کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف٤) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
What! They dare say that, “He has fabricated it”? In fact it is the Truth from your Lord, in order that you warn a nation towards whom no Herald of Warning came before you, in the hope of their attaining guidance.
क्या कहते हैं उनकी बनाई हुई है बल्कि वही हक़ है तुम्हारे रब की तरफ़ से कि तुम डराओ ऐसे लोगों को जिन के पास तुम से पहले कोई डर सुनाने वाला न आया इस उम्मीद पर कि वो राह पाएं,
Kya kehte hain unki banai hui hai balki wahi haq hai tumhare Rab ki taraf se ke tum darao aise logon ko jin ke paas tum se pehle koi dar sunane wala na aaya is umeed par ke woh raah paayein,
(ف3)مشرکین کہ یہ کتابِ مقدَّس ۔(ف4)یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔(ف5)ایسے لوگوں سے مراد زمانۂ فطرت کے لوگ ہیں ، وہ زمانہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے سیدِ انبیاء محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا ۔
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف٦) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہو کر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
It is Allah Who created the heavens and the earth, and all what is between them, in six days, then (befitting His Majesty) established Himself over the Throne (of control); leaving Allah, there is neither a friend nor an intercessor for you; so do you not ponder?
अल्लाह है जिसने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच में है छह दिन में बनाए फिर अर्श पर इस्तवा फरमाया, इस से छूट कर (ला तल्लुक़ हो कर) तुम्हारा कोई हिफ़ाज़ती और न सिफ़ारिशी, तो क्या तुम ध्यान नहीं करते,
Allah hai jisne aasman aur zameen aur jo kuch unke beech mein hai chay din mein banaye phir Arsh par istawa farmaaya, is se chhoot kar (la taalluq ho kar) tumhara koi himayati aur na sifarishi, to kya tum dhyaan nahin karte,
(ف6)جیسا استوا کہ اس کی شان کے لائق ہے ۔(ف7)یعنی اے گروہِ کُفّار جب تم اللہ تعالٰی کی راہِ رضا اختیار نہ کرو اور ایمان نہ لاؤ تو نہ تمہیں کوئی مدد گار ملے گا جو تمہاری مدد کر سکے نہ کوئی شفیع جو تمہاری شفاعت کرے ۔
کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
He plans (all) the job(s) from the heaven to the earth – then it will return to Him on the Day which amounts to a thousand years in your count.
काम की तदबीर फरमाता है आसमान से ज़मीन तक फिर इसी की तरफ़ रुझू करेगा उस दिन कि जिसकी मिक़दार हज़ार बरस है तुम्हारी गिनती में,
Kaam ki tadbeer farmaata hai aasman se zameen tak phir isi ki taraf rujoo karega us din ke jis ki miqdaar hazaar baras hai tumhari ginti mein,
(ف8)یعنی دنیا کہ قیامت تک ہونے والے کاموں کی اپنے حکم و امر اور اپنے قضا و قدر سے ۔(ف9)امر و تدبیر فَنائے دنیا کے بعد ۔(ف10)یعنی ایامِ دنیا کے حساب سے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ، روزِ قیامت کی درازی بعض کافِروں کے لئے ہزار برس کے برابر ہو گی اور بعض کے لئے پچاس ہزار برس کے برابر جیسے کہ سورۂ معارج میں ہے' تَعْرُجُ الْمَلٰۤئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْ مٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ' اور مومن پر یہ دن ایک نمازِ فرض کے وقت سے بھی ہلکا ہو گا جو دنیا میں پڑھتا تھا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔
وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
The One Who created all things excellent, and Who initiated the creation of man from clay.
वह जिसने जो चीज़ बताई खूब बनाई और पैदाइश इंसान की इब्तिदा मिट्टी से फरमाई,
Woh jisne jo cheez batayi khoob banai aur paidaish insaan ki ibtida mitti se farmaai,
(ف12)حسبِ اقتضائے حکمت بنائی ، ہر جاندار کو وہ صورت دی جو اس کے لئے بہتر ہے اور اس کو ایسے اعضاء عطا فرمائے جو اس کے معاش کے لئے مناسب ہیں ۔(ف13)حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے بنا کر ۔
اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
And they said, “When we have mingled into the earth, will we be created again?”; in fact they disbelieve in the meeting with their Lord.
और बोले क्या जब हम मिट्टी में मिल जाएँगे क्या फिर नए बनेंगे, बल्कि वो अपने रब के हज़ूर हाज़री से मंकर हैं,
Aur bole kya jab hum mitti mein mil jaayenge kya phir naye banenge, balki woh apne Rab ke huzoor hazri se munkir hain,
(ف17)منکِرینِ بَعث ۔(ف18)اور مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے اجزا مٹی سے ممتاز نہ رہیں گے ۔(ف19)یعنی موت کے بعد اٹھنے اور زندہ کئے جانے کا انکار کر کے وہ اس انتہا تک پہنچے ہیں کہ عاقبت کے تمام امور کے منکِر ہیں حتّٰی کہ ربّ کے حضور حاضر ہونے کے بھی ۔
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
Proclaim, “The angel of death, who is appointed over you, causes you to die and then towards your Lord you will return.”
तुम फ़रमाओ तुम्हें वफ़ात देता है मौत का फ़रिश्ता जो तुम पर मुक़र्रर है, फिर अपने रब की तरफ़ वापस जाओगे,
Tum farmaao tumhein wafaat deta hai maut ka farishta jo tum par muqarrar hai, phir apne Rab ki taraf wapas jaaoge,
(ف20)اس فرشتہ کا نام عزرائیل ہے علیہ السلام اور وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں ، اپنے کام میں کچھ غفلت نہیں کرتے جس کا وقت آ جاتا ہے بے درنگ اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔ مروی ہے کہ مَلَک الموت کے لئے دنیا مثلِ کفِ دست کر دی گئی ہے تو وہ مشارق و مغارب کی مخلوق کی روحیں بے مشقّت اٹھا لیتے ہیں اور رحمت و عذاب کے بہت فرشتے ان کے ماتحت ہیں ۔(ف21)اور حساب و جزا کے لئے زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے ۔
اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲٤) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲٦)
And if you see when the guilty will hang their heads before their Lord; “Our Lord! We have seen and heard, therefore send us back in order that we do good deeds – we are now convinced!”
और कहीं तुम देखो जब मुज़रिम अपने रब के पास सर नीचे डाले होंगे: "ऐ हमारे रब! अब हम ने देखा और सुना हमें फिर भेज कि नेक काम करें हम को यक़ीन आगया",
Aur kahin tum dekho jab mujrim apne Rab ke paas sar neeche daale honge: "Ai hamare Rab! Ab humne dekha aur suna humein phir bhej ke nek kaam karein, hum ko yaqeen aagaya",
(ف22)یعنی کُفّار و مشرکین ۔(ف23)اپنے افعال و کردار سے شرمندہ و نادم ہو کر اور عرض کرتے ہوں گے ۔(ف24)مرنے کے بعد اٹھنے کو اور تیرے وعدہ وعید کے صدق کو جن کے ہم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف25)تجھ سے تیرے رسولوں کی سچّائی کو تو اب دنیا میں ۔(ف26)اور اب ہم ایمان لے آئے لیکن اس وقت کا ایمان لانا انہیں کچھ کام نہ دے گا ۔
اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)
And had We willed We would have given every soul its guidance, but My Word is decreed that I will certainly fill hell with these jinns and men, combined.
और अगर हम चाहते हर जान को उसकी हिदायत फरमाते मगर मेरी बात क़रार पा चुकी कि ज़रूर जहन्नम को भर दूँगा उन जिनों और आदमियों सब से,
Aur agar hum chahte har jaan ko uski hidaayat farmaate magar meri baat qaraar pa chuki ke zaroor Jahannam ko bhar doon ga un jinon aur aadmiyon sab se,
(ف27)اور اس پر ایسا لطف کرتے کہ اگر وہ اس کو اختیارکرتا تو راہ یاب ہوتا لیکن ہم نے ایسا نہ کیا کیونکہ ہم کافِروں کو جانتے تھے کہ وہ کُفر ہی اختیار کریں گے ۔(ف28)جنہوں نے کُفر اختیار کیا اور جب وہ جہنّم میں داخل ہوں گے تو جہنّم کے خازن ان سے کہیں گے ۔
اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
“Therefore taste the recompense of your forgetting the confronting of this day of yours; We have abandoned you – now taste the everlasting punishment, the recompense of your deeds!”
अब चखो बदला इसका कि तुम अपने इस दिन की हाज़री भूले थे, हमने तुम्हें छोड़ दिया, अब हमेशा का अज़ाब चखो अपने किए का बदला,
Ab chakkho badla iska ke tum apne is din ki hazri bhoolay the, humne tumhein chhod diya, ab hamesha ka azaab chakkho apne kiye ka badla,
(ف29)اور دنیا میں ایمان لائے تھے ۔(ف30)عذاب میں اب تمہاری طرف التفات نہ ہو گا ۔
ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انھیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، السجدة۔۹
Only those believe in Our signs who, when they are reminded of them, fall down in prostration and proclaim the Purity of their Lord while praising Him, and are not conceited. (Command of prostration # 9).
हमारी आयतों पर वही ईमान लाते हैं कि जब वो उन्हें याद दिलाई जाती हैं, सजदा में गिर जाते हैं और अपने रब की तारीफ़ करते हुए इसकी पाकी बोलते हैं और तक़बुर नहीं करते, अल-सज्दह: 9,
Hamari aayaton par wahi imaan laate hain ke jab woh unhein yaad dilayi jaati hain, sajda mein gir jaate hain aur apne Rab ki tareef karte hue is ki paaki bolte hain aur takabbur nahi karte, al-sajdah: 9,
(ف31)تواضُع اور خشوع سے اور نعمتِ اسلام پر شکر گزاری کے لئے ۔
ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
Their sides stay detached from their beds and they pray to their Lord with fear and hope – and they spend from what We have bestowed upon them.
उनकी करवातेँ जुदा होती हैं ख़्वाबगाहों में और अपने रब को पुकारते हैं, डरते और उम्मीद करते और हमारे दिए हुए से कुछ ख़ैरात करते हैं,
Unki karwatein juda hoti hain khwabgahon mein aur apne Rab ko pukaarte hain, darte aur umeed karte aur hamare diye hue se kuch khairaat karte hain,
(ف32)یعنی خوابِ استراحت کے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے راحت و آرام کو چھوڑتے ہیں ۔(ف33)یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہیں یہ تہجُّد ادا کرنے والوں کی حالت کا بیان ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے حق میں نازل ہوئی کہ ہم مغرب پڑھ کر اپنی قیام گاہوں کو واپس نہ آتے تھے جب تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء نہ پڑھ لیتے ۔
تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بےحکم ہے (ف۳٦) یہ برابر نہیں،
So will the believer ever be equal to the one who is lawless? They are not equal!
तो क्या जो ईमान वाला है वह इस जैसा हो जाएगा जो बे-हुक्म है, ये बराबर नहीं,
To kya jo imaan wala hai woh is jaisa ho jaayega jo be-hukm hai, ye barabar nahi,
(ف36)یعنی کافِر ہے ۔شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم سے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کسی بات میں جھگڑ رہا تھا ، دورانِ گفتگو میں کہنے لگا خاموش ہو جاؤ تم لڑکے ہو میں بوڑھا ہوں ، میں بہت زبان دراز ہوں ، میری نوکِ سنان تم سے زیادہ تیز ہے ، میں تم سے زیادہ بہادر ہوں ، میں بڑا جھتے دار ہوں ، حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہَ الکریم نے فرمایا چپ تو فاسق ہے ، مراد یہ تھی کہ جن باتوں پر تو ناز کرتا ہے انسان کے لئے ان میں سے کوئی قابلِ مدح نہیں ، انسان کا فضل و شرف ایمان و تقوٰی میں ہے جسے یہ دولت نصیب نہیں وہ انتہا کا رذیل ہے ، کافِر مومن کے برابر نہیں ہو سکتا ، اللہ تبارک و تعالٰی نے حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
رہے وہ جو بےحکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
And those who are lawless – their destination is the fire; whenever they wish to come out of it, they will be returned into it, and it will be said to them, “Taste the punishment of the fire you used to deny!”
रहे वो जो बे-हुक्म हैं, उनका ठिकाना आग है, जब कभी इसमें से निकलना चाहेंगे फिर उसी में फेर दिए जाएंगे और उनसे कहा जाएगा: "चखो इस आग का अज़ाब जिसे तुम झुठलाते थे",
Rahe woh jo be-hukm hain, unka thikaana aag hai, jab kabhi is mein se nikalna chaahenge phir isi mein pher diye jaayenge aur un se kaha jaayega: "Chakkho is aag ka azaab jise tum jhuthlate the",
اور ضرور ہم انھیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف٤۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
And We shall indeed make them taste the smaller punishment before the greater punishment, so that they may return.
और ज़रूर हम उन्हें चखाएँगे कुछ नज़दीक का अज़ाब, इस बड़े अज़ाब से पहले, जिसे देखने वाला उम्मीद करे कि अभी बाज़ आएँगे,
Aur zaroor hum unhein chakhayenge kuch nazdik ka azaab, is bade azaab se pehle, jise dekhne wala umeed kare ke abhi baaz aayenge,
(ف39)دنیا ہی میں قتل اور گرفتاری اور قحط و امراض وغیرہ میں مبتلا کر کے چنانچہ ایسا ہی پیش آیا کہ حضور کی ہجرت سے قبل قریش امراض و مصائب میں گرفتار ہوئے اور بعدِ ہجرت بدر میں مقتول ہوئے ، گرفتار ہوئے اور سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں مبتلا رہے کہ ہڈیاں اور مردار اور کتّے تک کھا گئے ۔(ف40)یعنی عذابِ آخرت سے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف٤۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،
And who is more unjust than one who is preached to from the verses his Lord, then he turns away from them? We will indeed take revenge from the guilty.
और इससे बढ़ कर ज़ालिम कौन जिसे उसके रब की आयतों से नसीहत की गई फिर उसने उनसे मुँह फेर लिया, बेशक हम मुज़रिमों से बदला लेने वाले हैं,
Aur is se barh kar zaalim kaun jise uske Rab ki aayaton se naseehat ki gayi phir usne un se munh pher liya, beshak hum mujrimoon se badla lene wale hain,
(ف41)اور آیات میں غور نہ کیا اور ان کے وضوح و ارشاد سے فائدہ نہ اٹھایا اور ایمان سے بہرہ اندوز نہ ہوا ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف٤۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف٤۳) اور ہم نے اسے (ف٤٤) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
And indeed We bestowed the Book to Moosa, therefore have no doubt in its acquisition, and made it a guidance for the Descendants of Israel.
और बेशक हमने मूसा को किताब अता फरमाई तो तुम इसके मिलने में शक न करो और हमने इसे बनी इस्राएल के लिए हिदायत किया,
Aur beshak humne Musa ko kitaab ata farmaai to tum is ke milne mein shak na karo aur humne use Bani Israel ke liye hidaayat kiya,
(ف42)یعنی توریت ۔(ف43)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو کتاب کے ملنے میں یا یہ معنٰی ہیں کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ملنے اور ان سے ملاقات ہونے میں شک نہ کرو چنانچہ شبِ معراج حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جیسا کہ احادیث میں وارد ہے ۔(ف44)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو یا توریت کو ۔
اور ہم نے ان میں سے (ف٤۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (٤٦) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف٤۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
And We made some leaders among them, guiding by Our command, when they had persevered; and they used to accept faith in Our signs.
और हमने उनमें से कुछ इमाम बनाए कि हमारे हुक्म से बनाते
Aur humne un mein se kuch imam banaye ke hamare hukum se banate
(ف45)یعنی بنی اسرائیل میں سے ۔(ف46)لوگوں کو خدا کی طاعت اور اس کی فرمانبرداری اور اللہ تعالٰی کے دین اور اس کی شریعت کا اِتّباع ، توریت کے احکام کی تعمیل اور یہ امامِ انبیاءِ بنی اسرائیل تھے یا انبیاء کے متّبِعین ۔(ف47)اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ امامت اور پیشوائی ہے ۔
اور کیا انھیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
And did they not obtain guidance by the fact that We did destroy many generations before them, so now they walk in their houses? Indeed in this are signs; so do they not heed?
बेशक तुम्हारा रब उनमें फ़ैसला कर देगा क़ियामत के दिन जिस बात में इख़्तिलाफ़ करते थे,
Beshak tumhara Rab un mein faisla kar dega qiyamat ke din jis baat mein ikhtilaf karte the,
(ف50)یعنی اہلِ مکّہ کو ۔(ف51)کتنی اُمّتیں مثلِ عاد و ثمود و قومِ لوط کے ۔(ف52)یعنی اہلِ مکّہ جب بسلسلۂ تجارت شام کے سفر کرتے ہیں تو ان لوگوں کے منازل و بلاد میں گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے آثار دیکھتے ہیں ۔(ف53)جو عبرت حاصل کریں اور پندپذیر ہوں ۔
اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵٤) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انھیں سوجھتانہیں (ف۵٦)
And do they not see that We send the water to the barren land and produce crops with it, so their animals and they themselves eat from it? So do they not perceive?
और क्या उन्हें इस पर हिदायत न हुई कि हमने उनसे पहले कितनी संगतें (क़ौमें) हलाक़ कर दीं कि आज ये उनके घरों में चल फिर रहे हैं, बेशक इसमें जरूर निशानियाँ हैं, तो क्या सुनते नहीं,
Aur kya unhein is par hidaayat na hui ke humne un se pehle kitni sangatein (qaumein) halaak kar di ke aaj ye unke gharon mein chal phir rahe hain, beshak is mein zaroor nishaniyan hain, to kya sunte nahi,
(ف54)جس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف55)چوپائے بھوسہ اور وہ خود غلّہ ۔(ف56)کہ وہ یہ دیکھ کر اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت پر استدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادرِ برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے مُردوں کا زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ۔
And they say, “When will this decision take place, if you are truthful?”
और क्या नहीं देखते कि हम पानी भेजते हैं ख़ुश्क ज़मीन की तरफ़, फिर इससे खेती निकालते हैं कि इसमें से उनके चौपाए और वो खुद खाते हैं, तो क्या उन्हें सूझता नहीं,
Aur kya nahi dekhte ke hum paani bhejte hain khushk zameen ki taraf, phir is se kheti nikalte hain ke is mein se unke choupaye aur woh khud khate hain, to kya unhein soojhta nahi,
(ف57)مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالٰی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبردار اور نافرمان کو ان کے حسبِ عمل جزا دے گا ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم پر رحمت و کرم کرے گا اور کُفّار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کرے گا ، اس پر کافِر بطورِ تمسخُر و اِستِہزاء کہتے تھے کہ یہ فیصلہ کب ہو گا ، اس کا وقت کب آئے گا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے ارشاد فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انھیں مہلت ملے (ف۵۹)
Proclaim, “On the Day of Decision*, the disbelievers will not benefit from their accepting faith, nor will they get respite.” (* Of death or of resurrection)
और कहते हैं ये फ़ैसला कब होगा, अगर तुम सच्चे हो, तुम फ़रमाओ फ़ैसला के दिन काफ़िरों को उनका ईमान लाना नफ़ा नहीं देगा और न उन्हें मोहलत मिले,
Aur kehte hain ye faisla kab hoga agar tum sacche ho, tum farmaao faisla ke din kafiron ko unka imaan lana nafa nahi dega aur na unhein mohalat mile,
(ف58)جب عذابِ الٰہی نازل ہو گا ۔(ف59)توبہ و معذرت کی فیصلہ کے دن سے یا روزِ قیامت مراد ہے یا روزِ فتحِ مکّہ یاروزِ بدر برتقدیرِ اوّل اگر روزِ قیامت مراد ہو تو ایمان کا نافع نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ ایمان وہی مقبول ہے جو دنیا میں ہو اور دنیا سے نکلنے کے بعد نہ ایمان مقبول ہو گا نہ ایمان لانے کے لئے دنیا میں واپس آنا میسّر آئے گا اور اگر فیصلہ کے دن سے روزِ بدریا روزِ فتحِ مکّہ مراد ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ جبکہ عذاب آ جائے اور وہ لوگ قتل ہونے لگیں تو حالتِ قتل میں ان کا ایمان لانا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ عذاب مؤخّر کر کے انہیں مہلت دی جائے چنانچہ جب مکّہ مکرّمہ فتح ہوا تو قوم بنی کنانہ بھاگی حضرت خالد بن ولید نے جب انہیں گھیرا اور انہوں نے دیکھا کہ اب قتل سر پر آ گیا کوئی امید جاں بَری کی نہیں تو انہوں نے اسلام کا اظہار کیا ، حضرت خالد نے قبول نہ فرمایا اور انہیں قتل کر دیا ۔ (جمل وغیرہ)
تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف٦۰) بیشک انھیں بھی انتظار کرنا ہے (ف٦۱)
Therefore turn away from them and wait – indeed they too have to wait.
तो उनसे मुँह फेर लो और इंतज़ार करो, बेशक उन्हें भी इंतज़ार करना है।
To un se munh pher lo aur intezaar karo, beshak unhein bhi intezaar karna hai.
"
(ف60)ان پر عذاب نازل ہونے کا ۔(ف61)بخاری و مسلم شریف کی حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ جمعہ نمازِ فجر میں یہ سورت یعنی سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھتے تھے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب تک حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ سورت اور سورۂ ' تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ' پڑھ نہ لیتے خواب نہ فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سورۂ سجدہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے ۔ (خازن و مدارک)
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page