یہ کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲) اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) حق ہے (ف٤) مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے (ف۵)
Alif-Lam-Meem-Ra*; these are verses of the Book; and that which has been sent down upon you from your Lord is true, but most men do not believe. (* Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
यह किताब की आयते हैं और वह जो तुम्हारी तरफ तुम्हारे रब के पास से उतरा हक है मगर अक्सर आदमी ईमान नहीं लाते
Ye kitaab ki aayatein hain aur woh jo tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra haq hai magar aksar aadmi imaan nahi laate
(ف2)یعنی قرآن شریف کی ۔(ف3)یعنی قرآن شریف ۔(ف4)کہ اس میں کچھ شبہ نہیں ۔(ف5)یعنی مشرکینِ مکّہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کلام محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے انہوں نے خود بنایا ، اس آیت میں ان کا رد فرمایا اور اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت کے دلائل اور اپنے عجائبِ قدرت بیان فرمائے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔
اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بےستونوں کے کہ تم دیکھو (ف٦) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا (ف۷) ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے (ف۸) اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے (ف۹) کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو (ف۱۰)
It is Allah Who raised up the heavens without columns for you to observe, then (in the manner befitting His Majesty) established Himself upon the Throne (of control), then subjected the sun and the moon; each one runs for up to an appointed term; Allah plans the works and explain the signs in detail, so that you may believe in meeting with your Lord.
अल्लाह है जिसने आसमानों को बुलंद किया बे स्तूनों के कि तुम देखो फिर अर्श पर इस्तवा फरमाया जैसा उसकी शान के लायक है और सूरज और चाँद को मख़सूर किया हर एक, एक ठहरे हुए वादा तक चलता है अल्लाह काम की तदबीर फरमाता और mufassal निशानियाँ बताता है कहीं तुम अपने रब रब का मिलना यकीन करो
Allah hai jis ne aasmanon ko buland kiya be sutoonon ke ke tum dekho phir Arsh par istiwa farmaaya jaisa us ki shaan ke laayak hai aur sooraj aur chaand ko maskhar kiya har ek, ek thahraye hue waada tak chalta hai Allah kaam ki tadbeer farmaata aur mufassal nishaaniyaan batata kahin tum apne Rab Rab ka milna yaqeen karo
(ف6)اس کے دو معنٰی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو یعنی حقیقت میں کوئی ستون ہی نہیں ہے اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ تمھارے دیکھنے میں آنے والے ستونوں کے بغیر بلند کیا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ ستون تو ہیں مگر تمہارے دیکھنے میں نہیں آتے اور قولِ اول صحیح تر ہے اسی پر جمہور ہیں ۔ (خازن و جمل)(ف7)اپنے بندوں کے منافع اور اپنے بلاد کے مصالح کے لئے وہ حسبِ حکم گردش میں ہیں ۔(ف8)یعنی فنائے دنیا کے وقت تک ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ اجلِ مسمّٰی سے ان کے درجات و منازل مراد ہیں یعنی وہ اپنے منازل و درجات میں ایک غایت تک گردش کرتے ہیں جس سے تجاوز نہیں کرسکتے ، شمس و قمر میں سے ہر ایک کے لئے سیرِ خاص جہتِ خاص کی طرف سُرعت و بطؤ و حرکت کی مقدارِ خاص سے مقرر فرمائی ہے ۔(ف9)اپنے وحدانیت و کمالِ قدرت کی ۔(ف10)اور جانو کہ جو انسان کو نیستی کے بعد ہست کرنے پر قادر ہے وہ اس کو موت کے بعد بھی زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر (ف۱۱) اور نہریں بنائیں ، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے (ف۱۲) رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو (ف۱۳)
And it is He Who spread out the earth and made mountains as anchors and rivers in it; and in it made all kinds of fruits in pairs – He covers the night with the day; indeed in this are signs for people who ponder.
और वही है जिसने ज़मीन को फैला और इस में लंगर और नहरें बनाईँ, और ज़मीन हर क़िस्म के फल दो दो तरह के बनाए रात से दिन को छुपा लेता है, बेशक इस में निशानियाँ हैं धियान करने वालों को
Aur wahi hai jis ne zameen ko phela aur is mein langar aur nahrain banayin, aur zameen har qisam ke phal do do tarah ke banaye raat se din ko chhupa leta hai, beshak is mein nishaaniyaan hain dhyaan karne walon ko
(ف11)یعنی مضبوط پہاڑ ۔(ف12)سیاہ و سفید ، تُرش و شیریں ، صغیر و کبیر ، بَری و بُستانی ، گرم و سرد ، تر و خشک وغیرہ ۔(ف13)جو سمجھیں گے کہ یہ تمام آثار صانع حکیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔
اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس (ف۱٤) اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (ف۱۵)
And in the earth are various regions, and are close to each other – and gardens of grapes and fields, and date-palms, growing from a single branch and separately, all being given one water; and in fruits, We make some better than others in eating; indeed in this are signs for people of intellect.
और ज़मीन के विभिन्न क़ट्हे हैं और हैं पास पास और बाग हैं अंगूरों के और खेती और खजूर के पेड़ एक थाले (थाल) से उगे और अलग अलग सब को एक ही पानी दिया जाता है और फलों में हम एक को दूसरे से बेहतर करते हैं, बेशक इस में निशानियाँ हैं अकल मंदों के लिए
Aur zameen ke mukhtalif qit’ey hain aur hain paas paas aur baagh hain angooron ke aur kheti aur khajoor ke ped ek thaalay (thaal) se uge aur alag alag sab ko ek hi paani diya jaata hai aur phalon mein hum ek ko doosre se behtar karte hain, beshak is mein nishaaniyaan hain aqal mandon ke liye
(ف14)ایک دوسرے سے ملے ہوئے ، ان میں سے کوئی قابلِ زراعت ہے کوئی ناقابل زراعت ۔ کوئی پتھریلا کوئی ریتلا ۔(ف15)حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس میں بنی آدم کے قلوب کی ایک تمثیل ہے کہ جس طرح زمین ایک تھی اس کے مختلف قطعات ہوئے ، ان پر آسمان سے ایک ہی پانی برسا ، اس سے مختلف قسم کے پھل پُھول بیل بُوٹے اچھے بُرے پیدا ہوئے ۔ اسی طرح آدمی حضرت آدم سے پیدا کئے گئے ان پر آسمان سے ہدایت اتری ، اس سے بعض دل نرم ہوئے ان میں خشوع خضوع پیدا ہوا ، بعض سخت ہوگئے اور لہو و لغو میں مبتلا ہوئے تو جس طرح زمین کے قطعات اپنے پھول پھل میں مختلف ہیں اس طرح انسانی قلوب اپنے آثار و انوار و اسرار میں مختلف ہیں ۔
اور اگر تم تعجب کرو (ف۱٦) تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے (ف۱۷) وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے (ف۱۸) اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
And if you are amazed, then indeed the amazement is at their saying that, “Will we, after having turned to dust, be created anew?” They are those who have disbelieved in their Lord; and they are those who will have shackles around their necks; and they are the people of hell; remaining in it forever.
और अगर तुम ताज्जुब करो तो अचम्भा तो उनके इस कहने का है कि क्या हम मिट्टी हो कर फिर नए बनेंगे वह हैं जो अपने रब से मंकर हुए और वे हैं जिनकी गर्दनों में तोक होंगे और वे दोज़ख वाले हैं इन्हें उसी में रहना,
Aur agar tum taajjub karo to achambha to un ke is kehne ka hai ke kya hum mitti ho kar phir naye banenge woh hain jo apne Rab se munkir hue aur woh hain jin ki gardanon mein tooq honge aur woh dozakh wale hain unhein usi mein rehna,
(ف16)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کُفّار کی تکذیب کرنے سے باوجود یکہ آپ ان میں صادق و امین معروف تھے ۔(ف17)اور انہوں نے کچھ نہ سمجھا کہ جس نے ابتداءً بغیر مثال کے پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ۔(ف18)روزِ قیامت ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے (ف۱۹) اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں (ف۲۰) اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انھیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے (ف۲۱) اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے (ف۲۲)
And they urge you to hasten the punishment before the mercy, whereas the punishments of those before them have concluded; and indeed your Lord gives the people a sort of pardon* despite their injustice; and indeed the punishment of your Lord is severe. (* By delaying their punishment despite their disbelief.)
और तुम से अज़ाब की जल्दी करते हैं रहमत से पहले और इन उगलों की सज़ाएँ हो चुकीं और बेशक तुम्हारा रब तो लोगों के ज़ुल्म पर भी उन्हें एक तरह की माफ़ी देता है और बेशक तुम्हारे रब का अज़ाब सख़्त है
Aur tum se azaab ki jaldi karte hain rehmat se pehle aur in ugloon ki sazaayein ho chuki aur beshak tumhara Rab to logon ke zulm par bhi unhein ek tarah ki maafi deta hai aur beshak tumhare Rab ka azaab sakht hai
(ف19)مشرکینِ مکّہ اور یہ جلدی کرنا بطریقِ تمسخُر تھا اور رحمت سے سلامت و عافیت مراد ہے ۔(ف20)وہ بھی رسولوں کی تکذیب اور عذاب کا تمسخُر کیا کرتے تھے ، ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کرنا چاہیئے ۔(ف21)کہ ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتا اور انہیں مہلت دیتا ہے ۔(ف22)جب عذاب فرمائے ۔
اور کافر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۲۳) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی (ف۲٤)
The disbelievers say, “Why is not a sign sent down upon him from his Lord?” You are purely a Herald of Warning, and a guide for all nations.
और का फर कहते हैं इन पर उनकी तरफ से कोई निशानी क्यों नहीं उतरी तुम तो डर सुनाने वाले हो और हर क़ौम के हादी
Aur kaafir kehte hain in par un ki taraf se koi nishani kyon nahi utri tum to dar sunane wale ho aur har qaum ke haadi
(ف23)کافِروں کا یہ قول نہایت بے ایمانی کا قول تھا جتنی آیات نازِل ہو چکی تھیں اور معجزات دکھائے جاچکے تھے سب کو انہوں نے کالعدم قرار دے دیا یہ انتہا درجہ کی نا انصافی اور حق دشمنی ہے جب حجّت قائم ہو چکے اور ناقابلِ انکار براہین پیش کر دیئے جائیں اور ایسے دلائل سے مدعا ثابت کردیا جائے جس کے جواب سے مخالفین کے تمام اہلِ علم و ہنر عاجز و متحیر رہیں اور انہیں لب ہلانا اور زبان کھولنا محال ہوجائے ۔ ایسے آیاتِ بیّنہ اور براہینِ واضحہ و معجزاتِ ظاہرہ دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی ! روزِ روشن میں دن کا انکار کردینے سے بھی زیادہ بدتر اور باطل تر ہے اورحقیقت میں یہ حق کو پہچان کر اس سے عناد و فرار ہے ۔ کسی مدعا پر جب برہان قوی قائم ہو جائے پھر اس پر دوبارہ دلیل قائم کرنی ضروری نہیں رہتی اور ایسی حالت میں طلبِ دلیل عناد و مکابَرہ ہوتا ہے جب تک کہ دلیل کو مجروح نہ کردیا جائے کوئی شخص دوسری دلیل کے طلب کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اگر یہ سلسلہ قائم کردیا جائے کہ ہر شخص کے لئے نئی برہان قائم کی جائے جس کو وہ طلب کرے اور وہی نشانی لائی جائے جو وہ مانگے تو نشانیوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ اس لئے حکمتِ الٰہیہ یہ ہے کہ انبیاء کو ایسے معجزات دیئے جاتے ہیں جن سے ہر شخص ان کے صدق و نبوّت کا یقین کرسکے اور بیشتر وہ اس قبیل سے ہوتے ہیں جس میں ان کی امّت اور ان کے عہد کے لوگ زیادہ مشق و مہارت رکھتے ہیں جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں علمِ سحر اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا اور اس زمانہ کے لوگ سحر کے بڑے ماہرِ کامل تھے تو حضر ت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وہ معجِزہ عطا ہوا جس نے سحر کو باطل کردیا اور ساحروں کو یقین دلا دیا کہ جو کمال حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دکھایا وہ ربّانی نشان ہے ، سحر سے اس کا مقابلہ ممکن نہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہائی عروج پر تھی ، حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو شفائے امراض و احیائے اموات کا وہ معجِزہ عطا فرمایا گیا جس سے طب کے ماہر عاجز ہوگئے اور وہ اس یقین پر مجبور تھے کہ یہ کام طب سے ناممکن ہے ضرور یہ قدرت الٰہی کا ز بردست نشان ہے اسی طرح سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں عرب کی فصاحت و بلاغت اوجِ کمال پر پہنچی ہوئی تھی اور وہ لوگ خوش بیانی میں عالَم پر فائق تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ معجِزہ عطا فرمایا جس نے انہیں عاجز و حیران کردیا اور ان کے بڑے سے بڑے لوگ اور ان کے اہلِ کمال کی جماعتیں قرآنِ کریم کے مقابل ایک چھوٹی سی عبارت پیش کرنے سے بھی عاجز و قاصر رہیں اور قرآن کے اس کمال نے یہ ثابت کردیا کہ بیشک یہ ربّانی عظیم نشان ہے اور اس کا مثل بنا لانا بشری قوت کے امکان میں نہیں ۔ اس کے علاوہ اور صدہا معجزات سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش فرمائے جنہوں نے ہر طبقہ کے انسانوں کو آپ کے صدقِ رسالت کا یقین دلادیا ۔ ان معجزات کے ہوتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کس قدر عناد اور حق سے مُکرنا ہے ۔(ف24)اپنی نبوّت کے دلائل پیش کرنے اور اطمینان بخش معجزات دکھا کر اپنی رسالت ثابت کر دینے کے بعد احکامِ الٰہیہ پہنچانے او رخدا کا خو ف دلانے کے سوا آپ پر کچھ لازم نہیں اور ہر ہر شخص کے لئے اس کی طلبیدہ جدا جدا نشانیاں پیش کرنا آپ پر ضروری نہیں جیسا کہ آپ سے پہلے ہادیوں ( انبیاء علیہم السلام کا ) طریقہ رہا ہے ۔
اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲٦) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۵)
Allah knows all what is inside the womb of every female, and every increase and decrease of the wombs; and all things are with Him by a set measure.
अल्लाह जानता है जो कुछ किसी मादा के पेट में है और पेट जो कुछ घटते बढ़ते हैं और हर चीज़ उसके पास एक अंदाज़े से है
Allah jaanta hai jo kuch kisi maada ke pait mein hai aur pait jo kuch ghatte barhte hain aur har cheez us ke paas ek andaazay se hai
(ف25)نر مادہ ایک یا زیادہ و غیر ذالک ۔(ف26)یعنی مدّ ت میں کس کا حمل جلد وضع ہوگاکس کا دیر میں ۔ حمل کی کم سے کم مدّت جس میں بچہ پیدا ہو کر زندہ رہ سکے چھ ماہ ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سال ۔ یہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا اور اسی کے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قائل ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچہ کا قوی ، تام الخِلقت اور ناقص الخِلقت ہونا مراد ہے ۔(ف27)کہ اس سے گھٹ بڑھ نہیں سکتی ۔
برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے (ف۲۹)
Equal* are the one among you who speaks softly and one who speaks aloud, and one who is hidden during the night and one who walks during the daytime. (* For Allah.)
बराबर हैं जो तुम में बात आहिस्ता कहे और जो आवाज़ से और जो रात में छुपा है और जो दिन में राह चलता है
Barabar hain jo tum mein baat aahista kahe aur jo aawaaz se aur jo raat mein chhupa hai aur jo din mein raah chalta hai
(ف29)یعنی دل کی چھپی باتیں او رزبان سے بَاعلان کہی ہوئی اور رات کو چھپ کر کئے ہوئے عمل اور دن کو ظاہر طور پر کئے ہوئے کام سب اللہ تعالٰی جانتا ہے کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ۔
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے (ف۳۰) کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود (ف۳۲) اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳٤)
For man are angels of alternating duties, in front and behind him, who guard him by Allah’s command; indeed Allah does not change His favour upon any nation until they change their own condition; and when Allah wills misfortune for a nation, it cannot be repelled; and they do not have any supporter besides Him.
आदमी के लिए बदली वाले फ़रिश्ते हैं उसके आगे पीछे कि बहकम ख़ुदा उसकी हिफ़ाज़त करते हैं बेशक अल्लाह किसी क़ौम से अपनी नेअमत नहीं बदलता जब तक वह खुद अपनी हालत न बदलें, और जब किसी क़ौम से बुराई चाहे तो वह फिर नहीं सकती, और उसके सिवा उनका कोई हामियाती नहीं
Aadmi ke liye badli wale farishte hain us ke aage peechhe ke bah-khukda us ki hifazat karte hain beshak Allah kisi qaum se apni ne’mat nahi badalta jab tak woh khud apni haalat na badlein, aur jab kisi qaum se burai chahe to woh phir nahi sakti, aur us ke siwa un ka koi hamiyaati nahi
(ف30)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ تم میں فرشتے نوبت بہ نوبت آتے ہیں ، رات اور دن میں اور نمازِ فجر اور نمازِ عصرمیں جمع ہوتے ہیں ، نئے فرشتے رہ جاتے ہیں اور جو فرشتے رہ چکے ہیں وہ چلے جاتے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ نماز پڑھتے پایا اور نماز پڑھتے چھوڑا ۔(ف31)مجاہد نے کہا ہر بندے کے ساتھ ایک فرشتہ حفاظت پر مامور ہے جو سوتے جاگتے جن و انس اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ستانے والی چیز کو اس سے روک دیتا ہے بجز اس کے جس کا پہنچنا مشیت میں ہو ۔(ف32)مَعاصی میں مبتلا ہو کر ۔(ف33)اس کے عذاب و ہلاک کا ارادہ فرمائے ۔(ف34)جو اس کے عذاب کو روک سکے ۔
وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
It is He Who shows you the lightning, for fear and for hope, and raises the heavy clouds.
वही है तुम्हें बिजली दिखाता है डर को और उम्मीद को और भारी बदलीयाँ उठाता है,
Wahi hai tumhein bijli dikhata hai dar ko aur umeed ko aur bhaari badliyaan uthaata hai,
(ف35)کہ اس سے گر کر نقصان پہنچانے کا خوف ہوتا ہے اور بارش سے نفع اٹھانے کی امید یا بعضوں کو خوف ہوتا ہے جیسے مسافروں کو جو سفر میں ہوں اور بعضوں کو فائدہ کی امید جیسے کہ کاشتکار وغیرہ ۔
اور گرج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳٦) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں (ف۳۹) اور اس کی پکڑ سخت ہے،
And the thunder proclaims His purity with praise, and the angels out of fear of Him; and He sends the bolt of lightning – it therefore strikes upon whom He wills, whilst they are disputing concerning Allah; and severe is His seizure.
और गर ज इसे सराहती हुई उसकी पाक़ी बोलती है और फ़रिश्ते उसके डर से और कड़क भीजता है तो इसे डालता है जिस पर चाहे और वह अल्लाह में झगड़ते होते हैं और उसकी पकड़ सख़्त है,
Aur gar j ise sarahati hui us ki paaki bolti hai aur farishte us ke dar se aur kadak bhejta hai to ise daalta hai jis par chahe aur woh Allah mein jhagdte hote hain aur us ki pakad sakht hai,
(ف36)گرج یعنی بادل سے جو آواز ہوتی ہے اس کے تسبیح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس آواز کا پیدا ہونا خالِق ، قادر ، ہر نقص سے منزّہ کے وجود کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ تسبیحِ رعد سے وہ مراد ہے کہ اس آواز کو سن کر اللہ کے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قو ل ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادل پر مامور ہے اس کو چلاتا ہے ۔(ف37)یعنی اس کی ہیبت و جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔(ف38)صاعقہ وہ شدید آواز ہے جو جَوّ ( آسمان و زمین کے درمیان ) سے اترتی ہے پھر اس میں آ گ پیدا ہو جاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ اپنی ذات میں ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ (خازن) (ف39)شانِ نُزول : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافِر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی ، انہوں نے اس کو دعوت دی کہنے لگا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ربّ کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو ، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا یا لوہے کا یا تانبے کا ؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے واپس ہو کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ایسا اکفر ، سیاہ دل ، سرکش دیکھنے میں نہیں آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس پھر جاؤ ، اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا اور کہا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قبول کرکے ایسے ربّ کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا ۔ یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس کا خُبث تو اور ترقی پر ہے ، فرمایا پھر جاؤ ، بہ تعمیل ارشاد پھر گئے جس وقت اس سے گفتگو کر رہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں بک رہا تھا ، ایک ابر آیا اس سے بجلی چمکی اور کڑک ہوئی اور بجلی گری اور اس کافِر کو جلادیا ۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو راہ میں انہیں اصحابِ کرام کی ایک اور جماعت ملی وہ کہنے لگے کہیے وہ شخص جل گیا ، ان حضرات نے کہا آپ صاحبوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ انہوں نے فرمایا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آئی ہے۔ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَآ مَنْ یَّشَآءُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہ ِ (خازن) بعض مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ عامر بن طفیل نے اربد بن ربیعہ سے کہا محمّدِ مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس چلو میں انہیں باتوں میں لگاؤں گا تو پیچھے سے تلوار سے حملہ کرنا ، یہ مشورہ کرکے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عامر نے حضور سے گفتگو شروع کی بہت طویل گفتگو کے بعد کہنے لگا کہ اب ہم جاتے ہیں اور ایک بڑا جرّار لشکر آپ پر لائیں گے یہ کہہ کر چلا آیا ، باہر آکر اربد سے کہنے لگا کہ تو نے تلوار کیوں نہیں ماری ؟ اس نے کہا جب میں تلوار مارنے کا ارادہ کرتا تھا تو تُو درمیان میں آجاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے نکلتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ اَللّٰھُمَّ اکْفِہِمَا بِمَا شِئْتَ جب یہ دونوں مدینہ شریف سے باہر آئے تو ان پر بجلی گری اربد جل گیا اورعامر بھی اسی راہ میں بہت بدتر حالت میں مرا ۔ (حسینی)
اسی کا پکارنا سچا ہے (ف٤۰) اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف٤۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف٤۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
Only the prayer to Him is truthful; and whomever they pray to besides Him, do not hear them at all, but like one who has his hands outstretched towards water that it may come into his mouth, and it will never come; and every prayer of the disbelievers remains wandering.
उसी का पुकारना सच्चा है और उसके सिवा जिनको पुकारते हैं वे उनकी कुछ भी नहीं सुनते मगर उसकी तरह जो पानी के सामने अपनी हथेलियाँ फैलाए बैठा है कि उसके मुँह में पहुँच जाए और वह हरगज़ न पहुँचेगा, और काफ़रों की हर दुआ भटकती फिरी है,
Isi ka pukarna saccha hai aur us ke siwa jin ko pukarte hain woh un ki kuch bhi nahi sunte magar us ki tarah jo paani ke samne apni hatheliyaan phailaaye baitha hai ke us ke munh mein pohanch jaaye aur woh hargiz na pohanchega, aur kaafiron ki har dua bhatakti phirti hai,
(ف40)یعنی اس کی توحید کی شہادت دینا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہنا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ دعا قبول کرتا ہے اور اسی سے دعا کرنا سزا وار ہے ۔(ف41)معبود جان کر یعنی کُفّار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں ۔(ف42)تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں نہ آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور جو اس کی حاجت اور پیاس کو جانے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچانے ، نہ اس میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے مقتضائے طبیعت کے خلاف اوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ۔ یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بُت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ ان کی حاجت کا شعور نہ وہ ان کے نفع پر کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف٤۳) خواہ مجبوری سے (ف٤٤) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف٤۵) السجدة ۔۲
And to Allah only prostrate all those who are in the heavens and in the earth, willingly or helplessly – and their shadows – every morning and evening. (Command of prostration # 2).
और अल्लाह ही को सिज़दा करते हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं ख़ुशी से चाहे मज़बूरी से और उनकी परछाइयाँ हर सुबह व शाम अस्सुज्दत।2
Aur Allah hi ko sajda karte hain jitne aasmanon aur zameen mein hain khushi se khwah majboori se aur un ki parchhaiyaan har subah o shaam as-sajdat.2
(ف43)جیسے کہ مومن ۔(ف44)جیسے کہ منافق و کافِر ۔(ف45)ان کی تبعیت میں اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ۔ زُجاج نے کہا کہ کافِر غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ اللہ کو ۔ ابنِ انباری نے کہا کہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی پرچھائیوں میں ایسی فہم پیدا کرے کہ وہ اس کو سجدہ کریں ۔ بعض کا قول ہے سجدے سے سایہ کا ایک طرف سے دوسر ی طرف مائل ہونا اور آفتاب کے ارتفاع و نُزول کے ساتھ دراز و کوتاہ ہونا مراد ہے ۔ (خازن)
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف٤٦) تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف٤۷) تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) (ف٤۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف٤۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انھیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Who is the Lord of the heavens and the earth?” Proclaim, “Allah”; Say, “So have you appointed such as supporters besides Him, who can neither benefit nor harm themselves?”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? Or will the realms of darkness and the light ever be equal?” Have they appointed such as partners to Allah who created something like Allah did? Therefore their creation and His creation seemed alike to them? Proclaim, “Allah is the Creator of all things, and He Alone is the Dominant over all.”
तुम फ़रमाओ कौन रब है आसमानों और ज़मीन का, तुम खुद ही फ़रमाओ अल्लाह तुम फ़रमाओ तो क्या इसके सिवा तुमने वह हामियाती बनाए हैं जो अपना भला बुरा नहीं कर सकते तुम फ़रमाओ क्या बराबर हो जाएँगे अंधा और अंकिरा (बीना) या क्या बराबर हो जाएँगी अंधेरियाँ और उजाला क्या अल्लाह के लिए ऐसे शरीक ठहराते हैं जिन्होंने अल्लाह की तरह कुछ बनाया तो उन्हें उनका और इसका बनाना एक सा मालूम हुआ तुम फ़रमाओ अल्लाह हर चीज़ का बनाने वाला है और वह अकेला सब पर ग़ालिब है
Tum farmao kaun Rab hai aasmanon aur zameen ka, tum khud hi farmao Allah tum farmao to kya is ke siwa tumne woh hamiyaati banaye hain jo apna bhala bura nahi kar sakte tum farmao kya barabar ho jaayenge andha aur ankhiara (beena) ya kya barabar ho jaayengi andheriyaan aur ujala kya Allah ke liye aise shareek thehrate hain jinho ne Allah ki tarah kuch banaya to unhein un ka aur iska banana ek sa maloom hua tum farmao Allah har cheez ka banane wala hai aur woh akela sab par ghalib hai
(ف46)کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین باوجود غیر اللہ کی عبادت کرنے کے اس کے مقِر ہیں کہ آسمان و زمین کا خالِق اللہ ہے ۔ جب یہ امر مسلّم ہے تو ۔(ف47)یعنی بُت جب ان کی یہ بے قدرتی و بیچارگی ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و ضَرر پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسوں کو معبود بنانا اور خالِق رازق قوی و قادر کو چھوڑنا انتہا درجے کی گمراہی ہے ۔(ف48)یعنی کافِر و مومن ۔(ف49)یعنی کُفر و ایمان ۔ (ف50)اور اس وجہ سے کہ حق ان پر مشتبہ ہوگیا اور وہ بُت پرستی کرنے لگے ، ایسا تو نہیں ہے بلکہ جن بتوں کو وہ پوجتے ہیں اللہ کی مخلوق کی طرح کچھ بنانا تو کجا وہ بندوں کے مصنوعات کے مثل بھی نہیں بناسکتے ، عاجزِ مَحض ہیں ایسے پتھروں کا پوجنا عقل و دانش کے بالکل خلاف ہے ۔(ف51)جو مخلوق ہونے کی صلاحیت رکھے اس سب کا خالِق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو دوسرے کو شریکِ عبادت کرنا عاقل کس طرح گوارا کرسکتا ہے ۔(ف52)سب اس کے تحتِ قدرت و اختیار ہیں ۔
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا یا اور اسباب (ف۵٤) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
He sent down water from the sky, so valleys flowed according to their measure, therefore the water flow brought forth the froth swollen upon it; and upon which they ignite the fire, to make ornaments and tools, from that too rises a similar froth; Allah illustrates that this is the example of the truth and the falsehood; the froth then bursts and disappears; and that which is of use to people, remains in the earth; this is how Allah illustrates the examples.
उसने आसमान से पानी उतारा तो नाले अपने अपने लायक बह निकले तो पानी की रो इस पर उभरे हुए झाग उठाई लाई, और जिस पर आग ढकाते हैं गहना या और असबाब बनाने को इस से भी वैसे ही झाग उठते हैं अल्लाह बताता है कि हक़ व बातिल की यही मिसाल है, तो झाग तो फख (जल) कर दूर हो जाता है, और वह जो लोगों के काम आए ज़मीन में रहता है अल्लाह यों ही मिसालें बयान फरमाता है,
Us ne aasman se paani utara to naale apne apne laayak beh nikle to paani ki ro is par ubhre hue jhaag utha laayi, aur jis par aag dhakate hain gehna ya aur asbaab banane ko is se bhi waise hi jhaag uthte hain Allah batata hai ke haq o baatil ki yehi misaal hai, to jhaag to phak (jal) kar door ho jaata hai, aur woh jo logon ke kaam aaye zameen mein rehta hai Allah yun hi misaalein bayan farmaata,
(ف53)جیسے کہ سونا چاندی تانبہ وغیرہ ۔(ف54)برتن وغیرہ ۔(ف55)ایسے ہی باطل اگرچہ کتنا ہی ابھر جائے اور بعض اوقات و احوال میں جھاگ کی طرح حد سے اونچا ہو جائے مگرانجامِ کار مٹ جاتا ہے اور حق اصل شے اور جوہرِ صاف کی طرح باقی و ثابت رہتا ہے ۔
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انھیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵٦) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
For those who obeyed the command of Allah is goodness and if those who did not obey Him owned all that is in the earth and in addition a similar one like it, they would give it to redeem their souls; it is they who will have a wretched account, and their destination is hell; and what a wretched resting place!
जिन लोगों ने अपने रब का हुक्म माना उन्हें के लिए भलाई है और जिनोंने इसका हुक्म न माना अगर ज़मीन में जो कुछ है वह सब और इस जैसा और उनकी मिलक में होता तो अपनी जान छड़ाने को दे देते यही हैं जिनका बुरा हिसाब हो गा और उनका ठिकाना जहन्नम है, और क्या ही बुरा बिछोना,
Jin logon ne apne Rab ka hukum maana unhein ke liye bhalai hai aur jinho ne iska hukum na maana agar zameen mein jo kuch hai woh sab aur is jaisa aur un ki milk mein hota to apni jaan chhudaane ko de dete yehi hain jin ka bura hisaab hoga aur un ka thikaana jahannum hai, aur kya hi bura bichhona,
(ف56)یعنی جنّت ۔(ف57)اور کُفر کیا ۔(ف58)کہ ہر امر پر مواخذہ کیا جائے گا اور اس میں سے کچھ نہ بخشا جائے گا ۔ (جلالین و خازن)
تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف٦۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
So will he, who knows that what is sent down upon you from your Lord is the truth, ever be equal to him who is blind? Only the men of understanding heed advice.
तो क्या वह जानता है जो कुछ तुम्हारी तरफ तुम्हारे रब के पास से उतरा हक़ है वह उसके जैसा हो गा जो अंधा है नसीहत वही मानते हैं जिन्हें अकल है,
To kya woh jaanta hai jo kuch tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra haq hai woh us jaisa hoga jo andha hai naseehat wahi maante hain jinhein aqal hai,
(ف59)اور اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے ۔(ف60)حق کو نہیں جانتا ، قرآن پر ایمان نہیں لاتا ، اس کے مطابق عمل نہیں کرتا ۔ یہ آیت حضرت حمزہ ابنِ عبدالمطلب اور ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ۔
اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا (ف٦۲) اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف٦۳)
Those who unite what Allah has commanded to be united, and fear their Lord, and apprehend the evil of the account.
और वह कि जोड़ते हैं उसे जिसके जोड़ने का अल्लाह ने हुक्म दिया और अपने रब से डरते हैं और हिसाब की बुराई से अंडेशा रखते हैं
Aur woh ke jodte hain use jiske jodne ka Allah ne hukum diya aur apne Rab se darte hain aur hisaab ki burai se andesha rakhte hain
(ف62)یعنی اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے کل رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کو مان کر بعض سے منکِر ہو کر ان میں تفریق نہیں کرتے یا یہ معنی ہیں کہ حقوقِ قرابت کی رعایت رکھتے ہیں اور رشتہ قطع نہیں کرتے ۔ اسی میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابتیں اور ایمانی قرابتیں بھی داخل ہیں ، سادات کرام کا احترام اور مسلمانوں کے ساتھ مودّت و احسان اور ان کی مدد اور ان کی طرف سے مدافعت اور ان کے ساتھ شفقت اور سلام و ُعا اورمسلمان مریضوں کی عیادت اور اپنے دوستوں ، خادموں ، ہمسایوں ، سفر کے ساتھیوں کے حقوق کی رعایت بھی اس میں داخل ہے اور شریعت میں اس کا لحاظ رکھنے کی بہت تاکیدیں آئی ہیں ، بہ کثرت احادیثِ صحیحہ اس باب میں وارد ہیں ۔(ف63)اور وقتِ حساب سے پہلے خود اپنے نفسوں سے محاسبہ کرتے ہیں ۔
اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف٦٤) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف٦۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف٦٦) انھیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
Those who were patient in order to gain their Lord’s pleasure and kept the prayer established and spent in Our cause part of what We bestowed upon them, secretly and openly, and repel evil by responding with goodness – for them is the gain of the final abode.
और वह जिन्होंने सब्र किया अपने रब की रज़ा चाहने को और नमाज़ कायम रखी और हमारे दिये से हमारी राह में छुपे और ज़ाहिर कुछ ख़र्च किया और बुराई के बदले भलाई कर के टालते हैं उन्हें के लिए पिछले घर का नफ़ा है,
Aur woh jinho ne sabr kiya apne Rab ki raza chaahne ko aur namaaz qaaim rakhi aur hamare diye se hamari raah mein chhupe aur zaahir kuch kharch kiya aur burai ke badle bhalai kar ke taal te hain unhein ke liye pichle ghar ka nafa hai,
(ف64)طاعتوں اور مصیبتوں پر اور معصیت سے باز رہے ۔(ف65)نوافل کا چھپانا اور فرائض کا ظاہر کرنا افضل ہے ۔(ف66)بدکلامی کا جواب شیریں سخنی سے دیتے ہیں اور جو انہیں محروم کرتا ہے اس پر عطا کرتے ہیں ، جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے معاف کرتے ہیں ، جب ان سے پیوند قطع کیا جاتا ہے ملاتے ہیں اور جب گناہ کرتے ہیں توبہ کرتے ہیں ، جب ناجائز کام دیکھتے ہیں اسے بدلتے ہیں ، جہل کے بدلے حلم اور ایذا کے بدلے صبر کرتے ہیں ۔
بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف٦۷) ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف٦۸) اور فرشتے (ف٦۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے،
The everlasting Gardens of Eden which they will enter, and the deserving among their forefathers and their wives and their descendants – the angels will enter upon them from every gate.
बसने के बाग जिनमें वह दाख़िल होंगे और जो लायक हों उनके बाप दादा और बीबियों और औलाद में और फ़रिश्ते हर दरवाज़े से उन पर यह कहते आएंगे,
Basne ke baagh jin mein woh daakhil honge aur jo laayak hon un ke baap dada aur beebiyon aur aulaad mein aur farishte har darwaaze se un par yeh kehte aayenge,
(ف67)یعنی مؤمن ہوں ۔(ف68)اگرچہ لوگوں نے ان کے سے عمل نہ کئے ہوں جب بھی اللہ تعالٰی ان کے اکرام کے لئے ان کو ان کے درجہ میں داخل فرمائے گا ۔(ف69)ہر ایک روز و شب میں ہدایا اور رضا کی بشارتیں لے کر جنّت کے ۔(ف70)بہ طریقِ تحیّت و تکریم ۔
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر (ف۷۳)
And those who break the pact of Allah after its ratification, and sever what Allah has commanded to be joined, and spread turmoil in the earth – their share is only the curse and their destiny is the wretched abode.
और वह जो अल्लाह का एहद उसके पके होने के बाद तोड़ते और जिसके जोड़ने को अल्लाह ने फ़रमाया उसे क़त करते और ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं उनका हिस्सा लानत ही है और उनका नसीबा बुरा घर
Aur woh jo Allah ka ehad us ke pake hone ke baad todte aur jiske jodne ko Allah ne farmaaya use qat’ karte aur zameen mein fasad phailate hain un ka hissa laanat hi hai aur un ka naseeba bura ghar
(ف71)اور اس کو قبول کر لینے ۔(ف72)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے ۔(ف73)یعنی جہنّم ۔
اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷٤) تنگ کرتا ہے، اور کافر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) (ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
Allah eases and restricts the sustenance for whomever He wills; and the disbelievers rejoiced upon the life of this world; and the life of this world, as compared with the Hereafter, is just a brief utilisation.
अल्लाह जिसके लिए चाहे रज़क क़सादा और तंग करता है, और काफ़र दुनिया की ज़िन्दगी पर उतरा गए (नाज़ाँ हुए) और दुनिया की ज़िन्दगी आख़िरत के मुकाबिल नहीं मगर कुछ दिन बरत लेना,
Allah jiske liye chahe rizq kashaada aur tang karta hai, aur kaafir duniya ki zindagi par utra gaye (naazaan hue) aur duniya ki zindagi aakhirat ke muqaabil nahi magar kuch din barat lena,
(ف74)جس کے لئے چاہے ۔(ف75)اور شکر گزار نہ ہوئے ۔ مسئلہ : دولتِ دنیا پر اترانا اور مغرور ہونا حرام ہے ۔
اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷٦) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
And the disbelievers said, “Why was not a sign sent down upon him from his Lord?” Proclaim, “Indeed Allah sends astray whomever He wills, and guides towards Himself the one who comes towards Him.”
और काफ़र कहते उन पर कोई निशानी उनके रब की तरफ़ से क्यों न उतरी, तुम फ़रमाओ बेशक अल्लाह जिसे चाहे गुमराह करता है और अपनी राह उसे देता है जो उसकी तरफ रजू करता है,
Aur kaafir kehte un par koi nishani un ke Rab ki taraf se kyon na utri, tum farmao beshak Allah jise chahe gumraah karta hai aur apni raah use deta hai jo us ki taraf rujoo laaye,
(ف76)کہ وہ آیات و معجزات نازِل ہونے کے بعد بھی یہ کہتا رہتا ہے کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ، کوئی معجزہ کیوں نہیں آیا ! معجزاتِ کثیرہ کے باوجود گمراہ رہتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)
“Those who accepted faith and whose hearts gain solace from the remembrance of Allah; pay heed! Only in the remembrance of Allah is the solace of hearts!”
वह जो ईमान लाए और उनके दिल अल्लाह की याद से चैन पाते हैं, सुन लो अल्लाह की याद ही में दिलों का चैन है
Woh jo imaan laaye aur un ke dil Allah ki yaad se chain paate hain, sun lo Allah ki yaad hi mein dilon ka chain hai
(ف77)اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے اگرچہ اس کے عدل و عتاب کی یاد دلوں کو خائف کردیتی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ ُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ مسلمان جب اللہ تعالٰی کا نام لے کر قسم کھا تا ہے دوسرے مسلمان اس کا اعتبار کر لیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)
“Those who accepted faith and did good deeds – for them is joy and an excellent outcome.”
वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उन को खुशी है और अच्छा अंजाम
Woh jo imaan laaye aur achhe kaam kiye un ko khushi hai aur acha anjaam
(ف78)طوبٰی بشارت ہے راحت ونعمت اور خرمی و خوش حالی کی ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ طوبٰی زبانِ حبشی میں جنّت کا نام ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ اور دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ طوبٰی جنّت کے ایک درخت کا نام ہے جس کا سایہ ہر جنّت میں پہنچے گا ، یہ درخت جنّتِ عدن میں ہے اور اس کی اصل (بیخ) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایوانِ معلٰی میں اور اس کی شاخیں جنّت کے ہر غرفہ اور قصر میں ، اس میں سوا سیاہی کے ہر قسم کے رنگ اور خوش نمائیاں ہیں ہر طرح کے پھل اور میوہ اس میں پھلے ہیں ، اس کی بیخ سے کافور سلسبیل کی نہریں رواں ہیں ۔
اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں (ف۷۹) کہ تم انھیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہو رہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
Similarly We sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) towards the nation, before whom other nations have passed away, for you to recite to them the divine revelations We sent down to you, whereas they are denying the Most Gracious; proclaim, “He is my Lord – there is no worship except for Him; I rely only upon Him and only towards Him is my return.”
इसी तरह हमने तुम को इस उम्मत में भेजा जिससे पहले उम्मतें हो गुज़रीं कि तुम उन्हें पढ़ कर सुनाओ जो हमने तुम्हारी तरफ वाही की और वे रहमान के मंकर हो रहे हैं तुम फ़रमाओ वह मेरा रब है इसके सिवा किसी की बंदगी नहीं मैंने इसी पर भरोसा किया और इसी की तरफ मेरी रजू है,
Isi tarah hum ne tum ko is ummat mein bheja jisse pehle ummatein ho guzriin ke tum unhein padh kar sunao jo hum ne tumhari taraf wahi ki aur woh Rahman ke munkir ho rahe hain tum farmao woh mera Rab hai is ke siwa kisi ki bandagi nahi maine isi par bharosa kiya aur isi ki taraf meri rujoo hai,
(ف79)تو تمہاری امّت سب سے پچھلی امّت ہے اور تم خاتَم الانبیاء ہو ، تمہیں بڑے شان و شکوہ سے رسالت عطا کی ۔(ف80)وہ کتابِ عظیم ۔(ف81)شانِ نُزول : قتادہ و مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ میں نازِل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ سہیل بن عمرو جب صلح کے لئے آیا اور صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کُفّار نے اس میں جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ ہمارے دستور کے مطابق بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ لکھوائیے ۔ اس کے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رحمٰن کے منکِر ہو رہے ہیں ۔
اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں (ف۸٤) تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸٦) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی (ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی (ف۸۸) یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹) بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)
And were such a Qur’an to come that would cause the mountains to move, or the earth to split asunder, or the dead to speak, even then these disbelievers would not believe; in fact, all matters are only at Allah’s discretion; so have not the Muslims despaired in that, had Allah willed, He would have guided all mankind? Disasters shall continue to strike the disbelievers on account of their deeds, or descend near their homes until Allah’s promise comes; indeed Allah does not break the promise.
और अगर कोई ऐसा कुरआन आता जिससे पहाड़ टल जाते या ज़मीन फट जाती या मरे बातें करते जब भी ये काफ़र न मानते बल्कि सब काम अल्लाह ही के इख़्तियार में हैं तो क्या मुसलमान इससे ना उम्मीद न हुए कि अल्लाह चाहता तो सब आदमियों को हिदायत कर देता और काफ़रों को हमेशा के लिए यह सख़्त धमक (हला देने वाली मुसीबत) पहुँचती रहेगी या उनके घरों के नज़दीक उतरेगी यहाँ तक कि अल्लाह का वादा आए बेशक अल्लाह वादा ख़िलाफ़ नहीं करता
Aur agar koi aisa Qur’an aata jisse pahad tal jaate ya zameen phat jaati ya marday baatein karte jab bhi ye kaafir na maante balke sab kaam Allah hi ke ikhtiyaar mein hain to kya musalman is se na-umeed na hue ke Allah chahta to sab aadmiyon ko hidaayat kar deta aur kaafiron ko hamesha ke liye ye sakht dhamak (hala dene waali museebat) pohanchti rahegi ya un ke gharon ke nazdeek utaregi yahaan tak ke Allah ka wada aaye beshak Allah wada khilaaf nahi karta
(ف82)اپنی جگہ سے ۔(ف83)شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپ کی نبوّت مانیں اور آپ کا اِتِّباع کریں تو آپ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکّۂ مکّرمہ کے پہاڑ ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتیاں کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اور قصی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے حوالے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں ۔(ف84)تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللہ چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشان دکھا دیئے جائیں جو وہ طلب کریں ۔(ف85)یعنی کُفّار کے ایمان لانے سے خواہ انہیں کتنی ہی نشانیاں دکھلا دی جائیں اور کیا مسلمانوں کو اس کا یقینی علم نہیں ۔(ف86)بغیر کسی نشانی کے لیکن وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہی حکمت ہے ۔ یہ جواب ہے ان مسلمانوں کا جنہوں نے کُفّار کے نئی نئی نشانیاں طلب کرنے پر یہ چاہا تھا کہ جو کافِر بھی کوئی نشانی طلب کرے وہی اس کو دکھا دی جائے ، اس میں انہیں بتادیا گیا کہ جب زبردست نشان آچکے اور شُکوک و اوہام کی تمام راہیں بند کردی گئیں ، دین کی حقانیت روزِ روشن سے زیادہ واضح ہو چکی ، ان جلی برہانوں کے باوجود جو لوگ مُکر گئے ، حق کے معترف نہ ہوئے ، ظاہر ہوگیا کہ وہ معانِد ہیں اور معانِد کسی دلیل سے بھی مانا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اب ان سے قبولِ حق کی کیا امید ، کیا اب تک ان کا عناد دیکھ کر اور آیات و بیّناتِ واضحہ سے اعراضِ مشاہدہ کرکے بھی ان سے قبولِ حق کی امید رکھی جا سکتی ہے البتہ اب ان کے ایمان لانے اور مان جانے کی یہی صورت ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں مجبور کرے اور ان کا اختیار سلب فرما لے اس طرح کی ہدایت چاہتا تو تمام آدمیوں کو ہدایت فرما دیتا اور کوئی کافِر نہ رہتا مگر دارالابتلا و الامتحان کی حکمت اس کی متقضی نہیں ۔(ف87)یعنی وہ اس تکذیب و عناد کی وجہ سے طرح طرح کے حوادث و مصائب اور آفتوں اور بلاؤں میں مبتلا رہیں گے ، کبھی قحط میں ، کبھی لٹنے میں ، کبھی مارے جانے میں ، کبھی قید میں ۔(ف88)اور ان کے اضطراب و پریشانی کا باعث ہوگی اور ان تک ان مصائب کے ضَرر پہنچیں گے ۔(ف89)اللہ کیطرف سے فتح و نصرت آئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا دین غالب ہو اور مکّۂ مکّرمہ فتح کیا جائے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ اس وعدہ سے روزِ قیامت مراد ہے جس میں اعمال کی جزا دی جائے گی ۔(ف90)اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اس قسم کے بیہودہ سوال اور ایسے تمسخُر و استہزاء سے آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہادیوں کو ایسے واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انھیں پکڑا (ف۹۱) تو میرا عذاب کیسا تھا،
And indeed the Noble Messengers before you were also mocked – I therefore gave the mockers respite for some days and then seized them; so how (dreadful) was My punishment!
और बेशक तुम से अगले रसूलों से भी हंसी की गई तो मैंने काफ़रों को कुछ दिनों ढील दी फिर उन्हें पकड़ा तो मेरा अज़ाब कैसा था,
Aur beshak tum se agle rasoolon se bhi hansi ki gayi to maine kaafiron ko kuch dino dheel di phir unhein pakda to mera azaab kaisa tha,
(ف91)اور دنیا میں انہیں قحط و قتل و قید میں مبتلا کیا اور آخرت میں ان کے لئے عذابِ جہنّم ہے ۔
تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں (ف۹٤) یا یوں ہی اوپری بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے (ف۹٦) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
So is He who keeps a watch over the deeds of every soul (equal to their appointed partners)? And (yet) they ascribe partners to Allah! Proclaim, “Just name them – or is it that you inform Him of something which in His knowledge does not exist in the earth – or is it just superficial talk?” In fact, their deceit seems good to the disbelievers and are prevented from the path; and whomever Allah sends astray, so there is none to guide him.
तो क्या वह हर जान पर उसके अमाल की निगहबानी रखता है और वह अल्लाह के शरीक ठहराते हैं, तुम फ़रमाओ उनका नाम तो लो या इसे वह बताते हो जो उसके इल्म में सारी ज़मीन में नहीं या यूँ ही ऊपरी बात बल्कि काफ़रों की निगाह में उनका फरेब अच्छा ठहरा है और राह से रोके गए और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसे कोई हिदायत करने वाला नहीं,
To kya woh har jaan par us ke amaal ki nigahdaasht rakhta hai aur woh Allah ke shareek thehrate hain, tum farmao un ka naam to lo ya ise woh batate ho jo us ke ilm mein saari zameen mein nahi ya yun hi oopri baat balke kaafiron ki nigaah mein un ka fareb acha thahra hai aur raah se roke gaye aur jise Allah gumraah kare use koi hidaayat karne wala nahi,
(ف92)نیک کی بھی بد کی بھی یعنی اللہ تعالٰی کیا وہ ان بتوں کی مثل ہوسکتا ہے جو ایسے نہیں نہ انہیں علم ہے نہ قدرت ، عاجز بے شعور ہیں ۔(ف93)وہ ہیں کون ؟(ف94)اور جو اس کے علم میں نہ ہو وہ باطلِ مَحض ہے ، ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے لہذا اسکے لئے شریک ہونا باطل وغلط ۔(ف95)کے درپے ہوتے ہو جس کی کچھ اصل و حقیقت نہیں ۔(ف96)یعنی رُشد و ہدایت اور دین کی راہ سے ۔
انھیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا (ف۹۷) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں،
They will be punished in the life of this world, and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe; and there is none to save them from Allah.
उन्हें दुनिया के जीते अज़ाब हो गा और बेशक आख़िरत का अज़ाब सबसे सख़्त और उन्हें अल्लाह से बचाने वाला कोई नहीं,
Unhein duniya ke jeete azaab hoga aur beshak aakhirat ka azaab sab se sakht aur unhein Allah se bachane wala koi nahi,
احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸) ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آگ ،
A description of the Paradise which is promised to the pious; rivers flow beneath it; its fruits are unending, and its shade; this is the reward of those who fear; and the fate of the disbelievers is fire.
अहवाल इस जन्नत का कि डर वालों के लिए जिसका वादा है, इसके नीचे नहरें बहती हैं, इसके मेवे हमेशा और इसका साया डर वालों का तो यह अंजाम है और काफ़रों का अंजाम आग,
Ahwaal is jannat ka ke dar walon ke liye jiska wada hai, is ke neeche nahrain bahti hain, is ke mewe hamesha aur iska saaya dar walon ka to ye anjaam hai aur kaafiron ka anjaam aag,
(ف98)یعنی اس کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہے ، ان میں سے کوئی منقطع اور زائل ہونے والا نہیں ۔ جنّت کا حال عجیب ہے اس میں نہ سورج ہے نہ چاند نہ تاریکی باوجود اس کے غیر منقطع دائمی سایہ ہے ۔(ف99)یعنی تقوٰی والوں کے لئے جنّت ہے ۔
اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)
And those to whom We gave the Book* rejoice at what is divinely revealed to you**; and of those groups are some who deny parts of it; proclaim, “I am commanded only that I worship Allah and not ascribe any partner to Him; towards Him do I call, and towards Him only I have to return.” (* Scholars among the Jews and Christians who accepted faith. ** The Holy Qur’an.)
और जिनको हमने किताब दी वह इस पर खुश होते जो तुम्हारी तरफ उतरा और उन ग्रुपों में कुछ वे हैं कि इसके कुछ से मंकर हैं, तुम फ़रमाओ मुझे तो यही हुक्म है कि अल्लाह की बंदगी करूँ और इसका शरीक न ठहराऊँ, मैं इसी की तरफ बुलाता हूँ और इसी की तरफ मुझे फ़िरना
Aur jin ko hum ne kitaab di woh is par khush hote jo tumhari taraf utra aur un groupon mein kuch woh hain ke is ke baaz se munkir hain, tum farmao mujhe to yehi hukum hai ke Allah ki bandagi karun aur iska shareek na thehraun, main isi ki taraf bulata hoon aur isi ki taraf mujhe firna
(ف100)یعنی وہ یہود و نصارٰی جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ عبداللہ بن سلام وغیرہ اور حبشہ و نجران کے نصرانی ۔(ف101)یہود ونصارٰی و مشرکین کے جو آپ کی عداوت میں سرشار ہیں اورآپ پر انہوں نے چڑھائیاں کیں ہیں ۔(ف102)اس میں کیا بات قابلِ انکار ہے کیوں نہیں مانتے ! ۔
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰٤) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،
And similarly We have revealed this as a command in Arabic; and O listener (follower of this Prophet), if you follow their desires after the knowledge having come to you, then you will have neither a supporter nor any saviour against Allah.
और इसी तरह हमने उसे अरबी फ़ैसला उतारा और ऐ सुनने वाले! अगर तू उनकी ख़वाहिशों पर चलेगा बाद इसके कि तुझे इल्म आ चुका तो अल्लाह के आगे न तेरा कोई हामियाती होगा न बचाने वाला,
Aur isi tarah hum ne ise Arabi faisla utara aur aye sun’ne wale! Agar tu un ki khwahishon par chalega baad is ke ke tujhe ilm aa chuka to Allah ke aage na tera koi hamiyaati hoga na bachane wala,
(ف103)یعنی جس طرح پہلے انبیاء کو ان کی زبانوں میں احکام دیئے تھے اسی طرح ہم نے یہ قرآن اے سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کی زبان عربی میں نازِل فرمایا ۔ قرآنِ کریم کو حکم اس لئے فرمایا کہ اس میں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت اور تمام تکالیف و احکام اور حلال و حرام کا بیان ہے ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا چونکہ اللہ تعالٰی نے تمام خَلق پر قرآن شریف کے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اس کا نام حکم رکھا ۔(ف104)یعنی کافِروں کو جو اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے (ف۱۰٦)
And indeed We sent Noble Messengers before you, and made wives and children for them; and it is not the task of any Noble Messenger to bring a sign except by Allah’s command; and all promises have a time prescribed.
और बेशक हमने तुम से पहले रसूल भेजे और उनके लिए बीबियाँ और बच्चे किए और किसी रसूल का काम नहीं कि कोई निशानी ले आए मगर अल्लाह के हुक्म से, हर वादा की एक लिखत है
Aur beshak hum ne tum se pehle rasool bheje aur un ke liye beebiyan aur bachay kiye aur kisi rasool ka kaam nahi ke koi nishani le aaye magar Allah ke hukum se, har wada ki ek likhat hai
(ف105)شانِ نُزول : کافِروں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ عیب لگایا تھا کہ وہ نکاح کرتے ہیں اگر نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے ، بی بی بچّے سے کچھ واسطہ نہ رکھتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ بی بی بچّے ہونا نبوّت کے مُنافی نہیں لہذا یہ اعتراض مَحض بے جا ہے اور پہلے جو رسول آچکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے ، ان کے بھی بیبیاں اور بچے تھے ۔(ف106)اس سے مقدّم و موخّر نہیں ہوسکتا خواہ وہ وعدہ عذاب کا ہو یا کوئی اور ۔
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (ف۱۰۸)
Allah erases and confirms whatever He wills; and only with Him is the real script.
अल्लाह जो चाहे मिटाता और साबित करता है और असल लिखा हुआ इसी के पास
Allah jo chahe mitata aur saabit karta hai aur asal likha hua isi ke paas
(ف107)سعید بن جبیر اور قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اللہ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ۔ انہیں ابن جبیر کا ایک قول یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں میں سے اللہ جو چاہتا ہے مغفرت فرما کر مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی توبہ سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے اور اس کی تفسیر میں اور بھی بہت اقوال ہیں ۔(ف108)جس کو ا س نے ازَل میں لکھا یہ علمِ الٰہی ہے یا اُم الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے جس میں تمام کائنات اور عالَم میں ہونے والے جملہ حوادث و واقعات اور تمام اشیاء مکتوب ہیں اور اس میں تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا ۔
اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انھیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا (ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)
And whether We show you a promise that is given to them, or call you to Us before it – so in any case, upon you is just the conveyance*, and for Us is the taking of the account. (* Of the message.)
और अगर हमें तुम्हें दिखा दें कोई वादा जो उन्हें दिया जाता है या पहले ही अपने पास बुलाएँ तो बहरहाल तुम पर तो जरूर पहुँचाना है और हिसाब लेना हमारा ज़िम्मा
Aur agar hum ne tumhein dikha dein koi wada jo unhein diya jaata hai ya pehle hi apne paas bulaain to be-har haal tum par to zaroor pohanchana hai aur hisaab lena humara zimma
(ف109)عذاب کا ۔(ف110)ہم تمہیں ۔(ف111)اور اعمال کی جزا دینا ۔(ف112)تو آپ کافِروں کے اعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور عذاب کی جلدی نہ کریں ۔
کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱٤) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،
Do they not perceive that We are reducing their dwellings from all directions? And Allah gives the command – there is none that can postpone His command; and He spends no time in taking account.
क्या उन्हें नहीं सूझता कि हर तरफ़ से उनकी आबादी घटाते आ रहे हैं और अल्लाह हुक्म फरमाता है इसका हुक्म पीछे डालने वाला कोई नहीं और इसे हिसाब लेते देर नहीं लगती,
Kya unhein nahi soojhta ke har taraf se un ki aabadi ghatate aa rahe hain aur Allah hukum farmaata hai iska hukum peeche daalne wala koi nahi aur ise hisaab lete der nahi lagti,
(ف113)اور زمینِ شرک کی وسعت دمبدم کم کر رہے ہیں اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کُفّار کے گرد و پیش کی اراضی یکے بعد دیگرے فتح ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے حبیب کی مدد فرماتا ہے اور ان کے لشکر کو فتح مند کرتا ہے اور انکے دین کو غلبہ دیتا ہے ۔(ف114)اس کا حکم نافذ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس میں چوں چرا یا تغییر و تبدیل کرسکے جب وہ اسلا م کو غلبہ دینا چاہے اور کُفر کو پست کرنا تو کس کی تاب و مجال کہ اس کے حکم میں دخل دے سکے ۔
اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے (ف۱۱٦) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)
And indeed those before them had plotted; therefore Allah Himself is the Master of all strategies; He knows all what every soul earns; and soon will the disbelievers realise for whom is the final abode.
और इन से अगले फरेब कर चुके हैं तो सारी ख़फ़िया तदबीर का मालिक तो अल्लाह ही है जानता है जो कुछ कोई जान कमाए और अब जानना चाहते हैं काफ़र, किसे मिलता है पिछला घर
Aur in se agle fareb kar chuke hain to saari khufiya tadbeer ka malik to Allah hi hai jaanta hai jo kuch koi jaan kamaye aur ab jaanna chahte hain kaafir, kisko milta hai pichla ghar
(ف115)یعنی گزری ہوئی اُمّتوں کے کُفّار اپنے انبیاء کے ساتھ ۔(ف116)پھر بغیر اس کی مشیت کے کسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ ۔(ف117)ہر ایک کا کسب اللہ تعالٰی کو معلوم ہے اور اس کے نزدیک ان کی جزا مقرر ہے ۔(ف118)یعنی کافِر عنقریب جان لیں گے کہ راحتِ آخرت مومنین کے لئے ہے اور وہاں کی ذلّت و خواری کُفّار کے لئے ہے ۔
اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)
The disbelievers say, “You are not a (Noble) Messenger (of Allah)”; proclaim, “Allah is a Sufficient Witness between me and you, and (so is) he who has knowledge of the Book.”
और काफ़र कहते ही तुम रसूल नहीं, तुम फ़रमाओ अल्लाह गवाह काफ़ी है मुझ में और तुम में और वह जिसे किताब का इल्म है
"
Aur kaafir kehte hi tum rasool nahi, tum farmao Allah gawah kaafi hai mujh mein aur tum mein aur woh jise kitaab ka ilm hai
(ف119)جس نے میرے ہاتھوں میں معجزاتِ باہرہ و آیاتِ قاہرہ ظاہر فرما کر میرے نبیٔ مُرسَل ہونے کی شہادت دی ۔(ف120)خواہ وہ عُلَمائے یہود میں سے توریت کا جاننے والا ہو یا نصارٰی میں سے انجیل کا عالم ، وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر جانتا ہے ان عُلَماء میں سے اکثر آپ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page