اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں (ف۲) آپ زندہ اور ونکا قائم رکھنے والا،
Allah – none is worthy of worship, except Him, He is Alive (eternally, on His own) and the Upholder (keeps others established).
अल्लाह है जिस के सवा किसी की पूजा नहीं आप ज़िन्दा औरों का क़ायम रखने वाला,
Allah hai jis ke siwa kisi ki pooja nahin, aap zinda auron ka qaim rakhne wala,
(ف2)شان نزول: مفسرین نے فرمایا :کہ یہ آیت وفد نجران کے حق میں نازل ہوئی جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا اس میں چودہ سردار تھے اور تین اس قوم کے بڑے اکابر و مقتدا ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم تھا اور بغیر اس کی رائے کے نصارٰی کوئی کام نہیں کرتے تھے دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسرِ اعلیٰ تھا خوردو نوش اور رسدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے ہوتے تھے تیسرا ابو حارثہ ابن علقمہ تھا یہ شخص نصارٰی کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا سلاطین روم اس کے علم اور اس کے دینی عظمت کے لحاظ سے اس کا اکرام و ادب کرتے تھے یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتیں پوشاکیں پہن کر بڑی شان و شکوہ سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے قصد سے آئے اور مسجد اقدس میں داخل ہوئے حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد شریف ہی میں جانب شرق متوجہ ہو کر نماز شروع کردی فراغ کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو شروع کی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا :تم اسلام لاؤ کہنے لگے ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا یہ غلط ہے یہ دعوٰی جھوٹا ہے تمہیں اسلام سے تمہارا یہ دعوٰی روکتا ہے کہ اللہ کے اولاد ہے اور تمہاری صلیب پرستی روکتی ہے اور تمہارا خنزیر کھانا روکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت ہے اس کے لئے موت محال ہے اور عیسےٰعلیہ الصلوٰۃ و التسلیمات پر موت آنے والی ہے انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب بندوں کا کار ساز اور انکا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہےانہوں نے کہا ہاں حضور نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ بھی ایسے ہی ہیں کہنے لگے نہیں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰے پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں انہوں نے اقرار کیا حضور نے فرمایاکہ حضرت عیسیٰ بغیر تعلیم الٰہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں حضور نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ حمل میں رہے پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے بچوں کی طرح غذا دیئے گئے کھاتے پیتے تھے عوارضِ بشری رکھتے تھے انہوں نے اس کا اقرار کیا حضور نے فرمایاپھر وہ کیسے اِلٰہ ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے اس پر وہ سب ساکت رہ گئے اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اس پر سور ۂ آل عمران کی اوّل سے کچھ اوپراسی ۸۰ آیتیں نازل ہوئیں فائدہ صفات الٰہیہ میں حی بمعنی دائم باقی کے ہے یعنی ایسا ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دُنیوی اور اُخروی زندگی میں جوحاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے۔
اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،
He has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this true Book (the Holy Qur’an), confirming the Books before it, and He sent down the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible). –
उस ने तुम पर ये सच्ची किताब उतारी अगली किताबों की तसदीक़ फ़रमाती और उस ने उस से पहले तौरेत और इन्जील उतारी,
Usne tum par ye sachi kitaab utari, agli kitabon ki tasdiq farmati, aur usne is se pehle Taurat aur Injeel utari,
لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا، بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے (ف۳ ) ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے،
Before this, a guidance to mankind; and sent down the Judgement (Criterion to judge between right and wrong); indeed for those who disbelieved in the verses of Allah, is a severe punishment; and Allah is the Almighty, the Avenger (of the wrong).
लोगों को राह दिखाती और फ़ैसला उतारा, बेशक वो जो अल्लाह की आयतों से मुनकर हुए उन के लिये सख़्त अज़ाब है और अल्लाह ग़ालिब बदला लेने वाला है,
Logon ko raah dikhati aur faisla utara, beshak woh jo Allah ki aayaton se munkir hue unke liye sakht azaab hai, aur Allah ghaalib badla lene wala hai,
وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے (ف٤) اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا (ف۵)
It is He Who fashions (moulds) you in your mothers’ wombs as He wills; none is worthy of worship except Him, the Almighty (the Most Honourable), the Wise.
वही है कि तुम्हारी तसवीर बनाता है माँओं के पेट में जैसी चाहे उस के सवा किसी की इबादत नहीं इज़्ज़त वाला हिकमत वाला
Wohi hai jo tumhari tasveer banata hai maaon ke pait mein jaisi chahe, uske siwa kisi ki ibadat nahin, izzat wala hikmat wala,
(ف4)مرد ۔ عورت ۔گورا، کالا، خوب صورت بدشکل وغیرہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتمہارا مادۂ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن علقہ یعنی خونِ بستہ کی شکل میں ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن پارۂ گوشت کی صورت میں رہتا ہے پھر اللہ تعالٰے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق اس کی عمر اس کے عمل اس کا انجام کار یعنی اس کی سعادت و شقاوت لکھتا ہے پھر اس میں روح ڈالتا ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں آدمی جنّتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں ہاتھ بھر کا یعنی بہت ہی کم فرق رہ جاتا ہے تو کتاب سبقت کرتی ہے اور وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے،اسی پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور داخل جہنّم ہوتاہے اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے پھر کتاب سبقت کرتی ہے اور اس کی زندگی کا نقشہ بدلتا ہے اور وہ جنّتیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے اسی پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور داخل جنت ہو جاتا ہے(ف5)اس میں بھی نصارٰی کا رد ہے جو حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو خدا کا بیٹا کہتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں (ف٦) وہ کتاب کی اصل ہیں (ف۷) اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے (ف۸) وہ جن کے دلوں میں کجی ہے (ف۹) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں (ف۱۰) گمراہی چاہنے (ف۱۱) اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو (ف۱۲) اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے (ف۱۳) اور پختہ علم والے (ف۱٤) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۵) سب ہمارے رب کے پاس سے ہے (ف۱٦) اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (ف۱۷)
It is He Who has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this Book (the Qur’an) containing the verses that have a clear meaning – they are the core of the Book – and other verses the meanings of which are indistinct; those in whose hearts is deviation pursue the verses having indistinct meanings, in order to cause turmoil and seeking its (wrongful) interpretation; and only Allah knows its proper interpretation; and those having sound knowledge say, “We believe in it, all of it is from our Lord”; and none accept guidance except the men of understanding.
वही है जिस ने तुम पर ये किताब उतारी उस की कुछ आयतें साफ़ मअनी रखती हैं वो किताब की असल हैं और दूसरी वो हैं जिन के मअनी में इश्तिबाह है वो जिन के दिलों में क़जी है वो इश्तिबाह वाली के पीछे पड़ते हैं गुमराही चाहने और उस का पहलू ढूँढने को और उस का ठीक पहलू अल्लाह ही को मालूम है और पुख़्ता इल्म वाले कहते हैं हम इस पर ईमान लाये सब हमारे रब के पास से है और नसीहत नहीं मानते मगर अक़्ल वाले
Wohi hai jisne tum par ye kitaab utari, iski kuch aayatein saaf maani rakhti hain, woh kitaab ki asal hain, aur doosri woh hain jin ke maani mein ishtibaah hai, woh jinke dilon mein kaji hai woh ishtibaah wali ke peechhe padte hain gumraahi chahne aur uska pehlu dhoondhne ko, aur uska theek pehlu Allah hi ko maaloom hai, aur pukhta ilm wale kehte hain hum is par imaan laaye, sab hamare Rab ke paas se hai, aur naseehat nahin maante magar aqal wale,
(ف6)جس میں کوئی احتمال و اشتباہ نہیں۔(ف7)کہ احکام میں ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور حلال و حرام میں انہیں پر عمل۔(ف8)وہ چند وجوہ کا احتمال رکھتی ہیں ان میں سے کون سی وجہ مراد ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے یا جس کو اللہ تعالیٰ اسکا علم دے۔(ف9)یعنی گمراہ اور بدمذہب لوگ جو ہوائے نفسانی کے پابند ہیں۔(ف10)اور اس کے ظاہر پر حکم کرتے ہیں یا تاویل باطل کرتے ہیں اور یہ نیک نیتی سے نہیں بلکہ (جمل)(ف11)اور شک و شبہ میں ڈالنے (جمل)(ف12)اپنی خواہش کے مطابق باوجودیکہ وہ تاویل کے اہل نہیں(جمل و خازن) (ف13)حقیقت میں (جمل) اور اپنے کرم و عطا سے جس کو وہ نوازے(ف14)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں راسخین فی العلم سے ہوں اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں ان میں سے ہوں جو متشابہ کی تاویل جانتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ راسخ فی العلم وہ عالم باعمل ہے جو اپنے علم کا متبع ہو اور ایک قول مفسرین کا یہ ہے کہ ر اسخ فی العلم وہ ہیں جن میں چار صفتیں ہوں۔تقوٰی اللہ کا۔تواضع لوگوں سے زُہددنیا سےمجاہدہ نفس کے ساتھ (خازن)(ف15)کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو معنی اس کی مراد ہیں حق ہیں اور اس کا نازل فرمانا حکمت ہے(ف16)محکم ہو یا متشابہ۔(ف17)اور راسخ علم والے کہتے ہیں۔
اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے (ف۱۸) اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں (ف۱۹) بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (ف۲۰)
“Our Lord! Indeed You will gather all mankind for a Day about which there is no doubt"; indeed Allah’s promise does not change.
ऐ रब हमारे बेशक तू सब लोगों को जमा करने वाला है उस दिन के लिये जिस में कोई शक नहीं बेशक अल्लाह का वादा नहीं बदलता
Aye Rab hamare, beshak tu sab logon ko jama karne wala hai us din ke liye jismein koi shakk nahin, beshak Allah ka waada nahin badalta,
(ف18)حساب یا جزا کے واسطے(ف19)وہ روزِ قیامت ہے(ف20)تو جس کے دل میں کجی ہو وہ ہلاک ہوگا اور جو تیرے منت واحسان سے ہدایت پائے وہ سعید ہوگا نجات پائے گا مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کذب منافی الوہیت ہے لہذا حضرت قدوس قدیر کا کذب محال اور اس کی طرف اس کی نسبت سخت بے ادبی (مدارک وابومسعو د وغیرہ)
بیشک وہ جو کافر ہوئے (ف۲۱) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں ،
Indeed for those who disbelieve, neither their wealth nor their offspring will help to save them in the least from Allah; and it is they who are fuel for the fire.
बेशक वो जो काफ़िर हुए उन के माल और उन की औलाद अल्लाह से उन्हें कुछ न बचा सकेंगे और वही दोज़ख़ के ईंधन हैं,
Beshak woh jo kafir hue unke maal aur unki aulaad Allah se unhe kuch na bacha sakenge aur wohi dozakh ke eindhan hain,
(ف21)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منحرف ہو کر
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت ،
Like the way of Firaun’s people, and those before them; they denied Our signs; so Allah seized them because of their sins; and Allah’s punishment is severe.
जैसे फिरऔन वालों और उन से अगलों का तरीक़ा, उन्होंने हमारी आयतें झटलायीं तो अल्लाह ने उन के गुनाहों पर उन को पकड़ा और अल्लाह का अज़ाब सख़्त,
Jaise Firaun walon aur unse aglon ka tareeqa, unhone hamari aayatein jhutaayin, to Allah ne unke gunahon par unko pakda aur Allah ka azaab sakht,
فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے (ف۲۲) اور وہ بہت ہی برا بچھونا،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to the disbelievers, “Very soon you shall be overcome and driven towards hell; and that is a wretched resting-place.”
फ़रमा दो, काफ़िरों से कोई दम जाता है कि तुम मग़लूब होगे और दोज़ख़ की तरफ़ हाँके जाओगे और वो बहुत ही बुरा बिछौना,
Farma do, kafiron se koi dam jaata hai ke tum maghloob hoge aur dozakh ki taraf haanke jaoge aur woh bahut hi bura bichhona,
(ف22)شان نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس ہوئے تو حضور نے یہود کو جمع کرکے فرمایاکہ تم اللہ سے ڈرو اور اس سے پہلے اسلام لاؤ کہ تم پر ایسی مصیبت نازل ہو جیسی بدر میں قریش پر ہوئی تم جان چکے ہو میں نبی مرسل ہوں تم اپنی کتاب میں یہ لکھا پاتے ہو اس پر انہوں نے کہا کہ قریش تو فنونِ حرب سے نا آشنا ہیں اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں خبر دی گئی کہ وہ مغلوب ہوں گے اور قتل کئے جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے ان پر جِزیہ مقرر ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز میں چھ سو کی تعداد کو قتل فرمایا اور بہتوں کو گرفتار کیا اور اہلِ خیبر پر جِزیہ مقرر فرمایا۔
بیشک تمہارے لئے نشانی تھی (ف۲۳) دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے (ف۲٤) ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا (ف۲۵) اور دوسرا کافر (ف۲٦) کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے (ف۲۷) بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،
Indeed there was a sign for you in the two groups that clashed; one army fighting in Allah's cause, against the other of disbelievers, whom they (the Muslims) saw with their eyes, as twice their own number; and Allah strengthens with His help whomever He wills; indeed in this is a lesson for the intelligent, to be learnt by observing.
बेशक तुम्हारे लिये निशानी थी दो गिरोहों में जो आपस में भिड़ पड़े एक जत्था अल्लाह की राह में लडता और दूसरा काफ़िर कि उन्हें आँखों देखा अपने से दूना समझें, और अल्लाह अपनी मदद से ज़ोर देता है जिसे चाहता है बेशक इस में अक़्लमंदों के लिये ज़रूर देखकर सीखना है,
Beshak tumhare liye nishani thi do grohon mein jo aapas mein bhar paday, ek jatha Allah ki raah mein ladta aur doosra kafir, ke unhein aankhon dekha apne se doona samjhein, aur Allah apni madad se zor deta hai jise chahta hai, beshak ismein aqalmando ke liye zaroor dekh kar seekhna hai,
(ف23)اس کے مخاطب یہود ہیں اور بعض کے نزدیک تمام کفار اور بعض کے نزدیک مومنین (جمل) (ف24) جنگ بدر میں ۔(ف25)یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب ان کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی ستتّر مہاجر اور دو سو چھتیس انصار مہاجرین کے صاحبِ رابیت حضرت علی مرتضےٰ تھے اور انصار کے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہمااس کل لشکر میں دو گھوڑے ستر اونٹ اور چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں اور اس واقعہ میں چودہ صحابہ شہید ہوئے چھ مہاجر اور آٹھ انصار(ف26)کفار کی تعداد نو سو پچاس تھی ان کاسردار عتبہ بن ربیعہ تھا اور انکے پاس سو(۱۰۰) گھوڑے تھے اورسات سو اونٹ اور بکثرت زرہ اور ہتھیار تھے (جمل)(ف27)خواہ اس کی تعداد قلیل ہی ہو اور سروسامان کی کتنی ہی کمی ہو۔
لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت (ف۲۸) عورتوں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندے کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے (ف۲۹) اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا (ف۳۰)
Beautified is for mankind the love of these desires – women, and sons, and heaps of gold and piled up silver, and branded horses, and cattle and fields; this is the wealth of the life of this world; and it is Allah, with Whom is the excellent abode.
लोगों के लिये आरास्ता की गयी इन ख़्वाहिशों की मोहब्बत औरतों और बेटे और तले ऊपर सोने चाँदी के ढेर और निशान किये हुए घोड़े और चौपाये और खेती ये जीती दुनिया की पूँजी है और अल्लाह है जिस के पास अच्छा ठिकाना
Logon ke liye aaraasta ki gayi un khwahishon ki muhabbat auraton aur betay aur tale upar sone chandi ke dhair aur nishaan kiye huye ghode aur chaupaye aur kheti, ye jeeti duniya ki ponji hai aur Allah hai jiske paas achha thikana,
(ف28)تاکہ شہوت پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق و امتیاز ظاہر ہو جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا اِنَّا جَعَلْنَامَاعَلَی الاَرۡضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔(ف29)اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر فنا ہوجاتی ہے انسان کو چاہئے کہ متاع دنیا کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور سعادتِ آخرت ہو۔(ف30)جنّت تو چاہیٔے کہ اس کی رغبت کی جائے اور دُنیاۓناپائیدار کی فانی مرغوبات سے دل نہ لگایا جائے۔
تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے (ف۳۱) بہتر چیز بتادوں پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں (ف۳۲) اور اللہ کی خوشنودی (ف۳۳) اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۳٤)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall I inform you of something better than that? For the pious, with their Lord, are Gardens beneath which rivers flow – they will abide in it forever – and pure wives, and Allah’s pleasure”; and Allah sees the bondmen.
तुम फ़रमाओ क्या मैं तुम्हें उस से बेहतर चीज़ बता दूँ परहेज़गारों के लिये उन के रब के पास जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें रवाँ हमेशा उन में रहेंगे और सुथरी बीबियाँ और अल्लाह की ख़ुशनूदी और अल्लाह बन्दों को देखता है
Tum farmaao kya main tumhein is se behtar cheez bata doon? Parhezgaron ke liye unke Rab ke paas jannatein hain jinke neeche nahrein rawan, hamesha unmein rahenge, aur suthri beewiyan aur Allah ki khushnudi, aur Allah bandon ko dekhta hai,
(ف31)متاع دنیا سے۔(ف32)جو زنانہ عوارض اور ہر ناپسند و قابلِ نفرت چیز سے پاک۔(ف33)اور یہ سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔(ف34)ا ور ان کے اعمال و احوال جانتا اور ان کی جزا دیتا ہے۔
صبر والے (ف۳۵) اور سچے (ف۳٦) اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے (ف۳۷)
The steadfast, and the truthful, and the reverent, and who spend in Allah's cause, and who seek forgiveness in the last hours of the night (before dawn).
सब्र वाले और सच्चे और अदब वाले और राह-ए-ख़ुदा में ख़र्चने वाले और पिछले पहर से माफ़ी माँगने वाले
(ف35)جو طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کریں اور گناہوں سے باز رہیں۔(ف36)جن کے قول اور ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوں۔(ف37)اس میں آخر شب میں نماز پڑھنے والے بھی داخل ہیں اور وقت سحر کے دعا و استغفار کرنے والے بھی یہ وقت خلوت واجابت دعا کا ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ مُرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سحر سے ندا کرے اور تم سوتے رہو
اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۳۸) اور فرشتوں نے اور عالموں نے (ف۳۹) انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا ،
Allah has given witness that there is none worthy of worship (God) except Him – and the angels and the scholars also give witness, established with justice (with truth) – there is no God except Him, the Almighty, the Wise.
और अल्लाह ने गवाही दी कि उस के सवा कोई माबूद नहीं और फ़रिश्तों ने और आलमों ने इंसाफ़ से क़ायम हो कर उस के सवा किसी की इबादत नहीं इज़्ज़त वाला हिकमत वाला,
Aur Allah ne gawahi di ke uske siwa koi ma’bood nahin, aur farishton ne aur aalimon ne insaaf se qaim ho kar, uske siwa kisi ki ibadat nahin, izzat wala hikmat wala,
(ف38)شان نزول احبار شام میں سے دو شخص سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے ، جو اس شہر میں پائی جاتی ہے جب آستانہ اقدس پر حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور کے شکل و شمائل توریت کے مطابق دیکھ کر حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا آپ محمد ہیں حضور نے فرمایا ہاں،پھر عرض کیا کہ آپ احمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرمایا ہاں، عرض کیا ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے فرمایا سوال کرو انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کو سن کر وہ دونوں حِبر مسلمان ہوگئے حضرت سعید بن جُبَیْر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کعبہ معظمہ میں تین سو ساٹھ بت تھے جب مدینہ طیبہ میں یہ آیت نازل ہوئی تو کعبہ کے اندر وہ سب سجدہ میں گر گئے۔(ف39)یعنی انبیاء و اولیاء نے ۔
بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف٤۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف٤۱) مگر اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف٤۲) اپنے دلوں کی جلن سے (ف٤۳) اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،
Indeed the only true religion in the sight of Allah is Islam; those who had received the Books differed only after the knowledge came to them, due to their hearts’ envy; and whoever disbelieves in the signs of Allah, then Allah is Swift At Taking Account.
बेशक अल्लाह के यहाँ इस्लाम ही दीन है और फूट में न पड़े किताबी मगर उस के कि उन्हें इल्म आ चुका अपने दिलों की जलन से और जो अल्लाह की आयतों का मुनकर हो तो बेशक अल्लाह जल्द हिसाब लेने वाला है,
Beshak Allah ke yahaan Islam hi deen hai, aur phoot mein na paday kitabi magar iske ke unhe ilm aa chuka apne dilon ki jalan se, aur jo Allah ki aayaton ka munkir ho to beshak Allah jald hisaab lene wala hai,
(ف40)اس کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں یہود و نصارٰی وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعوٰے کو باطل کردیا۔(ف41)یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں وارد ہوئی جنہوں نے اسلام کو چھوڑا اور انہوں نے سیّد انبیاء محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت میں اختلاف کیا۔(ف42)وہ اپنی کتابوں میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ چکے اور انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ نبی ہیں جن کی کتبِ الٰہیہ میں خبریں دی گئی ہیں۔(ف43)یعنی ان کے اختلاف کا سبب ان کا حسد اور منافع دنیویہ کی طمع ہے۔
پھر اے محبوب! اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے (ف٤٤) اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ (ف٤۵) کیا تم نے گردن رکھی (ف٤٦) پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے (ف٤۷) اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے،
Then if they argue with you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “I have submitted my face (self) to Allah and likewise have my followers”; and say to the People given the Book(s) and the illiterate, “Have you submitted (accepted Islam)?” If they submit, they have attained the right path – and if they turn away (reject), then your duty is only to convey this command; and Allah is seeing the bondmen.
फिर ऐ महबूब! अगर वो तुम से हुज्जत करें तो फ़रमा दो मैं अपना मुँह अल्लाह के हुज़ूर झुकाये हूँ और जो मेरे पीरो हुए और किताबियों और अनपढ़ों से फ़रमाओ क्या तुम ने गर्दन रखी पस अगर वो गर्दन रखें जब तो राह पा गये और अगर मुँह फेरीं तो तुम पर तो यही हुक्म पहुँचाना है और अल्लाह बन्दों को देख रहा है,
Phir aye mehboob, agar woh tum se hujjat karein to farma do main apna munh Allah ke huzoor jhukaaye hoon aur jo mere peero hue, aur kitabon walon aur an parhon se farmaao kya tumne gardan rakhi? Pas agar woh gardan rakhein to raah pa gaye, aur agar munh pherain to tum par to yahi hukum pahuncha dena hai, aur Allah bandon ko dekh raha hai,
(ف44)یعنی میں اور میرے متبعین ہمہ تن اللہ تعالےٰ کے فرمانبردار اور مطیع ہیں ہمارا دین دینِ توحید ہے جس کی صحت تمہیں خود اپنی کتابوں سے بھی ثابت ہو چکی ہے تو اس میں تمہارا ہم سے جھگڑا کرنابالکل باطل ہے(ف45)جتنے کافر غیر کتابی ہیں وہ اُمیّین میں داخل ہیں انہیں میں سے عرب کے مشرکین بھی ہیں۔(ف46)اور دین اسلام کے حضور سر نیاز خم کیا یا باوجود براہین بیّنہ قائم ہونے کے تم ابھی تک اپنے کفر پر ہو یہ دعوت ِ اسلام کا ایک پیرایہ ہے اور اس طرح انہیں دینِ حق کی طرف بلایا جاتا ہے(ف47)وہ تم نے پورا کر ہی دیا اس سے انہوں نے نفع نہ اٹھایا تو نقصان میں وہ رہے اس میں حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر ہے کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں۔
وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے (ف٤۸) اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی ،
Those who disbelieve in the signs of Allah, and wrongfully martyr the Prophets, and slay people who enjoin justice – so give them the glad tidings of a painful punishment.
वो जो अल्लाह की आयतों से मुनकर होते और पैग़म्बरों को नाहक़ शहीद करते और इंसाफ़ का हुक्म करने वालों को क़त्ल करते हैं उन्हें खुशख़बरी दो दर्दनाक अज़ाब की,
Woh jo Allah ki aayaton se munkir hote aur paighambaron ko na-haq shaheed karte aur insaaf ka hukum karne walon ko qatl karte hain, unhein khushkhabri do dardnaak azaab ki,
(ف48)جیسا کہ بنی اسرائیل نے صبح کو ایک ساعت کے اندر تینتالیس(۴۳) نبیوں کو قتل کیا پھر جب ان میں سے ایک سو بارہ عابدوں نے اٹھ کر انہیں نیکیوں کا حکم دیااور بدیوں سے منع کیا تو اسی روز شام کو انہیں بھی قتل کردیا اس آیت میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے یہود کو تو بیخ ہے کیونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے ایسے بدترین فعل سے راضی ہیں
یہ ہیں وہ جنکے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں (ف٤۹) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۵۰)
They are those whose deeds are wasted in this world and in the Hereafter; and they do not have any aides.
ये हैं वो जिन के आमाल अकारत गये दुनिया व आख़िरत में और उन का कोई मददगार नहीं
Ye hain woh jinke aamaal akarat gaye duniya o aakhirat mein, aur unka koi madadgaar nahin,
(ف49)مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بے ادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کُفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں(ف50)کہ انہیں عذابِ الٰھی سے بچائے۔
کیا تم نے انہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا (ف۵۱) کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہو کر پھر جاتا ہے (ف۵۲)
Did you not see them who have received a part of the Book – when called towards the Book of Allah for judging between them, a group of them opposes it and turns away?
क्या तुम ने उन्हें देखा जिन को किताब का एक हिस्सा मिला किताब अल्लाह की तरफ़ बुलाये जाते हैं कि वो उन का फ़ैसला करे फिर उन में का एक गिरोह उस से रुग़र्दाँ हो कर फिर जाता है
Kya tumne unhein dekha jinhin kitaab ka ek hissa mila? Kitaab Allah ki taraf bulaye jaate hain ke woh unka faisla kare, phir unmein ka ek groh usse roogardaan ho kar phir jaata hai,
(ف51)یعنی یہود کو کہ انہیں توریت شریف کے علوم و احکام سکھائے گئے تھے جن میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف و احوال اور دینِ اسلام کی حقانیت کا بیان ہے اس سے لازم آتا تھا کہ جب حضور تشریف فرما ہوں اور انہیں قرآنِ کریم کی طرف دعوت دیں تو وہ حضور پر اور قرآن شریف پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں لیکن ان میں سے بہتوں نے ایسا نہیں کیا اس تقدیر پر آیت میں مِنَ الْکِتَابِ سے توریت اور کتاب اللہ سے قرآن شریف مراد ہے۔(ف52)شان نزول اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ آئی ہے کہ ایک مرتبہ سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بیت المِدراس میں تشریف لے گئے اور وہاں یہود کو اسلام کی دعوت دی نُعَیۡم ابن عمرو اور حارث ابن زید نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کس دین پر ہیں فرمایا، ملّتِ ابراہیمی پر وہ کہنے لگے حضرت ابراہیم علیہ السلام تو یہودی تھے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توریت لاؤ ابھی ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ ہوجائے گا اس پر نہ جمے اور منکر ہوگئے اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی اس تقدیر پر آیت میں کتاب اللہ سے توریت مراد ہے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ یہود خیبر میں سے ایک مر دنے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور توریت میں ایسے گناہ کی سزا پتھر مار مار کر ہلاک کردینا ہے لیکن چونکہ یہ لوگ یہودیوں میں اونچے خاندان کے تھے اس لئے انہوں نے ان کا سنگسار کرنا گوارہ نہ کیا اوراس معاملہ کو بایں امید سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس لائے کہ شایدآپ سنگسار کرنے کا حکم نہ دیں مگر حضور نے ان دونوں کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر یہود طیش میں آئے اور کہنے لگے کہ اس گناہ کی یہ سزا نہیں آپ نے ظلم کیا ، حضور نے فرمایا کہ فیصلہ توریت پر رکھو کہنے لگے یہ انصاف کی بات ہے توریت منگائی گئی اور عبداللہ بن صوریا یہود کے بڑے عالم نے اس کو پڑھا اس میں آیت رجم آئی جس میں سنگسار کرنے کا حکم تھا عبداللہ نے اس پر ہاتھ رکھ لیا اور اس کو چھوڑ گیا حضرت عبداللہ بن سلام نے اس کا ہاتھ ہٹا کر آیت پڑھ دی یہودی ذلیل ہوئے اور وہ یہودی مرد و عورت جنہوں نے زنا کیا تھا حضور کے حکم سے سنگسار کئے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ جرأت (ف۵۳) انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں (ف۵٤) اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے (ف۵۵)
They dared to do this because they say, “The fire will definitely not touch us except for a certain number of days”; and they are deceived in their religion by the lies they fabricated.
ये जुर्रअत उन्हें इस लिये हुई कि वो कहते हैं हरगिज़ हमें आग न छुएगी मगर गिनती के दिनों और उन के दीन में उन्हें फ़रेब दिया उस झूट ने जो बाँधते थे
Ye jurrat unhein is liye hui ke woh kehte hain har-giz humein aag na chhoye gi magar ginti ke dino ki, aur unke deen mein unhein fareb diya is jhoot ne jo bandhte the,
(ف53)کتابِ الٰہی سے رو گردانی کرنے کی۔(ف54)یعنی چالیس دن یا ایک ہفتہ پھر کچھ غم نہیں۔(ف55)اور ان کا یہ قول تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں وہ ہمیں گناہوں پر عذاب نہ کرے گا مگر بہت تھوڑی مدت
تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں (ف۵٦) اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
So what will be (their state) when We bring all of them together for the Day (of Resurrection) about which there is no doubt; and every soul will be paid back in full for what it has earned, and they will not be wronged.
तो कैसी होगी जब हम उन्हें अकठ्ठा करेंगे उस दिन के लिये जिस में शक नहीं और हर जान को उस की कमाई पूरी भर (बिलकुल पूरी) दी जायेगी और उन पर ज़ुल्म न होगा,
To kaisi hogi jab hum unhein akhatta karenge us din ke liye jismein shakk nahin, aur har jaan ko uski kamaai poori bhar di jaayegi, aur unpar zulm na hoga,
یوں عرض کر، اے اللہ ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے (ف۵۷)
Invoke (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O Allah! Owner Of The Kingdom – You bestow the kingdom on whomever You will, and You take back the kingdom from whomever You will; and You give honour to whomever You will, and You humiliate whomever You will; only in Your Hand (control) lies all goodness; indeed, You are Able to do all things.”
यूँ अर्ज़ कर, ऐ अल्लाह! मुल्क के मालिक तू जिसे चाहे सल्तनत दे और जिस से चाहे छीन ले, और जिसे चाहे इज़्ज़त दे और जिसे चाहे ज़िल्लत दे, सारी भलाई तेरे ही हाथ है, बेशक तू सब कुछ कर सकता है
Yoon arz kar, aye Allah! Mulk ke malik, tu jise chahe saltanat de, aur jise chahe cheen le, aur jise chahe izzat de, aur jise chahe zillat de, sari bhalai tere hi haath hai, beshak tu sab kuch kar sakta hai,
(ف57)شانِ نزول فتح مکہ کے وقت سیّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو ملک فارس و روم کی سلطنت کا وعدہ دیا تو یہود و منافقین نے اس کو بہت بعید سمجھا اور کہنے لگے کہاں محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور کہاں فارس و روم کے ملک وہ بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور آخر کار حضور کا وہ وعدہ پورا ہوکررہا۔
تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے (ف۵۸) اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بےگنتی دے،
“You cause part of the night to pass into the day, and You cause part of the day to pass into the night; and You bring forth the living from the dead, and You bring forth the dead from the living; and You give to whomever You will, without account.”
तू दिन का हिस्सा रात में डाले और रात का हिस्सा दिन में डाले और मुर्दा से ज़िन्दा निकाले और ज़िन्दा से मुर्दा निकाले और जिसे चाहे बिन गिनती दे,
Tu din ka hissa raat mein daale aur raat ka hissa din mein daale, aur murda se zinda nikaale, aur zinda se murda nikaale, aur jise chahe be-ginti de,
(ف58)یعنی کبھی رات کو بڑھائے دن کو گھٹائے اور کبھی دن کو بڑھا کر رات کو گھٹائے یہ تیری قدرت ہے تو فارس و روم سے ملک لے کر غلامانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو عطا کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے(ف59)زندے سے مردے کا نکالنا اس طرح ہے جیسے کہ زندہ انسان کو نطفۂ بے جان سے اور پرند کے زندہ بچے کو بے روح انڈے سے اور زندہ دِل مؤمن کو مردہ دل کافر سے اور زندہ سے مُردہ نکالنا اس طرح جیسے کہ زندہ انسان سے نطفۂ بے جان اور زندہ پرند سے بے جان انڈا اور زندہ دل ایمان دار سے مردہ دِل کافر
مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف٦۰) اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف٦۱) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
The Muslims must not befriend the disbelievers, in preference over the Muslims; whoever does that has no connection whatsoever with Allah, except if you fear them; Allah warns you of His wrath; and towards Allah only is the return.
मुसलमान काफ़िरों को अपना दोस्त न बना लें मुसलमानों के सवा और जो ऐसा करेगा उसे अल्लाह से कुछ ताल्लुक़ न रहा मगर ये कि तुम उन से कुछ डरो और अल्लाह तुम्हें अपने ग़ज़ब से डराता है और अल्लाह ही की तरफ़ फिरना है,
Musalman kafiron ko apna dost na bana lein musalmanon ke siwa, aur jo aisa karega usse Allah se kuch alaqa na raha magar ye ke tum unse kuch daro, aur Allah tumhein apne ghazab se darata hai, aur Allah hi ki taraf phirna hai,
(ف60)شانِ نزول حضرت عبادہ ابنِ صامت نے جنگِ احزاب کے دِن سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچسو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابل ان سے مدد حاصل کروں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی۔(ف61)کفار سے دوستی و محبّت ممنوع و حرام ہے، انہیں راز دار بنانا اُن سے موالات کرنا ناجائز ہے اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے۔
تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے،
Say, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whether you hide or reveal whatever is in your hearts, Allah knows it all; and He knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah has control over all things.”
तुम फ़रमा दो कि अगर तुम अपने जी की बात छुपाओ या ज़ाहिर करो अल्लाह को सब मालूम है, और जानता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है, और हर चीज़ पर अल्लाह का क़ाबू है,
Tum farma do ke agar tum apne ji ki baat chhupao ya zaahir karo Allah ko sab maaloom hai, aur jaanta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur har cheez par Allah ka qaboo hai,
جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی (ف٦۲) اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا (ف٦۳) اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے ، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
On the Day when every soul will be confronted with all the good that it has done; and all the evil that it has done – it will wish that perhaps there would have been a great distance between itself and the punishment; and Allah warns you of His punishment; and Allah is Most Compassionate towards His bondmen.
जिस दिन हर जान ने जो भला किया हाज़िर पायेगी और जो बुरा काम किया, उम्मीद करेगी काश मुझ में और उस में दूर का फ़ासिला होता और अल्लाह तुम्हें अपने अज़ाब से डराता है, और अल्लाह बन्दों पर मेहरबान है,
Jis din har jaan ne jo bhala kiya haazir paayegi aur jo bura kaam kiya, ummeed karegi kaash mujh mein aur usmein door ka faasla hota, aur Allah tumhein apne azaab se darata hai, aur Allah bandon par mehrban hai,
(ف62)یعنی روز قیامت ہر نفس کو اعمال کی جزا ملے گی اور اس میں کچھ کمی و کوتاہی نہ ہوگی(ف63)یعنی میں نے یہ برا کام نہ کیا ہوتا
اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (ف٦٤) اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O mankind! If you love Allah, follow me – Allah will love you and forgive you your sins”; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ महबूब! तुम फ़रमा दो कि लोगो अगर तुम अल्लाह को दोस्त रखते हो तो मेरे फ़रमानबरदार हो जाओ अल्लाह तुम्हें दोस्त रखेगा और तुम्हारे गुनाह बख़्श देगा और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aye mehboob! Tum farma do ke logo agar tum Allah ko dost rakhte ho to mere farmanbardaar ho jao, Allah tumhein dost rakhega aur tumhare gunah bakhsh dega, aur Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف64)اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبّت کا دعوٰی جب ہی سچّا ہوسکتا ہے جب آدمی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا متبع ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اختیار کرے شانِ نزول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس ٹھہرے جنہوں نے خانہ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے حضور نے فرمایا اے گروہِ قریش خدا کی قسم تم اپنے آباء حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے دین کے خلاف ہوگئے قریش نے کہا ہم ان بتوں کو اللہ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کریں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ محبّتِ الٰہی کا دعوٰی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اتباع و فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہے حضور کی غلامی کرے اور حضور نے بت پرستی کو منع فرمایا تو بت پرستی کرنے والا حضور کا نافرمان اور محبّتِ الٰہی کے دعوٰی میں جھوٹا ہے
تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا (ف٦۵) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر،
Proclaim, “Obey Allah and the Noble Messenger”; so if they turn away – then Allah is not pleased with the disbelievers.
तुम फ़रमा दो कि हुक्म मानो अल्लाह और रसूल का फिर अगर वो मुँह फेरीं तो अल्लाह को खुश नहीं आते काफ़िर,
Tum farma do ke hukum maano Allah aur Rasool ka, phir agar woh munh pherain to Allah ko khush nahin aate kafir,
(ف65)یہی اللہ کی محبت کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بغیر اطاعتِ رسول نہیں ہوسکتی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔
بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اولاد اور عمران کی آل کو سارے جہاں سے (ف٦٦)
Indeed Allah chose Adam, and Nooh, and the Family of Ibrahim, and the Family of Imran over the creation.
बेशक अल्लाह ने चुन लिया आदम और नूह और इबराहीम की आल औलाद और इमरान की आल को सारे जहाँ से
Beshak Allah ne chun liya Aadam aur Nooh aur Ibraheem ki aale aulaad aur Imran ki aale ko saare jahan se,
(ف66)یہود نے کہا تھا کہ ہم حضرت ابراہیم و اسحٰق و یعقوب علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے ہیں اور انہیں کے دین پر ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اسلام کے ساتھ برگزیدہ کیا تھا اور تم اے یہود اسلام پر نہیں ہو تو تمہارا یہ دعوٰی غلط ہے
جب عمران کی بی بی نے عرض کی (ف٦۸) اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے (ف٦۹) تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا،
(Remember) When the wife of Imran said, “My Lord! I pledge to you what is in my womb – that it shall be dedicated purely in Your service, so accept it from me; indeed You only are the All Hearing, the All Knowing.”
जब इमरान की बीबी ने अर्ज़ की ऐ रब मेरे! मैं तेरे लिये मनत मानती हूँ जो मेरे पेट में है कि ख़ालिस तेरी ही ख़िदमत में रहे तू तो मुझ से क़बूल कर ले बेशक तू ही सुनता जानता,
Jab Imran ki biwi ne arz ki, aye Rab mere, main tere liye manat maanti hoon jo mere pait mein hai, ke khaalis teri hi khidmat mein rahe, to tu mujhse qubool kar le, beshak tu hi sunta jaanta,
(ف68)عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصۡھُرۡ بن فاہث بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسٰی و ہارون کے والد ہیں دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ مریم کے والد ہیں دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے یہاں دوسرے عمران مراد ہیں ان کی بی بی صاحبہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے یہ مریم کی والدہ ہیں۔(ف69)اور تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہو بیت المقدِس کی خدمت اس کے ذمہ ہو علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریاء و عمران دونوں ہم زُلف تھے فاقوذا کی دُختر ایشاع جو حضرت یحیٰی کی والدہ ہیں اور ان کی بہن حَنَّہ جو فاقوذا کی دوسری دختر اور حضرت مریم کی والدہ ہیں وہ عمران کی بی بی تھیں ایک زمانہ تک حَنَّہ کے اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ کے مقبول بندے تھے ایک روز حَنَّہ نے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یہ دیکھ کر آپ کی دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدِس کا خادم بناؤں اور اس خدمت کے لئے حاضر کردوں جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا:کہ یہ تم نے کیا کیا اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہے اس زمانہ میں لڑکوں کو خدمتِ بیتُ المقْدِس کے لئے دیا جاتا تھا اور لڑکیاں عوارض نسائی اور زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں اس لئے ان صاحبوں کو شدید فکر لاحق ہوئی اورحَنَّہ کے وضع حمل سے قبل عمران کا انتقال ہوگیا۔
پھر جب اسے جنا بولی، اے رب میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی (ف۷۰) اور اللہ جو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں (ف۷۱) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا (ف۷۲) اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے،
So when she gave birth to it, she said, “My Lord! I have indeed given birth to a girl!” And Allah well knows what she gave birth to; and the boy she had prayed for is not like this girl; “And I have named her Maryam and I give her and her offspring in Your protection, against Satan the outcast.”
फिर जब उसे जना बोली, ऐ रब मेरे! ये तो मैंने लड़की जनी और अल्लाह जो खूब मालूम है जो कुछ वो जनी, और वो लड़का जो उस ने माँगा उस लड़की सा नहीं और मैंने उस का नाम मरयम रखा और मैं उसे और उस की औलाद को तेरी पनाह में देती हूँ रांदे हुए शैतान से,
Phir jab use janaa boli, aye Rab mere! Ye to maine ladki jani, aur Allah jo khoob maaloom hai jo kuch woh jani, aur woh ladka jo usne maanga us ladki sa nahin, aur maine uska naam Maryam rakha, aur main use aur uski aulaad ko teri panaah mein deti hoon raanday huye shaitaan se,
(ف70)حَنَّہ نے یہ کلمہ اعتذار کے طور پر کہا اور ان کو حسرت و غم ہوا کہ لڑکی ہوئی تو نذر کسی طرح پوری ہوسکے گی(ف71)کیونکہ یہ لڑکی اللہ کی عطا ہے اور اس کے فضل سے فرزند سے زیادہ فضیلت رکھنے والی ہے یہ صاحب زادی حضرت مریم تھیں اور اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے اجمل وافضل تھیں(ف72)مریم کے معنی عابدہ ہیں۔
تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا (ف۷۳) اور اسے اچھا پروان چڑھایا (ف۷٤) اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے (ف۷۵) کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے (ف۷٦)
So her Lord fully accepted her (Maryam), and gave her an excellent development; and gave her in Zakaria’s guardianship; whenever Zakaria visited her at her place of prayer, he found new food with her; he said, “O Maryam! From where did this come to you?” She answered, “It is from Allah; indeed Allah gives to whomever He wills, without limit account.” (Miracles occur through the friends of Allah.)
तो उसे उस के रब ने अच्छी तरह क़बूल किया और उसे अच्छा परवान चढ़ाया और उसे ज़करिया की निगहबानी में दिया, जब ज़करिया उस के पास उस की नमाज़ पढ़ने की जगह जाते उस के पास नया रिज़्क़ पाते कहा ऐ मरयम! ये तेरे पास कहाँ से आया, बोलीं वो अल्लाह के पास से है, बेशक अल्लाह जिसे चाहे बिन गिनती दे
To use uske Rab ne achhi tarah qubool kiya aur use achha parwaan chadhaya, aur use Zakariya ki nigahbani mein diya, jab Zakariya uske paas uski namaz padhne ki jagah jaate uske paas naya rizq paate, kaha aye Maryam! Ye tere paas kahaan se aaya? Bolin, woh Allah ke paas se hai, beshak Allah jise chahe be-ginti de,
(ف73)اور نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم کو قبول فرما یا حَنَّہ نے ولادت کے بعد حضرت مریم کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقْدِس میں احبار کے سامنے رکھ دیا یہ احبار حضرت ہارون کی اولاد میں تھے اوربیتُ المقْدِس میں ان کا منصب ایسا تھا جیسا کہ کعبہ شریف میں حجبہ کا چونکہ حضرت مریم ان کے امام اور ان کے صاحبِ قربان کی دختر تھیں اور ان کا خاندان بنی اسرائیل میں بہت اعلٰی اور اہل علم کا خاندان تھا اسلئے ان سب نے جن کی تعداد ستائیس تھی حضرت مریم کو لینے اور ان کا تکفّل کرنے کی رغبت کی حضرت زکریا نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے قرعہ حضرت زکریا ہی کے نام پر نکلا۔(ف74)حضرت مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور بچے ایک سال میں۔(ف75)بے فصل میوے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔(ف76)حضرت مریم نے صِغرِسنی میں کلام کیا جب کہ وہ پالنے میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسی حال میں کلام فرمایا مسئلہ یہ آیت کراماتِ اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالےٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق ظاہر فرماتا ہے حضرت زکریا نے جب یہ دیکھا تو فرمایا جو ذات پاک مریم کو بے وقت بے فصل اور بغیر سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بے شک اس پر قادر ہے کہ میری بانجھ بی بی کو نئی تندرستی دے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں امید منقطع ہوجائے کے بعد فرزند عطا کرے بایں خیال آپ نے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے۔
تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا (ف۷۸) بیشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی (ف۷۹) تصدیق کرے گا اور سردار (ف۸۰) اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے (ف۸۱)
And the angels called out to him while he was standing, offering prayer at his place of worship, “Indeed Allah gives you glad tidings of Yahya (John), who will confirm a Word (or sign) from Allah, – a leader, always refraining from women, a Prophet from one of Our devoted ones.”
तो फ़रिश्तों ने उसे आवाज़ दी और वो अपनी नमाज़ की जगह खड़ा नमाज़ पढ़ रहा था बेशक अल्लाह आप को मुझ्दा देता है यहया का जो अल्लाह की तरफ़ के एक कलमा की तसदीक़ करेगा और सरदार और हमेशा के लिये औरतों से बचने वाला और नबी हमारे ख़ासों में से
To farishton ne use awaaz di, aur woh apni namaz ki jagah khada namaz padh raha tha, beshak Allah aap ko mujda deta hai Yahya ka, jo Allah ki taraf ke ek kalma ki tasdiq karega, aur sardar aur hamesha ke liye auraton se bachne wala aur Nabi hamare khaason mein se,
(ف78)حضرت زکریا علیہ السلام عالم کبیر تھے ۔قربانیاں بارگاہِ الٰہی میں آپ ہی پیش کیا کرتے تھے اور مسجد شریف میں بغیر آپ کے اِذۡن کے کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا جس وقت محراب میں آپ نماز میں مشغول تھے اور باہر آدمی دخول کی اجازت کا انتظار کررہے تھے دروازہ بند تھا اچانک آپ نے ایک سفید پوش جوان دیکھا وہ حضرت جبریل تھے انہوں نے آپ کو فرزند کی بشارت دی جو اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ میں بیان فرمائی گئی۔(ف79)کلمہ سے مراد حضرت عیسٰی ابنِ مریم ہیں کہ انہیں اللہ تعالےٰنے کُن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت یحیٰی ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے حضرت یحیٰی کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سے ملیں تو انہیں اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا حضرت مریم نے فرمایا میں بھی حاملہ ہوں حضرت یحیٰی کی والدہ نے کہا اے مریم مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچے کو سجدہ کرتا ہے۔(ف80)سیّد اس رئیس کو کہتے ہیں جو مخدوم و مُطَاع ہو حضرت یحیٰی مؤمنین کے سردار اور علم و حلم و دین میں ان کے رئیس تھے۔(ف81)حضرت زکریا علیہ السلام نے براہ تعجب عرض کیا ۔
بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھا پا (ف۸۲) اور میری عورت بانجھ (ف۸۳) فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے (ف۸٤)
He said, “My Lord! How can I have a son when old age has reached me and my wife is barren?” He said, “This is how Allah brings about, whatever He wills.”
बोला ऐ मेरे रब मेरे लड़का कहाँ से होगा मुझे तो पहुँच गया बढ़ापा और मेरी औरत बाँझ फ़रमाया अल्लाह यूँ ही करता है जो चाहे
Bola aye mere Rab mere ladka kahaan se hoga? Mujhe to pahuncha badaapa aur meri aurat baanjh, farmaya Allah yoon hi karta hai jo chahe,
(ف82)اور عمر ایک سو بیس سال کی ہوچکی۔(ف83)ان کی عمر اٹھانوے سال کی مقصود سوال سے یہ ہےکہ بیٹا کس طرح عطا ہوگا آیا میری جوانی لوٹائی جائے گی اور بی بی کا بانجھ ہونا دور کیا جائے گا یا ہم دونوں اپنے حال پر رہیں گے۔(ف84)بڑھاپے میں فرزند عطا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ۔
عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے (ف۸۵) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر (ف۸٦) اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،
He said, “My Lord! Determine a sign for me”; He said, “The sign is that you shall not be able to speak to mankind for three days except by signs; and remember your Lord profusely, and proclaim His Purity before sunset and at dawn.”
अर्ज़ की ऐ मेरे रब मेरे लिये कोई निशानी कर दे फ़रमाया तेरी निशानी ये है कि तीन दिन तू लोगों से बात न करे मगर इशारा से और अपने रब की बहुत याद कर और कुछ दिन रहे और तड़के उस की पाकी बोल,
Arz ki aye mere Rab mere liye koi nishani kar de, farmaya teri nishani ye hai ke teen din tu logon se baat na kare magar ishaara se, aur apne Rab ki bohot yaad kar aur kuch din rahe aur tadke uski paaki bol,
(ف85)جس سے مجھے اپنی بی بی کے حمل کا وقت معلوم ہوتا کہ میں اور زیادہ شکر و عبادت میں مصروف ہوں(ف86)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آدمیوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے زبان مبارک تین روز تک بند رہی اور تسبیح و ذکر پر آپ قادر رہے اوریہ ایک عظیم معجزہ ہے کہ جس میں جوارح صحیح و سالم ہوں اور زبان سے تسبیح و تقدیس کے کلمات ادا ہوتے رہیں مگر لوگوں کے ساتھ گفتگو نہ ہوسکے اور یہ علامت اس لئے مقرر کی گئی کہ اس نعمتِ عظیمہ کے ادائے حق میں زبان ذکر و شکر کے سوا اور کسی بات میں مشغول نہ ہو۔
اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا (ف۸۷) اور خوب ستھرا کیا (ف۸۸) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا (ف۸۹)
And when the angels said, “O Maryam! Indeed Allah has chosen you and purified you, and has this day, chosen you among all the women of the world.”
और जब फ़रिश्तों ने कहा, ऐ मरयम, बेशक अल्लाह ने तुझे चुन लिया और खूब सुथरा किया और आज सारे जहाँ की औरतों से तुझे पसन्द किया
Aur jab farishton ne kaha, aye Maryam, beshak Allah ne tujhe chun liya aur khoob suthra kiya aur aaj saare jahan ki auraton se tujhe pasand kiya,
(ف87)کہ باوجود عورت ہونے کے بیت المقدِس کی خدمت کے لئے نذر میں قبول فرمایا اور یہ بات اُن کے سوا کسی عورت کو میسّر نہ آئی اسی طرح ان کے لئے جنتی رزق بھیجنا حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنانا یہ حضرت مریم کی برگزیدگی ہے۔(ف88)مرد رسیدگی سے اور گناہوں سے اور بقول بعضے زنانے عوارض سے۔(ف89)کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔
یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (ف۹۱) اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے (ف۹۲)
These are tidings of the hidden, which We secretly reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not present with them when they threw their pens to draw lots, to know who should be the guardian of Maryam; nor were you present with them when they were quarrelling. (Yet you know of these things – this is a proof of your being a Prophet.)
ये ग़ैब की ख़बरें हैं कि हम ख़ुफ़िया तौर पर तुम्हें बताते हैं और तुम उन के पास न थे जब वो अपनी क़लमों से क़ुरआ डालते थे कि मरयम किस की परवरिश में रहें और तुम उन के पास न थे जब वो झगड़ रहे थे
Ye ghaib ki khabrein hain ke hum khufiya taur par tumhein batate hain, aur tum unke paas na the jab woh apni qalamon se qura daalte the ke Maryam kis ki parvarish mein rahe, aur tum unke paas na the jab woh jhagad rahe the,
(ف91)اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کے علوم عطا فرمائے۔(ف92)باوجود اس کے آپ کا ان واقعات کی اطلاع دینا دلیل قوی ہے اس کی کہ آپ کو غیبی علوم عطا فرمائے گئے۔
اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (ف۹۳) جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا (ف۹٤) دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (ف۹۵)
And remember when the angels said, “O Maryam! Allah gives you glad tidings of a Word from Him, whose name is the Messiah, Eisa the son of Maryam – he will be honourable in this world and in the Hereafter, and among the close ones (to Allah).”
और याद करो जब फ़रिश्तों ने मरयम से कहा, ऐ मरयम! अल्लाह तुझे बशारत देता है अपने पास से एक कलमा की जिस का नाम है मसीह ईसा मरयम का बेटा रूदार (बा इज़्ज़त) होगा दुनिया और आख़िरत में और क़ुर्ब वाला
Aur yaad karo jab farishton ne Maryam se kaha, aye Maryam! Allah tujhe basharat deta hai apne paas se ek kalma ki, jiska naam hai Maseeh Isa Maryam ka beta, roodar (ba-izzat) hoga duniya aur aakhirat mein aur qurb wala,
(ف93)یعنی ایک فرزند کی ۔(ف94)صاحبِ جاہ و منزلت ۔(ف95) بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں (ف۹٦) اور پکی عمر میں (ف۹۷) اور خاصوں میں ہوگا، بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (ف۹۸)
“He will speak to people while he is in the cradle and in his adulthood, and will be of the devoted ones.”
और लोगों से बात करेगा पालने में और पक्की उमर में और ख़ासों में होगा, बोली ऐ मेरे रब! मेरा बच्चा कहाँ से होगा मुझे तो किसी शख़्स ने हाथ न लगाया
Aur logon se baat karega paalne mein aur paki umar mein, aur khaason mein hoga, boli aye mere Rab mere bacha kahaan se hoga? Mujhe to kisi shakhs ne haath na lagaya,
(ف96)بات کرنے کی عمر سے قبل۔(ف97)آسمان سے نزول کے بعد اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دجّال کو قتل کریں گے۔
فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
She said, “My Lord! How can I bear a child when no man has ever touched me?” He said, “This is how Allah creates whatever He wills; when He wills a thing, He only says to it, ‘Be’ – and it happens immediately.”
फ़रमाया अल्लाह यूँ ही पैदा करता है जो चाहे जब, किसी काम का हुक्म फ़रमाये तो उस से यही कहता है कि हो जा वो फ़ौरन हो जाता है,
Farmaya Allah yoon hi paida karta hai jo chahe, jab kisi kaam ka hukum farmaata hai to usse yahi kehta hai ke ho ja, woh foran ho jaata hai,
(ف98)اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے اختلاط سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا نکاح سے یا یونہی بغیر مرد کے۔
اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں (ف۹۹) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے (ف۱۰۰) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو (ف۱۰۱) اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے (ف۱۰۲) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، (ف۱۰۳) بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،
“And he will be a Noble Messenger towards the Descendants of Israel saying, ‘I have come to you with a sign from your Lord, for I mould a birdlike sculpture from clay for you, and I blow into it and it instantly becomes a (living) bird, by Allah’s command; and I heal him who was born blind, and the leper, and I revive the dead, by Allah’s command; and I tell you what you eat and what you store in your houses; undoubtedly in these (miracles) is a great sign for you, if you are believers.’ (Several miracles bestowed to Prophet Eisa are mentioned here.)
और रसूल होगा बनी इस्राईल की तरफ़, ये फ़रमाता हो कि मैं तुम्हारे पास एक निशानी लाया हूँ तुम्हारे रब की तरफ़ से कि मैं तुम्हारे लिये मिट्टी से परिन्द की सी मूर्त बनाता हूँ फिर उस में फूँक मारता हूँ तो वो फ़ौरन परिन्द हो जाती है अल्लाह के हुक्म से और मैं शिफ़ा देता हूँ माँदरज़ाद अंधे और सफ़ेद दाग़ वाले को और मैं मुर्दे जिलाता हूँ अल्लाह के हुक्म से और तुम्हें बताता हूँ जो तुम खाते और जो अपने घरों में जमा कर रखते हो, बेशक उन बातों में तुम्हारे लिये बड़ी निशानी है अगर तुम ईमान रखते हो,
Aur Rasool hoga Bani Israeel ki taraf, ye farmata ho ke main tumhare paas ek nishani laaya hoon tumhare Rab ki taraf se, ke main tumhare liye mitti se parind ki si moorat banata hoon phir usmein phoonk maarta hoon to woh foran parind ho jaati hai Allah ke hukum se, aur main shifa deta hoon madar-zaad andhe aur safed daag wale ko, aur main murde jilaata hoon Allah ke hukum se, aur tumhein batata hoon jo tum khate aur jo apne gharon mein jama kar rakhte ho, beshak in baton mein tumhare liye badi nishani hai agar tum imaan rakhte ho,
(ف99)جو میرے دعوائے نبوّت کے صدق کی دلیل ہے۔(ف100)جب حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃوالسلام نے نبوت کا دعوٰی کیااور معجزات دکھائے تو لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ایک چمگادڑ پیدا کریں آپ نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی چمگادڑ کی خصوصیّت یہ ہے کہ وہ اڑنے والے جانوروں میں بہت اکمل اور عجیب تر ہے اور قدرت پر دلالت کرنے میں اوروں سے ابلغ کیونکہ وہ بغیر پروں کے تو اُڑتی ہے اور دانت رکھتی ہے اور ہنستی ہے اور اس کی مادہ کے چھاتی ہوتی ہے اور بچہ جنتی ہے باوجودیکہ اُڑنے والے جانوروں میں یہ باتیں نہیں ہیں(ف101)جس کا برص عام ہوگیا ہو اور اطبا اس کے علاج سے عاجز ہوں چونکہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہاۓ عروج پر تھی اور اس کے ماہرین امر علاج میں یدطولٰے رکھتے تھے اس لئے ان کو اسی قسم کے معجزے دکھائے گئے تاکہ معلوم ہو کہ طب کے طریقہ سے جس کا علاج ممکن نہیں ہے اس کو تندرست کردینا یقیناً معجزہ اور نبی کے صدق نبوّت کی دلیل ہے وہب کا قول ہے کہ اکثر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس ایک ایک دن میں پچاس پچاس ہزار مریضوں کا اجتماع ہوجاتا تھا ان میں جو چل سکتا تھا وہ حاضر خدمت ہوتا تھا اور جسے چلنے کی طاقت نہ ہوتی اس کے پاس خود حضرت تشریف لے جاتے اور دعا فرما کر اس کو تندرست کرتے اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی شرط کرلیتے۔(ف102)حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام نے چار شخصوں کو زندہ کیا ایک عازر جس کو آپ کے ساتھ اخلاص تھا جب اس کی حالت نازک ہوئی تو اس کی بہن نے آپ کو اطلاع دی مگر وہ آپ سے تین روز کی مسافت کے فاصلہ پر تھا جب آپ تین روز میں وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس کے انتقال کو تین روز ہوچکے آپ نے اس کی بہن سے فرمایا ہمیں اس کی قبر پر لے چل وہ لے گئی آپ نے اللہ تعالٰے سے دعا فرمائی عاز ر باذن الہٰی زندہ ہو کر قبر سے باہر آیا اور مدّت تک زندہ رہا اور اس کے اولاد ہوئی ایک بڑھیا کا لڑکا جس کا جنازہ حضرت کے سامنے جارہا تھا آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی وہ زندہ ہو کر نعش برداروں کے کندھوں سے اتر پڑا کپڑے پہنے گھر آیا زندہ رہا اولاد ہوئی ایک عاشر کی لڑکی شام کو مری اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کی دعا سے اس کو زندہ کیا ایک سام بن نوح جن کی وفات کو ہزاروں برس گزر چکے تھے لوگوں نے خواہش کی کہ آپ ان کو زندہ کریں آپ ان کی نشاندہی سے قبر پر پہنچے اور اللہ تعالٰی سے دعا کی سام نے سنا کوئی کہنے والا کہتا ہے اَجِبْ رُوْحَ اللہ یہ سنتے ہی وہ مرعوب اور خوف زدہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں گمان ہوا کہ قیامت قائم ہوگئی اس ہول سے ان کا نصف سر سفید ہوگیا، پھر وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام سے درخواست کی کہ دوبارہ انہیں سکرات موت کی تکلیف نہ ہو بغیر اس کے واپس کیا جائے چنانچہ اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا اور باذنِ اللہ فرمانے میں رد ہے نصارٰی کا جو حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل تھے(ف103)جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے بیماروں کو اچھا کیا اور مردوں کو زندہ کیا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور کوئی معجزہ دکھائیے تو آپ نے فرمایا کہ جو تم کھاتے ہو اور جو جمع کررکھتے ہو میں اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں اسی سے ثابت ہوا کہ غیب کے علوم انبیاء کا معجزہ ہیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دستِ مبارک پر یہ معجزہ بھی ظاہر ہوا آپ آدمی کو بتادیتے تھے جو وہ کل کھاچکا اور آج کھائے گا اور جو اگلے وقت کے لئے تیار کررکھاہے۔ آپ کے پاس بچے بہت سے جمع ہوجاتے تھے آپ انہیں بتاتے تھے کہ تمہارے گھر فلاں چیز تیار ہوئی ہے تمہارے گھر والوں نے فلاں فلاں چیز کھائی ہے فلاں چیز تمہارے لئے اٹھا رکھی ہے بچے گھر جاتے روتے گھر والوں سے وہ چیز مانگتے گھر والے وہ چیز دیتے۔ اور ان سے کہتے کہ تمہیں کس نے بتایا بچے کہتے حضرت عیسٰی علیہ السلام نے تو لوگوں نے اپنے بچوں کو آپ کے پاس آنے سے روکا اور کہا وہ جادو گر ہیں ان کے پاس نہ بیٹھو اور ایک مکان میں سب بچوں کو جمع کردیا حضرت عیسٰی علیہ السلام بچوں کو تلاش کرتے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا وہ یہاں نہیں ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر اس مکان میں کون ہے انہوں نے کہا سور ہیں فرمایا ایسا ہی ہوگا اب جو دروازہ کھولتے ہیں تو سب سور ہی سور تھے۔ الحاصل غیب کی خبریں دینا انبیاء کا معجزہ ہے اور بے وساطت انبیاء کوئی بشر امور غیب پر مطلع نہیں ہوسکتا
اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلے کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (ف۱۰٤) اور میں تمہارے پاس پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
‘And I come confirming the Taurat (Torah) – the Book before me – and to make lawful for you some of the things which were forbidden to you, and I have come to you with a sign from your Lord – therefore fear Allah and obey me.’
और तसदीक़ करता आया हूँ अपने से पहले किताब तौरेत की और इस लिये कि हलाल करूँ तुम्हारे लिये कुछ वो चीज़ें जो तुम पर हराम थीं और मैं तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ़ से निशानी लाया हूँ, तो अल्लाह से डरो और मेरा हुक्म मानो,
Aur tasdiq karta aaya hoon apne se pehle kitaab Taurat ki, aur is liye ke halaal karoon tumhare liye kuch woh cheezein jo tum par haraam thin, aur main tumhare paas tumhare Rab ki taraf se nishani laaya hoon, to Allah se daro aur mera hukum maano,
(ف104)جوشریعت موسٰی علیہ السلام میں حرام تھیں جیسے کہ اونٹ کے گوشت مچھلی کچھ پرند
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا (ف۱۰٦) بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا (ف۱۰۷) ہم دین خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں (ف۱۰۸)
So when Eisa sensed their disbelief he said, “Who will be my aides towards (in the cause of) Allah?” The disciples said, “We are the aides of Allah’s religion; we believe in Allah, and you bear witness that we are Muslims.”
फिर जब ईसा ने इन से कुफ्र पाया बोला कौन मेरे मददगार होते हैं अल्लाह की तरफ, हवारीयों ने कहा हम दीन-ए-खुदा के मददगार हैं हम अल्लाह पर ईमान लाए, और आप गवाह हो जाएं कि हम मुसलमान हैं
Phir jab Isa ne un se kufr paya bola kaun mere madadgar hote hain Allah ki taraf, Hawariyon ne kaha hum deen-e-Khuda ke madadgar hain hum Allah par imaan laye, aur aap gawah ho jayein ke hum musalman hain
(ف106)یعنی جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا کہ یہود اپنے کفر پر قائم ہیں اور آ پ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور اتنی آیات باہرات اور معجزات سے اثر پذیر نہیں ہوئے اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ آپ ہی وہ مسیح ہیں جن کی توریت میں بشارت دی گئی ہے اور آپ ان کے دین کو منسوخ کریں گے تو جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوت کا اظہار فرمایا تو یہ ان پر بہت شاق گزرا اور وہ آپ کے ایذا و قتل کے درپے ہوئے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔(ف107)حواری وہ مخلصین ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین کے مددگار تھے اور آپ پر اوّل ایمان لائے یہ بارہ اشخاص تھے۔(ف108)مسئلہ : اس آیت سے ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء کا دین اسلام تھا نہ کہ یہودیت و نصرانیت ۔
اور کافروں نے مکر کیا (ف۱۰۹) اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (ف۱۱۰)
And the disbelievers conspired (to kill Eisa), and Allah covertly planned to destroy them; and Allah is the best of secret planners.
और काफिरों ने मकर किया और अल्लाह ने उन के हलाक की ख़ुफ़िया تدبीर फ़रमाई और अल्लाह सब से बेहतर छुपी تدبीर वाला है
Aur kafiron ne makar kiya aur Allah ne unke halak ki khufiya tadbeer farmayi aur Allah sab se behtar chhupi tadbeer wala hai
(ف109)یعنی کفار بنی اسرائیل نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے ساتھ مَکۡر کیا کہ دھوکے کے ساتھ آپ کے قتل کا انتظام کیا اور اپنے ایک شخص کو اس کام پر مقرر کردیا۔(ف110)اللہ تعالٰی نے اُن کے مَکۡر کا یہ بدلہ دیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا اور حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو اُن کے قتل کے لئے آمادہ ہوا تھا چنانچہ یہود نے اس کو اسی شبہ پر قتل کردیا۔ مسئلہ لفظ مَکۡر لُغتِ عرب میں سَتۡر یعنی پوشیدگی کے معنٰی میں ہے اسی لئے خفیہ تدبیر کو بھی مَکۡر کہتے ہیں اور وہ تدبیر اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود اور کِسی قبیح غرض کے لئے ہو تو مذموم ہوتی ہے مگر اُردو زبان میں یہ لفظ فریب کے معنٰی میں مستعمل ہوتا ہے اس لئے ہر گز شانِ الٰہی میں نہ کہاجائے گا اور اب چونکہ عربی میں بھی بمعنی خداع کے معروف ہوگیاہے اس لئے عربی میں بھی شانِ الٰہی میں اس کا اطلاق جائز نہیں آیت میں جہاں کہیں وارد ہوا وہ خفیہ تدبیر کے معنٰی میں ہے
یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا (ف۱۱۱) اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا (ف۱۱۲) اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو (ف۱۱۳) قیامت تک تیرے منکروں پر (ف۱۱٤) غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو،
Remember when Allah said, “O Eisa! I will keep you alive till your full age, and raise you towards Me, and cleanse you of the disbelievers and give your followers dominance over the disbelievers until the Day of Resurrection; then you will all return to Me, so I shall judge between you concerning the matter in which you dispute.”
याद करो जब अल्लाह ने फ़रमाया ऐ ईसा मैं तुझे पूरी उम्र तक पहुंचाऊँगा और तुझे अपनी तरफ उठा लूँगा और तुझे काफिरों से पाक कर दूँगा और तेरे पैरवों को क़यामत तक तेरे मंकरों पर ग़लबा दूँगा फिर तुम सब मेरी तरफ पलट कर आओगे तो मैं तुम में फ़ैसला फ़रमा दूँगा जिस बात में झगड़ते हो,
Yaad karo jab Allah ne farmaya Ae Isa main tujhe poori umr tak pahunchaoon ga aur tujhe apni taraf utha loonga aur tujhe kafiron se paak kar doonga aur tere pairawon ko qayamat tak tere munkiron par ghalba doonga phir tum sab meri taraf palat kar aao ge to main tum mein faisla farma doonga jis baat mein jhagdte ho,
(ف111)یعنی تمہیں کفار قتل نہ کرسکیں گے (مدارک وغیرہ)(ف112)آسمان پر محل کرامت اور مَقَرِّ ملائکہ میں بغیر موت کے حدیث شریف میں ہے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسٰی میری اُمت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے صلیب توڑیں گے خنازیر کو قتل کریں گے چالیس سال رہیں گے نکاح فرمائیں گے اولاد ہوگی، پھر آپ کا وصال ہوگا وہ اُمت کیسے ہلاک ہو جس کے اول میں ہوں اور آخر عیسٰی اور وسط میں میرے اہل بیت میں سے مہدی مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام مَنَارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے یہ بھی وارد ہوا کہ حجرۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مدفون ہوں گے(ف113)یعنی مسلمانوں کو جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہیں(ف114)جو یہود ہیں۔
عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے (ف۱۱۵) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
The example of Eisa with Allah is like that of Adam; He created him (Adam) from clay and then said to him, “Be” – and it thereupon happens!
ईसा की कहावत अल्लाह के नज़दीक आदम की तरह है उसे मिट्टी से बनाया फिर फ़रमाया हो जा वो फ़ौरन हो जाता है,
Isa ki qahawat Allah ke nazdeek Aadam ki tarah hai use mitti se banaya phir farmaya ho ja wo foran ho jata hai,
(ف115)شانِ نزول نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور وہ لوگ حضور سے کہنے لگے آپ گمان کرتے ہیں کہ عیسٰی اللہ کے بندے ہیں فرمایا ہاں اس کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمے جو کواری بتول عذراء کی طرف القاء کئے گئے نصارٰی یہ سن کر بہت غصہ میں آئے اور کہنے لگے یا محمد کیا تم نے کبھی بے باپ کا انسان دیکھا ہے اس سے ان کامطلب یہ تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں(معاذ اللہ )اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام صرف بغیر باپ ہی کے ہوئے اور حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اورباپ دونوں کے بغیر مٹی سے پیدا کئے گئے تو جب انہیں اللہ کا مخلوق اور بندہ مانتے ہو تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا مخلوق و بندہ ماننے میں کیا تعجب ہے۔
پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (ف۱۱٦)
Therefore say to those who dispute with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning Eisa after the knowledge has come to you, “Come! Let us summon our sons and your sons, and our women and your women, and ourselves and yourselves – then pray humbly, thereby casting the curse of Allah upon the liars!” (The Christians did not accept this challenge.)
फिर ऐ महबूब! जो तुम से ईसा के बारे में हुज्जत करें बाद इसके कि तुम्हें इल्म आ चुका तो उन से फ़रमा दो आओ हम बुलाएँ अपने बेटे और तुम्हारे बेटे और अपनी औरतें और तुम्हारी औरतें और अपनी जानें और तुम्हारी जानें, फिर मुबाहिला करें तो झूठों पर अल्लाह की लानत डालें
Phir ae Mehboob! jo tum se Isa ke baare mein hujjat karein baad is ke ke tumhein ilm aa chuka to un se farma do aao hum bulayein apne bete aur tumhare bete aur apni auratein aur tumhari auratein aur apni jaanen aur tumhari jaanen, phir mubahila karein to jhooton par Allah ki la’nat dalen
(ف116)جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصارٰی نجران کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور مباہلہ کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ ہم غور اور مشورہ کرلیں کل آپ کو جواب دیں گے جب وہ جمع ہوئے تو انہوں نے اپنے سب سے بڑے عالم اور صاحب رائے شخص عاقب سے کہا کہ اے عبدالمسیح آپ کی کیا رائے ہے اس نے کہا اے جماعت نصاریٰ تم پہچان چکے کہ محمدنبی مرسل تو ضرور ہیں اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو سب ہلاک ہوجاؤ گے اب اگر نصرانیت پر قائم رہنا چاہتے ہو تو انہیں چھوڑ و اور گھر کو لوٹ چلو یہ مشورہ ہونے کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ حضور کی گود میں تو امام حسین ہیں اور دست مبارک میں حسن کا ہاتھ اور فاطمہ اور علی حضور کے پیچھے ہیں(رضی اللہ تعالٰی عنہم)اور حضور ان سب سے فرمارہے ہیں کہ جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا نجران کے سب سے بڑے نصرانی عالم(پادری)نے جب ان حضرات کو دیکھا تو کہنے لگا اے جماعت نصارٰی میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ اللہ سے پہاڑ کو ہٹادینے کی دعا کریں تو اللہ تعالٰی پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دے ان سے مباہلہ نہ کرنا ہلاک ہوجاؤ گے اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی نصرانی باقی نہ رہے گایہ سن کر نصارٰی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مباہلہ کی تو ہماری رائے نہیں ہےآخر کار انہوں نے جزیہ دینا منظور کیامگر مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوئے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے نجران والوں پر عذاب قریب آ ہی چکا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی صورت میں مسخ کردیئے جاتے اور جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران اور وہاں کے رہنے والے پرند تک نیست و نابود ہوجاتے اور ایک سال کے عرصہ میں تمام نصارٰی ہلاک ہوجاتے۔
تم فرماؤ ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (ف۱۱۹) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں (ف۱۲۰) اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا (ف۱۲۱) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Come towards a word which is common between us and you, that we shall worship no one except Allah, and that we shall not ascribe any partner to Him, and that none of us shall take one another as lords besides Allah”; then if they do not accept say, “Be witness that (only) we are Muslims.”
तुम फ़रमाओ, ऐ किताबियो! ऐसे कलिमा की तरफ आओ जो हम में तुम में यकसां है ये कि इबादत न करें मगर ख़ुदा की और उसका शरीक किसी को न करें और हम में कोई एक दूसरे को रब न बना ले अल्लाह के सिवा फिर अगर वो न मानें तो कह दो तुम गवाह रहो कि हम मुसलमान हैं,
Tum farmao, Ae kitabiyo! aise kalma ki taraf aao jo hum mein tum mein yaksaan hai ye ke ibaadat na karein magar Khuda ki aur uska shareek kisi ko na karein aur hum mein koi ek doosre ko Rab na banale Allah ke siwa phir agar wo na maanein to keh do tum gawah raho ke hum musalman hain,
(ف119)اور قرآن اورتوریت اور انجیل اس میں مختلف نہیں(ف120)نہ حضرت عیسٰی کو نہ حضرت عزیر کو نہ اور کسی کو۔(ف121)جیسا کہ یہود و نصارٰی نے احبار و رہبان کو بنایا کہ انہیں سجدے کرتے اور ان کی عبادتیں کرتے(جمل)
اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)
O People given the Book(s)! Why do you argue about Ibrahim, whereas the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible) were not sent down until after him? So do you not have sense?
ऐ किताब वालो! इब्राहीम के बाब में क्यों झगड़ते हो तौरात व इंजील तो न उतरी मगर उन के बाद तो क्या तुम्हें अक़्ल नहीं
Ae kitab walo! Ibrahim ke baab mein kyon jhagdte ho Taurat o Injeel to na utri magar unke baad to kya tumhein aql nahi
(ف122)شان نزول نجران کے نصارٰی اور یہود کے احبار میں مباحثہ ہوایہودیوں کا دعوٰی تھاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے اور نصرانیوں کایہ دعوٰی تھا کہ آپ نصرانی تھے یہ نزاع بہت بڑھا تو فریقین نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حَکَمۡ مانااور آپ سے فیصلہ چاہااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور علماء توریت و انجیل پر ان کا کمال جہل ظاہر کردیا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کا دعوٰی ان کے کمال جہل کی دلیل ہے۔ یہودیت و نصرانیت توریت وانجیل کے نزول کے بعد پیداہوئیں اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا زمانہ جن پر توریت نازل ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلا م سے صد ہا برس بعد ہے اور حضرت عیسٰی جن پرانجیل نازل ہوئی ان کازمانہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد دو ہزار برس کے قریب ہواہے اور توریت و انجیل کسی میں آپ کو یہودی یا نصرانی نہیں فرمایا گیا باوجود اس کے آپ کی نسبت یہ دعوٰی جہل و حماقت کی انتہا ہے۔
سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۱۲۳) اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا (ف۱۲٤) تو اس میں (ف۱۲۵) کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۱۲٦)
Listen! This was what you argued about – of which you have some knowledge – why do you then argue about the matter you do not have any knowledge of? And Allah knows whereas you do not know.
सुनते हो ये जो तुम हो इस में झगड़े जिस का तुम्हें इल्म था तो इस में क्यों झगड़ते हो जिस का तुम्हें इल्म ही नहीं और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते
Sunte ho ye jo tum ho is mein jhagde jis ka tumhein ilm tha to is mein kyon jhagdte ho jis ka tumhein ilm hi nahi aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante
(ف123)اے اہلِ کتاب تم ۔(ف124)اور تمہاری کتابوں میں اس کی خبر دی گئی تھی یعنی نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور اور آپ کی نعت و صفت کی جب یہ سب کچھ جان پہچان کر بھی تم حضور پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا۔(ف125)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہیں۔(ف126)حقیقت حال یہ ہے کہ ۔
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے، اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۱۲۷)
Ibrahim was neither a Jew nor a Christian; but he was a Muslim, free from all falsehood; and was not of the polytheists.
इब्राहीम न यहूदी थे न नस्रानी बल्कि हर बातिल से जुदा मुसलमान थे, और मुशरिकों से न थे
Ibrahim na Yahudi the na Nasrani balke har baatil se juda musalman the, aur mushrikon se na the
(ف127)تونہ کسی یہودی یا نصرانی کا اپنے آپ کو دین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا صحیح ہوسکتا ہے نہ کسی مشرک کا بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں یہود و نصارٰی پر تعریض ہے کہ وہ مشرک ہیں
بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ف۱۲۸) اور یہ نبی (ف۱۲۹) اور ایمان والے (ف۱۳۰) اور ایمان والوں کا ولی اللہ ہے،
Undoubtedly among all mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) and the believers; and Allah is the Guardian of the believers.
बेशक सब लोगों से इब्राहीम के ज़्यादा हक़दार वो थे जो उनके पैरव हुए और ये नबी और ईमान वाले और ईमान वालों का वली अल्लाह है,
Beshak sab logon se Ibrahim ke zyada haqq daar wo the jo unke pairo hue aur ye Nabi aur imaan wale aur imaan walon ka Wali Allah hai,
(ف128)اور انکے عہدِ نبوت میں ان پر ایمان لائے اور انکی شریعت پر عامل رہے۔(ف129)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(ف130)اور آپ کے اُمتی۔
کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں (ف۱۳۱)
A group among the People given the Book(s) desire that if only they could lead you astray; and they only make themselves astray, and they do not have sense.
किताबियों का एक गिरोह दिल से चाहता है कि किसी तरह तुम्हें गुमराह कर दें, और वो अपने ही आप को गुमराह करते हैं और उन्हें शऊर नहीं
Kitabiyon ka ek giroh dil se chahta hai ke kisi tarah tumhein gumrah kar dein, aur wo apne hi aap ko gumrah karte hain aur unhein shu’oor nahi
(ف131)شا نِ نزول یہ آیت حضرت معاذ بن جبل و حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر کے حق میں نازل ہوئی جن کو یہوداپنے دین میں داخل کرنے کی کوشش کرتے اور یہودیت کی دعوت دیتے تھے اس میں بتایا گیا کہ یہ ان کی ہوس خام ہے وہ ان کو گمراہ نہ کرسکیں گے۔
اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا (ف۱۳٤) وہ جو ایمان والوں پر اترا (ف۱۳۵) صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں (ف۱۳٦)
And a group among the People given the Book(s) said, “Believe in what has been sent down to the believers in the morning and deny it by evening – perhaps they (the Muslims) may turn back (disbelieve).”
और किताबियों का एक गिरोह बोला वो जो ईमान वालों पर उतरा सुबह को उस पर ईमान लाओ और शाम को मुनकर हो जाओ शायद वो फिर जाएँ
Aur kitabiyon ka ek giroh bola wo jo imaan walon par utra subah ko us par imaan lao aur shaam ko munkir ho jao shayad wo phir jaayein
(ف134)اور انہوں نے باہم مشورہ کرکے یہ مَکۡر سوچا۔(ف135)یعنی قرآن شریف۔(ف136)شانِ نزول یہود اسلام کی مخالفت میں رات دن نئے نئے مَکۡر کیا کرتے تھے خیبرکے علماء یہود کے بارہ شخصوں نے باہمی مشورہ سے ایک یہ مَکۡر سوچاکہ ان کی ایک جماعت صبح کو اسلام لے آئے اور شام کو مرتد ہوجائے اور لوگوں سے کہے کہ ہم نے اپنی کتابوں میں جو دیکھا تو ثابت ہوا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نبی موعود نہیں ہیں جن کی ہماری کتابوں میں خبر ہے تاکہ اس حرکت سے مسلمانوں کو دین میں شبہ پیدا ہو لیکن اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرماکر ان کا یہ راز فاش کردیااور ان کا یہ مَکۡر نہ چل سکااور مسلمان پہلے سے خبردار ہوگئے۔
اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۳۷) (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے (ف۱۳۸) جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس (ف۱۳۹) تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
“And do not believe in anyone except him who follows your religion”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Only Allah’s guidance is the true guidance” – (so why not believe in it) if someone has been given similar to what was given to you, or if someone may be able to evidence it against you before your Lord; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Undoubtedly the munificence lies only in Allah’s Hand (control); He may bestow upon whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.”
और यक़ीन न लाओ मगर उस का जो तुम्हारे दीन का पैरव हो तुम फ़रमा दो कि अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है (यक़ीन का है का न लाओ) उस का कि किसी को मिले जैसा तुम्हें मिला या कोई तुम पर हुज्जत ला सके तुम्हारे रब के पास तुम फ़रमा दो कि फ़ज़्ल तो अल्लाह ही के हाथ है जिसे चाहे दे, और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur yaqeen na lao magar us ka jo tumhare deen ka pairo ho tum farma do ke Allah hi ki hidayat hidayat hai (yaqeen ka hai ka na lao) us ka ke kisi ko mile jaisa tumhein mila ya koi tum par hujjat la sake tumhare Rab ke paas tum farma do ke fazl to Allah hi ke haath hai jise chahe de, aur Allah wus’at wala ilm wala hai,
(ف137)اور جواس کے سوا ہے وہ باطل و گمراہی ہے۔(ف138)دین وہدایت اور کتاب و حکمت اور شرف فضیلت۔(ف139)روز قیامت۔
اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا (ف۱٤۲) اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے (ف۱٤۳) یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں (ف۱٤٤) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱٤۵)
Among the People given the Book(s) is one who, if you trust him with a heap of treasure, will return it to you; and among them is one who, if you trust him with (just) one coin, will not return it to you unless you constantly stand over him (keep demanding); that is because they say, “We are not obliged in any way, in the case of illiterates”; and they purposely fabricate lies against Allah.
और किताबियों में कोई वो है कि अगर तू उसके पास एक ढेर अमानत रखे तो वो तुझे अदा कर देगा और उन में कोई वो है कि अगर एक अशर्फ़ी उसके पास अमानत रखे तो वो तुझे फेर कर न देगा मगर जब तक तू उसके सर पर खड़ा रहे ये इस लिये कि वो कहते हैं कि अनपढ़ों के मामला में हम पर कोई मुआख़ज़ा नहीं और अल्लाह पर जान बूझ कर झूठ बाँधते हैं
Aur kitabiyon mein koi wo hai ke agar tu uske paas ek dher amanat rakhe to wo tujhe ada kar dega aur un mein koi wo hai ke agar ek ashrafi uske paas amanat rakhe to wo tujhe phir kar na dega magar jab tak tu uske sar par khada rahe ye is liye ke wo kehte hain ke an parhon ke maamle mein hum par koi muakhza nahi aur Allah par jaan bujh kar jhoot baandhte hain
(ف142)شان نزول یہ آیت اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی اور اس میں ظاہر فرمایا گیاکہ ان میں دوقسم کے لوگ ہیں امین وخائن بعض تو ایسے ہیں کہ کثیر مال ان کے پاس امانت رکھا جائے تو بے کم وکاست وقت پر اداکردیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام جنکے پاس ایک قریشی نے بارہ سواَوقِیہ سوناامانت رکھاتھا آپ نے اس کو ویساہی اداکیااور بعض اہل کتاب میں اتنے بددیانت ہیں کہ تھوڑے پر بھی ان کی نیت بگڑ جاتی ہے جیسے کہ فخاص بن عازوراء جس کے پاس کسی نے ایک اشرفی امانت رکھی تھی مانگتے وقت اس سے مُکَرگیا۔(ف143)اور جب ہی دینے والا اس کے پاس سے ہٹے وہ مال امانت ہضم کرجاتا ہے۔(ف144)یعنی غیر کتابیوں ۔(ف145)کہ اس نے اپنی کتابوں میں دوسرے دین والوں کے مال ہضم کرجانے کا حکم دیا ہے باوجود یہ کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں کوئی ایسا حکم نہیں۔
جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں (ف۱٤٦) آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (ف۱٤۷)
Those who accept abject prices in exchange of Allah’s covenant and their oaths, do not have a portion in the Hereafter – Allah will neither speak to them nor look towards them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and for them is a painful punishment.
जो अल्लाह के अहद और अपनी क़समों के बदले ज़लील दाम लेते हैं आख़िरत में उनका कुछ हिस्सा नहीं और अल्लाह न उन से बात करे न उन की तरफ़ नज़र फ़रमाए क़यामत के दिन और न उन्हें पाक करे, और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है
Jo Allah ke ahd aur apni qasmon ke badle zaleel daam lete hain aakhirat mein unka kuch hissa nahi aur Allah na unse baat kare na unki taraf nazar farmaaye qayamat ke din aur na unhein paak kare, aur unke liye dardnaak azaab hai
(ف146)شانِ نزول یہ آیت یہود کے احبار اور انکے رؤساء ابو رافع وکنانہ بن ابی الحقیق اورکعب بن اشرف وحیّی بن اخطب کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ تعالٰی کاوہ عہد چھپایا تھاجو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے متعلق ان سے توریت میں لیا گیا۔ انہوں نے اس کو بدل دیا اور بجائے اس کے اپنے ہاتھوں سے کچھ کاکچھ لکھ دیا اور جھوٹی قسم کھائی کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ سب کچھ انہوں نے اپنی جماعت کے جاہلوں سے رشوتیں اور زر حاصل کرنے کے لئے کیا۔(ف147)مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتین لوگ ایسے ہیں کہ روز قیامت اللہ تعالٰی نہ ان سے کلام فرمائے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کرے نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے اور انہیں درد ناک عذاب ہے اس کے بعد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کو تین مرتبہ پڑھا حضرت ابوذر راوی نے کہا کہ وہ لوگ ٹوٹے اور نقصان میں رہے یارسول اللہ وہ کون لوگ ہیں حضور نے فرمایا ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اور احسان جتانے والا اور اپنے تجارتی مال کو جھوٹی قسم سے رواج دینے والا حضرت ابو امامہ کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کسی مسلمان کاحق مارنے کے لئے قسم کھائے اللہ اس پر جنت حرام کرتا ہے اور دوزخ لازم کرتا ہےصحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اگرچہ تھوڑی ہی چیز ہو فرمایا اگرچہ ببول کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔
اور ان میں کچھ وہ ہیں جو زبان پھیر کر کتاب میں میل (ملاوٹ) کرتے ہیں کہ تم سمجھو یہ بھی کتاب میں ہے اور وہ کتاب میں نہیں، اور وہ کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے اور وہ اللہ کے پاس سے نہیں، اور اللہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱٤۸)
And amongst them are some who distort (change words of) the Book with their tongues, so that you may think that this also is in the Book whereas it is not in the Book; and they say, “This is from Allah” whereas it is not from Allah; and they fabricate lies against Allah, whereas they know.
और उन में कुछ वो हैं जो ज़ुबान फेर कर किताब में मेल (मिलावट) करते हैं कि तुम समझो ये भी किताब में है और वो किताब में नहीं, और वो कहते हैं ये अल्लाह के पास से है और वो अल्लाह के पास से नहीं, और अल्लाह पर दीदा व दानिस्ता झूठ बाँधते हैं
Aur un mein kuch wo hain jo zaban pher kar kitaab mein mel (milaawat) karte hain ke tum samjho ye bhi kitaab mein hai aur wo kitaab mein nahi, aur wo kehte hain ye Allah ke paas se hai aur wo Allah ke paas se nahi, aur Allah par deedah o danista jhoot baandhte hain
(ف148)شانِ نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود و نصارٰی دونوں کے حق میں نازل ہوئی کہ انہوں نے توریت وانجیل کی تحریف کی اور کتاب اللہ میں اپنی طرف سے جو چاہاملایا۔
کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے (ف۱٤۹) پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ (ف۱۵۰) ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے (ف۱۵۱) ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو (ف۱۵۲)
It is not for any human to whom Allah has given the Book and wisdom and Prophethood, that he should afterwards say to the people, “Leave (the worship of) Allah and be my worshippers” – but he will surely say, “Be sincere worshippers of Allah, because you teach the Book and you preach from it.”
किसी आदमी का ये हक़ नहीं कि अल्लाह उसे किताब और हुक्म व पैग़म्बरी दे फिर वो लोगों से कहे कि अल्लाह को छोड़ कर मेरे बन्दे हो जाओ हाँ ये कहेगा कि अल्लाह वाले हो जाओ इस सबब से कि तुम किताब सिखाते हो और उस से कि तुम दर्स करते हो
Kisi aadmi ka ye haq nahi ke Allah use kitaab aur hukm o paighambari de phir wo logon se kahe ke Allah ko chhod kar mere bande ho jao haan ye kahega ke Allah wale ho jao is sabab se ke tum kitaab sikhate ho aur is se ke tum dars karte ho
(ف149)اور کمال علم وعمل عطا فرمائے اور گناہوں سے معصوم کرے۔(ف150)یہ انبیاء سے ناممکن ہے اور ان کی طرف ایسی نسبت بہتان ہے۔شانِ نزول نجران کے نصارٰی نے کہاکہ ہمیں حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حکم دیا ہے کہ ہم انہیں رب مانیں اس آیت میں اللہ تعالٰی نے ان کے اس قول کی تکذیب کی اور بتایاکہ انبیاء کی شان سے ایساکہنا ممکن ہی نہیں اس آیت کے شان نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ ابو رافع یہودی اور سید نصرانی نے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہایا محمد آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اور آپ کو رب مانیں حضور نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں غیر اللہ کی عبادت کاحکم کروں نہ مجھے اللہ نے اس کاحکم دیانہ مجھے اس لئے بھیجا۔(ف151)ربّانی کے معنی عالم فقیہ اور عالم باعمل اور نہایت دیندار کے ہیں۔(ف152)اس سے ثابت ہوا کہ علم و تعلیم کاثمرہ یہ ہوناچاہئے کہ آدمی اللہ والا ہو جائے جسے علم سے یہ فائدہ نہ ہوا اس کاعلم ضائع اور بے کار ہے۔
اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵٤)
And nor will he command you to appoint the angels and the Prophets as Gods; would he (a Prophet) command you to disbelieve after you have become Muslims?
और न तुम्हें ये हुक्म देगा कि फ़रिश्तों और पैग़म्बरों को ख़ुदा ठहरा लो, क्या तुम्हें कुफ्र का हुक्म देगा बाद इसके कि तुम मुसलमान हो लिये
Aur na tumhein ye hukm dega ke farishton aur paighambaron ko Khuda thehra lo, kya tumhein kufr ka hukm dega baad is ke ke tum musalman ho liye
(ف153)اللہ تعالٰی یا اس کا کوئی نبی۔(ف154)ایسا کسی طرح نہیں ہوسکتا۔
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵٦) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،
And remember when Allah took a covenant from the Prophets; “If I give you the Book and knowledge and the (promised) Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) comes to you, confirming the Books you possess, you shall positively, definitely believe in him and you shall positively, definitely help him”; He said, “Do you agree, and accept My binding responsibility in this matter?” They all answered, “We agree”; He said, “Then bear witness amongst yourselves, and I Myself am a witness with you.”
और याद करो जब अल्लाह ने पैग़म्बरों से उनका अहद लिया जो मैं तुम को किताब और हिकमत दूँ फिर तशरीफ़ लाए तुम्हारे पास वो रसूल कि तुम्हारी किताबों की तसदीक़ फ़रमाए तो तुम ज़रूर ज़रूर उस पर ईमान लाना और ज़रूर ज़रूर उसकी मदद करना, फ़रमाया क्यों तुम ने इक़रार किया और उस पर मेरा भारी ज़िम्मा लिया? सब ने अर्ज़ की, हम ने इक़रार किया, फ़रमाया तो एक दूसरे पर गवाह हो जाओ और मैं आप तुम्हारे साथ गवाहों में हूँ,
Aur yaad karo jab Allah ne paighambaron se unka ahd liya jo main tum ko kitaab aur hikmat doon phir tashreef laaye tumhare paas wo Rasool ke tumhari kitaabon ki tasdiq farmaaye to tum zaroor zaroor us par imaan lana aur zaroor zaroor uski madad karna, farmaya kyon tumne iqraar kiya aur us par mera bhaari zimma liya? Sab ne arz ki, humne iqraar kiya, farmaya to ek doosre par gawah ho jao aur main aap tumhare saath gawahon mein hoon,
(ف155)حضرت علی مرتضٰی نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم اور ان کے بعد جس کسی کو نبوت عطافرمائی ان سے سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت عہد لیااور ان انبیاء نے اپنی قوموں سے عہد لیا کہ اگر ان کی حیات میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوں تو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی نصرت کریں اس سے ثابت ہوا کہ حضور تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں(ف156)یعنی سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف157)اس طرح کہ انکے صفات و احوال اس کے مطابق ہوں جو کتب انبیاء میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱٦۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱٦۲) خوشی سے (ف۱٦۳) سے مجبوری سے (ف۱٦٤)
So do they desire a religion other than the religion of Allah, whereas to Him has submitted whoever is in the heavens and the earth, willingly or grudgingly, and it is to Him they will return?
तो क्या अल्लाह के दीन के सिवा और दीन चाहते हैं और उसी के हुज़ूर गर्दन रखे हैं जो कोई आसमानों और ज़मीन में हैं ख़ुशी से मजबूरी से
To kya Allah ke deen ke siwa aur deen chahte hain aur usi ke huzoor gardan rakhe hain jo koi aasmanon aur zameen mein hain khushi se majboori se
(ف161)بعد عہد لئے جانے کے اور دلائل واضح ہونے کے باوجود۔(ف162)ملائکہ اور انسان و جنات۔(ف163)دلائل میں نظر کرکے اور انصاف اختیار کرکے۔ اور یہ اطاعت ان کو فائدہ دیتی اور نفع پہنچاتی ہے۔(ف164)کسی خوف سے یاعذاب کے دیکھ لینے سے جیساکہ کافر عندالموت وقت یاس ایمان لاتا ہے یہ ایمان اسکو قیامت میں نفع نہ دےگا۔
اور اسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱٦۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں
Say, “We believe in Allah and what is sent down to us and what was sent down to Ibrahim, and Ismael, and Ishaq, and Yaqub (Jacob) and their sons, and that which came to Moosa and Eisa and the Prophets, from their Lord; we do not make any distinction, in belief, between any of them, and to Him we have submitted ourselves.”
और उसी की तरफ़ फेरे जाएँगे, यूँ कहो कि हम ईमान लाए अल्लाह पर और उस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो उतरा इब्राहीम और इस्माईल और इसहाक़ और याक़ूब और उनके बेटों पर और जो कुछ मिला मूसा और ईसा और अंबिया को उनके रब से, हम उन में किसी पर ईमान में फ़र्क़ नहीं करते और हम उसी के हुज़ूर गर्दन झुकाए हैं
Aur usi ki taraf pheriyein, yun kaho ke hum imaan laye Allah par aur us par jo hamari taraf utara aur jo utara Ibrahim aur Ismail aur Ishaq aur Yaqoob aur unke beton par aur jo kuch mila Musa aur Isa aur anbiya ko unke Rab se, hum un mein kisi par imaan mein farq nahi karte aur hum usi ke huzoor gardan jhukaye hain
(ف165)جیسا کہ یہود و نصارٰی نے کیاکہ بعض پر ایمان لائے بعض کے منکر ہوگئے۔
کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱٦٦) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱٦۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱٦۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
Why should Allah will guidance for the people who disbelieved, after their having accepted faith and bearing witness that the Noble Messenger is a true one, and after clear signs had come to them? And Allah does not guide the unjust.
क्योंकर अल्लाह ऐसी कौम की हिदायत चाहे जो ईमान ला कर काफ़िर हो गए और गवाही दे चुके थे कि रसूल सच्चा है और उन्हें खुली निशानियाँ आ चुकी थीं और अल्लाह ज़ालिमों को हिदायत नहीं करता
Kyonkar Allah aisi qoum ki hidayat chahe jo imaan la kar kafir ho gaye aur gawahi de chuke the ke Rasool sacha hai aur unhein khuli nishaniyan aa chuki thin aur Allah zalimon ko hidayat nahi karta
(ف166)شانِ نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ یہ آیت یہود ونصارٰی کے حق میں نازل ہوئی کہ یہودحضور کی بعثت سے قبل آپ کے وسیلہ سے دعائیں کرتے تھے اور آپ کی نبوت کے مُقِرّ تھے اور آپ کی تشریف آوری کاانتظار کرتے تھے جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو حسداً آپ کاانکار کرنے لگے اور کافر ہوگئے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی ایسی قوم کوکیسے توفیق ایمان دے کہ جو جان پہچان کر اور مان کر منکر ہوگئی۔(ف167)یعنی سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف168)اور وہ روشن معجزات دیکھ چکے تھے۔
مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱٦۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Except those who repented thereafter and reformed themselves; then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
मगर जिनों ने उस के बाद तौबा की और आपा संभाला तो ज़रूर अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Magar jinhone is ke baad tauba ki aur aapa sambhala to zaroor Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف169)اور کفر سے باز آئے۔ شانِ نزول :حارث ابن سوید انصاری کو کفار کے ساتھ جاملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس پیام بھیجا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کریں کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تب وہ مدینہ منورہ میں تائب ہو کر حاضر ہوئے اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی توبہ قبول فرمائی
بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے،
Indeed those who disbelieve after having accepted faith, and advance further in their disbelief – their repentance will never be accepted; and it is they who are the astray.
बेशक वो जो ईमान ला कर काफ़िर हुए फिर और कुफ्र में बढ़े उनकी तौबा हरगिज़ क़बूल न होगी और वही हैं बहके हुए,
Beshak wo jo imaan la kar kafir hue phir aur kufr mein badhe unki tauba hargiz qubool na hogi aur wahi hain behke hue,
(ف170)شانِ نزول:یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کیاپھر کفر میں اور بڑھے اور سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفرکیا،اور ایک قول یہ ہےکہ یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل تواپنی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ پر ایمان رکھتے تھے اور آ پ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(ف171)اس حال میں یاوقت موت یا اگر وہ کفر پر مرے۔
وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں ۔
Those who disbelieved and died as disbelievers – an earth full of gold will never be accepted from any one of them, even if he offers it, for his freedom; for them is a painful punishment and they do not have any aides.
वो जो काफ़िर हुए और काफ़िर ही मरे उन में किसी से ज़मीन भर सोना हरगिज़ क़बूल न किया जाएगा अगरचि अपनी ख़लासी को दे, उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है और उनका कोई यार नहीं.
Wo jo kafir hue aur kafir hi mare un mein kisi se zameen bhar sona hargiz qubool na kiya jaayega agarche apni khalasi ko de, unke liye dardnaak azaab hai aur unka koi yaar nahi.
تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،
You can never attain virtue until you spend in Allah's cause the things you love; and Allah is Aware of whatever you spend.
तुम हरगिज़ भलाई को न पहुँचोगे जब तक राह-ए-ख़ुदा में अपनी प्यारी चीज़ न ख़र्च करो और तुम जो कुछ ख़र्च करो अल्लाह को मालूम है,
Tum hargiz bhalayi ko na pahuncho ge jab tak raah-e-Khuda mein apni pyari cheez na kharch karo aur tum jo kuch kharch karo Allah ko maaloom hai,
(ف172)بر سے تقوٰی وطاعت مراد ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایاکہ یہاں خرچ کرناعام ہے تمام صدقات کایعنی واجبہ ہوں یانافلہ سب اس میں داخل ہیں حسن کا قول ہے کہ جو مال مسلمانوں کو محبوب ہواور اسے رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے وہ اس آیت میں داخل ہے خواہ ایک کھجور ہی ہو(خازن) عمر بن عبدالعزیز شکرکی بوریاں خرید کرصدقہ کرتے تھے ان سے کہاگیا اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صدقہ کردیتے فرمایا شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے یہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں پیاری چیز خرچ کروں(مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری مدینے میں بڑے مالدار تھے انہیں اپنے اموال میں بیرحا(باغ)بہت پیارا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہو کر عرض کیامجھے اپنے اموال میں بیر حاسب سے پیاراہے میں اس کو راہِ خدا میں صدقہ کرتاہوں حضور نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایااور حضرت ابوطلحہ نے بایمائے حضوراپنے اقارب اوربنی عم میں اس کو تقسیم کردیاحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو لکھاکہ میرے لئے ایک باندی خرید کر بھیج دو جب وہ آئی تو آپ کو بہت پسند آئی آپ نے یہ آیت پڑھ کر اللہ کے لئے اس کو آزاد کردیا۔
سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو (ف۱۷۳)
All food was lawful for the Descendants of Israel (Jacob), except what Israel forbade for himself, before the Taurat (Torah) was sent down; say, “Bring the Taurat and read it, if you are truthful.”
सब खाने बनी इस्राईल को हलाल थे मगर वो जो याक़ूब (अ.) ने अपने ऊपर हराम कर लिया था तौरात उतरने से पहले तुम फ़रमाओ तौरात ला कर पढ़ो अगर सच्चे हो
Sab khane Bani Israeel ko halal the magar wo jo Yaqoob ne apne upar haraam kar liya tha Taurat utrne se pehle tum farmao Taurat la kar padho agar sache ho
(ف173)شانِ نزول: یہود نے سید عالم سے کہاکہ حضور اپنے آپ کو ملّتِ ابراہیمی پر خیال کرتے ہیں باوجود یکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اونٹ کاگوشت اور دودھ نہیں کھاتے تھے آپ کھاتے ہیں تو آپ ملّتِ ابراہیمی پر کیسے ہوئے حضور نے فرمایاکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم پر حلال تھیں یہود کہنے لگے کہ یہ حضرت نوح پر بھی حرام تھیں حضرت ابراہیم پر بھی حرام تھیں اور ہم تک حرام ہی چلی آئیں اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا گیاکہ یہود کایہ دعوٰی غلط ہے بلکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب پرحلال تھیں حضرت یعقوب نےکسی سبب سے ان کو اپنے اوپر حرام فرمایااور یہ حرمت ان کی اولاد میں باقی رہی یہود نے اس کا انکار کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ توریت اس مضمون پر ناطق ہے اگر تمہیں انکار ہے تو توریت لاؤ اس پر یہود کو اپنی فضیحت ورسوائی کاخوف ہوااور وہ توریت نہ لاسکے ان کاکذب ظاہر ہوگیا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی فائدہ اس سے ثابت ہواکہ پچھلی شریعتوں میں احکام منسوخ ہوتے تھے اس میں یہودکارد ہے جو نسخ کے قائل نہ تھے فائدہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمّی تھے باوجود اس کے یہود کو توریت سے الزام دینااور توریت کے مضامین سے استدلال فرمانا آپ کامعجزہ اور نبوت کی دلیل ہے اور اس سے آپ کے وہبی اورغیبی علوم کاپتہ چلتا ہے
تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is truthful; so follow the religion of Ibrahim, who was free from all falsehood; and he was not of the polytheists.”
तुम फ़रमाओ अल्लाह सच्चा है, तो इब्राहीम के दीन पर चलो जो हर बातिल से जुदा थे और शिर्क वालों में न थे,
Tum farmao Allah sacha hai, to Ibrahim ke deen par chalo jo har baatil se juda the aur shirk walon mein na the,
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷٦)
Indeed the first house that was appointed as a place of worship for mankind, is the one at Mecca (the Holy Ka’aba), blessed and a guidance to the whole world;
बेशक सब में पहला घर जो लोगों की इबादत को मुक़र्रर हुआ वो है जो मक्का में है बरकत वाला और सारे जहाँ का राहनुमा
Beshak sab mein pehla ghar jo logon ki ibaadat ko muqarrar hua wo hai jo Makka mein hai barkat wala aur saare jahan ka rahnuma
(ف176)شانِ نزول:یہود نے مسلمانوں سے کہاتھا کہ بیت المَقۡدِسۡ ہمارا قبلہ ہے کعبہ سے افضل اور اس سے پہلا ہے انبیاءکامقام ہجرت و قبلۂ عبادت ہے مسلمانوں نے کہاکہ کعبہ افضل ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیاکہ سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالٰی نے طاعت وعبادت کے لئے مقرر کیانماز کاقبلہ حج اور طواف کاموضع بنایا جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہر مکہ معظمہ میں واقع ہے حدیث شریف میں ہے کہ کعبہ معظمہ بیت المَقۡدِس سے چالیس سال قبل بنایا گیا
اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بےپرواہ ہے (ف۱۸۱)
In it are clear signs – the place where Ibrahim stood (is one of them); and whoever enters it shall be safe; and performing the Hajj (pilgrimage) of this house, for the sake of Allah, is a duty upon mankind, for those who can reach it; and whoever disbelieves – then Allah is Independent (Unwanting) of the entire creation!
उस में खुली निशानियाँ हैं इब्राहीम के खड़े होने की जगह और जो उस में आए अमन में हो और अल्लाह के लिये लोगों पर उस घर का हज करना है जो उस तक चल सके और जो मुनकर हो तो अल्लाह सारे जहाँ से बे-परवाह है
Is mein khuli nishaniyan hain Ibrahim ke khade hone ki jagah aur jo is mein aaye amaan mein ho aur Allah ke liye logon par is ghar ka Hajj karna hai jo is tak chal sake aur jo munkir ho to Allah saare jahan se beparwah hai
(ف177)جو اس کی حرمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرند کعبہ شریف کے اوپر نہیں بیٹھتے اور اس کے اوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں تو اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں اور جو پرند بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جائیں اسی سے انہیں شفاہوتی ہے اور وُحوش ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے حتی کہ کتے اس سرزمین میں ہرن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے اور لوگوں کے دل کعبہ معظمہ کی طرف کھچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور ہر شب جمعہ کو ارواحِ اَولیاء اس کے گرد حاضر ہوتی ہیں اور جو کوئی اس کی بے حرمتی کا قصد کرتا ہے برباد ہوجاتا ہے انہیں آیات میں سے مقام ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کا آیت میں بیان فرمایا گیا(مدارک و خازن وا حمدی) (ف178)مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوتے تھے اور اس میں آ پ کے قدمِ مبارک کے نشان تھے جو باوجود طویل زمانہ گزرنے اور بکثرت ہاتھوں سے مَسۡ ہونے کے ابھی تک کچھ باقی ہیں(ف179)یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جنایت کرکے حرم میں داخل ہو تو وہاں نہ اس کو قتل کیاجائے نہ اس پر حد قائم کی جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کوہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے(ف180)مسئلہ :اس آیت میں حج کی فرضیت کا بیان ہے اور اس کاکہ استطاعت شرط ہے حدیث شریف میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تفسیر زادو راحلہ سے فرمائی زاد یعنی توشہ کھانے پینے کا انتظام اس قدر ہونا چاہئے کہ جا کر واپس آنے تک کے لئے کافی ہو اور یہ واپسی کے وقت تک اہل و عیال کے نفقہ کے علاوہ ہونا چاہئے راہ کاامن بھی ضروری ہے کیونکہ بغیر اس کے استطاعت ثابت نہیں ہوتی(ف181)اس سے اللہ تعالٰی کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرض قطعی کامنکر کافر ہے
تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you not believe in the verses (or signs) of Allah, whereas your deeds are being witnessed by Allah?”
तुम फ़रमाओ ऐ किताबियो! अल्लाह की आयतें क्यों नहीं मानते और तुम्हारे काम अल्लाह सामने हैं,
Tum farmao Ae kitabiyo! Allah ki aayatein kyon nahi maante aur tumhare kaam Allah samne hain,
(ف182)جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدق نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔
تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸٤) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بےخبر نہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you prevent those who have accepted faith from the way of Allah, seeking to cause deviation in it, whereas you yourselves are witnesses to it? And Allah is not unaware of your deeds!”
तुम फ़रमाओ ऐ किताबियो! क्यों अल्लाह की राह से रोकते हो उसे जो ईमान लाया उसे टेढ़ा क्या चाहते हो और तुम ख़ुद उस पर गवाह हो और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों (बुरे आमाल, करतूत) से बे-ख़बर नहीं,
Tum farmao Ae kitabiyo! kyon Allah ki raah se rokte ho use jo imaan laya use terha kya chahte ho aur tum khud us par gawah ho aur Allah tumhare kotokon (bure aamaal, kartoot) se be khabar nahi,
(ف183)نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرکے اور آپ کی نعت و صفت چھپا کر جو توریت میں مذکور ہے۔(ف184)کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت توریت میں مکتوب ہے اور اللہ کو جو دین مقبول ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے
اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے (ف۱۸۵)
O People who Believe! If you obey some of People given the Book(s), they will definitely turn you into disbelievers after your having accepted faith.
ऐ ईमान वालो! अगर तुम कुछ किताबियों के कहे पर चले तो वो तुम्हारे ईमान के बाद काफ़िर कर छोड़ेंगे
Ae imaan walo! agar tum kuch kitabiyon ke kahe par chale to wo tumhare imaan ke baad kafir kar chhodenge
(ف185)شانِ نزول:اَوۡس و خَزْرَج کے قبیلوں میں پہلے بڑی عداوت تھی اور مدتوں ان کے درمیان جنگ جاری رہی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیرو شکر ہوئے ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے اُنس ومحبت کی باتیں کررہے تھے شاس بن قیس یہودی جو بڑا دشمن اسلام تھااس طرف سے گزرااور ان کے باہمی روابط دیکھ کر جل گیا اور کہنے لگاکہ جب یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے ایک جوان کو مقرر کیاکہ انکی مجلس میں بیٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کاذکر چھیڑے اور اس زمانہ میں ہر ایک قبیلہ جو اپنی مدح اور دوسروں کی حقارت کے اشعار لکھتا تھا پڑھے چنانچہ اس یہودی نے ایسا ہی کیااور اس کی شرر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے لوگ طیش میں آگئے اور ہتھیار اٹھالئے قریب تھاکہ خونریزی ہوجائے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خبر پاکر مہاجرین کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایاکہ اے جماعت اہل اسلام یہ کیا جاہلیت کے حرکات ہیں میں تمہارے درمیان ہوں اللہ تعالٰی نے تم کو اسلام کی عزت دی جاہلیت کی بلاسے نجات دی تمہارے درمیان الفت و محبت ڈالی تم پھر زمانۂ کفر کی حالت کی طرف لوٹتے ہوحضور کے ارشاد نے ان کے دلوں پر اثر کیااور انہوں نے سمجھاکہ یہ شیطا ن کافریب اور دشمن کامَکۡر تھاانہوں نے ہاتھوں سے ہتھیار پھینک دیئے اور روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اورحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فرمانبردارانہ چلے آئے ا ن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا،
And how can you disbelieve, whereas Allah’s verses are recited to you and His Noble Messenger is present amongst you?! And whoever takes the support of Allah is indeed guided to the right path.
और तुम क्यूँ कर कुफ़्र करोगे तुम पर अल्लाह की आयतें पढ़ी जाती हैं और तुम में उसका रसूल तशरीफ़ लाया और जिस ने अल्लाह का सहारा लिया तो ज़रूर वह सीधी राह दिखाया गया,
aur tum kyon kar kufr karoge tum par Allah ki aayatein padhi jaati hain aur tum mein uska Rasool tashreef laya aur jis ne Allah ka sahara liya to zaroor woh seedhi raah dikhaya gaya,
اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸٦) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ،
And hold fast to the rope of Allah, all of you together, and do not be divided; and remember Allah’s favour on you, that when there was enmity between you, He created affection between your hearts, so due to His grace you became like brothers to each other; and you were on the edge of a pit of fire (hell), so He saved you from it; this is how Allah explains His verses to you, so that you may be guided.
और अल्लाह की रस्सी मज़बूत थाम लो सब मिल कर और आपस में फट न जाना (फर्क़ों में न बट जाना) और अल्लाह का एहसान अपने ऊपर याद करो जब तुम में बैर था उस ने तुम्हारे दिलों में मिलाप कर दिया तो उस के फ़ज़्ल से तुम आपस में भाई हो गए और तुम एक गार दोज़ख़ के किनारे पर थे तो उस ने तुम्हें उस से बचा दिया अल्लाह तुम से यूँ ही अपनी आयतें बयान फ़रमाता है कि कहीं तुम हिदायत पाओ,
aur Allah ki rassi mazboot thaam lo sab mil kar aur aapas mein phat na jaana (farkon mein na bat jaana) aur Allah ka ehsaaan apne upar yaad karo jab tum mein bair tha us ne tumhare dilon mein milaap kar diya to uske fazl se tum aapas mein bhai ho gaye aur tum ek ghaar dozak ki kinaare par the to usne tumhein us se bacha diya Allah tum se yun hi apni aayatein bayaan farmaata hai ke kahin tum hidaayat paao,
(ف186) حَبْلِ اللّٰہ ِ کی تفسیر میں مفسرین کے چند قول ہیں بعض کہتے ہیں اس سے قرآن مراد ہے مُسلِم کی حدیث شریف میں وارد ہوا کہ قرآن پاک حبل اللہ ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہے جس نے اُس کو چھوڑا وہ گمراہی پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حبل اللہ سے جماعت مراد ہے اور فرمایا کہ تم جماعت کو لازم کرلو کہ وہ حبل اللہ ہے جس کو مضبوط تھامنے کا حکم دیا گیاہے۔(ف187)جیسے کہ یہود و نصارٰی متفرق ہوگئے اس آیت میں اُن افعال و حرکات کی ممانعت کی گئی جو مسلمانوں کے درمیان تفرق کا سبب ہوں طریقہ مسلمین مذہب اہل سنت ہے اس کے سوا کوئی راہ اختیار کرنا دین میں تفریق اور ممنوع ہے۔(ف188)اور اسلام کی بدولت عداوت دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی حتٰی کہ اَوۡس اور خَزْرَجۡ کی وہ مشہور لڑائی جو ایک سو بیس سال سے جاری تھی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مٹادی اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگ جو قبیلوں میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے۔(ف189)یعنی حالتِ کفر میں کہ اگر اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے۔(ف190)دولت ایمان عطا کرکے۔
اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲)
And there should be a group among you that invites to goodness, and enjoins good deeds and forbids immorality; it is they who are the successful.
और तुम में एक गिरोह ऐसा होना चाहिए कि भलाई की तरफ़ बुलाएँ और अच्छी बात का हुक्म दें और बुरी से मना करें और यही लोग मुराद को पहुँचे
aur tum mein ek groh aisa hona chahiye ke bhalaai ki taraf bulayen aur achhi baat ka hukum dein aur buri se mana karein aur yahi log muraad ko pahunche
(ف191)اس آیت سے امر معروف و نہی منکر کی فرضیت اور اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔(ف192)حضرت علی مرتضٰی نے فرمایا کہ نیکیوں کا حکم کرنا اور بدیوں سے روکنا بہترین جہاد ہے۔
اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹٤) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
And do not be like those who became divided and disputed after the clear signs had come to them; and for them is a terrible punishment.
और उन जैसे न होना जो आपस में फट गए और उन में फूट पड़ गई बाद उस के कि रोशन निशानियाँ उन्हें आ चुकी थीं और उन के लिए बड़ा अज़ाब है ,
aur un jaise na hona jo aapas mein phat gaye aur un mein phoot pad gayi baad iske ke roshan nishaaniyan unhein aa chuki thin aur unke liye bada azaab hai,
(ف193)جیسا کہ یہود ونصارٰی آپس میں مختلف ہوئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد و دشمنی راسخ ہوگئی یا جیسا کہ خود تم زمانۂ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے تمہارے درمیان بغض و عناد تھا مسئلہ : اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اوراختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں واردہیں اور جماعت مسلمین سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے جو فرقہ پیدا ہوتا ہے اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور جماعت مسلمین میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حسب ارشاد حدیث وہ شیطان کا شکار ہے اَعَاذَنَا اللّٰہُ تَعَالیٰ مِنۡہُ۔(ف194)اور حق واضح ہوچکا تھا۔
جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹٦) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ،
On the Day (of Resurrection) when some faces will be shining and some faces black; so, (to) those whose faces are blackened, “What! You disbelieved after you had accepted faith! Therefore now taste the punishment, the result of your disbelief.”
जिस दिन कुछ मुँह उंजाले होंगे और कुछ मुँह काले तो वह जिन के मुँह काले हुए क्या तुम ईमान ला कर काफ़िर हुए तो अब अज़ाब चखो अपने कुफ़्र का बदला,
jis din kuch munh unjaley honge aur kuch munh kaale to woh jin ke munh kaale hue kya tum imaan laa kar kaafir hue to ab azaab chakho apne kufr ka badla,
(ف195)یعنی کفّار اُن سے تو بیخاً کہا جائے گا۔(ف196)اس کے مخاطب یا تو تمام کفار ہیں اس صورت میں ایمان سے روز میثاق کا ایمان مراد ہے جب اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے بَلٰی کہا تھا اور ایمان لائے تھے اب جو دُنیا میں کافر ہوئے تو اُن سے فرمایا جاتا ہے کہ روز میثاق ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے حسن کا قول ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں جنہوں نے زبان سے اظہار ایمان کیا تھا اور ان کے دل مُنکر تھے عِکْرَمہ نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہیں جو سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت کے قبل تو حضور پر ایمان لائے اور حضور کے ظہور کے بعد آپ کا انکا ر کرکے کافر ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ اس کے مخاطب مرتدین ہیں جو اسلام لا کر پھر گئے اور کافر ہوگئے۔
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۱۹۸)
These are the verses of Allah, which We recite to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), with truth; and Allah does not wish any injustice to the creation.
यह अल्लाह की आयतें हैं कि हम ठिक ठिक तुम पर पढ़ते हैं , और अल्लाह जहाँ वालों पर ज़ुल्म नहीं चाहता
ye Allah ki aayatein hain ke hum theek theek tum par padhte hain, aur Allah jahan walon par zulm nahi chahta
(ف198)اور کسی کو بے جرم عذاب نہیں دیتا اور کسی کی نیکی کا ثواب کم نہیں کرتا۔
تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ،
You are the best among all the nations that were raised among mankind – you enjoin good deeds and forbid immorality and you believe in Allah; and if the People given the Book(s) believed it would be better for them; some of them are believers (Muslims) and most of them are disbelievers. (The best Ummah is that of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him.)
तुम बेहतर हो उन उम्मतों में जो लोगों में ज़ाहिर हुईं भलाई का हुक्म देते हो और बुराई से मना करते हो और अल्लाह पर ईमान रखते हो, और अगर किताब़ी ईमान लाते तो उन का भला था, उन में कुछ मुसलमान हैं और ज़्यादा काफ़िर ,
tum behtar ho un ummaton mein jo logon mein zaahir huein bhalaai ka hukum dete ho aur burai se mana karte ho aur Allah par imaan rakhte ho, aur agar kitaabi imaan laate to unka bhala tha, un mein kuch musalmaan hain aur zyada kaafir,
(ف199)اے اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ شانِ نزول : یہودیوں میں سے مالک بن صیف اور وہب بن یہودا نے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے جس کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے جو جماعت سے جدا ہوا دوزخ میں گیا۔(ف200)سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔(ف201)جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب یہود میں سے اور نجاشی اور ان کے اصحاب نصارٰی میں سے۔
وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی،
They cannot harm you except cause some trouble; and if they fight against you, they will turn their backs on you; then they will not be helped.
वह तुम्हारे कुछ न बिगाड़ेंगे मगर यही सताना और अगर तुम से लड़ें तो तुम्हारे सामने से पीठ फेर जाएँगे फिर उन की मदद न होगी,
woh tumhare kuch na bigaadenge magar yahi satana aur agar tum se ladain to tumhare samne se peeth pher jaayenge phir unki madad na hogi,
(ف202)زبانی طعن و تشنیع اور دھمکی وغیرہ سے شان نزول یہود میں سے جو لوگ اسلام لائے تھے جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام اور اُن کے ہمراہی رؤساء یہود ان کے دشمن ہوگئے اور انہیں ایذا دینے کی فکر میں رہنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو مطمئن کردیا کہ زبانی قیل و قال کے سوا وہ مسلمانوں کو کوئی آزار نہ پہنچاسکیں گے غلبہ مسلمانوں ہی کو رہے گا اور یہود کا انجام ذلت و رسوائی ہے۔(ف203)اور تمہارے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں گے یہ غیبی خبریں ایسی ہی واقع ہوئیں۔
ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰٤) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰٦) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نافرمانبردار اور سرکش تھے،
Disgrace has been destined for them – wherever they are they shall not find peace, except by a rope from Allah and a rope from men – and they have deserved the wrath of Allah, and misery is destined for them; that is because they used to disbelieve in the signs of Allah, and unjustly martyr the Prophets; that was for their disobedience and transgression.
उन पर जमा दी गई ख़्वारी जहाँ हों अमान न पाएँ मगर अल्लाह की डोर और आदमियों की डोर से और ग़ज़ब इलाही के सज़ावार हुए और उन पर जमा दी गई मोहताजी यह उस लिये कि वह अल्लाह की आयतों से कुफ़्र करते और पैग़म्बरों को नाहक़ शहीद करते , यह उस लिये कि ना फ़रमानबरदार और सरकश थे ,
un par jama di gayi khwaari jahan hon amaan na paayen magar Allah ki dor aur aadmiyon ki dor se aur ghazab ilaahi ke sazaawar hue aur un par jama di gayi mohtaaji ye is liye ke woh Allah ki aayaton se kufr karte aur paighambaron ko na-haq shaheed karte, ye is liye ke na farmanbardaar aur sarkash the,
(ف204)ہمیشہ ذلیل ہی رہیں گے عزّت کبھی نہ پائیں گے اسی کا اثر ہے کہ آج تک یہود کو کہیں کی سلطنت میسّر نہ آئی جہاں رہے رعایا وغلام ہی بن کررہے۔(ف205)تھام کر یعنی ایمان لا کر۔(ف206)یعنی مسلمانوں کی پناہ لے کر اور انہیں جزیہ دے کر۔(ف207)چنانچہ یہودی کو مالدار ہو کر بھی غناءِ قلبی میسر نہیں ہوتا۔
سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹)
All of them are not alike; among the People given the Book(s) are some who are firm on the truth – they recite the verses of Allah in the night hours and prostrate (before Him).
सब एक से नहीं किताबियों में कुछ वह हैं कि हक़ पर क़ायम हैं अल्लाह की आयतें पढ़ते हैं रात की घड़ियों में और सज्दा करते हैं
sab ek se nahi kitaabiyon mein kuch woh hain ke haq par qaaim hain Allah ki aayatein padte hain raat ki ghadiyon mein aur sajda karte hain
(ف208)شان نزول: جب حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب ایمان لائے تو احبار یہود نے جل کر کہا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہم میں سے جو ایمان لائے ہیں وہ برے لوگ ہیں اگر برے نہ ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین نہ چھوڑتے اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی عطاء کا قول ہے مِنَ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّۃ قَآئِمَۃٌ سے چالیس مرد اہل نجران کے بتیس۳۲ حبشہ کے آٹھ روم کے مراد ہیں جو دین عیسوی پر تھے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف209)یعنی نماز پڑھتے ہیں اس سے یا تو نماز عشاء مراد ہے جو اہل کتاب نہیں پڑھتے یا نما زتہجد ۔
اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں،
They accept faith in Allah and the Last Day, and enjoin good deeds and forbid immorality, and hasten to perform good deeds; and they are the righteous.
अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाते हैं और भलाई का हुक्म देते और बुराई से मना करते हैं और नेक कामों पर दौड़ते हैं , और यह लोग लायक़ हैं ,
Allah aur pichhle din par imaan laate hain aur bhalaai ka hukum dete aur burai se mana karte hain aur nek kaamon par dourte hain, aur ye log laaiq hain,
اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱)
And they will not be denied the reward of whatever good they do; and Allah knows the pious.
और वह जो भलाई करें उन का हक़ न मारा जाएगा और अल्लाह को मालूम हैं डर वाले
aur woh jo bhalaai karein unka haq na maara jaayega aur Allah ko maaloom hain dar waale
(ف211)یہود نے عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب سے کہا تھا کہ تم دین اسلام قبول کرکے ٹوٹے میں پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ درجاتِ عالیہ کے مستحق ہوئے اور اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے یہود کی بکواس بے ہودہ ہے۔
وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳)
Indeed those who disbelieve – neither their wealth nor their offspring will help save them in the least, from Allah; and they are the people of fire; remaining in it forever.
वह जो काफ़िर हुए उन के माल और औलाद उन को अल्लाह से कुछ न बचा लें गे और वह जहन्नमी हैं उन को हमेशा उस में रहना
woh jo kaafir hue unke maal aur aulaad unko Allah se kuch na bacha lein ge aur woh jahannami hain unko hamesha usmein rehna
(ف212)جن پر انہیں بہت ناز ہے۔(ف213)شان نزول: یہ آیت بنی قُرَیْظَہ و نُضَیرکے حق میں نازل ہوئی یہود کے روساء نے تحصیلِ ریاست و مال کی غرض سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشادفرمایا کہ ان کے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے وہ رسول کی دُشمنی میں ناحق اپنی عاقبت برباد کررہے ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکینِ قریش کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ ابوجہل کو اپنی دولت و مال پر بڑا فخر تھا اور ابوسفیان نے بدرواُحد میں مشرکین پر بہت کثیر مال خرچ کیا تھا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت تمام کفار کے حق میں عام ہے ان سب کو بتایا گیا کہ مال و اولاد میں سے کوئی بھی کام آنے والا اور عذابِ الٰہی سے بچانے والا نہیں۔
کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱٤) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مار گئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،
The example of what they spend in this worldly life is similar to the freezing cold wind which struck the fields of a nation who wronged themselves, and destroyed it completely; and Allah did not oppress them, but it is they who wronged themselves.
कहावत उस की जो इस दुनिया में ज़िन्दगी में ख़र्च करते हैं उस हवा की सी है जिस में पाला हो वह एक ऐसी क़ौम की खेती पर पड़ी जो अपना ही बुरा करते थे तो उसे बिलकुल मार गई और अल्लाह ने उन पर ज़ुल्म न किया हाँ वह ख़ुद अपनी जानों पर ज़ुल्म करते हैं ,
kahaawat uski jo is duniya mein zindagi mein kharch karte hain us hawa ki si hai jis mein paala ho woh ek aisi qaum ki kheti par padi jo apna hi bura karte the to use bilkul maar gayi aur Allah ne unpar zulm na kiya haan woh khud apni jaanon par zulm karte hain,
(ف214)مُفَسرِین کا قول ہے کہ اس سے یہود کا وہ خرچ مراد ہے جو اپنے علماء اور رؤساء پر کرتے تھے ایک قول یہ ہے کہ کفار کے تمام نفقات و صدقات مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ ریا کارکا خرچ کرنا مراد ہے کیونکہ ان سب لوگوں کا خرچ کرنا یا نفع دنیوی کے لئے ہوگا یا نفع اُخروی کے لئے اگر محض نفع دنیوی کے لئے ہو تو آخرت میں اس سے کیا فائدہ اور ریاکار کو تو آخرت اور رضائے الٰہی مقصود ہی نہیں ہوتی اس کا عمل دکھاوے اور نمود کے لئے ہوتا ہے ایسے عمل کا آخرت میں کیا نفع اور کافر کے تمام عمل اکارت ہیں وہ اگر آخرت کی نیت سے بھی خرچ کرے تو نفع نہیں پاسکتا ان لوگوں کے لئے وہ مثال بالکل مطابق ہے جو آیت میں ذکر فرمائی جاتی ہے(ف215)یعنی جس طرح کہ برفانی ہو اکھیتی کو برباد کردیتی ہے اسی طرح کُفر انفاق کو باطل کردیتا ہے۔
اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱٦) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸)
O People who Believe! Do not share your secrets with others – they do all they can to ruin you; they desire the maximum harm for you; enmity has been revealed from their speech, and what they hide in their breasts is greater; we have explained the signs clearly to you, if you have intelligence.
ऐ ईमान वालो! ग़ैरों को अपना राज़दार न बनाओ वह तुम्हारी बुराई में कमी नहीं करते उन की आरज़ू है , जितनी अज़ा पहुँचे बैर उन की बातों से झलक उठा और वह जो सीने में छुपाए हैं और बड़ा है , हमने निशानियाँ तुम्हें खोल कर सुना दीं अगर तुम्हें अकल हो
ae imaan walo! ghairon ko apna raazdaar na banao woh tumhari burai mein kami nahi karte unki aarzu hai, jitni aziyat pahunche bair unki baaton se jhalak utha aur woh jo seenay mein chhupaye hain aur bada hai, humne nishaaniyan tumhein khol kar suna di agar tumhein aql ho
(ف216)ان سے دوستی نہ کرو محبت کے تعلقات نہ رکھو وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔شان نزول: بعض مسلمان یہود سے قرابت اور دوستی اورپڑوس وغیرہ تعلقات کی بنا پر میل جول رکھتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: کفار سے دوستی و محبت کرنا اور انہیں اپنا راز دار بنانا ناجائز و ممنوع ہے۔(ف217) غیظ و عناد(ف218)تو اُن سے دوستی نہ کرو۔
سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات،
Listen! It is you who love them and they do not love you, whereas the fact is that you believe in all the Books; when they meet you they say, “We believe”; and when they are alone they chew their fingers at you with rage; say, “Die in your frenzy!” Allah knows well what lies within the hearts.
सुनते हो यह जो तुम हो तुम तो उन्हें चाहते हो और वह तुम्हें नहीं चाहते और हाल यह कि तुम सब किताबों पर ईमान लाते हो और वह जब तुम से मिलते हैं कहते हैं हम ईमान लाए और अकेले हों तो तुम पर उंगलियाँ चबाएँ ग़ुस्सा से तुम फ़रमा दो कि मर जाओ अपनी घुटन (क़ल्बी जलन) में अल्लाह ख़ूब जानता है दिलों की बात,
sunte ho ye jo tum ho tum to unhein chahte ho aur woh tumhein nahi chahte aur haal ye ke tum sab kitaabon par imaan laate ho aur woh jab tumse milte hain kehte hain hum imaan laaye aur akele hon to tum par ungliyan chabaain gussa se tum farma do ke mar jao apni ghutan (qalbi jalan) mein Allah khoob jaanta hai dilon ki baat,
(ف219)رشتہ داری اور دوستی وغیرہ تعلقات کی بنا ء پر۔(ف220)اور دینی مخالفت کی بنا پر تم سے دشمنی رکھتے ہیں۔(ف221)ا ور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔(ف222)یہ منافقین کا حال ہے۔(ف223) بمیرتا برہی اے حسود کیں رنجیست ٭ کہ از مشقت اوجز بمرگ نتواں رست
تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲٤) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں،
If some good reaches you, they feel unhappy; and if misfortune befalls you, they will rejoice; and if you remain steadfast and pious, their evil scheme will not harm you in the least; undoubtedly all what they do is encompassed by Allah.
तुम्हें कोई भलाई पहुँचे तो उन्हें बुरा लगे और तुम कि बुराई पहुँचे तो उस पर ख़ुश हों , और अगर तुम सब्र और परहेज़ गारी किए रहो तो उन का दाऊ तुम्हारा कुछ न बिगाड़ेगा, बेशक उन के सब काम ख़ुदा के घेरे में हैं ,
tumhein koi bhalaai pahunche to unhein bura lage aur tumhein koi burai pahunche to uspar khush hon, aur agar tum sabr aur parhez gaari kiye raho to unka daao tumhara kuch na bigaadega, beshak unke sab kaam khuda ke ghere mein hain,
(ف224)اور اس پر وہ رنجیدہ ہوں۔(ف225)اور اُن سے دوستی و محبت نہ کرو مسئلہ اس آیت سے معلُوم ہوا کہ دشمن کے مقابلے میں صبرو تقوٰی کام آتا ہے۔
اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲٦) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
And remember O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you came forth from your house in the morning, appointing the believers on positions of battle; and Allah is All Hearing, All Knowing.
और याद करो ऐ महबूब! जब तुम सुबह को अपने दौलत ख़ाना से बरामद हुए मुसलमानों को लड़ाई के मोर चों पर क़ायम करते और अल्लाह सुनता जानता है ,
aur yaad karo ae mehboob! jab tum subah ko apne daulat khaana se bar-aamad hue musalmanon ko ladai ke morchon par qaaim karte aur Allah sunta jaanta hai,
(ف226)بمقام مدینہ طیّبہ بقصد اُحد ۔(ف227)جمہور مُفسّرِین کا قول ہے کہ یہ بیان جنگ ِاُحد کا ہے جس کا اجمالی واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفّار کو بڑا رنج تھا اس لئے اُنہوں نے بقصدِ انتقام لشکرِ گراں مرتب کرکے فوج کَشی کی، جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی کہ لشکرِکفّار اُحد میں اُترا ہے تو آپ نے اصحاب سے مشورہ فرمایا اس مشورت میں عبداللہ بن ابی بن سلول کو بھی بلایا گیا جو اس سے قبل کبھی کسی مشورت کے لئے بُلایا نہ گیا تھا اکثر انصار کی اور اس عبداللہ کی یہ رائے ہوئی کہ حضورمدینہ طیبہ میں ہی قائم رہیں اور جب کفّار یہاں آئیں تب اُن سے مقابلہ کیا جائے یہی سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی تھی لیکن بعض اصحاب کی رائے یہ ہوئی کہ مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہئے اور اسی پر انہوں نے اصرار کیا سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف لے گئے اور اسلحہ زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے اب حضور کو دیکھ کر ان اصحاب کو ندامت ہوئی اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور کو رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا ہماری غلطی تھی اس کو معاف فرمائیے اور جو مرضیء مُبارک ہو وہی کیجئے ۔ حضور نے فرمایا کہ نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ ہتھیار پہن کر قبل جنگ اُتار دے مشرکین اُحد میں چہار شنبہ پنج شنبہ کو پہنچے تھے اور رسول ِکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روزبعد نماز جمعہ ایک انصاری کی نماز جنازہ پڑھ کر روانہ ہوئے اور پندرہ شوال ۳ھ روز یک شنبہ اُحد میں پہنچے یہاں نزول فرمایا اور پہاڑ کا ایک درّہ جو لشکرِ اسلام کے پیچھے تھا اس طرف سے اندیشہ تھا کہ کسی وقت دشمن پشت پر سے آکر حملہ کرے اس لئے حضور نے عبداللہ بن زُبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ وہاں مامور فرمایا کہ اگر دشمن اس طرف سے حملہ آور ہو تو تیر باری کرکے اُس کو دفع کردیا جائے اور حکم دیا کہ کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا اور اس جگہ کو نہ چھوڑنا خواہ فتح ہو یا شکست ہو عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جس نے مدینہ طیبہ میں رہ کر جنگ کرنے کی رائے دی تھی اپنی رائے کے خلاف کئے جانے کی وجہ سے برہم ہوا اور کہنے لگا کہ حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو عمر لڑکوں کا کہنا تو مانا اور میری بات کی پروا نہ کی اس عبداللہ بن اُبَیْ کے ساتھ تین سو منافق تھے ان سے اس نے کہا کہ جب دشمن لشکرِ اسلام کے مقابل آجائے اس وقت بھاگ پڑو تاکہ لشکرِ اسلام میں ابتری ہوجائے اور تمہیں دیکھ کر اور لوگ بھی بھاگ نکلیں ۔ مسلمانوں کے لشکر کی کل تعداد معہ ان منافقین کے ہزار تھی اور مشرکین تین ہزار ، مقابلہ ہوتے ہی عبداللہ بن اُبَی منافق اپنے تین سو منافقوں کو لے کر بھاگ نکلا اور حضورکے سات سو اصحاب حضور کےساتھ رہ گئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو ثابت رکھا یہاں تک کہ مشرکین کو ہزیمت ہوئی اب صحابہ بھاگتے ہوئے مشرکین کے پیچھے پڑ گئے اور حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں قائم رہنے کے لئے فرمایا تھا وہاں قائم نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے اِنہیں یہ دکھا دیا کہ بدر میں اللہ اورا س کے رسول کی فرمانبرداری کی برکت سے فتح ہوئی تھی یہاں حضورکے حکم کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں سے رُعب و ہیبت دور فرمائی اور وہ پلٹ پڑے اور مسلمانوں کو ہزیمت ہوئی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جماعت رہی جس میں حضرت ابوبکر و علی و عباس و طلحہ و سعد تھے اسی جنگ میں دندانِ اقدس شہید ہوا اور چہرۂ اقدس پر زخم آیا اسی کے متعلق یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی
جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
When two groups among you almost decided to show cowardice – and Allah is their Protector; and in Allah only should the believers trust.
जब तुम में के दो गिरोहों का इरादा हुआ कि नामर्दी कर जाएँ और अल्लाह उन का संभालने वाला है और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए ,
jab tum mein ke do grohon ka iraada hua ke namardi kar jaayen aur Allah unka sambhaalne waala hai aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف228)یہ دونوں گروہ انصار میں سے تھے ایک بنی سلمہ خَزْرَجْ میں سے اور ایک بنی حارثہ اَوْس میں سے یہ دونوں لشکر کے بازو تھے جب عبداللہ بن ابی بن سلول منافق بھاگا تو انہوں نے بھی واپس جانے کا قصد کیا اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور انہیں اس سے محفوظ رکھا اور وہ حضور کے ساتھ ثابت رہے یہاں اس نعمت و احسان کا ذکر فرمایا ہے
جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،
When you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) said to the believers, “Is it not sufficient for you that your Lord may support you by sending down three thousand angels?”
जब ऐ महबूब तुम मुसलमानों से फ़रमाते थे क्या तुम्हें यह काफ़ी नहीं कि तुम्हारा रब तुम्हारी मदद करे तीन हज़ार फ़रिश्ता उतार कर,
jab ae mehboob tum musalmanon se farmaate the kya tumhein ye kaafi nahi ke tumhara Rab tumhari madad kare teen hazaar farishta utaar kar,
ہاں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)
Yes, why not? If you patiently endure and remain pious, and the disbelievers attack you suddenly, your Lord will send down five thousand marked angels to help you.
हाँ क्यूँ नहीं अगर तुम सब्र व तक़वा करो और काफ़िर उसी दम तुम पर आ पड़ें तो तुम्हारा रब तुम्हारी मदद को पाँच हज़ार फ़रिश्ते निशान वाले भेजेगा
haan kyon nahi agar tum sabr o taqwa karo aur kaafir usi dam tum par aa paren to tumhara Rab tumhari madad ko paanch hazaar farishte nishaan waale bheje ga
(ف230)چنانچہ مؤمنین نے روز بدر صبر و تقوٰی سے کام لیا اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔
اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے
And Allah did not bestow this victory except for your happiness, and only that your hearts may attain peace with it; and there is no help except from Allah, the Almighty, the Wise.
और यह फ़तह अल्लाह ने न की मगर तुम्हारी ख़ुशी के लिये और इसी लिये कि उस से तुम्हारे दिलों को चैन मिले और मदद नहीं मगर अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाले के पास से
aur ye fatah Allah ne na ki magar tumhari khushi ke liye aur isi liye ke is se tumhare dilon ko chain mile aur madad nahi magar Allah ghaalib hikmat waale ke paas se
(ف231)اور دُشمن کی کثرت اور اپنی قلّت سے پریشانی او راضطراب نہ ہو۔(ف232)تو چاہئے کہ بندہ مسبّب الاسباب پر نظر رکھے اور اسی پر توکل رکھے۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; He may forgive whomever He wills, and punish whomever He wills; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है जिसे चाहे बख़्शे और जिसे चाहे अज़ाब करे , और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान,
aur Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai jise chahe bakhsh de aur jise chahe azaab kare, aur Allah bakhshne waala meherbaan,
اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳٤) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے،
O People who Believe! Do not devour usury doubling and quadrupling it; and fear Allah, hoping that you achieve success.
ऐ ईमान वालों सूद दोना दोना न खाओ अल्लाह से डरो उस उम्मीद पर कि तुम्हें फ़लाह मिले ,
ae imaan walon sood doona doon na khao Allah se daro is ummeed par ke tumhein falaah mile,
(ف234)مسئلہ : اس آیت میں سود کی ممانعت فرمائی گئی مع توبیخ کے اس زیادتی پر جو اس زمانہ میں معمول تھی کہ جب میعاد آجاتی تھی اور قرضدار کے پاس ادا کی کوئی شکل نہ ہوتی تو قرض خواہ مال زیادہ کرکے مدّت بڑھا دیتا۔ اور ایسا بار بار کرتے جیسا کہ اس ملک کے سودخوار کرتے ہیں اور اس کو سود در سود کہتے ۔ مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ کبیرہ سے آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵)
And save yourselves from the fire which is prepared for disbelievers.
और उस आग से बचो जो काफ़िरों के लिये तैयार रखी है
aur us aag se bacho jo kaafiron ke liye tayyar rakhi hai
(ف235)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس میں ایمانداروں کو تہدید ہے کہ سود وغیرہ جو چیزیں اللہ نے حرام فرمائیں ان کو حلال نہ جانیں کیونکہ حرام قطعی کو حلال جاننا کُفر ہے۔
اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳٦) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ،
And obey Allah and the Noble Messenger, hoping that you gain mercy. (Obeying the Prophet is in fact obeying Allah.)
और अल्लाह व रसूल के फ़रमानबरदार रहो उस उम्मीद पर कि तुम रहम किए जाओ ,
aur Allah o Rasool ke farmaabardaar raho is ummeed par ke tum rehem kiye jao,
(ف236)کہ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاعت طاعتِ الٰہی ہے اور رسُول کی نافرمانی کرنے والا اللہ کا فرمانبردار نہیں ہوسکتا۔(ف237)توبہ و ادائے فرائض و طاعات و اخلاصِ عمل اختیار کرکے ۔
اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے
And rush towards forgiveness from your Lord, and towards a Paradise that can hold all the heavens and the earth in its width – prepared for the pious.
और दौड़ो अपने रब की बख़्शिश और ऐसी जन्नत की तरफ़ जिस की चौरान में सब आसमान व ज़मीन परहेज़गारों के लिये तैयार कर रखी है
aur daudo apne Rab ki bakhshish aur aisi jannat ki taraf jiski choraan mein sab aasman o zameen parhezgaaron ke liye tayyar kar rakhi hai
(ف238)یہ جنّت کی وُسعت کا بیان ہے اس طرح کہ لوگ سمجھ سکیں کیونکہ اُنہوں نے سب سے وسیع چیز جو دیکھی ہے وہ آسمان و زمین ہی ہے اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین کے طقبے طقبے اور پرت پرت بنا کر جوڑ دیئے جائیں اور سب کا ایک پرت کردیا جائے اس سے جنّت کے عرض کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنّت کتنی وسیع ہے ہر قَل بادشاہ نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لکھا کہ جب جنّت کی یہ وسعت ہے کہ آسمان و زمین اس میں آجائیں تو پھر دوزخ کہاں ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ سُبحانَ اللہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے اس کلام بلاغت نظام کے معنی نہایت دقیق ہیں ظاہر پہلو یہ ہے کہ دورۂ فلکی سے ایک جانب میں دن حاصل ہوتا ہے تو اس کے جانب مقابل میں شب ہوتی ہے اسی طرح جنت جانبِ بالا میں ہے اور دوزخ جہت پستی میں یہود نے یہی سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا اس پر انہوں نے کہا کہ توریت میں بھی اسی طرح سمجھایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت و اختیار سے کچھ بعید نہیں جس شے کو جہاں چاہے رکھے یہ انسان کی تنگی نظر ہے کہ کسی چیز کی وسعت سے حیران ہوتا ہے تو پوچھنے لگتا ہے کہ ایسی بڑی چیز کہاں سمائے گی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ جنّت آسمان میں ہے یا زمین میں فرمایا کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت سما سکے عرض کیا گیا پھر کہاں ہے فرمایا آسمانوں کے اوپر زیرِعرش ۔(ف239)اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت وَاتَّقُوالنَّارَالَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ سے ثابت ہوا کہ جنّت و دوزخ پیدا ہوچکیں موجود ہیں۔
(ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲٤۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،
Those who spend in Allah’s cause, in happiness and in grief, and who control their anger and are forgiving towards mankind; and the righteous are the beloved of Allah.
वह जो अल्लाह के राह में ख़र्च करते हैं ख़ुशी में और रंज में और ग़ुस्सा पीने वाले और लोगों से दरगुज़र करने वाले , और नेक लोग अल्लाह के महबूब हैं ,
woh jo Allah ke raah mein kharch karte hain khushi mein aur ranj mein aur gussa peene waale aur logon se dar-guzar karne waale, aur nek log Allah ke mehboob hain,
(ف240)یعنی ہر حال میں خرچ کرتے ہیں بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سید عالم نے فرمایا خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا یعنی خدا کی راہ میں دو تمہیں اللہ کی رحمت سے ملے گا۔
اور وہ کہ جب کوئی بےحیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲٤۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲٤۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں،
And those who, when they commit an immoral act or wrong themselves, remember Allah and seek forgiveness of their sins – and who forgives sins except Allah? And those who do not purposely become stubborn regarding what they did.
और वह कि जब कोई बेहयाई या अपनी जानों पर ज़ुल्म करें अल्लाह को याद कर के अपने गुनाहों की माफ़ी चाहें और गुनाह कौन बख़्शे सिवा अल्लाह के , और अपने किये पर जान बूझ कर अड़ न जाएँ ,
aur woh ke jab koi behayaai ya apni jaanon par zulm karein Allah ko yaad karke apne gunaahon ki maafi chahein aur gunaah kaun bakhshe siwa Allah ke, aur apne kiye par jaan bujh kar ad na jaayen,
(ف241)یعنی اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہو۔(ف242)اور توبہ کریں اور گناہ سے باز آئیں اور آئندہ کے لئے اس سے باز رہنے کا عزم پختہ کریں کہ یہ توبہ مقبولہ کے شرائط میں سے ہے۔
ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲٤۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲٤٤)
For such the reward is forgiveness from their Lord, and Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; what an excellent reward for the performers (of good deeds)!
ऐसों को बदला उन के रब की बख़्शिश और जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें रवाँ हमेशा उन में रहें और कामियों (नेक लोगों ) का अच्छा नेग (इनाम, हिस्सा) है
aison ko badla unke Rab ki bakhshish aur jannatein hain jin ke neeche nahrain rawaan hamesha un mein rahen aur kaamiyon (nek logon) ka achha neg (inaam, hissa) hai
(ف243)شان نزول: تیہان خرما فروش کے پاس ایک حسین عورت خرمے خریدنے آئی اُس نے کہا یہ خرمے تو اچھے نہیں ہیں عمدہ خرمے مکان کے اندر ہیں اس حیلے سے اس کو مکان میں لے گیا اور پکڑ کر لپٹا لیا اور منہ چُوم لیا عورت نے کہا خدا سے ڈر یہ سنتے ہی اس کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہوا اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حال عرض کیا اس پر یہ آیت وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْ نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ ایک انصاری اورایک ثقفی دونوں میں محبت تھی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کو بھائی بنایا تھا ثقفی جہاد میں گیا تھا اور اپنے مکان کی نگرانی اپنے بھائی انصاری کے سپر د کر گیا تھا ایک روز انصاری گوشت لایا جب ثقفی کی عورت نے گوشت لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو انصاری نے اُس کا ہاتھ چُوم لیا اور چُومتے ہی اس کو سخت ندامت و شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اپنے سر پر خاک ڈالی اور منہ پر طمانچے مارے جب ثقفی جہاد سے واپس آیا تو اس نے اپنی بی بی سے انصاری کا حال دریافت کیا اس نے کہا خدا ایسے بھائی نہ بڑھائے اور واقعہ بیان کیا انصاری پہاڑوں میں روتا استغفار و توبہ کرتا پھرتا تھا ثقفی اس کو تلاش کرکے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا اِس کے حق میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔(ف244)یعنی اطاعت شعاروں کے لئے بہتر جزا ہے۔
تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲٤۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲٤٦)
Some traditions have been tried before you – therefore travel in the land and see what sort of fate befell those who denied.
तुम से पहले कुछ तरीक़े बरताऊ में आ चुके हैं तो ज़मीन में चल कर देखो कैसा अंजाम हुआ झुटलाने वालों का
tumse pehle kuch tareeqe bartao mein aa chuke hain to zameen mein chal kar dekho kaisa anjaam hua jhutlane walon ka
(ف245)پچھلی اُمتوں کے ساتھ جنہوں نے حِرص دنیا اور اس کے لذّات کی طلب میں انبیاء و مرسلین کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلتیں دیں پھر بھی وہ راہ ِراست پر نہ آئے تو انہیں ہلاک و برباد کردیا۔(ف246)تاکہ تمہیں عبرت ہو۔
اگر تمہیں (ف۲٤۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲٤۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو،
If you have been struck by some misfortune, so they (the disbelievers) too have been struck earlier with the same misfortune; these are the days in which We have allotted turns to people; and so that Allah may make known the believers and may bestow martyrdom to some of you; and Allah does not befriend the unjust.
अगर तुम्हें कोई तकलीफ़ पहुँची तो वह लोग भी वैसी ही तकलीफ़ पा चुके हैं और यह दिन हैं जिन में हमने लोगों के लिये बारीयाँ रखी हैं और उस लिये कि अल्लाह पहचान करा दे ईमान वालों की और तुम में से कुछ लोगों को शहादत का मरतबा दे और अल्लाह दोस्त नहीं रखता ज़ालिमों को,
agar tumhein koi takleef pahunchi to woh log bhi waisi hi takleef paa chuke hain aur ye din hain jin mein humne logon ke liye baariyan rakhi hain aur is liye ke Allah pehchaan kara de imaan walon ki aur tum mein se kuch logon ko shahaadat ka martaba de aur Allah dost nahi rakhta zaalimoon ko,
(ف248)جنگِ اُحد میں ۔(ف249)جنگِ بدر میں باوجود اس کے انہوں نے پست ہمّتی نہ کی اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی و کم ہمّتی نہ چاہئے۔(ف250)کبھی کِسی کی باری ہے کبھی کِسی کی ۔(ف251) صبرو اخلاص کے ساتھ کہ اُن کو مشقت و ناکامی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آسکتی۔
اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳)
And so that Allah may purify* the believers, and destroy the disbelievers. (* Forgive them their sins, if any.)
और उस लिये कि अल्लाह मुसलमानों का निखार कर दे और काफ़िरों को मिटा दे
aur is liye ke Allah musalmanon ka nikhaar kar de aur kaafiron ko mita de
(ف252)اور انہیں گناہوں سے پاک کردے۔(ف253)یعنی کافروں سے جو مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تو مسلمانوں کے لئے شہادت و تطہیر ہیں اور مُسلمان جو کُفّار کو قتل کریں تو یہ کُفّار کی بربادی اَور اُن کا استیصال ہے۔
اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے،
And you used to wish for death before you met it; so now you see it before your eyes.
और तुम तो मौत की तमन्ना किया करते थे उस के मिलने से पहले तो अब वह तुम्हें नज़र आई आँखों के सामने ,
aur tum to maut ki tamanna kiya karte the iske milne se pehle to ab woh tumhein nazar aayi aankhon ke saamne,
(ف255)شانِ نزول: جب شہداءِ بدر کے درجے اور مرتبے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان بیان فرمائے گئے تو جو مسلمان وہاں حاضر نہ تھے انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے آرزو کی کہ کاش کِسی جہاد میں انہیں حاضری میسّر آئے اور شہادت کے درجات ملیں اِنہی لوگوں نے حضور سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُحد پر جانے کے لئے اصرار کیا تھا اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵٦) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا،
And Mohammed (peace and blessings be upon him) is purely* a Noble Messenger; there have been Noble Messengers before him; so if he departs or is martyred, will you turn back on your heels? So whoever turns back on his heels does not cause any harm to Allah; and Allah will soon reward the thankful. (* Neither God nor an angel, but a human being with the highest spiritual status.)
और मुहम्मद तो एक रसूल उन से पहले और रसूल हो चुके तो क्या अगर वह इन्तिक़ाल फ़रमाएँ या शहीद हों तो तुम उल्टे पाँव फिर जाओगे और जो उल्टे पाँव फिरेगा अल्लाह का कुछ नुक़सान न करेगा, और अन्क़रीब अल्लाह शुक्र वालों को सिला देगा,
aur Muhammad to ek Rasool in se pehle aur Rasool ho chuke to kya agar woh inteqaal farmaayen ya shaheed hon to tum ulte paon phir jaaoge aur jo ulte paon phire ga Allah ka kuch nuqsaan na karega, aur qareeb hai ke Allah shukar walon ko sila de ga,
(ف256)اور رسولوں کی بِعثت کا مقصُوْد رسالت کی تبلیغ اور حجّت کا لازم کردینا ہے نہ کہ اپنی قوم کے درمیان ہمیشہ موجود رہنا۔ (ف257)اور اُنکے متبعین اُن کے بعد اُن کے دین پر باقی رہے شانِ نزول جنگِ اُحد میں جب کافروں نے پُکارا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے اور شیطان نے یہ جھوٹی افواہ مشہور کی تو صحابہ کو بہت اِضطراب ہوا اَور اُن میں سے کچھ لوگ بھاگ نکلے پھر جب ندا کی گئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف رکھتے ہیں تو صحابہ کی ایک جماعت واپس آئی حضور نے انہیں ہزیمت پر ملامت کی اُنہوں نے عرض کیا ہمارے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی شہادت کی خبر سُن کر ہمارے دِل ٹوٹ گئے اور ہم سے ٹھہرا نہ گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیاکہ انبیاء کے بعد بھی اُمّتوں پر اُن کے دین کا اتباع لازم رہتا ہے تو اگر ایسا ہوتا بھی تو حضور کے دین کا اتباع اور اس کی حمایت لازم رہتی۔(ف258)جو نہ پھرے اور اپنے دین پر ثابت رہے ان کو شاکرین فرمایا کیونکہ اُنہوں نے اپنے ثبات سے نعمتِ اسلام کا شکر ادا کیا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امینُ الشاکرین ہیں۔
اور کوئی جان بےحکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲٦۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲٦۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲٦۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں،
And no soul can die except by Allah’s command – a time has been appointed for each; whoever desires the rewards of this world, We bestow upon him from it; and whoever desires the reward of the Hereafter, We bestow upon him from it; and We shall soon reward the thankful.
और कोई जान बे हुक्म ख़ुदा मर नहीं सकती सब का वक़्त लिखा रखा है और दुनिया का इनाम चाहे हम उस में से उसे दें और जो आख़िरत का इनाम चाहे हम उस में से उसे दें और क़रीब है कि हम शुक्र वालों को सिला अता करें ,
aur koi jaan be hukum Khuda mar nahi sakti sab ka waqt likha rakha hai aur duniya ka inaam chahe hum is mein se use dein aur jo aakhirat ka inaam chahe hum is mein se use dein aur qareeb hai ke hum shukar walon ko sila ata karein,
(ف259)اس میں جہاد کی ترغیب ہے ،اور مسلمانوں کو دُشمن کے مقابلہ پر جری بنایا جاتا ہے کہ کوئی شخص بغیر حکمِ الٰہی کے مر نہیں سکتا چاہے وہ مہالک و معارک میں گھس جائے اور جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی تدبیر نہیں بچاسکتی۔(ف260)اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔(ف261)اور اس کو اپنے عمل وطاعت سے حصولِ دنیا مقصُود ہو۔(ف262)اس سے ثابت ہوا کہ مدار نیّت پر ہے جیسا کہ بخاری و مسلم شریف کی حدیث میں آیا ہے۔
اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲٦۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں،
And many Prophets have fought in Allah’s cause – and many devoted men were with them; so neither did they lose heart due to the calamities that befell them in Allah's cause, nor did they weaken and nor were they subdued; and the steadfast are the beloved of Allah.
और कितने ही अन्बिया ने जिहाद किया उन के साथ बहुत ख़ुदा वाले थे , तो न सुस्त पड़े उन मुसीबतों से जो अल्लाह की राह में उन्हें पहुँचीं और न कमज़ोर हुए और न दबे और सब्र वाले अल्लाह को महबूब हैं ,
aur kitne hi anbiyah ne jihad kiya unke saath bahut Khuda waale the, to na sust pade un museebaton se jo Allah ki raah mein unhein pahunchin aur na kamzor hue aur na dabe aur sabr waale Allah ko mehboob hain,
اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲٦٤) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲٦۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے (ف۲٦٦)
And they never said anything except that they invoked, “Our Lord! Forgive us our sins and the excesses committed during our efforts, and keep our feet steady, and bestow us help over the disbelievers.”
और वह कुछ भी न कहते थे सिवा उस दुआ के कि ऐ हमारे रब बख़्श दे हमारे गुनाह और जो ज़ियादतियाँ हमने अपने काम कीं और हमारे क़दम जमा दे और हमें उन काफ़िर लोगों पर मदद दे
aur woh kuch bhi na kehte the siwa is dua ke ke ae hamare Rab bakhsh de hamare gunaah aur jo ziyadtiyan humne apne kaam ki aur hamare qadam jama de aur humein un kaafir logon par madad de
(ف264)یعنی حمایت دین و مقاماتِ حرب میں اُن کی زبان پر کوئی ایسا کلمہ نہ آتا جِس میں گھبراہٹ پریشانی اور تزلزل کاشائبہ بھی ہوتابلکہ وہ استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے اور دُعا کرتے۔(ف265)یعنی تمام صغائر و کبائر باوجود یکہ وہ لوگ ربّانی یعنی اتقیا تھے پھر بھی گناہوں کا اپنی طرف نسبت کرنا شانِ تواضع و انکسار اور آدابِ عبدیت میں سے ہے۔(ف266)اس سے یہ مسئلہ معلُوم ہوا کہ طلب ِحاجت سے قبل توبہ و استغفار آدابِ دُعا میں سے ہے۔
اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲٦۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱)
O People who Believe! If you obey the disbelievers, they will make you turn back on your heels, so you will then turn back as losers.
ऐ ईमान वालो! अगर तुम काफ़िरों के कहे पर चले
ae imaan walo! agar tum kaafiron ke kahe par chale
(ف269)خواہ وہ یہود ونصارٰی ہوں یا منافق و مشرک۔(ف270)کفر و بے دینی کی طرف۔(ف271)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ کُفّار سے علٰیحدگی اختیار کریں اور ہر گز اُن کی رائے و مشورے پر عمل نہ کریں اور اُن کے کہے پرنہ چلیں۔
کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،
Soon We shall cast awe in the hearts of disbelievers because they have appointed partners to Allah, for which He has not sent any proof; their destination is hell; and what a wretched abode for the unjust!
बल्के अल्लाह तुम्हारा मौला है और वह सबसे बेहतर मददगार,
balki Allah tumhara maula hai aur woh sab se behtar madadgaar,
(ف272)جنگِ اُحد سے واپس ہو کر جب ابوسفیان وغیرہ اپنے لشکریوں کے ساتھ مکّہ مکرّمہ کی طرف روانہ ہوئے تو اُنہیں اس پر افسوس ہوا کہ ہم نے مسلمانوں کو بالکل ختم کیوں نہ کر ڈالا آپس میں مشورہ کرکے اس پر آمادہ ہوئے کہ چل کر اُنہیں ختم کردیں جب یہ قصد پختہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رُعب ڈالا اور انہیں خوفِ شدید پیدا ہوا اور وہ مکہ مکرمہ ہی کی طرف واپس ہوگئے اگر چہ سبب تو خاص تھا لیکن رُعب تمام کُفّار کے دلوں میں ڈال دیا گیا کہ دُنیا کے سارے کفار مسلمانوں سے ڈرتے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہے۔
اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷٤) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷٦) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے،
And indeed Allah has proved true His promise to you, when you used to slay the disbelievers by His command; until the time you people lost courage and disputed about the order and disobeyed after Allah had shown you what pleases you; some of you desired the world, and some of you desired the Hereafter; thereafter He turned you away from them in order to test you; and undoubtedly He has forgiven you; and Allah is Most Munificent towards the Muslims.
कोई दम जाता है कि हम काफ़िरों के दिलों में रउब डालेंगे कि उन्होंने अल्लाह का शरीक ठहराया जिस पर उस ने कोई समझ न उतारी और उनका ठिकाना दोज़ख़ है, और क्या बुरा ठिकाना नाइंसाफ़ों का,
Koi dam jata hai ke hum kafiron ke dilon mein raub daalein ge ke unhon ne Allah ka shareek thehraya jis par us ne koi samajh na utari aur unka thikana dozak hai , aur kya bura thikana na-insaafon ka,
(ف273)جنگ ِاُحد میں۔(ف274)کُفّار کی ہزیمت کے بعد حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ جو تیر انداز تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ مشرکین کو ہزیمت ہوچکی اب یہاں ٹھہر کر کیا کریں چلو کچھ مال غنیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں بعض نے کہا مرکزمت چھوڑو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتاکید حکم فرمایا ہے کہ تم اپنی جگہ قائم رہنا کسی حال میں مرکز نہ چھوڑنا جب تک میرا حکم نہ آئے مگر لوگ غنیمت کے لئے چل پڑے اور حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ دس سے کم اصحاب رہ گئے۔(ف275)کہ مرکز چھوڑ دیا اور غنیمت حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے۔(ف276)یعنی کُفّارکی ہزیمت۔(ف277)جو مرکز چھوڑکرغنیمت کے لئے چلا گیا۔(ف278)جو اپنے امیر عبداللہ بن جبیر کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہ کر شہید ہوگیا۔(ف279)اور مصیبتوں پر تمہارے صابر و ثابت رہنے کا امتحان ہو۔
جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے،
When you were leaving, unconcerned without turning to look back at anyone, and from another group Our Noble Messenger was calling you (to fight); so He gave you sorrow in lieu of sorrow, and then forgave you so that you do not grieve over what has been lost or over the calamity that befell you; and Allah is Well Aware of what you do.
और बेशक अल्लाह ने तुम्हें सच कर दिखाया अपना वादा जब कि तुम उसके हुक्म से काफ़िरों को क़त्ल करते थे यहाँ तक कि जब तुम ने बुज़दिली की और हुक्म में झगड़ा डाला और नाफ़रमानी की बाद उसके कि अल्लाह तुम्हें दिखा चुका तुम्हारी ख़ुशी की बात, तुम में कोई दुनिया चाहता था और तुम में कोई आख़िरत चाहता था फिर तुम्हारा मुँह उनसे फेर दिया कि तुम्हें आज़माए और बेशक उस ने तुम्हें माफ़ कर दिया, और अल्लाह मुसलमानों पर फ़ज़्ल करता है,
Aur beshak Allah ne tumhein sach kar dikhaya apna wada jab ke tum us ke hukm se kafiron ko qatal karte the yahan tak ke jab tum ne buzdili ki aur hukm mein jhagra dala aur na-farmaani ki baad us ke ke Allah tumhein dikha chuka tumhari khushi ki baat tum mein koi duniya chahta tha aur tum mein koi aakhrat chahta tha phir tumhara munh unse pher diya ke tumhein aazmaye aur beshak us ne tumhein maaf kar diya, aur Allah musalmanon par fazl karta hai,
(ف280)کہ خدا کے بندو میری طرف آؤ۔(ف281)یعنی تم نے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچا یا تھا اس کے بدلے تم کو ہزیمت کے غم میں مبتلا کیا۔
پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸٤) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بےجا گمان کرتے تھے (ف۲۸٦) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف۲۹۲)
Then after grief, He sent down a peaceful slumber (calm), which engulfed a group among you – and another party kept fearing for their own lives, thinking wrongfully of Allah – like the thoughts of ignorance; they say, “Do we have any authority in this matter?” Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All authority lies only with Allah”; they hide in their hearts what they do not reveal to you; they say, “Had we any control, we would not have been slain here”; say, “Even if you had been in your houses, those destined to be slain would have come forth to their places of slaying; and in order that Allah may test what is in your breasts and reveal whatever is in your hearts”; and Allah knows well what lies within the hearts.
जब तुम मुँह उठाए चले जाते थे और पीठ फेर कर किसी को न देखते और दूसरी जमाअत में हमारे रसूल तुम्हें पुकार रहे थे तो तुम्हें ग़म का बदला ग़म दिया और माफ़ी इस लिये सुनाई कि जो हाथ से गया और जो इफ़्ताद पड़ी उसका रंज न करो और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Jab tum munh uthaye chale jate the aur peeth pher kar kisi ko na dekhte aur doosri jamaat mein hamare Rasool tumhein pukar rahe the to tumhein gham ka badla gham diya aur maafi is liye sunai ke jo haath se gaya aur jo iftaad padi us ka ranj na karo aur Allah ko tumhare kamon ki khabar hai,
(ف282)جو رُعب و خَوف دلوں میں تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دُور کیا اور امن و راحت کے ساتھ اُن پر نیند اُتاری یہاں تک کہ مسلمانوں کو غنودگی آگئی اور نیند نے اُن پر غلبہ کیا حضرت ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ روزِ اُحد نیند ہم پر چھا گئی ہم میدان میں تھے تلوار ہمارے ہاتھ سے چُھوٹ جاتی تھی پھر اُٹھاتے تھے پھر چُھوٹ جاتی تھی۔(ف283)اور وہ جماعت مؤمنین صادق الایمان کی تھی۔(ف284)جو منافق تھے۔(ف285)اور وہ خوف سے پریشان تھے اللہ تعالٰی نے وہاں مؤمنین کو منافقین سے اس طرح ممتاز کیا تھا کہ مؤمنین پر تو امن و اطمینان کی نیند کا غلبہ تھا اور منافقین خوف و ہراس میں اپنی جانوں کے خوف سے پریشان تھے اور یہ آیتِ عظیمہ اور معجزۂ باہرہ تھا۔(ف286)یعنی منافقین کو یہ گمان ہورہا تھا کہ اللہ تعالٰی سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہ فرمائے گایایہ کہ حضور شہید ہوگئے۔ اب آپ کا دین باقی نہ رہے گا۔(ف287)فتح و ظفر قضا و قدر سب اُس کے ہاتھ ہے۔(ف288)منافقین اپنا کُفر اور وعدۂ الٰہی میں اپنا مترددہونا اور جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ چلے آنے پر متاسّف ہونا(ف289) اور ہمیں سمجھ ہوتی تو ہم گھر سے نہ نکلتے مسلمانوں کے ساتھ اہلِ مکّہ سے لڑائی کے لئے نہ آتے اور ہمارے سردار نہ مارے جاتے ۔ پہلے مقولہ کا قائل عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافق ہے اور اِس مقولہ کا قائل معتب بن قشیر ۔(ف290)اور گھروں میں بیٹھ رہنا کچھ کام نہ آتا کیونکہ قضا وقدر کے سامنے تدبیر و حیلہ بے کار ہے۔(ف291)اخلاص یا نفاق(ف292)اس سے کچھ چھپا نہیں اور یہ آزمائش دُوسروں کو خبردار کرنے کے لئے ہے۔
بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹٤) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
Indeed those of you who turned back on the day when the two armies met – for it was the devil who caused them to waver, because of some of their deeds; and undoubtedly Allah has forgiven them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
फिर तुम पर ग़म के बाद चैन की नींद उतारी कि तुम्हारी एक जमाअत को घेरे थी और एक गिरोह को अपनी जान की पड़ी थी अल्लाह पर बेजा गुमान करते थे जाहिलियत के से गुमान, कहते क्या इस काम में कुछ हमारा भी इख़्तियार है तुम फ़रमा दो कि इख़्तियार तो सारा अल्लाह का है अपने दिलों में छुपाते हैं जो तुम पर ज़ाहिर नहीं करते कहते हैं, हमारा कुछ बस होता तो हम यहाँ न मारे जाते, तुम फ़रमा दो कि अगर तुम अपने घरों में होते जब भी जिन का मारा जाना लिखा जा चुका था अपनी क़त्लगाहों तक निकल आते और इस लिये कि अल्लाह तुम्हारे सीनों की बात आज़माए और जो कुछ तुम्हारे दिलों में है उसे खोल दे और अल्लाह दिलों की बात जानता है
Phir tum par gham ke baad chain ki neend utari ke tumhari ek jamaat ko ghere thi aur ek groh ko apni jaan ki pari thi Allah par beja gumaan karte the jahiliyat ke se gumaan, kehte kya is kaam mein kuch hamara bhi ikhtiyaar hai tum farma do ke ikhtiyaar to sara Allah ka hai apne dilon mein chupate hain jo tum par zaahir nahi karte kehte hain, hamara kuch bas hota to hum yahan na maare jate, tum farma do ke agar tum apne gharon mein hote jab bhi jin ka maara jana likha ja chuka tha apni qatal gahoon tak nikal aate aur is liye ke Allah tumhare seenon ki baat aazmaye aur jo kuch tumhare dilon mein hai use khol de aur Allah dilon ki baat jaanta hai
(ف293)اور جنگِ اُحد میں بھاگ گئے اور نبیء کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیرہ یا چودہ اصحاب کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔(ف294)کہ اُنہوں نے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بَرخلاف مرکز چھوڑا۔
اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹٦) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
O People who Believe! Do not be like the disbelievers who said regarding their brothers who went on a journey or on holy war, “If they had been here with us they would not have died or been killed” – so that Allah may make it as despair in their hearts; and Allah gives life and causes death; and Allah is seeing your deeds.
बेशक वो जो तुम में से फिर गए जिस दिन दोनों फौजें मिली थीं उन्हें शैतान ही ने लग्ज़िश दी उनके बा'ज़ आमाल के बाइस और बेशक अल्लाह ने उन्हें माफ़ फ़रमा दिया, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Beshak woh jo tum mein se phir gaye jis din dono faujein mili thin unhein shaitan hi ne laghzish di unke baaz aamaal ke baais aur beshak Allah ne unhein maaf farma diya, beshak Allah bakhshne wala halim wala hai,
(ف295)یعنی ابن ابی وغیرہ منافقین ۔(ف296)اوراِس سفر میں مر گئے یا جِہاد میں شہید ہوگئے ۔(ف297)موت و حیات اُسی کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو مسافر و غازی کو سلامت لائے اور محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے کو موت دے اُن منافقین کے پاس بیٹھ رہنا کیا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے اور جہاد میں جانے سے کب موت لازم ہے اور اگر آدمی جہاد میں مارا جائے تو وہ موت گھر کی موت سے بدرجہابہتر لہذا منافقین کا یہ قول باطل اور فریب دہی ہے اوران کا مقصد مسلمانوں کو جہاد سے نفرت دلانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ارشا دہوتا ہے۔
اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،
And if you are killed in Allah’s way or die, then the pardon from Allah and mercy are better than all what they hoard.
ऐ ईमान वालो! उन काफ़िरों की तरह न होना जिन्होंने अपने भाइयों की निस्बत कहा कि जब वो सफ़र या जिहाद को गए कि हमारे पास होते तो न मरते और न मारे जाते इस लिये अल्लाह उनके दिलों में उसका अफ़्सोस रखे, और अल्लाह जिलाता और मारता है और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Ae imaan walo! Un kafiron ki tarah na hona jinhon ne apne bhaiyon ki nisbat kaha ke jab woh safar ya jihad ko gaye ke hamare paas hote to na marte aur na maare jate is liye Allah unke dilon mein iska afsos rakhe, aur Allah jilata aur maarta hai aur Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف298)اور بالفرض وہ صورت پیش ہی آجائے جس کا تمہیں اندیشہ دلایا جاتا ہے۔(ف299)جو راہِ خدا میں مرنے پر حاصِل ہوتی ہے۔
اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰)
And whether you are killed or you die, towards Allah you will be gathered.
और बेशक अगर तुम अल्लाह की राह में मारे जाओ या मर जाओ तो अल्लाह की बख़्शिश और रहमत उनके सारे धन दौलत से बेहतर है,
Aur beshak agar tum Allah ki raah mein maare jao ya mar jao to Allah ki bakhshish aur rehmat unke saare dhan daulat se behtar hai,
(ف300)یہاں مقاماتِ عبدیّت کے تینوں مقاموں کا بیان فرمایاگیا پہلا مقام تو یہ ہے کہ بندہ بخوفِ دوزخ اللہ کی عبادت کرے اُسکو عذابِ نار سے امن دی جاتی ہے اس کی طرف" لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہ "میں اشارہ ہے دُوسری قسم وہ بندے ہیں جو جنّت کے شوق میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس کی طرف "ورَحْمَۃٌ " میں اشارہ ہے کیونکہ رحمت بھی جنت کا ایک نام ہے تیسری قِسم وہ مخلص بندے ہیں جو عشقِ الٰہی اور ا سکی ذاتِ پاک کی محبت میں اِس کی عبادت کرتے ہیں اور اُن کا مقصُود اُس کی ذات کے سوا اور کچھ نہیں ہے اِنہیں حق سبحانہ، تعالیٰ اپنے دائرۂ کرامت میں اپنی تجلّی سے نوازے گا اِس کی طرف لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ میں اشارہ ہے۔
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰٤) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،
So what a great mercy it is from Allah that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), are lenient towards them; and if you had been stern and hardhearted (unsympathetic) they would have certainly been uneasy in your company; so forgive them and intercede for them and consult with them in the conduct of affairs; and when you decide upon something, rely upon Allah; indeed Allah loves those who trust (Him).
और अगर तुम मरो या मारे जाओ तो अल्लाह की तरफ़ उठना है
Aur agar tum maro ya maare jao to Allah ki taraf uthna hai
(ف301)اور آپ کے مزاج میں اِس درجہ لُطف و کرم اور راْفت ورحمت ہوئی کہ روزِ اُحد غضب نہ فرمایا۔(ف302)اور شدّت و غِلظت سے کام لیتے۔(ف303)تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔(ف304)کہ اُس میں اُن کی دِلداری بھی ہے اور عزّت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ سنّت ہوجائے گا اور آئندہ امّت اِس سے نفع اُٹھاتی رہے گی۔ مشورہ کے معنٰی ہیں کِسی امر میں رائے دریافت کرنا مسئلہ : اِس سے اِجتہاد کا جواز اور قِیاس کا حجّت ہونا ثابت ہوا۔(مدارک و خازن)(ف305)توکل کے معنی ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کردینا مقصُود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہئے مسئلہ: اس سے معلوم ہوا ہے کہ مشورہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰٦) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
If Allah supports you, no one can overcome you; and if He forsakes you, who is there who can then help you? And in Allah only should the Muslims trust.
तो कैसी कुछ अल्लाह की मेहरबानी है कि ऐ महबूब! तुम उनके लिये नरमदिल हुए और अगर तंद मिज़ाज सख़्त दिल होते तो वो ज़रूर तुम्हारे गर्द से परेशान हो जाते तो तुम उन्हें माफ़ फ़रमाओ और उनकी शफ़ाअत करो और कामों में उनसे मशवरा लो और जो किसी बात का इरादा पक्का कर लो तो अल्लाह पर भरोसा करो बेशक तवक्कुल वाले अल्लाह को प्यारे हैं,
To kaisi kuch Allah ki meharbani hai ke ae mehboob! Tum unke liye narm dil hue aur agar tand mizaj sakht dil hote to woh zaroor tumhare gird se pareshaan ho jate to tum unhein maaf farmao aur unki shafaa’at karo aur kamon mein unse mashwara lo aur jo kisi baat ka iraada paka kar lo to Allah par bharosa karo beshak tawakkul wale Allah ko pyare hain,
(ف306)اور مددِ الٰہی وہی پاتا ہے جو اپنی قوّت وطاقت پر بھروسہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت کا اُمّیدوار رہتا ہے۔
اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
And it is unimaginable that any Prophet would hide something; and whoever hides it, will bring what he hid with him on the Day of Resurrection; then every soul will be paid in full for whatever they earned; and they will not be wronged.
अगर अल्लाह तुम्हारी मदद करे तो कोई तुम पर ग़ालिब नहीं आ सकता और अगर वो तुम्हें छोड़ दे तो ऐसा कौन है जो फिर तुम्हारी मदद करे और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिये,
Agar Allah tumhari madad kare to koi tum par ghalib nahi aa sakta aur agar woh tumhein chhod de to aisa kaun hai jo phir tumhari madad kare aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف307)کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے اور انبیاء سب معصوم ہیں اور اِن سے ایسا ممکن نہیں نہ وحی میں نہ غیر وحی میں اور جو کوئی شخص کچھ چھپا رکھے اُس کا حکم اِسی آیت میں آگے بیان فرمایاجاتاہے۔
تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی،
So is one who follows the will of Allah equal to one who has incurred the wrath from Allah and whose home is the fire? And what a wretched place to return!
और किसी नबी पर ये गुमान नहीं हो सकता कि वो कुछ छुपा रखे और जो छुपा रखे वो क़यामत के दिन अपनी छुपाई चीज़ ले कर आएगा फिर हर जान को उनकी कमाई भरपूर दी जाएगी और उन पर ज़ुल्म न होगा,
Aur kisi Nabi par yeh gumaan nahi ho sakta ke woh kuch chhupa rakhe aur jo chhupa rakhe woh qiyamat ke din apni chhupai cheez le kar aayega phir har jaan ko unki kamai bharpoor di jaye gi aur unpar zulm na hoga,
(ف308)اور اِس کی اطاعت کی نافرمانی سے بچا جیسے کہ مہاجرین و انصارو صالحین امت۔(ف309)یعنی اللہ کا نافرمان ہوا جیسے منافقین و کُفّار۔
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱٤) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱٦) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے (ف۳۱۷)
Allah has indeed bestowed a great favour upon the Muslims, in that He sent to them a Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) from among them, who recites to them His verses, and purifies them, and teaches them the Book and wisdom; and before it, they were definitely in open error. (The Holy Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is one of Allah’s greatest favours to mankind.)
वो अल्लाह के यहाँ दर्जा दरजा हैं और अल्लाह उनके काम देखता है,
Woh Allah ke yahan darja darja hain aur Allah unke kaam dekhta hai,
(ف311)منّت نعمتِ عظیمہ کو کہتے ہیں اور بے شک سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت نعمتِ عظیمہ ہے کیونکہ خلق کی پیدائش جہل و عدمِ دَرَایَت و قلتِ فہم و نقصانِ عقل پر ہے تو اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں مبعوث فرما کر انہیں گمراہی سے رہائی دی اور حضور کی بدولت انہیں بینائی عطا فرما کر جہل سے نکالا اور آپ کے صدقہ میں راہ ِراست کی ہدایت فرمائی اور آپ کے طفیل میں بے شمار نعمتیں عطا کیں۔(ف312)یعنی اُنکے حال پرشفقت و کرم فرمانے والا اور اُن کے لئے باعثِ فخرو شرف جس کے احوال زُہد وَرَع راست بازی دیانت داری خصائلِ جمیلہ اخلاقِ حمیدہ سے وہ واقف ہیں۔(ف313)سیّدِ عالم خاتَم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف314)اور اُس کی کتابِ مجید فرقانِ حمید اُنکو سُناتاہے باوجود یہ کہ اُن کے کان پہلے کبھی کلامِ حق ووحیِ سماوی سے آشنا نہ ہوئے تھے۔(ف315)کُفرو ضلالت اور ارتکاب ِمحرمات و معاصی اور خصائلِ ناپسندیدوملکاتِ رذیلہ و ظلماتِ نفسانیہ سے۔(ف316)اور نفس کی قوت عملیہ اور علمیہ دونوں کی تکمیل فرماتا ہے۔(ف317)کہ حق و باطِل و نیک و بدمیں امتیاز نہ رکھتے تھے اور جہل و نابینائی میں مبتلا تھے۔
کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
So will you say when disaster strikes you, though you had struck them with twice as much, “Where has this come from?” Say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It has come from yourselves”; indeed Allah is Able to do all things.
बेशक अल्लाह का बड़ा एहसान हुआ मुसलमानों पर कि उनमें उन्हीं में से एक रसूल भेजा जो उन पर उसकी आयतें पढ़ता है और उन्हें पाक करता है और उन्हें किताब व हिकमत सिखाता है और वो ज़रूर इस से पहले खुली गुमराही में थे
Beshak Allah ka bara ehsaan hua musalmanon par ke un mein unhi mein se ek Rasool bheja jo un par us ki aayatein padhta hai aur unhein paak karta hai aur unhein kitaab o hikmat sikhata hai aur woh zaroor is se pehle khuli gumraahi mein the
(ف318)جیسی کہ جنگِ اُحد میں پہنچی کہ تم میں سے ستّر قتل ہوئے ۔(ف319)بدر میں کہ تم نے ستّر کو قتل کیا ستّر کو گرفتار کیا۔(ف320)اور کیوں پہنچی جب کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں۔(ف321)کہ تم نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی کے خلاف مدینہ طیّبہ سے باہر نِکل کر جنگ کرنے پر اصرار کیا پھر وہاں پہنچنے کے بعد باوجود حضور کی شدید ممانعت کے غنیمت کے لئے مرکز چھوڑا یہ سبب تمہارے قتل و ہزیمت کا ہوا۔
اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،
And the calamity that struck you on the day the two armies met, was by Allah’s command – and in order that He may make known the believers.
क्या जब तुम्हें कोई मुसीबत पहुँचे कि इस से दूनी तुम पहुँचा चुके हो तो कहने लगे कि ये कहाँ से आई तुम फ़रमा दो कि वो तुम्हारी ही तरफ़ से आई बेशक अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Kya jab tumhein koi museebat pohnche ke us se dooni tum pohncha chuke ho to kehne lago ke yeh kahan se aayi tum farma do ke woh tumhari hi taraf se aayi beshak Allah sab kuch kar sakta hai,
اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲٤) اور ان سے کہا گیا کہ آؤ (ف۳۲٦) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپا رہے ہیں (ف۳۲۸)
And in order to expose them who turned hypocrites; and it was said to them, “Come, fight in Allah's cause, or repel the enemy”; they answered, “If we knew how to fight, we would certainly have been with you”; and on that day they were nearer to open disbelief than to professed faith; they utter with their mouths what is not in their hearts; and Allah knows well what they hide. –
और वो मुसीबत जो तुम पर आई जिस दिन दोनों फौजें मिली थीं वो अल्लाह के हुक्म से थी और इस लिये कि पहचान करा दे ईमान वालों की,
Aur woh museebat jo tum par aayi jis din dono faujein mili thin woh Allah ke hukm se thi aur is liye ke pehchaan kara de imaan walon ki,
(ف324)یعنی مؤمن و منافق ممتاز ہوگئے۔(ف325)یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین سے۔(ف326)مسلمانوں کی تعداد بڑھاؤ اور حفاظت دین کے لئے ۔(ف327)اپنے اہل و مال کو بچانے کے لئے۔(ف328)یعنی نفاق
وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو (ف۳۳۱)
Those who spoke regarding their brothers while they themselves stayed back at home, “Had they listened to us, they would not have been slain”; say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Then avert your own death, if you are truthful!”
और इस लिये कि पहचान करा दे, उनकी जो मुनाफ़िक़ हुए और उनसे कहा गया कि आओ अल्लाह की राह में लड़ो या दुश्मन को हटाओ बोले अगर हम लड़ाई होती जानते तो ज़रूर तुम्हारा साथ देते, और उस दिन ज़ाहिरी ईमान की बह निस्बत खुले कुफ़्र से ज़्यादा क़रीब हैं, अपने मुँह से कहते हैं जो उनके दिल में नहीं और अल्लाह को मालूम है जो छुपा रहे हैं
Aur is liye ke pehchaan kara de, unki jo munafiq hue aur unse kaha gaya ke aao Allah ki raah mein lado ya dushman ko hatao bole agar hum ladai hoti jaante to zaroor tumhara saath dete, aur us din zaahiri imaan ki bah nisbat khule kufr se zyada qareeb hain, apne munh se kehte hain jo unke dil mein nahi aur Allah ko maloom hai jo chhupa rahe hain
(ف329)یعنی شہدائے اُحد جونسبی طور پر ان کے بھائی تھے ان کے حق میں عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین نے۔(ف330)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں نہ جاتے یا وہاں سے پھر آتے۔(ف331)مروی ہے کہ جس روز منافقین نے یہ بات کہی اسی دن ستر منافق مر گئے۔
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳)
And do not ever assume that those who are slain in Allah's cause, are dead; in fact they are alive with their Lord, receiving sustenance. (Death does not mean extinction, it is the passing of the soul from this world to another. In case of virtuous believers, their bodies do not rot after death and they remain “alive”, in the manner Allah has ordained for them.)
वो जिन्होंने अपने भाइयों के बारे में कहा और आप बैठे रहे कि वो हमारा कहा मानते तो न मारे जाते तुम फ़रमा दो तो अपनी ही मौत टाल दो अगर सच्चे हो
Woh jinhon ne apne bhaiyon ke baare mein kaha aur aap baithe rahe ke woh hamara kaha maante to na maare jate tum farma do to apni hi maut taal do agar sache ho
(ف332)شان نزول: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت شہداء احد کے حق میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں جنتی میوے کھاتے ہیں طلائی قنادیل جو زیر عرش معلّق ہیں ان میں رہتے ہیں جب انہوں نے کھانے پینے رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی۔(ابوداؤد) اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی ہیں جسم کے فنا کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔(ف333)اور زندوں کی طرح کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں۔ سیاق آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ حیات روح و جسم دونوں کے لئے ہے علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور زمانہ صحابہ میں اور اس کے بعد بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو انکے جسم تر و تازہ پائے گا۔(خازن وغیرہ)
شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳٤) اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
Happy over what Allah has bestowed upon them from His grace, and rejoicing for those who will succeed them, and have not yet joined them; for on them is no fear nor any grief.
और जो अल्लाह की राह में मारे गए हरगिज़ उन्हें मुर्दा न ख़याल करना, बल्कि वो अपने रब के पास ज़िंदा हैं रोज़ी पाते हैं
Aur jo Allah ki raah mein maare gaye har-giz unhein murda na khayaal karna, balki woh apne Rab ke paas zinda hain rozi paate hain
(ف334)فضل و کرامت اور انعام و احسان موت کے بعد حیات دی اپنا مقرّب کیا جنت کا رزق اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں اور ان منازل کے حاصل کرنے کے لئے توفیق شہادت دی۔(ف335)اور دنیا میں وہ ایمان و تقوٰی پر ہیں جب شہید ہوں گے ان کے ساتھ ملیں گے اور روز قیامت امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔
خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا (ف۳۳٦)
They rejoice because of the favours from Allah and (His) munificence, and because Allah does not waste the reward of the believers.
शाद हैं उस पर जो अल्लाह ने उन्हें अपने फ़ज़्ल से दिया और खुशियाँ मना रहे हैं अपने पुछ्लों की जो अभी उनसे न मिले कि उन पर न कुछ अंदेशा है और न कुछ ग़म,
Shaad hain is par jo Allah ne unhein apne fazl se diya aur khushiyan mana rahe hain apne pichhlon ki jo abhi unse na mile ke unpar na kuch andesha hai aur na kuch gham,
(ف336)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے حضور نے فرمایا جس کسی کے راہ خدا میں زخم لگاوہ روز قیامت ویسا ہی آئے گاجیسا زخم لگنے کے وقت تھا اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہوگی اور رنگ خون کا ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ شہیدکو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسی کسی کو ایک خراش لگے مسلم شریف،حدیث میں ہے شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔
وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،
Those who responded to the call of Allah and His Noble Messenger after they had been grieved; for the virtuous and the pious among them is a great reward.
खुशियाँ मनाते हैं अल्लाह की ने'मत और फ़ज़्ल की और ये कि अल्लाह ज़ाएअ नहीं करता अज्र मुसलमानों का
Khushiyan manate hain Allah ki ne’mat aur fazl ki aur yeh ke Allah zaya nahi karta ajr musalmanon ka
(ف337)شانِ نزول: جنگ احد سے فارغ ہونے کے بعد جب ابوسفیان مع اپنے ہمراہیوں کے مقام روحاء میں پہنچے تو انہیں افسوس ہوا کہ وہ واپس کیوں آگئے مسلمانوں کابالکل خاتمہ ہی کیوں نہ کردیا یہ خیال کرکے انہوں نے پھر واپس ہونے کاارادہ کیا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان کے تعاقب کے لئے روانگی کااعلان فرمادیاصحابہ کی ایک جماعت جن کی تعداد ستر تھی اورجو جنگ احد کے زخموں سے چور ہورہے تھےحضور کے اعلان پر حاضر ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جماعت کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں روانہ ہوگئے جب حضور مقام حَمۡراءالاسد پر پہنچے جو مدینہ سے آٹھ میل ہے تو وہاں معلوم ہواکہ مشرکین مرعوب و خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳٤۰)
Those to whom the people said, “The people have gathered against you, therefore fear them”, so their faith was further increased; and they said, “Allah is Sufficient for us – and what an excellent (reliable) Trustee (of affairs) is He!”
वो जो अल्लाह व रसूल के बुलाने पर हाज़िर हुए बाद उसके कि उन्हें ज़ख़्म पहुँच चुका था उनके नेकोकारों और परहेज़गारों के लिये बड़ा सवाब है,
Woh jo Allah o Rasool ke bulane par haazir hue baad is ke ke unhein zakhm pohnch chuka tha unke nekokaron aur parhezgaaron ke liye bara sawaab hai,
(ف338)یعنی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی نے ۔(ف339)یعنی ابوسفیان وغیرہ مشرکین نے۔(ف340)شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پکار کر کہہ دیاتھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے انکے جواب میں فرمایاان شاء اللہ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہوجانے کاارادہ کیااس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا ابوسفیان نے اس سے کہاکہ اے نعیم اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں واپس جاؤں تو مدینہ جا اور تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان جنگ میں جانے سے روک دے اس کے عوض میں تجھ کو دس اونٹ دوں گانعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ان سے کہنے لگاکہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں خدا کی قسم تم میں سے ایک بھی پھر کر نہ آئے گا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاخدا کی قسم میں ضرور جاؤں گاچاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو پس حضور ستر سواروں کو ہمراہ لے کر حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَ کِیْلُ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے بدر میں پہنچے وہاں آٹھ شب قیام کیامال تجارت ساتھ تھااس کو فروخت کیاخوب نفع ہوااور سالم غانم مدینہ طیبہ واپس ہوئے جنگ نہیں ہوئی چونکہ ابو سفیان اور اہل مکہ خوف زدہ ہو کر مکہ شریف کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳٤۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳٤۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳٤۳)
So they returned with the favour and munificence from Allah, in that no harm reached them; they followed what pleased Allah; and Allah is Extremely Munificent.
वो जिन से लोगों ने कहा कि लोगों ने तुम्हारे लिये जत्था जोड़ा तो उनसे डरो तो उनका ईमान और ज़ाएद हुआ और बोले अल्लाह हम को बस है और क्या अच्छा कारसाज़
Woh jinh se logon ne kaha ke logon ne tumhare liye jatha joda to unse daro to unka imaan aur zyaada hua aur bole Allah humko bas hai aur kya acha kaarsaz
(ف341)بامن و عافیت منافع تجارت حاصل کرکے۔(ف342)اور دشمن کے مقابلہ کے لئے جرأت سے نکلے اور جہاد کا ثواب پایا۔(ف343)کہ اس نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آمادگی جہاد کی توفیق دی اور مشرکین کے دلوں کو خوف زدہ کردیا کہ وہ مقابلہ کی ہمت نہ کرسکے اور راہ میں سے واپس ہوگئے۔
وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳٤٤) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳٤۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳٤٦)
It is the devil who threatens with his friends; so do not fear them and fear Me, if you have faith.
तो पलटे अल्लाह के एहसान और फ़ज़्ल से कि उन्हें कोई बुराई न पहुँची और अल्लाह की ख़ुशी पर चले और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है
To palte Allah ke ehsaan aur fazl se ke unhein koi burai na pohnchi aur Allah ki khushi par chale aur Allah bare fazl wala hai
(ف344)اور مسلمانوں کو مشرکین کی کثرت سے ڈراتا ہے جیسا کہ نعیم بن مسعود اشجعی نے کیا۔(ف345)یعنی منافقین و مشرکین جو شیطان کے دوست ہیں ان کا خوف نہ کرو۔(ف346)کیونکہ ایمان کا مقتضا ہی یہ ہے کہ بندے کو خدا ہی کا خوف ہو۔
اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳٤۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳٤۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve for those who rush towards disbelief; they cannot cause any harm to Allah; and Allah does not will to assign them any portion in the Hereafter; and for them is a terrible punishment.
वो तो शैतान ही है कि अपने दोस्तों से धमकाता है तो उनसे न डरो और मुझ से डरो अगर ईमान रखते हो
Woh to shaitan hi hai ke apne doston se dhamkata hai to unse na daro aur mujh se daro agar imaan rakhte ho
(ف347)خواہ وہ کُفّارِ قریش ہوں یا منافقین یارؤساء یہود یا مرتدین وہ آپ کے مقابلہ کے لئے کتنے ہی لشکر جمع کریں کامیاب نہ ہوں گے۔(ف348)اس میں قَدۡرِیّہ و معتزلہ کا رد ہے اور آیت دلیل ہے اس پر کہ خیرو شربہ ارادۂ الٰہی ہے۔
وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳٤۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
Those who have purchased disbelief in exchange of faith cannot cause any harm to Allah; and for them is a painful punishment.
और ऐ महबूब! तुम उनका कुछ ग़म न करो जो कुफ़्र पर दौड़ते हैं वो अल्लाह का कुछ बिगाड़ेंगे और अल्लाह चाहता है कि आख़िरत में उनका कोई हिस्सा न रखे और उनके लिये बड़ा अज़ाब है,
Aur ae mehboob! Tum unka kuch gham na karo jo kufr par daurte hain woh Allah ka kuch bigaadein ge aur Allah chahta hai ke aakhrat mein unka koi hissa na rakhe aur unke liye bara azaab hai,
(ف349)یعنی منافقین جو کلمۂ ایمان پڑھنےکے بعد کافر ہوئے یا وہ لوگ جو باوجود ایمان پر قادر ہونے کےکافر ہی رہے اور ایمان نہ لائے۔
اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،
And never must the disbelievers be under the illusion that the respite We give them is any good for them; We give them respite only for them to further advance in their sins; and for them is a disgraceful punishment.
वो जिन्होंने ईमान के बदले कुफ़्र मोल लिया अल्लाह का कुछ न बिगाड़ेंगे और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है,
Woh jinhon ne imaan ke badle kufr mol liya Allah ka kuch na bigaadenge aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف350)حق سے عناداور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلاف کرکے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کون شخص اچھا ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل اچھے ہوں عرض کیا گیا اور بدتر کون ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل خراب۔
اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵٤) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،
Allah will not leave you, O People who Believe (the Muslims) in your present state, till He separates the evil from the good; and it does not befit Allah’s Majesty to give you, the common men, knowledge of the hidden, but Allah does chose from His Noble Messengers whomever He wills; so believe in Allah and His Noble Messengers; and if you believe and practice piety, for you is a great reward. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
और हरगिज़ काफ़िर इस गुमान में न रहें कि वो जो हम उन्हें ढील देते हैं कुछ उनके लिये भला है, हम तो इसी लिये उन्हें ढील देते हैं कि और गुनाह में बढ़ें और उनके लिये ज़िल्लत का अज़ाब है,
Aur hargiz kafir is gumaan mein na rahein ke woh jo hum unhein dheel dete hain kuch unke liye bhala hai, hum to isi liye unhein dheel dete hain ke aur gunaah mein barhein aur unke liye zillat ka azaab hai,
(ف351)اے کلمہ گویانِ اسلام (ف352)یعنی منافق کو(ف353)مومن مخلص سے یہاں تک کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے احوال پر مطلع کرکے مومن و منافق ہر ایک کو ممتاز فرمادے ۔شانِ نزول: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خلقت و آفرنیش سے قبل جب کہ میری امت مٹی کی شکل میں تھی اسی وقت وہ میرے سامنے اپنی صورتوں میں پیش کی گئی جیسا کہ حضرت آدم پر پیش کی گئی اور مجھے علم دیا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا یہ خبر جب منافقین کو پہنچی تو انہوں نے براہِ استہزاء کہا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گمان ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان میں سے کون ان پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا باوجود یکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں پہچانتے اس پر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر قیام فرماکر اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم میں طعن کرتے ہیں آج سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کا تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں اس کی خبر نہ دے دوں۔عبداللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر کہا میرا باپ کون ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا حذافہ پھر حضرت عمر رضی ا للہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا یارسول اللہ ہم اللہ کی ربوبیت پر راضی ہوئے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوئے قرآن کے امام ہونے پر راضی ہوئے آپ کے نبی ہونے پر راضی ہوئے ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں حضور نے فرمایا کیا تم باز آؤ گے کیا تم باز آؤ گے پھر منبر سے اترآئے اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک کی تما م چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔ اور حضور کے علم غیب میں طعن کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔(ف354)تو ان برگزیدہ رسولوں کو غیب کا علم دیتا ہے اور سید انبیاء حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسولوں میں سب سے افضل اور اعلٰی ہیں اس آیت سے اور اس کے سوا بکثرت آیات و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کو غیوب کے علوم عطا فرمائے اور غیوب کے علم آپ کا معجزہ ہیں۔(ف355)اور تصدیق کرو کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو غیب پر مطلع کیا ہے۔
اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵٦) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
And never must those who act miserly upon what Allah has bestowed upon them of His grace, think that it is good for them; in fact it is harmful for them; soon what they had withheld will be collars round their necks on the Day of Resurrection; and Allah only is the Inheritor (Owner) of the heavens and the earth; and Allah is Well Aware of what you do.
अल्लाह मुसलमानों को इस हाल पर छोड़ने का नहीं जिस पर तुम हो जब तक जुदा न कर दे गंदे को सुथरे से और अल्लाह की शान ये नहीं कि ऐ आम लोगो! तुम्हें ग़ैब का इल्म दे दे हाँ अल्लाह चुन लेता है अपने रसूलों से जिसे चाहे तो ईमान लाओ अल्लाह और उसके रसूलों पर और अगर ईमान लाओ और परहेज़गारी करो तो तुम्हारे लिये बड़ा सवाब है,
Allah musalmanon ko is haal par chhodne ka nahi jis par tum ho jab tak juda na kar de gande ko suthre se aur Allah ki shaan yeh nahi ke ae aam logo! Tumhein ghaib ka ilm de de haan Allah chun leta hai apne Rasoolon se jise chahe to imaan lao Allah aur uske Rasoolon par aur agar imaan lao aur parhezgaari karo to tumhare liye bara sawaab hai,
(ف356)بخل کی معنٰی میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ واجب کا ادا نہ کرنا بخل ہے اسی لئے بخل پر شدید وعیدیں آئی ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی ایک وعید آرہی ہے ترمذی کی حدیث میں ہے بخل اور بدخلقی یہ دو خصلتیں ایماندار میں جمع نہیں ہوتیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ (ف357)بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ ادا نہ کی روز قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گااور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔(ف358)وہی دائم باقی ہے اور سب مخلوق فانی ان سب کی ملک باطل ہونے والی ہے۔ تو نہایت نادانی ہے کہ اس مال ناپائیدار پر بخل کیا جائے اور راہ خدا میں نہ دیا جائے۔
بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳٦۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳٦۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،
Undoubtedly Allah heard them who said, “Allah is needy, and we are the wealthy”; We shall keep recorded their saying and their wrongfully martyring of the Prophets; and We shall say, “Taste the punishment of the fire!”
और जो बुख़्ल करते हैं उस चीज़ में जो अल्लाह ने उन्हें अपने फ़ज़्ल से दी हरगिज़ उसे अपने लिये अच्छा न समझें बल्कि वो उनके लिये बुरा है, अन्क़रीब वो जिस में बुख़्ल किया था क़यामत के दिन उनके गले का तौक़ होगा और अल्लाह ही वारिस है आसमानों और ज़मीन का और अल्लाह तुम्हारे कामों से ख़बरदार है,
Aur jo bukhl karte hain is cheez mein jo Allah ne unhein apne fazl se di hargiz use apne liye acha na samjhein balki woh unke liye bura hai, anqareeb woh jis mein bukhl kiya tha qiyamat ke din unke gale ka toq hoga aur Allah hi waaris hai aasmanon aur zameen ka aur Allah tumhare kamon se khabardaar hai,
(ف359)یہود نے یہ آیہ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً سن کر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبود ہم سے قرض مانگتا ہے تو ہم غنی ہوئے وہ فقیر ہوا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف360)اعمال ناموں میں۔(ف361)قتل انبیاء کو اس مقولہ پر معطوف کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں جرم بہت عظیم ترین ہیں۔ اور قباحت میں برابر ہیں اور شانِ انبیاء میں گستاخی کرنے والا شانِ الٰہی میں بے ادب ہوجاتا ہے۔
یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
“This is the recompense of what your hands have sent ahead and Allah does not oppress the bondmen.”
बेशक अल्लाह ने सुना जिन्होंने कहा कि अल्लाह मोहताज है और हम ग़नी अब हम लिख रखेंगे उनका कहा और अंबिया को उनका नाहक़ शहीद करना और फ़रमाएँगे कि चख़ो आग का अज़ाब,
Beshak Allah ne suna jinhon ne kaha ke Allah mohtaaj hai aur hum ghani aur hum ghani ab hum likh rakhenge unka kaha aur Anbiya ko unka na-haq shaheed karna aur farmaayenge ke chakho aag ka azaab,
وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آگ کھائے (ف۳٦۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو (ف۳٦۳)
Those who say, “Allah has agreed with us that we should not believe in any Noble Messenger until he comes with the command to offer a sacrifice, which a fire (from heaven) shall devour”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Many Noble Messengers did come to you before me, with clear signs and with this command which you state – why did you then martyr them, if you are truthful?”
ये बदला है उसका जो तुम्हारे हाथों ने आगे भेजा और अल्लाह बंदों पर ज़ुल्म नहीं करता,
Yeh badla hai uska jo tumhare hathon ne aage bheja aur Allah bandon par zulm nahi karta,
(ف362)شانِ نزول: یہود کی ایک جماعت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انکے اس کذب محض اور افتراء خالص کا ابطال کیا گیا کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام و نشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے کوئی معجزہ ہو جب نبی نے کوئی معجزہ دکھایا اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت کو ماننا لازم ہوگیا اب کسی خاص معجزہ کا اصرار حجت قائم ہونے کے بعد نبی کی تصدیق کا انکار ہے۔(ف363)جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعوٰی جھوٹا ہے۔
تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳٦٤) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳٦۵) لے کر آئے تھے
So O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) if they are denying you, Noble Messengers who came before you had also been denied, who had come with clear signs and Scriptures and the clear Book.
वो जो कहते हैं अल्लाह ने हम से इक़रार कर लिया है कि हम किसी रसूल पर ईमान न लाएँ जब तक ऐसी क़ुरबानी का हुक्म न लाए जिस आग खाए तुम फ़रमा दो मुझ से पहले बहुत रसूल तुम्हारे पास खुली निशानियाँ और ये हुक्म ले कर आए जो तुम कहते हो फिर तुम ने उन्हें क्यों शहीद किया अगर सच्चे हो
Woh jo kehte hain Allah ne humse iqraar kar liya hai ke hum kisi Rasool par imaan na laayen jab tak aisi qurbani ka hukm na laye jis aag khaye tum farma do mujh se pehle bahut Rasool tumhare paas khuli nishaniyan aur yeh hukm le kar aaye jo tum kehte ho phir tum ne unhein kyon shaheed kiya agar sache ho
ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے (ف۳٦٦)
Every soul must taste death; and only on the Day of Resurrection will you be fully recompensed; so the one who is saved from the fire and is admitted into Paradise – he is undoubtedly successful; and the life of this world is just counterfeit wealth.
तो ऐ महबूब! अगर वो तुम्हारी तक़ज़ीब करते हैं तो तुम से अगले रसूलों की भी तक़ज़ीब की गई है जो साफ़ निशानियाँ और सहिफ़े और चमकती किताब ले कर आए थे
To ae mehboob! Agar woh tumhari takzeeb karte hain to tumse agle Rasoolon ki bhi takzeeb ki gayi hai jo saaf nishaniyan aur sahife aur chamakti kitaab le kar aaye the
(ف366)دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بے حجاب کردی آدمی زندگانی پرمفتون ہوتا ہے اسی کو سرمایہ سمجھتا ہے اور اس فرصت کو بے کار ضائع کردیتا ہے۔ وقت اخیر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بقانہ تھی اس کے ساتھ دل لگانا حیات باقی اور اخروی زندگی کے لئے سخت مضرت رساں ہوا حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ دنیا طالبِ دنیا کے لئے متاع غرور اور دھوکے کا سرمایہ ہے لیکن آخرت کے طلب گار کے لئے دولتِ باقی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینے والا سرمایہ ہے یہ مضمون اس آیت کے اوپر کے جملوں سے مستفاد ہوتا ہے۔
بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳٦۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳٦۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳٦۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے،
You will surely be tried in respect of your property and lives, and you will surely hear much wrong from those who were given the Book before you, and from the polytheists; and if you remain steadfast and remain pious, it is then an act of great courage.
हर जान को मौत चखनी है, और तुम्हारे बदले तो क़यामत ही को पूरे मिलेंगे, जो आग से बचा कर जन्नत में दाख़िल किया गया वो मुराद को पहुँचा, और दुनिया की ज़िंदगी तो यही धोके का माल है
Har jaan ko maut chakni hai, aur tumhare badle to qiyamat hi ko poore milenge, jo aag se bacha kar jannat mein daakhil kiya gaya woh muraad ko pohncha, aur duniya ki zindagi to yeh hi dhoke ka maal hai
186) Beshak zaroor tumhari aazmaish ho gi tumhare maal aur tumhari janooN mein aur beshak zaroor tum agle kitaab walooN aur mushrikoN se bohat kuch bura suno ge aur agar tum sabr karo aur bachte raho
(ف367)حقوق وفرائض اورنقصان اور مصائب اور امراض و خطرات و قتل و رنج و غم وغیرہ سے تاکہ مؤمن وغیرمومن میں امتیاز ہوجائے مسلمانوں کویہ خطاب اس لئے فرمایا گیا کہ آنے والے مصائب وشدائد پر انہیں صبر آسان ہوجائے۔(ف368)یہود و نصارٰی(ف369)معصیّت سے
اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲)
And remember when Allah took a covenant from the People given the Book(s) that, “You shall definitely preach it to the people and not hide it”; so they flung it behind their backs and gained an abject price for it; so what a wretched bargain it is!
बेशक ज़रूर तुम्हारी आज़माइश हो गी तुम्हारे माल और तुम्हारी जानों में और बेशक ज़रूर तुम अगले किताब वालों और मुशरिकों से बहुत कुछ बुरा सुनो गे और अगर तुम सब्र करो और बचते रहो
to ye badi himmat ka kaam hai,
(ف370)اللہ تعالٰی نے علماء توریت و انجیل پر واجب کیا تھا کہ ان دونوں کتابوں میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والے جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح مشرح کرکے سمجھادیں اور ہر گز نہ چھپائیں۔(ف371)اور رشوتیں لے کر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کو چھپایا جو توریت و انجیل میں مذکور تھے۔(ف372)علم دین کا چھپانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں آیاکہ جس شخص سے کچھ دریافت کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اس کو چھپایا روزِ قیامت اس کے آگ کی لگام لگائی جائے گی مسئلہ :علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں اور حق ظاہر کریں اور کسی غرض فاسد کے لئے اس میں سے کچھ نہ چھپائیں۔
ہرگز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بےکیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
Do not ever think of those who rejoice for their deeds and wish to be praised without doing (good deeds) – do not ever think that they are safe from the punishment; and for them is a painful punishment.
तो यह बड़ी हिम्मत का काम है ,
aur yaad karo jab Allah ne ahd liya un se jinhaiN kitaab ata farmayi ke tum zaroor use logooN se bayan kar dena aur na chupana to unhoN ne use apni peeth ke peechhe phaink diya aur us ke badle zaleel daam haasil kiye to kitni buri kharidari hai
(ف373)شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور باوجود نادان ہونے کے یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے مسئلہ: اس آیت میں وعید ہے خود پسندی کرنے والے کے لئے اور اس کے لئے جو لوگوں سے اپنی جھوٹی تعریف چاہے جو لوگ بغیر علم اپنے آپ کو عالم کہلواتے ہیں یااسی طرح اورکوئی غلط وصف اپنے لئے پسند کرتے ہیں انہیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔
اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷٤) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
And for Allah only is the kingship of the heavens and the earth; and Allah is Able to do all things.
और याद करो जब अल्लाह ने अहद लिया उनसे जिन्हे किताब अता फ़रमाई कि तुम ज़रूर उसे लोगो से बयान कर देना और न छुपाना तो उन्होंने उसे अपनी पीठ के पीछे फेंक दिया और उसके बदले ज़लील दाम हासिल किए तो कितनी बुरी खरीदारी है
har giz na samajhna unheN jo khush hote haiN apne kiye par aur chahte haiN ke be kiye un ki tareef ho esooN ko hargiz azaab se door na jaana aur un ke liye dardnaak azaab hai
(ف374)اس میں ان گستاخوں کا رد ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے۔
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷٦)
Undoubtedly in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day are signs for the intelligent.
हरगिज़ न समझना उन्हें जो खुश होते हैं अपने किए पर और चाहते हैं कि बे किए उनकी तारीफ़ हो ऐसो को हरगिज़ अज़ाब से दूर न जानना और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
aur Allah hi ke liye hai aasmanooN aur zameen ki badshahi aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف375)صانع قدیم علیم حکیم قادر کے وجود پر دلالت کرنے والی۔(ف376)جن کی عقل کدورت سے پاک ہو اورمخلوقات کے عجائب و غرائب کو اعتبار و استدلال کی نظر سے دیکھتے ہوں۔
جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
Those who remember Allah while standing, and sitting, and reclining on their sides, and ponder about the creation of the heavens and the earth; “O our Lord! You have not created this without purpose; Purity is to You, therefore save us from the punishment of fire.”
और अल्लाह ही के लिये है आसमानों और ज़मीन की बादशाही और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है ,
beshak aasmanooN aur zameen ki paidaish aur raat aur din ki baaham badlioN mein nishaniyaaN haiN aqalmandooN ke liye
(ف377)یعنی تمام احوال میں مسلم شریف میں مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام احیان میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے بندہ کاکوئی حال یا دِالٰہی سے خالی نہ ہونا چاہئے حدیث شریف میں ہے جو بہشتی باغوں کی خوشہ چینی پسند کرے اسے چاہئے کہ ذکر الٰہی کی کثرت کرے۔(ف378)اور اس سے ان کے صانع کی قدرت و حکمت پر استدلال کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ۔(ف379)بلکہ اپنی معرفت کی دلیل بنایا۔
اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
“O our Lord! You have indeed given disgrace to whomever You put in the fire (of hell); and the unjust do not have any supporters.”
बेशक आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और रात और दिन की बाइहम बदलीयो में निशानियाँ हैं अक़्लमंदो के लिये
jo Allah ki yaad karte haiN khare aur baithe aur karwat par lete aur aasmanooN aur zameen ki paidaish mein ghour karte haiN ae Rab hamare! tu ne ye bekaar na banaya paaki hai tujhe tu humeN dozakh ke azaab se bacha le,
اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱)
“O our Lord! We have heard a proclaimer calling towards faith, (saying) ‘Believe in your Lord’ so we have accepted faith; Our Lord! Therefore forgive us our sins, and wipe out our evil deeds, and make us die among the virtuous.”
जो अल्लाह की याद करते हैं खड़े और बैठे और करवट पर लेटे और आसमानों और ज़मीन की पैदाइश में ग़ौर करते हैं ऐ रब हमारे ! तू ने ये बेकार न बनाया पाकी है तुझे तू हमें दोज़ख़ के अज़ाब से बचा ले ,
ae Rab hamare! beshak jise tu dozakh mein le jaye use zaroor tu ne ruswai di aur zalimooN ka koi madadgar nahi,
(ف380)اس منادی سے مراد یا سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کی شان میں دَ اعِیاً اِلیَ اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وارد ہے یا قرآن کریم۔(ف381)انبیاء و صالحین کے کہ ہم ان کے فرماں برداروں میں داخل کئے جائیں۔
اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،
“O our Lord! And give us what You have promised us through Your Noble Messengers, and do not humiliate us on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise.”
ऐ रब हमारे ! बेशक जिसे तू दोज़ख़ में ले जाए उसे ज़रूर तू ने रुस्वाई दी और ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं ,
ae Rab hamare hum ne ek munaadi ko suna ke imaan ke liye nida farmata hai ke apne Rab par imaan lao to hum imaan laye ae Rab hamare tu hamare gunah bakhsh de aur hamari buraiyaaN mahw farma de aur hamari maut achhooN ke sath kar
تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گءے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸٤) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے،
So their Lord accepted their prayer, for I do not waste the efforts of any (righteous) worker, male or female; you are all one among yourselves; so those who migrated and were driven out from their homes and were harassed in My cause, and fought, and were slain – I will certainly wipe out all their sins and will certainly admit them into Gardens beneath which rivers flow; a reward from Allah; and only with Allah is the best reward.
ऐ रब हमारे हमने एक मुनादी को सुना कि ईमान के लिये नदा फ़रमाता है कि अपने रब पर ईमान लाओ तो हम ईमान लाए ऐ रब हमारे तू हमारे गुनाह बख़्श दे और हमारी बुराइयाँ मह्व फ़रमा दे और हमारी मौत अच्छो के साथ कर
ae Rab hamare! aur humeN de woh jiska tu ne hum se wada kiya hai apne RasoolooN ki maarfat aur humeN qiyamat ke din ruswa na kar, beshak tu wada khilaf nahi karta,
(ف383)اور جزائے اعمال میں عورت و مرد کے درمیا ن کوئی فرق نہیں۔ شانِ نزول:ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہجرت میں عورتوں کاکچھ ذکر ہی نہیں سنتی یعنی مردوں کے فضائل تو معلوم ہوئے لیکن یہ بھی معلوم ہو کہ عورتوں کو بھی ہجرت کاکچھ ثواب ملے گااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انکی تسکین فرمادی گئی کہ ثواب عمل پر مرتب ہے عورت کاہویا مردکا۔(ف384)یہ سب اللہ کافضل وکرم ہے۔
اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵)
O listener (followers of this Prophet)! Do not ever be deceived by the disbelievers’ free movements in the cities.
ऐ रब हमारे ! और हमें दे वह जिसका तू ने हम से वादा किया है अपने रसूलों की
मआरफ़त और हमें क़यामत के दिन रुस्वा न कर, बेशक तू वादा ख़िलाफ़ नहीं करता,
to un ki dua sun li un ke Rab ne ke main tum mein kaam walay ki mehnat akarat nahi karta mard ho ya aurat tum aapas mein ek ho to woh jinhoN ne hijrat ki aur apne gharoN se nikale gaye aur meri raah mein sataye gaye aur lade aur maare gaye main zaroor un ke sab gunah utaar dooN ga aur zaroor unheN baghooN mein le jaoonga jinke neeche nahrain rawaan Allah ke paas ka sawab, aur Allah hi ke paas acha sawab hai,
(ف385)شانِ نزول: مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ کے دشمن تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی و مشقت میں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیاکہ کفّار کا یہ عیش متاع قلیل ہے اور انجام خراب۔
تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
It is a brief usage; their home is hell; and what an evil resting-place!
तो उनकी दुआ सुन ली उनके रब ने कि मैं तुम में काम वाले की मेहनत अकारत नहीं करता मर्द हो या औरत तुम आपस में एक हो तो वह जिन्होने हिजरत की और अपने घरो से निकाले गए और मेरी राह में सताए गए और लड़े और मारे गए मैं ज़रूर उनके सब गुनाह उतार दूँ गा और ज़रूर उन्हें बाग़ो में ले जाऊँ गा जिनके नीचे नहरें रवाँ अल्लाह के पास का सवाब, और अल्लाह ही के पास अच्छा सवाब है ,
ae sunne wale! kaafirooN ka shahrooN mein ahlay gahlay phirna hargiz tujhe dhoka na de
لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸٦)
But for those who fear their Lord are Gardens beneath which rivers flow – abiding in it for ever – the hospitality from their Lord; and that which is with Allah, is the best for the righteous.
ऐ सुनने वाले ! काफ़िरों का शहरो में अहले गहले फिरना हरगिज़ तुझे धोका न दे
thora baratna, un ka thikana dozakh hai, aur kya hi bura bichhona,
(ف386)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے اقد س میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطان کونین ایک بوریئے پر آرام فرماہیں چمڑہ کا تکیہ جس میں ناریل کے ریشے بھرے ہوئے ہیں زیر سر مبارک ہے جسم اقدس میں بوریئے کے نقش ہو گئے ہیں یہ حال دیکھ کر حضرت فاروق رو پڑے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبب گریہ دریافت کیاتو عرض کیا کہ یارسول اللہ قیصر و کسرٰی تو عیش و راحت میں ہوں اور آپ رسول خدا ہو کر اس حالت میں ۔فرمایا کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ۔
اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے،
And undoubtedly there are some among the People given the Book(s), who accept faith in Allah and what is sent down to you and what was sent down to them – their hearts are submitted humbly before Allah – they do not exchange the verses of Allah for an abject price; they are those whose reward is with their Lord; indeed Allah is Swift At Taking Account.
थोड़ा बरतना, उनका ठिकाना दोज़ख़ है , और क्या ही बुरा बिछोना,
lekin woh jo apne Rab se darte haiN un ke liye jannatein haiN jinke neeche nahrain baheN hamesha un mein raheN Allah ki taraf ki, mehmani aur jo Allah paas hai woh nekon ke liye sabse bhala
(ف387)شانِ نزول: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت نجاشی بادشاہِ حبشہ کے باب میں نازل ہوئی ان کی وفات کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو اور اپنے بھائی کی نماز پڑھو جس نے دوسرے ملک میں وفات پائی ہے حضور بقیع شریف میں تشریف لے گئے اور زمین حبشہ آپ کے سامنے کی گئی اور نجاشی بادشاہ کاجنازہ پیش نظر ہوا اس پر آپ نے چار تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھی اور اس کے لئے استغفار فرمایا۔ سبحان اللہ ۔ کیا نظر ہے کیا شان ہے سرزمین حبشہ حجاز میں سامنے پیش کردی جاتی ہے منافقین نے اس پر طعن کیا اور کہا دیکھو حبشہ کے نصرانی پر نماز پڑھتے ہیں جس کو آپ نے کبھی دیکھابھی نہیں اور وہ آپ کے دین پر بھی نہ تھااس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔(ف388)عجزو انکسار اور تواضع و اخلاص کے ساتھ۔(ف389)جیسا کہ یہود کے رؤساء لیتے ہیں۔
اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو،
O People who Believe! Endure and surpass your enemies in endurance, and guard the frontiers of the Islamic nation; and keep fearing Allah, hoping that you may succeed.
लेकिन वह जो अपने रब से डरते हैं उनके लिये जन्नते हैं जिनके नीचे नहरें बहें हमेशा उनमें रहें अल्लाह की तरफ़ की, मेहमानि और जो अल्लाह पास है वह नेक़ो के लिये सबसे भला
aur beshak kuch kitabein aise haiN ke Allah par imaan laate haiN aur us par jo tumhari taraf utara aur jo un ki taraf utara un ke dil Allah ke huzoor jhuke huwe Allah ki aayatooN ke badle zaleel daam nahi lete ye woh haiN, jin ka sawab un ke Rab ke paas hai aur Allah jald hisaab karne wala hai,
(ف390)اپنےدین پر اور اس کو کسی شدت و تکلیف وغیرہ کی وجہ سے نہ چھوڑو صبر کے معنٰی میں حضرت جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ صبر نفس کو ناگوار امر پر روکناہے بغیر جزع کے بعض حکماء نے کہا،صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) ترک شکایت (۲) قبول قضا(۳) صدوق رضا
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page