہ كے سا منے ہو تی یا منا رہ پر ہمارے اصحا ب سے منا رہ پر ہو نا ہی منقو ل ہے جیسا كہ ابن قاسم نے اس كو اما م ما لك رضی الله تعالی عنہ سے ممجمو عہ میں نقل كی ابن عبد البر نے اما م مالك سے یہی نقل كیا كہ امام كے سا منے اذا ن دینا قد یم معمو ل نہیں ہے"(پوری تفصیل ان شا ء الله آگے آرہی ہے)
اما م ما لك رضی الله تعالی عنہ اور ان كے اصحا ب كے یہ نصو ص اذا ن بین ید ی الخطیب كے با لكلیہ بد عت ہو نے كی تصر یح ہیں چہ جائكہ اس كا مسجد میں ہو نا جا ئز ہوسنت تو یہ ہے كہ با قی تما م اذا نو ں كی طر ح یہ بھی منارہ پر ہو تو مخا لفین كا یہ فترا ء ہے كہ اذا ن ثا نی كا منبر كے متصل مسجد میں ہو نا ا جما ع مسلمین سے ثا بت ہے بھلا ا ما م دار الہجر ۃ اما م ما لك اور ان كے خلفا ء رضی الله تعالی عنھم كو چھوڑ كر كو ن سا اجما ع منعقد ہو سكتا ہے تنہا ائمہ ما لكیہ كا ختلاف ہی قد ح اجما ع كے لیے كا فی ہے جبكہ اس
#388 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ادعی اجما ع المذاھب الا ربعۃ ولعل ما لكا لیس عند ہ من ا لا ربعۃ ھذا اذا لم یصر ح ائمتنا الحنفیۃ بكر ا ھۃ الاذان دا خل المسجد فكیف وقد صر حو ا ولانعلم خلا فا فیہ عن غیر ھم فلا یبعدا ن الا جما ع علی خلا ف ما ھم علیہ و با لله التو فیق۔
نفحہ۹:وبہ ظہر بطلان زعمھم تعا مل جمیع المسلمین فی جمیع بلاد الا سلا م با یقا ع ھذا ا لا ذا ن داخل المسجد لصیق المنبر ألم تسمع السكندری ثم السفطی"ان الاذان الثا نی كا ن علی المنا ر فی ا لزمن القد یم علیہ اھل المغر ب الی الان ونر ی فی معظم بلا دنا الجو ا مع السلطا نیۃ مبنیۃ فیھا دكك لھذا الاذان بعید ۃ عن المنبر وعلیہا یفعل الی الان وقد قدمنا انہ اذان خارج المسجد لكن العوام لا یعلومون ظاھرا من الحال و عن الحقیقۃ ھم غافلون و اذلم یھتد وا لھا ظنو ہ اذا نا فی المسجد فعن ھذا نشأ وا فشا فیھم ھذا ثم قا سو ا علیہ اذا ن سا ئر الصلو ات اذلا فا ر ق مسئلہ میں ائمہ احنا ف رحمھم الله كی تصر یح بھی مو جو د ہے كہ مسجد كے اند ر اذا ن مكر وہ ہے اور احنا ف وغیر ہ كسی سے بھی اس كے خلاف ہو نے كا علم نہیں تو كہیں ایسا تو نہیں كہ اذان بین ید ی الخطیب كے مكر وہ ہو نے پر ہی اجما ع ہو۔
نفحہ ۹:مذكو رہ با لا بیا ن سے یہ بھی ا ہر ہو گیا كہ ان لو گو ں كا یہ گما ن بھی با طل ہے كہ تما م اسلا می شہر و ں میں سارے مسلمانوں كا تعا مل اسی پر ہے كہ یہ اذا ن مسجد كے اند ر منبر كے متصل ہو تی ہے(توتعا مل كی دلیل سے اذا ن ثا نی متصل منبر جا ئز ہو ئی)كیو نكہ سكند ر ی پھر سفطی كا بیا ن سن چكے كہ ما لكیہ اور اہل مغر ب كا تعا مل بیر و ن مسجد كا ہے خود ہند و ستا ن كےا اكثر شہر و ں میں شا ہی جا مع مسجد و ں میں منبر و ں سے دور چبو تر ے بنے ہو تے ہیں جن پر آج تك اذا ن ہو تی ہے پہلے ہم یہ بتا آئے ہیں كہ یہ اذا ن بھی دراصل بیر ون مسجد ہے لیكن عو ا م لا علمی كی وجہ سے حقیقت سے غا فل اور ظا ہر سے دھو كے میں پڑے ہیں اور اس كو اذا ن اند رو ن مسجد سمجھتے ہیں اور یہی ان میں شا ئع و ذا ئع ہے اور پھر اسی لا علمی پر اپنے ایك فا سد قیا س كی بنیا د ركھتے ہیں كہ مسجد مسجد سب بر ابر ہیں ان میں با ہم نہ كو ئی فر ق ہے نہ كو ئی فرق كا
#389 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ولا قا ئل با لفر ق فتری ھم فی كل صلو ۃ یقوم احدھم اینما شا ء من بیت الله فیر فع عقیر تہ بالاذان و اذا قیل لہ اتق الله قابل با لعنا د والطغیا ن فصا ر عمل السنہ عند ھم منسیا و تصر یحا ت الفقہ شیئا فر یا احد ثوا تعا ملا فیما بینھم علی خلا ف الشریعۃ ثم جعلو ہ لا بطال حكم الشر ع ذریعۃ و الی الله المشتكی وھو االمستعا ن۔"
ولم یعلموا ا ن مثل ھذا التعا مل لا حجۃ فیہ والا لكان الكذب وا لغیبۃ والتمیمۃ اجدر بالجو ا ز فا نھا اكثر تعا ملا وافشی فی النا س شر قا و غر با بعد قرون الخیر قا ل صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم یفشو ا الكذب ۔
قال فی فتاوی الغیاثیۃ اوخركتاب الاجارۃ عن السید الا ما م الشہید رحمہ الله تعالی انما ید ل علی قا ئل۔پس جب یہ اذا ن مسجد كے اند ر ہو تی تو پنجو قۃ نما زو ں میں بھی اذا ن مسجد كے اند ر ہو نے میں كیا حر ج ہے اور نما ز كے وقت دربار الہی كے جس حصہ میں بھی جی چا ہتا ہے كھڑے ہو كر چیخنے لگتے ہیں اور جب انہیں كو ئی تنبیہ كر تا ہے كہ الله سے ڈرو اور مسجد میں آواز بلند نہ كر و تو عنا د و فسا د كر نے لگتے ہیں اور اب صور ت حا ل یہ ہو گئی ہے كہ سنت كا عمل مردہ ہو گیا ہے اور تصر یحا ت ائمہ جھوٹ قرار دی جا چكی ہیں اور خلا ف سنت عمل كو تعا مل قرار دے لیا ہے اور حكم شرع كے ابطا ل كے لیے اسی كو دلیل بنا لیا ہے توا لله تعالی سے اس كے لیے فر یا د ہے اور اسی سے مد د كی طلب ہے۔
اور یہ نكتہ وہ لو گ سمجھ ہی نہیں پا تے كہ ایسا تعا مل قطعا سند نہیں ور نہ جھو ٹ غیبتچغلی خور ی اس سے زیا دہ جو ا ز كے مستحق ہو نگے كہ ان كا تعا مل قر و ن مشہو د لہا با لخیر كے بعد مشر ق و مغر ب میں پھیل گیا ہے جیسا كہ حد یث شر یف میں ہے:"پھر جھوٹ پھیل جا ئےگا"
صاحب فتا وی غیا ثیہ نے اواخر كتاب اجا ر ہ میں سید اما م شہید رحمۃ الله علیہ سے ذكر كیا:"وہی تعا مل جوا ز كی دلیل بنا ہے جو
#390 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الجوا ز ما یكون علی الا ستمرا ر من الصد ر الاول فا ذا لم یكن كذلك لا یكون فعلھم حجۃ الا اذا ن كا ن ذلك من النا س كا فۃ فی البلدان كلھا الا تر ی انھم لو تعا ملوا علی بیع الخمر او علی الر با لا یفتی با لحل اھ۔
وفی جمعۃ رد المحتا ر"التعارف انما یصلح دلیلا علی الحل اذكا ن عا ما من عہد الصحا بۃ والمجتہد ین كما صر حو ا بہ "
وفی جنا ئز ہ نقلا عن بعض المحققین من الشو ا فع با لتقریر مانصہ:"ھذا الاجماع اكثری وان سلم فمحل حجیتا عند صلا ح الا زمنۃ بحیث ینفذ فیھا الا مر با لمعر و ف والنہی عن المنكر وقد تعطل ذلك منذ ا ز منۃ ۔"
وفی المكتو ب الرا بع والخمسین صدر او ل سے آج تك بر ا بر جا ری ہو اور ایسا نہ ہو تو كسی عہد كے لو گوں كا فعل حجت نہیں یا ان تمام شہر و ں قصبو ں قر یو ں كے سبھی انسا نو ں كا تعا مل ہو تا اور با ت ہے اور یہ با لك واضح امر ہے كہ ان اگر سب جگہ كے سب لگ شرا ب پینے لگیں سودی كا و با ر میں مبتلا ہو ں تو بھی اس كے حلا ل ہو نے كا فتو ی نہیں دیا جائے گا۔"
ردالمحتار كے با ب الجمعہ میں ہے تعا مل اس وقت جو ا ز كی دلیل بنتا ہے جبكہ عا م ہو ا ور عہد صحا بہ ومجتہد ین سے اس پر عملد ر آمد ہو ایسا ہی ائمہ نے تصر یح كی ہے۔"
اسی كتا ب كے با ب الجنا ئز میں بعض محققین شو ا فع سے منقول ہے یہ اجما ع اكثر ی ہے اگر اس كو تسلیم بھی كرلیاجا ئے تو اس كے دلیل جو ا ز ہو نے كا تب اعتبار ہو گا كہ یہ امت كے صلا ح كے وقت كا ہو جب امر با لمعر و ف اور نہی عن المنكر نا فذ ہو اور یہ تو زما نہ دراز سے معطل ہے۔
مجد د الف ثا نی شیخ احمد العمر ی سر ہندی
#391 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
من الجلد الثا نی من المكتو با ت الشیخ احمد العمری السر ھند ی الشہیر بمجد د الف ثانی ما تر جمتہ: "غمر ت الد نیا فی بحر البد عا ت و اطمأ نت بظلما ت المحد ثا ت من یشتطیع دعو ی رفع البد عۃ التكلم باحیا ء السنۃ اكثرعلما ء الز من حما ۃ البد ع و محا ۃ السنن یحسبو ن شیو ع البد ع تعا ملا فیفتون بجوازھا بل استحسانھا ویدلون الناس علی اتیانھا یظنون ان الضلال اذا شاع والباطل اذا تعورف صار تعاملا ولا ید رو ن ان مثل ھذا التعامل بشیئ لیس دلیلا علی حسنہ انما العبر ہ بتعا مل جا ء من الصد ر الاول او حصل اجما ع جمیع النا س علیہ ثم احتج بعبا ر ۃ الغیا ثیۃ المذكو ر ۃ ثم قا ل ولا شك ان العلم بتعا مل النا س كا فۃ و عمل جمیع القر ی وا لبلدا ن خا ر ج عن وسع البشر اھ"۔
واكثر المخا لفین لنافی المسئلۃ الدا ئر ۃ انما یفتخر و ن با نھم من غلما ن ھذا الشیخ و قد قری علیہم قو لہ ھذامرارا فلایسمعو ن كے مكتو با ت كی جلد ثا نی مكتوب نمبر۵۴میں ہے:دنیا بد عا ت كے سمند ر میں غو طہ لگا چكی ہے اور محد ثا ت كی تا ریكیو ں میں مطمئن ہے رفع بد عت اور تكلم باحیا ء سنت كا دعوی كو ن كر سكتا ہے اس زما نہ كے اكثر علما ء تو بد عا ت كے حا می اور سنت كے مٹا نے وا لے ہیں اوربد عا ت كے شیو ع اور كثرت كو تعا مل قرار دیتے ہین اور اس كے جوا ز بلكہ استحسا ن كا فتو ی صاد ر كر تے ہیں وہ سمجھتے ہیں كہ بد عت پھیل جا ئے اور گمر ا ہی عا م ہو جا ئے تو تعا مل بن جا تا ہے یہ لو گ یہ نہیں سمجھتے كہ كسی چیز كا ایسا تعا مل اس كے حسن ہو نے كی دلیل نہیں جز ایں نیست كہ وہ تعا مل معتبر ہے جو صدر اول سے معمو ل بہا ہو یا اس پر تمام لو گو ں كا اجما ع ثا بت ہو(پھر غیا ثیہ كی مذكو ر ہ با لا عبا ر ت سے استدلا ل كر كے فر ما یا)تما م لو گو ں كا تعا مل اور تما م شہر و ں اور دیہا تو ں كا عمل معلو م ہو نا آدمی كی وسعت و طا قت سے با ہر ہے اھ"
مسئلہ اذا ن میں ہما رے مخا لفین میں سے بہتو ں كو اس پر فخر ہے كہ وہ شیخ مجدد كے غلا مو ں میں سے ہیں ہم نے بار ہا شیخ مجدد كی یہ عبارت پڑھ كر انہیں سنا ئی بھی(كہ اب سے
#392 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ولا ینتہو ن عن ادعا ء التعا مل و لا یر عو و ن انما اتخذوا شیخھم ھواھمفھم بفتو ی الھو ی یعلمو ن نسأ ل الله العفو و العا فیۃ۔
قا ل العلا مۃ الشا می فی رد المحتار من الا جا ر ات وفی رسا لتہ"تحریر العبا ر ۃ"وفی كتا بہ"العقو د الدریۃ" كلھا عن العلا مۃ قنا لی زادہ(عہ)"ان المسئلۃ النبا ء و الغرس علی ارض الو قف كثیرۃ الو قو ع فی البلدان و اذا طلب المتولی او القا ضی رفع اجا ر تھا الی اجر المثل یتظلم المستا جر و ن و یزعمون انہ ظلم وھم ظالمون و بعض الصدور والاكابر یعاونونھم و یزعمون ان ھذا تحر یك فتنۃ علی النا س و ان الصوا ب ابقا ء الا مو رعلی ماھی علیہ و ان وہ اپنے تعا مل مقبو ل كے دعوے سے با ز آئیں)مگر وہ تعا مل كے دعو ی سے با زنہیں آئے دراصل(حضرت مجد د)كے بجا ئے انہو ں اپنے نفس كی خوا ہش كو اپنا شیخ بنا لیا ہے اوراسی كے فتو ے پر عمل كر تے ہیں ہم الله تعالی سے عفو و عا فیت طلب كر تے ہیں۔
علا مہ شا می نے رد المحتاركتا ب الا جا ر ہ رسا لہ تحر ی العبارۃ عقود وریہ سب میں علا مہ قنا لی زادہ سے نقل كیا كہ وقف كی زمین پر مكا ن بنا نے اور در خت لگا نے كا معا ملہ وقف كے اجیروں میں كثیر الوقو ع ہے جب متو لی اور قاضی سے ایسے اجارو ں كے ختم كر نے كی درخوا ست كی جا تی ہے اور اجر ت مثل پر ان زمینو ں كے كر ا یہ پر اٹھا نے كی با ت كہی جا تی ہے تو ان زمینو ں كے قد یم كر ا یہ دار اس كی فر یا د كر تے ہیں اور اس كو ظلم قرار دیتے ہیں حا لانكہ وہ خو د ہی ظا لم ہیں اور بعض صدر واكا بر ا ن كی مد كر تے ہیں اور كہتے ہیں كہ یہ تو لو گو ں كو فتنہ میں ڈا لنا ہے اس لیے جیسا اب تك ہو تا آیا تھا ویسا ہی عملدر آمد ہو تے رہنا چا ہیے كہ

عــــــہ:ھكذا فی رد المحتار طبع فی قسطنطنیۃ وفی تحر یر العبا ر ۃ قنلی زا دہ بغیر الا لف و فی العقو د الدر ۃ منلی زا دہ بالمیم ۱۲منہ عــــــہ:یہ لفظ ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ میں ہے اورتحر یر العبارۃ"میں قنلی زا دہ بغیر الف كے ہے اور عقودالدریہ میں منلی زادہ میم كے سا تھ ہے ۱۲منہ(ت)
#393 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
شرالامور محد ثا تھا ولا یعلمو ن ان الشر فی اغضا العین عن الشر ع وا ان احیا ء النسۃ عند فسا د الا مۃ من افضل الجہا د واجزل القر ب اھ
وفی تحر یر العبار ۃ فعلم بھذا ان ھذہ علۃ قد یمۃ ولا حو ل ولا قو ۃ الا با لله العلی العظیم اھ۔
وفی ردالمحتار:"اذا تكلم احد بین النا س بذلك یعد و ن كلا مہ منكر ا من القو ل و زورا وھذہ بلیۃ قد یمۃ اھ"وفیہ وفی العقو د الد ر یۃ:"وھذا علم فی ورق۔ "
وھذہ لعمرك حال الناس فی تھالكھم علی ھذا المحدث و ہر بات سے بر ی نئی با ت پید ا كر نا ہے اور وہ یہ نہیں جا نتے كہ بر ا ئی كے وقت شر ع سے چشم پو شی خود بری ہے اور امت میں فساد واقع ہو نے كے وقت سنت كا زند ہ كر نا جہا د سے بھی افضل ہے اور بز ر گ تر ین عبا د ت ہے۔
تحر یر العبارۃ میں علا مہ شا می علیہ الر حمۃ تحر یر فر ما تے ہیں: "اس سے معلو م ہوا كہ یہ پرا نی بیمار ی ہے(كہ شر پھیل جا ئے تو لو گ چشم پو شی اختیا ر كر تے ہیں)لا حو ل ولاقو ہ الا با لله العلی العظیم۔"
رد المحتا ر میں ہے:"لو گ آدمی كی حق با ت كو بھی نا حق سمجھتے ہیں یہ قدیم بر ا ئی ہے۔اورا سی(رد المحتا ر میں ہے)میں اور عقو د الد ر یہ میں ہے:"یہ ایك ور ق میں ہم نے علم عظیم ظا ہر كیا۔"
والله ! اس اذان ممنوع ومحدث سے لوگوں كے ہلاكت میں پڑنے كا حال بھی ایسا ہی ہےاور
#394 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ھذہ ھی اعذار ھم فی ایقا عہ والقا ء السنۃ والله المستعا ن و لا حو ل ولا قو ۃ الا با لله العلی العظیم۔
نفحہ۱۰:اذقدظہران لا تعا مل الی الان فما ظنك بالتوارث الذی بہ یلھجو ن واذا اخذوا با لحد یث والفقہ فھم یتلجلجون۔
ویاسبحان الله انما التوارث التعامل فی جمیع القرون فا ذا لم یتحقق الی الان كیف یثبت من سالف الزمان اذ قد ارشد الحدیث الصحیح ان الذ ی فی عہد الر سا لۃ و الخلا فۃ الر ا شد ۃ كا ن علی خلا ف ما یزعمو ن فا نی یصح التوارث و الی من یسند و ن و عمن یر ثو ن قا ل المحقق حیث اطلق فی فتح القد یر مسا لۃ الجھر فی الا ولیین والا خفا ء فی الا خر یین قو لہ ھذا ھو المتو ار ث یعنی انا اخذ نا عمن یلینا الصلوۃ ھكذا فعلا و ھم عن یلیھم كذلك و ھكذ ا الی الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم وھم بالضرو ر ہ اخذوہ عن صا حب الو حی صلی الله تعالی علیہ وسلم فلا یحتا ج الی ان ینقل فیہ نص معین
سنت چھوڑ كر اس امر مكروہ میں پڑے رہنے كیلئے لوگوں نے ایسے ہی اعذار بار دہ تراش ركھے ہیں۔و لا حو ل ولا قو ۃ الا بالله العلی العظیم
نفحہ ۱۰:جب یہ ظا ہر ہو گیا كہ اذا ن متصل منبر كے تعا مل كی كو ئی اصل نہیں پھر تو ارث كے ثبو ت كی كو ن سی صو ر ت ہے كہ اس سے بھی یہ لو گ پنا ہ پكڑتے ہیں اور جب حد یث و فقہ ت ان امو ر پر موا خذہ كیا جا تا ہے تو كج مج بیا نی دكھا تے ہیں۔
سبحان الله ! تو ارث تو تما م قر نو ں كے تعا مل كا نا م ہے اور جب آجكل كا تعا مل ثا بت نہ ہو سكا تو گز شتہ زمانو ں كا كیسے ثابت ہو گا اور حدیث صحیح سے پتہ چلا كہ عہد رسا لت و زما نہ خلافت را شد ہ میں عملدرآمد ان كے مزعومہ كے خلا ف تھا تو كہاں سے تو ا رث ثا بت ہو گا كس سے اس كی نسبت ثا بت كر ینگے اور كس كا ورثہ اس كو قرا ر یں گے محقق علی الا طلا ق نے فتح القد یر میں فر ما یا:"ركعتین اولین میں قرا ء ت جہر ی اور اخر یین میں سر ی ہی متو ا ر ث ہے یعنی ہم نے اس كو اپنے با پ دادا اور بز ر گو ں سے لیا اور انہو ں نے اس كو اپنے بز رگو ں سے اخذ كیا ایسے ہی صحا بہ كر ا م رضی الله تعالی عنھم تك اورانہو ں نے اس كو صا حب وحی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے سیكھا اس لیے اس كے وا سطے كسی نص معین كی ضرورت نہیں
#395 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فھذا معنی التو ارث المحتج بہ شر عا مطلقا المستغنی عن ابد ا ء اسند خا ص وانی لھم بذلك و كیف یصح فیما قد علمنا وعن صا ح الو حی صلی الله تعالی علیہ وسلم و عن خلفا ئہ الرا شد ین رضی الله تعالی عنہم خلا فہ۔
اقول:وتحقیق المقا م ان الا حوا ل اربع:(۱)العلم بعد م الحد وث(۲)وعد م العلم با لحدوث(۳) والعلم بالحدوث تفصیلا ای مع العلم بانہ حدث فی الوقت الفلان(۴)والعلم بہ اجما لا ان علمنا انہ حا دث ولانعلم متی احد ث ومن احد ث فالشیئ اذا كا ن نا شیا متعا ملا بہ فی عا مۃ المسلمین وعلمنا انہ ھو ا لذی كان علی عہد ہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فھو القسم الا ول وھو المتو ا رث الا علی واذ لم یعلم كیف كا ن الامر علی عہد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا علم حا ر ث بعد ہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فیحمل علی ان كلا قر ن اخذ ہ عن سا بقہ و یجعل متوار ثا تحكیما للحا ل یہی تو ارث كے وہ معنی ہیں جس سے شر عا دلیل پكڑ نا درست ہے اور جس كی سند ظا ہر كر نے كی ضرورت نہیں تو مسئلہ دائر ہ میں یہ لو گ كیسے تو ا رث ثا بت كر یں گے جبكہ ہم خو ب جا نتے ہیں كہ صا حب و حی صلی الله تعالی علیہ وسلم اور خلفا ئے را شد ین سے اس كے خلا ف روا یت ہے۔"
اقول:(میں كہتا ہو ں)تحقیق مقا م یہ ہے كہ احو ا ل كی چا ر قسم ہے(۱)جس كا حا دث نہ ہو نا معلو م ہو(۲)جس كے حدوث كا علم نہ ہو۔(۳)حدوث كا علم تفصیلی ہو كہ كب كس نے ایجاد كیا(۴)حدوث كاعلم اجمالی ہویعنی یہ تو معلو م ہو كہ نو ایجا د ہے لیكن یہ نہ معلو م ہو كہ كب اور كیسے ایجا د ہو ا۔
جو چیز عامۃ المسلمین میں عا م طو ر سے معمو ل بہ ہو اور اس كا عمل شا ئع و ذائع ہو اور اس كے با ر ے میں یہ بھی معلو م ہو كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد مبا رك میں بھی ایسا ہی ہو تا تھا یہ قسم اول ہے اور اسی كو متو ارث اعلی بھی كہتے ہیں اور جب نہ یہ معلو م ہو كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زما نہ میں اس كا كیا حا ل تھا نہ یہی پتہ چلے كہ اس كی ایجا د حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے بعد ہو ئی ہے تو یہ سمجھا جائے گا كہ یہ چیز شروع سے اسی طر ح ہو تی آ رہی ہے اور ہر بعد كے زما نہ و ا لے نے اپنے سے پہلے زما نہ وا لو ں سے اسے
حا صل كیا
#396 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
حملا علی الظا ھر والا صل اذ الا صل فی الا مو ر الشر عیۃ ھو الا خذ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم والعمل بالسنۃ ھو الظا ھر من حا ل عامۃ المسلمین وھذا ھو القسم الثا نی"وھذا ما یقا ل فیہ انہ لا یحتاج الی سند خا ص اما اذا علم حد و ثہ فلا یمكن جعلہ متوارثا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سوا ء علمنا وقت حد و ثہ او لالان عدم العلم بو قت الحد و ث لیس عد م العلم با لحد و ث فضلا عن العلم بعد م الحد وث فرب حا د ث نعلم قطعا انہ حادث ولانعلم متی حدث كا ھرام مصر بل والسما ء والا ر ض فی الحد وث المطلق ومعا لیق الحجر ۃ الشر یفۃ التی تعلق حو لھا من قنا دیل الذھب والفضۃ و نحو ھما فی الحد و ث المقید قا ل السید السمھو دی فی خلا صۃ الو فا ء:ولم اقف علی بتدا ء حد وثھا الخ و حینئذ ینظر ھل یخا لف تو ایسی چیز كو حا ل كی دلیل پر عمل اور اصل و ظا ہر كا لحا ظ كر تے ہو ئے متو ا رث حكمی كہا جا تا ہے كہ امو ر شر عیہ میں سنت پر عمل كر نا ہی اصل ہے اور مسلما نو ں كا ظا ہر حا ل بھی یہی ہے كہ سنت پر عمل كریں یہ متو ا ر ث كی قسم ثا نی ہےاس كے لیے كسی خا ص سند كی ضرورت نہیں اور جس چیز كے بار ے میں یہ معلو م ہو كہ یہ حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد مبا ر ك كی ایجا د ہے۔ایسی چیز كے با رے میں متو ا رث ہونے كا حكم نہیں لگایا جاسكتا اس كے حدوث كے وقت كا علم ہو یا نہ۔كیو نكہ كسی چیز كے حد و ث كے وقت كا علم نہ ہو نے كے لیے یہ لا زم نہیں كہ ہم اس كے حد و ث سے ہی بے خبر ہوں یا یہ جا نتے ہو ں كہ وہ حا د ث نہیں ہے۔كتنی چیزو ں كے بار ے میں ہمیں با لیقین معلو م ہو تا ہے كہ یہ حا دث ہے لیكن اس كے حد و ث كے وقت كا پتہ نہیں ہو تا جیسے اہرام مصر بلكہ حد و ث مطلق میں آسما ن و زمین بھی اور حد و ث مقید میں جیسے وہ جھا ڑ فانوس اور قند یلیں جو حجر ۃ نبو ی شر یف كے آس پا س لٹكا ئی ہو ئی ہیں۔حضرت علا مہ سمہو دی نے خلا صہ وفاء الوفا میں فر ما یا:"ہمیں ان كے ابتد ا ء حد و ث كا وقت نہیں معلو م تو ایسے نو پید ا امو ر جن كے حد وث كے وقت كا ہمیں علم نہ ہو حسب
#397 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ھذا سنۃ ثابتۃ فی خصو ص الا مر ا ولا۔علی الثا نی یحال الا مر علی ھا ل الشیئ فی نفسہ فا ن كا ن حسنا داخلا د تحت قوا عدالحسن فحسن علی تفاوتہ من الاستحباب الی الوجوب حسب ما تقتضیہ القواعد الشر عیۃوقد یطلق علیہ"المتوارث"اذتقا د م عہدہ كذكر العمین الكر یمین فی الخطبۃوھذا ا دنی اقسامہ ولا اطلاق لہ علی ما دونہ الله م الا لغۃ كتوارث التقیۃ فی الرا فضۃ والكذب فی الو ھا بیۃ وان كان قبیحا داخلا تحت قوا عدالقبح فقبیح علی تفاوتہ من الكر اھۃ الی التحر یم او لا و لا فلا ولا بل مبا ح عــــــہ والخروج عن العا دۃ شھر ۃ و مكر و ہ كما نصو ا علیہ ۔ و ورد قوا عد شر عیہ ان كے با ر ے میں یہ دیكھنا ہو گا كہ یہ كسی سنت ثابتہ كے مخا لف تو نہیںمخا لف نہ ہو تو ا س كا معا ملہ استحبا ب سے وجو ب تك میں دائر ہو گا اور زما نہ كی قد ا مت كے اعتبا ر سے كبھی كبھی اس كو بھی"متو ا رث"كہہ دیا جا تا ہے جیسا كہ خطبہ جمعہ میں حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے دو نوں چچاؤں كے ذكر كا روا ج كہ حا دث ہے پر یہ نہیں معلو م كہ كب سے را ئج ہے البتہ یہ كسی سنت ثا بتہ كے خلا ف نہیـں تو یہ تو ا ر ث كا سب سے ادنی در جہ ہے اس كے بعد كی ایجادكو متوارث بمعنی اصطلا ح شر ع نہیں كہا جا ئیگا ہا ں توارث لغو ی ہو سكتا ہے جیسے تقیہ شیعو ں میں متو ا رث ہے اور جھو ٹ وہا بیہ میں ابا عن جد را ئج ہے اور اگر ایسی نو پید چیز ہو جو بعد عہد رسا لت ہو اور اسكے حد و ث كا وقت نہ معلو م ہو اور وہ خو د قبیح اور قواعد قبح كےتحت داخل ہو تو قبیح ہے اور اس كا دا ئر ہ بھی مكر و ہ سے لے كر تحریم تك پھیلا ہوا ہے۔اور اگر یہی حا دث نہ سنت ثابتہ كے خلا ف ہو نہ قو ا عد قبح كے دائر ے میں آتی ہوتو یہ صرف مبا ح ہےنہ قبیح ہےنہ مستحبہا ں جب شہر و علا قہ كی عا دت سے خا ر ج ہو تو مكر و ہ ہو گا۔چنا نچہ

عــــــہ: بیاض فی الاصل۔
#398 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
"خا لقوا النا س با خلا قھم و قا ل صلی الله تعالی علیہ وسلم"بشر وا ولا تنفروا ۔وعلی الا ول یرد و لا یقبل وا ن فشا ما فشا وقد اجا رالله الا مۃ عن الا جتما ع علی مثلہ الا ان یكون شیئ تغیر فیہ الحكم بتغییر الزما ن كمنع النسا ء عن المسا جد وھذا فی الحقیقۃ لیس مخا لفا للسنۃ الثا بتۃ بل موا فق لھا وان وان خا لف الوا قع فی عھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلملان الواقع لشیئ كا ن وبان والحادث لشیئ لو كا ن فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لكا ن فھذا ھو التحقیق و معلوم ان مسئلتنا ھذہ من القسم الرابع فی التقسیم الا ول۔والقسم الا ول فی علما ء عــــــہ نے فر ما یا كہ لو گو ں ان كے اخلا ق كے موافق معا ملہ كر و اور حدیث شر یف میں ہے"لوگو ں كو بشا رت دو نفر ت نہ دلا ؤ"سنت ثا بتہ كی مخا لفت كر نے وا لی با ت بد عت مردودہ ہو گی اور گو وہ لا كھ پھیل گئی ہو اسے قبو ل نہیں كیا جا ئےگا اور ایسے حا دث امر پر پو ر ی امت مسلمہ كا جما ع نہیں ہو سكتا كہ الله تعالی نے اس امت كو گمرا ہی پر مجتمع ہو نے سے محفو ظ ركھا ہے ایك استثنا ئی صور ت البتہ ہے كہ وہ با ت ہےتوعہد رسالت كے بعد كی اور بظا ہر مخا لف سنت بھی ہے لیكن زمانہ كی تبد لی كی وجہ سے اس كا حكم شر عی بد ل گیا اور اس تبدیلی پر تما م مسلما نوں كا عملدرآمد جا ر ی و سا ر ی ہو گیا جیسے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد پرنور میں عو رتیں مسجد میں جا تی تھیں لیكن بعد میں ان كو عام طو ر مسجد میں حا ضر ہو نے سے روك دیا گیا ہے ایسا نو زائید ہ امر حقیقت میں سنت ثا بتہ كے مخا لف نہیں ہو تا اگر چہ بظا ہر ایسا ہی نظر آتا ہے كہ اب جو بات پید ا ہو گئی ہے اگر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زما نہ میں

عــــــہ:حدیث میں وارد ہے كہ لوگوں سے ان كی عادتوں كے موافق برتاؤ كرو۔اقامۃ القیامۃ ص ۲۰ رواہ مسندا وقال رواہ الحاكم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۱۲ نظام الدین۔
#399 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
التقسیم الثا نی ای نعلم انہ حادث ان لم نعلم متی حدث۔و نعلم ان الوا قع علی عہد رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كا ن علی خلا ف ذلك ولیس شیئا یتغیر فیہ الحكم بتغیر الزما ن و مع ھذا تظافرت النصو ص عن ائمۃ الفقہ بنھی عام ھو داخل فیہبل ارشد الائمۃ الی النہی عن خصو صہ و دلت الادلۃ علی قبحہ و شنا عتہ كما تقد مہ كل ذلك فثبت انہ یستحیل جعلہ متوارثا بل ھو من المحد ثا ت المرود ۃ قطعاوالحمد للہوبہ استبا ن ان الجھل بمبدأہ لا یجعلہ قد یما للعلم بحدو ثہ بل الجہل بالمبدا ء یؤخر ہ جدالان الحا دث انمایضا ف الی اقرب الا وقا تو زعم انہ ایسا ہو تا تو آ پ بھی عو ر تو ں كو مسجد میں جا نے سے منع فر ما دیتے(كما قا لت ام المو منین صد یقہ رضی الله تعالی عنھا)ام المو منین حضرت عا ئشہ نے ایسا ہی فر ما یا۔یہ تحقیق مقا م ہے اور یہ معلو م ہے كہ ہما را مسئلہ پہلی تقسیم كی چوتھی قسم سے ہےاور تقسیم ثانی كی پہلی قسم ہے یعنی اس كے با رے میں ہمیں حا دث ہو نا تو معلو م ہے لیكن یہ نہیں معلو م كہ اس كے حد و ث كا وقت كب ہےاور ہمیں یہ بھی معلو م ہے كہ رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زما نہ میں اس كے خلا ف عملدرآمد رہا ہےاور ئی ان امو ر سے بھی نہیں جس كا حكم زما نے كے بد لنے سے بد لتا ہواور اس كے ساتھ ہی ائمہ فقہا كی بے شما ر نصو ص نہی عا م كی صو ر ت میں مو جو د ہیں بلكہ خاص اذا ن جمعہ كی مما نعت كی طر ف بھی رہنما ئی ہےاور متعد د دلیلیں اس كے قبح و شنا عت پر بھی دلا لت كر تی ہیں جیسا كہ ساری تفصیل گز ر چكیتو ثا بت ہوا كہ اس كو متو ا رث قرار دینا محا ل ہے اور یہ قطعا یقینا بد عا ت مردودہ میں سے ہے اس سے یہ امر بھی روشن ہو گیا یہ كسی امر كے احدا ث كا وقت معلو م نہ ہو نا اس كو قد یم نہیں بنا تا جبكہ اس كے حا دث ہو نے كا علم ہوبلكہ جس كے حد وث كی بتد ا ء نہ معلو م ہواس كے بارے میں یہ امر سمجھا جا ئے گا كہ یہ امر با لكل نو پید ہے كیونكہ حا دث قر یب تر ین وقت كی طر ف منسو ب ہو تا ہے۔ اور یہ گما ن كر نا
#400 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
حد ث من زمن سید نا عثمان رضی الله تعالی عنہ فر یۃ بلا مر یۃ واحتجا ج التا نو ی الو ھا بی لہ با نہ لما قال فی الھد ا یۃ اذا صعد الا ما م المنبر جلس و اذن المؤ ذنو ن بین ید ی الا مام بذلك جر ی التوارث اھ قال علیہ امام العینی فی البنا یۃ ای فی زمن عثمان اھ ولا یمكن ان یراد بقو لہ بین ید ی المنبر مجر د المحا ذات لثبو تھا من زمن الر سا لۃ فلا بد ان یر ادبہ كونہ لد ی المنبر متصلا بہ لیصح جعلہ متو ارثا من زمن عثما ن لا قبلہ اھ۔وما زعم الوھا بی المفتر ی و ھذہ فر یۃ فو ق فر یۃولقد صدق رسو ل صلی الله تعالی علیہ وسلم:"اذا لم تستحی فا صنع ما شئت" ۔ فا ن عبا ر ۃ البنا یۃ ھكذا "م بذلك ش ای با لا ا ذا ن بین ید ی المنبر بعد الاذان الاول علی كہ ا كا حد وث تو زما نہ عثما ن غنی رضی الله تعالی عنہ سے ہے بلا شبہہ ایك افتر ا ء ہے۔اور وہا بی تھا نو ی كا ہد ا یہ كی اس عبا ر ت سے استدلال كہ"اما م منبر پر چڑھے اور بیٹھے تو مو ذن اس كے سا منے اذا ن دے كہ یہی متو ا رث ہے"۔اوراما م عینی اس كی شرح میں فر ماتے ہیں كہ"یہ حضرت عثما ن رضی الله رتعالی عنہ كے زما نہ سے ہے" غلط ہے۔صا حب ہد ا یہ كے قو ل یہی متوا ر ث ہے كا مطلب یہ ہے كہ اما م كے سا منے اذا ن ہو نا كیونكہ اما م عینی رحمۃ الله علیہ كے قو ل كی روشنی میں كہنا پڑے گا كہ یہ منبر كے سا منے وا لی ا ذا ن زما نہ عثما ن غنی رضی الله تعالی عنہ كی ایجا د ہے۔اور اسی وقت سے متو ا رث ہے حالانكہ اس اذا ن كا تو عہد رسالت سے ہو نا منقول متوارث ہے۔اصل میں ان و ہا بی صا حب كا یہ زعم با طلہد ا یہ او عینی كی عبارت میں نا جا ئز دست درازی كا نتیجہ ہے۔حضور صلی الله تعا لی علیہ وسلم فر ما تے ہیں:"بے شر م ہو گئے ہو تو جو چا ہو كرو"پور ی عبارت یوں ہے:"یعنی حضر ت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كے زما نہ سے یہی جا ر ی و سا ری ہو گیا كہ منا ر ہ
#401 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المنا ر ۃ م بہ جر ی التو ارث ش من زمن عثما ن بن عفان الی یو منا ھذا" اھ فا لا شا ر ۃ الی التا ذین بعد التاذین۔لا الی التا ذین بین ید یہ۔ولكن الو ھا بیۃ قوم یفترون۔ولا حو ل ولا قو ۃ الا با لله العلی العظیم۔



وكذا زعمہ بعد التنزل حدوثہ من زمن ھشا م بن عبد الملك وھذا انما قا لہ بعض الما لكیۃ فی التاذین بین ید ی الا ما م لقولھم انہ محد ث و انما كا ن ھذا الاذان علی عہد رسو ل الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وخلفا ئہ الر ا شد ین رضی الله تعالی عنھم علی المنا ر ایضا كما تقد م وقد ردہ محققوھم و بینوا ان ھشام لم یتغیر ھذا الاذان شیئا انما غیرا لا ذا ن الاول الذی احدثہ عثما ن رضی الله تعالی عنہ كا ن یفعل با لزوراء پر پہلی اذا ن ہو اور اس كے بعد منبر كے سامنے وا لی اذا ن ہوا كر تی ہے"حضرت ما م عینی رحمۃ الله علیہ نے تو اپنی عبا ر ت میں ذالك كا مشا ء الیہ پہلی اذا ن كے بعد دوسر ی اذا ن ہو نے كو قرا ر دیا ہے نہ كہ دوسر ی اذا ن كے منبر كے سا منے ہو نے كو۔اور اسی كو حضرت عثما ن كے عہد سے آج تك جا ر ی رہنے كو بتا یا۔اور تھا نو ی صا حب نے اس كو منبر كے سامنے سے جو ڑ دیا۔اوركیوں نہ ہو تا یہ وہا بی قو م بڑی افتر ا پر داز ہو تی ہے۔
لا حو ل ولا قو ۃ الا با لله العلی العظیم۔
(یونہی تھانوی صاحب كا یہ كہناكہ"ہم اپنے منصب سے اتر كر یہ تسلیم كرتے ہیں كہ لصیق المنبراذان ہشام ابن عبدالملك نے ایجاد كیا"زعم فاسد اوروہم كا سد ہے ۔ حقیقت امر یہ ہے كہ حجرت امام مالك رحمۃ الله علیہ كے بعض متبعین اذان بین یدی الخطیب كو حادث ومركوہ قرار دیتے ہیں ۔ ان كا یہ كہنا ہے كہ حضور سید العالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ مبارك میں یہ اذان بھی منارہ پر ہوتی تھی ہشام ابن عبد الملك نے اپنے زمانہ میں اس اذان كو جسے حضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ نے مقام زوراء پر دلانا جاری كیا تھا منارہ پر دلانا شروع كیا اوراس دوسری اذان كو منارہ كے
#402 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فنقلہ ھشا م الی المسجد علی المنا ر ۃ ۔





قال العلامۃ الزرقانی المالكی رحمۃ الله تعالی علیہ فی شرح المواھب (عبارۃ ابن الحاجب من المالكیۃ یحرم الاشتغال عن السعی عند اذان الخطبۃ وھو معہود) فی زمانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم(فلماكان عثمان وكثروا امر بالاذان قبلہ علی الزوراء اھ ثم نقلہ ھشام الی المسجد وجعل الاخربین یدیہ بعمنی انہ ابقاہ بالمكان الذی یفعل فیہ فلم یغیرہ بخلاف ماكان یفعل بالزوراء فحولہ الی المسجدعلی المنار اھ باختصار۔ بجائے خطیب كے سامنے كردیا۔ مگر محققین مالكیہ نے اپنے ہی ہم مذہب علماء كے اس خیال كو رد كردیا كہ ہشام نے دوسری اذان میں كوئی ترمیم نہیں كی وہ عہد رسالت اورعہد شیخین بلكہ عہد عثمان ومابعد كے موافق برابر خطیب كے سامنے ہوتی رہی ہشام نے تو صرف حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كی اضافہ كردہ اذان كو مقام زوراء سے منتقل كر كے منارہ مسجد نبوی پر كرانا شروع كیا۔ )
چنانچہ امام زرقانی مالكی رحمۃ الله علیہ نے شرح مواہب لدنیہ میں ابن حاجب مالكی كی مندرجہ ذیل عبارت كی شرح من فرمایا:"خطبہ كی اذان شروع ہونے پر نماز جمعہ كے لئے سعی حرام ہے"(یعنی اذان خطبہ شروع ہونے سے قبل ہی مسجد میں پہنچ جانا چاہیے ) زمانہ رسالت میں یہی معہود ومعروف تھا حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كا زمانہ ایا اور نمازیوں كی تعدادزیادہ ہوگئ توحضرت ذوالنورین نے خطیب كےمنبر پر بیٹھنے سے قبل بھی مقام زوراء پر ایك اذان پكارنے كا حكم دیا (پھرہشام نے اس اذان كو مسجد كی طرف منتقل كیا اور دوسری اذان كو سامنے لایا) مطلب یہ ہے كہ دوسری اذان وہیں دلائی جہاں عہد رسالت میں ہوتی تھیاس میں كچھ تغیرنہیں كیا البتہ حضرت عثمان غنی نے جو اذان مقام زوراء پر دلوانی شروع
#403 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ولئن فرضنا ان ھشاماھوالذی غیر السنۃ فمن ھشام وما ھشام حتی یعتبر بتغییرہ ویوخذ بفعلہ و تترك سنۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وخلفاءہ الراشدین لاجلہ لایرضی بہ احدمن اھ الدین۔ و نسبۃ الوھابی ایاہ الی ائمۃ الھدی مالك وابی حنیفۃ و غیرھما رضی الله تعالی عنہمانھم اتبعوا ھشاما فیہ وتركوا السنۃ الجلہ افتراء منہ علیھم وسبۃ غلیظۃ فی حقھم حاشاھم عن ذلك ولكن اذ قد الخبیث اذ قدسب محمداوسب رب محمد جل وعلاو صلی الله تعالی علیہ وسلم وطبعہ واشاعہ فمن بقی نعوذبالله من حال كل مرتد وشقی ولا ھول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔


نفحہ۱۱: واذقدطولبوامرارا انكم تدعون التوارث عن المصطفی صلی الله تعالی كی تھی اس كو مسجد كی طرف منتقل كیا یعنی اسے منارہ پر دلوانے لگااھ بالاختصار۔
اوراگر ہم یہ مان بھی لیں كہ ہشام نے منبر كے سامنے والی اذان میں بھی تصرف كیااوراسے منبر كے متصل دلانے لگا اور سنت رسول كو بدل دیا تو یہ ہشام كون ہے اوركیا ہے كہ اسكے بدلنے كا لحاظ كیاجائے اوراس كی اتباع كی جائےاوراس كی خاطر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اورخلفائے راشدین كی سنت چھوڑدی جائے۔بھلا دینداروںمیں سے كون اس پر راضی ہوگا!اوراس وہابی نے جو یہ كہا كہ ائمہ ہدی مثل امام مالك وابوحنیفہ وغیرہ رضی الله عنہم نے ہشام كی اتباع كی اوراسی وجہ سے حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كی سنت چھوڑ دی۔یہ ان ائمہ ہدی پر اس كی افتراء پردازی ہے اوران كی طرف ایك غلیظ برائی كی نسبت ہے ان كا دامن اسی الودگی سے پاك ہے لیكن اس خبیث نے جب گلہ گویوں كو دو ٹكڑے كردیا اورالله ورسول(جل وعلاوصلی الله تعالی علیہ وسلم) كو گالی دیاوراسے چھاپ كر شائع كیا تو اب كون رہ گیاہم مرتدكے حال سے الله تعالی كی پناہ مانگتے ہیںلاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
نفحہ۱۱: ان سے بارہا مطالبہ كیا گیا كہ تم لوگ اس اب میں زمانہ رسالت سے اج تك كے توارث كے مدعی ہوتو كیا كسی اور
#404 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
علیہ وسلم فہل نص علیہ احداو عندكم علیہ من دلیلام انتم شاھد تم زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلمام كل ماترونہ فی زمنكم فھو مستمر من زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم جاءھم عــــــہ اضطرار الغریق الی التشبت بكل حشیش فتمسكوا بمنقول ومعقولاما المنقول فقول الھدایۃ والھندیۃ:اذن المؤذنون بین یدی المنبر وبذلك جری التوارث ۔ " وھذاكما تری نزغۃ من جھھم بمنعی بین یدیہ كما عرفت مفصلا۔فقول الھدایۃ حق وھدایۃ و فھمھم منہ ان الاذان داخل المسجد متوارث من زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم جھل وغوایۃ۔واما المعقول فھو انہ لم یكذر فی شیئ من التواریخ ان ھذا الاذان سری الیہ التغیربعد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فعلم انہ كما یفعل الان كان ھكذا یفعل نے بھی اس توارث پر نص كیا ہےتمہارے پاس اس كی كوئی دلیل ہے یا تم لوگوں نے حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں موجود رہ كر اس كا مشاہدہ كیاہے یا اج تم لوگ كر رہے ہویا دیكھ رہے ہوحضور كے زمانہ سے اج تك مسلسل جاری ہے تو ان كو ڈوبنے والے كی بیقراری گھیر لیتی ہے جو ہر تنكے پر سہارے كے لیے ہاتھ مارتاہے۔اوریہ لوگ ایك عقلی اورایك نقلی دلیل پیش كرتے ہیں۔دلیل منقول میں ان لوگوں كا سہاراہدایہ اورہندیہ كا یہ قول ہے كہ "موذن نےمنبر كے سامنے اذان دیاوراسی پر توارث ہوا۔"ان كی یہ دلیل اس جہالت كی پیداوار ہے كہ انہوں نے سامنے كے معنی متصل منبر قرار دے لیا جیسا كہ ہم پہلے بتا چكےتو ہدایہ كی بات توحق وہدایت ہے لیكن اس سے ان كا یہ سمجھنا كہ اذان كا منبر كے بالكل قریب ہونا متوارث ہےان كی جہالت ہے۔ اورعقلی دلیل ہے كہ تاریخ سے یہ ثابت نہیں كہ اذان بین یدی الخطیب میں حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے بعد كوئی تغیر ہوا۔اوراج كل متصل منبر ہورہی ہےتو اس سے پتہ چلتا ہے كہ عہد رسالت سے ایساہی ہوتاایاہے۔

عــــــہ:فی الاصل ھكذاولعلہ الجاء۔
#405 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
علی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلموھذا قول من لیس لہ من العلم الا الاسم۔فلا التواریخ التزمت ذكر جمیع الحوادث الجزئیۃ المتعلقۃ بالمسائل الشرعیۃولا كل كتب التواریخ وجد المدعی ولا كل ماوجد طالعہ برمتہولا عدم الوجدان عدم الوجودولا عدم الذكر ذكر العدم۔ ولو تنزلنا عن كل ھذافاذقد ثبت بالحدیث الصحیح ان الذی كان علی عھدرسول الله صلی ا لله تعالی علیہ وسلم خلاف ماشاع فی ھؤلاء فالتغیر ثابت لامرد لہ افترددون الحدیث الصحیحام تكذبون العیان الصریحبان التواریخ لم تتعر لبیان التغیرولكن الجھل اذا تملك لم یخش الفضوح والتغییرولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
نفحہ۱۲:لاحجۃ فی توارث البعض اذا خالف الحدیث والفقہالا تری ان اجل توارث واعظمہ واھیبہ وافخمہ توارث اھل الحرمین المحترمین زادھما الله تعالی عزا وتعظیما واھلھما فضلا وتكریما اس دلیل سے یہ اندازہ ہوتاہے كہ اس كے قائل كو علم سے كچھ مس ہی نہیں كیونكہ نہ تو تاریخ میں اس بات كا التزام ہے كہ مسائل جزئیہ شرعیہ سے متعلق ہر ہر جزئی كا اس میں بیان ہوگا۔نہ مدعی نے اسلام كی ساری تاریخی كتابوں كو پایانہ سب كا حرفا حرفامطالعہ كیا۔ظاہر ہے كسی چیز كا نہ پانا اس كے نہ ہونے كی دلیل نہیں۔یونہی كسی امر كا ذكر نہ ہونا اس بات كی تصریح نہیں كہ یہ ہوا ہی نہیں۔اوراگر سب كچھ من وعن تسلیم كرلیا جائےتو یہاں توصحیح حدیث سے یہ ثابت ہورہا ہے كہ حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں جو ہورہا تھا اج اس كے خلاف كیاجارہا ہےتو تاریخ میں ذكر ہو نہ ہو۔صحیح حدیث سے توثابت ہورہا ہے كہ سنت رسول میں تغیر ہواتو كیا اپ لوگ اہل تاریخ كی خموشی كا سہارا لے كر صحیح حدیث كو جھٹلائیں گےاور عین صریح كا انكار كریں گے۔مگر واقعہ یہ ہے كہ جہل جس پر سوار ہوجاتاہے اسے رسوائی یا عار دلانے كی قطعاپرواہ نہیں ہوتی۔
نفحہ۱۲:اوركچھ لوگوں كا توارث جب حدیث وفقہ كے خلاف ہوتو لائق استدلال نہیں ہوتا۔سب جانتے ہیں كہ توارث میں سب سے عظیم وبزرگ اورپرہیبت حرمین محترمین زادہم الله شرفا وتعظیما كا توارث ہےوہ بھی قرون اولی كامگر ہمارے امام اعظم
#406 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لاسیما فی القرون الأولی ومع ذلك لم یسلمہ اما منا الاعظم وجمیع ائمۃ الفتوی فی مسألۃ الاذان الفجر من اللیل لمجی الحدیث بخلافہ قال فی الھدایۃ: "لایوذن لصلوۃ قبل دخول وقتھا ویعادفی الوقت لان الاذان للاعلام وقبل الوقت تجھیل وقال ابو یوسف وھو قول الشافعی رحمھما الله تعالی یجوز للفجر فی النصف الاخیر من اللیل لتوارث اھل الحرمین والحجۃ علی الكل قول صلی الله تعالی علیہ وسلم لبلال رضی الله تعالی عنہ لاتؤذن حتی یستبین لك الفجر ھكذا ومدیدہ عرضا اھ" قال الامام الاكمل البابرتی فی العنایۃ:"قولہ والحجۃ علی الكل ای علی ابی یوسف والشافعی واھل الحرمین یعنی ان الحدیث حجۃ علی الاخذوالماخوذمنہ اھ"فاذاكان ھذا فی نوارث اھل الحرمین التابعین وتبع التابعین وھم ماھم فماظنك اورتمام اہل فتاوی اذان فجر كے مسئلہ میں اسے تسلیم نہیں كرتے كیونكہ حدیث اس توارث كے خلاف مروی ہےہدایہ میں ہے:"نماز فجر كے لئے دخول وقت سے پہلے اذان نہ دی جائےاوراگر پہلے دے دی گئی ہو تو وقت ہونے پر دہرائی جائےكہ اذان وقت كے اعلان كے لئے ہےاوروقت سے پہلے دینا لوگوں كوغلط فہمی میں ڈالناہے۔امام ابویوسف اورامام شافعی رحہماالله كہتے ہیں كہ فجر كی اذان توارث حرمین شریفین كی وجہ سے فجر سے پہلے بھی دی جاسكتی ہے۔اوردونوں كے خلاف دلیل حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم كا یہ قول ہے جو اپ نے حضرت بلال رضی ا لله عنہ سے فرمایا:اس وقت تك اذان نہ دو جب تك صبح یوں روشن نہ ہو جائے۔ اوراپ نے اپنے دونوں ہاتھوں كو عرض میں پھیلا دیا۔ "حضرت امام اكمل الدین بابرقی فرماتے ہیں:"صاحب ہدایہ كا حجۃ علی الكل فرمانا امام شافعیقاضی ابو یوسف اوراہل حرمین سب كے لئے ہے۔مطلب یہ ہے كہ یہ حدیث اخذاور ماخوذ منھم سب پر حجت ہے۔"تو جب اہل حرمین وہ بھی تابعین اور تبع تابعین جیسے عظیم بزرگوں كا یہ حال ہےپھر ان مدعیوں كے
#407 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
213سب پر حجت ہے۔"تو جب اہل حرمین وہ بھی تابعین اور تبع تابعین جیسے عظیم بزرگوں كا یہ حال ہےپھر ان مدعیوں ك
بتوارث تدعیہ الان فی بعض البلدان وما فیكم ولا فیمن ولی كم او ولی من ولی كم من یكون فعلہ اوسكوتہ حجۃ فی الشرع فضلا عن ان یكون حجۃ علی الشرع والله یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
نفحہ۱۳:ظھر بھذا ولله الحمد وھن تمسكہ بفعل مؤذن الحرمین اشریفین فمع ان ھذا الاذان فی مكۃ زادھا الله شرفا علی حاشیۃ المطاف وما كان مسجد الحرام علی عہد سید الانام علیہ افضل الصلوۃ و السلام الاقدر المطاف كما فی المسلك المتقسط علی القاری وغیرہ فاذن محل الاذان الان ھو محلہ القدیم وان احاط بہ المسجد بالزیادۃ كما ارساط بئر زمزم۔وفی المدینۃ المنورۃ صلی الله تعالی علی من نورھا وبارك وسلم علی دكۃ بازاء المنبر فامرقدمت وقدتم الامر لما قدمنا ان الدكاك ومئذنۃ خارجۃ عن المسجد بالمعنی الاول غیر ان الشان فی احداثھا كما مذعومہ توارث كا كیا حال ہوگا جس میں اپ جیسوں سے پیوسۃ لوگ ہیں۔ان كا فعل یا سكوت شریعت میں حجت كب ہے كہ اس كو شرع كے خلاف حجت قرار دیا جائے۔بس الله تعالی ہی جسے چاہتاہے صراط مستقیم كی ہدایت دیتاہے۔
نفحہ۱۳:اس توضیح سے ان لوگوں كے استدلال كی كمزوری ظاہرہوگئی جو حرمیین شریفین كے مؤذنوں كے فعل سے استدالل كرتے ہیں كہ یہ اذان مكہ شریف مں مطاف كے حاشیہ پر ہوتی ہے۔اورحضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد كریم میں مسجد حرام موجودہ مطاف كے حدود میں ہی تھی جیسا كہ ملا علی قاری كی مسلك متقسط وغیرہ میں ہےتو اس تقدیر پر اج بھی حرم میں اذان وہیں ہو رہی ہے جہاں حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد میں ہوتی تھی۔اب مسجد كی توسیع كی وجہ سے اگرچہ وہ جگہ مسجد كے احاطہ میں اگئی ہے جیسا كہ چاہ زمزم بھی فی الحال مسجد كے احاطہ میں ہی ہے اور مدینہ مورہ علی صاحبہا الصلوۃ واسلام میں چبوترے پر جو منبر كے ماقابل ہے۔تو اگریہ چبوترے قدیمی ہوں تو بات مكمل ہو گئی كیونكہ ہم بتا چكے ہیں كہ چبوترہ اورمئذنہ مسجد بالمعنی الاول سے خارج ہے لیكن بات تو ان كے حادث ہونے كی ہے۔تو ان سے
#408 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
تقدم فیكیف یحتج بہوالله الھادی۔
اذعلمت ان امامنا رضی الله تعالی عنہ وجمیع ائمۃ الفتوی بعدہ لم یقبلوا توارث التابعین وتبعھم من اھل الحرمین الشریفین لمخالفۃ الحدیث فما ظنك بفعل مؤذن الزمان وھل یسوغ لحنفی ان یستبیح الجھر بكلام لسمتمع الخطبۃ ولو كان صلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اوترضیا للصحابۃ اودعاء للسلطان اعزالله نصرہ وخذل اعداءہ اولسیدنا الشریف حفظہ الله تعالی۔الیس قد اجمع ائمتنا علی تحریم الكلام اذ ذاك ولو دینیا و فوق ذلك بكثیر امر التمطیط فی التكبیرقداقام علیہ النكیر المحقق فی فتح القدیرولم یستبعد فساد صلوۃ من یفعلہ ای وكذاصلوۃ من یصلی بتكبیرہ و تبعہ علیہ فی الحلیۃ والنھر والدررو غیرھا وجزم بفساد الصلاۃ بہ السیدالعلامۃ اسعد مفتی المدینۃ المنورۃ تلیمذ اذان كے اندرون مسجد ہونے پر استدلال كیسے صحیح ہوگا۔الله تعالی ہدایت دینے والا ہے۔
جب اپ جان چكے كہ ہمارے امام اعظم رضی ا لله تعالی عنہ اور ان كے بعد تمام اہل فتوی نے تابعین اورتبع تابعین كا توارث قبول نہیں كیا كہ یہ حدیث شریف كے خلاف ہے۔تواج كل كے مؤذنوں كی كیا حقیقت ہےكیا كسی حنفی كو یہ اجزت ہے كہ خطبئہ جمعہ سننے والے كو بلند اواز سے بولنے كی اجازت دےاگرچہ یہ كلام حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود شریف كی صورت میں ہی كیوں نہ ہو یا صحابہ كے لئے رضی الله عنہم ہی كیوں نہ ہویا سلطان اسلام یا شریف مكہ كے لئے دعاء خیر ہی كیوں نہ ہو۔كیا ہمارے ائمہ نے اس وقت دینی اوردنیاوی سبھی قسم كے كلاموں كی حرمت پر اجماع نہیں كیااور اس سے زیادہ اہم معاملہ تكبیر كے ابلاغ ہی كے لئے مكبر كا بہت بلند اواز سے گٹكری بھر كر تكبیر بولنے كا ہے۔محقق علی الاطلاق امام ابن ہمام نے اس كی سخت تردید كی اورفرمایا "ایسا كرنے والے كی نماز فاسد ہونے كا ڈر ہے۔"یونہی اس كی نماز جو ایسے مكبر كی اواز پر بناكرے اورصاحبان حلیہ ودرر ونہر اوراس كے علاوہ علماء نے بھی اس كی ممانعت فرمائی اوراس كی نماز فاسد ہونے كا فتوی سید عالمہ مفتی اسعد مفتی مدینہ منورہ نے دیا جو
#409 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
العلامۃ شیخی زادہ صاحب مجمع الانھر معاصر المدقق العلامۃ محمدالحصكفی صاحب الدرالمختار رحمھم العزیز الغفارقدحكی فی اوائل فتاواہ من ھذا مایفضی الی العجب فراجعہا ان شئت۔
وبالجملۃ دلائل الشرع محصورۃ ولا حجۃ فی فعل كل احد لاسیما من لیس بعالم ولا تحت العلماء ولكن العجب كل العجب من ھؤلاء الوھابیۃ الملاحدۃ الزنادقۃ السابۃ لله ولرسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلمكیف یحتجون بفعل المؤذنین ویرمون حضرات سادتنا علماء الحرمین الشریفین نفعنا الله تعالی ببركاتھم فی كتبھم وخطبھم بشنائع فظیعۃ قدبرأھم الله تعالی عنہا۔والوھابیۃ قوم یكذبون ثم لایقتدون بعلماء الحرمین فی عقائدھم الحقۃ فضلا عن اعمالھم الحسنۃ كمجلس المیلاد الشریف والقیام فیہ لتعظیم من عظم الله تعالی شیخی زادہ صاحب مجمع الانھركے شاگرد ہیں۔اورصاحب درمختار كے ہمعصر ہیں۔الله تعالی ان سب پر اپنی رحمت كی بارش بر سائےانہوں نے اپنے فتاوی كے شروع میں اس سلسلہ كی ایك عجیب بات نقل كی جسے دیكھا جاسكتاہے۔
خلاصہ كلام یہ ہے كہ شریعت كی دلیلیں حدود ومشہور ہیں اوران كے باہر كسی كے عمل سے استدلال نہیں ہوسكتا بالخصوص جبكہ وہ عالم بھی نہ ہونہ علماء كا زیر فرمان ہو۔لیكن ان وہابیہ زنا دقہ پر سخت تعجب ہے كہ كس طرح مؤذن كے فعل سے استدلا ل كرتے ہیں اورحرمین شریفین كے حضرات سادات علمائے كرام كو بدنام كرتے ہیں۔یہ ذلیل قوم علمائے حرمین شریفین پر غلط اتہام ركھتی ہے اوران كے حق فتووں كی اقتداء نہیں كرتیتو ان كے اعمال حسنہ مثل میلاد وقیام كی كیا پیروی كریں گی!ان پر قول فیصل یہ ہے كہ انہیں سادات حرمین كا فتوی حسام الحرمین دكھاكر كہا جائے یہ علمائے حرمین كا فتوی نہیں ہےتو اگر وہ اس كو رد كرتے ہیں تو مؤذنین حرمین كے فعل سے ہم پر الزام كرنے كا كیا حق ہےاوراقرار كر كے ان وہابیہ كی تكفیر كرتے ہیں تو ان سے كہا جائے كہ مسئلہ اذان میں اپ ان كافروں كی كیوں اتباع كرتے ہیں اپ كو تو انكار كنے كا حق ہے۔(ہم الله تعالی سے عفووعافیت كے طالب ہیں اوراس كے علاوہ نہ كوئی قوت والا ہے
#410 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
شانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
نفحہ۱۴:قدمنا من الخطبۃ ثم فی الاجمال فی بحث الوارث الباطل المظنون(وانہ كیف یسری الی الظنون) مایكفی ویشفی وبینا الحق ورفعنا للوم عن اساتذتكم واشیاخكم بل وعنكم ایضایامخالفین ان رجعتم الی الحق بعد ماظھر ولم تنكروا الصبح حین زھر فراجعہ فانہ مھم ومن لم یرجع فھو جبل واقع بھمومن الدلیل علی ماذكرت ان العالم الدلیل علی امذكرت ان العالم ینكرفلا یسمع ماقدمت الان عن ردالمحتار من تعطل نفاذ الامر بالمعروف والنھی عن المنكر منذ ازمنۃ وعلی ماذكرت ان العالم یسكت حینئذ قول صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا رأیت الناس قد مرجت عھود ھم وخفت امانتھم وكانواھكذا وشبك بین اناملہ فالزم بیتك واملك علیك لسانك وخذ ماتعرف ودع ماتنكروعلیك بخاصۃ امر نفسك ودع نہ طاقت والاوہی علی وہی عظیم ہے جل جلالہ وعم نوالہ)
نفحہ۱۴:توارث باطل ومظنون كے بارے میں خطبہ میں اور توارث كی اجمالی بحث میں ہم نے جو كچھ ذكركیا وہ كافی اورشافی ہے۔ہم نے حق واضح كیا اورمدعیان توارث كے استاذوں ان كے شیوخ اورخود ان سے بھی"سكوت عن الحق"كا الزام زائل كیا۔كاش كہ یہ لوگ حق ظاہر ہونے كے بعد اس كی طرف رجوع كرتے اورصبح چمكنے كے بعد اس كا انكار نہ كرتےحالانكہ وہ ان كے لئے اہم اورایسا پتھر ہے جو بے توجہی سے انہیں كے اوپر اپڑے گا۔ہمارے اس دعوی پركہ"عالم انكار كرتاہے مگر عوام اس كی پرواہ نہیں كرتے "دلیل صاحب ردالمحتار كامذكورہ بالا قول ہے كہ"امر بالمعروف اورنہی عن المنكرمدتوں سے معطل ہوچكا ہے۔"اوراس امر كی دلیل كہ"بسااوقات عالم منكر دیكھ كر اخاموش رہتاہے"حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم كا یہ قول ہے:"جب تم لوگوں كو اس حال میں دیكھو كہ ان كے عہودایك دوسرے سے گتھہ كئے ہیں اورامانتوں كو ہلكا سمجھنے لگے ہیںاوروہ جال كی طرح بن گئے ہیں(حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے انگلیوں كو ایك دوسرے میں داخل فرماكر جال كی صورت بنائی) تو تم اپنے گھر كو لازم پكڑواور اپنی زبان كو قابومیں
#411 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عنك امر العامۃ۔"رواہ الحاكم عن عبدالله بن عمررضی الله تعالی عنہماوصححہ واقرہ الترمذی۔
وابن ماجۃ عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی ا لله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم: ائتمروابالمعروف وتناھواعن المنكر حتی اذارأیت شحا مطاعا وھوی متبعا ودنیا مؤثرۃ واعجاب كل ذی رأی برایہ ورأیت امرا لایدان لك بہ فعلیك خویصۃنفسك ودع امر العوام ۔(الحدیث)
ونظیر ماذكرت من شیوع امر من قبل السلطنۃ ما فی الھدایۃ فی تكبیرات العیدین:"ظھرعمل العامۃ الیوم بقول ابن عباس رضی ا لله تعالی عنہما لامر بینہ الخلفاء فاما المذھب فالقول الاول اھ" ركھوخود اپنے نفس كی نگہداشت لازم جانواورعوام كا معاملہ ان پر چھوڑدو۔"اسے حاكم نے عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت كیا اور اس كی تصحیح كی اوراسے ترمذی نے برقرار ركھا۔
ابن ماجہ نے ثعلبہ خشنی رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی كہ اپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"امر بالمعروف اور نہی عن المنكر كرتے رہو تاانكہ بخل كی حكومت دیكھو خواہشات نفس كی پیروی كی جانے لگےاورلوگ دنیا كواختیار كر چكے ہوں۔ہر رائے پسند كرے ایسے میں كوئی ضرور ی معاملہ درپیش ہوتو تم اپنے نفس كو لازم پكڑواورعوام كو ان كے حال پرچھوڑو۔"
اوراس بات كا ثبوت كہ سلطنتوں كی طرف سے بھی بہت باتیں پھیلائی جاتی ہیںصاحب ہدایہ كا یہ قول ہے كہ:
"تكبیرات عیدین میں اج كل عام طور سے حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہ كے مذہب پر عمل ہورہاہے كیونكہ خلفائے بنو العباس نے اسی پر عملدرامد كا حكم دیالیكن مذہب تو احناف كا قول اول ہی(یعنی چھ زائدتكبیریں)۔"
#412 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وما ذكرت من سكوت العلماء علیہ سكوتھم وھم صحابۃ متوافرون وائمۃ اجلا تابعون علی زخرفۃ الولید المسجد الشریف النبوی حتی انفق علی جدار القبلۃ وما بین السقفین خمسۃ واربعون الف دینار مع ابن بعضھم قدانكرعلی امیر المؤمنین عثمن رضی الله تعالی عنہ حین بناہ بالحجارۃ مكان اللبن و قصصہ وسقفہ بالساج مكان الجرید۔قال الامام العینی فی العمدۃ:"اول من زخرف المساجد الولید بن عبدالملك بن مروان وذلك فی ااواخرعصر الصحابۃ رضی الله تعالی ی عنہم وسكت كثیر من اھل العلم عن انكارذلك خوفا من الفتنۃ اھ ۔"
ولا بن عدی فی الكامل والیبھقی فی الشعب عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم:"اذا رأیتم امرالا تستطیعون تغیریرہ فاصبروا حتی یكون الله ھو الذی یغیرہ ۔"
اورجو میں نے یہ كہا كہ ظہور منكرات كے وقت علماء خاموش رہے ہیںاس كا ثبوت علمائے صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین وتابعین كثیرہ متوافرہ ائمہ اجلہ كی وہ خاموشی ہے جو ولید كے مسجد نبوی شریف كے ارائش كرنے پر تھیاس لئے دیوار قبلہ اوردونوں چھتوں كے مابین كی ارائش پر۴۵ہزاراشرفیاں خرچ كی تھیں حالانكہ انہیں میں سے بعض امیرالمومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كی اس بات پر نكیر كرچكے تھے كہ انہوں نے دیواروں كو اینٹوں كے بجائے منقش پتھروں سے بنوایا اورچھت كو كھجور كے پتوں كے بجائے ساج كی لكڑی سے۔ امام عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں:"ولید بن عبدالملك بن مروان نے سب سے پہلے مسجد شریف كو مزین كیاصحابہ كرام كے اخری عہد كی بات ہےبہت سارے اہل علم اس وقت اس لئے خاموش رہے كہ فتنہ برپاہوگا۔"
ابن عدی نے كامل میں اوربیہقی نے شعب میں ابو امامہ رضی الله عنہ سے انہوں نے حضوراكرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت كیا:"جب تم كوئی ایسا كام دیكھو جس كے بدلنے كی تم طاقت نہیں ركھتے تو صبر كرو یہاں تك كہ الله تعالی اسے بدل دے۔"
#413 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
والدالیل علی ماذكرت من اشتباہ الامر فی ذلك علی المتاخرین حتی العلماء بالتعامل ما اسلفت عن الشیخ المجدد وقد كان فی ماقررنا ابانۃ اعذارلمن عبر ومن غبرفان لم یرض بہ المخالفون فھم الذین یقضون علی اساتذتھم ومشائخھم اما بالجھل اوبالسكوت عن الحق وقد كانت لھم مندوحۃ الم یعلموا ان الخلیفۃ الراشد امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی الله تعالی عنہ كم من سنن احیاھا وظلمات بدع اجلاھا فكان لہ الاجر الجزیل والذكر الجمیل والفخر الجلیل ولم یكن عتب قط علی من قبلہ من الصحابۃ الكرام واكابرائمۃ التابعین الاعلام رضی الله تعالی عنہم انھم جھلوا الحق اوسكتوا عنہ ولاقیل لامیر المومنین انك تقحمت ما اجتنبوہ او انكرت ما اقروہ افانت اعلم منھم بالسنۃ اواتقی منھم للفتنۃ وعلی ھذا درج امر كل مجدد فانہ لایبعث الا لتجدید ماخلق وتشئید ما وھی وربما كان من قبلہ اعلم منہ واتقی۔وكذلك غیر المجددین اوراس امر كی دلیل كہ اس معاملہ میں متأخرین پر معاملہ تعامل سے مشتبہ ہوگیاھد یہ كہ علماء بھی شبہ میں پڑگئے۔شیخ مجدد كا وہ قول ہے جسے ہم نقل كرچكے ہیں۔ہمارے اس بیان سےگزرنے والوں اورباقی رہنے والوں سبھی كاعذر ظاہر ہوگیا۔ اگركوئی ہمارے اس بیان پر راضی نہ ہوتو خود اپنے ہی شیوخ اوراساتذہ پر جہل یاسكوت عن الحق كا فیصلہ كرتاہے حالانكہ وہ اس سے بچ سكتا تھا۔خلیفہ راشدعمر بن عبدالعزیز رضی ا لله عنہ نے كتنی سنتوں كا احیاء فرمایا اوركتنی بدعتوں كی تاریكیاں كافور فرمائیں۔یہ امر ان كے لئے تو اجر عظیم اوربقائے ذكر حسن كا ذریعہ ہےاوربجاطور پرباعث فخر ومباہات ہے لیكن ان سے قبل گزرنے والے صحابہ كرام اور اكابرائمہ تابعین اعلام رضوان الله علیہم اجمعین كے لئے كسی عتاب یا عیب جوئی كا سبب نہیں كہ وہ لوگ حق سے غافل رہے یا اس سے خاموشی اختیار كی۔نہ اس سے امیر المومنین پر خوردہ گیری كی گئی كہ اپ نے ان چیزوں كی مزاحمت كیوں كی جس سے متقدمین ائمہ نے پرہیز كیایا آپ نے ان امور كا انكار كیاجسے ان بزرگوں نے باقی ركھاتو كیااپ ان سے زیادہ سنت كا علم ركھتے ہیں اوران سے زیادہ ذكی وعلیم ہیںاور اسی میں تمام مجددین كا
#414 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
من كل عالم تصدی لاحیاء السنۃ اواخمادبدعۃ فاہ یحمد ویوجر ولا یذم من مضی قبلہ ولا یعیر بخلاف من غبر بل من المثل الدائرالسائركم ترك الاول للاخروھذا سیدنا الغوث الاعظم القطب الاكرم سید الاولیاء وسند الائمۃ والعلماء صلی الله تعالی علی ابیہ الاكرم وعیہ وعلی اصولہ وفروعہ ومشائخہ ومریدیہ وكل من انتمی الیہروی عنہ الائمۃ الكبار باسنید صحیحۃ مفصلۃ فی البھجۃ الشریفۃ وغیرھا من الكتب المنیفۃ:"انہ قیل لہ رضی الله تعالی عنہ ماسبب تسمیتك محی الدینقال رجعت من بعض سیاحاتی مرۃ فی یوم جمعۃ فی سنۃ احدی عشرۃ وخمسمائۃ الی بغداد حافیافمررت بشخص مریض متغیراللون نحیف البدن معاملہ شامل ہے كہ وہ بھیجے ہی اس لئے جاتے ہیں كہ جو كمزوری اگئی ہے اسے مضبوط كریں اورجو كہنہ معلوم ہورہا ہے اس كو نیا كریں۔اوربسااوقات ان مجددین سے پہلے ان سے بڑے بڑے اوران سے زیادہ پرہیزگارعلماء گزرچكے ہوتے ہیں۔اورعلمائے غیر مجددین بھی احیائے سنت واماتت بدعت ہی كے درپے ہوتے ہیں اوركسی بات پر ان كی تعریف ہوتی ہے جس انہیں اجر ملے گا۔اورجو یہ كارنامہ كئے بغیر گزرگئے نہ تو ان كی برائی ہوتی ہے نہ كرنے والوں كو عار دلایا جاتاہے اوریہ توایك مشہورمثل ہے كہ پہلے كے بزرگ بعد میں انے والوں كے لئے بہت سے كام چھوڑ گئے۔حضرت غوث اعظم قطب معظمسید الاولیاءسند الائمہ الله تعالی ان كے جد كریم خود ان پر اوران كے اصول وفروعمشائخ و مریدین اوران سے نسبت ركھنے والوں پراپنی رحمت نازل فرمائے سے ائمہ كبار نے سند صحیح كے ساتھ بہجۃ الاسرار وغیرہ معتبرات میں روایت كی كہ:"اپ رضی ا لله عنہ سے پوچھا گیا حضور!اپ كا لقب محی الدین كیسے ہوااپ نے جواب دیا میں ۵۱۱ھ میں اپنی كسی سیاحت سے جمعہ كے دن بغداد لوٹ رہا تھا اس وقت میرے پاؤں میں جوتے بھی نہ تھے راستہ یں ایك كمزور اورنحیفرنگ بریدہ مریض ادمی پڑا ہوا ملا
#415 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فقال لی السلام علیك یا عبدالقادرفرددت علیہ السلامفقال ادن منی فدنوت منہفقال لی اجلسنی فاجلستہ فنماجسدۃ وحسنت صورۃ وصفا لونہ فخفت منہفقال اتعرفنیفقلت لاقال انا الدین وكنت دثرت كمارأیتنی وقداحیانی الله تعالی بك وانت محی الدینفتركتہ وانصرفت الی الجامع فلقینی رجل ووضع لی نعلا وقال یا سید ی محی الدینفلما قضیت الصلوۃ اھرع الناس الی یقبلون یدی ویقولون یا محی الدینوما دعیت بہ من قبل اھ كلامہ الشریف۔"
قلت ھذا وان بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ رضی الله تعالی عنہ فلوان الاسلام لم یبلغ فی عھدہ رضی الله تعالی عنہ الی ان یعد میتا فما الذی احیاہ وعلامہ سمی محی الدین وان كان بلغ الی تلك الغایۃ فما ظنك بائمۃ اجلاء اس نے مجھے عبدالقادركہہ كر سلام كیا میں نے اس كا جواب دیا تو اس نے مجھے اپنے قریب بلایااورمجھ سے كہا كہ اپ مجھے بٹھا دیجئے۔میرے بٹھاتے ہی اس كا جسم تروتازہ ہوگیا سورت نكھر ائی اورارنگ چك اٹھا مجھے اس سے خوف معلوم ہواتو اس نے كہامجھے پہچانتے ہومیں نے لاعلمی ظاہر كیتو اس نے بتایا میں ہی دین اسلام ہوں الله تعالی نے اپ كی وجہ سے مجھے زندگی دیاوراپ محی الدین ہیں۔میں وہاں سے جامع مسجد كی طرف چلاایك ادمی نے اگے بڑھ كر جوتے پیش كئے اورمجھے محی الدین كہہ كر پكارامیں نماز پڑھ چكاتو لوگ چہارجانب سے مجھ پر ٹوٹ پڑے میراہاتھ چومتے اورمجھے محی الدین كہتے۔اس سے قبل مجھے كسی نے محی الدین نہیں كہا تھا۔"
میں كہتاہوں یہ اس وقت كا واقعہ ہے جب اپ كمال كو پہنچ گئے تھے اوراپ كی عمر شریف چالیس سال ہوچكی تھی۔سوال یہ پیداہوتاہے كہ اس وقت اسلام كی ایسی حالت ہوگئی تھی كہ اس كو مردہ كہا جائے گا یا نہیںاگر كہا جائے كہ نہیںتو اپ زندہ كس كو كیااوراپ كانام محی الدین كیوں ہوا۔اوراگر ہاں كہا جائے تو وہ ائمہ عظام اور
#416 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
علماء والیاء كانواقبلہ اھم كانوا عنہ غافلین اوتركوانصرہ حتی بلغ الی ذلك الضعف المبین۔ام تزعمون ان لارض كانت خلت عن ولی الله وعالم امین كل ذلك من اجلی الاباطیل لایذھب الیہ عاقل ذودین۔
وانما الامرماوصفنا ان لمن احیالاحقااجرہ ولمن سكت سابقاعذرہوالاشیاء مقسومۃ بید التقدیر القدیم"ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ وسع علیم﴿۷۳﴾" ۔
وبالجملۃ انماھم الشریعۃ یردون وباب احیاء السنۃ یسدون اذ كلماقام عبدالله یحی سنۃ اویمیت بدعۃ یقال لہ الم یك قبلك علماء بالدین اكانوا جاھلینام غافلینام انت اعلم منھم اجمعین وما ھو الا تصدیق قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم: "لیاتین علی الناس زمان یكذب فیہ الصادق ویصدق فیہ الكاذب ۔"وحدیث یكون المعروف اولیاء فخام جو اپ سے پہلے تھے كیا اسلام كی اس كمزوری سے غافل تھے یا انہوں نے حق كی حمایت چھوڑدی تھی كہ دین ضعف كی اس حد تك پہنچ گیا تھا یا پھر یہ گمان كیا جائے كہ دنیا علماء واولیاء سے خالی ہوگئی تھی حالانكہ یہ تینوں باتیں خلاف واقعہ اورباطل ہیں۔
توحقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان كی كہ جس نے بعد میں احیائے دین كیا اس كیلئے اجر ہےاورجو لوگ پہلے خاموش گزرے ان كے لئے عذرہے۔اشیاء كی تقدیر ازل سے ہی دست قدرت میں ہے۔اورالله تعالی ی اپنے فضل بے نہایت سے جس كو چاہتاہے فضیلت عطافرماتاہے۔
حاصل كلام یہ ہے كہ مخالفین اذان بیروت مسجد شریعت كو رد كرتے ہیںاوراحیاء سنت كا راستہ مسدود كرتے ہیں اس لئے كہ جب كوئی بندہ ا حیاء سنت واماتت بدعت كیلئے اٹھے اسے یہ كہہ كر روكا جاسكتاہےكیا اپ سے پہلے علمائے دین نہ تھے یا اپ ان سب سے بڑے عالم ہیںتو یہ صورت حال اس حدیث كریم كا مصداق ہے جس میں حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"ایك زمانہ وہ بھی ائے گا كہ سچا جھٹلایا جائے گااورجھوٹے كو شاباش ملے گیمعروف ومشروع باتیں ناپسند
#417 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
منكرا والمنكر معروفا ۔كما قدمنا فھذا مایریدون والدین یكیدون وما یكیدون الاانفسھم ولكن لایشعرون۔نسأل الله العفووالعافیۃ۔
واذقدفرغنا بحمدالله تعالی عن ابطال ما توافقوا علیہ فلنأت علی ماانفردبہ بعضھم عن بعض وبالله التوفیق۔
نفحہ۱۵:ذكر بعضھم اثراجعلہ من روایۃ جویبر فی تفسیرہ عن الضحاك عن بردبن سنان عن مكحول عن معاذ رضی ا لله تعالی عنہ:ان عمر رضی الله تعالی عنہ امر مؤذنین ان یؤذناللناس الجمعۃ خارجا من المسجدحتی یسمع الناس وامران یؤذن بین یدیہ كما كان فی عھد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وابی بكر رضی ا لله عنہ ثم قال عمر نحن ابتدعنا ہ لكثرۃ المسلمین ۔
فدل بمفھومہ ان الاذان بین یدیہ لم یكن خارج المسجد ودل بقول كما كان انہ فی عھد النبی ہوں گی اورمنكرات كو قبول كیاجائے گا۔" یہ ان لوگوں كی مراداورحیلہ جوئیوں كا جواب ہے اوردین سے مكر كرتے ہیں اورمكرسے ادمی اپنے نفس كو ہی دھوكا دیتاہے۔ہم تو الله تعالی سے عفو وعافیت كے طلبگار ہیں۔
یہاں تك ہم ان كی مشتركہ جدوجہد كی تنقید سے فارغ ہوچكے ہیں اوراب انفرادی كاوشوں كی طرف متوجہ ہوتے ہیں توفیق خیر تو الله تعالی كی طرف سے ہے۔
نفحہ۱۵:بعضوں نے ایك اثر نقل كیا جسے جویبر نے اپنی تفسیر میں ضحاك عن بردبن سنان عن مكحول عن معاذ رضی الله تعالی عنہ روایت كیاكہ:"حضرت عمرفاروق رضی الله تعالی عنہ نے مؤذنوں كو حكم دیا كہ جمعہ كے روز لوگوں كیلئےخارج مسجد اذان دیں تاكہ لوگ سن لیںاوریہ حكم دیا كہ اپ كے سامنے اذان دی جائے جیسا كہ عہد رسالت اورعہد صدیقی میں ہوتاتھا۔اس كے بعد اپ نے فرمایا:ہم نے ادمیوں كی كثرت كی وجہ سے یہ نئی اذان شروع كی۔"
اس حدیث كا مفہوم مخالف یہ ہوا كہ اذان میں بین یدیہ خارج مسجد نہیں تھی۔اوراس اذان كے لئے یہ كہنا كہ یہ اذان عہد رسالت
#418 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
صلی الله تعالی علیہ وسلم وابی بكر رضی الله تعالی عنہ ایضاداخل المسجد۔
اقول اولا :قداعطیناك فی النفحۃ التاسعۃ الفقہیۃ من معانی المسجد ما یغنیك ویعینك علی كل ما یاتیك من امثال ھذا التشكیك فامر مؤذنین ان یؤذنا خارج المسجدبالمعنی الثانی اوالثالث ایضا كام فعلہ امیرالمومنین ذوالنورین رضی الله تعالی ی عنہم اذ زاد اذانا علی الزور اء عند كثرۃ المسلمین ویشیرالیہ فی نفس الاثرقولہ"حتی یسمع الناس "وقولہ"نحن ابتدعناہ لكثرۃ المسلمین" فلایدل ان دل الاعلی كون الاذان بین یدیہ داخل المسجد باحد ھذین المعنین وھو عین مرادنا "فلینظرھل یذھبن كیدہ مایغیظ۔"
وثانیا: انظرواالی ظلم ھؤلاء یردون حدیث صحیح ابی داؤدلاجل محمد بن اسحق الذی اجمع عامۃ ائمۃ الحدیث والفقہ علی توثیقہو اورزمانہ صدیقی رضی الله تعالی عنہ میں ایسے ہی ہوتی تھی اس لئے صراحۃیہ ثابت ہوا كہ یہ اذان ان زمانوں میں اندرون مسجد ہوتی تھی۔
اقول:(میں كہتاہوں)اولاہم نویں فقہی نفحہ میں بیان كر ائے ہیں كہ مسجد كے تین اطلاقات ہیںاسی اعتبارسے خارج مسجد كے بھی تین معنی ہوں گے۔اثر مذكورمیں ائے ہوئے لفظ حتی یسمع الناس اور ابتدعناہ عند كثرۃ المسلمین اس امر پر دلالت كرتے یہں كہ یہاں خارج مسجد سے مراد معنی ثالث ہیںا ورمعنی ثانی ہوتو بھی ہم كو كچھ ضرر نہیں كہ ہم بھی تو اسی كے قائل ہیں كہ حدود مسجد كے اندر
ہومگر موضع صلوۃ سے باہر ہو۔مسجد كے اطلاق كی مذكورہ بالاتوضیح ایسے تمام شبہوں كے لئے نسخہ شفاہے۔
وثانیا یہ كتنابڑا ظلم ہے كہ یہ حضرات حضرت ابوداودرضی الله تعالی عنہ كی حدیث صحیح كو تورد كرتے ہیں بلكہ حدیث كے راوی محمد ابن اسحاق پر جرح كرتے یہں جن كی توثیق پر عام ائمہ حدیث وفقہ متفق ہیں۔
#419 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
یحستجون باثرجویبر وما جویبر من ابن اسحق الا كالعتمۃ من الاصبح۔رجل لم یذكر فی تھذیب الكمال ولاتذھیب التھذیب ولا تھذیب التہذیب ولا میزان الاعتدال ولا اللالی المصنوعۃ ولا العدل المتناھیۃ ولا خلاصۃ التھذیب مع الزیادات توثیقا لہ عن احدمن ائمۃ التعدیل انام ذكروا عنہم جرحہ۔قال النسائی وعلی بن جنید والدار قطنی" متروك" قال ابن معین "لیس بشیئ ضعیف۔" قال ابن المدینی"ضعیف جدا ۔ "و ذكرہ یعقوب ابن سفین"فی باب من یرغب عن الروایۃ عنہم ۔" وقال ابوداؤد"ھو علی ضعفہ ۔"وقال ابن عدی"الضعف علی حدیثہ وروایاتہ بین ۔"وقال الحاكم ابو احمد"ذاھب الحدیث "قال الحاكم ابوعبد الله "انا ابرأ الی الله من عہدتہ "وقال ابن حبان"یروی عن الضحاك اشیاء مقلوبۃ ۔"وقال فی اللالی ھالك تالف متروك جدا ۔ونقل فی ذیلہا عن لسان المیزان اورجویبر كے اثر سے استدلال كرتے ہیں حالانكہ جویبر اورابن اسحق میں رات اورصبح صادق كا فرق ہےنہ تو تہذیب الكمال میں جویبر كی توثیق كسی امام ائمہ تعدیل سے مروینہ تذھیب التہذیب میںنہ تہذیب التہذیب میںنہ میزان الاعتدال میںنہ لالی المصنوعہنہ علل المتناہیہ نہ خلاصۃ التہذیب مع زیادات میںہے تو صرف جرح ہے۔چنانچہ نسائی وعلی بن جنید اوردارقطنی فرماتے ہیں:متروك ہے۔ابن معین فرماتے ہیں:كچھ نہیں ضعیف ہے۔ابن المدینی فرماتے ہیں:بے حد ضعیف ہیں۔یعقوب بن سفیان نے ان لوگوں میں شمار كیاجن سے روایت نہ كی جائے۔امام ابوداؤدنے فرمایا: وہ ضعف پر ہیں۔ابن عدی فرماتے ہیں:ان كی حدیثوں اورروایتوں پر ضعف غالب ہے۔حاكم ابواحمد نے فرمایا: ان كی حدیثیں ضائع ہیں۔حاكم ابوعبدالله نے فرمایا:میں ان كی حدیثوں سے الله تعالی كی طرف براءت ظاہر كرتاہوں۔ابن حبان فرماتے ہیں:ضحاك سے الٹی پلٹی حدیثیں بیان كرتاہے۔لالی میں فرمایا:ہلاك كرنے والےبرباد كرنیوالےسخت متروك ہیں۔ اسی كے حاشیہ میں لسان المیزان سے
#420 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
"متروك الحدیث عن المحدثین ۔" وقال فی التقریب "ضعیف جدا "وقال احمد بن سیار"حالہ حسن فی التفسیر وھو لین فی الروایۃ " وعدہ یحیی ابن سعید "ھؤلاء لایحمل حدیثہم ویكتب التفسیر عنہم ۔ " وقال فی الاتقان بعد ذكران الضحاك عن ابن عباس مقطع"وان كان من روایۃ جویبر عن الضحاك فاشد ضعفالان جویبرا شدید الضعف متروك اھ ۔" و لكن اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ۔
وثالثا من ظلمھم الدندنۃ علی حدیث ابن اسحق بالعنعنۃ وما فی عنعنۃ المدسل الاحتمال الانقطاع ثم عادوایتمسكون بھذا الاثر وفیہ مكحول عن معاذ منقول ہے:محدثین كے نزدیك متروك الحدیث ہے۔ تقریب یں ہے:بے حد ضعیف ہیں۔احمد بن سیار نے فرمایا: تفسیر میں ان كا حال ٹھیك ہے اورروایت میں كمزورہیں۔ یحیی ابن سعید نے فرمایا:حدیث میں ان پر بھروسانہیں كیا جاتاروایت نہیں كی جاتیتفسیرلكھی جاتی ہے۔اتقان میں ان كے ذكر كے بعد فرمایا:ضحاك كی روایت ابن اسحاق سے منقطع ہےاور ضحاك سے جویبر روایت كریں تو اورشدید ہےاور یہ متروك ہیں۔تو یہ كتنی بے شرمی كی بات ہے كہ جو یبرجیسے متروك الحدیث كی روایت سے سند پكڑی جائےاورمحمدبن اسحق جیسے ثقہ كی روایت چھوڑدی جائے۔
ثالثا ان حضرات كا ایك ظلم یہ بھی ہے كہ محمد ابن اسحق كی حدیث پر معنعن ہونے كا الزام لگاتے ہیں جبكہ مدلس كی معنعن حدیث میں روایت كے منقطع ہونے كا احتمال ہے اور روایت جویبرمیں شدیدضعف كے ساتھ ساتھ مكحول عن
#421 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
منقطع قطعا۔
ورابعا من خیانتھم ان اثرواھذا الاثر عن فتح الباری وتركواقولہ"ھذامنقطع بین مكحول ومعاذ ۔"
خامسا تركواقولہ"ولایثبت لان معاذاكان خرج من المدینۃ الی الشام فی اول ما غزواالشام واستمرالی ان مات بالشام فی طاعون عمواس ۔"
وسادسا تركواقولہ"وقد تواردت الروایات ان عثمن ھو الذی زادہ فھو المعتمد اھ۔"
فقد افادان الاثر منقطع ومعلول ومنكر لمخالفتہ لاحادیث صحیح البخاری وغیرہ الكثیرۃ المشہورۃ فتركواكل ذلك خائنین۔ معاذروایت ہے جو یقینامنقطع ہے۔
رابعا ان حجرات نے جویبر كے اثر كو فتح الباری سے نقل كیا اوراس پر خود صاھب فتح الباری كی یہ جرح چھوڑ دی كہ یہ اثر مكحول اورمعاذرضی الله تعالی عنہم كے درمیان منقطع ہے۔
خامسا صاحب فتح الباری كی یہ تنقیدبھی ترك كردی "یہ روایت ثابت نہیں"كہ اس روایت میں ہے كہ عہد عمر كا یہ قصہ حضرت معاذ نے مكحول سے بیان كیا جب كہ حضرت معاذ رضی الله عنہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی حیات طیبہ كے اخری سال شام گئے پھر وہیں رہ گئےمدینہ شریف واپس نہیں ائے یہاں تك كہ طاعون عمواس میں ان كا وہیں انتقال ہوگیا۔
سادسا ان لوگوں نے صاحب فتح كی یہ تنقید بھی چھوڑدی كہ متعدد روایتوں سے یہ ثابت ہے كہ اذان اول كا اضافہ كرنیوالے حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ ہیں۔
ابن حجركی تنقیدوں سے ثابت ہوا كہ یہ اثر منقطع ہےمعلول ہے بخاری شریف كی احادیث صحیحہ مشہورہ كی مخالفت ہونے كی وجہ سے منكر ہےاوران حضرات نے سب كو چھوڑا تو خائن ہوئے۔
#422 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وسابعا ان كان فیہ شیئ فلیس الا مفہوم وردہ عند ائمتنا معلومالاسیمامفہوم اللقب الذی ھو اضعف المفاھیم لم یقل بہ الاشرذمۃ قلیلۃ من الحنابلۃ ودقاق الشافعی واندادالمالكی۔
وثامنا جاء الملك ثلثۃ سفراء ووصل احدھم الی باب تجاہ الملك واثنان متاخرانسأل عنھم الملك فقال الھاجب احدھم بین یدی الملك و اثنان كارج الحضرۃ فھل یفھم منہ ان الذی بین یدیہ قدد خل جوف الدارولیس علی الباب ولكن الھل یاتی بالعجب العجاب۔
نفحہ۱۶:ظھرلك الجواب ولله الحمد عن اثر النسائی عن طلق بن علی فخرجنا حتی قدمنا بلدنا فكسرنا بیعتنا ثم نضحنامكانھا واتخذناھا مسجدا فنادینا فیہ بالاذان ۔ سابعا اس عبارت سے اگر كچھ ثابت ہوتاہے تو بچور عارۃ النص نہیں بلكہ بطور مفوہم مخالف اورمفہوم مخالف بھی لقبی جوائمہ احناف كے نزدیك اضعف المفاہیم ہے۔یوں تو ہمارے ائمہ كے نزدیك مفہوم مخالف كا ہی اعتبار نہیں مفہوم مخالف لقبی كا كیا ذكر جو مالكیہ كے ایك مختصر گروہ كے نزدیك معتبرہے۔ اور دقاق شافعی اوراندادمالكی كا قول ہے۔
ثامنا بادشاہ كے پاس تین نفر ائےایك تو بادشاہ كے سامنے ایا لیكن باہری دروازے تكدو اورپیچھے رہے۔بادشاہ نے ان كے بارے میں دریافت كیا۔حاجب نے جواب دیاایك تو بادشاہ كے سامنے ہے اوردودربارسے باہرہیں۔تو حاجب نے جسے بادشاہ كے سامنے كہا كیا وہ دربار كے اندر تھاوہ تو دروازہ پر ہی تھا لیكن جہالت عجب عجب گل كھلاتی ہے۔
نفحہ۱۶:مذكورہ بالا بیان سے حضرت طلق ابن علی كے اس اثر كا جواب بھی ہوگیاجو امام نسائی نے نقل كیا:"ہم مدینہ سے چل كر اپنے ملك میں پہنچے اپنےگرجا كو ہم نے ڈھادیا اور حضور كی خدمت سے لایا ہوا پانی وہاں چھڑك دیا اورگرجا كی جگہ مسجدبنائی اوراس میں اذان دی۔"
#423 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
واثرالترمذی عن مجاھد قال دخلت مع عبدالله بن عمر مسجدا وقد اذن فیہ ونحن نریدان نصلی فیہ فثوب المؤذن فخرج عبدالله (الحدیث)

اثراخرعن ابی الشعشاء قال خرج رجل من المسجد بعدما اذن فیہ بالعصر وقال ابو ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ما ھذا فقد عصی اباالقاسم صلی ا لله تعالی علیہ وسلم ۔
فانھماعلی وزان اثراقوی لم یھتدوا لہ وھو اثر مسلم عن عبدالله بن مسعودرضی الله تعالی عنہ: ان من سنن الھدی الصلوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ ۔"

كما قد منا فی النفحۃ التاسعۃ اورترمذی كے اس اثر كا بھی جواب ہوگیا جو حضرت مجاہد سے مروی ہے كہ "ہم حضرت عبدالله بن عمررضی الله تعالی عنہ كے ساتھ ایك مسجد میں گئے جس میں اذان ہوچكی تھی اورہم اسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے تھے تو مؤذن نے تثویب كہی تو حضرت عبدالله مسجد سے نكل گئے۔"
ایك اوراثر جو ابو شعشاء سے مروی ہے كہ اذان عصر كے عد ایك شخص مسجد سے نكل گیا تو حضرت ابو ھریرہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا"اس نے ابوالقاسم صلی الله تعالی علیہ وسلم كی نا فرمانی كی ہے۔"
یہ دونوں حدیثیں اسی روایت كے ہم پلہ ہیں جو امام مسلم نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت كی۔سند كے اعتبار سے یہ روایت مذكورہ بالا دونوں روایتوں سے قوی بھی ہے۔:"جس مسجدمیں اذان ہوتی ہے اس میں نماز پڑھنا سنن ہدی ہے۔"
یہ اثرہم نفحہ تاسعہ فقہیہ میں ذكر كر ائے
#424 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الفقھیۃ وقد كفانا المؤنۃ الاما مان الجلیلان فی فتح القدیر وغایۃ البیان اذقال فی المسجد ای فی حدودہ لكراھۃ الاذان فی داخلہ ۔

والعجب ان المحتج باثرابن عمر ھذا قد احتج بعبارۃ اختلقھا علی صلوۃ المسعودی لا اثرلھا فیھا ولم یرفی صلوۃ المسعودی انہ ذكر ھذا الاثر ھكذا ان عبد الله بن عمر رضی الله تعالی عنہما دخل مسجدا لیصلی فخرج المؤذن فنادی بالصلوۃ (الحدیث) وعزاہ الصلوۃ الامام السرخسی وصلوۃ الامام ابی بكرخواھرزادہ رحمھما الله تعالیومثلہ فی الضعف بل اضعف والتمسك بحدیث مرفوع لم یھتدوالہ ایضا وانما دللنا ھم علیہ فتعلق بہ بعضھم وھو حدیث ابن ماجۃ مگرہمیں اس كے جواب كی ضرورت نہیں كہ ہماری طرف سے اس كا جواب دو جلیل القدر امام فتح القدیر اورغایۃ البیان میں دے چكے ہیں كہ ان حضرات نے مسجد كی شرح میں فرمایا: "مطلب یہ كہ جس مسجد كی حدود میں اذان ہوتی ہو وہاں نماز ادا كرنی سنت ہے كہ مسجد كے اندر اذان مكروہ ہے۔"
عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہ كے اثر سے استدلال كرنے والے نے اس عبارت میں اپنی طرف سے فیہ كا اضافہ كردیا اورحوالہ میں صلوۃ مسعودی كا نام لكھاحالانكہ صلوۃ مسعودی میں یہ روایت صلوۃ امام سرخسی اورصلوۃ امام ابو بكر خواہرزادہ سے ان الفاظ میں مروی ہے:ان عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما دخل مسجدالیصلی فخرج المؤذن فنادی بالصلوۃ (الحدیث) یعنی اصل عبارت میں فیہ كا لفظ نہیں ہے سند اوراستدلال كے اعتبارسے اس سے بھی زیادہ ضعیف ایك اورحدیث ہے جس سے وہ غافل تھے ہم نے ہی ان كی رہنمائی كی تھیتو بعض نے اس سے بھی سند پكڑیابن ماجہ نے وہ حدیث عثمان بن عفان رضی الله
#425 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عن امیرالمؤمنین عثمن رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم"من ادركہ الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھو لایرید الرجعۃ فھو منافق ۔"
فان المسجد ظرف الادراك دون الاذان الا تری الی المناوی فی التیسیراذیقول فی شرحہ(من ادركہ الاذان)وھو(فی المسجد )
بل كفی الحدیث شرحاللحدیث فللامام احمد بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال امرنا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم "اذاكنتم فی المسجدفنودی بالصلوۃ فلا یخرج احدكم حتی یصلی ۔"
لكن السفیہ كل السفیہ والبلید كل البلید من تمسك بحدیث تعالی عنہ سے انہوں نے حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت كی:"جس نے كسی مسجد میں اذان پائی اس كے بعد مسجد سے بلاضرورت باہرہوا اورواپس ہونے كا ارادہ بھی نہیں تووہ منافق ہے۔"
استدلال ضعیف ہونے كی وجہ یہ ہے كہ حدیث میں فی المسجد ادراك كا ظرف ہے(یعنی اذان سننے والا مسجد میں تھا خود اذان مسجد میں نہیں ہوئی تھیامام مناوی نے اپنی شرح بنام تیسیر میں اس حدیث كی شرح میں فرمایا:جس نے اذان اس حالت میں سنی كہ وہ مسجد میں تھا)
بلكہ خود ایك دوسری حدیث میں اسكی شرح یہی فرمائی گئی امام احمد سندصحیح كے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت كرتے ہیں:"جب تم مسجد میں ہو اوراذان دی جائے تو نماز پڑھے بغیر مسجد سے باہر نہ نكلو۔"
اورانتہائی بیوقوفی یہ ہے كہ حضرت ابودرداء رضی الله تعالی عنہ كی اس حدیث سے استدلال
#426 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ابی داؤدرأیت رجلا كان علیہ ثوبین اخضرین فقام علی المسجدفاذن (وروایۃ ابی الشیخ فی ھذا الحدیث)علی سطح المسجد فجعل اصبعیہ فی اذنیہ ونادی ورأی ذلك عبدالله بن زید فی المنام۔
وحدیث ابن سعدفی طبقاتہ عن نوار ام زید بن ثابت رضی الله تعالی عنہما قالت كان بیتی اطول بیت حول المسجدفكان بلال یؤذن فوقہ من اول ما اذن الی ان بنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسجدہ فكان یوذن بعد علی ظھر المسجدوقدرفع لہ شیئ فوق ظھرہ ۔
فان فی ھذہ تصریحات بكون الاذان خارج المسجد بالمعنی الاول والجھول لایمیزبین المنافع والمضار وقد اسلفنا عدۃ روایات لھذامحتجین بھا والسفہ یبحث عن حتفہ بظلفہ۔ كیا جائے:"میں نے ایك ادمی كو دیكھا جس پر دوہرے كپڑے تھے تو اس نے مسجد كے اوپر كھڑے ہوكر اذان دی۔(اور ابوالشیخ نے اسی حدیث كی روایت میں لفظ علی سطح المسجد (مسجد كی چھت پر)كہا اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے كان میں ڈالیں اوراذان دی(دراصل حضرت عبدالله بن زید نے یہ معاملہ خواب میں دیكھا تھا)"۔
اورطبقات ابن سعد میں حضرت زید ابن ثابت كی ماں نوار رضی الله تعالی عنہاسے مروی ہے انہوں نے فرمایا كہ:"مسجد كے پڑوس میں میرا گھر سب سے اونچا تھا تو حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ ابتداء سے اسی پراذان دیتے تھے لیكن جب حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے مسجد بنالی اوراس كی چھت پر كچھ اونچا كردیاتو اسی پر اذان دینے لگے۔"
ہم بیان كر ائے ہیں كہ سب صورتیں مسجد بمعنی اول سے خارج ہیںتو ان سے داخل مسجد اذان كے مدعیوں كو كیا حاصل لیكن جاہل نفع اورنقصان میں فرق نہیں كرتااور بیوقوف اپنے كھرسے ہی اپنی موت كریدتاہے۔
#427 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
نفحہ۱۷:تعلق سفیہان منھم بروایۃ ابن ماجۃ عن عبدالله بن زید رضی الله تعالی عنہ فیھاقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان صاحبكم قدرأی رؤیافاخرج مع بلال الی المسجدفالقھا علیہ ولیناد بلال فانہ اندی صوتامنك قال فخرجت مع بلال الی المسجد فجعلت القیھا علیہ وھو ینادی بھا و ھذاكما تری اشبہ بالھذیان۔
فاولا:این الخروج الی المسجدعن الدخول فی المسجد
ثانیا:لم یكن لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مجلس غیر مسجدہ الكریم ولا بین المسجدو الحجرات الشریفۃ شیئ انما كانت علی حافۃ المسجد الشرقیۃ واتیان عبدالله بن زید الیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم كان من اخر اللیل قریبا من الصباح كما جمع بہ نفحہ۱۷:دوبیوقوفوں نے ابن ماجہ كی اس حدیث سے استدلال كیا جو حضرت عبدالله بن زید سے مروی ہے:"حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا كہ تمہارے ساتھی (عبدالله بن زید) نے خواب دیكھا ہے تو اے عبدالله !بلال رضی الله تعالی عنہ كے ساتھ مسجد كی طرف جاؤتم تلقین كرو اوربلال پكاركر اعلان كریں كہ وہ تم سے بلند اوازہیں۔حضرت عبدالله كہتے ہیں كہ میں بلال كے ساتھ مسجد كی طرف گیامیں بلال پر كلمات اذان تلقین كرتااورحضرت بلال اسے پكار كر دہراتے۔ "یہ استدلال ہذیان جیسا ہے۔
اولا:مسجد كی طرف جانے اورمسجدمیں داخل ہونے میں زمین واسمان كا فرق ہے(اورحدیث شریف میں مسجد كی طرف جانے كی بات ہے مسجدمیں داخل ہونے كی نہیں۔)
ثانیا:حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كی مسجد مبارك اورحجرات ازواج مطہرات میں كوئی فاصلہ نہ تھا حجرے مسجد كے مشرقی كنارہ پرتھےتو درازہ سے باہر حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كی نشست گاہ مسجد مبارك ہی میں تھی۔حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے پاس حضرت عبدالله بن زیدكا انا قریب صبح رات كے اخری حصہ میں تھااس كی تصریح امام ابوداؤدنے
#428 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بین روایۃ ابی داؤد"فلما اصبحت اتیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔"وروایۃ ابن ماجۃ"فطرق الانصاری رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لیلا ۔"
ولم یكن ھذا ایان خروجہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عن مسجدہ الكریم ولا دخول احدعلیہ فی الحجرۃ الكریمۃ فلم یكن صلی الله تعالی علیہ وسلم اذذاك الا فی المسجد الشریف اوالحجرۃ المنیفۃ۔ وعلی كل كان عبدالله حین اتاہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی المسجد ھذا ھو الظاھرولو لم یكن ظاھرا لكفانا الاحتمال لقطع الاستدلال ومعلوم ان من كان فی المسجداذاقیل لہ اخرج الی المسجد یستحیل ان یراد بہ اخرج حتی تدخل المسجدو انما یرادبہ اخرج الی منتھی حد المسجدوحینئذ تكون اپنی روایت میں كی ہے۔اورابن ماجہ نے اپنی روایت میں جس كا حاصل یہ ہے كہ ان كی حاضری اخری شب میں فجرسے كچھ پہلے تھیالفاظ دونوں روایتوں كے مندرجہ ذیل ہیں: "صبح كے وقت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كی خدمت میں ایا"(ابی داود)۔"رات میں انصاری رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كی خدمت میں ائے"(ابن ماجہ)
اوریہ وقت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے باہر جانے كا نہ تھانہ كسی كے حجرہ شریفہ میں داخل ہونے كا تھاتو اس وقت حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم یا تو مسجد مبارك میں تھے یا حجرہ شریفہ میںتو اس صورت حال كے پیش نظرحضرت عبدالله اس وقت مسجد میں ہی تھے۔روایات سے یہی ظاہر ہے ورنہ اس كا احتمال تو ہے ہی جو استدلال كو باطل كردیتاہے اورمسجد میں موجود رہنے والے سے یہ كہا جائے كہ مسجدكی طرف جاؤاس كا یہ مطلب ہرگز نہ ہوگا كہ مسجدسے نكل كر پھر مسجد میں اؤبلكہ مطلب یہ ہوگاكہ مسجد كی انتہائی حد تك جاؤ۔ گویا سركار ان الفاظ سے یہ رہنمائی كرنا چاہتے ہیں كہ مسجد كی حدود میں اذان دی جائے مسجد میں نہیںنہ مسجد سے دور۔ جیسا كہ اسمان
#429 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الحكمۃ فی التعبیر بالی الارشاد الی ان یؤذن فی حدود المسجدلافیہ لابعیدامنہكما اراہ النازل من السماء علیہ الصلوۃ والسلام فكان الحدیث دلیلا لنا علیھم والجھلۃ یعكسون ومما یشہد لہ ان النازل من السماء اراہ الاذان خارج المسجد اذقام علی حصۃ الجدار فوق السطح وما كان امر عــــــہ النازل الا للتعلیم فلذا امران یخرج من المسجد الی حدودہ ولله الحمد۔
وثالثا:لو تنزلنا عن الكل فقد ذكرنا الجواب العام التام الشافی الكافی ان المراد بالمسجداحدالمعنیین الاخیرینولله الحمد۔ سے اترنے والے فرشتے نے انہیں دكھایاتھا۔پس یہ حدیث تو مخالفین كے خلاف ہماری دلیل ہےاوروہ اس كو الٹ رہے ہیں۔اوراس بات كی دلیل كہ فرشتے نے انہیں مسجد سے باہر اذان دے كر دكھایاتھا۔یہ ہے كہ وہ مسجدكی چھت پر دیوار كے اوپر كھڑاہوا تھا اوروہ تعلیم كے لئے ہی ایاتھا اس لئے اپ نے حكم دیا كہ اندرون مسجد سے نكل كر مسجد كے كنارے كی طرف جاؤ فالحمدللہ۔

ثالثا:اوران سب سے قطع نظركیا جائے توہم ایك تام اورعام جواب دے چكے ہیں كہ ایسی تمام روایتوں میں مسجد سے اس كے دوسرے اورتیسرے معنی مراد ہیں۔

عــــــہ:واذاضم الی ذلك قول الشرنبلالی فی مراقی الفلاح (یكرہ اذان قاعد)لمخالفۃ صفۃ الملك النازل لكان حدیث الملك علی كثرۃ روایاتہ التی قدمنا كثیرا منھا دلیلابراسہ علی كراھۃ الاذان داخل المسجد فافھم منہ حفظہ ربہ۱۲۔ اورجب اس كے ساتھ مراقی الفلاح میں مذكورقول شرنبلالی كو ملایا جائےیعنی بیٹھ كر اذان دینا مكروہ ہے كیونكہ اس میں اذان كے لئے اترنے والے فرشتے كی صفت كی مخالفت ہےتوفرشتے والی حدیث باوجودان روایات كثیرہ كے جن كو ہم بیان كر چكے ہیں مسجد كے اندر كی كراہیت پر دلیل ہوگی۔پس اس كو سمجھ۔(ت)
#430 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
نفحہ۱۸:حاول بعض الوھابیۃ الفجرۃ ان یثبت مطلوبہ الباطل بایات القران العظیم وحاشا القران ان یكون لباطل ظھیراقال قال عزوجل:
"و اذن فی الناس بالحج" "
واخرج سعید بن منصورواخرون عن مجاھد قال لما امر ابراھیم ان یوذن فی الناس بالحجقام علی المقام فنادی بصوت اسمع من بین المشرق والمغرب یا یھاالناس اجیبواربكم ۔
واخرج ابن المنذروابن ابی حاتم عن مجاھدقال تطاول بہ المقام حتی كان كاطول جبل فی الارض فاذن فیھم بالحج فاسمع من تحت البحورالسبع ۔
واخرج ابن جریرعن مجاھد نفحہ۱۸: بعض وہابی صاحبان نے اپنا مقصد قران پاك سے ثابت كرنے كا قصد كیا ہے حالانكہ قران عظیم باطل كا مددگار نہیں ہوسكتا۔وہ كہتے ہیں كہ قران عظیم نے فرمایا:"(ابے ابراہیم!)لوگوں میں حج كا اعلان كرو۔"
اورسعید بن منصوراوردوسرے محدثین نے حضرت مجاہد سے روایت كی:"جب حضرت ابراہیم علیہ السلام كو حج كے اعلان كرنے كا حكم ہوا تو اپ نے مقام ابراہیم پر كھڑے ہوكر بلند اواز سے فرمایا(جسے مشرق ومغرب كے سبھی لوگوں نے سنا) كہ اے لوگو!اپنے رب كا جواب دو۔"
ابن المنذروابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد رضی الله تعالی عنہ سے روایت كیا كہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مقام ابراہیم پر اعلان كے لئے كھڑے ہوئے تو وہ انہیں لے كر بلند ہونے لگا یہاں تك كہ زمین كے تمام پہاڑوں سے بلند ہوگیااپ نے اسی بلندی پر سے لوگوں میں حج كا اعلان كیا جو سات سمندروں كی تہہ سے بھی سنا گیا۔
ابن جریر نے حضرت مجاہد سے روایت كی
#431 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال قام ابراھیم خلیل الله علی الحجرفنادی"یا ایھا الناس كتب علیكم الحج فاسمع من فی اصلاب الرجال وارحام النساء ۔"
قال قال ونحن ندی ان ھذا الحجر كان حین نادی علیہ خلیل الله داخل المطاف قریب جدار الكعبۃ لان علیا القاری قال فی شرح اللباب قال فی البحر" و الذی رجحہ العلماء ان المقام كان فی عھد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ملصقابالبیتقال ابن جماعۃ ھو الصحیح وروی الازرقی ان موضع المقام ھو الذی بہ الیوم فی الجاھلیۃ وعہد النبی صلی ا لله تعالی علیہ وسلم وابی بكروعمر رضی الله تعالی عنہمااھ۔ والاظھر انہ كان ملصقابالبیت ثم اخر عن مقامہ الحكمۃ ھنالك تقتضی ذلك اھ ۔"
وذالك لان ابراھیم صلوات الله علیہ بنی الكعبۃ قائماعلیہ فاستمر اورانہوں نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےمقام ابراہیم پر كھڑے ہوكرپكارا"اے لوگو!الله تعالی نے تم پر حج فرض كیا۔"تو باپوں كی پشتوں سے اورماؤں كے شكموں سے لوگوں نے ان كی اواز سنی۔
مستدلین كا دعوی یہ ہے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام كے اعلان كے وقت وہ پتھرمطاف كے اند ردیوار كعبہ كے قریب تھا۔دلیل اس كی یہ ہے كہ ملا علی قاری نے شرح لباب میں فرمایا:بحر میں كہا گیا كہ علماء نے اسی بات كو ترجیح دی ہےكہ مقام ابراہیم عہد رسالت میں كعبہ شریف سے بالكل متصل تھا۔ابن جامعہ نے اسی كو صحیح كہا اورازرقی نے روایت كی كہ مقام ابراہیم جہاں اج ہے وہیں جاہلیت اورعہد رسالت اورزمانہ ابوبكر وعمر رضوان الله علیہما میں تھا۔اورظاہر یہی ہے كہ بیت الله شریف كے متصل ہی تھاپھر بعد میں كسی حكمت كی وجہ سے موجودہ مقام تك كھسكایا گیا۔

حكمت یہ تھی كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی پركھڑے ہوكر كعبہ شریف كی تعمیر كی تھی تووہ
#432 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
مذذاك متصل الكعبۃ كما فی تاریخ القطبی وسائر كتب السیر"وكان ابراھیم علیہ الصلوات والسلام یبنی واسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام ینقل لہ الحجارۃ علی عاتقہ فلما ارفع البنیان قرب لہ المقام فكان یقوم علیہ ویبنی اھ۔"
فثبت انہ كان حین اذن علیہ للحج متصل جدار الكعبۃ واستمركذلك الی زمانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم انتقل عنہ بوجہ قال ولئن سلمنا ان محلہ منذ القدیم حیث ھو الان فالمدعی ثابت ایضالانہ الان ایضا داخل المطاف لان المطاف ھو الموضع المفروش بالرخام ومقام ابراھیم داخل فیہفثبت ان التاذین فی المسجد جائز مطلقا ولا كراھۃ فیہ اصلاولیس بدعۃ بل ھو سنۃ ابراھیم علیہ الصلواۃ والتسلیم(انتھی)(كلامہ الردی السقیم مترجما)
اقول: انعم بہ من برھان تزری بالھذیان ویغبط بہ المجانین والبلہ والصبیان۔ اسی حال پر دیواركعبہ كے پاس ہی پڑا رہا۔ایسا ہی تاریخ قطبی اوربقیہ كتب تاریخ میں تحریرہے كہ"حضرت ابراہیم علیہ السلام دیواریں چنتے تھے اورحضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا اٹھاكر دیتے تھےجب دیواریں بلندہوگئیں تو مقام ابراہیم اسی كے قریب لایاگیااوراپ اسی پركھڑے ہوكر دیواریں چنتے تھے۔"
اس سے ثابت ہوا كہ اعلان حج كے وقت بھی وہ پتھر وہیں پڑا رہاحضور صلی الله علیہ وسلم كے زمانہ تك وہیں پڑا رہابعد میں كسی مصلحت پر كچھ اوركھسكادیا گیا اوراگریہ مان بھی لیا جائے كہ عہد قدیم سے ہی وہ موجودہ مقام پر ہی ہے تب بھی ہمارا دعوی ثابت ہے كہ موجودہ جگہ بھی مطاف میں ہی ہےاس لئے كہ مطاف وہ جگہ ہے جہاں سنگ مرمر بچھا ہوا ہےاورمقام ابراہیم اسی میں ہے۔توثابت ہوا كہ اذان داخل مسجد مطلقاناجائز ہےاس میں نہ تو كوئی كراہت ہے اورنہ یہ بدعت ہےیہ تو حضرت ابراھیم علیہ السلام كی سنت ہے۔
اقول: جواب اس كا یہ ہے كہ یہ استدلال ہذیان سے بھی اگے ہے اورپاگلوںبیوقوفوں اوربچوں كے لئے بھی قابل رشك ہے۔
#433 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فاولاكیف لزم من كون المقام ملصقابجدار البیت علی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وفی الجاھلیۃ كونہ كذلك علی عہد ابراھیم علیہ الصلوۃ والتسلیم وتحكیم الحال لایجری فی شیئ منقول غیر مركوز وان فرض فظاھر والظاھر حجۃ فی الدفع لاللاستحقاق وانت مستدل لادافع۔
وثانیا مانقل عن تاریخ القطبی فای رائحۃ فیہ لما ادعاہ من انہ استمر مذاذاك متصل الكعبۃ فالاستناد بہ جہل۔

وثالثا بل فیہ فلما ارتفع البنیان قرب لہ المقام فدل علی ان محلہ كان بعیدا انما قرب الان للحاجۃ والعادۃ ان الشیئ اذانقل لحاجۃ یرد الی محلہ الاول بعد قضائھاكما ھو مشاھدفی السلالیم وفی منبریوضع لدی باب الكعبۃ یوم دخول العام۔

ورابعا ان فرض كونہ اولا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اورعہد جاہلیت میں مقام ابراہیم كے دیواركعبہ كے متصل ہونے سے یہ لازم نہیں كہ عہد خلیل علیہ السلام میں بھی وہیں رہا ہواورموجودہ حالت پر قیاس كر كے ایك ادھر ادھرمنتقل ہونے والی چیز پر ماضی كا حكم لگاناجائز نہیں اورایسے قیاس سے كوئی یقینی بات ثابت نہیں ہوتی۔اسی لئے تو اس كی تعیبر ظاہر اوراظہر سے كی ہے اورظاہر دلیل پكڑنے والے كےلئے مفید نہیں۔اس سے معترض كو فائدہ پہنچتاہے اوراپ مستدل ہیں۔
ثانیا تاریخ قطبی میں اس كا كوئی ذكر نہیں كہ وہ پتھر عہد ابراہیم علیہ السلام سے اسی مقام پر قائم ہےپھر اس روایت كو سند میں ذكر كرنا جہالت ہے۔
وثالثا قطبی كی روایت سے تو یہ پتہ چلتاہے كہ مقام ابرایم كا ٹھكانا كہیں اورتھاتعمیر كی ضرورت سے دیوار كعبہ كے پاس لایا گیا۔اورعادت یہ ہے كہ جو چیز ضرورۃكہیں ركھی جاتی ہے ضرورت پوری ہونےكے بعد وہاں سے علیحدہ كرلی جاتی ہے خود حرم شریف میں یہ دستور دیكھا گیا كہ دخول عام كے دن سیڑھیاں اورمنبر لگادئے جاتےہیںپھرعلیحدہ كرلئے جاتے ہیں اوران كے اصل مقام پر انہیں لوٹادیا جاتاہے۔
رابعا اوراگر یہ مان بھی لیاجائے
#434 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لصیق الجدار الجمیل علی عہد خلیل علیہ الصلوۃ والسلام بالتبجیل كان ایضازعم انہ كان كذلك حین اذن علیہ للحج رجما بالغیب بلادلیل غایہ انہ لم ینقل انہ نقل حینئذوعدم النقل لیس نقل العدم والاستصحاب غیرداف للمستدل عند الاصحاب۔

وخامسا بل قدوردما یدل علی انہ كان فی غیرھذا المحل حین اذن علیہ وكفی بہ قاطعا لشقشقتہ اخرج الازرقی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ قال "سألت عبدالله بن سلام عن الاثر الذی فی المقامفقال لما امرابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام ان یوذن فی الناس بالحج قام علی المقامفلما فرغ امر بالمقام فوضعہ قبلہفكان یصلی الیہ مستقبل الباب ۔"(الحدیث)

وسادسا ان شئت قطعت كہ حضرت خلیل علیہ السلام كے زمانہ میں وہ پتھر دیوار كے قریب تھاتب بھی یہ گمان كرنا كہ اعلان بھی اسی مقام سے كیا گیاہےزعم باطل ہے جس كی كوئی دلیل نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی كہا جاسكتاہے كہ اس پتھر كے وہاں سے منتقل ہونے كی كوئی روایت نہیں۔اوراگر یہ كہا جائے كہ ظاہر یہی ہے كہ منتقل نہیں ہوا۔تو ہم بتا چكے ہیں كہ یہ استصحاب ہے جس سے مستدل كو فائدہ نہیں پہنچتا۔
خامسا اس امر كی روایت ہے كہ مقام ابراہیم اعلان حج كے وقت موجودہ مقام پر موجود نہیں تھا جس سے تمام اوہام كا خاتمہ ہوجاتاہے۔ازرقی نے ہی حضرت ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی كہ "میں نے حضرت عبدالله ابن سلام رضی الله تعالی عنہ سے مقام ابراہیم میں پڑے ہوئے نشان كے بارے میں سوال كیاتو انہوں نے فرمایاكہ جب حضرت ابراہیم علیہ السالم كو اعلان حج كا حكم دیا گیا تو اپ نے اسی پتھر پركھڑے ہوكر اعلان فرمایا۔اعلان سے فارغ ہوئے تو حكم دیا كہ اس پتھر كو لیجا كر كعبہ كےدروازہ كے سامنے ركھا جائے اوراپ اسی پتھر كی طرف رخ كر كے نماز پڑھتے تھے۔"
سادسا اس شبہ كو جڑ بنیاد سے
#435 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
راس الشبھۃ من راسہا وذلك لان روایۃ قیامہ علیہ الصلوۃ والسلام حین الاذان علی المقام روایۃ اسرائیلیۃ كما رأیت وسیدنا ابن عباس رضی الله تعالی عنہما كا ن یاخذ عنہھم كما ھناوروی ابن ابی حاتم عن الربیع بن انس قال سمعنا عن ابن عباس انہ حدث عن جال من علماء اھل الكتاب ان موسی دعا ربہ (الحدیث) فی قصۃملاقاتہ الخضر علیہھما الصلوۃ والسلام واقرھا واخرج ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال سئلت كعبا ما سدرۃ المنتہیقال سدرۃ ینتھی الیہا علم الملئكۃ وسئلتہ عن جنۃ الماوی فقال جنۃ فیھا طیر خضرترتقی فیھا ارواح الشھداء ۔


واخرج ابن جریر عن شمر اس طرح ختم كیا جاسكتاہے كہ حضرت خلیل علیہ الصلوۃ والسلام كے اعلان حج كے وقت مقام ابراہیم پر كھڑےہونے كی روایت اسرائیلی ہےاورحضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما بنی اسرائیل كی روایت قبول فرماتے تھے جیساكہ اس مبحوثہ روایت میں انہوں نے كیا۔ابن ابی حاتم ربیع بن انس سے روایت كرتے ہیں كہ ابن عباس رضی الله تعالی عنہ نے اہل كتاب سے روایت كیا كہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا كی۔یہ حضرت موسی وخضر علیہم السلام كی ملاقات كے قصہ میں ہے۔مندرجہ ذیل روایت كو ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے ہی ثابت ركھا كہ"میں نے حضرت كعب احبار رضی الله تعالی عنہ سے سدرۃ المنتہی كے بارے میں پوچھا تو انہوں نے كہا كہ انتہائی حد پر ایك بیری كا درخت ہے جہاں تك فرشتوں كا علم پہنچتا ہے۔ اورمیں نے ان سے جنۃ الماوی كے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا ایساباغ جس میں شہداء كی روحیں سبز پرندوں كے جسم میں رہ كر سیر كرتی ہیں۔"
ان جریر نے شمر سے روایت كی كہ حضرت
#436 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
قال جاء ابن عباس الی كعب فقال حدثنی عن قول الله "سدرۃ المنتہی " (الحدیث)
وقدصح عن امیر المومنین علی كرم الله تعالی وجہہ انہ اذن علی ثبیرروی عبدالرزاق وغیرہ عن معمر قال قال ابن جریج قال ابن المسیب قال علی ابن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ لما فرغ ابراھیم من بنائہ بعث الله جبریل فحج بہ حتی اذا رأی عرفۃ قال قد عرفت وكان اتاھا قبل ذلك مرۃفلذلك سمیت عرفۃ حتی اذا كان یوم النحرعرض لہ الشیطان فقال احصب فحصبہ بسبع حصبات۔ثم الیوم الثانی فالثالث فلذلك كان رمی الجمار قال اعل علی ثبیر فعلاہ فنادی یا عبادالله اجیبواالله یا عبادالله اطیعوا الله فسمع ابن عباس رضی الله تعالی عنہ حضرت كعب كے پاس ائے اور سدرۃ المنتہی كے بارے میں پوچھا۔(القصہ حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہ اسرائیلی روایت قبول كرتے تھے اورروایت مبحوثہ بھی اسرائیلی ہے)
ادھر حضرت امیر المومنین مولا علی رضی الله تعالی عنہ سے صحیح روایت ہے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے كوہ ثبیر پر چڑھ كر اعلان حج فرمایا تھا۔عبدالرزاق وغیرہ نے معمرسے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے حضرت علی(رضوان الله تعالی علیہم اجمعین)سے روایت كی كہ"جب حضرت ابراہیم علیہ السلام كعبہ كی بنا سے فارغ ہوئے تو الله تعالی نے جبریل امین كو بھیجا اورانہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام كو حج كرایااپ نے عرفات كو دیكھ كر فرمایا میں اس میدان كو پہچان گیاایك بار اس سے قبل بھی حضرت خلیل یہاں ائے تھے اوراسی وجہ سے اس كانام"عرفہ"پڑا۔یوم نحر كے دن شیطان نے اپ سے تعرض كیاتو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے اسے سات كنكریاں مارنے كی ہدایت كیاوراپ نے ابلیس كو سنگسار كیاپھر دو سرے اورتیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔اسی لئے حج میں رمی جمار مشروع ہوئی۔حضرت جبریل امین نے فرمایا:كوہ تثبیر پرچڑھو۔حضرت خلیل علیہ السلام نے
#437 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
دعوتہ من بین الابحر السبع ۔(الحدیث)
وھذاكما تری سند صحیح علی اصولنا فھذا انص عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حكما لان الامر لادخل فیہ للرأی وما كان امیر المؤمنین علی لیاخذعن اھل الكتاب فلم یكن الا سماعاعن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔فثبت ان الاذان كان علی جبل بمزدلفۃ وسقط انہ كان داخل المسجدعلی المقام ولك ان تقول لاخلف فان ثبیرامن الحرم وقدافاد ابن عباس نفسہ"ان مقام ابراھیم الحرم كلہ " اخرجہ عنہ عبد بن حمید وابن ابی ھاتم بل اخرج ھذا عنہ قال"مقام ابراھیم الحج كلہ ۔"



وسابعا اضطربت الروایۃ عن ثبیر كی پہاڑی پر چڑھ كر اعلان فرمایا:اے بندگان خدا!الله تعالی كی پكار كا جواب دواے بندگان خدا!الله تعالی كی اطاعت كرو۔تو ان كا یہ اعلان ساتوں سمندر سے سنا گیا۔"
یہ سند ہمارے اصول پر صحیح ہےاوریہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كا ہی فرمان ہےاورمعاملہ چونكہ قیاسی نہیں بالكلیہ سماعی ہے۔اور حضرت علی كرم الله وجہہ الكریم چونكہ اہل كتاب كی روایت قبول نہیں كرتے تھے۔اس لئے لامحالہ یہ بات انہوں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہی سن كر بیان فرمائی تو اس روایت سے یہ ثابت ہوا كہ اعلان حج منی شریف كے پہاڑسے ہوا اور یہ بات ساقط الاعتبار ہوگئی كہ اعلان حج مسجد كے اندر مقام ابراہیم سے ہوا۔اوران دونوں روایتوں میں كوئی ایسا تعارض بھی نہیں كہ جبل ثبیر بھی حدود حرم كے اندر ہی ہے۔چنانچہ عبدبن حمید اورابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی سارا حرم مقام ابراہیم ہے۔بلكہ حضرت ابن عباس سے تو یہ بھی مروی ہے كہ مقام ابراہیم پوراحج ہے۔
سابعا اعلان حج كے مقام میں حضرت
#438 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ابن عباس ففی بعضھا"اذن علی المقام"وفی بعضھا علی ابی قبیس رواہ عنہ ابن ابی حاتم رضی الله تعالی عنہ قال لما امر الله ابراھیم ان ینادی فی الناس بالحج صعد اباقبیس فوضع اصبعیہ فی اذنیہ ثم نادیان الله تعالی كتب علیكم الحج فاجیبو ربكم الحدیث وفی اخری لہ عنہ رضی ا لله تعالی عنہ قال صعدابراھیم اباقبیسفقال الله اكبر الله اكبر اشھد ان لا الہ الا الله واشھدان ابراھیم رسول الله ایھا الناس ان الله امرنی ان انادی فی الناس بالحج ایھاالناس اجیبواربكم ۔
وفی بعضھاعلی الصفارواہ عبدبن حمید عن مجاھد قال"امر ابراھیم ان یوذن بالحج فقام علی الصفا فنادی بصوت سمعہ مابین المشرق والمغرب یا ایھا الناس اجیبوا الی ربكم ۔" ابن عباس سے روایتیں مضطرب ہیں۔بعض میں تو وہی مقام ابراہیم ہےاوربعض میں یہ ہے كہ جبل ابوقبیس پر اعلان حج ہوا۔چنانچہ ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے روایت كی كہ "حضرت ابراہیم علیہ السلام جبل ابو قبیس پر چڑھے اوركہا الله اكبرالله اكبراشہدان لاالہ الا الله واشھد ان ابراھیم رسول الله ۔اے لوگو!مجھے الله تعالی نے حكم دیا كہ میں لوگوں میں حج كا اعلان كروں تو تم لوگ الله تعالی كی پكار كا جواب دو۔"
اوربعض روایتوں میں جبل ابو قیس كے بجائے كوہ صفا كاذكر ہے۔ابن حمید كی یہ روایت امام مجاہد سے اس طرح مروی ہے:حضرت ابراہیم علیہ السلام كو حكم دیا گیا كہ مقام صفا پر لوگوں كو حج كا علان كریںاپ نے ایسی اواز سے پكارا كہ مشرق ومغرب كےلوگوں نے سنا۔اعلان كے الفاظ یہ تھے:اے لوگو! اپنے رب كی پكاركا جواب دو۔
#439 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وروی ھو وابن المنذرعن عطاء قال"صعدابراھیم علی الصفافقال یاایھاالناس اجیبواربكم ۔"
ومعلوم ان الروایۃ عن مجاھد روایۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھم فالاضطراب بالتثلیث والافلاشك فی التثنیۃ فكان من ھذا الوجہ ایضا حدیث امیرالمومنین احق بالاخذولذا مشی علیہ القطبی فی تاریخہ ولم یلتفت لما سواہ فاندحضت الشبھۃ عن رأس والحمدلله رب الناس۔
ثامنا بعد اللتیاوالتی ان كان فشریعۃ من قبلنا فلا تكون حجۃ الا ذا قھا الله تعالی اوررسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من دون انكار كما نص علیہ فی اصول الامام البزدوی والمناروسائر المتون الاصولیۃ و الشروح قال الامام النسفی فی كشف الاسرار انا شرطنا فی ھذا ان یقص الله تعالی او رسولہ من غیر انكار اذلاعبرۃ بما ثبت بقول اھل الكتاب ابوحاتم اورابن منذر نے عطا سے روایت كی:حضرت ابراہیم علیہ السلام كوہ سفا پرچڑھے اورپكارا:اے لوگو!اپنے رب كا جواب دو۔
یہ معلوم ہے كہ حضرت مجاہد كی روایت ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے ہی ہے تو اس روایت میں تین اضطراب ہوئےورنہ دو ہونے میں تو شبہ ہی نہیں ہے۔پس اس اعتبار سے بھی امیر المومنین حضرت علی كرم الله وجہہ الكریم كی روایت راجح اوراولی بالاخذ ہے اس لئے قطبی نے اپنی تاریخ میں امیر المومنین كی روایت پر ہی اعتماد كیا اوردوسری روایتوں كی طرف توجہ نہیں كی۔
ثامنا ساری بحث ومباحثہ كے بعد اعلان حج اگر مسجد حرام میں ہونا ثابت بھی ہو تو یہ گزشتہ شریعت كا ایك فعل ہوگااور گزشتہ شرائع كے احكام ہمارے لئے دلیل نہیں جب تك قرا ن وحدیث میں اس كابیان بلا انكار ہو۔چنانچہ اصول امام بزدوی منار اورفن اصول كے بقیہ تمام متون وشروح میں اس كی تنصیص ہے۔امام نسفی رحمۃ الله تعالی علیہ نے كشف الاسرار میں فرمایا:"ہم نے اس میں یہ شرط لگائی كہ الله و رسول بے انكار اس كا بیان فرمائیںاہل كتاب كے قول كا كوئی اعتبار
#440 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ولا بما ثبت بكتابھم لانھم حرفواالكتب ولابما ثبت بقول من اسلم منھم لانہ تلقن ذلك من كتابھم او سمع من جماعتھم اھ ومثلہ فی كشف الاسرار للامام البخاری۔


وفی فواتح الرحموت لبحر العلوم فان قلت فلم لم یعتمدباخبارعبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہ فانہ لایحتمل كذبہ قلت ھب لكن التحریف وقع قبل وجودہ فھو لم یتعلم الاالمحرف اھ بالالتقاط۔


وھذاشیئ لم یقصہ ربنا ولانبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم اذلم یرد فی حدیث مرفوع فالاحتجاج بہ راسا مدفوع۔ھذا علی التسلیم والاقدعلمت ان الذی نہیں اورجو ان كی كتاب سے ثابت ہواس كا بھیكہ ان لوگوں نے اسمانی كتابوں میں تحریف كردی ہے۔"اوراسی طرح اہل كتاب اسلام لانے والوں كی بات كا بھی بھروسانہیں كہ ان لوگوں نے انہی محروف كتابوں میں دیكھا ہوگا یا انہی كی جماعت سے سنا ہوگا۔اوراسی طرح كشف الاسرارللامام بخاری میں ہے۔
بحرالعلوم حضرت علامہ عبدالعلی رحمہ الله علیہ نے فواتح الرحموت مین فرمایاخیال ہوسكتاہے كہ حضرت عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہ كی بات پر اعتماد ہونا چاہئے كہ وہ و بلا شبہ سچے تھےاوران كی بات میں تو جھوٹ كا احتمال نہیں لیكن اس كا جواب یہ ہے كہ انہوں نے تو اسی محرف كوكلام الہی سمجھ كر سیكھاہوگا كیونكہ تحریف و ان كے پیداہونے سے پہلے ہی ہوچكی تھی۔
اوراعلان حج كی یہ روایت ایسی ہی ہے نہ تو قران عظیم میں اس كا بیان ہے نہ كسی حدیث مرفوع میں ہی اس كا تذكرہ ہےتو سرے سے اس حدیث سے استدلال ہی غلط ہےیہ بھی اس صورت میں كہ مخالفین كا دعوی
#441 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
یدعیہ ھذا الوھابی من انہ اذن علیہ فی جوف المسجد لم یقصہ مسلم ولاكتابی ولا كافر سواہ فاحتجاجہ بہ لیس الااحتجاجابھواہ۔
وتاسعاان تعجب فعجب قولہ ان المقام الان ایضا داخل المطاف وھذاشیئ یردہ العیان ویشھد بكذبہ كل من رزق حج البیت الحرام۔
وعاشرا اعجب من الاحتجاج علیہ بانہ مفروش بالرخام وكان فی بالہ ان كال مافرش فیہ الرخام صار المطاف الذی كان قدرالمسجد الحرام علی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فلیدخل ماحول زمزم ایضافیہ ولو كان فرش بعض الملوك سائر المسجد الشریف ورواقاتہ بالرخاملحكم ھذا الجاھل بان المسجد كان الی الرواقات علی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم واذا بلغ الجھل الی ھذا النصاب سقط الخطاب وانما المطاف ھی دائرۃ الرخام حول البیت الحرام وعلی حرفہا باب السلام ولا شك ان قبۃ المقام خارجۃ عنہاو جو ں كا توتسلیم كرلیا جائے ورنہ تفصیل گزر چكی كہ مسجدحرام كے اندر اعلان حج كا تذكرہ نہ كسی مسلمان سے مروی نہ كتابی سے نہ كافر سےاندرون مسجد كی بات تو صرف ان وہابی صاحب كی ہےتو وہ اپنے دعوی میں اپنی خواہش نفس سے ہی استدلال كرتے ہیں۔
تاسعا قابل تعجب بات تو یہ ہے كہ"مقام ابراہیم اب بھی مطاف كے اندر ہے "یہ تو مشاہدہ كے خلاف ہے جس كی شہادت ہر حاجی دے سكتاہے۔
عاشرا اس سے زیادہ حیرت ناك یہ انكشاف ہے كہ جہاں تك سنگ مرمربچھا ہے سب مطاف ہے جہاں تك عہد رسالت مین مسجد تھیتو زمزم شریف كا ارد گرد ہی عہد رسالت كی مسجد میں شامل ہوگیاكہ وہاں بھی سنگ مر مر بچھا ہے۔اوراگر كسی بادشاہ نے پوری مسجد حرام میں سنگ مرمر بچھا دیا تو وہ بھی عہد رسلات كی مسجد حرام ہوگئی حالانكہ مطاف تو سنگ مرمركا گول دائرہ ہے جو كعبہ مكرہ كے گرداگرد ہےاورجس كے كنارہ پر باب السلام ہے اوربلاشبہ مقام ابراہیم كا قبہ اس سے باہر ہےاوراہل مكہ ایسے كم عقل تو نہ تھے كہ نفس مطاف میں قبہ بناتے اورلوگوں پر مطاف كو تنگ كرتے۔
#442 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ماكان اھل مكۃ سفہاء كھذا لیبنواقبۃ فی نفس المطاف ویضیقوا المحل علی اھل الطواف نعوذبالله من الجھل والاعتساف۔
نفحہ۱۹:ثم تمسك بقولہ تعالی:" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ" ۔وقولہ تعالی:
" و مسجد یذکر فیہا اسم اللہ کثیرا " ۔ وقولہ تعالی:
"فی بیوت اذن اللہ ان ترفع و یذکر فیہا اسمہ " ۔
وفی حدیث الصحیحین عــــــہ ان ھذہ المساجد لا تصلح لشیئ من ھذا البول والقذ وانما ھی لذكرا لله والصلوۃ وقراء ۃ القران ۔
اقول:اولا قضینا الوترعن كشف ھذہ الشبھۃ فی النفحۃ الاولی القرانیۃوبیناان الاذان لیس ذكرا خالصا ۔


نفحہ۱۹:مسجد كے اند راذان جائز ہونے پر اس ایت سے بھی مخالفین نے استدلال كیاہے"اس سے بڑاظالم كون ہے جو مسجد میں الله كا نام لینے سے منع كرے"اورایت مباركہ "اورمسجد جس میں الله تعالی كا ذكر بہت ہوتاہے"اورایت گرامی"ان گھروں كو الله تعالی نے بلند كرنے كا اوران میں اپنا نام لینے كا حكم دیا"
اوربقول صاحب مشكوۃ صحیحین كی ایك حدیثورنہ مخرجین نے اسے صرف مسلم كی حدیث قراردیاہے "یہ مسجدیں پیشاب اورگندگی كے لئے نہیںیہ تو ذكر الہینماز اور تلاوت قران كے لئے ہیں۔"
اقول:(میں كہتاہوں)اولا ہم نفحہ قرانیہ میں اس شبہ كو بالكلیہ حل كرچكے ہیں كہ اذان محض ذكر الہی ہی نہیں ہے۔

عــــــہ:تبع فیہ صاحب المشكوۃ وانما عزاہ المخرجون لمسلم وحدہ اھ منہ ۔
#443 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وثانیا منع الاذان فی المسجد منع رفع الصوت فیہ ومنع رفع الصوت بالذكرلیس منع الذكر فقد ثبت عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی بعض المواطن اذقال صلی الله تعالی علیہ وسلم:"ایھا الناس اربعواعلی انفسكم فانكم لاتدعون اصم ولا غائبنا ولكن تدعون سمیعابصیرا ۔" وماكان لینھاھم عن ذكر الله تعالی وقد قدمنا عن الدرروالاشباہ وغیرھما كراھۃ رفع الصوت بالذكر فی المسجد وفی المسلك المتقسط لعلی القاری:"قد صرح ابن الضیاء ان رفع الصورت فی المسجدحرامول بالذكر اھ۔"
وصرح فی الكافی الامام الحاكم شہیدالذی جمع فیہ كلام الامام محمد وفی المحیط والفتح والبحر وشرح الباب وردالمحتاروغیرھابكراھۃ رفع ثانیا مسجد میں اذان منع كرنے كا مطلب اواز بلند كرنے كو منع كرنا ہے اورذكر الہی كے ساتھ اواز بلند كرنے كی ممانعت ذكر كی ممانعت نہیں ہے۔احادیث سے ثابت ہے كہ بعض مواقع پر حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ذكر بالجہر سے منع فرمایاارشادنبوی ہے:"اے لوگو!اپنے نفسوں پر اسانی كرو تم كسی غائب اوربہرے كو نہیں بلا رہے ہوتم تو سننے والے اوردیكھنے والے كو پكار رہے ہو۔"بھلاحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كسی كو ذكر الہی سے روكتے تھےہم ماسبق میں درر وغیرہ كے حوالے سے واضح كرچكے ہیں "كہ مسجد میں بلند اوازسے ذكر مكروہ ہے۔
"ملاعلی قاری كی مسلك متقسط میں ابن ضیاء كی تصریح ہے كہ "مسجدمیں اوازبلند كرنا حرام ہے چاہے ذكر الہی ہی كیوں نہ ہو۔"
كافی حاكم شہید مجموعہ كلام امام محمد اورمحیطفتح القدیربحر الرائق شرح لباب وشامی وغیرہامیں ہے:"طواف میں بلند اواز سے قران شریف منع ہے۔"تو پناہ بخدایہ كہا
#444 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الصوت بالقران فی الطواف فھل تواھم(والعیاذ بالله )داخلین فی ھذا الوعید الشدید حاشاھم عن ذلك بل انت فی ضلال بعید۔
وثالثا انما یعودھذا التشنیع الشنیع الی الائمۃ الاجلا ء الذین نھو عن الاذان فی المسدج ونصوا علی كراھۃ فیہ وقد اجارھم الله تعالی عن ھذا ومن شنع علیھم فعلیہ دائرۃ السوء وھوالملوم والمدحور۔
رابعا ھؤلاء الوھابیۃ ھم الذین یتمسكون فی بحث البدعۃ باثر سنن الدارمی عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی انكارہ علی الذین اجتمعوا فی المسجد حلقا جلوساینتظرون الصلوۃ فی كل حلقۃ رجل یقول كبروامائۃھللوامائۃسبحوا مائۃ فیفلعونفقال والذی نفسی بیدہ انكم لعلی ملۃ ھی اھدی من ملۃ محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم جائے گا كہ یہ سارے ائمہ وعلماء معاذالله قران وحدیث كی مذكورہ بالا وعید میں داخل ہیں۔وہ حضرات تو اس وعید سے بلاشبہ پاك ہیںیہ خود اپ كی اپنی گمراہی ہے۔
ثالثا یہ وعید شدید ان ائمہ كرام پر بھی وارد ہوگی جنہوں نے مسجد كے اندر اذان كی كراہت پر تنصیص فرمائیوہ تو بلاشبہ اس سے الله تعالی كے دامن میں محفوظ ہیںہاں جوان پر طعن وتشنیع كرے وہی ہلاكت كے گڑھے میں مقہور ومردودہے۔
رابعایہ وہابیہ حضرات بدعت كی بحث میں دارمی كے ایك اثر سے استدلال كرتے ہیں جو اپ سے مروی ہے كہ اپ نے ان لوگوں پر انكار كای جو ایك مسجد میں گروہ درگروہ حلقہ بنا كر بیٹھے نماز كا انتظار كر رہے تھےہر حلقہ میں ایك ادمی كہتاسو بارالله اكبر كہو سوبار لاالہ الا الله پڑھواورسو بارتسبیح كرو۔ بقیہ لوگ اس كی بات پر عمل كرتے۔اپ نے فرمایا اس ذات كی قسم جس كے قبضہ قدرت میں میری جان ہے كیا تم لوگ اس ملت میں ہو جو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے بھی زیادہ
#445 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اومفتحواباب الضلالۃ قالووالله یا ااعبدالرحمن ما اردنا الا الخیر قال وكم من مرید الخیرات یصیبہ ۔ (الحدیث)
وقد اجبنا عنہ فی المجلد الحادی عشر من فتاوی ناباجوبۃ شافیۃلكن این ذھب ھذا منھم ھھنا ام یدخلون عبدالله بن مسعود ایضافی وعید من اظلم نعم لاغروفقد سبوا الله وسبوا رسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔
نفحہ۲۰:قدمنا فی النفحۃ الثامنۃ العودیۃ ان امام دارالھجرۃ عالم المدینۃ سیدنا مالكا رضی الله تعالی عنہ وجماھیراصحابہ ذھوا الی ان جعل ھذاالاذان بین یدی الامام بدعۃ مكروھۃوانما السنۃ فیہ ایضا المنارۃ وھذا مابلغھم ولكن نطق حدیث ابی داؤدالصحیح ان فعلہ بین یدی ہدایت پر ہے یا تم لوگ گمراہی كا دروازہ كھول رہے ہوان لوگوں نے عرض كی یا ابا عبدالرحمن!اپنے اس فعل سے ہم لوگ بھلائی كے طلبگار تھے اپ نے فرمایا كتنے بھلائی كے طالب اس تك پہنچتے ہیں۔
ہم نے اپنے فتاوی كی گیارہویں جلد میں اس كے متعدد بھرپور جواب دئے ہیں لیكن خود ان حضرات سے ان كی یہ محبوب دلیل كہاں رہ گئییا پھر یہ لوگ حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ كو بھی وعید"من اظلم"میں شامل كرتے ہیں اوران سے كچھ بعید بھی نہیں یہ لوگ تو الله ورسول جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم كو گالیاں دے چكے ہیں تو قیامت میں انہیں پتہ چلے گا كہ كہاں پلٹائے گئے ہیں۔
نفحہ۲۰:ہم شمامہ عودیہ كے اٹھویں نفحہ میں ذكر كر ائے ہیں كہ امام دارالہجرۃ عالم مدینہ سیدنا امام مالك رضی الله تعالی عنہ اوران كے اكثر اصحاب نے اس اذان كو بدعت مكروہہ قراردیا ہےاوراپنے علم كے اعتبار سے اس اذان كا مقام مسنون منارہ كو قراردیتے ہیںمگر ابوداؤدكی صحیح حدیث سے ثابت ہے كہ اس اذان كا خطیب كے سامنے ہونا مسنون ہے
#446 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الامام ھو السنۃ من لدن سید الانام علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلام۔فبعض محققی اصحابہ رحمھم الله تعالی ومنھم الحافظ ابو عمر بن عبد البرخالف فی ذلك ووجہ الكلام الی بعض الاصحاب مع ذكرہ فی الكافی الفقھی عن صاحب المذحب رضی الله تعالی عنہ وكانہ وجد عنہ روایۃ اخری اوسھا و الانسان للنسیانفقال فی الاستذكارمانقلہ الشیخ خلیل فی التوضیح وعنہ فی المواھب وھذا نصہامع شرحہا للعلامۃ الزرقانی المالكی ۔

فی الاستذكار اسم الشرح الصغیر علی الموطاء لابن عبد البر ان ھذا اشتبہ علی بعض اصحابنا فانكران یكون الاذان یوم الجمعۃ بین یدی الامام كان فی زمنہ علیہ الصلوۃ والسلام وابی بكر وعمر وان ذلك حدث من زمن ھشام۔وھذا قول من قل عملہ بالاحادیث وكانہ یعنی الداؤدی ثم اوریہ حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ سے ثابت ہے اسی لئے امام مالك رحمۃ الله علیہ كے بعض اصحاب تحقیق نے جن میں حافظ ابو عمر بن عبدالبر بھی ہیںا س كی مخالفت كی اوراذان خطبہ كے منارہ پر مسنون ہونے كو بعض اصحاب مالك كا قول بتایا۔حالانكہ كافی فقہی میں اسے امام مالك صاحب مذہب رحمہ الله علیہ كا قول بتایاتو ایسا بھی ممكن ہے كہ ابن عبدالبر كو امام مالك رحمۃ الله علیہ سے كوئی دوسری روایت ملی ہو۔اوریہ بھی ہوسكتاہے كہ انكو سہو لاحق ہوا ہواوربھول چوك تو انسان كے لئے ہی ہے۔ابن عبدالبر نے اپنی كتاب استذكار میں جو فرمایا شیخ خلیل نے اسے اپنی توضیح میں نقل كیا۔ان سے مواہب میں نقل ہوا۔ہم استذكار كی عبارت امام زرقانی مالكی كی شرح كے ساتھ نقل كرتے ہیں۔
استذكار(یہ موطاء كی ایك مختصر شرح ہے جسے ابن عبدالبر نے تحریر كیاہے)میں ہے كہ ہمارے بعض اصحاب پر یہ بات مشتبہ ہوگئیتو ان لوگوں نے عہد رسالت اورعہد شیخین میں اذان جمعہ كے خطیب كے سامنے ہونے سے انكار كیا اوریہ كہا كہ یہ تو ہشام ابن عبدالملك كے زمانہ كی ایجاد ہے۔یہ علم حدیث سے كم واقفیت ركھنے والوں كا قول ہے اور اس سے صاحب استذكار
#447 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
استشھد فی الاستذكار بحدیث السائب بن یزید المروی فی البخاری ثم قال"وقدرفع الاشكال فی ذلك روایۃ ابن اسحق عن الزھری عن السائب بن یزید۔قال كان یوذن بین یدی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ وابی بكر وعمر اھ"
فانظر ان الساداۃ المالكیۃ صاروا فرقتین جمہورھم علی ان الاذان بین یدی الامام بدعۃ وانما سنتہ علی المنارۃ۔ونازعھم بعضھم بالحدیث فاستشھد بحدیث ابن اسحق ولابدااذلاذكر لبین یدیہ الافی حدیثہ فحدیث ابن اسحق ھو السند بھؤلاء وبہ ردوا علی جمہورھم لاانھم ردواعلیہ ایضا كما ردوا علی قول جمہورھم ولكن اشتبہ الردبالمردود علی العلامۃ علی فقال"اما الذی نقلہ بعض المالكیۃ عن ابن القاسم كی مراد شاید داؤدی ہیں پھر اسی استذكار میں اپنے قول پر سائب ابن یزید رحمۃ الله علیہ كی خدمت سے استدلال كیاجو بخاری میں مروی ہے۔پھر فرمایاكہ اس حدیث كا اشكال ابن اسحق عن زہری عن سائب ابن یزید رحمۃ الله تعالی علیہ نے زائل كردیا۔اس حدیث میں ہےكہ جمعہ كے دن جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم منبر پربیٹھتے تو اپ كے سامنے اذان ہوتیاورایسا ہی ابو بكر وعمر رضوان الله علیہما كے زمانہ میں بھی ہوتارہااھ۔
تودیكھئے كہ اعلام مالكیہ دو فرقہ ہوگئے۔ان كے جمہور كا قول ہے كہ خطیب كے سامنے اذان بدعت ہےسنت تو منارہ كی اذان ہے۔اورجمہوركے اس قول كی مخالفت انہیں میں كے كچھ لوگوں نے كی كہ مسنون اذان توخطیب كے سامنے كی ہےاور اس كی شہادت میں ابن اسحق كی حدیث محولہ بالا پیش كی اوریہ ضروری بھی تھا كہ ابن اسحق كی حدیث كے علاوہ كسی روایت میں"بین یدیہ "كالفظ نہیں ہے تو حدیث ابن اسحق جمہور مالكیہ كی رائے كی مخالفت كرنے والوں كی سند ہے جسے وہ اپنے جمہورپر رد كرتے ہیںایس انہیں ہے كہ ان منازعین نے اس حدیث ابن اسحق كو بھی رد كیا ہے لیكن ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ كو اشتباہ ہوا اور انہوں نے رد كو بھی مردودسمجھ لیا(یعنی یہ سمجھا كہ منازعین اپنے جمہور كے قول كی طرح
#448 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عن مالك انہ فی زمنہ علیہ الصلوۃ والتسلیم لم یكن بین یدیہ بل علی المنارۃ۔ونقل ابن عبدالبر عن مالك ان الاذان بین یدی الامام لیس من الامر القدیم وما ذكرہ محمد بن اسحق عند الطبرانی وغیرہ فی ھذاالحدیث ان بلالاكان یوذن علی باب المسجدفقد نازعہ كثیرون ومنھم جماعۃ من المالكیۃ بان الاذان انما كان بین یدیہ علیہ الصلوۃ والسلام كما اقتضتہ روایۃ البخاری ھذہ اھ
ولیس فی روایۃ البخاری ما یقتضی من ذلك شیئا ۔



اقول:قد صدق ان روایۃ البخاری لایقتضی شیئا من كونہ بین یدیہ اوعلی لنارۃ ولكن الاستشہادكان بروایۃ ابن اسحق وانما حدیث ابن اسحق كو بھی رد كرتے ہیں)اسی لئےوہ فرماتے ہیں:بعض مالكیہ نے ابن قاسم سے انہوں نے ا ما م مالك سے روایت كی كہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے زمانہ میں اذان خطبہ خطیب كے سامنے نہیں بلكہ منارہ پر ہوتی تھی۔ایسا ہی ابن عبدالله نے امام مالك سے روایت كیا كہ امام كے سامنے اذان ہونا امر قدیم نہیں۔اورمحمد بن اسحق كی حدیث طبرانی وغیرہ نے روایت كی كہ حضرت بلال رضی ا لله تعالی عنہ دروازہ مسجد پر اذان دیتے تھےاس كی مخالفت مالكی حضرات میں سے بہت سے لوگوں نے كی ہے وہ كہتے یں كہ اذان جو خطیب كے سامنے ہوتی تھی(دروازہ مسجد پر نہیں) اوریہی روایت بخاری كا مقتضی ہے۔(ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نے مذكورہ بلا تفصیل كے بعد دوسرے گروہ كے اس قول (اذان توخطیب كے سامنے ہوتی جیسا كہ روایت بخاری كا مقتضا ہے "كا رد كرتے ہوئے فرمایا بخاری كی روایت میں نہ بین یدہ كا ذكر ہے نہ باب مسجد كا۔
اقول:ملا علی قاری كا یہ فرماناكہ "روایت بخاری میں كسی بات كی تصریح نہیں"بجا ہے لیكن منازعین كا استدلال دراصل روایت ابن اسحق سے ہے(جس میں لفظ بین یدہ
#449 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ذكر اسم البخاری ایذانابان اصل الحدیث عندہ و اوصحتہ روایۃ ابن اسحق كما ھو صریح لفظ الاستذكار وكیف یرد علی حدیث ابن اسحق بان الاذان انما كان بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مع ان حدیث ابن اسحاق ھو المصرح بھذاافیرد علی الشیئ بنفس الشیئ ولكن الامر انہ كتب ھذا المحل معتمدا علی ما فی الصدور ولو راجع كلام المناز عین لعلم انھم لایقولون ان حدیث البخاری یقضی بالرد علی جمہورھم والرأی انھم لاینازعون حدیث ابن اسحق بل بلہ یستشھدون وبہ علی جمہورھم یردون ولابعد ان كونہ بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مصرح بہ فی حدیث ابن اسحق نفسہ بل لانعلم التصریح بہ الافیہ فكیف یرد علیہ بمفادنفسہ ولكن نسئ ولم یتفق لہ مراجعۃ الحدیث ولامراجعۃ كلام المنازعین مذكورہے)بخاری كا نام تویہ بتانے كے لئے لیا گیا ہے كہ روایت ابن اسحق كی اصل بخاری میں ہےبخاری نے یہ حدیث مختصرروایت كی اورابن اسحق كی سند سے یہی حدیث ابوداؤد نے مفصل تخریج كی ہےاوریہی استذكار كی عبارت سے ہو یداہے۔(ایسی صورت میں)بھلاحدیث ابن اسحق پر اس بات سےكیسے رد ہوسكتی ہے كہ "اذان حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے سامنے ہوتی تھی"خود حدیث ابن اسحق بھی تو اسی امر كو ثابت كر رہی ہے كہ یہ اذان حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے سامنے ہوتی تھیتو ایك بات كو خود اسی سے رد كرنے كے كیا معنی!ایسا معلوم ہوتا ہے كہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ الله تعالی علیہ نے اس مقام كو اپنی یادداشت پر بھروسا كر كے لكھااگر منازعت كرنے والوں كےكلام كو پھر دیكھ لیا ہوتا تو انہیں یہ معلوم ہوجاتاكہ منازعین یہ نہیں كہتے كہ حدیث بخاری میں جمہورائمہ مالكیہ كا رد ہے حقیقت تو یہ ہے كہ وہ لوگ حدیث ابن اسحاق كا بھی رد نہیں كرتےوہ تو اس حدیث كو اپنے جمہور كی رائے كے خلاف سند میں پیش كرتے ہیںاوراس میں كوئی بعد بھی نہیںكیونكہ اذان كے خطیب كے سامنے وہنے كی تصریح صرف حدیث ابن اسحق میں ہے تو جوبات خود حدیث ابن اسحق ہےاسی سے اس حدیث كو رد كیسے كیاجاسكتاہے۔لیكن حضرت علی قاری بھول گئے اورخود حدیث كلام منازعین كو بھی
#450 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
والله یفعل مایرید ولما سبق الی خاطرہ ان القائلین بكونہ بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ینازعون حدیث ابن اسحاق ولا تمكن المنازعۃ الا اذا ارید بباب المسجدفی حدیثہ باب لیس وجاہ المنبر خطر ببالہ ان المراد باب الشرقی او الغربی وایدھذا الخطور انہ لم یكن فی زمنہ رحمہ الله تعالی بل منذنحو مائۃ وخمسین سنۃ من قبلہ باب شمالی فی المسجد الكریم كان الناس بنوا ھنالك دورھم كما ذكرہ السید العلامۃ السمھودی رحمہ الله تعالی فحق لہ ان یدخل حدیث ابن اسحق فیما ینازعہ القائلون بكونہ بین یدیہ فكرعلیھم بالردبانہ لامستدلھم فی انكار علی الباب ولا یقتضی حدیث البخاری شیئا من ذلك نقوی الی ھنا امرجمہور المالكیۃ وتم الرد علی المنازعین لانعدام مایثبت كونہ بین یدیہلكن كان ھذاھو مذھبہ نہیں دیكھااورجو الله تعالی چاہتاہے وہی ہوتاہےاورجب ان كےدل میں یہ بات جم گئی كہ اذان بین یدیہ كے قائل مالكی حضرات حدیث ابن اسحق كا رد كرتے ہیں۔اوراصحاب بین یدیہ كے قول اورروایت ابن اسحاق میں جبھی منازعت ہوگی كہ ان كی حدیث میں اتے ہوئے لفظ باب مسجدسے مراد مسجد نبوی كا ایسا دروزہ ہوجو منبر كے سمانے نہ ہوتو ان كے دل میں یہ خطرہ گزراكہ حدیث ابن اسحق میںمذكور باب مسجد سے مراد یاتو مسجد كا مشرقی دروازہ ہے یا مغربیاوراس كی مزید تائیداس امر سے ہوئی كہ انكے زمانہ میں بلكہ ان كے عہد سے ڈیڑھ سو سال قبل سے ہی مسجد شریف كا شمالی دروازہ جو منبر كے بالمقابل تھا ختم ہوگیا تھا اورلوگوں نے وہاں اپنےگھر بنالئے تھے جیسا كہ علامہ سمہودی نے تحریر فرمایاہےتو انہیں یہی معلوم ہوا كہ بین یدہ اورباب المسجددو مختلف سمتوں میں ہیں اسی لئے انہوں نے اصحاب بین یدیہ كو روایت ابن اسحاق كا مخالف سمجھا۔پھر پلٹ كر اصحاب"بین یدیہ"كا لفظ ہے ہی نہیں پھر"بین یدیہ"روایت بخاری كا مقتضی كیونكر ہوااس لئے اپ حضرات كا علی الباب والی روایت كو رد كرنا صحیح نہیں ہےلیكن خود احناف اذان"بین یدیہ"كے قائل ہیںاورملا علی قاری رحمۃ الله علیہ بھی حنفی ہی ہیںاس لئے
#451 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ومذھب ائمتہ الكرام فحاول التوفیق بما یرحم الی ما ھو مذھبہ بالتحقیقفقال "لكن یمكن الجمع بین القولین بان الذی استقربی اخر الامر ھو الذی كان بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الخای لم یكن الاذان بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی اول الامر بل علی الباب الشرقی اوالغربی(وھذا ما فی حدیث ابن اسحق وكلام مالك)ثم استقراالامر خیراعلی كونہ بین یدیہ(وھومراد المنازعین فیہ)"
اقول:انت تعلیم انہ مبنی علی ماشبہ لہ وتوجیہ كلام مالك بما ذكرتوجیہ بما لایرضی بہ فقد اسلفنا عنہ انہ رضی الله تعالی عنہ نھی عن الاذان بین ید الامام۔
ثم حاول التطبیق بوجہ اخر بعیدسحیق فقال و بان اذان بلال علی باب المسجدكان اعلامافیكون اصل اعلام عمر وعثمن اھ۔ ان دونوں قولوں میں یوں تطبیق دی كہ ممكن ہے ابتداء میں مسجد شریف كے باب شرقی یا غربی پر اذان ہوتی رہی ہوجیسا كہ روایت ابن اسحق یا كلام مالك میں ہے لیكن بعد میں معاملہ سامنے پر ہی مستقل ہوگیا اوریہی مراد كلام منازعین كی بھی ہے۔

اقول:(میں كہتاہوں)ملا علی قاری كی یہ بات تو ایك اشتباہ پرمبنی ہےپھر یہ توجیہ امام مالك رضی الله عنہ كے مذہب كے بھی موافق نہیں كہ وہ تو مطلقااذان بین یدیہ كے منكر ہیں(پھر ایسی غیر مفید اوربے بنیادتاویل سے كیا حاصل)
ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نے ایك اوربعید تاویل بھی كی ہے وہ كہتے ہیں ہوسكتاہے كہ عہد رسالت میں حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ جو اذان باب مسجد پر دیتے تھے وہ اذان نہ ہو صرف اعلان رہا ہواوریہی حضرت عمروعثمان رضی الله تعالی عنہما كے اعلان كی اصل ہواھ۔
#452 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
یشیرالی الاثرالمذكورعن تفسیر جویبر وقد كان قدمہ وردہ وذكرہ ثمہ توفیقا ینبغی نقلہ لیتضح بہ مرامہ بھذاالتطبیق قال بعد ماذكران عثمان رضی الله تعالی عنہ ھو الذی احدث الاذان الاول مانصہ "ولا یعارض ان عثمن ھو المحدث لذلك ماروی ان عمر ھوالامر بالاذان الاول خارج السمجد یسمع الناس ثم الاذان بین یدہ ثم قال نحن ابتدعنا ذلك لكثرۃ المسلین لانہ منقطع ولا یثبت وانكر عطاء ان عثمن احدث اذا ناوانما كان یامر بالاعلام ویمكن الجمع بان ماكان فی زمن عمر(رضی الله تعالی عنہ)مجرد الاعلام واستمرفی زمن عثمن(رضی الله تعالی عنہ)ثم رأی ان یجعلہ اذاناعلی مكان عال یہاں حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ كا نام لےكر حضرت علی قاری جویبر كے مذكورہ بالاثركی طرف اشارہ كر رہے ہیں جس كوخود ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نےزكر كر كے اس كا رد كیا ہے اوروہیں ایك اورتوجیہ بھی ذكر كی ہے۔ہم ذیل میں اسے نقل كرتے ہیںاس سے اس تاویل كا مطلب بھی كھلے گا۔اور ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ كی اس عبارت كا منشا ء بھی ظاہر ہوگا۔ اپ حضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ كو اذان اول كا موجد قرار دے كر فرماتے ہیں:حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ كے اذان اول كا موجدہونے كے معارض وہ اثر(اثرجویبر) نہیں ہوسكتا (جس میں یہ تصریح ہے كہ حضرت عمررضی الله تعالی عنہ نے اذان اول خارج مسجد دلائی كہ لوگ سن سكیں۔پھر اذان بین یدیہ دلائی اورفرمایا كہ ہم نے ادمیوں كی كثرت كی وجہ سے یہ اذان ایجادكی)كیونكہ یہ اثر منقطع ہے اس كا ثبوت نہیں۔اورحضرت عطاء رضی الله عنہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ كو اذان اول كاموجد نہیں مانتے۔ان كے بقول حضر ت عثمان تو صرف اعلان كرتےتھے۔ان دونوں باتوں میں جمع اس طرح ممكن ہے كہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے جو اعلان شروع كرایا تھا حضرت عثمان كے دورتك جاری رہا پھر انہوں نے اپنی رائے سےاس اعلان كے بجائے
#453 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ففعل واخذ الناس بفعلہ فی جمیع البلاد اذ ذاك لكونہ خلیفۃ مطاعا اھ۔
اقول:ولا یذھب عنك ان ھذا قمع لاجمع اذقدال الامر الی انہ جعلہ اذانافقد احدث اذاناوعطاء ینكرہ فاین الجمع بل السبیل ما سلك فی فتح الباری وغیرہ ان المثبت مقدم علی النافی وقد ثبت احداث عثمن الاذان وانہ ھو الذی احدثہ لا امیر المومنین عمر باحادیث صحاح لامردلھا فلاحجۃ فی انكار عطاء ولا فی روایۃ تفسیر جویبر۔




ولھذا الشیخ لما جمع بان عمر ضی الله تعالی عنہ احدث اعلاماواستمر بلند مكان پر اذان دلانی شروع كردی اوران كے امام مطاع ہونے كی وجہ سے لوگوں نے اسی پر عملدرامد جاری كردیا۔
اقول:(میں كہتاہوں)شیخ علی قاری كی یہ جدوجہد جمع كے بجائے قمع ہےكیونكہ اخر میں انہوں نے یہ اقراركیا كہ حضرت ذوالنورین نے ابتدائی اعلان كو اذان كردیاتوحضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ اذان اول كے موجدہوئے۔اور حضرت عطاء ابن رباح سرے سے ان كے موجد اذان ونے كا ہی انكار كرتے ہیں۔تو ملا علی قاری علیہ الرحمہ كی بات جمع بین القولین كیسے ہوئی!اس لئے جمع كا صحیح طریقہ وہی ہے كہ صاحب فتح الباری كی طرح كہاجائے(۱)مثبت روایت(یعنی ذو النورین كا موجداذان اول ہونا)نافی(یعنی قول عطاء)پر مقدم ہے(۲)حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ كا اذان اول كا موجد ہونا ایسی روایتوں سے ثابت ے جس كی تردید نہیں ہوسكتی اس لئے نہ تو حضرت عطاء كے انكار كا كچھ فائدہ ہوگا نہ تفسیر جو یبركی روایت اثر اندازہوگی۔
المختصرہماری اس تفصیل سے علامہ قاری رحمۃ الله علیہ كےقول كے معنی واضح ہوگئے كہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں كہ حضورصلی الله تعالی
#454 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الی زمن عثمان رضی الله تعالی عنہ وجعلہ بعداذا نا فالی ھذا یشیر بقولہ"فیكون اصل اعلام عمر وعثمن "ولما كان یرد علیہ ان علی تطبیقكم ھذا یكون تقدیم الاعلام علی الاذان ثابتا من زمن الرسالۃ فكیف یقول الفاروق نحن ابتدعناہ لكثرۃ المسلمین۔ حاول ان یرفو ھذاالخرق فقال"ولعلہ ترك ایام الصدیق اواواخر زمنہ علیہ الصلوۃ والسلام ایضا فلھذااسماہ عمر بدعۃ وتسمیۃ تجدیدالسنۃ بدعۃ علی منوال ما قال فی التراویح نعمت البدعۃ ھی اھ۔"




اقول:ولا یخفی علیك ان الشیخ انما یبدی ھذہ الاشیاء علیہ وسلم كی جس اذان كے بارے میں بین یدی الخطیب یا علی باب المسجد یا علی المنار ہونے كی بات كہی جارہی ہے وہ در اصل اذان نہ تھی نماز جمعہ كا اعلان تھا۔اوریہی حضرات فاروق وعثمان كے اعلان بعدہ الاذان كی اصل ہےلیكن حضرت علی قاری كی اس تطبیق پربھی اعتراض واردہوتاہے كہ اس توجیہ سے معلوم ہوتاہے كہ اذان سے پہلے اعلان رواج عہد رسالت سے ہی تھاتو پھر حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے یہ اعلان كرا كے یہ كیسے كہا كہ ہم نے اس كی ایجاد كی!ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے اس شبہ كا جواب اس طرح دیا كہ"یہ اعلان حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے اخری عہد اورحضرت صدیق رضی الله تعالی عنہ كے پورے زمانے میں موقوف ہوگیا رہا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس كی تجدید كی اوراس كا نام ایجاد ركھا ہوگا جیسا كہ تروایح كی جماعت كو بھی اپ نے البدعۃ كہا تھا حالانكہ خود حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں دوتین یوم تراویح كی جماعت قائم فرمائی تھی"
اقول:(میں كہتاہوں)ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نے اپنی تمام توجیہات كو
#455 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بیمكن ولعل وما بیدہ سند علی شیئ من ھذا اولا لہ فیہ سلف ولا بہ حصول مارام من التوفیق فان مأل ترجباتہ واحتمالاتہ انہ كان علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اعلام بالجمعۃ علی باب المسجد ثم اذان بین یدیہ اذا جلس علی المنبرثم ترك الاعلام فی اواخر عھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اوفی زمن الصدیق رضی ا لله تعالی عنہ ثم ثم جددہ عمر لكثرۃ المسلین وابقاہ عثمن ثم حولہ الی الاذان الذی فی حدیث ابن اسحق انہ كان علی الباب وفی كلام مالك انہ لم یكن بین یدیہ ھو ھذا الاعلام اما الاذان فما كان الابین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وانت تعلم انہ۔




اولا:لایلائم قول مالك "ہوسكتاہے"اور"ممكن ہے"كے لفظ سے شروع كیا ہےكسی بھی توجیہ كے لئے ان كے پاس كوئی دلیل نہیںنہ سلف صالحین میں سے كوئی ان كی كسی رائے میں ان كا ہم نوا ہے نہ انكی اس جدوجہد سے مختلف اقوال وروایات میں باہمی تطبیق كا مقصد ہی كچھ حاصل ہوتاہے كیونكہ ان كے تمام امكانات و احتمالات كا حاصل یہ ہے كہ عہد رسالت میں اعلان جمعہ مسجد نبوی كے دروازہ پر ہوتاتھا پھر امام جب منبر پر بیٹھے تو اس كے سامنے اذان خطبہ ہوتی پھر عہد نبوت كے اخری دور یا عہد صدیقی میں یہ اعلان متروك ہوگیا۔حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے اپنے عہد مبارك میں مصلیوں كی كثرت كی وجہ سے پھرا س اعلان كی تجدید كی۔حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نے اپنے عہد مبارك میں بھی اس اعلان كو جاری ركھا پھر ان كی رائے ہوئی كہ اعلان كے بجائے اذان ہی دی جائے۔تو وہ امسجد كے دروازہ پر بتاتے ہیںاورامام مالك رحمۃ الله علیہ جس كے بارے میں فرماتے ہیں كہ وہ خطیب كے اگے نہیں ہوتی تھی وہ دراصل یہی اعلان تھا اوراذان خطبہ تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے سامنے ہی ہوتی تھی(مگر اس پر مندرجہ ذیل اشكالات ہیں:)
اولا:امام مالك رضی الله تعالی عنہ
#456 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فانہ رضی الله تعالی عنہ ینھی عن الاذان بین یدی امام لاعن اعلان اخر قبلہ ولا كان فی عہدہ رضی الله تعالی عنہ اعلام بین یدی الامام غیر الاذان حتی ینكرہ ویقول انہ محدث لیس من الامر القدیم فاین التوفیق۔
وثانیا لایلائم حدیث ابن اسحق لانہ ذكر ان الذی كان علی باب المسجد كان ھو بین یدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین یجلس علی المنبر فكیف یفرق بین الشیئ ونفسہ ویقال ان ماعلی الباب كان اعلاما وما بین یدیہ كان اذا نافان كان الاذان فی حدیثہ بمعناہ فالذی كان علی الباب كان اذاناوان كان بمعنی الاعلام فالذی بین یدیہ كان اعلامافكیف التفریق واین التطبیق۔
وثالثا:اجمعت الامۃ ان الذی كان عند جلوسہ صلی الله تعالی علیہ وسلم علی المنبر كان ھذاالاذان المعروف وتظافرت الروایات واجمع من یعتد باجماعہم انہ لم یكن فی عھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم للجمعۃ شیئ غیر ھذا ولا علی عھدالصدیق رضی الله تعالی عنہ وانہ لم یكن علی عھدہ صلی الله تعالی امام كے سامنے خطبہ دینے سے منع كرتے تھےاس سے قبل كےكسی اعلان كو نہیں۔اورحضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے عہد مبارك میں اذان كے علاوہ كوئی اعلان تھا ہی نہیں كہ امام مالك رضی الله تعالی عنہ كو اسے روكنے كی ضرورت پڑتی۔

ثانیا:یہ تاویل حدیث ابن اسحاق كے بھی خلاف ہے۔وہ فرماتے ہیں كہ حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم كے منبر پر تشریف فرماہونے كے بعد جو چیز ہوتی تھی وہ دروازہ مسجد پر ہوتی تھیاوروہی اپ كے سامنے بی تھی اوراپ كی تاویل كا مقصد یہ ہے كہ بین یدیہ اورباب مسجد دو علیحدہ جگہیں ہیں۔ دروازہ پر اعلان ہوتا تھا اوربین یدیہ اذان ہوتی تھی۔تو حدیث ابن اسحق میں جو چیز مذكور ہے اگر اذان ہے تو وہ درمسجد پر ہوتی تھی اوراگر اعلان تھا تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كے سامنے جو ہوتا تھا وہ بھی اعلان ہی تھاپس دونوں باتوں میں كہاں موافقت ہوئی
وثالثا:اس امر پر امت كا اجماع ہے كہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كے منبر پر بیٹھنے كے وقت یہی معروف مشہور اذان ہوتی تھیاسی پر كثیر روایتوں كا اتفاقاورجن اعلام كا اجماع قابل اعتماد ہے ان كا اجماع اسی بات پر ہے كہ عہد رسالت و
#457 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
علیہ وسلم تثویب فی شیئ من الصلوات الا الفجرعلی جعل قولہ الصلوۃ خیر من النوم تثویبا۔فلو كان ھذا اعلاما حملا لحدیث ابن اسحق علیہ المصرح فیہ بكونہ اذا جلس علی المنبر بقیت الجمعۃ علی عھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بدون الاذان المعروف وھو خلاف الاجماع۔
ورابعا:اذا ترك ھذا فی اواخرعھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اوفی زمن الصدیق رضی الله تعالی عنہ بقیت الجمعۃ من دون ایذان لااعلام ولا اذان وھذا خلاف الاجماع۔
وخامسا:اذن لا یستقیم قول عمر"نحن ابتدعناہ لكثرۃ المسلمین لا احداثا ولا تجدیدا لان الذی یفعل عند جلوس الاما م لم یزل مستمرامن زمنہ علیہ الصلوۃ والسلام۔"
وسادسا:اذن كان اذان عہد صدیقی میں اس اذان كے علاوہ كچھ نہ ہوتاتھاان زمانوں میں تثویب كا رواج بھی نہ تھاہاں نماز فجر كے لئے البتہ الصلوۃ خیر من النوم پكاراجاتاتھااگر اسے تثویب قراردیاجائے۔پس اگر روایت ابن اسحاق كی مصرح اذان كو اعلان قراردیا جائے تو مطلب یہ ہوگا كہ عہد رسالت میں جمعہ كے لئے اذان ہوتی ہی نہیں تھیاوریہ بھی خلاف اجماع ہے۔
رابعا:اوربقول حضرت ملاعلی قاری علیہ الرحمہ جب عہد رسالت كے اخیر یا عہد صدیقی میں یہ اعلان بھی موقوف ہوگیا تو ان دونوں مبارك زمانوں میں جمعہ كے لئے نہ كوئی اعلان ہوتا تھا نہ اذان اوریہ بھی خلاف اجماع ہے۔
خامسا:اس صورت میں حضرت عمر رضی الله عنہ كے قول "ہم نے مسلمانوں كی كثرت كی وجہ سے اس كو ایجاد كیا" كا معنی درست نہ رہے گا نہ بطور احداث نہ بطور تجدیدكیونكہ جو ہوتاہے وہ توزمانہ رسالت سے ہی چالوتھا۔
سادسا:اس تقدیر پر اذان خطبہ
#458 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الخطبۃ ھو المحدث فكان احق بقول عمر نحن ابتد عناہ۔
وسابعا:كیف یكون ھذا اصلالاعلام عمر وعثمان فانہ كان قبل جلوس الامام وھذا عندجلوسہ علی المنبر۔


وبالجملۃ فیہ مفاسد اظھر من ان تظھرواكثر من ان تحصر وانما الامر ما وصفنا انہ رحمہ الله تعالی كتب البحث مندون مراجعتہ عــــــہ للحدیث ولالكلام ہی تو نوایجاد ہوئی۔توحضرت عمر رضی الله تعالی عنہ كا اس كو اپنی ایجاد كہنا ہی صحیح ہوا۔
سابعا:یہ اعلان حضرات فاروق وعثمان رضی الله تعالی عنہما كے اعلان كی اصل كیسے ہواان حضرات كا اعلان تو اپ ہی كے بیان كے مطابق اذان خطبہ سے پہلے ہوتا تھااورجس كو اپ ان كے اعلان كی اصل بتارہے ہیں یہ توعین امام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت ہوتا ہے۔
المختصراس تاویل كے مفاسد بیان سے باہر اورشمار سے زائدہیں حقیقت وہی ہے جو ہم پہلے بیان كر ائے كہ حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نےیہ پوری بحث احادیث اوركلام منازعیناوركلام امام مالك

عــــــہ:ولذاانسبہ للطبرانی مع وجودہ فی افضل السنن ابی داؤدوقال الزرقانی فی المقصد الثالث من شرح المواھب علی المؤلف المؤاخذہ فی ترك الترمذی "ان الحدیث اذا كان فی احد الستۃ لایعزی لغیرھا كما قال مغلطائی ۔"انتہی منہ حفظہ ربہ۔ اسی لئے اس كو طبرانی كی طرف منسوب كیاباوجود یہ كہ یہ اس سے افضل سنن ابو داودمیں موجود ہے۔امام زرقانی نے شرح مواہب كے مقصد ثالث میں ترك ترمذی كے بارے میں مؤلف پر مواخذہ كرتےہوئے فرمایا:جب كوئی حدیث صحاح ستہ میں موجود ہوتو اسے ان كے غیر كی طرف منسوب نہ كیاجائےجیسا كہ مغلطائی نے كہا ہے انتہی منہ حفظہ ربہ۔(ت)
#459 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المنازعینولا لكلام مالك واصحابہ الاكثرین والا لم تعرض تلك الاوھام ولم یستقم لہ تاویل حدیث ابن اسحق ولا ماینكر علیہ مالك بالاعلام۔ فظھر ان تعلق بعض جھلۃ الزمان بھذا البحث الذی لیس لہ روح لیعیش انما ھوتشبث الغریق بالحشیش وتقدم بعض مایلیق بہ فی النفحۃ التاسعۃ الحدیثیۃ۔
ثم لیس فیہ علی ماقررنا مایقرعینھم اذلیس فیہ ان الاذان كان علی عھدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی جوف المسجد وفیہ الكلام والله المستعان ولله الحمد۔
نفحہ۲۱:قال القھستا نی فی شرح النقایۃ عند قولہا (اذن ثانیا بین یدیہ)ای بین الجہتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہ قریبامنہ ووسطھما بالسكون فیشمل ماذا اذن فی زاویۃ قائمۃ او حادۃ اومنفرجۃ حادثۃ من خطین خارجین من ھاتین الجہتین ولا بأس بشمولہ بحسب المفہوم ما ذاكان اور ان كے متبعین كی طرف مراجعت كے بغیر لكھ دیاورنہ یہ اوہام عارض نہ ہوتے اورنہ حدیث ابن اسحق كی تاویل درست ہوتی۔عہد حاضر كے بعض جاہلوں كا اس بے جان بحث سے زندگی كی مدد چاہناڈوبنے والے كے تنكے كا سہارا ڈھونڈنے كے مترادف ہےاس بحث سے متعلق بعض باتوں كوہم نفحہ تاسعہ حدیثیہ میں ذكر كرچكے ہیں۔

لطف یہ ہے كہ اس بحث سے سہارا ڈھونڈنے والوں كا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا كہ ان كا دعوی تو مسجد كے اندر اذان ہونے كا ہےاور اس پوری بحث میں اندرون مسجد اذان ہونے كا كوئی ذكر ہی نہیں ہے۔

نفحہ۲۱:قہستانی نے شرح نقایہ میمصفن كے قول"دوسری اذان خطیب كے سامنے ہوگی"كی شرح میںكہا:یعنی ان دونوں سمتوں كے درمیانجو منبر یا امام كے دائیں بائیں متوازی جارہی ہیں ان كے قریب اوران دونوں كے درمیان(یہاں لفظ وسط كی سین ساكن ہےتو زاویہ قائمہ كے اندر كھڑاہویا حاوہ و منفرجہسبھی صورتوں كو شامل ہےیہ سب زاویے ان ددنوں جہتوں سے پیداہوتے ہیں جو ان دونوں خطوط متوازیہ سے بنتے ہیں۔مفہوم كے اعتبار
#460 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ظہر المؤذن الی وجہ ما یضاف الیہ الیدانفان قرینۃ الاذان تدل ان وجہہ یكون الیہ لكن یشكل بما اذاكان ظھرہ الی ظھر المضاف الیہ الااذا قیل باخراجہ بقرینۃ قولہ استقبلوہ مستمعین اھ۔

اقول:ھذا كلام تحیر ھؤلاء فی حلہ وتناقضوافی حملہ واستشھدبہ بعضھم بجھلہ ولیس فیہ الامشتت لشملہ ومسفہ لعقلہ ثم ھو غیر محررفی اصلہ فنذكر بتوفیقہ تعالی اولا ما یشرحہ ثم نكمل الفائدۃ ما یزیفہ ویجرحہ ثم نتوجہ الی اجھل ھؤلاء فنطرحہ ولنقدم لذلك مقدمات نوضحہ۔




الاولی:المنبر فی قولھم سےیہ عبارت اس صورت كو شامل ہے كہ مؤذن كی پشت امام كے چہرہ كی طرف ہولیكن اذان كا قرینہ اس بات پر دلالت كرتاہے كہ مؤذن كا چہرہ ہی امام كے چہرہ كی طرف ہو۔اوراس صورت كو بھی شامل ہے كہ مؤذن كی پشت امام كی پشت كی طرف ہولیكن اس كا جواب یہ ہے كہ حكم یہ ہےكہ سب امام كی طرف رخ كریں اوراس كی بات سنیں۔اھ)
اقول:(میں كہتاہوں)قہستانی كی اس عبارت نے مخالفین كو حیرت میں ڈال دیا ہے اوراس عبارت كا حل كرنا انہیں مشكل پڑرہاہے اوراس كا مطلب بیان كرنے میں وہ لوگ باہم متناقض ہیں۔اوربعض نے تو اس سے اپنی جہالت كی دلیل فراہم كی۔اورفی الحقیقت یہ عبارت مخالفین كے پریشاں خاطری كے اظہار كا ذریعہ اوران كی بے وقوفی كے ظہور كاسبب بنی۔اورلطف یہ كہ قہستانی كا یہ بیان بھی خود كوئی قابل اعتماد بات نہیں تو بتوفیق الله تعالی پہلے ہم اس كلام كی تشریح كرتے ہیںپھر اس كی كمزوری كا بیان كریں گےپھر مخالفین كی جہالت واضح كریں گے۔اس كے لئے چند توضیحی مقدمات كی تفہیم ضروری ہے۔
مقدمہ اولی:فقہاء كے قول
#461 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بین یدی المنبر مجاز عن الخطیب النقل والعقل المصیب اما لنقل فقول العلامۃ المحقق البحر فی البحر"الضمیر فی قولہ بین یدیہ عائد الی الخطیب الجالسوفی القدوری بین یدی المنیر وھو مجاز اطلاقا لاسم المحل علی الحال كما فی سراج الوھاج فاطلق اسم المنبرعلی الخطیب اھ

"واماالعقل فلان المنبر لو كان عریضا یسع رجالا فقام الاما علی احدطرفیہ والمؤذن بحذاء طرفہ الاخر فقد اخطأ السنۃ لانہ لیس بین یدی المنبر مع انہ بین یدی المنبرلاشك فعلم ان السنۃ ھو كونہ بین یدی الخطیب دون المنبراذالعود غیر مقصودوقد مرت السنون لم یكن منبر فما كان یواجہ الاالامام امام الانام علہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلام ھذاظاھر جدا۔ بین یدی المنبر میں لفظ منبر بول كر مجازاخطیب مراد لیاگیا ہے۔یہ نقلی دلیل سے بھی ثابت ہے اورعقلی دلیل سے بھی۔ دلیل نقلی صاحب بحرالرائق كا یہ قول ہے جو انہوں نے بحر میں فرمایا:"قول بین یدہ میں ضمیر خطیب كی طرف لوٹ رہی ہے جو منبر پر بیٹھاہو۔"قدوری میں ہے:"لفظ بین یدی المنبر میں منبر سے مجازاخطیب مراد ہے كہ اكثر محل بول كر حال مراد ہوتاہے۔"ایسا ہی سراج الوہاج میں بھی ہے كہ "منبر كا لفظ بول كر خطیب مراد ہے۔"
عقلی دلیل یہ ہے كہ منبر اگراتنا چوڑا ہوكہ اس كے عرض میں كئی ادمی كھڑے ہوسكتے ہوںتو اگر امام منبر كی ایك طرف بیٹھا اورمؤذن دوسری طرف سامنےكھڑا ہوا تو اس نے سنت ترك كردی كیونكہ اس صورت میں وہ امام كے مقابل نہیں منبر كے سامنے البتہ ہے۔تو معلوم ہوا كہ سنت یہی ہے كہ مؤذن خطیب كے سامنے ہو منبر كے سامنے نہیںاس لئے كہ توجہ كا مقصودلكڑی نہیں ہے۔مسجد نبوی شریف میں كئی سال تك منبر تھا ہی نہیں تو محالہ مؤذن حضور امام الائمہ سید الانام رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كی طرف ہی رخ كرتا تھا یہ امر بالكل ظاہر ہے۔
#462 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الثانیۃ۲:فی المغرب الوسط بالتحریك اسم لعین مابین طرفی الشیئ كمركز الدائرۃ۔وبالسكون اسم بھم لداخل الدائرۃ مثلا ولذلك كان ظرفافالاول یجعل مبتدأ وفاعلاومفعولابہ وداخلاعلیہ حرف الجرولایصح شیئ من ھذا فی الثانی۔تقول وسطہ خیر من طرفہ وتسع وسطہوضربت وسطہ و جلست فی وسط الداروجلست وسطھا بالسكون لا غیرویوصف بالاول مستویافیہ المذكر والمؤنث و الاثنان والجمع وقال الله تعالی "جلعنا لكم امۃ وسطا"ولله علی ان اھدی شاتین وسطا الی بیت الله او اعتق عبدین وسطا اھ۔وفی الصحاح كل موضع صلح فیہ بین فھو وسط بالتسكین مقدمہ ثانیہ:مغرب میں ہے:الوسط سین كی حركت كے ساتھ نام ہے كسی چیز كے دونوں كناروں كے ٹھیك بیچ كاجیسے دائرہ كےلئے مركز۔اورالوسط سین كے سكون كے ساتھ اسم مبہم ہےتومثلا دائرہ كےاندر كسی مقام كو بھی وسط كہاجاتاہےیہی وجہ ہے كہ وسط بالسكون تو كلام میں صرف ظرف واقع ہوتا ہے۔اوروسط بالتحریك مبتداءفاعلمفعول بہ واقع ہوتاہے اوراس پرحرف جربھی داخل ہوتاہے۔اوروسط بالسكون ان میں سےكسی كی صلاحیت نہیں ركھتا۔چنانچہ كہا جاتاہے "وسط خیر من طرفہ"اس كا بیچ كنارہ سے اچھا ہے۔اس صورت میں وسط مبتداء واقع ہواہے۔"وتسع وسطہ"یہ وسط كے فاعل ہونے كے مثال ہے كہ اس كا بیچ وسیع ہوا۔
"ضربت وسطہ"اس كے بیچ میں مارا۔یہ مفعول بہ واقع ہونے كی مثال ہے۔اور"جلست فی وسط الدار"توگھر كے وسط میں بیٹھایہ فی داخل ہونے كی مثال ہے۔لیكن وسط بالسكون كے استعمال كی صورت صرف یہ ہے كہ یہ تركیب میں ظرف واقع ہوتاہےجیسے جلست وسطہ میں گھر میں بیٹھا۔یہاں متوسط مفعول فیہ ظرف واقع ہے
#463 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
"كجلست وسط القوم وان لم یصلح فیہ فہو بالتحریك " كجلست وسط الداروربما سكن ولیس بالوجہ اھ ۔








الثالثۃ۳:كل زاویۃ جعل منتصف وترھا مركزا ورسمت علیہ ببعدا حدطرفیہ قوس الی جھۃ الزاویۃ حتی وصلت الی الطرف الاخرفان الزاویۃ ان كانت قائمۃ تمر القوس براسھا او منفرجۃ فوراء رأسھا اوحادۃ فدونہ وبالعكس ان مرت القوس برأسھا فھی قائمۃ اووقعت وراء ہ فمنفرجۃ اودونہ فحادۃ۔ ایك علامت یہ بھی ہے كہ وسط بالتحریك مذكرمؤنث واحد تثنیہجمع سب كی صفت بن سكتاہے قران عظیم میں ہے "جعلنا كم امۃ وسط"ہم نے تم كو امت وسط بنایا یہاں لفظ وسط مونث كی صفت ہے "لله علی ان اھدی شاتین وسطا" میں الله تعالی كے لئے دومتوسط بكریاں نذر كرتا ہوں۔ یہاں وسط تثنیہ مؤنث كی صفت ہے"واعتق عبدین وسطا"میں الله تعالی كے لئے دو متوسط قسم كے غلام ازاد كروں گا۔یہاں وسط تثنیہ مذكر كی صفت ہے اھ۔ صحاح جوہری میں ہے:جہاں لفظ بین كا محل استعمال ہو وہاں وسط بالسكون پڑھا جائے جیسے "جلست وسط القوم" میں قوم كےدرمیان بیٹھا۔اورلفظ بین كامحل استعمال نہ ہوتو وسط بالتحریك ہوگا جیسے "جلست وسط الدار" میں گھر كے ٹھیك بیچ میں بیٹھا۔ كہیں بالسكون بھی كہہ دیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں اھ بحر۔
مقدمہ ثالثہ:جس كسی بھی زاویہ كے وتر كے منتصف كو مركز مان كر وتر كے ایك كنارے سے دوسرے كنارے تك زاویہ كی جہت میں كوئی قوس بنائی جائے تواگر زاویہ مذكورہ قائمہ ہوگا تو قوس اس كے رأس سےاوراگر زاویہ منفرجہ ہوگا توقوس زاویہ كے وراء سے اورزایہ حادہ ہوگا تو قوس اس زاویہ كے نیچے سے گزرے گی۔اسی كو الٹ كریوں بھی كہا جاسكتاہے كہ اگر قوس زاویہ كے راس سے گزرے تو زاویہ قائمہ ہوگا اور قوس زاویہ كے وراء سے گزرے تو زاویہ منفرجہ ہوگا اور قوس زاویہ كے نیچے سے گزرے تو زاویہ حاوہ ہوگا۔
#464 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وبعبارۃ اخری كل خط نصف ورسمت علی منتصفہ ببعد احد طرفیہ قوس وصلت لطرفہ الاخر فاذا جعلت ھذاالخط قاعدۃ مثلث واقع الی جھۃ القوس فان وقع راسہ علی نفس القوس فزاویۃ قائمۃ اووراء ھا فحادۃ اودونھا فمنفرجۃ وبالعكس ان كانت زاویۃ الراس قائمۃ تقع علی نفس القوس اوحادۃ فورائہا منفرجۃ فدونھا۔ اسی مدعا كا اظہا ربلفظ دیگریوں بھی ہوسكتاہےكسی بھی خط كی تنصیف كے بعد اس منتصف پر خط كے ایك كنارہ سے دوسرے كنارہ تك قوس بنائی جائے اوریہ خط كسی ایسے مثلث كے قاعدے پر منطبق ہوجائے جو جانب قوس واقع ہے۔تو اگر مثلث كا راس خود اسی قوس پر وقع ہوتو وہ زاویہ قائمہ ہوگا۔ اوراس قوس سے باہر كی طرف واقع ہوتو زاویہ حادہ ہے۔اور قوس كے اندرواقع ہوتو زایہ منفرجہ ہوگا۔اوراسے الٹ كر یوں بھی كہا جاسكتاہے كہ اگرزاویہ راس قائمہ ہوتو نفس قوس پر واقع ہوگا اور حادہ ہوتو قوس كے باہر۔اورمنفرجہ ہوتو قوس كے اندر واقع ہوگا۔
توضیح دعوی

ولیكن اب خطا رسماعلی نصفہ ح ببعد اقوس اح ب ثم جعلنا ہ قاعدۃ مثلثات ا ء بار باہ ب فزاویۃ الواقعۃ علی القوس قائمۃ والواقعۃ ورائھا ہم نے مان لیا كہ اب ایك خط ہے جس كو مقام ج پر نصف كردیاگیا ہے اوراسی ح كو مركز مانخر اسے شروع كر كے ح سے ہوتی ہوئی ب تك ایك قوس بنائی۔ا ح بپھراسی خط ا ب كو تین مثلثوں ا ء با ر با ہ ب كا قاعدہ
#465 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
حادۃ وہ الواقعۃ دونھا منفرجۃ۔وان كانت الزویۃ قائمۃ تقع علی نفس القوس مثل ءاوحادۃ تقع خارجھا مثل راومنفرجۃ فداخلہا مثل ہ۔ قراردیاتو زاویہ ء جو قوس پر واقع ہے قائمہ ہےاوزاویہ ر جو قوس سے باہر ہے حادہ ہےاورزاویہ ہ جو قوس كے اندر ہے منفرجہ ہے۔اوربالعكس یوں بھی كہہ سكتے ہیں اگرزاویہ قائمہ ہے تو قوس پر واقع ہے جیسے زاویہ ءاورحادہ ہے تو قوس سے باہر ہے۔جیسے زاویہ ر اوراندر ہے تو زاویہ منفرجہ ہے جیسے زاویہ ہ۔
ثبوت دعوی كی تقریر
وذلك لان القوس نصف دائرۃ وقد وقعت فیھا زاویۃ ء فھی قائمۃ بحكم ل من ثالثۃ الاصول فتكون رحادۃ والاجتمع فی مثلث ب ء ر قائمتان وھو محال بحكم لب من اولی الاصول۔وكذاب ہ ء حادۃ لعین ذلك فب ہ ا منفرجۃ بحكم بح من اولی ھا۔



ثم لتكن ء قائمۃ فلا موقع لھا الا علی نفس یہ اس لئے كہ قوس نصف دائرہ ہے اوراسی پر زاویہ واقع ہے اس لئے مقالہ ثالثہ كی تیسویں شكل كے حكم سے یہ ضرور قائمہ ہےاورچونكہ زاویہ قائمہ كے پہلو والا زاویہ بھی قائمہ ہوتا ہے۔اس لئے زاویہ ر كا حادہ ہونا ضروری ہے ورنہ مثلث ب ع ر میں بیك وقت دوزاویہ قائمہ ہونا لازم ائے گا جو مقالہ اولی كی شل بتیس كی رو سے محال ہےاسی طرح اسی دلیل سے مثلث ب ہ ع كا زاویہ ہ بھی حادہ ہے(چونكہ حادہ كے پہلو والا زاویہ منفرجہ ہوتاہے)اس لئے مثلث ب ا ہ كا زاویہ ہ ضرور منفرجہ ہے جیسا كہ مقالہ اولی كی تیرھویں شكل سے ظاہر ہے۔
یایوں كہئے زاویہ ء قائمہ ہے تو لامحالہ نفس قوس پر واقع ہے اس لئے كہ یہ ر كی
#466 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
القوس اذلووقعت دونھا مثل ہ او ورائھا مثل ر وقد تبین ان ء ایضا قائمۃ لاجتمع فی مثلث قائمتان ولتكن ہ منفرجہ فلا تقع الا داخل القوس اذلو وقعت علیہا كانت قائمۃ اوورائھا كانت حادۃ لما امر۔
ولتكن رحادۃ فلا وقوع لھا الا خارج القوس اذلو وقعت علیھا كانت قائمۃ۔او داخلھا كانت منفرجۃ لما سبقو ذلك مااردناہ وبہ تبنیت العبارۃ الاولی اصلا وعكسا۔
الرابعۃ۳:كل زاویۃ غیر حادۃ نزل من راسہا عمود علی قاعدتھا فانہ یكون نصف القاعدۃ ان كانت الزاویۃ قائمۃ متساویۃ الساقین والاقل من نصفہا سواء كانت منفرجۃ مطلقا اوقائمۃ مختلفۃ الساقین۔ طرح خارج قوس واقع ہو۔یا ہ كی طرح تحت قوس ہوتو جس طرح زاویہ قائمہ ہے اسی طرح ہ اورر بھی قائمہ ہوجائیں گے۔اورایك مثلث میں دو دو زاویہ قائمہ ہوں گے۔یا یوں كہئے كہ اگر زاویہ ہ منفرجہ ہے تو لامحالہ داخل قوس ہوگا كیونكہ اگر وہ نفس قوس پر ہوتو اس كا قائمہ ہونا لازم ائے گایا خارج قوس ہوتو حادہ ہونا لازم ائے گا دلیل مذكورہ بالا كی رو سے۔
یایوں كہئے كہ زاویہ ر اگر حادہ ہے تو لامحالہ وہ خارج قوس ہوگا كیونكہ نفس قوس پرہونے كی صورت میں لا محالہ وہ قائمہ ہوجائےگایا داخل قوس ہوتو منفرجہ ہونا لازم ائے گا۔دلیل اوپر مذكور ہوئی۔اوریہی ہمارا دعوی تھا۔ہماری اس دلیل سے پہلی عبارت اصلا وعكسا ثابت ہوئی۔
مقدمہ رابعہ:جس كسی زاویہ غیر حادہ كے ر اس سے اس زاویہ كے قاعدے پر عمو د كا نزول ہوتو وہ عمود ہمیشہ قاعدے كا نصف ہوگا بشرطیكہ زاویہ قائمہ متساویۃ الساقین ہو ورنہ عمود ہمیشہ قاعدے كے نصف سے بھی چھوٹاہوگا(۲)خواہ زاویہ مطلقا مفرجہ ہو۔(۳)یاقائمہ مختلفہ الساقین ہو۔
#467 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فلتكن ا ح ب قائمۃ متساویۃ السقین فج أنصف ا ب بوجوہ كثیرۃ منھا ان زاویتی ج ا بج ب ا متساویتان بخسمۃ الاولی لتساوی السقین وحیث ان ج قائمۃ فكلتا ھما نصف قائمۃ بلب منھا وح ء ب قائمۃ بحكم العمود یۃ فرح ب نصف قائمۃ بلب فح ءء ب متساویان بسادسۃ الاولیوكذا بعین البیان ح ءء ا فیكون ا ءء ب متساویینفكل منھما نصف ا ب مساویالح ء۔ مان لیجئے كہ مثلث ا ح ب كا زاویہ ح قائمہ متساویۃ الساقین ہے تو عمود ح ا جواس زاویہ كے راس سے اس كے قاعدے پر ڈالاگیاہے وہ خط ا ب یعنی قاعدے كا نصف ہے۔اس كی بہت سی دلیلیں ہیں ایك دلیل مندرجہ ذیل ہے:
ح ا ب اورح ب ا میں ا ء ب دونوں زاویے مقالہ اولے كی پانچویں شكل(شكل مامونی)كی رو سے بربر ہیںكیونكہ اس مثلث كی دو ساقین ا ح اورح ب برابرہیںاورجب ح زاویہ قائمہ ہے تو اس كے بقیہ دونوں زاویے یعنی ۱ اورب نصف قائمہ ہوں گے مقالہ اولی كی بتیسویں۳۲ شكل كی رو سے (اور زاویہ ج سے جو خط قاعدے تك ایا ہے اس سے دو مثلث بن گئے ہیں ا ء ح اورح ء ب)اوراس خط كے عمودی ہونے كی وجہ سے زاویہ قائمہ ہے تو زاویہ ح نصف قائمہ ہوگا مقالہ اولی كی بتیسویں۳۲ شكل كی رو سےاورزاویہ ب پہلے ہی بیان سے نصف قائمہ ثابت ہوچكا ہے۔
#468 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
پس اس مثلث كی دو ساقین ح ء اورء ب بھی مساوی ہوں گی مقالہ كی چھٹی شكل كی رو سے اوراسی بیان سے دوسرے مثلث كی دونوں ساقیں ح ء اورا ء بھی مساوی ہوں گی تو قاعدے كے دونوں ٹكڑے ا ء اورء ب مساوی ہوگئے۔اورقاعدے ا ب كا نسف نصف ہوں گے اورخط ح ء كے بھی مساوی ہوں گے كہ مساوی كا مساوی مساوی ہوتاہے۔تو ثابت ہوگیا كہ مثلث قائمۃ الزاویہ متساوی الساقین كے راس سے قاعدے پر اترنے والا خط قاعدے كا نصف ہوتاہے۔
نمبر۲ كی توضیح اورثبوت

ثم لتكن ا ہ ب قائمۃ مختلفۃ الساقین فنقول ہ ر اصغرمن نصف ا ب اعنی نصف القطر لان را لیس مركزا والا لكان فی مثلثی ارہہ ر ب ضلعا اررب متساویین و ر ہ مشترك وزاویتا ر قائمتان ہم نے فرض كیا كہ مثلث اہ ب میں زاویہ ہ قائمہ مختلف الساقین ہے۔تو ہمارا دعوی یہ ہے خط ہ ر نصف ا ب یعنی نصف قطر سے چھوٹا ہے اس لئے كہ ر یہاں مركز نہیںورنہ پیش نظر دونوں مثلث یعنی ا ر ہ اورہ ر ب میں دونوں خط ا ر اورر ب برابر ہوجائینگےاورہ ر دنوں مثلثوں میں مشترك۔اور دونوں مثلثوں میں ر زاویہ قائمہ(یعنی
#469 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فبرابعۃ الاولی یتساوی ا ہ ہ ب ہف فلكن المركز ء وقلتنا ہ ء نصف القطر فلو كان ہ ر مساویالہ تساوت بلامامونی زایتا ر ء فاجتمع فی مثلث قائمتان۔






وان كان ہ ر اكبر من ہ ء كانت ء الموترۃ بالاكبر اكبر من ر القائمۃ الموترۃ بالاسغر بحكم بح من الاولی فاجتمع فی مثلث قائمۃ ومنفرجۃ فلاجرم ان ہ ر اصغر من اء۔ د وقائمے)پس مقالہ اولی كی شكل رابع سے لازم ائے گا كہ ا ہ او رہ ب دونوں ساقیں مساوی ہوجائیں گے اوریہ خلاف مفرض ہوگا(كہ ہم نے زاویہ قائمہ مختلف الساقین مانا تھا اوریہاں دونوں كا مساوی ہونا لازم ایا)جب ر كو مركز ماننے پر خلاف مفروض لازم ایاتو مان لیجئے كہ مركز دراصل ء ہے اورہ كو ملا كر نصف قطر كرلیجئے۔اس صورت میں ہر ر ہ ء كے برابر ہوتو (مقالہ اولی كی پانچویں شكل كے لحاظ سے زاویہ ر اورزایہ ء دونوں برابر ہوں گے تو ایك مثلث كے دو زاویے قائمہ ہو گئے(اوریہ محال ہے تو لامحالہ ہ رہ ء دونوں ساقیں برابر نہیں۔)
ایك صورت یہ بھی ہے كہ ہ ر كو ہ ء سے بڑا مانا جائے و مقالہ اولی كی اٹھارھویں شكل سے لازم ائے گا كہ زایہ ء جس كے وتر ہ ر كو ہم نے ہ ء سے بڑا مانا ہےچھوٹے وتر والے زایویہ قائمہ یعنی ر سے بڑا ہوجائے۔اورزاویہ قائمہ سے جو زاویہ بڑا ہوگا وہ منفرجہ ہی ہوگا۔تو لازم ائے گا كہ ایك مثلث میں زاویہ قائمہ اورزاویہ منفرجہ دونوں جمع ہوگئے اوریہ بھی محال ہے اوہ ر كے نصف قطر سے بڑے اوربرابر ہونے كی صورتیں محال ہو گئیںتو لا محالہ ہ رہ ء نصف قطر ہ سے چھوٹا ہے اورہم اسی كے مدعی تھے۔
#470 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
نمبر۳ كی توضیح اورثبوت

والامر فی المنفرجۃ اظھر سواء كانت متساویۃ الساقین مثل ا ی باو مختلفتھما مثل ا ح ب لانھا تقع داخل القوس فالعمود النازل منھا علی القطران مربالمركز مثل ی ء كان جزء من نصف القطرح ء وان لم یمربہ مثل ح ط۔ زاویہ منفرجہ میں اس خط نازل كا نصف قطرہ سے چھوٹا ہونا زیادہ واضح ہے زاویہ منفرجہ متساوی الساقین جیسے مثلث ا ی ب یا مختلف الساقین جیسے مثلث ا ح ب كیونكہ یہ زاویہ بہر تقدیر قوس كے اندر ہوگاتو اس زاویہ سے جو عمود بھی قطر پر نازل ہوگا یا تو مثلث ا ی ب كی طرح مركز سے ہوكر گزرے گا جیسے خط ء ی تو وہ یقینا نصف قطر یعنی خط ء ح كا جزء ہوگا(اوراگر زاویہ مختلف الساقین میں ہوگا جیسے ح ط كہ یہ مركز سے ہوكر نہیں گزرتا)

اخرجناح الی ء ك كان ح ء الاصغر من ء ك نصف القطر لكونہ وترالقائمۃ اكبر من ح ط وترالحادۃ بحكم ر ط من الاولی وذلك ما اردناہ۔
الخامسۃ:كل خط اقیم علی نصف عمود غیر محمد ودواخرج تو ہم ح كو ء ك كی طرف لے چلیں گے(اورء ك نصف قطر ہے)توء حء ك سے چھوٹاہوگا كیونكہ ء ك زاویہ قائمہ كا وتر ہے جس كو ح ط سے بڑا ہونا چاہیے جو ازاویہ حادہ كا وتر ہے مقالہ اولی كی شكل ۱۸ كی روسے۔اوریہی ہمارا مدعا ہے۔
مقدمہ خامسہ:ہر وہ خط جس كے نصف پر كوئی عمود قائم كیا جائےاورپھر اس خط كے
#471 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
من طرفیہ خطان یحدثا ن معہ زاویتین مجموعھما اصغر من قائمتین فان تساوت الزاویان فملتقی لا خطین علی نفس العمودوالافخارجہ وعلی كل تحتمل زاویۃ ملتقاھما ان تكون قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ۔ دونوں كناروں سے ایسے دو خطوط كھینچیں جو پہلے خط پر ایسے دو زاویے پیداكریں جس كا مجموعہ دو قائمہ سے كم ہو۔اوراس صورت میں یہ دونوں زاویے برابر ہوں تو خطین كا ملتقی عمود پر ہوگا۔اوربرابر نہ ہوں تو دونوں خطوں كا ملتقی عمودسے باہر ہوگا۔اورہر صورت میں اس كا احتمال ہے كہ ان دونوں خطوں كے ملتقی كا زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ ہو۔
(توضیح وثبوت)

فلیكن ا ب خطا نصف علی ح و اقیم علیہ عمود ح ء غیر محدودفاخرج من جنبیہ خطا اء۔ب ء محدثین زایتی ا ب مساویتین فانھما یلتقیان علی نقطۃ ء من العمود والا قیلتقیا خارجہ مثلا علی ہ وصلناہ ح ففی مثلثی اح ہ ب حہ نصف اا ح ب ح متساویان بالفرض وكذا ا ہ ب ہ لخامسۃ الاولی لتساوی زاویتی ا ب مان لیجئے كہ ا ب ایسا خط ہے جس كانصف نقطہ ح ہے اوراس پر ایك غیر محدود عمود ح ء قائم كیا گیاپھر اس خط كے دونوں كناروں سے دو خط ا ء اورب ء ایسے كھینچے گئے جو خط اول كے اوپر دوبرابر زاویے اب پیدا كرتے ہیںتو وہ دونوں خطوط عمود كے نقطہ ء پر ملیں گے۔اوردونوں زاویے برابر نہ ہوں تو لامحالہ یہ دونوں خطوط عمود سے خارج ملیں گے۔مثلا ماناگیا وہ نقطہ ہ پر ملے ہوئے ہیں ہم نے ہ ح كو ملادیا تو یاہں دو مثلث ا ح ہ اورب ح ہ پیداہوئے جس میں خط مفروض كے دونوں نصف ا ح اورب ح بالفرض برابر ہیںاورچونكہ زاویہ ا ور
#472 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بالفرض وہ ح مشترك فبثامنۃ الاولی تتساوی زاویتا ا ح ہۃ ح ب بفحكم بح منھا كانتا قائمتین وقد كانت ا ح ء قائمۃ فتساوی الكل والجز ء ہف۔





ولیخرج عن جنبیہ ا ہ ب ہ عن زایتین مختلفین فملتقی ھما خارج العمود علی ہ والافیلتقیاعلی ء من العمودففی مثلثی ا ح ءء ح ب نصف ا حح ب متساویان و ء ح متشرك و زایتاح قائمتان فبالرابع تتساوی زاویتا ا ب و قد فرضنا مختفین ہف فالحكم ثابت وذلك ما اردناہ۔ زاویہ ب برابر فرض كیا گیا ہے اس لئے مقالہ اولی كی شكل خامس سے جس طرح ا ح اورب ح برابرہیں اسی طرح ا ہ اور ب ہ بھی برابر ہونگےاورہ ح دونوں مثلث میں مشترك ہے۔تو لامحالہ مقالہ اولی كی شكل ثام كی وجہ سے زاویہ ا ح ہ اور زاویہ ہ ح ب برابر ہونگے اورمقالہ اولے كی شكل ۱۸سے ثابت ہے كہ دونوں مل كر دوقائمہ ہوں گے یعنی ہر زاویہ قائمہ ہوگا حالانكہ ا ح ء قائمہ ہے اور ا ح ہ بھی قائمہ ہوگیا(جو خود اس كا خبر ہے)اوراس صورت میں جزوكل مساوی ہونا لازم اتاہے جو محال ہے۔
دوسری صورت كی توضیح یہ ہے كہ ہم خط مفروض كے دونوں كناروں سے ایسے دو خط ا ہ اورب ہ كھینچتے ہیں خط كے اوپر مختلف زاویے بناتے ہیںتو ہمارادعوی یہ ہے ملتقی عمود سے خارج نقطہ ہ پر ہوگا ورنہ یہ ماننا پڑے گاكہ یہ دونوں خط بھی عمود كے نقطہ ء پر ملے ہیں اوریہاں مثلث ا ح ء اورمثلث ء ح ب میں خط كے دونوں نصف ا ح اور ح ب برابر ہیں۔اور ء ح دونوں مثلثوں میں مشترك اورزاویہ ح دونوں مثلث میں قائمہاس لئے بشكل رابع زاویہ ا ب برابر ہوئے حالانكہ ہم نے ان دونوں كو مختلف فرض كیا تھااوریہ خلاف مفروض دعوی كہ نا ماننے سے لازم ایاتو دعوی ثابت ہوا۔
#473 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اما احتمال الزوایا الثلث فی الملتقی علی كل تقدیر فظاھر لان الزایتین الحاد ثتین منھما فحادۃ سواء كانت الزاویتان علی الخط الاول متساویتین او مختلفتین كل ذلك بلب من الاولی۔



اذا عرفت ھذا واعلمناك فی النفحۃ الاولی العودیۃ ان معنی بین یدیہ التركیبی الفضاء المحقق المحصور بالجارحتین عند بسطھما اوالموھوم عند ارسالھما اعنی الخط النافذ علی الاستقامۃ من وسط احد كتفیك الی وسط الكتف الاخر ولایمكن ارادتہ ھنا وفی عامۃ استعمالات ھذا اللفظ بل ارید فیھا بالیدین الجھتان الواقعتان علی سمتھما ای تخرج من طرفی كتفیہ خطین تیسری صورت كہ دونوں قسم كے ملتقی پر تینوں ہی قسم كے زاویے كا احتمال ہے۔اس كی توضیح یہ ہے كہ دونوں كناروں سے كھینچے خطوط اورخط اول سے پیدا ہونے والے دونوں زاویوں كا مجموعہ اگر قائمہ كے برابر ہے تو ملتقی زاویہ قائمہ ہوگا اور مجموعہ زاویتین اگر قائمہ سے چھوٹا ہے و ملتقی كا زاویہ منفرجہ ہوگااوراگر مجموعہ قائمہ سے بڑا ہے تو ملتقی كا زاویہ حادہ ہوگا خواہ خط اول پر پیدا ہونے والے زاویے باہم برابر ہوں یا نہ ہوں۔یہ ساری باتیں مقالہ اولی كی شكل۳۲ سے ثابت ہیں۔
مذكورہ بلا توضیحات كی معرفت اورلفظ بین یدہ كے معنی كو دوبارہ ذہن میں تازہ كرلینے كے بعد(لفظ بین یدیہ كی وضاحت ہم اسی شمامہ كے نفحہ اولی میں كر ائے ہیں كہ بین یدیہ مركب اضافی ہے۔تو ایك معنی مضاف اورمضاف الیہ كے تفصیلی ترجمہ كے لحاظ سے ہوں گے"دونوں ہاتھ سامنے پھیلائیں تو وہ فضا جو دونوں ہاتھ كے درمیان محصورہے۔اورایسے ہی پیچھے پھیلائیں تو پیچھے كی فضاكو جو دونوں ہاتھوں كے درمیان محصور ہے"اور"جب ہاتھ لٹكاءیں تو دونوں مونڈھوں كے بیچے كی دوری جس كو ایك خط كے ذریعے
#474 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عمودین علی ذالك الخط الواصل بین كتفیہ فھذان الخطان ھما الجھتان المسامتان لیمین من اضیف الیہ الیدان وشمالہ كما قدمنا ثمہ عن الكشاف و المدارك وغیرھما فكل ماوقع بین ھذین الخطین بشرط القرب اللائق بالشیئ المتفاوت تفاوتاشد یدابحسب المقام فھو بین یدیہ۔










كما افدناك تحقیقہ بمالامزید علی الی ھنا اتم معنی كلام القہستانی الی قولہ قریبامنہ۔ "سمجھا جاسكتاہے جو ایك مونڈھے كے وسط سے دوسرے مونڈھے كے وسط تك سیدھا فرض كیا جائے لیكن اس لفظ كے عام استعمال كا معاملہ ہو یا خاص بین یدی الخطیب كا موقع ہو عام طور سے اس لفظ كے معنی تركیبی تفصیلی مراد نہیں ہوتے بلكہ دوسرے معنی اجمالی عرفی یالغوی مراد ہوتے ہیں جس میں دونوں لفظ كے علیحدہ علیحدہ معنی مراد نہیں ہوتے بلكہ مركب لفظ كو اكائی مان كر پورے مركب كے ایك ہی اجمالی معنی كو یوں سمجھئے دونوں مونڈھوں كے درمیان جو سیدھا خط ہم نے فرض كیا تھا اورظاہر ہے كہ وہ جسم كے عرض میں ہی ہوگااس كے دونوں كناروں پر دوعمودی خطوط كو سامنے فرض كیا جائے جو اسی فاصلے پر بالكل متوازی سامنے چلے جائیں ان دونوں خطوں كے درمیان جو بھی ہے اسی كو بین یدیہ كہا جائے گا۔)
اس مضمون پر مدارك اوركشاف كی شہادت بھی پیش كرچكے ہیں قہستانی كی مندرجہ بالاعبارت كے حسب ذیل جملہ كا مطلب مكمل ہوگیا۔
"دوسری اذان بین یدیہ ہوگی یعنی ان دونوں متوازی جہتوں كے درمیان جو منبر یا امام كے دائیں بائیں اوراس سے قریب ہو۔"
یہاں قہستانی كے لفظ قریبامنہ كے یہ معنی نہیں كہ مؤذن امام یا منبر كے متصل ہوبلكہ
#475 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ثم اذا نصفت الخط الواصل بین الكتفین ونسمیہ الخط الكتفی واقمت وعلیہ عموداثالثا وایاہ نسمی العمودكان ھو وما یقع علیہ وسط الجھتین المذكورتین بینھما بلاتحریك وماكان بینھما منحازاعن العمود فہو وسطھما بالسكون ووسطھما بالسكون فیشمل مااذان اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ منفرجۃ حادثۃ من خطین خارجین من ھاتین الجہتین ۔


فالان یرید الشیخ یفید ان لیس شرط كون الشیئ بین یدیك وقوعہعلی العمود بل یكفی كونہ بین خطی الجھۃ اینما كان فلاذا قال ووسطھما بالسكون وھو عطف علی قریبا ایسا قریب مراد ہے جو محل استعمال كے مناسب ہے اوریہاں جب مسجد كے اندر مطلقااذان منع ہے تو لامحالہ یہاں قریب كا مطلب مسجد سے باہر مسجد كی حدود كے اندر ہوگا۔گزشتہ اوراق میں لفظ قریب پر بھی ہم بھرپورروشنی ڈال چكے ہیں۔
اب ہم اس خط كوجو ہم نے دونوں مونڈھوں كے درمیان فرض كیا تھا اورجس كا نام ہم نے خط كتفی ركھاتھا اس كے ٹھیك بیچ میں ایك تیسرا عمود فرض كیرںتویہ عمود دونوں متوازی خطوں كے بھی ٹھیك بیچ میں ہوگا جس كو اہل لغت وسط بالتحریك كہتے ہیں۔اوران دونوں متوازی خطوں كےدرمیان جو كشادگی ہوگی اس كو وسط بالسكون كہاجاتاہے۔علامہ قہستانی كی بقیہ عبارت مندرجہ ذیل ہے:"اذان ثانی دونوں جہتوں كے وسط بالسكون میں ہوگی تو یہ ان سب صورتوں كو شامل ہوگی جب مؤذن زاویہ قائمہ اورحادہ یا منفرجہ میں كھڑا ہو۔ یہ سب زاویے ان دونوں خطوں كے نكتہ ایصال پر پیداہونگے جو ان دونوں جہتوں سے نكل رہے ہیں۔
اس عبارت كا مطلب یہ ہے كہ مؤذن كے خطیب كے سامنے كھڑے ہونے كا مطلب یہ نہیں كہ مؤذن كا عمود یعنی خط وسط پركھڑا ہونا ضروری ہے بلكہ خط كتفی كے دونوں كناروں سے نكلنے والے خطوط متوازیہ كے درمیان كشادگی میں عمودوسط سے ادھر ادھر ہٹ كر كھڑا ہونا بھی
#476 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
منہ لانہ قریب منہ او علی بین الجہتین تفسیرالہ ثم فرع علیہ جواز قیام المؤذن فی زاویۃ قائمۃ او حادۃ اومنفرجۃ وبیانہ انہ لایمكن جعل الخط الكتفی وتر زاویۃ قائمۃ اومنفرجۃ یقوم فیھا ای بین ساقیھا المؤذن لان مابین كتفی الانسان نحو زراع فان جعل وتر زویۃ غیر حادۃ كان مابینھا وبین الكتفی شبرا او اقل بحكم القاعدۃ الرابعۃ وقدم الانسان اكثر من شبر ولذا تعبر اھل الھیئۃ و المساحۃ ثلثی ذراع بالقدم حیث یقولون ان بارتفاع الناظر عن وجہ الارض كذا قدما ینحط الافق كذا دقیقۃ كما ذكرنا ضابطتہ وتفاریعھا كافی ہےجیسا كہ شیخ قہستانی كے قول وسطھما بالسكون سے ظاہر ہے۔اب جی چاہے وسطہما كاعطف قریبامنہ پر مانوكہ لفظ وسطھما اورقریبا منہ پاس پاس ہی ہیں یابین الجھتین پر عطف تفسیری مانوہر طرح معنی درست ہے۔اسی عمود وسط كے ازاد بازو اورخطین متوازیین كے درمیان كھڑے ہونے كو قہستانی ریاضی كی زبان میں سمجھا ناچاہتے ہیں كہ مؤذن چاہے زاویہ قائمہ پر كھڑاہوچاہے زاویہ حادہ پر اورچاہے منفرجہ پر ہر طرح كھڑے ہونے كو بین یدی الخطیب كہا جائے گا۔سوال یہ ہےكہ یہ زاویے جن كی ساقوں كے درمیان مؤذن كھڑے ہو كر اذان دے سكتاہے مسجد كے اندر اس طرح كہ مفروضہ خط كتفی كو ان مثلثوں كا وترمانا جائے اوراس كے دونوں كنارون سے نكل كر جو دو۲ خط عمودوسط پر ملتے ہیں انہیں كہ نكتہ اتصال پر تلے اوپر جوزاویہ منفرجہ اورقائمہ پیدا ہوتے ہیں وہی مؤذن كے كھڑے ہونے كا مقام ہو تو یہ ناممكن ہے كیونكہ خط كتفی كل ایك ہاتھ لمباہوگا۔اوراس كا نصف ایك بالشت ہوگاتو زاویہ اوروتر كے درمیان ایك بالشت یا اس سے بھی كم كی گنجائش ہوگی۔جیسا كہ ہم مقدمہ رابعہ میں ثابت كر ائے ہیںاور ادمی كے قدم كی لمبائی ایك بالشت سے زیادہ ہوتی ہےجیسا كہ اہل مساحت
#477 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
النفیسۃ المحتاجۃ الیھا فی علم الاوقات فی تحریراتنا التوفیق فلذا لم یخرج الخطین المحدثین زاویۃ مقام المؤذن بالتفائھما ونسمیھا خطی المقام عن یمین الامام وشمالہ بل عن موضع مامن امتداد خطی الھاتین وذلك قولہ خارجین من ھاتین الجہتین ۔









وھما كما تری غیر محدودتین وانما یاتی التحدید من قبل قضیۃ المحل وھی ھنا كما یبنابدلائل قاھرۃ و نصوص باھرۃ اوراہل ہیئت كا قول ہے كہ ایك قدم ذراع كا دوثلث ہوتاہے جہاں وہ كہتے ہیں كہ زمین سے ناظر كی بلندی اتنے قدم پر ہو یا وہ كہتے ہیں كہ خط افق سے اتنا قدم اوراتنا دقیقہ بلند ہو۔ان مسائل كے ضابطے اورتفریعیں بھی ہم اپنی فن توقیت كی تصانیف میں بخوبی بیان كرچكے ہیں۔توجب مؤذن كا قدم ایك بالشت سے زائد ہوتاہے اوروتر زاویہ میں بالشت بلكہ اس سے بھی كم كا فاصلہ ہےتو وہاں مؤذن كیسے كھڑا ہوگا اس جگہ پر تو خطیب ہی بیٹھا ہوگا اور وہاں امام كے دائیں بائیں بھی۔ان دونوں خطوط متوازیہ سے نكلنے والے خطوط سے كوئی ایسا زاویہ نہیں كل سكتا جس پر مؤذن كھڑاہوا(جسكا نام ہم خط مقام ركھ لیتے ہیں)تو لامحالہ خط كتفی سے اگے بڑھ كر طرفین كے خطوط متوازیہ میں كہیں اس مثلث كا قاعدہ تسلیم كرنا پڑے گا جس كے زایوں كے اند رمؤذن كھڑاہو۔اسی كا اشارہ قہستانی كے اس قول سے بھی ہوتاہے كہ وہ فرماتے ہیں: "زاویہ قائمہ حادہ یا منفرجہ جو ان دونوں خطوط سے پیداہوتے ہیں جو امام كی جانب یمین اورشمال سے نكلے ہیں۔"
دونوں طرف كے یہ دونوں خطوط تو غیر محدودہیں۔ان كی تحدید تو محل ومقام كے تقاضے كے موافق ہوگیجسے ہم دلائل قاہرہ ونصوص باہرہ سے ثابت كر ائے ہیں كہ وہ مسجد سے خارج مسجد كے
#478 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
كونہ خارج المسدج فی حدودہ وفنائہ فتعین ھو وتر الزاویۃ المقام بحكم فقہاء الكرام وسنۃ الشارع سید الانام علیہ والہ افضل الصلوۃ والسلام فكان الشكل ھذا: حدود اوربیرونی صحن میں ہوگی۔تو معلوم ہواكہ مقام مؤذن كےزاویہ كا وتر فقہاء كے قول اورحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم كی سنت كے موافق مسجد كی اخری حد ہی ہوگیاس كا شكل اس طرح ہوگی:

ا ب الخط الكتفی ا ءب ہ خطا الجہتین المسامتین ح ط العمود حر حد المسدج وفناؤہ۔اخرج م ح ر خطا المقام ح ك رك فالتقیا علی العمود واحدثا قائمۃ ك اوخطاح ی ر ی فاھدثا ی المنفرجۃ او خطا ح ل ر ل فاحدثا حادۃ ل ففی ایھا اذن المؤذن كان بین یدیہ والقیام فی ك غیر متعین علیہ۔ مذكورہ بالا صورت میں خط ا ب خط كتفی ہے اور ا ءب ہ دو خطوط جہت ہیں اورباہم متوازی ہیں اور ج ط خط كتفی كے نصف پر عمودوسط بالتحریك ہے۔ح ر مسجد كی حدود اوراس كا صحن ہے۔مقام ح ر سے دوخط مقام مؤذن كے ح ك اور ر ك اوردونوں عمود پر ملے اوراس سے زاویہ قائمہ ك پیدا ہوا اور دونوں خط ح ی ر ی مقام ی پر ملے تو زاویہ منفرجہ پیدا ہوا۔ اوردوخط ح ل ر ل مقام ل پرملے تو زاویہ حادہ پیداہوا۔(علامہ قہستانی یہی كہنا چاہتے ہیں)كہ مقام ك پر مؤذن كا كھڑا ہونا ضروری نہیں۔ان تینوں زاویوں میں سے جہاں بھی كھڑا ہو كر اذان دے گا بین یدی الخطیب ہوگا۔
#479 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فان قلت ھذا كمایشمل الزوایا یشمل مااذاكان ظھرالمؤذن الی وجہ الامام۔
قلنا نعم ھوداخل فی مفہوم بین یدیہ ولكن لیس كل مایشملہ مفہوم اللفظ یكون مرادافان الاطلاق غیرالعموم وقددلت القرائن ھہنا ان المرادالمواجھۃ بین الامام والموذن لان الامام علی المنبر مستدبر القبلۃ والمؤذن بین یدیہ وقدامران یستقبل القبلۃ فی الاذان فتعین ان یكون وجہہ الی وجہ الامام كما ان مفہوم بین یدیہ یشمل المتصل والمنفصل والخارج عن المسجد والداخل لكن دلت الدلائل ان داخل المسجدغیر مقصود ولاالبعید بحیث الا یعداذانہ اذانالہذا المسجدفتعین كونہ فی حدود المسجدوفنائہ مرادا والاعتراض علیہ بشمول مفہوم اللفظ جہل بعید كشمولہ لمستدیرالقبلۃ۔





فان قلت قرینۃ امر اگر یہ اعتراض كیا جائے كہ یہ جس طرح زوایا ثلث كو شامل ہے اس صورت كو بھی شامل ہے جب مؤذن كی پشیت امام كی طرف ہو۔
جواب یہ ہے كہ بیشك بین یدیہ كے مفہوم میں یہ صورت بھی داخل ہے لیكن یہ ضروری نہیں كہ لفظ كا مفہوم جس جس چیز كو شامل ہو سب لفظ سے مراد بھی ہوںكیونكہ اطلاق عموم كے مغایر ہےاوریہاں قرائن اس بات پردلالت كرتے ہیں كہ لفظ بین یدیہ كا مراد ومطلب امام اورمؤذن میں سامناہے اس لئے كہ امام منبر پر قبلہ كی طرف پیٹھ كئے ہوتاہے اورمؤذن كو ا سكے سامنے ہوكر اذان میں قبلہ كی طرف منہ كرنے كا حكم ہے۔تو متعین ہوگیا كہ مؤذن كا چہرہ امام كے چہر ہ كی طرف ہوگا۔اس كو اس طرح سمجھا جائے كہ لفظ بین یدیہ كے مفہوم میں امام سے متصل اس سے منفصل اورخارج مسجد سبھی داخل ہےلیكن دلائل سے یہ ثابت ہوگیا كہ داخل مسجد مراد نہیںنہ مسجد سے اتنادورمراد ہے كہ اس اذان كو اس مسجد كی اذان كہا ہی نہ جاسكے تو متعین ہوگیا كہ بین یدیہ سے مراد حدود مسجداورصحن مسجد ہے۔تو جیسے اس پرمفہوم یہ اعتراض كرنا غلط ہوگا كہ داخل مسجد مفہوم بین یدیہ میں داخل ہےاسی طرح یہ اعتراض بھی غلط ہے كہ یہ لفظ اس صورت كو بھی شامل ہے جب مؤذن قبلہ كی طرف پیٹھ كر كے اذان كرے۔
یہاں یہ اعتراض بھی كیا جاسكتاہے كہ موذن كے
#480 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المؤذن باستقبال القبلۃ لاتنفی مااذاكان ظہر المؤذن لظہرالامام بان قام المؤذن بین الامام والقبلۃ متوجہا لكعبۃ وربما یتركون متسعا كبیرا بین المنبر والقبلۃ كما ھو مشاھد فی مكۃ المكرمۃ وذلك لان الجہتین المسامتین تمتدان خلف الیدین ایضا كما تمتدان امامھما۔

قلنا نعم ھذا مشكل الاان یقل باخراجہ بقرینہ قول الماتن واستقبلوہ فان المؤذن داخل فی عموم ھذا الجمع وفیہ نظر لان عبارۃ المتن واستقبلوہ مستمعین وھذا بیان حال الخطبۃ والاذان قبلہاو لذا مرضہ بقولہ الا اذا قیل الخ۔ھذا شرح كلامہ حسب مرامہ۔اقول:وفیہ اولا لا تفریع شمول الزوایا الثلث علیتسكین الوسط بل لو كان بتحریكہ لشملھا ایضا كما علمت فی الخامسۃ۔ روبقبلہ اذان دینے كا قرینہ اس صورت كو نفی تو نہیں كرتاكہ مؤذن كی پشت امام كی پشت كی طر ف ہواور موذن امام اورقبلہ كے بیچ میں كعبہ كی طرف رخ كر كے كھڑاہو۔كیونكہ بہت سی مسجدوں میں لوگ منبر اور دیوار قبلہ كے بیچ میں كافی وسیع جگہ چھوڑدیتے ہیں۔خود مكہ میں مسجد حرام كے اندر بھی ایس اہی ہے ہ دو طرف متوازی جہتیں امام كے اگے اورپیچھے دونوں طرف ہی ہوسكتی تھی۔

یہ اعتراض ضرورمشكل ہے مگر اس كا یہ جواب دیا جاسكتاہے كہ متن میں سب كو امام كی طرف متوجہ ہونے كا حكم ہےاور اس سب میں موذن بھی داخل ہےاس لئے كہ اس كو بھی امام كی طرف متوجہ ہونا ضروری ہےمگر كوئی كہہ سكتاہے كہ امام كی طرف رخ كرنے كا حكم خطبہ كی حالت میں ہے نہ كہ اذان كی حالت میں۔قہستانی نے اسی لئے اس سوالكا جواب لفظ قیل سے دیا ہےجو جواب كےضعف پردلالت كرتاہے۔ یہاں تك قہستانی كی پوری عبارت كی توجیہ انہیں كے حسب منشا ہوئی مگر اس پر پہلا شبہ یہ ہے كہ زوایا ثلث كی وسط بالسكون كے ساتھ كوئی خصوصیت نہیں یہ تو عمودپر ملتقی ہونے كی صورت میں بھی متحقق ہوں گے۔یہ بات مقدمہ خامسہ میں ظاہر ہوچكی ہے
#481 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الا تری عند تساوی زاویتی ح ر تقع الكل علی العمود لما تقدم فی الخامسۃ مع ان ی منفرجۃ وك قاءمۃ ول ل حادۃ الاان یقال لیس المراد مجرد شمول الاقسام بل الافراد والزوایا الثلث كما تحدث علی العمود كذا خارجۃ فانما یشملہا بالسكون۔



وثانیا:الذی استشكلہ لیس بوارد اصلافانك ان اردت المعنی التركیب فالكل خارج وان اردت الاجمالی فھو للامام والقدام كما مندرجہ ذیل صورت میں جب ح ر كے زاویے برابر ہوں گے تینوں زاویے عمود پر ہی واقع ہونگے۔اس كی توضیح بھی مقدمہ خامسہ میں ہوچكی ہے۔زاویہ ی منفرجہ ہے اورك قائمہ ہے اورل حادہ ہے مگر اس كا یہ جواب ہوسكتاہے كہ یہاں اقسام كا شمول بتانا نہیں ہے۔افراد كا شمول بتاناہے(یہ بتانانہیں كہ تینوں زوایے كس صورت میں متحقق ہوسكتے ہیں اوركس میں نہیںبلكہ یہ بتانا ہے كہ یہ تینوں زاویے بیك وقت عمود اور اس كے اغل بغل میں وسط بالسكون میں متحقق ہوں گے۔
دوسراشبہ یہ ہے كہ قہستانی نے جس دوسرے اعتراض كو مشكل كہہ كر پیش كیا ہے وہ سرے سے وارد ہی نہیں ہوتا كیونكہ "بین یدیہ"كے معنی تفصیلی واجمالی كے بیان میں ہم یہ بتاچكے ہیں كہ یہاں معنی تفصیلی مراد ہی نہیں ہیں۔تو
#482 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
نصواعلیہ وقدمناہ ولا یقل سمت وجہك الا لجہۃ وجہك وان امكن مد الخط خلفا وقداما ووجہ یدیك الی جھۃ وجھك فلا یسامتھام الا الخط الممتد الی ھذہ الجھۃ فالصواب اسقاط ھذا الاشكال و الاصواب ان یقول ووسطھما بالسكون فشمل ما اذا كانت جھۃ المؤذن علی سمت جہۃ الخطیب اومنحرفۃ عنھما الی احدی كیفیہ ما لم یخرج عن الخطین كما ان مستقبل القبلۃ مستقبل لھا مالم یخرج عن الربع الذی الكعبۃ فی وسطہ كما حققناہ بتوفیق الله تعالی فی رسالتنا "ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال "ھذا مایتعلق بكلامہ شرحاوجرحا۔




اما ھؤلاء فتعرض لھذہ العبارۃ منھم وھابیان ضالان واخران جاھلان وخامسا من الطلبۃ۔ معنی تفصیلی كے ایك رخ سے اعتراض كے كیا معنی!اورمعنی اجمالی مراد ہیں جس كا مطلب امام كے سامنے ہے۔محاورہ میں سمت وجہت كہنے سے جدھر ا پ كا چہرہ ہو وہی رخ مراد ہوتا ہے۔اسی طرح ادمی كے ہاتھ كا رخ بھی اس كے چہرہ كی طرف ہی ہے۔توخطوط اگرچہ امام كے اگے پیچھے سبھی طرف نكل سكتے ہیں لیكن ان ہاتھوں كے مقابل جو خط ہوگا وہ خطیب كے سامنے ہی ہوگا توبہتریہ ہےكہ سرے سے یہ اعتراض ہی ساقط كردیا جائےاوروسطھما كے بجائے اوسطھام كہاجائے تاكہ عمودپراور اس كے ازوبازو كے مقابل كھڑے ہونے كی سبھی صورتوں كو شامل ہو جب تك ان دوخطوں سے باہر نہ ہوجن كا استقبال كعبہ میں حكم ہے كہ دائرے كے جس ربع كے وسط میں كعبہ واقع ہے اس پورے ربع كی طرف رخ كر كے نماز پڑھی جا سكتی ہے۔استقبال قبلہ كا وافی اوركافی بیان بحمدالله ہماری كتاب "ھدایۃ امتعال فی حد الاستقبال "میں ہے۔یہاں تك قہستانی كی عبارت كی تشریح اور ان پر پڑنے والے شبہات كا بیان ختم ہوا۔
اب ہم اذانیان ہند كی تگ ودو كی طر ف رخ كرتے ہیں۔علامہ قہستانی كی اس عبارت پرخامہ فرسائی كر نے والے پانچ صاحبان سامنے ائے ہیں جن میں دو وہابیدو جاہل
#483 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اما احد الضالین واضلھما فجعلہ دلیلاعلی انہ لاحاجۃ ای المحاذاۃ عینا بین الخطیب المؤذن وجعلہ ردا علی كلام اھل الحق من ھذہ الجھۃ وھذا جھل منہ شدیدفان المحاذاۃ سنۃ لاشكوان اراد بھا مسامتۃ جہتی الموذن والامام فلا محاذاۃ مقصرۃ علیہ ولا كلام اھل الحق یومی الیہ لكن الجھلۃ لا یفہمون۔والباقون استدلوابھا علی ان ھذا الاذان داخل المسجد لصیق المنبر فاان الضال الاخر فاقتصر علی الاستدلال بقولہ قریبامنہ۔قد علمت ردہ مراراوفسرقولہ الہتین لمسامتین الخبما بین جہتی الامام اما بیمینہ اویسارہ۔اتری مثل ھؤلاء الجہلاء اھلا لمخاطبۃ۔وامان الذی یعد من الطلبۃ فزادفی الطنبور نغمۃ وفی الشطرنج ایك نام نہاد طالب علم ہیں۔ایك وہابی صاھب نے قہستانی كی اس عبارت سے یہ استدلال كی اہے كہ اس عبارت سے ثابت ہے كہ مؤذن اورخطیب كا سامنا ضروری نہیں ہےاورعلمائے اہلسنت كے اس دعوی كا قہستانی كی یہ عبارت رد ہے اوریہ اسكا جہل شدید ہے۔"مؤذن اورخطیب كا سامنا بلا شبہ سنت ہے۔"ہاں اگر سامنے كا مطلب یہ لیا جائے كہ دونوں كا چہرہ ٹھیك ایك دوسرے كے مقابل ہوناضروری ہےتو یہ نہ سنت سے ثابت نہ اہل حق اس كے مدعی۔ہم "سامنے"كا مطلب كافی وضاحت سے سمجھا ائے لیكن جاہل كیا سمجھیں۔اورباقیوں نے اس عبات سے اس بات پر استدلال كیا ہے كہ اذان ثانی مسجد كے اند رمنبر سے متصل ہوگی۔دوسرے وہابی صاحب نے اس مدعا پر لفظ قریبا منہ سے استدلال كیا ہے(كہ عبارت قہستانی میں اس اذان كے "منبر كے قریب ہونے "كی تصریح كی ہے)لیكن اس سے كیا حاصل۔"قریب "كے لفظ پر تو ہم باربار روشنی ڈال چكے ہیں كہ یہ اپنے معنی میں كس قدر وسعت ركھتا ہے۔اوراسی شخص نے قہستانی كے لفظ جہتین مسامتین كی تفسیر كی كہ امام كی یمین ویسار كی د وجہتوں كے درمیان۔بھلا ایسے جاہل مخاطبہ كےلائق بھی ہیں۔اورنام نہاد طالب علم صاحب نے تو اورگل كھلایا
#484 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بغلۃ فزعم ان القہستانی ذكر قولہ ای قریبامنہ بعد قولہ عند المنبر وھذا افتراء منہ علیہ فلیس ھنا فی كلام القہستانی لفظۃ "عندالمنبر" اصلاولا لفظۃ "ای "ولو كان لم یكن فیہ مایقرعینہ فلا القرب ینكرولا فی جوف المسجد یحصر كما تبین مراراواما الجاھلان فقتحما خوض بحراغرقھما فقال احدھما ان وتر المثلث عرض المنبر وقدعلمت ردہ ان المراد بالمنبر الام اومابین كتفیہ یستحیل ان یراد وترا وقال الاخر فی تفسیر كلام القہستانی یخرج خطان عن یمین الامام ویسارہ حتی یلتقیا علی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفجرۃ فیقوم المؤذن فی ھذہ الزاویۃ ویؤذن قال وكان عرض منبررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم كہ شطرنج كی بساط پرخچر دوڑادیا۔اپ فرماتے ہیں كہ قہستانی نے لفظ قریبا منہ كولفط عند المنبر كے بعد ركھاحالانكہ یہاں قہستانی كے پورے كلام میں عند المنبر كا لفط كہیں نہیں۔تویہ طالب علم قہستانی پر افتراء كر رہے ہیںوہ افتراء بھی بے مزہ كیونكہ قہستانی كی اصل عبارت میں یہ لفظ ہوتا تب بھی ان كی تسلی كا كوئی سامان نہ تھا كہ ہم كو قریب منبر ہونے سے كب انكار ہےہمارا تو كہنا یہ ہے كہ قریب بہت وسیع المعنی لفظ ہےاس لئے قریب ہونے كیلئے اذان كا مسجد میں ہونا ضروری نہیںجیسا كہ باربار واضح ہوچكا اوران دو جاہل صاحبان نے (ریاضی كے)سمندر میں غوطہ لگایا جو خود انہیں كو لے ڈوبا۔ ان میں سے ایك نے كہا كہ مثلث كا وتر منبر كی چوڑائی ہے جبكہ ہم یہ طے كر ائے ہیں علماء كی تحریروں میں منبر كے لفظ سے بھی امام اور اس كے دونوں مونڈھوں كا بیچ مراد ہے۔اور یہ بھی ظاہر كر آئے ہیں كہ اس جگہ كا مذكورہ مثلث كا وتر ہونا محل ہے۔اوردوسرے جاہل صاحب كا خیال ہے كہ قہستانی كے بقول دونوں خط امام كے دائیں بائیں سے نكل كر زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ پر ملیں گےاور موذن اسی زاویہ پركھڑے ہو كر اذان دے گااس نے كہا چونكہ حضور كے عہد مبارك میں اپ كے منبر كی چوڑائی دوہاتھ كی تھیاورادمی كا قدم
#485 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
c سوابالشت كا ہوتاہے اوروہاں مثلث متساوی الاضلاع بنایا جائے توزاویہ حادہ پیداہوگااورفاصلہ دوہاتھ سے ذرا كم ہوگااورقائمہ میں اسے كماورمنفرجہ میں كم سے بھی كم۔اورزاویہ حادہ مسجد سے باہر بھی فرض كیاجاسكتاہے لیكن اس احتمال كو قہستانی كی یہ عبارت ساقط كردیتی ہے كہ موذن زاویہ كے اندر كھڑے ہوكر اذان دے كیونكر دروازہ مسجد اگر منبر سے چالیس ہاتھ كی دوری پر ہو۔اورمثلث كا وتر وہی دو ہاتھ كا ہوتو اس وتر پر چالیس ہاتھ كی دوری پر جوزاویہ حادہ پیدا ہوگا وہ بیحد تنگ ہوگاوہاں ایك باریك لكڑی كی بھی گنجائش نہ ہوگی چہ جائیكہ انسان كیحالانكہ قہستانی كا مقصد تویہ ہے كہ وہاں تینوں زاویے پیدا ہوں اور اس صورت مذكورہ بالا میں باب مسجد پر سوائے حادہ كے اوركسی زاویہ كا امكان ہی نہیں۔
میری گزارش یہ ہے كہ یہ ریاضی كی بحث تو كیا ہوگی یہ تو ہذیان ہے جو جہل اورسوء فہمی كی پیداوارہے۔
اولا:قہستانی نے مقام مؤذن كے خطوط كو امام كے دونوں مونڈھوں سے نكلنے كی بات نہیں كی بلكہ وہ تو جہتین كے دونوں خطوط سے نكلتی ہیں مونڈھوں سے نہیں۔جیسا كہ ہم واضح كر ائے۔
#486 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
وثانیا:لو اخرج من كتفیہ استحال قیام المؤذن فی قائمۃ او منفرجۃ كما علمت۔

وثالثا:جری علی لسانہ بعض الحق من حیث لا یدری ان الملحظ ھھنا یمین الامامثم عاد الی الباطل الصرف فجعل عرض المنبر مطمح
النظروقدعلمت بطلانہ۔
ورابعا:تخصیصہ الحادۃ بالمثلث المتساوی الاضلاع من ضیق العطن ولم یقدر علی تعیین قدرالعمود فقال ذراعین الاقلیلاوالعلم ان نسبۃ الی ذرعین كنسبت ناحہ نرماالط بد الی المرفوع ولو علم لقال فی القائمۃ ذرعاع اواقل ثم لایجب ان یكون الفصل فی المنفرجۃ اقل منہ فی القائمۃ بل ربما یكون اكثربكثیرمثلا: ثانیا:اوراگر امام كے دونوں مونڈھوں سے خط نكالاجائے تو ان یدا ہونے والے زاویہ قائمہ اور منفرجہ میں موذن كا قیام نا ممكن ہےجیسا كہ واضح كیا جاچكاہے۔
ثالثا:اس جاہل كے منہ سے غفلت میں ایك سچی بات نكل گئی كہ لحاظ یاہیں امام كے دائیں بائیں پلٹا تو اس نے منبر كی چوڑائی كو مطمح نظر بنایا حالانكہ ا وسكا بطلان بھی ظاہر ہوچكا ہے۔
رابعا: زاویہ حادہ كی مثلث متساوی الاضلاع كے ساتھ تخصیص بھی از خود نطاق میں تنگی پیداكرنا ہے(كہ زاویہ حادہ كچھ متساوی الاضلاع كے ساتھ ہی خاص نہیں)یہ جاہل عمود كی مقدار بھی متعین نہ كرسكا۔اس كو اندازہ سے بیان كیا كہ دو ذراع سے ذراكمحالانكہ عمود كی نسبت ذراعین كی طرف مرفوع كی طرف ناحہ نرماالط بد كی نسبت كی طرح ہے۔اگر وہ جانتا تو كہتا كہ عمود ایك ذراع یا اس سے كم ہوگا۔پھر یہ بھی ضروری نہیں كہ زاویہ منفرجہ میں زاویہ اوروتر كا فصل قائمہ سے كم ہوحالانكہ بسااوقات منفرجہ كافاصلہ قائمہ سے بہت زیادہ ہوتاہے۔اس كی مثال یہ ہے:
#487 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ادرنا علی ا ب القوس واقمان علی نصفہ ح عمود ح ء واخذنا ثمن ح ء فی الطرفین ح ہ ء ر ووصلنا ا رب ب ر فكانت ارب منفرجۃ عمودھا ح ر ورسمنا من ہہ ح موازی ح ب وصلنا اح ب ح فكانت ا ح ب قائمۃ نزلنا منھا عمود ح ط فكان مساویا لح ہ بحكم لد من اولی الاصول وھو سبع ح ر بالفرض فكانت فصل المنفرجۃ سبعۃ امثال فصل القائمۃ ویمكن ان یكون الف ضعف والف الف ضعف كمالایخفی۔ خط ا ب پر ہم نے ایك قوس بنائیاوراب كے نصف پر ہم نے ایك عمود ج ء قائم كیااورہم نے عمود كی دونوں كناروں سے عمودكا ثمن ج ہ اور ء ر ممتاز كیااورل ر ب ر كو ہم نے خطوط سے ملادیاتو ایك مثلث منفرج الزاویہ پیداہوا(كہ زاویہ كا رأس قوس سے نیچے ہے)جس كا عمود ح ر ہےپھر ح ب كے مقابل ہم نے ایك خط ہ ح كھینچا اورہم نے ا ح ب ح كو بذریعہ خطوط ملادیا۔یہ ایك مثلث بن گیاجس كا زاویہ ح قائمہ ہےكیونكہ اس زاویہ كے رأس پر قو س واقع ہے)اب ہم اس زاویہ قائمہ سے ایك عمود ح ط نازل كرتے ہیں تو یہ عمود مقالہ اولی كی ۳۴ویں شكل كی روسے ح ہ كے برابر اس مقداركو ہم ح ر كا ۱/۷ فرض كرائے ہیںتو یہاں منفرجہ كا فاصلہ زاویہ قائمہ اوراس كے وتر كے فاصلہ سے سات گنا بڑھ گیا ہے اورہزار گنا بلكہ لاكھ گنابھی تفاوت ہوسكتاہے تو یہ كہنا كہ منفرجہ كاوتر سے فاصلہ بنسبت قائمہ كے كم ہوگا مطلقاصحیح نہیں ہوا۔پس جب تینون زاویوں كا حال یكساں ہے پھرحادہ كی تخصیص كیسی
#488 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
خامسا: من جہلہ الاشد حسبانہ ان الزاویۃ القائمۃ او المنفرجۃ عند ملتقی خطیہا تسع انسانا بخلاف الحادۃ الذی ذكر ولم یدران التقاء الخطین علی نقطۃ لاتتجزی ولا سعۃ ھناك لحبۃ خردل ولا لعشر عشیرمعشارھا مالم یبلغ الجوھر الفرد۔
وسادسا:ر سم لہ قائمۃ ساقاھاقدرشعیرۃ اونصفہا مثل ھذا امیج بنانی ہے جلد ۲۸ ص ۳۱۱
وقل لہ قم فی زاویۃ ا ب ج ھذہ بحیث تسعك ولایبقی شیئ منك خارجھا فان قال لااستطیع فقد كذب نفسہ لانہ كانت تسعہ حادۃ المثلث المتساوی الاضلاع عند المنبروھذہ اكبرمنھا بقدرنصفھا لانھا قائمۃ والقوائم كلھا متساویۃ فكیف لاتسعك اكبرت او تخلخلت ام تكاثفت القائمۃ وضاقت حتی صارت اصغرمن اصغرمنھا وحینئذیصیرجہلہ خامسا: اس جاہل كا یہ گمان انتہائی جاہلانہ ہے كہ زاویہ قائمہ اورمنفرجہ میں تو انسان كی گنجائش ہوسكتی ہےمگر زاویہ حادۃ علی باب المسجد میں گنجائش نہیں ہوگیاوریہ نہ سمجھ سكے كہ دو۲ خطوں كا نقطہ اتصال تو جزء لایتجزی ہوتاہے جہاں رائی كے ہزارویں حصہ كی بھی گنجائش نہیں تانكہ وہ جو ہر فرد نہ ہو جائے۔
سادسا:اس جاہل نے كہا كہ زاویہ قائمہ اورمنفرجہ میں تو ادمی كا كھڑا ہونا ممكن ہے زاویہ حادہ میں نہیں۔تو انہیں سمجھانے كے لئے ایك مثلث بنایا جائے جس كی دونوں ساقیں جو یا نصف جو كے برابر ہوں اس طرح
امیج بنانی ہے جلد ۲۸ ص ۳۱۱
اوران سے كہا جائے كہ یہ ایك زاویہ قائمہ ہے اپ اس میں یوں كھڑے ہوكر دكھائیے كہ اپ كے جسم كا كوئی حصہ اس سے باہر نہ ہو تو اگر وہ یہ كہیں كہ تو میرے بس سے باہرنہ ہو تو اگر وہ یہ كہیں كہ تو میرے بس سے باہر ہے تو انہوں نے اپنی كہی ہوئی بات جھٹلائی كہ زاویہ قائمہ میں انسان سماسكتاہے كہ وہ كہہ ائے ہیں كہ منبر كے پاس مثلث متساوی الاضلاع كے زاویہ حادہ میں آدمی سماسكتاہے اوریہ زاویہ قائمہ اس حادہ سے دوگنا بڑا ہے كہ یہ زاویہ قائمہ ہے اورسارے ہی زاویے قائمے برابر ہوتے ہیںتو وہاں تو حادہ میں وہ وسعت اوریہاں قائمہ تنگ پڑگیاپس یا تو اپ ہی بھاری بھر كم ہوگٹے یا اپ میں تخلخل ہوگیایا قائمہ ہی تنگ و
#489 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بمرأی عینیہ فیعترف بہ اضطرارالتجریۃ علی نفسہ ومشاھدتہ جھارا ولاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
وسابعا:وزعمہ ان لامكان ھناك لغیر الحادۃ شہادۃ منہ بجھلہ الشدیدمبنی علی زعمہ الطرید۔ان الوتر عرض المنبر وقدعلمت مازھر الحق بہ فظھر و الحمدلله العلی الاكبرولیكن ھذا اخر الكلام وقد اتینا بحمدالله تعالی علی جمیع ما ابد وامن الاوھام ولم نترك الاما یستنكف الھذیان ان شہ بہوقد تكلف بالردعلی قضھا وقضیضھا رسائل اولادی و اصحابی فی ھذہ المسألۃ مثل "اذان من الله "و"وقایۃ اھل السنۃ "و"سلامۃالله لاھل السنۃ "و"نفی العار" و "سیف القہار"و"تعبیرخواب"و"حق نما فیصلہ" و "اللطمات والاسواط"الی غیرذلك مماتافت عشرا ولم تبق لاحدعزرا والحمدلله فی الاولی والاخری فالمرجو من سادتنا واخوتنا العلماء الكرام ادام الله بھم نفع الاسلام ان ینظروابعین الانصاف ویسمحوا برفع الخلاف ویظھروا الحق متكاثف ہوگیایہاں تك كہ اپنے سے چھوٹے سے بھی چھوٹا ہوگیا تب انہیں اپنی جہالت مشاہد ہ میں ائیگیاورخود بذاتہ علی رؤس الاشہاد تجربہ كر كے اعتراف كریں گے۔
سابعا:اور ان كا یہ زعم كہ دروازہ پر زاویہ قائمہ اورمنفرجہ متحقق نہیں ہوگااور بڑی جہالت ہے جس كا مبنی منبر كو وتر مثلث قراردینا ہےورنہ ہم خوب ظاہر كرچكے ہیں كہ یہ تینوں زاویے خارج الباب كیسے پیداہوسكتے ہیںاوریہ ہماری اخری بات ہے جو ان كے تمام اوہام كے ازالہ پرحاوی ہے۔ان اوہام كی بات الگ ہے جس سے ہذیان بھی شرمائے۔ویسے ان كی ہرچھوٹی بری كتھا كا ردمیری اولاد اورمیرے احباب كے رسائل میں ہے جیسے اذان من الله وقایہ اہلسنتسلامۃ الله لاہل السنۃنفی العارسیف القہارتعبیر خوابحق نمازفیصلہ واللطمات والاسواط وغیرہ جن كی تعداد دس تك پہنچتی ہےالله تعالی كے لئے ابتداء اوراسی كیلئے انتہاء میں حمدہے۔ہمارے سرداروں اوران علمائے كرام سے(جن سے الله تعالی نے ہمیشہ نفع پہنچایا)امیدہے كہہ ہماری اس تحریر كا انصاف سے مطالعہ كریں اوررفع خلاف میں كوشش كریں اورحق تعالی كیلئے حق كا اظہار كریں۔بزرگ وبرتررب العالمین كے لئے حمد ہےاورافضل دروداورمكمل سلام اس كے حبیب سید المرسلین خاتم النبیین اوران كے ال واصحاب عظام پرہو
#490 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لاجل الحق تعالی الحق وجل الحق۔والحمدالله رب العالمین وافضل الصلوات واكمل السلام علی سید المرسلین خاتم البنیین والہ الكریم وصحبہ العظام وابنہ الكرام وحزبہ اجمعین عددكل ذرۃ ذرۃ الف الف مرۃ فی كل ان وحین الی ابدالابدین استراح القلم واستنارالحق ان شاء الكریم الاكرم لعشرخلون من شوال المكرم ۱۳۳۳ ھ من الھجرۃ القدسیۃ علی صاحبہا الكریم والہ الكرام اكرم الصلوۃ والتحیۃ امین۔
والحمدلله رب العالمین سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد لله رب العلمین۔ قال بغمہ ورقمہ بقلمہ احدكلاب باب عبدالقادراحمد رضا المحمدی السنی الحنفی البریلوی غفرالله لہ وحقق لہ املہ واصلح عملہ بجاہ المصطفی واھلہ صلی الله تعالی و بارك وسلم علیہ وعلیھم ابداقدرحسنہ وجمالہ وجودہ ونوالہ وافضالہ امینوالحمدلله رب العلمین۔ ان كے صاحبزاے اوران كی تمام جماعت پرہو۔ہر ذرہ كے بدلے ہزار ہزار بار ہران وہر گھڑی ابدالاباد تك۔۰۱شوال ۱۳۳۳ھ(صاحب ہجرت صلی الله تعالی علیہ وسلم پر بزرگ تحیۃ اورسلام ہو)كو قلم نے ارام پایا اور حق روشن ہوا الله تعالی كیلئےحمد اور پاك پروردگار كے لیے پاكی ہے اس سے جو اسكے بارے میں وہ كہتے رہتے ہیں اورسلام ہے پیغمبروں پر اوراسی كے لئے حمدہے جو رب العالمین ہے۔اپنی زبان سے كہااپنے قلم سے لكھا۔شیخ عبدالقادرجیلانی رضی الله تعالی عنہ كے دروازے كے كتے احمد رضا محمدی سنی حنفی بریلوی نے۔الله تعالی اس كو بخشے اس كی امیدیں پوری كرے اوراس كے اہل كو صلاح وفلا ح دےحضور نبی اكرم كے عمل مقبول كے طفیل ان پر اوران كے ال واصحاب پر بركت وسلام اتارےاپنے حسن وجمال اورجودونوال اورانعامات وكرامات كے حساب سے۔امین!
#491 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
كل مردودفنظرجمیع ذلك وحاول ان یستخرج لہ مضرجا من كل تلك المھالك فوسوس الیہ وسواسہ ان یفزع الی عرف عوام یخترعہ مخالفا للغۃ و الشرع واصطلاح الاصول جمیعا لیردبہ جمیع ما سردنا من نصوص القران المجید والحدیث الحمید واقاویل ائمۃ التفسیروشروح الحدیث وكبراء اللغۃ وعظماء الاصول فی تحقیق معانی"بین یدیہ "و "عند"۔فزعم ان كل ذلك بمعزل عما ھو فیہ فان كلامنا فی العرف العام وفیہ بین یدیہ وعندكلامھما للقرب ولیس فیہ القرب الالذلك الوجہ لمخصوص الذی یوجب التصاق الاذان بالمنبر۔فتوھم بھذا النافذ قدخرج وشردعن كل ماوردفان مافی القران و الحدیث والتفسیروالشروح كل ذلك معنی شرعی و ما فی كتب الاصول عرف خاص علمی والكلام فی العرب العام ولم یدران ھذہ حیلۃ ھدمت كل مابنی و ضربت علی راس نفسھا فقضت علیہابالفناء۔
فاولا استندت بقول الراغب فانما كتابہ فی لغۃ العرب اس كے مہلكات سے بچنے كی راہ ڈھونڈتارہاتو اس كے شیطان نے یہ وسولہ ڈالا كہ لغتشرعاصطلاح اصول سب كے خلاف عرف عام كی پناہ لے۔اوراسی ایك حربہ سے قران و حدیث واقاویل ائمہ تفسیروشروح حدیث اورائمہ لغت و اصول نے جو كچھ بھی لفظ بین یدیہ اورند كی تحقیق میں كہا ہے سب سے چھٹكارا حاصل كرے كہ ہماراكلام تو عرف عام ہے اورعرف عام میں بین یدیہ اورعند دونوں كے معنی "قریب" كے ہیں۔اورقریب بھی وہ جو ہم كہہ رہے ہیںجس سے اذان منبر كے نزدیك اورمتصل ہو۔اورسوچا كہ اس سوراخ میں داخل ہوكر ان الفاظ كے سلسلہ میں تما م ارشادات سے نجات مل جائے گی جو قران وحدیث اورتفسیرمیں وارد ہوئے ہیں كہ وہ سب عنداوربین یدیہ كے معنی شرعی كو بتاتے ہیں اور لغات معنی لغوی كا اظہار كرتے ہیں۔كتب اصول معنی اصطلاحی بیان كرتی ہیںاور یہاں تو بحث عرف عام میں ہے اوریہ سمجھ نہ سكا كہ اس كی اس ایك حیلہ سازی نے اس كو ساری عمارت ہی ڈھادی اوركاتاكوتاكپاس كردیا۔

اولا:اپ نے امام راغب اصفہانی كے قول سے استدلال كیا۔ ان كی كتاب
#492 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اوالمحاورات الكریمۃ القرانیۃ وقدعزلتھما معا وقولہ یقال ویستعمل لایخرجہ عن لغۃ العرب الی العرف الجدیدوان اخرج عندك فقد قال فی التاج" یقال بین یدیك لكل شیئ امامك ۔" وفی الرضی" وان عند یستعمل فی القریب والبعید ۔"
وثانیا:مافزعك الی الكشاف والمدارك اولیسامن التفاسیروانا ذكر اما ذكراشرحا للمحاورۃ القرانیۃ و ھی عندك بمعزل عن الاستنادوقولہما"حقیقۃ قولھم "والضمیرفیہ للعرب والعرب لاتتكلم الا بلغتھا واللغۃ تولغت عرب اورمحاورات قران میں ہےاوراپ نے ان دونوں كو چھوڑكر عرف عوام كی پناہ لی(پھر اپ نے اپنے نئے عرف كے لئے ان كی كتاب سے كیسے استدلال كیا)امام راغب كا یہ قول كہ لفط اس معنی میں استعمال ہوتاہے۔اس لفظ كو لغت عرب سے نكال كر عرف جدیدتھوڑا ہی بنادےگا۔ اور اگر اپ كو یہی اصرارہے كہ استعمال كا مطلب جدیدہےتوتاج العروس اور رضی نحوی كے بارے میں كیا كہیں گےوہ بھی تو كہتے ہیں كہ بین یدیہ كے معنی "ہر وہ شے جو تمہارے سامنے ہو"(تاج)اورعند قریب اوربعید دونوں كے لئے مستعمل ہوتاہے(رضی)۔
ثانیا:اپ نے انكشاف اورمدارك كی پناہ كیسے ڈھونڈیكیا یہ تفاسیرمیں سے نہیںان دونوں نے جو كچھ كہا ہے محاورہ قران كی شرح ہےاوراپ قران عظیم كے محاورہ كے نام سے كانوں پرہاتھ دھرتے ہیں۔زمخشری یا امام نسفی نے اپنی تفسیروں میں جو فرمایا "حقیقۃ قولھم"(ان كے قول كی حقیقت)تو "ان "سے مراد عرب ہی ہیںاورعرب كی
#493 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
لاتثبت الا بكلامہافھما متلازمان وفی الاصل ولا امكان لادعاء النقل الابحجۃ وبرھان فصل كیف وان النقل خلاف الاصل۔

وثالثا:كذلك القران العظیم انما نزل بلسنان عربی مبین قال تعالی "انا جعلنہ قرءنا عربیا" وقال تعالی "انہ لحق مثل ما انکم تنطقون ﴿۲۳﴾" ۔فمافیہ الا كانوا یتحرونہ فیما بینھم غیر ماثبت فیہ النقل الشرعی فثبوت معی فی القران ادل دلیل واجلہ علی محاورۃ العرباللھم الان یثبت النقل الشرعی و دون ثبوتہ خرط القتادواوادعاؤہ جزافا امر عظیم فی الفسادقال المحقق علی الاطلاق فی الفتح والبحرفی البحرو الشامی فی ردالمحتار:"الخطاب بول چال تو لغت عرب ہے(توپھر اپ لغت سے كیسے استدلال كرتے ہیں اپ تو عرف عام كے دعویدارہیں)قصہ اصل یہ ہے كہ اپ كے عوام كا عرف بین یدیہ اورعند میں اگرچہ ہوگاتو معنی منقولاورچونكہ نقل خالف اصل ہوتاہے تو اس كے لئے بھی اپ كودلیل لاناپڑے گیوہ كہاں سےلائیں گے
ثالثا:یونہی قران عظیم عربی مبین میں نازل ہوااس پاك كلام میں ہے "ہم نے اس كو عربی زبان میں اتارا"اور"یہ بیشك حق اورتمہارے ہی كلام كی طرح ہے۔"توقران كریم میں عرب كے ہی محاورے ہوں گے۔عربیوں كے محاوروں كے خلاف اگركچھ ہوتو اس كے لئے نقل شرعی كا ثبوت دركارہے۔تو قران میں كوئی لفظ كسی معنی میں بولاجانایہ ہاس بات كی سب سے بڑی دلیل ہوگی كہ اس لفظ كے محاورہ عرب میں یہ معنی ہیںاورمعنی شرعی كے لئے نقل كا ثبوت ضروری ہے۔اورمسئلہ بین یدہ میں اس كاثبوت محالاورخالی دعوی لایعنی بڑ ہے۔حضرت محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور صاحب بحر نے بحرالرائق میںاور علامہ شامی نے رد المحتار میں فرمایا:"قران كا
#494 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
انما باللغۃ العربیۃ ما لم یثبت نقل كلفظ الصلوۃ ونحوہ فیصیر منقولاشرعیا اھ۔"وقال بحرالعلوم فی فواتح الرحموت دعوی النقل دعوی علی الله تعالی فلابدلاثباتھامن قاطع ولیس ھھنا امارۃ ظنیۃ فضلا عن القاطع فلایلیق بحال مسلم ان یجترأعلی الله بمالم بعلم ۔



ورابعا:كل كلام انما یحمل علی عرف التكلم كمانصوا علیہ فی غیر مامقام وسیدنا ساءب بن یزید رضی الله تعالی عنہما من اھل اللسان ولایتكلم الاعلی عرفھم ولم یكن لہ اصطلاح خاص علی خلاف العرف العام وقداطلق"بین یدیہ"علی اذان كان خطاب لغت عرب میں ہی ہے جب تك كہ نقل سے ثابت نہ ہو جیسے لفظ صلوۃ وغیر۔ثبوت نقل كے بعد البتہ یہ منقول شرعی ہوجائے گا۔"حضرت مولانا عبدالعلی بحرالعلوم رحمۃ الہ علیہ فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں:"نقل كا دعوی الله تعالی پر ایك دعو ی ہے تو اس كاثبوت دلیل قطعی سے ضروری ہے اورفیما نحن فیہ علامت طنی بھی نہیں چہ جائیكہ قطعی ہوتو مسلمان كیلئے یہ درست نہیں كہ بے جانے الله تعالی پر یہ جرأت كرے۔"(تواپ جو یہ فرماتے ہیں كہ بین یدیہ كے معنی متصل منبر ہوناہے۔نہ محاورہ قرانی ہے نہ حدیث كی بول چال ہےنہ لغت واصول میں ہے۔یہ تو عرف عوام ہے۔بے ثبوت اپ كا یہ عرف عام پیدا كہاں سے ہوگا)
رابعا:ہر كلام میں متكلم كے محاور اورعرف عام كا لحاظ كیا جاتا ہے۔حضرت ساءب ابن یزیدرضی الله تعالی عنہ اہل عرب اورصاحب لسان عرب ہیں۔اپ كا كلام بھی عربی بول چال اورعربی محاورہ میں ہی ہوگا۔عرف كے خلاف ان كی كوئی خاص اصطلاح نہ ہوگی۔انہوں نے "بین یدیہ "كالفظ مسجد كے دروازہ پر اذان كیلئے استعمال كیااوراسی معنی پرہم نے
#495 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
علی باب المسجد وكذلك بینا فی"عند"عدۃ محاورات عامۃ لاینكرھا الا مكابرفادعاء ان العرف العام خاص اللفظ بما یزعمونہ جھل بالعرف اوفریۃ علیہ۔

وخامسا:یاللعجب زعم ذاك امدعی فی ردكلمات ائمۃ الاصول المتواترہ المتظافرۃ علی ان عند للحضرۃ بقولہ ان كل ذلك لغو لایجدی شیئا انما النظرالی الحقیقۃ العرفیۃ وكل سمع باسم اصول الفقہ یعلم ان مایذكرفیہ اصول للفقہ ولیس مصطلح الفقہ مخالفالما ذكر من معانی الالفاظ فی الاصول وانما البحث ھھنا عن لفط"عند"الواقع فی كلام الفقہاء فان فرض ان ھناك عرفا جدیدا للعامۃ مخالفا لعرف الفقہ والاصول لم یكن فیہ ما یقرعینك فان كلام الفقہاء انما یحمل علی عرف الفقہاء انما دون العوام ولكن التعصب اذا تملك اھلك۔
لفظ عند كے بھی كئی محاورے نقل كئے جس كا انكار ہٹ دھرمی ہے۔اس كے بعد یہ دعوی كرنا كہ عرف عام نے ان لفظوں كو بالكل پاس كے معنی میں خاص كیاہےیا توجہالت ہے یا افتراء پردازی۔
خامسا:علم اصول فقہ كا لفط جو شخص سنے گاوہی یہ فیصلہ كرے گا كہ فن علم فقہ كے قواعدوضوابط اورمصطلحات كیلئے وضع ہےاوریہ بھی یقین كرے گاكہ فقہاء اورعلم اصول فقہ كی اصطلاحات میں كوئی اختلاف نہیںجس لفظ كا جو معنی ائمہ اصول فقہ نے متعین كیا فقہاء كے نزدیك بھی وہ مسلم ہے۔ مسئلہ اذان ثانی میں فقہاء نے عند المنبركا لفظ كتابوں میں استعمال كیا۔ائمہ اصول فقہ نے "عند "كے معنی"حضور" قرار دیے۔توظاہرہے كہ فقہاء كے عرف میں بھی اس لفظ كے یہی معنی ہوں گے۔بالفرض اس لفظ كے لئے كوئی دوسرا عرف بھی ہو اوراس نے كوئی اورمعنی قراردیے ہوں۔ تب بھی یہاں ضرورت تو فقہاء كے عرف كی ہے یہاں یہ لفظ انہیں كے كلام میں استعمال ہوا ہےكسی دوسرے عرف سے كیا سروركار۔دوسراعرف تویہاں كے لئے بالكل بیكار ہے لیكن یہ كیسی بوالعجبی ہے كہ مدعی كسی ڈھٹائی سے ائمہ اصول فقہ كی تصریحات سن كر كہتاہے كہ یہ سب فضول ہے
#496 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
سادسا:ماذا یقول المعاند فی قول العلامۃ خیرالدین الرملی رحمہ الله تعالی فی فتاواہ "فی رجل حلف بالطلاق الثلاث انہ لایشتی عند زوجتہ فی البلد فشتی فی جامعہا لایقع علیہا الطلاق لان الشرط كون التشتیۃ فی البلد عندھا ولم یوجد وعند للحضرۃ الا ان ینوی ذلك والله تعالی تعالی اعلم اھ" بالالتقاط فھذہ مسئلۃ الحلف انما مبنی الحلف علی العرف وقدافصح فیہ ان عند للحضرۃ فظھر ان ما ذكر ائمۃ الاصول ھو العرفوبالجملۃ فالحق ان لا خلف ھھنا بین اللغۃ ولسان الشرع والاصول و الفقہ والعرف كل ذلك متوارد علی ماذكرنا من معانی بین یدی وعند ولیس ھنانقل ولا اشتراك و لا تجوزبل معنی مطلق منتخب علی مصادیقہ یتعین یہاں تو عرف عوام كی ضرورت ہے۔بھلا كلام فقہاء میں عرف عوام كی كیا ضرورت!سچ یہ ہے كہ تعصب ادمی كو اندھا اور بہرا كر دیتاہے۔

سادسا:اخر یہ معاند اس كا كیا جواب دیں گے كہ علامہ خیرالدین رملی رحمۃ الله علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں كہ ایك شخص نے قسم كھائی كہ میری بیوی كو تین طلاقیں اگر میں جاڑے میں اس شہر میں اپنی بیوی كے ساتھ رہوں۔اوراس نے اس شہر كی جامع مسجد یں جاڑاگزاراتو اس عورت پر طلاق نہ پڑے گی كیونكہ شرط جاڑے میں شہر میں بیوی كے ساتھ رہنے كی تھیاوروہ نہیں پائی گئی۔اور عند كا لفظ حضور كے لئے ہے بان ھذا البلد سے اس كی نیت جامع مسجد كی بھی ہوتو طلاق پڑ جائے گی۔مسائل حلف كی نا عرف پر ہے۔اورامام رملی نے صاف بیان كردیا كہ عند حضور كےلئے ہے۔اس سے معلوم ہوا كہ عند كے بارے میں ائمہ اصول نے جو فرمایا وہ بھی معنی عرفی ہی ہے۔خلاصہ كلام یہ ہے كہ یہاں لغوی معنی كا كوئی نائب نہیں۔اورزبان شرع اوراصول وفقہ اورعرف سب لغوی معنی كے ہی موافق ہیںجیسا كہ ہم نے بین یدیہ اور عند كے معنی
#497 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بعضہا فی الكلام بقرائن الكلام كما فصلنا ہ ولله الحمد۔
وسابعا:لئن تنزلنا عن ھذا كلہ فالذی لجاء الیہ الحلیۃ امران الاول بین یدیہ وعند للقرب وقد استندلہ بالراغب وغیرہ وقدمنا انہ غیر مستنكر و لا یفیدہ ولا یضرنا والاخر ان القرب فی العرف العام خاص بما یلصق المؤذن بالخطیب كما یزعمون وھذا ھو الذی فیہ مرامہ ولم یستندفیہ بشیئ سوی شقسقۃ اللسان وقد تقدم من المحاورات مایكذبہ فلم یرجع سعیہ الی طائل۔
وثامنا:تنزلنا عن ھذا ایضافرضنا ان ثمہ عرفا كما تدعی لكن ان كان ففی نفرمثلك من العوام فمالك لاتفرق بین عرف العوام والعرف العام لانہ الكلام ھھنافی عرف الفقہاء الكرام فھل عندك دلیل انھم یحصرون القرب فیما تزعم كلابل كلامھم میں بیان كیا ہےولله الحمد۔
سابعا:اگران سب باتوں سے قطع نظر بھی كرلی جائے تو مذكورہ حیلہ كی ڈھال دوباتیں ہیں یہ كہ عند اوربین یدہ كے معنی "قریب"كے ہیں۔اس كے ثبوت میں راغب وغیرہ سے استدلال كیا ہے۔ہم اس كے جواب میں كہہ چكے ہیں كہ اس سے ہم كوانكار نہیں۔لیكن وہ آپ كو مفید نہیں اورا سے ہمار نقصان نہیں۔دوسری بات یہ كہ قرب عرف عام میں خطیب كے بالكل متصل ہونے كے لئے خاص ہےاوریہی مدعیوں كا خاص مقصد ہےلیكن اس مقصد پر دراز لسانیوں كے علاوہ كوئی دلیل نہیں دی۔اورہم نے ایسے بہت سے محاورات ذكر كر چكے ہیں جس سے اس دعوی كی تكذیب ہوتی ہے تو یہ ساری دراز لسانیاں بے فائدہ۔
ثامنا:اگراس سے بھی قطع نظر كر كے مان لیا جائے كہ یہاں حسب ادعائے مدعی كوئی عرف ہے تو عوام كے كسی گروہ كا ہوگاتو ایك بات تو یہ ہے كہ مدعی یہاں عرف عوام اورعرف عام میں فرق نہیں كرتا۔دوسری بات یہ كہ یہاں ضرورت تو فقہاء كرام كے عرف كی ہے(نہ كہ عرف عوام یا عرف عام كی)تو كیااپ كے پاس كوئی دلیل ہے جس سے ثابت ہوكہ فقہاء قرب كو اسی خاص معنی
#498 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
ناطق ببطلان ماتحكم ولنسردعلیك شیئامنہ فستھدی الی الحق ان ارادالله والافیستہدی غیرك ممن ھدی الله ۔

فاقول: وبالله التوفیق لاشك ان القرب امر اضافی فاذا ذكر الحاشیتان والتفاصل بینھما فلا یمتری غیر مجنون ان القرب لاینتھی الی حدلا یتجاوزہ مالم ینقطع العالم كلہ فكل بعید من شیئ مھما بعد اقرب الیہ بالنسبۃ الی ماھو بعد منہ كالكرسی اقرب الی الارض من العرش مع انہ ابعد الاجسام من الفرش بعدالعرش بحیث لایقدربعدہ الاخالقہ عزوجل ثم من علمہ لكن ربما كون للشیئ بالنظر الی اخر حالۃ یطلق علیہ بالنسبۃ الیہ لفظ القریب مطلقا بدون لحاظ اضافتہ الی شیئ ثالث ولہ وجوہ كثیرۃ مختلفۃ باختلاف المقام۔منھا"قرب التناول"ان میں بولتے ہیں۔اپ كے اس دعوی كے بطلان پر بہت سے دلیلیں ہیں ان یں سے چند كو ہم بیان كرتے ہیں ممكن ہے اپ كو حق كی ہدایت ہو اوراگر مرضی الہی یہ نہ ہو تو كسی دوسرے كو ہی ہدایت ہوگی۔
فاقول:وبالله التوفیق(پس میں الله تعالی كی توفیق سے كہتاہوں)بلاشبہ قرب ایك اضافی چیز ہےتو جب دونوں حدوں كاذكر كردیا جائے تو پاگل ہی یہ خیال كرے گا كہ قرب اسی پر ختم ہےاوراس سے متجاوزنہ ہوگاورنہ جب تك كل عالم ختم نہ ہوجائے۔ہر اگلی منزل قریب ہوسكتی ہے كیونكہ كوئی چیز جو كسی چیز سے دور ہو۔جب ہم اس كو اس سے دور والی چیز كی نسبت سے دیكھیں گےتو یہ قریب ہوجائے گیجیسے كرسی زمین سے بہ نسبت عرش كے قریب ہے اوروہ بہ نسبت اجسام عرش كے بعد زمین سے سب سے زیادہ دورہےاتنا دور كہ اس كی دوری كا اندازہ اس كا پیدا كرنے والا ہی كرسكتاہے یا وہ جسے الله تعالی بتائے۔لیكن بسا اوقات ایك چیز كو بہ نسبت دوسری چیز كے ایسی حالت ہوتی ہے جس پر لفظ قریب كا اطلاق ہوتاہےاوراس میں كسی تیسری چیز كی طرف اضافت كا لحاظ نہیں ہوتا۔اس قرب كی اختلاف مقام كے لحاظ سے مختلف كثیر قسمیں ہیں۔ان سے ایك قرب تناول ہے۔اس كا مطلب
#499 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
یكون الشیئ منك بحیث تصل یدك الیہ كقولہ تعالی"فراغ الی اہلہ فجاء بعجل سمین ﴿۲۶﴾ فقربہ الیہم قال الا تاکلون ﴿۫۲۷﴾" ۔" ومنھا"قرب السمع ان یبلغہ صوتك۔ومنھا قرب السیر"ان لایلحقك كبیر حرج فی الوصول الی۔فلو خص الفقہاء القرب لقرب التناول صلح كلامك وحصل مرامك لكنھم براء عنہ قطعا اكبر كلماتھم تراھم یطلقون القرب و یعنون بہ احدالوجوہ الثلثۃ الاخیرۃ حتی تافت عباراتھم فی تفسیر القرب المطلق عشرافیما یحضر فی الان ولعل مالم اتذكرنحوھا او اكثر۔ وبیان ذالك فی مسائل۔


المسألۃ الاولی:اطبقواان الماء ان كان قریبالم یجز التیمم للمسافروان كان بعیداجاز واختلفواان ای ماء یسمی قریبابالاتفاق علی ان المراد قرب یہ ہوتاہے كہ وہ شے ایسی جگہ ہے جہاں تمہارا ہاتھ پہنچ سكے۔جیسے الله تعالی فرماتاہے كہ "حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہل كی طرف گئے اورایك گرم بھنا ہوا بچھڑالائے اوراسے فرشتوں كے قریب كیا اوران سے كہا كیوں نہیں كھاتے ہو۔ "اوران سے ہے "قرب سمع"جہاں تك اپ كی اواز پہنچ سكے اوران سے ہے "قرب سیر"یہ كہ وہاں تك پہنچنے میں اپ كو زیادہ حرج نہ لاحق ہو۔ تو اگر فقہاء نے اپنے كلام میں قرب كو قرب تناول تك ہی خاص كیا ہوتاتو اپ كا كلام درست ہوا اوراپ كا مقصد حاصل ہوتالیكن "حضرت اس سے قطعی طور پر بری ہیں انكے بیشتر كلمات میں قرب كا لفظ بقیہ تین معنوں میں سےسی ایك كے لئے استعمال ہوا ہے۔فی الوقت قرب مطلق كی تفسیر میں فقہاء كی دس عبارتیں مجھے یادہیں(اورجو مستحضر نہیں وہ بھی اس سے زائدہوں گی)جن كا بیان مندرجہ ذیل مسائل میں ہے:
مسئلہ۱:سب فقہاء كا اتفاق ہے كہ پانی قریب ہوت ومسافر كر تیمم جائز نہیںاور دورہوتو جائزہے اورقرب وبعد مسافت میں اس كے باوجوداختلاف ہوا كہ قرب سے مراد سب كے نزدیك وہی مسافت ہے جو
#500 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
السیر والاجماع علی ان لیس المرادقرب التناول قال فی العنایۃ المنصوص علیہ كون الماء معدوما وھھنا معدوم حقیقۃ لكن نعلم بیقین ان عدمہ مع القدرۃ علیہ بلاحرج لیس بمجوز للتیمم والالجاز لمن سكن بشاطئ البحر وقد عدم الماء من بیتہ فعلنا الحد الفاصل بین البعد والقرب لحوق الحرج اھ۔ وفی البنایۃ لیس لہ ان یتیمم اذا كانلاماء قریبا منہ اھ وفیھا(م)"المیل ھو المختار فی المقدار" (ش) ای مقداربعدالماء وجہ كونہ مختاراان المساقۃ القریبۃ جدا مانع من جواز التیمم والبعد یجوز لہ فقدرالبعد بالمیل لالحاق الحرج الی وصول الماء و عند محمد رحمۃ الله تعالی علیہ شرطہ ان یكون بینہ وبین المصرمیلان وعن ابی یوسف رحمۃ الله تعالی علیہ لوذھب الیہ وتوضأتذھب اسان ہومگر اس پر اجماع ہے قرب تناول مراد نہیں۔صاحب عنایہ فرماتے ہیں:"یہ بات شرع میں منصوص ہے كہ تیمم كےلئے پانی كا معدوم ہونا عذرہے۔اورصورت مسئولہ میں پانی حقیقۃ معدوم بھی ہے لیكن یہ بھی یقینامعلوم ہے كہ پانی نہ ہو مگر باسانی دستیاب ہوجائے۔تو یہ جوازتیمم كے لئے عذر نہیںورنہ دریا كے كنارے گھربنانے والے كے گھر میں پانی نہ ہوتو وہاں بھی وہ تیمم كر نے لگے گا۔اس لئے قرب وبعدمیں حد فاصل حرج كو قراردیا گیا۔"بنایہ میں ہے كہ پانی قریب ہوتو ادمی كو تیمم كی اجازت نہیں۔"اسی میں ہے "مقدارمیں ایك میل كی مسافت معتبر ہے"یعنی پانی كی دوری كی مقدار میں اوراس مقدار كے معتبر ہونے كی وجہ یہ ہے كہ پانی كا بہت قریب ہونا جواز تیمم كو مانع ہے اوربعد سے تیمم جائزہوتا ہے۔تو اس كی مقدارایك میل مقرر كی گئی كہ اس سے زائدحد مقرر كرنے میں مكلف كو پانی تك پہنچنے میں حرج لاحق ہوتا ہے۔اورامام محمد رحمۃ الله علیہ كے نزدیك مسافر اور شہر كے درمیان دو میل كا فاصلہ شرط ہے۔اورقاضی ابویوسف رحمۃ الله تعالی علیہ كے یہاں دوری كی حدیہ ہے كہ پانی كی تلاش كیلئے
#501 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
القافلۃ وتغیب عن بصرہ ویجوز التیمم وھذا احسن جداوقیل اذا كان نائیاعن بصرہ واختلفوا فی النائی قیل قطع میلوعن محمد قطع میلین وقیل فرسخ وقیل جواز قصر الصلوۃوقیل عدم سماع الاذان وقیل عدم سماع اصوات الناسوقیل لو نودی من اقصی المصرلایسمعوفی البدائع ان ذھب الیہ لاینقطع عنہ جلبۃ البعیرویحس اصواتھم واصواب وراء فھو قریبوقیل ان كان بحیث یسمع اصوات اھل الماء فھو قریب۔قال قاضی خاں واكثر المشائخ علیہ وكذاذكرہ الكرخی واقرب الاقوال اعتبارالمیل فان قلت النص مطلق عن اشتراط المسافۃ فلایجوز تقییدہ بالرای قلت المسافۃ القریبۃ غیر مانعۃ بالاجماع والبعیدۃ غیر مانعۃ انے جانے میں قافلہ نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو تیمم جائز ہوگااوریہ بہت عمدہ ہے۔اورایك قول یہ ہے كہ كہ پانی نگاہوں سے دور ہو۔دوری كی تعیین میں پھر اختلاف ہواتو كسی نے ایك میل كہاامام محمد نے دو میل فرمایا۔ایك قول ایك فرسنگ كا ہے۔اوركہا گیا كہ اتنی دورجس كے بعد نماقصركی جاتی ہے۔كسی نے كہا كہ جہاں تك اذان كی اواز نہ پہنچے۔كسی نے كہا كہ اتنی كہ وہاں سے ابادی كا شور نہ سنائی دے اور كہا گیاكہ اتنی دوركہ شہر كے كنارے كھڑے ہوكر پكارا جائے تو مخاطب سن نہ سكے۔بدائع میں لكھا ہے:"اتنی دور كہ وہاں جانے پر قافلہ كا شوروغوغاسنتارہے اورپیچھے والوں كی اواز بھی اتی رہی تو قریب ہے۔"ایك قول یہ بھی ہے كہ پانی كے پاس رہنے والوں كی اواز اتی رہے تو قریب ہے۔قاضیخان نے فرمایا كہ اكثر مشائخ اسی كو مانتے ہیں۔ایسا ہی امام كرخی نے فرمایا۔ اورہمارے نزدیك اقرب الاقوال ایك میل كا اعتبارہے۔اس پر اگركوئی اعتراض كرے كہ ایت قرانی تومسافت كے اشتراط كے بارے میں مطلق ہےاس كو رائے سے مقید كرنا كیسے جائز ہوگاتو میں كہوں گاكہ قریب كامانع ہونا اوربعید كا نہ مانع ہونا ایك اجماعی مسئلہ
#502 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
بالاجماع فجعلنا الفاصل بینہما المیل اھ۔
المسألۃ الثانیۃ:فی التنویر لوكانت البئراوالحوض او النھر فی ملك رجل فلہ ان یمنع مرید الشفۃ من الدخول فی ملكہ اذاكان یجد ماء بقربہ (قال العلامۃ الشامی)قال العلامۃ المقدسی ولم ارتقدیر القرب وینبغی تقدیرہ بالمیل كما فی التیمم اھ و رأیتنی كتبت علیہ اقول فیہ تامل فان العطشان ربما یتضرربذھابہ میلاولافی طلب الماء كذلك المحدث فینبغی احالۃ الامرعلی حالتہ ولعلھم لذا ارسلوہ ولم یقدروہ۔

المسألۃ الثالثۃ : فی شہادات الدرالمختاریجب اداؤھا بالطب بشروط سبعۃ مبسوطۃ فی البحر وغیرہ منھا عدالۃ ہے اس لئے حد فاصل ایك میل كو قراردیاگیااھ۔
مسئلہ۲:تنویرالابصارمیں ہے:"كنواں یا حوض یا نہر كسی ادمی كی ملك ہوںاس سے قریب ہی كیوں اورپانی ہوتوكھانے پینےدھونے اورجانوروں كو پلانے والوں كو وہ اپنے كنویں وغیرہ سے روك سكتاہے۔"علامہ شامی علامہ مقدسی كا قول نقل كرتے ہیں كہ "قرب كی مقداركہیں نظر سے نہیں گزری تو تیمم كی طرح یہاں بھی ایك میل كوہی حد فاصل مقررہونا چاہئیے۔"میں نے شامی كی اس تحریر پر حاشیہ لكھا یہاں ایك میل كی مسافت میں تامل ہے كہ پیاسوں میں بسا اوقات اتنی دور جانے كی تاب نہیں رہتیاورمحدث كا یہ حال نہیں شاید اسی وجہ سے علماء نے كوئی مقدارمتعین نہیں كی۔اور مقدار كا معاملہ مبہم چھوڑدیاتو ہر ضرورت منداپنی ضرورت كے حساب سے قرب وبعد كی مقدار مقرر كرے۔
مسئلہ۳:درمختار كے باب الشہادات میں ہے:"مدعی كے طلب پر گواہ كو سات شرطوں كے ساتھ گواہی دینا واجب ہے جن كا ذكر بحرالرائق وغیرہ میں تفصیل سے ہے جس میں
#503 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
القاضی وقرب مكانہ اھقال البحر ثم الشامی فان كان بعیدا بحیث لا یمكنہ ام یغدوا الی القاضی لاداء الشھادۃ و یرجع الی اھلہ فی یومہ ذلك قالوا لا یاثم لانہ یلحقہ الضرر بذلك و قال الله تعالی ولا یضار كاتب ولا شھید ا ھ


المسألۃ الرابعۃ:فی الذخیرۃ ثم العالمگیریۃ اذا كان المدعی علیہ خارج المصرانہ علی وجھین الاول ان یكون قریبامن المصرفیعدیہ بمجردالدعوی وان كان بعیدالایعد یہ والفاصل بین القریب والبعیدانہ اذا كان بحیث لو ابتكر من اھلہ امكنہ ان یحضر مجلس الحكم ویجیب خصمہ ویبیت فی منزلہ فھذا قریب وان كان یحتاج الی ان یبیت ایك قاضی كی عدالت اورادائے شہادت كی جگہ كا قریب ہونا ہے۔شامی اوربحر الرائق دونوں میں ہی تصریح ہے كہ "اگر قاضی دورہوكہ دن بھر میں گواہی دے كر گواہ اپنے گھر واپس نہ پہنچ سكے تو گواہی دینا واجب نہیں كہ اتنی دور تك انے جانے سےگواہ كو ضرر پہنچےگااورالله تعالی فرماتاہے كہ كہ كاتب اور گواہ كوضرر نہیں دیاجائے گا۔"دیكھئے ان تینوں مثالوں میں قرب سے مراد قرب میسرہے۔(قرب تناول مرادنہیں ہے۔)
مسئلہ ۴:ذخیرہ پھر عالمگیریہ میں ہے جب مدعا علیہ شہر سے باہر ہو تو اس كی دو صورتیں ہیںاگر وہ شہر كے قریب ہے تو قاضی مجرد دعوی كی بنا پر اس كو عدالت میں پیش ہونے كا حكم بھیجے گا اور اگر وہ دور ہے تو ایسا نہیں كرے گاقریب و بعید میں فرق یہ ہے كہ اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں وہ صبح اپنے گھر والوں سے نكلے تو مجلس قضا میں حاضر ہو كر اپنے خصم كو جواب دے كر واپس اپنے گھر والوں كو آكر رات گزارنا ممكن ہوتو قریب شمار ہوگا اور اگر رات كہیں راستے میں گزارنا پڑے تو بعید شمار ہوگا۔ذخیرہ میں یونہی
#504 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فی الطریق فھذا بعید ۔كذا فی الذخیرۃ ملتقطا۔
المسألۃ الخامسۃ: قال امامنا الثانی ابویوسف رضی الله تعالی عنہ فی كتاب الخراج:ثم حمل الاموال(ای الضحاك بن عبدالرحمن الاشعری)علی قدرقربہا وبعدھا فجعل علی كل مائۃ جریب زرع مما قرب دیناراوعلی كل الف اصل مما بعد دینارا(ومثلہ ذكر الفرق بین القریب والبعید من الزیتون)وكان غایۃ البعد عندہ مسیرۃ الیوم والیومین واكثرمن ذلك وما دون الیوم فھو فی القرب وحملت الشام علی مثل ذلك وحملت الموصل علی مثل ذلك (فھذہ كلھا قرب السیر)
المسألۃ السادسۃ:فی مختارالفتاوی ثم الھندیۃ ان كان فی كرم أوضیعۃ یكتفی باذان ہے(التقاط)
مسئلہ ۵: ہمارے امام ثانی امام ابویوسف رضی الله تعالی عنہ نے كتاب الخراج میں فرمایا:پھر اس(ضحاك بن عبدالرحمن اشعری)نے اموال كو ان كے قرب وبعدكی مقدار پر محمول كیاچنانچہ قریبی كھیتی كے ہر سو جریب پر ایك دینارقریبی باغ كے انگوروں كی ہر ہزار بیلوں پر ایك دیناراوردوری كی صورت میں ہر دو ہزار بیلوں پرایك دینار مقرر فرمایا(اوراسی طرح زیتون میں بھی قریب وبعید كے فرق كو ذكركیا)اوربعد كی حد ایك یا دو یا زیادہ دنوں كی مسافت ہےجو اس سے كم تر ہووہ قریب ہے۔شام اورموصل بھی اسی پر محمول ہیں۔


مسئلہ۶:مختارالفتاو ی پھر ہندیہ میں ہے:اگركوئی شخص اپنی جائدادیا باغ میں ہےتو اس كے لئے اپی بستی یا شہر كی اذان كافی
فی الطریق فھذا بعید ۔كذا فی الذخیرۃ ملتقطا۔
المسألۃ الخامسۃ: قال امامنا الثانی ابویوسف رضی الله تعالی عنہ فی كتاب الخراج:ثم حمل الاموال(ای الضحاك بن عبدالرحمن الاشعری)علی قدرقربہا وبعدھا فجعل علی كل مائۃ جریب زرع مما قرب دیناراوعلی كل الف اصل مما بعد دینارا(ومثلہ ذكر الفرق بین القریب والبعید من الزیتون)وكان غایۃ البعد عندہ مسیرۃ الیوم والیومین واكثرمن ذلك وما دون الیوم فھو فی القرب وحملت الشام علی مثل ذلك وحملت الموصل علی مثل ذلك (فھذہ كلھا قرب السیر)
المسألۃ السادسۃ:فی مختارالفتاوی ثم الھندیۃ ان كان فی كرم أوضیعۃ یكتفی باذان ہے(التقاط)
مسئلہ ۵: ہمارے امام ثانی امام ابویوسف رضی الله تعالی عنہ نے كتاب الخراج میں فرمایا:پھر اس(ضحاك بن عبدالرحمن اشعری)نے اموال كو ان كے قرب وبعدكی مقدار پر محمول كیاچنانچہ قریبی كھیتی كے ہر سو جریب پر ایك دینارقریبی باغ كے انگوروں كی ہر ہزار بیلوں پر ایك دیناراوردوری كی صورت میں ہر دو ہزار بیلوں پرایك دینار مقرر فرمایا(اوراسی طرح زیتون میں بھی قریب وبعید كے فرق كو ذكركیا)اوربعد كی حد ایك یا دو یا زیادہ دنوں كی مسافت ہےجو اس سے كم تر ہووہ قریب ہے۔شام اورموصل بھی اسی پر محمول ہیں۔


مسئلہ۶:مختارالفتاو ی پھر ہندیہ میں ہے:اگركوئی شخص اپنی جائدادیا باغ میں ہےتو اس كے لئے اپی بستی یا شہر كی اذان كافی
#505 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
القریۃ اوالبلدۃ ان كان قریبا والافلاوحدالقریب ان یبلغ الاذان الیہ منہا ۔
المسألۃ السابعۃ:قال المحقق فی الفتح یحرم فی الخطبۃ الكلام و ان كان امرابمعروف اوتسبیحاو الاكل والشرب والكتابۃ(الی ان قال)ھذا كلہ اذا كان
قریبابحث یسمع فان كان بعیدابحیث لایسمع اختلف المتأخرون فیہ فمحمد بن مسلمۃ اختار السكوت ونصیر بن یحیی اختارالقراءۃ الخ۔

المسألۃ الثامنۃ:فی الہندیۃ من تكبیرات العیدین عن المحیط عن محمد یری تكبیر ابن مسعود فكبر الامام غیرذلك اتبع الامام الاذاكبرالامام تكبیرا لم یكبرہ احدمن الفقہاء اھ(ثم نقل عن البدائع) لكن ھذا اذا كان بقرب الامام ہےبشرطیكہ قریب ہو ورنہ كافی نہ ہوگی اورقریب ہونے كی حد یہ ہے كہ وہاں سے اذان كی اواز اس تك پہنچ سكتی ہو۔
مسئلہ۷: محقق ابن ہمام نے فتح القدیرمیں ارشادفرمایا:خطبہ كی حالت میں كلام منع ہے گوامربالمعروف ہی كیوں نہ ہو یونہی تسبیح یا كھانا پینا اوركتابت سبھی منع ہے(الی ان قال)یہ احكام اس وقت ہیں كہ مقتدی امام كے اتنا قریب ہوكہ امام كی اواز سن رہا ہواوراگر دورہوكہ امام كی اوازنہیں سن رہا تو متاخرین نے اس بارے میں اختلاف كیاہےحضرت محمد ابن مسلمہ سكوت پسند كرتے ہیں اورنصیرالدین یحیی قراء ت پسند كرتے ہیں۔
مسئلہ۸:عالمگیری كے باب تكبیرات عیدین میں ہے كہ "امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ نماز عید میں تكبیرات زوائدكے بارے میں حضرت ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ كے قول كو پسند كرتے تھے(یعنی چھ زائد تكبیریں)امام اگر اس كے علاوہ اتی تكبیریں كہے جو كسی فقیہ كا مذہب نہ ہوتو مقتدی امام كی پیروی نہ كرے۔"پھر بدائع سے نقل كیا"یہ اس وقت ہے جب
#506 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
یسمع الكبیرات منہ فاما اذاكان یبعد منہ یسمع من المكبرین یاتی بجمیع مایسمع وان خرج من اقاویل الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم لجوازان الغلط من المكبرین فلو ترك شیئامنہا ربما كان المتروك ما اتی بہ الامام ۔
المسألۃ التاسعۃ:فی جمعۃ البحرالرائق ذكر فی المضمر اتقال الشیخ الاجل الامام حسام الدین تجب علی اھل المواضع القریبۃ الی البلدالتی ھی توابع العمران الذین یسمعون الاذان علی المنارۃ باعلی الصوت ۔
المسألۃ العاشرۃ:فی تنویرالابصارلانقتل من امنہ حرا اوحرۃ لو فاسقا بشرط سماعھم ذلك من المسلین فلاامان لوكان بالبعدمنھم ۔ مقتدی امام كے قریب ہو كہ خود اس كے اواز سن رہا ہواوراتنی دور ہوكہ خود اس كی نہ سنتا ہوبلكہ مكبروں سے سن كر ادا كرتاہوتو جتنی سنے سب ہی اداكرے اگرچہ وہ اقوال صحابہ سے بھی باہر ہوكیونكہ غلطی كا امكان مكبروں كی طرف سے بھی ہےو كچھ تكبیریں چھوڑنے میں خطرہ یہ ہے كہ كہیں امام كی كہی ہوئی تكبیریں ہی نہ چھوٹ گئی ہوں۔"
مسئلہ ۹:بحرالرائق كے باب الجمعہ میں ہے:"مضمرات میں ذكر كیا كہ شیخ امام اجل حسام الدین نے فرمایا كہ جمعہ شہر سے قریب والے مواضع كے باشندوں پر واجب ہے جو اتنے قریب ہوں كہ منارہ پر بلند اواز سے اذان كہی جائے توسنیں۔"
مسئلہ ۱۰:تنویر الابصارمیں ہے:"جس كافر كو كسی مسلمان ازاد مردیا عورت نے امن دے دیاگوامن دینے والے فاسق ہی كیوں نہ ہوں اس كا قتل منع ہے اس شرط كے ساتھ كہ امن دینے والوں كی اوازانہوں نے خودسنی ہوتو دوروالوں كو امن نہیں ملے گا۔"
#507 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المسألۃ الحادیۃ عشرۃ :وفی شرح الدرروفی الدر المختار اذا احیی مسلم اوذمی ارضاغیر منتفع بھا و لیست بمملوكۃ لمسلم ولا ذمی وھی بعیدۃ من القریۃ اذا صاح من باقصی العامر(وھو جہوری الصوت بزازیۃ)لایسمع بھا صوتہ ملكہا الخ۔و فی الكفایۃ من الذخیرۃ الفاصل بین القریب والبعید مروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی یقوم رجل جھوری الصورت من اقصی العمرانات علی مكان عال وینادی باعلی صوتہ فای لموضع الذی لایسمع فیہ یكون بعیدا ۔
المسالۃ الثانیۃ عشرۃ:وفی الدرالمختار لوجد قتیلا فی الشارع الاعظم والسجن والجامع لاقسامۃ و الدیۃ علی بیت المال ان كان نائیا ای بعیداعن المحلات والایكن نائیا بل قریبا منھا فعلی اقرب المحلات الیہ (قال الشامی قولہ قریبا منھا)الظاھر ان مسئلہ۱۱:شرح درراوردرمختار میں ہے:"كسی مسلمان یا ذمی نے كوئی بنجر زمین اباد كی اوروہ كسی كی ملك نہ ہونہ مسلمان كی نہ ذمی كی۔اوریہ ابادی سے اتنی دور ہوكہ كنارہ ابادی سے پكاراجائے اورپكارنے والا بلند اواز ہوبزازیہ تو اواز سننے میں نہ ائےتو آبادكرنے والااس زمین كا مالك ہوگا۔"اوركفایہ میں ذخیرہ سے مروی ہے:"قریب وبعید كے درمیان حد فاصل حضرت قاضی ابویوسف رحمۃ الله علیہ سے مروی ہے اپ نے فرمایا ایك بلند آواز ادمی ابادی كے انتہائی سرے سے كسی بلند جگہ كھڑے ہوكر پوری طاقت سے پكارے اوراواز وہاں نہ پہنچے تو وہ بعید ہے۔"
مسئلہ ۱۲:درمختارمیں ہے:"اگر كوئی مقتول شارع عام میں قید خانہ مں اورمسجد جامع میں پایاگیا تو اس كا تاوان كسی پر نہیں ہے ابلتہ اگس كی دیت بیت المال سے ادا كی جائے گی۔ یہ جب ہے كہ وہ جگہیں محلوں سے بعید ہوں۔اور اگرقریب ہوں تو جو محلہ وہاں سے سب سے قریب ہو اس پر تاوان ہے۔ "امام شافعی نے فرمایا كہ "ظاہر
#508 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
المعتبرفیہ سماع الصوت ۔
المسألۃ الثالثۃ عشرۃ :فی الہدایۃ وان وجد فی بریۃ لیس بقربھا ومارۃ فھو ھدروتفسیرالقرب ما ذكرنا من استماع الصوت ۔فہذہ كلہا قرب السمع۔
المسألۃ الرابعۃ عشرۃ:ماقدمنا عــــــہ یہی ہے كہ یہاں قرب سے مراد اواز سننے كا قرب ہے۔"
مسئلہ ۱۳: ہدایہ میں ہے:اوراگرویزرانہ میں مقتول پایاگیا جس كے قریب ابادی نہ ہو تو اس كا خون ضائع ہے۔اور "قریب"كی تفسیروہی ہے جو ہم نے بیان كی كہ وہاں سے اواز سنی جارہی ہو۔"یہ سب مثالیں قرب سماع كی ہیں۔
مسئلہ ۱۴:نفحہ ثانیہ عودیہ میں ہم ذكر

عــــــہ:وفی الھندیۃ من الفتاوی الكبری وھی المسئلۃ الخامسۃ عشرۃ جری بینہ وبین امرأتہ تشاجرمن قبل اختہ فقال لھا ان سبت اختی بین یدی فانت طالق ثلثا ثم دخل الزوج علیہا وھی تشاجر مع اختہ وتسبہا فسمع الزوج ان سبتھا وھی تراہ طلقت لانھا سبتہا بین یدیہ كذا فی الفتاوی الكبری۔ ہندیہ میں بحوالہ فتاوی كبری وارد ہےاوریہ پندرھواں مسئلہ ہے خاوند اوراس كی بیوی كے درمیان خاوند كی بہن كے بارے میں جھگڑاواقع ہوا تو خاوند نے كہا اگر تو نے میرے سامنے میری بہن كو گالی دی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔پھر خاوند اپنی بیوی كے ہاں ایا اور انحالیكہ وہ اس كی بہن كے ساتھ جھگڑا كر رہی تھی اواسے گالیاں دے رہی تھی جنہیں خاوند نے سنا۔اگر گالی دیتے وقت بیوی خاوند كی طرف دیكھ رہی تھی تو طلاق واقع ہوگئی كیونكہ اس نے خاوند كے سامنے اس كی بہن كو گالی دی۔فتاوی كبری میں یونہی ہے۔(ت)
#509 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فی النفحۃ الثانیۃ العودیۃ عن الجوھرۃ النیرۃ ھذا اذا كان الحافظ قریبا منہ ای بحیث یراہ اما اذا بعد بحیث لایراہ فلیس بحافظ ۔فہذاقرب البصر ھذہ مصادیق القرب المطلق فی عرف الفقہاء الكرام فان كان الرسم لدیكم ان خطیبكم یاكل المؤذن او مؤذنكم یبتلع المنبر فنعم لابدمن قرب التناول والافما المعین لہ والحامل علیہ نسأل الله اراء ۃ الحق والھدایۃ الیہ امین۔
وتاسعا قداعترف الرجل ان فی العرف لعندفی كل محل حد علیحدۃ للقرب بقرینۃ القیام فكان علیہ ان یثبت بالدلیل ان قضیۃ مقام الاذان فی القرب عن الامام الحد الفلانیلكنہ ادعی وقنع بالادعاء اللسانی ولو كفت الدعوی للثبوت لقام بالبرھان كل مبھوتفمالك تقر ولا تقروتمیل الی الحق ثم تفر۔
وعاشرا:وقال الله كرائےہیں كہ جوہرہ نیرہ میں ہے:"یہ حكم تب ہے كہ نگراں اس سے اتنی قریب ہوكہ اسے دیكھ رہا ہوا وراتنی دور ہوكہ نہ دیكھے تو وہ حافظ اورنگراں ہی نہیں۔"یہ قرب بصر كی مثال ہے اورفقہاء كرام كے عرف میں یہ سارے مصادیق قرب مطلق كے ہیںتواگر ا پ كے وہاں یی رسم ہو كہ خطیب موذن كو كھاتاہویامؤذن منبر كو نگلتاہوتو ضرور یہاں قرب سے قرب تناول امروہوگاورنہ یہاں قرب تناول كو متعین كرنے اوراس پر برانگیختہ كرنے والی كیاچیز ہے۔ہم الله تعالی سے حق وہدایت كے طالب ہیں۔
تاسعا:یہ شخص اعتراف كرچكاہے كہ عندہر مقام پر قرینہ كے لحاظ سے علحدہ علحدہ قرب كےلئے ہے۔تو اس كو دلیل سے یہ ثابت كرنا چاہئیے تھا كہ مسئلہ مقام اذان میں امام سے قرب كی یہ حد ہے لیكن اس نے ایك دعوی كیا اورثبوت كے لئے اسی دعوی كاكافی سمجھا۔اگر ثبو ت كے لئے صرف دعوی كافی ہوتاتو ہر مہبوت دلیل والا ہوتالیكن ان كا عجیب شیوہ ہے كہ اقراركر كے انكار كرتے ہیں اورحق كی طرف مائل ہوكر اسی سے گریز بھی كرتے ہیں۔
عاشرا:الله تعالی فرماتاہے:
#510 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
عزوجل"وزنوابالقسطاس المستقیم " ولكل شیئ قسطاس وقسطاس الكلام لہ كفتانالشرع والعقل فمن رزق حظامنھما لایحملہ الا علی مایوفقہمااما الجاھل فلابیدہ میزان ولا ھو یعرف الاوزان فاذا امرہ م یفترض علیہ طاعتہ ان قم فصل ركعتین فلاتتأخر لمحۃفلعلہ یقول امر نی بالصلوۃ بغیر وضوء اذل وذھبت اسكب الماء ثم توضأت ثم الی محل الصلوۃ رجعت لفات الفوروقدنبأنی ان لااتأخرلحظۃ۔
ولوحلف زید والله لایسكن ھذہ الدارفتاھب من فورہ للخروج وجعل ینقل المتاع ولم یقصر ومكث فی ھذایومامثلایظن الجاھل انہ قد حنث لانہ لم ینقل یومالكن العالم یعلم ان قدرالوضوء مستثنی فی الاول شرعا وقدرما تیسرلہ فیہ النقل مستثنی فی الثانی عقلافلاینتفی بھما الفورفی الخانیۃ ثم الھندیۃ رجل حلف لایسكن ھذہ الدار "درست میزان سے تولو۔"اورمیزان ومعیار تو ہر چیز كے لئے ہے۔چنانچہ زبان كے ترازوكے دو پلڑے ہیں:شرع اورعقل تو جسے ان دونوں سے حصہ ملا ہے وہ ہربات كو اسی كے موافق محمول كرے گا۔اورجاہل كے ہاتھ میں نہ میزان ہے نہ وہ اوزان كو جانتاہے۔تو جب اس سے كوئی اس كا زبردست حاكم كہے كہ اٹھواورایك لمحہ كی تاخیر كے بغیر نماز پڑھوتو وہ یہ سوچ سكتاہے كہ مجھے تو فی الفور نماز پڑھنے كا بغیر وضو كے حكم ہے اگر میں وضو كرنے كے لئے پانی بہاؤں پھر محل نماز كی طرف لوٹوں تو تاخیر ہوجائیگی حالانكہ مجھے ایك لمحہ بھی تاخیر كی اجازت نہیں۔
یونہی اگرزید نے قسم كھائی كہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔اور فوراہی نكلنے كی تیاری كرنے لگا۔سامان منتقل كرنے میں كوئی كوتاہی نہیں كی اوراسی میں ایك دن لگ گیاتو جاہل گمان كرے گاكہ زید توحانث ہوگیا كہ قسم كے بعد بھی ایك دن اسی گھرمیں رہا۔لیكن عالم خوب جانے گا كہ پہلی صورت میں وضو كرنے كی مقدارشرعامستثنی ہےاوردوسری صورت میں اسانی سے سامان جتنی دیر میں منتقل ہوسكے عقلامستثنی ہے تو اس دیر سے فورامیں خلل نہیں پڑے گا۔خانیہ اور ہندیہ میں ہے: "جس شخص نے
#511 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فخرج بنفسہ واشتغل۔بطلب داراخری لینقل الیھا الا ھل والمتاع فلم یجد داراخری ایاماویمكنہ ان یضع المتع خارج الدار لایكون حانثاوكذالو خرج واشتغل بطلب دابۃ لینقل علیہھا المتاع فلم یجد اوكانت الیمین فی جوف اللیل ولم یمكنہ الخروج حتی الصبح اوكانت الا متعۃ كثیرۃ فخرج وھو ینقل الامتعۃ بنفسہ ویمكنہ ان یستكری الدواب فلم یستكرلایحنث فی جمیع ذلكھذا اذا نقل الا متعۃ بنفسہ كما ینقل الناس فان نقل لاكماینقل الناس یكون حانثا اھ۔
وكذلك اذ جلس عالم یفید ویلقی الدرس او المسائل والناس جلوس صفوفاحتی الباب فجاء احد من الطلبۃ اوسائل المسائل فعاقتہ ھیبۃ المجلس عن الاقتراب بھم وجعل یستمع من بعد قسم كھائی كہ اس گھر میں نہیں رہے گاتو وہ خود گھر سے باہرہوگیااورمنتقل ہونے كے لئے دوسراگھر تلاش كرنے لگاجو چند دن نہ مل سكا۔اہل وعیال اوراسباب اسی گھر میں رہے ۔ اورایسا ممكن تھا كہ اس مكان سے وہ اسباب باہر نكال لے مگر نہیں نكالاتب بھی حانث نہیں ہوگایونہی سواری كی تلاش میں چند روزكی تاخیر ہوئی جس پر سامان لاد كر لے جائےیا قسم رات میں كھائیاورات كی وجہ سے صبح تك نكلنا ممكن نہ ہوسكا۔یوں ہی سامان زیادہ تھا جسے وہ خود ہی اٹھا كر منتقل كرنے لگا اس میں تاخیر ہوئی وہ سواری كرسكتا تھا مگر سواری نہیں كی۔ان سب صورتوں میں وہ شخص حانث نہ ہوگا۔یہ حكم اس صورت میں ہے كہ اس نے از خود سامان اٹھانے میں كوئی كوتاہی نہ كی ہومعمولاجیسا اٹھاتے ہیں ویسا ہی اٹھا یاورنہ حانث ہوگا۔"
ایسے ہی كوئی عالم افادہ وتعلیم یا درس مسائل كےلئے خطاب كر رہا تھا اورسامعین دروازہ تك صف درصف بیٹھے ہوئے تھےكوئی طالب علم یا سائل مسئلہ پوچھنے ایا اس كو مجلس كی ہیبت نے عالم كے قریب ہونے نہیں دیاتو خود عالم نے اسے قریب ہونے كا حكم دیا
#512 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
فامرہ العالم ان یقترب اوامر السلطان بعض حواشیہ بالقربفالجاھل یقول القرب مطلق و المراد بہ فی العرف اقصی مایكون فیركب اكتاف الناس ویتخطی رقابھم حتی یصل الی العالم و یجلس فی حجرہ ویطأفراش الملك ویطلع سریرہ الی ان یلزق جنبہ بجنبہ فیستحق التعذیر فی الدنیا والتعذیب فی الاخرۃوالعیاذبالله تعالیوالعاقل یعرف ان لیس المراد الا القرب السائغ شرعاوعرفا فالسائل لینتھی عندالباب دون مجلس العالم و الحاشیۃ یتقدم الی منتھی منصبہ والبواب الی الباب والوزیرالی قرب السریرثم یقف ویعلم ان الجاھل المستند بالعرف ھوالذی اخطأ العرف فان لمفھوم بالقرب المطلق ھو القدر القدرالسائغ دون تحدی الحد۔
وبالجملۃ الطباق الشرع والعقل والعرف جمیعاان الشیئ یذكر مرسلا ولایراد الاعلی ماعرف منشروطہ وقیودہ وادابہ ومن یقطع النظر عن كال ذلك مقتصرا علی القدر الملفوظ فاسم المجنون اخف القابہ قال الامام الزیلعی فی ذبائح التبیین یابادشاہ نے اپنے بعض حاشیہ نشینوں كو اپنے نزدیك انے كا حكم دیاتو جاہل تو یہی كہے گا كہ مطلقا قریب ہونے كا حكم ہے اور عرف میں اس سے انتہائی قرب مراد ہوتاہے۔تو وہ لوگوں كے كندھوں پر سوار ہوتے اورگردنیں پھلانگتے ہوئے عالم كی گود میں جابیٹھے گااوربادشاہ كے دربار میں فرش كو روندتا تخت پر چڑھ جائے گااوربادشاہ كے پہلو سے پہلو ملاكر بیٹھ جائےگا اور بادشاہ كی تعذیر اوراخرت كی تعذیب كا مستحق ہوگا۔ معاذالله اورعقلمند خوب سمجھے گا كہ یہاں وہی قرب مراد ہے جس كی شرعااورعرفاگنجائش ہےتو سائل دروازہ كے پاس مجلس عالم سے پرے اوربادشاہ كا حاشیہ نشین اپنے منصب تك دربان دروازے تك اوروزیر تخت كے قریب كھڑا ہوجائے گا اورپتا چل جائے گا كہ عرف كے ساتھ دلیل پكڑنے والے جاہل نے عرف كے سمجھنے میں غلطی كیاس لئے كہ مطلقا قرب كا مطلب وہ مقدارہے جہاں تك بڑھنے كی گنجائش ہونہ كہ تمام حدود كو پھلانگنے كا نام ہے۔
خلاصہ كلام یہ كہ لفظ مطلقابولاجاتاہے اورعقل وشرع اور عرف سب اس پر متفق ہیں كہ مراد تمام شروط وقیود واداب كو ملحوظ ركھنے والا مقام ہوتاہے۔اورجو ان سب كو بالائے طاق ركھ كرصرف لفظ كو دیكھے گاتو ایسے ادمی كا سب سے ہلكا لقب پاگل ہوتاہے۔امام زیلعی تبیین الحقائق كی كتاب الذبائح میں فرماتے ہیں
#513 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
الشیئ اذاعرف شروطہ وذكر مطلقاینصرف الیہا كقول الله تعالی اقم الصلوۃ ای بشروطھا اھ۔
واذاعرفت ھذا فلئن فرضنا فرض باطل ان الفقہاء اذا اطلقوا القرب ارادوبہ اقصی مایكون من القرب لم یكن فیہ الا ما یسخن عین السفیہ فانہ لایراد الا اقصی قرب سائغ شرعا۔وقد عرف من الشریعۃ المطھرۃ كراھۃ الاذان فی المسجد فمنتہی قرب المؤذن علی حدودالمسجد ثم فی الحد ایضا استماع و اقرب مواضعہ من المنبرماكان علی محاذاتہ لانا اذا خرجنا من المنبر خطوطا الی اسفل المسجد كان الخط الذاھب علی استقامۃ سمتہ وترالحادۃ وسائرھن اوتار القائمۃ فان قام المؤذن فی احد الطرفین كان بعیدا عن المنبر وان قام بحذائہ كان قریبامنہ بحیث لاقرب فوقہ فكان ھذا معنی قولھم عندالمنبروھو "كہ كسی شے كے شرائط معروف ہوں اوراسے ملطق بولا جائے تو انہیں شرائط كے ساتھ ملحوظ ہوگا جیسا كہ الله تعالی نے فرمایا كہ نماز قائم كروتو اس كا مطلب یہ ہے كہ نماز "كو شرائط كےساتھ قائم كرو۔"
جب صو رت حال یہ ہے تو مان لو كہ فقہاء نے قریب المنبر كہہ كر انتہائی قرب مراد لیا لیكن اس پر نادانوں كی انكھ ٹھنڈی نہ ہونا چاہئیےكیونكہ اس انتہائی قرب سے مراد بھی وہی قرب ہوگا جس كی شریعت میں گنجائش ہواورشرع مقدس كا یہ حكم شائع اورذائع ہے كہ مسجد میں اذان مكروہ ہےایسی صورت میں قرب كی انتہا حدود مسجد تك ہوگیاوراس حد میں بھی سماعت كی گنجائش ہے كہ منبر سے سب سے قریب وہ مقام ہوگا جو اس كے ٹھیك مقابل ہواس لئے كہ جب ہم منبر سے مسجد كی نچلی طرف خطوط كھینچیں تو جو خط سیدھا اس كی طرف جائے وہ حادہ كا وتر ہوگا۔اوربقیہ خطوط قائمہ كے وتر ہوں گے۔تو مؤذن اگرادھر ادھر كے خطوط پر كھڑا ہوگا تو منبر سے دورہوگا كہ اس سے زیادہ قرب ممكن نہیںتو فقہاء كے قول قریبامنہ كے یہ معنی ہوئے كہ قریب ہونے كی جو انتہائی
#514 · الشمامۃ الرابعۃ من عود احراق الخلاف (اختلاف كو خاكستر كر دینے والے عود و عنبر كا چوتھا شمامہ )
اقصی مایسوغ لہ من القرب فوضح الحق۔
ولله الحمد وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولانامحمد والہ وصحبہ اجمعین افضل صلوۃ المسلمین واكمل سلام المسلمین والحمدلله رب العالمین۔ گنجائش نكل سكتی ہےوہاں كھڑاہوتوحق ظاہر ہوگیا۔
الله تعالی كے لئے حمد ہے اورہمارے سردارسیدنا ومولانا محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اوران كے ال وجمیع اصحاب پر پڑھنے والوں كا بہترین درودوسلام ہو۔اخری دعایہ ہے كہ حمد الله رب العالمین كے لئے ہے۔
__________________
رسالہ
شمائم العنبرفی ادب النداء امام المنبر
ختم ہوا
#515 · فضائل و مناقب
فضائل و مناقب

مسئلہ۴:بعض اردوکتابوں میں ہے کہ حضرت فاطمہ زہرارضی الله تعالی عنہا حیض ونفاس سے مبرامنزہ تھیںیہ سچ ہے یا نہیں
الجواب:
یہ حدیث میں ایاہے :
ان ابتنی فاطمۃ حوراء ادمیۃ لمیحض ولم تطمث بیشك میری صاحبزادی بتول زہرا انسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض ونفاس سے پاك ہے۔والله تعالی اعلم
مسئلہ۵: از بنگلور جامع مسجد سید شاہ مرسلہ قاضی عبدالغفارصاحب مورخہ ۱۱جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ۔
حضرت غوث الثقلین رضی الله تعالی عنہ نے "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله "(میرایہ
حوالہ / References کنزالعمال برمز خط عن ابن عباس ∞حدیث ۳۴۲۲۶€مؤسسۃ الرسالہ بیروت∞۱۰۹/۱۲€
بہجۃ الاسرارومعدن الانوارذکر تعظیم الاولیاء لہ الخ مصطفٰی البابی ∞مصرص۱۸€
#516 · فضائل و مناقب
قدم ہر ولی الله کی گردن پر ہے۔ت)فرمایا ہے اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ جن کی تفصیل قران واحادیث سے منصوص نہیں ایسے ماوراء متقدمین ومتاخرین سے ان کو فضیلت ہے۔اورحضرت شیخ احمد سرہندی کے اخر مکتوبات میں ہے کہ مجدد نائب مناب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے ہیں اصل منبع فیوض حضرت غوث الثقلین ہیں ۔
پس اگر کوئی شخص یہ عقید ہ رکھے کہ حضرت غوث الاعظم ان سب اولیاء سے افضل اوران کے بعد خواجہ خواجگان بہاء الدین نقشبند قدس سرہ وحضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ سب کے سب حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالی عنہ کے نائب ہیں تو یہ عقیدہ بخیال صوفیہ جائز ہے یا جائز نہیں
الجواب:
عقیدہ وہ چیز ہے جس کا اعتقادومدار سنیت اوراس کا انکار بلکہ اس میں ترددگمراہی وضلالتاس قسم کے امور ان مسائل سے نہیں ہوتےہاں وہ مسلك جو ہمارے نزدیک محقق ہے اوربشہادت اولیاء وشہادت سیدناخضر علیہ الصلوۃ والسلام وبمرویات اکابر ائمہ کرام ثابت ہے یہ ہی ہے کہ باستثناء انکے جن کی افضلیت منصوص ہے جیسے جملہ صحابہ کرم وبعض اکابرتابعین عظام کہ "والذین اتبعوہم باحسن " (اورجو بھلائی کے ساتھ ان کےپیروہوئے۔ت)ہیںاوراپنے ان القاب سے ممتاز ہیں ولہذا اولیاء وصوفیہ ومشائخ ان الفاظ سے ان کی طرف ذہن نہیں جاتا اگرچہ وہ خود سرداران اولیاء ہیںوہ کہ ان الفاظ سے مفہوم ہوئے ہیں حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے زمانہ میں ہوں جیسے سائر اولیائے عشرہ کہ احیائے موتی فرماتے تھے خواہ حضور سے متقدم ہوں جیسےحضرت معروف کرخی وبایزید بسطامی وسید الطائفہ جنیدوابوبکرشبلی وابو سعید خرازاگر چہ وہ خود حضورکے مشائخ ہیںاورجو حضور کے بعد ہیں جیسے حضرت خواجہ غریب نواز سلطان الہند وحضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی وحضرت سیدنا بہاؤ الملۃ والدین نقشبند اوان اکابر کے خلفاء ومشائخ وغیرہم قدس الله اسرارھم وافاض علینا برکتھم وانوارھم(الله تعالی انکے اسرار کو مقدس بنائے اوران کی برکات وانوار ہمیں عطافرمائے۔ت)حضورسرکارغوثیت مدار بلا استثنا ان سب سے اعلی واکمل وافضل ہیںاورحضور کے بعد جتنے اکابر ہوئے اورتا زمانہ سیدنا امام مہدی ہوں گے کسی سلسلہ کے ہوں یا سلسلہ سے جدا افراد ہوں غوثقطبامامیناوتاد اربعہ مبدلائے سبعہابدال سبعیننقبانجباہردورہ کے عظماء کبرا سب حضور
#517 · فضائل و مناقب
سے مستفیض اورحضور کے فیض سے کامل ومکمل ہیں
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتو اں ہرکجا مینگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایك ہی چراغ ہے اس کی روشنی کےسے جہاں کہیں تودیکھے انجمن بنائے ہوئے ہیں۔ت)
یہ چشی نقشبندیسہروردی ہر اك تیری طرف ائل ہے یا غوث
ملائك کے بشر کے جن کے حلقے تیری ضوماہ ہر منزل ہے یا غوث
بخاراوعراق وچشت واجمیر تیری لوشمع ہر محفل ہے یاغوث
شجر سروسہی کس کے اگائے تیرے معرفت پھول سہی کسی کا کھلایا تیرا
تو ہے نو شاہ براتی ہے یہ ساراگلزار لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہراتیرا
نہیں کس چاند کی منزل میں تیرا جلوہ نور نہیں کس ائینہ کے گھر میں اجالاتیرا
مزرع چشت وبخاراوعراق واجمیر کون سی کشت پہ برسانہیں جھالاتیرا
کس گلستاں کو نہیں فصل بہاری سے نیاز کون سے سلسلہ میں فیض نہ ایاتیرا
راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدام باج کس نہر سے لیتانہیں دریاتیرا
یہ ضرورہے کہ ہر شخص اپنی سرکارکی بڑائی چاہتاہے مگرمن وتو زید وعمروکے چاہے کچھ نہیں ہوتاچاہنا اس کا ہے جس کے ہاتھ میزان فضل ہےغلبہ شوق اورچیزہے اورثبوت دلائل اور۔ہم جو کہتے ہیں خود نہیں کہتےبلکہ اکابر کاارشاد ہے اجلہ اعاظم کاجس پر اعتماد ہےایك تو خود حضوروالا کاوہ فرمان واجب الاذعان کہ قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله (میرا یہ قدم ہر ولی الله کی گردن پر ہے۔ت)
#518 · فضائل و مناقب
کہ حضور والا سے متواتر ہوا اور اکابراولیاء نے بحکم الہی اسے قبول کیا اور قدم اقدس اپنی گردنوں پرلیانیز ارشاد اقدس:
الانس لھم مشائخ والجن لھم مشائخ والملئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکل لاتقیسونی باحد ولا تقیسواعلی احدا۔رواہ الامام الاوحد ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر اللخمی الشطنوفی نورالملۃ والدین ابوالحسن قدس سرہ فی بھجۃ الاسرارقال اخبرنا ابو علی الحسن بن نجم الدین الحور انی قال اخبرنا الشیخ العارف ابو محمد علی بن ادریس الیعقوبی قال سمعت الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ فذکرہ۔ ادمیوں کیلئے شیخ ہیں او رجن کیلئے شیخ ہیں اورفرشتوں کیلئے شیخ ہیں اورمیں ان سب کا شیخ ہوںمجھے کسی پر نہ قیاس کر نہ کسی کو مجھ پر قیاس کرو(اس کو روایت کیا امام یکتا ابوالحسن علی بن یوسف بن حریر لخمی شطنوفی نورالملۃ والدین قدس سرہ نے بہجۃ الاسرارمیںانہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو علی حسن بن نجم الدین حورانی نےانہوں نے کہاہمیں خبر دی شیخ عارف ابومحمد علی بن ادریس یعقوبی نےانہوں نے کہا مین نے شیخ عبد القادر رضی الله تعالی عنہ کو فرماتے سنا(اگے وہی حدیث ذکر کی)۔ ت)
حضور کے زمانہ اقدس کے دو ولی جلیل حضرت سید ابوالسعودبن احمد بن ابی بکر حریمی وحضرت سیدی ابوعمر وعثمن الصریفینی قدس الله سرھمافرماتے ہیں:
والله مااظھر الله تعالی ولایضھر الی الوجودمثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ۔ رواہ ایضا فی بھجۃ الاسرار ۔ خدا کی قسم الله تعالی نے کوئی ولی ظاہر کیا نہ ظاہر کرے مثل شیخ عبدالقادررضی الله تعالی عنہ کے۔(اس کو بھی بہجۃ الاسرارمیں روایت کیاہے۔ت)
سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:
مااوصل الله تعالی ولیا الی مقام الا وکان الشیخ عبد القادر اعلاہ الله سبحانہ وتعالی نے جس ولی کو کسی مقام تك پہنچایا شیخ عبد القادر اس سے اعلی رہے
#519 · فضائل و مناقب
ولاوھب الله المقرب حالاالاوکان الشیخ عبدالقادر اجلہ وما اتخذ الله ولیا کان اویکون الاوھومتأدب معہ الی یوم القیمۃ۔رواہ ایضافی بھجۃ الاسرار عن الشیخ القدرۃ جمال الدین بن ابی محمد بن عبد البصری رضی الله تعالی عنہ سیدنا الخضرعلیہ الصلوۃ والسلام مشافۃ بلاوسطۃ۔والله تعالی اعلم۔ اورجس مقرب کو کوئی حال عطا کیا شیخ عبدالقادر اس سے بالا رہےالله کے جتنے اولیا ہوئے اورجتنے ہوں گے قیامت تك سب شیخ عبدالقادر کا ادب کرتے ہیں۔(اس کوبھی بہجۃ الاسرار میں شیخ مقتداجمال الدین بن ابو محمدبن عبدالبصری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا اورانہوں نے اس کو سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے بالمشافہ بلاواسطہ روایت فرمایا۔والله تعالی اعلم۔)
مسئلہ۶ تا ۱۰: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پورضلع مظفرپورمرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ان مسائل میں کہ:
(۱) جناب باری عزاسمہ کے کتنے نام ہیں اورشہنشاہ جہاں صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کتنے
(۲) سورہ فاتحہ وسورہ اخلاص میں صرف خدا ہی کی تعریف ہے یارسول کی بھی
(۳) جو بزرگ عالم حیات میں اپنے معتقدوں کو تعلیم فرماتے ہیں اگر بعدوصال کے خواب میں تعلیم کرے تو اس پر یعنی خواب کی باتوں پر شرع کی روسے چلنا کیساہے
(۴) سنا ہے کہ حضرت مولا علی رضی الله تعالی عنہ نے لال کافر کو مارا اوروہ بھاگا اورہنوز زندہ ہےایا اس کی کوئی خبر حدیث سے ہےاورکب تك زندہ رہے گاپھر ایمان لائے گایا نہیں
(۵) حنانہ لکڑی جو اپ کے فرق میں نالاں تھی قیامت کے دن اس کا کیا حال ہوگا
الجواب:
(۱) الله عزوجل کے ناموں کا شمار نہیں کہ اس کی شانیں غیر محدود ہیںرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اسمائے پاك بھی بکثرت ہیں کہ اسما مسمی سے ناشی ہےاٹھ سو۸۰۰ سے زائد
#520 · فضائل و مناقب
مواہب وشرح مواہب میں ہیںاورفقیر نے تقریباچودہ سو۱۴۰۰ پائےاورحصر ناممکن۔
(۲)سورہ فاتحہ میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سریح مدح ہے الصراط المستقیم محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں اوران کے اصحاب ابوبکروعمررضی الله تعالی عنہماانعمت علیھم چاروں فرقوں کے سردار انبیاء ہیں انبیاء کے سردار مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔شیخ محقق نے اخبارالاخیارمیں بعض اولیاء کی ایك تفسیر بتائی جس میں انہوں نے ہر ایت کو نعت کردیاہے اس میں سورہ اخلاص بھی داخل ہے۔
(۳) اچھے خواب پر عمل خوب ہے اوراچھا وہ کہ موافق شرع ہو۔
(۴) یہ بے اصل ہے۔
(۵) وہ(استن حنانہ)جنت کا ایك درخت کیا جائے گاکمافی حدیث ۔والله تعالی اعلم
#521 · طرد الافاعی
رسالہ
طردالافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی ۱۳۳۶ھ
(سانپوں(موذیوں)کو دورکرنا اس ہادی کی بارگاہ سے جس نے امام رفاعی کورفعت بخشی)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۱: از بڑوہ ملك گجرات محلہ راجپورہ متصل مانڈوی مرسلہ میاں محمد عثمان ولد عبدالقادر ۲۶شوال ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے کہ جناب قطب الاقطاب غوث الثقلین میراں محی الدین ابو محمد سید عبد القادرجیلانی قدس سرہ اپنے وقت میں غوث یا قطب الاقطاب نہیں تھے بلکہ سیدنا احمد کبیر رفاعی رحمۃ الله علیہ قطب الاقطاب اورغوث الثقلین تھے اورجناب سید عبدالقادر جیلانی نے جناب سید احمد کبیر رفاعی سے مدینہ منورہ میں چند اولیاء کےہمراہ بیعت کی ہے یہ بیعت اس وقت ہوئی کہ جب سید احمدکبیر رفاعی کے لئے مزارانورسے دست مبارك نکلاتھااوراکثر عرب میں سید عبدالقادرجیلانی کو مرقومہ بالاصفتوں سے کوئی نہیں مانتاہاں سید احمد کبیررفاعی کومانتے ہیں۔عمروکہتاہے کہ سیدنا احمد کبیر رفاعی کی ولایت اورقطبیت میں ہمیں بالکل کلام نہیںمگر ان کی تفضیل سیدنا جناب سید عبدالقادرجیلانی قدس سرہ پر نہیں ہوسکتیاورمدینہ منورہ کی بیعت کا کسی جگہ ثبوت نہیں ملتااوراکثر عرب سید عبدالقادرجیلانی
#522 · طرد الافاعی
قدس سرہ کی بہت قدرومنزلت کرتے ہیں اور قطب الاقطاب وغوث الثقلین کی صفتیں حضرت پیران پیر صاحب ہی پر برتی جاتی ہیں۔
اس مضمون پررودہ میں خفیہ خفیہ بحثیں ہوا کرتی ہیںزید کے پیر مرحوم بڑودہ کے رفاعی خاندان کے سجادہ نشین تھے چند روز ہوئے انتقال ہوگیا ہےیہ انہیں کی تحریك وتحریص کا نتیجہ ہے۔ہم مستفسر نیچے ستخط کرنے والے نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ سید احمد کبیر اور سید عبدالقادر میں قطب الاقطاب اورغوث اعظم کون ہےاورعلمائے ماسلف وحال کس کو مانتے ہیں۔
دوسرے مدینہ منورہ کی بیعت کا اورغوث پاك کی نسبت عقائد اہل عرب کا وافی وکافی ثبوت کتب معتبرہ سے تحریر فرما کرمرہون منت فرمائیںاپ کے فتوے کے انے کے بعد ان شاء الله اندرونی تقسیم کابہت سہولت سے فیصلہ ہوجائے گااوریہ ابتدائی مواد بڑھ کر مرض مہلك تك نہ پہنچے گا۔
محمدعثمان ولد عبدالقادربقلم خودمنشی سید قطب الدینعظیم الدین بقلم خودچھوٹے خاںامام خان بقلم خودننھے بھائی رسول بھائی دستخط خود۔
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم ط
الله عزوجل فرماتاہے:
" قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء " تم فرمادوکہ فضیلت الله کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔
اس ایہ کریمہ سے مسلمان کو دو۲ ہدایتیں ہوئیں۔
ایك یہ کہ مقبولات بارگاہ احدیت میں اپنی طرف سے ایك کو افضل دوسرے کو مفضول نہ بتائے کہ فضل تو الله تعالی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطافرمائے۔
دوسرے یہ کہ جب دلیل مقبول سے ایك کی افضلیت ثابت ہوتو نفس کی خواہش اپنے ذاتی علاقہ نسب یا نسبت شاگردی یا مریدی وغیرہ کو اصلا دخل نہ دے کہ فضل ہمارے ہاتھ نہیں
#523 · طرد الافاعی
کہ اپنے اباواساتذہ ومشائخ کو اوروں سے افضل ہی کریں جسے خدا نے افضل کیا وہی افضل ہے اگرچہ ہمارا ذاتی علاقہ اس سے کچھ نہ ہو اورجسے مفضول کیاوہی مفضول ہے اگرچہ ہمارے سب علاقے اس سے ہوں۔یہ اسلامی شان ہے مسلمان کو اسی پر عمل چاہئےاکابرخود رضائے الہی میں فنا تھے جسے الله عزوجل نےان سے افضل کیاکیا وہ اس پر خوش ہوں گے کہ ہمارے متوسل ہمیں اس افضل بتائے۔حاش لله ! وہ سب سے پہلے اس پر ناراض اور سخت غضبناك ہوں گے تو اس سے کیا فائدہ کہ الله عزوجل کی عطا کا بھی خلاف کیا جائے اوراپنے اکابر کو بھی ناراض کیاجائے۔حضرت عظیم البرکۃ سیدا سید احمد کیبر رفاعی قدسنا الله بسرہ الکریم بیشك اکابر اولیاء واعاظم محبوبان خدا سے ہیںامام اجل اوحد سید ی ابوالحسن علی بن یوسف نورالملۃ والدین لخمی شطنوفی قدس سرہ العزیز کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارشریف میں فرماتے ہیں:
الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی رضی الله تعالی عنہ ھذاالشیخ من اعیان مشائخ العراق واجلاء العارفین او عظماء المحققین وصدار المقربین صاحب المقامات العلیۃ والجلالۃ العظیمۃ والکرامات الجلیلۃ والاھوال السنیۃ والافعال الخارقۃ و الانفاس الصادقۃ صاحب الفتح الموفق والکشف المشرق و القلب الانوار والسرا الظھر والقدر الاکبر ۔ یعنی حضرت سیدی احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ سردار ان مشائخ واکابر عارفین واعاظم محققین وافسران مقربین سے ہیں جن کے مقامات بلند اورعظمت رفیع اورکرامتیں جلیل اوراحوال روشن اورافعال خارق عادات اورانفاس سچے عجیب فتح اورچمکا دینے والے کشف اورنہایت نورانی دل اورظاہر ترسر اور بزرگ ترمرتبہ والے۔
یوں ہی دو ورق میں اس جناب رفعت قباب کے مراتب عالیہ ومناقب سامیہ وکرامات بدیعہ وفضائل رفیعہ ذکر فرماتے ہیں۔حضرت ممدوح قدس سرہ الشریف کا روضہ انور سید اطہر صلی الله علیہ وسلم پر حاضر ہونا اوریہ اشعار عرض کرناہے:
فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی وھی نائبتی
وھذہ دولۃ الاشباح قدحضرت فامددیمینك کی تحظی بھا شفتی
#524 · طرد الافاعی
(زمانہ دوری میں میں اپنی روح کو حاضر کرتاتھا وہ میری طرف سے زمین بوسی کرتیاب جسم کی نوت ہے کہ حاضر بارگاہ ہے حضور دست مبارك بڑھائیں کہ میری لب سعادت پائیں۔)
اس پر حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کا دست مبارك روضہ انور سے باہرکرنا اورحضرت احمد رفاعی کااس کے بوسہ سے مشرف ہونا مشہور وماثورہے تنویر الحلك فی امکان رؤیۃ النبی والملك للامام الجلیل السیوطی میں ہے :
لما وقف سید احمد الرفاعی تجاہ الحجرۃ الشریفۃ قال:
فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلہا
تقبل الارض عنی وھی نائبتی
وھذہ دولۃ الاشباح قدحضرت
فامد دیمینك کی تحظی بھا شفتی
فخرجت الیہ الید الشریفۃ فقبلہا ۔ جب میرے سرداراحمد رفاعی حجرہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہوئے تو یوں کہا:جب میں دور ہوتاتو اپنی روح کو بھیجتاتھا جو میری نائب ہوکر میری طرف سے زمین بوسی کرتی تھییہ زیارت کا وقت ہے میں خود حاضرہوا ہوں اپنا دست اقدس بڑھائیں تاکہ میری ہونٹ دست بوسی کی سعادت پائیں۔ چنانچہ حضورانور صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ مبارك اپ کی طرف نکلا جس کو اپ نے چوما۔(ت)
اوربعینہ یہی کرامت جلیلہ حضور پرنور سید نا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے لئے بھی مذکورومزبورہے۔کتاب تفریح الخاطر مناقب الشیخ عبدالقادر میں ہے :
ذکرو ا ان الغوث الاعظم رضی الله تعالی عنہ جاء مرۃ الی المدینۃ المنورہ وقرأبقرب الحجرۃ الشریفہ ھذین البیتین(فذکرھما کما مر وقال)فظھرت یدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فصافحہا ووضعھا علی رأسہ رضی الله تعالی عنہ ۔ یعنی راویوں نے ذکر کیا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہم نے ایك بار حاضر سرکارمدینہ نور بار ہوکرروضہ انور کے قریب وہ دونوں شعر پڑھے اس پر حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا دست انور ظاہر ہوا حضرت غوث نے مصافحہ کیا اوربوسہ لیااوراپنے سر مبارك پر رکھا۔
اورتعددسے کوئی مانع نہیں حضورسرکارغوثیت نے پہلاحج ۵۰۹ھ(پانسونوہجری)میں فرمایا ہے جب عمر شریف اڑتیس۳۸سال تھیحضور سیدی عدی بن مسافر رضی الله تعالی عنہ اس سفر میں ہم رکاب تھے حضرت
#525 · طرد الافاعی
سید احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ اس وقت ام عبیدہ میں خوردسال تھے حضر ت کو گیارہواں عــــــہ سال تھاممکن کہ اس بار حضور سرکارغوثیت نے یہ اشعار بارگہ عرش جاہ میں عرض کئے اورظہوردست اقدس وبوسہ مصافحہ سےمشرف ہوئے ہوں۔
جب حضرت سیدرفاعی رضی الله تعالی عنہ جوا ن ہوئے اورحج کو حاضرہوئے باتباع سرکار غوثیت انہوں نے بھی وہ اشعار عرض کئےاورسرکار کرم کے اس کرم سے مشر ف ہوئے ہوںبہر حال اس پر وہ فقرہ تراشیدہ کہ اس وقت حضور قطب العالمین غوث العارفین رضی الله تعالی عنہ نےحضرت رفیع رفاعی کے ہاتھ پر معاذ الله بیعت فرمائی کذب وافتراء خالص ودروغ بیفروغ ہے اور الله واحد قہارجھوٹ کو دشمن رکھتا ہے نہ کہ ایسا جھوٹ جس سے زمین اسمان ہل جائیں " قل ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " لاؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو"فاذ لم یاتوا بالشہداء فاولئک عند اللہ ہم الکذبون ﴿۱۳﴾" پھر جب وہ گواہان عادل نہ لاسکے تو جو ایسا دعوی کریں الله کے نزدیك وہی جھوٹے ہیں "وقدخاب من افتری ﴿۶۱﴾ " خاب وخاسراہوا جس نے افتراء باندھا۔حضرت رفیع ورفاعی کی قطبیت سے کسے انکار ہےحضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے وصال اقدس کے بعد حضر تسیدی علی بن ہیتی رضی الله تعالی عنہ قطب ہوئےاورسرکار غوثیت کی عطا سے حضرت خلیل صرصری اپنی موت سے سات دن پہلے مرتبہ قطبیت پر فائز ہوئے۔حضرت علی بن ہیتی کا وصال وصال اقدس سرکار غوثیت سے تین سال بعد ۵۶۴ھ میں ہےپھر حضرت سید رفاعی قطب ہوئے
عــــــہ:ابن خلکا کی روایت میں چند مہینے ہی کے تھے زیادہ سے زیادہیا ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔
حیث قال احمد بن ابی الحسن المعروف بابن الرفاعی توفی یوم الخمیس الثانی والعشرین من جمادی الاولی سنۃ ثمان وسبعین وخسمائۃ بام عبیدۃ وھو فی عشر السبعین رحمۃ الله تعالی ۔ اس نے کہا کہ احمد ابن ابوالحسن جو کہ ابن رفاعی کے نام سے مشہور ہیںکا وصال ۲۲جمادی الاولی ۵۷۸ھ بروزجمعرات ام عبیدہ کے مقام پر ہواچنانچہ اپ ستر کی دہائی میں ہوئے رحمہ الله تعالی۔ (ت)
مگر بروایت بہجۃ الاسرار عنقریب آتی ہے اس پر ۵۰۹ھ میں سات آٹھ برس کے ہونگے انتہا درجہ دس۱۰ سال کے۔والله تعالی اعلم۔
#526 · طرد الافاعی
اور۵۷۸ھ میں وصال ہوا۔بہجہ مبارکہ میں ہے:
الشیخ علی بن الھیتی رضی الله تعالی عنہ احد من تذکر عنہ القطبیۃسکن بلدۃ من اعمال نھر الملك الی ان مات بھاسنۃ اربع وستین وخمسمائۃ ۔ جنکی قطیبت کا ذکر کیا جاتاہے ان میں سے ایك شیخ علی بن ہیتی رضی الله تعالی عنہ ہیں جو نہر الملك کے ایك قریہ میں سکونت پذیرہوئے یہاں تك کہ اسی قریہ میں ۵۶۴ھ میں وصال فرمایا۔(ت)
اسی میں ہے :
الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی احد من تذکر عنہ القطبیۃسکن بام عبیدۃ قریۃ بارض البطائح الی ان مات بھا فی سنۃ ثمان وسبعین وخمسمائۃ و قدنا ھذا الثمانین ۔ جن کی قطبیت کا ذکر کیا جاتاہے ان میں سے ایك شیخ احمد بن ابوالحسن رفاعی ہیں جو سرزمین طبائح کے قریبہ ام عبیدہ میں ساکن تھے اوروہان ہی ۵۷۸ھ میں اپ کا وصال ہوا۔اپ نے اسی برس کے قریب عمر پائی۔(ت)
اسی میں ہے حضرت شیخ جاگیر مرید جلیل تاج العارفین ابوالوفاء نے حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کی رفعت شان وبے مثلی بیان کر کے فرمایا:
منہ انتقلت القطبیۃ الی سیدی علی الھیتمی رضی الله تعالی عنہ ۔ ان سے قطبیت میرے سردارشیخ علی بن ہیتی رضی الله تعالی عنہ کی طر ف منتقل ہوئی۔(ت)
اسی میں ہے:
اخبرنا الشیخ الشریف ابوجعفرمحمد بن ابی القاسم العلوی الحسنی قال اخبرنا الشیخ العارف ابو الخیر محمد بن محفوظ قال کنت انا(وفلان و فلان عدعشرۃ انفس من طالبی الاخرۃ وثلثۃ من اھل الدنیا)حاضرین ہمیں شیخ شریف ابو جعفر محمد بن ابوالقاسم علوی حسنی نے بحوالہ شیخ ابوالخیر خبردی کہ ایك روز عارف بالله محمد بن محفوظ اوردس حضرات اورطالبان اخرت اورتین شخص طالبان وزارت وغیرہا مناصب دنیا حاضر بارگاہ عالم پناہ سرکارغوثیت تھے حضور نے
#527 · طرد الافاعی
عند شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلی رضی الله تعالی عنہ فقال لیطلب کل منکم حاجۃ اعطیہا لہ(فذکر حوائجھم منھا)قال الشیخ خلیل بن الصرصری اریدان الاموت حتی انال مقام القطبیۃ قال فقال الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ "کل نمداھؤلاء وھؤلاء من عطاء ربك وما کان عطاء ربك کان محظورا۔"قال فوالله لقد نالواکلہم ماطلبوا ۔ ارشادفرمایا ہر ایك اپنی حاجت عرض کرے میں اسے عطا فرماؤںسب نے اپنی اپنی دینی ودنیوی مرادیں عرض کیں ان میں شیخ خلیل صرصری کی عرض یہ تھی کہ میں اپنی زندگی میں مرتبہ قطبیت پاؤں۔حضور نے فرمایا "ہم ان کی اورانکی سب کی مدد کرتے ہیں رب کی عطاسے اورتیرے رب کی عطا پر روك نہیں۔"عارف موصوف فرماتے ہیں خدا کی قسم جس نے جو مانگا تھا پایا۔
اسی میں حضرت سید ابو عمروعثمن بن یوسف وحضرت علی بن سلیمن خباز وحضرت ابو الغیث ابن جمیل یمنی رضی الله تعالی عنہم سے ہے کہ ان سب نے فرمایا:
قطب الشیخ خلیل الصرصری رحمہ الله تعالی قبل موتہ بسبعۃ ایام ۔ حضرت خلیل صرصری اپنی موت سے سات دن پہلے قطب کئے گئے۔
یہ قطبیت بمعنی غوثیت ہے اوراقطاب اصحاب خدمت کو بھی کہتے ہیں جو ہر شہر وہر لشکر میں ہیں شك نہیں کہ ہر غوث اپنے دورہ میں ان سب اقطاب کا افسر وسرور ہے کہ وہ تمام اولیائے دورہ کا سردار ہوتاہے تو اس معنی پر ہر قط یعنی غوث قطب الاقطاب ہے بلکہ غوث کے نیچے جو عہد ہ داران تمام اصحاب خدمت کا افسر ہوبایں معنی قطب الاقطاب ہےمگر قطب الاقطاب بمعنی اول یعنی غوث الاغواث کہ دوروں کے غوثوں کا غوث ہوغوثوں کو غوثیت اس کی عطا سے ملیت ہو اورغوث اپنے اپنے دورے میں اس کی نیابت سے غوثیت کر تے ہوں وہ سیدنا امام حسن رضی الله تعالی عنہ کے بعد حضور پر نور محی الشریعۃ والطریقۃ والحقیقۃ والدین ابومحمد ولی الاولیاءامام الافرادغوث الاغواثغوث الثقلینغوث الکلغوث اعظم سید شیخ عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی رضی الله تعالی عنہ ہیں اور تاظہور سیدنا امام مہدی رضی الله تعالی عنہ یہ مرتبہ عظمی اسی سرکارغوثیت بار کےلئے رہے گا۔حضرت رفاعی اور ان کے امثال قبل وبعد کے قطبوں کو حضور پر تفضیل دینی ہوس باطل ونقصان دینی ہےوالعیاذبالله تعالی۔اس کے بیان کو ہم چند احادیث مرفوعۃ الاسانید امام اجل اوحد
#528 · طرد الافاعی
سیدی نورالملۃ والدین ابوالحسن علی شطنوفی قدس سرہ الشریف کی تکاب مستطاب بہجۃ الاسرار معدن الانوارسے ذکر کرتے یہں اوراس سے پہلے اتنا واضح کردیں کہ یہ امام جلیل صرف دو واسطہ سے حضور سرکارغوثیت کے مستفیضین بارگاہ میں ہیں ان کو محدث جلیل القدر ابوبکر محمد ابن امام حافظ تقی الدین انماطی سے تلمذ ہے ان کو امام اجل شہیر علامہ موفق الدین ابن قدامہ مقدسہ سے ان کو حضور قطب الاقطاب غوث الاغواث غوث الثقلین غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ سےنیز ان کو امام قاضی القجاۃ محدم ابن امام ابراہم بن عبدالواحد مقدسی سے ان کو امام ابوالقاسم ہبۃ الله بن منصور نقیب السادات سے ان کو حضور سید السادات سےنیز ان کو شیخ جنید ابو محمد حسن بن علی لخمی سے ان کو ابو العباس احمد بن علی دمشقی سے ان کو سرکارغوثیت سےنیز ان کو امام صفی الدین خلیل بن ابی بکر مراعی وامام عبدالواحد بن علی بن احمد قرشی سے ان دونوں کو امام اجل بو نصر موسی سے ان کو اپنے والد ماجد حضور سید نا غوث اعظم سےرضی الله تعالی عنہم اجمعیناوان کے سوا اوربہت طرق سے ان امام جلیل کی سند حضور تك ثنائی یعنی صرف دو واسطہ سے ہے۷۱۳ھ میں ان کاوصال شریف ہےاکابراجلاء نے انہیں امام مانا یہاں تك کہ امام فن رجال شمس ذہبی نے بانکہ اولا ان کی نگاہ دربارہ رجال کس درجہ بلندودشوار پسند واقع ہوئی ہے۔
ثانیا انہیں حضرات صوفیہ کرام رضی الله تعالی عنہم اورانکےعلوم الہیہ سے ہبتکم عقیدت بلکہ تقریبا بلاکلیہ مجانبت ہے۔
ثالثا اشاعرہ کےساتھ انکا برتاؤمعلوم ہے خود انکے تلمیذ اجل امام تاج الیدن سبکی ابن امام اجل برکۃ الانام تقی الملۃ والیدن علی بن عبدالکافی قدس رہما نے تصریح فرمائی کہ شیخنا الذھبی اذا مر باشعری لایبقی ولا یذرا ہمارے استاذذہبی جب کسی اشعری پرگزرتے ہیں تولگی نہیں رکھتےکچھ باقی نہیں چھوڑتے۔اورامام اجل صاحب بہجہ اشعری ہی ہیں۔
رابعامعاصرت دلیل منافرت ہے اورذہبی ان اماماجلیل کے زمانے میں تھے انکی مجلس مبارك میں حاضر ہوئے ہیں باینہمہ انکے مداح ہوئے اوراپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کو الامام الاوحد کےلفظ سے یاد فرمایایعنی امام یکتاامام الشان ذہبی کے یہ دولفظ تمام مدائح ومدارج توثیق وتعدیل واعتماد وتعویل کو جامع ہیں فرماتے ہیں:
علی بن یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی علی بن یوسف بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتا
#529 · طرد الافاعی
الامام الاوحد المقری نور الدین شیخ القراء بالدیار المسریۃ ابوالحسن اصلہ من الشام ومولدہ بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وسستمائۃ وتصدر للاقراء والتدیس بالجامع الازھر وقدر حضرت مجلس اقرائہ واستانست بسمتہ وسکوتہ ۔ صاحب تعلیم فرقان حمید تمام بلاد مصر میںشیخ القراء ابوالحسن کنیت انکی اصل شام سے اورولادت قاہرہ میں ۶۴۴ھ چھ سو چوالیس میں پیداہوئے اورجامع ازہر میں درس وتعلیم کی صدارت فرمائی مین انکی مجلس درس میں حاضر ہوا اورانکی روش وخاموشی سے انس پایا۔
امام جلیل عبدالله بن سعد یافعی قدس سرہ الشریف مرأۃ الجنان میں فرماتے ہیں:
اما کرامتہ رضی الله تعالی عنہ فخارجۃ عن الحصر وقد ذکرت شیئا منھا فی کتاب نشر المحاسن وقد اخبرنی من ادرکت من اعلام الائمۃ الاکابر ان کرامتہ تواترت وقریب منالتواتر ومعلوم بلا اتفاق انہ لم یظھر ظہور کراماتہ لغیرہ من شیوخ الافاقوھا انا اتصر فی ھذا الکتاب علی واحدۃ منھا وھی ماروی الشیخ الامام الفقیہ العالم المقری ابو الحسن علی بن یوسف بن جریربن معضاد الشافعی اللخمی فی مناقب الشیخ عبدالقادررضی الله تعالی عنہ بسندہ من خمس طرق وعن جماعۃ من الشیوخ الجلۃ اعلام الھدی العارفین المقنتین للاقتداء یعنی حضور پرنورسید نا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کی کرامات شمار سے زیادہ ہیں انہیں سے کچھ ہم نے اپنی تکاب نشر المحاسن میں ذکر کیں اورجتنے مشاہیر اکابر امام وں کے وقت میں نے پائے سب نے مجھے یہی خبر دی کہ سرکار غوثیت کی کرامات متواتر یا قریب تواتر ہیں اوربالاتفاق ثابت ہے کہ تمام جہان کے اولیاء میں کسی سے ایسی کرامتیں ظاہر نہ ہوئیں جیسی حضور پرنورسے ظہور میں ائیں اس کتاب میں ان میں سے صرف ایك ذکر کرتاہوں وہ جسے روایت کیا شیخ امام فقیہ العالم مقری ابوالحسن علی بن یوسف بن جریری بن معضاد شافعی لخمی نےمناقب حضور غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ (کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارشریف)میں اپنی پانچ سندوں سے اورعظیم اولیاء ہدایت کے نشانوں عارفین بالله کی ایك جماعت (یعنی سیدی ۱عمران کمیمانی و۲سیدی عمر زار و۳سیدی ابو السعود)
#530 · طرد الافاعی
قالوا جاء ت امرأۃ بولدھا الحدیث۔ مدلل و۴سیدی ابوالعباس احمد صرصری وامام اجل سیدنا تاج الملۃ والیدنابو بکر عبدالرزاق وسیدی امام ابوعبدالله محمد بن ابی المعالی بن قائداوانی رضی الله تعالی عنہم)
وقدخرجت عن حقی فیہ لله عزوجل ولک)سے کہ ایك بی بی اپنا بیٹا خدمت اقدس سرکارغوثیت میں چھوڑگئیں کہ اس کا دل حضور سے گرویدہ ہے میں الله کے لئے اورحضورکےلئے اس پراپنے حقوق سے درگزریحضور نے اسے قبول فرما کر مجاہد ے پر لگادیا ایك روز اس کی ماں ائیں دیکھالڑکا بھوك اورشب بیداری سے بہت زار نزار زرد رنگ ہوگیا ہے اوراسے جوکی روٹی کھاتے دیکھاجب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئیں دیکھاحضورکے سامنےایك برتن میں مرغی کی ہڈیاں رکھی ہیں جسے حضور نے تناول فرمایا ہےعرض کی اے میرے مولی!حضور تو مرغ کھائیں اورمیرا بچہ جو کی روٹی۔یہ سن کرحضور پرنور نےاپنا دست اقدس ان ہڈیوں پر رکھا اور فرمایا:
قومی باذن الله تعالی الذی یحیی العظام جی اٹھ الله کے حکم سے جو بوسیدہ ہڈیوں کو جلائے گا۔
یہ فرمانا تھا کہ مرغی فورا زندہ صحیح سالم کھڑی ہوکر اواز کرنے لگیحضور اقدس نے فرمایا:جب تیرابیٹا ایساہوجائے وہ جوچاہے کھائے ۔
اورانہیں سب ائمہ عارفین نے فرمایاکہ ایك بارحضور کی مجلس وعظ پر ایك چیل چلاتی ہوئی گزری اس کی اواز سے حاضرین کے دل مشوش ہوئے حضور نے ہوا کو حکم دیا:اس چیل کا سر لے۔فوراچیل ایك طرف گری اوراس کا سر دوسری طرف۔پھر حضور نے کرسی وعظ سے اترکر اس چیل کواٹھا کر اس پر دست اقدس پھیرا اوربسم الله الرحمن الرحیم کہا فورا وہ چیل زند ہ ہوکر سب کے سامنے اڑتی چلی گئی ۔ع
قادراقدرت توداری ہرچہ خواہی اں کنی مردہ راجانے دہی وزندہ رابے جاں کنی
(اے قادر!تو قدرت رکھتاہے جوچاہتاہے وہی کرتاہےمردہ کو توجان دیتاہے اورزندہ کو بے جان کرتاہے۔ت)
امام محدث شیخ القراء شمس الملۃ والدین ابوالخیرمحمد محمد محمد ابن الجزری رحمہ الله تعالی کتاب نہایۃ الدرایات
#531 · طرد الافاعی
فی اسماء رجال القراء ات میں فرماتے ہیں:
علی بن یوسف بن جریرفضل بن معضاد نورالدین ابوالحسن اللخمی الشطنوفی الشافعی الستاذ المحقق البارع شیخ الدیار المصریۃ ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وستمائۃ وتصدرللاقراء بالجماع الازھر و تکاثر علیہ الناس الاجل الفوائدوالتحقیق وبلغنی انہ عمل علی الشاطبیۃ شرحافلو کان ظھر لکام اجود شروحہا ولہ تعالیق مفیدۃقال الذھبی وکان ذا عزام بالشیخ عبدالقادر الجیلی رضی الله تعالی عنہ جمع اخبارہ ومنا قبہ فی ثلاث مجلداتقلت وھذا الکتاب موجود بالقاھرۃ بوقف الخانقاہ الصلاحیۃ و اخبرنی بہ و اجازہ شیخنا الحافظ محی الدین عبد القادرالحنفی وغیرہ توفی یوم السبت اوان الظھر و دفن یوم الاحدالعشرین من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث عشرۃ و سبعمائۃ رحمہ الله تعالی ۔ یعنی علی بن یوسف بن جریربن فل بن معضاد نورالدین ابو الحسن لخمی شطنوفی شافعی استاد محقق بارع یعنی ایسے جلیل فضائل والے کہ انہیں دیکھ کر ادمی حیرت میں رہ جائے۔تمام بلادمصر یہ کے شیخ ۶۴۴ھ میں قاہرہ میں پیداہوئے اورجامع ازہر میں مسند درس پرجلوس فرمایا اور ان کے فوائدوتحقیق کے باعث لوگوں کا پرہجوم ہوا اورمجھے خبر پہنچی ہے کہ شاطبیہ مبارکہ پر انکی شرح ہے اگریہ شرح ملتی تو اس کی سب شرحوں سے بہترین شروح میں ہوتی۔ان کے حواشی فائدہ بخش ہیں۔ذہبی نے کہا ان کو سرکار غوثیت سے عشق تھا۔حضور کے حالات وکمالات تین مجلد میں جمع کئے ہیں۔میں شمس جزری کہتا ہوں کہ یہ کتاب قاھرہ میں خانقاہ حضرت صلاح الدین انار الالله برہانہ کے وقف میں موجود ہے۔ہمارے استاذ حافظ الحدیث محی الدین عبدالقادری حنفی وغیرہ استازوں نے ہمیں اس کتاب کی روایات کی خبر ومضامین کی اجازت دی۔حضر ت مصنف کتاب ممدوح کا روز شنبہ وقت ظہر وصال ہوا اور روزیکشنبہ ذی الحجہ ۷۱۳ھ کو دفن ہوئے رحمۃ الله تعالی علیہ۔
امام عمر بن عبدالوہات عرضی حلبی نے اپنے نسخہ میں کتاب مبارکہ بہجۃ الاسرار شریف میں لکھا:
قد تتبعتھا فلم اجد فیھا نقلا الاولہ یعنی بیشك میں نے اس کتاب بہجۃ الاسرارشریف کو
#532 · طرد الافاعی
فیہ متابعون وغالب ما اوردہ فیھا نقلہ الیافعی فی اسنی المفاخر وفی نشرالمحاسن وروض الریاحین عــــــہ وشمس الدین الزکی الحلبی ایضا فی کاب الاشراف وعظم شئی نقل عنہ انہ احیی الموتی کاحیائہ الدجاجۃ ولعمری ان ھذہ القصہ نقلھا تاج الدین السبکی ونقل ایضا عن ابن الرفاعی وغیرہ و انی لغبی جاھل حاسد ضیع عمرہ فی فھم ما فی السطور وقنع بذلك عن تزکیۃ النفس واقبالھا علی الله سبحنہ وتعالی وان یفھم ما یعطی الله سبحنہ وتعالی اولیاء ہ من التصریف فی الدنیا والاخرۃ ولھذا قال الجنید التصدیق بطریقتنا ولایۃ ۔ اول تااخر جانچا تو اس میں کوئی روایت ایسی نہ پائی جسے اور متعدد اصحاب نے روایت نہ کیا ہو اوراس کی اکثر روایتیں امام یافعی نے اسنی المفاخر ونشرالمحاسن وروض الریاحین میں نقل کیں۔یوں ہی شمس الدین زکی حلبی نے کتاب الاشراف میں اورسب سے بڑی چیز جو بہجہ شریفہ میں نقل کی حضور کا مردے جلاناہے۔جیسے وہ مرغ زندہ فرمادیااورمجھے اپنی جان کی قسم یہ روایت امام تاج الدین سبکی نے بھی نقل کیاور یہ کرامت ابن الرفاعی وغیرہ اولیاء سے بھی منقول ہوئیاورکہاں یہ منصب کسی غبی جاہل حاسد کو جس نے اپنی عمر تحریر سطور کے سمجھنے میں کھوئی اورتزکیہ نفس وتوجہ الی الله چھوڑ کر اسی پر بس کی کہ اسے سمجھ سکے جو کچھ تصرفوں کی قدرت الله عزوجل نے اپنے محبوبوں کو دنیا واخرت میں عطافرماتاہے اسی لئے سیدنا جنید رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:ہمارے طریقے کا سچ ماننا بھی ولایت ہے۔
اقول:بحمدالله یہ تصدیق ہے امام مصنف قدس سرہ کے اس ارشاد کی خطبہ بہجہ کریمہ میں فرمایا کہ:
لخصتہ کتابا مفردامرفوع الاسانید معتمد افیھا علی الصحۃ دون یعنی میں نے اس کتاب یکتا کر کے مہذب ومنقح فرمایا اوراس کی سندیں منتہی تك پہنچائیں جن میں خاص اس صحت پر اعتماد کیا کہ شذوذ

عــــــہ:یرید تکملتہ ۱۲منہ غفرلہ۔
#533 · طرد الافاعی
الشذوذ ۔ سے منزہ ہویعنی خالص صحیح ومشہورروایات لیں جن میں نہ ضعیف ہےنہ غریب وشاذ۔والحمدلله رب العالمین۔
امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ الله تعالی حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ میں فرماتے ہیں:
علی بن یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی الامام الاوحد نور الدین ابوالحسن شیخ القراء بالدیار المصریۃ ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع اربعین وستمائۃ و تصدر للاقراء بالجامع الازھر وتکاثرعلیہ الطلبۃ مات فی ذی الحجۃ سنۃ ثلاث عشروسبعمائۃ ۔ علی بن یوسف بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتانورالدین ابوالحسن دیارمصرمیں شیخ القراء قاہرہ یں ۶۴۴ھ میں پیداہوئے اور جماع ازہر میں مسند تدریس پرجلوس فرمایا طلبہ کا ہجوم ہوا ذی الحجہ ۷۱۳ھ میں انتقال فرمایا۔
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی رحمہ الله زبدۃ الاثارمیں فرماتے ہیں:
بہجۃ الاسرارمن تصنیف الشیخ الامام الاجل الفقیہ العالم المقری الاوحد البارع نور الدین ابی الحسن علی بن یوسف الشافعی اللخمی وبینہ وبین الشیخ واسطتان ۔ بہجۃ الاسرارتصنیف شیخ امام اجل فقیہ عالم مقری یکتا بارع نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف شافعی لخمی ان میں اورحضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ میں دو واسطے ہیں۔
نیز اپنے رسالہ صلاۃ الاسرار میں فرماتے ہیں:
کتاب عزیز بہجۃ الاسرارومعدن الانوار معتبر ومقررومشہور و مذکورست ومصنف اں کتاب از مشاہیر مشائخ وعلماء ست میان وے وحضرت شیخ رضی الله تعالی عنہ دو واسطہ است و مقدم است برامام عبدالله یافعی کتاب عزیز "بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار"قابل اعتبارپختہ اور مشہورومعروف ہے۔اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ مشہور علماء ومشائخ میں سے ہیں۔اپ کے اورسر کارغوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے درمیان دوواسطے ہیںاپ امام عبدالله
#534 · طرد الافاعی
رحمۃ الله علیہ کہ ایشان نیز از منتسبان سلسلہ ومحبان جناب غوث الاعظم اند ۔ یافعی علیہ الرحمہ پر مقدم ہیں۔امام یافعی علیہ الرحمہ بھی سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے سلسلہ عالیہ سے نسبت رکھنے والوں اوراپ سے محبت رکھنے والوں میں سے ہیں۔ (ت)
اسی میں ہے :
ایں فقیر درمکہ معظمہ وددرخدمت شیخ اجل اکرم اعدل شیخ عبدالوہاب متقی کہ مرید امام ہمام حضرت شیخ علی متقی قدس الله سرہما بودند فرمودند بہجۃ الاسرارکتاب معتبرستمانزیك ایں زمان مقابلہ کردہ ایم وعادت شریف چناں بودکہ اگرکتابے مفید ونافع باشد مقابلہ می کردند وتصحیح می نمودند دریں وقت کہ فقیر رسید بمقابلہ بہجۃ الاسرارمشغول بودند ۔ یہ فقیر مکہ مکرمہ میں انتہائی جلالتکرم اورعدل کے ماك شیخ عبدالوہا ب متقی کی خدمت اقدس میں حاضرتھا جو امام ہمام حضرت شیخ علی متقی قدس الله سرہ کے مرید ہیںاپ نے ارشاد فرمایا کہ "بہجۃ الاسرار"ہمارے نزدیك معتبر کتاب ہے جس کا ہم نے حال ہی میں مقابلہ کیا ہے۔اپ کی عادت شریف یہ تھی کہ اگر کوئی کتاب فائدہ مند اورنفع بخش ہوتی تو اس کا مقابلہ کرتے اورتصحیح فرماتے تھےجس وقت یہ فقیر وہاں پہنچا تو اپ بہجۃ الاسرارکے مقابلہ میں مصروف تھے۔(ت)
الحمدلله ان عبارات ائمہ واکابر سے واضح ہوا کہ ۱امام ابوالحسن علی نورالدین مصنف کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارامام اجل امام یکتا محقق بارع فقیہ شیخ القراء منجملہ مشاہیر مشاءخ علماء ہیںاوریہ ۲ کتاب مستطاب معتبر ومتعمد کہ اکابر ائمہ نے اس سے استناد کیا اورکتب حدیث کی طرح اس کی اجازتیں دیں۔۳کتب مناقب سرکارغوثیت میں باعتبارعلوا اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں موطائے امام مالك کا۔اور۴کتب مناقب اولیاء میں باعتبارصحت اسانیداس کا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں صحیح بخاری کابلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث شاذبھی نہیںامام بخاری نے صرف صحت کا التزام کیا اور ان امام جلیل نے صحت وعدم شذوذدونوں کااوربشہادت علامہ عمر حلبی وہ التزام تام ہوا کہ اس کی ہر حدیث
#535 · طرد الافاعی
کے لئے متعددمتابع موجودہیں والحمدلله رب العالمین ایسے امام اجل اوحد نےایسی کتاب جلیل معتمد میں جو احادیث صحیحہ اس باب میں روایت فرمائیں ہیں یہاں عدد مبارك قادریت سے تبرك کے لئے ان سے گیارہ حدیثیں ذکر کر کے باذنہ تعالی برکات دارین لین وبالله التوفیق۔
حدیث اول: قال رضی الله تعالی عنہ اخبرنا ابومحمد سالم بن علی الدمیاطی قال اخبرنا الاشیاخ الصلحاء قداۃ العراق الشیخ ابو طاھربن احمد الصرصری والشیخ ابوالحسن الخفاف البغدادی والشیخ ابو حفص عمر البریدی والشیخ ابوالقاسم عمر الدر دانی والیشخ ابوالولید زید بن سعید والشیخ ابو عمر وعثمن بن سلیمن قالوا اخبرنا(الشیخان) ابو الفرج عبدالرحیم وابوالحسن علی ابنا اخت الشیخ القدوۃ احمد الرفاعی رضی الله تعالی عنہقالا کنا عند شیخنا الشیخ احمد بن الرفاعی بزاویتہ بام عبیدۃ فمد عنقہ وقال علی رقبتیفسئلناہ عن ذلك فقال قد قال الشیخ عبدالقادر الان بغداد قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله ۔
حدیث دوم:(قال قدس سرہ)اخبرنا الشریف الجلیل ابوعبدالله محمد بن الخضربن عبدالله بن یحیی بن محمد الحسینی الموصلی قال:اخبرنا ابوالفرج عبدالمحسن ویسمی حسن ابن محمد بن احمد بن مصنف رضی الله تعالی عنہ نے کہا کہ ہم سے ابو محمد سالم بن علی ومیاطی نے حدیث بیان کیکہا ہم کو چھ مشائخ کرام پیشوایان عراق حضرت ابو طاہر صرصری وابوالحسن خفاف وابو حفص بریدی وابوالقاسم عمر و ابوالید زید وابوعمرو عثمان بن سلیمان نے خبردی ان سب نے فرمایا کہ ہم کو حضرت سید ی احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ کے دونوں بھانجوں حضرت ابو الفرج عبدالرحیم وابوالحسن علی نے خبردی کہ ہم اپنے شیخ حضرت رفاعی رضی الله تعالی عنہ کے پاس ان کی خانقاہ مبارك میں میں ام عبیدہ میں ہے حاضر تھے حضرت رفاعی نے اپنی گردن مبارك بڑھائی اور فرمایا:علی رقبتی میر ی گردن پر۔ہم نے ا س کا سبب پوچھافرمایا:اسی وقت حضرت شیخ عبدالقادرنے بغداد میں فرمایا ہے کہ میرا یہ پاؤں تمام اولیاء الله کی گردن پر۔
مصنف قدس سرہ نے کہا کہ ہم سے شریف جلیل ابو عبدالله محمد بن خضر بن عبدالله بن یحیی بن محمد حسینی موصلی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو شیخ ابوالفرج عبدالمحسن حسن بن محد بن احمد بن دویرہ مقری حنبلی نے خبر دی کہ شیخ ابو بکر عتیق بن ابوالفضل محمد بن عثمن بن
#536 · طرد الافاعی
الدویرۃ المقری الحنبلی البصری قال:قال الشیخ ابوبکر عتیق بن ابی الفضل محمد بن عثمن بن ابی الفضل البند لجی الاصل البغدادی المولد والدار و الازجی المعروف بمعتوق زرت الشیخ سید احمد بن ابی الحسن الرفاعی رضی الله عنہ بام عبیدۃ فسمعت اکابر اصحابہ وقدماء مریدیہ یقولون:کان الشیخ یوماجالسا فی ھذا الموضعفحنارأسہ وقال:علی رقبتیفسألوہ عن ذلك فقال:قد قال الشیخ عبد القادر الان ببغداد:قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله فارخنا ذلك الوقت فکان کما قال فی ذلك الوقت بعینہ ۔
حدیث سوم:اخبرنا الشیخ الصالح ابوحفص عمر بن ابی المعالی نصر بن محمد ابن احمد القرشی الھا شمی الطفسونجی المولد والدارالشافعی قال:اخبرنا الشیخ الاصل الصالح ابوعبدالله محمد بن ابی الشیخ الصالح ابی حفص عمر بن الشیخ القدوۃ ابی محمد عبدالرحمن الطفسونجی قال:اخبرنا ابوعمر قال:حنا ابی یوماعنقہ بین اصحابہ بطفسونج وقال: علی رأسیفسألناہ فقال:قدقال الشیخ عبد القادر الان ابوالفضل بندلجی الاصل بغدادی المولدازجی المعروف بہ معتوق نے کہا کہ میں نے شیخ احمد بن ابوالحسن رفاعی رضی الله عنہ کی ام عبیدہ میں زیارت کی تو میں نے اپ کے اکابر اصحاب اور قدیم مریدوں کو کہتے ہوئے سنا کہ اج شیخ اس جگہ(برامدے کی طرف انہوں نے اشارہ کیا)تشریف فرماتھے کہ اپنا سرجھکا دیا اورفرمایا کہ میری گردن پر۔جب اپ سے لوگوں نے اس کے بارے میں پوچھا و فرمایا کہ ابھی ابھی بغداد میں شیخ سید عبدالقادررضی الله تعالی عنہ نے فرمایا ہے:میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر ہے۔ہم نے اس تاریخ کو محفوظ رکھا تو جیسا اپ نے کہا بعینہ وہ اسی وقت رونما ہوا تھا۔(ت)
ہمیں شیخ صالح ابو حفص عمر بن ابوالمعالی نصر بن محمد بن احمد قرشی ہاشمی طفسونجی شافعی نے خبردی کہ ہم سے شیخ اصل صالح ابوعبدالله محمد بن ابوالشیخ صالح ابو حفص عمربن شیخ قدوۃ ابومحمد عبدالرحمن طفسونجی نے حدیث بیان کی کہ ہم سے ابوعمرنے حدیث بیان کی کہ ایك دن طفسونج میں میرے والد نے اپنے مریدوں کے درمیان گردن جھکائی اورکہا کہ میرے سر پر۔ہمارے پوچھنے پر فرمایا کہ ابھی شیخ سید عبد القادر علیہ الرحمۃ نے بغدادمیں فرمایا ہے کہ میرایہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن
#537 · طرد الافاعی
ببغداد:قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله فأرخناہ عندنا ثم جاء الخبرمن بغداد انہ قال ذلك فی الیوم الذی أرخناہ ۔
حدیث چہارم:اخبرنا الفقیہ ابوعلی اسحق بن علی بن عبدالله بن عبدالدائم بن صالح الھمد انی الصوفی الشافعی المحدث قال:اخبرنا الشیخ الجلیل الاصل ابو محمد عبداللطیف ابن الشیخ ابی النجیب عبد القاھر بن عبدالله بن محمد بن عبد الله السھروردی ثم البغدادی الفقیہ الشافعی الصوفی قال:حضرابی ابو النجیب ببغدادبمجلس الشیخ عبد القادر رضی الله عنہمافقال الشیخ عبد القادر قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللهفطأفطأبی رأسہ حتی کادت تبلغ الارضوقال علی رأسی علی رأسی علی رأسی یقولہا ثلاثا ۔ پر ہے۔ہم نے اپنے پاس تاریخ نوٹ کرلی پھر بغدادسے خبر موصول ہوئی کہ شیخ عبدالقادرعلیہ الرحمۃ نے بالکل اسی دن یہ اعلان فرمایاتھا جو تاریخ ہم نے نوٹ کر رکھی تھی۔(ت)
ہم سے فقیہ ابوعلی اسحاق بن علی بن عبدالله بن عبدالدائم بن صالح ہمدانی صوفی شافعی محدث نے حدیث بیان کی کہ ہم سے شیخ جلیل الاصل ابو محمد عبداللطیف بن شیخ ابونجیب عبدالقاہر بن عبدالله بن محمد بن عبدالله سہروردی ثم بغدادی فقیہ شافعی صوفی نے حدیث بیان کی کہ میرے والد ماجد ابو النجیب بغداد میں شیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ کی مجلس میں حاضر تھے شیخ عبدالقادررضی الله تعالی عنہ نے مجلس میں فرمایا:میرا یہ قدم ہر ولی الله کی گردن پر ہے۔تو میرے والد نے اس حد تك سرجھکایاکہ وہ زمین کے قریب جاپہنچااورتین بارکہا: میرے سر پرمیرے سرپرمیرے سرپر عــــــہ (ت)

عــــــہ:نوٹ:اعلی حضرت علیہ ا لرحمۃ نے تصریح فرمائی کہ یہاں ہم بہجۃ الاسرارسے گیارہ۱۱ حدیثیں ذکرکرینگے مگر حدیث دومسوم اورچہارم تین حدیثیں اصل(فتاوی رضویہ قدیم جلد۱۲)میں موجود نہیں ہیں بلکہ انکی جگہ بیاض چھوڑاہوا ہے۔حدیث دوم کی سند کا ابتدائی حصہ اصل میں مذکورہونے کی وجہ سے اس کی نشان دہی ہوگئی مگر حدیث سوم وچہارم کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی تھیںتاہم احادیث مذکورہ کے مضمون کو دیکھتے ہوئے حدیث دوم کے متصل بعد والی دو حدیثیں ہم نے بہجۃ الاسرار سےنقل کردی ہیں جن کامضمون کافی حد تك احادیث مذکورہ سے یگانگت رکھتاہے۔اس طرح گیارہ احادیث پوری ہوگئیں۔والله تعالی اعلم بحقیقۃ الحال۔(مترجم)
#538 · طرد الافاعی
مصنف قدس سرہ نے کہا کہ ہم سے فقیہ جلیل القدر رزق الله بن ابوعبدالله محمد بن یوسف رقی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو شیخ صالح ابواسحق ابراہیم رقی نے خبر دی کہ ہم کو شیخ امام ابوعبدالله محمد بن ماجد رقی نے خبردی۔نیز ہمیں سند عالی سے ابوالفتح نصرالله بن یوسف بن خلیل بغدادی محدث نے خبر دی کہ ہم کو شیخ اوالعباس احمد بن اسمعیل بن حمزہ ازجی نے خبر دی کہ ہم کو شیخ ابوالمظفر منصور بن مبارك وامام ابو محمد عبدالله بن ابی الحسن اصبہانی نے خبردی ان سب حضرات نے فرمایا کہ ہم نے سید شریف شیخ امام ابو سعید قیلوی رضی الله تعالی عنہ کو فرماتے سنا کہ جب حضرت شیخ عبدالقادر نے فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر۔اس وقت الله عزوجل نے ا ن کے قلب مبارك پر تجلی فرمائی اورحضور سید عالم صلی الله علیہ وسلم نے ایك گروہ ملائکہ مقربین کےہاتھ انکے لیے خلعت بھیجی اورتمام اولیائے اولین واخرین کا مجمع ہواجو زندہ تھے وہ بدن کے ساتھ حاضر ہوئے اورجو انتقال فرماگئے تھے ان کی ارواح طیبہ ائیںان سب کے سامنے وہ خلعت حضرت غوثیت کو پہنایا گیاملائکہ اوررجال الغیب کا اس وقت ہجوم تھا ہوا میں پرے باندھے کھڑے تھےتمام افق ان سے بھرگیا تھا اور روئے زمین پر کوئی ولی ایسا نہ تھا جس نے گردن نہ جھکادی ہو۔(ت)والحمدلله رب العالمین۔
#539 · طرد الافاعی
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالاتیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلی تیرا
سربھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا اولیاء ملتے ہیں انکھیں وہ ہے تلواتیرا
تاج فرق عرفا کس کے قدم کوکہئے سرجسے باج دیں وہ پاؤں ہے کس کاتیرا
گردنیں جھك گئیں سربچھ گئے دل ٹوٹ گئے کشف ساق اج کہاں یہ تو قدم تھا تیرا
حدیث ششم:(قال اعلی الله تعالی مقاماتہ)اخبرنا ابو محمد الحسن بن احمد بن محمدوخلف بن احمد بن محمد الحریمی قال اخبرنا جدی محمد بن دنف قال اخبرنا الشیخ ابوالقاسم بن ابی بکر بن احمد قال سمعت الشیخ خلیفۃ رضی الله تعالی عنہ وکان کثیرا الرؤیالرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقلت لہ یارسول الله لقد قال الشیخ عبدالقادر قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله فقال صدق الشیخ عبد القادروکفی لاوھو القطب واناارعاہ ۔ مصنف نے کہا(الله تعالی اس کے مرتبے بلند فرمائے)کہ ہم کو ابومحمد حسن بن احمد بن محمد اورخلف بن احمد بن محمد حریمی نے خبردی کہ ہم کو میرے جد محمد بن دنف نے خبر دی کہ ہم کو شیخ ابوالقاسم بن ابی بکر احمد نے خبردی کہ میں نے شیخ خلیفہ اکبر ملکی رضی الله تعالی عنہ سے سنا اوروہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دیدار مبارك سے بکثرت مشرف ہوا کرتے تھے فرمایا خدا کی قسم بیشك میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کودیکھا عرض کی یارسول الله !شیخ عبدالقادرنے فرمایا کہ میرا پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"عبدالقادرنے سچ کہا اورکیوں نہ ہوکہ وہی قطب ہیں اورمیں ان کا نگہبان۔"
کلب باب عالی عرض کرتا ہے الحمدلله !الله نے ہمارے اقا کو اس کہنے کا حکم دیاکہتے وقت ان کے قلب مبارك پر تجلی فرمائینبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خلعت بھیجاتمام اولیاء اولین واخرین جمع کئے گئےسب کے مواجہ میں پہنایا گیا۔ملائکہ کا جمگھٹ ہوارجال الغیب نے سلامی دی۔تمام جہان کے اولیاء نے گردنیں جھکادیں۔اب جو چاہے راضی ہوجو چاہے ناراض۔جو راضی ہواس کے لئے رضاجو ناراض ہوا س کیلئے ناراضی۔جس کا جی چلے اس سے کہو "موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات
#540 · طرد الافاعی
الصدور﴿۱۱۹﴾" مرجاؤاپنی جلن میں بے شك الله دلوں کی جانتاہے۔ولله الحجۃ البالغہ۔
حدیث ہفتم:(قال بیض الله تعالی وجہہ)اخبرنا الحسن بن نجیم الحور انی قال اخبرنا الشیخ العارف علی بن ادریس الیعقوبی قال سمعت الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ یقول الانس لھم مشائخ والملئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکلقال وسمعتہ فی مرض موتہ بقول لاولادہ بینی وبینکم وبین الخلق کلھم بعد مابین السماء والارض لاتقیسونی باحد ولا تقیسواعلی احدا ۔
حدیث ہشتم:(قال طیب الله تعالی ثراہ)اخبرنا ابو المعالی صالح بن احمد المالکی قال اخبرنا الشیخ ابو الحسن البغدادی المعروف بالخفاف والشیخ ابو محمد عبداللطیف البغدادی المعروف بالمطرز قال ابوالحسن اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمد بن ابی بکر الحریمی سنۃ ثمانین وخمسائۃ و قال ابو محمد مصنف نے کہا(الله تعالی اس کے چہرے کو روشن کرے)کہ ہم سے حسن بن نجیم حورانی نے حدیث بیان کیکہا ہم کو ولی جلیل حضرت علی بن ادریس یعقوبی رضی الله تعالی عنہ نے خبردیکہا میں نے حضرت سرکار غوثیت رضی الله تعالی عنہ کو سنا کہ فرماتے تھے:ادمیوں کے لئے پیرہیںقوم جن کے لئے پیرہیںفرشتوں کے لئے پیرہیںاورمیں سب کا پیر ہوںاورمیں نے حضور کو اس مرض مبارك میں جس میں وصال اقدس ہوا سناکہ اپنے شاہزادگان کرام سے فرماتے تھے:مجھ میں اورتم میں اورتمام مخلوقات زمانہ میں وہ فرق ہے جو اسمان وزمین میں۔مجھ سے کسی کو نسبت نہ دو اورمجھے کسی پر قیاس نہ کرو۔اے ہمارے اقا! اپ نے سچ کہاخدا کی قسم!اپ صادق مصدوق ہیں۔(ت)
مصنف(الله تعالی اس کی قبر کو خوشبوداربنائے)نے کہا کہ ہم کو ابوالمعالی صالح بن احمد مالکی نے خبر دی کہ ہم کو دو مشائخ کرام نے خبر دیایك شیخ ابوالحسن بغدادی معروف بہ خفافدوسرے شیخ ابو محمد عبداللطیف بغدادی معروف بہ مطرز۔اول نے کہا ہمارے پیرومرشد حضرت شیخ ابوالسعود احمد بن ابی بکر حریمی قدس سرہ نے ہمارے سامنے ۸۵۰ھ میں فرمایااوردوم نے کہا ہم کو ہمارے
#541 · طرد الافاعی
اخبرنا شیخنا عبدالغنی بن نقطۃ قال اخبرنا شیخنا ابوعمروعثمن الصریفینی قالا والله ما اظھرالله تعالی ولا یظھرالی الوجود مثلالشیخ محی الدین عبد القادر رضی الله تعالی عنہ ۔ مرشد حضرت عبدالغنی بن نقطہ نے خبر دی کہ ان کے سامنے ان کے مرشد حضرت شیخ ابوعمر وعثمان صریفینی قدس سرہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم الله عزوجل نے اولیاء میں حضرت شیخ محی الدین عبدالقادررضی الله تعالی عنہ کا مثل نہ پیدا کیا نہ کبھی پیدا کرے۔
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم
کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا
حدیث نہم:(قال رفع الله تعالی کتابہ فی علیین) اخبرنا الشیخ ابو المحاسن یوسف بن احمد البصری عقال سمعت الشیخ العالم اباطالب عبد الرحمن بن محمد الہاشمی الواسطی قال سمعت الشیخ القدوۃ جمال الدین ابا محمد بن عبد البصری بھا یقول وقد سئل عن الخضر علیہ الصلوۃ والسلام أحی ھو ام میت قال اجتمعت بابی العباس الخضر علیہ الصلوۃ والسلام وقلت اخبرنی عن حال الشیخ عبدالقادر قال ھو فرد الاحباب وقطب الاولیاء فی ھذا الوقت وما والله تعالی ولیا الی مقام الاوکان الشیخ عبدالقادر اعلاہ ولا سقی الله حبیباکأسامن حبہ الا وکان للشیخ عبدالقادر مصنف(الله تعالی اس کے نامہ اعمال کو علیین میں بلند کرے)نے کہاکہ ہم کو شیخ ابوالمحاسن یوسف بن احمد بصری نے خبر دی کہ میں نے شیخ ابوطالب عبدالرحمن بن محمد ہاشمی واسطی سے سنا کہتے تھے میں نے شیخ امام جمال الملۃ والدین حضرت ابو محمد بن عبدبصر ی رضی الله تعالی عنہ سے بصرہ میں سناان سے سوال ہوا تھا کہ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام زندہ ہیں یا انتقال ہوا فرمایا:میں حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے ملا اورعرض کی:مجھے حضرت شیخ عبدالقادر کے حال سے خبر دیجئے۔حضرت خضر نے فرمایا:وہ اج تمام محبوبوں میں یکتا اورتمام اولیاء کے قطب ہیں الله تعالی نے کسی ولی کوکسی مقام تك نہ پہنچایا جس سے اعلی مقام شیخ عبد القادر کو نہ دیا ہو نہ کسی حبیب کو اپنا جام محبت پلایا جس سے خوشگوار ترشیخ عبدالقادر
#542 · طرد الافاعی
اھناہولا وھب الله لمقرب حالا الا وکان الشیخ عبد القادر اجلہوقد اودعہ الله تعالی سرامن اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء وما اتخذالله ولیا کان اول یکون الا وھو متأدب معہ الی یوم القیمۃ ۔ نے نہ پیا ہونہ کسی مقرب کو کوئی حال بخشاکہ شیخ عبدالقادر اس سے بزرگ تر نہ ہوں۔الله نے ان میں اپنا وہ راز ودیعت رکھاہے جس سے وہ جمہوراولیاء پر سبقت لے گئےالله نے جتنوں کو ولایت دی اورجتنوں کو قیامت تك دے سب شیخ عبدالقادر کے حضور ادب کئے ہوئے ہیں۔
جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے اقا تیرا
حدیث دہم:قال رفع الله تعالی درجاتہ فی الفردوس اخبرنا الشریف ابو عبد الله محمد بن الخضر الحسینی الموصلیقال سمعت ابی یقول کنت یوما جالسا بین یدی سیدی الشیخ محی الدین عبد القادر رضی الله تعالی عنہ فخطر فی قلبی زیارۃ الشیخ احمد رفاعی رضی الله عنہ فقال لی الشیخ احمدقلت نعم فاطرق یسیراثم قال لی یاخضرھا الشیخ احمد فاذا انا بجانبہ فرأیت شیخا مھابا فقمت الیہ وسلمت علیہفقال لی یاخضرو من یری مثل الشیخ عبد القادر سید الاولیاء یتمنی رؤیۃ مثلی وھل انا الامن رعیتہ ثم غاب وبعدوفاۃ الشیخ انحدرت مصنف نے کہا(الله تعالی جنت فردوس میں اس کے درجے بلند فرمائے)کہ ہم کو سید حسینی ابو عبدالله محمد بن خضر موصلی نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد ماجد کو فرماتے سنا کہ ایك روز میں حضرت سرکار غوثیت رضی الله تعالی عنہ کےحضور حاضر تھا میرے دل میں خطرہ آیا کہ شیخ احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ کی زیارت کروںحضورنے فرمایا:کیا شیخ احمد کو دیکھناچاہتے ہومیں نے عرض کی:ہاں۔حضور تھوڑی دیر سر مبارك جھکایا پھر مجھ سے فرمایا:اے خضر! لویہ ہیں شیخ احمد۔اب جو میں دیکھوں تو اپنے اپ کو حضرت احمد رفاعی کے پہلو میں پایااورمیں نے ان کو دیکھا کہ رعب دار شخص ہیں میں کھڑا ہوا اورانہیں سلام کیا۔اس پرحضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا:اے خضر! وہ جو شیخ عبد القادر
#543 · طرد الافاعی
من بغداد الی ام عبیدۃ لازورہفلما قدمت علیہ اذا ھو الشیخ الذی رأیتہ فی جانب الشیخ عبدالقادررضی الله تعالی عنہ فی ذلك الوقت لم تجددرؤیتہ عندی زیادۃ معرفۃ بہ فقال لی یاخضر الم تکفك الاولی ۔
حدیث یازدہم:(قال جمعنا الله تعالی وایاہ یوم الحشر تحت لواء الحضرۃ الغوثیۃ)اخبرنا ابوالقاسم محمد بن عبادۃ الانصاری الحلبی قال سمعت الشیخ العارف ابااسحق ابراھیم بن محمود البعلبکی المقری قال سمعت شیخنا الامام ابا عبد الله محمد البطائحیقال انحدرت فی حیاۃ سید الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ الی ام عبیدۃ واقمت برواق الشیخ احمد رضی ا لله تعالی عنہ ایاما فقا ل لی الشیخ احمد یوما اذکر لی شیئامن مناقب الشیخ عبدالقادر وصفاتہ فذکرت لہ شیئا منھا فجاء رجل فی اثناء حدیثی فقال لی مہ لاتذکر عندنا مناقب غیر مناقب ھذااواشارالی الشیخ احمد فنظر کو دیکھے جو تمام اولیاء کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا میں تو انہیں کی رعیت میں سے ہوں۔یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حضور سرکار غوثیت رضی الله تعالی عنہ کے وصال اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو ام عبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت شیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔ اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اور زیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔ حضرت رفاعی نے فرمایا:اے خضر !کیا پہلی تمہیں کافی نہ تھی!
مصنف نے کہا(الله تعالی ہمیں اوراسے یوم محشر کو غوث اعظم کے جھنڈے کے نیچے جمع فرمائے)کہ ہم کو ابوالقاسم محمد بن عبادہ انصاری حلبی نے خبر دی کہ میں نے شیخ عارف بالله ابواسحق ابراہیم بن محمود بعلبکی مقری کو فرماتے سناکہا میں نے اپنے مرشد امام ابوعبدالله بطائحی کو سنا کہ فرماتے تھے:میں حضور سرکارغوثیت رضی الله تعالی عنہ کے زمانے میں ام عبیدہ گیا اورحضرت سید ی احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ کی خانقاہ میں چند روز مقیم رہا ایك روز حضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا ہمیں حضرت شیخ عبدالقادر کے کچھ مناقب واوصاف سناؤمیں نے کچھ مناقب شریف ان کے سامنے بیان کئے میرے اثنائے بیان میں ایك شخص ایا اور اس نے مجھ سے کہا کیا ہے اورحضرت سید رفاعی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہمارے سامنے ان کے سوا کسی کے
من بغداد الی ام عبیدۃ لازورہفلما قدمت علیہ اذا ھو الشیخ الذی رأیتہ فی جانب الشیخ عبدالقادررضی الله تعالی عنہ فی ذلك الوقت لم تجددرؤیتہ عندی زیادۃ معرفۃ بہ فقال لی یاخضر الم تکفك الاولی ۔
حدیث یازدہم:(قال جمعنا الله تعالی وایاہ یوم الحشر تحت لواء الحضرۃ الغوثیۃ)اخبرنا ابوالقاسم محمد بن عبادۃ الانصاری الحلبی قال سمعت الشیخ العارف ابااسحق ابراھیم بن محمود البعلبکی المقری قال سمعت شیخنا الامام ابا عبد الله محمد البطائحیقال انحدرت فی حیاۃ سید الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ الی ام عبیدۃ واقمت برواق الشیخ احمد رضی ا لله تعالی عنہ ایاما فقا ل لی الشیخ احمد یوما اذکر لی شیئامن مناقب الشیخ عبدالقادر وصفاتہ فذکرت لہ شیئا منھا فجاء رجل فی اثناء حدیثی فقال لی مہ لاتذکر عندنا مناقب غیر مناقب ھذااواشارالی الشیخ احمد فنظر کو دیکھے جو تمام اولیاء کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا میں تو انہیں کی رعیت میں سے ہوں۔یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حضور سرکار غوثیت رضی الله تعالی عنہ کے وصال اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو ام عبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت شیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔ اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اور زیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔ حضرت رفاعی نے فرمایا:اے خضر !کیا پہلی تمہیں کافی نہ تھی!
مصنف نے کہا(الله تعالی ہمیں اوراسے یوم محشر کو غوث اعظم کے جھنڈے کے نیچے جمع فرمائے)کہ ہم کو ابوالقاسم محمد بن عبادہ انصاری حلبی نے خبر دی کہ میں نے شیخ عارف بالله ابواسحق ابراہیم بن محمود بعلبکی مقری کو فرماتے سناکہا میں نے اپنے مرشد امام ابوعبدالله بطائحی کو سنا کہ فرماتے تھے:میں حضور سرکارغوثیت رضی الله تعالی عنہ کے زمانے میں ام عبیدہ گیا اورحضرت سید ی احمد رفاعی رضی الله تعالی عنہ کی خانقاہ میں چند روز مقیم رہا ایك روز حضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا ہمیں حضرت شیخ عبدالقادر کے کچھ مناقب واوصاف سناؤمیں نے کچھ مناقب شریف ان کے سامنے بیان کئے میرے اثنائے بیان میں ایك شخص ایا اور اس نے مجھ سے کہا کیا ہے اورحضرت سید رفاعی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہمارے سامنے ان کے سوا کسی کے
#544 · طرد الافاعی
الیہ الشیخ احمد مغضبافرفع الرجل من بین یدیہ میتاثم قال ومن یستطع وصف مانقب الشیخ عبد القادر ومن یبلغ مبلغ الشیخ عبدالقادر ذلك رجل بحر الشرعۃ عن یمینہوبحرالحقیقۃ عن یسارہ من ایھما شاء اغترف الشیخ عبدالقادر لاثانی لہ فی عصرنا ھذاقال وسمعتہ یوما یوصی اولاد اختہ و اکابر اصحابہوقدجاء رجل یوعدہ مسافرا الی بغداد قال لہ اذا دخلت الی بغداد فلا تقدم علی زیارۃ الشیخ عبدالقادر شیئا ان کان حیا ولا علی زیارۃ قبرہ ان کان میتافقد اخذلہ العھد ایما رجل من اصحاب الاحوال دخل بغداد ولم یزرہ سلب حالہ ولو قبیل الموتثم قال والشیخ محی الدین عبدالقادر حسرۃ علی من لم یرہ رضی الله عنہ ۔ مناقب ذکر نہ کرویہ سنتے ہی حضرت سید رفاعی رضی الله تعالی عنہ نے اس شخص کو ایك غضب کی نگاہ سے دیکھا کہ فورا اس کادم نکل گیا لوگ اس کی لاش اٹھاکر لے گئےپھر حضرت سید رفاعی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا شیخ عبدالقادر کے مناقب کون بیان کرسکتاہےشیخ عبدالقادر کے مرتبہ کو کون پہنچ سکتاہےشریعت کا دریا ان کے دہنےہاتھ پرہے اور حقیقت کا دریا ان کے بائیں ہاتھ پر جس میں سے چاہیں پانی پی لیںہمارے اس وقت میں شیخ عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں۔امام ابوعبدالله فرماتے ہیں ایك دن میں نے حضرت رفاعی کو سنا کہ اپنے بھانجوں اور اکابر مریدین کو وصیت فرماتے تھے ایك شخص بغداد مقدس کے ارادے سے ان سے رخصت ہونے ایا تھا فرمایا جب بغداد پہنچو تو حضرت شیخ عبدالقادر اگر دنیا میں تشریف فرماہوں تو ان کی زیارت اورپردہ فرما جائیں تو ان کے مزار مبارك کی زیارت سے پہلے کوئی کام نہ کرنا کہ الله عزوجل نے ان سے عہد فرمارکھا ہے کہ جو کوئی صاحب حال بغداد ائے اوران کی زیارت کو نہ حاضر ہو اس کا حال سلب ہوجائے اگرچہ اس کے مرتے وقت پھر حضرت رفاعی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا شیخ عبدالقادر حسرت ہیں اس پر جسے انکادیدار نہ ملا۔
#545 · طرد الافاعی
یہ کمینہ بندہ بارگاہ عرض کرتاہے:
اے حسرت انا نکہ ندیدندجمالت محروم مدارایں سگ خود راز نوالت
(جنہوں نے اپ کا جمال نہ دیکھا ان پر حسرت ہےاپنے اس کتے کو اپنی عطا سے محروم نہ رکھیں۔ت)
بحرمۃ جدك الکریم علیہ ثم علیك الصلوۃ والتسلیم(اپنے کریم نانا کے صدقے میں۔ان پر پھر اپ پر درود وسلام ہو۔ت)
مسلمان ان احادیث صحیحہ جلیلہ کو دیکھے اوراس شخص کے مثل اپنا حال ہونے سے ڈرے جس کا خاتمہ حضرت غوثیت کی شان میں گستاخی اور حضرت سید رفاعی کے غضب پر ہواوالعیاذبالله رب العالمین۔اے شخص!ظاہرشریعت میں حضرت سرکار غوثیت کی محبت بایں معنی رکن ایمان نہیں کہ جو ان سے محبت نہ رکھے شرع اسے فی الحال کافر کہے یہ تو صرف انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے لئے ہے مگر والله کہ ان کے مخالف سے الله عزوجل نے لڑائی کا اعلان فرمایا ہے خصوص کا انکار نصوص کے انکار کی طرف لے جاتاہےعبدالقادرکا انکار قادر مطلق عزجلالہ کے انکار کی طرف کیوں نہ لے جائے گا
بازاشہب کی غلامی سے یہ انکھیں پھرنی دیکھ اڑجائے گا ایمان کا طوطاتیرا
شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجر اتیرا
والعیاذبالله القادر رب الشیخ عبدالقادر وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی جد الشیخ عبدالقادر ثم علی الشیخ عبدالقادر امین۔ شیخ عبدالقادر کے قدرت والے معبود کی پناہشیخ عبدالقادر کے ناناجان پھر خود شیخ عبدالقادر پرالله تعالی درودبرکت اور سلام نازل فرمائےامین۔
تذئیل:اخیر میں ہم دو جلیل القدر اجلۃ المشاہیرعلماء کبارمکہ معظمہ کےکلمات ذکر کریں جن کی وفات کو تین تین سو برس سے زائد ہوئےاول امام اجل ابن حجر مکی شافعی رحمہ الله تعالیدوم علامہ علی قاری مکی حنفی صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا کتب جلیلہ۔دوغرض سے:
ایك یہ کہ اگر دو مطرودوںمخذولوںگمناموںمجہولوں واسطی وقرمانی کی طرح کسی کے دل میں
یہ کمینہ بندہ بارگاہ عرض کرتاہے:
اے حسرت انا نکہ ندیدندجمالت محروم مدارایں سگ خود راز نوالت
(جنہوں نے اپ کا جمال نہ دیکھا ان پر حسرت ہےاپنے اس کتے کو اپنی عطا سے محروم نہ رکھیں۔ت)
بحرمۃ جدك الکریم علیہ ثم علیك الصلوۃ والتسلیم(اپنے کریم نانا کے صدقے میں۔ان پر پھر اپ پر درود وسلام ہو۔ت)
مسلمان ان احادیث صحیحہ جلیلہ کو دیکھے اوراس شخص کے مثل اپنا حال ہونے سے ڈرے جس کا خاتمہ حضرت غوثیت کی شان میں گستاخی اور حضرت سید رفاعی کے غضب پر ہواوالعیاذبالله رب العالمین۔اے شخص!ظاہرشریعت میں حضرت سرکار غوثیت کی محبت بایں معنی رکن ایمان نہیں کہ جو ان سے محبت نہ رکھے شرع اسے فی الحال کافر کہے یہ تو صرف انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے لئے ہے مگر والله کہ ان کے مخالف سے الله عزوجل نے لڑائی کا اعلان فرمایا ہے خصوص کا انکار نصوص کے انکار کی طرف لے جاتاہےعبدالقادرکا انکار قادر مطلق عزجلالہ کے انکار کی طرف کیوں نہ لے جائے گا
بازاشہب کی غلامی سے یہ انکھیں پھرنی دیکھ اڑجائے گا ایمان کا طوطاتیرا
شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجر اتیرا
والعیاذبالله القادر رب الشیخ عبدالقادر وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی جد الشیخ عبدالقادر ثم علی الشیخ عبدالقادر امین۔ شیخ عبدالقادر کے قدرت والے معبود کی پناہشیخ عبدالقادر کے ناناجان پھر خود شیخ عبدالقادر پرالله تعالی درودبرکت اور سلام نازل فرمائےامین۔
تذئیل:اخیر میں ہم دو جلیل القدر اجلۃ المشاہیرعلماء کبارمکہ معظمہ کےکلمات ذکر کریں جن کی وفات کو تین تین سو برس سے زائد ہوئےاول امام اجل ابن حجر مکی شافعی رحمہ الله تعالیدوم علامہ علی قاری مکی حنفی صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃ وغیرہا کتب جلیلہ۔دوغرض سے:
ایك یہ کہ اگر دو مطرودوںمخذولوںگمناموںمجہولوں واسطی وقرمانی کی طرح کسی کے دل میں
#546 · طرد الافاعی
کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف سے آگ ہوتو ان سے لاگ کی تو کوئی وجہ نہیں یہ بالاتفاق اجلہ اکابر علماء ہیں۔
دوسرے یہ کہ دونوں صاحب اکابر مکہ معظمہ سے ہیںتو اس افتراء کا جواب ہوگا جو مخالف نے اہل عرب پر کیا حالانکہ غالبا تاریخ الحرمین وغیرہ میں ےاورحاضری حرمین طیبین سے مشرف ہونےو الا جانتاہے کہ اہل حرمین طیبین بعدحضور پر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اٹھتے بیٹھتے حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کا ذکر کرتے ہیں اورحضور کے برابر کسی کا نام نہیں لیتے۔ان حضرات کی بھی گیارہ ہی عبارات نقل کریں۔:
(۱)علامہ علی قاری حنفی مکی متوفی ۱۰۱۴ھ کتاب نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سیدی الشریف عبدالقادر میں فرماتے ہیں:
لقد بلغنی عن بعض الاکابر ان الامام الحسن ابن سیدنا علی رضی الله تعالی عنہمالما ترك الخلافۃ لما فیھا من الفتنۃ والافۃ عوضہ الله سبحنہ وتعالی القطبیۃ الکبری فیہ وفی نسلہ وکان رضی الله تعالی عنہ القطب الاکبر سیدنا السید الشیخ عبدالقادر ھو القطب الاوسط والمھدی خاتمۃ الاقطاب ۔ بیشك مجھے اکابر سے پہنچا کہ سیدنا امام حسن مجتبی رضی الله تعالی عنہ نے جب بخیال فتنہ وبلایہ خلافت ترك فرمائی الله عزوجل نے اس کے بدلے ان میں اورانکی اولاد امجاد میں غوثیت عظمی کا مرتبہ رکھا۔پہلے قطب اکبر خود حضور سید امام حسن ہوئے اوراوسط میں صرف حضور سیدنا سید عبدالقادر اور اخر میں حضرت امام مہدی ہوں گے رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
(۲)اسی میں ہے:
من مشائخہ حمادالدباس رضی الله تعالی عنہ روی ان یوما کان سید نا عبدالقادر عندہ فی رباطہ ولما غاب من حضرتہ قال ان ھذا الاعجمی الشریف قدما یکون علی رقاب اولیاء الله یصیر مامورا من عند مولاہ حضرت حماد دباس حضور سیدنا غوث اعظم کے مشائخ سےہیں رضی الله تعالی عنہم اجمعین ایك روز انہوں نے سرکار غوثیت کی غیبت میں فرمایاان جو ان سید کا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہو گا انہیں الله عزوجل حکم دے گا کہ فرمائیں میرا یہ پاؤں ہر ولی الله
#547 · طرد الافاعی
بان یقول قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی الله ویتواضع لہ جمیع اولیاء الله فی زمانہ ویعظمونہ لظہورشانہ ۔ کی گردن پراوران کے زمانےمیں جمیع اولیاء الله انکے لئے سر جھکائیں گےاور ان کے ظہور مرتبہ کے سبب ان کی تعظیم بجا لائیں گے۔
مامور من الله ہونا ملحوظ رہے اورجمیع اولیاء زمانہ میں بے شك حضرت سیدی رفاعی رضی الله تعالی عنہ بھی داخل۔
(۳)اسی میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کا "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله " فرمانا اوراولیاء حاضرین و غائبین کا گردنیں جھکانا اورقدم مبارك اپنی گردنوں پر لینا اور ایك شخص کا انکار کرنا اور اس کی ولایت سلب ہوجانا بیان کر کے فرماتے ہیں:
وھذا تنبیہ بینۃ علی انہ قطب الاقطاب والغوث الاعظم ۔ یہ روشن دلیل قاطع ہے اس پرکہ حضور تمام قطبوں کے قطب اورغوث اعظم ہیں۔
(۴)اسی میں ہے:
ومن کلامہ رضی الله تعالی عنہ تحدثا بنعم الله تعالی علیہ بینی وبینکم وبین الخلق کلھم بعد مابین السماء والارض فلاتقیسونی باحد ولاتقیسواعلی احدا یعنی فلایقاس الملوك بغیر ھم وھذا کلہ من فتوح الغیب المبرء من کل عیب۔ حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ نے الله عزوجل کی اپنے اوپرنعمتیں ظاہر فرمانے کا جو کلام ارشاد فرمائے ان میں سے یہ ہے کہ فرمایا مجھ میں اورتمام مخلوقات زمانہ میں وہ فرق ہے جو اسمان وزمین میںمجھے کسی سے نسبت نہ دو اورمجھ پر کسی کو قیاس نہ کرو۔اس پرعلامہ علی قاری فرماتے ہیں اس لئے کہ سلاطین کا رعیت پر قیاس نہیں ہوتا اوریہ سب غیب کے فتوحات سے ہے جوہر عیب سے پاك وصاف ہے۔
#548 · طرد الافاعی
(۵)اسی میں ہے:
وعن عبدالله بن علی بن عصر ون التمیمی الشافعی قال دخلت وانا شاب الی بغدادفی طلب العلم وکان ابن السقایومئذ رفیقی فی الاشتغال بالنظامیۃ وکنا نتعبد ونزور الصالحین وکان رجل ببغدادیقال لہ الغوثوکان یقال عنہ انہ یظھر اذا شاء وخفی اذا شاء فقصدت انا وابن السقا والشیخ عبدالقادرالجیلانی وھو شاب یومئذالی زیارتہ فقال ابن السقاونحن فی الطریق الیوم اسألہ عن مسئلۃ لایدری لہا جوابا فقلت وانا اسئلہ (نزھۃ الخاطروالفاترفی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر(قلمی نسخہ) ص۳۰)عن مسئلۃ فانظر ماذایقول فیھا وقال سیدی الشیخ عبد القادر قدس سرہ الباھر معاذا لله ان اسألہ شیئاوانا بین یہ اذا انظر برکات رویتہ فلما دخلنا علیہ لم نرہ فی مکانہ فمکثنا ساعۃ فاذا ھوجالس فنظر الی ابن السقا مغضباوقال لہ ویلك یا ابن السقا تسألنی عن مسئلۃ لم أردلہا جواباھی کذا وجوابھا کذاانی لاری نار الکفر تلھب فیک۔ثم نظرالی وقال امام عبدالله بن علی بن عصرون تمیمی شافعی سے روایت ہے میں جوانی میں طلب علم کے لئے بغداد گیا اس زمانے میں ابن السقا مدرسہ نظامیہ میں میرے ساتھ پڑھا کرتاتھاہم عبادت اورصالحین کی زیارت کرتے تھےبغداد میں ایك صاحب کو غوث کہتےاور ان کی یہ کرامت مشہور تھی کہ جب چاہیں ظاہر ہوں جب چاہیں نظروں سے چھپ جائیںایك دن میں اور ابن السقااوراپنی نوعمری کی حالت میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ان غوث کی زیارت کوگئےراستے میں ابن السقا نے کہا آج ان سے وہ مسئلہ پوچھوں گاجس کا جواب انہیں نہ ائے گا۔میں نے کہا میں بھی ایك مسئلہ پوچھوں گا دیکھوں کیا جواب دیتے ہیںحضرت شیخ عبدالقادر قدس سرہ الاعلی نے فرمایا معاذالله کہ میں ان کے سامنے ان سے کچھ پوچھوں میں تو انکے دیدار کی برکتوں کا نظارہ کروں گا۔جب ہم ان غوث کے یہاں حاضر ہوئے ان کو اپنی جگہ نہ دیکھا تھوڑی دیر میں دیکھا تشریف فرما ہیں ابن السقا کی طرف نگاہ غضب کی اورفرمایا: تیری خرابی اے ابن السقا! تو مجھ سے وہ مسئلہ پوچھے گا جس کا مجھے جواب نہ ائے تیرا مسئلہ یہ ہے اوراس کا جواب یہ ہےبے شك میں کفرکی اگ تجھ میں بھڑکتی دیکھ رہا ہوں۔ پھر میری طرف نظر کی اورفرمایا
#549 · طرد الافاعی
یاعبدالله تسألنی عن مسألۃ لتنظر مااقول فیھا ھی کذا وجوابھا کذا لتخرن علیك الدنیا الی شحمتی اذنیك باساء ۃ ادبک۔ثم نظر الی سید عبدالقادر و ادناہ منہ واکرمہ وقال لہ یا عبدالقادر لقد ارضیت الله ورسولہ بادبك کانی اراك ببغدادوقد صعدت علی الکرسی متکلما علی الملا وقلت قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله وکانی اری الاولیاء فی وقتك وقد حنوا رقبھم اجلالا لکثم غاب عنا لوقتہ فلم نرہ بعد ذلک قال واما سیدی الشیخ عبدالقادر فانہ ظھرت امارۃ قربہ من الله عزوجل واجتمع علیہ الخاص والعام وقال قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله واقرت الاولیاء بفضلہ فی وقتہ واما ابن السقافرأی بنتا للملك حسینۃ ففتن بھا وسأل ان یزوجہا بہ فابی الاان یتنصرفاجابہ الی ذلک۔والعیاذبالله تعالی۔واما انا فجئت الی دمشق واحضرنی السلطان نورالدین الشھید وولانی علی الاوقات فولیتھا واقبلت علی الدنیا اقبالا کثیراقدصدق اے عبدالله !تم مجھ سے مسئلہ پوچھو گے کہ میں کیا جواب دیتا ہوں تمہارا مسئلہ یہ ہےاور اس کا جواب یہضرور تم پر دنیا اتنا گوبر کرے گی کہ کان کی لو تك اس میں غرق ہوگےبدلہ تمہاری بے ادبی کا۔پھرحضرت شیخ عبدالقادر کی طرف نظر کی اورحضور کو اپنے نزدیك کیا اورحضور کا اعزاز کیا اورفرمایا:اے عبدالقادر! بے شك اپ نے اپنے حسن ادب سے الله و رسول کو راضی کیا گویا میں اس وقت دیکھ رہا ہوں کہ اپ مجمع بغداد میں کرسی وعظ پر تشریف لے گئے اور فرمارہے ہیں کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پراورتمام اولیائے وقت نے اپکی تعظیم کیلئے گردنیں جھکائی ہیں۔وہ غوث یہ فرما کر ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئے پھر ہم نے انہیں نہ دیکھا۔حضرت شیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ پر تو نشان قرب ظاہر ہوئے کہ وہ الله عزوجل کے قرب میں ہیں خاص وعام ان پرجمع ہوئے اورانہوں نے فرمایا:میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر۔اور اولیاء وقت نے اس کا ان کے لئے اقرار کیااورابن السقا ایك نصرانی بادشاہ کی خوبصورت بیٹی پر عاشق ہوا اس سے نکا ح کی درخواست کی اس نے نہ مانا مگر یہ نصرانی ہوجائےاس نے یہ نصرانی ہونا قبول کرلیاوالعیاذبالله تعالی۔رہا میںمیرا دمشق جاناہوا وہاں سلطان نورالدین شہید نے مجھے افسر اوقاف کیا اوردنیا بکثرت میری طرف ائی۔غوث کا ارشاد ہم سب کے بارے میں
#550 · طرد الافاعی
کلام الغوث فینا کلنا۔ جو کچھ تھا صادق ایا۔
اولیاء وقت میں حضرت رفاعی بھی ہیں۔یہ مبارك روایت بہجۃ الاسرار شریف میں دوسندوں سے ہےاورایك یہی کیا۔علامہ علی قاری نے اس کتاب میں چالیس۴۰ روایات اوربہت کلمات کہ ذکر کئے سب بہجۃ الاسرار شریف سے ماخوذ ہیںیونہی اکابر ہمیشہ اس کتاب مبارك کی احادیث سے استناد کرتے ائے مگر محروم محروم۔
(۶)اسی میں ہے:
قال رضی الله تعالی عنہ وعزۃ ربی ان السعداء و الاشقیاء یعرضون علی وان بؤبؤ عینی فی اللوح المحفوظ انا حجۃ الله علیکم جمیعکم انا نائب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض و یقول الانس لھم مشائخ والجن لھم مشائخ و الملئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکلرضی الله تعالی عنہونفعنابہ ۔ حضورسیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا "مجھے عزت پروردگار کی قسم!بے شك سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیںبیشك میری انکھ پتلی لوحمحفوظ میں ہےمیں تم سب پر الله کی حجت ہوںمیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا نائب اور تمام زمین میں ان کا وارث ہوں۔اورفرمایا کرتے:ادمیوں کے پیر ہیںقوم جن کے پیرہیںفرشتوں کے پیر ہیں اور میں ان سب کا پیرہوں۔"علی قاری اسے نقل کر کے عر ض کرتے ہیں:الله عزوجل کی رضوان حضور پر ہو اورحضور کے برکات سے ہم کو نفع دے۔
(۷) اسی میں ہے:
روی عن السید الکبیر القطب الشھیر سید احمد الرفاعی رضی الله تعالی عنہ انہ قال الشیخ عبد القادر بحر الشریعۃ عن یمینہ وبحرالحقیقۃ عن یسارہ من ایھما شاء اغترف السید سید کبیر قطب شہیر سید احمد الرفاعی رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:شیخ عبدالقادر وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر ان کے دہنے ہاتھ ہے اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں ہاتھجس میں سےچاہیں پانی پی لیں۔اس ہمارے
#551 · طرد الافاعی
عبدالقادرلاثانی لہ فی عصرنا ھذا رضی الله تعالی عنہ ۔ وقت میں سید عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں رضی الله تعالی عنہ۔
(۸) امام ابن حجر مکی شافعی متوفی ۹۷۴ھ اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
انھم قد یؤمرون تعریفا لجاھل اوشکرا وتحدثا بنعمۃ الله تعالی کما وقع الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالی عنہ انہ بینما ھو بمجلس وعظہ واذا ھو یقول قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله تعالی فاجابہ فی تلك الساعۃ اولیاء الدنیا قال جماعۃ بل واولیاء الجن جمیعھم وطأطئوارءوسھم وخضعوالہ واعترفوا بما قالہ الارجل باصبھان فابی فسلب حالہ ۔ کبھی اولیاء کو کلمات بلند کہنے کا حکم دیاجاتاہے کہ جو ان کے مقامات عالیہ سے ناواقف ہے اسے اطلاع ہویا شکر الہی اوراس کی نعمت کا اظہار کرنے کے لئے جیسا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے لئے ہوا کہ انہوں نے اپنی مجلس وعظ میں دفعۃ فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر فورا تمام دنیا کے اولیاء نے قبول کیا(اورایك جماعت کی روایت ہے کہ جملہ اولیاء جن نے بھی)اورسب نے اپنے سرجھکادئے اورسرکارغوثیت کے حضور جھك گئے اوران کے اس ارشاد کا اقرار کیا مگر اصفہان میں ایك شخص منکر ہوا فورا اس کا حال سلب ہوگیا۔
(۹)پھر فرمایا:
وممن طأطأرأسہ ابوالنجیب۱ السھروردی وقال علی رأسی واحمد۲ الرفاعی قال علی رقبتی وحمیدمنھم وسئل فقال الشیخ عبدالقادر یقول کذا وکذاوابو مدین۳ فی المغرب وانا منھم اللھم انی اشھدك واشھدملئکتك حضور کے ارشاد پر جنہوں نے اپنے سرجھکائے ان میں سے (سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے پیران پیر)حضرت سید عبدالقاہر ابوالنجیب سہروردی رضی الله تعالی عنہ ہیں انہوں نے اپنا سر مبارك جھکادیا اور کہا(گردن کیسی)میرے سر پر میرے سر پر۔اوران میں سے حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی الله تعالی عنہ ہیں انہوں نے کہا میری گردن پراورکہا
#552 · طرد الافاعی
انی سمعت واطعتوکذا الشیخ عبدالرحیم ۴القناوی مدعنقہ وقال صدق الصادق المصدوق ۔ یہ چھوٹا سا احمد بھی انہیں میں ہے جن کی گردن پر حضو رکا پاؤں ہے اس کہنے اورگردن جھکانے کا سبب پوچھاگیا تو فرمایا کہ اس وقت حضرت شیخ عبدالقادر نے بغداد مقدس میں ارشاد فرمایا ہے کہ"میرا پاؤں ہر ولی کی گردن پر"لہذا میں نے بھی سرجھکایا اور عرض کی کہ یہ چھوٹاسا احمد بھی انہیں میں ہےاور انہیں میں حضرت سید ابو مدین شعیب مغربی رضی الله تعالی عنہ ہیں انہوں نے سرمبارك جھکایا اور کہا میں بھی انہیں میں ہوں الہی میں تجھے اورتیرے فرشتوں کو گواہ کرتاہوں کہ میں نے قدمی کا ارشادسنا اورحکم مانا۔اسی طرح حضرت سید ی شیخ عبدالرحیم قناوی رضی الله تعالی عنہ نے اپنی گردن مبارك بچھائی اورکہا سچ فرمایا سچے مانے ہوئے سچے نےرضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
(۱۰)پھر فرمایا:
ذکر کثیرون من العارفین الذین ذکرنا ھم وغیر ھم انہ لم یقل الابامراعلاما بقطبیتہ فلم یسع احدا التخلف بل جاء باسانید متعددۃ عن کثیرین انھم اخبر واقبل مولدہ بنحو مائۃ سنۃ انہ سیولد بارض العجم مولودلہ مظھر عظیم یقول ذلك فتندرج الاولیاء فی وقتہ تحت قدمہ ۔ اولیاء کرام کہ ہم نے ذکر کئے یعنی حضرت نجیب الدین سہروردی و حضرت سید احمد رفاعی وحضرت شعیب مغربی وحضر ت عبد الرحیم قناوی رضی الله تعالی عنہم انہوں نے اوران کے سوااور بہت عارفین کرام نے تصریح فرمائی کہ حضور سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی رضی الله تعالی عنہ نے اپنی طرف سے ایسا نہ فرمایا بلکہ الله عزوجل نے ان کی قطبیت کبری ظاہر فرمانے کے لئے انہیں اس فرمانے کاحکم دیا ولہذا کسی ولی کو گنجائش نہ ہوئی کہ گردن نہ بچھاتا اورقدم مبارك اپنی گردن پر نہ لیتابلکہ متعدد سندوں سے بہت اولیاء کرام متقدمین سے مروی ہوا کہ انہوں نے سرکارغوثیت کی ولادت مبارکہ سے تقریبا سوبرس پہلے خبر دی تھی کہ عنقریب عجم میں ایك صاحب عظیم مظہر والے پیداہونگے اوریہ فرمائیں گے کہ "میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر"اس فرمانے پر اس وقت کے تمام اولیاء ان کے قدم کے نیچے سررکھیں گے اوراس
#553 · طرد الافاعی
قدم کے سایہ میں داخل ہوں گے۔اللھم لك الحمد صل علی محمد وابنہ وذریتہ۔
(۱۱)پھر فرمایا:
وحکی امام الشافعیۃ فی زمنہ ابوسعید عبدالله بن ابی عصرون قال دخلت بغدادفی طلب العلم فوافقت ابن السقاورافقتہ فی طلب العلم بالنظامیۃوکنا نزور الصالحین وکان ببغداد رجل یقال لہ الغوث ۔ (الی اخر الحدیث المذکور) "امام ابوسعید عبدالله بن ابی عصرون نے کہ اپنے زمانہ میں شافعیہ کے امام تھے ذکر فرمایا کہ میں بغداد مقد س میں طلب علم کے لئے گیا ابن السقااورمیں مدرسہ نظامیہ میں شریك درس تھے اوراس وقت بغداد میں ایك شخص کو غوث کہتے تھے(وہی پوری حدیث کہ نمبر ۵ میں گزریان غوث کا ہمارے حضور رضی الله تعالی عنہ کو بشارت دینا کہ اپ برسر منبر مجمع میں فرمائیں گے "میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر "اورتمام اولیائے عصر اپ کے قدم پاك کی تعظیم کےلئے اپنی گردنیں خم کریں گےاورپھر ایسا ہی واقع ہوناحضورکا یہ ارشاد فرمانا اور تمام اولیائے عالم کا اقرارکرنا کہ بےشك حضور کا قدم ہم سب کی گردن پر ہے)
اخر میں ابن حجر نے فرمایا:
وھذہ الحکایۃ التی کادت ان تتواتر فی المعنی لکثرۃ ناقلھا وعدالتھم ۔ یعنی یہ حکایت قریب تواتر ہے کہ اس کے ناقلین بکثرت ثقہ عادل ہیں۔
فتاوی حدیثیہ نے ابن السقا کی بدانجامی میں یہ اورزائد کیا کہ جب وہ بدبخت کہ بہت بڑا عالم جیداورعلوم شرعیہ میں اپنے اکثراہل زمانہ پرفائق اور حافظ قران اورعلم مناظرہ میں کمال سربراوردہ تھاجس سے جس علم میں مناظرہ کرتا اسے بند کردیتاایسا شخص جب شان غوث میں گستاخی کی شامت سے معاذالله معاذالله نصرانی ہوگیا بادشاہ نصاری نے اسے بیٹی تو دے دی مگر جب بیمارپڑا اسے بازار میں پھنکوادیا بھیك مانگتااورکوئی نہ دیتاایك شخص کہ اسے پہچانتا تھا گزرا اس سے پوچھا تو توحافظ تھا اب بھی قران کریم میں سے کچھ یاد ہے۔کہا سب محو ہوگیا صرف ایك ایت یاد رہ گئی ہے۔
" ربما یود الذین کفروا لوکانوا مسلمین ﴿۲﴾" کتنی تمنائیں کریں گے وہ جنہوں نے کفر اختیار کیا کہ کسی طرح مسلمان ہوتے۔
#554 · طرد الافاعی
امام ابن ابی عصرون فرماتے ہیں پھر ایك دن میں اسے دیکھنے گیا اسے پایا کہ گویا اس کا سارابدن اگ سے جلاہوا ہےوہ نزع میں تھامیں نے اسے قبلہ کی طرف کیا ہو وہ پورب کو پھرگیامیں نے پھر قبلہ کو کیا وہ پھر پھرگیا۔اسی طرح میں جتنی بار اسے قبلہ رخ کرتاوہ پورب کو پھر جاتایہاں تك کہ پورب ہی کی طرف منہ کئے اس کادم نکل گیاوہ ان غوث کا ارشاد یا دکیا کرتا اورجانتاتھا کہ اسی گستاخی نے اس بلا میں ڈالا ۔والعیاذبالله تعالی انتہی۔"
اگر کہے پھر اسلام کیوں نہیں لاتاتھاکلمہ پڑھ لینا کیا مشکل تھا اقول اس کا جواب قران عظیم دے گا:
"و ما تشاءون الا ان یشاء اللہ رب العلمین ﴿۲۹﴾" تم کیا چاہو جب تك الله نہ چاہے جو مالك سارے جہان کا ہے۔
اورفرماتاہے:
" کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " کوئی نہیں بلکہ ان کی بداعمالیوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دی ہے۔
اورفرماتاہے:
" ذلک بانہم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبہم فہم لا یفقہون ﴿۳﴾"
۔ یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی کہ اب انہیں کچھ سمجھ نہ رہی والعیاذبالله تعالی۔
امام ابن حجر فرماتے ہیں:
وفی ھذہ ابلغ زجر واکد ردع عن الانکار علی اولیاء الله تعالی خوفا من ان یقع المنکر فیماوقع فیہ ابن السقامن تلك الفتنۃ المھلکۃ الابدیۃ التی لا اقبح منہانعوذبالله اس واقعہ میں اولیاء کرام پر انکار سے کمال جھڑکنا اورسخت منع ہے اس خوف سے کہ منکر اس مہلك فتنے میں پڑجائے گا جو ہمیشہ ہمیشہ کا ہلاك ہے اورجس سے بدتر کوئی خباثت نہیں جس میں ابن السقاپڑگیاالله عزوجل کی پناہ۔ہم الله عزوجل سے
#555 · طرد الافاعی
من ذلکونسألہ بوجہہ الکریم وحبیبہ الرؤف الرحیم ان یؤمننا من ذلك ومن کل فتنۃ ومحنۃ و بمنہ وکرمہ وفیھا ایضا اتم حث علی اعتقادھم و الادب معھم وحسن الظن بھم ما امکن ۔ اس کے وجہ کریم اوراس کے حبیب رؤف رحیم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے وسیلے سے مانگتے ہیں کہ ہم کو اپنے احسان وکرم کے ساتھ اس سے اورہرفتنہ ومحنت سے امان بخشے۔نیز اس واقعہ میں کمال ترغیب ہے اس کی کہ اولیاء کرام کے ساتھ عقیدت وادب رکھیں اورجہاں تك ہو ان پر نیك گمان کریں۔
فقیر کوئے قادری امید کرتاہے کہ اتنے بیان میں اہل انصاف وسعادت کے لئے کفایت ہو۔الله عزوجل مسلمان بھائیوں کو اتباع حق وادب اولیاء کی توفیق دے اورابن السقابجہنم اس شخص کے حال سے پناہ دے جس نے بزعم خود حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی الله تعالی عنہ کے بارگاہ میں حق نیاز مندی ادا کیا اورنتیجہ معاذالله وہ ہوا کہ سید کبیر کے غضب اورحضورغوثیت کی سرکار میں اساءت ادب پر خاتمہ ہواوالعیاذبالله تعالی۔
اے برادر! مقتضائے محبت اتباع وتصدیق ہے نہ کہ نزاع وتکذیب۔سچا محب حضرت احمد کبیر کے ارشادات کو بالائے سرلے گا اورجس بارگاہ ارفع کو انہوں نے سب سے ارفع بتایا اوران کا قدم اقدس اپنے سرمبارك پر لیا انہیں کوارفع واعظم مانے گا۔ عبد الرزاق محدث شیعی تھا مگر حضرات عالیہ شیخین رضی الله تعالی عنہما کوحضرت امیر المومنین مولی علی کرم الله وجہہ سے افضل کہتااس سے پوچھا جاتاتو جواب دیتا کفی بی ازرا ان احب علیاثم اخالفہ یعنی امیرالمومنین نےخود حضرات شیخین کو اپنے نفس کریم سے افضل بتایا ہے مجھے یہ گناہ بہت ہے کہ علی سے محبت رکھوں پھر انکا خلاف کروں۔واقعی تکذیب مخالفت اگرچہ بزعم عقیدت ومحبت ہو اعلی درجہ کی عداوت ہےوالعیاذبالله تعالیالله عزوجل اپنے محبوبوں کا حسن ادب روزی کرے اورانہیں کی محبت پر خاتمہ فرمائے اورانہیں کے گرو ہ پاك میں اٹھائےامین ! امین۔
امین بجاھھم عندك یا ارحم الراحمین اے بہترین رحم فرمانے والے ان محبوبوں کا تیرے
#556 · طرد الافاعی
وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولانا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین الی یوم الدین عددکل ذرۃ ذرۃ الف الف مرۃ فی کل ان وحین الی ابدالابدینامین و الحمدلله رب العالمین۔ نزدیك جو مرتبہ ہے اس کے صدقے ہماری دعا قبول فرما۔ الله ہمیشہ ہمیشہ قیامت کے روز تك ہر گھڑی ہر لمحے ہمارے اقاومولیانکی الصحابہبیٹے اوران کے گروہ سب پرکروڑوں درود بھیجےامین۔اورسب تعریفیں الله کے لئے ہیں جو رب ہے تمام جہانوں کا۔(ت)والله تعالی اعلم۔
__________________
رسالہ
طرد الافاعی عن حمی ھاد رفع الرفاعی
ختم ہوا۔
#557 · رسالہ فتاوٰی کرامات غوثیہ
رسالہ
فتاوی کرامات غوثیہ

مسئلہ اولی:
از اوجین ریاست گوالیار مرسلہ جناب محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۷ربیع الاخر ۱۳۱۰ھ
مسئلہ ۱۲:کیافرماتے ہیں علمائے حق الیقین اورمفتیان پابند شرع متین اس مسئلہ میں کہ عبارت نظم "شام ازل اورصبح ابد"سے بیٹھ جانا براق کا وقت سواری انحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ثابت ہے۔
"مقولہ جبرئیل علیہ السلام"
نظم
مسند نشین عرش معلی یہی تو ہے
مفتاح قفل گنج فاوحی یہی تو ہے
مہتاب منزل شب اسری یہی تو ہے
خورشید مشرق فتدلی یہی تو ہے
ہمراز قرب ہمدم اوقات خاصہ ہے
ہژدہ ہزار عالم رب کا خلاصہ ہے
سن کر یہ بات بیٹھ گیا وہ زمیں پر
تھامی رکاب طائرسدرہ نے دوڑکر
رونق افزائے دیں ہوئے سلطان بحروبر
کی عرض پھر براق نے یا سید البشر
محشرکو جب قدم سے گہر پوش کیجئے
اپنے غلام کو نہ فراموش کیجئے
#558 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
خیرالوری نے دی اسے تسکیں کہا کہ ہاں
خوش خوش وہ سوئے مسجداقصی ہوا رواں
صاحب"تحفہ قادریہ"لکھتے ہیں کہ براق خوشی سے پھولا نہ سمایا اوراتنا بڑا اوراونچا ہوگیا کہ صاحب معراج کا ہاتھ زین تك اورپاؤں رکاب تك نہ پہنچا۔ارباب معرفت کے نزدیك اس معاملہ میں عمدہ ترحکمت یہ ہے کہ جس طرح اج کی رات محبوب اپنا دولت وصال سے فرح(خوشحال)ہوتاہے اسی طرح محبوب کا محبوب بھی نعمت قرب خاص اور دولت اختصاص اورولایت مطلق اورغوثیت برحق اورقطبیت اصطفاء اورمحبوبیت مجدوعلاسے اج مالا مال ہی کردیاجائے۔
چنانچہ صاحب "منازل اثنا عشریہ" "تحفہ قادریہ سے لکھتاہے کہ اس وقت سیدی ومولائی مرشدی وملجائیقطب الاکرمغوث الاعظمغیاث الدارین وغوث الثقلینقرۃ العین مصطفوی نوردیدہ مرتضویحسنی حسینی سروحدیقہ مدنینورالحقیقت والیقین حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی روح پاك نے حاضرہوکر گردن نیاز صاحب لولاك کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اوراس طرح عرض کیا: (بیت)
برسرودیدہ ام بنہ اے مہ نازنین قد بودبسر نوشت من فیض قدم ازیں قدم
(اے نازنین میرے سر اورانکھوں پرقدم رکھئے تاکہ اس کی برکت سے میری تقدیر پر فیضان قدم ہو۔ت)
خواجہ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم گردن غوث الاعظم پر قدم رکھ کر براق پر سوار ہوئے اوراس روح پاك سے استفسار فرمایا کہ تو کون ہےعرض کیا:میں اپ کے فرزندان ذریات طیبات سے ہوں اگر اج نعمت سے کچھ منزل بخشئے گا تواپ کے دین کو زندہ کروں گا۔فرمایا:تو محی الدین ہے اورجس طرح میرا قدم تیری گردن پر ہے کل تیرا قدم کل اولیاء کی گردن پر ہوگا۔
بیت قصیدہ غوثیہ:
وکل ولی لہ قدم وانی علی قدم النبی بدرالکمال
(ہرولی میرے قدم بقدم ہے اورمیں حضورسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پرہوں جو اسمان کمال کے بدرکامل ہیں۔ت)
#559 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
پس ان دونوں عبارت کتب سے کون سی عبارت متحقق ہے کس پر عمل کیاجائے یا دونوں ازروئے تحقیق کے درست ہیں بیان فرمائیے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
الجواب:
حضورپرنورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سواری کے وقت براق کا شوخی کرناجبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام کا اسے تنبیہ فرمانا کہ:
"اے براق! کیا محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ یہ برتاؤ! واللہ !تجھ پرکوئی ایسا سوار نہ ہوا جو اللہ عزوجل کے حضوران سے زیادہ رتبہ رکھتاہو۔"
اس پر براق کا شرماناپسینہ پسینہ ہوکر شوخی سے باز رہناپھر حضور پرنور صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ کا سوار ہونایہ مضمون تو ابوداود وترمذی ونسائی وابن حبان وطبرانی وبیہقی وغیرہم اکابر محدثین کی متعدد احادیث صحاح وحسان وصوالح سے ثابت۔
کما بسط اکثرھاالمولی الجلال السیوطی قدس سرہ فی خصائصہ الکبری وغیرہ من العلماء الکرام فی تصانیفھم الحسنی۔ جیسا کہ اس میں سے اکثرکی تفصیل امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "الخصائص الکبری "میں اوردیگر علماء کرام نےاپی شاندار تصانیف میں فرمائی ہے۔(ت)
اوراس کا حیا کے سبب براہ تذلل وانقیادپست ہوکر لپٹ جانا بھی حدیث میں وارد ہے۔
ففی روایۃ عند ابن اسحق رفعا الی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال فارتعشت حتی لصقت بالارض فاستویت علیہا ۔ اورایك روایت میں ابن اسحق سے مرفوعا مروی ہے کہ حضور پرنورصلوات اللہ وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:جب جبریل نے اس سے کہا تو براق تھراگیا اورکانپ کر زمین سے چسپاں ہو گیاپس میں اس پر سوار ہوگیا۔صلی اللہ تعالی علیہ وعلی الہ و صحبہ وبارك وسلم۔
#560 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
اوریہ روایت کہ سوال میں تحفہ قادریہ سے ماثوراس کی اصل بھی حضرات مشائخ کرام قدست اسرارہم میں مذکور۔۔۔۔۔ فاضل عبدالقادر قادری عــــــہ بن شیخ محی الدین اربلیتفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادررضی اللہ تعالی عنہ میں لکھتے ہیں کہ جامع شریعت وحقیقت شیخ رشید بن محمد جنیدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کتاب حرزالعاشقین میں فرماتے ہیں:
ان لیلۃ المعراج جاء جبرئیل علیہ السلام ببراق الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسرع من البرق الخاطف الظاھرونعل رجلہ کالھلال الباھر یعنی شب معراج جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام خدمت اقدس حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں براق حاضر لائے کہ چمکتی اچك لے جانیوالی بجلی سے زیادہ شتاب روتھااوراس کے پاؤں کا نعل انکھوں میں چکا جوند ڈالنے والا ہلال

عــــــہ:حضرت علامہ عبدالقادرقادری بن محی الدین الصدیقی الاربلی جامع علوم شریعت وحقیقت تھے۔علماء کرام اورصوفیہ عظام میں عمدہ مقام پایا۔اپ کے اساتذہ میں الشیخ عبدالرحمن الطالبانی جیسے اجلہ فضلاء شامل ہیں۔اورفہ میں ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء میں وصال پایا۔اپ کی تصانیف میں سے مشہور کتابیں یہ ہیں:
۱۔اداب المریدین ونجاۃ المسترشدین ۲۔تفریح الخاطرفی مناقب الشیخ عبدالقادر
۳۔النفس الرحمانیۃ فی معرفۃ الحقیقۃ الانسانیہ ۴۔الدرالمکنون فی معرفۃ السرالمصون
۵۔حدیقۃ الازھار فی الحکمۃ والاسرار ۶۔شرح الصلاۃ المختصرۃ للشیخ اکبر
۷۔الدررالمعتبرۃ فی شرح الابیات الثمانیہ عشرہ ۸۔شرح اللمعات للفخرالدین العراقی
۹۔القواعد الجمعیۃ فی الطریق الرفاعیۃ ۱۰۔مجموعۃ الاشعارفی الرقائق والاثار
۱۱۔مراۃ الشہودفی وحدۃ الوجود ۱۲۔مسك الختام فی معرفۃ الاماممختصرفی کراستہ
۱۳۔الالہامات الرحمانیہ فی مراتب الحقیقۃ الانسانیۃ ۱۴۔حجۃ الذاکرین وردالمنکرین۔
۱۵۔الطریقۃ الرحمانیہ فی الرجوع والوصول الی الحضرۃ العلیۃ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
ا۔معجم المولفینعمر رضاکحالہالجزء الخامس ص۳۵۴
ب۔ھدیۃ العارفیناسماعیل باشاالبغدادی جلد اول ص۶۰۵
#561 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
ومسمارہ کالانجم الظواھرولم یأخذ ہ السکون والتمکین لیرکب علیہ النبی الامینفقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلملم لم تسکن یابراق حتی ارکب علی ظھرکفقال روحی فداء لتراب نعلك یارسول اللہ اتمنی ان تعاھدنی ان لاترکب یوم القیمۃ علی غیر حین دخولك الجنۃفقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون لك ماتمنیتفقال البراق التمس ان تضرب یدك المبارکۃ علی رقبتی لیکون علامۃ لی یوم القیمۃفضرب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یدہ علی رقبۃ البراقففرح البراق فرحا حتی لم یسع جسدہ روحہ ونمی اربعین ذراعامن فرحہ وتوقف فی رکوبہ لحظۃ لحکمۃ خفیۃ ازلیۃفظھرت روح الغوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ وقال یا سیدی ضع قدمك علی رقبتی وارکبفوضع النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدمہ علی رقبتہ ورکبفقال قدمی علی رقبتك وقدمك علی رقبۃ کل اولیاء اللہ تعالی انتہی۔ اوراس کی کیلیں جیسے روشن تارے۔حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سواری کے لئے اسے قراروسکون نہ ہواسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے سبب پوچھا:بولا:میری جان حضور کی خاك نعل پر قربانمیری ارزو یہ ہے کہ حضور مجھ سے وعدہ فرمالیں کہ روز قیامت مجھی پر سوارہوکر جنت میں تشریف لے جائیں۔حضور معلی صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیہ نے فرمایا:ایسا ہی ہوگا۔براق نے عرض کی:میں چاہتا ہوں حضور میری گردن پر دست مبارك لگادیں کہ وہ روز قیامت میرے لیے علامت ہو۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔دست اقدس لگتے ہی براق کو وہ فرحت وشادمانی ہوئی کہ روح اس مقدار جسم میں نہ سمائی اورطرب سے پھول کر چالیس ہاتھ اونچا ہوگیا۔حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایك حکمت نہانی ازلی کے باعث ایك لحظہ سواری میں توقف ہوا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی روح مطہر نے حاضر ہوکر عرض کی: اے میرے اقا ! حضور اپنا قدم پاك میری گردن پر رکھ کر سوار ہوں۔سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی گردن مبارك پر قدم اقدس رکھ کر سوارہوئے اورارشاد فرمایا:"میرا قدم تیری گردن پر اور تیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پر۔"
#562 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
اس کے بعد فاضل عبدالقادر اربلی فرماتے ہیں:
فایاك یااخی ان تکون من المنکرین المتعجبین من حضور روحہ لیلۃ المعراج لانہ وقع من غیرہ فی تلك اللیلۃ کما ھو ثابت بالاحادیث الصحیحۃ کرؤیتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارواح الانبیاء فی السموت وبلالا فی الجنۃ واویسا القرنی فی مقعدالصدق و یعنی اے برادر! بچ اور ڈر اس سے کہ کہیں تو انکار کر بیٹھے اورشعب معراج حضورغوث پاك رضی اللہ تعالی عنہ کی حاضری پر تعجب کرے کہ یہ امر توصحیح حدیثوں میں اوروں کے لئے وارد ہواہےمثلا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسمانوں میں ارواح انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام عــــــہ۱ کو ملاحظہ فرمایااورجنت میں بلال رضی اللہ تعالی عنہ عــــــہ۲ کو دیکھا اورمقعد صدق میں اویس قرنی اور

عــــــہ۱:تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی تفضیلہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱/۱۴۵
عــــــہ۲:حدیث شریف میں ہے:قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لبلال صلوۃ الغداۃ یا بلال حدثنی بارجی عمل عملتہ عندك فی الاسلام منفعۃ فانی سمعت اللیلۃ خشف نعلیك بین یدی فی الجنۃ الحدیث
ایك اورحدیث میں یوں ہے:عن ابن عباس قال لیلۃ اسری برسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دخل الجنۃ فسمع فی جانبہا خشفا فقال یاجبریل من ھذا فقال ھذا بلال المؤذن فقال قدافلح بلال رأیت لہ کذاکذا ۔
حضرت ابو امامہ کی روایت میں مرفوعا ہے:فقیل ھذا بلال یمشی امامک ۔
مذکورہ روایات اوراحادیث کا مفہوم یہ ہے کہ شب معراج حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو جنت میں ملاحظہ فرمایا۔
#563 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
امرأۃ ابی طلحۃ فی الجنۃوسماعہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خشخشۃ الغمیصاء بہشت میں زوجہ ابوطلحہ عــــــہ۱ کو اورجنت میں غمیصاء بنت ملحان کی پہچل عــــــہ۲ سنیجیسا کہ ہم اس سے قبل ذکر کرچکے ہیں۔

عــــــہ۱:حدیث میں ہے:عن جابر بن عبداللہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال رأیت الجنۃ فرأیت امرأۃ ابی طلحۃ الحدیث ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے جنت میں ابوطلحہ کی زوجہ کو دیکھا۔
عــــــہ۲:حدیث شریف میں ہے:عن انس عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت من ھذا قالوا ھذہ الغمیصاء بنت ملحان ام انس بن مالك ۔
ایك اور روایت میں یوں بیان ہوا:عن انس بن مالك قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دخلت الجنۃ فسمعت خشخشۃ بین یدی فاذا ھی الغمیصاء بنت ملحان ام انس بن مالک ۔
مسند احمد کی دوسری روایت یوں ہے:عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دخلت فسمعت بین یدی خشفۃ فاذا انا بالغمیصاء بنت ملحان ۔
ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضر ت انس بن مالك کی والدہ حضرت غمیصاء بنت ملحان رضی اللہ تعالی عنہماکی جنت میں پہچل سنی۔
نوٹ:یاد رہے کہ غمیصاء بنت ملحان یہی زوجہ ابوطلحہ ہیں۔فاعلم ذلك
(حاشیہ منجانب امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ)
#564 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
بنت ملحان فی الجنۃ کما ذکرنا قبل ھذاوذکرفی حرز العاشقین وغیرہ من الکتب ان نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لقی لیلۃ المعراج سیدنا موسی علیہ السلام فقال موسی مرحبابالنبی الصالح والاخ الصالح انت قلت علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ارید ان یحضراحد من علماء امتك لیتکلم معی فاحضر النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم روح الغزالی رحمہ اللہ تعالی الی موسی علیہ السلام(وساق القصۃ ثم قال)وفی کتاب رفیق الطلاب لاجل العارفین الشیخ محمد الجشتی نقلا عن شیخ الشیوخ قال قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انی رأیت رجالا من امتی فی لیلۃ المعراج ارانیھم اللہ تعالی(الخ ثم قال)وقال الشیخ نظام الدین الکنجوی کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم راکبا علی البراق و اورحرز العاشقین وغیرہ کتابوں میں کہ حضرت سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی درخواست پر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے روح امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو حکم حاضری دیا۔روح امام نےحاضرہوکر موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کلام کیا۔ عــــــہ۱ اورعارف اجل شیخ محمد چشتی نے کتاب رفیق الطلاب میں حضرت شیخ الشیوخ قدست اسرارہم سے نقل کیاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب معراج کچھ لوگ اپنی امت کے ملاحظہ فرمائے عــــــہ۲ اورشیخ نظام الدین گنجوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے تھے: جب حضورپرنورصلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ رونق افروز پشت براق پر تھے اوربراق کا زین پوش میرے کندھے پرتھا۔ اورعمدۃ المحدثین امام نجم الدین غیطی کتاب المعراج میں فرماتے ہیں:جب حضورمعلی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سدرۃ المنتہی تك تشریف لے گئے اس پر ایك ابر چھایا عــــــہ۳ جس میں ہر قسم کا رنگ تھاجبریل امین

عــــــہ۱:(ا)نبر اس شرح شرح عقائدعلامہ عبدالعزیز پرہارویص۳۸۸
(ب)مقابیس المجالس اردوترجمہ از واحد بخش سیال ص۲۵۵
(ج)معراج النبی از علامہ سید احمد سعید کاظمی ص۲۸ اورمابعد
(د)عرفان شریعت(مجموعہ فتاوی امام احمد رضا)مرتبہ مولانا محمد عرفان علی حصہ سوم ص۸۴تا۹۱
عــــــہ۲:رفیق الطلاب مجتبائی دہلی ص۲۸
عــــــہ۳:عمدۃ الفضلاء المحققین امام نجم الدین غیطی فرماتے ہیں:واماالرفرف فیحتمل ان المراد بہ السحابۃ التی غشیتہ وفیھا من کل لون التی رواھا ابن ابی حاتم عن انس وعندما غشتہ تاخرعنہ جبریل۔(کتاب المعراج(مؤلفہ رجب ۹۹۹ھ)مطبوعہ مصرص۸۹)
#565 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
غاشیتہ علی کتفی انتھی وقال عمدۃ المحدثین الامام نجم الدین الغیطی فی کتاب المعراج ثم رفع الی سدرۃ المنتہی فغشیہ سحابۃ فیہا من کل لون فتأخر جبریل علیہ السلام ثم عرج لمستو سمع فیہ صریف الاقلام ورأی رجلا مغیبا فی نور العرش فقال من ھذا أملک قیل:لا۔قال:أنبی قیل:لا ھذا رجل کان فی الدنیالسانہ رطب من ذکر اللہ تعالی وقلبہ معلق بالمساجد ولم یستسب لوالدیہ قط الخ مافی التفریح ملخصا۔ علیہ الصلوۃ والسلام پیچھے رہ گئے۔سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مستوی پر جلوہ عــــــہ۱ فرماہوئےوہاں قلموں کے لکھنےکی اواز گوش اقدس میں ائی اورایك شخص کو ملاحظہ فرمایا کہ نور عرش میں چھپاہوا ہےحضور نے دریافت فرمایا:کیا یہ فرشتہ ہے جواب ہوا۔:نہیں۔پوچھاکیا یہ نبی ہے کہا:نہیں بلکہ یہ ایك مرد ہے کہ دنیا میں اس کی زبان یا دخدا میں تر رہتی اوردل مسجدوں میں لگا رہتا۔کبھی کسی کے ماں باپ کو براکہہ کر اپنے والدین کو برا نہ کہلوایا عــــــہ۲ انتہی۔
یعنی جب معراج میں اتنے لوگوں کی ارواح کا حاضر ہونااحادیث واقوال علماء واولیاء سے ثابت ہے تو روح اقدس حضور پرنورسید الاولیاء غوث الاصفیاء رضی اللہ تعالی عنہ کی حاضریکیا جائے تعجب وانکار ہے بلکہ ایسی حالت میں حاضرنہ ہونا ہی محل استعجاب ہے۔اك ذرا انصاف واندازہ قدرقادریت درکار ہے۔
اقول وباللہ التوفیق(میں کہتاہوں اوراللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت)فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ "ھدی الحیران فی نفی الفئی عن سیدالاکوان"میں بعونہ تعالی ایك فائدہ جلیلہ لکھا کہ مطالب چند قسم ہیںہر قسم کا مرتبہ جدااورہر مرتبہ کا پایہ ثبوت علیحدہ۔اس قسم مطالب احادیث میں ظہورنہ ہونا مضر نہیںبلکہ کلمات علماء ومشائخ میں ان کاذکر کافی۔
عــــــہ۱:امام نجم الدین غیطی فرماتے ہیں:ثم عرج بہ حتی ظھر لمستوی سمع فیہ صریف الاقلام۔(کتاب المعراجمطبوعہ مصر ص۸۷۸۹)
عــــــہ۲:تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:کتاب المعراج ص۹
#566 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
امام خاتمۃ المحدثین جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ الشریف نے "مناھل الصفاء فی تخریج احادیث الشفاء "میں اس روایت کی نسبت کہ امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضو رپرنور صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ کے وصال اقدس کے بعد کلام طویل میں حضور کو ہرجملہ پر بکلمہ "بابی انت وامی یارسول اللہ"(یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیك وسلم !میرے ماں باپ اپ پر قربان ہوں۔ت)نداکرکے فضائل جلیلہ وخصائص جمیلہ بیان کئےتحریر فرمایا:
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثرلکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفی بذلك سندا لمثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ۔ یعنی میں نے یہ روایت کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اورامام ابن الحاج نے اپنی مدخل میں اسے ایك حدیث طویل کے ضمن میں ذکر کیا اورایسی روایت کو اسی قدر سند کفایت کرتی ہے کہ انہیں کچھ باب احکام سے تعلق نہیں انتہی۔
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض میں نقل کیا اور مقرررکھا۔
بالجملہ روح مقد س کا شب معراج کوحاضر ہونا اورحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حضرت غوثیت کی گردن مبارك پر قدم اکرم رکھ کر براق یا عرش پر جلوہ فرمانااورسرکارابدقرارسے فرزند ارجمند کو اس خدمت کے صلہ میں یہ انعام عظیم عطا ہونا____ان میں کوئی امر نہ عقلا اورشرعا مہجور اورکلمات مشائخ میں مسطور وماثورکتب حدیث میں ذکر معدومنہ کہ عدم مذکورنہ روایات مشائخ اس طریقہ سند ظاہری میں محصوراورقدرت قادر وسیع وموفوراورقدر قادری کی بلندی مشہور پھر ردوانکارکیا مقتضائے ادب وشعور۔
اب یہ رہا کہ اس حدیث میں کہ براق برق رفتار زمین سے لپٹ گیا۔اوراس روایت میں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم گردن حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ پر قدم رکھ کر زیب پشت براق ہوئےبظاہر تنافی ہے۔
اقول: اصلا منافات نہیںبلکہ جب اسی روایت میں مذکور کہ براق فرط فرحت سے
#567 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
چالیس ہاتھ اونچا ہوگیا اورپرظاہر کہ جو مرکب عــــــہ۱ اس قدر بلند ہووہ کیسا ہی زمین سے ملصق عــــــہ۲ ہوجائے تاہم قامت انسان سے بہت بلند رہے گا اوراس پر سواری کے لئے ضرور حاجت نردبان عــــــہ۳ ہوگی۔اب ایك چھوٹے سے جانور فیل عــــــہ۴ ہی کو دیکھئے کہ جب ذرا بلند وبالاہوتاہے اسے بٹھا کر بھی بے زینہ سواری قدرے دقت رکھتی ہے۔تو اگر براق بوجہ حیاء وتذلل حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سواری کے لئے زمین سے لپٹ گیا ہو اورپھر بھی بوجہ طول ارتفاع حاجت زینہ ہو جس کے لئے روح سرکار غوثیت مدار رضی اللہ تعالی عنہ سے حاضر ہوکر اپنے مہربان باپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زیر قدم اکرم اپنا شانہ مبارك رکھا ہوکیا جائے استعجاب عــــــہ۵ ہے۔
وصلی اللہ تعالی علی الحبیب الاکرم والہ وصحبہ اھل الکرم وابنہ الکریم الغوث الاعظم وعلینا بجاھھم وبارك وسلم۔
واللہ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اللہ تعالی اپنے حبیب اکرمآپ کے کرم والے ال واصحاب اپ کے کریم بیٹے غوث اعظم اور ان کے صدقے میں ہم پر رحمتبرکت اور سلام نازل فرمائے۔(ت)
مسئلہ دوم:
از کٹھورضلع سورت اسٹیشن سائن پرب مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۱۶رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
مسئلہ ۱۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین ان اقوال کے باب میں:
اول:ایك رسالہ میں لکھا ہے کہ شب معراج میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو حضرت پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ نےعرش معلی پر اپنے اوپر سوار کر کے پہنچایایا کاندھا دےکر اوپر سوارکر کے پہنچایایاکاندھا دے کر اوپر جانے کی معاونت کییعنی یہ کام اوپر جانے کا براق اورحضرت جبریل علیہ السلام اوررسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے انجام کو نہ پہنچا حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یہ مہم سرانجام کو پہنچائی۔
عــــــہ۱: مرکب بمعنی سواری عــــــہ۲:ملصق ہونا:چمٹ جانامل جان عــــــہ۳:سیڑھی عــــــہ۴:ہاتھی عــــــہ۵:تعجب ۔
#568 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
دوسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے۔
تیسرے یہ کہ زنبیل ارواح کی عزرائیل علیہ السلام سے حضرت پیران پیر نے ناراض اورغصہ میں ہوکر چھین لی تھی۔
چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت غوث الاعظم رحمہ اللہ تعالی حضرت ابوبکر صدیق سے زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں۔
ان اقوال کا کیا حال ہے مفصل بیان فرماکر اجر عظیم اورثواب کریم پائیں اوررفع نزاع بین الفریقین فرمائیں۔
المستفتی
عبدالحق عفاعنہ کٹھورضلع سورتگجرات(بھارت)
مؤرخہ ۱۶رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
الجواب:
اللھم لك الحمد فقیر غفراللہ تعالی لہ کلمات چند مجمل وسودمند عــــــہ۱ گزارش کرے اگرچہ فریقین میں سےکسی کو پسند نہ ائیں مگر بعونہ تعالی حق وانصاف ان سے متجاوزنہیں والحق احق ان یتبع واللہ الہادی الی صراط مستقیم(اورحق ہی اتباع کے زیادہ لائق ہےاوراللہ تعالی سیدھی راہ دکھانے والاہے۔)
جواب سوال۲:یہ قول کہ"اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو حضور غوث پاك رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے اگرچہ اپنے مفہوم شرطی پرصحیح وجائزالاطلاق ہے کہ بے شك مرتبہ علیہ رفیعہ حضورپرنوررضی اللہ تعالی عنہ تلومرتبہ نبوت عــــــہ۲ "
عــــــہ۱:مفید
عــــــہ۲:مرتبہ غوثیتمرتبہ نبوت کے پیچھے اوراس سے نیچے ہے۔
#569 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
ہے۔خودحضور معلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:"جو قدم میرے جداکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اٹھایا میں نے وہیں قدم رکھا سوا اقدام نبوت کےکہ ان میں غیر نبی کا حصہ نہیں
از نبی برداشتن گام از توبنہادن قدم غیر اقدام النبوۃ سدممشاھا الختام
(نبی کا کام قدم اٹھانا اوراپ کا کام قدم رکھنا ہے علاوہ اقدام نبوت کےکہ وہاں ختم نبوت نے راستہ بند کردیاہے)
اورجواز اطلاق یوں کہ خود حدیث میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے وارد:
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما۔ میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتا(اس کو امام احمدترمذی اورحاکم نے عقبہ بن عامر سے جبکہ طبرانی نے معجم کبیر میں عصمہ بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں حضرت ابراہیم صاحبزادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے وارد:
لو عاش ابراھیم لکان صدیقانبیا۔رواہ ابن عساکر عن جابر بن عبداللہ وعن ابن عباس وعن ابن ابی اوفی والباوردی اگر ابراہیم جیتے تو صدیق وپیغمبر ہوتے۔(اس کو ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ اورابن عباس اورابن ابی اوفی سےجبکہ الباوردی نےحضرت
#570 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
عن انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہم۔ انس بن مالك سے روایت کیااللہ تعالی ان سے راضی ہو۔)
علماء نے امام ابو محمد جوینی قدس سرہ کی نسبت کہا ہے کہ:" اگر اب کوئی نبی ہوسکتا تو وہ ہوتے۔"امام ابن حجر مکی اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
قال فی "شرح المہذب "نقلا عن الشیخ الامام المجمع علی جلالتہ وصلاحہ وامامتہ ابی محمد الجوینی الذی قیل فی ترجمتہ لو جاز ان یبعث اللہ فی ھذہ الامۃ نبیا لکان ابا محمد الجوینی ۔ شرح مہذب میں کہا نقل کرتے ہوئے اس شیخ وامام سے جن کی جلالت وصلاحیت وامامت پر اجماع ہے یعنی ابو محمد جوینی علیہ الرحمہ جن کے تعارف میں کہا گیا ہے کہ اگر اب اللہ تعالی کی طرف سے اس امت میں کسی نبی کو بھیجنا جائزہوتا تو وہ ابو محمد جوینی ہوتے(ت)
مگر ہر حدیث حق ہےہر حق حدیث نہیں۔حدیث ماننے اورحضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنے کے لئے ثبوت چاہیےبے ثبوت نسبت جائز نہیںاورقول مذکور ثابت نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
جواب سوال ۴:حضرت ام المومنین محبوبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہا وسلم کا روح اقدس سیدنا الغوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو دودھ پلانابعض مداحین حضور اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں کما رأیت فی بعض کتبھم التصریح بذلک(جیسا کہ میں نے ان کی بعض کتابوں میں اس پر تصریح دیکھی۔ت)
اس تقدیر پر تو اصلااستبعاد عــــــہ۱ نہیں اوراب اس پرجو کچھ ایرادکیا گیا سب بے جاو بے محل ہے اوراگر بیداری ہی میں مانا جاتاہو تاہم بلاشبہہ عقلااورشرعاجائز اوراس میں درایۃ کوئی استحالہ عــــــہ۲ درکنا راستبعادبھی نہیں۔" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾" ۔ (بیشك اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ت)
عــــــہ۱:دورازقیاس عــــــہ۲:محال ہونا
#571 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
نہ ظاہر میں ام المومنین کے پاس شیر نہ ہونا کچھ اس کے منافی کہ امور خارقہ للعادہ عــــــہ۱ اسباب ظاہر پر موقوف نہیںنہ روح عام متکلمین کے نزدیك مجردات سے ہے اورفی نفسہامادیہ نہ سہی تاہم مادہ سے اس کا تعلق بدیہی۔نہ جسمجسم شہادت میں منحصر۔جسم مثالی بھی کوئی چیز ہے کہ ہزاروں احادیث برزخ وغیرہ اس پر گواہ عــــــہ۲ کیفما کان عــــــہ۳ شك نہیں کہ روح مفارق عــــــہ۴ کی طرف نصوص متواترہ میں نزول وصعود ووضع وتمکن وغیرہ اعراض جسم وجسمانیت قطعا منسوب اور وہ نسبتیں اہل حق کے نزدیك ظاہر پرمحمول عــــــہ۵ یالیت شعری جب ارواح شہداء کا میوہ ہائے جنت کھانا ثابت۔
الترمذی عن کعب بن مالك قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان ارواح الشہداء فی طیرخضر تعلق من ثمر الجنۃ ۔ (امام ترمذی کعب ابن مالك سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایا بے شك شہداء کی ارواح سبز رنگ کے پرندوں میں میوہ ہائے جنت سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
جبکہ دوسری روایت میں ارواح عام مومنین کے لئے یہی ارشاد:
الامام احمد عن الامام الشافعی عن الامام مالك عن الزھری عن عبدالرحمن بن کعب بن مالك عن ابیہ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نسمۃ المؤمن طائر یعلق فی شجر الجنۃ حتی یرجعہ اللہ تعالی فی جسدہ یوم یبعثہ ۔ امام احمد امام شافعی سے وہ امام مالك سے وہ زہری سے وہ عبد الرحمن بن کعب بن مالك سے وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ) مومن کی روح پرندہ کی صورت میں جنت کے درختوں میں رہتی ہے یہاں تك کہ قیامت کے روز اللہ تعالی اسے اپنے جسم کی طرف لوٹا دے گا۔

عــــــہ۱:عادت کے خلافکرامت وغیرہ عــــــہ۲:وہ احادیث جو احوال برزخ پر مشتمل ہیں ان میں جسم مثالی بکثرت ذکرایا ہے لہذا وہ احادیث جسم مثالی کے وجود پر گواہ ہیں۔ عــــــہ۳:کوئی بھی صورت ہو
عــــــہ۴:جسم سے جدا روح عــــــہ۵:اہل سنت کے نزدیك اپنے ظاہری معنی پر ہے ان میں کوئی تاویل نہیں کی گئی۔
#572 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
تو دودھ پلانے میں کیا استحالہ ہے۔حال روح بعد فراق وپیش از تعلق میں فارق عــــــہ۱ کیا ہے اخر حضرت ابراھیم علی ابیہ الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم کے لئے صحیح حدیث میں ہے:"جنت میں دو دایہ ان کی مدت رضاعت پوری کرتی ہیں۔"
رواہ احمد ومسلم عن انس رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان ابراھیم ابنی وانہ مات فی الثدی وانہ لو ظئرین یکملان رضاعہ فی الجنۃ ۔ اس کو امام احمد ومسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا جو شیر خوارگی کی عمر میں وصال فرماگیا ہے بیشك جنت میں اس کیلئے دو دایہ ہیں جو اس کی مدت رضاعت پوری کریں گی۔(ت)
بایں ہمہ یہ باتیں نافی استحالہ یں نہ مثبت وقوع عــــــہ۲ قول بالوقوع تاوقتیکہ نقل ثابت نہ ہو جزاف عــــــہ۳ وبے اصل ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔
جواب سوال ۳:زنبیل ارواح عــــــہ۴ چھین لینا خرافات مخترعہ جہال سے ہے۔سیدنا عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام رسل ملائکہ سے ہیں اوررسل ملائکہاولیاء بشر سے بالاجماع افضل۔تو مسلمانوں کو ایسے اباطیل واہیہ
عــــــہ۱:روح کے جسم سے جدا ہونے کے بعد کی حالت اورجسم سے متعلق ہونے سے پہلے کی حالت میں کوئی فرق نہیں۔
عــــــہ۲:ان دلائل سے استحالہ کی نفی ہوتی ہے لیکن اس کا واقع ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
عــــــہ۳:من گھڑتجھوٹبے ہودہ
عــــــہ۴:روحوں کاتھیلا۔
#573 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
سے احترام لازم عــــــہ ۔واللہ الہادی الی سبیل الرشاد۔
جواب سوال ۵:یونہی جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پرنورسید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت جناب افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے افضل ہیں یا ان کے ہمسر ہیں
عــــــہ:تنبیہ:مبنائے انکار یہ طرز ادا ہے ورنہ ممکن کہ سیدنا عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ روحیں بامر الہی قبض فرمائی ہوں اورحضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا سے باذن الہی پھر اپنے اجسام کی طرف پلٹ ائی ہوں کہ احیاء مردہ حضور پرنور ودیگر محبوبان خدا سے ایسا ثابت ہے کہ جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔
یوں ہی ممکن کہ حضرت ملك الموت نے بنظر صحائف محوواثبات قبض بعض ارواح شروع کیا اور علم الہی میں قضائے ابرام نہ پایاتھا ببرکت دعائے محبوب قبض سے بازرکھے گئے ہوں۔
امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب لواقح الانوارمیں حالات حضرت سیدی شیخ محمد شربینی قدس سرہ میں لکھتے ہیں:
لما ضعف ولدہ احمد واشرف علی الموت وحضرعزرائیل لقبض روحہ قال لہ الشیخارجع الی ربك فراجعہ فان الامر نسخ فرجع عزرائیل وشفی احمد من تلك الضعفۃ وعاش بعدھا ثلاثین عاما ۔ یعنی جب ان کے صاحبزارے احمد ناتواں ہوکر قریب مرگ ہوئے اورحضرت عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام ان کی روح قبض کرنے ائے حضرت شیخ نے ان سے گزارش کی کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے اس سے پوچھ لیجئے کہ حکم موت منسوخ ہوچکا ہے۔ عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام پلٹ گئےصاحبزادے نے شفاپائی اور اس کے بعد تیس برس زندہ رہے۔واللہ تعالی اعلم۔
#574 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
گمراہ بد مذہب ہے۔سبحان اللہاہل سنت کا اجماع ہے کہ حضور صدیق اکبررضی اللہ تعالی عنہ حضرت امام اولیاء مرجع العرفاء امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا مولی علی کرم اللہ وجہہ سے بھی اکرم وافضل واتم واکمل ہیں جو اس کا خلاف کرے اسے بدعتیشیعیرافضی مانتے ہیںنہ کہ حضورغوثیت ماب رضی اللہ تعالی عنہ کی تفضیل عــــــہ دینی کہ معاذاللہ انکار ایات قرانیہ واحادیث صحیحہ وخرق اجماع امت مرحومہ ہے لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
یہ مسکین اپنے زعم میں سمجھا جائے کہ میں نے حق محبت حضورپر نور سلطان غوثیت رضی اللہ تعالی عنہ کا ادا کیا کہ حضور کو ملك مقرب پر غالب یا افضل بتایاحالانکہ ان بیہودہ کلمات سے پہلے بیزار ہونے والے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں وباللہ التوفیق۔
جواب سوال ۱:رہا شب معراج میں روح پر فتوح حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالی عنہ کا حاضر ہوکر پائے اقدس حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نیچے گردن رکھنااوروقت رکوب براق یا صعودعرش زینہ بنناشرعا وعقلا اس میں کوئی بھی استحالہ نہیں۔
سدرۃ المنتہی اگر منتہائے عروج ہے تو باعتبار اجسام نہ بنظرارواح۔عروج روحانی ہزاروں اکابر اولیاء کو عرش بلکہ مافوق العرش تك ثابت وواقعجس کا انکار نہ کرے گا مگر علوم اولیاء کا منکر۔بلکہ باوضو سونے والے کے لئے حدیث میں وارد کہ:
"اس کی روح عرش تك بلند کی جاتی ہے۔"
نہ اس قصہ میں معاذاللہ بوئے تفضیل یا ہمسری حضورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے نکلتی ہےنہ اس کی عبارت یا اشارت سے کوئی ذہن سلیم اس طرف جاسکتاہے۔کیا عجب سواری براق سے بھی یہی معنی تراشے جائیں کہ اوپر جانے کا کام حضرت جبرائیل علیہ السلام اوررسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے انجام کو نہ پہنچا براق نے یہ مہم سرانجام کو پہنچائی۔درپردہ اس میں براق کو فضیلت دینا لازم اتاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بہ نفس نفیس تو نہ پہنچ سکے اوربراق پہنچ گیا اس کے ذریعے سے حضور کی رسائی ہوئی۔
عــــــہ:فضیلت دینا
#575 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
یا ھذا خدمت کے افعال جو بنظر تعظیم واجلال سلاطین بجالاتے ہیں کیا ان کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ بادشاہ ان امور میں عاجز اورہمارامحتاج ہے ۔۔۔۔۔۔۔علاوہ بریں کسی بلندی پر جانے کے لئے زینہ بننے سےیہ کیونکر مفہوم کہ زینہ بننے والا خود بے زینہ وصول پر قادر۔۔۔۔۔۔نردبان عــــــہ۱ ہی کو دیکھیں کہ زینہ صعود ہے اورخود اصلا صعود پر قادر نہیں۔
فرض کیجئے کہ ہنگام بت شکنی حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ کی عرض قبول فرمائی جاتی اور حضور پرنور افضل صلوات اللہ واکمل تسلیماتہ علیہ وعلی الہ ان کے دوش مبارك پر قدم رکھ کربت گراتے تو کیا اس کایہ مفاد ہوتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو معاذاللہ اس کام میں عاجز اورحضرت مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ قادر تھے۔غرض ایسے معنے محال نہ ہرگز عبارت قصہ سے مستفادنہ ان کے قائلین بے چاروں کو مرادواللہ الہادی الی سبیل الرشاد(اوراللہ تعالی ہی درست راستے کی طرف ہدایت عطافرمانے والاہے۔ت)
یہ بیان ابطال استحالہ واثبات صحت بمعنی امکان کے متعلق تھا۔رہا اس روایت کے متعلق بقیہ کلاموہ فقیر غفراللہ تعالی کے مجلد دوم عــــــہ۲ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ کی کتاب مسائل شتی میں مذکور کہ یہ سوال پہلے بھی اوجین سے ایا اوراس کا جواب قدرے مفصل دیا گیا۔
خلاصہ مقصد اس کا مع زیادات جدیدہ یہ کہ اس کی اصل کلمات بعض مشائخ میں مسطوراس میں عقلی وشرعی کوئی استحالہ نہیں بلکہ احادیث واقوال اولیاء وعلماء میں متعددبندگان خدا کے لئے ایسا حضور روحانی وارد۔
(۲۱)مسلم اپنی صحیح اورابوداود طیالسی مسند میں جابر بن عبداللہ انصاری اورعبد بن حمید بسند حسن انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہم سے راویحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ودخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت ماھذہ قالواھذا بلال ثم دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت ماھذہ میں جب جنت میں داخل ہوا تو ایك پہچل سنیمیں نے پوچھا:یہ کیاہے ملائکہ نے عرض کی:یہ بلال ہیں۔پھر تشریف لے گیاپہچل سنیمیں نےپوچھا

عــــــہ۱:سیڑھی
عــــــہ۲:یاد رہے کہ فتاوی رضویہ قدیم میں یہ مسائل شامل اشاعت نہیں ہوسکے تھے اب ان کواشاعت جدید میں کتاب الشتی کے پیش نظر جلد میں شامل کردیاگیاہے۔
#576 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
قالوا ھذہ الغمیصاء بنت ملحان ۔ یہ کیاہےعرض کیا:غمیصاء بنت ملحانیعنی ام سلیم مادر انس رضی اللہ تعالی عنہما۔
ان کا انتقال خلافت امیر المومنین عثمان رضی اللہ تعالی عنہ میں ہوا کما ذکرہ الحافظ فی التقریب (جیسا کہ حافظ نے تقریب میں اس کو ذکر کیا۔ت)
(۳)امام احمدوابویعلی بسند صحیح حضرت عبداللہ بن عباس اور
(۴)طبرانی کبیر اورابن عدی کا مل بسندحسن ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت الجنۃ فسمعت فی جانبھا وجسافقلت یا جبرئیل ماھذا قال ھذا بلال المؤذن ۔ میں شب معراج جنت میں تشریف لے گیا اس کے گوشہ میں ایك اواز نرم سنیپوچھا:اے جبریل ! یہ کیا ہے عرض کی: یہ بلال مؤذن ہیں رضی اللہ تعالی عنہ۔
(۵)امام احمد ومسلم ونسائی انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راویحضور والا صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ فرماتے ہں:
دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ بین یدیفقلت ماھذہ الخشفۃفقیل الغمیصاء بنت ملحان ۔ (میں بہشت میں رونق افروز ہوااپنے اگے ایك کھٹکا سنا پوچھا:اے جبریل!یہ کیا ہے عرض کی گئی:غمیصاء بنت ملحان۔
#577 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
(۶)امام احمد ونسائی وحاکم باسناد صحیحہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راویحضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت الجنۃ فسمعت فیہا قراء ۃفقلت من ھذا قالواحارثۃ بن نعمان کذلکم البر کذلکم البر ۔ میں بہشت میں جلوہ فرما ہواوہاں قران کریم پڑھنے کی اواز ائیپوچھا:یہ کون ہے عرض کی گئی:حارثہ بن نعمان۔نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے۔
یہ حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ خلافت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ میں راہی جنان ہوئے قالہ ابن سعد فی الطبقات وذکرہ الحافظ فی الاصابۃ (ابن سعد نے طبقات میں اورحافظ نے اصابہ میں اس کو ذکر کیا۔ت)
(۷)ابن سعد طبقات میں ابوبکرعدوی سے مرسلاراوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت الجنۃ فمسعت نحمۃ من نعیم ۔ میں جنت میں تشریف فرما ہوا تو نعیم کی کھکارسنی۔
یہ نعیم بن عبداللہ عدوی معروف بہ نحام(کہ اسی حدیث کی وجہ سے ان کا یہ عرف قرارپایا)خلافت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ میں جنگ اجنادین میں شہیدہوئے۔
کما ذکرہ موسی بن عقبۃ فی المغازی عن الزھری و کذا قالہ ابن اسحق ومصعب الزبیری واخرون کما فی الاصابۃ ۔ جیسا کہ موسی بن عقبہ نے مغازی میں زہری کے حوالے سے اس کو ذکر کیا یوں ہی کہا ابن اسحق اورمصعب زبیری اوردیگر علماء نے جیسا کہ اصابہ میں ہے۔(ت)
#578 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
سبحان اللہ! جب احادیث صحیحہ سے احیائے عالم شہادت کا حضور ثابت تو عالم ارواح سے بعض ارواح قدسیہ کا حضور کیا دور۔
(۸)امام ابو بکر بن ابی الدنیاابوالمخارق سے مرسلا راویحضور پرنورصلوات اللہ سلامہ علیہ فرماتے ہیں:
مررت لیلۃ اسری بی برجل مغیب نور العرش قلت: من ھذااملک قیل:لا۔قلت:نبی قیل: لا۔ قلت: من ھذاقال:ھذا رجل کان فی الدنیا لسانہ رطب من ذکر اللہ تعالی وقلبہ معلق بالمساجد ولم یستسب لوالدیہ قط ۔ یعنی شب اسری میرا گزر ایك مرد پر ہوا کہ عرش کے نور میں غائب تھامیں نے فرمایا:یہ کون ہےکوئی فرشتہ ہے عرض کی گئی:نہ۔میں نے فرمایا:نبی ہے عرض کی گئی: نہ۔میں نے فرمایا کون ہے عرض کرنے والے نے عرض کی:یہ ایك مرد ہے دنیا میں اس کی زبان یادالہی سے تر تھی اور دل مسجدوں سے لگا ہوااور(اس نے کسی کے ماں باپ کو برا کہہ کر)کبھی اپنے ماں باپ کو برا نہ کہلوایا۔
ثم اقول وباللہ التوفیق(پھر میں کہتاہوں اورتوفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ت)کیوں راہ دور سے مقصد قرب نشان دیجئے زفیض قادریت جوش پر ہےبحر حدیث سے خاص گوہر مراد حاصل کیجئے۔حدیث مرفوع مروی کتب مشہورہ ائمہ محدثین سے ثابت کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ مع اپنے تمام مریدین واصحاب وغلامان بارگاہ اسمان قباب کے شب اسری اپنے مہربان باپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورحضور اقدس کے ہمراہ بیت المعمور میں گئے حضور پرنورکےپیچھے نماز پڑھیحضور کے ساتھ باہر تشریف لائے۔والحمدللہ رب العلمین(سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)
اب ناظر غیروسیع النظرمتعجبانہ پوچھے گاکہ یہ کیونکر۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہم سے سنے۔واللہ الموفق۔ابن جریروابن ابی حاتم و ابویعلی وابن مردویہ وبیہقی وابن عساکر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ
#579 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
تعالی عنہ سے حدیث طویل معراج میں راویحضور اقدس سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثم صعدت الی السماء السابعۃ فاذاانا بابراھیم الخلیل مسندا لظھرہ الی البیت المعمور(فذکر الحدیث الی ان قال)واذابامتی شطرین شطرعلیھم ثیاب بیض کانھاالقراطیس وشطرعلیھم ثیاب رمد فدخلت البیت المعمور ودخل معی الذین علیھم الثیاب البیض وحجب الاخرون الذین علیھم ثیاب رمد وھم علی خیر فصلیت انا ومن معی من المومنین فی البیت المعمورثم خرجت انا ومن معی (الحدیث) پھر میں ساتویں اسمان پر تشریف لے گیاناگاہ وہاں ابراہیم خلیل اللہ ملے کہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے تشریف فرماہیں اورناگاہ اپنی امت دوقسم پائیایك قسم کے سپید کپڑے ہیں کاغذ کی طرحاوردوسری قسم کا خاکستری لباس۔میں بیت المعمور کے اندر تشریف لے گیااورمیرے ساتھ سپیدپوش بھی گئے میلے کپڑوں والے روکے گئے مگرہیں وہ بھی خیر وخوبی پر۔پھر میں نے اورمیرے ساتھ کے مسلمانوں نے بیت المعمورمیں نماز پڑھی۔پھر میں اورمیرے ساتھ والے باہر ائے۔
ظاہر ہے کہ جب ساری امت مرحومہ بفضلہ عزوجل شریف باریاب سے مشرف ہوئی یہاں تك کہ میلےلباس والے بھی۔تو حضور غوث الوری اورحضور کے منتسبان باصفا تو بلاشبہہ ان اجلی پوشاك والوں میں ہیںجنہوں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ بیت المعمورمیں جاکر نماز پڑھیوالحمدللہ رب العالمین(سب تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)
اب کہاں گئے وہ جاہلانہ استبعاد کہ اج کل کے کم علم مفتیوں کے سدراہ ہوئےاور جب یہاں تك بحمداللہ ثابت تو معاملہ قدم میں کیاوجہ انکارہے کہ قول مشائخ کو خواہی نخواہی رد کیاجائے۔ہاں سند محدثانہ نہیں۔۔۔۔۔پھر نہ ہو۔۔۔۔۔اس جگہ اسی قدربس ہے۔سند معنعن عــــــہ کی حاجت نہیں
عــــــہ:ایسی روایت جس میں ایك راوی دوسرے راوی سے"عن فلان"کے لفظ سے روایت کرے۔
#580 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
کما بیناہ فی رسالتنا "ھدی الحیران فی نفی الفئی عن سیدالاکوان"(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ"ھدی الحیران فی نفی الفیئی عن سیدالاکوان"میں اسے بیان کیاہے۔)
امام جلال الدین سیوطی نے"مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء"میں مرثیہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ"بابی انت وامی یارسول اللہ"
لم اجدہ فی شیئ من کتب الحدیث الاثر(الی قولہ) بالاحکام ۔ میں نے یہ روایت کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگرصاحب اقتباس الانواراورامام ابن الحاج نے اپنی مدخل میں اسے حدیث طویل کے ضمن میں ذکر کیا اورایسی روایت کو اسی قدر سند کفایت کرتی ہے کہ انہیں کچھ باب احکام سے تعلق نہیں۔
اوریہ تو کسی سے کہا جائے کہ حضرات مشائخ کرام قدست اسرارھم کے علوم اسی طریقہ سند ظاہری حدثنا فلان عن فلان میں منحصرنہیںوہاں ہزارہا ابواب وسیعہ واسباب رفیعہ ہیں کہ اس طریقہ ظاہرہ کی وسعت ان میں سے کسی کے ہزارویں حصہ تك نہیںتو اپنے طریقہ سے نہ پانے کو ان کی تکذیب کی حجت جاننا کیسی ناانصافی ہے۔
انسان کی سعادت کبری ان مدارج عالیہ ومعارك غالیہ تك وصول رہے۔۔۔۔۔۔۔اوراس کی بھی توفیق نہ ملے تو کیا درجہ تسلیم نہ کہ معاذاللہ انکار وتکذیب کو سخت مہبلکہ ہائلہ ہےوالعیاذباللہ رب العلمین(اوراللہ تعالی کی پناہ جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)۔۔۔۔۔۔۔جیسے اج کل ایك بحرینی بے بہرہ نے رسالہ"لباب المعانی"سیاہ کر کے مصر میں چھپوایااورصرف اس پر کہ حضرت امام عارف باللہثقہحجتفقیہمحدثامام القراءسیدی ابوالحسن علی نورالملۃ والدین شطنوفی قدس سرہ الصافی الصوفی نے کتاب بہجۃ الاسرارشریف میں باسنادصحیحہ حضرت امام اجل سیدی احمد رفاعی قدس سرہ الرفیع پرحضورپرنورسید الاولیاء حضرت غوث الوری رضی اللہ تعالی عنہ کی تفضیل روایت فرمائینہ صرف اس امام جلیل وکتاب جمیل بلکہ خاك بدہن گستاخ جناب اقدس میں
#581 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
کوئی دقیقہ بے ادبی اٹھانہ رکھا۔نعوذباللہ من الخذلان ولاحول ولاقوۃ الاباللہ القادرالمستعان(ہم ذلت ورسوائی سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں جوقدرت والا ہے جس سے مددطلب کی جاتی ہے۔ت)
یہ لباب عجاب اول تااخرجہالات فاضحہ وخرافات واضحہ کا لب لباب ہے۔کثر ت مسائل کے نام فرصت عنقانہ ہوتاتو فقیر اس کا رد لکھ دیتا۔مگر الحمدللہ نارباطل خود منطفی عــــــہ۱ ہے اورہمارے بلاد میں اس کاشریکسرمنتفی عــــــہ۲ فلاحاجۃ الی اشاعۃ خرافاتہ ولو علی وجہ الرد(اس کی خرافات کو شائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگرچہ بطور ردہو۔ت)
بالجملہ روایت نہ عقلادور نہ شرعامہجوراورکلمات مشائخ میں مسطوروماثوراورکتب احادیث میں ذکر معدوم نہ کہ عدم مذکور۔۔۔۔۔۔نہ روایات مشائخ اس طریقہ سند ظاہری میں محصوراورقدرت قادر وسیع وموفوراورقدرقادری کی بلندی مشہورپھر ردوانکارکیا مقتضائے ادب وشعور۔والحمدللہ العزیزالغفورواللہ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم (اورسب تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو عزت والا بہت بخشنے والا ہے اوراللہ سبحانہ تعالی خوب جانتاہے اوراس کا علم خوب تام اورخوب مضبوط ہے۔ت)
مسئلہ ثالثہ
مسئلہ۸: مسؤلہ مولوی نور محمد صاحب کانپوریملازم کارخانہ میل کاٹ واقع دیوان ۹محرم الحرام ۱۳۳۸ھ۔
ماقولکم یا علماء الملۃ السمحۃ البیضاء ومفتی الشریعۃ الغراءفی ھذہ: اپ کا کیا ارشاد ہے اے فراخ وروشن ملت کے عالمو اوراے چمکدارشریعت کے مفتیو!اس مسئلہ میں)ت)
مولودغلام امام شہیدصفحہ ۵۹سطر ۱۱میں لکھاہے کہ:"شب معراج میں حضرت غوث الاعظم شیخ محی الدین رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روح پاك
عــــــہ۱: بجھی ہوئی۔ عــــــہ۲:ختمنیست ونابود۔
#582 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
نےحاضر ہوکر گردن نیاز صاحب لولاك کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اورخواجہ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم گردن غوث اعظم پر قدم مبارك رکھ کر براق پر سوارہوئے اوراس روح پاك سے استفسارفرمایا کہ توکون ہے عرض کیا:میں اپ کے فرزندوں اورذریات طیبات سے ہوںاگر اج اس نعمت سے کچھ منزلت بخشئے گاتو اپ کے دین کو زندہ کروں گا۔فرمایاکہ:"تو محی الدین ہے اورجس طرح میرا قدم تیری گردن پر ہے اسی طرح کل تیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہوگا۔"
اوراس روایت کی دلیل یہ لکھی ہے کہ صاحب منزل اثنا عشریہ بھی تحفۃ القادریہ سے لکھتے ہیں اسی کتاب کے صفحہ۵۸سطر۵ میں مرقوم ہے کہ:
"خواجہ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خوش ہوکر سوارہونے لگے براق نے شوخی شروع کیجبریل علیہ السلام نے کہا:کیا بیحرمتی ہےتو نہیں جانتا کہ تیر اراکب کون ہے خلاصہ ہژدہ ہزار عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم(اٹھارہ ہزارجہانوں کے خلاصہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جو اللہ کے سچے رسول ہیں۔ت)براق نے کہا کہ اے امین وحی الہی! تم اس وقت خفگی مت کرو مجھے رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی جناب میں ایك التماس ہے۔فرمایا:بیان کرو۔عرض کیا:اج دولت زیارت سے مشرف ہوں کل قیامت کے دن مجھ سے بہتر براق اپکی سواری کے واسطے ائیں گےامیدوار ہوں کہ حضور سوائے میرے اورکسی براق کو پسند نہ فرمائیں۔"
صاحب تحفۃ القادریہ لکھتے ہیں کہ:"وہ براق خوشی سے پھولا نہ سمایااوراتنا بڑھا اوراونچا ہوا کہ صاحب معراج کا ہاتھ زین تك اور پاؤں رکاب تك نہ پہنچا۔"
پس استفسار اس امر کا ہے کہ ایا یہ روایت صحاح ستہ وغیرہ احادیث وشفائے قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ فن میں موجود ہے یا نہ۔بیان کاف وشاف بالاسانید من المعتبرات المعتقدات بالبسط والتفصیل جزاکم اللہ خیرا۔بینواتوجروا(معتبرومعتمد سندوں کے ساتھ کافی و شافی بیان پوری شرح وتفصیل کے ساتھ ارشادفرمائیں۔اللہ تعالی اپ کو جزائے خیرعطافرمائے۔بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
کتب احادیث وسیرمیں اس روایت کا نشان نہیں۔رسالہ غلام امام شہید محض نامعتبربلکہ صریح اباطیل وموضوعات پر مشتمل ہے۔منازل اثنا عشریہ کوئی کتاب فقیر کی نظر سے نہ گزری نہ کہیں اس کا
#583 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
تذکرہ دیکھا۔
تحفہ قادریہ شریف اعلی درجہ کی مستند کتاب ہے اس کے مطالعہ بالاستیعاب سے بارہامشرف ہواجو نسخہ میرے پاس ہے یا اورجو میری نظر سے گزرا ان میں یہ روایات اصلا نہیں۔ عــــــہ۱
بایں ہمہ اس زمانہ کے مفتیان جہولمخطیان غفول عــــــہ۲ نے جو اس کا بطلان یوں ثابت کرنا چاہاکہ سدرۃ المنتہی سے بالاعروج کیا اوراس میں معاذاللہ حضور اقدس وانورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر حضور پرنورغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی تفضیل نکلتی ہے عــــــہ۳ یہ محض تعصب وجہالت ہےجس کا رد فقیر نے ایك مفصل فتوی میں سترہ سال ہوئے کیاجبکہ ۱۶ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ کٹھورضلع سورت سے ایك سوال ایاتھا۔ عــــــہ۴
فاضل عبدالقادرقادری ابن شیخ محی الدین اربلی نے کتاب "تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر" رضی اللہ تعالی عنہ میں یہ روایت لکھی ہے عــــــہ۵ اوراسے جامع شریعت وحقیقت شیخ رشید بن محمد جنیدی رحمہ اللہ
عــــــہ۱:تحفہ قادریہحضرت شاہ ابوالمعالی قادری(۱۱۱۶ھ)کی فارسی تالیف ہے جس میں حضورغوث الوری رضی اللہ تعالی عنہ کے حالات اورکرامات کا تذکرہ ہے۔اپ اپنے وقت کے سربرآوردہ مشائخ میں شمار ہوتےہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے آپ کے ارشاد پر اشعۃ اللمعات اورشرح فتوح الغیب مکمل فرمائی۔اپکا مزارلاہور میں واقع ہے۔
تحفہ قادریہ کے قلمی نسخے اکثرکتب خانوں میں موجودہیںاصل فارسی نسخہ تاحال طبع نہ ہواالبتہ اس کااردوترجہ(۱)سیرت الغوث مولفہ محمد باقر نقشبندی(۱۳۲۳ھ)مطبع منشی نولکشور پریس لاہور اور(۲)تحفہ قادریہ(اردوترجمہ)مولفہ مولانا عبدالکریم(۱۳۲۴ھ)ملك فضل الدین تاجرکتب لاہورکے ناموں سے شائع ہوچکے ہیں۔
عــــــہ۲:جاہلغافل اورخطاکارمفتی۔
عــــــہ۳:دیوبندیوں کےحکیم الامت مولوی اشرف علی تھانویمدرسہ دیوبند کے اساطین مولوی خلیل احمد اورمولوی رشیدا حمد انبیٹھوی کے فتاوی کی تردید ہورہی ہےیہ فتاوی موجودہ رسالہ مبارکہ میں شامل کردیے گئے ہیں۔
عــــــہ۴:ملاحظہ ہو مسئلہ ثانیہ رسالہ ہذا۔
عــــــہ۵:تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہالمنقبۃ الاولیسنی دارالاشاعت علویہ رضویہفیصل ابادص۲۴۲۵
#584 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
کی کتاب حرزالعاشقین سے نقل کیا ہے۔اور ایسے امور میں اتنی ہی سندبس ہے۔اس کا بیان فقیر کے دوسرے فتوے میں ہے جس کا سوال۱۷ربیع الاخرشریف۱۳۱۰ھ کو اوجین سے ایاتھا عــــــہ وباللہ التوفیقواللہ تعالی اعلم(اورتوفیق اللہ تعالی کی طرف سے ہے اوراللہ تعالی خوف جانتاہے۔ت)
___________________
رسالہ
فتاوی کرامات غوثیہ
ختم ہوا۔
__________
#585 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
انحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف بلا دلیل شرعی کسی قول یافعل کو منسوب کرنا جمہورکے نزدیك حرام اور بعض کے نزدیك کفر ہے ۔ پس روح مقدس حضرت غوث اعظم پراپکا سوارہوکر عرش پر پہنچنے کی نسبت فعل اور اپ کافرمانا کہ "میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے"قول کی نسبت بلادلیل ۔ پس سخت معصیت وحرام ہے ۔
اورچونکہ منقولین اور ان امور کے اصرارکرتے اور اس کومستحسن سمجھتے ہیں۔پس اصرارعلی المعصیۃ قریب کفر اوراس کا استحسان صریح کفرہے ۔ ایسے لوگوں کے ایمان میں کلام اوراشتباہ معلوم ہوتاہےبلکہ درپردہ اس قصہ میں حضرت غوث اعظم کو فضیلت دینالازم اتاہے حضرت سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر کہ اپ تو وہاں نہ پہنچ سکے اور حضرت غوث اعظم پہنچ گئے اوران کے ذریعے سے اپ کی رسائی ہوئی نعوذباللہ منہ۔
قطع نظر اس سے سدرۃ المنتہی کو اس لئے سدرۃ المنتہی کہتے ہیں کہ وہ منتہی عروج مخلوقات کا ہے ۔پس جس کا عروج اس سے اوپر بالدلیل ہو مستثنی ہے۔دوسرے کے عروج کا دعوی رجم بالغیب جس کی مذمت قران مجید میں منصوص ہے ۔ اسی طرح یہ اعتقاد کہ زنبیل چھین لی مخلاف نص قرانی منجرالی کفر ہے ۔ ایسے ہی حضرت عائشہ کا دودھ پلانا اس کی بھی کچھ اصل نہیں ۔ اول تو حضرت عائشہ کے دودھ ہی نہ تھا دوسرے روح منہ اورلب اورپیٹ سے پاك ہے۔یہ چیزیں خواص اجسام سے ہیں۔پھر دودھ پینے کے کیا معنی۔ اورحضرت ابوبکر سے کسی بھی صحابی کو افضل سمجھنا خلاف اجماع امت ہے نہ کہ ایك ولی کوکہ سخت معصیت و بدعت ومخالف سنن مشہور ہ کے ہے۔اوریہ قول کہ قدمی علی رقاب اولیاء"خود حضرت غوث صاحب سے ثقات نے نقل فرمایا ہے انحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف دروغ ہے۔

انحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف بلا دلیل شرعی کسی قول یافعل کو منسوب کرنا جمہورکے نزدیك حرام اور بعض کے نزدیك کفر ہے ۔ پس روح مقدس حضرت غوث اعظم پراپکا سوارہوکر عرش پر پہنچنے کی نسبت فعل اور اپ کافرمانا کہ "میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے"قول کی نسبت بلادلیل ۔ پس سخت معصیت وحرام ہے ۔
اورچونکہ منقولین اور ان امور کے اصرارکرتے اور اس کومستحسن سمجھتے ہیں۔پس اصرارعلی المعصیۃ قریب کفر اوراس کا استحسان صریح کفرہے ۔ ایسے لوگوں کے ایمان میں کلام اوراشتباہ معلوم ہوتاہےبلکہ درپردہ اس قصہ میں حضرت غوث اعظم کو فضیلت دینالازم اتاہے حضرت سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر کہ اپ تو وہاں نہ پہنچ سکے اور حضرت غوث اعظم پہنچ گئے اوران کے ذریعے سے اپ کی رسائی ہوئی نعوذباللہ منہ۔
قطع نظر اس سے سدرۃ المنتہی کو اس لئے سدرۃ المنتہی کہتے ہیں کہ وہ منتہی عروج مخلوقات کا ہے ۔پس جس کا عروج اس سے اوپر بالدلیل ہو مستثنی ہے۔دوسرے کے عروج کا دعوی رجم بالغیب جس کی مذمت قران مجید میں منصوص ہے ۔ اسی طرح یہ اعتقاد کہ زنبیل چھین لی مخلاف نص قرانی منجرالی کفر ہے ۔ ایسے ہی حضرت عائشہ کا دودھ پلانا اس کی بھی کچھ اصل نہیں ۔ اول تو حضرت عائشہ کے دودھ ہی نہ تھا دوسرے روح منہ اورلب اورپیٹ سے پاك ہے۔یہ چیزیں خواص اجسام سے ہیں۔پھر دودھ پینے کے کیا معنی۔ اورحضرت ابوبکر سے کسی بھی صحابی کو افضل سمجھنا خلاف اجماع امت ہے نہ کہ ایك ولی کوکہ سخت معصیت و بدعت ومخالف سنن مشہور ہ کے ہے۔اوریہ قول کہ قدمی علی رقاب اولیاء"خود حضرت غوث صاحب سے ثقات نے نقل فرمایا ہے انحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف دروغ ہے۔
#586 · فتاوٰی كرامات غوثیہ
۲۔فی الواقع یہ اوہام خیالات باطلہ اور جہالات فاسدہ ہیں جو جہال معتقدین اپنے معتقدعلیہ کی نسبت شائع کیاکرتے تہیں۔ نعوذباللہ من تلك الکفریات والھفوات۔
حررہ خلیل احمد(انبھیٹھی) مدرسہ دیوبند
۳۔جواب صحیح ہے۔ رشید احمدگنگوہی
#587 · رسالہ تنزیہ المکانۃ الحیدریہ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ ۱۳۱۲ھ (زمانۂ جاہلیت کے عیب سے مقام حیدری کی پاکی کا بیان)
رسالہ
تنزیہ المکانۃ الحیدریہ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ ۱۳۱۲ھ
(زمانہ جاہلیت کے عیب سے مقام حیدری کی پاکی کا بیان)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۱۹: از بنارس کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفورصاحب ۹جمادی الاخری۱۳۱۲ھ
بخدمت لازم البرکت جامع معقول ومنقول حاوی فروع واصول جناب مولینامولوی احمدرضا خان صاحب مدالله فیضانہ (الله تعالی اپ کافیضان ہمیشہ جاری رکھے۔ت) ازجناب خادم الطلبہ عبدالغفورسلام علیك قبول باد اس مسئلہ میں یہاں درمیان علماء کا اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البرکت ہے امید کہ جواب سے مطلع فرمائیں۔
زید کہتاہے کہ جناب علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ چونکہ قبل از بلوغ ایمان لائے اورنہ پہلے بت پرستی شرك وکفر وغیرہ کے اپ مبتلاہوئے نیز بلحاظ حدیث شریف:
#588 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
کل مولود یولد علی الفطرۃ ۔ ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے۔(ت)
یہ کہنا کہ اپ پہلے کافر تھے بعدازاں مسلمان ہوئے صحیح نہیں اورجملہ مذکورہ بہ نسبت اپ کے سوئے ادب میں داخل ہے ۔
عمرو کہتاہے چونکہ اطفال تابع والدین کے ہوتے ہیں اوروالدین اپکے حالت کفرپر تھے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے علی مرتضی کافرتھے بعدازاں مسلمان ہوئے فقط۔ اس صورت میں زید کا قول صحیح ہے یاعمروکابینواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجردیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله الذی کرم وجہ علی ن المرتضی : فلم یزل محظوظا منہ بعین الرضی:والصلوۃ والسلام علی السیدالعلی الرضی الارضی: شفیع المذنبین یوم فصل القضا : وعلی الہ وصحبہ بعددکل من یاتی ومضی: الله کے نام سے شروع نہایت مہربان رحم والا ہے ۔ساری تعریف الله کے لئے جس نےعلی مرتضی کے چہرے کو عزت وکرامت بخشی تو وہ ہمیشہ اس کی رضاوخوشنودی سے بہرہ ور رہے۔ اوردرودوسلام ہو بلند پسندیدہ پسندیدہ تر سردار فیصلہ قضا کے دن گنہگاروں کے شفیع پر اوران کی ال اوران کے اصحاب پر تمام اگلے پچھلوں کی تعداد کے برابر۔(ت)
قول زید حق وصحیح قول عمروباطل وقبیح ہے۔
اقول وبالله التوفیق (میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہے۔ت) یہ توظاہر ومعلوم وثابت ہے کہ حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم الله وجہہ الاسنی وقت بعثت سراپابرکت حضور پرنورسیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فورا مشرف بتصدیق وایمان ہوئے اس وقت عمر مبارك حضرت مرتضوی اٹھ دس سال تھی اوربالیقین جو عاقل بچہ اسلام لائے
#589 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
حکم اسلام میں مستقل بالذات ہے پھر کسی کی تبعیت سے اس پرحکم دیگر حلال نہیں۔
فی المواھب : کان سن علی رضی الله تعالی عنہ اذذاك عشر سنین فیما حکاہ الطبری اھ
قال الزرقانی:وھو قول ابن اسحق واقتصر المصنف علیہ لقول الحافظ انہ ارجح الاقوال ۔
وروی ابن سفین باسناد صحیح عن عروۃ قال اسلم علی وھو ابن ثمان سنین وصدربہ فی العیون الخ ۔
وفی ردالمحتار:قولہ وسنہ سبع وقیل ثمان وھو الصحیحواخرجہ البخاری فی تاریخہ عن عروۃ۔ وقیل عشر اخرجہ الحاکم فی المستدرک۔ وقیل خمسۃ عشر وھو مردود وتمام ذلك مبسوط فی الفتح اھ

وفی نکاحہ عن احکام الصغار مواہب اللدنیہ میں ہے :اس وقت حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کی عمر دس سال تھی جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے اھ۔
زرقانی نے فرمایا:یہی ابن اسحق کا بھی قول ہےمصنف نے صرف اسی قول کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ سب سے راجح قول یہی ہے۔(ت)
اورابن سفین نے بسند صحیح حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی اٹھ برس کی عمر میں اسلام لائے۔عیون الاثر (لابن سید الناس)میں اسی قول کو پہلے ذکر کیا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:قولہ ان کی عمر سات سال تھی اورکہا گیا کہ اٹھ سال تھی۔یہی صحیح ہےاسی کو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں حضرت عروہ سے روایت کیا۔اورکہا گیا کہ دس سال تھیاسے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا۔۔۔۔اورکہا گیا کہ پندرہ سال تھییہ قول مردود ونامقبول ہے۔پوری تفصیل فتح القدیر میں ہے۔اھ(ت)
ردالمحتارکتاب النکاح میں احکام الصغار
#590 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
للاستروشنی انہ قبل البلوغ تبع لابویہ فی الدین مالم یصف الاسلام اھ قال:فافادان التبعیۃ لا تنقطع الابالبلوغ اوبالاسلام بنفسہ وبہ صرح فی البحر عــــــہ والمنح من باب الجنائزاھ ۔ للاستروشنی سے نقل ہے:بچہ قبل بلوغ دین میں اپنے والدین کا تابع ہے جب کہ خود مسلمان نہ ہوا ہوشامی نہ کہا: افادہ فرمایا کہ یہ تبیعت بالغ ہونے یا خود اسلام لانے ہی سے ختم ہوتی ہےاسی کی تصریح بحرالرائق اورمنح الغفار باب الجنائز میں بھی ہے اھ(ت)
تو بعد بعثت تو اس خیال شنیع کی زنہار گنجائش نہیں بلکہ اس سے پیشتر بھی کہ جب قریش مبتلائے قحط ہوئے تھے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم ابوطالب پرتخفیف عیال کے لئے امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ کو اپنی بارگاہ ایمان پناہ میں لے ائے تھے کما ذکرہ ابن اسحق فی سیرتہ (جیسا کہ اس کو ابن اسحق نے اپنی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
حضرت مولی نے حضور مولی الکل سید الرسل صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کنار اقدس میں پرورش پائیحضو رکی گود میں ہوش سنبھالاانکھ کھلتے ہی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا جمال جہاں اراء دیکھاحضور ہی کی باتیں سنیںعادتیں سیکھیںصلی الله تعالی علیہ وعلیہ بارك وسلم۔تو جب سے اس جناب عرفان ماب کو ہوش ایا قطعایقینارب عزوجل کو ایك ہی جاناایك ہی مانا۔ہر گزہرگزبتوں کی نجاست سے اس کا دامن پاك کبھی الودہ نہ ہوا۔اسی لئے لقب کریم "کرم الله تعالی وجہہ "ملا۔ذلك فضل الله یؤتیہ من یشاء
عــــــہ:ولفظہ:ولاتزول التبعیۃ الی البلوغنعم تزول التبعیۃ اذا اعتقد دینا غیردین ابویہ اذا عقل الادیان فحینئذصارمستقلا ۔ ولفظہ:تبعیت بلوغ تك ختم نہیں ہوتیہاں اس وقت تبعیت ختم ہوجاتی ہے جب ادیان کی سمجھ رکھ کر اپنے ماں باپ کے دین کے علاوہ کسی دین کا معتقد ہوجائے اب وہ(تابع نہ رہا)خو دمستقل ہو گیا۔(ت)
#591 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
ذوالفضل المبین(یہ الله تعالی کا فضل ہے جسے چاہے عطافرمائے وہ نمایاں فضل والا ہے۔ت)
اب رہ گئے صرف چند برس جو روز پیدائش سے بالکل ناسمجھی کے ہوتے ہیں جن میں بچہ نہ کچھ ادراك رکھتاہےنہ سمجھ سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس عمر میں حقیقۃ تو کوئی بچہ کافر نہیں کہاجاسکتاکہ صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم۔کفر تکذیب ہے اور تکذیب بے ادراك وتمیز نامتصور عــــــہ بلکہ اس وقت تك ہر بچے کا دین فطری اسلام ہے کما نطقت بہ صحاح الاحادیث (جیسا کہ صحیح احادیث اس پر ناطق ہیں۔ت)
ہاں جس کے والدین کافرہوں اس پر ان کی تبعیت کا حکم کیا جاتاہے جبکہ تبعیت متصوربھی ہو ورنہ نہیںجیسے وہ بچہ جسے دارالاسلام میں اسیر کرلائیں اوراس کے کافرماں باپ دارالحرب میں رہیںکہ بوجہ اختلاف دار تبعیت ابوین منقطع ہوگئیاب بہ تبیعت دار اسے مسلم کہاجائیگا۔
فی جنائز الدر"صبی سبی مع احد ابویہ لایصلی علیہ لانہ تبع لہ ولو سبی بدونہ فمسلم تبعاللدار او للسابی اھ ملخصا۔" درمختارکتاب الجنائز میں ہے:کوئی بچہ اپنےحربی والدین میں سےکسی ایك کے ساتھ(دارالحرب سے)گرفتارکر کے(دار الاسلام میں)لایاگیا(اورمرگیا)تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ وہ(کافر حربی کے)تابع ہے۔ہاں اگرتنہا گرفتارہوتو دارالاسلام یاگرفتارکرنے والے کے تابع ہونے کے باعث مسلم ہے اھ ملخصا۔(ت)

عــــــہ:نتیجہ یہ نکلا کہ کفر بے ادراك وتمیز غیر متصورہے۔لہذا ناسمجھ بچہ کفرسے خالی ہوگا۔جب کفر اس کے ساتھ قائم نہیں تواس پر کافر کا اطلاق بھی درست نہیں کیونکہ کافرکفرسے مشتق ہے اور کسی پر مشتق صادق ہونے کے لئے مصدر سے اس کا متصف ہونا لازم ہے جیسے لفظ عالم کسی پر صادق انے کے لئے علم سے اس کا متصف ہونا لازم ہے۔لہذا بچہ جب مبدأ(کفر)سے خالی ٹھہراتو اس پر مشتق(کافر)کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۱۲محمد احمد مصباحی۔
#592 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
وفی نکاحہ:الولد یتبع خیر الابوین دیناان اتحدت الدار الخ۔ درمختار کتاب النکاح میں ہے:باعتبار دین ماں باپ میں سے جو بہترہوبچہ اسی کا تابع ہوتاہے اگردار ایك ہو الخ(ت)
جب یہ امر منقح ہولیا اب یہاں اس نرے ناسمجھ کی عمر پربھی یہ ناگوار وناسزا خیال دوامر کے ثبوت کافی کا محتاج:
امر اول حضرت فاطمہ عــــــہ۱ بنت اسد رضی الله تعالی عنہا اورابوطالب دونوں کا اس وقت تك کافرہونا کہ ان میں ایك بھی موحد ہوتوبچہ اس کی تبیعت سے موحد کہا جائے گاکافر کی تبعیت ہرگز نہ کرے گا لما نصواعلیہ قاطبۃ من ان الولد یتبع خیرالابوین دینا (کیونکہ تمام علماء نے نص فرمایا کہ ماں باپ میں سے باعتباردین جو بہتر ہوبچہ اسی کے تابع ہوتاہے۔ت)
امر دوم اس وقت حکم تبعیت صادق وثابت ہونا
ان دوامر سے اگر ایك بھی پایہ ثبوت سے ساقط رہے گا تو یہ بیہودہ خیالخیال کرنے والے کے منہ پرماراجائے گامگر مولی علی کے رب جل وعلاکو حمد وثنا ہے کہ بفضلہ تعالی ان دو میں سے ایك بھی ثابت نہیں۔
اولا اہل فترت جنہیں انبیاء الله صلوات الله وسلامہ علیھم کی دعوت نہ پہنچی تین قسمیں ہیں:
اول موحد جنہیں ہدایت ازلی نے اس عالمگیر اندھیرے میں بھی راہ توحید دکھائی جیسے قس بن ساعدہ عــــــہ۲ وزید بن عمروبن نفیل وعامر بن الظرب عدوانی وقیس بن عاصم تمیمی وصفوان
عــــــہ۱:حضرت علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ کی والدہ ماجدہ جو صحابیہ ہوئیں ۱۲محمد احمد
عــــــہ۲:یہ دونوں مقبو ل بندے زمانہ جاہلیت میں نہ صرف موحد تھے بلکہ پیش از بعثت محمدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بعثت شریفہ پر بھی ایمان رکھتے۔قس نے بازار عکاظ کے خطبے میں اپنی قوم سے فرمایا:عنقریب ادھر سے ایك حق ظاہر ہونے والا ہے۔اورمکہ کی طرف اشارہ کیالوگوں نے (باقی برصفحہ ائندہ)
#593 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
بن ابی امیہ کنانی وزہیر بن ابی سلمی شاعر وغیرہم رحمۃ الله تعالی علیہم۔
دوم مشرك کہ اپنی جہالتوں ضلالتوں سے غیر خدا کو پوجنے لگےجیسے کہ اکثر عرب۔
سوم غافل کہ براہ سادگی یا انہماك فی الدنیا انہیں اس مسئلہ سے کوئی بحث ہی نہ ہوئی بہائم کے مثل زندگی کی۔اعتقاد یات میں نظر سے غرض ہی نہ رکھی یا نظر وفکر کی مہلت نہ پائی۔بہت زنان(عورتوں)وچوپایوں واہل بوادی(صحراجنگل والوں)کی نسبت یہی مظنون(گمان)ہے۔
قال العلامۃ الزرقانی:ومن جاھلیۃ عم الجھل فیھا شرقاوغربا علامہ زرقانی نے کہا:ایسا عہد جاہلیت جس میں مشرق و مغرب ہر طرف جہالت عام ہے۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کہا وہ حق کیا ہے لوی بن غالب کی اولاد سے ایك مرد کہ تمہیں کلمہ اخلاص اورہمیشہ کے چین اوردائمی نعمت کی طرف دعوت فرمائے گا تم اس کی بات ماننااگر میں جانتا کہ اس کی بعثت تك زندہ رہوں گا تو سب سے پہلے میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا رواہ ابو نعیم فی دلائل النبوۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما(اس کو ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)عامر بن ربیعہ رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں:مجھ سے زید بن عمرو نے کہا میں اپنی قوم کامخالف اوردین ابراہیم واسماعیل کا تابع ہوا وہ دونوں بتوں کو نہ پوجتے اوراس قبلہ کی طرف نماز پڑھتے تھےمیں اولاد اسماعیل سے ایك نبی کے انتظار میں ہوں مگر میرے خیال میں اس کا زمانہ نہ پاؤں گا میں اس پرایمان لاتاہوںمیں اس کی تصدیق کرتاہوںمیں گواہی دیتاہوں کہ وہ نبی ہےاے عامر! اگر تمہاری عمر وفاکرے تو انہیں میرا سلام پہنچانا۔عامر فرماتے ہیں:جب میں نے حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے زید کا یہ قصہ بیان کیا حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا اوران کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اورارشادفرمایا:میں نے اسے دیکھا کہ جنت میں دامن کشاں سیر کررہاہے۔رواہ ابن سعد والفاکھی عنہ رضی الله تعالی عنہ ۱۲منہ غفرلہ(اس کو ابن سعد اورفاکہی نے عامر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
#594 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
وفقد فیھا من یعرف الشرائع ویبلغ الدعوۃ علی وجھھا الانفرایسیرا من احبار اھل الکتاب مفرقین فی اقطارالارض کالشام وغیرہا واذاکان النساء الیوم مع فشو الاسلام شرقاوغربالایدرین غالب احکام الشریعۃ لعدم مخالطتہن الفقہاءفما ظنك بزمان الجاھلیۃ والفترۃ الذی رجالہ لایعرفون ذلك فضلاعن نسائہولذالما بعث صلی الله تعالی علیہ وسلم تعجب اھل مکۃ وقالواأبعث الله بشرارسولا وقالوالوشاء ربنالانزل ملئکۃربما کانوا یظنون ان ابراھیم علیہ السلام بعث بما ھم علیہ فانھم لم یجدوامن یبلغھم شریعتہ علی وجھھا لدثورھا وفقد من یعرفھااذکان بینھم وبینہ ازید من ثلثۃ الاف سنۃقالہ فی مسالك الحنفاء والدرج المنیفۃ اھ باختصار ۔ احکام شریعت جاننے والے اورصحیح طور سے دعوت کی تبلیغ کرنے والے ناپید ہیںصرف چند علماء اہل کتاب ہیں جو اطراف زمین شام وغیرہ میں منتشرہیں۔۔۔۔۔اور اج جبکہ اسلام شرق وغرب میں پھیل چکا ہے عورتوں کا یہ حال ہے کہ اکثر احکام شرع سے بے خبر رہتی ہیں کیونکہ علماء سے ان کا ربط اوروابستگی نہیں۔پھر عہد جاہلیت اورزمانہ فترت کی عورتوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جبکہ عورتیں در کنارمر دبھی ان سب سے ناشنا ہوتے تھےاسی لئے تو جب رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اہل مکہ کو تعجب ہوابولے:کیا الله نے کسی انسان کو رسول بناکر مبعوث کیا ہے اوربولے:اگر ہمارا رب چاہتاتوفرشتے اتارتا۔ وہ تو یہاں تك سمجھا کرتے تھے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ان ہی باتوں کو لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے اس غلط خیال کی یہی وجہ تھی کہ شریعت ابراہیمی کو صحیح طور سے کوئی پہنچانے والا ہی انکو نہ ملاکیونکہ اس کے نشانات مٹ گئے تھےاوراس کے جاننے والے بھی ناپید ہوچکے تھےاس لئے کہ ان اہل مکہ اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان تین ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ تھا۔یہ مسالك الحنفاء اور الدرج المنیفہ میں فرمایا گیاہے اھ باختصار(ت)
#595 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
جماہیر ائمہ اشاعرہ رحمہم الله تعالی کے نزدیك جب تك بعثت اقدس حضور خاتم النبیین صلی الله تعالی علیہ وسلم ہوکر دعوت الہیہ انہیں نہ پہنچی یہ سب فرقے ناجی وغیر معذب تھے۔
لقولہ تعالی " وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ﴿۱۵﴾" ۔
(الجواب بتعمیم الرسول العقل او تخصیص العذاب بعذاب الدنیا خلاف الظاھر فلا یصارالیہ الا بموجب ولاموجب اقو ل بلی احادیث صحیحۃ صریحۃ کثیرۃ بثیرۃ ناطقۃ بعذاب بعض اھل الفترۃ کعمروبن لحی وصاحب المحجن وغیرھما وبہ علم ان ردھا یجعلہا معارضۃ للقطعی کماصدرعن العلامۃ الابی والامام السیوطی و کثیرمن الاشعریۃ لاسبیل الیہ فان قطعیۃ الدلالۃ غیر مسلم فلا یھجم بمثل ذلك علی ردالصحاح والکلام الله تعالی کے اس قول کے مطابق:ہم عذاب فرما نے والے نہ تھے یہاں تك کہ بھیج لیں رسول۔
(اشاعرہ کے جواب میں یہ کہنا کہ رسول سے مراد عام ہے خواہ انسان ہو یا عقل یا یہ کہ عذاب سے مراد صرف عذاب دنیاہے (یعنی جب تك ہم کوئی رسول نہ بھیج لیں دنیا میں عذاب نہیں دیتے اورعذاب اخرت دعوت رسول پہنچے بغیر بھی ہوسکتا ہے)یہ(تاویل)خلاف ظاہر ہے جس کی طرف رجوع کا کوئی موجب نہیں۔
اقول: کیوں نہیں بہت ساری صحیح صریح حدیثیں بعض اہل فترت کے عذاب(دنیاوی)پر ناطق ہیں جیسے عمر وبن لحی اور ٹیڑھے ڈنڈے والا آدمی جو اپنے ڈنڈے سے لوگوں کی چیزیں اچك کرچرالیتا تھا)اوران دونوں کے علاوہ۔۔۔۔۔اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان صحیح حدیثوں کا رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ احادیث نص قطعی کے خلاف ہیں جیسا کہ علامہ ابیامام سیوطی اوربہت سے اشعریہ نے یہی کہہ کر رد کردیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اس معنی پر ایت کی دلالت
#596 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
ھھنا طویل لیس ھذا موضعہ ولا نحن بصددہ۔ قطعی ہونا مسلم نہیں تو پھر غیر قطعی الدلالۃ نص سے احادیث صحیحہ کے رد کا ارتکاب نہیں کیا جاسکتا۔کلام یہاں پر طویل ہے جس کا یہ محل نہیں اورنہ ہی یہاں پر ہمارا مقصود ہے ۱۲مترجم۔
خصوصاجہال عرب جنہیں قران عظیم جابجا امی وجاہل وبے خبر وغافل بتارہا ہےصاف ارشاد ہوتاہے:
" تنزیل العزیز الرحیم ﴿۵﴾ لتنذر قوما ما انذر اباؤہم فہم غفلون ﴿۶﴾" اتاراہوا زبردست مہر والے کا کہ تو ڈرائے ان لوگوں کو کہ نہ ڈرائے گئے انکے باپ داداتو وہ غفلت میں ہیں۔
اورخود ہی ارشادہوتاہے:
" ذلک ان لم یکن ربک مہلک القری بظلم و اہلہا غفلون ﴿۱۳۱﴾" ۔
قلت ای وھذا وان کان ظاھرافی عذاب الدنیا وعذاب الاخرۃ منتف بالفحوی فان الملك الکریم الذی لم یرض للغافل بعذاب منقطع لایرضی بعذاب دائم من باب اولی اقول لکن الغفلۃ انما ھی علی امرالرسالۃ والنبوۃ والسمعیات کبعث وغیرہوقد قلنا بموجبھا فی ذلک۔اما التوحید فلاغفلۃ عنہ مع وضوح الدلائل وکفایۃ العقل یہ اس لئے کہ تیرارب بستیوں کو ہلاك کرنے والا نہیں ظلم سے جب کہ ان کے رہنے والے غفلت میں ہوں۔
قلت یہ ایت اگرچہ غفلت والے سے عذاب دنیا کی نفی میں ظاہر ہے اورعذاب اخرت کی نفی مفہوم سے ہوجاتی ہے کیونکہ جس بادشاہ کریم نے غافل کےلئے دنیا کا فانی عذاب پسند نہ کیا وہ اخرت کا دائمی عذاب بدرجہ اولی پسند نہ فرمائیگا۔اقول لیکن یہ وہ غفلت ہے جو رسالتنبوت اورسمع عقائد بعث وغیرہ کے باب میں ہواوراس باب میں موجب غفلت پائے جانے کے ہم قائل ہیں لیکن توحید سے غفلت کا کوئی موجب نہیں جبکہ اس کے دلائل واضح ہیں اورعقل اس کی
#597 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
وقد قال الله تعالی: "قل لمن الارض ومن فیہا ان کنتم تعلمون ﴿۸۴﴾ سیقولون للہ قل افلا تذکرون ﴿۸۵﴾ قل من رب السموت السبع و رب العرش العظیم ﴿۸۶﴾ سیقولون للہ قل افلا تتقون ﴿۸۷﴾ قل من بیدہ ملکوت کل شیء و ہو یجیر و لا یجار علیہ ان کنتم تعلمون ﴿۸۸﴾ سیقولون للہ قل فانی تسحرون ﴿۸۹﴾
" وقال تعالی: ۔ "ولئن سالتہم من خلق السموت والارض و سخر الشمس و القمر لیقولن اللہ فانی یؤفکون ﴿۶۱﴾ " الی غیر ذلك من الایات۔کل ذلك مع قولہ عز من قائل۔"ان تقولوا انما انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا ۪ و ان کنا عن دراستہم لغفلین ﴿۱۵۶﴾"
۔فافھم۔ رہنمائی کے لئے کافی ہے۔باری تعالی کا ارشاد ہے:تم فرماؤکس کی ہے زمین اورجو اس میں ہیں اگر تم جانتے ہو بولیں گے الله کی۔تم فرماؤپھر تم کیوں دھیان نہیں دیتے تم فرماؤکون ہے ساتوں اسمانوں کا مالك اوربڑے عرش کا مالک بولیں گے:یہ الله ہی کی شان ہے۔فرماؤپھر تم کیوں نہیں ڈرتے تم فرماؤکون ہے جس کے ہاتھ ہر چیز کا اقتدارہے اوروہ پناہ دینے والا ہے اوراس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی اگر تم جانتے ہو بولیں گے یہ الله ہی کی شان ہے۔فرماؤپھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو۔اورارشاد باری ہے اوراگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے اسمان اورزمین اورکام میں لگائے سورج اورچاندتو ضرورکہیں گے الله نے۔پھرکہاں اوندھے جاتے ہیں اور ان کے علاوہ ایات۔ساتھ ہی یہ ارشاد بھی ہے:کبھی تم کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں پر نازل کی گئی تھی اورہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے غورکیجئے۔(ت)
ائمہ ماتریدیہ رضی الله تعالی عنہم سے ائمہ بخارا وغیرہم بھی اسی کے قائل ہوئے۔امام محقق
#598 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
کمال الدین ابن الہمام قدس سرہ نے اسی کو مختار رکھا۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
قال ائمۃ البخاری عندنا لایجب ایمان ولایحرم کفر قبل البعثت کقول الاشاعرۃ ۔ ائمہ بخاری نے اشاعرہ کی طرح فرمایا:ہمارے نزدیك قبل بعثت وجوب ایمان اورحرمت کفر دونوں نہیں۔(ت)
فواتح الرحموت میں ہے:
عندالاشعریۃ والشیخ ابن الھمام لایؤاخذون ولو اتوا بالشرك والعیاذبالله تعالی ۔ اشعریہ اورشیخ ابن الہمام کے نزدیك ان سے مواخذہ نہیں اگرچہ مرتکب شرك ہوںوالعیاذبالله تعالی۔(ت)
حاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار میں ہے:
اھل الفترۃ ناجون ولو غیروا وبدلواعلی ماعلیہ الاشاعرۃ وبعض المحققین من الماتریدیہ ونقل الکمال فی التحریر عن ابن عبدالدولۃ انہ المختار لقولہ تعالی: "وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ﴿۱۵﴾"وما فی الفقہ الاکبر من ان والدیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ماتاعلی الکفرفمدسوس علی الامام الخ۔ اہل فترت ناجی ہیں اگرچہ تغیروتبدیل کے مرتکب ہوں۔ اس پر اشاعرہ اوربعض محققین ماترید یہ ہیں۔کمال ابن ہمام تحریر میں ابن عبدالدولہ سے ناقل ہیں کہ یہی مختار ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:ہم عذاب فرمانے والے نہیں جب تك کہ کوئی رسول نہ بھیج لیں۔۔۔۔۔۔۔اورفقہ اکبر میں جو ہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے والدین نے حالت کفر میں انتقال کیا تویہ مصنف فقہ اکبر امام اعظم پردسیسہ کاری ہے(ت)
اس قول پر توظاہر کہ اہل فترت کو تازمان فترت کافرنہ کہاجائے گا کہ وہ ناجی ہیںاوکافر ناجی نہیں تو شکل ثانی نے صاف نتیجہ دیا کہ وہ کافر نہیں۔
وعلی ھذا استدل بہ السید العلامۃ اسی بنیاد پر اس سے سید علامہ طحطاوی نے
#599 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
علی نزھۃ الابوین الشریفین عن الکفر۔رضی الله تعالی عنہما وعن کل من احب اجلالھما اجلالا لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ والدین کریمین کے کفر سے منزہ ہونے پر استدلال کیا ہے۔ الله تعالی ان دونوں سے راضی ہوا اورہر اس شخص سے جو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اکرام کی خاطر ان کا اکرام پسندکرے۔(ت)
ولہذا ائمہ اشاعرہ میں کوئی انہیں مسلم کہتا ہے کوئی معنی مسلم میں۔
قال الزرقانی "ثم اختلف عبارۃ الاصحاب فیمن لم تبلغہ الدعوۃ فاحسنھا من قال انہ ناجوایاھا اختار السبکیومنھم من قال علی الفترۃ عــــــہ منھم من قال مسلم قال الغزالی والتحقیق ان یقال فی معنی مسلم ۔" زرقانی نے فرمایا:پھر اصحاب(ائمہ رحمہم الله کی عبارتیں اس کے بارے میں مختلف ہوگئیں جسے دعوت نہ پہنچی سب سے عمدہ عبارت اس کی ہے جس نے کہا وہ ناجی ہے۔اسی کو امام سبکی نے اختیار کیاکسی نے کہا وہ فترۃ پر ہے۔کسی نے کہا مسلم ہے۔امام غزالی نے فرمایا کہ تحقیق یہ ہے کہ اسے معنی مسلم میں کہاجائے۔(ت)
اس طور تو خود ابوطالب پر حکم کفر اس وقت سے ہوا جب بعد بعثت اقدس تسلیم واسلام سے انکار کیااوریہ وقت وہ تھا کہ حضرت مولی علی کرم الله وجہہ الاسنی خود اسلام لاکر حکم تبعیت سے قطعامنزہ ہوچکے تھے ولله الحمد۔
بعض علماء قائل تفصیل ہوئے کہ اہل فترت کے مشرك معاقب اورموحد وغافل مطلقاناجی۔یہ قول اشاعرہ سے اما مین جلیلین نووی ورازی رحمہاالله تعالی کا ہے۔
وتعقبہ الامام الجلال السیوطی فی رسائلہ فی الابوین الکریمین اس قول کا امام جلال الدین سیوطی نے اسلام والدین کریمین رضی الله تعالی عنہما سے متعلق اپنے

عــــــہ: ھکذا فی نسختی بالتاء ویترأای لی انہ"الفطرۃ" بالطاء ۱۲منہ۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں)میرے نسخہ میں اسی طرح تاسے ہے میرا خیال ہے کہ یہ طاکے ساتھ "فطرۃ"ہے ۱۲منہ(ت)
#600 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
رضی الله تعالی عنہما بما یرجع الی القول بالامتحان۔ والعلامۃ ابوعبدالله محمد بن خلف ن الابی فی اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم کما نقل کلامہ فی المواھب۔اقول لکنہ عاداخر الی تسلیمہ حیث قال اولا لما دلت القواطع علی انہ لاتعذیب حتی تقوم الحجۃ علینا انھم غیر معذبین اھ ثم استشعر ورود الاحادیث وقسمھم اخر الکلام الی موحد ومبدل و غافلثم قال فیحمل من صح تعذیبہ علی اھل القسم الثانی لکفرھم بما تعدوابہ من الخبائث و الله سبحنہ وتعالی قدسمی جمیع ھذا القسم کفارا ومشرکین فانا نجدالقران کلما حکی حال احد سجل علیھم بالکفر والشرککقولہ تعالی
" "ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃثم قال الله تعالی "ولکن الذین کفروا رسائل میں تعاقب کیاہے جس کا مال یہ ہے کہ پہلے اہل فترت کا امتحان(پھر فیصلہ)۔علامہ ابوعبدالله محمد بن خلف ابی مالکی نے بھی اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم میں قول مذکور کا تعاقب کیا ہے جیسا کہ مواہب لدنیہ میں ان کاکلام منقول ہےاقول مگر اخر میں چل کر انہوں نے اس قول کو تسلیم کرلیا ہے اس طرح کہ پہلے فرمایا کہ جب قطعی نصوص نے بتایا کہ حجت قائم ہوئے بغیر عذاب نہ دیاجائے گا تو ہم نے جانا کہ ان پر عذاب نہ ہوگا اھ۔پھر انہیں خیال پیداہوا کہ تعذیب کے بارے میں تو حدیثیں بھی وارد ہیں تواخر کلام میں اہل فترت کو انہوں نے تین قسموں موحد(۱)مبدل(۲)اور غافل(۳)میں تقسیم کیا۔پھر فرمایاکہ جن کی تعذیب کی صحت ثابت ہے انہیں قسم ثانی والوں پرمحمول کیاجائیگا اس لئے کہ وہ اپنے برے افکار واعمال کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے کے باعث کافرہوئے اورالله تعالی نے اس قسم کے سارے لوگوں کو کفار ومشرکین کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قران ان میں سے جب کسی کا حال بیان فرماتاہے تو صاف صاف انکے کافرومشرك ہونے کا حکم ثبت فرمادیتاہے جیسے یہ ارشادباری ہے:
#601 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
یفترون علی اللہ الکذب و اکثرہم لا یعقلون ﴿۱۰۳﴾" ۔الخ
فھذا کماتری رجوع الی ما قالہ ھذاان الامامان من تعذیب من اشرك منھم۔اقول: وفی استدلالہ بالایۃ خفاء ظاھر اذلیست نصافی ان المراد بھم من اخترع ذلك من اھل الفترۃبل الکفار لما تدینوا بتلك الاباطیل سجل علیھم بانھم یفترون علی الله الکذب۔۔۔۔۔وبالجملۃ فمفاد الایۃ ان الکافرین یفترون لا ان المفترین کلھم کافرونحتی یکون تسجیلاعلی کفر اھل الفترۃ۔ الله نے مقررنہ کیا بحیرہ(کان چرا)اورنہ سائبہ۔پھر یہ ارشاد ہے:لیکن جو لوگوں نے کفر کیا وہ الله پرجھوٹ باندھتے ہیں اوران میں اکثر بے عقل ہیں الخ۔تویہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی کی طرف رجوع ہےجو امام نووی وامام رازی نے فرمایا کہ اہل فترت کے مشرکوں پر عذاب ہوگا۔ اقول:(میں کہتاہوں)ہاں علامہ ابی نے ایت مذکورہ سےجو استدلال کیا ہے اس میں کھلا ہوا خفا ہے کیونکہ ایت اس بارے میں نص نہیں ان سے اہل فترت ہی کے(بحیرہ وغیرہ کا اختراع کرنیوالے مراد ہیںبلکہ کفار نے جب ان باطل چیزوں کو اپنے دین واعتقاد میں داخل کرلیا توان کے بارےمیں یہ حکم ثبت فرمایا کہ وہ الله پر جھوٹ باندھتے ہیں۔حاصل کلام یہ کہ ایت کا مفادیہ ہے کہ کافرین افتراکرتے ہیںنہ یہ کہ سارے افترا کرنے والے کافر ہیں کہ اہل فترت کے فکر کی تصریح ہو۔(ت)
ردالمحتار میں یہی قول ائمہ بخاراکی طرف نسبت کیا:
علی خلاف ماقدمنا عن القاری والطحطاوی وبحر العلوم رحمھم الله تعالیحیث قال"نعم البخاریون من الماتریدیۃ وافقوا الاشاعرۃوحملواقول الامام لاعذرلاحدفی الجھل بخالقہعلی مابعد اس کے برخلاف جو پہلے ہم نے مولانا علی قاریطحطاوی اور بحرالعلوم رحمہم الله تعالی سے نقل کیاعلامہ شامی نے اس طرح فرمایاکہ ہاں ماتریدیہ میں سے ائمہ بخارا اشاعرہ کے موافق ہوئے انہوں نے امام اعظم کے قول"اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کسی کے لئے کوئی عذر نہیں۔"کو
#602 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
البعثۃواختارہ المحقق ابن الھمام فی التحریر۔ لکن ھذا فی غیر من مات معتقدا للکفر۔فقد صرح النوری والفخر الرازی بان من مات قبل البعثۃ مشرکا فھو فی الناروعلیہ حمل بعض المالکیۃ ماصح من الاحادیث فی تعذیب اھل الفترۃ الخ۔" مابعد بعثت پر محمول کیااسی کو محقق ابن الہمام نے تحریر میں اختیارکیالیکن یہ قول جو لوگ کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے مرگئے ان کے علاوہ کے بارے میں ہے۔امام نووی اورفخر الدین رازی نے تصریح فرمائی ہے کہ جو قبل بعثت حالت شرك میں مرگئے جہنم میں ہوں گے۔اسی پر بعض مالکیہ نے تعذیب اہل فترت سے متعلق احادیث صحیحہ کو محمول کیاہے۔(ت)
جمہور ائمہ ماتریدیہ قدست اسرارھم کے نزدیك اہل فترت کے مشرک۱معاقبموحد۲ناجیغافلوں۳ میں جس نے مہلت فکروتامل نہ پائیناجیپائی۴معاقب۔
وھو المؤید بما نقل عن امام المذھب رضی الله عنہ من قولہ لاعذر لاحد الخ وحمل البخار یین لا یجری فی قولہ الاخر فیما نقل عنہ وانہ لو لم یبعث الله رسولا لو جب علی الخلق معرفتہ بعقولھم لکن اولہ المحقق بحمل الوجوب علی العرفی۔ای لکان ینبغی لھم ذلک۔ اقول:ویرد علی ظواھر ھذہ الاقوال جمیعااحادیث الامتحان وھی صحیحۃ یہی قول تائید یافتہ ہے اس سے جو امام مذہب رضی الله تعالی عنہ سے منقول ہے کہ کسی کے لئے اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کوئی عذر نہیں الخ اوراہل بخاراکا بعد بعثت والوں پر اس قول کو محمول کرنا امام سے منقول اس دوسرے قول میں نہ چل سکے گاکہ اگرالله تعالی کوئی رسول مبعوث نہ فرماتا تو بھی مخلوق پر اپنی عقلوں کے ذریعہ خالق کی معرفت واجب ہوتی۔ لیکن محقق ابن الہمام نے اسے وجوب عرفی پر محمول کرکے تاویل کی ہے یعنی ان کے لئے یہی مناسب ہوتا۔اقول: ان تمام اقوال کے ظاہر پر احادیث امتحان سے اعتراض وارد
#603 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
کثیرۃ ولا ترد ولا ترام۔
وقد عدالسیوطی جملۃ منھا قال"والمصح منھاثلثۃ۔
الاول حدیث الاسود بن سریع وابی ھریرۃ معا مرفوعااخرجہ احمد وابن راھویہ والبیہقی و صححہ وفیہ واماالذی مات فی الفترۃ فیقول رب ما اتانی لك رسولفیأخذ مواثیقھم لیطیعنہ فیرسل الیھم ان ادخلواالنارفمن دخلھا کانت علیہ بردا وسلاماومن لم یدخلھاسحب الیہا ۔
والثانی حدیث ابی ھریرۃ موقوفاولہ حکم الرفع لان مثلہ لایقال من قبل الرأی۔اخرجہ عبدالرزاق وابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرفی تفاسیر ھماسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔



والثالث حدیث ثوبان مرفوعااخرجہ البزارو الحاکم فی المستدرك وقال صحیح علی شرط الشیخین واقرہ الذھبی ۔الخ ہوگا۔اوریہ حدیثیں صحیح بھی ہیں کہ کثیر بھی۔اس قابل نہیں کہ رد کی جائیں یا انہیں رد کرنے کا ارادہ کیاجائے۔
امام سیوطی نے ان میں کچھ حدیثیں شمارکرائی ہیںفرمایاکہ ان میں صحیح یافتہ تین ہیں۔
اول:اسود بن سریع اورابوہر یرہ دونوں حضرات کی حدیث مرفوعجس کی تخریج امام احمداورابن راہویہ اوربیہقی نے کی ہے۔اوربیہقی نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔اس حدیث میں ہے:لیکن وہ جو فترت میں مرگیا تو عرض کرے گاخداوندا !میرے پاس تیراکوئی رسول نہ ایا۔تو ان سے عہد وپیمان لے گا کہ اب ضرور اس کا حکم مانیں گے۔تو انہیں پیغام بھیجے گا کہ دوزخ میں داخل ہوجاؤجو داخل ہوگا اس پرٹھنڈك اور سلامتی ہوجائے گی۔جو نہ داخل ہوگااسے گھسیٹ کرلایا جائے گا۔
دوم:حضرت ابوہریرہ کی حدیث موقوفیہ بھی مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔اس کی تخریج عبدالرازق نے کی ہے اورابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرنے اپنی تفاسیر میں کی ہےاسکی اسنادصحیح برشرط شیخین ہے۔
سوم:حضرت ثوبان کیحدیث مرفوعجس کی تخریج بزار نے کی ہےاورحاکم نے مستدرك میں تخریج کر کے فرمایا کہ صحیح برشرط شیخین ہےاورذہبی نے اسے مقرر رکھا۔
#604 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
وذلك لان الامتحان یوجب الوقف والقول بشیئ یخالفہ بید ان تمام ورودہ انما ھو علی الاشاعرۃ الذین اطلقوا القول بالنجاۃ اما المفصلون من اصحابنا فلھم ان یقولوا ینجوھذا یعاقب ذاک۔ و لکن یکون ذلك بعدالامتحان۔ولی ھھنا کلام اخر فی تحقیق المرام لااذکرہ لخوف الاطالۃ وغرابۃ المقام فلنرجع الی ماکنافیہ۔ وجہ اعتراض یہ ہے کہ جب فیصلہ بعد امتحان ہوگا توہم پر توقف لازم ہےاورکوئی صریح حکم لگا دینا اس کےخلاف ہےلیکن یہ سارا اعتراض ان اشاعرہ پرہے جو مطلقانجات کے قائل ہیں لیکن ہمارے اصحاب میں سے اہل تفصیل یہ جواب دے سکتے ہیں کہ یہ ناجی ہوگا وہ معاقب۔لیکن فیصلہ بعدامتحان ہوگا۔ اور یہاں تحقیق مقصود میں میرا ایك دوسرا کلام ہے جسے خوف طوالت اوراجنبیت مقام کے باعث ترك کررہا ہوں اب ہم اصلی بحث کی طرف رجوع کریں۔(ت)
ان دونوں قولوں پر بس حکم کفر کے لئے صراحۃاختیارشرکیابر قول اخر وصف مہلت تاملترك توحید کا ثبوت لازم۔ہم پوچھتے ہیں مخالف کے پاس کیاحجت ہے کہ زمانہ فترت میں حضرت فاطمہ بنت اسد رضی الله تعالی عنہا موحدہ یا غافلہ نہ تھیں حالانکہ بہت عورتوں کی نسبت یہی مظنون کما قدمنا عن الزرقانی عن السیوطی(جیسا کہ ہم بحوالہ زرقانی امام سیوطی سے ماقبل میں ذکر کرچکے ہیں۔ت)مخالف جو دلیل رکھتاہے پیش کرے اورجب نہ پیش کرسکے تو رجمابالغیب حکم تبعیت پر کیونکر منہ کھول دیا۔کیااطلاق کفر اوروہ بھی معاذالله ایسی جگہ محض اپنے تراشیدہ اوہام پر ہوسکتاہے کیامحتمل نہیں کہ وہ اس وقت بھی ان لوگوں میں ہوں جو بالاتفاق ناجی ہیںتو ولد انہیں کاتابع ہوگا اور بالتبع بھی حکم کفر ہرگزصحیح نہ ہوسکے گا۔علامہ شامی قدس سرہ السامی ردالمحتارمیں مسلم وکافرہ سے مولودبالزناکی نسبت فرماتے ہیں:
یظھر لی الحکم بالاسلام للحدیث الصحیح کل مولود یولد علی الفطرۃ حتی یکون ابواہ ھما اللذان یھودانہ اوینصرانہفانھم قالواانہ صلی الله تعالی علیہ مجھے اس کے مسلمان ہونے کا حکم کرنا ہی سمجھ میں اتاہے اس لئے کہ حدیث صحیح ہے کہ ہر بچہ دین فطرت پر پیداہوتا ہے یہاں تك کہ اس کے ماں باپ دونوں ہی اس کو یہودی یا نصرانی بناتے ہیں۔علماء نے فرمایا کہ حضور صلی الله
#605 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
وسلم جعل اتفاقھما ناقلالہ عن الفطرۃ فاذا لم یتفقا بقی علی اصل الفطرۃوایضاحیث نظروا للجزئیۃ فی تلك السائل احتیاطافلینظر الیہا ھنا احتیاطا ایضا فان الاحتیاط بالدین اولی ولان الکفر اقبح القبیح فلاینبغی الحکم بہ علی شخص بدون امر صریح اھ ملخصا۔ تعالی علیہ وسلم نے ماں اورباپ دونوں کے اتفاق کو دین فطرت سے منتقل کرنے والا ٹھہرایا۔تو اگر دونوں متفق نہ ہوں تو بچہ اصل فطرت پر رہے گا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ علماء نے جب ان مسائل میں احتیاطاجز ئیت کا لحاظ کیا تو یہاں بھی احتیاطالحاظ جزئیت ہونا چاہئے کیونکہ دین کے معاملہ میں احتیاط ہی اولی ہے۔اوراس لئے بھی کہ کفر سب سے بدتر قبیح ہے تو کسی شخص پر کسی امر صریح کے بغیر حکم کفر لگانا مناسب نہیں۔اھ ملخصا(ت)
سبحان الله !اس جرأت کی کوئی حد ہے کہ مدعاعلیہ اسدالله الغالب اوردلیل وگواہ مفقودوغائبانا لله وانا الیہ راجعون (ہم الله ہی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ت)
ثانیا:باجماع ائمہ اشاعرہ قدست اسرارھمحسن وقبح مطلقاشرعی ہیں۔تو قبل شرع اصلاکسی شیئ کی نسبت ایجاب یا تحریم کچھ نہیں۔بعض ائمہ ماتریدیہ تمت انوارھہم بھی بانکہ قائل عقلیت ہیں مگر تعرف عقل قبل سمع کو مستلزم حکم وشغل ذمہ مکلف عــــــہ نہیں جانتے۔یہی مذہب امام ابن الہمام نے اختیار فرمایا اور انہیں کی تبعیت فاضل محب الله بہاری نے کی۔مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے:
(عندنا)وعند المعتزلۃ عقلی لکن عند نا من متاخری الماتریدیہ لایستلزم ھذا الحسن والقبح حکما اشیاء کاحسن وقبح ہمارے نزدیك اورمعتزلہ کے نزدیك عقلی ہے لیکن ہم متاخرین ماتریدیہ کے نزدیك یہ حسن وقبح بندے کے بارے میں الله

عــــــہ:یعنی بعض ائمہ ماتریدیہ مانتے ہیں کہ کچھ اشیاء کے حسن وقبح کا ادراك عقل سے ہوتا ہے مگر وہ اس کے قائل نہیں کہ شریعت انے سے پہلے ہی محض عقل کے ادراك پر مکلف بندہ ذمہ دار ہوجائے اوراس پر کسی کام کاکرنا یا نہ کرنا لازم ہوجائے۱۲محمد احمد
#606 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
من الله سبحنہ فی العبد فمالم یحکم الله تعالی بارسال الرسل وانزال الخطاب لیس ھناك حکم اصلا ومن ھھنا اشترطنا بلوغ الدعوۃ فی تعلق التکلیف فالکافر الذی لم تبلغہ الدعوۃ غیر مکلف بالایمان ایضاولا یؤاخذبکفرہ اھ ملخصا۔ سبحنہ کی طرف سے کسی حکم کو مستلزم نہیںتو جب تك الله نے رسولوں کوبھیج کر اورخطاب نازل فرماکر کوئی حکم نہ فرمایا یہاں بالکل کوئی حکم نہیں۔یہیں سے ہم نے کہا کہ مکلف ہونے کا تعلق اس شرط کے ساتھ ہے کہ دعوت پہنچی ہو تو وہ کافر جسے دعوت نہ پہنچی وہ ایمان کا بھی مکلف نہیں اوراس کے کفر پربھی اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔اھ ملخصا(ت)
نیز فواتح میں ہے:
حاصل البحث ان ھھنا ثلثۃ اقوال:
الاول مذھب الاشعریہ ان الحسن والقبح فی الافعال شرعی وکذلك الحکم۔
الثانی انھما عقلیان وھما مناطان لتعلق الحکم۔ فاذاادرك فی بعض الافعال کالایمان والکفر و الشرك والکفر ان یتعلق الحکم منہ تعالی بذمۃ العبد وھو مذھب ھؤلاء الکرام والمعتزلۃالا انہ عندنا لا تجب العقوبۃ بحسب القبح العقلی کما لا تجب بعد ورود الشرع لاحتمال العفوبخلاف ھؤلاء ۔
الثالث عقلیان ولیساموجبین للحکم حاصل بحث یہ ہے کہ یہاں تین اقول ہیں:
اول مذہب اشعریہ کہ افعال کا حسن وقبح شرعی ہے۔اسی طرح حکم افعال بھی شرعی ہے۔
دوم حسن وقبح عقلی ہیں اوران پر تعلق حکم کا مدار ہے۔تو جب بعض افعال میں حکم کا ادراك ہوجائے جیسے ایمان کفرشرك اور کفران میں توالله تعالی کی طرف سے بندے کے ذمہ حکم متعلق ہوجائے گایہی ان علمائے کرام اور معتزلہ کا مذہب ہےمگر یہ ہے کہ ہمارے نزدیك قبح عقلی کے اعتبار سے عقوبت واجب نہیں ہوجاتی جیسا کہ ورودشرع کے بعد واجب نہیں کیونکہ عفو کا احتمال ہے بخلاف معتزلہ کے کہ وہ واجب مانتے ہیں۔
سوم حسن وقبح عقلی ہیں۔اوراتنے ہی سے
#607 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
ولا کاشفین عن تعلقہ وھو مختارالشیخ ابن الھمام وتبعہ المصنف ورأیت فی بعض الکتب وجدت مشائخنا الذین لاقیتھم قائلین مثل قول الاشعریۃ اھ بتلخیص۔ وہ تعلق حکم کے موجب یا مظہر نہیں۔یہی شیخ ابن الہمام کا مختار ہے اورمصنف نے اسی کا اتباع کیاہے۔میں نے بعض کتابوں میں پڑھا کہ میں نے اپنے ان مشائخ کو جن سے میں نے ملاقات کی ہے اشعریہ کے قول کاقائل پایااھ بتلخیص۔(ت)
ان دونوں قولوں پر قبل شرح حکم اصلا نہیںتو عصیان نہیںکہ عصیان مخالفت حکم کا نام ہے۔
ولذا قال الامام ابن الھمام کیف تحقق طاعۃ او معصیۃ قبل ورودامرونھی۔ اسی لئے ابن الہمام نے فرمایا کہ امرونہی وارد ہونے سے پہلے کسی طاعت یا معصیت کا تحقق کیسے!(ت)
اورجب عصیان نہیں کفر بالاولی نہیں کہ وہ اخبث معاصی ہے اورانتفائے عام مستلزم انتفائے خاص۔یوں بھی خود ابوطالب پرتا زمان فترت حکم کفر نہ تھاجب کفرکیا تبعیت کا اصلامحل نہ تھا۔
جماہیر ائمہ ماتریدیہ رضی الله تعالی عنہم اگرچہ عقل کو معرف حکم مانتے ہیںمگر نہ مطلقاکہ یہ توسفاہت سفہائے معتزلہ و روافض وکرامیہ وبراہمہ خذلھم الله تعالی(الله تعالی ان کو رسواکرے۔ت)ہے۔بلکہ امثال توحیدوشکر وترك کفران وکفر وغیرہا امورعقلیہ غیر محتاج سمع میں۔اس مذہب پر پھر وہی سوال ہوگا کہ حضرت فاطمہ بنت اسد کا زمان فترت میں ارتکاب شرك واجتناب توحیدثابت کرو۔اگر نہ ثابت کرسکو توکیا مولی المسلمین ولی رب العلمین حبیب سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم پر ایسے شنیع لفظ کا اطلاق بے دلیل کردیا جائے گا
ثالثا اس سب سے تنزل کیجئے اورتاظہور بعثت ان دونوں زن وشوکا کفر مان ہی لیجئے تو اب ایك ذرا نظر انصاف درکار کہ امردوم کا پتا نہ لگارہا نہ رہے۔
ناسمجھ بچے کو بہ تبعیت والدین یا دارکافر کہنے کے ہرگز ہرگز یہ معنی نہیں کہ وہ حقیقۃکافر ہے کہ
#608 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
یہ تو بداہۃ باطل۔وصف کفر یقینا اس سے قائم نہیںبلکہ اسلام فطری سے متصف ہے کما قدمنا(جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ت)یہ اطلاق صرف ازروئے حکم ہے یعنی شرعا اس پر وہ احکام ہیں جو اس کے باپ یا اہل دار پر ہیں وہ بھی نہ مطلقابلکہ صرف دنیوی مثلا وہ اپنے کافر مورث کا ترکہ پائے گا نہ مسلم کاکافر وارث کو اس کا ترکہ ملے گا نہ مسلم کوکافرہ سے اس کانکاح ہوسکتا ہے نہ مسلمہ سےوہ مرجائے تو اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں گےمسلمانوں کی طرح غسل وکفن نہ دیں گےمقابر مسلمین میں دفن نہ کریں گے الی غیر ذلك من الاحکام الدنیویۃ(اس کے علاوہ دیگر دنیوی احکام۔ت)فتح القدیر میں ہے:
تبعیۃ الابوین اواحدھما ای فی احکام الدنیا لافی العقبی ۔ والدین یا ان میں سےکسی ایك کے تابع ہونا یعنی دنیوی احکام میں ہے نہ کہ اخروی احکام میں(ت)
بحرالرائق میں ہے:
اعلم ان المراد بالتبعیۃ التبعیۃ فی احکام الدنیا لافی العقبی ۔ تو جان لے کہ تابع ہونے سےمراد دنیاوی احکام میں تابع ہونا ہے نہ کہ اخروی احکام میں۔(ت)
شرنبلالیہ میں ہے:
التبعیۃ انما ھی فی احکام الدنیا لافی العقبی ۔ تابع ہونا تومحض دنیاوی احکام میں ہے نہ کہ اخروی احکام میں۔(ت)
درمختار میں ہے:
تبع لہ ای فی احکام الدنیا لاالعقبی لما مر انھم خدم اھل بچہ والدین میں سے کسی کے تابع ہے یعنی دنیاوی احکام میں نہ کہ اخروی احکام میںکیونکہ گزرچکا ہے کہ انکے بچے جنتیوں کے خادم
#609 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
الجنۃ ۔ ہوں گے۔(ت)
اورجب یہ تبعیت صرف احکام دنیوی میں ہے تو اس کا ثبوت احکام دنیاکے وجود پر موقوف۔اگردنیا میں کوئی حکم ہی نہ ہو تو تبعیت کس چیز میں ہوگی اورپر ظاہر کہ قبل بعثت ان امور میں کوئی حکم شرعی اصلا اجماعامتحقق نہ تھا۔تو اس وقت تك کسی ناسمجھ بچے کا بہ تبعیت والدین کافر قرار پانا ہرگز وجہ صحت نہیں رکھتا کہ نہ حکم نازلنہ تبعیت حاصل۔ھکذاینبغی التحقیق والله سبحنہ ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہیے اورالله سبحنہ وتعالی توفیق کا مالك ہے۔ت)
اس تحقیق انیق سے بتوفیق الله تعالی روشن ہوگیا کہ بحمدہ سبحنہ تبعا حکما اسما وہماکسی طرح کسی نوع یہ لفظ شنیع حضرت مولی کرم الله تعالی وجہہ الاسنی پر صادق نہ ہوا۔روز الست سے ابدالاباد تك ان کادامن ایمان مامن اس لوث(الودگی)سے اصلا جزما قطعا مطلقاپاك وصاف منزہ رہا۔والحمدلله رب العلمین(سب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)
ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر:من فیض اللطیف الخبیر:واسأل الله تعالی ان یجعلہ ذریعۃ مقبولۃ لحفظ ایمان ھذا الضعیف الحقیر لیوم لقاء الملك الجواد القدیر۔ولاحول ولاقوۃ الابالله العلی الکبیر: وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی الامان المؤمن المولی النصیر الشفیع الرفیع المبشر البشیر:وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ وعلین المرتضی الامام الامیر: وعلینابھم ولھم وفیھمامین یاربنا السمیع البصیر۔ یہ سب وہ ہے جو قلب فقیر پر لطیف خیبر کے فیض سے فائض ہوا اورمیں الله تعالی سے سوال کرتاہوں کہ اس کو بادشاہ جواد قدیر کی ملاقات کے دن تك اس ضعیف حقیر کے ایمان کی حفاظت کاذریعہ مقبولہ بنادےاورکوئی طاقت وقوت نہیں مگر الله علی کبیر ہی سےاورالله رحمت وبرکت وسلامتی نازل فرمائے امن دینے والے اماننصرت فرمانے والے مولی بلند شفیعخوشخبری دینے والے مبشر پر اوران کی الاصحاب اہل جماعت اورعلی مرتضی امام امیر پراورہم پر ان حضرات کے وسیلہ اوران کے سبب سے اوران کے زمرہ میںقبول فرما اے ہمارے سننے دیکھنے والے رب!
#610 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
تکمیل: بحمدالله تعالی یہی فضل اجل واجملبلکہ اس سے بھی اعلی واکملنصیب حضرت امیر المومنینامام المشاہدینافضل الاولیاء المحمدیینسیدنا ومولانا صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ ہے۔حکم تبعیت تو انہیں وجوہ بالا سے باطل۔چند برس کی عمر شریف ہوئی کہ پرتوشان خلیل الله بت خانہ میں بت شکنی فرمائی۔ان کے والد ماجد سیدنا ابو قحافہ رضی الله تعالی عنہ(کہ وہ بھی صحابی ہوئے)اس زمانہ جاہلیت میں انہیں بت خانے لے گئے اوربتوں کو دکھا کر کہا:ھذہ الہتك الشم العلی فاسجدلہا یہ تمہارے بلند وبالا خدا ہیں انہیں سجدہ کرو۔وہ تو یہ کہہ کرباہر گئےسیدنا صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ قضائے مبرم کی طرح بت کے سامنے تشریف لائے اور براہ اظہار عجز صنم وجہل صنم پرست ارشادفرمایا:انی جائع فاطعمنی میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔وہ کچھ نہ بولا۔فرمایا:انی عارفاکسنی میں ننگاہوں مجھے کپڑا پہنا۔وہ کچھ نہ بولا۔صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نے ایك پتھر ہاتھ میں لے کرفرمایا:میں تجھ پر پتھر ڈالتاہوں۔فان کنت الہافامنع نفسك اگر توخدا ہے تو اپنے ا پ کو بچا۔وہ اب بھی نرابت بنارہا۔اخر بقوت صدیقی پتھر پھینکا کہ وہ خدائے گمراہاں منہ کے بل گرا۔والد ماجد واپس اتے تھے یہ ماجرا دیکھاکہا:اے میرے بچے !یہ کیا کیا فرمایا:وہی جواپ دیکھ رہے ہیں وہ انہیں ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام الخیر رضی الله تعالی عنہا کے پاس (کہ وہ صحابیہ ہوئیں)لے کر ائے اور ساراواقعہ ان سے بیان کیا انہوں نے فرمایا:اس بچے سے کچھ نہ کہوجس رات یہ پیدا ہوئے میرے پاس کوئی نہ تھامیں نے سنا کہ ہاتف کہہ رہا ہے۔
یا امۃ الله علی التحقیق:ابشری بالولد العتیق:اسمہ فی السماء الصدیق:لمحمد صاحب ورفیق:رواہ القاضی ابوالحسین احمد بن محمد ن الزبیدی بسندہ فی"معالی الفرش الی عوالی العرش " وقد ذکرنا الحدیث بطولہ فی کتابنا المبارک اے الله کی سچی لونڈی! تجھے خوشخبری ہو اس ازاد بچے کیاس کا نام اسمانوں میں صدیق ہے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یار ورفیق ہے۔(اسے قاضی ابوالحسین احمد بن محمد زبیدی نے) "معالی الفرش الی عوالی العرش"میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اورہم نے پوری حدیث طویل اپنی کتاب " مطلع القمرین فی
#611 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
ان شاء الله تعالی مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۔ ابانۃ سبقۃ العمرین"میں بیان کیا ہے جو بابرکت(کتاب)ہے اگر الله نے چاہا۔ت)
سولہ برس کی عمر میں حضور پرنورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے قدم پکڑے کہ عمر بھرنہ چھوڑےاب بھی پہلوئے اقدس میں آرام کرتے ہیںروز قیامت دست بدست حضور اٹھیں گےسایہ کی طرح ساتھ ساتھ داخل خلد بریں ہوں گے۔ جب حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم مبعوث ہوئے فورا بے تامل ایمان لائےولہذا سید نا امام ابوالحسن اشعری رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لم یزل ابوبکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ بعین الرضا منہ ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ ہمیشہ سرکار اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خوشنودی میں رہے۔(ت)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
اختلف الناس فی مرادہ بھذا الکلام فقیل لم یزل مؤمنا قبل البعثۃ وبعدھا وھو الصحیح المرتضی اس کلام سے امام اشعری کی مراد میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ بیان مراد میں ایك قول یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مومن رہےقبل بعثت بھیبعد بعثت بھی۔یہی قول صحیح وپسندیدہ ہے(ت)
امام اجل سید ابوالحسن علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکی قدس سرہ الملکی فرماتے ہیں:
الصواب ان یقال ان الصدیق رضی الله تعالی عنہ لم یثبت عنہ حالۃ کفربالله کما ثبتت عن غیرہ ممن امن۔وھوالذی سمعناہ من اشیاخنا ومن یقتدی بہ وھو الصواب ان شاء الله تعالی ۔ صحیح یہ کہنا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ سے متعلق کوئی حالت کفر ثابت نہ ہوئی جیسا کہ دوسرے ایمان والوں سے متعلق ثابت ہوئی۔یہی ہم نے اپنے شیوخ اور پیشواؤں سے سنا ہے اوریہی حق ہے ان شاء الله تعالی۔(ت)
#612 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
الحمدلله یہ اجمالی جوابموضحنہم جمادی الاخری روز شنبہ کو تمام اوربلحاظ تاریخ"تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ"نام ہوا۔
واخر دعوناان الحمدلله رب العلمینوصلی الله تعالی علی خیر خلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولانا محمد و الہ وصحبہ اجمعینوالله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ اورہماری دعا کا اختتام یہ ہے کہ تمام تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں۔الله تعالی درود نازل فرمائے بہترین مخلوقاس کے افق کے سراج ہمارے اقاومولی محمد پراپ کی ال پر اورا پ کے تمام صحابہ پر۔اورالله تعالی خوب جانتاہے۔اس کا علم اتم اور اس کا حکم مضبوط ہے۔(ت)
______________________
رسالہ
تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہد الجاھلیۃ
ختم ہوا۔
______________________
مسئلہ۲۰: از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمیدصاحب(رحمہ لله تعالی) ۶رجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاھم الله تعالی الی یوم الدین(الله تعالی انہیں روز جزا ء تك قائم رکھے۔ ت)اس میں کہ حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ ہمیشہ کے مسلمان تھے یا کہ علی مافی تاریخ الخلفاء للسیوطی وردالمحتار لابن عابدین و جامع المناقب وغیرہ(جیسا کہ امام سیوطی کی تاریخ الخلفاءعلامہ ابن عابدین کی ردالمحتاراورجامع المناقب وغیرہ میں ہے۔ت)تیرہ یا دس یا نو یا اٹھ برس کے سن میں ایمان لائے ہیںاگر ہمیشہ مسلمان تھے تو پھر ایمان لانا چہ معنی دارد۔بینوا بالتفصیل توجروابالاجر الجزیل(تفصیل سے بیان کرو اجر عظیم دیے جائے گا۔ت)
الجواب:
حضرت امیر المومنینمولی المسلمینامام الواصلینسیدناعلی المرتضی مشکل کشا
#613 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
کرم الله تعالی وجہہ الاسنی اورحضرت امیر المومنین امام المشاہدین افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا ومولانا صدیق اکبر عتیق اطہر علیہ الرضوان الاجل الاظہردونوں حضرات عالم ذریت سے روز ولادتروزولادت سے سن تمیزسن تمیزسے ہنگام ظہورپرنور افتاب بعثتظہور بعثت سے وقت وفاتوقت وفات سے ابدالابادتك بحمدالله تعالی موحدموقن ومسلم ومومن وطیب وزکی و طاہر ونقی تھےاورہیںاوررہیں گےکبھی کسی وقت کسی حال میں ایك لحظہ ایك ان کو لوث کفروشرك وانکار ان کے پاک مبارکستھرے دامنوں تك اصلا نہ پہنچا نہ پہنچےوالحمدلله رب العلمین(سب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
عالم ذریت سے روز ولادت تك اسلام میثاقی تھا کہ "الست بربکم قالوا بلی " (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوںانہوں نے کہا کیوں نہیں۔)
روز ولادت سے سن تمیز تك اسلام فطری کہ کل مولود یولد علی الفطرۃ ہربچہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے۔(ت)
سن تمیز سے روز بعثت تك اسلام توحیدی کہ ان حضرات والاصفات نے زمانہ فترت میں بھی کبھی بت کو سجدہ نہ کیاکبھی غیر خدا کو خدا نہ قراردیا ہمیشہ ایك ہی جاناایك ہی ماناایك ہی کہاایك ہی سے کام رہا۔
"ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ﴿۴﴾" ۔ یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اورالله عظیم فضل والا ہے۔ (ت)
پھر ظہور بعثت سے ابدالابادتك حال تو ظاہر وقطعی ومتواتر ہے والحمدلله رب العلمین(سب تعریفیں الله تعالی کےلئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)فقیر غفرلہ الله المولی القدیرنے یہ نفسی مطلب بقدر حاجت اپنے رسالہ موجزہ تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہد الجاھلیۃ میں واضح کیا۔
#614 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
ثم اقول: وبالله التوفیق(میں پھر کہتاہوں اورتوفیق الله کی طرف سے ہے)ظاہر ہے کہ تا اوان(وقت)فترت اس زمان جاہلیت ومکان امیت وہیجان غفلت میں سمعیات پر اطلاع کے تو کوئی معنی ہی نہ تھےاسی طرح نبوت وکتاب کہ وہ لوگ ان امور سے واقف ہی نہ تھےولہذابراہ عجب کہتے ہیں: "ابعث اللہ بشرا رسولا ﴿۹۴﴾" کیا خدا نے ادمی کو رسول بنایا۔اورکہتے:
"وقالوا مال ہذا الرسول یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق " یہ رسول کیساہے کہ ہماری طرح کھاناکھاتاہے اوربازاروں میں چلتاہے۔
اورپر ظاہر کہ حکمبے تصورمحکوم علیہ محال قطعی۔تو جس چیز سے ذہن اصلا خالی اس کی تصدیق وتکذیب دونوں ممتنع عقلی۔
وقد قال تعالی: " ما انذر اباؤہم فہم غفلون ﴿۶﴾ " ۔ بے شك الله تعالی نے فرمایا:ان کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے تو وہ بے خبر ہیں۔(ت)
لہذا اس زمانے میں صرف توحید مدار اسلام ومناط نجات ونافی کفر تھی۔موحد ان جاہلیت کا مسئلہ اجماعیہ کسے نہیں معلومبایں ہمہ وہ اسلام ضروری تھا کہ اس وقت اسی قدرممکن تھا اصل دین ومرضی رب العلمین جسے "ان الدین عند اللہ الاسلم " (بے شك الله کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ت)فرمایا گیا تمام ایمانیات پر ایمان لانا ہے
"کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ" سب نے مانا الله اوراس کے فرشتوںاس کی کتابوں اوراس کے رسولوں کو۔(ت)
یہ بغیر بعثت وبلوغ دعوت ناممکن____او راس کا بھی فرد اکمل وہ ہے جس کی نسبت ابراہیم خلیل واسمعیل ذبیح صلی الله تعالی علیہما وسلم نے دعا کی:
"ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۪" اورہماری اولاد میں سے ایك امت تیری فرمانبردار۔(ت)
#615 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
جس کی نسبت ارشادہوتاہے:
"ہو سمىکم المسلمین ۬ من قبل" ۔ الله نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں۔(ت)
یعنی اس نبی کر یم افضل المسلمین خاتم النبیین صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کی امت مرحومہ میں داخل ہونا۔یہ اسلام کا اطلاق اخص واکمل واجل واجمل ہے۔ان دونوں معنوں پر ان حضرات عالیات رضی الله تعالی عنہما کی نسبت کہا جاتاہے کہ وہ اٹھ یا دس برس کی عمر میں اسلام لائےیہ ارشاد اقدس سنتے ہی فورا بلاتامل مسلمان ہوئے۔معہذا اس میں ایك سر یہ ہے کہ بعد بعثت وبلوغ دعوت صرف اس اسلام ضروری پر قناعت کافی ووجہ نجات نہیں۔اگرکوئی شخص فترت میں صدہا سال موحد رہتا اوربعد دعوت تصدیق نہ کرتا وہ اسلام سابق یقینا زائل ہوکر کافر مخلد فی النار ہوجاتا۔تو جس نے فورا تصدیق کی اس پرحکم اسلام اس وقت سے تام وقائم ومحکم ومستقر ہوا۔
علاوہ بریں رب العز ت عزوجل اپنے خلیل جلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی نسبت فرماتاہے:
"اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین﴿۱۳۱﴾" جب اس سے فرمایا اس کے رب نے کہ اسلام لابولامیں اسلام لایا رب العالمین کیلئے۔
جب خلیل کبریا علیہ الصلوۃ والثناء کو اسلام لانے کا حکم ہونا اورانکا عرض کرنا کہ اسلام لایامعاذالله ان کے ایمان قدیم واسلام مستمر کامنافی نہ ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم التحیۃ والثناء کی طرف بعد نبوت وپیش از نبوت کبھی کسی وقت ایك ان کے لئے بھی غیر اسلام کو اصلا راہ نہیںتوصدیق ومرتضی رضی الله تعالی عنہما کی نسبت یہ الفاظ کہ فلاں دن مسلما ن ہوئے اس روز اسلام لائےانکے اسلام سابق کے معاذالله کیا مخالفت ہوسکتے ہیں۔
ھذا کلہ واضح مبین۔والحمدلله رب العالمین۔ یہ سب واضح نمایاں ہے اورتمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جوپروردگارہے کل جہانوں کا۔(ت)
#616 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
بحمدالله تعالی نے فقیر کی اس تقریر سے جس طرح روافض کا نفی خلافت صدیقی رضی الله تعالی عنہ کےلئے براہ عناد ومکابرہ ایہ کریمہ "لا ینال عہدی الظلمین﴿۱۲۴﴾" (میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ت)سے سفیہانہ استدلالجس کا نہ صغری صحیح نہ کبری ٹھیکہباء منثورا ہوگیایونہی تفضیلیہ کا وہ باطل خیال کہ "قدم اسلام خاصہ حضرت مرتضوی کرم الله تعالی وجہہ ہے لہذا خلفائے ثلثہ رضی الله تعالی عنہم سے افضل" مدفوع ومقہور ہوگیا۔
فاقول وبالله التوفیق(پس میں کہتاہوں اورتوفیق الله ہی کی طر ف سے ہے۔ت)صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کے لحاظ سے تو یہ تخصیص ہی غلط کہ وہ بھی اس فضل جلیل میں شریك حضرت اسدالله الغالببلکہ انصاف کیجئے تو شریك غالب ہیں اگرچہ دونوں حضرات قدیم الاسلام ہیں کہ ایك ان ایك لمحہ کو ہر گز ہرگز متصف بکفر نہ ہوئےمگر اسلام میثاقی واسلام فطری کے بعد اسلام توحیدی واسلام اخص دونوں میں صدیق اکبر کا پایہ ارفع واعلی ہے۔توحیدی میں یوں کہ صدیق اکبر کی ایك عمر کثیر اس زمانہ ظلمت وجہالت میں گزری۔ابتداء میں مدتوں حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ اسلام پناہ سے دوری رہی۔اس پر بچپنے کی کچی سمجھ میں انکے والد ماجد رضی الله تعالی عنہ کا کہ اس وقت تك مبتلائے شرك تھے اپنے دین باطل کی تعلیم دینابت خانے میں لے جاکرسجدہ بت کی تفہیم کرناغرض رہنما مفقودرہزنی موجود۔بایں ہمہ انکا توحید خالص پر قائم رہناالله اکبرکیسا اجل واعظم ہے۔حضرت امیر المومنین مولا علی کرم الله تعالی وجہہ الاسنی نے انکھ کھولی تو محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ہی کا جمال جہاں ارا ء دیکھاحضور ہی کی گود میں پرورش پائیحضور ہی کی باتیں سنیںحضو رہی کی عادتیں سیکھیںشرك وبت پرستی کی صورت ہی الله تعالی نے کبھی نہ دکھائیاٹھ یا دس سال کے ہوئے کہ افتاب جہاں تاب رسالت اپنی عالمگیر تابشوں کے ساتھ چمك اٹھاوالحمدلله رب العلمین(اورسب تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)اسلام اخص میں یوں کہ صدیق اکبر نے فورا اپنا اسلام سب پر ظاہر واشکار کردیاہدایتیں فرمائیںکفار کےہاتھوں سے اذیتیں پائیںجن کی تفصیل ہماری کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین وغیرہ کتب حدیث میں ہے۔
#617 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
اورامیر المومنین مولی علی کی نسبت ایا کہ کچھ دنوں اپنے باپ ابو طالب کےخوف سے کہ لازمہ صغرسن ہے اپنے اسلام کا اخفا فرمایاامام حافظ الحدیث خیثمہ بن سلیمان قرشی وامام دارقطنی و محب الدین طبری وغیرہم حضرت امام حسن مجبتی رضی الله تعالی عنہ سے راوی حضرت سیدنا علی مرتضی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
ان ابا بکر سبقنی الی اربع لم اوتھنسبقنی الی افشاء السلاموقدم الہجرۃمصاحبتہ فی الغارو اقام الصلوۃ وانا یومئذ بالشعبیظھر اسلامہ واخفیہ ۔ الحدیث بیشك ابوبکر چارباتوں کی طرف سبقت لے گئے کہ مجھے نہ ملیں: انہوں نے مجھ سے پہلے اسلام اشکار اکیااورمجھ سے پہلے ہجرت کینبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے یارغارہوئے اور نماز قائم کی اس حالت میں کہ میں ان دنوں گھروں میں تھا۔ وہ اپنا اسلام ظاہر کرتے اور میں چھپاتاتھا۔
امام قسطلانی مواہب اللدنیہ میں فرماتے ہیں:
اول من اسلم علی ابن ابی طالب وھو صبی لم یبلغ الحلموکان مستخفیا باسلامہواول رجل عربی بالغ اسلم واظھر اسلامہ ابو بکر بن ابی قحافۃ رضی الله تعالی عنہما ۔ سب سے پہلے ایمان لانے والے مذکر حضرت علی بن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ ہیں جبکہ اپ بچے تھے اورسن بلوغ کو نہ پہنچے تھے وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھتےتھےاورسب سے پہلے ایمان لانے والے عربی مرد جنہوں نے اسلام ظاہر کیا وہ ابوبکر بن ابی قحافہ رضی الله تعالی عنہماہیں۔(ت)
امام ابو عمر ابن عبدالبر روایت فرماتے ہیں:
سئل محمد بن کعب القرظی عن اول من اسلم ولی او ابوبکر رضی الله تعالی عنہما:قال محمد بن کعب قرظی سے سوال کیا گیا کہ ابو بکر وعلی میں سے پہلے اسلام لانے والا کون ہے
#618 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
سبحان الله علی اولھما اسلاما وانما شبہ علی الناس لان علیا اخفی اسلامہ من ابی طالب واسلم ابو بکر فاظھر اسلامہ ۔ تو انہوں نے کہا سبحان الله ان دونوں میں سے حضرت علی پہلے اسلام لائے مگر انہوں نے اسلام کو اپنے والد سے پوشیدہ رکھاجس وجہ سے ان کا اسلام لوگوں پر مشتبہ رہا جبکہ ابو بکررضی الله تعالی عنہ نے اپنا اسلام ظاہر فرمایا۔(ت)
ولہذا احادیث حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم واثار صحابہ کرام واہلبیت عظام رضی الله تعالی عنہم سے ثابت کہ صدیق کا اسلام سب کے اسلام سے افضلاوران کا ایمان تمام امت کے ایمان سے ازید واکمل ہے کما بیناہ فی کتابناالمذکور المبارك ان شاء الله تعالی(جیسا کہ ہم نے اس کو بیان کردیا ہے کتاب مذکو رمیں جو ان شاء الله بابرکت ہوگی۔ت)
رہے امیر المومنین فاروق وامیر المومنین غنی رضی الله تعالی عنہما مذہب جمہور اہلسنت میں امیر المومنین حیدر رضی الله تعالی عنہ سے تو وہ دونوں افضل اورامیر المومنین صدیق رضی الله تعالی عنہ اگرچہ سب سے افضل مگر اس وجہ سے افضل نہیں کہ یہ قدیم الاسلام ہیں وہ جدید الاسلامکہ یہ فضل جزئی ہے جو مفضول کو بھی افضل پر مل سکتاہے۔فضل کلی اورشیئ ہے جس کی تحقیق انیق ہم نے کتاب مذکور میں ذکر کی۔قدم اسلام اگر موجب افضلیت ہوتو لازم ائے کہ من وتو زید وعمروکہ بعونہ تعالی باپ داداپرداداپشت ہاپشت سے مسلمان چلے اتے ہیں۔عمر وعثمانابو ذرو سلمان وحمزہ وعباس وغیرہم صحابہ کرام واہلیبت عظام رضی الله تعالی عنہم سے معاذالله افضل ٹھہریںتو اس بنا پر دعوی افضلیت محض جہالت اورفضل جزئی وکلی کے تفرقہ سے غفلت ہے۔
والله الھادی وولی الایادی والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ الله تعالی ہدایت دینےو الا اورنعمتوں کا مالك ہے اورالله سبحانہ وتعالی خوب جانتاہے اوراس کا علم اتم اورمستحکم ہے۔(ت)
مسئلہ۲۱: ازبنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۱۴رجب ۱۳۱۲ھ
ماقولکم ایھا العلماء ابقاکم الله تعالی اے علماء کرام الله تعالی یوم جزا تك ا پ کو باقی
#619 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
الی یوم الجزء فی المسئلۃ التی نرسل الیکم۔ رکھے اپ اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں جو ہم اپ کی طرف بھیج رہے ہیں۔(ت)
زید کہتاہے چونکہ علی مرتضی نے اٹھ دس برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اوراس سے پہلے کبھی دامن پاك اپ کا نجاست شرك وکفر سے الودہ نہیں ہوا اورحدیث شریف:
کل مولود یولد علی الفطرۃ ۔ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے(ت)
دلالت کرتی ہے کہ کل بچے کا دین اسلام ہے۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جناب علی مرتضی ہمیشہ سے مسلمان تھے۔عمر وکہتا ہے کہ جب علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ نےاٹھ دس برس کی عمر میں اسلام قبول کیا تو یہ کہنا کہ اپ ہمیشہ سے مسلمان تھے محض غلط ہے۔ بینواتوجروا(بیان کرو اجر دیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قول زیدحق ومقبول وزعم عمر وباطل ومخذول ہے۔
کما حققنا بتوفیق الله تعالی فی "تنزیۃ المکانۃ الحیدریہ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ۔" جیسا کہ ہم نے "تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ" میں الله تعالی کی توفیق سے اس کی تحقیق کردی ہے۔(ت)
ہاں عبارت زید میں یہ لفظ قابل گرفت ہے کہ "ہم کہہ سکتے ہیں "اس سے بوئے ضعف اتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیںہم بالیقین کہتےہیں:
"الحمد للہ الذی ہدىنا لہذا وماکنا لنہتدی لولا ان ہدىنا اللہ " ۔ سب خوبیاں الله کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی اورہم راہ نہ پاتے اگر الله ہمیں راہ نہ دکھاتا۔(ت)
#620 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
بیشك حضرت مولاعلی کرم الله تعالی وجہہ الاسنی ہمیشہ سےمسلمان صحیح الایمان تھے اوربیشك انہوں نے اٹھ دس برس کی عمر میں اسلام قبول کیاان دونوں باتوں میں اصلا تنافی نہیں۔یہ اسلام متاخر وہ ہے جس کاذکر اللھم صل علی علم الایمان اصل الایمان عین الایمان ولہ وسلم۔اے الله درود وسلام نازل فرما علامت ایماناصل ایمانعین ایمان پر اوراپ کی ال پر۔ (ت)ایہ کریمہ:
"ما کنت تدری ما الکتب و لا الایمن و لکن جعلنہ نورا" الایۃ۔ اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے نور کیا۔(ت)
یعنی اسلام خاص زمان بعثت کہ کتاب ورسول پر ایمان وعقائدسمعیہ کے اذعان پر مشتمل ہو۔یہ بے شك بعدبعثت حاصل ہوا۔ اس کا حدوث قدم اسلام توحیدی کا منافی نہیں
کما لا یخفی علی من کا ن لہ قلب اوالقی السمع وھو شہید۔ جیسا کہ یہ پوشیدہ نہیں اس شخص پر جو دل رکھتاہویا کان لگائے اورمتوجہ ہو۔(ت)
تفسیر کبیر میں زیر ایہ کریمہ منجملہ وجوہ تاویل مذکور:
الرابع الایمان عبارۃ عن الاقراربجمیع ماکلف الله تعالی بہ وانہ قبل النبوۃ ماکان عارفابجمیع تکالیف الله تعالیبل انہ کان عارفا م بالله تعالی وذلك لاینافی ماذکرناہ۔الخامس صفات الله تعالی علی قسمین منھا مایمکن معرفتہ بمحض دلائل العقل ومنھا مالایمکن معرفتہ الا بالدلائل السمعیۃ فھذا القسم الثانی لم تکم معرفتہ حاصلۃ قبل النبوۃ۔ وجہ چہارمایمان ان تمام چیزوں کے مان لینے کا نام ہے جن کا الله تعالی نے بندوں کو مکلف بنایااورحضور قبل نبوت الله تعالی کے عائدکردہ تمام احکام وتکالیف سے واقف نہ تھے بلکہ وہ خدا وند تعالی کے عارف تھےا وریہ اس کے منافی نہیں جو ہم نے ذکر کیا(کہ قبل وحی بھی انبیاء کا کفر سے منزہ ہونا اجماعی ہے)وجہ پنجمصفات الہی کی دو قسمیں ہیں:(۱)وہ جن کی معرفت عقلی دلیلوں سے ہوسکتی ہے(۲)وہ جن کی معرفت سمعی دلیلوں کے بغیر ممکن نہیں۔تواسی قسم دوم کی معرفت قبل نبوت نہ تھی۔(ت)
#621 · تنزیہ المكانۃ الحیدریہ
تفسیر ارشادالعقل السلیم میں ہے:
ای الایمان بتفاصیل مافی تضاعیف الکتاب من الامور التی لاتھتدی الیھا العقوللاالایمان بما یستقبل بہ العقل والنظرفان درایتہ علیہ الصلوۃ و السلام لہ ممالاریب فیہ قطعا۔ اس ایت میں ایمان سے مراد ان امور کی تفصیلات پر ایمان ہے جو کتاب کے وسیع صفحات میں مندرج ہیں جن تك از خود عقلوں کی رسائی نہیںان امور سے متعلق ایمان کی نفی مراد نہیں جن کو عقل وفکر خود جان لیتی ہے اورکتاب وغیرہ کی محتاج نہیں ہوتیقبل نبوت بھی اس سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اشناہونے میں قطعا کوئی شك وشبہ نہیں۔(ت)
اسی کے قریب قاضی عیاض رحمہ الله تعالی نے شفاشریف میں نقل کر کے فرمایا:وھو احسن وجوھہ ۔
(وجوہ تاویل میں یہ سب سے عمدہ ہے۔ت)والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
________________
رسالہ
تنزیہ المکانۃ الحیدریہ عن وصمۃ عہد الجاھلیہ
ختم ہوا
#622 · رسالہ غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق ۱۳۳۱ھ (تحقیق کی انتہاء حضرت علی مرتضٰی اورحضرت صدیق اکبر رضی الله عنہما کی امامت کے بارےمیں)
رسالہ
غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق ۱۳۳۱ھ
(تحقیق کی انتہاء حضرت علی مرتضی اورحضرت صدیق اکبر رضی الله عنہما کی امامت کے بارےمیں)

بسم الله الرحمن الرحیم ط
الله رب محمد صلی علیہ وسلما
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
مسئلہ۲۲:اول:رسول مقبول صلی الله تعالی علیہ والہ وعترتہ وسلم نے وقت رحلت یا کسی اوروقت اپنے بعد اپنا جانشین کس کو مقرر کیا
الجواب:
جانشینی ونیابت دو۲ قسم ہے:
اول ۱:جزئی مقید کہ امام کسی خاص کام یا خاص مقام پر عارضی طور پرکسی خاص وقت کے لئے دوسرے کو اپنانائب کرےجیسے بادشاہ کالڑائی میں کسی کو سردار بنا کر بھیجنا یا کسی کوضلع کی حکومت دینا یا تحصیل خراج پر مامورکرنایا کہیں جاتے ہوئے انتظام شہر سپردکرجانااس قسم کا استخلاف صریح حضورپرنورسید یوم النشورصلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وعترتہ وازواجہ وصحابتہ اجمعین و بارك
#623 · غایۃ التحقیق
وسلم سے بازرہا واقع ہواجیسے بعض غزوات میں امیر المومنین صدیق اکبربعض میں حضرات اسامہ بن زید۔غزوہ ذات السلاسل میں حضرت عمروبن العاص رضی الله تعالی عنہم کو سپہ سالاربنا کر بھیجا۔تحصیل زکوۃ پر امیر المومنین فاروق اعظم وحضرت خالد بن ولید وغیرہما رضی الله تعالی عنہم کو مقرر فرمایا۔یہ بھی یقینا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نیابت تھی کہ اخذصدقات اصل کام حضور والا صلوات الله تعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ کا ہے۔قال تعالی:
" خذ من امولہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بہا وصل علیہم ان صلوتک سکن لہم " اے محبوب ان کے مال میں سے زکوۃ تحصیل کروجس سے تم انہیں ستھرا اورپاکیزہ کردواوران کےحق میں دعائے خیر کرو بے شك تمہاری دعاان کے دلوں کا چین ہے۔(ت)
تعلیم قران ودین کے لئے قرائے کرام شہدئے عظام کو مقرر فرمایا۔حضرت عتاب بن اسید کو مکہ معظمہحضرت معاذ بن جبل کو ولایت جندحضرت ابو موسی اشعری کو زبید و عدنحضرت ابوسفیان والد امیرمعاویہ یا حجرت عمرو بن حزم کو شہر نجران حضرت زیاد بن لبید کو حضرموتحضرت خالد سعید اموی کو صنعاحضرت عمرو بن العاص کو عمان کاناظم صوبہ کیا۔باذان بن سباسان کیانی مغل کو صوبہ داری یمن پر مقرر رکھا۔امیر المومنین مولی علی کرمالله تعالی وجہہ کو ملك یمن کا عہد ہ قضا بخشا۔۸ ھ میں حضرت عتاب۹ ھ میں حضرت ابو بکرصدیق اکبر کو امیر الحاج بنایا۔بعض وقائع میں امیر المومنین فاروق اعظمبعض میں حضرت معقل بن یساربعض میں حضرت عقبہ کو حکم قضا دیا۔غزوہ تبوك کو تشریف لے جاتے وقت امیر المومنین علی مرتضی کو اہلبیت کراماورغزوہ بدر میں حضرت ابولبابہاورتیرہ غزوات واسفار کو نہضت فرماتے حضرت عمرو ابن ام مکتوم کو مدینہ طیبہ کا امیر ووالی فرمایا۔ازانجملہ غزوہ ابواء کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا پہلا غزوہ تھا وغزوہ بواط وغزوہ ذی العبرہ وغزوہ طلب کر زبن جابر وغزوہ سویق وغزوہ غطفان وغزوہ احد وغزوہ حمرا ء الاسد وغزوہ نجران وغزوہ ذات الرقاع وسفرحجۃ الوداع کہ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا پچھلا سفر تھا رضی الله تعالی علیہم اجمعین۔
لخصنا کل ذلك من صحیح البخاری یہ سب ہم نے تلخیص کی صحیح بخاری اوراس کی
#624 · غایۃ التحقیق
وشروحہ ولمواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ و شرحہا للزرقانی والاصابۃ فی تمییز الصحابۃ للامام الحافظ العسقلانی رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین۔ شرحوںمواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ اوراسکی شرح زرقانی اورحافظ ابن حجر عسقلانی کی تصنیف الاصابہ فی تمییزالصحابہ سے۔الله تعالی ان سب پر رحمت نازل فرمائے۔(ت)
دوم کلی مطلق کہ حیات مستحلف سے جمع نہیں ہوسکتی یعنی امام کا اپنے بعد کسی کیلئے امامت کبری کی وصیت فرمانا اس کا نص صریح علی الاعلان بتصریح نام حضور اعلی صلی الله تعالی علیہ وسلم نےکسی کے واسطے نہ فرمایاورنہ صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم ضرورپیش کرتے اورقریش وانصار میں دربارہ خلافت مباحثے مشاورے نہ ہوتےامیر المومنین امام الاشجعین اسد الله الغالب علی مرتضی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے باسانید صحیحہ قویہ ثابت کہ جب ان سے عرض کی گئی استخلف علینا ہم پر کسی کو خلیفہ کردیجئے۔فرمایا:لاولکن اترککم کما ترککم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم میں کسی کو خلیفہ نہ کروں گا بلکہ یونہی چھوڑوں گا جیسے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم چھوڑگئے تھے اخرجہ الامام احمد بسند حسن والبزار بسندی قوی والدارقطنی وغیرھم(اس کو امام احمد نے بسند حسن اوربزارنے بسند قوی اوردارقطنی وغیرہم نے رویت کیا۔ ت) بزار کی روایت میں بسندصحیح ہے حضرت مولی علی کرم الله تعالی وجہہ نے فرمایا:
مااستخلف رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فاستخلف علیکم ۔ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نہ کیا کہ میں کروں۔
دارقطنی کی روایت میں ہےارشادفرمایا:
دخلنا علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقلنا یارسول الله ہم نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی:یارسول الله
#625 · غایۃ التحقیق
استخلف علینا قال لاان یعلم الله فیکم خیرا یول علیکم خیرکم قال علی رضی الله تعالی عنہ فعلم الله فینا خیرا فولی علینا ابابکر(رضی الله تعالی علیہم اجمعین ) ہم پر کسی کو خلیفہ فرمادیجئے۔ارشاد ہوا:نہاگر الله تعالی تم میں بھلائی جانے گا تو جوتم سب میں بہتر ہے اسے تم پر والی فرما دے گا۔حضرت مولی علی کرم الله وجہہ نے فرمایا:رب العزۃ جل وعلانے ہم میں بھلائی جانی پس ابوبکر کوہمارا والی فرمایا رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
امام اسحق بن راہو یہ ودارقطنی وابن عساکر وغیرہم بطرق عدیدہ واسانید کثیرہ راویدوشخصوں نےامیر المومنین مولی علی کرم لله وجہہ الکریم سے ان کے زمانہ خلافت میں دربارہ خلافت استفسارکیا اعھدعھدہ الیك النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ام رائ رایتہ۔کیا یہ کوئی عھد وقرارداد حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا آپ کی رائے ہے بلکہ ہماری رائے ہے اما ان یکون عندی عھد من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عھدہ الی فی ذلك فلاوالله لئن کنت اول من صدق بہ فلاکون اول من کذب علیہ رہا یہ کہ اسباب میں میرے لئے حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کوئی عہدہ قرارداد فرمادیا ہو سو خدا کی قسم ایسا نہیں اگر سب سے پہلے میں نے حضور کی تصدیق کی تو میں سب سے پہلے حضور پر افتراء کرنے والا نہ ہوں گا ولو کان عندی منہ عھد فی ذلك ماترکت اخابنی تیم بن مرۃ وعمر بن الخطاب یثوبان علی منبرہ ولقاتلتھما بیدی ولولم اجد الابردتی ھذہ اوراگر اسباب میں حضور والا صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے میرے پا س کوئی عہد ہوتا تو میں ابوبکر وعمر کو منبر اطہر حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم پر جست نہ کرنے دیتا اوربیشك اپنے ہاتھ سے ان سے قتال کرتا اگرچہ اپنی اس چادر کے سواکوئی ساتھی نہ پاتا ولکن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یقتل قتلا ولم یمت فجأہ مکث فی مرضہ ایاما ولیا لی یاتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیا مرا بابکر فیصلی بالناس
#626 · غایۃ التحقیق
وھو یری مکانی ثم یاتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیامر ابابکر فیصلی بالناس وھو یری مکانی بات یہ ہوئی کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم معاذالله کچھ قتل نہ ہوئے نہ یکایك انتقال فرمایا بلکہ کئی دن رات حضور کو مرض میں گزرےمؤذن اتا نماز کی اطلاع دیتاحضور ابوبکر کو امامت کا حکم فرماتے حالانکہ میں حضور کے پیش نظر موجودتھاپھر مؤذن آتا اطلاع دیتا حضور ابوبکر ہی کو امامت دیتے حالانکہ میں کہیں غائب نہ تھا ولقد ارادت امرأۃ من نسائہ ان تصرفہ عن ابی بکر فابی وغضب وقال "انتن صواحب یوسف مرواابابکر فلیصل بالناس اورخدا کی قسم ازواج مطہرات میں سے ایك بی بی نے اس معاملہ کو ابوبکر سے پھیرنا چاہاتھاحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے نہ مانا اورغضب کیا اورفرمایا تم وہی یوسف(علیہ السلام) والیاں ہو ابوبکر کو حکم دو کہ امامت کرے فلما قبض رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نظر نا فی امورنا فاخترنا لدنیا نامن رضیہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لدیننا فکانت الصلوۃ عظیم الاسلام وقوام الدینفبایعنا ابابکر رضی الله تعالی عنہ فکان لذلك اھلالم یختلف علیہ منا اثنان پس جبکہ حضورپرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ہم نے اپنے کاموں میں نظر کی تو اپنی دنیایعنی خلافت کے لئے اسے پسندکرلیا جسے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلمنے ہمارے دین یعنی نماز کے لئے پسند فرمایا تھاکہ نماز تو اسلام کی بزرگی اوردین کی درستی تھی لہذا ہم نے ابوبکر رضی الله تعالی عنہ سے بیعت کی اوروہ اس کے لائق تھےہم میں کسی نے اس بارہ میں خلاف نہ کیا۔یہ سب کچھ ارشاد کر کے حضرت مولی علی کرم الله وجہہ الاسنی نے فرمایا: فادیت الی ابی بکر حقہ وعرفت لہ طاعتہ وغزوت معہ فی جنودہ وکنت اخذ اذا اعطانی واغزو اذا غزانی واضرب بین یدیہ الحدودبسوطی ۔پس میں نے ابوبکر کو ان کا حق دیا اوران کی اطاعت لازم جانی اوران کے ساتھ ہوکر ان کے لشکروں میں جہاد کیا جب وہ مجھے بیت المال سے کچھ دیتے میں لے لیتا اور جب مجھے لڑائی پر بھیجتے میں جاتا اورانکے سامنے اپنے تازیانہ سے حد لگاتا_______پھر بعینہ یہی مضمون امیر المومنین فاروق اعظم وامیر المومنین عثمان غنی کی نسبت ارشاد فرمایارضی الله تعالی عنہم اجمعین۔ہاں البتہ اشارات جلیلہ واضحہ بارہا فرمائےمثلا:
#627 · غایۃ التحقیق
(۱)ایك بار ارشادہوا میں نے خواب دیکھا کہ میں ایك کنویں پر ہوں اس پر ایك ڈول ہے میں اس سے پانی بھرتارہا جب تك الله نے چاہا پھر ابو بکر نے ڈول لیا دورایك بار کھینچا پھر وہ ڈول ایك پل ہوگیا جسے چرسہ کہتے ہیں اسے عمر نے لیا تو میں نے کسی سردار زبردست کو اس کام میں انکے مثل نہ دیکھا یہاں تك کہ تمام لوگوں کو سیراب کردیا کہ پانی پی پی کر اپنی فرودگاہ کو واپس ہوئے۔ رواہ الشیخان ۔عن ابی ھریرۃ وعن ابن عمر رضی الله تعالی عنہم(اس کو شیخین نے ابو ہریرہ اورابن عمر رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
(۲)امیر المومنین مولی علی کرم الله تعالی وجہہ فرماتے ہیں میں نے بارہا بکثرت حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہوا میں اورابوبکروعمرکیا میں نے اورابوبکر وعمر نےچلا میں اورابوبکر۔رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما (اس کو شیخین نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳)ایك بار حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اج کی رات ایك مرد صالح(یعنی خود حضور پر نور صلی الله تعالی علیہ وسلم)نے خواب دیکھا کہ ابوبکر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے متعلق ہیں اور عمر ابوبکر سے اورعثمان عمر سے جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں جب ہم خدمت اقدس حضور والا صلی الله تعالی علیہ وسلم سے اٹھے اپ میں تذکرہ کیا کہ مرد صالح تو حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں اوربعض کا بعض سے تعلق وہ اس امر کا والی ہونا جس کے ساتھ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیںرواہ عنہ ابوداودوالحاکم (اس کو جابر رضی الله تعالی عنہ سے ابوداوداورحاکم نے روایت کیا۔ت)
#628 · غایۃ التحقیق
(۴)انس رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی المصطلق نے خدمت حضور سید المرسلمین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں بھیجاگیا حضور سے دریافت کروں حضور کے بعد ہم اپنے اموال زکوۃ کس کے پاس بھیجیںفرمایا ابو بکر کے پاس۔عرض کی اگر انہیں کوئی حادثہ پیش اجائے تو کسے دیںفرمایاعمر کو۔عرض کی جب ان کا بھی واقعہ ہو۔فرمایا عثمان کو۔رواہ عنہ فی المستدرك وقال ھذا حدیث صحیح الاسناد (اس کو انس رضی الله عنہ سے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ت)
(۵)ایك بی بی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اورکچھ سوال کیاحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ پھر حاضر ہو۔انہوں نے عرض کی اؤں اورحضور کو نہ پاؤں۔فرمایا مجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس انا۔۔۔۔۔رواہ الشیخان عن جبیر بن مطعم رضی الله تعالی عنہ(اس کو شیخین نے جبیربن مطعم رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۶)یونہی ایك مرد سے ارشادفرمایا مروی کہ میں نہ ہوں تو ابوبکر کے پاس انا۔عرض کی جب انہیں نہ پاؤں۔فرمایا تو عمر کے پاس۔ عرض کی جب وہ بھی نہ ملیں۔فرمایا تو عثمان کے پاس۔اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حیثمۃ رضی الله تعالی عنہ(ابو نعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حیثمہ رضی الله تعالی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
(۷)ایك شخص سے کچھ اونٹ قرضوں خریدے یہ واپس جاتاتھا کہ مولی علی کرم الله وجہہ ملے حال پوچھا۔اس نے بیان کیا۔ فرمایا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں پھر حاضرہو اورعرض کی اگر حضو کوکوئی حادثہ پیش اجائے تو میری قیمت کون اداکرے گا۔فرمایا ابوبکر۔پھر دریافت کرایااورجو ابوبکر کو کچھ حادثہ پیش ائے تو کون دے گا۔فرمایا عمر۔پھر دریافت کرایاانہیں بھی کچھ حادثہ درپیش ہو۔فرمایا ویحك اذا مات عمر فان استطعت ان تموت فمت
#629 · غایۃ التحقیق
ہائے نادان جب عمر مرجائے تو اگرمرسکے تو مرجانا۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی الله تعالی عنہ و ھسنہ الامام جلال الدین سیوطی(طبرنای نے کبیر میں اس کو عصمہ بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اس کو حسن قراردیا۔ت)
(۸)انہیں اشارات جلیلہ سے ہے حضورپرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ایام مرض وفات اقدس میں صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کو اپنی جگہ امامت مسلمین پر قائم کرنا اوردوسرے کی امامت پر راضی نہ ہونا غضب فرمانا جس سے امیر المومنین مولی علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم نے استناد فرمایاکہ رضیہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لدیننا افلا نرضاہ لدنیا نا
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں چن لیا ہمارے دین کی پیشوائی کوکیاانہیں ہم پسند نہ کریں اپنی دنیا کی امامت کو۔ت)
(۹)اورنہایت روشن صریح کے قریب نص وتصریح وہ ارشاد اقدس ہے کہ امام احمد وترمذی نے بافادہ تحسین اورابن ماجہ وابن حبان وحاکم نے بافادہ تصحیح اورابوالمحاسن رویانی نے حضرت حذیفہ بن الیمان رضی الله تعالی عنہما اورترمذی وحاکم نے حضرت عبدالله بن مسعودرضی الله تعالی عنہ اورطبرانی نے حضرت ابو درداء رضی الله تعالی عنہ اورابن عدی نے کامل میں اورحضرت انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضورپرنورسید یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ واصحابہ وبارك وسلم نے فرمایا:انی لاادعری مابقائی فیکم فاقتدوابالذین من بعدی ابی بکر ۔
#630 · غایۃ التحقیق
وفی لفظ اقتداوابالذین من بعدی من اصحابی ابی بکر وعمر میں نہیں جانتا میرا رہنا تم میں کب تك ہو لہذا تمہیں حکم فرماتاہوں کہ میرے ان دوصحابیوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے ابو بکر وعمر رضی الله تعالی عنہما۔
(۱۰)ایك بار آخر حیات اقدس میں نص صریح بھی فرمادینا چاہاتھا پھر خدا اور مسلمانوں پر چھوڑ کر حاجت نہ سمجھیامام احمد وامام بخاری وامام مسلم ام المومنین صدیقہ محبوبہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وعلیہا وسلم سے راوی کہ وہ ارشاد فرماتی ہیں: قال لی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ ادعی لی اباك و اخاك حتی اکتب کتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن ویقول قال انا اولی ویابی الله والمو منون الا ابا بکر ۔
حضرت اقدس سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم جس مرض میں انتقال فرمانے کو ہیں اس میں مجھ سے فرمایا اپنے باپ اور بھائی کو بلالے کہ میں ایك نوشتہ تحریر فرمادوں کہ مجھے خوف ہے کوئی تمنا کر نیوالا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہہ اٹھے کہ میں زیادہ مستحق ہوں او رالله نہ مانے گا اور مسلمان نہ مانیں گے مگر ابوبکر کو۔امام احمد کے ایك لفظ یہ ہیں کہ فرمایا ادعی لی عبدالرحمن بن ابی بکر اکتب ابی بکر کتابا لا یختلف علیہ احد ثم قال دعیہ معاذ الله ان یختلف المومنون فی ابی بکر عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلا لوکہ میں ابوبکر کے لئے نوشتہ لکھ دو ں کہ ان پر کوئی اختلاف
#631 · غایۃ التحقیق
نہ کرے۔پھر فرمایا:رہنے دو خدا کی پناہ کہ مسلمان اختلاف کریں ابوبکر کے بارے میں۔صلی الله تعالی علی الحبیب والہ وصحبہ وبارك وسلم۔والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ احکم۔
مسئلہ دوم:خلفائے ثلثہ رضوان الله تعالی علیھم سے آیا حضرت علی علیہ السلام افضل تھے یا کم
الجواب :
اہل سنت وجماعت نصر ہم الله تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکہ ورسل وانبیائے بشر صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیھم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان تعالی علیہم تمام مخلوق الہی سے افضل ہیں۔تمام امم عالم اولین وآخرین کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت ووجاہت وقبول وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا۔
" ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء و اللہ ذوالفضل العظیم ﴿۲۹﴾" فضل الله تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائےاور الله بڑا فضل والا ہے(ت)
پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبرپھر فاروق اعظم پھر عثمان غنیپھر مولی علی علیہ سید ہم ومولو ہم وآلہ وعلیہم وبارك وسلماس مذہب مہذب پر آیات قرآن عظیم واحادیث کثیرہ حضور نر نبی کریم علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیہ واضحہ امیر المؤمنین مولی علی مرتضی ودیگر ائمئہ اہلبیت طہارت وار تضاواجماع صحابہ کرام وتابعین عظام و تصریحات اولیائے امت وعلمائے امت رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے وہ دلائل باہر ہ وحجج قاہر ہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہو سکتا۔فقیر غفر الله تعالی لہ نے اس مسئلہ میں ایك کتاب عظیم بسیط وضخیم دو مجلد پر منقسم نام تاریخی مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۱۲۹۷ھ سے متسم تصنیف کی اور خاص تفسیر آیہ کریمہ "ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم "اور اس سے افضیلت مطلقہ صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کی اثبات واحقاق اور اوہام خلاف کے ابطال وازہاق میں ایك جلیل رسالہ مسمی بنام تاریخی الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی ۱۳۰۱ھ تالیف کیا اس مبحث کی تفصیل ان کتب پر موکولیہاں صرف چند ارشادات ائمہ اہلبیت کرام رضی الله تعالی عنہم پر
#632 · غایۃ التحقیق
پر اقتصار ہوتا ہےالله عزوجل کی بیشمار رحمت ورضوان وبرکت امیر المومنین اس حیدر حق گو حق دان حق پرورکرم الله تعالی وجہہ الاسنی پر کہ اس جناب نے مسئلہ تفضیل کو بغایت مفصل فرمایا اپنی کرسی خلافت وعرش زعامت پر بر سر منبر مسجد جامع ومشاہد ومجامع وجلوات عامہ وخلوات خاصہ میں بطریق عدیدہ تامدد مدیدہ سپیدوصاف ظاہر وواشگاف محکم ومفسر بے احتمال دگر حضرات شیخین کریمین وزیرین جلیلین رضی الله تعالی عنہما کا اپنی ذات پاك اور تمام امت مرحومہ سید لولاك صلی الله تعالی علیہ وسلم سے افضل وبہتر ہونا ایسے روشن وابین طور پر ارشاد کیا جس میں کسی طر ح شائبہ شك وترددنہ رہا مخالف مسئلہ کو منقری بتایا اسی کوڑے کا مستحق ٹھہراحضرت سے ان اقوال کریمہ کے راوی اسی سے زیادہ صحابہ و تابعین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین صواعق امام ابن حجر مکی میں ہے:
قال الذھبی وقد تواتر ذلك عنہ فی خلافتہ وکرسی مملکۃ وبین الجم الغفیرمن شیعتہ ثم بسط الاسانید الصحیحۃ فی ذلك قال ویقال رواہ عنہ نیف وثمانون نفساوعدد منہم جماعۃ ثم قال فقبح الله الرافضۃ مااجھلھم انتہی ذہبی نے کہا امیر المومنین حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ سے ان کے زمانہ خلافت میں جبکہ آپ کرسی اقتدار پر جلوہ گر تھے تواتر سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کے جم غفیر میں افضلیت شیخین کو بیان فرمایا۔کہا جاتا ہے کہ اسی سے زائد افراد نے اس بارے میں آپ سے روایت کی ہے۔ ذہبی نے ان میںسے کچھ کے نام گنوائے ہیں۔پھر فرمایا کہ الله تعالی رافضیوں کا براکرے وہ کس قدر جاہل ہیں انتہی(ت)
یہاں تك کہ بعض منصفان شیعہ مثل عبدالرزاق محدث صاحب مصنف نے باوصف تشیع تفضیل شیخین اختیار کی اور کہا جب خود حضرت مولی کرم الله تعالی وجہہ الاسنی انہیں اپنے نفس کریم پر تفضیل دیتے تو مجھے اس کے اعتقاد سے کب مفر ہے مجھے یہ کیا گناہ تھوڑا ہے کہ علی سےمحبت رکھوں اور علی کا خلاف کرو ں۔صواعق میں ہے:
مااحسن ماسلکہ بعض الشیعۃ المنصفین کعبد الرزاق فانہ قال افضل الشیخین کیا ہی اچھی راہ چلے ہیں بعض منصف شیعہ جیسے عبدالرزاق کہ اس نے کہا میں اس لئے شیخین کو حضرت علی رضی الله تعالی عنہ پر فضیلت
#633 · غایۃ التحقیق
بتفضیل علی ایا ھما علی نفسہ والا لما فضلتھما کفی بی وزراان احبہ ثم اخالفہ ۔ دیتا ہو ں کہ حضرت علی نے انہیں فضیلت دی ہے ورنہ میں انہیں آپ پر فضیلت نہ دیتا میرے لئے یہ گناہ کافی ہے کہ میں آپ سے محبت کروں پھر آپ کی مخالفت کروں(ت)
اب چند احادیث مرتضوی سنیے:
حدیث اول۱:صحیح بخاری شریف میں سیدنا وابن سیدنا امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولی علی کرم الله تعالی وجوہما سے مروی:
قلت لابی ای النا س خیر بعد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال عمر ۔ میں نے اپنے والد ماجد کرم الله تعالی وجہہ سے عرض کی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بعد سب آدمیون میں بہتر کون ہے فرمایا ابوبکر میں نے عرض کی پھر کون فرمایا عمر رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
حدیث دوم۲:امام بخار اپنی صحیح اور ابن ماجہ سنن میں بطریق عبدالله بن سلمہ امیر المنین کرم الله تعالی وجہہ سے روای کہ فرماتے تھے۔
خیر الناس بعد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ابوبکر وخیر الناس بعد ابوبکر عمر رضی الله تعالی عنہماھذا حدیث ابن ماجۃ۔ بہترین مرد بعد سید عالم صلی الله علیہ وسلم ابوبکر ہیں اور بہترین مرد بعد ابوبکر عمر رضی الله تعالی عنہما۔یہ حدیث ابن ماجہ کی ہے۔(ت)
حدیث سوم۳:امام ابو القاسم اسمعیل بن محمد بن الفضل الطلحی کتاب السنۃ میں راوی:
اخبرنا ابوبکر بن مردویہ ثنا سلیمن بن احمد ثنا الحسن (ہم کو خبر دی ابوبکر بن مردویہ نےہم کو حدیث بیان
#634 · غایۃ التحقیق
بن المنصور الرمانی ثنا داؤد بن معا ذ ثنا ابو سلمۃ العتکی عبدالله بن عبدالرحمن عن سعید بن ابی عروبۃ عن منصور بن المعتمر عن ابراھیم عن علقمۃ قال بلغ علیا ان اقواما یفضلونہ علی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمد الله واثنی علیہ ثم قال یا ایھا الناس انہ بلغنی ان قسوما یفضلونی علی ابی بکر وعمر ولوکنت نقد مت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذالیوم یقول ھذا فہو مفتر علیہ حد المفتری ثم قال ان خیر ھذا الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر ثم الله اعلم بالخیر بعدقال وفی المجلس الحسن بن علی فقال والله لوسمی الثالث لسمی عثمان ۔ کی سلیمان بن احمد نےہم کو حدیث بیان کی حسن بن منصور رمانی نےکو کو حدیث بیان کی داؤد معا ذ بنہم کو ابو سلمہ عتکی عبدالله بن عبد الرحمن نےانہوں نے سعید بن ابو عروبہ سےانہوں نے منصور بن معتمر سےانہوں نے ابراہیم سے اور انہون نے حضرت علقمہ سے روایت کی) حضرت علقمہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں امیر المومنین کرم الله تعالی وجہہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انہیں حضرات صدیق وفاروق رضی الله تعالی عنہما سے افضل بتاتے ہیںیہ سن کر منبر پر جلوہ فرماہوئے حمد وثناءے الہی بجالائےپھر فرمایا:اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر وعمر سے افضل کہتے ہیں اس بارہ میں اگر مین نے پہلے سے حکم سنا دیا ہو تا تو بے شك سزا دیتا آج سے جسے ایسا کہتے سنوں گا وہ مفتری ہے اس پر مفتری کی حد یعنی اسی کو ڑے لازم ہیں۔پھر فرمایا:بے شك نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد افضل امت ابو بکر ہیں پھر عمرپھر خدا خوب جانتا ہے کہ ان کے بعد کون سب سے بہتر ہے۔علقمہ فرماتے ہیں مجلس میں سیدنا امام حسن مجتبی رضی الله تعالی عنہ بھی تشریف فرماتھے انہوں نے فرمایا خدا کی قسم اگر تیسرے کانام لیتے تو عثمان کانام لیتے رضی الله تعالی عنہم اجمعین(ت)
حدیث چہارم۴:امام دار قطنی سنن میں اور ابو عمر بن عبد البر استیعاب میں حکم بن حجل سے
#635 · غایۃ التحقیق
راوی حضرت مولی کرم الله تعالی وجہہ فرماتے ہیں:
لااجد احد افضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلدتہ حد المفتری ۔ میں جسے پاؤں گا کہ مجھے ابوبکر وعمر سے افضل کہتا ہے اسے مفتری کی حد لگاؤں گا۔
امام ذہبی فرماتے ہیں:یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پنجم۵:سنن دار قطنی میں حضرت ابوجحیفہ رضی الله تعالی عنہ سے کہ حضور سید عالم صلی الله علیہ وسلم کے صحابی اور امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ مقرب بارگاہ تھے جناب امیر انہیں وہب الخیر فرمایا کرتے تھےمروی:
انہ کان یری ان علیا افضل الامۃ فسمع اقواما یخالفونہ فحزن حزنا شدید افقال لہ علی بعد ان اخذ بیدہ وادخلہ بیتہ ما احزنك یا ابا جحیفۃ فذکرلہ الخیر فقال الا اخبرك بخیر ھذہ الامۃ خیرھا ابوبکر ثم عمر قال ابو جحیفۃ فاعطیت الله عھدا ان لا اکتم ھذا الحدیث بعد ان شافھنی بہ علی مایقیت ۔ یعنی ان کے خیال میں مولی علی کرم الله تعالی وجہہ تمام امت سے افضل تھے انہوں نے کچھ لوگوں کو اس کے خلاف کہتے سنا سخت رنج ہوا حضرت مولی ان کا ہاتھ پکڑ کر کا شانہ ولایت میں لے گئے غم کی وجہ پوچھیگزارش کیفرمایا:کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ امت میں سب سے بہتر کون ہے ابوبکر ہیں پھر عمر۔حضرت ابوجحیفہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے الله عزوجل سے عہد کیا کہ جب تك جیوں گا اس حدیث کو نہ چھپاؤں گا بعد اس کے کہ خود حضرت مولی نے بالمشافہ مجھے ایسا فرمایا۔
حدیث ششم۶:امام احمد مسند ذی الیدین رضی الله تعالی عنہ میں ابن ابی حازم سے راوی:
قال جاء رجل الی علی بن الحسین رضی الله تعالی عنہما فقال ماکان منزلۃ ابی بکر وعمر یعنی ایك شخص نے حضر ت امام زین العابدین رضی الله تعالی عنہ کی خدمت انور میں حاضر ہوکر عرض کی حضور سیدعالم صلی الله علیہ وسلم
#636 · غایۃ التحقیق
من النبی صلی الله علیہ وسلم فقال منزلتھما الساعۃ وھما ضجیعاہ کی بارگاہ میں ابو بکر وعمر کا مرتبہ کیا تھا فرمایا جو مرتبہ ان کا اب ہے کہ حضور کے پہلو میں آرام کررہے ہیں۔
حدیث ہفتم۷:دار قطنی حضرت امام باقر رضی الله تعالی عنہ سے راوی کہ ارشاد فرماتے ہیں:
اجمع بنو فاطمۃ رضی الله تعالی عنہم علی ان یقولوا فی الشیخین احسن مایکون من القول ۔ یعنی اولاد امجاد حضرت بتول زہرا صلی الله علیہ وسلم ابیہا الکریم وعلیہا وعلیہم وبارك وسلم کااجماع واتفاق ہے کہ ابو بکر وعمر رضی الله تعالی عنہما کے حق میں وہ بات کہیں جو سب سے بہتر ہو(ظاہر ہے کہ سب سے بہتر بات اسی کے حق میں کہی جائے گی جو سب سے بہتر ہو)
حدیث ہشتم۸:اما م ابن عساکر وغیرہ وسالم بن ابی الجعد سے راوی:
قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابو بکر اول القوم اسلاما قال لاقلت فبم علا ابو بکر وسبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لا نہ کان افضلہم اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ ۔ یعنی میں نے امام محمد بن حنفیہ سے عرض کی:کیا ابوبکر سب سے پہلے اسلام لائےتھے فرمایا:نہ۔میں نے کہا:پھر کیا بات ہے کہ ابو بکر سب سے بالا رہے ا ور پیشی لے گئے یہاں تك کہ لوگ ان کے سوا کسی کا ذکر ہی نہیں کرتے۔فرمایا:یہ اس لئے کہ وہ اسلام میں سب سے افضل تھے جب سے اسلام لائے یہاں تك کہ اپنے رب عزوجل سے ملے۔
حدیث نہم۹:امام ابو الحسن دار قطنی جندب اسد ی سے راوی کہ اما م محمد بن عبدالله محض ابن حسن مثنی بن حسن مجتبی بن علی مرتضی کرم الله تعالی وجوہہم کے پاس کچھ اہل کوفہ وجزیرہ نے حاضر ہوکر
#637 · غایۃ التحقیق
ابو بکر وعمر رضی الله تعالی عنہما کے بارے مں سوال کیا امام ممدوح نے میری طرف ملتفت ہوکر فرمایا:
انظر واالی اھل بلادك یسالونی عن ابی بکر و عمر لھما عندی افضل من علی ۔ اپنے شہر والوں کو دیکھ مجھ سے ابو بکر وعمر کے بارے میں سوال کرتے ہیں وہ دونوں میرے نزدیك بلاشبہ مولا علی سے افضل ہیں رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
یہ امام اجل حضرت امام حسن مجتبی کے پوتے اور حضرت امام حسین شہید کربلا کے نواسے ہیں ان کا لقب مبارك نفس زکیہ ہےان کے والد حضرت عبدالله محض کہ سب میں پہلے حسنی حسینی دونوں شرف کے جامع ہوئے لہذا محض کہلوائےاپنے زمانے میں سرداربنی ہاشم تھےان کے والد ماجد امام حسن مثنی اور والدہ ماجدہ حضر ت فاطمہ صغری بنت امام حسین صلی الله علیہ تعالی علی ابیہم وعلیہم وبارك وسلم۔
حدیث دہم۱۰:امام حافظ عمر بن شبہ حضرت امام اجل سید زید شہید ابن امام علی سجاد زین العابدین ابن امام حسین شہید صلوات الله تعالی وتسلیما تہ علی جد ہم الکریم وعلیہم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کوفیوں سے فرمایا:
انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر وعمر ولم یستطیعوا ان یقولوا فیھما شیئا وانطلقتم انتم فظفر تم ای وثبتم فوق ذلك فبرئتم منہما فمن بقی فوالله مابقی احد الابرئتم منہ ۔ یعنی خارجیوں نے اٹھ کر ان سے تبری کی جوابوبکر و عمر سے کم تھے یعنی عثمان وعلی رضی الله تعالی عنہم مگر ابوبکر وعمر کی شان میں کچھ کہنے کی گنجائش نہ پائی اور تم نے اے کوفیو! اوپر جست کی کہ ابوبکر وعمر سے تبری کی تواب کو ن رہ گیا خدا کی قسم ! اب کوئی نہ رہا جس پر تم نے تبرا نہ کہا ہو۔
والعیاذ بالله رب العلمین الله اکبر(اور الله تعالی کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کاالله سب سے بڑا ہے۔(ت)امام زید شہید رضی الله تعالی عنہ کا یہ ارشاد مجید ہم غلامان خاندان زید کو بحمد الله کافی و وافی ہےسید سادات بلگرام حضرت مرجع الفریقینمجمع الطریقینحبرشریعتبحر طریقت
#638 · غایۃ التحقیق
بقیۃ السلفحجۃ الخلف سیدنا ومولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس الله تعالی سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ بارگاہ عالم پناہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں موقع قبول عظیم پر واقع ہوئی حضرت مستفتی دامت برکاتہم کے جد امجد جدا ور اس فقیر کے آقائے نعمت ومولائے اوحد حضرت اسد الواصلین محبوب العاشقین سیدنا ومولونا حضرت سید شاہ حمزہ حسینی زیدی مار ہروی قد س سرہ القوی کتاب مستطاب کاشف الاستار شریف کی ابتدا میں فرماتے ہیں:
باید دانست کہ درخاندان ماحضڑت سند المحققین سید عبدالوحد بلگرامی بسیار صاحب کمال بر خاستہ اند قطب فلك ہدایت ومرکز دائرہ ولایت بود در علم صوری ومعنوی فائق واز مشارب اہل تحقیق ذائق صاحب تصنیف وتالیف ست ونسب ایں فقیر بچہار واسطہ بذات مبارکش می پیوند جاننا چاہئےکہ ہمارے خاندان میں حضرت سند المحققین میر سید عبدالواحد بلگرامی بہت صاحب کمال شخصیت ہیں۔وہ فلك ہدایت کے قطبدائرہ ولایت کے مرکزظاہری وباطنی علم میں فوقیت رکھنے والےاصل تحقیق کے گھاٹوں کو چکھنے والے صاحب تصنیف وتالیف ہیں۔اس فقیر کا نسب چار واسطوں سے آپ تك پہنچتا ہے۔(ت)
پھر بعد چند اجزاءکے فرماتے ہیں:
شہر تصانیف اوکتاب سنابل ست در سلوك وعقائد حاجی الحرمین سید غلام علی آزاد سلمہ الله درماثر الکلام فی نویسد و قتے در شہر رمضان المبارك سنۃ خمس وثلثین ومائۃ و الف مولف اوراق در دار الخلافہ شاہجہاں آباد خدمت شاہ کلیم چشتی قدس سرہ راہ زیارت کرد ذکر میر عبدالواحد قدس سرہ درمیان آمد شیخ مناقب وماثر میر تادیر بیان کرد فرمود شبے در سلوك وعقائد میں آپ کی مشہور نصنیف کتاب سنابل ہے۔ حاجی حرمین سید غلام علی آزادالله انہیں سلامت رکھے ماثر الکلام میں لکھتے ہیں جس وقت ۱۱۳۵ھ میں رمضان المبارك میں مؤلف اوراق نے دار الخلافہ شاہجہاں آباد میں شاہ کلیم الله چشتی قدس سرہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر آپ کی زیارت کیمیر عبدالواحد کا ذکر درمیان کلام میں آگیا۔ حضرت شیخ نے کافی دیر تك میر صاحب کے فضائل ومناقب
بقیۃ السلفحجۃ الخلف سیدنا ومولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس الله تعالی سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ بارگاہ عالم پناہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں موقع قبول عظیم پر واقع ہوئی حضرت مستفتی دامت برکاتہم کے جد امجد جدا ور اس فقیر کے آقائے نعمت ومولائے اوحد حضرت اسد الواصلین محبوب العاشقین سیدنا ومولونا حضرت سید شاہ حمزہ حسینی زیدی مار ہروی قد س سرہ القوی کتاب مستطاب کاشف الاستار شریف کی ابتدا میں فرماتے ہیں:
باید دانست کہ درخاندان ماحضڑت سند المحققین سید عبدالوحد بلگرامی بسیار صاحب کمال بر خاستہ اند قطب فلك ہدایت ومرکز دائرہ ولایت بود در علم صوری ومعنوی فائق واز مشارب اہل تحقیق ذائق صاحب تصنیف وتالیف ست ونسب ایں فقیر بچہار واسطہ بذات مبارکش می پیوند جاننا چاہئےکہ ہمارے خاندان میں حضرت سند المحققین میر سید عبدالواحد بلگرامی بہت صاحب کمال شخصیت ہیں۔وہ فلك ہدایت کے قطبدائرہ ولایت کے مرکزظاہری وباطنی علم میں فوقیت رکھنے والےاصل تحقیق کے گھاٹوں کو چکھنے والے صاحب تصنیف وتالیف ہیں۔اس فقیر کا نسب چار واسطوں سے آپ تك پہنچتا ہے۔(ت)
پھر بعد چند اجزاءکے فرماتے ہیں:
شہر تصانیف اوکتاب سنابل ست در سلوك وعقائد حاجی الحرمین سید غلام علی آزاد سلمہ الله درماثر الکلام فی نویسد و قتے در شہر رمضان المبارك سنۃ خمس وثلثین ومائۃ و الف مولف اوراق در دار الخلافہ شاہجہاں آباد خدمت شاہ کلیم چشتی قدس سرہ راہ زیارت کرد ذکر میر عبدالواحد قدس سرہ درمیان آمد شیخ مناقب وماثر میر تادیر بیان کرد فرمود شبے در سلوك وعقائد میں آپ کی مشہور نصنیف کتاب سنابل ہے۔ حاجی حرمین سید غلام علی آزادالله انہیں سلامت رکھے ماثر الکلام میں لکھتے ہیں جس وقت ۱۱۳۵ھ میں رمضان المبارك میں مؤلف اوراق نے دار الخلافہ شاہجہاں آباد میں شاہ کلیم الله چشتی قدس سرہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر آپ کی زیارت کیمیر عبدالواحد کا ذکر درمیان کلام میں آگیا۔ حضرت شیخ نے کافی دیر تك میر صاحب کے فضائل ومناقب
#639 · غایۃ التحقیق
مدینہ منورہ پہلو بر ستر خواب گزا شتم در واقعہ می بینم کہ من وسید صبغۃ الله بروجی معا در مجلس اقدس رسالت پناہ صلی الله علیہ تعالی علیہ وسلم باریاب شدیم جمعے از صحابہ کرام واولیائے امت حاضر اند درینہا شخصے ست کہ حضرت باولت بہ تبسم شریں کردہ حرفہا میزند والتفات تمام دار ند چوں مجلس آخر شد از سید صبغۃ الله استفسار کر دم کہ ایں سید شخص کیست کہ حضرتبا اوالتفاف بایں مرتبہ دار ند گفت میر عبد الواحد بلگراموباعث مزید احترام اواینست کہ سنابل تصنیف او درجناب رسالت پناہ صلی الله علیہ وسلم مقبول افتادہ انتہی کلامہ انتہی مقالہ الشریف بلفظہ المنیف قدس الله تعالی سرہ اللطیف ۔ بیان کئے اور فرمایا کہ ایك رات میں مدینہ منورہ میں اپنے بستر پر لیٹا تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں اور سید صبغت الله بروجی اکٹھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مجلس اقدس میں حاضر ہیںصحابہ کرام اور اولیاء امت کی ایك جماعت بھی حاضر ہےآپ کی مجلس اقدس میں ایك شخص موجود ہے اور آپ اس کی طرف نظر کرم کرتے ہوئے مسکرارہے ہیں اور اس سے باتیں کررہے ہیں اور اس کی طرف بھر پور توجہ فرما رہے۔جب مجلس ختم ہوئی تو میں نے سید صبغت الله سے پوچھا یہ شخص کون ہے جس کی طرف حضور علیہ الصلوۃ و السلام اس قدر توجہ فرماتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ میر عبدالواحد بلگرامی ہیں اور ان کے اس قدر احترام کی وجہ یہ ہے کہ کتاب سنابل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہوئی ہے۔ان کا کلام ختم ہوا۔مقالہ شریف ان ہی کے بلند پایہ لفظوں میں ختم ہوا۔الله تعالی ان کے سر لطیف کو مقدس بنائے۔(ت)
حضرت میر قدس سرہ المنیر نے اس کتاب مقبول ومبارك میں مسئلہ تفضیل بکمال تفصیل وتاکید جمیل وتہدید جلیل ارشاد فرمایا لفظ مبارك سے چند حروف کی نقل سے شرف حاصل کروں اولیائے کرام محدثین وفقہاء جملہ اہل حق کےا جماعی عقائد میں بیان فرماتے ہیں:
وواجماع دارند کہ افضل از جملہ بشر بعد انبیاء اور اس پر اجماع ہے کہ انبیاء کے بعد تمام
#640 · غایۃ التحقیق
ابو بکر صدیق ست وبعد از وے عمر فاروق ست وبعد از وے عثمان ذی النورین ست وبعد ازوے علی مرتضے ست رضی الله لہ تعالی عنہم اجمعین ۔ انسانوں میں افضل ابوکبر صدیقان کے بعد عمر فاروقان کے بعد عثمان ذوالنوریناور ان کے بعد حضرت علی المرتضی ہیں۔الله تعالی ان سب پر اضی ہو۔(ت)
پھر فرمایا:
فضل ختنین از فضل شیخین کمتر ست بے نقصان وقصور ختنین(عثمان غنی وعلی مرتضی)کی فضیلت شیخین(صدیق و فاروق)سے کم ہے مگر اس میں کوئی نقص اور خامی نہیں (ت)
پھر فرمایا:
اجماع اصحاب وتابعین وتبع تابعین وسائر علمائے امت ہمبر ین عقیدہ واقع شدہ است صحابہ کرامتابعینتبع تابعین اور تمام علمائے امت کا اجماع اسی عقیدہ پر واقع ہوا ہے۔(ت)
پھر فرمایا:
مخدوم قاضی شہاب الدین در تییرا لحکام بنوشت کہ ہیچ ولی بدرجہ ہیچ پیغمبر ے نرسد زیرا کہ امیر المومنین ابوبکر بحکم حدیث بعد پیغمبر اں ازہمہ اولیا بر ترست واوبدرجہ ہیچ پیغمبر ے نر سید وبعد او امیر المؤمنین عمر بن خطاب ست وبعد اوامیر المومنین عثمان بن عفان ست وبعد اوامیر المومنین علی بن ابی طالب ست رضوان الله تعالی علیہم اجمعین مخدوم قاضی شہاب الدین نے تیسیر الحکام میں لکھا کوئی ولی کسی نبی کے درجہ تك نہیں پہنچ سکتا کیونکہ حدیث کی رو سے صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ انبیاء کے بعد تمام اولیاء سے افضل ہیں اور وہ کسی نبی کے مقام تك نہیں پہنچے۔ابوبکر صدیق کے بعد امیر المومنین عمر بن خطابان کے بعد امیر المومنین عثمان بن عفان اور ان کے بعد امیر المومنین علی بن ابی طالب کا مقام ہے الله تعالی ان سب پر راضی ہو۔
#641 · غایۃ التحقیق
کسیکہ امیر المومنین علی را خلیفہ ندانداو از خوارج ست وکسیکہ اور ابر ا میر المومنین ابو بکر وعمر تفضیل کند او از روافض ست جوشخص امیر المومنین علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ کو خلیفہ نہ مانے وہ خارجیوں سے ہے اور جو آپ کو ابوبکر وعمر رضی الله تعالی عنہما سے افضل جانے وہ رافضیوں میں سے ہے۔(ت)
پھر فرمایا:
ازینجا باید دانست کہ درجہاں نہ ہمچو مصطفی صلی الله علیہ وسلم پرے پیداشد ونہ ہمچو ابوبکر مریدے ہوید ا گشتاے عزیز ! اگرچہ کمالیت فضائل شخیین بر ختنین مفرط وفائق اعتقاد با ید کرد امانہ بر وجہی کہ درکمالیت فضائل ختنین قصورے و نقصانے بخاطر تو رسد بلکہ فضائل ایشاں وفضائل جملہ اصحاب از عقول بشر یہ افکار انسانیہ بسے بالا تر ست یہاں سے جاننا چاہے کہ مصطفی صلی الله علیہ وسلم جیسا پیراور ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ جیسا مرید کا ئنات میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔اے عزیز! اگر شیخین کی فضیلت کا ملہ ختنین پر بہت زیادہ سمجھنی چاہے مگر اس طور پر نہیں کہ تیرے دل میں ختنین کی فضیلت کا ملہ کے قاصر وناقص ہونے کا خیال گزرےبلکہ ان کے اور تمام صحابہ کے فضائل عقول بشریہ اور افکار انسانیہ سے بہت بلند ہیں۔
پھر فرمایا:
پس چوں اجماع صحابہ کہ انبیاء صفت اند بر تفضیل شیخین واقع شد و مرتضی نیز دریں اجماع متفق وشریك بود مفضلہ در اعتقاد خود غلط کردہ است اسے خان ومان مافدائے نام مرتضے باد کدام بدبخت ازل کہ محبت مرتضے در د لش نباشد وکدام راندہ درگاہ مولے کہ اہانت اور وا داردمفضلہ گمان جب انبیاء جیسی صفات کے حامل صحابہ کرام کا اجماع واقع ہو گیا کہ شیخین کریمین افضل ہیں۔اور حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ بھی اس اجماع میں شامل اور متفق تھے۔ تو فرقہ تفضیلہ نے خود اپنے اعتقاد میں غلطی کھائی ہے۔میرا گھر بار حضرت علی مرتضی رضی الله تعالی عنہ کے نام پر فدا اور میرا جان ودل آپ کے قدموں پر قربان ہوں کون ازلی بدبخت ہے جس کے دل میں محبت مرتضے
#642 · غایۃ التحقیق
بردہ است کہ نتیجہ محبت مامرتضے تفصیل اوست بر شیخین ونمیدانند کہ ثمر ہ محبت موافقت ست با اونہ مخالفت کہ چوں مرتضے موافقت ست با اونہ مخالفت کہ چوں مرتضے فضل شیخین وذی النورین را بر خود روا داشت واقتداء بایشاں کرد و حکہاے عہد خلافت ایشاں را امتثال فرمود شرط محبت بااوآں باشد کہ در راہ و روش باموافق باشد نہ مخالف نہیں ہے اورکون ہے بارگاہ خداوندی کادھتکارا ہوا جو توہین مرتضی کو روارکھتا ہے۔مفضلہ(فرقہ تفضیلیہ)نے گمان کیا ہے کہ محبت مرتضی کا تقاضا آپ کو شیخین پر فضیلت دینا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ آپ کی محبت کا ثمرہ آپ کے ساتھ موافقت ہے نہ کہ مخالفت۔جب حضرت مرتضی رضی الله تعالی عنہ نے شیخین اور ذوالنورین کو اپنے آپ سے افضل قرار دیاان کی اقتداء کی اور ان کے عہد خلافت کے احکام کو تسلیم کیا تو ان کی محبت کی شرط یہ ہے کہ ان کی راہ روش کے ساتھ موافقت کی جائے نہ کہ مخالفت۔(ت)
حضرت میر قدس سرہ ال منیر نے یہ بحث پانچ ورق سے زائد میں افادہ فرمائی ہے من طلب الزیادۃ فلیرجع الیہ(جو زیادہ تفصیل چاہتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرےت)یہ عقیدہ ہے اہل سنت وجماعت اور ہم غلامان دو دمان زید شہیدکا۔والله تعالی اعلم(اور الله تعالی خوب جانتا ہے۔ت)

رسالہ "غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق"ختم ہوا
#643 · الزلال النقی
رسالہ
الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی
(سب(متیوں)سے بڑے پر ہیز گار کی سبقت کے دریا سے صاف ستھرامیٹھا پانی

بسم الله الرحمن الرحیم ط
قال تعالی "وابتغوا الیہ الوسیلۃ" احمدرضا نقی علی رضا علی طیب ذکی بان یفضل الشیخین والضجیعین الجلیلین والامیرین الوزیرین فی درجات الله تعالی فرماتا ہے اور الله تعالی کی طرف وسیلہ دھونڈو۔ پاك بر تر نبی(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم)کی رضائے احمد(سب سے زیادہ سراہی ہوئی رضا مندی)پسندیدہ بر تر پاك ستھرے کے لئے ہے جو شیخین گرامی مرتبت مصطفی صلی الله تعالی
#644 · الزلال النقی
علیۃ علیہ فباح بہ وافصح وبینہ واوضحولوح بہ وصرح نادیا الیہ لسانہ و طیبا بہ جنانہ۔
اذ لم تکن بحمد الله من الکبر وحب الجاہ ذرۃ لدیہ اصفہ وصفا اجدبہ رشفا من بحر نعت مصطفی کانت لہ الجائل وزانت بہ الفضائل وازد انت لہ الفواضل فیہ کان بدؤھا والیہ کان فیئھا فلا تنتمی الا الیہ ولا تنتھی الا الیہ انعتہ بمحا مد تکون لی مصاعد الی ذروۃ حمد واحد لہ الحمد کلہ دقہ وجلہ وکثرہ وقلہ و اولہ واخرہ باطنہ وظاھرہ یرفع من یشاء ویضع اذ میزان الفضل بیدیہ قولی ھذا اقول و فی مید ان الحمد اجول۔بسم الله الرحمن الرحیم۔قال تعالی "لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ ۫" والحمد لله علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹنے والے دونوں امیروں اور وزیروں کی درجات بلند وبالا میں فضیلت مانتا ہے تو اس کو خوب واضع اور ظاہر کیا ہے اور اس کو مبین اور روشن کیا ہے اور اس کی تلویح وتصریح کی اس طرح کہ اس کی زبان اس عقیدہ کی طرف بلاتی اور اس کا دل اس پر خوش ہے۔
اس لئے کہ بحمد الله تکبر و محبت جاہ سے کوئی ذرہ اس کے پاس نہیںمیں اس کی ایسی تعریف کر وں جس سےاس مصطفی صلی الله علیہ وسلم کے بحر نعت کے قطرے لوں جس کے لئے بزرگیاں ہیں او رفضیلتیں اس سے مزین ہیں اور عظیم لعمتیں اس کی مطیعتو اسی سے ان کا آغاز اور انتہی کی طرف ان کی رجوع تواسی کی طرف منسوب ہوں اور اسی کی طرف منتہی ہوں میں اوصاف حمیدہ سے اس کی تعریف بیان کرتا ہوں جو حمد یکتا کی بلندی تك پہنچنے کے لئے میرا زینہ بنیں۔سب تعریفیں اسی کو سزاوار تھوڑی اور بہت اول وآخر طاہر وباطن جس کوچاہے بلند فرمائے اور جس کو چاہے پست کرے اور لئے کہ فضل کی ترازو اس کے دست قدرت میں ہےمیں اپنی یہ بات کہہ کر میدان حمد میں جولان کروں بسم الله الرحمن الرحیم۔الله تعالی فرماتا ہے۔الله ہی کےلئے حمد ہے دنیا وآخرت میں۔سب تعریفین الله
#645 · الزلال النقی
رب العلمین حمد امنیعا علی ان فضل نبینا علی العلمین جمیعا واقامہ یوم القیمۃ للمذنبین شفیعا وحبا کل من راہ ولو لحظۃ من بعید فضلا وسیعا ووعد من وقع فی واحد من الصحابۃ حمیما وضریعا واختار منہم الاربعۃ الکرام عناصر الاسلام و ائمۃ الانام اختیارا بدیعاوبنی ترتیب الخلافۃ علی ترتیب الفضیلۃ وغلط من عکس غلط شنیعافصلی الله وسلم وبارك وترحم علی حبیب القلوب وطبیب الذنوب والہ الا طہار وصحبہ الاخیار انہ کان بصیرا سیمعاصلوۃ اعظام یتلوھا سلام وسلام اکرام تعقبہ صلوۃ وتشیع کلا برکۃ وزکوۃ الی الابد تشییعا واشھد ان الا لہ سیدہ ومولا ہ ما اعظمہ واعلاہ اکبرہ واجلہ وحدہ لا شریك لہ الہا رفیعاوان محمد ا عبدہ ورسولہ ورحمتہ و رفدہاجملہ واکملہوبدین الحق ارسلہ لیمحو کے لئے جو پروردگار ہے سب جہانوں کا الله کے لئے حمد بلند ہے اس پر کہ اس نے ہمارے نبی(صلی الله تعالی علیہ وسلم)کو سب جہانوں پر فضیلت دیا ور انہیں قیامت کے دن گنہگار وں کا شفیع مقرر کیااور ہر مسلمان کو جس نے انہیں ایك لخطہ دور سے بھی دیکھا وسیع فضل دیا اور ان کے صحابیوں کے بد گویوں کو جہنم کے گرم پانی اور آگ کے کانٹوں کی غذا کی وعید سنائی اور ان صحابہ سے چار بزرگوں کہ اسلام کے عناصر اور مخلوق کے امام ہیں بے مثال انتخاب کیا اور خلافت کی ترتیب فضیلت کی ترتیب پر رکھی اور جس نے ترتیب الٹی اس نے بری غلطی کیتو الله صلوۃ وسلام بھیجے اور رحمت وبرکت اتارے دلوں کے پیارے اور گناہوں کے چارہ ساز اور ان کی آل پاك اور نیك صحابہ پربیشك وہی سننے والا جاننے والا ہے عظمت کا درود جس کے پیچھے سلام چلے اور تکریم کا سلام جس کے پیچھے درود آئے اور دونوں کو برکت وافزائش ہمیشہ کے لئے قوت دے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شك ان کاخدا ان کا آقا ومولی کس قدر بلند وبر ترا اور بالا و اعلی ہےیکتا ہےاس کا کوئی شریك نہیںعظمت الا معبود ہےاور بے شك محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور الله کے رسول ہیں اور اس کی رحمت اور اس کی عطا ہیں۔الله نے انہیں سچے دین کے
#646 · الزلال النقی
کل علۃ ویعلوالدین کلہ علوا سریعا۔
وبعد فہذا ان شاء الله منحۃ عالیۃ وسلعۃ غالیۃ و رحمہ ربانیۃ لانزغۃ شیطانیۃواوراق ان رأیت قلیلۃ وان وعیت جلیلۃاذا قرات ھانتواذا فھمت لانتوان انصفت زانتوان تعسفت بانت فی جنۃ عالیـۃ ﴿۲۲﴾ قطوفہا دانیـۃ ﴿۲۳﴾ فیہا سرر مرفوعۃ ﴿۱۳﴾ و اکواب موضوعۃ ﴿۱۴﴾ و نمارق مصفوفۃ ﴿۱۵﴾ و زرابی مبثوثۃ ﴿۱۶﴾ "
۔قبولہا القبول من قبل الفحولوزینتہا الرد من اھل الحسد فیما من کل الثمراتوجنا الجناتعنب التحقیق ورطب التدقیقوجوز الحقائق و لوز الدقائق تؤتی الفریقین اکلہا مرتین مرۃ عسلا لارباب السنن واخری ثما لا عــــــہ لا صحب الفتن فیہا عیون حکمۃ تسمی سلسبیلافان شئت ریا فقم سل سبیلاماء ھا صاف وشاف وکاف ساتھ بیجا تا کہ وہ ہر خرابی مٹائیں اور سب دینوں پرجلد غالب آئیں۔
بعد حمد وصلوۃ ان شاء الله پر گراں قدرعطا او ربیش بہا متاع اور ربان رحمت ہے نہ کہ شیطانی وسوسہاور یہ اوراق دیکھوتو تھوڑےہیں اورانہیں یادکرلو تو گر انقدر ہیں اور پڑھو تو آسان اور سمجھو تو سہلاور انصاف کرو تو سنوارین اور تعصب بر تو تو جدار ہیںاور یہ جنات عالیہ ہیں جن کے خوشے جھکے ہوئے ہیںان میں اونچے تخت ہیں اور چنے ہوئے کوزے اور قالین بچھے ہوئے اور چاند نیاں ہیں پھیلی ہوئی
اس کی ضیا فضلا کو مقبول ومنظور اور اس کی زینت یہ ہے کہ اہل حسد اسے قبول نہ کریں۔اس میں سب باغوں کے ہر قسم کے پھل ہیں۔تحقیق کےانگور اور تدقیق کی تروتازہ کھجور اور حقائق کے ناریل اور دقائق کے بادامیہ اپنےپھل دو بار دیتی ہے ایك بار سنیوں کے لئے ایسا پھل جو شہد کی طرح میٹھا ہواور دوسری بارگمراہوں کے لئے ایسا پھل جو ان کے لئے مہلك زہر ہو۔اس میں حکمت کے چشمے ہیں جن کا سلسبیل نام____ اگر تو سیرانی چاہتا ہے تو اٹھ راستہ تلاش کراس کا پانی صاف اور شانی اور کافی ہے پینے والے

عــــــہ:بضم الثاء السم المنقح کذا فی المعجم الوسیط۔
#647 · الزلال النقی
ھلاھل عــــــہ۱ مرولمن یستقیہ وھلھل عــــــہ۲ مرولمن یتقیہ۔
فیالہا من جنۃ فی ظلہا جنۃ للانس والجنۃ من شمس الافتتان وحریق المراء"اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء ﴿۲۴﴾"السماء تولی سقی اشجارھا وفتق ازھار ھا واجتناء ثمارھا عبدہ الکل علیہ والمتفاق فی کل امر الیہ عبد المصطفی الشہیر باحمد رضا المحمدی دینا والسنی یقینا والحنفی مذھبا والقادری منتسبا والبرکاتی مشربا والبریلوی مسکنا والمدنی البقیعی ان شاء الله مدفنافالعدنی الفردوسی برحمۃ الله موطناکان الله لہ وحقق املہ واصلح عملہ و جعل اخراہ خیر امن اولاہ ابن الامام الھماموالفاضل الطمطام و البحر الطام والبد رالتامحامی السنن وماحی الفتن ذی تصانیف رایقۃ وتوالیف کےلئے بہت کثیر اور ستھرا جس سے وہ سیراب ہوجاءیں اور جو اس سے بچے اس کیلئے زہر قاتل ہے کہ اس کو ہلاك کر دے
تو یہ کیسی جنت ہے جس کے سایہ میں انسانوں اور جنوں کیلئے گمراہی کی دھوپ اور آئش جدل(ہٹ دھرمی سے امان ہے اس کی جڑجمی ہوئی اور اس کی شاخیں آسمان میں اس کے درختوں کی آبیاری اور اس کے پھول کھلانے اور پھل چننے کا کام الله کے محتاج بندے سرانجام دیتے ہیں اور ہر کام میں اس کے فقیر بندے عبدا لمصطفی عرف احمد رضاجودین کے اعتبار سے محمد ی ہے اور عقیدہ کے اعتبار سے سنی اور مذہبا حنفی ہے اور قادری انتساب ہے اور ارادۃ برکاتی او رمسکنا بریلوی اور مدفن کے لحاظ سے ان شاء الله مدینہ والا بقیع پاك والا اور الله کی رحمت سے مقام ابدی کے لحاظ سے بہشتی فردوسی نے خود انجام دیا۔الله اس کا ہوا اور اس کی امید بر لائے اور اس کے عمل نیك کرے اور اس کی عاقبت اس کی دنیا سے بہتر فرمائے (احمد رضا)ابن امام ہمام فاضل عظیمدریائے موجزن وماہ تمامحامی سنتماحی بد عتصاحب تصانیف پسند یدہ وتو الیف
#648 · الزلال النقی
فایقۃ شریفۃ منیفۃ لطیفۃ نظیفۃ بقیۃ السلف حجۃ الخلفناصح الامۃکاشف الغمۃحامی حمی الرسالۃ عن کید اھل الضلالۃومما قلت فی بابہ معتذرا الی جنابہ
فوالله لم یبلغ ثنائی کمالہ
ولکن عجزی خیر مدحی لمالہ
فذالبحر لو لا ان للبحر ساحلا
وذالبدر لولا للبد ر یخشی مالہ
سیدی ومولائی وسندی ماوای العالم العلم علامۃ العالم مولانا المولوی محمد نقی علی خان القادری البرکاتی الاحمدی الرسولی رضی الله تعالی عنہ وارضاہ بالنضرۃ والسرور لقاہ ابن العارف العریفالسید الغطر یف شمس التقیبدر النقینجم الھدی علامۃ الوری ذی البرکات المتکاثرہ والکرامات المتواترہ والترقیات الرفیعۃ والتنزلات البدیعۃو قلت فی شانہ راجیا لاحسانہ
اذا لم یکن فضل فماالنفع بالنسب
وھل یصطفی خبث وان کان من ذھب
والکننی ارجوالرضا منك یا رضا
وانت علی فازولی والی الرتب فاضلہ وبلند رتبہ ولطیفہ صافیہبقیۃ السلفحجۃ الخلفناصح امتدافع کربتنگہبانی حدود رسالت از مکر اہل ضلالت
اور میں نے ان کے باب میں ان کی جناب میں معذرت کے طور پر عرض کیا ہے۔
اس کے کمال تك نہ پہنچا مرابیاں
پر بہترین مدحت ہے عجز کی زباں
ساحل اگر نہ ہو تو وہ بحر بیکراں
کھٹھکا نہ ہو غروب کا تو بد ر ہرماں

سیدی ومولائی وسندیملجائی کوہ علمعلامہ عالممولانا مولوی محمد نقی علی خاں قادری برکاتی احمدی رسولیالله ان سے راضی ہو اور انہیں راضی کرے اور انہیں تازگی وفرحت دے۔ابن عارف مدبر سید وسردار کریم شمس تقوی ماہ تمام تقدس نجم ہدایت علامہ خلقت صاحب بر کات کثیر وکرامات مستمرہ ودرجات عالیہ ومنازل بدیعہ میں نے ان کی شان میں ان کے انعام کا امید وار ہو کر کہا
معدوم ہوکرم و کس کام کا نسب
زر کا بھی میل ہو تو مقبول ہو وہ کب
لیکن امید وار رضا تجھ سے ہوں رضا
اورتو علی ہے مجھ کو دے عالی قدر رتب
#649 · الزلال النقی
حصنی وحرزی وذخری وکنزی ذی القدر السنی والفخر السمی مولانا المولوی محمد رضا علی خان النقشبندی قدس الله سرہ و افاض علینا برہ امین یا رب العلمین حملنی علی تصنیفہا واحسان تالیفہا باحصان تر صیفہا مارا یت ان قد زاغت اقدام وزلت اقوام وضلت افہام عما رفعت لہ الرایات الی رفع الغایاتواشمغ النہایات من تو افر الایات و تظافر الاخبار وتواتر الاثار من العترۃ الاطہار والصحابۃ الکبار والاولیاء الاخیار والعلماء لا بر ار من تفضیل الشیخین علی ابن الحسنین رضی الله تعالی عنہم و جعلنا لہم ومنہم حتی بلغنی ان بعض من قادۃ الخمین والظن غیر امین الی اقتداء العمین فی ازدراء الثمین واجتبا المھین تعلق بشکوك سخیفۃ لا لطیفۃ والا نظیفۃ وانما ھی کطعام" من ضریع ﴿۶﴾ لا یسمن و لا یغنی من جوع ﴿۷﴾" فیما توافق علیہ سادۃ النقی و قادۃ التقی میرے حرزجان اور میری امان اور میرے کنز وذخیرہ صاحب قدر علی وفخر گرامی مولانا مولوی محمد رضا علی خاں نقشبندی الله ان کا باطن منزہ فرمائے اور ہم پر ان کا فیض جاری فرمائےآمین یارب العلمین !
مجھے اس کتاب کی تصنیف اور اس کی تالیف خوب اور اس کی ترتیب کو محکم کرنے پر اس امر نے اکسایا جو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ منحرف ہوئے اور کچھ قسم پھسلے او رکچھ ذہن اس سے گمراہ ہوئے جس کےلئے نہایت بلندی تك علم بلند کئے گئے آیاتاخبار اور آثار کی کثرت سے اور اس پر صحابہ کباراہل بیت اطہارپیشوایان اخیار او ر علماء ابرار کا اجماع ہوچکا یعنی شیخین ابوبکر وعمر کی فضیلت البو الحسنین علی پر الله ہمیں ان کے لئے کرے اور انہیں میں ہمیں رکھے یہاں تك کہ مجھے خبر پہنچی کہ جن لوگو ں کو ظن نے کھینچا اور ظن امین نہیں اندھوں کی اقتداء اور قیمتی چیز عــــــہ۱ کی تحقیراور ذلیل عــــــہ۲ چیز کے انتخاب کی طرف وہی شبہات کہ نہ لطیف ہیں نہ نظیف ستھرےبلکہ آگ کے کانٹوں کی غذا کی طرح ہے کہ "نہ فربہ کریں نہ بھوك سے بےنیاز کریں"کا سہارا اس میں لیتا ہے جس پر سردار ان تقدس وتقوی کا اتفاق ہے یعنی

عــــــہ۱:یعنی عقیدہ صحیحہ موافق اہلسنت وجاعت عــــــہ۲:یعنی گمراہی
#650 · الزلال النقی
من الاجتجاج بکریمۃ"وسیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾" وقام بعرضہا کلہا اوبعضہا احد المتدخلین فی عداد الا ذکیاء علی بعض العصریین من النبلاءو لم اعلم الام دارت رحی التقریروعلی ای شق برك البعیر فاشتد ذلك علی وعظم امرہ لدی فاستخرت الله تعالی فی عمل کتاب یبین الجواب عن کل اریتاب و یکشف النقاب عن وجہ الصوابمع اطلاعی علی قصور باعی وقصر ذاعیعدم الظفر من اسفار التفاسیر الا بشیئ نزل یسیر ولو لا الا ما اقاسیہ من ھجوم ھموم و عموم غموم وتباعد اغراض وتوارد اعراض وما لا محیض عنہ لمسلم من ایذاء موذ و ایلام مولم کما اخبر النبی الاکرم صلی الله علیہ وسلم بید ان الفقیر العانی عاین عین اعیان المعانی تفیض علی فیضا مدرارا واتثج الی ثجا کبارافقوی ظنی ان صاحب التوفیق سیقوی الضعیف علی بایطیق فاختلست الفرصۃ کریمہ" وسیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾"سے فضیلت صدیق رضی الله تعالی عنہ پر حجت قائم کرنا اور ان شبہات کو ایك شخص نے جو اذکیا ء کے شمار میں دخیل ہونا چاہتا ہےفضلاء میں سے ایك ہمعصر پر پیش کیا اور مجھے معلوم نہ ہوا کہ تقریر مدعی کی ہوچکی کب تك چلی اور اونٹ کس کروٹ بیٹھا تو یہ مجھے دشوار گزار اور اس کا معاملہ میرے نزدیك بڑا ہوگیا تو میں نے الله سے استخارہ کیا ایك کتاب کی تصنیف میں جوہر شبہ کا روشن جواب دے اور صواب کے چہرے سے نقاب اٹھادے باوجود یہ کہ میں اپنے قصور طاقت اور بساط کی قلت اور کتب تفاسیرسے بہت تھوڑا میسر ہونے سے واقف ہوں اور اگر سوائے اندوہ وغم کے ہجوم اور اغراض کی دوری اور امراض کے وورد پیہم کے اور موذی کی ایذا جس سے کسی مسلم کو چھٹکارا نہیں جیسا کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خبر دیکچھ نہ ہو تو اس کا م سے یہی مانع ہوتا مگر اس فقیر ذلیل نے دیکھا کہ معانی نفیسہ کا چشمہ اس کے قلب پر سراٹے سے ابل رہا ہے اور وہ بڑی مقدار میں اس کی طرف بہہ کر آرہے ہیں تو میرا گمان غالب ہو اکہ مالك توفیق(خدا)اس ضعیف کو اس کی قوت دے گا جس کی اسے قدرت نہیں
#651 · الزلال النقی
خمسۃ ایام من آخر الشھر المبارك ذی الحجۃ الحرامحتی جاءت بحمد الله کما تری تروق الناظر وتجلو البصائرکاشفۃ عن وجوہ غوانی من حسان معانی لم تقرع الاذانونفائس تحقیق وعرائس تدقیق لم یطمثھن قبلی انس ولاجان فان صدق ظنی فکل مافیہ غیر ماانمیہ مما سمع بہ فکری الفاتروادی الیہ نظری القاصر والانسان کما تعلم مساوق الخطاء والنسیانفما کان صوابا فمن الله الرحمانوانا ارجو الله سبحنہ فیہوماکان خطا فمنی ومن الشیطان وانا ابری الی الله عن مساویہویابی الله العصمۃ فی کل معنی وکلمۃ الا لکتابہ الاعظم و کلام رسولہ الاکرم صلی الله تعالی علیہ وسلمولما کان فض ختامہا وطلوع بدر تمامہا للیلۃ بقیت من المائۃ الثالثۃ عشر من سنی ھجرۃ سیدالبشر علیہ من الصلوات تو میں نے ماہ مبارك ذوالحجۃ الحرام سے آخری پانچ دن کی فرصت لی یہاں تك کہ یہ کتاب بحمد الله ایسی ظاہر ہوئی جیسی کہ تم دیکھتے ہو جو دیکنے والے کو خوش کرتیبصیر تو ں کو جلا بخشتی ہےاور ایسے خوشتر معانی(جوکانوں سے نہ ٹکرائے)سے پردے ہٹاتی ہے جو خوبان بے نیاز آرائش کے چہرے ہیں اور تحقیق کی نفیس صورتیں اور تدقیق کی دلہنیں ہیں جنہیں مجھ سے پہلے کسی آدم نے چھوانے کسی جن نےتو اگر میرا گمان سچا ہو تو سوائے اس کے جس کی میں کسی کی طرف نسبت کرو ں اس میں جو کچھ ہے وہ میر ی فکر قاصر کی دین ہے اور اس تك میری کو تا ہ نظر پہنچی ہے اور انسان جیساکہ تم جانتے ہو خطا ء ونسیان کے ساتھ چلتاہےتو جو درست ہو وہ خدائے رحمان کی طرف سے ہےاور میں اس کے سبب الله سے امیدوار ثواب ہوںاور جو خطا ہو تو وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے اور میں الله کی طرف اس کی بدیوں سے براءت کرتا ہوںاور الله ہر معنی اور ہر کلمہ میں عصمت(خطا سے محفوظ ہونا)اپنی کتاب معظم اور اننے رسول اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کلام کے سوا کسی کے لئے نہیں چاہتا اور جب اس رسالہ کی مہر اختتام کی شکست اور اس کے تمام کاماہ تمام اس ایك رات میں طلوع ہوا جو سید البشر کی ہجرت کے سالوں میں سے تیرھویں صدی میں باقی تھی اور پر درود وں
#652 · الزلال النقی
انما ھا ومن التحیات ازکاھا ناسب ان اسمیہا"الزلال الانقی من بحر سبقہ الاتقی"لیکون العلم علما علی العام والله تعالی ولی الانعاموھو الخامس عشر من تصانیفی فی علوم الدین نفعنی الله تعالی بھا و سائر المسلمین وجعلہا نورابین یدی و حجۃ لی لاعلیانہ علی مایشاء قدیر و بالاجابۃ جدیر و حسبنا الله ونعم الوکیلولاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم۔ میں سب درودو ں سے بڑھتا درود اور تحیات میں سب سے فزوں تحیت ہو مناسب ہے کہ اس کا نام"الزوال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی"رکھو ں تا کہ نام سال تصنیف کی نشانی ہو جائے اور الله تعالی ہی ولی نعمت ہے اور یہ میری نصانیف سے پندرہویں تصنیف ہے علوم دین میںالله تعالی مجھے اور باقی مسلمانوں کو اس سے نفع بخشےاور الله تعالی اسے میرے ما بعد کیلئے نور بنائے اور میرے حق میں حجت نہ میرے خلاف وہ جو چاہے کرسکتا ہےاور قبول دعا اسی کو سزا وار ہے اور الله ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے او ربدی سے پھرنا اور نیکی کی طاقت الله علو وعظمت والے ہی سے ہے۔
اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ط
قال ربنا تبارك وتعالی" یایہا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی و جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم ان اللہ علیم خبیر ﴿۱۳﴾" اراد الله سبحنہ و تعالی رد ما کانت علیہ الجاھلیۃ من التفاخر بالاباء والطعن فی الانساب وتعلی النسب علی ہمارا رب تبارك وتعالی فرماتاہے:"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایك مر د اور ایك عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھوبے شك الله کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔بے شك الله جاننے والا خبر دار ہے"(ترجمہ رضویہ)الله تعالی کی مراد اس طور کا رد ہے جس پر اہل جاہلیت چلتے تھے کہ باپ دادا پر فخر کرتے اور دو سروں کے نسب پر طعنہ زن ہوتے
#653 · الزلال النقی
غیرہ من الناس حتی کا نہ عبدلہ اواذلوکان بدء ھذہ النزعۃ اللئیمۃ من الذلیل الخسیس عد و الله ابلیس اذ قال"انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین ﴿۷۶﴾ " فرد الله سبحنہ وتعالی علیہم بان اباکم واحد وامکم واحدۃ فانہ تعالی"خلقکم من نفس وحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا کثیرا ونساء " فما منکم من احد الا وھو یدلی بمثل مایدلی بہ الاخر سواء بسواءفلا مساغ للتفاضل فی النسب و التفاخر بالام والابواما ما رتبنا کم علی اجیال تحتھا شعوب تحتہا قبائل فانما ذالك لتعارفوا فتصلو ا ارحامکم ولا ینتمی احد الی غیر ابیہلا لان تتفاخروا ویزدری بعضکم بعضا نعم ان اردتم التفاضل فالفضل عند نا بالتقوی فکلما زاد اور نسب کی وجہ سے آدمی دوسرے آدمی پر ایسی تعلی کرتا گویا کہ وہ اس کا غلام بلکہ اس سے بھی زیادہ خوار ہےاور اس ذلیل طریقہ کی ابتداء ذلیل خسیس ابلیس سے ہوئی جس نے کہا تھا کہ اے رب ! میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور آدم(علی نبینا وعلیہ السلام)کو مٹی سے بنایاتو الله نے ان کایوں رد فرمایا کہ تمہارا باپ ایك ہے اور تمہاری ماں ایك ہے اس لئے کہ الله تعالی نے تمہیں ایك جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی کو بنایا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادئے تو تم میں ہر ایك اپنی اصل سے وہی اتصال رکھتا ہے جو دوسرا رکھتا ہے تو نسب میں ایك کو دوسرے پر فضیلت کی راہ نہیں اور ماں باپ سے ایك دوسرے پر فخر کی مجال نہیں رہا یہ کہ ہم نے تمہیں اصول پر مرتب کیا جن کے نیچے ان کی شاخیں ہیں اور ان کے نیچے قبیلے ہیں تو یہ محض اس لئے کہ آپس میں پہچان رکھو تو اپنے قریبی عزیزوں سے ملو اور کوئی باپ کے سوا اور کی طرف منسوب نہ ہونہ اس لئے کہ تم نسب پر گھمنڈ کر واور ایك دوسرے کو حقیر جانےہاں اگر فضلیت چاہو تو فضیلت ہمارے یہاں تقوی(پر ہیزگاری
#654 · الزلال النقی
الانسان تقوی زاد کرامۃ عند ربہ تبارك وتعالی فاکرمکم عند نامن کان اتقی لامن کان انسب۔ان الله علیم بکرم النفوس وتقواھا خبیر بھم النفوس فی ھواھا۔
قال البغوی قال ابن عباس نزلت فی ثابت بن قیس وقولہ للرجل الذی لم یفسح لہ"ابن فلانۃ یعیرہ بامہ قال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من الذاکرفلانہ" فقال ثابت انا یا رسول اللہفقال انظر فی وجوہ القومفنظرفقال مارایت یا ثابت قال رایت احمر وابیض واسودقال فانك لاتفضلہ الا فی الدین والتقوی"فنزلت فی ثابت ھذہ الایۃ و فی الذی لم یتفسح لہ"یایھا الذین امنو اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا"وقال مقاتل لما کان یوم فتح مکۃ سے ہے تو جب انسان پرہیز گاری میں بڑھے اپنے رب کے یہاں عزت میں بڑھے۔تو ہمارے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے نہ کہ وہ جوبڑے نسب والا ہے بے شك الله تعالی نفوس کی عزت اور ان کی پر ہیز گاری کو جانتا ہے اور نفوس کی اپنی خواہش میں کوشش سے خبر دار ہے۔
امام بغوی نے فرمایاکہ حضرت ابن عباس(رضی ا لله تعالی عنہما)نے فرمایا یہ آیت حضرت ثابت بن قیس(رضی الله تعالی عنہ)کے بارے میں اور ان کے اس شخص سے جس نے ان کے لئے مجلس میں جگہ کشادہ نہ کی فلانی کا بیٹا کہنے کے باب میں اتری تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکو ن ہے جس نے فلانی کو یا د کیا حضرت ثابت نے عرض کیا وہ میں ہوں یا رسول الله ! تو حضور(علیہ الصلوۃ والسلام)نے فرمایا: لوگوں کے چہروں میں بغور دیکھو۔تو انہوں نے دیکھا۔پھر فرمایا:اے ثابت ! تم نے کیا دیکھا عرض کی:میں نے لال سفید اور کالے چہرے دیکھے۔سرکار(علیہ السلام والتحیۃ المدرار) نے فرمایا:تو بے شك تمہیں ان پر فضیلت نہیں مگر دین اور تقوی میں۔تو حضرت ثابت کے لئے یہ آیت اتری اور جنہوں نے مجلس میں کشادگی نہ کی تھی ان کے حق میں ارشاد نازل ہوا:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو۔اور مقاتل کا قول ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا رسول الله
#655 · الزلال النقی
امر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بلا لا حتی علا علی ظہرالکعبۃ واذنفقال عتاب بن اسید بن ابی العیص:الحمد لله الذی قبض ابی حتی لم یر ھذا الیوم۔وقال الحارث بن ھشام اما وجد محمد غیر ھذا الغراب الاسود موذنا۔وقال سہل بن عمرو ان یرد الله شیئا یغیرہ۔وقال ابوسفیان انی لا اقول شیئا اخاف ان یخبر بہ رب السماء فاتی جبریل فاخبر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بما قالو فدعا ھم وسالھم عما قالوا فاقروا فانزل الله تعالی ھذہ الابۃ وزجرھم عن التفاخر بالانساب والتکاثر بالاموال والازراء بالفقراء قال العلامۃ النسفی فی المدارك تبعا للزمخشری فی الکشاف عن یزید بن شجرۃ مررسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی سوق المدینۃ فرای غلاما اسود یقول من اشترانی فعلی شرط ان لا یمنعی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا(کہ اذان دیں)تو وہ کعبہ کی چھت پر چڑھے اور انہوں نے اذان کہیتو عتاب بن اسید بن ابی العیص نے کہا:الله کے لئے حمد ہے جس نے میرے باپ کو اٹھالیا ور انہوں نے یہ دن نہ دیکھا۔اور حارث بن ہشام نے کہا:کیامحمد(صلی الله علیہ وسلم) کو اس کا لے کوے کے سوا کوئی اذان دینے والا نہ ملا۔اور سہل بن عمرو نے کہا:الله کو اگر کوئی چیز ناپسند ہوگی وہ اسے بدل دے گا۔اور ابوسفیان بولے:میں کچھ نہیں کہتا مجھے خوف ہے کہ آسمان کا رب انہیں خبر دار کر دے گا۔تو جبریل(علی بنینا وعلیہ السلام)نازل ہوئے پھر رسول الله صلی ا لله تعالی علیہ وسلم کو ان لوگوں کی باتیں بتادیں تو حضور(علیہ الصلوہ والسلام)نے ان سے ان کے اقوال کی بابت پوچھا تو انہوں نے اقرار کیاتو الله نے یہ آیت اتاری اور انہیں نسب پر فخر اور اموال پر گھمنڈ اور فقراء کی تحقیر سے منع فرمایا۔
علامہ نسفی نے زمخشری کی اتباع کرتے ہوئے مدارك میں فرمایا یزید بن شجرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے بازار میں گزرے تو ایك سیاہ فام غلام دیکھا جو کہتا تھا مجھے جو خرید ے تو اس شرط پر خریدے کہ مجھے رسول الله صلی ا لله تعالی علیہ
#656 · الزلال النقی
من الصلوات الخمس خلف رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلمفاشتراہ بعضہم فمرض فعادہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلمثم توفی فحضر دفنہ فقالوا فی ذلك شیئا فنزلت ۔
وبالجملۃ فمحصل الایۃ نفی التفاخر بالانساب وان الکرم عند الله تعالی انما ینال بالتقوی فمن لم یکن تقیا لم یکن لہ حظ من الکرامۃ وسلبہ کلیا لایصح الاعن کافر اذکل مؤمن یتقی اکبر الکبائر الکفر و الشرکومن کان تقیا کان کریما ومن کان اتقی کان اکرم عند الله تعالیولعلك تظن ان سردنا تلك الروایات فی شان النزول مما لا یغنینا فیما نحن بصددہولیس کذالك بل ھو ینفعنا فی نفس الاحتجاج وتکسر بہ سورۃ بعض الاوھام ان شاء الله وسلم وآلہ وسلم کے پیچھے پنجگانہ نمازسے نہ روکے گا۔تو اسے کسی نے خرید لیا۔پھروہ بیمار پڑا تو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اس کی عیادت کو تشریف لائےپھر اس کی وفات ہوگئی تو سرکار اس کے دفن میں رونق افروز ہوئےتو لوگو ں نے اس بار ے میں کچھ کہا تو یہ آیت اتری۔
مختصر یہ کہ آیت کریمہ کا حاصل نسب پر فخر کی نفی ہے اور یہ کہ الله کے یہاں عزت تقوی ہی سے ملتی ہےتو جو متقی نہیں اس کے لئے عزت سے کچھ حصہ نہیں اور تقوی کا سلب کلی طور پر کافر کے سوا کسی سے نہیںاس لئے کہ ہر مومن اکبر الکبائر کفر و شرك سے بچتا ہے اور جو متقی ہوگا وہ باعزت ہوگا اور جو زیادہ تقوی والا ہوگا وہ زیادہ عزت دار اپنے رب کے یہاں ہوگا۔اور شاید تمہیں گمان ہو کہ ہمارا ان روایتوں کو ذکر کرنا اس مدعی میں جس کے ثابت کرنے کے ہم درپے ہیں ہمیں نفع بخش نہیں حالانکہ با ت ہوں نہیں بلکہ وہ ہمیں نفس استدلال میں فائدہ دے گا اور ہم اس سے کچھ وہمیوں کا زور توڑینگے ان شاء الله
#657 · الزلال النقی
تعالیکما ستطلع علیہفانتظرھذہ مقدمۃ۔
والمقدمۃ الاخری
قال الله سبحنہ و تعالی: و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾ الذی یؤتی مالہ یتزکی ﴿۱۸﴾ و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾ الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی ﴿۲۰﴾ و لسوف یرضی ﴿۲۱﴾
" اجمع المفسرون من اھل السنۃ والجماعۃ علی ان لایۃ نزلت فی الصدیق رضی الله تعالی عنہ وانہ ھو المراد بالاتقی۔


اخرج ابن ابی حاتم والطبرانی ان ابا بکر اعتق سبعۃ کلھم یعذب فی الله فانزل الله تعالی قولہ " و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾"الی اخرالسورۃ قال البغوی قال ابن الزبیر وکان تعالیجیسا کہ تم عنقریب اس پر مطلع ہوگےتو انتظار کرویہ ایك مقدمہ ہے۔
اور دوسرا مقدمہ یہ ہے
الله تعالی نے فرمایا:اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گار جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہوا ور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کابدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شك قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا اہل سنت وجماعت کے مفسرین کا اجمال ہے اس پر کہ یہ آیت صدیق رضی الله تعالی عنہ کے حق میں اتری اور الاتقی سے وہی مراد ہے۔
ابن ابی حاتم وطبرانی نے حدیث روایت کی کہ ابو بکر(رضی الله تعالی عنہ)نے ان سات کو آزاد کیا جو سب کے سب الله کی راہ میں ستائے جاتے تھے تو الله نے اپنا فرمان
("و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾"تا آخر سورۃ)نازل فرمایا۔بغوی نے فرمایا کہ ابن الزبیر کا قول ہےکہ ابو بکر
#658 · الزلال النقی
ابو بکر یبتاع الضعفۃ فیعتقہمفقال ابوہ:ای بنی لوکنت نبتاع من یمنع ظہرك قال منع ظہری اریدفنزل"وسیجنبہا الاتقی"الی اخر السورۃوذکر محمد بن اسحق قال کان بلال لبعض بنی جمع وھو بلال بن رباح واسم امہ حمامۃ وکان صادق الاسلام وطاھر القلب وکان امیۃ بن خلف یخرجہ اذا حمیت الظہیرۃ فیطرحہ علی ظہرہ ببطحاء مکۃثم یامر بالصخرۃ العظیمۃ فتوضع علی صدرہثم یقول لہ لا تزال ھکذا حتی تموت او تکفر بمحمد(صلی الله تعالی علیہ وسلم)ویقول وھو فی ذلك البلاء احد احدو قال محمد بن اسحاق عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ قال مربہ ابوبکر یوما وھویضنعون بہ ذلك و کانت دار ابی بکرفی بنی جمع فقال لامیۃ لاتتقی فی ھذا المسکین قال:انت افسد تہ فانقدہ مما رضی الله تعالی عنہ کمزور وں کو خرید تے پھر انہیں آزاد کر دیتے۔تو ان سے ان کے والدین نے کہا:اے بیٹے ! ایسے غلاموں کو خرید تے ہوتے جو تمہاری حفاظت کرتے۔ابوبکر نے فرمایا میں اپنی حفاظت ہی چاہتا ہوں۔تو یہ آیت تا آخر سورت نازل ہوئی۔اور محمد بن اسحق نے ذکر کیا بلال(رضی الله تعالی عنہ)قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے اور ان کانام بلال بن ربا ح ہے اور ان کی ماں کانام حمامہ ہےاور بلال(رضی الله تعالی عنہ)اسلام میں سچے تھے اور پاك دل تھےاور امیہ بن خلف انہیں باہر لا تا جب گرم دوپہر ہوتی تو انہیں پیٹھ کے بل مکہ کے ریتلے میدان میں ڈال دیتا پھر بڑی چٹان لانے کا حکم دیتاتو ان کے سینہ پر رکھدی جاتی پھر کہتاتم ایسے ہی پڑے رہوگے یہاں تك کہ مرجاؤ یا محمد(صلی الله علیہ وسلم)سے کافر ہو۔اور حضرت بلال احد احد فرماتےحالانکہ وہ اس بلا میں ہوتے۔اور محمد بن اسحق نے ہشام بن عروہ سے روایت کی انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے فرمایا ابو بکر (رضی الله تعالی عنہ)کاگز رایك دن بلال(رضی الله عنہ)کے پاس سے ہوا اور وہ لوگ بلال(رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ یہی بر تا ؤ کررہے تھے اور ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)کا گھر بنو جمح میں تھا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو(امیہ بن خلف)اس بیچارے کے معاملہ میں
#659 · الزلال النقی
تریقال ابوبکر افعل عندی غلام اسود واجلدمنہ واقوی علی دینك اعطیکہ قال قدفعلت فاعطا ہ ابو بکر غلامہ واخذہ فاعتقہثم اعتق معہ علی الاسلام قبل ان یہاجر ست رقاب بلال سابعہم عامر بن فہیرۃ(رضی الله تعالی عنہ)شہد بد را و احدا وقتل یوم بئر معونۃ شہید اوام عمیس و زھرۃ فاصیب بصرھا و اعتقہا فقال قریش ما اذھب بصرھا الا اللات والعزی فقالت:کذبوا وبیت الله ما تضر اللات و العزی وما تنفعا نفرد الله تعالی الیہا بصرھا و اعتق النہدیۃ وابنتہا وکانتا لامراۃ من بنی عبد الدار فمر بھما وقد بعثتہما سید تھما تطحنان لہا وھی تقول والله لا اعتقکما ابدا الله سے نہیں ڈرتاتو امیہ نے کہا آپ نے اسے بگاڑا ہے تو آپ اس گت سے اسے بچالیں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ابوبکر (رضی الله تعالی عنہ)نے فرمایا:میں بچائے لیتا ہوں میرے پاس ایك غلام ہے سیاہ فام جو بلال(رضی الله تعالی عنہ)سے زیادہ اور طاقتو ر ہے اور تیرے دین پر ہے وہ تجھے دے دوں۔ امیہ بولا:مجھے منظور ہے تو ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)کولے لیا تو انہیں آزاد کر دیا پھر ان کے ساتھ اسلام کی شرط پر ہجرت سے پہلے چھ غلامون کوآزاد کیاانکے ساتویں بلال ہیںعامر بن فہیرہ رضی الله تعالی عنہ جو جنگ بد واحد میں شریك ہوئے اور بئر معونہ کی جنگ میں قتل ہوکر شہید ہوئےاور ام عمیس وزھرہ کی آنکھ جاتی رہیجب انہیں ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)نے آزاد فرمایاتو قریش بولے کہ انہیں لات وعزی نے اندھا کیا ہےتو آپ بولیں:قریشکعبہ کی قسم جھوٹے ہیں لات وعزی نہ ضرر دے سکیں نہ فائدہ پہنچا سکیں۔تو الله نے انہیں ان کی بینائی پھیر دی۔اور نہدیہ اور اس کی بیٹی کو آزاد کیا اور یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایك عورت کی لونڈیاں تھیںتو صدیق اکبر(رضی ال لہ تعالی عنہ)ان کے پاس سے گزرے اور ان کی آقا عورت نے انہیں بھیجا تھا کہ اس کا آٹا پیسیں اور وہ عورت کہتی تھی کہ خدا کی قسم ! تمہیں کبھی آزاد نہ کرو ں گی۔
#660 · الزلال النقی
فقال ابوبکر کلا یا ام فلانفقالت کلا انت افسدتھما فاعتقھماقال فبکم بکذا وکذا قال قد اخذتھما وھما حرتانومر بجاریۃ بنی المؤمل وھی تعذب فابتا عہا فاعتقہا۔


وقال سعید بن المسیب بلغنی ان امیۃ بن خلف قال لابی بکر فی بلال حین قال اتبیعہ قال نعم ابیعہ بنسطاس وکان نسطاس عبد الابی بکر صاحب عشرہ الاف دینارغلمان وجوار و مواش وکان مشر کا حملہ ابوبکر علی الاسلام ان یکون مالہ لہفابی فابغضہ ابو بکرفلما قال لہ امیۃ ابیعہ بغلامك نسطاساغتنمہ ابوبکر وباعہ منہ فقال المشرکون ما فعل ذلك ابوبکر الا لیدکانت لبلال عندہ فانزل الله تعالی تو ابو بکر(رضی الله تعالی عنہ)نے فرمایا:اے ام فلان ! ہر گز نہیں۔وہ بولی:ہرگز نہیںآپ نے ان دونوں کو بگاڑا ہے تو آپ آزاد کریں۔صدیق نے فرمایا:تو کتنے دام پر بیچتی ہے وہ بولی:اتنے اور رائے دام پر۔ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)نے فرمایا:میں انے ان دونوں کو لیا اور یہ دونوں آزاد ہیںاور آپ کا گزر بنو مؤمل کی ایك لونڈی کے پاس سے ہواجب اس پر ظلم ہو رہا تھا تو اسے خرید کر اسے آزاد کردیا
اور سعید بن المسیب(رضی الله تعالی عنہ)نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی کہ امیہ بن خلف نے ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)سے بلال کے معاملہ میں اس وقت جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا بلال کو فروخت کرے گا کہا:ہاں میں اسے نسطاس سید نا ابوبکر رضی الله تعالی عنہ کا غلام جو دس ہزار دینار اور بہت سے لونڈی اور غلام اور چوپایوں کا مالك تھا کے بدلے بیچتا ہوں اور ابوبکر رضی الله تعالی عنہ نے چاہا تھا کہ نسطاس اسلام لے آئے اوراس کا مال اسی کا ر ہےتو وہ نہ مانا تو حضرت ابوبکر نے اس کو مبغوض جاناپھر جب امیہ نے کہا:بلال کو میں آپ کے غلام کے بدلے دیتا ہوں۔ابوبکر نے اس بات کو غنیمت جانا اور نسطاس کو امیہ کے ہاتھ بیچ دیاتو مشرکین بولےابو بکر(رضی الله تعالی عنہ)نے ایسا صرف اس لئے کیا ہے کہ بلال(رضی الله تعالی عنہ)کا ان پر کوئی احسان ہےتو الله تعالی نے یہ آیت
#661 · الزلال النقی
" و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾ " ۔

وذکر العلامۃ ابو السعود فی تفسیرہ قدروی عطاء و الضحاك عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما وذکر قصۃ شراء بلال واعتقاقہ قال فقال المشرکون ما اعتقہ ابوبکر الالید کانت عندہ فنزلت اھ ملخصا

و فی الازالۃ عن عروۃ ان ابابکر الصدیق اعتق سبعۃ کلہم یعذب فی الله بلا لا وعامر بن فہیرۃ النھدیۃ وابنتہا وزنیرۃ وام عیسی وامۃ بنی المؤملوفیہ نزلت " و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾ " الی اآخر السورۃ۔

وعن عامر بن عبدالله بن الزبیر عن ابیہ قال قال ابو قحافۃ لابی بکر اراك تعتق رقابا ضعافا فلوانك اذا فعلت مافعلت اعتقت رجالا جلدا یمنعونك اتاری" و ما لاحد عندہ "الخ یعنی اور اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
اور علامہ ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا کہ عطا اور ضحاك نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا(اس روایت میں خریداری بلال اور ان کے آزاد ہونے کا قصہ ذکر کیا پھر کہا)تو مشرکین بولے:ابوبکر نے بلال کو ان کے کسی احسان ہی کی وجہ سے آزاد کیا ہے تو یہ آیت(مندرجہ بالا) اتری اھ ملخصا۔
اور ازالہ میں عروہ سے ہے کہ ابوبکر صدیق(رضی الله تعالی عنہ)نے ساتھ کو آزاد کیاان سب پر الله کی راہ میں ظلم توڑا جاتا تھا وہ بلال و عامر بن فہیرہ اور نہدیہ اور اس کی بیٹی اور زنیرہ اور ام عیسی اوربنی مؤمل کی کنیز ہیں اور انہیں کیلئے آیت اتری " و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾ "اور اس سے(دوزخ)بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گار ہے۔تا آخر سورت۔
اور عامر بن عبدالله بن الزبیر سے روایت ہے وہ اپنی باپ سے روای ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحانہ نے ابو بکر(رضی الله تعالی عنہ)سے فرمایا:میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور غلامون کو آزاد کرتے ہوتو کاش ! تم تندرست و
#662 · الزلال النقی
ویقومون دونك فقال یا ابت انما ارید وجہ الله فنزلت ھذہ الایۃ" فاما من اعطی و اتقی ﴿۵﴾الی قولہ و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾ الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی ﴿۲۰﴾ و لسوف یرضی ﴿۲۱﴾
" ۔



وعن سعید بن المسیب قال نزلت"ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی"فی ابی بکر عتق ناسا لم یلتمس منہم جزاء ولاشکورا ستۃ او سبعۃ منہم بلال وعامر بن فہیرۃ

وعن ابن عباس فی قولہ تعالی" و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾"قال ھو ابوبکر الصدیق ۔

قلت وقد اخرج ابن ابی حاتم ابن مسعود(رضی ا لله تعالی عنہ ان ابابکر اشتری بلالا من امیۃ بن خلف توانا غلام آزاد کرتے جو تمہاری حفاظت کرتے اور جنگ میں تمہاری سپر ہوتے۔تو ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)نے فرمایا اے میر ے باپ !میں تو صر ف الله کی رضا چاہتا ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی " فاما من اعطی و اتقی ﴿۵﴾"یعنی جس نے دیا اور پرہیز گار ی کی۔۔الله تعالی کےقول وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی تك یعنی اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دی اجائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہےاور بے شك قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔
اور حضرت سعید ابن المسیب رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ آیۃ کریمہ سے" و ما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ﴿۱۹﴾"ابوبکر رضی الله تعالی عنہ کے بارے میں اتری کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو آزاد کیا ان سے نہ بدلہ چاہا نہ شکرگزاریوہ آزاد شدہ چھ یا سات تھےانہیں میں بلال وعامر بن فہیرہ رضی الله تعالی عنہما تھے۔
اور حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے
" و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾"کی تفسیر میں ہے فرمایا وہ ابوبکرصدیق ہیں(آیت میں جن کا ذکر ہے)۔میں کہتا ہوں اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے بسند خود روایت کی کہ امیہ بن خلف اورابی بن خلف سے حضرت ابوبکر نے
#663 · الزلال النقی
ببردۃ وعشرۃ اواق فاعتقہ لله تعالیفانزل الله تعالی ھذہ الآیۃ:ای ان سعی ابی بکر و امیہ و ابی لمفترق فرقانا عظیما فشتان مابینہما
وقد قال السید ابن السدید عما ربن یاسر رضی الله تعالی عنہما فی اشتراء الصدیق بلا لا واعتاقہ شعرا

جزی الله خیر اعن بلال وصحبہ
عتیقا واخزی فاکہا وابا جہل
عشیۃ ھما فی بلال بسوء ۃ
ولم یحذر امام یحذر المرء ذو العقل
بتوحید رب الانام وقولہ
شہدت بان الله رب علی مھل
فان تقتلونی فاقتلونی فلم اکن
لاشرك بالرحمن من خیفۃ القتل
فیا رب ابراھیم والعبد یونس
وموسی وعیسی نجنی ثم تملی
لمن ظل یھوی الغی من ال غالب
علی غیر برکان منہ ولا عدل حضرت بلال کو ایك چادر اور دس اوقیہ سونے کے عوض خریدا پھر انہیں خاص الله کے لئے آزاد کر دیا تو الله تعالی نے یہ آیت اتاری جس کا مطلب یہ ہے"بے شك تمہاری کوشش مختلف ہے"یعنی ابوبکر(رضی الله تعالی عنہ)اور امیہ اور ابی بن خلف کی کوششوں میں عظیم فرق ہےتو ان میں بون بعید ہے اور سردار بن سردار عمار بن یاسر رضی الله عنہما نے ابوبکر صدیق کے بلال رضی الله تعالی عنہ کو خرید کر آزاد کرنے کے بارے میں یہ اشعار کہے جن کا ترجمہ درج ذیل ہے :
الله جزائے خیر دے بلال اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے عتیق(ابوبکر کو اور امیہ اور ابوجہل کو رسوا کر ےوہ شام یاد کرو جب ان دونوں نے بلال کا برا چاہا اور اس سے نہ ڈرے جس سے ذی عقل آدمی ڈرتا ہےانہوں نے بلال کا برا اس لئے چاہا کہ بلال نے خلق کے خدا کو ایك جانا اور نے اس نے یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ الله میرا رب ہےمیں اس پر مطمئن ہوں تو اگر تم مجھے قتل کرو تو اس حال میں قتل کروگے کہ میں رحمان کا شریك نہیں ٹھہراتا قتل کے ڈرے سے تو اے ابراہیم اور اپنے بندے یونس اور موسی وعیسی کے رب ! مجھے نجات دےپھر اسے مہلت نہ دے جو ناحق ظالمانہ آل غالب کی گمراہی کی آرزو کئے جاتا ہے)
#664 · الزلال النقی
ھذا وقد قال البغوی فی الاتقی یعنی ابابکر الصدیق فی قول الجمیع
وقال الرازی فی مفاتیح الغیب"اجمع المفسرون منا علی ان المراد منہ ابوبکر رضی الله تعالی عنہ" ۔
ونقل ابن حجر فی الصواعق عن العلامۃ ابن الجوزی اجمعوا انہا نزلت فی ابی بکر ۔حتی بلغنی ان الطبرسی مع رفضہ لم یسغ لہ انکارہ فی تفسیر ہ مجمع البیانوالفضل ماشہدت بہ الاعدءالحمد لله رب العلمین۔

ثم ان الا مام الفاضل فخر الدین الرازی حاول فی تفسیرہ اثباث ان الایۃ لا تصلح الا للصدیق بطریق النظر والاستد لال علی ماھو دابہ رحمہ الله تعالی فقال"اعلم ان الشیعۃ باسرھم ینکرون ھذہ الروایۃ ویقولون انہا نزلت فی حق علی ابن ابی طالب علیہ السلام والدلیل علیہ قولہ تعالی"ویؤتون الزکوۃ وھم اسے یاد رکھو اور امام بغوی نے الاتقی کی تفسیر میں کہا اس لفظ سے خدا کی مراد سب مفسرین کے قول کے بموجب ابوبکر صدیق ہیں۔
امام رازی نے مفاتیح الغیب میں فرمایا ہم سنیوں کے مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اتقی سے مراد ابوبکر رضی الله تعالی عنہ ہیں"
صواعق میں ابن حضر نے علامہ ابن الجوزی سے نقل کیا علماء اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت ابوبکر کے حق میں نازل ہوئی۔ یہاں تك کہ مجھے خبر پہنچی کہ طبرسی کو باوجود رفض اپنی تفسیر مجمع البیان میں اس کا انکار نہ بن پڑا اور فضل وہی ہے جس کی شہادت دشمن دیںوالحمد لله رب العلمین۔
پھر امام فخر الدین رازی رحمہ الله تعالی نے اپنی عادت کے مطابق اپنی تفسیرمیں عقلی استدلال و نظر کی راہ سے یہ بات ثابت کرنےکی کوشش فرمائی کہ آیت کامفہوم صدیق اکبر کے سوا کسی کے لئے نہیں بنتاتو انہوں نے فرمایا تمہیں معلوم ہوکہ تمام شیعہ اس روایت کے منکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ایت علی بن ابی طالب کے حق میں اتری ہے اور اس کی دلیل الله کا فرمان ہے و یؤتون الزکوۃ وھم راکعون یعنی وہ رکوع کی
#665 · الزلال النقی
راکعونفقولہ"الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی"اشارۃ الی مافی تلك الایۃ من قولہ"یؤتون الزکوۃ وھم راکعون"ولما ذکر ذلك بعضہم فی محضری قلت اقیم الدلالۃ العقلیۃ علی ان المراد من ھذہ الایۃ ابوبکروتقریر ھا ان المراد من ھذا الاتقی ھو افضل الخلقفاذا کان کذالك وجب ان یکون المراد ابو بکرفہاتان المقدمتان متی صحتاصح المقصود انما قلنا ان المراد من ھذا الاتقی افضل الخلق لقولہ تعالی"ان اکرمکم عند الله اتقاکم" والا کرم ھو الافضل فدل علی ان کل من کان اتقی وجب ان یکون الافضلفثبت ان الاتقی المذکور ھہنا الابد وان یکون افضل الخلق عند الله تعالیفنقول لابد و ان یکون المراد بہ ابا بکر لان الامۃ مجمعۃ علی ان افضل الخلق بعد رسول الله صلی الله حالت میں زکوہ دیتے ہیں تو الله تعالی کا قول الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی یعنی وہ سب سے بڑا پرہیز گار جو ستھرا ہونے کو اپنا مال دیتا ہےاسی وصف کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں مذکورہو ا یعنی الله کا یہ فرمانا"ویؤتون الزکوۃ"الایۃ اور جب ایك رافضی نے یہ بات میری مجلس میں کہی میں نے کہا میں اس پر دلیل عقلی قائم کروں گا کہ اس آیت سے مراد صرف ابو بکر ہیںاور تقریر دلیل یوں ہے کہ مراد اس بڑے پرہیز گار سے وہی ہے جو سب سے افضل ہےتو جب معاملہ ایسا ہے تو ضروری ہے کہ اس سے مراد بس ابوبکر ہوںتو جب یہ دونوں مقدمے صحیح ہونگے دعوی درست ہوگا۔اور ہم نے یہ اسی لئے کہاکہ اس بڑے پرہیز گار سے مراد سب سے افضل ہے کہ الله تعالی کا قول ہے"الله کے یہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔"اور اکرم ہی افضل ہے۔تو آیت نے بتایا کہ ہر وہ شخص جو سب سے زیادہ پرہیزگا ر ہوگا ضروری ہے کہ وہ سب سے زیادہ مرتبے والا ہوتو ثابت ہوگیا کہ سب سے بڑا پرہیزگار جس کا یہاں (آیت میں)ذکر ہو ا ضروری ہے کہ الله کے یہاں سب سے افضل ہو۔اب ہم کہتے ہیں کہ ساری امت اس پر متفق ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بعد خلق سے افضل ابوبکر ہیں یا علی۔
#666 · الزلال النقی
تعالی علیہ وسلم تعالی علیہ وسلم اما ابو بکر اوعلی ولایکمن حمل ھذہ الایۃ علی علی بن ابی طالب فتعین حملہا علی ابی بکروانما قلنا انہ لایمکن حملہا علی علی بن ابی طالب لانہ تعالی قال فی صفۃ ھذا الاتقی "وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی"وھذا الوصف لا یصدق علی علی ابن ابی طالب لانہ کان فی تر بیۃ النبی صلی الله علیہ وسلم لانہ اخذہ من ابیہ وکان یطعمہ ویسقیہ و یکسوہ ویر بیہوکان الرسول صلی الله علیہ وسلم منعما علیہ نعمۃ یجب جزاء ھا اما ابو بکر فلم یکن للنبی علیہ الصلوۃ والسلام نعمۃ دنیویۃ بل ابوبکر کان ینفق علی الرسول الصلوۃ والسلام بلی کان للرسول علیہ الصلوۃ والسلام علیہ نعمۃ الھدایۃ والارشاد الی الدینالا ان ھذا لایجزی لقولہ تعالی"مااسئلکم علیہ من اجر"والمذکور ھہنا لیس مطلق النعمۃ بل نعمۃ تجزیفعلمنا ان ھذہ الایۃ لاتصلح اور یہ ممکن نہیں کہ یہ آیت علی پر محمول کی جائے تو ابوبکر کے لئے اس کا مصداق ہونا متعین ہوگیااور ہم نے یہ اسی لئے کہا کہ آیت کو علی پر محمول کرنا ممکن نہیں کہ الله تعالی نے اس سب سے بڑے پرہیز گار کی صفت میں فرمایا ہے ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی یعنی اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائےاور یہ وصف علی بن ابی طالب پر صادق نہیں آتا اس لئے کہ وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے بایں سبب کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے علی کو ان کے باپ سے لے لیا تھا اورحضور انہیں کھلاتے بلاتے پہناتے اور پالتے تھے اور حضور(رسول)صلی الله تعالی علیہ وسلم علی کے ایسے محسن ہیں کہ ان کے احسان کابدلہ واجب ہوا۔رہے ابوبکرتو حضور(نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم)کا ان پر دنیوی احسان نہیں بلکہ ابوبکر رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا خرچ اٹھاتے تھےہاں کیوں نہیں ابوبکر پر رسول علیہ الصلوۃ و السلام کا دین کی طرف ہدایت و ارشاد کا احسان ہے۔مگر یہ ایسا نہیں جس کا بدلہ
#667 · الزلال النقی
لعلی بن ابی طالبواذا ثبت ان المراد بھذہ الایۃ من کان افضل الخلقوثبت ان ذالك الافضل من الامۃ اما ابوبکر اوعلیوثبت ان الایۃ غیر صالحۃ لعلی تعین حملہا علی ابی بکر رضی الله تعالی عنہوثبت دلالۃ الایۃ ایضا علی ان ابا بکر افضل الامۃ اھ ملخصا۔



قلت اماما ذکر الفاضل الامام ان علیا رضی الله تعالی عنہ کا فی تربیۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وانہ اخذہ من ابیہ فقد ذکرہ محمد بن اسحق وابن ھشام وھذا الفظ ابن اسحق"حدثنی عبدالله بن ابی نجیح عن مجاھد بن جبیر ابی الحجاج قال کان من نعمۃ الله تعالی علی علی ابن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ مما صنع الله تعالی لہ وارادہ بہ من الخیر ان قریشا اصابتہم ازمۃ شدید ۃ وکان ابوطالب ذاعیال کثیر فقال دیا جائے اس لئے کہ الله تعالی نے فرمایا(حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی حکایت کرتے ہوئے)میں تبلیغ پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا۔اور یہاں مطلق احسان کا ذکر نہیں بلکہ بات اس احسان کی ہے جس کا بدلہ دیا جائے تو ہم نے جان لیا کہ آیت کا یہ معنی علی بن ابی طالب کے لئے نہیں بتنااور جب یہ ثابت ہے کہ مراد اس آیت کی وہی ہے جو افضل خلق ہے اور یہ ثابت ہے امت میں سب سے افضل یا ابوبکر ہیں یا علی اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مفہوم آیت علی کے شایاں نہیں اس کا مصداق ابوبکر رضی الله تعالی عنہ کے لئے متعین ہوگیا اور آیت کی دلالت اس پر بھی ثابت ہوگئی کہ ابوبکر ساری امت سے افضل ہیں اھ ملخصا۔
میں کہتاہوں کہ رہی یہ بات جو فاضل امام(فخر الدین رازی علیہ الرحمہ)نے فرمائی کہ علی رضی الله تعالی عنہ حضور نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے اور آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد سے لے لیا تھا تو اس کا ذکر محمد ابن اسحق وابن ہشام نے کیا ہے اور محمد بن اسحق کے الفاظ یوں ہیں:مجھ سے عبدالله بن ابی نجیح نے حدیث بیان کی انہوں نے روایت کی مجامد بن جبیر ابی الحجاج سے انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ پر الله تعالی کے احسان کے قبیل سے وہ ہےجو الله تعالی نے ان کے ساتھ کیا اور ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا وہ یہ کہ قریش پر سخت تنگی پڑی اور ابو طالب کی اولاد بہت تھی اس لئے رسول
#668 · الزلال النقی
رسول الله صلی الله علیہ وسلم للعباس عمہ وکان من ایسر بنی ھاشم یا عباس ان اخاك ابا طالب کثیر العیالوقد اصاب الناس ماتری من ھذہ الازمۃ فانطلق بنا الیہفلنخفف عنہ من عیالہ آخذ من بنیہ رجلا وتاخذ انت رجلافنکلہما عنہ قال العباس نعم فانطلقا حتی اتیا الی ابی طالبفقالا لہ انا نرید ان نخفف عنك من عیالك حتی ینکشف عن الناس ماھم فیہفقال لھما ابو طالب اذا ترکتما لی عقیلا فاصنعا ما شئتمافاخذ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علیا فضمہ الیہ واخذ العباس جعفرا فضمہ الیہ فلم یزل علی رضی الله تعالی عنہ مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی بعثہ الله تبارك وتعالی نبیا فاتبعہ علی وآمن بہ علی وصدقہ و لم یزل جعفر عند العباس حتی اسلم و استغنی عنہ انتھی۔ الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس(رضی الله تعالی عنہ)سے فرمایا اور وہ بنی ہاشم کے بڑے مالداروں میں سے تھےاے عباس !آپ کے بھائی ابو طالب کی اولاد بہت ہے اور لوگو ں پر جو یہ سختی پڑی ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ ابو طالب کے یہاں چلئے کہ ہم ان کی اولاد کا بوجھ کم کریں ان کے بیٹوں سے ایك آدمی میں لے لوں اور ایك آدمی آپ لے لیں تو ہم دونوں ان کی کفالت کریں۔حضرت عباس نے عرض کی:جی ہاں۔تو دونوں حضرات چل کر ابو طالب کے پاس تشریف لائے تو ان سے کہا:ہم چاہتے ہیں کہ جب تك لوگو ں کی مصیبت(جس میں وہ مبتلا ہیں)دور ہو آپ سے آپ کی اولاد کا بوجھ کم کردیں۔تو ابو طالب ان سے بولے: اگر تم میرے لئے عقیل کو چھوڑ دو تو تم جو چاہو کرو۔تو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے علی کو لے کر اپنے سینے سے لگایا اور حضرت عباس رضی الله تعالی عنہ نے جعفر کولیا اور چمٹالیا۔تو علی رضی الله تعالی عنہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ رہے یہاں تك کہ الله تعالی نے سرکا ر کو نبی مبعوث فرمایا تو حضرت علی ان پر ایمان لائےاور ان کو سچا مانا اور جعفر عباس کے پاس رہے یہاں تك کہ اسلام لاکر ان سے بے نیاز ہوگئے اھ۔
#669 · الزلال النقی
قلت وتمام النعمۃ الکبری بتزویج البتول الزھراء صلوات الله علی ابیہا الکریم وعلیہا واماما ذکر من ان ابابکر کان ینفق علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فہذا اوضح و اظہر عند من لہ خبرۃ بالاحادیث والسیر۔اخر ج الامام احمد و البخاری عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال:انہ لیس من الناس احد امن علی فی نفسہ ومالہ من ابی بکر بن ابی قحافۃ ولوکنت متخذا من الناس خلیلا لا اتخذت ابابکر خلیلا ولکن خلۃ الاسلام افضل سدوا عنی کل خوخۃ فی ھذاالمسجد غیر خوخۃ ابی بکر
واخرج الترمذی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مالاحد عندنا ید الاوقد کا فیناہ ماخلا ابابکر فان لہ عندنا یدا یکافیہ الله بہا یوم القیمۃ واما نفعنی میں کہتا ہوں اور نعمت کبری کی تکمیل بتو ل زہرا(فاطمہ) صلوات الله علی ابیہا الکریم و علیہا سے شادی ہوکر ہوئی۔اور یہ جو ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا خرچ اٹھاتے تھے۔تو یہ اس کے نزدیك جس کو احادیث و کتب سیرت سے واقفیت ہے بہت واضح اور خوب ظاہر ہے۔ امام احمد و بخاری نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے انہوں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور نے فرمایا:لوگو ں میں سے کوئی شخص نہیں جس کا اپنے جان ومال میں مجھ پر زیادہ احسان ہو سوا ابوبکر بن قحافہ کےاگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتالیکن اسلامی خلت اور محبت افضل ہے اس مسجد میں ابوبکر کے دروازہ کے سوا سب دروازے بند کرو۔
اور ترمذی نے(اپنی سند سے)ابوہریرہ(رضی الله تعالی عنہ) سے حدیث ذکر کی وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں(کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا)ہر شخص کے احسان کا بدلہ ہم نے اسے دے دیا سوائے ابوبکر کے کہ ان کا ہم پر وہ احسان ہے جس کا
#670 · الزلال النقی
مال احد قط مانفعنی مال ابی بکر ولوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابا بکر خلیلا الا وان صاحبکم(ای محمد اصلی الله تعالی علیہ وسلم)خلیل الله

واخرج ایضا عن علی رضی الله تعالی عنہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم:رحم الله تعالی ابابکر زوجنی ابنتہ وحملنی الی دار الھجرۃ و اعتق بلالا من مالہ ۔


واخرج الامام احمد و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم:ما نفعنی مال قط مانفعنی مال ابی بکرفبکی ابوبکر وقال ھل انا ومالی الا لك یا رسول الله ۔
واخرج الطبرانی عن ابن عباس بدلہ انہیں الله تعالی قیامت کے دن دے گااور مجھے کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو فائدہ مجھے ابوبکر کے مال نے دیااور اگرمیں کسی کو دو ست بناتا تو ضرور ابوبکر کو دو ست بناتااور خبر دار تمہارے صاحب(محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم)الله تعالی کے دوست ہیں۔"
اور ترمذی نے علی رضی الله تعالی عنہ سے بھی حدیث ذکر کی انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی: "الله ابوبکر پر رحمت کرے مجھ سے اپنی بیٹی کا عقد کیا اور مجھے دار الہجرۃ(مدینہ)میں لائے اور اپنے مال سے بلال(رضی الله تعالی عنہ)کو خرید کر آزاد کیا۔"
اورامام احمد وابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے نبی صلی الله تعالی تعالی علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی مجھے کبھی کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو ابوبکر کے مال نے مجھے دیاتو ابوبکر رودیئے اور عرض کی:یا رسول الله ! میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے۔"
اور طبرانی نے ابن عباس رضی الله تعالی
#671 · الزلال النقی
رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مااحد اعظم عندی یدا من ابی بکر واسانی بنفسہ ومالہ وانکحنی ابنتہ

واخر ج ابویعلی من حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا مرفوعا مثل حدیث ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ قال ابن حجر قال ابن کثیر مروی ایضا من حدیث علی اوبن عباس وجابربن عبدالله و ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنھم واخرجہ الخطیب عن ابن ا لمسیب مرسلا وزاد وکان صلی الله تعالی علیہ وسلم یقضی فی مال ابی بکر کما یقضی فی مال نفسہ۔واخرج ابن عساکر من طرق عن عائشۃ وعروۃ ان ابابکر اسلم یوم اسلم لہ اربعون الف دینار وفی لفظ اربعون الف درھم فانفقہا علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
قلت ومروی ایضا من حدیث سیدنا انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے یوں حدیث روایت کی"مجھ پر ابو بکر سے بڑھ کر کسی کا احسان نہیںاس نے اپنی جان ومال سے میرا ساتھ دیا اور مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا۔"
اورابو یعلی نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کی حدیث مرفوع حدیث ابن ماجہ براویت ابوہریرہ کے مثل (یعنی انہیں الفاظ سے)روایت کی۔ابن حجر نے فرمایا کہ ابن کثیر کا قول ہے کہ یہ حدیث علی وابن عباس وجابر بن عبدالله وابو سعید خدری سے بھی مروی ہے اور خطیب نے اسے ابن المسیب سے مرسل روایت کیا ور اتنا زیادہ کیا:"اور آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم ابوبکر کے مال سے اپنا قرض ادا فرماتے جس طرح اپنے مال سے ادا فرماتے۔اورابن عساکر نے متعد د سندوں سے حضرات عائشہ وعروہ سے روایت کیا ہے کہ ابوبکر جس دن اسلام لائے ان کے پاس چالیس ہزار دینار تھےاور ایك روایت میں ہے چالیس ہزار دینار تھےاور ایك روایت میں ہے چالیس ہزار درہم تھےتو ابوبکر نے انہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اٹھا دیا اھ۔
میں کہتا ہوں یہ حدیث سیدنا انس بن مالك سے بھی مروی ہے جیسا کہ امام عدی نے
#672 · الزلال النقی
کما اخرجہ الامام ابن عدی فی الکامل انبأنا المولی الثقۃ الحجۃ مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیۃ امام الفقہاء و المحدیثن سیدی واستاذی مولانا عبد الرحمن بن عبد الله بن عبدالرحمن السراج عن جمال العلماء السلف الخیر فی منصب الافتاء مولانا جمال بن عبدالله بن عمر المکی عن خاتمۃ الحفاظ والمحدثین مولانا محمد عابد بن الشیخ احمد علی السندی ثم الزبیدی ثم المدنی عن المولی محمد صالح الفلانی العمر ی عن الشیخ محمد بن السنۃ الفلانی الفاروقی عن مولای السید الشریف محمد بن عبد الله عن الفاضل المحدث سیدی علی الاجہوری عن الامام شمس الدین الرملی عن شیخ الاسلام زید الدین زکریا الانصاری عن علامۃ الوری جبل الحفظ شہاب الدین ابی الفضل احمد حجر العسقلانی عن ابی علی محمد بن احمد المہدوی عن یونس بن ابی اسحق عن ابی الحسن علی بن المقیر انا ابوالکریم الشھر زوری انا اسمعیل بن مسعد ۃ الجرجانی انا ابو القاسم حمزۃ بن یوسف السھمی الجر جانی وابوعمر و عبد الرحمن بن محمد الفارسی انا ابو احمد عبدالله بن عدی الجرجانی کامل میں اپنی سند سے روایت کیا ہے(سند حدیث مذکور) ہمیں خبر دی مولی ثقہ حجۃ مفتی حنفیہ بمکہ محمیہ پیشوائے فقہاء و محدثین سیدی واستاذی عبدالرحمن بن عبدالله بن عبد الرحمن سراج نے انہوں نے جمال علماء سلف خیر فی منصب الافتاء (یعنی منصب افتاء میں مفتیوں کے لئے اچھے پیشرو) مولانا جمال بن عبدالله بن عمر مکی سے روایت کی انہوں نے خاتمۃ الحفاظ والمحدثین مولانا محمد عابد بن شیخ احمد علی سندی ثم زبیدی ثم مدنی سے روایت کی انہوں نے مولی محمد صالح فلانی عمر ی سے انہوں نے شیخ محمد بن السنۃ فلانی فاروقی سے انہوں نےمولائی سید شریف محمد بن عبدالله سےا نہوں نے فاضل محدث سیدی علی اجہوری سےانہوں نے امام شمس الدین رملی سے انہوں نے شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری سے انہوں نے علامہ عالم کو ہ حفظ شہاب الدین ابوالفضل احمد بن حجر عسقلانی سےا نہوں نے ابوعلی محمد بن احمد مہدوی سے انہوں نے یونس بن اسحاق سے انہوں نے ابوالحسن علی بن مقیر سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوکریم شہر زوری سے ہمیں خبر دی اسمعیل بن مسعدہ بن جرجانی نے ہمیں خبر دی ابوالقاسم حمزہ بن یوسف سہمی جرجانی اور ابوعمر وعبدالرحمن بن محمد الفارسی نے ہمیں خبردی اور ابواحمد عبدالله بن عدی جرجانی
#673 · الزلال النقی
نا الحسین بن عبدالغفار الازدی نا سعید ابن کثیر بن غفیر نا الفضل بن مختار عن ابان عن انس قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لابی بکرما اطیب مالك منہ بلال موذنی وناقتی التی ھاجرت علیہا وزجنتی ابنتك و واسیتنی بنفسك ومالك کانی انظر الیك علی باب الجنۃ تشفع لامتی ۔
ھذا وقد ا سقصینا الکلام عی ھذین الفصلین الذین اشار الیہما النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی تلك الاحادیث اعنی مواساۃ الصدیق النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بنفسہ ومالہ فصلین من الباب الثانی من کتابنا الکبیر فی التفضیل علی غایۃ التحقیق و التفصیل فارجع الیہ ان احببت ھذا تقریر ماذکر الفاضل الرازی وقد اور دہ الامام ابن حجر ایضا فی الصواعق نے ہم سے حدیث بیان کی حسین بن عبدالغفار ازدی نے ہم سے حدیث بیان کی سعید بن کثیر بن غفیر نے ہم سے حدیث بیان کی فضل بن مختار نے ابان سے انہوں نے روایت کی انس سے انہوں نے فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا:تمہارا مال کتنا ستھرا ہے اسی سے میرا موذن بلال ہے اور میری اونٹنی ہے جس پر میں نے ہجرت کی اور تم نے اپنی دختر میرے نکاح میں دیا اور اپنی جان ومال سے میری مدد کی گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں جنت کے دروازہ پر کھڑے ہو میری امت کیلئے شفاعت کررہے ہو۔
یہ تو ہوا اور ہم نے ان دونوں فصل پر(یعنی صدیق کا نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مدد جان ومال سے کرنا)جن کی طرف نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان احادیث میں اشارہ فرمایا۔ کامل گفتگو اپنی کتاب کبیرجو باب تفضیل میں ہے کے باب دوم کی دوفصلوں میں نہایت تحقیق و تفصیل کے ساتھ کی ہے اس کا مطالعہ کرلو اگر چاہویہ کلام اس کلام کی تائید ہے جو فاضل رازی نے ذکر کیااور امام رازی کا یہ کلام امام ابن حجر میں صواعق محرقہ بھی لائے
#674 · الزلال النقی
وارتضاہ۔
قلت ولمنا قش ان یناقش فیہ باربعۃ وجوہ ینتظمہا وجہان الاول انا لانسلم ان ابابکر لم یکن علیہ احمد نعمۃ تجزی فان من اعظم المنعمین علی الانسان والدیہ قال تعالی" ان اشکر لی و لولدیک " ۔ ومعلوم ان لاشکر الا بمقابلۃ النعمۃ و نعم الوالدین من النعم الدنیویۃ التی تجری فیہا المجاز اہ دون الدینیۃ التی قال الله تعالی فیہا" قل ما اسـلکم علیہ من اجر" " ان اجری الا علی رب العلمین ﴿۱۰۹﴾" علی انا نعتقد ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قد تمت لہ خلافۃ الله العظمی ونیابتہ الکبری فیدہ الکریمۃ علیا و ایدی العلمین سفلی ۔جعل سبحنہ و تعالی خزائن رحمتہ ونعمہ وموائد جودہ وکرمہ طوع یدیہ و مفوضۃ الیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ینفق میں کہتا ہوں کسی کو مجال ہے کہ اس میں چار وجہ سے بحث کرے جن کو دو وجہیں گھیر ے ہیں پہلی وجہ یہ کہ ہمیں تسلیم نہیں کہ ابوبکر پر کسی کا ایسا احسان نہ تھا جس بدلہ دیا جائے اس لیئے کہ انسان پر بڑے محسنوں میں اس کے ماں باپ ہیں ۔ الله تعالی کا راشاد ہے : حق مان میرا او راپنے ماں باپ کا ۔ اور یہ معلوم ہے کہ شکر نعمت کے مقابل ہی ہوتا ہے اور والدین کے احسانات ان دینوی احسانات سے ہیں جن میں بدلہ دینا جاری ہے اور یہ دینی احسانات نہیں ہیں جن کی بابت الله کافرمان ہے ( حضو ر اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا) میں تم سے اس پر کچھ اجرت نیہں مانگتا میرا اجر تو جہانوں کے پروردگار پر ہے اس کے علاوہ ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے لئے الله تعالی کی خلافت عظمی اور نیابت کبری کامل ہوچکی تو ان کا دست کرم بالا اور سب جہانوں کے ہاتھ پست الله تعالی نے اپنی رحمت اور کل نعمت کے خزانے اور اپنے فیض وکرم کے خوان ان کے ہاتھوں کے مطیع کر دیئے اور یہ سب انہیں سونپ دیا جیسے چاہیں خرچ کریں
#675 · الزلال النقی
کیف یشاء وھو خزانۃ السر و موضع نفوذ الامر فلا تنال برکۃ الامنہ ولا ینقل خیر الاعنہ کما قال صلی الله تعالی عیہ وسلم انما انا قاسم والله المعطی ۔ فہو الذی یقسم الخیرات والبر کات وسائر النعماء والآلاء فی لارض والسماء والملك والملکوت والاول والاخروالباطن والظاھر ایقنت بھا جما ھیر الفضلاء العظام ومشاھیر الاولیاء الکرام کما حققتہ فی رسالتی الملقبۃ بسلطنۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم وفیہا من المباحث الفائقۃ والمدارك الشائقۃ ماتقربہ الاعین وتلذبہ الاذان وتنشرح بہ الصدور والحمد الله رب العلمین فاذن ماکان لابی بکر اور غیر ہ من مال وبلوغ امال الابعطاء النبی صلی الله علیہ وسلم فلم تنحصر النعم النبویۃ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ فی النعم الدینیۃ التی لاتجزی فکما ان علیا لم یصلح وموردا للایۃ فکذالك ابوبکر سواء بسواء ۔
اقول : والجواب عن اما اولا فلانہ اوروہ راز الہی کا خزانہ اور اس کے حکم کی جائے نفاذ ہیں تو برکت انہیں سے ملتی ہے اور خیر انہیں سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: میں تو بانٹتا ہوں اور الله دیتا ہے۔تو وہی خیرات وبرکات اور ساری نعمتیں آسمان و زمین وملك وملکوت اول آخر باطن وظاہر میں بانٹتے ہیں اس پر فضلاء عظام اور مشہور اولیائے کرام کے جمہور کا یقین ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفی میں تحقیق کی اس میں کچھ ایسے مباحث فاضلہ اور پسندیدہ دلائل ہیں کہ ان سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور کان لطف اندوز ہوتے ہیں اور سینے کھلتے ہیں تو جب یہ بات ہے ( کہ ساری برکت ونعمت مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کے سبب ہے) تو ابوبکر کو جو کچھ مال ومنال حاصل ہو اوہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی عطا سے ہی حاصل ہو الہذا نبوی احسانات علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ ان دینی احسانات میں منحصر نہیں جن کا بدلہ نہیں دیا جاتا تو جس طرح علی(رضی الله تعالی عنہ) آیت کے مصداق نہ ٹھہرے اسی طرح ابوبکر بھی یکسا ں طور پر آیت کے مصداق نہیں ۔

میں کہتا ہوں اس اعتراض کا جواب اول
#676 · الزلال النقی
ان صح ماذکر تم لتعطلت الایۃ راسا ولم یوجد لہا مصداق ابدا اذ لیس فی الصحابۃ من لم یلدہ ابواہ او لم ینعم علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی دینہ ودنیاہ ۔

واما ثانیا وھو الحل فلان نعم الدنیا لیست کلہا مما تجزی اذا لمجازاۃ ھو المکافات وحاصل نعمۃ الوالدین ان الله سبحنہ وتعالی جعلہا سببا لایجادہ وخروجہ من ظلمۃ العدم الی نور التکون وبھما جعلہ بشرا حسینا بعد ان کان ماء مہینا وھذا مما لایمکن ان یجازی اذا لیس فی وسع احد ان یحیی ابویہ او یکونہما بعد ان لم یکونا ولذلك قال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لایجزی ولد والدہ الاان یجدہ مملوکا فیشتر یہ فیعتقہ اخر جہ مسلم وابوداؤد تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیح ہوجو آپ نے ذکر کیا تو آیت سرے سے معطل ہوجائے گی اور کبھی اس کا کوئی مصداق نہ پایا جائے گا اس لئے کہ صحابہ میں کوئی ایسا نہیں جو اپنے ماں باپ سے پیدا نہ ہو یا اس پر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دین ودنیا کا کوئی احسان نہ فرمایا ہو۔
اور جواب دوم اور وہی حل ہے یہ کہ دنیا کے سب احسان ایسے نہیں جن کا بدلہ دیاجاتا ہو اس لئے کہ احسان کابدلہ یہ ہے کہ احسان کے مساوی اس کی جزا دے اور والدین کے احسان کا حاصل یہ ہے کہ الله سبحنہ وتعالی نے انہیں بچہ کی ایجاد اور عدم کی ظلمت سے نور ہستی میں آنے کا سبب بنایا ہے اور ان کے سبب سے اس کے بعد کہ وہ بے وقعت پانی تھا خوبصورت انسان بنایا اور یہ احسان کا بدلہ نہیں ہوسکتا یوں کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنے والدین کو زندہ کردے یا عدم کے بعد انہیں موجود کردے اسی لئےنبی صلی الله تعالی تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے ماں باپ کا بدلہ نہیں چکا سکتا مگر یہ کہ اسے غلام پائے تو اسے خرید کر آزاد کردے ۔" یہ حدیث مسلم وابوداؤد
#677 · الزلال النقی
والترمذی ونسائی وابن ماجۃ فاشار صلی الله تعالی علیہ وسلم الی بعض المجازاۃ علی حسب مایدخل تحت الامکان فان الرق موت حکما اذبہ تتعطل الاھلیۃ ویلتحق الانسان العاقل البالغ بالبہائم فالعتق کانہ احیاء لہ و اخراج من ظلمۃ البھیمیۃ الی نور الانسانیۃ فعن ھذ عد ادا ء لبعض حقوقہما وکذالك النعم النبویۃ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ علی حسب ماقر ر نا علیك لیست مما تجزی وتجری فیہ ذاك بھذا الانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ذلك المقام الرفیع والمنصب البدیع انما یتصرف علی خلافۃ الملك المقتدر تبارك و تعالی و نعم الملك لاتجزی فان الاحسان لایجازی الا بالاحسان کما نطق بہ القرآن العظیم ومایجازی بہ العبد لابد وان یکون ایضا من عطا یا ہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فکان مکافات عطائہ بعطائہ وترمذی ونسائی وابن ماجہ نے اپنی سندوں سے رویت کی تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تھوڑے بدلہ کی طرف (جو موافق مقدور بشر ہو ) اشارہ فرمایا اس لئے کہ غلامی موت کے حکم میں ہے اس وجہ سے کہ اس کے سبب آدمی کی اہلبیت معطل ہوجاتی ہے اور عاقل بالغ انسان جانوروں سے مل جاتا ہے لہذا اسے آزاد کرنا گویا کہ اس کو زندہ کرنا اور بہیمیت کی تاریکی سے انسانیت کی روشنی میں لے آناہے اسی لئے ماں باپ کو آزاد کرنا اس کے بعض حقوق کی ادائیگی میں شمار ہوا اسی طر ح نبوی احسانات علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے ثابت کیا ایسے نہیں جن کا بدلہ دیاجائے اور ان میں یہ مقولہ جاری ہو کہ یہ اس احسان کا بدلہ ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم تو اس مقام رفیع اور اس منصب بے نظیر میں بادشاہ قادر تبارك وتعالی کی خلافت پر فائز ہو کر متصرف ہیں اور بادشاہ کی نعمتوں کا بدلہ نہیں ہوتا اس لئے کہ بدلہ بغیر احسان کے نہیں ہوتا جیسا کہ اس پر قرآن عظیم ناطق ہے اور بندہ احسان کا جو بدلہ دے گا لامحالہ وہ بھی سر کار علیہ الصلوۃ والسلام کی عطا سے ہوگا تو سرکار کی عطا کی مکافات
#678 · الزلال النقی
وھو غیر معقول وعن ھذا نعتقد ان اداء شکر الله سبحنہ وتعالی بعمنی فراغ الذمۃ منہ محال عقلا اذا لشکر نعمۃ اخری فلیشکرھا حتی یخرج عن عہدتہ ویتسلسل الی مالایتناھی فثبت ان الدلیل لا غبار علیہ من ھذا الوجہ ۔
الثانی : ان المقدمۃ القائلۃ ان الامہ مجمعۃ علی ان افضل الخلق بعد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اما ابوبکر اوعلی رضی الله تعالی عنہما۔
مدخول فیہا اذھناك فرقتان اخریان تدعی احدھما تفضیل سیدنا الفاروق رضی الله تعالی عنہ علی جمیع الامۃ ومستند ھا مایروی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال ماطلعت الشمس علی رجل خیر من عمر وعنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لوکان بعدی نبی لکان عمر بن خطاب
وعنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الله تعالی باھی باھل عرفۃ عامۃ وباھی لعمر خاصۃ سرکاری عطا سے ہوگی اور یہ معقول نہیں یہیں سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ الله سبحنہ وتعالی کا شکر بہ معنی براء ت ذمہ از شکر عقلا محال ہے اس لئے کہ شکر نعمت دیگر ہے تو بندہ اس دوسری نعمت کا شکرکرے کہ عہدہ بر آہو اور یہ سلسلہ شکر کا نہایت کو نہ پہنچے تو ثابت ہو ا کہ دلیل اس وجہ سے بے غبار ہے
دوسری وجہ : یہ ہے کہ یہ مقدمہ جس کا مضمون ی ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد افضل یا ابوبکر ہیں یا علی رضی الله تعالی عنہما ۔ اس پر اجماع امت ہے ۔
اس پر اعتراض کو مجال ہے اس لئے کہ یہاں دو۲ فرقے اور ہیں ان میں کا ایك دعوی کرتا ہے کہ سیدنا فاروق رضی الله تعالی عنہ ساری امت سے افضل ہیں اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ"حضرت عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا ۔ اور آپ سے مروی ہے کہ : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر نبی ہوتے ۔
اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ"الله تعالی نے عرفات میں جمع ہونے والوں پر عام طور سے فخر فرمایا اور عمر سے خاص طور
#679 · الزلال النقی
وان کان الاستدلال بہا و بامثالہا لایقوم علی ساق اما روایۃ اودرایۃ اومعا کاستمساك المفضلۃ بحدیث علی خیر البشر وحدیث الطیر و حدیث الاستخلاف فی غزوۃ تبوك وماضا ھاھا فمنہا کذب مختلق ومنہا منکر واہ ومنہا ما یایفید ہم شیئا وکذلك مضت سنۃ الله فی کل مبتدع یحتج ولا حجۃ ویجنح حیث لامحجۃ۔



والفرقہ الاخری تدعی تفضیل سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی الله تعالی عنہما وکان ملحظہم وان لم یعط ففضہم قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فیہ اب عم الرجل صنو ابیہ وھو حدیث احسن اخرجہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ولاشك سے مباہات فرمائی ۔ اگر چہ اس روایت سے اور اس کے مشابہ روایتوں سے دلیل پائے ثبات پر قائم نہیں ہوتی یا بلحاظ روایت یا بلحاظ درایت یا دونوں کے لحاظ سے جیسے تفضیلیہ کا حدیث علی خیر البشر علی سب انسانوں سے افضل ہیں اور حدیث طیر اور غزوہ تبوك کے زمانہ میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کا علی (رضی الله تعالی عنہ) کو اپنا خلیفہ مقرر رفمانے کی روایت سے تمسك کا حال ہے کہ ان میں کچھ تو نری تراشیدہ جھوٹ ہیں اور کچھ منکر واہی ( راویان ثقہ کے مقابل روایان غیر ثقہ کی روایات ضعیف ہیں) اور کچھ انہیں بالکل فائدہ مند نہیں اور یو نہی الله تعالی کی سنت ہر بد مذہب کے حق میں ہوئی کہ وہ استدلال کرے حالانکہ دلیل نہیں اور وہاں کا قصد کرے جہاں راستہ نہیں ۔
اور دوسرافرقہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی الله تعالی عنہما کو سب سے افضل کہتا ہے گویا انکے مد نظر اگرچہ ان کی مراد نہیں دیتا اس بارے میں حضور صلی الله تعالی عنہ کا عباس رضی الله تعالی عنہ کے بابت قول ہے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے ۔ اور یہ حدیث حسن ہے جسے ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ اور کچھ شك نہیں کہ
#680 · الزلال النقی
انہ رضی الله تعالی عنہ شیخ المسلمین وسیدھم ومقدمہم وقائدھم وعز نفوسہم و تاج رؤسہم حتی الخلفاءالاربعۃ من ھذا الوجہ کما ان حضرۃ البتول الزھراء واخاھا السید الکریم ابراھیم علی ابیھما وعلیہما الصلوۃ التسلیم افضل الامۃ مطلقا من جہۃ النسب واجزائیۃ وکرامۃ الجوہر والطینۃ۔
وبالجملہ فلا یتعین احد من الشقوق الاربعۃ الا بابطال الثلثۃالباقیۃ جمیعا فکیف قلتم ان الایۃ لما لم تلتئم علی علی تعین ابوبکر مصد اقالہا علی ان المسائل السمعیۃ لاتنال الامن قبل السمع۔
فالناظر المتفحص الامذھب لہ قبل ان ینظر فی دلیل فیظہر لہ سبیل فان کان تمام الدلیل موقوفا علی (التمذھب) بمذھب لزم الدور وھذ انظیر ما اجبنا بہ عن استدلال الائمۃ الشافعیۃ علی افتراض الترتیب فی الوضوء بد خول الفاء حضرت عباس رضی الله تعالی عنہ شیخ المسلمین ہیں اور ان کے سردار ہیں اور ان کے صدر وقائد اور ان کی آبر واوران کے سروں کا تاج ہیں ۔اس وجہ سے چاروں خلفاء پر بھی انہیں فضیلت ہے ۔ جیسے حضرت فاطمہ زہر اور ان کے بھائی سید ابراہیم ان کے ولد اور ان پر صلوۃ وسلام ہو روئے نسب و جزئیت و کرامت جوہر وطینت تمام امت سے افضل ہیں ۔
بالجملہ ان چار شقون سے کوئی شق باقی تین وجوہ کو باطل کئے بغیر متعین نہیں ہوگی تو آپ نے کیونکر فرمایا کہ آیت کریمہ جب علی پر صادق نہ آئی تو ابوبکر اس کا مصداق متعین ہوئے علاوہ اس کے مسائل سمعیہ دلیل سمعی ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔
تو صاحب نظر وجستجو کا کوئی مذہب اس سے پہلے نہیں ہوتا کہ وہ دلیل میں غور کرے تو کوئی راہ اس کو روشن ہوجائے تو اگر دلیل کا تام ہونا کسی مذہب سازی پر موقوف ہوتو دور لازم آئے گا اور یہ اس جواب کی نظیر ہے جو ہم نے ائمہ شافعیہ کی اس دلیل کے جواب میں کہا جو انہوں نے وضو میں فرضیت ترتیب پر آیت کریمہ میں وجوہ
#681 · الزلال النقی
علی الوجوہ وعدم القائل بالفصل کما ھو مذکور فی الخلافیات۔
اقول : والجواب عنہان مستند نا الاول الذی علیہ المعول فی ھذ الباب اجماع الصحابۃ والتابعین لہم بالحسان رضی الله تعالی عنہم اجمعین کما نقلہ الامام الشافعی ثم البیہقی ثم اخرون ودلت علیہ احادیث عند البخاری وغیرہ کما فصلتہ فی الکتاب واقمت الدلیل الجلیل علی ان الاجماع تام کامل لم یثبت شذ وذمنہ ولاندور وان الخلاف الذی ذکرہ ابو عمر بن عبدالبر فلیس مما یعرج علیہ اویلتفت الیہ الا روایۃوالادرایۃ وان سلمنافالسواد االعظم مبتوع و اتباع الشاذ ممنوع وھذا القدر یکفینا للتمذھب فانتفی الدور نعم حدیث الفرقتین قوی صحیح لیکن لا یخل بالمقصود فان عمر و عباسا رضی الله تعالی عنہما لم یکونا سلما حین نزول الایۃ کما یظہر بالرجوع الی التاریخ فلم یقصدا بالایۃ قطعا وبہ بطل الشقان الباقیان وال الدلیل پر دخول فاء اور قائل بالفصل کے معدوم ہونے سے قائم کی جیسا کہ خلافیات میں مذکور ہے ۔
میں کہتا ہوں اور اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس بات میں ہماری اولین سند جس پر ہمارا اعتماد ہے جملہ صحابہ اور اچھے طریقے پر ان کے تمام پیر وان کا تابعین کا اجماع ہے جیسا کہ امام شافعی پھر بیہقی پھر دیگرائمہ نے اسے نقل کیا اور اس پر بخاری وغیرہ کی احادیث دلالت کرتی ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب میں مفصل بیان کیا ہے اور اس امر پر میں نے دلیل جمیل قائم کی کہ اجتماع تام کا مل ہے اور اس سے کسی کا خلاف ثابت نہیں اور یہ کہ جو خلاف علامہ ابوعمر بن عبدا لبر نے ذکر کیا نہ روایت کے لحاظ سے نہ درایت کے لحاظ سے وہ اس قابل ہے کہ نظراس پر گزرے یا اس کی طرف مڑکے دیکھا جائے ۔ اور اگر ہم مان لیں تو سواد اعظم ہی کی اتباع ہوگی اور شاذ ونادر کی اتباع ممنوع ہوگی اور اتنی بات ہمیں مذہب قرار دینے کو کافی ہے تو دور نہ رہا ہا ں ان دوفرقوں کی (جو حضرت عمر وعباس کی فضلیت پاتے ہیں) حدیث قوی وصحیح ہے لیکن مقصود میں خلل انداز نہیں اس لئے کہ عمر و عباس آیت کے نزول کے وقت مسلمان نہ تھے جیساکہ مطالعہ تاریخ سے ظاہر ہے تو یہ دونوں قطعی آیت کے مقصود ہی نہ ہوئے اور اسی وجہ سے باقی دو شقیں باطل ہوگئیں اور آخر کار دلیل
#682 · الزلال النقی
الی الاحصان والارصان والحمد لله ولی الاحسان غایۃ الامر ان الفاضل المستدل لم یطلع ھذین القولین اولم یعتد بہما لتنا ھیہما فی السقوط و الشذوذ علی أنا بحمد الله بعد ما ثبت الاجماع علی ان الصدیق ھو المراد فی غنی عن ھذہ التجشمات کما لا یخفی اذا ثبت ھذا فنقول وصف الله سبحنہ وتعالی الصدیق بانہ اتقی و صف الاتقی بانہ الکرم انتجت المقدمتان ان الصدیق اکرم عند الله تعالی و الافضل والاکرم والارفع درجۃ والاعلی مکانۃ کلہا الفاظ معتورۃ علی معنی واحد فثبت الفضل المطلق الکلی للصدیق والله تعالی ولی التوفیق ھذا تقریر الدلیل بحیث یشفی العلیل ویروی الغلیل والحمد للمولی الجلیل واعلم ان ھذا الاحتجاج اطبقت علیہ کلمات العلماء سلفا وخلفا وار تضوہ وتلقوہ بالقبول تلیدا و طارفا ولا شك انہ لجدیر بذلك لکن المفضلۃ لہم کلام فیہ بثلثۃ وجوہ نذکر ھا نرد ھا بحیث لایبقی ولا یذر بتوفیق الله العلی الاکبر ۔
فنقول الشبہۃ الاولی ان من المفسر ین من فسر الاتقی بالتقی مضبوط ومستحکم رہی اس معاملہ کی نہایت کا ریہ کہ فاضل مستد ل کو تو ان دونوں مذہبوں کا علم نہ ہوا یا اس وجہ سے کہ سقوط و ندرت میں حد کو پہنچے ہونےکی وجہ سے انہیں شمار ہی نہیں فرمایامزید برآں بحمد الله اس پر اجماع کہ صدیق ہی مراد آیت ہیں کہ ثابت ہونے کے بعد ہم ان تکلفات سے بے نیاز ہیں جیسا کہ ظاہر جب یہ بات ثابت ہوچکی تو ہم کہتے ہیں الله تعالی نے صدیق کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اتقی ہیں اور اتقی کا وصف بتایا کہ وہ اکرم ہے ان دو مقدموں نے نتیجہ دیا کہ صدیق الله تعالی کے نزدیك اکرم (سب سے افضل )ہیں اور افضل اکرم اور ارفع درجۃ اور اعلی منزلۃ یہ سب الفاظ ایك ہی معنی پر صادق آتے ہیں لہذا فضل مطلق کلی صدیق کیلئے ثابت ہے اور الله تعالی ہی تو فیق کا مالك ہے اور تم جان لو کہ اس استدلال پر جملہ علماء سلف وخلف کا اتفاق ہے اور سب نے اسے پسند کیا اور قبول کے ہاتھوں لیا ہے اور کوئی شك نہیں کہ یہ اس کے قابل ہے لیکن تفضیلیہ کو اس میں تین وجوہ سے کلام ہے ہم ان وجہوں کو خدائے بزرگ و بر تر کی توفیق کے سہارے ذکر کرتے ہیں اور ان کا ایسا رد کرتے جو کوئی شبہ باقی نہ چھوڑے اور کوئی شك نہ رہے ۔
ہم کہتے ہیں کہ پہلا شبہہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے اتقی کی تفسیر تقی (صفت
#683 · الزلال النقی
کمافی المعالم والبیضاوی وغیرھما من التفا سیر فسقط الاحتجاج عن اصلہ اقول ولا علینا ان نمھد اولا مقدمات تعینك ان شاء الله تعالی فی الجواب عن ھذا الاتیاب ثم نرفع الحجاب عن وجہ الصواب بتوفیق العلیم الوھاب فاستمع لما یلقی علیہ ۔


المقدمۃ الاولی ماتظافرت لادلۃ من العقل والنقل و ناھیك بھما اما مین علی ان الالفاظ لاتصرف عن ظواھر ھا مالم تمس حاجۃ شدیدۃ لاتندفع الابہ والا لم یکن ھذا تاویلا بل تغییرا وتبدیلا ولو فتح باب التصرفات من دون ضرورۃ تلجئ لارتفع الامان عن النصوص کما لایخفی وھذ بغایۃ ظہور ہ اغنانا عن تجشم اقامۃ الدلیل علیہ حتی ان بعض العلماء ادرجوہ فی متون العقائد وانہ لحقیق بہ فان قصاری ھمم المبتد عین عن اخر ھم انما ھو صرف النصوص عن الظواھر وارتکاب تاویلات مشبہ جس میں فضیلت دوسرے پر ملحوظ نہیں کہ صرف تقوی سے اتصاف ہے ) سے کی جیسا کہ معالم وبیضا وی وغیرہما تفاسیر میں ہے تو استدلال جس کی بنیا د اتقی کے اسم تفضیل ہونے پر تھی ) جڑ سے اکھڑا پڑا میں کہتا ہوں ہمارا کوئی حرج نہیں اس میں کہ ہم پہلے کچھ ایسے مقدمات کی تمہید اٹھائیں جو جواب میں ان شاء الله تعالی تمہاری مدد کریں پھر ہم خدائے دانا وبخشندہ کی تو فیق کے سہارے چہرہ صواب سے حجاب اٹھائیں تو سنو جو تم سے کہا جائے۔
پہلا مقدمہ عقل ونقل کی بکثرت دلیلیں (اور یہ دونوں امام تمہیں کافی ہیں) اس پر متفق ہیں کہ الفاظ کو اپنے ظاہر معنی سے پھیرنا منع ہے جب تك کہ سخت حاجت نہ ہو جو لفظ کو ظاہر معنی سے پھیرےبغیر دفع نہ ہو ورنہ یہ بے ضرورت پھیرنا تاویل نہ ہوگا بلکہ تغیر وتبدیل ٹھہرے گا اور اگر بے ضرورت پھیرنے کا دروازہ کھل جائے تو نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے جیسا کہ پوشیدہ نہیں اور یہ مسئلہ چونکہ نہایت ظاہر ہے اس لئے اس نے ہمیں دلیل قائم کرنے کی زحمت سے بے نیاز کردیا ۔ بعض علماء نے اس عقائد کے متون میں رکھا اور یہ مسئلہ اس کا سز وار ہے اس لئے کہ سب بدمذہبوں کی ساری کوشش یہی ہے کہ عبارات شرعیہ ان کے ظاہر ی معنی سے پھیر دیں او رفاسد
#684 · الزلال النقی
فاسدۃ واحتمالات کاسدۃ واعذار باردۃ فو جب علینا حسم مادتھا بایجاب حمل النصوص علی مایعطیہ ظاھرھا الابضرورۃ ابدا وھذا ظاھر جد ا ۔
المقدمۃالثانیۃ : لیس کل مایذکر فی اکثر التفاسیر المتداولۃ واجب القبول وان لم یسا عدہ معقول ویؤیدہ منقول والوجہ فی ذلك ان التفسیر المرفوع وھو الذی لامحیص عن قبولہ ابدا نذر یسیر جدا لایبلغ المجموع منہ جزء اوجزئین۔
قال الامام الجوینی علم التفسیر عسیر یسیر اما عسرہ فظاھر من وجوہ اظہر ھا انہ کلام متکلم لم یصل الناس الی مرادہ بالسماع منہ ولا امکان للصول الیہ بخلاف الامثال والاشعار ونحوھا فان الانسان یمکن علمہ منہ اذاتکلم بان یسمع منہ او ممن سمع منہ واما القرآن فتفسیرہ علی وجہ القطع لایعلم الابان یسمع من الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم و ذلك متعذر الا فی تاویلوں اور کھوتے احتمالوں اور نہ چلنے والے بہانوں کے مرتکب ہوں تو ہم پر واجب ہے کہ نصوص شرعیہ کو مقام ضرورت کے سوا ہمیشہ ان کے ظاہری معنی پر رکھنا واجب بتا کر ان تا ویلات کا مادہ کاٹ دیں اور یہ بات خوب ظاہر ہے۔
دوسرا مقدمہ : بہت سی متداول تفسیروں میںجو مذکورہوتا ہے وہ سب ایسا نہیں جس کا قبول کرنا ضروری ہو اگر چہ نہ کوئی دلیل عقلی اس کی معین ہو نہ کوئی دلیل شرعی اس کی موید ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر مرفوع ( جو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمائی ) وہ بہت تھوڑی ہے جس کا مجموعہ دو جز بلکہ ایك جز کو بھی نہیں پہنچتا ۔
امام جو ینی کا قول ہے علم تفسیر مشکل اور کم ہے اس کا مشکل ہونا تو کئی وجوہ سے ظاہر ہے ان میں روشن تروجہ یہ ہے کہ وہ ایسے متکلم (عزجلالہ) کا کلام ہے جس کی مراد کو لوگ اس سے سن کر نہ پہنچے اور نہ اس کی طرف رسائی کا امکان ہے بخلاف امثال واشعار اور ان جیسی اور باتون کے کہ انسان کو بولنے والے کی مراد معلوم ہوسکتی ہے جب وہ بولے بایں طور کہ وہ اس سے خود سنے یا اس سے سنے جس نے اس سے سنا ہو ۔ رہی قرآن کی قطعی طور پر تفسیر تو وہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے سنے بغیر معلوم نہ ہوگی اور وہ (جو سرکار
#685 · الزلال النقی
ایات متعددۃ قلائلفالعلم بالمراد یستنبط بامارات ودلائلوالحکمۃ فیہ ان الله تعالی اراد ان یتفکر عبادہ فی کتابفلم یامر نبیہ صلی الله تعالی علیہ و سلم بالتنصیص علی المراد فی جمیع آیاتہ اھ وقال الامام الزرکشی فی البرھان للناظر فی القرآن لطلب التفسیر ماخذ کثیرۃ امہاتھا اربعۃ الاول النقل عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھذا ھوالطراز الاول لیکن یجب الحذر من الضعیف فیہ والموضوع فانہ کثیر الخ۔
قال الامام السیوطی الذی صح من ذلك قلیل جدا بل اصل الوضوع منہ فی غایۃ القلۃوکذلك الماثور عن الصحابۃ الکرام و التابعین لہم باحسان قلائل لہذہ الطوامیر الکبروالا قاویل الذاھبۃ شذر مذر فیہا لاخبر ولا اثر و انما حدثت بعدھم لما کثرت الاراء و تجاذبت الاھواء قام کل لغوی و نحوی وبیانی وکل من لہ علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا گیا )چند گنتی کی آیتوں کے ماسوا میں تعذر ہے تو مرد الہی کا علم امارات ودلائل سے مستخرج ہوتا ہے اور حکمت اس میں یہ ہے کہ الله تعالی نے چاہا کہ اس کے بندے اس کی کتاب میں غور وفکر کریں لہذا اپنے نبی (صلی الله تعالی علیہ وسلم )کو اپنی تمام آیات کی مراد واضح طور پر بتانے کا حکم نہ دیا اھ۔اور اما م زرکشی نے برہان میں فرمایا جو شخص قرآن میں تفسیر کے حصول کیلئے نظر کرتا ہے اس کے لئے بہت سے مراجع ہیں جن کے اصول چار ہیںاول وہ تفسیر جو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے منقول ہو اور یہی پہلا نمایاں طریقہ ہےلیکن اس میں ضعیف وموضوع سے احتراز واجب ہے اس لئے کہ وہ ( ضعیف وموضوع ) زیادہ ہے الخ۔
امام سیوطی نے فرمایا جو ان کی طرف سے صحیح ہے وہ بہت کم ہے بلکہ اس میں اصل موضوع قلت ہی ہے۔اور اسی طرح وہ تفسیر جو صحابہ کرام اور ان کے تابعین نیکو کار سے منقول ہے وہ ان بڑے طوماروں اور ان اقوال کے مقابل کم ہیں جو مختلف راہوں میں چلے گئے اور ان کے لئے کوئی حدیث یا صحابی و تابعی کا قول نہیںیہ اقوال تو صحابہ وتابعین کے بعد ظاہر ہوئے۔جب خیالات بسیار ہوئے اور مذاہب میں
#686 · الزلال النقی
مما رسۃ بشیئ من انواع علوم القرآن یفسر الکلام العزیز بما سمح بہ فکرہ وادی الیہ نظرہ ثم جاء الناس مہر عین وبجمع الاقوال مولعین فنقلوا ما وجدوا وقلیلا مانقدوا فعن ھذا جاء ت کثرہ الاقاویل ختلاط الصواب بالا باطیل۔

وذکر ابن تیمیۃ کما نقلہ الامام السیوطی قائلا انہ نفیس جدا لذلك وجہیناحدھما قوم اعتقدوا معانیثم ارادو ا حمل الفاظ القرآن علیہا۔والثانی قوم فسروا القرآن بمجرد مایسوغ ان یریدہ من کان من الناطقین بلغۃ العرب من غیر نظر الی المتکلم بالقرآن والمنزل علیہ المخاطب بہفالا ولون راعوا المعنی الذی رأوہ من غیر نظر الی ما یستحقہ الفاظ القرآن من الدلالۃ والبیان۔و الاخرون راعوامجرد اللفظ و مایجوز ان یرید بہ العربی من غیر نظم الی ما یصلح للمتکلم وسیاق الکلام۔ کشاکش ہوئی تو ہر لغوی ہر نحوی اور ہر عالم بلاغت اور ہر وہ شخص جسے علوم قرآن کی قسموں سے کسی قسم کے علم کی ممارست تھی اس کلام سے کلام عزیز کی تفسیر کرنے لگا جو اس کی سمجھ تك تھا اور جس کی طرف اس کی نظر پہنچی۔پھر لوگ رواں دواں اقوال کو جمع کرنے کے سائق ہوئے تو جوانہوں نے پایا اسے نقل کردیا اور تحقیق کم کی تو اسی سے اقوال کی کثرت اور حق کی ناحق سے آمیز ش آئی۔
اور ابن تمییہ نے جیسا کہ امام سیوطی نے اس کا کلام یہ کہہ کر نقل کیا کہ وہ بہت نفیس ہے اس کی دو وجہیں ذکر کیں:پہلی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ معانی کو عقیدہ ٹھہرالیاپھر انہوں نے قرآن کے الفاظ کو ان پر رکھنا چاہا۔اور دوسری وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کی تفسیر محض ان الفاظ سے کی جو کسی عربی زبان بولنے والے کی مراد ہوسکتے ہیں انہوں نے قرآن کے متکلم (باری تعالی) اور جس پر اترا اور جو اس کا مخاطب ہے کی طرف نظر نہ کی تو پہلی جماعت نے تو اس معنی کی رعایت کی جو ان کا عقیدہ تھاانہوں نے قرآن کے الفاط کے دلالت اور بیان جس کے وہ الفاظ سز اوار ہیں کہ نطر انداز کردیا۔اور دوسروں نے صرف لفظ او جو عربی کی مراد ہوسکتا ہے اس کا لحاظ کیا قطع نطر اس سے کہ متکلم کے شایان کیا ہے اور سیاق کلام کیا ہے۔
#687 · الزلال النقی
ثم ھوالاء کثیرا ما یغلطون فی احتمال اللفظ لذلك المعنی فی اللغۃ کما یغلط فی ذلك الذین قبلہم کما ان لاولین کثیر اما یغلطون فی صحۃ المعنی الذی فسروا بہ القرآن کما یغلط فی ذلك الاخرون وان کا ن نظر الاولین الی المعنی اسبق ونظر الاخرین الی اللفظ اسبقوالا ولون صنفان نارۃ یسلبون لفظ القرآن مادل علیہ واریدبہ وتارۃ یحملونہ علی ما لم یدل علیہ ولم یردبہوفی کلا الامرین قد یکون ماقصد وا نفیہ اواثباتہ من المعنی باطلا فیکون خطاھم فی الدلیل والمدلول وقد یکون حقا فیکون خطاھم فیہ فی الدلیل لا فی المدلول (الی ان قال) وفی الجملۃ من عدل عن مذاھب الصحابۃ والتابعین وتفسیرھم الی ما یخالف ذلك کان مخطئا فی ذلك بل مبتدعا لانہم کانوا اعلم بتفسیرہ ومعانیہ کما انہم اعلم بالحق الذی بعث الله بہ رسولہ اھ ملخصا۔ پھر یہ لوگ بسا اوقات لغت کے اعتبار سے لفظ کے اس معنی کو (جو انہوں نے مراد لئے ) محتمل ہونے میں خطا کرتے ہیں جیسا کہ ان کے پہلے والے بھی یہی غلطی کرتے ہیں جس طرح یہ اگلے اسی معنی کی صحت میں غلطی کرتے ہیں جس سے انہوں نے قرآن کی تفسیر کی جیسا کہ دوسرے لوگ یہی خطا کرتے ہیں اگر چہ پہلے والوں کی نظر معنی کی طرف پہلے پہنچتی ہے اور دوسروں کی نظر لفظ کی طرف سبقت کرتی ہے اور پہلی جماعت دوصنف ہے کبھی تو لفظ قرآن سے اس کا مدلول ومراد چھین لیتے ہیں اور کبھی لفظ کو اس پر رکھتے ہیں جو اس کا معنی و مطلب نہیں اور دونوں باتوں میں کبھی وہ معنی جس کی نفی اثبات ان کا مقصود ہوتی ہے باطل ہوتا تو ان کی خطا لفظ و معنی دونوں میں ہوتی ہے اور کبھی حق ہوتا ہے تو ان کی خطا لفظ میں ہوتی ہے نہ کہ معنی میں۔( ابن تمیہ نے یہاں تك کہا) مختصر یہ کہ جو صحابہ وتابعین اور ان کی تفسیر سے پھر کر ان کا خلاف اختیار کرے گا وہ اس میں بر سر خطا ہوگا بلکہ بد مذھب ہوگا اس لئے کہ صحابہ وتابعین کو قرآن کی تفسیر اس کے مطالب کا علم سب سے زیادہ تھاجس طرح انہیں اس حق کی جس کے ساتھ الله نے اپنے رسول کو بھیجا خبر سب سے زیادہ تھی اھ ملخصا۔
#688 · الزلال النقی
ولذا قال الامام ابو طالب طبری فی اوائل تفسیرہ فی القول فی آداب المفسرویجب ان یکون اعتمادہ علی النقل عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وعن اصحابہہ ومن عاصرھم ویتجنب المحدثات الخ۔
قال ابن تمیۃ ایضا کان النزاع بین الصحابۃ فی تفسیر القرآن قلیلا جد اوھو (و) عــــــہ ان کان بین التابعین اکثر منہ بین الصحابۃ فہو قلیل بالنسبۃ الی مابعد ھم الخ۔وقال السیوطی بعد ما ذکر تفاسیر القدماء"ثم الف فی التفسیر خلایق فاختصر وا الاسانید ونقلوا الا قوال بترا فدخل من ھنا الدخیل والتبس الصحیح بالعلیلثم صارکل من یسنح لہ قول یوردہومن یخطر بیالہ شیئ یعتمد ہثم ینقل ذلك عنہ من یجیئ بعدہ ظانا ان لہ اصلا غیر ملتفت الی تحریرما وردعن السلف الصالح ومن یرجع الیہم فی التفسیر حتی رایت اور اسی لئے امام ابو طالب طبری نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں آداب مفسر کے بیان میں فرمایا کہ ضروری ہے کہ مفسر کا اعتماد اس پر ہو جو نبی سلی الله تعالی علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین سے منقول ہے اور نئی باتوں سے بچے۔نیز ابن تمیہ کا قول ہےصحابہ کے درمیان قرآن کی تفسیر میں بہت کم اختلاف تھا اور تابعین میں اگر چہ اختلاف صحابہ سے زیادہ ہو امگر ان کے بعد والوں کی بہ نسبت تھوڑا تھااور سیوطی علیہ الرحمہ نے قدماء کی تفسیروں کا ذکر فرمایا کہ فرمایا:پھر تفسیر میں بہت لوگو ں نے کتابیں تصنیف کیں تو انہوں نے سندوں کو مختصر کردیا اور ناتمام اقوال نقل کئے تو اس وجہ سے دخیل گھسا اور صحیح و غیر صحیح مخلوط ہوگئے پھر ہر شخص جس کے دل میں کوئی بات آئی اس کو ذکر کرنے لگا۔اور جس کے فکر میں جو خطرہ گزرا وہ اس پر اعتماد کرنے لگا۔پھر اس کے بعد جو آتا رہا وہ اس کے یہ خیالات نقل کرتا رہا اور اس گمان میں کہ اس کی کوئی اصل ہےسلف صالحین اور ان لوگو ں سے جو تفسیر میں مرجع ہیں اور جو وارد ہوا اس کی تحقیق کی طرف توجہ نہ کی یہاں تك کہ میں نے

عــــــہ:سقطت ھذہ الواؤ من قلم الناسخ و زدناھا فی القوسین بعد ما رأینا الاتقان فوحدناھا فیہ۔الازھری غفرلہ
#689 · الزلال النقی
من حکی فی تفسیر قولہ تعالی غیر المغضوب علیہم و لاالضالین"نحو عشرۃ اقوالوتفسیر ھا بالیہود و النصاری ھو الوارد عن النبی صلی الله تعالی علیہ و سلم وجمیع الصحابۃ والتابعین و اتباعہم حتی قال ابن ابی حاتم الااعلم فی ذلك اختلافا بین المفسرین (الی ان قال)فان قلت فای التفاسیر ترشد الیہ وتامر الناظر ان یعول علیہ۔
قلت تفسیر الامام ابی جعفر بن جریی الطبری الذی اجمع العلماء المعتبرون علی ان لہ یؤلف فی التفسیر مثلہ الخ۔وفی المقاصد البر ھان والاتقان غیرھا عن الامام اجل احمد بن حنبل رضی الله تالی عنہ قال ثلثہ لیس لہا اصل المغازی والملاحم والتفسیر اھ
قلت وھذا ان لم یکن جاریا علی اطلاقۃ لما(عہ) یشہد بہ الواقع الا انہ ایسے شخص کو دیکھا جس نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کی تفسیر میں تقریبا دس قول نقل کئے حالانکہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم او رتمام صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے یہی منقول ہے کہ اس سے یہود و نصا ری مراد ہیں یہاں تك کہ ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ مجھے مفسرین کے درمیان اس میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں (یہاں تك انہوں نے کہا) اب اگر تم کہو تو کون سی تفسیر کی طرف آپ رہنمائی فرقے ہیں اور ناظر کو کس پر اعتماد کا حکم دیتے ہیں۔
میں کہوں گا تفسیر امام ابو جعفر بن جریر طبری کی تفسیر معتمد علماء نے جس کے لئے بالاتفاق فرمایا کہ تفسیر میں اس کی جیسی کوئی تالیف نہیں ہوئی الخ۔اور مقاصدبرہان اور اتقان وغیرہ میں امام اجل احمد بن حنبل رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:تین کتابوں کی کوئی اصل نہیںکتب سیرو غزوات وتفسر اھ۔میں کہتا ہوں اگر چہ یہ بات اپنے اطلاق پر جاری نہیں جیسا کہ کہ واقعہ اس کاگواہ ہے مگر یہ بات

عہ:لعلہ کما۔الازھری غفرلہ
#690 · الزلال النقی
لم یقلہ ما لم یر الخلط غالبا علیہا کمالا یخفی وھذا فی زمانہ فیکف بما بعدہ وفی مجمع بحار الانوار عن رسالۃ ابن تیمیۃ"وفی التفسیر من ھذہ الموضوعات کثیرہ کما یرویہ الثعلبی والواحدی والزمخشری فی فضل السور والثعلبی فی نفسہ کان ذاخیر ودین لکن کان حاطب لیل ینقل ماوجد فی کتب التفسیر من صحیح وضعیف وموضوع والواحدی صاحبہ کان ابصر منہ بالعربیۃ لکن ھو ابعد عن اتباع السلفوالبغوی تفسیرہ مختصر من الثعلبی لکن صان تفسیرہ عن الموضوع والبدع اھوفیہ عن جامع البیان لمعین بن صیفی قد یذکرمحی السنۃ البغوی فی تفسیرہ من المعانی والحایات ما اتفقت کلمۃ المتاخرین علی ضعفہ بل علی وضعہ اھوفیہ عن الامام احمد رحمۃ الله تعالی انہ قال فی تفسیر الکلبی یقینی ہے کہ امام احمد نے یہ بات نہ کہی جب تك ان کتابوں میں صحیح وسقیم کے خلط کا غلبہ نہ دیکھ لیا جیسا کہ ظاہر ہے اور یہ تو ان کے زمانہ میں تھا تو ان کے بعد کیسی حالت ہوئی ہوگی۔اور مجمع بحار الانوار میں رسالہ ابن تیمییہ سے منقول ہے اور تفسیر میں ان موضوعات سے بہت ہے جیسے وہ حدیثیں جو ثعلبی اور واحدی اور زمخشری سورتوں کی فضیلت میں روایت کرتے ہیں اور ثعلبی اپنی صفات میں صاحب خیر و دیانت تھےلیکن رات کے لکڑہارے کی طرح تھے کہ تفسیر کی کتابوں میں صحیحضعیفموضوع جو کچھ پاتے نقل کردیتے تھےاور ان کے ساتھی واحدی کو عربیت میں ان سے زیادہ بصیرت تھی لیکن وہ سلف کی پیرو ی سے بہت دور تھااور بغوی کی تفسیر ثعلبی کی تلخیص ہےلیکن انہون نے اپنی تفسیر کو موضاعات اور بد عتوں سے بچایاہے اور اسی میں جامع البیان مصنفہ معین بن صیفی سے ہے"کبھی محی السنۃ بغوی اپنی تفسیر میں وہ مطالب و حکایات ذکر کرتے ہیں جسے متاخرین نے یك زبان ضعیف بلکہ موضوع کہا ہےاور اسی میں امام احمد رحمۃ الله تعالی علیہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:تفسیر کلبی میں شروع ہے
#691 · الزلال النقی
من اولہ الی اخرہ کذب لایحل المنظر فیہا اھ
وقد عد الخلیل فی الارشاد اجزاء قائل من التفسر صحت اسانید ھا وغالبھا بل کلہا لا توجد الان اللھم الانقول عنہا فی اسفارالمتاخرین"قال وھذہ التفاسیر الطوال التی اسندوھا الی ابن عباس غیر مرضیۃ ورواتھا مجاھیل کتفسیر جو یبر عن الضحاك عن ابن عباس الخ۔وقال فاما ابن جریج فانہ لم یقصد الصحۃ وانما روی ماذکر فی کل ایۃ من الصحیح والسقیموتفسیر مقاتل بن سلیمان فمقاتل فی نفسہ ضعفوہ وقد ادرك الکبار من التابعین و الشافعی اشار الی ان تفسیرہ صالح ۔
قال المولی السیوطی قدس الله سرہ واوھی طرقہ ( یعنی تفسیر ابن عباس رضی الله تعالی عنہما ) طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس فان انضم الی ذلك روایۃ محمد بن مروان السدی آخرتك جھوٹ ہے اس کا مطالعہ حلال نہیں اھ۔
اور بے شك خلیلی نے ارشاد میں تھوڑے تفسیر کے جزا یسے شمار کئے جن کی سندیں صحیح ہیں اور ان کا اکثر بلکہ چند نقول ان کی متاخرین کی کتابوں مین ہیںابن تمییہ نے کہا اور یہ لمبی تفسیر یں جن کی نسبت لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے کی ہے ناپسندیدہ ہیں اور اس کے راوی مجہول ہیں جیسے تفسیر جویبر بر وایت ضحاك عن ابن عباس الخ۔اور کہا رہے ابن جریح تو انہوں نے صحیح روایتوں کا قصد نہ کیا انہوں نے ہر آیت کی تفسیر میں جو ك چھ صحیح وسقیم مذکورہوا روایت کردیا۔اور مقاتل بن سلیمان کا علماء نے فی نفسہ ضعیف بتایا حالانکہ انہوں نے اکابر تابعین سے اور امام شافعی سے ملاقات کی یہ اشارہ ہے کہ ان کی تفسیر لائق قبول ہے اھ۔امام سیوطی قدس سرہ نے فرمایا اورتفسیر ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کی سب سے کمزور سند کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس سے پھراگر اس کے ساتھ محمد بن مروان سدی صغیر کی روایت مل جائے
#692 · الزلال النقی
الصغیر فھی سلسلۃ الکذب وکثیر ا مایخرج منہا الثعلبی والواحدیولکن قال ابن عدی فی الکامل للکلبی احادیث صالحۃ وخاصۃ عن ابی صالح وھو معروف بالتفسیر ولیس لاحد نفسیر اطول منہ و لا اشبعوبعدہ مقاتل بن سلیمان الا ان الکلبی یفضل علیہ لما فی مقاتل من المذاھب الردیئۃ و طریق الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس منقطعۃ فان الضحاك لم یلقہ فان انضم الی ذلك روایۃ بشربن عمارۃ عن ابی روق عنہ فضعیفۃ لضعف بشروقد اخرج من ھذہ النسخۃ کثیرا ابن جریر وابن ابی حاتموان کان من روایۃ جویبر عن الضحاك فاشد ضعفا لان جویبرا شدید الضعف متروك الخ۔قال ورایت عن فضائل الامام الشافعی لابی عبد الله محمد بن احمد بن شاکر القطان انہ اخرج بسندہ من طریق بن عبد الحکم قال سمعت الشافعی یقول لم یثبت عن ابن عباس فی التفسیر الاشبیہ تو یہ جھوٹ کا سلسلہ ہےاو رایسا بہت ہوتا ہے کہ ثعالبی اور واحدی اس سلسلہ سےروایت کرتے ہیں۔لیکن ابن عدی نے کامل میں فرمایا کلبی کی احادیث قابل قبول ہیں اور خصوصا ابو صالح کی روایت سے اور وہ تفسیرکے سبب معروف ہیں اور کسی کی تفسیر ان سے زیادہ طویل اور بھر پور نہیںاور ان کے بعد مقاتل بن سلیمان ہیںمگر کلبی کو ان پر اس لئےفضیلت ہے کہ مقاتل کے یہاں ردی خیالات ہیںاور سند ضحاك بن مزاحم عن ابن عباس منقطع ہے اس لئے کہ ضحاك نے ابن عباس سے ملاقات نہ کیپھر اگر اس کے ساتھ روایت بشر بن عمارہ عن ابی روق مل جائے تو بوجہ ضعف بشر ضعیف ہےاس نسخہ سے بہت حدیثیں ابن جریر اور ابن حاتم نے تخریج کیں اور اگر جوبیر کی کوئی روایت ضحاك سے ہو تو سخت ضعیف ہے اس لئے کہ جوبیر شدید الضعف متروك ہےانہوں نے کہا اور میں نے فضائل امام شافعی مصنفہ ابو عبدالله محمد بن احمد بن شاکر قطان میں دیکھا کہ انہوں نے اپنی سند بطریق ابن عبدالحکم روایت کیا کہ ابن عبد الحکم نے فرمایا میں نے امام شافعی کو فرماتے سنا کہ ابن عباس ( رضی الله تعالی عنہ )کی تفسیر میں تقریبا سو حدیثیں
#693 · الزلال النقی
بمائۃ حدیث
قلت وھذہ معالم التنزلیل للامام البغوی مع سلامۃ حالہابالنسبۃ الی کثیر من التفاسیر المتداولۃ و دنوھا الی المشرع الحدیثی یحتوی علی قناطیر مقنطر ۃ من الضعاف والشواذ والواھیات المنکرۃ و کثیرا ماتدور اسانیدھا علی ھولاء المذکورین بالضعف والجرح کالثعلبی والواحدی والکلبی والسدی و مقاتل وغیرھم ممن قصصنا علیك اولم نقصص فما ظنك بالذین لااعتناءلہم بعلم الحدیث ولا اقتدار علی نقد الطیب من الخبیث کالقاضی البیضاوی وغیرہ ممن یحذو حذوہفلا تسئل عما عندھم من ابا طیل لازمام لہا ولاخطام دع عنك ھذا یالیتہم اقتصروا علی ذلك لکن بعضہم تعدوا ماھنا لك وسلکوا مسالك تجر الی مہالك فادلجوا فی تفسیر القرآن ماتقف لہ الشعر وتنکرہ القلوب وتمجہ الاذن اذقرر واقصص الانبیاء الکرام والملئکۃ العظام علیہم الصلوۃ والسلام ثابت ہیں۔
میں کہوں گا اور یہ معالم التنزیل ہے جو امام بغوی کی تصنیف ہےباوصف یہ کہ بہت سی رائج تفسیروں کے مقابل غلطیوں سے محفوظ ہے اور طرفہ حدیث سے قریب ہے بہت ضعیف و شاذاور واہی منکر روایتوں پر مشتمل ہے اور ایسا بہت ہوتا ہے اس کی روایت کی سندیں ان پر دو رہ کرتی ہیں جن کانام ضعف وجرح کے ساتھ لیا جاتا ہے جیسے ثعلبیواحدیکلبیسدی اور مقاتل وغیرہم جن کا ہم نے تم سے بیان کیا اور جن کا بیان نہ کیا تو تمہارا گمان انکے ساتھ کیساہے جنہیں علم حدیث کا اہتمام نہیں اور ستھرے کو میلے سے الگ کرنے کی قدرت نہیں جیسے قاضی بیضاوی اور ان کے علاوہ جو بیضاوی کے طریقہ پر چلتے ہیںتو ان کے پاس ان باطل اقوال کا حال نہ پوچھو جن کے لئے نہ لگام ہے نہ بندش کی رسیاس خیال کو اپنے سے دور رہنے دوکاش یہ لوگ اسی پر بس کرتےمگر ان میں سے کچھ لوگ اس سے آگے بڑھے اور ایسے رستے چلے جو ہلاکتوں کی طرف کھینچ کرلے جائیں تو انہوں نے قرآن کی تفسیر میں ایسی باتیں داخل کردیں جن سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل انہیں ناپسندکرتے اور کان انہیں پھینکتے ہیں اس لئے
#694 · الزلال النقی
بما ینقض عصمتہم وینقص اویزیل عن قلوب الجہال عظمتہم کما یظہر علی ذلك من راجع قصۃ ادم وحواء وداؤد و اوریا وسلیمان والجسد الملقی و الالقاء فی الامنیۃ والغرانقۃ العلی وھاروت و ماروت وما ببابل جری فبالله التعوذ والیہ المشتکی فاصابھہم فی ذلك ما اصاب اھل السیر والملاحم فی نقل مشاجرات الصحابۃاذجاء کثیر منہا مناقضا للدین وموھنا للیقین وازدارد خنا علی وخن وھنات علی ھنات ان اطلع علی کلامہم بعض من لیس عندہ آثار ۃ من علم ولامتانۃ من حلم فضل و اضل اما اغترارابکلما تہم جھلا منہ بما فیہ من الوبال البعید والنکال الشدید واما ظلما وعلوا لاجتراء ہ بذلك علی ابانۃ مافی قلبہ المرض من تنقیص الانبیاء وتفسیق الاولیاء فمضی علیہ الکبیر و نشاء علیہ الصغیر انبیاء کرام وملائکہ عظام کے قصوں میں ایسی باتوں کو مقرر رکھا جن سے اس کی عصمت نہیں رہتی او رجاہلوں کے دل مین ان کی عظمت کم ہوجاتی ہے یا زائل ہوجاتی ہے۔چنانچہ یہ بات آدم و حوا وداؤد و اور یا اور سلیمان اور انکی کرسی پرپڑے ہوئے جسم اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تلاوت کے دوران شیطان کے القاء اور غرانیق علی کے واقعات اور ہارو ت و ماروت اور بابل کا ماجر ا کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے تو الله ہی کی پناہ اور اسی سے ان کی شکایت ہے تو ان کو ان باتوں سے وہ مرض لگا جو مصنفین واقعات سیرت ومغازی کو صحابہ کے اختلافات کو نقل کرنے سے لگا اس لئے کہ بہت باتیں دین کے مخالف اور ایمان کو کمزو کرنے والی ان لوگو ں سے ظاہر ہوئیں اور فساد پر فساد اور خطاؤں پر خطائیں یوں بڑھ گئیں کہ ان لوگو ں کے کلام کی اطلاع کچھ ان لوگوں کو ہوگئی جن کے پاس نہ کچھ بچا کھچا علم تھا نہ عقل کی پختگیتو وہ خود گمراہ ہوئے اور اوروں کو گمراہ کیا یا تو ان کےکلمات سے دھوکا کر اس کے وبال شدید وسخت عذاب سے بے خبری میں یاظلم وسر کشی کی وجہ اسے اس لئے کہ ان باتوں سے انہیں اس کے اظہار کی جرات ہوئی جو انبیاء کی تنقیص اور اولیاء کی تفسیق ان کے دل میں تھی تو اس پر بڑے گزرے اور چھوٹے پر وان چڑھے اور یہ
#695 · الزلال النقی
فاختل دین کثیر من الناقصین وصاروا شرا من العوام العامین اذلم یقدرو ا علی مطالعتہا فنجوا عن فتنتہا وقد بذل علماء نا النصح للثقلین فشد دو االنکیر علی کلا الفریقین اعنی التفاسیر والوھیۃ و السیر الداھیۃ فاعلنوا انکار ھا و بینوا عوارھا کالقاضی فی الشفاء والقاری فی الشرح والخفاجی فی النسیم والقسطلانی فی المواھب والزرقانی فی الشرح والشیخ فی المدارج وغیرھم فی غیرھا رحمۃ الله علیہم اجمعینوالحمدلله رب العالمینولقد الان القول ابوحیان اذقال کما نقل الامام السیوطی ان المفسرین ذکروا مالا یصح من اسباب نزول و احادیث فی الفضائل و حکایات لاتناسب وتواریخ اسرائیلیۃ ولا ینبغی ذکر ھذا فی علم التفسیر انتہی
واعلم ان ھناك اقواما یعتر یہم نزغۃ فلسفیۃ لما افنوا عمرھم فیہا وظنوھا شیئا شھیا فیولعون بابداء احتمالات عامی لوگوں سے بدتر ہوگئےکہ عامیوں کو ان کتابوں کے معالعہ کی قدرت نہ تھی تو وہ ان کے فتنہ سے بچے رہے اور بے شك ہمارے علماء نے دونوں فریقوں کو بھر پور نصیحت کی چنانچہ انہوں نے دونوں فریق کی سخت مذمت کی یعنی واہی تفاسیر اور سیرت کی ناپسندیدہ کتابوں کی تو انہوں نے ان کتا بوں کا ناپسندیدہ ہونا ظاہر کیا اور ان کا عیب کھولا جیسے علامہ قاضی عیاض نے شفا میں اور علامہ خفا جی نے نسیم الریاض میں اور علامہ قسطلانی نے مواہب میں اور علامہ زرقانی نے اس کی شرح میں اور علامہ قاری نے شرح شفا میں اور شیخ (محقق عبد ا لحق محدث دہلوی) نے مدارج میں اور دو سروں نے دوسری تصانیف میں رحمۃ الله علیہم اجمعین والحمد لله رب العلمیناور یقینا ابوحیان نے بات کو سہل ونرم کیا کہ انہوں نے کہا جیساکہ امام سیوطی نے نقل کیا کہ مفسرین نے ایسے اسباب نزول اور فضائل میں وہ حدیثیں ثابت نہں اور نامناسب حکایات اور تواریخ اسرائیل کو ذکر کیا ہے حالانکہ اس کا ذکر تفسیر میں مناسب نہیںاور تم جان لو کہ اس جگہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں فلسفی وسوسےآتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے اپنی عمر اس میں فناکی اور اسے موغوب شے گمان کیا تو ان کو دور ازکار
#696 · الزلال النقی
بعید ۃ ولولم یکن فیہا حلاوۃ ولا علیہا طلاوۃ حتی ذکر بعضہم فی قولہ تعالی" و انشق القمر ﴿۱﴾" ماتعلقت بہ جہلۃ النصاری واخرون ممن یتلجلجون فی الایمان فیلہجون بکلمۃ الاسلام وفی قلوبہم من بغض النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وانکار معجزاتہ جبال عظام فانالله وانا الیہ راجعون ھذ االذی اعیی السیوطی حتی تبرا عنہا کلہا واقتصر علی الارشاد الی تفسیر ابن جریر کما مرنقلہ کما تضجرا الذھبی عن خلاعۃ اکثر السیر و التواریخ فعافھا عن اخر ھا الی دلائل البیہقی قائلا انہ النور کلہ وقد دبت ھذہ الفتنۃ الصماء والبلیۃ العمیاء الی کثیر من متاخری المتکلمین الذین اشتد عنایتھہم بالتفلسف الخبیث ولم یحصلو ابصیرۃ فی صناعۃ الحدیث حتی انہم یذکرون فی بعض المسائل فضلاعن الدلائل ما لیس من السنۃ فی شی واما احتمالوں کو ظاہر کرنے کی لت ہے اگر چہ ان میں شیر ینی ہو نہ ان پر رونق ہویہاں تك کہ کسی نے قول باری تعالی " و انشق القمر ﴿۱﴾" (اور چاند شق ہوگیا) کی تفسیر میں وہ بات ذکر کی جس سے جاہل نصرانی اور دوسرے وہ لوگ جوایمان میں ثابت نہیں اس لئے زبان سے کلمہ اسلام پڑھتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عداوت اور ان کے معجزات کے انکار کے بڑے پہاڑ ہیں انا الله وانا الیہ راجعون (ہم الله ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف پھرنا ہے) یہی سبب تھا کہ سیوطی اس درجہ عاجز ہوئے کہ تمام تفسیروں سے بیزاری فرمائی اور صرف تفسیر ابن جریر کی طرف رہنمائی پر بس کیا جیسا کہ اس کی حکایت گزری جس طرح ذہبی سیرت اور تاریخ کی اکثر کتا بوں کی بے شرمی سے پریشان ہوئے تو انہوں نے اول سے آخر تك سب کو چھوڑا اور دلائل بیہقی پر مطمئن ہوئے اور فرمایا وہ سراسر نورہےاور یہ شدید فتنہ اور ہمہ گیر بلا بہت سے متاخر متکلمین کی طرف سرایت کر گئی( جن کی زیادہ توجہ خبیث فلسفہ پرتھی) اور انہوں نے فن حدیث میں بصیرت حاصل نہ کی یہاں تك کہ یہ لوگ کچھ مسائل میں چہ جائیکہ دلائل میں وہ باتیں ذکر کرتے ہیں جو باتیں سنت سے نہیں۔رہ گیا
#697 · الزلال النقی
مابینہم من قیل وقال وکثرۃ السوال و الشبہ و الجدالفکن حذورا و لاتسئل عن الخیر اوہ علی الله الشکوی۔
فلقد بلغ الامر الی ان الناظر فی تلك الکتب لایکاد یعرف ان ھذا مما جاء بہ ارسطو و افلاطون اوماجاء بہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم وقد ثقل صنیعہم ھذا علی العلماء المحتمین للدین ان الامام العامل بعلمہ سیدی الشیخ المحقق لما رای ذلك منہم فی مسئلۃ المعراج لم یتمالك نفسہ ان اغلظ القول فیہم الی سماھم ان سماھم ضالین مضلین ولم یکن بدعا فی ذلك بل سبقہ فی اقامۃ الطامۃ الکبری علیہم ائمۃ تشار الیہم بالبنان وتقوم بہم ارکان الایمان کما فصلہ الملاعلی القاری فی شرح الفقہ الاکبر ان شئت فطالعہ فانك اذا رایت ثم رایت عجبا کبیرا ومن ھذا القبیل ما ذکرہ بعضہم فی مشاجرات الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم اذنسب القول بتفسیق کثیر منہم حتی بعض العشرۃ المبشرۃ ایضا کو کچھ ان کے درمیان قیل وقال اور کثرت سوال و شبہات وجدال ہیں۔ان سے بہت ڈرتے رہو اور ان کی حالت نہ پوچھو آہ الله ہی سےفرماد ہے۔
اس لئے کہ نوبت یہا ں پہنچی ان کتابوں کو دیکھنے والا یہ جانتا ہوا نہیں لگتا ہے کہ یہ بات ارسطو اور افلاطون لائے یا یہ وہ ہے جسےمحمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لائے اور ان کا یہ معاملہ دین کےلئے حمیت والے علماء پر شاق گزار یہاں تك کہ امام عالم باعمل سیدی شیخ محقق (عبد الحق محدث دہلوی ) نے مسئلہ معراج میں جب ان کی یہ روش دیکھی تو انہیں اپنے اوپر قابو نہ رہاانہوں نے ان لوگوں کے بابت سخت کلام فرمایا یہا ں تك کہ انہیں گمراہ و گمراہ گر کانام دیا اور اس میں وہ نت نئے نہیں بلکہ ان سے پہلے ان پر قیامت کبری ان پیشواؤں نے قائم کی جن کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں اور جن سے ایمان کے ستون قائم ہیں جیسا کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبرمیں میں اس کو مفصل بیان فرمایا ہے تم چاہو تو اس کا مطالعہ کرو اس لئے کہ جب تم اس مقام کو دیکھو گے توبڑی عجیب بات دیکھو گےاور اسی قبیل سے وہ ہے جو بعض لوگوں نے صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے اختلافات میں ذکر کیا ہےکہ انہوں نے بہت صحابہ کے یہاں تك کہ دس صحابہ مژدہ یافتگان
#698 · الزلال النقی
الی کثیر من اھل السنۃ والجماعۃ وھم والله ماقالوا ولا اذنوا فالحق ان الدین لایقوم الا بالحدیث والحدیث مضلۃ الا للفقیہ والفقہ لایحصل باتباع الشبہ وتحکیم العقل السفیہ نجانا الله والمسلمین عن شر الجھل و شر العلم فان شر العلم ادھی وامر ولاحول ولا قوۃ الا بالله العزیز الحکیم وانما اطبنا الکلام فی ھذاالمقام حوطا علی السنن وکراھۃ للفتن ان تروج علی المؤمنین او تر عرع الی الدین فیفسد الیقین الا فعض علیہ بالنواجذ فالنصیح غیر مفتون و ایاك ان تخالفہ و ان افتاك المفتون۔



ایقاظ مہم:اعیذك بالله ان یستفزك الوھم عن الذی القینا علیك فتفتری علینا غیرہ اویوسوسك قلۃ الفہم انا لا نکترث للتفسیر ولا نلقی لہ جنت میں سے کچھ کے فسق کا قول بہت سنی علماء کی طرف منسوب کردیا حالانکہ انہوں نے قطعا خدا کی قسم یہ بات نہ کہی نہ کسی کے لئے روارکھی تو حق یہ ہے کہ دین کا نظام تو حدیث سے ہے اور حدیث سے فقیہ کے سوا سب کو گمراہی کا اندشیہ ہے اور فقہ اثبات شبہات اور نادان عقل کو حاکم بنا کر حاصل نہیں ہوتا الله تعالی ہمیں اور سب مسلمانوں کو جہل کی شر اور علم کی شر سے بچائے اس لئے کہ علم کی شر بہت سخت اور بہت تلخ ہے اور برائی سے پھرنا اور نیکی کی قدرت الله ہی سے ہے جو غلبے والا حکمت والاہے اور ہم نے اس مقام میں کلام طویل سنت کی حفاظت کےلئے اور اس بات کی کراہیت کے سبب کیا کہ فتنے مسلمانوں میں راوج پائیں یا دین کی طرف چلے آئیں تو ایمان بگڑجائےسنتا ہے تو اس کو مضبوطی سے پکڑلو کہ نصیحت پکڑنے والا گمراہ نہیں ہوتااور خبردار اس کی مخالفت نہ کرنا اگر چہ فتوی دینے والے فتوی دیں۔
ضروری تنبیہ:میں تمہیں الله کی پناہ میں دیتاہوں اس بات سے کہ تمہیں وہم اس بات سے ڈگمگادے جو ہم نے تم پر القاء کیاتوتم ہم پر اس سے جدا بات کا بہتان باندھو یا فہم کی کمی یہ وسوسہ ڈالے کہ ہم تفسیر کی پرواہ نہیں کرتے اور
#699 · الزلال النقی
بالا ولا نسلم لہ خیرہ وانما المعنی ان غالب الزبر المتد اولۃ لاتسلم من الدخیل وتجمع من الاقوال کل صحیح وعلیل فمجرد حکایتہا لایوجب التسلیم ولایصدالناقد عن نقد السقیم فماھی عندنا اسوء حالامن اکثر کتب الاحادیث اذنعاملہا مرۃ بالترك ومرۃ بالاحتجاج لما نعلم انہا ترد کل مورد فتحمل تارۃ عذبا فراتا وتاتی مرۃ بملح اجاجوبالجملۃ فالامر یدور علی نظافۃ الحدیث سندا ومتنا فاینما وجدنا الرطب اجتنینا وان کان فی منابت الحنظل وحیثما راینا الحنظل اجتنبنا وان نبت فی مسیل العسل۔


ولقد علمت ان اکثر ھذاالداء العضال انمادخل التفاسیر من باب الاعضال وفی امثال تلك المحال اذا لم یعرف السند یؤل الامر الی نقد المقال فما کان منہا یناضل النصوص ویرد المنصوص اوفیہ ازر اء بالرسل والانبیاء اوغیر ذلك ممالا یحتمل علمنا انہ قول مغسول اس کا ہمیں کوئی خیال نہیں اور ہم اس کی اچھی بات بھی نہیں مانتےمقصد صرف اتنا ہے کہ اکثر کتب متداولہ دخیل سے محفوظ نہیں اور وہ ہر صحیح وسقیم قول کو اکٹھا کرتی ہین تو ان کتابون میں کسی قول کی مجرد حکایت اس کا مان لینا واجب نہیں کرتی اور پر کھنے والوں کو کھوٹے کی پر کھ سے نہیں روکتی تو یہ ان کتابوں کاحال ہمارے نزدیك حدیث کی اکثر کتابوں سے زیادہ برا نہیں اس لئے کہ ہم ان کے ساتھ کبھی کسی قول کو چھوڑنے اور کبھی کسی کو حجت بنانے کا معاملہ کرتے ہیں یوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ہر گھاٹ پر اترتی ہیں تو کبھی میٹھا پانی اٹھالیتی ہیں او رکبھی سخت کھاری پانی جس سے منہ جل جائے لاتی ہیںبالجملہ مدار کا ر حدیث کی نظافت (پاکیزگی) سند و متن کے لحاظ سے ہے تو جہاں کہیں ہم میٹھا پھل پائیں گے اسے چن لیں گے اگرچہ وہ کسی خراب جگہ اگاہواور جہاں کہیں کڑو اپھل دیکھیں گے تو اس کو چھوڈدیں گے اگر چہ وہ شہد کی نہر میں اگاہو۔
اور یقینا تمہیں معلوم ہے کہ اس لاعلاج مرض کا بیشتر حصہ تفاسیر میں جہالت سند کے دروازہ سے گھسا اور ایسے مقامات میں جب سند معروف نہ ہو مآل کاربات کو پرکھنا ہے تو جوبات نصوص سے ٹکراتی اور منصوب کورد کرتی ہو یا اس میں رسل وانبیاء کی تنقیص ہو یا اور کوئی بات جو قابل قبول نہ ہو ہم جان لیں گے کہ یہ قول دھو دینے کے قابل ہے اور اگر
#700 · الزلال النقی
وان کان بریئا من الافات نقیا من العاھات قبلناہ علی تفاوت عظیم بین قبول وقبول ولیس ھذا من باب مانہینا عنہ من الاجتراء علی التفسیر بالاراء ومعاذ الله ان نجتری علیہ فان علم التفسیر اشد عسیر ویحتاج فیہ الی ما لیس بحاصل ولا میسر کما قد فصل بعضہ العلامۃ السیوطی رحمۃ الله تعالی علیہ وکذلك اذا اتانا منہا مافیہ العدول عن ظاہر المدلول وصح ذلك عمن لا یسعنا خلافہ اوکانت ھناك خلۃ لا تنسد الابہ تعین القبول والا فدلالۃ کلام الله تبارك وتعالی احق بالتعویل من قال وقیل ھذاالذی قصد فلا تنقص ولا تزد۔


قال الامام السیوطی قال بعضہم فی جواز تفسیر القرآن بمقتضی اللغۃ روایتان عن احمد وقیل الکراھۃ تحمل علی صرف الایۃ عن ظاہر ھا الی معان خارجۃ محتملۃ یدل علیہا القلیل من کلام العرب ولا یوجد غالبا الافی الشعر و نحوہ ویکون المتبادر خلافہا اھ" خرابیوں سے بریعلتوں سے پاك ہو ہم اسے قبول کرلیں گے باوجودیکہ اسے قبول کرنے میں اور دوسرے قول کو قبول کرنے میں عظیم تفاوت ہے اور تفسیر بالرائے کے باب سے نہیں ہے جس سے ہمیں روکا گیااور الله کی پناہ اس سے کہ ہم اس پر جرات کریں اس لئے کہ علم تفسیر سخت دشوار ہے اور اس میں اس کی حاجت ہے جو ہمیں حاصل نہیں اور نہ اس کا حاصل ہونا آسان ہے جیسا کہ ان علوم ضروریہ میں سے بعض کی تفصیل علامہ سیوطی رحمۃ الله تعالی علیہ نے فرمائی ہے اور یونہی جب ہمیں ان میں کوئی قول ایسا پہنچے جس میں ظاہر معنی سے عدول ہو اور وہ اس سے ثابت ہو جس کا خلاف ہمیں نہیں پہنچتا یا کوئی حاجت ہو جو ظاہر سے عدول کے بغیر پوری نہ ہو تو اسے قبول کرنا متعین ہے ورنہ کلام الہی کی دلالت قیل وقال سے اعتماد کی زیادہ حقدار ہے یہی ہمارا مقصود ہے تو اس سے نہ کم کرو نہ زیادہ۔
امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:بعض علماء نے فرمایا کہ مقتضائے لغت کے مطابق قرآن کی تفسیر کے جواز میں امام احمد سے دو روایتں ہیں اور کچھ کا قول یہ ہے کہ کراہت اس پر محمول ہے کہ آیت کو اس کے ظاہری معنی سے پھیر کر ایسے معانی خارجہ محتملہ پر محمول کرے جن پر قلیل کلام عرب دلالت کرتا ہو اور وہ غالبا اور اس کے مثل کلام کے سوا عام بول چال میں نہ پائے جائیں اور ذہن کا تبادر اس کے خلاف ہو اھ۔
#701 · الزلال النقی
وقال عن برھان الزر کشی"کل لفظ احتمل معنیین فصا عدافہوالذی لایجوز لغیر العلماء الاجتہاد فیہ وعلیہم اعتماد الشواھد والدلائل دون مجرد الرأی فان کان احد المعنیین اظہر وجب الحمل علیہ الاان یقوم دلیل علی ان المراد ھو الخفی اھ
وقال قال العلماء یجب علی المفسران یتحری فی التفسیر مطابقۃ المفسر و ان یتحرز فی ذلك من نقص عما یحتاج الیہ فی ایضاح المعنی اوزیادۃ لا تلیق بالغرض ومن کون المفسرفیہ زیغ عن المعنی و عدول عن طریقہ وعلیہ بمراعاۃ المعنی الحقیقی و المجازیومراعاۃ التالیف والغرض الذی سیق لہ الکلام الخ۔
المقدمۃ الثالثۃ:کثیرا ماتری المفسرین یذکر بعضہم تحت الایۃ وجہا من التاویل والبعض الاخرون وجہا اخر وربما جمعوا وجوھا کثیرۃ وغالبہ لیس من باب الاختلاف اور سیوطی نے برہان سے حکایت کیا:ہر وہ لفظ جو دو یا دو سے زائد معنی کا احتمال رکھے اس میں تو غیر علماء کو اجتہاد جائز نہیں اور علماء کو لازم ہے کہ وہ شواہد ودلائل پر بھروسہ کریں نہ کہ محض رائے پرتو اگر دو معنی میں سے ایك ظاہر تر ہے تو اسی پر محمول کرنا واجب ہے مگر یہ کہ دلیل قائم ہو کہ مراد خفی ہی ہے اھ۔
اورفرمایا:علماء کا قول ہے کہ مفسر پر واجب ہے کہ وہ تفسیر میں یہ تجویز کرے کہ تفسیر لفظ مفسر کے مطابق ہواور اس سے کم کرنے سے بچے جس کی حاجت تو ضیح مراد کے لئے ہو اور ایسے لفظ کو زیادہ کرنے سے احتراز کرے جو مقصد کے مناسب نہ ہواور اس بات کی احتیاط رکھے کہ تفسیر میں معنی سے انحراف اور اس کی راہ سے عدول نہ ہواور اس پرلازم ہے کہ معنی حقیقی ومجازی کی رعایت کرے اور ترکیب اور اس غرض کی جس کے لئے کلام ذکر کیا گیا رعایت رکھے۔
مقدمہ سوم:مفسرین کو تم بہت دیکھوگے کہ ان میں سے کوئی آیت کے تحت کوئی وجہ تاویل ذکر کرتا ہے اور بعض دوسرے دوسری وجہ ذکر کرتے ہیں اور کبھی بہت سی وجوہ جمع کردیتے ہیں اور بیشتر وجوہ اختلاف وتردو کے
#702 · الزلال النقی
اوالتردد المانع عن التمسك باحدھا لاسیما الاظہر الانور منہا و انماھو تفنن فی المراماوبیان لبعض ماینتظمہ الکلام وذالك ان القرآن ذو وجوہ وفنون ولکل حرف منہ غصون وشجون و لہ عجائب لاتنقضی ومعان تمد ولا تنتہی فجاز الاحتجاج بہ علی کل وجوھہ و ھذا من اعظم نعم الله سبحنہ وتعالی علینا ومن ابلغ وجوہ اعجاز القرآن ولو کان الامر علی خلاف ذلك لعادت النعمۃ بلیۃ والاعجاز عجزا والعیاذ بالله تعالی وقد وصف الله سبحنہ وتعالی القرآن بالمبینفلیس تنوع معاینہ کتذبذب المحتملات فی کلام مبھم مختلط لایستبین المراد منہولقد قال الله تبارك وتعالی "قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا ﴿۱۰۹﴾" وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی مااخرج ابو نعیم وغیرہ باب سے نہیں جس میں سے کسی کو اخذ کرنا دوسری سے تمسك کا مانع ہو خصوصا ان میں جو ظاہرتر اور روشن تر ہو بلکہ یہ وجوہ بیان مقصد میں تفنن عبارت ہے یاکلام جن وجوہ کو شامل ہے اس میں سے کچھ کو بیان کردینا ہے اور یہ اس لئے کہ قرآن مختلف وجوہ رکھتا ہے اور اس کے ہر لفظ کے متعدد معانی ہیں اوراس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور معانی بڑھتے ہیں اور کسی حد پر نہیں تھمتےلہذا اس کی تمام وجوہ کو حجت بنانا جائز ہے اور یہ ہمارے لئے الله کی بڑی نعمتوں میں سے ایك ہے اور قرآن کے اعجاز کے اسباب بلیغہ سے ایك سبب ہےاو راگر معاملہ اس کے بر خلاف ہوتا تو نعمت مصیبت ہوجاتی اور اعجاز عجز ہوجاتاوالعیاذ بالله تعالیاور الله تعالی نے قرآن کا وصف مبین فرمایا ہے تو اس کے معانی کا قسم قسم ہونا کلام مبہم میں جس کی مراد ظاہر نہ ہومحتملات کے تردد کی طرح نہیں اور یقینا الله تبارك وتعالی فرماتا ہے:اے محبوب ! تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگر چہ ہم اس جیسا اور اس کی مدد کو لےآئیں۔اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ ابو نعیم وغیرہ نے حضرت
#703 · الزلال النقی
عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما القرآن ذلول ذو وجوہ فاحملوہ علی احسن وجوھہ رضی الله تعالی عنہما کما اخرج ابن ابی حاتم عنہ ان القرآن ذو شجون وفنون وظہور وبطون لاتنقضی عجائبہ ولا تبلغ غایتہ الحدیث۔
قال السیوطی قال ابن سبع فی شفاء الصدور ورد عن ابی الدرداء رضی الله تعالی عنہ انہ قال لایفقہ الرجل کل الفقہ حتی یجعل للقرآن وجوھاوقد قال بعض العلماء لکل ایۃ ستون الف فہم انتہی ملخصا۔ولله در الامام البوصیری حیث یقول
لہا معان کموج البحر فی مدد
وفوق جوھرہ فی الحسن والقیم
فلا تعد و لا تحصی عجائبہا
ولا تسام علی الاکثار بالسام ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا قرآن نرم و آسان ہے مختلف وجوہ والا ہے تو اسے اس کی سب سے اچھی وجہ پر محمول کرو۔اور سیدنا حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما نے فرمایا جیسا کہ ابن ابی حاتم نے ان سے روایت کی قرآن مختلف معانی ومطالب اور ظاہر ی وباطنی پہلو رکھتا ہےاس کے عجائب بے انتہا ہیں اس کی بلندی تك رسائی نہیں (الحدیث)
سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ابن سبع نے شفاء الصدور میں فرمایا کہ ابو الدرداء رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ آدمی اس وقت تك کامل فقیہ نہیں ہوتا جب تك کہ قرآن کے مختلف وجوہ نہ جان لےاور بعض علماء کا قول ہے کہ ہر آیت کے ساٹھ ہزار مفہوم ہیں۔
اور امام بوصیر ی کی خوبی الله ہی کے لئے ہے کہ وہ فرماتے ہیں قرآنی آیات کے وہ معانی کثیر ہیں جیسے سمندر کی موج افزائش میںاور وہ حسن وقیمت میں سمندر کے گہرسے بڑھ کر ہیں تو ان آیتوں کے عجائب کی نہ گنتی ہوسکے نہ شمار میں آئیں اوراس کثرت کے باوجود ان سے اکتا نے کا معاملہ نہیں کیا جاتا۔
#704 · الزلال النقی
فثبت بحمد الله ان بعض معانیہ لاینافی بعضا ولا یوجب وجہ لوجہ رفضا من جراء ھذا تری العلماء لم یزالو محتجین علی احدالتاویلاتولم یمنعہم عن ذلك علمہم بان ھناك وجوھا اخر لاتعلق لہا بالمقاموعلام کان یصدھم وقد علموا ان القرآن حجۃ بوجوھہ جمیعا ولیس ھذا لاتفننا وتنویعا ھذا ھوالاصل العظیم الذی یجب المحافظۃ علیہانبانا المولی السراج عن المفتی الجمال عن السنۃ السندی عن الشیخ صالح عن محمد بن السنۃ وسلیمان الدرعی عن الشریف محمد بن عبدالله عن السراج بن الالجائی عن البدر الکرخی والشمس العلقمی کلھم عن الامام جلال الملۃ و الدین السیوطی قال فی الاتقان ناقلا عن ابن تیمیۃ الخلاف بین السلف فی التفسیر قلیلل وغالب مایصح عنہم من الخلاف یرجع الی اختلاف تنوع الاختلاف تضاد۔وذلك صنفان:
احدھما ان یعبر واحد منہم عن المراد بعبارۃ غیر عبارۃ صاحبہ تدل علی معنی فی المسمی غیر المعنی الاخر من اتحاد المسمی اب بحمد الله ثابت ہوا کہ اس قرآن کا کوئی معنی دوسرے کے متنافی نہیں اور کوئی وجہ دوسری وجہ کو چھوڑدینا واجب نہیں کرتی اسی وجہ سے تم دیکھوگے کہ علماء ایك تاویل پر بنائے دلیل رکھتے ہیں اور اس بات سے باز نہیں رکھتا انہیں ان کا یہ علم کہ اس جگہ دوسری وجوہ بھی جن کو ان کے مقصد سے تعلق نہیںاور کا ہے کو بازر کھے حالانکہ انہیں خبر ہے کہ قرآن اپنی تمام وجوہ پر حجت ہے اور یہ اختلاف وجوہ تو محض تفنن کلام وتلون عبارت ہےہمیں خبر دی مولی سراج نے مفتی جمال سے انہوں نے سندسندی سے انھوں نے شیخ صالح سے انھوں نے محمد بن السنۃ اور سلیمان درعی سے انہوں نے شریف محمد بن عبدالله سے انہوں نے سراج بن الالجائی سے انہوں نے بدر کرخی وشمس علقمی سےان سب نے جلال الملۃ والدین سیوطی سے روایت کی کہ انہوں نے اتقان میں ابن تیمیہ سے نقل فرمایا کہ تفسیر میں سلف کے درمیان اختلاف کم ہے اور اکثر اختلاف جو سلف سے ثابت ہے اختلاف طرز تعبیر کی طرف لوٹتا ہے متضادباتوں کا اختلاف نہیں اور یہ (تعبیروں کا اختلاف ) دو صنف ہے:
ان میں سے ایك صنف یہ کہ ان لوگو ں میں سے کوئی اپنی مراد کی تعبیر ایك عبارت سے کرے جو اس کے ساتھی کی عبارت سے جدا گانہ ہو اور معنی ایك ہو جیسے علماء نے
#705 · الزلال النقی
کتفسیر ھم الصراط المستقیم"بعض بالقرآن ای اتباعہ وبعض بالاسلام فالقو لان متفقان لان دین الاسلام ھو اتباع القرآن ولکن کل منہا نبہ علی وصف غیر الوصف الاخر کماان لفظ الصراط یشعر بوصف ثالثوکذلك قول من قال ھو السنۃ و الجماعۃ وقول من قال ھو طریق العبودیۃ وقول من قال ھو طا عۃ الله ورسولہ و امثال ذلکفھؤلاء کلھم اشاروا الی ذات واحدۃ ولکن وصفہا کل منہم بصفۃ من صفاتھا۔


الثانی ان یذکر کل منہم من الاسم العام بعض انواعہ علی سبیل التمثیل وتنبیہ المستمع علی النوع لاعلی سبیل الحد المطابق للمحدود فی عمومہ و خصوصہ مثالہ مانقل فی قولہ تعالی ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا الایۃ فمعلوم ان الظالم لنفسہ یتناول المضیع للواجبات والمنتھك للحرمات و المقتصد یتناول فاعل الصراط المستقیم کی تفسیر کی کسی نے قرآن کہا یعنی قرآن کی پیروی اور کسی نے اسلام تو یہ دونوں قول ایك دوسرے کے موافق ہیں اس لئے کہ دین اسلام تو قرآن کی پیر وی ہے۔لیکن ان دونوں نے ایك دوسرے کے وصف سے جدا ایك وصف پر متنبہ کیا جیسے کہ لفظ صراط تیسرے وصف کی خبر دیتا ہے اسی طرح اس کی بات جس نے یہ کہا تھا کہ صراط مستقیم مسلك اہل سنت و جماعت ہے اور اس کی بات جس نے کہا کہ وہ طریق بند گی ہے اور اس کا قول جو بولا کہ وہ الله ورسول (جل وعلا و صلی الله تعالی علیہ وسلم )کی اطاعت ہے او ر جیسے اس طرح کے دوسرے اقوال اس لئے کہ ان سب نے ایك ذات کی طرف رہنمائی کی لیکن ہر ایك نے اس کی ایك صفت اس کی صفات سے بیان کردی۔
دوسری صنف یہ ہے کہ ہر عالم لفظ عام کی کوئی قسم مثال کے اوپر ذکر کرے اور مخالف کو اس نوع پر متنبہ کرے اور اس نوع کو ذکر کرنا ذ ات اس کے عموم وخصوص میں ذات کی حد تام و تعریف تمام کےطور پرنہ ہووہ جو الله تعالی کے قول ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا الایۃ کی تفسیر میں منقول ہوا اس لئے کہ معلوم ہے کہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اس کو شامل ہے جو واجبات کو ضائع کرے اور حرمتوں کو توڑے اور مقتصد
#706 · الزلال النقی
الواجبات وتارك المحرماتوالسابق یدخل فیہ من سبق فتقرب بالحسنات مع الواجبات فالمقتصدون اصحاب الیمین والسابقون السابقون اولئك المقربونثم ان کلامنہم یذکر ھذا فی نوع من انواع الطاعات کقول القائل السابق الذی یصلی فی اول الوقتو المقتصد الذی یصلی فی اثنائہ و الظالم لنفسہ الذی یؤخر العصر الی الاصفرا ر او یقول السابق المحسن بالصدقۃ مع الزکوۃو المقتصد الذی یؤدی الزکاۃ المفر و ضۃ فقطوالظالم مانع الزکوۃ اھ۔
وعن الزرکشی"ربما یحکی عنہم عبارات مختلفۃ الالفاظ فیظن من لافہم عندہ ان ذلك اختلاف محقق فیحکیہ اقوالا و لیس کذلك بل یکون کل واحد منہم ذکر معنی من الایۃ لکونہ اظہر عندہ ا و الیق بحال السائل وقد یکون بعضہم یخبر عن الشیئ بلازمہ ونظیرہ والاخر بمقصودہ واجبات کی تعمیل اور محرمات کو تر ك کرنے والے کو شامل ہے او رسابق میں وہ داخل ہے جو سبقت کرے تو واجبات کے ساتھ حسنات سے الله کی قربت حاصل کرے تو مقتصد لوگ دہنے ہاتھ والے ہیں اور سابق سابق ہیں وہی الله کے مقرب ہیں پھر ان میں سے ہر عالم اس مثال کو انواع عبادات میں سے کسی قسم میں ذکر کرتا ہے جیسے کسی نے کہا:سابق وہ ہے جو اول وقت میں نماز پڑھے اورمقتصد وہ ہے جو درمیان وقت میں پڑھے اور ظالم وہ ہے جو عصر کو سورج زرد ہونے تك موخر کر دےاور کوئی کہےسابق وہ ہے جو صدقہ نفل زکوۃ کے ساتھ دے کرنیکی کرےاو رمقتصد وہ ہے جو صرف زکوۃ فرض دےاور ظالم وہ ہے جو زکوۃ دنہ دے اھ۔
اور سیوطی نے زرکشی سے نقل کیا بسا اوقات علماء سے مختلف عبارتیں منقول ہوتی ہیں تو جو فہم نہیں رکھتا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ اختلاف حقیقی ہے تو وہ اس کو کئی قول بنا کر حکایت کرتا ہےحالانکہ بات یوں نہیںبلکہ ہوتا یہ ہے کہ ہر عالم آیت کا ایك معنی ذکر کرتا ہے اس لئے کہ وہ اس کے نزدیك ظاہر تر یا حال سائل کے زیادہ شایاں ہوتا ہے او رکبھی کوئی عالم شے کا لازم یا اس کی نظیر بتاتا ہے اور دو سرا اس کا مقصود
#707 · الزلال النقی
وثمر تہ والکل یؤل الی معنی واحد غالبا الخ
وعن البغوی والکواشی وغیر ھما التاویل صرف الایۃ الی معنی موافق لما قبلہا وبعد ھا تحتملہ الایۃ غیر مخالف للکتاب والسنۃ من طریق الاستنباط غیر محظور علی العلماء بالتفسیر کقولہ تعالی"انفروا خفافا وثقالا"قیل شبابا وشیوخاوقیل اغنیاء و فقراءقیل عزابا ومتاھلینوقیل نشاطا وغیر نشاط وقیل اصحاء ومرضی وکل ذلك سائغ والایۃ تحتملہ الخوھذا فصل عمیق بعید لوفصلنا فیہ الکلام خرج بناء عما نحن بصددہ من المرادفیما اوردناہ کفایۃ الاولی الاحلام لاسیما من لہ اجالۃ نظر فی کلمات المفسرین وتمسکات العلماء بالقرآن المبین۔ وثمرہ بتاتا ہے اور اکثر سب کا بیان ایك ہی معنی کی طرف لوٹتا ہے الخ۔
اور سیوطی علیہ الرحمۃ نے بغوی وکواشی وغیر ہما سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تاویل براہ استنباط آیت کو ایسے معنی کی طرف پھیرنا ہے جو اس کی اگلی آمد پچھلی آیت کے موافق ہواور آیت اس کا احتمال رکھتی ہو اور وہ معنی کتاب و سنت کے مخالف نہ ہوایسی تاویل ان لوگوں کو منع نہیں جنہیں تفسیر کا علم ہےجیسے الله تعالی کے قول"انفروا خفافا وثقالا (یعنی کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے) میں کسی نے کہا:بوڑھے اور جوان۔او ر کسی نے کہا غنی وفقیر۔اور کسی کا قول ہے۔شادی شدہ اور مجرد۔او رکسی کا قول ہے:چست وسست۔او رکسی نے کہا:صحت مند و بیمار (یعنی یہ سب کوچ کریں ) اور یہ تمام وجوہ بنتی ہیں اور آیت سب کی محتمل ہے اور یہ فصل وسیع وعریض ہے اگر ہم اس میں مفصل کلام کریں تو وہ کلام ہمیں ہمارے اس مقصود سے باہر کردے گا جس کے ہم درپے ہیںاور جو ہم نے ذکر کیا اس میں سمجھ والوں اور ان کے لئے جن کی نظر کلمات مفسرین اور علماء کے قرآن سے تمسکات میں رواں ہےکفایت ہے۔
#708 · الزلال النقی
المقدمۃ الرابعۃ:ھذا التاویل الذی فتحنا ابواب الکلام علی ایہا نہ اعنی تفسیر الاتقی بالتقی انما ھو مروی عن ابی عبیدۃ کما صرح بہ العلامۃ النسفی رحمہ الله تعالی فی مدارك التنزیل وحقائق التاویل وابوعبیدۃ ھذا رجل نحوی لغوی من الطبقۃ السابعۃ اسمہ معمر بن المثنی کان یری رأی الخوارج وکان سلیط اللسان وقاعا فی العلماء وتلمیذہ ابو عبیدالقاسم بن سلام احسن منہ حالا وابصر منہ بالحدیث انبأنا مفتی مکۃ سیدی عبدالرحمن عن جمال بن عمر عن الشیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی عن ابن السنۃ عن المولی الشرف عن محمد ابن ارکماش الحنفی عن حافظ ابن حجر العسقلانی قال فی التقریب معمر بن المثنی ابو عبیدۃ التیمی مولاھم البصری النحوی اللغوی صدوق اخباری و قدرمی برای الخوارج من السابعۃ مات سنۃ ثمان ومائتین وقیل بعد ذلك وقد قارب المائۃ انتہی۔ چوتھا مقدمہ:یہ تاویل جس کے ضعف بتانے کے لئے ہم نے کلام کے دروازے کھولے (یعنی اتقی کی تفسیر تقی سے کرنا) یہ صرف ابو عبیدہ سے منقول ہے۔چنانچہ اس کی تصریح علامہ نسفی نے مدارك التنزیل میں کی ہےاور یہ ابوعبیدہ ایك آدمی ہے نحو ولغت کا عالمجوساتویں طبقہ پر ایك فرد ہےاس کانام معمر بن المثنی ہےخارجیوں کا عقیدہ رکھتا تھااور یہ بدزبان علماء کا بدگو تھااور اس کے شاگرد ابو عبید قاسم بن سلام کا حال اس سے اچھا تھا اور انہیں حدیث میں اس سے زیادہ بصیرت تھی۔مجھے مفتی مکہ سیدی عبدالرحمن نے جمال بن عمر سے خبردی انہوں نے شیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی سے روایت کی انہوں نے ابن السنۃ سے انہوں نے مولی شریف سے انہوں نے محمد بن ارکما ش حنفی سے انہوں نے حافظ ابن حجر عسقلانی سے روایت کی کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں فرمایا معمر بن مثنی ابو عبیدہ تیمی بنوتیم کا آزاد کردہبصری نحویلغوی سچا ہے تا ریخ کا راوی ہےاورخوارج کے مذہب سے متہم کیا گیاطبقہ ہفتم کے علماء سے ہے ۲۰۸ھ میں انتقال ہوااور بعض کا قول ہے کہ اس کے بعد وفات ہوئی اور عمر تقریبا سوسال ہوئی انتہی۔
#709 · الزلال النقی
وقد قال ابن خلکان کما نقل الفاضل عبد الحی فی مقدمۃ عــــــہ الہدایۃ ابو عبید بغیرتاء مذکور فی باب الجنایات من کتاب الحج اسمہ القاسم بن سلام ذاباع طویل فی فنون الادب والفقہقال القاضی احمد بن کامل کان ابوعبید فاضلا فی دینہ متفننا فی اصناف العلوم من القراءات والفقہ العربیۃ و الاخبار حسن الروایۃ صحیح النقل روی عن ابی زید والاصمعی وابی عبیدہ وابن الاعرابی والکسائی والفراء وغیرھم وروی الناس من کتبہ المصنفۃ بضعۃ وعشرین فی الحدیث والقراء ات و الامثال ومعانی الشعر وغریب الحدیث وغیر ذلك ویقال انہ اول من صنف فی غریب الحدیثوقال الہلال من الله تعالی علی ھذہ الامۃ باربعۃ فی زمانہم الشافعی فی فقہ الحدیث وباحمد بن حنبل فی المحنۃ ولولاہ لکفر الناس وبیحیی بن معین فی ذب الکذب عن الاحادیث وبابی عبید القاسم بن اور ابن خلکان نے کہا جیسا کہ فاضل عبد الحی نے مقدمہ ہدایہ میں کہا:ابو عبید بغیرتا ء کتاب الحج کے باب الجنایات میں مذکور ہوا ان کا نام قاسم بن سلام ہے ادب کے فنون وفقہ میں بڑی دستر س رکھتے تھے۔قاضی احمد بن کامل نے فرمایا: ابو عبیداپنے دین میں فاضل مختلف علوم قراء ت وفقہ و عربیت وتاریخ کے ماہر تھے ان کی روایت حسن ہے اور نقل صحیح ہے انہوں نے ابو زید واصمعی وابو عبیدہ وابن الاعرابی وکسائی و فراء وغیرہم سے روایت کی اور لوگو ں نے ان کی تصنیفات سے حدیث وقراء ت وامثال ومعنی شعر و احادیث غریبہ وغیرہا میں تئیس سے انتیس تك کتابوں کو روایت کیااور کہتے ہیں قاسم بن سلام نےسب سے پہلےغریب الحدیث میں تالیف فرمائی۔اور ہلال نے فرمایا الله تعالی نے اس امت پراپنے اپنے زمانہ میں چار شخصوں سے منت رکھیشافعی سے فقہ حدیث میں اور احمد بن حنبل سے ان کی آزمائش کے سبب(یعنی وہ آزمائش جس میں حضرت امام احمد بن حنبل زمانہ مامون میں مخالفت عقیدہ خلق قرآن کے سبب مبتلا ہوئے) اور اگر امام احمد نہ ہوتے تو لوگ

عــــــہ:فی الاصل بیاض وعبارۃ المقدمۃ منقولۃ من المترجم۱۲ النعمانی۔
#710 · الزلال النقی
سلام فی غریب الحدیث و کانت وفاتہ بمکۃ وقیل بالمدینۃ سنۃ اثنتین اوثلث وعشرین ومائتین وقال البخاری سنۃ اربع وعشرین۔ویوجد فی بعض نسخ الھدایۃ فی الموضع المذکور ابو عبیدۃ بالتا ء واسمہ معمربن المثنی وقد ذکرنا ترجمتہ فی الاصل وقال العینی فی شرحہ ابو عبید اسمہ معمر بن المثنی التیمیوفی بعض النسخ ابو عبیدۃ بالتاء واسمہ القاسم بن سلام البغدادیوالاول اصح انتھی وھذا مخالف لما فی تاریخ ابن خلکان وغیرہ من التواریخ المعتمد ۃ من ان ابا عبید بغیر التاء کنیۃ القاسم وبالتاء کنیۃ معمر ۔
واما قدماء العلماء ککنیف ملئ علما حامل تاج المسلمین نعال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سیدنا عبدالله مسعود وحبر الامۃ سلطان المفسرین عبدالله بن عباس وعروۃ بن زبیر وشقیقہ عبدالله وافضل التابعین سعید کافر ہوجاتےاور یحیی بن معین سے یوں منت رکھی کہ انہوں نے احادیث سے دروغ کو الگ کردیا اورابوعبیدبن قاسم بن سلام سے غریب احادیث کو جمع کرنے میںان کی وفات مکہ میں ہوئیاور ایك قول پر مدینہ میں ۲۲۳ھ یا ۲۲۲ھ میں ہوئی اور بخاری نے سن وفات ۲۲۴ھ میں فرمایااور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یوں ہے موضع مذکور میں ابو عبیدۃ بالتاء اور ان کا نام معمر بن مثنی ہے اور ہم نے اس کے حالات اصل میں ذکر کئے اور عینی نے شرح ہدایہ میں فرمایا ابو عبید معمر بن مثنی بن تیمی ہے۔اور بعض نسخوں میں ابوعبیدۃ بالتاء ہے اور ان کانام قاسم بن سلام بغدادی ہےاور پہلا قول اصح ہے۔اور یہ بات اس کے مخالف ہے جو تاریخ ابن خلکان وغیرہ تواریخ معتمدہ میں ہے کہ عبیدبغیر تاء قاسم کی کنیت ہے اور تا ء کے ساتھ معمر کی کنیت ہے۔
رہے علمائے متقدمین جیسے علم سے بھرے ہوئے ظرف حامل تاج مسلمانان نقش پائے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سیدنا عبدالله بن مسعود اور عالم امت سلطان المفسرین عبدالله بن عباس اور عروہ بن زبیر اور ان کے سگے بھائی عبدالله اور افضل التابعین سعید بن المسیب رضی الله عنہم
#711 · الزلال النقی
بن المسیب رضی الله تعالی عہنم اجمعین فقد روینا لك ماقالوا فی الایۃ۔
المقدمۃ الخامسۃ:لعلك یا من یفضل علیا علی الشیخین رضی الله تعالی عنہم اجمعین تفرح و تمرح ان ھؤلاء المفسرین انما عدلوا عن الاتقی الی التقی کیلا یلزم تفضیل الصدیق رضی الله تعالی عنہ علی من عداہ وحاشاہم عن ذلکالاتری انہم کما فسروا الاتقی بالتقی کذلك اولوالاشقی بالشقی فاین ھذا من قصد ك الذمیم الذی ترید لاجلہ تغییر القرآن العظیم وانما الباعث لہم علی ذلك ما ذکرہ ابو عبیدۃ بنفسہ۔
انبانا سراج العلماء عن المفتی ابن عمر عن عابد سندی عن یوسف المزجاجی عن ابیہ محمد بن ا لعلاء عن حسن العجیمی عن خیر الدین الرملی عن العلامۃ احمد بن امین الدین بن عبد العال عن ابیہ عن جدہ عن العزعبد الرحیم بن الفرات عن ضیاء الدین محمد بن محمد الصنعانی عن قوام الدین مسعود بن ابراھیم الکرمانی عن تو ہم آیت کریمہ کی تفسیر میں ان کے اقوال تمہارے لئے روایت کرچکے۔
پانچواں مقدمہ:اے تفضیلیہ شاید تو خوش ہو اور فخر کرے یہ مفسرین اتقی سے تقی کی طرف اسی لئے پھرے کہ صدیق رضی الله تعالی عنہ کی فضیلت ان کے ماسوا دوسرے صحابہ پر لازم نہ آئے اور وہ اس خیال سے بری ہیں۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ انہوں نے جس طرح اتقی کی تفسیر تقی سے کی یو نہی اشقی کی تاویل شقی سے کی تو مفسرین کی اس روش کو تیرے اس بد ارادے سے کیا علاقہ ہے جس کے لئے تو قرآن عظیم کو بدلنا چاہتا ہےان کے لیے اس تفسیر پر ابو عبیدہ کا قول مذکور باعث ہوا۔
ہمیں سراج العلماء نے خبردی مفتی ابن عمر سے انہوں نے روایت کی عابد سندی سے انہوں نے یوسف مزجاجی سے روایت کی انہوں نے اپنے باپ محمد بن علاء سے انہوں نے حسن العجیمی سے روایت کی انہوں نے خیر الدین رملی سے انہوں نے علامہ احمد بن امین الدین بن عبد العال سے انہوں نے اپنے باپ سے پھر اپنے دادا سے انہوں نے عز عبد الرحیم بن فرات سے انہوں نے ضیاء الدین محمد بن محمد صنعانی سے انہوں نے قوام الدین مسعود بن ابراہیم کرمانی سے انہوں نے مولی
#712 · الزلال النقی
المولی حافظ الدین ابی البرکات محمود النسفی قال فی مدارك التنزیل قال ابو عبیدۃ الاشقی بمعنی الشقی و ھوالکافروالاتقی بمعنی التقی وھو المؤمن لانہ لا یختص بالصلی اشقی الاشقیاء ولابا لنجاۃ اتقی الاتقیاء وان زعمت انہ تعالی نکر النار فاراد نارا مخصوصۃ بالاشقیفما تصنع لقولہ وسیجنبہا الاتقی الذی لان الاتقی یجنب تلك النار المخصوصۃ لا الاتقی منہم خاصۃ انتہی۔



وتلخیص المقام:ان قولہ سبحنہ وتعالی"فانذرتکم نارا تلظی ﴿۱۴﴾ لا یصلىہا الا الاشقی ﴿۱۵﴾ الذی کذب و تولی ﴿۱۶﴾" لایمکن اجراء ہ علی ظاھرہ لانہ یقتضی قصر دخول النار علی اشقی الاشقیاء من الکفار فیلزم ان حافظ الدین ابو البر کات محمود نسفی سے روایت کیا کہ (علامہ نسفی نے) مدارك التنزیل میں فرمایا ابو عبیدہ نے کہا اشقی بمعنی شقی کے ہے اور وہ کافر ہےاوراتقی تقی کے معنی میں ہے اور اس سے مراد مومن ہےاس لئے کہ آگ میں جانا سب اشقیاء سے بڑھ کر شقی کی خصوصیت نہیں ہے اور نجات پانا سب پرہیز گار وں سے افضل کے لئے مخصوص نہیں ہے اور اگر تم کہو کہ الله تعالی نے نار کونکرہ فرمایا (اور نکرہ جب محل اثبات میں ہو تو اس سے مراد فرد مخصوص ہوتا ہے) تو الله تعالی کی مراد ایك مخصوص نارہے تو تم (یعنی اس سے بہت دور رکھا جائے گا سب سے بڑا پرہیز گار ) کے ساتھ کیا کرو گے اس لئے کہ ہر متقی اس نار مخصوص سے دور رکھاجائے گا نہ کہ خاص کر سب سے بڑا متقی۔
مقام تلخیص:یہ ہے کہ الله سبحنہ وتعالی کے قول "فانذرتکم نارا تلظی ﴿۱۴﴾ لا یصلىہا الا الاشقی ﴿۱۵﴾ الذی کذب و تولی ﴿۱۶﴾"(تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑك رہی ہے نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا ) کو اس کے ظاہر معنی پر جاری رکھنا ممکن نہیں اس لئے
#713 · الزلال النقی
لایدخلہا احد غیرہ کالفجار والکافرین القاصرین عنہ فی الشقاء والاستکبار وھذا باطل قطعا فاختار الواحدی و الرازی والقاضی المحلی وابو السعود واخرون ماملحظہ ان لیس المراد بالاشقی رجل مخصوص یکون اشقی الاشقیاء بل المعنی من کان بالغا عــــــہ فی الشقاء کہ اس کا تقاضایہ ہے کہ دوزخ میں وہی جائے جو کافرو ں میں سب بد نصیبو ں سے بڑا بد نصیب ہو تو لازم آئے گا کہ وہ فجار و کفار جو بد نصیبی اور گھمنڈمیں اس سے کم رتبے کے بد نصیب ہوں دو زخ میں نہ جائیںاور یہ قطعا باطل ہےلہذا واحدی و رازی وقاضی ومحلی وابو السعود اور دیگر مفسرین نے یہ اختیار کیا جن میں یہ لحاظ ہے کہ اشقی سے مراد کوئی خاص نہیں جو سب سے بڑا شقی ہو بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شقاوت میں حد کو پہنچا ہواہو اور

عــــــہ:قولہ بالغا فی الشقاء الخ"انت خبیر بانا قر رنا کلامہم بحیث یندفع عنہ یراد قوی کان یتخالج فی صدری تقریر الایراد ان المؤمن الفاجر لہ قسط من الشقاوۃ کما ان لہ قسطا عظیما من السعادۃولیس ان الشقاء یختص بالکفرۃالاتری ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سمی الخبیث الشقی عبدالرحمن بن ملجم الذی قتل السید الکریم المرتضی رضی الله تعالی عنہ وخضب الحیۃ الکریمۃ بدم راسہ الاقدس اشقی الاخرین کما ورد بطریق عدیدۃ عن سید نا علی کرم الله تعالی وجہہ وانما کان ھذاك الخبیث رجلا من الخوارج واذا کان الامر ھکذا (قولہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہو الخ) تم خبردار ہو کہ ہم نے ان علماء کے کلام کی تقریر اس طور پر کی جس سے وہ قوی اعتراض جو میرے سینے میں متردد تھا دفع ہوجائے۔اس اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ مومن فاجر کے لئے بدبختی سے ایك حصہ ہے جیسا کہ اس کےلئے سعادت سے عظیم بہرہ ہے اورایسا نہیں کہ بد بختی کافروں کیلئے خاص ہےکیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس خبیث شقی عبدالرحمن بن ملجم کو جس نے سید کریم مرتضی علی رضی الله تعالی عنہ کو شہید کیا اور ان کی ریش مبارك کو ان کے سر اقدس کے خون سے رنگین کیا پچھلوں کا سب سے بڑا بدبخت فرمایاجیسا کہ سیدنا علی کرم الله وجہہ سے متعدد سندوں سے روایت ہے اور یہ خبیث (باقی برصفحہ ائندہ)
#714 · الزلال النقی
متناھیا فیہ وھم الکفار عن اس مفہوم کے مصداق سارے کافر ہیں اور وہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فما لھولاء اولو الاشقی بالشقی ثم خصوہ بالکافرحتی عاد الاعتراض بخروج الفجار مع ان بعضہم یدخل النار قطعافلوانہم اجروہ علی العموم یسلموا من ذاك و تقریر الجواب انہم لما فطموا الافعل عن معناہ الحقیقی اعنی الزائد فی الاتصاف بالمبدء علی کل من عداہ کرھوا ان یذھبو ا بہ مذھبا ابعد من حقیقۃ کل البعدفاردوا بہ البالغ فی الشقاء المتناھی فیہ ابقاء لمعنی الزیادۃ المدلول علیہا بصیغۃ التفضیلوالوجہ فی ذلك ان ھناك ثلثۃ امورالاول الا تصاف بالمبدء وھو مفاد اسم الفاعل و الثانی الکثرۃ فیہ و ھو مدلول صیغۃ المبالغۃو الثالث الزیادۃ فیہ عن غیرہ و تو خارجیوں میں کا ایك شخص تھا(یعنی کافر نہ تھا بلکہ گمراہ تھا) اور جب بات ایسی ہے تو ان لوگو ں کو کیا ہوا جنہوں نے اشقی کی تاویل شقی سے کی پھر اسے کافر کےلئے مخصوص کیا تو اعتراض لوٹاکہ فاجر مسلمان اس حکم سے نکل گئے حالانکہ بعض فاجر مسلمان یقینا جہنم میں جائیں گئے تو اگر انہوں نے حکم عام رکھا ہوتا تو اس اعتراض سے بچ جاتےاور جواب کی تقریر یہ ہے کہ جب انہوں نے افعل (اسم تفضیل)کو اس کے حقیقی معنی سے مجرد کیا یعنی جو مصدر سے متصف ہونے میں اپنے ہر ماسوا سے زائد ہو تو انہیں یہ پسند نہ ہوا کہ اسم تفضیل کو ایسے مذہب پرلے جائیں جو اس کے حقیقی معنی سے بالکل دور ہو لہذا انہوں نے اشقی سے مراد لیا کہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہو تا کہ زیادتی کا مفہوم جس پر صیغہ افعل تفضیل دلالت کرتا ہو باقی رکھیںاور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ تین امور ہیں پہلا مصدر سے موصوف ہونا اور یہ اسم فاعل کا مفاد ہے اور دوسرا امر اس وصف میں کثرت اور یہ مبالغہ کے صیغہ کا مفہوم ہےاور تیسرا امر اس وصف میں دوسرے سے بڑھ جانا اور یہ وہ مفہوم ہے جس کے لئے اسم تفضیل (باقی برصفحہ ائندہ)
#715 · الزلال النقی
اخرھم لانسلاخہم عن السعادۃ بالمرۃ
اما المؤمن الفاجر فان کان لہ وجہ الی الشقاء الزائل فوجہہ الاخر الی السعادۃ الابدیۃ وھی الایمان و ھؤلاء القائلون لمارأوا مادۃ الایراد لم تنحسم اذ دخول بعض الفجار ایضا مقطوع فزعوا الی تاویل الصلی باللزوموزعم الواحدی انہ معناہ الحقیقی فقال کما نقل الرازی معنی"لایصلاھا" لایلزمہا فی حقیقۃ اللغۃ یقال صلی الکافر النار اذا لزمہامقایسا شدتھا وحرھاوعندنا ان ھذہ الملازمۃ لاتثبت الا الکافر اما الفاسق فاما ان لاید خلہا اوان دخلہا تخلص منہا انتہی سعادت سے بالکل محروم ہیں۔ؤرہا مومن فاجر تو اس کا ایك پہلو شقاوت فانیہ کی طرف ہے تو دوسرا ابدی سعادت کی طرف ہے اور وہ سعادت ابدی ایمان ہے۔اور ان لوگو ں نے جب یہ دیکھا کہ اعتراض کا مادہ بالکل ختم نہ ہوا اس لئے کہ بعض بد عمل مسلمانوں کا دوزخ میں جانا ہی قطعی امر ہے۔لہذ یہ لوگ صلی کی تاویل لزوم سے کرنے کی طرف راغب ہوئے۔واحدی نےکہا کہ لزوم اس کا حقیقی معنی ہے جیسا کہ امام رازی نے نقل کیا ہے کہ"لایصلاھا"کا معنی حقیقت لغت میں"لایلزمھا"ہے کہتے ہیں کہ صلی الکافر النار جب وہ اس حال میں آگ کو لازم پکڑے درانحالیکہ اس کی شدت وحرارت کوبرداشت کرےاور ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ملازمۃ فقط کافر کیلئے ثابت ہےرہا فاسق تو وہ یا تو اس میں داخل ہی نہ ہوگا یا داخل تو ہوگا مگر اس سے چھٹکارا پالے گا۔انتہی

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ھوالموضوع لہ اسم التفضیل فالثانی و کالوسط بین الاول والثالث و العدول عن طرف الی طرف ابعد من المیل عن طرف الی الوسط فہذا الذی حملہم علی ذلك فیما اظن و الله تعالی اعلم منہ عفاالله تعالی عنہ امین۔ کی وضع ہے تو دوسرا جیسے اول وسوئم کے درمیان ہے اور ایك کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف پھرنا ایك کنارے سے درمیان کی طرف مائل ہونے سے زیادہ دور ہے تو میرے گمان میں یہی ان کو اس پر باعث ہواوالله تعالی اعلم منہ عفا الله تعالی عنہ۔آمین!
#716 · الزلال النقی
اقول:وما احسن ھذا تاویلا اواصفاہ لو لاان یکدرہ ماسأذکرہ قریبا فارتقب ورکن الرازی الی وجہ اخر من التاویل وھوان یخص عموم ھذا الظاہر بالایات الدالۃ علی وعید الفساق
اقول:ھذا جمع بین التاویل والتخصیص وھو مستغنی عنہ اذ لوقیل بالتخصیص فکما دلت الایات علی وعید الفساق کذالك دلت علی ایعاد سائر الکفار بدلالۃ اظہر واجلی۔اللھم الاان یقال فیہ تکثیر التخصیص جدا والقصر علی فردو احد اشد بعد و ھذا عــــــہ ولقد سلك میں کہتا ہوں کہ یہ تاویل کس قدر اچھی ہے اور یہ رنگ کتنا صاف تھا اگر اس کو اس بات نے مکدر نہ کیا ہوتا جو میں عنقریب ذکر کروں گاتو انتظار کرواور رازی ایك دوسری تاویل کی طر ف مائل ہوئےاور وہ یہ کہ اس کے ظاہر معنی کا عموم ان آیات کے ساتھ خاص ہو جو فساق کی وعید پر دلالت کرتی ہو۔
میں کہتا ہوں یہ تاویل وتخصیص کو یکجا کرنا ہے اور اس کی حاجت نہیں اس لئے کہ اگر تخصیص کا قول کیا گیا تو جس طرح آیات فساق کی وعید پر دلالت کرتی ہیں یونہی تمام کافروں کی وعید پر روشن اور صاف تر دلالت فرماتی ہیں۔الہی! تو مدد فرمامگر یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ تخصیص لازم آئے گیاور ایك فرد پر منحصر کردینا بہت زیادہ مستبعد ہے یہ لواور

عــــــہ:اعلم ان العبد الضعیف لما فرغ من تحریر ھذہ المقدمات الخمس وبلغ الی ا خرما کتبنا فی جواب الشبۃ الاولی استعار تفسیر فتح العزیز المتعلق بجزء عم یتساءلون من تمہیں معلوم ہو کہ بندہ ناتواں جب ان پانچ مقدمات کی تحریر سے فارغ ہوا اور پہلےشبہہ کے جواب میں جو ہم نے لکھا اس کے آخرتك پہنچا تو ایك دوست سے تفسیر فتح ا لعزیز جو جز عم یتساء لون سے متعلق ہے عاریت لی تو(باقی برصفحہ ائندہ)
#717 · الزلال النقی
القاضی الامام ابو بکر کما قاضی امام ابوبکر نے جیسا کہ امام فخر رازی نے مفاتیح الغیب

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعض الاصدقاء فطالعت فیہ من ھذا المقام ورایت المولی الفاضل استاذ استاذی عبدالعزیز ذکر الدفع ھذاالایراد اعنی نقض الحصر فی الکفار بد خول بعض الفجار النار بوجھین اخرین جیدین الاول ان المراد بالنار نار مخصوصۃ بالکفاروالثانی ان دخول بعض المومنین لما کان تطہیراوتادیبا کان کلا دخول وانما الدخول کل الدخول دخول لیس بعدہ خروج فالحصر بھذا المعنی وھو حق صحیح بلا امتراء انتہی۔
بالحاصل اقول: ما انعمہما من وجہین وادفعہما لکل شین لکنك یا عریف انت خبیر بانہما یجریان ایضا بعد شیئ من تغیر العبارۃ فیما اذا حملنا الاشقی علی معناہ الحقیقی کما ستسمع منا ان شاء الله تعالی فیا لیت المولی الفاضل لما تنبہ علی ھذین کما تنبہنا تجنب التاویل کما اجتبینا اذ البد ایۃ بتاویل الاشقی بالشقی ثم التحصن بھذین الحصنین الما نعین میں نے اس میں اس مقام کا مطالعہ کیاا ور میں نے دیکھا کہ مولی فاضل استاذ استاذی عبدالعزیز نے اس اعتراض کے دفع کے لئے یعنی اس حصر کا کفارمیں بعض فجار کے آتش جہنم میں داخل ہونے سے منقوض ہونا دو اور بہتر وجہیں ذکر کیںپہلی یہ کہ نار سے مراد وہ نارہے جو کافروں کے لئے مخصوص ہے۔دوسری یہ کہ بعض مسلمانوں کا آگ میں جانا جبکہ ان کی تطہیر و تہذیب کے لئے ٹھہراتو یہ آگ میں جانا نہ جانے کے مثل ہے اور آگ میں بالکل جانا وہ جانا ہے جس کے بعد آگ سے نکلنا نہ ہوگا تو آیت کا حصر کفار میں اس معنی پر ہے اور بے شك حق و صواب ہے۔
الحاصل میں کہتا ہوں یہ دونوں وجہیں کس قدر اچھی ہیں اور ہر خرابی کی کیسی دافع ہیںلیکن اے جاننے والے ! تم خبردار کہ یہ دونوں وجہیں عبارت کی قدرے تفسیر کے بعد اس صورت میں بھی جاری رہتی ہیں جب ہم اشقی کو اس کے معنی حقیقی پر رکھیں جیسا کہ تم ہم سے سنوگے ان شاء الله تو کاش مولائے فاضل جب ہماری طرف ان دونوں وجہوں پر متنبہ ہوئے اسی طرح تاویل سے بچتے جیسے ہم بچےاس لئے کہ پہلے اشقی کی تاویل شقی سے کرنا پھر ان دو محکم وجہوں جو اصل تاویل سے مانع ہیں سے تمسك
(باقی برصفحہ ائندہ)
#718 · الزلال النقی
اثر عنہ الفخر الرازی فی مفاتیح الغیب مسلکا حسنا اذحاول ابقاء الاشقی علی معناہ الحقیقی اعنی من لایدانیہ احد فی الشقا ء وذکر لتصحیح الحصر وجھین یرتاح بھما اللبیب ویندحض کل شك مریب:
الاول ان یکون المراد بقولہ تعالی"نارا تلظی"نارا مخصوصۃ من النیران لانہا درکات بقولہ تعالی ان المنفقین فی الدرك الاسفل من النار"فالایۃ تدل علی ان تلك النار المخصوصۃ لایصلہا سوی ھذا الاشقیولاتدل علی ان الفاسق وغیر من ھذا صفتہ من الکفار لایدخل سائر النیران انتہی۔
اقول:فکان کقولہ تعالی"و یتجنبہا الاشقی ﴿۱۱﴾ الذی یصلی النار الکبری ﴿۱۲﴾" ای اعظم النیران جمیعا علی احد وجوہ التاویلات میں نقل کیا ہے ایك اچھا مسلك اختیار کیا اس لئے کہ انہوں نے اشقی کو اس کے حقیقی معنی پر باقی رکھنے کی کوشش کی جن سے دانشمند چین پائے اور دھوکے میں ڈالنے والا ہر شك زائل ہوجائے:
پہلی وجہ یہ کہ قول خدا تعالی نارا تلظی سے دوزخ کی آتشوں سے ایك مخصوص آتش مراد ہو اس لئے کہ آگ کے مختلف طبقے ہیں کہ الله تعالی فرماتا ہے کہ"بے شك منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں"اب آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مخصوص آگ میں یہی اشقی جائے گا اور اس کا یہ معنی نہیں کہ اس بڑے بدنصیب کے سوا دوسرے کافر اور فاسق آگ کے باقی طبقوں میں نہ جائیں انتہی۔
میں کہتا ہوں الله تعالی کے فرمان" و یتجنبہا الاشقی ﴿۱۱﴾ الذی یصلی النار الکبری ﴿۱۲﴾"(دور رہے گا اس سے وہ بڑا بد نصیب جو بڑی آگ میں دھنسے گا) یعنی ایك تاویل پر سب سے بڑی آگ دلیل ہوگئی

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عن اصل التاویل مما یفضی الی العجب فکان کمن تمنی غرضا ورمی غرضا فاخطا بعد کاد ان یصیبوما تو فیقی الا بالله علیہ تو کلت و الیہ انیب ۱۲منہ عفا الله تعالی عنہ امین۔ ایسی چیز ہے جو تعجب کا سبب ہے تو یہ ایسا ہوا جیسے کوئی ایك نشان چاہے اور دوسرے کو مارے تو نشانے پر تیر پہنچنے کے قریب ہو کر چوك جائے اور میری توفیق الله ہی سے ہے اس پر میں بھروسا کرتا ہوں اور اسی کی طرف جھکتا ہوں۔
#719 · الزلال النقی
وردہ الرازی بان قولہ تعالی" نارا تلظی " یحتمل ان یکون ذلك صفۃ لکل النیران وان یکون صفۃ لنار مخصوصۃ لکنہ تعالی وصف کل نار جہنم بھذا الوصف فی ایۃ اخری فقال" انہا لظی ﴿۱۵﴾ نزاعۃ للشوی ﴿۱۶﴾"


اقول: یترا أی من ھذہ العبارۃ للایراد وجہتان:
الاولی ان الموردکانہ ظن ان القاضی الامام یدعی تخصیص النار بصفۃ التلظی کما یتخصص الغلام فی قولنا جاء نی غلام عاقل بصفۃ العقلومن ھذا الطریق یقول ان المراد نار مخصوصۃ اعظم النیران فلا یراد ح ظاھر الورود اذ الاوصاف انما تخصص اذا کانت خصائص توجد فی فرد دون اخر والتلظی لا یختص بناردون نار۔الاتری ان الله سبحنہ وتعالی وصف النار مطلقا" انہا لظی ﴿۱۵﴾ نزاعۃ للشوی ﴿۱۶﴾" ولکن لم یکن القاضی الامام اور رازی نے اس قول کو یوں رد کیا کہ الله تعالی کے قول نارا تلظی میں احتمال ہے کہ وہ سب آتشوں کی صفت ہو اور ممکن ہے کہ مخصوص آتش کی صفت ہو۔لیکن الله تعالی نے جہنم کی سب آتشوں کایہی وصف دوسری آیت میں فرمایااس کا ارشاد گرامی ہے:" انہا لظی ﴿۱۵﴾ نزاعۃ للشوی ﴿۱۶﴾"وہ تو بھڑکتی آگ ہے کھال اتارلینے والی۔
میں کہتا ہوں اس عبارت سے اعتراض کی دو۲ جہتیں نطر آتی ہیں۔
پہلی تو یہ ہے کہ گویا معترض نے یہ گمان کیا کہ قاضی امام ابو بکر آتش جہنم کے لپٹ مارنے کی صفت سے مخصوص ہونے کے مدعی ہیں اس طور پر جیسے غلام ہمارےقول جاءنی زید عاقل میں صفت عقل سے مخصوص ہے اور اس طریقے سے وہ فرماتے ہیں کہ مراد خاص آگ ہے جو سب سے بڑی آگ ہےتو اعتراض کا ورود اس صورت میں ظاہر ہے اس لئے کہ اوصاف ذات کے ساتھ اسی وقت خاص ہوتے ہیں جبکہ وہ اس فرد کا خاصہ ہو ں کہ دوسرے میں نہ پائے جائیں اور لپٹ مارنا ایسا نہیں کہ ایك آگ کی خاص صفت ہو دوسری کی نہ ہو
کیا تم نہیں دیکھتے کہ الله سبحنہ وتعالی مطلقا آتش جہنم کا وصف بیان فرماتا ہے: " انہا لظی ﴿۱۵﴾ نزاعۃ للشوی ﴿۱۶﴾" (یعنی وہ تو
#720 · الزلال النقی
لیرید ھذا وانما ملحظہ الی ان التنکیر للتعظیم فقولہ تعالی نارا ای نارا عظیما لیس کمثلہ نارکانہ اشیر بالتنکیر الی انہا بشہرۃ امرھا وشیوع فزعہا واخذ اھوالہا بمجامع القلوب صارت بمثابۃ لاتسبق الاذھان الا الیہافاغنت شہر تھا و انتشار ذکرھا عن تعریف اسمہا کما یفید ذلك تنکیر الملیك فی قولہ تعالی " فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ﴿۵۵﴾" وتنکیر الظلم فی قولہ تعالی" الذین امنوا و لم یلبسوا ایمنہم بظلم" ای ظلم لاظلم کمثلہ و ھو الشرک۔
انبانا مولانا السید حسین جمل اللیل امام الشافعیۃ بمکۃ المحمیۃ عن خاتمۃ المحدثین محمد عابد السندی عن صالح الفلانی عن بھڑکتی آگ ہے کھال اتا رلینے والی) لیکن حضرت قاضی امام یہ معنی مراد لینے والے نہیں ان کا اشارہ تو اس طر ف ہے کہ نکرہ تعظیم کیلئے ہے تو الله تعالی کے فرمان نارا کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑی آگ ہے اس جیسی کوئی آگ نہیںگویا وہ اپنی حالت کی شہرت اور اس کی ہیبت کے عام چرچے اور اس کی ہولناکیوں کی پورے دلوں پر پکڑکے سبب اس مقام پر ہے کہ ذہن اسی کی طرف سبقت کرتے ہیںتو اس کی شہرت اور اس کے عام ذکر نے اس سے بے نیاز کردیا کہ اس کا نام لے کر اسے معین کیا جائےجس طرح یہی فائدہ لفظ ملیك الله تعالی کے قول" فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر "(یعنی سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور) کا نکرہ ہونا دیتا ہے اور لفط ظلم الله تعالی کے قول " الذین امنوا و لم یلبسوا ایمنہم بظلم"میں یہ فائدہ دیتا ہے یعنی ایسا ظلم کہ کوئی ظلم اس جیسا نہیں اور وہ ظلم شرك ہے۔ہمیں خبردی مولانا سیدنا حسین جمال اللیل نے جو مکہ میں امام شافعیہ ہیں وہ روایت کرتے ہیں خاتمۃ المحدثین محمد عابد سندی سے انہوں نے روایت کیا صالح فلانی سے انہوں نے روایت کی
#721 · الزلال النقی
محمد بن سنۃ عن احمد العجلی عن قطب الدین النہر والی عن ابی الفتوح عن یوسف الھروی عن محمد بن شاہ بخت عن ابی النعمان الختلانی عن الفربری عن محمد بن اسمعیل البخاری ثنا ابوعدی ثنا شعبۃ عن سلیمان عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبدالله لما نزلت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئك لہم الامن وھم مھتدون قال اصحاب رسول الله تعالی علیہ وسلم اینا لم یظلم فنزل الله ان الشرك لظلم عظیم۔



انبانا شیخ العلماء مولانا السید زین دحلان المکی الشافعی عن العلامۃ عثمان بن حسن الدمیاطی محمد بن سنہ سے انہوں نے احمد عجلی سے انہوں نے قطب الدین نہر والی سے انہو ں نے ابو الفتوح سے انہوں نے یوسف ہروی سے انہوں نے محمد بن شاہ بخت سے انہوں نے ابونعمان ختلانی سے انھوں نے فربری سے انھوں نے محمد بن اسمعیل بخاری سےبخاری نے فرمایا ہم سے ابو عدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے سلیمان سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے علقمہ نے عبدالله بن مسعود سے روایت کی کہ جب یہ آیت کریمہ "الذین امنواولم یلبسوا ایمانھم اولئك لہم الامن و ھم مہتدون" (یعنی وہ جو ایمان لائے اور اپنے امان میں کسی ناحق کی آمیز ش نہ کی انہیں کے لئے ایمان ہے اور وہی راہ پر ہیں) نازل ہوئیرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اصحاب بولے ہم میں کون ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیاالله تعالی نے آیہ کریمہ "ان الشرك لظلم عظیم"بےشك شرك بڑا ظلم ہے۔ ت ) نازل فرمائی۔
ہمیں شیخ العلماء مولانا سید احمد دحلان مکی شافعی نے خبر دی انہوں نے علامہ عثمان بن حسن دمیاطی شافعی ازہری سے انہوں نے امیر کبیر
#722 · الزلال النقی
الشافعی الازھری عن الامیر الکبیر العلامۃ محمد المالکی الازھری والشیخ عبدالله الشرفاء الشافعی و سیدی محمد الشنوانی الشافعی واخرین باسانیدھم الی الامام مسلم بن الحجاج النیسابوری بسندہ الی عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال فیہ قالوا اینالا یظلم نفسہ فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم لیس ھو کما تظنون انما ھو کما قال لقمان لابنہ"یابنی لاتشرك بالله ان الشرك لظلم عظیم وھکذا اخرجہ الامام احمد والترمذی وقد اختار الرازی بنفسہ عین ھذا التوجیہ فی قولہ تعالی "ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی" قال التنکیر فی عبد یدل علی کونہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کاملا فی العبودیۃ کانہ تعالی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عبدلایفی العالم بشرح علامہ محمد مالکی ازہری اور الشیخ عبدالله شرفائی الشافعی اور سیدی محمد الشنوانی الشافعی اور دیگر علماء سے ان کی سندوں کے ساتھ جو امام مسلم بن حجاج نیشاپوری تك پہنچتی ہیں انہوں نے عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ تك اپنی سند سے روایت کیا کہ عبدالله بن مسعود رضی الله تالی عنہ نے فرمایا صحابہ نے عرض کی ہم میں کس نے ظلم نہ کیاتو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ ظلم نہیں جو گمان کرتے ہو یہ تو اس طرح ہے جیسے لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا:اے بیٹے ! الله کا کسی کو شریك نہ کرنا کیونکہ شرك بہت بڑا ظلم ہےاور مسلم کی حدیث کے مثل امام احمد وترمذی نے بھی روایت کیا اور خود رازی نے توجیہ الله تعالی کے قول "ارایت الذی ینھی عبد ا اذا صلی"(بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے۔ت) میں اختیار کی انہوں نے فرمایا کہ عبدا کانکرہ ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ تمام جہان حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حقیقت کے بیان اور عبودیت میں ان کے اخلاص کی توصیف کا حق ادا نہیں
#723 · الزلال النقی
بیانیہ وصفۃ اخلاصہ فی عبودیتہ انتھی
والثانیۃ ان توصیفہ بالتلظی ینافی ھذا التخصیص لانہ وصف مطلق النار لا نارمخصوص۔اقول ولیس بشیئ اذ لا یمتنع توصیف فرد عظیم من جنس بوصف عام نشترك فیہ الافراد جمیعا و انما الممتنع عکسہاعنی توصیف جمیع الافراد بما یختص بہ فرد خاصالاتری الی قولہ تعالی" وما محمد الا رسول " مع انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اعظم الرسل واکرمہم بالاطلاقوالرسالۃ وصف عام یشترك فیہ المرسلون جمیعاولیس فی الایۃ مایدل علی القصر ینافی العموم علی ان التلظی مقول بالتشکیك فیجوز ان یراد ھنا تلظ خاص لیس کمثلہ تلظ کما قال الله سبحنہ وتعالی" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اطلق الضلال و
کرسکتا۔
دوسری یہ کہ آگ کو تلظی (بھڑکنے) سے موصوف فرمانا اس تخصیص کے منافی ہے اس لئے کہ بھڑکنا مطلقا ہر آگ کی صفت ہے نہ کہ کسی خاص آگ کی۔میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کوئی چیز نہیں اس لئے کہ کسی جنس کے عظیم فرد کو ایسے عام وصف سے جس میں سارے افراد شریك موصوف کرنا ممتنع نہیںممتنع تو اس کا عکس ہے یعنی تمام افراد کو ایسی صفت سے موصوف کیا جائے جو کسی خاص فرد کی صفت ہوگیا تم نہیں دیکھتے الله تعالی کے اس قول کی طرف"اور محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم تو ایك رسول ہیں"حالانکہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سب رسولوں سے مطلقا افضل و اعلی ہیں اور رسالت ایك وصف عام ہے جس میں سب رسول شریك ہیںاور آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو حصر پر دلالت کرتا ہو کہ عموم کے منافی ہومزید بر آں تلظی (بھڑکنا) کلی مشکك ہے لہذا جائز ہے کہ اس جگہ خاص تلظی (بھڑکنا) مراد ہو جس کے مثل کوئی تلظی نہ ہوجیسے الله تعالی سبحنہ وتعالی نے فرمایا:"اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو
#724 · الزلال النقی
اراد ا الضلال البعید وھو الکفر۔
اخرج الامام احمد و الطبرانی وغیرھما عن ابی عامر الاشعری رضی الله تعالی عنہ قال سالت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن ھذہ الایۃ فقال لایضرکم من ضل من الکفار اذا اھتدیتم والعجب ان الرازی جنح بنفسہ الی نحومن ھذا فی قولہ تعالی "نار حامیۃ"قال والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیہا کانہا لیست حامیۃ وھذ القدر کاف فی التنبیہ علی قوۃ سخونتہا نعوذ بالله منہما الخفما للشعیر یوکل ویذم۔
اقول:لك ان تقول ان لظی من المجرد وتلظی من المزید و زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنیکما قالوا فی الرحمن والرحیم وغیر ذلك مع فیہ من التشدید "ضلال بولا اور ضلال بعید مراد لیا اور وہ کفر ہے۔
امام احمد و طبرانی وغیر ہمانے ابو عامر اشعری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی انہوں نے فرمایا میں نےرسول الله صلی الله تعالی علیہ سے دریافت کیا اس آیت کے بارے میں تو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا(یعنی کافر لوگ)جبکہ تم راہ پر ہو۔
اور تعجب تو یہ ہے کہ فخررازی خود اس کے قریب توجیہ کی طرف مائل ہوئے الله تعالی کے قول نار حامیۃ کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ ہر آگ جہنم کی آگ کے مقابل گویا گرم ہی نہیں اور اتنی بات آتش جہنم کی سخت گرمی پر متنبہ فرمانے کو کافی ہے ہم الله کی اس سے پناہ مانگتے ہیں جو کھایا جائے او ربرا بھی کہا جائے۔
میں کہتا ہوں اور تمہیں پہنچتاہے کہ تم کہو کہ لظی مجرد کے قبیل سے ہے او رتلظی مزید کے قبیل سے ہے اورلفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہےجیسا کہ رحمن ورحیم وغیر ہ میں علماء نے فرمایا اس کے ساتھ تلظی
#725 · الزلال النقی
لفظ المنبئی عن الشدۃ معنی کما فی قتل وقتل وقاتل وقتال مع ان باب الادعاء واسع وقصر ا لوصف علی اعظم من یوصف شائع قال تعالی فی المہاجرین " اولئک ہم الصدقون ﴿۸﴾ " ویمکن ان تجعل من ھذا القبیل امثال قولہ تعالی " انہ ہو السمیع العلیم ﴿۳۶﴾" ۔
وقد حققنا المسالۃ فی خاتمۃ رسالتنا سلطنۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم بما لا مزید علیہ ھذا وکان قلب ابی عبیدۃ رکن الی ھذا الوجہ الذی ذکر القاضی الامام شیئا قلیلا ثم بدا لہ مابدا فانحجم کما حکینا لك کلامہ ستسمع منا جوابہ ان شاء الله تعالی۔
الثانی من وجھی القاضی"ان المراد بقولہ تعالی نارا تلظی النیران اجمعویکون المراد بقولہ تعالی لا یصلہا الا الاشقی ای ھذا الاشقی بہ احقوثبوت ھذا الزیادۃ فی الاستحقاق میں لفظی شدت ہے جو معنوی شدت کی خبر دیتی ہے جیسے لفظ قتل اور قتل اور قاتل وقتال میںاس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ادعاء کا باب واسع ہے اور صفت کو سب موصوفین سے بڑے موصوف پر مقصود رکھنا عرف شائع ہے۔الله تعالی کا مہاجرین کے بارے میں ارشاد ہے " اولئک ہم الصدقون ﴿۸﴾ " (یہی لوگ سچے ہیں)اور ممکن کہ تم الله تعالی کے قول (بے شك وہی ہے سنتا جانتا ہے) کہ اس قبیل سے قرار دو۔
اورہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خاتمہ میں ایسے کلام سے جس میں زیادتی نہیں ہوسکتی کی ہے اور اس توجیہ کی طرف جو قاضی امام نے بیان فرمائی ابو عبیدہ کا دل کچھ مائل ہوا تھا پھر اس کو سوجھی جو سوجھی تو وہ اس سے منحرف ہوگیا جیسا کہ ہم تم سے اس کا کلام ذکر کر چکےاور عنقریب تم ہم سے اس کا جواب سنو گے ان شاء الله تعالی۔
قاضی کی ارشاد فرمودہ دو وجہوں میں سے دوسری یہ ہے کہ الله تعالی کے قول نارا تلظی سے مراد تمام آتشیں ہیں اور الله تعالی کے قول لایصلہا الا الاشقی (اس میں نہ جائے گا مگر وہ سب سے بڑا بدبخت ) سے مراد یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا بد بخت ان تمام آزمائشوں کے
#726 · الزلال النقی
غیر حاصل الا لہذا الاشقی انتہی والی نحو من ھذا یمیل ماجزم بہ الزمخشری فی الکشاف مقتصرا علیہ ونقلہ الامام النسفی رامزا الیہ من ان الایۃ واردۃ فی الموازنۃ بین حالتی عظیم من المشرکین وعظیم من المؤمنین فارید ان یبالغ فی صفتیہما المتناقضتینفقیل الاشقی وجعل مختصا بالصلی کان النار لم تخلق الالہوقیل الاتقی وجعل مختصا بالنجاۃ کان الجنۃ لم تخلق الا لہ انتہی۔

اقول: وھذا ھو الحصر الادعائی الذی وصفنا لك ولا شك انہ دائر سائر بین البلغاء یشہد بھذا من تتبع دواوین العرب وکلامہم فی المدح والھجاء ومعلوم ان الزمخشری لہ یدطولی وکعب علیا فی فنون الادب وصنائع الادباء فقول الرازی انہ ترك الظاھر من غیر دلیل انتہی غیر مستحسن سب سے زیادہ سزا وار ہے اور استحقاق کی زیادتی اسی سب سے بڑے بدبخت کو حاصل ہے انتہیاور اس سے قریب توجیہ کی طرف وہ توجیہ مائل ہے جس پر زمخشری نے جزم کیا کشاف میں اس پر اکتفا کرتے ہوئے اور زمخشری کی وہ تو جیہ امام نسفی نے اسکی طرف اشارہ فرماتے ہوئے نقل فرمائی وہ توجیہ یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے ایك عظیم او رمومنین کے ایك عظیم کے دو متناقض صفتوں میں مبالغہ فرمایا جائے تو اشقی فرمایا گیا اور اسے آتش جہنم میں جانے کیلئے مخصوص ٹھہرایا گیا گویا جہنم کی آگ اسی کے لئے پیدا ہوئی ہے اور اتقی فرمایا گیا اور نجات کے لئے مخصوص فرمایا گیا گویا جنت اسی کےلئے بنی ہے انتہی۔
میں کہتا ہوں یہی وہ حصرا دعائی جس کا بیان ہم نے تم سے کیا اور کوئی شك نہیں کہ یہ بلغاء میں دائر وسائر ہے اس کی گواہی عرب کے دیوانوں کو اور مدح وہجو میں ان کےکلام کو خوب مطالعہ کرنے والا دے گااور یہ معلوم ہے کہ زمخشری کو فنون ادب اور ادبیوں کی صنعتوں میں بڑی دسترس ہے اور اونچا درجہ حاصل ہے تو فخر رازی کا زمخشری پر یہ اعتراض کہ اس کی یہ توجیہ ظاہر کو بے دلیل چھوڑنا ہے انتہی خوب نہیں
#727 · الزلال النقی
وای شیئ اکبر دلالۃ من الاحتیاج الی تصحیح الکلام ولیس تاویل الاشقی بالشقی اقرب الی الظاھر من ھذا الحصر من شیوعہ و کثرۃ وقوعہ نظما ونثر ا وتصحیح الکلام قرینۃ کافیۃ فی امثال ھذا المقام الاتری انك اذا سمعت رجلا یقول زید ھو الکریم علمت اول وھلۃ من دون تامل ولامہلۃ ان مرادہ ان لیس کریم مثلہ لا ان لاکریم مثلہ وھذا ظاھر جداھذا مایتعلق بحکم الاشقیولاشك ان الکلام ھہنامحتاج بظاھرہ الی تاویل او توجیہ لکن ابا عبیدۃ زاد فی الشطر نج بغلۃ ثم تتابع فی قوم من المتاخرین ینقلون کلامہ من دون تنقیح کما حکینا لك دیرنہم من کلام الامام العلامۃ السیوطی رحمہ الله تعالی حملہ علی ذلك ان ظن ان ایۃ الاتقی ایضا محتاجۃ الی التاویل حیث قال و ان زعمت انہ تعالی نکرالنار الی اخر الخ مانقلنا عنہ فلم یثبت ان اخذ الاتقی بمعنی التقی لیشمل کل مؤمن ووافقہ علی ذلك الزمخشری وغیرہ لکنہم اور کلام کی تصحیح کی حاجت سے بڑی کو ن سی دلیل ہے اور اشقی کی تاویل شقی سے اس حصر کی بہ نسبت ظاہر سے نزدیك تر نہیں باوجود اس کے یہ حصر عرف میں شائع ہے اور نظم ونثر میں بکثرت واقع ہے اور تصحیح کلام کی حاجت اس جیسے مقامات میں قرینہ کا فیہ ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ جب تم کسی کو یہ کہتےسنو کہ زید ہی کریم ہے تو پہلی فرصت میں تم جان جاؤ گے کہ زید جیسا کوئی کریم نہیں نہ یہ کہ زید کے سواکوئی کریم نہیں اور یہ خوب ظاہر ہے تو یہ حکم اشقی سے متعلق تھا اور یہ کوئی شك نہیں کہ اس مقام پر کلام اپنے ظاہر سے تاویل یا توجیہ کا محتاج ہے لیکن ابوعبیدہ نے شطر نج کے مہروں میں بغلہ (خچر) بڑھا دیا پھر متاخرین میں سے کچھ لوگ پے در پے اس کا کلام بغیر تنقیح کے نقل کرتے رہےجیسا کہ ہم نے تم سے امام علامہ سیوطی کے کلام سے ان کی عادت کی حکایت کیاس کے لئے اس کا سبب یہ ہوا کہ اس نے یہ گمان کیاکہ وہ آیت بھی جس میں اتقی وارد ہوا تا ویل کی حاجتمند ہے اس لئے کہ اس نے کہا کہ اگر تم کہو کہ الله تعالی نے نار کو نکرہ فرمایاالخ تو کچھ دیر نہ ٹھہراکہ اتقی کو بمعنی تقی کے لیا تاکہ آیت ہر مومن کو شامل ہوجائے اور اسی بات میں زمخشری وغیرہ نے اس سے اتفاق کیا مگر اس کی تاویل
#728 · الزلال النقی
لم یوافقہ علی التاویل کما سمعت وھذا کلام لایقوم علی ساق اذلیس فی قولہ تعالی وسیجنبہا الاتقی مایدل علی الحصر والقصر انما یصف الله سبحنہ وتعالی عبدا لہ اتقی بانہ یجنب النار و یبعد عنہا لاانہ لایجنب النار الاھو و رحم الله الرازی حیث تفطن لھذا فذکر فی الاشقی قولا انہ بمعنی الشقی ولم یذکرہ فی الاتقی راسابل صرح بخلافہ حیث قال"ھذا لایدل علی حال غیر الاتقی الا علی سبیل المفہوم والتمسك بدلیل الخطاب


اقول: بل ولا یتمشی علی مذھب القائلین بمفہوم الصفۃ ایضا فان الکلام مسوق لمدح الاتقی کما یدل علیہ سبب النزول ومقام المدح والذم مستثنی عندھم ایضا کما ھو مذکور فی کتب الاصول فیا للعجب من القاضی البیضاوی الشافعی میں ان لوگوں نے اس کی موافقت نہ کی جیسا کہ تو نے سنا اور یہ کلام پائے ثبات پر قائم نہیں اس لئے الله تعالی کے قول وسیجنبہا الاتقی میں کوئی لفظ نہیں جو حصر پر دلالت کرتا ہو الله تعالی تو اپنے ایك بندے کا وصف بیان فرماتا ہے جو سب سے بڑا پرہیز گار ہویوں کہ وہ جہنم کی آتش سے بہت دور رکھا جائے گا یہ مطلب نہیں کہ جہنم کی آگ سے وہی بچایا جائے گا۔اور الله تعالی علامہ رازی پر اپنی رحمت فرمائے کہ انہوں نے اس امر کوسمجھ لیا لہذا اشقی میں ایك قول ذکر کیا کہ وہ بمعنی شقی کے ہے اور اتقی میں اسے بالکل ذکر نہ کیا بلکہ اس کے خلاف کی تصریح کی انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ جس میں اتقی کے لئے بشارت ہے غیر اتقی کےحال پر دلالت نہیں کرتی مگر اپنے مفہوم کے اعتبار سے اور دلیل خطا ب سے تمسك کے طور پر الخ۔
میں کہتا ہوں بلکہ یہ بات ان کے مذہب پربھی نہیں چلتی جو مفہوم صفت کے قائل ہیں اس لئے کہ کلام مدحت اتقی کے لئے لایا گیا ہے جیسا کہ اس پر سبب نزول دلالت کرتا ہے اور ان لوگوں کے نزدیك مقام مدح وذم بھی مستثنی ہے جیسا کہ کتب اصول فقہ میں مذکور ہے تو قاضی بیضاوی شافعی پر تعجب ہے انہوں نے
#729 · الزلال النقی
کیف تمسك ھہنا بالمفہوممع انہ لیس محلہ بالاتفاق واشدالعجب من القاضی الامام ابی بکر الشافعی اذ زل قلمہ فمال الی افادۃ الحصر مع انہ یخالف ائمتہ فی القول بالمفہوم راساوھکذا یرینا الله ایاتہ فی الافاق و فی انفسنا کیلا یغتر مغتر بدقۃ انظارہ ولا یسخر ساخر من عاثر فی افکارہ اذ نری کل صارم ینبو وکل جواد یکبو فعلام یزھو من یزھو و سقی الله عہد من قالوا وما ادراك من قالوا سادۃ کرام قادۃ الامۃ ابراھیم النخعی ومالك بن انس وغیرھما من الائمۃ اذ قالوا ولنعم ماقالوا کل احد ماخوذ من کلامہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی الله تعالی علیہ وسلم نسال الله الوقایۃ فی البدایۃ والنہا یۃوالحمدلله رب العالمین۔ کیونکر مفہوم سے استدلال کیا حالانکہ بالاتفاق یہ اس کا محل نہیںاور سخت تعجب تو قاضی امام ابوبکر شافعی پر ہے کہ ان کے قلم نے لغزش کی تو وہ اس طر ف مائل ہوئے کہ آیت حصر کا فائدہ دیتی ہے حالانکہ وہ قول بالمفہوم میں اپنے ائمہ کے بالکل مخالف ہیں اور یو نہی الله ہمیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور ہمارے نفوس میں دکھاتا ہے تا کہ کوئی اپنی باریك بینی پر مغرور نہ ہو اور کوئی ہنسنے والا اپنے افکار میں لغزش کرنے والے سے نہ ہنسےاس لئے کہ ہر تلوار اچٹتی ہے اور ہر گھوڑا گر تا ہے تو گھمنڈکرنیوالا کا ہے کو گھمنڈکرے اور الله تعالی ان کے زمانے کو سیراب کرے جنہوں نے فرمایا اور تمہیں کیا خبر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے فرمایا سرداران بزرگ امت کے مقتدا ابراہیم۔۔۔ومالك بن انس وغیرہ ائمہ کہ انہوں نے فرمایا اور کیا خوب فرمایا کہ ہر شخص کی کو ئی بات مقبول ہوتی ہے اور کوئی نامقبول مگر اس قبر شریف کے ساکن یعنی حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کہ ان کی ہر بات قبول ہے ہم الله تعالی سے حفاظت مانگتے ہیں ابتداء وانتہاء میںوالحمد لله رب العالمین۔
#730 · الزلال النقی
والان ان ان نستکمل الرد علی ابی عبیدۃ فیما فرعنہ وفیما اطمان علیہ فاقول وبالله التوفیق زعم الرجل اولا ان تاویل الاشقی بالشقی ینجیہ عما فیہ اذ ال الکلام الی ان لایصلی النار الاکافر وھذا حق لاغبار علیہ۔
قلنا نظرت الموصوف وترکت الصفۃ یقول الله سبحنہ وتعالی " لا یصلىہا الا الاشقی ﴿۱۵﴾ الذی کذب و تولی ﴿۱۶﴾" ومعلوم ان من الکفار من لم یکذب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مدۃ عمرہ لابجنانہ و لا بلسانہ و انما اکفرہ ان سبق الکتاب و خذل التوفیق والعیاذ بوجہ المولی الکریم۔



اقول:و ھذا ابو طالب عم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم افنی عمرہ فی حفظہ وحمایتہ وبلغ الغایۃ القصوی اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم ابوعبیدہ کارد اس میں جس سے اس نے فرار اختیار کیا اور جس پروہ مطمئن ہوا تمام کریںتو میں کہتا ہوں اور الله سے ہی توفیق ہے اس شخص نے پہلے خیال یہ کیا کہ اشقی کی تاویل شقی سے اسے اس آفت سے نجات دے دے گی جس میں وہ مبتلاہے اس لئے کہ کلام کا مآل یہ ہوا کہ دوزخ کی آگ میں کافر ہی جائے گا۔اور یہ بات حق ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔
ہم کہیں گے کہ تم نے موصوف کو دیکھا اور صفت کو چھوڑ دیا الله سبحنہ وتعالی فرماتا ہے: لا یصلىہا الا الاشقی ﴿۱۵﴾ الذی کذب و تولی ﴿۱۶﴾ ( اس میں نہ جائے گا مگر وہ سب سے بڑابدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا) اور یہ معلوم ہے کہ کافروں میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی تمام عمر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو نہ جھٹلایا نہ اپنے دل سے نہ اپنی زبان سےاس کا کفر تو یوں ہواکہ الله کا لکھا غالب آیات اور توفیق الہی نے اس کا ساتھ نہ دیا اور مولائے کریم کی ذات کی پناہ ہے۔
میں کہتا ہوں یہ ہیں ابو طالب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے چچا جنہوں نے اپنی عمر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حفاظت و حمایت میں فنا کردی اور وہ حضور صلی الله تعالی
#731 · الزلال النقی
من مجتہ وولایتہ قد کان حبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اخذ بمجامع قبلہحتی کا ن یفضلہ علی الاطفال الصغار من بنی صلبہو لما بعث الله تعالی نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فدعا المشرکین الی التوحیدوھجم علیہ الاعداء من کل شاء وبعید قام ینا ضل عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فاعظم بر ہ ولازم نصرہ وقاسی ماقاسی من شدائد لاتحصی فی مہاجرۃ المشرکین من عشیرتہ الاقربین۔وھو الذی لما تما لات قریش علی المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم ونفر و اعنہ من یرید الاسلام انشاء قصیدۃ تدل علی عظم حبہ المصطفی وشدۃ بغضہ اعدائہ اللیام کما روی ابن اسحق وغیرہ من الثقات ومنہا ھذہ الابیات
اعبد مناف انکم خیر قومکم
فلا تشرکوافی امر کم کل واغل
فقد خفت ان لم یصلح الله امرکم
تکونوا کما کانت احادیث وائل
اعوذ بر ب الناس من کل طاعن
علینا بسوء اوملح بباطل علیہ وسلم کی محبت اور نصرت کی انتہائی حد کو پہنچےسرکار علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت نے ان کے پورے دل کو ایسا پکڑلیا تھا کہ اپنے صلبی کم سن بچو ں پر حضور علیہ السلام کو فضیلت دیتے تھے اور جب الله تعالی نے اپنے نبی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو سرکار نے مشرکین کو وحدانیت کی طرف بلایا اور دین کے دشمن ہرسمت دوردراز سے حملہ آور ہوئے ابو طالب ان کی حمایت کو کافرو ں سے لڑنے کو کھڑے ہوگئے تو سرکار کے ساتھ بڑی نیکی کی اور ہمیشہ ان کی مدد کی اوراپنے قریبی رشتہ دار مشرکون کی طرف سے کیسی بے شمار سختیاں جھیلیں۔یہ وہ ابو طالب تھے کہ جب سارے قریش مصطفے صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مخالف ہوئے اور اسلام کے خواہشمندوں کو سرکار علیہ السلام سے دور کیا تو انہوں نے ایك قصیدہ کہا جو مصطفے صلی الله تعالی علیہ وسلم کی بڑی محبت اور ان کے کمین دشمنان سے شدید عداوت کی دلیل ہےجیسا ابن اسحق نے معتمد راویوں سے روایت کیا ہے۔اسی قصید ہ کے یہ شعر ہیں:
اے عبد مناف کے بیٹو ! تم ا پنی قوم میں سے بہتر ہوتو تم اپنے معاملہ میں ہر خسیس کو شریك نہ کروبے شك مجھے اندیشہ ہے کہ اگر الله نے تمہارا حال ٹھیك نہ کیا تو تم وائل کے افسانوں کی طرح افسانہ ہوجاؤگے میں لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں ہر برائی کا طعنہ دینے والے اور باطل پر اصرار کرنے والے سے
#732 · الزلال النقی
ومن کاشح یسعی لنا بعبیۃ
ومن ملحق فی الدین مالم یحاول
وثور ومن ارسی ثبیر امکانہ
وراق لبر فی حراء ونازل۔
وبالبیت حق البیت فی بطن مکۃ
وبالله ان الله لیس بغافل
کذبتم وبیت الله نبزی محمدا
ولما نطاعن دونہ وننا ضل
ونسلمہ حتی نصر ع حولہ
ونذھل عن ابناء نا والحلائل
لعمری لقد کلفت وجدا باحمد
واجبتہ داب المحب المواصل
فمن مثلہ فی الناس ای مؤمل
اذا قاسہ الحکام عند التفاضل
حلیم رشید عاقل غیر طائش
یوالی الاھا لیس عنہ بغافل اور کینہ پرور سے جو ہم پر گھمنڈ کی کوشش کرے اور اس سے جودین میں ایسی بات شامل کرے جو دین میں کبھی نہ پائی گئی ہو۔
اور کوہ ثور سے اور اس سے جس نے کو ہ ثبیر کو اپنی جگہ جمایا اور کوہ حرامیں عبادت کے لئے چڑھنے اوراترنے والے سے۔ اور الله تعالی کے سچے گھر کی قسم اور الله کی قسمبیشك الله تعالی بخبر نہیں۔الله کے گھر قسم ! اے کافرو ! تم جھوٹے ہوا س گمان میں کہ ہم محمد (صلی الله تعالی علیہ وسلم )کو چھوڑ دیں گے۔
حالانکہ ابھی ہم نے حضور علیہ السلام کے گر دنیز و ں اور تیروں سے جنگ نہ کی اور کیا ہم محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تمہارے سپرد کریں گے جب تك کہ اپنے بیٹوں او ر بیویوں سے غافل نہ ہوجائیں۔مجھے اپنی جان کی قسم ! مجھے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے شدید محبت ہے اور میں انہیں ایسا چاہتا ہوں جس طرح پیہم چاہنے والے کی عادت ہوتی ہے۔
جب فیصلہ کرنے والے مقابلے کے وقت کسی کو ان پر قیاس کریں تو ان جیسا لوگو ں میں کون ہے جس کے لئے یہ امید ہو کہ وہ ان کاہم پلہ ہوگا۔حلم والے رشد والےعقل والے طیش والے نہیں وہ بیوقوف وبے قدر سے محبت رکھتے ہیں جوان سے غافل نہیں۔
#733 · الزلال النقی
فوالله لولا ان اجی بسبۃ
تجر علی اشیاخنا فی المحافل
لکنااتبعنا ہ علی کل حالۃ
من الدھر جدا غیر قول التہا زل
فاصبح فینا احمد فی ارومۃ
تقصرعنہا سورۃ المتطاول
حدیث بنفسی دونہ وحمیتہ
ودافعت عنہ بالذر او الکلا کل
ولقد کان یتبرك بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم و یتوسل بہ الی الله تعالی فی الدعاء کما ید ل علیہ ما روی العلماء من سنۃ قریش وحدیث الاستسقا و قد حث الناس علی اتباعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم و اخبر عن امور لم تقع فصدق تو خدا کی قسم اگر اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں ایسا کام کرو ں جو ہمارے بزرگو ں پر محافل میں ملامت کا سبب بنے۔
تو ہم نے زمانہ کی ہر حالت میں ان کی پیروی کی ہوتی تو یہ با ت سنجیدگی سے بے مذاق کے کہتا ہوں۔تو احمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ہمارے اندر ایسے عالی نسب ہیں جس کو فخرکرنے والے کی محبت پانے سے عاجز ہے۔
میں نے اپنی جان کو ان کے سپر د کردیا او ر ان کی حمایت کی اور سرداروں اور گر وہوں کے ذریعہ (یا سروں او رسینوں کے ذریعہ )دشمنوں سے حضور کا بچا ؤ کیا۔
اور نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے برکت طلب کرتے اور دعا میں آنجناب علیہ الصلوۃ والسلام کو وسیلہ بناتے چنانچہ اس پر قریش کی قحط سالی اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلہ سے بارش طلب کرنے کا واقعہ جسے علماء نے روایت فرمایا ہے دلالت کرتا ہے اور بے شك ابو طالب نے لوگو ں کو سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع پر ابھارا اور ان باتوں کی خبر دی جو واقع نہ ہوئی تھیں تو ایسا ہی
#734 · الزلال النقی
سبحنہ وتعالی ظنہ ووقع کمثل اخبار ہ فوقع ولقد لہ موقع عظیم فی قلب النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم حتی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لما جاءہ اعرابی فقال یا رسول الله اتیناك وما لنا صبی یفط و لا بعیر یئط وانشد ابیاتا فقام صلی الله تعالی علیہ وسلم یجر رداء ہ حتی صعد المنبر ورفع یدیہ الی السماء فوالله ماردیدیہ بکریمتین حتی التقت السماء بابر اقہا وجاءوا یضجون الغر قفضحك صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وتذکر قول ابی طالب فی مدحہ حیث یقول


اوبیض یستسقی الغمام بوجہہ
ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
فقال لله در ابی طالب لوکان حیالقرت عیناہ من ینشد نا قولہفقال علی کرم الله تعالی وجہہ یا رسول الله ہوا جیسا انہوں نے خبر دی اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں ان کے لئے مقام عظیم تھا یہاں تك کہ جب سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایك اعرابی نے آکرعرض کی کہ ہم سرکار کے پاس آئے ہیں اور حال یہ ہے کہ ضعف سے ہمارے بچوں کی آواز نہیں نکلتی اور ہمارے اونٹ لاغری سے کراہتے نہیں اور اس اعرابی نے سرکار کی مدح میں کچھ اشعار پڑھے تو سرکار علیہ الصلاۃ والسلام چادر اقدس کو گھیسٹتے ہوئے اٹھے اور منبر پر صعود فرمایا اور آسمان کی جانب اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو خدا کی قسم ابھی سرکار علیہ الصلوۃوالسلام نے اپنے ہاتھ نیچے نہ کئے تھے کہ آسمان بجلیوں سے بھر گیا اور اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ پکارتے ہوئے آئے کہ ہم ڈوبےتو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے تبسم فرمایا یہاں تك کہ دندان اقدس چمکے اور آپ کو اپنی تعریف میں ابوطالب کا قول یاد آیاجب انہوں نے عرض کیا تھا کہ
سرکار گورے ہیں جن کے چہرے سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کی ٹیك اور بیواؤں کا سہارا ہیں۔
پھرسرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:الله کے لئے ابو طالب کی خوبی ہے اگر وہ زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں کون ہمیں ان کے شعر سنائے گا۔تو حضرت علی
#735 · الزلال النقی
کانك ترید قولہ وابیض یستسقیو ذکر ابیاتا فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم اجل کما اخر جہ البیہقی فی دلائل النبوۃ عن سیدنا انس رضی الله تعالی عنہ فانظر الی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم "لله در ابی طالب"وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم" لوکان حیا لقرت عیناہ" وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من ینشد نا قولہ" ولم ینقل عنہ مرۃ انہ رد علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وکذبہ فیہ بل ھو القائل فی تلك القصیدۃ مخاطبا لقریش
لقد علموا ان ابننا لامکذب
لدینا ولایعنی بقول الاباطل
ولذا کان اھون اھل کرم الله تعالی وجہہ نے عرض کیا گویا سرکار کی مراد ان کا وہ قصیدہ ہے جسمیں انہوں نے عرض کی"وہ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے ذریعہ بارش طلب کی جاتی ہے۔اور سید نا علی کرم الله تعالی وجہہ نے چند شعر پڑھے تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:ہاں میں یہی چاہتا تھا۔جیسا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں سیدنا انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا تو سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کے قول"لله در ابی طالب"(الله کےلئے ابوطالب کی خوبی ہے) کو دیکھو اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کو دیکھو کہ اگر ابو طالب زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیںاور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر نظر کر و کہ ہمیں کون ابوطالب کے شعر سنائے گا۔اور ایك بار بھی منقول نہ ہوا کہ ابو طالب نے سرکار کی کسی بات کو رد کیا ہو یا سر کار کو جھٹلایاہوبلکہ خود اسی قصید ہ میں قریش سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا فرزند ہمارے نزدیك ایسا نہیں کہ جھٹلایا جائے اور نہ اسے جھوٹی باتوں سے کام ہے۔
اور اسی وجہ سے ابوطالب پر تمام دوزخیوں
#736 · الزلال النقی
النار عذابا کما فی الصحاح و نفعتہ شفاعۃ الشفیع المرتجی صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی اخرج الی ضحضاح علی خلاف من سائر الکافرین الذین لا تنفعہم شفاعۃ الشافعینویالیتہ لواسلم لکان من افضل اصحاب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ولکن قضاء الله لایرد وحکمہ الایعقب ولله الحجۃ السامیۃ ولاحول ولاحوۃ الا بالله العزیز الحکیم وقد فصلنا المسئلۃ فی بعض فتاونا واظہر نا بطلان قول من قال باسلامہ واذا کان ذلك ظہر ان الحصر فی الشقی المکذب ایضا غیر مستقیم الی ھذا اشار القاضی الامام حیث قال لایمکن اجراء ھذہ الایۃ علی ظاھرھا و یدل علی ذلك ثلثۃ اوجہ۔


احدھا انہ یقتضی ان لایدخل النار"الا الاشقی الذی کذ ب وتولی"فوجب فی الکافر سے ہلکا عذاب ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہوا اور شفیع مرتجی (امید گاہ عاصیاں)صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت نے انہیں نے نفع دیا تو ان پر تخفیف کے لئے انہیں جہنم کے بالائی سرے پر رکھ دیا گیا اور یہ معاملہ ان کے ساتھ سارے کافرو ں کے بر خلاف ہے جنہیں شفیعوں کی شفاعت کام نہ دے گی اور کاش وہ ایمان لاتے تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے افضل صحابہ سے ہوتے۔لیکن الله کا لکھا نہیں ٹلتا او ر اس کاحکم نہیں بدلتا اور الله ہی کے لئے حجت بلند اور معصیت سے پھرنے کی قوت اورطاعت کی طاقت الله عزوجل حکیم کے دئےبغیر نہیںاور ہم نے اس مسئلہ کو اپنے بعض فتاوی میں تفصیل سے بیان کیا اور ابوطالب کے اسلام کے قائل کی رائے کا بطلان ظاہر کیا ہے اور جب یہ با ت یوں ہے تو ظاہر ہوا کہ حصر شقی مکذب (جھٹلانے والے) میں بھی درست نہیں اسی طرف امام ابوبکر نے اشارہ کیا چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس کے ظاہری معنی پر جاری کرنا ممکن نہیں اور اس پر تین و جوہ دلالت کرتی ہیں۔
ان میں سے ایك یہ ہے کہ یہ حصر اس کا مقتضی ہے کہ جہنم میں وہی کافر جائے گا جو سب سے بڑا بد بخت ہو جس نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام
#737 · الزلال النقی
الذی لم یکذب و لم یتول ان لایدخل النار الخ۔
قلت وبما قررنا المقال بان لك انخساف ماقال الرازی متعقبا للامام القاضی ان کل کافر لابد و ان یکون مکذبا للنبی فی دعواہ ویکون متولیا عن النظر فی دلالۃ صدق ذلك النبی الخ وظہر ایضا ان ھذ التاویل الذی ارتضاہ کثیر من المتاخرین ولایسد خلۃ ولا یشقی غلۃ وعلیك بتلطیف القریحۃ۔
وزعم ثانیا ان ایۃ الاتقی ایضا تفتقرالی التاویل لقرینتہا فارتکب ماکان فی مندوحۃ عنہ کما حققنا۔
وزعم ثالثا ان تاویل الاتقی بالتقی مما یفیدہ ویغنی زعما منہ ان غیر التقی المذکور کی تکذیب کی ہو اور ان کی سچائی کے دلائل میں نظر سے اعراض کرتا ہوتولازم آیا کہ وہ کافر جس سے تکذیب و عراض سر زد نہ ہو (جیسے ابو طالب )جہنم میں نہ جائے۔
میں کہتا ہوں جس طور پر اپنے مقالہ کی تکذیب کی اس سے امام رازی کے اس قول کا ضعف ظاہر ہوگیا جو انہوں نے امام قاضی پر بطور اعتراض کیا ہے کہ ہر کافر کا نبی کو اس کے دعوی میں جھٹلانا ضروری ہے اور اس نبی کے دلائل صدق میں نظر سے روگردانی اسے لازم ہےاور یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہ تاویل جسے بہت سے متاخرین نے پسند کیا کوئی حاجت پوری نہیں کرتی نہ تشنگی کو اکساتی بھجاتی ہے اور تم لطافت طبع کو لازم پکڑو۔
اور ثانیا اسے گمان کیا کہ وہ آیت جو اتقی کے بارے میں ہے وہ بھی اپنے ساتھ والی آیت کی طرح محتاج تاویل ہےتو اس کا ارتکاب کیا جس سے وہ بے نیاز تھے جیسا کہ ہم نے تحقیق کی۔
اور ثالثا گمان کیا کہ اس کا اتقی کو تقی کی طرف مؤول کرنا اسے فائد ہ دے گا اور غنابخشے گا اس گمان کی بنا پر کہ اس کے نزدیك
#738 · الزلال النقی
فی الایۃ لایجنب النار۔

اقول: ولا یرد علیہ ماسیظن ان این رحمۃ الله تعالی علیہ العصاۃ وقد اذنت نصوص قواطع ان کثیر ا من الفجار والمثقلین بالاوزار و الہالکین علی الاصرار لا یسمعون حسیس النار بمحض رحمۃ العزیز الغفار و فیض شفاعۃ الشفیع المختار صلی الله تعالی علیہ و سلماذا التقوی درجات وفنون اولہا اتقاء الکفر و ھذا یستوی فیہ المؤمنون وقد افصح ابوعبیدۃ عن مرادہ اذقال الاتقی بمعنی التقی وھو المؤمن انتہی۔
اقول: وبہ اندفع مایترای من النقض بالصبیان والمجانین فان المراد بالتقی المؤمن والصبی ان عقل فاسلامہ معقول مقبول و الجنون ان طرء فیستصحب الایمان السالف والا فینسحب علیہما حکم الفطر ۃ الاسلامیۃ۔لکنی اقول: اولا فح ماذا تصنع بالام الداخلۃ علی الاتقی آیت میں مذکور تقی کے سواکوئی آتش دوزخ سے نہ بچایا جائے گا۔
میں کہتاہوں اور اس پروہ سوال وارد نہیں ہوتا جس کا عنقریب وہ گمان کریگا کہ پھر الله تعالی کی رحمت گنہگاروں پر کہاں گئی حالانکہ قطعی دلیلیں بتاچکیں کہ بہت سے بد عمل اور گناہوں سے بوجھل اور مرتے دم تك گناہوں کے عادی محض رحمت عزیز غفار اور شفیع مختار صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے سبب آتش دوزخ کی بھنك تك نہ سنیں گے اس لئے کہ تقوی کے درجات و اقسام میں ان کا پہلا درجہ کفر سے بچنا ہے جس مومن برابر ہیں اور ابو عبیدہ نے اپنی مراد ظاہر کردی کہ اس نے کہا اتقی بمعنی تقی کے ہے اور تقی مومن ہے اھ۔
میں کہتا ہوں اس تقریر سے وہ اعتراض دفع ہوگیا جو بچو ں اور پاگلوں سے نقض کے ذریعہ اٹھتا معلوم ہوتا تھا اس لئے کہ تقی سے مراد مومن ہے اور بچہ اگر سمجھ والا ہے تو اس کا اسلام معقول اور مقبول ہے اور مجنون پر جنون اگر طاری ہے تو شرعا اس کا ایمان سابق اس کے ساتھ مانا جائے گا ورنہ ان دونوں پر حکم فطرت اسلامیہ جاری (یعنی انہیں بہ حکم مسلمان جانیں گے )
لیکن میں کہتا ہوں کہ اولا جب اتقی بعنی تقی کے ٹھہرا تو اس صورت میں اس لام
#739 · الزلال النقی
اذقد تقرر فی الاصول انہا ان لم تکن للعہد فللاستغراق ومعلوم ان من المؤمنین من یعذب ولا یجنب ولا ینفع ارادۃ اللزوم بالصلی اذا الکنایۃ للنار دون الصلی ولقد اغرب من تفطن لبعض من ھذا کالقاضی البیضاوی فحمل الکلام علی من یتقی الکفر و المعاصی اقول نعم الان یصح الاستغراق و لکن من للحصر المزعوم الذی یرتکب لاجلہ تاویل الاتقی اذمن الفجار من یجنب ولا یعذب کما ذکرنا وعلی ھذا یرد النقض ایضا بالصبی والمجنون۔



واقول ثانیا اغمضنا ھذا کلہ وترکناکم وشانکم فاذھبوا بالکلام الی ما تشتہیہ انفسکم الا انکم اغفلتم الصفۃ ھہنا ایضا غفولکم عنہا کے ساتھ کیا معاملہ کروگے جو اتقی پر داخل ہے اس لئے کہ اصول میں مقرر ہوچکاہے کہ لام اگر عہد کے لئے نہ ہوگا تو استغراق کے لئے ہوگا۔اور یہ معلوم ہے کہ مومنون میں وہ ہیں جنہیں عذاب ہوگا اور وہ آتش دوزخ سے نہ بچائے گے اور یہ مفید نہیں کہ یصلی سے بجائے آگ میں جانے کے آگ کا لازم ہونا مراد لیا جائے اس لئے کہ یجنبھا (اس دوزخ سے دور کیا جائیگا میں ضمیر جہنم کی آگ کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ صلی مصدر کی طرف (جس کامعنی آگ میں جانا ہے) اور جس کا ذہن ان باتوں مین سے بعض کی طرف پہنچا اس نے عجیب و غریب کام کیا جیسے قاضی بیضاویتو انہوں نے کلام کو اس پر محمول کیا جو کفر اور گناہوں سے بچے لیکن اس حصر مزعوم کا مدد گار کون جس کی وجہ سے اتقی کی تاویل کا ارتکاب کیا جاتا ہے اس لئے کہ فاجروں میں وہ بھی ہے جو دوزخ کی آگ سے دور رہے گا اور اسے عذاب نہ ہوگا )
اور ثانیا میں کہتاہوں کہ ہم نے ان تمام باتوں سے آنکھ میچی اور آپ کو آپ کے حال پر چھوڑا تو کلام کو جدھر چاہئے لے جائے مگر آپ لوگ یہاں بھی صفت سے غافل رہے جس طرح اشقی(جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا )
#740 · الزلال النقی
فی " الاشقی ﴿۱۵﴾ الذی کذب و تولی ﴿۱۶﴾" فان الله سبحنہ وتعالی لم یرسل الاتقی ارسالا بل خصہ" الذی یؤتی مالہ یتزکی ﴿۱۸﴾" ومعلوم ان التقی الفقیر لا مال لہ و انہ مجنب عن النار لاشکفان کان الکلام علی الحصر کما زعمتم فالحصر لم یستقیم بعد والا فما ذا یلجئکم الی التاویل والعدول عن ظاہر التنزیل عن ھذا نقول ان الوجہ ترك التکلف وصون اللفظین لاسیما الاتقی عن التغییر و التصرف لانعدام الحاجۃ فی احدی الآیتین و اندفاعہا بطریق اسلم فی الاخری کما یفیدہ الوجہان اللذان ذکرھما القاضی الامام مع ماشاھد نا ان التاویل یراد ولا مفاد ویقاد ولا ینقاد بید انی مایدر ینی لعل الجدال یوری نارا موقدۃ تطلع علی الافئد ۃ فیقوم قائل ان وجہی القاضی ایضا یعکرعلیہا بشی فلامناص من تشدید الارکان کےمعاملہ میں آپ نے صفت سے غفلت کی اس لئے کہ الله تعالی نے اتقی کو مطلع نہ رکھا بلکہ اسے اس کے ساتھ خاص کیا جو اپنا مال ستھراہونے کو راہ خدا میں دے اور یہ معلوم ہے کہ تقی فقیر کے پاس مال نہیں ہے حالانکہ وہ آتش دوزخ سے بے شك دور رہے گا۔تو اگر کلام بر سبیل حصر ہے جیسا کہ آپ لوگو ں کا زعم ہے تو حصر تواب بھی درست نہیں ہوااور اگر حصر پر بناء نہیں تو آپ کو تاویل اور ظاہر تنزیل سے عدول کی طرف کون سی چیز مضطرکرتی ہے اسی سبب سے ہم کہتے ہیں کہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ تکلف چھوڑا جائے اور دونوں لفظوں خصوصا اتقی کو تصرف وتغیر سے محفوظ رکھیں اس لئے کہ ایك آیت میں تاویل کی حاجت نہیں اور دوسری میں مسلك اسلم سے حاجت مند فع ہوجاتی ہے جیسا کہ ان دو وجہوں نے افادہ کیا جو قاضی امام نے ذکر فرمائیں باوجودیکہ ہم نے مشاہد ہ کیا ہے کہ تاویل مراد ہوتی ہے حالانکہ کوئی مفاد نہیں ہوتا اور وہ کھینچی جاتی ہے جبکہ وہ نہیں کھنچتی۔لیکن میں کیا جانوں شاید بحث روشن آگ کو بھڑ کائے جو دلوں پر چمکیں تو کوئی قائل کھڑا ہوجائے اور کہے کہ قاضی کی مذکورہ دو۲ وجہوں پر بھی کچھ غبار ہے لہذا ارکان کو مضبوط
#741 · الزلال النقی
وتجدید الارصان علی حسب الامکان۔
فاقول: وربی ولی الاحسان یستبعد علی الوجہ الاول وصف الاتقی بانہ یجنب تلك النار الکبری فان مدح اکرم القوم بانہ لیس ارذل القوم مما لا یستملح۔
اقول: والمخلص الاستخدام وھو شائع فی فصیح الکلام بل عدوہ والتوریۃ اشرف انواع البدیعبل منہم من قدمہ فی الشرف علی الجمیع کماذکر الامام العلامۃ السیوطی ومنہ فی القران العظیم قولہ تعالی" ولقد خلقنا الانسن من سللۃ من طین ﴿۱۲﴾ ثم جعلنہ نطفۃ فی قرارمکین ﴿۪۱۳﴾ " کرنا اور اشیاء کی تجدید بقد ر امکان ضروری ہے۔
تو میں کہتا ہوں او رمیرا رب ولی نعمت ہےپہلی وجہ پر اتقی کا یہ وصف بیان کرنا کہ وہ بڑی آگ سے دور رکھاجائے گا مستبعد ہے اس لئے کہ قوم کے بزرگ ترین کے لئے یہ کہنا کہ وہ رذیل ترین نہیں ہے اس میں کوئی ملاحت نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں اور اس سے نجات دہندہ وہ استخدام ہے اور وہ کلام فصیح میں شائع ہےبلکہ علماء نے استخدام وتوریہ فـــــــ کو بدیع کی سب سے عمدہ قسم شمار کیا ہے بلکہ بعض علماء نے استخدام کو شرف میں تمام اقسام بدیح پر مقدم رکھا ہے جیسا کہ علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے ذکر کیا ہےاو راس قبیل سے قرآن عظیم میں الله تعالی کا قول ہے"اور بے شك ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا پھر اسے پانی کی بوند کیا ایك مضبوط ٹھہراؤمیں"
ف:توریہ ابہام کو کہتے ہیںاور اس کی تعریف یہ ہے کہ ایك لفظ کو لیں جس کے دو معنی ہوں ایك قریب دوسرا بعیداور معنی قریب سے بعید معنی کا توریہ کریںاو ر بعید معنی مراد ہو تو معنی قریب کو موری بہ اور معنی بعید کو موری علیہ کہتے ہیں۔
#742 · الزلال النقی
المراد بالانسان ابو نا ادم علیہ السلام وبضمیر ولدہومنہ قولہ تعالی " اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ " ۔
المراد بامر الله بعثۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم علی احد الوجوہ فی تاویلہ اخر ج ابن مردویۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہ فی قولہ تعالی اتی امر الله قال محمد صلی الله تعالی علیہ وسلموالمراد بالضمیر قیام الساعۃ قالہ العلامۃ السیوطی نفعنا الله تعالی بعلومہامین۔

اقول: فان قلت اذا اردتم بالنار اعظم النیران المخصوص باشقی الاشقیاء فما انذار سائر الناس عنہ قلت المعنی ان شاء الله تعالی ان الاشقی انمابلغ ما بلغ من کمال الشقاء وسوء الجزاء وجہد البلاء بما ثا بر علیہ من اللداد و آیت میں انسان سے مراد ہم انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام ہیں او رضمیر سے مراد ان کی اولاد ہے او راسی قبیل سے الله تعالی کاقول ہے کہ"الله تعالی کا حکم آیا تو اس کی جلدی نہ مچاؤ۔
اس آیت میں ایك وجہ پر امر الله سے مراد محمدصلی الله تعالی علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ ہے۔ابن مردویہ نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا کہ الله تعالی کے قول"اتی امر اللہ"میں امر الله سے مراد محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں۔او ر ضمیر سے مرادقیامت کا قائم ہےیہ علامہ سیوطی رحمہ الله تعالی علیہ نے ذکر کیا ہے الله تعالی ہمیں ان کے علوم سے نفع بخشے آمین۔
میں کہتا ہوں اب اگر تم کہو جبکہ آپ نے آیت میں مذکور نار سے دوزخ کی سب سے بڑی آگ مراد لی جو تمام اشقیاء سے بد تر شقی کےلئے مخصوص ہے تو سب لوگو ں کو اسے ڈرانے کا کیا مقصد ہےتو میں کہوں گا کہ مقصد ان شاء الله تعالی یہ ہے کہ ہ وہ سب سے بڑا شقی کمال شقاوت اور بری جزا اور سخت بلا کے جس درجہ پر پہنچا اس کا سبب وہی کفر وعناد ہے اور ہر ناہت اور
#743 · الزلال النقی
العناد والاصرار والاستکبار فاحذروا انتم یا ایہا الناس ان لم تنیبو االی الحق ودمتم کدوامہ ان تعادلوہ فی الشقاء فتلقوا اثاما کمثل اثامہ فکانت الایۃ علی حد قولہ تعالی" فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد و ثمود ﴿۱۳﴾" فانہم انما اصابہم ما اصابہم لمثل ھذا الاعراض فماذا یؤمنکم ان مضیتم علی دابہم ان تعذبوا بعذابہم وحصل الانذار بانہ تعالی اخبر ان ھناك عدوا اشقی من یوجد ولہ جزاء اسوء مایکون والناس غیر دارین انہ من ھوولم یذکر الله تعالی من صفاتہ الاالتکذیب و التولی فحق ان تنقطع قلب کل مکذب وینفلق کبد کل متول خوفا وفرقا ان یکون ھو ھو فمن ھذا الوجہ جاء الانذار لسائر الناس فاتقنہ فانہ من احسن السوانح بتو فیق الملك العلیم الفاتح جل جلالہ گھمنڈ ہے جس پر وہ قائم رہا تو اے لوگو ! تم ڈرو کہ اگر تم حق کو نہ مانو اور ناحق پر جمے رہو جیسا کہ وہ بڑ بدبخت جما رہا کہیں تم بد بختی میں اس کے برابر نہ جاؤ تو اس کے عذاب جیسا عذاب پاؤتویہ آیت الله تعالی کے قول"پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمیہں ڈراتا ہوں ایك کڑك سے جیسی کڑك عاد اور ثمود پر آئی تھیکے طو رپر ہے اس لئے کہ عاد و ثمود پر جو مصیبت اتری وہ اسی طو ر کے اعراض (روگردانی) کے سبب اتری تو تمہیں کون سی چیز بے خوف کرتی ہےاگر تم ان اگلوں کی عادت پر جمے رہو ان جیسا عذاب پانے سے یا سب کے لئے تنبیہ ہوگئ کہ الله تعالی نے بتایا کہ آخرت میں الله تعالی کا ایك دشمن نہایت بد بخت ہوگا اور اس کےلئے نہایت بد ترین سزا ہے اور لوگ نہیں جانتے کہ وہ کون ہے اور الله تعالی نے اس کی صفات میں سے جھٹلانے اور منہہ موڑنے کے سوا کچھ ذکر نہیں کیا تو بجا ہے کہ ہر جھٹلانے والے کا دل کٹ جائے اور ہر منہ موڑنے والے کا کلیجہ پھٹ جائے اس ڈر سے کہ کہیں وہ ہی نہ سب سے بڑا بد بخت ہو جس کی یہ سزا سنائی گئی تو اس وجہ سے یہ تخویف سے لوگو ں کےلئے آئیاس نکتہ کو یادر کھو کہ یہ بادشاہ علیم فاتح (علم والے عقدہ کھولنے والے جل جلالہ)کی تو فیق سے ایك
#744 · الزلال النقی
وھذا الکلام یجری بعضہ فی الوجہ الثانی ایضا لکن ھنا دقیقۃ غامضۃ وھی ان امثال ھذا الحصر الادعا ئی انما تناسب المقام اذا کان سوق الکلام لذم ھذا الاشقی الملامفکانہ قیل انہ بلغ من الشقاء مبلغا تضمحل دونہ سائرالشقاوات فکانہ لایلج النار الا ھواما اذا سیق مساق الانذارلجمیع الکفارأو قصد ذلك ایضامع قصد الذم فلعلہ لایستحسن حینئذ حصرالعقاب فی رجل واحد تأمل فانہ موضعہ و العبد الضعیف لہذایجد نفسہ ارکن الی الوجہ الاول دون الثانیوفیہ الغنیۃ و حصول المنیۃ و الحمدلله معطی الامانیثم لمابلغت ھذا المقام رجعت العزیزی بعد ما استعرتہ من بعض الاعزۃ فرأیت المولی عبد العزیز تجاوز الله تعالی عنا وعنہ تنبہ لہذا الاستبعاد الذی ذکرتہ فی الوجہ الاول وجھی القاضی وحق لہ ان یتنبہ لانہ العلم فی الذکاء و الفطانۃثم اجاب عنہ بجوابین:
الاول یقارب ما اچھا خیال ہے اوریہ تقریرکچھ وجہ ثانی میں بھی جاری ہے لیکن یہاں ایك نہایت خفی نکتہ ہے اوہ یہ کہ ایسے حصرادعائی موقع کے مناسب اسی وقت ہوں گے جبکہ سیاق کلام اس بڑے بدبخت وقابل ملامت کی مذمت کے لئے ہوتو گویا یوں فرمایاگیا کہ یہ شخص شقاوت کے اس درجہ تك پہنچا جس کے اگے سب شقاوتیں ہیچ ہیں تو گویا دوزخ میں اس کے سوا کوئی نہ جائے گامگر جبکہ یہ کلام تمام کافروں کی تخویف کے لئے ہویا مذمت کے ساتھ یہ قصد بھی ہوتو شاید عذاب کو ایك شخص میں منحصربتانامستحسن نہیں غورکروکہ یہ مقام غور ہے اوریہ بندہ ناتواں اسی لئے خود کو دوسری وجہ کے بجائے پہلی وجہ کی طرف زیادہ مائل پاتا ہے اور اسی میں بے نیازی اور مطلب کا حصول ہے اور الله تعالی کے لئے حمد ہے جو مرادیں عطافرماتا ہےپھر میں جب اس مقام تك پہنچامیں نے تفسیر عزیزی اپنے بعض اعزہ سے عاریۃ لے کر دیکھی تو میں نے حضرت مولانا عبدالعزیزکو (الله تعالی ہمیں اورانہیں معاف فرمائے) دیکھا کہ وہ اس اعتراض کی طرف متنبہ ہوئے جو وجہ اول پر اعلی حضرت نے فرمایا اورانہیں متنبہ ہونا ہی چاہئے اس لئے کہ وہ ذکاوت وفطانت کا پہاڑہیںپھر اس کے دوجواب دیے:
پہلاتو وہی جو علماء نے اختیار فرمایا یعنی
#745 · الزلال النقی
دنا التوفیق الیہ من القول بالاستخدام۔
والثانی ان التجنیب من تلك النارالمخصوصۃ بالکفار ایضا لہا عرض عریض وغایۃ القصوی مختصۃ بالاتقی وسائرالمومنین وان کانوامجنبین لکن لاکمثلہ ا نتہی معربا۔
اقول: الوجہ الوجہ الاول وعلیہ عندی المعول واما ماذکر من الوجہ الثانی فلیس بشیئ عندی وانکان ھو المرضی لدیہ حتی اورد الاول بصیغۃ التمریض وذلك لان کون التجنیب مقولا بالتشکیل مسلم فی مطلق النارالتی یمکن ان یدخلہابعض المومنین ومعنی العرض العریض فیہ کما یسبق الیہ ذھنی القاصرأن الذنوب مقتضاھا الأصلی الذی لوخلیت ھی وطبایعہا ماأقتضت الا ایاہ انما ھو اصابۃ الجزاء الذی اوعدبہ علیہاوھذاظاھر جدافکل من استخدام کا طریقہ۔
دوسرا یہ کہ اس نار سے دوررکھاجاناجو کافروں کے ساتھ خاص ہے اس میں بڑی وسعت ہے اور اس کی اخری حد اتقی کے لئے خاص ہے اورباقی مسلمان اگرچہ وہ بھی اس اگے سے دوررہیں گے لیکن اس کی طرح نہیں اھ۔
میں کہتاہوں وجہ تو پہلی ہے اورمیرے نزدیك وہی معتمد ہےاورجو دوسری وجہ ذکر کی وہ میرے نزدیك کوئی چیز نہیں اگرچہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ کو دوسری پسند ہے کہ پہلی کو ایسے صیغہ سے ذکر کیا جس سے اس کے ضعفکی طرف اشارہ ہوتاہے اس لئے کہ نار سے دوررہنااس کا کلی مشکك ہونا مطلق نار میں مسلم ہے جس میں بعض مومن داخل ہوسکتے ہیں اورتجنیب(ناردوزخ سے دوررہنا)میں بڑی وسعت کا معنی جیسا کہ میرا ذہن قاصراس کی طرف سبقت کرتاہے کہ گناہوں کا وہ مقتضائے اصلی کہ اگر گناہ اپنی طبیعت کے ساتھ چھوڑ دئے جائیں تو اسی کا تقاضا کریں تو یہ ہے کہ بندہ کو وہ سزا ملے جس کی اسے گناہوں پر وعید سنائی گئیاوریہ بہت ظاہر ہےتو ہر وہ شخص جس نے
#746 · الزلال النقی
اذنب ذنباولو مرۃ استحق بذنبہ ھذا أن یؤاخذہ الملك جل جلالہولا تقبض حسناتہ المکتاثرۃ علی العزیز االمقتدراذ نفع الحسنات انما یعودالیہ فکیف یمن علی الله تعالی بما عملہ لنفع نفسہفکیف یجعلہ ذریعۃ الی ابطال منشورالجزاء عن رأسہ وقد قیل لہ بأفصح بیان ان کما تدین تدان غایۃ الامران یقسم لبثہ فی الدارین علی مقدارلبثہ فی العملین کما وکیفافیجوز ان تسمہ الناربما یعدل ھذا المقداروقد اعتقدنانحن معشر اھل السنۃ و الجماعۃ رزقنا الله سبحنہ وتعالی حظ الرحمۃ و الشفاعۃ أنہ تبارك وتعالی لہ ان یؤاخذعبدہ کل جریرۃ ولو صغیرۃ کما ان لہ ان یتجاوزعن کل کبیرۃ فضل وذلك عدل وما الله بظلام للعبید۔
ثم ان المولی جل وعلا بغایۃ عدلہ وضع الجزاء مشاکلا للعمل ولذایدیم تنغیم المومن وتعذیب الکافر ایك بار بھی گناہ کیا الله تعالی کی پکڑکا مستحق ہے اوربندہ کی بکثرت نیکیاں خدائے غالب وقدیر کو مانع نہیں ہوسکتیں اس لئے کہ نیکیوں کا نفع تو بندہ ہی کو پہنچتاہے تو کیسے الله تعالی کو اپنے بھلے کے لئے کیے ہوئے کام کا احسان جتائے گا اورکیونکر اسے سزاکے دستور کوسرے سے باطل کرنے کا ذریعہ بنائے گاحالانکہ بندہ کو خوب واضح بیان سے کہہ دیا گیا ہے کہ جیساتو کرے گاویسا تجھے بدلہ دیا جائے گاغایت امر یہ ہے کہ دنیا و اخرت میں بندہ کی مدت اقامت کو نیك وبد ہر دوعمل میں ٹھہرنے کی مقدار پر باعتبارقدروکیفیت تقسیم کریں توممکن ہے کہ اسے آگ اتنی مدت تك چھوئے جو اس کے مقدار عمل کے برابرہواورہم اہلسنت وجماعت (الله ہمیں رحمت و شفاعت سے نصیب عطا فرمائے)کا عقیدہ یہ ہے کہ الله تبارك وتعالی کو حق ہے کہ وہ بندے سے ہر جرم پرمواخذہ کرے اگرچہ صغیرہ ہو جس طرح کہ اس کو سزا وار ہے کہ ہر گناہ سے درگزرفرمائے اگرچہ کبیرہ ہو اوریہ اس کا فضل ہے اوروہ اس کا عدل اور الله بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
اسی لئے جنت میں مومنین کی اسائش اورجہنم میں کافر کا عذاب ہمیشہ ہوگا اس لئے کہ الله تعالی کو انکی نیت اورمخفی ارادے کا
#747 · الزلال النقی
اذقد علم من نیتھما ومکنونات طویتہما أنھما عازمان علی ادامۃ ماھما من الکفر والایمان حتی لو دامو افی الدنیا لداموا علیہ الا تری الی قولہ تعالی " ولو ردوا لعادوا لما نہوا عنہ" ولذلك لما انسلخ ابو طالب عن الکفاربشراشرہ واثبت قدمیہ علی تلك الملۃ الخیبثۃ نجا الدیان سبحنہ وتعالی سائربدنہ من النار وسلط العذاب علی قدمیہ کما فی حدیث الشیخین وغیرھما فقضیۃ المشاکلۃ أن من تساوت حسناتہ وسیأتہ یساوی لبثہ فی العذاب بلبثہ فی دار الثواب ومن اذنب ذنبا واحدا اذیق اثامہ ومن الم بسیئۃ ثم انقلع عنہا فجزاءہ المشاکل ان یدنی الی النار ثم یبعدعنہا لیذوق من الفزع والغم قدر ماذاق من اللذۃ فی اللمم ھذا حکم العدل وحکم العدل ھو الاصل لکن المولی الجواد الکریم علم ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی حالت کفروایمان پر قائم ودائم رہنے کا عزم کئے ہوئے ہیں یہاں تك کہ اگر دنیا میں ہمیشہ رہتے اپنے حال پر ہمیشہ رہتے کیا تم الله کے فرمان کو نہیں دیکھتے"اوراگرواپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کئے گئے تھے"اورجب ابوطالب کفار سے تمام وکمال جدا ہوئے اوراپنے قدم اس خبیث ملت پر جمائے رکھے جزادینے والے رب سبحنہ وتعالی نے ان کے سارے بدن کو نار سے نجات دی اورعذاب کو ان کے قدموں پر مسلط فرمادیا جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے تو عمل وجزا میں مشاکلت کامقتضی یہ ہے کہ جس کی نیکیاں اوربرائیاں برابرہوں اس کا عذاب میں رہنا ثواب کے گھر میں رہنے کے برابرہواجو ایك گناہ کرے وہ اس کا عذاب چکھے اور جو برائی کے قریب جائے پھر اس سے جدا رہے تو اس کی جزامشابہ عمل یہ ہے کہ وہ نار کے قریب کیاجائے پھر اس سے دور رکھاجائے تاکہ غم اورگھبراہٹ کا مزہ ارادہ گناہ میں لذت کے بمقدار چکھےیہ حکم عدل ہے اورحکم عدل ہی اصل ہےلیکن جودو کرم والے
#748 · الزلال النقی
الذی" کتب علی نفسہ الرحمۃ " وجعل لھا السبقۃ علی الغضب منۃ ونعمۃ تشفع الیہ شفیعان رفیعان وجیہان حبیبان لایردان ولا یخیبان رحمتہ الکاملۃ العامۃ الشاملۃ وھذا النبی الکریم المبعوث من الحرم بفیض الجود والکرم صلی الله تعالی علیہ والہ وبارك وسلم فوعد بالطاف جمیلۃ ورحمات جلیلۃ فضلامن لدیہ من دون وجوب علیہوحاشاہ أن یجب علیہ شیئ" و ہو یجیر و لا یجار علیہ" وبشر
" ان الحسنت یذہبن السیات " وان اللمم معفوعنا ان شاء الله تعالی ان ربک وسع المغفرۃ "" وان الله تجاوزلنا عما ھمت بہ انفسنا مالم نعمل اونتکلم و أن من تعادلت کفتاہ لم یدخل النار وان لا یھلك علی الله الماردمتمرد وھذا کلہ تفضل وتکرم من المولی الحی جلت مولی نے اپنے اوپر رحمت کولازم فرمایا اور اس کے لئے غضب پر سبقت رکھی اپنے کرم واحسان سے اس سے سفارش کی جو رفعت وجاہت والے وپیارے شفیعوں نے جو نہ پھیرے جائیں نہ محروم ہوں ایك الله تعالی کی رحمت تمام وعام اور دوسرے یہ نبی کریم جو حرم سے فیض جودوکرم کے ساتھ مبعوث ہوئے تو الله تعالی نے جمیل مہربانیوں اورجلیل رحمتوں کا وعدہ فرمایا محض اپنے فضل سے نہ اس سببسے کہ اس پرکچھ واجب ہے اوروہ اس سے منزہ ہے کہ اس پرکچھ واجب ہوحالانکہ وہی پناہ دیتاہے اوراس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔اوراس نے خوشخبری دی کہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں اوریہ کہ لمم (ارادہ گناہ) پر ہمیں معافی دے دی گئی بے شك تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے اوربیشك الله تعالی ان باتوں سے درگزر فرماتاہے جن کا ارادہ ہماے نفوس کرتے ہیں جب تك انکو انجام نہ دیں یا انہیں نہ بولیں اورجس کے دونوں پلے برابرہوں گے وہ نار میں نہ جائے گا۔اوریہ کہ الله تعالی کے یہاں صرف نہایت سرکش نرانافرمان ہی ہلاك ہوگا
#749 · الزلال النقی
الاہ وتوالت نعماؤہ ولہ الحمد کما یحب ویرضی۔
فکل من اذنب او الم ثم جنبہ المولی النار فانما جنبہ علی استحقاق منہ لجزاء ماعملہ کما قال تبارك و تعالی" و ان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمہم " بل لا معنی للمغفرۃ الا تجاوزصاحب الحق عن استیفاء حقہ کلا اوبعضا فھذا تجنیب بعد تقریب وأنجاء بعد الجاء مع مافیہ ایضامن تفاوت الرتب کمالا یخفیاما الذی بلغ من التقوی غایتہ القصوی حتی تنزہ عن کل مایکرہ وفنی عن الخلق وبقی بالحق و ارتفع شانہ عن اتیان عصیان ونظر بالرضی الی ما یبغض الرحمنفہذا محال ان یکون من النارفی شیئ أو النارمنہ فی شئی لاسیما اتقی الاتقیاء وأصفی الاصفیاء (یعنی کافر)اویہ سب مولائے غنی کریم کا فضل وکرم ہے۔اس کی نعمتیں جلیل ہیں اوراس کے احسان پیہم ہیںاور اسی کے لیے حمد ہے۔جیسی وہ چاہے اورپسند فرمائے
تو ہر وہ شخص جس نے گناہ کیا یا گناہ کے پاس جاکر رك گیا پھر الله تعالی نے اسے نار سے دوررکھا تو اسے اس کے استحقاق کی جہت سے اس کے عمل کی جزا دینے کو دور رکھا چنانچہ الله تعالی نے فرمایا کہ"بے شك الله تعالی لوگوں کو بخشنے والا ہے انکے ظلم کے باوجود"بلکہ مغفرت کا معنی یہی ہے کہ صاحب حق اپنے حق کو لینےسے کلی یا جزوی طور پر درگزر کرے تو یہ نار سے قریب کر کے اس سے دوررکھنا ہے اورنار کی طرف لیجا کر اس سے بچاناہے اس کے باوجود اس میں رتبوں کا تفاوت ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں مگر جو تقوی کی سب سے اخری حد تك پہنچ گیایہاں تك کہ کہ ہر ناپسندیدہ بات سے دور رہا اور خلق سے فانی اورحق پر باقی ہوگیا اوراس کی شان معصیت کے ارتکاب سے اوررحمن کے مبغوض کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھنےسے بلند ہوگئی تو محال ہے کہ ایسے شخص کو نار سے علاقہ ہویا نارکو اس سے کوئی تعلق ہو خصوصاوہ متقیوں کا متقی اور سارے اصفیاء سے زیادہ
#750 · الزلال النقی
الذی لم یزل من الحق بعین الرضا فی جمیع احوالہ ولم یسوء النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فعلۃ من افعالہفذاك العبدذاك العبد کلت الا لسن عن شرح کمالہ وتاھت العقول فی تیہ جلالہ جالت و عالتفبقیت تکبو ثم رجعت فسئلت فقالت ھو ھو
فغایۃ القول فیہ أنہ أولی العباد وأول المراد بقول الجواد " ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون ﴿۱۰۱﴾ والتی احصنت فرجہا فنفخنا فیہا من روحنا وجعلنہا وابنہا ایۃ للعلمین ﴿۹۱﴾ ان ہذہ امتکم امۃ وحدۃ ۫ و انا ربکم فاعبدون ﴿۹۲﴾
" ھذا معنی العرض العریض للتجنبی من مطلق النار علی حسب مایطیقہ البیانولا یتاتی مثلہ فی النار المخصوصۃ بالکفاراذ انما ھی جزاء الکفر والمؤمنون کلھم متساوون فی التباعد عنہ اذ الکفر والایمان لایزید ان ولا ینقصان و صاف باطن جس کے تما م احوال پرحق کی چشم رضا رہی اورنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو جس کا کوئی کام برا نہ لگا تو یہی وہ خدا کا بندہ ہے یہی وہ خاص بندہ ہے زبانیں جس کے کمال کو بیان کرنے سے عاجز ہیں جس کی عظمت کے صحرا میں عقلیں گم ہیں اس میں عقلیں دوڑیں اورگھومتی پھریںپھر گرتی پڑتی رہیں پھر لوٹیں تو ان سے پوچھاتو بولیں وہی وہ ہے
تو اس خاص بندہ کے بارے میں اخری بات یہ ہے کہ وہ سارے بندوں سے اولی اورخدائے جواد کے قول"بیشك وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں وہ اس کی بھنك نہ سنیں گے اوروہ اپنی من مانی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اورفرشتے ان کی پیشوائی کو ائیں گے کہ یہ ہے تماہرا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا"کی پہلی مرا دہے مطلق نار سے دوررکھنے میں جو بڑی وسعت ہے اس کا مقدور بیان کے مطابق یہ معنی ہے اورایسی بات اس نار کے بارے میں نہیں بنتی جو کفار کے ساتھ مخصوص ہے وہ تو کفر کی سزا ہے اورتمام مسلمان اس نار سے دور رہنے میں برابر ہیں اس لئے کہ کفر وایمان یہ دونوں وصف گھٹتے بڑھتے نہیں ہیں اور یہ
#751 · الزلال النقی
المسئلۃ اجماعیۃ والنزاع لفظی فوجب ان یتساووافی البعد عن جزاء الکفر ایضاواما قولہ تبارك وتعالی " ہم للکفر یومئذ اقرب منہم للایمن " فھذا بالنظر الی الظاھر اذ الایۃ فی المنافقین لقولہ تعالی
" یقولون بافوہہم ما لیس فی قلوبہم واللہ اعلم بما یکتمون ﴿۱۶۷﴾" یعنی أنھم کانوا یتظاھرون بالایمان فیظن الجاھل بما فی السرائرا نھم مؤمنونلما کانوا یتباعدون بالسنھم عن الکفر ثم لما انخزلواعن عسکر المؤمنین وقالوا" لو نعلم قتالا لااتبعنکم " تخرق الحجاب وغلب علی الظنون انھم لیسوا بمؤمنین مع تجویز ان یکون ھذا القول منھم تکاسلا واخلادا الی ارض الدعۃفھذامعنی القرب و البعد اوالمراد بالکفر والایمان اھلوھما مسئلہ(کفروایمان کا کم زیادہ نہ ہونا)اجتماعی ہے اوراختلاف لفظی ہے تو ضرری ہے کہ مسلمان کفر کی سزا سے دور رہنے میں بھی برابرہوں۔رہا الله تعالی کا قول"اس دن وہ ظاہری ایمان کی بہ نسبت کہیں کفر سے زیادہ قریب ہیں"تو یہ باعتبار ظاہر کے ہے اسلئے کہ ایت منافقین کے بارے میں ہے اس وجہ سے کہ الله تعالی نے ان کے بارےمیں فرمایا:"اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور الله کو معلوم ہے جو چھپا رہے ہیں۔"مطلب یہ ہے کہ منافقین ظاہری طور پر ایمان والے بنتے تھے تو ان کے دلوں میں چھپی بات سے بے خبر یہ گمان کرتا تھا کہ وہ مسلما ن چونکہ منافقین کفر سے دور ی ظاہر کرتے تھے پھر جب وہ مسلمانوں کے لشکر سے جداہوگئے اور بولے کہ"اگرہم لڑائی ہوتی جانتے توضرورتمہاراساتھ دیتے۔"ان کا پردہ فاش ہوگیا اورگمانوں پر غالب ہوگیا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں اس احتمال کے ساتھ کہ منافقوں کی یہ بات سستی اوراسائش کی زمین پکڑنے کی وجہ سے ہوتوقرب اوربعد کا یہ معنی ہے یا کفر وایمان سے مراد صاحبان کفر وایمان ہیں اس لئے
#752 · الزلال النقی
اذتقلیلھم سوادالمومنین بالانعزال عنہم تقویۃ للمشرکین کذا قال المفسرون ھذا ماعندیوالله سبحنہ وتعالی اعلم۔
وبالجملۃ فھبت نسائم التحقیق علی ان الوجہ ابقاء اللفظین علی ظاھر ھماوانما تحتاج الی امرین لایعد شیئ منہما تکلفاولاتغیرا۔
الاول ان تنکیرناراللتعظیم وھو کما تری شائع فی الکلام الفصیح قرانا وقدیما وحدیثا واخذ التلظی بمعنی اشد مایکون حملا للمطلق علی فردہ الکامل وھو ایضا منتشر مستطیر۔
والثانی الاستخدام وھو کما سمعت اعلی اومن اعلی انواع البدیع او ارجاع الضمیر الی نفس الموصوف مجردا عن ۰الصفۃ وھذا لیس من التاویل فی شیئ علی ان غرضنا یتعلق بایۃ الا تقی ولا مساغ فیہ للتاویل بتا وقطعاھکذاینبغی التحقیق والله ولی التوفیق والحمدلله رب العالمین۔

اذا وعیت ھذا ودریت مافیہ کہ منافقوں کا مسلمان کے گروہ کو کم کرنا مسلمانوں کے لشکر سے جداہوکر مشرکوں کو تقویت دیناہے ایسا ہے مفسرین نے فرمایا ہےیہ ہے وہ جو میری رائے ہےوالله تعالی اعلم۔
خلاصہ یہ کہ اب تحقیق کی ہوائیں چلیں اس پرکہ وجہ تو یہی ہے کہ دونوں لفظوں کو انکے ظاہر پر رکھا جائے اورتمھیں حاجت صرف دو امر کی ہوگی اوران میں سے کوئی نہ تکلف کے شما ر میں ہے نہ تغیر کی گنتی میں۔
پہلی بات یہ کہ یہاں "نارا"نکرہ تعظیم کے لیے ہے اوریہ اسلوب جیسا کہ تم جانتے ہوقرآن وحدیث اورقدیم وجدید کلام فصیح میں شائع ہے اور تلظی(آگ کی بھڑک)مطلق کو فرد کامل پر محمول کرتے ہوئے سخت ترین بھڑکنے کے معنی میں لیاجائے اوریہ بھی خوب شائع ہے۔
اوردوسری بات استخداماوروہ جیسا کہ تم نےسنا اقسام بدیع میں سب سے اعلی ہے یا منجملہ اعلی اقسام کے ہے یا ضمیر کو نفس موصوف کی طرف بلا لحاظ صفت لوٹائیں اوریہ تاویل سے کوئی لگاؤنہیں رکھتا۔علاوہ بریں ہماری غرض تو آیت اتقی سے ہےاوراس میں قطعاتاویل کی گنجائش نہیں۔اسی طرح تحقیق چاہیےاورالله تعالی توفیق کا مالك ہے اورساری خوبیاں الله کےلئے جو مالك ہے سب جہانوں کا۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی اورتم نے اس کے
#753 · الزلال النقی
وألقیت السمع وانت نبیہ ھان علیك الجواب عن ھذہ الشبھۃ الاولی بوجوہ۔
الاول ظاھر اللفظ واجب الحفظ الا بضرورۃ واین الضرورۃ۔

الثانی ما مالوا الیہ لم یزدد الا قدحافوجب ان نضرب عنہ صفحاوابوعبیدۃ فیما عانی لا أصاب ولا أغنی فکیف نترك ظاھر قول الله سبحنہ وتعالی بقول رجل لم یکن معصوما ولا صحابیا ولا تابعیا ولا سنیا ولا مصیبافی ماطلب ولا مجدیا فی ماالیہ ھرب۔
ایھا الناس انی سائلکم عن شیئ فہل انتم مخبرون أرأیتم لو ان الآیۃ وردت بلفظ التقی وفسرہ بالاتقی ابوعبیدۃ اللغوی فتعلقناہ بقولہ وندبناکم الی قبولہ ماذاکنتم فاعلین لکن الانصاف شیئ عزیز ولایؤتی الا ذاحظ عظیم۔

الثالث سلمنا کونہ فی الایۃ وجہاوجیھالکن ھو الوجہ فیہا بل وجھنا ھو الأوضح والأجلی مضمون کو سمجھ لیا اورتم نے کان دھر ا اورتم ذہین ہو تو تمہیں اس پہلے شبہہ کا جواب چند وجوہ سے آسان ہے:
پہلی وجہ یہ ہے کہ لفظ کے ظاہری معنی کی حفاظت واجب ہے یعنی لفظ کو ظاہر سے پھیرنا جائز نہیں مگر بہ ضرورتاور ضرورت کہاں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جس تاویل کی طرف لوگ مائل ہوئے اس سے توقباحت ہی زیادہ ہوئی تو ضرور ہوا کہ ہم اس سے منہ پھیریںاورابوعبیدہ نے جو پاپڑبیلے اس کاوش میں وہ نہ صواب کو پہنچا اورنہ کوئی مفید بات کہی تو ہم الله تعالی کے قول کے ظاہری معنی کو ایسے شخص کے کہنے سے کیسے چھوڑدیں جو نہ معصوم تھانہ صحابی تھانہ تابعینہ سنینہ اپنے مطلب میں صواب کو پانے والانہ اپنے مفر میں نفع بخش۔
اے لوگو! میں تم سے ایك بات پوچھوں تو کیا جواب دو گے مجھے بتاؤاگر آیت لفظ تقی کے ساتھ وارد ہوتی اورابو عبیدہ لغوی اسے اتقی سے تفسیر کرتا تو ہم اس کے قول سے چمٹ جاتے اورتمہیں اسے قبول کرنے کی دعوت دیتے اب تم کیا کرتےلیکن
انصاف کمیاب شیئ ہے اوربڑے نصیب والے ہی کو ملتاہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے آیت میں اس کا وجہ وجیہ ہونا مان لیامگر آیت میں کیا یہی وجہ ہےبلکہ ہماری وجہ واضح تر اورزیادہ
#754 · الزلال النقی
ولا تنافی بین نجاۃ التقی ونجاۃ الا تقی والقرآن محتج بہ علی کل تاویل واحد الوجہین یوجب التفضیل و الوجہ الاخر لاینافیہ فوجب القبول والقول بما فیہ۔
ولذلك تری علمائنا رحمھم الله تعالی لم یزالوا محتجین بالایۃ الکریمۃ علی تفضیل العتیق الصدیق رضی الله تعالی عنہ وھم ادری منا ومنکم بما قالہ أبو عبیدۃ وغیرہ ثم ھذالم یقعدھم عن سلوك تلك المسالك ولم ینکر علیھم احد ذلك فثبت ان مقصودنا بحمدالله حاصل ومزعومکم بحول الله باطلوالحمدلله رب العلمین ایاہ نرجو وبہ نستعین۔
الشبہۃ الثانیۃ:مانقلہ المولی الفاضل استاذ استاذی عبدالعزیز بن ولی الله الدھلوی سامحنا الله وایھما بلطفہ الخفی وفضلہ الوفی فی تفسیر فتح العزیز بعد ما ذکر استدلال اھل السنۃ والجماعۃ بالایۃ الکریمۃ علی الطریق المشہور بین علماء الدھورقال وقالت اھل التفضیل ان الاتقی محمول علی التقی منسلخ عن معنی التفضیل اذلولاہ لشمل باطلاقہ النبی صلی الله تعالی روشن ہے تقی اوراتقی کی نجات میں کوئی منافات نہیں ہے اورقرآن ہر تاویل پر حجت ہےاوردو وجہوں میں سے ایك تفضیل کی مقتضی ہے اوردوسری اس کی منافی نہیں تو قبول کرنا اوراس وجہ کے مضمون کا قائل ضروری ہے۔
اسی لئے ہمارے علماء رحمہم الله تعالی کو دیکھتے ہوکہ وہ اس آیت سے سیدنا عتیق صدیق کی فضیلت پر دلیل لاتے ہیں حالانکہ وہ ابوعبیدہ وغیرہ کے کلام کو ہم سے اورتم سے زیادہ جانتے ہیں پھر بھی علماء کو اس بات نے اس مسالك پر چلنے سے نہ روکانہ کسی نے اس مسلك کو ناپسند کیا اب ثابت ہوگیاکہ ہمارا مقصد بحمدالله حاصل ہے اورتمہارا زعم الله کی قدرت سے باطل ہے اورسب خوبیاں الله کے لئے ہیں جو مالك ہے سب جہانوں کا ہم اسی سے امید رکھیں اور اسی سے مدد چاہیں۔
دوسرا شبہہ:وہ ہے جو میرے استاذ الاستاذ ومولا فاضل عبد العزیز بن ولی الله الدہلوی(الله تعالی ہمیں اور انہیں اپنے لطف خفی اورفضل کامل سے معاف فرمائے)نے تفیسر فتح العزیز میں اس آیت کریمہ سے اہل سنت وجماعت کے استدلال کو علمائے زمانہ کے درمیان مشہور طریقہ پر ذکر کرنے کے بعد نقل فرمایاانہوں نے فرمایا کہ تفضیلیہ نے کہا کہ اتقی بمعنی تقی ہےاوروہ(اسم تفضیل)معنی تفضیل سے مجرد ہے اس لئے کہ اگر یہ معنی نہ ہو تو اسم تفضیل کے اطلاق کے
#755 · الزلال النقی
علیہ وسلم فیلزم ان یکون الصدیق اتقی منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو باطل قطعا بالاجماع فقال واجاب اھل السنۃ والجماعۃ ان حمل الاتقی علی التقی یخالف اللسان العربی والقران انما نزل بھا فحملہ علی مالیس منہا غیر سدیدوما ذکروا من الضرورۃ مندفع بان الکلام فی سائر الناس دون الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام لما علم من الشریعۃ ان الانبیاء اعلی کرامۃ واشرف مکانۃ عندالله تبارك و تعالی فلایقاسون بسائر الناس ولا یقاس سائر الناس بھم فعرف الشرع حین جریان الکلام فی مقام التفاضل وتفاوت الدرجۃ یخص امثال ھذا اللفظ بالامۃ والتخصیص العرفی اقوی من التخصیص الذکری کقول القائل خبز القمح احسن خبز لن یفہم منہ تفضیلہ علی خبزاللوزلان استعمالہ غیر متعارف وھو خارج عن المبحث اذ الکلام انما انتظم الحبوب دون الفواکہ ھذا کلامہ فی التفسیر الفارسی اوردناہ نقلا بالمعنی۔ سبب صدیق کی فضیلت نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کو شامل ہوگی تو لازم آئیگا کہ صدیق نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے اتقی ہوں اوریہ قطعا اجتماعی طور رپرباطل ہےشاہ عبدالعزیز نے فرمایا کہ اہل السنت والجماعت نے جواب دیا کہ اتقی کو تقی کے معنی میں لینا عربی زبان کے خلاف ہے اورقرآن تو اسی میں اتراتو ایسے طریقہ پر محمول کرنا جو زبان عربی کے دستور میں نہ ہوصحیح نہیں ہے اور جو ضرورت تفضیلیہ نے ذکر کی وہ مندفع ہےاس لئے کہ کلام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں ہے کیونکہ شریعت سے یہ معلوم ہے کہ انبیاء کی عظمت سب سے زیادہ ہے اور انکامرتبہ سب پر بلند ہے تو انہیں باقی لوگوں پر قیاس نہ کیاجائے گانہ باقی لوگ ان پر قیاس کئے جائینگےتو شریعت کا عرف مقام فضیلت اورتفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کردیتا ہے اورتخصیص عرفی تخصیص ذکری سے زیادہ قوی ہے جیسے کوئی کہے کہ گیہوں کی روٹی سب سے اچھی روٹی ہے اس سے گیہوں کی روٹی کی فضیلت بادام کی روٹی پر نہ سمجھی جائیگی اس لئے کہ اس کا استعمال متعارف نہیں ہے اوروہ بحث سے خارج ہے اس لیے کہ کلام اناج کو شامل ہے نہ کہ میووں کو۔یہ شاہ عبدالعزیز کا تفسیر فارسی میں کلام تھا جس کے مفہوم کو ہم نے نقل کیا۔
#756 · الزلال النقی
اقول: وبالله التوفیق اما ماذکرمن ان ھذا یخالف اللسان العربیۃ فممنوع ومدفوعالا تری الی قولہ تعالی " و ہو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ و ہو اہون علیہ" ۔ ولیس شیئ اھون علی الله تعالی من شیئ والمعنی فی نظر کم علی احد تاویلات فی عسی ولعل الواردین فی القرانوالی قولہ تعالی" اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا و احسن مقیلا ﴿۲۴﴾ " ولا خیر للغیر ولاحسن لا ھل الضیر اولایۃ جاریۃ علی سبیل التھکم بھم کما قال المفسرون لکن الأمر أن میں کہتا ہوں اورتوفیق الله تعالی سے ہےرہی وہ بات جو شاہ صاحب نے ذکر کی کہ یہ(اتقی بمعنی تقی ہونا)ممنوع ومدفوع ہےکیا تم نہیں دیکھتے الله تعالی کا قول "اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائےگا اوریہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہوناچاہیے "حالانکہ الله تعالی کے لئے کوئی چیز دوسری چیز سے زیادہ آسان نہیں(یعنی الله تعالی کو ہر چیز پر یکساں قدرت حاصل ہے)اورآیت کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ بنانا تمہاری نظر میں زیادہ آسان ہونا چاہیے اوریہ عسی ولعل جو قرآن میں وارد ہیں ان کی تاویلات میں سے ایك تاویل کی بنا پر ہے اورکیا تم نہیں دیکھتے الله تعالی کا یہ قول "جنت والوں کا اس دن(سب سے عــــــہ)اچھا ٹھکانااورحساب کی دوپہر کے بعد(سب سے)اچھی آرام کی جگہ"حالانکہ غیر کے لئے خیر نہیں اورخسارہ والوں کیلئے

عــــــہ:آیت کا ترجمہ ہم نے "کنزالایمان "سے نقل کیا ہے اوربریکٹ میں دوجگہ لفظ"سب سے " بڑھا دیا ہے تاکہ اس امر کی طرف اشارہ ہوکہ خیر و احسن کا اسم تفضیل کے لحاظ سے اصل ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے تھامگر قرینہ حالیہ کے سبب صحیح وہ ہے جو اعلیحضرت علیہ الرحمہ نے کیااوراس سے ظاہر ہے کہ یہاں خیر و احسن کا حقیقی معنی تفضیل والا نہیں۔ازہری غفرلہ
#757 · الزلال النقی
الافعل حقیقتہ فی التفضیل ولا یسار الی الانسلاخ عنہ الا لضرورۃ دعت بقرینۃ قامت کما فی الایتین اللتین تلونا وحیث لاضرورۃ ولا قرینۃ کما نحن فیہ لانقول بہ والمصیر الیہ اشبہ بالتحریف منہ بالتفسیر کما قد حققنا وھذا القدریکفی للرد علیھم واما ماذکر من حدیث التخصیص عرفا فجری منہ علی تسلیم ماادعی الخصم من أن اللفظ بصیغتہ یشمل الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام وان بغیت الحق المرصوص فلا شمول ولا خصوص لأن الا تقی ان عم عم افرادہ وھم المفضلون المرجحون دون المرجوحین المفضل علیھم۔


وسر المقام بتوفیق الملك العلام ان الافضل لابد لہ من مفضل علیہ والمضل علیہ یذکر صریحا اذا استعمل مضافا اوبمن اما اذا استعمل باللام فلا یورد فی الکلام کوئی اچھائی نہیںیا آیت کفار سے استہزاء کے طور پر جاری ہےجیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسم تفضیل کامعنی حقیقی تفضیل ہے اورتفضیل سے مجرد ہونے کی طرف بغیر ضرورت داعیہ بہ سبب قرینہ قائمہ نہ پھرے گی جیسا کہ ان دو آیتوں میں جو ہم نے تلاوت کیں اور جہاں نہ ضرورت ہو اورنہ قرینہ ہو وہاں ہم تفضیل سے مجرد ہونے کا قول نہ کریں گے اوراس طرف پھرنا تفسیر کی بہ نسبت تحریف سے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ ہم نے تحقیق کیا اور اس قدر انکے رد کے لئے کافی ہےاور رہی وہ تخصیص عرفی کی بات جو شاہ صاحب نے ذکر فرمائی تو مدعی کا وہ دعوی کہ لفظ اپنے صیغہ کے سبب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی شامل ہے تسلیم کرنے کی تقدیر جاری ہوئی اور اگر تم حق محکم کو چاہو تو نہ شمول ہے نہ خصوص ہے اس لئے کہ اتقی اسم تفضیل اگر عام ہے تو اپنے افراد کو عام وشامل ہے۔اوراس کے افراد وہ ہیں جنہیں فضیلت وترجیح دی گئی ہے نہ کہ وہ مرجوح جن پر دوسروں کوفضیلت دی گئی۔
اوراس مقام میں علم والے بادشاہ کی توفیق سے راز یہ ہے کہ افضل کے لئے ایك مفضل اوردوسرا مفضل علیہ لازم ہے اور جب اسم تفضیل اضافت کے ساتھ یا من کے ساتھ مستعمل ہوتو مفضل علیہ صراحۃ مذکورہوتاہے
#758 · الزلال النقی
ولکن اللام تشیر الیہ علی سبیل العہد فی ضمن الاشارۃ الی المفضل لان ذات مالہ الفضل کما ھو مفاد لفظ افعل بلا لام لاتتعین الا وقد تتعین المفضل علیہ فعھد ھا یستلزم عھدہ واذلم یکن ھناك عھد فی اللفظ فالمصیر الی العھد الحکمی وقد عھد فی الشرع المطھر تفضیل بعض الامۃ علی بعض لاتفضیلھم علی الانبیاء الکرام فلا یقصدہ المتکلم ولا یفھمہ السامع فلم یدخلوا حتی یخرجواتأمل انہ دقیقوقد کنت أظن ھکذا من تلقاء نظری الی ان رایت علماء النحو صرحوابما ابدی فکری ولله الحمد۔



قال المولی السامی نورالملۃ والدین الجامی قدس الله تعالی سرہ وضعہ لتفضیل الشیئ علی غیرہ فلا بدفیہ من ذکر الغیر الذی ھو المفضل علیہ وذکرہ مع من و الاضافۃ ظاھرواما مع لیکن جب اسم تفضیل الف لام کے ساتھ آتاہے تو اس میں مفضل علیہ کلام میں ذکر نہیں کیاجاتالیکن لام تعریف بر سبیل عہد مفضل علیہ کی طرف مفضل کی طرف اشارہ کے ضمن میں اشارہ کرتاہے اس لئے کہ کوئی ذات جس کو دوسرے پرفضیلت ہوجیسا کہ صیغہ افعل کا مفاد ہے بغیر لام تعریف کے اسی وقت متعین ہوگی جب مفضل علیہ متعین ہوتو اس کی تعیین مفضل علیہ کی تعیین کو مستلزم اورجب کہ تعیین صراحۃ موجود نہیں تو مآل کارحکما تعیین مانتا ہے اورشرع مطہر میں بعض امتیوں کی تفضیل دوسرے امتیوں پر معروف ہے نہ کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر فضیلت ہوتونہ متکلم کی مراد ہوتی ہے نہ مخاطب ہی یہ معنی سمجھتا ہےاب انبیائے کرام عموم میں داخل ہی نہیں کہ اس سے مستثنی کئے جائیںاس کلام میں غور کرےبیشك یہ دقیق ہے اورمیں اپنی سمجھ سے یہی گمان کرتا تھا یہاں تك کہ میں نے نحو کے عالموں کی تصریح اپنے نتیجہ فکر کے مطابق دیکھی ولله الحمد۔
حضرت بلند مرتبت نورالملۃ والدین جامی قدس الله تعالی سرہ نے فرمایا اسم تفضیل کی وضع شے کی غیر پر فضیلت بتانے کے لئے ہےلہذا اس میں غیر جو مفضل علیہ کا مذکور ہونا ضروری ہے اورمن اوراضافت کے ساتھ تو مفضل علیہ کا مذکورہونا ظاہر ہے۔رہا لام تعریف کے ساتھ تو مفضل علیہ ظاہرا مذکور کے حکم میں ہے اس لئے کہ لام
#759 · الزلال النقی
اللام فھو فی حکم المذکور ظاھرا لانہ یشار باللام الی معین بتعیین المفضل علیہ مذکور قبل لفظا اوحکما کما اذطلب شخص افضل من زیدقلت عمر و الأفضل ای الشخص الذی قلنا انہ افضل من زید فعلی ھذا لاتکون اللام فی افعل التفضیل الا للعھد انتہی۔
قلت وتنقیح المرام بتحقیق المقام یستدعی بسطا نحن فی غنی عنہ(لطیفتان)بمثل ماصرح المولی الجامی صرح الرضی الاسترآبادی الذی لم تکن فی مصرہ عمارۃ عصرہ الابنحوہ لکنا لم ناثر عنہ لان علی قلبہ آفۃ لاحدلھا فھم من فھم ھذا ثم ان المولی الفاضل نقل فی التفسیر جوابا آخر عن بعض الاجلۃ الاکابر ولعلہ یریدبہ اباہ وھو أن الاتقی ھھنا تعریف سے ایك معین کی طر ف اشارہ ہوتاہے جو لفظ میں مذکوریا حکم میں موجود مفضل علیہ کی تعیین سے متعین ہوتاہے جیسا کہ اگر کوئی شخص زید سے افضل مطلوب ہوتو تم کہو کہ عمرو افضل ہے(لام تعریف کے ساتھ)تو مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے ہم نےزید سے افضل کہا عمرو ہےتو اس بناء پر صیغہ افعل التفضیل میں لام عہد(تعیین)ہی کے لئے ہوگاانتہی۔
قلت(میں نے کہا)مقصود کی تنقیح اس بحث کی تحقیق کے ذریعہ تفصیل کو چاہتی ہے جس سے ہم بے نیاز ہیں(دو لطیفے) جس طرح اسم تفضیل کے بارے میں فاضل جامی نے تصریح کیایسی ہی تصریح رضی استرآبادی نے بھی کی جس کے شہر میں اس کے زمانے میں اسی کی نہج ونحو پر عمارت قائم ہوئی مگر ہم نے اس کا کلام نقل نہ کیا اس لئے کہ اس کے دل پر ایسی آفت ہے جس کی حد نہیں ہےاس کو سمجھا جو سمجھا پھر فاضل مولانا نے بعض گرامی قدر اکابر سے ایك اورجواب نقل کیا اور شاید ان کی مراد ان کے والد ہیں اوروہ یہ کہ اتقی اس جگہ اپنے معنی پر ہے یعنی جو تقوی میں اپنے
#760 · الزلال النقی
علی معناہ اعنی من فضل فی التقوی علی کل من عداہ نبیا کان او غیرہ الا انہ یختص بالاحیاء الموجودین فالصدیق رضی الله تعالی عنہ یوصف بہ فی اخر عمرہ حین خلافتہ بعدارتحال المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم وسیدنا عیسی علی نبینا علیہ الصلوۃ و السلام لما کان مرفوعا الی السماء لم یبق فی حکم الاحیاءولا یجب للتقی ان یکون اتقی فی جمیع الاوقات وبالنسبۃ الی کل احد من الاحیاء والاموات و الا لم یوجد لہ فی العلمین مصداق اذلایتصور التقوی فی زمن الصبا وکل منصب محمود شرعا فالعبرۃ فیہ باخرالعمر کالعدل والصلاح والغوثیۃ و القطبیۃ و الولایۃ والنبوۃ ولہذا یدعی بھذہ الاوصاف من تشرف بھا فی اواخر عمرہ وان لم یکن لہ ذلك من بدو امرہفالاتقی من فضل بالتقوی من سائر الموجودین فی آخر عمرہ الذی ھو وقت اعتبار الاعمال وبہ یثبت المدعی بلا تکلف ولا تاویل اھ بالتعریف وقد ارتضاہ المولی الفاضل جانحا الیہ وساکتاعلیہ۔ ماسواسے افضل ہوخواہ نبی ہو یا غیر نبیمگر یہ کہ اس صورت میں یہ ان کے ساتھ خاص ہوگاجو زندہ موجود ہیں۔پھر صدیق رضی الله تعالی عنہ اتقی کے مصداق اپنی عمر کے آخری حصہ میں اپنی خلافت کے دور میں مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد ہوئے اورسیدناعیسی علیہ الصلوۃ جب آسمان پر اٹھالئے گئے تو وہ زندوں کے حکم میں نہ رہے اوراتقی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ تمام اوقات میں اتقی ہو اورتمام احیاء و اموات سے افضل ہوورنہ عالم میں کوئی اس کا مصداق نہ ہوگاکیونکہ بچپن کے زمانہ میں تقوی متصور نہیںاورہر منصب جو شرعامحمود ہواس میں اعتبار آخرعمر کا ہے جیسے عدل و صلاح غوثیت وقطبیت ولایت ونبوت اسی لئے جو ان اوصاف سے مشرف ہوتاہے اسے اس کے آخری ایام میں ان اوصاف کے ساتھ موسوم کرتے ہیں اگرچہ یہ اوصاف ان لوگوں کو ابتداء سے حاصل نہیں ہوتے تو اتقی وہ ہے جو تمام موجودین کے بیچ تقوی میں سب سے افضل ہواپنی اواخر عمر میں جس وقت اعمال کا اعتبارہوتاہے اوراس تقریر سے صدیق کی افضلیت کا دعوی بے تکلف وتاویل ثابت ہوجاتاہےعربی عبات کا ترجمہ ختم ہوا اور اس تقریر کو فاضل مولانا نے اس کی طرف میلان اوراس پر سکوت کرتے ہوئے پسند کیا۔
#761 · الزلال النقی
اقول: وان جعل الله الفطانۃ بمرأی العین من قلب وکیع اتقن وأیقن ان ھذا لایزید علی تلمیع ھب ان حدیث"العبرۃ بالخواتیم" حق واجب التسلیم لکن الیس العقل السلیم شہیدابانہ اذا ذکر أحد من الاحیاء الموجودین بنعت من النعوت لایفہم منہ الا اتصافہ فی الحال لاانہ یصیر ھکذا بالمال والتبادر دلیل الحقیقۃ والافتیاق الی قرینۃ تصرف الافہامو تظھرالمرام و امارۃ المجاز فماذا یحوجنا الیہ مع استقامۃ الحقیقۃ من دون تکلف ولا تاویل اما علی طریقتنا فالامر أبین واجلی واما علی طریقۃ الشیخ العزیز عبد العزیز فلان امثال تلك التخصیصات تکون مرتکزۃ فی الاذھان من دون حاجۃ الی البیانولیس دلالۃ ھذا التلویح أدون من ارشاد التصریح ولہذا لا ینزل العام عن درجۃ القطعیۃ کما فی الکتب الاصولیۃ واعجب من ھذا عدہ تکلفا وتاویلا مع شیوعہ فی اقول:(میں کہتاہوں)اوراگر الله تعالی ذہانت کو قلب کےسامنے رکھے تو وہ محکم یقین کرلے گا کہ یہ ملمع سے زیادہ نہیںمان لو کہ حدیث کا ارشاد ہے "خاتمہ کا اعتبار ہے "حق واجب التسلیم ہے لیکن کیا عقل سلیم شاہد نہیں کہ جب دنیا میں زندہ موجود لوگوں میں سے کوئی کسی وصف کے ساتھ مذکور ہو تو اس سے اس کافی الحال متصف ہونا ہی مفہوم ہوتا ہے نہ یہ کہ وہ ایسا آئندہ ہوجائے گااورتبادر(معنی کی طرف سبقت فہم)معنی حقیقی کی دلیل ہے اورقرینہ کی حاجت جو ذہن کو دوسرے معنی کی طرف پھیرے اورمقصد ظاہر کرے مجازی معنی کی علامت ہے تو ہمیں مجاز کی ضرورت کس لئے پڑی باوجودیکہ حقیقت بغیر تکلف وبغیر تاویل درست ہے ہمارے طریقے پرتو معاملہ خوب ظاہر وباہر ہے
اورشیخ عبدالعزیز کے طریقہ پر حقیقی معنی کی درستگی اس لئے ایسی تخصیصات عرفی اذہان میں مرتکز ہوتی ہیں جن کے بیان کی حاجت نہیں ہوتی اور عرف عام کے اس اشارہ کی دلالت صراحت کی دلالت سے کم رتبہ نہیںاوراسی لئے عام درجہ قطیعت(تیقن)سے نہیں گرتاجیساکہ اصول فقہ کی کتب میں مصرح ہےاوراس سے عجیب تریہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے اس(تخصیص)
#762 · الزلال النقی
النصوص حدیثا وتنزیلافلو کان من باب التکلف فما اکثر التکلف فی افصح الکلام وکلام من ھو افصح الانام علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلامواغرب من ھذا زعم طریقتہ بریئۃ من التکلف مع انھا تحتاج الی ماھو ابرد وابعد فان الصدیق رضی الله تعالی عنہ لم یکن بالحقیقۃ أتقی لالموجودین فی حین من الاحیان لحیات سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام علی أرجح الاقوال وزعم التحاقہ بالاموات لارتفاعہ الی السموت کلمۃ ھو قائلھا ما علیھا دلیل ولا برھانوان سلم فاین انت من سیدنا الخضرعلیہ السلام مع أن المعتمد المختار نبوتہ وحیاتہ فان قلت انہ مختف عن الابصارمعتزل عن الامصار فالتحق بالاموات کان عذرا أفسد من الاول فافھم علی أنا قد اثبتنا اطلاق السفۃ علی من سیکون کذا تجوز ولا تجوز الابقرینۃ ولا قرینۃ الاتخصیص الانبیاء عرفی کو تکلف وتاویل میں شمار کیا باجودیکہ یہ قرآن وحدیث کی نصوص میں شائع ہے تو اگر یہ تکلف کے باب سےہو تو افصح الکلام(قرآن)اورسب سے زیادہ فصیح حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں کس قدر تکلف ہوگا۔اوراس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ شاہ صاحب نے اپنے پسندیدہ طریقہ کو تکلف سے بری کہا جب کہ وہ بہت دور کی اوربہت بارد تاویل کا محتاج ہے اس لئے کہ صدیق رضی الله تعالی عنہ کسی وقت بھی تمام موجودین سے حقیقۃ زیادہ متقی نہ تھے اس لئے کہ راجح مذہب پر سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں زندہ ہیں اورآسمانوں میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ہونےکے سبب انھیں اموات سے ملحق بتانا ایسی بات ہے جو انہوں نے کہی اوراس پر کوئی دلیل وبرہان نہیں ہے۔پھر اگر یہ بات تسلیم کرلیں تو تم سیدناخضرعلیہ السلام سے کہاں غافل ہو باوجودیکہ معتمد ومختاریہ ہے کہ وہ نبی ہیں اوردنیا میں زندہ ہیں تو اگر تم کہو کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ اورشہروں سے جداہیں اس بنا پر اموات سے ملحق ہیں تو یہ عذر پہلے سے زیادہ فاسد ہوگا تو تم سمجھ لوعلاوہ ازیں ہم ثابت کرچکے کہ صفت کا اطلاق ایسے شخص پر جو آئندہ صفت کا مصداق ہوگا مجاز ہے اورمجاز بغیر قرینہ کے ماننا درست نہیں اورقرینہ شرعی انبیاء کی تخصیص ہےتو کلام کو
#763 · الزلال النقی
شرعافباتکائہ حمل الکلام علی الحقیقۃ اولی ام المصیر الی التجوز معتمداعلی تلك القرینۃ نفسہا وقدبقی بعد خبایافی زوایالانذکرھا مخافۃ للطویل فحق الجواب والحق فی الجواب ماذکر العبدالذلیل وولی التوفیق ربی الجلیل۔
ثم اقول: وھناك نکتۃ اخری أحق واحری بقبول النہی لم ارمن تنبہ لہا وھی ان افعل التفضیل لا محید لہ من مفضل علیہ فالمحلی منہ باللام اما ان یکون مفادہ التفضیل علی جمیع من عہد التفاضل فیما بینھم فی امثال ھذا المقام کالحبوب فی قولنا خبزالبرھوالاحسن والاکثرفیما نحن فیہاو علی بعضھم دون بعض اولا ولا بل احتمالاعلی الاول حصل المقصود والثانی باطل بالبداھۃ الاتری الی قولہ تعالی " سبح اسم ربک الاعلی ﴿۱﴾" وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی دعائہ دبرالصلوۃ اسمع و حقیقت پر محمول کرنا اولی ہے یا مجاز کی طرف اسی قرینہ پر اعتماد کی وجہ سے پھیرنا انسب ہے اورکچھ پوشیدہ باتیں گوشوں میں رہ گئی ہیں جنہیں ہم طوالت کے ڈر سے ذکر نہیں کرتے تو جواب برحق اورجواب کا حق وہی ہے جو بندہ ناتواں نے اپنے رب جلیل کی توفیق واعانت سے ذکرکیا۔
ثم اقول(پھر میں کہتاہوں)اس مقام میں ایك دوسرا نکتہ ہے جو عقلوں کو قبول ہونے کا زیادہ سزاوار ہےمیں نے نہ دیکھا کہ کسی کو اس نکتہ کی طرف توجہ ہوئی ہو اوروہ نکتہ یہ ہے کہ افعل التفضیل کے لئے مفضل علیہ ضروری ہے تو اس صیغہ پر جب لام تعریف داخل ہوگا تو یا تو ایسے مقام میں ان تمام افراد پر فضیلت ہوگا جن کے درمیان ایسے مواقع پر حرف میں تفاضل سمجھا جاتاہے جیسے ناج کی قسموں میں ہمارے جملہ "گیہوں کی روٹی ہی اچھی ہے"میں اوروہی زیادہ تر مستعمل ہے اس مقام میں جس کی بابت ہم گفتگو کر رہے ہیںیا اس صیغہ سے بعض پر فضیلت سمجھی جائے گی اوربعض پر فضیلت مفہوم نہ ہوگی یا نہ پہلی صورت ہوگی نہ دوسریبلکہ دونوں کا احتمال ہوگا۔پہلی تقدیر پر ہمارا مدعا حاصل ہے اوردوسری تقدیر پر بداہۃ باطل ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے الله تعالی کے قول "اپنے رب اعلی کی پاکی بولو
#764 · الزلال النقی
استجب الله اکبر والاکبر علی روایۃ الرفعاخرجہ ابوداودوالنسائی وابن السنی وقول ابن امسعود رضی الله تعالی عنہ بین الصفاء والمروۃ "رب اغفر و ارحم انك انت الاعزاالاکرمرواہ ابن ابی شبیۃ بل الی قول کل مصل فی سجودہ سبحن ربی الاعلی "
وعلی الثالث کانت الآیۃ مجملۃ فی حق المفضل علیھم والمجمل ان لم یبین عد من المتشابہا ت ولم یعد ھا أحد منھا لکنا بحمد الله وجدنا البیان من صاحب البیان علیہ افضل الصلوۃ والسلاماخرج الامام ابو عمر بن عبدالبر من حدیث مجالد عن شعبی قال سألت ابن عباس او سئل ای الناس اول اسلاما قال اما سمعت قول حسان بن ثابت کی طرف اورنماز کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قول "اے رب! دعا سن لے اورقبول فرماالله اکبرالله اکبرکی طرف۔اکبر کے مرفوع ہونے کی روایت پر اس حدیث کو روایت کیا ابوداودنسائی اورابن السنی نےاورصفاومرہ کے درمیان ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ کے قول "اے رب بخش دے اورمہرفرما بیشك توہی عزت والاکرم والاہے "کو نہیں دیکھتے۔اسے روایت کیا ابن ابی شیبہ نےبلکہ سجدے میں ہر نمازی کے قول"سبحان ربی الاعلی"کو نہیں دیکھتے
اورتیسری تقدیر پر ہر آیت مفضل علیہم کے حق میں مجمل ہوگی اورمجمل آیت کا بیان اگر نہ ہوا تو وہ متشابہ آیتوں میں شمار ہوگی حالانکہ اس آیت کو کسی نے متشابہات میں شمار نہ کیالیکن ہم نے بحمدالله اس آیت کا بیان صاحب بیان حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے پایا۔امام ابو عمر ابن عبدالله نے روایت کی حدیث مجالد سے انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس(رضی الله تعالی عنہما)سے پوچھا یا ابن عبا س سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے پہلے کو ن اسلام لایا۔انہوں نے فرمایا:کیا تم نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہ سنے:
#765 · الزلال النقی
اذاتذکرت شجوا من اخی ثقۃ
فاذکر اخاك ابابکر بما فعلا
خیرالبریۃ اتقاھا واعدلہا
بعدالنبی واوفاھا بما حملا
والثانی التالی المحمود مشہدہ
واول الناس منھم صدق الرسلا انتہی

انبانا عبدالرحمن عن ابن عبدالله المکی عن عابد الزبیدی المدنی عن الفلانی عن ابن السنۃ عن الشریف عن ابن ارکما ش عن ابن حجر العسقلانی عن الکمال ابی العباس أنا ابو محمد عبدالله بن الحسین بن محمد بن ابی التائب عن محمد بن ابی بکر البلخی عن الحافظ السلفی عن ابی عمران موسی بن ابی تلمید عن الامام ابی عمر یوسف بن عبدالبرقال فی الاستیعاب یروی أن رسول الله (ترجمہ اشعار)"جب تجھے سچے دوست کا غم یاد آئےتو اپنے بھائی ابو بکر کو انکے کارناموں سے یادکر جونبی(صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم)کے بعد ساری مخلوق سے بہترسب سے زیادہ تقوی اورعدل والےاورسب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والےجو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ساتھ غار میں رہےجو نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچے سفر ہجرت میں چلےجن کا منظر محمود ہے اورلوگوں میں سب سے پہلے جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی"(صلی الله تعالی علی سیدنا محمد وسلم)
ہمیں خبر دی عبدالرحمن نے انھوں نے روایت کی ابن عبد الله مکی سے انہوں نے روایت کی عابد زبیدی مدنی سے انہوں نے روایت کی فلانی سے وہ روایت کرتے ہیں ابن السنۃ سے وہ روایت کرتے ہیں شریف سے وہ روایت کرتے ہیں ابن ارکماش سے وہ روایت کرتے ہیں ابن حجر عسقلانی سے وہ راوی ہیں کمال ابو العباس سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالله بن حسین بن محمد بن ابی التائب نے محمد بن ابی بکر بلخی سے وہ راوی ہیں حافظ سلفی سے وہ راوی ہیں ابو عمران موسی بن ابی تلمیدسے وہ روایت کرتے ہیں امام ابو عمر یوسف بن عبدالبر سےابن عبدالبر نے استیعاب میں فرمایا کہ
#766 · الزلال النقی
صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لحسان"ھل قلت فی ابو بکر شیئا قال نعموانشد ھذہ الابیات وفیھا بیت رابع وھی: "
والثانی اثنین فی الغارالنیف وقد
طاف العدوبہ اذصعد والجبلا۔
فسرالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بذلك فقال احسنت یاحسان
وقدروی فیھا بیت خامس:
وکان حب رسول الله قد علموا خیر البریۃ لم یعدل بہ رجلا انتہی۔


قلت ویروی بدلہ ع
من الخلائق لم یعدل بہ بدلا
وحدیث ابن عباس رواہ روایت ہے کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حسان سے فرمایا کیا تم نے ابو بکر کے بارے میں کچھ کہا ہے انہوں نے عرض کی:جی۔اور حضرت حسان نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو یہ شعر سنائے اوران میں چوتھا شعر ہے وہ یہ ہے:
(ترجمہ)"غار شریف میں وہ دوسری جان درانحالیکہ دشمن اس کے گرد چکر لگاتے تھے جبکہ وہ دشمن(صدیق اکبر کی نظروں کے سامنے)پہاڑپر چڑھے تھے۔"تو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان اشعار کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا:اے حسان!تم نے اچھا کیا۔اوران میں پانچواں شعر بھی مروی ہوا:
(ترجمہ)"(شہرتچمك یا حرارت محبت میں)رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے محبوب لوگوں نے انہیں جاناتمام مخلوق سے بہترجس کے برابر حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کسی کو نہ رکھا۔"
قلت(میں کہتاہوں)مصرعہ ثانی کے بجائے یوں بھی مروی:
(ترجمہ"مخلوق سے کسی کو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کے برابر نہ رکھا۔")
اورحدیث ابن عباس کو طبرانی نے بھی
#767 · الزلال النقی
الطبرانی ایضا فی المعجم الکبیر وعبدالله بن احمد فی زاوئد الزھد
واما الحدیث المرفوع اعنی بہ استماع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اشعارہ وتحسینہ علیہا فاصلہ مروی ایضا عند الحاکم من حدیث غالب بن عبدالله عن ابیہ عن جدہ حبیب بن ابی حبیب وعند ابی سعد فی الطبقات وعند الطبرانی عن الزھری ورواہ الحاکم ایضا من حدیث مجالد عن الشعبی من قولہ کمثل حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما والاصولی یعرف ان الموقوف فی مثل ھذا کالمرفوع اذ المجمل لا یبین بالرأی ولہذا ان لم یبین وانقطع عــــــہ نزول القران عاد متشابھاثم ان روایت کیا معجم کبیر میںاورعبدالله بن احمد نے زوائد زہد میں۔رہی حدیث مرفوع یعنی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا حضرت حسان کے اشعار کو سن کرانہیں سراہنا تو اس کی اصل بھی مستدرك حاکم میں غالب بن عبدالله کی حدیث میں بطریق غالب بن عبدالله عن ابیہ عن جدہ حبیب بن ابی حیبب مروی ہے(یعنی یہ حضرت غالب بن عبدالله نے اپنے والد عبدالله سے سنی انہوں نے اپنے باپ غالب کے دادا حبیب بن ابی حبیب سے سنی)اورطبقات ابن سعد میں اور طبرانی میں زہری سے مروی ہےاور نیز حاکم نے مجالد کی حدیث میں بروایت شعبی انکا قول حدیث ابن عباس رضی الله کے بلفظہ مشابہ روایت کیااوراصولی جانتاہے کہ ایسی جگہ پر موقوف(صحابی کا قول)مرفوع(حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قول)کی طرح ہےاس لئے کہ مجمل کا بیان رائے سے نہیں ہوتا لہذا اگر شارع نے بیان نہ کیااور قرآن کا نزول بند ہوگیا

عــــــہ:یہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی وفات سے کنایہ ہے ۱۲منہ ۔
#768 · الزلال النقی
البیان یلتحق بالمبین اذ لا یفید الارفع التشکیك وتعیین احد المحتملات فکان حکمہ کحکم القرینۃ والمفاد انما ینسب الی الکلام کما اوضحتہ الاصول فثبت بالایۃ تفضیلہ رضی الله تعالی عنہ علی کل من عداہ فی التقوی والحمدلله علی مااولی۔
اقول: واخذ الافعل بمعنی کثیر الفعل فطام لہ عما یحتاج الیہ فی اصل وضعہ اعنی المفضل علیہ فیکون صرفا عن المعنی الحقیقی المتبادر فلا بدمنہ قرینۃ واین القرینۃ ولتکن حاجۃ وماذاالحاجۃنعم ھذا مفاد صیغۃ المبالغۃ وشتان مھما فلیتنبہ لھذا والله تعالی الموفق۔

الشبہۃ الثالثۃ:وھی تتعلق بالکبری من قیاس اھل السنۃ والجماعۃ ان المحمول فی قولہ تعالی" ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " ھو الاتقی فکان حاصل المقدمتین ان تو مجمل متشابہ ہوجائے گاپھر بیان مبین(مجمل)سے ملحق ہوگا اس لئے کہ بیان کا یہی فائد ہ ہے کہ شك دور کرے اورمحتمل معانی میں سے کوئی ایك معین کردے تو بیان کا حکم وہی ہے جو قرینہ کا ہے اورکلام کا مفاد کلام ہی کی طرف منسوب ہوتاہے جیسا کہ اصول فقہ نے واضح کیا تو اس آیت سے صدیق اکبر کی فضیلت تقوی میں ہر امتی پر ثابت ہوگئی اورالله تعالی کیلئے اس کی نعمتوں پر حمد ہے۔
میں کہتاہوں اورافعل کو بمعنی کثیر الفعل لینا اس کو اس شے سے الگ رکھنا ہے جس وہ اصل وضع کے لحاظ سے محتاج ہے یعنی مفضل علیہ تو یہ معنی حقیقی متبادرسے پھیرنا ہوگا اب تو قرینہ ضروری ہے اورقرینہ کہاںاوراس کے لئے حاجت بھی چاہیے اورحاجت کیاہےہاں یہ مبالغہ کے صیغہ کا مفاد ہے اوراسم تفضیل اورمبالغہ میں فرق ہے۔
تیسراشبہہ:اس کا تعلق اہلسنت وجماعت کے قیاس کے کبری کے ساتھ ہے کہ الله تعالی کے قول" ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم "میں محمول الاتقی ہے۔تو دونوں مقدموں کا حاصل یہ ہے ہوا کہ صدیق اتقی ہیں اور
#769 · الزلال النقی
الصدیق اتقی وکل اکرم اتقی وھذا لیس من الشکل الاول فی شیئ ولا ثانیاایضالعدم الاختلاف فی الکیف وان عکستم الکبری جاء ت جزئیۃ لاتصلح لکبرویۃ الشکل الاول فمفاد الایتین لایضرنا ولا ینفعکم ومن الشبھۃ ھی اللتی بلغنی عن بعض المفضلۃ عرضہاعلی بعض المتکلمین منا۔
وانا اقول: وبالله التوفیق ما استخفہ تشکیکا و اضعفہ دخلارکیکاغلط ساقط باطل عاطل لا یستحق الجواب ولکن اذا قیل وسئل فلا بدمن ابانۃ الصواب فاعلم ان اللطیف الخفی وفقنی لازھاق ھذا التلبیس الفلسفی باثنی عشر وجھا امھاتھا ثلثۃ وجوہ کل منھا یکفی ویشفی۔

الاول لو کان لہذا القائل علم بمحاورات القران او الحدیث اوبماروی العلماء فی شان النزول او التفسیر المرفوع الی جناب الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم اوکلمات العلماء والائمۃ الفحول او رزق حظامن فھم الخطاب ودرك المفادو ہر اکرم اتقی ہےاور یہ کسی طرح شکل اول کے قبیل سے نہیں اورشکل ثانی بھی نہیں اس لئے کہ کیف میں اختلاف نہیں ہےاوراگر کبری کا عکس کردیا جائے اس صورت میں موجبہ جزئیہ ہوگا جو شکل اول کے کبری بننےکے لائق نہیںتو دونوں ایتوں کا مفاد ہمیں مضرنہیں اورتمہیں مفید نہیںاوریہ وہی شبہ ہے جس کے بارے میں مجھے خبر پہنچی کہ کسی تفضیلی نے ہمارے کسی عالم سے عرض کیا۔
اور میں کہتاہوں اورتوفیق الله ہی سے ہےیہ کتنی سخیف تشکیك ہے اورکس قدر ضعیف اعتراض رکیك ہے جو غلط ہے ساقط ہے باطل و عاطل ہے جواب کا مستحق نہیںلیکن یہ جب کہا گیا اورپوچھا گیا تو صواب کو ظاہر کرنا ضروری ہےاب تم جانو کہ الله لطیف خفی نے اس قید فلسفی کے قلع قمع کے لئے مجھے بارہ وجوہ سے توفیق بخشی ان بارہ کی اصل تین وجہیں ہیں ان میں سے ہر ایك کافی وشافی ہے۔
پہلی یہ کہ اگر اس معترض کو قران وحدیث کے محاورات یا شان نزول میں علماء کی روایات جناب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب ومرفوع تفسیر یا علماء اور جلیل القدر ائمہ کے کلمات کا علم ہوتا یا نظم قران کی سمجھ اور مفاد و معنی کی فہم اورکلام کوغرض مقصود پر رکھنے سے کچھ حصہ روزی ہوا ہوتاتو وہ جان لیتا کہ اکرم
#770 · الزلال النقی
تنزیل الکلام علی الغرض المراد لعلم ان حمل الاکرم ھو المعتبروصدرالکلام بتصدیر الخبر و ذلك لوجوہ اوقفنی الله تعالی علیہا بمنہ وعمیم کرمہ۔
فاقول اولا: کانت الجاھلیۃ تتفاخر بالانساب وتظن ان الانسب ھو الا فضل فجاء ت کلمۃ الاسلام برد کلمۃ الجاھلیۃ" ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " فالنزاع انما وقع فی موصوف الافضل لافی صفتہ وھذا کما اذا سأل سائل عن الذ الاطعمۃ فقال قائل الحامض الذ فنقول رداعلیہ الابل الذھا احلاھا فانما ترید ان الاحلی ھو الالذ والوجہ ان الاتقی فی الایۃ کالاحلی فی قولك ھذہ مراۃ لملاحظۃ الذات والاکرم حکم علیہ کالالذوانما الخبرماحکم بہ کو محمول بناناہی معتبر ہے تو کلام اس طرح صادر ہوا کہ اس میں تقدیم خبر ہے اوریہ دعوی چند دلیلوں سے ثابت ہے اس پر الله تبارك وتعالی نے مجھے اپنے احسان اورلطف عام سے مطلع کیا۔
فاقول:(میں کہتاہوں)اولا اہل جاہلیت نسبت پر فخر کرتے تھے اوروہ گمان کرتے تھے کہ جس کا نسب بہتر ہے وہی افضل ہے تو اسلام کا کلمہ جاہلیت کے بول کو رد کرتاہوا ایا " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (بے شك الله کے نزدیك سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جو سب سے بڑا پرہیزگار ہے) تونزاع تو اس میں ہے کہ وصف اول کا موصوف کون ہے نہ کہ صفت افضل میں اوریہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی پوچھنے والاپوچھےکہ کھانوں میں سب سے مزیدارکھانا کون سا ہے تو کوئی کہے کہ الذھا اخلاھا(کٹھا سب سے زیادہ مزیدارہے)تو اس کا رد کرنے کےکوتم یوں کہو:نہیں بلکہ الذھا احلاھا (سب سے زیادہ مزیدار میٹھی چیزہے)تو ہماری مراد یہی ہے کہ سب سے زیادہ میٹھا سب سے زیادہ مزیدار ہےاور وجہ یہ ہے کہ اس ایت میں اتقی تمارے اس قول "ذات کے ملاحظہ کیلئے یہ ائینہ ہے"میں احلی کی مثل ہے اوراکرم
#771 · الزلال النقی
لاماحکم علیہ ولقد دری من لہ قلیل ممارسۃ بکلام العرب ان الذھن اول ماتلقی الیہ امثال ھذا الکلا م لایسبق الا الی ان المراد مدح الاتقیاء والترغیب فی التقوی والوعد الجمیل بان من یتقی یکن کریما علینا عظیما لدینا وھکذا فھم المفسرون فہذا الزمخشری النکتۃ فی الادب الشامۃ فی معرفۃ کلام العرب یقول فی تفسیرہ "المعنی ان الحکمۃ التی من اجلھا رتبکم علی شعوب وقبائل ھی ان یعرف بعضکم نسب بعض فلایعتزی الی غیرابائہلاان تتفاخروابالاباء والاجداد وتدعواالتفاوت و التفاضل فی الانسابثم بین الخصلۃ التی بھا یفضل الانسان غیرہ ویکتسب الشرف والکرم عندالله تعالی فقال ان اکرمکم عندالله اتقاکم "وقرئ ان بالفتح کانہ قیل لایتفاخر بالانساب فقیل لان اکرمکم عند الله اتقاکم لا انسبکم الخ وبمثلہ قال الامام محکوم علیہ ہے جیسے الذ۔اورخبر تومحکوم بہ ہوتی ہے نہ کہ محکوم علیہ۔اوربیشك وہ سمجھتاہے جسے کلام عرب سے تھوڑا ساسابقہ ہوکہ جیسے ہی ایسا کلام ذہن میں اتا ہے اس کی سبقت اسی طرف ہوتی ہے کہ مراد پرہیز گاروں کی تعریف اورتقوی کی رغبت دلاتاہے اوریہ وعدہ جمیل کہ جو تقوی اختیار کرے گا ہمارے یہاں عزت وکرامت والا ہوگا۔اوراسی طرح مفسرین نے سمجھا تو یہ زمخشری جو ادب میں نکتہ کی مانند اورکلام عرب میں تل کی مثال سے ہے اپنی تفسیر میں قائل ہیں بیشك وہ حکمت جس کی وجہ سے تمھاری ترتیب کنبوں اورقبیلوں پر رکھی وہ یہ ہے کہ ایك دوسرے کا نسب جان لے۔تو اپنے اباءو اجداد کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے نہ یہ کہ تم اباء واجداد پر فخر کرو اورنسب میں فضیلت اوربرتری کا دعوی کر وپھر الله نے وہ خصلت بیان کی جس سے انسان دوسرے سے برتر ہوتاہے اورالله کے یہاں عزت وبزرگی کا اکتساب کرتاہے تو الله نے فرمایا ان اکرمکم عندالله اتقاکم اورایك قراءت ان فتح ہمزہ کے ساتھ ہے گویا کہ کہا گیا ہے کہ نسبت پر فخر کیوں نہ کیا جائےتو بتایا گیا کہ اس وجہ سے کہ تم میں سب سے زیادہ عزت والا الله کے نزدیك وہ جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے نہ وہ جو سب سے بڑے نسب والا ہوالخ
#772 · الزلال النقی
النسفی فی المدارک ۔
واقول ثانیا القران انما نزل لبیان الاحکام التی لا یطلع علیہا الا اطلاع الله سبحنہ وتعالی کالنجاۃ و الھلاك والکرامۃ والھوان والردوالقبول والغضب و الرضوان لالبیان الامورالحسیۃ وکون الرجل تقیا او فاجرا مما یدرك بالحس ففی جعل الاکرم موضوعا کقلب الموضوع ولقد کان ھذا الوجہ من اول ماسبق الیہ فکری حین استماع الشبہۃ ثم فی اثناء تحریر الرسالۃ لما راجعت مفاتیح الغیب رأیت الفاضل المدقق تنبہ للشبہۃ ودندن فی الجواب حول ما او مانا الیہ حیث یقول"فان قیل الایۃ دلت علی ان کل من کان اکرم کان اتقی"وذلك لایقتضی ان کل من کان اتقی کان اکرمقلنا وصف کون الانسان اتقی معلوم مشاھد اوراسی طرح امام نسفی نے مدارك میں فرمایا۔
اقول ثانیا: قران تو ان احکام کے بیان کے لئے نازل ہوا ہے جن کا علم الله سبحنہ وتعالی کے اطلاع کئے بغیر نہیں ہوسکتا جیسے کہ نجات وہلاکتعزت وذلت اورمردودومقبول ہونا اور غضب ورضائے الہییہ محسوسات کے بیان کے لئے نہیں اترا اورادمی کا پرہیزگاریامددگار ہونا ان باتوں سے ہے جن کاعلم احساس سے ہوتاہے تو اکرم کوموضوع بنانا قلب موضوع ہے اور بیشك یہ وجہ ان باتوں سے ہے جن کی طر ف میری فکر نے شبہ کو سن کر سبقت کیپھر اس رسالہ کی تصنیف کے دوران جب میں نے تفسیر"مفاتیح الغیب "دیکھی تو میں نے فاضل مدقق کو دیکھا کہ وہ اس شبہ کی طرف متنبہ ہوئے اور جواب میں جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا اس کے گرد مبہم کلام فرمایا اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں پھر اگر کہا جائے کہ یہ ایت تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو اکرم(بڑا عزت والا)ہوگااتقی(بڑا پرہیزگار)ہوگااوریہ اس بات کا مقتضی نہیں کہ ہر وہ شخص جو اتقی(بڑا پرہیزگار)ہو وہ اکرم (بڑاعزت دار)ہو۔ہم کہیں گے کہ انسان کا اتقی ہونا وصف معلوم ومحسوس ہے
#773 · الزلال النقی
ووصف کونہ افضل غیر معلوم ولامشاھد والاخبار عن المعلوم بغیر المعلوم ھوالطریق الحسناما عکسہ فغیر مفیدفتقدیر الایۃ کانہ وقعت الشبھۃ فی ان الاکرم عندالله من ھو فقیل ھو الاتقی واذا کان کذلك کان التقدیراتقکم اکرمکم عند الله انتہی۔

قلت ولعلك لایخفی علیك مابین التقدیرین من الفرق وما بین ھذا الوجہ و وجوھنا الباقیۃ من التفاوت العظیم"" ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء و لحمد لله رب العلمین۔

ثم اقول عسی ان یزعجك الوھم الصؤل فیلجئك ان تقوم تقول الیس التقوی من افعال القلوبقال الله سبحنہ و اورانسان کا افضل ہونا نہ وصف معلوم ہے اورنہ محسوس۔ اور معلوم کے بارے میں وصف غیر معلوم کے ذریعہ خبردینا یہی بہتر طریقہ ہے۔رہا اس کا عکستووہ مفید نہیں۔تو ایت میں عبارت مقدر ہےگویا کہ اس بارے میں شبہ ہوا کہ الله کے نزدیك اکرم کون ہےتو فرمایا گیا کہ اکرم اتقی ہے اور جب بات یوں ہے تو ایت کی تقدیر یوں ہوگی اتقکم اکرمکم عنداللہ(تم میں سب سے زیادہ پرہیزگارالله کے نزدیك تم سب میں عزت والا ہے)
قلت(میں کہتاہوں)اورشاید تم پرپوشیدہ نہ ہو وہ فرق جو دونوں تقدیروں میں ہے اوروہ عظیم تفاوت جو اس وجہ میں اورہماری باقی وجوہ میں ہے یہ الله کے فضل میں ہے جسے چاہتاہے دے دیتاہے۔اورسب تعریفیں الله کے لئے جو رب ہے جہان والوں کا۔
ثم اقول(پھر میں کہتاہوں)قریب ہے کہ تمہیں وہم بے چین کرے پھر تمہیں مجبور کرے کہ تم کھڑے ہوکر یہ کہو کہ کیاتقوی افعال القلوب سے نہیںالله سبحانہ وتعالی کا ارشاد
#774 · الزلال النقی
تعالی" اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی" وقال تعالی " و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾"" وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم"التقوی ھھنا التقوی ھھناالتقوی ھھنایشیرالی صدرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔"اخرجہ مسلم وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وعنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم "لکل شیئ معدن ومعدن التقوی قلوب العارفین" اخرجہ الطبرانی عن ابن عمروالبیہقی عن الفاروق اکبر رضی الله تعالی عنہمافکیف قلتم انھا من المحسوسات۔
قلت بلی ان التقوی مقامہا القلب وعن ھذا قلنا ان الصدیق لما کان اتقی الامۃ باسرھا وجب ان یکون اعرفھابالله تعالی ہے:"یہ ہیں جن کا دل الله نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے۔"اورالله تعالی فرماتاہے:"اورجو الله کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔"اورنبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:"تقوی یہاں ہےتقوی یہاں ہےتقوی یہاں ہے۔حضورصلی الله تعالی علیہ وسلم اپنے سینہ مبارك کی طرف اشارہ فرماتے تھے۔"اس حدیث کو مسلم وغیرہ نے ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیااورحضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے:"ہر شے کے لئے کان ہے اور تقوی کی کان اولیاء کے دل ہیں۔"اس حدیث کو طبرانی نے ابن عمر سے اوربیہقی نے فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیاتوآپ نے کیسے کہہ دیا کہ تقوی محسوسات سے ہے۔
قلت(میں جواب میں کہتاہوں)ہاں بے شك تقوی کا مقام قلب ہے اوراسی وجہ سے ہم نے کہا کہ بے شك جب صدیق تمام امت سے زیادہ پرہیزگار ہوئے تو ضروری ہوا کہ وہ سب سے زیادہ الله کو جاننے والے ہوں
#775 · الزلال النقی
لکن القلب امیر الجوارح فاذ ااستولی علیہ سلطان شیئ اذعنت لہ الجوارح طرا ولعمت علیہا اثارہ جہرا وھذا مشاھد فی الحیاء والحزن والفرح و الغضب وغیرذلك من صفات القلب قال المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم "الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب"اخرجہ الشیخان عن نعمان ابن بشیر رضی الله تعالی عنہوقال صلی الله تعالی علیہ و سلم"اذا رایتم الرجل یعتاد المسجد فاشہدوالہ بالایمان"اخرجہ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیہقی عن ابی سعید لیکن قلب اعضاء کا امیر ہےتو جب قلب پر کسی شے کا سلطان غالب ہوتاہے تو تمام اعضاء اس کے تابع ہوجاتے ہیں اور اعضاء پراس کے اثارصاف جھلکتے ہیں اورحیاء وغمخوشی وغضب وغیرہ صفات قلب میں اس کا مشاہدہ ہوتاہے مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"خبردار! بیشك جسم میں گوشت کا ایك لوتھڑا ہے جب وہ سدھرتاہے پوراجسم سدھر جاتاہے اورجب وہ بگڑتا ہے تو پوراجسم بگڑجاتا ہےسنتے ہو وہ قلب ہے۔"اس حدیث کو بخاری ومسلم نے نعمان ابن بشیررضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا اورحضورصلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم ادمی کو مسجد میں انے جانے کا عادی پاؤتواس کے مومن ہونے کی گواہی دو۔"اس حدیث کو امام احمدترمذینسائیابن ماجہابن خزیمہابن حبان حاکم وبیہقی نے ابو سعید
#776 · الزلال النقی
الخدری رضی الله تعالی عنہ۔
اقول ثالثا کل ماذکر فی شان النزول فانما یستقیم و یطابق التنزیل اذا کان الموضوع ھو الاتقی۔اما اذا عکس فلایتاتی ولایاتی الرمی علی المرمیاما روایۃ یزید بن شجرۃ فطریق الاستدلال فیہا انکم استحقرتم ھذا العبدلانہ عبداسود فقلتم عاد ذلیلاوحضرجنازۃ ذلیل لکنہ عندناکریم جلیل اذ کان متقیا والفضل عندنا بالتقوی فمن کان تقیا کان کریما عندنا وان کان عبدا اسود اجدع۔وھذا الطریق ھو المفہوم من الایۃ عند کل من لہ ذوق سلیماما علی ما زعمتم فیکون حاصل استدلال الله سبحنہ و تعالی انہ کان کریما وکل کریم متق فلذا اعادہ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم وحضر دفنہوھذاالطریق کما تری اذا کان ینبغی الاستدلال الاستدلال بامر مسلم عندھم یستلزم مالم یسلموہ کالتقوی علی تقریرنا۔ خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اقول ثالثا: جو کچھ ایت کریم کے شان نزول میں مسطور ہوا وہ تو اسی وقت راس اتا ہے اورتنزیل کے مطابق ہوتا ہے جب ایت کریمہ میں اتقی ہی موضوع ہو۔رہی وہ صورت جب اس کا عکس کردیں تو بات نہیں بنتیہر تیر نشانے پر نہیں بیٹھتا۔ رہی یزید ابن شجرہ کی روایت تو اس میں استدلال کا طریقہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم نے غلام کو حقیر جانا اس لئے کہ سیاہ فام غلام ہے تو تم نے اعتراض کیا کہ ذلیل کی عیادت کی ذلیل کے جنازہ میں حاضر ہوئےلیکن وہ غلام ہمارے نزدیك باعزت جلیل القدر ہے اس لئے کہ وہ متقی تھا اورہمارے یہاں بزرگی تقوی سے ہے تو جو متقی ہوگا ہماری بارگاہ میں عزت والا ہوگا اگرچہ کالانکٹاغلام ہو۔اورآیت سے ہر ذوق سلیم والے سے یہی طریق استدلال مفہوم ہوتا ہےاور تمہارے زعم پر الله تبارك وتعالی کے استدلال کا حاصل یوں ہوگا کہ وہ بے شك عزت والا تھااورہر عزت والا متقی ہے اسی لئے تو ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کی عیادت کی اوراس کے دفن میں شریك ہوئے۔اوریہ طریق استدلال جیسا ہے تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ دلیل لانا ایسے امر سے چاہئے تھا جو کفار کو مسلم ہوا اورجو اس کو مستلزم ہو جس کو وہ تسلیم نہیں کرتے جیسے تقوی ہماری تقریرپر۔
#777 · الزلال النقی
واما الکرامۃ فلم تکن ثابتۃ عندھم والالما قالو ما قالواعلی ان المقدمۃ المذکورۃ فی الایۃ تبقی ح عبثا والعیاذبالله تعالی فان الرد علیھم تم بالمطویۃ القائلۃ انہ رجل کریم عندالله تعالی وبعد ذلك ای حاجۃ الی ان یقال کل کریم متقاذلم یکن نزاعھم فی التقوی بل فی الکرم۔وبالجملۃ یلزم اخذالمدعی صغری واستنتاج مالیس بمدعی وھکذا یجری الکلام فی روایۃ مقاتل واستحقارقریش سیدنا عتیق العتیق اعتقنا الله بھما من عذاب الحریق امین۔




ولنقرر بعبارۃ اخری قال "کل جدید لذیذ"کان طریق استدلالھم علی حقارتہ رضی الله تعالی عنہ بانہ عبد ولاشیئ من العبدکریمافہو لیس بکریم و الایۃ نزل فی الردعلیھم فلابدمن نقض احدی المقدمتین من قیاسہم لکن الصغری لامردلہا فتعین ان الایۃ انما تبطل الکبری باثبات رہی عزت(اس سیاہ فام غلام کی)کافروں کے نزدیك ثابت ہی نہ تھی ورنہ یہ کافر وہ کچھ نہ کہتے جو انہوں نے کیا۔علاوہ ازیں وہ مقدمہ جو اس ایت میں ذکر ہوا اس تقدیر پر عبث ٹھہرے گا والعیاذ باللہاس لئے کہ کفار پررد تواس قضیہ مطوعیہ (پوشیدہ)سے تام ہولیا جس میں یہ دعوی ہے کہ وہ غلامالله کے نزدیك باعزت ہے۔اس کے بعد کون سی حاجت ہے کہ کہاجائے کہ ہر کریممتقی ہے ا س لئے کہ کافروں کا نزاع تقوی میں نہ تھا بلکہ کرامت میں تھا۔بالجملہ اس تقدیرپرلازم اتاہے کہ مدعا صغری ہو اورنتیجہ وہ نکلے جو مدعا نہیں اوریونہی کلام روایت مقاتل میں اورقریش کی جانب سے سیدنا عتیق العتیق (حضرت ابوبکررضی الله تعالی عنہ کے غلام حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ)کی تحقیرمیں جاری ہوگا۔الله تبارك وتعالی ہمیں ان دونوں کے صدقے میں جہنم کے عذاب سے ازاد فرمائے امین۔
اورہم بلفظ دیگر تقریر کریں اس لئے کہ "کل جدید لذیذ" کفار کا طریق استدلال حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ کی حقارت پر بایں طور تھاکہ وہ غلام ہیں اورکوئی غلام عزت والا نہیں ہوتاتو عزت والے نہیںاوریہ ایت کفارکے رد میں اتری لہذا ان کے قیاس میں دومقدموں میں سے ایك کا نقض ضروری ہے لیکن صغری کا رد نہیں ہوسکتا۔اب متعین ہوا کہ ایت کبری کا ہی ابطال کرتی ہے اس کی نقیض
#778 · الزلال النقی
نقیضہاوھو ان بعض العبیدکریم ولا یمکن اثباتہ الا علی طریقتنا بان نقول بعض العبید یتقی الله تعالی ومن یتقی الله تعالی فھو کریماما علی طریقتکم فی اصل المقدمتین ان بعض العبید متق وکل کریم متق وھذا ھو القیاس الذی انتم دفعتموہ وھکذا یتمشی التقریرفی روایۃ ابن عباس رضی الله تعالی عنہما بکلا الوجہین۔
ولنقررہ بعبارۃ ثالثۃ استحقر ثابت بن قیس رضی الله تعالی عنہ بعض اھل المجلس بقولہ یاابن فلانۃ ای یادنی النسب فردالله سبحنہ وتعالی علیہ بانك ان زعمت ان بعض الادانی فی النسب لایکون کریما فقولك ھذا صادق لکن علام استحقرت ھذا بخصوصہ اذیجوز ان لایکون ھذا من ذلك البعض وان اردت السلب الکلی فباطل قطعااذلوصدق لصدق ان بعض المتقین لیس کریما لان بعضہم دنی النسب فلم یکن کریماعندك لکن التالی باطل کے اثبات کے ذریعہ اورکفار کے کبری کی نقیض یہ ہے کہ بعض غلام باعزت ہیں اور اس کا ثابت کرنا ممکن نہیں مگر ہمارے طریقے پر بایں طور کہ ہم کہیں بعض غلامالله تبارك وتعالی سے ڈرتے ہیں اورجو الله سے ڈرتاہے وہی عزت والاہے۔رہا اصل مقدمتین میں تمہارے طریقے پر یہ قیاس کہ بعض غلام متقی ہیں اورہر عزت والا متقی ہے تو یہ وہی قیاس ہے جس کو تم دفع کرچکے۔اور یونہی حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کی روایت میں دونوں وجوہ کے ساتھ یہ تقریر چلے گی۔
اورہم تقریرمدعا تیسری عبارت سے کریں حضرت ثابت ابن قیس رضی الله تعالی عنہ نے بعض اہل مجلس کی تحقیرانہیں "یا ابن فلانہ" (اے فلانی کے بیٹے)کہہ کر کی یعنی اے نسب میں کمترتو الله تبارك وتعالی نے ان کا رد یوں فرمایاکہ تمہارا گمان یہ ہے کہ کچھ کمتر نسب والے شریف نہیں ہوتے تو تمہاری یہ بات سچی ہے لیکن تم نے خاص اس شخص کو کس بنیاد پر حقیر جانا اس لئے کہ ممکن ہے کہ یہ ان بعض میں سے نہ ہو اوراگرتمہاری مراد سلب کلی ہے تو یہ قطعاباطل ہے اس لئے
#779 · الزلال النقی
لصدق نقیضہ وھو ان کل متق کریم فالمقدم مثلہھذا علی طریقتنا اما علی طریقتکم فالمقدمۃ الا ستثنائیۃ ان کل کریم متق وھو لایرفع اللازم فلا یرفع الملزوم اتقن ھذا فان الفیض مدرار۔ والحمدللہ۔



اقول رابعا الاحادیث التی جات تفسیرا الایۃ اوترد موردمشرعہا اوتلحظ ملحظ منزعہا انما تعطی ما ذکرنا من المفاد وتابی عما بغیتم من الافساد و منھا ماانبانا المولی السراج عن الجمال عن عبدالله السراج ح وعالیابدرجۃ عن ابیہ عبدالله السراج عن محمد بن ھاشم ح ومساویاللعالی عن الجمال عن السندی ح وشافعھنی عالیا بدرجتین کہ اگر یہ صادق ہو تو یقینایہ صادق ہوگا کہ بعض متقی شریف نہیں اس لئے کہ ان میں کے بعض نسب میں کمتر ہیں تو تمہارے نزدیك شریف نہ ہوں گے لیکن تالی باطل ہے اس لئے کہ اس کی نقیض صادق ہے اوروہ یہ کہ ہر متقی کریم ہے تو مقدم بھی اس کی طرح باطل ہے یہ ہمارے طریقے پر ہے لیکن تمہارے طریقے پر تو مقدمہ استثنائیہ عــــــہ یہ ہے کہ ہر شریف متقی ہے اور یہ لازم کو مرتفع نہیں کرتا تو ملزوم کو بھی مرتفع نہ کرے گا۔اس تقریر کو خوف ضبط کرلو اس لئے کہ فیض(کادریا)زوروں پر ہےاورتمام خوبیاں الله ہی کی ہیں۔
اقول رابعا وہ احادیث جو اس ایت کی تفسیر کرتی ہے یا اس کے گھاٹ کے راستے پر چلیں یا اس جگہ اشارہ کرتی ہیں جہاں سے اس کا تیر کھینچا وہ تو وہی مفاد دیتی ہیں جو ہم نے ذکر کیا اوراس فساد انگیزی سے انکار کرتی ہیں جو تم نے چاہا منجملہ ان حدیثوں کے یہ ہے کہ جس کی خبر ہمیں مولی سراج نے دی وہ روایت کرتے ہیں جمال سے وہ روایت کرتے ہیں عبدالله سراج سے(ح)نیز ہم نے سراج سے یہ حدیث ایك درجہ عالی سند سے روایت کی وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ عبد الله سراج سے وہ روایت کرتے ہیں محمد بن ہاشم سے(تحویل) نیز اس سند سے اس روایت کی جو سند عالی کے
#780 · الزلال النقی
لصدق نقیضہ وھو ان کل متق کریم فالمقدم مثلہھذا علی طریقتنا اما علی طریقتکم فالمقدمۃ الا ستثنائیۃ ان کل کریم متق وھو لایرفع اللازم فلا یرفع الملزوم اتقن ھذا فان الفیض مدرار۔ والحمدللہ۔



اقول رابعا الاحادیث التی جات تفسیرا الایۃ اوترد موردمشرعہا اوتلحظ ملحظ منزعہا انما تعطی ما ذکرنا من المفاد وتابی عما بغیتم من الافساد و منھا ماانبانا المولی السراج عن الجمال عن عبدالله السراج ح وعالیابدرجۃ عن ابیہ عبدالله السراج عن محمد بن ھاشم ح ومساویاللعالی عن الجمال عن السندی ح وشافعھنی عالیا بدرجتین کہ اگر یہ صادق ہو تو یقینایہ صادق ہوگا کہ بعض متقی شریف نہیں اس لئے کہ ان میں کے بعض نسب میں کمتر ہیں تو تمہارے نزدیك شریف نہ ہوں گے لیکن تالی باطل ہے اس لئے کہ اس کی نقیض صادق ہے اوروہ یہ کہ ہر متقی کریم ہے تو مقدم بھی اس کی طرح باطل ہے یہ ہمارے طریقے پر ہے لیکن تمہارے طریقے پر تو مقدمہ استثنائیہ عــــــہ یہ ہے کہ ہر شریف متقی ہے اور یہ لازم کو مرتفع نہیں کرتا تو ملزوم کو بھی مرتفع نہ کرے گا۔اس تقریر کو خوف ضبط کرلو اس لئے کہ فیض(کادریا)زوروں پر ہےاورتمام خوبیاں الله ہی کی ہیں۔
اقول رابعا وہ احادیث جو اس ایت کی تفسیر کرتی ہے یا اس کے گھاٹ کے راستے پر چلیں یا اس جگہ اشارہ کرتی ہیں جہاں سے اس کا تیر کھینچا وہ تو وہی مفاد دیتی ہیں جو ہم نے ذکر کیا اوراس فساد انگیزی سے انکار کرتی ہیں جو تم نے چاہا منجملہ ان حدیثوں کے یہ ہے کہ جس کی خبر ہمیں مولی سراج نے دی وہ روایت کرتے ہیں جمال سے وہ روایت کرتے ہیں عبدالله سراج سے(ح)نیز ہم نے سراج سے یہ حدیث ایك درجہ عالی سند سے روایت کی وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ عبد الله سراج سے وہ روایت کرتے ہیں محمد بن ہاشم سے(تحویل) نیز اس سند سے اس روایت کی جو سند عالی کے

عــــــہ:مقدمہ استثنائیہ کو قیاس استثنائی بھی کہا جاتاہےاورقیاس استثنائی وہ ہے جس میں نتیجہ یا اس کی نقیض بالفعل مذکورہو جیسے ہمارا یہ کہنا کہ "یہ اگر جسم ہے تو متحیز ہے"لیکن وہ جسم ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ متحیز ہے اوریہی بعینہ قیاس یعنی مقدمہ میں مذکورہے اور نقیض کی مثال یہ کہ وہ متحیز نہیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ جسم نہیں اوراس کی نقیض کہ وہ جسم ہے مقدمہ میں مذکور ہے۔(تعریفات جرجانی ص ۱۵۹)
#781 · الزلال النقی
سیدی جمل اللیل عن السندی کلاھما عن صالح العمری باسانیدہ الامامین الجلیلین بسندھما الی سیدنا ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ای الناس اکرمفقال اکرمھم عند الله اتقیھم ۔




اقول: انظرالی اثاررحمۃ الله کیف یوضح المحجۃ ولا یدع لاحد حجۃ انما سئل المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم بان ای الناس اکرم ای من الموصوف بہ لا ان الاکرم ماھو بای نعت یزھو فاجاب الایۃ الکریمۃ فلو لا ان الاتقی ھو الموضوع لما طابق الجواب مساوی ہے انہوں نے روایت کی جمالی سے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے اور میرے اوپر دو درجہ عالی سند سے اس حدیث کو مجھ سے روایت کیا سید ی جمل اللیل نے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے دونوں نے روایت کی صالح عمری سے ان امامین جلیلین(بخاری ومسلم)کی اسانید کے ساتھ ان دونوں اماموں نے سیدنا ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے سوال ہوا: لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا کون ہے تو اپ نے فرمایا الله کے نزدیك سب لوگوں سے بڑھ کر عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)الله تبارك وتعالی کی رحمت کے اثار دیکھو راستہ کو کس طرح واضح کرتاہے یہ کسی کے لئے حجت نہیں چھوڑتامصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے تویوں سوال ہوا تھا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ عزت والا ہے یعنی اس وصف سے کون موصوف ہے یہ سوال نہ ہوا تھا کہ "اکرم کی ماہیت کیاہے۔"اکرم"(سب سے زیادہ عزت والا)اورکون سے وصف پر ناز کرتاہےتو سرکارنے
#782 · الزلال النقی
السوال وعلیك بتزکیۃ الخیال ومن تمام نعمۃ الله تعالی ان فسرالشراح الحدیث بما یعین المراد ویقطع کل وھم یراد۔


قال العلامۃ المناوی"اکرم الناس اتقہم لان اصل الکرم کثرۃ الخیر"فلما کان المتقی کثیر الخیر فی الدنیا ولہ الدرجات العلی فی الاخرۃ کان اعم الناس کرما فھو اتقھم انتہی۔

انظر این ذھبت شبھتك الواھیۃ فہل تری لہا من باقیۃومنہا ماانبانا المولی عبد الرحمن عن الشریف محمد بن عبدالله کما مضی عن علی بن یحیی الزیادی عن الشہاب احمد بن محمدالرملی عن الامام ابی الخیر السخاوی عن ایۃ کریمہ سے جوا ب دیا تو اگر بات یہ نہ ہوتی کہ اتقی(سب سے بڑا پرہیزگار)ہی موضوع ہے تو جواب سوال کے مطابق نہ ہوتا اس پر خیال کا تزکیہ ہےاورالله تبارك وتعالی کی نعمت کی تمامی سے یہ ہے کہ حدیث کے شارحین نے اس کی تفسیراس جملہ سے کردی جو مرادکو متعین کردیتا ہے اوروہم کا قاطع ہے۔
اس میں علامہ مناوی کا ارشاد ہے:اکرم الناس اتقاھم (سب لوگوں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے)اس لئے کہ کرم اصل میں کثرت خیرہے توجب متقی دنیا میں خیر کثیر والا ہے اوراخرت میں اس کے درجے بلند ہوں گےتوسب سے زیادہ کرم والا وہی ہے جوسب سے زیادہ تقوی والاانتہی۔
دیکھوتمہارا واہی شبہہ کہاں گیااب اس کا کچھ نشان دیکھتے ہو۔ اوراز انجملہ وہ حدیث ہے جس کی ہمیں خبر دی مولی عبد الرحمن نےانہوں نے روایت کی سید محمد بن عبدالله سے جیسا کہ گزرااوروہ روایت کرتے ہیں علی بن یحیی زیادی سےوہ روایت کرتے ہیں شہاب احمد بن محمد رملی سےوہ روایت کرتے ہیں امام ابوالخیر سخاوی سےوہ روایت کرتے ہیں
#783 · الزلال النقی
العزعبدالرحیم بن فرات عن الصلاح بن ابی عمر عن الفخربن البخاری عن فضل الله ابی سعید التوقانی عن الامام محی السنۃ البغوی انا ابوبکر بن ابی الہیثم انا عبدالله بن احمد بن حمویۃ انا ابراھیم بن خزیم ثناعبدالله بن حمید انا الضحاك بن مخلد عن موسی بن عبیدۃ عن عبد الله بن دینار عن ابن اعمر ان النبی صلی الله علیہ وسلم طاف یوم الفتح علی راحلتہ یستلم الا رکان بمحجتہ فلما خرج لم یجد مناخا فنزل علی ایدی الرجال ثم قام فخطبھم فحمدالله واثنی علیہوقال الحمدلله الذی اذھب عنکم غبیۃ الجاھلیۃ وتکبرھابابائھاانما الناس رجلان بر تقی کریم علی الله وفاجر شقی ھین علی الله ثم تلا "یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی "ثم قال اقول قولی ھذا واستغفرالله عز عبدالرحیم بن فرات سےوہ روایت کرتے ہیں صلاح بن ابی عمر سےوہ روایت کرتے ہیں فخر ابن بخاری سےوہ روایت کرتے ہیں فضل الله ابو سعید توقانی سےوہ روایت کرتے ہیں امام ابی السنۃ بغوی سےوہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر ابن ابی ہیثم نے عبدالله ابن احمد ابن حمویہ سےوہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ابراہیم ابن خزیم نےہم سے حدیث بیان کی عبدالله ابن حمید نےہمیں خبر دی ضحاك ابن مخلدنےوہ روایت کرتے ہیں اس کو موسی ابن عبیدہ سےوہ روایت کرتے ہیں عبدالله بن دینار سےوہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ ولسم نے فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر طواف کیاارکان کعبہ کا بوسہ اپنے عصائے مبارك سے لیتے تھےتو جب باہر تشریف لائے تو سواری کو ٹھہرانے کی جگہ نہ پائی تو لوگوں میں سواری سے اتر گئے پھرکھڑے ہوکر خطبہ دیا اور الله تبارك وتعالی کی حمد وثناء کی اورفرمایا:الله کے لئے حمد جس نے تم سے جاہلیت کا گھمنڈ اوراباو اجدادکا غرور دورکیا۔لوگوں میں دو قسم کے مرد ہیں ایك نیك متقی الله کے یہاں عزت والادوسرا بدکاربدبخت الله کی بارگاہ میں ذلیلپھر یہ ایت پڑھی:"اے لوگو! ہم نے تم کو ایك مرد اورایك عورت سے پیداکیا"پھر فرمایا:"میں یہ بات کہتاہوں اورالله سے اپنے
#784 · الزلال النقی
لی ولکم ۔
اقول: انظر کیف قسم المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم الخلق الی قسمین برتقی ووصفھم بالکرم وفاجر شقی ووصفھم بالہوان وھذا صریح فیما قلنا۔
ومنہا مااخرج ابن النجار والرافعی عن ابن عمر عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من دعائہ:"اللھم اغننی بالعلم وزینی بالحلم واکرمنی بالتقوی وجملنی بالعافیۃ۔" قال المناوی اکرمنی بالتقوی لاکون من اکرم الناس علیك ان اکرمکم عندالله اتقکم اھ۔


اقول: والوجہ حذف لئے اورتمہارے لئے مغفرت چاہتاہوں۔"
اقول: دیکھو مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مخلوق کو دو قسم کیاایك نیکپرہیزگاراوران کو عزت سے موصوف کیا۔اوردوسرے بدکاربدبختاورانہیں ذلیل بتایا۔اوریہ ہمارے دعوی کی صریح دلیل ہے۔ان احادیث میں سے ایك وہ ہے جس کی تخریج ابن نجار اوررافعی نے کی سیدنا حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہما سےنبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی دعا کے یہ کلمات مروی ہے ہیں:"اے الله !مجھ علم کے ساتھ غناحلم کے ساتھ زینتتقوی کے ساتھ اکرام اورعافیت کے ساتھ جمال عطا فرما۔"مناوی نے(دعا کا مطلب بیان کرتے ہوئے) کہا: "مجھے تقوی کے ساتھ اکرام عطافرما تاکہ میں تیرے یہاں سب سے زیادہ عزت پانے والے لوگوں میں سے ہوجاؤں(بیشك الله کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے)اھ
میں کہتاہوں صحیح یہ ہے کہ لفظ من
#785 · الزلال النقی
من وکانہ اراد ماترید الامۃ عند الدعاء بہ تاسیا بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ومنہا ما اورد الزمخشری فی الکشاف ثم الامام النسفی فی المدارك عن النبی صلی الله تعالی علیہ و سلم من سرہ ان یکون اکرم الناس فلیتق الله اھ۔ وھذا ابین واجلی۔

واقول خامسا: العلماء مافھموا من الایۃ الا مدح المتقین ولم یزالوا محتجین بہا علی فضیلۃ التقوی واھلہا فلو کان الامرکمازعمتم لا ندحض ھذہ التمسکات بحذ افیرھااذ لما کان المعنی ان کل کریم متق وھو لایستلزم ان کل متق کریم فای مدح فیہ للمتقین وبم ذا یفضلون علی الباقینالاتری ان کل کریم انسان وحیوان وجسمان کو حذف کیا جائے۔گویا اس کی مراد وہ ہے جس کا ارادہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی پیروی میں دعا کرتے ہوئے امت کرتی ہے۔
من جملہ ان حدیثوں میں سے یہ حدیث ہے جسے زمخشری نے کشاف میں پھر امام نسفی نے مدارك میں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ذکر کیا فرمایا:جس کی یہ خوشی ہوکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والاہو تو الله تعالی سے ڈرے۔ اوریہ ظاہرترہے۔
اقول خامسا: علماء نے اس ایت سے متقی لوگوں کی تعریف ہی سمجھی اوراس ایت سے تقوی اوراہل تقوی کی فضیلت پردلیل لاتے رہےتو اگر معاملہ یوں ہوتاجیسا کہ تمہارا گمان ہے تو یہ تمام استدلال سرے سے باطل ہوجاتے اس لئے کہ جب معنی یہ ٹھہرے کہ ہر کریم متقی ہے اوریہ اس کومستلزم نہیں کہ ہر متقی کریم ہوتو اس میں پرہیزگاروں کے لئے کون سی تعریف ہے اورپرہیزگاردوسروں سےکس وصف سے برترہوں گے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر کریم انسانحیوان
#786 · الزلال النقی
ولا یکون بھذا کل فرد من ھؤلاء محمودا فی الدین۔

فان قلت ان التقوی وصف خاص بالکرماء فلھذا استحق الثناء بخلاف ما ذکرتم من الاوصاف۔
قلت الان اتیت الی ابیت فان التقوی اذا اختص بھم ولم یوجد فی غیر ھم وجب ان یکون کل متق کریما وفیہ المقصود قال المولی الفاضل الناصح محمد افندی الرومی البرکلی فی الطریقۃ المحمدیۃ بعد ماسرد الایات فی فضیلۃ التقوی فتأمل فیما کتبنا من الایات الکریمۃ کیف کان المتقی عندالله تعالی اکرم انتہی۔

قال المولی الشارح العارف بالله سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرحھا الحدیقۃ الندیۃ اشارۃ الی الایۃ الاولی من قولہ تعالی "ان اکرمکم عندالله اتقکم" انتہی۔
واقول سادسا: الی یا موفق تحقیق بالقبول احق اخرج اورجسم ہے اوراس کے ساتھ ان تینوں میں سے ہر فرد محمود نہیں ہوتا۔
فان قلت(تواگر تم کہو کہ)بے شك تقوی کریموں کے ساتھ خاص ہے لہذا یہ وصف تعریف کا مستحق ہے بخلاف ان اوصاف کےجو اپ نے ذکر کئے۔
قلت(میں کہوں گا)اب تم اسی بات پر اگئے جس کا تم نے انکار کیا تھا اس لئے کہ تقوی جب کریموں کے ساتھ خاص ہے دوسروں میں نہیں پایاجاتا تو ضروری ہے کہ ہر متقی کریم ہو اوریہی ہمارامقصود ہے۔مولی فاضل ناصح محمد افندی رومی برکلی طریقہ محمدیہ میں تقوی کی فضیلت میں ایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں تو ان ایات کریمہ میں غور کرو جو ہم نے لکھیں کیونکہ متقی الله کی بارگاہ میں سب سے زیادہ کریم ٹھہرا۔
کتاب مذکورکے شارح مولا عارف بالله سیدی عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں مصنف کا اشارہ پہلی ایت یعنی الله تعالی کے قول "ان اکرمکم عندالله اتقاکم" کی طرف ہے۔
واقول سادسا: اے توفیق والے میری طرف ایہ ایك تحقیق ہے جو قبو ل کی
#787 · الزلال النقی
الامام احمد والحاکم والبیہقی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کرم المرء دینہ ومروتہ عقلہ وحسبہ خلقہ واخرج ابن ابی الدنیا فی کتاب الیقین عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا ینمیہ الی المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم"الکرم التقوی و الشرف التواضع واخرج الترمذی محمد بن علی الحکیم عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما یرفعہ الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم "الحیاء زینۃ والتقی کرم" انظر الی الاحادیث ما اجلاھا و افصحہا واحلہا واملحا انظر الی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مروتہ سزاوار ہےامام احمدحاکم اوربیہقی نےحضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے حدیث روایت کی انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا:" ادمی کی عزت اس کا دین ہے اوراس کی مروت اس کی عقل ہے اوراس کا خلق۔"اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الیقین میں یحیی بن ابی کثیر سے بسند مرسل روایت کیادرانحالیکہ اس حدیث کی نسبت نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے کہ فرمایا: "کرم تقوی ہے اورشرف تواضع ہے۔"اورترمذی محمد ابن علی الحکیم نے جابر ابن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا درانحالیکہ اس کو نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف مرفوع کرتے تھے کہ فرمایا:"حیاء زینت ہے اور تقوی کرم ہے۔"
احادیث کو دیکھو کس قدر روشن اورکتنی فصیح ہیں اورکیسی شیریں اورکیسی ملیح ہیں۔نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ قول کہ ادمی کی مروت اس
#788 · الزلال النقی
عقلہ فانما وصف العقل بالمروۃ لاالمروۃ بالعقل و کذا قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم "حسبہ خلقہ و الشرف التواضع"فانما حکم علی الخلق بانہ الحسب وعلی التواضع بانہ الشرف حسما لما یدعیہ المدعون من ان المال ھو الشرفولذا ان قال قائل ان الحسب خلق والمروۃ عقل والشرف تواضع لم یقبل قولہ منہوان عکس قبل فھکذا فی الفقر تین اعنی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الکرم التقو ی وکرم المرء دینہ۔

وانا اعطیك ضابطۃ لہذا کلما رأیت فی امثال عــــــہ ھذا المقام اسمین معرفین باللام محمولا احدھما علی الاخرفان صح ان یحمل الاخرعلی الاول مجردا عن اللام فاعلم انہ یجوز ان یکون محمولافی تلك القضیۃ ایضاوالالانظیرہ قول الشاعر کی عقل ہے۔دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے عقل ہی کو مروت سے موصوف کیا اوراسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا قول"ادمی کا حسب اس کا خلق ہے اور شرف تواضع ہے " تو اس لئے کہ خلق پر حکم لگایا کہ وہ حسب ہے اورتواضع پر حکم فرمایا کہ وہی شرف ہے مدعیوں کے دعوے کو رد کرنے کے لئے کہ مال ہی شرف ہے اسی لئے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ بے شك حسب خلق ہے اورمروت عقل ہے اورشرف تواضع ہے تو ا س کاقول مقبول نہ ہوگا اوراگر اس کا عکس کردے تو قبول کیا جائے گا تو اسی طرح دونوں حدیثوں میں اپنے بعد فقروں سے ملے ہوئے فقروں میں یعنی حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا قول کرم تقوی ہے اورادمی کی عزت اس کا دین ہے(یعنی ان جملوں کا عکس مقبول نہ ہوگا۔)
اورمیں تم کو اس کے لئے ایك ضابطہ دیتاہوں جب کبھی تم ایسے مقامات میں دو اسم معرف باللام دیکھو کہ ان میں کا ایك دوسرے پر محمول ہوتاہے تو اگر دوسرے کا پہلے کے لئے محمول بننابغیر لام کے صحیح ہوتو جان لو کہ وہ اس قضیے میں بھی محمول ہوسکتاہے ورنہ نہیںاسکی نظیر شاعر کا شعر ہے:

عــــــہ:اشاربہ الی انك تقول الخ (المصنف)
#789 · الزلال النقی
بنونا بنو ابناءنا وبنو
بناتنا ابناء الرجال
فانك ان قلت احفادنا ابناء لنا صدقت وان قلت ابنائنااحفادلنا کذبت فکان بنونا ھو المحکوم بہ و السر فی ذلك ان المحمول یجوز تنکیرہ ابدا وافادۃ القصر علی تسلیمہ عــــــہ کلیاامر زائدعلی نفس الحکم و الموضوع لاینکر تنکیرا محضافلذلك لا یقال الکرم تقوی اوالکرم دین وانما تقول بالتعریف لان الاخر ھو الموضوع حقیقۃ لاجل ھذا ان عکست ونکرت صح اما رایت ان النبی صلی الله تعالی علیہ و سلم لما قدم التقوی فی حدیث الحکیم نکر الکرم و لما عکس فی الحدیث الاخر عرف التقوی اللھم لك الحمد علی تواترالائك ولا اخالك یاھذا مغمورافی غیابات الغباوت بحیث یعسرعلیك الانتباہ لما فی تلك الاحادیث "یعنی ہمارے بیٹے ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں اور ہماری بیٹیوں کے بیٹے اورمردوں کے بیٹے ہیں۔"اس لئے کہ اگر تم یوں کہو کہ ہمارے پوتے ہمارے بیٹے ہیں تو یہ صادق ہوگااوراگریوں کہو کہ ہمارے بیٹے ہمارے پوتے ہیں تو یہ کاذب ہوگا تو شعر میں"بنونا"ہی محکوم بہ ہے اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ محمول کو نکرہ لانا جائز ہے اورافادہ قصر اگر اس کو امر کلی تسلیم کرلیں نفس حکم پر ایك زائد بات ہےاورموضوع کبھی نکرہ محضہ نہیں لایا جاتا ہے تو اس لئے یوں نہ کہا جائے گا کہ الکرم تقوی یا الکرم دین یعنی جبکہ جملے کا جز ثانی مبتداٹھہرائیں تو اس کو نکرہ لانا جائز نہیں بلکہ تم یہ جملہ دوسرے جز کی تعریف کے ساتھ بولوگے اس لئے کہ حقیقت میں دوسراجز ہی موضوع ہے اسی وجہ سے اگر اس جملے کا عکس کر دو اورپہلے جز کو نکرہ کردو تو صحیح ہوگا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جب تقوی کو مقدم کیا حکیم ترمذی کی گزشتہ حدیث میں تو "کر م" کو نکرہ لائےاوردوسری حدیث میں جب اس کا عکس کیا تو"تقوی "کو معرفہ لائے۔الہی ! تیری پیہم نعمتوں پرتیرے لئے حمد اے شخص میں گمان نہیں کرتاکہ تو کم فہمی کی اندھیریوں

عــــــہ:اشارہ الی انہ مع اشتہارہ فی کثیرمن الناس الخ (المصنف)
#790 · الزلال النقی
التی جاءت مرۃ بتقدیم الکرم واخری بتصدیر التقوی من لمعات بوارق یکاد سناھا یختف ابصار الشبہات ولا سیما حدیث الترمذی مع ماتقررفی الاصول ان اللام ان لاعہد فللاستغراق بال الجنس ایضا مفید اذحکمہ لابدوان یسوی فیہ الافراد۔ والله تعالی اعلم۔

اقول:سابعا ان قیل لك اکرم الناس اتقاھم ثم من دونہ فی التقوی وھکذا یأتی ینزل تدریجا لاجرم ان تسلمہ وتقول ھذا لاریب فیہ لکنك لم تدران قد انصرفت عما اقترفت وقداعترفت بما انحرفت قل لی ماذا محصل قولك ان اکرم الناس یوصف اولا بانہ اتقی وثانیابانہ قلیل التقوی وثالثا بانہ اقل ھل ھذا الا کلام مجنون تفوہ بلفظ فی الجنون وما دری وما عقل وھذہ الشناعۃ میں ایسابھٹکا ہوکہ تیرے اوپر ان چمکتی تجلیوں سے تنبیہ ہونا دشوار ہو جن کی روشنی لگتا ہے کہ شبہات کی انکھوں کو اچك لے گی جو ان احادیث میں ہیں جن میں کبھی کرم کو مقدم فرمایا اورکبھی تقوی کو صدرکلام میں لائے بالخصوص حدیث ترمذی باوجود یکہ اصول میں مقرر ہوچکا کہ لام جبکہ عہد کے لئے نہ ہوتو استغراق کے لئے ہوگابلکہ جنس بھی مفید استغراق ہے اس لئے کہ ضروری ہے کہ جنس کے حکم میں سب افراد برابرہوں۔والله تعالی اعلم۔
اقول:سابعا اگر تم سے کہا جائے کہ سب لوگوں سے زیادہ باعزت سب سے زیادہ پرہیزگار ہے پھرجو تقوی میں اس سےکم ہے اور اسی طرح سے تدریجا کم سے کم تر کی طرف نازل ہولا محالہ تم اس کو تسلیم کرو گے اور کہو گے کہ اس میں کوئی شك نہیں۔لیکن تم نے نہیں سمجھا کہ تم اس سے پھر گئے۔جس کا تم نے ارتکاب کیا تھا۔اور انحراف کا اعتراف کرلیا مجھے بتاؤ تمہارے اس قول کا حاصل کیا ہے کہ اکرم الناس اولا اتقی سے موصوف ہوتا ہے(سب سے زیادہ پرہیزگار)اور ثانیا قلیل التقوی کے ساتھ اور ثالثا اس سے بھی اقل کے ساتھ (یعنی اس صورت میں جب کہ جز ثانی یعنی اتقی کو محمول مانیں کیا یہ ایسے مجنون کا کلام نہیں۔جو جنون میں لفظ
#791 · الزلال النقی
تکدرعلیك زعمك العجیب فی کل ما جاء علی الترتیب وھو کثیر فی الاحادیثقال صلی الله تعالی علیہ وسلم"احب الاعمال الی الله الصلوۃ لوقتھا ثم بر الوالدین ثم الجہاد فی سبیل الله "اخرجہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی و النسائی عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ فالمعنی علی زعمك ان احب الاعمال یوصف اولا بانہ صلوۃ ثم یمکث فیصیربرا ثم یلبث فیعود جہادا وھذا من اعجب ماسمع السامعون بولتا ہے اور سمجھتا ہے ورنہ اسے خبر ہوتیاور یہ شناعت تمہارے زعم عجیب میں ان تمام احادیث کو مکدر کردے گی جن میں ترتیب کے ساتھ اعمال کی فضیلت بیان ہوئی اور یہ مضمون احادیث میں بہت ہےنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا"الله کو سب کاموں سے زیادہ پیاری نماز ہے جو وقت پر پڑھی جائے۔پھر ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پھر الله کی راہ میں جہاد کرنا۔"اس حدیث کو روایت کیا احمد بخاریمسلمابوداؤدترمذی اور نسائی نے حضرت ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے تو تمہارے زعم پر معنی یہ ہوگا کہ سب سے زیادہ محبوب کام پہلے صلوۃ کے ساتھ موصوف ہوتا ہے پھر کچھ دیر ٹھہر کر حسن سلوك بن جاتا ہے پھر کچھ دیر ٹھہر کر جہاد ہوتا ہے اور یہ سب سے زیادہ عجیب باتوں میں سے ہے جو سننے والوں نے سنی۔
#792 · الزلال النقی
تذئیل ایاك وان تظن ان تقدیم الخبر فی امثال ھذا المقام قلیل فی فصیح الکلام حتی یعدتاویلا للمرام بل ھو شائع تکثربل ھو الاکثر الاوفرولو سرد نالك من الاحادیث الواردۃ علی ھذاالمنوال لنافت علی مئات ورمیتنی بالاملالثم منہا ما فی نفس الحدیث دلیل علی مانرید کتقدیم الصفات و تاخیر الذوات وغیر ذلك ومنہا ما شرح الشارحون بعکس الترتیب من دون حاجۃ الی ماھنالك فعلم انہ طریق شائعکثیرا مایجری الکلام علیہ وتتبادر الافھام الیہ بلا احتیاج الی صوارف ولا توقف علی موقف ولو لاانا علی حذرمن الاطناب لاریناك منہا العجب العجابلکن لا باس ان تذکر طرفا من احادیث اکثرھا من القسم الثانی لانھا اوضح فی المقصود وضوحا جمیلا و نقدم علیہا حدیثا ذکر فیہ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم مقدمتین فاستنتج منہما العلماء کمثل صنیعنا فی الایتین تذئیل خبرداریہ گمان نہ کرنا کہ ایسے مقامات میں خبر کو مقدم رکھنا کلام فصیح میں نادر ہے۔یہاں تك کہ مقصود کے لیے تاویل کرنا ٹھہرےبلکہ وہ بکثرت شائع ہے بلکہ یہی اکثر و اوفر ہے اور اگر ہم تم سے ان احادیث میں سے کچھ کا ذکر کریں جو اس طریقے پر وارد ہوئیں تو گنتی میں سینکڑوں سے زیادہ ہوں گی اور تم مجھے اکتا دینے پر تہمت لگاؤ گے۔پھر ان میں سے وہ بھی ہے جو نفس حدیث میں ہمارے مدعا کی دلیل ہے جیسے صفات کو مقدم کرنا اور ذوات کو مؤخر کرنا اور اس کے علاوہ ان میں شارحین حدیث کا حدیث کی شرح میں ترتیب الٹ دینا بلا ضرورتتو اس سے معلوم ہوا کہ خبر کو مقدم کرنا شائع ہے اور بسا اوقات کلام اس ڈھنگ پر چلتا ہے اور قرائن صارفہ کی حاجت کے بغیر لوگوں کی فہم اس کی طرف سبقت کرتی ہے اور کسی بتانے والے پر مو قوف نہیں ہوتی اور اگر ہمیں تطویل کا ڈر نہ ہو تو ہم تمہیں ان احادیث کا عجیب و غریب نمونہ دکھاتے لیکن اس میں حرج نہیں کہ ہم ان احادیث کا ایك حصہ ذکر کریں جن میں اکثر قسم ثانی کے قبیل سے ہیں۔اس لیے کہ وہ مقصود میں خوب واضح ہیں اور ہم پہلے ایك حدیث ذکر کریں جس میں مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دو مقدمے ذکر کیے تو اس سے علماء نے نتیجہ نکالا جس طرح دو آیتوں میں
#793 · الزلال النقی
لیکون ھذا اشدتنکیلاانبأنا حسین الفاطمی عن عابد بن احمد عن صالح الفاروقی عن سلیمان الدرعی عن محمد الشریفعن الشمس العلقمی عن الامام السیوطی عن احمد بن عبدالقادر بن طریف انا ابو اسحاق التنوخی انا ابوالحجاج یوسف بن الزکی المزی انا الفخربن البخاری سماعا بسماعہ عن ابی حفص عمر بن طبرزد انا ابوالفتح عبدالملك ابن قاسم الکروخیانا القاضی ابوعامر محمود بن القاسم الازدی وابوبکر احمد بن عبدالصمد الغورجی انا ابو محمد عبدالجبار الجراحی المروزی انا ابوالعباس محمد بن احمد بن المحبوب المحبوبی المروزیانا الترمذی ثنا محمد بن یحیی نامحمد بن یوسف ناسفین عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خیر کم خیر کم لا ھلہ ہم نے کیا تاکہ قید سخت ہو۔ہم سے حدیث بیان کی حسین فاطمی نےوہ روایت کرتے ہیں عابدبن احمد سےوہ روایت کرتے ہیں صالح فاروقی سےوہ روایت کرتے ہیں سلیمان بن درعی سےوہ روایت کرتے ہیں محمد شریف سےوہ روایت کرتے ہیں شمس علقمی سےوہ روایت کرتے ہیں امام سیوطی سےوہ روایت کرتے ہیں احمد بن عبدالقادر ابن طریف سےہمیں خبر دی ابواسحق تنوخی نے۔ہمیں خبر دی ابوالحجاج یوسف ابن زکی مزی نے۔ہمیں خبر دی فخر الدین ابن بخاری نے۔سماعا ابوحفص عمر بن طبرزد سے سن کر۔ہمیں خبر دی ابو الفتح عبدالملك ابن قاسم کروخی نے۔ہمیں خبر دی قاضی ابو عامر محمود ابن قاسم ازدی اور ابوبکر احمد بن عبدالصمد غورجی نے۔ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالجبار جراحی مروزی نےہمیں خبر دی ترمذی نےحدیث بیان کی ہم سے محمد ابن یحیی نے حدیث بیان کی ہم سے محمد بن یوسف نےحدیث بیان کی ہم سے سفیان نےانہوں نے روایت کی ہشام بن عروہ سے انھوں نے روایت کی اپنے باپ سے۔انہوں نے روایت کی حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے۔انہوں نے کہا فرمایا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
#794 · الزلال النقی
وانا خیر کم لاھلی واذا مات صاحبکم فدعوہ۔ھذا حدیث حسن صحیح
قلت ومروی ایضاعندابن ماجۃ من حدیث ابن عباس وعندالطبرانی فی معجمہ الکبیرعن معویۃ بن ابی سفین رضی الله تعالی عنہم اجمعین قال الامام العلامۃ الشارح عبدالرؤف المناوی فی التیسیر شرح الجامع الصغیراللامام المولی جلال الحق و الدین السیوطی رحمۃ الله تعالی علیہما فانا خیر کم مطلقا وکان احسن الناس عشرۃ لھم انتہی۔
اقول:یا ھذا ان ابدیت فرقا بین ھذاالقیاس والقیاس نے"تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لیے تم سب سے بہتر ہوں جب تمہارا کوئی ساتھی مرجائے تو اسے چھوڑ دو"(یعنی اس کا ذکر برائی سے نہ کرو)یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
قلت(میں کہوں گا کہ)یہ حدیث ابن ماجہ کے یہاں منجملہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے اور طبرانی کے یہاں ان کے معجم کبیر میں معاویہ ابن ابوسفیان رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے امام علامہ عبدالرؤف مناوی نے تیسیر شرح جامع صغیر مصنفہ امام مولی جلال الحق والدین سیوطی رحمھما الله تعالی میں فرمایا"تو میں مطلقا تم سب سے بہتر ہوں۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اہل کے ساتھ سب سے بہتر سلوك فرماتے تھے۔"
اقول:(میں کہتا ہوں)اے شخص اگر تو اس قیاس میں اور اس قیاس میں جس کی صحت کا
#795 · الزلال النقی
الذی تنکرصحتہ لشکرك المفضلۃ ابدا ما کانوا و لکن ھیھات ھیھات انی لك ذلك اخرج احمد و الشیخان عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلمخیر نساء رکبن الابل صالح نساء قریش

قال الفاضل الشارح فالمحکوم لہ بالخیریۃ الصالحۃ منھن لا علی العموم اھ انظر کیف جعل الخیر محکوما بہ اخرج احمد والترمذی والحاکم با سناد صحیح عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیر الاصحاب عند الله خیر ھم لصاحبہ وخیر الجیران عندالله خیر ھم لجارہ قال الفاضل الشارح"فکل تو منکر ہے فرق نمایاں کردے تو تفضیلیہ عمر بھر تیرے شکر گزار ہوں گےلیکن ہیہات ہیہات تجھ سے کیونکر ایسا ممکن ہے۔امام احمد و بخاری و مسلم حضرت ابوہریرہ سے راوی انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا۔ اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی نیك عورتیں ہیں۔
فاضل شارح نے فرمایا تو جن کے لیے سب سے بہتر ہونے کا حکم فرمایا گیا وہ قریشی عورتوں میں نیك عورتیں ہیں اور یہ حکم اپنے عموم پر نہیں دیکھو کس طرح شارح نے خیر کو محکوم بہ قرار دیا۔امام احمد۔ترمذی اور حاکم بسند صحیح حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص رضی الله تعالی عنہما سے راوی کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصحاب میں سب سے بہتر الله کے نزدیك وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو اور ہمسایوں میں الله کے نزدیك سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے
#796 · الزلال النقی
من کان اکثر خیرا لصاحبہ و جارہ فہوافضل عند الله و العکس بالعکس اھ اخرج احمد و ابن حبان والبیہقی عن سعید بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ باسناد صحیح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیر الذکرالخفی قال الفاضل الشارح"ای ما اخفاہ الذاکر وسترہ عن الناس فہو افضل من الجھر اھ اخرج الطبرانی عن ابی امامۃ الباھلی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم افضل الصدقۃ سر الی فقیر قال الفاضل الشارح"قال تعالی
" و ان تخفوہا وتؤتوہا الفقراء فہو خیر لکم" اھ" ہمسایوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔فاضل شارح نے کہا تو ہر وہ شخص جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لیے کثیر الخیر ہو وہ الله کے نزدیك افضل ہے۔اور اس کے برعکس ہو تو حکم برعکس ہے انتہی۔امام احمدابن حبان اور بیہقی نے سعد ابن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہما سے بسند صحیح روایت کیا وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے راوی کہ سرکار نے فرمایا"سب سے بہتر ذکر ذکر خفی ہے"فاضل شارح نے کہا یعنی وہ ذکر جسے ذاکر خفیہ رکھے اور لوگوں سے چھپائے وہ ذکر جہر سے افضل ہے انتہیطبرانی ابن ماجہابوامامہ باہلی رضی الله تعالی عنہ سے راوی وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا "سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو خفیہ طور پر فقیر کو دیا جائے" فاضل شارح نے کہا الله تعالی فرماتا ہے۔
" و ان تخفوہا وتؤتوہا الفقراء فہو خیر لکم"انتہی
#797 · الزلال النقی
اقول:انظر فقد اخرت الایۃ وقدم الحدیثاخرج احمد والحاکم عن رجل من الصحابۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان افضل الضحایا اغلاھا واسمنہا قال الفاضل الشارح فالا سمن افضل من العدد اھ
اخرج احمد والطبرانی فی الکبیر عن ماعز رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم افضل الاعمال الایمان باﷲ ثم الجہاد ثم حجۃ برۃ تفضل سائر العمل ۔

اقول:انظر الی ھذہ الکلمۃ الاخرۃ صدر بالافضل ثم اخرہ۔
اخرج ابوالحسن القزوینی فی امالیہ الحدیثیۃ عن ابی امامۃ اقول:دیکھو آیت کریمہ نے خیر کو(جو موضوع ہے)موخر کیا اور حدیث نے اس کو مقدم کیا۔امام احمد اور حاکم نے کسی صحابی سے دریافت کیا۔وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا"قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر سب سے قیمتی سب سے فربہ ہے۔"فاضل شارح نے کہا تو جو سب سے فربہ ہے وہ عدد سے افضل ہے اھ
امام احمد اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ماعز رضی الله تعالی عنہ سے راوی۔انہوں نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ فرمایا"سب سے بہتر عمل الله پر ایمان رکھنا ہے پھر جہاد۔پھر حج مقبول تمام اعمال سے افضل ہے۔"
اقول:(میں کہتا ہوں)اس کلمہ میں دیکھوپہلے افضل کو مقدم کیا پھر اس کو موخر لائے۔
ابوالحسن قزوینی اپنے امالی حدیثیہ میں حضرت ابوامامہ رضی الله تعالی عنہ سے راوی
#798 · الزلال النقی
عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم "ان اشد الناس تصدیقا للناس اصدقھم حدیثا وان اشد الناس تکذیبا اکذبھم حدیثا" قال الفاضل الشارح فالصدوق یحمل کلام غیرہ علی الصدق لاعتقاد قبح الکذب والکذوب یتھم کل مخبر بالکذب لکونہ شانہ۔ ا ھ

اخرج احمد فی کتاب الزھد عن سلمان الفارسی واقفا علیہ و ابن لال وابن النجار عن ابی ھریرۃ والسجزی فی الابانۃ عن ابن ابی اوفی رافعین الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اکثر الناس ذنوبا یوم القیمۃ اکثرھم کلاما فیما لایعنیہ
قال الفاضل الشارح"لان وہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔"سب سے زیادہ لوگوں کی تصدیق کرنے والا وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ سچی اور لوگوں کو سب سے زیادہ جھوٹا بتانے والا وہ ہے جو اپنی بات میں سب سے بڑا جھوٹا ہو"فاضل شارح نے فرمایا وہ سچا دوسرے کے کلام کو سچائی پر محمول کرتا ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ کو برا جانتا ہے۔اور جھوٹا ہر مخبر کو جھوٹ کی تہمت لگاتا ہے اس لیے کہ جھوٹ بولنا اس کا کام ہےا ھ
امام احمد نے کتاب الزھد میں حضرت سلیمان فارسی سے حدیث موقوف روایت کی اور ابن لال اور ابن نجار نے ابو ہریرہ سے اور سجزی نے ابانہ میں ابن ابی اوفی سےان سب نے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مرفوعا روایت کیا کہ فرمایا"سب لوگوں سے زیادہ قیامت کے دن اس کے گناہ ہوں گے۔جو سب سے زیادہ لایعنی باتیں کرے۔"
فاضل شارح نے فرمایا اس لیے کہ
#799 · الزلال النقی
من کثر کلامہ کثر سقطہ فتکثر ذنوبہ من حیث لا یشعر "اھ
اخرج البخاری فی التاریخ والترمذی و ابن حبان بسند صحیح عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان اولی الناس بی یوم القیمۃ اکثرھم علی صلوۃ ۔
قال الفاضل الشارح"ای اقربھم منی فی القیمۃ و احقھم بشفاعتی اکثرھم علی صلاۃ فی الدنیا لان کثرۃ الصلوۃ علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم تدل علی صدق المحبۃ و کمال الوصلۃ فتکون منازلھم فی الاخرۃ منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بحسب تفاوتھم فی ذلك اھ
اقول:انظر شرح اولا لفظ الحدیث جس کا کلام کثیر ہوگا تو اس میں مہمل خلاف شرع باتیں زیادہ ہوں گی تو اس کے گناہ بڑھیں گے اور اس کو شعور نہ ہوگا اھ۔
امام بخاری تاریخ میں اور ترمذی اور ابن حبان بہ سند صحیح حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے راوی وہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا" قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے قریب وہ ہوگا جو سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا۔
فاضل شارح نے فرمایا یعنی قیامت میں سب سے مجھ سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ میری شفاعت کا حقدار وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا تھا اس لیے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود کی کثرت سچی محبت پر اور کمال ربط پر دلالت کرتی ہے۔تو لوگوں کے مدارج حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قرب میں اس امر میں لوگوں کے تفاوت کے حساب سے ہوں گے۔
اقول:دیکھو پہلے لفظ حدیث کی شرح
#800 · الزلال النقی
ثم علل بما لایستقیم الاعلی جعل الاولی محکوما بہوابین من ھذا ان العلماء المحدثین افاض الله علینا من برکاتھم استدلوابھذا الحدیث علی فضل اھل الحدیثوانھم اولی الناس برسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لانھم اکثر الناس صلوۃ علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایذکرون حدیثا الاو یصلون فیہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عشرا وخمسا او مرتین اومرۃ لا اقل کما ھو معلوم مشاھد والحمد ﷲ۔

ارایتك ھذا الاستدلال الیس علی طبق احتجاجنابا لایتین حذوا بحذو وسواء بسواء۔ثم من تمام نعمۃ اﷲ ان جاء حدیث عند البیھقی برجال ثقات عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم"اکثروا من الصلوۃ علی فی کل یوم جمعۃ فان صلوۃ امتی تعرض علی فی کل یوم جمعۃ فمن کان اکثرھم علی کی پھر علت وہ بیان کی جو اسی صورت میں ٹھیك بیٹھتی ہے جب کہ حدیث میں(وارد)لفظ اولی کو محکوم بہ ٹھہرائیں اور اس سے روشن تر یہ ہے کہ علماء محدثین نے(الله تبارك و تعالی ہمارے اوپر ان کی برکتیں برسائے)اس حدیث سے علماء حدیث کی فضیلت پر استدلال کیا۔اور اس پر دلیل پکڑی کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہیں ا س لیے کہ وہ سب سے زیادہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔جب کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دس مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا دو مرتبہ یا کم از کم ایك مرتبہ درود پڑھتے ہیں جیسا کہ معلوم ہے اور اس کا مشاہدہ ہے۔ والحمدﷲ
مجھے بتاؤ کیا استدلال ان دونوں آیتوں سے ہمارے استدلال کے بالکل مطابق نہیں۔پھر الله تبارك و تعالی کی تمامی نعمت سے یہ ہے کہ ایك حدیث بیہقی میں ثقہ راویوں کی روایت سے حضرت ابوامامہ رضی الله تعالی عنہ سے آئی انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن بکثرت درود بھیجو اس لیے کہ تمہارا درود ہر جمعہ کے دن میرے اوپر پیش ہوتا ہے توسب سے زیادہ جو میرے اوپر درود بھیجے گا وہ درجے
#801 · الزلال النقی
صلوۃ کان اقربھم منی منزلۃ" فعلم انہ لایبالی فی امثال المقام بتقدیم ولا تاخیر لعدم الا لتباس والسرفیہ ما القیناعلیك ان ھذہ احکام شرعیۃ لایطلع علیہاالا باطلاع الشارع فھی التی تلیق ان تجعل محمولاتولا تسبق الاذھان الا الی ذلك مقدمۃ جاءت اومؤخرۃ وھذا کلہ واضح جلی کاد ان یقال بدیھی واولی لایسوغ انکارہ الا لجاھل خرف اومتجاھل متعسفونخشی ان یعد اکثار نا ھذا من اقامۃ الدلائل علیہ شبیھا بالعبث عند العلماء لان اذانھم ممتلئۃ بالوف الاف من امثال تلك المحاوراتوھم العارفون باسالیب الکلام ومجاری البیان فی مناھج المرامفحاشاھم ان یتعسر علیہم تمییز محمول من(ھھنا سقط ظاھر ولعل العبارۃ ھکذا ان یخطرببالھم)یحط ببالھم نحوھذہ الخدشات لکنیاتنصل الیہم وعذری ان شاء الله تعالی واضح لدیھم میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب ہوگا۔تو معلوم ہوا کہ ایسے مقامات میں تقدیم و تاخیر کی پرواہ نہیں کی جاتی اس لیے کہ اشتباہ نہیں ہوتا اور اس میں سر وہی ہے جو ہم نے بتایا۔تو یہ احکام شرعیہ ہیں جن پر بغیر شارع کے بتائے اطلاع نہیں ہوتی۔تو یہی اس کے لائق ہیں کہ محمول بنائے جائیں۔اور اذہان کی سبقت انہیں کی طرف ہوتی ہے خواہ مقدم آئیں یا مؤخراور یہ سب واضح و روشن ہے۔قریب ہے کہ اس کو بدیہی و اولی کہا جائے اس کا انکار جاہل بے خرد یا جاہل بننے والے معاند کے سوا کسی کو نہ بن پڑے گا اور ہم کو ڈر ہے کہ ہمارا اس پر بکثرت دلائل قائم کرنا علماء کے نزدیك عبث کے مشابہ قرار دیا جائے۔اس لیے کہ ان کے کان اسی قسم کے ہزاروں محاورات سے بھرے پڑے ہیں اور وہ کلام کے اسالیب سے اور مقصود کے طریقوں میں بیان کی راہوں سے آگاہ ہیں۔تو وہ اس سے منزہ ہیں کہ انہیں محمول کی تمیز موضوع سے دشوار ہو اور یہ ان کے ذہن میں ایسے خدشات جگہ پائیں۔لیکن میں ان کی طرف معذرت کرتا ہوں اور میرا عذر ان کے نزدیك ظاہر ہے اس لیے کہ میری مثال اور ان لوگوں کی مثال جو میری نہیں مانتے
#802 · الزلال النقی
فانمامثلی ومثل الذین لاینقادون لی کجمال شردت عن صاحبہا فہو یقصداسرھا ویقتفی اثرھا لا تعلوشرفا و لا تھبط وادیا الا اتبعہا۔
تکمیل: ومن ھہنا بان لك ان ماقالت النحاۃ من وجوب تقدیم المبتداء علی الخبراذاکان معرفتین او متساویین امراکثری لاکلی وانما المعنی علی اللبس و اذ لیس فلیسبذلك صرح الشراح و لا یغرنك اطلاق المتون فانھا ربما تمشی علی الاطلاق فی مقام التقیید فی علم الفقہ فکیف بغیرہ من الفنون۔



انبانا مفتی الحرم عن ابن عمر عن الزبیدی عن یوسف المزجاجی عن ابیہ محمدبن علاء الدین عن حسن العجیمی عن العلامۃ خیر الدین الرملی عن ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار قال فی منح الغفار"ان العجب من اصحاب المتون ان اونٹوں کی سی ہے جو اپنے مالك کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوں تو ان کا مالك ان کو پکڑنے کا قصدکرے اوران کے پیچھے پیچھے چلے وہ کسی بلندی پر نہ چڑھیں اور نہ کسی گھاٹی میں اتریں مگر یہ کہ وہ ان کا پیچھا کرتا ہو۔
تکمیل:یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ نحویوں نے جو یہ کہا کہ مبتداء کو خبر پر مقدم کرنا ضروری ہے۔جب دونوں معرفہ ہوں یا تنکیر و تعریف میں دونوں برابر ہوں یہ اکثری قاعدہ ہے کلی قاعدہ نہیں اور معنی یہی ہے کہ مبتدا کی تقدیم ایسی صورت میں اس وقت واجب ہے۔جب کہ التباس کا اندیشہ ہو اور جب التباس کا اندیشہ نہ ہو تو واجب نہیں۔شارحین نے اس کی تصریح کی تو ہر گز تمہیں متون کا اس مسئلہ کو مطلق کرنا دھوکا میں نہ ڈالے اس لیے کہ متون تو بسا اوقات اطلاق کی راہ پر چلتے ہیں مسئلہ کو مقید رکھنے کے مقام میں علم فقہ میں تو تمہارا کیا گمان ہے فقہ کے سوا دوسرے فنون میں
ہمیں خبر دی مفتی حرم نےوہ روایت کرتے ہیں ابن عمر سےوہ روایت کرتے ہیں زبیدی سے۔وہ روایت کرتے ہیں یوسف مزجاجی سے وہ روایت کرتےہیں اپنے باپ محمد بن علاء الدین سے۔وہ روایت کرتے ہیں حسن عجیمی سے۔وہ روایت کرتے ہیں خیر الدین رملی سے۔وہ روایت کرتے ہیں ابو عبد الله محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی مصنف تنویر الابصار سے انہوں نے منح الغفار میں فرمایا اصحاب متون سے تعجب ہے اس لیے کہ وہ اپنے
#803 · الزلال النقی
فانھم یترکون فی متونھم قیودا لابدمنھا وھی موضوعۃ لنقل المذہب فیظن من یقف علی مسائلہ الاطلاق فیجری الحکم علی اطلاقہ وھو مقید فیرتکب الخطاء فی کثیر من الاحکام فی الافتاء والقضاء انتھی
انبانا السراج بالسندالمذکور الی العلامۃ الغزی عن العلامۃ زین بن نجیم المصری قال فی البحر الرائق"قصد ھم بذلك ان لایدعی علمھم الا من زاحمھم علیہ بالرکب ولیعلم انہ لایحصل الا بکثرۃ المراجعۃ وتتبع عباراتھم و الاخذعن الاشیاخ ۔ انتہی

اقول:وقد و الله رأینا تصدیق ھذا فی کثیرمن ابناء الزمان ممن تصدربالدعوی وتصدی للفتویوما عندہ ما یرد عن الطغوی فمنہم من افتی بتوریث المنکوحۃ بالنکاح الفاسد و اخر ببطلان تزویج الام الصغیرۃ من دون حضرۃ العم متون میں ضروری قیدیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ متون نقل مذہب کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ جو متن کے مسائل سے واقف ہوتا ہے وہ حکم کو مطلق گمان کرتا ہے تو اس حکم کو اس کے اطلاق پر جاری کرتا ہے حالانکہ وہ مقید ہوتا ہے تو وہ خطا کر جاتا ہے فتوی اور قضا کے دوران بہت سارے احکام میں۔ انتہی۔
ہمیں خبر دی سراج نے علامہ غزی تك اسی سند مذکور سے۔ انہوں نے روایت کیا علامہ زین ابن نجیم مصری سے۔انہوں نے بحرالرائق میں فرمایا کہ اس طریقے سے ان کا قصد یہ ہے کہ ان کے علم کا دعوی وہی کرے جو زانوؤں سے ان کا مزاحم ہو اور تاکہ معلوم ہو کہ یہ علم کثرت مراجعت اور فقہاء کی عبارات کی تلاش اور مشائخ فن سے حاصل کیے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ انتہی۔
اقول:(میں کہتا ہوں)اور بے شك بخدا میں نے اس کی تصدیق آج کل کے ان لوگوں میں وہ پائی جو زبانی دعوی سے خود صدر بن بیٹھے اور فتوی دینے کے درپے ہوئے حالانکہ ان کے پاس وہ علم نہیں جو انہیں حد سے گزر جانے سے باز رکھے ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے نکاح فاسد سے بیاہی گئی عورت کے وارث ہونے کا فتوی دیا تو ان میں سے کسی دوسرے نے یہ فتوی دیا کہ چچا کی
#804 · الزلال النقی
منع انہ متوقف لاباطلواخر باعطاء المسمیمن نکحت فی عدۃ اختہا واخر بتحریم بیع ھذہ القراطیس الافرنجیۃ المقدرۃ بقدر معلوم من الدراھم بما یزید علی ھذا المقدار اوینقص ظنامنہ انہ ربومع عدم الا تحادجنسا ولا قدرا۔واخر بتجویز اخذ الربو من کفار الہند زعما منہ انہادار الحرب مع عدم الانقطاع عن دار الاسلام من کل جانب وشیوع بعض الشعائر الاسلامیۃ قطعا۔واخر بحل ما قطع من حیوان حی اخذا من قول الہدایۃ وما ابین من الحی"وان کان میتافمیتہ حلال "حتی انتھت ریاسۃ الفتوی و انتمت السیادۃ الکبری الی من اباح بنت الاخ رضا عاوتقدمہ مجتہداخر فجوز نکاح العمۃ النسبیۃ فالی اﷲ المشتکی من فساد الزمان ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وسیعلم ھذا من جرب غیر موجودگی میں ماں کو صغیرہ(نابالغہ)کا عقد کردینا باطل ہے حالانکہ یہ متوقف ہے نہ کہ باطل ہے۔اور کسی دوسرے نے فتوی دیا کہ اس عورت کو جو اپنی بہن کی عدت میں شادی کرے مہر مسمی دیا جائے گا۔اور دوسرے نے ان افرنگی کا غذوں کو جن پر روپوں کی ایك معین مقدار سے زائد یا کم پر بیچنے کو حرام ہونے کا فتوی دیا اپنی طرف سے اس گمان کی بناء پر کہ یہ تبادلہ سود ہے حالانکہ نہ جنس میں اتحاد ہے نہ مقدار میں۔اور ایك اور نے فتوی دیا کہ ہندی کافروں سے سود لینا جائز ہے اس زعم پر کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔حالانکہ یہ ملك دارالاسلام ہے ہر جانب سے کٹا ہوا نہیں اور بعض اسلامی شعار یقینا جاری ہیں۔اور ایك نے فتوی دیا کہ زندہ جانورکا جو عضو کاٹ لیا جائے حلال ہے۔ہدایہ کی اس عبارت سے"اور اگر مردہ ہو تو اس کا مردار حلال ہے۔"اس مسئلہ کو اخذ کیا یہاں تك کہ ریاست اسی فتوی تك پہنچی اور سیادت کبری اس سے منسوب ہوئی جس نے رضاعی بھائی کی لڑکی سے نکاح حلال ٹھہرایا۔اور ایك دوسرا مجتہد اس سے آگے بڑھا تو اس نے حقیقی پھوپھی کا نکاح جائز ٹھہرادیا تو فساد زمانہ کی شکایت اﷲ ہی سے ہے۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔تو عنقریب اس کو وہ جان لے گا جو میرے جیسے تجربہ کرے گا
#805 · الزلال النقی
مثل تجربتیاسأل اﷲ تطہیر جنانی و تقویم لسانی وتسدید بنانی فبہ اعتصامی وعلیہ کلانی امین

تسجیل:ولعلك تقول لقد کشفت النقاب ورفعت الحجاب فبین لی ماالنکتۃ فی تقدیم الخبر وانما حقہ ان یوخرقلت نعم فیہ نکت بدیعۃ منہا ان المحکوم بہ لما کان خفیا والمحکوم علیہ مدرکا جلیا اشبہ الاول بالمعرف والاخربا لتعریف فاستحسن تقدیمہ لیکون الاخیر کالتعریف لہ۔ومنہا تشویق السامع لا ن النفوس متطلعۃ الی علم مالا تعلم فاذا سمعت بما ھو خفی لدیہا ورجت ان یذکربعدہ ما یظھرہ علیھا توجھت للاستماع وتفرغت للاطلاع فکان الکلام اوقع وامکن والنفس الیہ امیل و اسکن۔ومنھا ان الاعمال لا تقصدفی الشرع لذواتھا بل لما یترتب علیھا الله سے میں اپنے قلب کی پاکی اور زبان کی درستگی اور ہاتھ کی صلاح طلب کرتا ہوں تو اسی سے میری حفاظت ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے۔یا الہی۔قبول فرما
تسجیل:اور شاید تم کہو بے شك تم نے نقاب اٹھادیا اور حجاب کو دور کردیا تو مجھ سے بیان کرو کہ خبر کو مقدم کرنے میں کیا نکتہ ہے حالانکہ اس کا حق یہ ہے کہ اس کو موخر رکھا جائے۔میں کہوں گا ہاں اس میں بدیع نکتے ہیں ان میں سے ایك یہ کہ محکوم بہ(خبر)جب کہ پوشیدہ ہو اور محکوم علیہ (مبتداء)ادراك میں ظاہر ہو تو پہلا(خبر)معرف کے مشابہ ہوگا اور دوسرا(مبتدا)تعریف کے مشآبہ ہوگا۔لہذا اس کو مقدم کرنا مستحسن ہے تاکہ لفظ اخیر اس کے لیے تعریف کے مانند ہو جائے اور انہیں نکتوں میں سے سننے والوں کو شوق دلانا ہے اس لیے کہ نفوس انجانی بات کو جاننے کے لیے ہمکتے ہیں تو جب کسی ایسی چیز کو سنیں گے جو ان کے نزدیك پوشیدہ ہے اور امید رکھیں گے کہ اس کے بعد وہ ذکر کیا جائے جو ان پر ظاہر ہے۔تو سننے کے لیے متوجہ ہوں گے او ر جاننے کے لیے فارغ ہوں گے تو اس صورت میں کلام زیادہ دلنشین اور راسخ ہوگا اور نفس کو اس کی طرف زیادہ میلان اور سکون ہوگا۔اور ان میں سے یہ ہے کہ شریعت میں اعمال اپنی ذات کے لیے مقصود نہیں ہوتے۔
#806 · الزلال النقی
من ثمراتہافضلا من المولی سبحنہ وتعالی۔فکانت الثمرات ھی المقاصدوحق المقاصدان تقدم الی غیر ذلك مما لا یخفی علی اولی الالباب وفیما ذکرنا ما یغنی عن الاطناب والحمدلله رب العلمین ھذا کلہ مما حبانی الملك الجواد تبارك وتعالی فقد بان لك صدقی فی قولی ان ھذاالزاعم لاخبرۃ لہ بمنا ھج الکلام فی النصوص ولاباسباب النزول فی ھذا الخصوص ولا بالتفسیر المرفوع الی الجناب الرفیع و لابتصریح القادۃ فی کلامھم البدیع ولا بشیئ مما خلا والحمد ﷲ جل وعلا۔


من وجوہ الجواب عن ھذا الارتیاب اقول:بتوفیق الوھاب لئن جئنا علی المماکسۃ والاستقصاء لما ترکنا کم ان تزعموا ان الایۃ لا تقتضی باکرمیۃ الاتقی وان سلمنا الموضوع بلکہ ان ثمرات کے لیے مقصود ہوتے ہیں جو ان پر مرتب ہوتے ہیں الله تبارك و تعالی کے فضل سے لہذا وہ ثمرات ہی مقاصد ہیں اور مقاصد کا حق یہ ہے کہ ان کو مقدم کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس میں اور بھی نکتے ہیں جو عقل والوں پر پوشیدہ نہیں۔اور جو ہم نے ذکر کیا ان میں تطویل سے بے نیازی ہے۔یہ سب ان عنایتوں سے ہے جو الله تبارك و تعالی نے مجھے عطا کی۔اب تمہیں میری سچائی ظاہر ہوگئی میری اس بات میں کہ اس زعم والے شخص کو نصوص میں کلام کے طریقوں کی خبر نہیں نہ ان نصوص میں اسباب نزول کو جانتا ہے۔اور نہ جناب رفیع صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی تفسیر مرفوع سے خبر ہے اور نہ رہنما یان شریعت کی ان کے کلام بلیغ میں تصریحات کی واقفیت ہے اور نہ ان چیزوں سے جن کا ذکر گزرا اس کے پاس کچھ نہیں۔والحمدﷲ جل وعلا۔
اس شبہہ کے جواب میں دوسری وجہ۔میں الله وہاب کی توفیق سے کہتا ہوں اگر ہم اس بحث کا دائرہ بند کرنے پر اور حد تك پہنچانے پر آجائیں تو ہم تم کو نہ چھوڑیں کہ تم یہ کہو کہ آیت اتقی کی فضیلت کا تقاضا نہیں کرتی۔اگرچہ ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ آیت میں اکرم ہی
#807 · الزلال النقی
ھوالاکرم وذلك لان اتقکم واکرمکم لایصدقان بل لایصلحان لان یصدقا الاعلی واحد ولا یجوز تعدد ھما بمعنی الصدق مرۃ علی ھذا واخری علی ذاك فاذا ثبت اتحادھما فی الوجود کما ھو مقتضی الحمل وجب التعاکس اذلما اتحد مصداقھما وقد علمنا بطلان التعدد کانا کعلمین لجزئی واحدلك ان تجعل ایھما شئت مرآۃ لملاحظۃ وایھما شئت محمولا علیہ و لہ نظائر جمۃ تقول افضل الانبیاء اولھم خلقا واکرم الرسل اخرھم بعثا۔واحسن الجنت اقربھا الی العرش و اعظم شجرۃ فی الجنۃ طوبی۔ ومنتھی جبریل سدرۃ المنتہیوافضل الصلوۃ الصلوۃ والوسطیوابوك ابوہ۔وامك امہو اول من دخل اخرمن خرجواقل الاعداد اول الاعدادو الشمس النیرالاعظم۔واعلی موضوع ہے یہ اس وجہ سے کہ اتقاکم اور اکرمکم صادق نہیں آتے بلکہ ان میں صلاحیت ہی نہیں اس کی کہ وہ ایك ذات واحد پر صادق آئیں تو ان دونوں کا تعد د جائز نہیں بایں معنی کہ کبھی اس پر صادق ہوں اور کبھی اس پر صادق ہوں کہ جب ان کا وجود میں اتحاد ثابث ہوگیا تو دونوں کا باہم عکس ضروری ہوا ا س لیے کہ جب دونوں کا مصداق ایك ہے اور ہم نے تعدد کا باطل ہونا جان لیا تو یہ دنوں ایك ذات واحد کے دو علم کی مثال ہوئے تمہیں اختیار ہے کہ جن کو چاہو ذات کے لیے مراۃ ملاحظہ بناؤ۔اور جن کو چاہو محمول علیہ بناؤ اور اس کی بہت ساری مثالیں ہیں تم کہتے ہو سب نبیوں سے افضل وہ ہیں جو سب سے پہلے مخلوق ہوئے اور سب رسولوں سے اکرم وہ ہیں جو سب کے بعد مبعوث ہوئے۔اور سب جنتوں سے بہتر وہ جنت ہے جو سب سے زیادہ عرش سے قریب ہے۔ا ور جنت میں سب سے بڑا پیڑ طو بی ہے۔۔اور جبریل کا منتہی سدرۃ المنتہی ہے اور سب نمازوں سے بہتر بیچ کی نماز(عصر) ہے۔ اور تمہارا باپ اس کا باپ ہے اور تمہاری ماں اس کی ماں ہے۔اور سب سے پہلے داخل ہونے والا سب کے بعد نکلنے والا ہے۔اور عدد میں سب سے کمتر پہلا عدد ہے۔اور سورج نیر اعظم ہے
#808 · الزلال النقی
الافلاك اکبرھا حجماواخص الکلیات اقلہا افرادا و فلك جوز ھو فلك القمر و سیارۃ لا تدویر لہا ذکاء و المتحیرۃ السودا ء زحلوالخاتس الکانس الاحمر مریخ الی غیر ذلك ممالایعد ولایحصی ومحال ان تبدی مثالا یحمل فیہ افعل مضافا علی افضل مضافا الی اضیف الیہ الاول مع جریا نھما علی معناھما الحقیقی ثم لایصح العکس
فاذا صدقت القضیۃ بالنظر الی الواقع کفانا ھذا الانتظام القیاس واستنتاج المدعیوالسرفی ذلك ان الموجبات انما تنعکس الی مالا یصلح لکبرویۃ الاول لجواز عموم المحمول واذا کان ھناك مفہومان لیس لکل منہما الامصداق واحد بحسب ظرف الخارج اوالذھن ایضا بطل عمومھما بحسب ذلك الظرف(فلایجوزان یکون احدھما اعم من الاخر بمعنی شمولہ لہ ولغیرہ فی ذلك الظرف)فلم یبق باعتبارہ الا التساوی)اوالتباین ولا ثالث لھمافان صدقت الحملیۃ القائلۃ ان ھذا ذاك اور سب سے اونچا فلك حجم میں سب سے بڑا ہے۔اور خاص تر کلی سب سے کم افراد والی ہے اور فلك جو ز فلك قمر ہے۔اور وہ سیارہ جس میں گولائی نہیں وہ سورج ہے اور سیارہ سیاہ متحیرہ زحل ہے اور سیدھے چل کر الٹے پھرنے والا اور غائب ہو جانے والا سرخ سیارہ مریخ ہے۔اس کے علاوہ بہت ساری مثالیں جن کی گنتی اور شمار نہیں۔اور محال ہے کہ تم ایسی مثال ظاہر کرو جس میں افعل التفضیل مضاف ہوکردوسرے افضل التفضیل پر محمول ہو درانحالیکہ وہ اس کی طرف مضاف ہو جس کی طرف پہلا مضاف ہوا ہے اور اسی کے ساتھ دونوں اپنے معنی حقیقی پر جاری ہوں پھر ان دونوں کا عکس صحیح نہیں۔
تو جب قضیہ نظر بنفس الامر صادق ہے تو ہمیں نظم قیاس اور مدعا کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے یہی کافی ہے اور اس میں راز یہ ہے کہ موجبہ قضیے کا عکس وہ آتا ہے جو شکل اول کے کبری بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے کہ محمول کے عموم کا احتمال ہے اور جب کہ دو مفہوم وہاں ایسے ہوں کہ جن میں سے ہر ایك کے مصداق کا اعتبار اس کے محل خارجی کے اعتبار سے ایك ہو یا ذہن میں بھی متحد ہو تو ان دونوں کے مفہوم کا عموم باعتبار اس محل کے باطل ہے تو اس کے اعتبار سے نہ رہی مگر تساوی یا تباین اور ان دونوں کا ثالث نہیں تو اگر قضیہ حملیہ جس میں یہ دعوی ہو کہ بے شك یہ شخص وہی ہے تو ضروری ہے کہ یہ قضیہ
#809 · الزلال النقی
وجب صدق القائلۃ ان ذاك ھذا والالجاز السلب فیتبا ینان فتبطل الاولی ھف فاذا بلغنا مثلا عن رجل قولان احدھما قولہ لعمرو زید ابوك والاخر قولہ ابی ابوك امکن لنا ان نعمل من قولیہ شکلا ینتج ان زیدا ابی لانہ اذا صدق قولہ ابی ابوك لزم صدق ابوك ابی والا لتعددابواھما فبطل الاول واذا صدقت ھذہ انتظم الشکل بان زیداابوك وابوك ابی فزید ابیوافعل التفضیل مضافا الی جماعۃ اذا کان باقیا علی معناہ الحقیقی المتبادر منہ شانہ ھذااذلا یکون الفرد الاکمل من جماعۃ الاواحدا ولن یصدقن ابدا قضیتان قائلتان بان ھذا اکملھم و ذلك اکملھم معا وھذا ظاھر جدا بل شان ھذا انور من شان الشمس واخواتہا فان العقل حملیہ صادق آئے کہ وہ شخص یہی ہے ورنہ اس کا سلب جائز ہوگا تو اپس میں دونوں متباین ہوں گے تو پہلا قضیہ باطل ہوجائے گا اور یہ خلاف مفروض ہے لہذا اگر ہمیں ایك شخص سے دو باتیں پہنچیں ا ن میں سے ایك اس کا قول عمرو سے مخاطب ہو کر کہ زید تیرا باپ ہے اور دوسرا اس کا قول کہ میرا باپ تیرا باپ ہے تو ہمیں ممکن ہے کہ ہم اس کے دونوں قول سے ایك شکل بنائیں تو یہ نتیجہ دیں کہ زید میرا باپ ہے اس لیے کہ جب اس کا یہ قول کہ میرا باپ تیرا باپ ہے صادق ہے تو لازم ہے کہ یہ قول صادق ہو کہ تیرا باپ میرا باپ ہے ورنہ ان دونوں کے باپ متعدد ہوں گے تو پہلا قول باطل ہوجائے گا اور جب یہ قضیہ صادق ہے تو شکل اسی طور پر بنے گی کہ زید تیرا باپ ہے اور تیرا باپ میرا باپ ہے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ زید میرا باپ ہے۔اور افعل التفضیل جو ایك جماعت کی طرف مضاف ہو جب وہ اپنے اس معنی حقیقی پر باقی ہو جو اس سے متبادر ہوتے ہیں تو اس کی شان یہی ہوتی ہے اس لیے کہ کسی جماعت سے فرد اکمل ایك ہوگا اور ہر گز کبھی ایسے دو۲ قضیے صادق نہ آئیں گے جو یہ دعوی کرتے ہوں کہ یہ شخص ساری جماعت سے اکمل ہے اور وہ شخص ساری جماعت سے افضل ہے۔اور یہ سب ظاہر ہے بلکہ اس کا معاملہ سورج اور اس کے امثال کے ظہور سے روشن تر ہے اس لیے کہ عقل
#810 · الزلال النقی
یجیز صدقہا علی افراد کثیرۃ ثبیرۃ واذا وجدلہا فی الخارج فرد لم یستبعد وجود اخر بخلاف افعلھم فانما یقبل الاشتراك علی سبیل البدلیۃ واذا صدق فی الخارج علی فرد حال العقل صدقہ علی اخرمنحازا عنہ کدأب اسماء الاشارۃ سواء بسواء فصدق العکس ھھنا ابین واجلیواما قول اھل المیزان لا تنعکس الموجبۃ الاجزئیۃ معنا ہ ان کلما جعلت موضوع موجبۃ کلیۃ محمولا و محمولہا موضوعا و اتیت بسورا لکلیۃ کانت القضیۃ کاذبۃفان الواقع یکذبہ بل المعنی عدم الاطرادوھم لا اقتصرنظر ھم علی الکلیات لایعتدون الا بالمطرد المضبوط الذی لایتخلف فی مادۃ من الموادوعدم الاطراد لا یستلزم المراد العدمولا اقول:انہ عکس منطقی و لاانہاتلزم القضیۃ لزوما عا مالکنہاتلزم فی امثال المقام لاشکفتصدق القضیۃ بالنظرالی الواقع شمس وغیرہ کے مفہومات کا صادق آنا بہت سارے افراد پر جائز جانتی ہے اور جب ان مفہومات کا خارج میں کوئی فرد پایا جائے تو عقل دوسرے فرد کے وجود کو بعید نہیں جانتی بخلاف افعلھم کہ یہ تو اشتراك کو برسبیل بدلیت قبول کرتا ہے اور جب خارج میں کسی فرد پر اس کا مصداق پایا جائے تو عقل محال جانتی ہے کہ افعل التفضیل کا مصداق دوسرے پر صادق ائے جو اس سے منفرد ہو اس کا معاملہ اسمائے اشارہ کے مانند برابر برابر ہے تو یہاں پر عکس کا صادق ہونا روشن تر اور ظاہر تر ہے۔رہا منطق والوں کا یہ قول کہ موجبہ کا عکس نہیں ہوتا مگر جزئیہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب کبھی تم موجبہ کلیہ کے موضوع کو محمول بناؤ اور اس کے محمول کو موضوع بناؤ اور اس پر کلیہ کا سور لاؤ تو قضیہ کاذب ہوگا اس لیے کہ واقعہ اس بات کو جھٹلاتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ یہ مطرد نہیں اور منطقیوں کی نظر چونکہ کلیات تك محدود ہوتی ہے تو وہ اعتبار نہیں کرتے مگر اس مفہوم کا جو مطرد و مضبوط ہو مواد میں سے کسی مادہ میں جس کا حکم متخلف نہ ہو اور عدم اطراد اطراد عدم کو مستلزم نہیں ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہ عکس منطقی ہے۔نہ یہ دعوی کرتا ہوں کہ یہ قضیہ کو عام طور پر لازم ہے لیکن اس مقام کے امثال میں بلاشبہہ عکس لازم ہوتا ہے تو قضیہ منعکسہ واقعہ پر نظر کرتے ہوئے
#811 · الزلال النقی
سماھا المیزانیون عکسا اولا وھذا القدر یکفی لانتظام الشکل فان صادقتین مستجمعتین للشرائط لا تنتجان الاصادقۃ ولایلزم اثبات الصدق علی انھا عکس منطقی لقضیۃ صادقۃ وانکار ھذا من اخنی المکابرات۔ثم ھذاالعکس لم یرشدنا الیہ الا الایۃ الکریمۃ اذھی التی دلتنا علی اتحادھما فی الوجود فاذا کان ھذا فی مفہومین لا تعدد لمصداق شیئ منھما ان ارشادا الی التعاکس قطعا کما اذا سمعت رجلا یقول ابی زید جازلك ان تقول کان الرجل یقول زیدا بی لان زیدا لایتعددو ابوالرجل لایتعدد فاذا کان ابوہ زیدا کان زید اباہ کذا ھذا من دون شك ولا اشتباہ الحمد لله علی نعمائہ وعلیك بتسکین الھواجس یافلسفیاہ۔


الثالث من وجوہ الجواب اقول:و ربی ھادی الصواب اخترنا عن ھذا کلہ وسلمنا ان مفاد الایۃ الاولی قولنا صادق ہے اہل منطق نے اس کا نام عکس اول رکھا ہے اور اتنی مقدار انتظام شکل کے لیے کافی ہے اس لیے کہ دو قضا یا صادقہ جو شرائط کے جامع ہوں ایك قضیہ صادق ہی کا نتیجہ دیں گے اور صدق کا ثابت کرنا اس پر موقوف نہیں کہ وہ قضیہ صادقہ عکس منطقی ہو اور اس کا انکار نہایت بے شرمی کے مکابرات میں سے ہے۔پھر اس عکس کی طرف آیت کریمہ نے ہی رہنمائی کی کہ اس لیے کہ اس نے ہم کو یہ دکھایا کہ دونوں قضیے وجوب میں متحد ہیں تو جب یہ حال ایسے دو مفہوموں میں ہے کہ ان میں سے کسی شے کا مصداق متعدد نہیں تو یہ یقینا دونوں قضیے کے باہم منعکس ہونے کی طرف رہنمائی ہے جیسے کہ تم جب کسی شخص کو کہتے سنو کہ میرا باپ زید ہے تو تمہیں جائز ہے کہ تم کہو گویا کہ یہ شخص یوں کہہ رہا ہے کہ ز ید میرا باپ ہے اس لیے کہ زید متعدد نہیں اور اس شخص کے باپ متعدد نہیں۔تو جب اس کا باپ زید ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زید اس شخص کا باپ ہے۔اسی طور پر بلا شك و شبہہ یہ آیت ہے اور الله کے لیے اس کی نعمتوں پر حمد۔اور اے فلسفی تجھے لازم ہے کہ وساوس کو ساکن رکھ
وجوہ جواب میں سے تیسری وجہمیں کہتا ہوں اور میرا رب راہ صواب دکھانے والا ہے ہم نے اس سب کو اختیار کیا اور مان لیا۔آیت اولی کا مفاد ہمارا یہ قول ہے کہ
#812 · الزلال النقی
کل اکرم اتقی وینعکس بعکس النقیض الی قولنا "من لیس باتقی لیس باکرم"وقد اثبتنا فیما اسلفنا عرش التحقیق علی ان المراد بالاتقی فی الایۃ الثا نیۃ اعنی قولہ تعالی" و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾" اتقی الصحابۃ جمیعا فوجب ان لایکون احد من الصحابۃ اتقی منہ۔و لامساویا لہ فی التقوی اذاثبت ھذا فنقول کل صحابۃ فہولیس باتقی من ابی بکر ومن لیس باتقی منہ لیس باکرم منہ۔انتج ان کل صحابۃ فہو لیس باکرم من ابی بکر وصغری القیاس معدولۃ کما لوحنا الیہ بتقدیم اداۃ الربط علی حرف السلب ولك ان تجعلھا موجبۃ سالبۃ المحمول اعنی علی قول قوم من المتاخرین و یرشدك الی مایزیح وھمك جعل السلب فی الکبری مراۃ الملاحظۃ افراد الاوسط۔ و ان شئت لم تعکس الایۃ الاولی ایضا ونسجت الشکل کل اکرم اتقی(یعنی ہر اکرم سب سی بڑا متقی ہے)اور اس کا عکس نقیض ہمارا یہ قول ہے کہ من لیس باتقی لیس باکرم(جو اتقی سب سے بڑا متقی نہیں ہے وہ اکرم نہیں ہے)اور ہم نے ان کلمات میں جو ہم پہلے کہہ چکے عرش تحقیق کو ثابت کردیا کہ مراد اتقی سے آیت ثانیہ یعنی الله تبارك و تعالی کے قول " و سیجنبہا الاتقی ﴿۱۷﴾" میں تمام صحابہ سے زیادہ متقی شخص مراد ہے تو ضروری ہے کہ صحابہ میں کوئی اس سے بڑھ کر متقی نہ ہو اور نہ تقوی میں اس کے کوئی مساوی ہو۔جب یہ ثابت ہوگیا تو ہم کہتے ہیں کہ ہر صحابی ابوبکر سے بڑھ کر متقی نہیں اور جو ان سے بڑھ متقی نہیں وہ کرامت میں ان سے بڑھ کر نہیں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر صحابی ابوبکر سے زیادہ عزت والا نہیں اور اس قیاس کا صغری معدولہ ہے جیسا کہ ہم نے اس کی طرف ادات ربط کو حرف سلب پر مقدم کرکے اشارہ کیا اور تمہیں اختیار ہے کہ تم اس قضیہ کو موجبہ سالبۃ المحمول بناؤ یعنی متاخرین میں سے ایك قوم کے قول پر اور تمہاری رہنمائی اس بات کی طرف جو تمہارے وہم کو دور کردے سلب کو کبری میں افراد اوسط کے لیے مراۃ ملاحظہ بنانے سے ہوگی۔اور اگر تم چاہو تو آیت اولی کا عکس نہ کرو اور شکل کو آیت ثانیہ کے طرز پر منتظم کرو بایں طور کہ تم کہو کہ کوئی صحابی ابوبکر سے بڑھ کر عزت والا نہیں۔اور شاید تم اس کو قیاس استثنائی کے طورپر
#813 · الزلال النقی
علی منوال الثانی بان تقول لاشیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و کل اکرم من ابی بکر اتقی منہ انتج ان لا شیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و لعلك ان تقررہ قیاسا استثنا ئیا یرفع المقدم لرفع التالی فتقول لوکان احد من الامۃ اکرم من الصدیق لکان اتقی منہ لان کل اکرم اتقی لکنھم لیسوا باتقی منہ للایۃ الثانیۃ فلیسوا باکرم منہ وفیہ المقصود۔
تنبیہ:سیقول السفھاء من الناس ماولکم عن دعوئکم التی کنتم علیہا فان الثابت علی ھذہ التقاریر الثلثۃ الاخیرۃ انما ھو نفی اکرم من الصدیق وھو لا یستلزم اکرمیتہ رضی الله تعالی عنہ اذ یحتمل التساوی۔
اقول:اوقد قالوافلئن قالوا فلقدز اغوا۔
امااولا فنصوص الشرع و محاورات البلغاء طافحۃ بسوق الکلام الی غرض التفضیل علی الاطلاق علی ھذاالمساق یقولون لیس احد افضل من فلان ویریدون انہ افضل الکل وذلك لان التساوی مقرر رکھو جو مقدم کو ارتفاع تالی کی وجہ سے مرتفع کردے تو تم یوں کہو امت میں اگر کوئی صدیق سے بڑھ کر عزت والا ہوتا تو وہ ضرور صدیق سے بڑھ کر متقی ہوتا اس لیے کہ ہر اکرم اتقی ہے لیکن ساری امت صدیق سے بڑھ کر متقی نہیں بدلیل آیت ثانیہ۔تو وہ صدیق سے بڑھ کر عزت والے نہیں اور اسی میں ہمارا مقصود ہے۔

تنبیہ:اب کہیں گے بے وقوف لوگ اس دعوی سے جس پر تم قائم تھے کس چیز نے تمہیں پھیر دیا اس لیے کہ ان تین تقاریر اخیرہ پر جو ثابت ہوتا ہے وہ صدیق سے زیادہ عزت والے کی نفی ہے اور اس سے صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ کی (اولویت)سب پر لازم نہیں آتی اس لیے کہ تساوی کا احتمال ہے۔

اقول:کیا ان بے وقوفوں نے یہ بات کہی اگر انہوں نے ایسا کہا تو بے شك و ہ منحرف ہوگا۔
اولا نصوص شرع اور اہل بلاغت کے محاورے اس ڈھنگ سے بھرے ہیں کہ کلام کو علی الاطلاق فضیلت بتانے کی غرض سے اس طور پر لایا جاتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی فلاں سے افضل نہیں ہے اور مراد لیتے ہیں کہ وہ سب سے افضل ہے اور یہ اس لیے کہ تساوی حقیقی عادتا گویا
#814 · الزلال النقی
الحقیقی کالمحال عادۃ وعلیك بکلام شراح الحدیث۔
واما ثانیا:فلك ان تضم الیہ اجماع الامۃ علی وجود التفاضل والحق لایخرج عن اقوالھم۔
واما ثالثا:ھوالطراز المعلم ان العارف باسالیب الکلام یفھم من الایۃ الاولی تسبب التقوی لایراث الکرامۃ وقصر حصولہا علی حصولہ وبہ صرحت الاحادیث الناشیۃ عن ارشاد الایۃ اللاحظۃ الی ملحظ الکریمۃ انبأنا سراج الحنیفۃ بالسندعن الشریف عن محمد بن ارکماش عن العلامۃ ابن حجر عسقلانی عن عبدالرحمن بن احمد بن المبارك الغزی عن احمد بن ابی طالب الحجارعن علی بن اسمعیل بن قریش عن الحافظ المنذری قال فی کتاب الترغیب والترھیب عن عقبۃ بن عامر رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ان انسابکم ھذہ لیست بسباب علی احد وانما انتم ولد آدم طف الصاع لم تملؤوہ لیس لا حد فضل علی احد الابالدین او محال ہے اور تم شراح حدیث کے کلام کو لازم پکڑو۔
ثانیا:تمہیں یہ اختیار ہے کہ اس کے ساتھ وجود تفاضل پر امت کا اجماع ضم کرو اور حق اقوال امت سے باہر نہ ہوگا۔
ثالثا:اور وہ وجہ طراز معلم یہ کہ اسالیب کلام کا واقف آیت اولی سے سمجھتا ہے کہ تقوی عزت حاصل ہونے کا سبب ہے اور عزت کا حصول تقوی کے حصول پر منحصر ہے اسی کی تصریح ان احادیث نے کی کہ جو ارشاد آیت سے ناشی ہیں اور آیت کریمہ کے مطمح نظر کی طرف دیکھتی ہیں۔ہمیں سراج الحنفیہ نے خبر دی اپنی سند سے۔وہ روایت کرتے ہیں شریف سے۔وہ روایت کرتے ہیں محمد ابن ارکماش سے۔وہ روایت کرتے ہیں علامہ ابن حجر عسقلانی سے۔وہ روایت کرتے ہیں عبدالرحمن ابن احمد ابن مبارك غزی سے۔وہ روایت کرتے ہں احمد ابن ابی طالب حجار سے۔وہ روایت کرتے ہیں علی ابن اسمعیل ابن قریش سے۔وہ روایت کرتے ہیں حافظ منذری سے۔انہوں نے فرمایاکتاب الترغیب والترہیب میں کہ عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ سے ایك روایت ہے کہ رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا یہ نسب کسی کے لیے گالی نہیں ہے تم تو آدم کی اولاد ہو پیمانہ کی طرح جو تم نے نہیں بھرا کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا عمل صالح کے سبب۔اس
#815 · الزلال النقی
عمل صالح۔رواہ احمد والبیہقی کلاھما من روایۃ ابن لھیعۃ ولفظ البیہقی قال لیس لا حد علی احد فضل الابالدین او عمل صالح حسب للرجل ان یکون بذیا بخیلا۔وفی روایۃ لیس لاحد علی احد فضل الابدین اوتقوی وکفی بالرجل ان یکون بذیا فاحشا بخیلاقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم طف الصاع بالاضافۃ ای قریب بعضکم من بعض اھ
قلت واخرجہ الطبرانی فی حدیث طویل من طریق ابن عباس رضی الله تعالی عنہما ولفظہ انما انتم من رجل وامرأۃ کجمام الصاع لیس لاحد علی احد فضل الا بالتقوی اھ قولہ صلی الله تعالی لیہ وسلم کجمام الصاع جمام بالضم مایملأ والمعنی انکم متساوون فی القدر کحبات الصاع تکال فیعرف مقدار ھا و استواء ھا بمثلہا کیلا من حدیث کو روایت کیا احمد اور بیہقی دونوں نے ابن لہیعہ کی روایت سے۔اور بیہقی کے لفظ یوں ہیں۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا عمل صالح سے۔اور آدمی کے برا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ بدزبان کنجوس ہو۔اور ایك روایت میں ہے۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا تقوی سے۔اور آدمی کے لیے کافی برائی ہے کہ وہ بدگو بے حیاء کنجوس ہو۔ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قول"طف الصاع"اضافت کے ساتھ کا معنی یہ ہے یعنی تم میں سے بعض بعض کے قریب ہے۔انتہی۔
قلت(میں کہتا ہوں)اور طبرانی میں اس کی تخریج کی ایك حدیث طویل میں ابن عباس رضی الله تعالی عنہما کے طریق سےاور ان کے لفظ یہ ہیں۔تم لوگ ایك مرد اور عورت سے ہو جمام صاع کی طرح۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقوی سے انتہی۔حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا قول "جمام صاع"جمام بضم جیم وہ چیز ہے جو پیمانہ میں بھری جاتی ہے اور معنی یہ ہے کہ تم قدر میں ایك دوسرے سے برابر ہو پیمانہ کے حبوں کی طرح جس کو پیمانہ میں بھرا جاتا ہے تو ان کی مقدار اور ان کے مثل کے ساتھ
#816 · الزلال النقی
دون حاجۃ الی الوزن لتساویھا ثقلا واکتنازا وبہ قال المنذری عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہ"ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لہ انظر فان لست بخیر من احمر ولا اسود الا ان تفضلہ بتقوی ۔رواہ احمد و رواتہ ثقات مشھورون الا ان بکربن عبدالله المزنی لم یسمع من ابی ذر۔ا ھ


قلت والمرسل مقبول عندنا وعند ا لجمہور۔وبہ قال عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما قال خطبنا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی اوسط ایام التشریق خطبۃ الوداع فقال۔یا ایہاالناس ان ربکم واحدو ان اباکم واحد۔الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسودولا لا سود علی احمر الا بالتقوی ان اکرمکم عند الله اتقکم الاھل ان کی برابری پیمانہ میں معلوم ہوتی ہے اور انہیں تولنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ بوجھ اور موٹائی میں وہ برابر ہوتے ہیں۔اور اسی مضمون کو منذری نے ابو ذر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا"بے شك تم سیاہ فام سے اور سرخ سے بہتر نہیں اور نہ سیاہ فام تم سے بہتر ہے۔مگر یہ کہ تم اس پر فضیلت پاؤ تقوی کی وجہ سے۔"اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا۔اور اس کے راوی ثقہ معروف ہیں مگر یہ کہ بکر بن عبد الله مزنی نے اس حدیث کو ابوذر سے نہیں سنا۔انتہی
قلت(میں کہتا ہوں)اور مرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے۔اور اسی مضمون کی روایت کی جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایام تشریق کے درمیانی دن میں خطبہ الوداع دیا کہ فرمایا"اے لوگو۔بے شك تمہارا رب ایك ہے اور بے شك تمہارا باپ ایك ہے۔سنتے ہو عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں اور نہ عجمی کو عربی پر اور نہ سرخ کو کالے پر اور نہ کالے کو سرخ پر فضیلت ہے مگر تقوی سے۔بے شك الله کے نزدیك تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے
#817 · الزلال النقی
بلغتقالوابلی یارسول اﷲقال فلیبلغ الشاھد الغیبثم ذکرالحدیث فی تحریم الدماء والاموال والاعراض رواہ البیہقی وقال فی اسنادہ بعض من یجہل انتہی

قلت ولا یضرنا فی الشواھد واخرج الطبرانی فی الکبیر عن حبیب بن خراش رضی الله عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم المسلمون اخوۃ لا فضل لاحد علی احدالا بالتقوی۔ وبالجملۃ فالاحادیث کثیرۃ فی ھذاالمعنی ثم ان الکرامۃ والتقوی کلاھما مقولان بالتشکیك فکلما زاد زادت وکلما نقص نقصت و المتساویان فیہ یتساویان فیہا کالعصیان عــــــہ سبب للھوان فیزداد بزیادتہ وینتقص بانتقاصہ وھکذا فاذا ثبت ھذا کان معنی قولنا کل اکرم اتقی منحلا الی ثلث قضایا احدھا ھذہ والثانیۃ کل ناقص فی الکرم عن غیرہ ناقص عنہ فی التقوی سنتے ہو کیا میں نے رب کا پیغام پہنچادیا۔صحابہ نے عرض کی کیوں نہیں۔یارسول اللہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)فرمایا اب جو حاضر ہیں وہ غائبین کو پہنچادیں۔پھر حدیث ذکر کی جو لوگوں کے خون۔مال اور آبرو کی حرمت میں ارشاد ہوئی۔ اسے بیہقی نے روایت کیا اور کہا اس کی سند میں بعض مجہول ہیں۔
قلت(میں کہتا ہوں)شواہد میں ہم کو راوی کی جہالت مضر نہیں۔طبرانی نے معجم کبیر میں حبیب بن خراش رضی الله تعالی عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقوی سے۔بالجملہ اس معنی کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں مگر کرامت اور تقوی دونوں تشکیك کے ساتھ بولے جاتے ہیں تو جب تقوی زیادہ ہوگا کرامت زیادہ ہوگی اور جب تقوی کم ہوگا کرامت کم ہوگی۔اور تقوی میں متساوی کرامت میں متساوی ہوں گے جیسے کہ عصیان سبب ذلت کا۔تو ذلت عصیان کی زیادتی سے زیادہ اور اس کی کمی سے کم ہوتی ہے۔اور یونہی جب یہ بات ثابت ہے تو ہمارے قول"کل اکرم اتقی"کے معنی کی تحلیل تین قضیوں کی طرف ہوگی ان کا ایك تو یہی ہے اور دوسرا

عــــــہ: ای فی اصل قضیۃ المجازاۃ اماتدارك الرحمۃ ففضل الہی یختص بہ من یشاء ما اسلفنا تحقیقہ(۱۲ منہ)غفرلہ۔ یعنی اصل مقتضائے مجازات میں رہا تدارك رحمت تویہ فضل الہی ہے الله تبارك و تعالی جسے چاہے اس کے ساتھ مخصوص فرماتا ہے۔جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق گزشتہ میں کی ۱۲ منہ غفرلہ
#818 · الزلال النقی
والثالث کل متساویین فیھا متساویان فیہ والایۃ الثانیۃ ایضاتنحل الی ثلث مقدمات"ابوبکر اتقی الکل"وھو المنطوق ولا یزید علیہ احد فی التقوی و لایساویۃ احدفیہ و عندھذا لیسہل علیك دفع الاشکال ونظم الاشکال لقطع الاحتمال والحمد ﷲ المھیمن المتعال ھذا ما الھمنا المولی تبارك وتعالی بمنیع فضلہ ورفیع کرمہ ومنحنا من عظام الائہ وحسان نعمہ فی تقریر دلیل اھل السنۃ والجماعۃ ودفع شبہات(اھل)البطالۃ والخلاعۃ وارجو ان تکون عامۃ ما فی تلك الخیام من عرائس بیض تجلو الظلام وبسائم تکشرعن برد الغمام۔اکون انا ابا عذر تہا وما ذون الدخول فی حجرتہا وان قال الاول لیس علی الله بمستنکر ان یجمع العالم فی واحد۔ فقلت انا قد قدر الله فلا تنکر۔ان لحق العاجز بالقادر کیف وقد فازبافضالہ ال۔کل فما ظنك بالقادری۔ یہ ہے کل ناقص فی الکرم عن غیرہ ناقص عنہ فی التقوی (عزت میں دوسرے سے کم تر اس سے تقوی میں کمتر ہے) اور تیسرا کل متساویین فیہا متساویان فیہ(ہر وہ شخص جو تقوی میں برابر ہیں وہ عزت میں برابر ہیں)اور اس صورت میں تمہیں اشکال کا دفع کرنا قطع احتمال کے سبب آسان ہے اور سب تعریفیں الله کے لیے جو نگہبان و برتر ہے۔۔۔۔۔۔یہ وہ ہے جو ہمیں الله تبارك و تعالی نے الہام فرمایا اپنے فضل عظیم اور کرم رفیع سے۔اور بخشا ہمیں اپنے عظیم احسانوں سے۔اور حسین نعمتوں سے اہلسنت و جماعت کی دلیل کی تقریر میں تائید اور اہل بطالت و ضلالت کے شبہات کے دفع کرنے کے لیے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ان خیموں میں جو خوبصورت دلہنیں ہیں وہ اندھیروں کو دور کریں اور مسکراتی صورتیں جو بارش کے اولے دکھائیں ان میں سے اکثر کا میں ہی صاحب ہوں۔اور ان کے حجرے میں دخول کا مجاز ہوں۔ اور مجھ سے پہلے نہ کہا تھا کہ الله پر مستبعد نہیں کہ عالم کو ایك میں جمع کردے۔تو میں نے کہا بے شك الله نے مقدر کیا تو اس کا انکار نہ کرنا کہ الله نے عاجز کو قادر سے ملحق کردیا۔یوں نہ ہو حالانکہ الله کے فضل سے سب بہرہ مند ہیں تو تیرا کیا گمان ہے۔قادری کے ساتھ۔
#819 · الزلال النقی
خاتمہ:رزقنا الله تعالی حسنہا امین فان قلت لقد تفضل الله علیك یا وضیع القدر فنطقت بکلمات بلغن قاموس البحر فماذا تأمرنی فی المسئلۃ اقطع بتفضیل الصدیق نظرا الی ھذا الاستدلال۔مع مافی الایۃ من تاویل واحتمال۔اذ ذھب ذاھبون الی ان الا تقی بمعنی التقی وان زیفت قولھم بتحقیق نقی۔

قلت نعم اقطع ولاتبال بما قیل او مایقال اذ قاطعان لایأتیان قط الا بقطع وقد سمعت ان الصدیق ھو المراد بالاتقی باجماع الامۃ قاطبۃ ولم ینقل فی ذلك شذوذ شاذ فکان قطعیا والایۃ الا خری نص فی المرام لا شك اماما ذکرت من حدیث من ذھب الی ما ذھب فقد سمعت ان الایۃ لا مساغ فیھا للتا ویل واحتمال بلا دلیل لاینزل التنزیل عن درجۃ برھان قاطع جلیلالا تری ان کل نص یحتمل التاویل ومع ذلك ھو قطعی قطعا کما صرح بہ ائمۃ الاصول۔ خاتمہ:الله تبارك و تعالی ہمیں حسن خاتمہ نصیب کرے۔اب اگر تم کہو بے شك الله نے اے کمترین۔تیرے اوپر احسان فرمایا تو تو نے وہ کلمات بولے جو سمندر کی گہرائیوں میں پہنچ گئے۔اب مجھے اس مسئلہ میں کیا حکم دیتا ہے۔آیا میں فصیلت صدیق کا یقین لاؤں۔اس استدلال پر نظر کرتے ہوئے باوجود یہ کہ اس آیت میں تاویل و احتمال ہے اس لیے کہ جانے والے اس طرف گئے کہ اتقی بمعنی تقی ہے اگرچہ تو نے ان کا قول ستھری تحقیق سے غلط ثابت کردیا۔
قلت(میں کہتا ہوں)ہاں یقین کر اور قیل و قال کی پرواہ نہ کر۔اس لیے کہ دو قطعی نتیجہ نہیں دیتے مگر قطعی کا۔اور تم سن چکے کہ صدیق ہی مراد ہیں اتقی سے ساری امت کے اجماع کے بموجب اور اس میں کسی نادر کی رائے شاذ بھی منقول نہیں۔تو یہ اجماع قطعی ہوا۔اور دوسری آیت مدعا میں نص ہے جس میں کوئی شك نہیں۔رہی وہ بات جو تم نے اس رائے کی کہی جس کی طرف جانے والے گئے۔تو تم سن چکے کہ آیت میں تاویل کی گنجائش نہیں ا ور احتمال بے دلیل تنزیل کو برہان قاطع جلیل کے درجے سے نازل نہیں کرتا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر نص تاویل کی محتمل ہے اور وہ اس کے باوجود یقینا قطعی ہے جیسا کہ ائمہ اصول نے اس کی تصریح کی۔
#820 · الزلال النقی
وتحقیق المقام علی ما الھمنی الملك العلام ان العلم القطعی یستعمل فی معنیین۔
احدھما:قطع الاحتمال علی وجہ الاستیصال بحیث لایبقی منہ خبرولا اثروھذاھو الاخص الاعلی کما فی المحکم والمتواتر وھو المطلوب فی اصول الدین فلا یکتفی فیہا بالنص المشہور۔
والثانی:ان لایکون ھناك احتمال ناش من دلیل و ان کان نفس الاحتمال باقیا التجوز و التخصیص و سائر انحاء التاویل کما فی الظواھر والنصوص و الاحادیث المشہورۃ والاول یسمی علم الیقین و مخالفہ کافر علی الاختلاف فی الاطلاق کما ھو مذھب فقہاء الافاقوالتخصیص بضروریات الدین ما ھو مشرب العلماء المتکلمین۔و الثانی علم الطمانیۃ و مخالفہ مبتدع ضال ولا مجال الی اکفارہ کمسئلۃ وزن الاعمال یوم القیمۃ قال تعالی
" والوزن یومئذ الحق " ویحتمل النقد احتمالا لاصارف اور مقام کی تحقیق اس طور پر جو مجھے الله ملك العلام نے الہام کیا یہ ہے کہ علم قطعی دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔
ایك تویہ کہ احتمال جڑ سے منقطع ہوجائے بایں طور کہ اس کی کوئی خبر یا اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔اور یہ اخص اعلی ہے جیسا کہ محکم اور متواتر میں ہوتا ہے۔اور اصول دین میں یہی مطلوب ہے۔تو اس میں نص مشہور پر کفایت نہیں ہوتی۔
دوسرا:یہ کہ اس جگہ ایسا احتمال نہ ہو جو دلیل سے ناشی ہو اگرچہ نفس احتمال باقی ہو۔جیسے کہ مجاز اور تخصیص۔اور باقی وجوہ تاویل۔جیسا کہ ظواہر اور نصوص اور احادیث مشہورہ میں ہے۔اور پہلی قسم کا نام علم یقین ہے اور اس کا مخالف کافر ہے علماء میں اختلاف کے بموجب مطلقا۔جیسا کہ فقہائے آفاق کا مذہب ہے یا ضروریات دین کی قید کے ساتھ یہ حکم مخصوص ہے جیسا کہ علمائے متکلمین کا مشرب ہے اور دوسرے کا نام علم طمانیت ہی اور اس کا مخالف بدعتی و گمراہ ہے اور اس کو کافر کہنے کی مجال نہیں۔جیسے کہ قیامت کے دن اعمال کو تولنے کا مسئلہ۔الله تعالی کا قول ہے"اور قیامت کے دن تول ہونا برحق ہے"اور یہ آیت نقد(پرکھ)کا ایسا احتمال رکھتی ہے۔
#821 · الزلال النقی
الیہ ولا دلیل اصلاعلیہ فیکون کقولک"وزنتہ بمیزان العقل"وھورائج فی العجم ایضا تقول"سخن سنج"ای ناقدا لکلام۔ و مسئلۃ رؤیۃ الوجہ الکریم للمؤمنین۔رزقنا المولی بفضلہ العمیم۔قال تعالی
" وجوہ یومئذ ناضرۃ ﴿۲۲﴾ الی ربہا ناظرۃ ﴿۲۳﴾" ویحتمل احتمالا کذلك ارادۃ الامل و والرجاء وھو ایضا مما توافقت علیہ العرب والعجم تقول"دست نگر من ست"ای یرجو عطائی ویحتاج الی نوالی وھکذا مسئلۃ الاسراء الی السموت العلی و الشفاعۃ الکبری للسید المصطفی علیہ افضل التحیۃ والثناء فکل ذل ثابت بنصوص قواطع بالمعنی الثانی۔ ولذا لا نقول بالکفار المعتزلۃ والروافض اولالین الماؤلین۔و ھکذا الظن لہ معینان اذ مقابل الاعم اخص والا عم اخص کما لا یخفی۔اذا عرفت ھذا فمسئلتنا ھذہ ان اریدفیہا القطع بالمعنی الاخص فھذا جس کی طرف پھیرنے والی کوئی چیز نہیں اور نہ اصلا اس پر کوئی دلیل ہے۔اب آیت کا معنی تمہارے قول"میں نے اس کو میزان عقل سے تولا"کے مثل ہوگا۔اور یہ عجم میں رائج ہے۔تم کہتے ہو"سخن سنج"یعنی کلام کو پرکھنے والا۔
اور مومنین کے لیے الله تبارك وتعالی کے دیدار کا مسئلہ۔ مولائے کریم اپنے فضل عظیم سے نصیب فرمائے۔الله تعالی نے فرمایا"کچھ منہ اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے "احتمال رکھتا ہے اسی طرح امید ورجاء کے ارادے کا۔اور یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن پر اب عرب و عجم سب متفق ہیں۔تم کہتے ہو"دست نگر من ست"یعنی میری عطا کی امید رکھتا ہے اور میری بخشش کا محتاج ہے۔اور اسی طرح آسمانوں کی سیر اور شفاعت کبری محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لیے کہ یہ تمام باتیں دوسرے معنی پر نصوص قطعی سے ثابت ہیں۔اور اسی لیے ہم تاویل کرنے کے سبب معتزلہ اور اگلے روافض کی تکفیر نہیں کرتے۔اور اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں اس لیے کہ اعم کا مقابل اخص ہے اور اعم اخص ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارا یہ مسئلہ اگر اس میں قطعی بالمعنی الاخص مراد لیا جائے تو یہ
#822 · الزلال النقی
جبل وعرصعب المرتقی۔اذماوردفیہا فامانص او ظاھر وکلاھما یقبلان التاویل ولو قبولا ضعیفا بعیدا او ابعد اضعف مایکون کالا تقی فیما نحن فیہ یحتمل التجوز بالبالغ فی التقوی والخیر والافضل فی الاحادیث یحتمل تقدیر من کقول القائل"فلان اعقل الناس" وما جاء من الاحادیث مفسرا محکما فاحاد تطرق الیہا الاحتمال من قبل النقل لکنا مالنا ولھذا القطع اذلا نقول باکفار المفضلۃ ومعاذ الله ان نقول اما الا بتداع فیثبت بخلاف القطع بالمعنی الثانی وھو حاصل لا شك فیہ لایسوغ انکارہ الا لغافل او متغافل فقد تظافرت علیہ النصوص تظافرا جلیا و بلغت الاخبار تواترا معنویا والاحتمالات الرکیکۃ السخیفۃ الناشیۃ من غیر دلیل لا تقدح فی القطع بھذا المعنی کما صرحت بہ علماء الاصول و زادنا نورا الی نورو رشادا الی رشاد اجماع الصحابۃ الکرام و پہاڑ ہے سخت دشوار گزار چڑھائی والا۔اس لیے کہ اس میں جو کچھ وارد ہوا ہے یا تو نص ہے یا ظاہر ہے اور دونوں تاویل کو قبول کرتے ہیں اگرچہ ضعیف بعید یا بہت زیادہ ابعد اضعف سہی۔جیسے کہ ہمارے اسی مسئلہ میں جس میں ہمیں بحث ہے جیسے کہ اتقیتقوی اور خیر میں بالغیت کے معنی مجازی کا حتمال رکھتا ہے اور احادیث میں لفظ افضل کے مقدر ہونے کا احتمال رکھتا ہے جیسے کوئی کہے"فلان اعقل الناس"(فلاں شخص لوگوں سے زیادہ عاقل ہے)اور جو احادیث مفسرمحکم آئیں تو وہ خبر واحد ہیں جن میں روایت کی طرف سے احتمال راہ پاتا ہے لیکن ہمیں اس طرز کے قطعی سے کیا کام۔اس لیے کہ ہم تفضیلیوں کے کافر ہونے کا قول نہیں کرتے اور الله کی پناہ ہو کہ ہم یہ قول کریں۔لیکن ان کا بدعتی ہونا وہ تو ثابت ہے برخلاف قطعی بمعنی دیگر تو وہ بلاشك حاصل ہے جس کا انکار سوائے غافل یا غافل بننے والے کے کسی کو نہ بن پڑے گا اس لیے کہ اسپر واضح کثرت کے ساتھ نصوص آئیں اور احادیث تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئیں اور رکیك کمزور احتمالات جو کسی دلیل سے ناشی نہیں ہوتے اس معنی پر قطعی میں اثر انداز نہ ہوں گے۔جیسا کہ علمائے اصول نے اس کی تصریح کی ہے اور ہمارے لیے نور پر نور بڑھایا اور ہدایت کے اوپر ہم کو ہدایت کی صحابہ کرام ا ور
#823 · الزلال النقی
التابعین العظام ما نقلہ جمہور الائمۃ الاعلامہ منھم سیدنا عبد الله بن عمر وابوھریرۃ من الصحابۃ ومیمون بن مھران من التابعین والامام الشافعی من الاتباع وغیرھم من لایحصون لکثرتھم۔و حکایۃ ابن عبدالبرلا معقولۃ فی الدرایۃ ولا مقبولۃ فی الروایۃ کما حققناہ فی مطلع القمرین مع ما ارشدنا القرآن العظیم واحادیث المصطفی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم الی دلائل جمۃ توخذ منہما بالاستنباط ووفق لہا ھذا الفقیر الضعیف کما عقدنا لہا الباب الثانی من الکتاب البیر فلولا الاو احد من ھذہ لشفی وکفی ودفع کل ریب ونفیفکیف اذا کثرت وجلت وعقدت و حلت ورعدت و برقت و اضاء ت واشرفت فلا وربك لم یبق للشك محل ولا للریب مدخل والحمد لله الا علی الاجل۔ اما قول من قال انا وجدنا النصوص متعارضۃ فھذا اخبار عن نفسہ فکیف یحتج بہ علی من نظر وابصر ونقد واختبر فقتلہا خبرا واحاط بما لد یھا علما علی تابعین عظام کے اجماع نے۔جیسا کہ اس کو نقل کیا ہے جمہور آئمہ اعلام نے۔ان میں عبدالله بن عمر اور ابوہریرہ صحابہ میں سے۔اور میمون ابن مہران تابعین میں سے۔اور امام شافعی تبع تابعین میں سے۔اور ان کے سواجن کی گنتی نہیں بوجہ ان کی کثرت کے۔اور ابن عبدالبر کی حکایت نہ توازراہ درایت معقول ہے اور نہ روایت مقبول ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے مطلع القمرین میں مع ان دلائل کثیرہ کے جن کی طرف ہماری رہنمائی قرآن عظیم اور احادیث مصطفی کریمہ علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔یہ دلائل قرآن و حدیث سے استنباط کے ذریعہ ماخوذ ہیں اور ان کے لیے اس فقیر ناتواں کو توفیق ہوئی جیسا کہ ہم نے اس کے لیے اپنی کتاب کبیر کا باب دوئم باندھا ہے تو اگر ان دلائل میں سے نہ ہوتی مگر ایك دلیل تو وہ بھی شافی و کافی ہوتی اور ہر شك کی دافع و نافی ہوتی تو کیا گمان ہے جب کہ یہ دلائل کثیر و جلیل ہوں اور دین کی گرہیں باندھیں اور شبہوں کی رسیاں کھولیں اور گرجیں اور چمکیں اور روشن اور بلند ہوں تو تیرے رب کی قسم شك کا محل باقی رہا نہ شبہہ کا مدخل۔والحمد ﷲ الا علی الاجل۔رہی اس کی بات جس نے ہا ہم نے نصوص کو متعارض پایا تو یہ اس کی اپنی حالت کی خبر ہے۔تو وہ کیسے حجت لاتا ہے اس سے اس پر جس نے دیکھا اور غور کیا اور جا نچا اور پرکھا تو نصوص کو خوب پرکھ کے جان لیا اور انکے پاس جو علم ہے اس کا احاطہ
#824 · الزلال النقی
انہ ان ارادا التعارض الصوری وقد یطلق علیہ ایضا کقول الا صولیین یقدم المحکم علی المفسرو المفسر علی النص والنص علی الظاھر عند التعارض مع انہ لا تعارض لضعیف مع قوی فہذا لا یضرنا ولا ینفعہ وان اراد الحقیقی اعنی تزاحم الحجتین علی حد سواء فنقول معنا ناش عن غفول وعلی قائلہ اومن یمشی بمشیہ ان ینور دعواہ ببینۃ مبینۃ وانی لھم ذالك ولیت شعری الام یودی ضیق العطن اذا رأی احادیث لاتخیر وابین الانبیاء ولا تفضلونی علی یونس بن متی وافضل الانبیاء آدم وذالك (ای)خیرالبریۃ ابراھیم ایقول بتعارض النصوص فی تفضیل المصطفی کیا۔علاوہ بریں یہ کہ اگر اس نے تعارض صوری مراد لیا ا ور کبھی تعارض کا اطلاق اس پر بھی آتا ہے جیسے اصولی کہتے ہیں کہ محکم کو مفسر پر اور مفسر کو نص اور نص کو ظاہر پر تعارض کے وقت مقدم کیا جائے گا حالانکہ بلاشبہ ضعیف کا قوی کے ساتھ اصلا تعارض نہیں ہوتا تو یہ ہم کو نقصان نہ دے گا نہ اس کو فائدہ دے گا اور اگر اس نے تعارض حقیقی مراد لیا یعنی دو دلیلوں کا برابری کی حد پر ایك دوسرے کے مزاحم ہونا تو ہم کہیں گے یہ معنی غفلت سے ناشی ہے اور اس کے قائل پر یا جو اس کے طریقے پر چلے لازم ہے کہ اپنے دعوی کو روشن دلیل سے منور کرے اور ان کو یہ کیونکر بن پڑے گا۔اور کاش میں سمجھتا کہ کہ بندش کی تنگی کا انجام یا ہوگا جبکہ وہ یہ حدیثیں دیکھتے کہ انبیاء میں باہم ایك دوسرے کو فضیلت نہ دو اور مجھے یونس ابن متی پر فضلیت مت دواور آدم افضل انبیاء ہیں۔ اور ابراہیم خلق میں سب سے بہتر ہیں۔کیا وہ مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم
#825 · الزلال النقی
صلی الله تعالی علیہ وسلم علی العالمین جمیعا ام یرجع الی نفسہ فیدری ان التعارض شیئ ومجرد وجود النفی و الاثبات شیئ اخر۔
وبہذا التحقیق البدیع الانیق الذی خصنا بہ المولی تبارك وتعالی امکن لنا التوفیق بین کلمات الائمۃ الکرام فمن قال بالقطع ونفی الظن فانما ارادا لقطع بالمعنی الا عم والظن وبالمعنی الاخص وھو حق لا مریۃ فیہ ومن عکس فقد عکس وھو صدق لاغبار علیہ۔فان تخالج فی صدرك ان المسئلۃ من الاعتقادیات فکیف اکتفیتم بالقطع بالمعنی الثانی۔
قلت ھذا اشد ورودا علی القائلین بالظن ان ارادوا الظن بالمعنی الاخص والحل ان المسئلۃ لیست من اصول الاسلام حتی یکفر جاحدھا کمسئلۃ امامۃ الخلفاء الراشدین رضی الله تعالی عنہم اجمعین وبھذا المثال ینقطع قلب من قال من بطلۃ الزمان انہا اذا لم تکن من الاصول کما صریح بہ السید الشریف فی شرح المواقف کی سب جہان پر فضیلت میں تعارض نصوص کو مانے گا یا اپنے نفس کی طرف لوٹے گا تو سمجھے گا کہ تعارض ا یك شے ہے اور مجرد وجود نفی وا ثبات دوسری شے ہے۔اور اس تحقیق انیق و بے نظیر سے جو خاص الله تبارك و تعالی نے ہم کو عنایت کی ہم کو آئمہ کرام کے کلمات میں مطابقت ممکن ہے تو جس نے اس مسئلہ کو قطعی کہا اور ظن کی نفی کی تو اس نے قطعی بالمعنی الاعم ہی کو مراد لیا اور ظن بالمعنی الاخص۔ اور حق یہ ہے جس میں کوئی شبہ نہیں اور جس نے عکس کیا تو اس نے عکس کیا اور وہ سچ ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔اب اگر تمہارے سینے میں یہ خلش ہو کہ یہ مسئلہ تو اعتقادیات سے ہے تو تم نے معنی ثانی میں قطعی پر کیسے اکتفا کرلیا۔
قلت(میں کہتا ہوں)یہ اعتراض ان لوگوں پر جو ظنی کے قائل ہیں زیادہ سختی کے ساتھ وارد ہوتا ہے جب کہ وہ ظن بالمعنی الاخص مراد لیں۔اور اس کا حل یہ ہے کہ یہ مسئلہ اصول اسلام سے نہیں ہے کہ اس کا منکر کافر ٹھہرے۔جیسے کہ خلفائے راشدین رضی الله تعالی عنہم کی خلافت کا مسئلہ۔اور اس مثال سے اس کا دل ٹکڑے ہوجائے گا جو اس زمانہ کے اہل باطل میں سے کہتا ہے کہ جب یہ مسئلہ اصول میں سے نہیں جیسا کہ سید شریف نے شرح مواقف
#826 · الزلال النقی
وغیرہ من المتکلمین الفحول وکذا قد شہد علی نفسہ بالرسۃ الکبری فی مناصب الجہل والسفاھۃ من قال اذلم تکن قطعیۃ قلنا ان نطوی الکشح عن تسلیمھا قل لھم اترکوا لواجبات باسرھا ثم انظروا مایأتیکم من وعید الشریعۃ وتأثیمھا واذ قد علمت ان ھذا التحقیق یرفع الخلاف ویورث التطبیق فعلیك بہ اتفقت الاقوال اواختلفت اذ کلمۃ جامعۃ خیر من آراء متدافعۃ فان رأیت شیئا من کلمات المتاخرین تابی ھذا النور المبین فاعلم ان تخطیۃ ھذاالبعض خیر من تخطیۃ احد الفریقین من آئمہ الدینلاسیما القائلین بالقطع فھم العمد الکبار للدین الحنیف۔وبھم تشید ارکان الشرع المنیف۔ فمنہم من ھو اولہم واولھم سیدھم ومولیھم اکثرھم للتفضیل تفصیلا واشد ھم علی المخالف تنکیلا سیدنا المرتضی اسد الله العلی الاعلی کرم الله تعالی وجہہ الکریم اذقد تواتر عنہ فی ایام امامتہ و کرسی زعامتہ میں اور دوسرے علماء متکلمین نے اس کی تصریح کی اور یونہی مناسب جہل و حماقت میں اپنی زعمت کبری پر گواہی دی اس نے جس نے یہ کہا کہ جب یہ مسئلہ قطعی نہیں ہے تو ہمیں اختیار ہے کہ ہم اسے تسلیم کرنے سے پہلو تہی کریں۔ان سے ہو سارے واجبات کو چھوڑ دو پھر دیکھو کہ تمہارے پاس شریعت کی کیسی وعید اور تمہارے گنہ گار ہونے کی تہدید آتی ہے۔جب تم نے جان لیا کہ یہ تحقیق خلاف کو اٹھاتی اور کلمات علماء میں مطابق پیدا کرتی ہے تو تم اس کو لازم پکڑو اقوال متفق ہوں یا مختلف اس لیے کہ ایك جامع بات باہم ٹکراتی باتوں سے بہتر ہے تو اگر تم دیکھو کلمات متاخرین میں کوئی عبارت اس نور مبین سے اباء کرتی ہے تو جان لو کہ اس بعض کو خاطی جاننا بہتر ہے اس سے کہ آئمہ دین میں کسی فریق کو خاطی ٹھہرایا جائے خصوصا وہ آئمہ کرام جو اس مسئلہ کو قطعی کہتے ہیں اس لیے کہ وہی دین حنیف کے بڑے ستون ہیں اور انہیں سے شرع بلند و برتر کے ستون قائم ہیں۔تو ان میں سے ایك وہ ہیں جو سب سے زیادہ اول و اولی اور ان سب کے سید و مولی اور مسئلہ تفضیل کو سب سے زیادہ بیان کرنے والے اور مخالفین کو سخت سزا کا خوف دلانے والے سیدنا علی مرتضی الله بلند وبالا کے شیر کرم الله تعالی وجہہ الکریم اس لیے کہ ان کے ایام خلافت اور کرسی زعامت میں
#827 · الزلال النقی
تفضیل الشیخین علی نفسہ وعلی سائرالامۃ۔ورمی بھابین اکتاف الناس و ظہورھم حتی جلی ظلام شکوك مدلھمۃ۔روی الدارقطنی عنہ رضی الله تعالی عنہ قال لااجداحدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلدتہ حد المفتری عــــــہ ۔ ان کا شیخین ابوبکر و عمر کو خود پر اور تمام امت پر فضیلت دینا تواتر سے ثابت ہوا اس کو لوگوں کے کندھوں اور پشتوں پر مارا یعنی اس مسئلہ کو لوگوں کے سامنے اور ان کے پیچھے خوب روشن کیا یہاں تك کہ تیرہ و تار شبہات کی اندھیری کو دور کر دیا۔دارقطنی نے اسی جناب سے روایت کیا۔فرمایا میں کسی کو نہ پاؤں گا جو مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دے مگر یہ کہ میں اس کو مفتری کی حد ماردوں گا۔

عــــــہ:وقد کان رضی الله تعالی عنہ یبوح بھذا فی المجامع الشاملۃ والمحافل الحافلۃ والمساجد الجامعۃ وفیھم من فیھم من الصحابۃ والتابعین لھم باحسان ثم لم ینقل عن احد منھم انہ ردقولہ ھذا ولقد کانوا اتقی الله تعالی من ان یسکنوا عن حق اویقروا علی خطاؤ ھم الذین وصف اﷲ سبحنہ وتعالی فی القرآن العظیم بانھم " خیر امۃ اخرجت اور سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ عام مجمعوں میں اور بھری محفلوں میں اور جامع مسجدوں میں اس بات کا اعلان فرماتے تھے اور لوگوں میں صحابہ اور تابعین کرام موجود ہوتے تھے پھر ان میں سے کسی سے یہ منقول نہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ کے اس قول کو رد کیا ہو اور بے شك وہ الله تعالی سے بہت ڈرنے والے تھے اور اس بات سے دور تھے کہ حق بتانے سے خاموش رہیں یا کسی خطا کو مقرر رکھیں حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا الله تبارك و تعالی نے قرآن عظیم میں یوں بیان فرمایا"اور تم بہترین امت ہیں جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی کہ (باقی حاشیہ برصفحہ ائندہ)
#828 · الزلال النقی
قال سلطان الشان ابوعبدالله الذھبی حدیث صحیح۔

قلت انظر الی ھذا الوعید الشدیدا افتراہ معاذ الله مجترأعلی الله تعالی فی اجراء الحدود مع تعارض الظنون وھو الراوی عن النبی صلی الله تعالی علی وسلم ادرؤاا لحدود اخرجہ عنہ الدار قطنی والبیھقی۔
وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم ادرؤا الحدود عن المسلمین ما استطعتم اس فن کے سلطان حضرت ابوعبدالله ذہبی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
قلت(میں کہتا ہوں)اس وعید شدید و دیکھو تو کیا تم حضرت علی کو گمان کرو گے پناہ بخدا الله تبارك و تعالی پر جرا ت کرنے والا حدود کو جاری کرنے میں باوجود گمانوں کے تعارض کے حالانکہ وہی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ فرمایا"حدود کو دفع کرو۔مولی علی رضی الله تعالی عنہ سے بیہقی ودارقطنی نے روایت کیا اور فرمایا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے"مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو جب تك تم کو استطاعت ہے۔تم اگر تم مسلمان کے لیے کوئی راہ خلاص پاؤ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر " وائمتھم الکرام کانوااتقی ومنھم احرص علی الرشد والصواب۔ و قد کانوا یحثون العلماء علی ابانۃ الحق ان خطاء وتقویمہ الاودان مالوا۔ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو"اور اس گروہ کے آئمہ کرام ان سے زیادہ متقی اور ہدایت و صواب پر ان سے زیادہ حریص تھے اور علماء کو حق ظاہر کرنے پر اکساتے تھے اگر ان سے خطا ہو اور کجی کو درست کرنے کی ترغیب دیتے تھے اگر وہ منحرف ہوں۔
#829 · الزلال النقی
فان وجد تم للمسلم مخرجا فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطی فی العفو خیر من ان یخطی فی العقوبۃ رواہ ابن ابی شیبۃ والترمذی والحاکم و البیہقی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہما ومنہم میمون ابن مھر ان من فقہاء التابعین سئل ابوبکر و عمر افضل ام علی۔فقف شعرہ و ارتعدت فرائصہ حتی سقطت عصاہ من یدہ وقال ما کنت اظن ان اعیش الی زمان یفضل الناس فیہ احدا علی ابی بکرو عمر اوکما قال رواہ ابونعیم عن فرات بن السائب۔ومنہم عالم المدینۃ الامام مال بن انس رضی الله تالی عنہ سئل عن افضل الناس بعد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم تو اس کا راستہ چھوڑ دو اس لیے کہ امام کا درگزر میں خطا کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ عقوبت میں خطا کرے"اس حدیث کو ابن ابی شیبہ۔ترمذی۔حاکم اور بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا اور انہیں میں سے حضرت میمون ابن مہران ہیں جو کہ فقہائے تابعین سے ہیں ان سے سوال ہوا کہ سیدنا ابوبکر و عمر افضل ہیں یا علی تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ان کی رگیں پھڑکنے لگیں یہاں تك کہ چھڑی ان کے ہاتھ سے گر گئی اور انہوں نے کہا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ میں اس زمانہ تك جیوں گا۔جس میں لوگ ابوبکر و عمر پر کسی کو فضیلت دیں گے۔یا جیسا انہوں نے فرمایا اس حدیث کو روایت کیا ابونعیم نے فرات بن سائب سے۔اور انہیں میں سے عالم مدینہ امام مالك بن انس رضی الله تعالی عنہ ہیں ان سے سوال ہوا رسول ا لله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں سے افضل کے بارے میں۔تو فرمایا ابوبکر و عمر۔پھر
#830 · الزلال النقی
فقال ابوبکر و عمر۔ثم قال اوفی ذلك شك ومنہم الامام الاعظم الاقدم الاعلم الاکرم سیدنا ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ سئل ن علامات اھل السنۃ فقال ان تفضل الشیخین وتحب الختنین و تمسح علی الخفین ومنھم عالم قریش مالئی طباق الارض علما سیدنا الامام محمد بن ادریس الشافعی المطلبی نقل اجماع الصحابۃ والتابعین علی تفضیل الشیخین ولم یحك خلافا ومنہم امام اھل السنۃ و الجماعۃ صاحب الحکمۃ الیمانیۃ سیدنا الامام ابو الحسن الاشعری رحمۃ الله تعالی علیہ کما نقل عنہ العلماء الثقات ومنھم الامام الھمام حجۃ الاسلام ذکر فی قواعد عقائد الاماجد وذر فیہا مسئلۃ التفضیل وقال فی اخرھا ان فضل فرمایا کیا اس میں کوئی شك ہے۔اور انہیں میں سے امام اعظم اقدم سب سے زیادہ علم رکھنے والے سب سے زیادہ مکرم سیدنا ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ ہیں ان سے سوال ہوا اہلسنت کی علامات کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا اہلسنت کی پہچان یہ ہے کہ تو شیخیں ابوبکر و عمر کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل جانے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دونوں دامادوں سے محبت کرے اور خفین پر مسح کرے۔انہیں میں سے عالم قریش زمین کے طباق کو علم سے بھرنے والے سیدنا امام محمد ابن ادریس شافعی مطلبی انہوں نے صحابہ اور تابعین ا فضیلت شیخین پر اجماع نقل کیا۔
اور انہیں میں امام اہلسنت و جماعت حکمت یمانیہ سیدنا امام ابو الحسن اشعری رحمۃ الله تعالی علیہ ہیں۔جیسا کہ ان سے علمائے ثقات نے نقل کیا ا ور انہیں میں امام ہمام حجۃ الاسلام (غزالی) انہوں نے قواعد العقائد میں مجد والے آئمہ کے عقائد کو ذکر کیا اور ان عقائد میں مسئلہ تفضیل کو ذکر کیا اور اس کے آخر میں کہا کہ صحابہ رضی الله تعالی عنہم کی
#831 · الزلال النقی
الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم علی حسب ترتیبہم فی الخلافۃ اذ حقیقۃ الفضل ما ھو فضل عند الله عزوجل وذلك لا یطلع علیہ الارسول صلی الله تعالی علیہ وسلم وان یعتقد فضل الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم و ترتیبہم وان افضل الناس بعد النی صلی الله تعلای علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی الله تعالی عنہم ومنہم الامام جبل الحفظ علامۃ الوری سیدنا ابن حجر العسقلانی والامام العلام احمد بن محمد القسطلانی و المولی الفاضل عبدالباقی الزرقانی و ناظم قصیدۃ بدء الامالی والفاضل الجلیل مولانا علی القاری وغیرہم رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین حدثنا المولی الثقۃ الثبت سلالۃ العارفین السید الشریف الفاطمی سیدنا ابوالحسین احمد النوری قال سمعت شیخی و مرشدی سیدنا و مولانا ال الرسول الاحمدی قال سمعت الشآہ عبدالعزیز الدھلوی یقول تفضیل الشیخین قطعی او کا لقطعی۔ فضیلت خلافت میں ان کی ترتیب کے موافق ہے اس لیے کہ حقیقت فضل وہ ہے جو الله کے نزدیك فضل ہو اور اس پر رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا کسی کو اطلاع نہیں۔یا آدمی صحابہ رضوان اﷲ علیہم کی فضیلت اور اس میں ترتیب کا اعتقاد کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی الله تعالی عنہم۔اور انہیں میں امام حفظ کے پہاڑ علامہ جہاں سیدنا امام حجر عسقلانی اور امام علام احمد بن محمد قسطلانی اور مولی فاضل عبدالباقی زرقانی اور قصیدہ بدء الامالی کے ناظم اور فاضل جلیل مولانا علی قاری وغیرہم رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین ہیں۔ہم سے حدیث بیان کی مولی ثقہ ثبت سلالتہ العارفین سید شریف فاطمی سیدنا ابوالحسین نوری نے انہوں نے فرمایا میں نے سنا اپنے شیخ اور مرشد آل رسول احمدی سے انہوں نے فرمایا میں نے سنا شاہ عبدالعزیز دہلوی سے وہ فرماتے تھے شیخین کی فضیلت قطعی ہے یا قطعی جیسی ہے۔
#832 · الزلال النقی
اقول: ولك ان تحمل التردید علی التنویع دون التردد۔ فالمعنی قطعی بالمعنی الثانی وکالقطعی بالمعنی الاول۔ومن ھھنا بان لك ان من قال رأینا المجمعین ایضا ظانین غیر قاطعین فقد صدق ان ارادالظن بالمعنی الا عم والقطع بالمعنی الاخص۔ولا یضرنا ولا ینفعہ وان عکس فقد غلط وھو محجوج بدلائل لاقبل لہ بہاوالله تعالی اعلم۔ھذا جملۃ القول فی ھذاالمقام وقد اشرناك الی نکت تجلوبہا الظلام اما التفصیل فقد فرغنا عنہ فی کتاب التفضیل بتوفیق الملك الجلیل۔و لاحول ولا قوۃ الا بالله



لطیفۃ:قال الامام الرازی فی مفاتیح الغیب سورۃ و الیل سورۃ ابی بکر۔و سورۃ والضحی سورۃ محمد علیہ الصلوۃ والسلام ثم ماجعل بینہما واسطۃ لیعلم انہ لا واسطۃ بین محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وابی بکر فان ذکرت اللیل اولا وھو ابوبکر اقول:(میں کہتا ہوں)اور تمہیں اختیار ہے کہ تردید کو تقسیم پر محمول کرو نہ کہ تردد پر۔تو معنی یہ ہے کہ معنی ثانی پر فضیلت شیخین قطعی ہے اور معنی اول پر قطعی جیسی ہے اور یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ جس نے یہ کہا کہ ہم نے ا س مسئلہ میں اجماع کرنے والوں کو دیکھا کہ وہ بھی ظن پر قائم ہیں قطعی فیصلہ نہیں کرتے تو وہ سچا ہے اگر اس نے ظن بالمعنی الاعم مراد لیا اور قطعی بالمعنی الاخص کا قصد کیا۔اور یہ کہ ہم کو نقصان دہ نہیں اور اس کو سود مند نہیں اور اگر وہ اس کا عکس مراد لے تو اس نے غلط کہا اور اس پر ان دلائل سے حجت قائم ہے جن کے مقابل کی اس کو طاقت نہیں۔والله تعالی اعلم اس مقام میں یہ مختصر قول ہے اور ہم نے تمہیں اشارہ کیا ان نکتوں کی طرف جن سے اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔رہی تفصیل تو ہم اس سے فارغ ہوچکے ہیں۔کتاب تفصیل میں الله ملك جلیل کی توفیق سے۔اور برائی سے پھرنے اور نیکی یك طاقت نہیں مگر الله سے۔
لطیفہ:فرمایا امام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ سورہ واللیل ابوبکر کی سورۃ ہے اور سورہ والضحی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سورت ہے۔پھر الله تعالی نے ان سورتوں کے درمیان واسطہ نہ رکھا تاکہ معلوم ہو کہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم اور ابوبکر کے درمیان کوئی شخص واسطہ نہیں تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو وہ ابوبکر ہیں پھر
#833 · الزلال النقی
ثم صعدت وجدت بعدہ النہار وھو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم وان ذکرت والضحی اولا وھو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم نزلت وجدت بعدہ واللیل وھو ابوبکر لیعلم انہ لا واسطۃ بینھما انتہی
اقول:وکان تقدیم واللیل علی ھذا التقدیر لا نہا جواب عن طعن الکفار فی جناب الصدیق والضحی جواب عن طعنھم فی سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم وتبرئۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لا تستلزم تبرئۃ الصدیق لانہ صلی الله تعالی علیہ و سلم اعلی وبراءۃ الاعلی لا توجب براء ۃ الادنی و تبرئۃ الصدیق رضی الله تعالی عنہ یحکم تبرئۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالطریق الاولی اذ انما بری لا نہ عبد بذاك البرئ النقی صلی الله تعالی علیہ وسلم فکان فی تقدیم واللیل استعجالا الی الجواب عن الطعنین معا ولو اخرلتأ خرالجواب عن طعن الصدیق۔
اقول:تسمیۃ سورۃ الصدیق چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤ گے تو وہ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں۔پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤ گے اور وہ ابوبکر ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔
اقول:اور واللیل کو تقدیم اس تقدیر پر اس لیے ہے کہ وہ جناب صدیق کے بارے میں کفار کے طعنہ کا جواب ہے اور و الضحی ان کے طعنہ کا جواب ہے سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں۔اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی براء ت صدیق کی براء ت کو مستلزم نہیں اس لیے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعلی ہیں اور اعلی کی براء ت ادنی کی براءت کو لازم نہیں کرتی اور صدیق رضی الله تعالی عنہ کی براء ت بدرجہ اولے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی براء ت کا حکم کرتی ہے اس لیے کہ صدیق رضی الله تعالی عنہ اس لیے بری ہوئے کہ اس بری نقی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے غلام ہیں تو واللیل کی تقدیم میں ایك ساتھ دونوں طعنوں کے جواب کی حجت ہوئی اور اگر واللیل کو مؤخر کیا جاتا تو صدیق کے طعنہ کا جواب مؤخر ہوجاتا
اقول:سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله
#834 · الزلال النقی
باللیل وسورۃ المصطفی بالضحی صلی الله تعالی علیہ وسلم ورضی الله تعالی عنہ کا نہ اشارۃ الی ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نور الصدیق وھداہ ووسیلۃ الی الله بہ یبتغی فضلہ ورضاہ والصدیق رضی الله تعالی عنہ راحۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ووجہ انسہ وسکونہ واطمینان نفسہ و موضع سرہ ولباس خاصتہ فقد قال تبار و تعالی" و جعلنا الیل لباسا ﴿۱۰﴾" و قال تعالی " جعل لکم الیل و النہار لتسکنوا فیہ و لتبتغوا من فضلہ و لعلکم تشکرون ﴿۷۳﴾" وتلمیح الی ان نظام عالم الدین انما یقوم بھما کما ان نظام عالم الدنیا یقوم بالملوین فلولا النہار لما کان ابصارو لو لااللیل لما حصل قرار فالحمد لله العزیز الغفار۔

لطیفۃ:استنباط القاضی الامام ابوبکر الباقلانی من الایات تعالی عنہ کی سورت کو واللیل کا نام دینا اور مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سورت کا نام ضحی رکھنا گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صدیق کا نور اور ان کی ہدایت اور الله کی طرف ان کا وسیلہ جن کے ذریعہ الله کا فضل اور اس کی رضا طلب کی جاتی ہے اور صدیق رضی الله تعالی عنہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راحت اور ان کے انس و سکون اور اطمینان نفس کی وجہ ہیں اور ان کے محرم راز اور ان کے خاص معاملات سے وابستہ رہنے والے اس لیے کہ الله تبارك و تعالی فرماتا ہے"اور رات کو پردہ پوش کیا"اور الله تعالی فرماتا ہے"تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو اور اس لیے کہ تم حق مانو"اور یہ اس بات کی طرف تلمیح ہے کہ دین کا نظام ان دونوں سے قائم ہے جیسے کہ دنیاکا نظام دن رات سے قائم ہے تو اگر دن نہ ہو تو کچھ نظر نہ آئے اور رات نہ ہو تو سکون حاصل نہ ہو۔تو الله عزیز غفار ہی کے لیے حمد ہے۔
لطیفہ:قاضی امام ابوبکر با قلانی نے اس آیتہ کریمہ سے حضرت سیدنا مرتضی پر فضیلت
#835 · الزلال النقی
الکریمۃ وجہا اخر لتفضیل سیدنا الصدیق علی سیدنا المرتضی لقاھما الله تعالی باحسن الرضا۔ انبانا السراج عن الجمال عن السندی عن الفلانی عن محمد سعید عن محمد طاھر عن ابیہ ابراہیم الکردی عن القشاشی عن الرملی عن الزین زکریا عن ابن حجرعن مجد الدین الفیروز آبادی عن الحافظ سراج الدین القزوینی عن القاضی ابی بکر التفتازانی عن شرف الدین محمد بن محمد الھروی عن محمد بن عمر الرازی قال فی مفاتیح الغیب" ذکر القاضی ابوبکر الباقلانی فی کتاب الامامۃ فقال ایۃ الواردۃ فی حق علی کرم الله وجہہ الکریم: " انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء و لا شکورا ﴿۹﴾ انا نخاف من ربنا یوما عبوسا قمطریرا ﴿۱۰﴾"والایۃ الواردۃ فی حق ابی بکر" الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی ﴿۲۰﴾ و لسوف یرضی ﴿۲۱﴾"
فدلت الایتان صدیق کی دوسری وجہ استنباط کی۔الله تبارك و تعالی دونوں کو اپنی بہترین رضا سے ہمکنار کرے۔ہمیں خبر دی سراج نے وہ روایت کرتے ہیں جمال سے۔وہ روایت کرتے ہیں سندی سے۔وہ روایت کرتے ہیں محمد سعید سے۔وہ روایت کرتے ہیں محمد طاہر سے۔وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ ابراہیم ردی سے۔وہ روایت کرتے ہیں قشاشی سے۔وہ روایت کرتے ہیں رملی سے۔وہ روایت کرتے ہیں زین زکریا سے۔وہ روایت کرتے ہیں ابن حجر سے۔وہ روایت کرتے ہیں مجدالدین فیروز آبادی سے۔وہ روایت کرتے ہیں حافظ سراج الدین قزوینی سے۔وہ روایت کرتے ہیں قاضی ابوبکر تفتازانی سے۔وہ روایت کرتے ہیں شرف الدین محمد بن محمد الہروی سے۔وہ روایت کرتے ہیں محمد بن عمر رازی سے۔انہوں نے مفاتیح الغیب میں فرمایا قاضی ابوبکر باقلانی نے کتاب الامامۃ میں ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آیت جو علی کرم الله وجہہ الکریم کے حق میں وارد ہے"ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص الله کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے بے شك ہمیں اپنے رب سے ایك ایسے دن ا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے"اور وہ آیت جو ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے حق میں وارد ہوئی"صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب
#836 · الزلال النقی
ان کل احد منھما انما فعل ما فعل لوجہ الله الا ان ایۃ علی تدل علی انہ فعل ما فعل لوجہ الله وللخوف من یوم القیمۃ علی ما قال"انا نخاف من ربنا یوما عبوسا قمطریرا"واما ایۃ ابی بکر فانھا دلت علی انہ فعل ما فعل لمحض وجہ الله تعالی من غیر ان یشوبہ طمع فیما یرجع الی رغبۃ فی ثواب او رھبۃ من عقاب فکان مقام ابی بکر اعلی واجل انتھی




اقول:والتحقیق ان جملۃ جلۃ الصحابۃ الکرام رضی الله تعالی عنہم اجمعین ارقی فی مراقی الولایۃ والفناء عن الخلق والبقاء بالحق من کل من دونہم من اکابرالاولیاء العظام کائنین من کانوا۔وشانہم رضی الله تعالی عنہم ارفع واعلی من ان یقصدوا سے بلند ہے اور بے شك قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا"یہ دونوں آیتیں دلالت کرتی ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایك نے نیکی الله کی خوشنودی کے لیے کی مگر یہ کہ سیدنا علی کے حق میں جو آیت اتری وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ الله کی خوشنودی اور روز قیامت کے ڈر سے کیا اس بناء پر انہوں نے کہا"بےشك ہمیں اپنے رب سے ایك ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش اور نہایت سخت ہے"اور سیدنا ابوبکر رضی الله تعالی عنہ کے حق میں اترنے والی آیت وہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا محض الله کے لیے کیا بغیر اس کے کہ اس میں کچھ طمع کا شائبہ ہو اس امر میں جو ثواب میں رغبت یا عذاب میں ہیبت کی طرف لوٹتا ہے۔تو ابوبکر رضی الله تعالی عنہ کا مقام اعلی اور اجل ہوا انتہی
اقول:(میں کہتا ہوں)اور تحقیق یہ ہے کہ تمام اجلہ صحابہ کرام مراتب ولایت میں اورخلق سے فنا اور حق میں بقا کے مرتبہ میں اپنے ماسوا تمام اکابراولیاء عظام سے وہ جو بھی ہوں افضل ہیں۔اور ان کی شان ارفع واعلی ہے اس سے کہ وہ اپنے اعمال سے غیر الله کا قصد کریں۔لیکن مدارج متفاوت ہیں اور مراتب ترتیب کے ساتھ
#837 · الزلال النقی
باعمالھم غیر الله سبحنہ وتعالی لکن المدارج متفاوتۃ والمراتب مترتبۃ وشئی دون شئی وفضل فوق فضل۔و مقام الصدیق حیث انتھت النہایات وانقطعت الغایات ذاھورضی ا لله تعالی عنہ کما صرح بہ امام القوم سیدی محی الملۃ والدین ابن عربی قدس الله تعالی سرہ الزکی امام الائمۃ ومالك الازمۃ ومقامہ فوق الصدیقیۃ ودون النبوۃ التشریعیۃ و لیس احدبینہ و بین مولاہ الاکرم محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی اسم خاتم الرسالۃ ختمنا الرسالۃوالحمد ﷲ مولی الجلالۃ
تم الکتاب علی ثناء الہاشمی
ختم الالہ لنا علی اسم الخاتم
" سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون ﴿۱۸۰﴾ و سلم علی المرسلین ﴿۱۸۱﴾ والحمد للہ رب العلمین ﴿۱۸۲﴾" ۔ ہیں اور کوئی شے کسی شے سے کم ہے اور کوئی فض کسی فضل کے اوپر ہے اور صدیق(رضی الله تعالی عنہ)کا مقام وہاں ہے جہاں نہایتیں ختم اور غایتیں منقطع ہوگئیں اس لیے کہ صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ امام القوم سیدی محی الدین ابن عربی قدس سرہ الزکی کی تصریح کے مطابق پیشواؤں کے پیشوا اور تمام کی لگام تھامنے والے اور ان کا مقام صدیقیت سے بلند اور تشریع نبوت سے کمتر ہے۔ان کے درمیان اور ان کے مولائے اکرام محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے درمیان کوئی نہیں۔اور خاتم رسالت کے نام ہم نے اپنا یہ رسالہ تمام کیا اور الله کے لیے حمد ہے جو مالك ہے جلالت کا۔ کتاب رسول ہاشمی کی ثناء پر تمام ہوئی اور الله تعالی ہمارا خاتمہ فرمائے۔خاتم النبین کے نام پر۔" سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون ﴿۱۸۰﴾ و سلم علی المرسلین ﴿۱۸۱﴾ والحمد للہ رب العلمین ﴿۱۸۲﴾"
_________________
رسالہ الزلال الانقی من بحرسبقۃ الاتقی ختم ہوا
نوٹ
جلد ۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم فضائل و مناقب کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی
جلد ۲۹ کتاب الشتی کے حصہ چہارم سے شروع ہوگی ان شاء الله تعالی۔
_______________________
Scroll to Top