Sad ص

پارہ: 23
سورہ: 38
آیات: 88
صٓ​ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِى الذِّكۡرِؕ‏ ﴿1﴾

اس نامور قرآن کی قسم (ف۲)

Saad* – By oath of the renowned Qur’an, (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ‏ ﴿2﴾

بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں (ف۳)

In fact, the disbelievers are in false pride and opposition.

كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ‏ ﴿3﴾

ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف٤) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف٦)

Many a generation We did destroy before them – thereupon they cried out whereas it is not the time to escape!

وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡهُمۡ​ وَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ​ ۖ​ۚ‏ ﴿4﴾

اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۷) اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا،

And they were surprised that a Herald of Warning came to them from among themselves; and the disbelievers said, “He is a magician, a great liar!”

اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عُجَابٌ‏ ﴿5﴾

کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،

“Has he made all the Gods into One God? This is really something very strange!”

وَانْطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰٓى اٰلِهَتِكُمۡ​ ​ۖۚ​ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ يُّرَادُ ۖ​ۚ‏ ﴿6﴾

اور ان میں کے سردار چلے (ف۹) کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے،

And their leaders went about, “Leave him and cling steadfastly to your Gods! Indeed he has a hidden objective in this!”

مَا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِى الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ ۖۚ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ ​ ۖ​ۚ‏ ﴿7﴾

یہ تو ہم نے سب سے پہلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی (ف۱۰) یہ تو نری نئی گڑھت ہے،

“We never heard of this even in Christianity, the latest religion; this is clearly a newly fabricated matter.”

ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۡۢ بَيۡنِنَا​ؕ بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِىۡ​ۚ بَلْ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِؕ‏ ﴿8﴾

کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)

“Is the Qur’an which is sent to him, among us?” In fact they are in a doubt concerning My Book; in fact, they have not yet tasted My punishment.

اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآٮِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ​ۚ‏ ﴿9﴾

کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱٤) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)

Or do they hold the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Great Bestower?

اَمۡ لَهُمۡ مُّلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا​فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِى الۡاَسۡبَابِ‏ ﴿10﴾

کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱٦)

Is the kingdom of the heavens and the earth and all that is between them, for them? So would they not just ascend using ropes?

جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ‏ ﴿11﴾

یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)

This is just one of the disgraced armies, that will be routed there and then.

كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِۙ‏  ﴿12﴾

ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)

Before them, the people of Nooh had denied, and the tribe of A’ad, and Firaun who used to crucify.

وَثَمُوۡدُ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰبُ لْئَیْكَةِ​ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ الۡاَحۡزَابُ‏  ﴿13﴾

اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن والے (ف۱۹) یہ ہیں وہ گروہ (ف۲۰)

And the tribe of Thamud, and the people of Lut, and the People of the Woods; these are the groups.

اِنۡ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ‏ ﴿14﴾

ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو تو میرا عذاب لازم ہوا (ف۲۱)

None of them was such that it did not deny the Noble Messengers, therefore My punishment became inevitable.

وَمَا يَنۡظُرُ هٰٓؤُلَاۤءِ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ‏  ﴿15﴾

اور یہ راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۲۲) جسے کوئی پھیر نہیں سکتا،

They await just one Scream, which no one can avert.

وَقَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ‏ ﴿16﴾

اور بولے اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہمیں جلد دے دے حساب کے دن سے پہلے (ف۲۳)

And they said, “Our Lord! Give us our share quickly, before the Day of Reckoning.”

اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَيۡدِ​ۚ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ‏ ﴿17﴾

تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲٤) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)

Have patience upon what they say, and remember Our bondman Dawud, the one blessed with favours; he is indeed most inclined (towards His Lord).

اِنَّا سَخَّرۡنَا الۡجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحۡنَ بِالۡعَشِىِّ وَالۡاِشۡرَاقِۙ‏  ﴿18﴾

بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲٦) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)

Indeed We subjected the hills to say the praise with him, at night and at morn.

وَالطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ؕ كُلٌّ لَّـهٗۤ اَوَّابٌ‏ ﴿19﴾

اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)

And birds gathered together; they were all obedient to him.

وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ‏ ﴿20﴾

اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)

And We strengthened his kingdom and gave him wisdom and just speech.

وَهَلۡ اَتٰٮكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ​ۘ اِذۡ تَسَوَّرُوا الۡمِحۡرَابَۙ‏ ﴿21﴾

اور کیا تمہیں (ف۳۳) اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے (ف۳٤)

And did the news of the two disputants reach you? When they scaled over the wall into Dawud’s mosque.

اِذۡ دَخَلُوۡا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡ​ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ​ۚ خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ‏ ﴿22﴾

جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے (ف۳٦) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،

When they entered upon David, so he feared them – they said, “Do not fear! We are two disputants, one of whom has wronged the other, therefore judge fairly between us and do not judge unjustly – and show us the right way.”

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِىۡ لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً وَّلِىَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا وَعَزَّنِىۡ فِى الۡخِطَابِ‏ ﴿23﴾

بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،

“This is my brother; he has ninety nine ewes and I have one ewe; and he now says ‘Give that one also to me’ – and he is very demanding in speech.”

قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ​ ؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡخُلَـطَآءِ لَيَبۡغِىۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ​ ؕ وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ‏ ﴿24﴾

داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف٤۰) اور رجوع لایا ، ( السجدة ۱۰)

Said Dawud, “He is indeed being unjust to you in that he demands to add your ewe to his ewes; and indeed most partners wrong one another, except those who believe and do good deeds – and they are very few!” Thereupon Dawud realised that We had tested him, so he sought forgiveness from his Lord, and fell prostrate and inclined (towards his Lord). (Command of Prostration # 10)

فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰ لِكَ​ ؕ وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ‏  ﴿25﴾

تو ہم نے اسے یہ معاف فرمایا، اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،

We therefore forgave him this; and indeed for him in Our presence are, surely, proximity and an excellent abode.

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ​ ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ‏ ﴿26﴾

اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف٤۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف٤۲)

“O Dawud! We have indeed appointed you as a Viceroy in the earth, therefore judge between mankind with the truth, and do not follow desire for it will lead you astray from Allah’s path; indeed for those who stray away from Allah’s path is a severe punishment, because they forgot the Day of Reckoning.”

وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَاطِلًا ​ؕ ذٰ لِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا​ۚ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِؕ‏ ﴿27﴾

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے ، یہ کافروں کا گمان ہے (ف٤۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،

And We have not created the heaven and the earth and all that is between them without purpose; this is what the disbelievers assume; therefore ruin is for the disbelievers, by the fire.

اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ‏ ﴿28﴾

کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بےحکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف٤٤)

Shall We make those who believe and do good deeds equal to those who spread turmoil in the earth? Or shall We equate the pious with the disobedient?

كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿29﴾

یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری (ف٤۵) برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں،

This is a Book which We have sent down upon you, a blessed Book, for them to ponder upon its verses, and for men of intellect to accept advice.

وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ​ ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ​ ؕ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ ؕ ‏ ﴿30﴾

اور ہم نے داؤد کو (ف٤٦) سلیمان عطا فرمایا، کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا (ف٤۷)

And We bestowed Sulaiman to Dawud; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.

اِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِالۡعَشِىِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِيَادُ ۙ‏ ﴿31﴾

جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف٤۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف٤۹)

When fast footed steeds were presented to him at evening.

فَقَالَ اِنِّىۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّىۡ​ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ‏ ﴿32﴾

تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)

Therefore Sulaiman said, “I cherish the love of these horses*, out of remembrance of my Lord”; he then ordered them to be raced until they vanished in a curtain out of sight. (To be used in holy war.)

رُدُّوۡهَا عَلَىَّ ؕ فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَ الۡاَعۡنَاقِ‏ ﴿33﴾

پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)

He then ordered, “Bring them back to me”; and he began caressing their shins and necks.

وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ‏ ﴿34﴾

اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا (ف۵٤) پھر رجوع لایا (ف۵۵)(

And We indeed tested Sulaiman, and placed a dead body on his throne – he therefore inclined towards His Lord.

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡۢبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِىۡ​ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ‏ ﴿35﴾

عرض کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو (ف۵٦) بیشک تو ہی بڑی دین والا،

He said, “My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom, which shall not befit anyone after me; indeed only You are the Great Bestower.”

فَسَخَّرۡنَا لَهُ الرِّيۡحَ تَجۡرِىۡ بِاَمۡرِهٖ رُخَآءً حَيۡثُ اَصَابَۙ‏  ﴿36﴾

تو ہم نے ہوا اس کے بس میں کردی کہ اس کے حکم سے نرم نرم چلتی (ف۵۷) جہاں وہ چاہتا،

We therefore gave the wind under his control, moving steadily by his command wherever he wished.

وَالشَّيٰطِيۡنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍۙ‏ ﴿37﴾

اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)

And made the demons subservient to him, all builders and divers.

وَّاٰخَرِيۡنَ مُقَرَّنِيۡنَ فِىۡ الۡاَصۡفَادِ‏ ﴿38﴾

اور دوسرے اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (ف٦۰)

And other demons bound in chains.

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ‏ ﴿39﴾

یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر (ف٦۱) یا روک رکھ (ف٦۲) تجھ پر کچھ حساب نہیں،

“This is Our bestowal – you may therefore bestow favours or withhold them – you will not be questioned.”

وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ‏ ﴿40﴾

اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،

And indeed for him in Our presence are, surely, proximity and an excellent abode.

وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَۘ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍؕ‏ ﴿41﴾

اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف٦۳)(۲

And remember Our bondman Ayyub (Job); when he cried out* to his Lord, “The devil has struck me with hardship and pain.” (After seven years of patience.)

اُرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَ​ ۚ هٰذَا مُغۡتَسَلٌ ۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ‏ ﴿42﴾

ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف٦٤) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف٦۵)

We said to him, “Strike the earth with your foot; this cool spring is for bathing and drinking.” (A spring of gushed forth when he struck the earth – this was a miracle.)

وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ رَحۡمَةً مِّنَّا وَذِكۡرٰى لِاُولِى الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿43﴾

اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور عطا فرمادیے اپنی رحمت کرنے (ف٦٦) اور عقلمندوں کی نصیحت کو،

And We bestowed his household to him and one more similar to it – as a mercy from Us, and as a remembrance for the people of intellect.

وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا فَاضۡرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ​ؕ اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا​ ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ​ ؕ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ‏ ﴿44﴾

اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف٦۷) اور قسم نہ توڑ بےہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف٦۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،

And We said, “Take a broom in your hand and strike her with it, and do not break your vow”; We indeed found him patiently enduring; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.

وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ اُولِى الۡاَيۡدِىۡ وَالۡاَبۡصَارِ‏ ﴿45﴾

اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو (ف٦۹)

And remember Our bondmen Ibrahim, and Ishaq, and Yaqub – the men of power and knowledge.

اِنَّاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ذِكۡرَى الدَّارِ​ۚ‏ ﴿46﴾

بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے (ف۷۰)

We indeed gave them distinction with a genuine affair – the remembrance of the (everlasting) abode.

وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ الۡاَخۡيَارِؕ‏ ﴿47﴾

اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں،

And in Our sight, they are indeed the chosen ones, the beloved.

وَاذۡكُرۡ اِسۡمٰعِيۡلَ وَ الۡيَسَعَ وَذَا الۡكِفۡلِ​ؕ وَكُلٌّ مِّنَ الۡاَخۡيَارِؕ‏  ﴿48﴾

اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو (ف۷۱) اور سب اچھے ہیں،

And remember Ismail and Yasa’a (Elisha) and Zul-Kifl; and they are all excellent.

هٰذَا ذِكۡرٌ​ؕ وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍۙ‏ ﴿49﴾

یہ نصیحت ہے اور بیشک (ف۷۲) پرہیزگاروں کا ٹھکانا،

This is an advice; and indeed for the pious is an excellent abode.

جَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ​ۚ‏ ﴿50﴾

بھلا بسنے کے باغ ان کے لیے سب دروازے کھلے ہوئے،

Everlasting Gardens – all its gates are open for them.

مُتَّكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ‏  ﴿51﴾

ان میں تکیہ لگائے (ف۷۳) ان میں بہت سے میوے اور شراب مانگتے ہیں،

Reclining on pillows, in it they ask for fruits and drinks in plenty.

وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ اَتۡرَابٌ‏ ﴿52﴾

اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی (ف۷٤)

And with them are the pure spouses, who do not set gaze upon men except their husbands, of single age.

هٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ‏ ﴿53﴾

یہ ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے حساب کے دن ،

This is the promise being given to you, for the Day of Reckoning.

اِنَّ هٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهٗ مِنۡ نَّـفَادٍ ​ۖ ​ۚ‏ ﴿54﴾

بیشک یہ ہمارا رزق ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا (ف۷۵)

Indeed this is Our sustenance, which will never end.

هٰذَا​ ؕ وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ۙ‏ ﴿55﴾

ان کو تو یہ ہے (ف۷٦) اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانا،

This is for the virtuous; and indeed for the rebellious is a wretched destination.

جَهَـنَّمَ​ ۚ يَصۡلَوۡنَهَا​ ۚ فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ‏ ﴿56﴾

جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا (ف۷۷)

Hell; which they shall enter; what an evil resting-place!

هٰذَا ۙ فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ حَمِيۡمٌ وَّغَسَّاقٌ ۙ‏ ﴿57﴾

ان کو یہ ہے تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ (ف۷۸)

This is for the criminals – so that they may taste it – boiling hot water and pus.

وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ اَزۡوَاجٌ ؕ‏ ﴿58﴾

اور اسی شکل کے اور جوڑے (ف۷۹)

And similar other punishments in pairs.

هٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ​ۚ لَا مَرۡحَبًۢـا بِهِمۡ​ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ‏ ﴿59﴾

ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،

“Here is another group that was with you, falling along with you”; they will answer, “Do not give them plenty of open space; they surely have to enter the fire – let them also be confined!”

قَالُوۡا بَلۡ اَنۡتُمۡ لَا مَرۡحَبًۢـا بِكُمۡ​ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ لَنَا​ۚ فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ‏ ﴿60﴾

وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملیو، یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے (ف۸۱) تو کیا ہی برا ٹھکانا (ف۸۲)

The followers will say, “In fact, for you! May you not get open space! It is you who brought this calamity upon us!” So what a wretched destination.

قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِى النَّارِ‏  ﴿61﴾

وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُونا عذاب بڑھا،

They say, “Our Lord! Whoever has brought this calamity upon us – double the punishment of the fire for him!”

وَقَالُوۡا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَـعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِؕ‏  ﴿62﴾

اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸٤)

And they say, “What is the matter with us that we do not see the men whom we thought were evil?”

اَ تَّخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ‏ ﴿63﴾

کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸٦)

“Did we mock at them or did our eyes turn away from them?”

اِنَّ ذٰ لِكَ لَحَقّ ٌ تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ‏ ﴿64﴾

بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،

Indeed this is really true – the people of the hell quarrelling among themselves.

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ​​ۖ  وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ​ ۚ‏ ﴿65﴾

تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،

Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I am purely a Herald of Warning – and there is no God except Allah, the One, the All Dominant.”

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا الۡعَزِيۡزُ الۡغَفَّارُ‏ ﴿66﴾

مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صاحب عزت بڑا بخشنے والا،

“Lord of the heavens and the earth and all that is between them – the Almighty, the Oft Forgiving.”

قُلۡ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌۙ‏ ﴿67﴾

تم فرماؤ وہ (ف۸۹) بڑی خبر ہے،

Say, “That is a great tidings.”

اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ‏ ﴿68﴾

تم اس سے غفلت میں ہو (ف۹۰)

“You are neglectful of it!”

مَا كَانَ لِىَ مِنۡ عِلۡمٍۢ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰٓى اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ‏  ﴿69﴾

مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)

“What did I know of the heavenly world, when the angels had disputed.”

اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَىَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا۟ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿70﴾

مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)

“I receive only the divine revelations, that I am purely a clear Herald of Warning.”

اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىۡ خَالِـقٌ ۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ‏  ﴿71﴾

جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا (ف۹۳)

(Remember) When your Lord said to the angels, “I will create a human from clay.” –

فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِىۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰجِدِيۡنَ‏  ﴿72﴾

پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں (ف۹٤) اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں (ف۹۵) تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا،

“So when I have perfected him and breathed into him a spirit from Myself, (you all) fall down before him in prostration.”

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ‏ ﴿73﴾

تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا ایک ایک نے کہ کوئی باقی نہ رہا،

So all the angels prostrated, every one, without exception.

اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اِسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿74﴾

مگر ابلیس نے (ف۹٦) اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں (ف۹۷)

Except Iblis; he was proud and was, from the beginning, a disbeliever.

قَالَ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَىَّ​ ؕ اَسۡتَكۡبَرۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ‏ ﴿75﴾

فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)

Said Allah, “O Iblis! What prevented you from prostrating before one whom I have created with My hands*? Have you become proud or were you haughty from the beginning?” (Used as a metaphor).

قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ​ ؕ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ‏ ﴿76﴾

بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،

Said Iblis, “I am better than him; You made me from fire, and You have created him from clay!”

قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ  ۖ​ ۚ‏ ﴿77﴾

فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)

He said, “Therefore exit from heaven, for you have been outcast.” (To disrespect the Prophets – peace and blessings be upon them – is blasphemy.)

وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ‏ ﴿78﴾

اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک (ف۱۰۱)

“And indeed My curse is upon you till the Day of Judgement.”

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ‏ ﴿79﴾

بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)

He said, “My Lord! Therefore give me respite till the day when all will be raised.”

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ‏ ﴿80﴾

فرمایا تو تو مہلت والوں میں ہے،(

Said Allah, “You are therefore among those given respite.”

اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ‏ ﴿81﴾

اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)

“Until the time of the known day.”

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ ﴿82﴾

بولا تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا،

He said, “Therefore, by oath of Your honour, I will surely mislead all of them.”

اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿83﴾

مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں،

“Except Your chosen bondmen among them.”

قَالَ فَالۡحَقُّ  وَالۡحَقَّ اَ قُوۡلُ​ ۚ‏ ﴿84﴾

فرمایا تو سچ یہ ہے اور میں سچ ہی فرماتا ہوں،

Said Allah, “So this is the truth; and I speak only the truth.” –

لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏  ﴿85﴾

بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے (ف۱۰٤) اور ان میں سے (ف۱۰۵) جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،

“That I will fill hell with you and with those among them who follow you, all together.”

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔــلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ‏  ﴿86﴾

تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I do not ask any fee from you for the Qur’an, and I am not a fabricator.”

اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿87﴾

وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،

“It is not but an advice for the entire world.”

وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعۡدَ حِيۡنِ‏ ﴿88﴾

اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے (ف۱۰٦)

“And you will come to know of its tidings, after a while.”

Scroll to Top