An-Naml النمل

پارہ: 20
سورہ: 27
آیات: 93
طٰسٓ​ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيۡنٍۙ‏ ﴿1﴾

یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی (ف۲)

Ta-Seen*; these are verses of the Qur’an and the clear Book. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)

هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏ ﴿2﴾

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو ،

A guidance and glad tidings for the believers.

الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ‏ ﴿3﴾

وہ جو نماز برپا رکھتے ہیں (ف۳) اور زکوٰة دیتے ہیں (ف٤) اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں،

Those who keep the prayer established and pay the charity and are certain of the Hereafter.

اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ زَيَّـنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَؕ‏ ﴿4﴾

وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک (برے اعمال) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں (ف۵)

Those who do not believe in the Hereafter – We have made their deeds seem good to them, so they are astray.

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ‏ ﴿5﴾

تو وہ بھٹک رہے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے (ف٦) اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں (ف۷)

It is they for whom is the worst punishment, and they will be the greatest losers in the Hereafter.

وَاِنَّكَ لَـتُلَـقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ‏ ﴿6﴾

اور بیشک تم قرآن سکھائے جاتے اور حکمت والے علم والے کی طرف سے (ف۸)

And indeed you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), are taught the Qur’an from the Wise, the All Knowing.

اِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِاَهۡلِهٖۤ اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًاؕ سَاٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ‏ ﴿7﴾

جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا (ف۹) مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو (ف۱۰)

(Remember) when Moosa said to his wife, “I have sighted a fire; I will soon bring its news to you, or bring for you an ember from it so that you may warm yourselves.”

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِىَ اَنۡۢ بُوۡرِكَ مَنۡ فِى النَّارِ وَ مَنۡ حَوۡلَهَا ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿8﴾

پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے (ف۱۱) اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،

So when he reached it, it was proclaimed, “Blessed is he who is in the location of the fire (Moosa) and those who are close to it (the angels); and Purity is to Allah, the Lord Of The Creation.”

يٰمُوۡسٰۤى اِنَّـهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ‏ ﴿9﴾

اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں ہی ہوں اللہ عزت والا حکمت والا،

“O Moosa, I am indeed, in truth, Allah the Almighty, the Wise.”

وَاَ لۡقِ عَصَاكَ​ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ​ ؕ يٰمُوۡسٰى لَا تَخَفۡ اِنِّىۡ لَا يَخَافُ لَدَىَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ​ۖ‏ ﴿10﴾

اور اپنا عصا ڈال دے (ف۱۲) پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا، ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں، بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا (ف۱۳)

“And put down your staff”; so when he saw it writhing like a serpent, he turned moving away without looking back; We said, “O Moosa, do not fear; indeed the Noble Messengers do not fear in My presence.”

اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ فَاِنِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿11﴾

ہاں جو کوئی زیادتی کرے (ف۱٤) پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف۱۵)

“Except the one* who does injustice and then after evil changes it for virtue – then indeed I am Oft Forgiving, Most Merciful.” (Other than the Prophets.)

وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِىۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ​ فِىۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ‏  ﴿12﴾

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بےعیب (ف۱٦) نو نشانیوں میں (ف۱۷) فرعون اور اس کی قوم کی طرف، بیشک وہ بےحکم لوگ ہیں،

“And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness; a sign among the nine signs towards Firaun and his people; they are indeed a lawless nation.”

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً قَالُوۡا هٰذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ​ۚ‏  ﴿13﴾

پھر جب ہماری نشانیاں آنکھیں کھولتی ان کے پاس آئیں (ف۱۸) بولے یہ تو صریح جادو ہے،

Then when Our enlightening signs came to them, they said, “This is clear magic.”

وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَـتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا​ ؕ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿14﴾

اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا (ف۱۹) ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا (ف۲۰)

And they denied them – whereas in their hearts they were certain of them – due to injustice and pride; therefore see what sort of fate befell the mischievous!

وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيۡمٰنَ عِلۡمًا​ ۚ وَقَالَا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿15﴾

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا (ف۲۱) اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی (ف۲۲)

And We indeed bestowed great knowledge to Dawud and Sulaiman; and they both said, “All praise is to Allah, Who bestowed us superiority over many of His believing bondmen.”

وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ​ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍؕ​ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ‏  ﴿16﴾

اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا (ف۲۳) اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا (ف۲٤) بیشک یہی ظاہر فضل ہے (ف۲۵)

And Sulaiman became Dawud’s heir; and he said, “O people, we have indeed been taught the language of birds, and have been given from all things; this surely is a manifest favour.”

وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ‏ ﴿17﴾

اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے (ف۲٦)

And assembled together for Sulaiman were his armies of jinns and men, and of birds – so they had to be restricted.

حَتّٰٓى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِۙ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ​ۚ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗۙ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿18﴾

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے (ف۲۷) ایک چیونٹی بولی (ف۲۸) اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بےخبری میں (ف۲۹)

Until when they came to the valley of the ants, a she ant exclaimed, “O ants, enter your houses – may not Sulaiman and his armies crush you, unknowingly.”

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿19﴾

تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا (ف۳۰) اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے (ف۳۱) مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۳۲)

He therefore smiled beamingly at her speech*, and submitted, “My Lord, bestow me guidance so that I thank you for the favour which You bestowed upon me and my parents, and so that I may perform the good deeds which please You, and by Your mercy include me among Your bondmen who are worthy of Your proximity.” (Prophet Sulaiman heard the voice of the she ant from far away.)

وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ ​ۖ  اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآٮِٕبِيۡنَ‏ ﴿20﴾

اور پرندوں کا جائزہ لیا تو بولا مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا یا وہ واقعی حاضر نہیں،

And he surveyed the birds – he therefore said, “What is to me that I do not see the Hudhud (hoopoe), or is he really absent?”

لَاُعَذِّبَـنَّهٗ عَذَابًا شَدِيۡدًا اَوۡ لَا۟اَذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّىۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿21﴾

ضرور میں اسے سخت عذاب کروں گا (ف۳۳) یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے (ف۳٤)

“I will indeed punish him severely or slay him, or he must bring to me some clear evidence.”

فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ وَ جِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ‏ ﴿22﴾

تو ہدہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر (ف۳۵) عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،

So Hudhud did not stay absent for long, and presenting himself submitted, “I have witnessed a matter that your majesty has not seen, and I have brought definite information to you from the city of Saba.”

اِنِّىۡ وَجَدتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ‏ ﴿23﴾

میں نے ایک عورت دیکھی (ف۳٦) کہ ان پر بادشاہی کر رہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے ملا ہے (ف۳۷) اور اس کا بڑا تخت ہے (ف۳۸)

“I have seen a woman who rules over them, and she has been given from all things, and she has a mighty throne.”

وَجَدْتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَۙ‏  ﴿24﴾

میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹) اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا (ف٤۰) تو وہ راہ نہیں پاتے،

“I found her and her nation prostrating before the sun instead of Allah, and Satan has made their deeds seem good to them thereby preventing them from the Straight Path – so they do not attain guidance.”

اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِىۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ‏ ﴿25﴾

کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف٤۱) اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو (ف٤۲)

“Why do they not prostrate to Allah, Who brings forth the things hidden in the heavens and the earth, and knows all what you hide and all what you disclose?”

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۩‏ ﴿26﴾

اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ بڑے عرش کا مالک ہے، (السجد ة۔۸)

“Allah – there is no True God except Him, the Owner of the Great Throne.” (Command of Prostration # 8)

قَالَ سَنَـنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ‏ ﴿27﴾

سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے (ف٤۳)

Said Sulaiman, “We shall now see whether you spoke the truth or are among the liars.”

اِذۡهَبْ بِّكِتٰبِىۡ هٰذَا فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَانْظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿28﴾

میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں (ف٤٤)

“Go with this letter of mine and drop it upon them – then move aside from them and see what they answer in return.”

قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اِنِّىۡۤ اُلۡقِىَ اِلَىَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ‏  ﴿29﴾

وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا (ف٤۵)

The woman said, “O chieftains, indeed a noble letter has been dropped upon me.”

اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ‏  ﴿30﴾

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے نہایت مہربان رحم والا،

“Indeed it is from Sulaiman, and it is (begins) with ‘Allah – beginning with the name of – the Most Gracious, the Most Merciful.’”

اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَىَّ وَاۡتُوۡنِىۡ مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿31﴾

یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو (ف٤٦) اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو (ف٤۷)

“That ‘Do not wish eminence above me, and present yourselves humbly to me, with submission.’”

قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡۤ اَمۡرِىۡ​ۚ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ‏ ﴿32﴾

بولی اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو،

She said, “O chieftains, advise me in this matter of mine; I do not give a final decision until you are present with me.”

قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ ۙ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ فَانْظُرِىۡ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ‏ ﴿33﴾

وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں (ف٤۸) اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے (ف٤۹)

They said, “We possess great strength and are great warriors, and the decision is yours, therefore consider what you will command.”

قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً  ​ۚ وَكَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ‏ ﴿34﴾

بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں (ف۵۰) داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو (ف۵۱) ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں (ف۵۲)

She said, “Indeed the kings, when they enter a township, destroy it and disgrace its honourable people; and this is what they do.”

وَاِنِّىۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ‏  ﴿35﴾

اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے (ف۵۳)

“And I shall send a present to them, then see what reply the envoys bring.”

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮكُمۡ​ۚ بَلۡ اَنۡـتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ‏  ﴿36﴾

پھر جب وہ (ف۵٤) سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا (ف۵۵) وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا (ف۵٦) بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو (ف۵۷)

So when the envoy came to Sulaiman, he said, “Are you helping me with wealth? What Allah has bestowed upon me is better than what He has given you; rather it is you who are delighted at your gift.”

اِرۡجِعۡ اِلَيۡهِمۡ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا وَلَـنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ‏ ﴿37﴾

پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انھیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے (ف۵۸)

“Go back to them – so we shall indeed come upon them with an army they cannot fight, and degrading them shall certainly drive them out from that city, so they will be humiliated.”

قَالَ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِىۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِىۡ مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿38﴾

سلیمان نے فرمایا، اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں (ف۵۹)

Said Sulaiman, “O court members, which one of you can bring me her throne before they come humbled in my presence?”

قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ​ۚ وَاِنِّىۡ عَلَيۡهِ لَـقَوِىٌّ اَمِيۡنٌ‏ ﴿39﴾

ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں (ف٦۰) اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں (ف٦۱)

An extremely evil jinn said, “I will bring it in your presence before you disperse the assembly; and I am indeed strong and trustworthy upon it.”

قَالَ الَّذِىۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡـكِتٰبِ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ​ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّىۡ​ۖ لِيَبۡلُوَنِىۡٓ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ​ؕ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ​ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىۡ غَنِىٌّ كَرِيۡمٌ‏  ﴿40﴾

اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا (ف٦۲) کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے (ف٦۳) پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف٦٤) اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بےپرواہ ہے سب خوبیوں والا،

Said one who had knowledge of the Book, “I will bring it in your majesty’s presence before you bat your eyelid”; then when he saw it set in his presence*, Sulaiman said, “This is of the favours of my Lord; so that He may test me whether I give thanks or am ungrateful; and whoever gives thanks only gives thanks for his own good; and whoever is ungrateful – then indeed my Lord is the Independent (Not Needing Anything), the Owner Of All Praise.” (A miracle which occurred through one of Allah’s friends.)

قَالَ نَكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَـنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِىۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿41﴾

سلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے،

Said Sulaiman, “Disguise her throne in front of her so that we may see whether she finds the way* or becomes of those who remain unknowing.” (*Recognises her throne.)

فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيۡلَ اَهٰكَذَا عَرۡشُكِ​ؕ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ​ۚ وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا وَ كُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿42﴾

پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے (ف٦۵) اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی (ف٦٦) اور ہم فرمانبردار ہوئے (ف٦۷)

Then when she came, it was said to her, “Is your throne like this? She said, “As if this is it! And we came to know about this incident beforehand and submit (to you).”

وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ‏ ﴿43﴾

اور اسے روکا (ف٦۸) اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، بیشک وہ کافر لوگوں میں سے تھی،

And the thing she used to worship instead of Allah prevented her; she was indeed from the disbelieving people.

قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِى الصَّرۡحَ​ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَـتۡهُ لُـجَّةً وَّكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا ​ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ ۙ​قَالَتۡ رَبِّ اِنِّىۡ ظَلَمۡتُ نَـفۡسِىۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿44﴾

اس سے کہا گیا صحن میں آ (ف٦۹) پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں (ف۷۰) سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا (ف۷۱) عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (ف۷۲) اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا (ف۷۳)

It was said to her, “Enter the hall”; and when she saw it she thought it was a pool and bared her shins*; said Sulaiman, “This is only a smooth hall, affixed with glass”; she said, “My Lord, I have indeed wronged myself, and I now submit myself along with Sulaiman to Allah, the Lord Of The Creation.” (* In order to cross it)

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوۡا اللّٰهَ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ‏ ﴿45﴾

اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو (ف۷٤) تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے (ف۷۵) جھگڑا کرتے (ف۷٦)

And indeed We sent to the Thamud, their fellowman Saleh that, “Worship Allah”, thereupon they became two parties quarrelling.

قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ​​ۚ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ ﴿46﴾

صالح نے فرمایا اے میری قوم! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو (ف۷۷) بھلائی سے پہلے (ف۷۸) اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے (ف۷۹) شاید تم پر رحم ہو (ف۸۰)

He said, “O my people, why do you hasten upon the evil before the good? Why do you not seek forgiveness from Allah? Perhaps there may be mercy upon you.”

قَالُوا اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ​ ؕ قَالَ طٰٓٮِٕرُكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ​ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَـنُوۡنَ‏ ﴿47﴾

بولے ہم نے برُا شگون کیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے (ف۸۱) فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے (ف۸۲) بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو (ف۸۳)

They said, “We consider you an evil omen, and your companions”; he said, “Your evil omen is with Allah – in fact you people have fallen into trial.”

وَكَانَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ‏ ﴿48﴾

اور شہر میں نو شخص تھے (ف۸٤) کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے،

And there were nine persons in the city who used to cause turmoil in the land and did not wish reform.

قَالُوۡا تَقَاسَمُوۡا بِاللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَ اَهۡلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ‏ ﴿49﴾

آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپا ماریں گے صالح اور اس کے گھر والوں پر (ف۸۵) پھر اس کے وارث سے (ف۸٦) کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں،

Swearing by Allah they said to one another, “We will indeed attack him and his family at night, and then say to his heir, ‘We were not present at the time of slaying of this household, and indeed we are truthful.’”

وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿50﴾

اور انہوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی (ف۸۷) اور وہ غافل رہے،

So they devised a scheme, and We made our secret plan, and they remained neglectful.

فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡۙ اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿51﴾

تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انھیں (ف۸۸) اور ان کی ساری قوم کو (ف۸۹)

Therefore see what was the result of their scheming – We destroyed them and their entire nation.

فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً ۢ بِمَا ظَلَمُوۡا​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّـقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿52﴾

تو یہ ہیں ان کے گھر ڈھے پڑے بدلہ ان کے ظلم کا، بیشک اس میں نشانی ہے جاننے والوں کے لیے،

So these are their houses fallen flat, the recompense of their injustice; indeed in this is a sign for people who know.

وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ‏ ﴿53﴾

اور ہم نے ان کو بچالیا جو ایمان لائے (ف۹۰) اور ڈرتے تھے (ف۹۱)

And We rescued those who accepted faith and used to fear.

وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡـفَاحِشَةَ وَاَنۡـتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ‏  ﴿54﴾

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بےحیائی پر آتے ہو (ف۹۲) اور تم سوجھ رہے ہو (ف۹۳)

And (remember) Lut when he said to his people, “What! You stoop to the shameful whereas you can see?”

اَٮِٕنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ​ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ‏ ﴿55﴾

کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر (ف۹٤) بلکہ تم جاہل لوگ ہو (ف۹۵)

“What! You lustfully go towards men, leaving the women?! In fact, you are an ignorant people.”

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ​ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ‏ ﴿56﴾

تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہ کہ بولے لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو ستھر اپن چاہتے ہیں (ف۹٦)

Therefore the answer of his people was nothing except that they said, “Expel the family of Lut from your township; these people wish purity!”

فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَ اَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ‏  ﴿57﴾

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۹۷)

We therefore rescued him and his family, except his wife; We had decreed that she is of those who will remain behind.

وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا​ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ‏ ﴿58﴾

اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا (ف۹۸) تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرائے ہوؤں کا،

And We showered a rain upon them; so what a wretched rain for those who were warned!

قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰىؕ ءٰۤللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؕ‏ ﴿59﴾

تم کہو سب خوبیاں اللہ کو (ف۹۹) اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر (ف۱۰۰) کیا اللہ بہتر (ف۱۰۱) یا ان کے ساختہ شریک (ف۱۰۲)

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All praise is to Allah, and peace upon His chosen bondmen; is Allah better or what you ascribe as His partners?”

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً​ ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِهٖ حَدَآٮِٕقَ ذَاتَ بَهۡجَةٍ​ ۚ مَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُـنۡۢبِتُوۡا شَجَرَهَا ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ​ ؕ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ يَّعۡدِلُوۡنَ ؕ‏ ﴿60﴾

وہ جس نے آسمان و زمین بنائے (ف۱۰۳) اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے باغ اگائے رونق والے تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اگاتے (ف۱۰٤) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (ف۱۰۵) بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں (ف۱۰٦)

Or He Who created the heavens and the earth, and sent down water from the sky for you; so We grew delightful gardens with it; you had no strength to grow its trees; is there a God along with Allah?! In fact they are those who shun the right path.

اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنۡهٰرًا وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيۡنَ الۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًا​ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ​ ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ؕ‏ ﴿61﴾

یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے (ف۱۰۷) اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی (ف۱۰۸) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں (ف۱۰۹)

Or He Who made the earth for habitation, and placed rivers within it, and created mountains as anchors for it, and kept a barrier between the two seas? Is there a God along with Allah?! In fact, most of them are ignorant.

اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ​ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ​ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ؕ‏ ﴿62﴾

یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے (ف۱۱۰) جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے (ف۱۱۱) کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بہت ہی کم دھیان کرتے ہو،

Or He Who answers the prayer of the helpless when he invokes Him and removes the evil, and makes you inheritors of the earth? Is there a God along with Allah?! Very little do they ponder!

اَمَّنۡ يَّهۡدِيۡكُمۡ فِىۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَمَنۡ يُّرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَىۡ رَحۡمَتِهٖؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ​ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؕ‏ ﴿63﴾

یا وہ جو تمہیں راہ دکھاتا ہے (ف۱۱۲) اندھیریوں میں خشکی اور تری کی (ف۱۱۳) اور وہ کہ ہوائیں بھیجتا ہے، اپنی رحمت کے آگے خوشحبری سناتی (ف۱۱٤) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، برتر ہے اللہ ان کے شرک سے،

Or He Who shows you the path in the darkness of the land and the sea, and He Who sends the winds before His mercy, heralding glad tidings? Is there a God along with Allah?! Supremacy is to Allah above all that they ascribe as partners!

اَمَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَمَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ​ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿64﴾

یا وہ جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۱۱۵) اور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے (ف۱۱٦) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۱۱۷)

Or He Who initiates the creation, then will create it again, and He Who provides you sustenance from the skies and the earth? Is there a God along with Allah?! Proclaim, “Bring your proof, if you are truthful!”

قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰهُ​ؕ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ‏ ﴿65﴾

کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانے تک پہونچ گیا (ف۱۱۹) کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں (ف۱۲۰) بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں،

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “None in the heavens and the earth know the hidden by themselves, except Allah; and they do not know when they will be raised.”

بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ​ بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ مِّنۡهَا  بَلۡ هُمۡ مِّنۡهَا عَمُوۡنَ‏ ﴿66﴾

کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانے تک پہونچ گیا (ف۱۱۹) کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں (ف۱۲۰) بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں،

Has their knowledge advanced so much as to know the Hereafter? On the contrary, they are in doubt concerning it; in fact they are blind towards it.

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَٮِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ‏ ﴿67﴾

اور کافر بولے کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے کیا ہم پھر نکالے جائیں گے (ف۱۲۱)

And the disbelievers said, “Will we, when we and our forefathers have turned into dust, be removed again?”

لَـقَدۡ وُعِدۡنَا هٰذَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿68﴾

بیشک اس کا وعدہ دیا گیا ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں، (ف۱۲۲)

“Indeed this promise was given to us, and before us to our forefathers – this is nothing but stories of former people.”

قُلۡ سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿69﴾

تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو، کیسا ہوا نجام مجرموں کا (ف۱۲۳)

“Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land and see what sort of fate befell the guilty.”

وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُنۡ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ‏ ﴿70﴾

اور تم ان پر غم نہ کھاؤ (ف۱۲٤) اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ ہو (ف۱۲۵)

And do not grieve upon them, nor be distressed because of their scheming.

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿71﴾

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ (ف۱۲٦) اگر تم سچے ہو،

And they say, “When will this promise come, if you are truthful?”

قُلۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَـكُمۡ بَعۡضُ الَّذِىۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ‏  ﴿72﴾

تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچا رہے ہو (ف۱۲۷)

Say, “It could be that a part of what you are impatient for is (already) after you.”

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ‏  ﴿73﴾

اور بیشک تیرا رب فضل والا ہے آدمیوں پر (ف۱۲۸) لیکن اکثر آدمی حق نہیں مانتے (ف۱۲۹)

Indeed your Lord is Most Munificent upon mankind, but most men do not give thanks.

وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَـعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ‏ ﴿74﴾

اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں (ف۱۳۰)

And indeed your Lord knows what is hidden in their bosoms, and what they disclose.

وَمَا مِنۡ غَآٮِٕبَةٍ فِى السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ‏  ﴿75﴾

اور جتنے غیب ہیں آسمانوں اور زمین کے سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں (ف۱۳۱)

And all the hidden secrets of the heavens and the earth are (written) in a clear Book. (The Preserved Tablet)

اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَقُصُّ عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَكۡثَرَ الَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ﴿76﴾

بیشک یہ قرآن ذکر فرماتا ہے بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں (ف۱۳۲)

Indeed this Qur’an narrates to the Descendants of Israel most of the matters in which they differ.

وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿77﴾

اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں کے لیے،

And indeed it is a guidance and a mercy for the Muslims.

اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِىۡ بَيۡنَهُمۡ بِحُكۡمِهٖ​ۚ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡعَلِيۡمُ ۙ​ۚ‏ ﴿78﴾

بیشک تمہارا رب ان کے آپس میں فیصلہ فرماتا ہے اپنے حکم سے اور وہی ہے عزت و الا علم والا،

Indeed your Lord judges between them with His command; and He is the Almighty, the All Knowing.

فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ​ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَـقِّ الۡمُبِيۡنِ‏ ﴿79﴾

تو تم اللہ پر بھروسہ کرو، بیشک تم روشن حق پر ہو،

Therefore rely on Allah; you are indeed upon the clear Truth.

اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ‏ ﴿80﴾

بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے (ف۱۳۳) اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر (ف۱۳٤)

Indeed the dead* do not listen to your call nor do the deaf* listen to your call, when they flee turning back. (The dead and deaf implies the disbelievers.)

وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰدِى الۡعُمۡىِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ​ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿81﴾

اور اندھوں کو (ف۱۳۵) گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں، تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۳٦) اور ہو مسلمان ہیں،

And you will not guide the blind out of their error; and none listen to you except those who accept faith in Our signs, and they are Muslims.

وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوۡقِنُوۡنَ‏ ﴿82﴾

اور جب بات ان پر آپڑے گی (ف۱۳۷) ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے (ف۱۳۸) جو لوگوں سے کلام کرے گا (ف۱۳۹) اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے (ف۱٤۰)

And when the Word (promise) appears upon them, We shall bring forth for them a beast from the earth to speak to them – because the people were not accepting faith in Our signs. (This beast will rise from the earth, when the Last Day draws near.)

وَ يَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ‏ ﴿83﴾

اور جس دن اٹھائیں گے ہم ہر گروہ میں سے ایک فوج جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی ہے (ف۱٤۱) تو ان کے اگلے روکے جائیں گے کہ پچھلے ان سے آملیں،

And the Day when We will raise from every nation an army that denies Our signs – so the former groups will be held back for the latter to join them.

حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَكَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِىۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿84﴾

یہاں تک کہ جب سب حاضر ہولیں گے (ف۱٤۲) فرمائے گا کیا تم نے میری آیتیں جھٹلائیں حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا (ف۱٤۳) یا کیا کام کرتے تھے (ف۱٤٤)

Until when they all come together, He will say, “Did you deny My signs whereas your knowledge had not reached it, or what were the deeds you were doing?”

وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ‏ ﴿85﴾

اور بات پڑچکی ان پر (ف۱٤۵) ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں بولتے (ف۱٤٦)

And the Word has appeared upon them because of their injustice, so now they do not speak.

اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِيَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا ​ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿86﴾

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں (ف۱٤۷)

Did they not see that We created the night for them to rest in, and created the day providing sight? Indeed in this are signs for the people who have faith.

وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِىۡ الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِىۡ السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ​ؕ وَكُلٌّ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ‏ ﴿87﴾

اور جس دن پھونکا جائے گا صور (ف۱٤۸) تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (ف۱٤۹) مگر جسے خدا چاہے (ف۱۵۰) اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے (ف۱۵۱)

And the Day when the Trumpet is blown – so all those who are in the heavens and the earth will be terrified, except whomever Allah wills; and everyone has come to Him, in submission.

وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ​ؕ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِىۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَىۡءٍ​ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ‏  ﴿88﴾

اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال (ف۱۵۲) یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی،

And you will see the mountains presuming them fixed whereas they will be moving like the clouds; this is Allah’s making, Who created all things with wisdom; indeed He is Informed of what you do.

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّنۡهَا​ۚ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَٮِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ‏ ﴿89﴾

جو نیکی لائے (ف۱۵۳) اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے (ف۱۵٤) اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے (ف۱۵۵)

Whoever brings a good deed – for him is a reward better than it; and they will be safe from the terror on that Day.

وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِى النَّارِؕ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿90﴾

اور جو بدی لائے (ف۱۵٦) تو ان کے منہ اوندھائے گئے آگ میں (ف۱۵۷) تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے (ف۱۵۸)

And whoever brings evil – so their faces will be dipped into the fire; what reward will you get, except what you did?

اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الۡبَلۡدَةِ الَّذِىۡ حَرَّمَهَا وَلَهٗ كُلُّ شَىۡءٍ​ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَۙ‏ ﴿91﴾

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو (ف۱۵۹) جس نے اسے حرمت والا کیا ہے (ف۱٦۰) اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،

“I (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) have been commanded to worship the Lord of this city, Who has deemed it sacred, and everything belongs to Him; and I have been commanded to be among the obedient.”

وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ​ۚ فَمَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ​ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ‏ ﴿92﴾

اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں (ف۱٦۱) تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی (ف۱٦۲) اور جو بہکے (ف۱٦۳) تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں (ف۱٦٤)

“And to recite the Qur’an”; so whoever attained the right path, has attained it for his own good; and whoever goes astray – so say, “Indeed I am only a Herald of Warning.”

وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا​ ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿93﴾

اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو انھیں پہچان لو گے (ف۱٦۵) اور اے محبوب! تمہارا رب غافل نہیں ، اے لوگو! تمہارے اعمال سے،

And proclaim, “All praise is to Allah – He will soon show you His signs so you will recognise them”; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) your Lord is not unaware of what you, O people, do.”

Scroll to Top