یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف (۲) اور تم سے اگلوں کی طرف (ف۳) اللہ عزت و حکمت والا،
This is how Allah the Most Honourable, the All Knowing sends the divine revelation to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) and to those before you.
युनही wahi फरमाता है तुम्हारी तरफ
Yunhi wahi farmata hai tumhari taraf
(ف2)غیبی خبریں ۔ (خازن) (ف3)انبیاء علیہم السلام میں سے وحی فرماچکا ۔
قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف٤) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
The heavens nearly split apart from above – and the angels say the Purity of their Lord while praising Him, and seek forgiveness for those on earth; pay heed! Indeed Allah only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.
उसी का है जो कुछ आसमान में है और जो कुछ जमीन में है, और वही बुलंदी व अज़मत वाला है,
Ussi ka hai jo kuch aasman mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur wohi bulandi o azmat wala hai,
(ف4)اللہ تعالٰی کی عظمت اور اس کے علوئے شان سے ۔(ف5)یعنی ایمان داروں کے لئے کیونکہ کافر اس لائق نہیں ہیں کہ ملائکہ ان کے لئے استغفار کریں ، یہ ہوسکتا ہے کہ کافروں کے لئے یہ دعا کریں کہ انہیں ایمان دے کر ان کی مغفرت فرما ۔
اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف٦) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)
And Allah is watching those who have chosen supporters besides Him; and you are not responsible for them.
क़रीब होता है कि आसमान अपने ऊपर से शक़ हो जाएँ और फ़रिश्ते अपने रब की तारीफ़ के साथ उसकी पाक़ी बोलते और ज़मीन वालों के लिए माफ़ी मांगते सुन लो बेशक अल्लाह ही बख़्शने वाला मेहरबान है,
Qareeb hota hai ke aasman apne oopar se shaq ho jayein aur farishte apne Rab ki tareef ke saath uski paaki bolte aur zameen walon ke liye maafi maangte hain sun lo beshak Allah hi bakhshne wala meherban hai,
(ف6)یعنی بت جن کو وہ پوجتے اور معبود سمجھتے ہیں ۔(ف7)ان کے اعمال ، افعال اس کے سامنے ہیں ، وہ انہیں بدلہ دے گا ۔(ف8)تم سے ان کے افعال کا مؤاخذہ نہ ہوگا ۔
اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
And this is how We have divinely revealed to you the Qur’an in Arabic, for you to warn the people of the mother of all towns – Mecca – and those around it, and to warn of the Day of Assembling of which there is no doubt; a group is in Paradise, and another group is in hell.
और जिनोंने अल्लाह के सिवा और वा ली बना रखे हैं वो अल्लाह की निगाह में हैं और तुम उनके ज़िम्मेदार नहीं,
Aur jin logon ne Allah ke siwa aur wali bana rakhe hain woh Allah ki nigah mein hain aur tum unke zimmedar nahin,
(ف9)یعنی تمام عالَم کے لوگ ان سب کو ۔(ف10)یعنی روزِ قیامت سے ڈراؤ جس میں اللہ تعالٰی اوّلین و آخرین او ر اہلِ آسمان و زمین سب کو جمع فرمائے گا اور اس جمع کے بعد پھر سب متفرّق ہوں گے ۔
اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے (ف۱۱) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار (ف۱۲)
And had Allah willed, He could have made them all upon one religion, but He admits whomever He wills into His mercy; and the unjust do not have any friend nor any supporter.
और युनही हम ने तुम्हारी तरफ़ अरबी क़ुरआन wahi भीजा कि तुम डराओ सब शहरों की असल मक्का वालों को और जितने इसके गिर्द हैं और तुम डराओ इकट्ठे होने के दिन से जिसमें कुछ शक़ नहीं एक ग्रुप जन्नत में है और एक ग्रुप दोज़ख़ में,
Aur yunhi humne tumhari taraf Arabi Quran wahi bheja taake tum darao sab shehron ki asal Makka walon ko aur jitne uske gird hain aur tum darao ikatthe hone ke din se jisme kuch shak nahin ek giroh Jannat mein hai aur ek giroh Dozakh mein,
(ف11)اس کو اسلام کی توفیق دیتاہے ۔(ف12)یعنی کافروں کو کوئی عذاب سے بچانے والا نہیں ۔
کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں (ف۱۳) تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱٤)
What! Have they appointed supporters other than Allah? So (know that) Allah only is the Supporter, and He will revive the dead; and He is Able to do all things.
और अल्लाह चाहता तो इन सब को एक दीन पर कर देता लेकिन अल्लाह अपनी रहमत में लेता है जिसे चाहे और ज़ालिमों का न कोई दोस्त न मददगार
Aur Allah chahta to in sab ko ek deen par kar deta lekin Allah apni rehamat mein leta hai jise chahe aur zalimon ka na koi dost na madadgar,
(ف13)یعنی کفّار نے اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا والی بنالیا ہے ، یہ باطل ہے ۔(ف14)تو اسی کو والی بنانا سزاوار ہے ۔
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
The Maker of the heavens and the earth; He has created pairs for you from yourselves and pairs from the animals; He spreads your generation; nothing is like Him; and He only is the All Hearing, the All Seeing.
तुम जिस बात में इख़्तिलाफ़ करो तो उसका फ़ैसला अल्लाह के सुपर्द है यह है अल्लाह मेरा रब मैंने इस पर भरोसा किया, और मैं उसकी तरफ़ रजू करता हूँ
Tum jis baat mein ikhtilaf karo to uska faisla Allah ke supurd hai yeh hai Allah mera Rab maine us par bharosa kiya, aur main uski taraf rujoo laata hoon,
(ف18)یعنی تمہاری جنس میں سے ۔(ف19)یعنی اس تزویج سے ۔ (خازن)
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
For Him only are the keys of the heavens and the earth; He increases the sustenance for whomever He wills and restricts it; indeed He is the All Knowing.
आसमानों और ज़मीन का बनाने वाला, तुम्हारे लिए तुम्हें मैं से जोड़े बनाए और नर व मादा चौपायें, इससे तुम्हारी नस्ल फैलाता है, इस जैसा कोई नहीं, और वही सुनता देखता है,
Aasmanon aur zameen ka banane wala, tumhare liye tumhein mein se joray banaye aur nar o madah chopaaye, usse tumhari nasl phailata hai, us jaisa koi nahin, aur wohi sunta dekhta hai,
(ف20)مراد یہ ہے کہ آسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں خواہ مینہ کے خزانے ہوں یا رزق کے ۔(ف21)جس کے لئے چاہے وہ مالک ہے ، رزق کی کنجیاں اس کے دستِ قدرت میں ہیں ۔
تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲٤) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲٦) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)
He has kept for you the same path of religion which He commanded Nooh, and what We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), and what We had commanded to Ibrahim and Moosa and Eisa that, “Keep the religion proper, and do not create divisions in it”; the polytheists find the matter what you call them to as intolerable; Allah chooses for His proximity whomever He wills, and guides towards Himself whoever inclines (towards Him).
उसी के लिए हैं आसमानों और ज़मीन की कुंजियाँ रोज़ी वसीअ करता है जिसे चाहे और तंग फरमाता है बेशक वह सब कुछ जानता है,
Ussi ke liye hain aasmanon aur zameen ki kunjiyan rozi wasee karta hai jiske liye chahe aur tang farmata hai beshak woh sab kuch jaanta hai,
(ف22)نوح علیہ السلام صاحبِ شرع انبیاء میں سب سے پہلے نبی ہیں ۔(ف23)اے سیدِ انبیاء محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف24)معنٰی یہ ہیں کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے آپ تک اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جتنے انبیاء ہوئے سب کے لئے ہم نے دِین کی ایک ہی راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے ۔(ف25)مراد دِین سے اسلام ہے ، معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی طاعت اور اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور روزِ جزا پر اور باقی تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لانا لازم کرو کہ یہ امور تمام انبیاء کی امّتوں کے لئے یکساں لازم ہیں ۔(ف26)حضرت علیِ مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ جماعت رحمت اور فرقت عذاب ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصولِ دِین میں تمام مسلمان خواہ وہ کسی عہد یا کسی امّت کے ہوں یکساں ہیں ، ان میں کوئی اختلاف نہیں ، البتہ احکام میں امّتیں باعتبار اپنے احوال و خصوصیات کے جداگانہ ہیں ، چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجاً ۔(ف27)یعنی بتوں کو چھوڑنا اور توحید اختیار کرنا ۔(ف28)اپنے بندوں میں سے اسی کو توفیق دیتا ہے ۔ (ف29)اور اس کی طاعت قبول کرے ۔
اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳٤) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳٦)
And they did not cause divisions except after the knowledge had come to them, because of jealousy among themselves; and were it not for a Word that had already gone forth from your Lord, the judgement would have been passed upon them long ago; and indeed those who inherited the Book after them are in an intriguing doubt regarding it.
तुम्हारे लिए दीन की वह राह डाली जिसका हुक़्म उसने नूह को दिया और जो हम ने तुम्हारी तरफ़ wahi की और जिसका हुक़्म हम ने इब्राहीम और मूसा और ईसा को दिया कि दीन ठीक रखो और इस में फूट न डालो मुशरिकों पर बहुत ही ग़रान है वह जिसकी तरफ़ तुम उन्हें बुलाते हो, और अल्लाह अपने क़रीब के लिए चुन लेता है जिसे चाहे और अपनी तरफ़ राह देता है उसे जो रजू लाए
Tumhare liye deen ki woh raah daali jiska hukm usne Nooh ko diya aur jo humne tumhari taraf wahi ki aur jiska hukm humne Ibrahim aur Moosa aur Isa ko diya ke deen theek rakho aur ismein phoot na daalo mushrikon par bohot hi garaan hai woh jis ki taraf tum unhein bulaate ho, aur Allah apne qareeb ke liye chun leta hai jise chahe aur apni taraf raah deta hai use jo rujoo laaye,
(ف30)یعنی اہلِ کتاب نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے بعد جو دِین میں اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی ، کوئی کافر ہوگیا ، وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ سب کچھ کیا ۔(ف31)اور ریاست وناحق کی حکومت کے شوق میں ۔(ف32)عذاب کے مؤخر فرمانے کی ۔(ف33)یعنی روزِ قیامت تک ۔(ف34)کافروں پر دنیا میں عذاب نازل فرما کر ۔(ف35)یعنی یہود و نصارٰی ۔(ف36)یعنی اپنی کتاب پر مضبوط ایمان نہیں رکھتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ قرآن کی طرف سے یا سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے شک میں پڑے ہیں ۔
تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف٤۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف٤۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف٤۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف٤۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف٤٤) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
For this reason, call them (to Islam); and remain firm, as you are commanded to; and do not follow their desires; and say, “I accept faith in whichever Book Allah has sent down; and I am commanded to judge fairly between you; Allah is the Lord of all – ours and yours; for us are our deeds and for you are your misdeeds; there is no debate between us and you; Allah will gather all of us together; and towards Him is the return.”
और उन्होंने फूट न डाली मगर बाद इस के कि उन्हें इल्म आ चुका था आपस के हसद से और अगर तुम्हारे रब की एक बात गुजर न चुकी होती एक मक़र्रर मियाद तक तो कब का इन में फ़ैसला कर दिया होता और बेशक वह जो उनके बाद किताब के वारिस हुए वह इस से एक धोखा डालने वाले शक़ में हैं
Aur unhone phoot na daali magar baad iske ke unhein ilm aa chuka tha aapas ke hasad se aur agar tumhare Rab ki ek baat guzar na chuki hoti ek muqarrar miyaad tak to kab ka unmein faisla kar diya hota aur beshak woh jo unke baad kitaab ke waaris hue woh usse ek dhoka dalne wale shak mein hain,
(ف37)یعنی ان کفّار کے اس اختلاف و پراگندگی کی وجہ سے انہیں توحید اور ملّتِ حنیفیہ پر متفق ہونے کی دعوت دو ۔(ف38)دِین پر اور دِین کی دعوت دینے پر ۔(ف39)یعنی اللہ تعالٰی کی تمام کتابوں پر کیونکہ متفرقین بعض پر ایمان لاتے تھے اور بعض سے کفر کرتے تھے ۔(ف40)تمام چیزوں میں اور جمیع احوال میں اور ہر فیصلہ میں ۔(ف41)اور ہم سب اس کے بندے ۔(ف42)ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔(ف43)کیونکہ حق ظاہر ہوچکا وَھٰذِہِ الْآ یَۃُ مَنْسُوْخَۃبِآ یَۃِ الْقِتَالِ ۔(ف44)روزِ قیامت ۔
اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف٤۵) ان کی دلیل محض بےثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف٤٦) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف٤۷)
And those who fight regarding Allah after the Muslims have accepted His call, their reasoning does not hold at all before their Lord, and upon them is wrath, and for them is a severe punishment.
तो उसी लिए बुलाओ और साबिक़ कदम रहो जैसा तुम्हें हुक़्म हुआ है और उनकी ख़्वाहिशों पर न चलो और कहो कि मैं ईमान लाया इस पर जो कोई किताब अल्लाह ने उतारी और मुझे हुक़्म है कि मैं तुम में इन्साफ़ करूँ अल्लाह हमारा और तुम्हारा सब का रब है हमारे लिए हमारा अमल और तुम्हारे लिए तुम्हारा क्या कोई हिज्जत नहीं हम में और तुम में अल्लाह हम सब को इकट्ठा करेगा और उसी की तरफ़ फिरना है,
To issi liye bulao aur sabit qadam raho jaisa tumhein hukm hua hai aur unki khwahishon par na chalo aur kaho ke main imaan laya us par jo koi kitaab Allah ne utari aur mujhe hukm hai ke main tum mein insaaf karoon Allah hamara aur tumhara sab ka Rab hai hamare liye hamara amal aur tumhare liye tumhara, kya koi hujjat nahin hum mein aur tum mein Allah hum sab ko jama karega aur usi ki taraf phirna hai,
(ف45)مراد ان جھگڑنے والوں سے یہود ہیں ، وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو پھر کفر کی طرف لوٹائیں اس لئے جھگڑاکرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دِین پرانا ، ہماری کتاب پرانی ، ہمارے نبی پہلے ، ہم تم سے بہتر ہیں ۔(ف46)بسبب ان کے کفر کے ۔(ف47)آخرت میں ۔
اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف٤۸) اور انصاف کی ترازو (ف٤۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)
It is Allah Who has sent down the Book with the truth, and the Scales of Justice; and what do you know – possibly the Last Day could really be near!
और वह जो अल्लाह के बारे में झगड़ते हैं बाद इस के कि मुसलमान उसकी दावत कबूल कर चुके हैं उनकी दलील महज़ बेथाब है उनके रब के पास और उन पर ग़ज़ब है और उनके लिए सख़्त अज़ाब है
Aur woh jo Allah ke bare mein jhagadte hain baad iske ke Musalmaan uski dawat qubool kar chuke hain unki daleel mahaz be-sabaat hai unke Rab ke paas aur unpar ghazab hai aur unke liye sakht azaab hai,
(ف48)یعنی قرآنِ پاک جو قِسم قِسم کے دلائل و احکام پر مشتمل ہے ۔(ف49)یعنی اس نے اپنی کتبِ منزّلہ میں عدل کا حکم دیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ مراد میزان سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے ۔(ف50)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قیامت کا ذکر فرمایا تو مشرکین نے بطریقِ تکذیب کہا کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اس کی جلدی مچا رہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دور کی گمراہی میں ہیں،
Those who do not believe in it are impatient for it, and those who believe in it fear it and know that indeed it is the truth; pay heed! Those who doubt the Last Day are certainly in extreme error.
अल्लाह है जिसने हक़ के साथ किताब उतारी और इन्साफ़ की तराज़ू और तुम क्या जानो शायद क़ियामत क़रीब ही हो
Allah hai jisne haq ke saath kitaab utari aur insaaf ki tarazu aur tum kya jaano shayad qayamat qareeb hi ho,
(ف51)اور یہ گمان کرتے ہیں کہ قیامت آنے والی ہی نہیں ، اسی لئے بطریقِ تمسخر جلدی مچاتے ہیں ۔
اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے،
Allah is Benevolent upon His bondmen – He bestows sustenance to whomever He wills; and He only is the All Powerful, the Most Honourable.
इस की जल्दी मचा रहे हैं वह जो इस पर ईमान नहीं रखते और जिन्हें इस पर ईमान है वह इस से डर रहे हैं और जानते हैं कि बेशक वह हक़ है, सुनते हो बेशक जो क़ियामत में शक़ करते हैं ज़रूर दूर की ग़ुमराही में हैं,
Uski jaldi macha rahe hain woh jo us par imaan nahin rakhte aur jinhein us par imaan hai woh usse darr rahe hain aur jaante hain ke beshak woh haq hai, sunte ho beshak jo qayamat mein shak karte hain zaroor door ki gumraahi mein hain,
(ف52)بے شماراحسان کرتا ہے نیکوں پر بھی اور بدوں پر بھی حتّٰی کہ بندے گناہوں میں مشغول رہتے ہیں اور وہ انہیں بھوک سے ہلاک نہیں کرتا۔(ف53)اور فراخیِٔ عیش عطا فرماتا ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی حسبِ اقتضاءِ حکمت ۔ حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرے بعضے مومن بندے ایسے ہیں کہ تونگری ان کے قوّت و ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں فقیر محتاج کردوں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعضے بندے ایسے ہیں کہ تنگی اور محتاجی ان کے قوّتِ ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں غنی ، مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں ۔
جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵٤) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵٦) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)
Whoever aspires for the yield of the Hereafter – We increase its yield for him; and whoever aspires for the yield of this world – We give him part of it, and he has no portion in the Hereafter.
अल्लाह अपने बंदों पर लुत्फ़ फ़रमाता है जिसे चाहे रोज़ी देता है और वही क़ौवत व इज़्ज़त वाला है,
Allah apne bandon par lutaf farmata hai jise chahe rozi deta hai aur wohi quwwat o izzat wala hai,
(ف54)یعنی جس کو اپنے اعمال سے نفعِ آخرت مقصود ہو ۔(ف55)اس کو نیکیوں کی توفیق دے کر اور اس کے لئے خیرات و طاعات کی راہیں سہل کرکے اور اس کی نیکیوں کا ثواب بڑھا کر ۔(ف56)یعنی جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو ۔ (مدارک)(ف57)یعنی دنیا میں جتنا اس کے لئے مقدّر کیا ہے ۔(ف58)کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کیا ہی نہیں ۔
یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف٦۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف٦۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف٦۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف٦۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف٦٤) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف٦۵)
Or do they have associate deities who have appointed for them a religion, which Allah has not permitted? And were it not for a Word that had already been decided, the judgement would have been passed between them here itself; and indeed for the unjust is a painful punishment.
जो आख़िरत की खीती चाहे हम उसके लिए उसकी खीती बढ़ाएँ और जो दुनिया की खीती चाहे हम उसे इस में से कुछ देंगे और आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं
Jo aakhrat ki kheti chahe hum uske liye uski kheti barhaate hain aur jo duniya ki kheti chahe hum use usmein se kuch dete hain aur aakhrat mein uska kuch hissa nahin,
(ف59)معنٰی یہ ہیں کہ کیا کفّارِ مکّہ اس دِین کو قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے مقرّر فرمایا یا ان کے کچھ ایسے شرکاء ہیں شیاطین وغیرہ ۔(ف60)کفری دینوں میں سے ۔ (ف61)جو شرک و انکارِ بعث پر مشتمل ہے ۔(ف62)یعنی وہ دِینِ الٰہی کے خلاف ہے ۔(ف63)اور جزاء کے لئے روزِ قیامت معیّن نہ فرمادیا گیا ہوتا ۔(ف64)اور دنیا ہی میں تکذیب کرنے والوں کو گرفتارِ عذاب کردیا جاتا ۔(ف65)آخرت میں ۔ اور ظالموں سے مراد یہاں کافر ہیں ۔
تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف٦٦) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف٦۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
You will see the unjust getting terrified of their own deeds, and (evil of) their deeds will certainly befall them; and (that) those who accepted faith and performed good deeds are in blossoming Gardens of Paradise; for them is whatever they wish from their Lord; this only is the great munificence (of Allah).
या उनके लिए कुछ शरीक हैं जिनोंने उनके लिए वह दीन निकाल दिया है कि अल्लाह ने इसकी इज़ाज़त न दी और अगर एक फ़ैसला का वादा न होता तो यहीं इन में फ़ैसला कर दिया जाता और बेशक ज़ालिमों के लिए दर्दनाक अज़ाब है
Ya unke liye kuch shareek hain jinon ne unke liye woh deen nikaal diya hai ke Allah ne uski ijaazat na di aur agar ek faislay ka wada na hota to yahin unmein faisla kar diya jata aur beshak zalimon ke liye dardnaak azaab hai,
(ف66)یعنی کفرواعمالِ خبیثہ سے جو انہوں نے دنیامیں کماۓ تھے ۔ اس اندیشہ سے کہ اب انکی سزا ملنے والی ہے ۔(ف67)ضرور ان سے کسی طرح بچ نہیں سکتے ڈریں یا نہ ڈریں ۔
یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف٦۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف٦۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
This is what Allah gives the glad tidings of to His bondmen who accept faith and do good deeds; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I do not ask any fee from you upon this, except the love between close ones”; and whoever performs a good deed – We further increase the goodness in it for him; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Appreciative.
तुम ज़ालिमों को देखोगे कि अपनी कमाईयों से सहमे हुए होंगे और वह उन पर पड़ कर रहेंगी और जो ईमान लाए और अच्छे काम किए वह जन्नत की फ़ुलवारीयों में हैं, उनके लिए उनके रब के पास है जो चाहें, यही बड़ा फ़ज़्ल है,
Tum zalimon ko dekhoge ke apni kamaiyon se sahme hue honge aur woh unpar par kar rahengi aur jo imaan laaye aur achhe kaam kiye woh Jannat ki phalwariyon mein hain, unke liye unke Rab ke paas hai jo chahein, yahi bara fazl hai,
(ف68)تبلیغِ رسالت اور ارشاد و ہدایت ۔ (ف69)اور تمام انبیاء کا یہی طریقہ ہے ۔ شانِ نزول: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذمّہ مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ، ہم نے گمراہی سے نجات پائی ، ہم دیکھتے ہیں ، کہ حضور کے مصارف بہت زیادہ ، اس لئے ہم یہ مال خدّامِ آستانہ کی خدمت میں نذر کے لئے لائے ہیں ، قبول فرما کر ہماری عزّت افزائی کی جائے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ اموال واپس فرمادیئے ۔(ف70)تم پر لازم ہے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان مودّت ، محبّت واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا اَ لْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآ ءُ بَعْضٍ ۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان مثل ایک عمارت کے ہیں جس کا ہر ایک حِصّہ دوسرے حصّہ کو قوّت اور مدد پہنچاتا ہے ، جب مسلمانوں میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبّت واجب ہوئی تو سیدِ عالَمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کس قدر محبّت فرض ہوگی ، معنٰی یہ ہیں کہ میں ہدایت و ارشاد پر کچھ اجرت نہیں چاہتا لیکن قرابت کے حقوق تو تم پر واجب ہیں ، ان کا لحاظ کرو اور میرے قرابت والے تمہارے بھی قرابتی ہیں ، انہیں ایذا نہ دو ۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آلِ پاک ہے ۔ (بخاری) مسئلہ: اہلِ قرابت سے کون کون مراد ہیں اس میں کئی قول ہیں، ایک تو یہ کہ مراد اس سے حضرت علی و حضرت فاطمہ و حسنین کریمین ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہم ، ایک قول یہ ہے کہ آلِ علی و آلِ عقیل و آلِ جعفر و آلِ عباس مراد ہیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ حضور کے وہ اقارب مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ مخلصینِ بنی ہاشم و بنی مطّلب ہیں ، حضور کی ازواجِ مطہّرات حضور کے اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔ مسئلہ : حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبّت اور حضور کے اقارب کی محبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (جمل وخازن وغیرہ)(ف71)یہاں نیک کام سے مراد یارسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آلِ پاک کی محبّت ہے یا تمام امورِ خیر ۔
یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷٤) اور مٹاتا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷٦) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
What! They dare say that, “He has fabricated a lie against Allah”? And if Allah wills, He can seal your heart by His mercy and protection*; and Allah wipes out falsehood and proves the truth by His Words; indeed He knows what lies within the hearts. (* So that you may not be agonised by what they do).
यह है वह जिसकी खुशख़बरी देता है अल्लाह अपने बंदों को जो ईमान लाए और अच्छे काम किए, तुम फ़रमाओ मैं इस पर तुम से कुछ उज़रत नहीं मांगता मगर क़रबात की मोहब्बत और जो नेक काम करे हम उसके लिए इस में और ख़ूब़ी बढ़ाएँ, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला क़दर फ़रमाने वाला है,
Yeh hai woh jiski khushkhabri deta hai Allah apne bandon ko jo imaan laaye aur achhe kaam kiye, tum farmao main is par tumse kuch ujrat nahin maangta magar qarabat ki mohabbat aur jo nek kaam kare hum uske liye usmein aur khoobi barhaate hain, beshak Allah bakhshne wala qadar farmane wala hai,
(ف72)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کفّارِ مکّہ ۔(ف73)نبوّت کا دعوٰی کرکے یا قرآنِ کریم کو کتابِ الٰہی بتا کر ۔(ف74)کہ آپ کو ان کی بدگوئیوں سے ایذا نہ ہو ۔(ف75)جو کفّار کہتے ہیں ۔(ف76)جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمائیں چنانچہ ایسا ہی کیا کہ ان کے باطل کو مٹایا اور کلمۂِ اسلام کو غالب کیا ۔
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
And it is He Who accepts repentance from His bondmen, and pardons sins*, and knows all your deeds. (Repentance for the cardinal sins, while lesser sins are wiped out by good deeds.)
या यह कहते हैं कि उन्होंने अल्लाह पर झूठ बाँध लिया और अल्लाह चाहे तो तुम्हारे ऊपर अपनी रहमत व हिफ़ाज़त की मुहर फ़रमा दे और मिटा देता है बातिल को और हक़ को साबित फ़रमाता है अपनी बातों से बेशक वह दिलों की बातें जानता है,
Ya yeh kehte hain ke unhon ne Allah par jhoot baandh liya aur Allah chahe to tumhare upar apni rehamat o hifazat ki mehr farma de aur mitaata hai baatil ko aur haq ko sabit farmata hai apni baton se beshak woh dilon ki baton ko jaanta hai,
(ف77)مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیّت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنب رہنے کا پختہ ارادہ کرے ، اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو ۔
اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، (ف۷۸) اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،
And He accepts the prayers of those who accept faith and do good deeds, and gives them a greater reward by His munificence; and for the disbelievers is a severe punishment.
और वही है जो अपने बंदों की तौबा कबूल फ़रमाता और गुनाहों से दरगज़र फ़रमाता है और जानता है जो कुछ तुम करते हो,
Aur wohi hai jo apne bandon ki tauba qubool farmata aur gunahon se dar guzar farmata hai aur jaanta hai jo kuch tum karte ho,
(ف78)یعنی جتنا دعا مانگنے والے نے طلب کیا تھا اس سے زیادہ عطا فرماتا ہے ۔
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،
And had Allah increased the sustenance for all His slaves, they would have surely caused turmoil in the land, but He sends it down by a proper assessment as He wills; indeed He is Well Aware of, Seeing His bondmen.
और दुआ कबूल फ़रमाता है उनकी जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और उन्हें अपने फ़ज़्ल से और इन'आम देता है, और काफ़रों के लिए सख़्त अज़ाब है,
Aur dua qubool farmata hai unki jo imaan laaye aur achhe kaam kiye aur unhein apne fazl se aur inaam deta hai, aur kaafiron ke liye sakht azaab hai,
(ف79)تکبّر وغرور میں مبتلا ہو کر ۔(ف80)جس کے لئے جتنا مقتضائے حکمت ہے اس کو اتنا عطافرماتا ہے ۔
اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے ناامید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف۸۱) اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،
And it is He Who sends down the rain when they have despaired, and spreads out His mercy; and He is the Benefactor, the Most Praiseworthy.
और अगर अल्लाह अपने सब बंदों का रज़क वसीअ कर देता तो ज़रूर ज़मीन में फ़साद फैलाते लेकिन वह अंदाज़ा से उतारता है जितना चाहे, बेशक वह बंदों से ख़बरदार है उन्हें देखता है,
Aur agar Allah apne sab bandon ka rozi wasee kar deta to zaroor zameen mein fasaad phailate lekin woh andazay se utarta hai jitna chahe, beshak woh bandon se khabardaar hai unhein dekhta hai,
(ف81)اور مینھ سے نفع دیتا ہے اور قحط کو دفع فرماتا ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر (ف۸۲) جب چاہے قادر ہے،(
And among His signs is the creation of the heavens and the earth, and the moving creatures dispersed in it; and He is Able to gather them whenever He wills.
और वही है कि मेन्हा उतारता है उनके ना उम्मीद होने पर और अपनी रहमत फैलाता है और वही काम बनाने वाला है सब ख़ूबियों सराहा,
Aur wohi hai ke mehn utarta hai unke naa-umeed hone par aur apni rehamat phailata hai aur wohi kaam banane wala hai sab khoobiyon se saraha,
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
And whatever calamity befalls you, is because of what your hands have earned – and there is a great deal He pardons!
और इसकी निशानियों से है आसमानों और ज़मीन की पेदाइश और जो चलने वाले उनमें फैलाए, और वह उनके इकट्ठा करने पर जब चाहे क़ादिर है,
Aur uski nishaniyon se hai aasmanon aur zameen ki paidaish aur jo chalne wale unmein phailaye, aur woh unke ikattha karne par jab chahe qaadir hai,
(ف83)یہ خطاب مومنینِ مکلَّفین سے ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں ، مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثران کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ، ان تکلیفوں کو اللہ تعالٰی ان کے گناہوں کا کَفّارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے رفعِ درجات کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں وارد ہے انبیاء علیہم السلام جو گناہوں سے پاک ہیں اور چھوٹے بچّے جو مکلَّف نہیں ہیں اس آیت کے مخاطب نہیں ۔فائدہ : بعضے گمراہ فرقے جو تناسخ کے قائل ہیں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچّوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے ، اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہو اور ابھی تک ان سے کوئی گناہ ہوا نہیں تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو جس میں گناہ ہوئے ہوں ، یہ بات باطل ہے کیونکہ بچّے اس کلام کے مخاطب ہی نہیں جیسا کہ بالعموم تمام خطاب عاقلین ، بالغین کو ہوتے ہیں ، پس تناسخ والوں کا استدلال باطل ہوا ۔
وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸٦) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)
If He wills, He can calm the winds so the ships remain still on the sea surface; indeed in this are signs for every greatly enduring, grateful person.
और इसकी निशानियों से हैं दरिया में चलने वालियाँ फ़ जैसे पहाड़ियाँ,
Aur uski nishaniyon se hain dariya mein chalne waliyan jaise pahaariyan,
(ف87)جوکَشتیوں کو چلاتی ہے ۔(ف88)یعنی دریا کے اوپر ۔(ف89)چلنے نہ پائیں ۔(ف90)صابر ، شاکر سے مومنِ مخلص مراد ہے جو سختی و تکلیف میں صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں شکر ۔
تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنے کا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)
Whatever you have received is only for usage in the life of this world, and that which is with Allah is much better and more lasting – for those who believe and rely upon their Lord.
और जान लें वह जो हमारी आयतों में झगड़ते हैं, कि उन्हें कहीं भागने की जगह नहीं,
Aur jaan jayein woh jo hamari aayaton mein jhagadte hain, ke unhein kahin bhaagne ki jagah nahin,
(ف95)دنیوی مال و اسباب ۔(ف96)صرف چند روز اس کو بقا نہیں ۔(ف97)یعنی ثواب وہ ۔(ف98)شانِ نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے اپنا کل مال صدقہ کردیا اور اس پر عرب کے لوگوں نے آپ کو ملامت کی ۔
اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،
And (for) those who avoid cardinal sins and indecencies, and forgive (even) when they are angry.
तुम्हें जो कुछ मिला है वह जीती दुनिया में बरतने का है और वह जो अल्लाह के पास है बेहतर है और अधिक बाक़ी रहने वाला उनके लिए जो ईमान लाए और अपने रब पर भरोसा करते हैं
Tumhein jo kuch mila hai woh jeeti duniya mein bartne ka hai aur woh jo Allah ke paas hai behtar hai aur zyada baaqi rehne wala unke liye jo imaan laaye aur apne Rab par bharosa karte hain,
اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
And those who obeyed the command of their Lord and kept the prayer established; and whose affairs are with mutual consultation; and who spend in Our cause from what We have bestowed upon them.
और वह जो बड़े बड़े गुनाहों और बे-हयाईयों से बचते हैं और जब ग़ुस्सा आए माफ़ कर देते हैं,
Aur woh jo bade bade gunahon aur be-hiyaiyon se bachte hain aur jab gussa aaye maaf kar dete hain,
(ف99)شانِ نزول : یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرکے ایمان و طاعت کو اختیار کیا ۔(ف100)اس پر مداومت کی ۔(ف101)وہ جلدی اور خود رائی نہیں کرتے ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے ۔
اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)
And those who take revenge when rebellion harms them.
और वह जिन्होंने अपने रब का हुक़्म माना और नमाज़ कायम रखी और उनका काम उनके आपस के मशवरे से है और हमारे दिए से कुछ हमारी राह में ख़र्च करते हैं,
Aur woh jinon ne apne Rab ka hukm maana aur namaz qayam rakhi aur unka kaam unke aapas ke mashware se hai aur hamare diye se kuch hamari raah mein kharch karte hain,
(ف102)یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرے تو انصاف سے بدلہ لیتے ہیں اور بدلے میں حد سے تجاوز نہیں کرتے ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ مومن دو طرح کے ہیں ایک وہ جو ظلم کو معاف کرتے ہیں ، پہلی آیت میں ان کا ذکر فرمایا گیا ، دوسرے وہ جو ظالم سے بدلہ لیتے ہیں ، ان کا اس آیت میں ذکر ہے ۔ عطا نے کہا کہ یہ وہ مومنین ہیں جنہیں کفّار نے مکّہ مکرّمہ سے نکالا اوران پر ظلم کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں اس سرزمین میں تسلّط دیا اور انہوں نے ظالموں سے بدلہ لیا ۔
اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰٤)
The retribution of a harmful deed is the harm equal to it; so whoever forgives and makes amends, so his reward is upon Allah; indeed He does not befriend the unjust.
और वह कि जब उन्हें बग़ावत पहुंचे बदला लेते हैं
Aur woh ke jab unhein baghawat pohonche badla lete hain,
(ف103)معنٰی یہ ہیں کہ بدلہ قدرِ جنایت ہونا چاہئے ، اس میں زیادتی نہ ہو اور بدلے کو برائی کہنا مجاز ہے کہ صورۃً مشابہ ہونے کے سبب سے کہا جاتا ہے اور جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے بُرا معلوم ہوتا ہے اور برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن عفو اس سے بہتر ہے ۔(ف104)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ظالموں سے وہ مراد ہیں جو ظلم کی ابتدا کریں ۔
اور بیشک جس نے اپنی مظلومی پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،
And there is no way of reproach against those who take revenge after being wronged.
और बुराई का बदला उसी की बराबर बुराई है तो जिसने माफ़ किया और काम संवार लिया तो उसका इकर अल्लाह पर है, बेशक वह दोस्त नहीं रखता ज़ालिमों को
Aur burayi ka badla usi ki barabar burayi hai to jisne maaf kiya aur kaam sanwaara to uska ajar Allah par hai, beshak woh dost nahin rakhta zalimon ko,
اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)
And whomever Allah sends astray, there is no friend for him against Allah; and you will see the unjust when they behold the punishment saying, “Is there a way to return?”
और बेशक जिसने सब्र किया और बख़्श दिया तो यह जरूर हिम्मत के काम हैं,
Aur beshak jisne sabr kiya aur bakhsh diya to yeh zaroor himmat ke kaam hain,
(ف108)کہ اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف109)روزِ قیامت ۔(ف110)یعنی دنیامیں تاکہ وہاں جا کر ایمان لے آئیں ۔
اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
And you will see them being presented upon the fire, cowering with disgrace watching with concealed eyes; and the believers will say, “Indeed ruined are those who have lost themselves and their families on the Day of Resurrection”; pay heed! Indeed the unjust are in a punishment that will never end.
और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसका कोई रफ़ीक़ नहीं अल्लाह के मुकाबिल और तुम ज़ालिमों को देखोगे कि जब अज़ाब देखेंगे कहीं कहेंगे क्या वापिस जाने का कोई रास्ता है
Aur jise Allah gumraah kare uska koi rafeeq nahin Allah ke muqabil aur tum zalimon ko dekhoge ke jab azaab dekhenge kahenge kya wapas jaane ka koi rasta hai,
(ف111)یعنی ذلّت و خوف کے باعث آ گ کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھیں گے جیسے کوئی گردن زدنی اپنے قتل کے وقت تیغ زن کی تلوار کو دزدیدہ نگاہ سے دیکھتا ہے ۔(ف112)جانوں کا ہارنا تو یہ ہے کہ وہ کفر اختیار کرکے جہنّم کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوئے اور گھر والوں کا ہارنا یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں جنّت کی جو حوریں ان کے لئے نامزد تھیں ان سے محروم ہوگئے ۔(ف113)یعنی کافر ۔
اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے (ف۱۱٤) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں (ف۱۱۵)
And they had no friends to help them against Allah; and there is no way for one whom Allah sends astray.
और तुम उन्हें देखोगे कि आग पर पेश किए जाते हैं ज़िल्लत से दबे लचे छुपी निगाहों देखते हैं और ईमान वाले कहेंगे बेशक हार (नुक़सान) में वे हैं जो अपनी जानें और अपने घर वाले हार बैठे क़ियामत के दिन सुनते हो बेशक ज़ालिम हमेशा के अज़ाब में हैं,
Aur tum unhein dekhoge ke aag par pesh kiye ja rahe hain zillat se dabe luche chhupi nigaahon dekhte hain aur imaan wale kahenge beshak haar (nuqsan) mein woh hain jo apni jaanen aur apne ghar wale haar baithe qayamat ke din sunte ho beshak zalim hamesha ke azaab mein hain,
(ف114)اور اس کے عذاب سے بچاسکتے ۔(ف115)خیر کا ۔ نہ وہ دنیا میں حق تک پہنچ سکے ، نہ آخرت میں جنّت تک ۔
اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱٦) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)
Obey your Lord before the advent of a Day from Allah, which cannot be averted; you will not have any refuge on that day, nor will you be able to deny.
और उनके कोई दोस्त न हुए कि अल्लाह के मुकाबिल उनकी मदद करते और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसके लिए कहीं रास्ता नहीं
Aur unke koi dost na hue ke Allah ke muqabil unki madad karte aur jise Allah gumraah kare uske liye kahin rasta nahin,
(ف116)اور سیدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرماں برداری کرکے توحید و عبادتِ الٰہی اختیار کرو ۔(ف117)اس سے مراد یا موت کا دن ہے یا قیامت کا ۔(ف118)اپنے گناہوں کا یعنی اس دن کوئی رہائی کی صورت نہیں ، نہ عذاب سے بچ سکتے ہو ، نہ اپنے اعمالِ قبیحہ کا انکار کرسکتے ہو جو تمہارے اعمال ناموں میں درج ہیں ۔
تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچا دینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲٤) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)
So if they turn away from you, We have not sent you as a guardian over them; upon you is nothing but to convey (the message); and when We make man taste some mercy from Us, he rejoices upon it; and if some harm reaches them because of what their own hands have sent before, thereupon man is ungrateful!
अपने रब का हुक़्म मानो उस दिन के आने से पहले जो अल्लाह की तरफ़ से टलने वाला नहीं इस दिन तुम्हें कोई पनाह न होगी और न तुम्हें इंकार करते बने
Apne Rab ka hukm maano us din ke aane se pehle jo Allah ki taraf se talne wala nahin us din tumhein koi panaah na hogi aur na tumhein inkaar karte bane,
(ف119)ایمان لانے اور اطاعت کرنے سے ۔ (ف120)کہ تم پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو ۔(ف121)اور وہ تم نے ادا کردیا ۔ (وکان ہٰذا قبل الامربالجہاد)(ف122)خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافیّت یا امن و سلامت یا جاہ و مرتبت ۔(ف123)یااور کوئی مصیبت و بَلا مثل قحط و بیماری و تنگ دستی وغیرہ کے رونما ہو ۔(ف124)یعنی ان کی نافرمانیوں اور معصیّتوں کے سبب سے ۔(ف125)نعمتوں کو بھول جاتا ہے ۔
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف۱۲٦) پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف۱۲۷) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف۱۲۸)
For Allah only is the kingship of the heavens and the earth; He creates whatever He wills; He may bestow daughters to whomever He wills, and sons to whomever He wills.
तो अगर वह मुँह फेरें तो हम ने तुम्हें उन पर निग़हबान बना कर नहीं भेजा तुम पर तो नहीं मगर पहुँचा देना और जब हम आदमी को अपनी तरफ़ से किसी रहमत का मज़ा देते हैं और इस पर खुश हो जाता है और अगर उन्हें कोई बुराई पहुँचे बदला इसका जो उनके हाथों ने आगे भेजा तो इंसान बड़ा नाशकरा है
To agar woh munh pheri to humne tumhein unpar nigehban bana kar nahin bheja tum par to nahin magar pohcha dena aur jab hum aadmi ko apni taraf se kisi rehamat ka maza dete hain aur uspar khush ho jata hai aur agar unhein koi burai pohonche badla uska jo unke haathon ne aage bheja to insaan bada na-shukra hai,
(ف126)جیسا چاہتاہے تصرّف فرماتا ہے ،کوئی دخل دینے اور اعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا ۔(ف127)بیٹانہ دے ۔(ف128)دُختر نہ دے ۔
یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
Or may mix them, the sons and daughters; and may make barren whomever He wills; indeed He is All Knowing, Able.
अल्लाह ही के लिए है आसमानों और ज़मीन की सुल्तानत पैदा करता है जो चाहे जिसे चाहे बेटियाँ अता फ़रमाए और जिसे चाहे बेटे दे
Allah hi ke liye hai aasmanon aur zameen ki saltanat paida karta hai jo chahe jise chahe betiyan ata farmaye aur jise chahe betay de,
(ف129)کہ اس کے اولاد ہی نہ ہو ، وہ مالک ہے ، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے ، جسے جو چاہے دے ، انبیاء علیہم السلام میں بھی یہ سب صورتیں پائی جاتی ہیں ، حضرت لوط و حضرت شعیب علیہما السلام کے صرف بیٹیاں تھیں ،کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صرف فرزند تھے ، کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں اور سیدِ انبیاء حبیبِ خدامحمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں اور حضرت یحیٰی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں ۔ٍ
اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،(۲
And it is not for any human that Allah may speak to him except as a divine revelation or while the human is on this side of the veil of greatness, or that He sends an angel to reveal by His permission, whatever He wills; indeed He is Supreme, Wise.
या दोनों मिला दे बेटे और बेटियाँ और जिसे चाहे बाँच कर दे बेशक वह इल्म व क़ुदरत वाला है,
Ya dono mila de betay aur betiyan aur jise chahe baanjh kar de beshak woh ilm o qudrat wala hai,
(ف130)یعنی بے واسطہ اس کے دل میں القا فرما کر اور الہام کرکے بیداری میں یا خواب میں ، اس میں وحی کا وصول بے واسطہ سمع کے ہے اور آیت میں اِلاَّوَحْیًا سے یہی مراد ہے ، اس میں یہ قید نہیں کہ اس حال میں سامع متکلم کو دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو ۔ مجاہد سے منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے سینۂِ مبارک میں زبور کی وحی فرمائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبحِ فرزند کی خواب میں وحی فرمائی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معراج میں اسی طرح کی وحی فرمائی جس کا فَاَوۡحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی میں بیا ن ہے ، یہ سب اسی قِسم میں داخل ہیں ، انبیاء کے خواب حق ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ انبیاء کے خواب وحی ہیں ۔ (تفسیرابی السعودو کبیر و مدارک وزرقانی علی المواہب وغیرہ)(ف131)یعنی رسول پسِ پردہ اس کا کلام سنے ، اس طریقِ وحی میں بھی کوئی واسطہ نہیں ، مگر سامع کو اس حال میں متکلم کا دیدار نہیں ہوتا ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اسی طرح کے کلام سے مشرف فرمائے گئے ۔ شانِ نزول : یہود نے حضورِ پرنورسیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ تعالٰی سے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیکھتے تھے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب دیا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نہیں دیکھتے تھے اور اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ مسئلہ: اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا پردہ ہو جیسا جسمانیات کے لئے ہوتا ہے ، اس پردہ سے مراد سامع کا دنیا میں دیدار سے محجوب ہونا ہے ۔(ف132)اس طریقِ وحی میں رسول کی طرف فرشتہ کی وساطت ہے ۔
اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳٤) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳٦)
And this is how We sent the divine revelation to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – a life giving thing, by Our command; neither did you know the Book nor the detailed commands of religion, but We have made this Qur’an a light by which We guide whomever We will from Our bondmen; and indeed you surely do guide to the Straight Path.
और किसी आदमी को नहीं पहुँचता कि अल्लाह इस से कलाम फ़रमाए मगर wahi के तौर पर या यूँ कि वह बशर पर वह अजमत के इधर हो या कोई फ़रिश्ता भेजे कि वह इसके हुक़्म से wahi करे जो वह चाहे बेशक वह बुलंदी व हिक़मत वाला है,
Aur kisi aadmi ko nahin pohonchta ke Allah usse kalaam farmaye magar wahi ke taur par ya yun ke woh bashar par woh azmat ke idhar ho ya koi farishta bheje ke woh uske hukm se wahi kare jo woh chahe beshak woh bulandi o hikmat wala hai,
(ف133)اے سیدِ عالَم خاتَمُ المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف134)یعنی قرآنِ پاک جو دلوں میں زندگی پیدا کرتا ہے ۔(ف135)یعنی قرآن شریف کو ۔(ف136)یعنی دِینِ اسلام ۔
اللہ کی راہ (ف۱۳۷) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،
The path of Allah – the One to Whom only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; pay heed! Towards Allah only do all matters return.
और युनही हम ने तुम्हें wahi भीजी एक जान फ़ज़ा चीज़ अपने हुक़्म से, इससे पहले न तुम किताब जानते थे न अहकाम शरअ की तफ़सील हाँ हमने इसे नूर किया जिससे हम राह दिखाते हैं अपने बंदों से जिसे चाहते हैं, और बेशक तुम ज़रूर सीधी राह बताते हो
Aur yunhi humne tumhein wahi bheji ek jaan-fiza cheez apne hukm se, isse pehle na tum kitaab jaante the na ahkaam-e-shar’a ki tafseel haan humne ise noor kiya jisse hum raah dikhate hain apne bandon se jise chaahte hain, aur beshak tum zaroor seedhi raah batate ho,
(ف137)جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے مقرّر فرمائی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page