تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۵)
So shall We divert the advice away from you, because you are a nation that exceeds the limits?
तो क्या हम तुम से ज़िक्र का पहलू फेर दें इस पर कि तुम लोग हद से बढ़ने वाले हो
To kya hum tum se zikr ka pehlu pher den is par ke tum log had se barhne wale ho
(ف5)یعنی تمہارے کفر میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں مہمل چھوڑ دیں اور تمہاری طرف سے وحیِ قرآن کا رخ پھیردیں اور تمہیں امر و نہی کچھ نہ کریں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ہم ایسا نہ کریں گے ۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ خدا کی قَسم اگر یہ قرآنِ پاک اٹھالیا جاتا اس وقت جب کہ اس امّت کے پہلے لوگوں نے اس سے اعراض کیا تھا تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اس نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا ۔
تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے (ف۷) اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
We therefore destroyed the people who were more forceful than these, and the example of the earlier ones has already gone by.
तो हम ने वह हलाक कर दिए जो उनसे भी पकड़ में सख़्त थे और अगलों का हाल गुज़र चुका है,
To hum ne woh halak kar diye jo un se bhi pakar mein sakht the aur aglon ka haal guzar chuka hai,
(ف7)اور ہر طرح کا زور و قوّت رکھتے تھے ، آپ کی امّت کے لوگ جو پہلے کفّار کی چال چلتے ہیں ، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کا بھی وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا کہ ذلّت و رسوائی کی عقوبتوں سے ہلاک کئے گئے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۸) کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے (ف۹)
And if you ask them, “Who has created the heavens and the earth?”, they will surely say, “They are created by the Most Honourable, the All Knowing.”
और अगर तुम उनसे पूछो कि आसमान और ज़मीन किस ने बनाए तो ज़रूर कहेंगे उन्हें बनाया उस इज़्ज़त वाले इल्म वाले ने
Aur agar tum un se pucho ke aasmaan aur zameen kis ne banaye to zaroor kahenge unhen banaya us izzat wale ilm wale ne
(ف8)یعنی مشرکین سے ۔(ف9)یعنی اقرار کریں گے کہ آسمان وزمین کو ا للہ تعالٰی نے بنایا اور یہ بھی اقرار کریں گے کہ وہ عزّت و علم والا ہے باوجود اس اقرار کے بعث کا انکار کیسی انتہادرجہ کی جہالت ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے اظہارِ قدرت کے لئے اپنے مصنوعات کا ذکر فرماتا ہے اور اپنے اوصاف و شان کا اظہار کرتا ہے ۔
اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے (ف۱۱) تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے (ف۱۲)
And Who sent down water from the sky with a proper measure, so We revived a dead city with it; this is how you will be taken out.
और वह जिस ने आसमान से पानी उतारा एक अंदाज़े से तो हम ने उस से एक मुर्दा शहर ज़िन्दा फ़रमा दिया, यूं ही तुम निकाले जाओगे
Aur woh jis ne aasmaan se paani utara ek andaze se to hum ne is se ek murda shehar zinda farma diya, yoonhi tum nikale jaoge
(ف11)تمہاری حاجتوں کی قدر نہ اتنا کم کہ اس سے تمہاری حاجتیں پوری نہ ہوں ، نہ اتنا زیادہ کہ قومِ نوح کی طرح تمہیں ہلاک کردے ۔(ف12)اپنی قبروں سے زندہ کرکے ۔
کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو (ف۱٤) پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
So that you may properly mount their backs, and may remember your Lord’s favour when you have mounted them, and say, “Purity is to Him, Who has given this ride in our control, and we did not have the strength for it.”
कि तुम उन की पीठों पर ठीक बैठो फिर अपने रब की नेमत याद करो जब उस पर ठीक बैठ लो और यूं कहो पाकी है उसे जिस ने इस सवारी को हमारे बस में कर दिया और यह हमारे बोते (क़ाबू) की न थी,
Ke tum un ki peethon par theek baitho phir apne Rab ki ne’mat yaad karo jab us par theek baith lo aur yoon kaho: Paaki hai usay jis ne is sawaari ko hamare bas mein kar diya aur yeh hamare bote (qaabu) ki na thi,
(ف14)خشکی اور تری کے سفر میں ۔
وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿14﴾
اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۵)
“And indeed we have to return to our Lord.”
और बेशक हमें अपने रब की तरफ़ पलटना है
Aur beshak humein apne Rab ki taraf palatna hai
(ف15)آخر کار ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنے ناقہ پر سوار ہوتے وقت پہلے الحمد للہ پڑھتے ، پھر سبحان اللہ اور اللہ اکبر ، یہ سب تین تین بار پھر یہ آیت پڑھتے : سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ، اس کے بعد اور دعائیں پڑھتے اور جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کَشتی میں سوار ہوتے تو فرماتے بِسْمِ اللہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا ط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْر رَّحِیْم ۔
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا (ف۱٦) بیشک آدمی (ف۱۷) کھلا ناشکرا ہے (ف۱۸)
And from* His bondmen, they appointed a portion for Him; man is indeed an open ingrate. (* Appointed some of His creation as His sons and daughters).
और उसके लिए उसके बन्दों में से टुकड़ा ठहराया बेशक आदमी खुला नाशुक्रा है
Aur uske liye uske bandon mein se tukra thehraya beshak aadmi khula nashukra hai
(ف16)یعنی کفّار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا خالق ہے یہ ستم کیا کہ ملائکہ کو اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتایا اور اولاد صاحبِ اولاد کا جز ہوتی ہے ، ظالموں نے اللہ تبارک و تعالٰی کے لئے جزقرار دیا ،کیسا عظیم جُرم ہے ۔(ف17)جو ایسی باتوں کا قائل ہے ۔(ف18)اس کا کفر ظاہر ہے ۔
اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی (ف۲۰) جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے (ف۲۱) تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے (ف۲۲)
And if one of them is given the glad tidings of what he professes regarding the Most Gracious, his face blackens and he is mournful!
और जब उन में किसी को खुशख़बरी दी जाए उस चीज़ की जिस का वर्णन रहमान के लिए बता चुका है तो दिन भर उस का मुँह काला रहे और ग़म खाया करे
Aur jab un mein se kisi ko khush khabri di jaye us cheez ki jiska wasf Rehman ke liye bata chuka hai to din bhar uska munh kaala rahe aur gham khaya kare
(ف20)یعنی بیٹی کی کہ تیرے گھرمیں بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔(ف21)کہ معاذ اللہ وہ بیٹی والا ہے ۔(ف22)اور بیٹی کا ہونا اس قدر ناگوار سمجھے باوجود اس کے خدائے پاک کے لئے بیٹیاں بتائے تَعَالٰی اللہُ عَنْ ذٰلِکَ ۔
اور کیا (ف۲۳) وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے (ف۲٤) اور بحث میں صاف بات نہ کرے (ف۲۵)
And (do they chose for Him) one who is brought up among ornaments, and cannot express herself clearly in debate?
और क्या वह जो गहने (ज़ेवर) में परवान चढ़े और बहस में साफ़ बात न करे
Aur kya woh jo gehne (zevar) mein parwan chadhe aur behas mein saaf baat na kare
(ف23)کافر حضرت رحمٰن کے لئے اولاد کی قِسموں میں سے تجویز کرتے ہیں ۔(ف24)یعنی زیوروں کی زیب و زینت میں نازو نزاکت کے ساتھ پرورش پائے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ زیور سے تزیّن دلیلِ نقصان ہے تو مَردوں کو اس سے اجتناب چاہئے ، پرہیزگاری سے اپنی زینت کریں ۔ اب آگے آیت میں لڑکی کی ایک اور کمزوری کا اظہار فرمایا جاتا ہے ۔(ف25)یعنی اپنے ضعفِ حال اور قلّتِ عقل کی وجہ سے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ عورت جب گفتگو کرتی ہے اور اپنی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا چاہتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دلیل پیش کردیتی ہے ۔
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا (ف۲٦) کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے (ف۲۷) اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی (ف۲۸) اور ان سے جواب طلب ہوگا (ف۲۹)
And they appoint the angels, who are the bondmen of the Most Gracious, as females; were they present at the time of the angels’ creation? Their declaration will be now recorded and they will be questioned.
और उन्होंने फ़रिश्तों को, कि रहमान के बन्दे हैं औरतें ठहराया क्या उनके बनाते वक़्त यह हाज़िर थे अब लिख ली जाएगी उनकी गवाही और उनसे जवाब तलब होगा
Aur unhon ne farishton ko, ke Rehman ke bande hain auratein thehraya kya unke banate waqt yeh haazir the? Ab likh li jaye gi unki gawahi aur un se jawab talab hoga
(ف26)حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتانے میں بے دینوں نے تین کفر کئے ، ایک تو اللہ تعالٰی کی طرف اولاد کی نسبت ، دوسرے اس ذلیل چیز کا اس کی طرف منسوب کرنا جس کووہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارا نہیں کرتے ، تیسرے ملائکہ کی توہین انہیں بیٹیاں بتانا ۔ (مدارک ) اب اس کا رد فرمایا جاتاہے ۔(ف27)فرشتوں کا مذکر یا مؤنث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اور ان کے پاس خبر کوئی آئی نہیں توجو کفّار ان کو مؤنث قرار دیتے ہیں ان کا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے اورانہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے ؟ جب یہ بھی نہیں تو محض جاہلانہ گمراہی کی بات ہے ۔(ف28)یعنی کفّار کا فرشتوں کے مؤنث ہونے پر گواہی دینا لکھ لیا جائے گا ۔
اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے (ف۳۰) انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں (ف۳۱) یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں (ف۳۲)
And they say, “If the Most Gracious had willed, we would not have worshipped them!” They do not know its truth at all; they only make guesses.
और बोले अगर रहमान चाहता हम उन्हें न पूजते उन्हें उसकी हक़ीक़त कुछ मालूम नहीं यूं ही अटकले दौड़ाते हैं
Aur bole agar Rehman chahta hum unhen na poojte, unhein uski haqiqat kuch maloom nahin, yoonhi atklein dorhate hain
(ف29)آخرت میں اور اس پر سزا دی جائے گی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفّار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کس طرح کہتے ہو ؟ تمہارا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں وہ سچّے تھے ۔ اس گواہی کو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ لکھی جائے گی اور اس پر جواب طلب ہوگا ۔(ف30)یعنی ملائکہ کو ۔ مطلب یہ تھا کہ اگر ملائکہ کی پرستش کرنے سے اللہ تعالٰی راضی نہ ہوتا تو ہم پر عذاب نازل کرتا اور جب عذاب نہ آیا تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہی چاہتا ہے ، یہ انہوں نے ایسی باطل بات کہی جس سے لازم آئے کہ تمام جُرم جو دنیا میں ہوتے ہیں ان سے خدا راضی ہے ، اللہ تعالٰی ان کی تکذیب فرماتا ہے ۔(ف31)وہ رضائے الٰہی کے جاننے والے ہی نہیں ۔(ف32)جھوٹ بکتے ہیں ۔
بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں (ف۳٤)
Rather they said, “We found our forefathers upon a religion, and we are following their footsteps.”
बल्कि बोले हम ने अपने बाप दादा को एक दीन पर पाया और हम उनकी लकीर पर चल रहे हैं
Balke bole hum ne apne baap dada ko ek deen par paaya aur hum unki lakeer par chal rahe hain
(ف34)آنکھیں میچ کر بے سوچے سمجھے ان کا اتباع کرتے ہیں ، وہ مخلوق پرستی کیا کرتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل بجز اس کے نہیں ہے کہ یہ کام وہ باپ دادا کی پیروی میں کرتے ہیں ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان سے پہلے بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے ۔
اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں (ف۳۵)
And similarly, whenever We sent a Herald of Warning before you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) into any town, its wealthy people said, “We found our forefathers upon a religion, and we are behind their footsteps.”
और ऐसे ही हम ने तुम से पहले जब किसी शहर में डर सुनाने वाला भेजा वहाँ के आसूदों (अमीरों) ने यही कहा कि हम ने अपने बाप दादा को एक दीन पर पाया और हम उनकी लकीर के पीछे हैं
Aur aise hi hum ne tum se pehle jab kisi shehar mein dar sunane wala bheja wahan ke asoodon (amiron) ne yehi kaha ke hum ne apne baap dada ko ek deen par paaya aur hum unki lakeer ke peeche hain
(ف35)اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کی اندھے بن کرپیروی کرناکفّار کا قدیمی مرض ہے اور انہیں اتنی تمیز نہیں کہ کسی کی پیروی کرنے کے لئے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہو ، چنانچہ ۔
نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ (ف۳٦) لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے (ف۳۷) جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۸)
The prophet said, “What! Even if I bring to you a path better than what you found your forefathers following?”; they said, “We do not believe in whatever you have been sent with.”
नबी ने फ़रमाया और क्या जब भी कि मैं तुम्हारे पास वह लाऊँ जो सीधी राह हो उस से जिस पर तुम्हारे बाप दादा थे बोले जो कुछ तुम ले कर भेजे गए हम उसे नहीं मानते
Nabi ne farmaya aur kya jab bhi ke main tumhare paas woh laoon jo seedhi raah ho is se jis par tumhare baap dada the, bole jo kuch tum lekar bheje gaye hum use nahin maante
(ف36)دِینِ حق ۔(ف37)یعنی اس دِین سے ۔(ف38)اگرچہ تمہارا دِین حق و صواب ہو مگر اپنے باپ دادا کا دِین چھوڑنے والے نہیں چاہے وہ کیسا ہی ہو ، اٍس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اور اسے (ف٤۰) اپنی نسل میں باقی کلام رکھا (ف٤۱) کہ کہیں وہ باز آئیں (ف٤۲)
And Ibrahim kept this declaration among his progeny, in order that they may desist.
और उसे अपनी नस्ल में बाक़ी कलाम रखा कि कहीं वह बाज़ आएं
Aur use apni nasal mein baaqi kalaam rakha ke kahin woh baaz aayen
(ف40)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اس توحیدی کلمہ کو جو فرمایا تھا کہ میں بیزار ہوں تمہارے معبودوں سے سوائے اس کے جس نے مجھ کو پیدا کیا ۔(ف41)تو آپ کی اولاد میں موحِّد اور توحید کے داعی ہمیشہ رہیں گے ۔(ف42)شرک سے اور یہ دِینِ برحق قبول کریں ۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمانے میں تنبیہہ ہے کہ اے اہلِ مکّہ اگر تمہیں اپنے باپ دادا کا ابتاع کرنا ہی ہے توتمہارے آباء میں جو سب سے بہتر ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کا اتباع کرو اور شرک چھوڑ دو اور یہ بھی دیکھو کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو راہِ راست پر نہیں پایا تو ان سے بیزاری کا اعلان فرمادیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو باپ دادا راہِ راست پر ہوں دِینِ حق رکھتے ہوں ان کا اتباع کیا جائے اور جو باطل پر ہوں ،گمراہی میں ہوں ان کے طریقہ سے بیزاری کا اعلان کیا جائے ۔
بلکہ میں نے انہیں (ف٤۳) اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے (ف٤٤) یہاں تک کہ ان کے پاس حق (ف٤۵) اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا (ف٤٦)
In fact I gave them and their forefathers the usage of this world until the truth and the Noble Messenger who conveyed the message clearly, came to them.
बल्कि मैं ने उन्हें और उनके बाप दादा को दुनिया के फ़ायदे दिए यहाँ तक कि उनके पास हक़ और साफ़ बताने वाला रसूल तशरीफ़ लाया
Balke main ne unhein aur unke baap dada ko duniya ke faide diye yahan tak ke unke paas haq aur saaf batane wala Rasool tashreef laya
(ف43)یعنی کفّارِ مکّہ کو ۔(ف44)دراز عمریں عطا فرمائیں اور انکے کفر کے باعث ان پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہ کی ۔(ف45)یعنی قرآن شریف ۔(ف46)یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روشن ترین آیات و معجزات کے ساتھ رونق افروز ہوئے اور آپ نے شرعی احکام واضح طور پر بیان فرمائے اور ہمارے اس انعام کا حق یہ تھا کہ اس رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔
اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں (ف٤۷) کے کسی بڑے آدمی پر (ف٤۸)
And they said, “Why was the Qur’an not sent down upon some chieftain of these two great towns?” (The chiefs of Mecca and Taif).
और बोले क्यों न उतारा गया यह क़ुरआन उन दो शहरों के किसी बड़े आदमी पर
Aur bole kyon na utara gaya yeh Qur’an in do shahron ke kisi bade aadmi par
(ف47)مکّہ مکرّمہ و طائف ۔(ف48)جو کثیرُ المال ، جتھے دار ہو جیسے کہ مکّہ مکرّمہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی ۔ اللہ تعالٰی ان کی اس بات کا رد فرماتا ہے ۔
کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں (ف٤۹) ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا (ف۵۰) اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۵۱) کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے (ف۵۲) اور تمہارے رب کی رحمت (ف۵۳) ان کی جمع جتھا سے بہتر (ف۵٤)
Are they the distributors of your Lord’s mercy? We have distributed among them their comforts in the life of this world, and gave high status to some over others so that they mock at each other; and the mercy of your Lord is better than all what they hoard.
क्या तुम्हारे रब की रहमत वह बाँटते हैं हम ने उनमें उनकी ज़ीस्त का सामान दुनिया की ज़िन्दगी में बाँटा और उनमें एक दूसरे पर दरजों बुलंदी दी कि उनमें एक दूसरे की हंसी बनाए और तुम्हारे रब की रहमत उनकी जमा जथा से बेहतर
Kya tumhare Rab ki rehmat woh baant-te hain? Hum ne in mein unki zeest ka samaan duniya ki zindagi mein baanta aur in mein ek doosre par darjon bulandi di ke in mein ek doosre ki hansi banaye aur tumhare Rab ki rehmat unki jama-jatha se behtar
(ف49)یعنی کیا نبوّت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دے دیں ، کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں ۔(ف50)تو کسی کو غنی کیا ، کسی کو فقیر ، کسی کو قوی ، کسی کو ضعیف ۔ مخلوق میں کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا تو جب دنیا جیسی قلیل چیز میں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں تو نبوّت جیسے منصبِ عالی میں کیا کسی کو دم مارنے کا موقع ہے ؟ ہم جسے چاہتے ہیں غنی کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں مخدوم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں خادم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں نبی بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں امّتی بناتے ہیں ، امیر کیا کوئی اپنی قابلیّت سے ہوجاتا ہے ؟ ہماری عطا ہے جسے جو چاہیں کریں ۔(ف51)قوّت ودولت وغیرہ دنیوی نعمت میں ۔(ف52)یعنی مالدار فقیرکی ہنسی کرے ، یہ قرطبی کی تفسیر کے مطابق ہے ۔ اور دوسرے مفسّرین نے سُخْرِیًّا ہنسی بنانے کے معنٰی میں نہیں لیا ہے بلکہ اعمال و اشغال کے مسخّر بنانے کے معنٰی میں لیا ہے ، اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ ہم نے دولت و مال میں لوگوں کو متفاوت کیا تاکہ ایک دوسرے سے مال کے ذریعہ خدمت لے اور دنیا کا نظام مضبوط ہو ، غریب کو ذریعۂِ معاش ہاتھ آئے اور مالدار کو کام کرنے والے بہم پہنچیں تو اس پر کون اعتراض کرسکتا ہے کہ فلاں کو کیوں غنی کیا اور فلاں کو فقیر اور جب دنیوی امور میں کوئی شخص دم نہیں مارسکتا تو نبوّت جیسے رتبۂِ عالی میں کسی کو کیا تابِ سخن و حقِ اعتراض ؟ اس کی مرضی جس کو چاہے سرفراز فرمائے ۔(ف53)یعنی جنّت ۔(ف54)یعنی اس مال سے بہتر ہے جس کو دنیا میں کفّار جمع کرکے رکھتے ہیں ۔
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں (ف۵۵) تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے،
And were it not for that all people be on one religion, We would have made for the disbelievers of the Most Gracious, roofs and stairs of silver which they would climb.
और अगर यह न होता कि सब लोग एक दीन पर हो जाएं तो हम ज़रूर रहमान के मुनकरों के लिए चांदी की छतें और सीढ़ियां बनाते जिन पर चढ़ते,
Aur agar yeh na hota ke sab log ek deen par ho jayein to hum zaroor Rehman ke munkiron ke liye chaandi ki chhattein aur seedhiyan banate jin par chadhte,
(ف55)یعنی اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کو فراخیِٔ عیش میں دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں گے ۔
اور طرح طرح کی آرائش (ف۵٦) اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے (ف۵۷)
And diverse adornments; and all this is usage only of the life of this world; and the Hereafter with your Lord, is for the pious.
और तरह तरह की आराइश और यह जो कुछ है जीती दुनिया ही का अस्बाब है, और आख़िरत तुम्हारे रब के पास परहेज़गारों के लिए है
Aur tarah tarah ki aaraish aur yeh jo kuch hai jeeti duniya hi ka asbaab hai, aur aakhirat tumhare Rab ke paas parheizgaaron ke liye hai
(ف56)کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، وہ سریعۃ الزوال ہے ۔(ف57)جنہیں دنیا کی چاہت نہیں ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اگراللہ تعالٰی کے نزدیک دنیامچھّر کے پر کے برابر بھی قدررکھتی توکافرکو اس سے ایک پیاس پانی نہ دیتا ۔ (قال الترمذی حدیث حسن غریب) دوسری حدیث میں ہے کہ سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نیازمندوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جاتے تھے ، راستہ میں ایک مُردہ بکری دیکھی ، فرمایا دیکھتے ہو ، اس کے مالکوں نے اسے بہت بے قدری سے پھینک دیا ، دنیا کی اللہ تعالٰی کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں جتنی بکری والوں کے نزدیک اس مری بکری کی ہو ۔ ( اخرجہ الترمذی و قال حدیث حسن) حدیث : سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاؤ ۔ (الترمذی وقال حسن غریب) حدیث : دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنّت ہے ۔
یہاں تک کہ جب (ف٦۱) کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
To the extent that when the disbeliever will be brought to Us, he will say to his devil, “Alas – if only there was the distance* of east and west, between you and me!” – so what an evil companion** he is! (* Had I not listened to you. **They will be bound together in chains.)
यहाँ तक कि जब काफ़िर हमारे पास आएगा अपने शैतान से कहेगा हाय किसी तरह मुझ में तुझ में पूरब पच्छम का फ़ासला होता तो क्या ही बुरा साथी है,
Yahan tak ke jab kaafir hamare paas aayega apne shaitan se kahega haaye kisi tarah mujh mein tujh mein poorab picham ka faasla hota to kya hi bura saathi hai,
تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے (ف٦٤) یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے (ف٦۵) اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں (ف٦٦)
So will you make the deaf listen or show the path to the blind, and to those who are in open error? (The disbelievers whose hearts are sealed, are deaf and blind to the truth).
तो क्या तुम बहरों को सुनाओगे या अंधों को राह दिखाओगे और उन्हें जो खुली गुमराही में हैं
To kya tum behron ko sunao ge ya andhon ko raah dikhao ge aur unhein jo khuli gumraahi mein hain
(ف64)جو گوشِ قبول نہیں رکھتے ۔(ف65)جو چشمِ حق بیں سے محروم ہیں ۔(ف66)جن کے نصیب میں ایمان نہیں ۔
اور بیشک وہ (ف۷۱) شرف ہے تمہارے لیے (ف۷۲) اور تمہاری قوم کے لیے (ف۱۷۳) اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (ف۷٤)
And it is undoubtedly an honour for you and your people; and you will soon be questioned.
और बेशक वह शर्फ़ है तुम्हारे लिए और तुम्हारी क़ौम के लिए और क़रीब ही तुम से पूछा जाएगा
Aur beshak woh sharaf hai tumhare liye aur tumhari qaum ke liye aur anqareeb tum se poocha jayega
(ف71)قرآن شریف ۔(ف72)کہ اللہ تعالٰی نے تمہیں نبوّت و حکمت عطا فرمائی ۔(ف73)یعنی امّت کے لئے کہ انہیں اس سے ہدایت فرمائی ۔(ف74)روزِ قیامت کہ تم نے قرآن کا کیا حق ادا کیا ؟ اس کی کیا تعظیم کی ؟ اس نعمت کا کیا شکر بجالائے ؟
اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو (ف۷۵)
And ask them – did any of the Noble Messengers We sent before you, appoint any other Gods except the Most Gracious, whom they used to worship?
और उनसे पूछो जो हम ने तुम से पहले रसूल भेजे क्या हम ने रहमान के सिवा कुछ और ख़ुदा ठहराए जिन को पूजा हो
Aur unse poocho jo hum ne tum se pehle Rasool bheje kya hum ne Rehman ke siwa kuch aur khuda thehraye jin ko pooja ho
(ف75)رسولوں سے سوال کرنے کے معنٰی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و مِلَل کو تلاش کرو ،کہیں بھی کسی نبی کی امّت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے اور اکثر مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنینِ اہلِ کتاب سے دریافت کرو کہ کیا کبھی کسی نبی نے غیرُ اللہ کی عبادت کی اجازت دی تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی ، نہ کسی کتاب میں آئی یہ بھی ۔ ایک روایت ہے کہ شبِ معراج سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیتُ المقدِس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی جب حضورنماز سے فارغ ہوئے جبریلِ امین نے عرض کیا کہ اے سرورِ اکرم اپنے سے پہلے انبیاء سے دریافت فرمالیجئے کہ کیا اللہ تعالٰی نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاء توحید کی دعوت دیتے آئے ، سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشایوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے،(
And indeed We sent Moosa along with Our signs towards Firaun and his chieftains – he therefore said, “Indeed I am a Noble Messenger of the Lord of the Creation.”
और बेशक हम ने मूसा को अपनी निशानियों के साथ फिरऔन और उसके सरदारों की तरफ़ भेजा तो उस ने फ़रमाया बेशक मैं उसका रसूल हूँ जो सारे जहाँ का मालिक है,
Aur beshak hum ne Musa ko apni nishaniyon ke saath Firaun aur uske sardaron ki taraf bheja to usne farmaya beshak main uska Rasool hoon jo saare jahan ka Maalik hai,
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی (ف۷۸) اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں (ف۷۹)
And all the signs We showed them were always greater than the earlier ones; and We seized them with calamities, so that they may return.
और हम उन्हें जो निशानी दिखाते वह पहले से बड़ी होती और हम ने उन्हें मुसीबत में गिरफ्तार किया कि वह बाज़ आएं
Aur hum unhein jo nishani dikhate woh pehle se badi hoti aur hum ne unhein museebat mein giraftar kiya ke woh baam aayen
(ف78)یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں دوسری سے بڑھی چڑھی تھی ، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلٰی تھی ۔(ف79)کفر سے ایمان کی طرف اور یہ عذاب قحط سالی اور طوفان و ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے ، یہ سب حضرت موسٰی عَلٰی نبیّناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی نشانیاں تھیں جو ان کی نبوّت پر دلالت کرتی تھیں اور ان میں ایک سے ایک بلندو بالاتھی ۔
اور بولے (ف۸۰) کہ اے جادوگر (ف۸۱) ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے (ف۸۲) بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے (ف۸۳)
And they said, “O you magician! Pray for us to your Lord, by the means of His covenant which is with you; we will certainly come to guidance.”
और बोले कि ऐ जादूगर हमारे लिए अपने रब से दुआ कर कि उस अहद के सबब जो उसका तेरे पास है बेशक हम हिदायत पर आएंगे
Aur bole ke ae jaadugar hamare liye apne Rab se dua kar ke us ahad ke sabab jo uska tere paas hai beshak hum hidayat par aayenge
(ف80)عذا ب دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف81)یہ کلمہ انکے عرف اور محاورہ میں بہت تعظیم وتکریم کا تھا وہ عالِم و ماہر و حاذقِ کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی نظر میں جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اس کو صفتِ مدح سمجھتے تھے ، اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو بوقتِ التجا اس کلمہ سے ندا کی ، کہا ۔(ف82)وہ عہد یاتو یہ ہے کہ آپ کی دعا مستجاب ہے یا نبوّت یا ایمان لانے والوں اور ہدایت قبول کرنے والوں پر سے عذاب اٹھالینا ۔
اور فرعون اپنی قوم میں (ف۸۵) پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں (ف۸٦) تو کیا تم دیکھتے نہیں (ف۸۷)
And said Firaun, “O my people! Is not the kingdom of Egypt for me, and these rivers that flow beneath me? So do you not see?”
और फिरऔन अपनी क़ौम में पुकारा कि ऐ मेरी क़ौम! क्या मेरे लिए मिस्र की सल्तनत नहीं और यह नहरें कि मेरे नीचे बहती हैं तो क्या तुम देखते नहीं
Aur Firaun apni qaum mein pukara ke ae meri qaum! Kya mere liye Misr ki saltanat nahin aur yeh nahrain ke mere neeche behti hain to kya tum dekhte nahin
(ف85)بہت افتخار کے ساتھ ۔(ف86)یہ دریائے نیل سے نکلی ہوئی بڑی بڑی نہریں تھیں جو فرعون کے قصر کے نیچے جاری تھیں ۔ (ف87)میری عظمت و قوّت اور شانِ وسطوت ۔ اللہ تعالٰی کی عجیب شان ہے ، خلیفہ رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور حکومتِ مصر پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا کہ میں وہ مصر اپنے ادنٰی غلام کو دے دوں گا چنانچہ انہوں نے مصر خصیب کو دے دیا جو ان کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔
یا میں بہتر ہوں (ف۸۸) اس سے کہ ذلیل ہے (ف۸۹) اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (ف۹۰)
“Or that I am better than him, for he is lowly – and he does not seem to talk plainly.”
या मैं बेहतर हूँ उस से कि ज़लील है और बात साफ़ करता मालूम नहीं होता
Ya main behtar hoon usse ke zaleel hai aur baat saaf karta maloom nahin hota
(ف88)یعنی کیا تمہارے نزدیک ثابت ہوگیا اور تم نے سمجھ لیا کہ میں بہتر ہوں ۔(ف89)یہ اس بے ایمان متکبّر نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی شان میں کہا ۔(ف90)زبان میں گرہ ہونے کی وجہ سے ، جو بچپن میں آ گ منہ میں رکھنے سے پڑ گئی تھی اور یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کہ کیونکہ آپ کی دعا سے اللہ تعالٰی نے زبانِ اقدس کی وہ گرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی پہلے ہی خیال میں تھے ۔ آگے پھر اسی فرعون کا کلام ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن (ف۹۱) یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے (ف۹۲)
“So why was he not bestowed with armlets of gold? Or angels should have come with him staying at his side!”
तो उस पर क्यों न डाले गए सोने के कंगन या उसके साथ फ़रिश्ते आते कि उसके पास रहते
To is par kyon na daale gaye sone ke kangan ya uske saath farishte aate ke uske paas rehte
(ف91)یعنی اگر حضرت موسٰی علیہ السلام سچّے ہیں اور اللہ تعالٰی نے ان کو واجبُ الاطاعت سردار بنایا ہے تو انہیں سونے کا کنگن کیوں نہیں پہنا یا یہ بات اس نے اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانہ میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھااس کو سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا ۔(ف92)اور اس کے صدق کی گواہی دیتے ۔
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں (ف۹٦)
And when the example of the son of Maryam is given, your people laugh at it!
और जब इब्न-ए-मरियम की मिसाल बयान की जाए, तभी तुम्हारी क़ौम उस से हंसने लगते हैं
Aur jab Ibn-e-Maryam ki misaal bayan ki jaye, tabhi tumhari qaum us se hansne lagte hain
(ف96)شانِ نزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قریش کے سامنے یہ آیت وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ پڑھی جس کے معنٰی یہ ہیں کہ اے مشرکین تم اور جو چیز اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنّم کا ایندھن ہے ، یہ سن کر مشرکین کو بہت غصّہ آیا اور ابنِ زبعری کہنے لگا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں ہی کے لئے ہے یا ہر امّت و گروہ کے لئے ؟ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لئے بھی ہے اور سب امّتوں کے لئے بھی ، اس پر اس نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسٰی بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی اور انکی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے نصارٰی ان دونوں کو پوجتے ہیں اور حضرت عزیر اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں یعنی یہود وغیرہ ان کو پوجتے ہیں تو اگر یہ حضرات (معاذاللہ)جہنّم میں ہوں تو ہم راضی ہیں کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں اور یہ کہہ کر کفّار خوب ہنسے ، اس پر یہ آیت اللہ تعالٰی نے نازل فرمائی اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤی اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ اوریہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ الآیۃ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابنِ زبعری نے اپنے معبودوں کے لئے حضرت عیسٰی بن مریم کی مثال بیان کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مجادلہ کیا کہ نصارٰی انہیں پوجتے ہیں تو قریش اس کی اس بات پر ہنسنے لگے ۔
اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (ف۹۷) انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو (ف۹۸) بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ (ف۹۹)
And they say, “Are our deities better or he?” They did not say this to you except to unjustly argue; in fact they are a quarrelsome people.
और कहते हैं क्या हमारे माबूद बेहतर हैं या वह उन्होंने तुम से यह न कही मगर नाहक झगड़े को बल्कि वह हैं झगड़ालू लोग
Aur kehte hain kya hamare ma’bood behtar hain ya woh, unhon ne tumse yeh na kahi magar na-haal jhagde ko balke woh hain jhagdalu log
(ف97)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام بہتر ہیں تو اگر (معاذاللہ) وہ جہنّم میں ہوئے تو ہمارے معبود یعنی بت بھی ہوا کریں کچھ پروا نہیں ، اس پر اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف98)یہ جانتے ہوئے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں باطل ہے اور آیۂِ کریمہ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے صرف بت مراد ہیں ، حضرت عیسٰی و حضرت عزیر اور ملائکہ کوئی مراد نہیں لئے جاسکتے ، ابنِ زبعری عربی تھا ، عربی زبان کا جاننے والا تھا ، یہ اس کو خوب معلوم تھا کہ ماتعبدون میں جو' ما ' ہے اس کے معنٰی چیز کے ہیں ، اس سے غیرِ ذوی العقول مراد ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے اس کا زبانِ عرب کے اصول سے جاہل بن کر حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر اور ملائکہ کو اس میں داخل کرنا کٹھ حجّتی اور جہل پروری ہے ۔(ف99)باطل کے درپے ہونے والے ۔ اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے (ف۱۰٤) تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا (ف۱۰۵) یہ سیدھی راہ ہے،
And indeed Eisa is a sign* of the Last Day, therefore do not ever doubt in the Last Day, and obey Me**; this is the Straight Path. (* The advent of Prophet Eisa to earth for the second time. ** By obeying the Noble Messenger.)
और बेशक ईसा क़यामत की ख़बर है तो हरगिज़ क़यामत में शक न करना और मेरे पैरो होना यह सीधी राह है,
Aur beshak Isa qiyamat ki khabar hai to hargiz qiyamat mein shakk na karna aur mere pairo hona yeh seedhi raah hai,
(ف104)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا آسمان سے اترنا علاماتِ قیامت میں سے ہے ۔(ف105)یعنی میری ہدایت و شریعت کا اتباع کرنا ۔
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں (ف۱۰۷) لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا (ف۱۰۸) اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو (ف۱۰۹) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
And when Eisa came to them with clear signs, he said, “I have come to you with wisdom, and to explain to you some of the matters regarding which you dispute; therefore fear Allah, and obey me.”
और जब ईसा रोशन निशानियां लाया उस ने फ़रमाया मैं तुम्हारे पास हिकमत ले कर आया और इस लिए मैं तुम से बयान कर दूं बाज़ वह बातें जिन में तुम इख़्तिलाफ़ रखते हो तो अल्लाह से डरो और मेरा हुक्म मानो,
Aur jab Isa roshan nishaniyan laya usne farmaya main tumhare paas hikmat lekar aaya aur is liye main tumse bayan kar doon baaz woh baaten jin mein tum ikhtilaf rakhte ho to Allah se daro aur mera hukm maano,
(ف107)یعنی معجزات ۔(ف108)یعنی نبوّت اور انجیلی احکام ۔(ف109)توریت کے احکام میں سے ۔
پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے (ف۱۱۱) تو ظالموں کی خرابی ہے (ف۱۱۲) ایک درد ناک دن کے عذاب سے (ف۱۱۳)
Then the groups differed amongst themselves; therefore ruin is for the unjust by the punishment of an agonising day.
फिर वह गिरोह आपस में मुख़्तलिफ़ हो गए तो ज़ालिमों की ख़राबी है एक दर्दनाक दिन के अज़ाब से
Phir woh groh aapas mein mukhtalif ho gaye to zaalimoon ki kharaabi hai ek dard-naak din ke azaab se
(ف111)حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ عیسٰی خدا تھے ،کسی نے کہا خدا کے بیٹے ،کسی نے کہا ، تین میں کے تیسرے ، غرض نصرانی فرقے فرقے ہوگئے یعقوبی ، نسطوری ، ملکانی ، شمعونی ۔(ف112)جنہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کفر کی باتیں کہیں ۔(ف113)یعنی روزِ قیامت کے ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
What are they waiting for – except the Last Day, that it may suddenly come upon them while they are unaware?
काहे के इन्तज़ार में हैं मगर क़यामत के कि उन पर अचानक आ जाए और उन्हें ख़बर न हो,
Kaahe ke intezaar mein hain magar qiyamat ke ke unpar achaanak aa jaye aur unhein khabar na ho,
(ف114)یعنی دینی دوستی اور وہ محبّت جو اللہ تعالٰی کے لئے ہے باقی رہے گی ۔ حضرت علیِ مرتضٰے رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے آپ نے فرمایا دو دوست مومن اور دو دوست کافر ، مومن دوستوں میں ایک مرجاتا ہے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے ، یارب اس کو میرے بعد گمراہ نہ کر اور اس کو ہدایت دے جیسی میری ہدایت فرمائی اور اس کا اکرام کر جیسا میرا اکرام فرمایا ، جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالٰی دونوں کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے ، اچھا دوست ہے ، اچھا رفیق ہے ۔ اور دوکافر دوستوں میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے ، یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں برداری سے منع کرتا تھا اور بدی کا حکم دیتا تھا ، نیکی سے روکتا تھااور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضرہونا نہیں ، تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ایک دوسرے کو کہتا ہے بُرا بھائی ، بُرا دوست ، بُرا رفیق ۔
ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے (ف۱۱٦) اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،
“Rounds of golden cups and wine will be presented upon them; and in it is whatever the hearts wish for, and what pleases the eye; and you will stay in it forever.”
उन पर दौरा होगा सोने के प्यालों और जामों का और उस में जो जी चाहे और जिस से आँख को लज़्ज़त पहुँचे और तुम उस में हमेशा रहोगे,
Unpar daurah hoga sone ke pyaalon aur jaamon ka aur is mein jo ji chahe aur jis se aankh ko lutf pahunchے aur tum is mein hamesha raho ge,
تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ (ف۱۱۷)
“For you are many fruits in it, for you to eat therefrom.”
तुम्हारे लिए उस में बहुत मेवे हैं कि उन में से खाओ
Tumhare liye is mein bohot mewe hain ke un mein se khao
(ف117)جنّتی درخت ثمردار ، سدا بہار ہیں ، ان کی زیب و زینت میں فرق نہیں آتا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی ان سے ایک پھل لے گا تو درخت میں اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں گے ۔
اور وہ پکاریں گے (ف۱۲۱) اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے (ف۱۲۲) وہ فرمائے گا (ف۱۲۳) تمہیں تو ٹھہرنا (ف۱۲٤)
And they will cry out, “O Malik*, ask your Lord to finish us!” He will answer, “Rather you are to stay (forever).” (*The guard of hell)
और वह पुकारेंगे ऐ मालिक तेरा रब हमें तमाम कर चुका वह फ़रमाएगा तुम्हें तो ठहरना
Aur woh pukarenge ae Maalik tera Rab humein tamam kar chuka, woh farmayega tumhein to thehrna
(ف121)جہنّم کے داروغہ کو کہ ۔(ف122)یعنی موت دے دے ، مالک سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تبارک وتعالٰی سے ان کی موت کی دعا کرے ۔(ف123)ہزار برس بعد ۔(ف124)عذاب میں ہمیشہ کبھی اس سے رہائی نہ پاؤ گے ، نہ موت سے اور نہ کسی طرح ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اہلِ مکّہ سے خطاب فرماتا ہے ۔
کیا انہوں نے (ف۱۲٦) اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے (ف۱۲۷)
Do they assume that they have made their work thorough? So We shall make Our work thorough.
क्या उन्होंने अपने ख़याल में कोई काम पक्का कर लिया है
Kya unhon ne apne khayaal mein koi kaam paka kar liya hai
(ف126)یعنی کفّارِ مکّہ نے ۔(ف127)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکر کرنے اور فریب سے ایذا پہنچانے کا اور در حقیقت ایسا ہی تھا کہ قریش دارُالنّدوہ میں جمع ہو کر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایذا رسانی کے لئے حیلے سوچتے تھے ۔
تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں (ف۱۲۸) کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں (ف۱۲۹) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
Do they fancy that We do not listen to their whispers and their counselling? Why not, We surely do! And Our angels are with them, writing down.
तो हम अपना काम पक्का करने वाले हैं क्या उस घमंड में हैं कि हम उनकी आहिस्ता बात और उनकी मशविरत नहीं सुनते, हाँ क्यों नहीं और हमारे फ़रिश्ते उनके पास लिख रहे हैं,
To hum apna kaam paka karne wale hain kya is ghamand mein hain ke hum unki aahista baat aur unki mashwarat nahin sunte, haan kyun nahin aur hamare farishte unke paas likh rahe hain,
(ف128)ان کے اس مَکرو فریب کا بدلہ جس کا انجام ان کی ہلاکت ہے ۔(ف129)ہم ضرور سنتے ہیں اور پوشیدہ ظاہر ہر بات جانتے ہیں ، ہم سے کچھ نہیں چُھپ سکتا ۔
تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا (ف۱۳۰)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If supposedly, the Most Gracious had an offspring* – I would be the first to worship!” (*Which is impossible)
तुम फ़रमाओ बफ़र्ज़े-महाल रहमान के कोई बच्चा होता, तो सबसे पहले मैं पूजता
Tum farmayo b-farz-e-muhal Rehman ke koi bacha hota, to sab se pehle main poojta
(ف130)لیکن اس کے بچّہ نہیں اور اس کے لئے اولاد محال ہے یہ نفیِ ولد میں مبالغہ ہے ۔شانِ نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو نضر کہنے لگا دیکھتے ہو قرآن میں میری تصدیق آگئی ولید نے کہا کہ تیری تصدیق نہیں ہوئی بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رحمٰن کے ولد نہیں ہے اور میں اہلِ مکّہ میں سے پہلا موحِّد ہوں ، اس سے ولد کی نفی کرنے والا ، اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی کی تنزیہ کا بیان ہے ۔
اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،(
And Most Auspicious is He, for Whom is the kingship of the heavens and the earth and all that is between them; and only with Him is the knowledge of the Last Day; and towards Him you are to return.
और बड़ी बरकत वाला है वह कि उसी के लिए है सल्तनत आसमानों और ज़मीन की और जो कुछ उनके दरमियान है और उसी के पास है क़यामत का इल्म, और तुम्हें उसकी तरफ़ फिरना,
Aur badi barkat wala hai woh ke usi ke liye hai saltanat aasmaanon aur zameen کی aur jo kuch unke darmiyan hai aur usi ke paas hai qiyamat ka ilm, aur tumhein uski taraf phirna,
اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں (ف۱۳۵) اور علم رکھیں (ف۱۳٦)
And those whom they worship besides Allah do not have the right of intercession – the right of intercession is only for those who testify to the Truth and have knowledge.
और जिन को यह अल्लाह के सिवा पूजते हैं शफ़ा'अत का इख़्तियार नहीं रखते, हाँ शफ़ा'अत का इख़्तियार उन्हें है जो हक़ की गवाही दें और इल्म रखें
Aur jin ko yeh Allah ke siwa poojte hain shafaa’at ka ikhtiyaar nahin rakhte, haan shafaa’at ka ikhtiyaar unhein hai jo haq ki gawahi dein aur ilm rakhein
(ف135)یعنی توحیدِ الٰہی کی ۔(ف136)اس کا کہ اللہ ان کا رب ہے ، ایسے مقبول بندے ایمان داروں کی شفاعت کریں گے ۔
مجھے رسول (ف۱٤۰) کے اس کہنے کی قسم (ف۱٤۱) کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ،
And by oath of the saying of My Prophet “O my Lord! These people do not accept faith!”
मुझे रसूल के उस कहने की क़सम कि ऐ मेरे रब! यह लोग ईमान नहीं लाते,
"
Mujhe Rasool ke is kehne ki qasam ke ae mere Rab! Yeh log imaan nahin laate,
(ف140)سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف141)اللہ تبارک و تعالٰی کا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قولِ مبارک کی قَسم فرمانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اکرام اور حضور کی دعا و التجا کے احترام کا اظہار ہے ۔
تو ان سے درگزر کرو (ف۱٤۲) اور فرماؤ بس سلام ہے (ف۱٤۳) کہ آگے جان جائیں گے (ف۱٤٤)
Therefore excuse them and proclaim, “Peace”; for they will soon come to know.
(ف142)اور انہیں چھوڑدو ۔(ف143)یہ سلامِ متارکت ہے ۔ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم تمہیں چھوڑتے ہیں اور تم سے امن میں رہنا چاہتے ہیں ، وَکَانَ ھٰذَا قَبْلُ الْاَمْرِبِالْجِہَادِ ۔(ف144)اپنا انجام کار ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page