Saba سبا

پارہ: 22
سورہ: 34
آیات: 54
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ وَلَـهُ الۡحَمۡدُ فِى الۡاٰخِرَةِ ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ‏ ﴿1﴾

سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲) اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے (ف۳) اور وہی ہے حکمت والا خبردار،

All praise is to Allah – to Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth – and His is the praise in the Hereafter; and He is the Wise, the All Aware.

يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا ؕ وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ‏ ﴿2﴾

جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے (ف٤) اور جو زمین سے نکلتا ہے (ف۵) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف٦) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۷) اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،

He knows all that goes into the earth and all that comes out of it, and all that descends from the skies and all that ascends into it; and only He is the Most Merciful, the Oft Forgiving.

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ؕ قُلۡ بَلٰى وَرَبِّىۡ لَـتَاۡتِيَنَّكُمۡۙ عٰلِمِ الۡغَيۡبِ ۚ لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍۙ‏ ﴿3﴾

اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی (ف۸) تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا (ف۹) اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے (ف۱۰)

And the disbelievers said, “The Last Day will never come upon us”; proclaim, “Surely yes, why not? By oath of my Lord, it will surely come upon you – the All Knowing of the hidden; nothing is hidden from Him – equal to an atom or less than it or greater – in the heavens or in the earth, but it is in a clear Book.”

لِّيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ‏ ﴿4﴾

تاکہ صلہ دے انھیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۱)

So that He may reward those who believed and did good deeds; it is these for whom is forgiveness, and an honourable sustenance.

وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ‏ ﴿5﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی (ف۱۲) ان کے لیے سخت عذاب دردناک میں سے عذاب ہے،

And those who strove in Our signs in order to defeat – for them is a punishment from the severe painful punishments.

وَيَرَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ هُوَ الۡحَـقَّ ۙ وَيَهۡدِىۡۤ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ‏ ﴿6﴾

اور جنہیں علم والا (ف۱۳) وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱٤) وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،

And those who received the knowledge know that what is sent down upon you from your Lord is the truth, and it shows the path of the Most Honourable, the Most Praiseworthy.

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍۙ اِنَّكُمۡ لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍۚ‏ ﴿7﴾

اور کافر بولے (ف۱۵) کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں (ف۱٦) جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہو کر بالکل ریزہ ہو کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،

And the disbelievers said, “Shall we show you a man who will tell you that ‘When you have disintegrated into the smallest pieces, you are to be created again’?”

اَ فۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ  ؕ بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ فِى الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ‏ ﴿8﴾

کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے (ف۱۷) بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۸) عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،

“Has he fabricated a lie against Allah, or is he insane?” Rather those who disbelieve in the Hereafter are in the punishment and extreme error.

اَفَلَمۡ يَرَوۡا اِلٰى مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ‏ ﴿9﴾

تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین (ف۱۹) ہم چاہیں تو انھیں (ف۲۰) زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس (ف۲۱) میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے (ف۲۲)

So did they not see what is before them and what is behind them in the sky and the earth? If We will, We can bury them into the earth or cause a part of the sky to fall on them; indeed in this is a sign for every repentant bondman.

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِىۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ۚ وَاَلَــنَّا لَـهُ الۡحَدِيۡدَ ۙ‏ ﴿10﴾

اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا (ف۲۳) اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! (ف۲٤) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا (ف۲۵)

And indeed We gave Dawud the utmost excellence from Us; “O the hills and birds, repent towards Allah along with him”; and We made iron soft for him.

اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرۡ فِى السَّرۡدِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًـا ؕ اِنِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿11﴾

کہ وسیع زِر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ (ف۲٦) اور تم سب نیکی کرو، بیشک تمہارے کام دیکھ رہا ہوں،

“Make large coats of armour and keep proper measure while making; and all of you perform good deeds; I am indeed seeing your deeds.”

وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٌ وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌۚ وَ اَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِؕ وَمِنَ الۡجِنِّ مَنۡ يَّعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِاِذۡنِ رَبِّهِؕ وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ‏ ﴿12﴾

اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ (ف۲۷) اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا (ف۲۸) اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کام کرتے اس کے رب کے حکم سے (ف۲۹) ادر جو ان میں ہمارے حکم سے پھرے (ف ۳۰) ہم اسے بھڑ کتی آگ کا عذاب چکھائیں گے،

And We gave the wind in Sulaiman’s control – its morning journey equal to a month’s course and the evening journey equal to a month’s course; and We sprung a stream of molten copper for him; and from the jinns, who worked before him by the command of his Lord; and those among them who turned away from Our command – We shall make them taste the punishment of the blazing fire.

يَعۡمَلُوۡنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَـوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكۡرًا ؕ وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِىَ الشَّكُوۡرُ‏ ﴿13﴾

اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل (ف۳۱) اور تصویریں (ف۳۲) اور بڑے حوضوں کے برابر لگن (ف۳۳) اور لنگردار دیگیں (ف۳٤) اے داؤد والو! شکر کرو (ف۳۵) اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے، پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)

They made for him whatever he wished – synagogues and statues, basins like ponds, and large pots built into the ground; “Be thankful, O the people of Dawud!” And few among My bondmen are grateful.

فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلٰى مَوۡتِهٖۤ اِلَّا دَآ بَّةُ الۡاَرۡضِ تَاۡ كُلُ مِنۡسَاَتَهُ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِى الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ ؕ‏ ﴿14﴾

پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)

So when We sent the command of death towards him, no one revealed his death to the jinns except the termite of the earth which ate his staff; and when he came to the ground, the truth about the jinns was exposed – if they had known the hidden, they would not have remained in the disgraceful toil.

لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِىۡ مَسۡكَنِهِمۡ اٰيَةٌ  ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ؕ  کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لَهٗ ؕ بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ‏‏ ﴿15﴾

بیشک سبا (ف٤۰) کے لیے ان کی آبادی میں (ف٤۱) نشانی تھی (ف٤۲) دو باغ دہنے اور بائیں (ف٤۳) اپنے رب کا رزق کھاؤ (ف٤٤) اور اس کا شکر ادا کرو (ف٤۵) پاکیزہ شہر اور (ف٤٦) بخشنے والا رب (ف٤۷)

Indeed for (the tribe of) Saba was a sign in their dwelling-place – two gardens on the right and the left; “Eat the sustenance provided by your Lord and be grateful to Him”; a pure land and an Oft Forgiving Lord!

فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ الۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَىۡ اُكُلٍ خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَىۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ‏ ﴿16﴾

تو انہوں نے منہ پھیرا (ف٤۸) تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا (ف٤۹) اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انھیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ (ف۵۰) اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں (ف۵۱)

In response they turned away – We therefore sent upon them a tremendous flood, and in exchange of their two gardens gave them two gardens bearing bitter fruit, and tamarisk, and some berries.

ذٰ لِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا ؕ وَهَلۡ نُـجٰزِىۡۤ اِلَّا الۡـكَفُوۡرَ‏  ﴿17﴾

ہم نے انھیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری (ف۵۲) کی سزا، اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو ناشکرا ہے،

We gave them this reward – the recompense of their ingratitude; and whom do We punish, except the ungrateful?

وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ؕ سِيۡرُوۡا فِيۡهَا لَيَالِىَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ‏ ﴿18﴾

اور ہم نے کیے تھے ان میں (ف۵۳) اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی (ف۵٤) سر راہ کتنے شہر (ف۵۵) اور انھیں منزل کے اندازے پر رکھا (ف۵٦) ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے (ف۵۷)

And We had made several towns upon the road between them and the towns which We had blessed – and kept them according to the length of the journey; “Travel safely in them, by night and by day.”

فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَيۡنَ اَسۡفَارِنَا وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ وَمَزَّقۡنٰهُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ‏ ﴿19﴾

تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال (ف۵۸) اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انھیں کہانیاں کردیا (ف۵۹) اور انھیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا (ف٦۰) بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے (ف٦۱)

So they said, “Our Lord! Make the stage between our journeys longer” and they wronged themselves – We therefore turned them into fables and scattered them completely with adversity; indeed in this are signs for every greatly enduring, most grateful person.

وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿20﴾

اور بیشک ابلیس نے انھیں اپنا گمان سچ کر دکھایا (ف٦۲) تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (ف٦۳)

And indeed Iblis made his assumptions regarding them seem true, so they all followed him except the group of Muslims.

وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّـؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِىۡ شَكٍّ ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ‏  ﴿21﴾

اور شیطان کا ان پر (ف٦٤) کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھا دیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،

And Satan had no control over them at all, except that We willed to reveal as to who believes in the Hereafter and who is in doubt of it; and your Lord is a Guardian over all things.

قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِۚ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ وَمَا لَهُمۡ فِيۡهِمَا مِنۡ شِرۡكٍ وَّمَا لَهٗ مِنۡهُمۡ مِّنۡ ظَهِيۡرٍ‏ ﴿22﴾

تم فرماؤ (ف٦۵) پکارو انھیں جنہیں اللہ کے سوا (ف٦٦) سمجھے بیٹھے ہو (ف٦۷) وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،

Proclaim, “Call those whom you assume (as Gods) besides Allah”; they do not own anything equal even to an atom either in the heavens or in the earth, nor do they have any share in them, nor is any one among them an aide to Allah.

وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ ؕ حَتّٰٓى اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِهِمۡ قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمۡ ؕ قَالُوا الۡحَـقَّ ۚ وَهُوَ الۡعَلِىُّ الۡكَبِيۡرُ‏ ﴿23﴾

اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے (ف٦۸) کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا (ف٦۹) اور وہی ہے بلند بڑائی والا،

And intercession does not benefit before Him, except for one whom He permits; to the extent that when the fear is removed from their hearts by giving permission, they say to each other, “How splendidly has your Lord spoken!” They say, “All that He has proclaimed is the Truth; and He is the Supreme, the Great.”

قُلۡ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ قُلِ اللّٰهُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿24﴾

تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے (ف۷۰) تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۷۱) اور بیشک ہم یا تم (ف۷۲) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں (ف۷۳)

Proclaim, “Who provides you sustenance from the sky and the earth?” Proclaim, “Allah – and indeed either we or you are upon guidance, or in open error.”

قُلْ لَّا تُسۡـــَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡــَٔـلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿25﴾

تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال (ف۷٤)

Proclaim, “You will not be questioned regarding the sins you assume we have committed, nor will we be questioned regarding your misdeeds.”

قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَـنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَـنَا بِالۡحَـقِّ ؕ وَهُوَ الۡـفَتَّاحُ الۡعَلِيۡمُ‏ ﴿26﴾

تم فرماؤ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا (ف۷۵) پھر ہم میں سچا فیصلہ فرمادے گا (ف۷٦) اور وہی ہے بڑا نیاؤ چکانے (درست فیصلہ کرنے) والا سب کچھ جانتا،

Say, “Our Lord will bring us all together, and then judge truthfully between us; and He is the Best Judge, the All Knowing.”

قُلۡ اَرُوۡنِىَ الَّذِيۡنَ اَ لۡحَـقۡتُمۡ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا ؕ بَلۡ هُوَ اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿27﴾

م فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں (ف۷۷) ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،

Say, “(Dare you) Show me those whom you have matched with Him – never! Rather only He is Allah, the Most Honourable, the Wise.”

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿28﴾

اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے (ف۷۸) خوشخبری دیتا (ف۷۹) اور ڈر سناتا (ف۸۰) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۸۱)

And O dear Prophet, We have not sent you except with a Prophethood that covers the entire mankind, heralding glad tidings and warnings, but most people do not know. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿29﴾

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا (ف۸۲) اگر تم سچے ہو،

And they say, “When will this promise come, if you are truthful?

قُلْ لَّـكُمۡ مِّيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاْخِرُوۡنَ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏ ﴿30﴾

تم فرماؤ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو اور نہ آگے بڑھ سکو (ف۸۳)

Proclaim “For you is the promise of a Day which you cannot postpone by one moment nor can you advance it.”

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِهٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَلَا بِالَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِؕ وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ مَوۡقُوۡفُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ۖۚ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضِ اۨلۡقَوۡلَ​ۚ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لَوۡلَاۤ اَنۡـتُمۡ لَـكُـنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں (ف۸٤) اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے (ف۸۵) ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے (ف۸٦) اگر تم نہ ہوتے (ف۸۷) تو ہم ضرور ایمان لے آتے،

And the disbelievers said, “We shall never believe in this Qur’an nor in the Books that were before it”; and if only you see, when the unjust will be brought before their Lord; they will hurl allegations on one another; those who were subdued will say to those who were conceited, “If it were not for you, we would have certainly accepted faith.”

قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿32﴾

وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،

Those who were conceited will say to those who were subdued, “Did we stop you from the guidance after it came to you? In fact you yourselves were guilty!”

وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَ النَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَـنَاۤ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ؕ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ؕ وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِىۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ؕ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿33﴾

اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا (ف۸۸) جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے (ف۸۹) جب عذاب دیکھا (ف۹۰) اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے (ف۹۱) وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے (ف۹۲)

Those who were subdued will say to those who were conceited, “Rather it was your deceit during night and day, for you commanded us to deny Allah and to set up equals to Him”; and inwardly they began regretting when they saw the punishment; and We placed shackles around the necks of the disbelievers; what recompense will they get except what they used to do?

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡـرَفُوۡهَاۤ ۙاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿34﴾

اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں (ف۹۳)

And whenever We sent a Herald of Warning to any town, its wealthy people said, “We disbelieve in what you have been sent with.”

وَ قَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ‏  ﴿35﴾

اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں (ف۹٤)

And they said, “We are greater in wealth and children; we will not be punished!”

قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿36﴾

تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۹۵) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،

Proclaim “Indeed my Lord eases the sustenance for whomever He wills and restricts it for whomever He wills, but most people do not know.”

وَمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُكُمۡ بِالَّتِىۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰٓى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَهُمۡ فِى الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی (ف۹٦) ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ (ف۹۷) ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں (ف۹۸)(

And your wealth and your children are not capable of bringing you near to Us, but one who believes and did good deeds (is brought close); for them is double the reward – the recompense of their deeds and they are in high positions, in peace.

وَ الَّذِيۡنَ يَسۡعَوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓٮِٕكَ فِى الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ‏ ﴿38﴾

اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں (ف۹۹) وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے (ف۱۰۰)(

And those who strive in Our signs in order to defeat, will be brought into the punishment.

قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ ؕ وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ‏  ﴿39﴾

تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے (ف۱۰۱) اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (ف۱۰۲) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (ف۱۰۳)

Say, “Indeed my Lord eases the sustenance for whomever He wills among His bondmen, and restricts it for whomever He wills; and whatever you spend in Allah's cause, He will restore it; and He is the Best Sustainer.”

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اَهٰٓؤُلَاۤءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ‏ ﴿40﴾

اور جس دن ان سب کو اٹھائے گا (ف۱۰٤) پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ تمہیں پوجتے تھے (ف۱۰۵)

And on the day when He will raise them all, and then say to the angels, “Did they worship you?”

قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَكۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿41﴾

وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ (ف۱۰٦) بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے (ف۱۰۷) ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے (ف۱۰۸)

They will say, “Purity is to you – only you are our Supporter, not they; in fact they worshipped the jinns; most of them believed only in them.”

فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ؕ وَنَـقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ‏  ﴿42﴾

تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا (ف۱۰۹) اور ہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۱۰)

So this day you will not have the power to benefit or hurt one another; and We shall say to the unjust, “Taste the punishment of the fire which you used to deny!”

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ​ ۚ وَقَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَـرً ىؕ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ ۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿43﴾

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۱۱۱) پڑھی جائیں تو کہتے ہیں (ف۱۱۲) یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے (ف۱۱۳) اور کہتے ہیں (ف۱۱٤) یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا (ف۱۱۵) جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،

And if Our clear verses are recited to them, they say, “He is nothing but a man who wishes to turn you away from the deities of your forefathers!”; and they say, “This is nothing but a fabricated lie”; and said the disbelievers regarding the truth when it reached them, “This is nothing but obvious magic.”

وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍؕ‏ ﴿44﴾

اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا (ف۱۱٦)

And We did not give them any Books which they may read, nor did We send to them any Herald of Warning before you.

وَكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡۙ وَمَا بَلَـغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا رُسُلِىۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ‏ ﴿45﴾

اور ان سے اگلوں نے (ف۱۱۷) جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا (ف۱۱۸) پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا (ف۱۱۹)

And those before them had denied – and these have not reached even a tenth of what We had given them – so they denied My Noble Messengers; so how did My rejection turn out?

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوۡا مَا بِصَاحِبِكُمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ لَّـكُمۡ بَيۡنَ يَدَىۡ عَذَابٍ شَدِيۡدٍ‏ ﴿46﴾

تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں (ف۱۲۰) کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو (ف۱۲۱) دو دو (ف۱۲۲) اور اکیلے اکیلے (ف۱۲۳) پھر سوچو (ف۱۲٤) کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے (ف۱۲۵) ایک سخت عذاب کے آگے (ف۱۲٦)

Proclaim, “I advise you just one thing; that stand up for Allah's sake, in twos and ones, and then think”; there is not a trace of insanity in this companion of yours; he is not but a Herald of Warning for you, before the advent of a severe punishment!

قُلۡ مَا سَاَ لۡـتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَهُوَ لَـكُمۡ ؕ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏ ﴿47﴾

تم فرماؤ میں نے تم سے اس پر کچھ اجر مانگا ہو تو وہ تمہیں کو (ف۱۲۷) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے،

Say, “Whatever fee I might have asked from you upon this, is yours; my reward is only upon Allah; and He is Witness over all things.”

قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَقۡذِفُ بِالۡحَـقِّ​ۚ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‏ ﴿48﴾

تم فرماؤ بیشک میرا رب حق پر القا فرماتا ہے (ف۱۲۸) بہت جاننے والا سب نبیوں کا،

Proclaim, “Indeed my Lord sends down the truth; the All Knowing of all the hidden.”

قُلۡ جَآءَ الۡحَـقُّ وَمَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ‏ ﴿49﴾

تم فرماؤ حق آیا (ف ۱۲۹) اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے (ف۱۳۰)

Proclaim, “The truth has come, and falsehood dare not commence nor return.”

قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَـفۡسِىۡ ۚ وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوۡحِىۡۤ اِلَىَّ رَبِّىۡ ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ قَرِيۡبٌ‏ ﴿50﴾

م فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۱۳۱) اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے (ف۱۳۲) بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے (ف۱۳۳)

Proclaim, “If I stray, I stray only for my own harm; and if I attain guidance, it is because of what my Lord has sent down to me; indeed He is All Hearing, Close.”

وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍۙ‏  ﴿51﴾

اور کسی طرح تو دیکھے (ف۱۳٤) جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے (ف۱۳۵) اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے (ف۱۳٦)

And if only you see, when they will be forced into a terror from which they will be unable to escape, and are seized from a place nearby. (Wherever they go, they are never far).

وَّقَالُـوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖ​ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ ۖۚ‏ ﴿52﴾

اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۳۷) اور اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے (ف۱۳۸)

And they will say, “We accept faith in it”; and how can they attain it from so far away? (After they have crossed the limit of life allotted to them.)

وَّقَدۡ كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ​‏ ﴿53﴾

کہ پہلے (ف۱۳۹) تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بےدیکھے پھینک مارتے ہیں (ف۱٤۰) دور مکان سے (ف۱٤۱)

For they had disbelieved in it before; and they hurl allegations without seeing, from far away.

وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ مِّنۡ قَبۡلُؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِىۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ‏ ﴿54﴾

اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں (ف۱٤۲) جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا (ف۱٤۳) بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے (ف۱٤٤)

And a barrier is set between them and what they desire*, as was done for their earlier groups; indeed they are in a doubt that deceives. (To accept faith or return to earth)

Scroll to Top