کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے ، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)
Do men fancy that they will be left just upon their declaring, “We believe”, and they will not be tested?
क्या लोग इस घमंड में हैं कि इतनी बात पर छोड़ दिए जाएँगे कि कहीं हम ईमान लाए, और उनकी आज़माइश न होगी
Kya log is ghurmand mein hain ke itni baat par chhod diye jaayenge ke kahin hum iman laaye, aur un ki aazmaish na hogi
(ف2)شدائدِ تکالیف اور انواعِ مصائب اور ذوقِ طاعات و ترکِ شہوات و بدلِ جان و مال سے ان کی حقیقتِ ایمان خوب ظاہر ہو جائے اور مؤمنِ مخلص اور منافق میں امتیاز ظاہر ہو جائے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت ان حضرات کے حق میں نازِل ہوئی جو مکّہ مکرّمہ میں تھے اور انہوں نے اسلام کا اقرار کیا تو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں لکھاکہ مَحض اقرار کافی نہیں جب تک ہجرت نہ کرو ان صاحبوں نے ہجرت کی اور بقصدِ مدینہ روانہ ہوئے ، مشرکین ان کے درپے ہوئے اور ان سے قتال کیا بعض حضرات ان میں سے شہید ہو گئے بعض بچ آئے ان کے حق میں یہ دو آیتیں نازِل ہوئیں اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد ان لوگوں سے سلمہ بن ہشّام اور عیّاش بن ابی ربیعہ اور ولید بن ولید اور عمّار بن یاسر وغیرہ ہیں جو مکّہ مکرّمہ میں ایمان لائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمّار کے حق میں نازِل ہوئی جو خدا پرستی کی وجہ سے ستائے جاتے تھے اور کُفّار انہیں سخت ایذائیں پہنچاتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیتیں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام حضرت مہجع بن عبداللہ کے حق میں نازِل ہوئیں جو بدر میں سب سے پہلے شہید ہونے والے ہیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نسبت فرمایا کہ مہجع سید الشہداء ہیں اور اس اُمّت میں بابِ جنّت کی طرف پہلے وہ پکارے جائیں گے ان کے والدین اور ان کی بی بی کو ان کا بہت صدمہ ہوا تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل کی پھر ان کی تسلّی فرمائی ۔
اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف٤)
We indeed tested those before them – so Allah will surely test the truthful, and will surely test the liars.
और बेशक हमने उनसे اگलों को जाँचा तो जरूर अल्लाह सच्चों को देखेगा और जरूर झूठों को देखेगा
Aur beshak hum ne un se agalon ko jaancha to zaroor Allah sachon ko dekhega aur zaroor jhooton ko dekhega
(ف3)طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا ، بعض ان میں سے وہ ہیں جو آرے سے چیر ڈالے گئے ، بعض لوہے کی کنگھیوں سے پرزے پرزے کئے گئے اور مقامِ صدق و وفا میں ثابت و قائم رہے ۔(ف4)ہر ایک کا حال ظاہر فرما دے گا ۔
جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)
Whoever expects to meet Allah – then indeed the time appointed by Allah will come; and He is the All Hearing, the All Knowing.
जिसे अल्लाह से मिलने की उम्मीद हो तो बेशक अल्लाह की मियाद जरूर आने वाली है और वही सुनता जानता है
Jise Allah se milne ki umeed ho to beshak Allah ki miyaad zaroor aane wali hai aur wahi sunta jaanta hai
(ف7)بعث و حساب سے ڈرے یا ثواب کی امید رکھے ۔(ف8)اس نے ثواب و عذاب کا جو وعدہ فرمایا ہے ضرور پورا ہونے والا ہے چاہیئے کہ اس کے لئے تیار رہے اور عملِ صالح میں جلدی کرے ۔(ف9)بندوں کے اقوال و افعال کو ۔
اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بےپرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)
And whoever strives in Allah's cause, strives only for his own benefit; indeed Allah is Independent of the entire creation.
और जो अल्लाह की राह में कोशिश करे तो अपने ही भले को कोशिश करता है बेशक अल्लाह बेपरवाह है सारे जहाँ से
Aur jo Allah ki raah mein koshish kare to apne hi bhale ko koshish karta hai, beshak Allah beparwah hai saare jahan se
(ف10)خواہ اعداءِ دین سے محاربہ کر کے یا نفس و شیطان کی مخالفت کر کے اور طاعتِ الٰہی پر صابر و قائم رہ کر ۔(ف11)اس کا نفع و ثواب پائے گا ۔(ف12)انس و جن و ملائکہ اور ان کے اعمال و عبادات سے اس کا امر و نہی فرمانا بندوں پر رحمت و کرم کے لئے ہے ۔
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے (ف۱۳) اور ضرور انھیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا (ف۱٤)
And those who accepted faith and did good deeds – We will indeed relieve their sins and reward them for the best of their deeds.
और जो ईमान लाए और अच्छे काम किए हम जरूर उनकी बुराइयाँ उतार देंगे और जरूर उन्हें उस काम पर बदला देंगे जो उनके सब कामों में अच्छा था
Aur jo iman laaye aur achhe kaam kiye hum zaroor un ki buraiyan utaar denge aur zaroor unhein is kaam par badla denge jo un ke sab kaamon mein achha tha
اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان (ف۱٦) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)
And upon man We ordained kindness towards parents; and if they strive to make you ascribe a partner with Me, about which you do not have any knowledge, then do not obey them; towards Me only is your return and I will tell you what you used to do.
और हमने आदमी को तकीद की अपने माँ बाप के साथ भलाई की और अगर तू वो कोशिश करें कि तू मेरा शिर्क ठहराए जिसका तुझे इल्म नहीं तो तू उनका कहा न मान मेरी ही तरफ तुम्हारा फर्ना है तो मैं बता दूँगा तुम्हें जो तुम करते थे
Aur hum ne aadmi ko takeed ki apne maan baap ke saath bhalaai ki aur agar woh tujh se koshish karein ke tu mera shareek thaharaaye jiska tujhe ilm nahin to tu un ka kaha na maan, meri hi taraf tumhara phirna hai to main bata doonga tumhein jo tum karte the
(ف15)احسان اور نیک سلوک کی ۔شانِ نُزول : یہ آیت اور سورۂ لقمان اور سورۂ احقاف کی آیتیں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں و بقول ابنِ اسحق سعد بن مالک زہری کے حق میں نازِل ہوئیں ان کی ماں حمنہ بنتِ ابی سفیان بن امیہ بن عبدِ شمس تھی حضرت سعد سابقین اوّلین میں سے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے جب آپ اسلام لائے تو آپ کی والدہ نے کہا کہ تو نے یہ کیا نیا کام کیا خدا کی قَسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں کھاؤں نہ پیوں یہاں تک کہ مر جاؤں اور تیری ہمیشہ کے لئے بدنامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہا جائے پھر اس بڑھیا نے فاقہ کیا اور ایک شبانہ روز نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ سایہ میں بیٹھی اس سے ضعیف ہو گئی پھر ایک رات دن اور اسی طرح رہی تب حضرت سعد اس کے پاس آئے اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے ماں اگر تیری سو ۱۰۰ جانیں ہوں اور ایک ایک کر کے سب ہی نکل جائیں تو بھی میں اپنا دین چھوڑ نے والا نہیں تو چاہے کھا چاہے مت کھا ، جب وہ حضرت سعد کی طرف سے مایوس ہو گئی کہ یہ اپنا دین چھوڑنے والے نہیں تو کھانے پینے لگی اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور اگر وہ کُفر و شرک کا حکم دیں تو نہ مانا جائے ۔(ف16)کیونکہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کو کسی کے کہے سے مان لینا تقلید ہے معنٰی یہ ہوئے کہ واقع میں میرا کوئی شریک نہیں تو علم و تحقیق سے تو کوئی بھی کسی کو میرا شریک مان ہی نہیں سکتا مَحال ہے رہا تقلیداً بغیر علم کے میرے لئے شریک مان لینا یہ نہایت قبیح ہے اس میں والدین کی ہرگز اطاعت نہ کر ۔مسئلہ: ایسی اطاعت کسی مخلوق کی جائز نہیں جس میں خدا کی نافرمانی ہو ۔(ف17)تمہارے کردار کی جزا دے کر ۔
اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انھیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)
And some people say, “We believe in Allah” – so if they are afflicted with some adversity in Allah’s way, they consider the chaos created by men as the punishment from Allah; and if the help comes from your Lord, they will surely say, “Indeed we were with you”; does not Allah well know what is in the hearts of the entire creation?
और بعض आदमी कहते हैं हम अल्लाह पर ईमान लाए फिर जब अल्लाह की राह में उन्हें कोई तकलीफ दी जाती है तो लोगों के फित्ना को अल्लाह के अज़ाब के बराबर समझते हैं और अगर तुम्हारे रब के पास से मदद आए तो जरूर कहेंगे हम तो तुम्हारे ही साथ थे क्या अल्लाह खूब नहीं जानता जो कुछ जहाँ भर के दिलों में है
Aur baaz aadmi kehte hain hum Allah par iman laaye, phir jab Allah ki raah mein unhein koi takleef di jaati hai to logon ke fitna ko Allah ke azaab ke barabar samajhte hain aur agar tumhare Rab ke paas se madad aaye to zaroor kahenge hum to tumhare hi saath the, kya Allah khoob nahin jaanta jo kuch jahan bhar ke dilon mein hai
(ف19)یعنی دین کے سبب سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے جیسے کہ کُفّار کا ایذا پہنچانا ۔(ف20)اور جیسا اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے تھا ایسا خَلق کی ایذا سے ڈرتے ہیں حتی کہ ایمان ترک کر دیتے ہیں اور کُفر اختیار کر لیتے ہیں یہ حال منافقین کا ہے ۔(ف21)مثلاً مسلمانون کی فتح ہو یا انہیں دولت ملے ۔(ف22)ایمان و اسلام میں اور تمہاری طرح دین پر ثابت تھے تو ہمیں اس میں شریک کرو ۔(ف23)کُفر یا ایمان ۔
اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲٦) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
And the disbelievers said to the Muslims, “Follow our path and we will bear your sins”; whereas they will not bear anything from their sins; they are indeed liars.
और काफ़िर मुसलमानों से बोले हमारी राह पर चलो और हम तुम्हारे गुनाह उठा लेंगें हालाँकि वो उनके गुनाहों में से कुछ न उठाएँगे, बेशक वे झूठे हैं,
Aur kaafir musalmanon se bole hamari raah par chalo aur hum tumhare gunaah utha lenge, halan ke woh un ke gunaahon mein se kuch na uthaayenge, beshak woh jhoote hain
(ف26)کُفّارِ مکّہ نے مومنینِ قریش سے کہا تھا کہ تم ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا دین اختیار کرو تمہیں اللہ کی طرف سے جو مصیبت پہنچے گی اس کے ہم کفیل ہیں اور تمہارے گناہ ہماری گردن پر یعنی اگر ہمارے طریقہ پر رہنے سے اللہ تعالٰی نے تم کو پکڑا اور عذاب کیا تو تمہارا عذاب ہم اپنے اوپر لے لیں گے اللہ تعالٰی نے ان کی تکذیب فرمائی ۔
اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)
And they will surely bear their own burdens and some other burdens along with their own; and they will undoubtedly be questioned on the Day of Resurrection concerning what they had fabricated.
और बेशक जरूर अपने बोझ उठाएँगे और अपने बोझों के साथ और बोझ और जरूर क़यामत के दिन पूछे जाएँगे जो कुछ बहुतान उठाते थे
Aur beshak zaroor apne bojh uthaayenge aur apne bojhon ke saath aur bojh, aur zaroor Qiyamat ke din poochhe jaayenge jo kuch buhtan uthaate the
(ف27)کُفر و معاصی کے ۔(ف28)ان کے گناہوں کے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا اور راہِ حق سے روکا ۔ حدیث شریف میں ہے جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالا اس پر اس طریقہ نکالنے کا گناہ بھی ہے اور قیامت تک جو لوگ اس پر عمل کریں ان کے گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان پر سے ان کے بارِ گناہ میں کچھ بھی کمی ہو ۔ (مسلم شریف)(ف29)اللہ تعالٰی ان کے اعمال و افتراء سب جاننے والا ہے لیکن یہ سوال تو بیخ کے لئے ہے ۔
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انھیں طوفان نے آ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)
And indeed We sent Nooh to his people – he therefore stayed with them for a thousand years, less fifty; so the flood seized them, and they were unjust.
और बेशक हमने नूह को उसकी क़ौम की तरफ भेजा तो वह उनमें पचास साल कम हजार बरस रहा तो उन्हें तोफ़ान ने आ लिया और वो ज़ालिम थे
Aur beshak hum ne Nuh ko us ki qoum ki taraf bheja to woh un mein pachaas saal kam hazar saal raha to unhein toofan ne aa liya aur woh zalim the
(ف30)اس تمام مدّت میں قوم کو توحید و ایمان کی دعوت جاری رکھی اور ان کی ایذاؤں پر صبر کیا اس پر بھی وہ قوم باز نہ آئی اور تکذیب کرتی رہی ۔(ف31)طوفان میں غرق ہو گئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ان کی قوموں نے بہت سختیاں کی ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام پچاس کم ہزار برس دعوت فرماتے رہے اور اس طویل مدّت میں ان کی قوم کے بہت قلیل لوگ ایمان لائے تو آپ کچھ غم نہ کریں کیونکہ بفضلہٖ تعالٰی آپ کی قلیل مدّت کی دعوت سے خَلقِ کثیر مشرف بہ ایمان ہو چکی ہے ۔
تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳٤)
And We rescued him and the people aboard the ship, and made the ship a sign for the entire world.
तो हमने उसे और कश्ती वालों को बचा लिया और उस कश्ती को सारे जहाँ के लिए निशानी किया
To hum ne use aur kashti walon ko bacha liya aur is kashti ko saare jahan ke liye nishani kiya
(ف32)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔(ف33)جو آپ کے ساتھ تھے ان کی تعداد اٹھہتّر تھی نصف مرد نصف عورت ان میں حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند سام و حام ویافث اور ان کی بی بیاں بھی شامل ہیں ۔(ف34)کہا گیا ہے کہ وہ کَشتی جودی پہاڑ پر مدّتِ دراز تک باقی رہی ۔
تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳٦) بیشک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)
“You worship only idols instead of Allah, and only forge a clear lie; indeed those whom you worship instead of Allah do not control your sustenance – therefore seek your sustenance from Allah, and worship Him, and be grateful to Him; it is towards Him that you will be returned.”
तुम तो अल्लाह के सिवा बुतों को पूजते हो और नर्रा झूठ गढ़ते हो बेशक वो जिन्हें तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो तुम्हारी रोज़ी के कुछ मालिक नहीं तो अल्लाह के पास रज़क ढूँढो और उसकी बन्दगी करो और उसका एहसान मानो, तुम्हें उसी की तरफ फर्ना है
Tum to Allah ke siwa buton ko poojte ho aur nira jhoot gadhte ho, beshak woh jinhein tum Allah ke siwa poojte ho tumhari rozi ke kuch maalik nahin, to Allah ke paas rizq dhoondo aur us ki bandagi karo aur us ka ehsaan mano, tumhein isi ki taraf phirna hai
(ف36)کہ بُتوں کو خدا کا شریک کہتے ہو ۔(ف37)وہی رزّاق ہے ۔(ف38)آخرت میں ۔
اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف٤۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
“And if you deny, then many nations have denied before you; and the Noble Messenger is not responsible except to plainly convey (the message).”
और अगर तुम झटलााओ तो तुमसे पहले कितने ही ग्रुप झटला चुके हैं और रसूल के ज़िम्मे नहीं मगर साफ़ पहुँचा देना,
Aur agar tum jhuthlao to tum se pehle kitne hi giroh jhuthla chuke hain aur Rasool ke zimma nahin magar saaf pohcha dena
(ف39)اور مجھے نہ مانو تو اس سے میرا کوئی ضَرر نہیں ، میں نے راہ دکھا دی ، معجزات پیش کر دیئے ، میرا فرض ادا ہو گیا ، اس پر بھی اگر تم نہ مانو ۔(ف40)اپنے انبیاء کو جیسے کہ قومِ نوح و عاد و ثمود وغیرہ ان کے جھٹلانے کا انجام یہی ہوا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف٤۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف٤۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف٤۳)
Have they not seen how Allah initiates the creation, then will create it again? Indeed that is easy for Allah.
और क्या उन्होंने न देखा अल्लाह कैसे खल्क की शुरुआत करता है फिर उसे दुबारा बनाएगा बेशक यह अल्लाह को आसान है
Aur kya unhone na dekha Allah kaise khalq ki ibtidaa farmaata hai phir use dobara banaayega, beshak ye Allah ko aasan hai
(ف41)کہ پہلے انہیں نطفہ بناتا ہے پھر خونِ بستہ کی صورت دیتا ہے پھر گوشت پارہ بناتا ہے اس طرح تدریجاً ان کی خِلقت کو مکمل کرتا ہے ۔(ف42)آخرت میں بَعث کے وقت ۔(ف43)یعنی پہلی بار پیدا کرنا اور مرنے کے بعد پھر دوبارہ بنانا ۔
تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف٤٤) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف٤۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف٤٦) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land and see how He creates for the first time, then Allah brings forth the next development; indeed Allah is Able to do all things.”
तुम फ़रमाओ ज़मीन में सफ़र कर के देखो अल्लाह कैसे पहले बनाता है फिर अल्लाह दूसरी उठान उठाता है बेशक अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Tum farmao zameen mein safar kar ke dekho Allah kaise pehle banata hai phir Allah doosri uthaan uthata hai, beshak Allah sab kuch kar sakta hai
(ف44)گزشتہ قوموں کے دیار و آثار کو کہ ۔(ف45)مخلوق کو پھر اسے موت دیتا ہے ۔(ف46)یعنی جب یہ یقین سے جان لیا کہ پہلی مرتبہ اللہ ہی نے پیدا کیا تو معلوم ہو گیا کہ اس خالِق کا مخلوق کو موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی متعذّر نہیں ۔
اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)
And those who did not believe in My signs and in meeting Me, are those who have no hope of My mercy, and for them is a painful punishment.
और वो जिन्होंने मेरी आयतों और मेरे मिलने को न माना वो हैं जिन्हें मेरी रहमत की आस नहीं और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
Aur woh jin hone meri aayaton aur mere milne ko na maana woh hain jinhein meri rehmat ki aas nahin aur unke liye dardnaak azaab hai
(ف51)یعنی قرآن شریف اور بَعث پر ایمان نہ لائے ۔(ف52)اس پند و موعظت کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ جب آپ نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی اور دلائل قائم کئے اور نصیحتیں فرمائیں ۔
تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انھیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵٤) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵٦)
So his people could not answer him except to say, “Kill him or burn him” – so Allah rescued him from the fire; indeed in this are signs for people who believe.
तो उसकी क़ौम को कुछ जवाब बन न आया मगर ये बोले उन्हें हत्या कर दो या जलादो तो अल्लाह ने उसे आग से बचा लिया बेशक इसमें जरूर निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए
To us ki qoum ko kuch jawab ban nah aaya magar ye bole unhein qatal kar do ya jala do, to Allah ne use aag se bacha liya, beshak is mein zaroor nishaniyan hain iman walon ke liye
(ف53)یہ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یا سرداوں نے اپنے متّبعین سے بہرحال کچھ کہنے والے تھے کچھ اس پر راضی ہونے والے تھے سب متفق اس لئے وہ سب قائلین کے حکم میں ہیں ۔ (ف54)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب کہ ان کی قوم نے آ گ میں ڈالا ۔(ف55)اس آ گ کو ٹھنڈا کر کے اور حضرت ابراہیم کے لئے سلامتی بنا کر ۔(ف56)عجیب عجیب نشانیاں ، آ گ کا اس کثرت کے باوجود اثر نہ کرنا اور سرد ہو جانا اوراس کی جگہ گلشن پیدا ہو جانا اور یہ سب پل بھر سے بھی کم میں ہونا ۔
اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف٦۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف٦۱)
And Ibrahim said, “You have chosen only idols instead of Allah, with whom your friendship is only in the life of this world; then on the Day of Resurrection you will deny and curse each other; and the destination for all of you is hell, and you do not have supporters.”
और इब्राहीम ने फरमाया तुमने तो अल्लाह के सिवा ये बुत बना लिए हैं जिनसे तुम्हारी दोस्ती यही दुनिया की ज़िंदगी तक है फिर क़यामत के दिन तुम में एक दूसरे के साथ क़फ़र करेगा और एक दूसरे पर लानत डालेगा और तुम सब का ठिकाना जहन्नम है और तुम्हारा कोई मददगार नहीं
Aur Ibrahim ne farmaya tum ne to Allah ke siwa ye but bana liye hain jin se tumhari dosti yehi duniya ki zindagi tak hai, phir Qiyamat ke din tum mein ek doosre ke saath kufr karega aur ek doosre par laanat daalega aur tum sab ka thikana Jahannam hai aur tumhara koi madadgar nahin
(ف57)اپنی قوم سے ۔(ف58)پھر منقطع ہو جائے گی اور آخرت میں کچھ کام نہ آئے گی ۔(ف59)بُت اپنے پجاریوں سے بیزار ہوں گے اور سردار اپنے ماننے والوں سے اور ماننے والے سرداروں پر لعنت کریں گے ۔(ف60)بُتوں کا بھی اور پجاریوں کا بھی ان میں سرداروں کا بھی اور ان کے فرمانبرداروں کا بھی ۔(ف61)جو تمہیں عذاب سے بچائے اور جب حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات آ گ سے سلامت نکلے اور اس نے آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچایا ۔
تو لوط اس پر ایمان لایا (ف٦۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف٦۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف٦٤) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
So Lut believed in him; and Ibrahim said, “I migrate towards my Lord; indeed only He is the Almighty, the Wise.”
तो लूत उस पर ईमान लाया और इब्राहीम ने कहा मैं अपने रब की तरफ हिजरत करता हूँ बेशक वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
To Lut is par iman laaya aur Ibrahim ne kaha main apne Rab ki taraf hijrat karta hoon, beshak wahi izzat o hikmat wala hai
(ف62)یعنی حضرت لوط علیہ السلام نے یہ معجِزہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسالت کی تصدیق کی آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ۔ ایمان سے تصدیقِ رسالت ہی مراد ہے کیونکہ اصل توحید کا اعتقاد تو ان کو ہمیشہ سے حاصل ہے اس لئے انبیاء ہمیشہ ہی مومن ہوتے ہیں اور کُفر ان سے کسی حال میں متصور نہیں ۔(ف63)اپنی قوم کو چھوڑ کر ۔(ف64)جہاں اس کا حکم ہو چنانچہ آپ نے سوادِ عراق سے سرزمینِ شام کی طرف ہجرت فرمائی اس ہجرت میں آپ کے ساتھ آپ کی بی بی سارہ اور حضرت لوط علیہ السلام تھے ۔
اور ہم نے اسے (ف٦۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف٦٦) اور کتاب رکھی (ف٦۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف٦۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف٦۹)
And We bestowed Ishaq and Yaqub to him, and kept the Prophethood and the Book among his descendants, and We gave him his reward in the world; and in the Hereafter he is indeed among those who deserve Our proximity.
और हमने उसे इसहाक और याकूब अता फरमाए और हमने उसकी औलाद में नुबुवत और किताब रखी और हमने दुनिया में उसका सवाब उसे अता फ़रमाया और बेशक आख़िरत में वह हमारे क़ुरब खास के सजावारों में है
Aur hum ne use Ishaq aur Yaqub aata farmaaye aur hum ne us ki aulaad mein nabuwat aur kitaab rakhi aur hum ne duniya mein us ka sawaab use aata farmaaya aur beshak aakhirat mein woh humare qurb khaas ke sazaawaaron mein hai
(ف65)بعد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ۔(ف66)کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء ہوئے سب آپ کی نسل سے ہوئے ۔(ف67)کتاب سے توریت ، انجیل ، زبور ، قرآن شریف مراد ہیں ۔(ف68)کہ پاک ذُرِّیَّت عطا فرمائی ، پیغمبری ان کی نسل میں رکھی ، کتابیں ان پیغمبروں کو عطا کیں جو ان کی اولاد میں ہیں اور ان کو خَلق میں محبوب و مقبول کیا کہ تمام اہلِ مِلَل و اَدیان ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور ان کی طرف نسبت فخر جانتے ہیں اور ان کے لئے اختتامِ دنیا تک درود مقرر کر دیا ، یہ تو وہ ہے جو دنیا میں عطا فرمایا ۔(ف69)جن کے لئے بڑے بلند درجے ہیں ۔
کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)
“What! You commit the immoral with males, and cut off the roads; and you speak evilly in your gatherings?” So his people had no answer except to say, “Bring the punishment of Allah upon us if you are truthful!”
क्या तुम मर्दों से बद फ़अली करते हो और राह मारते हो और अपनी मजलिस में बुरी बात करते हो तो उसकी क़ौम का कुछ जवाब न हुआ मगर ये कि बोले हम पर अल्लाह का अज़ाब लाओ अगर तुम सच्चे हो
Kya tum mardon se badfeeli karte ho aur raah maarte ho aur apni majlis mein buri baat karte ho, to us ki qoum ka kuch jawab nah hua magar ye ke bole hum par Allah ka azaab laao agar tum sachay ho
(ف71)راہ گیروں کو قتل کر کے ان کے مال لوٹ کر اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ مسافروں کے ساتھ بد فعلی کرتے تھے حتی کہ لوگوں نے اس طرف گزرنا موقوف کر دیا تھا ۔(ف72)جو عقلاً و عرفاً قبیح و ممنوع ہے جیسے گالی دینا ، فحش بکنا ، تالی اور سیٹی بجانا ، ایک دوسرے کے کنکریاں مارنا ، رستہ چلنے والوں پر کنکری وغیرہ پھینکنا ، شرا ب پینا ، تمسخُر اور گندی باتیں کرنا ، ایک دوسرے پر تھوکنا وغیرہ ذلیل افعال و حرکات جن کی قومِ لوط عادی تھی ، حضرت لوط علیہ السلام نے اس پر انہیں ملامت کی ۔(ف73)اس بات میں کہ یہ افعال قبیح ہیں اور ایسا کرنے والے پر عذاب نازِل ہو گا یہ انہوں نے براہِ استہزاء کہا جب حضرت لوط علیہ السلام کو اس قوم کے راہِ راست پر آنے کی کچھ امید نہ رہی تو آپ نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے (ف۷٦) بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے (ف۷۷) بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،
And when Our sent angels came with glad tidings to Ibrahim, they said, “We will surely destroy the people of that town; indeed its inhabitants are unjust.”
और जब हमारे फ़रिश्ते इब्राहीम के पास मुँहज़ा लेकर आए बोले हम जरूर इस शहर वालों को हلاک करेंगे बेशक इसके बसने वाले सत्मगार हैं,
Aur jab humare farishte Ibrahim ke paas mojda le kar aaye bole hum zaroor is shehar walon ko halaak kareinge, beshak is ke basne wale sitamgaron hain
(ف76)ان کے بیٹے اور پوتے حضرت اسحٰق و حضرت یعقوب علیہما السلام کا ۔ (ف77)اس شہر کا نام سدوم تھا ۔
کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو ، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)
He said, "Lut is in it!”; they said, “We know very well who all are there; we shall rescue him and his family, except his wife; she is of those who will stay behind.”
कहा इसमें तो लूत है फ़रिश्ते बोले हमें ख़ूब मालूम है जो कोई इसमें है, जरूर हम उसे और उसके घर वालों को नجات देंगे मगर उसकी औरत को, वो रह जाने वालों में है
Kaha is mein to Lut hai, farishte bole humein khoob maaloom hai jo koi is mein hai, zaroor hum use aur us ke ghar walon ko nijaat dein ge, magar us ki aurat ko, woh reh jaane walon mein hai
(ف78)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔(ف79)اور لوط علیہ السلام تو اللہ کے نبی اور اس کے برگزیدہ بندے ہیں ۔(ف80)یعنی لوط علیہ السلام کو ۔(ف81)عذاب میں ۔
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸٤) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
And when Our sent angels came to Lut, he was unhappy at their arrival and was depressed – and they said, “Do not fear or grieve; we will surely rescue you and your family, except your wife, who is of those who will stay behind.”
और जब हमारे फ़रिश्ते लूत के पास आए उनका आना उसे नागवार हुआ और उनके कारण दिल तंग हुआ और उन्होंने कहा न डरिए और न ग़म कीजिए बेशक हम आपको और आपके घर वालों को नجات देंगे मगर आपकी औरत वह रह जाने वालों में है,
Aur jab humare farishte Lut ke paas aaye un ka aana use naagwaar hua aur un ke sabab dil tang hua aur unhone kaha na darein aur na gham kijiye, beshak hum aap ko aur aap ke ghar walon ko nijaat dein ge, magar aap ki aurat woh reh jaane walon mein hai
(ف82)خوب صورت مہمانوں کی شکل میں ۔(ف83)قوم کے افعال و حرکات اور ان کی نالائقی کا خیال کر کے اس وقت فرشتوں نے ظاہر کیا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔(ف84)قوم سے ۔(ف85)ہمارا کہ قوم کے لوگ ہمارے ساتھ کوئی بے ادبی یا گستاخی کریں ہم فرشتے ہیں ہم لوگوں کو ہلاک کریں گے اور ۔
مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
And We sent towards Madyan, their fellowman Shuaib – he therefore said, “O my people! Worship Allah, and anticipate the Last Day, and do not roam the earth spreading turmoil.”
मदीना की तरफ उनके हम क़ौम शुआइब को भीजा तो उसने फरमाया, ऐ मेरी क़ौम! अल्लाह की बन्दगी करो और पिछले दिन की उम्मीद रखो और ज़मीन में फसाद फैलाते न फ़रो,
Madyan ki taraf un ke hum qoum Shu’ayb ko bheja to us ne farmaya, Ae meri qoum! Allah ki bandagi karo aur pichle din ki umeed rakho aur zameen mein fasad phailate na phiro
(ف87)یعنی روزِ قیامت کی ایسے افعال بجا لا کر جو ثوابِ آخرت کا باعث ہوں ۔
اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انھیں راہ سے روکا اور انھیں سوجھتا تھا (ف۹۲)
And We destroyed the A’ad and the Thamud, and you already know their dwellings; Satan made their deeds appear good to them and prevented them from the path, whereas they could perceive.
और आद और थमूद को हलक़ फरमाया और तुम्हें उनकी बस्तियाँ मालूम हो चुकी हैं और शैतान ने उनके क़ुतक उनकी निगाह में भले कर दिखाए और उन्हें राह से रोका और उन्हें सुझता था
Aur Aad aur Thamood ko halaak farmaaya aur tumhein un ki bastiyan maaloom ho chuki hain aur Shaytan ne un ke kotak un ki nigaah mein bhale kar dikhaye aur unhein raah se roka aur unhein soojhta tha
(ف89)اے اہلِ مکّہ ۔(ف90)حجر اور یمن میں جب تم اپنے سفر وں میں وہاں گزرے ہو ۔(ف91)کُفر و معاصی ۔(ف92)صاحبِ عقل تھے حق و باطل میں تمییز کر سکتے تھے لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا ۔
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹٤)
And (We destroyed) Qaroon, Firaun and Haman; and indeed Moosa came to them with clear signs, so they were arrogant in the land, and they could never escape from Our control.
और क़ारून और फ़िरौन और हामान को और बेशक उनके पास मूसा रोशन निशानियाँ लेकर आया तो उन्होंने ज़मीन में तक़ब्बर किया और वो हमसे निकल कर जाने वाले न थे
Aur Qarun aur Firaun aur Haman ko, aur beshak un ke paas Musa roshan nishaniyan le kar aaya to unhone zameen mein takabbur kiya aur woh hum se nikal kar jaane wale na the
(ف93)اللہ تعالٰی نے ہلاک فرمایا ۔(ف94)کہ ہمارے عذاب سے بچ سکتے ۔
تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹٦ ) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
So We caught each one upon his sin; so among them is one upon whom We sent a shower of stones; and among them is one who was seized by the Scream; and among them is one whom We buried in the earth, and among them is one whom We drowned; it did not befit Allah’s Majesty to oppress them, but they were wronging themselves.
तो उनमें हर एक को हमने उसके गुनाह पर पकड़ा तो उनमें किसी पर हमने पत्थराव भेजा और उनमें किसी को चंगाड़ ने आ लिया और उनमें किसी को ज़मीन में धंसा दिया और उनमें किसी को डुबो दिया और अल्लाह की शान न थी कि उनके ऊपर ज़ुल्म करे हाँ वो खुद ही अपनी जानों पर ज़ुल्म करते थे,
To un mein har ek ko hum ne us ke gunaah par pakda, to un mein kisi par hum ne pathrao bheja aur un mein kisi ko chinghaar ne aa liya aur un mein kisi ko zameen mein dhansa diya aur un mein kisi ko dooboo diya aur Allah ki shaan na thi ke un par zulm kare, haan woh khud hi apni jaanon par zulm karte the
(ف95)اور وہ قو مِ لوط تھی جن کو چھوٹے چھوٹے سنگریزوں سے ہلاک کیا گیا جو تیز ہوا سے ان پر لگتے تھے ۔(ف96)یعنی قومِ ثمود کہ ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔(ف97)یعنی قارون اور اس کے ساتھیوں کو ۔(ف98)جیسے قومِ نوح کو اور فرعون کو اور اس کی قو م کو ۔(ف99)وہ کسی کو بغیر گناہ کے عذاب میں گرفتار نہیں کرتا ۔(ف100)نافرمانیاں کر کے اور کُفر و طغیان اختیار کر کے ۔
ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰٤)
The example of those who choose masters other than Allah is like that of the spider; it makes the web its house; and indeed the weakest house of all is that of the spider; if only they knew.
उनकी मिसाल जिन्होंने अल्लाह के सिवा और मालिक बना लिए हैं मकड़ी की तरह है, उसने जाले का घर बनाया और बेशक सब घरों में कमजोर घर मकड़ी का घर किया अच्छा होता अगर जानते
Un ki misaal jin hone Allah ke siwa aur maalik bana liye hain makdi ki tarah hai, us ne jaale ka ghar banaya aur beshak sab gharon mein kamzor ghar makdi ka ghar kiya, achha hota agar jaante
(ف101)یعنی بُتوں کو معبود ٹھہرایا ہے ان کے ساتھ امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور واقع میں ان کے عجز و بے اختیاری کی مثال یہ ہے جو آگے ذکر فرمائی جاتی ہے ۔(ف102)اپنے رہنے کے لئے نہ اس سے گرمی دور ہو نہ سردی ، نہ گرد و غبار و بارش کسی چیز سے حفاظت ایسے ہی بُت ہیں کہ اپنے پوجاریوں کو نہ دنیا میں نفع پہنچا سکیں نہ آخرت میں کوئی ضرر پہنچا سکیں ۔(ف103)ایسے ہی سب دِینوں میں کمزور اور نکمّا دین بُت پرستوں کا دین ہے ۔ فائدہ : حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا اپنے گھروں سے مکڑیوں کے جالے دور کرو یہ ناداری کا باعث ہوتے ہیں ۔(ف104)کہ ان کا دین اس قدر نکمّا ہے ۔
اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انھیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)
And We illustrate these examples for mankind; and none except the knowledgeable understand them.
और ये मिसालें हम लोगों के लिए बयान फरमाते हैं, और उन्हें नहीं समझते मगर इल्म वाले
Aur ye misaalein hum logon ke liye bayan farmaate hain, aur unhein nahin samajhte magar ilm walay
(ف107)یعنی ان کے حسن و خوبی اور ان کے نفع اور فائدے اور ان کی حکمت کو علم والے سمجھتے ہیں جیسا کہ اس مثال نے مشرک اور موحِّد کا حال خوب اچھی طرح ظاہر کر دیا اور فرق واضح فرما دیا ۔ قریش کے کُفّار نے طنز کے طور پر کہا تھا کہ اللہ تعالٰی مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان فرماتا ہے اور اس پر انہوں نے ہنسی بنائی تھی ۔ اس آیت میں ان کا رد کر دیا گیا کہ وہ جاہل ہیں تمثیل کی حکمت کو نہیں جانتے ۔ مثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے اور جیسی چیز ہو اس کی شان ظاہر کرنے کے لئے ویسی ہی مثال مقتضائے حکمت ہے تو باطل اور کمزور دین کے ضعف و بطلان کے اظہار کے لئے یہ مثال نہایت ہی نافع ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے عقل و علم عطا فرمایا وہ سمجھتے ہیں ۔
اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), recite from the Book which has been sent down to you, and establish the prayer; indeed the prayer stops from indecency and evil; and indeed the remembrance of Allah is the greatest; and Allah knows all what you do.
ऐ महबूब! पढ़ो जो किताब तुम्हारी तरफ़ वही की गई और नमाज़ क़ायम फ़रमाओ, बेशक नमाज़ मना करती है बेहयाई और बुरी बात से और बेशक अल्लाह का ज़िक्र सबसे बड़ा और अल्लाह जानता है जो तुम करते हो,
Ae mehboob! Padho jo kitaab tumhari taraf wahi ki gayi aur namaz qaaim farmaao, beshak namaz mana karti hai behayai aur buri baat se aur beshak Allah ka zikr sab se bada aur Allah jaanta hai jo tum karte ho
(ف109)یعنی قرآن شریف کہ اس کی تلاوت عبادت بھی ہے اوراس میں لوگوں کے لئے پند و نصیحت بھی اور احکام و آداب و مکارمِ اخلاق کی تعلیم بھی ۔(ف110)یعنی ممنوعاتِ شرعیہ سے لہٰذا جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان برائیوں کو ترک کر دیتا ہے جن میں مبتلا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا تھا حضور سے اس کی شکایت کی گئی فرمایا اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دے گی چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہو گیا ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں ۔(ف111)کہ وہ افضل طاعات ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ عمل جو تمہارے اعمال میں بہتر اور ربّ کے نزدیک پاکیزہ تر ، نہایت بلند رتبہ اور تمہارے لئے سونے چاندی دینے سے بہتر اور جہاد میں لڑنے اور مارے جانے سے بہتر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا بے شک یارسولَ اللہ ، فرمایا وہ اللہ تعالٰی کا ذکر ہے ۔ ترمذی ہی کی دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ نے حضور سے دریافت کیا تھا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی کے نزدیک کن بندوں کا درجہ افضل ہے ؟ فرمایا بکثرت ذکر کرنے والوں کا صحابہ نے عرض کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا ؟ فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کُفّار و مشرکین کو یہاں تک مارے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے جب بھی ذاکرین ہی کا درجہ اس سے بلند ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں کو یاد کرنا بہت بڑا ہے اور ایک قول اس کی تفسیر میں یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا ذکر بڑا ہے بے حیائی اور بُری باتوں سے روکنے اور منع کرنے میں ۔
اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱٤) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
And O Muslims, do not argue with the People given the Book(s) except in the best manner – except (with) those among them who oppress, and say, “We believe in what has been sent down towards us and what has been sent towards you – and ours and your God is One, and we have submitted ourselves to Him.”
और ऐ मुसलमानो! किताबियों से न झगड़ो मगर बेहतर तरीका पर मगर वो जिन्होंने इन में से ज़ुल्म किया और कहो हम ईमान लाए इस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो तुम्हारी तरफ़ उतरा और हमारा तुम्हारा एक माबूद है और हम उसके हज़ूर गर्दन रखते हैं
Aur ae musalmano! Kitabiyon se na jhagdo, magar behtareen tareeqa par, magar woh jin hone in mein se zulm kiya aur kaho hum iman laaye is par jo hamari taraf utra aur jo tumhari taraf utra aur hamara tumhara ek maabood hai aur hum us ke huzoor gardan rakhte hain
(ف112)اللہ تعالٰی کی طرف اس کی آیات سے دعوت دے کر اور حُجّتوں پر آگاہ کر کے ۔(ف113)زیادتی میں حد سے گزر گئے ، عناد اختیار کیا ، نصیحت نہ مانی ، نرمی سے نفع نہ اٹھایا ان کے ساتھ غِلظت اور سختی اختیار کرو اور ایک قول یہ ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ جن لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایذا دی یا جنہوں نے اللہ تعالٰی کے لئے بیٹا اور شریک بتایا ان کے ساتھ سختی کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ ذمّی جزیہ ادا کرنے والوں کے ساتھ احسن طریقہ پر مجادلہ کرو مگر جنہوں نے ظلم کیا اور ذمّہ سے نکل گئے اور جزیہ کو منع کیا ان سے مجادلہ تلوار کے ساتھ ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے کُفّار کے ساتھ دینی امور میں مناظرہ کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور ایسے ہی علمِ کلام سیکھنے کا جواز بھی ۔(ف114)اہلِ کتاب سے جب وہ تم سے اپنی کتابوں کا کوئی مضمون بیان کریں ۔(ف115)حدیث شریف میں ہے جب اہلِ کتاب تم سے کوئی مضمون بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو یہ کہہ دو کہ ہم اللہ تعالٰی پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے تو اگر وہ مضمون انہوں نے غلط بیان کیا ہے تو اس کی تصدیق کے گناہ سے تم بچے رہو گے اور اگر مضمون صحیح تھا تو تم اس کی تکذیب سے محفوظ رہو گے ۔
اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱٦) تو وہ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
And this is how We sent down the Book to you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him); so those to whom We gave the Book believe in it; and some of these (polytheists) accept faith in it; and none except the disbelievers reject Our signs.
और ऐ महबूब! यूंही तुम्हारी तरफ़ किताब उतरी तो वो जिन्हें हमने किताब अता फ़रमाई इस पर ईमान लाते हैं, और कुछ इन में से हैं जो इस पर ईमान लाते हैं, और हमारी आयतों से मंकर नहीं होते मगर
Aur ae mehboob! Yunhi tumhari taraf kitaab utaari to woh jinhein hum ne kitaab aata farmaai is par iman laate hain, aur kuch in mein se hain jo is par iman laate hain, aur hamari aayaton se munkir nahin hote magar
(ف116)قرآنِ پاک ، جیسے ان کی طرف توریت وغیرہ اتاری تھیں ۔(ف117)یعنی جنہیں توریت دی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب ۔ فائدہ : یہ سورت مکّیہ ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب مدینہ میں ایمان لائے اللہ تعالٰی نے اس سے پہلے ان کی خبر دی یہ غیبی خبروں میں سے ہے ۔ (جمل)(ف118)یعنی اہلِ مکّہ میں سے ۔(ف119)جو کُفر میں نہایت سخت ہیں ۔ جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو یعنی جان بوجھ کر مُکرنا اور واقعہ بھی یہی تھا کہ یہود خوب پہچانتے تھے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالٰی کے سچّے نبی ہیں اور قرآن حق ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے عناداً انکار کیا ۔
اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
And you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were not reading any Book before it, nor writing with your right hand – if it were, the people of falsehood would surely have doubted.
और इससे पहले तुम कोई किताब न पढ़ते थे और न अपने हाथ से कुछ लिखते थे यूँ होता तो बातिल जरूर शक़ लाते
Aur is se pehle tum koi kitaab na padte the aur na apne haath se kuch likhte the, yun hota to baatil zaroor shak laate
(ف120)قرآن کے نازِل ہونے ۔(ف121)یعنی آپ لکھتے پڑھتے ہوتے ۔(ف122)یعنی اہلِ کتاب کہتے کہ ہماری کتابوں میں نبیٔ آخر الزماں کی صفت یہ مذکور ہے کہ وہ اُمّی ہوں گے نہ لکھیں گے نہ پڑھیں گے مگر انہیں اس شک کا موقع ہی نہ ملا ۔
بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲٤)
In fact they are clear verses in the hearts of those who have been given knowledge; and none deny Our verses except the unjust.
बल्कि वो रोशन आयतें हैं उनके सीनों में जिन्हें इल्म दिया गया
Balki woh roshan aayatein hain un ke seenon mein jin ko ilm diya gaya, aur hamari aayaton ka inkaar nahin karte magar zaalim
(ف123)ضمیرِ ھُوَ کا مرجع قرآن ہے اس صورت میں معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم روشن آیتیں ہیں جو عُلَماء اور حُفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ روشن آیت ہونے کے یہ معنٰی کہ وہ ظاہر الاعجاز ہیں اور یہ دونوں باتیں قرآنِ پاک کے ساتھ خاص ہیں اور کوئی ایسی کتاب نہیں جو معجِزہ ہو اور نہ ایسی کہ ہر زمانے میں سینوں میں محفوظ رہی ہو اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ھُوَ کی ضمیر کا مرجع سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قرار دے کر آیت کے یہ معنٰی بیان فرمائے کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صاحب ہیں ان آیاتِ بیّنات کے جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں اہلِ کتاب میں سے علم دیا گیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت پاتے ہیں ۔ (خازن)(ف124)یعنی یہودِ عنود کہ بعد ظہورِ معجزات کے جان پہچان کر عناداً منکِر ہوتے ہیں ۔
اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲٦) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
And they said, “Why did not signs come down to him from his Lord?” Say, “Signs are only with Allah; and I am purely a Herald of plain warning.”
और हमारी आयतों का इंकार नहीं करते मगर ज़ालिम
Aur bole kyon na utrein kuch nishaniyan in par, un ke Rab ki taraf se, tum farmao nishaniyan to Allah hi ke paas hain aur main to yehi saaf dar sunane wala hoon
(ف125)کُفّارِ مکّہ ۔(ف126)مثلِ ناقۂ حضرت صالح و عصائے حضرت موسٰی اور مائدۂ حضرت عیسٰی کے علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔(ف127)حسبِ حکمت جو چاہتا ہے نازِل فرماتا ہے ۔(ف128)نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کا اور اسی کا مکلّف ہوں اس کے بعد اللہ تعالٰی کُفّارِ مکّہ کے اس قول کا جواب ارشاد فرماتا ہے ۔
اور کیا یہ انھیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
Is it not enough for them that We have sent down the Book upon you, which is read to them? Indeed in it are mercy and advice for the Muslims.
और बोले क्यों न उतरीं कुछ निशानियाँ इन पर उनके रब की तरफ़ से तुम फ़रमाओ निशानियाँ तो अल्लाह ही के पास हैं और मैं तो यही साफ़ डर सुनाने वाला हूँ
Aur kya ye unhein bas nahin ke hum ne tum par kitaab utaari jo in par padhi jaati hai, beshak is mein rehmat aur naseehat hai iman walon ke liye
(ف129)معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم معجِزہ ہے ، انبیاءِ متقدّمین کے معجزات سے اتم و اکمل اور تمام نشانیوں سے طالبِ حق کو بے نیاز کرنے والا کیونکہ جب تک زمانہ ہے قرآنِ کریم باقی و ثابت رہے گا اور دوسرے معجزات کی طرح ختم نہ ہو گا ۔
تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is Sufficient as a Witness between me and you; He knows all what is in the heavens and in the earth; and those who accepted faith in falsehood and denied faith in Allah – it is they who are the losers.”
और क्या यह उन्हें बस नहीं कि हमने तुम पर किताब उतारी जो इन पर पढ़ी जाती है बेशक इसमें रहमत और नसीहत है ईमान वालों के लिए,
Tum farmao Allah bas hai mere aur tumhare darmiyan, gawah jaanta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, aur woh jo baatil par yaqeen laaye aur Allah ke munkir hue, wahi ghaate mein hain
(ف130)میرے صدقِ رسالت اور تمہاری تکذیب کا معجزات سے میری تائید فرما کر ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بےخبر ہوں گے،
And they urge you to hasten the punishment; and if a time had not been fixed, the punishment would have certainly come upon them; and it will indeed come upon them suddenly whilst they are unaware.
तुम फ़रमाओ अल्लाह बस है मेरे और तुम्हारे बीच गवाह जानता है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है, और वो जो बातिल पर यक़ीन लाए और अल्लाह के मंकर हुए वही घाटे में हैं,
Aur tum se azaab ki jaldi karte hain aur agar ek thehraayi muddat na hoti to zaroor un par azaab aa jaata aur zaroor un par achaanak aata jab woh be-khabar hote
(ف131)یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہمارے اوپر آسمان سے پتّھروں کی بارش کرائیے ۔(ف132)جو اللہ تعالٰی نے معیّن کی ہے اور اس مدّت تک عذاب کا مؤخّر فرمانا مقتضائے حکمت ہے ۔(ف133)اور تاخیر نہ ہوتی ۔
اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳٦)
O My bondmen who believe! Indeed My earth is spacious – therefore worship Me alone.
जिस दिन उन्हें ढांपेगा अज़ाब उनके ऊपर और उनके पैरों के नीचे से और फ़रमाएगा चखो अपने किए का मज़ा
Ae mere bando! Jo iman laaye, beshak meri zameen wasee hai to meri hi bandagi karo
(ف136)جس زمین میں بسہولت عبادت کر سکو معنٰی یہ ہیں کہ جب مومن کو کسی سرزمین میں اپنے دین پر قائم رہنا اور عبادت کرنا دشوار ہو تو چاہئے کہ وہ ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کرے جہاں آسانی سے عبادت کر سکے اور دین کی پابندی میں دشواریاں درپیش نہ ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت ضعفاءِ مسلمینِ مکّہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہیں وہاں رہ کر اسلام کے اظہار میں خطرے اور تکلیفیں تھیں اور نہایت ضیق میں تھے انہیں حکم دیا گیا کہ میری بندگی تو ضرور ہے یہاں رہ کر نہ کر سکو تو مدینہ شریف کو ہجرت کر جاؤ وہ وسیع ہے وہاں امن ہے ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
Every soul must taste death; then it is to Us that you will return.
ऐ मेरे बंदो! जो ईमान लाए बेशक मेरी ज़मीन वसीह है तो मेरी ही बन्दगी करो
Har jaan ko maut ka maza chakhna hai phir hamari hi taraf phirenge
(ف137)اور اس دارِ فانی کو چھوڑنا ہی ہے ۔(ف138)ثواب و عذاب اور جزائے اعمال کے لئے تو لازم ہے کہ ہمارے دین پر قائم رہو اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے ہجرت کرو ۔
اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انھیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
And those who believed and did good deeds – indeed We will, surely, place them on high positions in Paradise beneath which rivers flow, abiding in it for ever; what an excellent reward of the performers!
हर जान को मौत का मज़ा चखना है फिर हमारी ही तरफ़ फर्ना होगा
Aur beshak jo iman laaye aur achhe kaam kiye, zaroor hum unhein Jannat ke bala khanon par jagah denge jin ke neeche nahrein behti hongi, hamesha un mein rahenge, kya hi acha ajr kaam walon ka
وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱٤۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱٤۱)
Those who patiently endured and who rely only upon their Lord.
और बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए जरूर हम उन्हें जन्नत के बाला ख़ानों पर जगह देंगे जिनके नीचे नहरें बहती होंगी हमेशा उनमें रहेंगे, क्या ही अच्छा अज्र काम वालों का
Woh jin hone sabr kiya aur apne Rab hi par bharosa rakha
(ف140)سختیوں پر اور کسی شدّت میں اپنے دین کو نہ چھوڑا ، مشرکین کی ایذا سہی ، ہجرت اختیار کر کے دین کی خاطر وطن کو چھوڑنا گوارا کیا ۔(ف141)تمام امور میں ۔
اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱٤۲) اللہ روزی دیتا ہے انھیں اور تمہیں (ف۱٤۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱٤٤)
And many creatures walk upon the earth that do not carry their own sustenance; Allah provides the sustenance to them and to you; and only He is the All Hearing, the All Knowing.
वो जिन्होंने सब्र किया और अपने रब ही पर भरोसा रखा
Aur zameen par kitne hi chalne wale hain ke apni rozi saath nahin rakhte, Allah rozi deta hai unhein aur tumhein, aur wahi sunta jaanta hai
(ف142)شانِ نُزول : مکّۂ مکرّمہ میں مومنین کو مشرکین شب و روز طرح طرح کی ایذائیں دیتے رہتے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے مدینۂ طیّبہ کی طرف ہجرت کرنے کو فرمایا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم مدینہ شریف کو کیسے چلے جائیں نہ وہاں ہمارا گھر ، نہ مال ، کون ہمیں کھلائے گا ، کون پلائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ بہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اس کی انہیں قوّت نہیں اور نہ وہ اگلے دن کے لئے کوئی ذخیرہ جمع کرتے ہیں جیسے کہ بہائم ہیں طیور ہیں ۔(ف143)تو جہاں ہو گے وہی روزی دے گا تو یہ کیا پوچھنا کہ ہمیں کون کھلائے گا کون پلائے گا ساری خَلق کا اللہ رزّاق ہے ضعیف اور قوی مقیم اور مسافر سب کو وہی روزی دیتا ہے ۔(ف144)تمہارے اقوال اور تمہارے دل کی باتوں کو ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر تم اللہ تعالٰی پر توکُّل کرو جیسا چاہئے تو وہ تمہیں ایسی روزی دے جیسی پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے خالی پیٹ اٹھتے ہیں شام کو سیر واپس ہوتے ہیں ۔ (ترمذی)
اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱٤۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱٤٦)
And if you ask them, “Who created the heavens and the earth, and subjected the sun and the moon?”, they will surely say, “Allah”; so where are they reverting?
और ज़मीन पर कितने ही चलने वाले हैं कि अपनी रोज़ी साथ नहीं रखते अल्लाह रोज़ी देता है उन्हें और तुम्हें और वही सुनता जानता है
Aur agar tum in se poochho kisne banaye aasman aur zameen aur kaam mein lagaye suraj aur chaand, to zaroor kahenge Allah ne, to kahan oondhe jaate hain
(ف145)یعنی کُفّارِ مکّہ سے ۔(ف146)اور باوجود اس اقرار کے کس طرح اللہ تعالٰی کی توحید سے منحرف ہوتے ہیں ۔
اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱٤۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بےعقل ہیں (ف۱٤۸)
And if you ask them, “Who sent down the water from the sky, and with it revived the earth after its death?”, they will surely say, “Allah”; proclaim, “All praise is to Allah”; in fact most of them do not have any sense.
अल्लाह कुशादा करता है रज़क अपने बंदों में जिसे चाहे और तंगी फ़रमाता है जिसे चाहे, बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aur jo tum in se poochho kisne utaara aasman se paani, to us ke sabab zameen zinda kar di, mare peechhe zaroor kahenge Allah ne, tum farmao sab khubiyan Allah ko, balki in mein aksar be-aqal hain
(ف147)اس کے مقِر ہیں ۔(ف148)کہ باوجود اس اقرار کے توحید کے منکِر ہیں ۔
اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱٤۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
And this worldly life is nothing but pastime and game; indeed the abode of the Hereafter – that is indeed the true life; if only they knew.
और जो तुम इनसे पूछो किसने उतारा आसमान से पानी तो उसके سبب ज़मीन ज़िंदा कर दी मरे पीछे जरूर कहेंगे अल्लाह ने तुम फ़रमाओ सब खूबियाँ अल्लाह को, बल्कि इन में अक़सर बे अक़्ल हैं
Aur ye duniya ki zindagi to nahin, magar khel kood, aur beshak aakhirat ka ghar zaroor wahi sachi zindagi hai, kya acha tha agar jaante
(ف149)کہ جیسے بچّے گھڑی بھر کھیلتے ہیں کھیل میں دل لگاتے ہیں پھر اس سب کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں یہی حال دنیا کا ہے نہایت سریع الزوال ہے اور موت یہاں سے ایسا ہی جدا کر دیتی ہے جیسے کھیل والے بچّے منتشر ہو جاتے ہیں ۔(ف150)کہ وہ زندگی پائیدار ہے ، دائمی ہے ، اس میں موت نہیں ، زندگانی کہلانے کے لائق وہی ہے ۔(ف151)دنیا اور آخرت کی حقیقت ، تو دنیائے فانی کو آخرت کی جاودانی زندگی پر ترجیح نہ دیتے ۔
پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵٤) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
And when they board the ships they pray to Allah, believing purely in Him; so when He delivers them safely to land, they immediately begin ascribing partners (to Him)!
और ये दुनिया की ज़िंदगी तो नहीं मगर खेल कूद और बेशक आख़िरत का घर जरूर वही सच्ची ज़िंदगी है क्या अच्छा था अगर जानते
Phir jab kashti mein sawar hote hain, Allah ko pukarte hain ek isi aqeeda la kar, phir jab woh unhein khushki ki taraf bacha lata hai, tabhi shirk karne lagte hain
(ف152)اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو باوجود اپنے شرک و عناد کے بُتوں کو نہیں پکارتے بلکہ ۔(ف153)کہ اس مصیبت سے نَجات وہی دے گا ۔(ف154)اور ڈوبنے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔(ف155)زمانۂ جاہلیّت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بُتوں کوساتھ لے جاتے تھے جب ہوا مخالف چلتی اور کَشتی خطرہ میں آتی تو بُتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یاربّ یاربّ پکارنے لگتے اور امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔
کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵٦) اور برتیں ۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
In order to be ungrateful for Our favours; and to use the comforts; therefore they will soon come to know.
फिर जब कश्ती में सवार होते हैं अल्लाह को पुकारते हैं एक उसी अकीदा ला कर फिर जब वो उन्हें ख़श्क़ी की तरफ़ बचा लाता है तभी shirk करने लगते हैं
Ke nashukri karein hamari di hui ne'mat ki aur bartan, to ab jana chahte hain
(ف156)یعنی اس مصیبت سے نَجات کی ۔(ف157)اور اس سے فائدہ اٹھائیں بخلاف مومنینِ مخلصین کے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتے ہیں اور جب ایسی صورت پیش آتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے رہائی دیتا ہے تو اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں مگر کافِروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے ۔(ف158)نتیجہ اپنے کردار کا ۔
اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱٦۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱٦۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱٦۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱٦۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱٦٤) ناشکری کرتے ہیں،
Did they not observe that We have created a refuge in the Sacred Land, and people around them are snatched away? So do they believe in falsehood and are ungrateful for the favours of Allah?
कि नाशकरी करें हमारी दी हुई नेमत की और बरतें। तो अब जाना चाहते हैं,
Aur kya unhone ye na dekha ke hum ne haramat wali zameen panah banai aur unke aas paas wale log achak liye jaate hain, to kya baatil par yaqeen laate hain aur Allah ki di hui ne'mat se nashukri karte hain
(ف159)یعنی اہلِ مکّہ نے ۔(ف160)ان کے شہر مکّۂ مکرّمہ کی ۔(ف161)ا ن کے لئے جو اس میں ہوں ۔(ف162)قتل کئے جاتے ہیں گرفتار کئے جاتے ہیں ۔(ف163)یعنی بُتوں پر ۔(ف164)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اور اسلام سے کُفر کر کے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱٦۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱٦٦) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱٦۷)
And who is more unjust than one who fabricates lies against Allah, or denies the truth* when it comes to him? Is there not a place in hell for disbelievers? (* The Holy Prophet and / or the Holy Qur’an).
और क्या उन्होंने यह न देखा कि हमने हरमत वाली ज़मीन पनाह बनाई और उनके आस पास वाले लोग अच्छक लिए जाते हैं तो क्या बातिल पर यक़ीन लाते हैं और अल्लाह की दी हुई नेमत से नाशकरी करते हैं,
Aur is se barh kar zaalim kaun, jo Allah par jhoot baandhe ya haq ko jhuthlaaye, jab woh us ke paas aaye, kya Jahannam mein kaafiron ka thikana nahin
(ف165)اس کے لئے شریک ٹھہرائے ۔(ف166)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور قرآن کو نہ مانے ۔(ف167)بے شک تمام کافِروں کا ٹھکانا جہنّم ہی ہے ۔
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے (ف۱٦۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱٦۹)
And those who strove in Our way – We shall surely show them Our paths; and indeed Allah is with the virtuous.
और इससे बढ़कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूठ बाँधे या हक़ को झटला दे जब वो उसके पास आए, क्या जहन्नम में काफ़िरों का ठिकाना नहीं
Aur jin hone hamari raah mein koshish ki, zaroor hum unhein apne raste dikhayenge aur beshak Allah nekon ke saath hai",
(ف168)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ حضرت جنید نے فرمایا جو توبہ میں کوشش کریں گے انہیں اخلاص کی راہ دیں گے ۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا جو طلبِ علم میں کوشش کریں گے انہیں ہم عمل کی راہ دیں گے ۔ حضرت سعد بن عبداللہ نے فرمایا جو اقامتِ سنّت میں کوشش کریں گے ہم انہیں جنّت کی راہ دکھا دیں گے ۔(ف169)ان کی مدد اور نصرت فرماتا ہے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page