اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو (ف۲) پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے، (ف۳)
The command of Allah is arriving soon, therefore do not seek to hasten it; Purity and Supremacy are to Him, above all the partners (they ascribe).
अब आता है अल्लाह का हुक्म तो इसकी जल्दी न करो पाकी और बरतरी है इसे इन शरीकों से,
Ab aata hai Allah ka hukum to uski jaldi na karo, paaki aur bartari hai use un shurikon se,
(ف2)شانِ نُزول : جب کُفّار نے عذابِ موعود کے نُزول اور قیامت کے قائم ہونے کی بطریقِ تکذیب و استہزاء جلدی کی اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتا دیا گیا کہ جس کی تم جلدی کرتے ہو وہ کچھ دور نہیں بہت ہی قریب ہے اور اپنے وقت پر بالیقین واقع ہوگا اور جب واقع ہوگا تو تمہیں اس سے خلاص کی کوئی راہ نہ ملے گی اور وہ بُت جنہیں تم پوجتے ہو تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے ۔(ف3)وہ واحد لاشریک لہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے (ف ٤) کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو (ف۵)
He sends down the angels with the soul of faith – the divine revelations – towards those among His bondmen He wills that, “There is no worship except for Me, therefore fear Me.”
फ़रिश्तों को ईमान की जान यानी वही लेकर अपने जन बंदों पर चाहे उतारता है कि डर सना दो कि मेरे सिवा किसी की बंदगी नहीं तो मुझ से डरो
Malaika ko iman ki jaan yani wahi lekar apne jin bandon par chaahe utaarta hai ke dar sunao ke mere siwa kisi ki bandagi nahi to mujh se daro,
(ف4)اور انہیں نبوّت و رسالت کے ساتھ برگزیدہ کرتا ہے ۔(ف5)اور میری ہی عبادت کرو اور میرے سوا کسی کو نہ پوجو کیونکہ میں وہ ہوں کہ ۔
۔ (اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا (ف۷) تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،
He created man from a drop of fluid, yet he is an open quarreller!
(उसने) आदमी को एक निथरी बूंद से बनाया तो तभी खला झगड़ालू है,
(Usne) Aadmi ko ek nithri boond se banaya to jabhi khula jhagdalo hai,
(ف7)یعنی مَنی سے جس میں نہ حِس ہے نہ حرکت پھر اس کو اپنی قدرتِ کاملہ سے انسان بنایا ، قوت و طاقت عطا کی ۔ شانِ نُزول : یہ آیت اُبی بن خلف کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ وہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھا لایا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالٰی اس ہڈی کو زندگی دے گا ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عضوی شکل رکھتی بھی ہے اللہ تعالٰی تو مَنی کے ایک چھوٹے سے بے حِس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا جھگڑالو انسان پیدا کر دیتا ہے ، یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا ۔
اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہو کر، بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۹)
And they transport your loads to a town where you could not reach except utterly exhausted; indeed your Lord is Most Compassionate, Most Merciful.
और वो तुम्हारे बोझ उठा कर ले जाते हैं ऐसे शहर की तरफ कि इस तक न पहुँचते मगर अध मरे हो कर, नहायत तुम्हारा रब नहायत मेहरबान रहम वाला है
Aur woh tumhare bojh utha kar le jaate hain aise shehar ki taraf ke us tak na pohchte magar adh mare ho kar, beshak tumhara Rab nihayat meherban Reham wala hai,
(ف9)کہ اس نے تمہارے نفع اور آرام کے لئے یہ چیزیں پیدا کیں ۔
اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا (ف۱۰) جس کی تمہیں خبر نہیں، (ف۱۱)
And horses, and mules, and donkeys so that you may ride them, and for adornment; and He will create what you do not know*. (* All modern means of transport – by air, sea, land and even in space – evidence this.)
और घोड़े और खचर और गधे कि इन पर सवार हो और ज़ेनत के लिए, और वो पैदा करेगा जिसकी तुम्हें खबर नहीं,
Aur ghoday aur khuchar aur gadhe ke un par sawar ho aur zeenat ke liye, aur woh paida karega jiski tumhein khabar nahi,
(ف10) ایسی عجیب و غریب چیزیں ۔(ف11)اس میں وہ تمام چیزیں آ گئیں جو آدمی کے نفع و راحت و آرام و آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں ، اللہ تعالٰی کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ دخانی جہاز ، ریلیں ، موٹر ، ہوائی جہاز ، برقی قوتوں سے کام کرنے والے آلات ، دخانی اور برقی مشینیں ، خبر رسانی و نشرِ صوت کے سامان اور خدا جانے اس کے علاوہ اس کو کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے ۔
اور بیچ کی راہ (ف۱۲) ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے (ف۱۳) اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا، (ف۱٤)
And the middle path rightly leads to Allah – any other path is wayward; and had He willed He would have brought all of you upon guidance.
और बीच की राह ठीक अल्लाह तक है और कोई राह टेढ़ी है और चाहता तो तुम सब को राह पर लाता,
Aur beech ki raah theek Allah tak hai aur koi raah tedhi hai aur chahta to tum sab ko raah par lata,
(ف12)یعنی صراطِ مستقیم اور دینِ اسلام کیونکہ دو مقاموں کے درمیان جتنی راہیں نکالی جائیں ان میں سے جو بیچ کی راہ ہوگی وہی سیدھی ہوگی ۔(ف13)جس پر چلنے والا منزلِ مقصود کو نہیں پہنچ سکتا کُفرکی تمام راہیں ایسی ہی ہیں ۔(ف14)راہِ راست پر ۔
اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (ف۱٦) بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۷) دھیان کرنے والوں کو،
With this water He produces for you crops, and olives, and dates, and grapes, and all kinds of fruit; indeed in this is a sign for people who ponder.
इस पानी से तुम्हारे लिए खेती उगाता है और ज़ैतून और खजूर और अंगूर और हर क़िस्म के फल नहायत इसमें निशानी है ध्यान करने वालों को,
Is paani se tumhare liye kheti ugata hai aur zaitoon aur khajoor aur angur aur har qisam ke phal, beshak is mein nishani hai dhyan karne walon ko,
(ف16)مختلف صورت و رنگ ، مزے ، بو ، خاصیت والے کہ سب ایک ہی پانی سے پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک کے اوصاف دوسرے سے جدا ہیں یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں ۔(ف17)اس کی قدرت و حکمت اور وحدانیت کی ۔
اور اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند، اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں بیشک اس آیت میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کو (ف۱۸)
And He subjected the night and the day for you – and the sun and the moon; and the stars are subjected to His command; indeed in this are signs for people of intellect.
और उसने तुम्हारे लिए मसरख किए रात और दिन और सूरज और चांद, और सितारे इसके हुक्म के बांधे हैं नहायत इस आयत में निशानियां हैं अक़ल मंदों को
Aur usne tumhare liye maskhar kiye raat aur din aur sooraj aur chaand, aur sitare uske hukum ke bande hain, beshak is ayat mein nishaniyan hain aqalmandon ko,
(ف18)جو ان چیزوں کو غور کر کے سمجھیں کہ اللہ تعالٰی فاعلِ مختار ہے اور عُلویات و سفلیات سب اس کے تحتِ قدرت واختیار ۔
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا (ف۲۰) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف۲۱) اور اس میں سے گہنا (زیور) نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف۲۲) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو،
And it is He Who subjected the sea for you, so you eat fresh meat from it, and extract ornaments from it which you wear; and you see ships ploughing through it and in order that you may seek His munificence and that you may give thanks.
और वही है जिसने तुम्हारे लिए दरिया मसरख किया कि इसमें से ताज़ा गोश्त खाते हो और इसमें से गहना (ज़ेवर) निकालते हो जिसे पहनते हो और तू इसमें कश्तियाँ देखे कि पानी चीर कर चलती हैं और इसके लिए कि तुम इसका फ़ज़्ल तलाश करो और कहीं एहसान मानो,
Aur wohi hai jisne tumhare liye dariya maskhar kiya ke us mein se taaza gosht khate ho aur us mein se gehna (zevar) nikalte ho jise pehente ho aur to us mein kashtiyan dekhe ke paani cheer kar chalti hain aur is liye ke tum uska fazl talaash karo aur kahin ehsan mano,
(ف20)کہ اس میں کشتیوں پر سوار ہو کر سفر کرو یا غوطے لگا کر اس کی تہ تک پہنچو یا اس سے شکار کرو ۔(ف21)یعنی مچھلی ۔(ف22)یعنی گوہر و مرجان ۔
تو کیا جو بنائے (ف۲۷) وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے (ف۲۸) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے،
So will He Who creates ever be like one who does not create? So do you not heed advice?
तो क्या जो बनाए वो ऐसा हो जाएगा जो न बनाए तो क्या तुम नसीहत नहीं मानते,
To kya jo banaye woh aisa ho jaayega jo na banaye, to kya tum naseehat nahi maante,
(ف27)ان تمام چیزوں کو اپنی قدرت و حکمت سے یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف28)کسی چیز کو اور عاجز و بے قدرت ہو جیسے کہ بُت تو عاقل کو کب سزاوار ہے کہ ایسے خالِق و مالک کی عبادت چھوڑ کر عاجز و بے اختیار بتوں کی پرستش کرے یا انہیں عبادت میں اس کا شریک ٹھہرائے ۔
اور جب ان سے کہا جائے (ف٤۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف٤۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف٤۲)
And when it is said to them, “What has your Lord sent down?”, they say, “The tales of former people.”
फील हक़ीक़त अल्लाह जानता है जो छुपाते और जो ज़ाहिर करते हैं, नहायत वो मगरूरों को पसंद नहीं फ़रमाता,
Fil haqeeqat Allah jaanta hai jo chhupate aur jo zahir karte hain, beshak woh maghrooron ko pasand nahi farmaata,
(ف40)یعنی لوگ ان سے دریافت کریں کہ ۔(ف41) محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو ۔(ف42)یعنی جھوٹے افسانے کوئی ماننے کی بات نہیں ۔ شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کی شان میں نازِل ہوئی اس نے بہت سی کہانیاں یاد کر لی تھیں اس سے جب کوئی قرآنِ کریم کی نسبت دریافت کرتا تو وہ یہ جاننے کے باوجود کہ قرآن شریف کتابِ مُعجِز اور حق و ہدایت سے مملو ہے ، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ، ایسی کہانیاں مجھے بھی بہت یاد ہیں ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں کو اس طرح گمراہ کرنے کا انجام یہ ہے ۔
کہ قیامت کے دن اپنے (ف٤۳) بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں
In order to bear their full burdens on the Day of Resurrection, and some burdens of those whom they mislead with their ignorance; pay heed! What an evil burden they bear!
और जब उनसे कहा जाए तुम्हारे रब ने क्या उतारा कहीं उगलों की कहानियां हैं
Aur jab un se kaha jaaye tumhare Rab ne kya utara, kahin aglon ki kahaniyan hain,
بیشک ان سے اگلوں نے (ف٤٤) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انھیں خبر نہ تھی (ف٤۵)
Indeed those before them had plotted, so Allah seized the foundations of their building, therefore the roof fell down upon them from a height, and the punishment came upon them from a place they did not know.
कि क़यामत के दिन अपने बोझ पूरे उठाएँ और कुछ बोझ उनके जिन्हें अपनी जहालत से गुमराह करते हैं, सुन लो क्या ही बुरा बोझ उठाते हैं,
Ke Qiyamat ke din apne bojh poore uthayen aur kuch bojh unke jinhein apni jahalat se gumrah karte hain, sun lo kya hi bura bojh uthate hain,
(ف44)یعنی پہلی اُمّتوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ ۔(ف45)یہ ایک تمثیل ہے کہ پچھلی اُمّتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ مکر کرنے کے لئے کچھ منصوبے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں خود انہیں کے منصوبوں میں ہلاک کیا اور ان کا حال ایسا ہوا جیسے کسی قوم نے کوئی بلند عمارت بنائی پھر وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ ہلاک ہو گئے ، اسی طرح کُفّار اپنی مکاریوں سے خود برباد ہوئے ۔ مفسِّرین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اگلے مکر کرنے والوں سے نمرود بن کنعان مراد ہے جو زمانۂ ابراہیم علیہ السلام میں روئے زمین کا سب سے بڑا بادشاہ تھا ، اس نے بابل میں بہت اونچی ایک عمارت بنائی تھی جس کی بلندی پانچ ہزار گز تھی اور اس کا مکریہ تھا کہ اس نے یہ بلند عمارت اپنے خیال میں آسما ن پر پہنچنے اور آسمان والوں سے لڑنے کے لئے بنائی تھی ، اللہ تعالٰی نے ہوا چلائی اور وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ لوگ ہلاک ہو گئے ۔
پھر قیامت کے دن انھیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف٤٦) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف٤۷) علم والے (ف٤۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف٤۹) کافروں پر ہے
Then on the Day of Resurrection He will disgrace them and proclaim, “Where are My partners, concerning whom you disputed”; the people of knowledge will say, “All disgrace and evil is upon the disbelievers this day.”
नहायत उनसे उगलों ने फ़रेब किया था तो अल्लाह ने उनकी चुनाई को न्यो से (तमीर को बुनियाद) से लिया तो ऊपर से इन पर छत गिर पड़ी और आजाब इन पर वहाँ से आया जहाँ की उन्हें खबर न थी
Beshak un se aglon ne fareb kiya tha to Allah ne unki chunaai ko new se (taameer ko buniyaad) se liya to ooper se un par chhat gir pari aur azaab un par wahan se aaya jahan ki unhein khabar na thi,
(ف46)جو تم نے گھڑ لئے تھے اور ۔(ف47)مسلمانوں سے ۔(ف48) یعنی ان اُمّتوں کے انبیاء و عُلَماء جو انہیں دنیا میں ایمان کی دعوت دیتے اور نصیحت کرتے تھے اور یہ لوگ ان کی بات نہ مانتے تھے ۔(ف49)یعنی عذاب ۔
وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے (ف۵۳)
Those whose souls the angels remove whilst they were wronging themselves; so now they will plead “We never used to do any wrong”; "Yes you did, why not? Indeed Allah well knows what you used to do."
फिर क़यामत के दिन उन्हें रसवा करेगा और फ़रमाएगा कहाँ हैं मेरे वो शरक जिन में तुम झगड़ते थे इल्म वाले कहेंगे आज सारी रसवाई और बराई काफ़रों पर है
Phir Qiyamat ke din unhein ruswa karega aur farmaaye ga kahan hain mere woh shurak jin mein tum jhagdte the, ilm wale kahenge aaj sari ruswaai aur burai kafiron par hai,
(ف50) یعنی کُفر میں مبتلا تھے ۔(ف51)اور وقتِ موت اپنے کُفر سے مُکر جائیں گے اور کہیں گے ۔(ف52)اس پر فرشتے کہیں گے ۔(ف53)لہذا یہ انکار تمہیں مفید نہیں ۔
اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا،
“So now enter the gates of hell, remaining in it for ever”; so what an evil destination for the arrogant!
वो कि फ़रिश्ते उनकी जान निकालते हैं इस हाल पर क्या वो अपना बुरा कर रहे थे अब सुलह डालेंगे कि हम तो कुछ बराई न करते थे हाँ क्यों नहीं, नहायत अल्लाह खूब जानता है जो तुम्हारे कुतक (बुरे अमाल) थे
Woh ke farishte unki jaan nikalte hain is haal par, kya woh apna bura kar rahe the ab salah daalein ge ke hum to kuch burai na karte the, haan kyun nahi, beshak Allah khoob jaanta hai jo tumhare kotak (bure aamaal) the,
اور ڈر والوں (ف۵٤) سے کہا گیا تمہارے رب رب نے کیا اتارا، بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵٦) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر، اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا
And it was said to the pious, “What has your Lord sent down?” They said, “Goodness”; for those who did good in this world is goodness, and the final home is the best; and indeed what an excellent final home for the pious.
अब जहन्नम के दरवाजों में जाओ कि हमेशा इसमें रहो, तो क्या ही बुरा ठिकाना मगरूरों का,
Ab jahannam ke darwazon mein jao ke hamesha us mein raho, to kya hi bura thikana maghrooron ka,
(ف54)یعنی ایمانداروں ۔(ف55)یعنی قرآن شریف جو تمام خوبیوں کا جامع اور حسنات و برکات کا منبع اور دینی و دنیوی اور ظاہری وباطنی کمالات کا سر چشمہ ہے ۔شانِ نُزول : قبائلِ عرب ایّامِ حج میں حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحقیقِ حال کے لئے مکّۂ مکرّمہ کو قاصد بھیجتے تھے یہ قاصد جب مکّۂ مکرّمہ پہنچتے اور شہر کے کنارے راستوں پر انہیں کُفّار کے کارندے ملتے (جیسا کہ سابق میں ذکر ہو چکا ہے) ان سے یہ قاصد نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال دریافت کرتے تو وہ بہکانے پر مامور ہی ہوتے تھے ، ان میں سے کوئی حضرت کو ساحر کہتا ، کوئی کاہن ، کوئی شاعر ، کوئی کذّاب ، کوئی مجنون اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ تم ان سے نہ ملنا یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، اس پر قاصد کہتے کہ اگر ہم مکّۂ مکرّمہ پہنچ کر بغیر ان سے ملے اپنی قوم کی طرف واپس ہوں تو ہم برے قاصد ہوں گے اور ایسا کرنا قاصد کے منصبی فرائض کا ترک اور قوم کی خیانت ہوگی ، ہمیں تحقیق کے لئے بھیجا گیا ہے ، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اپنے اور بیگانوں سب سے ان کے حال کی تحقیق کریں اور جو کچھ معلوم ہو اس سے بے کم و کاست قوم کو مطّلع کریں ۔ اس خیال سے وہ لوگ مکّۂ مکرّمہ میں داخل ہو کر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ملتے تھے اور ان سے آپ کے حال کی تحقیق کرتے تھے ، اصحابِ کرام انہیں تمام حال بتاتے تھے اور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و کمالات اور قرآنِ کریم کے مضامین سے مطّلع کرتے تھے ، ان کا ذکر اس آیت میں فرمایا گیا ۔(ف56)یعنی ایمان لائے اور نیک عمل کئے ۔(ف57)یعنی حیات طیبہ ہے اور فتح و ظَفر و رزقِ وسیع وغیرہ نعمتیں ۔(ف58)دارِ آخرت ۔
بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انھیں وہاں ملے گا جو چاہیں (ف۵۹) اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو
Everlasting Gardens of Eden which they will enter, beneath which rivers flow – in it they will get whatever they wish; this is how Allah rewards the pious.
और डर वालों से कहा गया तुम्हारे रब रब ने क्या उतारा, बोले खूबी जिन्होंने इस दुनिया में भलाई की उनके लिए भलाई है और नहायत पिछला घर सबसे बेहतर, और जरूर क्या ही अच्छा घर परहेज़गारों का
Aur dar walon se kaha gaya tumhare Rab ne kya utara, bole khubi jin hon ne is duniya mein bhalai ki unke liye bhalai hai aur beshak pichla ghar sab se behtar, aur zaroor kya hi achha ghar parhezgaron ka,
(ف59)اوریہ بات جنّت کے سوا کسی کو کہیں بھی حاصل نہیں ۔
وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف٦۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف٦۱) جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا،
Those whose souls the angels remove in a state of purity, saying, “Peace be upon you – enter Paradise, the reward of your deeds.”
बसने के बाग़ जिन में जाएँगे उनके नीचे नहरीं रवाँ उन्हें वहाँ मिलेगा जो चाहें अल्लाह ऐसा ही सला देता है परहेज़गारों को
Basne ke bagh jin mein jaayenge unke neeche nahrein rawaan, unhein wahan milega jo chahein, Allah aisa hi sila deta hai parhezgaron ko,
(ف60)کہ وہ شرک و کُفر سے پاک ہوتے ہیں اور ان کے اقوال و افعال اور اخلاق و خصال پاکیزہ ہوتے ہیں ، طاعتیں ساتھ ہوتی ہیں ، محرمات و ممنوعات کے داغوں سے ان کادامنِ عمل میلا نہیں ہوتا ، قبضِ روح کے وقت ان کو جنّت و رضوان و رحمت و کرامت کی بشارتیں دی جاتی ہیں ، اس حالت میں موت انہیں خوشگوار معلوم ہوتی ہے اور جان فرحت و سرور کے ساتھ جسم سے نکلتی ہے اور ملائکہ عزت کے ساتھ اس کو قبض کرتے ہیں ۔ (خازن)(ف61)مروی ہے کہ قریبِ موت بندۂ مومن کے پاس فرشتہ آ کر کہتا ہے اے اللہ کے دوست تجھ پر سلام اور اللہ تعالٰی تجھے سلام فرماتا ہے اور آخرت میں ان سے کہا جائے گا ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف٦۲) مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں (ف٦۳) یا تمہارے رب کا عذاب آئے (ف٦٤) ان سے اگلوں نے ایسا ہی کیا (ف٦۵) اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ، ہاں وہ خود ہی (ف٦٦) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
So what are they waiting for, except that the angels come upon them or that your Lord’s punishment comes? Those before them did exactly this; and Allah did not oppress them at all, but it is they who used to wrong themselves.
वो जिनकी जान निकालते हैं फ़रिश्ते सथरेपन में यह कहते हुए कि सलामती हो तुम पर जन्नत में जाओ बदला अपने किए का,
Woh jin ki jaan nikalte hain farishte suthray pan mein ye kehte hue ke salaamti ho tum par, jannat mein jao badla apne kiye ka,
(ف62) کُفّار کیوں ایمان نہیں لاتے کس چیز کے انتظار میں ہیں ۔(ف63) ان کی ارواح قبض کرنے ۔(ف64)دنیا میں یا روزِ قیامت ۔(ف65)یعنی پہلی اُمّتوں کے کُفّار نے بھی کہ کُفر و تکذیب پر قائم رہے ۔(ف66)کُفر اختیار کر کے ۔
تو ان کی بری کمائیاں ان پر پڑیں (ف٦۷) اور انھیں گھیرلیا اس (ف٦۸) نے جس پر ہنستے تھے،
So the evils of their deeds struck them, and what they used to mock at surrounded them.
काहे के इंतजार में हैं मगर इसके कि फ़रिश्ते इन पर आएँ या तुम्हारे रब का आज़ाब आए उनसे उगलों ने ऐसा ही किया और अल्लाह ने इन पर कुछ ज़ुल्म न किया, हाँ वो खुद ही अपनी जानों पर ज़ुल्म करते थे,
Kahe ke intezar mein hain magar us ke ke farishte un par aayein ya tumhare Rab ka azaab aaye, un se aglon ne aisa hi kiya aur Allah ne un par kuch zulm na kiya, haan woh khud hi apni jaanon par zulm karte the,
(ف67)اور انہوں نے اپنے اعمالِ خبیثہ کی سزا پائی ۔(ف68)عذاب ۔
اور مشرک بولے اللہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجنے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے (ف٦۹) جیسا ہی ان سے اگلوں نے کیا (ف۷۰) تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف پہنچا دینا، (ف۷۱)
And the polytheists said, “Had Allah willed, we would not have worshipped anything besides Him – neither we nor our forefathers – and nor would we have forbidden anything, whilst being disassociated with Him”; those before them did exactly this; so what is (incumbent) upon the Noble Messengers, except to plainly convey (the message)?
तो उनकी बुरी कमाईयाँ इन पर पड़ीं और उन्हें घेर लिया उसने जिस पर हँसते थे,
To unki buri kamaiyan un par pari aur unhein gher liya us ne jis par hanste the,
(ف69)مثل بحیرہ و سائبہ وغیرہ کے ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا شرک کرنا اور ان چیزوں کو حرام قرار دے لینا اللہ کی مشیت و مرضی سے ہے اس پر اللہ تعالٰی نے فرمایا ۔(ف70)کہ رسولوں کی تکذیب کی اور حلال کو حرام کیا اور ایسے ہی تمسخُر کی باتیں کہیں ۔(ف71)حق کا ظاہر کر دینا اور شرک کے باطل و قبیح ہونے پر مطّلع کر دینا ۔
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا (ف۷۲) کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان (ف۷۳) میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی (ف۷٤) اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری (ف۷۵) تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۷٦)
And indeed We sent to every nation a Noble Messenger (proclaiming) that “Worship Allah and beware of the devil”; therefore Allah guided some of them, and error proved true upon some of them; therefore travel in the land and see what sort of fate befell the deniers!
और मुशरिक बोले अल्लाह चाहता तो इसके सिवा कुछ न पूजने न हम और न हमारे बाप दादा और न इससे जुदा हो कर हम कोई चीज़ हराम ठहराते जैसा ही उनसे उगलों ने किया तो रसूलों पर क्या है मगर साफ़ पहुँचा देना,
Aur mushrik bole Allah chahta to us ke siwa kuch na poojne na hum aur na humare baap dada aur na us se juda ho kar hum koi cheez haraam thehrate, jaisa hi un se aglon ne kiya to rasoolon par kya hai magar saaf pohcha dena,
(ف72)اور ہر رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے فرمائیں ۔(ف73)اُمّتوں ۔(ف74)وہ ایمان سے مشرف ہوئے ۔(ف75)وہ اپنی ازلی شقاوت سے کُفر پر مرے اور ایمان سے محروم رہے ۔(ف76)جنہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا اور ان کے شہر ویران کئے ، اجڑی ہوئی بستیاں ان کے ہلاک کی خبر دیتی ہیں ۔ اس کو دیکھ کر سمجھو کہ اگر تم بھی ان کی طرح کُفر و تکذیب پر مُصِر رہے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونا ہے ۔
اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو (ف ۷۷) تو بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں،
If you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) desire for their guidance, then indeed Allah does not guide one whom He misleads, and they do not have any aides.
और नहायत हर उम्मत में हमने एक रसूल भेजा कि अल्लाह को पूजो और शैतान से बचो तो इनमें किसी को अल्लाह ने राह दिखाई और किसी पर गुमराही ठीक उतरी तो ज़मीन में चल फिर कर देखो कैसा अंजाम हुआ झट्लाने वालों का
Aur beshak har ummat mein humne ek rasool bheja ke Allah ko poojho aur shaytaan se bacho to un mein kisi ko Allah ne raah dikhai aur kisi par gumraahi theek utri to zameen mein chal phir kar dekho kaisa anjaam hua jhuthlane walon ka,
(ف77)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحالیکہ یہ لوگ ان میں سے ہیں جن کی گمراہی ثابت ہو چکی اور ان کی شقاوت ازلی ہے ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا (ف۷۸) ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۸۰)
And they swore by Allah most vehemently in their oaths that, “Allah will not raise up the dead”; yes He will, why not? A true promise obligatory upon Him, but most men do not know.
अगर तुम उनकी हिदायत की हर्ष करो तो नहायत अल्लाह हिदायत नहीं देता जिसे गुमराह करे और उनका कोई मददगार नहीं,
Agar tum unki hidaayat ki hars karo to beshak Allah hidaayat nahi deta jise gumrah kare aur unka koi madadgar nahi,
(ف78)شانِ نُزول : ایک مشرک ایک مسلمان کا مقروض تھا ، مسلمان نے مشرک پر تقاضا کیا دورانِ گفتگو میں اس نے اس طرح اللہ کی قسم کھائی کہ اس کی قسم جس سے میں مرنے کے بعد ملنے کی تمنّا رکھتا ہوں ، اس پر مشرک نے کہا کہ کیا تیرا یہ خیال ہے کہ تو مرنے کے بعد اٹھے گا اور مشرک نے قسم کھا کر کہا کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا ۔(ف79)یعنی ضرور اٹھائے گا ۔(ف80)اس اٹھانے کی حکمت اور اس کی قدرت بے شک وہ مُردوں کو اٹھائے گا ۔
اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں (ف۸٤) اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہو کر ضرور ہم انھیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے (ف۸۵) اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے ، (ف۸٦)
And to those who migrated in Allah's cause after being oppressed, We shall indeed give them a good place in the world, and indeed the reward of the Hereafter is extremely great; if only the people knew!
इसके लिए कि उन्हें साफ़ बता दे जिस बात में झगड़ते थे और इसके लिए कि काफ़िर जान लें कि वो झूठे थे
Is liye ke unhein saaf bata de jis baat mein jhagdte the aur is liye ke kafir jaan lein ke woh jhoothe the,
(ف84)اس کے دین کی خاطر ہجرت کی ۔ شانِ نُزول : قتادہ نے کہا کہ یہ آیت اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں نازِل ہوئی ، جن پر اہلِ مکّہ نے بہت ظلم کئے اور انہیں دین کی خاطر وطن چھوڑنا ہی پڑا ، بعض ان میں سے حبشہ چلے گئے پھر وہاں سے مدینۂ طیبہ آئے اور بعض مدینہ شریف ہی کو ہجرت کر گئے ۔ انہوں نے ۔(ف85)وہ مدینۂ طیّبہ ہے جس کو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے دار الہجرت بنایا ۔ (ف86)یعنی کُفّار یا وہ لوگ جو ہجرت کرنے سے رہ گئے کہ اس کا اجر کتنا عظیم ہے ۔
وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۸۷) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۸۸)
Those who patiently endured and who rely only upon Allah.
जो चीज़ हम चाहें उससे हमारा फ़रमाना यही होता है कि हम कहीं हो जा वो फ़ौरन हो जाती है,
Jo cheez hum chahein us se humara farmaana yehi hota hai ke hum kahin ho ja, woh foran ho jaati hai,
(ف87) وطن کی مفارقت اور کُفّار کی ایذا اور جان و مال کے خرچ کرنے پر ۔(ف88)اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے اس پر راضی ہیں اور خَلق سے انقطاع کر کے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد (ف۸۹) جن کی طرف ہم وحی کرتے، تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ، (ف۹۰)
And We did not send before you except men, towards whom We sent divine revelations – so O people, ask the people of knowledge if you do not know. (* All the Prophets were men.)
और जिन्होंने अल्लाह की राह में अपने घर बार छोड़े माज़ूम हो कर जरूर हम उन्हें दुनिया में अच्छी जगह देंगे और नहायत आख़िरत का सिला बहुत बड़ा है किसी तरह लोग जानते,
Aur jin hon ne Allah ki raah mein apne ghar baar chhode mazloom ho kar, zaroor hum unhein duniya mein achhi jagah denge aur beshak aakhirat ka sawab bohot bada hai kisi tarah log jaante,
(ف89)شانِ نُزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کا اس طرح انکار کیا تھا کہ اللہ تعالٰی کی شان اس سے برتر ہے کہ وہ کسی بشر کو رسول بنائے ۔ انہیں بتایا گیا کہ سنّتِ الٰہی اسی طرح جاری ہے ہمیشہ اس نے انسانوں میں سے مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ۔(ف90)حدیث شریف میں ہے بیماریٔ جہل کی شفاء عُلَماء سے دریافت کرنا ہے لہذا عُلَماء سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے کہ سنّتِ الٰہیہ یونہی جاری رہی کہ اس نے مَردوں کو رسول بنا کر بھیجا ۔
روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر (ف۹۱) اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یادگار اتاری (ف۹۲) کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو (ف۹۳) ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں،
Along with clear proofs and writings; and We have sent down this Remembrance towards you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) so that you may explain to mankind what has been revealed towards them, and that they may ponder.
वो जिन्होंने सब्र किया और अपने रब ही पर भरोसा करते हैं
Woh jin hon ne sabr kiya aur apne Rab hi par bharosa karte hain,
(ف91)مفسِّرین کا ایک قول یہ ہے کہ معنی یہ ہیں کہ روشن دلیلوں اور کتابوں کے جاننے والوں سے پوچھو اگر تم کو دلیل و کتاب کا علم نہ ہو ۔مسئلہ : اس آیت سے تقلیدِ آئمہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ (ف92)یعنی قرآن شریف ۔(ف93)حکم ۔
تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں (ف۹٤) اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انھیں زمین میں دھنسادے (ف۹۵) یا انھیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انھیں خبر نہ ہو، (ف۹٦)
So do they who conspire evils, not fear that Allah may bury them in the earth, or that the punishment may come to them from a place they do not know?
और हमने तुम से पहले न भेजे मगर मर्द जिन की तरफ़ हम वही करते, तो ऐ लोगो! इल्म वालों से पूछो अगर तुम्हें इल्म नहीं,
Aur humne tum se pehle na bheje magar mard jin ki taraf hum wahi karte, to aye logon! Ilm walon se poochho agar tumhein ilm nahi,
(ف94)رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ اور ان کی ایذا کے درپے رہتے ہیں اور چُھپ چُھپ کر فساد انگیزی کی تدبیریں کیا کرتے ہیں جیسے کہ کُفّارِ مکّہ ۔(ف95)جیسے قارون کو دھنسا دیا تھا ۔(ف96)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر میں ہلاک کئے گئے باوجود یکہ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔
یا انھیں چلتے پھرتے (ف۹۷) پکڑ لے کہ وہ تھکا نہیں سکتے ، (ف۹۸)
Or that He may seize them while they move here and there, for they cannot escape?
रोशन दलीलें और किताबें ले कर और ऐ महबूब हमने तुम्हारी ही तरफ़ यह यादगार उतारी कि तुम लोगों से बयान कर दो जो इनकी तरफ़ उतरा और कहीं वो ध्यान करें,
Roshan daleelain aur kitaben lekar aur aye mehboob humne tumhari hi taraf ye yaadgaar utari ke tum logon se bayan kar do jo un ki taraf utara aur kahin woh dhyan karein,
(ف97)سفر و حضر میں ہر ایک حال میں ۔(ف98)خدا کو عذاب کرنے سے ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو (ف۱۰۰) چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں (ف۱۰۱) اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں (ف۱۰۲)
And have they not observed that the shadows of the things Allah has created incline to the right and to the left, in prostration to Allah, and that they are servile?
या उन्हें चलते फिरते पकड़ ले कि वो थका नहीं सकते,
Ya unhein chalte phirte pakad le ke woh thaka nahi sakte,
(ف100)سایہ دار ۔(ف101)صبح اور شام ۔(ف102)خوار و عاجز و مطیع و مُسخّر ۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے (ف۱۰۳) اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے،
And to Allah only prostrates whatsoever is in the heavens and whatsoever moves in the earth, and the angels – and they are not proud.
या उन्हें नुक़सान देते देते गिरफ्तार कर ले कि नहायत तुम्हारा रब नहायत मेहरबान रहम वाला है,
Ya unhein nuqsan dete dete giraftar kar le ke beshak tumhara Rab nihayat meherban Reham wala hai,
(ف103)سجدہ دو طرح پر ہے ، ایک سجدۂ طاعت و عبادت جیسا کہ مسلمانوں کا سجدہ اللہ کے لئے ، دوسرا سجدہ انقیاد و خضوع جیسا کہ سایہ وغیرہ کا سجدہ ۔ ہر چیز کا سجدہ اس کے حسبِ حیثیت ہے مسلمانوں اور فرشتوں کا سجدہ سجدۂ طاعت و عبادت ہے اور ان کے ماسوا کا سجدہ سجدۂ انقیاد و خضوع ۔
اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انھیں حکم ہو، (ف۱۰٤)
They bear upon themselves the fear of their Lord, and do only what they are commanded.
और क्या उन्होंने न देखा कि जो चीज़ अल्लाह ने बनाई है इसकी परछाइयां दाएँ और बाएँ झुकती हैं अल्लाह को सजदा करती और वो इसके हाज़िर ज़लिल हैं
Aur kya unhone na dekha ke jo cheez Allah ne banai hai us ki parchhiyan daayein aur baayein jhukti hain, Allah ko sajda karti aur woh us ke huzoor zaleel hain,
(ف104)اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے مکلَّف ہیں اور جب ثابت کر دیا گیا کہ تمام آسمان و زمین کی کائنات اللہ کے حضور خاضع و متواضع اور عابد و مطیع ہے اور سب اس کے مملوک اور اسی کے تحتِ قدرت وتصرُّف ہیں تو شرک سے ممانعت فرمائی ۔
اور انجانی چیزوں کے لیے (ف۱۱۳) ہماری دی ہوئی روزی میں سے (ف۱۱٤) حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے (ف۱۱۵)
And for things unknown, they assign a portion of the sustenance We have given them; by Allah – you will certainly be questioned regarding all that you used to fabricate.
फिर जब वो तुम से बुराई टाल देता है तो तुम में एक ग्रुप अपने रब का शरक़ ठहराने लगता है,
Phir jab woh tum se burai taal deta hai to tum mein ek giroh apne Rab ka shurak thehrane lagta hai,
(ف113)یعنی بُتوں کے لئے جن کا اِلٰہ اور مستحق اور نافع و ضار ہونا انہیں معلوم نہیں ۔(ف114)یعنی کھیتیوں اور چوپایوں وغیرہ میں سے ۔(ف115)بُتوں کو معبود اور اہلِ تقرب اوربُت پرستی کو خدا کا حکم بتا کر ۔
اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں (ف۱۱٦) پاکی ہے اس کو (ف۱۱۷) اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے، (ف۱۱۸)
And they assign daughters to Allah – Purity is to Him! – and assign for themselves what they wish.
कि हमारी दी हुई नेमतों की नाशक़री करें, तो कुछ बरत लो
Ke hamari di hui naimat ki nashukri karein, to kuch barta lo
(ف116)جیسے کہ خزاعہ و کنانہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ (معاذ اللہ)(ف117)وہ برتر ہے اولاد سے اور اس کی شان میں ایسا کہنا نہایت بے ادبی و کُفر ہے ۔(ف118)یعنی کُفر کے ساتھ ۔ یہ کمال بد تمیزی بھی ہے کہ اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں بیٹیاں ناپسند کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے لئے جو مطلقاً اولاد سے منزّہ اور پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ہی کا ثابت کرنا عیب لگانا ہے ، اس کے لئے اولاد میں بھی وہ ثابت کرتے ہیں جس کو اپنے لئے حقیر اور سببِ عار جانتے ہیں ۔
لوگوں سے (ف۱۲۰) چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا (ف۱۲۱) ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں، (ف۱۲۲)
Hiding from the people because of the evil of the tidings; “Will he keep her with disgrace, or bury her beneath the earth?”; pay heed! Very evil is the judgement they impose!
और अंजानी चीज़ों के लिए हमारी दी हुई रोज़ी में से हिस्सा मुअय्यर करते हैं ख़ुदा की कसम तुम से जरूर सवाल होना है जो कुछ झूठ बाँधते थे
Aur anjaani cheezon ke liye hamari di hui rozi mein se hissa muqarrar karte hain, Khuda ki qasam tum se zaroor sawal hoga jo kuch jhoot baandhte the,
(ف120)شرم کے مارے ۔(ف121) جیسا کہ کُفّارِ مُضَر و خزاعہ وتمیم لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے ۔(ف122)کہ اللہ تعالٰی کے لئے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں جو اپنے لئے انہیں اس قدر ناگوار ہیں ۔
جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انھیں کا برا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، (ف۱۲۳) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
Those who do not believe in the Hereafter, for them only is the evil state; and the Majesty of Allah is Supreme; and He only is the Most Honourable, the Wise.
और अल्लाह के लिए बेटियाँ ठहराते हैं पाकी है इसको और अपने लिए जो अपना जी चाहता है,
Aur Allah ke liye betiyan thehrate hain, paaki hai is ko aur apne liye jo apna jee chahta hai,
(ف123)کہ وہ والد و ولد سب سے پاک اور منزّہ ، کوئی اس کا شریک نہیں ، تمام صفاتِ جلال و کمال سے متّصف ۔
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا (ف۱۲٤) تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا (ف۱۲۵) لیکن انھیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے (ف۱۲٦) پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
Were Allah to seize people on account of their injustices, He would not have left anyone walking on the earth, but He gives them respite up to an appointed promise; then when their promise comes they cannot go back one moment nor come forward.
और जब इनमें किसी को बेटी होने की खुशख़बरी दी जाती है तो दिन भर इसका मुँह काला रहता है और वो ग़ुस्सा खाता है,
Aur jab un mein kisi ko beti hone ki khushkhabri di jaati hai to din bhar us ka munh kaala rehta hai aur woh gussa khaata hai,
(ف124)یعنی معاصی پر پکڑتا اور عذاب میں جلدی فرماتا ۔(ف125)سب کو ہلاک کر دیتا ۔ زمین پر چلنے والے سے یا کافر مراد ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اﷲِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یا یہ معنی ہیں کہ روئے زمین پر کسی چلنے والے کو باقی نہیں چھوڑتا جیسا کہ نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو کوئی زمین پر تھا ان سب کو ہلاک کر دیا صرف وہی باقی رہے جو زمین پر نہ تھے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ساتھ کشتی میں تھے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ معنی یہ ہیں کہ ظالموں کو ہلاک کر دیتا اور ان کی نسلیں منقطع ہو جاتیں پھر زمین میں کوئی باقی نہ رہتا ۔(ف126)اپنے فضل و کرم اور حلم سے ٹھہرائے وعدے سے یا اختتامِ عمر مراد ہے یا قیامت ۔
اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے (ف۱۲۷) اور ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (ف۱۲۸) تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں، (ف۱۲۹)
And they assign to Allah that which is abhorred by themselves, and their tongues speak the lies that goodness is for them; so it occurred that for them is the fire, and they have crossed the limits.
लोगों से छुपा फिरता है इस बशारत की बराई के वजह से, क्या इसे ज़ुल्त के साथ रखेगा या इसे मिट्टी में दबा देगा अरे बहुत ही बुरा हुक्म लगाते हैं,
Logon se chhupa phirta hai is basharat ki burai ke sabab, kya use zalat ke saath rakhega ya use mitti mein daba dega, arre bohot hi bura hukum lagate hain,
(ف127)یعنی بیٹیاں اور شریک ۔(ف128)یعنی جنّت ۔ کُفّار باوجود اپنے کُفر و بہتان کے اور خدا کے لئے بیٹیاں بتانے کے بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہوں اور خَلقت مرنے کے بعد پھر اٹھائی جائے تو جنّت ہمیں کو ملے گی کیونکہ ہم حق پر ہیں ۔ ان کے حق میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف129)جہنّم ہی میں چھوڑ دیئے جائیں گے ۔
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے (ف۱۳۰) تو آج وہی ان کا رفیق ہے (ف۱۳۱) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، (ف۱۳۲)
By Allah, We indeed sent Noble Messengers to several nations before you, but Satan made their misdeeds appear good to them – so he only is their companion this day, and for them is a punishment, most painful.
जो आख़िरत पर ईमान नहीं लाते उन्हें का बुरा हाल है, और अल्लाह की शान सबसे बुलंद, और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Jo aakhirat par iman nahi late unka bura haal hai, aur Allah ki shaan sab se buland, aur wahi izzat o hikmat wala hai.
(ف130)اور انہوں نے اپنی بدیوں کو نیکیاں سمجھا ۔(ف131)دنیا میں اسی کے کہے پر چلتے ہیں اور جو شیطان کو اپنا رفیق اور مختار کار بنائے وہ ضرور ذلیل و خوار ہو یا یہ معنی ہیں کہ روزِ آخرت شیطان کے سوا انہیں کوئی رفیق نہ ملے گا اور شیطان خود ہی گرفتارِ عذاب ہوگا ، ان کی کیا مدد کر سکے گا ۔(ف132)آخرت میں ۔
اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری (ف۱۳۳) مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں (ف۱۳٤) اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
And We did not send down this Book towards you except for you to clearly explain to them the matters in which they may differ, and a guidance and a mercy for the believers.
और अगर अल्लाह लोगों को उनके ज़ुल्म पर क़ब्ज़ा करता तो ज़मीन पर कोई चलने वाला नहीं छोड़ता लेकिन उन्हें एक ठहराए वादा तक महलत देता है फिर जब उनका वादा आएगा न एक घड़ी पीछे हटें न आगे बढ़ें,
Aur agar Allah logon ko unke zulm par giraft karta to zameen par koi chalne wala nahi chhodta, lekin unhein ek thehraaye waade tak mohlat deta hai, phir jab unka waada aaye ga na ek ghadi peeche hatein na aage barhein,
اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو (ف۱۳۵) زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے (ف۱۳٦) بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں، (ف۱۳۷)
And Allah sent down water from the sky and with it revived the earth after its death; indeed in this is a sign for people who keep ears*. (* That listen to the truth.)
और अल्लाह के लिए वो ठहराते हैं जो अपने लिए नागवार है और उनकी ज़ुबानें झूठ कहती हैं कि उनके लिए भलाई है तो आप ही हुआ कि उनके लिए आग है और वो हद से गुज़ारे हुए हैं,
Aur Allah ke liye woh thehrate hain jo apne liye nagwaar hai aur unki zubaanen jhoot kehti hain ke unke liye bhalai hai, to aap hi hua ke unke liye aag hai aur woh had se guzare hue hain,
(ف135)روئیدگی سے سرسبزی و شادابی بخش کر ۔(ف136)یعنی خشک اور بے سبزہ و بے گیاہ ہونے کے بعد ۔(ف137)اور سن کر سمجھتے اور غور کرتے ہیں ، وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو قادرِ برحق زمین کو اس کی موت یعنی قوتِ نامیہ فنا ہو جانے کے بعد پھر زندگی دیتا ہے ، وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد بے شک زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے (ف۱۳۸) ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے، (ف۱۳۹)
And indeed in cattle is a lesson for you; We provide you drink from what is in their bellies – pure milk from between the excretion and the blood, palatable for the drinkers.
ख़ुदा की कसम हमने तुमसे पहले कितनी उम्मतों की तरफ़ रसूल भेजे तो शैतान ने उनके कुतक (बुरे अमाल) उनकी आँखों में भले कर दिखाए तो आज वही उनका रफ़ीक़ है और उनके लिए दर्दनाक आज़ाब है,
Khuda ki qasam humne tum se pehle kitni ummaton ki taraf rasool bheje, to shaytaan ne unke kotak (bure aamaal) unki aankhon mein bhale kar dikhaye, to aaj wohi unka rafiq hai aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف138)اگر تم اس میں غور کرو تو بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہو اور حکمتِ الٰہیہ کے عجائب پر تمہیں آگاہی حاصل ہو سکتی ہے ۔(ف139)جس میں کوئی شائبہ کسی چیز کی آمیزش کا نہیں باوجود یکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ، گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ ، خون ، گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ، دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بو کا ، نہایت صاف لطیف برآمد ہوتا ہے ۔ اس سے حکمتِ الٰہیہ کی عجیب کاری ظاہر ہے اوپر مسئلۂ بعث کا بیان ہو چکا ہے یعنی مُردوں کو زندہ کئے جانے کا ، کُفّار اس کے منکِر تھے اور انہیں اس میں دو شبہے درپیش تھے ایک تویہ کہ جو چیز فاسد ہو گئی اور اس کی حیات جاتی رہی اس میں دوبارہ پھر زندگی کس طرح لوٹے گی ، اس شبہ کا ازالہ تو اس سے پہلی آیت میں فرما دیا گیا کہ تم دیکھتے رہتے ہو کہ ہم مردہ زمین کو خشک ہونے کے بعد آسمان سے پانی برسا کر حیات عطا فرما دیا کرتے ہیں تو قدرت کا یہ فیض دیکھنے کے بعدکسی مخلوق کا مرنے کے بعد زندہ ہونا ایسے قادرِ مطلق کی قدرت سے بعید نہیں ، دوسرا شبہ کُفّار کا یہ تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے جسم کے اجزا منتشر ہوگئے اور خاک میں مِل گئے وہ اجزاء کس طرح جمع کئے جائیں گے اور خاک کے ذروں سے ان کو کس طرح ممتاز کیا جائے گا ، اس آیتِ کریمہ میں جو صاف دودھ کا بیان فرمایا اس میں غورکرنے سے وہ شبہ بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے کہ قدرتِ الٰہی کی یہ شان تو روزانہ دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ غذا کے مخلوط اجزاء میں سے خالص دودھ نکالتا ہے اور اس کی قرب و جوار کی چیزوں کی آمیزش کا شائبہ بھی اس میں نہیں آتا ، اس حکیمِ برحق کی قدرت سے کیا بعید کہ انسانی جسم کے اجزاء کو منتشر ہونے کے بعد پھر مجتمع فرما دے ۔ شقیق بلخی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نعمت کا اتمام یہی ہے کہ دودھ صاف خالص آئے اور اس میں خون اور گوبر کے رنگ و بُو کا نام و نشان نہ ہو ورنہ نعمت تام نہ ہوگی اور طبعِ سلیم اس کو قبول نہ کرے گی جیسی صاف نعمت پروردگار کی طرف سے پہنچتی ہے ۔ بندے کو لازم ہے کہ وہ بھی پروردگار کے ساتھ اخلاص سے معاملہ کرے اور اس کے عمل ریا اور ہوائے نفس کی آمیزشوں سے پاک و صاف ہوں تاکہ شرف قبول سے مشرف ہوں ۔
اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے (ف۱٤۰) کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق (ف۱٤۱) بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،
And from the fruits of date and grapes, for you make juices and good nourishment from them; indeed in this is a sign for people of intellect.
और हमने तुम पर यह किताब न उतारी मगर इसके लिए कि तुम लोगों पर रोशन कर दो जिस बात में इख़्तिलाफ़ करें और हिदायत और रहमत ईमान वालों के लिए,
Aur humne tum par ye kitaab na utari magar is liye ke tum logon par roshan kar do jis baat mein ikhtilaf karein aur hidaayat aur rehmat iman walon ke liye,
(ف140)ہم تمہیں رس پلاتے ہیں ۔(ف141) یعنی سرکہ اور رُب اور خرمہ اور مویز ۔مسئلہ : مویز اور انگور وغیرہ کا رس جب اس قدر پکا لیا جائے کہ دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہے اور تیز ہو جائے اس کو نبیذ کہتے ہیں یہ حدِ سُکر تک نہ پہنچے اور نشہ نہ لائے تو شیخین کے نزدیک حلال ہے اور یہی آیت اور بہت سی احادیث ان کی دلیل ہے ۔
پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور (ف۱٤۲) اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، (ف۱٤۳) اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے ، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱٤۷) دھیان کرنے والوں کو، (ف۱٤۸)
“Then eat from all kinds of fruits, and tread the ways of your Lord which are soft and easy for you”; from their bellies comes a drink of various colours, in which is health for mankind; indeed in this is a sign for people who ponder.
और नहायत तुम्हारे लिए चौपायों में निगाह हासिल होने की जगह है हम तुम्हें पिलाते हैं इस चीज़ में से जो उनके पेट में है, गोबर और ख़ून के बीच में से ख़ालिस दूध गले से सहज उतरता पीने वालों के लिए,
Aur beshak tumhare liye choopayon mein nigah haasil hone ki jagah hai, hum tumhein pilate hain is cheez mein se jo unke peṭ mein hai, gobar aur khoon ke beech mein se khalis doodh galee se sehal utarta peene walon ke liye,
(ف142)پھلوں کی تلاش میں ۔(ف143)فضلِ الٰہی سے جس کا تجھے الہام کیا گیا ہے حتی کہ تجھے چلنا پھرنا دشوار نہیں اور تو کتنی ہی دور نکل جائے راہ نہیں بہکتی اور اپنے مقام پر واپس آ جاتی ہے ۔(ف144)یعنی شہد ۔(ف145) سفید اور زَرد اور سُرخ ۔(ف146) اور نافع ترین دواؤں میں سے ہے اور بکثرت معاجین میں شامل کیا جاتا ہے ۔(ف147)اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت پر ۔(ف148)کہ اس نے ایک کمزور ناتُوان مکھی کو ایسی زِیرکی و دانائی عطا فرمائی اور ایسی دقیق صنعتیں مرحمت کیں ۔ پاک ہے وہ اور اپنی ذات و صفات میں شریک سے منزّہ ۔ اس سے فکر کرنے والوں کو اس پر بھی تنبیہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے ایک ادنٰی ضعیف سی مکھی کو یہ صفت عطا فرماتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں سے ایسے لطیف اجزاء حاصل کرے جن سے نفیس شہد بنے ، جو نہایت خوشگوار ہو ، طاہر و پاکیزہ ہو ، فاسد ہونے اور سڑنے کی اس میں قابلیت نہ ہو تو جو قادر حکیم ایک مکھی کو اس مادے کے جمع کرنے کی قدرت دیتا ہے وہ اگر مرے ہوئے انسان کے منتشر اجزاء کو جمع کر دے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ، مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو محال سمجھنے والے کس قدر احمق ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے وہ آثار ظاہر فرماتا ہے جو خود ان میں اور ان کے احوال میں نمایاں ہیں ۔
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا (ف۱٤۹) پھر تمہاری جان قبض کرے گا (ف۱۵۰) اور تم میں کوئی سب سے ناقض عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے (ف۱۵۱) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۵۲) بیشک اللہ کچھ جانتا ہے سب کچھ کرسکتا ہے،
And Allah created you, and will then remove your souls; and among you is one who is sent back to the most lowly age, so knowing nothing after having had knowledge; indeed Allah knows everything, is Able to do all things.
और खजूर और अंगूर के फलों में से कि इससे नबीज़ बनाते हो और अच्छा रज़क नहायत इसमें निशानी है अक़ल वालों को,
Aur khajoor aur angur ke phalon mein se ke us se nabeed banate ho aur achha rizq, beshak is mein nishani hai aqal walon ko,
(ف149)عدم سے اور نیستی کے بعد ہستی عطا فرمائی کیسی عجیب قدرت ہے ۔(ف150)اور تمہیں زندگی کے بعد موت دے گا جب تمہاری اجل پوری ہو جو اس نے مقرر فرمائی ہے خواہ بچپن میں یا جوانی میں یا بڑھاپے میں ۔(ف151) جس کا زمانہ عمرِ انسانی کے مراتب میں ساٹھ سال کے بعد آتا ہے کہ قُوٰی اور حواس سب ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے ۔(ف152)اور نادانی میں بچوں سے زیادہ بدتر ہو جائے ۔ ان تغیُّرات میں قدرتِ الٰہی کے کیسے عجائب مشاہدے میں آتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مسلمان بفضلِ الٰہی اس سے محفوظ ہیں ، طولِ عمر و بقا سے انہیں اللہ کے حضور میں کرامت اور عقل و معرفت کی زیادتی حاصل ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ توجہ الی اللہ کا ایسا غلبہ ہو کہ اس عالَم سے انقطاع ہو جائے ، بندۂ مقبول دنیا کی طرف التفات سے مجتنب ہو ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ جس نے قرآنِ پاک پڑھا وہ اس ارذل عمر کی حالت کو نہ پہنچے گا کہ علم کے بعد مَحض بے علم ہو جائے ۔
اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر رزق میں بڑائی دی (ف۱۵۳) تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں (ف۱۵٤) تو کیا اللہ کی نعمت سے مکرتے ہیں، (ف۱۵۵)
And Allah has made some among you superior above others in livelihood; so those to whom the superiority is given, will not return their livelihood to their slaves, so they may all become equal in this respect; so do they deny the favours of Allah?
और तुम्हारे रब ने शहद की मक्खी को इल्हाम किया कि पहाड़ों में घर बना और दरख़्तों में और छतों में,
Aur tumhare Rab ne shahad ki makhi ko ilham diya ke pahaadon mein ghar bana aur darakhton mein aur chhaton mein,
(ف153)تو کسی کو غنی کیا، کسی کو فقیر ، کسی کو مالدار ، کسی کو نادار ، کسی کو مالک ، کسی کو مملوک ۔(ف154)اور باندی غلام آقاؤں کے شریک ہو جائیں ، جب تم اپنے غلاموں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کرتے تو اللہ کے بندوں اور اس کے مملوکوں کو اس کا شریک ٹھہرانا کس طرح گوارا کرتے ہو ، سبحان اللہ یہ بُت پرستی کا کیسا نفیس دل نشین اور خاطر گُزین رد ہے ۔(ف155)کہ اس کو چھوڑ کر مخلوق کو پوجتے ہیں ۔
اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی (ف۱۵٦) تو کیا جھوٹی بات (ف۱۵۷) پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل (ف۱۵۸) سے منکر ہوتے ہیں،
And Allah has created for you wives of your own breed, and has given you from your wives, sons and grandsons, and has provided sustenance for you from good things; so do they believe in falsehood and deny the favours of Allah?
फिर हर क़िस्म के फलों में से खा और अपने रब की राहें चल कर तेरे लिए नरम व आसान हैं, इसके पेट से एक पीने की चीज़ रंग बरंग निकलती है, जिसमें लोगों की तंदरुस्ती है, नहायत इसमें निशानी है ध्यान करने वालों को,
Phir har qisam ke phal mein se khao aur apne Rab ki raahen chal kar, tere liye narm o aasan hain, us ke peṭ se ek peene ki cheez rang birang nikalti hai, jismein logon ki tandurusti hai, beshak is mein nishani hai dhyan karne walon ko,
(ف156) قسم قسم کے غلوں ، پھلوں ، میووں ، کھانے پینے کی چیزوں سے ۔(ف157)یعنی شرک و بُت پرستی ۔(ف158) اللہ کے فضل و نعمت سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی یا اسلام مراد ہے ۔ ( مدارک)
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۵۹) جو انھیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،
And they worship such besides Allah, who do not have power to provide them any sustenance from the heavens or the earth, nor can they do anything.
और अल्लाह ने तुम्हें पैदा किया फिर तुम्हारी जान क़ब्ज़ करेगा और तुम में कोई सबसे नाक़िस उम्र की तरफ़ फेरा जाता है कि जानने के बाद कुछ न जाने नहायत अल्लाह कुछ जानता है सब कुछ कर सकता है,
Aur Allah ne tumhein paida kiya, phir tumhari jaan qabz karega aur tum mein koi sab se naaqis umr ki taraf phera jaata hai ke jaan ne ke baad kuch na jaane, beshak Allah kuch jaanta hai sab kuch kar sakta hai,
تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ (ف۱٦۰) بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
Therefore do not ascribe equals to Allah; indeed Allah knows whereas you do not know.
और अल्लाह ने तुम में एक दूसरे पर रज़क में बढ़ाई दी तो जिन्हें बढ़ाई दी है वो अपना रज़क अपने बंदी गुलामों को न फेर दें कि वो सब इसमें बराबर हो जाएँ तो क्या अल्लाह की नेमत से मकरते हैं,
Aur Allah ne tum mein ek doosre par rizq mein barhaai di, to jinhein barhaai di hai woh apna rizq apne bandi ghulamon ko na phairenge ke woh sab is mein barabar ho jaayein, to kya Allah ki naimat se mukhroot hain,
اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی (ف۱٦۱) ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر (ف۱٦۲) کیا وہ برابر ہوجائیں گے (ف۱٦۳) سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۱٦٤)
Allah has illustrated an example – there is a slave, himself the property of another, not owning anything – and another one upon whom We have bestowed a good livelihood from Us, he therefore spends from it, secretly and publicly; will they be equal? All praise is to Allah; in fact, most of them do not know.
और अल्लाह ने तुम्हारे लिए तुम्हारी جنس से औरतें बनाई और तुम्हारे लिए तुम्हारी औरतों से बेटे और पोते नवासे पैदा किए और तुम्हें सथरी चीज़ों से रोज़ी दी तो क्या झूठी बात पर यकीन लाते हैं और अल्लाह के फ़ज़्ल से मंकर होते हैं,
Aur Allah ne tumhare liye tumhari jins se auratein banai aur tumhare liye tumhari auraton se betay aur potay, nawase paida kiye, aur tumhein suthri cheezon se rozi di, to kya jhooti baat par yaqeen late hain aur Allah ke fazl se munkir hote hain,
(ف161)یہ کہ ۔(ف162) جیسے چاہتا ہے تصرّف کرتا ہے تو وہ عاجز مملوک غلام اور یہ آزاد ، مالک صاحبِ مال جو بفضلِ الٰہی قدرت و اختیار رکھتا ہے ۔(ف163)ہر گز نہیں تو جب غلام و آزاد برابر نہیں ہو سکتے باوجود یکہ دونوں اللہ کے بندے ہیں تو اللہ خالِق مالک قادر کے ساتھ بے قدرت و اختیار بُت کیسے شریک ہو سکتے ہیں اور ان کو اس کے مثل قرار دینا کیسا بڑا ظلم و جہل ہے ۔(ف164)کہ ایسے براہینِ بیّنہ اور حجّتِ واضحہ کے ہوتے ہوئے شرک کرنا کتنے بڑے وبال و عذاب کا سبب ہے ۔
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا (ف۱٦۵) اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے (ف۱٦٦) کیا برابر ہوجائے گا وہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے ، (ف۱٦۷)
And Allah has illustrated an example – two men – one of them dumb, unable to do anything, and he is a burden on his master – wherever his master sends him, he brings back no good; will he be equal to one who gives the command of justice and is on the Straight Path?
और अल्लाह के सिवा ऐसों को पूजते हैं जो उन्हें आसमान और ज़मीन से कुछ भी रोज़ी देने का इक़्तियार नहीं रखते न कुछ कर सकते हैं,
Aur Allah ke siwa aisoun ko poojhte hain jo unhein aasman aur zameen se kuch bhi rozi dene ka ikhtiyar nahi rakhte, na kuch kar sakte hain,
(ف165)نہ اپنی کسی سے کہہ سکے نہ دوسرے کی سمجھ سکے ۔(ف166)اور کسی کام نہ آئے ۔ یہ مثال کافِر کی ہے ۔(ف167)یہ مثال مومن کی ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ کافِر ناکارہ گونگے غلام کی طرح ہے وہ کسی طرح مسلمان کی مثل نہیں ہو سکتا جو عدل کا حکم کرتا ہے اور صراطِ مستقیم پر قائم ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ گونگے ناکارہ غلام سے بُتوں کو تمثیل دی گئی اور انصاف کا حکم دینا شانِ الٰہی کا بیان ہوا ، اس صورت میں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ بُتوں کو شریک کرنا باطل ہے کیونکہ انصاف قائم کرنے والے بادشاہ کے ساتھ گونگے اور ناکارہ غلام کو کیا نسبت ۔
اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف۱٦۸) اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب (ف۱٦۹) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے
And for Allah only are the hidden things of the heavens and the earth, and the matter of Resurrection is not but like the batting of an eyelid – in fact closer than this; indeed Allah is Able to do all things.
तो अल्लाह के लिए मीनाद न ठहराओ नहायत अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते,
To Allah ke liye munaad na thehrao, beshak Allah jaanta hai aur tum nahi jaante,
(ف168)اس میں اللہ تعالٰی کے کمال علم کا بیان ہے کہ وہ جمیع غیوب کا جاننے والا ہے اس پر کوئی چھپنے والی چیزپوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس سے مراد علمِ قیامت ہے ۔(ف169)کیونکہ پلک مارنا بھی زمانہ چاہتا ہے جس میں پلک کی حرکت حاصل ہو اور اللہ تعالٰی جس چیز کا ہونا چاہے وہ کُنْ فرماتے ہی ہو جاتی ہے ۔
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے (ف۱۷۰) اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے (ف۱۷۱) کہ تم احسان مانو ، (ف۱۷۲)
And Allah brought you forth from your mothers’ wombs, whilst you did not know anything* – and gave you ears and eyes and hearts, for you to be grateful. (* Prophet Mohammed and Prophet Jesus, among others, are exceptions to this rule – peace and blessings be upon them.)
अल्लाह ने एक कहावत बयान फ़रमाई एक बंदा है दूसरे की मलिक आप कुछ मक़दूर नहीं रखते और एक जिसे हमने अपनी तरफ़ से अच्छी रोज़ी अता फ़रमाई तो वो इसमें से ख़र्च करता छुपे और ज़ाहिर किया वो बराबर हो जाएँगे सब खूबियाँ अल्लाह को हैं बल्कि उनमें अक्सर को खबर नहीं
Allah ne ek kahawat bayan farmaai: ek banda hai, doosre ki milk, aap kuch maqdoor nahi rakhte, aur ek jise humne apni taraf se achhi rozi ata farmaai, to woh is mein se kharch karta chhupe aur zahir kiya, woh barabar ho jaenge, sab khubiyan Allah ko hain, balke un mein aksar ko khabar nahi,
(ف170)اور اپنی پیدایش کی ابتداء اور اول فطرت میں علم و معرفت سے خالی تھے ۔(ف171)کہ ان سے اپنا پیدائشی جہل دور کرو ۔(ف172)اور علم و عمل سے فیض یاب ہو کر مُنعِم کا شکر بجا لاؤ اور اس کی عبادت میں مشغول ہو اور اس کے حقوقِ نعمت ادا کرو ۔
کیا انہوں نے پرندے نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں، انھیں کوئی نہیں روکتا (ف۱۷۳) سوا اللہ کے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو ، (ف۱۷٤)
Have they not seen the birds, subservient in the open skies? No one holds them up except Allah; indeed in this are signs for the people who believe.
और अल्लाह ने कहावत बयान फ़रमाई दो मर्द एक गूंगा जो कुछ काम नहीं कर सकता और वो अपने आका पर बोझ है जह्दर भेजे कुछ भलाई न लाए क्या बराबर हो जाए गाह और वो जो इंसाफ़ का हुक्म करता है और वो सीधी राह पर है,
Aur Allah ne kahawat bayan farmaai: do mard, ek goonga jo kuch kaam nahi kar sakta aur woh apne aaqa par bojh hai, jidhhar bheje kuch bhalai na laaye, kya barabar ho jaaye gaah, aur woh jo insaf ka hukum karta aur woh seedhi raah par hai,
(ف173)گرنے سے ، باوجود یکہ جسم ثقیل بالطبع گرنا چاہتا ہے ۔(ف174)کہ اس نے انہیں ایسا پیدا کیا کہ وہ ہوا میں پرواز کر سکتے ہیں اور اپنے جسمِ ثقیل کی طبیعت کے خلاف ہوا میں ٹھہرے رہتے ہیں ، گرتے نہیں اور ہوا کو ایسا پیدا کیا کہ اس میں ان کی پرواز ممکن ہے ۔ ایماندار اس میں غور کرکے قدرتِ الٰہی کا اعتراف کرتے ہیں ۔
اور اللہ نے تمہیں گھر دیئے بسنے کو (ف۱۷۵) اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بناےٴ جو تمھیں ہلکے پڑتے ہیں تمھارے سفر کے دن اور منزلوں پرٹھہر نے کے دن، اور ان کی اون اور ببری (رونگٹوں) اور بالوں سے کچھ گرہستی (خانگی ضروریات) کا سامان (ف۱۷۷) اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک،
And Allah has given you houses for staying, and made some houses from the hides of animals, which are easy for you on your day of travel and on the day of stopover – and from their wool, and fur, and hair, some household items and utilities for a while.
और अल्लाह ही के लिए हैं आसमानों और ज़मीन की छुपी चीज़ें और क़यामत का मामला नहीं मगर जैसे एक पलक का मारना बल्कि इससे भी करीब नहायत अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Aur Allah hi ke liye hain aasmanon aur zameen ki chhupi cheezein aur Qiyamat ka maamla nahi, magar jaise ek palk ka maarna, balke is se bhi qareeb, beshak Allah sab kuch kar sakta hai,
(ف175)جن میں تم آرام کرتے ہو ۔(ف176)مثل خیمہ وغیرہ کے ۔(ف177)بچھانے اوڑھنے کی چیزیں ۔ مسئلہ : یہ آیت اللہ کی نعمتوں کے بیان میں ہے مگر اس سے اشارۃً اُون اور پشمینے اور بالوں کی طہارت اور ان سے نفع اٹھانے کی حِلّت ثابت ہوتی ہے ۔
اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں (ف۱۷۸) سے سائے دیئے (ف۱۷۹) اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی (ف۱۸۰) اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے (ف۱۸۱) کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں (ف۱۸۲) یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے (ف۱۸۳) کہ تم فرمان مانو (ف۱۸٤)
And Allah has provided you shade with the things He has created, and created for you refuge in the hills, and created some clothing for you to protect you from the heat, and some clothing to protect you during conflict; this is how He completes His favour upon you, so that you may obey.
और अल्लाह ने तुम्हें तुम्हारी माओं के पेट से पैदा किया कि कुछ न जानते थे और तुम्हें कान और आँख और दिल दिए कि तुम एहसान मानो,
Aur Allah ne tumhein tumhari maon ke peṭ se paida kiya ke kuch na jaante the aur tumhein kaan aur aankh aur dil diye ke tum ehsan mano,
(ف178)مکانوں ، دیواروں ، چھتوں ، درختوں اور ابر وغیرہ ۔(ف179)جس میں تم آرام کرتے ہو ۔(ف180)غار وغیرہ کہ امیر و غریب سب آرام کر سکیں ۔(ف181)زرہ و جوشن وغیرہ ۔(ف182)کہ تیر تلوار نیزے وغیرہ سے بچاؤ کا سامان ہو ۔(ف183) دنیا میں تمہارے حوائج و ضروریات کا سامان پیدا فرما کر ۔(ف184) اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کر کے اسلام لاؤ اور دینِ برحق قبول کرو ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۸۵) تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا، (ف۱۸٦)
Then if they turn away, O dear Prophet, (Mohammed – peace and blessings be upon him) upon you is nothing but to clearly convey (the message).
क्या उन्होंने परिंदे ने परिंदे न देखे हुक्म के बांधे आसमान की फ़ज़ा में, उन्हें कोई नहीं रोकता सिवा अल्लाह के नहायत इसमें निशानियां हैं ईमान वालों को,
Kya unhone parinday na dekhe, hukum ke bande aasman ki faza mein, unhein koi nahi rokta siwa Allah ke, beshak is mein nishaniyan hain iman walon ko,
(ف185)اور اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ آپ پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے سے اعراض کریں اور اپنے کُفر پر جمے رہیں ۔(ف186)اور جب آپ نے پیامِ الٰہی پہنچا دیا تو آپ کا کام پورا ہو چکا اور نہ ماننے کا وبال ان کی گردن پر رہا ۔
اللہ کی نعمت پہنچانتے ہیں (ف۱۸۷) پھر اس سے منکر ہوتے ہیں (ف۱۸۸) اور ان میں اکثر کافر ہیں، (ف۱۸۹)
They recognise the favour* of Allah and then deny it, and most of them are disbelievers. (* Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) and / or all the favours of Allah.)
और अल्लाह ने तुम्हें घर दिए बसने को और तुम्हारे लिए चौपायों की खालों से कुछ घर बनाए जो तुम्हें हलके पड़ते हैं तुम्हारे सफ़र के दिन और मंज़िलों पर ठहरने के दिन, और उनकी ऊन और बबरी (रौंगटों) और बालों से कुछ घरस्टी (ख़ानगी ज़रूरतें) का सामान और बरतने की चीज़ें एक वक्त तक,
Aur Allah ne tumhein ghar diye basne ko aur tumhare liye choopayon ki khaalon se kuch ghar banaye jo tumhein halke padte hain tumhare safar ke din aur manzilon par thehrne ke din, aur unki oon aur babri (roongton) aur balon se kuch gharasti (khaandagi zarooriyat) ka samaan aur bartne ki cheezein ek waqt tak,
(ف187) یعنی جو نعمتیں کہ ذکر کی گئیں ان سب کو پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں پھر بھی اس کا شکر بجا نہیں لاتے ۔ سدی کا قول ہے کہ اللہ کی نعمت سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہیں ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ وہ حضور کو پہچانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کا وجود اللہ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اور باوجود اس کے ۔(ف188)اور دینِ اسلام قبول نہیں کرتے ۔(ف189)معانِد کو حسد وعناد سے کُفر پر قائم رہتے ہیں ۔
اور جس دن (ف۱۹۰) ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ (ف۱۹۱) پھر کافروں کو نہ اجازت ہو (ف۱۹۲) نہ وہ منائے جائیں ، (ف۱۹۳)
And the day when We will raise up a witness from every nation – then there will be no leave for the disbelievers, nor will they be appeased.
और अल्लाह ने तुम्हें अपनी बनाई हुई चीज़ों से साए दिए और तुम्हारे लिए पहाड़ों में छुपने की जगह बनाई और तुम्हारे लिए कुछ पहनाए बनाएं कि तुम्हें गर्मी से बचाएँ और कुछ पहनावे कि लड़ाएँ मैं तुम्हारी हिफ़ाज़त करूँ यूंही अपनी नेमत तुम पर पूरी करता है कि तुम फ़रमान मानो
Aur Allah ne tumhein apni banai hui cheezon se saaye diye aur tumhare liye pahaadon mein chhupne ki jagah banai aur tumhare liye kuch pehna de banaye ke tumhein garmi se bachayein aur kuch pehnawe ke ladhayein mein tumhari hifazat karein, yunhi apni naimat tum par poori karta hai ke tum farmaan mano,
(ف190)یعنی روزِ قیامت ۔(ف191)جو ان کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کُفر کی گواہی دے اور یہ گواہ انبیاء ہیں علیہم السلام ۔(ف192) معذرت کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی ۔(ف193)یعنی نہ ان سے عتاب و ملامت دور کی جائے ۔
اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے (ف۱۹۵) کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے، تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو، (ف۱۹٦)
And when the polytheists will see their ascribed partners, they will say, “Our Lord! These are our partners whom we used to worship besides You”; so they will strike back at them with the saying, “You are indeed liars!”
अल्लाह की नेमत पहचानते हैं फिर उससे मंकर होते हैं और उनमें अक्सर काफ़िर हैं,
Allah ki naimat pehchante hain phir us se munkir hote hain aur un mein aksar kafir hain,
(ف195)بُتوں وغیرہ کو جنہیں پوجتے تھے ۔(ف196)جو ہمیں معبود بتاتے ہو ہم نے تمہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ۔
اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انھیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے (ف۲۰۱) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر (ف۲۰۲) شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے (ف۲۰۳) اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،
And the day when We will raise from every group, a witness from among them, in order to testify against them and will bring you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as a witness upon them all; and We have sent down this Qur’an upon you which is a clear explanation of all things, and a guidance and a mercy and glad tidings to the Muslims.
और शर्क़ करने वाले जब अपने शरीकों को देखेंगें कहेंगे ऐ हमारे रब! ये हैं हमारे शर्क़ कि हम तेरे सिवा पूजते थे, तो वो इन पर बात फेंकेंगे कि तुम नहायत झूठे हो,
Aur shirk karne wale jab apne shurakon ko dekhenge, kahenge: “Aye hamare Rab! Yeh hain hamare shurak ke hum tere siwa poojhte the,” to woh un par baat phainkenge ke tum beshak jhoothe ho,
(ف201) یہ گواہ انبیاء ہوں گے جو اپنی اپنی اُمّتوں پر گواہی دیں گے ۔(ف202)اُمّتوں اور ان کے شاہدوں پر جو انبیاء ہوں گے جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَۤا ءِ شَھِیْداً ۔ (ابوالسعو د و غیرہ)(ف203)جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ اور ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش آنے والے فتنوں کی خبر دی ، صحابہ نے ان سے خلاص کا طریقہ دریافت کیا ، فرمایا کتاب اللہ میں تم سے پہلے واقعات کی بھی خبر ہے ، تم سے بعد کے واقعات کی بھی اور تمہارے مابین کاعلم بھی ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جو علم چاہے وہ قرآن کو لازم کر لے ، اس میں اولین و آخرین کی خبریں ہیں ۔ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اُمّت کے سارے علوم حدیث کی شرح ہیں اور حدیث قرآن کی اور یہ بھی فرمایا کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کوئی حکم بھی فرمایا وہ وہی تھا جو آپ کو قرآنِ پاک سے مفہوم ہوا ۔ ابوبکر بن مجاہد سے منقول ہے انہوں نے ایک روز فرمایا کہ عالَم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کتاب اللہ یعنی قرآن شریف میں مذکور نہ ہو اس پر کسی نے ان سے کہا سراؤں کا ذکر کہاں ہے ؟ فرمایا اس آیت لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتاً غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ الخ ابنِ ابو الفضل مرسی نے کہا کہ اولین و آخرین کے تمام علوم قرآنِ پاک میں ہیں ۔ غرض یہ کتاب جامع ہے جمیع علوم کی جس کسی کو اس کا جتنا علم ملا ہے اتنا ہی جانتا ہے ۔
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (ف۲۰٤) اور رشتہ داروں کے دینے کا (ف۲۰۵) اور منع فرماتا بےحیائی (ف۲۰٦) اور برُی بات (ف۲۰۷) اور سرکشی سے (ف۲۰۸) تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،
Indeed Allah decrees the commands of justice and kindness, and of giving to relatives, and forbids from the shameful and evil and rebellion; He advises you so that you may pay heed.
और उस दिन अल्लाह की तरफ़ आज़्ज़ी से गिरेंगें और उनसे गुम हो जाएँगी जो बनावटें करते थे,
Aur us din Allah ki taraf aajzi se girenge aur un se gum ho jaayengi jo banawat karte the,
(ف204)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انصاف تو یہ ہے کہ آدمی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے اور نیکی اور فرائض کا ادا کرنا اور آپ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ انصاف شرک کا ترک کرنا اور نیکی اللہ کی اس طرح عبادت کرنا گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، اگر وہ مومن ہو تو اس کے برکاتِ ایمان کی ترقی تمہیں پسند ہو اور اگر کافِر ہو تو تمہیں یہ پسند آئے کہ وہ تمہارا اسلامی بھائی ہو جائے ۔ انہیں سے ایک اور روایت ہے اس میں ہے کہ انصاف توحید ہے اور نیکی اخلاص اور ان تمام روایتوں کا طرزِ بیان اگرچہ جُداجُدا ہے لیکن مآل و مدعا ایک ہی ہے ۔(ف205)اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرنے کا ۔(ف206)یعنی ہر شرمناک مذموم قول و فعل ۔(ف207)یعنی شرک و کُفر و معاصی تمام ممنوعاتِ شرعیہ ۔(ف208)یعنی ظلم و تکبر سے ۔ ابنِ عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ عدل ظاہر و باطن دونوں میں برابر حق و طاعت بجا لانے کو کہتے ہیں اور احسان یہ ہے کہ باطن کا حال ظاہر سے بہتر ہو اور فَحشاء و منکَر و بغی یہ ہے کہ ظاہر اچھا ہو اور باطن ایسا نہ ہو ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا اس آیت میں اللہ تعالٰی نے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین سے منع فرمایا عدل کا حکم دیا اور وہ انصاف و مساوات ہے ، اقوال و افعال میں اس کے مقابل فَحشا یعنی بے حیائی ہے ، وہ قبیح اقوال و افعال ہیں اور احسان کا حکم فرمایا وہ یہ ہے کہ جس نے ظلم کیا اس کو معاف کرو اور جس نے برائی کی اس کے ساتھ بھلائی کرو ، اس کے مقابل منکَر ہے یعنی محسن کے احسان کا انکار کرنا اور تیسرا حکم اس آیت میں رشتہ داروں کو دینے اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور شفقت و مَحبت کا فرمایا ، اس کے مقابل بغی ہے اور وہ اپنے آپ کو اونچا کھینچنا اور اپنے علاقہ داروں کے حقوق تلف کرنا ہے ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے ، یہی آیت حضرت عثمان بن مظعون کے اسلام کا سبب ہوئی جو فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نُزول سے ایمان میرے دل میں جگہ پکڑ گیا ، اس آیت کا اثر اتنا زبردست ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور ابو جہل جیسے سخت دل کُفّار کی زبانوں پر بھی اس کی تعریف آ ہی گئی ۔ اس لئے یہ آیت ہر خطبہ کے آخر میں پڑھی جاتی ہے ۔
اور اللہ کا عہد پورا کرو (ف۲۰۹) جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو (ف۲۱۰) اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،
And fulfil the covenant of Allah when you have made the promise, and do not break your oaths after ratifying them, and you have made Allah a Guarantor over you; indeed Allah knows your deeds.
जिन्होंने क़फ़र किया और अल्लाह की राह से रोका हमने आज़ाब पर आज़ाब बढ़ाया बदला उनके फ़साद का,
Jin hon ne kufr kiya aur Allah ki raah se roka, humne azaab par azaab barhaya badla unke fasaad ka,
(ف209)یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی تھی ، انہیں اپنے عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ حکم انسان کے ہر عہدِ نیک اور وعدہ کو شامل ہے ۔(ف210)اس کے نام کی قسم کھا کر ۔
اور (ف۲۱۱) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا
And do not be like the woman broke her thread into bits after she had manufactured it; you make your oaths a phoney excuse between yourselves lest one nation may not be more than the other; Allah just tries you with it; and He will surely clarify for you on the Day of Resurrection, the matters in which you differed.
और जिस दिन हम हर ग्रुप में एक गवाह उन्हें में से उठाएँगे कि इन पर गवाही दे और ऐ महबूब! तुम्हें इन सब पर शाहिद बना कर लाएँगे, और हमने तुम पर यह क़ुरआन उतारा कि हर चीज़ का रोशन बयान है और हिदायत और रहमत और बशारत मुसलमानों को,
Aur jis din hum har giroh mein ek gawaah unhein mein se uthayenge ke un par gawaahi de, aur aye mehboob! Tumhein un sab par shaahid bana kar layenge, aur humne tum par ye Quran utara ke har cheez ka roshan bayan hai aur hidaayat aur rehmat aur basharat Musalmanon ko,
(ف211)تم عہد اور قسمیں توڑ کر ۔(ف212)مکّۂ مکرّمہ میں ریطہ بنت عمرو ایک عورت تھی جس کی طبیعت میں بہت وہم تھا اور عقل میں فتور ، وہ دوپہر تک محنت کر کے سُوت کاتا کرتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی اور دوپہر کے وقت اس کاتے ہوئے کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالتی اور باندیوں سے بھی توڑواتی ، یہی اس کا معمول تھا ۔ معنی یہ ہیں کہ اپنے عہد کو توڑ کر اس عورت کی طرح بے وقوف نہ بنو ۔(ف213)مجاہد کا قول ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ ایک قوم سے حلف کرتے اور جب دوسری قوم اس سے زیادہ تعداد یا مال یا قوت میں پاتے تو پہلوں سے جو حلف کئے تھے توڑ دیتے اور اب دوسرے سے حلف کرتے ۔ اللہ تعالٰی نے اس کو منع فرمایا اور عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا ۔(ف214)کہ مطیع اور عاصی ظاہر ہو جائے ۔(ف215)اعمال کی جزا دے کر ۔(ف216)دنیا کے اندر ۔
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا (ف۲۱۷) لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے (ف۲۱۸) جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے (ف۲۱۹) جسے چاہے، اور ضرور تم سے (ف۲۲۰) تمہارے کام پوچھے جائیں گے، (ف۲۲۱)
Had Allah willed He would have made you all one nation, but He sends astray whomever He wills and guides whomever He wills; and you will certainly be questioned regarding your deeds.
नहायत अल्लाह हुक्म फ़रमाता है इंसाफ़ और नेक़ी और रिश्ता दारों के देने का और मना फ़रमाता बेशयाई और बुरी बात और सरक़शी से तुम्हें नसीहत फ़रमाता है कि तुम ध्यान करो,
Beshak Allah hukum farmaata hai insaaf aur neki aur rishtedaron ko dene ka aur mana farmaata be-hayaee aur buri baat aur sarkashi se, tumhein naseehat farmaata hai ke tum dhyan karo,
(ف217)کہ تم سب ایک دین پر ہوتے ۔(ف218)اپنے عدل سے ۔(ف219)اپنے فضل سے ۔(ف220)روزِ قیامت ۔(ف221)جو تم نے دنیا میں کئے ۔
اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں (ف۲۲۲) جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو (ف۲۲۳) بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو (ف۲۲٤)
And do not make your oaths phoney excuses between yourselves, so that a foot may not slip after being steadfast and you may taste evil because you were preventing from Allah’s way; and lest you be severely punished.
और अल्लाह का अहद पूरा करो जब क़ौल बांधो और क़समें मजबूत कर के न तोड़ो और तुम अल्लाह को अपने ऊपर ज़ामिन कर चुके हो, नहायत तुम्हारे काम जानता है,
Aur Allah ka ahad poora karo jab qoul bandho aur qasmein mazboot kar ke na todo, aur tum Allah ko apne upar zaamin kar chuke ho, beshak tumhare kaam jaanta hai,
(ف222)راہِ حق و طریقۂ اسلام سے ۔(ف223)یعنی عذاب ۔(ف224)آخرت میں ۔
اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو (ف۲۲۵) بیشک وہ (ف۲۲٦) جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،
And do not exchange the covenant of Allah to procure an abject price; that which is with Allah is better for you, if you know.
और उस औरत की तरह न हो जिसने अपना सुत मजबूताई के बाद रेज़ा रेज़ा कर के तोड़ दिया अपनी क़समें आपस में एक बेअस्ल बहाना बनाते हो कि कहीं एक ग्रुप दूसरे ग्रुप से ज़्यादा न हो अल्लाह तो इससे तुम्हें आज़माता है और जरूर तुम पर साफ़ ज़ाहिर कर देगा क़यामत के दिन जिस बात में झगड़ते थे,
Aur us aurat ki tarah na ho jisne apna soot mazbooti ke baad reza reza kar ke todo apni qasmein aapas mein ek be-asl bahaana banate ho ke kahin ek giroh doosre giroh se zyada na ho, Allah to is se tumhein aazmata hai aur zaroor tum par saaf zahir kar dega Qiyamat ke din jis baat mein jhagdte the,
(ف225)اس طرح کہ دنیائے ناپائیدار کے قلیل نفع پر اس کو توڑ دو ۔(ف226)جزاء و ثواب ۔
جو تمہارے پاس ہے (ف۲۲۷) ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۲۸) ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو، (ف۲۲۹)
What you have will perish, and that which is with Allah will remain forever; and indeed We shall pay the patiently enduring a recompense which befits the best of their deeds.
और अल्लाह चाहता तो तुमको एक ही उम्मत करता लेकिन अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे, और राह देता है जिसे चाहे, और जरूर तुमसे तुम्हारे काम पूछे जाएँगे,
Aur Allah chahta to tum ko ek hi ummat karta, lekin Allah gumraah karta hai jise chahe, aur raah deta hai jise chahe, aur zaroor tum se tumhare kaam pooche jaayenge,
(ف227)سامانِ دنیا یہ سب فنا ہو جائے گا اور ختم ۔(ف228)اس کا خزانۂ رحمت و ثوابِ آخرت ۔(ف229)یعنی ان کی ادنٰی سی ادنٰی نیکی پر بھی وہ اجر و ثواب دیا جائے گا جو وہ اپنی اعلٰی نیکی پر پاتے ۔ (ابوالسعود)
جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۲۳۰) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے (ف۲۳۱) اور ضرور انھیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،
Whoever does good deeds – whether a male or female – and is a Muslim, We shall sustain him an excellent life, and shall certainly pay them a recompense which befits the best of their deeds.
और अपनी क़समें आपस में बेअस्ल बहाना न बना लो कि कहीं कोई पाँव जमाने के बाद لغज़िश न करे और तुम्हें बुराई चखनी हो बदला इसका कि अल्लाह की राह से रोकते थे और तुम्हें बड़ा आज़ाब हो
Aur apni qasmein aapas mein be-asl bahaana na bana lo ke kahin koi paon jamne ke baad laghzaish na kare aur tumhein burai chakhni ho, badla is ka ke Allah ki raah se rokte the aur tumhein bada azaab ho,
(ف230)یہ ضرور شرط ہے کیونکہ کُفّار کے اعمال بیکار ہیں ۔ عملِ صالح کے موجبِ ثواب ہونے کے لئے ایمان شرط ہے ۔(ف231)دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دے کر ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ اچھی زندگی سے لذّتِ عبادت مراد ہے ۔حکمت : مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولتمند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزی اللہ کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تعب اور تحصیلِ مال کی فکر میں پریشان رہتا ہے ۔
تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے، (ف۲۳۲)،
And when you recite the Qur’an, seek the refuge of Allah from Satan the outcast.
और अल्लाह के अहद पर थोड़े दाम मौल न लो नहायत वो जो अल्लाह के पास है तुम्हारे लिए बेहतर है अगर तुम जानते हो,
Aur Allah ke ahd par thode daam mol na lo, beshak woh jo Allah ke paas hai tumhare liye behtar hai agar tum jaante ho,
(ف232)یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھو یہ مستحب ہے ۔ اعوذ الخ کے مسائل سورۂ فاتحہ کی تفسیرمیں مذکور ہو چکے ۔
بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۲۳۳)
Indeed he has no power over the believers and who rely only upon their Lord.
जो तुम्हारे पास है हो चुकेगा और जो अल्लाह के पास है हमेशा रहने वाला, और जरूर हम सब्र करने वालों को उनका वो सिला देंगे जो उनके सबसे अच्छे काम के क़ाबिल हो,
Jo tumhare paas hai ho chuke ga aur jo Allah ke paas hai hamesha rehne wala, aur zaroor hum sabr karne walon ko unka woh sila denge jo unke sab se achhe kaam ke laayak ho,
اس کا قابو تو انھیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں،
Satan’s power is only over those who make friendship with him and ascribe him as a partner (in worship).
जो अच्छा काम करे मर्द हो या औरत और हो मुसलमान तो जरूर हम उसे अच्छी ज़िन्दगी जीलाएँगे और जरूर उन्हें उनका निग़ (अज़र) देंगे जो उनके सबसे बेहतर काम के लायक हों,
Jo achha kaam kare, mard ho ya aurat, aur ho Musalman, to zaroor hum use achhi zindagi jilaayenge aur zaroor unhein unka nag (ajr) denge jo unke sab se behtar kaam ke laayak hon,
اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں (ف۲۳٤) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے (ف۲۳۵) کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو (ف۲۳٦) بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں، (ف۲۳۷)
And when We replace a verse* by another – and Allah well knows what He sends down – the disbelievers say, “You are just fabricating”; in fact most of them do not know. (* The command of one verse by another.)
तो जब तुम क़ुरआन पढ़ो तो अल्लाह की पनाह माँगो शैतान मर्दूद से,
To jab tum Quran padho to Allah ki panaah maango Shaytaan mardood se,
(ف234)اور اپنی حکمت سے ایک حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم دیں ۔ شانِ نُزول : مشرکینِ مکّہ اپنی جہالت سے نسخ پر اعتراض کرتے تھے اور اس کی حکمتوں سے نا واقف ہونے کے باعث اس کو تمسخُر بناتے تھے اور کہتے تھے کہ محمّد (مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک روز ایک حکم دیتے ہیں دوسرے روز اور دوسرا ہی حکم دیتے ہیں ، وہ اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف235)کہ اس میں کیا حکمت اور اس کے بندوں کے لئے اس میں کیا مصلحت ہے ۔(ف236)اللہ تعالٰی نے اس پر کُفّار کی تجہیل فرمائی اور ارشاد کیا ۔(ف237)اور وہ نسخ و تبدیل کی حکمت و فوائد سے خبردار نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآنِ کریم کی طرف افتراء کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ جس کلام کے مثل بنانا قدرتِ بشری سے باہر ہے وہ کسی انسان کا بنایا ہوا کیسے ہو سکتا ہے لہذا سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خِطاب ہوا ۔
تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح (ف۲۳۸) نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو،
Proclaim, “The Holy Spirit* has rightly brought it down from your Lord, to make the believers steadfast, and a guidance and glad tidings for the Muslims.” (* Angel Jibreel – peace and blessings be upon him.)
नहायत इसका कोई काबू इन पर नहीं जो ईमान लाए और अपने रब ही पर भरोसा रखते हैं
Beshak iska koi qaboo un par nahi jo iman laaye aur apne Rab hi par bharosa rakhte hain,
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان (ف۲۳۹)
And indeed We know that they say, “This Qur’an is being taught by some other man”; the one they refer to speaks a foreign language, whereas this is clear Arabic!
इसका काबू तो उन्हें पर है जो इस से दोस्ती करते हैं और इसे शर्क़ ठहराते हैं,
Iska qaboo to un par hai jo is se dosti karte hain aur use shurak thehrate hain,
(ف239)قرآنِ کریم کی حلاوت اور اس کے علوم کی نورانیت جب قلوب کی تسخیرکرنے لگی اور کُفّار نے دیکھا کہ دنیا اس کی گرویدہ ہوتی چلی جاتی ہے اور کوئی تدبیر اسلام کی مخالفت میں کامیاب نہیں ہوتی تو انہوں نے طرح طرح کے افتراء اٹھانے شروع کئے ، کبھی اس کو سحر بتایا ، کبھی پہلوں کے قصّے اور کہانیاں کہا ، کبھی یہ کہا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خود بنا لیا ہے اور ہر طرح کوشش کی کہ کسی طرح لوگ اس کتابِ مقدس کی طرف سے بدگمان ہوں ، انہیں مکاریوں میں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک عجمی غلام کی نسبت یہ کہا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھاتا ہے ۔ اس کے رد میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی باطل باتیں دنیا میں کون قبول کر سکتا ہے جس غلام کی طرف کُفّار نسبت کرتے ہیں وہ تو عجمی ہے ، ایسا کلام بنانا اس کے تو کیا امکان میں ہوتا تمہارے فُصَحاء و بُلَغاء جن کی زبان دانی پر اہلِ عرب کو فخر و ناز ہے وہ سب کے سب حیران ہیں اور چند جملے قرآن کی مثل بنانا انہیں محال اور ان کی قدرت سے باہر ہے تو ایک عجمی کی طرف ایسی نسبت کس قدر باطل اور بے شرمی کا فعل ہے ۔ خدا کی شان جس غلام کی طرف کُفّار یہ نسبت کرتے تھے اس کو بھی اس کلام کے اعجاز نے تسخیر کیا اور وہ بھی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلقہ بگوشِ طاعت ہوا اور صدق و اخلاص کے ساتھ اسلام لایا ۔
بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں راہ نهیں دیتا اور ان کے لے درد ناک عذاب ہے، (ف۲٤۸)
Those who disbelieve in the signs of Allah – Allah does not guide them, and for them is a punishment, most painful.
और जब हम एक आयत की जगह दूसरी आयत बदलें और अल्लाह खूब जानता है जो उतारता है काफ़िर कहीं तुम तो दिल से बना लेते हो बल्कि उनमें अक्सर को इल्म नहीं,
Aur jab hum ek aayat ki jagah doosri aayat badlein, aur Allah khoob jaanta hai jo utarta hai, kafir kahin: “Tum to dil se bana late ho,” balke un mein aksar ko ilm nahi,
(ف240)اور اس کی تصدیق نہیں کرتے ۔(ف241)بسبب انکارِ قرآن و تکذیبِ رسول علیہ السلام کے ۔
جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں،
Only those who do not believe in Allah’s signs attribute lies and fabrications; and they themselves are liars.
तुम फ़रमाओ इसे पाकीज़गी की रूह ने उतारा तुम्हारे रब की तरफ़ से ठीक-ठीक कि इस से ईमान वालों को साबित क़दम करे और हिदायत और बशारत मुसलमानों को,
Tum farmao: ise paakizgi ki rooh ne utara tumhare Rab ki taraf se, theek theek ke is se iman walon ko saabit qadam kare aur hidaayat aur basharat Musalmanon ko,
(ف242)یعنی جھوٹ بولنا اور افتراء کرنا بے ایمانوں ہی کا کام ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بد ترین گناہ ہے ۔
جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے مجبور کیا جاےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے،
The one who disbelieves in Allah after accepting faith – except him who is forced to and whose heart is still firmly upon faith – but whoever is wholeheartedly a disbeliever, upon them is the wrath of Allah; and for them is a great punishment.
और नहायत हम जानते हैं कि वो कहते हैं, ये तो कोई आदमी सिखाता है, जिसकी तरफ़ ढालते हैं उसकी ज़ुबान अजमी है और ये रोशन अरबी ज़ुबान
Aur beshak hum jaante hain ke woh kehte hain: “Yeh to koi aadmi sikhata hai,” jis ki taraf dhalte hain, us ki zubaan ajmi hai aur yeh roshan Arabi zubaan,
(ف243)اس پر اللہ کا غضب ۔(ف244)وہ مغضوب نہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت عمار بن یاسر کے حق میں نازِل ہوئی انہیں اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب او ربلال اور خبّاب اور سالم رضی اللہ تعالٰی عنہم کو پکڑ کر کُفّار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پِھر جائیں لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کُفّار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بے رحمیوں سے قتل کیا اور عمار ضعیف تھے ، بھاگ نہیں سکتے تھے ، انہوں نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادل نخواستہ کلمۂ کُفر کا تلفُّظ کر دیا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ عمار کافِر ہو گئے ، فرمایا ہر گز نہیں عمار سر سے پاؤں تک ایمان سے پر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کر گیا ہے پھر حضرت عمار روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ، حضور نے فرمایا کیا ہوا ؟ عمار نے عرض کیا اے خدا کے رسول بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے ، ارشاد فرمایا اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا ؟ عرض کیا دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا ، نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ ( خازن) مسئلہ : آیت سے معلوم ہوا کہ حالاتِ اکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کُفر کا اجرا جائز ہے جب کہ آدمی کو اپنے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو ۔مسئلہ : اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو وہ ماجور اور شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سید الشُہداء فرمایا ۔مسئلہ : جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو وہ کلمۂ کُفر زبان پر لانے سے کافِر ہو جائے گا ۔مسئلہ : اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے تمسخُر یا جہل سے کلمۂ کُفر زبان پر جاری کرے کافِر ہو جائے گا ۔ (تفسیری احمدی)(ف245)رضا مندی اور اعتقاد کے ساتھ ۔
So it occurred that they are the losers in the Hereafter.
जो ईमान ला कर अल्लाह का मंकर हो सिवा इसके मजबूर किया जाए, और उसका दिल ईमान पर जमा हुआ हो, हाँ वो जो दिल खोल कर काफ़िर हो उन पर अल्लाह का ग़ज़ब है और उन्हें बड़ा आज़ाब है,
Jo iman la kar Allah ka munkir ho siwa is ke, aur us ka dil iman par jama hua ho, haan woh jo dil khol kar kafir ho, un par Allah ka ghazab hai aur un ko bada azaab hai,
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے (ف۲۵۰) بعد اس کے کہ ستائے گئے (ف۲۵۱) پھر انہوں نے (ف۲۵۲) جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس (ف۲۵۳) کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان،
Then indeed your Lord – for those who migrated after they had been oppressed, and then fought and remained patient – indeed your Lord is then, surely, Oft Forgiving, Most Merciful.
ये इस लिए कि उन्होंने दुनिया की ज़िन्दगी आख़िरत से प्यारी जानी, और इस लिए कि अल्लाह (ऐसे) काफ़रों को राह नहीं देता,
Yeh is liye ke unhone duniya ki zindagi aakhirat se pyari jani, aur is liye ke Allah (aise) kafiron ko raah nahi deta,
(ف250)اور مکّۂ مکرّمہ سے مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی ۔(ف251)کُفّار نے ان پر سختیاں کیں اور انہیں کُفر پر مجبور کیا ۔(ف252)ہجرت کے بعد ۔(ف253)ہجرت و جہاد و صبر ۔
جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی (ف۲۵٤) اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۲۵۵)
The day when every soul will come quarrelling against itself, and every soul will be fully repaid for what it did, and they will not be wronged.
ये हैं वो जिनके दिल और कान और आँखों पर अल्लाह ने مهر कर दी है और वही ग़फ़लत में पड़े हैं,
Yeh hain woh jin ke dil aur kaan aur aankhon par Allah ne mohar kar di hai, aur wahi ghaflat mein pade hain,
(ف254)وہ روزِ قیامت ہے جب ہر ایک نَفْسِی نَفْسِیْ کہتا ہوگا اور سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ۔(ف255)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ روزِ قیامت لوگوں میں خصومت یہاں تک بڑھے گی کہ روح و جسم میں جھگڑا ہوگا ، روح کہے گی یاربّ نہ میرے ہاتھ تھا کہ میں کسی کو پکڑتی ، نہ پاؤں تھاکہ چلتی ، نہ آنکھ کہ دیکھتی ، جسم کہے گا یاربّ میں تو لکڑی کی طرح تھا نہ میرا ہاتھ پکڑ سکتا تھا ، نہ پاؤں چل سکتا تھا ، نہ آنکھ دیکھ سکتی تھی ، جب یہ روح نوری شعاع کی طرح آئی تو اس سے میری زبان بولنے لگی ، آنکھ بینا ہوگئی ، پاؤں چلنے لگے جو کچھ کیا اس نے کیا ۔ اللہ تعالٰی ایک مثال بیان فرمائے گا کہ ایک اندھا اور ایک لُولا دونوں ایک باغ میں گئے ، اندھے کو توپھل نظر نہیں آتے تھے اور لُولے کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچتا تھا تو اندھے نے لُولے کو اپنے اوپر سوار کر لیا اس طرح انہوں نے پھل توڑے تو سزا کے وہ دونوں مستحِق ہوئے ۔ اس لئے روح اور جسم دونوں ملز م ہیں ۔
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی (ف۲۵٦) ایک بستی (ف۲۵۷) کہ امان و اطمینان سے تھی (ف۲۵۸) ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی (ف۲۵۹) تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا (ف۲٦۰) بدلہ ان کے کیے کا ،
And Allah has illustrated an example of a township – which dwelt in peace and security, its provisions coming in abundance from every side – in response the township started being ungrateful of Allah’s favours, therefore Allah made it taste the punishment by covering it with a cloak of starvation and fear, on account of their deeds.
आप ही हुआ कि आख़िरत में वही खराब
Aap hi hua ke aakhirat mein wohi kharaab,
(ف256)ایسے لوگوں کے لئے جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا اور وہ اس نعمت پر مغرور ہو کر ناشکری کرنے لگے کافِر ہوگئے ۔ یہ سبب اللہ تعالٰی کی ناراضی کا ہوا ، ان کی مثال ایسی سمجھو جیسے کہ ۔(ف257)مثل مکّہ کے ۔(ف258)نہ اس پر غنیم چڑھتا نہ وہاں کے لوگ قتل و قید کی مصیبت میں گرفتار کئے جاتے ۔(ف259)اور اس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی ۔(ف260)کہ سات برس نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعا سے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار رہے یہاں تک کہ مردار کھاتے تھے پھر امن و اطمینان کے بجائے خوف و ہراس ان پر مسلّط ہوا اور ہر وقت مسلمانوں کے حملے اور لشکر کشی کا اندیشہ رہنے لگا ۔
اور بیشک ان کے پاس انھیں میں سے ایک رسول تشریف لایا (ف۲٦۱) تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انھیں عذاب نے پکڑا (ف۲٦۲) اور وہ بے انصاف تھے،
And indeed a Noble Messenger came to them from among them – in response they denied him, and therefore the punishment seized them, and they were unjust.
फिर नहायत तुम्हारा रब उनके लिए जिन्होंने अपने घर छोड़े बाद इसके कि सताए गए फिर उन्होंने जिहाद किया और साबर रहे नहायत तुम्हारा रब इसके बाद जरूर बख़्शने वाला है मेहरबान,
Phir beshak tumhara Rab unke liye jin hon ne apne ghar chhode, baad is ke ke sataye gaye, phir unhone jihad kiya aur sabr rahe, beshak tumhara Rab is ke baad zaroor bakshne wala hai meherban,
(ف261)یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف262)بھوک اور خوف کے ۔
تو اللہ کی دی ہوئی روزی (ف۲٦۳) حلال پاکیزہ کھاؤ (ف۲٦٤) اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو،
Therefore eat the lawful and good sustenance Allah has provided you, and be grateful for the blessings of your Lord, if you worship Him.
जिस दिन हर जान अपनी ही तरफ़ झगड़ती आएगी और हर जान को इसका क्या पूरा भर दिया जाएगा और इन पर ज़ुल्म न होगा
Jis din har jaan apni hi taraf jhagdti aaye gi aur har jaan ko us ka kya poora bhar diya jaaye ga, aur un par zulm na ho ga,
(ف263)جو اس نے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک سے عطا فرمائی ۔(ف264)بجائے ان حرام اور خبیث اموال کے جو کھایا کرتے تھے لوٹ غصب اور خبیث مکاسب سے حاصل کئے ہوئے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس آیت میں مخاطَب مسلمان ہیں اور ایک قول مفسِّرین کا یہ بھی ہے کہ مخاطَب مشرکینِ مکّہ ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ جب اہلِ مکّہ قحط کے سبب بھوک سے پریشان ہوئے اور تکلیف کی برداشت نہ رہی تو ان کے سرداروں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے دشمنی تو مرد کرتے ہیں ، عورتوں اور بچوں کو جو تکلیف پہنچ رہی ہے اس کا خیال فرمایئے ، اس پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی کہ ان کے لئے طعام لے جایا جائے ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہوا ، ان دونوں قولوں میں اوّل صحیح تر ہے ۔ (خازن)
تم پر تو یہی حرام کیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا (ف۲٦۵) پھر جو لاچار ہو (ف۲٦٦) نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا (ف۲٦۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Only these are forbidden for you – the carrion, and blood, and flesh of swine, and that which has been slaughtered while proclaiming the name of any other besides Allah; so one who is compelled and does not eat out of desire, nor more than what is necessary, then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और अल्लाह ने कहावत बयान फ़रमाई एक बस्ती कि अमान व इत्मीनान से थी हर तरफ़ से इसकी रोज़ी क़िस्रत से आती तो वो अल्लाह की नेमतों की नाशक़री करने लगी तो अल्लाह ने इसे ये सज़ा चखाई कि इसे भूख और डर का पहनाوا पहनाया बदला उनके किए का,
Aur Allah ne kahawat bayan farmaai: ek basti, ke aaman o itminan se thi, har taraf se uski rozi kasrat se aati, to woh Allah ki naimat ki nashukri karne lagi, to Allah ne use ye saza chakhai ke use bhook aur dar ka pehnawa pehnaya, badla unke kiye ka,
(ف265)یعنی اس کو بُتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔(ف266)اور ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو ۔(ف267)یعنی قدرِ ضرورت پر صبر کر کے ۔
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو (ف۲٦۸) بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
And do not say – the lie which your tongues speak – “This is lawful, and this is forbidden” in order to fabricate a lie against Allah; indeed those who fabricate lies against Allah will never prosper.
और नहायत के पास उन्हें में से एक रसूल तशरीफ़ लाया तो उन्होंने इसे झटलाया तो उन्हें आज़ाब ने पकड़ा और वो बे इंसाफ़ थे,
Aur beshak ke paas un mein se ek rasool tashrif laya, to unhone use jhuthlaaya, to unhein azaab ne pakda aur woh be-insaaf the,
(ف268)زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال ، بعض چیزوں کو حرام کر لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کر دیا کرتے تھے ، اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ پر افتراء فرمایا گیا ۔ آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتا دیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی ، فاتحہ ، گیارہویں ، عرس وغیرہ ایصالِ ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ تعالٰی پر افتراء کرنا ہے ۔
اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں ہم نے سنائیں (ف۲۷۱) اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، (ف۲۷۲)
And especially for the Jews We forbade which We related to you earlier; and We did not oppress them, but it is they who wronged themselves.
तुम पर तो यही हराम किया है मुरदार और ख़ून और सूअर का मांस और वो जिसका ज़बह करते वक़्त गैर ख़ुदा का नाम पुकारा गया फिर जो लाचार हो न ख़्वाहिश करता और न हद से बढ़ता तो नहायत अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Tum par to yehi haraam kiya hai: murdar aur khoon aur soor ka gosht, aur woh jiske zabiha karte waqt ghair Khuda ka naam pukara gaya, phir jo lachar ho na chahata aur na had se barhta, to beshak Allah bakshne wala meherban hai,
(ف271)سورۂ انعام میں آیت وَعَلیَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الآیہ میں ۔(ف272)بغاوت و معصیت کا ارتکاب کر کے جس کی سزا میں وہ چیزیں ان پر حرام ہوئیں جیسا کہ آیت فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ میں ارشاد فرمایا گیا ۔
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے (ف۲۷۳) برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد (ف۲۷٤) ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
Then indeed your Lord – for those who unwittingly commit evil and then repent and reform themselves – indeed your Lord is then, surely, Oft Forgiving, Most Merciful.
और न कहो इसे जो तुम्हारी ज़ुबानें झूठ बयान करती हैं ये हलाल है और ये हराम है कि अल्लाह पर झूठ बाँधो नहायत जो अल्लाह पर झूठ बाँधते हैं उनका भला न होगा,
Aur na kaho use jo tumhari zubaanen jhoot bayan karti hain: “Yeh halal hai aur yeh haraam hai,” ke Allah par jhoot bandho, beshak jo Allah par jhoot bandhte hain unka bhala na ho ga,
یشک ابراہیم ایک امام تھا (ف۳۷۵) اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷٦) اور مشرک نہ تھا، (ف۲۷۷)
Indeed Ibrahim was a leader, obedient to Allah, and detached from all; and he was not a polytheist.
थोड़ा बरतना है और उनके लिए दर्दनाक आज़ाब
Thoda bartna hai aur un ke liye dardnaak azaab,
(ف275)نیک خصائل اور پسندیدہ اخلاق اور حمیدہ صفات کا جامع ۔(ف276)دینِ اسلام پر قائم ۔(ف277)اس میں کُفّارِ قریش کی تکذیب ہے جو اپنے آپ کو دینِ ابراہیمی پر خیال کرتے تھے ۔
اس کے احسانوں پر شکر کرنے والا، اللہ نے اسے چن لیا (ف۲۷۸) اور اسے سیدھی راہ دکھائی،
Grateful for His blessings; Allah chose him and guided him to the Straight Path.
और ख़ास यहूदीयों पर हमने हराम फ़रमाया वो चीज़ें जो पहले तुम्हें हमने सुनाई और हमने इन पर ज़ुल्म न किया हाँ वही अपनी जानों पर ज़ुल्म करते थे,
Aur khaas Yahudiyon par humne haraam farmaai woh cheezein jo pehle tumhein humne sunai, aur humne un par zulm na kiya, haan wohi apni jaanon par zulm karte the,
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی (ف۲۷۹) اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،
And We gave him goodness in this world; and indeed in the Hereafter he is worthy of proximity.
फिर नहायत तुम्हारा रब उनके लिए जो नादानी से बुराई कर बैठे फिर इसके बाद तौबा करें और सनुर जाएँ नहायत तुम्हारा रब इसके बाद जरूर बख़्शने वाला मेहरबान है,
Phir beshak tumhara Rab un ke liye jo nadani se burai kar baithe, phir is ke baad tauba karein aur sanwar jaayein, beshak tumhara Rab is ke baad zaroor bakshne wala meherban hai,
(ف279)رسالت و اموال و اولاد و ثناءِ حسن و قبولِ عام کے تمام ادیان والے مسلمان اور یہود اور نصارٰی اور عرب کے مشرکین سب ان کی عظمت کرتے اور ان سے مَحبت رکھتے ہیں ۔
پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا، (ف۲۸۰)
And then We sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) the divine revelation that, “Follow the religion of Ibrahim, who was free from all falsehood; and was not a polytheist.”
नहायत इब्राहीम एक इमाम था अल्लाह का फ़रमानबर्दार और सबसे जुदा और मुशरिक न था,
Beshak Ibrahim ek imam tha, Allah ka farmabardaar aur sab se juda aur mushrik na tha,
(ف280)اِتّباع سے مراد یہاں عقائد و اصولِ دین میں موافقت کرنا ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس اِتّباع کا حکم کیا گیا ، اس میں آپ کی عظمت و منزلت اور رفعتِ درجت کا اظہار ہے کہ آپ کا دینِ ابراہیمی کی موافقت فرمانا حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے ان کے تمام فضائل و کمالات میں سب سے اعلٰی فضل و شرف ہے کیونکہ آپ اکرم الاولین و الٰآخرین ہیں جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا اور تمام انبیاء اور کل خَلق سے آپ کا مرتبہ افضل و اعلٰی ہے ۔ شعر تو اصلی و باقی طوفیل تو اند ۔ تو شاہی و مجموع خیل تواند ۔
ہفتہ تو انھیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے (ف۲۸۱) اور بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے، (ف۲۸۲)
The Sabbath was made obligatory only upon those who differed in it; and indeed your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matter in which they differed.
इसके एहसानों पर शुक्र करने वाला, अल्लाह ने इसे चुना और इसे सीधी राह दिखाई,
Us ke ehsanon par shukr karne wala, Allah ne use chun liya aur use seedhi raah dikhai,
(ف281)یعنی شنبہ کی تعظیم اور اس روز شکار ترک کرنا اور وقت کو عبادت کے لئے فارغ کرنا یہود پر فرض کیا گیا تھا اور اس کا واقعہ اس طرح ہوا تھا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے انہیں روزِ جمعہ کی تعظیم کا حکم فرمایا تھا اور ارشاد کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن اللہ تعالٰی کی عبادت کے لئے خاص کرو ، اس دن میں کچھ کام نہ کرو ، اس میں انہوں نے اختلاف کیا اور کہا وہ دن جمعہ نہیں بلکہ سنیچر ہونا چاہیے بجز ایک چھوٹی سی جماعت کے جو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے حکم کی تعمیل میں جمعہ پر ہی راضی ہوگئی تھی ، اللہ تعالٰی نے یہود کو سنیچر کی اجازت دے دی اور شکار حرام فرما کر ابتلا میں ڈال دیا تو جو لوگ جمعہ پر راضی ہو گئے تھے وہ تو مطیع رہے اور انہوں نے اس حکم کی فرمانبرداری کی ، باقی لوگ صبر نہ کر سکے ، انہوں نے شکار کئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ مسخ کئے گئے ۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ اعراف میں بیان ہو چکا ہے ۔(ف282)اس طرح کہ مطیع کو ثواب دے گا اور عاصی کو عقاب فرمائے گا ۔ اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ۔
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ (ف۲۸۳) پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے (ف۲۸٤) اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو (ف۲۸۵) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،
Call towards the path of your Lord with sound planning and good advice, and debate with them in the best possible way; indeed your Lord well knows him who has strayed from His path, and He well knows the guided.
और हमने इसे दुनिया में भलाई दी और नहायत वो आख़िरत में शायान क़रब है,
Aur humne use duniya mein bhalai di aur beshak woh aakhirat mein shayan-e-qurb hai,
(ف283)یعنی خَلق کو دینِ اسلام کی دعوت دو ۔(ف284)پکی تدبیر سے وہ دلیلِ محکَم مراد ہے جو حق کو واضح اور شبہات کو زائل کر دے اور اچھی نصیحت سے ترغیبات و ترہیبات مراد ہیں ۔(ف285)بہتر طریق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی طرف اس کی آیات اور دلائل سے بلائیں ۔مسئلہ : اس سے ہوا کہ دعوتِ حق اور اظہارِ حقانیتِ دین کے لئے مناظرہ جائز ہے ۔
اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہونچائی تھی (ف۲۸٦) اور اگر تم صبر کرو (ف۲۸۷) تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا
And if you mete out punishment, then punish similarly as you were afflicted; and if you patiently endure, then indeed patience is better for the patiently enduring.
फिर हमने तुम्हें वही भेजी कि धर्म इब्राहीम की पैरवी करो जो हर ब़ातिल से अलग था और मुशरिक न था,
Phir humne tumhein wahi bhi bheji ke deen Ibrahim ki pairo kari karo, jo har baatil se alag tha aur mushrik na tha,
(ف286)یعنی سزا بقدرِ جنایت ہو اس سے زائد نہ ہو ۔ شانِ نُزول : جنگِ اُحد میں کُفّار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کر کے ان کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا اور ان کے پیٹ چاک کئے تھے ، ان کے اعضاء کاٹے تھے ان شُہداء میں حضرت حمزہ بھی تھے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو حضور کو بہت صدمہ ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بدلہ ستّر کافِروں سے لیا جائے گا اور ستّر کا یہی حال کیا جائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کَفّارہ دیا ۔مسئلہ : مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہیئت کو تبدیل کرنا شرع میں حرام ہے ۔ (مدارک) (ف287)اور انتقام نہ لو ۔
اور اے محبوب! تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ (ف۲۸۸) اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، (ف۲۸۹)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) patiently endure – and your patience is only due to the guidance of Allah – and do not grieve for them, and do not be disheartened by their deceits.
हफ़्ता तो उन्हें पर रखा गया था जो इसमें मुख़तलिफ़ हो गए और नहायत तुम्हारा रब क़यामत के दिन इन में फ़ैसला कर देगा जिस बात में इख़्तिलाफ़ करते थे,
Haftha to unhein par rakha gaya tha jo is mein mukhtalif ho gaye, aur beshak tumhara Rab Qiyamat ke din un mein faisla kar dega jis baat mein ikhtilaf karte the,
(ف288)اگر وہ ایمان نہ لائیں ۔(ف289)کیونکہ ہم تمہارے مُعین و ناصر ہیں ۔
بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں،
Indeed Allah is with the pious and the virtuous.
अपने रब की राह की तरफ़ बुलाओ पक़्की तदबीर और अच्छी नसीहत से और इनसे इस तरीक़े पर बहस करो जो सबसे बेहतर हो नहायत तुम्हारा रब खूब जानता है जो इसकी राह से भटका और वो खूब जानता है राह वालों को,
Apne Rab ki raah ki taraf bulao pakki tadbeer aur achhi naseehat se aur un se is tareeqa par behas karo jo sab se behtar ho, beshak tumhara Rab khoob jaanta hai jo us ki raah se behka aur woh khoob jaanta hai raah walon ko,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page