Alif-Lam-Ra*; these are verses of the clear Book. (* Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
यह रोशन किताब की आयतें हैं
Ye roshan kitaab ki aayatein hain.
(ف2)جس کا اعجاز ظاہر اور مِن عندِ اللہ ہونا واضح اور معانی اہلِ علم کے نزدیک غیر مُشتَبَہ ہیں اور اسمیں حلال و حرام ، حدود و احکام صاف بیان فرمائے گئے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں متقدِّمین کے احوال روشن طور پر مذکور ہیں اور حق و باطل کو ممتاز کر دیا گیا ہے ۔
ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،
We relate to you the best narrative because We have sent the divine revelation of this Qur’an, to you; although surely you were unaware before this.
हम तुम्हें सब अच्छा बयान सुनाते हैं इस लिए कि हमने तुम्हारी तरफ इस कुरआन की wahi भेजी अगरच बेशक इससे पहले तुम्हें खबर न थी,
Hum tumhein sab achha bayan sunate hain is liye ke hum ne tumhari taraf is Qur’an ki wahi bheji, agarche beshak is se pehle tumhein khabar na thi.
(ف3)جو بہت سے عجائب و غرائب اور حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس میں دین و دنیا کے بہت فوائد اور سلاطین و رعایا اور عُلَماء کے احوال اور عورتو ں کے خصائص اور دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر اور ان پر قابو پانے کے بعد ان سے تجاوز کرنے کا نفیس بیان ہے جس سے سننے والے میں نیک سیرتی اور پاکیزہ خصائل پیدا ہوتے ہیں ۔ صاحبِ بحرالحقائق نے کہا کہ اس بیان کا احسن ہونا اس سبب سے ہے کہ یہ قصّہ انسان کے احوال کے ساتھ کمال مشابہت رکھتا ہے ، اگر یوسف سے دل کو اور یعقوب سے روح اور راحیل سے نفس کو ، برادرانِ یوسف سے قوی حواس کو تعبیر کیا جائے اور تمام قصّہ کو انسانوں کے حالات سے مطابقت دی جائے چنانچہ انہوں نے وہ مطابقت بیان بھی کی ہے جو یہاں بنظرِ اختصار درج نہیں کی جا سکتی ۔
یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ (ف٤) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انھیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)
Remember when Yusuf (Joseph) said to his father, “O my father! I saw eleven stars and the sun and the moon – I saw them prostrating to me.”
याद करो जब यूसुफ ने अपने बाप से कहा ऐ मेरे बाप मैंने ग्यारह तारे और सूरज और चाँद देखे उन्हें अपने लिए सिज्दा करते देखा
Yaad karo jab Yusuf ne apne baap se kaha, “Aye mere baap! Maine gyaarah taare aur sooraj aur chaand dekhe, unhein apne liye sajda karte dekha.”
(ف4)حضرت یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہم السلام ۔(ف5)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ان سب نے آپ کو سجدہ کیا ، یہ خواب شبِ جمعہ کو دیکھا یہ رات شبِ قدر تھی ۔ ستاروں کی تعبیرآپ کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ یا خالہ ، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہو چکا تھا اس لئے قمر سے آپ کی خالہ مراد ہیں اور سجدہ کرنے سے تواضع کرنا اور مطیع ہونا مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقۃً سجدہ ہی مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدہ تحیّت تھا ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عمر شریف اس وقت بارہ سال کی تھی اور سات اور سترہ کے قول بھی آئے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بہت زیادہ مَحبت تھی اس لئے ان کے ساتھ ان کے بھائی حسد کرتے تھے اور حضرت یعقوب علیہ السلام اس پر مطّلع تھے اس لئے جب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ خواب دیکھا تو حضرت یعقوب علیہ ا لسلام نے ۔
کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف٦) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)
He said, “O my child! Do not relate your dream to your brothers, for they will hatch a plot against you; indeed Satan is an open enemy towards mankind.”
कहा ऐ मेरे बच्चे अपना ख्वाब अपने भाइयों से न कहना वह तेरे साथ कोई चाल चलेंगे बेशक शैतान आदमी का खुला दुश्मन है
Kaha, “Aye mere bachay! Apna khwab apne bhaiyon se na kahna, woh tere saath koi chaal chalenge, beshak shaitan aadmi ka khula dushman hai.”
(ف6)کیونکہ وہ اس کی تعبیر کو سمجھ لیں گے ۔ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام جانتے تھے کہ اللہ تعالٰی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نبوّت کے لئے برگزیدہ فرمائے گا اور دارین کی نعمتیں اور شرف عنایت کرے گا ، اس لئے آپ کو بھائیوں کے حسد کا اندیشہ ہوا اور آپ نے فرمایا ۔(ف7)اور تمہاری ہلاکت کی کوئی تدبیر سوچیں گے ۔(ف8)ان کو کید و حسد پر ابھارے گا ۔ اس میں ایما ہے کہ برادرانِ یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام اگر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے ایذا و ضَرر پر اِقدام کریں گے تو اس کا سبب وسوسۂ شیطان ہوگا ۔ (خازن) بخاری و مسلم حدیث میں ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے چاہیئے کہ اس کو محِب سے بیان کیا جاوے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے جب کوئی دیکھنے والا وہ خواب دیکھے تو چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھتکارے اور یہ پڑھے اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ وَ مِنْ شَرِّھٰذِہِ الرُّوْیَا ۔
اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،
“And this is how your Lord will choose you and teach you how to interpret events, and will perfect His favours upon you and upon the family of Yaqub, the way He perfected it upon both your forefathers, Ibrahim and Ishaq; indeed your Lord is All Knowing, Wise.”
और इसी तरह तुझे तेरा रब चुन लेगा और तुझे बातों का अंजाम निकालना सिखाएगा और तुझ पर अपनी नेमत पूरी करेगा और याकूब के घर वालों पर जिस तरह तेरे पहले दिनों बाप दादा इब्राहिमؑ और इसहाकؑ पर पूरी की बेशक तेरा रब इल्म व हिकमत वाला है,
Aur isi tarah tujhe tera Rab chun le ga aur tujhe baaton ka anjaam nikaalna sikhaye ga aur tujh par apni naimat poori kare ga aur Ya’qub ke ghar walon par, jis tarah tere pehle dinon baap dada Ibrahim aur Ishaq par poori ki, beshak tera Rab ilm o hikmat wala hai.
(ف9)اجتباء یعنی اللہ تعالٰی کا کسی بندے کو برگزیدہ کر لینا یعنی چن لینا اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بندے کو فیضِ ربّانی کے ساتھ مخصوص کرے جس سے اس کو طرح طرح کے کرامات و کمالات بے سعی و محنت حاصل ہوں ۔ یہ مرتبہ انبیاء کے ساتھ خاص ہے اور ان کی بدولت ان کے مقرّبین صدیقین و شہداء و صالحین بھی اس نعمت سے سرفراز کئے جاتے ہیں ۔(ف10)علم و حکمت عطا کرے گا اور کتبِ سابقہ اور احادیثِ انبیاء کے غَوامِض کشف فرمائے گا اور مفسِّرین نے اس سے تعبیرِ خواب بھی مراد لی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام تعبیرِ خواب کے بڑے ماہر تھے ۔(ف11)نبوّت عطا فرما کر جو اعلٰی مناصب میں سے ہے اور خَلق کے تمام منصب اس سے فر و تر ہیں اور سلطنتیں دے کر دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز کر کے ۔(ف12)کہ انہیں نُبوّت عطا فرمائی ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا اس نعمت سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نارِ نمرود سے خلاصی دی اور اپنا خلیل بنایا اور حضرت اسحٰق علیہ الصلٰوۃ و السلام کو حضرت یعقوب اوراسباط عنایت کئے ۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱٤)
Indeed in Yusuf and his brothers are signs* for those who enquire**. (* Of the truthfulness of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Jews who enquired about their story.)
बेशक यूसुफ और उसके भाइयों में पूछने वालों के लिए निशानियाँ हैं
Beshak Yusuf aur uske bhaiyon mein poochhne walon ke liye nishaniyan hain.
(ف13)حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام کی پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں ان سے آپ کے چھ فرزند ہوئے ( ۱ ) روبیل (۲ ) شمعون (۳ ) لادی (۴) یہودا (۵ ) ز بولون (۶) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے (۷) دان (۸ ) نفتالی ( ۹) جاو (۱۰) آشر ، انکی مائیں زلفہ اور بلہہ ۔ لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی بہن راحیل سے نکاح فرمایا ان سے دو فرزند ہوئے (۱۱) یوسف (۱۲) بنیامین ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ صاحب زادے ہیں انہیں کو اسباط کہتے ہیں ۔(ف14)پوچھنے والوں سے یہود مراد ہیں جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کا حال اور اولادِ حضرت یعقوب علیہ السلام کے خطّۂ کنعان سے سر زمینِ مِصر کی طرف منتقل ہونے کا سبب دریافت کیا تھا ۔ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حالات بیان فرمائے اور یہود نے ان کو توریت کے مطابق پایا تو انہیں حیرت ہوئی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتابیں پڑھنے اور عُلَماء و احبار کی مجلس میں بیٹھنے اور کسی سے کچھ سیکھنے کے بغیر اس قدر صحیح واقعات کیسے بیان فرمائے ۔ یہ دلیل ہے کہ آپ ضرور نبی ہیں اور قرآنِ پاک ضرور وحیٔ الٰہی ہے اور اللہ تعالٰی نے آپ کو علمِ قُدس سے مشرف فرمایا علاوہ بریں اس واقعہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں اور حکمتیں ہیں ۔
جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱٦) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)
When they said, “Indeed Yusuf and his brother* are dearer to our father than we are, and we are one group; undoubtedly our father is, clearly, deeply engrossed in love.” (* Of the same mother.)
जब बोले कि जरूर यूसुफ और उसका भाई हमारे बाप को हम से ज्यादा प्यारे हैं और हम एक जमात हैं बेशक हमारे बाप सराहतً इन की मोहब्बत में डूबे हुए हैं
Jab bole ke zaroor Yusuf aur uska bhai humare baap ko hum se zyada pyare hain aur hum ek jamaat hain, beshak humare baap sarahatan un ki mohabbat mein doobe hue hain.
(ف15)برادرانِ حضرت یوسف ۔(ف16)حقیقی بنیامین ۔(ف17)قوی ہیں زیادہ کام آ سکتے ہیں ، زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام چھوٹے ہیں کیا کام کر سکتے ہیں ۔(ف18)اور یہ بات ان کے خیال میں نہ آئی کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی والدہ کا ان کی صِغر سِنی میں انتقال ہوگیا اس لئے وہ مزید شفقت و مَحبت کے مَورَد ہوئے اور ان میں رُشد و نَجابت کی وہ نشانیاں پائی جاتی ہیں جو دوسرے بھائیوں میں نہیں ہیں یہ سبب ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ زیادہ مَحبت ہے ۔ یہ سب باتیں خیال میں نہ لا کر انہیں اپنے والدِ ماجد کا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے زیادہ مَحبت فرمانا شاق گزرا اور انہوں نے باہم مل کر یہ مشورہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر سوچنی چاہئے جس سے ہمارے والد صاحب کو ہماری طرف زیادہ التفات ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ شیطان بھی اس مجلسِ مشورہ میں شریک ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قتل کی رائے دی اور گفتگوئے مشورہ اس طرح ہوئی ۔
یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)
“Kill Yusuf or throw him somewhere in the land, so that your father’s attention may be directed only towards you, and then after it you may again become righteous!”
यूसुफ को मार डालो या कहीं जमीन में फेंक आओ कि तुम्हारे बाप का मुंह सिर्फ तुम्हारी ही तरफ रहे और उसके बाद फिर नेक हो जाना
“Yusuf ko maar daalo ya kahin zameen mein phenk do, ke tumhare baap ka munh sirf tumhari hi taraf rahe, aur us ke baad phir nek ho jana.”
(ف19)آبادیوں سے دور بس یہی صورتیں ہیں جن سے ۔(ف20)اور انہیں فقط تمہاری ہی مَحبت ہو اور کی نہیں ۔(ف21)اور توبہ کر لینا ۔
ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲٤) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)
A speaker among them said, “Do not kill Yusuf – and drop him into a dark well so that some traveller may come and take him away, if you have to.”
उनमें एक कहने वाला बोला यूसुफ को मारो नहीं और उसे अंधे कुएँ में डाल दो कि कोई चलता उसे आ कर ले जाए अगर तुम्हें करना है
Un mein ek kehnay wala bola, “Yusuf ko maaro nahi aur use andhe kunway mein daal do ke koi chalta use aa kar le jaaye, agar tumhein karna hai.”
(ف22)یعنی یہودا یا روبیل ۔(ف23)کیونکہ قتل گناہِ عظیم ہے ۔(ف24)یعنی کوئی مسافر وہاں گزرے اور کسی مُلک کو انہیں لے جائے ، اس سے بھی غرض حاصل ہے کہ نہ وہ یہاں رہیں گے نہ والد صاحب کی نظرِ عنایت اس طرح ان پر ہو گی ۔(ف25)اس میں اشارہ ہے کہ چاہئے تو یہ کہ کچھ بھی نہ کرو لیکن اگر تم نے ارادہ ہی کر لیا ہے تو بس اتنے ہی پر اکتفا کرو چنانچہ سب اس پر متفق ہو گئے اور اپنے والد سے ۔
بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بےخبر رہو (ف۳۰)
He said, “I will indeed be saddened by your taking him away, and I fear that the wolf may devour him, whilst you are unaware of him.” (* Prophet Yaqub knew of what was about to happen.)
बोला बेशक मुझे रंज देगा कि उसे ले जाओ और डरता हूँ कि उसे भेड़िया खा ले और तुम उससे बे खबर रहो
Bola, “Beshak mujhe ranj de ga ke ise le jao, aur darta hoon ke ise bhediya kha le, aur tum us se be-khabar raho.”
(ف28)کیونکہ ان کی ایک ساعت کی جدائی گوارا نہیں ہے ۔(ف29)کیونکہ اس سر زمین میں بھیڑیے اور درندے بہت ہیں ۔(ف30)اور اپنی سیر و تفریح میں مشغول ہو جاؤ ۔
بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)
They said, “If the wolf devours him, whereas we are a group, then surely we are useless!”
बोले अगर उसे भेड़िया खा जाए और हम एक जमात हैं तब तो हम किसी मसरफ के नहीं
Bole, “Agar ise bhediya kha jaaye aur hum ek jamaat hain, to hum kisi masraf ke nahi.”
(ف31)لہذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ۔ تقدیرِ الٰہی یونہی تھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اجازت دی اور وقتِ روانگی حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قمیص جو حریرِ جنّت کی تھی اور جس وقت کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کو کپڑے اتار کر آ گ میں ڈالا گیا تھا ، حضرت جبریل علیہ السلام نے وہ قمیص آپ کو پہنائی تھی ۔ وہ قمیص مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت اسحٰق علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اور ان سے ان کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام کو پہنچی تھی ، وہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعویذ بنا کر حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں ڈال دی ۔
پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳٤) کہ ضرور تو انھیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳٦)
So when they took him away – and all of them agreed that they should drop him in the dark well; and We sent the divine revelation to him, “You will surely tell them of their deed at a time when they will not know.”
फिर जब उसे ले गए और सब की राय यही ठहरी कि उसे अंधे कुएँ में डाल दें और हमने उसे wahi भेजी कि जरूर तू उन्हें उनका यह काम जता देगा ऐसे वक्त कि वे न जानते होंगे
Phir jab ise le gaye aur sab ki raaye yehi thahri ke ise andhe kunway mein daal dein, aur hum ne use wahi bheji ke zaroor tu unhein un ka ye kaam jata de ga, aise waqt ke woh na jaante honge.
(ف32)اس طرح کہ جب تک حضرت یعقوب علیہ السلام انہیں دیکھتے رہے وہاں تک تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے جب دور نکل گئے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے غائب ہوگئے تو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین پر دے ٹپکا اور دلوں میں جو عداوت تھی وہ ظاہر ہوئی جس کی طرف جاتے تھے وہ مارتا تھا اور طعنے دیتا تھا اور خواب جو کسی طرح انہوں نے سن پایا تھا اس پر تشنیع کرتے تھے اور کہتے تھے اپنے خواب کوبلا وہ اب تجھے ہمارے ہاتھوں سے چھٹائے جب سختیاں حد کو پہنچیں تو حضرت یوسف علیہ السلام نے یہودا سے کہا خدا سے ڈر اور ان لوگوں کو ان زیادتیوں سے روک ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے کیا عہد کیا تھا یاد کرو قتل کی نہیں ٹھہری تھی تب وہ ان حرکتوں سے باز آئے ۔(ف33)چنانچہ انہوں نے ایسا کیا ۔ یہ کنواں کنعان سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر حوالیٔ بیت المقدس یا سر زمینِ اردن میں واقع تھا اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے فراخ ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ، قمیص اتار کر کنوئیں میں چھوڑا جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ آپ پانی میں گر کر ہلاک ہو جائیں ۔ حضرت جبریلِ امین بحکمِ الٰہی پہنچے اور انہوں نے آپ کو ایک پتھر پر بٹھا دیا جو کنوئیں میں تھا اورآپ کے ہاتھ کھول دیئے اور روانگی کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قمیص جو تعویذ بنا کر آپ کے گلے میں ڈال دیا تھا وہ کھول کر آپ کو پہنا دیا اس سے اندھیرے میں روشنی ہو گئی ۔ سبحان اللہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مبارک اجسادِ شریفہ میں کیا برکت ہے کہ ایک قمیص جو اس بابرکت بدن سے مس ہوا اس نے اندھیرے کنوئیں کو روشن کر دیا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ملبوسات اور آثارِ مقبولانِ حق سے برکت حاصل کرنا شرع میں ثابت اور انبیاء کی سنّت ہے ۔(ف34)بواسطۂ حضرتِ جبریل علیہ السلام کے یا بطریقِ الہام کہ آپ غمگین نہ ہوں ، ہم آپ کو عمیق چاہ سے بلند جاہ پر پہنچائیں گے اور تمہارے بھائیوں کو حاجت مند بنا کر تمہارے پاس لائیں گے اور انہیں تمہارے زیرِ فرمان کریں گے اور ایسا ہوگا ۔(ف35)جو انہوں نے اس وقت تمہارے ساتھ کیا ۔(ف36)کہ تم یوسف ہو کیونکہ اس وقت آپ کی شان ایسی رفیع ہو گی ، آپ اس مسندِ سلطنت و حکومت پر ہوں گے کہ وہ آپ کو نہ پہنچانیں گے ۔ الحاصل برادرانِ یوسف علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال کر واپس ہوئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قمیص جو اتار لیا تھا اس کو ایک بکری کے بچہ کے خون میں رنگ کر ساتھ لے لیا ۔
وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ ﴿16﴾
اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)
And at nightfall they came to their father, weeping.
और रात हुए अपने बाप के पास रोते हुए आए
Aur raat hue apne baap ke paas rote hue aaye.
(ف37)جب مکان کے قریب پہنچے ان کے چیخنے کی آواز حضرت یعقوب علیہ السلام نے سنی تو گھبرا کر باہر تشریف لائے اور فرمایا اے میرے فرزند کیا تمہیں بکریوں میں کچھ نقصان ہوا ؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا پھر کیا مصیبت پہنچی اور یوسف کہاں ہیں ؟
بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)
Saying, “O our father! We went far ahead while racing, and left Yusuf near our resources – therefore the wolf devoured him; and you will not believe us although we may be truthful.”
बोले ऐ हमारे बाप हम दौड़ करते निकल गए और यूसुफ को अपने असबाब के पास छोड़ा तो उसे भेड़िया खा गया और आप किसी तरह हमारा यकीन न करेंगे अगरच हम सचे हों
Bole, “Aye humare baap! Hum dor kar nikal gaye aur Yusuf ko apne asbaab ke paas chhoda, to use bhediya kha gaya, aur aap kisi tarah humara yaqeen na karenge agarche hum sache hon.”
(ف38) یعنی ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوڑ کرتے تھے کہ کون آگے نکلے اس دوڑ میں ہم دور نکل گئے ۔(ف39)کیونکہ ہمارے ساتھ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ایسی دلیل و علامت ہے جس سے ہماری راست گوئی ثابت ہو اور قمیص کو پھاڑنا بھول گئے ۔
اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف٤۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف٤۱) تو صبر اچھا ، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (ف٤۲)
And they brought his shirt stained with faked blood; he said, “On the contrary – your hearts have fabricated an excuse for you; therefore patience is better; and from Allah only I seek help against the matters that you relate.”
और उसके क़ुरते पर एक झूठा खून लगा लाए कहा बल्कि तुम्हारे दिलों ने एक बात तुम्हारे वास्ते बना ली है तो सब्र अच्छा, और अल्लाह ही मदद चाहता हूँ इन बातों पर जो तुम बता रहे हो
Aur us ke kurte par ek jhoota khoon laga laaye, kaha, “Balki tumhare dilon ne ek baat tumhare waste bana li hai, to sabr achha, aur Allah hi madad chahta hoon un baaton par jo tum bata rahe ho.”
(ف40) حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام وہ قمیص اپنے چہرۂ مبارک پر رکھ کر بہت روئے اور فرمایا عجب طرح کا ہوشیار بھیڑیا تھا جو میرے بیٹے کو کھا تو گیا اور قمیص کو پھاڑا تک نہیں ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک بھیڑیا پکڑ لائے اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہنے لگے کہ یہ بھیڑیا ہے جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کھایا ہے آپ نے بھیڑیئے سے دریافت فرمایا وہ بحکمِ الٰہی گویا ہو کر کہنے لگا حضور نہ میں نے آپ کے فرزند کو کھایا اور نہ انبیاء کے ساتھ کوئی بھیڑیا ایسا کر سکتا ہے ، حضرت نے اس بھیڑیئے کو چھوڑ دیا اور بیٹوں سے ۔(ف41)اور واقعہ اس کے خلاف ہے ۔(ف42)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام تین روز کنوئیں میں رہے اس کے بعد اللہ نے انہیں اس سے نَجات عطا فرمائی ۔
اور ایک قافلہ آیا (ف٤۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف٤٤) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف٤۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف٤٦) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،
And there came a caravan – so they sent their water-drawer, he therefore lowered his pail; he said, “What good luck, this is a boy!”; and they hid him as a treasure; and Allah knows what they do.
और एक काफ़िला आया उन्होंने अपना पानी लाने वाला भेजा तो उसने अपना डोल डाला बोला आहा कैसी खुशी की बात है यह तो एक लड़का है और इसे एक पौंजी बना कर छुपा लिया और अल्लाह जानता है जो वह करते हैं,
Aur ek qafila aaya, unhone apna paani lane wala bheja, to us ne apna dol daal, bola, “Aaha! Kaisi khushi ki baat hai, ye to ek larka hai,” aur use ek ponji bana kar chhupa liya, aur Allah jaanta hai jo woh karte hain.
(ف43)جو مدیَن سے مِصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بہک کر اس جنگل میں آپڑا جہاں آبادی سے بہت دور یہ کنواں تھا اور اس کا پانی کھاری تھا مگر حضرت یوسف علیہ السلام کی برکت سے میٹھا ہوگیا جب وہ قافلہ والے اس کنوئیں کے قریب اترے تو ۔(ف44)جس کا نام مالک بن ذعر خزاعی تھا یہ شخص مدیَن کا رہنے والا تھا جب وہ کنوئیں پر پہنچا ۔(ف45)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے وہ ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے ۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے ، اس نے آپ کا حسنِ عالَم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آ کر اپنے یاروں کو مژدہ دیا ۔(ف46)حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے وہ دیکھ بھال رکھتے تھے آج جو انہوں نے یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو انہیں تلاش ہوئی اور قافلہ میں پہنچے وہاں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے ، ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے ، کسی کام کا نہیں ، نافرمان ہے اگر خریدو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور آپ نے کچھ نہ فرمایا ۔
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف٤۷) اور انھیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف٤۸)
And the brothers sold him for an improper price, a limited number of coins; and they had no interest in him.
और भाइयों ने इसे खोटे दामों गिनती के रूपों पर बेच डाला और उन्हें इसमें कुछ रग्बत न थी
Aur bhaiyon ne use khote daamon ginti ke roopon par bech dala, aur unhein is mein kuch ragbat na thi.
(ف47)جن کی تعداد بقول قتادہ بیس درہم تھی ۔(ف48)پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی حضرت یوسف علیہ السلام کو مِصر میں لائے ۔ اس زمانہ میں مِصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن نزدان عملیقی تھا اور اس نے اپنی عنانِ سلطنت قطفیر مِصری کے ہاتھ میں دے رکھی تھی ، تمام خزائن اسی کے تحتِ تصرّف تھے اس کو عزیزِ مِصر کہتے تھے اور وہ بادشاہ کا وزیرِ اعظم تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام مِصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لائے گئے تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی تا آنکہ آپ کے وزن کے برابر سونا ، اتنی ہی چاندی ، اتنا ہی مشک ، اتنا ہی حریر قیمت مقرر ہوئی اور آپ کا وزن چار سو رِطل تھا اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی ۔ عریزِ مِصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا دوسرے خریدار اس کے مقابلہ میں خاموش ہو گئے ۔
اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف٤۹) انھیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،
And the Egyptian who purchased him said to his wife, “Keep him honourably – we may derive some benefit due to him or we may adopt him as our son”; and this is how we established Yusuf in the land, and that We might teach him how to interpret events; and Allah is Dominant upon His works, but most men do not know.
और मिस्र के जिस व्यक्ति ने इसे खरीदा वह अपनी औरत से बोला उन्हें इज़्ज़त से रखो शायद उनसे हमें नफ़ा पहुँचे या उन्हें हम बेटा बना लें और इसी तरह हमने यूसुफ को इस ज़मीन में जमाओ (रहने का ठिकाना) दिया और इसके लिए कि उसे बातों का अंज़ाम सिखाएं और अल्लाह अपने काम पर ग़ालिब है मगर अक्सर आदमी नहीं जानते,
Aur Misr ke jis shakhs ne use kharida, woh apni aurat se bola, “Unhein izzat se rakho, shayad un se humein nfaah pohche, ya un ko hum beta bana lein,” aur isi tarah hum ne Yusuf ko is zameen mein jamau (rehne ka thikana) diya, aur is liye ke use baaton ka anjaam sikhaye, aur Allah apne kaam par ghaalib hai, magar aksar aadmi nahi jaante.
(ف49)جس کا نام زلیخا تھا ۔(ف50)قیام گاہ نفیس ہو لباس و خوراک اعلی قسم کی ہو ۔(ف51)اور ہمارے کاموں میں اپنے تدبُّر و دانائی سے ہمارے لئے نافع اور بہتر مددگار ہوں اور امورِ سلطنت و مُلک داری کے سر انجام میں ہمارے کام آئیں کیونکہ رُشد کے آثار ان کے چہرے نمودار ہیں ۔(ف52)یہ قطفیر نے اس لئے کہا کہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی ۔(ف53)یعنی خوابوں کی تعبیر ۔
اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵٤) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
And when he matured to his full strength, We bestowed him wisdom and knowledge; and this is how We reward the virtuous.
और जब अपनी पूरी क़ुवत को पहुँचा हमने उसे हुक्म और इल्म अता फ़रमाया और हम ऐसा ही सिला देते हैं नेक़ों को,
Aur jab apni poori quwwat ko pohcha, hum ne use hukum aur ilm ata farmaaya, aur hum aisa hi sila dete hain nekon ko.
(ف54)شباب اپنی نہایت پر آیا اور عمرشریف بقول ضحاک بیس سال کی اور بقول سدی تیس کی اور بقول کلبی اٹھارہ اور تیس کے درمیان ہوئی ۔(ف55)یعنی علم باعمل اور فقاہت فی الدین عنایت کی ۔ بعض عُلَماء نے کہا کہ حکم سے قولِ صواب اور علم سے تعبیرِ خواب مراد ہے ۔ بعض نے فرمایا علم حقائقِ اشیاء کا جاننا اور حکمت علم کے مطابق عمل کرنا ہے ۔
اور وہ جس عورت (ف۵٦) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف٦۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف٦۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،
And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors – and said, “Come! It is you I address!”; he said, “(I seek) The refuge of Allah – indeed the governor is my master – he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper.”
और वह जिस औरत के घर में था उसने उसे लुभाया कि अपना आपा न रोके और दरवाज़े सब बंद कर दिए और बोली आओ तुम्हें से कहती हूँ कहा अल्लाह की पनाह वह अज़ीज़ तो मेरा रब यानी परवरिश करने वाला है उसने मुझे अच्छी तरह रखा बेशक ज़ालिमों का भला नहीं होता,
Aur woh jis aurat ke ghar mein tha, us ne use lubhaya ke apna aapa na roke, aur darwaze sab band kar diye, aur boli, “Aao! Tumhein se kehti hoon, kaha, Allah ki panah! Woh Aziz to mera Rab, ya’ni parwarish karne wala, hai, us ne mujhe achhi tarah rakha, beshak zalimon ka bhala nahi hota.”
(ف56)یعنی زلیخا ۔(ف57)اور اس کے ساتھ مشغول ہو کر اس کی ناجائز خواہش کو پورا کریں ۔ زلیخا کے مکان میں یکے بعد دیگرے سات دروازے تھے اس نے حضرت یوسف علیہ السلام پر تو یہ خواہیش پیش کی ۔(ف58)مقفل کر ڈالے ۔(ف59)حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔(ف60)وہ مجھے اس قباحت سے بچائے جس کی تو طلب گار ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ یہ فعل حرام ہے میں اس کے پاس جانے والا نہیں ۔(ف61)اس کا بدلہ یہ نہیں کہ میں اس کے اہل میں خیانت کروں جو ایسا کرے وہ ظالم ہے ۔
اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف٦۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بےحیائی کو پھیر دیں (ف٦۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف٦٤)
And indeed the woman desired him; and he too would have desired her were he not to witness the sign of his Lord*; this is what We did, to turn away evil and lewdness from him; indeed He is one of Our chosen bondmen. (* Allah saved him and he never desired this immorality.)
और बेशक औरत ने उसका इरादा किया और वह भी औरत का इरादा करता अगर अपने रब की दलील न देख लेता हमने यूँ ही किया कि उससे बुराई और बेहया को फेर दें बेशक वह हमारे चुने हुए बंदों में से है
Aur beshak aurat ne us ka irada kiya, aur woh bhi aurat ka irada karta agar apne Rab ki daleel na dekh leta. Hum ne yun hi kiya ke us se burai aur be-hayaai ko pher dein, beshak woh humare chune hue bandon mein se hai.
(ف62)مگر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے ربّ کی برہان دیکھی اور اس ارادۂ فاسدہ سے محفوظ رہے اور برہان عصمتِ نبوّت ہے ۔ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام کے نفوسِ طاہرہ کو اخلاقِ ذمیمہ و افعالِ رذیلہ سے پاک پیدا کیا ہے اور اخلاقِ شریفہ طاہرہ مقدسہ پر ان کی خِلقت فرمائی ہے اس لئے وہ ہر ناکردنی فعل سے باز رہتے ہیں ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس وقت زلیخا آپ کے در پے ہوئی اس وقت آپ نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ انگُشتِ مبارک دندانِ اقدس کے نیچے دبا کر اجتِناب کا اشارہ فرماتے ہیں ۔(ف63)اور خیانت و زنا سے محفوظ رکھیں ۔(ف64)جنہیں ہم نے برگزیدہ کیا ہے اور جو ہماری طاعت میں اخلاص رکھتے ہیں ۔ الحاصل جب زلیخا آپ کے درپے ہوئی تو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے بھاگی ۔ حضرت جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا قُفل کھل کر گرتا چلا جاتا تھا ۔
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف٦۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف٦٦) دروازے کے پاس ملا (ف٦۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف٦۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف٦۹)
And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, “What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?”
और दोनों दरवाज़े की तरफ दौड़े और औरत ने उसका क़ुरता पीछे से चीर लिया और दोनों को औरत का मियां दरवाज़े के पास मिला बोली क्या सज़ा है उसकी जिसने तेरी घर वाली से बदी चाही मगर यह कि क़ैद किया जाए या दुख की मार
Aur dono darwaze ki taraf dore, aur aurat ne us ka kurta peechhe se cheer liya, aur dono ko aurat ka mian darwaze ke paas mila, boli, “Kya saza hai us ki jis ne teri ghar wali se badi chahi, magar ye ke qaid kiya jaaye ya dukh ki maar.”
(ف65)آخر کار زلیخا حضرت تک پہنچی اور اس نے آپ کا کُرتا پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا کہ آپ نکلنے نہ پائیں مگر آپ غالب آئے ۔(ف66)یعنی عزیزِ مِصر ۔(ف67)فوراً ہی زلیخا نے اپنی براءت ظاہر کرنے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو اپنے مکر سے خائف کرنے کے لئے حیلہ تراشا اور شوہر سے ۔(ف68)اتنا کہہ کر اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں عزیز طیش میں آ کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے قتل کے درپے نہ ہو جائے اور یہ زلیخا کی شدّتِ مَحبت کب گوارا کر سکتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا ۔(ف69)یعنی اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے دیکھا کہ زلیخا الٹا آپ پر الزام لگاتی ہے اور آپ کے لئے قید و سزا کی صورت پید ا کرتی ہے تو آپ نے اپنی براءت کا اظہار اور حقیقتِ حال کابیان ضروری سمجھا اور ۔
کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)
Said Yusuf, “It was she who lured me, that I may not guard myself” – and a witness from her own household testified; “If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly.”
कहा उसने मुझे लुभाया कि मैं अपनी हिफ़ाज़त न करूँ और औरत के घर वालों में से एक गवाह ने गवाही दी अगर उनका क़ुरता आगे से चुरा है तो औरत सच्ची है और उन्होंने गलत कहा
Kaha, “Us ne mujhe lubhaya ke main apni hifazat na karoon,” aur aurat ke ghar walon mein se ek gawaah ne gawahi di, “Agar un ka kurta aage se chura hai to aurat sachi hai, aur unhone ghalat kaha.”
(ف70)یعنی یہ مجھ سے فعلِ قبیح کی طلب گار ہوئی میں نے اس سے انکار کیا اور میں بھاگا ۔ عزیز نے کہا یہ بات کس طرح باور کی جائے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ گھر میں ایک چار مہینے کا بچہ پالنے میں تھا جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے اس سے دریافت کرنا چاہیئے ، عزیز نے کہا کہ چار مہینے کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بے گناہی کی شہادت ادا کرا دینے پر قادِر ہے ، عزیز نے اس بچہ سے دریافت کیا قدرتِ الٰہی سے وہ بچہ گویا ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلا م کی تصدیق کی اور زلیخا کے قول کو باطل بتایا چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف71)یعنی اس بچے نے ۔(ف72)کیونکہ یہ صورت بتانی ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام آگے بڑھے اور زلیخا نے ان کو دفع کیا تو کُرتا آگے سے پھٹا ۔
پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷٤) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)
So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, “Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great.”
फिर जब अज़ीज़ ने उसका क़ुरता पीछे से चुरा देखा बोला बेशक यह तुम औरतों का चरित्र (फरेब) है बेशक तुम्हारा चरित्र (फरेब) बड़ा है
Phir jab Aziz ne us ka kurta peechhe se chura dekha, bola, “Beshak ye tum auraton ka charitr (fareb) hai, beshak tumhara charitr (fareb) bada hai.”
(ف74)اور جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے ۔(ف75)پھر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی طرف متوجہ ہو کر عزیز نے اس طرح معذرت کی ۔
اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷٦) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)
“O Yusuf! Disregard this – and O woman! Seek forgiveness for your sin; indeed you are of the mistaken.”
ऐ यूसुफ! तुम उसका ख्याल न करो और ऐ औरत! तू अपने गुनाह की माफी मांग बेशक तू खता वारों में है
Aye Yusuf! Tum us ka khayal na karo, aur aye aurat! Tu apne gunaah ki maafi maang, beshak tu khatawaaroon mein hai.
(ف76)اور اس پر مغموم نہ ہو بے شک تم پاک ہو اور اس کلام سے یہ بھی مطلب تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرو تاکہ چرچا نہ ہو اور شہرہ عام نہ ہو جائے ۔فائدہ : اس کے علاوہ بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی براءت کی بہت سی علامتیں موجود تھیں ، ایک تو یہ کہ کوئی شریف طبیعت انسان اپنے محسِن کے ساتھ اس طرح کی خیانت روا نہیں رکھتا ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بایں کرامتِ اخلاق کس طرح ایسا کر سکتے تھے ، دوئم یہ کہ دیکھنے والوں نے آپ کو بھاگتے آتے دیکھا اور طالب کی یہ شان نہیں ہوتی وہ درپے ہوتا ہے بھاگتا نہیں ، بھاگتا وہی ہے جو کسی بات پر مجبور کیا جائے اور وہ اسے گوارا نہ کرے ، سوم یہ کہ عورت نے انتہا درجہ کا سنگار کیا تھا اور وہ غیر معمولی زیب و زینت کی حالت میں تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رغبت و اہتمام مَحض اس کی طرف سے تھا ، چہارم حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا تقوٰی و طہارت جو ایک دراز مدّت تک دیکھا جا چکا تھا اس سے آپ کی طرف ایسے امرِ قبیح کی نسبت کسی طرح قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتی تھی پھر عزیزِ مِصر زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ۔(ف77)کہ تو نے بے گناہ تہمت لگائی ۔(ف78)عزیزِ مِصر نے اگرچہ اس قصّہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چُھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا ۔
اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)
And some women of the city said, “The governor’s wife is seducing her young slave; indeed his love has taken root in her heart; and we find her clearly lost.”
और शहर में कुछ औरतें बोले कि अज़ीज़ की बीबी अपने नौजवान का दिल लुभाती है बेशक उनकी मोहब्बत उसके दिल में पेर गई (समा गई) है हम तो उसे सरीह खुद رفتा पाते हैं
Aur shehar mein kuch auratein bolein ke Aziz ki biwi apne nojawaan ka dil lubhaati hai, beshak unki mohabbat us ke dil mein pair gayi (sama gayi) hai, hum to use sarih khud rafta paate hain.
(ف79)یعنی شرفاءِ مِصر کی عورتیں ۔(ف80)کہ اس آشُفتگی میں اس کو اپنے ننگ و ناموس اور پردے و عِفت کا لحاظ بھی نہ رہا ۔
تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸٤) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸٦) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،
And when she heard of their secret talk, she sent for them and prepared cushioned mattresses for them and gave a knife to each one of them and said to Yusuf, “Come out before them!” When the women saw him they praised him and cut their hands, and said, “Purity is to Allah – this is no human being; this is not but an honourable angel!”
तो जब ज़ुलैखा ने उनका चर्चा सुना तो उन औरतों को बुलाया और उनके लिए मसंदें तैयार की और उनमें हर एक को एक छुरी दी और यूसुफ से कहा उन पर निकल आओ जब औरतों ने यूसुफ को देखा उसकी बढ़ाई बोलने लगीं और अपने हाथ काट लिए और बोले अल्लाह को पाकी है यह तो जँस بشر से नहीं यह तो नहीं मगर कोई मौज़्ज़ज़ फरिश्ता,
To jab Zulaikha ne un ka charcha suna, to un auraton ko bula bheja, aur un ke liye masnd tayar ki, aur un mein har ek ko ek chhuri di, aur Yusuf se kaha, “Un par nikal aao!” Jab auraton ne Yusuf ko dekha, us ki barrayi bolne lagein, aur apne haath kaat liye, aur bolein, “Allah ko paaki hai! Ye to jins bashar se nahi, ye to nahi, magar koi mo’azzaz farishta.”
(ف81)یعنی جب اس نے سنا کہ اشرافِ مِصر کی عورتیں اس کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی مَحبت پر ملامت کرتی ہیں تو اس نے چاہا کہ وہ اپنا عذر انہیں ظاہر کر دے اس لئے اس نے ان کی دعوت کی ا ور اشرافِ مِصر کی چالیس عورتوں کو مدعو کر دیا ، ان میں وہ سب بھی تھیں جنہوں نے اس پر ملامت کی تھی ، زلیخا نے ان عورتوں کو بہت عزت و احترام کے ساتھ مہمان بنایا ۔(ف82)نہایت پُرتکلّف جن پر وہ بہت عزت و آرام سے تکیے لگا کر بیٹھیں اور دستر خوان بچھائے گئے اور قسم قسم کے کھانے اور میوے چنے گئے ۔(ف83)تاکہ کھانے کے لئے اس سے گوشت کاٹیں اور میوے تراشیں ۔(ف84)کو عمدہ لباس پہنا کر ان ۔(ف85)پہلے تو آپ نے اس سے انکار کیا لیکن جب اصرار و تاکید زیادہ ہوئی تو اس کی مخالفت کے اندیشہ سے آپ کو آنا ہی پڑا ۔(ف86)کیونکہ انہوں نے اس جمالِ عالَم افروز کے ساتھ نبوّت و رسالت کے انوار اور تواضع و انکسار کے آثار اور شاہانہ ہیبت وا قتدار اور لذائذِ اَطعِمہ اور صُوَرِ جمیلہ کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی ، تعجب میں آ گئیں اور آپ کی عظمت و ہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی ۔(ف87)بجائے لیموں کے اور دل حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسے مشغول ہوئے کہ ہاتھ کاٹنے کی تکلیف کا اصلاً احساس نہ ہوا ۔(ف88)کہ ایسا حسن و جمال بشر میں دیکھا ہی نہیں گیا اور اس کے ساتھ نفس کی یہ طہارت کہ مِصر کی عالی خاندان جمیلہ مخدرات طرح طرح کے نفیس لباسوں اور زیوروں سے آراستہ و پیراستہ سامنے موجود ہیں اور آپ کسی کی طرف نظر نہیں فرماتے اور قطعاً التفات نہیں کرتے ۔
زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)
She said, “This is he on whose account you used to insult me; and indeed I tried to entice him, so he safeguarded himself; and indeed if he does not do what I tell him to, he will surely be imprisoned, and will surely be humiliated.”
ज़ुलैखा ने कहा तो यह हैं वह जिन पर मुझे तन्हा देती थीं और बेशक मैंने उनका जी लुभाना चाहा तो उन्होंने अपने आप को बचाया और बेशक अगर वह यह काम न करेंगे जो मैं उनसे कहती हूँ तो जरूर क़ैद में पड़ेंगे और वह जरूर ज़ुलत उठाएंगे
Zulaikha ne kaha, “To ye hain woh jin par mujhe ta’na deti thi, aur beshak maine un ka jee lubhaana chaha, to unhone apne aap ko bachaaya, aur beshak agar woh ye kaam na karenge jo main un se kehti hoon, to zaroor qaid mein padenge aur woh zaroor zillat uthaayenge.”
(ف89)اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میری شیفتگی کچھ قابلِ تعجب اور جاۓ ملامت نہیں ۔(ف90)اورکسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے ۔ اس پر مِصری عورتوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے زلیخا بولی ۔(ف91)اور چوروں اور قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے میرا دل لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسّر نہ ہوگا جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں ، میرے ساتھ حریر میں شاہانہ سر یر پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دکھانا گوارا کریں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مِصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانہ سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنّاؤں اور مرادوں کا اظہار کیا ، آپ کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہِ الٰہی میں ۔ (خازن و مدارک و حسینی)
یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،
He said, “O my Lord! Prison is dearer to me than the deed they invite me to; and if You do not repel their deceit away from me, I may incline towards them and be unwise.”
यूसुफ ने अर्श की ऐ मेरे रब! मुझे क़ैद ख़ाना ज्यादा पसंद है इस काम से जिसकी तरफ यह मुझे बुलाती हैं और अगर तू मुझ से उनका मकर न फेरेगा तो मैं उनकी तरफ माइल हो जाऊँगा और नादान बनूँगा,
Yusuf ne arz kiya, “Aye mere Rab! Mujhe qaid khana zyada pasand hai, is kaam se jis ki taraf ye mujhe bulati hain, aur agar tu mujhe un ka makr na pherayega, to main un ki taraf mayl ho jaaunga aur nadan banoonga.”
تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)
So his Lord heard his prayer and repelled the women’s deceit away from him; indeed He only is the All Hearing, the All Knowing.
तो उसके रब ने उसकी सुन ली और उससे औरतों का मकर फेर दिया, बेशक वही सुनता जानता है
To us ke Rab ne us ki sun li, aur us se auraton ka makr pher diya, beshak wahi sunta jaanta hai.
(ف93)جب حضرت یوسف علیہ السلام سے امید پوری ہونے کی کوئی شکل نہ دیکھی تو مِصری عورتوں نے زلیخا سے کہا کہ اب مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب دو تین روز حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں رکھا جائے تاکہ وہاں کی محنت و مشقت دیکھ کر انہیں نعمت و راحت کی قدر ہو اور وہ تیری درخواست قبول کریں ، زلیخا نے اس رائے کو مانا اور عزیزِ مصر سے کہا کہ میں اس عبری غلام کی وجہ سے بدنام ہوگئی ہوں اور میری طبیعت اس سے نفرت کرنے لگی ہے ، مناسب یہ ہے کہ ان کو قید کیا جائے تاکہ لو گ سمجھ لیں کہ وہ خطا وار ہیں اور میں ملامت سے بری ہوں ، یہ بات عزیز کے خیال میں آ گئی ۔
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹٦) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)
And two young men went to prison along with him; one of them said, “I dreamt that I am pressing wine”; the other said, “I dreamt that I am carrying some bread upon my head from which birds were eating”; “Tell us their interpretation; indeed we see that you are virtuous.”
और उसके साथ क़ैद ख़ाने में दो जवान दाखिल हुए उनमें एक बोला मैंने ख्वाब में देखा कि शराब निचोड़ता हूँ और दूसरा बोला मैंने ख्वाब देखा कि मेरे सर पर कुछ रोटियाँ हैं जिन में से परिंद खाएं, हमें इसकी तबीर बताइए, बेशक हम आपको नेक़ो कार देखते हैं
Aur us ke saath qaid khana mein do jawan daakhil hue, un mein ek bola, “Maine khwab mein dekha ke sharab nichodta hoon,” aur doosra bola, “Maine khwab dekha ke mere sar par kuch rotiyan hain jin mein se parind khate hain, humein is ki tabeer bataaiye, beshak hum aap ko nekokar dekhte hain.”
(ف95)ان میں سے ایک تو مِصر کے شاہِ اعظم ولید بن نروان عملیقی کا مہتمم مطنج تھا اور دوسرا اس کا ساقی ، ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا اس جرم میں دونوں قید کئے گئے ، حضرت یوسف علیہ السلام جب قید خانے میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے علم کا اظہار شروع کر دیا اور فرمایا کہ میں خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتا ہوں ۔(ف96)جو بادشاہ کا ساقی تھا ۔(ف97)میں ایک باغ میں ہوں وہاں ایک انگور کے درخت میں تین خوشے رسیدہ لگے ہوئے ہیں ، بادشاہ کا کاسہ میرے ہاتھ میں ہے میں ان خوشوں سے ۔(ف98)یعنی مہتمم مطنج ۔(ف99)کہ آپ دن میں روزہ دار رہتے ہیں ، رات تمام نماز میں گزارتے ہیں جب کوئی جیل میں بیمار ہوتا ہے اس کی عیادت کرتے ہیں ، اس کی خبر گیری رکھتے ہیں ، جب کسی پر تنگی ہوتی ہے اس کے لئے کشائش کی راہ نکالتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان کے تعبیر دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کر دی اور یہ ظاہر فرما دیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ علمِ تعبیر ظن پر مبنی ہے اس لئے آپ نے چاہا کہ انہیں ظاہر فرما دیں کہ آپ غیب کی یقینی خبریں دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور اس سے مخلوق عاجز ہے ۔ جس کو اللہ نے غیبی علوم عطا فرمائے ہوں اس کے نزدیک خواب کی تعبیر کیا بڑی بات ہے ! اس وقت معجزے کا اظہار آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں ایک عنقریب سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کُفر سے نکال کر اسلام میں داخل کریں اور جہنّم سے بچاویں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر عالِم اپنی علمی منزِلت کا اس لئے اظہار کرے کہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں تو یہ جائز ہے ۔ (مدارک و خازن)
یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،
Said Yusuf, “The food which you get will not reach you, but I will tell you the interpretation of this before it comes to you; this is one of the sciences my Lord has taught me; indeed I did not accept the religion of the people who do not believe in Allah and are deniers of the Hereafter.”
यूसुफ ने कहा जो खाना तुम्हें मिला करता है वह तुम्हारे पास न आने पाएगा कि मैं उसकी तबीर उसके आने से पहले तुम्हें बता दूँगा यह उनके इल्मों में से है जो मुझे मेरे रब ने सिखाया है, बेशक मैंने उन लोगों का दीन न माना जो अल्लाह पर ईमान नहीं लाते और वे आख़िरत से मंकर हैं,
Yusuf ne kaha, “Jo khana tumhein mila karta hai, woh tumhare paas na aane paaye ga, ke main is ki tabeer is ke aane se pehle tumhein bata doon ga, ye un ilmoun mein se hai jo mujhe mere Rab ne sikhaya, beshak main ne un logon ka deen na maana jo Allah par iman nahi laate aur woh aakhirat se mankar hain.”
(ف100)اس کی مقدار اور اس کا رنگ اور اس کے آنے کا وقت اور یہ کہ تم نے کیا کھایا یا کتنا کھایا یا کب کھایا ۔
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)
“And I have chosen the religion of my forefathers, Ibrahim and Ishaq and Yaqub; it is not rightful for us to ascribe anything as a partner to Allah; this is a grace of Allah upon us and upon mankind, but most men are not thankful.”
और मैंने अपने बाप दादा इब्राहिमؑ और इसहाकؑ और याकूब का दीन अपनाया हमें नहीं पहुँचता कि किसी चीज़ को अल्लाह का शरीक ठहराएं, यह अल्लाह का एक फ़ज़ल है हम पर और लोगों पर मगर अक्सर लोग शुक्र नहीं करते
Aur main ne apne baap dada Ibrahim, Ishaq aur Ya’qub ka deen ikhtiyaar kiya, humein nahi pohonchta ke kisi cheez ko Allah ka shareek thahrain, ye Allah ka ek fazl hai hum par aur logon par, magar aksar log shukar nahi karte.
(ف101)حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے معجِزہ کا اظہار فرمانے کے بعد یہ بھی ظاہر فرما دیا کہ آپ خاندانِ نبوّت سے ہیں اور آپ کے آباؤ اجداد انبیاء ہیں جن کا مرتبۂ عُلیا دنیا میں مشہور ہے ۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ سننے والے آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی ہدایت کو مانیں ۔(ف102)توحید اختیار کرنا اور شرک سے بچنا ۔(ف103)اس کی عبادت بجا نہیں لاتے اور مخلوق پرستی کرتے ہیں ۔
اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (۱۰٤) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)
“O both my fellow-prisoners! Are various lords better, or One Allah, the Dominant above all?”
ऐ मेरे क़ैद ख़ाने के दोनों साथी! क्या जुदा जुदा रब
Aye mere qaid khana ke dono saathiyo! Kya juda juda Rab
(ف104)جیسے کہ بُت پرستوں نے بنا رکھے ہیں کوئی سونے کا ، کوئی چاندی کا ، کوئی تانبے کا ، کوئی لوہے کا ، کوئی لکڑی کا ، کوئی پتھر کا ، کوئی اور کسی چیز کا ، کوئی چھوٹا کوئی بڑا مگر سب کے سب نکمے بے کار نہ نفع دے سکیں نہ ضَرر پہنچا سکیں ، ایسے جھوٹے معبود ۔(ف105)کہ نہ کوئی اس کا مقابل ہو سکتا ہے نہ اس کے حکم میں دخل دے سکتا ہے ، نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ نظیر ، سب پر اس کا حکم جاری اور سب اس کے مملوک ۔
تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰٦) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)
“You do not worship anything besides Him, but which are merely names coined by you and your forefathers – Allah has not sent down any proof regarding them; there is no command but that of Allah; He has commanded that you do not worship anyone except Him; this is the proper religion, but most people do not know.”
अच्छे या एक अल्लाह जो सब पर ग़ालिब,
achay ya ek Allah jo sab par ghaalib?
(ف106)اور ان کا نام معبود رکھ لیا ہے باوجود یکہ وہ بے حقیقت پتھر ہیں ۔(ف107)کیونکہ صر ف وہی مستحقِ عبادت ہے ۔(ف108)جس پر دلائل و براہین قائم ہیں ۔(ف109)توحید و عبادتِ الٰہی کی دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیرِ خواب کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد کیا ۔
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)
“O my two fellow-prisoners! One of you will give his lord (the king) wine to drink; regarding the other, he will be crucified, therefore birds will eat from his head; the command has been given concerning the matter you had enquired about.”
तुम इसके सिवा नहीं पूजते मगर नरे नाम (फ़रज़ी नाम) जो तुम ने और तुम्हारे बाप दादा ने तराश लिए हैं अल्लाह ने उनकी कोई सन्द न उतारी, हुक्म नहीं मगर अल्लाह का उसने फ़रमाया कि इसके सिवा किसी को न पूजो यह सीधा दीन है लेकिन अक्सर लोग नहीं जानते
Tum us ke siwa nahi poojhte, magar nare naam (farzi naam) jo tum ne aur tumhare baap dada ne tarash liye hain, Allah ne un ki koi sanad na utari, hukm nahi, magar Allah ka, us ne farmaya ke us ke siwa kisi ko na poojho, ye seedha deen hai, lekin aksar log nahi jaante.
(ف110)یعنی بادشاہ کا ساقی تو اپنے عہدہ پر بحال کیا جائے گا اور پہلے کی طرح بادشاہ کو شراب پلائے گا اور تین خوشے جو خواب میں بیان کئے گئے ہیں یہ تین دن ہیں ، اتنے ہی ایام قید خانے میں رہے گا پھر بادشاہ اس کو بلا لے گا ۔(ف111)یعنی مہتمم مطنج و طعام ۔(ف112)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ۔(ف113)جو میں نے کہہ دیا یہ ضرور واقع ہوگا ، تم نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو اب یہ حکم ٹل نہیں سکتا ۔
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱٤) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱٦)
And of the two, Yusuf said to the one whom he sensed would be released, “Remember me, in the company of your lord”; so Satan caused him to forget to mention Yusuf to his lord, he therefore stayed in prison for several years more.
ऐ क़ैद ख़ाने के दोनों साथी! तुम में एक तो अपने रब (बादशाह) को शराब पिलाएगा रहा दूसरा वह सुली दिया जाएगा तो परिंदे उसका सर खाएंगे हुक्म हो चुका इस बात का जिसका तुम सवाल करते थे
Aye qaid khana ke dono saathiyo! Tum mein ek to apne Rab (Badshah) ko sharab pilaye ga raha, doosra woh suli diya jaaye ga, to parinday us ka sar khaye ge, hukm ho chuka is baat ka jis ka tum sawal karte the.
(ف114)یعنی ساقی کو ۔(ف115)اور میرا حال بیان کرنا کہ قید خانے میں ایک مظلوم بے گناہ قید ہے اور اس کی قید کو ایک زمانہ گزر چکا ہے ۔(ف116)اکثر مفسِّرین اس طرف ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سات برس اور قید میں رہے اور پانچ برس پہلے رہ چکے تھے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد جب اللہ تعالٰی کو حضرت یوسف کا قید سے نکالنا منظور ہوا تو مِصر کے شاہِ اعظم ریان بن ولید نے ایک عجیب خواب دیکھا جس سے اس کو بہت پریشانی ہوئی اور اس نے مُلک کے ساحِروں اور کاہِنوں اور تعبیر دینے والوں کو جمع کر کے ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔
اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انھیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،
And the king said, “I saw in a dream seven healthy cows whom seven lean cows were eating, and seven green ears of corn and seven others dry; O court-members! Explain my dream, if you can interpret dreams.”
और यूसुफ ने उन दोनों में से जिसे बचता समझा उस से कहा अपने रब (बादशाह) के पास मेरा ज़िक्र करना तो शैतान ने उसे भुला दिया कि अपने रब (बादशाह) के सामने यूसुफ का ज़िक्र करे तो यूसुफ कई बरस और जेल ख़ाने में रहा
Aur Yusuf ne un dono mein se jisey bachata samjha, us se kaha, “Apne Rab (Badshah) ke paas mera zikr karna.” To shaitan ne use bhula diya ke apne Rab (Badshah) ke samne Yusuf ka zikr kare, to Yusuf kai saal aur jail khana mein raha.
(ف117)جو ہری پر لپٹیں اور انہوں نے ہری کو سکھا دیا ۔
بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،
They answered, “These are confused dreams – and we do not know the interpretation of dreams.”
और बादशाह ने कहा मैंने ख्वाब में देखीं सात गायें फर्बा कि उन्हें सात दुबली गायें खा रही हैं और सात हरी बालें और दूसरी सात सूखी ऐ दरबारीओ! मेरे ख्वाब का जवाब दो अगर तुम्हें ख्वाब की तबीर आती हो,
Aur Badshah ne kaha, “Maine khwab mein dekhein saat gayen farbah ke, unhein saat dubli gayen kha rahi hain, aur saat baalain hari aur doosri saat sookhi. Aye darbariyo! Mere khwab ka jawab do agar tumhein khwab ki tabeer aati ho.”
اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)
And of the two the one who was released said – and after a long time he had remembered – “I will tell you its interpretation, therefore send me forth.”
बोले परेशान ख्वाबें हैं और हम ख्वाब की तबीर नहीं जानते,
Bole, “Parishan khwabein hain aur hum khwab ki tabeer nahi jaante.”
(ف118)یعنی ساقی ۔(ف119)کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے فرمایا تھا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا ، ساقی نے کہا کہ ۔(ف120)قید خانے میں وہاں تعبیرِ خواب کے ایک عالِم ہیں ، بس بادشاہ نے اس کو بھیج دیا وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرنے لگا ۔
اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)
“O Yusuf! O truthful one! Explain for us the seven healthy cows which seven lean cows were eating and the seven green ears of corn and seven others dry, so I may return to the people, possibly they may come to know.”
और बोला वह जो इन दोनों में से बचा था और एक अवधि बाद उसे याद आया मैं तुम्हें इसकी तबीर बताऊँगा मुझे भेजो
Aur bola, “Woh jo un dono mein se bacha tha, aur ek muddat baad use yaad aaya, main tumhein us ki tabeer bataoon ga, mujhe bhejo.”
(ف121)یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور مُلک کے تمام عُلَماء و حُکماء اس کی تعبیر سے عاجز رہے ہیں ، حضرت اس کی تعبیر ارشاد فرمائیں ۔(ف122)خواب کی تعبیر سے اور آپ کے علم و فضل اور مرتبت و منزِلت کو جانیں اور آپ کو اس محنت سے رہا کر کے اپنے پاس بلائیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تعبیر دی اور ۔
کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲٤) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)
He said, “You will cultivate for seven years continuously; so leave all that you harvest in the ear, except a little which you eat.”
ऐ यूसुफ! ऐ सदीक! हमें तबीर दीजिए सात फर्बा गायों की जिन्हें सात दुबली खाती हैं और सात हरी बालें और दूसरी सात सूखी शायद मैं लोगों की तरफ लौट कर जाऊँ शायद वे आगाह हों
“Aye Yusuf! Aye Sadiq! Humein tabeer dijiye, saat farbah gayon ki, jinhein saat dubli khati hain, aur saat hari baalain aur doosri saat sookhi, shayad main logon ki taraf laut kar jaun, shayad woh aagaah hon.”
(ف123)اس زمانہ میں خوب پیداوار ہوگی ، سات موٹی گائیوں اور سات سبز بالوں سے اسی کی طرف اشارہ ہے ۔(ف124)تاکہ خراب نہ ہو اور آفات سے محفوظ رہے ۔(ف125)اس پر سے بھوسی اتار لو اور اسے صاف کر لو ، باقی کو ذخیرہ بنا کر محفوظ کر لو ۔
پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)
“Then after that will come a year when the people will be given rain and in which they will extract juices.”
फिर इसके बाद सात बरस कड़े (सख़्त तंगी वाले) आएंगे कि खा जाएँगे जो तुमने उनके लिए पहले जमा कर रखा था मगर थोड़ा जो बचा लो
Phir us ke baad saat saal karre (sakht tangi wale) aayenge, ke kha jaayein jo tum ne un ke liye pehle jama kar rakha tha, magar thoda jo bacha lo.
(ف129)انگورکا اور تِل زیتون کے تیل نکالیں گے ، یہ سال کثیر الخیر ہوگا ، زمین سرسبز و شاداب ہوگی ، درخت خوب پھلیں گے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ تعبیر سن کر واپس ہوا اور بادشاہ کی خدمت میں جا کر تعبیر بیان کی ، بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے یقین ہوا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ہے ضرور ویسا ہی ہوگا ۔ بادشاہ کو شوق پیدا ہوا کہ اس خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی زبانِ مبارک سے سنے ۔
اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)
And the king said, “Bring him to me”; so when the bearer came to him, Yusuf said, “Return to your lord and ask him what is the status of the women who had cut their hands; indeed my Lord knows their deception.”
फिर उनके बाद एक बरस आएगा जिसमें लोगों को मेह दिया जाएगा और इसमें रस निचोड़ेंगे
Phir un ke baad ek saal aaye ga, jismein logon ko mehn diya jaaye ga aur is mein ras nichodein ge.
(ف130)اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی خدمت میں بادشاہ کا پیام عرض کیا تو آپ نے ۔(ف131)یعنی اس سے درخواست کرکہ وہ پوچھے ، تفتیش کرے ۔(ف132)یہ آپ نے اس لئے فرمایا تاکہ بادشاہ کے سامنے آپ کی براءت اور بے گناہی معلوم ہو جائے اور یہ اس کو معلوم ہو کہ یہ قید طویل بے وجہ ہوئی تاکہ آئندہ حاسدوں کو نیش زنی کا موقع نہ ملے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دفعِ تہمت میں کوشش کرنا ضروری ہے ۔ اب قاصد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس سے یہ پیام لے کر بادشاہ کی خدمت میں پہنچا ، بادشاہ نے سن کر عورتوں کو جمع کیا اور ان کے ساتھ عزیز کی عورت کو بھی ۔
بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳٤)
The king said, “O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?” They answered, “Purity is to Allah – we did not find any immorality in him”; said the wife of the governor, “Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful.”
और बादशाह बोला कि उन्हें मेरे पास ले आओ तो जब उसके पास एल्ची आया कहा अपने रब (बादशाह) के पास लौट जा फिर उससे पूछ क्या हाल है और औरतों का जिन्होंने अपने हाथ काटे थे, बेशक मेरा रब उनका फरेब जानता है
Aur Badshah bola ke unhein mere paas le aao, to jab us ke paas elchi aaya, kaha, “Apne Rab (Badshah) ke paas phir ja, aur us se pooch kya haal hai, aur auraton ka, jin hon ne apne haath kaate the, beshak mera Rab un ka fareb jaanta hai.”
(ف133)زلیخا ۔(ف134)بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی ا ور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا اس پر حضرت ۔
یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،
Said Yusuf, “I did this so that the governor may realise that I did not betray him behind his back, and Allah does not let the deceit of betrayers be successful.”
बादशाह ने कहा ऐ औरतो! तुम्हारा क्या काम था जब तुम ने यूसुफ का दिल लुभाना चाहा, बोलें अल्लाह को पाकी है हमने उनमें कोई बदी नहीं पाई अज़ीज़ की औरत बोली अब असली बात खुल गई, मैंने उनका जी लुभाना चाहा था और वह बेशक सच्चे हैं
Badshah ne kaha, “Aye aurato! Tumhara kya kaam tha jab tum ne Yusuf ka dil lubhaana chaha?” Bolein, “Allah ko paaki hai! Hum ne un mein koi badi nahi paayi.” Aziz ki aurat boli, “Ab asli baat khul gayi, main ne un ka jee lubhaana chaha tha, aur woh beshak sache hain.”
اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳٦) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)
“And I do not portray my soul as innocent; undoubtedly the soul excessively commands towards evil, except upon whom my Lord has mercy; indeed my Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”
यूसुफ ने कहा यह मैंने इस लिए किया कि अज़ीज़ को मालूम हो जाए कि मैंने पीठ पीछे उसकी खिआनत न की और अल्लाह ढगा बाज़ों का मकर नहीं चलने देता,
Yusuf ne kaha, “Ye main ne is liye kiya ke Aziz ko maloom ho jaaye ke main ne peeth peechhe us ki khiyanat na ki, aur Allah dhaga baazon ka makr nahi chalne deta.”
(ف135)زلیخا کے اقرار و اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غَیبت میں اس کی خیانت نہیں کی ہے اور اس کے اہل کی حرمت خراب کرنے سے مُجتنِب رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں ان سے پاک ہوں ، اس کے بعد آپ کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ اس میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے ایسا نہ ہو کہ اس میں شانِ خود بینی اور خود پسندی کا شائبہ بھی آئے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی کی جناب میں تواضُع و انکسار سے عرض کیا کہ میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا ، مجھے اپنی بے گناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا ، نفس کی جنس کا یہ حال ہے کہ ۔(ف136)یعنی اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے کرم سے معصوم کرے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ کے فضل و رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اسی کا کرم ہے ۔(ف137)جب بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے علم اور آپ کی امانت کا حال معلوم ہوا اور وہ آپ کے حُسنِ صبر ، حُسنِ ادب ، قید خانے والوں کے ساتھ احسان ، محنتوں اور تکلیفوں پر ثبات و استقلا ل رکھنے پر مطّلع ہوا تو اس کے دل میں آپ کا بہت ہی عظیم اعتقاد پیدا ہوا ۔
اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)
And the king said, “Bring him to me so that I may choose him especially for myself”; and when he had talked to him he said, “Indeed you are today, before us, the honourable, the trusted.”
और मैं अपने नफ़्स को बे क़सूर नहीं बताता बेशक नफ़्स तो बुराई का बड़ा हुक्म देने वाला है मगर जिस पर मेरा रब रहम करे बेशक मेरा रब बख़्शने वाला मेहरबान है
“Aur main apne nafs ko be-qasoor nahi bataata, beshak nafs to burai ka bada hukum dene wala hai, magar jis par mera Rab reham kare, beshak mera Rab bakshne wala meherban hai.”
(ف138)اور اپنا مخصوص بنا لوں چنانچہ اس نے معزّزین کی ایک جماعت ، بہترین سواریاں اور شاہانہ ساز و سامان اور نفیس لباس لے کر قید خانہ بھیجی تاکہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ ایوانِ شاہی میں لائیں ۔ ان لوگوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر بادشاہ کا پیام عرض کیا آپ نے قبول فرمایا اور قید خانہ سے نکلتے وقت قیدیوں کے لئے دعا فرمائی ، جب قید خانہ سے باہر تشریف لائے تو اس کے دروازہ پر لکھا یہ بلا کا گھر ، زندوں کی قبر اور دشمنوں کی بدگوئی اور سچوں کے امتحان کی جگہ ہے پھر غسل فرمایا اور پوشاک پہن کر ایوانِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے جب قلعہ کے دروازہ پر پہنچے تو فرمایا میرا ربّ مجھے کافی ہے ، اس کی پناہ بڑی اور اس کی ثناء برتر اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر قلعہ میں داخل ہوئے ، بادشاہ کے سامنے پہنچے تو یہ دعا کی کہ یاربّ میرے ، تیرے فضل سے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور اس کی اور دوسروں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جب بادشاہ سے نظر ملی تو آپ نے عربی میں سلام فرمایا، بادشاہ نے دریافت کیا یہ کیا زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے عَم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان ہے پھر آپ نے اس کو عبرانی زبان میں دعا کی ، اس نے دریافت کیا یہ کون زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے ابّا کی زبان ہے ، بادشاہ یہ دونوں زبانیں نہ سمجھ سکا باوجود یکہ وہ ستّر زبانیں جانتا تھا پھر اس نے حضرت سے جس زبان میں گفتگو کی آپ نے اسی زبان میں اس کو جواب دیا ، اس وقت آپ کی عمر شریف تیس سال کی تھی اس عمر میں یہ وسعتِ علوم دیکھ کر بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی اور اس نے آپ کو اپنے برابر جگہ دی ۔(ف139)بادشاہ نے درخواست کی کہ حضرت اس کے خواب کی تعبیر اپنے زبانِ مبارک سے سناویں ، حضرت نے اس خواب کی پوری تفصیل بھی سنا دی ۔ جس جس شان سے کہ اس نے دیکھا تھا باوجود یکہ آپ سے یہ خواب پہلے مجملاً بیان کیا گیا تھا اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا ، کہنے لگا کہ آپ نے میرا خواب ہو بہو بیان فرما دیا خواب تو عجیب تھا ہی مگر آپ کا اس طرح بیان فرما دینا اس سے بھی زیادہ عجیب تر ہے ، اب تعبیر ارشاد ہو جائے ، آپ نے تعبیر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّے مع بالوں کے محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے ، اس سے جو جمع ہوگا وہ مِصر و حوالیٔ مِصر کے باشندوں کے لئے کافی ہوگا اور پھر خَلقِ خدا ہر ہر طرف سے تیرے پاس غلّہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزائن و اموال جمع ہوں گے جو تجھ سے پہلوں کے لئے جمع نہ ہوئے ۔ بادشاہ نے کہا یہ انتظام کون کرے گا ۔
یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱٤۰)
Said Yusuf, “Appoint me over the treasures of the earth; indeed I am a protector, knowledgeable.”
और बादशाह बोला उन्हें मेरे पास ले आओ कि मैं उन्हें अपने लिए चुन लूँ फिर जब उससे बात की कहा बेशक आज आप हमारे यहाँ मूअज़ज़़ मूअतमद हैं
Aur Badshah bola, “Unhein mere paas le aao ke main unhein apne liye chun loon.” Phir jab us se baat ki, kaha, “Beshak aaj aap humare yahan mo’azzaz mo’tamad hain.”
(ف140)یعنی اپنی قلمرو کے تمام خزانے میرے سپرد کر دے ، بادشاہ نے کہا آپ سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے اور اس نے اس کو منظور کیا ۔ مسائل : احادیث میں طلبِ اَمارت کی ممانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب مُلک میں اہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اَمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہل ہو تو اس کو احکامِ الٰہیہ کی اقامت کے لئے اَمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اسی حال میں تھے آپ رسول تھے ، امّت کے مصالح کے عالِم تھے ، یہ جانتے تھے کہ قحطِ شدید ہونے والا ہے جس میں خَلق کو راحت و آسائش پہنچانے کی یہی سبیل ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ نے اَمارت طلب فرمائی ۔مسئلہ : ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے قبول کرنا بہ نیتِ اقامتِ عدل جائز ہے ۔مسئلہ : اگر احکامِ دین کا اجراء کافِر یا فاسق بادشاہ کی تمکین کے بغیر نہ ہو سکے تو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے ۔ مسئلہ : اپنی خوبیوں کا بیان تفاخُر و تکبّر کے لئے ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا خَلق کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اگر اظہار کی ضرورت پیش آئے تو ممنوع نہیں اسی لئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بادشاہ سے فرمایا کہ میں حفاظت و علم والا ہوں ۔
اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱٤۱) ہم اپنی رحمت (ف۱٤۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ( اَجر) ضائع نہیں کرتے،
And this is how We gave Yusuf the control over that land; to stay in it wherever he pleased; We may convey Our mercy to whomever We will, and We do not waste the wages of the righteous.
यूसुफ ने कहा मुझे ज़मीन के ख़ज़ानों पर कर दो बेशक मैं हिफाज़त वाला इल्म वाला हूँ
Yusuf ne kaha, “Mujhe zameen ke khazaanon par kar do, beshak main hifazat wala, ilm wala hoon.”
(ف141)سب ان کے تحتِ تصرّف ہے ۔ اَمارت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بلا کر آپ کی تاج پوشی کی اور تلوار اور مُہر آپ کے سامنے پیش کی اور آپ کو طلائی تخت پر تخت نشین کیا جو جواہرات سے مُرصّع تھا اور اپنا مُلک آپ کو تفویض کیا اور قطفیر (عزیزِ مصر ) کو معزول کر کے آپ کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزائن آپ کو تفویض کئے اور سلطنت کے تمام امور آپ کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود مثل تابع کے ہوگیا کہ آپ کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ کے ہر حکم کو مانتا ، اسی زمانہ میں عزیزِ مصر کا انتقال ہو گیا ۔ بادشاہ نے اس کے انتقال کے بعد زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر دیا ، جب یوسف علیہ ا لصلٰوۃ و السلام زلیخا کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے جو تو چاہتی تھی ؟ زلیخا نے عرض کیا اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجئے میں خوبرو تھی ، نوجوا ن تھی ، عیش میں تھی اور عزیزِ مِصر عورتوں سے سروکار ہی نہ رکھتا تھا اور آپ کو اللہ تعالٰی نے یہ حسن و جمال عطا کیا ہے ، میرا دل اختیار سے باہر ہو گیا اور اللہ تعالٰی نے آپ کو معصوم کیا ہے ، آپ محفوظ رہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے زلیخا کو باکرہ پایا اور اس سے آپ کے دو فرزند ہوئے افراثیم اور میثا اور مِصر میں آپ کی حکومت مضبوط ہوئی ، آپ نے عدل کی بنیادیں قائم کیں ، ہر زن و مرد کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہوئی اور آپ نے قحط سالی کے ایّام کے لئے غلّوں کے ذخیرے جمع کرنے کی تدبیر فرمائی ۔ اس کے لئے بہت وسیع اور عالی شان انبار خانے تعمیر فرمائے اور بہت کثیر ذخائر جمع کئے ، جب فراخی کے سال گزر گئے اور قحط کا زمانہ آیا تو آپ نے بادشاہ اور اس کے خدم کے لئے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا مقرر فرما دیا ، ایک روز دوپہر کے وقت بادشاہ نے حضرت سے بھوک کی شکایت کی ، آپ نے فرمایا یہ قحط کی ابتداء کا وقت ہے پہلے سال میں لوگوں کے پاس جو ذخیرے تھے سب ختم ہوگئے ، بازار خالی رہ گئے ۔ اہلِ مِصر حضرت یوسف علیہ السلام سے جنس خریدنے لگے اور ان کے تمام درہم دینار آپ کے پاس آ گئے ۔ دوسرے سال زیور اور جواہرات سے غلّہ خریدے اور وہ تمام آپ کے پاس آگئے ، لوگوں کے پاس زیور و جواہر کی قسم سے کوئی چیز نہ رہی ۔ تیسرے سال چوپائے اور جانور دے کر غلّے خریدے اور مُلک میں کوئی کسی جانور کا مالک نہ رہا ۔ چوتھے سال میں غلّے کے لئے تمام غلام اور باندیاں بیچ ڈالیں ۔ پانچویں سال تمام اراضی و عملہ و جاگیریں فروخت کر کے حضرت سے غلّہ خریدا اور یہ تمام چیزیں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں ۔ چھٹے سال جب کچھ نہ رہا تو انہوں نے اپنی اولادیں بیچیں ، اس طرح غلّے خرید کر وقت گذارا ۔ ساتویں سال وہ لوگ خود بک گئے اور غلام بن گئے اور مِصر میں کوئی آزاد مرد و عورت باقی نہ رہا ، جو مرد تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا غلام تھا ، جو عورت تھی وہ آپ کی کنیز تھی اور لوگوں کی زبان پر تھا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی سی عظمت و جلالت کبھی کسی بادشاہ کو میسّر نہ آئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے کہا کہ تو نے دیکھا اللہ کا مجھ پر کیسا کرم ہے ، اس نے مجھ پر ایسا احسانِ عظیم فرمایا اب ان کے حق میں تیری کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا جو حضرت کی رائے اور ہم آپ کے تابع ہیں ۔ آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے تمام اہلِ مِصرکو آزاد کیا اور ان کے تمام املاک اور کل جاگیریں واپس کیں ۔ اس زمانہ میں حضرت نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں ملاحظہ فرمایا ، آپ سے عرض کیا گیا کہ اتنے عظیم خزانوں کے مالک ہو کر آپ بھوکے رہتے ہیں ؟ فرمایا اس اندیشہ سے کہ سیر ہو جاؤں تو کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں ، سبحان اللہ کیا پاکیزہ اخلاق ہیں ۔ مفسِّرین فرماتے ہیں کہ مِصر کے تمام زن و مرد کو حضرت یوسف علیہ السلام کے خریدے ہوئے غلام اور کنیزیں بنانے میں اللہ تعالٰی کی یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام غلام کی شان میں آئے تھے اور مِصر کے ایک شخص کے خریدے ہوئے ہیں بلکہ سب مِصری ان کے خریدے اور آزاد کئے ہوئے غلام ہوں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے جو اس حالت میں صبر کیا اس کی یہ جزا دی گئی ۔(ف142)یعنی مُلک و دولت یا نبوّت ۔
اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱٤۳)
And undoubtedly the reward of the Hereafter is better, for those who accept faith and remain pious.
और यूँ ही हमने यूसुफ को इस मुल्क पर क़ुदरत बख़्शी इसमें जहाँ चाहे रहे हम अपनी रहमत जिसे चाहें पहुँचाएँ और हम नेक़ों का निघ (अज़र) ज़ाया नहीं करते,
Aur yun hi hum ne Yusuf ko is mulk par qudrat bakhshi, is mein jahan chahe rahe, hum apni rehmat, jise chahein, pohchayein, aur hum nekon ka negh (ajr) zaya nahi karte.
(ف143)اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے آخرت کا اجر و ثواب اس سے بہت زیادہ افضل و اعلٰی ہے جو اللہ تعالٰی نے انہیں دنیا میں عطا فرمایا ۔ ابنِ عینیہ نے کہا کہ مومن اپنی نیکیوں کا ثمرہ دنیا و آخرت دونوں میں پاتا ہے اور کافِر جو کچھ پاتا ہے دنیا ہی میں پاتا ہے ، آخرت میں اس کو کوئی حصّہ نہیں ۔ مفسِّرین نے بیان کیا ہے کہ جب قحط کی شدّت ہوئی اور بلائے عظیم عام ہوگئی ، تمام بِلاد و اَمصار قحط کی سخت تر مصیبت میں مبتلا ہوئے اور ہر جانب سے لوگ غلّہ خریدنے کے لئے مِصر پہنچنے لگے ، حضرت یوسف علیہ السلام کسی کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلّہ نہیں دیتے تاکہ مساوات رہے اور سب کی مصیبت رفع ہو ، قحط کی جیسی مصیبت مِصر اور تمام بلاد میں آئی ایسی ہی کنعان میں بھی آئی ، اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کے سوا اپنے دسوں بیٹوں کو غلّہ خریدنے مِصر بھیجا ۔
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انھیں (ف۱٤٤) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱٤۵)
And Yusuf’s brothers came and presented themselves before him, so he recognised them whereas they remained unaware of him.
और बेशक आख़िरत का सवाब उनके लिए बेहतर जो ईमान लाएँ और परहेज़गार रहें
Aur beshak aakhirat ka sawab un ke liye behtar jo iman laaye aur parhezgar rahe.
(ف144)دیکھتے ہی ۔(ف145)کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالنے سے اب تک چالیس سال کا طویل زمانہ گزر چکا تھا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہو چکا ہوگا اور یہاں آپ تختِ سلطنت پر شاہانہ لباس میں شوکت و شان کے ساتھ جلوہ فرما تھے ، اس لئے انہوں نے آپ کو نہ پہچانا اور آپ سے عبرانی زبان میں گفتگو کی ، آپ نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ۔ آ پ نے فرمایا تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم شام کے رہنے والے ہیں ، جس مصیبت میں دنیا مبتلا ہے اسی میں ہم بھی ہیں ، آپ سے غلّہ خریدنے آئے ہیں ، آپ نے فرمایا کہیں تم جاسوس تو نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں ہم جاسوس نہیں ہیں ، ہم سب بھائی ہیں ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، ہمارے والد بہت بزرگ معمّرصدیق ہیں اور ان کا نامِ نامی حضرت یعقوب ہے ، وہ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم کتنے بھائی ہو ؟ کہنے لگے تھے تو ہم بارہ مگر ایک بھائی ہمارا ہمارے ساتھ جنگل گیا تھا ، ہلاک ہوگیا اور وہ والد صاحب کو ہم سب سے زیادہ پیارا تھا ، فرمایا اب تم کتنے ہو ؟ عرض کیا دس ، فرمایا گیارہواں کہاں ہے ؟ کہا وہ والد صاحب کے پاس ہے کیونکہ جو ہلاک ہو گیا وہ اسی کا حقیقی بھائی تھا اب والد صاحب کی اسی سے کچھ تسلّی ہوتی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان بھائیوں کی بہت عزّت کی اور بہت خاطر و مدارات سے ان کی میزبانی فرمائی ۔
اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٤٦) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱٤۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱٤۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،
And when he provided them with their provisions he said, “Bring your step-brother to me; do you not see that I measure in full and that I am the best host?”
और यूसुफ के भाई आए तो उसके पास हाज़िर हुए तो यूसुफ ने उन्हें पहचान लिया और वह उससे अंजान रहे
Aur Yusuf ke bhai aaye to us ke paas haazir hue, to Yusuf ne unhein pehchaan liya aur woh us se anjaan rahe.
(ف146)ہر ایک کا اونٹ بھر دیا اور زادِ سفر دے دیا ۔(ف147)یعنی بنیامین ۔(ف148)اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلّہ اس کے حصّہ کا اور زیادہ دوں گا ۔
پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ناپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،
“And if you do not bring him to me, there shall be no measure (provisions) for you with me and do not ever come near me.”
और जब उनका सामान मुहैया कर दिया कि अपना सौतेला भाई मेरे पास ले आओ क्या नहीं देखते कि मैं पूरा नापता हूँ और मैं सबसे बेहतर मेहमान नवाज़ हूँ,
Aur jab un ka samaan muhaiya kar diya, ke apna sautela bhai mere paas le aao, kya nahi dekhte ke main poora naapta hoon aur main sab se behtar mehmaan nawaaz hoon.
اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱٤۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،
He said to his slaves, “Place their means back into their sacks, perhaps they may recognise it when they return to their homes, perhaps they may come again.”
बोले हम उसकी ख़्वाहिश करेंगे उसके बाप से और हमें यह जरूर करना,
Bole, “Hum us ki khwahish karein ge us ke baap se aur humein ye zaroor karna.”
(ف149)جو انہوں نے قیمت میں دی تھی تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی پونجی انہیں مل جائے اور قحط کے زمانہ میں کام آئے اور مخفی طور پر ان کے پاس پہنچے تاکہ انہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے ان کی رغبت کا باعث بھی ہو ۔(ف150)اور اس کا واپس کرنا ضروری سمجھیں ۔
پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،
So when they returned to their father, they said, “O our father! The provisions have been denied to us, therefore send our brother with us so that we may bring the provisions, and we will surely protect him.”
और यूसुफ ने अपने ग़ुलामों से कहा उनकी पौंजी उनकी ख़ुर्ज़ियों में रख दो शायद वे उसे पहचानें जब अपने घर की तरफ लौट कर जाएँ शायद वह वापस आएँ,
Aur Yusuf ne apne ghulamon se kaha, “Un ki ponji un ki khurji mein rakh do, shayad woh use pehchaanen jab apne ghar ki taraf laut kar jaayein, shayad woh wapas aayen.”
(ف151)اور بادشاہ کے حسنِ سلوک اور اس کے احسان کا ذکر کیا ، کہا کہ اس نے ہماری وہ عزّت و تکریم کی کہ اگر آپ کی اولاد میں سے کوئی ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کر سکتا ، فرمایا اب اگر تم بادشاہِ مِصر کے پاس جاؤ تو میری طرف سے سلام پہنچانا اور کہنا کہ ہمارے والد تیرے حق میں تیرے اس سلوک کی وجہ سے دعا کرتے ہیں ۔(ف152)اگر آپ ہمارے بھائی بنیامین کو نہ بھیجیں گے تو غلّہ نہ ملے گا ۔
کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ،
He said, “Shall I trust you regarding him the same way I had trusted you earlier regarding his brother? Therefore Allah is the Best Protector; and He is More Merciful than all those who show mercy.”
फिर जब वे अपने बाप की तरफ लौट कर गए बोले ऐ हमारे बाप हम से घ़लह रोक दिया गया है तो हमारे भाई को हमारे पास भेज दीजिए कि घ़लह लाएँ और हम जरूर उसकी हिफ़ाज़त करेंगे,
Phir jab woh apne baap ki taraf laut kar gaye, bole, “Aye humare baap! Hum se ghalla rok diya gaya hai, to humare bhai ko humare paas bhej dijiye ke ghalla laayen, aur hum zaroor us ki hifazat karein ge.”
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵٤)
And when they opened their belongings they found that their means had been returned to them; they said, “O our father! What more can we ask for? Here are our means returned to us; we may get the provision for our homes and guard our brother, and get a camel-load extra; giving all these is insignificant for the king.”
कहा क्या उसके बारे में तुम पर वैसा ही इतबार कर लूँ जैसा पहले उसके भाई के बारे में किया था तो अल्लाह सबसे बेहतर निगहबान और वह हर मेहरबान से बढ़कर मेहरबान,
Kaha, “Kya us ke baare mein tum par waisa hi aitbaar kar loon, jaisa pehle us ke bhai ke baare mein kiya tha? To Allah sab se behtar nigehban aur woh har meherban se barh kar meherban hai.”
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵٦) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،
He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)
और जब उन्होंने अपना असबाब खोला अपनी पौंजी पाई कि उनको फेर दी गई है, बोले ऐ हमारे बाप अब और क्या चाहें, यह है हमारी पौंजी हमें वापस कर दी गई और हम अपने घर के लिए घ़लह लाएँ और अपने भाई की हिफ़ाज़त करें और एक ऊंट का बोझ और ज़्यादा पाएँ, यह दुनिया बादशाह के सामने कुछ नहीं
Aur jab unhone apna asbaab khola, apni ponji pai ke unko pher di gayi hai, bole, “Aye humare baap! Ab aur kya chahein? Ye hai humari ponji, humein wapas kar di gayi, aur hum apne ghar ke liye ghalla laayen, aur apne bhai ki hifazat karein, aur ek oont ka bojh aur zyada paayen, ye duniya Badshah ke saamne kuch nahi.”
(ف155)یعنی اللہ کی قسم نہ کھاؤ ۔(ف156)اور اس کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہو جائے ۔(ف157)حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۔
اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱٦۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،
And he said, “O my sons! Do not enter all by one gate – and enter by different gates; I cannot save you against Allah; there is no command but that of Allah; upon Him do I rely; and all those who trust, must rely only upon Him.”
कहा मैं हरगज़ उसे तुम्हारे साथ न भेजूँगा जब तक तुम मुझे का अल्लाह का यह अहमद न दे दो कि जरूर उसे लेकर आओगे मगर यह कि तुम घर जाओ फिर उन्होंने याकूब को अहमद दे दिया कहा अल्लाह का ज़िम्मा है इन बातों पर जो कह रहे हैं,
Kaha, “Main hargez use tumhare saath na bhejoonga, jab tak tum mujhe ka Allah ka ye ahd na de do ke zaroor use lekar aaoge, magar ye ke tum ghar jao.” Phir unhone Ya’qub ko ahd de diya, kaha, “Allah ka zimma hai un baaton par jo keh rahe hain.”
(ف158)مِصر میں ۔(ف159)تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا اس لئے کہ اس وقت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے دفع کی تدبیر اور مناسب احتیاطیں انبیاء کا طریقہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے امر اللہ کو تفویض کر دیا کہ باوجود احتیاطوں کے توکّل و اعتماد اللہ پر ہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں ۔(ف160)یعنی جو مقدر ہے وہ تدبیر سے ٹالا نہیں جا سکتا ۔
اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱٦۱) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱٦۲)
And when they entered from the place where their father had commanded them to; that would not at all have saved them against Allah – except that it was Yaqub’s secret wish, which he fulfilled; and indeed he is a possessor of knowledge, due to Our teaching, but most people do not know.
और कहा ऐ मेरे बेटों! एक दरवाज़े से न दाख़िल होना और जुदा जुदा दरवाज़ों से जाना मैं तुम्हें अल्लाह से बचा नहीं सकता हुक्म तो सब अल्लाह ही का है, मैंने इसी पर भरोसा किया और भरोसा करने वालों को इसी पर भरोसा चाहिए,
Aur kaha, “Aye mere beton! Ek darwaze se na daakhil hona, aur juda juda darwazon se jaana, main tumhein Allah se bacha nahi sakta, hukm to sab Allah hi ka hai, main ne isi par bharosa kiya aur bharosa karne walon ko isi par bharosa chahiye.”
(ف161)یعنی شہر کے مختلف دروازوں سے تو ان کا متفرق ہو کر داخل ہونا ۔(ف162)جو اللہ تعالٰی اپنے اصفیاء کو علم دیتا ہے ۔
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱٦۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱٦٤) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱٦۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱٦٦)
And when they entered in the company Yusuf, he seated his brother close to him and said, “Be assured, I really am your brother – therefore do not grieve for what they do.”
और जब वे दाख़िल हुए जहाँ से उनके बाप ने हुक्म दिया था वह कुछ उन्हें कुछ उन्हें अल्लाह से बचा न सकता हाँ याकूब के जी की एक ख़्वाहिश थी जो उसने पूरी कर ली, और बेशक वह साहिब इल्म है हमारे सिखाए से मगर अक्सर लोग नहीं जानते
Aur jab woh daakhil hue, jahan se un ke baap ne hukum diya tha, woh kuch unhein Allah se bacha na sakta. Haan, Ya’qub ke jee ki ek khwahish thi jo us ne poori kar li, aur beshak woh saahib-e-ilm hai, humare sikhaye se, magar aksar log nahi jaante.
(ف163)اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنے بھائی بنیامین کو لے آئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا پھر انہیں عزّت کے ساتھ مہمان بنایا اور جا بجا دستر خوان لگائے گئے اور ہر دستر خوان پر دو دو صاحبوں کو بٹھایا گیا ، بنیامین اکیلے رہ گئے تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ آج اگر میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایاکہ تمہارا ایک بھائی اکیلا رہ گیا اور آپ نے بنیامین کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا ۔(ف164)اور فرمایا کہ تمہارے ہلاک شدہ بھائی کی جگہ میں تمہارا بھائی ہو جاؤں تو کیا تم پسند کرو گے ؟ بنیامین نے کہا کہ آپ جیسا بھائی کس کو میسّر آئے لیکن یعقوب (علیہ السلام) کا فرزند اور راحیل ( مادرِ حضرت یوسف علیہ السلام ) کا نورِ نظر ہونا تمہیں کیسے حاصل ہو سکتا ہے ؟ حضرت یوسف علیہ السلام رو پڑے اور بنیامین کو گلے سے لگایا اور ۔(ف165)یوسف ( علیہ السلام) ۔(ف166)بے شک اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں خیر کے ساتھ جمع فرمایا اور ابھی اس راز کی بھائیوں کو اطلاع نہ دینا ، یہ سن کر بنیامین فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگے اب میں آپ سے جدا نہ ہوں گا ، آپ نے فرمایا والد صاحب کو میری جدائی کا بہت غم پہنچ چکا ہے اگر میں نے تمہیں بھی روک لیا تو انہیں اور زیادہ غم ہوگا علاوہ بریں روکنے کی بجز اس کے اور کوئی سبیل بھی نہیں ہے کہ تمہاری طرف کوئی غیر پسندیدہ بات منسوب ہو ۔ بنیامین نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٦۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱٦۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،
And when he had provided them their provision, he put the drinking-cup in his brother’s bag, and then an announcer cried, “O people of the caravan! You are indeed thieves!”
और जब वे यूसुफ के पास गए उसने अपने भाई को अपने पास जगह दी कहा यक़ीन जान मैं ही तेरा भाई हूँ तो यह जो कुछ करते हैं इसका ग़म न खा
Aur jab woh Yusuf ke paas gaye, us ne apne bhai ko apne paas jagah di, kaha, “Yaqeen jaan, main hi tera bhai hoon, to ye jo kuch karte hain, us ka gham na kha.”
(ف167)اور ہر ایک کو ایک بارِ شترغلّہ دے دیا اور ایک بارِ شتر بنیامین کے نام کا خاص کر دیا ۔(ف168)جو بادشاہ کے پانی پینے کا سونے کا جواہرات سے مرصّع کیا ہوا تھا اور اس وقت اس سے غلّہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ، یہ پیالہ بنیامین کے کجاوے میں رکھ دیا گیا اور قافلہ کنعان کے قصد سے روانہ ہوگیا جب شہر کے باہر جا چکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے ان کے خیال میں یہی آیا کہ یہ قافلے والے لے گئے انہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے ۔
بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)
They said, “The punishment for it is that he in whose bag it shall be found, shall himself become a slave for it; this is how we punish the unjust.”
बोले फिर क्या सज़ा है इसकी अगर तुम झूठे हो
Bole, “Phir kya saza hai is ki agar tum jhoote ho?”
(ف170)اور شریعتِ حضرت یعقوب علیہ السلام میں چوری کی یہی سزا مقرر تھی چنانچہ انہوں نے کہا کہ ۔(ف171)پھر یہ قافلہ مِصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر کیا گیا ۔
تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷٤) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷٦) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)
So he first searched their bags before his brother’s bag, then removed it from his brother’s bag; this was the plan We had taught Yusuf; he had no right to take his brother by the king’s law, except if Allah wills; We may raise in ranks whomever We will; and above every possessor of knowledge is another scholar.
बोले इसकी सज़ा यह है कि जिसके असबाब में मिले वही इसके बदले में ग़ुलाम बने हमारे यहाँ ज़ालिमों की यही सज़ा है
Bole, “Is ki saza ye hai ke jis ke asbaab mein mile, wohi us ke badle mein ghulām bane. Humare yahan zalimon ki yehi saza hai.”
(ف172)یعنی بنیامین ۔(ف173)یعنی بنیامین کی خرجی سے پیالہ برآمد کیا ۔(ف174)اپنے بھائی کے لینے کی اس معاملہ میں بھائیوں سے استفسار کریں تاکہ وہ شریعتِ حضرتِ یعقوب علیہ السلام کا حکم بتائیں جس سے بھائی مل سکے ۔(ف175)کیونکہ بادشاہِ مِصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دُونا مال لے لینا مقرر تھی ۔(ف176)یعنی یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنی سنّت کے مطابق جواب دیں ۔(ف177)علم میں جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے درجے بلند فرمائے ۔(ف178)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہر عالِم کے اوپر اس سے زیادہ علم رکھنے والا عالِم ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالٰی تک پہنچتا ہے اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بھائی عُلَماء تھے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام ان سے اَعلم تھے ، جب پیالہ بنیامین کے سامان سے نکلا تو بھائی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے سر جھکائے اور ۔
بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،
They said, “If he steals, then indeed his brother has stolen before”; so Yusuf kept this in his heart and did not reveal it to them; he replied within himself, “In fact, you are in a worse position; and Allah well knows the matters you fabricate.”
तो औल उनकी ख़ुर्ज़ियों से तलाशी शुरू की अपने भाई की ख़ुर्ज़ी से पहले फिर उसे अपने भाई की ख़ुर्ज़ी से निकाल लिया हमने यूसुफ को यही तदबीर बताई बादशाही क़ानून में इसे नहीं पहुँचता था कि अपने भाई को ले ले मगर यह कि ख़ुदा चाहे हम जिसे चाहें दर्ज़ों बुलंद करें और हर इल्म वाले ऊपर एक इल्म वाला है
To ool un ki khurjiyon se talashi shuru ki, apne bhai ki khurji se pehle, phir use apne bhai ki khurji se nikal liya. Hum ne Yusuf ko yehi tadbeer batai, badshahi qanun mein use nahi pohchta tha ke apne bhai ko le le, magar ye ke Khuda chahe, hum jisey chahein darajon buland karein, aur har ilm wale upar ek ilm wala hai.
(ف179)یعنی سامان میں پیالہ نکلنے سے سامان والے کا چوری کرنا تو یقینی نہیں لیکن اگر یہ فعل اس کا ہو ۔(ف180)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اور جس کو انہوں نے چوری قرار دے کر حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف نسبت کیا ، وہ واقعہ یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے نانا کا ایک بُت تھا جس کو وہ پوجتے تھے ، حضرت یوسف علیہ السلام نے چپکے سے وہ بُت لیا اور توڑ کر راستہ میں نجاست کے اندر ڈال دیا ، یہ حقیقت میں چوری نہ تھی بُت پرستی کا مٹانا تھا ۔ بھائیوں کا اس ذکر سے یہ مدعا تھا کہ ہم لو گ بنیامین کے سوتیلے بھائی ہیں ، یہ فعل ہو تو شاید بنیامین کا ہو ، نہ ہماری اس میں شرکت ، نہ ہمیں اس کی اطلاع ۔(ف181)اس سے جس کی طرف چوری کی نسبت کرتے ہو کیونکہ چوری کی نسبت حضرت یوسف کی طرف تو غلط ہے ، فعل تو شرک کا ابطال اور عبادت تھا اور تم نے جو یوسف کے ساتھ کیا وہ بڑی زیادتیاں ہیں ۔
بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،
They said, “O governor! He has a very aged father, so take one of us in his stead; indeed we witness your favours.”
भाई बोले अगर यह चोरी करे तो बेशक इससे पहले इसका भाई चोरी कर चुका है तो यूसुफ ने यह बात अपने दिल में रखी और उन पर ज़ाहिर न की, जी में कहा तुम बदतर जगह हो और अल्लाह खूब जानता है जो बातें बनाते हो,
Bhai bole, “Agar ye chori kare to beshak us se pehle us ka bhai chori kar chuka hai.” To Yusuf ne ye baat apne dil mein rakhi aur un par zaahir na ki, jee mein kaha, “Tum badtar jagah ho,” aur Allah khoob jaanta hai jo baatein banate ho.
(ف182)ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور انہیں سے ان کے دل کی تسلّی ہے ۔
کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸٤) جب تو ہم ظالم ہوں گے،
He said, “The refuge of Allah from that we should take anyone except him with whom our property was found – we would then surely be unjust.”
बोले ऐ अज़ीज़! इसके एक बाप हैं बूढ़े बड़े तो हम में इसकी जगह किसी को ले लो, बेशक हम तुम्हारे एहसान देख रहे हैं,
Bole, “Aye Aziz! Us ke ek baap hain, boorhay bade, to hum mein us ki jagah kisi ko le lo, beshak hum tumhare ehsan dekh rahe hain.”
(ف183)حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔(ف184)کیونکہ تمہارے فیصلہ سے ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا اگر ہم بجائے اس کے دوسرے کو لیں ۔
پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸٦) اور اس کا حکم سب سے بہتر،
So when they did not anticipate anything from him, they went away and started consulting each other; their eldest brother said, “Do you not know that your father has taken from you an oath upon Allah, and before this, how you had failed in respect of Yusuf? Therefore I will not move from here until my father permits or Allah commands me; and His is the best command.”
कहा ख़ुदा की पनाह कि हम में मगर उसी को जिसके पास हमारा माल मिला जब तो हम ज़ालिम होंगे,
Kaha, “Khuda ki panah! Ke hum mein magar usi ko jis ke paas humara maal mila, jab tu hum zalim honge.”
(ف185)میرے واپس آنے کی ۔(ف186)میرے بھائی کو خلاصی دے کر یا اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلنے کا ۔
اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)
“Return to your father and then submit, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’
फिर जब उससे ना उम्मीद हुए अलग जा कर सरगुशी करने लगे, उनका बड़ा भाई बोला क्या तुम्हें खबर नहीं कि तुम्हारे बाप ने तुम से अल्लाह का अहमद ले लिया था और उससे पहले यूसुफ के हक़ में तुमने कैसी तक़्सीर की तो मैं यहाँ से न टलूँगा यहाँ तक कि मेरे बाप इजाज़त दें या अल्लाह मुझे हुक्म फ़रमाए और उसका हुक्म सबसे बेहतर,
Phir jab us se naa-umeed hue, alag ja kar sargoshi karne lage, un ka bada bhai bola, “Kya tumhein khabar nahi ke tumhare baap ne tum se Allah ka ahd le liya tha, aur us se pehle Yusuf ke haq mein tum ne kaisi taqseer ki? To main yahan se na taloon ga, yahan tak ke mere baap ijaazat dein, ya Allah mujhe hukum farmaaye, aur us ka hukum sab se behtar.”
(ف187)یعنی ان کی طرف چوری کی نسبت کی گئی ۔(ف188)کہ پیالہ ان کے کجاوہ میں نکلا ۔(ف189)اور ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی ، حقیقتِ حال اللہ ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا ۔
اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)
‘And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful.’”
अपने बाप के पास लौट कर जाओ फिर अर्श करो ऐ हमारे बाप बेशक आपके बेटे ने चोरी की और हम तो इतनी ही बात के गवाह हुए थे जितनी हमारे इल्म में थी और हम ग़ैब के निगहबान न थे
Apne baap ke paas laut kar jao, phir arz karo, “Aye humare baap! Beshak aap ke betay ne chori ki, aur hum to itni hi baat ke gawaah hue the jitni humare ilm mein thi, aur hum ghaib ke nigehban na the.”
(ف190)پھر یہ لوگ اپنے والد کے پاس واپس آئے اور سفر میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کی خبر دی اور بڑے بھائی نے جو کچھ بتا دیا تھا وہ سب والد سے عرض کیا ۔
کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
Said Yaqub, “Your souls have fabricated an excuse for you; therefore patience is excellent; it is likely that Allah will bring all* of them to me; undoubtedly only He is the All Knowing, the Wise.” (* All three including Yusuf.)
और उस बस्ती से पूछ देखिए जिसमें हम थे और उस क़ाफ़िले से जिसमें हम आए, और हम बेशक सच्चे हैं
Aur us basti se pooch dekho jismein hum the, aur us qafila se jismein hum aaye, aur hum beshak sache hain.
(ف191)حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف غلط ہے اور چوری کی سزا غلام بنانا ، یہ بھی کوئی کیا جانے اگر تم فتوٰی نہ دیتے اور تمہیں نہ بتاتے تو ۔(ف192)یعنی حضرت یوسف کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو ۔
اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹٤) وہ غصہ کھاتا رہا،
And he turned away from them and said, “Alas – the separation from Yusuf!” and his eyes turned white with sorrow, he therefore kept suppressing his anger.
कहा तुम्हारे नफ़्स ने तुम्हें कुछ हिला बना दिया, तो अच्छा सब्र है, क़रीब है कि अल्लाह इन सब को मुझ से ला, मिलाए बेशक वही इल्म व हिकमत वाला है,
Kaha, “Tumhare nafs ne tumhein kuch hila bana diya, to achha sabr hai, qareeb hai ke Allah in sab ko mujh se la, milaye, beshak wahi ilm o hikmat wala hai.”
(ف193)حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کی خبر سن کر اور آپ کا غم و اندوہ انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف194)روتے روتے آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی ضعیف ہو گئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اسّی۸۰ برس روتے رہے اور احباء کے غم میں رونا جو تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی شکایت و بے صبری نہ پائی جائے رحمت ہے ۔ ان غم کے ایام میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانِ مبارک پر کبھی کوئی کلمہ بے صبری کا نہ آیا ۔(ف195)برادرانِ یوسف اپنے والد سے ۔
کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹٦) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)
He said, “I complain of my worry and grief only to Allah, and I know the great traits of Allah which you do not know.”
बोले ख़ुदा की कसम! आप हमेशा यूसुफ की याद करते रहेंगे यहाँ तक कि ग़ोर किनारे जा लगें या जान से गुजर जाएँ,
Bole, “Khuda ki kasam! Aap hamesha Yusuf ki yaad karte rahenge, yahan tak ke gor kinare ja lagen ya jaan se guzar jaayein.”
(ف196)تم سے یا اور کسی سے نہیں ۔(ف197)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا خواب حق ہے ، ضرور واقع ہوگا ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت مَلَک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔
اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)
“O my sons, go and search for Yusuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah; indeed none lose hope in the mercy of Allah except the disbelieving people.”
कहा मैं तो अपनी परेशानी और ग़म की फ़रियाद अल्लाह ही से करता हूँ और मुझे अल्लाह की वह शानें मालूम हैं जो तुम नहीं जानते
Kaha, “Main to apni pareshani aur gham ki faryaad Allah hi se karta hoon, aur mujhe Allah ki woh shaanain maloom hain jo tum nahi jaante.”
(ف198)یہ سن کر برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام پھر مِصر کی طرف روانہ ہوئے ۔
پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بےقدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)
Then when they reached in the company of Yusuf they said, “O governor! Calamity has struck us and our household, and we have brought goods of little value, so give us the full measure and be generous to us; undoubtedly Allah rewards the generous.”
ऐ बेटो! जाओ यूसुफ और उसके भाई का सुराग लगाओ और अल्लाह की रहमत से मायूस न हो, बेशक अल्लाह की रहमत से ना उम्मीद नहीं होते मगर काफ़िर लोग
“Aye beto! Jao, Yusuf aur us ke bhai ka suraagh lagao, aur Allah ki rehmat se mayoos na ho, beshak Allah ki rehmat se na mayoos hote, magar kafir log.”
(ف199)یعنی تنگی اور بھوک کی سختی اور جسموں کا دبلا ہو جانا ۔(ف200)ردی کھوٹی جسے کوئی سوداگر مال کی قیمت میں قبول نہ کرے وہ چند کھوٹے درہم تھے اور اثاث البیت کی چند پرانی بوسیدہ چیزیں ۔(ف201)جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے ۔(ف202)یہ ناقص پونجی قبول کر کے ۔(ف203)ان کا یہ حال سن کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام پر گریہ طاری ہوا اور چشمِ گوہر فشاں سے اشک رواں ہو گئے اور ۔
بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰٤)
He said, “Are you aware of what you did to Yusuf and his brother when you were unwise?”
फिर जब वे यूसुफ के पास पहुँचे बोले ऐ अज़ीज़ हमें और हमारे घर वालों को मसीबत पहुँची और हम बे क़दर पौंजी लेकर आए हैं तो आप हमें पूरा नाप दीजिए और हम पर खैरात कीजिए बेशक अल्लाह खैरात वालों को सिला देता है
Phir jab woh Yusuf ke paas pohanche, bole, “Aye Aziz! Humein aur humare ghar walon ko museebat pohanchi, aur hum be-qadr ponji lekar aaye hain, to aap humein poora naap dijiye, aur hum par khairat kijiye, beshak Allah khairat walon ko sila deta hai.”
(ف204)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو مارنا ، کنوئیں میں گرانا ، بیچنا ، والد سے جدا کرنا اور ان کے بعد ان کے بھائی کو تنگ رکھنا ، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو تبسم آ گیا اور انہوں نے آپ کے گوہرِ دندان کا حسن دیکھ کر پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے ۔
بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰٦)
They said, “Are you, in truth you, really Yusuf?” He said, “I am Yusuf and this is my brother; indeed Allah has bestowed favour upon us; undoubtedly whoever practices piety and patience – so Allah does not waste the wages of the righteous.”
बोले कुछ ख़बर है तुम ने यूसुफ और उसके भाई के साथ क्या किया था जब तुम नादान थे
Bole, “Kuch khabar hai tum ne Yusuf aur us ke bhai ke saath kya kiya tha, jab tum nadan the?”
(ف205)ہمیں جدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دنیا اور دین کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ۔(ف206)برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام بہ طریقِ عذر خواہی ۔
بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)
They said, “By Allah, undoubtedly Allah has given you superiority over us, and we were indeed guilty.”
बोले क्या सच मच आप ही यूसुफ हैं, कहा मैं यूसुफ हूँ और यह मेरा भाई, बेशक अल्लाह ने हम पर एहसान किया बेशक जो परहेज़ गारी और सब्र करे तो अल्लाह नेक़ों का निघ (अज़र) ज़ाया नहीं करता
Bole, “Kya sach much aap hi Yusuf hain?” Kaha, “Main Yusuf hoon, aur ye mera bhai, beshak Allah ne hum par ehsan kiya, beshak jo parhezgari aur sabr kare to Allah nekon ka negh (ajr) zaya nahi karta.”
(ف207)اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے آپ کو عزّت دی ، بادشاہ بنایا اور ہمیں مسکین بنا کر آپ کے سامنے لایا ۔
کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)
He said, “There is no reproach on you, this day! May Allah forgive you – and He is the Utmost Merciful, of all those who show mercy.”
बोले ख़ुदा की कसम! बेशक अल्लाह ने आपको हम पर फ़ज़ीलत दी और बेशक हम खता वार थे
Bole, “Khuda ki kasam! Beshak Allah ne aap ko hum par fazilat di, aur beshak hum khatawaar the.”
(ف208)اگرچہ ملامت کرنے کا دن ہے مگر میری جانب سے ۔(ف209)اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے اپنے والد ماجد کا حال دریافت کیا ، انہوں نے کہا آپ کی جدائی کے غم میں روتے روتے ان کی بینائی بحال نہیں رہی ، آپ نے فرمایا ۔
میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ ،
“Take along this shirt of mine and lay it on my father’s face, his vision will be restored; and bring your entire household to me.” (Prophet Yusuf knew that this miracle would occur.)
कहा आज तुम पर कुछ मलामत नहीं, अल्लाह तुम्हें माफ़ करे, और वह सब मेहरबानों से बढ़कर मेहरबान है
Kaha, “Aaj tum par kuch mulaamat nahi, Allah tumhein maaf kare, aur woh sab meherbano se barh kar meherban hai.”
(ف210)جو میرے والد ماجد نے تعویذ بنا کر میرے گلے میں ڈال دیا تھا ۔
جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،
When the caravan left Egypt, their father said*, “Indeed I sense the fragrance of Yusuf, if you do not call me senile.” (* Prophet Yaqub said this in Palestine, to other members of his family. He could discern the fragrance of Prophet Yusuf’s shirt from far away.)
मेरा यह करता ले जाओ इसे मेरे बाप के मुँह पर डालो उनकी आँखें खुल जाएँगी और अपने सब घर भर को मेरे पास ले आओ,
“Mera ye kurta le jao, ise mere baap ke munh par daalo, un ki aankhein khul jaayengi, aur apne sab ghar bhar ko mere paas le aao.”
(ف211)اور کنعان کی طرف روانہ ہوا ۔(ف212)اپنے پو توں اور پاس والوں سے ۔
پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱٤) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)
Then when the bearer of glad tidings came, he laid the shirt on his face, he therefore immediately regained his eyesight*; he said, “Was I not telling you? I know the great traits of Allah which you do not know!” (This was a miracle that took place by applying Prophet Yusuf’s shirt.)
बेटे बोले ख़ुदा की कसम! आप अपनी इसी पुरानी खुद رفتगी में हैं
Bete bole, “Khuda ki kasam! Aap apni isi purani khud raftagi mein hain.”
(ف214)لشکر کے آگے آگے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہودا تھے ، انہوں نے کہا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس خون آلودہ قمیص بھی میں ہی لے کر گیا تھا ، میں نے ہی کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام ) کو بھیڑیا کھا گیا ، میں نے ہی انہیں غمگین کیا تھا ، آج کُرتا بھی میں ہی لے کر جاؤں گا اور حضرت یوسف (علیہ السلام )کی زندگانی کی فرحت انگیز خبر بھی میں ہی سناؤں گا ، تو یہودا بَرَہۡنہ سر ، بَرَہۡنہ پا ، کُرتا لے کر اسّی۸۰ فرسنگ دوڑتے آئے ، راستہ میں کھانے کے لئے سات روٹیاں ساتھ لائے تھے ، فرطِ شوق کا یہ عالَم تھا کہ ان کو بھی راستہ میں کھا کر تمام نہ کر سکے ۔(ف215)حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت فرمایا یوسف کیسے ہیں ؟ یہودا نے عرض کیا حضور وہ مِصر کے بادشاہ ہیں ۔ فرمایا میں بادشاہی کو کیا کروں ، یہ بتاؤ کس دین پر ہیں ؟ عرض کیا دینِ اسلام پر ، فرمایا الحمد للہِ اللہ کی نعمت پوری ہوئی ۔ برادرانِ حضرتِ یوسف علیہ السلام ۔
بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،
They said, “O our father! Seek forgiveness for our sins, for we were indeed guilty.”
फिर जब खुशी सुनाने वाला आया उसने वह करता याकूब के मुँह पर डाला इसी वक्त उसकी आँखें फिर आईँ (देखने लगीं) कि मैं न कहता था कि मुझे अल्लाह की वह शानें मालूम हैं जो तुम नहीं जानते
Phir jab khushi sunane wala aaya, us ne woh kurta Ya’qub ke munh par daala, usi waqt us ki aankhein phir aayin (dekhne lagein), “Ke main na kehta tha, mujhe Allah ki woh shaanain maloom hain jo tum nahi jaante.”
(ف216)حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے وقتِ سحر بعدِ نماز ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالٰی کے دربار میں اپنے صاحبزادوں کے لئے دعا کی ، وہ قبول ہوئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو وحی فرمائی گئی کہ صاحبزادوں کی خطا بخش دی گئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ماجد کو مع ان کے اہل و اولاد کے بلانے کے لئے اپنے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں اور کثیر سامان بھیجا تھا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر کا ارادہ فرمایا اور اپنے اہل کو جمع کیا ، کل مرد و زن بہتّر یا تہتّر تن تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں یہ برکت فرمائی کہ ان کی نسل اتنی بڑھی کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ بنی اسرائیل مِصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے باوجود یکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا زمانہ اس سے صرف چار سو سال بعد ہے ۔ الحاصل جب حضرت یعقوب علیہ السلام مِصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے مِصر کے بادشاہِ اعظم کو اپنے والد ماجد کی تشریف آوری کی اطلاع دی اور چار ہزار لشکر ی اور بہت سے مِصری سواروں کو ہمراہ لے کر آپ اپنے والد صاحب کے استقبال کے لئے صدہا ریشمی پھریرے اڑاتے ، قطاریں باندھے روانہ ہوئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند یہودا کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے جب آپ کی نظر لشکر پر پڑ ی اور آپ نے دیکھا کہ صحرا زرق برق سواروں سے پر ہو رہا ہے ، فرمایا اے یہودا کیا یہ فرعونِ مِصر ہے جس کا لشکر اس شوکت و شکوہ سے آ رہا ہے ؟ عرض کیا نہیں یہ حضور کے فرزند یوسف ہیں علیہم السلام ۔ حضرت جبریل نے آپ کو متعجب دیکھ کر عرض کیا ، ہوا کی طرف نظر فرمایئے ، آپ کے سرور میں شرکت کے لئے ملائکہ حاضر ہوئے ہیں جو مدّتوں آپ کے غم کے سبب روتے رہے ہیں ، ملائکہ کی تسبیح نے اور گھوڑوں کے ہنہنانے نے اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب کیفیت پیدا کر دی تھی ۔ یہ محرّم کی دسویں تاریخ تھی جب دونوں حضرات والد و ولد ، پدر و پسر قریب ہوئے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے سلام عرض کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ توقُّف کیجئے اور والد صاحب کو ابتداء بسلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُذْھِبَ الْاَحْزَانِ ( یعنی اے غم و اندو ہ کے دور کرنے والے سلام ) اور دونوں صاحبوں نے اُتر کر معانقہ کیا اور مل کر خوب روئے پھر اس مزین فرود گاہ میں داخل ہوئے جو پہلے سے آپ کے استقبال کے لئے نفیس خیمے وغیرہ نصب کر کے آراستہ کی گئی تھی ، یہ دخول حدودِ مِصر میں تھا اس کے بعد دوسرا دخول خاص شہر میں ہے جس کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
(ف217)ماں سے یا خاص والدہ مراد ہیں اگر اس وقت تک زندہ ہوں یا خالہ ۔ مفسِّرین کے اس باب میں کئی اقوال ہیں ۔(ف218)یعنی خاص شہر میں ۔(ف219)جب مِصر میں داخل ہوئے اور حضرت یوسف اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوئے آپ نے اپنے والدین کا اکرام فرمایا ۔
اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲٤)
And he seated his parents on the throne, and they all prostrated before him; and Yusuf said, “O my father! This is the interpretation of my former dream; my Lord has made it true; and indeed He has bestowed favour upon me, when He brought me out of prison and brought you all from the village, after Satan had created a resentment between me and my brothers; indeed my Lord may make easy whatever He wills; undoubtedly He is the All Knowing, the Wise.”
फिर जब वे सब यूसुफ के पास पहुँचे उसने अपने माँ बाप को अपने पास जगह दी और कहा मिस्र में दाख़िल हो अल्लाह चाहे तो अमान के साथ
Phir jab woh sab Yusuf ke paas pohanche, us ne apne maan baap ko apne paas jagah di, aur kaha, “Misr mein daakhil ho, Allah chahe to aman ke saath.”
(ف220)یعنی والدین اور سب بھائی ۔(ف221)یہ سجدہ تحیّت و تواضُع کا تھا جو ان کی شریعت میں جائز تھا جیسے کہ ہماری شریعت میں کسی معظّم کی تعظیم کے لئے قیام اور مصافحہ اور دست بوسی جائز ہے ۔ سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے سوا اورکسی کے لئے کبھی جائز نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تحیّت و تعظیم بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں ۔(ف222)جو میں نے صِغر سنی یعنی بچپن کی حالت میں دیکھا تھا ۔(ف223)اس موقع پر آپ نے کنوئیں کا ذکر نہ کیا تاکہ بھائیوں کو شرمندگی نہ ہو ۔(ف224)اصحابِ تواریخ کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مِصر میں چوبیس سال بہترین عیش و آرام میں خوش حالی کے ساتھ رہے ، قریبِ وفات آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وصیّت کی کہ آپ کا جنازہ مُلکِ شام میں لے جا کر ارضِ مقدسہ میں آپ کے والد حضرت اسحٰق علیہ السلام کی قبر شریف کے پاس دفن کیا جائے ، اس وصیت کی تعمیل کی گئی اور بعدِ وفات سال کی لکڑی کے تابوت میں آپ کا جسدِ اطہر شام میں لایا گیا ، اسی وقت آپ کے بھائی عیص کی وفات ہوئی اور آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ساتھ ہوئی تھی اور دفن بھی ایک ہی قبر میں کئے گئے اور دونوں صاحبوں کی عمر ایک سو پینتالیس ۱۴۵ سال تھی جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد اور چچا کو دفن کر کے مِصر کی طرف واپس روانہ ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)
“O my Lord! you have given me a kingdom* and have taught me how to interpret some events; O Creator of the heavens and the earth – you are my Supporter in the world and in the Hereafter; cause me to die as a Muslim, and unite me with those who deserve Your proximity.” (* Prophethood and the rule over Egypt. Prophet Yusuf said this prayer while his death approached him.)
और अपने माँ बाप को तख़्त पर बैठाया और सब उसके लिए सिज़्दे में गिरे और यूसुफ ने कहा ऐ मेरे बाप यह मेरे पहले ख्वाब की तबीर है बेशक इसे मेरे रब ने सचा किया, और बेशक उसने मुझ पर एहसान किया कि मुझे क़ैद से निकाला और आप सब को गाँव से ले आया बाद इसके कि शैतान ने मुझ में और मेरे भाइयों में नाचाक़ी करा दी थी, बेशक मेरा रब जिस बात को चाहे आसान कर दे बेशक वही इल्म व हिकमत वाला है
Aur apne maan baap ko takht par bithaya, aur sab us ke liye sajde mein gire, aur Yusuf ne kaha, “Aye mere baap! Ye mere pehle khwab ki tabeer hai, beshak ise mere Rab ne sachaa kiya, aur beshak us ne mujhe ehsan diya ke mujhe qaid se nikala aur aap sab ko gaon se le aaya, baad is ke ke shaitan ne mujhe aur mere bhaiyon mein nachaqqi kara di thi, beshak mera Rab jis baat ko chahe aasan kar de, beshak wahi ilm o hikmat wala hai.”
(ف225)یعنی حضرت ابراہیم و اسحٰق و حضرت یعقوب علیہم السلام ، انبیاء سب معصوم ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ دعا تعلیمِ امّت کے لئے ہے کہ وہ حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد ماجد کے بعدتیٔس سال رہے اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی ۔ آپ کے مقامِ دفن میں اہلِ مِصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا ، ہر محلہ والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر مُصِر تھے ، آخر یہ رائےقرار پائی کہ آپ کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ پانی آپ کی قبر سے چھوتا ہوا گزرے اور اس کی برکت سے تمام اہلِ مِصر فیضیاب ہوں چنانچہ آپ کو سنگِ رخام یا سنگِ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ وہیں رہے یہانتک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے آپ کا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام کے پاس مُلکِ شام میں دفن کیا ۔
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲٦) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)
These are some tidings of the Hidden which We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not with them when they set their task and when they were scheming.
ऐ मेरे रब बेशक तू ने मुझे एक सल्तनत दी और मुझे कुछ बातों का अंज़ाम निकालना सिखाया, ऐ आसमानों और ज़मीन के बनाने वाले तू मेरा काम बनाने वाला है दुनिया और आख़िरत में, मुझे मुसलमान उठा और उनसे मिला जो तेरे क़रब ख़ास के लायक हैं
“Aye mere Rab! Beshak tu ne mujhe ek saltanat di, aur mujhe kuch baaton ka anjaam nikaalna sikhaya, aye aasmaano aur zameen ke banane wale, tu mera kaam banane wala hai, duniya aur aakhirat mein, mujhe Muslim uthaa, aur un se mila jo tere qurb khaas ke laayak hain.”
(ف226)یعنی برادرانِ یوسف علیہ السلام کے ۔(ف227)باوجود اس کے اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجِزہ ہے ۔
And however much you long for, most men will not accept faith.
यह कुछ ग़ैब की खबरें हैं जो हम तुम्हारी तरफ वाही करते हैं और तुम उनके पास न थे जब उन्होंने अपना काम पका किया था और वे दाओं चल रहे थे
Ye kuch ghaib ki khabrein hain jo hum tumhari taraf wahi karte hain, aur tum un ke paas na the jab unhone apna kaam pakka kiya, aur woh daao chal rahe the.
اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بےخبر رہتے ہیں،
And how many signs exist in the heavens and the earth, over which most people pass and remain unaware of them!
और तुम इस पर उनसे कुछ उज़रत न मांगते यह तो नहीं मगर सारे जहान को नसीहत,
Aur tum is par un se kuch ujrat na maangte, ye to nahi, magar saare jahan ko naseehat.
(ف229)خالِق اور اس کی توحید و صفات پر دلالت کرنے والی ، ان نشانیوں سے ہلاک شدہ اُمّتوں کے آثار مراد ہیں ۔(مدارک)(ف230)اور ان کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن تفکّر نہیں کرتے ، عبرت نہیں حاصل کرتے ۔
اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)
And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!
और कितनी निशानियाँ हैं आसमानों और ज़मीन में कि अक्सर लोग इन पर गुज़रते हैं और उनसे बे खबर रहते हैं,
Aur kitni nishaniyan hain aasmaano aur zameen mein ke aksar log un par guzarte hain aur un se be-khabar rahte hain.
(ف231)جمہور مفسِّرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازِل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بُت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔
تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳٤) اور میں شریک کرنے والا نہیں،
Proclaim, “This is my path – I call towards Allah; I, and whoever follows me, are upon perception; and Purity is to Allah – and I am not of the polytheists.”
क्या इससे निडर हो बैठे कि अल्लाह का अज़ाब उन्हें आ कर घेरे या क़यामत पर अचानक आ जाए और उन्हें खबर न हो,
Kya is se nadhar ho baithay ke Allah ka azaab unhein aa kar gher le, ya qayamat un par achanak aa jaaye aur unhein khabar na ho?
(ف232)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان مشرکین سے کہ توحیدِ الٰہی اور دینِ اسلام کی دعوت دینا ۔(ف233)ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب احسن طریق اور افضل ہدایت پر ہیں ، یہ علم کے معدن ، ایمان کے خزانے ، رحمٰن کے لشکر ہیں ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا طریقہ اختیار کرنے والوں کو چاہئے کہ گزرے ہوؤں کا طریقہ اختیار کریں ۔ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں جن کے دل امّت میں سب سے زیادہ پاک ، علم میں سب سے عمیق ، تکلّف میں سب سے کم ، ایسے حضرات ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنی نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی صحبت اور ان کے دین کی اشاعت کے لئے برگزیدہ کیا ۔(ف234)تمام عیوب و نقائص اور شرکا و اضداد و انداد سے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳٦) تو یہ لوگ زمین پر چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،
And all the Noble Messengers We sent before you, were exclusively men – towards whom We sent the divine revelations, and were dwellers of townships; so have not these people travelled in the land and seen what sort of fate befell those before them? And undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
तुम फ़रमाओ यह मेरी राह है मैं अल्लाह की तरफ बुलाता हूँ मैं और जो मेरे क़दमों पर चलें दिल की आँखें रखते हैं और अल्लाह को पाकी है और मैं शरीक करने वाला नहीं,
Tum farmaao, “Ye meri raah hai, main Allah ki taraf bulata hoon, main aur jo mere qadamon par chalne dil ki aankhein rakhte hain, aur Allah ko paaki hai aur main shareek nahi karta.”
(ف235)نہ فرشتے ، نہ کسی عورت کو نبی بنایا گیا ۔ یہ اہلِ مکّہ کا جواب ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے فرشتوں کو کیوں نہ نبی بنا کر بھیجا ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ کیا تعجب کی بات ہے ، پہلے ہی سے کبھی فرشتے نبی ہو کر نہ آئے ۔(ف236)حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اہلِ بادیہ اور جنّات اور عورتوں میں سے کبھی کوئی نبی نہیں کیا گیا ۔(ف237)انبیاء کے جھٹلائے سے کس طرح ہلاک کئے گئے ۔
یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲٤۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،
To the extent that when the Noble Messengers lost hope from the visible means, and the people thought that they had spoken wrongly, Our help came to them – therefore whoever We willed was saved; and Our punishment is never averted from the guilty.
और हमने तुम से पहले जितने रसूल भेजे सब मर्द ही थे जिन्हें हम वाही करते और सब शहर के साक़िन थे तो ये लोग ज़मीन पर चले नहीं तो देखते उनसे पहलुओं का क्या अंज़ाम हुआ और बेशक आख़िरत का घर परहेज़गारों के लिए बेहतर तो क्या तुम्हें अकल नहीं,
Aur hum ne tum se pehle jitne rasool bheje, sab mard hi the, jinhein hum wahi karte, aur sab shehar ke sakin the, to ye log zameen par chale nahi, to dekho un se pehle ka kya anjaam hua, aur beshak aakhirat ka ghar parhezgaron ke liye behtar, to kya tumhein aqal nahi?
(ف238)یعنی لوگوں کو چاہئے کہ عذابِ الٰہی میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ پہلی اُمّتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جا چکی ہیں یہاں تک کہ جب ان کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور بہ اسبابِ ظاہر رسولوں کو قوم پر دنیا میں ظاہر عذاب آنے کی امید نہ رہی ۔ (ابوالسعود) (ف239)یعنی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں ۔ (مدارک وغیرہ)(ف240)اپنے بندوں میں سے یعنی اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچا لیا ۔
بیشک ان کی خبروں سے (ف۲٤۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲٤۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲٤۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲٤٤) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،
Indeed in their tidings is enlightenment for the men of understanding; this (the Qur’an) is not some made up story but a confirmation of the Books before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and a mercy for the Muslims.
यहाँ तक जब रसूलों को ज़ाहिरी असबाब की उम्मीद न रही और लोग समझे कि रसूलों ने गलत कहा था उस वक्त हमारी मदद आई तो जिसे हमने चाहा बचा लिया गया और हमारा अज़ाब मुज़रिमों से फैरा नहीं जाता,
Yahan tak jab rasoolon ko zahiri asbaab ki umeed na rahi, aur log samjhe ke rasoolon ne ghalat kaha tha, is waqt humari madad aayi, to jise hum ne chaaha bacha liya, aur humara azaab mujrimoon se phaira nahi jaata.
(ف241)یعنی انبیاء کی اور ان کی قوموں کی ۔(ف242)جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے اور بندے کو سختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہیئے ۔ رحمتِ الٰہی دست گیری کرے تو کسی کی بدخواہی کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔(ف243)جس کو کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو کیونکہ اس کا اعجاز اس کے مِنَ اللہ ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے ۔(ف244)توریت انجیل وغیرہ کُتبِ الٰہیہ کی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page