لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں (ف۲)
The people’s reckoning is near, whereas they are in neglect, turned away!
लोगों का हिसाब नज़दीक और वह ग़फ़लत में मुँह फेरें हैं
Logon ka hisaab nazdeek aur woh ghaflat mein munh phere hain
(ف2)یعنی حسابِ اعمال کا وقت روزِ قیامت قریب آ گیا اور لوگ ابھی تک غفلت میں ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت منکرینِ بَعث کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے اور روزِ قیامت کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف٤) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف٦) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
Their hearts are involved in play; and the unjust secretly conferred, “What is he, except another a human like you?! So do you follow magic although you have perceived?”
उनके दिल खेल में पड़े हैं और ज़ालिमों ने आपस में ख़फ़ी मशवरा की कि ये कौन हैं एक तुम ही जैसे आदमी तो हैं क्या जादू के पास जाते हो देख भाल कर,
Unke dil khel mein pade hain aur zalimon ne aapas mein khufiya mashwarah ki ke yeh kaun hain ek tum hi jaise aadmi to hain kya jadoo ke paas jaate ho dekh bhaal kar,
(ف4)اللہ کی یاد سے غافل ہیں ۔(ف5)اور اس کے اخفاء میں بہت مبالغہ کیا مگر اللہ تعالٰی نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہتے ہیں ۔(ف6)یہ کُفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا ، حضور کے زمانہ کے کُفّار نے یہ بات کہی اور اس کو چھپایا لیکن آج کل کے بعض بے باک یہ کلمہ اعلان کے ساتھ کہتے ہیں اور نہیں شرماتے ، کُفّار یہ مقولہ کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا ۔
نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)
And the Prophet said, “My Lord knows all that is spoken in the heavens and in the earth; and He only is the All Hearing, the All Knowing."
नबी ने फ़रमाया मेरा रब जानता है आसमानों और ज़मीन में हर बात को, और वही है सुनता जानता
Nabi ne farmaya mera Rab jaanta hai aasmanon aur zameen mein har baat ko, aur wahi hai sunta jaanta
(ف7)اس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی خواہ کتنے ہی پردہ اور راز میں رکھی گئی ہو ، ان کا راز بھی اس میں ظاہر فرما دیا ، اس کے بعد قرآنِ کریم سے انہیں سخت پریشانی و حیرانی لاحق تھی کہ اس کا کس طرح انکار کریں ، وہ ایسا بیّن معجِزہ ہے جس نے تمام مُلک کے مایہ ناز ماہروں کو عاجز و متحیّر کر دیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں کی مثل کلام بنا کر نہیں لا سکے ، اس پریشانی میں انہوں نے قرآنِ کریم کی نسبت مختلف قسم کی باتیں کہیں جن کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)
Rather they said, “These are confused dreams, but in fact he has fabricated it – but in fact he is a poet; so he must bring us some sign, like those who were sent before.”
बल्कि बोले परेशान ख्वाबें हैं बल्कि उनकी गढ़त (घड़ी हुई चीज़) है बल्कि ये शायर हैं तो हमारे पास कोई निशानी लाएँ जैसे अगले भेजे गए थे
Balki bole pareshan khawaben hain balki unki garht (ghadi hui cheez) hai balki yeh shayar hain to humare paas koi nishani laayen jaise agle bheje gaye the
(ف8)ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحیٔ الٰہی سمجھ گئے ہیں ، کُفّار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں نہیں ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے ۔(ف9)یہ کہہ کر خیال ہوا کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ کلام حضرت کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں اپنے مثل بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں نہیں بنا سکتے ، یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑ ا اور کہنے لگے ۔(ف10)اور یہ کلام شعر ہے اسی طرح کی باتیں بناتے رہے کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے اور اہلِ باطل کذّابوں کا یہی حال ہوتا ہے ، اب انہوں نے سمجھا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں ہے تو کہنے لگے ۔(ف11)اس کے رد و جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔
ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)
There is not a township before them which did not believe which We have not destroyed; so will they believe?
उनसे पहले कोई बस्ती ईमान न लाई जिसे हमने हलाक़ किया, तो क्या ये ईमान लाएँगे
Un se pehle koi basti iman na laayi jise humne halaak kiya, to kya yeh iman laayenge
(ف12)معنٰی یہ ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو نشانیاں آئیں تو وہ ان پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ہلاک کر دیئے گئے تو کیا یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے باوجودیکہ ان کی سرکشی ان سے بڑھی ہوئی ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱٤)
And We did not send (Prophets) before you except men, to whom We sent divine revelations – therefore, O people, ask the people of knowledge if you do not know.
और हमने तुमसे पहले न भेजे मगर मर्द जिन्हें हम वाह्य करते तो ऐ लोगो! इल्म वालों से पूछो अगर तुम्हें इल्म न हो
Aur humne tum se pehle na bheje magar mard jinhein hum wahi karte to aye logo! ilm walon se poocho agar tumhein ilm na ho
(ف13)یہ ان کے کلامِ سابق کا رد ہے کہ انبیاء کا صورتِ بشری میں ظہور فرمانا نبوّت کے منافی نہیں ، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔(ف14)کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالِم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو ۔مسئلہ : اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہاں انہیں علم والوں سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے دریافت کرو کہ اللہ کے رسول صورتِ بشری میں ظہور فرما ہوئے تھے یا نہیں ، اس سے تمہارے تردُّد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔
اور ہم نے انھیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱٦) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،
And We did not create them without bodies so they would not eat food – nor that they abide on earth forever.
और हमने उन्हें खाली बदन न बनाया कि खाना न खाएँ और न वे दुनिया में हमेशा रहें,
Aur humne unhein khaali badan na banaya ke khana na khayein aur na woh duniya mein hamesha rahein,
(ف15)یعنی انبیاء کو ۔(ف16)تو ان پر کھانے پینے کا اعتراض کرنا اور یہ کہنا کہ مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ مَحض بے جا ہے ، تمام انبیاء کا یہی حال تھا وہ سب کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے ۔
بیشک ہم سے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)
We have indeed sent down towards you a Book, in which is your repute; so do you not have sense?
बेशक हमसे तुम्हारी तरफ़ एक किताब उतारी जिसमें तुम्हारी नामवरी है तो क्या तुम्हें अकल नहीं
Beshak hum se tumhari taraf ek kitaab utaari jis mein tumhari namoori hai to kya tumhein aqal nahi
(ف20)اے گروہِ قریش ۔(ف21)اگر تم اس پر عمل کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ کتاب تمہاری زبان میں ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور اور حوائج کا بیان ہے ۔(ف22)کہ ایمان لا کر اس عزّت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو ۔
تو جب انہوں نے (ف۲٤) ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے (ف۲۵)
And when they tasted Our punishment, they immediately started fleeing from it.
तो जब उन्होंने हमारा अज़ाब पाया तभी वह उससे भागने लगे
To jab unhone humara azaab paaya tabhi woh us se bhagne lage
(ف24)یعنی ان ظالموں نے ۔(ف25)شانِ نُزول : مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ سرزمینِ یمن میں ایک بستی ہے جس کا نام حصور ہے وہاں کے رہنے والے عرب تھے انہوں نے اپنے نبی کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا تو اللہ تعالٰی نے ان پر بُخْتِ نَصَر کو مسلّط کیا ، اس نے انہیں قتل کیا اور گرفتار کیا اور اس کا یہ عمل جاری رہا تو یہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے تو ملائکہ نے ان سے بطریقِ طنز کہا (جو اگلی آیت میں ہے) ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے (ف۲۹)
And We have not created the heavens and the earth and all that is between them, unnecessarily.
और हमने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच है अब्स न बनाए
Aur humne aasman aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai abath na banaye
(ف29)کہ ان سے کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ اس میں ہماری حکمتیں ہیں مِنجُملہ ان کے یہ ہے کہ ہمارے بندے ان سے ہماری قدرت و حکمت پر استدلال کریں اور انہیں ہمارے اوصاف و کمال کی معرفت ہو ۔
اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے (ف۳۰) تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (ف۳۱)
If We willed to choose a pastime, We could have chosen it from Ourselves – if We wanted to.
अगर हम कोई बहलावा इख़्तियार करना चाहते तो अपने पास से इख़्तियार करते अगर हमें करना होता
Agar hum koi behlawa ikhtiyar karna chahte to apne paas se ikhtiyar karte agar humein karna hota
(ف30)مثل زَن و فرزند کے جیسا کہ نصارٰی کہتے ہیں اور ہمارے لئے بی بی اور بیٹیاں بتاتے ہیں اگر یہ ہمارے حق میں ممکن ہوتا ۔(ف31)کیونکہ زَن و فرزند والے زَن و فرزند اپنے پاس رکھتے ہیں مگر ہم اس سے پاک ہیں ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں ۔
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے (ف۳۲) اور تمہاری خرابی ہے (ف۳۳) ان باتوں سے جو بناتے ہو (ف۳٤)
But in fact We hurl the truth upon falsehood, so it scatters its brains – thereupon it vanishes; and for you is the ruin due to the matters you fabricate.
बल्कि हम हक़ को बातिल पर फेंक मारते हैं तो वह इसका भेजा निकाल देता है तो तभी वह मिट कर रह जाता है और तुम्हारी ख़राबी है उन बातों से जो बनाते हो
Balki hum haq ko baatil par phenk marte hain to woh iska bheja nikal deta hai to tabhi woh mit kar reh jaata hai aur tumhari kharabi hai un baaton se jo banate ho
(ف32)معنٰی یہ ہیں کہ ہم اہلِ باطل کے کذب کو بیانِ حق سے مٹا دیتے ہیں ۔(ف33)اے کُفّارِ نابکار ۔(ف34)شانِ الٰہی میں کہ اس کے لئے بیوی و بچّہ ٹھہراتے ہو ۔
اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۵) اور اس کے پاس والے (ف۳٦) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
And to Him only belong all those who are in the heavens and in the earth; and those with Him are not conceited towards worshipping Him, nor do they tire.
और उसी के हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं और उसके पास वाले उसकी इबादत से तख़बर नहीं करते और न थकें,
Aur isi ke hain jitne aasmanon aur zameen mein hain aur uske paas wale uski ibadat se takabbur nahi karte aur na thaken,
(ف35)وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ، مملوک ہونے اور اولاد ہونے میں منافات ہے ۔(ف36)اس کے مقرّبین جنہیں اس کے کرم سے اس کے حضور قُرب و منزلت حاصل ہے ۔
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں (ف۳۸) کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں (ف۳۹)
Have they appointed from the earth, Gods that create something?
क्या उन्होंने ज़मीन में से कुछ ऐसे ख़ुदा बना लिए हैं कि वह कुछ पैदा करते हैं
Kya unhone zameen mein se kuch aise khuda bana liye hain ke woh kuch paida karte hain
(ف38)جواہرِ ارضیہ سے مثل سونے چاندی پتھر وغیرہ کے ۔(ف39)ایسا تو نہیں ہے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو خو د بےجان ہو وہ کسی کو جان دے سکے تو پھر اس کو معبود ٹھہرانا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا کھلا باطل ہے ، اِلٰہ وہی ہے جو ہر ممکن پر قادر ہو جو قادر نہیں وہ اِلٰہ کیسا ۔
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ (ف٤۰) تباہ ہوجاتے (ف٤۱) تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف٤۲)
If other than Allah, there were Gods* in the heavens and the earth, they would be destroyed; therefore Purity is to Allah, Owner of the Throne, from the matters that they fabricate. (* Which is not possible. ** The heavens and the earth.)
अगर आसमान व ज़मीन में अल्लाह के सिवा और ख़ुदा होते तो जरूर वह तबाह हो जाते तो पाक़ी है अल्लाह अरश के मालिक को उन बातों से जो यह बनाते हैं
Agar aasman o zameen mein Allah ke siwa aur khuda hote to zaroor woh tabah ho jate to paaki hai Allah arsh ke malik ko un baaton se jo yeh banate hain
(ف40)آسمان و زمین ۔(ف41)کیونکہ اگر خدا سے وہ خدا مراد لئے جائیں جن کی خدائی کے بُت پرست معتقد ہیں تو فسادِ عالَم کا لزوم ظاہر ہے کیونکہ وہ جمادات ہیں ، تدبیرِ عالَم پر اصلاً قدرت نہیں رکھتے اور اگر تعمیم کی جائے تو بھی لزومِ فساد یقینی ہے کیونکہ اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ دونوں متفق ہوں گے یا مختلف ، اگر شے واحد پر متفق ہوئے تو لازم آئے گا کہ ایک چیز دونوں کی مقدور ہو اور دونوں کی قدرت سے واقع ہو یہ محال ہے اور اگر مختلف ہوئے تو ایک شے کے متعلق دونوں کے ارادے یا معاً واقع ہوں گے اور ایک ہی وقت میں وہ موجود و معدوم دونوں ہو جائے گی یا دونوں کے ارادے واقع نہ ہوں اور شے نہ موجود ہو نہ معدوم یا ایک کا ارادہ واقع ہو دوسرے کا واقع نہ ہو یہ تمام صورتیں محال ہیں تو ثابت ہوا کہ فساد ہر تقدیر پر لازم ہے ۔ توحید کی یہ نہایت قوی بُرہان ہے اور اس کی تقریریں بہت بسط کے ساتھ ائمۂ کلام کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔ یہاں اختصاراً اسی قدر پر اکتفا کیا گیا ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)(ف42)کہ اس کے لئے اولاد و شریک ٹھہراتے ہیں ۔
اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے (ف٤۳) اور ان سب سے سوال ہوگا (ف٤٤)
He is not questioned whatever He does, whereas they will all be questioned.
उससे नहीं पूछा जाता जो वह करे और इन सब से सवाल होगा
Is se nahi poocha jaata jo woh kare aur un sab se sawal ho ga
(ف43)کیونکہ وہ مالکِ حقیقی ہے جو چاہے کرے ، جسے چاہے عزّت دے جسے چاہے ذلّت دے ، جسے چاہے سعادت دے جسے چاہے شقی کرے ، وہ سب کا حاکم ہے کوئی اس کا حاکم نہیں جو اس سے پوچھ سکے ۔(ف44)کیونکہ سب اس کے بندے ہیں مملوک ہیں ، سب پر اس کی فرمانبرداری اور اطاعت لازم ہے ۔ اس سے توحید کی ایک اور دلیل مستفاد ہوتی ہے جب سب مملوک ہیں تو ان میں سے کوئی خدا کیسے ہو سکتا ہے اس کے بعد بطریقِ استفہام تو بیخاً فرمایا ۔
کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ (ف٤۵) اپنی دلیل لاؤ (ف٤٦) یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے (ف٤۷) اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ (ف٤۸) بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں ، ہیں (ف٤۹)
Or have they set up other Gods besides Allah? Say, “Bring your proof; this is the remembrance of those with me and those before me”; but in fact most of them do not know the Truth, so they turn away.
क्या अल्लाह के सिवा और ख़ुदा बना रखे हैं, तुम फरमाओ अपनी दलील लाओ यह कुरआन मेरे साथ वालों का ज़िक्र है और मुझसे उगलों का तज़्क़रा बल्कि इन में अधिकतर हक़ को नहीं जानते तो वह रूगर्दाँ, हैं
Kya Allah ke siwa aur khuda bana rakhe hain, tum farmaao apni daleel lao yeh Quran mere saath walon ka zikr hai aur mujh se agalon ka tazkira balki un mein aksar haq ko nahi jaante to woh ro gardaan, hain
(ف45)اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مشرکین سے کہ تم اپنے اس باطل دعوٰی پر ۔ (ف46)اور حُجّت قائم کرو خواہ عقلی ہو یا نقلی مگر نہ کوئی دلیل عقلی لا سکتے ہو جیسا کہ براہینِ مذکورہ سے ظاہر ہو چکا اور نہ کوئی دلیل نقلی پیش کر سکتے ہو کیونکہ تمام کتبِ سماویہ میں اللہ تعالٰی کی توحید کا بیان ہے اور سب میں شرک کا ابطال کیا گیا ہے ۔(ف47)ساتھ والوں سے مراد آپ کی اُمّت ہے ، قرآنِ کریم میں اس کا ذکر ہے کہ اس کو طاعت پر کیا ثواب ملے گا اور معصیت پر کیا عذاب کیا جائے گا ۔(ف48)یعنی پہلے انبیاء کی اُمّتوں کا اور اس کا کہ دنیا میں ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا ۔(ف49)اور غور و تأمُّل نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ توحید پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو،
And We did not send any Noble Messenger before you, but We divinely revealed to him that, “There is no God except I (Allah), therefore worship Me alone.”
और हमने तुमसे पहले कोई रसूल न भेजा मगर यह कि हम उसकी तरफ़ वाह्य फरमाते कि मेरे सिवा कोई मआबूद नहीं तो मुझको पूजो,
Aur humne tum se pehle koi rasool na bheja magar yeh ke hum is ki taraf wahi karte ke mere siwa koi maabood nahi to mujhi ko poojho,
اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا (ف۵۰) پاک ہے وہ (ف۵۱) بلکہ بندے ہیں عزت والے (ف۵۲)
And they said, “The Most Gracious has chosen a son – Purity is to Him! In fact they are honourable bondmen.”
और बोले रहमान ने बेटा इख़्तियार किया पाक़ है वह बल्कि बंदे हैं इज़्ज़त वाले
Aur bole Rahman ne beta ikhtiyar kiya paak hai woh balki bande hain izzat wale
(ف50)شانِ نُزول : یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا ۔(ف51)اس کی ذات اس سے منزّہ ہے کہ اس کے اولاد ہو ۔(ف52)یعنی فرشتے اس کے برگزیدہ اور مکرّم بندے ہیں ۔
وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۵۳) اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے (ف۵٤) اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،
He knows what is before them and what is behind them, and they do not intercede except for him whom He likes, and they fear with awe of Him. (The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
वह जानता है जो उनके आगे है और जो उनके पीछे है और शफ़ाअत नहीं करते मगर उसके लिए जिसे वह पसंद फरमाए और वह उसके ख़ौफ़ से डर रहे हैं,
Woh jaanta hai jo unke aage hai aur jo unke peechhe hai aur shafaat nahi karte magar uske liye jise woh pasand farmaaye aur woh uske khauf se dar rahe hain,
(ف53)یعنی جو کچھ انہوں نے کیا اور جو کچھ وہ آئندہ کریں گے ۔(ف54)حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا یعنی جو توحید کا قائل ہو ۔
کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انھیں کھولا (ف۵٦) اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ف۵۷) تو کیا وہ ایمان لائیں گے،
Did not the disbelievers observe that the heavens and the earth were together, so We parted them, and we made every living thing from water? So will they not accept faith?
क्या काफ़रों ने यह ख़याल न किया कि आसमान और ज़मीन बंद थे तो हमने उन्हें खोला और हमने हर जानदार चीज़ पानी से बनाई तो क्या वह ईमान लाएँगे,
Kya kafiron ne yeh khayal na kiya ke aasman aur zameen band the to humne unhein khola aur humne har jandar cheez paani se banai to kya woh iman laayenge,
(ف56)بند ہونا یا تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملا ہوا تھا ان میں فصل پیدا کر کے انہیں کھولا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان بند تھا بایں معنٰی کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی ، زمین بند تھی بایں معنی کہ اس سے روئیدگی پیدا نہیں ہوتی تھی تو آسمان کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے بارش ہونے لگی اور زمین کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے سبزہ پیدا ہونے لگا ۔(ف57)یعنی پانی کو جاندار وں کی حیات کا سبب کیا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے اور بعضوں نے کہا اس سے نطفہ مراد ہے ۔
اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی (ف٦۰) اور وہ (ف٦۱) اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں (ف٦۲)
And We have made the sky a roof, protected; and they turn away from its signs.
और हमने आसमान को छत बनाया निगाह रखी गई और वह उसकी निशानियों से रूगर्दाँ हैं
Aur humne aasman ko chhat banaya nigaah rakhi gayi aur woh uski nishaniyon se rogardaan hain
(ف60)گرنے سے ۔(ف61)یعنی کُفّار ۔(ف62)یعنی آسمانی کائنات سورج ، چاند ، ستارے اور اپنے اپنے افلاک میں ان کی حرکتوں کی کیفیّت اور اپنے اپنے مطالع سے ان کے طلوع اور غروب اور ان کے عجائبِ احوال جو صانعِ عالَم کے وجود اور اس کی وحدت اور اس کے کمالِ قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں ، کُفّار ان سب سے اعراض کرتے ہیں اور ان دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی (ف٦٦) تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے (ف٦۷)
And before you, We did not appoint on earth a never-ending life for any human; will they, if you depart, become immortal?
और हमने तुमसे पहले किसी आदमी के लिए दुनिया में हमेशगी न बनाई तो क्या अगर तुम संक्रमण फरमाओ तो यह हमेशा रहेंगे
Aur humne tum se pehle kisi aadmi ke liye duniya mein hameshgi na banai to kya agar tum inteqal farmaao to yeh hamesha rahenge
(ف66)شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن اپنے ضلال و عناد سے کہتے تھے کہ ہم حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو جائے گی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنانِ رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی ۔(ف67)اور انہیں موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی جب ایسا نہیں ہے تو پھر خوش کس بات پر ہوتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے (ف٦۸) جانچنے کو (ف٦۹) اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے (ف۷۰)
Every living being must taste death; and We test you with harm and with good – a trial; and to Us only you have to return.
हर जान को मौत का मज़ा चखना है, और हम तुम्हारी आज़माइश करते हैं बुराई और भलाई से जाँचने को और हमारी ही तरफ़ तुम्हें लौट कर आना है
Har jaan ko maut ka maza chakhna hai, aur hum tumhari aazmaish karte hain burai aur bhalai se jaanchne ko aur humari hi taraf tumhein laut kar aana hai
(ف68)یعنی راحت و تکلیف و تندرستی و بیماری ، دولت مندی و ناداری نفع اور نقصان سے ۔(ف69)تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں تمہارا کیا درجہ ہے ۔(ف70)ہم تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں گے ۔
اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۱) کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ (ف۷۲) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں (ف۷۳)
And when the disbelievers see you, they do not appoint you except as an object of mockery; “Is he the one who speaks ill of your Gods?”; whereas they deny the remembrance of the Most Gracious Himself!
और जब काफ़र तुम्हें देखते हैं तो तुम्हें नहीं ठहराते मगर ठठा क्या ये हैं वह जो तुम्हारे ख़ुदाओं को बुरा कहते हैं और वह रहमान ही की याद से मंकर हैं
Aur jab kafir tumhein dekhte hain to tumhein nahi thahraate magar thatha kya yeh hain woh jo tumhare khudaon ko bura kehte hain aur woh Rahman hi ki yaad se munkir hain
(ف71)شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ، حضور تشریف لئے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا اور کہنے لگا کہ یہ بنی عبدِ مناف کے نبی ہیں اورآپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے ۔(ف72)کُفّار ۔(ف73)کہتے ہیں کہ ہم رحمٰن کو جانتے ہی نہیں ، اس جہل و ضلال میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ تمسخُر کرتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ ہنسی کے قابل خود ان کا اپنا حال ہے ۔
آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو (ف۷٤)
Man has been created hasty; very soon I shall show you My signs, do not be impatient.
आदमी जल्द बाज़ बनाया गया, अब मैं तुम्हें अपनी निशानियाँ दिखाऊँगा मुझसे जल्दी न करो
Aadmi jald baaz banaya gaya, ab main tumhein apni nishaniyan dikhaaoon ga mujh se jaldi na karo
(ف74)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جو کہتا تھا کہ جلد عذاب نازِل کرائیے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا یعنی جو وعدے عذاب کے دیئے گئے ہیں ان کا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ روزِ بدر وہ منظر ان کی نظر کے سامنے آ گیا ۔
کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے (ف۷٦) اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۷۷)
If only the disbelievers realised the time when they will not be able to stop the fire from their faces and from their backs – and nor are they to be helped.
किसी तरह जानते काफ़र उस वक्त को जब न रोक सकेंगे अपने मुँहों से आगे और न अपनी पीठों से और न उनकी मदद हो
Kisi tarah jaante kafir us waqt ko jab na rok sakein apne moonhon se aage aur na apni peethon se aur na unki madad ho
(ف76)دوزخ کی ۔(ف77)اگر وہ یہ جانتے ہوتے تو کُفر پر قائم نہ رہتے اور عذاب میں جلد ی نہ کرتے ۔
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا (ف۸۰) تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انھیں کو لے بیٹھا (ف۸۱)
And indeed the Noble Messengers before you were mocked at, but their mockery ruined the mockers themselves.
और बेशक तुमसे अगले रसूलों के साथ ठठा किया गया तो मख़रगी करने वालों का ठठा उन्हें को ले बैठा
Aur beshak tum se agle rasoolon ke saath thatha kiya gaya to maskhargi karne walon ka thatha unhein ko le baitha
(ف80)اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف81)اور وہ اپنے اِستِہزاء اور مسخرگی کے وبال و عذاب میں گرفتار ہوئے ، اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلّی فرمائی گئی کہ آپ کے ساتھ اِستِہزاء کرنے والوں کا بھی یہی انجام ہونا ہے ۔
کیا ان کے کچھ خدا ہیں (ف۸٤) جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸٦) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
Do they have some Gods who protect them from Us? Neither can they save themselves nor save their friends from Us.
क्या उनके कुछ ख़ुदा हैं जो उन्हें हम से बचाते हैं वह अपनी ही जानों को नहीं बचा सकते और न हमारी तरफ़ से उनकी यारी हो,
Kya unke kuch khuda hain jo unko hum se bachate hain woh apni hi jaanon ko nahi bacha sakte aur na humari taraf se unki yaari ho,
(ف84)ہمارے سوا ان کے خیال میں ۔(ف85)اور ہمارے عذاب سے محفوظ رکھتے ہیں ایسا تو نہیں ہے اور اگر وہ اپنے بُتوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ ۔(ف86)اپنے پُوجنے والوں کو کیا بچا سکیں گے ۔
بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)
But in fact We have given these (disbelievers) and their fathers a benefit to the extent that life became long for them; so do they not see that We are reducing the land from its borders? So will these be victorious?
बल्कि हमने उन्हें और उनके बाप दादा को बरतावा दिया यहाँ तक कि जिंदगी उनके ऊपर दराज़ हुई तो क्या नहीं देखते कि हम ज़मीन को उसके किनारों से घटाते आ रहे हैं तो क्या यह ग़ालिब होंगे
Balki humne unko aur unke baap dada ko bartaava diya yahan tak ke zindagi un par daraaz hui to kya nahi dekhte ke hum zameen ko us ke kinaaron se ghatate aa rahe hain to kya yeh ghalib honge
(ف87)یعنی کُفّار کو ۔(ف88)اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی ۔(ف89)اور وہ اس سے اور مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔(ف90)کُفرستان کی ۔(ف91)روز بروز مسلمانوں کو اس پر تسلّط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے ، حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں اور سرزمینِ کُفر گھٹتی چلی آتی ہے اور حوالیٔ مکّہ مکرّمہ پر مسلمانوں کا تسلّط ہوتا جاتا ہے ، کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ۔(ف92)جن کے قبضہ سے زمین دمبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب جو بفضلِ الٰہی فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضات دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں (ف۹۳ ) اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں، (ف۹٤)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I warn you only with the divine revelation; and the deaf do not hear the call when warned.”
तुम फरमाओ कि मैं तुमको सिर्फ़ वाह्य से डराता हूँ और बहरे पुकारना नहीं सुनते जब डराएँ जाएँ,
Tum farmaao ke main tum ko sirf wahi se darata hoon aur bahre pukarna nahi sunte jab daraye jaayein,
(ف93)اور عذابِ الٰہی کا اسی کی طرف سے خوف دلاتا ہوں ۔(ف94)یعنی کافِر ہدایت کرنے والے اور خوف دلانے والے کے کلام سے نفع نہ اٹھانے میں بہرے کی طرح ہیں ۔
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز (ف۹٦) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
And We shall set up the scales of justice on the Day of Resurrection – therefore no soul will be wronged in the least; and if a thing is equal to a grain of mustard seed, We will bring it; and We are Sufficient to (take) account.
और हम अद्ल की तराज़ूएँ रखेंगें क़ियामत के दिन तो किसी जान पर कुछ ज़ुल्म न होगा, और अगर कोई चीज़ राई के दाने के बराबर हो तो हम उसे ले आएँगे, और हम काफ़ी हैं हिसाब को,
Aur hum adl ki tarazoain rakhenge qayamat ke din to kisi jaan par kuch zulm na ho ga, aur agar koi cheez rai ke daane ke barabar ho to hum use le aayenge, aur hum kaafi hain hisaab ko,
اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا (ف۹۷) اور اجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)
And indeed We gave Moosa and Haroon the Judgement* and a light and an advice for the pious. (* The Holy Book Taurat.)
और बेशक हमने मूसा और हारून को फ़ैसला दिया और उजाला और परहेज़गारों को नसीहत
Aur beshak humne Musa aur Haroon ko faisla diya aur ujala aur parhezgaron ko naseehat
(ف97)یعنی توریت عطا کی جو حق و باطل میں تفرقہ کرنے والی ہے ۔(ف98)یعنی روشنی ہے کہ اس سے نجات کی راہ معلوم ہوتی ہے ۔(ف99)جس سے وہ پند پذیر ہوتے ہیں اور دینی امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔
بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو (ف۱۰٦)
They said, “Have you brought the Truth to us, or are you just making fun?”
बोले क्या तुम हमारे पास हक़ लाए हो या यूँ ही खेलते हो
Bole kya tum humare paas haq laaye ho ya yunhi khelte ho
(ف106)چونکہ انہیں اپنے طریقہ کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور اس کا انکار کرنا وہ بہت بڑی بات جانتے تھے اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا بطریق کھیل کے فرماتے ہیں ، اس کے جواب میں آپ نے حضرت مَلِکِ عَلّام کی ربوبیت کا اثبات فرما کر ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طریقے پرکلام فرمانے والے نہیں ہیں بلکہ حق کا اظہار فرماتے ہیں چنانچہ آپ نے ۔
اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر (ف۱۰۷)
“And, by oath of Allah, I shall seek to harm your idols after you have gone away and turned your backs.”
और मुझे अल्लाह की क़सम है मैं तुम्हारे بتों का बुरा चाहूँगा बाद उसके कि तुम फिर जाओ पीठ दे कर
Aur mujhe Allah ki qasam hai main tumhare buton ka bura chahoon ga baad is ke ke tum phir jao peeth de kar
(ف107)اپنے میلے کو ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قوم کا سالانہ ایک میلہ لگتا تھا جنگل میں جاتے تھے اور شام تک وہاں لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے ، واپسی کے وقت بُت خانہ میں آتے تھے اور بُتوں کی پُوجا کرتے تھے اس کے بعد اپنے مکانوں کو واپس جاتے تھے ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی ایک جماعت سے بُتوں کے متعلق مناظرہ کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے آپ وہاں چلیں دیکھیں کہ ہمارے دین اور طریقے میں کیا بہار ہے اور کیسے لطف آتے ہیں ، جب وہ میلے کا دن آیا اور آپ سے میلے میں چلنے کو کہا گیا تو آپ عذر کر کے رہ گئے ، وہ لوگ روانہ ہو گئے جب ان کے باقی ماندہ اور کمزور لوگ جو آہستہ آہستہ جا رہے تھے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے بُتوں کا بُرا چاہوں گا ، اس کو بعض لوگوں نے سُنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بُت خانہ کی طرف لوٹے ۔
تو ان سب کو (ف۱۰۸) چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا (ف۱۰۹) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں (ف۱۱۰)
He shattered them all, except the biggest among them, that perhaps they may question it.
तो उन सब को चुरा कर दिया मगर एक को जो उनका सबसे बड़ा था कि शायद वह उससे कुछ पूछें
To un sab ko chura kar diya magar ek ko jo unka sab se bada tha ke shayad woh us se kuch poochen
(ف108)یعنی بُتوں کو توڑ کر ۔(ف109)چھوڑ دیا اور بَسُولا اس کے کاندھے پر رکھ دیا ۔(ف110)یعنی بڑے بُت سے کہ ان چھوٹے بُتوں کا کیا حال ہے یہ کیوں ٹوٹے اور بَسُولا تیری گردن پر کیسا رکھا ہے اور انہیں اس کا عجز ظاہر ہو اور انہیں ہوش آئے کہ ایسے عاجز خدا نہیں ہو سکتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کریں اورآپ کو حُجّت قائم کرنے کا موقع ملے چنانچہ جب قوم کے لو گ شام کو واپس ہوئے اور بُت خانے میں پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بُت ٹوٹے پڑے ہیں تو ۔
بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں (ف۱۱۲)
They said, “Therefore bring him in front of the people, perhaps they may testify.”
बोले तो उसे लोगों के सामने लाओ शायद वह गवाही दें
Bole to use logon ke samne lao shayad woh gawahi dein
(ف112)کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کا فعل ہے یا ان سے بُتوں کی نسبت ایسا کلام سُنا گیا ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ شہادت قائم ہو تو وہ آپ کے درپے ہوں چنانچہ حضرت بلائے گئے اور وہ لوگ ۔
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا (ف۱۱٤) تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں (ف۱۱۵)
Said he, “Rather, their chief may have done it; so question them, if they can speak.”
फ़रमाया बल्कि उनके इस बड़े ने किया हो गा तो उनसे पूछो अगर बोलते हों
Farmaya balki unke is bade ne kya ho ga to un se poocho agar bolte ho
(ف114)اس غصّہ سے کہ اس کے ہوتے تم اس کے چھوٹوں کو پوجتے ہو ، اس کے کندھے پر بَسُولا ہونے سے ایسا ہی قیاس کیا جا سکتا ہے ، مجھ سے کیا پوچھنا پوچھنا ہو ۔(ف115)وہ خود بتائیں کہ ان کے ساتھ یہ کس نے کیا ، مدعا یہ تھا کہ قوم غور کرے کہ جو بول نہیں سکتا جو کچھ کر نہیں سکتا وہ خدا نہیں ہو سکتا ، اس کی خدائی کا اعتقاد باطل ہے چنانچہ جب آپ نے یہ فرمایا ۔
تو اپنے جی کی طرف پلٹے (ف۱۱٦) اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو (ف۱۱۷)
So they turned towards their own selves and (inwardly) said, “Indeed you yourselves are unjust.”
तो अपने जी की तरफ़ पलटे और बोले बेशक तुम्हें सत्मगार हो
To apne jee ki taraf palte aur bole beshak tumhein sitamgar ho
(ف116)اور سمجھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حق پر ہیں ۔(ف117)جو ایسے مجبوروں اور بے اختیاروں کو پوجتے ہو جو اپنے کاندھے سے بَسُولا نہ ہٹا سکے ، وہ اپنے پجاری کو مصیبت سے کیا بچا سکے اور اس کے کیا کام آ سکے ۔
پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے (ف۱۱۸) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں (ف۱۱۹)
Again they were inverted upon their heads; saying, “You know well that these do not speak.”
फिर अपने सिरों के बल ऊँधाए गए कि तुम्हें खूब मालूम है ये बोलते नहीं
Phir apne saron ke bal oondhaye gaye ke tumhein khoob maloom hai yeh bolte nahi
(ف118)اور کلمۂ حق کہنے کے بعد پھر ان کی بدبختی ان کے سروں پر سوار ہوئی اور وہ کُفر کی طرف پلٹے اور باطل مجادلہ و مکابرہ شروع کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے ۔(ف119)تو ہم ان سے کیسے پوچھیں اور اے ابراہیم تم ہمیں ان سے پوچھنے کا کیسے حکم دیتے ہو ۔
بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے (ف۱۲۳)
They said, “Burn him and help your Gods, if you want to.”
बोले उन्हें जला दो और अपने ख़ुदाओं की मदद करूँ अगर तुम्हें करना है
Bole un ko jala do aur apne khudaon ki madad karoon agar tumhein karna hai
(ف123)نمرود اور اس کی قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا ڈالنے پر متفق ہو گئی اور انہوں نے آپ کو ایک مکان میں قید کر دیا اور قریۂ کوثٰی میں ایک عمارت بنائی اور ایک مہینہ تک بکوششِ تمام قِسم قِسم کی لکڑیاں جمع کیں اور ایک عظیم آ گ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے جل جاتے تھے اور ایک منجنیق (گوپھن) کھڑی کی اور آپ کو باندھ کر اس میں رکھ کر آ گ میں پھینکا ، اس وقت آپ کی زبانِ مبارک پر تھا حَسْبِیَ اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ، جبریلِ امین نے آپ سے عرض کیا کہ کیا کچھ کام ہے ؟ آپ نے فرمایا تم سے نہیں ، جبرئیل نے عرض کیا تو اپنے ربّ سے سوال کیجئے ! فرمایا سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لئے کفایت کرتا ہے ۔
اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انھیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا (ف۱۲۵)
And they wished to cause him harm, so We made them the greatest of losers.
और उन्होंने इसका बुरा चाहा तो हमने उन्हें सबसे बढ़कर ज़ियान क़र दिया
Aur unhone uska bura chaha to humne unhein sab se barh kar ziyaankaar kar diya
(ف125)کہ ان کی مراد پوری نہ ہوئی اور سعی ناکام رہی اور اللہ تعالٰی نے اس قوم پر مچھّر بھیجے جو ان کے گوشت کھا گئے اور خون پی گئے اور ایک مچھر نمرود کے دماغ میں گھس گیا اور اس کی ہلاکت کا سبب ہوا ۔
اور ہم اسے اور لوط کو (ف۱۲٦) نجات بخشی (ف۱۲۷) اس زمین کی طرف (ف۱۲۸) جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (ف۱۲۹)
And We rescued him and Lut towards the land which We have blessed for the entire world.
और हमने उसे और लूत को नजात बख़्शी इस ज़मीन की तरफ़ जिस में हमने जहाँ वालों के लिए बरकत रखी
Aur hum use aur Lut ko najat bakhshi is zameen ki taraf jis mein humne jahan walon ke liye barkat rakhi
(ف126)جو ان کے بھیتجے ان کے بھائی ہاران کے فرزند تھے ، نمرود اور اس کی قوم سے ۔(ف127)اور عراق سے ۔(ف128)روانہ کیا ۔(ف129)اس زمین سے زمینِ شام مراد ہے ، اس کی برکت یہ ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاء ہوئے اور تمام جہان میں ان کے دینی برکات پہنچے اور سرسبزی و شادابی کے اعتبار سے بھی یہ خطہ دوسرے خطوں پر فائق ہے ، یہاں کثرت سے نہریں ہیں ، پانی پاکیزہ اور خوش گوار ہے ، اشجار و ثمار کی کثرت ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مقامِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لُوط علیہ السلام نے مؤتفکہ میں ۔
اور ہم نے انھیں امام کیا کہ (ف۱۳۱) ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انھیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،
And We made them leaders who guide by Our command, and We sent them the divine revelation to do good deeds and to keep the prayer established and to give charity; and they used to worship Us.
और हमने उन्हें इमाम किया कि हमारे हुक्म से बुलाते हैं और हमने उन्हें वाह्य भी भेजी अच्छे काम करने और नमाज़ बरपार रखने और ज़कात देने की और वे हमारी बंदगी करते थे,
Aur humne unhein Imam kiya ke humare hukum se bulate hain aur humne unhein wahi bheji achhe kaam karne aur namaz barpa rakhne aur zakaat dene ki aur woh humari bandagi karte the,
اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں (ف۱۳۵) اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،
And remember Dawud and Sulaiman, when they were deciding the dispute of a field, when some people’s sheep had strayed into it at night; and We were Present at the time of their deciding.
और दाऊद और सुलैमान को याद करो जब खेत का एक झगड़ा चुकाते थे, जब रात को उसमें कुछ लोगों की बकरियाँ छूटें और हम उनके हुक्म के वक्त मौजूद थे,
Aur Dawood aur Sulayman ko yaad karo jab kheti ka ek jhagra chukate the, jab raat ko us mein kuch logon ki bakriyan chhootin aur hum unke hukum ke waqt haazir the,
(ف135)ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا ، وہ کھیتی کھا گئیں ، یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا آپ نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں ، بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر تھی ۔
ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا (ف۱۳٦) اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا (ف۱۳۷) اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے (ف۱۳۸) اور یہ ہمارے کام تھے،
And We explained the case to Sulaiman; and to both We gave the kingdom and knowledge; and subjected the hills to proclaim the Purity along with Dawud, and (also subjected) the birds; and these were Our works.
हमने वह मामला सुलैमान को समझा दिया और दोनों को हुकूमत और इल्म अता किया और दाऊद के साथ पहाड़ मख़र फ़रमा दिए कि तसबिह करते और परिंदे और ये हमारे काम थे,
Humne woh maamla Sulayman ko samjha diya aur dono ko hukoomat aur ilm ata kiya aur Dawood ke saath pahaar maskhar farma diye ke tasbeeh karte aur parinday aur yeh humare kaam the,
(ف136)حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے ، اس وقت حضرت کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ، حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ پر لازم کیا کہ وہ صورت بیا ن فرمائیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جاویں ۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام نے پسند فرمائی ، اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور اس شریعت کے مطابق تھے ، ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس مسئلہ کا حکم تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو تجویز فرمائی یہ صورتِ صلح تھی ۔(ف137)وجوہِ اجتہاد و طریقِ احکام وغیرہ کا مسئلہ : جن عُلَماء کو اجتہاد کی اہلیت حاصل ہو انہیں ان امور میں اجتہاد کا حق ہے جس میں وہ کتاب و سنّت کا حکم نہ پاویں اور اگر اجتہاد میں خطا بھی ہو جاوے تو بھی ان پر مواخذہ نہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب حکم کرنے والا اجتہاد کے ساتھ حکم کرے اور اس حکم میں مُصِیب ہو تو اس کے لئے دو ۲ اجر ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا واقع ہو جائے تو ایک اجر ۔(ف138)پتّھر اور پرندے آپ کے ساتھ آپ کی موافقت میں تسبیح کرتے تھے ۔
اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے (ف۱٤۱) اور اس کے سوا اور کام کرتے (ف۱٤۲) اور ہم انھیں روکے ہوئے تھے (ف۱٤۳)
And among the devils, were those who dived (in water) for him and did works other than this; and We had kept them restrained.
और शैतानों में से जो उसके लिए गोता लगाते और उसके सिवा और काम करते और हम उन्हें रोके हुए थे
Aur shaitanon mein se jo uske liye ghoota lagate aur uske siwa aur kaam karte aur hum unhein roke hue the
(ف141)دریا کی گہرائی میں داخل ہو کر سمندر کی تہ سے آپ کے لئے جواہر نکال کر لاتے ۔(ف142)عجیب عجیب صنعتیں ، عمارتیں ، محل ، برتن ، شیشے کی چیزیں ، صابون وغیرہ بنانا ۔(ف143)کہ آپ کے حکم سے باہر نہ ہوں ۔
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا (ف۱٤٤) کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،
And remember Ayyub (Job), when he called his Lord that, “Hardship has afflicted me, and You are the Most Merciful of all those who have mercy.”
और आयूब को (याद करो) जब उसने अपने रब को पुकारा कि मुझे तक़लीफ़ पहुँची और तू सब से म़हर वालों से बढ़कर म़हर वाला है,
Aur Ayyub ko (yaad karo) jab usne apne Rab ko pukara ke mujhe takleef pohanchi aur tu sab mehr walon se barh kar mehr wala hai,
(ف144)یعنی اپنے ربّ سے دعا کی ۔ حضرت ایوب علیہ السلام حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ، اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں حسنِ صورت بھی ، کثرتِ اولاد بھی ، کثرتِ اموال بھی اللہ تعالٰی نے آپ کو اِبتلا میں ڈالا اور آ پ کے فرزند و اولاد مکان کے گرنے سے دب کر مر گئے ، تمام جانور جس میں ہزارہا اونٹ ، ہزارہا بکریاں تھیں سب مر گئے ، تمام کھیتیاں اور باغات برباد ہو گئے ، کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ کو ان چیزوں سے ہلاک ہونے اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ حمدِ الٰہی بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے میرا کیا ہے جس کا تھا اس نے لیا جب تک مجھے دیا اور میرے پاس رکھا اس کا شکر ہی ادا نہیں ہو سکتا ، میں اس کی مرضی پر راضی ہوں پھر آپ بیمار ہوئے ، تمام جسم شریف میں آبلے پڑے ، بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ، سب لوگوں نے چھوڑ دیا بَجُز آپ کی بی بی صاحبہ کے کہ وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں اور یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی ۔
تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی (ف۱٤۵) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے (ف۱٤٦) اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت (ف۱٤۷)
We therefore heard his prayer and removed the adversity that had afflicted him, and We gave him his family and in addition bestowed along with them a similar number, by mercy from Ourselves – and an advice for the people who worship.
तो हमने उसकी दुआ सुन ली तो हमने दूर कर दी जो तक़लीफ़ उसे थी और हमने उसे उसके घर वाले और उनके साथ उतने ही और अता किए अपने पास से रहमत फ़रमा कर और बंदियों के लिए नसीहत
To humne uski dua sun li to humne door kar di jo takleef use thi aur humne use uske ghar wale aur unke saath utne hi aur ata kiye apne paas se rehmat farma kar aur bandiyon ke liye naseehat
(ف145)اس طرح کہ حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ زمین میں پاؤں ماریئے انہوں نے پاؤں مارا ایک چشمہ ظاہر ہوا ، حکم دیا گیا اس سے غسل کیجئے غسل کیا تو ظاہر بدن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں پھر آپ چالیس قدم چلے پھر دوبارہ زمین میں پاؤں مارنے کا حکم ہوا پھر آپ نے پاؤ ں مارا اس سے بھی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس کا پانی نہایت سرد تھا ، آپ نے بحکمِ الٰہی پیا اس سے باطن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں اور آپ کو اعلٰی درجہ کی صحت حاصل ہوئی ۔(ف146)حضرت ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم اور اکثر مفسِّرین نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی تمام اولاد کو زندہ فرما دیا اور آپ کو اتنی ہی اولاد اور عنایت کی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی بی بی صاحبہ کو دوبارہ جوانی عنایت کی اور ان کے کثیر اولادیں ہوئیں ۔(ف147)کہ وہ اس واقعہ سے بلاؤں پر صبر کرنے اور اس کے ثوابِ عظیم سے باخبر ہوں اور صبر کریں اور ثواب پائیں ۔
اور ذوالنون، کو (یاد کرو) (ف۱٤۹) جب چلا غصہ میں بھرا (ف۱۵۰) تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے (ف۱۵۱) تو اندھیریوں میں پکارا (ف۱۵۲) کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بےجا ہوا (ف۱۵۳)
And remember Zun-Noon,* when he left in anger, assuming that We would not restrict him – he therefore called out in the realms of darkness, saying, “There is no God except You, Purity is to You; I have indeed committed a lapse.” (* Prophet Yunus – peace and blessings upon him)
और ज़ुलनून को (याद करो) जब चला ग़ुस्सा में भरा तो गुमान किया कि हम उस पर तंगी न करेंगे तो अंधेरियों में पुकारा कोई माबूद नहीं सिवा तेरे पाक़ी है तुझ को, बेशक मुझ से बे जा हुआ
Aur Zul-Nun ko (yaad karo) jab chala gussa mein bhara to gumaan kiya ke hum us par tangi na karein to andheriyon mein pukara koi maabood nahi siwa tere paaki hai tujhe, beshak mujh se be ja hua
(ف149)یعنی حضرت یونس ابنِ متّٰی کو ۔(ف150)اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت نہ قبول کی تھی اور نصیحت نہ مانی تھی اور کُفر پر قائم رہی تھی ، آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کُفر اور اہلِ کُفر کے ساتھ بغض اور اللہ کے لئے غضب کرنا ہے لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکمِ الٰہی کا انتظار نہ کیا ۔(ف151)تو اللہ تعالٰی نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا ۔(ف152)کئی قِسم کی اندھیریاں تھیں دریا کی اندھیری ، رات کی اندھیری ، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ، ان اندھیریوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ ۔(ف153)کہ میں اپنی قوم سے ، قبل تیرا اِذن پانے کے جُدا ہوا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہِ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول فرماتا ہے ۔
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی (ف۱۵٤) اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو (ف۱۵۵)
We therefore heard his prayer and rescued him from grief; and similarly We shall rescue the Muslims.
तो हमने उसकी पुकार सुन ली और से ग़म से नजात बख़्शी और ऐसी ही नजात देंगे मुसलमानों को
To humne uski pukar sun li aur se gham se najat bakhshi aur aisi hi najat denge Musalmanon ko
(ف154)اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا ۔(ف155)مصیبتوں اور تکلیفوں سے جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں ۔
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (ف۱۵٦) اور تو سب سے بہتر اور وارث (ف۱۵۷)
And remember Zakaria, when he prayed to his Lord, “O my Lord – do not leave me alone, and You are the Best Inheritor.
और ज़करिया को जब उसने अपने रब को पुकारा, ऐ मेरे रब मुझे अकेला न छोड़ और तू सब से बेहतर और वारिस
Aur Zakariya ko jab usne apne Rab ko pukara, aye mere Rab mujhe akela na chhod aur tu sab se behtar aur waaris
(ف156)یعنی بے اولاد بلکہ وارث عطا فرما ۔(ف157)خَلق کی فنا کے بعد باقی رہنے والا ۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں کیونکہ تو بہتر وارث ہے ۔
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے (ف۱۵۸) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری (ف۱۵۹) بیشک وہ (ف۱٦۰) بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،
We therefore heard his prayer; and bestowed him Yahya, and cured his wife for him; indeed they used to hasten to perform good deeds, and pray to Us with hope and fear; and used to weep before Us.
तो हमने उसकी दुआ स्वीकार की और उसे यह्या अता फ़रमाया और उसके लिए उसकी बीवी संवारि बेशक वे भले कामों में जल्दी करते थे और हमें पुकारते थे उम्मीद और ख़ौफ़ से, और हमारे हजरत गुड़गड़ाते हैं,
To humne uski dua qubool ki aur use Yahya ata farmaya aur uske liye uski biwi sanwari beshak woh bhale kaamon mein jaldi karte the aur humein pukarte the umeed aur khauf se, aur humare huzoor girgirate hain,
(ف158)فرزندِ سعید ۔(ف159)جو بانجھ تھی اس کو قابلِ ولادت کیا ۔(ف160)یعنی انبیاءِ مذکورین ۔
اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی (ف۱٦۱) تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی (ف۱٦۲) اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا (ف۱٦۳)
And remember the woman who maintained her chastity, We therefore breathed Our Spirit into her and made her and her son a sign for the entire world.
और उस औरत को उसने अपनी पारसाई निगाह रखी तो हमने उसमें अपनी रूह फूँकी और उसे और उसके बेटे को सारे जहाँ के लिए निशानी बनाया
Aur us aurat ko usne apni parsai nigah rakhi to humne us mein apni rooh phoonki aur use aur uske bete ko saare jahan ke liye nishani banaya
(ف161)پورے طور پر کہ کسی طرح کوئی بشر اس کی پارسائی کو چھو نہ سکا ، مراد اس سے حضرت مریم ہیں ۔(ف162)اور اس کے پیٹ میں حضرت عیسٰی کوپیدا کیا ۔(ف163)اپنے کمالِ قدرت کی کہ حضرت عیسٰی کو اس کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا کیا ۔
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (ف۱٦٤) اور میں تمہارا رب ہوں (ف۱٦۵) تو میری عبادت کرو،
Indeed this religion of yours, is one religion; and I am your Lord, therefore worship Me.
बेशक तुम्हारा यह दीन एक ही दीन है और मैं तुम्हारा रब हूँ तो मेरी इबादत करो,
Beshak tumhara yeh deen ek hi deen hai aur main tumhara Rab hoon to meri ibadat karo,
(ف164)دینِ اسلام ، یہی تمام انبیاء کا دین ہے اس کے سوا جتنے ادیان ہیں سب باطل ، سب کو اسی دین پر قائم رہنا لازم ہے ۔(ف165)نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ، نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ۔
اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں (ف۱٦۸)
And it is forbidden for any township which We have destroyed, that they may return. (Once the disbelievers face death, their return to earth is impossible.)
और हराम है उस बस्ती पर जिसे हमने हलाक़ कर दिया कि फिर लौट कर आएँ
Aur haraam hai is basti par jise humne halaak kar diya ke phir laut kar aayen
(ف168)دنیا کی طرف تلافیٔ اعمال و تدارکِ احوال کے لئے یعنی اس لئے کہ ان کا واپس آنا ناممکن ہے ۔ مفسِّرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ جس بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کا شرک و کُفر سے واپس آنا محال ہے ، یہ معنی اس تقدیر پر ہیں جب کہ لا کو زائدہ قرار دیا جائے اور اگر لا زائدہ نہ ہو تو معنٰی یہ ہوں گے کہ دارِ آخرت میں ان کا حیات کی طرف نہ لوٹنا ناممکن ہے ۔ اس میں منکرینِ بَعث کا ابطال ہے اور اوپر جو کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْن اور لَاکُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ فرمایا گیا اس کی تاکید ہے ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)
اور قریب آیا سچا وعدہ (ف۱۷۰) تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی (ف۱۷۱) کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم (ف۱۷۲) اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے (ف۱۷۳)
And the True Promise has come near – thereupon the eyes of the disbelievers will become fixed, staring wide; saying “Woe to us – we were in neglect of this, but in fact we were unjust.”
और करीब आया सच्चा वादा तो तभी आँखें फट कर रह जाएँगी काफ़रों की कि हाय हमारी ख़राबी बेशक हम उससे ग़फ़लत में थे बल्कि हम ज़ालिम थे
Aur qareeb aaya sachcha wada to jabhi aankhein phat kar reh jaayengi kafiron ki ke haaye humari kharabi beshak hum us se ghaflat mein the balki hum zalim the
(ف170)یعنی قیامت ۔(ف171)اس دن کے ہول اور دہشت سے اور کہیں گے ۔(ف172)دنیا کے اندر ۔(ف173)کہ رسولوں کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں جھٹلاتے تھے ۔
بیشک تم (ف۱۷٤) اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۷۵) سب جہنم کے ایندھن ہو، تمہیں اس میں جانا،
“Indeed you* and all that you worship** besides Allah, are the fuel of hell; in it you must go.” (* All disbelievers ** Idols and disbelievers who claimed to be Gods. The Prophets like Eisa and Uzair who were worshipped are exempt from this, and so are Maryam, and trees and the moon etc.)
बेशक तुम और जो कुछ अल्लाह के सिवा तुम पूजते हो सब जहन्नम के ईंधन हो, तुम्हें उसमें जाना,
Beshak tum aur jo kuch Allah ke siwa tum poojte ho sab jahannum ke indhan ho, tumhein is mein jana,
وہ اس میں رینکیں گے (ف۱۷۸) اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے (ف۱۷۹)
They will bray in it and not be able to hear anything in it.
वह उसमें रेंकेंगे और वह उसमें कुछ न सुनेंगे
Woh is mein raingenge aur woh is mein kuch na sunenge
(ف178)اور عذاب کی شدّت سے چیخیں گے اور دھاڑیں گے ۔(ف179)جہنّم کے شدّتِ جوش کی وجہ سے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب جہنّم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کئے جائیں گے ، وہ تابوت اور تابوتوں میں پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں جڑ دی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سُنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا ۔
بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں (ف۱۸۰)
Indeed those to whom Our promise of goodness has been made, have been kept far away from hell.
बेशक वह जिनके लिए हमारा वादा भलाई का हो चुका वह जहन्नम से दूर रखे गए हैं
Beshak woh jin ke liye humara wada bhalaai ka ho chuka woh jahannum se door rakhe gaye hain
(ف180)اس میں ایمان والوں کے لئے بشارت ہے ۔ حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہَہ الکریم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ میں انہیں میں سے ہوں اور ابوبکر اور عمر اور عثمان اورطلحٰہ اور زبیر اور سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ۔شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز کعبۂ معظّمہ میں داخل ہوئے اس وقت قریش کے سردار حطیم میں موجود تھے اور کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، نضر بن حارث سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آ پ سے کلام کرنے لگا حضور نے اس کو جواب دے کر ساکت کر دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ حَصَبُ جَھَنَّمَ کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا پُوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہیں یہ فرما کر حضور تشریف لے آئے پھر عبداللہ بن زبعری سہمی آیا اوراس کو ولید بن مغیرہ نے اس گفتگو کی خبر دی ، کہنے لگا کہ خدا کی قسم میں ہوتا تو ان سے مباحثہ کرتا اس پر لوگوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا ، ابنِ زبعری یہ کہنے لگا کہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پُوجتے ہیں سب جہنّم کے ایندھن ہیں ؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں کہنے لگا یہود تو حضرت عزیر کو پُوجتے ہیں اورنصارٰی حضرت مسیح کو پُوجتے ہیں اور بنی ملیح فرشتوں کو پُوجتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور بیان فرما دیا کہ حضرت عزیر اور مسیح اور فرشتے وہ ہیں جن کے لئے بھلائی کا وعدہ ہو چکا اور وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درحقیقت یہود و نصارٰی وغیرہ شیطان کی پرستِش کرتے ہیں ۔ ان جوابوں کے بعد اس کو مجال دمِ زدن نہ رہی اور وہ ساکت رہ گیا اور درحقیقت اس کا اعتراض کمال عناد سے تھا کیونکہ جس آیت پر اس نے اعتراض کیا اس میں مَا تَعْبُدُوْنَ ہے اور مَا زبانِ عربی میں غیر ذوی العقول کے لئے بولا جاتا ہے ، یہ جانتے ہوئے اس نے اندھا بن کر اعتراض کیا ، یہ اعتراض تو اہلِ زبان کی نگاہوں میں کھلا ہوا باطل تھا مگر مزید بیان کے لئے اس آیت میں توضیح فرما دی گئی ۔
جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ (ف۱۸۵) نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے (ف۱۸٦) یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،
The day when We shall roll up the heavens as the recording angel rolls up the register of deeds; We shall make him similar to Our making him the first time; this is a promise upon Us; We certainly have to do it.
जिस दिन हम आसमान को लपेटेंगे जैसे सज़्ज़ल फ़रिश्ता नामे अ’माल को लपेटता है, जैसे पहले इसे बनाया था वैसे ही फिर कर देंगे यह वादा है हमारे ज़िम्मे, हम को इसका जरूर करना,
Jis din hum aasman ko lapetenge jaise sijil farishta nama-e-aamaal ko lapetta hai, jaise pehle use banaya tha waise hi phir kar denge yeh wada hai humare zimmedaari, hum ko iska zaroor karna,
(ف185)جو کاتبِ اعمال ہے آدمی کی موت کے وقت اس کے ۔(ف186)یعنی ہم نے جیسے پہلے عدم سے بنایا تھا ویسے ہی پھر معدوم کرنے کے بعد پیدا کر دیں گے یا یہ معنی ہیں کہ جیسا ماں کے پیٹ سے برہنہ غیر مختون پیدا کیا تھا ایسا ہی مرنے کے بعد اٹھائیں گے ۔
اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷)
And indeed We wrote, after the reminder in the Zaboor that, “My virtuous bondmen will inherit the earth.”
और बेशक हमने ज़बूर में नसीहत के बाद लिख दिया कि इस ज़मीन के वारिस मेरे नेक बन्दे होंगे
Aur beshak humne Zaboor mein naseehat ke baad likh diya ke is zameen ke waaris mere nek bande honge
(ف187)اس زمین سے مراد زمینِ جنّت ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی زمینیں مراد ہیں جن کو مسلمان فتح کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ زمینِ شام مراد ہے ۔
This Qur’an is sufficient for people who are devout.
बेशक यह कुरआन काफ़ी है इबादत वालों को
Beshak yeh Quran kaafi hai ibadat walon ko
(ف188)کہ جو اس کا اِتّباع کرے اور اس کے مطابق عمل کرے جنّت پائے اور مراد کو پہنچے اور عبادت والوں سے مؤمنین مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں ، رمضان کے روزے رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں ۔
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے (ف۱۸۹)
And We did not send you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) except as a mercy for the entire world. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
और हमने तुम्हें न भेजा मगर रहमत सारे जहाँ के लिए
Aur humne tumhein na bheja magar rehmat saare jahan ke liye
(ف189)کوئی ہو جن ہو یا انس مؤمن ہو یا کافِر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ، مؤمن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیرِ عذاب ہوئی اور خَسۡف و مَسۡخ اور اِستِیصال کے عذاب اٹھا دیئے گئے ۔ تفسیرِ روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ تامّہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیع مقیدات رحمتِ غیبیہ و شہادتِ علمیہ وعینیہ و وجود یہ و شہودیہ و سابقہ و لاحقہ و غیر ذلک تمام جہانوں کے لئے ، عالَمِ ارواح ہوں یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالَموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۹۰) تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں (ف۱۹۱) کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۹۲)
Then if they turn away, proclaim, “I have proclaimed a war against you on equal terms; and what do I know whether the promise which is given to you, is close or far?”
फिर अगर वह मुँह फेरें तो फ़रमा दो मैंने तुम्हें लड़ाई का एलान कर दिया, बराबरी पर और मैं क्या जानूँ कि पास है या दूर है वह जो तुम्हें वादा दिया जाता है
Phir agar woh munh pherein to farma do mainne tumhein laraai ka ilan kar diya, barabari par aur main kya jaanun ke paas hai ya door hai woh jo tumhein wada diya jaata hai
(ف190)اور اسلام نہ لائیں ۔(ف191)بے خدا کے بتائے یعنی یہ بات عقل و قیاس سے جاننے کی نہیں ہے ۔ یہاں درایت کی نفی فرمائی گئی درایت کہتے ہیں اندازے اور قیاس سے جاننے کو جیسا کہ مفرداتِ راغب اور ر دُّالمحتار میں ہے اسی لئے اللہ تعالٰی کے واسطے لفظِ درایت استعمال نہیں کیا جاتا اور قرآنِ کریم کے اطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْاِیْمَانُ لہٰذا یہاں بے تعلیم الٰہی مَحض اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مطلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے اول میں آ چکا ہے وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ یعنی قریب آیا سچا وعدہ تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قُرب و بُعد کسی طرح معلوم نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ تعلیمِ الٰہی سے جاننے کی ۔(ف192)عذاب کا یا قیامت کا ۔
بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات (ف۱۹۳) اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو (ف۱۹٤)
“Indeed Allah knows whatever is said, and knows all what you conceal.”
बेशक अल्लाह जानता है आवाज़ की बात और जानता है जो तुम छुपाते हो
Beshak Allah jaanta hai aawaaz ki baat aur jaanta hai jo tum chhupate ho
(ف193)جو اے کُفّار تم اعلان کے ساتھ اسلام پر بطریقِ طعن کہتے ہو ۔(ف194)اپنے دلوں میں یعنی نبی کی عداوت اور مسلمانوں سے حسد جو تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے سب کا بدلہ دے گا ۔
نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے (ف۱۹۸) اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو، (ف۱۹۹)
And the Prophet submitted, “My Lord – render the true judgement”; “And only the help of Our Lord, the Most Gracious, is sought against all what you fabricate.”
नबी ने arz की कि ऐ मेरे रब हक़ फ़ैसला फ़रमा दे और हमारे रब रहमान ही की मदद दरकार है इन बातों पर जो तुम बताते हो,
Nabi ne arz ki ke aye mere Rab haq faisla farma de aur humare Rab Rahman hi ki madad darkaar hai un baaton par jo tum batate ho
(ف198)میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں اس طرح کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ یہ دعا مستجاب ہوئی اور کُفّار بدر و احزاب و حُنَین وغیرہ میں مبتلائے عذاب ہوئے ۔(ف199)شرک و کُفر اور بے ایمانی کی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page