Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
अलिफ लैम मीम
Alif Laam Meem
(ف2)شانِ نُزول : فارس اور روم کے درمیان جنگ تھی اورچونکہ اہلِ فارس مجوسی تھے اس لئے مشرکینِ عرب ان کا غلبہ پسند کرتے تھے ، رومی اہلِ کتاب تھے اس لئے مسلمانوں کو ان کا غلبہ اچھا معلوم ہوتا تھا ۔ خسرو پرویز بادشاہِ فارس نے رومیوں پر لشکر بھیجا اور قیصرِ روم نے بھی لشکر بھیجا یہ لشکر سرزمینِ شام کے قریب مقابل ہوئے اہلِ فارس غالب ہوئے ، مسلمانوں کو یہ خبر گراں گزری ، کُفّارِ مکّہ اس سے خوش ہو کر مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہلِ کتاب اور نصارٰی بھی اہلِ کتاب اور ہم بھی اُمّی اور اہلِ فارس بھی اُمّی ہمارے بھائی اہلِ فارس تمہارے بھائیوں رومیوں پر غالب ہوئے ہماری تمہاری جنگ ہوئی تو ہم بھی تم پر غالب ہوں گے ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان میں خبر دی گئی کہ چند سال میں پھر رومی اہلِ فارس پر غالب آ جائیں گے ، یہ آیتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کُفّارِ مکّہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ خدا کی قَسم رومی ضرور اہلِ فارس پر غلبہ پائیں گے اے اہلِ مکّہ تم اس وقت کے نتیجۂ جنگ سے خوش مت ہو ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خبر دی ہے ، اُ بَی بن خلف کافِر آپ کے مقابل کھڑا ہو گیا اور آپ کے اور اس کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط ہو گئی اگر نو سال میں اہلِ فارس غالب آ جائیں تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اُ بَی کو سو اونٹ دیں گے اور اگر رومی غالب آ جائیں تو اُ بَی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دے گا ۔ اس وقت تک قمار کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی ۔مسئلہ : اور حضرت اما م ابوحنیفہ و امام محمّد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے نزدیک حربی کُفّار کے ساتھ عقودِ فاسدہ ربٰوا وغیرہ جائز ہیں اور یہی واقعہ ان کی دلیل ہے ۔ القصّہ سات سال کے بعد اس خبر کا صدق ظاہر ہوا اور جنگِ حُدیبیہ یا بدر کے دن رومی اہلِ فارس پر غالب آئے اور رومیوں نے مدائن میں اپنے گھوڑے باندھے اور عراق میں رومیہ نامی ایک شہر کی بِنا رکھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شرط کے اونٹ اُ بَیْ کی اولاد سے وصول کر لئے کیونکہ وہ اس درمیان میں مر چکا تھا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ شرط کے مال کو صدقہ کر دیں ۔ یہ غیبی خبر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحتِ نبوّت اور قرآنِ کریم کے کلامِ الٰہی ہونے کی روشن دلیل ہے ۔ (خازن و مدارک)
چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف٦) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
Within a few (up to nine) years time; only for Allah is the command, before and after; and the believers will rejoice on that day.
चंद बरस में, हुक्म अल्लाह ही का है आगे और पीछे और उस दिन ईमान वाले खुश होंगे,
Chand baras mein, hukum Allah hi ka hai aage aur peeche aur us din iman wale khush honge,
(ف5)جن کی حد نو برس ہے ۔ (ف6)یعنی رومیوں کے غلبہ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی ۔ مراد یہ ہے کہ پہلے اہلِ فارس کا غلبہ ہونا اور دوبارہ اہلِ روم کا یہ سب اللہ تعالٰی کے امر و ارادے اور اس کے قضا و قدر سے ہے ۔
اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
With the help of Allah; He helps whomever He wills; and only He is the Almighty, the Most Merciful.
अल्लाह की मदद से मदद करता है जिस की चाहे, और वही इज़्ज़त वाला मेहरबान,
Allah ki madad se madad karta hai jis ki chahe, aur wahi izzat wala mehrban,
(ف7)کہ اس نے کتابیوں کو غیرِ کتابیوں پر غلبہ دیا اور اسی روز بدر میں مسلمانون کو مشرکوں پر اور مسلمانوں کا صدق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ کریم کی خبر کی تصدیق ظاہر فرمائی ۔
کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱) اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳)
Have they not inwardly pondered – that Allah has not created the heavens and the earth, and all that is between them, except with truth and a fixed term? And indeed many people deny the meeting with their Lord.
क्या उन्होंने अपने जी में न सोचा कि, अल्लाह ने पैदा न किए आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है मगर हक़ और एक मुकर्रर मियाद से और बेशक बहुत से लोग अपने रब से मिलने का इंकार रखते हैं
Kya unhone apne jee mein na socha ke, Allah ne paida na kiye aasman aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai magar haq aur ek muqarrar meyaad se aur beshak bohot se log apne Rab se milne ka inkaar rakhte hain
(ف11)یعنی آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ تعالٰی نے ان کو عبث اور باطل نہیں بنایا ان کی پیدائش میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔(ف12)یعنی ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا بلکہ ایک مدّت معیّن کر دی ہے جب وہ مدّت پوری ہو جاوے گی تو یہ فنا ہو جائیں گے اور وہ مدّت قیامت قائم ہونے کا وقت ہے ۔(ف13)یعنی بَعث بعد الموت پر ایمان نہیں لاتے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱٤) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱٦) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)
And did they not travel in the land to see what sort of fate befell those before them? They were stronger than them, and they cultivated the land and inhabited it more than them, and their Noble Messengers came to them with clear proofs; so it did not befit Allah’s Majesty to oppress them, but it was they who used to wrong themselves.
और क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते कि उन से अगलों का अंजाम कैसा हुआ, वे उन से ज़्यादा ज़ोरावर थे और ज़मीन जोती और आबाद की उनकी आबादी से ज़्यादा और उनके रसूल उनके पास रोशन निशानियाँ लाए, तो अल्लाह की शान न थी कि उन पर ज़ुल्म करता, हाँ वे खुद ही अपनी जानों पर ज़ुल्म करते थे
Aur kya unhone zameen mein safar na kiya ke dekhte ke un se agalon ka anjaam kaisa hua, woh un se zyada zorawar the aur zameen joti aur abad ki unki abadi se zyada aur unke rasool unke paas roshan nishaniyan laaye to Allah ki shaan na thi ke un par zulm karta, haan woh khud hi apni jaanon par zulm karte the
(ف14)کہ رسولوں کی تکذیب کے باعث ہلاک کئے گئے ان کے اجڑے ہوئے دیار اور ان کی بربادی کے آثار دیکھنے والوں کے لئے موجِبِ عبرت ہیں ۔(ف15)اہلِ مکّہ ۔(ف16)تو وہ ان پر ایمان نہ لائے ، پس اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔(ف17)ان کے حقوق کم کر کے اور انہیں بغیر جُرم کے ہلاک کر کے ۔(ف18)رسولوں کی تکذیب کر کے اپنے آپ کو مستحقِ عذاب بنا کر ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)
And on the Last Day– when it is established, the guilty* will lose all hope. (* The disbelievers.)
और जिस दिन क़यामत क़ायम होगी, मजरिमों की आस टूट जाएगी
Aur jis din Qiyamat qayam hogi mujrimoon ki aas toote gi
(ف21)اور کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ ان کا کلام منقطع ہو جائے گا وہ ساکت رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حُجّت نہ ہو گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ وہ رسوا ہوں گے ۔
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲٤)
So those who believed and did good deeds – they will be hosted in the Garden.
तो वे जो ईमान लाए और अच्छे काम किए, बाग़ की कियारी में उनकी ख़ातिरदारी होगी
To woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye, bagh ki kiari mein unki khatirdari ho gi
(ف24)یعنی بُستانِ جنّت میں ان کا اکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے یہ خاطر داری جنّتی نعمتوں کے ساتھ ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سماع ہے کہ انہیں نغمات طرب انگیز سنائے جائیں گے جو اللہ تبارک و تعالٰی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے ۔
تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)
So proclaim the Purity of Allah when you witness the night and the morning.
तो अल्लाह की पाक़ी बोलो जब शाम करो और जब सुबह हो
To Allah ki paaki bolo jab shaam karo aur jab subah ho
(ف27)پاکی بولنے سے یا تو اللہ تعالٰی کی تسبیح و ثناء مراد ہے اور اس کی احادیث میں بہت فضیلتیں وارد ہیں یا اس سے نماز مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا پنجگانہ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں ہے ؟ فرمایا ہاں اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات مذکور ہیں ۔(ف28)اس میں مغرب و عشاء کی نمازیں آ گئیں ۔(ف29)یہ نمازِ فجر ہوئی ۔
اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)
And only His is the praise in the heavens and the earth – and before the day ends and at noon.
और इसी की तारीफ़ है आसमानों और ज़मीन में और कुछ दिन रहे और जब तुम्हें दोपहर हो
Aur isi ki tareef hai aasmanon aur zameen mein aur kuch din rahe aur jab tumhein dopehar ho
(ف30)یعنی آسمان اور زمین والوں پر اس کی حمد لازم ہے ۔(ف31) یعنی تسبیح کرو کچھ دن رہے ، یہ نمازِ عصر ہوئی ۔(ف32)یہ نمازِ ظہر ہوئی ۔حکمت : نماز کے لئے یہ پنجگانہ اوقات مقرر فرمائے گئے اس لئے کہ افضل اعمال وہ ہے جو مدام ہو اور انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ اپنے تمام اوقات نماز میں صرف کرے کیونکہ اس کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ کے حوائج و ضروریات ہیں تو اللہ تعالٰی نے بندہ پر عبادت میں تخفیف فرمائی اور دن کے اوّل و اوسط و آخر میں اور رات کے اوّل و آخر میں نمازیں مقرر کیں تاکہ ان اوقات میں مشغولِ نماز رہنا دائمی عبادت کے حکم میں ہو ۔ (مدارک و خازن)
وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳٤) اور زمین کو جٕلاتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳٦)
He brings forth the living from the dead, and brings forth the dead from the living, and He revives the earth after its death; and this how you will be raised.
वह ज़िंदा को निकालता है मुरदे से और मुरदे को निकालता है ज़िंदा से और ज़मीन को जलाता है उसके मरे पीछे और यूँ ही तुम निकाले जाओगे
Woh zinda ko nikalta hai murde se aur murde ko nikalta hai zinda se aur zameen ko jalaata hai us ke mare peechhe aur yun hi tum nikale jaoge
(ف33)جیسے کہ پرندکو انڈے سے اور انسان کو نطفہ سے اور مومن کو کافِر سے ۔(ف34)جیسے کہ انڈے کو پرند سے نطفہ کو انسان سے کافِر کو مومن سے ۔(ف35)یعنی خشک ہو جانے کے بعد مینہ برسا کر سبزہ اُگا کر ۔(ف36)قبروں سے بَعث و حساب کے لئے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
And among His signs is that He created spouses for you from yourselves for you to gain rest from them, and kept love and mercy between yourselves; indeed in this are signs for the people who ponder.
और उसकी निशानियों से है कि तुम्हारे लिए तुम्हारी ही jins से जोड़े बनाए कि उनसे आराम पाओ और तुम्हारे आपस में मोहब्बत और रहमत रखी, बेशक इस में निशानियाँ हैं ध्यान करने वालों के लिए,
Aur uski nishaniyon se hai ke tumhare liye tumhari hi jins se jode banaye ke un se aaram pao aur tumhare aapas mein mohabbat aur rehmat rakhi, beshak is mein nishaniyan hain dhyan karne walon ke liye,
(ف38)کہ بغیر کسی پہلی معرفت اور بغیر کسی قرابت کے ایک دوسرے کے ساتھ مَحبت و ہمدردی ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
And among His signs is the creation of the heavens and the earth, and the differences in your languages and colours; indeed in this are signs for people who know.
और उसकी निशानियों से है आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और तुम्हारी ज़ुबानों और रंगत का इख़्तिलाफ़, बेशक इस में निशानियाँ हैं जानने वालों के लिए,
Aur uski nishaniyon se hai aasmanon aur zameen ki paidaish aur tumhari zubanon aur rangat ka ikhtilaf, beshak is mein nishaniyan hain jaan-ne walon ke liye,
(ف39)زبانوں کا اختلاف تو یہ ہے کہ کوئی عربی بولتا ہے ، کوئی عجمی ، کوئی اور کچھ اور رنگتوں کا اختلاف یہ ہے کہ کوئی گورا ہے ، کوئی کالا ، کوئی گندمی اور یہ اختلاف نہایت عجیب ہے کیونکہ سب ایک اصل سے ہیں اور سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف٤۳) اور امید دلاتی (ف٤٤) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے ، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف٤۵)
And among His signs is that He shows you the lightning, instilling fear and hope, and sends down water from the sky, so revives the earth after its death; indeed in this are signs for people of intellect.
और उसकी निशानियों से है कि तुम्हें बिजली दिखाता है, डराता और उम्मीद दिलाता और आसमान से पानी उतारता है, तो इस से ज़मीन को ज़िंदा करता है उसके मरे पीछे, बेशक इस में निशानियाँ हैं अकल वालों के लिए
Aur uski nishaniyon se hai ke tumhein bijli dikhata hai, darata aur ummeed dilata aur aasman se paani utarta hai, to is se zameen ko zinda karta hai us ke mare peechhe, beshak is mein nishaniyan hain aqal walon ke liye
(ف43)گرنے اور نقصان پہنچانے سے ۔ (ف44)بارش کی ۔(ف45)جو سوچیں اور قدرتِ الٰہی پر غور کریں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف٤٦) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف٤۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف٤۸)
And among His signs is that the heavens and the earth remain established by His command; then when He calls you – from the earth – you will thereupon emerge.
और उसकी निशानियों से है कि उसके हुक्म से आसमान और ज़मीन क़ायम हैं, फिर जब तुम्हें ज़मीन से एक नदा फ़रमाएगा, तभी तुम निकल पड़ोगे
Aur uski nishaniyon se hai ke uske hukum se aasman aur zameen qayam hain, phir jab tumhein zameen se ek nida farmaaye ga, jabhi tum nikal parho ge
(ف46)حضرت ابنِ عباس اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا کہ وہ دونوں بغیر کسی سہارے کے قائم ہیں ۔(ف47)یعنی تمہیں قبروں سے بلائے گا اس طرح کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام قبر والوں کے اٹھانے کے لئے صور پھونکیں گے تو اوّلین و آخرین میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو نہ اٹھے چنانچہ اس کے بعد ہی ارشاد فرماتا ہے ۔(ف48)یعنی قبروں سے زندہ ہو کر ۔
اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف٤۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And it is He Who initiates the creation, and will then create it again – and this, according to you, should be easier for Him! And for Him only is the Supreme Majesty in the heavens and the earth; and only He is the Almighty, the Wise.
और वही है कि औल बना ता है, फिर इसे दोबारा बनाएगा और यह तुम्हारी समझ में इस पर ज़्यादा आसान होना चाहिए और इसी के लिए है सबसे बर्तर शान आसमानों और ज़मीन में और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Aur wahi hai ke awwal banata hai, phir ise dobara banayega aur ye tumhari samajh mein is par zyada aasaan hona chahiye aur isi ke liye hai sab se bar tar shaan aasmanon aur zameen mein aur wahi izzat o hikmat wala hai,
(ف49)ہلاک ہونے کے بعد ۔(ف50)کیونکہ انسانوں کا تجربہ اور ان کی رائے یہی بتاتی ہے کہ شیٔ کا اعادہ اس کی ابتداء سے سہل ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی کے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ۔(ف51)کہ اس جیسا کوئی نہیں وہ معبودِ برحق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵٤) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵٦) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
He illustrates an example for you from your own selves; do you have for yourselves, among the bondmen you possess, partners in the sustenance We have bestowed upon you, thereby you become equal in respect of it – you fearing them the way you fear each other? This is how We illustrate detailed signs for the people of intellect.
तुम्हारे लिए एक कहावत बयान फरमाता है, खुद तुम्हारे अपने हाल से: क्या तुम्हारे लिए तुम्हारे हाथ के गुलामों में से कुछ शरीक हैं, इस में जो हमने तुम्हें रोज़ी दी तो तुम सब इस में बराबर हो, तुम उनसे डरें जैसे आपस में एक दूसरे से डरते हो, हम ऐसी मुफ़स्सल निशानियाँ बयान फरमाते हैं अकल वालों के लिए,
Tumhare liye ek kahawat bayan farmaata hai, khud tumhare apne haal se: kya tumhare liye tumhare haath ke ghulamon mein se kuch shareek hain, is mein jo humne tumhein rozi di to tum sab is mein barabar ho, tum un se daro jaise aapas mein ek doosre se darte ho, hum aisi mufassal nishaniyan bayan farmaate hain aqal walon ke liye,
(ف52)اے مشرکو ۔(ف53)وہ مثل (کہاوت) یہ ہے ۔(ف54)یعنی کیا تمہارے غلام تمہارے ساجھی ہیں ۔(ف55)مال و متاع وغیرہ ۔(ف56)یعنی آقا اور غلام کو اس مال و متاع میں یکساں استحقاق ہو ایسا کہ ۔(ف57)اپنے مال و متاع میں بغیر ان غلاموں کی اجازت سے تصرُّف کرنے سے ۔ (ف58)مدعٰی یہ ہے کہ تم کسی طرح اپنے مملوکوں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کر سکتے تو کتنا ظلم ہے کہ اللہ تعالٰی کے مملوکوں کو اس کا شریک قرار دو ۔ اے مشرکین تم اللہ تعالٰی کے سوا جنہیں اپنا معبود قرار دیتے ہو وہ اس کے بندے اور مملوک ہیں ۔
بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بےجانے (ف٦۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف٦۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف٦۲)
Rather the unjust followed their own desires, without knowledge; so who can guide one whom Allah has sent astray? And they do not have supporters.
बल्कि ज़ालिम अपनी ख़्वाहिशों के पीछे होलीए, बे-जाने, तो इसे कौन हिदायत करे जिसे खुदा ने गुमराह किया और उनका कोई मददगार नहीं
Balki zalim apni khwahishon ke peeche holiye, be-jaane, to ise kaun hidaayat kare jise Khuda ne gumraah kiya aur unka koi madadgar nahi
(ف59)جنہوں نے شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلمِ عظیم کیا ہے ۔(ف60)جہالت سے ۔(ف61)یعنی کوئی اس کا ہدایت کرنے والا نہیں ۔(ف62)جو انہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے ۔
تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہو کر (ف٦۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف٦٤) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف٦۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف٦٦)
Therefore set your attention for obeying Allah, devoted solely to Him; the foundation set by Allah, upon which He created man; do not change what Allah has created; this is the proper religion – but most people do not know.
तो अपना मुँह सीधा करो अल्लाह की इताअत के लिए, एक अकेले, इसी के हो कर, अल्लाह की डाली हुई बना, जिस पर लोगों को पैदा किया, अल्लाह की बनाई चीज़ न बदलना, यही सीधा दीन है, मगर बहुत लोग नहीं जानते
To apna munh seedha karo Allah ki itaat ke liye, ek akele, isi ke ho kar, Allah ki daali hui bana, jis par logon ko paida kiya, Allah ki banai cheez na badalna, yehi seedha deen hai, magar bohot log nahi jaante
(ف63)یعنی خلوص کے ساتھ دینِ الٰہی پر باستقامت و استقلال قائم رہو ۔(ف64)فطرت سے مراد دینِ اسلام ہے معنٰی یہ ہی کہ اللہ تعالٰی نے خَلق کو ایمان پر پیدا کیا جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچّہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اسی عہد پر جو' اَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ ' فرما کر لیا گیا ہے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ دینِ الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ تعالٰی نے خَلق کو پیدا کیا ہے ۔(ف65)یعنی دینِ الٰہی پر قائم رہنا ۔(ف66)اس کی حقیقت کو تو اس دین پر قائم رہو ۔
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
And when some affliction reaches men, they pray to their Lord inclining towards Him – and when He gives them a taste of His mercy, thereupon a group among them begins setting up partners to their Lord!
और जब लोगों को तक़लीफ़ पहुँचती है तो अपने रब को पुकारते हैं, उसकी तरफ़ रुझू लाते हुए, फिर जब वह उन्हें अपने पास से रहमत का मज़ा देता है, तभी उनमें से एक ग्रुप अपने रब का शरीक ठहराने लगता है,
Aur jab logon ko takleef pohanchti hai to apne Rab ko pukarte hain, uski taraf rujoo laate hue, phir jab woh unhein apne paas se rehmat ka maza deta hai, jabhi un mein se ek giroh apne Rab ka shareek thahrane lagta hai,
(ف70)مرض کی یا قحط کی یا اس کے سوا اور کوئی ۔(ف71)اس تکلیف سے خلاصی عنایت کرتا ہے اور راحت عطا فرماتا ہے ۔
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷٦) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)
And when We give people the taste of mercy they rejoice at it; and if an ill fortune reaches them because of what their hands have sent ahead – thereupon they lose hope!
और जब हम लोगों को रहमत का मज़ा देते हैं, इस पर खुश हो जाते हैं और अगर उन्हें कोई बुराई पहुँचे, बदला इसका जो उनके हाथों ने भेजा, तभी वे नाउम्मीद हो जाते हैं
Aur jab hum logon ko rehmat ka maza dete hain, is par khush ho jaate hain, aur agar unhein koi burai pohche, badla iska jo unke haathon ne bheja, jabhi woh na-umeed ho jaate hain
(ف76)یعنی تندرستی اور وسعتِ رزق کا ۔(ف77)اور اِتراتے ہیں ۔(ف78)قحط یا خوف یا اور کوئی بَلا ۔(ف79)یعنی ان کی معصیتوں اور ان کے گناہوں کا ۔(ف80)اللہ تعالٰی کی رحمت سے اور یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہے کیونکہ مومن کا حال یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے تو شکر گزاری کرتا ہے اور جب سختی ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
And did they not see that Allah eases the sustenance for whomever He wills and restricts it for whomever He wills? Indeed in this are signs for people who believe.
और क्या उन्होंने न देखा कि अल्लाह रज़क वसीअ फरमाता है जिस के लिए चाहे और तंगी फरमाता है जिस के लिए चाहे, बेशक इस में निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए,
Aur kya unhone na dekha ke Allah rizq wasee farmaata hai jis ke liye chahe aur tangi farmaata hai jis ke liye chahe, beshak is mein nishaniyan hain iman walon ke liye,
تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انھیں کا کام بنا،
Therefore give the relative his right, and to the needy, and to the traveller; this is better for those who seek the pleasure of Allah; and it is they who are the successful.
तो रिश्तेदार को उसका हक़ दो और मस्कीन और मुसाफ़िर को, यह बेहतर है उनके लिए जो अल्लाह की रज़ा चाहते हैं और उनका काम बना,
To rishtedaar ko uska haq do aur maskeen aur musafir ko, ye behtar hai unke liye jo Allah ki raza chahte hain aur unka kaam bana,
(ف81)اس کے ساتھ سلوک اور احسان کرو ۔(ف82)ان کے حق دو صدقہ دے کر اور مہمان نوازی کر کے ۔مسئلہ : اس آیت سے محارم کے نفقہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ (مدارک)(ف83)اور اللہ تعالٰی سے ثواب کے طالب ہیں ۔
اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸٤) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انھیں کے دُونے ہیں (ف۸٦)
And that which you give upon usury, in order that it may increase the creditors’ property, will not increase before Allah; and the charity you give seeking the pleasure of Allah – only that will increase manifold.
और तुम जो चीज़ ज़्यादा लेने को दो कि देने वाले के माल बढ़ें, तो वह अल्लाह के यहाँ न बढ़ेगी, और जो तुम ख़ैरात दो अल्लाह की रज़ा चाहते हुए, तो उन्हें दोने हैं
Aur tum jo cheez zyada lene ko do ke dene wale ke maal barhein to woh Allah ke yahan na barhegi, aur jo tum khairat do Allah ki raza chahte hue, to unhein dono-ne hain
(ف84)لوگوں کا دستور تھا کہ وہ دوست احباب اور آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیّت سے ہدیہ دیتے تھے کہ وہ انہیں اس سے زیادہ دے گا یہ جائز تو ہے لیکن اس پر ثواب نہ ملے گا اور اس میں برکت نہ ہو گی کیونکہ یہ عمل خالصاً لِلّٰہِ تَعالٰی نہیں ہوا ۔(ف85)نہ اس سے بدلہ لینا مقصود ہو نہ نام و نمود ۔(ف86)ان کا اجر و ثواب زیادہ ہو گا ایک نیکی کا دس گنا زیادہ دیا جائے گا ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
It is Allah Who created you and then provided you sustenance, then will cause you to die, and will then give you life again; is there any among your ascribed partners that can do any of these things? Purity and Supremacy are to Him, above their ascribing of partners (to Him)!
अल्लाह है जिसने तुम्हें पैदा किया, फिर तुम्हें रोज़ी दी, फिर तुम्हें मारेगा, फिर तुम्हें जिला देगा, क्या तुम्हारे शरीकों में भी कोई ऐसा है जो इन कामों में से कुछ करे? पाक़ी और बरतरी है उसे उनके शिर्क से,
Allah hai jisne tumhein paida kiya, phir tumhein rozi di, phir tumhein maare ga, phir tumhein jilaaye ga, kya tumhare shareekon mein bhi koi aisa hai jo in kaamon mein se kuch kare? Paaki aur bartari hai usse unke shirk se,
(ف87)پیدا کرنا ، روزی دینا ، مارنا ، جِلانا یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں ۔(ف88)یعنی بُتوں میں جنہیں تم اللہ تعالٰی کا شریک ٹھہراتے ہو ان میں ۔(ف89)اس کے جواب سے مشرکین عاجز ہوئے اور انہیں دَم مارنے کی مجال نہ ہوئی تو فرماتا ہے ۔
چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انھیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)
Chaos appears in the land and the sea because of the evil deeds which people’s hands have earned, in order to make them taste the flavour of some of their misdeeds – in order that they may come back.
चमकी, ख़राबी, ख़ुष्की और तर में उन बुराइयों से जो लोगों के हाथों ने कमाए, ताकि उन्हें उनके कुछ कूटकों (बुरे कामों) का मज़ा चखाए, कहीं वे बाज़ आएँ
Chamki, kharabi, khushki aur tari mein un buraiyon se jo logon ke haathon ne kamaye, taake unhein unke baaz koutkon (bare kaamon) ka maza chakhaye, kahin woh baaz aayen
(ف90)شرک و معاصی کے سبب سے قحط اور امساکِ باراں اور قلّتِ پیداوار اور کھیتیوں کی خرابی اور تجارتوں کے نقصان اور آدمیوں اور جانوروں میں موت اور کثرتِ آتش زدگی اور غرق اور ہر شیٔ میں بے برکتی ۔(ف91)کُفر و معاصی سے اور تائب ہوں ۔
تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے (ف۹۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land, and see what sort of fate befell the former people; and most of them were polytheists.”
तुम फ़रमाओ ज़मीन में चल कर देखो क्या अंज़ाम हुआ अगलों का, उनमें बहुत mushrik थे
Tum farmaao zameen mein chal kar dekho kya anjaam hua agalon ka, unmein bohot mushrik the
(ف92)اپنے شرک کے باعث ہلاک کئے گئے ان کے منازل اور مساکن ویران پڑے ہیں انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کرو ۔
تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹٤) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)
Therefore set your attention for worshipping, before the day from Allah which cannot be averted – on that day people will be split, separated.
तो अपना मुँह सीधा कर इबादत के लिए, क़बल उसके कि वह दिन आए, जिसे अल्लाह की तरफ़ टलना नहीं, उस दिन अलग फट जाएँगे
To apna munh seedha kar ibadat ke liye, qabl us ke ke woh din aaye, jise Allah ki taraf talna nahi, us din alag phat jaayenge
(ف93)یعنی دینِ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو ۔(ف94)یعنی روزِ قیامت ۔(ف95)یعنی حساب کے بعد متفرق ہو جائیں گے جنّتی جنّت کی طرف جائیں گے اور دوزخی دوزخ کی طرف ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)
And among His signs is that He sends winds heralding glad tidings, to make you taste His mercy, and so that the ships may sail by His command, and so that you may seek His munificence, and for you to give thanks.
और उसकी निशानियों से है कि हवाएँ भेजता है, मुज़्दह सुनाता और इस लिए कि तुम्हें अपनी रहमत का ज़ायक़ा दे और इस लिए कि कश्ती उसके हुक्म से चले और इस लिए कि उसका फ़ज़ल तलाश करो और इस लिए कि तुम हक़ मानो
Aur uski nishaniyon se hai ke hawaein bhejta hai, muzhda sunata aur isliye ke tumhein apni rehmat ka zaiqa de aur isliye ke kashti uske hukum se chale aur isliye ke uska fazl talash karo aur isliye ke tum haq maano
(ف98)بارش اور کثرتِ پیدوار کا ۔(ف99)دریا میں ان ہواؤں سے ۔(ف100)یعنی دریائی تجارتوں سے کسبِ معاش کرو ۔(ف101) ان نعمتوں کا اور اللہ کی توحید قبول کرو ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائےپھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰٤)
And indeed We sent several Noble Messengers before you, to their nations – so they came to them with clear signs – We therefore took revenge from the guilty; and it is incumbent upon Our mercy, to help the Muslims.
और बेशक हमने तुमसे पहले कितने रसूल उनकी क़ौम की तरफ़ भेजे, तो वे उनके पास खुली निशानियाँ लाए, फिर हमने मजरिमों से बदला लिया और हमारे ज़िम्मा करम पर है मुसलमानों की मदद फ़रमाना
Aur beshak humne tumse pehle kitne rasool unki qaum ki taraf bheje, to woh unke paas khuli nishaniyan laaye, phir humne mujrimoon se badla liya aur hamare zimma karam par hai musalmanon ki madad farmaana
(ف102)جو ان رسولوں کے صدقِ رسالت پر دلیلِ واضح تھیں تو اس قوم میں سے بعض ایمان لائےاور بعض نے کُفر کیا ۔(ف103)کہ دنیا میں انہیں عذاب کر کے ہلاک کر دیا ۔(ف104)یعنی انہیں نجات دینا اور کافِروں کو ہلاک کرنا ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آخرت کی کامیابی اور اعداء پر فتح و نصرت کی بشارت دی گئی ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو بچائے گا اللہ تعالٰی اسے روزِ قیامت جہنّم کی آ گ سے بچائے گا یہ فرما کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ' کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ '۔
اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰٦) تو تو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
It is Allah Who sends the winds raising the clouds – therefore spreads them in the sky as He wills and shatters them – so you see the rain dropping from inside it; so when He delivers it upon whomever He wills among His bondmen, thereupon they rejoice.
अल्लाह है के भेजता है हवाएँ कि उभरती हैं बादल, फिर इसे फैला देता है आसमान में जैसा चाहे और इसे पार्हा पार्हा करता है, तो तू देखे कि इसके बीच में मेघ निकल रहा है, फिर जब इसे पहुँचाता है अपने बंदों में जिस की तरफ़ चाहे, तभी वे खुशियाँ मनाते हैं,
Allah hai ke bhejta hai hawaein ke ubharti hain badal, phir ise phaila deta hai aasman mein jaisa chahe aur ise parah parah karta hai, to tu dekhe ke iske beech mein barish nikal rahi hai, phir jab ise pohchaata hai apne bandon mein jis ki taraf chahe, jabhi woh khushiyan manate hain,
(ف105)قلیل یا کثیر ۔(ف106)یعنی کبھی تو اللہ تعالٰی ابرِ محیط بھیج دیتا ہے جس سے آسمان گھرا معلوم ہوتا ہے اور کبھی متفرق ٹکڑے علٰیحدہ علٰیحدہ ۔(ف107)یعنی مینہ کو ۔
تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
Therefore observe the result of Allah’s mercy, how He revives the earth after its death; He will indeed resurrect the dead; and He is Able to do all things.
तो अल्लाह की रहमत के असर देखो, कैसे ज़मीन को ज़िलाता है उसके मरे पीछे, बेशक मर्दों को ज़िंदा करेगा और वह सब कुछ कर सकता है,
To Allah ki rehmat ke asar dekho, kaise zameen ko jilaata hai uske mare peechhe, beshak murdon ko zinda karega aur woh sab kuch kar sakta hai,
(ف108)یعنی بارش کے اثر جو اس پر مرتّب ہوتے ہیں کہ بارش زمین کو سیراب کرتی ہے ، اس سے سبزہ نکلتا ہے ، سبزے سے پھل پیدا ہوتے ہیں ، پھلوں میں غذائیت ہوتی ہے اور اس سے جانداروں کے اجسام کے قوام کو مدد پہنچتی ہے اور یہ دیکھو کہ اللہ تعالٰی یہ سبزے اور پھل پیدا کر کے ۔(ف109)اور خشک میدان کو سبزہ زار بنا دیتا ہے جس کی یہ قدرت ہے ۔
اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)
And if We send a wind and they see their fields yellow because of it, then indeed they would become ungrateful after it.
और अगर हम कोई हवा भेजें जिस से वे खेती को ज़र्द देखें, तो ज़रूर इसके बाद नाशुकरि करने लगें
Aur agar hum koi hawa bheje jis se woh kheti ko zard dekhein to zaroor iske baad nashukri karne lagte
(ف110)ایسی جو کھیتی اور سبزے کے لئے مُضِر ہو ۔(ف111)بعد اس کے کہ وہ سرسبز و شاداب تھی ۔(ف112)یعنی کھیتی زرد ہونے کے بعد ناشکری کرنے لگیں اور پہلی نعمت سے بھی مُکَر جائیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں رحمت پہنچتی ہے رزق ملتا ہے خوش ہو جاتے ہیں اور جب کوئی سختی آتی ہے کھیتی خراب ہوتی ہے تو پہلی نعمتوں سے بھی مُکَر جاتے ہیں ، چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالٰی پر توکُّل کرتے اور جب نعمت پہنچتی شکر بجا لاتے اور جب بَلا آتی صبر کرتے اور دعاء و استغفار میں مشغول ہوتے ۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی فرماتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی محرومی اور ان کے ایمان نہ لانے پر رنجیدہ نہ ہوں ۔
اس لیے کہ تم مردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱٤)
For you do not make the dead hear nor make the deaf hear the call when they flee, turning back. (The disbelievers are referred to as dead and deaf.)
इसलिए कि तुम मुर्दों को नहीं सुनाते और न बहरों को पुकारना सुनाओ जब वे पीठ दे कर फिरें
Isliye ke tum murdon ko nahi sunate aur na behron ko pukarna sunao jab woh peeth de kar pherein
(ف113)یعنی جن کے دل مر چکے اور ان سے کسی طرح قبولِ حق کی توقع نہیں رہی ۔(ف114)یعنی حق کے سننے سے بہرے ہوں اور بہرے بھی ایسے کہ پیٹھ دے کر پھر گئے ان سے کسی طرح سمجھنے کی امید نہیں ۔
اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،
Nor do you guide the blind out of their error; you only make those hear who believe in Our signs, so they have submitted. (The disbelievers are referred to as blind.)
और न तुम अंधों को उनकी ग़ुमराही से राह पर लाओ, तो तुम इसी को सुनाते हो जो हमारी आयतों पर ईमान लाए, तो वह गर्दन रखे हुए हैं,
Aur na tum andhon ko unki gumraahi se raah par laao, to tum isi ko sunate ho jo hamari aayaton par iman laaye, to woh gardan rakhe hue hain,
(ف115)یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے مراد ہیں ۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ یہاں مُردوں سے مراد کُفّار ہیں جو دنیوی زندگی تو رکھتے ہیں مگر پند و موعظت سے منتفع نہیں ہوتے اس لئے انہیں اموات سے تشبیہ دی گئی جو دارالعمل سے گزر گئے اور وہ پند و نصیحت سے منتفع نہیں ہو سکتے لہذا آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر سند لانا درست نہیں اور بکثرت احادیث سے مُردوں کا سننا اور اپنی قبروں پر زیارت کے لئے آنے والوں کو پہچاننا ثابت ہے ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱٦) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،
It is Allah Who created you weak, then after weakness gave you strength, then after strength gave you weakness and old age; He creates whatever He wills; and only He is the All Knowing, the Able.
अल्लाह है जिसने तुम्हें इब्तिदा में कमजोर बनाया, फिर तुम्हें नातवानि से ताक़त बख़्शी, फिर क़ुवत के बाद कमज़ोरी और बुढ़ापा दिया, बनाता है जो चाहे और वही इल्म ओ क़ुदरत वाला है,
Allah hai jisne tumhein ibtida mein kamzor banaya, phir tumhein na-taawani se taqat bakshi, phir quwat ke baad kamzori aur burhaapa diya, banata hai jo chahe aur wahi ilm o qudrat wala hai,
(ف116)اس میں انسان کے احوال کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے وہ ماں کے پیٹ میں جنین تھا پھر بچّہ ہو کر پیدا ہوا ، شیر خوار رہا یہ احوال نہایت ضعف کے ہیں ۔(ف117)یعنی بچپن کے ضعف کے بعد جوانی کی قوّت عطا فرمائی ۔(ف118)یعنی جوانی کی قوّت کے بعد ۔(ف119)ضعف اور قوّت اور جوانی اور بڑھاپا یہ سب اللہ کے پیدا کئے سے ہیں ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
And on the day when the Last Day is established, the guilty will swear that they did not stay except for an hour; this is how they keep straying.
और जिस दिन क़यामत क़ायम होगी, मजरिम क़सम खाएंगे कि न रहे थे, मगर एक घड़ी वह ऐसे ही औंधे जाते थे
Aur jis din Qiyamat qayam hogi, mujrim qasam khaayenge ke na rahe the, magar ek ghadi woh aise hi ondhe jaate the
(ف120)یعنی آخرت کو دیکھ کر اس کو دنیا یا قبر میں رہنے کی مدّت بہت تھوڑی معلوم ہو گی اس لئے وہ اس مدّت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں گے ۔(ف121)یعنی ایسے ہی دنیا میں غلط اور باطل باتوں پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور بَعث کا انکار کرتے تھے جیسے کہ اب قبر یا دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو قَسم کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں ان کی اس قَسم سے اللہ تعالٰی انہیں تمام اہلِ محشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں گے کہ ایسے مجمعِ عام میں قَسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں ۔
اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲٤) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
And said those who received knowledge and faith, “You have indeed stayed in the decree of Allah until the Day of Restoration; so this is the Day of Restoration, but you did not know.”
और बोले वे जिन को इल्म और ईमान मिला, बेशक तुम रहे अल्लाह के लिखे हुए में उठने के दिन तक, तो यह है वह दिन उठने का, लेकिन तुम न जानते थे
Aur bole woh jin ko ilm aur iman mila, beshak tum rahe Allah ke likhe hue mein uthne ke din tak, to ye hai woh din uthne ka, lekin tum na jaante the
(ف122)یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مومنین ان کا رد کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم جھوٹ کہتے ہو ۔(ف123)یعنی جو اللہ تعالٰی نے اپنے سابق علم میں لوحِ محفوظ میں لکھا اسی کے مطابق تم قبروں میں رہے ۔(ف124)جس کے تم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف125)دنیا میں کہ وہ حق ہے ضرور واقع ہو گا ، اب تم نے جانا کہ وہ دن آ گیا اور اس کا آنا حق تھا تو اس وقت کا جاننا تمہیں نفع نہ دے گا جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،
And indeed We have illustrated all kinds of examples in this Qur’an for mankind; and indeed if you bring a sign to them, the disbelievers will say, “You are upon nothing but falsehood.”
और बेशक हमने लोगों के लिए इस क़ुरआन में हर किस्म की मिसाल बयान फरमाई, और अगर तुम उनके पास कोई निशानी लाओ, तो ज़रूर काफ़िर कहेंगे, तुम तो नहीं मगर बातिल पर,
Aur beshak humne logon ke liye is Quran mein har qisam ki misaal bayan farmaai, aur agar tum unke paas koi nishani lao to zaroor kafir kahenge, tum to nahi magar baatil par,
(ف127)تاکہ انہیں تنبیہ ہو اور انذار اپنے کمال کو پہنچے لیکن انہوں نے اپنی سیاہ باطنی اور سخت دلی کے باعث کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جب کوئی آیتِ قرآن آئی اس کو جھٹلا دیا اور اس کا انکار کیا ۔
تو صبر کرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)
Therefore patiently endure, indeed the promise of Allah is true; and may not those who do not have faith make you impatient.
तो सब्र करो, बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है और तुम्हें सबक न कर दें वे जो यक़ीन नहीं रखते
"
To sabr karo, beshak Allah ka wada sachha hai aur tumhein sabak na kar dein woh jo yaqeen nahi rakhte
(ف129)ان کی ایذا و عداوت پر ۔(ف130)آپ کی مدد فرمانے کا اور دینِ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے کا ۔(ف131)یعنی یہ لوگ جنہیں آخرت کا یقین نہیں ہے اور بَعث و حساب کے منکِر ہیں ان کی شدّتیں اور ان کے انکار اور ان کے نالائق حرکات آپ کے لئے طیش اور قلق کا باعث نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے حق میں عذاب کی دعا کرنے میں جلدی فرمائیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page