और अगर देखें कोई निशानी तो मुँह फेरते और कहते हैं यह तो जादू है चला आता,
Aur agar dekhen koi nishani to munh pherte aur kahte hain ye to jadoo hai chala aata,
(ف2)اس کے نزدیک ہونے کی نشانی ظاہر ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزہ سے ۔(ف3)دوپارہ ہو کر شق القمر جس کا اس آیت میں بیان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزاتِ باہرہ میں سے ہے ، اہلِ مکّہ نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک معجزہ کی درخواست کی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چاند شق کرکے دکھایا ، چاند کے دو حصّے ہو گئے اور ایک حصّہ دوسرے سے جدا ہو گیا اور فرمایا کہ گواہ رہو ، قریش نے کہا محمّد ( مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)جادو سے ہماری نظر بند کردی ہے ، اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو باہر کہیں بھی کسی کو چاند کے دو حصّے نظر نہ آئے ہوں گے ، اب جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجو رکھو اور مسافروں سے دریافت کرو ، اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند شق ہونا دیکھا گیا ہے تو بے شک معجزہ ہے چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا کہ اس روز چاند کے دوحصّے ہوگئے تھے ، مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی اور وہ جاہلانہ طور پر جادو ہی جادو کہتے رہے ، صحاح کی احادیثِ کثیرہ میں اس معجزۂِ عظیمہ کا بیان ہے اور خبر اس درجۂِ شہرت کو پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے ۔
اور انہوں نے جھٹلایا (ف٦) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۷) اور ہر کام قرار پاچکا ہے (ف۸)
And they denied and followed their own desires, whereas each matter has been decided!
और बेशक उनके पास वह खबरें आईं जिनमें काफ़ी रोक थी
Aur beshak unke paas woh khabrein aayin jin mein kafi rok thi
(ف6)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اوران معجزات کو جو اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔(ف7)ان اباطیل کے جو شیطان نے ان کے دل نشین کیں تھیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات کی تصدیق کی تو ان کی سرداری تمام عالَم میں مسلّم ہوجائے گی اور قریش کی کچھ بھی عزّت و قدر باقی نہ رہے گی ۔(ف8)وہ اپنے وقت پر ہونے ہی والا ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دِین غالب ہو کر رہے گا ۔
تو تم ان سے منہ پھیرلو (ف۱۱) جس دن بلانے والا (ف۱۲) ایک سخت بےپہچانی بات کی طرف بلائے گا (ف۱۳)
Therefore turn away from them; on the day when the announcer will call towards a severe unknown matter –
नीची आँखें किए हुए कब्रों से निकलेंगे गोया वह टिड्डी हैं फैली हुई
Neechi aankhen kiye hue qabron se niklenge goya woh tiddi hain phaili hui
(ف11)کیونکہ وہ نصیحت و انداز سے پندپزیر ہونے والے نہیں ۔ (وَکَانَ ھٰذَا قَبْلَ الْاَمْرِ بِالْقِتَالِ ثُمَّ نُسِخَ)(ف12)یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام صخرۂِ بیتُ المقدِس پر کھڑے ہو کر ۔(ف13)جس کی مثل سختی کبھی نہ دیکھی ہوگی اور وہ ہولِ قیامت و حساب ہے ۔
ان سے (ف۱٦) پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ (ف۱۷) کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا (ف۱۸)
Before these, the people of Nooh denied and they belied Our bondman and said, “He is a madman” and rebuffed him.
तो उसने अपने रब से दुआ की कि मैं मग़लूब हूँ तो मेरा बदला ले,
To usne apne Rab se dua ki ke main maghloob hoon to mera badla le,
(ف16)یعنی قریش سے ۔(ف17)نوح علیہ السلام ۔(ف18)اور دھمکایا کہ اگر تم اپنے پندو نصیحت اور وعظ و دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے ، سنگسار کر ڈالیں گے ۔
اور زمین چشمے کرکے بہا دی (ف۲۰) تو دونوں پانی (ف۲۱) مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی (ف۲۲)
And caused springs to gush out from the earth, so that the two waters met totalling a quantity that had been destined.
और हमने नूह को सवार किया तख़्तों और कीलों वाली पर कि
Aur humne Nuh ko sawar kiya takhton aur keelon wali par ke
(ف20)یعنی زمین سے اس قدر پانی نکلا کہ تمام زمین مثل چشموں کے ہوگئی ۔ (ف21)آسمان سے برسنے والے اور زمین سے ابلنے والے ۔(ف22)اور لوحِ محفوظ میں مکتوب تھی کہ طوفان اس حد تک پہنچے گا ۔
اور ہم نے اس (ف۲٦) نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۲۷)
And We left it as a sign – so is there one who would ponder?
तो कैसा हुआ मेरा अज़ाब और मेरी धमकियाँ,
To kaisa hua mera azaab aur meri dhamkiyan,
(ف26)یعنی اس واقعہ کو کہ کفّار غرق کرکے ہلاک کردیئے گئے اور حضرت نوح علیہ السلام کو نجات دی گئی ۔ اور بعض مفسّرین کے نزدیک تَرَکْنٰھَاکی ضمیر کَشتی کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ قتادہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس کَشتی کو سرزمینِ جزیرہ میں اور بعض کے نزدیک جو دی پہاڑ پر مدّتوں باقی رکھا یہاں تک کہ ہماری امّت کے پہلے لوگوں نے اس کو دیکھا ۔(ف27)جو پندپذیر ہواور عبرت حاصل کرے ۔
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ ﴿16﴾
تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،
So how did My punishment turn out, and My threats?
और बेशक हमने क़ुरान याद करने के लिए आसान फ़रमा दिया तो है कोई याद करने वाला
Aur beshak humne Quran yaad karne ke liye aasan farma diya to hai koi yaad karne wala
اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (ف۲۸)
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
आद ने झुठलाया तो कैसा हुआ मेरा अज़ाब और मेरे डर दिलाने के फ़रमान
Aad ne jhutlaya to kaisa hua mera azaab aur mere dar dilane ke farmaan
(ف28)اس آیت میں قرآنِ کریم کی تعلیم و تعلّم اور اس کے ساتھ اشتغال رکھنے اور اسکو حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ قرآن یاد کرنے والے کی اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کا حفظ سہل و آسان فرمادینے ہی کا ثمرہ ہے کہ بچّے تک اس کو یاد کرلیتے ہیں سوائے اس کے کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو ۔
تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں (ف۳٤) جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۳۵)
So they said, “What! Shall we follow a man from among us? If we do, we are indeed astray, and insane!”
क्या हम सब में से इस पर बल्कि यह सख़्त झूठा उत्रौना (शेखीबाज़) है
Kya hum sab mein se is par balki ye sakht jhoota utrona (shekhibaaz) hai
(ف34)یعنی ہم بہت سے ہو کر ایک آدمی کے تابع ہوجائیں ، ہم ایسا نہ کریں گے کیونکہ اگر ایسا کریں ۔(ف35)یہ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کا کلام لوٹایا ، آپ نے ان سے فرمایا تھا کہ اگر تم نے میرا اتباع نہ کیا تو تم گمراہ وبے عقل ہو ۔
کیا ہم سب میں سے اس پر (ف۳٦) بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے (ف۳۸)
“What! Of all the men among us, the remembrance has come down upon him? In fact, he is a mischievous, great liar.”
बहुत जल्द कल जान जाएंगे कौन था बड़ा झूठा उत्रौना (शेखीबाज़)
Bohat jald kal jaan jayenge kaun tha bada jhoota utrona (shekhibaaz)
(ف36)یعنی حضرت صالح علیہ السلام پر ۔(ف37)وحی نازل کی گئی اور کوئی ہم میں اس قابل ہی نہ تھا ۔(ف38)کہ نبوّت کا دعوٰی کرکے بڑا بننا چاہتا ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو (ف٤۰) تو اے صالح! تو راہ دیکھ (ف٤۱) اور صبر کر (ف٤۲)
“We shall send a she-camel to test them, therefore O Saleh, wait and have patience.”
और उन्हें ख़बर दे दे कि पानी उनमें हिस्सों से है हर हिस्सा पर वह हाज़िर हो जिसकी बारी है
Aur unhein khabar de de ke paani unmein hisson se hai har hissa par woh haazir ho jiski baari hai
(ف40)یہ اس پر فرمایا گیا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے آپ سے یہ کہا تھا کہ آپ پتھر سے ایک ناقہ نکال دیجئے ، آپ نے ان کے ایمان کی شرط کرکے یہ بات منظور کرلی تھی چنانچہ اللہ تعالٰی نے ناقہ بھیجنے کا وعدہ فرمایا اور حضرت صالح علیہ السلام سے ارشاد کیا ۔(ف41)کہ وہ کیا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیاکیاجاتا ہے ۔(ف42)ان کی ایذا پر ۔
بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف٤۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی (ف۵۰)
Indeed We sent upon them a single Scream – thereupon they became like the barrier builder’s residual dry trampled hay.
और बेशक हमने आसान किया क़ुरान याद करने के लिए तो है कोई याद करने वाला,
Aur beshak humne aasan kiya Quran yaad karne ke liye to hai koi yaad karne wala,
(ف49)یعنی فرشتہ کی ہولناک آواز ۔(ف50)یعنی جس طرح چرواہے جنگل میں اپنی بکریوں کی حفاظت کے لئے گھاس ، کا نٹوں کا احاطہ بنالیتے ہیں اس میں سے کچھ گھاس بچی رہ جاتی ہے اور وہ جانوروں کے پاؤں میں روند کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے ، یہ حالت ان کی ہوگئی ۔
بیشک ہم نے ان پر (ف۵۱) پتھراؤ بھیجا (ف۵۲) سوائے لوط کے گھر والوں کے (ف۵۳) ہم نے انہیں پچھلے پہر (ف۵٤) بچالیا،
Indeed We sent a shower of stones upon them, except the family of Lut; We rescued them before dawn.
अपने पास की नेमत फ़रमा कर, हम यूँही सिला देते हैं उसे जो शुक्र करे
Apne paas ki ne’mat farma kar, hum yunhi sila dete hain usse jo shukr kare
(ف51)اس تکذیب کی سزا میں ۔(ف52)یعنی ان پر چھوٹے چھوٹے سنگریزے برسائے ۔(ف53)یعنی حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دونوں صاحبزادیاں اس عذاب سے محفوظ رہیں ۔(ف54)یعنی صبح ہونے سے پہلے ۔
(ف59)اور حضرت لوط علیہ ا لسلام سے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے مہمانوں کے درمیان د خیل نہ ہوں ، انہیں ہمارے حوالہ کردیں اور یہ انہوں نے نیّتِ فاسد اور خبیث ارادہ سے کہا تھا اور مہمان فرشتے تھے ، انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ آپ انہیں چھوڑ دیجئے ، گھر میں آنے دیجئے ، جبھی وہ گھر میں آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک دستک دی ۔(ف60)فوراً وہ اندھے ہوگئے اور آنکھیں ایسی ناپید ہوگئیں کہ نشان بھی باقی نہ رہا ، چہرے سپاٹ ہوگئے ، حیرت زدہ مارے مارے پھرتے تھے ، دروازہ ہاتھ نہ آتا تھا ، حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں دروازے سے باہر کیا ۔(ف61)جو تمہیں حضرت لوط علیہ السلام نے سنائے تھے ۔
کیا (ف۲۲) تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں (ف٦۷) یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے (ف٦۸)
Are your disbelievers better than they were, or have you been given exemption in the Books?
या यह कहते हैं कि हम सब मिलकर बदला ले लेंगे
Ya ye kehte hain ke hum sab mil kar badla le lenge
(ف66)اے اہلِ مکّہ ۔(ف67)یعنی ان قوموں سے زیادہ قوی و توانا ہیں ، یا کفر و عناد میں کچھ ان سے کم سے ہیں ۔(ف68)کہ تمہارے کفر کی گرفت نہ ہوگی اور تم عذابِ الٰہی سے امن میں رہو گے ۔
اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت (ف۷۱) اور پیٹھیں پھیردیں گے (ف۷۲)
The group will soon be routed, and will turn their backs to flee.
बल्कि उनका वादा क़यामत पर है और क़यामत नहायत कड़वी और सख़्त कड़वी
Balki unka waada Qayamat par hai aur Qayamat nihayat kadvi aur sakht kadvi
(ف71)کفّارِ مکّہ کی ۔(ف72)اور اس طرح بھاگیں گے کہ ایک بھی قائم نہ رہے گا ۔شانِ نزول : روزِ بدر جب ابوجہل نے کہا کہ ہم سب مل کر بدلہ لیں گے ، یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زرہ پہن کر یہ آیت تلاوت فرمائی ، پھر ایسا ہی ہوا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فتح ہوئی اور کفّار کو ہزیمت ہوئی ۔
جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،
On the day when they are dragged upon their faces in the fire – “Taste the heat of hell.”
बेशक हमने हर चीज़ एक अंदाज़ा से पैदा फ़रमाई
Beshak humne har cheez ek andaaza se paida farmai
اِنَّا كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی (ف۷٦)
We have indeed created all things by a proper measure.
और हमारा काम तो एक बात की बात है जैसे पलक मारना
Aur hamara kaam to ek baat ki baat hai jaise palk maarna
(ف76)حسبِ اقتضائے حکمت ۔ شانِ نزول : یہ آیت قَدریوں کے رد میں نازل ہوئی جو قدرتِ الٰہی کے منکِر ہیں اور حوادث کو کواکب وغیرہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ مسائلِ احادیث میں انہیں اس امّت کا مجوس فرمایا گیا اور ان کے پاس بیٹھنے اور ان کے ساتھ کلام شروع کرنے اور وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرنے اور مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک ہونے کی ممانعت فرمائی گئی اور انہیں دجّال کا ساتھی فرمایا گیا ، وہ بدترین خَلق ہیں ۔
سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور (ف۸۲)
Seated in an assembly of the Truth, in the presence of Allah, the Omnipotent King.
(ف82) یعنی اس کی بارگاہ کے مقرّب ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page