سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
All praise is to Allah, the Maker of the heavens and the earth, Who assigns angels as messengers – who have pairs of two, three, four wings; He increases in creation whatever He wills; indeed Allah is Able to do all things.
सब खूबियाँ अल्लाह को जो आसमानों और जमीन का बनाने वाला फ़रिश्तों को रसूल करने वाला जिन के दो दो तीन तीन चार चार पर हैं, बढ़ाता है आफ़रिश (पैदाइश) में जो चाहे बेशक अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Sab khubiyan Allah ko jo aasmanon aur zameen ka banane wala farishton ko rasool karne wala jin ke do do teen teen chaar chaar par hain, barhata hai aafreensh (paidaish) mein jo chahe, beshak Allah har cheez par qadir hai,
(ف2)اپنے انبیاء کی طرف ۔(ف3)فرشتوں میں اور ان کے سوا اور مخلوق میں ۔
اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف٤) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
No one can withhold the mercy which Allah opens to mankind; and whatever He withholds – so after it, none can release it; and only He is the Most Honourable, the Wise.
अल्लाह जो रहमत लोगों के लिए खोले उसका कोई रोकने वाला नहीं, और जो कुछ रोक ले तो उसकी रोक के बाद उसका कोई छोड़ने वाला नहीं, और वही इज़्ज़त व हिक़मत वाला है,
Allah jo rehmat logon ke liye khole uska koi rokne wala nahi, aur jo kuch rok le to uski rok ke baad uska koi chhodne wala nahi, aur wahi izzat o hikmat wala hai,
اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)
O people! Remember the favour of Allah upon you; is there a Creator other than Allah who can provide you sustenance from the sky and the earth? There is no God except Him; so where are you reverting?
ऐ लोगो! अपने ऊपर अल्लाह का एहसान याद करो क्या अल्लाह के सिवा और भी कोई ख़ालिक है कि आसमान और जमीन से तुम्हें रोज़ी दे, उसके सिवा कोई माबूद नहीं, तो तुम कहाँ औंधे जाते हो
Ae logo! Apne upar Allah ka ehsaan yaad karo kya Allah ke siwa aur bhi koi khalik hai ke aasman aur zameen se tumhein rozi de, uske siwa koi maabood nahi, to tum kahan ondhay jate ho
(ف5)کہ اس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ، آسمان کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ، اپنی راہ بتانے اور حق کی دعوت دینے کے لئے رسولوں کو بھیجا ، رزق کے دروازے کھولے ۔(ف6)مینہ برسا کر اور طرح طرح کے نباتات پیدا کر کے ۔(ف7)اور یہ جانتے ہوئے کہ وہی خالِق و رازّق ہے ایمان و توحید سے کیوں پھرتے ہو ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی کے لئے فرمایا جاتا ہے ۔
اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)
And if they deny you, many Noble Messengers were denied before you; and towards Allah only is the return of all matters.
और अगर ये तुम्हें झटला दें तो बेशक तुमसे पहले कितने ही रसूल झटला दिए गए और सब काम अल्लाह ही की तरफ़ से फ़िरते हैं
Aur agar ye tumhein jhuthlayen to beshak tum se pehle kitne hi rasool jhuthlaye gaye aur sab kaam Allah hi ki taraf se phirte hain
(ف8)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور تمہاری نبوّت و رسالت کو نہ مانیں اور توحید و بَعث و حساب اور عذاب کا انکار کریں ۔(ف9)انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر فرمائیے ،کُفّار کا انبیاء کے ساتھ قدیم سے یہ دستور چلا آتا ہے ۔(ف10)وہ جھٹلانے والوں کو سزا دے گا اور رسولوں کی مدد فرمائے گا ۔
اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)
O people! Allah’s promise is indeed true; therefore do not ever let the worldly life deceive you; nor ever let the great cheat deceive you in respect of Allah’s commands.
ऐ लोगो! बेशक अल्लाह का वादा सच है तो हरगज़ तुम्हें धोखा न दे दुनिया की जिंदगी, और हरगज़ तुम्हें अल्लाह के हुक्म पर फ़रेब न दे वह बड़ा फ़रेबी
Ae logo! Beshak Allah ka wada sach hai to hargiz tumhein dhoka na de duniya ki zindagi, aur hargiz tumhein Allah ke hukum par fareb na de, woh bada farebi
(ف11)قیامت ضرور آنی ہے مرنے کے بعد ضرور اٹھنا ہے ، اعمال کا حساب یقیناً ہو گا ، ہر ایک کو اس کے کئے کی جزاء بے شک ملے گی ۔(ف12)کہ اس کی لذّتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جاؤ ۔(ف13)یعنی شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو اللہ تعالٰی حلم فرمانے والا ہے وہ درگذر کرے گا ، اللہ تعالٰی بے شک حلم والا ہے لیکن شیطان کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ بندوں کو اس طرح توبہ و عملِ صالح سے روکتا ہے اور گناہ و معصیت پر جری کرتا ہے اس کے فریب سے ہوشیار رہو ۔
بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱٤) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱٦)
Indeed Satan is your enemy, therefore you too take him as an enemy; he only calls his group so that they become the people of hell!
बेशक शैतान तुम्हारा दुश्मन है तो तुम भी उसे दुश्मन समझो वह तो अपने ग्रुप को उसी लिए बुलाता है कि दोज़खियों में हों
Beshak Shaitan tumhara dushman hai to tum bhi use dushman samjho, woh to apne group ko usi liye bulata hai ke dozakhiyon mein hon
(ف14)اور اس کی اطاعت نہ کرو اور اللہ تعالٰی کی طاعت میں مشغول رہو ۔(ف15)یعنی اپنے متّبعین کو کُفر کی طرف ۔(ف16)اب شیطان کے متّبِعین اور اس کے مخالفین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا جاتا ہے ۔
تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،
So will one whose misdeeds are made seeming good to him – so he deems them good – be ever equal to the one who is upon guidance? Therefore indeed Allah sends astray whomever He wills, and guides whomever He wills; so may not your life be lost in despairing after them; Allah knows their deeds very well.
तो क्या वह जिसकी निगाह में उसका बुरा काम आराख़्त किया गया कि उसने उसे भला समझा हिदायत वाले की तरह हो जाएगा इसलिए अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और राह देता है जिसे चाहे, तो तुम्हारी जान उन पर हसरतों में न जाए अल्लाह खूब जानता है जो कुछ वह करते हैं,
To kya woh jiski nigah mein uska bura kaam aaraasta kiya gaya ke usne use bhala samjha hidaayat wale ki tarah ho jayega is liye Allah gumraah karta hai jise chahe aur raah deta hai jise chahe, to tumhari jaan un par hasraton mein na jaye Allah khoob jaanta hai jo kuch woh karte hain,
(ف19)ہر گز نہیں بُرے کام کو اچھا سمجھنے والا راہ یاب کی طرح کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ اس بدکار سے بدرجہا بدتر ہے جو اپنے خراب عمل کو بُرا جانتا ہو اور حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہو ۔شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل وغیرہ مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے شرک و کُفر جیسے قبیح افعال کو شیطان کے بہکانے اور بَھلا سمجھانے سے اچھا سمجھتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت اصحابِ بدعت و ہَوا کے حق میں نازل ہوئی جن میں روافض و خوارج وغیرہ داخل ہیں جو اپنی بدمذہبیوں کو اچھا جانتے ہیں اور انہیں کے زُمرہ میں داخل ہیں ، تمام بدمذہب خواہ وہابی ہوں یا غیرِ مقلِد یا مرزائی یا چکڑالی اور کبیرہ گناہ والے جو اپنے گناہوں کو بُرا جانتے ہیں اور حلال نہیں سمجھتے اس میں داخل نہیں ۔(ف20)کہ افسوس وہ ایمان نہ لائے اور حق کو قبول کرنے سے محروم رہے ۔ مراد یہ کہ آپ ان کے کُفر و ہلاکت کا غم نہ فرمائیں ۔
اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)
And it is Allah Who sent the winds – so they raise clouds and We then direct it towards a dead city – so with it We revive the earth after its death; and this is how the resurrection will be.
और अल्लाह है जिसने भेजें हवाएँ कि बादल उभारती हैं, फिर हम उसे किसी मरे शहर की तरफ़ रवाँ करते हैं तो उसके سبب हम ज़मीन को ज़िंदा फ़रमाते हैं उसके मरे पीछे युन्ही हशर में उठना है
Aur Allah hai jisne bhejein hawaayein ke baadal ubhaarti hain, phir hum use kisi murda shahar ki taraf rawaan karte hain to uske sabab hum zameen ko zinda farmaate hain, uske mare peeche yunhi hashr mein uthna hai
(ف21)جس میں سبزہ اور کھیتی نہیں اور خشک سالی سے وہاں کی زمین بے جان ہو گئی ہے ۔(ف22)اور اس کو سرسبز و شاداب کر دیتے ہیں اس سے ہماری قدرت ظاہر ہے ۔(ف23)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک صحابی نے عرض کیا کہ اللہ تعالٰی مُردے کس طرح زندہ فرمائے گا ؟ خَلق میں اس کی کوئی نشانی ہو تو ارشاد فرمائیے ، فرمایا کہ کیا تیرا کسی ایسے جنگل میں گذر ہوا ہے جو خشک سالی سے بے جان ہو گیا ہو اور وہاں سبزہ کا نام و نشان نہ رہا ہو پھر کبھی اسی جنگل میں گزر ہوا ہو اور اس کو ہرا بھرا لہلہاتا پایا ہو ؟ ان صحابہ نے عرض کیا بے شک ایسا دیکھاہے حضورنے فرمایا ایسے ہی اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور خَلق میں یہ اس کی یہ نشانی ہے ۔
جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲٤) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲٦) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸
Whoever desires honour – therefore all honour belongs to Allah!* Towards Him only ascends the pure good speech, and He raises high the pious deed; and for those who conspire evil is a severe punishment; and their own conspiracy will be destroyed. (It is Allah Who bestows honour, to whomever He wills.)
जिसे इज़्ज़त की चाह हो तो इज़्ज़त तो सब अल्लाह के हाथ है उसी की तरफ़ चढ़ता है पाकीज़ा कलाम और जो नेक काम से वह उसे बुलंद करता है और वह जो बुरे दाओं (फ़रेब) करते हैं उनके लिए सख़्त अज़ाब है और उन्हें का मक़र बरबाद होगा (फ़ 28)
Jise izzat ki chaah ho to izzat to sab Allah ke haath hai, usi ki taraf charhta hai pakeeza kalaam aur jo nek kaam se woh use buland karta hai aur woh jo bure daon (fareb) karte hain unke liye sakht azaab hai aur unka makr barbaad hoga (F 28)
(ف24)دنیا و آخرت میں وہی عزّت کا مالک ہے جسے چاہے عزّت دے تو جو عزّت کا طلب گار ہو وہ اللہ تعالٰی سے عزّت طلب کرے کیو نکہ ہر چیز اس کے مالک ہی سے طلب کی جاتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ربّ تبارک و تعالٰی ہر روز فرماتا ہے جسے عزّتِ دارَین کی خواہش ہو چاہئے کہ وہ حضرت عزیز جَلَّتۡ عِزّ تُہ کی اطاعت کرے اور ذریعہ طلبِ عزّت کا ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں ۔(ف25)یعنی اس کے محلِّ قبول و رضا تک پہنچتا ہے اور پاکیزہ کلام سے مراد کلمۂ توحید و تسبیح و تحمید و تکبیر وغیرہ ہیں جیسا کہ حاکم و بیہقی نے روایت کیا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کلمۂ طیّب کی تفسیر ذکر سے فرمائی اور بعض مفسِّرین نے قرآن اور دعا بھی مراد لی ہے ۔(ف26)نیک کام سے مراد وہ عمل و عبادت ہے جو اخلاص سے ہو اور معنٰی یہ ہیں کہ کلمۂ طیّبہ عمل کو بلند کرتا ہے کیونکہ عمل بے توحید و ایمان مقبول نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ صالح کو اللہ تعالٰی رفعتِ قبول عطا فرماتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ نیک عمل کرنے والے کا مرتبہ بلند کرتے ہیں تو جو عزّت چاہے اس کو لازم ہے کہ نیک عمل کرے ۔(ف27)مراد ان مَکَر کرنے والوں سے وہ قریش ہیں جنہوں نے دارالنَّدوہ میں جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت قید کرنے اور قتل کرنے اور جِلا وطن کرنے کے مشورہ کئے تھے جس کا تفصیلی بیان سورۂ انفال میں ہو چکا ہے ۔(ف28)اور وہ اپنے داؤں و فریب میں کامیاب نہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے شر سے محفوظ رہے اور انہوں نے اپنی مکّاریوں کی سزائیں پائیں کہ بدر میں قید بھی ہوئے ، قتل بھی کئے گئے اور مکّہ مکرّمہ سے نکالے بھی گئے ۔
اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)
And Allah created you from clay, then a drop of liquid, then made you as couples; and no female conceives or gives birth except with His knowledge; and every aged being that is given the age, and every one whose life is kept short – all this is in a Book; indeed this is easy for Allah.
और अल्लाह ने तुम्हें बनाया मिट्टी से फिर पानी की बूँद से फिर तुम्हें किया जोड़े जोड़े और किसी मादा को पेट नहीं रहता और न वह जितनी है मगर उसके इल्म से, और जिस बड़ी उम्र वाले को उम्र दी जाए या जिस किसी की उम्र कम रखी जाए यह सब एक किताब में है बेशक यह अल्लाह को आसान है
Aur Allah ne tumhein banaya mitti se, phir paani ki boond se, phir tumhein kiya jode jode aur kisi maada ko pait nahi rehta aur na woh jitni hai magar uske ilm se, aur jis badi umr wale ko umr di jaye ya jis kisi ki umr kam rakhi jaye yeh sab ek kitaab mein hai, beshak yeh Allah ko aasan hai
(ف29)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم علیہ السلام کو ۔(ف30)ان کی نسل کو ۔ (ف31)مرد و عورت ۔(ف32)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ معمّر وہ ہے جس کی عمر ساٹھ سال پہنچے اور کم عمر والا وہ جو اس سے قبل مر جائے ۔(ف33)یعنی عمل و اَجل کا مکتوب فرمانا ۔
اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳٤) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳٦) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)
And the two seas are not alike; this is sweet, very sweet and palatable – and this is salty, bitter; and from each you eat fresh meat and extract the ornament which you wear; and you see the ship cleaving through it, so that you may seek His munificence, and in some way become grateful.
और दोनों समंदर एक से नहीं यह मीठा है खूब मीठा पानी खुशगवार और यह खारी है तल्ख़ और हर एक में से तुम खाते हो ताज़ा ग़ोसत और निकालते हो पहनने का एक गहना (ज़ेवर) और तो कश्तीओं को इस में देखे कि पानी चीरती हैं ताकि तुम उसका फ़ज़ल तलाश करो और किसी तरह हक़ मानो
Aur dono samundar ek se nahi, yeh meetha hai khoob meetha paani khushgawar aur yeh khaari hai talkh, aur har ek mein se tum khate ho taaza gosht aur nikalte ho pehnne ka ek gehna (zevar), aur tum kashtiyon ko is mein dekho ke paani cheertee hain taake tum iska fazl talaash karo aur kisi tarah haq mano
(ف34)بلکہ دونوں میں فرق ہے ۔(ف35)یعنی مچھلی ۔(ف36)گوہر و مرجان ۔(ف37)دریا میں چلتے ہوئے اور ایک ہی ہوا میں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں ۔(ف38)تجارتوں میں نفع حاصل کر کے ۔(ف39)اور اللہ تعالٰی کی نعمتوں کی شکر گزاری کرو ۔
رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف٤۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف٤۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف٤۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف٤۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،
He brings the night in a part of the day and He brings the day in a part of the night; and He has subjected the sun and moon; each one runs to its fixed term; such is Allah, your Lord – only His is the kingship; and those whom you worship instead of Him do not own even the husk of a date-seed.
रात लाता है दिन के हिस्सा में और दिन लाता है रात के हिस्सा में और उसने काम में लगाए सूरज और चाँद हर एक एक मुअय्यन मीयाद तक चलता है यह है अल्लाह तुम्हारा रब उसी की बड़शाही है, और उसके सिवा जिन्हें तुम पूजते हो दाना ख़ुरमा के छलके तक के मालिक नहीं,
Raat laata hai din ke hissa mein aur din laata hai raat ke hissa mein, aur usne kaam mein lagaye sooraj aur chaand, har ek ek muayyan meyaad tak chalta hai, yeh hai Allah tumhara Rabb, isi ki badshahi hai, aur uske siwa jinhein tum poojhte ho daana khurma ke chhalke tak ke malik nahi,
(ف40)تو دن بڑھ جاتا ہے ۔ (ف41)تو رات بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھنے والی دن یا رات کی مقدار پندرہ گھنٹہ تک پہنچتی ہے اور گَھٹنے والا نو گھنٹے کا رہ جاتا ہے ۔(ف42)یعنی روزِ قیامت تک کہ جب قیامت آ جائے گی تو ان کا چلنا موقوف ہو جائے گا اور یہ نظام باقی نہ رہے گا ۔(ف43)یعنی بُت ۔
تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف٤٤) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف٤۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف٤٦) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف٤۷)
If you call them, they do not hear your call; and supposedly if they heard it, they cannot fulfil your needs; and on the Day of Resurrection they will deny your ascribed partnership; and none will inform you like Him Who informs.
तुम उन्हें पुकारो तो वह तुम्हारी पुकार न सुनें, और बालफ़र्ज़ सुन भी लें तो तुम्हारी हाज़त रवाना कर सकें और क़ियामत के दिन वह तुम्हारे शिर्क़ से मंकर होंगे और तुम्हें कोई न बताएगा इस बताने वाले की तरह
Tum unhein pukaro to woh tumhari pukar na sunein, aur balfarz sun bhi lein to tumhari haajat rawana kar sakein, aur Qiyamat ke din woh tumhare shirk se mankar honge aur tumhein koi na bataega is batane wale ki tarah
(ف44)کیونکہ جماد بے جان ہیں ۔(ف45)کیونکہ اصلاً قدرت و اختیار نہیں رکھتے ۔(ف46)اور بیزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے تم ہمیں نہ پُوجتے تھے ۔(ف47)یعنی دارَین کے احوال اور بُت پرستی کے مآل کی جیسی خبر اللہ تعالٰی دیتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا ۔
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف٤۸) اور اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
O people! You are dependant on Allah; and Allah only is the Independent (Absolute, Not Needing Anything), the Most Praiseworthy.
ऐ लोगो! तुम सब अल्लाह के मुहताज और अल्लाह ही बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Ae logo! Tum sab Allah ke mohtaj aur Allah hi be-niaz hai, sab khubiyon saraha,
(ف48)یعنی اس کے فضل و احسان کے حاجت مند ہو اور تمام خَلق اس کی محتاج ہے ۔ حضرت ذوالنّون نے فرمایا کہ خَلق ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالٰی کی محتاج ہے اور کیوں نہ ہو گی ان کی ہستی اور ان کی بقا سب اس کے کرم سے ہے ۔
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بےدیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵٤) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
And no burdened soul will carry another soul’s burden; and if a burdened soul calls another to share the burden, no one will carry any part of it, even if he is a close relative; O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), your warning only benefits those who fear their Lord without seeing and who keep the prayer established; and whoever cleansed himself, has cleansed for his own benefit; and towards Allah only is the return.
और कोई बोझ उठाने वाली जान दूसरे का बोझ न उठाएगी और अगर कोई बोझ वाली अपना बोझ बाटने को किसी को बुलाए तो उसके बोझ में से कोई कुछ न उठाएगा अगरचे क़रीब रिश्तेदार हो ऐ महबूब! तुम्हारा डर सुनाता उन्हें को काम देता है जो बेदेखे अपने रब! से डरते हैं और नमाज़ क़ायम रखते हैं, और जो सुथरा हुआ तो अपने ही भले को सुथरा हुआ और अल्लाह ही की तरफ़ फिरना है,
Aur koi bojh uthane wali jaan doosre ka bojh na uthaaye gi aur agar koi bojh wali apna bojh batane ko kisi ko bulaye to uske bojh mein se koi kuch na uthaaye ga, agarche qareeb rishtedar ho. Ae Mehboob! Tumhara darr sunata unhein ko kaam deta hai jo be-dekhe apne Rabb se darte hain aur namaz qaim rakhte hain, aur jo suthra hua to apne hi bhale ko suthra hua aur Allah hi ki taraf phirna hai,
(ف51)معنٰی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کئے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں ان کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے ان کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا 'وَ لَیَحْمِلُنَّ اَ ثْقَالَھُمْ وَ اَ ثْقَالاً مَّعَ اَ ثْقَالِھِمْ ' اور درحقیقت یہ ان کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔(ف52)باپ یا ماں، بیٹا یا بھائی کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ماں باپ بیٹے کو لپٹیں گے اور کہیں گے اے ہمارے بیٹے ہمارے کچھ گناہ اٹھا لے ، وہ کہے گا میرے امکان میں نہیں میرا اپنا بار کیا کم ہے ۔(ف53)یعنی بدیوں سے بچا اور نیک عمل کئے ۔(ف54)اس نیکی کا نفع وہی پائے گا ۔
اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف٦۰) بیشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے (ف٦۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف٦۲)
And not equal are the living and the dead! Indeed Allah causes them to listen*, whomever He wills; and you cannot make those who are in the graves** listen. (* Listen to guidance **The disbelievers are referred to as dead, whose fates are sealed.)
और बराबर नहीं ज़िंदे और मरदे बेशक अल्लाह सुनाता है जिसे चाहे और तुम नहीं सुनाने वाले उन्हें जो कब्रों में पड़े हैं
Aur barabar nahi zinday aur marday, beshak Allah sunata hai jise chahe aur tum nahi sunane wale unhein jo qubron mein paday hain
(ف60)یعنی مومنین اور کُفّار یا عُلَماء اور جُھّال ۔(ف61)یعنی جس کی ہدایت منظور ہو اس کو توفیق عطا فرماتا ہے ۔(ف62)یعنی کُفّار کو ۔ اس آیت میں کُفّارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور پند پذیر نہیں ہوتے ، بدانجام کُفّار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کُفّار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سنتا ہے جس پر راہ یابی کا نفع مرتب ہو ، رہا مُردوں کا سننا وہ احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اس مسئلہ کا بیان بیسویں پارے کے دوسرے رکوع میں گزرا ۔
اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴿23﴾
تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف٦۳)
You are purely a Herald of Warning.
तुम तो यही डर सुनाने वाले हो
Tum to yehi darr sunane wale ho
(ف63)تو اگر سننے والا آپ کے اِنذار پر کان رکھے اور بگوشِ قبول سنے تو نفع پائے اور اگر مصرِّین منکِرین میں سے ہو اور آپ کی نصیحت سے پندپذیر نہ ہو تو آپ کا کچھ حرج نہیں وہی محروم ہے ۔
اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا (ف٦٤) اور ڈر سناتا (ف٦۵) اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا (ف٦٦)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), We have indeed sent you with the Truth, giving glad tidings and heralding warnings; and there was a Herald of Warning in every group.
ऐ महबूब! बेशक हमने तुम्हें हक़ के साथ भेजा खुशख़बरी देता और डर सुनाता और जो कोई ग्रुप था सब में एक डर सुनाने वाला गुजर चुका
Ae Mehboob! Beshak humne tumhein haq ke saath bheja, khushkhabri deta aur darr sunata aur jo koi group tha sab mein ek darr sunane wala guzar chuka
(ف64)ایمانداروں کو جنّت کی ۔(ف65)کافِروں کو عذاب ۔(ف66)خواہ وہ نبی ہو یا عالِمِ دین جو نبی کی طرف سے خَلقِ خدا کو اللہ تعالٰی کا خوف دلائے ۔
اور اگر یہ (ف٦۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف٦۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف٦۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،
And if these disbelievers deny you, those before them had also denied; their Noble Messengers came to them with clear proofs and scriptures and the bright Book.
और अगर ये तुम्हें झटला दें तो उनसे अगले भी झटला चुके हैं उनके पास उनके रसूल आए रोशन दलीलें और सहीफ़े और चमकती किताब लेकर,
Aur agar ye tumhein jhuthlayen to un se agle bhi jhuthla chuke hain, unke paas unke rasool aaye roshan daleelain aur saheefe aur chamakti kitaab lekar,
(ف67)کُفّارِ مکّہ ۔(ف68)اپنے رسولوں کو ، کُفّار کا قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی برتاؤ رہا ہے ۔(ف69)یعنی نبوّت پر دلالت کرنے والے معجزات ۔(ف70)توریت و انجیل و زبور ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷٤) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے اور کچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)
Have you not seen that it is Allah Who causes the water to descend from the sky? So with it We have grown various colourful fruits; and among the mountains are tracks white and red, of different hues, and others dark black.
क्या तूने न देखा कि अल्लाह ने आसमान से पानी उतारा तो हमने उससे फल निकाले रंग बरंग और पहाड़ों में रास्ते हैं सफ़ेद और सरख़ रंग रंग के और कुछ काले भूजंग (सियाह काले)
Kya tu ne na dekha ke Allah ne aasman se paani utara to humne us se phal nikale rang barang aur pahadon mein raste hain safed aur surkh rang rang ke aur kuch kaale bhoojang (siyah kaale)
(ف73)بارش نازل کی ۔(ف74)سبز ، سرخ ، زرد وغیرہ طرح طرح کے انار ، سیب ، انجیر ، انگور ، کھجور وغیرہ بے شمار ۔
اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷٦) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،
And similarly the colours of men and beasts and cattle, are different; among the bondmen of Allah, only the people of knowledge fear Him; indeed Allah is the Most Honourable, Oft Forgiving.
और आदमियों और जानवरों और चौपायों के रंग युन्ही तरह तरह के हैं अल्लाह से उसके बंदों में वही डरते हैं जो इल्म वाले हैं बेशक अल्लाह बख़्शने वाला इज़्ज़त वाला है,
Aur aadmiyon aur janwaron aur choupayon ke rang yunhi tarah tarah ke hain, Allah se uske bandon mein wahi darte hain jo ilm wale hain, beshak Allah bakhshne wala izzat wala hai,
(ف75)جیسے پھلوں اور پہاڑوں میں یہاں اللہ تعالٰی نے اپنی آیتیں اور اپنے نشانہائے قدرت اور آثارِ صنعت جن سے اس کی ذات و صفات پر استدلال کیا جائے ذکر کئے ، اس کے بعد فرمایا ۔(ف76)اور اس کے صفات جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں ، جتنا علم زیادہ اتنا خوف زیادہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ مخلوق میں اللہ تعالٰی کا خوف اس کو ہے جو اللہ تعالٰی کے جبروت اور اس کی عزّت و شان سے باخبر ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قَسم اللہ عزَّوجلَّ کی کہ میں اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کا خوف رکھنے والا ہوں ۔
بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،
Indeed those who read the Book of Allah, and keep the prayer established, and spend from what We have bestowed upon them in secret and publicly, are hopeful of a trade in which there is never a loss.
बेशक वह जो अल्लाह की किताब पढ़ते हैं और नमाज़ क़ायम रखते और हमारे दिए से कुछ हमारी राह में खर्च करते हैं पोशीदा और ज़ाहिर वह ऐसी तिजारत के उम्मीदवार हैं जिसमें हरगज़ टूटा (नुकसान) नहीं,
Beshak woh jo Allah ki kitaab padhte hain aur namaz qaim rakhte aur humare diye se kuch humari raah mein kharch karte hain, posheeda aur zaahir, woh aisi tijarat ke ummedwar hain jismein hargiz toota (nuqsan) nahi,
اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)
And the Book which We have divinely revealed to you – that is the Truth, confirming the Books which were before it; indeed Allah is Aware of His bondmen, All Seeing.
और हो किताब जो हमने तुम्हारी तरफ़ वही हक़ है अपने से अगली किताबों की तसदीक फ़रमाती हुई, बेशक अल्लाह अपने बंदों से ख़बरदार देखने वाला है
Aur ho kitaab jo humne tumhari taraf wahi haq hai, apne se agli kitaabon ki tasdeeq farmaati hui, beshak Allah apne bandon se khabardar dekhne wala hai
(ف78)یعنی قرآنِ مجید ۔ (ف79)اور ان کے ظاہر و باطن کا جاننے والا ۔
پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،
We then made Our chosen bondmen the inheritors of the Book; so among them is one who wrongs himself; and among them is one who stays on the middle course; and among them is one who, by the command of Allah, surpassed others in good deeds; this is the great favour!
फिर हमने किताब का वारिस किया अपने चुने हुए बंदों को तो उनमें कोई अपनी जान पर ज़ुल्म करता है और उनमें कोई मियाँना चाल पर है, और उनमें कोई वह है जो अल्लाह के हुक्म से भलाईयों में सबक़त ले गया यही बड़ा फ़ज़ल है,
Phir humne kitaab ka waaris kiya apne chune hue bandon ko, to unmein koi apni jaan par zulm karta hai aur unmein koi miyana chaal par hai, aur unmein koi woh hai jo Allah ke hukum se bhalaiyon mein sabqat le gaya, yehi bada fazl hai,
(ف80)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمّت کو یہ کتاب عطا فرمائی جنہیں تمام اُمّتوں پر فضیلت دی اور سیدِ رُسُل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی و نیاز مندی کی کرامت و شرافت سے مشرف فرمایا ، اس اُمّت کے لوگ مختلف مدارج و مراتب رکھتے ہیں ۔(ف81)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سبقت لے جانے والا مومنِ مخلص ہے اور مقتصد یعنی میانہ روی کرنے والا وہ جس کے عمل ریا سے ہوں اور ظالم سے مراد یہاں وہ ہے جو نعمتِ الٰہی کا منکِر تو نہ ہو لیکن شکر بجا نہ لائے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا سابق تو سابق ہی ہے اور مقتصد ناجی اور ظالم مغفور اور ایک اور حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا نیکیوں میں سبقت لے جانے والا جنّت میں بے حساب داخل ہو گا اور مقتصد سے حساب میں آسانی کی جائے گی اور ظالم مقامِ حساب میں روکا جائے گا اس کو پریشانی پیش آئے گی پھر جنّت میں داخل ہو گا ۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ سابق عہدِ رسالت کے وہ مخلصین ہیں جن کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جنّت کی بشارت دی اور مقتصد وہ اصحاب ہیں جو آپ کے طریقہ پر عامل رہے اور ظالم لنفسہٖ ہم تم جیسے لوگ ہیں یہ کمالِ انکسار تھا ۔ حضرت اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھما کا کہ اپنے آپ کو اس تیسرے طبقہ میں شمار فرمایا باوجود اس جلالتِ منزلت و رفعتِ درَجت کے جو اللہ تعالٰی نے آپ کو عطا فرمائی تھی اور بھی اس کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں جو تفاسیر میں مفصلاً مذکور ہیں ۔
بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ (ف۸۲) ان میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہے،
They shall enter the Gardens of everlasting stay (Eden) – in which they shall be given to adorn armlets of gold and pearls; and their garment in it is silk.
बसने के बाग़ों में दाख़िल होंगे वह उन में सोने के कंगन और मोती पहनाए जाएंगे और वहाँ उनकी पोशाक रेशमी है,
اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸٤)
And they will say; “All praise is to Allah Who has put away our grief; indeed Our Lord is Oft Forgiving, Most Appreciative.”
और कहेंगे सब खूबियाँ अल्लाह को जिसने हमारा ग़म दूर किया बेशक हमारा रब बख़्शने वाला क़दर फ़रमाने वाला है
Aur kahenge sab khubiyan Allah ko jisne humara gham door kiya, beshak humara Rabb bakhshne wala qadar farmaane wala hai
(ف83)اس غم سے مراد یا دوزخ کا غم ہے یا موت کا یا گناہوں کا یا طاعتوں کے غیرِ مقبول ہونے کا یا اہوالِ قیامت کا ، غرض انہیں کوئی غم نہ ہو گا اور وہ اس پر اللہ کی حمد کریں گے ۔(ف84)کہ گناہوں کو بخشتا ہے اور طاعتیں قبول فرماتا ہے ۔
اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸٦) عذاب کچھ ہلکا کیا جائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،
And for those who disbelieved is the fire of hell; neither does their final seizure come that they may die, nor is its punishment lightened for them; this is how We punish every extremely ungrateful person.
और जिन्होंने क़फ़र किया उनके लिए जहन्नम की आग है न उनकी क़ज़ा आए कि मर जाएँ और न उन पर इसका अज़ाब कुछ हल्का किया जाए, हम ऐसी ही सज़ा देते हैं हर बड़े नाश्क़रे को,
Aur jinho ne kufr kiya unke liye jahannum ki aag hai, na unki qaza aaye ke mar jayein, aur na un par iska azaab kuch halka kiya jaaye, hum aisi hi saza dete hain har bade nashkare ko,
(ف85)اور مَرکر عذاب سے چھوٹ سکیں ۔(ف86)یعنی جہنّم کا ۔
اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
And they shall be screaming in it; “Our Lord! Extricate us, so that we may do good deeds, the opposite of what we used to do”; (It will be said to them) “And did We not give you an age long enough, in which anyone who wants to understand would have understood? And the Herald of Warning did come to you; therefore now taste it – for the unjust do not have any supporter.”
और वह इसमें चलाते होंगे ऐ हमारे रब! हमें निकाल कि हम अच्छा काम करें इसके खिलाफ जो पहले करते थे और क्या हमने तुम्हें वह उम्र न दी थी जिसमें समझ लेता जिसे समझना होता और डर सुनाने वाला तुम्हारे पास तशरीफ़ लाया था तो अब चखो कि ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं,
Aur woh is mein chalayenge honge, Ae humare Rabb! Humein nikaal ke hum achha kaam karein uske khilaaf jo pehle karte they, aur kya humne tumhein woh umr na di thi jismein samajh leta jise samajhna hota, aur darr sunane wala tumhare paas tashreef laya tha, to ab chakhho ke zalimon ka koi madadgar nahi,
(ف87)یعنی جہنّم میں چیختے اور فریاد کرتے ہوں گے کہ ۔(ف88)یعنی دوزخ سے نکال اور دنیا میں بھیج ۔(ف89)یعنی ہم بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت و نافرمانی کے تیری اطاعت اور فرمانبرداری کریں ، اس پر انہیں جواب دیا جائے گا ۔(ف90)یعنی رسولِ اکرم سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف91)تم نے اس رسولِ محترم کی دعوت قبول نہ کی اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری بجا نہ لائے ۔(ف92)عذاب کا مزہ ۔
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹٤) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹٦) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)
It is He Who has made you the successors of your predecessors in the earth; so whoever disbelieves – (the harm of) his disbelief falls only on him; and for the disbelievers, their disbelief increases nothing in their Lord’s sight except disgust; and for the disbelievers, their disbelief increases nothing for them except ruin.
वही है जिसने तुम्हें ज़मीन में उगलों का जानशीन किया तो जो क़फ़र करे उसका क़फ़र उसी पर पड़े और काफ़रों को उनका क़फ़र उनके रब के यहाँ नहीं बढ़ाएगा मगर बैज़ारी और काफ़रों को उनका क़फ़र न बढ़ाएगा मगर नुक़सान
Wohi hai jisne tumhein zameen mein uglo ka jaansheen kiya, to jo kufr kare uska kufr isi par pade aur kafiron ko unka kufr unke Rabb ke yahan nahi barhaye ga, magar be-zaari aur kafiron ko unka kufr na barhaye ga magar nuqsan
(ف93)اور ان کے املاک و مقبوضات کا مالک و متصرف بنایا اور ان کے منافع تمہارے لئے مباح کئے تاکہ تم ایمان و طاعت اختیار کر کے شکر گزاری کرو ۔(ف94)اور ان نعمتوں پر شکرِ الٰہی نہ بجا لائے ۔(ف95)یعنی اپنے کُفر کا وبال اسی کو برداشت کرنا پڑے گا ۔(ف96)یعنی غضبِ الٰہی ۔(ف97)آخرت میں ۔
تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)
Proclaim, “Just show me your partners (false deities) whom you worship other than Allah; show me which part of the earth have they created – or do they have any share in the heavens?” Or have We given them some Book, so they are on its clear proofs? In fact the unjust do not give promises to each other, except of deceit.
तुम फ़रमाओ भला बतलाओ तो अपने वह शिर्क़ जिन्हें अल्लाह के सिवा पूजते हो मुझे दिखाओ उन्होंने जमीन में से कौनसा हिस्सा बनाया या आसमानों में कुछ उनका साझा है या हमने उन्हें कोई किताब दी है कि वह उसकी रोशन दलीलों पर हैं बल्कि ज़ालिम आपस में एक दूसरे को वादा नहीं देते मगर फ़रेब का
Tum farmaao bhala batlaao to apne woh sharik jinhein Allah ke siwa poojhte ho, mujhe dikhao unhone zameen mein se konsa hissa banaya ya aasmanon mein kuch unka saajha hai, ya humne unhein koi kitaab di hai ke woh uski roshan daleelon par hain, balke zaalim aapas mein ek doosre ko wada nahi dete magar fareb ka
(ف98)یعنی بُت ۔(ف99)کہ آسمانوں کے بنانے میں انہیں کچھ دخل ہو کس سبب سے انہیں مستحقِ عبادت قرار دیتے ہو ۔(ف100)ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ۔ (ف101)کہ ان میں جو بہکانے والے ہیں وہ اپنے متّبِعین کو دھوکا دیتے ہیں اور بُتوں کی طرف سے انہیں باطل امیدیں دلاتے ہیں ۔
بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں (ف۱۰۲) اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،
Indeed Allah restrains the heavens and the earth from convulsing; and were they to convulse, who could stop them except Allah? Indeed He is Most Forbearing, Oft Forgiving.
बेशक अल्लाह रोके हुए है आसमानों और जमीन को कि झंवेश न करें और अगर वह हट जाएँ तो उन्हें कौन रोके अल्लाह के सिवा, बेशक वह इल्म बाँटने वाला है,
Beshak Allah roke hue hai aasmanon aur zameen ko ke jumbish na karein, aur agar woh hat jaayein to unhein kaun roke Allah ke siwa, beshak woh ilm baantne wala hai,
(ف102)ورنہ آسمان و زمین کے درمیان شرک جیسی معصیت ہو تو آسمان و زمین کیسے قائم رہیں ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰٤) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)
And they swore by Allah most vehemently in their oaths, that if a Herald of Warning came to them, they would be more upon guidance than any other group; then when a Herald of Warning did come to them, he increased nothing in them except hatred.
और उन्होंने अल्लाह की कसम खाई अपनी कसमों में हद की कोशिश से कि अगर उनके पास कोई डर सुनाने वाला आया तो वह ज़रूर किसी न किसी ग्रुप से ज्यादा राह पर होंगे फिर जब उनके पास डर सुनाने वाला तशरीफ़ लाया तो उसने उन्हें न बढ़ा मगर नफ़रत करना
Aur unhone Allah ki qasam khai apni qasmon mein had ki koshish se ke agar unke paas koi darr sunane wala aaya to woh zaroor kisi na kisi group se zyada raah par honge, phir jab unke paas darr sunane wala tashreef laya to usne unhein na badha magar nafrat karna
(ف103)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش نے یہود و نصارٰی کے اپنے رسولو ں کو نہ ماننے اور ان کو جھٹلانے کی نسبت کہا تھا کہ اللہ تعالٰی ان پر لعنت کرے کہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے رسول آئے اور انہوں نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا ، خدا کی قَسم اگر ہمارے پاس کوئی رسول آئے تو ہم ان سے زیادہ راہ پر ہوں گے اور اس رسول کو ماننے میں ان کے بہتر گروہ پر سبقت لے جائیں گے ۔(ف104)یعنی سیدُ المرسلین خاتمُ النّبیّین حبیبِ خدا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رونق افروزی و جلوہ آرائی ہوئی ۔(ف105)حق و ہدایت سے اور ۔
اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰٦) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،
Priding themselves in the earth and scheming evil; and the evil scheming falls only upon those who scheme it; so what are they waiting for, except the tradition of the earlier nations? So you will never find the traditions of Allah changing; and you will never find Allah’s law being avoided.
अपनी जान को जमीन में ऊँचा खींचना और बुरा दाओं और बुरा दाओं (फ़रेब) अपने चलने वाले ही पर पड़ता है तो का है के इंतज़ार में हैं मगर उसी के जो उगलों का दस्तूर हुआ तो तुम हरगज़ अल्लाह के दस्तूर को बदलता न पाओगे और हरगज़ अल्लाह के क़ानून को टलता न पाओगे,
Apni jaan ko zameen mein ooncha kheenchna aur bura daon aur bura daon (fareb) apne chalne wale hi par padta hai, to ka hai ke intezaar mein hain magar usi ke jo uglo ka dastoor hua, to tum hargiz Allah ke dastoor ko badalta na pao ge aur hargiz Allah ke qanoon ko talta na pao ge,
(ف106)بُرے داؤں سے مراد یا تو شرک وکُفر ہے اور یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکَر و فریب کرنا ۔(ف107)یعنی مکّار پر چنانچہ فریب کاری کرنے والے بدر میں مارے گئے ۔(ف108)کہ انہوں نے تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
And did they not travel in the land in order to see what sort of fate befell those who were before them, whereas they exceeded them in strength? And Allah is not such that anything in the heavens or in the earth can break away from His control; indeed He is All Knowing, Able.
और क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते उनसे उगलों का कैसा अंज़ाम हुआ और वह उनसे जोर में सख़्त थे और अल्लाह वह नहीं जिसके क़ाबू से निकल सके कोई चीज़ आसमानों और न जमीन में, बेशक वह इल्म व क़ुदरत वाला है,
Aur kya unhone zameen mein safar na kiya ke dekhte unse uglo ka kaisa anjaam hua aur woh unse zor mein sakht they, aur Allah woh nahi jiske qabo se nikal sake koi shai aasmanon aur na zameen mein, beshak woh ilm o qudrat wala hai,
(ف109)یعنی کیا انہوں نے شام اور عراق اور یمن کے سفروں میں انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والو ں کی ہلاکت و بربادی اور ان کے عذاب اور تباہی کے نشانات نہیں دیکھے کہ ان سے عبرت حاصل کرتے ۔(ف110)یعنی وہ تباہ شدہ قومیں ان اہلِ مکّہ سے زور و قوّت میں زیادہ تھیں باوجود اس کے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ عذاب سے بھاگ کر کہیں پناہ لے سکتیں ۔
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)
If Allah were to seize people upon their deeds, He would leave no creature walking on the surface of the earth, but He gives them respite till a fixed term; and when their term comes – so indeed Allah is observing all His bondmen!
और अगर अल्लाह लोगों को उनके किए पर पकड़ता तो ज़मीन की पीठ पर कोई चलने वाला न छोड़ता लेकिन एक मुअय्यन मीयाद तक उन्हें ढील देता है फिर जब उनका वादा आएगा तो बेशक अल्लाह के सब बंदे उसकी निगाह में हैं
"
Aur agar Allah logon ko unke kiye par pakadta to zameen ki peeth par koi chalne wala na chhodega, lekin ek muayyan meyaad tak unhein dheel deta hai, phir jab unka wada aaye ga to beshak Allah ke sab bande uski nigah mein hain
(ف111)یعنی ان کے معاصی پر ۔(ف112)یعنی روزِ قیامت ۔(ف113)انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا جو عذاب کے مستحق ہیں انہیں عذاب فرمائے گا اور جو لائقِ کرم ہیں ان پر رحم و کرم کرے گا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page