By oath of those which carry away while dispersing.
क़सम उनकी जो बिखेर कर उड़ाने वालियाँ फ
Qasam un ki jo bikher kar urane waliyan f
(ف2)یعنی وہ ہوائیں جو خاک وغیرہ کو اڑاتی ہیں ۔
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ ﴿2﴾
پھر بوجھ اٹھانے والیاں (ف۳)
Then by oath of those which carry the burdens.
फिर बोझ उठाने वालियाँ फ
Phir bojh uthhane waliyan f
(ف3)یعنی وہ گھٹائیں اور بدلیاں جو بارش کا پانی اٹھاتی ہیں ۔
فَالۡجٰرِيٰتِ يُسۡرًا ۙ ﴿3﴾
پھر نرم چلنے والیاں (ف٤)
Then by oath of those which move with ease.
फिर नरम चलने वालियाँ फ
Phir narm chalne waliyan f
(ف4)وہ کَشتیاں جو پانی میں بسہولت چلتی ہیں ۔
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ ﴿4﴾
پھر حکم سے بانٹنے والیاں (ف۵)
Then by oath of those which distribute by the command.
फिर हुक्म से बाँटने वालियाँ फ
Phir hukm se baantne waliyan f
(ف5)یعنی فرشتوں کی وہ جماعتیں جو بحکمِ الٰہی بارش و رزق وغیرہ تقسیم کرتی ہیں اور جن کو اللہ تعالٰی نے مدبّرات الامر کیا ہے اور عالَم میں تدبیر و تصرّف کا اختیار عطا فرمایا ہے ۔ بعض مفسّرین کا قول ہے کہ یہ تمام صفتیں ہواؤں کی ہیں کہ وہ خاک بھی اڑاتی ہیں ، بادلوں کو بھی اٹھائے پھرتی ہیں ، پھر انہیں لے کر بسہولت چلتی ہیں ، پھر اللہ تعالٰی کے بلاد میں اس کے حکم سے بارش کو تقسیم کرتی ہیں ۔ قَسم کا مقصودِ اصلی اس چیز کی عظمت بیان کرنا ہے جس کے ساتھ قَسم فرمائی گئی کیونکہ یہ چیزیں کمالِ قدرتِ الٰہی پر دلا لت کرنے والی ہیں ۔ اربابِ دانش کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں نظر کرکے بعث و جزا پر استدلال کریں کہ جو قادرِ برحق ایسے امورِ عجیبہ پر قدرت رکھتا ہے وہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ ہستی عطا فرمانے پر بے شک قادر ہے ۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ ﴿5﴾
بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف٦) ضروری سچ ہے،
Undoubtedly, the promise you are given is surely true.
बेशक जिस बात का तुम्हें वादा दिया जाता है ज़रूरी सच है,
Beshak jis baat ka tumhen wada diya jata hai zaruri sach hai,
(ف6)یعنی بعث و جزا ۔
وَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ ؕ ﴿6﴾
اور بیشک انصاف ضرور ہونا (ف۷)
And undoubtedly justice will surely be done.
और बेशक इंसाफ़ ज़रूर होना
Aur beshak insaf zarur hona
(ف7)اور حساب کے بعد نیکی بدی کا بدلہ ضرور ملنا ۔
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ ۙ ﴿7﴾
آرائش والے آسمان کی قسم (ف۸)
And by oath of the decorated heaven.
आराइश वाले आसमान की क़सम
Aaraish wale asman ki qasam
(ف8)جس کو ستاروں سے مزیّن فرمایا ہے کہ اےاہلِ مکّہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں اور قرآنِ پاک کے بارے میں ۔
اِنَّـكُمۡ لَفِىۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ ﴿8﴾
تم مختلف بات میں ہو (ف۹)
You are indeed in different opinions regarding this Qur’an.
तुम मुख़्तलिफ़ बात में हो
Tum mukhtalif baat mein ho
(ف9)کبھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ساحر کہتے ہو ، کبھی شاعر ، کبھی کاہن ، کبھی مجنون (معاذ اللہ تعالٰی) اسی طرح قرآنِ کریم کو کبھی سِحر بتاتے ہو ، کبھی شِعر ،کبھی کہانت ، کبھی اگلوں کی داستانیں ۔
يُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ ؕ ﴿9﴾
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو (ف۱۰)
Only those who are destined to revert, are reverted from it.
इस क़ुरआन से वही औंधा किया जाता है जिसकी क़िस्मत ही में औंधाया जाना हो
Is Quran se wahi undha kiya jata hai jis ki qismat hi mein undhaya jana ho
(ف10)اور جو محرومِ ازلی ہے اس سعادت سے محروم رہتا ہے اور بہکانے والوں کے بہکائے میں آتا ہے ۔ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے کفّار جب کسی کو دیکھتے کہ ایمان لانے کا ارادہ کرتا ہے توا س سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کہتے کہ ان کے پاس کیوں جاتا ہے ؟ وہ تو شاعر ہیں ، ساحر ہیں ۔ کاذب ہیں ۔ (معاذ اللہ تعالٰی) اور اسی طرح قرآنِ پاک کو کہتے ہیں کہ وہ شِعر ہے ، سِحر ہے ، کذب ہے ۔ (معاذ اللہ تعالٰی)
قُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ ﴿10﴾
مارے جایں دل سے تراشنے والے
Slain be those who mould from their imaginations.
मारे जाएँ दिल से تراशने वाले
Mare jayein dil se tarashne wale
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ سَاهُوۡنَۙ ﴿11﴾
جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں (ف۱۱)
Those who have forgotten in a state of intoxication.
जो नशे में भूले हुए हैं
Jo nashe mein bhoole huwe hain
(ف11)یعنی نشۂِ جہالت میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں ۔
يَسۡـَٔــلُوۡنَ اَيَّانَ يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ ﴿12﴾
پوچھتے ہیں (ف۱۲) انصاف کا دن کب ہوگا (ف۱۳)
They ask, “When will be the Day of Judgement?”
पूछते हैं इंसाफ़ का दिन कब होगा
Poochhte hain insaf ka din kab hoga
(ف12)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمسخر اور تکذیب کے طور پر کہ ۔(ف13)ان کے جوا ب میں فرمایا جاتا ہے ۔
يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ ﴿13﴾
اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے (ف۱٤)
It will be on the day when they will be roasted in the fire.
They used to sleep only a little during the night.
वो रात में कम सोया करते
Wo raat mein kam soya karte
(ف18)اور زیادہ حصّہ شب کا نماز میں گزارتے ۔
وَبِالۡاَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿18﴾
اور پچھلی رات استغفار کرتے (ف۱۹)
And used to seek forgiveness before dawn.
और पिछली रात इस्तिग़फ़ार करते
Aur pichhli raat istighfar karte
(ف19)یعنی رات تہجّد اور شب بیداری میں گزارتے ہیں اور بہت تھوڑی دیر سوتے ہیں اور شب کا پچھلا حصّہ استِغفار میں گزارتے ہیں اور اتنے سوجانے کو بھی تقصیر سمجھتے ہیں ۔
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بےنصیب کا (ف۲۰)
And the beggar and the destitute had a share in their wealth.
और उनके मालों में हक़ था मंगता और बे नसीब का
Aur un ke malon mein haq tha mangta aur be naseeb ka
(ف20)منگتا تو وہ جو اپنی حاجت کے لئے لوگوں سے سوال کرے اور محروم وہ کہ حاجت مند ہو اور حیاءً سوال بھی نہ کرے ۔
وَفِى الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَۙ ﴿20﴾
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو (ف۲۱)
And in the earth are signs for those who are certain.
और ज़मीन में निशानियाँ हैं यक़ीन वालों को
Aur zameen mein nishaniyan hain yaqeen walon ko
(ف21)جو اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہیں ۔
وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿21﴾
اور خود تم میں (ف۲۲) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
And in your own selves; so can you not perceive?
और ख़ुद तुम में तो क्या तुम्हें सूझता नहीं,
Aur khud tum mein to kya tumhen soojhta nahin,
(ف22)تمہاری پیدائش میں اور تمہارے تغیّرات میں اور تمہارے ظاہر و باطن میں اللہ تعالٰی کی قدرت کے ایسے بے شمار عجائب و غرائب ہیں جس سے بندوں کو اس کی شانِ خدائی معلوم ہوتی ہے ۔
تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا (ف۲۹) وہ بولے ڈریے نہیں (ف۳۰) اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
He therefore inwardly sensed fear of them; they said, “Do not fear!”; and they gave him the glad tidings of a knowledgeable son.
तो अपने जी में उनसे डरने लगा वो बोले डरिए नहीं और उसे एक इल्म वाले लड़के की बशारत दी,
To apne ji mein un se darne laga wo bole dariye nahin aur usse ek ilm wale ladke ki basharat di,
(ف29)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آپ کے دل میں بات آئی کہ یہ فرشتے ہیں اور عذاب کے لئے بھیجے گئے ہیں ۔(ف30)ہم اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے ہیں ۔
اس پر اس کی بی بی (ف۳۱) چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ (ف۳۲)
So his wife came screaming, and striking her forehead cried, “What! For a barren old woman?”
इस पर इसकी बीबी चिलाती आई फिर अपना माथा ठोंका और बोली क्या बुढ़िया बाँझ
Is par is ki biwi chilati aayi phir apna matha thonka aur boli kya budhiya banjh
(ف31)یعنی حضرت سارہ ۔ (ف32)جس کے کبھی بچّہ نہیں ہوا اور نوّے ۹۰یا ننانوے ۹۹سال کی عمر ہوچکی ، مطلب یہ تھا کہ ایسی عمر اور ایسی حالت میں بچّہ ہونا نہایت تعجّب کی بات ہے ۔
جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں (ف۳۵)
“That are kept marked, with your Lord, for the transgressors.”
जो तुम्हारे रब के पास हद से बढ़ने वालों के लिए निशान किए रखे हैं
Jo tumhare Rab ke paas had se badhne walon ke liye nishan kiye rakhe hain
(ف35)ان پتّھروں پر نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتّھروں میں سے نہیں ہیں ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتّھر پر اس کا نام مکتوب تھا جو اس سے ہلاک کیاجانے والا تھا ۔
اور ہم نے اس میں (ف۳۷) نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۳۸)
And We kept a sign remaining in it, for those who fear the painful punishment.
और हमने उसमें निशानी बाक़ी रखी उनके लिए जो दर्दनाक अज़ाब से डरते हैं
Aur humne us mein nishani baqi rakhi un ke liye jo dardnaak azab se darte hain
(ف37)یعنی قومِ لوط کے اس شہر میں کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد ۔(ف38)تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور ان کے جیسے افعال سے باز رہیں ، اور وہ نشانی ان کے اجڑے ہوئے دیار تھے یا وہ پتّھر جن سے وہ ہلاک کئے گئے یا وہ کالا بدبو دار پانی جو اس سرزمین سے نکلا تھا ۔
اور موسیٰ میں (ف۳۹) جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا (ف٤۰)
And in Moosa, when We sent him with a clear proof towards Firaun.
और मूसा में जब हमने उसे रोशन سند लेकर फ़िरऔन के पास भेजा
Aur Musa mein jab humne use roshan sanad le kar Firaun ke paas bheja
(ف39)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعہ میں بھی نشانی رکھی ۔(ف40)روشن سند سے مراد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات ہیں جو آپ نے فرعون اور فرعونیوں پر پیش فرمائے ۔
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا (ف۵۱) اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں (ف۵۲)
And We have built the heaven with hands (the Divine Power), and it is We Who give the expanse.
और आसमान को हमने हाथों से बनाया और बेशक हम वुसअत देने वाले हैं
Aur asman ko humne hathon se banaya aur beshak hum wusat dene wale hain
(ف51)اپنے دستِ قدرت سے ۔(ف52)اس کو اتنی کہ زمین مع اپنے فضا کے اس کے اندر اس طرح آجائے جیسے کہ ایک میدانِ وسیع میں گیند پڑی ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ ہم اپنی خَلق پر رزق وسیع کرنے والے ہیں ۔
اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے (ف۵۳) کہ تم دھیان کرو (ف۵٤)
And We created all things in pairs, so that you may ponder.
और हमने हर चीज़ के दो जोड़ बनाए कि तुम ध्यान करो
Aur humne har cheez ke do jor banaye ke tum dhyaan karo
(ف53)مثل آسمان اور زمین اورسورج اور چاند اور رات اور دن اورخشکی و تری اور گرمی و سردی اور جن و انس اور روشنی وتاریکی اور ایمان وکفر اور سعادت و شقاوت اور حق و باطل اور نَر و مادّہ کے ۔(ف54)اور سمجھو کہ ان تمام جوڑوں کا پیدا کرنے والا فردِ واحد ہے نہ اس کا نظیر ہے ، نہ شریک ، نہ ضد ، نہ نِد ، وہی مستحقِ عبادت ہے ۔
کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں (ف۵۷)
What! Have they willed this utterance to one another? In fact they are a rebellious people.
क्या आपस में एक दूसरे को ये बात कह मरे हैं बल्कि वो सरकश लोग हैं
Kya aapas mein ek dusre ko ye baat keh mare hain balki wo sarkash log hain
(ف57)یعنی پہلے کفّار نے اپنے پچھلوں کو یہ وصیّت تو نہیں کی کہ تم انبیاء کی تکذیب کرنا اور ان کی شان میں اس طرح کی باتیں بنانا لیکن چونکہ سرکشی اور طغیان کی علّت دونوں میں ہے اس لئے گمراہی میں ایک دوسرے کے موافق رہے ۔
تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں (ف۵۸)
Therefore turn away from them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), – so there is no blame upon you.
तो ऐ महबूब! तुम उनसे मुँह फेर लो तो तुम पर कुछ इल्ज़ाम नहीं
To ae mehboob! Tum unse munh pher lo to tum par kuch ilzaam nahin
(ف58)کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور دعوت و ارشاد میں جہدِ بلیغ صرف کرچکے اور آپ نے اپنی سعی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔شانِ نزول : جب یہ آیت نازل ہوئی تورسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غمگین ہوئے اور آپ کے اصحاب کو بہت رنج ہوا کہ جب رسول علیہ السلام کو اعراض کرنے کا حکم مل گیا تو اب وحی کیوں آئے گی اور جب نبی نے امّت کو تبلیغ بطریقِ اتم فرمادی اور امّت سرکشی سے باز نہ آئی اور رسول کو ان سے اعراض کا حکم مل گیا تو وقت آگیا کہ ان پر عذاب نازل ہو ، اس پر وہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جو اس آیت کے بعد ہے اور اس میں تسکین دی گئی کہ سلسلۂِ وحی منقطع نہیں ہوا ہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم کی نصیحت سعادت مندوں کے لئے جاری رہے گی چنانچہ ارشاد ہوا ۔
میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا (ف٦۰) اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں (ف٦۱)
I do not ask any sustenance from them, nor wish that they give Me food.
मैं उनसे कुछ रिज़्क़ नहीं माँगता और न ये चाहता हूँ कि वो मुझे खाना दें
Main unse kuch rizq nahin mangta aur na ye chahta hoon ke wo mujhe khana dein
(ف60)کہ میرے بندوں کو روزی دیں یا سب کی نہیں تو اپنی ہی روزی خود پیدا کریں کیونکہ رزّاق میں ہوں اور سب کی روزی کا میں ہی کفیل ہوں ۔(ف61)میری خَلق کے لئے ۔
تو بیشک ان ظالموں کے لیے (ف٦۳) عذاب کی ایک باری ہے (ف٦٤) جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی (ف٦۵) تو مجھ سے جلدی نہ کریں (ف٦٦)
And indeed for these unjust is also a turn of punishment, like that of their companions – so they must not ask Me to hasten.
तो बेशक इन ज़ालिमों के लिए अज़ाब की एक बारी है जैसे उनके साथ वालों के लिए एक बारी थी तो मुझ से जल्दी न करें
To beshak in zalimon ke liye azab ki ek bari hai jaise unke sath walon ke liye ek bari thi to mujh se jaldi na karein
(ف63)جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔(ف64)حصّہ ہے ، نصیب ہے ۔(ف65)یعنی اُمَمِ سابقہ کے کفّار کے لئے جو انبیاء کی تکذیب میں ان کے ساتھی تھے ، ان کا عذاب و ہلاک میں حصّہ تھا ۔
تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں (ف٦۷)
So ruin is for disbelievers, from their day – which they are promised.
तो काफ़िरों की ख़राबी है उनके उस दिन से जिसका वादा दिए जाते हैं
To kafiron ki kharabi hai unke us din se jiska wada diye jate hain",
(ف66)عذاب نازل کرنے کی ۔(ف67)اور وہ روزِ قیامت ہے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page