As-Sajdah السجدہ

پارہ: 21
سورہ: 32
آیات: 30
الٓمّٓ‏ ﴿1﴾

الم

Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ‏ ﴿2﴾

کتاب کا اتارنا (ف۲) بیشک پروردگار عالم کی طرف سے ہے،

The revelation of the Book is, without doubt, from the Lord Of The Creation.

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰٮهُ​ۚ بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰٮهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ‏  ﴿3﴾

کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف٤) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،

What! They dare say that, “He has fabricated it”? In fact it is the Truth from your Lord, in order that you warn a nation towards whom no Herald of Warning came before you, in the hope of their attaining guidance.

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ​ؕ مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا شَفِيۡعٍ​ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿4﴾

اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف٦) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہو کر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،

It is Allah Who created the heavens and the earth, and all what is between them, in six days, then (befitting His Majesty) established Himself over the Throne (of control); leaving Allah, there is neither a friend nor an intercessor for you; so do you not ponder?

يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ‏ ﴿5﴾

کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)

He plans (all) the job(s) from the heaven to the earth – then it will return to Him on the Day which amounts to a thousand years in your count.

ذٰلِكَ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُۙ‏ ﴿6﴾

یہ (ف۱۱) ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت و رحمت والا،

This is the All Knowing – of all the hidden and the visible, the Most Honourable, the Most Merciful.

الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ​ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ​ۚ‏ ﴿7﴾

وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)

The One Who created all things excellent, and Who initiated the creation of man from clay.

ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ​ۚ‏ ﴿8﴾

پھر اس کی نسل رکھی ایک بےقدر پانی کے خلاصہ سے (ف۱٤)

Then kept his posterity with a part of an abject fluid.

ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ​ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـــِٕدَةَ ​ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿9﴾

پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی (ف۱۵) اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے (ف۱٦) کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،

Then made him proper and blew into him a spirit from Him, and bestowed ears and eyes and hearts to you; very little thanks do you offer!

وَقَالُوۡٓا ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِى الۡاَرۡضِ ءَاِنَّا لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ؕ ​بَلۡ هُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿10﴾

اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)

And they said, “When we have mingled into the earth, will we be created again?”; in fact they disbelieve in the meeting with their Lord.

قُلۡ يَتَوَفّٰٮكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِىۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿11﴾

تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)

Proclaim, “The angel of death, who is appointed over you, causes you to die and then towards your Lord you will return.”

وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًـا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ‏  ﴿12﴾

اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲٤) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲٦)

And if you see when the guilty will hang their heads before their Lord; “Our Lord! We have seen and heard, therefore send us back in order that we do good deeds – we are now convinced!”

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰٮهَا وَلٰـكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّىۡ لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿13﴾

اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)

And had We willed We would have given every soul its guidance, but My Word is decreed that I will certainly fill hell with these jinns and men, combined.

فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا​ ۚ اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ​ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿14﴾

اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،

“Therefore taste the recompense of your forgetting the confronting of this day of yours; We have abandoned you – now taste the everlasting punishment, the recompense of your deeds!”

اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۩‏ ﴿15﴾

ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انھیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، السجدة۔۹

Only those believe in Our signs who, when they are reminded of them, fall down in prostration and proclaim the Purity of their Lord while praising Him, and are not conceited. (Command of prostration # 9).

تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‏ ﴿16﴾

ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،

Their sides stay detached from their beds and they pray to their Lord with fear and hope – and they spend from what We have bestowed upon them.

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ​ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿17﴾

تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے (ف۳٤) صلہ ان کے کاموں کا (ف۳۵)

So no soul knows the comfort of the eyes that is kept hidden for them*; the reward of their deeds. (Paradise)

اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا​ ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ‏ ﴿18﴾

تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بےحکم ہے (ف۳٦) یہ برابر نہیں،

So will the believer ever be equal to the one who is lawless? They are not equal!

اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى نُزُلًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿19﴾

جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری (ف۳۷)

Those who accepted faith and did good deeds – for them are the Gardens of (everlasting) stay; a welcome in return for what they did.

وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰٮهُمُ النَّارُ​ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا وَ قِيۡلَ لَهُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ‏ ﴿20﴾

رہے وہ جو بےحکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،

And those who are lawless – their destination is the fire; whenever they wish to come out of it, they will be returned into it, and it will be said to them, “Taste the punishment of the fire you used to deny!”

وَلَنـــُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿21﴾

اور ضرور ہم انھیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف٤۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،

And We shall indeed make them taste the smaller punishment before the greater punishment, so that they may return.

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡهَا​ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ‏ ﴿22﴾

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف٤۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،

And who is more unjust than one who is preached to from the verses his Lord, then he turns away from them? We will indeed take revenge from the guilty.

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَلَا تَكُنۡ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآٮِٕهٖ​ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ‏ ﴿23﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف٤۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف٤۳) اور ہم نے اسے (ف٤٤) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،

And indeed We bestowed the Book to Moosa, therefore have no doubt in its acquisition, and made it a guidance for the Descendants of Israel.

وَ جَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَٮِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا​ ؕ وَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ‏ ﴿24﴾

اور ہم نے ان میں سے (ف٤۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (٤٦) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف٤۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،

And We made some leaders among them, guiding by Our command, when they had persevered; and they used to accept faith in Our signs.

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ﴿25﴾

بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا (ف٤۸) قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے (ف٤۹)

Indeed your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matters in which they used to differ.

اَوَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ يَمۡشُوۡنَ فِىۡ مَسٰكِنِهِمۡ​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ ؕ اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ‏  ﴿26﴾

اور کیا انھیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)

And did they not obtain guidance by the fact that We did destroy many generations before them, so now they walk in their houses? Indeed in this are signs; so do they not heed?

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَى الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا تَاۡكُلُ مِنۡهُ اَنۡعَامُهُمۡ وَاَنۡفُسُهُمۡ​ؕ اَفَلَا يُبۡصِرُوۡنَ‏  ﴿27﴾

اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵٤) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انھیں سوجھتانہیں (ف۵٦)

And do they not see that We send the water to the barren land and produce crops with it, so their animals and they themselves eat from it? So do they not perceive?

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿28﴾

اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (ف۵۷)

And they say, “When will this decision take place, if you are truthful?”

قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ‏ ﴿29﴾

تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انھیں مہلت ملے (ف۵۹)

Proclaim, “On the Day of Decision*, the disbelievers will not benefit from their accepting faith, nor will they get respite.” (* Of death or of resurrection)

فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَانْتَظِرۡ اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ‏ ﴿30﴾

تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف٦۰) بیشک انھیں بھی انتظار کرنا ہے (ف٦۱)

Therefore turn away from them and wait – indeed they too have to wait.

Scroll to Top