(ف2) یہ آرزوئیں یا وقتِ نزع عذاب دیکھ کر ہوں گی جب کافِر کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ گمراہی میں تھا یا آخرت میں روزِ قیامت کے شدائد اور اہوال اور اپنا انجام و مآل دیکھ کر ۔ زُجاج کا قول ہے کہ کافِر جب کبھی اپنے احوالِ عذاب اور مسلمانوں پر اللہ کی رحمت دیکھیں گے ہر مرتبہ آرزوئیں کریں گے کہ ۔
انھیں چھوڑو (ف۳) کہ کھائیں اور برتیں (ف٤) اور امید (ف۵) انھیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں (ف٦)
Leave them to eat and enjoy, and for aspiration to involve them in play – so they will shortly come to know.
उन्हें छोड़ो कि खाएँ और बरतें और उम्मीद उन्हें खेल में डाले तो अब जाना चाहते हैं
Unhein chhodo ke khaayein aur bartayen aur umeed unhein khel mein daale to ab jaana chahte hain
(ف3)اے مصطفٰے ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔(ف4) دنیا کی لذتیں ۔(ف5)تنعُّم و تلذُّذ و طولِ حیات کی جس کے سبب وہ ایمان سے محروم ہیں ۔(ف6) اپنا انجامِ کار ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ لمبی امیدوں میں گرفتار ہونا اور لذاتِ دنیا کی طلب میں غرق ہو جانا ایماندار کی شان نہیں ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا لمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کا اِتِّباع حق سے روکتا ہے ۔
اور بولے (ف۸) کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو (ف۹)
And they said, “O you upon whom the Qur’an has been sent, you are indeed insane.”
और बोले कि ऐ वह जिन पर कुरआन उतरा बेशक मजनून हो
Aur bole ke aye woh jin par Quran utra beshak majnoon ho
(ف8)کُفّارِ مکّہ حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔(ف9)ان کا یہ قول تمسخُر اور استہزاء کے طور پر تھاجیسا کہ فرعون نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت کہا تھا اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ۔
بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں (ف۱۳)
Indeed We have sent down the Qur’an, and indeed We Ourselves surely are its Guardians. (This is one of the miracles of the Qur’an – no one has been able to change even one letter of its text, despite every effort. It has remained in its original form since the 6th Century (A. D) and will remain so forever. Other Holy Books such as the Torah and the Bible have lost their originality.)
बेशक हम ने उतारा है ये कुरआन और बेशक हम खुद इसके नगीहबान हैं
Beshak hum ne utaara hai ye Quran aur beshak hum khud iske nigehban hain
(ف13)کہ تحریف و تبدیل و زیادتی و کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔ تمام جن و انس اورساری خَلق کے مقدور میں نہیں ہے کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی کرے یا تغییر و تبدیل کرسکے اور چونکہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسّر نہیں ۔ یہ حفاظت کئی طرح پر ہے ایک یہ کہ قرآنِ کریم کو معجِزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ، ایک یہ کہ اس کو معارضے اور مقابلہ سے محفوظ کیا کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو ، ایک یہ کہ ساری خَلق کو اس کے نیست و نابود اور معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کُفّار باوجود کمال عداوت کے اس کتابِ مقدس کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں (ف۱٤)
And never does a Noble Messenger come to them, but they mock at him.
और उनके पास कोई रसूल नहीं आता मगर उससे हंसी करते हैं
Aur unke paas koi rasool nahin aata magar us se hansi karte hain
(ف14) اس آیت میں بتایا گیا کہ جس طرح کُفّارِ مکّہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلانہ باتیں کیں اور بے ادبی سے آپ کو مجنون کہا ۔ قدیم زمانہ سے کُفّار کی انبیاء کے ساتھ یہی عادت رہی ہے اور وہ رسولوں کے ساتھ تمسخُر کرتے رہے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے ۔
وہ اس پر (ف۱٦) ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے (ف۱۷)
They do not believe in him, and the tradition of earlier nations has passed.
वे इस पर ईमान नहीं लाते और अगलों की राह पड़ चुकी है
Woh is par iman nahin laate aur aglon ki raah pad chuki hai
(ف16)یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا قرآن پر ۔(ف17)کہ وہ انبیاء کی تکذیب کر کے عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں ۔ یہی حال ان کا ہے تو انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرتے رہنا چاہیئے ۔
جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے (ف۱۸)
Even then they would say, “Our sights have been hypnotised – in fact, a magic spell has been cast upon us.”
जब भी यही कहते कि हमारी निगाह बाँध दी गई है बल्कि हम पर जादू हुआ है
Jab bhi yehi kehte ke hamari nigah baandh di gayi hai balke hum par jadoo hua hai
(ف18) یعنی ان کُفّار کا عناد اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان کے لئے آسمان میں دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں اس میں چڑھنا میسّر ہو اور دن میں اس سے گزریں اور آنکھوں سے دیکھیں جب بھی نہ مانیں اور یہ کہہ دیں کہ ہماری نظر بندی کی گئی اور ہم پر جادو ہوا تو جب خود اپنے معائنہ سے انہیں یقین حاصل نہ ہوا تو ملائکہ کے آنے اور گواہی دینے سے جس کو یہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟
And We have kept it guarded from every outcast devil.
और इसे हम ने हर शैतान मर्दूद से महफूज़ रखा
Aur ise hum ne har shaitaan mardood se mehfooz rakha
(ف21) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا شیاطین آسمانوں میں داخل ہوتے تھے اور وہاں کی خبریں کاہنوں کے پاس لاتے تھے جب حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے تو شیاطین تین آسمانوں سے روک دیئے گئے ۔ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو تمام آسمانوں سے منع کر دیئے گئے ۔
اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو با رور کرنے والیاں (ف۲۷) تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پینے کو دیا اور تم کچھ اس کے خزانچی نہیں (ف۲۸)
And We sent the winds that relieve the clouds’ burden, therefore caused water to descend from the sky, then give it to you to drink; and you are not at all its treasurers.
और हम ने हवाएँ भेजीं बादलों को बारूर करने वालीं तो हम ने आसमान से पानी उतारा फिर वह तुम्हें पीने को दिया और तुम कुछ इसके ख़ज़ांचियों नहीं
Aur hum ne hawaein bheji badalon ko baaroor karne waliyan to hum ne aasman se paani utaara phir woh tumhein peene ko diya aur tum kuch is ke khazaanchi nahin
(ف27)جو آبادیوں کو پانی سے بھرتی اور سیراب کرتی ہیں ۔(ف28)کہ پانی تمہارے اختیار میں ہو باوجود یکہ تمہیں اس کی حاجت ہے ۔ اس میں اللہ تعالٰی کی قدرت اور بندوں کے عجز پر دلالتِ عظیمہ ہے ۔
اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے، (ف۳۰)
And indeed We know those among you who came forward and indeed We know those among you who remained behind.
और बेशक हमें मालूम हैं जो तुम में आगे बढ़े और बेशक हमें मालूम हैं जो तुम में पीछे रहे,
Aur beshak humein maloom hain jo tum mein aage badhe aur beshak humein maloom hain jo tum mein peeche rahe,
(ف30)یعنی پہلی اُمّتیں اور امّتِ محمّدیہ جو سب اُمّتوں میں پچھلی ہے یا وہ جو طاعت و خیر میں سبقت کرنے والے ہیں اور جو سُستی سے پیچھے رہ جانے والے ہیں یا وہ جو فضیلت حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو عذر سے پیچھے رہ جانے والے ہیں ۔شانِ نُزُول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعتِ نماز کی صفِ اول کے فضائل بیان فرمائے تو صحابہ صفِ اول حاصل کرنے میں نہایت کوشاں ہوئے اور ان کا ازدحام ہونے لگا اور جن حضرات کے مکان مسجد شریف سے دور تھے وہ اپنے مکان بیچ کر قریب مکان خریدنے پر آمادہ ہوگئے تاکہ صفِ اوّل میں جگہ ملنے سے کبھی محروم نہ ہوں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں تسلّی دی گئی کہ ثواب نیتوں پر ہے اور اللہ تعالٰی اگلوں کو بھی جانتا ہے اور جو عذر سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کوبھی جانتا ہے اور ان کی نیتوں سے بھی خبردار ہے اور اس پر کچھ مخفی نہیں ۔
اور بیشک ہم نے آدمی کو (ف۳۲) بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی ، (ف۳۳)
Indeed We created man from sounding clay made out of black smelly mud.
और बेशक हम ने आदमी को बजती हुई मिट्टी से बनाया जो असल में एक स्याह बूदार गारा थी,
Aur beshak hum ne aadmi ko bajti hui mitti se banaya jo asal mein ek siyah boodaar gaara thi,
(ف32)یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو سوکھی ۔(ف33)اللہ تعالٰی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو زمین سے ایک مشتِ خاک لی ، اس کو پانی میں خمیر کیا جب وہ گارا سیاہ ہوگیا اور اس میں بو پیدا ہوئی تو اس میں صورتِ انسانی بنائی پھر وہ سوکھ کر خشک ہوگیا تو جب ہوا اس میں جاتی تو وہ بجتا اور اس میں آواز پیدا ہوتی ، جب آفتاب کی تمازت سے وہ پختہ ہوگیا تو اس میں روح پھونکی اور وہ انسان ہوگیا ۔
“And indeed you are accursed till the Day of Judgement.”
और बेशक क़ियामत तक तुझ पर लानत है
Aur beshak Qayamat tak tujh par lanat hai
(ف38)کہ آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تو اس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا ، جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی یہ سُن کر شیطان ۔
بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں (ف۳۹)
He said, “My Lord! Grant me respite till the day when they will all be raised.”
बोला ऐ मेरे रब तू मुझे मोहलत दे उस दिन तक कि वे उठाए जाएँ
Bola aye mere Rab tu mujhe mohalt de us din tak ke woh uthaye jaayein
(ف39)یعنی قیامت کے دن تک ۔ اس سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللہ تعالٰی نے اس طرح قبول کیا کہ ۔
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ ﴿37﴾
فرمایا تو ان میں سے ہے جن کو اس معلوم،
Said Allah, “You are of those given respite.”
फरमाया तू उनमें से है जिन को इस मालूम,
Farmaya tu un mein se hai jin ko is maloom,
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿38﴾
وقت کے دن تک مہلت ہے، (ف٤۰)
“Till the Day of a well-known time.”
वक़्त के दिन तक मोहलत है,
Waqt ke din tak mohalt hai,
(ف40)جس میں تمام خَلق مر جائے گی اور وہ نفخۂ اُولٰی ہے تو شیطان کے مردہ رہنے کی مدّت نفخۂ اُولیٰ ہے ، نفخۂ ثانیہ تک چالیس برس ہے اور اس کو اس قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں بلکہ اس کی بلا و شقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے ، یہ سن کر شیطان ۔
بیشک میرے (ف٤٤) بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوا ان گمراہوں کے جو تیرا ساتھ دیں، (ف٤۵)
“Indeed you do not have any power over My bondmen, except those wanderers who follow you.” (The devil is unsuccessful in tempting Allah’s chosen bondmen to commit sin.)
बेशक मेरे बन्दों पर तेरा कुछ क़ाबू नहीं सिवा उन गुमराहों के जो तेरा साथ दें,
Beshak mere bandon par tera kuch qaabu nahin siwa un gumraahoon ke jo tera saath dein,
(ف44)ایماندار ۔(ف45)یعنی جو کافِر کہ تیرے مطیع و فرمانبردار ہوجائیں اور تیرے اِتِّباع کا قصد کر لیں ۔
اس کے سات دروازے ہیں، (ف٤۷) ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے، (ف٤۸)
It has seven gates; for each gate is a portion assigned from them.
इसके सात दरवाज़े हैं, हर दरवाज़े के लिए उनमें से एक हिस्सा बटा हुआ है,
Is ke saat darwaze hain, har darwaze ke liye un mein se ek hissa bata hua hai,
(ف47)یعنی سات طبقے ۔ ابنِ جریج کا قول ہے کہ دوزخ کے سات درکات ہیں ۔اول جہنّم ، لظٰی ، حطمہ ، سعیر ، سقر ، جحیم ، ہاویہ ۔(ف48)یعنی شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے لئے جہنّم کا ایک درکہ معیّن ہے ۔
اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ (ف۵۱) کینے تھے سب کھینچ لیے (ف۵۲) آپس میں بھائی ہیں (ف۵۳) تختوں پر روبرو بیٹھے،
And We have removed any resentments which were in their breasts – they are brothers, sitting face to face on thrones.
और हम ने उनके सीनों में जो कुछ केने थे सब खींच लिए आपस में भाई हैं तख्तों पर रौबरो बैठे,
Aur hum ne un ke seenon mein jo kuch kine they sab kheench liye aapas mein bhai hain takhton par roobaru baithe,
(ف51)دنیا میں ۔(ف52)اور ان کے نفوس کو حقد و حسد و عناد و عداوت وغیرہ مذموم خصلتوں سے پاک کر دیا وہ ۔(ف53)ایک دوسرے کے ساتھ مَحبت کرنے والے ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر انہیں میں سے ہیں یعنی ہمارے سینوں سے عناد و عداوت اور بغض و حسد نکال دیا گیا ہے ، ہم آپس میں خالص مَحبت رکھنے والے ہیں ۔ اس میں روافض کا رد ہے ۔
And that indeed the punishment of Mine is a painful punishment.
मेरे बन्दों को कि बेशक मैं ही हूँ बख्शे वाला मेहरबान,
mere bandon ko ke beshak main hi hoon bakhshay wala meherban,
وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَۘ ﴿51﴾
اور انھیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا، (ف۵۵)
And inform them of Ibrahim’s guests.
और मेरा ही अज़ाब दर्दनाक अज़ाब है,
Aur mera hi azaab dardnaak azaab hai,
(ف55)جنہیں اللہ تعالٰی نے اس لئے بھیجا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند کی بشارت دیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کریں ۔ یہ مہمان حضرت جبریل علیہ السلام تھے مع کئی فرشتوں کے ۔
جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام (ف۵٦) کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے، (ف۵۷)
When the angels came to him and said, “Peace"; he said, “We feel afraid of you.”
और उन्हें अहवाल सुनाओ इब्राहीम के मेहमानों का,
Aur unhein ahwaal sunao Ibraheem ke mehmanon ka,
(ف56)یعنی فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا اور آپ کی تحیّت و تکریم بجا لائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے ۔(ف57)اس لئے کہ بے اذن اور بے وقت آئے اور کھانا نہیں کھایا ۔
کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو، (ف۵۹)
He said, “Do you convey to me the glad tidings upon old age reaching me? So upon what do you convey glad tidings?” (* Prophet Ibrahim said this out of surprise.)
उन्होंने कहा डरीए नहीं हम आपको एक इल्म वाले लड़के की बशारत देते हैं,
Unhon ne kaha dariye nahin hum aap ko ek ilm wale ladke ki basharat dete hain,
(ف59)یعنی ایسی پیرانہ سالی میں اولاد ہونا عجیب وغریب ہے کس طرح اولاد ہوگی ، کیا ہمیں پھر جوان کیا جائے گا یا اسی حالت میں بیٹا عطا فرمایا جائے گا ؟ فرشتوں نے ۔
کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے ، (ف٦۱)
He said, “Who is it that despairs from the mercy of his Lord, except those who are astray?”
कहा हम ने आपको सची बशारत दी है आप ना-उम्मीद न हों,
Kaha hum ne aap ko sachi basharat di hai aap na-umeed na hoon,
(ف61)یعنی میں اس کی رحمت سے نا امید نہیں کیونکہ رحمت سے نا امید کافِر ہوتے ہیں ، ہاں اس کی سنّت جو عالَم میں جاری ہے اس سے یہ بات عجیب معلوم ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں سے ۔
تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جایے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے (ف۷۰) اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے، (ف۷۱)
“Therefore journey with your household while a portion of the night remains, and you tread behind them – and none of you may turn around and see, and proceed directly to the place you are commanded to.”
और हम आपके पास सचा हुक्म लाए हैं और हम बेशक सचे हैं,
Aur hum aap ke paas sacha hukm laaye hain aur hum beshak sachay hain,
(ف70)کہ قوم پر کیا بلا نازِل ہوئی اور وہ کس عذاب میں مبتلا کئے گئے ؟ ۔(ف71)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حکم مُلکِ شام کو جانے کا تھا ۔
اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،
And We informed him the decision of this command, that at morning the root of the disbelievers would be cut off.
तो अपने घर वालों को कुछ रात रहे लेकर बाहर जाइए और आप उनके पीछे चलिए और तुम में कोई पीछे फिर कर न देखे और जहाँ को हुक्म है सीधे चले जाइए,
To apne ghar walon ko kuch raat rahe lekar bahar jaaye aur aap un ke peeche chaliye aur tum mein koi peeche phir kar na dekhe aur jahan ko hukm hai seedhe chale jaaye,
And the people of the city came rejoicing. (* To the house of Prophet Lut.)
और हम ने इसे इस हुक्म का फ़ैसला सुना दिया कि सुबह होते उन काफ़िरों की जड़ कट जाएँगी,
Aur hum ne ise is hukm ka faisla suna diya ke subah hote un kaafiron ki jad kat jaayegi,
(ف73)یعنی شہرِ سدوم کے رہنے والے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے لوگ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ والسلام کے یہاں خوب صورت نوجوانوں کے آنے کی خبرسن کر بہ ارادۂ فاسد و بہ نیّت ناپاک ۔
اے محبوب تمہاری جان کی قسم (ف۷۸) بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،
By your life O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) – they are indeed straying in their intoxication.
कहा ये उम्मत की औरतें मेरी बेटियाँ हैं अगर तुम्हें करना है,
Kaha ye qaum ki auratein meri betiyan hain agar tumhein karna hai,
(ف78)اور مخلوقِ الٰہی میں سے کوئی جان بارگاہِ الٰہی میں آپ کی جانِ پاک کی طرح عزّت و حرمت نہیں رکھتی اور اللہ تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کے سوا کسی کی عمر و حیات کی قسم نہیں فرمائی ۔ یہ مرتبہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا ہے اب اس قسم کے بعد ارشاد فرماتا ہے ۔
فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِيۡنَۙ ﴿73﴾
تو دن نکلتے انھیں چنگھاڑ نے آلیا (ف۷۹)
Therefore the scream overcame them at sunrise.
ऐ महबूब तुम्हारी जान की क़सम बेशक वे अपने नशे में भटक रहे हैं,
Aye mehboob tumhari jaan ki qasam beshak woh apne nashe mein bhatak rahe hain,
(ف82)یعنی کافِر تھے ۔ اَیْکَۃ جھاڑی کو کہتے ہیں ، ان لوگوں کا شہر سرسبز جنگلوں اور مَرغزاروں کے درمیان تھا ، اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان پر ر سول بنا کر بھیجا ان لوگوں نے نافرمانی کی اور حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا ۔
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۸۳) اور بیشک دونوں بستیاں (ف۸٤) کھلے راستہ پر پڑتی ہیں، (ف۸۵)
We therefore took revenge from them; and indeed both these townships are situated on an open road.
और बेशक झाड़ी वाले जरूर ज़ालिम थे,
Aur beshak jhaadi walay zaroor zaalim they,
(ف83)یعنی عذاب بھیج کر ہلاک کیا ۔(ف84)یعنی قومِ لوط کے شہر اور اصحابِ اَیْکَۃ کے ۔(ف85)جہاں آدمی گزرتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو اے اہلِ مکّہ تم ان کو دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
And the people of the Hijr (rocks) denied the Noble Messengers.
तो हम ने उन से बदला लिया और बेशक दोनों बस्तियाँ खुले रास्ते पर पड़ती हैं,
To hum ne un se badla liya aur beshak dono bastiyan khule raaste par padti hain,
(ف86)حِجر ایک وادی ہے مدینہ اور شام کے درمیان جس میں قومِ ثمود رہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کی اور ایک نبی کی تکذیب تمام انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ ہر رسول تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے ۔
اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں (ف۸۷) تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے، (ف۸۸)
And We gave them Our signs, and they remained averse to them.
और बेशक हजर वालों ने रसूलों को झूठलाया
Aur beshak Hajar walon ne rasoolon ko jhutlaya
(ف87)کہ پتھر سے ناقہ پیدا کیا جو بہت سے عجائب پر مشمل تھا مثلاً اس کا عظیم الجُثہ ہونا اور پیدا ہوتے ہی بچہ جننا اور کثرت سے دودھ دینا کہ تمام قومِ ثمود کو کافی ہو وغیرہ یہ سب حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات اور قومِ ثمود کے لئے ہماری نشانیاں تھیں ۔(ف88)اور ایمان نہ لائے ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے (ف۹۲) تو تم اچھی طرح درگزر کرو ، (ف۹۳)
And We have not created the heavens and the earth and all that is between them, except with the Truth; and indeed the Last Day will come, therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), forbear graciously.
तो उनकी कमाई कुछ उनके काम न आई
To unki kamai kuch un ke kaam na aayi
(ف92)اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا ملے گی ۔(ف93)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنی قوم کی ایذاؤں پر تحمل کرو ۔ یہ حکم آیتِ قتال سے مَنْسُوخ ہوگیا ۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَـلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴿86﴾
بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے (ف۹٤)
Indeed your Lord only is the Great Creator, the All Knowing.
और हम ने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच में है अब्स न बनाया, और बेशक क़ियामत आने वाली है तो तुम अच्छी तरह दरग़ुज़र करो,
Aur hum ne aasman aur zameen aur jo kuch un ke darmiyan hai abbs na banaya, aur beshak Qayamat aane wali hai to tum achhi tarah darguzar karo,
(ف94)اسی نے سب کو پیدا کیا اور وہ اپنی مخلوق کے تمام حال جانتا ہے ۔
اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی (ف۹٦) اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ (ف۹۷) اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو، (ف۹۸)
Do not direct your eyes towards the things We have given to some of their couples to enjoy, and do not at all grieve because of them, and take the Muslims within the folds of your mercy.
और बेशक हम ने तुम को सात आयतें दीं जो दोहराई जाती हैं और अज़मत वाला कुरआन,
Aur beshak hum ne tum ko saat aayatein di jinhein dohrayi jaati hain aur azmat wala Quran,
(ف96)معنٰی یہ ہیں کہ اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کے سامنے دنیوی نعمتیں حقیر ہیں تو آپ متاعِ دنیا سے مستغنی رہیں جو یہود و نصارٰی وغیرہ مختلف قسم کے کافِروں کو دی گئیں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کی بدولت ہر چیز سے مستغنی نہ ہوگیا یعنی قرآن ایسی نعمت ہے جس کے سامنے دنیوی نعمتیں ہیچ ہیں ۔(ف97)کہ وہ ایمان نہ لائے ۔(ف98)اور انہیں اپنے کرم سے نوازو ۔
اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)،
And proclaim, “Indeed I, yes I, am the clear Herald of Warning.”
अपनी आँख उठाकर उस चीज़ को न देखो जो हम ने उनके जोड़ो को बरतने को दी और उनका कुछ ग़म न खाओ और मुसलमानों को अपनी रहमत के परों में ले लो,
Apni aankh utha kar is cheez ko na dekho jo hum ne unke jodon ko bartne ko di aur unka kuch gham na khao aur musalmanon ko apni rehmat ke paron mein le lo,
كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَۙ ﴿90﴾
جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،
(Of a punishment) Like the one We sent down upon the dividers.
और फ़रमाओ कि मैं ही हूँ साफ़ डर सुनाने वाला (इस अज़ाब से),
Aur farmao ke main hi hoon saaf dar sunane wala (is azaab se),
الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡـقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴿91﴾
جنہوں نے کلام الٰہی کو تکے بوٹی کرلیا ، (ف۹۹)
Those who broke the Word of Allah into several parts. (Those who broke the Torah / Bible or changed its text – or those who called the Qur’an a fabrication / poetry.)
जैसा हम ने बाँटने वालों पर उतारा,
Jaisa hum ne baantne walon par utaara,
(ف99)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود و نصارٰی مراد ہیں چونکہ وہ قرآنِ کریم کے کچھ حصّہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا اور کچھ کے منکِر ہوگئے ۔ قتادہ و ابنِ سائب کا قول ہے کہ بانٹنے والوں سے کُفّارِ قریش مراد ہیں جن میں بعض قرآن کو سحر ، بعض کہانت ، بعض افسانہ کہتے تھے اس طرح انہوں نے قرآنِ کریم کے حق میں اپنے اقوال تقسیم کر رکھے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ بانٹنے والوں سے وہ بارہ اشخاص مراد ہیں جنہیں کُفّار نے مکّۂ مکرّمہ کے راستوں پر مقرر کیا تھا ، حج کے زمانہ میں ہر ہر راستہ پر ان میں کا ایک ایک شخص بیٹھ جاتا تھا اور وہ آنے والوں کو بہکانے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منحرف کرنے کے لئے ایک ایک بات مقرر کر لیتا تھا کہ کوئی آنے والوں سے یہ کہتا تھا کہ ان کی باتوں میں نہ آنا کہ وہ جادو گر ہیں ، کوئی کہتا وہ کذّاب ہیں ، کوئی کہتا وہ مجنون ہیں ، کوئی کہتا وہ کاہن ہیں ، کوئی کہتا وہ شاعر ہیں یہ سن کر لوگ جب خانۂ کعبہ کے دروازہ پر آتے وہاں ولید بن مغیرہ بیٹھا رہتا اس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال دریافت کرتے اور کہتے کہ ہم نے مکّہ مکرّمہ آتے ہوئے شہر کے کنارے ان کی نسبت ایسا سنا وہ کہہ دیتا کہ ٹھیک سنا ۔ اس طرح خَلق کو بہکاتے اور گمراہ کرتے ان لوگوں کو اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا۔
تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے (ف۱۰۲) اور مشرکوں سے منہ پھیر لو ، (ف۱۰۳)
Therefore publicly announce what you are commanded, and turn away from the polytheists.
जो कुछ वे करते थे,
Jo kuch woh karte they,
(ف102)اس آیت میں سیدِ عالَم کو رسالت کی تبلیغ اور اسلام کی دعوت کے اظہار کا حکم دیا گیا ۔ عبداللہ بن عبیدہ کا قول ہے کہ اس آیت کے نُزول کے وقت تک دعوتِ اسلام اعلان کے ساتھ نہیں کی جاتی تھی ۔(ف103)یعنی اپنا دین ظاہر کرنے پر مشرکوں کی ملامت کرنے کی پرواہ نہ کرو اور ان کی طرف ملتفِت نہ ہو اور ان کے تمسخُر و استہزاء کا غم نہ کرو ۔
اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَۙ ﴿95﴾
بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں (ف۱۰٤)
Indeed We suffice you against these mockers.
तो इعلानिया कह दो जिस बात का तुम्हें हुक्म है और मुशरिकों से मुँह फेर लो,
To ilan iya keh do jis baat ka tumhein hukm hai aur mushrikon se munh phere lo,
(ف104)کُفّارِ قریش کے پانچ سردار ( ۱) عاص بن وائل سہمی اور (۲) اسودبن مطلب اور(۳) اسود بن عبدیغوث اور(۴)حارث بن قیس اور ان سب کا افسر(۵) ولیدا بن مغیرہ مخزومی ۔ یہ لوگ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت ایذا دیتے اور آپ کے ساتھ تمسخُر و استہزاء کرتے تھے ۔ اسود بن مطلب کے لئے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی تھی کہ یاربّ اس کو اندھا کر دے ۔ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدِ حرام میں تشریف فرما تھے ، یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن و تمسخُر کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہوگئے ۔ اسی حال میں حضرت جبریلِ امین حضرت کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے کفِ پا کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شردفع کروں گا چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہوگئے ۔ ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا اس کے تہہ بند میں ایک پیکان چبھا مگر اس نے تکبّر سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مرگیا ۔ عاص ابنِ وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیااس سے پاؤں ورم کرگیا اور یہ شخص بھی مرگیا ۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مرگیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھ کو محمّد نے قتل کیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسود بن عبد یغوث کو استسقاء ہوا اور کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لُو لگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والوں نے نہ پہچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مرگیا کہ مجھ کو محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ربّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، اسی میں ہلاک ہوگیا ۔ انہیں کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔ (خازن)
تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو، (ف۱۰۷)
Therefore proclaim the Purity of your Lord with praise, and be of those who prostrate.
और बेशक हमें मालूम है कि उनकी बातों से तुम दिल तंग होते हो,
Aur beshak humein maloom hai ke unki baaton se tum dil tang hote ho,
(ف107)کہ خدا پرستوں کے لئے تسبیح و عبادت میں مشغول ہونا غم کا بہترین علاج ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی اہم واقعہ پیش آتا تو نماز میں مشغول ہو جاتے ۔
And keep worshipping your Lord, till death* comes to you. (* The certainty.)
तो अपने रब को सराहते हुए उसकी पाकी बोलो और सज्दह वालों में हो,
To apne Rab ko sarahte hue uski paaki bolo aur sajda walon mein ho,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page